Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah An-Noor
Tafsir Ibn Kathir · The Light · 64 ayat · ayat 1–30 · Quran text →
مسئلہ رجم ٭٭
اس بیان سے کہ ” ہم نے اس سورت کو نازل فرمایا ہے “، اس سورت کی بزرگی اور ضرورت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس سے یہ مقصود نہیں کہ اور سورتیں ضروری اور بزرگی والی نہیں۔
«فَرَضْنٰھَا» کے معنی مجاہد و قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بیان کئے ہیں کہ ”حلال و حرام، امر و نہی اور حدود وغیرہ کا اس میں بیان ہے۔“
امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اسے ہم نے تم پر اور تمہارے بعد والوں پر مقرر کر دیا ہے۔ اس میں صاف صاف، کھلے کھلے، روشن احکام بیان فرمائے ہیں تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو، احکام الٰہی کو یاد رکھو اور پھر ان پر عمل کرو۔“
پھر زناکاری کی شرعی سزا فرمائی، زنا کار یا تو کنوارا ہوگا یا شادی شدہ ہوگا یعنی وہ جو حریت بلوغت اور عقل کی حالت میں نکاح شرعی کے ساتھ کسی عورت سے ملا ہو۔ اور جمہور علماء کے نزدیک اسے ایک سال کی جلا وطنی بھی دی جائے گی۔ ہاں امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ یہ جلا وطنی امام کی رائے پر ہے اگر وہ چاہے دے چاہے نہ دے۔ جمہور کی دلیل تو بخاری مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ دو اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا بیٹا اس کے ہاں ملازم تھا وہ اس کی بیوی سے زنا کربیٹھا، میں نے اس کے فدیے میں ایک سو بکریاں اور ایک لونڈی دی۔ پھر میں نے علماء سے دریافت کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے بیٹے پر شرعی سزا سو کوڑوں کی ہے اور ایک سال کی جلا وطنی اور اس کی بیوی پر رجم یعنی سنگ ساری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! میں تم میں اللہ کی کتاب کا صحیح فیصلہ کرتا ہوں۔ لونڈی اور بکریاں تو تجھے واپس دلوا دی جائیں گی اور تیرے بچے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اے انیس تو اس کی بیوی کا بیان لے۔ (یہ انیس رضی اللہ عنہ قبیلہ اسلم کے ایک شخص تھے)۔ اگر وہ اپنی سیاہ کاری کا اقرار کرے تو تو اسے سنگسار کر دینا ۔ چنانچہ اس بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے اقرار کیا اور انہیں رجم کر دیا گیا رضی اللہ عنہا ۔ [صحیح بخاری:2314]
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کنوارے پر سو کوڑوں کے ساتھ ہی سال بھر تک کی جلا وطنی بھی ہے اور اگر شادی شدہ ہے تو وہ رجم کر دیا جائے گا۔ چنانچہ موطا مالک میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہا نے اپنے ایک خطبہ میں حمد و ثناء کے بعد فرمایا کہ ”لوگو! اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب اللہ میں رجم کرنے کے حکم کی آیت بھی تھی جسے ہم نے تلاوت کی، یاد کیا، اس پر عمل بھی کیا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی رجم ہوا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد کوئی یہ نہ کہنے لگے کہ ہم رجم کو کتاب اللہ میں نہیں پاتے، ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کے اس فریضے کو جسے اللہ نے اپنی کتاب میں اتارا، چھوڑ کر گمراہ ہو جائیں۔ کتاب اللہ میں رجم کا حکم مطلق حق ہے،اس پر جو زنا کرے اور شادی شدہ ہو خواہ مرد ہو، خواہ عورت ہو۔ جب کہ اس کے زنا پر شرعی دلیل ہو یا حمل ہو یا اقرار ہو۔“ [موطا:823/2] یہ حدیث بخاری و مسلم میں اس سے ہی مطول ہے۔ [صحیح بخاری:2462]
صفحہ نمبر5840
مسند احمد میں ہے کہ ”آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ رجم یعنی سنگساری کا مسئلہ ہم قرآن میں نہیں پاتے، قرآن میں صرف کوڑے مارنے کا حکم ہے۔ یاد رکھو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے، قرآن میں جو نہ تھا، عمر (رضی اللہ عنہ) نے لکھ دیا تو میں آیت رجم کو اسی طرح لکھ دیتا، جس طرح نازل ہوئی تھی۔“ [مسند احمد:29/1:صحیح] یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں رجم کا ذکر کیا اور فرمایا ”رجم ضروری ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حدوں میں سے ایک حد ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا۔ اگر لوگوں کے اس کہنے کا کھٹکا نہ ہوتا کہ عمر (رضی اللہ عنہ) نے کتاب اللہ میں زیادتی کی جو اس میں نہ تھی تو میں کتاب اللہ کے ایک طرف آیت رجم لکھ دیتا۔ عمر بن خطاب عبداللہ بن عوف اور فلاں اور فلاں کی شہادت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی رجم کیا۔ یاد رکھو تمہارے بعد ایسے لوگ آنے والے ہیں جو رجم کو اور شفاعت کو اور عذاب قبر کو جھٹلائیں گے، اور اس بات کو بھی کہ کچھ لوگ جہنم سے اس کے بعد نکالے جائیں گے کہ وہ کوئلے ہوں گے۔“ [مسند احمد:23/1:اسنادہ ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ امیرالمونین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”رجم کے حکم کے انکار کرنے کی ہلاکت سے بچنا۔“ [مسند احمد:36/1:صحیح] امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ بھی اسے لائے ہیں اور اسے صحیح کہا ہے۔ [سنن ترمذي:1431،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5841
ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ لوگ مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”ہم قرآن میں آیت رجم پڑھتے تھے کہ شادی شدہ مرد یا عورت جب زنا کاری کریں تو انہیں ضرور رجم کردو“ مروان نے کہا کہ تم نے پھر اس آیت کو قرآن میں کیوں نہ لکھا؟ فرمایا سنو! ہم میں جب اس کا ذکر چلا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں تمہاری تشفی کر دیتا ہوں، ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ذکر کیا اور رجم کا بیان کیا۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم رجم کی آیت لکھ لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اب تو میں اسے لکھ نہیں سکتا، یا اسی کے مثل ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7145:] یہ روایت نسائی میں بھی ہے۔
پس ان سب احادیث سے ثابت ہوا کہ رجم کی آیت پہلے لکھی ہوئی تھی پھر تلاوت میں منسوخ ہو گئی اور حکم باقی رہا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی بیوی کے رجم کا حکم دیا، جس نے اپنے ملازم سے بدکاری کرائی تھی۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز رضی اللہ عنہ کو اور ایک غامدیہ عورت کو رجم کرایا۔ ان سب واقعات میں یہ مذکور نہیں کہ رجم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوڑے بھی لگوائے ہوں۔ بلکہ ان سب صحیح اور صاف احادیث میں صرف رجم کا ذکر ہے کسی میں بھی کوڑوں کا بیان نہیں۔
اسی لیے جمہور علماء اسلام کا یہی مذہب ہے۔ ابوحنیفہ رحمہ اللہ، مالک رحمہ اللہ، شافعی رحمہ اللہ بھی اسی طرف گئے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے اسے کوڑے مارنے چاہئیں، پھر رجم کرنا چاہیئے تاکہ قرآن و حدیث دونوں پر عمل ہو جائے جیسے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سراجہ لائی گئی جو شادی شدہ عورت تھی اور زناکاری میں آئی تھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے جمعرات کے دن تو اسے کوڑے لگوائے اور جمعہ کے دن سنگسار کرا دیا، اور فرمایا کہ ”کتاب اللہ پر عمل کر کے میں نے کوڑے پٹوائے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کر کے سنگسار کرایا۔“
مسند احمد، سنن اربعہ اور مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری بات لے لو، میری بات لے لو، اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے راستہ نکال دیا۔ کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کر لے تو سو کوڑے اور سال بھر کی جلا وطنی اور شادی شدہ شادی شدہ کے ساتھ کرے تو رجم ۔ [صحیح مسلم:1690]
صفحہ نمبر5842
پھر فرمایا ” اللہ کے حکم کے ماتحت اس حد کے جاری کرنے میں تمہیں ان پر ترس اور رحم نہ کھانا چاہیئے “۔ دل کا رحم اور چیز ہے اور وہ تو ضرور ہوگا لیکن حد کے جاری کرنے میں امام کا سزا میں کمی کرنا اور سستی کرنا بری چیز ہے۔ جب امام یعنی سلطان کے پاس کوئی ایسا واقعہ جس میں حد ہو، پہنچ جائے، تو اسے چاہیئے کہ حد جاری کرے اور اسے نہ چھوڑے۔
حدیث میں ہے آپس میں حدود سے درگزر کرو، جو بات مجھ تک پہنچی اور اس میں حد ہو تو وہ تو واجب اور ضروری ہوگئی ۔ [سنن ابوداود:4376،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ حد کا زمین میں قائم ہونا، زمین والوں کیلئے چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے ۔ [سنن نسائی:4909،قال الشيخ الألباني:حسن]
یہ بھی قول ہے کہ ترس کھا کر، مار کو نرم نہ کر دو بلکہ درمیانہ طور پر کوڑے لگاؤ، یہ بھی نہ ہو کہ ہڈی توڑ دو۔ تہمت لگانے والے کی حد کے جاری کرنے کے وقت اس کے جسم پر کپڑے ہونے چاہئیں۔ ہاں زانی پر حد کے جاری کرنے کے وقت کپڑے نہ ہوں۔ یہ قول حماد بن ابوسلیمان رحمتہ اللہ کا ہے۔ اسے بیان فرما کر آپ رحمہ اللہ نے یہی جملہ آیت «وَّ لَا تَاۡخُذۡکُمۡ بِہِمَا رَاۡفَۃٌ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ لۡیَشۡہَدۡ عَذَابَہُمَا طَآئِفَۃٌ مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ» [24-النور:2] ، پڑھا تو سعید بن ابی عروبہ نے پوچھا یہ حکم میں ہے؟ کہا ہاں حکم میں ہے اور کوڑوں میں یعنی حد کے قائم کرنے میں اور سخت چوٹ مارنے میں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی لونڈی نے جب زنا کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے پیروں پر اور کمر پر کوڑے مارے تو نافعہ نے اسی آیت کا یہ جملہ تلاوت کیا کہ اللہ کی حد کے جاری کرنے میں تمہیں ترس نہ آنا چاہیئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”کیا تیرے نزدیک میں نے اس پر کوئی ترس کھایا ہے؟ سنو اللہ نے اس کے مار ڈالنے کا حکم نہیں دیا نہ یہ فرمایا ہے کہ اس کے سر پر کوڑے مارے جائیں۔ میں نے اسے طاقت سے کوڑے لگائے ہیں اور پوری سزا دی ہے۔“
صفحہ نمبر5843
پھر فرمایا اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت پر ایمان ہے تو تمہیں اس حکم کی بجا آوری کرنی چاہیئے اور زانیوں پر حدیں قائم کرنے میں پہلو تہی نہ کرنی چاہیئے۔ اور انہیں ضرب بھی شدید مارنی چاہیئے لیکن ہڈی توڑنے والی نہیں تاکہ وہ اپنے اس گناہ سے باز رہیں اور ان کی یہ سزا دوسروں کیلئے بھی عبرت بنے۔ رجم بری چیز نہیں۔
ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بکری کو زبح کرتا ہوں لیکن میرا دل دکھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس رحم پر بھی تجھے اجر ملے گا ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:26:صحیح]
پھر فرماتا ہے ” ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا مجمع ہونا چاہیئے تاکہ سب کے دل میں ڈر بیٹھ جائے اور زانی کی رسوائی بھی ہو تاکہ اور لوگ اس سے رک جائیں “۔ اسے اعلانیہ سزا دی جائے، مخفی طور پر مار پیٹ کر نہ چھوڑا جائے۔ ایک شخص اور اس سے زیادہ بھی ہوجائیں تو جماعت ہوگئی اور آیت پر عمل ہوگیا اسی کو لے کر امام محمد کا مذھب ہے کہ ایک شخص بھی طائفہ ہے۔ عطا رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ دو ہونے چاہئیں۔ سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں چار ہوں۔ زہری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں تین یا تین سے زیادہ۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں چار اور اس سے زیادہ کیونکہ زنا میں چار سے کم گواہ نہیں ہیں، چار ہوں یا اس سے زیادہ۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب بھی یہی ہے۔ ربیعہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں پانچ ہوں۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک دس۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں ایک جماعت ہو تاکہ نصیحت، عبرت اور سزا ہو۔ نصرت بن علقمہ رحمتہ اللہ کے نزدیک جماعت کی موجودگی کی علت یہ بیان کی ہے کہ وہ ان لوگوں کیلئے جن پر حد جاری کی جا رہی ہے دعا مغفرت و رحمت کریں۔
صفحہ نمبر5844
مسئلہ رجم ٭٭
اس بیان سے کہ ” ہم نے اس سورت کو نازل فرمایا ہے “، اس سورت کی بزرگی اور ضرورت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس سے یہ مقصود نہیں کہ اور سورتیں ضروری اور بزرگی والی نہیں۔
«فَرَضْنٰھَا» کے معنی مجاہد و قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بیان کئے ہیں کہ ”حلال و حرام، امر و نہی اور حدود وغیرہ کا اس میں بیان ہے۔“
امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”اسے ہم نے تم پر اور تمہارے بعد والوں پر مقرر کر دیا ہے۔ اس میں صاف صاف، کھلے کھلے، روشن احکام بیان فرمائے ہیں تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو، احکام الٰہی کو یاد رکھو اور پھر ان پر عمل کرو۔“
پھر زناکاری کی شرعی سزا فرمائی، زنا کار یا تو کنوارا ہوگا یا شادی شدہ ہوگا یعنی وہ جو حریت بلوغت اور عقل کی حالت میں نکاح شرعی کے ساتھ کسی عورت سے ملا ہو۔ اور جمہور علماء کے نزدیک اسے ایک سال کی جلا وطنی بھی دی جائے گی۔ ہاں امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ یہ جلا وطنی امام کی رائے پر ہے اگر وہ چاہے دے چاہے نہ دے۔ جمہور کی دلیل تو بخاری مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ دو اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا بیٹا اس کے ہاں ملازم تھا وہ اس کی بیوی سے زنا کربیٹھا، میں نے اس کے فدیے میں ایک سو بکریاں اور ایک لونڈی دی۔ پھر میں نے علماء سے دریافت کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے بیٹے پر شرعی سزا سو کوڑوں کی ہے اور ایک سال کی جلا وطنی اور اس کی بیوی پر رجم یعنی سنگ ساری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! میں تم میں اللہ کی کتاب کا صحیح فیصلہ کرتا ہوں۔ لونڈی اور بکریاں تو تجھے واپس دلوا دی جائیں گی اور تیرے بچے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اے انیس تو اس کی بیوی کا بیان لے۔ (یہ انیس رضی اللہ عنہ قبیلہ اسلم کے ایک شخص تھے)۔ اگر وہ اپنی سیاہ کاری کا اقرار کرے تو تو اسے سنگسار کر دینا ۔ چنانچہ اس بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے اقرار کیا اور انہیں رجم کر دیا گیا رضی اللہ عنہا ۔ [صحیح بخاری:2314]
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کنوارے پر سو کوڑوں کے ساتھ ہی سال بھر تک کی جلا وطنی بھی ہے اور اگر شادی شدہ ہے تو وہ رجم کر دیا جائے گا۔ چنانچہ موطا مالک میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہا نے اپنے ایک خطبہ میں حمد و ثناء کے بعد فرمایا کہ ”لوگو! اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب اللہ میں رجم کرنے کے حکم کی آیت بھی تھی جسے ہم نے تلاوت کی، یاد کیا، اس پر عمل بھی کیا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی رجم ہوا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد کوئی یہ نہ کہنے لگے کہ ہم رجم کو کتاب اللہ میں نہیں پاتے، ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کے اس فریضے کو جسے اللہ نے اپنی کتاب میں اتارا، چھوڑ کر گمراہ ہو جائیں۔ کتاب اللہ میں رجم کا حکم مطلق حق ہے،اس پر جو زنا کرے اور شادی شدہ ہو خواہ مرد ہو، خواہ عورت ہو۔ جب کہ اس کے زنا پر شرعی دلیل ہو یا حمل ہو یا اقرار ہو۔“ [موطا:823/2] یہ حدیث بخاری و مسلم میں اس سے ہی مطول ہے۔ [صحیح بخاری:2462]
صفحہ نمبر5840
مسند احمد میں ہے کہ ”آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ رجم یعنی سنگساری کا مسئلہ ہم قرآن میں نہیں پاتے، قرآن میں صرف کوڑے مارنے کا حکم ہے۔ یاد رکھو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے، قرآن میں جو نہ تھا، عمر (رضی اللہ عنہ) نے لکھ دیا تو میں آیت رجم کو اسی طرح لکھ دیتا، جس طرح نازل ہوئی تھی۔“ [مسند احمد:29/1:صحیح] یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں رجم کا ذکر کیا اور فرمایا ”رجم ضروری ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حدوں میں سے ایک حد ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رجم کیا۔ اگر لوگوں کے اس کہنے کا کھٹکا نہ ہوتا کہ عمر (رضی اللہ عنہ) نے کتاب اللہ میں زیادتی کی جو اس میں نہ تھی تو میں کتاب اللہ کے ایک طرف آیت رجم لکھ دیتا۔ عمر بن خطاب عبداللہ بن عوف اور فلاں اور فلاں کی شہادت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی رجم کیا۔ یاد رکھو تمہارے بعد ایسے لوگ آنے والے ہیں جو رجم کو اور شفاعت کو اور عذاب قبر کو جھٹلائیں گے، اور اس بات کو بھی کہ کچھ لوگ جہنم سے اس کے بعد نکالے جائیں گے کہ وہ کوئلے ہوں گے۔“ [مسند احمد:23/1:اسنادہ ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ امیرالمونین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”رجم کے حکم کے انکار کرنے کی ہلاکت سے بچنا۔“ [مسند احمد:36/1:صحیح] امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ بھی اسے لائے ہیں اور اسے صحیح کہا ہے۔ [سنن ترمذي:1431،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5841
ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ لوگ مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”ہم قرآن میں آیت رجم پڑھتے تھے کہ شادی شدہ مرد یا عورت جب زنا کاری کریں تو انہیں ضرور رجم کردو“ مروان نے کہا کہ تم نے پھر اس آیت کو قرآن میں کیوں نہ لکھا؟ فرمایا سنو! ہم میں جب اس کا ذکر چلا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں تمہاری تشفی کر دیتا ہوں، ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ذکر کیا اور رجم کا بیان کیا۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم رجم کی آیت لکھ لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اب تو میں اسے لکھ نہیں سکتا، یا اسی کے مثل ۔ [نسائی فی السنن الکبری:7145:] یہ روایت نسائی میں بھی ہے۔
پس ان سب احادیث سے ثابت ہوا کہ رجم کی آیت پہلے لکھی ہوئی تھی پھر تلاوت میں منسوخ ہو گئی اور حکم باقی رہا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی بیوی کے رجم کا حکم دیا، جس نے اپنے ملازم سے بدکاری کرائی تھی۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز رضی اللہ عنہ کو اور ایک غامدیہ عورت کو رجم کرایا۔ ان سب واقعات میں یہ مذکور نہیں کہ رجم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوڑے بھی لگوائے ہوں۔ بلکہ ان سب صحیح اور صاف احادیث میں صرف رجم کا ذکر ہے کسی میں بھی کوڑوں کا بیان نہیں۔
اسی لیے جمہور علماء اسلام کا یہی مذہب ہے۔ ابوحنیفہ رحمہ اللہ، مالک رحمہ اللہ، شافعی رحمہ اللہ بھی اسی طرف گئے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے اسے کوڑے مارنے چاہئیں، پھر رجم کرنا چاہیئے تاکہ قرآن و حدیث دونوں پر عمل ہو جائے جیسے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سراجہ لائی گئی جو شادی شدہ عورت تھی اور زناکاری میں آئی تھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے جمعرات کے دن تو اسے کوڑے لگوائے اور جمعہ کے دن سنگسار کرا دیا، اور فرمایا کہ ”کتاب اللہ پر عمل کر کے میں نے کوڑے پٹوائے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کر کے سنگسار کرایا۔“
مسند احمد، سنن اربعہ اور مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری بات لے لو، میری بات لے لو، اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے راستہ نکال دیا۔ کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کر لے تو سو کوڑے اور سال بھر کی جلا وطنی اور شادی شدہ شادی شدہ کے ساتھ کرے تو رجم ۔ [صحیح مسلم:1690]
صفحہ نمبر5842
پھر فرمایا ” اللہ کے حکم کے ماتحت اس حد کے جاری کرنے میں تمہیں ان پر ترس اور رحم نہ کھانا چاہیئے “۔ دل کا رحم اور چیز ہے اور وہ تو ضرور ہوگا لیکن حد کے جاری کرنے میں امام کا سزا میں کمی کرنا اور سستی کرنا بری چیز ہے۔ جب امام یعنی سلطان کے پاس کوئی ایسا واقعہ جس میں حد ہو، پہنچ جائے، تو اسے چاہیئے کہ حد جاری کرے اور اسے نہ چھوڑے۔
حدیث میں ہے آپس میں حدود سے درگزر کرو، جو بات مجھ تک پہنچی اور اس میں حد ہو تو وہ تو واجب اور ضروری ہوگئی ۔ [سنن ابوداود:4376،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے کہ حد کا زمین میں قائم ہونا، زمین والوں کیلئے چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے ۔ [سنن نسائی:4909،قال الشيخ الألباني:حسن]
یہ بھی قول ہے کہ ترس کھا کر، مار کو نرم نہ کر دو بلکہ درمیانہ طور پر کوڑے لگاؤ، یہ بھی نہ ہو کہ ہڈی توڑ دو۔ تہمت لگانے والے کی حد کے جاری کرنے کے وقت اس کے جسم پر کپڑے ہونے چاہئیں۔ ہاں زانی پر حد کے جاری کرنے کے وقت کپڑے نہ ہوں۔ یہ قول حماد بن ابوسلیمان رحمتہ اللہ کا ہے۔ اسے بیان فرما کر آپ رحمہ اللہ نے یہی جملہ آیت «وَّ لَا تَاۡخُذۡکُمۡ بِہِمَا رَاۡفَۃٌ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ لۡیَشۡہَدۡ عَذَابَہُمَا طَآئِفَۃٌ مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ» [24-النور:2] ، پڑھا تو سعید بن ابی عروبہ نے پوچھا یہ حکم میں ہے؟ کہا ہاں حکم میں ہے اور کوڑوں میں یعنی حد کے قائم کرنے میں اور سخت چوٹ مارنے میں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی لونڈی نے جب زنا کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے پیروں پر اور کمر پر کوڑے مارے تو نافعہ نے اسی آیت کا یہ جملہ تلاوت کیا کہ اللہ کی حد کے جاری کرنے میں تمہیں ترس نہ آنا چاہیئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”کیا تیرے نزدیک میں نے اس پر کوئی ترس کھایا ہے؟ سنو اللہ نے اس کے مار ڈالنے کا حکم نہیں دیا نہ یہ فرمایا ہے کہ اس کے سر پر کوڑے مارے جائیں۔ میں نے اسے طاقت سے کوڑے لگائے ہیں اور پوری سزا دی ہے۔“
صفحہ نمبر5843
پھر فرمایا اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت پر ایمان ہے تو تمہیں اس حکم کی بجا آوری کرنی چاہیئے اور زانیوں پر حدیں قائم کرنے میں پہلو تہی نہ کرنی چاہیئے۔ اور انہیں ضرب بھی شدید مارنی چاہیئے لیکن ہڈی توڑنے والی نہیں تاکہ وہ اپنے اس گناہ سے باز رہیں اور ان کی یہ سزا دوسروں کیلئے بھی عبرت بنے۔ رجم بری چیز نہیں۔
ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بکری کو زبح کرتا ہوں لیکن میرا دل دکھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس رحم پر بھی تجھے اجر ملے گا ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:26:صحیح]
پھر فرماتا ہے ” ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا مجمع ہونا چاہیئے تاکہ سب کے دل میں ڈر بیٹھ جائے اور زانی کی رسوائی بھی ہو تاکہ اور لوگ اس سے رک جائیں “۔ اسے اعلانیہ سزا دی جائے، مخفی طور پر مار پیٹ کر نہ چھوڑا جائے۔ ایک شخص اور اس سے زیادہ بھی ہوجائیں تو جماعت ہوگئی اور آیت پر عمل ہوگیا اسی کو لے کر امام محمد کا مذھب ہے کہ ایک شخص بھی طائفہ ہے۔ عطا رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ دو ہونے چاہئیں۔ سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں چار ہوں۔ زہری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں تین یا تین سے زیادہ۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں چار اور اس سے زیادہ کیونکہ زنا میں چار سے کم گواہ نہیں ہیں، چار ہوں یا اس سے زیادہ۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب بھی یہی ہے۔ ربیعہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں پانچ ہوں۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک دس۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں ایک جماعت ہو تاکہ نصیحت، عبرت اور سزا ہو۔ نصرت بن علقمہ رحمتہ اللہ کے نزدیک جماعت کی موجودگی کی علت یہ بیان کی ہے کہ وہ ان لوگوں کیلئے جن پر حد جاری کی جا رہی ہے دعا مغفرت و رحمت کریں۔
