John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Maryam

Tafsir Ibn Kathir · Mary · 98 ayat · ayat 91–98 · Quran text →

عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭

اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔

«اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔

تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔

صفحہ نمبر5160

جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:] ‏

اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔‏“

مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔

صفحہ نمبر5161

مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6099] ‏

پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ»، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔

صفحہ نمبر5162

عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭

اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔

«اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔

تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔

صفحہ نمبر5160

جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:] ‏

اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔‏“

مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔

صفحہ نمبر5161

مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6099] ‏

پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ»، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔

صفحہ نمبر5162

عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭

اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔

«اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔

تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔

صفحہ نمبر5160

جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:] ‏

اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔‏“

مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔

صفحہ نمبر5161

مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6099] ‏

پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ»، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔

صفحہ نمبر5162

عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭

اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔

«اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔

تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔

صفحہ نمبر5160

جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:] ‏

اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔‏“

مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔

صفحہ نمبر5161

مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6099] ‏

پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ»، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔

صفحہ نمبر5162

عیسیٰ علیہ السلام کا تعارف ٭٭

اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الٰہی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا، پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے۔

«اِدّاً» اور «اَدّاً» اور «اٰدّاً» تینوں لغت ہیں لیکن مشہور «اِدّاً» ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لیے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتے ہیں، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے، نہ اس کی جنس کا کوئی، نہ اس کے ماں باپ، نہ اولاد، نہ اس کا کوئی شریک، نہ اس جیسا کوئی۔

تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے۔ کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔

صفحہ نمبر5160

جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا؟ فرمایا: اس کے لیے اور زیادہ واجب ہو گئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23953:] ‏

اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے۔ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں دیگر کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔‏“

مروی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لیے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں، ملائکہ غضبناک ہو گئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔

صفحہ نمبر5161

مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6099] ‏

پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے، زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں۔ اللہ کی عظمت و شان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو، اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں۔ اس لیے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے، اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں۔ زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں۔ وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے، شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے۔ اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجھی۔ ہر ایک بے یار و مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے۔ ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ»، سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا۔ عادل ہے ظالم نہیں، کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔

صفحہ نمبر5162

اللہ تعالٰی کا امین فرشتہ ٭٭

فرمان ہے کہ ” جن کے دلوں میں توحید رچی ہوئی ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا نور ہے، ضروری بات ہے کہ ہم اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کر دیں گے “۔

چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے کہ ” میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ “۔ اللہ تعالیٰ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ پھر آسمانوں میں ندا کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں انسان سے محبت رکھتا ہے، اے فرشتو! تم بھی اس سے محبت رکھو چنانچہ کل آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پر اتاری جاتی ہے۔ اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ” اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ “، جبرائیل علیہ السلام بھی اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ پھر آسمانوں میں ندا کر دیتے ہیں کہ فلاں دشمن رب ہے، تم سب اس سے بیزار رہنا چنانچہ آسمان والے اس سے بگڑ بیٹھتے ہیں۔ پھر وہی غضب اور ناراضگی زمین پر نازل ہوتی ہے ۔ [صحیح بخاری:3209] ‏

صفحہ نمبر5170

مسند احمد میں ہے کہ جو بندہ اپنے مولا کی مرضی کا طالب ہو جاتا ہے اور اس کی خوشی کے کاموں میں مشغول ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ عزوجل جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ” میرا فلاں بندہ مجھے خوش کرنا چاہتا ہے۔ سنو میں اس سے خوش ہو گیا میں نے اپنی رحمتیں اس پر نازل کرنی شروع کر دیں “۔ پس جبرائیل علیہ السلام ندا کرتے ہیں کہ فلاں پر رحمت الٰہی ہو گئی۔ پھر حاملان عرش بھی یہی منادی کرتے ہیں۔ پھر ان کے پاس والے غرض ساتوں آسمانوں میں یہ آواز گونج جاتی ہے، پھر زمین پر اس کی مقبولیت اترتی ہے ۔ [مسند احمد:279/5:حسن] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔

ایسی ہی ایک اور حدیث بھی مسند احمد میں غرابت والی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ محبت اور شہرت کسی کی برائی یا بھلائی کے ساتھ آسمانوں سے اللہ کی جانب سے اترتی ہے ۔ [مسند احمد:263/5:صحیح لغیرہ] ‏

ابن ابی حاتم میں اسی قسم کی حدیث کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس آیت قرآنی کو پڑھنا بھی مروی ہے ۔ [صحیح مسلم:2637] ‏

پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ نیک عمل کرنے والے ایمانداروں سے اللہ خود محبت کرتا ہے اور زمین پر بھی ان کی محبت اور مقبولیت اتاری جاتی ہے۔ مومن ان سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ ان کا ذکر خیر ہوتا ہے اور ان کی موت کے بعد بھی ان کی بہترین شہرت باقی رہتی ہے۔ مصرم بن حبان کہتے ہیں کہ جو بندہ سچے اور مخلص دل سے اللہ کی طرف جھکتا ہے، اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کو اس کی طرف جھکا دیتا ہے وہ اس سے محبت اور پیار کرنے لگتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے بندہ جو بھلائی برائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کی چادر اوڑھا دیتا ہے۔

صفحہ نمبر5171

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ایک شخص نے ارادہ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کروں گا کہ تمام لوگوں میں میری نیکی کی شہرت ہو جائے اب وہ عبادت الٰہی کی طرف جھک پڑا۔ جب دیکھو نماز میں مسجد میں سب سے اول آئے اور سب کے بعد جائے اسی طرح سات ماہ اسے گزر گئے لیکن اس نے جب بھی سنا یہی سنا کہ لوگ اسے ریا کار کہتے ہیں۔ اس نے یہ حالت دیکھ کر اب اپنے جی میں عہد کر لیا کہ میں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے عمل کروں گا، کسی عمل میں تو نہ بڑھا لیکن خلوص کے ساتھ اعمال شروع کر دئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں میں ہر شخص کی زبان سے نکلنے لگا کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص پر رحم فرمائے اب تو وہ واقعی اللہ والا بن گیا ہے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔‏“

ابن جریر میں ہے کہ یہ آیت سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن یہ قول درست نہیں، اس لیے کہ یہ پوری سورت مکے میں نازل ہوئی ہے، ہجرت کے بعد اس سورت کی کسی آیت کا نازل ہونا ثابت نہیں۔ اور جو اثر امام صاحب نے وارد کیا ہے وہ سنداً بھی صحیح نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5172

” ہم نے اس قرآن کو اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیری زبان میں یعنی عربی زبان میں بالکل آسان کر کے نازل فرمایا ہے جو فصاحت و بلاغت والی بہترین زبان ہے تاکہ تو انہیں جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں، دلوں میں ایمان اور ظاہر میں نیک اعمال رکھتے ہیں، اللہ کی بشارتیں سنا دے اور جو حق سے ہٹے ہوئے، باطل پر مٹے ہوئے، استقامت سے دور، خود بینی میں مخمور، جھگڑالو، جھوٹے، اندھے، بہرے، فاسق، فاجر، ظالم، گنہگار، بد کردار ہیں انہیں اللہ کی پکڑ سے اور اس کے عذابوں سے متنبہ کر دے “، جیسے قریش کے کفار وغیرہ۔

” بہت سی امتوں کو جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا تھا، نبیوں کا انکار کیا تھا، ہم نے ہلاک کر دیا۔ جن میں سے ایک بھی باقی نہیں بچا۔ ایک کی آواز بھی دنیا میں نہیں رہی “۔ «رِكْزًا» کے لفظی معنی ہلکی اور دھیمی آواز کے ہیں۔

صفحہ نمبر5173

اللہ تعالٰی کا امین فرشتہ ٭٭

فرمان ہے کہ ” جن کے دلوں میں توحید رچی ہوئی ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا نور ہے، ضروری بات ہے کہ ہم اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کر دیں گے “۔

چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے کہ ” میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ “۔ اللہ تعالیٰ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ پھر آسمانوں میں ندا کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں انسان سے محبت رکھتا ہے، اے فرشتو! تم بھی اس سے محبت رکھو چنانچہ کل آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پر اتاری جاتی ہے۔ اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ” اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ “، جبرائیل علیہ السلام بھی اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ پھر آسمانوں میں ندا کر دیتے ہیں کہ فلاں دشمن رب ہے، تم سب اس سے بیزار رہنا چنانچہ آسمان والے اس سے بگڑ بیٹھتے ہیں۔ پھر وہی غضب اور ناراضگی زمین پر نازل ہوتی ہے ۔ [صحیح بخاری:3209] ‏

صفحہ نمبر5170

مسند احمد میں ہے کہ جو بندہ اپنے مولا کی مرضی کا طالب ہو جاتا ہے اور اس کی خوشی کے کاموں میں مشغول ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ عزوجل جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ” میرا فلاں بندہ مجھے خوش کرنا چاہتا ہے۔ سنو میں اس سے خوش ہو گیا میں نے اپنی رحمتیں اس پر نازل کرنی شروع کر دیں “۔ پس جبرائیل علیہ السلام ندا کرتے ہیں کہ فلاں پر رحمت الٰہی ہو گئی۔ پھر حاملان عرش بھی یہی منادی کرتے ہیں۔ پھر ان کے پاس والے غرض ساتوں آسمانوں میں یہ آواز گونج جاتی ہے، پھر زمین پر اس کی مقبولیت اترتی ہے ۔ [مسند احمد:279/5:حسن] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔

ایسی ہی ایک اور حدیث بھی مسند احمد میں غرابت والی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ محبت اور شہرت کسی کی برائی یا بھلائی کے ساتھ آسمانوں سے اللہ کی جانب سے اترتی ہے ۔ [مسند احمد:263/5:صحیح لغیرہ] ‏

ابن ابی حاتم میں اسی قسم کی حدیث کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس آیت قرآنی کو پڑھنا بھی مروی ہے ۔ [صحیح مسلم:2637] ‏

پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ نیک عمل کرنے والے ایمانداروں سے اللہ خود محبت کرتا ہے اور زمین پر بھی ان کی محبت اور مقبولیت اتاری جاتی ہے۔ مومن ان سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ ان کا ذکر خیر ہوتا ہے اور ان کی موت کے بعد بھی ان کی بہترین شہرت باقی رہتی ہے۔ مصرم بن حبان کہتے ہیں کہ جو بندہ سچے اور مخلص دل سے اللہ کی طرف جھکتا ہے، اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کو اس کی طرف جھکا دیتا ہے وہ اس سے محبت اور پیار کرنے لگتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے بندہ جو بھلائی برائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کی چادر اوڑھا دیتا ہے۔

صفحہ نمبر5171

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ایک شخص نے ارادہ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کروں گا کہ تمام لوگوں میں میری نیکی کی شہرت ہو جائے اب وہ عبادت الٰہی کی طرف جھک پڑا۔ جب دیکھو نماز میں مسجد میں سب سے اول آئے اور سب کے بعد جائے اسی طرح سات ماہ اسے گزر گئے لیکن اس نے جب بھی سنا یہی سنا کہ لوگ اسے ریا کار کہتے ہیں۔ اس نے یہ حالت دیکھ کر اب اپنے جی میں عہد کر لیا کہ میں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے عمل کروں گا، کسی عمل میں تو نہ بڑھا لیکن خلوص کے ساتھ اعمال شروع کر دئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں میں ہر شخص کی زبان سے نکلنے لگا کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص پر رحم فرمائے اب تو وہ واقعی اللہ والا بن گیا ہے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔‏“

ابن جریر میں ہے کہ یہ آیت سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن یہ قول درست نہیں، اس لیے کہ یہ پوری سورت مکے میں نازل ہوئی ہے، ہجرت کے بعد اس سورت کی کسی آیت کا نازل ہونا ثابت نہیں۔ اور جو اثر امام صاحب نے وارد کیا ہے وہ سنداً بھی صحیح نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5172

” ہم نے اس قرآن کو اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیری زبان میں یعنی عربی زبان میں بالکل آسان کر کے نازل فرمایا ہے جو فصاحت و بلاغت والی بہترین زبان ہے تاکہ تو انہیں جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں، دلوں میں ایمان اور ظاہر میں نیک اعمال رکھتے ہیں، اللہ کی بشارتیں سنا دے اور جو حق سے ہٹے ہوئے، باطل پر مٹے ہوئے، استقامت سے دور، خود بینی میں مخمور، جھگڑالو، جھوٹے، اندھے، بہرے، فاسق، فاجر، ظالم، گنہگار، بد کردار ہیں انہیں اللہ کی پکڑ سے اور اس کے عذابوں سے متنبہ کر دے “، جیسے قریش کے کفار وغیرہ۔

” بہت سی امتوں کو جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا تھا، نبیوں کا انکار کیا تھا، ہم نے ہلاک کر دیا۔ جن میں سے ایک بھی باقی نہیں بچا۔ ایک کی آواز بھی دنیا میں نہیں رہی “۔ «رِكْزًا» کے لفظی معنی ہلکی اور دھیمی آواز کے ہیں۔

صفحہ نمبر5173

اللہ تعالٰی کا امین فرشتہ ٭٭

فرمان ہے کہ ” جن کے دلوں میں توحید رچی ہوئی ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا نور ہے، ضروری بات ہے کہ ہم اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کر دیں گے “۔

چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے کہ ” میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ “۔ اللہ تعالیٰ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ پھر آسمانوں میں ندا کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں انسان سے محبت رکھتا ہے، اے فرشتو! تم بھی اس سے محبت رکھو چنانچہ کل آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پر اتاری جاتی ہے۔ اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ” اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ “، جبرائیل علیہ السلام بھی اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ پھر آسمانوں میں ندا کر دیتے ہیں کہ فلاں دشمن رب ہے، تم سب اس سے بیزار رہنا چنانچہ آسمان والے اس سے بگڑ بیٹھتے ہیں۔ پھر وہی غضب اور ناراضگی زمین پر نازل ہوتی ہے ۔ [صحیح بخاری:3209] ‏

