Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Anbiyaa
Tafsir Ibn Kathir · The Prophets · 112 ayat · ayat 91–112 · Quran text →
بلا شوہر اولاد ٭٭
حضرت مریم اور عیسیٰ علیہم السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے۔ قرآن میں کریم میں عموماً زکریا علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام کے قصے کے ساتھ ہی ان کا قصہ بیان ہوتا رہا ہے۔ اس لیے کہ ان لوگوں میں پورا رابط ہے۔ زکریا علیہ السلام پورے بڑھاپے کے عالم میں آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ جوانی سے گزری ہوئی اور پوری عمر کی بے اولاد ان کے ہاں اولاد عطا فرمائی۔ اس قدرت کو دکھا کر پھر محض عورت بغیر شوہر کے اولاد کا عطا فرمانا یہ اور قدرت کا کمال ظاہر کرتا ہے۔
سورۃ آل عمران اور سورۃ مریم میں بھی یہی ترتیب ہے۔ مراد عصمت والی عورت سے مریم ہیں جیسے فرمان ہے، آیت «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ وَكَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِيْنَ» [66-التحريم:12] یعنی ” عمران کی لڑکی مریم جو پاک دامن تھیں انہیں اور ان کے لڑکے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی بے نظیر قدرت کانشان بنایا کہ مخلوق کو اللہ کی ہر طرح کی قدرت اور اس کے پیدائش وسیع اختیارات اور صرف اپنا ارادے سے چیزوں کا بنانا معلوم ہو جائے “۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کی قدرت کی ایک علامت تھے جنات کے لیے بھی اور انسانوں کے لیے بھی۔
صفحہ نمبر5512
تمام شریعتوں کی روح توحید ٭٭
فرمان ہے کہ ” تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں “۔
«ھٰذِہٖ» اسم ہے «اِنَّ» کا اور «اُمَّتُکُمۡ» خبر ہے اور «اُمَّةً وَّاحِدَةً» حال ہے۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت «يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ وَإِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ» [23-المؤمنون:52-51]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور انبیاء علیہم السلام علاتی بھائیوں (کی طرح) ہیں۔ ان کے مسائل میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہی ہے ۔ [صحیح بخاری:3443]
جیسے فرمان قرآن ہے آیت «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا» [5-المائدة:48] ” ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے “۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا بعض اپنوں نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا نیکوں کو نیک بدلہ اور بروں کو بری سزا۔ جس کے دل میں ایمان ہو اور جس کے اعمال نیک ہوں اس کے اعمال اکارت نہ ہوں گے۔
جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا» [18-الكهف:30] ” نیک کام کرنے والوں کا اجر ہم ضائع نہیں کرتے۔ ایسے اعمال کی قدردانی کرتے ہیں ایک ذرے کے برابر ہم ظلم روا نہیں رکھتے تمام اعمال لکھ لیتے ہیں کوئی چیز چھوڑتے نہیں “۔
صفحہ نمبر5513
تمام شریعتوں کی روح توحید ٭٭
فرمان ہے کہ ” تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں “۔
«ھٰذِہٖ» اسم ہے «اِنَّ» کا اور «اُمَّتُکُمۡ» خبر ہے اور «اُمَّةً وَّاحِدَةً» حال ہے۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت «يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ وَإِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ» [23-المؤمنون:52-51]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور انبیاء علیہم السلام علاتی بھائیوں (کی طرح) ہیں۔ ان کے مسائل میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہی ہے ۔ [صحیح بخاری:3443]
جیسے فرمان قرآن ہے آیت «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا» [5-المائدة:48] ” ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے “۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا بعض اپنوں نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا نیکوں کو نیک بدلہ اور بروں کو بری سزا۔ جس کے دل میں ایمان ہو اور جس کے اعمال نیک ہوں اس کے اعمال اکارت نہ ہوں گے۔
جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا» [18-الكهف:30] ” نیک کام کرنے والوں کا اجر ہم ضائع نہیں کرتے۔ ایسے اعمال کی قدردانی کرتے ہیں ایک ذرے کے برابر ہم ظلم روا نہیں رکھتے تمام اعمال لکھ لیتے ہیں کوئی چیز چھوڑتے نہیں “۔
صفحہ نمبر5513
تمام شریعتوں کی روح توحید ٭٭
فرمان ہے کہ ” تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں “۔
«ھٰذِہٖ» اسم ہے «اِنَّ» کا اور «اُمَّتُکُمۡ» خبر ہے اور «اُمَّةً وَّاحِدَةً» حال ہے۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت «يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ وَإِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ» [23-المؤمنون:52-51]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور انبیاء علیہم السلام علاتی بھائیوں (کی طرح) ہیں۔ ان کے مسائل میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہی ہے ۔ [صحیح بخاری:3443]
جیسے فرمان قرآن ہے آیت «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا» [5-المائدة:48] ” ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے “۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا بعض اپنوں نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا نیکوں کو نیک بدلہ اور بروں کو بری سزا۔ جس کے دل میں ایمان ہو اور جس کے اعمال نیک ہوں اس کے اعمال اکارت نہ ہوں گے۔
جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا» [18-الكهف:30] ” نیک کام کرنے والوں کا اجر ہم ضائع نہیں کرتے۔ ایسے اعمال کی قدردانی کرتے ہیں ایک ذرے کے برابر ہم ظلم روا نہیں رکھتے تمام اعمال لکھ لیتے ہیں کوئی چیز چھوڑتے نہیں “۔
صفحہ نمبر5513
یافت کی اولاد ٭٭
” ہلاک شدہ لوگوں کا دنیا کی طرف پھر پلٹنا محال ہے “۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ” ان کی توبہ مقبول نہیں “۔ لیکن پہلا قول اولیٰ ہے۔ یاجوج ماجوج نسل آدم سے ہیں۔ بلکہ وہ نوح علیہ السلام کے لڑکے یافت کی اولاد میں سے ہیں جن کی نسل ترک ہیں یہ بھی انہی کا ایک گروہ ہے یہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی دیوار سے باہر ہی چھوڑ دیے گئے تھے۔ آپ نے دیوار بنا کر فرمایا تھا کہ یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ اللہ کے وعدے کے وقت اس کا چورا چورا ہو جائے گا میرے رب کا وعدہ حق ہے الخ۔ یاجوج ماجوج قرب قیامت کے وقت وہاں سے نکل آئیں گے اور زمین میں فساد مچا دیں گے۔
ہر اونچی جگہ کو عربی میں «حدب» کہتے ہیں۔ ان کے نکلنے کے وقت ان کی یہی حالت ہوگی تو اس خبر کو اس طرح بیان کیا جیسے سننے والا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور واقع میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچی خبر کس کی ہوگی؟ جو غیب اور حاضر کا جاننے والا ہے۔ ہوچکی ہوئی اور ہونے والی باتوں سے آگاہ ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لڑکوں کو اچھلتے کودتے کھیلتے دوڑتے ایک دوسروں کی چٹکیاں بھرتے ہوئے دیکھ کر فرمایا ”اسی طرح یاجوج ماجوج آئیں گے۔“ بہت سی احادیث میں ان کے نکلنے کا ذکر ہے۔
صفحہ نمبر5516
(١) مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یاجوج ماجوج کھولے جائیں گے اور وہ لوگوں کے پاس پہنچیں گے جیسے اللہ عزوجل کا فرمان ہے آیت «وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ» [21-الأنبياء:96] وہ چھاجائیں گے اور مسلمان اپنے شہروں اور قلعوں میں سمٹ آئیں گے اپنے جانورں کو بھی وہی لے لیں گے اور اپنا پانی انہیں پلاتے رہیں گے۔ یاجوج ماجوج جس نہر سے گزریں گے اس کا پانی صفا چٹ کر جائیں گے یہاں تک کہ اس میں خاک اڑنے لگے گی ان کی دوسری جماعت جب وہاں پہنچے گی تو وہ کہے گی شاید اس میں کسی زمانے میں پانی ہوگا۔ جب یہ دیکھیں گے کہ اب زمین پر کوئی نہ رہا اور واقع میں سوائے ان مسلمانوں کے جو اپنے شہروں اور قلعوں میں پناہ گزیں ہوں گے کوئی اور وہاں ہوگا بھی نہیں تو یہ کہیں گے کہ اب زمین والوں سے تم ہم فارغ ہو گئے آؤ آسمان والوں کی خبرلیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک شریر اپنا نیزہ گھما کر آسمان کی طرف پھینکے گا قدرت الٰہی سے وہ خون آلود ہو کر ان کے پاس گرے گا یہ بھی ایک قدرتی آزمائش ہو گی اب ان کی گردنوں میں گٹھلی ہو جائے گی اور اسی وبا میں یہ سارے کے سارے ایک ساتھ ایک دم مرجائیں گے ایک بھی باقی نہ رہے گا سارا شور و غل ختم ہو جائے گا مسلمان کہیں گے کوئی ہے جو اپنی جان ہم مسلمانوں کے لیے ہتھیلی پر رکھ کر شہرکے باہر جائے اور ان دشمنوں کو دیکھے کہ کس حال میں ہیں؟ چنانچہ ایک صاحب اس کے لیے تیار ہو جائیں گے اور اپنے آپ کو قتل شدہ سمجھ کر اللہ کی راہ میں مسلمانوں کی خدمت کے لیے نکل کھڑے ہوں گے دیکھیں گے کہ سب کا ڈھیرلگ رہا ہے سارے ہلاک شدہ پڑے ہوئے ہیں یہ اسی وقت ندا کرے گا کہ مسلمانو! خوش ہو جاؤ اللہ نے خود تمہارے دشمنوں کو غارت کر دیا یہ ڈھیر پڑا ہوا ہے اب مسلمان باہر آئیں گے اور اپنے مویشیوں کو بھی لائیں گے ان کے لیے چارہ بجز ان کے گوشت کے اور کچھ نہ ہو گا یہ ان کا گوشت کھا کھا کر خوب موٹے تازے ہو جائیں گے ۔ [سنن ابن ماجه:4079،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
صفحہ نمبر5517
(٢) مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صبح ہی صبح دجال کا ذکر کیا اس طرح کہ ہم سمجھے شاید وہ ان درختوں کی آڑ میں ہے اور اب نکلا ہی چاہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے مجھے دجال سے زیادہ خوف تم پر اور چیز کا ہے۔ اگر دجال میری موجودگی میں نکلا تو میں خود نمٹ لونگا تم میں سے ہر شخص اس سے بچے۔ میں تمہیں اللہ کی امان میں دے رہا ہوں۔ وہ جواں عمر الجھے ہوئے بالوں والا کانا اور ابھری ہوئی آنکھ والا ہے۔ وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں گھومے گا۔ ایک بندگاں الٰہی تم ثابت قدم رہنا ۔ ہم نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کتنا ٹھہرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس دن۔ ایک دن مثل ایک برس کے ایک دن مثل ایک مہینہ کے ایک دن مثل ایک جمعہ کے اور باقی دن معمولی دنوں جیسے ۔ ہم نے پوچھا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو دن سال بھر کے برابر ہو گا اس میں ہمیں یہی پانچ نمازیں کافی ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! تم اپنے اندازے سے وقت پر نماز پڑھتے رہا کرنا ۔ ہم نے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی رفتار کیسی ہوگی؟ فرمایا: جیسے بادل کہ ہوا انہیں ادھر سے ادھر بھگائے لیے جاتی ہو۔ ایک قبیلے کے پاس جائے گا انہیں اپنی طرف بلائے گا وہ اس کی مان لیں گے۔ آسمان کو حکم دے گا کہ ان پر بارش برسائے زمین سے کہے گا کہ ان کے لیے پیداوار اگائے ان کے جانور ان کے پاس موٹے تازے بھرے پیٹ لوٹیں گے۔ ایک قبیلے کے پاس اپنے تئیں منوانا چاہے گا وہ انکار کر دیں گے یہ وہاں سے نکلے گا تو ان کے تمام مال اس کے پیچھے لگ جائیں گے وہ بالکل خالی ہاتھ رہ جائیں گے وہ غیر آباد جنگلوں میں جائے گا اور زمین سے کہے گا اپنے خزانے اگل دے وہ اگل دے گی اور سارے خزانے اس کے پیچھے ایسے چلیں گے جیسے شہد کی مکھیاں اپنے سردار کے پیچھے۔ یہ بھی دکھائے گا کہ ایک شخص کو تلوار سے ٹھیک دو ٹکرے کرا دے گا اور ادھرادھر دور دراز پھنکوا دے گا پھر اس کا نام لے کر آواز دے گا تو وہ زندہ چلتا پھرتا اس کے پاس آ جائے گا ۔
صفحہ نمبر5518
یہ اسی حال میں ہوگا جو اللہ عزوجل مسیح ابن مریم علیہ السلام کو اتارے گا۔ آپ علیہ السلام دمشق کی مشرقی طرف سفید منارے کے پاس اتریں گے اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے ہوں گے۔ آپ علیہ السلام اس کا پیچھا کریں گے اور مشرقی باب کے لد کے پاس اسے پا کر قتل کر دیں گے۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی طرف اللہ کی وحی آئے گی میں اپنے ایسے بندوں کو بھیجتا ہوں جن سے لڑنے کی تم میں تاب وطاقت نہیں میرے بندوں کو طور کی طرف سمیٹ لے جا۔ پھر جناب باری یاجوج ماجوج کو بھیجے گا جیسے فرمایا آیت «وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ» ان سے تنگ آکر عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھی جناب باری میں دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر گٹھلی کی بیماری بھیجے گا جو ان کی گردن میں نکلے گی سارے کے سارے اوپر تلے ایک ساتھ ہی مرجائیں گے۔ تب عیسیٰ علیہ السلام مع مؤمنوں کے آئیں گے، دیکھیں گے کہ تمام زمین ان کی لاشوں سے پٹی پڑی ہے اور ان کی بدبوسے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔ آپ علیہ السلام پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند بھیجے گا جو انہیں اللہ جانے کہاں پھینک آئیں گے؟ کعب رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہی «مہیل» میں یعنی سورج کے طلوع ہونے کی جگہ میں انہیں پھینک آئیں گے۔ پھر چالیس دن تک تمام زمین میں مسلسل بارش برسے گی، زمین دھل دھلا کر ہتھیلی کی طرح صاف ہو جائے گی پھر بحکم الٰہی اپنی برکتیں اگادے گی۔ اس دن ایک جماعت کی جماعت ایک انار سے سیر ہو جائے گی اور اس کے چھلکے تلے سایہ حاصل کرلے گی ایک اونٹنی کا دودھ لوگوں کی ایک جماعت کو اور ایک گائے کا دودھ ایک قبیلے کو اور ایک بکری کا دودھ ایک گھرانے کو کافی ہو گا۔ پھر ایک پاکیزہ ہوا چلے گی جو مسلمانوں کی بغلوں تلے سے نکل جائے گی اور ان کی روح قبض ہو جائے گی پھر روئے زمین پر بدترین شریر لوگ باقی رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح کودتے ہوں گے انہی پر قیامت قائم ہوگی ۔ [صحیح مسلم:2937] امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر5519
(٣) مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بچھو نے کاٹ کھایا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی پر پٹی باندھے ہوئے خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: تم کہتے ہو اب دشمن نہیں ہیں لیکن تم تو دشمنوں سے جہاد کرتے ہی رہو گے یہاں تک کہ یاجوج ماجوج آئیں وہ چوڑے چہرے والے چھوٹی آنکھوں والے ان کے چہرے تہہ بہ تہہ ڈھالوں جیسے ہوں گے ۔ [مسند احمد:271/5:ضعیف]
صفحہ نمبر5520
(٤) یہ روایت سورۃ الٱعراف کی تفسیر کے آخر میں بیان کر دی گی ہے۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ معراج والی رات میں ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے روز قیامت کا مذکراہ شروع ہوا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس کے علم سے انکار کر دیا۔ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام نے بھی ہاں عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ”اس کے واقع ہونے کے وقت تو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا ہاں مجھ سے میرے اللہ نے یہ تو فرمایا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے۔ اس کے ساتھ دو ٹہنیاں ہوں گی۔ وہ مجھے دیکھتے ہی سیسے کی طرح پگلنے لگے گا یہاں تک کہ اللہ اسے ہلاک کر دے جب کہ وہ مجھے دیکھے یہاں تک کہ پتھر اور درخت بھی پکار اٹھیں گے کہ ”اے مسلم! یہ ہے میرے سایہ تلے کافر، آ اور اسے قتل کر۔“ پس اللہ انہیں ہلاک کرے گا اور لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کی طرف لوٹ جائیں گے۔ اس وقت یاجوج ماجوج نکلیں گے جو ہر اونچائی سے پھدکتے آئیں گے جو پائیں گے تباہ کر دیں گے پانی جتنا پائیں گے پی جائیں گے لوگ پھر تنگ آ کر اپنوں وطنوں میں محصور ہو کر بیٹھ جائیں گے شکایت کریں گے تو میں پھر اللہ سے دعا کرونگا اللہ انہیں غارت کر دے ساری زمین پر ان کی بدبو پھیل جائے گی پھر بارش برسے گی اور پانی کا بہاؤ ان کے سڑے ہوئے جسموں کو گھسیٹ کر دریا برد کر دے گا۔ میرے رب نے مجھ سے فرما دیا ہے کہ ” جب یہ سب کچھ ظہور میں آ جائے گا پھر تو قیامت کا ہونا ایسا ہی ہے جیسے پورے دنوں میں حمل والی عورت کا وضع ہونا “ کہ گھر والوں کو فکر ہوتی ہے کہ صبح بچہ ہوا یا شام ہوا دن کو ہوا یا رات کو ہوا۔“ [سنن ابن ماجه:4081،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5521