صفحہ نمبر5844
زانی اور زانیہ اور اخلاقی مجرم ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ زانی سے زناکاری پر رضامند وہی عورت ہوتی ہے جو بدکار ہو یا مشرکہ ہو کہ وہ اس برے کام کو عیب ہی نہیں سمجھتی۔ ایسی بدکار عورت سے وہی مرد ملتا ہے جو اسی جیسا بدچلن ہو یا مشرک ہو جو اس کی حرمت کا قائل ہی نہ ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بہ سند صحیح مروی ہے کہ ”یہاں نکاح سے مراد جماع ہے یعنی زانیہ عورت سے زنا کار یا مشرک مرد ہی زنا کرتا ہے۔“ یہی قول مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، عروہ بن زبر، ضحاک، مکحول، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے بزرگ مفسرین سے مروی ہے۔ مومنوں پر یہ حرام ہے یعنی زناکاری کرنا اور زانیہ عورتوں سے نکاح کرنا یا عفیفہ اور پاک دامن عورتوں کو ایسے زانیوں کے نکاح میں دینا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”بدکار عورتوں سے نکاح کرنا مسلمانوں پر حرام ہے“ جیسے اور آیت میں ہے «مُحْصَنٰتٍ غَيْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ» [4-النساء:25] یعنی ” مسلمانوں کو جن عورتوں سے نکاح کرنا چاہیئے ان میں یہ تینوں اوصاف ہونے چاہئیں وہ پاک دامن ہوں، وہ بدکار نہ ہوں، نہ چوری چھپے برے لوگوں سے میل ملاپ کرنے والی ہوں “۔ یہی تینوں وصف مردوں میں بھی ہونے کا بیان کیا گیا ہے۔
اسی لیے امام احمد رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ ”نیک اور پاک دامن مسلمان کا نکاح بدکار عورت سے صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے ہاں بعد از توبہ عقد نکاح درست ہے۔ اسی طرح بھولی بھالی، پاک دامن، عفیفہ عورتوں کا نکاح زانی اور بدکار لوگوں سے منعقد ہی نہیں ہوتا، جب تک وہ سچے دل سے اپنے اس ناپاک فعل سے توبہ نہ کر لے کیونکہ فرمان الٰہی ہے کہ ” یہ مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے “۔
ایک شخض نے ام مھزول نامی ایک بدکار عورت سے نکاح کر لینے کی اجازت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھ کر سنائی ۔ [مسند احمد:159/2:حسن] ایک اور روایت میں ہے کہ اس کی طلب اجازت پر یہ آیت اتری۔ [مسند احمد:225/2:صحیح]
صفحہ نمبر5846
ترمذی شریف میں ہے کہ ایک صحابی جن کا نام سیدنا مرثد بن ابو مرثد رضی اللہ عنہ تھا، یہ مکہ سے مسلمان قیدیوں کو اٹھالایا کرتے تھے اور مدینے پہنچا دیا کرتے تھے۔ عناق نامی ایک بدکار عورت مکے میں رہا کرتی تھی۔ جاہلیت کے زمانے میں ان کا اس عورت سے تعلق تھا۔ سیدنا مرثد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں ایک قیدی کو لانے کیلئے مکہ شریف گیا، میں ایک باغ کی دیوار کے نیچے پہنچا رات کا وقت تھا چاندنی چٹکی ہوئی تھی۔ اتفاق سے عناق آ پہنچی اور مجھے دیکھ لیا بلکہ پہچان بھی لیا اور آواز دے کر کہا کیا مرثد ہے؟ میں نے کہا ہاں مرثد ہوں۔ اس نے بڑی خوشی ظاہر کی اور مجھ سے کہنے لگی چلو رات میرے ہاں گزارنا۔ میں نے کہا عناق اللہ تعالیٰ نے زناکاری حرام کردی ہے۔ جب وہ مایوس ہوگئی تو اس نے مجھے پکڑوانے کیلئے غل مچانا شروع کیا کہ اے خیمے والو ہوشیار ہو جاؤ دیکھو چور آ گیا ہے۔ یہی ہے جو تمہارے قیدیوں کو چرا کر لے جایا کرتا ہے۔ لوگ جاگ اٹھے اور آٹھ آدمی مجھے پکڑنے کیلئے میرے پیچھے دوڑے۔ میں مٹھیاں بند کر کے خندق کے راستے بھاگا اور ایک غار میں جا چھپا۔ یہ لوگ بھی میرے پیچھے ہی پیچھے غار پر آ پہنچے لیکن میں انہیں نہ ملا۔ یہ وہیں پیشاب کرنے کو بیٹھے واللہ ان کا پیشاب میرے سر پر آ رہا تھا لیکن اللہ نے انہیں اندھا کردیا۔ ان کی نگاہیں مجھ پر نہ پڑیں، ادھر ادھر ڈھونڈ بھال کر واپس چلے گئے۔ میں نے کچھ دیر گزار کر جب یہ یقین کرلیا کہ وہ پھر سوگئے ہوں گے تو یہاں سے نکلا، پھر مکے کی راہ لی اور وہیں پہنچ کر اس مسلمان قیدی کو اپنی کمر پر چڑھایا اور وہاں سے لے بھاگا، چونکہ وہ بھاری بدن کے تھے، میں جب اذخر میں پہنچا تو تھک گیا میں نے انہیں کمر سے اتارا ان کے بندھن کھول دیئے اور آزاد کر دیا۔
اب اٹھاتا چلاتا مدینے پہنچ گیا، چونکہ عناق کی محبت میرے دل میں تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ میں اس سے نکاح کر لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔ میں نے دوبارہ یہی سوال کیا پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور یہ آیت اتری، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے مرثد زانیہ سے نکاح زانی یا مشرک ہی کرتا ہے تو اس سے نکاح کا ارادہ چھوڑ دے ۔ [سنن ترمذي:3177،قال الشيخ الألباني:حسن] امام ابوداؤد اور نسائی بھی اسے اپنی سنن کی کتاب النکاح میں لائے ہیں۔ [سنن ابوداود:2051،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد وغیرہ میں ہے زانی جس پر کوڑے لگ چکے ہوں وہ اپنے جیسے سے ہی نکاح کر سکتا ہے ۔ [سنن ابوداود:2052،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5847
مسند امام احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تین قسم کے لوگ ہیں جو جنت میں نہ جائیں گے اور جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا۔ (١) ماں باپ کا نافرمان۔ (٢) وہ عورتیں جو مردوں کی مشابہت کریں۔ (٣) اور دیوث۔ اور تین قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا، (١) ماں باپ کا نافرمان (٢) ہمیشہ کا نشے کا عادی (٣) اور اللہ کی راہ میں دے کر احسان جتانے والا ۔ [مسند احمد:134/2:حسن]
مسند میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تین قسم کے لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کر دی ہے (١) ہمیشہ کا شرابی، (٢) ماں باپ کا نافرمان۔ (٣) اور اپنے گھر والوں میں خباثت کو برقرار رکھنے والا ۔ [مسند احمد:29/2:صحیح بالشواهد]
ابوداؤد طیالسی میں ہے جنت میں کوئی دیوث نہیں جائے گا ۔ [مسند طیالسی:642:ضعیف]
ابن ماجہ میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ سے پاک صاف ہو کر ملنا چاہتا ہے، اسے چاہیئے کہ پاکدامن عورتوں سے نکاح کرے جو لونڈیاں نہ ہوں ۔ [سنن ابن ماجه:1862،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔ دیوث کہتے ہیں بے غیرت شخص کو۔
نسائی میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے اپنی بیوی سے بہت ہی محبت ہے لیکن اس میں یہ عادت ہے کہ کسی ہاتھ کو واپس نہیں لوٹاتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طلاق دیدے ۔ اس نے کہا مجھے تو صبر نہیں آنے کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر جا اس سے فائدہ اٹھا ۔ [سنن نسائی:3231،قال الشيخ الألباني:حسن] لیکن یہ حدیث ثابت نہیں اس کا راوی عبدالکریم قوی نہیں۔ دوسرا راوی اس کا ہارون ہے جو اس سے قوی ہے مگر ان کی روایت مرسل ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے۔ یہی روایت مسند میں مروی ہے لیکن امام نسائی رحمتہ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ مسند کرنا خطا ہے اور صواب یہی ہے کہ یہ مرسل ہے۔ یہ حدیث کی اور کتابوں میں ہے اور سندوں سے بھی مروی ہے۔
صفحہ نمبر5848
امام احمد رحمہ اللہ تو اسے منکر کہتے ہیں۔ امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ اس کی تاویل کرتے ہیں کہ یہ جو کہا ہے کہ وہ کسی چھونے والے کے ہاتھ کو لوٹاتی نہیں اس سے مراد بے حد سخاوت ہے کہ وہ کسی سائل سے انکار ہی نہیں کرتی۔ لیکن اگر یہی مطلب ہوتا تو حدیث میں بجائے «لَامِسٍ» کے لفظ کے «مُلْتَمِسٍ» کا لفظ ہونا چاہیئے تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی خصلت ایسی معلوم ہوتی تھی نہ یہ کہ وہ برائی کرتی تھی کیونکہ اگر یہی عیب اس میں ہوتا تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس صحابی رضی اللہ کو اس کے رکھنے کی اجازت نہ دیتے کیونکہ یہ تو دیوثی ہے۔ جس پر سخت وعید آئی ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ خاوند کو اس کی عادت ایسی لگی ہو اور اس کا اندیشہ ظاہر کیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ دیا کہ پھر طلاق دیدو لیکن جب اس نے کہا کہ مجھے اس سے بہت ہی محبت ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسانے کی اجازت دیدی کیونکہ محبت تو موجود ہے۔ اسے ایک خطرے کے صرف وہم پر توڑ دینا ممکن ہے کوئی برائی پیدا کر دے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
الغرض زانیہ عورتوں سے پاک دامن مسلمانوں کو نکاح کرنا منع ہے ہاں جب وہ توبہ کر لیں تو نکاح حلال ہے۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ ایک ایسی ہی واہی عورت سے میرا برا تعلق تھا، لیکن اب اللہ تعالیٰ نے ہمیں توبہ کی توفیق دی تو میں چاہتا ہوں کہ اس سے نکاح کرلوں لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ زانی ہی زانیہ اور مشرکہ سے نکاح کرتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس آیت کا یہ مطلب نہیں تم اس سے اب نکاح کرسکتے ہو، جاؤ اگر کوئی گناہ ہو تو میرے ذمے۔“ حضرت یحییٰ رحمہ اللہ سے جب یہ ذکر آیا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ”یہ آیت منسوخ ہے اس کے بعد کی آیت «وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَاىِٕكُمْ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ» [24-النور:32] سے۔“ امام ابو ابوعبداللہ محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
صفحہ نمبر5849
تہمت لگانے والے مجرم ٭٭
جو لوگ کسی عورت پر یا کسی مرد پر زناکاری کی تہمت لگائیں اور ثبوت نہ دے سکیں، تو انہیں اسی کوڑے لگائے جائیں گے، ہاں اگر شہادت پیش کر دیں تو حد سے بچ جائیں گے اور جن پر جرم ثابت ہوا ہے ان پر حد جاری کی جائے گی۔ اگر شہادت نہ پیش کر سکے تو اسی کوڑے بھی لگیں گے اور آئندہ کیلئے ہمیشہ ان کی شہادت غیر مقبول رہے گی اور وہ عادل نہیں بلکہ فاسق سمجھے جائیں گے۔
اس آیت میں جن لوگوں کو مخصوص اور مستثنیٰ کر دیا ہے تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ استثنا صرف فاسق ہونے سے ہے یعنی بعد از توبہ وہ فاسق نہیں رہیں گے، بعض کہتے ہیں نہ فاسق رہیں گے نہ مردود الشہادۃ بلکہ پھر ان کی شہادت بھی لی جائے گی۔ ہاں حد جو ہے وہ توبہ سے کسی طرح ہٹ نہیں سکتی۔ امام مالک، احمد اور شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب تو یہ ہے کہ توبہ سے شہادت کا مردود ہونا اور فسق ہٹ جائے گا۔ سید التابعین سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ اور سلف کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے، لیکن امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں صرف فسق دور ہو جائے گا لیکن شہادت قبول نہیں ہوسکتی۔ بعض اور لوگ بھی یہی کہتے ہیں۔ شعبی اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ اگر اس نے اس بات کا اقرار کر لیا کہ اسے بہتان باندھا تھا اور پھر توبہ بھی پوری کی تو اس کی شہادت اس کے بعد مقبول ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5850
تہمت لگانے والے مجرم ٭٭
جو لوگ کسی عورت پر یا کسی مرد پر زناکاری کی تہمت لگائیں اور ثبوت نہ دے سکیں، تو انہیں اسی کوڑے لگائے جائیں گے، ہاں اگر شہادت پیش کر دیں تو حد سے بچ جائیں گے اور جن پر جرم ثابت ہوا ہے ان پر حد جاری کی جائے گی۔ اگر شہادت نہ پیش کر سکے تو اسی کوڑے بھی لگیں گے اور آئندہ کیلئے ہمیشہ ان کی شہادت غیر مقبول رہے گی اور وہ عادل نہیں بلکہ فاسق سمجھے جائیں گے۔
اس آیت میں جن لوگوں کو مخصوص اور مستثنیٰ کر دیا ہے تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ استثنا صرف فاسق ہونے سے ہے یعنی بعد از توبہ وہ فاسق نہیں رہیں گے، بعض کہتے ہیں نہ فاسق رہیں گے نہ مردود الشہادۃ بلکہ پھر ان کی شہادت بھی لی جائے گی۔ ہاں حد جو ہے وہ توبہ سے کسی طرح ہٹ نہیں سکتی۔ امام مالک، احمد اور شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب تو یہ ہے کہ توبہ سے شہادت کا مردود ہونا اور فسق ہٹ جائے گا۔ سید التابعین سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ اور سلف کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے، لیکن امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں صرف فسق دور ہو جائے گا لیکن شہادت قبول نہیں ہوسکتی۔ بعض اور لوگ بھی یہی کہتے ہیں۔ شعبی اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ اگر اس نے اس بات کا اقرار کر لیا کہ اسے بہتان باندھا تھا اور پھر توبہ بھی پوری کی تو اس کی شہادت اس کے بعد مقبول ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5850
لعان سے مراد ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آ کر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کر سکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھا کر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہو جائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہو جائے گی۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہو جائے گی۔
لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لیے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لیے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔
صفحہ نمبر5852
پھر فرماتا ہے کہ ” اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے، اپنی شرع میں، اپنے حکموں میں، اپنی ممانعت میں “۔
اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے۔“ مسند احمد میں ہے جب یہ آیت اتری تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصاریو! سنتے نہیں ہو؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے جن کی توبہ قبول کی گئی انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں۔ صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا۔
صفحہ نمبر5853
سب انصار جمع ہو گئے اور کہنے لگے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے قول کی وجہ سے ہم اس آفت میں مبتلا کئے گئے مگر اس صورت میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کو تہمت کی حد لگائیں اور اس کی شہادت کو مردود ٹھہرائیں۔ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے واللہ میں سچا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا چھٹکارا کر دے گا۔ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھتا ہوں کہ میرا کلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر بہت گراں گزرا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اللہ کی قسم ہے میں سچا ہوں، اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کر سکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب اترچکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا: اے ہلال رضی اللہ عنہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی اور چھٹی نازل فرمادی ۔ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا: دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے ۔ ہلال رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بالکل سچا ہوں۔ اس عورت نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو۔ ہلال رضی اللہ عنہ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہلال! اللہ سے ڈر جا، دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہو جائے گا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کر دیئے ۔
صفحہ نمبر5854
اب اس عورت سے کہا گیا کہ تو چار دفعہ قسمیں کھا کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب وہ چاروں قسمیں کھاچکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچویں دفعہ کے اس کلمہ کے کہنے سے روکا اور جس طرح ہلال رضی اللہ عنہ کو سمجھایا گیا تھا اس سے بھی فرمایا تو اسے کچھ خیال پیدا ہوگیا۔ رکی، جھجکی، زبان کو سنبھالا، قریب تھا کہ اپنے قصور کا اقرار کر لے لیکن پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کیلئے اپنی قوم کو رسوا نہیں کرنے کی۔ پھر کہہ دیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ ہلال رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب نہ کی جائے، نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے، وہ حد لگایا جائے گا، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا: دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال رضی اللہ عنہ کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے ۔ جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا ۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی۔ [سنن ابوداود:2256،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5855
اس حدیث کے اور بھی بہت سے شاہد ہیں۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ شریک بن عماء کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب ہلال رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگے گی ۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص اپنی بیوی کو برے کام پر دیکھ کر گواہ ڈھونڈنے جائے؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دونوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی توبہ کرکے اپنے جھوٹ سے ہٹتا ہے؟ اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کہا کہ اس کا منہ بند کر دو پھر اسے نصیحت کی، اور فرمایا: اللہ کی لعنت سے ہرچیز ہلکی ہے ۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا ۔ [صحیح بخاری:2671]
صفحہ نمبر5856
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”لعان کرنے والے مرد و عورت کی نسبت مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان میں جدائی کرا دی جائے؟ یہ واقعہ ہے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے زمانہ کا، مجھ سے تو اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا تو میں اپنے مکان سے چل کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی منزل پر آیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا! ”سبحان اللہ سب سے پہلے یہ بات فلاں بن فلاں نے دریافت کی تھی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص اپنی عورت کو کسی برے کام پر پائے تو اگر زبان سے نکالے تو بھی بڑی بے شرمی کی بات ہے اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بے غیرتی کی خاموشی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر وہ آیا اور کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں نے جو سوال جناب سے کیا تھا افسوس وہی واقعہ میرے ہاں پیش آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو پاس بلا کر ایک ایک کو الگ الگ نصیحت کی۔ بہت کچھ سمجھایا لیکن ہر ایک نے اپنا سچا ہونا ظاہر کیا پھر دونوں نے آیت کے مطابق قسمیں کھائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کرا دی ۔ [صحیح بخاری:5312]
ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بے غیرتی اور بڑی بے حیائی ہے۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کروں گا۔ چنانچہ اس نے انہی لفظوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا ۔ [صحیح مسلم:1495]
اور روایت میں ہے کہ سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا؟ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سوال سے بہت ناراض ہوئے۔ جب عویمر رضی اللہ عنہ عاصم رضی اللہ عنہ سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیب پکڑا اور برا مانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کر دیا۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا ۔ [صحیح بخاری:423]
صفحہ نمبر5857
ایک اور روایت میں ہے کہ یہ عورت حاملہ تھی اور ان کے خاوند نے اس سے انکار کیا کہ یہ حمل ان سے ہوا۔ اس لیے یہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتا رہا پھر منسون طریقہ یوں جاری ہوا کہ یہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہو گی ۔ [صحیح بخاری:423]
ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے؟ دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کر سکتے ہیں جو دیوث ہوں، اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ [مسند بزار:2237:ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ ”سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا۔“
صفحہ نمبر5858
لعان سے مراد ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آ کر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کر سکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھا کر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہو جائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہو جائے گی۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہو جائے گی۔
لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لیے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لیے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔
صفحہ نمبر5852
پھر فرماتا ہے کہ ” اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے، اپنی شرع میں، اپنے حکموں میں، اپنی ممانعت میں “۔
اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے۔“ مسند احمد میں ہے جب یہ آیت اتری تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصاریو! سنتے نہیں ہو؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے جن کی توبہ قبول کی گئی انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں۔ صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا۔
صفحہ نمبر5853
سب انصار جمع ہو گئے اور کہنے لگے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے قول کی وجہ سے ہم اس آفت میں مبتلا کئے گئے مگر اس صورت میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کو تہمت کی حد لگائیں اور اس کی شہادت کو مردود ٹھہرائیں۔ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے واللہ میں سچا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا چھٹکارا کر دے گا۔ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھتا ہوں کہ میرا کلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر بہت گراں گزرا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اللہ کی قسم ہے میں سچا ہوں، اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کر سکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب اترچکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا: اے ہلال رضی اللہ عنہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی اور چھٹی نازل فرمادی ۔ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا: دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے ۔ ہلال رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بالکل سچا ہوں۔ اس عورت نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو۔ ہلال رضی اللہ عنہ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہلال! اللہ سے ڈر جا، دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہو جائے گا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کر دیئے ۔
صفحہ نمبر5854
