Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Maryam
Tafsir Ibn Kathir · Mary · 98 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
باب
اتنے میں بن بلائے آپ علیہ السلام بول اٹھے کہ ”لوگو! میں اللہ کا ایک غلام ہوں۔“ سب سے پہلا کلام عیسیٰ علیہ السلام کا یہی ہے۔ اللہ کی تنزیہہ اور تعظیم بیان کی اور اپنی غلامی اور بندگی کا اعلان کیا اللہ کی ذات کو اولاد سے پاک بتایا بلکہ ثابت کر دیا کیونکہ اولاد غلام نہیں ہوتی، پھر اپنی نبوت کا اظہار کیا کہ مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے اپنا نبی بنایا ہے۔ اس میں اپنی والدہ کی برأت بیان کی بلکہ دلیل بھی دے دی کہ میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں، رب نے مجھے اپنی کتاب بھی عنایت فرما دی ہے۔
کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ کی والدہ ماجدہ سے باتیں بنا رہے تھے آپ اس وقت دودھ پی رہے تھے جسے چھوڑ کر بائیں کروٹ سے ہو کر ان کی طرف توجہ فرما کر یہ جواب دیا۔ کہتے ہیں اس قول کے وقت آ پکی انگلی اٹھی ہوئی تھی اور ہاتھ مونڈھے تک اونچا تھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”مجھے کتاب دی“ اس کا مطلب یہ ہے کہ دینے کا ارادہ ہو چکا ہے یہ پورا ہوکر رہے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، اسی وقت آپ علیہ السلام کو کتاب یاد تھی، سب سیکھے ہوئے ہی پیدا ہوئے تھے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:487/4:] لیکن اس قول کی سند ٹھیک نہیں۔ میں جہاں بھی ہوں، لوگوں کو بھلائی سکھانے والا، انہیں نفع پہنچانے والا ہوں۔
صفحہ نمبر5066
ایک عالم اپنے سے بڑے عالم سے ملے اور دریافت کیا کہ مجھے اپنے کس عمل کے اعلان کی اجازت ہے، فرمایا بھلی بات کہنے اور بری بات کے روکنے کی اس لیے کہ یہی اصل دین ہے اور یہی انبیاء اللہ کا ورثہ ہے یہی کام ان کے سپرد ہوتا رہا۔
پس جماعتی مسئلہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی اس عام برکت سے مراد بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا ہے۔ جہاں بیٹھتے اٹھتے، آتے جاتے یہ شغل برابر جاری رہتا۔ کبھی اللہ کی باتیں پہنچانے سے نہ رکتے۔ فرماتے ہیں، مجھے حکم ملا ہے کہ زندگی بھر تک نماز و زکوٰۃ کا پابند رہوں۔ یہی حکم ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ملا۔ ارشاد ہے «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» [15-الحجر:99] ” مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ “۔
پس عیسیٰ علیہ السلام نے بھی فرمایا کہ ”اس نے مجھ پر یہ دونوں کام میری زندگی کے آخری لمحے تک لکھ دیے ہیں۔“ اس سے تقدیر کا ثبوت اور منکرین تقدیر کی تردید بھی ہو جاتی ہے۔ رب کی اطاعت کے اس حکم کے ساتھ ہی مجھے اپنی والدہ کی خدمت گزاری کا بھی حکم ملا ہے۔
عموماً قرآن میں یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں جیسے آیت «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» [17-الإسراء:23] اور آیت «اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ» [31-لقمان:14] میں۔
اس نے مجھے گردن کش نہیں بنایا کہ میں اس کی عبادت سے یا والدہ کی اطاعت سے سرکشی اور تکبر کروں اور بدبخت بن جاؤں۔ کہتے ہیں جبار وشقی وہ ہے جو غصے میں آ کر خونریزی کر دے۔
صفحہ نمبر5067
فرماتے ہیں، ”ماں باپ کا نافرمان وہی ہوتا ہے جو بدبخت اور گردن کش ہو۔ بدخلق وہی ہوتا ہے جو اکڑنے والا اور منافق ہو۔“
مذکور ہے کہ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام کے معجزوں کو دیکھ کر ایک عورت تعجب سے کہنے لگی، مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو نے پرورش پائی اور مبارک ہے وہ سینہ جس نے تجھے دودھ پلایا۔ آپ علیہ السلام نے جواب دیا، ”مبارک ہے وہ جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی، پھر تابعداری کی اور سرکش اور بدبخت نہ بنا۔“
پھر فرماتے ہیں، ”میری پیدائش کے دن، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے دن میں مجھ پرسلامتی ہے۔“ اس سے بھی آپ علیہ السلام کی عبودیت اور منجملہ مخلوق کے ایک مخلوق الٰہی ہونا ثابت ہو رہا ہے کہ آپ علیہ السلام مثل انسانوں کے عدم سے وجود میں آئے۔ پھر موت کا مزہ بھی چکھیں گے۔ پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھیں گے بھی۔ لیکن ہاں یہ تینوں موقعے خوب سخت اور کٹھن ہیں۔ آپ علیہ السلام پر آسان اور سہل ہوں گے۔ نہ کوئی گھبراہٹ ہوگی نہ پریشانی بلکہ امن چین اور سراسر سلامتی ہی سلامتی۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
صفحہ نمبر5068
باب
اتنے میں بن بلائے آپ علیہ السلام بول اٹھے کہ ”لوگو! میں اللہ کا ایک غلام ہوں۔“ سب سے پہلا کلام عیسیٰ علیہ السلام کا یہی ہے۔ اللہ کی تنزیہہ اور تعظیم بیان کی اور اپنی غلامی اور بندگی کا اعلان کیا اللہ کی ذات کو اولاد سے پاک بتایا بلکہ ثابت کر دیا کیونکہ اولاد غلام نہیں ہوتی، پھر اپنی نبوت کا اظہار کیا کہ مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے اپنا نبی بنایا ہے۔ اس میں اپنی والدہ کی برأت بیان کی بلکہ دلیل بھی دے دی کہ میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں، رب نے مجھے اپنی کتاب بھی عنایت فرما دی ہے۔
کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ کی والدہ ماجدہ سے باتیں بنا رہے تھے آپ اس وقت دودھ پی رہے تھے جسے چھوڑ کر بائیں کروٹ سے ہو کر ان کی طرف توجہ فرما کر یہ جواب دیا۔ کہتے ہیں اس قول کے وقت آ پکی انگلی اٹھی ہوئی تھی اور ہاتھ مونڈھے تک اونچا تھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”مجھے کتاب دی“ اس کا مطلب یہ ہے کہ دینے کا ارادہ ہو چکا ہے یہ پورا ہوکر رہے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، اسی وقت آپ علیہ السلام کو کتاب یاد تھی، سب سیکھے ہوئے ہی پیدا ہوئے تھے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:487/4:] لیکن اس قول کی سند ٹھیک نہیں۔ میں جہاں بھی ہوں، لوگوں کو بھلائی سکھانے والا، انہیں نفع پہنچانے والا ہوں۔
صفحہ نمبر5066
ایک عالم اپنے سے بڑے عالم سے ملے اور دریافت کیا کہ مجھے اپنے کس عمل کے اعلان کی اجازت ہے، فرمایا بھلی بات کہنے اور بری بات کے روکنے کی اس لیے کہ یہی اصل دین ہے اور یہی انبیاء اللہ کا ورثہ ہے یہی کام ان کے سپرد ہوتا رہا۔
پس جماعتی مسئلہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی اس عام برکت سے مراد بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا ہے۔ جہاں بیٹھتے اٹھتے، آتے جاتے یہ شغل برابر جاری رہتا۔ کبھی اللہ کی باتیں پہنچانے سے نہ رکتے۔ فرماتے ہیں، مجھے حکم ملا ہے کہ زندگی بھر تک نماز و زکوٰۃ کا پابند رہوں۔ یہی حکم ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ملا۔ ارشاد ہے «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» [15-الحجر:99] ” مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ “۔
پس عیسیٰ علیہ السلام نے بھی فرمایا کہ ”اس نے مجھ پر یہ دونوں کام میری زندگی کے آخری لمحے تک لکھ دیے ہیں۔“ اس سے تقدیر کا ثبوت اور منکرین تقدیر کی تردید بھی ہو جاتی ہے۔ رب کی اطاعت کے اس حکم کے ساتھ ہی مجھے اپنی والدہ کی خدمت گزاری کا بھی حکم ملا ہے۔
عموماً قرآن میں یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں جیسے آیت «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» [17-الإسراء:23] اور آیت «اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ» [31-لقمان:14] میں۔
اس نے مجھے گردن کش نہیں بنایا کہ میں اس کی عبادت سے یا والدہ کی اطاعت سے سرکشی اور تکبر کروں اور بدبخت بن جاؤں۔ کہتے ہیں جبار وشقی وہ ہے جو غصے میں آ کر خونریزی کر دے۔
صفحہ نمبر5067
فرماتے ہیں، ”ماں باپ کا نافرمان وہی ہوتا ہے جو بدبخت اور گردن کش ہو۔ بدخلق وہی ہوتا ہے جو اکڑنے والا اور منافق ہو۔“
مذکور ہے کہ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام کے معجزوں کو دیکھ کر ایک عورت تعجب سے کہنے لگی، مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو نے پرورش پائی اور مبارک ہے وہ سینہ جس نے تجھے دودھ پلایا۔ آپ علیہ السلام نے جواب دیا، ”مبارک ہے وہ جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی، پھر تابعداری کی اور سرکش اور بدبخت نہ بنا۔“
پھر فرماتے ہیں، ”میری پیدائش کے دن، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے دن میں مجھ پرسلامتی ہے۔“ اس سے بھی آپ علیہ السلام کی عبودیت اور منجملہ مخلوق کے ایک مخلوق الٰہی ہونا ثابت ہو رہا ہے کہ آپ علیہ السلام مثل انسانوں کے عدم سے وجود میں آئے۔ پھر موت کا مزہ بھی چکھیں گے۔ پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھیں گے بھی۔ لیکن ہاں یہ تینوں موقعے خوب سخت اور کٹھن ہیں۔ آپ علیہ السلام پر آسان اور سہل ہوں گے۔ نہ کوئی گھبراہٹ ہوگی نہ پریشانی بلکہ امن چین اور سراسر سلامتی ہی سلامتی۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
صفحہ نمبر5068
باب
اتنے میں بن بلائے آپ علیہ السلام بول اٹھے کہ ”لوگو! میں اللہ کا ایک غلام ہوں۔“ سب سے پہلا کلام عیسیٰ علیہ السلام کا یہی ہے۔ اللہ کی تنزیہہ اور تعظیم بیان کی اور اپنی غلامی اور بندگی کا اعلان کیا اللہ کی ذات کو اولاد سے پاک بتایا بلکہ ثابت کر دیا کیونکہ اولاد غلام نہیں ہوتی، پھر اپنی نبوت کا اظہار کیا کہ مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے اپنا نبی بنایا ہے۔ اس میں اپنی والدہ کی برأت بیان کی بلکہ دلیل بھی دے دی کہ میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں، رب نے مجھے اپنی کتاب بھی عنایت فرما دی ہے۔
کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ کی والدہ ماجدہ سے باتیں بنا رہے تھے آپ اس وقت دودھ پی رہے تھے جسے چھوڑ کر بائیں کروٹ سے ہو کر ان کی طرف توجہ فرما کر یہ جواب دیا۔ کہتے ہیں اس قول کے وقت آ پکی انگلی اٹھی ہوئی تھی اور ہاتھ مونڈھے تک اونچا تھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”مجھے کتاب دی“ اس کا مطلب یہ ہے کہ دینے کا ارادہ ہو چکا ہے یہ پورا ہوکر رہے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، اسی وقت آپ علیہ السلام کو کتاب یاد تھی، سب سیکھے ہوئے ہی پیدا ہوئے تھے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:487/4:] لیکن اس قول کی سند ٹھیک نہیں۔ میں جہاں بھی ہوں، لوگوں کو بھلائی سکھانے والا، انہیں نفع پہنچانے والا ہوں۔
صفحہ نمبر5066
ایک عالم اپنے سے بڑے عالم سے ملے اور دریافت کیا کہ مجھے اپنے کس عمل کے اعلان کی اجازت ہے، فرمایا بھلی بات کہنے اور بری بات کے روکنے کی اس لیے کہ یہی اصل دین ہے اور یہی انبیاء اللہ کا ورثہ ہے یہی کام ان کے سپرد ہوتا رہا۔
پس جماعتی مسئلہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی اس عام برکت سے مراد بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا ہے۔ جہاں بیٹھتے اٹھتے، آتے جاتے یہ شغل برابر جاری رہتا۔ کبھی اللہ کی باتیں پہنچانے سے نہ رکتے۔ فرماتے ہیں، مجھے حکم ملا ہے کہ زندگی بھر تک نماز و زکوٰۃ کا پابند رہوں۔ یہی حکم ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ملا۔ ارشاد ہے «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» [15-الحجر:99] ” مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ “۔
پس عیسیٰ علیہ السلام نے بھی فرمایا کہ ”اس نے مجھ پر یہ دونوں کام میری زندگی کے آخری لمحے تک لکھ دیے ہیں۔“ اس سے تقدیر کا ثبوت اور منکرین تقدیر کی تردید بھی ہو جاتی ہے۔ رب کی اطاعت کے اس حکم کے ساتھ ہی مجھے اپنی والدہ کی خدمت گزاری کا بھی حکم ملا ہے۔
عموماً قرآن میں یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں جیسے آیت «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» [17-الإسراء:23] اور آیت «اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ» [31-لقمان:14] میں۔
اس نے مجھے گردن کش نہیں بنایا کہ میں اس کی عبادت سے یا والدہ کی اطاعت سے سرکشی اور تکبر کروں اور بدبخت بن جاؤں۔ کہتے ہیں جبار وشقی وہ ہے جو غصے میں آ کر خونریزی کر دے۔
صفحہ نمبر5067
فرماتے ہیں، ”ماں باپ کا نافرمان وہی ہوتا ہے جو بدبخت اور گردن کش ہو۔ بدخلق وہی ہوتا ہے جو اکڑنے والا اور منافق ہو۔“
مذکور ہے کہ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام کے معجزوں کو دیکھ کر ایک عورت تعجب سے کہنے لگی، مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو نے پرورش پائی اور مبارک ہے وہ سینہ جس نے تجھے دودھ پلایا۔ آپ علیہ السلام نے جواب دیا، ”مبارک ہے وہ جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی، پھر تابعداری کی اور سرکش اور بدبخت نہ بنا۔“
پھر فرماتے ہیں، ”میری پیدائش کے دن، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے دن میں مجھ پرسلامتی ہے۔“ اس سے بھی آپ علیہ السلام کی عبودیت اور منجملہ مخلوق کے ایک مخلوق الٰہی ہونا ثابت ہو رہا ہے کہ آپ علیہ السلام مثل انسانوں کے عدم سے وجود میں آئے۔ پھر موت کا مزہ بھی چکھیں گے۔ پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھیں گے بھی۔ لیکن ہاں یہ تینوں موقعے خوب سخت اور کٹھن ہیں۔ آپ علیہ السلام پر آسان اور سہل ہوں گے۔ نہ کوئی گھبراہٹ ہوگی نہ پریشانی بلکہ امن چین اور سراسر سلامتی ہی سلامتی۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
صفحہ نمبر5068
عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف اقوال ٭٭
[2-البقرة:147] اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلاف تھا، ان میں جو بات صحیح تھی، وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی۔ «قَوْلَ» کی دوسری قرأت «قَوْلُ» بھی ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں «قَالَ الْحَقَّ» ہے۔ «قَوْلَ» کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسے «اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» [2-البقرة:147] ، میں۔
یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے، پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ ” اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ پاک اور دور ہے۔ وہ جس کام کو کرنا چاہتا ہے اسے سامان اسباب کی ضرورت نہیں پڑتی، فرما دیتا ہے کہ ہو جا اسی وقت وہ کام اسی طرح ہو جاتا ہے “۔ ادھر حکم ہوا، ادھر چیز تیار موجود۔
جیسے فرمان ہے «إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ» [3-آل عمران:59-60] یعنی ” عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک مثل آدم علیہ السلام کے ہے کہ اسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہو جا، اسی وقت وہ ہو گیا۔ یہ بالکل سچ ہے اور اللہ کا فرمان تجھے اس میں کسی قسم کا شک نہ کرنا چاہیئے “۔
صفحہ نمبر5072
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا کہ ”میرا اور تم سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم سب اسی کی عبادت کرتے رہو۔ سیدھی راہ جسے میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں یہی ہے۔ اس کی تابعداری کرنے والا ہدایت پر ہے اور اس کا خلاف کرنے والا گمراہی پر ہے۔“ یہ فرمان بھی آپ کا ماں کی گود سے ہی تھا۔
عیسیٰ علیہ السلام کے اپنے بیان اور حکم کے خلاف بعد والوں نے لب کشائی کی اور ان کے بارے میں مختلف گروہوں کی شکل میں یہ لوگ بٹ گئے۔ چنانچہ یہود نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باللہ ولد الزنا ہیں، اللہ کی لعنتیں ان پر ہوں کہ انہوں نے اللہ کے ایک بہترین رسول پر بدترین تہمت لگائی، اور کہا کہ ان کا یہ کلام وغیرہ سب جادو کے کرشمے تھے۔ اسی طرح نصاریٰ بہک گئے کہنے لگے کہ یہ تو خود اللہ ہے یہ کلام اللہ کا ہی ہے۔ کسی نے کہا یہ اللہ کا لڑکا ہے، کسی نے کہا تین معبودوں میں سے ایک ہے۔ ہاں ایک جماعت نے واقعہ کے مطابق کہا کہ آپ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہی قول صحیح ہے۔ اہل اسلام کا عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہی ہے اور یہی تعلیم الٰہی ہے۔
صفحہ نمبر5073
