John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah An-Noor

Tafsir Ibn Kathir · The Light · 64 ayat · ayat 61–64 · Quran text →

جہاد میں شمولیت کی شرائط ٭٭

اس آیت میں جس حرج کے نہ ہونے کا ذکر ہے اس کی بابت عطاء رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں ”مراد اس سے اندھے لولے لنگڑے کا جہاد میں نہ آنا ہے۔‏“ جیسے کہ سورۃ الفتح میں ہے ” تو یہ لوگ اگر جہاد میں شامل نہ ہوں تو ان پر بوجہ ان کے معقول شرعی عذر کے کوئی حرج نہیں “۔

سورۃ براۃ میں ہے آیت «لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ مَا عَلَي الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنفِقُونَ» [9-التوبة:91-92] ‏، ” بوڑھے بڑوں پر اور بیماروں پر اور مفلسوں پر جب کہ وہ تہ دل سے دین حق کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیرخواہ ہوں کوئی حرج نہیں، بھلے لوگوں پر کوئی حرج نہیں ہے۔ بھلے لوگوں پر کوئی سرزنش نہیں، اللہ غفور ورحیم ہے۔ ان پر بھی اسی طرح کوئی حرج نہیں جو سواری نہیں پاتے اور تیرے پاس آتے ہیں تو تیرے پاس سے بھی انہیں سواری نہیں مل سکتی “۔

سعید رحمۃاللہ علیہ وغیرہ فرماتے ہیں لوگ اندھوں، لولوں، لنگڑوں اور بیماروں کے ساتھ کھانا کھانے میں حرج جانتے تھے کہ ایسا نہ ہو وہ کھا نہ سکیں اور ہم زیادہ کھالیں یا اچھا اچھا کھالیں تو اس آیت میں انہیں اجازت ملی کہ اس میں تم پر کوئی حرج نہیں۔ بعض لوگ کراہت کرکے بھی ان کے ساتھ کھانے کو نہیں بیٹھتے تھے، یہ جاہلانہ عادتیں شریعت نے اٹھا دیں۔‏“

صفحہ نمبر5988

مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”لوگ ایسے لوگوں کو اپنے باپ بھائی بہن وغیرہ قریب رشتہ داروں کے ہاں پہنچا آتے تھے کہ وہ وہاں کھالیں یہ لوگ اس عار سے کرتے کہ ہمیں اوروں کے گھر لے جاتے ہیں اس پر یہ آیت اتری۔‏“

سدی رحمۃ اللہ کا قول ہے کہ ”انسان جب اپنے بہن بھائی وغیرہ کے گھر جاتا ہے وہ نہ ہوتے اور عورتیں کوئی کھانا انہیں پیش کرتیں تو یہ اسے نہیں کھاتے تھے کہ مرد تو ہیں نہیں نہ ان کی اجازت ہے۔ تو جناب باری تعالیٰ نے اس کے کھا لینے کی رخصت عطا فرمائی۔‏“

یہ جو فرمایا کہ ” خود تم پر بھی حرج نہیں “ یہ تو ظاہر ہی تھا۔ اس کا بیان اس لیے کیا گیا کہ اور چیز کا اس پر عطف ہو اور اس کے بعد کا بیان اس حکم میں برابر ہو۔ بیٹوں کے گھروں کا بھی یہی حکم ہے گو لفظوں میں بیان نہیں آیا لیکن ضمناً ہے۔ بلکہ اسی آیت کے استدلال کر کے بعض نے کہا ہے کہ بیٹے کا مال بمنزلہ باپ کے مال کے ہے۔

صفحہ نمبر5989

مسند اور سنن میں کئی سندوں سے حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے ۔ [سنن ابوداود:3530، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏

اور جن لوگوں کے نام آئے ان سے استدلال کر کے بعض نے کہا ہے کہ قرابت داروں کا نان و نفقہ بعض کا بعض پر واجب ہے جیسے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا اور امام احمد رحمہ اللہ کے مذہب کا مشہور مقولہ ہے ”جس کی کنجیاں تمہاری ملکیت میں ہیں اس سے مراد غلام اور داروغے ہیں کہ وہ اپنے آقا کے مال سے حسب ضرورت و دستور کھا پی سکتے ہیں۔‏“

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ میں جاتے تو ہر ایک کی چاہت یہی ہوتی کہ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جائیں، جاتے ہوئے اپنے خاص دوستوں کو اپنی کنجیاں دے جاتے اور ان سے کہہ دیتے کہ جس چیز کے کھانے کی تمہیں ضرورت ہو ہم تمہیں رخصت دیتے ہیں لیکن تاہم یہ لوگ اپنے آپ کو امین سمجھ کر اور اس خیال سے کہ مبادا ان لوگوں نے بادل ناخواستہ اجازت دی ہو، کسی کھانے پینے کی چیز کو نہ چھوتے اس پر یہ حکم نازل ہوا ۔