اس کی تصدیق کلام اللہ شریف کی آیت میں موجود ہے اس بارے میں حدیثیں بکثرت ہیں اور آثار سلف بھی بہت ہیں۔
کعب رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”یاجوج ماجوج کے نکلنے کے وقت وہ دیوار کو کھودیں گے یہاں تک کہ ان کی کدالوں کی آواز پاس والے بھی سنیں گے رات ہو جائے گی ان میں سے ایک کہے گا کہ اب صبح آتے ہی اسے توڑ ڈالیں گے اور نکل کھڑے ہوں گے صبح یہ آئیں گے توجیسی کل تھی ویسی ہی آج بھی پائیں گے الغرض یونہی ہوتا رہے گا یہاں تک کہ ان کا نکالنا جب منظور ہو گا تو ایک شخص کی زبان سے نکلے گا کہ ہم کل ان شاءاللہ ایسے توڑ دیں گے اب جو آئیں گے تو جیسی چھوڑ گئے تھے ویسی ہی پائیں گے تو کھود کر توڑیں گے اور باہر نکل آئیں گے ان کا پہلا گروہ بحیرہ کے پاس سے نکلے گا سارا پانی پی جائے گا دوسرا آئے گا کیچڑ بھی چاٹ جائے گا تیسرا آئے گا تو کہے گا شاید یہاں کبھی پانی ہوگا؟
لوگ ان سے بھاگ بھاگ کر ادھر ادھر چھپ جائیں گے جب انہیں کوئی بھی نظر نہ پڑے گا تو یہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے وہاں سے وہ خون آلود واپس آئیں گے تو یہ فخر کریں گے کہ ہم زمین والوں پر اور آسمان والوں پر غالب آ گئے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ان کے لیے بدعا کریں گے کہ اللہ ہم میں ان کے مقابلے کی طاقت نہیں اور زمین پر ہمارا چلنا پھرنا بھی ضروری ہے تو ہمیں جس طریقے سے چاہے ان سے نجات دے تو اللہ ان کو طاعون میں مبتلا کرے گا گلٹیاں نکل آئیں گی اور سارے کہ سارے مرجائیں گے۔ پھر ایک قسم کے پرند آئیں گے جو اپنی چونچ میں انہیں لے کر سمندر میں پھینک آئیں گے پھر اللہ تعالیٰ نہر حیات جاری کر دے گا جو زمین کو دھوکر پاک صاف کر دے گی اور زمین اپنی برکتیں نکال دے گی ایک انار ایک گھرانے کو کافی ہو گا اچانک ایک شخص آئے گا اور ندا کرے گا کہ ذوالسویقتین نکل آیا ہے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سات آٹھ سولشکریوں کا طلایہ بھیجیں گے یہ ابھی راستے میں ہی ہوں گے کہ یمنی پاک ہوا نہایت لطافت سے چلے گی جو تمام مؤمنوں کی روح قبض کر جائے گی پھر تو روئے زمین پر ردی کھدی لوگ رہ جائے گے جو چوپایوں جیسے ہوں گے ان پر قیامت قائم ہوگی۔ اس وقت قیامت اس قدر قریب ہو گی جیسے پوری دنوں کی گھوڑی جو جننے کے قریب ہو اور گھوڑی والا اس کے آس پاس گھوم رہا ہو کہ کب بچہ ہو۔“
کعب رحمتہ اللہ یہ بیان فرما کر فرمانے لگے ”اب جو شخص میرے اس قول اور اس علم کے بعد بھی کچھ کہے اس نے تکلف کیا۔“ کعب رحمتہ اللہ کا یہ واقعہ بیان کرنا بہترین واقعہ ہے کیونکہ اس کی شہادت صحیح حدیث میں بھی پائی جاتی ہے۔ احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس زمانے میں بیت اللہ شریف کا حج بھی کریں گے۔
چنانچہ مسند امام احمد میں یہ حدیث مرفوعاً مروی ہے کہ آپ علیہ السلام یاجوج ماجوج کے خروج کے بعد یقیناً بیت اللہ کا حج کریں گے ۔ یہ حدیث بخاری میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1513]
جب یہ ہولناکیاں، جب یہ زلزلے، جب یہ بلائیں اور آفات آ جائیں گی تو اس وقت قیامت بالکل قریب آ جائے گی اسے دیکھ کر کافر کہنے لگیں گے یہ نہایت سخت دن ہے ان کی آنکھیں پھٹ جائیں گی اور کہنے لگیں گے ہائے ہم تو غفلت میں ہی رہے۔ ہائے ہم نے اپنا آپ بگاڑا۔ گناہوں کا اقرار اور اس پر شرمسار ہوں گا لیکن اب بے سود ہے۔
صفحہ نمبر5522
یافت کی اولاد ٭٭
” ہلاک شدہ لوگوں کا دنیا کی طرف پھر پلٹنا محال ہے “۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ” ان کی توبہ مقبول نہیں “۔ لیکن پہلا قول اولیٰ ہے۔ یاجوج ماجوج نسل آدم سے ہیں۔ بلکہ وہ نوح علیہ السلام کے لڑکے یافت کی اولاد میں سے ہیں جن کی نسل ترک ہیں یہ بھی انہی کا ایک گروہ ہے یہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی دیوار سے باہر ہی چھوڑ دیے گئے تھے۔ آپ نے دیوار بنا کر فرمایا تھا کہ یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ اللہ کے وعدے کے وقت اس کا چورا چورا ہو جائے گا میرے رب کا وعدہ حق ہے الخ۔ یاجوج ماجوج قرب قیامت کے وقت وہاں سے نکل آئیں گے اور زمین میں فساد مچا دیں گے۔
ہر اونچی جگہ کو عربی میں «حدب» کہتے ہیں۔ ان کے نکلنے کے وقت ان کی یہی حالت ہوگی تو اس خبر کو اس طرح بیان کیا جیسے سننے والا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور واقع میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچی خبر کس کی ہوگی؟ جو غیب اور حاضر کا جاننے والا ہے۔ ہوچکی ہوئی اور ہونے والی باتوں سے آگاہ ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لڑکوں کو اچھلتے کودتے کھیلتے دوڑتے ایک دوسروں کی چٹکیاں بھرتے ہوئے دیکھ کر فرمایا ”اسی طرح یاجوج ماجوج آئیں گے۔“ بہت سی احادیث میں ان کے نکلنے کا ذکر ہے۔
صفحہ نمبر5516
(١) مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یاجوج ماجوج کھولے جائیں گے اور وہ لوگوں کے پاس پہنچیں گے جیسے اللہ عزوجل کا فرمان ہے آیت «وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ» [21-الأنبياء:96] وہ چھاجائیں گے اور مسلمان اپنے شہروں اور قلعوں میں سمٹ آئیں گے اپنے جانورں کو بھی وہی لے لیں گے اور اپنا پانی انہیں پلاتے رہیں گے۔ یاجوج ماجوج جس نہر سے گزریں گے اس کا پانی صفا چٹ کر جائیں گے یہاں تک کہ اس میں خاک اڑنے لگے گی ان کی دوسری جماعت جب وہاں پہنچے گی تو وہ کہے گی شاید اس میں کسی زمانے میں پانی ہوگا۔ جب یہ دیکھیں گے کہ اب زمین پر کوئی نہ رہا اور واقع میں سوائے ان مسلمانوں کے جو اپنے شہروں اور قلعوں میں پناہ گزیں ہوں گے کوئی اور وہاں ہوگا بھی نہیں تو یہ کہیں گے کہ اب زمین والوں سے تم ہم فارغ ہو گئے آؤ آسمان والوں کی خبرلیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک شریر اپنا نیزہ گھما کر آسمان کی طرف پھینکے گا قدرت الٰہی سے وہ خون آلود ہو کر ان کے پاس گرے گا یہ بھی ایک قدرتی آزمائش ہو گی اب ان کی گردنوں میں گٹھلی ہو جائے گی اور اسی وبا میں یہ سارے کے سارے ایک ساتھ ایک دم مرجائیں گے ایک بھی باقی نہ رہے گا سارا شور و غل ختم ہو جائے گا مسلمان کہیں گے کوئی ہے جو اپنی جان ہم مسلمانوں کے لیے ہتھیلی پر رکھ کر شہرکے باہر جائے اور ان دشمنوں کو دیکھے کہ کس حال میں ہیں؟ چنانچہ ایک صاحب اس کے لیے تیار ہو جائیں گے اور اپنے آپ کو قتل شدہ سمجھ کر اللہ کی راہ میں مسلمانوں کی خدمت کے لیے نکل کھڑے ہوں گے دیکھیں گے کہ سب کا ڈھیرلگ رہا ہے سارے ہلاک شدہ پڑے ہوئے ہیں یہ اسی وقت ندا کرے گا کہ مسلمانو! خوش ہو جاؤ اللہ نے خود تمہارے دشمنوں کو غارت کر دیا یہ ڈھیر پڑا ہوا ہے اب مسلمان باہر آئیں گے اور اپنے مویشیوں کو بھی لائیں گے ان کے لیے چارہ بجز ان کے گوشت کے اور کچھ نہ ہو گا یہ ان کا گوشت کھا کھا کر خوب موٹے تازے ہو جائیں گے ۔ [سنن ابن ماجه:4079،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
صفحہ نمبر5517
(٢) مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صبح ہی صبح دجال کا ذکر کیا اس طرح کہ ہم سمجھے شاید وہ ان درختوں کی آڑ میں ہے اور اب نکلا ہی چاہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے مجھے دجال سے زیادہ خوف تم پر اور چیز کا ہے۔ اگر دجال میری موجودگی میں نکلا تو میں خود نمٹ لونگا تم میں سے ہر شخص اس سے بچے۔ میں تمہیں اللہ کی امان میں دے رہا ہوں۔ وہ جواں عمر الجھے ہوئے بالوں والا کانا اور ابھری ہوئی آنکھ والا ہے۔ وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں گھومے گا۔ ایک بندگاں الٰہی تم ثابت قدم رہنا ۔ ہم نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کتنا ٹھہرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس دن۔ ایک دن مثل ایک برس کے ایک دن مثل ایک مہینہ کے ایک دن مثل ایک جمعہ کے اور باقی دن معمولی دنوں جیسے ۔ ہم نے پوچھا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو دن سال بھر کے برابر ہو گا اس میں ہمیں یہی پانچ نمازیں کافی ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! تم اپنے اندازے سے وقت پر نماز پڑھتے رہا کرنا ۔ ہم نے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی رفتار کیسی ہوگی؟ فرمایا: جیسے بادل کہ ہوا انہیں ادھر سے ادھر بھگائے لیے جاتی ہو۔ ایک قبیلے کے پاس جائے گا انہیں اپنی طرف بلائے گا وہ اس کی مان لیں گے۔ آسمان کو حکم دے گا کہ ان پر بارش برسائے زمین سے کہے گا کہ ان کے لیے پیداوار اگائے ان کے جانور ان کے پاس موٹے تازے بھرے پیٹ لوٹیں گے۔ ایک قبیلے کے پاس اپنے تئیں منوانا چاہے گا وہ انکار کر دیں گے یہ وہاں سے نکلے گا تو ان کے تمام مال اس کے پیچھے لگ جائیں گے وہ بالکل خالی ہاتھ رہ جائیں گے وہ غیر آباد جنگلوں میں جائے گا اور زمین سے کہے گا اپنے خزانے اگل دے وہ اگل دے گی اور سارے خزانے اس کے پیچھے ایسے چلیں گے جیسے شہد کی مکھیاں اپنے سردار کے پیچھے۔ یہ بھی دکھائے گا کہ ایک شخص کو تلوار سے ٹھیک دو ٹکرے کرا دے گا اور ادھرادھر دور دراز پھنکوا دے گا پھر اس کا نام لے کر آواز دے گا تو وہ زندہ چلتا پھرتا اس کے پاس آ جائے گا ۔
صفحہ نمبر5518
یہ اسی حال میں ہوگا جو اللہ عزوجل مسیح ابن مریم علیہ السلام کو اتارے گا۔ آپ علیہ السلام دمشق کی مشرقی طرف سفید منارے کے پاس اتریں گے اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے ہوں گے۔ آپ علیہ السلام اس کا پیچھا کریں گے اور مشرقی باب کے لد کے پاس اسے پا کر قتل کر دیں گے۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی طرف اللہ کی وحی آئے گی میں اپنے ایسے بندوں کو بھیجتا ہوں جن سے لڑنے کی تم میں تاب وطاقت نہیں میرے بندوں کو طور کی طرف سمیٹ لے جا۔ پھر جناب باری یاجوج ماجوج کو بھیجے گا جیسے فرمایا آیت «وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ» ان سے تنگ آکر عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھی جناب باری میں دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر گٹھلی کی بیماری بھیجے گا جو ان کی گردن میں نکلے گی سارے کے سارے اوپر تلے ایک ساتھ ہی مرجائیں گے۔ تب عیسیٰ علیہ السلام مع مؤمنوں کے آئیں گے، دیکھیں گے کہ تمام زمین ان کی لاشوں سے پٹی پڑی ہے اور ان کی بدبوسے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔ آپ علیہ السلام پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند بھیجے گا جو انہیں اللہ جانے کہاں پھینک آئیں گے؟ کعب رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہی «مہیل» میں یعنی سورج کے طلوع ہونے کی جگہ میں انہیں پھینک آئیں گے۔ پھر چالیس دن تک تمام زمین میں مسلسل بارش برسے گی، زمین دھل دھلا کر ہتھیلی کی طرح صاف ہو جائے گی پھر بحکم الٰہی اپنی برکتیں اگادے گی۔ اس دن ایک جماعت کی جماعت ایک انار سے سیر ہو جائے گی اور اس کے چھلکے تلے سایہ حاصل کرلے گی ایک اونٹنی کا دودھ لوگوں کی ایک جماعت کو اور ایک گائے کا دودھ ایک قبیلے کو اور ایک بکری کا دودھ ایک گھرانے کو کافی ہو گا۔ پھر ایک پاکیزہ ہوا چلے گی جو مسلمانوں کی بغلوں تلے سے نکل جائے گی اور ان کی روح قبض ہو جائے گی پھر روئے زمین پر بدترین شریر لوگ باقی رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح کودتے ہوں گے انہی پر قیامت قائم ہوگی ۔ [صحیح مسلم:2937] امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر5519
(٣) مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بچھو نے کاٹ کھایا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی پر پٹی باندھے ہوئے خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: تم کہتے ہو اب دشمن نہیں ہیں لیکن تم تو دشمنوں سے جہاد کرتے ہی رہو گے یہاں تک کہ یاجوج ماجوج آئیں وہ چوڑے چہرے والے چھوٹی آنکھوں والے ان کے چہرے تہہ بہ تہہ ڈھالوں جیسے ہوں گے ۔ [مسند احمد:271/5:ضعیف]
صفحہ نمبر5520
(٤) یہ روایت سورۃ الٱعراف کی تفسیر کے آخر میں بیان کر دی گی ہے۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ معراج والی رات میں ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے روز قیامت کا مذکراہ شروع ہوا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس کے علم سے انکار کر دیا۔ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام نے بھی ہاں عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ”اس کے واقع ہونے کے وقت تو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا ہاں مجھ سے میرے اللہ نے یہ تو فرمایا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے۔ اس کے ساتھ دو ٹہنیاں ہوں گی۔ وہ مجھے دیکھتے ہی سیسے کی طرح پگلنے لگے گا یہاں تک کہ اللہ اسے ہلاک کر دے جب کہ وہ مجھے دیکھے یہاں تک کہ پتھر اور درخت بھی پکار اٹھیں گے کہ ”اے مسلم! یہ ہے میرے سایہ تلے کافر، آ اور اسے قتل کر۔“ پس اللہ انہیں ہلاک کرے گا اور لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کی طرف لوٹ جائیں گے۔ اس وقت یاجوج ماجوج نکلیں گے جو ہر اونچائی سے پھدکتے آئیں گے جو پائیں گے تباہ کر دیں گے پانی جتنا پائیں گے پی جائیں گے لوگ پھر تنگ آ کر اپنوں وطنوں میں محصور ہو کر بیٹھ جائیں گے شکایت کریں گے تو میں پھر اللہ سے دعا کرونگا اللہ انہیں غارت کر دے ساری زمین پر ان کی بدبو پھیل جائے گی پھر بارش برسے گی اور پانی کا بہاؤ ان کے سڑے ہوئے جسموں کو گھسیٹ کر دریا برد کر دے گا۔ میرے رب نے مجھ سے فرما دیا ہے کہ ” جب یہ سب کچھ ظہور میں آ جائے گا پھر تو قیامت کا ہونا ایسا ہی ہے جیسے پورے دنوں میں حمل والی عورت کا وضع ہونا “ کہ گھر والوں کو فکر ہوتی ہے کہ صبح بچہ ہوا یا شام ہوا دن کو ہوا یا رات کو ہوا۔“ [سنن ابن ماجه:4081،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5521
اس کی تصدیق کلام اللہ شریف کی آیت میں موجود ہے اس بارے میں حدیثیں بکثرت ہیں اور آثار سلف بھی بہت ہیں۔
کعب رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”یاجوج ماجوج کے نکلنے کے وقت وہ دیوار کو کھودیں گے یہاں تک کہ ان کی کدالوں کی آواز پاس والے بھی سنیں گے رات ہو جائے گی ان میں سے ایک کہے گا کہ اب صبح آتے ہی اسے توڑ ڈالیں گے اور نکل کھڑے ہوں گے صبح یہ آئیں گے توجیسی کل تھی ویسی ہی آج بھی پائیں گے الغرض یونہی ہوتا رہے گا یہاں تک کہ ان کا نکالنا جب منظور ہو گا تو ایک شخص کی زبان سے نکلے گا کہ ہم کل ان شاءاللہ ایسے توڑ دیں گے اب جو آئیں گے تو جیسی چھوڑ گئے تھے ویسی ہی پائیں گے تو کھود کر توڑیں گے اور باہر نکل آئیں گے ان کا پہلا گروہ بحیرہ کے پاس سے نکلے گا سارا پانی پی جائے گا دوسرا آئے گا کیچڑ بھی چاٹ جائے گا تیسرا آئے گا تو کہے گا شاید یہاں کبھی پانی ہوگا؟
لوگ ان سے بھاگ بھاگ کر ادھر ادھر چھپ جائیں گے جب انہیں کوئی بھی نظر نہ پڑے گا تو یہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے وہاں سے وہ خون آلود واپس آئیں گے تو یہ فخر کریں گے کہ ہم زمین والوں پر اور آسمان والوں پر غالب آ گئے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ان کے لیے بدعا کریں گے کہ اللہ ہم میں ان کے مقابلے کی طاقت نہیں اور زمین پر ہمارا چلنا پھرنا بھی ضروری ہے تو ہمیں جس طریقے سے چاہے ان سے نجات دے تو اللہ ان کو طاعون میں مبتلا کرے گا گلٹیاں نکل آئیں گی اور سارے کہ سارے مرجائیں گے۔ پھر ایک قسم کے پرند آئیں گے جو اپنی چونچ میں انہیں لے کر سمندر میں پھینک آئیں گے پھر اللہ تعالیٰ نہر حیات جاری کر دے گا جو زمین کو دھوکر پاک صاف کر دے گی اور زمین اپنی برکتیں نکال دے گی ایک انار ایک گھرانے کو کافی ہو گا اچانک ایک شخص آئے گا اور ندا کرے گا کہ ذوالسویقتین نکل آیا ہے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سات آٹھ سولشکریوں کا طلایہ بھیجیں گے یہ ابھی راستے میں ہی ہوں گے کہ یمنی پاک ہوا نہایت لطافت سے چلے گی جو تمام مؤمنوں کی روح قبض کر جائے گی پھر تو روئے زمین پر ردی کھدی لوگ رہ جائے گے جو چوپایوں جیسے ہوں گے ان پر قیامت قائم ہوگی۔ اس وقت قیامت اس قدر قریب ہو گی جیسے پوری دنوں کی گھوڑی جو جننے کے قریب ہو اور گھوڑی والا اس کے آس پاس گھوم رہا ہو کہ کب بچہ ہو۔“
