John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Anbiyaa

Tafsir Ibn Kathir · The Prophets · 112 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

تفسیر سورۃ الأنبیاء :

صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورۃ بنی اسرائیل، سورۃ کہف، سورۃ مریم، سورۃ طہ اور سورۃ انبیا عتاق اول سے ہیں اور یہی تلادی ہیں۔ [صحیح بخاری:4739] ‏

قیامت سے غافل انسان ٭٭

اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ ” قیامت قریب آ گئی ہے۔ پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لیے کوئی تیاری کر رہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہو گئے ہیں “۔

جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ» [16-النحل:1] ‏ ” امر ربی آ گیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو؟ “

دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54-القمر:2-1] ‏ ” قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا “ الخ۔

ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے «(‏النَّاسُ فِي غَفَلَاتِهِمْ)‏» «(‏وَرَحَا الْمَنِيَّةِ تَطْحَنُ)‏» ”موت کی چکی زور زور سے چل رہی ہے اور لوگ غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔‏“

صفحہ نمبر5372

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے ہاں ایک صاحب مہمان بن کر آئے، انہوں نے بڑے اکرام اور احترام سے انہیں اپنے ہاں اتارا اور ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سفارش کی۔ ایک دن یہ بزرگ مہمان ان کے پاس آئے اور کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فلاں وادی عطا فرما دی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس بہترین زمین کا ایک ٹکڑا میں آپ کے نام کردوں کہ آپ کو بھی فارغ البالی رہے اور آپ کے بعد آپ کے بال بچے بھی آسودگی سے گزر کریں۔ عامر رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ بھائی مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے کہ ہمیں تو دنیا کڑوی معلوم ہونے لگی ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ» کی تلاوت فرمائی۔ [میزان الاعتدال:256/2:ضعیف] ‏

اس کے بعد کفار قریش اور انہی جیسے اور کافروں کی بابت فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ کلام اللہ اور وحی الٰہی کی طرف کان ہی نہیں لگاتے۔ یہ تازہ اور نیا آیا ہوا ذکر دل لگا کر سنتے ہی نہیں۔ اس کان سنتے ہیں اس کان اڑا دیتے ہیں۔ دل ہنسی کھیل میں مشغول ہیں “۔

بخاری شریف میں ہے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمہیں اہل کتاب کی کتابوں کی باتوں کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے تو کتاب اللہ میں بہت کچھ ردوبدل کر لیا، تحریف اور تبدیلی کرلی، کمی زیادتی کرلی اور تمہارے پاس تو اللہ کی اتاری ہوئی خالص کتاب موجود ہے جس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہونے پائی۔ [صحیح بخاری:7523] ‏

یہ لوگ کتاب اللہ سے بے پرواہی کررہے ہیں اپنے دلوں کو اس کے اثر سے خالی رکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یہ ظالم اوروں کو بھی بہکاتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنے جیسے ایک انسان کی ماتحتی تو ہم نہیں کر سکتے۔ تم کیسے لوگ ہو کہ دیکھتے بھالتے جادو کو مان رہے ہو؟ یہ ناممکن ہے کہ ہم جیسے آدمی کو اللہ تعالیٰ رسالت اور وحی کے ساتھ مختص کر دے، پھر تعجب ہے کہ لوگ باوجود علم کے اس کے جادو میں آجاتے ہیں؟

صفحہ نمبر5373

تفسیر سورۃ الأنبیاء :

صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورۃ بنی اسرائیل، سورۃ کہف، سورۃ مریم، سورۃ طہ اور سورۃ انبیا عتاق اول سے ہیں اور یہی تلادی ہیں۔ [صحیح بخاری:4739] ‏

قیامت سے غافل انسان ٭٭

اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ ” قیامت قریب آ گئی ہے۔ پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لیے کوئی تیاری کر رہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہو گئے ہیں “۔

جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ» [16-النحل:1] ‏ ” امر ربی آ گیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو؟ “

دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54-القمر:2-1] ‏ ” قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا “ الخ۔

ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے «(‏النَّاسُ فِي غَفَلَاتِهِمْ)‏» «(‏وَرَحَا الْمَنِيَّةِ تَطْحَنُ)‏» ”موت کی چکی زور زور سے چل رہی ہے اور لوگ غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔‏“

صفحہ نمبر5372

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے ہاں ایک صاحب مہمان بن کر آئے، انہوں نے بڑے اکرام اور احترام سے انہیں اپنے ہاں اتارا اور ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سفارش کی۔ ایک دن یہ بزرگ مہمان ان کے پاس آئے اور کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فلاں وادی عطا فرما دی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس بہترین زمین کا ایک ٹکڑا میں آپ کے نام کردوں کہ آپ کو بھی فارغ البالی رہے اور آپ کے بعد آپ کے بال بچے بھی آسودگی سے گزر کریں۔ عامر رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ بھائی مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے کہ ہمیں تو دنیا کڑوی معلوم ہونے لگی ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ» کی تلاوت فرمائی۔ [میزان الاعتدال:256/2:ضعیف] ‏

اس کے بعد کفار قریش اور انہی جیسے اور کافروں کی بابت فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ کلام اللہ اور وحی الٰہی کی طرف کان ہی نہیں لگاتے۔ یہ تازہ اور نیا آیا ہوا ذکر دل لگا کر سنتے ہی نہیں۔ اس کان سنتے ہیں اس کان اڑا دیتے ہیں۔ دل ہنسی کھیل میں مشغول ہیں “۔

بخاری شریف میں ہے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمہیں اہل کتاب کی کتابوں کی باتوں کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے تو کتاب اللہ میں بہت کچھ ردوبدل کر لیا، تحریف اور تبدیلی کرلی، کمی زیادتی کرلی اور تمہارے پاس تو اللہ کی اتاری ہوئی خالص کتاب موجود ہے جس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہونے پائی۔ [صحیح بخاری:7523] ‏

یہ لوگ کتاب اللہ سے بے پرواہی کررہے ہیں اپنے دلوں کو اس کے اثر سے خالی رکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یہ ظالم اوروں کو بھی بہکاتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنے جیسے ایک انسان کی ماتحتی تو ہم نہیں کر سکتے۔ تم کیسے لوگ ہو کہ دیکھتے بھالتے جادو کو مان رہے ہو؟ یہ ناممکن ہے کہ ہم جیسے آدمی کو اللہ تعالیٰ رسالت اور وحی کے ساتھ مختص کر دے، پھر تعجب ہے کہ لوگ باوجود علم کے اس کے جادو میں آجاتے ہیں؟

صفحہ نمبر5373

تفسیر سورۃ الأنبیاء :

صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورۃ بنی اسرائیل، سورۃ کہف، سورۃ مریم، سورۃ طہ اور سورۃ انبیا عتاق اول سے ہیں اور یہی تلادی ہیں۔ [صحیح بخاری:4739] ‏

قیامت سے غافل انسان ٭٭

اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ ” قیامت قریب آ گئی ہے۔ پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لیے کوئی تیاری کر رہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہو گئے ہیں “۔

جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ» [16-النحل:1] ‏ ” امر ربی آ گیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو؟ “

دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54-القمر:2-1] ‏ ” قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا “ الخ۔

ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے «(‏النَّاسُ فِي غَفَلَاتِهِمْ)‏» «(‏وَرَحَا الْمَنِيَّةِ تَطْحَنُ)‏» ”موت کی چکی زور زور سے چل رہی ہے اور لوگ غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔‏“

صفحہ نمبر5372

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے ہاں ایک صاحب مہمان بن کر آئے، انہوں نے بڑے اکرام اور احترام سے انہیں اپنے ہاں اتارا اور ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سفارش کی۔ ایک دن یہ بزرگ مہمان ان کے پاس آئے اور کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فلاں وادی عطا فرما دی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس بہترین زمین کا ایک ٹکڑا میں آپ کے نام کردوں کہ آپ کو بھی فارغ البالی رہے اور آپ کے بعد آپ کے بال بچے بھی آسودگی سے گزر کریں۔ عامر رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ بھائی مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے کہ ہمیں تو دنیا کڑوی معلوم ہونے لگی ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ» کی تلاوت فرمائی۔ [میزان الاعتدال:256/2:ضعیف] ‏

اس کے بعد کفار قریش اور انہی جیسے اور کافروں کی بابت فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ کلام اللہ اور وحی الٰہی کی طرف کان ہی نہیں لگاتے۔ یہ تازہ اور نیا آیا ہوا ذکر دل لگا کر سنتے ہی نہیں۔ اس کان سنتے ہیں اس کان اڑا دیتے ہیں۔ دل ہنسی کھیل میں مشغول ہیں “۔

بخاری شریف میں ہے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمہیں اہل کتاب کی کتابوں کی باتوں کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے تو کتاب اللہ میں بہت کچھ ردوبدل کر لیا، تحریف اور تبدیلی کرلی، کمی زیادتی کرلی اور تمہارے پاس تو اللہ کی اتاری ہوئی خالص کتاب موجود ہے جس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہونے پائی۔ [صحیح بخاری:7523] ‏

یہ لوگ کتاب اللہ سے بے پرواہی کررہے ہیں اپنے دلوں کو اس کے اثر سے خالی رکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یہ ظالم اوروں کو بھی بہکاتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنے جیسے ایک انسان کی ماتحتی تو ہم نہیں کر سکتے۔ تم کیسے لوگ ہو کہ دیکھتے بھالتے جادو کو مان رہے ہو؟ یہ ناممکن ہے کہ ہم جیسے آدمی کو اللہ تعالیٰ رسالت اور وحی کے ساتھ مختص کر دے، پھر تعجب ہے کہ لوگ باوجود علم کے اس کے جادو میں آجاتے ہیں؟

