John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Maryam

Tafsir Ibn Kathir · Mary · 98 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

تفسیر سورۃ مریم:

اسی سورت کے شروع کی آیتیں سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے شاہ حبشہ کے دربار میں بادشاہ کے درباریوں کے سامنے تلاوت فرمائی تھیں۔ [مسند احمد:461/1] ‏ (‏مسند احمد اور سیرت محمد بن اسحاق)

دعا اور قبولیت ٭٭

اس سورۃ کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں، انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں۔ اب اللہ کے بندے زکریا نبی علیہ السلام پر جو لطف الٰہی نازل ہوا، اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت میں «زَكَرِيَّاء» ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبردست رسول علیہ السلام تھے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے، آپ علیہ السلام بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے ۔ [صحیح مسلم:2379] ‏

رب سے خفیہ دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو! بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔

صفحہ نمبر5020

بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ ”اے میرے پروردگار، اے میرے پالنہار، اے میرے رب!“ اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ ” لبیک میں موجود ہوں، میں تیرے پاس ہوں “۔ دعا میں کہتے ہیں کہ ”اے اللہ! میرے قوی کمزور ہو گئے ہیں، میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں، میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہو گئی ہیں، اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا، تجھ کریم سے جو مانگا، تو نے عطا فرمایا۔‏“

«الْمَوَالِيَ» کو کسائی نے «الْمَوَالِي» پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے «خِفْتُ» کو «خَفَّتِ» پڑھنا مروی ہے یعنی ” میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں “۔

پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ ” چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں، ان سے خوف ہے کہ مبادا یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کر دیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے “۔

یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لیے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے، ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لیے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علیہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر5021

تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے ۔ [صحیح بخاری:3094] ‏

ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ہم جماعت انبیاء ہیں، ہمارا ورثہ نہیں بٹا کرتا ۔ [سنن ترمذي:1610،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پس ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا کہ ”مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو“، اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ ”وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔‏“

جیسے فرمان ہے کہ «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» [27-النمل:16] ‏ ” سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے “۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے نہ کہ مال کے۔ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔

چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے، پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ زکریا علیہ السلام اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے ۔

مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، مراد ورثہ علم ہے۔ زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں تھے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی بنے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے، میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں۔ ابوصالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو۔

صفحہ نمبر5022

عبدالرزاق میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام پر رحم کرے، بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی؟ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23500:مرسل] ‏

ابن جریر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بھائی زکریا علیہ السلام پر اللہ کا رحم ہو، کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23499:مرسل و ضعیف] ‏ لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کر سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور ”اے اللہ! اسے اپنا پسندیدہ غلام بنا لے اور ایسا دیندار، دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے، اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔‏“

صفحہ نمبر5023

تفسیر سورۃ مریم:

اسی سورت کے شروع کی آیتیں سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے شاہ حبشہ کے دربار میں بادشاہ کے درباریوں کے سامنے تلاوت فرمائی تھیں۔ [مسند احمد:461/1] ‏ (‏مسند احمد اور سیرت محمد بن اسحاق)

دعا اور قبولیت ٭٭

اس سورۃ کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں، انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں۔ اب اللہ کے بندے زکریا نبی علیہ السلام پر جو لطف الٰہی نازل ہوا، اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت میں «زَكَرِيَّاء» ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبردست رسول علیہ السلام تھے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے، آپ علیہ السلام بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے ۔ [صحیح مسلم:2379] ‏

رب سے خفیہ دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو! بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔

صفحہ نمبر5020

بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ ”اے میرے پروردگار، اے میرے پالنہار، اے میرے رب!“ اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ ” لبیک میں موجود ہوں، میں تیرے پاس ہوں “۔ دعا میں کہتے ہیں کہ ”اے اللہ! میرے قوی کمزور ہو گئے ہیں، میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں، میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہو گئی ہیں، اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا، تجھ کریم سے جو مانگا، تو نے عطا فرمایا۔‏“

«الْمَوَالِيَ» کو کسائی نے «الْمَوَالِي» پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے «خِفْتُ» کو «خَفَّتِ» پڑھنا مروی ہے یعنی ” میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں “۔

پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ ” چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں، ان سے خوف ہے کہ مبادا یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کر دیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے “۔

یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لیے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے، ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لیے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علیہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر5021

تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے ۔ [صحیح بخاری:3094] ‏

ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ہم جماعت انبیاء ہیں، ہمارا ورثہ نہیں بٹا کرتا ۔ [سنن ترمذي:1610،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پس ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا کہ ”مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو“، اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ ”وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔‏“

جیسے فرمان ہے کہ «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» [27-النمل:16] ‏ ” سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے “۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے نہ کہ مال کے۔ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔

چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے، پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ زکریا علیہ السلام اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے ۔

مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، مراد ورثہ علم ہے۔ زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں تھے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی بنے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے، میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں۔ ابوصالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو۔

صفحہ نمبر5022

عبدالرزاق میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام پر رحم کرے، بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی؟ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23500:مرسل] ‏

ابن جریر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بھائی زکریا علیہ السلام پر اللہ کا رحم ہو، کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23499:مرسل و ضعیف] ‏ لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کر سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور ”اے اللہ! اسے اپنا پسندیدہ غلام بنا لے اور ایسا دیندار، دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے، اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔‏“

صفحہ نمبر5023

تفسیر سورۃ مریم:

اسی سورت کے شروع کی آیتیں سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے شاہ حبشہ کے دربار میں بادشاہ کے درباریوں کے سامنے تلاوت فرمائی تھیں۔ [مسند احمد:461/1] ‏ (‏مسند احمد اور سیرت محمد بن اسحاق)

دعا اور قبولیت ٭٭

اس سورۃ کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں، انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں۔ اب اللہ کے بندے زکریا نبی علیہ السلام پر جو لطف الٰہی نازل ہوا، اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت میں «زَكَرِيَّاء» ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبردست رسول علیہ السلام تھے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے، آپ علیہ السلام بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے ۔ [صحیح مسلم:2379] ‏

رب سے خفیہ دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو! بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔

صفحہ نمبر5020

بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ ”اے میرے پروردگار، اے میرے پالنہار، اے میرے رب!“ اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ ” لبیک میں موجود ہوں، میں تیرے پاس ہوں “۔ دعا میں کہتے ہیں کہ ”اے اللہ! میرے قوی کمزور ہو گئے ہیں، میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں، میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہو گئی ہیں، اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا، تجھ کریم سے جو مانگا، تو نے عطا فرمایا۔‏“

«الْمَوَالِيَ» کو کسائی نے «الْمَوَالِي» پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے «خِفْتُ» کو «خَفَّتِ» پڑھنا مروی ہے یعنی ” میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں “۔

پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ ” چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں، ان سے خوف ہے کہ مبادا یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کر دیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے “۔

یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لیے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے، ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لیے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علیہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر5021

تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے ۔ [صحیح بخاری:3094] ‏

ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ہم جماعت انبیاء ہیں، ہمارا ورثہ نہیں بٹا کرتا ۔ [سنن ترمذي:1610،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پس ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا کہ ”مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو“، اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ ”وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔‏“

جیسے فرمان ہے کہ «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» [27-النمل:16] ‏ ” سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے “۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے نہ کہ مال کے۔ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔

چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے، پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ زکریا علیہ السلام اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے ۔

مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، مراد ورثہ علم ہے۔ زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں تھے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی بنے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے، میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں۔ ابوصالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو۔

صفحہ نمبر5022

عبدالرزاق میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام پر رحم کرے، بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی؟ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23500:مرسل] ‏

ابن جریر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بھائی زکریا علیہ السلام پر اللہ کا رحم ہو، کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23499:مرسل و ضعیف] ‏ لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کر سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور ”اے اللہ! اسے اپنا پسندیدہ غلام بنا لے اور ایسا دیندار، دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے، اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔‏“

صفحہ نمبر5023

تفسیر سورۃ مریم:

اسی سورت کے شروع کی آیتیں سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے شاہ حبشہ کے دربار میں بادشاہ کے درباریوں کے سامنے تلاوت فرمائی تھیں۔ [مسند احمد:461/1] ‏ (‏مسند احمد اور سیرت محمد بن اسحاق)

دعا اور قبولیت ٭٭

اس سورۃ کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں، انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں۔ اب اللہ کے بندے زکریا نبی علیہ السلام پر جو لطف الٰہی نازل ہوا، اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت میں «زَكَرِيَّاء» ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبردست رسول علیہ السلام تھے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے، آپ علیہ السلام بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے ۔ [صحیح مسلم:2379] ‏

رب سے خفیہ دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو! بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔

صفحہ نمبر5020

بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ ”اے میرے پروردگار، اے میرے پالنہار، اے میرے رب!“ اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ ” لبیک میں موجود ہوں، میں تیرے پاس ہوں “۔ دعا میں کہتے ہیں کہ ”اے اللہ! میرے قوی کمزور ہو گئے ہیں، میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں، میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہو گئی ہیں، اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا، تجھ کریم سے جو مانگا، تو نے عطا فرمایا۔‏“

«الْمَوَالِيَ» کو کسائی نے «الْمَوَالِي» پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے «خِفْتُ» کو «خَفَّتِ» پڑھنا مروی ہے یعنی ” میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں “۔

پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ ” چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں، ان سے خوف ہے کہ مبادا یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کر دیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے “۔

یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لیے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے، ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لیے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علیہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر5021

تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے ۔ [صحیح بخاری:3094] ‏

ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ہم جماعت انبیاء ہیں، ہمارا ورثہ نہیں بٹا کرتا ۔ [سنن ترمذي:1610،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پس ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا کہ ”مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو“، اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ ”وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔‏“

جیسے فرمان ہے کہ «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» [27-النمل:16] ‏ ” سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے “۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے نہ کہ مال کے۔ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔

چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے، پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ زکریا علیہ السلام اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے ۔

مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، مراد ورثہ علم ہے۔ زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں تھے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی بنے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے، میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں۔ ابوصالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو۔

صفحہ نمبر5022

عبدالرزاق میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام پر رحم کرے، بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی؟ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23500:مرسل] ‏

ابن جریر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بھائی زکریا علیہ السلام پر اللہ کا رحم ہو، کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23499:مرسل و ضعیف] ‏ لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کر سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور ”اے اللہ! اسے اپنا پسندیدہ غلام بنا لے اور ایسا دیندار، دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے، اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔‏“

صفحہ نمبر5023

تفسیر سورۃ مریم:

اسی سورت کے شروع کی آیتیں سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے شاہ حبشہ کے دربار میں بادشاہ کے درباریوں کے سامنے تلاوت فرمائی تھیں۔ [مسند احمد:461/1] ‏ (‏مسند احمد اور سیرت محمد بن اسحاق)

دعا اور قبولیت ٭٭

اس سورۃ کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں، انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں۔ اب اللہ کے بندے زکریا نبی علیہ السلام پر جو لطف الٰہی نازل ہوا، اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت میں «زَكَرِيَّاء» ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبردست رسول علیہ السلام تھے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے، آپ علیہ السلام بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے ۔ [صحیح مسلم:2379] ‏

رب سے خفیہ دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو! بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔

صفحہ نمبر5020

بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ ”اے میرے پروردگار، اے میرے پالنہار، اے میرے رب!“ اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ ” لبیک میں موجود ہوں، میں تیرے پاس ہوں “۔ دعا میں کہتے ہیں کہ ”اے اللہ! میرے قوی کمزور ہو گئے ہیں، میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں، میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہو گئی ہیں، اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا، تجھ کریم سے جو مانگا، تو نے عطا فرمایا۔‏“

«الْمَوَالِيَ» کو کسائی نے «الْمَوَالِي» پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے «خِفْتُ» کو «خَفَّتِ» پڑھنا مروی ہے یعنی ” میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں “۔

پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ ” چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں، ان سے خوف ہے کہ مبادا یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کر دیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے “۔

یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لیے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے، ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لیے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علیہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر5021

تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے ۔ [صحیح بخاری:3094] ‏

ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ہم جماعت انبیاء ہیں، ہمارا ورثہ نہیں بٹا کرتا ۔ [سنن ترمذي:1610،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پس ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا کہ ”مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو“، اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ ”وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔‏“

جیسے فرمان ہے کہ «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» [27-النمل:16] ‏ ” سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے “۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے نہ کہ مال کے۔ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔

چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے، پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ زکریا علیہ السلام اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے ۔

مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، مراد ورثہ علم ہے۔ زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں تھے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی بنے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے، میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں۔ ابوصالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو۔

صفحہ نمبر5022

عبدالرزاق میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام پر رحم کرے، بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی؟ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23500:مرسل] ‏

ابن جریر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بھائی زکریا علیہ السلام پر اللہ کا رحم ہو، کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23499:مرسل و ضعیف] ‏ لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کر سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور ”اے اللہ! اسے اپنا پسندیدہ غلام بنا لے اور ایسا دیندار، دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے، اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔‏“

صفحہ نمبر5023

تفسیر سورۃ مریم:

اسی سورت کے شروع کی آیتیں سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے شاہ حبشہ کے دربار میں بادشاہ کے درباریوں کے سامنے تلاوت فرمائی تھیں۔ [مسند احمد:461/1] ‏ (‏مسند احمد اور سیرت محمد بن اسحاق)

دعا اور قبولیت ٭٭

اس سورۃ کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں، انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے۔ ان کا تفصیلی بیان ہم سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں۔ اب اللہ کے بندے زکریا نبی علیہ السلام پر جو لطف الٰہی نازل ہوا، اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت میں «زَكَرِيَّاء» ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبردست رسول علیہ السلام تھے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے، آپ علیہ السلام بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے ۔ [صحیح مسلم:2379] ‏

رب سے خفیہ دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی، کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو! بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔

صفحہ نمبر5020

بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ ”اے میرے پروردگار، اے میرے پالنہار، اے میرے رب!“ اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ ” لبیک میں موجود ہوں، میں تیرے پاس ہوں “۔ دعا میں کہتے ہیں کہ ”اے اللہ! میرے قوی کمزور ہو گئے ہیں، میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں، میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہو گئی ہیں، اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا، تجھ کریم سے جو مانگا، تو نے عطا فرمایا۔‏“

«الْمَوَالِيَ» کو کسائی نے «الْمَوَالِي» پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے «خِفْتُ» کو «خَفَّتِ» پڑھنا مروی ہے یعنی ” میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں “۔

پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ ” چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں، ان سے خوف ہے کہ مبادا یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کر دیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے “۔

یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لیے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے، ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لیے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علیہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر5021

تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے ۔ [صحیح بخاری:3094] ‏

ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ہم جماعت انبیاء ہیں، ہمارا ورثہ نہیں بٹا کرتا ۔ [سنن ترمذي:1610،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پس ثابت ہوا کہ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا کہ ”مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو“، اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لیے آپ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ ”وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔‏“

جیسے فرمان ہے کہ «وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ» [27-النمل:16] ‏ ” سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے “۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے نہ کہ مال کے۔ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔

چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے، پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ زکریا علیہ السلام اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے ۔

مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں، مراد ورثہ علم ہے۔ زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں تھے۔ ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی بنے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی رحمہ اللہ کا قول ہے، میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں۔ ابوصالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو۔

صفحہ نمبر5022

عبدالرزاق میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام پر رحم کرے، بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی؟ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23500:مرسل] ‏

ابن جریر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بھائی زکریا علیہ السلام پر اللہ کا رحم ہو، کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23499:مرسل و ضعیف] ‏ لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کر سکتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور ”اے اللہ! اسے اپنا پسندیدہ غلام بنا لے اور ایسا دیندار، دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے، اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔‏“

صفحہ نمبر5023

دعا قبول ہوئی ٭٭

حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا قبول ہوتی ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ ” آپ علیہ السلام ایک بچے کی خوشخبری سن لیں جس کا نام یحییٰ ہے “۔

جیسے اور آیت میں ہے «هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ فَنَادَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّـهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَىٰ مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ» [3-آل عمران:38-39] ‏ ” زکریا علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی کہ ”اے اللہ! مجھے اپنے پاس سے بہترین اولاد عطا فرما، بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے۔‏“ فرشتوں نے انہیں آواز دی اور وہ اس وقت کی نماز کی جگہ میں نماز میں کھڑے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کو اپنے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے جو سردار ہو گا اور پاکباز ہو گا اور نبی ہوگا اور پورے نیک کار اعلیٰ درجے کے بھلے لوگوں میں سے ہو گا “۔

یہاں فرمایا کہ ان سے پہلے اس نام کا کوئی اور انسان نہیں ہوا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مشابہ کوئی اور نہ ہو گا، یہی معنی «سَمِيًّا» کے آیت «هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا» [19-مريم:65] ‏ میں ہیں۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اس سے پہلے کسی بانجھ عورت سے ایسی اولاد نہیں ہوئی۔ زکریا کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ بھی شروع عمر سے بے اولاد تھیں۔ ابراہیم علیہ السلام اور سارہ علیہما السلام نے بھی بچے کے ہونے کی بشارت سن کر بے حد تعجب کیا تھا لیکن ان کے تعجب کی وجہ ان کا بے اولاد ہونا اور بانجھ ہونا نہ تھی۔ بلکہ بہت زیادہ بڑھاپے میں اولاد کا ہونا، یہ تعجب کی وجہ تھی اور زکریا علیہ السلام کے ہاں تو اس پورے بڑھاپے تک کوئی اولاد ہوئی ہی نہ تھی۔

اس لیے خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَبَشَّرْتُمُونِي عَلَىٰ أَن مَّسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ» [15-الحجر:54] ‏ ” مجھے اس انتہائی بڑھاپے میں تم اولاد کی خبر کیسے دے رہے ہو؟ “ ورنہ اس سے تیرہ سال پہلے آپ کے ہاں اسماعیل علیہ السلام ہوئے تھے۔

آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ نے بھی اس خوشخبری کو سن کر تعجب سے کہا تھا کہ کیا «قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَـٰذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ رَحْمَتُ اللَّـهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ» [11-هود:72،73] ‏ ” اس بڑھے ہوئے بڑھاپے میں میرے ہاں اولاد ہو گی؟ ساتھ ہی میرے میاں بھی غایت درجے کے بوڑھے ہیں۔ یہ تو سخت تر تعجب خیز چیز ہے۔ یہ سن کر فرشتوں نے کہا تھا کہ کیا تمہیں امر الٰہی سے تعجب ہے؟ اے ابراہیم علیہ السلام کے گھرانے والو! تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہیں۔ اللہ تعریفوں اور بزرگیوں والا ہے “۔

صفحہ نمبر5029

بشارت قبولیت سن کر ٭٭

حضرت زکریا علیہ السلام اپنی دعا کی قبولیت اور اپنے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت سن کر خوشی اور تعجب سے کیفیت دریافت کرنے لگے کہ بظاہر اسباب تو یہ امر مستبعد اور ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ دونوں جانب سے حالت محض ناامیدی کی ہے۔ بیوی بانجھ جس سے اب تک اولاد نہیں ہوئی، میں بوڑھا اور بے حد بوڑھا جس کی ہڈیوں میں اب تو گودا بھی نہیں رہا، خشک ٹہنی جیسا ہو گیا ہوں، گھر والی بھی بڑھیا پھوس ہو گئی ہے، پھر ہمارے ہاں اولاد کیسے ہو گی؟ غرض رب العالمین سے کیفیت بوجہ تعجب و خوشی دریافت کی۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں تمام سنتوں کو جانتا ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر عصر میں پڑھتے تھے یا نہیں؟ اور نہ یہ معلوم ہے کہ اس لفظ کو «عَتِیاً» پڑھتے تھے یا «عَسِیاً» ۔ [سنن ابوداود:809،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

فرشتے نے جواب دیا کہ ”یہ تو وعدہ ہو چکا، اسی حالت میں اسی بیوی سے تمہارے ہاں لڑکا ہو گا۔ اللہ کے ذمے یہ کام مشکل نہیں۔ اس سے زیادہ تعجب والا اور اس سے بڑی قدرت والا کام تو تم خود دیکھ چکے ہو اور وہ خود تمہارا وجود ہے، جو کچھ نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنا دیا۔ پس جو تمہاری پیدائش پر قادر تھا، وہ تمہارے ہاں اولاد دینے پر بھی قادر ہے۔‏“

جیسے فرمان ہے «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا» [76-الإنسان:1] ‏ یعنی ” یقیناً انسان پر اس کے زمانے کا ایسا وقت بھی گزرا ہے، جس میں وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا “۔

صفحہ نمبر5030

بشارت قبولیت سن کر ٭٭

حضرت زکریا علیہ السلام اپنی دعا کی قبولیت اور اپنے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت سن کر خوشی اور تعجب سے کیفیت دریافت کرنے لگے کہ بظاہر اسباب تو یہ امر مستبعد اور ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ دونوں جانب سے حالت محض ناامیدی کی ہے۔ بیوی بانجھ جس سے اب تک اولاد نہیں ہوئی، میں بوڑھا اور بے حد بوڑھا جس کی ہڈیوں میں اب تو گودا بھی نہیں رہا، خشک ٹہنی جیسا ہو گیا ہوں، گھر والی بھی بڑھیا پھوس ہو گئی ہے، پھر ہمارے ہاں اولاد کیسے ہو گی؟ غرض رب العالمین سے کیفیت بوجہ تعجب و خوشی دریافت کی۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں تمام سنتوں کو جانتا ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر عصر میں پڑھتے تھے یا نہیں؟ اور نہ یہ معلوم ہے کہ اس لفظ کو «عَتِیاً» پڑھتے تھے یا «عَسِیاً» ۔ [سنن ابوداود:809،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

فرشتے نے جواب دیا کہ ”یہ تو وعدہ ہو چکا، اسی حالت میں اسی بیوی سے تمہارے ہاں لڑکا ہو گا۔ اللہ کے ذمے یہ کام مشکل نہیں۔ اس سے زیادہ تعجب والا اور اس سے بڑی قدرت والا کام تو تم خود دیکھ چکے ہو اور وہ خود تمہارا وجود ہے، جو کچھ نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنا دیا۔ پس جو تمہاری پیدائش پر قادر تھا، وہ تمہارے ہاں اولاد دینے پر بھی قادر ہے۔‏“

جیسے فرمان ہے «هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا» [76-الإنسان:1] ‏ یعنی ” یقیناً انسان پر اس کے زمانے کا ایسا وقت بھی گزرا ہے، جس میں وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا “۔

صفحہ نمبر5030

تشفی قلب کے لیے ایک اور مانگ ٭٭

حضرت زکریا علیہ السلام اپنے مزیداطمینان اور تشفی قلب کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ”اس بات پر کوئی نشان ظاہر فرما۔‏“ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے مردوں کے جی اٹھنے کے دیکھنے کی تمنا اسی لیے ظاہر فرمائی تھی «رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي» [2-البقرہ:260] ‏ تو ارشاد ہوا کہ ” تو گونگا نہ ہوگا بیمار نہ ہوگا لیکن تیری زبان لوگوں سے باتیں نہ کرسکے گی تین دن رات تک یہی حالت رہے گی “۔ یہی ہوا بھی کہ تسبیح، استغفار، حمد و ثنا وغیرہ پر تو زبان چلتی تھی لیکن لوگوں سے بات نہ کر سکتے تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ «سَوِيًّا» کے معنی پے در پے کے ہیں یعنی مسلسل برابر تین شبانہ روز تمہاری زبان دنیوی باتوں سے رکی رہے گی۔ پہلا قول بھی آپ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے اور جمہور کی تفسیر بھی یہی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔

چنانچہ سورۃ آل عمران میں اس کا بیان بھی گزر چکا ہے کہ «قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزًا وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ» [3-آل عمران:41] ‏ علامت طلب کرنے پر فرمان ہوا کہ ” تین دن تک تم صرف اشاروں کنایوں سے لوگوں سے باتیں کر سکتے ہو۔ ہاں اپنے رب کی یاد بکثرت کرو اور صبح شام اس کی پاکیزگی بیان کرو “۔

پس ان تین دن رات میں آپ علیہ السلام کسی انسان سے کوئی بات نہیں کر سکتے تھے ہاں اشاروں سے اپنا مطلب سمجھا دیا کرتے تھے لیکن یہ نہیں کہ آپ علیہ السلام گونگے ہوگئے ہوں۔ اب آپ علیہ السلام اپنے حجرے سے، جہاں جا کر تنہائی میں اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا کی تھی، باہر آئے اور جو نعمت اللہ نے آپ علیہ السلام پر انعام کی تھی اور جس تسبیح و ذکر کا آپ علیہ السلام کو حکم ہوا تھا، وہی قوم کو بھی حکم دیا لیکن چونکہ بول نہ سکتے تھے، اس لیے انہیں اشاروں سے سمجھایا یا زمین پر لکھ کر انہیں سمجھا دیا۔

صفحہ نمبر5032

تشفی قلب کے لیے ایک اور مانگ ٭٭

حضرت زکریا علیہ السلام اپنے مزیداطمینان اور تشفی قلب کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ”اس بات پر کوئی نشان ظاہر فرما۔‏“ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے مردوں کے جی اٹھنے کے دیکھنے کی تمنا اسی لیے ظاہر فرمائی تھی «رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي» [2-البقرہ:260] ‏ تو ارشاد ہوا کہ ” تو گونگا نہ ہوگا بیمار نہ ہوگا لیکن تیری زبان لوگوں سے باتیں نہ کرسکے گی تین دن رات تک یہی حالت رہے گی “۔ یہی ہوا بھی کہ تسبیح، استغفار، حمد و ثنا وغیرہ پر تو زبان چلتی تھی لیکن لوگوں سے بات نہ کر سکتے تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ «سَوِيًّا» کے معنی پے در پے کے ہیں یعنی مسلسل برابر تین شبانہ روز تمہاری زبان دنیوی باتوں سے رکی رہے گی۔ پہلا قول بھی آپ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے اور جمہور کی تفسیر بھی یہی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔

چنانچہ سورۃ آل عمران میں اس کا بیان بھی گزر چکا ہے کہ «قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزًا وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ» [3-آل عمران:41] ‏ علامت طلب کرنے پر فرمان ہوا کہ ” تین دن تک تم صرف اشاروں کنایوں سے لوگوں سے باتیں کر سکتے ہو۔ ہاں اپنے رب کی یاد بکثرت کرو اور صبح شام اس کی پاکیزگی بیان کرو “۔

پس ان تین دن رات میں آپ علیہ السلام کسی انسان سے کوئی بات نہیں کر سکتے تھے ہاں اشاروں سے اپنا مطلب سمجھا دیا کرتے تھے لیکن یہ نہیں کہ آپ علیہ السلام گونگے ہوگئے ہوں۔ اب آپ علیہ السلام اپنے حجرے سے، جہاں جا کر تنہائی میں اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا کی تھی، باہر آئے اور جو نعمت اللہ نے آپ علیہ السلام پر انعام کی تھی اور جس تسبیح و ذکر کا آپ علیہ السلام کو حکم ہوا تھا، وہی قوم کو بھی حکم دیا لیکن چونکہ بول نہ سکتے تھے، اس لیے انہیں اشاروں سے سمجھایا یا زمین پر لکھ کر انہیں سمجھا دیا۔

صفحہ نمبر5032

پیدائش یحییٰ علیہ السلام ٭٭

بمطابق بشارت الٰہی زکریا علیہ السلام کے ہاں یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیاء علیہم السلام دوسروں کو بتلاتے تھے۔ اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی، اسی لیے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ ” بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص، اجتہاد، کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا “۔

نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے مگر یہ جواب پاتے تھے کہ ہم کھیل کے لیے پیدا نہیں کئے گئے۔ ” یحییٰ علیہ السلام کا وجود زکریا علیہ السلام کے لیے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں “۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”واللہ میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے؟“ لغت میں محبت، شقفت، رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے۔ بہ ظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت ومحبت اور پاکیزگی عطا فرمائی۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک یا حنان یا منان پکارتا رہے گا ۔ [مسند احمد:230/3:ضعیف جدا] ‏

پس ہر میل کچیل سے، ہر گناہ اور معصیت سے آپ علیہ السلام بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ علیہ السلام کی عمر کا خلاصہ تھا۔ آپ علیہ السلام گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے۔ ساتھ ہی ماں باپ کے فرماں بردار، اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک تھے، کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی، کبھی ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوئے، کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا، کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خو آپ علیہ السلام میں نہ تھی۔ ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے امن و امان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن، موت والے دن اورحشر والے دن۔ یہی تینوں جگہیں گھبراہٹ کی اور انجان ہوتی ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے، جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے۔ موت والے دن اس مخلوق سے واسطہ پڑتا ہے جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا، نہ انہیں کبھی دیکھا۔ محشر والے دن بھی علی ہذا القیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے، دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی۔

صفحہ نمبر5034

ایک مرسل حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام لوگ قیامت کے دن کچھ نہ کچھ گناہ لے کر جائیں گے سوائے یحییٰ علیہ السلام کے ۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”آپ علیہ السلام نے گناہ تو کیا، قصداً گناہ بھی کبھی نہیں کیا۔‏“ [مسند احمد:254/1:ضعیف] ‏ یہ حدیث مرفوعاً اور دو سندوں سے بھی مروی ہے لیکن وہ دونوں سندیں بھی ضغیف ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عیسیٰ ٰعلیہ السلام یحییٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے ”آپ علیہ السلام میرے لیے استغفار کیجئے آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔‏“ یحییٰ علیہ السلام نے جواب دیا ”آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔‏“ عیسیٰ ٰعلیہ السلام نے فرمایا ”میں نے تو آپ علیہ السلام ہی اپنے اوپر سلام کہا اور آپ علیہ السلام پر خود اللہ نے سلام کہا۔‏“ اب ان دونوں نے ہی اللہ کی فضیلت ظاہر کی۔

