Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Anbiyaa
Tafsir Ibn Kathir · The Prophets · 112 ayat · ayat 61–90 · Quran text →
باب
قوم کے یہ لوگ مشورہ کرتے ہیں کہ آؤ سب کو جمع کرو اور اسے بلاؤ اور پھر اس کو سزا دو۔ خلیل اللہ علیہ السلام یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسا مجمع ہو اور میں اس میں ان کی غلطیاں ان پر واضح کروں اور ان میں توحید کی تبلیغ کروں، اور انہیں بتلاؤں کہ یہ کیسے ظالم و جاہل ہیں کہ ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو نفع نقصان کے مالک نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ چنانچہ مجمع ہوا، سب چھوٹے بڑے آگئے۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی ملزم کی حیثیت سے موجود ہوئے اور آپ علیہ السلام سے سوال ہوا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ لغو حرکت تم نے کی ہے؟ اس پر آپ علیہ السلام نے انہیں قائل معقول کرنے کے لیے فرمایا کہ ”یہ کام تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے“ اور اس کی طرف اشارہ کیا جسے آپ علیہ السلام نے توڑا نہ تھا۔
پھر فرمایا کہ ”مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ اپنے ان معبودوں سے ہی کیوں دریافت نہیں کرتے کہ تمہارے ٹکڑے اڑانے والا کون ہے؟“ اس سے مقصود خلیل اللہ علیہ السلام کا یہ تھا کہ یہ لوگ خودبخود ہی سمجھ لیں کہ یہ پتھر کیا بولیں گے؟ اور جب وہ اتنے عاجز ہیں تو یہ لائق عبادت کیسے ٹھہر سکتے ہیں؟ چنانچہ یہ مقصد بھی آپ کا بفضل الٰہی پورا ہوا اور یہ دوسری ضرب بھی کاری لگی۔
صفحہ نمبر5450
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے ہیں۔ دو تو راہ اللہ میں: ایک تو انکا یہ فرمانا کہ ”ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے۔“ دوسرا یہ فرمانا کہ ”میں بیمار ہوں“، اور ایک مرتبہ سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر میں تھے۔ اتفاق سے ایک ظالم بادشاہ کی حدود سے آپ علیہ السلام گزر رہے تھے، آپ علیہ السلام نے وہاں منزل کی تھی۔ کسی نے بادشاہ کو خبر کر دی کہ ایک مسافر کے ساتھ بہترین عورت ہے اور وہ اس وقت ہماری سلطنت میں ہے۔ بادشاہ نے جھٹ سپاہی بھیجا کہ وہ سارہ رضی اللہ عنہا کو لے آئے۔ اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا ”میری بہن ہے“ اس نے کہا اسے بادشاہ کے دربار میں بھیجو۔ آپ علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا ”سنو، اس ظالم نے تمہیں طلب کیا ہے اور میں تمہیں اپنی بہن بتا چکا ہوں۔ اگر تم سے بھی پوچھا جائے تو یہی کہنا، اس لیے کہ دین کے اعتبار سے تم میری بہن ہو، روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مسلمان نہیں“، یہ کہہ کر آپ علیہ السلام چلے آئے۔ سارہ رضی اللہ عنہا وہاں سے چلیں اور آپ علیہ السلام نماز میں کھڑے ہوگئے۔ جب سارہ رضی اللہ عنہا کو اس ظالم نے دیکھا اور ان کی طرف لپکا، اسی وقت اللہ کے عذاب نے اسے پکڑ لیا، ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے۔ گھبرا کر عاجزی سے کہنے لگا اے نیک عورت اللہ سے دعا کر کہ وہ مجھے چھوڑ دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے دعا کی اسی وقت وہ اچھا ہو گیا لیکن اچھا ہوتے ہی اس نے پھر قصد کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کو پکڑنا چاہا۔ وہی پھر عذاب الٰہی آ پہنچا اور یہ پہلی دفعہ سے زیادہ سخت پکڑ لیا گیا پھر عاجزی کرنے لگا۔ غرض تین دفعہ پے در پے یہی ہوا۔ تیسری دفعہ چھوٹتے ہی اس نے اپنے قریب کے ملازم کو آواز دی اور کہا تو میرے پاس کسی انسان عورت کو نہیں لایا بلکہ شیطانہ کو لایا ہے۔ جا اسے نکال اور ہاجرہ کو اس کے ساتھ کر دے۔ اسی وقت آپ وہاں سے نکال دی گئیں اور ہاجرہ آپ کے حوالے کی گئیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان کی آہٹ پاتے ہی نماز سے فراغت حاصل کی اور دریافت فرمایا کہ ”کہو کیا گزری؟“ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اللہ نے اس کافر کے مکر کو اسی پر لوٹا دیا اور حاجرہ میری خدمت کے لیے آگئیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہا اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ ”یہ ہیں تمہاری اماں اے آسمانی پانی کے لڑکو“ ۔ [صحیح بخاری:3358]
صفحہ نمبر5451
باب
قوم کے یہ لوگ مشورہ کرتے ہیں کہ آؤ سب کو جمع کرو اور اسے بلاؤ اور پھر اس کو سزا دو۔ خلیل اللہ علیہ السلام یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسا مجمع ہو اور میں اس میں ان کی غلطیاں ان پر واضح کروں اور ان میں توحید کی تبلیغ کروں، اور انہیں بتلاؤں کہ یہ کیسے ظالم و جاہل ہیں کہ ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو نفع نقصان کے مالک نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ چنانچہ مجمع ہوا، سب چھوٹے بڑے آگئے۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی ملزم کی حیثیت سے موجود ہوئے اور آپ علیہ السلام سے سوال ہوا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ لغو حرکت تم نے کی ہے؟ اس پر آپ علیہ السلام نے انہیں قائل معقول کرنے کے لیے فرمایا کہ ”یہ کام تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے“ اور اس کی طرف اشارہ کیا جسے آپ علیہ السلام نے توڑا نہ تھا۔
پھر فرمایا کہ ”مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ اپنے ان معبودوں سے ہی کیوں دریافت نہیں کرتے کہ تمہارے ٹکڑے اڑانے والا کون ہے؟“ اس سے مقصود خلیل اللہ علیہ السلام کا یہ تھا کہ یہ لوگ خودبخود ہی سمجھ لیں کہ یہ پتھر کیا بولیں گے؟ اور جب وہ اتنے عاجز ہیں تو یہ لائق عبادت کیسے ٹھہر سکتے ہیں؟ چنانچہ یہ مقصد بھی آپ کا بفضل الٰہی پورا ہوا اور یہ دوسری ضرب بھی کاری لگی۔
صفحہ نمبر5450
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے ہیں۔ دو تو راہ اللہ میں: ایک تو انکا یہ فرمانا کہ ”ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے۔“ دوسرا یہ فرمانا کہ ”میں بیمار ہوں“، اور ایک مرتبہ سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر میں تھے۔ اتفاق سے ایک ظالم بادشاہ کی حدود سے آپ علیہ السلام گزر رہے تھے، آپ علیہ السلام نے وہاں منزل کی تھی۔ کسی نے بادشاہ کو خبر کر دی کہ ایک مسافر کے ساتھ بہترین عورت ہے اور وہ اس وقت ہماری سلطنت میں ہے۔ بادشاہ نے جھٹ سپاہی بھیجا کہ وہ سارہ رضی اللہ عنہا کو لے آئے۔ اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا ”میری بہن ہے“ اس نے کہا اسے بادشاہ کے دربار میں بھیجو۔ آپ علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا ”سنو، اس ظالم نے تمہیں طلب کیا ہے اور میں تمہیں اپنی بہن بتا چکا ہوں۔ اگر تم سے بھی پوچھا جائے تو یہی کہنا، اس لیے کہ دین کے اعتبار سے تم میری بہن ہو، روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مسلمان نہیں“، یہ کہہ کر آپ علیہ السلام چلے آئے۔ سارہ رضی اللہ عنہا وہاں سے چلیں اور آپ علیہ السلام نماز میں کھڑے ہوگئے۔ جب سارہ رضی اللہ عنہا کو اس ظالم نے دیکھا اور ان کی طرف لپکا، اسی وقت اللہ کے عذاب نے اسے پکڑ لیا، ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے۔ گھبرا کر عاجزی سے کہنے لگا اے نیک عورت اللہ سے دعا کر کہ وہ مجھے چھوڑ دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے دعا کی اسی وقت وہ اچھا ہو گیا لیکن اچھا ہوتے ہی اس نے پھر قصد کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کو پکڑنا چاہا۔ وہی پھر عذاب الٰہی آ پہنچا اور یہ پہلی دفعہ سے زیادہ سخت پکڑ لیا گیا پھر عاجزی کرنے لگا۔ غرض تین دفعہ پے در پے یہی ہوا۔ تیسری دفعہ چھوٹتے ہی اس نے اپنے قریب کے ملازم کو آواز دی اور کہا تو میرے پاس کسی انسان عورت کو نہیں لایا بلکہ شیطانہ کو لایا ہے۔ جا اسے نکال اور ہاجرہ کو اس کے ساتھ کر دے۔ اسی وقت آپ وہاں سے نکال دی گئیں اور ہاجرہ آپ کے حوالے کی گئیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان کی آہٹ پاتے ہی نماز سے فراغت حاصل کی اور دریافت فرمایا کہ ”کہو کیا گزری؟“ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اللہ نے اس کافر کے مکر کو اسی پر لوٹا دیا اور حاجرہ میری خدمت کے لیے آگئیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہا اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ ”یہ ہیں تمہاری اماں اے آسمانی پانی کے لڑکو“ ۔ [صحیح بخاری:3358]
صفحہ نمبر5451
باب
قوم کے یہ لوگ مشورہ کرتے ہیں کہ آؤ سب کو جمع کرو اور اسے بلاؤ اور پھر اس کو سزا دو۔ خلیل اللہ علیہ السلام یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسا مجمع ہو اور میں اس میں ان کی غلطیاں ان پر واضح کروں اور ان میں توحید کی تبلیغ کروں، اور انہیں بتلاؤں کہ یہ کیسے ظالم و جاہل ہیں کہ ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو نفع نقصان کے مالک نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ چنانچہ مجمع ہوا، سب چھوٹے بڑے آگئے۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی ملزم کی حیثیت سے موجود ہوئے اور آپ علیہ السلام سے سوال ہوا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ لغو حرکت تم نے کی ہے؟ اس پر آپ علیہ السلام نے انہیں قائل معقول کرنے کے لیے فرمایا کہ ”یہ کام تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے“ اور اس کی طرف اشارہ کیا جسے آپ علیہ السلام نے توڑا نہ تھا۔
پھر فرمایا کہ ”مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ اپنے ان معبودوں سے ہی کیوں دریافت نہیں کرتے کہ تمہارے ٹکڑے اڑانے والا کون ہے؟“ اس سے مقصود خلیل اللہ علیہ السلام کا یہ تھا کہ یہ لوگ خودبخود ہی سمجھ لیں کہ یہ پتھر کیا بولیں گے؟ اور جب وہ اتنے عاجز ہیں تو یہ لائق عبادت کیسے ٹھہر سکتے ہیں؟ چنانچہ یہ مقصد بھی آپ کا بفضل الٰہی پورا ہوا اور یہ دوسری ضرب بھی کاری لگی۔
صفحہ نمبر5450
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ خلیل اللہ نے تین جھوٹ بولے ہیں۔ دو تو راہ اللہ میں: ایک تو انکا یہ فرمانا کہ ”ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے۔“ دوسرا یہ فرمانا کہ ”میں بیمار ہوں“، اور ایک مرتبہ سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر میں تھے۔ اتفاق سے ایک ظالم بادشاہ کی حدود سے آپ علیہ السلام گزر رہے تھے، آپ علیہ السلام نے وہاں منزل کی تھی۔ کسی نے بادشاہ کو خبر کر دی کہ ایک مسافر کے ساتھ بہترین عورت ہے اور وہ اس وقت ہماری سلطنت میں ہے۔ بادشاہ نے جھٹ سپاہی بھیجا کہ وہ سارہ رضی اللہ عنہا کو لے آئے۔ اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا ”میری بہن ہے“ اس نے کہا اسے بادشاہ کے دربار میں بھیجو۔ آپ علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا ”سنو، اس ظالم نے تمہیں طلب کیا ہے اور میں تمہیں اپنی بہن بتا چکا ہوں۔ اگر تم سے بھی پوچھا جائے تو یہی کہنا، اس لیے کہ دین کے اعتبار سے تم میری بہن ہو، روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مسلمان نہیں“، یہ کہہ کر آپ علیہ السلام چلے آئے۔ سارہ رضی اللہ عنہا وہاں سے چلیں اور آپ علیہ السلام نماز میں کھڑے ہوگئے۔ جب سارہ رضی اللہ عنہا کو اس ظالم نے دیکھا اور ان کی طرف لپکا، اسی وقت اللہ کے عذاب نے اسے پکڑ لیا، ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے۔ گھبرا کر عاجزی سے کہنے لگا اے نیک عورت اللہ سے دعا کر کہ وہ مجھے چھوڑ دے میں وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے دعا کی اسی وقت وہ اچھا ہو گیا لیکن اچھا ہوتے ہی اس نے پھر قصد کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کو پکڑنا چاہا۔ وہی پھر عذاب الٰہی آ پہنچا اور یہ پہلی دفعہ سے زیادہ سخت پکڑ لیا گیا پھر عاجزی کرنے لگا۔ غرض تین دفعہ پے در پے یہی ہوا۔ تیسری دفعہ چھوٹتے ہی اس نے اپنے قریب کے ملازم کو آواز دی اور کہا تو میرے پاس کسی انسان عورت کو نہیں لایا بلکہ شیطانہ کو لایا ہے۔ جا اسے نکال اور ہاجرہ کو اس کے ساتھ کر دے۔ اسی وقت آپ وہاں سے نکال دی گئیں اور ہاجرہ آپ کے حوالے کی گئیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان کی آہٹ پاتے ہی نماز سے فراغت حاصل کی اور دریافت فرمایا کہ ”کہو کیا گزری؟“ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اللہ نے اس کافر کے مکر کو اسی پر لوٹا دیا اور حاجرہ میری خدمت کے لیے آگئیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہا اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ ”یہ ہیں تمہاری اماں اے آسمانی پانی کے لڑکو“ ۔ [صحیح بخاری:3358]
صفحہ نمبر5451
اپنی حماقت سے پریشان کافر ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہو گیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کر کے بات بنائی کہ آپ علیہ السلام جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ علیہ السلام کو علم نہیں کہ یہ بت بے زبان ہیں؟
عاجزی، حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا۔ اب خلیل اللہ علیہ السلام کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ علیہ السلام فوراً فرمانے لگے کہ ”بے زبان، بے نفع و ضرر چیز کی عبادت کیسی؟ تم کیوں اس قدر بے سمجھ ہو رہے ہو؟ تف ہے تم پر اور تمہارے ان جھوٹے خداؤں پر۔ آہ کس قدر ظلم وجہل ہے کہ ایسی چیزوں کی پرستش کی جائے اور اللہ واحد کو چھوڑ دیا جائے؟ یہی تھیں وہ دلیلیں جن کا ذکر پہلے ہوا تھا کہ «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» [6-الأنعام:83] ” ہم نے ابراہیم کو وہ دلیلیں سکھا دیں جن سے قوم حقیقت تک پہنچ جائے “۔
صفحہ نمبر5454
آگ گلستان بن گئی ٭٭
یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہو جاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے یا بدی غالب آ جاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو ان کی بدبختی نے گھیرلیا اور دلیل سے عاجز آ کر قائل معقول ہو کر لگے اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے۔ آپس میں مشورہ کیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال کر اس کی جان لے لو تاکہ ہمارے ان معبودوں کی عزت رہے۔ اس بات پر سب نے اتفاق کر لیا اور لکڑیاں جمع کرنی شروع کر دیں۔ یہاں تک کہ بیمار عورتیں بھی نذر مانتی تھیں تو یہی کہ اگر انہیں شفاء ہو جائے تو ابراہیم علیہ السلام کے جلانے کو لکڑیاں لائیں گی۔
زمین میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا گڑھا کھودا، لکڑیوں سے اسے پر کیا اور انبار کھڑا کر کے اس میں آگ لگائی۔ روئے زمین پر کبھی اتنی بڑی آگ دیکھی نہیں گئی۔ جب آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے، اس کے پاس جانا محال ہو گیا، اب گھبرائے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالیں کیسے؟ آخر ایک کردی فارسی اعرابی کے مشورے سے جس کا نام ہیزن تھا، ایک منجنیق تیار کرائی گئی کہ اس میں بٹھا کر جھولا کر پھینک دو۔ [تفسیر قرطبی:303/11:] مروی ہے کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ اندر اترتا جاتا ہے۔
جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» [3-آل عمران:173] ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس بھی جب یہ خبر پہنچی کہ تمام عرب لشکر جرار لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لیے آ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی پڑھا تھا ۔ [صحیح بخاری:4563]
یہ بھی مروی ہے کہ جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، «اللَّهُمَّ إِنَّكَ فِي السَّمَاءِ وَاحِدٌ وَأَنَا فِي الْأَرْضِ وَاحِدٌ أَعْبُدُكَ» ”الٰہی تو آسمانوں میں اکیلا معبود ہے اور توحید کے ساتھ تیرا عابد زمین پر صرف میں ہی ہوں۔“ [مسند بزار:2349:ضعیف]
مروی ہے کہ جب کافر آپ علیہ السلام کو باندھنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”الٰہی تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، تیری ذات پاک ہے، تمام حمد و ثنا تیرے ہی لیے سزاوار ہے۔ سارے ملک کا تو اکیلا ہی مالک ہے کوئی بھی تیرا شریک و ساجھی نہیں۔“ شعیب جبائی فرماتے ہیں کہ ”اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر صرف سولہ سال کی تھی۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5455
بعض سلف سے منقول ہے کہ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے سامنے آسمان و زمین کے درمیان ظاہر ہوئے اور فرمایا، ”کیا آپ علیہ السلام کو کوئی حاجت ہے؟“ آپ علیہ السلام نے جواب دیا ”تم سے تو کوئی حاجت نہیں البتہ اللہ تعالیٰ سے حاجت ہے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بارش کا داروغہ فرشتہ کان لگائے ہوئے تیار تھا کہ کب اللہ کا حکم ہو اور میں اس آگ پر بارش برسا کر اسے ٹھنڈی کر دوں لیکن براہ راست حکم الٰہی آگ کو ہی پہنچا کہ ” میرے خلیل پر تو سلامتی اور ٹھنڈک بن جا “۔ فرماتے ہیں کہ ”اس حکم کے ساتھ ہی روئے زمین کی آگ ٹھنڈی ہوگئی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:]
کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اس دن دنیا بھر میں آگ سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا، اور ابراہیم علیہ السلام کی جوتیاں تو آگ نے جلا دیں لیکن آپ علیہ السلام کے ایک رونگٹے کو بھی آگ نہ لگی۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، ”آگ کو حکم ہوا کہ وہ خلیل اللہ علیہ السلام کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اگر آگ کو صرف ٹھنڈا ہونے کا ہی حکم ہوتا تو پھر ٹھنڈک بھی آپ علیہ السلام کو ضرر پہنچاتی، [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:] اس لیے ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ ” ٹھنڈک کے ساتھ ہی سلامتی بن جا “۔ مذکور ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے ساتھ تھے، آپ علیہ السلام کے منہ پر سے پسینا پونچھ رہے تھے بس اس کے سوا آگ نے کوئی تکلیف نہیں دی۔
صفحہ نمبر5456
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”سایہ یا فرشتہ اس وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔“ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام اس میں چالیس یا پچاس دن رہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ”مجھے اس زمانے میں جو راحت وسرور حاصل تھا ویسا اس سے نکلنے کے بعد حاصل نہیں ہوا، کیا اچھا ہوتا کہ میری ساری زندگی اسی میں گزرتی۔“ [الدر المنشور للسیوطی:479/4:ضعیف]
صفحہ نمبر5457
اپنی حماقت سے پریشان کافر ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہو گیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کر کے بات بنائی کہ آپ علیہ السلام جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ علیہ السلام کو علم نہیں کہ یہ بت بے زبان ہیں؟
عاجزی، حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا۔ اب خلیل اللہ علیہ السلام کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ علیہ السلام فوراً فرمانے لگے کہ ”بے زبان، بے نفع و ضرر چیز کی عبادت کیسی؟ تم کیوں اس قدر بے سمجھ ہو رہے ہو؟ تف ہے تم پر اور تمہارے ان جھوٹے خداؤں پر۔ آہ کس قدر ظلم وجہل ہے کہ ایسی چیزوں کی پرستش کی جائے اور اللہ واحد کو چھوڑ دیا جائے؟ یہی تھیں وہ دلیلیں جن کا ذکر پہلے ہوا تھا کہ «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» [6-الأنعام:83] ” ہم نے ابراہیم کو وہ دلیلیں سکھا دیں جن سے قوم حقیقت تک پہنچ جائے “۔
صفحہ نمبر5454
آگ گلستان بن گئی ٭٭
یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہو جاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے یا بدی غالب آ جاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو ان کی بدبختی نے گھیرلیا اور دلیل سے عاجز آ کر قائل معقول ہو کر لگے اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے۔ آپس میں مشورہ کیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال کر اس کی جان لے لو تاکہ ہمارے ان معبودوں کی عزت رہے۔ اس بات پر سب نے اتفاق کر لیا اور لکڑیاں جمع کرنی شروع کر دیں۔ یہاں تک کہ بیمار عورتیں بھی نذر مانتی تھیں تو یہی کہ اگر انہیں شفاء ہو جائے تو ابراہیم علیہ السلام کے جلانے کو لکڑیاں لائیں گی۔