صفحہ نمبر5373

باب

ان بدکرداروں کے جواب میں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ” یہ جو بہتان باندھتے ہیں ان سے کہئے کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے جس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں، اس نے اس پاک کلام قرآن کریم کو نازل فرمایا۔ اس میں اگلی پچھلی تمام خبروں کا موجود ہونا ہی دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا اتارنے والا عالم الغیب ہے۔ وہ تمہاری سب باتوں کا سننے والا اور تمہارے تمام حالات کا علم رکھنے والا ہے۔ پس تمہیں اس کا ڈر رکھنا چاہیئے “۔

پھر کفار کی ضد، ناسمجھی اور کٹ حجتی بیان فرما رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حیران ہیں۔ کسی بات پر جم نہیں سکتے۔ کبھی کلام اللہ کو جادو کہتے ہیں تو کبھی شاعری کہتے ہیں۔ کبھی پراگندہ اور بے معنی باتیں کہتے ہیں اور کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ازخود گھڑلیا ہوا بتاتے ہیں۔

اور آیت میں ہے «انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا» [17-الإسراء:48 و 25-الفرقان:9] ‏ ” دیکھیں تو سہی، آپ کے لیے کیا کیا مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وه بہک رہے ہیں۔ اب تو راه پانا ان کے بس میں نہیں رہا “۔

خیال کرو کہ اپنے کسی قول پر بھروسہ نہ رکھنے والا، جو زبان پر چڑھے بک دینے و الا بھی مستقل مزاج کہلانے کامستحق ہے؟ کبھی کہتے تھے، اچھا اگر یہ سچا نبی ہے تو صالح علیہ السلام کی طرح کوئی اونٹنی لے آتا یا موسیٰ علیہ السلام کی طرح کا کوئی معجزہ دکھاتا یا عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی معجزہ ظاہر کرتا۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا» [17-الاسراء:59] ‏ ” بیشک اللہ ان چیزوں پر قادر تو ضرور ہے لیکن اگر ظاہر ہوئیں اور پھر بھی یہ اپنے کفر سے نہ ہٹے تو عادت الٰہی کے تحت عذاب الٰہی میں پکڑ لیے جائیں گے اور پیس دئیے جائیں گے۔ عموماً اگلے لوگوں نے یہی کہا اور ایمان نصیب نہ ہوا اور غارت کر دئیے گئے۔ اسی طرح یہ بھی ایسے معجزے طلب کر رہے ہیں۔ اگر ظاہر ہوئے تو ایمان نہ لائیں گے اور تباہ ہوجائینگے “۔

جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-یونس:97-96] ‏ ” جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فوراً تسلیم کر لیں گے لیکن وہ محض بے سود ہے “۔ بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھا ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بےشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔

صفحہ نمبر5376

بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ معجزے دیگر انبیاء علیہم السلام سے بہت زیادہ ظاہر اور کھلے ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب روایت میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع مسجد میں تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کر رہے تھے۔ اتنے میں عبداللہ بن سلول منافق آیا۔ اپنی گدی بچھا کر اپنا تکیہ لگا کر وجاہت سے بیٹھ گیا۔ تھا بھی گورا چٹا، بڑھ بڑھ کر فصاحت کے ساتھ باتیں بنانے والا، کہنے لگا ابوبکر (‏رضی اللہ عنہ) تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نشان ہمیں دکھائیں جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیاء نشانات لائے تھے مثلا موسیٰ علیہ السلام تختیاں لائے، داؤد علیہ السلام زبور لائے، صالح علیہ السلام اونٹنی لائے، عیسیٰ علیہ السلام انجیل لائے اور آسمانی دستر خوان۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو آپ رضی اللہ عنہ نے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ، اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سنو میرے لیے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لیے کھڑے ہوا کرو ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔

صفحہ نمبر5377

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے فرمایا کہ باہر جاؤ اور لوگوں کے سامنے اپنے ان فضائل کو ظاہر کرو اور ان نعمتوں کا بیان کرو جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں۔ میں ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو بھی پیغام الٰہی پہنچا دوں۔ مجھے میرے رب نے اپنی پاک کتاب عنایت فرمائی ہے حالانکہ محض بے پڑھا ہوں۔ میرے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے ہیں۔ میرا نام اذان میں رکھا ہے۔ میری مدد فرشتوں سے کرائی ہے۔ مجھے اپنی امداد و نصرت عطا فرمائی ہے۔ رعب میرا میرے آگے آگے کر دیا ہے۔ مجھے حوض کوثر عطا فرمایا ہے جو قیامت کے دن تمام اور حوضوں سے بڑا ہوگا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کا وعدہ دیا ہے۔ اس وقت جب کہ سب لوگ حیران و پریشان سر جھکائے ہوئے ہوں گے، مجھے اللہ نے اس پہلے گروہ میں چنا ہے جو لوگوں سے نکلے گا۔ میری شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ مجھے غلبہ اور سلطنت عطا فرمائی ہے۔ مجھے جنت نعیم کا وہ بلند و بالا اعلیٰ بالاخانہ ملے گا کہ اس سے اعلیٰ منزل کسی کی نہ ہوگی۔ میرے اوپر صرف وہ فرشتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ میرے اور میری امت کے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہ تھے ۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5378

باب

ان بدکرداروں کے جواب میں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ” یہ جو بہتان باندھتے ہیں ان سے کہئے کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے جس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں، اس نے اس پاک کلام قرآن کریم کو نازل فرمایا۔ اس میں اگلی پچھلی تمام خبروں کا موجود ہونا ہی دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا اتارنے والا عالم الغیب ہے۔ وہ تمہاری سب باتوں کا سننے والا اور تمہارے تمام حالات کا علم رکھنے والا ہے۔ پس تمہیں اس کا ڈر رکھنا چاہیئے “۔

پھر کفار کی ضد، ناسمجھی اور کٹ حجتی بیان فرما رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حیران ہیں۔ کسی بات پر جم نہیں سکتے۔ کبھی کلام اللہ کو جادو کہتے ہیں تو کبھی شاعری کہتے ہیں۔ کبھی پراگندہ اور بے معنی باتیں کہتے ہیں اور کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ازخود گھڑلیا ہوا بتاتے ہیں۔

اور آیت میں ہے «انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا» [17-الإسراء:48 و 25-الفرقان:9] ‏ ” دیکھیں تو سہی، آپ کے لیے کیا کیا مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وه بہک رہے ہیں۔ اب تو راه پانا ان کے بس میں نہیں رہا “۔

خیال کرو کہ اپنے کسی قول پر بھروسہ نہ رکھنے والا، جو زبان پر چڑھے بک دینے و الا بھی مستقل مزاج کہلانے کامستحق ہے؟ کبھی کہتے تھے، اچھا اگر یہ سچا نبی ہے تو صالح علیہ السلام کی طرح کوئی اونٹنی لے آتا یا موسیٰ علیہ السلام کی طرح کا کوئی معجزہ دکھاتا یا عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی معجزہ ظاہر کرتا۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا» [17-الاسراء:59] ‏ ” بیشک اللہ ان چیزوں پر قادر تو ضرور ہے لیکن اگر ظاہر ہوئیں اور پھر بھی یہ اپنے کفر سے نہ ہٹے تو عادت الٰہی کے تحت عذاب الٰہی میں پکڑ لیے جائیں گے اور پیس دئیے جائیں گے۔ عموماً اگلے لوگوں نے یہی کہا اور ایمان نصیب نہ ہوا اور غارت کر دئیے گئے۔ اسی طرح یہ بھی ایسے معجزے طلب کر رہے ہیں۔ اگر ظاہر ہوئے تو ایمان نہ لائیں گے اور تباہ ہوجائینگے “۔

جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-یونس:97-96] ‏ ” جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فوراً تسلیم کر لیں گے لیکن وہ محض بے سود ہے “۔ بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھا ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بےشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔

صفحہ نمبر5376

بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ معجزے دیگر انبیاء علیہم السلام سے بہت زیادہ ظاہر اور کھلے ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب روایت میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع مسجد میں تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کر رہے تھے۔ اتنے میں عبداللہ بن سلول منافق آیا۔ اپنی گدی بچھا کر اپنا تکیہ لگا کر وجاہت سے بیٹھ گیا۔ تھا بھی گورا چٹا، بڑھ بڑھ کر فصاحت کے ساتھ باتیں بنانے والا، کہنے لگا ابوبکر (‏رضی اللہ عنہ) تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نشان ہمیں دکھائیں جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیاء نشانات لائے تھے مثلا موسیٰ علیہ السلام تختیاں لائے، داؤد علیہ السلام زبور لائے، صالح علیہ السلام اونٹنی لائے، عیسیٰ علیہ السلام انجیل لائے اور آسمانی دستر خوان۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو آپ رضی اللہ عنہ نے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ، اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سنو میرے لیے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لیے کھڑے ہوا کرو ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔

صفحہ نمبر5377

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے فرمایا کہ باہر جاؤ اور لوگوں کے سامنے اپنے ان فضائل کو ظاہر کرو اور ان نعمتوں کا بیان کرو جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں۔ میں ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو بھی پیغام الٰہی پہنچا دوں۔ مجھے میرے رب نے اپنی پاک کتاب عنایت فرمائی ہے حالانکہ محض بے پڑھا ہوں۔ میرے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے ہیں۔ میرا نام اذان میں رکھا ہے۔ میری مدد فرشتوں سے کرائی ہے۔ مجھے اپنی امداد و نصرت عطا فرمائی ہے۔ رعب میرا میرے آگے آگے کر دیا ہے۔ مجھے حوض کوثر عطا فرمایا ہے جو قیامت کے دن تمام اور حوضوں سے بڑا ہوگا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کا وعدہ دیا ہے۔ اس وقت جب کہ سب لوگ حیران و پریشان سر جھکائے ہوئے ہوں گے، مجھے اللہ نے اس پہلے گروہ میں چنا ہے جو لوگوں سے نکلے گا۔ میری شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ مجھے غلبہ اور سلطنت عطا فرمائی ہے۔ مجھے جنت نعیم کا وہ بلند و بالا اعلیٰ بالاخانہ ملے گا کہ اس سے اعلیٰ منزل کسی کی نہ ہوگی۔ میرے اوپر صرف وہ فرشتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ میرے اور میری امت کے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہ تھے ۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5378

باب

ان بدکرداروں کے جواب میں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ” یہ جو بہتان باندھتے ہیں ان سے کہئے کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے جس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں، اس نے اس پاک کلام قرآن کریم کو نازل فرمایا۔ اس میں اگلی پچھلی تمام خبروں کا موجود ہونا ہی دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا اتارنے والا عالم الغیب ہے۔ وہ تمہاری سب باتوں کا سننے والا اور تمہارے تمام حالات کا علم رکھنے والا ہے۔ پس تمہیں اس کا ڈر رکھنا چاہیئے “۔

پھر کفار کی ضد، ناسمجھی اور کٹ حجتی بیان فرما رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حیران ہیں۔ کسی بات پر جم نہیں سکتے۔ کبھی کلام اللہ کو جادو کہتے ہیں تو کبھی شاعری کہتے ہیں۔ کبھی پراگندہ اور بے معنی باتیں کہتے ہیں اور کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ازخود گھڑلیا ہوا بتاتے ہیں۔

اور آیت میں ہے «انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا» [17-الإسراء:48 و 25-الفرقان:9] ‏ ” دیکھیں تو سہی، آپ کے لیے کیا کیا مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وه بہک رہے ہیں۔ اب تو راه پانا ان کے بس میں نہیں رہا “۔

خیال کرو کہ اپنے کسی قول پر بھروسہ نہ رکھنے والا، جو زبان پر چڑھے بک دینے و الا بھی مستقل مزاج کہلانے کامستحق ہے؟ کبھی کہتے تھے، اچھا اگر یہ سچا نبی ہے تو صالح علیہ السلام کی طرح کوئی اونٹنی لے آتا یا موسیٰ علیہ السلام کی طرح کا کوئی معجزہ دکھاتا یا عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی معجزہ ظاہر کرتا۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا» [17-الاسراء:59] ‏ ” بیشک اللہ ان چیزوں پر قادر تو ضرور ہے لیکن اگر ظاہر ہوئیں اور پھر بھی یہ اپنے کفر سے نہ ہٹے تو عادت الٰہی کے تحت عذاب الٰہی میں پکڑ لیے جائیں گے اور پیس دئیے جائیں گے۔ عموماً اگلے لوگوں نے یہی کہا اور ایمان نصیب نہ ہوا اور غارت کر دئیے گئے۔ اسی طرح یہ بھی ایسے معجزے طلب کر رہے ہیں۔ اگر ظاہر ہوئے تو ایمان نہ لائیں گے اور تباہ ہوجائینگے “۔

جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-یونس:97-96] ‏ ” جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فوراً تسلیم کر لیں گے لیکن وہ محض بے سود ہے “۔ بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھا ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بےشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔

صفحہ نمبر5376

بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ معجزے دیگر انبیاء علیہم السلام سے بہت زیادہ ظاہر اور کھلے ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب روایت میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع مسجد میں تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کر رہے تھے۔ اتنے میں عبداللہ بن سلول منافق آیا۔ اپنی گدی بچھا کر اپنا تکیہ لگا کر وجاہت سے بیٹھ گیا۔ تھا بھی گورا چٹا، بڑھ بڑھ کر فصاحت کے ساتھ باتیں بنانے والا، کہنے لگا ابوبکر (‏رضی اللہ عنہ) تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نشان ہمیں دکھائیں جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیاء نشانات لائے تھے مثلا موسیٰ علیہ السلام تختیاں لائے، داؤد علیہ السلام زبور لائے، صالح علیہ السلام اونٹنی لائے، عیسیٰ علیہ السلام انجیل لائے اور آسمانی دستر خوان۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو آپ رضی اللہ عنہ نے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ، اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سنو میرے لیے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لیے کھڑے ہوا کرو ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔

صفحہ نمبر5377

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے فرمایا کہ باہر جاؤ اور لوگوں کے سامنے اپنے ان فضائل کو ظاہر کرو اور ان نعمتوں کا بیان کرو جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں۔ میں ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو بھی پیغام الٰہی پہنچا دوں۔ مجھے میرے رب نے اپنی پاک کتاب عنایت فرمائی ہے حالانکہ محض بے پڑھا ہوں۔ میرے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے ہیں۔ میرا نام اذان میں رکھا ہے۔ میری مدد فرشتوں سے کرائی ہے۔ مجھے اپنی امداد و نصرت عطا فرمائی ہے۔ رعب میرا میرے آگے آگے کر دیا ہے۔ مجھے حوض کوثر عطا فرمایا ہے جو قیامت کے دن تمام اور حوضوں سے بڑا ہوگا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کا وعدہ دیا ہے۔ اس وقت جب کہ سب لوگ حیران و پریشان سر جھکائے ہوئے ہوں گے، مجھے اللہ نے اس پہلے گروہ میں چنا ہے جو لوگوں سے نکلے گا۔ میری شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ مجھے غلبہ اور سلطنت عطا فرمائی ہے۔ مجھے جنت نعیم کا وہ بلند و بالا اعلیٰ بالاخانہ ملے گا کہ اس سے اعلیٰ منزل کسی کی نہ ہوگی۔ میرے اوپر صرف وہ فرشتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ میرے اور میری امت کے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہ تھے ۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5378

مشرکین مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر تھے ٭٭

چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے۔ فرماتا ہے، ” تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے، ان میں ایک بھی فرشتہ نہ تھا “۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-یوسف:109] ‏ یعنی ” تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی، سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے “۔

اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» [46-الأحقاف:9] ‏ یعنی ” کہہ دے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا اور سب سے پہلا رسول تو ہوں ہی نہیں “۔

ان کافروں سے پہلے کے کفار نے بھی نبیوں کے نہ ماننے کا یہی حیلہ اٹھایا تھا جسے قرآن نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا تھا آیت «أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا» [64-التغابن:6] ‏ ” کیا ایک انسان ہمارا رہبر ہو گا؟ “

اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ” اچھا تم اہل علم سے (‏یعنی یہودیوں اور نصرانیوں سے) اور دوسرے گروہ سے پوچھ لو کہ ان کے پاس انسان ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یا فرشتے؟ “

یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ انسانوں کے پاس انہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کے پاس بیٹھ اٹھ سکیں، ان کی تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کی باتیں سن سمجھ سکیں۔ کیا وہ اگلے پیغمبر سب کے سب ایسے جسم کے نہ تھے جو کھانے پینے کی حاجت نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے۔

صفحہ نمبر5381

جیسے فرمان ہے آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] ‏ یعنی ” تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے، وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں آمد و رفت بھی کرتے تھے “ یعنی وہ سب انسان تھے، انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے اور کام کاج، بیوپار، تجارت کے لیے بازاروں میں بھی آنا جانا رکھتے تھے۔ پس یہ بات ان کی پیغمبری کے منافی نہیں۔

جیسے مشرکین کا قول تھا آیت «وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» [25-الفرقان:7، 8] ‏، یعنی ” یہ رسول کیسا ہے؟ جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دین کی تبلیغ کرتا۔ اچھا یہ نہیں تو اسے کسی خزانے کا مالک کیوں نہیں کر دیا جاتا یا اسے کوئی باغ ہی دے دیا جاتا جس سے یہ با فراغت کھا پی تو لیتا “، الخ۔

اسی طرح اگلے پیغمبر بھی دنیا میں نہ رہے، آئے اور گئے جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ» [21-الأنبياء:34] ‏ یعنی ” تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا۔ ان کے پاس البتہ وحی الٰہی آتی رہی۔ فرشتہ اللہ کے حکم احکام پہنچا دیا کرتا تھا۔ پھر رب کا جو وعدہ ان سے تھا، وہ سچا ہو کر رہا “ یعنی ان کے مخالفین بوجہ اپنے ظلم کے تباہ ہو گئے۔ اور پیغمبر علیہم السلام نجات پاگئے ان کے تابعدار بھی کامیاب ہوئے۔ اور حد سے گزر جانے والوں کو یعنی نبیوں کے جھٹلانے والوں کو اللہ نے ہلاک کر دیا۔

صفحہ نمبر5382

مشرکین مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر تھے ٭٭

چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے۔ فرماتا ہے، ” تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے، ان میں ایک بھی فرشتہ نہ تھا “۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-یوسف:109] ‏ یعنی ” تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی، سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے “۔

اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» [46-الأحقاف:9] ‏ یعنی ” کہہ دے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا اور سب سے پہلا رسول تو ہوں ہی نہیں “۔

ان کافروں سے پہلے کے کفار نے بھی نبیوں کے نہ ماننے کا یہی حیلہ اٹھایا تھا جسے قرآن نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا تھا آیت «أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا» [64-التغابن:6] ‏ ” کیا ایک انسان ہمارا رہبر ہو گا؟ “

اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ” اچھا تم اہل علم سے (‏یعنی یہودیوں اور نصرانیوں سے) اور دوسرے گروہ سے پوچھ لو کہ ان کے پاس انسان ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یا فرشتے؟ “

یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ انسانوں کے پاس انہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کے پاس بیٹھ اٹھ سکیں، ان کی تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کی باتیں سن سمجھ سکیں۔ کیا وہ اگلے پیغمبر سب کے سب ایسے جسم کے نہ تھے جو کھانے پینے کی حاجت نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے۔

صفحہ نمبر5381

جیسے فرمان ہے آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] ‏ یعنی ” تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے، وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں آمد و رفت بھی کرتے تھے “ یعنی وہ سب انسان تھے، انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے اور کام کاج، بیوپار، تجارت کے لیے بازاروں میں بھی آنا جانا رکھتے تھے۔ پس یہ بات ان کی پیغمبری کے منافی نہیں۔

جیسے مشرکین کا قول تھا آیت «وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» [25-الفرقان:7، 8] ‏، یعنی ” یہ رسول کیسا ہے؟ جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دین کی تبلیغ کرتا۔ اچھا یہ نہیں تو اسے کسی خزانے کا مالک کیوں نہیں کر دیا جاتا یا اسے کوئی باغ ہی دے دیا جاتا جس سے یہ با فراغت کھا پی تو لیتا “، الخ۔

اسی طرح اگلے پیغمبر بھی دنیا میں نہ رہے، آئے اور گئے جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ» [21-الأنبياء:34] ‏ یعنی ” تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا۔ ان کے پاس البتہ وحی الٰہی آتی رہی۔ فرشتہ اللہ کے حکم احکام پہنچا دیا کرتا تھا۔ پھر رب کا جو وعدہ ان سے تھا، وہ سچا ہو کر رہا “ یعنی ان کے مخالفین بوجہ اپنے ظلم کے تباہ ہو گئے۔ اور پیغمبر علیہم السلام نجات پاگئے ان کے تابعدار بھی کامیاب ہوئے۔ اور حد سے گزر جانے والوں کو یعنی نبیوں کے جھٹلانے والوں کو اللہ نے ہلاک کر دیا۔

صفحہ نمبر5382

مشرکین مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر تھے ٭٭

چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے۔ فرماتا ہے، ” تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے، ان میں ایک بھی فرشتہ نہ تھا “۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-یوسف:109] ‏ یعنی ” تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی، سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے “۔

اور آیت میں ہے «قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ» [46-الأحقاف:9] ‏ یعنی ” کہہ دے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا اور سب سے پہلا رسول تو ہوں ہی نہیں “۔

ان کافروں سے پہلے کے کفار نے بھی نبیوں کے نہ ماننے کا یہی حیلہ اٹھایا تھا جسے قرآن نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا تھا آیت «أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا» [64-التغابن:6] ‏ ” کیا ایک انسان ہمارا رہبر ہو گا؟ “

اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ” اچھا تم اہل علم سے (‏یعنی یہودیوں اور نصرانیوں سے) اور دوسرے گروہ سے پوچھ لو کہ ان کے پاس انسان ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یا فرشتے؟ “

یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ انسانوں کے پاس انہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کے پاس بیٹھ اٹھ سکیں، ان کی تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کی باتیں سن سمجھ سکیں۔ کیا وہ اگلے پیغمبر سب کے سب ایسے جسم کے نہ تھے جو کھانے پینے کی حاجت نہ رکھتے ہوں۔ بلکہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے۔

صفحہ نمبر5381

جیسے فرمان ہے آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] ‏ یعنی ” تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے، وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں آمد و رفت بھی کرتے تھے “ یعنی وہ سب انسان تھے، انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے اور کام کاج، بیوپار، تجارت کے لیے بازاروں میں بھی آنا جانا رکھتے تھے۔ پس یہ بات ان کی پیغمبری کے منافی نہیں۔

جیسے مشرکین کا قول تھا آیت «وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا» [25-الفرقان:7، 8] ‏، یعنی ” یہ رسول کیسا ہے؟ جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دین کی تبلیغ کرتا۔ اچھا یہ نہیں تو اسے کسی خزانے کا مالک کیوں نہیں کر دیا جاتا یا اسے کوئی باغ ہی دے دیا جاتا جس سے یہ با فراغت کھا پی تو لیتا “، الخ۔

اسی طرح اگلے پیغمبر بھی دنیا میں نہ رہے، آئے اور گئے جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ» [21-الأنبياء:34] ‏ یعنی ” تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا۔ ان کے پاس البتہ وحی الٰہی آتی رہی۔ فرشتہ اللہ کے حکم احکام پہنچا دیا کرتا تھا۔ پھر رب کا جو وعدہ ان سے تھا، وہ سچا ہو کر رہا “ یعنی ان کے مخالفین بوجہ اپنے ظلم کے تباہ ہو گئے۔ اور پیغمبر علیہم السلام نجات پاگئے ان کے تابعدار بھی کامیاب ہوئے۔ اور حد سے گزر جانے والوں کو یعنی نبیوں کے جھٹلانے والوں کو اللہ نے ہلاک کر دیا۔

صفحہ نمبر5382

قدر ناشناس لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ” ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:] ‏

جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:44] ‏ ” تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے “۔

صفحہ نمبر5385

پھر فرماتا ہے ” ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے “۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» [17-الإسراء:17] ‏ ” ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں “۔

اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» [22-الحج:45] ‏ ” کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی “۔

ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ” اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ “ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔

صفحہ نمبر5386

قدر ناشناس لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ” ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:] ‏

جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:44] ‏ ” تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے “۔

صفحہ نمبر5385

پھر فرماتا ہے ” ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے “۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» [17-الإسراء:17] ‏ ” ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں “۔

اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» [22-الحج:45] ‏ ” کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی “۔

ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ” اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ “ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔

صفحہ نمبر5386

قدر ناشناس لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ” ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:] ‏

جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:44] ‏ ” تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے “۔

صفحہ نمبر5385

پھر فرماتا ہے ” ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے “۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» [17-الإسراء:17] ‏ ” ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں “۔

اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» [22-الحج:45] ‏ ” کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی “۔

ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ” اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ “ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔

صفحہ نمبر5386

قدر ناشناس لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ” ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:] ‏

جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:44] ‏ ” تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے “۔

صفحہ نمبر5385

پھر فرماتا ہے ” ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے “۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» [17-الإسراء:17] ‏ ” ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں “۔

اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» [22-الحج:45] ‏ ” کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی “۔

ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ” اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ “ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔

صفحہ نمبر5386

قدر ناشناس لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ” ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:] ‏

جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:44] ‏ ” تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے “۔

صفحہ نمبر5385

پھر فرماتا ہے ” ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے “۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» [17-الإسراء:17] ‏ ” ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں “۔

اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» [22-الحج:45] ‏ ” کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی “۔

ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ” اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ “ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔

صفحہ نمبر5386

قدر ناشناس لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ” ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:] ‏

جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:44] ‏ ” تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے “۔

صفحہ نمبر5385

پھر فرماتا ہے ” ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے “۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» [17-الإسراء:17] ‏ ” ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں “۔

اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» [22-الحج:45] ‏ ” کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی “۔

ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ” اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ “ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔

صفحہ نمبر5386

آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں ٭٭

«وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» [53-النجم:31] ‏ ” آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے “۔ اس نے انہیں بے کار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔

اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» [38-ص:27] ‏ ” یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے “۔

دوسری آیت [21-الأنبياء:17] ‏ کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ” اگر ہم کھیل تماشا ہی چاہتے تو اسے بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ ہیں کہ ” اگر ہم عورت کرنا چاہتے “۔ «اللَّهْوُ» کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/18:] ‏ یعنی یہ دونوں معنی ہیں، ” ہم اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے، کسی کو بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ” اگر ہم اولاد چاہتے “۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔

جیسے فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [39-الزمر:4] ‏، یعنی ” اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو اپنی مخلوق میں سے کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے “۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔

پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر علیہم السلام۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ «سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا» [17-الاسراء:43] ‏ ان عیسائیوں، یہودیوں اور کفار مکہ کی ان لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔

آیت «إِن كُنَّا فَاعِلِينَ» میں «إِن» کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ” ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:421/18:] ‏ بلکہ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لیے ہی ہے۔‏“ [الدر المنشور للسیوطی:620/5:] ‏

صفحہ نمبر5392

فرشتوں کا تذکرہ ٭٭

” ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہو جاتا ہے اور فوراً ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی اسی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لیے جو لوگ اولادیں ٹھہرا رہے ہیں، ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لیے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے “۔

پھر ارشاد فرماتا ہے کہ ” جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو، ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو۔ آسمان و زمین کی ہرچیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں “۔

«لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا» [4-النساء:172] ‏ ” نہ مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آ رہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہو گا اور اپنا کیا بھرے گا “۔

یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں، اس کی عبادت میں، اس کی تسبیح و اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ «لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ» [66-التحریم:6] ‏ ” اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں “۔

صفحہ نمبر5393

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں تھے کہ فرمایا: لوگو! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو؟ سب نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہیئے، اس لیے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060،] ‏

عبداللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں، میں کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا، میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا، اللہ کا پیغام لے کر جانا، عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہوکر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ بچہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب میں سے ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا، ”پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لیے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے، بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/17:] ‏

صفحہ نمبر5394

آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں ٭٭

«وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» [53-النجم:31] ‏ ” آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے “۔ اس نے انہیں بے کار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔

اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» [38-ص:27] ‏ ” یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے “۔