اب اس عورت سے کہا گیا کہ تو چار دفعہ قسمیں کھا کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب وہ چاروں قسمیں کھاچکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچویں دفعہ کے اس کلمہ کے کہنے سے روکا اور جس طرح ہلال رضی اللہ عنہ کو سمجھایا گیا تھا اس سے بھی فرمایا تو اسے کچھ خیال پیدا ہوگیا۔ رکی، جھجکی، زبان کو سنبھالا، قریب تھا کہ اپنے قصور کا اقرار کر لے لیکن پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کیلئے اپنی قوم کو رسوا نہیں کرنے کی۔ پھر کہہ دیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ ہلال رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب نہ کی جائے، نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے، وہ حد لگایا جائے گا، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا: دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال رضی اللہ عنہ کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے ۔ جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا ۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی۔ [سنن ابوداود:2256،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5855
اس حدیث کے اور بھی بہت سے شاہد ہیں۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ شریک بن عماء کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب ہلال رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگے گی ۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص اپنی بیوی کو برے کام پر دیکھ کر گواہ ڈھونڈنے جائے؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دونوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی توبہ کرکے اپنے جھوٹ سے ہٹتا ہے؟ اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کہا کہ اس کا منہ بند کر دو پھر اسے نصیحت کی، اور فرمایا: اللہ کی لعنت سے ہرچیز ہلکی ہے ۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا ۔ [صحیح بخاری:2671]
صفحہ نمبر5856
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”لعان کرنے والے مرد و عورت کی نسبت مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان میں جدائی کرا دی جائے؟ یہ واقعہ ہے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے زمانہ کا، مجھ سے تو اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا تو میں اپنے مکان سے چل کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی منزل پر آیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا! ”سبحان اللہ سب سے پہلے یہ بات فلاں بن فلاں نے دریافت کی تھی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص اپنی عورت کو کسی برے کام پر پائے تو اگر زبان سے نکالے تو بھی بڑی بے شرمی کی بات ہے اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بے غیرتی کی خاموشی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر وہ آیا اور کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں نے جو سوال جناب سے کیا تھا افسوس وہی واقعہ میرے ہاں پیش آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو پاس بلا کر ایک ایک کو الگ الگ نصیحت کی۔ بہت کچھ سمجھایا لیکن ہر ایک نے اپنا سچا ہونا ظاہر کیا پھر دونوں نے آیت کے مطابق قسمیں کھائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کرا دی ۔ [صحیح بخاری:5312]
ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بے غیرتی اور بڑی بے حیائی ہے۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کروں گا۔ چنانچہ اس نے انہی لفظوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا ۔ [صحیح مسلم:1495]
اور روایت میں ہے کہ سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا؟ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سوال سے بہت ناراض ہوئے۔ جب عویمر رضی اللہ عنہ عاصم رضی اللہ عنہ سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیب پکڑا اور برا مانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کر دیا۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا ۔ [صحیح بخاری:423]
صفحہ نمبر5857
ایک اور روایت میں ہے کہ یہ عورت حاملہ تھی اور ان کے خاوند نے اس سے انکار کیا کہ یہ حمل ان سے ہوا۔ اس لیے یہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتا رہا پھر منسون طریقہ یوں جاری ہوا کہ یہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہو گی ۔ [صحیح بخاری:423]
ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے؟ دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کر سکتے ہیں جو دیوث ہوں، اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ [مسند بزار:2237:ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ ”سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا۔“
صفحہ نمبر5858
لعان سے مراد ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آ کر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کر سکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھا کر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہو جائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہو جائے گی۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہو جائے گی۔
لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لیے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لیے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔
صفحہ نمبر5852
پھر فرماتا ہے کہ ” اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے، اپنی شرع میں، اپنے حکموں میں، اپنی ممانعت میں “۔
اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے۔“ مسند احمد میں ہے جب یہ آیت اتری تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصاریو! سنتے نہیں ہو؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے جن کی توبہ قبول کی گئی انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں۔ صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا۔
صفحہ نمبر5853
سب انصار جمع ہو گئے اور کہنے لگے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے قول کی وجہ سے ہم اس آفت میں مبتلا کئے گئے مگر اس صورت میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کو تہمت کی حد لگائیں اور اس کی شہادت کو مردود ٹھہرائیں۔ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے واللہ میں سچا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا چھٹکارا کر دے گا۔ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھتا ہوں کہ میرا کلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر بہت گراں گزرا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اللہ کی قسم ہے میں سچا ہوں، اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کر سکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب اترچکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا: اے ہلال رضی اللہ عنہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی اور چھٹی نازل فرمادی ۔ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا: دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے ۔ ہلال رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بالکل سچا ہوں۔ اس عورت نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو۔ ہلال رضی اللہ عنہ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہلال! اللہ سے ڈر جا، دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہو جائے گا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کر دیئے ۔
صفحہ نمبر5854
اب اس عورت سے کہا گیا کہ تو چار دفعہ قسمیں کھا کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب وہ چاروں قسمیں کھاچکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچویں دفعہ کے اس کلمہ کے کہنے سے روکا اور جس طرح ہلال رضی اللہ عنہ کو سمجھایا گیا تھا اس سے بھی فرمایا تو اسے کچھ خیال پیدا ہوگیا۔ رکی، جھجکی، زبان کو سنبھالا، قریب تھا کہ اپنے قصور کا اقرار کر لے لیکن پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کیلئے اپنی قوم کو رسوا نہیں کرنے کی۔ پھر کہہ دیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ ہلال رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب نہ کی جائے، نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے، وہ حد لگایا جائے گا، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا: دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال رضی اللہ عنہ کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے ۔ جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا ۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی۔ [سنن ابوداود:2256،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5855
اس حدیث کے اور بھی بہت سے شاہد ہیں۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ شریک بن عماء کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب ہلال رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگے گی ۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص اپنی بیوی کو برے کام پر دیکھ کر گواہ ڈھونڈنے جائے؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دونوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی توبہ کرکے اپنے جھوٹ سے ہٹتا ہے؟ اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کہا کہ اس کا منہ بند کر دو پھر اسے نصیحت کی، اور فرمایا: اللہ کی لعنت سے ہرچیز ہلکی ہے ۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا ۔ [صحیح بخاری:2671]
صفحہ نمبر5856
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”لعان کرنے والے مرد و عورت کی نسبت مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان میں جدائی کرا دی جائے؟ یہ واقعہ ہے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے زمانہ کا، مجھ سے تو اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا تو میں اپنے مکان سے چل کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی منزل پر آیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا! ”سبحان اللہ سب سے پہلے یہ بات فلاں بن فلاں نے دریافت کی تھی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص اپنی عورت کو کسی برے کام پر پائے تو اگر زبان سے نکالے تو بھی بڑی بے شرمی کی بات ہے اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بے غیرتی کی خاموشی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر وہ آیا اور کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں نے جو سوال جناب سے کیا تھا افسوس وہی واقعہ میرے ہاں پیش آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو پاس بلا کر ایک ایک کو الگ الگ نصیحت کی۔ بہت کچھ سمجھایا لیکن ہر ایک نے اپنا سچا ہونا ظاہر کیا پھر دونوں نے آیت کے مطابق قسمیں کھائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کرا دی ۔ [صحیح بخاری:5312]
ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بے غیرتی اور بڑی بے حیائی ہے۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کروں گا۔ چنانچہ اس نے انہی لفظوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا ۔ [صحیح مسلم:1495]
اور روایت میں ہے کہ سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا؟ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سوال سے بہت ناراض ہوئے۔ جب عویمر رضی اللہ عنہ عاصم رضی اللہ عنہ سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیب پکڑا اور برا مانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کر دیا۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا ۔ [صحیح بخاری:423]
صفحہ نمبر5857
ایک اور روایت میں ہے کہ یہ عورت حاملہ تھی اور ان کے خاوند نے اس سے انکار کیا کہ یہ حمل ان سے ہوا۔ اس لیے یہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتا رہا پھر منسون طریقہ یوں جاری ہوا کہ یہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہو گی ۔ [صحیح بخاری:423]
ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے؟ دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کر سکتے ہیں جو دیوث ہوں، اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ [مسند بزار:2237:ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ ”سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا۔“
صفحہ نمبر5858
لعان سے مراد ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آ کر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کر سکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھا کر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہو جائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہو جائے گی۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہو جائے گی۔
لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لیے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لیے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔
صفحہ نمبر5852
پھر فرماتا ہے کہ ” اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے، اپنی شرع میں، اپنے حکموں میں، اپنی ممانعت میں “۔
اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے۔“ مسند احمد میں ہے جب یہ آیت اتری تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصاریو! سنتے نہیں ہو؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے جن کی توبہ قبول کی گئی انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں۔ صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا۔
صفحہ نمبر5853
سب انصار جمع ہو گئے اور کہنے لگے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے قول کی وجہ سے ہم اس آفت میں مبتلا کئے گئے مگر اس صورت میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کو تہمت کی حد لگائیں اور اس کی شہادت کو مردود ٹھہرائیں۔ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے واللہ میں سچا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا چھٹکارا کر دے گا۔ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھتا ہوں کہ میرا کلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر بہت گراں گزرا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اللہ کی قسم ہے میں سچا ہوں، اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کر سکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب اترچکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا: اے ہلال رضی اللہ عنہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی اور چھٹی نازل فرمادی ۔ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا: دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے ۔ ہلال رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بالکل سچا ہوں۔ اس عورت نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو۔ ہلال رضی اللہ عنہ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہلال! اللہ سے ڈر جا، دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہو جائے گا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کر دیئے ۔
صفحہ نمبر5854
اب اس عورت سے کہا گیا کہ تو چار دفعہ قسمیں کھا کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب وہ چاروں قسمیں کھاچکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچویں دفعہ کے اس کلمہ کے کہنے سے روکا اور جس طرح ہلال رضی اللہ عنہ کو سمجھایا گیا تھا اس سے بھی فرمایا تو اسے کچھ خیال پیدا ہوگیا۔ رکی، جھجکی، زبان کو سنبھالا، قریب تھا کہ اپنے قصور کا اقرار کر لے لیکن پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کیلئے اپنی قوم کو رسوا نہیں کرنے کی۔ پھر کہہ دیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ ہلال رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب نہ کی جائے، نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے، وہ حد لگایا جائے گا، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا: دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال رضی اللہ عنہ کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے ۔ جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا ۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی۔ [سنن ابوداود:2256،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5855
اس حدیث کے اور بھی بہت سے شاہد ہیں۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ شریک بن عماء کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب ہلال رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگے گی ۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص اپنی بیوی کو برے کام پر دیکھ کر گواہ ڈھونڈنے جائے؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دونوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی توبہ کرکے اپنے جھوٹ سے ہٹتا ہے؟ اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کہا کہ اس کا منہ بند کر دو پھر اسے نصیحت کی، اور فرمایا: اللہ کی لعنت سے ہرچیز ہلکی ہے ۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا ۔ [صحیح بخاری:2671]
صفحہ نمبر5856
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”لعان کرنے والے مرد و عورت کی نسبت مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان میں جدائی کرا دی جائے؟ یہ واقعہ ہے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے زمانہ کا، مجھ سے تو اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا تو میں اپنے مکان سے چل کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی منزل پر آیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا! ”سبحان اللہ سب سے پہلے یہ بات فلاں بن فلاں نے دریافت کی تھی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص اپنی عورت کو کسی برے کام پر پائے تو اگر زبان سے نکالے تو بھی بڑی بے شرمی کی بات ہے اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بے غیرتی کی خاموشی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر وہ آیا اور کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں نے جو سوال جناب سے کیا تھا افسوس وہی واقعہ میرے ہاں پیش آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو پاس بلا کر ایک ایک کو الگ الگ نصیحت کی۔ بہت کچھ سمجھایا لیکن ہر ایک نے اپنا سچا ہونا ظاہر کیا پھر دونوں نے آیت کے مطابق قسمیں کھائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کرا دی ۔ [صحیح بخاری:5312]
ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بے غیرتی اور بڑی بے حیائی ہے۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کروں گا۔ چنانچہ اس نے انہی لفظوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا ۔ [صحیح مسلم:1495]
اور روایت میں ہے کہ سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا؟ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سوال سے بہت ناراض ہوئے۔ جب عویمر رضی اللہ عنہ عاصم رضی اللہ عنہ سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیب پکڑا اور برا مانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کر دیا۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا ۔ [صحیح بخاری:423]
صفحہ نمبر5857
ایک اور روایت میں ہے کہ یہ عورت حاملہ تھی اور ان کے خاوند نے اس سے انکار کیا کہ یہ حمل ان سے ہوا۔ اس لیے یہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتا رہا پھر منسون طریقہ یوں جاری ہوا کہ یہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہو گی ۔ [صحیح بخاری:423]
ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے؟ دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کر سکتے ہیں جو دیوث ہوں، اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ [مسند بزار:2237:ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ ”سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا۔“
صفحہ نمبر5858
لعان سے مراد ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آ کر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کر سکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھا کر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہو جائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہو جائے گی۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہو جائے گی۔
لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لیے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لیے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔
صفحہ نمبر5852
پھر فرماتا ہے کہ ” اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں “۔
پھر فرماتا ہے کہ ” اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے، اپنی شرع میں، اپنے حکموں میں، اپنی ممانعت میں “۔
اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے۔“ مسند احمد میں ہے جب یہ آیت اتری تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصاریو! سنتے نہیں ہو؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے جن کی توبہ قبول کی گئی انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں۔ صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا۔
صفحہ نمبر5853
سب انصار جمع ہو گئے اور کہنے لگے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے قول کی وجہ سے ہم اس آفت میں مبتلا کئے گئے مگر اس صورت میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کو تہمت کی حد لگائیں اور اس کی شہادت کو مردود ٹھہرائیں۔ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے واللہ میں سچا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا چھٹکارا کر دے گا۔ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھتا ہوں کہ میرا کلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر بہت گراں گزرا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اللہ کی قسم ہے میں سچا ہوں، اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کر سکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب اترچکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا: اے ہلال رضی اللہ عنہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی اور چھٹی نازل فرمادی ۔ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا: دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے ۔ ہلال رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بالکل سچا ہوں۔ اس عورت نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو۔ ہلال رضی اللہ عنہ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہلال! اللہ سے ڈر جا، دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہو جائے گا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کر دیئے ۔
صفحہ نمبر5854