کعب رحمتہ اللہ یہ بیان فرما کر فرمانے لگے ”اب جو شخص میرے اس قول اور اس علم کے بعد بھی کچھ کہے اس نے تکلف کیا۔“ کعب رحمتہ اللہ کا یہ واقعہ بیان کرنا بہترین واقعہ ہے کیونکہ اس کی شہادت صحیح حدیث میں بھی پائی جاتی ہے۔ احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس زمانے میں بیت اللہ شریف کا حج بھی کریں گے۔
چنانچہ مسند امام احمد میں یہ حدیث مرفوعاً مروی ہے کہ آپ علیہ السلام یاجوج ماجوج کے خروج کے بعد یقیناً بیت اللہ کا حج کریں گے ۔ یہ حدیث بخاری میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1513]
جب یہ ہولناکیاں، جب یہ زلزلے، جب یہ بلائیں اور آفات آ جائیں گی تو اس وقت قیامت بالکل قریب آ جائے گی اسے دیکھ کر کافر کہنے لگیں گے یہ نہایت سخت دن ہے ان کی آنکھیں پھٹ جائیں گی اور کہنے لگیں گے ہائے ہم تو غفلت میں ہی رہے۔ ہائے ہم نے اپنا آپ بگاڑا۔ گناہوں کا اقرار اور اس پر شرمسار ہوں گا لیکن اب بے سود ہے۔
صفحہ نمبر5522
یافت کی اولاد ٭٭
” ہلاک شدہ لوگوں کا دنیا کی طرف پھر پلٹنا محال ہے “۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ” ان کی توبہ مقبول نہیں “۔ لیکن پہلا قول اولیٰ ہے۔ یاجوج ماجوج نسل آدم سے ہیں۔ بلکہ وہ نوح علیہ السلام کے لڑکے یافت کی اولاد میں سے ہیں جن کی نسل ترک ہیں یہ بھی انہی کا ایک گروہ ہے یہ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی دیوار سے باہر ہی چھوڑ دیے گئے تھے۔ آپ نے دیوار بنا کر فرمایا تھا کہ یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ اللہ کے وعدے کے وقت اس کا چورا چورا ہو جائے گا میرے رب کا وعدہ حق ہے الخ۔ یاجوج ماجوج قرب قیامت کے وقت وہاں سے نکل آئیں گے اور زمین میں فساد مچا دیں گے۔
ہر اونچی جگہ کو عربی میں «حدب» کہتے ہیں۔ ان کے نکلنے کے وقت ان کی یہی حالت ہوگی تو اس خبر کو اس طرح بیان کیا جیسے سننے والا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور واقع میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچی خبر کس کی ہوگی؟ جو غیب اور حاضر کا جاننے والا ہے۔ ہوچکی ہوئی اور ہونے والی باتوں سے آگاہ ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لڑکوں کو اچھلتے کودتے کھیلتے دوڑتے ایک دوسروں کی چٹکیاں بھرتے ہوئے دیکھ کر فرمایا ”اسی طرح یاجوج ماجوج آئیں گے۔“ بہت سی احادیث میں ان کے نکلنے کا ذکر ہے۔
صفحہ نمبر5516
(١) مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یاجوج ماجوج کھولے جائیں گے اور وہ لوگوں کے پاس پہنچیں گے جیسے اللہ عزوجل کا فرمان ہے آیت «وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ» [21-الأنبياء:96] وہ چھاجائیں گے اور مسلمان اپنے شہروں اور قلعوں میں سمٹ آئیں گے اپنے جانورں کو بھی وہی لے لیں گے اور اپنا پانی انہیں پلاتے رہیں گے۔ یاجوج ماجوج جس نہر سے گزریں گے اس کا پانی صفا چٹ کر جائیں گے یہاں تک کہ اس میں خاک اڑنے لگے گی ان کی دوسری جماعت جب وہاں پہنچے گی تو وہ کہے گی شاید اس میں کسی زمانے میں پانی ہوگا۔ جب یہ دیکھیں گے کہ اب زمین پر کوئی نہ رہا اور واقع میں سوائے ان مسلمانوں کے جو اپنے شہروں اور قلعوں میں پناہ گزیں ہوں گے کوئی اور وہاں ہوگا بھی نہیں تو یہ کہیں گے کہ اب زمین والوں سے تم ہم فارغ ہو گئے آؤ آسمان والوں کی خبرلیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک شریر اپنا نیزہ گھما کر آسمان کی طرف پھینکے گا قدرت الٰہی سے وہ خون آلود ہو کر ان کے پاس گرے گا یہ بھی ایک قدرتی آزمائش ہو گی اب ان کی گردنوں میں گٹھلی ہو جائے گی اور اسی وبا میں یہ سارے کے سارے ایک ساتھ ایک دم مرجائیں گے ایک بھی باقی نہ رہے گا سارا شور و غل ختم ہو جائے گا مسلمان کہیں گے کوئی ہے جو اپنی جان ہم مسلمانوں کے لیے ہتھیلی پر رکھ کر شہرکے باہر جائے اور ان دشمنوں کو دیکھے کہ کس حال میں ہیں؟ چنانچہ ایک صاحب اس کے لیے تیار ہو جائیں گے اور اپنے آپ کو قتل شدہ سمجھ کر اللہ کی راہ میں مسلمانوں کی خدمت کے لیے نکل کھڑے ہوں گے دیکھیں گے کہ سب کا ڈھیرلگ رہا ہے سارے ہلاک شدہ پڑے ہوئے ہیں یہ اسی وقت ندا کرے گا کہ مسلمانو! خوش ہو جاؤ اللہ نے خود تمہارے دشمنوں کو غارت کر دیا یہ ڈھیر پڑا ہوا ہے اب مسلمان باہر آئیں گے اور اپنے مویشیوں کو بھی لائیں گے ان کے لیے چارہ بجز ان کے گوشت کے اور کچھ نہ ہو گا یہ ان کا گوشت کھا کھا کر خوب موٹے تازے ہو جائیں گے ۔ [سنن ابن ماجه:4079،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
صفحہ نمبر5517
(٢) مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صبح ہی صبح دجال کا ذکر کیا اس طرح کہ ہم سمجھے شاید وہ ان درختوں کی آڑ میں ہے اور اب نکلا ہی چاہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے مجھے دجال سے زیادہ خوف تم پر اور چیز کا ہے۔ اگر دجال میری موجودگی میں نکلا تو میں خود نمٹ لونگا تم میں سے ہر شخص اس سے بچے۔ میں تمہیں اللہ کی امان میں دے رہا ہوں۔ وہ جواں عمر الجھے ہوئے بالوں والا کانا اور ابھری ہوئی آنکھ والا ہے۔ وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں گھومے گا۔ ایک بندگاں الٰہی تم ثابت قدم رہنا ۔ ہم نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کتنا ٹھہرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس دن۔ ایک دن مثل ایک برس کے ایک دن مثل ایک مہینہ کے ایک دن مثل ایک جمعہ کے اور باقی دن معمولی دنوں جیسے ۔ ہم نے پوچھا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو دن سال بھر کے برابر ہو گا اس میں ہمیں یہی پانچ نمازیں کافی ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! تم اپنے اندازے سے وقت پر نماز پڑھتے رہا کرنا ۔ ہم نے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی رفتار کیسی ہوگی؟ فرمایا: جیسے بادل کہ ہوا انہیں ادھر سے ادھر بھگائے لیے جاتی ہو۔ ایک قبیلے کے پاس جائے گا انہیں اپنی طرف بلائے گا وہ اس کی مان لیں گے۔ آسمان کو حکم دے گا کہ ان پر بارش برسائے زمین سے کہے گا کہ ان کے لیے پیداوار اگائے ان کے جانور ان کے پاس موٹے تازے بھرے پیٹ لوٹیں گے۔ ایک قبیلے کے پاس اپنے تئیں منوانا چاہے گا وہ انکار کر دیں گے یہ وہاں سے نکلے گا تو ان کے تمام مال اس کے پیچھے لگ جائیں گے وہ بالکل خالی ہاتھ رہ جائیں گے وہ غیر آباد جنگلوں میں جائے گا اور زمین سے کہے گا اپنے خزانے اگل دے وہ اگل دے گی اور سارے خزانے اس کے پیچھے ایسے چلیں گے جیسے شہد کی مکھیاں اپنے سردار کے پیچھے۔ یہ بھی دکھائے گا کہ ایک شخص کو تلوار سے ٹھیک دو ٹکرے کرا دے گا اور ادھرادھر دور دراز پھنکوا دے گا پھر اس کا نام لے کر آواز دے گا تو وہ زندہ چلتا پھرتا اس کے پاس آ جائے گا ۔
صفحہ نمبر5518
یہ اسی حال میں ہوگا جو اللہ عزوجل مسیح ابن مریم علیہ السلام کو اتارے گا۔ آپ علیہ السلام دمشق کی مشرقی طرف سفید منارے کے پاس اتریں گے اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے ہوں گے۔ آپ علیہ السلام اس کا پیچھا کریں گے اور مشرقی باب کے لد کے پاس اسے پا کر قتل کر دیں گے۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی طرف اللہ کی وحی آئے گی میں اپنے ایسے بندوں کو بھیجتا ہوں جن سے لڑنے کی تم میں تاب وطاقت نہیں میرے بندوں کو طور کی طرف سمیٹ لے جا۔ پھر جناب باری یاجوج ماجوج کو بھیجے گا جیسے فرمایا آیت «وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ» ان سے تنگ آکر عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھی جناب باری میں دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر گٹھلی کی بیماری بھیجے گا جو ان کی گردن میں نکلے گی سارے کے سارے اوپر تلے ایک ساتھ ہی مرجائیں گے۔ تب عیسیٰ علیہ السلام مع مؤمنوں کے آئیں گے، دیکھیں گے کہ تمام زمین ان کی لاشوں سے پٹی پڑی ہے اور ان کی بدبوسے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔ آپ علیہ السلام پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند بھیجے گا جو انہیں اللہ جانے کہاں پھینک آئیں گے؟ کعب رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہی «مہیل» میں یعنی سورج کے طلوع ہونے کی جگہ میں انہیں پھینک آئیں گے۔ پھر چالیس دن تک تمام زمین میں مسلسل بارش برسے گی، زمین دھل دھلا کر ہتھیلی کی طرح صاف ہو جائے گی پھر بحکم الٰہی اپنی برکتیں اگادے گی۔ اس دن ایک جماعت کی جماعت ایک انار سے سیر ہو جائے گی اور اس کے چھلکے تلے سایہ حاصل کرلے گی ایک اونٹنی کا دودھ لوگوں کی ایک جماعت کو اور ایک گائے کا دودھ ایک قبیلے کو اور ایک بکری کا دودھ ایک گھرانے کو کافی ہو گا۔ پھر ایک پاکیزہ ہوا چلے گی جو مسلمانوں کی بغلوں تلے سے نکل جائے گی اور ان کی روح قبض ہو جائے گی پھر روئے زمین پر بدترین شریر لوگ باقی رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح کودتے ہوں گے انہی پر قیامت قائم ہوگی ۔ [صحیح مسلم:2937] امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر5519
(٣) مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بچھو نے کاٹ کھایا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی پر پٹی باندھے ہوئے خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: تم کہتے ہو اب دشمن نہیں ہیں لیکن تم تو دشمنوں سے جہاد کرتے ہی رہو گے یہاں تک کہ یاجوج ماجوج آئیں وہ چوڑے چہرے والے چھوٹی آنکھوں والے ان کے چہرے تہہ بہ تہہ ڈھالوں جیسے ہوں گے ۔ [مسند احمد:271/5:ضعیف]
صفحہ نمبر5520
(٤) یہ روایت سورۃ الٱعراف کی تفسیر کے آخر میں بیان کر دی گی ہے۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ معراج والی رات میں ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے روز قیامت کا مذکراہ شروع ہوا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس کے علم سے انکار کر دیا۔ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام نے بھی ہاں عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ”اس کے واقع ہونے کے وقت تو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا ہاں مجھ سے میرے اللہ نے یہ تو فرمایا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے۔ اس کے ساتھ دو ٹہنیاں ہوں گی۔ وہ مجھے دیکھتے ہی سیسے کی طرح پگلنے لگے گا یہاں تک کہ اللہ اسے ہلاک کر دے جب کہ وہ مجھے دیکھے یہاں تک کہ پتھر اور درخت بھی پکار اٹھیں گے کہ ”اے مسلم! یہ ہے میرے سایہ تلے کافر، آ اور اسے قتل کر۔“ پس اللہ انہیں ہلاک کرے گا اور لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کی طرف لوٹ جائیں گے۔ اس وقت یاجوج ماجوج نکلیں گے جو ہر اونچائی سے پھدکتے آئیں گے جو پائیں گے تباہ کر دیں گے پانی جتنا پائیں گے پی جائیں گے لوگ پھر تنگ آ کر اپنوں وطنوں میں محصور ہو کر بیٹھ جائیں گے شکایت کریں گے تو میں پھر اللہ سے دعا کرونگا اللہ انہیں غارت کر دے ساری زمین پر ان کی بدبو پھیل جائے گی پھر بارش برسے گی اور پانی کا بہاؤ ان کے سڑے ہوئے جسموں کو گھسیٹ کر دریا برد کر دے گا۔ میرے رب نے مجھ سے فرما دیا ہے کہ ” جب یہ سب کچھ ظہور میں آ جائے گا پھر تو قیامت کا ہونا ایسا ہی ہے جیسے پورے دنوں میں حمل والی عورت کا وضع ہونا “ کہ گھر والوں کو فکر ہوتی ہے کہ صبح بچہ ہوا یا شام ہوا دن کو ہوا یا رات کو ہوا۔“ [سنن ابن ماجه:4081،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5521
اس کی تصدیق کلام اللہ شریف کی آیت میں موجود ہے اس بارے میں حدیثیں بکثرت ہیں اور آثار سلف بھی بہت ہیں۔
کعب رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”یاجوج ماجوج کے نکلنے کے وقت وہ دیوار کو کھودیں گے یہاں تک کہ ان کی کدالوں کی آواز پاس والے بھی سنیں گے رات ہو جائے گی ان میں سے ایک کہے گا کہ اب صبح آتے ہی اسے توڑ ڈالیں گے اور نکل کھڑے ہوں گے صبح یہ آئیں گے توجیسی کل تھی ویسی ہی آج بھی پائیں گے الغرض یونہی ہوتا رہے گا یہاں تک کہ ان کا نکالنا جب منظور ہو گا تو ایک شخص کی زبان سے نکلے گا کہ ہم کل ان شاءاللہ ایسے توڑ دیں گے اب جو آئیں گے تو جیسی چھوڑ گئے تھے ویسی ہی پائیں گے تو کھود کر توڑیں گے اور باہر نکل آئیں گے ان کا پہلا گروہ بحیرہ کے پاس سے نکلے گا سارا پانی پی جائے گا دوسرا آئے گا کیچڑ بھی چاٹ جائے گا تیسرا آئے گا تو کہے گا شاید یہاں کبھی پانی ہوگا؟
لوگ ان سے بھاگ بھاگ کر ادھر ادھر چھپ جائیں گے جب انہیں کوئی بھی نظر نہ پڑے گا تو یہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے وہاں سے وہ خون آلود واپس آئیں گے تو یہ فخر کریں گے کہ ہم زمین والوں پر اور آسمان والوں پر غالب آ گئے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ان کے لیے بدعا کریں گے کہ اللہ ہم میں ان کے مقابلے کی طاقت نہیں اور زمین پر ہمارا چلنا پھرنا بھی ضروری ہے تو ہمیں جس طریقے سے چاہے ان سے نجات دے تو اللہ ان کو طاعون میں مبتلا کرے گا گلٹیاں نکل آئیں گی اور سارے کہ سارے مرجائیں گے۔ پھر ایک قسم کے پرند آئیں گے جو اپنی چونچ میں انہیں لے کر سمندر میں پھینک آئیں گے پھر اللہ تعالیٰ نہر حیات جاری کر دے گا جو زمین کو دھوکر پاک صاف کر دے گی اور زمین اپنی برکتیں نکال دے گی ایک انار ایک گھرانے کو کافی ہو گا اچانک ایک شخص آئے گا اور ندا کرے گا کہ ذوالسویقتین نکل آیا ہے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سات آٹھ سولشکریوں کا طلایہ بھیجیں گے یہ ابھی راستے میں ہی ہوں گے کہ یمنی پاک ہوا نہایت لطافت سے چلے گی جو تمام مؤمنوں کی روح قبض کر جائے گی پھر تو روئے زمین پر ردی کھدی لوگ رہ جائے گے جو چوپایوں جیسے ہوں گے ان پر قیامت قائم ہوگی۔ اس وقت قیامت اس قدر قریب ہو گی جیسے پوری دنوں کی گھوڑی جو جننے کے قریب ہو اور گھوڑی والا اس کے آس پاس گھوم رہا ہو کہ کب بچہ ہو۔“
کعب رحمتہ اللہ یہ بیان فرما کر فرمانے لگے ”اب جو شخص میرے اس قول اور اس علم کے بعد بھی کچھ کہے اس نے تکلف کیا۔“ کعب رحمتہ اللہ کا یہ واقعہ بیان کرنا بہترین واقعہ ہے کیونکہ اس کی شہادت صحیح حدیث میں بھی پائی جاتی ہے۔ احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس زمانے میں بیت اللہ شریف کا حج بھی کریں گے۔
چنانچہ مسند امام احمد میں یہ حدیث مرفوعاً مروی ہے کہ آپ علیہ السلام یاجوج ماجوج کے خروج کے بعد یقیناً بیت اللہ کا حج کریں گے ۔ یہ حدیث بخاری میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1513]
جب یہ ہولناکیاں، جب یہ زلزلے، جب یہ بلائیں اور آفات آ جائیں گی تو اس وقت قیامت بالکل قریب آ جائے گی اسے دیکھ کر کافر کہنے لگیں گے یہ نہایت سخت دن ہے ان کی آنکھیں پھٹ جائیں گی اور کہنے لگیں گے ہائے ہم تو غفلت میں ہی رہے۔ ہائے ہم نے اپنا آپ بگاڑا۔ گناہوں کا اقرار اور اس پر شرمسار ہوں گا لیکن اب بے سود ہے۔
صفحہ نمبر5522
جہنم کی ہولناکیاں ٭٭
بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے “۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» [66-التحريم:6] [2-البقرة:24] ” اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر “۔
حبشی زبان میں حطب کو «حَصَبُ» کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے «حَصَبُ» کے «حَطَبْ» ہے۔ ” تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے “۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پردوزخی ہو گئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ» [11-ھود:106] ، ” وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے اور چیخوں کے سوا ان کے کان میں اور کوئی آواز نہ پڑے گی “۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب صرف مشرک جہنم میں رہ جائیں گے انہیں آگ کے صندوقوں میں قید کر دیا جائے گا جن میں آگ کے سریے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کو یہی گمان ہو گا کہ جہنم میں اس کے سوا اور کوئی نہیں“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ [ابن جریر]