کہتے ہیں کہ بنواسرائیل کا مجمع جمع ہوا اور اپنے میں سے انہوں نے چار آدمی چھانٹے، ہر قوم نے اپنا اپنا ایک عالم پیش کیا۔ یہ واقعہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھ جانے کے بعد کا ہے۔ یہ لوگ آپس میں متنازع ہوئے ایک تو کہنے لگا، یہ خود اللہ تھا جب تک اس نے چاہا، زمین پر رہا، جسے چاہا جلایا، جسے چاہا مارا، پھر آسمان پر چلا گیا، اس گروہ کو یعقوبیہ کہتے ہیں لیکن اور تینوں نے اسے جھٹلایا اور کہا، تو نے جھوٹ کہا۔ اب دو نے تیسرے سے کہا، اچھا تو کہہ تیرا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا وہ اللہ کے بیٹے تھے اس جماعت کا نام نسطوریہ پڑا۔ دو جو رہ گئے، انہوں نے کہا تو نے بھی غلط کہا ہے۔ پھر ان دو میں سے ایک نے کہا، تم کہو، اس نے کہا میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ تین میں سے ایک ہیں۔ ایک تو اللہ جو معبود ہے۔ دوسرے یہی جو معبود ہیں۔ تیسرے ان کی والدہ جو معبود ہیں۔ یہ اسرائیلیہ گروہ ہوا اور یہی نصرانیوں کے بادشاہ تھے ان پر اللہ کی لعنتیں۔
چوتھے نے کہا تم سب جھوٹے ہو۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول تھے، اللہ ہی کا کلمہ تھے اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح۔ یہ لوگ مسلمان کہلائے اور یہی سچے تھے۔ ان میں سے جس کے تابع جو تھے، وہ اسی کے قول پر ہو گئے اور آپس میں خوب اچھلے۔ چونکہ سچے اسلام والے ہر زمانے میں تعداد میں کم ہوتے ہیں، ان پر یہ ملعون چھاگئے، انہیں دبا لیا، انہیں مارنا پیٹنا اور قتل کرنا شروع کر دیا۔
صفحہ نمبر5074
اکثر مورخین کا بیان ہے کہ قسطنطین بادشاہ نے تین بار عیسائیوں کو جمع کیا، آخری مرتبہ کے اجتماع میں ان کے دو ہزار ایک سو ستر علماء جمع ہوئے تھے لیکن یہ سب آپس میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف آراء رکھتے تھے۔ سو کچھ کہتے تو ستر اور ہی کچھ کہتے، پچاس کچھ اور ہی کہہ رہے تھے، ساٹھ کا عقیدہ کچھ اور ہی تھا، ہر ایک کا خیال دوسرے سے ٹکرا رہا تھا۔ سب سے بڑی جماعت تین سو آٹھ کی تھی۔
بادشاہ نے اس طرف کثرت دیکھ کر کثرت کا ساتھ دیا۔ مصلحت ملکی اسی میں تھی کہ اس کثیر گروہ کی طرفداری کی جائے لہٰذا اس کی پالیسی نے اسے اسی طرف متوجہ کر دیا۔ اور اس نے باقی کے سب لوگوں کو نکلوا دیا اور ان کے لیے امانت کبریٰ کی رسم ایجاد کی جو دراصل سب سے زیادہ بدترین خیانت ہے۔ اب مسائل شرعیہ کی کتابیں ان علماء سے لکھوائیں اور بہت سی رسومات ملکی اور ضروریات شہری کو شرعی صورت میں داخل کر لیا۔ بہت سی نئی نئی باتیں ایجاد کیں اور اصلی دین مسیحی کی صورت کو مسخ کر کے ایک مجموعہ مرتب کرایا اور اسے لوگوں میں قانوناً رائج کردیا اور اس وقت سے دین مسیحی یہی سمجھا جانے لگا۔ جب اس پر ان سب کو رضامند کر لیا تو اب چاروں طرف کلیسا، گرجے اور عبادت خانے بنوانے اور وہاں ان علماء کو بٹھانے اور ان کے ذریعے سے اس اپنی نومولود مسیحیت کو پھیلانے کی کوشش میں لگ گیا۔ شام میں، جزیرہ میں، روم میں تقریباً بارہ ہزار ایسے مکانات اس کے زمانے میں تعمیر کرائے گئے۔ اس کی ماں ہیلانہ نے جس جگہ سولی گڑھی ہوئی تھی، وہاں ایک قبہ بنوا دیا اور اس کی باقاعدہ پرستش شروع ہو گئی۔ اور سب نے یقین کر لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھ گئے حالانکہ ان کا یہ قول غلط ہے، اللہ نے اپنے اس معزز بندے کو اپنی جانب آسمان پر چڑھا لیا ہے۔ یہ ہے عیسائی مذہب کے اختلاف کی ہلکی سی مثال۔ ایسے لوگ جو اللہ پر جھوٹ افترا باندھیں، اس کی اولادیں اور شریک و حصہ دار ثابت کریں گو وہ دنیا میں مہلت پا لیں لیکن اس عظیم الشان دن ان کی ہلاکت انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی اور برباد ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کو گو جلدی عذاب نہ کرے لیکن بالکل چھوڑتا بھی نہیں۔
صفحہ نمبر5075
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ نازل ہوتی ہے تو پھر کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہتی۔ یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآن «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] تلاوت فرمائی ۔ [صحیح بخاری:4686] یعنی ” تیرے رب کی پکڑ کا طریقہ ایسا ہی ہے جب وہ کسی ظلم سے آلودہ بستی کو پکڑتا ہے۔ یقین مانو کہ اس کی پکڑ نہایت المناک اور بہت سخت ہے “۔
بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ناپسند باتوں کو سن کر صبر کرنے والا اللہ سے زیادہ کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد بتلاتے ہیں اور وہ انہیں روزیاں دے رہا ہے اور عافیت بھی ۔ [صحیح بخاری:6099]
خود قرآن فرماتا ہے۔ «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ» [22-الحج:48] ” بہت سی بستیوں والے وہ ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیں ڈھیل دی پھر پکڑ لیا آخر لوٹنا تو میری ہی جانب ہے “۔
اور آیت میں ہے کہ «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» [14-ابراھیم:42] ” ظالم لوگ اپنے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھیں، انہیں جو مہلت ہے، وہ اس دن تک ہے جس دن آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی “۔
یہی فرمان یہاں بھی ہے کہ ” ان پر اس بہت بڑے دن کی حاضری نہایت سخت دشوار ہوگی “۔
صفحہ نمبر5076
صحیح حدیث میں ہے، جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ ایک ہے، وہی معبود برحق ہے، اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جسے مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا تھا اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح ہیں اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے۔ اس کے خواہ کیسے ہی اعمال ہوں، اللہ اسے ضرور جنت میں پہنچائے گا ۔ [صحیح بخاری:3435]
صفحہ نمبر5077
عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف اقوال ٭٭
[2-البقرة:147] اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلاف تھا، ان میں جو بات صحیح تھی، وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی۔ «قَوْلَ» کی دوسری قرأت «قَوْلُ» بھی ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں «قَالَ الْحَقَّ» ہے۔ «قَوْلَ» کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسے «اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» [2-البقرة:147] ، میں۔
یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے، پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ ” اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ پاک اور دور ہے۔ وہ جس کام کو کرنا چاہتا ہے اسے سامان اسباب کی ضرورت نہیں پڑتی، فرما دیتا ہے کہ ہو جا اسی وقت وہ کام اسی طرح ہو جاتا ہے “۔ ادھر حکم ہوا، ادھر چیز تیار موجود۔
جیسے فرمان ہے «إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ» [3-آل عمران:59-60] یعنی ” عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک مثل آدم علیہ السلام کے ہے کہ اسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہو جا، اسی وقت وہ ہو گیا۔ یہ بالکل سچ ہے اور اللہ کا فرمان تجھے اس میں کسی قسم کا شک نہ کرنا چاہیئے “۔
صفحہ نمبر5072
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا کہ ”میرا اور تم سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم سب اسی کی عبادت کرتے رہو۔ سیدھی راہ جسے میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں یہی ہے۔ اس کی تابعداری کرنے والا ہدایت پر ہے اور اس کا خلاف کرنے والا گمراہی پر ہے۔“ یہ فرمان بھی آپ کا ماں کی گود سے ہی تھا۔
عیسیٰ علیہ السلام کے اپنے بیان اور حکم کے خلاف بعد والوں نے لب کشائی کی اور ان کے بارے میں مختلف گروہوں کی شکل میں یہ لوگ بٹ گئے۔ چنانچہ یہود نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باللہ ولد الزنا ہیں، اللہ کی لعنتیں ان پر ہوں کہ انہوں نے اللہ کے ایک بہترین رسول پر بدترین تہمت لگائی، اور کہا کہ ان کا یہ کلام وغیرہ سب جادو کے کرشمے تھے۔ اسی طرح نصاریٰ بہک گئے کہنے لگے کہ یہ تو خود اللہ ہے یہ کلام اللہ کا ہی ہے۔ کسی نے کہا یہ اللہ کا لڑکا ہے، کسی نے کہا تین معبودوں میں سے ایک ہے۔ ہاں ایک جماعت نے واقعہ کے مطابق کہا کہ آپ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہی قول صحیح ہے۔ اہل اسلام کا عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہی ہے اور یہی تعلیم الٰہی ہے۔
صفحہ نمبر5073
کہتے ہیں کہ بنواسرائیل کا مجمع جمع ہوا اور اپنے میں سے انہوں نے چار آدمی چھانٹے، ہر قوم نے اپنا اپنا ایک عالم پیش کیا۔ یہ واقعہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھ جانے کے بعد کا ہے۔ یہ لوگ آپس میں متنازع ہوئے ایک تو کہنے لگا، یہ خود اللہ تھا جب تک اس نے چاہا، زمین پر رہا، جسے چاہا جلایا، جسے چاہا مارا، پھر آسمان پر چلا گیا، اس گروہ کو یعقوبیہ کہتے ہیں لیکن اور تینوں نے اسے جھٹلایا اور کہا، تو نے جھوٹ کہا۔ اب دو نے تیسرے سے کہا، اچھا تو کہہ تیرا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا وہ اللہ کے بیٹے تھے اس جماعت کا نام نسطوریہ پڑا۔ دو جو رہ گئے، انہوں نے کہا تو نے بھی غلط کہا ہے۔ پھر ان دو میں سے ایک نے کہا، تم کہو، اس نے کہا میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ تین میں سے ایک ہیں۔ ایک تو اللہ جو معبود ہے۔ دوسرے یہی جو معبود ہیں۔ تیسرے ان کی والدہ جو معبود ہیں۔ یہ اسرائیلیہ گروہ ہوا اور یہی نصرانیوں کے بادشاہ تھے ان پر اللہ کی لعنتیں۔
چوتھے نے کہا تم سب جھوٹے ہو۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول تھے، اللہ ہی کا کلمہ تھے اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح۔ یہ لوگ مسلمان کہلائے اور یہی سچے تھے۔ ان میں سے جس کے تابع جو تھے، وہ اسی کے قول پر ہو گئے اور آپس میں خوب اچھلے۔ چونکہ سچے اسلام والے ہر زمانے میں تعداد میں کم ہوتے ہیں، ان پر یہ ملعون چھاگئے، انہیں دبا لیا، انہیں مارنا پیٹنا اور قتل کرنا شروع کر دیا۔
صفحہ نمبر5074
اکثر مورخین کا بیان ہے کہ قسطنطین بادشاہ نے تین بار عیسائیوں کو جمع کیا، آخری مرتبہ کے اجتماع میں ان کے دو ہزار ایک سو ستر علماء جمع ہوئے تھے لیکن یہ سب آپس میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف آراء رکھتے تھے۔ سو کچھ کہتے تو ستر اور ہی کچھ کہتے، پچاس کچھ اور ہی کہہ رہے تھے، ساٹھ کا عقیدہ کچھ اور ہی تھا، ہر ایک کا خیال دوسرے سے ٹکرا رہا تھا۔ سب سے بڑی جماعت تین سو آٹھ کی تھی۔
بادشاہ نے اس طرف کثرت دیکھ کر کثرت کا ساتھ دیا۔ مصلحت ملکی اسی میں تھی کہ اس کثیر گروہ کی طرفداری کی جائے لہٰذا اس کی پالیسی نے اسے اسی طرف متوجہ کر دیا۔ اور اس نے باقی کے سب لوگوں کو نکلوا دیا اور ان کے لیے امانت کبریٰ کی رسم ایجاد کی جو دراصل سب سے زیادہ بدترین خیانت ہے۔ اب مسائل شرعیہ کی کتابیں ان علماء سے لکھوائیں اور بہت سی رسومات ملکی اور ضروریات شہری کو شرعی صورت میں داخل کر لیا۔ بہت سی نئی نئی باتیں ایجاد کیں اور اصلی دین مسیحی کی صورت کو مسخ کر کے ایک مجموعہ مرتب کرایا اور اسے لوگوں میں قانوناً رائج کردیا اور اس وقت سے دین مسیحی یہی سمجھا جانے لگا۔ جب اس پر ان سب کو رضامند کر لیا تو اب چاروں طرف کلیسا، گرجے اور عبادت خانے بنوانے اور وہاں ان علماء کو بٹھانے اور ان کے ذریعے سے اس اپنی نومولود مسیحیت کو پھیلانے کی کوشش میں لگ گیا۔ شام میں، جزیرہ میں، روم میں تقریباً بارہ ہزار ایسے مکانات اس کے زمانے میں تعمیر کرائے گئے۔ اس کی ماں ہیلانہ نے جس جگہ سولی گڑھی ہوئی تھی، وہاں ایک قبہ بنوا دیا اور اس کی باقاعدہ پرستش شروع ہو گئی۔ اور سب نے یقین کر لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھ گئے حالانکہ ان کا یہ قول غلط ہے، اللہ نے اپنے اس معزز بندے کو اپنی جانب آسمان پر چڑھا لیا ہے۔ یہ ہے عیسائی مذہب کے اختلاف کی ہلکی سی مثال۔ ایسے لوگ جو اللہ پر جھوٹ افترا باندھیں، اس کی اولادیں اور شریک و حصہ دار ثابت کریں گو وہ دنیا میں مہلت پا لیں لیکن اس عظیم الشان دن ان کی ہلاکت انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی اور برباد ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کو گو جلدی عذاب نہ کرے لیکن بالکل چھوڑتا بھی نہیں۔
صفحہ نمبر5075
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ نازل ہوتی ہے تو پھر کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہتی۔ یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآن «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] تلاوت فرمائی ۔ [صحیح بخاری:4686] یعنی ” تیرے رب کی پکڑ کا طریقہ ایسا ہی ہے جب وہ کسی ظلم سے آلودہ بستی کو پکڑتا ہے۔ یقین مانو کہ اس کی پکڑ نہایت المناک اور بہت سخت ہے “۔
بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ناپسند باتوں کو سن کر صبر کرنے والا اللہ سے زیادہ کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد بتلاتے ہیں اور وہ انہیں روزیاں دے رہا ہے اور عافیت بھی ۔ [صحیح بخاری:6099]
خود قرآن فرماتا ہے۔ «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ» [22-الحج:48] ” بہت سی بستیوں والے وہ ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیں ڈھیل دی پھر پکڑ لیا آخر لوٹنا تو میری ہی جانب ہے “۔
اور آیت میں ہے کہ «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» [14-ابراھیم:42] ” ظالم لوگ اپنے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھیں، انہیں جو مہلت ہے، وہ اس دن تک ہے جس دن آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی “۔
یہی فرمان یہاں بھی ہے کہ ” ان پر اس بہت بڑے دن کی حاضری نہایت سخت دشوار ہوگی “۔
صفحہ نمبر5076
صحیح حدیث میں ہے، جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ ایک ہے، وہی معبود برحق ہے، اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جسے مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا تھا اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح ہیں اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے۔ اس کے خواہ کیسے ہی اعمال ہوں، اللہ اسے ضرور جنت میں پہنچائے گا ۔ [صحیح بخاری:3435]
صفحہ نمبر5077
عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف اقوال ٭٭
[2-البقرة:147] اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلاف تھا، ان میں جو بات صحیح تھی، وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی۔ «قَوْلَ» کی دوسری قرأت «قَوْلُ» بھی ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں «قَالَ الْحَقَّ» ہے۔ «قَوْلَ» کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسے «اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» [2-البقرة:147] ، میں۔
یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے، پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ ” اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ پاک اور دور ہے۔ وہ جس کام کو کرنا چاہتا ہے اسے سامان اسباب کی ضرورت نہیں پڑتی، فرما دیتا ہے کہ ہو جا اسی وقت وہ کام اسی طرح ہو جاتا ہے “۔ ادھر حکم ہوا، ادھر چیز تیار موجود۔
جیسے فرمان ہے «إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ» [3-آل عمران:59-60] یعنی ” عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک مثل آدم علیہ السلام کے ہے کہ اسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہو جا، اسی وقت وہ ہو گیا۔ یہ بالکل سچ ہے اور اللہ کا فرمان تجھے اس میں کسی قسم کا شک نہ کرنا چاہیئے “۔
صفحہ نمبر5072
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا کہ ”میرا اور تم سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم سب اسی کی عبادت کرتے رہو۔ سیدھی راہ جسے میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں یہی ہے۔ اس کی تابعداری کرنے والا ہدایت پر ہے اور اس کا خلاف کرنے والا گمراہی پر ہے۔“ یہ فرمان بھی آپ کا ماں کی گود سے ہی تھا۔
عیسیٰ علیہ السلام کے اپنے بیان اور حکم کے خلاف بعد والوں نے لب کشائی کی اور ان کے بارے میں مختلف گروہوں کی شکل میں یہ لوگ بٹ گئے۔ چنانچہ یہود نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باللہ ولد الزنا ہیں، اللہ کی لعنتیں ان پر ہوں کہ انہوں نے اللہ کے ایک بہترین رسول پر بدترین تہمت لگائی، اور کہا کہ ان کا یہ کلام وغیرہ سب جادو کے کرشمے تھے۔ اسی طرح نصاریٰ بہک گئے کہنے لگے کہ یہ تو خود اللہ ہے یہ کلام اللہ کا ہی ہے۔ کسی نے کہا یہ اللہ کا لڑکا ہے، کسی نے کہا تین معبودوں میں سے ایک ہے۔ ہاں ایک جماعت نے واقعہ کے مطابق کہا کہ آپ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہی قول صحیح ہے۔ اہل اسلام کا عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہی ہے اور یہی تعلیم الٰہی ہے۔