اب اس عورت سے کہا گیا کہ تو چار دفعہ قسمیں کھا کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب وہ چاروں قسمیں کھاچکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچویں دفعہ کے اس کلمہ کے کہنے سے روکا اور جس طرح ہلال رضی اللہ عنہ کو سمجھایا گیا تھا اس سے بھی فرمایا تو اسے کچھ خیال پیدا ہوگیا۔ رکی، جھجکی، زبان کو سنبھالا، قریب تھا کہ اپنے قصور کا اقرار کر لے لیکن پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کیلئے اپنی قوم کو رسوا نہیں کرنے کی۔ پھر کہہ دیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ ہلال رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب نہ کی جائے، نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے، وہ حد لگایا جائے گا، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا: دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال رضی اللہ عنہ کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے ۔ جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا ۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی۔ [سنن ابوداود:2256،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5855
اس حدیث کے اور بھی بہت سے شاہد ہیں۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ شریک بن عماء کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب ہلال رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگے گی ۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص اپنی بیوی کو برے کام پر دیکھ کر گواہ ڈھونڈنے جائے؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دونوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی توبہ کرکے اپنے جھوٹ سے ہٹتا ہے؟ اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کہا کہ اس کا منہ بند کر دو پھر اسے نصیحت کی، اور فرمایا: اللہ کی لعنت سے ہرچیز ہلکی ہے ۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا ۔ [صحیح بخاری:2671]
صفحہ نمبر5856
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”لعان کرنے والے مرد و عورت کی نسبت مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان میں جدائی کرا دی جائے؟ یہ واقعہ ہے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے زمانہ کا، مجھ سے تو اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا تو میں اپنے مکان سے چل کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی منزل پر آیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا! ”سبحان اللہ سب سے پہلے یہ بات فلاں بن فلاں نے دریافت کی تھی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص اپنی عورت کو کسی برے کام پر پائے تو اگر زبان سے نکالے تو بھی بڑی بے شرمی کی بات ہے اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بے غیرتی کی خاموشی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر وہ آیا اور کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں نے جو سوال جناب سے کیا تھا افسوس وہی واقعہ میرے ہاں پیش آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو پاس بلا کر ایک ایک کو الگ الگ نصیحت کی۔ بہت کچھ سمجھایا لیکن ہر ایک نے اپنا سچا ہونا ظاہر کیا پھر دونوں نے آیت کے مطابق قسمیں کھائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کرا دی ۔ [صحیح بخاری:5312]
ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بے غیرتی اور بڑی بے حیائی ہے۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کروں گا۔ چنانچہ اس نے انہی لفظوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا ۔ [صحیح مسلم:1495]
اور روایت میں ہے کہ سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا؟ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سوال سے بہت ناراض ہوئے۔ جب عویمر رضی اللہ عنہ عاصم رضی اللہ عنہ سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیب پکڑا اور برا مانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کر دیا۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا ۔ [صحیح بخاری:423]
صفحہ نمبر5857
ایک اور روایت میں ہے کہ یہ عورت حاملہ تھی اور ان کے خاوند نے اس سے انکار کیا کہ یہ حمل ان سے ہوا۔ اس لیے یہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتا رہا پھر منسون طریقہ یوں جاری ہوا کہ یہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہو گی ۔ [صحیح بخاری:423]
ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے؟ دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کر سکتے ہیں جو دیوث ہوں، اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ [مسند بزار:2237:ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ ”سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا۔“
صفحہ نمبر5858
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاکیزگی کی شہادت ٭٭
اس آیت سے لے کر دسویں آیت تک ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جب کہ منافقین نے آپ رضی اللہ عنہا پر بہتان باندھا تھا جس پر اللہ کو بہ سبب قرابت داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیرت آئی اور یہ آیتیں نازل فرمائیں تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو پر حرف نہ آئے۔ ان بہتان بازوں کی ایک پارٹی تھی۔ اس لعنتی کام میں سب سے پیش پیش عبداللہ بن ابی بن سلول تھا جو تمام منافقوں کا گرو گھنٹال تھا۔ اس بے ایمان نے ایک ایک کان میں بنا بنا کر اور مصالحہ چڑھ چڑھا کر یہ باتیں خوب گھڑ گھڑ کر پہنچائی تھیں۔ یہاں تک کہ بعض مسلمانوں کی زبان بھی کھلنے لگی تھی اور یہ چہ میگوئیاں قریب قریب مہینے بھر تک چلتی رہیں۔ یہاں تک کہ قرآن کریم کی یہ آیتیں نازل ہوئیں اس واقعے کا پورا بیان صحیح احادیث میں موجود ہے۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ سفر میں جانے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے نام کا قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکلتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔ چنانچہ ایک غزوے کے موقعہ پر میرا نام نکلا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلی، یہ واقعہ پردے کی آیتیں اترنے کے بعد کا ہے۔ میں اپنے ھودج میں بیٹھی رہتی اور جب قافلہ کہیں اترتا تو میرا ھودج اتار لیا جاتا۔ میں اسی میں بیٹھی رہتی جب قافلہ چلتا یونہی ھودج رکھ دیا جاتا۔ ہم گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوے سے فارغ ہوئے، واپس لوٹے، مدینے کے قریب آ گئے رات کو چلنے کی آواز لگائی گئی میں قضائے حاجت کیلئے نکلی اور لشکر کے پڑاؤ سے دور جا کر میں نے قضائے حاجت کی۔ پھر واپس لوٹی، لشکر گاہ کے قریب آ کر میں نے اپنے گلے کو ٹٹولا تو ہار نہ پایا۔ میں واپس اس کے ڈھونڈنے کیلئے چلی اور تلاش کرتی رہی۔ یہاں یہ ہوا کہ لشکر نے کوچ کردیا جو لوگ میرا ھودج اٹھاتے تھے انہوں نے یہ سمجھ کر کہ میں حسب عادت اندر ہی ہوں۔ ھودج اٹھا کر اوپر رکھ دیا اور چل پڑے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت تک عورتیں نہ کچھ ایسا کھاتی پیتی تھیں نہ وہ بھاری بدن کی بوجھل تھیں۔ تو میرے ھودج کے اٹھانے والوں کو میرے ہونے نہ ہونے کا مطلق پتہ نہ چلا، اور میں اس وقت اوائل عمر کی تو تھی ہی ۔
صفحہ نمبر5863
الغرض بہت دیر کے بعد مجھے میرا ہار ملا جب میں یہاں پہنچی تو کسی آدمی کا نام و نشان بھی نہ تھا نہ کوئی پکارنے والا، نہ جواب دینے والا، میں اپنے نشان کے مطابق وہیں پہنچی، جہاں ہمارا اونٹ بٹھایا گیا تھا اور وہیں انتظار میں بیٹھ گئی تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب آگے چل کر میرے نہ ہونے کی خبر پائیں گے تو مجھے تلاش کرنے کیلئے یہیں آئیں گے، مجھے بیٹھے بیٹھے نیند آ گئی۔ اتفاق سے صفوان بن معطل سلمی ذکوانی رضی اللہ عنہ جو لشکر کے پیچھے رہے تھے اور پچھلی رات کو چلے تھے، صبح کی روشنی میں یہاں پہنچ گئے۔ ایک سوتے ہوئے آدمی کو دیکھ کر خیال آنا ہی تھا، غور سے دیکھا تو چونکہ پردے کے حکم سے پہلے مجھے انہوں نے دیکھا ہوا تھا۔ دیکھتے ہی پہچان گئے اور باآواز بلند ان کی زبان سے «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [2-البقرۃ:157] نکلا ان کی آواز سنتے ہی میری آنکھ کھل گئی اور میں اپنی چادر سے اپنا منہ ڈھانپ کر سنبھل بیٹھی۔ انہوں نے جھٹ اپنے اونٹ کو بٹھایا اور اس کے ہاتھ پر اپنا پاؤں رکھا میں اٹھی اور اونٹ پر سوار ہوگئی۔ انہوں نے اونٹ کو کھڑا کردیا اور بھگاتے ہوئے لے چلے۔ قسم اللہ کی نہ وہ مجھ سے کچھ بولے، نہ میں نے ان سے کوئی کلام کیا نہ سوائے اناللہ کے میں نے ان کے منہ سے کوئی کلمہ سنا۔ دوپہر کے قریب ہم اپنے قافلے سے مل گئے۔ پس اتنی سی بات کا ہلاک ہونے والوں نے بتنگڑ بنا لیا۔ ان کا سب سے بڑا اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والا عبداللہ بن ابی بن سلول تھا ۔
صفحہ نمبر5864
مدینے آتے ہی میں بیمار پڑگئی اور مہینے بھر تک بیماری میں گھر ہی میں رہی، نہ میں نے کچھ سنا، نہ کسی نے مجھ سے کہا جو کچھ غل غپاڑہ لوگوں میں ہو رہا تھا، میں اس سے محض بے خبر تھی۔ البتہ میرے جی میں یہ خیال بسا اوقات گزرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہرو محبت میں کمی کی کیا وجہ ہے؟ بیماری میں عام طور پر جو شفقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے ساتھ ہوتی تھی اس بیماری میں وہ بات نہ پاتی تھی۔ مجھے رنج تو بہت تھا مگر کوئی وجہ معلوم نہ تھی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے سلام کرتے اور دریافت فرماتے طبیعت کیسی ہے! اور کوئی بات نہ کرتے اس سے مجھے بڑا صدمہ ہوتا مگر بہتان بازوں کی تہمت سے میں بالکل غافل تھی ۔
صفحہ نمبر5865
اب سنئے اس وقت تک گھروں میں بیت الخلاء نہیں ہوتے تھے اور عرب کی قدیم عادت کے مطابق ہم لوگ میدان میں قضائے حاجت کیلئے جایا کرتے تھے۔ عورتیں عموماً رات کو جایا کرتی تھیں۔ گھروں میں بیت الخلاء بنانے سے عام طور پر نفرت تھی، حسب عادت میں، ام مسطح بنت ابی رہم بن عبدالمطلب بن عبدالمناف رضی اللہ عنہا کے ساتھ قضائے حاجت کیلئے چلی۔ اس وقت میں بہت ہی کمزور ہو رہی تھی یہ ام مسطح رضی اللہ عنہا میرے والد صاحب رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں ان کی والدہ صخر بن عامر کی لڑکی تھیں، ان کے لڑکے کا نام مسطح بن اثاثہ بن عباد بن عبدالمطلب تھا۔ جب ہم واپس آنے لگے تو ام مسطح رضی اللہ عنہا کا پاؤں چادر کے دامن میں الجھا اور بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ مسطح غارت ہو۔ مجھے بہت برا لگا اور میں نے کہا کہ تم نے بہت برا کلمہ بولا، توبہ کرو، تم اسے گالی دیتی ہو، جس نے جنگ بدر میں شرکت کی۔ اس وقت ام مسطح رضی اللہ عنہا نے کہا بھولی بیوی آپ کو کیا معلوم؟ میں نے کہا کیا بات ہے؟ انہوں نے فرمایا وہ بھی ان لوگوں میں سے ہے جو آپ رضی اللہ عنہا کو بدنام کرتے پھرتے ہیں۔ مجھے سخت حیرت ہوئی میں ان کے سر ہوگئی کہ کم از کم مجھ سے سارا واقعہ تو کہو۔ اب انہوں نے بہتان باز لوگوں کی تمام کارستانیاں مجھے سنائیں۔ میرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، رنج و غم کا پہاڑ مجھ پر ٹوٹ پڑا، مارے صدمے کے میں تو اور بیمار ہو گئی۔ بیمار تو پہلے سے ہی تھی، اس خبر نے تو نڈھال کر دیا، جوں توں کر کے گھر پہنچی۔ اب صرف یہ خیال تھا میں اپنے میکے جا کر اور اچھی طرح معلوم تو کر لوں کہ کیا واقعی میری نسبت ایسی افواہ پھیلائی گئی ہے؟ اور کیا کیا مشہور کیا جا رہا ہے؟ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، سلام کیا اور دریافت فرمایا کہ کیا حال ہے؟ میں نے کہا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو اپنے والد صاحب کے ہاں ہو آؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دیدی، میں یہاں آئی، اپنی والدہ سے پوچھا کہ اماں جان لوگوں میں کیا باتیں پھیل رہی ہیں؟ انہوں نے فرمایا بیٹی یہ تو نہایت معمولی بات ہے تم اتنا اپنا دل بھاری نہ کرو، کسی شخص کی اچھی بیوی جو اسے محبوب ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں وہاں ایسی باتوں کا کھڑا ہونا تو لازمی امر ہے۔ میں نے کہا سبحان اللہ کیا واقعی لوگ میری نسبت ایسی افواہیں اڑا رہے ہیں؟ اب تو مجھے غم و رنج نے اس قدر گھیرا کہ بیان سے باہر ہے۔ اس وقت سے جو رونا شروع ہوا واللہ ایک دم بھر کیلئے میرے آنسو نہیں تھمے، میں سر ڈال کر روتی رہتی۔ کس کا کھانا پینا، کس کا سونا بیٹھنا، کہاں کی بات چیت، غم و رنج اور رونا ہے اور میں ہوں۔ ساری رات اسی حالت میں گزری کہ آنسو کی لڑی نہ تھمی دن کو بھی یہی حال رہا ۔
صفحہ نمبر5866
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بلوایا، وحی میں دیر ہوئی، اللہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بات معلوم نہ ہوئی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات سے مشورہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے الگ کر دیں یا کیا؟ اسامہ رضی اللہ عنہ نے تو صاف کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کی اہل پر کوئی برائی نہیں جانتے۔ ہمارے دل ان کی عفت، عزت اور شرافت کی گواہی دینے کیلئے حاضر ہیں۔ ہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی تنگی نہیں، عورتیں ان کے سوا بھی بہت ہیں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کی خادمہ سے پوچھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحیح واقعہ معلوم ہوسکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت گھر کی خادمہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلوایا اور ان سے فرمایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کوئی بات شک و شبہ والی کبھی بھی دیکھی ہو تو بتاؤ ۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا اللہ کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ معبوث فرمایا ہے میں نے ان سے کوئی بات کبھی اس قسم کی نہیں دیکھی۔ ہاں صرف یہ بات ہے کہ کم عمری کی وجہ سے ایسا ہو جاتا ہے کہ کبھی کبھی گندھا ہوا آٹا یونہی رکھا رہتا ہے اور سوجاتی ہیں تو بکری آکر کھاجاتی ہے، اس کے سوا میں نے ان کا کوئی قصور کبھی نہیں دیکھا۔ چونکہ کوئی ثبوت اس واقعہ کا نہ ملا اس لیے اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور مجمع سے مخاطب ہو کر فرمایا: کون ہے؟ جو مجھے اس شخص کی ایذاؤں سے بچائے جس نے مجھے ایذائیں پہنچاتے پہنچاتے اب تو میری گھر والیوں میں بھی ایذائیں پہنچانا شروع کردی ہیں۔ واللہ میں جہاں تک جانتا ہوں مجھے اپنی گھر والیوں میں سوائے بھلائی کے کوئی چیز معلوم نہیں، جس شخص کا نام یہ لوگ لے رہے ہیں، میری دانست تو اس کے متعلق بھی سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں وہ میرے ساتھ ہی گھر میں آتا تھا ۔
صفحہ نمبر5867
یہ سنتے ہی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہوں اگر وہ قبیلہ اوس کا شخض ہے تو ابھی ہم اس کی گردن تن سے الگ کرتے ہیں اور اگر وہ ہمارے خزرج بھائیوں سے ہے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم دیں ہمیں اس کی تعمیل میں کوئی عذر نہ ہوگا۔ یہ سن کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے یہ قبیلہ خزرج کے سردار تھے۔ تھے تو یہ بڑے نیک بخت مگر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے نہ تو تو اسے قتل کرے گا نہ اس کے قتل پر تو قادر ہے اگر وہ تیرے قبیلے کا ہوتا تو تو اس کا قتل کیا جانا کبھی پسند نہ کرتا۔ یہ سن کر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے یہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہوتے تھے کہنے لگے اے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تم جھوٹ کہتے ہو، ہم اسے ضرور مار ڈالیں گے آپ منافق آدمی ہیں کہ منافقوں کی طرف داری کر رہے ہیں۔ اب ان کی طرف سے ان کا قبیلہ اور ان کی طرف سے ان کا قبیلہ ایک دوسرے کے مقابلے پر آ گیا اور قریب تھا کہ اوس و خزرج کے یہ دونوں قبیلے آپس میں لڑ پڑیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر سے ہی انہیں سمجھانا اور چپ کرانا شروع کیا یہاں تک کہ دونوں طرف خاموشی ہوگئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی چپکے ہو رہے یہ تو تھا وہاں کا واقعہ۔ میرا حال یہ تھا کہ یہ سارا دن بھی رونے میں ہی گزرا۔ میرے اس رونے نے میرے ماں باپ کے بھی ہوش گم کر دیئے تھے، وہ سمجھ بیٹھے تھے کہ یہ رونا میرا کلیجہ پھاڑ دے گا۔ دونوں حیرت زدہ مغموم بیٹھے ہوئے تھے اور مجھے رونے کے سوا اور کوئی کام ہی نہ تھا اتنے میں انصار کی ایک عورت آئیں اور وہ بھی میرے ساتھ رونے لگی ہم یونہی بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشیرف لائے اور سلام کر کے میرے پاس بیٹھ گئے۔ قسم اللہ کی جب سے یہ بہتان بازی ہوئی تھی آج تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس کبھی نہیں بیٹھے تھے۔ مہینہ بھر گزر گیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حالت تھی۔ کوئی وحی نہیں آئی تھی کہ فیصلہ ہو سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھتے ہی اول تو تشہد پڑھا پھر امابعد فرما کر فرمایا کہ اے عائشہ! تیری نسبت مجھے یہ خبر پہنچی ہے۔ اگر تو واقعی پاک دامن ہے تو اللہ تعالیٰ تیری پاکیزگی ظاہر فرما دے گا اور اگر فی الحقیقت تو کسی گناہ میں آلودہ ہوگئی ہے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کر اور توبہ کر، بندہ جب گناہ کر کے اپنے گناہ کے اقرار کے ساتھ اللہ کی طرف جھکتا ہے اور اس سے معافی طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا فرما کر خاموش ہوگئے یہ سنتے ہی میرا رونا دھونا سب جاتا رہا۔ آنسو تھم گئے یہاں تک کہ میری آنکھوں میں آنسو کا ایک قطرہ بھی باقی نہ رہا۔
صفحہ نمبر5868
میں نے اول تو اپنے والد سے درخواست کی کہ میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ رضی اللہ عنہ ہی جواب دیجئیے لیکن انہوں نے فرمایا کہ واللہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دوں؟ اب میں نے اپنی والدہ کی طرف دیکھا اور ان سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیجئیے لیکن انہوں نے بھی یہی کہا کہ میں نہیں سمجھ سکتی کہ میں کیا جواب دوں؟ آخر میں نے خود ہی جواب دینا شروع کیا۔ میری عمر کچھ ایسی بڑی تو نہ تھی اور نہ مجھے زیادہ قرآن حفظ تھا۔ میں نے کہا، آپ سب نے ایک بات سنی، اسے آپ نے دل میں بٹھا لیا اور گویا سچ سمجھ لیا۔ اب اگر میں کہوں گی کہ میں اس سے بالکل بری ہوں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں بالکل بے گناہ ہوں تو تم ابھی مان لو گے۔ میری اور تمہاری مثال تو بالکل ابو یوسف علیہ السلام کا یہ قول ہے آیت «فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّـهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ» [12-يوسف:18] پس صبر ہی اچھا ہے جس میں شکایت کا نام ہی نہ ہو اور تم جو باتیں بناتے ہو ان میں اللہ ہی میری مدد کرے، اتنا کہہ کر میں نے کروٹ پھیر لی اور اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ اللہ کی قسم مجھے یقین تھا کہ چونکہ میں پاک ہوں اللہ تعالیٰ میری برأت اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور معلوم کرا دے گا لیکن یہ تو میرے شان و گمان میں بھی نہ تھا کہ میرے بارے میں قرآن کی آیتیں نازل ہوں۔ میں اپنے آپ کو اس سے بہت کم تر جانتی تھی کہ میرے بارے میں کلام اللہ کی آیتیں اتریں۔ ہاں مجھے زیادہ سے زیادہ یہ خیال ہوتا تھا کہ ممکن ہے خواب میں اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میری برأت دکھا دے۔ واللہ ابھی تو نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے ہٹے تھے اور نہ گھر والوں میں سے کوئی گھر سے باہر نکلا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونی شروع ہوگئی۔ اور چہرہ پر وہی آثار ظاہر ہوئے جو وحی کے وقت ہوتے تھے اور پیشانی سے پسینے کی پاک بوندیں ٹپکنے لگیں۔ سخت جاڑوں میں بھی وحی کے نزول کی یہی کیفیت ہوا کرتی تھی، جب وحی اتر چکی تو ہم نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ ہنسی سے شگفتہ ہو رہا ہے۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: عائشہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہاری برأت نازل فرما دی ۔ اسی وقت میری والدہ نے فرمایا بچی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو جاؤ۔ میں نے جواب دیا کہ واللہ نہ تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہوں گی اور نہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کی تعریف کروں گی اسی نے میری برأت اور پاکیزگی نازل فرمائی ہے۔ پس آیت «إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ» [24-النور:11] سے لے کر دس آیتوں تک نازل ہوئیں۔
صفحہ نمبر5869
ان آیتوں کے اترنے کے بعد اور میری پاک دامنی ثابت ہوچکنے کے بعد اس شر کے پھیلانے میں مسطح بن اثاثہ بھی شریک تھے اور انہیں میرے والد صاحب ان کی محتاجی اور ان کی قرابت داری کی وجہ سے ہمیشہ کچھ دیتے رہتے تھے۔ اب انہوں نے کہا جب اس شخص نے میری بیٹی پر تہمت باندھنے میں حصہ لیا تو اب میں اس کے ساتھ کچھ بھی سلوک نہ کروں گا۔ اس پر آیت «وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّـهُ لَكُمْ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [24-النور:22] ، نازل ہوئی یعنی ” تم میں سے جو لوگ بزرگی اور وسعت والے ہیں، انہیں نہ چاہیئے کہ قرابت داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ کے مہاجروں سے سلوک نہ کرنے کی قسم کھا بیٹھیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ یہ بخشش والا اور مہربانی والا اللہ تمہیں بخش دے؟ “ اسی وقت اس کے جواب میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہا نے فرمایا قسم اللہ کی میں تو اللہ کی بخشش کا خواہاں ہوں۔ چنانچہ اسی وقت مسطح رضی اللہ عنہ کا وظیفہ جاری کردیا اور فرما دیا کہ واللہ اب عمر بھر تک اس میں کمی یا کوتاہی نہ کروں گا۔ میرے اس واقعہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ تھیں دریافت فرمایا تھا۔ یہی بیوی صاحبہ تھیں جو حضور کی تمام بیویوں میں میرے مقابلے کی تھیں لیکن یہ اپنی پرہیزگاری اور دین داری کی وجہ سے صاف بچ گئیں اور جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو سوائے بہتری کے عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اور کچھ نہیں جانتی۔ میں اپنے کانوں کو اور اپنی نگاہ کو محفوظ رکھتی ہوں۔ گو انہیں ان کی بہن حمنہ بنت جحش نے بہت کچھ بہلاوے بھی دیئے بلکہ لڑ پڑیں لیکن انہوں نے اپنی زبان سے میری برائی کا کوئی کلمہ نہیں نکالا۔ ہاں ان کی بہن نے تو زبان کھول دی اور میرے بارے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہو گئی ۔ [صحیح بخاری:2661] یہ روایت بخاری مسلم وغیرہ حدیث کی بہت سی کتابوں میں ہے۔
صفحہ نمبر5870
ایک سند سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس خطبے میں یہ بھی فرمایا تھا کہ جس شخص کی طرف منسوب کرتے ہیں، وہ سفر حضر میں میرے ساتھ رہا میری عدم موجودگی میں کبھی میرے گھر نہیں آیا اس میں ہے کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں جو صاحب کھڑے ہوئے انہی کے قبیلے میں ام مسطح رضی اللہ عنہا تھیں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اسی خطبہ کے دن کے بعد رات کو میں ام مسطح کے ساتھ نکلی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ یہ پھسلیں اور انہوں نے اپنے بیٹے مسطح رضی اللہ عنہ کو کوسا، میں نے منع کیا پھر پھسلیں، پھر کوسا، میں نے پھر روکا۔ پھر الجھیں، پھر کوسا تو میں نے انہیں ڈانٹنا شروع کیا۔ اس میں ہے کہ اسی وقت سے مجھے بخار چڑھ آیا۔ اس میں ہے کہ میری والدہ کے گھر پہنچانے کیلئے میرے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام کر دیا تھا۔ میں جب وہاں پہنچی تو میرے والد اوپر کے گھر میں تھے۔ تلاوت قرآن میں مشغول تھے اور والدہ نیچے کے مکان میں تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی میری والدہ نے دریافت فرمایا! آج کیسے آنا ہوا؟ تو میں نے تمام بپتا کہہ سنائی لیکن میں نے دیکھا کہ انہیں یہ بات نہ کوئی انوکھی بات معلوم ہوئی نہ اتنا صدمہ اور رنج ہوا جس کی توقع مجھے تھی۔