صفحہ نمبر5525
«حُسْنَىٰ» سے مراد رحمت وسعادت ہیں۔ دوزخیوں کا اور ان کے عذابوں کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں اور ان کی جزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے یہ لوگ باایمان تھے ان کے نیک اعمال کی وجہ سے سعادت ان کے استقبال کو تیار تھی۔
جیسے فرمان ہے آیت «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [10-یونس:26] ” نیکوں کے لیے نیک اجر ہے اور زیادتی اجر بھی “۔ فرمان ہے آیت «هَلْ جَزَاءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ» [55-الرحمن:60] ” نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے “۔
ان کے دنیا کے اعمال نیک تھے تو آخرت میں ثواب اور نیک بدلہ ملا، عذاب سے بچے اور رحمت رب سے سرفراز ہوئے۔ یہ جہنم سے دور کر دئیے گئے کہ اس کی آہٹ تک نہیں سنتے نہ دوزخیوں کا جلنا وہ سنتے ہیں۔ پل صراط پردوزخیوں کو زہریلے ناگ ڈستے ہیں اور یہ وہاں ہائے ہائے کرتے ہیں جنتی لوگوں کے کان بھی اس درد ناک آواز سے ناآشنا رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں کہ خوف ڈر سے یہ الگ ہو گئے بلکہ ساتھ ہی راحت و آرام بھی حاصل کر لیا۔ من مانی چیزیں موجود۔ دوامی کی راحت بھی حاضر۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک رات اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ”میں اور عمر عثمان اور زبیر اور طلحہ اور عبدالرحمٰن انہی لوگوں میں سے ہیں“ یا سعد کا نام لیا رضی اللہ عنہم۔ اتنے میں نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ چادر گھیسٹتے آیت «لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا»، پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہو گئے۔
اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ایسے ہی ہیں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہی لوگ اولیاء اللہ ہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پل صراط سے پار ہو جائیں گے اور کافر وہیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے۔“
بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جو اللہ والے تھے شرکت سے بیزار تھے لیکن ان کے بعد لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی تھی، عزیر، مسیح، فرشتے، سورج، چاند، مریم، وغیرہ۔
صفحہ نمبر5526
عبداللہ بن زبعری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» [21-الأنبياء:98] اتاری ہے؟ اگر یہ سچ ہے تو کیا سورج چاند، فرشتے عزیر، عیسیٰ، سب کہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے؟ اس کے جواب میں آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ» [43-الزخرف:57] اور آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى اُولٰىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ» [21-الأنبياء:101] نازل ہوئی۔
سیرت ابن اسحاق میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نضر بن حارث آیا اس وقت مسجد میں اور قریشی بھی بہت سارے تھے نضر بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر رہا تھا لیکن وہ لاجوب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ» [21-الأنبياء:100-98] تلاوت فرمائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مجلس سے چلے گئے تو عبداللہ بن زبعری آیا لوگوں نے اس سے کہا آج نضر بن حارث نے باتیں کیں لیکن بری طرح چت ہوئے اور یہ فرماتے ہوئے چلے گے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو انہیں جواب دیتا کہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر کو نصرانی مسیح کو تو کیا یہ سب بھی جہنم میں جلیں گے؟ سب کو یہ جواب بہت پسند آیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی عبادت کرائی وہ عابدوں کے ساتھ جہنم میں ہے یہ بزرگ اپنی عبادتیں نہیں کراتے تھے بلکہ یہ لوگ تو انہیں نہیں شیطان کو پوج رہے ہیں اسی نے انہیں ان کی عبادت کی راہ بتائی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے ساتھ ہی قرآنی جواب اس کے بعد ہی آیت «إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ» [21-الأنبياء:101] میں اترا تو جن نیک لوگوں کی جاہلوں نے پرستش کی تھی وہ اس سے مستثنیٰ ہو گئے۔
چنانچہ قرآن میں ہے آیت «مَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:29] یعنی ” ان میں سے جو اپنی معبودیت اوروں سے منوانی چاہے اس کا بدلہ جہنم ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں “۔ اور آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ» [43-الزخرف:57-60] اتری کہ ” اس بات کہ سنتے ہی وہ لوگ متعجب ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے یا وہ یہ تو صرف دھینگا مشتی ہے اور یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں وہ ہمارا انعام یافتہ بندہ تھا اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے نمونہ بنایا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین فرشتوں کو کر دیتے “۔
«وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ» [43-الزخرف:61] ” عیسیٰ (علیہ السلام) نشانِ قیامت ہیں ان کے ہاتھ سے جو معجزات صادر ہوئے وہ شبہ والی چیزیں نہیں وہ قیامت کی دلیل ہیں تجھے اس میں کچھ شک نہ کرنا چاہے۔ میری مانتا چلا جا یہی صراط مستقیم ہے “۔
ابن زبعری کی جرات دیکھئیے خطاب اہل مکہ سے ہے اور ان کی ان تصویروں اور پتھروں کے لیے کہا گیا ہے جنہیں وہ سوائے اللہ کے پوجا کرتے تھے نہ کہ عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ پاک نفس کے لیے جو غیر اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں لفظ «ما» جو یہاں ہے وہ عرب میں ان کے لیے آتا ہے جو بے جان اور بے عقل ہوں۔
صفحہ نمبر5527
یہ ابن زبعری اس کے بعد مسلمان ہوگئے تھے رضی اللہ عنہ۔ یہ بڑے مشہور شاعر تھے۔ پہلے انہوں نے مسلمانوں کی دل کھول کر دھول اڑائی تھی لیکن مسلمان ہونے کے بعد معذرت کی۔
موت کی گھبراہٹ، اس گھڑی کی گھبراہٹ جبکہ جہنم پر ڈھکن ڈھک دیا جائے گا جب کہ موت کو دوزخ جنت کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا۔ غرض کسی اندیشے کا نزول ان پر نہ ہوگا وہ ہر غم و ہراس سے دور ہوں گے، پورے مسرور ہوں گے، خوش ہوں گے اور ناخوشی سے کوسوں الگ ہوں گے۔ فرشتوں کے پرے کے پرے ان سے ملاقاتیں کر رہے ہوں گے اور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے کہتے ہوں گے کہ اسی دن کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا، اس وقت تم قبروں سے اٹھنے کے دن کے منتظر رہو۔
صفحہ نمبر5528
جہنم کی ہولناکیاں ٭٭
بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے “۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» [66-التحريم:6] [2-البقرة:24] ” اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر “۔
حبشی زبان میں حطب کو «حَصَبُ» کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے «حَصَبُ» کے «حَطَبْ» ہے۔ ” تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے “۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پردوزخی ہو گئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ» [11-ھود:106] ، ” وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے اور چیخوں کے سوا ان کے کان میں اور کوئی آواز نہ پڑے گی “۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب صرف مشرک جہنم میں رہ جائیں گے انہیں آگ کے صندوقوں میں قید کر دیا جائے گا جن میں آگ کے سریے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کو یہی گمان ہو گا کہ جہنم میں اس کے سوا اور کوئی نہیں“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ [ابن جریر]
صفحہ نمبر5525
«حُسْنَىٰ» سے مراد رحمت وسعادت ہیں۔ دوزخیوں کا اور ان کے عذابوں کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں اور ان کی جزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے یہ لوگ باایمان تھے ان کے نیک اعمال کی وجہ سے سعادت ان کے استقبال کو تیار تھی۔
جیسے فرمان ہے آیت «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [10-یونس:26] ” نیکوں کے لیے نیک اجر ہے اور زیادتی اجر بھی “۔ فرمان ہے آیت «هَلْ جَزَاءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ» [55-الرحمن:60] ” نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے “۔
ان کے دنیا کے اعمال نیک تھے تو آخرت میں ثواب اور نیک بدلہ ملا، عذاب سے بچے اور رحمت رب سے سرفراز ہوئے۔ یہ جہنم سے دور کر دئیے گئے کہ اس کی آہٹ تک نہیں سنتے نہ دوزخیوں کا جلنا وہ سنتے ہیں۔ پل صراط پردوزخیوں کو زہریلے ناگ ڈستے ہیں اور یہ وہاں ہائے ہائے کرتے ہیں جنتی لوگوں کے کان بھی اس درد ناک آواز سے ناآشنا رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں کہ خوف ڈر سے یہ الگ ہو گئے بلکہ ساتھ ہی راحت و آرام بھی حاصل کر لیا۔ من مانی چیزیں موجود۔ دوامی کی راحت بھی حاضر۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک رات اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ”میں اور عمر عثمان اور زبیر اور طلحہ اور عبدالرحمٰن انہی لوگوں میں سے ہیں“ یا سعد کا نام لیا رضی اللہ عنہم۔ اتنے میں نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ چادر گھیسٹتے آیت «لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا»، پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہو گئے۔
اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ایسے ہی ہیں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہی لوگ اولیاء اللہ ہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پل صراط سے پار ہو جائیں گے اور کافر وہیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے۔“
بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جو اللہ والے تھے شرکت سے بیزار تھے لیکن ان کے بعد لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی تھی، عزیر، مسیح، فرشتے، سورج، چاند، مریم، وغیرہ۔
صفحہ نمبر5526
عبداللہ بن زبعری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» [21-الأنبياء:98] اتاری ہے؟ اگر یہ سچ ہے تو کیا سورج چاند، فرشتے عزیر، عیسیٰ، سب کہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے؟ اس کے جواب میں آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ» [43-الزخرف:57] اور آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى اُولٰىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ» [21-الأنبياء:101] نازل ہوئی۔
سیرت ابن اسحاق میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نضر بن حارث آیا اس وقت مسجد میں اور قریشی بھی بہت سارے تھے نضر بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر رہا تھا لیکن وہ لاجوب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ» [21-الأنبياء:100-98] تلاوت فرمائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مجلس سے چلے گئے تو عبداللہ بن زبعری آیا لوگوں نے اس سے کہا آج نضر بن حارث نے باتیں کیں لیکن بری طرح چت ہوئے اور یہ فرماتے ہوئے چلے گے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو انہیں جواب دیتا کہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر کو نصرانی مسیح کو تو کیا یہ سب بھی جہنم میں جلیں گے؟ سب کو یہ جواب بہت پسند آیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی عبادت کرائی وہ عابدوں کے ساتھ جہنم میں ہے یہ بزرگ اپنی عبادتیں نہیں کراتے تھے بلکہ یہ لوگ تو انہیں نہیں شیطان کو پوج رہے ہیں اسی نے انہیں ان کی عبادت کی راہ بتائی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے ساتھ ہی قرآنی جواب اس کے بعد ہی آیت «إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ» [21-الأنبياء:101] میں اترا تو جن نیک لوگوں کی جاہلوں نے پرستش کی تھی وہ اس سے مستثنیٰ ہو گئے۔
چنانچہ قرآن میں ہے آیت «مَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:29] یعنی ” ان میں سے جو اپنی معبودیت اوروں سے منوانی چاہے اس کا بدلہ جہنم ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں “۔ اور آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ» [43-الزخرف:57-60] اتری کہ ” اس بات کہ سنتے ہی وہ لوگ متعجب ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے یا وہ یہ تو صرف دھینگا مشتی ہے اور یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں وہ ہمارا انعام یافتہ بندہ تھا اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے نمونہ بنایا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین فرشتوں کو کر دیتے “۔
«وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ» [43-الزخرف:61] ” عیسیٰ (علیہ السلام) نشانِ قیامت ہیں ان کے ہاتھ سے جو معجزات صادر ہوئے وہ شبہ والی چیزیں نہیں وہ قیامت کی دلیل ہیں تجھے اس میں کچھ شک نہ کرنا چاہے۔ میری مانتا چلا جا یہی صراط مستقیم ہے “۔
ابن زبعری کی جرات دیکھئیے خطاب اہل مکہ سے ہے اور ان کی ان تصویروں اور پتھروں کے لیے کہا گیا ہے جنہیں وہ سوائے اللہ کے پوجا کرتے تھے نہ کہ عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ پاک نفس کے لیے جو غیر اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں لفظ «ما» جو یہاں ہے وہ عرب میں ان کے لیے آتا ہے جو بے جان اور بے عقل ہوں۔
صفحہ نمبر5527
یہ ابن زبعری اس کے بعد مسلمان ہوگئے تھے رضی اللہ عنہ۔ یہ بڑے مشہور شاعر تھے۔ پہلے انہوں نے مسلمانوں کی دل کھول کر دھول اڑائی تھی لیکن مسلمان ہونے کے بعد معذرت کی۔
موت کی گھبراہٹ، اس گھڑی کی گھبراہٹ جبکہ جہنم پر ڈھکن ڈھک دیا جائے گا جب کہ موت کو دوزخ جنت کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا۔ غرض کسی اندیشے کا نزول ان پر نہ ہوگا وہ ہر غم و ہراس سے دور ہوں گے، پورے مسرور ہوں گے، خوش ہوں گے اور ناخوشی سے کوسوں الگ ہوں گے۔ فرشتوں کے پرے کے پرے ان سے ملاقاتیں کر رہے ہوں گے اور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے کہتے ہوں گے کہ اسی دن کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا، اس وقت تم قبروں سے اٹھنے کے دن کے منتظر رہو۔
صفحہ نمبر5528
جہنم کی ہولناکیاں ٭٭
بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے “۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» [66-التحريم:6] [2-البقرة:24] ” اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر “۔
حبشی زبان میں حطب کو «حَصَبُ» کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے «حَصَبُ» کے «حَطَبْ» ہے۔ ” تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے “۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پردوزخی ہو گئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ» [11-ھود:106] ، ” وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے اور چیخوں کے سوا ان کے کان میں اور کوئی آواز نہ پڑے گی “۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب صرف مشرک جہنم میں رہ جائیں گے انہیں آگ کے صندوقوں میں قید کر دیا جائے گا جن میں آگ کے سریے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کو یہی گمان ہو گا کہ جہنم میں اس کے سوا اور کوئی نہیں“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ [ابن جریر]
صفحہ نمبر5525
«حُسْنَىٰ» سے مراد رحمت وسعادت ہیں۔ دوزخیوں کا اور ان کے عذابوں کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں اور ان کی جزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے یہ لوگ باایمان تھے ان کے نیک اعمال کی وجہ سے سعادت ان کے استقبال کو تیار تھی۔
جیسے فرمان ہے آیت «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [10-یونس:26] ” نیکوں کے لیے نیک اجر ہے اور زیادتی اجر بھی “۔ فرمان ہے آیت «هَلْ جَزَاءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ» [55-الرحمن:60] ” نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے “۔