دوسری آیت [21-الأنبياء:17] ‏ کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ” اگر ہم کھیل تماشا ہی چاہتے تو اسے بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ ہیں کہ ” اگر ہم عورت کرنا چاہتے “۔ «اللَّهْوُ» کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/18:] ‏ یعنی یہ دونوں معنی ہیں، ” ہم اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے، کسی کو بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ” اگر ہم اولاد چاہتے “۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔

جیسے فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [39-الزمر:4] ‏، یعنی ” اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو اپنی مخلوق میں سے کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے “۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔

پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر علیہم السلام۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ «سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا» [17-الاسراء:43] ‏ ان عیسائیوں، یہودیوں اور کفار مکہ کی ان لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔

آیت «إِن كُنَّا فَاعِلِينَ» میں «إِن» کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ” ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:421/18:] ‏ بلکہ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لیے ہی ہے۔‏“ [الدر المنشور للسیوطی:620/5:] ‏

صفحہ نمبر5392

فرشتوں کا تذکرہ ٭٭

” ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہو جاتا ہے اور فوراً ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی اسی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لیے جو لوگ اولادیں ٹھہرا رہے ہیں، ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لیے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے “۔

پھر ارشاد فرماتا ہے کہ ” جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو، ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو۔ آسمان و زمین کی ہرچیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں “۔

«لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا» [4-النساء:172] ‏ ” نہ مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آ رہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہو گا اور اپنا کیا بھرے گا “۔

یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں، اس کی عبادت میں، اس کی تسبیح و اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ «لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ» [66-التحریم:6] ‏ ” اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں “۔

صفحہ نمبر5393

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں تھے کہ فرمایا: لوگو! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو؟ سب نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہیئے، اس لیے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060،] ‏

عبداللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں، میں کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا، میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا، اللہ کا پیغام لے کر جانا، عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہوکر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ بچہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب میں سے ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا، ”پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لیے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے، بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/17:] ‏

صفحہ نمبر5394

آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں ٭٭

«وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» [53-النجم:31] ‏ ” آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے “۔ اس نے انہیں بے کار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔

اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» [38-ص:27] ‏ ” یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے “۔

دوسری آیت [21-الأنبياء:17] ‏ کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ” اگر ہم کھیل تماشا ہی چاہتے تو اسے بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ ہیں کہ ” اگر ہم عورت کرنا چاہتے “۔ «اللَّهْوُ» کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/18:] ‏ یعنی یہ دونوں معنی ہیں، ” ہم اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے، کسی کو بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ” اگر ہم اولاد چاہتے “۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔

جیسے فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [39-الزمر:4] ‏، یعنی ” اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو اپنی مخلوق میں سے کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے “۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔

پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر علیہم السلام۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ «سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا» [17-الاسراء:43] ‏ ان عیسائیوں، یہودیوں اور کفار مکہ کی ان لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔

آیت «إِن كُنَّا فَاعِلِينَ» میں «إِن» کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ” ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:421/18:] ‏ بلکہ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لیے ہی ہے۔‏“ [الدر المنشور للسیوطی:620/5:] ‏

صفحہ نمبر5392

فرشتوں کا تذکرہ ٭٭

” ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہو جاتا ہے اور فوراً ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی اسی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لیے جو لوگ اولادیں ٹھہرا رہے ہیں، ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لیے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے “۔

پھر ارشاد فرماتا ہے کہ ” جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو، ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو۔ آسمان و زمین کی ہرچیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں “۔

«لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا» [4-النساء:172] ‏ ” نہ مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آ رہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہو گا اور اپنا کیا بھرے گا “۔

یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں، اس کی عبادت میں، اس کی تسبیح و اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ «لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ» [66-التحریم:6] ‏ ” اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں “۔

صفحہ نمبر5393

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں تھے کہ فرمایا: لوگو! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو؟ سب نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہیئے، اس لیے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060،] ‏

عبداللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں، میں کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا، میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا، اللہ کا پیغام لے کر جانا، عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہوکر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ بچہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب میں سے ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا، ”پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لیے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے، بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/17:] ‏

صفحہ نمبر5394

آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں ٭٭

«وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» [53-النجم:31] ‏ ” آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے “۔ اس نے انہیں بے کار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔

اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» [38-ص:27] ‏ ” یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے “۔

دوسری آیت [21-الأنبياء:17] ‏ کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ” اگر ہم کھیل تماشا ہی چاہتے تو اسے بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ ہیں کہ ” اگر ہم عورت کرنا چاہتے “۔ «اللَّهْوُ» کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/18:] ‏ یعنی یہ دونوں معنی ہیں، ” ہم اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے، کسی کو بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ” اگر ہم اولاد چاہتے “۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔

جیسے فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [39-الزمر:4] ‏، یعنی ” اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو اپنی مخلوق میں سے کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے “۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔

پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر علیہم السلام۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ «سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا» [17-الاسراء:43] ‏ ان عیسائیوں، یہودیوں اور کفار مکہ کی ان لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔

آیت «إِن كُنَّا فَاعِلِينَ» میں «إِن» کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ” ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:421/18:] ‏ بلکہ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لیے ہی ہے۔‏“ [الدر المنشور للسیوطی:620/5:] ‏

صفحہ نمبر5392

فرشتوں کا تذکرہ ٭٭

” ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہو جاتا ہے اور فوراً ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی اسی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لیے جو لوگ اولادیں ٹھہرا رہے ہیں، ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لیے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے “۔

پھر ارشاد فرماتا ہے کہ ” جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو، ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو۔ آسمان و زمین کی ہرچیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں “۔

«لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا» [4-النساء:172] ‏ ” نہ مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آ رہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہو گا اور اپنا کیا بھرے گا “۔

یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں، اس کی عبادت میں، اس کی تسبیح و اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ «لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ» [66-التحریم:6] ‏ ” اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں “۔

صفحہ نمبر5393

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں تھے کہ فرمایا: لوگو! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو؟ سب نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہیئے، اس لیے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060،] ‏

عبداللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں، میں کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا، میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا، اللہ کا پیغام لے کر جانا، عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہوکر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ بچہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب میں سے ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا، ”پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لیے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے، بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/17:] ‏

صفحہ نمبر5394

آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں ٭٭

«وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» [53-النجم:31] ‏ ” آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے “۔ اس نے انہیں بے کار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔

اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» [38-ص:27] ‏ ” یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے “۔

دوسری آیت [21-الأنبياء:17] ‏ کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ” اگر ہم کھیل تماشا ہی چاہتے تو اسے بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ ہیں کہ ” اگر ہم عورت کرنا چاہتے “۔ «اللَّهْوُ» کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/18:] ‏ یعنی یہ دونوں معنی ہیں، ” ہم اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے، کسی کو بنا لیتے “۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ” اگر ہم اولاد چاہتے “۔ لیکن یہ دونوں معنی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ بیوی کے ساتھ ہی اولاد ہے۔

جیسے فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [39-الزمر:4] ‏، یعنی ” اگر اللہ کو یہی منظور ہوتا کہ اس کی اولاد ہو تو اپنی مخلوق میں سے کسی اعلیٰ درجے کی مخلوق کو یہ منصب عطا فرماتا لیکن وہ اس بات سے پاک اور بہت دور ہے “۔ اس کی توحید اور غلبہ کے خلاف ہے کہ اس کی اولاد ہو۔

پس وہ مطلق اولاد سے پاک ہے نہ عیسیٰ اس کا بیٹا ہے نہ عزیر علیہم السلام۔ نہ فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ «سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا» [17-الاسراء:43] ‏ ان عیسائیوں، یہودیوں اور کفار مکہ کی ان لغویات اور تہمت سے اللہ واحد قہار پاک ہے اور بلند ہے۔

آیت «إِن كُنَّا فَاعِلِينَ» میں «إِن» کو نافیہ کہا گیا ہے یعنی ” ہم یہ کرنے والے ہی نہ تھے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:421/18:] ‏ بلکہ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ”قرآن مجید میں ہر جگہ ان نفی کے لیے ہی ہے۔‏“ [الدر المنشور للسیوطی:620/5:] ‏

صفحہ نمبر5392

فرشتوں کا تذکرہ ٭٭

” ہم حق کو واضح کرتے ہیں، اسے کھول کر بیان کرتے ہیں جس سے باطل دب جاتا ہے، ٹوٹ کر چورا ہو جاتا ہے اور فوراً ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہے بھی اسی لائق، وہ ٹھہر نہیں سکتا نہ جم سکتا ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔ اللہ کے لیے جو لوگ اولادیں ٹھہرا رہے ہیں، ان کے اس واہی قول کی وجہ سے ان کے لیے ویل ہے انہیں پوری خرابی ہے “۔

پھر ارشاد فرماتا ہے کہ ” جن فرشتوں کو تم اللہ کی لڑکیاں کہتے ہو، ان کا حال سنو اور اللہ کی الوہیت کی عظمت دیکھو۔ آسمان و زمین کی ہرچیز اسی کی ملکیت میں ہے۔ فرشتے اس کی عبادت میں مشغول ہیں۔ ناممکن ہے کہ کسی وقت سرکشی کریں “۔

«لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا» [4-النساء:172] ‏ ” نہ مسیح کو بندہ رب ہونے سے شرم، نہ فرشتوں کو اللہ کی عبادت سے عار، نہ ان میں سے کوئی تکبر کرے یا عبادت سے جی چرائے اور جو کوئی ایسا کرے تو ایک وقت آ رہا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے میدان محشر میں سب کے ساتھ ہو گا اور اپنا کیا بھرے گا “۔