زمین میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا گڑھا کھودا، لکڑیوں سے اسے پر کیا اور انبار کھڑا کر کے اس میں آگ لگائی۔ روئے زمین پر کبھی اتنی بڑی آگ دیکھی نہیں گئی۔ جب آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے، اس کے پاس جانا محال ہو گیا، اب گھبرائے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالیں کیسے؟ آخر ایک کردی فارسی اعرابی کے مشورے سے جس کا نام ہیزن تھا، ایک منجنیق تیار کرائی گئی کہ اس میں بٹھا کر جھولا کر پھینک دو۔ [تفسیر قرطبی:303/11:] مروی ہے کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ اندر اترتا جاتا ہے۔
جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» [3-آل عمران:173] ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس بھی جب یہ خبر پہنچی کہ تمام عرب لشکر جرار لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لیے آ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی پڑھا تھا ۔ [صحیح بخاری:4563]
یہ بھی مروی ہے کہ جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، «اللَّهُمَّ إِنَّكَ فِي السَّمَاءِ وَاحِدٌ وَأَنَا فِي الْأَرْضِ وَاحِدٌ أَعْبُدُكَ» ”الٰہی تو آسمانوں میں اکیلا معبود ہے اور توحید کے ساتھ تیرا عابد زمین پر صرف میں ہی ہوں۔“ [مسند بزار:2349:ضعیف]
مروی ہے کہ جب کافر آپ علیہ السلام کو باندھنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”الٰہی تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، تیری ذات پاک ہے، تمام حمد و ثنا تیرے ہی لیے سزاوار ہے۔ سارے ملک کا تو اکیلا ہی مالک ہے کوئی بھی تیرا شریک و ساجھی نہیں۔“ شعیب جبائی فرماتے ہیں کہ ”اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر صرف سولہ سال کی تھی۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5455
بعض سلف سے منقول ہے کہ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے سامنے آسمان و زمین کے درمیان ظاہر ہوئے اور فرمایا، ”کیا آپ علیہ السلام کو کوئی حاجت ہے؟“ آپ علیہ السلام نے جواب دیا ”تم سے تو کوئی حاجت نہیں البتہ اللہ تعالیٰ سے حاجت ہے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بارش کا داروغہ فرشتہ کان لگائے ہوئے تیار تھا کہ کب اللہ کا حکم ہو اور میں اس آگ پر بارش برسا کر اسے ٹھنڈی کر دوں لیکن براہ راست حکم الٰہی آگ کو ہی پہنچا کہ ” میرے خلیل پر تو سلامتی اور ٹھنڈک بن جا “۔ فرماتے ہیں کہ ”اس حکم کے ساتھ ہی روئے زمین کی آگ ٹھنڈی ہوگئی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:]
کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اس دن دنیا بھر میں آگ سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا، اور ابراہیم علیہ السلام کی جوتیاں تو آگ نے جلا دیں لیکن آپ علیہ السلام کے ایک رونگٹے کو بھی آگ نہ لگی۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، ”آگ کو حکم ہوا کہ وہ خلیل اللہ علیہ السلام کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اگر آگ کو صرف ٹھنڈا ہونے کا ہی حکم ہوتا تو پھر ٹھنڈک بھی آپ علیہ السلام کو ضرر پہنچاتی، [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:] اس لیے ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ ” ٹھنڈک کے ساتھ ہی سلامتی بن جا “۔ مذکور ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے ساتھ تھے، آپ علیہ السلام کے منہ پر سے پسینا پونچھ رہے تھے بس اس کے سوا آگ نے کوئی تکلیف نہیں دی۔
صفحہ نمبر5456
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”سایہ یا فرشتہ اس وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔“ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام اس میں چالیس یا پچاس دن رہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ”مجھے اس زمانے میں جو راحت وسرور حاصل تھا ویسا اس سے نکلنے کے بعد حاصل نہیں ہوا، کیا اچھا ہوتا کہ میری ساری زندگی اسی میں گزرتی۔“ [الدر المنشور للسیوطی:479/4:ضعیف]
صفحہ نمبر5457
اپنی حماقت سے پریشان کافر ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہو گیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کر کے بات بنائی کہ آپ علیہ السلام جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ علیہ السلام کو علم نہیں کہ یہ بت بے زبان ہیں؟
عاجزی، حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا۔ اب خلیل اللہ علیہ السلام کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ علیہ السلام فوراً فرمانے لگے کہ ”بے زبان، بے نفع و ضرر چیز کی عبادت کیسی؟ تم کیوں اس قدر بے سمجھ ہو رہے ہو؟ تف ہے تم پر اور تمہارے ان جھوٹے خداؤں پر۔ آہ کس قدر ظلم وجہل ہے کہ ایسی چیزوں کی پرستش کی جائے اور اللہ واحد کو چھوڑ دیا جائے؟ یہی تھیں وہ دلیلیں جن کا ذکر پہلے ہوا تھا کہ «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» [6-الأنعام:83] ” ہم نے ابراہیم کو وہ دلیلیں سکھا دیں جن سے قوم حقیقت تک پہنچ جائے “۔
صفحہ نمبر5454
آگ گلستان بن گئی ٭٭
یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہو جاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے یا بدی غالب آ جاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو ان کی بدبختی نے گھیرلیا اور دلیل سے عاجز آ کر قائل معقول ہو کر لگے اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے۔ آپس میں مشورہ کیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال کر اس کی جان لے لو تاکہ ہمارے ان معبودوں کی عزت رہے۔ اس بات پر سب نے اتفاق کر لیا اور لکڑیاں جمع کرنی شروع کر دیں۔ یہاں تک کہ بیمار عورتیں بھی نذر مانتی تھیں تو یہی کہ اگر انہیں شفاء ہو جائے تو ابراہیم علیہ السلام کے جلانے کو لکڑیاں لائیں گی۔
زمین میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا گڑھا کھودا، لکڑیوں سے اسے پر کیا اور انبار کھڑا کر کے اس میں آگ لگائی۔ روئے زمین پر کبھی اتنی بڑی آگ دیکھی نہیں گئی۔ جب آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے، اس کے پاس جانا محال ہو گیا، اب گھبرائے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالیں کیسے؟ آخر ایک کردی فارسی اعرابی کے مشورے سے جس کا نام ہیزن تھا، ایک منجنیق تیار کرائی گئی کہ اس میں بٹھا کر جھولا کر پھینک دو۔ [تفسیر قرطبی:303/11:] مروی ہے کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ اندر اترتا جاتا ہے۔
جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» [3-آل عمران:173] ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس بھی جب یہ خبر پہنچی کہ تمام عرب لشکر جرار لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لیے آ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی پڑھا تھا ۔ [صحیح بخاری:4563]
یہ بھی مروی ہے کہ جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، «اللَّهُمَّ إِنَّكَ فِي السَّمَاءِ وَاحِدٌ وَأَنَا فِي الْأَرْضِ وَاحِدٌ أَعْبُدُكَ» ”الٰہی تو آسمانوں میں اکیلا معبود ہے اور توحید کے ساتھ تیرا عابد زمین پر صرف میں ہی ہوں۔“ [مسند بزار:2349:ضعیف]
مروی ہے کہ جب کافر آپ علیہ السلام کو باندھنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”الٰہی تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، تیری ذات پاک ہے، تمام حمد و ثنا تیرے ہی لیے سزاوار ہے۔ سارے ملک کا تو اکیلا ہی مالک ہے کوئی بھی تیرا شریک و ساجھی نہیں۔“ شعیب جبائی فرماتے ہیں کہ ”اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر صرف سولہ سال کی تھی۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5455
بعض سلف سے منقول ہے کہ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے سامنے آسمان و زمین کے درمیان ظاہر ہوئے اور فرمایا، ”کیا آپ علیہ السلام کو کوئی حاجت ہے؟“ آپ علیہ السلام نے جواب دیا ”تم سے تو کوئی حاجت نہیں البتہ اللہ تعالیٰ سے حاجت ہے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بارش کا داروغہ فرشتہ کان لگائے ہوئے تیار تھا کہ کب اللہ کا حکم ہو اور میں اس آگ پر بارش برسا کر اسے ٹھنڈی کر دوں لیکن براہ راست حکم الٰہی آگ کو ہی پہنچا کہ ” میرے خلیل پر تو سلامتی اور ٹھنڈک بن جا “۔ فرماتے ہیں کہ ”اس حکم کے ساتھ ہی روئے زمین کی آگ ٹھنڈی ہوگئی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:]
کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اس دن دنیا بھر میں آگ سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا، اور ابراہیم علیہ السلام کی جوتیاں تو آگ نے جلا دیں لیکن آپ علیہ السلام کے ایک رونگٹے کو بھی آگ نہ لگی۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، ”آگ کو حکم ہوا کہ وہ خلیل اللہ علیہ السلام کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اگر آگ کو صرف ٹھنڈا ہونے کا ہی حکم ہوتا تو پھر ٹھنڈک بھی آپ علیہ السلام کو ضرر پہنچاتی، [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:] اس لیے ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ ” ٹھنڈک کے ساتھ ہی سلامتی بن جا “۔ مذکور ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے ساتھ تھے، آپ علیہ السلام کے منہ پر سے پسینا پونچھ رہے تھے بس اس کے سوا آگ نے کوئی تکلیف نہیں دی۔
صفحہ نمبر5456
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”سایہ یا فرشتہ اس وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔“ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام اس میں چالیس یا پچاس دن رہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ”مجھے اس زمانے میں جو راحت وسرور حاصل تھا ویسا اس سے نکلنے کے بعد حاصل نہیں ہوا، کیا اچھا ہوتا کہ میری ساری زندگی اسی میں گزرتی۔“ [الدر المنشور للسیوطی:479/4:ضعیف]
صفحہ نمبر5457
اپنی حماقت سے پریشان کافر ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی باتیں سن کر انہیں خیال تو پیدا ہو گیا۔ اپنے آپ کو اپنی بیوقوفی پر ملامت کرنے لگے۔ سخت ندامت اٹھائی اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم نے بڑی غلطی کی، اپنے معبودوں کے پاس کسی کو حفاظت کیلئے نہ چھوڑا اور چل دئیے۔ پھر غور وفکر کر کے بات بنائی کہ آپ علیہ السلام جو کچھ ہم سے کہتے ہیں کہ ان سے ہم پوچھ لیں کہ تمہیں کس نے توڑا ہے تو کیا آپ علیہ السلام کو علم نہیں کہ یہ بت بے زبان ہیں؟
عاجزی، حیرت اور انتہائی لاجوابی کی حالت میں انہیں اس بات کا اقرار کرنا پڑا۔ اب خلیل اللہ علیہ السلام کو خاصا موقعہ مل گیا اور آپ علیہ السلام فوراً فرمانے لگے کہ ”بے زبان، بے نفع و ضرر چیز کی عبادت کیسی؟ تم کیوں اس قدر بے سمجھ ہو رہے ہو؟ تف ہے تم پر اور تمہارے ان جھوٹے خداؤں پر۔ آہ کس قدر ظلم وجہل ہے کہ ایسی چیزوں کی پرستش کی جائے اور اللہ واحد کو چھوڑ دیا جائے؟ یہی تھیں وہ دلیلیں جن کا ذکر پہلے ہوا تھا کہ «وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ» [6-الأنعام:83] ” ہم نے ابراہیم کو وہ دلیلیں سکھا دیں جن سے قوم حقیقت تک پہنچ جائے “۔
صفحہ نمبر5454
آگ گلستان بن گئی ٭٭
یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہو جاتا ہے تو یا نیکی اسے گھسیٹ لیتی ہے یا بدی غالب آ جاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو ان کی بدبختی نے گھیرلیا اور دلیل سے عاجز آ کر قائل معقول ہو کر لگے اپنے دباؤ کا مظاہرہ کرنے۔ آپس میں مشورہ کیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال کر اس کی جان لے لو تاکہ ہمارے ان معبودوں کی عزت رہے۔ اس بات پر سب نے اتفاق کر لیا اور لکڑیاں جمع کرنی شروع کر دیں۔ یہاں تک کہ بیمار عورتیں بھی نذر مانتی تھیں تو یہی کہ اگر انہیں شفاء ہو جائے تو ابراہیم علیہ السلام کے جلانے کو لکڑیاں لائیں گی۔
زمین میں ایک بہت بڑا اور بہت گہرا گڑھا کھودا، لکڑیوں سے اسے پر کیا اور انبار کھڑا کر کے اس میں آگ لگائی۔ روئے زمین پر کبھی اتنی بڑی آگ دیکھی نہیں گئی۔ جب آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے، اس کے پاس جانا محال ہو گیا، اب گھبرائے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالیں کیسے؟ آخر ایک کردی فارسی اعرابی کے مشورے سے جس کا نام ہیزن تھا، ایک منجنیق تیار کرائی گئی کہ اس میں بٹھا کر جھولا کر پھینک دو۔ [تفسیر قرطبی:303/11:] مروی ہے کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ اندر اترتا جاتا ہے۔
جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» [3-آل عمران:173] ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس بھی جب یہ خبر پہنچی کہ تمام عرب لشکر جرار لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لیے آ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی پڑھا تھا ۔ [صحیح بخاری:4563]
یہ بھی مروی ہے کہ جب آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، «اللَّهُمَّ إِنَّكَ فِي السَّمَاءِ وَاحِدٌ وَأَنَا فِي الْأَرْضِ وَاحِدٌ أَعْبُدُكَ» ”الٰہی تو آسمانوں میں اکیلا معبود ہے اور توحید کے ساتھ تیرا عابد زمین پر صرف میں ہی ہوں۔“ [مسند بزار:2349:ضعیف]
مروی ہے کہ جب کافر آپ علیہ السلام کو باندھنے لگے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”الٰہی تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، تیری ذات پاک ہے، تمام حمد و ثنا تیرے ہی لیے سزاوار ہے۔ سارے ملک کا تو اکیلا ہی مالک ہے کوئی بھی تیرا شریک و ساجھی نہیں۔“ شعیب جبائی فرماتے ہیں کہ ”اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر صرف سولہ سال کی تھی۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5455
بعض سلف سے منقول ہے کہ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے سامنے آسمان و زمین کے درمیان ظاہر ہوئے اور فرمایا، ”کیا آپ علیہ السلام کو کوئی حاجت ہے؟“ آپ علیہ السلام نے جواب دیا ”تم سے تو کوئی حاجت نہیں البتہ اللہ تعالیٰ سے حاجت ہے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بارش کا داروغہ فرشتہ کان لگائے ہوئے تیار تھا کہ کب اللہ کا حکم ہو اور میں اس آگ پر بارش برسا کر اسے ٹھنڈی کر دوں لیکن براہ راست حکم الٰہی آگ کو ہی پہنچا کہ ” میرے خلیل پر تو سلامتی اور ٹھنڈک بن جا “۔ فرماتے ہیں کہ ”اس حکم کے ساتھ ہی روئے زمین کی آگ ٹھنڈی ہوگئی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:]
کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اس دن دنیا بھر میں آگ سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا، اور ابراہیم علیہ السلام کی جوتیاں تو آگ نے جلا دیں لیکن آپ علیہ السلام کے ایک رونگٹے کو بھی آگ نہ لگی۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، ”آگ کو حکم ہوا کہ وہ خلیل اللہ علیہ السلام کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اگر آگ کو صرف ٹھنڈا ہونے کا ہی حکم ہوتا تو پھر ٹھنڈک بھی آپ علیہ السلام کو ضرر پہنچاتی، [تفسیر ابن جریر الطبری:466/18:] اس لیے ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ ” ٹھنڈک کے ساتھ ہی سلامتی بن جا “۔ مذکور ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کے ساتھ تھے، آپ علیہ السلام کے منہ پر سے پسینا پونچھ رہے تھے بس اس کے سوا آگ نے کوئی تکلیف نہیں دی۔
صفحہ نمبر5456
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ”سایہ یا فرشتہ اس وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔“ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام اس میں چالیس یا پچاس دن رہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ”مجھے اس زمانے میں جو راحت وسرور حاصل تھا ویسا اس سے نکلنے کے بعد حاصل نہیں ہوا، کیا اچھا ہوتا کہ میری ساری زندگی اسی میں گزرتی۔“ [الدر المنشور للسیوطی:479/4:ضعیف]
صفحہ نمبر5457
آگ گلستان بن گئی ٭٭
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے والد نے سب سے اچھا کلمہ جو کہا ہے وہ یہ ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام آگ سے زندہ صحیح سالم نکلے، اس وقت آپ علیہ السلام کو اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے دیکھ کر آپ علیہ السلام کے والد نے کہا، ابراہیم (علیہ السلام) ”تیرا رب بہت ہی بزرگ اور بڑا ہے۔“ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، اس دن جو جانور نکلا وہ آپ علیہ السلام کی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا سوائے گرگٹ کے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:467/18:]
صفحہ نمبر5461
زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے اور اسے فاسق کہا ہے۔“
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک نیزہ دیکھ کر ایک عورت نے سوال کیا کہ یہ کیوں رکھ چھوڑا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”گرگٹوں کو مار ڈالنے کے لیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس وقت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے اس وقت تمام جانور اس آگ کو بجھا رہے تھے سوائے گرگٹ کے، یہ اور پھونک رہا تھا ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:3231،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5462
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ان کا مکر ہم نے ان پر الٹ دیا “۔ کافروں نے اللہ کے نبی علیہ السلام کو نیچا کرنا چاہا اللہ نے انہیں نیچا دکھایا۔
. عطیہ عوفی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں جلائے جانے کا تماشا دیکھنے کے لیے ان کافروں کا بادشاہ بھی آیا تھا، ادھر خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا جاتا ہے ادھر آگ میں سے ایک چنگاری اڑتی ہے اور اس کافر بادشاہ کے انگوٹھے پر آ پڑتی ہے اور وہیں کھڑے کھڑے سب کے سامنے اس طرح اسے جلا دیتی ہے جیسے روئی جل جائے۔“
صفحہ نمبر5463
آگ گلستان بن گئی ٭٭
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے والد نے سب سے اچھا کلمہ جو کہا ہے وہ یہ ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام آگ سے زندہ صحیح سالم نکلے، اس وقت آپ علیہ السلام کو اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے دیکھ کر آپ علیہ السلام کے والد نے کہا، ابراہیم (علیہ السلام) ”تیرا رب بہت ہی بزرگ اور بڑا ہے۔“ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، اس دن جو جانور نکلا وہ آپ علیہ السلام کی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا سوائے گرگٹ کے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:467/18:]
صفحہ نمبر5461
زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے اور اسے فاسق کہا ہے۔“
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک نیزہ دیکھ کر ایک عورت نے سوال کیا کہ یہ کیوں رکھ چھوڑا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”گرگٹوں کو مار ڈالنے کے لیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس وقت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے اس وقت تمام جانور اس آگ کو بجھا رہے تھے سوائے گرگٹ کے، یہ اور پھونک رہا تھا ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:3231،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5462
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ان کا مکر ہم نے ان پر الٹ دیا “۔ کافروں نے اللہ کے نبی علیہ السلام کو نیچا کرنا چاہا اللہ نے انہیں نیچا دکھایا۔
. عطیہ عوفی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں جلائے جانے کا تماشا دیکھنے کے لیے ان کافروں کا بادشاہ بھی آیا تھا، ادھر خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا جاتا ہے ادھر آگ میں سے ایک چنگاری اڑتی ہے اور اس کافر بادشاہ کے انگوٹھے پر آ پڑتی ہے اور وہیں کھڑے کھڑے سب کے سامنے اس طرح اسے جلا دیتی ہے جیسے روئی جل جائے۔“
صفحہ نمبر5463
آگ گلستان بن گئی ٭٭
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے والد نے سب سے اچھا کلمہ جو کہا ہے وہ یہ ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام آگ سے زندہ صحیح سالم نکلے، اس وقت آپ علیہ السلام کو اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے دیکھ کر آپ علیہ السلام کے والد نے کہا، ابراہیم (علیہ السلام) ”تیرا رب بہت ہی بزرگ اور بڑا ہے۔“ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، اس دن جو جانور نکلا وہ آپ علیہ السلام کی آگ کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا سوائے گرگٹ کے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:467/18:]