ان کے دنیا کے اعمال نیک تھے تو آخرت میں ثواب اور نیک بدلہ ملا، عذاب سے بچے اور رحمت رب سے سرفراز ہوئے۔ یہ جہنم سے دور کر دئیے گئے کہ اس کی آہٹ تک نہیں سنتے نہ دوزخیوں کا جلنا وہ سنتے ہیں۔ پل صراط پردوزخیوں کو زہریلے ناگ ڈستے ہیں اور یہ وہاں ہائے ہائے کرتے ہیں جنتی لوگوں کے کان بھی اس درد ناک آواز سے ناآشنا رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں کہ خوف ڈر سے یہ الگ ہو گئے بلکہ ساتھ ہی راحت و آرام بھی حاصل کر لیا۔ من مانی چیزیں موجود۔ دوامی کی راحت بھی حاضر۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک رات اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ”میں اور عمر عثمان اور زبیر اور طلحہ اور عبدالرحمٰن انہی لوگوں میں سے ہیں“ یا سعد کا نام لیا رضی اللہ عنہم۔ اتنے میں نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ چادر گھیسٹتے آیت «لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا»، پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہو گئے۔
اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ایسے ہی ہیں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہی لوگ اولیاء اللہ ہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پل صراط سے پار ہو جائیں گے اور کافر وہیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے۔“
بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جو اللہ والے تھے شرکت سے بیزار تھے لیکن ان کے بعد لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی تھی، عزیر، مسیح، فرشتے، سورج، چاند، مریم، وغیرہ۔
صفحہ نمبر5526
عبداللہ بن زبعری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» [21-الأنبياء:98] اتاری ہے؟ اگر یہ سچ ہے تو کیا سورج چاند، فرشتے عزیر، عیسیٰ، سب کہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے؟ اس کے جواب میں آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ» [43-الزخرف:57] اور آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى اُولٰىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ» [21-الأنبياء:101] نازل ہوئی۔
سیرت ابن اسحاق میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نضر بن حارث آیا اس وقت مسجد میں اور قریشی بھی بہت سارے تھے نضر بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر رہا تھا لیکن وہ لاجوب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ» [21-الأنبياء:100-98] تلاوت فرمائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مجلس سے چلے گئے تو عبداللہ بن زبعری آیا لوگوں نے اس سے کہا آج نضر بن حارث نے باتیں کیں لیکن بری طرح چت ہوئے اور یہ فرماتے ہوئے چلے گے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو انہیں جواب دیتا کہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر کو نصرانی مسیح کو تو کیا یہ سب بھی جہنم میں جلیں گے؟ سب کو یہ جواب بہت پسند آیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی عبادت کرائی وہ عابدوں کے ساتھ جہنم میں ہے یہ بزرگ اپنی عبادتیں نہیں کراتے تھے بلکہ یہ لوگ تو انہیں نہیں شیطان کو پوج رہے ہیں اسی نے انہیں ان کی عبادت کی راہ بتائی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے ساتھ ہی قرآنی جواب اس کے بعد ہی آیت «إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ» [21-الأنبياء:101] میں اترا تو جن نیک لوگوں کی جاہلوں نے پرستش کی تھی وہ اس سے مستثنیٰ ہو گئے۔
چنانچہ قرآن میں ہے آیت «مَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:29] یعنی ” ان میں سے جو اپنی معبودیت اوروں سے منوانی چاہے اس کا بدلہ جہنم ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں “۔ اور آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ» [43-الزخرف:57-60] اتری کہ ” اس بات کہ سنتے ہی وہ لوگ متعجب ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے یا وہ یہ تو صرف دھینگا مشتی ہے اور یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں وہ ہمارا انعام یافتہ بندہ تھا اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے نمونہ بنایا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین فرشتوں کو کر دیتے “۔
«وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ» [43-الزخرف:61] ” عیسیٰ (علیہ السلام) نشانِ قیامت ہیں ان کے ہاتھ سے جو معجزات صادر ہوئے وہ شبہ والی چیزیں نہیں وہ قیامت کی دلیل ہیں تجھے اس میں کچھ شک نہ کرنا چاہے۔ میری مانتا چلا جا یہی صراط مستقیم ہے “۔
ابن زبعری کی جرات دیکھئیے خطاب اہل مکہ سے ہے اور ان کی ان تصویروں اور پتھروں کے لیے کہا گیا ہے جنہیں وہ سوائے اللہ کے پوجا کرتے تھے نہ کہ عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ پاک نفس کے لیے جو غیر اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں لفظ «ما» جو یہاں ہے وہ عرب میں ان کے لیے آتا ہے جو بے جان اور بے عقل ہوں۔
صفحہ نمبر5527
یہ ابن زبعری اس کے بعد مسلمان ہوگئے تھے رضی اللہ عنہ۔ یہ بڑے مشہور شاعر تھے۔ پہلے انہوں نے مسلمانوں کی دل کھول کر دھول اڑائی تھی لیکن مسلمان ہونے کے بعد معذرت کی۔
موت کی گھبراہٹ، اس گھڑی کی گھبراہٹ جبکہ جہنم پر ڈھکن ڈھک دیا جائے گا جب کہ موت کو دوزخ جنت کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا۔ غرض کسی اندیشے کا نزول ان پر نہ ہوگا وہ ہر غم و ہراس سے دور ہوں گے، پورے مسرور ہوں گے، خوش ہوں گے اور ناخوشی سے کوسوں الگ ہوں گے۔ فرشتوں کے پرے کے پرے ان سے ملاقاتیں کر رہے ہوں گے اور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے کہتے ہوں گے کہ اسی دن کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا، اس وقت تم قبروں سے اٹھنے کے دن کے منتظر رہو۔
صفحہ نمبر5528
جہنم کی ہولناکیاں ٭٭
بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے “۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» [66-التحريم:6] [2-البقرة:24] ” اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر “۔
حبشی زبان میں حطب کو «حَصَبُ» کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے «حَصَبُ» کے «حَطَبْ» ہے۔ ” تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے “۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پردوزخی ہو گئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ» [11-ھود:106] ، ” وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے اور چیخوں کے سوا ان کے کان میں اور کوئی آواز نہ پڑے گی “۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب صرف مشرک جہنم میں رہ جائیں گے انہیں آگ کے صندوقوں میں قید کر دیا جائے گا جن میں آگ کے سریے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کو یہی گمان ہو گا کہ جہنم میں اس کے سوا اور کوئی نہیں“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ [ابن جریر]
صفحہ نمبر5525
«حُسْنَىٰ» سے مراد رحمت وسعادت ہیں۔ دوزخیوں کا اور ان کے عذابوں کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں اور ان کی جزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے یہ لوگ باایمان تھے ان کے نیک اعمال کی وجہ سے سعادت ان کے استقبال کو تیار تھی۔
جیسے فرمان ہے آیت «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [10-یونس:26] ” نیکوں کے لیے نیک اجر ہے اور زیادتی اجر بھی “۔ فرمان ہے آیت «هَلْ جَزَاءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ» [55-الرحمن:60] ” نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے “۔
ان کے دنیا کے اعمال نیک تھے تو آخرت میں ثواب اور نیک بدلہ ملا، عذاب سے بچے اور رحمت رب سے سرفراز ہوئے۔ یہ جہنم سے دور کر دئیے گئے کہ اس کی آہٹ تک نہیں سنتے نہ دوزخیوں کا جلنا وہ سنتے ہیں۔ پل صراط پردوزخیوں کو زہریلے ناگ ڈستے ہیں اور یہ وہاں ہائے ہائے کرتے ہیں جنتی لوگوں کے کان بھی اس درد ناک آواز سے ناآشنا رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں کہ خوف ڈر سے یہ الگ ہو گئے بلکہ ساتھ ہی راحت و آرام بھی حاصل کر لیا۔ من مانی چیزیں موجود۔ دوامی کی راحت بھی حاضر۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک رات اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ”میں اور عمر عثمان اور زبیر اور طلحہ اور عبدالرحمٰن انہی لوگوں میں سے ہیں“ یا سعد کا نام لیا رضی اللہ عنہم۔ اتنے میں نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ چادر گھیسٹتے آیت «لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا»، پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہو گئے۔
اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ایسے ہی ہیں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہی لوگ اولیاء اللہ ہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پل صراط سے پار ہو جائیں گے اور کافر وہیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے۔“
بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جو اللہ والے تھے شرکت سے بیزار تھے لیکن ان کے بعد لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی تھی، عزیر، مسیح، فرشتے، سورج، چاند، مریم، وغیرہ۔
صفحہ نمبر5526
عبداللہ بن زبعری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» [21-الأنبياء:98] اتاری ہے؟ اگر یہ سچ ہے تو کیا سورج چاند، فرشتے عزیر، عیسیٰ، سب کہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے؟ اس کے جواب میں آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ» [43-الزخرف:57] اور آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى اُولٰىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ» [21-الأنبياء:101] نازل ہوئی۔
سیرت ابن اسحاق میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نضر بن حارث آیا اس وقت مسجد میں اور قریشی بھی بہت سارے تھے نضر بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر رہا تھا لیکن وہ لاجوب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ» [21-الأنبياء:100-98] تلاوت فرمائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مجلس سے چلے گئے تو عبداللہ بن زبعری آیا لوگوں نے اس سے کہا آج نضر بن حارث نے باتیں کیں لیکن بری طرح چت ہوئے اور یہ فرماتے ہوئے چلے گے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو انہیں جواب دیتا کہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر کو نصرانی مسیح کو تو کیا یہ سب بھی جہنم میں جلیں گے؟ سب کو یہ جواب بہت پسند آیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی عبادت کرائی وہ عابدوں کے ساتھ جہنم میں ہے یہ بزرگ اپنی عبادتیں نہیں کراتے تھے بلکہ یہ لوگ تو انہیں نہیں شیطان کو پوج رہے ہیں اسی نے انہیں ان کی عبادت کی راہ بتائی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے ساتھ ہی قرآنی جواب اس کے بعد ہی آیت «إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ» [21-الأنبياء:101] میں اترا تو جن نیک لوگوں کی جاہلوں نے پرستش کی تھی وہ اس سے مستثنیٰ ہو گئے۔
چنانچہ قرآن میں ہے آیت «مَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:29] یعنی ” ان میں سے جو اپنی معبودیت اوروں سے منوانی چاہے اس کا بدلہ جہنم ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں “۔ اور آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ» [43-الزخرف:57-60] اتری کہ ” اس بات کہ سنتے ہی وہ لوگ متعجب ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے یا وہ یہ تو صرف دھینگا مشتی ہے اور یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں وہ ہمارا انعام یافتہ بندہ تھا اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے نمونہ بنایا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین فرشتوں کو کر دیتے “۔
«وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ» [43-الزخرف:61] ” عیسیٰ (علیہ السلام) نشانِ قیامت ہیں ان کے ہاتھ سے جو معجزات صادر ہوئے وہ شبہ والی چیزیں نہیں وہ قیامت کی دلیل ہیں تجھے اس میں کچھ شک نہ کرنا چاہے۔ میری مانتا چلا جا یہی صراط مستقیم ہے “۔
ابن زبعری کی جرات دیکھئیے خطاب اہل مکہ سے ہے اور ان کی ان تصویروں اور پتھروں کے لیے کہا گیا ہے جنہیں وہ سوائے اللہ کے پوجا کرتے تھے نہ کہ عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ پاک نفس کے لیے جو غیر اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں لفظ «ما» جو یہاں ہے وہ عرب میں ان کے لیے آتا ہے جو بے جان اور بے عقل ہوں۔
صفحہ نمبر5527
یہ ابن زبعری اس کے بعد مسلمان ہوگئے تھے رضی اللہ عنہ۔ یہ بڑے مشہور شاعر تھے۔ پہلے انہوں نے مسلمانوں کی دل کھول کر دھول اڑائی تھی لیکن مسلمان ہونے کے بعد معذرت کی۔
موت کی گھبراہٹ، اس گھڑی کی گھبراہٹ جبکہ جہنم پر ڈھکن ڈھک دیا جائے گا جب کہ موت کو دوزخ جنت کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا۔ غرض کسی اندیشے کا نزول ان پر نہ ہوگا وہ ہر غم و ہراس سے دور ہوں گے، پورے مسرور ہوں گے، خوش ہوں گے اور ناخوشی سے کوسوں الگ ہوں گے۔ فرشتوں کے پرے کے پرے ان سے ملاقاتیں کر رہے ہوں گے اور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے کہتے ہوں گے کہ اسی دن کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا، اس وقت تم قبروں سے اٹھنے کے دن کے منتظر رہو۔
صفحہ نمبر5528
جہنم کی ہولناکیاں ٭٭
بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے “۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» [66-التحريم:6] [2-البقرة:24] ” اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر “۔
حبشی زبان میں حطب کو «حَصَبُ» کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے «حَصَبُ» کے «حَطَبْ» ہے۔ ” تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے “۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پردوزخی ہو گئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ» [11-ھود:106] ، ” وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے اور چیخوں کے سوا ان کے کان میں اور کوئی آواز نہ پڑے گی “۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب صرف مشرک جہنم میں رہ جائیں گے انہیں آگ کے صندوقوں میں قید کر دیا جائے گا جن میں آگ کے سریے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کو یہی گمان ہو گا کہ جہنم میں اس کے سوا اور کوئی نہیں“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ [ابن جریر]
صفحہ نمبر5525
«حُسْنَىٰ» سے مراد رحمت وسعادت ہیں۔ دوزخیوں کا اور ان کے عذابوں کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں اور ان کی جزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے یہ لوگ باایمان تھے ان کے نیک اعمال کی وجہ سے سعادت ان کے استقبال کو تیار تھی۔
جیسے فرمان ہے آیت «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [10-یونس:26] ” نیکوں کے لیے نیک اجر ہے اور زیادتی اجر بھی “۔ فرمان ہے آیت «هَلْ جَزَاءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ» [55-الرحمن:60] ” نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے “۔