صفحہ نمبر5073
کہتے ہیں کہ بنواسرائیل کا مجمع جمع ہوا اور اپنے میں سے انہوں نے چار آدمی چھانٹے، ہر قوم نے اپنا اپنا ایک عالم پیش کیا۔ یہ واقعہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھ جانے کے بعد کا ہے۔ یہ لوگ آپس میں متنازع ہوئے ایک تو کہنے لگا، یہ خود اللہ تھا جب تک اس نے چاہا، زمین پر رہا، جسے چاہا جلایا، جسے چاہا مارا، پھر آسمان پر چلا گیا، اس گروہ کو یعقوبیہ کہتے ہیں لیکن اور تینوں نے اسے جھٹلایا اور کہا، تو نے جھوٹ کہا۔ اب دو نے تیسرے سے کہا، اچھا تو کہہ تیرا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا وہ اللہ کے بیٹے تھے اس جماعت کا نام نسطوریہ پڑا۔ دو جو رہ گئے، انہوں نے کہا تو نے بھی غلط کہا ہے۔ پھر ان دو میں سے ایک نے کہا، تم کہو، اس نے کہا میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ تین میں سے ایک ہیں۔ ایک تو اللہ جو معبود ہے۔ دوسرے یہی جو معبود ہیں۔ تیسرے ان کی والدہ جو معبود ہیں۔ یہ اسرائیلیہ گروہ ہوا اور یہی نصرانیوں کے بادشاہ تھے ان پر اللہ کی لعنتیں۔
چوتھے نے کہا تم سب جھوٹے ہو۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول تھے، اللہ ہی کا کلمہ تھے اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح۔ یہ لوگ مسلمان کہلائے اور یہی سچے تھے۔ ان میں سے جس کے تابع جو تھے، وہ اسی کے قول پر ہو گئے اور آپس میں خوب اچھلے۔ چونکہ سچے اسلام والے ہر زمانے میں تعداد میں کم ہوتے ہیں، ان پر یہ ملعون چھاگئے، انہیں دبا لیا، انہیں مارنا پیٹنا اور قتل کرنا شروع کر دیا۔
صفحہ نمبر5074
اکثر مورخین کا بیان ہے کہ قسطنطین بادشاہ نے تین بار عیسائیوں کو جمع کیا، آخری مرتبہ کے اجتماع میں ان کے دو ہزار ایک سو ستر علماء جمع ہوئے تھے لیکن یہ سب آپس میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف آراء رکھتے تھے۔ سو کچھ کہتے تو ستر اور ہی کچھ کہتے، پچاس کچھ اور ہی کہہ رہے تھے، ساٹھ کا عقیدہ کچھ اور ہی تھا، ہر ایک کا خیال دوسرے سے ٹکرا رہا تھا۔ سب سے بڑی جماعت تین سو آٹھ کی تھی۔
بادشاہ نے اس طرف کثرت دیکھ کر کثرت کا ساتھ دیا۔ مصلحت ملکی اسی میں تھی کہ اس کثیر گروہ کی طرفداری کی جائے لہٰذا اس کی پالیسی نے اسے اسی طرف متوجہ کر دیا۔ اور اس نے باقی کے سب لوگوں کو نکلوا دیا اور ان کے لیے امانت کبریٰ کی رسم ایجاد کی جو دراصل سب سے زیادہ بدترین خیانت ہے۔ اب مسائل شرعیہ کی کتابیں ان علماء سے لکھوائیں اور بہت سی رسومات ملکی اور ضروریات شہری کو شرعی صورت میں داخل کر لیا۔ بہت سی نئی نئی باتیں ایجاد کیں اور اصلی دین مسیحی کی صورت کو مسخ کر کے ایک مجموعہ مرتب کرایا اور اسے لوگوں میں قانوناً رائج کردیا اور اس وقت سے دین مسیحی یہی سمجھا جانے لگا۔ جب اس پر ان سب کو رضامند کر لیا تو اب چاروں طرف کلیسا، گرجے اور عبادت خانے بنوانے اور وہاں ان علماء کو بٹھانے اور ان کے ذریعے سے اس اپنی نومولود مسیحیت کو پھیلانے کی کوشش میں لگ گیا۔ شام میں، جزیرہ میں، روم میں تقریباً بارہ ہزار ایسے مکانات اس کے زمانے میں تعمیر کرائے گئے۔ اس کی ماں ہیلانہ نے جس جگہ سولی گڑھی ہوئی تھی، وہاں ایک قبہ بنوا دیا اور اس کی باقاعدہ پرستش شروع ہو گئی۔ اور سب نے یقین کر لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھ گئے حالانکہ ان کا یہ قول غلط ہے، اللہ نے اپنے اس معزز بندے کو اپنی جانب آسمان پر چڑھا لیا ہے۔ یہ ہے عیسائی مذہب کے اختلاف کی ہلکی سی مثال۔ ایسے لوگ جو اللہ پر جھوٹ افترا باندھیں، اس کی اولادیں اور شریک و حصہ دار ثابت کریں گو وہ دنیا میں مہلت پا لیں لیکن اس عظیم الشان دن ان کی ہلاکت انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی اور برباد ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کو گو جلدی عذاب نہ کرے لیکن بالکل چھوڑتا بھی نہیں۔
صفحہ نمبر5075
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ نازل ہوتی ہے تو پھر کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہتی۔ یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآن «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] تلاوت فرمائی ۔ [صحیح بخاری:4686] یعنی ” تیرے رب کی پکڑ کا طریقہ ایسا ہی ہے جب وہ کسی ظلم سے آلودہ بستی کو پکڑتا ہے۔ یقین مانو کہ اس کی پکڑ نہایت المناک اور بہت سخت ہے “۔
بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ناپسند باتوں کو سن کر صبر کرنے والا اللہ سے زیادہ کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد بتلاتے ہیں اور وہ انہیں روزیاں دے رہا ہے اور عافیت بھی ۔ [صحیح بخاری:6099]
خود قرآن فرماتا ہے۔ «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ» [22-الحج:48] ” بہت سی بستیوں والے وہ ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیں ڈھیل دی پھر پکڑ لیا آخر لوٹنا تو میری ہی جانب ہے “۔
اور آیت میں ہے کہ «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» [14-ابراھیم:42] ” ظالم لوگ اپنے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھیں، انہیں جو مہلت ہے، وہ اس دن تک ہے جس دن آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی “۔
یہی فرمان یہاں بھی ہے کہ ” ان پر اس بہت بڑے دن کی حاضری نہایت سخت دشوار ہوگی “۔
صفحہ نمبر5076
صحیح حدیث میں ہے، جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ ایک ہے، وہی معبود برحق ہے، اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جسے مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا تھا اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح ہیں اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے۔ اس کے خواہ کیسے ہی اعمال ہوں، اللہ اسے ضرور جنت میں پہنچائے گا ۔ [صحیح بخاری:3435]
صفحہ نمبر5077
عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف اقوال ٭٭
[2-البقرة:147] اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلاف تھا، ان میں جو بات صحیح تھی، وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی۔ «قَوْلَ» کی دوسری قرأت «قَوْلُ» بھی ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں «قَالَ الْحَقَّ» ہے۔ «قَوْلَ» کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسے «اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» [2-البقرة:147] ، میں۔
یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے، پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ ” اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ پاک اور دور ہے۔ وہ جس کام کو کرنا چاہتا ہے اسے سامان اسباب کی ضرورت نہیں پڑتی، فرما دیتا ہے کہ ہو جا اسی وقت وہ کام اسی طرح ہو جاتا ہے “۔ ادھر حکم ہوا، ادھر چیز تیار موجود۔
جیسے فرمان ہے «إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ» [3-آل عمران:59-60] یعنی ” عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک مثل آدم علیہ السلام کے ہے کہ اسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہو جا، اسی وقت وہ ہو گیا۔ یہ بالکل سچ ہے اور اللہ کا فرمان تجھے اس میں کسی قسم کا شک نہ کرنا چاہیئے “۔
صفحہ نمبر5072
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا کہ ”میرا اور تم سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم سب اسی کی عبادت کرتے رہو۔ سیدھی راہ جسے میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں یہی ہے۔ اس کی تابعداری کرنے والا ہدایت پر ہے اور اس کا خلاف کرنے والا گمراہی پر ہے۔“ یہ فرمان بھی آپ کا ماں کی گود سے ہی تھا۔
عیسیٰ علیہ السلام کے اپنے بیان اور حکم کے خلاف بعد والوں نے لب کشائی کی اور ان کے بارے میں مختلف گروہوں کی شکل میں یہ لوگ بٹ گئے۔ چنانچہ یہود نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باللہ ولد الزنا ہیں، اللہ کی لعنتیں ان پر ہوں کہ انہوں نے اللہ کے ایک بہترین رسول پر بدترین تہمت لگائی، اور کہا کہ ان کا یہ کلام وغیرہ سب جادو کے کرشمے تھے۔ اسی طرح نصاریٰ بہک گئے کہنے لگے کہ یہ تو خود اللہ ہے یہ کلام اللہ کا ہی ہے۔ کسی نے کہا یہ اللہ کا لڑکا ہے، کسی نے کہا تین معبودوں میں سے ایک ہے۔ ہاں ایک جماعت نے واقعہ کے مطابق کہا کہ آپ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہی قول صحیح ہے۔ اہل اسلام کا عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہی ہے اور یہی تعلیم الٰہی ہے۔
صفحہ نمبر5073
کہتے ہیں کہ بنواسرائیل کا مجمع جمع ہوا اور اپنے میں سے انہوں نے چار آدمی چھانٹے، ہر قوم نے اپنا اپنا ایک عالم پیش کیا۔ یہ واقعہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھ جانے کے بعد کا ہے۔ یہ لوگ آپس میں متنازع ہوئے ایک تو کہنے لگا، یہ خود اللہ تھا جب تک اس نے چاہا، زمین پر رہا، جسے چاہا جلایا، جسے چاہا مارا، پھر آسمان پر چلا گیا، اس گروہ کو یعقوبیہ کہتے ہیں لیکن اور تینوں نے اسے جھٹلایا اور کہا، تو نے جھوٹ کہا۔ اب دو نے تیسرے سے کہا، اچھا تو کہہ تیرا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا وہ اللہ کے بیٹے تھے اس جماعت کا نام نسطوریہ پڑا۔ دو جو رہ گئے، انہوں نے کہا تو نے بھی غلط کہا ہے۔ پھر ان دو میں سے ایک نے کہا، تم کہو، اس نے کہا میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ تین میں سے ایک ہیں۔ ایک تو اللہ جو معبود ہے۔ دوسرے یہی جو معبود ہیں۔ تیسرے ان کی والدہ جو معبود ہیں۔ یہ اسرائیلیہ گروہ ہوا اور یہی نصرانیوں کے بادشاہ تھے ان پر اللہ کی لعنتیں۔
چوتھے نے کہا تم سب جھوٹے ہو۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول تھے، اللہ ہی کا کلمہ تھے اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح۔ یہ لوگ مسلمان کہلائے اور یہی سچے تھے۔ ان میں سے جس کے تابع جو تھے، وہ اسی کے قول پر ہو گئے اور آپس میں خوب اچھلے۔ چونکہ سچے اسلام والے ہر زمانے میں تعداد میں کم ہوتے ہیں، ان پر یہ ملعون چھاگئے، انہیں دبا لیا، انہیں مارنا پیٹنا اور قتل کرنا شروع کر دیا۔
صفحہ نمبر5074
اکثر مورخین کا بیان ہے کہ قسطنطین بادشاہ نے تین بار عیسائیوں کو جمع کیا، آخری مرتبہ کے اجتماع میں ان کے دو ہزار ایک سو ستر علماء جمع ہوئے تھے لیکن یہ سب آپس میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف آراء رکھتے تھے۔ سو کچھ کہتے تو ستر اور ہی کچھ کہتے، پچاس کچھ اور ہی کہہ رہے تھے، ساٹھ کا عقیدہ کچھ اور ہی تھا، ہر ایک کا خیال دوسرے سے ٹکرا رہا تھا۔ سب سے بڑی جماعت تین سو آٹھ کی تھی۔
بادشاہ نے اس طرف کثرت دیکھ کر کثرت کا ساتھ دیا۔ مصلحت ملکی اسی میں تھی کہ اس کثیر گروہ کی طرفداری کی جائے لہٰذا اس کی پالیسی نے اسے اسی طرف متوجہ کر دیا۔ اور اس نے باقی کے سب لوگوں کو نکلوا دیا اور ان کے لیے امانت کبریٰ کی رسم ایجاد کی جو دراصل سب سے زیادہ بدترین خیانت ہے۔ اب مسائل شرعیہ کی کتابیں ان علماء سے لکھوائیں اور بہت سی رسومات ملکی اور ضروریات شہری کو شرعی صورت میں داخل کر لیا۔ بہت سی نئی نئی باتیں ایجاد کیں اور اصلی دین مسیحی کی صورت کو مسخ کر کے ایک مجموعہ مرتب کرایا اور اسے لوگوں میں قانوناً رائج کردیا اور اس وقت سے دین مسیحی یہی سمجھا جانے لگا۔ جب اس پر ان سب کو رضامند کر لیا تو اب چاروں طرف کلیسا، گرجے اور عبادت خانے بنوانے اور وہاں ان علماء کو بٹھانے اور ان کے ذریعے سے اس اپنی نومولود مسیحیت کو پھیلانے کی کوشش میں لگ گیا۔ شام میں، جزیرہ میں، روم میں تقریباً بارہ ہزار ایسے مکانات اس کے زمانے میں تعمیر کرائے گئے۔ اس کی ماں ہیلانہ نے جس جگہ سولی گڑھی ہوئی تھی، وہاں ایک قبہ بنوا دیا اور اس کی باقاعدہ پرستش شروع ہو گئی۔ اور سب نے یقین کر لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھ گئے حالانکہ ان کا یہ قول غلط ہے، اللہ نے اپنے اس معزز بندے کو اپنی جانب آسمان پر چڑھا لیا ہے۔ یہ ہے عیسائی مذہب کے اختلاف کی ہلکی سی مثال۔ ایسے لوگ جو اللہ پر جھوٹ افترا باندھیں، اس کی اولادیں اور شریک و حصہ دار ثابت کریں گو وہ دنیا میں مہلت پا لیں لیکن اس عظیم الشان دن ان کی ہلاکت انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی اور برباد ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کو گو جلدی عذاب نہ کرے لیکن بالکل چھوڑتا بھی نہیں۔
صفحہ نمبر5075
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ نازل ہوتی ہے تو پھر کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہتی۔ یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآن «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [11-ھود:102] تلاوت فرمائی ۔ [صحیح بخاری:4686] یعنی ” تیرے رب کی پکڑ کا طریقہ ایسا ہی ہے جب وہ کسی ظلم سے آلودہ بستی کو پکڑتا ہے۔ یقین مانو کہ اس کی پکڑ نہایت المناک اور بہت سخت ہے “۔
بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ناپسند باتوں کو سن کر صبر کرنے والا اللہ سے زیادہ کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد بتلاتے ہیں اور وہ انہیں روزیاں دے رہا ہے اور عافیت بھی ۔ [صحیح بخاری:6099]
خود قرآن فرماتا ہے۔ «وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ» [22-الحج:48] ” بہت سی بستیوں والے وہ ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیں ڈھیل دی پھر پکڑ لیا آخر لوٹنا تو میری ہی جانب ہے “۔
اور آیت میں ہے کہ «وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» [14-ابراھیم:42] ” ظالم لوگ اپنے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھیں، انہیں جو مہلت ہے، وہ اس دن تک ہے جس دن آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی “۔
یہی فرمان یہاں بھی ہے کہ ” ان پر اس بہت بڑے دن کی حاضری نہایت سخت دشوار ہوگی “۔
صفحہ نمبر5076
صحیح حدیث میں ہے، جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ ایک ہے، وہی معبود برحق ہے، اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جسے مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا تھا اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح ہیں اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے۔ اس کے خواہ کیسے ہی اعمال ہوں، اللہ اسے ضرور جنت میں پہنچائے گا ۔ [صحیح بخاری:3435]
صفحہ نمبر5077
قیامت کا دن دوزخیوں کے لئے یوم حسرت ٭٭
ارشاد ہے کہ گو آج دنیا میں یہ کفار آنکھیں بند کئے ہوئے اور کانوں میں روئی ٹھونسے ہوئے ہیں، لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں خوب روشن ہو جائیں گی اور کان بھی خوب کھل جائیں گے۔ جیسے فرمان الٰہی ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [32-السجدة:12] الخ، ” کاش کہ تو دیکھتا جب یہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے شرمسار سرنگوں کھڑے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھا سنا “ الخ۔
پس اس دن نہ دیکھنا کام آئے نہ سننا نہ حسرت وافسوس کرنا نہ واویلا کرنا۔ اگر یہ لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں سے دنیا میں کام لے کر اللہ کے دین کو مان لیتے تو آج انہیں حسرت و افسوس نہ کرنا پڑتا۔ اس دن آنکھیں کھولیں گے اور آج اندھے بہرے بنے پھرتے ہیں، نہ ہدایت کو طلب کرتے ہیں نہ دیکھتے ہیں، نہ بھلی باتیں سنتے ہیں نہ مانتے ہیں۔ مخلوق کو اس حسرت والے دن سے خبردار کر دیجئیے جب کہ تمام کام فیصل کر دیے جائیں گے، جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں بھیج دیے جائیں گے۔ اس حسرت و ندامت کے دن سے یہ آج غافل ہو رہے ہیں بلکہ ایمان و یقین بھی نہیں رکھتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں چلے جانے کے بعد موت کو ایک بھیڑیئے کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا، پھر اہل جنت سے پوچھا جائے گا کہ اسے جانتے ہو؟ وہ دیکھ کر کہیں گے کہ ہاں یہ موت ہے۔ دوزخیوں سے بھی یہی سوال ہو گا اور وہ بھی یہی جواب دیں گے۔ اب حکم ہو گا اور موت کو ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ اہل جنت تمہارے لیے ہمیشہ موت نہیں اور اہل جہنم تمہارے لیے بھی اب ہمیشہ کے لیے موت نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت «وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ» [19-مريم:39] ، تلاوت فرمائی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا اور فرمایا اہل دنیا غفلت دنیا میں ہیں ۔ [صحیح بخاری:4830]