صفحہ نمبر5871
اس میں ہے کہ میں نے والدہ سے پوچھا کیا میرے والد صاحب کو بھی اس کا علم ہے؟ انہوں نے کہا ہاں میں نے کہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی یہ بات پہنچی ہے؟ جواب دیا کہ ہاں۔ اب تو مجھے پھوٹ پھوٹ کر رونا آنے لگا یہاں تک کہ میری آواز اوپر میرے والد صاحب کے کان میں بھی پہنچی وہ جلدی سے نیچے آئے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ میری والدہ نے کہا کہ انہیں اس تہمت کا علم ہو گیا ہے جو ان پر لگائی گئی ہے، یہ سن کر اور میری حالت دیکھ کر میرے والد صاحب رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں بھی آنسو بھر آئے اور مجھ سے کہنے لگے بیٹی میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ ابھی اپنے گھر لوٹ جاؤ۔ چنانچہ میں واپس چلی گئی۔
یہاں میرے پیچھے گھر کی خادمہ سے بھی میری بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور لوگوں کی موجودگی میں دریافت فرمایا۔ جس پر اس نے جواب دیا کہ میں عائشہ میں کوئی برائی نہیں دیکھتی بجز اس کے کہ وہ آٹا گندھا ہوا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوتی ہیں، بے خبری سے سو جاتی ہیں۔ بسا اوقات آٹا بکریاں کھا جاتی ہیں۔ بلکہ اسے بعض لوگوں نے بہت ڈانٹا ڈپٹا بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سچ سچ بات جو ہو بتا دے اس پر بہت سختی کی لیکن اس نے کہا واللہ ایک سنار خالص سونے میں جس طرح کوئی عیب کسی طرح تپا تپا کر بھی بتا نہیں سکتا۔ اسی طرح میں صدیقہ رضی اللہ عنہا پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتی۔ جب اس شخص کو یہ اطلاع پہنچی جنہیں بدنام کیا جا رہا تھا تو اس نے کہا قسم اللہ کی میں نے تو آج تک کسی عورت کا بازو کبھی کھولا ہی نہیں۔ بالآخر یہ اللہ کی راہ میں شہید ہوئے (رضی اللہ عنہ)۔
صفحہ نمبر5872
اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس عصر کی نماز کے بعد تشریف لائے تھے۔ اس وقت میری ماں اور میرے باپ میرے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور وہ انصاریہ عورت جو آئی تھیں وہ دروازے پر بیٹھی ہوئی تھیں اس میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نصیحت شروع کی اور مجھ سے حقیقت حال دریافت کی تو میں نے کہا ہائے کیسی بے شرمی کی بات ہے؟ اس عورت کا بھی تو خیال نہیں؟ اس میں ہے کہ میں نے بھی اللہ کی حمد و ثناء کے بعد جواب دیا تھا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ میں نے اس وقت ہر چند یعقوب علیہ السلام کا نام تلاش کیا لیکن واللہ وہ زبان پر نہ چڑھا، اسلئے میں نے ابو یوسف کہہ دیا۔ اس میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے اترنے کے بعد مجھے خوشخبری سنائی واللہ اس وقت میرا غم بھرا غصہ بہت ہی بڑھ گیا تھا۔ میں نے اپنے ماں باپ سے بھی کہا تھا کہ میں اس معاملے میں تمہاری بھی شکر گزار نہیں۔ تم سب نے ایک بات سنی لیکن نہ تم نے انکار کیا نہ تمہیں ذرا غیرت آئی۔ اس میں ہے کہ اس قصے کو زبان پر لانے والے حمنہ بنت حجش، مسطح، حسان بن ثبات اور عبداللہ بن ابی منافق تھے۔ یہ سب کا سرغنہ تھا اور یہی زیادہ تر لگاتا بجھاتا تھا۔ [صحیح بخاری:4757]
صفحہ نمبر5873
اور حدیث میں ہے کہ میرے عذر کی یہ آیتیں اترنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مردوں اور ایک عورت کو تہمت کی حد لگائی یعنی حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہم کو ۔ [سنن ابوداود:4474،قال الشيخ الألباني:حسن]
ایک روایت میں ہے کہ جب ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اوپر تہمت لگنے کا علم ہوا اور یہ بھی پتہ چلا کہ اس کا علم آپ رضی اللہ عنہا کے والد اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہو چکا ہے تو آپ رضی اللہ عنہا بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔ جب ذرا ہوش میں آئیں تو سارا جسم تپ رہا تھا اور زور کا بخار چڑھا ہوا تھا اور کانپ رہی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کی والدہ نے اسی وقت لحاف اوڑھا دیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے پوچھا یہ کیا حال ہے؟ میں نے کہا جاڑے سے بخار چڑھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید اس خبر کو سن کر یہ حال ہو گیا ہوگا؟ جب آپ رضی اللہ عنہا کے عذر کی آیتیں اتریں اور آپ رضی اللہ عنہا نے انہیں سن کر فرمایا کہ ”یہ اللہ کے فضل سے ہے نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل سے۔“ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کہتی ہو؟ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”ہاں“ ۔ [صحیح بخاری:3388]
صفحہ نمبر5874
اب آیتوں کا مطلب سنئے جو لوگ جھوٹ بہتان گھڑی ہوئی بات لے آئے اور وہ ہیں بھی زیادہ اسے تم اے آل ابی بکر رضی اللہ عنہ اپنے لیے برا نہ سمجھو بلکہ انجام کے لحاظ سے دین و دنیا میں وہ تمہارے لیے بھلا ہے۔ دنیا میں تمہاری صداقت ثابت ہوگی، آخرت میں بلند مراتب ملیں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت قرآن کریم میں نازل ہوگی، جس کے آس پاس بھی باطل نہیں آسکتا۔
یہی وجہ تھی کہ جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اماں صاحبہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کے آخری وقت آئے تو فرمانے لگے ”ام المؤمنین رضی اللہ عنہا آپ خوش ہو جائیے کہ آپ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ رہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم محبت سے پیش آتے رہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کی برأت آسمان سے نازل ہوئی۔ [صحیح بخاری:4753]
ایک مرتبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہم اپنے اوصاف حمیدہ کا ذکر کرنے لگیں تو ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”میرا نکاح آسمان سے اترا“، اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”میری پاکیزگی کی شہادت قرآن میں آسمان سے اتری جب کہ صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر بٹھا لائے تھے۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے پوچھا ”یہ تو بتاؤ جب تم اس اونٹ پر سوار ہوئی تھیں تو تم نے کیا کلمات کہے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» [3-آل عمران:173] اس پر وہ بول اٹھیں کہ ”تم نے مومنوں کا کلمہ کہا تھا۔“
صفحہ نمبر5875
پھر فرمایا ” جس جس نے پاک دامن صدیقہ پر تہمت لگائی ہے ہر ایک کو بڑا عذاب ہوگا، اور جس نے اس کی ابتداء اٹھائی ہے، جو اسے ادھر ادھر پھیلاتا رہا ہے اس کیلئے سخت تر عذاب ہیں “۔
اس سے مراد عبداللہ بن ابی بن سلول ملعون ہے، ٹھیک قول یہی ہے گو کسی کسی نے کہا کہ مراد اس سے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ ہیں لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ چونکہ یہ قول بھی ہے اس لیے ہم نے اسے یہاں بیان کر دیا ورنہ اس کے بیان میں بھی چنداں نفع نہیں کیونکہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ بڑے بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ ان کی بہت سی فضیلتیں اور بزرگیاں احادیث میں موجود ہیں۔ یہی تھے جو کافر شاعروں کی ہجو کے شعروں کا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دیتے تھے۔ انہی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم کفار کی مذمت بیان کرو جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں ۔ [صحیح بخاری:3213]
سیدنا مسروق رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ آئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں عزت کے ساتھ بٹھایا۔ حکم دیا کہ ان کیلئے گدی بچھا دو، جب وہ واپس چلے گئے تو میں نے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہا انہیں کیوں آنے دیتی ہیں؟ ان کے آنے سے کیا فائدہ؟ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ ” ان میں سے جو تہمت کا والی ہے اس کیلئے بڑا عذاب ہے “ تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”اندھا ہونے سے بڑا عذاب اور کیا ہوگا“ یہ نابینا ہوگئے تھے، تو فرمایا ”شاید یہی عذاب عظیم ہو۔“ پھر فرمایا ”تمہیں نہیں خبر؟ یہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کافروں کے ہجو والے اشعار کا جواب دینے پر مقرر تھے۔“
ایک روایت میں ہے کہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی مدح میں شعر پڑھا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہا پاکدامن، بھولی، تمام اوچھے کاموں سے، غیبت اور برائی سے پرہیز کرنے والی ہیں، تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”تم تو ایسے نہ تھے۔“ [صحیح بخاری:4755]
صفحہ نمبر5876
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”مجھے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے شعروں سے زیادہ اچھے اشعار نظر نہیں آتے اور میں جب کبھی ان شعروں کو پڑھتی ہوں تو میرے دل میں خیال آتا ہے کہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ جنتی ہیں۔ وہ ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب کو خطاب کرکے اپنے شعروں میں فرماتے ہیں تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی ہے، جس کا میں جواب دیتا ہوں اور اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ سے پاؤں گا۔ میرے باپ دادا اور میری عزت آبرو سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہے، میں ان سب کو فنا کر کے بھی تمہاری بدزبانیوں کے مقابلے سے ہٹ نہیں سکتا۔ تجھ جیسا شخص جو میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کف پا کی ہمسری بھی نہیں کر سکتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرے؟ یاد رکھو کہ تم جیسے بد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے نیک پر فدا ہیں۔ جب تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی ہے تو اب میری زبان سے جو تیز دھار اور بےعیب تلوار سے بھی تیز ہے۔ بچ کر تم کہاں جاؤ گے؟
ام المؤمنین سے پوچھا گیا کہ کیا یہ لغو کلام نہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”ہرگز نہیں لغو کلام تو شاعروں کی وہ بکواس ہے جو عورتوں وغیرہ کے بارے میں ہوتی ہے۔“
آپ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کیا قرآن میں نہیں کہ اس تہمت میں بڑا حصہ لینے والے کیلئے برا عذاب ہے؟ فرمایا ”ہاں لیکن کیا جو عذاب انہیں ہوا بڑا نہیں؟ آنکھیں ان کی جاتی رہیں، تلوار ان پر اٹھی، وہ تو کہئے سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ رک گئے ورنہ عجب نہیں کہ ان کی نسبت یہ بات سن کر انہیں قتل ہی کر ڈالتے۔“
صفحہ نمبر5877
اخلاق و آداب کی تعلیم ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں جو کلمات منہ سے نکالے وہ ان کی شایان شان نہ تھے بلکہ انہیں چاہیئے تھا کہ یہ کلام سنتے ہی اپنی شرعی ماں کے ساتھ کم از کم وہ خیال کرتے جو اپنے نفسوں کے ساتھ کرتے، جب کہ وہ اپنے آپ کو بھی ایسے کام کے لائق نہ پاتے تو شان ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اس سے بہت اعلیٰ اور بالا جانتے۔
ایک واقعہ بھی بالکل اسی طرح کا ہوا تھا، ابوایوب خالد بن زید انصاری رضی اللہ عنہ سے ان کی بیوی صاحبہ ام ایوب رضی اللہ عنہا نے کہا کہ کیا آپ نے وہ بھی سنا جو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت کہا جا رہا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں اور یہ یقیناً جھوٹ ہے۔ ام ایوب تم ہی بتاؤ کیا تم کبھی ایسا کر سکتی ہو؟“ انہوں نے کہا کہ ”نعوذ باللہ ناممکن۔“ آپ نے فرمایا ”پس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو تم سے کہیں افضل اور بہتر ہیں۔“
پس جب آیتیں اتریں تو پہلے تو بہتان بازوں کا ذکر ہوا۔ یعنی حسان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا پھر ان آیتوں میں ذکر ہوا، سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کی اس بات چیت کا جو اوپر مذکور ہوئی۔ یہ بھی ایک قول ہے کہ یہ مقولہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا تھا۔ الغرض مومنوں کو صاف باطن رہنا چاہیئے اور اچھے خیال کرنے چاہئیں بلکہ زبان سے بھی ایسے واقعہ کی تردید اور تکذیب کردینی چاہیئے۔ اس لیے کہ جو کچھ واقعہ گزرا اس میں شک شبہ کی گنجائش بھی نہ تھی۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کھلم کھلا سواری پر سوار دن دیہاڑے بھرے لشکر میں پہنچی ہیں، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں اگر اللہ نہ کرے خاکم بدہن کوئی بھی ایسی بات ہوتی تو یہ اس طرح کھلے بندوں عام مجمع میں نہ آتے بلکہ خفیہ اور پوشیدہ طور پر شامل ہو جاتے جو کسی کو کانوں کان خبر تک نہ پہنچے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ بہتان بازوں کی زبان نے جو قصہ گھڑا وہ محض جھوٹ بہتان اور افترا ہے۔ جس سے انہوں نے اپنے ایمان اور اپنی عزت کو غارت کیا۔
پھر فرمایا کہ ” ان بہتان بازوں نے جو کچھ کہا اپنی سچائی پر چار گواہ واقعہ کے کیوں پیش نہیں کئے؟ اور جب کہ یہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو شرعاً اللہ کے نزدیک وہ جھوٹے ہیں، فاسق و فاجر ہیں “۔
صفحہ نمبر5878
اخلاق و آداب کی تعلیم ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں جو کلمات منہ سے نکالے وہ ان کی شایان شان نہ تھے بلکہ انہیں چاہیئے تھا کہ یہ کلام سنتے ہی اپنی شرعی ماں کے ساتھ کم از کم وہ خیال کرتے جو اپنے نفسوں کے ساتھ کرتے، جب کہ وہ اپنے آپ کو بھی ایسے کام کے لائق نہ پاتے تو شان ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اس سے بہت اعلیٰ اور بالا جانتے۔
ایک واقعہ بھی بالکل اسی طرح کا ہوا تھا، ابوایوب خالد بن زید انصاری رضی اللہ عنہ سے ان کی بیوی صاحبہ ام ایوب رضی اللہ عنہا نے کہا کہ کیا آپ نے وہ بھی سنا جو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت کہا جا رہا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں اور یہ یقیناً جھوٹ ہے۔ ام ایوب تم ہی بتاؤ کیا تم کبھی ایسا کر سکتی ہو؟“ انہوں نے کہا کہ ”نعوذ باللہ ناممکن۔“ آپ نے فرمایا ”پس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو تم سے کہیں افضل اور بہتر ہیں۔“
پس جب آیتیں اتریں تو پہلے تو بہتان بازوں کا ذکر ہوا۔ یعنی حسان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا پھر ان آیتوں میں ذکر ہوا، سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کی اس بات چیت کا جو اوپر مذکور ہوئی۔ یہ بھی ایک قول ہے کہ یہ مقولہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا تھا۔ الغرض مومنوں کو صاف باطن رہنا چاہیئے اور اچھے خیال کرنے چاہئیں بلکہ زبان سے بھی ایسے واقعہ کی تردید اور تکذیب کردینی چاہیئے۔ اس لیے کہ جو کچھ واقعہ گزرا اس میں شک شبہ کی گنجائش بھی نہ تھی۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کھلم کھلا سواری پر سوار دن دیہاڑے بھرے لشکر میں پہنچی ہیں، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں اگر اللہ نہ کرے خاکم بدہن کوئی بھی ایسی بات ہوتی تو یہ اس طرح کھلے بندوں عام مجمع میں نہ آتے بلکہ خفیہ اور پوشیدہ طور پر شامل ہو جاتے جو کسی کو کانوں کان خبر تک نہ پہنچے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ بہتان بازوں کی زبان نے جو قصہ گھڑا وہ محض جھوٹ بہتان اور افترا ہے۔ جس سے انہوں نے اپنے ایمان اور اپنی عزت کو غارت کیا۔
پھر فرمایا کہ ” ان بہتان بازوں نے جو کچھ کہا اپنی سچائی پر چار گواہ واقعہ کے کیوں پیش نہیں کئے؟ اور جب کہ یہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو شرعاً اللہ کے نزدیک وہ جھوٹے ہیں، فاسق و فاجر ہیں “۔
صفحہ نمبر5878
اللہ کا فصل نہ ہوتا تو عذاب آ جاتا ٭٭
فرمان ہے کہ ” اے وہ لوگوں جنہوں نے صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بابت اپنی زبانوں کو بری حرکت دی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا کہ وہ دنیا میں تمہاری توبہ کو قبول کرلے اور آخرت میں تمہیں تمہارے ایمان کی وجہ سے معاف فرما دے تو جس بہتان میں تم نے اپنی زبانیں ہلائیں اس میں تمہیں بڑا بھاری عذاب ہوتا “۔
یہ آیت ان لوگوں کے حق میں ہے جن کے دلوں میں ایمان تھا لیکن رواداری میں کچھ کہہ گئے تھے جیسے مسطع حسان، حمنہ رضی اللہ عنہم۔ لیکن جن کے دل ایمان سے خالی تھے جو اس طوفان کے اٹھانے والے تھے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول وغیرہ منافقین یہ لوگ اس حکم میں نہیں تھے، کیونکہ نہ اس کے پاس ایمان تھا نہ عمل صالح۔ یہ بھی یاد رہے کہ جس بدی پر جو وعید ہے وہ اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب توبہ نہ ہو اور اس کے مقابلہ میں اس جیسی یا اس سے بڑی نیکی نہ ہو۔ جب کہ تم اس بات کو پھیلا رہے تھے، اس سے سن کر اس سے کہی اور اس نے سن کر دوسرے سے کہی۔ [صحیح بخاری:کتاب التفسیر سورۃ النور]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قرأت میں «إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ» ہے یعنی ” جب کہ تم اس جھوٹ کی اشاعت کر رہے تھے “۔ [صحیح بخاری:4752]
پہلی قرأت جمہور کی ہے، اور یہ قرأت ان کی ہے جنہیں اس آیت کا زیادہ علم تھا، اور تم وہ بات زبان سے نکالتے تھے، جس کا تمہیں علم نہ تھا۔ تم گو اس کلام کو ہلکا سمجھتے رہے، لیکن دراصل اللہ کے نزدیک وہ بڑا بھاری کلام تھا۔ کسی مسلمان عورت کی نسبت ایسی تہمت جرم عظیم ہے۔ پھر اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کے اوپر ایسا کلمہ، سمجھ لو کہ کتنا بڑا کبیرا گناہ ہوا؟ اسی لیے رب کی غیرت اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرما کر خاتم الانبیاء سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کی پاکیزگی ثابت فرمائی۔
ہر نبی علیہ السلام کی بیوی کو اللہ تعالیٰ نے اس بے حیائی سے دور رکھا ہے پس کیسے ممکن تھا کہ کہ تمام نبیوں کی بیویوں سے افضل اور ان کی سردار۔ تمام نبیوں سے افضل اور تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی اس میں آلودہ ہوں۔ «حَاشَا وَكَلَّا» ۔ پس تم گو اس کلام کو بے وقعت سمجھو لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ انسان بعض مرتبہ اللہ کی ناراضگی کا کوئی کلمہ کہہ کر گزرتا ہے، جس کی کوئی وقعت اس کے نزدیک نہیں ہوتی لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم کے اتنے نیچے طبقے میں پہنچ جاتا ہے کہ جتنی نیچی زمین آسمان سے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ نیچا ہوتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6477]
صفحہ نمبر5880
اللہ کا فصل نہ ہوتا تو عذاب آ جاتا ٭٭
فرمان ہے کہ ” اے وہ لوگوں جنہوں نے صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بابت اپنی زبانوں کو بری حرکت دی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا کہ وہ دنیا میں تمہاری توبہ کو قبول کرلے اور آخرت میں تمہیں تمہارے ایمان کی وجہ سے معاف فرما دے تو جس بہتان میں تم نے اپنی زبانیں ہلائیں اس میں تمہیں بڑا بھاری عذاب ہوتا “۔
یہ آیت ان لوگوں کے حق میں ہے جن کے دلوں میں ایمان تھا لیکن رواداری میں کچھ کہہ گئے تھے جیسے مسطع حسان، حمنہ رضی اللہ عنہم۔ لیکن جن کے دل ایمان سے خالی تھے جو اس طوفان کے اٹھانے والے تھے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول وغیرہ منافقین یہ لوگ اس حکم میں نہیں تھے، کیونکہ نہ اس کے پاس ایمان تھا نہ عمل صالح۔ یہ بھی یاد رہے کہ جس بدی پر جو وعید ہے وہ اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب توبہ نہ ہو اور اس کے مقابلہ میں اس جیسی یا اس سے بڑی نیکی نہ ہو۔ جب کہ تم اس بات کو پھیلا رہے تھے، اس سے سن کر اس سے کہی اور اس نے سن کر دوسرے سے کہی۔ [صحیح بخاری:کتاب التفسیر سورۃ النور]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قرأت میں «إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ» ہے یعنی ” جب کہ تم اس جھوٹ کی اشاعت کر رہے تھے “۔ [صحیح بخاری:4752]
پہلی قرأت جمہور کی ہے، اور یہ قرأت ان کی ہے جنہیں اس آیت کا زیادہ علم تھا، اور تم وہ بات زبان سے نکالتے تھے، جس کا تمہیں علم نہ تھا۔ تم گو اس کلام کو ہلکا سمجھتے رہے، لیکن دراصل اللہ کے نزدیک وہ بڑا بھاری کلام تھا۔ کسی مسلمان عورت کی نسبت ایسی تہمت جرم عظیم ہے۔ پھر اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کے اوپر ایسا کلمہ، سمجھ لو کہ کتنا بڑا کبیرا گناہ ہوا؟ اسی لیے رب کی غیرت اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرما کر خاتم الانبیاء سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کی پاکیزگی ثابت فرمائی۔
ہر نبی علیہ السلام کی بیوی کو اللہ تعالیٰ نے اس بے حیائی سے دور رکھا ہے پس کیسے ممکن تھا کہ کہ تمام نبیوں کی بیویوں سے افضل اور ان کی سردار۔ تمام نبیوں سے افضل اور تمام اولاد آدم کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی اس میں آلودہ ہوں۔ «حَاشَا وَكَلَّا» ۔ پس تم گو اس کلام کو بے وقعت سمجھو لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ انسان بعض مرتبہ اللہ کی ناراضگی کا کوئی کلمہ کہہ کر گزرتا ہے، جس کی کوئی وقعت اس کے نزدیک نہیں ہوتی لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم کے اتنے نیچے طبقے میں پہنچ جاتا ہے کہ جتنی نیچی زمین آسمان سے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ نیچا ہوتا ہے ۔ [صحیح بخاری:6477]
صفحہ نمبر5880
پہلے تحقیق کرو پھر بولو ٭٭
پہلے تو نیک گمانی کا حکم دیا۔ یہاں دوسرا حکم دے رہا ہے کہ ” بھلے لوگوں کی شان میں کوئی برائی کا کلمہ بغیر تحقیق ہرگز نہ نکلنا چاہیئے، برے خیالات، گندے الزامات اور شیطانی وسوسوں سے دور رہنا چاہیئے۔ کبھی ایسے کلمات زبان سے نہ نکالنے چاہیں، گو دل میں کوئی ایسا وسوسہ شیطانی پیدا بھی ہو تو زبان قابو میں رکھنی چاہیئے “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں سے درگزر فرما لیا ہے، جب تک وہ زبان سے نہ کہیں یا عمل میں نہ لائیں ۔ [صحیح بخاری:2528]
تمہیں چاہیئے تھا کہ ایسے بے ہودہ کلام کو سنتے ہی کہہ دیتے کہ ہم ایسی لغویات سے اپنی زبان نہیں بگاڑتے۔ ہم سے یہ بے ادبی نہیں ہو سکتی کہ اللہ کے خلیل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ کی نسبت کوئی ایسی لغویات کہیں، اللہ کی ذات پاک ہے۔ دیکھو خبردار آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ ہو ورنہ ایمان کے ضبط ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص ایمان سے ہی کورا ہو تو وہ تو بے ادب، گستاخ اور بھلے لوگوں کی اہانت کرنے والا ہوتا ہی ہے۔ احکام شرعیہ کو اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان فرما رہا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں سے واقف ہے۔ اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
صفحہ نمبر5882
پہلے تحقیق کرو پھر بولو ٭٭
پہلے تو نیک گمانی کا حکم دیا۔ یہاں دوسرا حکم دے رہا ہے کہ ” بھلے لوگوں کی شان میں کوئی برائی کا کلمہ بغیر تحقیق ہرگز نہ نکلنا چاہیئے، برے خیالات، گندے الزامات اور شیطانی وسوسوں سے دور رہنا چاہیئے۔ کبھی ایسے کلمات زبان سے نہ نکالنے چاہیں، گو دل میں کوئی ایسا وسوسہ شیطانی پیدا بھی ہو تو زبان قابو میں رکھنی چاہیئے “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں سے درگزر فرما لیا ہے، جب تک وہ زبان سے نہ کہیں یا عمل میں نہ لائیں ۔ [صحیح بخاری:2528]