صفحہ نمبر5461
زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے اور اسے فاسق کہا ہے۔“
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک نیزہ دیکھ کر ایک عورت نے سوال کیا کہ یہ کیوں رکھ چھوڑا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”گرگٹوں کو مار ڈالنے کے لیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس وقت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے اس وقت تمام جانور اس آگ کو بجھا رہے تھے سوائے گرگٹ کے، یہ اور پھونک رہا تھا ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:3231،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5462
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” ان کا مکر ہم نے ان پر الٹ دیا “۔ کافروں نے اللہ کے نبی علیہ السلام کو نیچا کرنا چاہا اللہ نے انہیں نیچا دکھایا۔
. عطیہ عوفی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں جلائے جانے کا تماشا دیکھنے کے لیے ان کافروں کا بادشاہ بھی آیا تھا، ادھر خلیل اللہ علیہ السلام کو آگ میں ڈالا جاتا ہے ادھر آگ میں سے ایک چنگاری اڑتی ہے اور اس کافر بادشاہ کے انگوٹھے پر آ پڑتی ہے اور وہیں کھڑے کھڑے سب کے سامنے اس طرح اسے جلا دیتی ہے جیسے روئی جل جائے۔“
صفحہ نمبر5463
ہجرت خلیل علیہ السلام ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام کو عراق کی سر زمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔
شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سر زمین ہے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب رحمہ اللہ آپ علیہ السلام حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ علیہ السلام نے ان سے اس قرار پر نکاح کر لیا کہ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے، انہی کا نام سارہ ہے رضی اللہ عنہا۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ سارہ آپ علیہ السلام کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی۔ مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [3-آل عمران:97-96] ” یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آ جانے والا امن وسلامتی میں آ جاتا ہے “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا “۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [11-ھود:71] چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت «رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ» [37-الصافات:100] اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکوکار بنایا۔
صفحہ نمبر5466
ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنا دیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیان فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ ” وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے “۔
پھر لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ علیہ السلام کی تابعداری میں آپ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت «فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ» [29-العنكبوت:26] ، ” لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں “۔
پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فنا کر دئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ ” ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا “۔
صفحہ نمبر5467
ہجرت خلیل علیہ السلام ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام کو عراق کی سر زمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔
شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سر زمین ہے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب رحمہ اللہ آپ علیہ السلام حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ علیہ السلام نے ان سے اس قرار پر نکاح کر لیا کہ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے، انہی کا نام سارہ ہے رضی اللہ عنہا۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ سارہ آپ علیہ السلام کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی۔ مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [3-آل عمران:97-96] ” یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آ جانے والا امن وسلامتی میں آ جاتا ہے “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا “۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [11-ھود:71] چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت «رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ» [37-الصافات:100] اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکوکار بنایا۔
صفحہ نمبر5466
ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنا دیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیان فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ ” وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے “۔
پھر لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ علیہ السلام کی تابعداری میں آپ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت «فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ» [29-العنكبوت:26] ، ” لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں “۔
پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فنا کر دئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ ” ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا “۔
صفحہ نمبر5467
ہجرت خلیل علیہ السلام ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام کو عراق کی سر زمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔
شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سر زمین ہے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب رحمہ اللہ آپ علیہ السلام حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ علیہ السلام نے ان سے اس قرار پر نکاح کر لیا کہ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے، انہی کا نام سارہ ہے رضی اللہ عنہا۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ سارہ آپ علیہ السلام کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی۔ مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [3-آل عمران:97-96] ” یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آ جانے والا امن وسلامتی میں آ جاتا ہے “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا “۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [11-ھود:71] چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت «رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ» [37-الصافات:100] اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکوکار بنایا۔
صفحہ نمبر5466
ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنا دیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیان فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ ” وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے “۔
پھر لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ علیہ السلام کی تابعداری میں آپ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت «فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ» [29-العنكبوت:26] ، ” لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں “۔
پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فنا کر دئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ ” ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا “۔
صفحہ نمبر5467
ہجرت خلیل علیہ السلام ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام کو عراق کی سر زمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔
شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سر زمین ہے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب رحمہ اللہ آپ علیہ السلام حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ علیہ السلام نے ان سے اس قرار پر نکاح کر لیا کہ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے، انہی کا نام سارہ ہے رضی اللہ عنہا۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ سارہ آپ علیہ السلام کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی۔ مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [3-آل عمران:97-96] ” یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آ جانے والا امن وسلامتی میں آ جاتا ہے “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا “۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [11-ھود:71] چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت «رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ» [37-الصافات:100] اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکوکار بنایا۔
صفحہ نمبر5466
ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنا دیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیان فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ ” وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے “۔
پھر لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ علیہ السلام کی تابعداری میں آپ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت «فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ» [29-العنكبوت:26] ، ” لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں “۔
پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فنا کر دئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ ” ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا “۔
صفحہ نمبر5467
ہجرت خلیل علیہ السلام ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام کو عراق کی سر زمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔
شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سر زمین ہے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب رحمہ اللہ آپ علیہ السلام حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ علیہ السلام نے ان سے اس قرار پر نکاح کر لیا کہ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے، انہی کا نام سارہ ہے رضی اللہ عنہا۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ سارہ آپ علیہ السلام کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی۔ مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [3-آل عمران:97-96] ” یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آ جانے والا امن وسلامتی میں آ جاتا ہے “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا “۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [11-ھود:71] چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت «رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ» [37-الصافات:100] اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکوکار بنایا۔
صفحہ نمبر5466
ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنا دیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیان فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ ” وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے “۔
پھر لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ علیہ السلام کی تابعداری میں آپ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت «فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ» [29-العنكبوت:26] ، ” لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں “۔
پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فنا کر دئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ ” ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا “۔
صفحہ نمبر5467
نوح علیہ السلام کی دعا ٭٭
نوح نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی قوم نے ستایا۔ تکلیفیں دیں تو آپ علیہ السلام نے اللہ کو پکارا کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» [54-القمر:10] ” باری تعالیٰ میں عاجز آ گیا ہوں تو میری مدد فرما “۔ «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا» [71-نوح:26-27] ” زمین پر ان کافروں میں سے کسی ایک کو بھی باقی نہ رکھ ورنہ یہ تیرے بندوں کو بہکائیں گے۔ اور ان کی اولادیں بھی ایسی ہی فاجر و کافر ہوں گی “۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی دعا قبول فرمائی «وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ ۚ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ» [11-ھود:40] اور آپ علیہ السلام کو اور مومنوں کو نجات دی اور آپ علیہ السلام کے اہل کو بھی سوائے ان کے جن کے نام برباد ہونے والوں میں آگئے تھے۔ آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کی بہت ہی کم مقدار تھی۔ قوم کی سختی، ایذاء دہی اور تکلیف سے رب عالم نے اپنے نبی علیہ السلام کو بچا لیا۔ ساڑھے نو سو سال تک آپ علیہ السلام ان میں رہے اور انہیں دین اسلام کی طرف بلاتے رہے مگر سوائے چند لوگوں کے اور سب اپنے شرک و کفر سے باز نہ آئے، بلکہ آپ علیہ السلام کو سخت ایذائیں دیں اور ایک دوسرے کو اذیت دینے کے لیے بھڑکاتے رہے۔
” ہم نے ان کی مدد فرمائی اور عزت و آبرو کے ساتھ کفار کی ایذاء رسانیوں سے چھٹکارا دیا اور ان برے لوگوں کوٹھکانے لگا دیا “، اور نوح علیہ السلام کی دعا کے مطابق روئے زمین پر ایک بھی کافر نہ بچا۔ سب ڈبو دئے گئے۔
صفحہ نمبر5472
نوح علیہ السلام کی دعا ٭٭
نوح نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی قوم نے ستایا۔ تکلیفیں دیں تو آپ علیہ السلام نے اللہ کو پکارا کہ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ» [54-القمر:10] ” باری تعالیٰ میں عاجز آ گیا ہوں تو میری مدد فرما “۔ «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا» [71-نوح:26-27] ” زمین پر ان کافروں میں سے کسی ایک کو بھی باقی نہ رکھ ورنہ یہ تیرے بندوں کو بہکائیں گے۔ اور ان کی اولادیں بھی ایسی ہی فاجر و کافر ہوں گی “۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی دعا قبول فرمائی «وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ ۚ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ» [11-ھود:40] اور آپ علیہ السلام کو اور مومنوں کو نجات دی اور آپ علیہ السلام کے اہل کو بھی سوائے ان کے جن کے نام برباد ہونے والوں میں آگئے تھے۔ آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کی بہت ہی کم مقدار تھی۔ قوم کی سختی، ایذاء دہی اور تکلیف سے رب عالم نے اپنے نبی علیہ السلام کو بچا لیا۔ ساڑھے نو سو سال تک آپ علیہ السلام ان میں رہے اور انہیں دین اسلام کی طرف بلاتے رہے مگر سوائے چند لوگوں کے اور سب اپنے شرک و کفر سے باز نہ آئے، بلکہ آپ علیہ السلام کو سخت ایذائیں دیں اور ایک دوسرے کو اذیت دینے کے لیے بھڑکاتے رہے۔
” ہم نے ان کی مدد فرمائی اور عزت و آبرو کے ساتھ کفار کی ایذاء رسانیوں سے چھٹکارا دیا اور ان برے لوگوں کوٹھکانے لگا دیا “، اور نوح علیہ السلام کی دعا کے مطابق روئے زمین پر ایک بھی کافر نہ بچا۔ سب ڈبو دئے گئے۔
صفحہ نمبر5472
ایک ہی مقدمہ میں داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کے مختلف فیصلے ٭٭
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:] «نَفَشَتْ» کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے، اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں «ھَمَل» کہتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:477/18:]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا۔ داؤد علیہ السلام نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ سلیمان علیہ السلام نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا وہ کیا؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کر دی جائیں، وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے۔ یہ اس میں انگور کی بیلوں کی خدمت کرے یہاں تک کہ بیلیں ٹھیک ٹھاک ہو جائیں۔ انگور لگیں اور پھر اسی حالت پر آ جائیں جس پر تھے تو باغ والے کو اس کا باغ سونپ دے اور باغ والا اسے اس کی بکریاں سونپ دے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ ہم نے اس جھگڑے کا صحیح فیصلہ سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:]
صفحہ نمبر5474
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”داؤد علیہ السلام کا یہ فیصلہ سن کر بکریوں والے اپنا سا منہ لے کر صرف کتوں کو اپنے ساتھ لیے ہوئے واپس جا رہے تھے۔ سلیمان علیہ السلام نے انہیں دیکھ کر دریافت کیا کہ تمہارا فیصلہ کیا ہوا؟ انہوں نے خبر دی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اگر میں اس جگہ ہوتا تو یہ فیصلہ نہ دیتا بلکہ کچھ اور فیصلہ کرتا۔“ داؤد علیہ السلام کو جب یہ بات پہنچی تو آپ علیہ السلام نے انہیں بلوایا اور پوچھا کہ بیٹے تم کیا فیصلہ کرتے؟ آپ نے وہی اوپر والا فیصلہ سنایا۔
مسروق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ان بکریوں نے خوشے اور پتے سب کھالئے تھے۔ تو داؤد علیہ السلام کے فیصلے کے خلاف سلیمان علیہ السلام نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کی بکریاں باغ والوں کو دے دی جائیں اور یہ باغ انہیں سونپا جائے، جب تک باغ اپنی اصلی حالت پر آئے تب تک بکریوں کے بچے اور ان کا دودھ اور ان کا کل نفع باغ والوں کا۔ پھر ہر ایک کو ان کی چیز سونپ دی جائے۔“
قاضی شریح رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بھی ایک ایسا ہی جھگڑا آیا تھا تو آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دن کو بکریوں نے نقصان پہنچایا ہے تب تو کوئی معاوضہ نہیں۔ اور اگر رات کو نقصان پہنچایا ہے تو بکریوں والے ضامن ہیں۔ پھر آپ رحمہ اللہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:479/18:]
صفحہ نمبر5475
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کسی باغ میں چلی گئی اور وہاں باغ کا بڑا نقصان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ باغ والوں پر دن کے وقت باغ کی حفاظت ہے اور جو نقصان جانوروں سے رات کو ہو اس کا جرمانہ جانور والوں پر ہے ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:238] اس حدیث میں علتیں نکالی گئی ہیں اور ہم نے کتاب الاحکام میں اللہ کے فضل سے اس کی پوری تفصیل بیان کر دی ہے۔
مروی ہے کہ ایاس بن معاویہ رحمتہ اللہ علیہ سے جب کہ قاضی بننے کی درخواست کی گئی تو وہ حسن رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آئے اور رو دئے۔ پوچھا گیا کہ اے ابوسعید آپ کیوں روتے ہیں؟ فرمایا مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ اگر قاضی نے اجتہاد کیا، پھر غلطی کی، وہ جہنمی ہے اور جو خواہش نفس کی طرف جھک گیا، وہ بھی جہنمی ہے۔ ہاں جس نے اجتہاد کیا اور صحت پر پہنچ گیا، وہ جنت میں پہنچا۔ حسن رحمہ اللہ یہ سن کر فرمانے لگے، ”سنو اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی «قضاۃ» کا ذکر فرمایا ہے، ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام اعلیٰ منصب پر ہوتے ہیں، ان کے قول سے ان لوگوں کی باتیں رد ہو سکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کی تعریف تو بیان فرمائی ہے لیکن داؤد علیہ السلام کی مذمت بیان نہیں فرمائی۔ پھر فرمانے لگے، سنو تین باتوں کا عہد اللہ تعالیٰ نے قاضیوں سے لیا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ منصفین شرع دنیوی نفع کی وجہ سے بدل نہ دیں، دوسرے یہ کہ اپنے دلی ارادوں اور خواہشوں کے پیچھے نہ پڑ جائیں، تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» [38-ص:26] یعنی ” اے داؤد! ہم نے تجھے زمین کا خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کرتا رہ خواہش کے پیچے نہ پڑ کہ اللہ کی راہ سے بہک جائے “۔
اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ» [5-المائدہ:44] ” لوگوں سے نہ ڈرو مجھی سے ڈرتے رہا کرو “۔ اور فرمان ہے آیت «وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا» [2-البقرة:41] ، ” میری آیتوں کو معمولی نفع کی خاطر بیچ نہ دیا کرو “۔
میں کہتا ہوں انبیاء علیہم السلام کی معصومیت میں اور ان کی منجانب اللہ ہر وقت تائید ہوتے رہنے میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ رہے اور لوگ تو صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب حاکم اجتہاد اور کوشش کرے پھر صحت تک پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور جب پوری کوشش کے بعد بھی غلطی کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے ۔ [صحیح بخاری:7352]
یہ حدیث صاف بتا رہی ہے کہ حضرت ایاس رحمہ اللہ کو جو وہم تھا کہ باوجود پوری جدوجہد کے بھی خطا کر جائے تو دوزخی ہے یہ غلط ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5476
سنن کی اور حدیث میں ہے، قاضی تین قسم کے ہیں۔ ایک جنتی دو جہنمی اور جس نے حق کو معلوم کر لیا اور اسی سے فیصلہ کیا وہ جنتی۔ اور جس نے جہالت کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جہنمی اور جس نے حق کو جانتے ہوئے اس کے خلاف فیصلہ دیا وہ بھی جہنمی ۔ [سنن ابوداود:3573، قال الشيخ الألباني:صحیح]
قرآن کریم کے بیان کردہ اس واقعے کے قریب ہی وہ قصہ ہے جو مسند احمد میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، دو عورتیں تھیں جن کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے۔ بھیڑیا آ کر ایک بچے کو اٹھا لے گیا، اب ہر ایک دوسری سے کہنے لگی کہ تیرا بچہ گیا اور جو ہے وہ میرا بچہ ہے۔ آخر یہ قصہ داؤد علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا۔ آپ علیہ السلام نے بڑی عورت کو ڈگری دے دی کہ یہ بچہ تیرا ہے۔ یہ یہاں سے نکلیں راستے میں سلیمان علیہ السلام تھے، آپ علیہ السلام نے دونوں کو بلایا اور فرمایا چھری لاؤ۔ میں اس لڑکے کے دو ٹکڑے کر کے آدھا آدھا ان دونوں کو دے دیتا ہوں۔ اس پر بڑی تو خاموش ہوگئی لیکن چھوٹی نے ہائے واویلا شروع کر دیا کہ اللہ آپ علیہ السلام پر رحم کرے آپ علیہ السلام ایسا نہ کیجئے، یہ لڑکا اسی بڑی کا ہے اسی کو دے دیجئیے۔ سلیمان علیہ السلام معاملے کو سمجھ گئے اور لڑکا چھوٹی عورت کو دلادیا ۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:3427]
صفحہ نمبر5477
امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ نے اس پر باب باندھا ہے کہ حاکم کو جائز ہے کہ اپنا فیصلہ اپنے دل میں رکھ کر حقیقت کو معلوم کرنے کے لیے اس کے خلاف کچھ کہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ابن عساکر میں ہے کہ ایک خوبصورت عورت سے ایک رئیس نے ملنا چاہا لیکن عورت نے نہ مانا، اسی طرح تین اور شخصوں نے بھی اس سے بدکاری کا ارادہ کیا لیکن وہ باز رہی۔ اس پر وہ رؤسا خار کھا گئے اور آپس میں اتفاق کر کے داؤد علیہ السلام کی عدالت میں جا کر سب نے گواہی دی کہ وہ عورت اپنے کتے سے ایسا کام کراتی ہے چاروں کے متفقہ بیان پر حکم ہوگیا کہ اسے رجم کر دیا جائے۔
اسی شام کو سلیمان علیہ السلام اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر خود حاکم بنے اور چار لڑکے ان لوگوں کی طرح آپ علیہ السلام کے پاس اس مقدمے کو لائے اور ایک عورت کی نسبت یہی کہا۔ سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا ان چاروں کو الگ الگ کر دو۔ پھر ایک کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس کتے کا رنگ کیسا تھا؟ اس نے کہا سیاہ۔ پھر دوسرے کو تنہا بلایا اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سرخ۔ تیسرے نے کہا خاکی۔ چوتھے نے کہا سفید۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فیصلہ دیا کہ عورت پر یہ نری تہمت ہے اور ان چاروں کو قتل کر دیا جائے۔ داؤد علیہ السلام کے پاس بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فی الفور ان چاروں امیروں کو بلایا اور اسی طرح الگ الگ ان سے اس کتے کے رنگ کی بابت سوال کیا۔ یہ گڑبڑا گئے۔ کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ۔ آپ کو ان کا جھوٹ معلوم ہو گیا اور حکم فرمایا کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔
صفحہ نمبر5478
پھر بیان ہو رہا ہے کہ ” داؤد علیہ السلام کو وہ نورانی گلا عطا فرمایا گیا تھا اور آپ علیہ السلام ایسی خوش آوازی اور خلوص کے ساتھ زبور پڑھتے تھے کہ پرند بھی اپنی پرواز چھوڑ کر تھم جاتے تھے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے لگتے تھے۔ اسی طرح پہاڑ بھی “۔
آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ» [34-سبأ:10] ” اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کر دیا “۔
صفحہ نمبر5479
ایک روایت میں ہے کہ رات کے وقت سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کریم کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی میٹھی رسیلی اور خلوص بھری آواز سن کر ٹھہر گئے اور دیر تک سنتے رہے، پھر فرمانے لگے یہ تو آل داؤد کی آوازوں کی شیرینی دیئے گئے ہیں ۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو فرمانے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری قرأت سن رہے ہیں تو میں اور بھی اچھی طرح پڑھتا ۔ [صحیح بخاری:5048]
صفحہ نمبر5480
ایک ہی مقدمہ میں داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کے مختلف فیصلے ٭٭
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:] «نَفَشَتْ» کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے، اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں «ھَمَل» کہتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:477/18:]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا۔ داؤد علیہ السلام نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ سلیمان علیہ السلام نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا وہ کیا؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کر دی جائیں، وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے۔ یہ اس میں انگور کی بیلوں کی خدمت کرے یہاں تک کہ بیلیں ٹھیک ٹھاک ہو جائیں۔ انگور لگیں اور پھر اسی حالت پر آ جائیں جس پر تھے تو باغ والے کو اس کا باغ سونپ دے اور باغ والا اسے اس کی بکریاں سونپ دے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ ہم نے اس جھگڑے کا صحیح فیصلہ سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:]
صفحہ نمبر5474
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”داؤد علیہ السلام کا یہ فیصلہ سن کر بکریوں والے اپنا سا منہ لے کر صرف کتوں کو اپنے ساتھ لیے ہوئے واپس جا رہے تھے۔ سلیمان علیہ السلام نے انہیں دیکھ کر دریافت کیا کہ تمہارا فیصلہ کیا ہوا؟ انہوں نے خبر دی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اگر میں اس جگہ ہوتا تو یہ فیصلہ نہ دیتا بلکہ کچھ اور فیصلہ کرتا۔“ داؤد علیہ السلام کو جب یہ بات پہنچی تو آپ علیہ السلام نے انہیں بلوایا اور پوچھا کہ بیٹے تم کیا فیصلہ کرتے؟ آپ نے وہی اوپر والا فیصلہ سنایا۔
مسروق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ان بکریوں نے خوشے اور پتے سب کھالئے تھے۔ تو داؤد علیہ السلام کے فیصلے کے خلاف سلیمان علیہ السلام نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کی بکریاں باغ والوں کو دے دی جائیں اور یہ باغ انہیں سونپا جائے، جب تک باغ اپنی اصلی حالت پر آئے تب تک بکریوں کے بچے اور ان کا دودھ اور ان کا کل نفع باغ والوں کا۔ پھر ہر ایک کو ان کی چیز سونپ دی جائے۔“
قاضی شریح رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بھی ایک ایسا ہی جھگڑا آیا تھا تو آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دن کو بکریوں نے نقصان پہنچایا ہے تب تو کوئی معاوضہ نہیں۔ اور اگر رات کو نقصان پہنچایا ہے تو بکریوں والے ضامن ہیں۔ پھر آپ رحمہ اللہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:479/18:]
صفحہ نمبر5475
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کسی باغ میں چلی گئی اور وہاں باغ کا بڑا نقصان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ باغ والوں پر دن کے وقت باغ کی حفاظت ہے اور جو نقصان جانوروں سے رات کو ہو اس کا جرمانہ جانور والوں پر ہے ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:238] اس حدیث میں علتیں نکالی گئی ہیں اور ہم نے کتاب الاحکام میں اللہ کے فضل سے اس کی پوری تفصیل بیان کر دی ہے۔
مروی ہے کہ ایاس بن معاویہ رحمتہ اللہ علیہ سے جب کہ قاضی بننے کی درخواست کی گئی تو وہ حسن رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آئے اور رو دئے۔ پوچھا گیا کہ اے ابوسعید آپ کیوں روتے ہیں؟ فرمایا مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ اگر قاضی نے اجتہاد کیا، پھر غلطی کی، وہ جہنمی ہے اور جو خواہش نفس کی طرف جھک گیا، وہ بھی جہنمی ہے۔ ہاں جس نے اجتہاد کیا اور صحت پر پہنچ گیا، وہ جنت میں پہنچا۔ حسن رحمہ اللہ یہ سن کر فرمانے لگے، ”سنو اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی «قضاۃ» کا ذکر فرمایا ہے، ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام اعلیٰ منصب پر ہوتے ہیں، ان کے قول سے ان لوگوں کی باتیں رد ہو سکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کی تعریف تو بیان فرمائی ہے لیکن داؤد علیہ السلام کی مذمت بیان نہیں فرمائی۔ پھر فرمانے لگے، سنو تین باتوں کا عہد اللہ تعالیٰ نے قاضیوں سے لیا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ منصفین شرع دنیوی نفع کی وجہ سے بدل نہ دیں، دوسرے یہ کہ اپنے دلی ارادوں اور خواہشوں کے پیچھے نہ پڑ جائیں، تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» [38-ص:26] یعنی ” اے داؤد! ہم نے تجھے زمین کا خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کرتا رہ خواہش کے پیچے نہ پڑ کہ اللہ کی راہ سے بہک جائے “۔
اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ» [5-المائدہ:44] ” لوگوں سے نہ ڈرو مجھی سے ڈرتے رہا کرو “۔ اور فرمان ہے آیت «وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا» [2-البقرة:41] ، ” میری آیتوں کو معمولی نفع کی خاطر بیچ نہ دیا کرو “۔
میں کہتا ہوں انبیاء علیہم السلام کی معصومیت میں اور ان کی منجانب اللہ ہر وقت تائید ہوتے رہنے میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ رہے اور لوگ تو صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب حاکم اجتہاد اور کوشش کرے پھر صحت تک پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور جب پوری کوشش کے بعد بھی غلطی کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے ۔ [صحیح بخاری:7352]
یہ حدیث صاف بتا رہی ہے کہ حضرت ایاس رحمہ اللہ کو جو وہم تھا کہ باوجود پوری جدوجہد کے بھی خطا کر جائے تو دوزخی ہے یہ غلط ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5476
سنن کی اور حدیث میں ہے، قاضی تین قسم کے ہیں۔ ایک جنتی دو جہنمی اور جس نے حق کو معلوم کر لیا اور اسی سے فیصلہ کیا وہ جنتی۔ اور جس نے جہالت کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جہنمی اور جس نے حق کو جانتے ہوئے اس کے خلاف فیصلہ دیا وہ بھی جہنمی ۔ [سنن ابوداود:3573، قال الشيخ الألباني:صحیح]
قرآن کریم کے بیان کردہ اس واقعے کے قریب ہی وہ قصہ ہے جو مسند احمد میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، دو عورتیں تھیں جن کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے۔ بھیڑیا آ کر ایک بچے کو اٹھا لے گیا، اب ہر ایک دوسری سے کہنے لگی کہ تیرا بچہ گیا اور جو ہے وہ میرا بچہ ہے۔ آخر یہ قصہ داؤد علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا۔ آپ علیہ السلام نے بڑی عورت کو ڈگری دے دی کہ یہ بچہ تیرا ہے۔ یہ یہاں سے نکلیں راستے میں سلیمان علیہ السلام تھے، آپ علیہ السلام نے دونوں کو بلایا اور فرمایا چھری لاؤ۔ میں اس لڑکے کے دو ٹکڑے کر کے آدھا آدھا ان دونوں کو دے دیتا ہوں۔ اس پر بڑی تو خاموش ہوگئی لیکن چھوٹی نے ہائے واویلا شروع کر دیا کہ اللہ آپ علیہ السلام پر رحم کرے آپ علیہ السلام ایسا نہ کیجئے، یہ لڑکا اسی بڑی کا ہے اسی کو دے دیجئیے۔ سلیمان علیہ السلام معاملے کو سمجھ گئے اور لڑکا چھوٹی عورت کو دلادیا ۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:3427]
صفحہ نمبر5477
امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ نے اس پر باب باندھا ہے کہ حاکم کو جائز ہے کہ اپنا فیصلہ اپنے دل میں رکھ کر حقیقت کو معلوم کرنے کے لیے اس کے خلاف کچھ کہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ابن عساکر میں ہے کہ ایک خوبصورت عورت سے ایک رئیس نے ملنا چاہا لیکن عورت نے نہ مانا، اسی طرح تین اور شخصوں نے بھی اس سے بدکاری کا ارادہ کیا لیکن وہ باز رہی۔ اس پر وہ رؤسا خار کھا گئے اور آپس میں اتفاق کر کے داؤد علیہ السلام کی عدالت میں جا کر سب نے گواہی دی کہ وہ عورت اپنے کتے سے ایسا کام کراتی ہے چاروں کے متفقہ بیان پر حکم ہوگیا کہ اسے رجم کر دیا جائے۔
اسی شام کو سلیمان علیہ السلام اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر خود حاکم بنے اور چار لڑکے ان لوگوں کی طرح آپ علیہ السلام کے پاس اس مقدمے کو لائے اور ایک عورت کی نسبت یہی کہا۔ سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا ان چاروں کو الگ الگ کر دو۔ پھر ایک کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس کتے کا رنگ کیسا تھا؟ اس نے کہا سیاہ۔ پھر دوسرے کو تنہا بلایا اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سرخ۔ تیسرے نے کہا خاکی۔ چوتھے نے کہا سفید۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فیصلہ دیا کہ عورت پر یہ نری تہمت ہے اور ان چاروں کو قتل کر دیا جائے۔ داؤد علیہ السلام کے پاس بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فی الفور ان چاروں امیروں کو بلایا اور اسی طرح الگ الگ ان سے اس کتے کے رنگ کی بابت سوال کیا۔ یہ گڑبڑا گئے۔ کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ۔ آپ کو ان کا جھوٹ معلوم ہو گیا اور حکم فرمایا کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔
صفحہ نمبر5478
پھر بیان ہو رہا ہے کہ ” داؤد علیہ السلام کو وہ نورانی گلا عطا فرمایا گیا تھا اور آپ علیہ السلام ایسی خوش آوازی اور خلوص کے ساتھ زبور پڑھتے تھے کہ پرند بھی اپنی پرواز چھوڑ کر تھم جاتے تھے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے لگتے تھے۔ اسی طرح پہاڑ بھی “۔
آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ» [34-سبأ:10] ” اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کر دیا “۔
صفحہ نمبر5479
ایک روایت میں ہے کہ رات کے وقت سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کریم کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی میٹھی رسیلی اور خلوص بھری آواز سن کر ٹھہر گئے اور دیر تک سنتے رہے، پھر فرمانے لگے یہ تو آل داؤد کی آوازوں کی شیرینی دیئے گئے ہیں ۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو فرمانے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری قرأت سن رہے ہیں تو میں اور بھی اچھی طرح پڑھتا ۔ [صحیح بخاری:5048]
صفحہ نمبر5480
ایک ہی مقدمہ میں داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کے مختلف فیصلے ٭٭
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ کھیتی انگور کی تھی جس کے خوشے لٹک رہے تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:] «نَفَشَتْ» کے معنی ہیں رات کے وقت جانوروں کے چرنے کے، اور دن کے وقت چرنے کو عربی میں «ھَمَل» کہتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:477/18:]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس باغ کو بکریوں نے بگاڑ دیا۔ داؤد علیہ السلام نے یہ فیصلہ کیا کہ باغ کے نقصان کے بدلے یہ بکریاں باغ والے کو دے دی جائیں۔ سلیمان علیہ السلام نے یہ فیصلہ سن کر عرض کی کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام اس کے سوا بھی فیصلے کی کوئی صورت ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا وہ کیا؟ جواب دیا کہ بکریاں باغ والے کے حوالے کر دی جائیں، وہ ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور باغ بکری والے کو دے دیا جائے۔ یہ اس میں انگور کی بیلوں کی خدمت کرے یہاں تک کہ بیلیں ٹھیک ٹھاک ہو جائیں۔ انگور لگیں اور پھر اسی حالت پر آ جائیں جس پر تھے تو باغ والے کو اس کا باغ سونپ دے اور باغ والا اسے اس کی بکریاں سونپ دے۔ یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ ہم نے اس جھگڑے کا صحیح فیصلہ سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:475/18:]
صفحہ نمبر5474
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”داؤد علیہ السلام کا یہ فیصلہ سن کر بکریوں والے اپنا سا منہ لے کر صرف کتوں کو اپنے ساتھ لیے ہوئے واپس جا رہے تھے۔ سلیمان علیہ السلام نے انہیں دیکھ کر دریافت کیا کہ تمہارا فیصلہ کیا ہوا؟ انہوں نے خبر دی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اگر میں اس جگہ ہوتا تو یہ فیصلہ نہ دیتا بلکہ کچھ اور فیصلہ کرتا۔“ داؤد علیہ السلام کو جب یہ بات پہنچی تو آپ علیہ السلام نے انہیں بلوایا اور پوچھا کہ بیٹے تم کیا فیصلہ کرتے؟ آپ نے وہی اوپر والا فیصلہ سنایا۔
مسروق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ان بکریوں نے خوشے اور پتے سب کھالئے تھے۔ تو داؤد علیہ السلام کے فیصلے کے خلاف سلیمان علیہ السلام نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کی بکریاں باغ والوں کو دے دی جائیں اور یہ باغ انہیں سونپا جائے، جب تک باغ اپنی اصلی حالت پر آئے تب تک بکریوں کے بچے اور ان کا دودھ اور ان کا کل نفع باغ والوں کا۔ پھر ہر ایک کو ان کی چیز سونپ دی جائے۔“
قاضی شریح رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بھی ایک ایسا ہی جھگڑا آیا تھا تو آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دن کو بکریوں نے نقصان پہنچایا ہے تب تو کوئی معاوضہ نہیں۔ اور اگر رات کو نقصان پہنچایا ہے تو بکریوں والے ضامن ہیں۔ پھر آپ رحمہ اللہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:479/18:]
صفحہ نمبر5475
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کسی باغ میں چلی گئی اور وہاں باغ کا بڑا نقصان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ باغ والوں پر دن کے وقت باغ کی حفاظت ہے اور جو نقصان جانوروں سے رات کو ہو اس کا جرمانہ جانور والوں پر ہے ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:238] اس حدیث میں علتیں نکالی گئی ہیں اور ہم نے کتاب الاحکام میں اللہ کے فضل سے اس کی پوری تفصیل بیان کر دی ہے۔
مروی ہے کہ ایاس بن معاویہ رحمتہ اللہ علیہ سے جب کہ قاضی بننے کی درخواست کی گئی تو وہ حسن رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آئے اور رو دئے۔ پوچھا گیا کہ اے ابوسعید آپ کیوں روتے ہیں؟ فرمایا مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ اگر قاضی نے اجتہاد کیا، پھر غلطی کی، وہ جہنمی ہے اور جو خواہش نفس کی طرف جھک گیا، وہ بھی جہنمی ہے۔ ہاں جس نے اجتہاد کیا اور صحت پر پہنچ گیا، وہ جنت میں پہنچا۔ حسن رحمہ اللہ یہ سن کر فرمانے لگے، ”سنو اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کی «قضاۃ» کا ذکر فرمایا ہے، ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام اعلیٰ منصب پر ہوتے ہیں، ان کے قول سے ان لوگوں کی باتیں رد ہو سکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کی تعریف تو بیان فرمائی ہے لیکن داؤد علیہ السلام کی مذمت بیان نہیں فرمائی۔ پھر فرمانے لگے، سنو تین باتوں کا عہد اللہ تعالیٰ نے قاضیوں سے لیا ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ منصفین شرع دنیوی نفع کی وجہ سے بدل نہ دیں، دوسرے یہ کہ اپنے دلی ارادوں اور خواہشوں کے پیچھے نہ پڑ جائیں، تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ» [38-ص:26] یعنی ” اے داؤد! ہم نے تجھے زمین کا خلیفہ بنایا ہے تو لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کرتا رہ خواہش کے پیچے نہ پڑ کہ اللہ کی راہ سے بہک جائے “۔
اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ» [5-المائدہ:44] ” لوگوں سے نہ ڈرو مجھی سے ڈرتے رہا کرو “۔ اور فرمان ہے آیت «وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا» [2-البقرة:41] ، ” میری آیتوں کو معمولی نفع کی خاطر بیچ نہ دیا کرو “۔
میں کہتا ہوں انبیاء علیہم السلام کی معصومیت میں اور ان کی منجانب اللہ ہر وقت تائید ہوتے رہنے میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ رہے اور لوگ تو صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب حاکم اجتہاد اور کوشش کرے پھر صحت تک پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور جب پوری کوشش کے بعد بھی غلطی کرجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے ۔ [صحیح بخاری:7352]
یہ حدیث صاف بتا رہی ہے کہ حضرت ایاس رحمہ اللہ کو جو وہم تھا کہ باوجود پوری جدوجہد کے بھی خطا کر جائے تو دوزخی ہے یہ غلط ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5476
سنن کی اور حدیث میں ہے، قاضی تین قسم کے ہیں۔ ایک جنتی دو جہنمی اور جس نے حق کو معلوم کر لیا اور اسی سے فیصلہ کیا وہ جنتی۔ اور جس نے جہالت کے ساتھ فیصلہ کیا وہ جہنمی اور جس نے حق کو جانتے ہوئے اس کے خلاف فیصلہ دیا وہ بھی جہنمی ۔ [سنن ابوداود:3573، قال الشيخ الألباني:صحیح]
قرآن کریم کے بیان کردہ اس واقعے کے قریب ہی وہ قصہ ہے جو مسند احمد میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، دو عورتیں تھیں جن کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے۔ بھیڑیا آ کر ایک بچے کو اٹھا لے گیا، اب ہر ایک دوسری سے کہنے لگی کہ تیرا بچہ گیا اور جو ہے وہ میرا بچہ ہے۔ آخر یہ قصہ داؤد علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا۔ آپ علیہ السلام نے بڑی عورت کو ڈگری دے دی کہ یہ بچہ تیرا ہے۔ یہ یہاں سے نکلیں راستے میں سلیمان علیہ السلام تھے، آپ علیہ السلام نے دونوں کو بلایا اور فرمایا چھری لاؤ۔ میں اس لڑکے کے دو ٹکڑے کر کے آدھا آدھا ان دونوں کو دے دیتا ہوں۔ اس پر بڑی تو خاموش ہوگئی لیکن چھوٹی نے ہائے واویلا شروع کر دیا کہ اللہ آپ علیہ السلام پر رحم کرے آپ علیہ السلام ایسا نہ کیجئے، یہ لڑکا اسی بڑی کا ہے اسی کو دے دیجئیے۔ سلیمان علیہ السلام معاملے کو سمجھ گئے اور لڑکا چھوٹی عورت کو دلادیا ۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:3427]
صفحہ نمبر5477
امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ نے اس پر باب باندھا ہے کہ حاکم کو جائز ہے کہ اپنا فیصلہ اپنے دل میں رکھ کر حقیقت کو معلوم کرنے کے لیے اس کے خلاف کچھ کہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ابن عساکر میں ہے کہ ایک خوبصورت عورت سے ایک رئیس نے ملنا چاہا لیکن عورت نے نہ مانا، اسی طرح تین اور شخصوں نے بھی اس سے بدکاری کا ارادہ کیا لیکن وہ باز رہی۔ اس پر وہ رؤسا خار کھا گئے اور آپس میں اتفاق کر کے داؤد علیہ السلام کی عدالت میں جا کر سب نے گواہی دی کہ وہ عورت اپنے کتے سے ایسا کام کراتی ہے چاروں کے متفقہ بیان پر حکم ہوگیا کہ اسے رجم کر دیا جائے۔
اسی شام کو سلیمان علیہ السلام اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر خود حاکم بنے اور چار لڑکے ان لوگوں کی طرح آپ علیہ السلام کے پاس اس مقدمے کو لائے اور ایک عورت کی نسبت یہی کہا۔ سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا ان چاروں کو الگ الگ کر دو۔ پھر ایک کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس کتے کا رنگ کیسا تھا؟ اس نے کہا سیاہ۔ پھر دوسرے کو تنہا بلایا اس سے بھی یہی سوال کیا اس نے کہا سرخ۔ تیسرے نے کہا خاکی۔ چوتھے نے کہا سفید۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فیصلہ دیا کہ عورت پر یہ نری تہمت ہے اور ان چاروں کو قتل کر دیا جائے۔ داؤد علیہ السلام کے پاس بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا۔ آپ علیہ السلام نے اسی وقت فی الفور ان چاروں امیروں کو بلایا اور اسی طرح الگ الگ ان سے اس کتے کے رنگ کی بابت سوال کیا۔ یہ گڑبڑا گئے۔ کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ۔ آپ کو ان کا جھوٹ معلوم ہو گیا اور حکم فرمایا کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔
صفحہ نمبر5478
پھر بیان ہو رہا ہے کہ ” داؤد علیہ السلام کو وہ نورانی گلا عطا فرمایا گیا تھا اور آپ علیہ السلام ایسی خوش آوازی اور خلوص کے ساتھ زبور پڑھتے تھے کہ پرند بھی اپنی پرواز چھوڑ کر تھم جاتے تھے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنے لگتے تھے۔ اسی طرح پہاڑ بھی “۔
آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ» [34-سبأ:10] ” اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کر دیا “۔
صفحہ نمبر5479
ایک روایت میں ہے کہ رات کے وقت سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کریم کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی میٹھی رسیلی اور خلوص بھری آواز سن کر ٹھہر گئے اور دیر تک سنتے رہے، پھر فرمانے لگے یہ تو آل داؤد کی آوازوں کی شیرینی دیئے گئے ہیں ۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو فرمانے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری قرأت سن رہے ہیں تو میں اور بھی اچھی طرح پڑھتا ۔ [صحیح بخاری:5048]
صفحہ نمبر5480
باب
حضرت ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے تو کسی بہتر سے بہتر باجے کی آواز میں بھی وہ مزہ نہیں پایا جو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا کی آواز میں تھا۔ پس اتنی خوش آوازی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے داؤد علیہ السلام کی خوش آوازی کا ایک حصہ قرار دیا۔ اب سمجھ لیجئے کہ خود داؤد علیہ السلام کی آواز کیسی ہو گی؟
پھر اپنا ایک اور احسان بتاتا ہے کہ ” داؤد علیہ السلام کو زرہیں بنانی ہم نے سکھا دی تھیں “۔ آپ علیہ السلام کے زمانے سے پہلے بغیر کنڈلوں اور بغیر حلقوں کی زرہ بنتی تھیں۔ کنڈلوں دار اور حلقوں والی زرہیں آپ نے ہی بنائیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/18:]
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» [34-سبأ:11-10] ” ہم نے داؤد علیہ السلام کے لیے لوہے کو نرم کر دیا تھا کہ وہ بہترین زرہ تیار کریں اور ٹھیک انداز سے ان میں حلقے بنائیں “۔ یہ زرہیں میدان جنگ میں کام آتی تھیں۔ پس یہ نعمت وہ تھی جس پر لوگوں کو اللہ کی شکر گزاری کرنی چاہے۔
«غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ» [34-سبأ:12] ” ہم نے زور آور ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا تھا جو انہیں ان کے فرمان کے مطابق برکت والی زمین یعنی ملک شام میں پہنچا دیتی تھی، ہمیں ہرچیز کا علم ہے “۔
آپ علیہ السلام اپنے تخت پر مع اپنے لاؤ لشکر اور سامان اسباب کے بیٹھ جاتے تھے۔ پھر جہان جانا چاہتے ہوا آپ کو آپ کے فرمان کے مطابق گھڑی بھر میں وہاں پہنچا دیتی۔ تخت کے اوپر سے پرند پر کھولے آپ علیہ السلام پر سایہ ڈالتے۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ» [38-ص:36] ۔ یعنی ” ہم نے ہوا کو ان کا تابع کر دیا کہ جہان پہنچنا چاہتے ان کے حکم کے مطابق اسی طرف نرمی سے لے چلتی۔ صبح شام مہینہ مہینہ بھر کی راہ کو طے کر لیتی “۔
صفحہ نمبر5483
حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”چھ ہزار کرسی لگائی جاتی۔ آپ علیہ السلام کے قریب مومن انسان بیٹھتے ان کے پیچھے مومن جن ہوتے۔ پھر آپ علیہ السلام کے حکم سے سب پر پرند سایہ کرتے پھر حکم کرتے تو ہوا آپ علیہ السلام کو لے چلتی۔“
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”سلیمان علیہ السلام کو حکم دیتے وہ مثل بڑے تودے کے جمع ہو جاتی گویا پہاڑ ہے پھر اس کے سب سے بلند مکان پر فرش افروز ہونے کا حکم دیتے پھر پہردار گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے فرش پر چڑھ جاتے پھر ہوا کو حکم دیتے وہ آپ علیہ السلام کو بلندی پر لے جاتی آپ علیہ السلام اس وقت سرنیچا کر لیتے دائیں بائیں بالکل نہ دیکھتے اس میں آپ علیہ السلام کی تواضع اور اللہ کی شکر گزاری مقصود ہوتی تھی۔ کیونکہ آپ علیہ السلام کو اپنی فروتنی کا علم تھا۔ پھر جہاں آپ علیہ السلام حکم دیتے وہیں ہوا آپ علیہ السلام کو اتار دیتی۔“
اسی طرح سرکش جنات بھی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے قبضے میں کر دیئے تھے جو سمندروں میں غوطے لگا کرموتی اور جواہر وغیرہ نکال لایا کرتے تھے اور بھی بہت سے کام کاج کرتے تھے جیسے فرمان ہے آیت «وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ» [38-ص:37-38] ، ” ہم نے سرکش جنوں کو ان کا ماتحت کر دیا تھا جو معمار تھے اور غوطہٰ خور “۔ اور ان کے علاوہ اور شیاطین بھی ان کے ماتحت تھے جو زنجیروں میں بندھے رہتے تھے اور ہم ہی سلیمان کے حافظ و نگہبان تھے کوئی شیطان انہیں برائی نہ پہنچا سکتا تھا بلکہ سب کے سب ان کے ماتحت فرماں بردار اور تابع تھے کوئی ان کے قریب بھی نہ پھٹک سکتا تھا کی آپ کی حکمرانی ان پر چلتی تھی جسے چاہتے قید کر لیتے جسے چاہتے آزاد کر دیتے اسی کو فرمایا کہ ” اور جنات تھے جو جکڑے رہا کرتے تھے “۔
صفحہ نمبر5484
باب
حضرت ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے تو کسی بہتر سے بہتر باجے کی آواز میں بھی وہ مزہ نہیں پایا جو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا کی آواز میں تھا۔ پس اتنی خوش آوازی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے داؤد علیہ السلام کی خوش آوازی کا ایک حصہ قرار دیا۔ اب سمجھ لیجئے کہ خود داؤد علیہ السلام کی آواز کیسی ہو گی؟
پھر اپنا ایک اور احسان بتاتا ہے کہ ” داؤد علیہ السلام کو زرہیں بنانی ہم نے سکھا دی تھیں “۔ آپ علیہ السلام کے زمانے سے پہلے بغیر کنڈلوں اور بغیر حلقوں کی زرہ بنتی تھیں۔ کنڈلوں دار اور حلقوں والی زرہیں آپ نے ہی بنائیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/18:]
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» [34-سبأ:11-10] ” ہم نے داؤد علیہ السلام کے لیے لوہے کو نرم کر دیا تھا کہ وہ بہترین زرہ تیار کریں اور ٹھیک انداز سے ان میں حلقے بنائیں “۔ یہ زرہیں میدان جنگ میں کام آتی تھیں۔ پس یہ نعمت وہ تھی جس پر لوگوں کو اللہ کی شکر گزاری کرنی چاہے۔
«غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ» [34-سبأ:12] ” ہم نے زور آور ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا تھا جو انہیں ان کے فرمان کے مطابق برکت والی زمین یعنی ملک شام میں پہنچا دیتی تھی، ہمیں ہرچیز کا علم ہے “۔
آپ علیہ السلام اپنے تخت پر مع اپنے لاؤ لشکر اور سامان اسباب کے بیٹھ جاتے تھے۔ پھر جہان جانا چاہتے ہوا آپ کو آپ کے فرمان کے مطابق گھڑی بھر میں وہاں پہنچا دیتی۔ تخت کے اوپر سے پرند پر کھولے آپ علیہ السلام پر سایہ ڈالتے۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ» [38-ص:36] ۔ یعنی ” ہم نے ہوا کو ان کا تابع کر دیا کہ جہان پہنچنا چاہتے ان کے حکم کے مطابق اسی طرف نرمی سے لے چلتی۔ صبح شام مہینہ مہینہ بھر کی راہ کو طے کر لیتی “۔
صفحہ نمبر5483
حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”چھ ہزار کرسی لگائی جاتی۔ آپ علیہ السلام کے قریب مومن انسان بیٹھتے ان کے پیچھے مومن جن ہوتے۔ پھر آپ علیہ السلام کے حکم سے سب پر پرند سایہ کرتے پھر حکم کرتے تو ہوا آپ علیہ السلام کو لے چلتی۔“
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”سلیمان علیہ السلام کو حکم دیتے وہ مثل بڑے تودے کے جمع ہو جاتی گویا پہاڑ ہے پھر اس کے سب سے بلند مکان پر فرش افروز ہونے کا حکم دیتے پھر پہردار گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے فرش پر چڑھ جاتے پھر ہوا کو حکم دیتے وہ آپ علیہ السلام کو بلندی پر لے جاتی آپ علیہ السلام اس وقت سرنیچا کر لیتے دائیں بائیں بالکل نہ دیکھتے اس میں آپ علیہ السلام کی تواضع اور اللہ کی شکر گزاری مقصود ہوتی تھی۔ کیونکہ آپ علیہ السلام کو اپنی فروتنی کا علم تھا۔ پھر جہاں آپ علیہ السلام حکم دیتے وہیں ہوا آپ علیہ السلام کو اتار دیتی۔“
اسی طرح سرکش جنات بھی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے قبضے میں کر دیئے تھے جو سمندروں میں غوطے لگا کرموتی اور جواہر وغیرہ نکال لایا کرتے تھے اور بھی بہت سے کام کاج کرتے تھے جیسے فرمان ہے آیت «وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ» [38-ص:37-38] ، ” ہم نے سرکش جنوں کو ان کا ماتحت کر دیا تھا جو معمار تھے اور غوطہٰ خور “۔ اور ان کے علاوہ اور شیاطین بھی ان کے ماتحت تھے جو زنجیروں میں بندھے رہتے تھے اور ہم ہی سلیمان کے حافظ و نگہبان تھے کوئی شیطان انہیں برائی نہ پہنچا سکتا تھا بلکہ سب کے سب ان کے ماتحت فرماں بردار اور تابع تھے کوئی ان کے قریب بھی نہ پھٹک سکتا تھا کی آپ کی حکمرانی ان پر چلتی تھی جسے چاہتے قید کر لیتے جسے چاہتے آزاد کر دیتے اسی کو فرمایا کہ ” اور جنات تھے جو جکڑے رہا کرتے تھے “۔
صفحہ نمبر5484
آزمائش اور مصائب ایوب علیہ السلام ٭٭
حضرت ابوب علیہ السلام کی تکلیفوں کا بیان ہو رہا ہے جو مالی جسمانی اور اولاد پر مشتمل تھیں ان کے پاس بہت سے قسم قسم کے جانور تھے کھیتیاں باغات وغیرہ تھے اولاد بیویاں لونڈیاں غلام جائیداد اور مال ومتاع سبھی کچھ اللہ کا دیا موجود تھا۔ اب جو رب کی طرف سے ان پر آزمائش آئی تو ایک سرے سے سب کچھ فنا ہوتا گیا یہاں تک کہ جسم میں جذام پھوٹ پڑا۔ دل و زبان کے سوا سارے جسم کا کوئی حصہ اس مرض سے محفوظ نہ رہا۔ یہاں تک کہ آس پاس والے کراہت کرنے لگے۔ شہر کے ایک ویران کونے میں آپ علیہ السلام کو سکونت اختیار کرنی پڑی۔ سوائے آپ علیہ السلام کی ایک بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کے اور کوئی آپ علیہ السلام کے پاس نہ رہا، اس مصیبت کے وقت سب نے کنارہ کر لیا۔ یہی ایک تھیں جو ان کی خدمت کرتی تھیں ساتھ ہی محنت مزدوری کر کے پیٹ پالنے کو بھی لایا کرتی تھیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے، پھر صالح لوگوں کا پھر ان سے نیچے کے درجے والوں کا پھر ان سے کم درجے والوں کا ۔ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ ہر شخص کا امتحان اس کے دین کے انداز سے ہوتا ہے اگر وہ دین میں مضبوط ہے امتحان بھی سخت تر ہوتا ہے ۔ ؎ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایوب علیہ السلام بڑے ہی صابر تھے یہاں تک کہ صبر ایوب زبان زد عام ہے۔
صفحہ نمبر5486
یزید بن میسرہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”جب آپ علیہ السلام کی آزمائش شروع ہوئی اہل و عیال مرگئے مال فنا ہوگیا کوئی چیز ہاتھ تلے نہ رہی۔ آپ علیہ السلام اللہ کے ذکر میں اور بڑھ گئے کہنے لگے ”اے تمام پالنے والوں کے پالنے والے تو نے مجھ پر بڑے احسان کئے مال دیا اولاد دی اس وقت میرا دل بہت ہی مشغول تھا اب تو نے سب کچھ لے کر میرے دل کو ان فکروں سے پاک کر دیا اب میرے دل میں اور تجھ میں کوئی حائل نہ رہا اگر میرا دشمن ابلیس تیری اس مہربانی کو جان لیتا تو وہ مجھ پر بہت ہی حسد کرتا۔“ ابلیس لعین اس قول سے اور اس وقت کی اس حمد سے جل بھن کر رہ گیا۔ [الدر المنشور للسیوطی:589/4:ضعیف]
آپ علیہ السلام کی دعاؤں میں یہ بھی دعا تھی ”اے اللہ تو نے جب مجھے توانگر اور اولاد اور اہل و عیال والا بنا رکھا تھا تو خوب جانتا ہے کہ اس وقت میں نے نہ کبھی غرور و تکبر کیا نہ کبھی کسی پر ظلم ستم کیا۔ میرے پروردگار تجھ پر روشن ہے کہ میرا نرم و گرم بستر تیار ہوتا اور میں راتوں کو تیری عبادتوں میں گزارتا اور اپنے نفس کو اس طرح ڈانٹ دیتا کہ تو اس لیے پیدا نہیں کیا گیا تیری رضا مندی کی طلب میں میں اپنی راحت و آرام کو ترک کر دیا کرتا۔“ [ ابن ابی حاتم ]
اس آیت کی تفسیر میں ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ایک بہت لمبا قصہ ہے جسے بہت سے پچھلے مفسیرین نے بھی ذکر کیا ہے۔ لیکن اس میں غرابت ہے اور اس کے طول کی وجہ سے ہم نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ مدتوں تک آپ علیہ السلام ان بلاؤں میں مبتلا رہے۔
صفحہ نمبر5487
حضرت حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں ”سات سال اور کئی ماہ آپ علیہ السلام بیماری میں مبتلا رہے۔ بنو اسرائیل کے کوڑے پھینکنے کی جگہ آپ علیہ السلام کو ڈال رکھا تھا۔ بدن میں کیڑے پڑ گئے تھے، پھر اللہ نے آپ علیہ السلام پر رحم و کرم کیا تمام بلاؤں سے نجات دی اجر دیا اور تعریفیں کیں۔“
وہب بن منبہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”پورے تین سال آپ علیہ السلام اس تکلیف میں رہے۔ سارا گوشت جھڑ گیا تھا۔ صرف ہڈیاں اور چمڑا رہ گیا۔ آپ علیہ السلام دکھ میں پڑے رہتے تھے صرف ایک بیوی صاحبہ تھیں جو آپ علیہ السلام کے پاس تھیں۔ جب زیادہ زمانہ گزر گیا تو ایک روز عرض کرنے لگیں کہ ”اے نبی اللہ علیہ السلام آپ علیہ السلام اللہ سے دعا کیوں نہیں کرتے کہ وہ اس مصیبت کو ہم پر سے ٹال دے۔“ آپ علیہ السلام فرمانے لگے ”سنو ستر برس تک اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت وعافیت میں رکھا تو اگر ستر سال تک میں اس حالت میں رہوں اور صبر کروں تو یہ بھی بہت کم ہے۔“ اس پر بیوی صاحبہ کانپ اٹھیں آپ شہر میں جاتیں، لوگوں کا کام کاج کرتیں اور جو ملتا وہ لے آتیں اور آپ علیہ السلام کو کھلاتیں پلاتیں۔
صفحہ نمبر5488
آپ علیہ السلام کے دو دوست اور دلی خیرخواہ دوست تھے انہیں فلسطین میں جاکر شیطان نے خبر دی کہ تمہارا دوست سخت مصیبت میں مبتلا ہے تم جاؤ ان کی خبرگیری کرو اور اپنے ہاں کی کچھ شراب اپنے ساتھ لے جاؤ وہ پلادینا اس سے انہیں شفاء ہو جائے گی۔ چنانچہ یہ دونوں آئے ایوب علیہ السلام کی حالت دیکھتے ہی ان کے آنسو نکل آئے بلبلا کر رونے لگے۔
آپ علیہ السلام نے پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے یاد دلایا تو آپ علیہ السلام خوش ہوئے انہیں مرحبا کہا وہ کہنے لگے ”اے جناب آپ شاید کچھ چھپاتے ہوں گے اور ظاہر اس کے خلاف کرتے ہوں گے؟“ آپ علیہ السلام نے نگاہیں آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا ”اللہ خوب جانتا ہے کہ میں کیا چھپاتا تھا اور کیا ظاہر کرتا تھا میرے رب نے مجھے اس میں مبتلا کیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ میں صبر کرتا ہوں یا بے صبری؟“
وہ کہنے لگے اچھا ہم آپ کے واسطے دوا لائے ہیں آپ اسے پی لیجئے شفاء ہو جائے گی یہ شراب ہے۔ ہم اپنے ہاں سے لائے ہیں۔ یہ سنتے ہی آپ علیہ السلام سخت غضبناک ہوئے اور فرمانے لگے ”تمہیں شیطان خبیث لایا ہے تم سے کلام کرنا تمہارا کھانا پینا مجھ پر حرام ہے۔“ یہ دونوں آپ علیہ السلام کے پاس سے چلے گئے۔
صفحہ نمبر5489
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ نے ایک گھر والوں کی روٹیاں پکائیں ان کا ایک بچہ سویا ہوا تھا تو انہوں نے اس بچے کے حصے کی ٹکیا انہیں دے دی یہ لے کر ایوب علیہ السلام کے پاس آئیں۔ آپ علیہ السلام نے کہا ”یہ آج کہاں سے لائیں؟“ انہوں نے ساراواقعہ بیان کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”ابھی ابھی واپس جاؤ ممکن ہے بچہ جاگ گیا ہو اور اسی ٹکیا کی ضد کرتا ہو اور رو رو کر سارے گھر والوں کو پریشان کرتا ہو۔“
آپ روٹی واپس لے کرچلیں ان کی ڈیوڑھی میں بکری بندھی ہوئی تھی اس نے زور سے آپ کو ٹکر ماری آپ کی زبان سے نکل گیا دیکھو ایوب کیسے غلط خیال والے ہیں۔ پھر اوپر گئیں تو دیکھا واقعی بچہ جاگا ہوا ہے اور ٹکیا کے لیے مچل رہا ہے اور گھر بھر کا ناک میں دم کر رکھا ہے یہ دیکھ کر بے ساختہ زبان سے نکلا کہ اللہ ایوب پر رحم کرے، اچھے موقعہ پر پہنچی۔ ٹکیا دے دی اور واپس لوٹیں راستے میں شیطان بہ صورت طبیب ملا اور کہنے لگا کہ تیرے خاوند سخت تکلیف میں ہیں مرض پر مدتیں گزر گئیں تم انہیں سمجھاؤ فلاں قبیلے کے بت کے نام پر ایک مکھی مار دیں شفاء ہو جائے گی پھر توبہ کر لیں۔ جب آپ ایوب علیہ السلام کے پاس پہنچیں تو ان سے یہ کہا آپ علیہ السلام نے فرمایا ”شیطان خبیث کاجادو تجھ پر چل گیا۔ میں تندرست ہو گیا تو تجھے سو کوڑے لگاؤں گا۔“