صفحہ نمبر5035

پیدائش یحییٰ علیہ السلام ٭٭

بمطابق بشارت الٰہی زکریا علیہ السلام کے ہاں یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیاء علیہم السلام دوسروں کو بتلاتے تھے۔ اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی، اسی لیے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ ” بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص، اجتہاد، کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا “۔

نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے مگر یہ جواب پاتے تھے کہ ہم کھیل کے لیے پیدا نہیں کئے گئے۔ ” یحییٰ علیہ السلام کا وجود زکریا علیہ السلام کے لیے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں “۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”واللہ میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے؟“ لغت میں محبت، شقفت، رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے۔ بہ ظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت ومحبت اور پاکیزگی عطا فرمائی۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک یا حنان یا منان پکارتا رہے گا ۔ [مسند احمد:230/3:ضعیف جدا] ‏

پس ہر میل کچیل سے، ہر گناہ اور معصیت سے آپ علیہ السلام بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ علیہ السلام کی عمر کا خلاصہ تھا۔ آپ علیہ السلام گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے۔ ساتھ ہی ماں باپ کے فرماں بردار، اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک تھے، کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی، کبھی ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوئے، کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا، کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خو آپ علیہ السلام میں نہ تھی۔ ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے امن و امان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن، موت والے دن اورحشر والے دن۔ یہی تینوں جگہیں گھبراہٹ کی اور انجان ہوتی ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے، جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے۔ موت والے دن اس مخلوق سے واسطہ پڑتا ہے جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا، نہ انہیں کبھی دیکھا۔ محشر والے دن بھی علی ہذا القیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے، دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی۔

صفحہ نمبر5034

ایک مرسل حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام لوگ قیامت کے دن کچھ نہ کچھ گناہ لے کر جائیں گے سوائے یحییٰ علیہ السلام کے ۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”آپ علیہ السلام نے گناہ تو کیا، قصداً گناہ بھی کبھی نہیں کیا۔‏“ [مسند احمد:254/1:ضعیف] ‏ یہ حدیث مرفوعاً اور دو سندوں سے بھی مروی ہے لیکن وہ دونوں سندیں بھی ضغیف ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عیسیٰ ٰعلیہ السلام یحییٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے ”آپ علیہ السلام میرے لیے استغفار کیجئے آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔‏“ یحییٰ علیہ السلام نے جواب دیا ”آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔‏“ عیسیٰ ٰعلیہ السلام نے فرمایا ”میں نے تو آپ علیہ السلام ہی اپنے اوپر سلام کہا اور آپ علیہ السلام پر خود اللہ نے سلام کہا۔‏“ اب ان دونوں نے ہی اللہ کی فضیلت ظاہر کی۔

صفحہ نمبر5035

پیدائش یحییٰ علیہ السلام ٭٭

بمطابق بشارت الٰہی زکریا علیہ السلام کے ہاں یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیاء علیہم السلام دوسروں کو بتلاتے تھے۔ اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی، اسی لیے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ ” بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص، اجتہاد، کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا “۔

نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے مگر یہ جواب پاتے تھے کہ ہم کھیل کے لیے پیدا نہیں کئے گئے۔ ” یحییٰ علیہ السلام کا وجود زکریا علیہ السلام کے لیے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں “۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”واللہ میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے؟“ لغت میں محبت، شقفت، رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے۔ بہ ظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت ومحبت اور پاکیزگی عطا فرمائی۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک یا حنان یا منان پکارتا رہے گا ۔ [مسند احمد:230/3:ضعیف جدا] ‏

پس ہر میل کچیل سے، ہر گناہ اور معصیت سے آپ علیہ السلام بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ علیہ السلام کی عمر کا خلاصہ تھا۔ آپ علیہ السلام گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے۔ ساتھ ہی ماں باپ کے فرماں بردار، اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک تھے، کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی، کبھی ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوئے، کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا، کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خو آپ علیہ السلام میں نہ تھی۔ ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے امن و امان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن، موت والے دن اورحشر والے دن۔ یہی تینوں جگہیں گھبراہٹ کی اور انجان ہوتی ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے، جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے۔ موت والے دن اس مخلوق سے واسطہ پڑتا ہے جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا، نہ انہیں کبھی دیکھا۔ محشر والے دن بھی علی ہذا القیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے، دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی۔

صفحہ نمبر5034

ایک مرسل حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام لوگ قیامت کے دن کچھ نہ کچھ گناہ لے کر جائیں گے سوائے یحییٰ علیہ السلام کے ۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”آپ علیہ السلام نے گناہ تو کیا، قصداً گناہ بھی کبھی نہیں کیا۔‏“ [مسند احمد:254/1:ضعیف] ‏ یہ حدیث مرفوعاً اور دو سندوں سے بھی مروی ہے لیکن وہ دونوں سندیں بھی ضغیف ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عیسیٰ ٰعلیہ السلام یحییٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے ”آپ علیہ السلام میرے لیے استغفار کیجئے آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔‏“ یحییٰ علیہ السلام نے جواب دیا ”آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔‏“ عیسیٰ ٰعلیہ السلام نے فرمایا ”میں نے تو آپ علیہ السلام ہی اپنے اوپر سلام کہا اور آپ علیہ السلام پر خود اللہ نے سلام کہا۔‏“ اب ان دونوں نے ہی اللہ کی فضیلت ظاہر کی۔

صفحہ نمبر5035

پیدائش یحییٰ علیہ السلام ٭٭

بمطابق بشارت الٰہی زکریا علیہ السلام کے ہاں یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیاء علیہم السلام دوسروں کو بتلاتے تھے۔ اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی، اسی لیے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ ” بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص، اجتہاد، کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا “۔

نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے مگر یہ جواب پاتے تھے کہ ہم کھیل کے لیے پیدا نہیں کئے گئے۔ ” یحییٰ علیہ السلام کا وجود زکریا علیہ السلام کے لیے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں “۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”واللہ میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے؟“ لغت میں محبت، شقفت، رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے۔ بہ ظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت ومحبت اور پاکیزگی عطا فرمائی۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک یا حنان یا منان پکارتا رہے گا ۔ [مسند احمد:230/3:ضعیف جدا] ‏

پس ہر میل کچیل سے، ہر گناہ اور معصیت سے آپ علیہ السلام بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ علیہ السلام کی عمر کا خلاصہ تھا۔ آپ علیہ السلام گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے۔ ساتھ ہی ماں باپ کے فرماں بردار، اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک تھے، کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی، کبھی ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوئے، کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا، کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خو آپ علیہ السلام میں نہ تھی۔ ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے امن و امان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن، موت والے دن اورحشر والے دن۔ یہی تینوں جگہیں گھبراہٹ کی اور انجان ہوتی ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے، جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے۔ موت والے دن اس مخلوق سے واسطہ پڑتا ہے جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا، نہ انہیں کبھی دیکھا۔ محشر والے دن بھی علی ہذا القیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے، دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی۔

صفحہ نمبر5034

ایک مرسل حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام لوگ قیامت کے دن کچھ نہ کچھ گناہ لے کر جائیں گے سوائے یحییٰ علیہ السلام کے ۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”آپ علیہ السلام نے گناہ تو کیا، قصداً گناہ بھی کبھی نہیں کیا۔‏“ [مسند احمد:254/1:ضعیف] ‏ یہ حدیث مرفوعاً اور دو سندوں سے بھی مروی ہے لیکن وہ دونوں سندیں بھی ضغیف ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عیسیٰ ٰعلیہ السلام یحییٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے ”آپ علیہ السلام میرے لیے استغفار کیجئے آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔‏“ یحییٰ علیہ السلام نے جواب دیا ”آپ علیہ السلام مجھ سے بہتر ہیں۔‏“ عیسیٰ ٰعلیہ السلام نے فرمایا ”میں نے تو آپ علیہ السلام ہی اپنے اوپر سلام کہا اور آپ علیہ السلام پر خود اللہ نے سلام کہا۔‏“ اب ان دونوں نے ہی اللہ کی فضیلت ظاہر کی۔

صفحہ نمبر5035

ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالٰی ٭٭

اوپر زکریا علیہ السلام کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بے اولاد رہے، ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی۔ اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی، یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے۔

اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ مریم علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بے مرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی، عیسیٰ علیہ السلام جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ علیہ السلام تھے۔ پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے، اسی لیے یہاں بھی اور سورۃ آل عمران میں بھی اور سورۃ انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بے مثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں۔

صفحہ نمبر5039

حضرت مریم علیہا السلام عمران کی صاحبزادی تھیں، داؤد علیہ السلام کی نسل میں سے تھیں۔ بنو اسرائیل میں یہ گھرانہ طیب و طاہر تھا۔ سورۃ آل عمران میں آپ علیہ السلام کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ نے آپ علیہ السلام کو بیت المقدس کی مسجد قدس کی خدمت کے لیے دنیوی کاموں سے آزاد کر دیا تھا۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور مریم کی نشو و نما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہو گئیں۔ آپ کی عبادت وریاضت، زہد وتقویٰ زبان زد عوام ہو گیا۔

آپ اپنے خالو زکریا علیہ السلام کی پرورش و تربیت میں تھیں۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے۔ زکریا علیہ السلام پر مریم علیہا السلام کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصاً یہ کہ جب کبھی آپ علیہ السلام ان کے عبادت خانے میں جاتے، نئی قسم کے بے موسم پھل وہاں موجود پاتے۔ دریافت کیا کہ مریم یہ کہاں سے آئے؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے، وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بے حساب روزیاں عطا فرمائے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ مریم کے بطن سے عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔ آپ مسجد قدس کے شرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الٰہی ہے، اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کر دیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا۔ مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی۔ کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا، جسے پانی پلانے کے لیے آپ گئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الٰہی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5040

عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ٭٭

جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے۔ یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں۔ جیسے آیت قرآن «نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [26-الشعراء:193،194] ‏ میں ہے۔

صفحہ نمبر5041

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کی الوہیت کا اقرار لیا گیا تھا، ان روحوں میں عیسیٰ علیہ السلام کی روح بھی تھی۔ اسی روح کو بصورت انسان اللہ کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کرگئی۔ لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے، بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو۔

آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے۔ فرشتے نے آپ کا خوف و ہراس، ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لیے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو، میں تو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں۔ کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر جبرائیل علیہ السلام کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے اور کہہ دیا کہ میں اللہ کا قاصد ہوں۔ اس لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے۔ «لِاَھَبَ» کی دوسری قرأت «لِيَهَبَ» ہے۔ ابو عمرو بن علا جو ایک مشہور و معروف قاری ہیں، ان کی یہی قرأت ہے۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے۔

صفحہ نمبر5042

یہ سن کر مریم صدیقہ علیہا السلام کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی؟

«بَغِيًّا» سے مراد زنا کار ہے، جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ «مَهْرُ الْبَغِيِّ» زانیہ کی خرچی حرام ہے ۔ [صحیح بخاری:2337] ‏

فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ ”یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دیدے۔ وہ جو چاہے ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔ یہ قدرت الٰہی کی ایک نشانی ہو گی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔‏“

آدم علیہ السلام کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا، حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے۔

صفحہ نمبر5043

پس تقسیم کی یہ چار ہی صورتیں ہو سکتی تھیں جو سب پوری کر دی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کر دی۔ فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا، رب کا پیغمبر بنے گا، اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا۔

جیسے اور آیت میں ہے کہ «إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ» [3-آل عمران:45،46] ‏ ” فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرو دار ہوگا اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب، وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور صالح لوگوں میں سے ہو گا یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا “۔

صفحہ نمبر5044

مروی ہے کہ مریم رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے عیسیٰ علیہ السلام بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے۔ یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ علیہ السلام میرے پیٹ میں تھے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہو چکا ہے۔ وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا “۔ بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی جبرائیل علیہ السلام کا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الٰہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔ اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو۔

جیسے فرمان ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا» [66-التحریم:12] ‏ ” عمران کی بیٹی مریم باعصمت بیوی تھیں۔ ہم نے اس میں روح پھونکی تھی “۔

اور آیت میں ہے «الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا» [21-الأنبياء:91] ‏ ” وہ باعصمت عورت جس میں ہم نے اپنی روح پھونک دی “۔

پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5045

ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالٰی ٭٭

اوپر زکریا علیہ السلام کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بے اولاد رہے، ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی۔ اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی، یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے۔

اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ مریم علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بے مرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی، عیسیٰ علیہ السلام جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ علیہ السلام تھے۔ پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے، اسی لیے یہاں بھی اور سورۃ آل عمران میں بھی اور سورۃ انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بے مثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں۔

صفحہ نمبر5039

حضرت مریم علیہا السلام عمران کی صاحبزادی تھیں، داؤد علیہ السلام کی نسل میں سے تھیں۔ بنو اسرائیل میں یہ گھرانہ طیب و طاہر تھا۔ سورۃ آل عمران میں آپ علیہ السلام کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ نے آپ علیہ السلام کو بیت المقدس کی مسجد قدس کی خدمت کے لیے دنیوی کاموں سے آزاد کر دیا تھا۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور مریم کی نشو و نما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہو گئیں۔ آپ کی عبادت وریاضت، زہد وتقویٰ زبان زد عوام ہو گیا۔

آپ اپنے خالو زکریا علیہ السلام کی پرورش و تربیت میں تھیں۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے۔ زکریا علیہ السلام پر مریم علیہا السلام کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصاً یہ کہ جب کبھی آپ علیہ السلام ان کے عبادت خانے میں جاتے، نئی قسم کے بے موسم پھل وہاں موجود پاتے۔ دریافت کیا کہ مریم یہ کہاں سے آئے؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے، وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بے حساب روزیاں عطا فرمائے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ مریم کے بطن سے عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔ آپ مسجد قدس کے شرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الٰہی ہے، اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کر دیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا۔ مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی۔ کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا، جسے پانی پلانے کے لیے آپ گئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الٰہی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5040

عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ٭٭

جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے۔ یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں۔ جیسے آیت قرآن «نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [26-الشعراء:193،194] ‏ میں ہے۔

صفحہ نمبر5041

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کی الوہیت کا اقرار لیا گیا تھا، ان روحوں میں عیسیٰ علیہ السلام کی روح بھی تھی۔ اسی روح کو بصورت انسان اللہ کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کرگئی۔ لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے، بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو۔

آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے۔ فرشتے نے آپ کا خوف و ہراس، ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لیے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو، میں تو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں۔ کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر جبرائیل علیہ السلام کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے اور کہہ دیا کہ میں اللہ کا قاصد ہوں۔ اس لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے۔ «لِاَھَبَ» کی دوسری قرأت «لِيَهَبَ» ہے۔ ابو عمرو بن علا جو ایک مشہور و معروف قاری ہیں، ان کی یہی قرأت ہے۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے۔

صفحہ نمبر5042

یہ سن کر مریم صدیقہ علیہا السلام کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی؟

«بَغِيًّا» سے مراد زنا کار ہے، جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ «مَهْرُ الْبَغِيِّ» زانیہ کی خرچی حرام ہے ۔ [صحیح بخاری:2337] ‏

فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ ”یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دیدے۔ وہ جو چاہے ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔ یہ قدرت الٰہی کی ایک نشانی ہو گی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔‏“

آدم علیہ السلام کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا، حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے۔

صفحہ نمبر5043

پس تقسیم کی یہ چار ہی صورتیں ہو سکتی تھیں جو سب پوری کر دی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کر دی۔ فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا، رب کا پیغمبر بنے گا، اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا۔

جیسے اور آیت میں ہے کہ «إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ» [3-آل عمران:45،46] ‏ ” فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرو دار ہوگا اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب، وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور صالح لوگوں میں سے ہو گا یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا “۔

صفحہ نمبر5044

مروی ہے کہ مریم رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے عیسیٰ علیہ السلام بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے۔ یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ علیہ السلام میرے پیٹ میں تھے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہو چکا ہے۔ وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا “۔ بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی جبرائیل علیہ السلام کا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الٰہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔ اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو۔

جیسے فرمان ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا» [66-التحریم:12] ‏ ” عمران کی بیٹی مریم باعصمت بیوی تھیں۔ ہم نے اس میں روح پھونکی تھی “۔

اور آیت میں ہے «الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا» [21-الأنبياء:91] ‏ ” وہ باعصمت عورت جس میں ہم نے اپنی روح پھونک دی “۔

پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5045

ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالٰی ٭٭

اوپر زکریا علیہ السلام کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بے اولاد رہے، ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی۔ اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی، یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے۔

اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ مریم علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بے مرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی، عیسیٰ علیہ السلام جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ علیہ السلام تھے۔ پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے، اسی لیے یہاں بھی اور سورۃ آل عمران میں بھی اور سورۃ انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بے مثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں۔

صفحہ نمبر5039

حضرت مریم علیہا السلام عمران کی صاحبزادی تھیں، داؤد علیہ السلام کی نسل میں سے تھیں۔ بنو اسرائیل میں یہ گھرانہ طیب و طاہر تھا۔ سورۃ آل عمران میں آپ علیہ السلام کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ نے آپ علیہ السلام کو بیت المقدس کی مسجد قدس کی خدمت کے لیے دنیوی کاموں سے آزاد کر دیا تھا۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور مریم کی نشو و نما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہو گئیں۔ آپ کی عبادت وریاضت، زہد وتقویٰ زبان زد عوام ہو گیا۔

آپ اپنے خالو زکریا علیہ السلام کی پرورش و تربیت میں تھیں۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے۔ زکریا علیہ السلام پر مریم علیہا السلام کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصاً یہ کہ جب کبھی آپ علیہ السلام ان کے عبادت خانے میں جاتے، نئی قسم کے بے موسم پھل وہاں موجود پاتے۔ دریافت کیا کہ مریم یہ کہاں سے آئے؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے، وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بے حساب روزیاں عطا فرمائے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ مریم کے بطن سے عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔ آپ مسجد قدس کے شرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الٰہی ہے، اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کر دیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا۔ مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی۔ کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا، جسے پانی پلانے کے لیے آپ گئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الٰہی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5040

عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ٭٭

جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے۔ یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں۔ جیسے آیت قرآن «نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [26-الشعراء:193،194] ‏ میں ہے۔

صفحہ نمبر5041

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کی الوہیت کا اقرار لیا گیا تھا، ان روحوں میں عیسیٰ علیہ السلام کی روح بھی تھی۔ اسی روح کو بصورت انسان اللہ کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کرگئی۔ لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے، بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو۔

آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے۔ فرشتے نے آپ کا خوف و ہراس، ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لیے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو، میں تو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں۔ کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر جبرائیل علیہ السلام کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے اور کہہ دیا کہ میں اللہ کا قاصد ہوں۔ اس لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے۔ «لِاَھَبَ» کی دوسری قرأت «لِيَهَبَ» ہے۔ ابو عمرو بن علا جو ایک مشہور و معروف قاری ہیں، ان کی یہی قرأت ہے۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے۔

صفحہ نمبر5042

یہ سن کر مریم صدیقہ علیہا السلام کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی؟

«بَغِيًّا» سے مراد زنا کار ہے، جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ «مَهْرُ الْبَغِيِّ» زانیہ کی خرچی حرام ہے ۔ [صحیح بخاری:2337] ‏

فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ ”یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دیدے۔ وہ جو چاہے ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔ یہ قدرت الٰہی کی ایک نشانی ہو گی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔‏“

آدم علیہ السلام کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا، حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے۔

صفحہ نمبر5043

پس تقسیم کی یہ چار ہی صورتیں ہو سکتی تھیں جو سب پوری کر دی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کر دی۔ فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا، رب کا پیغمبر بنے گا، اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا۔

جیسے اور آیت میں ہے کہ «إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ» [3-آل عمران:45،46] ‏ ” فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرو دار ہوگا اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب، وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور صالح لوگوں میں سے ہو گا یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا “۔

صفحہ نمبر5044

مروی ہے کہ مریم رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے عیسیٰ علیہ السلام بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے۔ یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ علیہ السلام میرے پیٹ میں تھے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہو چکا ہے۔ وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا “۔ بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی جبرائیل علیہ السلام کا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الٰہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔ اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو۔

جیسے فرمان ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا» [66-التحریم:12] ‏ ” عمران کی بیٹی مریم باعصمت بیوی تھیں۔ ہم نے اس میں روح پھونکی تھی “۔

اور آیت میں ہے «الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا» [21-الأنبياء:91] ‏ ” وہ باعصمت عورت جس میں ہم نے اپنی روح پھونک دی “۔

پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5045

ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالٰی ٭٭

اوپر زکریا علیہ السلام کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بے اولاد رہے، ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی۔ اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی، یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے۔

اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ مریم علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بے مرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی، عیسیٰ علیہ السلام جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ علیہ السلام تھے۔ پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے، اسی لیے یہاں بھی اور سورۃ آل عمران میں بھی اور سورۃ انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بے مثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں۔

صفحہ نمبر5039

حضرت مریم علیہا السلام عمران کی صاحبزادی تھیں، داؤد علیہ السلام کی نسل میں سے تھیں۔ بنو اسرائیل میں یہ گھرانہ طیب و طاہر تھا۔ سورۃ آل عمران میں آپ علیہ السلام کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ نے آپ علیہ السلام کو بیت المقدس کی مسجد قدس کی خدمت کے لیے دنیوی کاموں سے آزاد کر دیا تھا۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور مریم کی نشو و نما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہو گئیں۔ آپ کی عبادت وریاضت، زہد وتقویٰ زبان زد عوام ہو گیا۔

آپ اپنے خالو زکریا علیہ السلام کی پرورش و تربیت میں تھیں۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے۔ زکریا علیہ السلام پر مریم علیہا السلام کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصاً یہ کہ جب کبھی آپ علیہ السلام ان کے عبادت خانے میں جاتے، نئی قسم کے بے موسم پھل وہاں موجود پاتے۔ دریافت کیا کہ مریم یہ کہاں سے آئے؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے، وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بے حساب روزیاں عطا فرمائے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ مریم کے بطن سے عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔ آپ مسجد قدس کے شرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الٰہی ہے، اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کر دیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا۔ مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی۔ کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا، جسے پانی پلانے کے لیے آپ گئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الٰہی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5040

عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ٭٭

جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے۔ یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں۔ جیسے آیت قرآن «نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [26-الشعراء:193،194] ‏ میں ہے۔

صفحہ نمبر5041

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کی الوہیت کا اقرار لیا گیا تھا، ان روحوں میں عیسیٰ علیہ السلام کی روح بھی تھی۔ اسی روح کو بصورت انسان اللہ کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کرگئی۔ لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے، بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو۔

آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے۔ فرشتے نے آپ کا خوف و ہراس، ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لیے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو، میں تو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں۔ کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر جبرائیل علیہ السلام کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے اور کہہ دیا کہ میں اللہ کا قاصد ہوں۔ اس لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے۔ «لِاَھَبَ» کی دوسری قرأت «لِيَهَبَ» ہے۔ ابو عمرو بن علا جو ایک مشہور و معروف قاری ہیں، ان کی یہی قرأت ہے۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے۔

صفحہ نمبر5042

یہ سن کر مریم صدیقہ علیہا السلام کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی؟

«بَغِيًّا» سے مراد زنا کار ہے، جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ «مَهْرُ الْبَغِيِّ» زانیہ کی خرچی حرام ہے ۔ [صحیح بخاری:2337] ‏

فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ ”یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دیدے۔ وہ جو چاہے ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔ یہ قدرت الٰہی کی ایک نشانی ہو گی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔‏“

آدم علیہ السلام کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا، حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے۔

صفحہ نمبر5043

پس تقسیم کی یہ چار ہی صورتیں ہو سکتی تھیں جو سب پوری کر دی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کر دی۔ فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا، رب کا پیغمبر بنے گا، اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا۔

جیسے اور آیت میں ہے کہ «إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ» [3-آل عمران:45،46] ‏ ” فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرو دار ہوگا اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب، وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور صالح لوگوں میں سے ہو گا یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا “۔

صفحہ نمبر5044

مروی ہے کہ مریم رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے عیسیٰ علیہ السلام بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے۔ یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ علیہ السلام میرے پیٹ میں تھے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہو چکا ہے۔ وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا “۔ بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی جبرائیل علیہ السلام کا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الٰہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔ اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو۔

جیسے فرمان ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا» [66-التحریم:12] ‏ ” عمران کی بیٹی مریم باعصمت بیوی تھیں۔ ہم نے اس میں روح پھونکی تھی “۔

اور آیت میں ہے «الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا» [21-الأنبياء:91] ‏ ” وہ باعصمت عورت جس میں ہم نے اپنی روح پھونک دی “۔

پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5045

ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالٰی ٭٭

اوپر زکریا علیہ السلام کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بے اولاد رہے، ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی۔ اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی، یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے۔

اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ مریم علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بے مرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی، عیسیٰ علیہ السلام جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ علیہ السلام تھے۔ پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے، اسی لیے یہاں بھی اور سورۃ آل عمران میں بھی اور سورۃ انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بے مثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں۔

صفحہ نمبر5039

حضرت مریم علیہا السلام عمران کی صاحبزادی تھیں، داؤد علیہ السلام کی نسل میں سے تھیں۔ بنو اسرائیل میں یہ گھرانہ طیب و طاہر تھا۔ سورۃ آل عمران میں آپ علیہ السلام کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ نے آپ علیہ السلام کو بیت المقدس کی مسجد قدس کی خدمت کے لیے دنیوی کاموں سے آزاد کر دیا تھا۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور مریم کی نشو و نما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہو گئیں۔ آپ کی عبادت وریاضت، زہد وتقویٰ زبان زد عوام ہو گیا۔

آپ اپنے خالو زکریا علیہ السلام کی پرورش و تربیت میں تھیں۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے۔ زکریا علیہ السلام پر مریم علیہا السلام کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصاً یہ کہ جب کبھی آپ علیہ السلام ان کے عبادت خانے میں جاتے، نئی قسم کے بے موسم پھل وہاں موجود پاتے۔ دریافت کیا کہ مریم یہ کہاں سے آئے؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے، وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بے حساب روزیاں عطا فرمائے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ مریم کے بطن سے عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔ آپ مسجد قدس کے شرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الٰہی ہے، اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کر دیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا۔ مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی۔ کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا، جسے پانی پلانے کے لیے آپ گئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الٰہی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5040

عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ٭٭

جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے۔ یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں۔ جیسے آیت قرآن «نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [26-الشعراء:193،194] ‏ میں ہے۔

صفحہ نمبر5041

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کی الوہیت کا اقرار لیا گیا تھا، ان روحوں میں عیسیٰ علیہ السلام کی روح بھی تھی۔ اسی روح کو بصورت انسان اللہ کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کرگئی۔ لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے، بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو۔

آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے۔ فرشتے نے آپ کا خوف و ہراس، ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لیے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو، میں تو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں۔ کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر جبرائیل علیہ السلام کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے اور کہہ دیا کہ میں اللہ کا قاصد ہوں۔ اس لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے۔ «لِاَھَبَ» کی دوسری قرأت «لِيَهَبَ» ہے۔ ابو عمرو بن علا جو ایک مشہور و معروف قاری ہیں، ان کی یہی قرأت ہے۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے۔

صفحہ نمبر5042

یہ سن کر مریم صدیقہ علیہا السلام کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی؟

«بَغِيًّا» سے مراد زنا کار ہے، جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ «مَهْرُ الْبَغِيِّ» زانیہ کی خرچی حرام ہے ۔ [صحیح بخاری:2337] ‏

فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ ”یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دیدے۔ وہ جو چاہے ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔ یہ قدرت الٰہی کی ایک نشانی ہو گی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔‏“

آدم علیہ السلام کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا، حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے۔

صفحہ نمبر5043

پس تقسیم کی یہ چار ہی صورتیں ہو سکتی تھیں جو سب پوری کر دی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کر دی۔ فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا، رب کا پیغمبر بنے گا، اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا۔

جیسے اور آیت میں ہے کہ «إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ» [3-آل عمران:45،46] ‏ ” فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرو دار ہوگا اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب، وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور صالح لوگوں میں سے ہو گا یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا “۔

صفحہ نمبر5044

مروی ہے کہ مریم رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے عیسیٰ علیہ السلام بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے۔ یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ علیہ السلام میرے پیٹ میں تھے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہو چکا ہے۔ وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا “۔ بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی جبرائیل علیہ السلام کا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الٰہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔ اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو۔

جیسے فرمان ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا» [66-التحریم:12] ‏ ” عمران کی بیٹی مریم باعصمت بیوی تھیں۔ ہم نے اس میں روح پھونکی تھی “۔

اور آیت میں ہے «الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا» [21-الأنبياء:91] ‏ ” وہ باعصمت عورت جس میں ہم نے اپنی روح پھونک دی “۔

پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5045

ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالٰی ٭٭

اوپر زکریا علیہ السلام کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بے اولاد رہے، ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی۔ اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی، یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے۔

اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ مریم علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بے مرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی، عیسیٰ علیہ السلام جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ علیہ السلام تھے۔ پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے، اسی لیے یہاں بھی اور سورۃ آل عمران میں بھی اور سورۃ انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بے مثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں۔

صفحہ نمبر5039

حضرت مریم علیہا السلام عمران کی صاحبزادی تھیں، داؤد علیہ السلام کی نسل میں سے تھیں۔ بنو اسرائیل میں یہ گھرانہ طیب و طاہر تھا۔ سورۃ آل عمران میں آپ علیہ السلام کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ نے آپ علیہ السلام کو بیت المقدس کی مسجد قدس کی خدمت کے لیے دنیوی کاموں سے آزاد کر دیا تھا۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور مریم کی نشو و نما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہو گئیں۔ آپ کی عبادت وریاضت، زہد وتقویٰ زبان زد عوام ہو گیا۔

آپ اپنے خالو زکریا علیہ السلام کی پرورش و تربیت میں تھیں۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے۔ زکریا علیہ السلام پر مریم علیہا السلام کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصاً یہ کہ جب کبھی آپ علیہ السلام ان کے عبادت خانے میں جاتے، نئی قسم کے بے موسم پھل وہاں موجود پاتے۔ دریافت کیا کہ مریم یہ کہاں سے آئے؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے، وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بے حساب روزیاں عطا فرمائے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ مریم کے بطن سے عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔ آپ مسجد قدس کے شرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الٰہی ہے، اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کر دیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا۔ مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی۔ کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا، جسے پانی پلانے کے لیے آپ گئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الٰہی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5040

عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ٭٭

جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے۔ یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں۔ جیسے آیت قرآن «نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [26-الشعراء:193،194] ‏ میں ہے۔

صفحہ نمبر5041

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کی الوہیت کا اقرار لیا گیا تھا، ان روحوں میں عیسیٰ علیہ السلام کی روح بھی تھی۔ اسی روح کو بصورت انسان اللہ کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کرگئی۔ لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے، بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو۔

آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے۔ فرشتے نے آپ کا خوف و ہراس، ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لیے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو، میں تو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں۔ کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر جبرائیل علیہ السلام کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے اور کہہ دیا کہ میں اللہ کا قاصد ہوں۔ اس لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے۔ «لِاَھَبَ» کی دوسری قرأت «لِيَهَبَ» ہے۔ ابو عمرو بن علا جو ایک مشہور و معروف قاری ہیں، ان کی یہی قرأت ہے۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے۔

صفحہ نمبر5042

یہ سن کر مریم صدیقہ علیہا السلام کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی؟

«بَغِيًّا» سے مراد زنا کار ہے، جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ «مَهْرُ الْبَغِيِّ» زانیہ کی خرچی حرام ہے ۔ [صحیح بخاری:2337] ‏

فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ ”یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دیدے۔ وہ جو چاہے ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔ یہ قدرت الٰہی کی ایک نشانی ہو گی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔‏“

آدم علیہ السلام کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا، حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے۔

صفحہ نمبر5043

پس تقسیم کی یہ چار ہی صورتیں ہو سکتی تھیں جو سب پوری کر دی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کر دی۔ فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا، رب کا پیغمبر بنے گا، اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا۔

جیسے اور آیت میں ہے کہ «إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ» [3-آل عمران:45،46] ‏ ” فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرو دار ہوگا اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب، وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور صالح لوگوں میں سے ہو گا یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا “۔

صفحہ نمبر5044

مروی ہے کہ مریم رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے عیسیٰ علیہ السلام بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے۔ یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ علیہ السلام میرے پیٹ میں تھے۔

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہو چکا ہے۔ وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا “۔ بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی جبرائیل علیہ السلام کا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الٰہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔ اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو۔

جیسے فرمان ہے کہ «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا» [66-التحریم:12] ‏ ” عمران کی بیٹی مریم باعصمت بیوی تھیں۔ ہم نے اس میں روح پھونکی تھی “۔

اور آیت میں ہے «الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا» [21-الأنبياء:91] ‏ ” وہ باعصمت عورت جس میں ہم نے اپنی روح پھونک دی “۔

پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5045

مریم علیہا السلام اور جبرائیل علیہ السلام ٭٭

مروی ہے کہ جب آپ فرمان الٰہی تسلیم کر چکیں اور اس کے آگے گردن جھکا دی تو جبرائیل علیہ السلام نے ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک ماری۔ جس سے انہیں بحکم رب حمل ٹھہر گیا۔

اب تو سخت گھبرائیں اور یہ خیال کلیجہ مسوسنے لگا کہ میں لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گی؟ لاکھ اپنی برأت پیش کروں لیکن اس انوکھی بات کو کون مانے گا؟ اسی گھبراہٹ میں آپ تھیں، کسی سے یہ واقعہ بیان نہیں کیا تھا۔ ہاں جب آپ اپنی خالہ زکریا علیہ السلام کی بیوی کے پاس گئیں تو وہ آپ سے معانقہ کر کے کہنے لگیں، بچی اللہ کی قدرت سے اور تمہارے خالو کی دعا سے میں اس عمر میں حاملہ ہو گئی ہوں۔ آپ نے فرمایا، خالہ جان میرے ساتھ یہ واقعہ گزرا اور میں بھی اپنے آپ کو اسی حالت میں پاتی ہوں۔ چونکہ یہ گھرانہ نبی کا گھرانہ تھا، وہ قدرت الٰہی پر اور صداقت مریم پر ایمان لائیں۔ اب یہ حالت تھی کہ جب کبھی یہ دونوں پاک عورتیں ملاقات کرتیں تو خالہ صاحبہ یہ محسوس فرماتیں کہ گویا ان کا بچہ بھانجی کے بچے کے سامنے جھکتا ہے اور اس کی عزت کرتا ہے۔ ان کے مذہب میں یہ جائز بھی تھا، اسی وجہ سے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اور آپ علیہ السلام کے والد نے آپ علیہ السلام کو سجدہ کیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن ہماری شریعت میں یہ تعظیم اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہو گئی اور کسی دوسرے کو سجدہ کرنا حرام ہو گیا کیونکہ یہ تعظیم الٰہی کے خلاف ہے۔ اس کی جلالت کے شایان شان نہیں۔

صفحہ نمبر5051

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عیسیٰ علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام خالہ زاد بھائی تھے۔ دونوں ایک ہی وقت حمل میں تھے۔ یحییٰ علیہ السلام کی والدہ اکثر مریم رضی اللہ عنہا سے فرماتی تھیں کہ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرا بچہ تیرے بچے کے سامنے سجدہ کرتا ہے۔

امام مالک رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں، اس سے عیسیٰ علیہ السلام کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ نے آپ علیہ السلام کے ہاتھوں اپنے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیا اور مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بھلا چنگا کردیا۔ جمہور کا قول تو یہ ہے کہ آپ نو مہینے تک حمل میں رہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں آٹھ ماہ تک۔ اسی لیے آٹھ ماہ کے حمل کا بچہ عموماً زندہ نہیں رہتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حمل کے ساتھ ہی بچہ ہو گیا۔ یہ قول غریب ہے۔ ممکن ہے آپ رضی اللہ عنہ نے آیت کے ظاہری الفاظ سے یہ سمجھا ہو کیونکہ حمل کا الگ ہونے کا اور درد زہ کا ذکر ان آیتوں میں ”ف“ کے ساتھ ہے اور ”ف“ تعقیب کے لیے آتی ہے۔ لیکن تعقیب ہرچیز کی اس کے اعتبار سے ہوتی ہے جیسے عام انسانوں کی پیدائش کا حال آیت قرآن «وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ» [23-المؤمنون:13،12] ‏ میں ہوا ہے۔ کہ ” ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے بصورت نطفہ رحم میں ٹھہرایا، پھر نطفے کو پھٹکی بنایا، پھر اس پھٹکی کو لوتھڑا بنایا، پھر اس لوتھڑے میں ہڈیاں پیدا کیں “۔

یہاں بھی دو جگہ ”ف“ ہے اور ہے بھی تعقیب کے لیے۔ لیکن حدیث سے ثابت ہے کہ ان دو حالتوں میں چالیس دن کافاصلہ ہوتا ہے ۔ [صحیح بخاری:3208] ‏

صفحہ نمبر5052

قرآن کریم کی اور آیت میں ہے «اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً ۡ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ» [22-الحج:63] ‏ ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برساتا ہے۔ پس زمین سرسبز ہو جاتی ہے “۔

ظاہر ہے کہ پانی برسنے کے بہت بعد سبزہ اگتا ہے۔ حالانکہ ”ف“ یہاں بھی ہے۔ پس تعقیب ہرچیز کی اس چیز کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ سیدھی سی بات تو یہ ہے کہ مثل عادت عورتوں کے آپ رضی اللہ عنہا نے حمل کا زمانہ پورا گزارا۔ مسجد میں ہی، مسجد کے خادم ایک صاحب اور تھے جن کا نام یوسف نجار تھا۔ انہوں نے جب مریم علیہا السلام کا یہ حال دیکھا تو دل میں کچھ شک سا پیدا ہوا لیکن مریم کے زہد وتقویٰ، عبادت و ریاضت، خشیت الٰہی اور حق بینی کو خیال کرتے ہوئے انہوں نے یہ برائی دل سے دور کرنی چاہی۔

لیکن جوں جوں دن گزرتے گئے، حمل کا اظہار ہوتا گیا۔ اب تو خاموش نہ رہ سکے، ایک دن با ادب کہنے لگے کہ مریم میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں ناراض نہ ہونا۔ بھلا بغیر بیج کے کسی درخت کا ہونا، بغیر دانے کے کھیت کا ہونا، بغیر باپ کے بچے کا ہونا ممکن بھی ہے؟ آپ ان کے مطلب کو سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ یہ سب ممکن ہے، سب سے پہلے جو درخت اللہ تعالیٰ نے اگایا وہ بغیر بیج کے تھا۔ سب سے پہلے جو کھیتی اللہ نے اگائی وہ بغیر دانے کی تھی۔ سب سے پہلے اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، وہ بے باپ کے تھے بلکہ بے ماں کے بھی۔ ان کی تو سمجھ میں آگیا اور مریم علیہا السلام کو اور اللہ کی قدرت کو نہ جھٹلا سکے۔ اب صدیقہ نے جب دیکھا کہ قوم کے لوگ ان پر تہمت لگا رہے ہیں تو آپ ان سب کو چھوڑ چھاڑ کر دور دراز چلی گئیں۔

صفحہ نمبر5053

امام محمد بن اسحاق رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں، جب حمل کے حالات ظاہر ہوگئے، قوم نے پھبتیاں پھینکنی، آوازے کسنے اور باتیں بنانی شروع کر دیں اور یوسف نجار جیسے صالح شخص پر یہ تہمت اٹھائی تو آپ ان سب سے کنارہ کش ہوگئیں۔ نہ کوئی انہیں دیکھے نہ آپ کسی کو دیکھیں۔ جب درد زہ اٹھا تو آپ ایک کھجور کے درخت کی جڑ میں آبیٹھیں۔ کہتے ہیں کہ یہ خلوت خانہ بیت المقدس کے مشرقی جانب کا حجرہ تھا۔ یہ بھی قول ہے کہ شام اور مصر کے درمیان آپ پہنچ چکی تھیں، اس وقت بچہ ہونے کا درد شروع ہوا۔ اور قول ہے کہ بیت المقدس سے آپ آٹھ میل چلی گئی تھیں اس بستی کا نام بیت اللحم تھا۔

معراج کے واقعہ کے بیان میں پہلے ایک حدیث گزری ہے جس میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی جگہ بھی بیت اللحم تھا ۔ [سنن نسائی:451،قال الشيخ الألباني:منکر] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

مشہور بات بھی یہی ہے اور نصرانیوں کا تو اس پر اتفاق ہے اور اس حدیث میں بھی ہے اگر یہ صحیح ہو۔ اس وقت آپ موت کی تمنا کرنے لگیں کیونکہ دین کے فتنے کے وقت یہ تمنا بھی جائز ہے۔ جانتی تھیں کہ کوئی انہیں سچا نہ کہے گا۔ ان کے بیان کردہ واقعہ کو ہر شخص گھڑنت سمجھے گا۔ دنیا آپ کو پریشان کر دے گی اور عبادت و اطمینان میں خلل پڑے گا۔ ہر شخص برائی سے یاد کرے گا اور لوگوں پر برا اثر پڑے گا۔ تو فرمانے لگیں کاش کہ میں اس حالت سے پہلے ہی اٹھالی جاتی بلکہ کاش کہ میں پیدا ہی نہ کی جاتی۔ اس قدر شرم و حیاء دامن گیر ہوئی کہ آپ نے اس تکلیف پر موت کو ترجیح دی اور تمنا کی کہ کاش میں کھوئی ہوئی اور یاد سے اتری ہوئی چیز ہو جاتی کہ نہ کوئی یاد کرے نہ ڈھونڈے نہ ذکر کرے۔ احادیث میں موت مانگنے کی ممانعت وارد ہے۔ ہم نے ان روایتوں کو آیت «تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ» [12-یوسف:101] ‏، کی تفسیر میں بیان کر دیا ہے۔

صفحہ نمبر5054

مریم علیہا السلام اور جبرائیل علیہ السلام ٭٭

مروی ہے کہ جب آپ فرمان الٰہی تسلیم کر چکیں اور اس کے آگے گردن جھکا دی تو جبرائیل علیہ السلام نے ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک ماری۔ جس سے انہیں بحکم رب حمل ٹھہر گیا۔

اب تو سخت گھبرائیں اور یہ خیال کلیجہ مسوسنے لگا کہ میں لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گی؟ لاکھ اپنی برأت پیش کروں لیکن اس انوکھی بات کو کون مانے گا؟ اسی گھبراہٹ میں آپ تھیں، کسی سے یہ واقعہ بیان نہیں کیا تھا۔ ہاں جب آپ اپنی خالہ زکریا علیہ السلام کی بیوی کے پاس گئیں تو وہ آپ سے معانقہ کر کے کہنے لگیں، بچی اللہ کی قدرت سے اور تمہارے خالو کی دعا سے میں اس عمر میں حاملہ ہو گئی ہوں۔ آپ نے فرمایا، خالہ جان میرے ساتھ یہ واقعہ گزرا اور میں بھی اپنے آپ کو اسی حالت میں پاتی ہوں۔ چونکہ یہ گھرانہ نبی کا گھرانہ تھا، وہ قدرت الٰہی پر اور صداقت مریم پر ایمان لائیں۔ اب یہ حالت تھی کہ جب کبھی یہ دونوں پاک عورتیں ملاقات کرتیں تو خالہ صاحبہ یہ محسوس فرماتیں کہ گویا ان کا بچہ بھانجی کے بچے کے سامنے جھکتا ہے اور اس کی عزت کرتا ہے۔ ان کے مذہب میں یہ جائز بھی تھا، اسی وجہ سے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اور آپ علیہ السلام کے والد نے آپ علیہ السلام کو سجدہ کیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن ہماری شریعت میں یہ تعظیم اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہو گئی اور کسی دوسرے کو سجدہ کرنا حرام ہو گیا کیونکہ یہ تعظیم الٰہی کے خلاف ہے۔ اس کی جلالت کے شایان شان نہیں۔