تمہیں چاہیئے تھا کہ ایسے بے ہودہ کلام کو سنتے ہی کہہ دیتے کہ ہم ایسی لغویات سے اپنی زبان نہیں بگاڑتے۔ ہم سے یہ بے ادبی نہیں ہو سکتی کہ اللہ کے خلیل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ کی نسبت کوئی ایسی لغویات کہیں، اللہ کی ذات پاک ہے۔ دیکھو خبردار آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ ہو ورنہ ایمان کے ضبط ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص ایمان سے ہی کورا ہو تو وہ تو بے ادب، گستاخ اور بھلے لوگوں کی اہانت کرنے والا ہوتا ہی ہے۔ احکام شرعیہ کو اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان فرما رہا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں سے واقف ہے۔ اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
صفحہ نمبر5882
پہلے تحقیق کرو پھر بولو ٭٭
پہلے تو نیک گمانی کا حکم دیا۔ یہاں دوسرا حکم دے رہا ہے کہ ” بھلے لوگوں کی شان میں کوئی برائی کا کلمہ بغیر تحقیق ہرگز نہ نکلنا چاہیئے، برے خیالات، گندے الزامات اور شیطانی وسوسوں سے دور رہنا چاہیئے۔ کبھی ایسے کلمات زبان سے نہ نکالنے چاہیں، گو دل میں کوئی ایسا وسوسہ شیطانی پیدا بھی ہو تو زبان قابو میں رکھنی چاہیئے “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں سے درگزر فرما لیا ہے، جب تک وہ زبان سے نہ کہیں یا عمل میں نہ لائیں ۔ [صحیح بخاری:2528]
تمہیں چاہیئے تھا کہ ایسے بے ہودہ کلام کو سنتے ہی کہہ دیتے کہ ہم ایسی لغویات سے اپنی زبان نہیں بگاڑتے۔ ہم سے یہ بے ادبی نہیں ہو سکتی کہ اللہ کے خلیل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ کی نسبت کوئی ایسی لغویات کہیں، اللہ کی ذات پاک ہے۔ دیکھو خبردار آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ ہو ورنہ ایمان کے ضبط ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص ایمان سے ہی کورا ہو تو وہ تو بے ادب، گستاخ اور بھلے لوگوں کی اہانت کرنے والا ہوتا ہی ہے۔ احکام شرعیہ کو اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان فرما رہا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں سے واقف ہے۔ اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
صفحہ نمبر5882
برائی کی تشہیر نہ کرو ٭٭
یہ تیسری تنبیہ ہے کہ جو شخص کوئی ایسی بات سنے، اسے اس کا پھیلانا حرام ہے جو ایسی بری خبروں کو اڑاتے پھیرتے ہیں۔ دنیوی سزا یعنی حد بھی لگے گی اور اخروی سزا یعنی عذاب جہنم بھی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ عالم ہے، تم بے علم ہو، پس تمہیں اللہ کی طرف تمام امور لوٹانے چاہئیں۔
حدیث شریف میں ہے بندگان اللہ کو ایذاء نہ دو، انہیں عار نہ دلاؤ۔ ان کی خفیہ باتوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیوب ٹٹولے گا، اللہ اس کے عیبوں کے پیچھے پڑ جائے گا اور اسے یہاں تک رسوا کرے گا کہ اس کے گھر والے بھی اسے بری نظر سے دیکھنے لگیں گے ۔ [مسند احمد:279/5:صحیح لغیره]
صفحہ نمبر5885
شیطانی راہوں پر مت چلو ٭٭
یعنی اگر اللہ کا فضل و کرم، لطف و رحم نہ ہوتا تو اس وقت کوئی اور ہی بات ہو جاتی مگر اس نے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرمالی۔ پاک ہونے والوں کو بذریعہ حد شرعی کے پاک کردیا۔ شیطانی طریقوں پر شیطانی راہوں میں نہ چلو، اس کی باتیں نہ مانو۔ وہ تو برائی کا، بدی کا، بدکاری کا، بے حیائی کا حکم دیتا ہے۔ پس تمہیں اس کی باتیں ماننے سے پرہیز کرنا چاہیئے۔ اس کے عمل سے بچنا چاہیئے اس کے وسوسوں سے دور رہنا چاہے۔ اللہ کی ہر نافرمانی میں قدم شیطان کی پیروی ہے۔
ایک شخص نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”میں نے فلاں چیز کھانے کی قسم کھالی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ شیطان کا بہکاوا ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور اسے کھا لو۔“
ایک شخص نے شعبی رحمہ اللہ سے کہا کہ میں نے اپنے بچے کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، ”یہ شیطانی حرکت ہے، ایسا نہ کرو، اس کے بدلے ایک بھیڑ ذبح کرو۔“
صفحہ نمبر5886
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ”ایک مرتبہ میرے اور میری بیوی کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ وہ بگڑ کر کہنے لگیں کہ ایک دن وہ یہودیہ ہے اور ایک دن نصرانیہ ہے اور اس کے تمام غلام آزاد ہیں، اگر تو اپنی بیوی کو طلاق نہ دے۔ میں نے آ کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ شیطانی حرکت ہے۔“ سیدہ زینب بن ام سلمہ رضی اللہ عنہا جو اس وقت سب سے زیادہ دینی سمجھ رکھنے والی عورت تھیں، انہوں نے بھی یہی فتوی دیا اور عاصم بن عمرو رضی اللہ عنہ کی بیوی نے بھی یہی بتایا۔
پھر فرماتا ہے ” اگر اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو تم میں سے ایک بھی اپنے آپ کو شرک و کفر، برائی اور بدی سے نہ بچا سکتا۔ یہ رب کا احسان ہے کہ وہ تمہیں توبہ کی توفیق دتیا ہے پھر تم پر مہربانی سے رجوع کرتا ہے اور تمہیں پاک صاف بنا دیتا ہے۔ اللہ جسے چاہے پاک کرتا ہے اور جسے چاہے ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا، ان کے احوال کو جاننے والا ہے۔ ہدایت یاب اور گمراہ سب اس کی نگاہ میں ہیں اور اس میں بھی اس حکیم مطلق کی بے پایاں حکمت ہے “۔
صفحہ نمبر5887
شیطانی راہوں پر مت چلو ٭٭
یعنی اگر اللہ کا فضل و کرم، لطف و رحم نہ ہوتا تو اس وقت کوئی اور ہی بات ہو جاتی مگر اس نے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرمالی۔ پاک ہونے والوں کو بذریعہ حد شرعی کے پاک کردیا۔ شیطانی طریقوں پر شیطانی راہوں میں نہ چلو، اس کی باتیں نہ مانو۔ وہ تو برائی کا، بدی کا، بدکاری کا، بے حیائی کا حکم دیتا ہے۔ پس تمہیں اس کی باتیں ماننے سے پرہیز کرنا چاہیئے۔ اس کے عمل سے بچنا چاہیئے اس کے وسوسوں سے دور رہنا چاہے۔ اللہ کی ہر نافرمانی میں قدم شیطان کی پیروی ہے۔
ایک شخص نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”میں نے فلاں چیز کھانے کی قسم کھالی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ شیطان کا بہکاوا ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور اسے کھا لو۔“
ایک شخص نے شعبی رحمہ اللہ سے کہا کہ میں نے اپنے بچے کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، ”یہ شیطانی حرکت ہے، ایسا نہ کرو، اس کے بدلے ایک بھیڑ ذبح کرو۔“
صفحہ نمبر5886
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ”ایک مرتبہ میرے اور میری بیوی کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ وہ بگڑ کر کہنے لگیں کہ ایک دن وہ یہودیہ ہے اور ایک دن نصرانیہ ہے اور اس کے تمام غلام آزاد ہیں، اگر تو اپنی بیوی کو طلاق نہ دے۔ میں نے آ کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ شیطانی حرکت ہے۔“ سیدہ زینب بن ام سلمہ رضی اللہ عنہا جو اس وقت سب سے زیادہ دینی سمجھ رکھنے والی عورت تھیں، انہوں نے بھی یہی فتوی دیا اور عاصم بن عمرو رضی اللہ عنہ کی بیوی نے بھی یہی بتایا۔
پھر فرماتا ہے ” اگر اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو تم میں سے ایک بھی اپنے آپ کو شرک و کفر، برائی اور بدی سے نہ بچا سکتا۔ یہ رب کا احسان ہے کہ وہ تمہیں توبہ کی توفیق دتیا ہے پھر تم پر مہربانی سے رجوع کرتا ہے اور تمہیں پاک صاف بنا دیتا ہے۔ اللہ جسے چاہے پاک کرتا ہے اور جسے چاہے ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا، ان کے احوال کو جاننے والا ہے۔ ہدایت یاب اور گمراہ سب اس کی نگاہ میں ہیں اور اس میں بھی اس حکیم مطلق کی بے پایاں حکمت ہے “۔
صفحہ نمبر5887
دولت مند افراد سے خطاب ٭٭
تم میں سے جو کشادہ روزی والے، صاحب مقدرت ہیں، صدقہ اور احسان کرنے والے ہیں انہیں اس بات کی قسم نہ کھانی چاہیئے کہ وہ اپنے قرابت داروں، مسکینوں، مہاجروں کو کچھ دیں گے ہی نہیں۔
اس طرح انہیں متوجہ فرما کر پھر اور نرم کرنے کے لیے فرمایا کہ ” ان کی طرف سے کوئی قصور بھی سرزد ہوگیا ہو تو انہیں معاف کر دینا چاہیئے۔ ان سے کوئی ایذاء یا برائی پہنچی ہو تو ان سے درگزر کر لینا چاہیئے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا حکم و کرم اور لطف رحم ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو بھلائی کا ہی حکم دیتا ہے “۔
صفحہ نمبر5889
یہ آیت سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے جب کہ آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی قسم کا سلوک کرنے کی قسم کھا لی تھی کیونکہ بہتان سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا میں یہ بھی شامل تھے۔ جیسے کہ پہلے کی آیتوں کی تفسیر میں یہ واقعہ گزر چکا ہے تو جب حقیقت اللہ تعالیٰ نے ظاہر کر دی، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا بری ہو گئیں، مسلمانوں کے دل روشن ہوگئے، مومنوں کی توبہ قبول ہوگئی، تہمت رکھنے والوں میں سے بعض کو حد شرعی لگ چکی، تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو سیدنا مسطح رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ فرمایا جو آپ رضی اللہ عنہ کی خالہ صاحبہ کے فرزند تھے اور مسکین شخص تھے۔ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ ہی ان کی پرورش کرتے رہتے تھے، یہ مہاجر تھے لیکن اس بارے میں اتفاقیہ زبان کھل گئی تھی۔ انہیں تہمت کی حد لگائی گئی تھی۔
سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کی سخاوت مشہور تھی، کیا اپنے کیا غیر سب کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کا حسن سلوک عام تھا۔ آیت کے یہ خصوصی الفاظ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے کان میں پڑے کہ ” کیا تم بخشش الٰہی کے طالب نہیں ہو؟ “ آپ رضی اللہ عنہ کی زبان سے بےساختہ نکل گیا کہ ”ہاں قسم ہے اللہ کی ہماری تو عین چاہت ہے کہ اللہ ہمیں بخشے“، اور اسی وقت سے سیدنا مسطح رضی اللہ عنہ کو جو کچھ دیا کرتے تھے، جاری کر دیا۔ گویا ان آیتوں میں ہمیں تلقین ہوئی کہ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ ہماری تقصیریں معاف ہو جائیں، ہمیں چاہیئے کہ دوسروں کی تقصیروں سے بھی درگزر کر لیا کریں۔
یہ بھی خیال میں رہے کہ جس طرح آپ نے پہلے یہ فرمایا تھا کہ واللہ میں اس کے ساتھ کبھی بھی سلوک نہ کروں گا۔ اب عہد کیا کہ واللہ میں اس سے کبھی بھی اس کا مقررہ روزینہ نہ روکوں گا۔ سچ ہے صدیق صدیق ہی تھے رضی اللہ عنہ۔
صفحہ نمبر5890
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گستاخ پر اللہ کی لعنت ٭٭
جب کہ عام مسلمان عورتوں پر طوفان اٹھانے والوں کی سزا یہ ہے تو انبیاء علیہم السلام کی بیویوں پر جو مسلمانوں کی مائیں ہیں، بہتان باندھنے والوں کی سزا کیا ہوگی؟ اور خصوصا اس بیوی پر جو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں رضی اللہ عنہا۔
علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ ان آیتوں کے نزول کے بعد بھی جو شخص ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اس الزام سے یاد کرے، وہ کافر ہے کیونکہ اس نے قرآن پاک کے خلاف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے بارے میں صحیح قول یہی ہے کہ وہ بھی مثل صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
فرماتا ہے کہ ” ایسے موذی بہتان پرداز دنیا اور آخرت میں لعنت اللہ کے مستحق ہیں “۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا» [33-الأحزاب:57] ، یعنی ” جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے رسواکرنے والے عذاب تیار ہیں “۔
بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مخصوص ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں۔ سعید بن جبیر، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ نقل کیا ہے لیکن پھر جو تفصیل وار روایت لائے ہیں اس میں آپ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگنے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آنے اور اس آیت کے نازل ہونے کا ذکر ہے لیکن آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس حکم کے مخصوص ہونے کا ذکر نہیں۔ پس سبب نزول گو خاص ہو لیکن حکم عام رہتا ہے۔ ممکن ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ کے قول کا بھی یہی مطلب ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5891
بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ کل ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کا تو یہ حکم ہے لیکن اور مومنہ عورتوں کا یہ حکم نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس آیت سے تو مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» ہیں کہ اہل نفاق جو اس تہمت میں تھے، سب راندہ درگاہ ہوئے، لعنتی ٹھہرے اور غضب اللہ کے مستحق بن گئے۔
اس کے بعد عام مومنہ عورتوں پر بدکاری کا بہتان باندھنے والوں کے حکم میں آیت «وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا وَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [24-النور:5، 4] ، اتری پس انہیں کوڑے لگیں گے۔ اگر انہوں نے توبہ کی توبہ تو قبول ہے لیکن گواہی ان کی ہمیشہ تک غیر معبتر رہے گی۔
صفحہ نمبر5892
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سورۃ النور کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ آیت توحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے بارے میں اتری ہے، ان بہتان بازوں کی توبہ بھی قبول نہیں۔ اس آیت میں ابہام ہے، اور چار گواہ نہ لاسکنے کی آیت عام ایماندار عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے حق میں ہے، ان کی توبہ مقبول ہے“، یہ سن کر اکثر لوگوں کا ارادہ ہوا کہ آپ کی پیشانی چوم لیں۔ کیونکہ آپ نے نہایت ہی عمدہ تفسیر کی تھی۔ ابہام سے مراد یہ ہے کہ ہر پاک دامن عورت کی شان میں حرمت تہمت عام ہے، اور ایسے سب لوگ ملعون ہیں۔
عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر ایک بہتان باز اس حکم میں شامل ہے لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بطور اولیٰ ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی عموم ہی کو پسند فرماتے ہیں اور یہی صحیح بھی ہے اور عموم کی تائید میں یہ حدیث بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات گناہوں سے بچو جو مہلک ہیں ۔ پوچھا گیا وہ کیا ہیں؟ فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کسی کو بلا وجہ مار ڈالنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جہاد سے بھاگنا، پاک دامن بھولی مومنہ پر تہمت لگانا ۔ [صحیح بخاری:2766] اور حدیث میں ہے پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے والے کی سو سال کی نیکیاں غارت ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:3023:ضعیف]
صفحہ نمبر5893
اعضاء کی گواہی ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب مشرکین دیکھیں گے کہ جنت میں سوائے نمازوں کے اور کوئی نہیں بھیجا جاتا تو وہ کہیں گے آؤ ہم بھی انکار کردیں چنانچہ اپنے شرک کا یہ انکار کردیں گے۔ اسی وقت ان کے منہ پر مہر لگ جائے گی اور ہاتھ پاؤں گواہی دینے لگیں گے اور اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کافروں کے سامنے جب ان کی بداعمالیاں پیش کی جائیں گی تو وہ انکار کر جائیں گے اور اپنی بے گناہی بیان کرنے لگیں گے تو کہا جائے گا یہ ہیں تمہارے پڑوسی یہ تمہارے خلاف شہادت دے رہے ہیں۔ یہ کہیں گے یہ سب جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا کہ اچھا خود تمہارے کنبے کے قبیلے کے لوگ موجود ہیں۔ یہ کہہ دیں گے یہ بھی جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا۔ اچھا تم قسمیں کھاؤ، یہ قسمیں کھا لیں گے پھر اللہ انہیں گونگا کر دے گا اور خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کی بداعمالیوں کی گواہی دیں گے۔ پھر انہیں جہنم میں بھیج دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:25888:ضعیف]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئے اور فرمانے لگے، جانتے ہو میں کیوں ہنسا؟ ہم نے کہا اللہ ہی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ قیامت کے دن اپنے رب سے جو حجت بازی کرے گا اس پر یہ کہے گا کہ اللہ کیا تو نے مجھے ظلم سے نہیں روکا تھا؟ اللہ فرمائے گا ” ہاں “۔ تو یہ کہے گا، بس آج جو گواہ میں سچا مانوں، اسی کی شہادت میرے بارے میں معتبر مانی جائے۔ اور وہ گواہ سوا میرے اور کوئی نہیں۔ اللہ فرمائے گا، ” اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ رہ “، اب منہ پر مہر لگ جائے گی اور اعضاء سے سوال ہوگا تو وہ سارے عقدے کھول دیں گے۔ اس وقت بندہ کہے گا، تم غارت ہو جاؤ، تمہیں بربادی آئے تمہاری طرف سے ہی تو میں لڑ جھگڑ رہا تھا ۔ [صحیح مسلم:2969]
صفحہ نمبر5894
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے تھے ”اے ابن آدم تو خود اپنی بد اعمالیوں کا گواہ ہے، تیرے کل جسم کے اعضاء تیرے خلاف بولیں گے، ان کا خیال رکھ اللہ سے پوشیدگی اور ظاہری میں ڈرتا رہ۔ اس کے سامنے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، اندھیرا اس کے سامنے روشنی کی مانند ہے۔ چھپا ہوا اس کے سامنے کھلا ہوا ہے۔ اللہ کے ساتھ نیک گمانی کی حالت میں مرو۔ اللہ ہی کے ساتھ ہماری قوتیں ہیں۔“
یہاں دین سے مراد حساب ہے۔ جمہور کی قرأت میں حق کا زبر ہے کیونکہ وہ دین کی صفت ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ نے «الْحَقَّ» پڑھا ہے کہ یہ لغت ہے لفظ اللہ کی۔ ابی بن کعب کے مصحف میں «يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ الْحَقُّ دِينَهُمْ» بعض سلف سے پڑھنا مروی ہے۔ ” اس وقت جان لیں گے کہ اللہ کے وعدے وعید حق ہیں۔ اس کا حساب عدل والا ہے ظلم سے دور ہے “۔
صفحہ نمبر5895
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گستاخ پر اللہ کی لعنت ٭٭
جب کہ عام مسلمان عورتوں پر طوفان اٹھانے والوں کی سزا یہ ہے تو انبیاء علیہم السلام کی بیویوں پر جو مسلمانوں کی مائیں ہیں، بہتان باندھنے والوں کی سزا کیا ہوگی؟ اور خصوصا اس بیوی پر جو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں رضی اللہ عنہا۔
علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ ان آیتوں کے نزول کے بعد بھی جو شخص ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اس الزام سے یاد کرے، وہ کافر ہے کیونکہ اس نے قرآن پاک کے خلاف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے بارے میں صحیح قول یہی ہے کہ وہ بھی مثل صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
فرماتا ہے کہ ” ایسے موذی بہتان پرداز دنیا اور آخرت میں لعنت اللہ کے مستحق ہیں “۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا» [33-الأحزاب:57] ، یعنی ” جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے رسواکرنے والے عذاب تیار ہیں “۔
بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مخصوص ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں۔ سعید بن جبیر، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ نقل کیا ہے لیکن پھر جو تفصیل وار روایت لائے ہیں اس میں آپ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگنے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آنے اور اس آیت کے نازل ہونے کا ذکر ہے لیکن آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس حکم کے مخصوص ہونے کا ذکر نہیں۔ پس سبب نزول گو خاص ہو لیکن حکم عام رہتا ہے۔ ممکن ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ کے قول کا بھی یہی مطلب ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5891
بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ کل ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کا تو یہ حکم ہے لیکن اور مومنہ عورتوں کا یہ حکم نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس آیت سے تو مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» ہیں کہ اہل نفاق جو اس تہمت میں تھے، سب راندہ درگاہ ہوئے، لعنتی ٹھہرے اور غضب اللہ کے مستحق بن گئے۔
اس کے بعد عام مومنہ عورتوں پر بدکاری کا بہتان باندھنے والوں کے حکم میں آیت «وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا وَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [24-النور:5، 4] ، اتری پس انہیں کوڑے لگیں گے۔ اگر انہوں نے توبہ کی توبہ تو قبول ہے لیکن گواہی ان کی ہمیشہ تک غیر معبتر رہے گی۔
صفحہ نمبر5892
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سورۃ النور کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ آیت توحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے بارے میں اتری ہے، ان بہتان بازوں کی توبہ بھی قبول نہیں۔ اس آیت میں ابہام ہے، اور چار گواہ نہ لاسکنے کی آیت عام ایماندار عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے حق میں ہے، ان کی توبہ مقبول ہے“، یہ سن کر اکثر لوگوں کا ارادہ ہوا کہ آپ کی پیشانی چوم لیں۔ کیونکہ آپ نے نہایت ہی عمدہ تفسیر کی تھی۔ ابہام سے مراد یہ ہے کہ ہر پاک دامن عورت کی شان میں حرمت تہمت عام ہے، اور ایسے سب لوگ ملعون ہیں۔
عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر ایک بہتان باز اس حکم میں شامل ہے لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بطور اولیٰ ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی عموم ہی کو پسند فرماتے ہیں اور یہی صحیح بھی ہے اور عموم کی تائید میں یہ حدیث بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات گناہوں سے بچو جو مہلک ہیں ۔ پوچھا گیا وہ کیا ہیں؟ فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کسی کو بلا وجہ مار ڈالنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جہاد سے بھاگنا، پاک دامن بھولی مومنہ پر تہمت لگانا ۔ [صحیح بخاری:2766] اور حدیث میں ہے پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے والے کی سو سال کی نیکیاں غارت ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:3023:ضعیف]
صفحہ نمبر5893
اعضاء کی گواہی ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب مشرکین دیکھیں گے کہ جنت میں سوائے نمازوں کے اور کوئی نہیں بھیجا جاتا تو وہ کہیں گے آؤ ہم بھی انکار کردیں چنانچہ اپنے شرک کا یہ انکار کردیں گے۔ اسی وقت ان کے منہ پر مہر لگ جائے گی اور ہاتھ پاؤں گواہی دینے لگیں گے اور اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کافروں کے سامنے جب ان کی بداعمالیاں پیش کی جائیں گی تو وہ انکار کر جائیں گے اور اپنی بے گناہی بیان کرنے لگیں گے تو کہا جائے گا یہ ہیں تمہارے پڑوسی یہ تمہارے خلاف شہادت دے رہے ہیں۔ یہ کہیں گے یہ سب جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا کہ اچھا خود تمہارے کنبے کے قبیلے کے لوگ موجود ہیں۔ یہ کہہ دیں گے یہ بھی جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا۔ اچھا تم قسمیں کھاؤ، یہ قسمیں کھا لیں گے پھر اللہ انہیں گونگا کر دے گا اور خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کی بداعمالیوں کی گواہی دیں گے۔ پھر انہیں جہنم میں بھیج دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:25888:ضعیف]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئے اور فرمانے لگے، جانتے ہو میں کیوں ہنسا؟ ہم نے کہا اللہ ہی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ قیامت کے دن اپنے رب سے جو حجت بازی کرے گا اس پر یہ کہے گا کہ اللہ کیا تو نے مجھے ظلم سے نہیں روکا تھا؟ اللہ فرمائے گا ” ہاں “۔ تو یہ کہے گا، بس آج جو گواہ میں سچا مانوں، اسی کی شہادت میرے بارے میں معتبر مانی جائے۔ اور وہ گواہ سوا میرے اور کوئی نہیں۔ اللہ فرمائے گا، ” اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ رہ “، اب منہ پر مہر لگ جائے گی اور اعضاء سے سوال ہوگا تو وہ سارے عقدے کھول دیں گے۔ اس وقت بندہ کہے گا، تم غارت ہو جاؤ، تمہیں بربادی آئے تمہاری طرف سے ہی تو میں لڑ جھگڑ رہا تھا ۔ [صحیح مسلم:2969]