صفحہ نمبر5081
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک واقعہ مطول بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ”ہر شخص اپنے دوزخ اور جنت کے گھر کو دیکھ رہا ہو گا وہ دن ہی حسرت و افسوس کا ہے۔ جہنمی اپنے جنتی گھر کو دیکھ رہا ہوگا اور اس سے کہا جاتا ہوگا کہ اگر تم عمل کرتے تو تمہیں یہ جگہ ملتی وہ حسرت وافسوس کرنے لگیں گے، ادھر جنتیوں کو ان کا جہنم کا گھر دکھا کر فرمایا جائے گا کہ اگر اللہ کا احسان تم پر نہ ہوتا تو تم یہاں ہوتے۔“
اور روایت میں ہے کہ ”موت کو ذبح کر کے جب ہمیشہ کے لیے کی آواز لگا دی جائے گی، اس وقت جنتی تو اس قدر خوش ہوں گے کہ اگر اللہ نہ بچائے تو مارے خوشی کے مر جائیں اور جہنمی اس قدر رنجیدہ ہو کر چیخیں گے کہ اگر موت ہوتی تو ہلاک ہو جائیں۔“
پس اس آیت کا یہی مطلب ہے یہ وقت حسرت کا بھی ہو گا اور کام کے خاتمے کا وقت بھی یہی ہوگا۔ پس یوم الحسرت بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
صفحہ نمبر5082
چنانچہ اور آیت میں ہے «اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ» [39-الزمر:56] ، پھر بتایا کہ خالق و مالک متصرف اللہ ہی ہے۔ سب اسی کی ملکیت ہے اور سب کو فنا ہے باقی صرف اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ ہی ہے، ملکیت اور تصرف کا سچا دعویدار بجز اس کے کوئی نہیں، تمام خلق کا وارث حاکم وہی ہے، اس کی ذات ظلم سے پاک ہے۔
خلیفہ اسلام امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن کو کوفے میں خط لکھا، جس میں حمد و صلوۃ کے بعد لکھا، ”اللہ نے روز اول سے ہی ساری مخلوق پر فنا لکھ دی ہے۔ سب کو اس کی طرف پہنچنا ہے، اس نے اپنی نازل کردہ اس سچی کتاب میں جسے اپنے علم سے محفوظ کئے ہوئے ہے اور جس کی نگہبانی اپنے فرشتوں سے کرا رہا ہے، لکھ دیا ہے کہ زمین کا اور اس کے اوپر جو ہیں، ان کا وارث وہی ہے اور اسی کی طرف سب لوٹائے جائیں گے۔“
صفحہ نمبر5083
قیامت کا دن دوزخیوں کے لئے یوم حسرت ٭٭
ارشاد ہے کہ گو آج دنیا میں یہ کفار آنکھیں بند کئے ہوئے اور کانوں میں روئی ٹھونسے ہوئے ہیں، لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں خوب روشن ہو جائیں گی اور کان بھی خوب کھل جائیں گے۔ جیسے فرمان الٰہی ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [32-السجدة:12] الخ، ” کاش کہ تو دیکھتا جب یہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے شرمسار سرنگوں کھڑے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھا سنا “ الخ۔
پس اس دن نہ دیکھنا کام آئے نہ سننا نہ حسرت وافسوس کرنا نہ واویلا کرنا۔ اگر یہ لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں سے دنیا میں کام لے کر اللہ کے دین کو مان لیتے تو آج انہیں حسرت و افسوس نہ کرنا پڑتا۔ اس دن آنکھیں کھولیں گے اور آج اندھے بہرے بنے پھرتے ہیں، نہ ہدایت کو طلب کرتے ہیں نہ دیکھتے ہیں، نہ بھلی باتیں سنتے ہیں نہ مانتے ہیں۔ مخلوق کو اس حسرت والے دن سے خبردار کر دیجئیے جب کہ تمام کام فیصل کر دیے جائیں گے، جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں بھیج دیے جائیں گے۔ اس حسرت و ندامت کے دن سے یہ آج غافل ہو رہے ہیں بلکہ ایمان و یقین بھی نہیں رکھتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں چلے جانے کے بعد موت کو ایک بھیڑیئے کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا، پھر اہل جنت سے پوچھا جائے گا کہ اسے جانتے ہو؟ وہ دیکھ کر کہیں گے کہ ہاں یہ موت ہے۔ دوزخیوں سے بھی یہی سوال ہو گا اور وہ بھی یہی جواب دیں گے۔ اب حکم ہو گا اور موت کو ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ اہل جنت تمہارے لیے ہمیشہ موت نہیں اور اہل جہنم تمہارے لیے بھی اب ہمیشہ کے لیے موت نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت «وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ» [19-مريم:39] ، تلاوت فرمائی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا اور فرمایا اہل دنیا غفلت دنیا میں ہیں ۔ [صحیح بخاری:4830]
صفحہ نمبر5081
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک واقعہ مطول بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ”ہر شخص اپنے دوزخ اور جنت کے گھر کو دیکھ رہا ہو گا وہ دن ہی حسرت و افسوس کا ہے۔ جہنمی اپنے جنتی گھر کو دیکھ رہا ہوگا اور اس سے کہا جاتا ہوگا کہ اگر تم عمل کرتے تو تمہیں یہ جگہ ملتی وہ حسرت وافسوس کرنے لگیں گے، ادھر جنتیوں کو ان کا جہنم کا گھر دکھا کر فرمایا جائے گا کہ اگر اللہ کا احسان تم پر نہ ہوتا تو تم یہاں ہوتے۔“
اور روایت میں ہے کہ ”موت کو ذبح کر کے جب ہمیشہ کے لیے کی آواز لگا دی جائے گی، اس وقت جنتی تو اس قدر خوش ہوں گے کہ اگر اللہ نہ بچائے تو مارے خوشی کے مر جائیں اور جہنمی اس قدر رنجیدہ ہو کر چیخیں گے کہ اگر موت ہوتی تو ہلاک ہو جائیں۔“
پس اس آیت کا یہی مطلب ہے یہ وقت حسرت کا بھی ہو گا اور کام کے خاتمے کا وقت بھی یہی ہوگا۔ پس یوم الحسرت بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
صفحہ نمبر5082
چنانچہ اور آیت میں ہے «اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ» [39-الزمر:56] ، پھر بتایا کہ خالق و مالک متصرف اللہ ہی ہے۔ سب اسی کی ملکیت ہے اور سب کو فنا ہے باقی صرف اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ ہی ہے، ملکیت اور تصرف کا سچا دعویدار بجز اس کے کوئی نہیں، تمام خلق کا وارث حاکم وہی ہے، اس کی ذات ظلم سے پاک ہے۔
خلیفہ اسلام امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن کو کوفے میں خط لکھا، جس میں حمد و صلوۃ کے بعد لکھا، ”اللہ نے روز اول سے ہی ساری مخلوق پر فنا لکھ دی ہے۔ سب کو اس کی طرف پہنچنا ہے، اس نے اپنی نازل کردہ اس سچی کتاب میں جسے اپنے علم سے محفوظ کئے ہوئے ہے اور جس کی نگہبانی اپنے فرشتوں سے کرا رہا ہے، لکھ دیا ہے کہ زمین کا اور اس کے اوپر جو ہیں، ان کا وارث وہی ہے اور اسی کی طرف سب لوٹائے جائیں گے۔“
صفحہ نمبر5083
قیامت کا دن دوزخیوں کے لئے یوم حسرت ٭٭
ارشاد ہے کہ گو آج دنیا میں یہ کفار آنکھیں بند کئے ہوئے اور کانوں میں روئی ٹھونسے ہوئے ہیں، لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں خوب روشن ہو جائیں گی اور کان بھی خوب کھل جائیں گے۔ جیسے فرمان الٰہی ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» [32-السجدة:12] الخ، ” کاش کہ تو دیکھتا جب یہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے شرمسار سرنگوں کھڑے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھا سنا “ الخ۔
پس اس دن نہ دیکھنا کام آئے نہ سننا نہ حسرت وافسوس کرنا نہ واویلا کرنا۔ اگر یہ لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں سے دنیا میں کام لے کر اللہ کے دین کو مان لیتے تو آج انہیں حسرت و افسوس نہ کرنا پڑتا۔ اس دن آنکھیں کھولیں گے اور آج اندھے بہرے بنے پھرتے ہیں، نہ ہدایت کو طلب کرتے ہیں نہ دیکھتے ہیں، نہ بھلی باتیں سنتے ہیں نہ مانتے ہیں۔ مخلوق کو اس حسرت والے دن سے خبردار کر دیجئیے جب کہ تمام کام فیصل کر دیے جائیں گے، جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں بھیج دیے جائیں گے۔ اس حسرت و ندامت کے دن سے یہ آج غافل ہو رہے ہیں بلکہ ایمان و یقین بھی نہیں رکھتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں چلے جانے کے بعد موت کو ایک بھیڑیئے کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا، پھر اہل جنت سے پوچھا جائے گا کہ اسے جانتے ہو؟ وہ دیکھ کر کہیں گے کہ ہاں یہ موت ہے۔ دوزخیوں سے بھی یہی سوال ہو گا اور وہ بھی یہی جواب دیں گے۔ اب حکم ہو گا اور موت کو ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ اہل جنت تمہارے لیے ہمیشہ موت نہیں اور اہل جہنم تمہارے لیے بھی اب ہمیشہ کے لیے موت نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت «وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ» [19-مريم:39] ، تلاوت فرمائی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا اور فرمایا اہل دنیا غفلت دنیا میں ہیں ۔ [صحیح بخاری:4830]
صفحہ نمبر5081
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک واقعہ مطول بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ”ہر شخص اپنے دوزخ اور جنت کے گھر کو دیکھ رہا ہو گا وہ دن ہی حسرت و افسوس کا ہے۔ جہنمی اپنے جنتی گھر کو دیکھ رہا ہوگا اور اس سے کہا جاتا ہوگا کہ اگر تم عمل کرتے تو تمہیں یہ جگہ ملتی وہ حسرت وافسوس کرنے لگیں گے، ادھر جنتیوں کو ان کا جہنم کا گھر دکھا کر فرمایا جائے گا کہ اگر اللہ کا احسان تم پر نہ ہوتا تو تم یہاں ہوتے۔“
اور روایت میں ہے کہ ”موت کو ذبح کر کے جب ہمیشہ کے لیے کی آواز لگا دی جائے گی، اس وقت جنتی تو اس قدر خوش ہوں گے کہ اگر اللہ نہ بچائے تو مارے خوشی کے مر جائیں اور جہنمی اس قدر رنجیدہ ہو کر چیخیں گے کہ اگر موت ہوتی تو ہلاک ہو جائیں۔“
پس اس آیت کا یہی مطلب ہے یہ وقت حسرت کا بھی ہو گا اور کام کے خاتمے کا وقت بھی یہی ہوگا۔ پس یوم الحسرت بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
صفحہ نمبر5082
چنانچہ اور آیت میں ہے «اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ» [39-الزمر:56] ، پھر بتایا کہ خالق و مالک متصرف اللہ ہی ہے۔ سب اسی کی ملکیت ہے اور سب کو فنا ہے باقی صرف اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ ہی ہے، ملکیت اور تصرف کا سچا دعویدار بجز اس کے کوئی نہیں، تمام خلق کا وارث حاکم وہی ہے، اس کی ذات ظلم سے پاک ہے۔
خلیفہ اسلام امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن کو کوفے میں خط لکھا، جس میں حمد و صلوۃ کے بعد لکھا، ”اللہ نے روز اول سے ہی ساری مخلوق پر فنا لکھ دی ہے۔ سب کو اس کی طرف پہنچنا ہے، اس نے اپنی نازل کردہ اس سچی کتاب میں جسے اپنے علم سے محفوظ کئے ہوئے ہے اور جس کی نگہبانی اپنے فرشتوں سے کرا رہا ہے، لکھ دیا ہے کہ زمین کا اور اس کے اوپر جو ہیں، ان کا وارث وہی ہے اور اسی کی طرف سب لوٹائے جائیں گے۔“
صفحہ نمبر5083
بتوں کی پوجا ٭٭
مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں، ان کے سامنے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی علیہ السلام نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کر دیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔
فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں، آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا، برائیوں سے بچا کر بھلائیوں میں پہنچا دوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورۃ یاسین میں ہے «اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ» [36-يس:60] ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ” اے انسانو! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔
اور آیت میں ہے «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا» [4-النساء:117] ، ” یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں “۔
صفحہ نمبر5086
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمانبرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچا دے گا۔“
”ابا جان آپ کے اس شرک و عصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آ جائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بے کس و بے بس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔“
جیسے فرمان باری ہے «تَاللَّـهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [16-النحل:63] یعنی ” یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے “۔
صفحہ نمبر5087
بتوں کی پوجا ٭٭
مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں، ان کے سامنے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی علیہ السلام نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کر دیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔
فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں، آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا، برائیوں سے بچا کر بھلائیوں میں پہنچا دوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورۃ یاسین میں ہے «اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ» [36-يس:60] ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ” اے انسانو! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔
اور آیت میں ہے «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا» [4-النساء:117] ، ” یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں “۔
صفحہ نمبر5086
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمانبرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچا دے گا۔“
”ابا جان آپ کے اس شرک و عصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آ جائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بے کس و بے بس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔“
جیسے فرمان باری ہے «تَاللَّـهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [16-النحل:63] یعنی ” یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے “۔
صفحہ نمبر5087
بتوں کی پوجا ٭٭
مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں، ان کے سامنے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی علیہ السلام نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کر دیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔
فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں، آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا، برائیوں سے بچا کر بھلائیوں میں پہنچا دوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورۃ یاسین میں ہے «اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ» [36-يس:60] ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ” اے انسانو! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔
اور آیت میں ہے «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا» [4-النساء:117] ، ” یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں “۔
صفحہ نمبر5086
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمانبرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچا دے گا۔“
”ابا جان آپ کے اس شرک و عصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آ جائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بے کس و بے بس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔“
جیسے فرمان باری ہے «تَاللَّـهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [16-النحل:63] یعنی ” یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے “۔
صفحہ نمبر5087
بتوں کی پوجا ٭٭
مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں، ان کے سامنے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی علیہ السلام نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کر دیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔
فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں، آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا، برائیوں سے بچا کر بھلائیوں میں پہنچا دوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورۃ یاسین میں ہے «اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ» [36-يس:60] ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ” اے انسانو! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔
اور آیت میں ہے «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا» [4-النساء:117] ، ” یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں “۔
صفحہ نمبر5086
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمانبرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچا دے گا۔“
”ابا جان آپ کے اس شرک و عصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آ جائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بے کس و بے بس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔“