یہ بزرگ فرشتے اس کی عبادت سے تھکتے بھی نہیں، گھبراتے بھی نہیں، سستی اور کاہلی ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ دن رات اللہ کی فرماں برداری میں، اس کی عبادت میں، اس کی تسبیح و اطاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ نیت اور عمل دونوں موجود ہیں۔ «لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ» [66-التحریم:6] ‏ ” اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے نہ کسی فرمان کی تعمیل سے رکتے ہیں “۔

صفحہ نمبر5393

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں تھے کہ فرمایا: لوگو! جو میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو؟ سب نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو کچھ بھی نہیں سن رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آسمانوں کی چرچراہٹ سن رہا ہوں اور حق تو یہ ہے کہ اسے چرچرانا ہی چاہیئے، اس لیے کہ اس میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کسی نہ کسی فرشتے کا سر سجدے میں نہ ہو ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1060،] ‏

عبداللہ بن حارث بن نوفل فرماتے ہیں، میں کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا، میں نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ بولنا چالنا، اللہ کا پیغام لے کر جانا، عمل کرنا یہ بھی انہیں تسبیح سے نہیں روکتا؟ میرے اس سوال پر چوکنے ہوکر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ بچہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا بنو عبدالمطلب میں سے ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے میری پیشانی چوم لی اور فرمایا، ”پیارے بچے تسبیح ان فرشتوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لیے سانس لینا۔ دیکھو چلتے پھرتے، بولتے چالتے تمہارا سانس برابر آتا جاتا رہتا ہے۔ اسی طرح فرشتوں کی تسبیح ہر وقت جاری رہتی ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/17:] ‏

صفحہ نمبر5394

سب تہمتوں سے بلند اللہ جل شانہ ٭٭

شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ” جن جن کو تم اللہ کے سوا پوج رہے ہو، ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو مردوں کو جلا سکے۔ کسی میں یا سب میں مل کر بھی یہ قدرت نہیں، پھر انہیں اس قدرت والے کے برابر ماننا یا ان کی بھی عبادت کرنا کس قدر ناانصافی ہے؟ “

پھر فرماتا ہے ” سنو! اگر یہ مان لیا جائے کہ فی الواقع بہت سے الہٰ ہیں تو لازم آئے گا کہ زمین و آسمان تباہ و برباد ہو جائیں “۔

جیسے فرمان ہے آیت «مَا اتَّخَذَ اللَّـهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَـٰهٍ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَـٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ» [23-المؤمنون:91] ‏، ” اللہ کی اولاد نہیں، نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لیے پھرتا اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا، اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ اوصاف سے مبرا اور منزہ ہے “۔

صفحہ نمبر5399

یہاں فرمایا، ” اللہ تعالیٰ مالک عرش ان کے کہے ہوئے ردی اوصاف سے (‏یعنی لڑکے لڑکیوں سے) پاک ہے “۔ اسی طرح شریک اور ساجھی سے، مثل اور ساتھی سے بھی بلند و بالا ہے۔ ان کی یہ سب تہمتیں ہیں جن سے اللہ کی ذات برتر ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ علی الاطلاق شہنشاہ حقیقی ہے، اس پر کوئی حاکم نہیں۔ سب اس کے غلبے اور قہر تلے ہیں۔ نہ تو اس کے حکم کا کوئی تعاقب کرسکے، نہ اس کے فرمان کو کوئی ٹال سکے۔ اس کی کبریائی اور عظمت و جلال اور حکومت، علم اور حکمت، لطف اور رحمت بے پایاں ہے۔ کسی کو اس کے آگے دم مارنے کی مجال نہیں۔ سب پست اور عاجز ہیں لاچار اور بے بس ہیں۔

کوئی نہیں جو چوں کرے، کوئی نہیں جو اس کے سامنے بول سکے، کوئی نہیں جسے چوں چرا کا اختیار ہو جو اس سے پوچھ سکے کہ یہ کام کیوں کیا؟ ایسا کیوں ہوا؟ وہ چونکہ تمام مخلوق کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، اسے اختیار ہے جس سے جو چاہے سوال کرے، ہر ایک کے اعمال کی وہ بازپرس کرے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [15-الحجر:92-93] ‏، ” تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے ہر اس فعل سے جو انہوں نے کیا “۔ «وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ» [23-المؤمنون:88] ‏ ” وہی ہے کہ جو اس کی پناہ میں آگیا، سب شر سے بچ گیا اور کوئی نہیں جو اس کے مجرم کو پناہ دے سکے “۔

صفحہ نمبر5400

سب تہمتوں سے بلند اللہ جل شانہ ٭٭

شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ” جن جن کو تم اللہ کے سوا پوج رہے ہو، ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو مردوں کو جلا سکے۔ کسی میں یا سب میں مل کر بھی یہ قدرت نہیں، پھر انہیں اس قدرت والے کے برابر ماننا یا ان کی بھی عبادت کرنا کس قدر ناانصافی ہے؟ “

پھر فرماتا ہے ” سنو! اگر یہ مان لیا جائے کہ فی الواقع بہت سے الہٰ ہیں تو لازم آئے گا کہ زمین و آسمان تباہ و برباد ہو جائیں “۔

جیسے فرمان ہے آیت «مَا اتَّخَذَ اللَّـهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَـٰهٍ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَـٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ» [23-المؤمنون:91] ‏، ” اللہ کی اولاد نہیں، نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لیے پھرتا اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا، اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ اوصاف سے مبرا اور منزہ ہے “۔

صفحہ نمبر5399

یہاں فرمایا، ” اللہ تعالیٰ مالک عرش ان کے کہے ہوئے ردی اوصاف سے (‏یعنی لڑکے لڑکیوں سے) پاک ہے “۔ اسی طرح شریک اور ساجھی سے، مثل اور ساتھی سے بھی بلند و بالا ہے۔ ان کی یہ سب تہمتیں ہیں جن سے اللہ کی ذات برتر ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ علی الاطلاق شہنشاہ حقیقی ہے، اس پر کوئی حاکم نہیں۔ سب اس کے غلبے اور قہر تلے ہیں۔ نہ تو اس کے حکم کا کوئی تعاقب کرسکے، نہ اس کے فرمان کو کوئی ٹال سکے۔ اس کی کبریائی اور عظمت و جلال اور حکومت، علم اور حکمت، لطف اور رحمت بے پایاں ہے۔ کسی کو اس کے آگے دم مارنے کی مجال نہیں۔ سب پست اور عاجز ہیں لاچار اور بے بس ہیں۔

کوئی نہیں جو چوں کرے، کوئی نہیں جو اس کے سامنے بول سکے، کوئی نہیں جسے چوں چرا کا اختیار ہو جو اس سے پوچھ سکے کہ یہ کام کیوں کیا؟ ایسا کیوں ہوا؟ وہ چونکہ تمام مخلوق کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، اسے اختیار ہے جس سے جو چاہے سوال کرے، ہر ایک کے اعمال کی وہ بازپرس کرے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [15-الحجر:92-93] ‏، ” تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے ہر اس فعل سے جو انہوں نے کیا “۔ «وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ» [23-المؤمنون:88] ‏ ” وہی ہے کہ جو اس کی پناہ میں آگیا، سب شر سے بچ گیا اور کوئی نہیں جو اس کے مجرم کو پناہ دے سکے “۔

صفحہ نمبر5400

سب تہمتوں سے بلند اللہ جل شانہ ٭٭

شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ” جن جن کو تم اللہ کے سوا پوج رہے ہو، ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو مردوں کو جلا سکے۔ کسی میں یا سب میں مل کر بھی یہ قدرت نہیں، پھر انہیں اس قدرت والے کے برابر ماننا یا ان کی بھی عبادت کرنا کس قدر ناانصافی ہے؟ “

پھر فرماتا ہے ” سنو! اگر یہ مان لیا جائے کہ فی الواقع بہت سے الہٰ ہیں تو لازم آئے گا کہ زمین و آسمان تباہ و برباد ہو جائیں “۔

جیسے فرمان ہے آیت «مَا اتَّخَذَ اللَّـهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَـٰهٍ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَـٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ» [23-المؤمنون:91] ‏، ” اللہ کی اولاد نہیں، نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لیے پھرتا اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا، اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ اوصاف سے مبرا اور منزہ ہے “۔

صفحہ نمبر5399

یہاں فرمایا، ” اللہ تعالیٰ مالک عرش ان کے کہے ہوئے ردی اوصاف سے (‏یعنی لڑکے لڑکیوں سے) پاک ہے “۔ اسی طرح شریک اور ساجھی سے، مثل اور ساتھی سے بھی بلند و بالا ہے۔ ان کی یہ سب تہمتیں ہیں جن سے اللہ کی ذات برتر ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ علی الاطلاق شہنشاہ حقیقی ہے، اس پر کوئی حاکم نہیں۔ سب اس کے غلبے اور قہر تلے ہیں۔ نہ تو اس کے حکم کا کوئی تعاقب کرسکے، نہ اس کے فرمان کو کوئی ٹال سکے۔ اس کی کبریائی اور عظمت و جلال اور حکومت، علم اور حکمت، لطف اور رحمت بے پایاں ہے۔ کسی کو اس کے آگے دم مارنے کی مجال نہیں۔ سب پست اور عاجز ہیں لاچار اور بے بس ہیں۔