صفحہ نمبر5894
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے تھے ”اے ابن آدم تو خود اپنی بد اعمالیوں کا گواہ ہے، تیرے کل جسم کے اعضاء تیرے خلاف بولیں گے، ان کا خیال رکھ اللہ سے پوشیدگی اور ظاہری میں ڈرتا رہ۔ اس کے سامنے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، اندھیرا اس کے سامنے روشنی کی مانند ہے۔ چھپا ہوا اس کے سامنے کھلا ہوا ہے۔ اللہ کے ساتھ نیک گمانی کی حالت میں مرو۔ اللہ ہی کے ساتھ ہماری قوتیں ہیں۔“
یہاں دین سے مراد حساب ہے۔ جمہور کی قرأت میں حق کا زبر ہے کیونکہ وہ دین کی صفت ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ نے «الْحَقَّ» پڑھا ہے کہ یہ لغت ہے لفظ اللہ کی۔ ابی بن کعب کے مصحف میں «يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ الْحَقُّ دِينَهُمْ» بعض سلف سے پڑھنا مروی ہے۔ ” اس وقت جان لیں گے کہ اللہ کے وعدے وعید حق ہیں۔ اس کا حساب عدل والا ہے ظلم سے دور ہے “۔
صفحہ نمبر5895
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گستاخ پر اللہ کی لعنت ٭٭
جب کہ عام مسلمان عورتوں پر طوفان اٹھانے والوں کی سزا یہ ہے تو انبیاء علیہم السلام کی بیویوں پر جو مسلمانوں کی مائیں ہیں، بہتان باندھنے والوں کی سزا کیا ہوگی؟ اور خصوصا اس بیوی پر جو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں رضی اللہ عنہا۔
علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ ان آیتوں کے نزول کے بعد بھی جو شخص ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اس الزام سے یاد کرے، وہ کافر ہے کیونکہ اس نے قرآن پاک کے خلاف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے بارے میں صحیح قول یہی ہے کہ وہ بھی مثل صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
فرماتا ہے کہ ” ایسے موذی بہتان پرداز دنیا اور آخرت میں لعنت اللہ کے مستحق ہیں “۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا» [33-الأحزاب:57] ، یعنی ” جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے رسواکرنے والے عذاب تیار ہیں “۔
بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مخصوص ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں۔ سعید بن جبیر، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ نقل کیا ہے لیکن پھر جو تفصیل وار روایت لائے ہیں اس میں آپ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگنے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آنے اور اس آیت کے نازل ہونے کا ذکر ہے لیکن آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس حکم کے مخصوص ہونے کا ذکر نہیں۔ پس سبب نزول گو خاص ہو لیکن حکم عام رہتا ہے۔ ممکن ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ کے قول کا بھی یہی مطلب ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5891
بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ کل ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کا تو یہ حکم ہے لیکن اور مومنہ عورتوں کا یہ حکم نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس آیت سے تو مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» ہیں کہ اہل نفاق جو اس تہمت میں تھے، سب راندہ درگاہ ہوئے، لعنتی ٹھہرے اور غضب اللہ کے مستحق بن گئے۔
اس کے بعد عام مومنہ عورتوں پر بدکاری کا بہتان باندھنے والوں کے حکم میں آیت «وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا وَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [24-النور:5، 4] ، اتری پس انہیں کوڑے لگیں گے۔ اگر انہوں نے توبہ کی توبہ تو قبول ہے لیکن گواہی ان کی ہمیشہ تک غیر معبتر رہے گی۔
صفحہ نمبر5892
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سورۃ النور کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ آیت توحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے بارے میں اتری ہے، ان بہتان بازوں کی توبہ بھی قبول نہیں۔ اس آیت میں ابہام ہے، اور چار گواہ نہ لاسکنے کی آیت عام ایماندار عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے حق میں ہے، ان کی توبہ مقبول ہے“، یہ سن کر اکثر لوگوں کا ارادہ ہوا کہ آپ کی پیشانی چوم لیں۔ کیونکہ آپ نے نہایت ہی عمدہ تفسیر کی تھی۔ ابہام سے مراد یہ ہے کہ ہر پاک دامن عورت کی شان میں حرمت تہمت عام ہے، اور ایسے سب لوگ ملعون ہیں۔
عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر ایک بہتان باز اس حکم میں شامل ہے لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بطور اولیٰ ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی عموم ہی کو پسند فرماتے ہیں اور یہی صحیح بھی ہے اور عموم کی تائید میں یہ حدیث بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات گناہوں سے بچو جو مہلک ہیں ۔ پوچھا گیا وہ کیا ہیں؟ فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کسی کو بلا وجہ مار ڈالنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جہاد سے بھاگنا، پاک دامن بھولی مومنہ پر تہمت لگانا ۔ [صحیح بخاری:2766] اور حدیث میں ہے پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے والے کی سو سال کی نیکیاں غارت ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:3023:ضعیف]
صفحہ نمبر5893
اعضاء کی گواہی ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب مشرکین دیکھیں گے کہ جنت میں سوائے نمازوں کے اور کوئی نہیں بھیجا جاتا تو وہ کہیں گے آؤ ہم بھی انکار کردیں چنانچہ اپنے شرک کا یہ انکار کردیں گے۔ اسی وقت ان کے منہ پر مہر لگ جائے گی اور ہاتھ پاؤں گواہی دینے لگیں گے اور اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کافروں کے سامنے جب ان کی بداعمالیاں پیش کی جائیں گی تو وہ انکار کر جائیں گے اور اپنی بے گناہی بیان کرنے لگیں گے تو کہا جائے گا یہ ہیں تمہارے پڑوسی یہ تمہارے خلاف شہادت دے رہے ہیں۔ یہ کہیں گے یہ سب جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا کہ اچھا خود تمہارے کنبے کے قبیلے کے لوگ موجود ہیں۔ یہ کہہ دیں گے یہ بھی جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا۔ اچھا تم قسمیں کھاؤ، یہ قسمیں کھا لیں گے پھر اللہ انہیں گونگا کر دے گا اور خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کی بداعمالیوں کی گواہی دیں گے۔ پھر انہیں جہنم میں بھیج دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:25888:ضعیف]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئے اور فرمانے لگے، جانتے ہو میں کیوں ہنسا؟ ہم نے کہا اللہ ہی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ قیامت کے دن اپنے رب سے جو حجت بازی کرے گا اس پر یہ کہے گا کہ اللہ کیا تو نے مجھے ظلم سے نہیں روکا تھا؟ اللہ فرمائے گا ” ہاں “۔ تو یہ کہے گا، بس آج جو گواہ میں سچا مانوں، اسی کی شہادت میرے بارے میں معتبر مانی جائے۔ اور وہ گواہ سوا میرے اور کوئی نہیں۔ اللہ فرمائے گا، ” اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ رہ “، اب منہ پر مہر لگ جائے گی اور اعضاء سے سوال ہوگا تو وہ سارے عقدے کھول دیں گے۔ اس وقت بندہ کہے گا، تم غارت ہو جاؤ، تمہیں بربادی آئے تمہاری طرف سے ہی تو میں لڑ جھگڑ رہا تھا ۔ [صحیح مسلم:2969]
صفحہ نمبر5894
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے تھے ”اے ابن آدم تو خود اپنی بد اعمالیوں کا گواہ ہے، تیرے کل جسم کے اعضاء تیرے خلاف بولیں گے، ان کا خیال رکھ اللہ سے پوشیدگی اور ظاہری میں ڈرتا رہ۔ اس کے سامنے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، اندھیرا اس کے سامنے روشنی کی مانند ہے۔ چھپا ہوا اس کے سامنے کھلا ہوا ہے۔ اللہ کے ساتھ نیک گمانی کی حالت میں مرو۔ اللہ ہی کے ساتھ ہماری قوتیں ہیں۔“
یہاں دین سے مراد حساب ہے۔ جمہور کی قرأت میں حق کا زبر ہے کیونکہ وہ دین کی صفت ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ نے «الْحَقَّ» پڑھا ہے کہ یہ لغت ہے لفظ اللہ کی۔ ابی بن کعب کے مصحف میں «يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ الْحَقُّ دِينَهُمْ» بعض سلف سے پڑھنا مروی ہے۔ ” اس وقت جان لیں گے کہ اللہ کے وعدے وعید حق ہیں۔ اس کا حساب عدل والا ہے ظلم سے دور ہے “۔
صفحہ نمبر5895
بھلی بات کے حق دار بھلے لوگ ہی ہیں ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ایسی بری بات برے لوگوں کے لیے ہے، بھلی بات کے حقدار بھلے لوگ ہوتے ہیں۔“ یعنی اہل نفاق نے سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر جو تہمت باندھی اور ان کی شان میں جو بد الفاظی کی اس کے لائق وہی ہیں اس لیے کہ وہی بد ہیں اور خبیث ہیں۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا چونکہ پاک ہیں اس لیے وہ پاک کلموں کے لائق ہیں وہ ناپاک بہتان سے بری ہیں۔
یہ آیت بھی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ آیت کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو ہر طرح سے طیب ہیں، ناممکن ہے کہ ان کے نکاح میں اللہ کسی ایسی عورت کو دے جو خبیثہ ہو۔ خبیثہ عورتیں تو خبیث مردوں کے لیے ہوتی ہیں۔
اسی لیے فرمایا کہ ” یہ لوگ ان تمام تہمتوں سے پاک ہیں جو دشمنان اللہ باندھ رہے ہیں۔ انہیں ان کی بدکلامیوں سے جو رنج وایذاء پہنچی وہ بھی ان کے لیے باعث مغفرت گناہ بن جائے گی۔ اور یہ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں، جنت عدن میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہیں گی “۔
صفحہ نمبر5898
ایک مرتبہ اسیر بن جابر، عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہنے لگے آج تو میں نے ولید بن عقبہ سے ایک نہایت ہی عمدہ بات سنی تو عبداللہ نے فرمایا ”ٹھیک ہے مومن کے دل میں پاک بات اترتی ہے اور وہ اس کے سینے میں آ جاتی ہے پھر وہ اسے زبان سے بیان کرتا ہے، وہ بات چونکہ بھلی ہوتی ہے، بھلے سننے والے اسے اپنے دل میں بٹھالیتے ہیں اور اسی طرح بری بات برے لوگوں کے دلوں سے سینوں تک اور وہاں سے زبانوں تک آتی ہے، برے لوگ اسے سنتے ہیں اور اپنے دل میں بٹھالیتے ہیں۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔
مسند احمد میں حدیث ہے کہ جو شخص بہت سی باتیں سنے، پھر ان میں جو سب سے خراب ہو اسے بیان کرے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی بکریوں والے سے ایک بکری مانگے وہ اسے کہے کہ جا اس ریوڑ میں سے تجھے جو پسند ہو لے لے۔ یہ جائے اور ریوڑ کے کتے کا کان پکڑ کر لے جائے ۔ [سنن ابن ماجه:4172، قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور حدیث میں ہے حکمت کا کلمہ مومن کی گم گشتہ دولت ہے جہاں سے پائے لے لے ۔ [سنن ابن ماجه:4169، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5899
شرعی آداب ٭٭
شرعی ادب بیان ہو رہا ہے کہ ” کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت مانگو، جب اجازت ملے، جاؤ پہلے سلام کرو، اگر پہلی دفعہ کی اجازت طلبی پر جواب نہ ملے تو پھر اجازت مانگو۔ تین مرتبہ اجازت چاہو اگر پھر بھی اجازت نہ ملے تو لوٹ جاؤ “۔
صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ تین دفعہ اجازت مانگی، جب کوئی نہ بولا تو آپ رضی اللہ عنہ واپس لوٹ گئے۔ تھوڑی دیر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا! دیکھو عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ آنا چاہتے ہیں، انہیں بلا لو لوگ گئے، دیکھا تو وہ چلے گئے ہیں۔ واپس آ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خبر دی۔ دوبارہ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہا نے پوچھا آپ رضی اللہ عنہ واپس کیوں چلے گئے تھے؟ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ تین دفعہ اجازت چاہنے کے بعد بھی اگر اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جاؤ ۔
صفحہ نمبر5900
باب
میں نے تین بار اجازت چاہی جب جواب نہ آیا تو میں اس حدیث پر عمل کرکے واپس لوٹ گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس پر کسی گواہ کو پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔“ آپ رضی اللہ عنہ وہاں سے اٹھ کر انصار کے ایک مجمع میں پہنچے اور سارا واقعہ ان سے بیان کیا اور فرمایا کہ ”تم میں سے کسی نے اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم سنا ہو تو میرے ساتھ چل کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہہ دے۔“ انصار نے کہا یہ مسئلہ تو عام ہے بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہم سب نے سنا ہے ہم اپنے سب سے نوعمر لڑکے کو تیرے ساتھ کر دیتے ہیں، یہی گواہی دے آئیں گے۔ چنانچہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ گئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے جا کر کہا کہ میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سنا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ اس وقت افسوس کرنے لگے کہ بازاروں کے لین دین نے مجھے اس مسئلہ سے غافل رکھا ۔ [صحیح بخاری:2026]
صفحہ نمبر5901
ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی۔ فرمایا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ! سعد رضی اللہ عنہ نے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تو کہہ دیا لیکن ایسی آواز سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ سنیں۔ چنانچہ تین بار یہی ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام کرتے، آپ رضی اللہ عنہ جواب دیتے لیکن اس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنیں نہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس لوٹ چلے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لپکے ہوئے آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی تمام آوازیں میرے کانوں میں پہنچ رہی تھیں۔ میں نے ہر سلام کا جواب بھی دیا لیکن اس خیال سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں بہت ساری لوں اور زیادہ برکت حاصل کروں کہ جواب اس طرح نہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی دے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلئے! تشریف رکھئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گئے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کشمش لا کر رکھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمائیں اور فارغ ہو کر فرمانے لگے تمہارا کھانا نیک لوگوں نے کھایا۔ فرشتے تم پر رحمت بھیج رہے ہیں، تمہارے ہاں روزے داروں نے روزہ کھولا ۔ [مسند احمد:138/3:حسن]
صفحہ نمبر5902
اور روایت میں ہے کہ جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے آہستہ جواب دیا تو ان کے لڑکے سیدنا قیس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت کیوں نہیں دیتے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا خاموش رہو دیکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سلام کہیں گے، ہمیں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ملے گی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ یہاں جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے زعفران یا ورس سے رنگی ہوئی ایک چادر پیش کی، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم مبارک پر لپیٹ لی، پھر ہاتھ اٹھا کر سعد رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کی کہ اے اللہ سعد بن عبادہ کی آل پر اپنے درود و رحمت نازل فرما ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں کھانا تناول فرمایا جب واپس جانے کا ارادہ کیا تو سعد رضی اللہ عنہا اپنے گدھے پر پالان کس لائے۔ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لیے پیش کیا اور اپنے لڑکے قیس رضی اللہ عنہ سے کہا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاؤ۔ یہ ساتھ چلے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قیس آؤ تم بھی سوار ہو جاؤ ۔ انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے تو یہ نہ ہو سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو باتوں میں سے ایک تمہیں ضرور کرنی ہوگی یا تو میرے ساتھ اس جانور پر سوار ہو جاؤ یا واپس چلے جاؤ ، قیس رضی اللہ عنہ نے واپس جانا منظور کر لیا ۔ [سنن ابوداود:5185،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5903
یہ یاد رہے کہ اجازت مانگنے والا گھر کے دروازے کے بالمقابل کھڑا نہ رہے بلکہ دائیں بائیں قدرے کھسک کے کھڑا رہے۔ کیونکہ ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے ہاں جاتے تو اس کے دروازے کے بالکل سامنے کھڑے نہ ہوتے بلکہ ادھر یا ادھر قدرے دور ہو کر زور سے سلام کہتے اس وقت تک دروازوں پر پردے بھی نہیں ہوتے تھے ۔ [سنن ابوداود:5186،قال الشيخ الألباني:صحیح]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان کے دروازے کے سامنے ہی کھڑے ہو کر ایک شخص نے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تعلیم دی کہ نظر نہ پڑے اسی لیے تو اجازت مقرر کی گئی ہے۔ پھر دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر آواز دینے کے کیا معنی؟ یا تو ذرا سا ادھر ہو جاؤ یا ادھر ۔ [سنن ابوداود:5174،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک اور حدیث میں ہے کہ اگر کوئی تیرے گھر میں تیری اجازت کے بغیر جھانکنے لگے اور تو اسے کنکر مارے جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تجھے کوئی گناہ نہ ہوگا ۔ [صحیح بخاری:6902]
صفحہ نمبر5904
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اپنے والد مرحوم کے قرضے کی ادائیگی کے فکر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، دروازہ پر دستک دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون صاحب ہیں؟ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں میں گویا آپ نے ناپسند فرمایا ۔ [صحیح بخاری:6250]
کیونکہ ”میں“ کہنے سے یہ تو معلوم نہیں ہوسکتا کون ہے جب تک کے نام یا مشہور کنیت نہ بتائی جائے ”میں“ تو ہر شخص اپنے لیے کہہ سکتا ہے۔ پس اجازت طلبی کا اصلی مقصود حاصل نہیں ہو سکتا۔ «الِاسْتِئْذَانُ»، «الِاسْتِئْنَاسُ» ایک ہی بات ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے «تَسْتَأْنِسُوا» کاتبوں کی غلطی ہے۔ «تَسْتَأْذِنُوا» لکھنا چاہیئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ہی قرأت تھی اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی بھی۔ لیکن یہ بہت غریب ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اپنے مصحف میں «حَتَّى تُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا وَتَسْتَأْذِنُوا» ہے۔
صفوان بن امیہ جب مسلمان ہوگئے تو ایک مرتبہ کلدہ بن حنبل کو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ آپ اس وقت وادی کے اونچے حصے میں تھے یہ سلام کئے بغیر اور اجازت لیے بغیر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ جاؤ، اور کہو السلام علیکم کیا میں آؤں؟ ۔ [سنن ابوداود:5176،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آیا اور کہنے لگا میں اندر آ جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلام سے فرمایا: جاؤ اور اسے اجازت مانگنے کا طریقہ سکھاؤ کہ پہلے تو سلام کرے پھر دریافت کرے ۔ اس شخص نے یہ سن لیا اور اسی طرح سلام کر کے اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور وہ اندر گئے ۔ [سنن ابوداود:5177،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خادمہ سے فرمایا تھا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:25917:مرسل]
اور حدیث میں ہے کلام سے پہلے سلام ہونا چاہیئے ۔ یہ حدیث ضعیف ہے، ترمذی میں موجود ہے۔ [سنن ترمذي:2699،قال الشيخ الألباني:حسن]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آ رہے تھے لیکن دھوپ کی تاب نہ لا سکے تو ایک قریشی کی جھونپڑی کے پاس پہنچ کر فرمایا السلام علیکم کیا میں اندر آ جاؤں اس نے کہا سلامتی سے آ جاؤ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر یہی کہا اس نے پھر یہی جواب دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پاؤں جل رہے تھے کبھی اس قدم پر سہارا لیتے، کبھی اس قدم پر، فرمایا یوں کہو کہ آ جاؤ، اب آپ رضی اللہ عنہ اندر تشریف لے گئے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چار عورتیں گئیں، اجازت چاہی کہ کیا ہم آ جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”نہیں! تم میں جو اجازت کا طریقہ جانتی ہو اسے کہو کہ وہ اجازت لے۔“ تو ایک عورت نے پہلے سلام کیا، پھر اجازت مانگی، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی، پھر یہی آیت پڑھ کر سنائی۔
صفحہ نمبر5905
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اپنی ماں اور بہنوں کے پاس بھی جانا ہو تو ضرور اجازت لے لیا کرو۔“
انصار کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں بعض دفعہ گھر میں اس حالت میں ہوتی ہوں کہ اس وقت اگر میرے باپ بھی آجائیں یا میرا اپنا لڑکا بھی اس وقت آ جائے تو مجھے برا معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ حالت ایسی نہیں ہوتی کہ اس وقت کسی کی بھی نگاہ مجھ پر پڑے تو میں ناخوش نہ ہوؤں۔ اور گھر والوں میں سے کوئی آہی جاتا ہے اس وقت یہ آیت اتری ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:25921:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تین آیتیں ہیں کہ لوگوں نے ان پر عمل چھوڑ رکھا ہے ایک تو یہ کہ اللہ فرماتا ہے ” تم میں سے سب سے زیادہ بزرگی والا وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ کا خوف رکھتا ہو “۔ اور لوگوں کا خیال یہ ہے کہ سب سے بڑا وہ ہے جو سب سے زیادہ امیر ہو، اور ادب کی آیتیں بھی لوگ چھوڑ بیٹھتے ہیں۔“ عطار حمۃ اللہ علیہ نے پوچھا۔ میرے گھر میں میری یتیم بہنیں ہیں جو ایک ہی گھر میں رہتی ہیں اور میں ہی انہیں پالتا ہوں کیا ان کے پاس جانے کے لیے بھی مجھے اجازت کی ضرورت ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں ضرور اجازت طلب کیا کرو“، میں نے دوبارہ یہی سوال کیا کہ شاید کوئی رخصت کا پہلو نکل آئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”کیا تم انہیں ننگا دیکھنا پسند کرو گے؟“ میں نے کہا نہیں فرمایا ”پھر ضرور اجازت مانگا کرو۔“ میں نے یہی سوال دوہرایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”کیا تو اللہ کا حکم مانے گا یا نہیں؟“ میں نے کہا ہاں مانوں گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”پھر بغیر اطلاع ہرگز ان کے پاس بھی نہ جاؤ۔“
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں محرمات ابدیہ پر ان کی عریانی کی حالت میں نظر پڑ جائے اس سے زیادہ برائی میرے نزدیک اور کوئی نہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اپنی ماں کے پاس بھی گھر میں بغیر اطلاع کے نہ جاؤ۔ عطا رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ بیوی کے پاس بھی بغیر اجازت کے نہ جائے؟ فرمایا ”یہاں اجازت کی ضرورت نہیں۔“ یہ قول بھی محمول ہے اس پر کہ اس سے اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں لیکن تاہم اطلاع ضرور ہونی چاہیئے ممکن ہے وہ اس وقت ایسی حالت میں ہو کہ وہ نہیں چاہتی کہ خاوند بھی اس حالت میں اسے دیکھے۔
صفحہ نمبر5906
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”میرے خاوند عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب میرے پاس گھر میں آتے تو کھنکار کر آتے۔ کبھی بلند آواز سے دروازے کے باہر کسی سے باتیں کرنے لگتے تاکہ گھر والوں کو آپ رضی اللہ عنہ کی اطلاع ہو جائے۔“ چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ نے «تَسْتَأْنِسُوا» کے معنی بھی یہی کئے ہیں کہ کھنکار دے یا جوتیوں کی آہٹ سنا دے۔