ان کے دنیا کے اعمال نیک تھے تو آخرت میں ثواب اور نیک بدلہ ملا، عذاب سے بچے اور رحمت رب سے سرفراز ہوئے۔ یہ جہنم سے دور کر دئیے گئے کہ اس کی آہٹ تک نہیں سنتے نہ دوزخیوں کا جلنا وہ سنتے ہیں۔ پل صراط پردوزخیوں کو زہریلے ناگ ڈستے ہیں اور یہ وہاں ہائے ہائے کرتے ہیں جنتی لوگوں کے کان بھی اس درد ناک آواز سے ناآشنا رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں کہ خوف ڈر سے یہ الگ ہو گئے بلکہ ساتھ ہی راحت و آرام بھی حاصل کر لیا۔ من مانی چیزیں موجود۔ دوامی کی راحت بھی حاضر۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک رات اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ”میں اور عمر عثمان اور زبیر اور طلحہ اور عبدالرحمٰن انہی لوگوں میں سے ہیں“ یا سعد کا نام لیا رضی اللہ عنہم۔ اتنے میں نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ چادر گھیسٹتے آیت «لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا»، پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہو گئے۔
اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ایسے ہی ہیں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہی لوگ اولیاء اللہ ہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پل صراط سے پار ہو جائیں گے اور کافر وہیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے۔“
بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جو اللہ والے تھے شرکت سے بیزار تھے لیکن ان کے بعد لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی تھی، عزیر، مسیح، فرشتے، سورج، چاند، مریم، وغیرہ۔
صفحہ نمبر5526
عبداللہ بن زبعری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» [21-الأنبياء:98] اتاری ہے؟ اگر یہ سچ ہے تو کیا سورج چاند، فرشتے عزیر، عیسیٰ، سب کہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے؟ اس کے جواب میں آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ» [43-الزخرف:57] اور آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى اُولٰىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ» [21-الأنبياء:101] نازل ہوئی۔
سیرت ابن اسحاق میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نضر بن حارث آیا اس وقت مسجد میں اور قریشی بھی بہت سارے تھے نضر بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر رہا تھا لیکن وہ لاجوب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ» [21-الأنبياء:100-98] تلاوت فرمائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مجلس سے چلے گئے تو عبداللہ بن زبعری آیا لوگوں نے اس سے کہا آج نضر بن حارث نے باتیں کیں لیکن بری طرح چت ہوئے اور یہ فرماتے ہوئے چلے گے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو انہیں جواب دیتا کہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر کو نصرانی مسیح کو تو کیا یہ سب بھی جہنم میں جلیں گے؟ سب کو یہ جواب بہت پسند آیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی عبادت کرائی وہ عابدوں کے ساتھ جہنم میں ہے یہ بزرگ اپنی عبادتیں نہیں کراتے تھے بلکہ یہ لوگ تو انہیں نہیں شیطان کو پوج رہے ہیں اسی نے انہیں ان کی عبادت کی راہ بتائی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے ساتھ ہی قرآنی جواب اس کے بعد ہی آیت «إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ» [21-الأنبياء:101] میں اترا تو جن نیک لوگوں کی جاہلوں نے پرستش کی تھی وہ اس سے مستثنیٰ ہو گئے۔
چنانچہ قرآن میں ہے آیت «مَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:29] یعنی ” ان میں سے جو اپنی معبودیت اوروں سے منوانی چاہے اس کا بدلہ جہنم ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں “۔ اور آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ» [43-الزخرف:57-60] اتری کہ ” اس بات کہ سنتے ہی وہ لوگ متعجب ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے یا وہ یہ تو صرف دھینگا مشتی ہے اور یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں وہ ہمارا انعام یافتہ بندہ تھا اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے نمونہ بنایا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین فرشتوں کو کر دیتے “۔
«وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ» [43-الزخرف:61] ” عیسیٰ (علیہ السلام) نشانِ قیامت ہیں ان کے ہاتھ سے جو معجزات صادر ہوئے وہ شبہ والی چیزیں نہیں وہ قیامت کی دلیل ہیں تجھے اس میں کچھ شک نہ کرنا چاہے۔ میری مانتا چلا جا یہی صراط مستقیم ہے “۔
ابن زبعری کی جرات دیکھئیے خطاب اہل مکہ سے ہے اور ان کی ان تصویروں اور پتھروں کے لیے کہا گیا ہے جنہیں وہ سوائے اللہ کے پوجا کرتے تھے نہ کہ عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ پاک نفس کے لیے جو غیر اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں لفظ «ما» جو یہاں ہے وہ عرب میں ان کے لیے آتا ہے جو بے جان اور بے عقل ہوں۔
صفحہ نمبر5527
یہ ابن زبعری اس کے بعد مسلمان ہوگئے تھے رضی اللہ عنہ۔ یہ بڑے مشہور شاعر تھے۔ پہلے انہوں نے مسلمانوں کی دل کھول کر دھول اڑائی تھی لیکن مسلمان ہونے کے بعد معذرت کی۔
موت کی گھبراہٹ، اس گھڑی کی گھبراہٹ جبکہ جہنم پر ڈھکن ڈھک دیا جائے گا جب کہ موت کو دوزخ جنت کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا۔ غرض کسی اندیشے کا نزول ان پر نہ ہوگا وہ ہر غم و ہراس سے دور ہوں گے، پورے مسرور ہوں گے، خوش ہوں گے اور ناخوشی سے کوسوں الگ ہوں گے۔ فرشتوں کے پرے کے پرے ان سے ملاقاتیں کر رہے ہوں گے اور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے کہتے ہوں گے کہ اسی دن کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا، اس وقت تم قبروں سے اٹھنے کے دن کے منتظر رہو۔
صفحہ نمبر5528
جہنم کی ہولناکیاں ٭٭
بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے “۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» [66-التحريم:6] [2-البقرة:24] ” اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر “۔
حبشی زبان میں حطب کو «حَصَبُ» کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے «حَصَبُ» کے «حَطَبْ» ہے۔ ” تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے “۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پردوزخی ہو گئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ» [11-ھود:106] ، ” وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے اور چیخوں کے سوا ان کے کان میں اور کوئی آواز نہ پڑے گی “۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب صرف مشرک جہنم میں رہ جائیں گے انہیں آگ کے صندوقوں میں قید کر دیا جائے گا جن میں آگ کے سریے ہوں گے ان میں سے ہر ایک کو یہی گمان ہو گا کہ جہنم میں اس کے سوا اور کوئی نہیں“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ [ابن جریر]
صفحہ نمبر5525
«حُسْنَىٰ» سے مراد رحمت وسعادت ہیں۔ دوزخیوں کا اور ان کے عذابوں کا ذکر کر کے اب نیک لوگوں اور ان کی جزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے یہ لوگ باایمان تھے ان کے نیک اعمال کی وجہ سے سعادت ان کے استقبال کو تیار تھی۔
جیسے فرمان ہے آیت «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» [10-یونس:26] ” نیکوں کے لیے نیک اجر ہے اور زیادتی اجر بھی “۔ فرمان ہے آیت «هَلْ جَزَاءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ» [55-الرحمن:60] ” نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے “۔
ان کے دنیا کے اعمال نیک تھے تو آخرت میں ثواب اور نیک بدلہ ملا، عذاب سے بچے اور رحمت رب سے سرفراز ہوئے۔ یہ جہنم سے دور کر دئیے گئے کہ اس کی آہٹ تک نہیں سنتے نہ دوزخیوں کا جلنا وہ سنتے ہیں۔ پل صراط پردوزخیوں کو زہریلے ناگ ڈستے ہیں اور یہ وہاں ہائے ہائے کرتے ہیں جنتی لوگوں کے کان بھی اس درد ناک آواز سے ناآشنا رہیں گے۔ اتنا ہی نہیں کہ خوف ڈر سے یہ الگ ہو گئے بلکہ ساتھ ہی راحت و آرام بھی حاصل کر لیا۔ من مانی چیزیں موجود۔ دوامی کی راحت بھی حاضر۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک رات اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ”میں اور عمر عثمان اور زبیر اور طلحہ اور عبدالرحمٰن انہی لوگوں میں سے ہیں“ یا سعد کا نام لیا رضی اللہ عنہم۔ اتنے میں نماز کی تکبیر ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ چادر گھیسٹتے آیت «لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا»، پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہو گئے۔
اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ایسے ہی ہیں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہی لوگ اولیاء اللہ ہیں بجلی سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پل صراط سے پار ہو جائیں گے اور کافر وہیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے۔“
بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ بزرگان دین ہیں جو اللہ والے تھے شرکت سے بیزار تھے لیکن ان کے بعد لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی تھی، عزیر، مسیح، فرشتے، سورج، چاند، مریم، وغیرہ۔
صفحہ نمبر5526
عبداللہ بن زبعری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا تیرا خیال ہے کہ اللہ نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» [21-الأنبياء:98] اتاری ہے؟ اگر یہ سچ ہے تو کیا سورج چاند، فرشتے عزیر، عیسیٰ، سب کہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے؟ اس کے جواب میں آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ» [43-الزخرف:57] اور آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى اُولٰىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ» [21-الأنبياء:101] نازل ہوئی۔
سیرت ابن اسحاق میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نضر بن حارث آیا اس وقت مسجد میں اور قریشی بھی بہت سارے تھے نضر بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر رہا تھا لیکن وہ لاجوب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ» [21-الأنبياء:100-98] تلاوت فرمائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مجلس سے چلے گئے تو عبداللہ بن زبعری آیا لوگوں نے اس سے کہا آج نضر بن حارث نے باتیں کیں لیکن بری طرح چت ہوئے اور یہ فرماتے ہوئے چلے گے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو انہیں جواب دیتا کہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر کو نصرانی مسیح کو تو کیا یہ سب بھی جہنم میں جلیں گے؟ سب کو یہ جواب بہت پسند آیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی عبادت کرائی وہ عابدوں کے ساتھ جہنم میں ہے یہ بزرگ اپنی عبادتیں نہیں کراتے تھے بلکہ یہ لوگ تو انہیں نہیں شیطان کو پوج رہے ہیں اسی نے انہیں ان کی عبادت کی راہ بتائی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے ساتھ ہی قرآنی جواب اس کے بعد ہی آیت «إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ» [21-الأنبياء:101] میں اترا تو جن نیک لوگوں کی جاہلوں نے پرستش کی تھی وہ اس سے مستثنیٰ ہو گئے۔
چنانچہ قرآن میں ہے آیت «مَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:29] یعنی ” ان میں سے جو اپنی معبودیت اوروں سے منوانی چاہے اس کا بدلہ جہنم ہے ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں “۔ اور آیت «وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ» [43-الزخرف:57-60] اتری کہ ” اس بات کہ سنتے ہی وہ لوگ متعجب ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے معبود اچھے یا وہ یہ تو صرف دھینگا مشتی ہے اور یہ لوگ جھگڑالو ہی ہیں وہ ہمارا انعام یافتہ بندہ تھا اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے نمونہ بنایا تھا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین فرشتوں کو کر دیتے “۔
«وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ» [43-الزخرف:61] ” عیسیٰ (علیہ السلام) نشانِ قیامت ہیں ان کے ہاتھ سے جو معجزات صادر ہوئے وہ شبہ والی چیزیں نہیں وہ قیامت کی دلیل ہیں تجھے اس میں کچھ شک نہ کرنا چاہے۔ میری مانتا چلا جا یہی صراط مستقیم ہے “۔
ابن زبعری کی جرات دیکھئیے خطاب اہل مکہ سے ہے اور ان کی ان تصویروں اور پتھروں کے لیے کہا گیا ہے جنہیں وہ سوائے اللہ کے پوجا کرتے تھے نہ کہ عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ پاک نفس کے لیے جو غیر اللہ کی عبادت سے روکتے تھے۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں لفظ «ما» جو یہاں ہے وہ عرب میں ان کے لیے آتا ہے جو بے جان اور بے عقل ہوں۔
صفحہ نمبر5527
یہ ابن زبعری اس کے بعد مسلمان ہوگئے تھے رضی اللہ عنہ۔ یہ بڑے مشہور شاعر تھے۔ پہلے انہوں نے مسلمانوں کی دل کھول کر دھول اڑائی تھی لیکن مسلمان ہونے کے بعد معذرت کی۔
موت کی گھبراہٹ، اس گھڑی کی گھبراہٹ جبکہ جہنم پر ڈھکن ڈھک دیا جائے گا جب کہ موت کو دوزخ جنت کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا۔ غرض کسی اندیشے کا نزول ان پر نہ ہوگا وہ ہر غم و ہراس سے دور ہوں گے، پورے مسرور ہوں گے، خوش ہوں گے اور ناخوشی سے کوسوں الگ ہوں گے۔ فرشتوں کے پرے کے پرے ان سے ملاقاتیں کر رہے ہوں گے اور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے کہتے ہوں گے کہ اسی دن کا وعدہ تم سے کیا گیا تھا، اس وقت تم قبروں سے اٹھنے کے دن کے منتظر رہو۔
صفحہ نمبر5528
اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں تمام کائنات ٭٭
” یہ قیامت کے دن ہوگا جب ہم آسمان کو لپیٹ لیں گے “۔ جیسے فرمایا آیت «وَمَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ» [39-الزمر:67] ” ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی تھی، جانا ہی نہیں “۔ تمام زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے ہر چیز سے جسے لوگ اس کا شریک ٹھہرا رہے ہیں۔
بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمینوں کو مٹھی میں لے لے گا اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:7412]
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ساتوں آسمانوں کو اور وہاں کی کل مخلوق کو، ساتوں زمینوں کو اور اس کی کل کائنات کو اللہ تعالیٰ اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا وہ اس کے ہاتھ میں ایسے ہوں گے جیسے رائی کا دانہ۔“
«سِّجِلِّ» سے مراد کتاب ہے، اور کہا گیا ہے کہ مراد یہاں ایک فرشتہ ہے۔ جب کسی کا استغفار چڑھتا ہے تو وہ کہتا ہے اسے نور لکھ لو۔ یہ فرشتہ نامہ اعمال پر مقرر ہے۔ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کی کتاب کو اور کتابوں کے ساتھ لپیٹ کر اسے قیامت کے لیے رکھ دیتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ نام ہے اس صحابی کا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب وحی تھا۔ [سنن ابوداود:2935،قال الشيخ الألباني:ضعیف] لیکن یہ روایت ثابت نہیں اکثر حفاظ حدیث نے ان سب کو موضوع کہا ہے خصوصا ہمارے استاد حافظ کبیر ابو الحجاج مزی رحمتہ اللہ نے۔
میں نے اس حدیث کو ایک الگ کتاب میں لکھا ہے۔ امام جعفر بن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اس حدیث پر بہت ہی انکار کیا ہے اور اس کی خوب تردید کی اور فرمایا ہے کہ ” «سِّجِلِّ» نام کا کوئی صحابی ہے ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کاتبوں کے نام مشہور ومعروف ہیں کسی کا نام «سِّجِلِّ» نہیں۔
فی الواقع امام صاحب نے صحیح اور درست فرمایا یہ بڑی وجہ ہے اس حدیث کے منکر ہونے کی۔ بلکہ یہ بھی یاد رہے کہ جس نے اس صحابی کا ذکر کیا ہے اس نے اسی حدیث پر اعتماد کر کے ذکر کیا ہے اور لغتاً بھی یہی بات ہے پس فرمان ہے ” جس دن ہم آسمان کو لپیٹ لیں گے اس طرح جیسے لکھی ہوئی کتاب لپیٹی جاتی ہے “۔
صفحہ نمبر5534