صفحہ نمبر5051

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عیسیٰ علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام خالہ زاد بھائی تھے۔ دونوں ایک ہی وقت حمل میں تھے۔ یحییٰ علیہ السلام کی والدہ اکثر مریم رضی اللہ عنہا سے فرماتی تھیں کہ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرا بچہ تیرے بچے کے سامنے سجدہ کرتا ہے۔

امام مالک رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں، اس سے عیسیٰ علیہ السلام کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ نے آپ علیہ السلام کے ہاتھوں اپنے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیا اور مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بھلا چنگا کردیا۔ جمہور کا قول تو یہ ہے کہ آپ نو مہینے تک حمل میں رہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں آٹھ ماہ تک۔ اسی لیے آٹھ ماہ کے حمل کا بچہ عموماً زندہ نہیں رہتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حمل کے ساتھ ہی بچہ ہو گیا۔ یہ قول غریب ہے۔ ممکن ہے آپ رضی اللہ عنہ نے آیت کے ظاہری الفاظ سے یہ سمجھا ہو کیونکہ حمل کا الگ ہونے کا اور درد زہ کا ذکر ان آیتوں میں ”ف“ کے ساتھ ہے اور ”ف“ تعقیب کے لیے آتی ہے۔ لیکن تعقیب ہرچیز کی اس کے اعتبار سے ہوتی ہے جیسے عام انسانوں کی پیدائش کا حال آیت قرآن «وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ» [23-المؤمنون:13،12] ‏ میں ہوا ہے۔ کہ ” ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے بصورت نطفہ رحم میں ٹھہرایا، پھر نطفے کو پھٹکی بنایا، پھر اس پھٹکی کو لوتھڑا بنایا، پھر اس لوتھڑے میں ہڈیاں پیدا کیں “۔

یہاں بھی دو جگہ ”ف“ ہے اور ہے بھی تعقیب کے لیے۔ لیکن حدیث سے ثابت ہے کہ ان دو حالتوں میں چالیس دن کافاصلہ ہوتا ہے ۔ [صحیح بخاری:3208] ‏

صفحہ نمبر5052

قرآن کریم کی اور آیت میں ہے «اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً ۡ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ» [22-الحج:63] ‏ ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برساتا ہے۔ پس زمین سرسبز ہو جاتی ہے “۔

ظاہر ہے کہ پانی برسنے کے بہت بعد سبزہ اگتا ہے۔ حالانکہ ”ف“ یہاں بھی ہے۔ پس تعقیب ہرچیز کی اس چیز کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ سیدھی سی بات تو یہ ہے کہ مثل عادت عورتوں کے آپ رضی اللہ عنہا نے حمل کا زمانہ پورا گزارا۔ مسجد میں ہی، مسجد کے خادم ایک صاحب اور تھے جن کا نام یوسف نجار تھا۔ انہوں نے جب مریم علیہا السلام کا یہ حال دیکھا تو دل میں کچھ شک سا پیدا ہوا لیکن مریم کے زہد وتقویٰ، عبادت و ریاضت، خشیت الٰہی اور حق بینی کو خیال کرتے ہوئے انہوں نے یہ برائی دل سے دور کرنی چاہی۔

لیکن جوں جوں دن گزرتے گئے، حمل کا اظہار ہوتا گیا۔ اب تو خاموش نہ رہ سکے، ایک دن با ادب کہنے لگے کہ مریم میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں ناراض نہ ہونا۔ بھلا بغیر بیج کے کسی درخت کا ہونا، بغیر دانے کے کھیت کا ہونا، بغیر باپ کے بچے کا ہونا ممکن بھی ہے؟ آپ ان کے مطلب کو سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ یہ سب ممکن ہے، سب سے پہلے جو درخت اللہ تعالیٰ نے اگایا وہ بغیر بیج کے تھا۔ سب سے پہلے جو کھیتی اللہ نے اگائی وہ بغیر دانے کی تھی۔ سب سے پہلے اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، وہ بے باپ کے تھے بلکہ بے ماں کے بھی۔ ان کی تو سمجھ میں آگیا اور مریم علیہا السلام کو اور اللہ کی قدرت کو نہ جھٹلا سکے۔ اب صدیقہ نے جب دیکھا کہ قوم کے لوگ ان پر تہمت لگا رہے ہیں تو آپ ان سب کو چھوڑ چھاڑ کر دور دراز چلی گئیں۔

صفحہ نمبر5053

امام محمد بن اسحاق رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں، جب حمل کے حالات ظاہر ہوگئے، قوم نے پھبتیاں پھینکنی، آوازے کسنے اور باتیں بنانی شروع کر دیں اور یوسف نجار جیسے صالح شخص پر یہ تہمت اٹھائی تو آپ ان سب سے کنارہ کش ہوگئیں۔ نہ کوئی انہیں دیکھے نہ آپ کسی کو دیکھیں۔ جب درد زہ اٹھا تو آپ ایک کھجور کے درخت کی جڑ میں آبیٹھیں۔ کہتے ہیں کہ یہ خلوت خانہ بیت المقدس کے مشرقی جانب کا حجرہ تھا۔ یہ بھی قول ہے کہ شام اور مصر کے درمیان آپ پہنچ چکی تھیں، اس وقت بچہ ہونے کا درد شروع ہوا۔ اور قول ہے کہ بیت المقدس سے آپ آٹھ میل چلی گئی تھیں اس بستی کا نام بیت اللحم تھا۔

معراج کے واقعہ کے بیان میں پہلے ایک حدیث گزری ہے جس میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی جگہ بھی بیت اللحم تھا ۔ [سنن نسائی:451،قال الشيخ الألباني:منکر] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

مشہور بات بھی یہی ہے اور نصرانیوں کا تو اس پر اتفاق ہے اور اس حدیث میں بھی ہے اگر یہ صحیح ہو۔ اس وقت آپ موت کی تمنا کرنے لگیں کیونکہ دین کے فتنے کے وقت یہ تمنا بھی جائز ہے۔ جانتی تھیں کہ کوئی انہیں سچا نہ کہے گا۔ ان کے بیان کردہ واقعہ کو ہر شخص گھڑنت سمجھے گا۔ دنیا آپ کو پریشان کر دے گی اور عبادت و اطمینان میں خلل پڑے گا۔ ہر شخص برائی سے یاد کرے گا اور لوگوں پر برا اثر پڑے گا۔ تو فرمانے لگیں کاش کہ میں اس حالت سے پہلے ہی اٹھالی جاتی بلکہ کاش کہ میں پیدا ہی نہ کی جاتی۔ اس قدر شرم و حیاء دامن گیر ہوئی کہ آپ نے اس تکلیف پر موت کو ترجیح دی اور تمنا کی کہ کاش میں کھوئی ہوئی اور یاد سے اتری ہوئی چیز ہو جاتی کہ نہ کوئی یاد کرے نہ ڈھونڈے نہ ذکر کرے۔ احادیث میں موت مانگنے کی ممانعت وارد ہے۔ ہم نے ان روایتوں کو آیت «تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ» [12-یوسف:101] ‏، کی تفسیر میں بیان کر دیا ہے۔

صفحہ نمبر5054

مریم علیہا السلام اور معجزات ٭٭

«مِنْ تَحْتِهَا» کی دوسری قرأت «مِنْ تَحْتَهَا» بھی ہے۔ یہ خطاب کرنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا تو پہلا کلام وہی تھا جو آپ نے اپنی والدہ کی برأت و پاکدامنی میں لوگوں کے سامنے کیا تھا۔ اس وادی کے نیچے کے کنارے سے اس گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں جبرائیل علیہ السلام نے یہ تشفی دی تھی۔ یہ قول بھی کہا گیا ہے کہ یہ بات عیسیٰ علیہ السلام نے ہی کہی تھی۔ آواز آئی کہ غمگین نہ ہو تیرے قدموں تلے تیرے رب نے صاف شفاف شیریں پانی کا چشمہ جاری کر دیا ہے یہ پانی تم پی لو ۔ [طبرانی کبیر:13303:ضعیف] ‏

ایک قول یہ ہے کہ اس چشمے سے مراد خود عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ اس پانی کے ذکر کے بعد ہی کھانے کا ذکر ہے کہ کھجور کے اس درخت کو ہلاؤ اس میں سے تروتازہ کھجوریں جھڑیں گی وہ کھاؤ۔ کہتے ہیں یہ درخت سوکھا پڑا ہوا تھا اور یہ قول بھی ہے کہ پھل دار تھا۔ بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ درخت کھجوروں سے خالی تھا لیکن آپ کے ہلاتے ہی اس میں سے قدرت الٰہی سے کھجوریں جھڑنے لگیں، کھانا پینا سب کچھ موجود ہو گیا اور اجازت بھی دے دی۔ فرمایا کھا پی اور دل کو مسرور رکھ۔

صفحہ نمبر5056

حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ نفاس والی عورتوں کے لیے تر کھجوروں سے اور خشک کھجوروں سے بہتر اور کوئی چیز نہیں۔

ایک حدیث میں ہے، کھجور کے درخت کا اکرام کرو۔ یہ اسی مٹی سے پیدا ہوا ہے جس سے آدم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے اس کے سوا اور کوئی درخت نر مادہ مل کر نہیں پھلتا۔ عورتوں کو ولادت کے وقت تر کھجوریں کھلاؤ، نہ ملیں تو خشک ہی سہی۔ کوئی درخت اس سے بڑھ کر اللہ کے پاس مرتبے والا نہیں۔ اسی لیے اس کے نیچے مریم علیہ السلام کو اتارا ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:263،] ‏ یہ حدیث بالکل منکر ہے۔

«تُسَاقِطْ» کی دوسری قرأت «تَسَّاقَطْ» اور «تُسْقِطْ» بھی ہے۔ مطلب تمام قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ ” کسی سے بات نہ کرنا اشارے سے سمجھا دینا کہ میں آج روزے سے ہوں “۔ یا تو مراد یہ ہے کہ ان کے روزے میں کلام ممنوع تھا یا یہ کہ میں نے بولنے سے ہی روزہ رکھا ہے۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کے پاس دو شخص آئے، ایک نے تو سلام کیا، دوسرے نے نہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اس کی کیا وجہ؟ لوگوں نے کہا اس نے قسم کھائی ہے کہ آج یہ کسی سے بات نہ کرے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے توڑ دے، سلام کلام شروع کر، یہ تو صرف مریم علیہا السلام کے لیے ہی تھا کیونکہ اللہ کو آپ کی صداقت وکرامت ثابت کرنا منظور تھی اس لیے اسے عذر بنا دیا تھا۔ عبدالرحمٰن بن زید کہتے ہیں، جب عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ سے کہا کہ ”آپ گھبرائیں نہیں“، تو آپ رضی اللہ عنہا نے کہا میں کیسے نہ گھبراؤں، خاوند والی میں نہیں، کسی کی ملکیت کی لونڈی باندی میں نہیں، مجھے دنیا نہ کہے گی کہ یہ بچہ کیسے ہوا؟ میں لوگوں کے سامنے کیا جواب دے سکوں گی؟ کون سا عذر پیش کر سکوں گی؟ ہاے کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی، کاش کہ میں ”نسیا منسیا“ ہو گئی ہوتی۔

اس وقت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا، ”اماں آپ کو کسی سے بولنے کی ضرورت نہیں۔ میں آپ ان سب سے نمٹ لوں گا۔ آپ تو انہیں صرف یہ سمجھا دینا کہ آج سے آپ نے چپ رہنے کی نذر مان لی ہے۔‏“

صفحہ نمبر5057

مریم علیہا السلام اور معجزات ٭٭

«مِنْ تَحْتِهَا» کی دوسری قرأت «مِنْ تَحْتَهَا» بھی ہے۔ یہ خطاب کرنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا تو پہلا کلام وہی تھا جو آپ نے اپنی والدہ کی برأت و پاکدامنی میں لوگوں کے سامنے کیا تھا۔ اس وادی کے نیچے کے کنارے سے اس گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں جبرائیل علیہ السلام نے یہ تشفی دی تھی۔ یہ قول بھی کہا گیا ہے کہ یہ بات عیسیٰ علیہ السلام نے ہی کہی تھی۔ آواز آئی کہ غمگین نہ ہو تیرے قدموں تلے تیرے رب نے صاف شفاف شیریں پانی کا چشمہ جاری کر دیا ہے یہ پانی تم پی لو ۔ [طبرانی کبیر:13303:ضعیف] ‏

ایک قول یہ ہے کہ اس چشمے سے مراد خود عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ اس پانی کے ذکر کے بعد ہی کھانے کا ذکر ہے کہ کھجور کے اس درخت کو ہلاؤ اس میں سے تروتازہ کھجوریں جھڑیں گی وہ کھاؤ۔ کہتے ہیں یہ درخت سوکھا پڑا ہوا تھا اور یہ قول بھی ہے کہ پھل دار تھا۔ بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ درخت کھجوروں سے خالی تھا لیکن آپ کے ہلاتے ہی اس میں سے قدرت الٰہی سے کھجوریں جھڑنے لگیں، کھانا پینا سب کچھ موجود ہو گیا اور اجازت بھی دے دی۔ فرمایا کھا پی اور دل کو مسرور رکھ۔

صفحہ نمبر5056

حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ نفاس والی عورتوں کے لیے تر کھجوروں سے اور خشک کھجوروں سے بہتر اور کوئی چیز نہیں۔

ایک حدیث میں ہے، کھجور کے درخت کا اکرام کرو۔ یہ اسی مٹی سے پیدا ہوا ہے جس سے آدم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے اس کے سوا اور کوئی درخت نر مادہ مل کر نہیں پھلتا۔ عورتوں کو ولادت کے وقت تر کھجوریں کھلاؤ، نہ ملیں تو خشک ہی سہی۔ کوئی درخت اس سے بڑھ کر اللہ کے پاس مرتبے والا نہیں۔ اسی لیے اس کے نیچے مریم علیہ السلام کو اتارا ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:263،] ‏ یہ حدیث بالکل منکر ہے۔