کوئی نہیں جو چوں کرے، کوئی نہیں جو اس کے سامنے بول سکے، کوئی نہیں جسے چوں چرا کا اختیار ہو جو اس سے پوچھ سکے کہ یہ کام کیوں کیا؟ ایسا کیوں ہوا؟ وہ چونکہ تمام مخلوق کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، اسے اختیار ہے جس سے جو چاہے سوال کرے، ہر ایک کے اعمال کی وہ بازپرس کرے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [15-الحجر:92-93] ‏، ” تیرے رب کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے ہر اس فعل سے جو انہوں نے کیا “۔ «وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ» [23-المؤمنون:88] ‏ ” وہی ہے کہ جو اس کی پناہ میں آگیا، سب شر سے بچ گیا اور کوئی نہیں جو اس کے مجرم کو پناہ دے سکے “۔

صفحہ نمبر5400

حق سے غافل مشرک ٭٭

ان لوگوں نے اللہ کے سوا جن جن کو معبود بنا رکھا ہے، ان کی عبادت پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ہم جس اللہ کی عبادت کر رہے ہیں، اس میں سچے ہیں۔ ہمارے ہاتھوں میں اعلیٰ تر دلیل کلام اللہ موجود ہے اور اس سے پہلے کی تمام الہامی کتابیں اسی کی دلیل میں باآواز بلند شہادت دیتی ہیں جو توحید کی موافقت میں اور کافروں کی خود پرستی کے خلاف میں ہیں۔ جو کتاب جس پیغمبر علیہ السلام پر اتری، اس میں یہ بیان موجود رہا کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں لیکن اکثر مشرک حق سے غافل ہیں اور اللہ کی باتوں سے منکر ہیں۔ تمام رسولوں کو توحید الٰہی کی ہی تلقین ہوتی رہی۔

فرمان ہے آیت «وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ» [43-الزخرف:45] ‏ ” تجھ سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں، تو خود پوچھ لے کہ ہم نے ان کے لیے اپنے سوا اور کوئی معبود مقرر کیا تھا کہ وہ اس کی عبادت کرتے ہوں؟ “

اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» [16-النحل:36] ‏ ” ہم نے ہر امت میں اپنا پیغمبر بھیجا جس نے لوگوں میں اعلان کیا کہ تم سب ایک اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو “۔

پس انبیاء کی شہادت بھی یہی ہے اور خود فطرت اللہ بھی اسی کی شاہد ہے۔ اور مشرکین کی کوئی دلیل نہیں۔ ان کی ساری حجتیں بے کار ہیں اور ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔

صفحہ نمبر5403

حق سے غافل مشرک ٭٭

ان لوگوں نے اللہ کے سوا جن جن کو معبود بنا رکھا ہے، ان کی عبادت پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ہم جس اللہ کی عبادت کر رہے ہیں، اس میں سچے ہیں۔ ہمارے ہاتھوں میں اعلیٰ تر دلیل کلام اللہ موجود ہے اور اس سے پہلے کی تمام الہامی کتابیں اسی کی دلیل میں باآواز بلند شہادت دیتی ہیں جو توحید کی موافقت میں اور کافروں کی خود پرستی کے خلاف میں ہیں۔ جو کتاب جس پیغمبر علیہ السلام پر اتری، اس میں یہ بیان موجود رہا کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں لیکن اکثر مشرک حق سے غافل ہیں اور اللہ کی باتوں سے منکر ہیں۔ تمام رسولوں کو توحید الٰہی کی ہی تلقین ہوتی رہی۔

فرمان ہے آیت «وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ» [43-الزخرف:45] ‏ ” تجھ سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں، تو خود پوچھ لے کہ ہم نے ان کے لیے اپنے سوا اور کوئی معبود مقرر کیا تھا کہ وہ اس کی عبادت کرتے ہوں؟ “

اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» [16-النحل:36] ‏ ” ہم نے ہر امت میں اپنا پیغمبر بھیجا جس نے لوگوں میں اعلان کیا کہ تم سب ایک اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو “۔

پس انبیاء کی شہادت بھی یہی ہے اور خود فطرت اللہ بھی اسی کی شاہد ہے۔ اور مشرکین کی کوئی دلیل نہیں۔ ان کی ساری حجتیں بے کار ہیں اور ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔

صفحہ نمبر5403

خشیت الٰہی ٭٭

کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ ” یہ بالکل غلط ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑی بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں۔ قولاً اور فعلاً ہروقت اطاعت الٰہی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے، دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ آگے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے، ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے لیے لب ہلا سکیں “۔

جیسے فرمان ہے آیت «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [2-البقرة:255] ‏ ” وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش اس کے پاس لے جا سکے؟ “

اور آیت میں ہے «وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ» [34-سبأ:23] ‏ یعنی ” اس کے پاس کسی کی شفاعت اس کی اپنی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتی “۔

اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرشتے اور اللہ کے مقرب بندے کل کے کل خشیت الٰہی سے، ہیبت رب سے لرزاں و ترساں رہا کرتے ہیں۔ ” ان میں سے جو بھی خدائی کا دعویٰ کرے، ہم اسے جہنم واصل کردیں۔ ظالموں سے ہم ضرور انتقام لے لیا کرتے ہیں “۔ یہ بات بطور شرط ہے اور شرط کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کا وقوع بھی ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ خاص بندگان اللہ میں سے کوئی ایسا ناپاک دعویٰ کرے اور ایسی سخت سزا بھگتے۔

اسی طرح کی آیت «قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ» [43-الزخرف:81] ‏ اور «لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39-الزمر:65] ‏، ہے۔ پس نہ تو رحمن کی اولاد ہے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک ممکن۔

صفحہ نمبر5405

خشیت الٰہی ٭٭

کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ ” یہ بالکل غلط ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑی بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں۔ قولاً اور فعلاً ہروقت اطاعت الٰہی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے، دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ آگے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے، ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے لیے لب ہلا سکیں “۔

جیسے فرمان ہے آیت «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [2-البقرة:255] ‏ ” وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش اس کے پاس لے جا سکے؟ “

اور آیت میں ہے «وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ» [34-سبأ:23] ‏ یعنی ” اس کے پاس کسی کی شفاعت اس کی اپنی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتی “۔

اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرشتے اور اللہ کے مقرب بندے کل کے کل خشیت الٰہی سے، ہیبت رب سے لرزاں و ترساں رہا کرتے ہیں۔ ” ان میں سے جو بھی خدائی کا دعویٰ کرے، ہم اسے جہنم واصل کردیں۔ ظالموں سے ہم ضرور انتقام لے لیا کرتے ہیں “۔ یہ بات بطور شرط ہے اور شرط کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کا وقوع بھی ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ خاص بندگان اللہ میں سے کوئی ایسا ناپاک دعویٰ کرے اور ایسی سخت سزا بھگتے۔

اسی طرح کی آیت «قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ» [43-الزخرف:81] ‏ اور «لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39-الزمر:65] ‏، ہے۔ پس نہ تو رحمن کی اولاد ہے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک ممکن۔

صفحہ نمبر5405

خشیت الٰہی ٭٭

کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ ” یہ بالکل غلط ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑی بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں۔ قولاً اور فعلاً ہروقت اطاعت الٰہی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے، دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ آگے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے، ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے لیے لب ہلا سکیں “۔

جیسے فرمان ہے آیت «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [2-البقرة:255] ‏ ” وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش اس کے پاس لے جا سکے؟ “

اور آیت میں ہے «وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ» [34-سبأ:23] ‏ یعنی ” اس کے پاس کسی کی شفاعت اس کی اپنی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتی “۔

اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرشتے اور اللہ کے مقرب بندے کل کے کل خشیت الٰہی سے، ہیبت رب سے لرزاں و ترساں رہا کرتے ہیں۔ ” ان میں سے جو بھی خدائی کا دعویٰ کرے، ہم اسے جہنم واصل کردیں۔ ظالموں سے ہم ضرور انتقام لے لیا کرتے ہیں “۔ یہ بات بطور شرط ہے اور شرط کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کا وقوع بھی ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ خاص بندگان اللہ میں سے کوئی ایسا ناپاک دعویٰ کرے اور ایسی سخت سزا بھگتے۔

اسی طرح کی آیت «قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ» [43-الزخرف:81] ‏ اور «لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39-الزمر:65] ‏، ہے۔ پس نہ تو رحمن کی اولاد ہے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک ممکن۔

صفحہ نمبر5405

خشیت الٰہی ٭٭

کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ ” یہ بالکل غلط ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑی بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں۔ قولاً اور فعلاً ہروقت اطاعت الٰہی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے، دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ آگے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے، ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے لیے لب ہلا سکیں “۔

جیسے فرمان ہے آیت «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» [2-البقرة:255] ‏ ” وہ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش اس کے پاس لے جا سکے؟ “

اور آیت میں ہے «وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ» [34-سبأ:23] ‏ یعنی ” اس کے پاس کسی کی شفاعت اس کی اپنی اجازت کے بغیر چل نہیں سکتی “۔

اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فرشتے اور اللہ کے مقرب بندے کل کے کل خشیت الٰہی سے، ہیبت رب سے لرزاں و ترساں رہا کرتے ہیں۔ ” ان میں سے جو بھی خدائی کا دعویٰ کرے، ہم اسے جہنم واصل کردیں۔ ظالموں سے ہم ضرور انتقام لے لیا کرتے ہیں “۔ یہ بات بطور شرط ہے اور شرط کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کا وقوع بھی ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ خاص بندگان اللہ میں سے کوئی ایسا ناپاک دعویٰ کرے اور ایسی سخت سزا بھگتے۔

اسی طرح کی آیت «قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ» [43-الزخرف:81] ‏ اور «لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39-الزمر:65] ‏، ہے۔ پس نہ تو رحمن کی اولاد ہے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک ممکن۔