جیسے فرمان باری ہے «تَاللَّـهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [16-النحل:63] یعنی ” یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے “۔
صفحہ نمبر5087
بتوں کی پوجا ٭٭
مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں، ان کے سامنے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی علیہ السلام نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کر دیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔
فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں، آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا، برائیوں سے بچا کر بھلائیوں میں پہنچا دوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورۃ یاسین میں ہے «اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ» [36-يس:60] ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ” اے انسانو! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔
اور آیت میں ہے «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا» [4-النساء:117] ، ” یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں “۔
صفحہ نمبر5086
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمانبرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچا دے گا۔“
”ابا جان آپ کے اس شرک و عصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آ جائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بے کس و بے بس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔“
جیسے فرمان باری ہے «تَاللَّـهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [16-النحل:63] یعنی ” یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے “۔
صفحہ نمبر5087
باپ کی ابراہیم علیہ السلام کو دھمکی ٭٭
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس طرح سمجھانے پر ان کے باپ نے جو جہالت کا جواب دیا، وہ بیان ہو رہا ہے کہ ”اس نے کہا ابراہیم (علیہ السلام) تو میرے معبودوں سے بیزار ہے، ان کی عبادت سے تجھے انکار ہے، اچھا سن رکھ، اگر تو اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا اور انہیں برا کہتا رہا اور ان کی عیب جوئی اور انہیں گالیاں دینے سے نہ رکا تو میں تجھے سنگسار کر دونگا۔ مجھے تو تکلیف نہ دے، نہ مجھ سے کچھ کہہ۔ یہی بہتر ہے کہ تو سلامتی کے ساتھ مجھ سے الگ ہو جائے ورنہ میں تجھے سزا دوں گا۔ مجھ سے تو تو اب ہمیشہ کے لیے گیا گزرا۔“
ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، ”اچھا خوش رہو، میری طرف سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے گی کیونکہ آپ میرے والد ہیں بلکہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کو نیک توفیق دے اور آپ کے گناہ بخشے۔“ مومنوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ جاہلوں سے بھڑتے نہیں، جیسے کہ قرآن میں ہے «وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا» [25-الفرقان:63] ” جاہلوں سے جب ان کا خطاب ہوتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام “۔
اور آیت میں ہے «وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ» [28-القصص:55] ” لغو باتوں سے وہ منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ، تمہارے اعمال تمہارے ساتھ، تم پر سلام ہو۔ ہم جاہلوں کے درپے نہیں ہوتے “۔
پھر فرمایا کہ ”میرا رب میرے ساتھ بہت مہربان ہے، اسی کی مہربانی ہے کہ مجھے ایمان و اخلاص کی ہدایت کی۔ مجھے اس سے اپنی دعا کی قبولیت کی امید ہے۔“
اسی وعدے کے مطابق آپ ان کے لیے بخشش طلب کرتے رہے۔ شام کی ہجرت کے بعد بھی، مسجد الحرام بنانے کے بعد بھی، آپ کے ہاں اولاد ہو جانے کے بعد بھی آپ کہتے رہے کہ ”اے اللہ مجھے، میرے ماں باپ کو اور تمام ایمان والوں کو حساب کے قائم ہونے کے دن بخش دے۔“ آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرو۔
صفحہ نمبر5092
آپ علیہ السلام ہی کی اقتداء میں پہلے پہل مسلمان بھی ابتداء اسلام کے زمانے میں اپنے قرابت دار مشرکوں کے لیے طلب بخشش کی دعائیں کرتے رہے۔ آخر آیت نازل ہوئی کہ بیشک ابراہیم علیہ السلام قابل اتباع ہیں لیکن اس بات میں ان کا فعل اس قابل نہیں۔ اور آیت میں فرمایا «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» الخ [9-التوبة:114،113] ، یعنی ” نبی کو اور ایمانداروں کو مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرنا چاہیئے “ الخ۔ ” اور فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام کا یہ استغفار صرف اس بناء پر تھا کہ آپ علیہ السلام اپنے والد سے اس کا وعدہ کر چکے تھے لیکن جب آپ علیہ السلام پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ علیہ السلام اس سے بری ہو گئے۔ ابراہیم علیہ السلام تو بڑے ہی اللہ دوست اور علم والے تھے “۔
پھر فرماتے ہیں کہ ”میں تم سب سے اور تمہارے ان تمام معبودوں سے الگ ہوں۔ میں صرف اللہ واحد کا عابد ہوں، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتا، میں فقط اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میں اپنی دعاؤں میں محروم نہ رہوں گا۔“ واقعہ بھی یہی ہے اور یہاں پر لفظ «عَسٰی» یقین کے معنوں میں ہے اس لیے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سید الانبیاء ہیں (علیہ السلام)۔
صفحہ نمبر5093
باپ کی ابراہیم علیہ السلام کو دھمکی ٭٭
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس طرح سمجھانے پر ان کے باپ نے جو جہالت کا جواب دیا، وہ بیان ہو رہا ہے کہ ”اس نے کہا ابراہیم (علیہ السلام) تو میرے معبودوں سے بیزار ہے، ان کی عبادت سے تجھے انکار ہے، اچھا سن رکھ، اگر تو اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا اور انہیں برا کہتا رہا اور ان کی عیب جوئی اور انہیں گالیاں دینے سے نہ رکا تو میں تجھے سنگسار کر دونگا۔ مجھے تو تکلیف نہ دے، نہ مجھ سے کچھ کہہ۔ یہی بہتر ہے کہ تو سلامتی کے ساتھ مجھ سے الگ ہو جائے ورنہ میں تجھے سزا دوں گا۔ مجھ سے تو تو اب ہمیشہ کے لیے گیا گزرا۔“
ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، ”اچھا خوش رہو، میری طرف سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے گی کیونکہ آپ میرے والد ہیں بلکہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کو نیک توفیق دے اور آپ کے گناہ بخشے۔“ مومنوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ جاہلوں سے بھڑتے نہیں، جیسے کہ قرآن میں ہے «وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا» [25-الفرقان:63] ” جاہلوں سے جب ان کا خطاب ہوتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام “۔
اور آیت میں ہے «وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ» [28-القصص:55] ” لغو باتوں سے وہ منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ، تمہارے اعمال تمہارے ساتھ، تم پر سلام ہو۔ ہم جاہلوں کے درپے نہیں ہوتے “۔
پھر فرمایا کہ ”میرا رب میرے ساتھ بہت مہربان ہے، اسی کی مہربانی ہے کہ مجھے ایمان و اخلاص کی ہدایت کی۔ مجھے اس سے اپنی دعا کی قبولیت کی امید ہے۔“
اسی وعدے کے مطابق آپ ان کے لیے بخشش طلب کرتے رہے۔ شام کی ہجرت کے بعد بھی، مسجد الحرام بنانے کے بعد بھی، آپ کے ہاں اولاد ہو جانے کے بعد بھی آپ کہتے رہے کہ ”اے اللہ مجھے، میرے ماں باپ کو اور تمام ایمان والوں کو حساب کے قائم ہونے کے دن بخش دے۔“ آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرو۔
صفحہ نمبر5092
آپ علیہ السلام ہی کی اقتداء میں پہلے پہل مسلمان بھی ابتداء اسلام کے زمانے میں اپنے قرابت دار مشرکوں کے لیے طلب بخشش کی دعائیں کرتے رہے۔ آخر آیت نازل ہوئی کہ بیشک ابراہیم علیہ السلام قابل اتباع ہیں لیکن اس بات میں ان کا فعل اس قابل نہیں۔ اور آیت میں فرمایا «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» الخ [9-التوبة:114،113] ، یعنی ” نبی کو اور ایمانداروں کو مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرنا چاہیئے “ الخ۔ ” اور فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام کا یہ استغفار صرف اس بناء پر تھا کہ آپ علیہ السلام اپنے والد سے اس کا وعدہ کر چکے تھے لیکن جب آپ علیہ السلام پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ علیہ السلام اس سے بری ہو گئے۔ ابراہیم علیہ السلام تو بڑے ہی اللہ دوست اور علم والے تھے “۔
پھر فرماتے ہیں کہ ”میں تم سب سے اور تمہارے ان تمام معبودوں سے الگ ہوں۔ میں صرف اللہ واحد کا عابد ہوں، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتا، میں فقط اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میں اپنی دعاؤں میں محروم نہ رہوں گا۔“ واقعہ بھی یہی ہے اور یہاں پر لفظ «عَسٰی» یقین کے معنوں میں ہے اس لیے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سید الانبیاء ہیں (علیہ السلام)۔
صفحہ نمبر5093
باپ کی ابراہیم علیہ السلام کو دھمکی ٭٭
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس طرح سمجھانے پر ان کے باپ نے جو جہالت کا جواب دیا، وہ بیان ہو رہا ہے کہ ”اس نے کہا ابراہیم (علیہ السلام) تو میرے معبودوں سے بیزار ہے، ان کی عبادت سے تجھے انکار ہے، اچھا سن رکھ، اگر تو اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا اور انہیں برا کہتا رہا اور ان کی عیب جوئی اور انہیں گالیاں دینے سے نہ رکا تو میں تجھے سنگسار کر دونگا۔ مجھے تو تکلیف نہ دے، نہ مجھ سے کچھ کہہ۔ یہی بہتر ہے کہ تو سلامتی کے ساتھ مجھ سے الگ ہو جائے ورنہ میں تجھے سزا دوں گا۔ مجھ سے تو تو اب ہمیشہ کے لیے گیا گزرا۔“
ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، ”اچھا خوش رہو، میری طرف سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے گی کیونکہ آپ میرے والد ہیں بلکہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کو نیک توفیق دے اور آپ کے گناہ بخشے۔“ مومنوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ جاہلوں سے بھڑتے نہیں، جیسے کہ قرآن میں ہے «وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا» [25-الفرقان:63] ” جاہلوں سے جب ان کا خطاب ہوتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام “۔
اور آیت میں ہے «وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ» [28-القصص:55] ” لغو باتوں سے وہ منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ، تمہارے اعمال تمہارے ساتھ، تم پر سلام ہو۔ ہم جاہلوں کے درپے نہیں ہوتے “۔
پھر فرمایا کہ ”میرا رب میرے ساتھ بہت مہربان ہے، اسی کی مہربانی ہے کہ مجھے ایمان و اخلاص کی ہدایت کی۔ مجھے اس سے اپنی دعا کی قبولیت کی امید ہے۔“
اسی وعدے کے مطابق آپ ان کے لیے بخشش طلب کرتے رہے۔ شام کی ہجرت کے بعد بھی، مسجد الحرام بنانے کے بعد بھی، آپ کے ہاں اولاد ہو جانے کے بعد بھی آپ کہتے رہے کہ ”اے اللہ مجھے، میرے ماں باپ کو اور تمام ایمان والوں کو حساب کے قائم ہونے کے دن بخش دے۔“ آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرو۔
صفحہ نمبر5092
آپ علیہ السلام ہی کی اقتداء میں پہلے پہل مسلمان بھی ابتداء اسلام کے زمانے میں اپنے قرابت دار مشرکوں کے لیے طلب بخشش کی دعائیں کرتے رہے۔ آخر آیت نازل ہوئی کہ بیشک ابراہیم علیہ السلام قابل اتباع ہیں لیکن اس بات میں ان کا فعل اس قابل نہیں۔ اور آیت میں فرمایا «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» الخ [9-التوبة:114،113] ، یعنی ” نبی کو اور ایمانداروں کو مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرنا چاہیئے “ الخ۔ ” اور فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام کا یہ استغفار صرف اس بناء پر تھا کہ آپ علیہ السلام اپنے والد سے اس کا وعدہ کر چکے تھے لیکن جب آپ علیہ السلام پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ علیہ السلام اس سے بری ہو گئے۔ ابراہیم علیہ السلام تو بڑے ہی اللہ دوست اور علم والے تھے “۔
پھر فرماتے ہیں کہ ”میں تم سب سے اور تمہارے ان تمام معبودوں سے الگ ہوں۔ میں صرف اللہ واحد کا عابد ہوں، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتا، میں فقط اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میں اپنی دعاؤں میں محروم نہ رہوں گا۔“ واقعہ بھی یہی ہے اور یہاں پر لفظ «عَسٰی» یقین کے معنوں میں ہے اس لیے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سید الانبیاء ہیں (علیہ السلام)۔
صفحہ نمبر5093
لاتعلق ہونے کا اعلان ٭٭
خلیل اللہ علیہ السلام ماں باپ کو، رشتے کنبے کو، قوم و ملک کو اللہ کے دین پر قربان کر چکے، سب سے یک طرف ہو گئے، اپنی برأت اور علیحدگی کا اعلان کر دیا تو اللہ نے ان کی نسل جاری کر دی۔ آپ علیہ السلام کے ہاں اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسحاق علیہ السلام کے ہاں یعقوب علیہ السلام ہوئے۔ جیسے فرمان ہے «وَيَعْقُوْبَ نَافِلَةً وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِيْنَ» [21-الأنبياء:72] اور آیت میں ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [11-ھود:71] یعنی ” اسحاق کے پیچھے یعقوب “۔
پس اسحاق علیہ السلام یعقوب علیہ السلام کے والد تھے جیسے سورۃ البقرہ کی آیت «أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَـٰهَكَ وَإِلَـٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَـٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ» [2-البقرة:133] الخ، میں صاف لفظ ہیں کہ ” یعقوب علیہ السلام نے اپنے انتقال کے وقت اپنے بچوں سے پوچھا کہ تم سب میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اسی اللہ کی جس کی عبادت آپ کرتے ہیں اور آپ کے والد ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق علیہم السلام “۔
پس یہاں مطلب یہ ہے کہ ” ہم نے اس کی نسل جاری رکھی، بیٹا دیا، بیٹے کے ہاں بیٹا دیا اور دونوں نبی بنا کر آپ علیہ السلام کی آنکھیں ٹھنڈی کیں “۔ یہ ظاہر ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے بعد آپ علیہ السلام کے فرزند یوسف علیہ السلام بھی نبی بنائے گئے تھے ان کا ذکر یہاں نہیں کیا اس لیے کہ یوسف علیہ السلام کی نبوت کے وقت خلیل اللہ علیہ السلام زندہ نہ تھے۔ یہ دونوں نبوتیں یعنی اسحاق علیہ السلام ویعقوب علیہ السلام کی نبوت آپ علیہ السلام کی زندگی میں آپ کے سامنے تھی اس لیے اس احسان کا ذکر بیان فرمایا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سوال ہوا کہ سب سے بہتر شخص کون ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوسف نبی اللہ بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق نبی اللہ بن ابراہیم نبی اللہ وخلیل اللہ ۔ [صحیح بخاری:3383]
اور حدیث میں ہے کریم بن کریم بن کریم بن کریم، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں علیہم الصلوۃ والسلام ۔ [صحیح بخاری:3382]
” ہم نے انہیں اپنی بہت ساری رحمتیں دیں اور ان کا ذکر خیر اور ثنا جمیل کو دنیا میں ان کے بعد بلندی کے ساتھ باقی رکھا یہاں تک کہ ہر مذہب والے ان کے گن گاتے ہیں “۔ «فَصَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْ اَجْمَعِیْنَ» ۔
صفحہ نمبر5096
لاتعلق ہونے کا اعلان ٭٭
خلیل اللہ علیہ السلام ماں باپ کو، رشتے کنبے کو، قوم و ملک کو اللہ کے دین پر قربان کر چکے، سب سے یک طرف ہو گئے، اپنی برأت اور علیحدگی کا اعلان کر دیا تو اللہ نے ان کی نسل جاری کر دی۔ آپ علیہ السلام کے ہاں اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسحاق علیہ السلام کے ہاں یعقوب علیہ السلام ہوئے۔ جیسے فرمان ہے «وَيَعْقُوْبَ نَافِلَةً وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِيْنَ» [21-الأنبياء:72] اور آیت میں ہے «وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [11-ھود:71] یعنی ” اسحاق کے پیچھے یعقوب “۔
پس اسحاق علیہ السلام یعقوب علیہ السلام کے والد تھے جیسے سورۃ البقرہ کی آیت «أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَـٰهَكَ وَإِلَـٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَـٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ» [2-البقرة:133] الخ، میں صاف لفظ ہیں کہ ” یعقوب علیہ السلام نے اپنے انتقال کے وقت اپنے بچوں سے پوچھا کہ تم سب میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اسی اللہ کی جس کی عبادت آپ کرتے ہیں اور آپ کے والد ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق علیہم السلام “۔