ایک حدیث میں ہے کہ سفر سے رات کے وقت بغیر اطلاع گھر آجانے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ کیونکہ اس سے گویا گھر والوں کی خیانت کا پوشیدہ طور پر ٹٹولنا ہے ۔ [صحیح بخاری:1801]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک سفر سے صبح کے وقت آئے تو حکم دیا کہ بستی کے پاس لوگ اتریں تاکہ مدینے میں خبر مشہور ہو جائے، شام کو اپنے گھروں میں جانا، اس لیے کہ اس اثناء میں عورتیں اپنی صفائی ستھرائی کر لیں ۔ [صحیح بخاری:5245]
اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا سلام تو ہم جانتے ہیں لیکن «اسْتِئْنَاسُ» کا طریقہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللَّهِ» یا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» یا «اﷲ اَکْبَر» بلند آواز سے کہہ دینا یا کھنکار دینا جس سے گھر والے معلوم کر لیں کہ فلاں آ رہا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:3707،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تین بار کی اجازت اس لیے مقرر ہے کی ہے کہ پہلی دفعہ میں تو گھر والے معلوم کر لیں کہ فلاں ہے۔ دوسری دفعہ میں وہ سنبھل جائیں اور ہوشیار ہو جائیں۔ تیسری مرتبہ میں اگر وہ چاہیں اجازت دیں چاہیں منع کردیں۔ جب اجازت نہ ملے پھر دروازے پر ٹھہرا رہنا برا ہے، لوگوں کو اپنے کام اور اشغال ایسے ضروری ہوتے ہیں کہ وہ اس وقت اجازت نہیں دے سکتے۔“
مقاتل میں حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں دستور نہ تھا، ایک دوسرے سے ملتے تھے لیکن سلام نہ کرتے تھے۔ کسی کے ہاں جاتے تھے تو اجازت نہیں لیتے تھے یونہی جا دھمکے پھر کہہ دیا کہ میں آ گیا ہوں۔ تو بسا اوقات یہ گھر والے پر گراں گزرتا۔ ایسا بھی ہوتا کہ وہ اپنے گھر میں کبھی ایسے حال میں ہوتا ہے کہ اس میں اس کا آنا بہت برا لگتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تمام برے دستور اچھے آداب سکھا کر بدل دئیے۔ اسی لیے فرمایا کہ ” یہی طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ اس میں مکان والے کو آنے والے کو دونوں کو راحت ہے۔ یہ چیزیں تمہاری نصیحت اور خیر خواہی کی ہیں۔ اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو بے اجازت اندر نہ جاؤ۔ کیونکہ یہ دوسرے کی ملک میں تصرف کرنا ہے جو ناجائز ہے۔ مالک مکان کو حق ہے اگر وہ چاہے اجازت دے، چاہے روک دے۔ اگر تمہیں کہا جائے، لوٹ جاؤ تو تمہیں واپس چلا جانا چاہے۔ اس میں برا ماننے کی بات نہیں بلکہ یہ تو بڑا ہی پیارا طریقہ ہے “۔
بعض مہاجرین رضی اللہ عنہم اجمعین افسوس کیا کرتے تھے کہ ہمیں اپنی پوری عمر میں اس وقت آیت پر عمل کرنے کا موقعہ نہیں ملا کہ کوئی ہم سے کہتا لوٹ جاؤ اور ہم اس آیت کے ماتحت وہاں سے واپس ہو جاتے، اجازت نہ ملنے پر دروازے پر ٹھہرے رہنا بھی منع فرما دیا۔ اللہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے۔ یہ آیت اگلی آیت سے مخصوص ہے اس میں ان گھروں میں بلا اجازت جانے کی رخصت ہے جہاں کوئی نہ ہو اور وہاں اس کا کوئی سامان وغیرہ ہو۔ جیسے کہ مہمان خانہ وغیرہ۔ یہاں جب پہلی مربتہ اجازت مل گئی پھر ہربار کی اجازت ضروری نہیں۔ تو گویا یہ آیت پہلی آیت سے استثنا ہے۔ اسی طرح کی ایسے تاجروں کے گودام مسافر خانے وغیرہ۔ اور اول بات زیادہ ظاہر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ زید کہتے ہیں مراد اس سے بیت الشعر ہے۔
صفحہ نمبر5907
باب
میں نے تین بار اجازت چاہی جب جواب نہ آیا تو میں اس حدیث پر عمل کرکے واپس لوٹ گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس پر کسی گواہ کو پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔“ آپ رضی اللہ عنہ وہاں سے اٹھ کر انصار کے ایک مجمع میں پہنچے اور سارا واقعہ ان سے بیان کیا اور فرمایا کہ ”تم میں سے کسی نے اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم سنا ہو تو میرے ساتھ چل کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہہ دے۔“ انصار نے کہا یہ مسئلہ تو عام ہے بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہم سب نے سنا ہے ہم اپنے سب سے نوعمر لڑکے کو تیرے ساتھ کر دیتے ہیں، یہی گواہی دے آئیں گے۔ چنانچہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ گئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے جا کر کہا کہ میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سنا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ اس وقت افسوس کرنے لگے کہ بازاروں کے لین دین نے مجھے اس مسئلہ سے غافل رکھا ۔ [صحیح بخاری:2026]
صفحہ نمبر5901
ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی۔ فرمایا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ! سعد رضی اللہ عنہ نے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تو کہہ دیا لیکن ایسی آواز سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ سنیں۔ چنانچہ تین بار یہی ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام کرتے، آپ رضی اللہ عنہ جواب دیتے لیکن اس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنیں نہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس لوٹ چلے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لپکے ہوئے آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی تمام آوازیں میرے کانوں میں پہنچ رہی تھیں۔ میں نے ہر سلام کا جواب بھی دیا لیکن اس خیال سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں بہت ساری لوں اور زیادہ برکت حاصل کروں کہ جواب اس طرح نہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی دے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلئے! تشریف رکھئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گئے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کشمش لا کر رکھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمائیں اور فارغ ہو کر فرمانے لگے تمہارا کھانا نیک لوگوں نے کھایا۔ فرشتے تم پر رحمت بھیج رہے ہیں، تمہارے ہاں روزے داروں نے روزہ کھولا ۔ [مسند احمد:138/3:حسن]
صفحہ نمبر5902
اور روایت میں ہے کہ جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے آہستہ جواب دیا تو ان کے لڑکے سیدنا قیس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت کیوں نہیں دیتے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا خاموش رہو دیکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سلام کہیں گے، ہمیں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ملے گی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ یہاں جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے زعفران یا ورس سے رنگی ہوئی ایک چادر پیش کی، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم مبارک پر لپیٹ لی، پھر ہاتھ اٹھا کر سعد رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کی کہ اے اللہ سعد بن عبادہ کی آل پر اپنے درود و رحمت نازل فرما ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں کھانا تناول فرمایا جب واپس جانے کا ارادہ کیا تو سعد رضی اللہ عنہا اپنے گدھے پر پالان کس لائے۔ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لیے پیش کیا اور اپنے لڑکے قیس رضی اللہ عنہ سے کہا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاؤ۔ یہ ساتھ چلے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قیس آؤ تم بھی سوار ہو جاؤ ۔ انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے تو یہ نہ ہو سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو باتوں میں سے ایک تمہیں ضرور کرنی ہوگی یا تو میرے ساتھ اس جانور پر سوار ہو جاؤ یا واپس چلے جاؤ ، قیس رضی اللہ عنہ نے واپس جانا منظور کر لیا ۔ [سنن ابوداود:5185،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5903
یہ یاد رہے کہ اجازت مانگنے والا گھر کے دروازے کے بالمقابل کھڑا نہ رہے بلکہ دائیں بائیں قدرے کھسک کے کھڑا رہے۔ کیونکہ ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے ہاں جاتے تو اس کے دروازے کے بالکل سامنے کھڑے نہ ہوتے بلکہ ادھر یا ادھر قدرے دور ہو کر زور سے سلام کہتے اس وقت تک دروازوں پر پردے بھی نہیں ہوتے تھے ۔ [سنن ابوداود:5186،قال الشيخ الألباني:صحیح]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان کے دروازے کے سامنے ہی کھڑے ہو کر ایک شخص نے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تعلیم دی کہ نظر نہ پڑے اسی لیے تو اجازت مقرر کی گئی ہے۔ پھر دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر آواز دینے کے کیا معنی؟ یا تو ذرا سا ادھر ہو جاؤ یا ادھر ۔ [سنن ابوداود:5174،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک اور حدیث میں ہے کہ اگر کوئی تیرے گھر میں تیری اجازت کے بغیر جھانکنے لگے اور تو اسے کنکر مارے جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تجھے کوئی گناہ نہ ہوگا ۔ [صحیح بخاری:6902]
صفحہ نمبر5904
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اپنے والد مرحوم کے قرضے کی ادائیگی کے فکر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، دروازہ پر دستک دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون صاحب ہیں؟ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں میں گویا آپ نے ناپسند فرمایا ۔ [صحیح بخاری:6250]
کیونکہ ”میں“ کہنے سے یہ تو معلوم نہیں ہوسکتا کون ہے جب تک کے نام یا مشہور کنیت نہ بتائی جائے ”میں“ تو ہر شخص اپنے لیے کہہ سکتا ہے۔ پس اجازت طلبی کا اصلی مقصود حاصل نہیں ہو سکتا۔ «الِاسْتِئْذَانُ»، «الِاسْتِئْنَاسُ» ایک ہی بات ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے «تَسْتَأْنِسُوا» کاتبوں کی غلطی ہے۔ «تَسْتَأْذِنُوا» لکھنا چاہیئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ہی قرأت تھی اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی بھی۔ لیکن یہ بہت غریب ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اپنے مصحف میں «حَتَّى تُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا وَتَسْتَأْذِنُوا» ہے۔
صفوان بن امیہ جب مسلمان ہوگئے تو ایک مرتبہ کلدہ بن حنبل کو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ آپ اس وقت وادی کے اونچے حصے میں تھے یہ سلام کئے بغیر اور اجازت لیے بغیر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ جاؤ، اور کہو السلام علیکم کیا میں آؤں؟ ۔ [سنن ابوداود:5176،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آیا اور کہنے لگا میں اندر آ جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلام سے فرمایا: جاؤ اور اسے اجازت مانگنے کا طریقہ سکھاؤ کہ پہلے تو سلام کرے پھر دریافت کرے ۔ اس شخص نے یہ سن لیا اور اسی طرح سلام کر کے اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور وہ اندر گئے ۔ [سنن ابوداود:5177،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خادمہ سے فرمایا تھا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:25917:مرسل]
اور حدیث میں ہے کلام سے پہلے سلام ہونا چاہیئے ۔ یہ حدیث ضعیف ہے، ترمذی میں موجود ہے۔ [سنن ترمذي:2699،قال الشيخ الألباني:حسن]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آ رہے تھے لیکن دھوپ کی تاب نہ لا سکے تو ایک قریشی کی جھونپڑی کے پاس پہنچ کر فرمایا السلام علیکم کیا میں اندر آ جاؤں اس نے کہا سلامتی سے آ جاؤ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر یہی کہا اس نے پھر یہی جواب دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پاؤں جل رہے تھے کبھی اس قدم پر سہارا لیتے، کبھی اس قدم پر، فرمایا یوں کہو کہ آ جاؤ، اب آپ رضی اللہ عنہ اندر تشریف لے گئے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چار عورتیں گئیں، اجازت چاہی کہ کیا ہم آ جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”نہیں! تم میں جو اجازت کا طریقہ جانتی ہو اسے کہو کہ وہ اجازت لے۔“ تو ایک عورت نے پہلے سلام کیا، پھر اجازت مانگی، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی، پھر یہی آیت پڑھ کر سنائی۔
صفحہ نمبر5905
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اپنی ماں اور بہنوں کے پاس بھی جانا ہو تو ضرور اجازت لے لیا کرو۔“
انصار کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں بعض دفعہ گھر میں اس حالت میں ہوتی ہوں کہ اس وقت اگر میرے باپ بھی آجائیں یا میرا اپنا لڑکا بھی اس وقت آ جائے تو مجھے برا معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ حالت ایسی نہیں ہوتی کہ اس وقت کسی کی بھی نگاہ مجھ پر پڑے تو میں ناخوش نہ ہوؤں۔ اور گھر والوں میں سے کوئی آہی جاتا ہے اس وقت یہ آیت اتری ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:25921:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تین آیتیں ہیں کہ لوگوں نے ان پر عمل چھوڑ رکھا ہے ایک تو یہ کہ اللہ فرماتا ہے ” تم میں سے سب سے زیادہ بزرگی والا وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ کا خوف رکھتا ہو “۔ اور لوگوں کا خیال یہ ہے کہ سب سے بڑا وہ ہے جو سب سے زیادہ امیر ہو، اور ادب کی آیتیں بھی لوگ چھوڑ بیٹھتے ہیں۔“ عطار حمۃ اللہ علیہ نے پوچھا۔ میرے گھر میں میری یتیم بہنیں ہیں جو ایک ہی گھر میں رہتی ہیں اور میں ہی انہیں پالتا ہوں کیا ان کے پاس جانے کے لیے بھی مجھے اجازت کی ضرورت ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں ضرور اجازت طلب کیا کرو“، میں نے دوبارہ یہی سوال کیا کہ شاید کوئی رخصت کا پہلو نکل آئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”کیا تم انہیں ننگا دیکھنا پسند کرو گے؟“ میں نے کہا نہیں فرمایا ”پھر ضرور اجازت مانگا کرو۔“ میں نے یہی سوال دوہرایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”کیا تو اللہ کا حکم مانے گا یا نہیں؟“ میں نے کہا ہاں مانوں گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”پھر بغیر اطلاع ہرگز ان کے پاس بھی نہ جاؤ۔“
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں محرمات ابدیہ پر ان کی عریانی کی حالت میں نظر پڑ جائے اس سے زیادہ برائی میرے نزدیک اور کوئی نہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اپنی ماں کے پاس بھی گھر میں بغیر اطلاع کے نہ جاؤ۔ عطا رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ بیوی کے پاس بھی بغیر اجازت کے نہ جائے؟ فرمایا ”یہاں اجازت کی ضرورت نہیں۔“ یہ قول بھی محمول ہے اس پر کہ اس سے اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں لیکن تاہم اطلاع ضرور ہونی چاہیئے ممکن ہے وہ اس وقت ایسی حالت میں ہو کہ وہ نہیں چاہتی کہ خاوند بھی اس حالت میں اسے دیکھے۔
صفحہ نمبر5906
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”میرے خاوند عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب میرے پاس گھر میں آتے تو کھنکار کر آتے۔ کبھی بلند آواز سے دروازے کے باہر کسی سے باتیں کرنے لگتے تاکہ گھر والوں کو آپ رضی اللہ عنہ کی اطلاع ہو جائے۔“ چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ نے «تَسْتَأْنِسُوا» کے معنی بھی یہی کئے ہیں کہ کھنکار دے یا جوتیوں کی آہٹ سنا دے۔
ایک حدیث میں ہے کہ سفر سے رات کے وقت بغیر اطلاع گھر آجانے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ کیونکہ اس سے گویا گھر والوں کی خیانت کا پوشیدہ طور پر ٹٹولنا ہے ۔ [صحیح بخاری:1801]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک سفر سے صبح کے وقت آئے تو حکم دیا کہ بستی کے پاس لوگ اتریں تاکہ مدینے میں خبر مشہور ہو جائے، شام کو اپنے گھروں میں جانا، اس لیے کہ اس اثناء میں عورتیں اپنی صفائی ستھرائی کر لیں ۔ [صحیح بخاری:5245]
اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا سلام تو ہم جانتے ہیں لیکن «اسْتِئْنَاسُ» کا طریقہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللَّهِ» یا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» یا «اﷲ اَکْبَر» بلند آواز سے کہہ دینا یا کھنکار دینا جس سے گھر والے معلوم کر لیں کہ فلاں آ رہا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:3707،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تین بار کی اجازت اس لیے مقرر ہے کی ہے کہ پہلی دفعہ میں تو گھر والے معلوم کر لیں کہ فلاں ہے۔ دوسری دفعہ میں وہ سنبھل جائیں اور ہوشیار ہو جائیں۔ تیسری مرتبہ میں اگر وہ چاہیں اجازت دیں چاہیں منع کردیں۔ جب اجازت نہ ملے پھر دروازے پر ٹھہرا رہنا برا ہے، لوگوں کو اپنے کام اور اشغال ایسے ضروری ہوتے ہیں کہ وہ اس وقت اجازت نہیں دے سکتے۔“
مقاتل میں حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں دستور نہ تھا، ایک دوسرے سے ملتے تھے لیکن سلام نہ کرتے تھے۔ کسی کے ہاں جاتے تھے تو اجازت نہیں لیتے تھے یونہی جا دھمکے پھر کہہ دیا کہ میں آ گیا ہوں۔ تو بسا اوقات یہ گھر والے پر گراں گزرتا۔ ایسا بھی ہوتا کہ وہ اپنے گھر میں کبھی ایسے حال میں ہوتا ہے کہ اس میں اس کا آنا بہت برا لگتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تمام برے دستور اچھے آداب سکھا کر بدل دئیے۔ اسی لیے فرمایا کہ ” یہی طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ اس میں مکان والے کو آنے والے کو دونوں کو راحت ہے۔ یہ چیزیں تمہاری نصیحت اور خیر خواہی کی ہیں۔ اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو بے اجازت اندر نہ جاؤ۔ کیونکہ یہ دوسرے کی ملک میں تصرف کرنا ہے جو ناجائز ہے۔ مالک مکان کو حق ہے اگر وہ چاہے اجازت دے، چاہے روک دے۔ اگر تمہیں کہا جائے، لوٹ جاؤ تو تمہیں واپس چلا جانا چاہے۔ اس میں برا ماننے کی بات نہیں بلکہ یہ تو بڑا ہی پیارا طریقہ ہے “۔
بعض مہاجرین رضی اللہ عنہم اجمعین افسوس کیا کرتے تھے کہ ہمیں اپنی پوری عمر میں اس وقت آیت پر عمل کرنے کا موقعہ نہیں ملا کہ کوئی ہم سے کہتا لوٹ جاؤ اور ہم اس آیت کے ماتحت وہاں سے واپس ہو جاتے، اجازت نہ ملنے پر دروازے پر ٹھہرے رہنا بھی منع فرما دیا۔ اللہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے۔ یہ آیت اگلی آیت سے مخصوص ہے اس میں ان گھروں میں بلا اجازت جانے کی رخصت ہے جہاں کوئی نہ ہو اور وہاں اس کا کوئی سامان وغیرہ ہو۔ جیسے کہ مہمان خانہ وغیرہ۔ یہاں جب پہلی مربتہ اجازت مل گئی پھر ہربار کی اجازت ضروری نہیں۔ تو گویا یہ آیت پہلی آیت سے استثنا ہے۔ اسی طرح کی ایسے تاجروں کے گودام مسافر خانے وغیرہ۔ اور اول بات زیادہ ظاہر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ زید کہتے ہیں مراد اس سے بیت الشعر ہے۔
صفحہ نمبر5907
حرام چیزوں پر نگاہ نہ ڈالو ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ ” جن چیزوں کا دیکھنا میں نے حرام کر دیا ہے ان پر نگاہیں نہ ڈالو، حرام چیزوں سے آنکھیں نیچی کر لو “۔ اگر بالفرض نظر پڑ جائے تو بھی دوبارہ یا نظر بھر کر نہ دیکھو۔
صحیح مسلم میں ہے سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نگاہ پڑ جانے کی بابت پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نگاہ فوراً ہٹا لو ۔ [صحیح مسلم:2159]
نیچی نگاہ کرنا یا ادھر ادھر دیکھنے لگ جانا اللہ کی حرام کردہ چیز کو نہ دیکھنا آیت کا مقصود ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی رضی اللہ عنہ نظر پر نظر نہ جماؤ، اچانک جو پڑگئی وہ تو معاف ہے قصداً معاف نہیں ۔ [سنن ابوداود:2149،قال الشيخ الألباني:حسن]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا راستوں پر بیٹھنے سے بچو ۔ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کام کاج کے لیے وہ تو ضروری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو راستوں کا حق ادا کرتے رہو ۔ انہوں نے کہا وہ کیا؟ فرمایا: نیچی نگاہ رکھنا، کسی کو ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کی تعلیم کرنا، بری باتوں سے روکنا ۔ [صحیح بخاری:6229]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں چھ چیزوں کے تم ضامن ہو جاؤ میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوتا ہوں، بات کرتے ہوئے جھوٹ نہ بولو، امانت میں خیانت نہ کرو، وعدہ خلافی نہ کرو، نظر نیچی رکھو، ہاتھوں کو ظلم سے بچائے رکھو، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو ۔ [طبرانی کبیر:8018:ضعیف]
صفحہ نمبر5909
صحیح بخاری میں ہے جو شخص زبان اور شرمگاہ کو اللہ کے فرمان کے ماتحت رکھے، میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں ۔ [صحیح بخاری:6474]
عبیدہ کا قول ہے کہ جس چیز کا نتیجہ نافرمانی رب ہو، وہ کبیرہ گناہ ہے چونکہ نگاہ پڑنے کے بعد دل میں فساد کھڑا ہوتا ہے، اس لیے شرمگاہ کو بچانے کے لیے نظریں نیچی رکھنے کا فرمان ہوا۔ نظر بھی ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ پس زنا سے بچنا بھی ضروری ہے اور نگاہ نیچی رکھنا بھی ضروری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو مگر اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے ۔ [سنن ابوداود:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح]
محرمات کو نہ دیکھنے سے دل پاک ہوتا ہے اور دین صاف ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنی نگاہ حرام چیزوں پر نہیں ڈالتے۔ اللہ ان کی آنکھوں میں نور بھر دیتا ہے، اور ان کے دل بھی نورانی کر دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس کی نظر کسی عورت کے حسن و جمال پر پڑ جائے پھر وہ اپنی نگاہ ہٹالے۔ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایک ایسی عبادت اسے عطا فرماتا ہے جس کی لذت وہ اپنے دل میں پاتا ہے ۔ [مسند احمد:264/5:ضعیف] اس حدیث کی سندیں تو ضعیف ہیں مگر یہ رغبت دلانے کے بارے میں ہے، اور ایسی احادیث میں سند کی اتنی زیادہ دیکھ بھال نہیں ہوتی۔
طبرانی میں ہے کہ یا تو تم اپنی نگاہیں نیچی رکھو گے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو گے اور اپنے منہ سیدھے رکھو گے یا اللہ تعالیٰ تمہاری صورتیں بدل دے گا ۔ [طبرانی کبیر:7840:ضعیف] «اَعَاذَنَا اللهُ مِنْ کُلِ ّ عَذَابِهِ»
فرماتے ہیں، نظر ابلیسی تیروں میں سے ایک تیر ہے جو شخص اللہ کے خوف سے اپنی نگاہ روک رکھے، اللہ اس کے دل میں ایسا نور ایمان پیدا کردیتا ہے کہ اسے مزہ آنے لگتا ہے ۔ [طبرانی کبیر:10363:ضعیف] لوگوں کا کوئی عمل اللہ سے پوشیدہ نہیں ہے وہ آنکھوں کی خیانت دل کے بھیدوں کو جانتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ابن آدم کے ذمے اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا گیا ہے جسے وہ لامحالہ پالے گا، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے۔، ہاتھوں کا زنا تھامنا ہے، پیروں کا زنا چلنا ہے، دل خواہش تمنا اور آرزو کرتا ہے، پھر شرمگاہ تو سب کو سچا کر دیتی ہے یا سب کو جھوٹا بنا دیتی ہے ۔ [صحیح بخاری:6243]
صفحہ نمبر5910
اکثر سلف لڑکوں کو گھورا گھاری سے بھی منع کرتے تھے۔ اکثر ائمہ صوفیہ نے اس بارے میں بہت کچھ سختی کی ہے۔ اہل علم کی جماعت نے اس کو مطلق حرام کہا ہے اور بعض نے اسے کبیرہ گناہ فرمایا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر آنکھ قیامت کے دن روئے گی مگر وہ آنکھ جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کے دیکھنے سے بند رہے اور وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں جاگتی رہے اور وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے رودے، گو اس میں سے آنسو صرف مکھی کے سر کے برابر ہی نکلا ہو ۔ [ابو نعیم فی الحلية:163/3:ضعیف]
صفحہ نمبر5911