ایک دن آپ حسب معمول تلاش معاش میں نکلیں گھر گھر پھر آئیں کہیں کام نہ لگا مایوس ہوگئیں شام کو پلٹنے وقت ایوب علیہ السلام کی بھوک کا خیال آیا تو آپ نے اپنے بالوں کی ایک لٹ کاٹ کر ایک امیر لڑکی کے ہاتھ فروخت کر دی اس نے آپ کو بہت کچھ کھانے پینے کا اسباب دیا۔ جسے لے کر آپ آئیں، ایوب علیہ السلام نے پوچھا ”یہ آج اتنا سارا اور اتنا اچھا کھانا کیسے مل گیا؟“ فرمایا میں نے ایک امیر گھر کا کام کر دیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے کھا لیا دوسرے روز بھی اتفاق سے ایسا ہی ہوا اور آپ نے اپنے بالوں کی دوسری لٹ کاٹ کر فروخت کر دی اور کھانا لے آئیں آج بھی یہی کھانا دیکھ کر آپ علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ میں ہرگز نہ کھاؤں گا جب تک تو مجھے یہ نہ بتا دے کہ کیسے لائی؟“ اب آپ نے اپنا دوپٹہ سر سے اتار دیا دیکھا کہ سرکے بال سب کٹ چکے ہیں اس وقت سخت گھبراہٹ اور بے چینی ہوئی اور اللہ سے دعا کی کہ ”مجھے ضرر پہنچا اور تو سب سے زیادہ رحیم ہے۔“
صفحہ نمبر5490
حضرت نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جو شیطان ایوب علیہ السلام کے پیچھے پڑا تھا اس کا نام مسبوط تھا۔ ایوب علیہ السلام کی بیوی صاحبہ عموماً آپ علیہ السلام سے عرض کیا کرتی تھیں کہ اللہ سے دعا کرو۔ لیکن آپ علیہ السلام نہ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دن بنو اسرائیل کے کچھ لوگ آپ علیہ السلام کے پاس سے نکلے اور آپ علیہ السلام کو دیکھ کر کہنے لگے اس شخص کو یہ تکلیف ضرور کسی نہ کسی گناہ کی وجہ سے ہے اس وقت بےساختہ آپ علیہ السلام کی زبان سے یہ دعا نکل گئی۔“
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”ایوب علیہ السلام کہ دو بھائی تھے ایک دن وہ ملنے کے لیے آئے۔ لیکن جسم کی بدبو کی وجہ سے قریب نہ آسکے دور ہی سے کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اگر اس شخص میں بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے اس مصیبت میں نہ ڈالتا اس بات نے ایوب علیہ السلام کو وہ صدمہ پہنچایا جو آج تک آپ علیہ السلام کو کسی چیز سے نہ ہوا تھا اس وقت کہنے لگے ”اللہ کوئی رات مجھ پر ایسی نہیں گزری کہ کوئی بھوکا شخص میرے علم میں ہو اور میں نے پیٹ بھرلیا ہو پروردگار اگر میں اپنی اس بات میں تیرے نزدیک سچا ہوں تو میری تصدیق فرما۔“ اُسی وقت آسمان سے آپ علیہ السلام کی تصدیق کی گئی تھی اور وہ دونوں سن رہے تھے۔
پھر فرمایا کہ ”پروردگار کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میرے پاس ایک سے زائد کپڑے ہوں اور میں نے کسی ننگے کو نہ دیے ہوں اگر میں اس میں سچا ہوں تو میری تصدیق آسمان سے کر۔“ اس پر بھی آپ کی تصدیق ان کے سنتے ہوئے کی گئی۔
پھر یہ دعا کرتے ہوئے سجدے میں گر پڑے کہ ”اے اللہ میں تو اب سجدے سے سر نہ اٹھاؤں گا جب تک کہ تو مجھ سے ان تمام مصیبتوں کو دور نہ کر دے جو مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔“ چنانچہ یہ دعاقبول ہوئی۔ اور اس سے پہلے کہ آپ علیہ السلام سر اٹھائیں تمام تکلیفیں اور بیماریاں دور ہو گئیں جو آپ علیہ السلام پر اتری تھیں۔
صفحہ نمبر5491
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایوب علیہ السلام اٹھارہ برس تک بلاؤں میں گھرے رہے پھر ان کے دو دوستوں کے آنے اور بدگمانی کرنے کا ذکر ہے جس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میری تو یہ حالت تھی کہ راستہ چلتے دو شخصوں کو جھگڑتا دیکھتا اور ان میں سے کسی کو قسم کھاتے سن لیتا تو گھر آکر اس کی طرف سے کفارہ ادا کر دیتا کہ ایسا نہ ہو کہ اس نے نام ناحق لیا ہو۔ آپ علیہ السلام اپنی اس بیماری میں اس قدر نڈھال ہو گئے تھے کہ آپ کی بیوی صاحبہ ہاتھ تھام کر پاخانہ پیشاب کے لیے لے جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام کو حاجت تھی آپ نے آواز دی لیکن انہیں آنے میں دیر لگی آپ کو سخت تکلیف ہوئی اسی وقت آسمان سے ندا آئی کہ ” اے ایوب اپنی ایڑی زمین پر مارو اسی پانی کو پی بھی لو اور اسی سے نہا بھی لو “ اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل غریب ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:168/23:]
صفحہ نمبر5492
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لیے جنت کا حلہ نازل فرما دیا جسے پہن کر آپ علیہ السلام یکسو ہو کر بیٹھ گئے۔ جب آپ کی بیوی آئیں اور آپ علیہ السلام کو نہ پہچان سکیں تو، آپ علیہ السلام سے پوچھنے لگیں اے اللہ کے بندے یہاں ایک بیمار بے کس، بے بس تھے تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیا ہوئے؟ کہیں انہیں بھیڑئیے نہ کھا گئے ہوں یا کتے نہ لے گئے ہوں؟
تب آپ علیہ السلام نے فرمایا ”نہیں نہیں وہ بیمار ایوب (علیہ السلام) میں ہی ہوں۔“ بیوی صاحبہ کہنے لگی اے شخص تو مجھ دکھیا عورت سے ہنسی کر رہا ہے اور مجھے بنا رہا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”نہیں نہیں مجھے اللہ نے شفا دے دی اور یہ رنگ روپ بھی۔“
آپ علیہ السلام کا مال آپ کو واپس دیا گیا، آپ علیہ السلام کی اولاد وہی آپ علیہ السلام کو واپس ملی اور ان کے ساتھ ہی ویسی ہی اور بھی وحی میں یہ خوشخبری بھی سنا دی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ ” قربانی کرو اور استغفار کرو، تیرے اپنوں نے تیرے بارے میں میری نافرمانی کرلی تھی “۔
اور روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو عافیت عطا فرمائی آسمان سے سونے کی ٹڈیاں ان پر برسائیں جنہیں لے کر آپ علیہ السلام نے اپنے کپڑے میں جمع کرنی شروع کر دیں تو آواز دی گئی کہ اے ایوب کیا تو اب تک آسودہ نہیں ہوا؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”اے میرے پروردگار تیری رحمت سے آسودہ کون ہوسکتا ہے؟“ [مسند احمد:314/2:]
پھر فرماتا ہے ” ہم نے اسے اس کے اہل عطا فرمائے “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تو فرماتے ہیں ”وہی لوگ واپس کئے گئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:506/18:] آپ علیہ السلام کی بیوی کا نام رحمت تھا۔ یہ قول اگر آیت سے سمجھا گیا ہے تو یہ بھی دور از کار امر ہے اور اگر اہل کتاب سے لیا گیا ہے تو وہ تصدیق تکذیب کے قابل ہے چیز نہیں۔ ابن عساکر نے ان کا نام اپنی تاریخ میں“ لیا“ بتایا ہے۔ یہ منشا بن یوسف بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام کی بیٹی ہیں۔
صفحہ نمبر5493
ایک قول یہ بھی ہے کہ ”لیا“ یعقوب علیہ السلام کی بیٹی ایوب علیہ السلام کی بیوی ہیں جو شفیعہ کی زمین میں آپ علیہ السلام کے ساتھ تھیں۔ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ ” تیری اہل سب جنت میں ہیں تم کہو تو میں ان سب کو یہاں دنیا میں لادوں اور کہے تو وہیں رہنے دوں اور دنیا میں ان کا عوض دوں “ آپ علیہ السلام نے دوسری بات پسند فرمائی۔
پس آخرت کا اجر اور دنیا کا بدلہ دونوں آپ علیہ السلام کو ملا۔ ” یہ سب کچھ ہماری رحمت کا ظہور تھا۔ اور ہمارے سچے عابدوں کے لیے نصیحت وعبرت تھی “، آپ علیہ السلام اہل بلا کے پیشوا تھے۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ مصیبتوں میں پھنسے ہوئے لوگ اپنے لیے آپ کی ذات میں عبرت دیکھیں، بے صبری سے ناشکری نہ کرنے لگیں اور لوگ انہیں اللہ کے برے بندے نہ سمجھیں۔
ایوب علیہ السلام صبر کا پہاڑ ثابت قدمی کا نمونہ تھے اللہ کے لکھے پر، اس کے امتحان پر انسان کو صبر و برداشت کرنی چاہیئے نہ جانیں قدرت درپردہ اپنی کیا کیا حکمتیں دکھا رہی ہے۔
صفحہ نمبر5494
آزمائش اور مصائب ایوب علیہ السلام ٭٭
حضرت ابوب علیہ السلام کی تکلیفوں کا بیان ہو رہا ہے جو مالی جسمانی اور اولاد پر مشتمل تھیں ان کے پاس بہت سے قسم قسم کے جانور تھے کھیتیاں باغات وغیرہ تھے اولاد بیویاں لونڈیاں غلام جائیداد اور مال ومتاع سبھی کچھ اللہ کا دیا موجود تھا۔ اب جو رب کی طرف سے ان پر آزمائش آئی تو ایک سرے سے سب کچھ فنا ہوتا گیا یہاں تک کہ جسم میں جذام پھوٹ پڑا۔ دل و زبان کے سوا سارے جسم کا کوئی حصہ اس مرض سے محفوظ نہ رہا۔ یہاں تک کہ آس پاس والے کراہت کرنے لگے۔ شہر کے ایک ویران کونے میں آپ علیہ السلام کو سکونت اختیار کرنی پڑی۔ سوائے آپ علیہ السلام کی ایک بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کے اور کوئی آپ علیہ السلام کے پاس نہ رہا، اس مصیبت کے وقت سب نے کنارہ کر لیا۔ یہی ایک تھیں جو ان کی خدمت کرتی تھیں ساتھ ہی محنت مزدوری کر کے پیٹ پالنے کو بھی لایا کرتی تھیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے، پھر صالح لوگوں کا پھر ان سے نیچے کے درجے والوں کا پھر ان سے کم درجے والوں کا ۔ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ ہر شخص کا امتحان اس کے دین کے انداز سے ہوتا ہے اگر وہ دین میں مضبوط ہے امتحان بھی سخت تر ہوتا ہے ۔ ؎ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایوب علیہ السلام بڑے ہی صابر تھے یہاں تک کہ صبر ایوب زبان زد عام ہے۔
صفحہ نمبر5486
یزید بن میسرہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”جب آپ علیہ السلام کی آزمائش شروع ہوئی اہل و عیال مرگئے مال فنا ہوگیا کوئی چیز ہاتھ تلے نہ رہی۔ آپ علیہ السلام اللہ کے ذکر میں اور بڑھ گئے کہنے لگے ”اے تمام پالنے والوں کے پالنے والے تو نے مجھ پر بڑے احسان کئے مال دیا اولاد دی اس وقت میرا دل بہت ہی مشغول تھا اب تو نے سب کچھ لے کر میرے دل کو ان فکروں سے پاک کر دیا اب میرے دل میں اور تجھ میں کوئی حائل نہ رہا اگر میرا دشمن ابلیس تیری اس مہربانی کو جان لیتا تو وہ مجھ پر بہت ہی حسد کرتا۔“ ابلیس لعین اس قول سے اور اس وقت کی اس حمد سے جل بھن کر رہ گیا۔ [الدر المنشور للسیوطی:589/4:ضعیف]
آپ علیہ السلام کی دعاؤں میں یہ بھی دعا تھی ”اے اللہ تو نے جب مجھے توانگر اور اولاد اور اہل و عیال والا بنا رکھا تھا تو خوب جانتا ہے کہ اس وقت میں نے نہ کبھی غرور و تکبر کیا نہ کبھی کسی پر ظلم ستم کیا۔ میرے پروردگار تجھ پر روشن ہے کہ میرا نرم و گرم بستر تیار ہوتا اور میں راتوں کو تیری عبادتوں میں گزارتا اور اپنے نفس کو اس طرح ڈانٹ دیتا کہ تو اس لیے پیدا نہیں کیا گیا تیری رضا مندی کی طلب میں میں اپنی راحت و آرام کو ترک کر دیا کرتا۔“ [ ابن ابی حاتم ]
اس آیت کی تفسیر میں ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ایک بہت لمبا قصہ ہے جسے بہت سے پچھلے مفسیرین نے بھی ذکر کیا ہے۔ لیکن اس میں غرابت ہے اور اس کے طول کی وجہ سے ہم نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ مدتوں تک آپ علیہ السلام ان بلاؤں میں مبتلا رہے۔
صفحہ نمبر5487
حضرت حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں ”سات سال اور کئی ماہ آپ علیہ السلام بیماری میں مبتلا رہے۔ بنو اسرائیل کے کوڑے پھینکنے کی جگہ آپ علیہ السلام کو ڈال رکھا تھا۔ بدن میں کیڑے پڑ گئے تھے، پھر اللہ نے آپ علیہ السلام پر رحم و کرم کیا تمام بلاؤں سے نجات دی اجر دیا اور تعریفیں کیں۔“
وہب بن منبہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”پورے تین سال آپ علیہ السلام اس تکلیف میں رہے۔ سارا گوشت جھڑ گیا تھا۔ صرف ہڈیاں اور چمڑا رہ گیا۔ آپ علیہ السلام دکھ میں پڑے رہتے تھے صرف ایک بیوی صاحبہ تھیں جو آپ علیہ السلام کے پاس تھیں۔ جب زیادہ زمانہ گزر گیا تو ایک روز عرض کرنے لگیں کہ ”اے نبی اللہ علیہ السلام آپ علیہ السلام اللہ سے دعا کیوں نہیں کرتے کہ وہ اس مصیبت کو ہم پر سے ٹال دے۔“ آپ علیہ السلام فرمانے لگے ”سنو ستر برس تک اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت وعافیت میں رکھا تو اگر ستر سال تک میں اس حالت میں رہوں اور صبر کروں تو یہ بھی بہت کم ہے۔“ اس پر بیوی صاحبہ کانپ اٹھیں آپ شہر میں جاتیں، لوگوں کا کام کاج کرتیں اور جو ملتا وہ لے آتیں اور آپ علیہ السلام کو کھلاتیں پلاتیں۔
صفحہ نمبر5488
آپ علیہ السلام کے دو دوست اور دلی خیرخواہ دوست تھے انہیں فلسطین میں جاکر شیطان نے خبر دی کہ تمہارا دوست سخت مصیبت میں مبتلا ہے تم جاؤ ان کی خبرگیری کرو اور اپنے ہاں کی کچھ شراب اپنے ساتھ لے جاؤ وہ پلادینا اس سے انہیں شفاء ہو جائے گی۔ چنانچہ یہ دونوں آئے ایوب علیہ السلام کی حالت دیکھتے ہی ان کے آنسو نکل آئے بلبلا کر رونے لگے۔
آپ علیہ السلام نے پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے یاد دلایا تو آپ علیہ السلام خوش ہوئے انہیں مرحبا کہا وہ کہنے لگے ”اے جناب آپ شاید کچھ چھپاتے ہوں گے اور ظاہر اس کے خلاف کرتے ہوں گے؟“ آپ علیہ السلام نے نگاہیں آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا ”اللہ خوب جانتا ہے کہ میں کیا چھپاتا تھا اور کیا ظاہر کرتا تھا میرے رب نے مجھے اس میں مبتلا کیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ میں صبر کرتا ہوں یا بے صبری؟“
وہ کہنے لگے اچھا ہم آپ کے واسطے دوا لائے ہیں آپ اسے پی لیجئے شفاء ہو جائے گی یہ شراب ہے۔ ہم اپنے ہاں سے لائے ہیں۔ یہ سنتے ہی آپ علیہ السلام سخت غضبناک ہوئے اور فرمانے لگے ”تمہیں شیطان خبیث لایا ہے تم سے کلام کرنا تمہارا کھانا پینا مجھ پر حرام ہے۔“ یہ دونوں آپ علیہ السلام کے پاس سے چلے گئے۔
صفحہ نمبر5489
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ نے ایک گھر والوں کی روٹیاں پکائیں ان کا ایک بچہ سویا ہوا تھا تو انہوں نے اس بچے کے حصے کی ٹکیا انہیں دے دی یہ لے کر ایوب علیہ السلام کے پاس آئیں۔ آپ علیہ السلام نے کہا ”یہ آج کہاں سے لائیں؟“ انہوں نے ساراواقعہ بیان کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”ابھی ابھی واپس جاؤ ممکن ہے بچہ جاگ گیا ہو اور اسی ٹکیا کی ضد کرتا ہو اور رو رو کر سارے گھر والوں کو پریشان کرتا ہو۔“
آپ روٹی واپس لے کرچلیں ان کی ڈیوڑھی میں بکری بندھی ہوئی تھی اس نے زور سے آپ کو ٹکر ماری آپ کی زبان سے نکل گیا دیکھو ایوب کیسے غلط خیال والے ہیں۔ پھر اوپر گئیں تو دیکھا واقعی بچہ جاگا ہوا ہے اور ٹکیا کے لیے مچل رہا ہے اور گھر بھر کا ناک میں دم کر رکھا ہے یہ دیکھ کر بے ساختہ زبان سے نکلا کہ اللہ ایوب پر رحم کرے، اچھے موقعہ پر پہنچی۔ ٹکیا دے دی اور واپس لوٹیں راستے میں شیطان بہ صورت طبیب ملا اور کہنے لگا کہ تیرے خاوند سخت تکلیف میں ہیں مرض پر مدتیں گزر گئیں تم انہیں سمجھاؤ فلاں قبیلے کے بت کے نام پر ایک مکھی مار دیں شفاء ہو جائے گی پھر توبہ کر لیں۔ جب آپ ایوب علیہ السلام کے پاس پہنچیں تو ان سے یہ کہا آپ علیہ السلام نے فرمایا ”شیطان خبیث کاجادو تجھ پر چل گیا۔ میں تندرست ہو گیا تو تجھے سو کوڑے لگاؤں گا۔“
ایک دن آپ حسب معمول تلاش معاش میں نکلیں گھر گھر پھر آئیں کہیں کام نہ لگا مایوس ہوگئیں شام کو پلٹنے وقت ایوب علیہ السلام کی بھوک کا خیال آیا تو آپ نے اپنے بالوں کی ایک لٹ کاٹ کر ایک امیر لڑکی کے ہاتھ فروخت کر دی اس نے آپ کو بہت کچھ کھانے پینے کا اسباب دیا۔ جسے لے کر آپ آئیں، ایوب علیہ السلام نے پوچھا ”یہ آج اتنا سارا اور اتنا اچھا کھانا کیسے مل گیا؟“ فرمایا میں نے ایک امیر گھر کا کام کر دیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے کھا لیا دوسرے روز بھی اتفاق سے ایسا ہی ہوا اور آپ نے اپنے بالوں کی دوسری لٹ کاٹ کر فروخت کر دی اور کھانا لے آئیں آج بھی یہی کھانا دیکھ کر آپ علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ میں ہرگز نہ کھاؤں گا جب تک تو مجھے یہ نہ بتا دے کہ کیسے لائی؟“ اب آپ نے اپنا دوپٹہ سر سے اتار دیا دیکھا کہ سرکے بال سب کٹ چکے ہیں اس وقت سخت گھبراہٹ اور بے چینی ہوئی اور اللہ سے دعا کی کہ ”مجھے ضرر پہنچا اور تو سب سے زیادہ رحیم ہے۔“
صفحہ نمبر5490
حضرت نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جو شیطان ایوب علیہ السلام کے پیچھے پڑا تھا اس کا نام مسبوط تھا۔ ایوب علیہ السلام کی بیوی صاحبہ عموماً آپ علیہ السلام سے عرض کیا کرتی تھیں کہ اللہ سے دعا کرو۔ لیکن آپ علیہ السلام نہ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دن بنو اسرائیل کے کچھ لوگ آپ علیہ السلام کے پاس سے نکلے اور آپ علیہ السلام کو دیکھ کر کہنے لگے اس شخص کو یہ تکلیف ضرور کسی نہ کسی گناہ کی وجہ سے ہے اس وقت بےساختہ آپ علیہ السلام کی زبان سے یہ دعا نکل گئی۔“
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”ایوب علیہ السلام کہ دو بھائی تھے ایک دن وہ ملنے کے لیے آئے۔ لیکن جسم کی بدبو کی وجہ سے قریب نہ آسکے دور ہی سے کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اگر اس شخص میں بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے اس مصیبت میں نہ ڈالتا اس بات نے ایوب علیہ السلام کو وہ صدمہ پہنچایا جو آج تک آپ علیہ السلام کو کسی چیز سے نہ ہوا تھا اس وقت کہنے لگے ”اللہ کوئی رات مجھ پر ایسی نہیں گزری کہ کوئی بھوکا شخص میرے علم میں ہو اور میں نے پیٹ بھرلیا ہو پروردگار اگر میں اپنی اس بات میں تیرے نزدیک سچا ہوں تو میری تصدیق فرما۔“ اُسی وقت آسمان سے آپ علیہ السلام کی تصدیق کی گئی تھی اور وہ دونوں سن رہے تھے۔
پھر فرمایا کہ ”پروردگار کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میرے پاس ایک سے زائد کپڑے ہوں اور میں نے کسی ننگے کو نہ دیے ہوں اگر میں اس میں سچا ہوں تو میری تصدیق آسمان سے کر۔“ اس پر بھی آپ کی تصدیق ان کے سنتے ہوئے کی گئی۔
پھر یہ دعا کرتے ہوئے سجدے میں گر پڑے کہ ”اے اللہ میں تو اب سجدے سے سر نہ اٹھاؤں گا جب تک کہ تو مجھ سے ان تمام مصیبتوں کو دور نہ کر دے جو مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔“ چنانچہ یہ دعاقبول ہوئی۔ اور اس سے پہلے کہ آپ علیہ السلام سر اٹھائیں تمام تکلیفیں اور بیماریاں دور ہو گئیں جو آپ علیہ السلام پر اتری تھیں۔
صفحہ نمبر5491
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایوب علیہ السلام اٹھارہ برس تک بلاؤں میں گھرے رہے پھر ان کے دو دوستوں کے آنے اور بدگمانی کرنے کا ذکر ہے جس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میری تو یہ حالت تھی کہ راستہ چلتے دو شخصوں کو جھگڑتا دیکھتا اور ان میں سے کسی کو قسم کھاتے سن لیتا تو گھر آکر اس کی طرف سے کفارہ ادا کر دیتا کہ ایسا نہ ہو کہ اس نے نام ناحق لیا ہو۔ آپ علیہ السلام اپنی اس بیماری میں اس قدر نڈھال ہو گئے تھے کہ آپ کی بیوی صاحبہ ہاتھ تھام کر پاخانہ پیشاب کے لیے لے جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام کو حاجت تھی آپ نے آواز دی لیکن انہیں آنے میں دیر لگی آپ کو سخت تکلیف ہوئی اسی وقت آسمان سے ندا آئی کہ ” اے ایوب اپنی ایڑی زمین پر مارو اسی پانی کو پی بھی لو اور اسی سے نہا بھی لو “ اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل غریب ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:168/23:]
صفحہ نمبر5492
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لیے جنت کا حلہ نازل فرما دیا جسے پہن کر آپ علیہ السلام یکسو ہو کر بیٹھ گئے۔ جب آپ کی بیوی آئیں اور آپ علیہ السلام کو نہ پہچان سکیں تو، آپ علیہ السلام سے پوچھنے لگیں اے اللہ کے بندے یہاں ایک بیمار بے کس، بے بس تھے تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیا ہوئے؟ کہیں انہیں بھیڑئیے نہ کھا گئے ہوں یا کتے نہ لے گئے ہوں؟
تب آپ علیہ السلام نے فرمایا ”نہیں نہیں وہ بیمار ایوب (علیہ السلام) میں ہی ہوں۔“ بیوی صاحبہ کہنے لگی اے شخص تو مجھ دکھیا عورت سے ہنسی کر رہا ہے اور مجھے بنا رہا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”نہیں نہیں مجھے اللہ نے شفا دے دی اور یہ رنگ روپ بھی۔“
آپ علیہ السلام کا مال آپ کو واپس دیا گیا، آپ علیہ السلام کی اولاد وہی آپ علیہ السلام کو واپس ملی اور ان کے ساتھ ہی ویسی ہی اور بھی وحی میں یہ خوشخبری بھی سنا دی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ ” قربانی کرو اور استغفار کرو، تیرے اپنوں نے تیرے بارے میں میری نافرمانی کرلی تھی “۔
اور روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو عافیت عطا فرمائی آسمان سے سونے کی ٹڈیاں ان پر برسائیں جنہیں لے کر آپ علیہ السلام نے اپنے کپڑے میں جمع کرنی شروع کر دیں تو آواز دی گئی کہ اے ایوب کیا تو اب تک آسودہ نہیں ہوا؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”اے میرے پروردگار تیری رحمت سے آسودہ کون ہوسکتا ہے؟“ [مسند احمد:314/2:]