پس یہاں مطلب یہ ہے کہ ” ہم نے اس کی نسل جاری رکھی، بیٹا دیا، بیٹے کے ہاں بیٹا دیا اور دونوں نبی بنا کر آپ علیہ السلام کی آنکھیں ٹھنڈی کیں “۔ یہ ظاہر ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے بعد آپ علیہ السلام کے فرزند یوسف علیہ السلام بھی نبی بنائے گئے تھے ان کا ذکر یہاں نہیں کیا اس لیے کہ یوسف علیہ السلام کی نبوت کے وقت خلیل اللہ علیہ السلام زندہ نہ تھے۔ یہ دونوں نبوتیں یعنی اسحاق علیہ السلام ویعقوب علیہ السلام کی نبوت آپ علیہ السلام کی زندگی میں آپ کے سامنے تھی اس لیے اس احسان کا ذکر بیان فرمایا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سوال ہوا کہ سب سے بہتر شخص کون ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوسف نبی اللہ بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق نبی اللہ بن ابراہیم نبی اللہ وخلیل اللہ ۔ [صحیح بخاری:3383]
اور حدیث میں ہے کریم بن کریم بن کریم بن کریم، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں علیہم الصلوۃ والسلام ۔ [صحیح بخاری:3382]
” ہم نے انہیں اپنی بہت ساری رحمتیں دیں اور ان کا ذکر خیر اور ثنا جمیل کو دنیا میں ان کے بعد بلندی کے ساتھ باقی رکھا یہاں تک کہ ہر مذہب والے ان کے گن گاتے ہیں “۔ «فَصَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْ اَجْمَعِیْنَ» ۔
صفحہ نمبر5096
خلوص ابراہیم علیہ السلام ٭٭
اپنے خلیل علیہ السلام کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم علیہ السلام کا بیان فرماتا ہے۔ «مُخلَصاً» کی دوسری قرأت «مُخلِصاً» بھی ہے۔ یعنی ” وہ بااخلاص عبادت کرنے والے تھے “۔
مروی ہے کہ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ”اے روح اللہ! ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”جو محض اللہ کے لیے عمل کرے، اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔“
دوسری قرأت میں «مُخْلَصاً» ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے موسیٰ علیہ السلام جیسے فرمان باری ہے «اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ» [7-الأعراف:144] آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ پانچ بڑے بڑے جلیل القدر اولو العزم رسولوں میں سے ایک آپ علیہ السلام ہیں یعنی نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد صلوات اللہ و سلامہ علیہم وعلی سائر الانبیاء اجمعین۔ ” ہم نے انہیں مبارک پہاڑ طور کی دائیں جانب سے آواز دی اور سرگوشی کرتے ہوئے اپنے قریب کر لیا “۔
یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ آگ کی تلاش میں طور کی طرف یہاں آگ دیکھ کر بڑھے تھے۔
صفحہ نمبر5098
ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں، ”اس قدر قریب ہو گئے کہ قلم کی آواز سننے لگے۔“ مراد اس سے توراۃ لکھنے کی قلم ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں، آسمان میں گئے اور کلام باری سے مشرف ہوئے۔ کہتے ہیں، انہی باتوں میں یہ فرمان بھی ہے کہ ” اے موسیٰ! جب کہ میں تیرے دل کو شکر گزار اور تیری زبان کو اپنا ذکر کرنے والی بنا دوں اور تجھے ایسی بیوی دوں جو نیکی کے کاموں میں تیری معاون ہو تو سمجھ لے کہ میں نے تجھ سے کوئی بھلائی اٹھا نہیں رکھی اور جسے میں یہ چیزیں نہ دوں، سمجھ لے کہ اسے کوئی بھلائی نہیں ملی “۔
” ان پر ایک مہربانی ہم نے یہ بھی کی کہ ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کی امداد کے لیے ان کے ساتھ کر دیا جیسے کہ آپ علیہ السلام کی چاہت اور دعا تھی “۔ فرمایا تھا «وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ» [28-القص:34] ، اور آیت میں ہے «قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى» [20-طه:36] ” موسیٰ تیرا سوال ہم نے پورا کر دیا “۔
آپ علیہ السلام کی دعا کے لفظ یہ بھی وارد ہیں «فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ» [26-الشعراء:13] الخ، ” ہارون کو بھی رسول بنا “ الخ۔ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ بہتر دعا اور اس سے بڑھ کر شفاعت کسی نے کسی کی دنیا میں نہیں کی۔ ہارون موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے۔ «صَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْا» ۔
صفحہ نمبر5099
خلوص ابراہیم علیہ السلام ٭٭
اپنے خلیل علیہ السلام کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم علیہ السلام کا بیان فرماتا ہے۔ «مُخلَصاً» کی دوسری قرأت «مُخلِصاً» بھی ہے۔ یعنی ” وہ بااخلاص عبادت کرنے والے تھے “۔
مروی ہے کہ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ”اے روح اللہ! ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”جو محض اللہ کے لیے عمل کرے، اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔“
دوسری قرأت میں «مُخْلَصاً» ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے موسیٰ علیہ السلام جیسے فرمان باری ہے «اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ» [7-الأعراف:144] آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ پانچ بڑے بڑے جلیل القدر اولو العزم رسولوں میں سے ایک آپ علیہ السلام ہیں یعنی نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد صلوات اللہ و سلامہ علیہم وعلی سائر الانبیاء اجمعین۔ ” ہم نے انہیں مبارک پہاڑ طور کی دائیں جانب سے آواز دی اور سرگوشی کرتے ہوئے اپنے قریب کر لیا “۔
یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ آگ کی تلاش میں طور کی طرف یہاں آگ دیکھ کر بڑھے تھے۔
صفحہ نمبر5098
ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں، ”اس قدر قریب ہو گئے کہ قلم کی آواز سننے لگے۔“ مراد اس سے توراۃ لکھنے کی قلم ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں، آسمان میں گئے اور کلام باری سے مشرف ہوئے۔ کہتے ہیں، انہی باتوں میں یہ فرمان بھی ہے کہ ” اے موسیٰ! جب کہ میں تیرے دل کو شکر گزار اور تیری زبان کو اپنا ذکر کرنے والی بنا دوں اور تجھے ایسی بیوی دوں جو نیکی کے کاموں میں تیری معاون ہو تو سمجھ لے کہ میں نے تجھ سے کوئی بھلائی اٹھا نہیں رکھی اور جسے میں یہ چیزیں نہ دوں، سمجھ لے کہ اسے کوئی بھلائی نہیں ملی “۔
” ان پر ایک مہربانی ہم نے یہ بھی کی کہ ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کی امداد کے لیے ان کے ساتھ کر دیا جیسے کہ آپ علیہ السلام کی چاہت اور دعا تھی “۔ فرمایا تھا «وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ» [28-القص:34] ، اور آیت میں ہے «قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى» [20-طه:36] ” موسیٰ تیرا سوال ہم نے پورا کر دیا “۔
آپ علیہ السلام کی دعا کے لفظ یہ بھی وارد ہیں «فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ» [26-الشعراء:13] الخ، ” ہارون کو بھی رسول بنا “ الخ۔ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ بہتر دعا اور اس سے بڑھ کر شفاعت کسی نے کسی کی دنیا میں نہیں کی۔ ہارون موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے۔ «صَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْا» ۔
صفحہ نمبر5099
خلوص ابراہیم علیہ السلام ٭٭
اپنے خلیل علیہ السلام کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم علیہ السلام کا بیان فرماتا ہے۔ «مُخلَصاً» کی دوسری قرأت «مُخلِصاً» بھی ہے۔ یعنی ” وہ بااخلاص عبادت کرنے والے تھے “۔
مروی ہے کہ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ”اے روح اللہ! ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”جو محض اللہ کے لیے عمل کرے، اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔“
دوسری قرأت میں «مُخْلَصاً» ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے موسیٰ علیہ السلام جیسے فرمان باری ہے «اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ» [7-الأعراف:144] آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ پانچ بڑے بڑے جلیل القدر اولو العزم رسولوں میں سے ایک آپ علیہ السلام ہیں یعنی نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد صلوات اللہ و سلامہ علیہم وعلی سائر الانبیاء اجمعین۔ ” ہم نے انہیں مبارک پہاڑ طور کی دائیں جانب سے آواز دی اور سرگوشی کرتے ہوئے اپنے قریب کر لیا “۔
یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ آگ کی تلاش میں طور کی طرف یہاں آگ دیکھ کر بڑھے تھے۔
صفحہ نمبر5098
ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں، ”اس قدر قریب ہو گئے کہ قلم کی آواز سننے لگے۔“ مراد اس سے توراۃ لکھنے کی قلم ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں، آسمان میں گئے اور کلام باری سے مشرف ہوئے۔ کہتے ہیں، انہی باتوں میں یہ فرمان بھی ہے کہ ” اے موسیٰ! جب کہ میں تیرے دل کو شکر گزار اور تیری زبان کو اپنا ذکر کرنے والی بنا دوں اور تجھے ایسی بیوی دوں جو نیکی کے کاموں میں تیری معاون ہو تو سمجھ لے کہ میں نے تجھ سے کوئی بھلائی اٹھا نہیں رکھی اور جسے میں یہ چیزیں نہ دوں، سمجھ لے کہ اسے کوئی بھلائی نہیں ملی “۔
” ان پر ایک مہربانی ہم نے یہ بھی کی کہ ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کی امداد کے لیے ان کے ساتھ کر دیا جیسے کہ آپ علیہ السلام کی چاہت اور دعا تھی “۔ فرمایا تھا «وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ» [28-القص:34] ، اور آیت میں ہے «قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى» [20-طه:36] ” موسیٰ تیرا سوال ہم نے پورا کر دیا “۔
آپ علیہ السلام کی دعا کے لفظ یہ بھی وارد ہیں «فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ» [26-الشعراء:13] الخ، ” ہارون کو بھی رسول بنا “ الخ۔ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ بہتر دعا اور اس سے بڑھ کر شفاعت کسی نے کسی کی دنیا میں نہیں کی۔ ہارون موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے۔ «صَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْا» ۔
صفحہ نمبر5099
ابوالحجاز علیہ السلام ٭٭
حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہم السلام کا ذکر خیر بیان ہو رہا ہے۔ آپ علیہ السلام سارے حجاز کے باپ ہیں۔ جو نذر اللہ کے نام کی مانتے تھے، جو عبادت کرنے کا ارادہ کرتے تھے، پوری ہی کرتے تھے۔ ہر حق ادا کرتے تھے ہر وعدے کی وفا کرتے تھے۔ ایک شخص سے وعدہ کیا کہ میں فلاں جگہ آپ کو ملوں گا وہاں آپ آ جانا۔ حسب وعدہ اسماعیل علیہ السلام وہاں گئے لیکن وہ شخص نہیں آیا تھا۔ آپ اس کے انتظار میں وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ ایک دن رات پورا گزر گیا۔
اب اس شخص کو یاد آیا، اس نے آ کر دیکھا کہ آپ علیہ السلام وہیں انتظار میں ہیں۔ پوچھا کہ کیا آپ علیہ السلام کل سے یہیں ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”جب وعدہ ہو چکا تھا تو پھر میں آپ کے آئے بغیر کیسے ہٹ سکتا تھا۔“ اس نے معذرت کی کہ میں بالکل بھول گیا تھا۔
سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ تو کہتے ہیں، یہیں انتظار میں ہی آپ علیہ السلام کو ایک سال کامل گزر چکا تھا۔ ابن شوزب کہتے ہیں، وہیں مکان کر لیا تھا۔ عبداللہ بن ابو الحما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ تجارتی لین دین کیا تھا، میں چلا گیا اور یہ کہہ گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہیں ٹھہریے۔ میں ابھی واپس آتا ہوں پھر مجھے خیال ہی نہ رہا، وہ دن گزرا وہ رات گزری دوسرا دن گزر گیا، تیسرے دن مجھے خیال آیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں تشریف فرما ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ کو مشقت میں ڈال دیا، میں آج تین دن سے یہیں تمہارا انتظار کرتا رہا ۔ [سنن ابوداود:4996،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5102
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس وعدے کا ذکر ہے جو آپ علیہ السلام نے بوقت ذبح کیا تھا کہ ”اباجی آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے۔“ چنانچہ فی الواقع آپ علیہ السلام نے وعدے کی وفا کی اور صبر و برداشت سے کام لیا۔ وعدے کی وفا نیک کام ہے اور وعدہ خلافی بہت بری چیز ہے۔
قرآن کریم فرماتا ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ» [61-الصف:2-3] ” ایمان والو! وہ باتیں زبان سے کیوں نکالتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے اللہ کے نزدیک یہ بات نہایت ہی غضبناکی کی ہے کہ تم وہ کہو جو نہ کرو “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں منافق کی تین نشانیاں ہیں باتوں میں جھوٹ، وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت ۔ [صحیح بخاری:33]
ان آفتوں سے مومن الگ تھلگ ہوتے ہیں۔ یہی وعدے کی سچائی اسماعیل علیہ السلام میں تھی اور یہی پاک صفت جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی تھی۔ کبھی کسی سے کسی وعدے کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔
صفحہ نمبر5103
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ابوالعاص بن ربیع کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے مجھ سے جو بات کی، سچی کی اور جو وعدہ اس نے مجھ سے کیا، پورا کیا ۔ [صحیح بخاری:3729]
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے تخت خلافت نبوی پر قدم رکھتے ہی اعلان کر دیا کہ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو وعدہ کیا ہو، میں اسے پورا کرنے کے لیے تیار ہوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جس کاقرض ہو، میں اس کی ادائیگی کے لیے موجود ہوں۔ چنانچہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور عرض کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا مال آیا تو میں تجھے تین لپیں بھر کر دونگا۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس جب بحرین کا مال آیا تو آپ نے جابر رضی اللہ عنہ کو بلوا کر فرمایا، لو لپ بھر لو۔ آپ کی لپ میں پانچ سو درہم آئے حکم دیا کہ تین لپوں کے پندرہ سو درہم لے لو ۔ [صحیح بخاری:4383]
پھر اسماعیل علیہ السلام کا رسول نبی ہونا بیان فرمایا۔ حالانکہ اسحاق علیہ السلام کا صرف نبی ہونا بیان فرمایا گیا ہے۔ اس سے آپ کی فضیلت اپنے بھائی پر ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اولاد ابراہیم علیہ السلام میں سے اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کو پسند فرمایا ۔ [صحیح مسلم:2276] ۔
صفحہ نمبر5104
پھر آپ علیہ السلام کی مزید تعریف بیان ہو رہی ہے کہ ” آپ علیہ السلام اللہ کی اطاعت پر صابر تھے اور اپنے گھرانے کو بھی یہی حکم فرماتے رہتے تھے “۔
یہی فرمان اللہ تعالیٰ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے «وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْــَٔــلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ للتَّقْوٰى» [20-طه:132] ، ” اپنے اہل و عیال کو نماز کا حکم کرتا رہ اور خود بھی اس پر مضبوطی سے عامل رہ “۔
اور آیت میں ہے «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ» [66-التحريم:6] ، ” اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچا لو جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر۔ جہاں عذاب کرنے والے فرشتے رحم سے خالی، زور آور اور بڑے سخت ہیں۔ ناممکن ہے کہ اللہ کے حکم کا وہ خلاف کریں بلکہ جو ان سے کہا گیا ہے، اسی کی تابعداری میں مشغول ہیں “۔
پس مسلمانوں کو حکم الٰہی ہو رہا ہے کہ اپنے گھر بار کو اللہ کی باتوں کی ہدایت کرتے رہیں، گناہوں سے روکتے رہیں، یونہی بے تعلیم نہ چھوڑیں کہ وہ جہنم کا لقمہ بن جائیں۔
صفحہ نمبر5105
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس مرد پر اللہ کا رحم ہو جو رات کو تہجد پڑھنے کے لیے اپنے بستر سے اٹھتا ہے پھر اپنی بیوی کو اٹھاتا ہے اور اگر وہ نہیں اٹھتی تو اس کے منہ پر پانی چھڑک کر اسے نیند سے بیدار کرتا ہے۔ اس عورت پر بھی اللہ کی رحمت ہو جو رات کو تہجد پڑھنے کے لیے اٹھتی ہے۔ پھر اپنے میاں کو جگاتی ہے اور وہ نہ جاگے تو اس کے منہ پر پانی کا چھینٹا ڈالتی ہے ۔ [سنن ابوداود:1308،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جب انسان رات کو جاگے اور اپنی بیوی کو بھی جگائے اور دونوں دو رکعت بھی نماز کی ادا کر لیں تو اللہ کے ہاں اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں عورتوں میں دونوں کے نام لکھ لیے جاتے ہیں ۔ [سنن ابوداود:1309،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5106