لام یہاں پر معنی میں علیٰ کے ہے جیسے «فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ» [37-الصافات:103] میں لام معنی میں علیٰ ہے۔ لغت میں اس کی اور نظیریں بھی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ یقیناً ہو کر رہے گا۔ اس دن اللہ تعالیٰ نئے سرے سے مخلوق کو پہلے کی طرح پیدا کرے گا۔ جو ابتداء پر قادر تھا وہ اعادہ پر بھی اس سے زیادہ قادر ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اس کے وعدے اٹل ہوتے ہیں، وہ کبھی بدلتے نہیں، نہ ان میں تضاد ہوتا ہے۔ وہ تمام چیزوں پر قادر ہے وہ اسے پورا کر کے ہی رہے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اپنے ایک وعظ میں فرمایا: تم لوگ اللہ کے سامنے جمع ہونے والے ہو۔ ننگے پیر ننگے بدن بے ختنے ” جیسے ہم نے پہلی بار پیدا کیا اسی طرح دوبارہ لوٹائینگے یہ ہمارا وعدہ ہے جسے ہم پورا کر کے رہیں گے “ ، الخ۔ [صحیح بخاری:4740] سب چیزیں نیست و نابود ہو جائیں گی پھر بنائی جائیں گی۔
صفحہ نمبر5535
سچا فیصلہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جس طرح آخرت میں دے گا اسی طرح دنیا میں بھی انہیں ملک و مال دیتا ہے، یہ اللہ کا حتمی وعدہ اور سچا فیصلہ ہے۔ جیسے فرمان آیت «إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّـهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» [7-الأعراف:128] ” زمین اللہ کی ہے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کار پرہیزگاروں کا حصہ ہے “۔
اور فرمان ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ» [40-غافر:51] ” ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی دنیا میں اور آخرت میں مدد فرماتے ہیں “۔ اور فرمان ہے کہ «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» [24-النور:55] ” تم میں سے ایمان داروں اور نیک لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں غالب بنائے گا جیسے کہ ان سے اگلوں کو بنایا اور ان کے لیے ان کے دین کو قوی کر دے گا جس سے وہ خوش ہے “۔
اور فرمایا کہ ” یہ شرعیہ اور قدریہ کتابوں میں مرقوم ہے، یقیناً ہو کر ہی رہے گا “۔ زبور سے مراد بقول سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ تورات انجیل اور قرآن ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں زبور سے مراد کتاب ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ زبور اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر اتری تھی۔
ذکر سے مراد یہاں پر توراۃ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ذکر سے مراد قرآن ہے۔“ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ذکر وہ ہے جو آسمانوں میں ہے یعنی اللہ کے پاس کی ام الکتاب جو سب سے پہلی کتاب ہے یعنی لوح محفوظ۔“
یہ بھی مروی ہے کہ زبور اور وہ آسمانی کتابیں جو پیغمبروں پرنازل ہوئیں اور ذکر مراد پہلی کتاب یعنی لوح محفوظ۔ فرماتے ہیں توراۃ زبور اور علم الٰہی میں پہلے ہی یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم زمین کی بادشاہ بنے گی اور نیک ہو کر جنت میں جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین سے مراد جنت کی زمین۔
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”صالح لوگ ہم ہی ہیں۔“ مراد اس سے با ایمان لوگ ہیں ” اس قرآن میں جو نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا ہے پوری نصیحت و کفایت ہے ان کے لیے جو ہمارے عبادت گزار بندے ہیں۔ جو ہماری مانتے ہیں اپنی خواہش کو ہمارے نام پر قربان کر دیتے ہیں “۔
پھر فرماتا کہ ” ہم نے اپنے اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے پس اس نعمت کی شکر گزاری کرنے والا دنیا و آخرت میں شادماں ہے اور ناقدری کرنے والا دونوں جہاں میں برباد و ناشاد ہے “۔
جیسے ارشاد ہے کہ «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ» [14-ابراھیم:27-28] ” کیا تم نے انہیں دیکھا جنہوں نے نعمت ربانی کی ناشکری کی اور اپنی قوم کو غارت کر دیا “۔
اس قرآن کی نسبت فرمایا کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» [41-فصلت:44] ” یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت وشفاء ہے بے ایمان بہرے اندھے ہیں “۔
صفحہ نمبر5536
صحیح مسلم میں ہے کہ ایک موقع پر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کافروں کے لیے بدعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ [صحیح مسلم:2599]
اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تو صرف رحمت وہدایت ہوں ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:490، ] اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ مجھے ایک قوم کی ترقی اور دوسری کے تنزل کے ساتھ بھیجا گیا ہے ۔
طبرانی میں ہے کہ ابو جہل نے کہا اے قریشیو! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یثرب میں چلا گیا ہے اپنے طلائیے کے لشکر ادھرادھر تمہاری جستجو میں بھیج رہا ہے۔ دیکھو ہوشیار رہنا وہ بھوکے شیر کی طرح تاک میں ہے وہ خار کھائے ہوئے ہے کیونکہ تم نے اسے نکال دیا ہے واللہ اس کے جادوگر بے مثال ہیں میں تو اسے یا اس کے ساتھیوں میں سے جس کسی کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان کے ساتھ شیطان نظر آتے ہیں تم جانتے ہو کہ اوس اور خزرج ہمارے دشمن ہیں اس دشمن کو ان دشمنوں نے پناہ دی ہے۔
اس پر مطعم بن عدی کہنے لگے ابو الحکم سنو تمہارے اس بھائی سے جسے تم نے اپنے ملک سے جلا وطن کر دیا ہے میں نے کسی کو زیادہ سچا اور زیادہ وعدے کا پورا کرنے والا نہیں پایا۔ اب جب کہ ایسے بھلے آدمی کے ساتھ تم یہ بدسلوکی کر چکے ہو تو اب تو اسے چھوڑو تمہیں چاہیئے اس سے بالکل الگ تھلک رہو۔ اس پر ابوسفیان بن حارث کہنے لگا نہیں تمہیں اس پر پوری سختی کرنی چاہیئے یاد رکھو اگر اس کے طرفدار تم پر غالب آ گئے تو تم کہیں کے نہ رہو گے وہ رشتہ دیکھیں گے نہ کنبہ میری رائے میں تو تمہیں مدینے والوں کو تنگ کر دینا چاہیئے کہ یا تو وہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نکال دیں اور وہ بیک بینی دوگوش تن تنہا رہ جائے یا ان مدینے والوں کا صفایا کر دینا چاہیئے اگر تم تیار ہو جاؤ تو میں مدینے کہ کونے کونے پر لشکر بٹھادوں گا اور انہیں ناکوں چنے چبوا دونگا۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ باتیں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم جس کہ ہاتھ میری جان ہے میں ہی انہیں قتل وغارت کروں گا اور قید کر کے پھر احسان کر کے چھوڑوں گا میں رحمت ہوں میرا بھیجنے والا اللہ ہے وہ مجھے اس دنیا سے نہ اٹھائے گا جب تک اپنے دین کو دنیا پر غالب نہ کر دے۔ میرے پانچ نام ہیں محمد، احمد، ماحی، یعنی میری وجہ سے اللہ کفر کو مٹا دے گا، حاشر اس لیے کہ لوگ میرے قدموں پر جمع کئے جائیں گے اور عاقب ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی تحت الحدیث:490،]
صفحہ نمبر5537
مسند احمد میں ہے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے بسا اوقات احادیث رسول کا مذاکرہ رہا کرتا تھا ایک دن حذیفہ رضی اللہ عنہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اے حذیفہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ جسے میں نے غصے میں برا بھلا کہہ دیا ہو یا اس پر لعنت کر دی ہو تو سمجھ لو کہ میں بھی تم جیسا ایک انسان ہی ہوں تمہاری طرح مجھے بھی غصہ آ جاتا ہے۔ ہاں البتہ میں چونکہ رحمتہ اللعالمین ہوں تو میری دعا ہے کہ اللہ میرے ان الفاظ کو بھی ان لوگوں کے لیے موجب رحمت بنا دے ۔ [سنن ابوداود:4659،قال الشيخ الألباني:صحیح]
رہی یہ بات کہ کفار کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت کیسے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”مؤمنوں کے لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت میں رحمت تھے اور غیر مؤمنوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں رحمت تھے کہ وہ زمین میں دھنسائے جانے سے، آسمان سے پتھر برسائے جانے سے بچ گئے۔ جیسے کہ اگلی امتوں کے منکروں پر عذاب آئے۔“
صفحہ نمبر5538
سچا فیصلہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جس طرح آخرت میں دے گا اسی طرح دنیا میں بھی انہیں ملک و مال دیتا ہے، یہ اللہ کا حتمی وعدہ اور سچا فیصلہ ہے۔ جیسے فرمان آیت «إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّـهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» [7-الأعراف:128] ” زمین اللہ کی ہے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کار پرہیزگاروں کا حصہ ہے “۔
اور فرمان ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ» [40-غافر:51] ” ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی دنیا میں اور آخرت میں مدد فرماتے ہیں “۔ اور فرمان ہے کہ «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» [24-النور:55] ” تم میں سے ایمان داروں اور نیک لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں غالب بنائے گا جیسے کہ ان سے اگلوں کو بنایا اور ان کے لیے ان کے دین کو قوی کر دے گا جس سے وہ خوش ہے “۔
اور فرمایا کہ ” یہ شرعیہ اور قدریہ کتابوں میں مرقوم ہے، یقیناً ہو کر ہی رہے گا “۔ زبور سے مراد بقول سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ تورات انجیل اور قرآن ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں زبور سے مراد کتاب ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ زبور اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر اتری تھی۔
ذکر سے مراد یہاں پر توراۃ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ذکر سے مراد قرآن ہے۔“ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ذکر وہ ہے جو آسمانوں میں ہے یعنی اللہ کے پاس کی ام الکتاب جو سب سے پہلی کتاب ہے یعنی لوح محفوظ۔“
یہ بھی مروی ہے کہ زبور اور وہ آسمانی کتابیں جو پیغمبروں پرنازل ہوئیں اور ذکر مراد پہلی کتاب یعنی لوح محفوظ۔ فرماتے ہیں توراۃ زبور اور علم الٰہی میں پہلے ہی یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم زمین کی بادشاہ بنے گی اور نیک ہو کر جنت میں جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین سے مراد جنت کی زمین۔
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”صالح لوگ ہم ہی ہیں۔“ مراد اس سے با ایمان لوگ ہیں ” اس قرآن میں جو نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا ہے پوری نصیحت و کفایت ہے ان کے لیے جو ہمارے عبادت گزار بندے ہیں۔ جو ہماری مانتے ہیں اپنی خواہش کو ہمارے نام پر قربان کر دیتے ہیں “۔
پھر فرماتا کہ ” ہم نے اپنے اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے پس اس نعمت کی شکر گزاری کرنے والا دنیا و آخرت میں شادماں ہے اور ناقدری کرنے والا دونوں جہاں میں برباد و ناشاد ہے “۔
جیسے ارشاد ہے کہ «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ» [14-ابراھیم:27-28] ” کیا تم نے انہیں دیکھا جنہوں نے نعمت ربانی کی ناشکری کی اور اپنی قوم کو غارت کر دیا “۔
اس قرآن کی نسبت فرمایا کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» [41-فصلت:44] ” یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت وشفاء ہے بے ایمان بہرے اندھے ہیں “۔
صفحہ نمبر5536
صحیح مسلم میں ہے کہ ایک موقع پر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کافروں کے لیے بدعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ [صحیح مسلم:2599]
اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تو صرف رحمت وہدایت ہوں ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:490، ] اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ مجھے ایک قوم کی ترقی اور دوسری کے تنزل کے ساتھ بھیجا گیا ہے ۔
طبرانی میں ہے کہ ابو جہل نے کہا اے قریشیو! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یثرب میں چلا گیا ہے اپنے طلائیے کے لشکر ادھرادھر تمہاری جستجو میں بھیج رہا ہے۔ دیکھو ہوشیار رہنا وہ بھوکے شیر کی طرح تاک میں ہے وہ خار کھائے ہوئے ہے کیونکہ تم نے اسے نکال دیا ہے واللہ اس کے جادوگر بے مثال ہیں میں تو اسے یا اس کے ساتھیوں میں سے جس کسی کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان کے ساتھ شیطان نظر آتے ہیں تم جانتے ہو کہ اوس اور خزرج ہمارے دشمن ہیں اس دشمن کو ان دشمنوں نے پناہ دی ہے۔
اس پر مطعم بن عدی کہنے لگے ابو الحکم سنو تمہارے اس بھائی سے جسے تم نے اپنے ملک سے جلا وطن کر دیا ہے میں نے کسی کو زیادہ سچا اور زیادہ وعدے کا پورا کرنے والا نہیں پایا۔ اب جب کہ ایسے بھلے آدمی کے ساتھ تم یہ بدسلوکی کر چکے ہو تو اب تو اسے چھوڑو تمہیں چاہیئے اس سے بالکل الگ تھلک رہو۔ اس پر ابوسفیان بن حارث کہنے لگا نہیں تمہیں اس پر پوری سختی کرنی چاہیئے یاد رکھو اگر اس کے طرفدار تم پر غالب آ گئے تو تم کہیں کے نہ رہو گے وہ رشتہ دیکھیں گے نہ کنبہ میری رائے میں تو تمہیں مدینے والوں کو تنگ کر دینا چاہیئے کہ یا تو وہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نکال دیں اور وہ بیک بینی دوگوش تن تنہا رہ جائے یا ان مدینے والوں کا صفایا کر دینا چاہیئے اگر تم تیار ہو جاؤ تو میں مدینے کہ کونے کونے پر لشکر بٹھادوں گا اور انہیں ناکوں چنے چبوا دونگا۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ باتیں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم جس کہ ہاتھ میری جان ہے میں ہی انہیں قتل وغارت کروں گا اور قید کر کے پھر احسان کر کے چھوڑوں گا میں رحمت ہوں میرا بھیجنے والا اللہ ہے وہ مجھے اس دنیا سے نہ اٹھائے گا جب تک اپنے دین کو دنیا پر غالب نہ کر دے۔ میرے پانچ نام ہیں محمد، احمد، ماحی، یعنی میری وجہ سے اللہ کفر کو مٹا دے گا، حاشر اس لیے کہ لوگ میرے قدموں پر جمع کئے جائیں گے اور عاقب ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی تحت الحدیث:490،]
صفحہ نمبر5537
مسند احمد میں ہے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے بسا اوقات احادیث رسول کا مذاکرہ رہا کرتا تھا ایک دن حذیفہ رضی اللہ عنہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اے حذیفہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ جسے میں نے غصے میں برا بھلا کہہ دیا ہو یا اس پر لعنت کر دی ہو تو سمجھ لو کہ میں بھی تم جیسا ایک انسان ہی ہوں تمہاری طرح مجھے بھی غصہ آ جاتا ہے۔ ہاں البتہ میں چونکہ رحمتہ اللعالمین ہوں تو میری دعا ہے کہ اللہ میرے ان الفاظ کو بھی ان لوگوں کے لیے موجب رحمت بنا دے ۔ [سنن ابوداود:4659،قال الشيخ الألباني:صحیح]
رہی یہ بات کہ کفار کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت کیسے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”مؤمنوں کے لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت میں رحمت تھے اور غیر مؤمنوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں رحمت تھے کہ وہ زمین میں دھنسائے جانے سے، آسمان سے پتھر برسائے جانے سے بچ گئے۔ جیسے کہ اگلی امتوں کے منکروں پر عذاب آئے۔“
صفحہ نمبر5538
سچا فیصلہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جس طرح آخرت میں دے گا اسی طرح دنیا میں بھی انہیں ملک و مال دیتا ہے، یہ اللہ کا حتمی وعدہ اور سچا فیصلہ ہے۔ جیسے فرمان آیت «إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّـهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» [7-الأعراف:128] ” زمین اللہ کی ہے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کار پرہیزگاروں کا حصہ ہے “۔
اور فرمان ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ» [40-غافر:51] ” ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی دنیا میں اور آخرت میں مدد فرماتے ہیں “۔ اور فرمان ہے کہ «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» [24-النور:55] ” تم میں سے ایمان داروں اور نیک لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں غالب بنائے گا جیسے کہ ان سے اگلوں کو بنایا اور ان کے لیے ان کے دین کو قوی کر دے گا جس سے وہ خوش ہے “۔
اور فرمایا کہ ” یہ شرعیہ اور قدریہ کتابوں میں مرقوم ہے، یقیناً ہو کر ہی رہے گا “۔ زبور سے مراد بقول سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ تورات انجیل اور قرآن ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں زبور سے مراد کتاب ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ زبور اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر اتری تھی۔