پھر فرماتا ہے ” ہم نے اسے اس کے اہل عطا فرمائے “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تو فرماتے ہیں ”وہی لوگ واپس کئے گئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:506/18:] آپ علیہ السلام کی بیوی کا نام رحمت تھا۔ یہ قول اگر آیت سے سمجھا گیا ہے تو یہ بھی دور از کار امر ہے اور اگر اہل کتاب سے لیا گیا ہے تو وہ تصدیق تکذیب کے قابل ہے چیز نہیں۔ ابن عساکر نے ان کا نام اپنی تاریخ میں“ لیا“ بتایا ہے۔ یہ منشا بن یوسف بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام کی بیٹی ہیں۔
صفحہ نمبر5493
ایک قول یہ بھی ہے کہ ”لیا“ یعقوب علیہ السلام کی بیٹی ایوب علیہ السلام کی بیوی ہیں جو شفیعہ کی زمین میں آپ علیہ السلام کے ساتھ تھیں۔ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ ” تیری اہل سب جنت میں ہیں تم کہو تو میں ان سب کو یہاں دنیا میں لادوں اور کہے تو وہیں رہنے دوں اور دنیا میں ان کا عوض دوں “ آپ علیہ السلام نے دوسری بات پسند فرمائی۔
پس آخرت کا اجر اور دنیا کا بدلہ دونوں آپ علیہ السلام کو ملا۔ ” یہ سب کچھ ہماری رحمت کا ظہور تھا۔ اور ہمارے سچے عابدوں کے لیے نصیحت وعبرت تھی “، آپ علیہ السلام اہل بلا کے پیشوا تھے۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ مصیبتوں میں پھنسے ہوئے لوگ اپنے لیے آپ کی ذات میں عبرت دیکھیں، بے صبری سے ناشکری نہ کرنے لگیں اور لوگ انہیں اللہ کے برے بندے نہ سمجھیں۔
ایوب علیہ السلام صبر کا پہاڑ ثابت قدمی کا نمونہ تھے اللہ کے لکھے پر، اس کے امتحان پر انسان کو صبر و برداشت کرنی چاہیئے نہ جانیں قدرت درپردہ اپنی کیا کیا حکمتیں دکھا رہی ہے۔
صفحہ نمبر5494
ذوالکفل نبی نہیں بزرگ تھے ٭٭
حضرت اسماعیل علیہ السلام، ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے فرزند تھے۔ سورۃ مریم میں ان کا واقعہ بیان ہو چکا ہے۔ ادریس علیہ السلام کا بھی ذکر گزر چکا ہے۔ ذوالکفل بہ ظاہر تو نبی ہی معلوم ہوتے ہیں کیونکہ نبیوں کے ذکر میں ان کا نام آیا ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ نبی نہ تھے بلکہ ایک صالح شخص تھے اپنے زمانہ کے بادشاہ تھے بڑے ہی عادل اور بامروت، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ اس میں توقف کرتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری:507/18:] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”یہ ایک نیک بزرگ تھے جنہوں نے اپنے زمانے کے نبی سے عہد و پیمان کئے اور ان پر قائم رہے۔ قوم میں عدل وانصاف کیا کرتے تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:509/18:]
مروی ہے کہ جب یسع علیہ السلام بہت بوڑھے ہو گئے تو ارادہ کیا کہ میں اپنی زندگی میں ہی ان کا خلیفہ مقرر کر دوں اور دیکھ لوں کہ وہ کیسے عمل کرتا ہے۔ لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ تین باتیں جو شخص منظور کرے میں اسے خلافت سونپتا ہوں۔ دن بھر روزے سے رہے رات بھر قیام کرے اور کبھی بھی غصے نہ ہو۔ کوئی اور تو کھڑا نہ ہوا ایک شخص جسے لوگ بہت ہلکے درجے کا سمجھتے تھے کھڑا ہوا اور کہنے لگا میں اس شرط کو پوری کر دوں گا۔ آپ نے پوچھا یعنی تو دنوں میں روزے سے رہے گا اور راتوں کو تہجد پڑھتا رہے گا اور غصہ نہ کرے گا؟ اس نے کہا ہاں۔ یسع علیہ السلام نے فرمایا اچھا اب کل سہی۔ دوسرے روز بھی آپ نے اسی طرح مجلس میں عام سوال کیا لیکن اس شخص کے سوا کوئی اور کھڑا نہ ہوا۔ چنانچہ انہی کو خلیفہ بنا دیا گیا۔ اب شیطان نے چھوٹے چھوٹے شیاطین کو اس بزرگ کے بہکانے کے لیے بھیجنا شروع کیا۔ مگر کسی کی کچھ نہ چلی۔
صفحہ نمبر5496
ابلیس خود چلا دوپہر کو قیلولے کے لیے آپ لیٹے ہی تھے جو خبیث نے کنڈیاں پیٹنی شروع کر دیں آپ نے دریافت فرمایا کہ تو کون ہے؟ اس نے کہنا شروع کیا کہ میں ایک مظلوم ہوں فریادی ہوں میری قوم مجھے ستارہی ہے۔ میرے ساتھ انہوں نے یہ کیا یہ کیا اب لمبا قصہ سنانا شروع کیا تو کسی طرح ختم ہی نہیں کرتا نیند کا سارا وقت اسی میں چلا گیا اور ذوالکفل دن رات بس صرف اسی وقت ذرا سی دیر کے لیے سوتے تھے۔
آپ نے فرمایا اچھا شام کو آنا میں تمہارا انصاف کر دوں گا اب شام کو آپ جب فیصلے کرنے لگے ہرطرف اسے دیکھتے ہیں لیکن اس کا کہیں پتہ نہیں یہاں تک کہ خود جا کر ادھر ادھر بھی تلاش کیا مگر اسے نہ پایا۔ دوسری صبح کو بھی وہ نہ آیا پھر جہاں آپ دوپہر کو دو گھڑی آرام کرنے کے ارادے سے لیٹے جو یہ خبیث آ گیا اور دروازہ ٹھونکنے لگا آپ نے کھول دیا اور فرمانے لگے میں نے تو تم سے شام کو آنے کو کہا تھا، منتظر رہا لیکن تم نہ آئے۔ وہ کہنے لگا کیا بتاؤں جب میں نے آپ کی طرف آنے کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگے تم نہ جاؤ ہم تمہارا حق ادا کر دیتے ہیں میں رک گیا پھر انہوں نے اب انکار کر دیا اور بھی کچھ لمبے چوڑے واقعات بیان کرنے شروع کر دئے اور آج کی نیند بھی کھوئی اب شام کو پھر انتظار کیا لیکن نہ اسے آنا تھا نہ آیا۔
صفحہ نمبر5497
تیسرے دن آپ نے آدمی مقرر کیا کہ دیکھو کوئی دروازے پر نہ آنے پائے مارے نیند کے میری حالت غیر ہو رہی ہے آپ ابھی لیٹے ہی تھے جو وہ مردود پھر آگیا چوکیدار نے اسے روکا یہ ایک طاق میں سے اندر گھس گیا اور اندر سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا۔ آپ نے اٹھ کر پہرے دار سے کہا کہ دیکھو میں نے تمہیں ہدایت کر دی تھی پھر بھی آپنے دروازے کے اندر کسی کو آنے دیا اس نے کہا نہیں میری طرف سے کوئی نہیں آیا۔ اب جو غور سے آپ نے دیکھا تو دروازے کو بند پایا۔ اور اس شخص کو اندر موجود پایا۔
آپ پہچان گئے کہ یہ شیطان ہے اس وقت شیطان نے کہا اے ولی اللہ میں تجھ سے ہارا نہ تو نے رات کا قیام ترک کیا نہ تو اس نوکر پر ایسے موقعہ پر غصے ہوا پس اللہ نے ان کا نام ذوالکفل رکھا۔ اس لیے کہ جن باتوں کی انہوں نے کفالت لی تھیں انہیں پورا کر دکھایا۔ [ابن ابی حاتم]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی کچھ تفسیر کے ساتھ یہ قصہ مروی ہے اس میں ہے کہ بنواسرائیل کے ایک قاضی نے بوقت مرگ کہا تھا کہ میرے بعد میرا عہدہ کون سنبھالتا ہے؟ اس نے کہا میں چنانچہ ان کا نام ذوالکفل ہوا اس میں ہے کہ شیطان جب ان کے آرام کے وقت آیا پہرے والوں نے روکا اس نے اس قدر غل مچایا کہ آپ جاگ گئے دوسرے دن بھی یہی کیا تیسرے دن بھی یہی کیا اب آپ اس کے ساتھ چلنے کے لیے آمادہ ہوئے کہ میں تیرے ساتھ چل کر تیرا حق دلواتا ہوں لیکن راستے میں سے وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ کھڑا ہوا۔
صفحہ نمبر5498
حضرت اشعری رحمہ اللہ نے منبر پر فرمایا کہ ذوالکفل نبی نہ تھا بنواسرائیل کا ایک صالح شخص تھا جو ہر روز سو نمازیں پڑھتا تھا اس کے بعد انہوں نے اس قسم کی عبادتوں کا ذمہ اٹھایا۔ اس لیے انہیں ذوالکفل کہا گیا۔
ایک منقطع روایت میں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا سے یہ منقول ہے۔ ایک غریب حدیث مسند امام احمد بن حنبل میں ہے اس میں کفل کا ایک واقعہ بیان ہے ذوالکفل نہیں کہا گیا۔ بہت ممکن ہے یہ کوئی اور صاحب ہوں۔ واقعہ اس حدیث میں یہ ہے کہ کفل نامی ایک شخص تھا جو کسی گناہ سے بچتا نہ تھا۔ ایک مرتبہ اس نے ایک عورت کو ساٹھ دینار دے کر بدکاری کے لیے آمادہ کیا جب اپنا ارادہ پورا کرنے کے لیے تیار ہوا تو وہ عورت رونے اور کانپنے لگی۔ اس نے کہا میں نے تجھ سے کوئی زبردستی تو کی نہیں پھر رونے اور کانپنے کی وجہ کیا ہے؟ اس نے کہا میں نے ایسی کوئی نافرمانی آج تک اللہ تعالیٰ کی نہیں کی۔ اس وقت میری محتاجی نے مجھے یہ برا دن دکھایا ہے۔ کفل نے کہا تو ایک گناہ پر اس قدر پریشان ہے؟ حالانکہ اس سے پہلے تو نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ اسی وقت اسے چھوڑ کر اس سے الگ ہو گیا اور کہنے لگا جا یہ دینار میں نے تجھے بخشے۔ قسم اللہ کی آج سے میں کسی قسم کی اللہ کی نافرمانی نہ کروں گا۔ اللہ کی شان اسی رات اس کا انتقال ہوتا ہے۔ صبح لوگ دیکھتے ہیں کہ اس کے دروازے پر قدرتی حروف سے لکھا ہوا تھا کہ اللہ نے کفل کو بخش دیا ۔ [سنن ترمذي:2496،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5499
ذوالکفل نبی نہیں بزرگ تھے ٭٭
حضرت اسماعیل علیہ السلام، ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے فرزند تھے۔ سورۃ مریم میں ان کا واقعہ بیان ہو چکا ہے۔ ادریس علیہ السلام کا بھی ذکر گزر چکا ہے۔ ذوالکفل بہ ظاہر تو نبی ہی معلوم ہوتے ہیں کیونکہ نبیوں کے ذکر میں ان کا نام آیا ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ نبی نہ تھے بلکہ ایک صالح شخص تھے اپنے زمانہ کے بادشاہ تھے بڑے ہی عادل اور بامروت، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ اس میں توقف کرتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری:507/18:] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”یہ ایک نیک بزرگ تھے جنہوں نے اپنے زمانے کے نبی سے عہد و پیمان کئے اور ان پر قائم رہے۔ قوم میں عدل وانصاف کیا کرتے تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:509/18:]
مروی ہے کہ جب یسع علیہ السلام بہت بوڑھے ہو گئے تو ارادہ کیا کہ میں اپنی زندگی میں ہی ان کا خلیفہ مقرر کر دوں اور دیکھ لوں کہ وہ کیسے عمل کرتا ہے۔ لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ تین باتیں جو شخص منظور کرے میں اسے خلافت سونپتا ہوں۔ دن بھر روزے سے رہے رات بھر قیام کرے اور کبھی بھی غصے نہ ہو۔ کوئی اور تو کھڑا نہ ہوا ایک شخص جسے لوگ بہت ہلکے درجے کا سمجھتے تھے کھڑا ہوا اور کہنے لگا میں اس شرط کو پوری کر دوں گا۔ آپ نے پوچھا یعنی تو دنوں میں روزے سے رہے گا اور راتوں کو تہجد پڑھتا رہے گا اور غصہ نہ کرے گا؟ اس نے کہا ہاں۔ یسع علیہ السلام نے فرمایا اچھا اب کل سہی۔ دوسرے روز بھی آپ نے اسی طرح مجلس میں عام سوال کیا لیکن اس شخص کے سوا کوئی اور کھڑا نہ ہوا۔ چنانچہ انہی کو خلیفہ بنا دیا گیا۔ اب شیطان نے چھوٹے چھوٹے شیاطین کو اس بزرگ کے بہکانے کے لیے بھیجنا شروع کیا۔ مگر کسی کی کچھ نہ چلی۔
صفحہ نمبر5496
ابلیس خود چلا دوپہر کو قیلولے کے لیے آپ لیٹے ہی تھے جو خبیث نے کنڈیاں پیٹنی شروع کر دیں آپ نے دریافت فرمایا کہ تو کون ہے؟ اس نے کہنا شروع کیا کہ میں ایک مظلوم ہوں فریادی ہوں میری قوم مجھے ستارہی ہے۔ میرے ساتھ انہوں نے یہ کیا یہ کیا اب لمبا قصہ سنانا شروع کیا تو کسی طرح ختم ہی نہیں کرتا نیند کا سارا وقت اسی میں چلا گیا اور ذوالکفل دن رات بس صرف اسی وقت ذرا سی دیر کے لیے سوتے تھے۔
آپ نے فرمایا اچھا شام کو آنا میں تمہارا انصاف کر دوں گا اب شام کو آپ جب فیصلے کرنے لگے ہرطرف اسے دیکھتے ہیں لیکن اس کا کہیں پتہ نہیں یہاں تک کہ خود جا کر ادھر ادھر بھی تلاش کیا مگر اسے نہ پایا۔ دوسری صبح کو بھی وہ نہ آیا پھر جہاں آپ دوپہر کو دو گھڑی آرام کرنے کے ارادے سے لیٹے جو یہ خبیث آ گیا اور دروازہ ٹھونکنے لگا آپ نے کھول دیا اور فرمانے لگے میں نے تو تم سے شام کو آنے کو کہا تھا، منتظر رہا لیکن تم نہ آئے۔ وہ کہنے لگا کیا بتاؤں جب میں نے آپ کی طرف آنے کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگے تم نہ جاؤ ہم تمہارا حق ادا کر دیتے ہیں میں رک گیا پھر انہوں نے اب انکار کر دیا اور بھی کچھ لمبے چوڑے واقعات بیان کرنے شروع کر دئے اور آج کی نیند بھی کھوئی اب شام کو پھر انتظار کیا لیکن نہ اسے آنا تھا نہ آیا۔
صفحہ نمبر5497
تیسرے دن آپ نے آدمی مقرر کیا کہ دیکھو کوئی دروازے پر نہ آنے پائے مارے نیند کے میری حالت غیر ہو رہی ہے آپ ابھی لیٹے ہی تھے جو وہ مردود پھر آگیا چوکیدار نے اسے روکا یہ ایک طاق میں سے اندر گھس گیا اور اندر سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا۔ آپ نے اٹھ کر پہرے دار سے کہا کہ دیکھو میں نے تمہیں ہدایت کر دی تھی پھر بھی آپنے دروازے کے اندر کسی کو آنے دیا اس نے کہا نہیں میری طرف سے کوئی نہیں آیا۔ اب جو غور سے آپ نے دیکھا تو دروازے کو بند پایا۔ اور اس شخص کو اندر موجود پایا۔
آپ پہچان گئے کہ یہ شیطان ہے اس وقت شیطان نے کہا اے ولی اللہ میں تجھ سے ہارا نہ تو نے رات کا قیام ترک کیا نہ تو اس نوکر پر ایسے موقعہ پر غصے ہوا پس اللہ نے ان کا نام ذوالکفل رکھا۔ اس لیے کہ جن باتوں کی انہوں نے کفالت لی تھیں انہیں پورا کر دکھایا۔ [ابن ابی حاتم]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی کچھ تفسیر کے ساتھ یہ قصہ مروی ہے اس میں ہے کہ بنواسرائیل کے ایک قاضی نے بوقت مرگ کہا تھا کہ میرے بعد میرا عہدہ کون سنبھالتا ہے؟ اس نے کہا میں چنانچہ ان کا نام ذوالکفل ہوا اس میں ہے کہ شیطان جب ان کے آرام کے وقت آیا پہرے والوں نے روکا اس نے اس قدر غل مچایا کہ آپ جاگ گئے دوسرے دن بھی یہی کیا تیسرے دن بھی یہی کیا اب آپ اس کے ساتھ چلنے کے لیے آمادہ ہوئے کہ میں تیرے ساتھ چل کر تیرا حق دلواتا ہوں لیکن راستے میں سے وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ کھڑا ہوا۔
صفحہ نمبر5498
حضرت اشعری رحمہ اللہ نے منبر پر فرمایا کہ ذوالکفل نبی نہ تھا بنواسرائیل کا ایک صالح شخص تھا جو ہر روز سو نمازیں پڑھتا تھا اس کے بعد انہوں نے اس قسم کی عبادتوں کا ذمہ اٹھایا۔ اس لیے انہیں ذوالکفل کہا گیا۔
ایک منقطع روایت میں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہا سے یہ منقول ہے۔ ایک غریب حدیث مسند امام احمد بن حنبل میں ہے اس میں کفل کا ایک واقعہ بیان ہے ذوالکفل نہیں کہا گیا۔ بہت ممکن ہے یہ کوئی اور صاحب ہوں۔ واقعہ اس حدیث میں یہ ہے کہ کفل نامی ایک شخص تھا جو کسی گناہ سے بچتا نہ تھا۔ ایک مرتبہ اس نے ایک عورت کو ساٹھ دینار دے کر بدکاری کے لیے آمادہ کیا جب اپنا ارادہ پورا کرنے کے لیے تیار ہوا تو وہ عورت رونے اور کانپنے لگی۔ اس نے کہا میں نے تجھ سے کوئی زبردستی تو کی نہیں پھر رونے اور کانپنے کی وجہ کیا ہے؟ اس نے کہا میں نے ایسی کوئی نافرمانی آج تک اللہ تعالیٰ کی نہیں کی۔ اس وقت میری محتاجی نے مجھے یہ برا دن دکھایا ہے۔ کفل نے کہا تو ایک گناہ پر اس قدر پریشان ہے؟ حالانکہ اس سے پہلے تو نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ اسی وقت اسے چھوڑ کر اس سے الگ ہو گیا اور کہنے لگا جا یہ دینار میں نے تجھے بخشے۔ قسم اللہ کی آج سے میں کسی قسم کی اللہ کی نافرمانی نہ کروں گا۔ اللہ کی شان اسی رات اس کا انتقال ہوتا ہے۔ صبح لوگ دیکھتے ہیں کہ اس کے دروازے پر قدرتی حروف سے لکھا ہوا تھا کہ اللہ نے کفل کو بخش دیا ۔ [سنن ترمذي:2496،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5499
یونس علیہ السلام اور ان کی امت ٭٭
یہ واقعہ یہاں بھی مذکور ہے اور سورۃ الصافات میں بھی ہے اور سورۃ نون میں بھی ہے۔ [37-الصافات:139-148] [68-القلم:48-50] یہ پیغمبر یونس بن متی علیہ السلام تھے۔ انہیں موصل کے علاقے کی بستی نینوا کی طرف نبی بنا کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ کی راہ کی دعوت دی لیکن قوم ایمان نہ لائی۔ آپ علیہ السلام وہاں سے ناراض ہو کرچل دئے اور ان لوگوں سے کہنے لگے کہ ”تین دن میں تم پر عذاب الٰہی آ جائے گا۔“ جب انہیں اس بات کی تحقیق ہوگئی اور انہوں نے جان لیا کہ انبیاء علیہم السلام جھوٹے نہیں ہوتے تو یہ سب کے سب چھوٹے بڑے مع اپنے جانوروں اور مویشوں کے جنگل میں نکل کھڑے ہوئے بچوں کو ماؤں سے جدا کردیا اور بلک بلک کر نہایت گریہ وزاری سے جناب باری تعالیٰ میں فریاد شروع کر دی۔
ادھر ان کی آہ وبکاء ادھر جانوروں کی بھیانک صدا غرض اللہ کی رحمت متوجہ ہوگئی عذاب اٹھا لیا گیا۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ» [10-یونس:98] یعنی ” عذابوں کی تحقیق کے بعد کے ایمان نے کسی کو نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے کہ ان کے ایمان کی وجہ سے ہم نے ان پر سے عذاب ہٹالیے اور دنیا کی رسوائی سے انہیں بچا لیا اور موت تک کی مہلت دے دی “۔
صفحہ نمبر5501
حضرت یونس علیہ السلام یہاں سے چل کر ایک کشتی میں سوار ہوئے آگے جاکر طوفان کے آثار نمودار ہوئے۔ قریب تھا کہ کشتی ڈوب جائے مشورہ یہ ہوا کہ کسی آدمی کو دریا میں ڈال دینا چاہے کہ وزن کم ہو جائے۔ قرعہ یونس علیہ السلام کا نکلا لیکن کسی نے آپ علیہ السلام کو دریا میں ڈالنا پسند نہ کیا۔ دوبارہ قرعہ اندازی ہوئی آپ علیہ السلام ہی کا نام نکلا تیسری مرتبہ پھر قرعہ ڈالا اب کی مرتبہ بھی آپ علیہ السلام ہی کا نام نکلا۔
چنانچہ خود قرآن میں ہے آیت «فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ» [37-الصافات:141] اب کہ یونس علیہ السلام خود کھڑے ہو گئے کپڑے اتار کر دریا میں کود پڑے۔ بحر اخضر سے بحکم الٰہی ایک مچھلی پانی کاٹتی ہوئی آئی اور آپ علیہ السلام کو لقمہ کرگئی۔ لیکن بحکم اللہ نے آپ علیہ السلام کی ہڈی توڑی نہ جسم کو کچھ نقصان پہچایا۔
آپ علیہ السلام اس کے لیے غذا نہ تھے بلکہ اس کا پیٹ آپ علیہ السلام کے لیے قید خانہ تھا۔ اسی وجہ سے آپ علیہ السلام کی نسبت مچھلی کی طرف کی گئی عربی میں مچھلی کو نون کہتے ہیں۔ آپ علیہ السلام کا غضب وغصہ آپ کی قوم پر تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:511/18:]
خیال یہ تھا کہ اللہ آپ کو تنگ نہ پکڑے گا پس یہاں «نَقُدِرَ» کے یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، مجاہدرحمہ اللہ، ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ نے کئے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:514/18:] امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اس کی تائید آیت «وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّـهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللَّـهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا» [65-الطلاق:7] سے بھی ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر5502
حضرت عطیہ عوفی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ معنی کئے ہیں کہ ”ہم اس پر مقدر نہ کریں گے۔“ «قَدَرَ» اور «قَدَّرَ» دونوں لفظ ایک معنی میں بولے جاتے ہیں اس کی سند میں عربی کے شعر کے علاوہ آیت «فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلٰٓي اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ» [54-القمر:12] بھی پیش کی جا سکتی ہے۔
ان اندھیریوں میں پھنس کر اب یونس علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا۔ سمندر کے نیچے کا اندھیرا پھر مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا پھر رات کا اندھیرا یہ اندھیرے سب جمع تھے۔ [تفسیر قرطبی:333/11:]
آپ علیہ السلام نے سمندر کی تہہ کی کنکریوں کی تسبیح سنی اور خود بھی تسبیح کرنی شروع کی۔ آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں جا کر پہلے تو سمجھے کہ میں مرگیا پھر پیر کو ہلایا تو یقین ہوا کہ میں زندہ ہوں۔ وہیں سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے ”بارالٰہی میں نے تیرے لیے اس جگہ کو مسجد بنایا جسے اس سے پہلے کسی نے جائے سجود نہ بنایا ہوگا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:518/18:] حسن بصری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں ”چالیس دن آپ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔“
صفحہ نمبر5503
ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کے قید کا ارادہ کیا تو مچھلی کو حکم دیا کہ آپ علیہ السلام کو نگل لے لیکن اس طرح کے نہ ہڈی ٹوٹے نہ جسم پر خراش آئے۔ جب آپ علیہ السلام سمندر کی تہہ میں پہنچے تو وہاں تسبیح سن کر حیران رہ گئے وحی آئی کہ ” یہ سمندر کے جانوروں کی تسبیح ہے “۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے بھی اللہ کی تسبیح شروع کر دی اسے سن کر فرشتوں نے کہا بار الٰہا! یہ آواز تو بہت دور کی اور بہت کمزورہے کس کی ہے؟ ہم تو نہیں پہچان سکے۔ جواب ملا کہ ” یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے اس نے میری نافرمانی کی میں نے اسے مچھلی کے پیٹ کے قید خانے میں ڈال دیا ہے “۔ انہوں نے کہا پروردگار ان کے نیک اعمال تو دن رات کے ہر وقت چڑھتے ہی رہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی سفارش قبول فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو کنارے پر اگل دے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24778:ضعیف]
تفسیر ابن کثیر کے ایک نسخے میں یہ روایت بھی ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے تیئں یونس بن متع سے افضل کہے۔ اللہ کے اس بندے نے اندھیریوں میں اپنے رب کی تسبیح بیان کی ہے ۔ [ابن ابی شیبة:156/12] اوپر جو روایت گزری اس کی وہی ایک سند ہے۔
صفحہ نمبر5504