صفحہ نمبر5405

زبردست غالب ٭٭

اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ” جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں، کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے، پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم کیوں کرتے ہو؟ “

ابتداء میں زمین و آسمان ملے جلے ایک دوسرے سے پیوست تہ بہ تہ تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا۔ زمینوں کو نیچے، آسمانوں کو اوپر فاصلے سے اور حکمت سے قائم کیا۔ سات زمینیں پیدا کیں اور سات ہی آسمان بنائے۔ زمین اور پہلے آسمان کے درمیان جوف اور خلأ رکھا۔ آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیداوار اگائی۔ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا یہ تمام چیزیں جن میں سے ہر ایک صانع کی خود مختاری، قدرت اور وحدت پر دلالت کرتی ہے، اپنے سامنے موجود پاتے ہوئے بھی یہ لوگ اللہ کی عظمت کے قائل ہو کر شرک کو نہیں چھوڑتے؟ ؎ «‏فَفِيْ كُلِّ شَيِْئ لَّهُ ايَةٌ» «‏تَدُلُّ عَلٰي اَنَّهُ وَاحِدٌ» ‏یعنی ہرچیز میں اللہ کی الوہیت اور اس کی وحدانیت کا نشان موجود ہے۔

صفحہ نمبر5409

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ پہلے رات تھی یا دن؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”پہلے زمین و آسمان ملے جلے تہ بہ تہ تھے تو ظاہر ہے کہ ان میں اندھیرا ہوگا اور اندھیرے کا نام ہی رات ہے تو ثابت ہوا کہ رات پہلے تھی۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/18:] ‏

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”تم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کرو اور جو وہ جواب دیں، مجھ سے بھی کہو۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”زمین و آسمان سب ایک ساتھ تھے، نہ بارش برستی تھی نہ پیداوار اگتی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذی روح مخلوق پیدا کی تو آسمان کو پھاڑ کر اس میں سے پانی برسایا اور زمین کو چیر کر اس میں پیداوار اگائی۔‏“ جب سائل نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ جواب بیان کیا تو آپ رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے، ”آج مجھے اور بھی یقین ہو گیا کہ قرآن کے علم میں عبداللہ رضی اللہ عنہ بہت ہی بڑھے ہوئے ہیں۔ میرے جی میں کبھی خیال آتا تھا کہ ایسا تو نہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی جرأت بڑھ گئی ہو؟ لیکن آج وہ وسوسہ دل سے جاتا رہا۔‏“ آسمان کو پھاڑ کر سات آسمان بنائے۔ زمین کے مجموعے کو چیر کر سات زمینیں بنائیں۔

صفحہ نمبر5410

مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر میں یہ بھی ہے کہ یہ ملے ہوئے تھے یعنی پہلے ساتوں آسمان ایک ساتھ تھے اور اسی طرح ساتوں زمینیں بھی ملی ہوئی تھیں پھر جدا جدا کر دی گئیں۔

سعید رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر ہے کہ یہ دونوں پہلے ایک ہی تھے پھر الگ الگ کر دیئے گئے۔ زمین و آسمان کے درمیان خلا رکھ دی گئی۔ پانی کو تمام جانداروں کی اصل بنا دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہوں میرا جی خوش ہو جاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام چیزوں کی اصلیت سے خبردار کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ تمام چیزیں پانی سے پیدا کی گئی ہیں ۔ [مسند احمد:295/2:صحیح] ‏

اور روایت میں ہے کہ پھر میں نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئیے جس سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو سلام کیا کرو اور کھانا کھلایا کرو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور رات کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تم تہجد کی نماز پڑھا کرو تاکہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ ۔ [مسند احمد:493/2:صحیح] ‏

زمین کو جناب باری عزوجل نے پہاڑوں کی میخوں سے مضبوط کر دیا تاکہ وہ ہل جل کر لوگوں کو پریشان نہ کرے اور مخلوق کو زلزلے میں نہ ڈالے۔ زمین کی تین چوتھائیاں تو پانی میں ہیں اور صرف چوتھائی حصہ سورج اور ہوا کے لیے کھلا ہوا ہے۔ تاکہ لوگ آسمان کو اور اس کے عجائبات کو بچشم خود ملاحظہ کر سکیں۔ پھر زمین میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے راہیں بنا دیں کہ لوگ باآسانی اپنے سفر طے کر سکیں اور دور دراز ملکوں میں بھی پہنچ سکیں۔

صفحہ نمبر5411

شان الٰہی دیکھئیے اس حصے اور اس ٹکڑے کے درمیان بلند پہاڑی حائل ہے۔ یہاں سے وہاں پہنچنا بظاہر سخت دشوار معلوم ہوتا ہے لیکن قدرت الٰہی خود اس پہاڑ میں راستہ بنا دیتی ہے کہ یہاں کے لوگ وہاں اور وہاں کے یہاں پہنچ جائیں اور اپنے کام کاج پورے کر لیں۔ آسمان کو زمین پر مثل قبے کے بنا دیا۔

جیسے فرمان ہے کہ «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ» [51-الذاريات:47] ‏ ” ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم وسعت اور کشادگی والے ہیں “۔

فرماتا ہے «وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا» [91-الشمس:5] ‏ ” قسم آسمان کی اور اس کی بناوٹ کی “۔

ارشاد ہے، «أَفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ» [50-ق:6] ‏ ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے سروں پر آسمان کو کس کیفیت کا بنایا ہے اور کس طرح زینت دے رکھی ہے اور لطف یہ ہے کہ اتنے بڑے آسمان میں کوئی سوراخ تک نہیں “۔

«بنا» کہتے ہیں، قبے یا خیمے کے کھڑا کرنے کو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ «بُنِىَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ» اسلام کی بنائیں پانچ ہیں جیسے پانچ ستون پر کوئی قبہ یا خیمہ کھڑا ہوا ہو ۔ [صحیح بخاری:8] ‏

پھر آسمان جو مثل چھت کے ہے، یہ ہے بھی محفوظ اور بلند پہرے چوکی والا کہ کہیں سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ بلندو بالا، اونچا اور صاف ہے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یہ آسمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رکی ہوئی موج ہے ۔ [ابو الشيخ فى العظمة:541] ‏ یہ روایت سنداً غریب ہے۔

صفحہ نمبر5412

لیکن لوگ اللہ پاک کی ان زبردست نشانیوں سے بھی بے پرواہ ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَكَأَيِّن مِّنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ» [12-یوسف:105] ‏ ” آسمان و زمین کی بہت سی نشانیاں ہیں جو لوگوں کی نگاہوں تلے ہیں لیکن پھر بھی وہ ان سے منہ موڑے ہوئے ہیں “۔

کوئی غور و فکر ہی نہیں کرتے، کبھی نہیں سوچتے کہ کتنا پھیلا ہوا، کتنا بلند، کس قدر عظیم الشان یہ آسمان ہمارے سروں پر بغیر ستون کے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے۔ پھر اس میں کس خوبصورتی سے ستاروں کاجڑاؤ ہو رہا ہے۔ ان میں بھی کوئی ٹھہرا ہوا ہے، کوئی چلتا پھرتا ہے۔ پھر سورج کی چال مقرر ہے۔ اس کی موجودگی دن ہے اس کا نظر نہ آنا رات ہے۔ پورے آسمان کا چکر صرف ایک دن رات میں سورج پورا کر لیتا ہے۔ اس کی چال کو، اس کی تیزی کو بجز اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ یوں قیاس آرائیاں اور اندازے کرنا اور بات ہے۔ بنی اسرائیل کے عابدوں میں سے ایک نے اپنی تیس سال کی مدت عبادت پوری کرلی مگر جس طرح اور عابدوں پر تیس سال کی عبادت کے بعد ابر کا سایہ ہو جایا کرتا تھا، اس پر نہ ہوا تو اس نے اپنی والدہ سے یہ حال بیان کیا۔ اس نے کہا، بیٹے تم نے اپنی اس عبادت کے زمانے میں کوئی گناہ کر لیا ہوگا؟ اس نے کہا اماں ایک بھی نہیں۔ کہا پھر تم نے کسی گناہ کا پورا قصد کیا ہوگا؟ جواب دیا کہ ایسا بھی مطلقاً نہیں ہوا۔ ماں نے کہا، بہت ممکن ہے کہ تم نے آسمان کی طرف نظر کی ہو اور غور و تدبر کے بغیر ہی ہٹالی ہو۔ عابد نے جواب دیا ایسا تو برابر ہوتا رہا، فرمایا بس یہی سبب ہے۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کی بعض نشانیاں بیان فرماتا ہے کہ ” رات اور اس کے اندھیرے کو دیکھو، دن اور اس کی روشنی پر نظر ڈالو، پھر ایک کے بعد دوسرے کا بڑھنا دیکھو، سورج چاند کو دیکھو۔ سورج کا نور ایک مخصوص نور ہے اور اس کا آسمان، اس کا زمانہ، اس کی حرکت، اس کی چال علیحدہ ہے۔ چاند کا نور الگ ہے، فلک الگ ہے، چال الگ ہے، انداز اور ہے “۔

«وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ‏ ” ہر ایک اپنے اپنے فلک میں گویا تیرتا پھرتا ہے اور حکم الٰہی کی بجا آوری میں مشغول ہے “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/18:] ‏

جیسے فرمان ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الأنعام:96] ‏ ” وہی صبح کاروشن کرنے والا ہے وہی رات کو پرسکون بنانے والا ہے۔ وہی سورج چاند کا انداز مقرر کرنے والا ہے۔ وہی ذی عزت، غلبے والا اور ذی علم علم والا ہے “۔

صفحہ نمبر5413

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com