ذکر سے مراد یہاں پر توراۃ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ذکر سے مراد قرآن ہے۔“ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ذکر وہ ہے جو آسمانوں میں ہے یعنی اللہ کے پاس کی ام الکتاب جو سب سے پہلی کتاب ہے یعنی لوح محفوظ۔“
یہ بھی مروی ہے کہ زبور اور وہ آسمانی کتابیں جو پیغمبروں پرنازل ہوئیں اور ذکر مراد پہلی کتاب یعنی لوح محفوظ۔ فرماتے ہیں توراۃ زبور اور علم الٰہی میں پہلے ہی یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم زمین کی بادشاہ بنے گی اور نیک ہو کر جنت میں جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین سے مراد جنت کی زمین۔
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”صالح لوگ ہم ہی ہیں۔“ مراد اس سے با ایمان لوگ ہیں ” اس قرآن میں جو نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا ہے پوری نصیحت و کفایت ہے ان کے لیے جو ہمارے عبادت گزار بندے ہیں۔ جو ہماری مانتے ہیں اپنی خواہش کو ہمارے نام پر قربان کر دیتے ہیں “۔
پھر فرماتا کہ ” ہم نے اپنے اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے پس اس نعمت کی شکر گزاری کرنے والا دنیا و آخرت میں شادماں ہے اور ناقدری کرنے والا دونوں جہاں میں برباد و ناشاد ہے “۔
جیسے ارشاد ہے کہ «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ» [14-ابراھیم:27-28] ” کیا تم نے انہیں دیکھا جنہوں نے نعمت ربانی کی ناشکری کی اور اپنی قوم کو غارت کر دیا “۔
اس قرآن کی نسبت فرمایا کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» [41-فصلت:44] ” یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت وشفاء ہے بے ایمان بہرے اندھے ہیں “۔
صفحہ نمبر5536
صحیح مسلم میں ہے کہ ایک موقع پر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کافروں کے لیے بدعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ [صحیح مسلم:2599]
اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تو صرف رحمت وہدایت ہوں ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:490، ] اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ مجھے ایک قوم کی ترقی اور دوسری کے تنزل کے ساتھ بھیجا گیا ہے ۔
طبرانی میں ہے کہ ابو جہل نے کہا اے قریشیو! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یثرب میں چلا گیا ہے اپنے طلائیے کے لشکر ادھرادھر تمہاری جستجو میں بھیج رہا ہے۔ دیکھو ہوشیار رہنا وہ بھوکے شیر کی طرح تاک میں ہے وہ خار کھائے ہوئے ہے کیونکہ تم نے اسے نکال دیا ہے واللہ اس کے جادوگر بے مثال ہیں میں تو اسے یا اس کے ساتھیوں میں سے جس کسی کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان کے ساتھ شیطان نظر آتے ہیں تم جانتے ہو کہ اوس اور خزرج ہمارے دشمن ہیں اس دشمن کو ان دشمنوں نے پناہ دی ہے۔
اس پر مطعم بن عدی کہنے لگے ابو الحکم سنو تمہارے اس بھائی سے جسے تم نے اپنے ملک سے جلا وطن کر دیا ہے میں نے کسی کو زیادہ سچا اور زیادہ وعدے کا پورا کرنے والا نہیں پایا۔ اب جب کہ ایسے بھلے آدمی کے ساتھ تم یہ بدسلوکی کر چکے ہو تو اب تو اسے چھوڑو تمہیں چاہیئے اس سے بالکل الگ تھلک رہو۔ اس پر ابوسفیان بن حارث کہنے لگا نہیں تمہیں اس پر پوری سختی کرنی چاہیئے یاد رکھو اگر اس کے طرفدار تم پر غالب آ گئے تو تم کہیں کے نہ رہو گے وہ رشتہ دیکھیں گے نہ کنبہ میری رائے میں تو تمہیں مدینے والوں کو تنگ کر دینا چاہیئے کہ یا تو وہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نکال دیں اور وہ بیک بینی دوگوش تن تنہا رہ جائے یا ان مدینے والوں کا صفایا کر دینا چاہیئے اگر تم تیار ہو جاؤ تو میں مدینے کہ کونے کونے پر لشکر بٹھادوں گا اور انہیں ناکوں چنے چبوا دونگا۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ باتیں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم جس کہ ہاتھ میری جان ہے میں ہی انہیں قتل وغارت کروں گا اور قید کر کے پھر احسان کر کے چھوڑوں گا میں رحمت ہوں میرا بھیجنے والا اللہ ہے وہ مجھے اس دنیا سے نہ اٹھائے گا جب تک اپنے دین کو دنیا پر غالب نہ کر دے۔ میرے پانچ نام ہیں محمد، احمد، ماحی، یعنی میری وجہ سے اللہ کفر کو مٹا دے گا، حاشر اس لیے کہ لوگ میرے قدموں پر جمع کئے جائیں گے اور عاقب ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی تحت الحدیث:490،]
صفحہ نمبر5537
مسند احمد میں ہے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے بسا اوقات احادیث رسول کا مذاکرہ رہا کرتا تھا ایک دن حذیفہ رضی اللہ عنہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اے حذیفہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ جسے میں نے غصے میں برا بھلا کہہ دیا ہو یا اس پر لعنت کر دی ہو تو سمجھ لو کہ میں بھی تم جیسا ایک انسان ہی ہوں تمہاری طرح مجھے بھی غصہ آ جاتا ہے۔ ہاں البتہ میں چونکہ رحمتہ اللعالمین ہوں تو میری دعا ہے کہ اللہ میرے ان الفاظ کو بھی ان لوگوں کے لیے موجب رحمت بنا دے ۔ [سنن ابوداود:4659،قال الشيخ الألباني:صحیح]
رہی یہ بات کہ کفار کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت کیسے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”مؤمنوں کے لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت میں رحمت تھے اور غیر مؤمنوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں رحمت تھے کہ وہ زمین میں دھنسائے جانے سے، آسمان سے پتھر برسائے جانے سے بچ گئے۔ جیسے کہ اگلی امتوں کے منکروں پر عذاب آئے۔“
صفحہ نمبر5538
جلد یا بدیر حق غالب ہو گا ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے فرما دیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کر لو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے “۔
جیسے آیت میں ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [10-یونس:41] ” اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں “۔
اور آیت میں ہے «وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاءٍ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاىِٕنِيْنَ» [8-الأنفال:58] یعنی ” اگر تجھے کسی قوم سے خیانت و بد عہدی کا اندیشہ ہو تو عہد توڑ دینے کی انہیں فوراً خبردے دو “۔
اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ” اگر تم علیحدگی اختیار کرو تو ہمارے تمہارے تعلقات منقطع ہیں۔ یقین مانو کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ پورا ہونے والا تو ضرور ہے اب خواہ ابھی ہو خواہ دیر سے اس کا خود مجھے علم نہیں “۔
ظاہر و باطن کا عالم اللہ ہی ہے جو تم ظاہر کرو اور جو چھپاؤ اسے سب کا علم ہے۔ بندوں کے کل اعمال ظاہر اور پوشیدہ اس پر آشکارا ہیں۔ چھوٹا بڑا کھلا عمل چھپا سب کچھ وہ جانتا ہے۔ ممکن ہے اس کی تاخیر بھی تمہاری آزمائش ہو اور تمہیں تمہاری زندگانی تک نفع دینا ہو۔ انبیاء علیہم السلام کو جو دعا تعلیم ہوئی تھی کہ ” اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں تو سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی قسم کی دعا کا حکم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی غزوے میں جاتے تو دعا کرتے کہ «رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» [7-الأعراف:89] ” میرے رب تو سچا فیصلہ فرما۔ ہم اپنے مہربان رب سے ہی مدد طلب کرتے ہیں کہ وہ تمہارے جھوٹ افتراؤں کو ہم سے ٹالے اس میں ہمارا مددگار وہی ہے “۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الانبیاء کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر5541
جلد یا بدیر حق غالب ہو گا ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے فرما دیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کر لو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے “۔
جیسے آیت میں ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [10-یونس:41] ” اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں “۔
اور آیت میں ہے «وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاءٍ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاىِٕنِيْنَ» [8-الأنفال:58] یعنی ” اگر تجھے کسی قوم سے خیانت و بد عہدی کا اندیشہ ہو تو عہد توڑ دینے کی انہیں فوراً خبردے دو “۔
اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ” اگر تم علیحدگی اختیار کرو تو ہمارے تمہارے تعلقات منقطع ہیں۔ یقین مانو کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ پورا ہونے والا تو ضرور ہے اب خواہ ابھی ہو خواہ دیر سے اس کا خود مجھے علم نہیں “۔
ظاہر و باطن کا عالم اللہ ہی ہے جو تم ظاہر کرو اور جو چھپاؤ اسے سب کا علم ہے۔ بندوں کے کل اعمال ظاہر اور پوشیدہ اس پر آشکارا ہیں۔ چھوٹا بڑا کھلا عمل چھپا سب کچھ وہ جانتا ہے۔ ممکن ہے اس کی تاخیر بھی تمہاری آزمائش ہو اور تمہیں تمہاری زندگانی تک نفع دینا ہو۔ انبیاء علیہم السلام کو جو دعا تعلیم ہوئی تھی کہ ” اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں تو سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی قسم کی دعا کا حکم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی غزوے میں جاتے تو دعا کرتے کہ «رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» [7-الأعراف:89] ” میرے رب تو سچا فیصلہ فرما۔ ہم اپنے مہربان رب سے ہی مدد طلب کرتے ہیں کہ وہ تمہارے جھوٹ افتراؤں کو ہم سے ٹالے اس میں ہمارا مددگار وہی ہے “۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الانبیاء کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر5541
جلد یا بدیر حق غالب ہو گا ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے فرما دیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کر لو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے “۔
جیسے آیت میں ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [10-یونس:41] ” اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں “۔
اور آیت میں ہے «وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاءٍ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاىِٕنِيْنَ» [8-الأنفال:58] یعنی ” اگر تجھے کسی قوم سے خیانت و بد عہدی کا اندیشہ ہو تو عہد توڑ دینے کی انہیں فوراً خبردے دو “۔
اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ” اگر تم علیحدگی اختیار کرو تو ہمارے تمہارے تعلقات منقطع ہیں۔ یقین مانو کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ پورا ہونے والا تو ضرور ہے اب خواہ ابھی ہو خواہ دیر سے اس کا خود مجھے علم نہیں “۔
ظاہر و باطن کا عالم اللہ ہی ہے جو تم ظاہر کرو اور جو چھپاؤ اسے سب کا علم ہے۔ بندوں کے کل اعمال ظاہر اور پوشیدہ اس پر آشکارا ہیں۔ چھوٹا بڑا کھلا عمل چھپا سب کچھ وہ جانتا ہے۔ ممکن ہے اس کی تاخیر بھی تمہاری آزمائش ہو اور تمہیں تمہاری زندگانی تک نفع دینا ہو۔ انبیاء علیہم السلام کو جو دعا تعلیم ہوئی تھی کہ ” اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں تو سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی قسم کی دعا کا حکم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی غزوے میں جاتے تو دعا کرتے کہ «رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» [7-الأعراف:89] ” میرے رب تو سچا فیصلہ فرما۔ ہم اپنے مہربان رب سے ہی مدد طلب کرتے ہیں کہ وہ تمہارے جھوٹ افتراؤں کو ہم سے ٹالے اس میں ہمارا مددگار وہی ہے “۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الانبیاء کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر5541
جلد یا بدیر حق غالب ہو گا ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے فرما دیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کر لو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے “۔
جیسے آیت میں ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [10-یونس:41] ” اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں “۔
اور آیت میں ہے «وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاءٍ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاىِٕنِيْنَ» [8-الأنفال:58] یعنی ” اگر تجھے کسی قوم سے خیانت و بد عہدی کا اندیشہ ہو تو عہد توڑ دینے کی انہیں فوراً خبردے دو “۔
اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ” اگر تم علیحدگی اختیار کرو تو ہمارے تمہارے تعلقات منقطع ہیں۔ یقین مانو کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ پورا ہونے والا تو ضرور ہے اب خواہ ابھی ہو خواہ دیر سے اس کا خود مجھے علم نہیں “۔
ظاہر و باطن کا عالم اللہ ہی ہے جو تم ظاہر کرو اور جو چھپاؤ اسے سب کا علم ہے۔ بندوں کے کل اعمال ظاہر اور پوشیدہ اس پر آشکارا ہیں۔ چھوٹا بڑا کھلا عمل چھپا سب کچھ وہ جانتا ہے۔ ممکن ہے اس کی تاخیر بھی تمہاری آزمائش ہو اور تمہیں تمہاری زندگانی تک نفع دینا ہو۔ انبیاء علیہم السلام کو جو دعا تعلیم ہوئی تھی کہ ” اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں تو سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی قسم کی دعا کا حکم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی غزوے میں جاتے تو دعا کرتے کہ «رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» [7-الأعراف:89] ” میرے رب تو سچا فیصلہ فرما۔ ہم اپنے مہربان رب سے ہی مدد طلب کرتے ہیں کہ وہ تمہارے جھوٹ افتراؤں کو ہم سے ٹالے اس میں ہمارا مددگار وہی ہے “۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الانبیاء کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر5541
جلد یا بدیر حق غالب ہو گا ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے فرما دیں کہ میری جانب یہی وحی کی جاتی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے تم سب بھی اسے تسلیم کر لو۔ اور اگر تم میری بات پہ یقین نہیں کرتے تو ہم تم جدا ہیں تم ہمارے دشمن ہو ہم تمہارے “۔
جیسے آیت میں ہے کہ «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [10-یونس:41] ” اگر یہ جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو اور میں تمہارے کرتوتوں سے بیزار ہوں “۔
اور آیت میں ہے «وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاءٍ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاىِٕنِيْنَ» [8-الأنفال:58] یعنی ” اگر تجھے کسی قوم سے خیانت و بد عہدی کا اندیشہ ہو تو عہد توڑ دینے کی انہیں فوراً خبردے دو “۔
اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ” اگر تم علیحدگی اختیار کرو تو ہمارے تمہارے تعلقات منقطع ہیں۔ یقین مانو کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ پورا ہونے والا تو ضرور ہے اب خواہ ابھی ہو خواہ دیر سے اس کا خود مجھے علم نہیں “۔
ظاہر و باطن کا عالم اللہ ہی ہے جو تم ظاہر کرو اور جو چھپاؤ اسے سب کا علم ہے۔ بندوں کے کل اعمال ظاہر اور پوشیدہ اس پر آشکارا ہیں۔ چھوٹا بڑا کھلا عمل چھپا سب کچھ وہ جانتا ہے۔ ممکن ہے اس کی تاخیر بھی تمہاری آزمائش ہو اور تمہیں تمہاری زندگانی تک نفع دینا ہو۔ انبیاء علیہم السلام کو جو دعا تعلیم ہوئی تھی کہ ” اے اللہ ہم میں اور ہماری قوم میں تو سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی قسم کی دعا کا حکم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی غزوے میں جاتے تو دعا کرتے کہ «رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» [7-الأعراف:89] ” میرے رب تو سچا فیصلہ فرما۔ ہم اپنے مہربان رب سے ہی مدد طلب کرتے ہیں کہ وہ تمہارے جھوٹ افتراؤں کو ہم سے ٹالے اس میں ہمارا مددگار وہی ہے “۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الانبیاء کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر5541