«تُسَاقِطْ» کی دوسری قرأت «تَسَّاقَطْ» اور «تُسْقِطْ» بھی ہے۔ مطلب تمام قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ ” کسی سے بات نہ کرنا اشارے سے سمجھا دینا کہ میں آج روزے سے ہوں “۔ یا تو مراد یہ ہے کہ ان کے روزے میں کلام ممنوع تھا یا یہ کہ میں نے بولنے سے ہی روزہ رکھا ہے۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کے پاس دو شخص آئے، ایک نے تو سلام کیا، دوسرے نے نہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اس کی کیا وجہ؟ لوگوں نے کہا اس نے قسم کھائی ہے کہ آج یہ کسی سے بات نہ کرے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے توڑ دے، سلام کلام شروع کر، یہ تو صرف مریم علیہا السلام کے لیے ہی تھا کیونکہ اللہ کو آپ کی صداقت وکرامت ثابت کرنا منظور تھی اس لیے اسے عذر بنا دیا تھا۔ عبدالرحمٰن بن زید کہتے ہیں، جب عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ سے کہا کہ ”آپ گھبرائیں نہیں“، تو آپ رضی اللہ عنہا نے کہا میں کیسے نہ گھبراؤں، خاوند والی میں نہیں، کسی کی ملکیت کی لونڈی باندی میں نہیں، مجھے دنیا نہ کہے گی کہ یہ بچہ کیسے ہوا؟ میں لوگوں کے سامنے کیا جواب دے سکوں گی؟ کون سا عذر پیش کر سکوں گی؟ ہاے کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی، کاش کہ میں ”نسیا منسیا“ ہو گئی ہوتی۔

اس وقت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا، ”اماں آپ کو کسی سے بولنے کی ضرورت نہیں۔ میں آپ ان سب سے نمٹ لوں گا۔ آپ تو انہیں صرف یہ سمجھا دینا کہ آج سے آپ نے چپ رہنے کی نذر مان لی ہے۔‏“

صفحہ نمبر5057

مریم علیہا السلام اور معجزات ٭٭

«مِنْ تَحْتِهَا» کی دوسری قرأت «مِنْ تَحْتَهَا» بھی ہے۔ یہ خطاب کرنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا تو پہلا کلام وہی تھا جو آپ نے اپنی والدہ کی برأت و پاکدامنی میں لوگوں کے سامنے کیا تھا۔ اس وادی کے نیچے کے کنارے سے اس گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں جبرائیل علیہ السلام نے یہ تشفی دی تھی۔ یہ قول بھی کہا گیا ہے کہ یہ بات عیسیٰ علیہ السلام نے ہی کہی تھی۔ آواز آئی کہ غمگین نہ ہو تیرے قدموں تلے تیرے رب نے صاف شفاف شیریں پانی کا چشمہ جاری کر دیا ہے یہ پانی تم پی لو ۔ [طبرانی کبیر:13303:ضعیف] ‏

ایک قول یہ ہے کہ اس چشمے سے مراد خود عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ چنانچہ اس پانی کے ذکر کے بعد ہی کھانے کا ذکر ہے کہ کھجور کے اس درخت کو ہلاؤ اس میں سے تروتازہ کھجوریں جھڑیں گی وہ کھاؤ۔ کہتے ہیں یہ درخت سوکھا پڑا ہوا تھا اور یہ قول بھی ہے کہ پھل دار تھا۔ بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ درخت کھجوروں سے خالی تھا لیکن آپ کے ہلاتے ہی اس میں سے قدرت الٰہی سے کھجوریں جھڑنے لگیں، کھانا پینا سب کچھ موجود ہو گیا اور اجازت بھی دے دی۔ فرمایا کھا پی اور دل کو مسرور رکھ۔

صفحہ نمبر5056

حضرت عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ نفاس والی عورتوں کے لیے تر کھجوروں سے اور خشک کھجوروں سے بہتر اور کوئی چیز نہیں۔

ایک حدیث میں ہے، کھجور کے درخت کا اکرام کرو۔ یہ اسی مٹی سے پیدا ہوا ہے جس سے آدم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے اس کے سوا اور کوئی درخت نر مادہ مل کر نہیں پھلتا۔ عورتوں کو ولادت کے وقت تر کھجوریں کھلاؤ، نہ ملیں تو خشک ہی سہی۔ کوئی درخت اس سے بڑھ کر اللہ کے پاس مرتبے والا نہیں۔ اسی لیے اس کے نیچے مریم علیہ السلام کو اتارا ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:263،] ‏ یہ حدیث بالکل منکر ہے۔

«تُسَاقِطْ» کی دوسری قرأت «تَسَّاقَطْ» اور «تُسْقِطْ» بھی ہے۔ مطلب تمام قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ ” کسی سے بات نہ کرنا اشارے سے سمجھا دینا کہ میں آج روزے سے ہوں “۔ یا تو مراد یہ ہے کہ ان کے روزے میں کلام ممنوع تھا یا یہ کہ میں نے بولنے سے ہی روزہ رکھا ہے۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کے پاس دو شخص آئے، ایک نے تو سلام کیا، دوسرے نے نہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اس کی کیا وجہ؟ لوگوں نے کہا اس نے قسم کھائی ہے کہ آج یہ کسی سے بات نہ کرے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے توڑ دے، سلام کلام شروع کر، یہ تو صرف مریم علیہا السلام کے لیے ہی تھا کیونکہ اللہ کو آپ کی صداقت وکرامت ثابت کرنا منظور تھی اس لیے اسے عذر بنا دیا تھا۔ عبدالرحمٰن بن زید کہتے ہیں، جب عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ سے کہا کہ ”آپ گھبرائیں نہیں“، تو آپ رضی اللہ عنہا نے کہا میں کیسے نہ گھبراؤں، خاوند والی میں نہیں، کسی کی ملکیت کی لونڈی باندی میں نہیں، مجھے دنیا نہ کہے گی کہ یہ بچہ کیسے ہوا؟ میں لوگوں کے سامنے کیا جواب دے سکوں گی؟ کون سا عذر پیش کر سکوں گی؟ ہاے کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی، کاش کہ میں ”نسیا منسیا“ ہو گئی ہوتی۔

اس وقت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا، ”اماں آپ کو کسی سے بولنے کی ضرورت نہیں۔ میں آپ ان سب سے نمٹ لوں گا۔ آپ تو انہیں صرف یہ سمجھا دینا کہ آج سے آپ نے چپ رہنے کی نذر مان لی ہے۔‏“

صفحہ نمبر5057

تقدس مریم اور عوام ٭٭

حضرت مریم علیہا السلام نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کر لیا اور اپنے بچے کو گود میں لیے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ ”مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔‏“

نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے؟ اس نے کہا ”نہیں! لیکن میں نے رات کو ایک عجیب بات یہ دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اس طرف ایک نور نظر آ رہا تھا۔‏“

وہ اس کی نشان دہی پر جا رہے تھے جو سامنے سے عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ بچے کو لیے ہوئے آتی دکھائی دے گئیں، انہیں دیکھ کر آپ وہیں اپنے بچے کو گود میں لیے ہوئے بیٹھ گئیں۔ ان سب نے آپ کو گھیر لیا اور باتیں بنانے لگے۔ ان کا یہ کہنا کہ ”اے ہارون کی بہن!“، اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ہارون کی نسل سے تھیں۔ یا آپ کے گھرانے میں ہارون نامی ایک صالح شخص تھا اور اسی کی سی عبادت وریاضت مریم صدیقہ کی تھی۔ اس لیے انہیں ہاورن کی بہن کہا گیا۔ کوئی کہتا ہے، ہارون نامی ایک بدکار شخص تھا، اس لیے لوگوں نے طعن کی راہ سے انہیں اس کی بہن کہا۔

صفحہ نمبر5060

ان سب اقوال سے بڑھ کر غریب قول ایک یہ بھی ہے کہ آپ ہارون وموسیٰ کی وہی سگی بہن ہیں جنہیں موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے جب موسیٰ علیہ السلام کو پیٹی میں ڈال کر دریا میں چھوڑا تھا تو ان سے کہا تھا کہ ”تم اس طرح اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے جاؤ کہ کسی کو خیال بھی نہ گزرے۔‏“ یہ قول تو بالکل غلط معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ قرآن سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے، آپ علیہ السلام کے بعد صرف خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی ہوئے ہیں۔

چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے سب سے زیادہ قریب میں ہوں اس لیے کہ مجھ میں اور ان کے درمیان میں اور کوئی نبی نہیں گزرا ۔ [صحیح بخاری:2442] ‏

پس اگر محمد بن کعب قرظی کا یہ قول کہ آپ ہارون علیہ السلام کی سگی بہن تھیں، ٹھیک ہو تو یہ ماننا پڑے گا کہ آپ سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام سے بھی پہلے تھے کیونکہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ داؤد علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوئے ہیں۔ ملاحظہ ہوآیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ» الخ [2-البقرہ:251-246] ‏، ان آیتوں میں داؤد علیہ السلام کا واقعہ اور آپ علیہ السلام کا جالوت کو قتل کرنا بیان ہوا ہے «وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ» [2-البقرہ:251] ‏ اور لفظ موجود ہیں کہ ” یہ موسیٰ کے بعد کا واقعہ ہے “۔

انہیں جو غلطی لگی ہے، اس کی وجہ تورات کی یہ عبارت ہے جس میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام مع بنی اسرائیل کے دریا سے پار ہوگئے اور فرعون مع اپنی قوم کے ڈوب مرا، اس وقت مریم بنت عمران نے جو موسیٰ اور ہارون علیہم السلام کی بہن تھیں، دف پر اللہ کے شکر کے ترانے بلند کئے، آپ کے ساتھ اور عورتیں بھی تھیں۔ اس عبارت سے قرظی رحمہ اللہ نے یہ سمجھ لیا کہ یہی عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ ممکن ہے موسیٰ علیہ السلام کی بہن کا نام بھی مریم ہو لیکن یہ کہ یہی مریم عیسیٰ علیہ السلام کی ماں تھیں، اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ محض ناممکن ہے۔ ہو سکتا ہے کہ نام دونوں کا ایک ہو، ایک نام پر دوسرے نام رکھے جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں تو عادت تھی کہ وہ اپنے نبیوں ولیوں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے۔

صفحہ نمبر5061

مسند احمد میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران بھیجا۔ وہاں مجھ سے بعض نصرانیوں نے پوچھا کہ تم یا اخت ہارون پڑھتے ہو حالانکہ موسیٰ علیہ السلام تو عیسیٰ علیہ السلام سے بہت پہلے گزرے ہیں، مجھ سے کوئی جواب بن نہ پڑا۔ جب میں مدینے واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے انہیں اسی وقت کیوں نہ جواب دے دیا کہ وہ لوگ اپنے اگلے نبیوں اور نیک لوگوں کے نام پر اپنے اور اپنی اولادوں کے نام برابر رکھا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:2135] ‏ صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں۔

صفحہ نمبر5062

ایک مرتبہ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ یہ ہارون، موسیٰ علیہ السلام کے بھائی ہارون علیہ السلام نہیں، اس پر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انکار کیا، تو آپ نے کہا کہ اگر آپ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہو تب تو ہمیں منظور ہے ورنہ تاریخی طور پر تو ان کے درمیان چھ سو سال کا فاصلہ ہے۔ یہ سن کر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا خاموش ہوگئیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23689:] ‏

اس تاریخ میں ہمیں قدرے تامل ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، مریم علیہا السلام کا گھرانہ اوپر سے ہی نیک صالح اور دیندار تھا اور یہ دینداری برابر گویا وراثتاً چلی آ رہی تھی۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں اور بعض گھرانے اس کے خلاف بھی ہوتے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک سب بد ہی بد۔ یہ ہارون بڑے بزرگ آدمی تھے، اس وجہ سے بنی اسرائیل میں ہارون نام رکھنے کا عام طور پر عام شوق ہو گیا تھا۔ یہاں تک مذکور ہے کہ جس دن ہارون کا جنازہ نکلا ہے تو آپ کے جنازے میں اسی ہارون نام کے چالیس ہزار آدمی تھے۔ الغرض وہ لوگ ملامت کرنے لگے کہ تم سے یہ برائی کیسے سرزد ہو گئی تم تو نیک کوکھ کی بچی ہو، ماں باپ دونوں صالح، سارا گھرانہ پاک، پھر تم نے یہ کیا حرکت کی؟ قوم کی یہ کڑوی کسیلی باتیں سن کر حسب فرمان آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کر دیا کہ اس سے پوچھ لو۔ ان لوگوں کو تاؤ پر تاؤ آیا کہ دیکھو کیا ڈھٹائی کا جواب دیتی ہے گویا ہمیں پاگل بنا رہی ہے۔ بھلا گود کے بچے سے ہم کیا پوچھیں گے اور وہ ہمیں کیا بتائے گا؟

صفحہ نمبر5063

تقدس مریم اور عوام ٭٭

حضرت مریم علیہا السلام نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کر لیا اور اپنے بچے کو گود میں لیے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ ”مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔‏“

نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے؟ اس نے کہا ”نہیں! لیکن میں نے رات کو ایک عجیب بات یہ دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اس طرف ایک نور نظر آ رہا تھا۔‏“

وہ اس کی نشان دہی پر جا رہے تھے جو سامنے سے عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ بچے کو لیے ہوئے آتی دکھائی دے گئیں، انہیں دیکھ کر آپ وہیں اپنے بچے کو گود میں لیے ہوئے بیٹھ گئیں۔ ان سب نے آپ کو گھیر لیا اور باتیں بنانے لگے۔ ان کا یہ کہنا کہ ”اے ہارون کی بہن!“، اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ہارون کی نسل سے تھیں۔ یا آپ کے گھرانے میں ہارون نامی ایک صالح شخص تھا اور اسی کی سی عبادت وریاضت مریم صدیقہ کی تھی۔ اس لیے انہیں ہاورن کی بہن کہا گیا۔ کوئی کہتا ہے، ہارون نامی ایک بدکار شخص تھا، اس لیے لوگوں نے طعن کی راہ سے انہیں اس کی بہن کہا۔

صفحہ نمبر5060

ان سب اقوال سے بڑھ کر غریب قول ایک یہ بھی ہے کہ آپ ہارون وموسیٰ کی وہی سگی بہن ہیں جنہیں موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے جب موسیٰ علیہ السلام کو پیٹی میں ڈال کر دریا میں چھوڑا تھا تو ان سے کہا تھا کہ ”تم اس طرح اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے جاؤ کہ کسی کو خیال بھی نہ گزرے۔‏“ یہ قول تو بالکل غلط معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ قرآن سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے، آپ علیہ السلام کے بعد صرف خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی ہوئے ہیں۔

چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے سب سے زیادہ قریب میں ہوں اس لیے کہ مجھ میں اور ان کے درمیان میں اور کوئی نبی نہیں گزرا ۔ [صحیح بخاری:2442] ‏

پس اگر محمد بن کعب قرظی کا یہ قول کہ آپ ہارون علیہ السلام کی سگی بہن تھیں، ٹھیک ہو تو یہ ماننا پڑے گا کہ آپ سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام سے بھی پہلے تھے کیونکہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ داؤد علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوئے ہیں۔ ملاحظہ ہوآیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ» الخ [2-البقرہ:251-246] ‏، ان آیتوں میں داؤد علیہ السلام کا واقعہ اور آپ علیہ السلام کا جالوت کو قتل کرنا بیان ہوا ہے «وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ» [2-البقرہ:251] ‏ اور لفظ موجود ہیں کہ ” یہ موسیٰ کے بعد کا واقعہ ہے “۔