صفحہ نمبر5170

مسند احمد میں ہے کہ جو بندہ اپنے مولا کی مرضی کا طالب ہو جاتا ہے اور اس کی خوشی کے کاموں میں مشغول ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ عزوجل جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ” میرا فلاں بندہ مجھے خوش کرنا چاہتا ہے۔ سنو میں اس سے خوش ہو گیا میں نے اپنی رحمتیں اس پر نازل کرنی شروع کر دیں “۔ پس جبرائیل علیہ السلام ندا کرتے ہیں کہ فلاں پر رحمت الٰہی ہو گئی۔ پھر حاملان عرش بھی یہی منادی کرتے ہیں۔ پھر ان کے پاس والے غرض ساتوں آسمانوں میں یہ آواز گونج جاتی ہے، پھر زمین پر اس کی مقبولیت اترتی ہے ۔ [مسند احمد:279/5:حسن] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔

ایسی ہی ایک اور حدیث بھی مسند احمد میں غرابت والی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ محبت اور شہرت کسی کی برائی یا بھلائی کے ساتھ آسمانوں سے اللہ کی جانب سے اترتی ہے ۔ [مسند احمد:263/5:صحیح لغیرہ] ‏

ابن ابی حاتم میں اسی قسم کی حدیث کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس آیت قرآنی کو پڑھنا بھی مروی ہے ۔ [صحیح مسلم:2637] ‏

پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ نیک عمل کرنے والے ایمانداروں سے اللہ خود محبت کرتا ہے اور زمین پر بھی ان کی محبت اور مقبولیت اتاری جاتی ہے۔ مومن ان سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ ان کا ذکر خیر ہوتا ہے اور ان کی موت کے بعد بھی ان کی بہترین شہرت باقی رہتی ہے۔ مصرم بن حبان کہتے ہیں کہ جو بندہ سچے اور مخلص دل سے اللہ کی طرف جھکتا ہے، اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کو اس کی طرف جھکا دیتا ہے وہ اس سے محبت اور پیار کرنے لگتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے بندہ جو بھلائی برائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کی چادر اوڑھا دیتا ہے۔

صفحہ نمبر5171

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ایک شخص نے ارادہ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کروں گا کہ تمام لوگوں میں میری نیکی کی شہرت ہو جائے اب وہ عبادت الٰہی کی طرف جھک پڑا۔ جب دیکھو نماز میں مسجد میں سب سے اول آئے اور سب کے بعد جائے اسی طرح سات ماہ اسے گزر گئے لیکن اس نے جب بھی سنا یہی سنا کہ لوگ اسے ریا کار کہتے ہیں۔ اس نے یہ حالت دیکھ کر اب اپنے جی میں عہد کر لیا کہ میں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے عمل کروں گا، کسی عمل میں تو نہ بڑھا لیکن خلوص کے ساتھ اعمال شروع کر دئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں میں ہر شخص کی زبان سے نکلنے لگا کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص پر رحم فرمائے اب تو وہ واقعی اللہ والا بن گیا ہے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔‏“

ابن جریر میں ہے کہ یہ آیت سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن یہ قول درست نہیں، اس لیے کہ یہ پوری سورت مکے میں نازل ہوئی ہے، ہجرت کے بعد اس سورت کی کسی آیت کا نازل ہونا ثابت نہیں۔ اور جو اثر امام صاحب نے وارد کیا ہے وہ سنداً بھی صحیح نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر5172

” ہم نے اس قرآن کو اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیری زبان میں یعنی عربی زبان میں بالکل آسان کر کے نازل فرمایا ہے جو فصاحت و بلاغت والی بہترین زبان ہے تاکہ تو انہیں جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں، دلوں میں ایمان اور ظاہر میں نیک اعمال رکھتے ہیں، اللہ کی بشارتیں سنا دے اور جو حق سے ہٹے ہوئے، باطل پر مٹے ہوئے، استقامت سے دور، خود بینی میں مخمور، جھگڑالو، جھوٹے، اندھے، بہرے، فاسق، فاجر، ظالم، گنہگار، بد کردار ہیں انہیں اللہ کی پکڑ سے اور اس کے عذابوں سے متنبہ کر دے “، جیسے قریش کے کفار وغیرہ۔

” بہت سی امتوں کو جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا تھا، نبیوں کا انکار کیا تھا، ہم نے ہلاک کر دیا۔ جن میں سے ایک بھی باقی نہیں بچا۔ ایک کی آواز بھی دنیا میں نہیں رہی “۔ «رِكْزًا» کے لفظی معنی ہلکی اور دھیمی آواز کے ہیں۔

صفحہ نمبر5173

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com