ابوالحجاز علیہ السلام ٭٭
حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہم السلام کا ذکر خیر بیان ہو رہا ہے۔ آپ علیہ السلام سارے حجاز کے باپ ہیں۔ جو نذر اللہ کے نام کی مانتے تھے، جو عبادت کرنے کا ارادہ کرتے تھے، پوری ہی کرتے تھے۔ ہر حق ادا کرتے تھے ہر وعدے کی وفا کرتے تھے۔ ایک شخص سے وعدہ کیا کہ میں فلاں جگہ آپ کو ملوں گا وہاں آپ آ جانا۔ حسب وعدہ اسماعیل علیہ السلام وہاں گئے لیکن وہ شخص نہیں آیا تھا۔ آپ اس کے انتظار میں وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ ایک دن رات پورا گزر گیا۔
اب اس شخص کو یاد آیا، اس نے آ کر دیکھا کہ آپ علیہ السلام وہیں انتظار میں ہیں۔ پوچھا کہ کیا آپ علیہ السلام کل سے یہیں ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”جب وعدہ ہو چکا تھا تو پھر میں آپ کے آئے بغیر کیسے ہٹ سکتا تھا۔“ اس نے معذرت کی کہ میں بالکل بھول گیا تھا۔
سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ تو کہتے ہیں، یہیں انتظار میں ہی آپ علیہ السلام کو ایک سال کامل گزر چکا تھا۔ ابن شوزب کہتے ہیں، وہیں مکان کر لیا تھا۔ عبداللہ بن ابو الحما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ تجارتی لین دین کیا تھا، میں چلا گیا اور یہ کہہ گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہیں ٹھہریے۔ میں ابھی واپس آتا ہوں پھر مجھے خیال ہی نہ رہا، وہ دن گزرا وہ رات گزری دوسرا دن گزر گیا، تیسرے دن مجھے خیال آیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں تشریف فرما ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ کو مشقت میں ڈال دیا، میں آج تین دن سے یہیں تمہارا انتظار کرتا رہا ۔ [سنن ابوداود:4996،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5102
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس وعدے کا ذکر ہے جو آپ علیہ السلام نے بوقت ذبح کیا تھا کہ ”اباجی آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے۔“ چنانچہ فی الواقع آپ علیہ السلام نے وعدے کی وفا کی اور صبر و برداشت سے کام لیا۔ وعدے کی وفا نیک کام ہے اور وعدہ خلافی بہت بری چیز ہے۔
قرآن کریم فرماتا ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ» [61-الصف:2-3] ” ایمان والو! وہ باتیں زبان سے کیوں نکالتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے اللہ کے نزدیک یہ بات نہایت ہی غضبناکی کی ہے کہ تم وہ کہو جو نہ کرو “۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں منافق کی تین نشانیاں ہیں باتوں میں جھوٹ، وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت ۔ [صحیح بخاری:33]
ان آفتوں سے مومن الگ تھلگ ہوتے ہیں۔ یہی وعدے کی سچائی اسماعیل علیہ السلام میں تھی اور یہی پاک صفت جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی تھی۔ کبھی کسی سے کسی وعدے کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔
صفحہ نمبر5103
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ابوالعاص بن ربیع کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے مجھ سے جو بات کی، سچی کی اور جو وعدہ اس نے مجھ سے کیا، پورا کیا ۔ [صحیح بخاری:3729]
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے تخت خلافت نبوی پر قدم رکھتے ہی اعلان کر دیا کہ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو وعدہ کیا ہو، میں اسے پورا کرنے کے لیے تیار ہوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جس کاقرض ہو، میں اس کی ادائیگی کے لیے موجود ہوں۔ چنانچہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور عرض کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا مال آیا تو میں تجھے تین لپیں بھر کر دونگا۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس جب بحرین کا مال آیا تو آپ نے جابر رضی اللہ عنہ کو بلوا کر فرمایا، لو لپ بھر لو۔ آپ کی لپ میں پانچ سو درہم آئے حکم دیا کہ تین لپوں کے پندرہ سو درہم لے لو ۔ [صحیح بخاری:4383]
پھر اسماعیل علیہ السلام کا رسول نبی ہونا بیان فرمایا۔ حالانکہ اسحاق علیہ السلام کا صرف نبی ہونا بیان فرمایا گیا ہے۔ اس سے آپ کی فضیلت اپنے بھائی پر ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اولاد ابراہیم علیہ السلام میں سے اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کو پسند فرمایا ۔ [صحیح مسلم:2276] ۔
صفحہ نمبر5104
پھر آپ علیہ السلام کی مزید تعریف بیان ہو رہی ہے کہ ” آپ علیہ السلام اللہ کی اطاعت پر صابر تھے اور اپنے گھرانے کو بھی یہی حکم فرماتے رہتے تھے “۔
یہی فرمان اللہ تعالیٰ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے «وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْــَٔــلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ للتَّقْوٰى» [20-طه:132] ، ” اپنے اہل و عیال کو نماز کا حکم کرتا رہ اور خود بھی اس پر مضبوطی سے عامل رہ “۔
اور آیت میں ہے «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ» [66-التحريم:6] ، ” اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچا لو جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر۔ جہاں عذاب کرنے والے فرشتے رحم سے خالی، زور آور اور بڑے سخت ہیں۔ ناممکن ہے کہ اللہ کے حکم کا وہ خلاف کریں بلکہ جو ان سے کہا گیا ہے، اسی کی تابعداری میں مشغول ہیں “۔
پس مسلمانوں کو حکم الٰہی ہو رہا ہے کہ اپنے گھر بار کو اللہ کی باتوں کی ہدایت کرتے رہیں، گناہوں سے روکتے رہیں، یونہی بے تعلیم نہ چھوڑیں کہ وہ جہنم کا لقمہ بن جائیں۔
صفحہ نمبر5105
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس مرد پر اللہ کا رحم ہو جو رات کو تہجد پڑھنے کے لیے اپنے بستر سے اٹھتا ہے پھر اپنی بیوی کو اٹھاتا ہے اور اگر وہ نہیں اٹھتی تو اس کے منہ پر پانی چھڑک کر اسے نیند سے بیدار کرتا ہے۔ اس عورت پر بھی اللہ کی رحمت ہو جو رات کو تہجد پڑھنے کے لیے اٹھتی ہے۔ پھر اپنے میاں کو جگاتی ہے اور وہ نہ جاگے تو اس کے منہ پر پانی کا چھینٹا ڈالتی ہے ۔ [سنن ابوداود:1308،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جب انسان رات کو جاگے اور اپنی بیوی کو بھی جگائے اور دونوں دو رکعت بھی نماز کی ادا کر لیں تو اللہ کے ہاں اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں عورتوں میں دونوں کے نام لکھ لیے جاتے ہیں ۔ [سنن ابوداود:1309،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5106
ادریس علیہ السلام کا تعارف ٭٭
حضرت ادریس علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ ” آپ علیہ السلام سچے نبی تھے، اللہ کے خاص بندے تھے۔ آپ علیہ السلام کو ہم نے بلند مکان پر اٹھا لیا “۔
صحیح حدیث کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے کہ چوتھے آسمان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادریس علیہ السلام سے ملاقات کی ۔ [صحیح بخاری:7517]
اس آیت کی تفسیر میں امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ایک عجیب وغریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کعب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”اس آیت کا مطلب کیا ہے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”ادریس علیہ السلام کے پاس وحی آئی کہ کل اولاد آدم کے نیک اعمال کے برابر صرف تیرے نیک اعمال میں اپنی طرف ہر روز چڑھاتا ہوں۔ اس پر آپ علیہ السلام کو خیال آیا کہ آپ عمل میں اور سبقت کریں۔ جب آپ علیہ السلام کے پاس آپ کا دوست فرشتہ آیا تو آپ علیہ السلام نے اس سے ذکر کیا میرے پاس یوں وحی آئی ہے، اب تم ملک الموت سے کہو کہ وہ میری موت میں تاخیر کریں تو میں نیک اعمال میں اور اور بڑھ جاؤں۔ اس فرشتے نے آپ علیہ السلام کو اپنے پروں میں بٹھا کر آسمان پر چڑھا دیا۔ جب چوتھے آسمان پر آپ علیہ السلام پہنچے تو ملک الموت کو دیکھا، فرشتے نے آپ سے ادریس علیہ السلام کی بابت سفارش کی تو ملک الموت نے فرمایا، وہ کہاں ہیں؟ اس نے کہا، یہ ہیں میرے بازو پر بیٹھے ہوئے۔ آپ نے فرمایا سبحان اللہ مجھے یہاں اس آسمان پر ان کی روح کے قبض کرنے کا حکم ہو رہا ہے چنانچہ اسی وقت ان کی روح قبض کرلی گئی۔ یہ ہیں اس آیت کے معنی۔“ لیکن یہ یاد رہے کہ کعب رحمہ اللہ کا یہ بیان اسرائیلیات میں سے ہے اور اس کے بعض میں نکارت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہی روایت اور سند سے بھی ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ آپ علیہ السلام نے بذریعہ اس فرشتے کو پچھوایا تھا کہ میری عمر کتنی باقی ہے؟ اور روایت میں ہے کہ فرشتے کے اس سوال پر ملک الموت نے جواب دیا کہ میں دیکھ لوں، دیکھ کر فرمایا، صرف ایک آنکھ کی پلک کے برابر اب جو فرشتہ اپنے پر تلے دیکھتا ہے تو ادریس علیہ السلام کی روح پرواز ہو چکی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ علیہ السلام درزی تھے، سوئی کے ایک ایک ٹانکے پر «سُبْحَانَ اللَّهِ» کہتے۔ شام کو ان سے زیادہ نیک عمل آسمان پر کسی کے نہ چڑھتے۔
مجاہد رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ادریس علیہ السلام آسمانوں پر چڑھالئے گئے۔ آپ علیہ السلام مرے نہیں بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرح بے موت اٹھا لیے گئے اور وہیں انتقال فرماگئے۔ حسن رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں بلند مکان سے مراد جنت ہے۔
صفحہ نمبر5108
ادریس علیہ السلام کا تعارف ٭٭
حضرت ادریس علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ ” آپ علیہ السلام سچے نبی تھے، اللہ کے خاص بندے تھے۔ آپ علیہ السلام کو ہم نے بلند مکان پر اٹھا لیا “۔
صحیح حدیث کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے کہ چوتھے آسمان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادریس علیہ السلام سے ملاقات کی ۔ [صحیح بخاری:7517]
اس آیت کی تفسیر میں امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ایک عجیب وغریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کعب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”اس آیت کا مطلب کیا ہے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”ادریس علیہ السلام کے پاس وحی آئی کہ کل اولاد آدم کے نیک اعمال کے برابر صرف تیرے نیک اعمال میں اپنی طرف ہر روز چڑھاتا ہوں۔ اس پر آپ علیہ السلام کو خیال آیا کہ آپ عمل میں اور سبقت کریں۔ جب آپ علیہ السلام کے پاس آپ کا دوست فرشتہ آیا تو آپ علیہ السلام نے اس سے ذکر کیا میرے پاس یوں وحی آئی ہے، اب تم ملک الموت سے کہو کہ وہ میری موت میں تاخیر کریں تو میں نیک اعمال میں اور اور بڑھ جاؤں۔ اس فرشتے نے آپ علیہ السلام کو اپنے پروں میں بٹھا کر آسمان پر چڑھا دیا۔ جب چوتھے آسمان پر آپ علیہ السلام پہنچے تو ملک الموت کو دیکھا، فرشتے نے آپ سے ادریس علیہ السلام کی بابت سفارش کی تو ملک الموت نے فرمایا، وہ کہاں ہیں؟ اس نے کہا، یہ ہیں میرے بازو پر بیٹھے ہوئے۔ آپ نے فرمایا سبحان اللہ مجھے یہاں اس آسمان پر ان کی روح کے قبض کرنے کا حکم ہو رہا ہے چنانچہ اسی وقت ان کی روح قبض کرلی گئی۔ یہ ہیں اس آیت کے معنی۔“ لیکن یہ یاد رہے کہ کعب رحمہ اللہ کا یہ بیان اسرائیلیات میں سے ہے اور اس کے بعض میں نکارت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہی روایت اور سند سے بھی ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ آپ علیہ السلام نے بذریعہ اس فرشتے کو پچھوایا تھا کہ میری عمر کتنی باقی ہے؟ اور روایت میں ہے کہ فرشتے کے اس سوال پر ملک الموت نے جواب دیا کہ میں دیکھ لوں، دیکھ کر فرمایا، صرف ایک آنکھ کی پلک کے برابر اب جو فرشتہ اپنے پر تلے دیکھتا ہے تو ادریس علیہ السلام کی روح پرواز ہو چکی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ علیہ السلام درزی تھے، سوئی کے ایک ایک ٹانکے پر «سُبْحَانَ اللَّهِ» کہتے۔ شام کو ان سے زیادہ نیک عمل آسمان پر کسی کے نہ چڑھتے۔
مجاہد رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ادریس علیہ السلام آسمانوں پر چڑھالئے گئے۔ آپ علیہ السلام مرے نہیں بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرح بے موت اٹھا لیے گئے اور وہیں انتقال فرماگئے۔ حسن رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں بلند مکان سے مراد جنت ہے۔
صفحہ نمبر5108
انبیاء کی جماعت کا ذکر ٭٭
فرمان الٰہی ہے کہ ” یہ ہے جماعت انبیاء “ یعنی جن کا ذکر اس سورۃ میں ہے یا پہلے گزرا ہے یا بعد میں آئے گا۔ یہ لوگ اللہ کے انعام یافتہ ہیں۔ پس یہاں شخصیت سے جنس کی طرف استطراد ہے۔ یہ ہیں اولاد آدم سے یعنی ادریس «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ»، اور اولاد سے ان کی جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار کرا دئے گئے تھے، اس سے مراد ابراہیم خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ ہیں۔ اور ذریت ابراہیم علیہ السلام سے مراد اسحاق، یعقوب، اسماعیل ہیں اور ذریت اسرائیل سے مراد موسیٰ، ہارون، زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ ہیں «فَصَلَواةُ الّلهِ وَسَلَامُه عَلَیْهِمْ اَجْمَعِیْنَ» ۔
یہی قول ہے سدی رحمۃاللہ علیہ اور ابن جریر رحمہ اللہ کا، اسی لیے ان کے نسب جداگانہ بیان فرمائے گئے کہ گو اولاد آدم میں سب ہیں مگر ان میں بعض وہ بھی ہیں جو ان بزرگوں کی نسل سے نہیں جو نوح علیہ السلام کے ساتھ تھے کیونکہ ادریس تو نوح علیہ السلام کے دادا تھے۔ میں کہتا ہوں، بظاہر یہی ٹھیک ہے کہ نوح علیہ السلام کے اوپر کے نسب میں اللہ کے پیغمبر ادریس علیہ السلام ہیں۔ ہاں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ادریس علیہ السلام بنی اسرائیلی نبی ہیں۔
صفحہ نمبر5110
یہ کہتے ہیں کہ معراج والی حدیث میں ادریس علیہ السلام کا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہنا مروی ہے کہ مرحبا ہو نبی صالح اور بھائی صالح کو مرحبا ہو۔ تو بھائی صالح کہا، نہ کہ صالح ولد، جیسے کہ ابراہیم اور آدم علیہم السلام نے کہا تھا۔
مروی ہے کہ ادریس علیہ السلام نوح علیہ السلام سے پہلے کے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے قائل اور معتقد بن جاؤ پھر جو چاہو کرو لیکن انہوں نے اس کا انکار کیا اللہ عزوجل نے ان سب کو ہلاک کر دیا۔ ہم نے اس آیت کو جنس انبیاء کے لیے قرار دیا ہے۔ اس کی دلیل سورۃ الانعام کی وہ آیتیں ہیں جن میں ابراہیم علیہ السلام، اسحاق علیہ السلام، یعقوب علیہ السلام، نوح علیہ السلام، داؤد علیہ السلام، سلیمان علیہ السلام، ایوب علیہ السلام، یوسف علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، ہارون علیہ السلام، زکریا علیہ السلام، یحییٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، الیاس علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، یونس علیہ السلام وغیرہ کا ذکر اور تعریف کرنے کے بعد فرمایا «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ قُلْ لَّآ اَسْــــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰي لِلْعٰلَمِيْنَ» [6-الأنعام:90] ” یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی۔ تو ابھی ان کی ہدایت کی اقتداء کر “۔
اور یہ بھی فرمایا ہے کہ نبیوں میں سے بعض کے واقعات ہم نے بیان کر دیے ہیں اور بعض کے واقعات تم تک پہنچے ہی نہیں۔
صفحہ نمبر5111
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ مجاہد رحمۃاللہ علیہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا سورۃ ص میں سجدہ ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں، پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا، تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اقتداء کا حکم کیا گیا ہے اور داؤد علیہ السلام بھی مقتدا نبیوں میں سے ہیں ۔ [صحیح بخاری:4807]
فرمان ہے کہ ” ان پیغمبروں کے سامنے جب کلام اللہ شریف کی آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تو اس کے دلائل و براہین کو سن کر خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان مانتے ہوئے روتے گڑگڑاتے سجدے میں گر پڑتے تھے “۔ اسی لیے اس آیت پر سجدہ کرنے کا حکم علماء کا متفق علیہ مسئلہ ہے تاکہ ان پیغمبروں کی اتباع اور اقتداء ہو جائے۔
امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا نے سورۃ مریم کی تلاوت کی اور جب اس آیت پر پہنچے تو سجدہ کیا پھر فرمایا ”سجدہ تو کیا لیکن وہ رونا کہاں سے لائیں“؟ [ابن ابی حاتم اور ابن جریر]
صفحہ نمبر5112
حدود الہٰی کے محافظ ٭٭
نیک لوگوں کا خصوصاً انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر کیا جو حدود الٰہی کے محافظ، نیک اعمال کے نمونے، بدیوں سے بچتے تھے۔ اب برے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے بعد کے زمانے والے ایسے ہوئے کہ وہ نمازوں تک سے بے پرواہ بن گئے اور جب نماز جیسے فریضے کی اہمیت کو بھلا بیٹھے تو ظاہر ہے کہ اور واہیات کی وہ کیا پرواہ کریں گے؟ کیونکہ نماز تو دین کی بنیاد ہے اور تمام اعمال سے افضل و بہتر ہے۔ یہ لوگ نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، دنیا کی زندگی پر اطمینان سے ریجھ گئے، انہیں قیامت کے دن سخت خسارہ ہوگا، بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔ نماز کے ضائع کرنے سے مراد یا تو اسے بالکل ہی چھوڑ بیٹھنا ہے۔ اسی لیے امام احمد رحمہ اللہ اور بہت سے سلف خلف کا مذہب ہے کہ نماز کا تارک کافر ہے۔
یہی ایک قول امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ بندے کے اور شرک کے درمیان نماز کا چھوڑنا ہے ۔ [صحیح مسلم:82]
دوسری حدیث میں ہے کہ ہم میں اور ان میں فرق نماز کا ہے، جس نے نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوگیا ۔ [سنن ترمذي:2621،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس مسئلہ کو تفصیل سے بیان کرنے کا یہ مقام نہیں۔ یا نماز کے ترک سے مراد نماز کے وقتوں کی صحیح طور پر پابندی کا نہ کرنا ہے کیونکہ ترک نماز تو کفر ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ قرآن کریم میں نماز کا ذکر بہت زیادہ ہے، کہیں نمازوں میں سستی کرنے والوں کے عذاب کا بیان ہے، کہیں نماز کی مداوت کا فرمان ہے، کہیں محافظت کا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”ان سے مراد وقتوں میں سستی نہ کرنا اور وقتوں کی پابندی کرنا ہے۔“ لوگوں نے کہا ہم تو سمجھتے تھے کہ اس سے مراد نمازوں کا چھوڑ دینا اور نہ چھوڑنا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”یہ تو کفر ہے۔“
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں، پانچوں نمازوں کی حفاظت کرنے والا غافلوں میں نہیں لکھا جاتا، ان کا ضائع کرنا اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے اور ان کا ضائع کرنا، ان کے وقتوں کی پابندی نہ کرنا ہے۔ خلیفۃ المسلمین امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”اس سے مراد سرے سے نماز چھوڑ دینا نہیں بلکہ نماز کے وقت کو ضائع کر دینا ہے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”یہ بدترین لوگ قریب بہ قیامت آئیں گے جب کہ اس امت کے صالح لوگ باقی نہ رہے ہوں گے اس وقت یہ لوگ جانوروں کی طرح کودتے پھاندتے پھریں گے۔“
صفحہ نمبر5113
عطابن ابو رباح رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ ”یہ لوگ آخری زمانے میں ہوں گے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، یہ اس امت کے لوگ ہوں گے جو چوپایوں اور گدھوں کی مانند راستوں میں اچھل کود کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے جو آسمان میں ہے، بالکل نہ ڈریں گے اور نہ لوگوں سے شرمائیں گے۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ ناخلف لوگ ساٹھ سال کے بعد ہوں گے جو نمازوں کو ضائع کر دیں گے اور شہوت رانیوں میں لگ جائیں گے اور قیامت کے دن خمیازہ بھگتیں گے۔ پھر ان کے بعد وہ نالائق لوگ آئیں گے جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔ یاد رکھو، قاری تین قسم کے ہوتے ہیں۔ مومن، منافق اور فاجر ۔ راوی حدیث ولید سے جب ان کے شاگرد نے اس کی تفصیل پوچھی تو آپ نے فرمایا، ”ایماندار تو اس کی تصدیق کریں گے۔ نفاق والے اس پر عقیدہ نہ رکھیں گے اور فاجر اس سے اپنی شکم پری کرے گا۔“ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:258:حسن]
ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اصحاب صفہ کے لیے جب کچھ خیرات بھجواتیں تو کہہ دیتیں کہ بربری مرد و عورت کو نہ دینا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ یہی وہ ناخلف ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے ۔ [مستدرک حاکم:244/2:منقطع] محمد بن کعب قرظی کا فرمان ہے کہ ”مراد اس سے مغرب کے بادشاہ ہیں جو بدترین بادشاہ ہیں۔“
صفحہ نمبر5114
حضرت کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اللہ کی قسم میں منافقوں کے وصف قرآن کریم میں پاتا ہوں۔ یہ نشے پینے والے، نمازیں چھوڑنے والے، شطرنج چوسر وغیرہ کھیلنے والے، عشاء کی نمازوں کے وقت سو جانے والے، کھانے پینے میں مبالغہ اور تکلف کر کے پیٹو بن کرکھانے والے، جماعتوں کو چھوڑنے والے۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، مسجدیں ان لوگوں سے خالی نظر آتی ہیں اور بیٹھکیں بارونق بنی ہوئی ہیں۔ ابو اشہب عطا رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، داؤد علیہ السلام پر وحی آئی کہ ”اپنے ساتھیوں کو ہوشیار کر دے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشوں سے باز رہیں، جن کے دل خواہشوں کے پھیر میں رہتے ہیں، میں ان کی عقلوں پر پردہ ڈال دیتا ہوں۔ جب کوئی بندہ شہوت میں اندھا ہو جاتا ہے تو سب سے ہلکی سزا میں اسے یہ دیتا ہوں کہ اپنی اطاعت سے اسے محروم کر دیتا ہوں۔“
مسند احمد میں ہے، مجھے اپنی امت پر دو چیزوں کا بہت ہی خوف ہے ایک تو یہ کہ لوگ جھوٹ کے اور بناؤ کے اور شہوت کے پیچھے پڑ جائیں گے اور نمازوں کو چھوڑ بیٹھیں گے، دوسرے یہ کہ منافق لوگ دنیا دکھاوے کو قرآن کے عامل بن کر سچے مومنوں سے لڑیں جھگڑیں گے ۔ [مسند احمد:156/4:حسن]
صفحہ نمبر5115
«غَیّاً» کے معنی خسران اور نقصان اور برائی کے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ” «غی» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جو بہت گہری ہے اور نہایت سخت عذابوں والی۔ اس میں خون پیپ بھرا ہوا ہے۔“
ابن جریر میں ہے، لقمان بن عامر فرماتے ہیں، میں ابوامامہ صدی بن عجلان باہلی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے التماس کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث مجھے سنائیں۔ آپ نے فرمایا، سنو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر دس اوقیہ کے وزن کا کوئی پتھر جہنم کے کنارے سے جہنم میں پھینکا جائے تو وہ پچاس سال تک تو جہنم کی تہ میں نہیں پہنچ سکتا۔ پھر وہ غی اور اثام میں پہنچے گا۔ غی اور اثام جہنم کے نیچے کے دو کنویں ہیں جہاں دوزخیوں کا لہو پیپ جمع ہوتا ہے ۔ غی کا ذکر آیت «فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا» [19-مريم:59] میں ہے اور اثام کا ذکر آیت «وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» [25-الفرقان:68] میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23790:] اس حدیث کو فرمان رسول سے روایت کرنا منکر ہے اور یہ حدیث سند کی رو سے بھی غریب ہے۔
پھر فرماتا ہے ” ہاں جو ان کاموں سے توبہ کر لے یعنی نمازوں کی سستی اور خواہش نفسانی کی پیروی چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمالے گا، اس کی عاقبت سنوار دے گا، اسے جہنم سے بچا کر جنت میں پہنچائے گا، توبہ اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو معاف کرا دیتی ہے “۔
اور حدیث میں ہے کہ توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے بےگناہ ۔ [سنن ابن ماجه:4250،قال الشيخ الألباني:حسن]
یہ لوگ جو نیکیاں کریں، ان کے اجر انہیں ملیں گے کسی ایک نیکی کا ثواب کم نہ ہو گا۔ توبہ سے پہلے کے گناہوں پر کوئی پکڑ نہ ہو گی۔ یہ ہے کرم اس کریم کا اور یہ ہے حلم اس حلیم کا کہ توبہ کے بعد اس گناہ کو بالکل مٹا دیتا ہے ناپید کر دیتا ہے۔ سورۃ الفرقان میں «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَـٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّـهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:68-70] گناہوں کا ذکر فرما کر ان کی سزاؤں کا بیان کر کے پھر استثنأ کیا اور فرمایا کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔
صفحہ نمبر5116
حدود الہٰی کے محافظ ٭٭
نیک لوگوں کا خصوصاً انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر کیا جو حدود الٰہی کے محافظ، نیک اعمال کے نمونے، بدیوں سے بچتے تھے۔ اب برے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے بعد کے زمانے والے ایسے ہوئے کہ وہ نمازوں تک سے بے پرواہ بن گئے اور جب نماز جیسے فریضے کی اہمیت کو بھلا بیٹھے تو ظاہر ہے کہ اور واہیات کی وہ کیا پرواہ کریں گے؟ کیونکہ نماز تو دین کی بنیاد ہے اور تمام اعمال سے افضل و بہتر ہے۔ یہ لوگ نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، دنیا کی زندگی پر اطمینان سے ریجھ گئے، انہیں قیامت کے دن سخت خسارہ ہوگا، بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔ نماز کے ضائع کرنے سے مراد یا تو اسے بالکل ہی چھوڑ بیٹھنا ہے۔ اسی لیے امام احمد رحمہ اللہ اور بہت سے سلف خلف کا مذہب ہے کہ نماز کا تارک کافر ہے۔
یہی ایک قول امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ بندے کے اور شرک کے درمیان نماز کا چھوڑنا ہے ۔ [صحیح مسلم:82]
دوسری حدیث میں ہے کہ ہم میں اور ان میں فرق نماز کا ہے، جس نے نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوگیا ۔ [سنن ترمذي:2621،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس مسئلہ کو تفصیل سے بیان کرنے کا یہ مقام نہیں۔ یا نماز کے ترک سے مراد نماز کے وقتوں کی صحیح طور پر پابندی کا نہ کرنا ہے کیونکہ ترک نماز تو کفر ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ قرآن کریم میں نماز کا ذکر بہت زیادہ ہے، کہیں نمازوں میں سستی کرنے والوں کے عذاب کا بیان ہے، کہیں نماز کی مداوت کا فرمان ہے، کہیں محافظت کا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”ان سے مراد وقتوں میں سستی نہ کرنا اور وقتوں کی پابندی کرنا ہے۔“ لوگوں نے کہا ہم تو سمجھتے تھے کہ اس سے مراد نمازوں کا چھوڑ دینا اور نہ چھوڑنا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”یہ تو کفر ہے۔“
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں، پانچوں نمازوں کی حفاظت کرنے والا غافلوں میں نہیں لکھا جاتا، ان کا ضائع کرنا اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے اور ان کا ضائع کرنا، ان کے وقتوں کی پابندی نہ کرنا ہے۔ خلیفۃ المسلمین امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”اس سے مراد سرے سے نماز چھوڑ دینا نہیں بلکہ نماز کے وقت کو ضائع کر دینا ہے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”یہ بدترین لوگ قریب بہ قیامت آئیں گے جب کہ اس امت کے صالح لوگ باقی نہ رہے ہوں گے اس وقت یہ لوگ جانوروں کی طرح کودتے پھاندتے پھریں گے۔“
صفحہ نمبر5113
عطابن ابو رباح رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ ”یہ لوگ آخری زمانے میں ہوں گے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، یہ اس امت کے لوگ ہوں گے جو چوپایوں اور گدھوں کی مانند راستوں میں اچھل کود کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے جو آسمان میں ہے، بالکل نہ ڈریں گے اور نہ لوگوں سے شرمائیں گے۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ ناخلف لوگ ساٹھ سال کے بعد ہوں گے جو نمازوں کو ضائع کر دیں گے اور شہوت رانیوں میں لگ جائیں گے اور قیامت کے دن خمیازہ بھگتیں گے۔ پھر ان کے بعد وہ نالائق لوگ آئیں گے جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔ یاد رکھو، قاری تین قسم کے ہوتے ہیں۔ مومن، منافق اور فاجر ۔ راوی حدیث ولید سے جب ان کے شاگرد نے اس کی تفصیل پوچھی تو آپ نے فرمایا، ”ایماندار تو اس کی تصدیق کریں گے۔ نفاق والے اس پر عقیدہ نہ رکھیں گے اور فاجر اس سے اپنی شکم پری کرے گا۔“ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:258:حسن]
ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اصحاب صفہ کے لیے جب کچھ خیرات بھجواتیں تو کہہ دیتیں کہ بربری مرد و عورت کو نہ دینا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ یہی وہ ناخلف ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے ۔ [مستدرک حاکم:244/2:منقطع] محمد بن کعب قرظی کا فرمان ہے کہ ”مراد اس سے مغرب کے بادشاہ ہیں جو بدترین بادشاہ ہیں۔“
صفحہ نمبر5114
حضرت کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اللہ کی قسم میں منافقوں کے وصف قرآن کریم میں پاتا ہوں۔ یہ نشے پینے والے، نمازیں چھوڑنے والے، شطرنج چوسر وغیرہ کھیلنے والے، عشاء کی نمازوں کے وقت سو جانے والے، کھانے پینے میں مبالغہ اور تکلف کر کے پیٹو بن کرکھانے والے، جماعتوں کو چھوڑنے والے۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، مسجدیں ان لوگوں سے خالی نظر آتی ہیں اور بیٹھکیں بارونق بنی ہوئی ہیں۔ ابو اشہب عطا رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، داؤد علیہ السلام پر وحی آئی کہ ”اپنے ساتھیوں کو ہوشیار کر دے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشوں سے باز رہیں، جن کے دل خواہشوں کے پھیر میں رہتے ہیں، میں ان کی عقلوں پر پردہ ڈال دیتا ہوں۔ جب کوئی بندہ شہوت میں اندھا ہو جاتا ہے تو سب سے ہلکی سزا میں اسے یہ دیتا ہوں کہ اپنی اطاعت سے اسے محروم کر دیتا ہوں۔“
مسند احمد میں ہے، مجھے اپنی امت پر دو چیزوں کا بہت ہی خوف ہے ایک تو یہ کہ لوگ جھوٹ کے اور بناؤ کے اور شہوت کے پیچھے پڑ جائیں گے اور نمازوں کو چھوڑ بیٹھیں گے، دوسرے یہ کہ منافق لوگ دنیا دکھاوے کو قرآن کے عامل بن کر سچے مومنوں سے لڑیں جھگڑیں گے ۔ [مسند احمد:156/4:حسن]
صفحہ نمبر5115
«غَیّاً» کے معنی خسران اور نقصان اور برائی کے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ” «غی» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جو بہت گہری ہے اور نہایت سخت عذابوں والی۔ اس میں خون پیپ بھرا ہوا ہے۔“
ابن جریر میں ہے، لقمان بن عامر فرماتے ہیں، میں ابوامامہ صدی بن عجلان باہلی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے التماس کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث مجھے سنائیں۔ آپ نے فرمایا، سنو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر دس اوقیہ کے وزن کا کوئی پتھر جہنم کے کنارے سے جہنم میں پھینکا جائے تو وہ پچاس سال تک تو جہنم کی تہ میں نہیں پہنچ سکتا۔ پھر وہ غی اور اثام میں پہنچے گا۔ غی اور اثام جہنم کے نیچے کے دو کنویں ہیں جہاں دوزخیوں کا لہو پیپ جمع ہوتا ہے ۔ غی کا ذکر آیت «فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا» [19-مريم:59] میں ہے اور اثام کا ذکر آیت «وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» [25-الفرقان:68] میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23790:] اس حدیث کو فرمان رسول سے روایت کرنا منکر ہے اور یہ حدیث سند کی رو سے بھی غریب ہے۔
پھر فرماتا ہے ” ہاں جو ان کاموں سے توبہ کر لے یعنی نمازوں کی سستی اور خواہش نفسانی کی پیروی چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمالے گا، اس کی عاقبت سنوار دے گا، اسے جہنم سے بچا کر جنت میں پہنچائے گا، توبہ اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو معاف کرا دیتی ہے “۔
اور حدیث میں ہے کہ توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے بےگناہ ۔ [سنن ابن ماجه:4250،قال الشيخ الألباني:حسن]
یہ لوگ جو نیکیاں کریں، ان کے اجر انہیں ملیں گے کسی ایک نیکی کا ثواب کم نہ ہو گا۔ توبہ سے پہلے کے گناہوں پر کوئی پکڑ نہ ہو گی۔ یہ ہے کرم اس کریم کا اور یہ ہے حلم اس حلیم کا کہ توبہ کے بعد اس گناہ کو بالکل مٹا دیتا ہے ناپید کر دیتا ہے۔ سورۃ الفرقان میں «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَـٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّـهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:68-70] گناہوں کا ذکر فرما کر ان کی سزاؤں کا بیان کر کے پھر استثنأ کیا اور فرمایا کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔
صفحہ نمبر5116