ابن ابی حاتم میں ہے حضور اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب یونس علیہ السلام نے یہ دعا کی تو یہ کلمات عرش کے اردگرد گھومنے لگے، فرشتے کہنے لگے بہت دور دراز کی یہ آواز ہے لیکن کان اس سے پہلے آشنا ضرور ہیں آواز بہت ضعیف ہے۔ جناب باری نے فرمایا کیا ” تم نے پہچانا نہیں؟ “ انہوں نے کہا نہیں۔ فرمایا ” یہ میرے بندے یونس کی آوازہے “۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس (علیہ السلام) جس کے پاک عمل قبول شدہ ہر روز تیری طرف چڑھتے تھے اور جن کی دعائیں تیرے پاس مقبول تھیں، اے اللہ جیسے وہ آرام کے وقت نیکیاں کرتا تھا تو اس مصیبت کے وقت اس پر رحم کر۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو بغیر کسی تکلیف کے کنارے پر اگل دے ۔ [الدر المنشور للسیوطی:599/4:ضعیف]
صفحہ نمبر5505
استغفار موجب نجات ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور غم سے نجات دے دی ان اندھیروں سے نکال دیا۔ اسی طرح ہم ایمان داروں کو نجات دیا کرتے ہیں، وہ مصیبتوں میں گھر کر ہمیں پکارتے ہیں اور ہم ان کی دستگیری فرما کرتمام مشکلیں آسان کر دیتے ہیں “۔ خصوصاً جو لوگ اس دعائے یونس ہی کو پڑھیں جسکی تاکید سید الانبیاء رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔
مسند احمد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں مسجد میں گیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وہاں تھے۔ میں نے سلام کیا آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے بغور دیکھا اور میرے سلام کا جواب نہ دیا میں نے امیر المؤمنین عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے آکر شکایت کی آپ رضی اللہ عنہ نے عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان سے کہا کہ ”آپ رضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان بھائی کے سلام کا جواب کیوں نہ دیا؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”نہ یہ آئے، نہ انہوں نے سلام کیا، نہ یہ کہ میں نے انہیں جواب نہ دیا ہو۔“ اس پر میں قسم کھائی تو، آپ رضی اللہ عنہ نے بھی میرے مقابلے میں قسم کھالی۔ پھر کچھ خیال کر کے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے توبہ استغفار کیا اور فرمایا ”ٹھیک ہے۔ آپ نکلے تھے لیکن میں اس وقت اپنے دل سے وہ بات کہہ رہا تھا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سے سنی تھی۔ واللہ مجھے جب وہ یاد آتی ہے میری آنکھوں پر ہی نہیں بلکہ میرے دل پر بھی پردہ پڑ جاتا ہے“ ۔
صفحہ نمبر5506
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں آپ رضی اللہ عنہ کو اس کی خبردیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اول دعا کا ذکر کیا ہی تھا جو ایک اعرابی آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی باتوں میں مشغول کرلیا۔ بہ وقت گزرتا گیا اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھے اور مکان کی طرف تشریف لے چلے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہولیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے قریب پہنچ گئے مجھے ڈر لگا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر نہ چلے جائیں اور میں رہ جاؤں تو میں نے زور زور سے پاؤں مارمار کر چلنا شروع کیا میری جوتیوں کی آہٹ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: کون ابواسحاق؟ میں نے کہا جی ہاں یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہاں وہ دعا ذوالنون علیہ السلام کی تھی جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی یعنی «لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» [21-الأنبياء:87] سنو جو بھی مسلمان جس کسی معاملے میں جب کبھی اپنے رب سے یہ دعا کرے اللہ تعالیٰ اسے ضرور قبول فرماتا ہے ۔
ابن ابی حاتم میں ہے جو بھی یونس علیہ السلام اس دعا کے ساتھ دعا کرے اس کی دعا ضرور قبول کی جائے گی ۔
ابوسعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اسی آیت میں اس کے بعد ہی فرمان ہے ہم اسی طرح مؤمنوں کو نجات دیتے ہیں۔“
ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کا وہ نام جس سے وہ پکارا جائے تو قبول فرمالے اور جو مانگا جائے وہ عطا فرمائے وہ یونس بن متع علیہ السلام کی دعا میں ہے ۔
صفحہ نمبر5507
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ یونس علیہ السلام کے لیے ہی خاص تھی یا تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے؟ فرمایا: ان کے لیے خاص اور تمام مسلمانوں کے لیے عام جو بھی یہ دعا کرے، کیا تو نے قرآن میں نہیں پڑھا کہ ” ہم نے اس کی دعا قبول فرمائی اسے غم سے چھڑایا اور اسی طرح ہم مومنوں کو چھڑاتے ہیں “۔ پس جو بھی اس دعا کو کرے اس سے اللہ کا قبولیت کا وعدہ ہو چکا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24779:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے کثیر بن سعید فرماتے ہیں ”میں نے امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ابوسعید! اللہ کا وہ اسم اعظم کہ جب اس کے ساتھ اس سے دعا کی جائے اللہ تعالیٰ قبول فرمالے اور جب اس کے ساتھ اس سے سوال کیا جائے تو وہ عطا فرمائے کیا ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ برادر زادے ”کیا تم نے قرآن کریم میں اللہ کا یہ فرمان نہیں پڑھا؟“ پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی دو آیتیں «وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ» تلاوت فرمائیں اور فرمایا ”بھتیجے یہی اللہ کا وہ اسم اعظم ہے کہ جب اس کے ساتھ دعا کی جائے وہ قبول فرماتا ہے اور جب اس کے ساتھ اس سے مانگا جائے وہ عطا فرماتا ہے۔“
صفحہ نمبر5508
یونس علیہ السلام اور ان کی امت ٭٭
یہ واقعہ یہاں بھی مذکور ہے اور سورۃ الصافات میں بھی ہے اور سورۃ نون میں بھی ہے۔ [37-الصافات:139-148] [68-القلم:48-50] یہ پیغمبر یونس بن متی علیہ السلام تھے۔ انہیں موصل کے علاقے کی بستی نینوا کی طرف نبی بنا کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ کی راہ کی دعوت دی لیکن قوم ایمان نہ لائی۔ آپ علیہ السلام وہاں سے ناراض ہو کرچل دئے اور ان لوگوں سے کہنے لگے کہ ”تین دن میں تم پر عذاب الٰہی آ جائے گا۔“ جب انہیں اس بات کی تحقیق ہوگئی اور انہوں نے جان لیا کہ انبیاء علیہم السلام جھوٹے نہیں ہوتے تو یہ سب کے سب چھوٹے بڑے مع اپنے جانوروں اور مویشوں کے جنگل میں نکل کھڑے ہوئے بچوں کو ماؤں سے جدا کردیا اور بلک بلک کر نہایت گریہ وزاری سے جناب باری تعالیٰ میں فریاد شروع کر دی۔
ادھر ان کی آہ وبکاء ادھر جانوروں کی بھیانک صدا غرض اللہ کی رحمت متوجہ ہوگئی عذاب اٹھا لیا گیا۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ» [10-یونس:98] یعنی ” عذابوں کی تحقیق کے بعد کے ایمان نے کسی کو نفع نہیں دیا سوائے قوم یونس کے کہ ان کے ایمان کی وجہ سے ہم نے ان پر سے عذاب ہٹالیے اور دنیا کی رسوائی سے انہیں بچا لیا اور موت تک کی مہلت دے دی “۔
صفحہ نمبر5501
حضرت یونس علیہ السلام یہاں سے چل کر ایک کشتی میں سوار ہوئے آگے جاکر طوفان کے آثار نمودار ہوئے۔ قریب تھا کہ کشتی ڈوب جائے مشورہ یہ ہوا کہ کسی آدمی کو دریا میں ڈال دینا چاہے کہ وزن کم ہو جائے۔ قرعہ یونس علیہ السلام کا نکلا لیکن کسی نے آپ علیہ السلام کو دریا میں ڈالنا پسند نہ کیا۔ دوبارہ قرعہ اندازی ہوئی آپ علیہ السلام ہی کا نام نکلا تیسری مرتبہ پھر قرعہ ڈالا اب کی مرتبہ بھی آپ علیہ السلام ہی کا نام نکلا۔
چنانچہ خود قرآن میں ہے آیت «فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ» [37-الصافات:141] اب کہ یونس علیہ السلام خود کھڑے ہو گئے کپڑے اتار کر دریا میں کود پڑے۔ بحر اخضر سے بحکم الٰہی ایک مچھلی پانی کاٹتی ہوئی آئی اور آپ علیہ السلام کو لقمہ کرگئی۔ لیکن بحکم اللہ نے آپ علیہ السلام کی ہڈی توڑی نہ جسم کو کچھ نقصان پہچایا۔
آپ علیہ السلام اس کے لیے غذا نہ تھے بلکہ اس کا پیٹ آپ علیہ السلام کے لیے قید خانہ تھا۔ اسی وجہ سے آپ علیہ السلام کی نسبت مچھلی کی طرف کی گئی عربی میں مچھلی کو نون کہتے ہیں۔ آپ علیہ السلام کا غضب وغصہ آپ کی قوم پر تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:511/18:]
خیال یہ تھا کہ اللہ آپ کو تنگ نہ پکڑے گا پس یہاں «نَقُدِرَ» کے یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، مجاہدرحمہ اللہ، ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ نے کئے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:514/18:] امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اس کی تائید آیت «وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّـهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللَّـهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا» [65-الطلاق:7] سے بھی ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر5502
حضرت عطیہ عوفی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ معنی کئے ہیں کہ ”ہم اس پر مقدر نہ کریں گے۔“ «قَدَرَ» اور «قَدَّرَ» دونوں لفظ ایک معنی میں بولے جاتے ہیں اس کی سند میں عربی کے شعر کے علاوہ آیت «فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلٰٓي اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ» [54-القمر:12] بھی پیش کی جا سکتی ہے۔
ان اندھیریوں میں پھنس کر اب یونس علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا۔ سمندر کے نیچے کا اندھیرا پھر مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا پھر رات کا اندھیرا یہ اندھیرے سب جمع تھے۔ [تفسیر قرطبی:333/11:]
آپ علیہ السلام نے سمندر کی تہہ کی کنکریوں کی تسبیح سنی اور خود بھی تسبیح کرنی شروع کی۔ آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں جا کر پہلے تو سمجھے کہ میں مرگیا پھر پیر کو ہلایا تو یقین ہوا کہ میں زندہ ہوں۔ وہیں سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے ”بارالٰہی میں نے تیرے لیے اس جگہ کو مسجد بنایا جسے اس سے پہلے کسی نے جائے سجود نہ بنایا ہوگا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:518/18:] حسن بصری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں ”چالیس دن آپ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔“
صفحہ نمبر5503
ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کے قید کا ارادہ کیا تو مچھلی کو حکم دیا کہ آپ علیہ السلام کو نگل لے لیکن اس طرح کے نہ ہڈی ٹوٹے نہ جسم پر خراش آئے۔ جب آپ علیہ السلام سمندر کی تہہ میں پہنچے تو وہاں تسبیح سن کر حیران رہ گئے وحی آئی کہ ” یہ سمندر کے جانوروں کی تسبیح ہے “۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے بھی اللہ کی تسبیح شروع کر دی اسے سن کر فرشتوں نے کہا بار الٰہا! یہ آواز تو بہت دور کی اور بہت کمزورہے کس کی ہے؟ ہم تو نہیں پہچان سکے۔ جواب ملا کہ ” یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے اس نے میری نافرمانی کی میں نے اسے مچھلی کے پیٹ کے قید خانے میں ڈال دیا ہے “۔ انہوں نے کہا پروردگار ان کے نیک اعمال تو دن رات کے ہر وقت چڑھتے ہی رہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی سفارش قبول فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو کنارے پر اگل دے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24778:ضعیف]
تفسیر ابن کثیر کے ایک نسخے میں یہ روایت بھی ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے تیئں یونس بن متع سے افضل کہے۔ اللہ کے اس بندے نے اندھیریوں میں اپنے رب کی تسبیح بیان کی ہے ۔ [ابن ابی شیبة:156/12] اوپر جو روایت گزری اس کی وہی ایک سند ہے۔
صفحہ نمبر5504
ابن ابی حاتم میں ہے حضور اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب یونس علیہ السلام نے یہ دعا کی تو یہ کلمات عرش کے اردگرد گھومنے لگے، فرشتے کہنے لگے بہت دور دراز کی یہ آواز ہے لیکن کان اس سے پہلے آشنا ضرور ہیں آواز بہت ضعیف ہے۔ جناب باری نے فرمایا کیا ” تم نے پہچانا نہیں؟ “ انہوں نے کہا نہیں۔ فرمایا ” یہ میرے بندے یونس کی آوازہے “۔ فرشتوں نے کہا وہی یونس (علیہ السلام) جس کے پاک عمل قبول شدہ ہر روز تیری طرف چڑھتے تھے اور جن کی دعائیں تیرے پاس مقبول تھیں، اے اللہ جیسے وہ آرام کے وقت نیکیاں کرتا تھا تو اس مصیبت کے وقت اس پر رحم کر۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو بغیر کسی تکلیف کے کنارے پر اگل دے ۔ [الدر المنشور للسیوطی:599/4:ضعیف]
صفحہ نمبر5505
استغفار موجب نجات ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور غم سے نجات دے دی ان اندھیروں سے نکال دیا۔ اسی طرح ہم ایمان داروں کو نجات دیا کرتے ہیں، وہ مصیبتوں میں گھر کر ہمیں پکارتے ہیں اور ہم ان کی دستگیری فرما کرتمام مشکلیں آسان کر دیتے ہیں “۔ خصوصاً جو لوگ اس دعائے یونس ہی کو پڑھیں جسکی تاکید سید الانبیاء رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔
مسند احمد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں مسجد میں گیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وہاں تھے۔ میں نے سلام کیا آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے بغور دیکھا اور میرے سلام کا جواب نہ دیا میں نے امیر المؤمنین عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے آکر شکایت کی آپ رضی اللہ عنہ نے عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان سے کہا کہ ”آپ رضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان بھائی کے سلام کا جواب کیوں نہ دیا؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”نہ یہ آئے، نہ انہوں نے سلام کیا، نہ یہ کہ میں نے انہیں جواب نہ دیا ہو۔“ اس پر میں قسم کھائی تو، آپ رضی اللہ عنہ نے بھی میرے مقابلے میں قسم کھالی۔ پھر کچھ خیال کر کے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے توبہ استغفار کیا اور فرمایا ”ٹھیک ہے۔ آپ نکلے تھے لیکن میں اس وقت اپنے دل سے وہ بات کہہ رہا تھا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سے سنی تھی۔ واللہ مجھے جب وہ یاد آتی ہے میری آنکھوں پر ہی نہیں بلکہ میرے دل پر بھی پردہ پڑ جاتا ہے“ ۔
صفحہ نمبر5506
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں آپ رضی اللہ عنہ کو اس کی خبردیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اول دعا کا ذکر کیا ہی تھا جو ایک اعرابی آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی باتوں میں مشغول کرلیا۔ بہ وقت گزرتا گیا اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھے اور مکان کی طرف تشریف لے چلے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہولیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے قریب پہنچ گئے مجھے ڈر لگا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر نہ چلے جائیں اور میں رہ جاؤں تو میں نے زور زور سے پاؤں مارمار کر چلنا شروع کیا میری جوتیوں کی آہٹ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: کون ابواسحاق؟ میں نے کہا جی ہاں یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہاں وہ دعا ذوالنون علیہ السلام کی تھی جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی یعنی «لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» [21-الأنبياء:87] سنو جو بھی مسلمان جس کسی معاملے میں جب کبھی اپنے رب سے یہ دعا کرے اللہ تعالیٰ اسے ضرور قبول فرماتا ہے ۔
ابن ابی حاتم میں ہے جو بھی یونس علیہ السلام اس دعا کے ساتھ دعا کرے اس کی دعا ضرور قبول کی جائے گی ۔
ابوسعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اسی آیت میں اس کے بعد ہی فرمان ہے ہم اسی طرح مؤمنوں کو نجات دیتے ہیں۔“
ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کا وہ نام جس سے وہ پکارا جائے تو قبول فرمالے اور جو مانگا جائے وہ عطا فرمائے وہ یونس بن متع علیہ السلام کی دعا میں ہے ۔
صفحہ نمبر5507
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ یونس علیہ السلام کے لیے ہی خاص تھی یا تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے؟ فرمایا: ان کے لیے خاص اور تمام مسلمانوں کے لیے عام جو بھی یہ دعا کرے، کیا تو نے قرآن میں نہیں پڑھا کہ ” ہم نے اس کی دعا قبول فرمائی اسے غم سے چھڑایا اور اسی طرح ہم مومنوں کو چھڑاتے ہیں “۔ پس جو بھی اس دعا کو کرے اس سے اللہ کا قبولیت کا وعدہ ہو چکا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24779:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے کثیر بن سعید فرماتے ہیں ”میں نے امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ابوسعید! اللہ کا وہ اسم اعظم کہ جب اس کے ساتھ اس سے دعا کی جائے اللہ تعالیٰ قبول فرمالے اور جب اس کے ساتھ اس سے سوال کیا جائے تو وہ عطا فرمائے کیا ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ برادر زادے ”کیا تم نے قرآن کریم میں اللہ کا یہ فرمان نہیں پڑھا؟“ پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی دو آیتیں «وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ» تلاوت فرمائیں اور فرمایا ”بھتیجے یہی اللہ کا وہ اسم اعظم ہے کہ جب اس کے ساتھ دعا کی جائے وہ قبول فرماتا ہے اور جب اس کے ساتھ اس سے مانگا جائے وہ عطا فرماتا ہے۔“
صفحہ نمبر5508
دعا اور بڑھاپے میں اولاد ٭٭
اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ ” انہوں نے دعا کی کہ مجھے اولاد ہو جو میرے بعد نبی بنے “۔ سورۃ مریم میں اور سورۃ آل عمران میں یہ واقعہ تفصیل سے ہے۔ آپ علیہ السلام نے یہ دعا چھپا کر کی تھی، ”مجھے تنہا نہ چھوڑ“ یعنی بے اولاد۔
دعا کے بعد اللہ تعالیٰ کی ثناء کی جیسے کہ اس دعا کے لائق تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ اور آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کو جنہیں بڑھاپے تک کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اولاد کے قابل بنا دیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں ان کی طول زبانیں بند کردی۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کے اخلاق کی کمی پوری کردی۔ لیکن الفاظ قرآن کے قریب پہلا معنی ہی ہے۔ یہ سب بزرگ نیکیوں کی طرف اللہ کی فرمانبرداری کی طرف بھاگ دوڑ کرنے والے تھے۔ اور لالچ اور ڈر سے اللہ سے دعائیں کرنے والے تھے اور سچے مومن رب کی باتیں ماننے والے اللہ کا خوف رکھنے والے تواضع انکساری اور عاجزی کرنے والے اللہ کے سامنے اپنی فروتنی ظاہر کرنے والے تھے۔ مروی ہے کہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی اور اس کی پوری ثناء و صفت بیان کرتے رہنے کی اور لالچ اور خوف سے دعائیں مانگنے کی اور دعاؤں میں خشوع وخضوع کرنے کی وصیت کرتا ہوں دیکھو اللہ عزوجل نے زکریا علیہ السلام کے گھرانے کی یہی فضیلت بیان فرمائی ہے“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
صفحہ نمبر5510
دعا اور بڑھاپے میں اولاد ٭٭
اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ ” انہوں نے دعا کی کہ مجھے اولاد ہو جو میرے بعد نبی بنے “۔ سورۃ مریم میں اور سورۃ آل عمران میں یہ واقعہ تفصیل سے ہے۔ آپ علیہ السلام نے یہ دعا چھپا کر کی تھی، ”مجھے تنہا نہ چھوڑ“ یعنی بے اولاد۔
دعا کے بعد اللہ تعالیٰ کی ثناء کی جیسے کہ اس دعا کے لائق تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ اور آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کو جنہیں بڑھاپے تک کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اولاد کے قابل بنا دیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں ان کی طول زبانیں بند کردی۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کے اخلاق کی کمی پوری کردی۔ لیکن الفاظ قرآن کے قریب پہلا معنی ہی ہے۔ یہ سب بزرگ نیکیوں کی طرف اللہ کی فرمانبرداری کی طرف بھاگ دوڑ کرنے والے تھے۔ اور لالچ اور ڈر سے اللہ سے دعائیں کرنے والے تھے اور سچے مومن رب کی باتیں ماننے والے اللہ کا خوف رکھنے والے تواضع انکساری اور عاجزی کرنے والے اللہ کے سامنے اپنی فروتنی ظاہر کرنے والے تھے۔ مروی ہے کہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی اور اس کی پوری ثناء و صفت بیان کرتے رہنے کی اور لالچ اور خوف سے دعائیں مانگنے کی اور دعاؤں میں خشوع وخضوع کرنے کی وصیت کرتا ہوں دیکھو اللہ عزوجل نے زکریا علیہ السلام کے گھرانے کی یہی فضیلت بیان فرمائی ہے“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
صفحہ نمبر5510