انہیں جو غلطی لگی ہے، اس کی وجہ تورات کی یہ عبارت ہے جس میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام مع بنی اسرائیل کے دریا سے پار ہوگئے اور فرعون مع اپنی قوم کے ڈوب مرا، اس وقت مریم بنت عمران نے جو موسیٰ اور ہارون علیہم السلام کی بہن تھیں، دف پر اللہ کے شکر کے ترانے بلند کئے، آپ کے ساتھ اور عورتیں بھی تھیں۔ اس عبارت سے قرظی رحمہ اللہ نے یہ سمجھ لیا کہ یہی عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ ممکن ہے موسیٰ علیہ السلام کی بہن کا نام بھی مریم ہو لیکن یہ کہ یہی مریم عیسیٰ علیہ السلام کی ماں تھیں، اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ محض ناممکن ہے۔ ہو سکتا ہے کہ نام دونوں کا ایک ہو، ایک نام پر دوسرے نام رکھے جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں تو عادت تھی کہ وہ اپنے نبیوں ولیوں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے۔

صفحہ نمبر5061

مسند احمد میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران بھیجا۔ وہاں مجھ سے بعض نصرانیوں نے پوچھا کہ تم یا اخت ہارون پڑھتے ہو حالانکہ موسیٰ علیہ السلام تو عیسیٰ علیہ السلام سے بہت پہلے گزرے ہیں، مجھ سے کوئی جواب بن نہ پڑا۔ جب میں مدینے واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے انہیں اسی وقت کیوں نہ جواب دے دیا کہ وہ لوگ اپنے اگلے نبیوں اور نیک لوگوں کے نام پر اپنے اور اپنی اولادوں کے نام برابر رکھا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:2135] ‏ صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں۔

صفحہ نمبر5062

ایک مرتبہ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ یہ ہارون، موسیٰ علیہ السلام کے بھائی ہارون علیہ السلام نہیں، اس پر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انکار کیا، تو آپ نے کہا کہ اگر آپ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہو تب تو ہمیں منظور ہے ورنہ تاریخی طور پر تو ان کے درمیان چھ سو سال کا فاصلہ ہے۔ یہ سن کر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا خاموش ہوگئیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23689:] ‏

اس تاریخ میں ہمیں قدرے تامل ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، مریم علیہا السلام کا گھرانہ اوپر سے ہی نیک صالح اور دیندار تھا اور یہ دینداری برابر گویا وراثتاً چلی آ رہی تھی۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں اور بعض گھرانے اس کے خلاف بھی ہوتے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک سب بد ہی بد۔ یہ ہارون بڑے بزرگ آدمی تھے، اس وجہ سے بنی اسرائیل میں ہارون نام رکھنے کا عام طور پر عام شوق ہو گیا تھا۔ یہاں تک مذکور ہے کہ جس دن ہارون کا جنازہ نکلا ہے تو آپ کے جنازے میں اسی ہارون نام کے چالیس ہزار آدمی تھے۔ الغرض وہ لوگ ملامت کرنے لگے کہ تم سے یہ برائی کیسے سرزد ہو گئی تم تو نیک کوکھ کی بچی ہو، ماں باپ دونوں صالح، سارا گھرانہ پاک، پھر تم نے یہ کیا حرکت کی؟ قوم کی یہ کڑوی کسیلی باتیں سن کر حسب فرمان آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کر دیا کہ اس سے پوچھ لو۔ ان لوگوں کو تاؤ پر تاؤ آیا کہ دیکھو کیا ڈھٹائی کا جواب دیتی ہے گویا ہمیں پاگل بنا رہی ہے۔ بھلا گود کے بچے سے ہم کیا پوچھیں گے اور وہ ہمیں کیا بتائے گا؟

صفحہ نمبر5063

تقدس مریم اور عوام ٭٭

حضرت مریم علیہا السلام نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کر لیا اور اپنے بچے کو گود میں لیے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ ”مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔‏“

نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے؟ اس نے کہا ”نہیں! لیکن میں نے رات کو ایک عجیب بات یہ دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اس طرف ایک نور نظر آ رہا تھا۔‏“

وہ اس کی نشان دہی پر جا رہے تھے جو سامنے سے عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ بچے کو لیے ہوئے آتی دکھائی دے گئیں، انہیں دیکھ کر آپ وہیں اپنے بچے کو گود میں لیے ہوئے بیٹھ گئیں۔ ان سب نے آپ کو گھیر لیا اور باتیں بنانے لگے۔ ان کا یہ کہنا کہ ”اے ہارون کی بہن!“، اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ہارون کی نسل سے تھیں۔ یا آپ کے گھرانے میں ہارون نامی ایک صالح شخص تھا اور اسی کی سی عبادت وریاضت مریم صدیقہ کی تھی۔ اس لیے انہیں ہاورن کی بہن کہا گیا۔ کوئی کہتا ہے، ہارون نامی ایک بدکار شخص تھا، اس لیے لوگوں نے طعن کی راہ سے انہیں اس کی بہن کہا۔

صفحہ نمبر5060

ان سب اقوال سے بڑھ کر غریب قول ایک یہ بھی ہے کہ آپ ہارون وموسیٰ کی وہی سگی بہن ہیں جنہیں موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے جب موسیٰ علیہ السلام کو پیٹی میں ڈال کر دریا میں چھوڑا تھا تو ان سے کہا تھا کہ ”تم اس طرح اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے جاؤ کہ کسی کو خیال بھی نہ گزرے۔‏“ یہ قول تو بالکل غلط معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ قرآن سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے، آپ علیہ السلام کے بعد صرف خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی ہوئے ہیں۔

چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے سب سے زیادہ قریب میں ہوں اس لیے کہ مجھ میں اور ان کے درمیان میں اور کوئی نبی نہیں گزرا ۔ [صحیح بخاری:2442] ‏

پس اگر محمد بن کعب قرظی کا یہ قول کہ آپ ہارون علیہ السلام کی سگی بہن تھیں، ٹھیک ہو تو یہ ماننا پڑے گا کہ آپ سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام سے بھی پہلے تھے کیونکہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ داؤد علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوئے ہیں۔ ملاحظہ ہوآیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ» الخ [2-البقرہ:251-246] ‏، ان آیتوں میں داؤد علیہ السلام کا واقعہ اور آپ علیہ السلام کا جالوت کو قتل کرنا بیان ہوا ہے «وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ» [2-البقرہ:251] ‏ اور لفظ موجود ہیں کہ ” یہ موسیٰ کے بعد کا واقعہ ہے “۔

انہیں جو غلطی لگی ہے، اس کی وجہ تورات کی یہ عبارت ہے جس میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام مع بنی اسرائیل کے دریا سے پار ہوگئے اور فرعون مع اپنی قوم کے ڈوب مرا، اس وقت مریم بنت عمران نے جو موسیٰ اور ہارون علیہم السلام کی بہن تھیں، دف پر اللہ کے شکر کے ترانے بلند کئے، آپ کے ساتھ اور عورتیں بھی تھیں۔ اس عبارت سے قرظی رحمہ اللہ نے یہ سمجھ لیا کہ یہی عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ ممکن ہے موسیٰ علیہ السلام کی بہن کا نام بھی مریم ہو لیکن یہ کہ یہی مریم عیسیٰ علیہ السلام کی ماں تھیں، اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ محض ناممکن ہے۔ ہو سکتا ہے کہ نام دونوں کا ایک ہو، ایک نام پر دوسرے نام رکھے جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں تو عادت تھی کہ وہ اپنے نبیوں ولیوں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے۔

صفحہ نمبر5061

مسند احمد میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران بھیجا۔ وہاں مجھ سے بعض نصرانیوں نے پوچھا کہ تم یا اخت ہارون پڑھتے ہو حالانکہ موسیٰ علیہ السلام تو عیسیٰ علیہ السلام سے بہت پہلے گزرے ہیں، مجھ سے کوئی جواب بن نہ پڑا۔ جب میں مدینے واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے انہیں اسی وقت کیوں نہ جواب دے دیا کہ وہ لوگ اپنے اگلے نبیوں اور نیک لوگوں کے نام پر اپنے اور اپنی اولادوں کے نام برابر رکھا کرتے تھے ۔ [صحیح مسلم:2135] ‏ صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں۔

صفحہ نمبر5062

ایک مرتبہ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ یہ ہارون، موسیٰ علیہ السلام کے بھائی ہارون علیہ السلام نہیں، اس پر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انکار کیا، تو آپ نے کہا کہ اگر آپ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہو تب تو ہمیں منظور ہے ورنہ تاریخی طور پر تو ان کے درمیان چھ سو سال کا فاصلہ ہے۔ یہ سن کر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا خاموش ہوگئیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23689:] ‏

اس تاریخ میں ہمیں قدرے تامل ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، مریم علیہا السلام کا گھرانہ اوپر سے ہی نیک صالح اور دیندار تھا اور یہ دینداری برابر گویا وراثتاً چلی آ رہی تھی۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں اور بعض گھرانے اس کے خلاف بھی ہوتے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک سب بد ہی بد۔ یہ ہارون بڑے بزرگ آدمی تھے، اس وجہ سے بنی اسرائیل میں ہارون نام رکھنے کا عام طور پر عام شوق ہو گیا تھا۔ یہاں تک مذکور ہے کہ جس دن ہارون کا جنازہ نکلا ہے تو آپ کے جنازے میں اسی ہارون نام کے چالیس ہزار آدمی تھے۔ الغرض وہ لوگ ملامت کرنے لگے کہ تم سے یہ برائی کیسے سرزد ہو گئی تم تو نیک کوکھ کی بچی ہو، ماں باپ دونوں صالح، سارا گھرانہ پاک، پھر تم نے یہ کیا حرکت کی؟ قوم کی یہ کڑوی کسیلی باتیں سن کر حسب فرمان آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کر دیا کہ اس سے پوچھ لو۔ ان لوگوں کو تاؤ پر تاؤ آیا کہ دیکھو کیا ڈھٹائی کا جواب دیتی ہے گویا ہمیں پاگل بنا رہی ہے۔ بھلا گود کے بچے سے ہم کیا پوچھیں گے اور وہ ہمیں کیا بتائے گا؟

صفحہ نمبر5063

باب

اتنے میں بن بلائے آپ علیہ السلام بول اٹھے کہ ”لوگو! میں اللہ کا ایک غلام ہوں۔‏“ سب سے پہلا کلام عیسیٰ علیہ السلام کا یہی ہے۔ اللہ کی تنزیہہ اور تعظیم بیان کی اور اپنی غلامی اور بندگی کا اعلان کیا اللہ کی ذات کو اولاد سے پاک بتایا بلکہ ثابت کر دیا کیونکہ اولاد غلام نہیں ہوتی، پھر اپنی نبوت کا اظہار کیا کہ مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے اپنا نبی بنایا ہے۔ اس میں اپنی والدہ کی برأت بیان کی بلکہ دلیل بھی دے دی کہ میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں، رب نے مجھے اپنی کتاب بھی عنایت فرما دی ہے۔

کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ کی والدہ ماجدہ سے باتیں بنا رہے تھے آپ اس وقت دودھ پی رہے تھے جسے چھوڑ کر بائیں کروٹ سے ہو کر ان کی طرف توجہ فرما کر یہ جواب دیا۔ کہتے ہیں اس قول کے وقت آ پکی انگلی اٹھی ہوئی تھی اور ہاتھ مونڈھے تک اونچا تھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں ”مجھے کتاب دی“ اس کا مطلب یہ ہے کہ دینے کا ارادہ ہو چکا ہے یہ پورا ہوکر رہے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، اسی وقت آپ علیہ السلام کو کتاب یاد تھی، سب سیکھے ہوئے ہی پیدا ہوئے تھے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:487/4:] ‏ لیکن اس قول کی سند ٹھیک نہیں۔ میں جہاں بھی ہوں، لوگوں کو بھلائی سکھانے والا، انہیں نفع پہنچانے والا ہوں۔

صفحہ نمبر5066

ایک عالم اپنے سے بڑے عالم سے ملے اور دریافت کیا کہ مجھے اپنے کس عمل کے اعلان کی اجازت ہے، فرمایا بھلی بات کہنے اور بری بات کے روکنے کی اس لیے کہ یہی اصل دین ہے اور یہی انبیاء اللہ کا ورثہ ہے یہی کام ان کے سپرد ہوتا رہا۔

پس جماعتی مسئلہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی اس عام برکت سے مراد بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا ہے۔ جہاں بیٹھتے اٹھتے، آتے جاتے یہ شغل برابر جاری رہتا۔ کبھی اللہ کی باتیں پہنچانے سے نہ رکتے۔ فرماتے ہیں، مجھے حکم ملا ہے کہ زندگی بھر تک نماز و زکوٰۃ کا پابند رہوں۔ یہی حکم ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ملا۔ ارشاد ہے «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» [15-الحجر:99] ‏ ” مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ “۔

پس عیسیٰ علیہ السلام نے بھی فرمایا کہ ”اس نے مجھ پر یہ دونوں کام میری زندگی کے آخری لمحے تک لکھ دیے ہیں۔‏“ اس سے تقدیر کا ثبوت اور منکرین تقدیر کی تردید بھی ہو جاتی ہے۔ رب کی اطاعت کے اس حکم کے ساتھ ہی مجھے اپنی والدہ کی خدمت گزاری کا بھی حکم ملا ہے۔

عموماً قرآن میں یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں جیسے آیت «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» [17-الإسراء:23] ‏ اور آیت «اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ» [31-لقمان:14] ‏ میں۔

اس نے مجھے گردن کش نہیں بنایا کہ میں اس کی عبادت سے یا والدہ کی اطاعت سے سرکشی اور تکبر کروں اور بدبخت بن جاؤں۔ کہتے ہیں جبار وشقی وہ ہے جو غصے میں آ کر خونریزی کر دے۔

صفحہ نمبر5067

فرماتے ہیں، ”ماں باپ کا نافرمان وہی ہوتا ہے جو بدبخت اور گردن کش ہو۔ بدخلق وہی ہوتا ہے جو اکڑنے والا اور منافق ہو۔‏“

مذکور ہے کہ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام کے معجزوں کو دیکھ کر ایک عورت تعجب سے کہنے لگی، مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو نے پرورش پائی اور مبارک ہے وہ سینہ جس نے تجھے دودھ پلایا۔ آپ علیہ السلام نے جواب دیا، ”مبارک ہے وہ جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی، پھر تابعداری کی اور سرکش اور بدبخت نہ بنا۔‏“

پھر فرماتے ہیں، ”میری پیدائش کے دن، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے دن میں مجھ پرسلامتی ہے۔‏“ اس سے بھی آپ علیہ السلام کی عبودیت اور منجملہ مخلوق کے ایک مخلوق الٰہی ہونا ثابت ہو رہا ہے کہ آپ علیہ السلام مثل انسانوں کے عدم سے وجود میں آئے۔ پھر موت کا مزہ بھی چکھیں گے۔ پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھیں گے بھی۔ لیکن ہاں یہ تینوں موقعے خوب سخت اور کٹھن ہیں۔ آپ علیہ السلام پر آسان اور سہل ہوں گے۔ نہ کوئی گھبراہٹ ہوگی نہ پریشانی بلکہ امن چین اور سراسر سلامتی ہی سلامتی۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔

صفحہ نمبر5068

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com