صفحہ نمبر5990

پھر فرمایا کہ ” تمہارے دوستوں کے گھروں سے بھی کھا لینے میں تم پر کوئی پکڑ نہیں جب کہ تمہیں علم ہو کہ وہ اس سے برا نہ مانے گا اور ان پر یہ شاق نہ گزرے گا “۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تو جب اپنے دوست کے ہاں جائے تو بلا اجازت اس کے کھانے کو کھا لینے کی رخصت ہے۔‏“

پھر فرمایا ” تم پر ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے میں اور جدا جدا ہو کر کھانے میں بھی کوئی گناہ نہیں “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب آیت «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ» [4-النساء:29] ‏ اتری یعنی ” ایمان والو ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ “ چنانچہ وہ اس سے بھی رک گئے اس پر یہ آیت اتری اسی طرح سے تنہاخوری سے بھی کراہت کرتے تھے جب تک کوئی ساتھی نہ ہو کھاتے نہیں تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس حکم میں دونوں باتوں کی اجازت دی یعنی دوسروں کے ساتھ کھانے کی اور تنہا کھانے کی۔‏“

قبیلہ بنو کنانہ کے لوگ خصوصیت سے اس مرض میں مبتلا تھے بھوکے ہوتے تھے لیکن جب تک ساتھ کھانے والا کوئی نہ ہو کھاتے نہ تھے سواری پر سوار ہو کر ساتھ کھانے والے کی تلاش میں نکلتے تھے پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تنہا کھانے کر رخصت نازل فرما کر جاہلیت کی اس سخت رسم کو مٹا دیا۔ اس آیت میں گو تنہا کھانے کی رخصت ہے لیکن یہ یاد رہے کہ لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا افضل ہے اور زیادہ برکت بھی اسی میں ہے۔

صفحہ نمبر5991

مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے آ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے تو ہیں لیکن آسودگی حاصل نہیں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تم الگ الگ کھاتے ہو گے؟ جمع ہو کر ایک ساتھ بیٹھ کر اللہ کا نام لے کر کھاؤ تو تمہیں برکت دی جائے گی ۔ [سنن ابوداود:3764،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مل کر کھاؤ، تنہا نہ کھاؤ، برکت مل بیٹھنے میں ہے ۔ [سنن ابن ماجه:3287،قال الشيخ الألباني:ضعیف جدا] ‏

پھر تعلیم ہوئی کہ گھروں میں سلام کر کے جایا کرو۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب تم گھر میں جاؤ تو اللہ کا سکھایا ہوا بابرکت بھلا سلام کہا کرو۔ میں نے تو آزمایا ہے کہ یہ سراسر برکت ہے۔‏“

ابن طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تم میں سے جو گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کہے۔‏“ عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا یہ واجب ہے؟ فرمایا ”مجھے تو یاد نہیں کہ اس کے وجوب کا قائل کوئی ہو لیکن ہاں مجھے تو یہ بہت ہی پسند ہے کہ جب بھی گھر میں جاؤ سلام کر کے جاؤ۔ میں تو اسے کبھی نہیں چھوڑتا ہاں یہ اور بات ہے کہ میں بھول جاؤں۔‏“

مجاہد رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں ”جب مسجد میں جاؤ تو کہو «السَّلَام عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَاد اللَّه الصَّالِحِينَ» “ یہ بھی مروی ہے کہ یوں کہو «‏بِسْمِ اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ السَّلَام عَلَيْنَا مِنْ رَبّنَا السَّلَام عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَاد اللَّه الصَّالِحِينَ» یہی حکم دیا جا رہا ہے ایسے وقتوں میں تمہارے سلام کا جواب اللہ کے فرشتے دیتے ہیں۔‏“

صفحہ نمبر5992

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ باتوں کی وصیت کی ہے فرمایا ہے اے انس! کامل وضو کرو تمہاری عمر بڑھے گی۔ جو میرا امتی ملے سلام کرو نیکیاں بڑھیں گی، گھر میں سلام کر کے جایا کرو گھر کی خیریت بڑھے گی۔ ضحٰی کی نماز پڑھتے رہو تم سے اگلے لوگ جو اللہ والے بن گئے تھے ان کا یہی طریقہ تھا۔ اے انس! چھوٹوں پر رحم کر بڑوں کی عزت و توقیر کر تو قیامت کے دن میرا ساتھی ہوگا ۔ [ابن عدی فی الکامل:382/5:ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے ” یہ دعائے خیر ہے جو اللہ کی طرف سے تمہیں تعلیم کی گئی ہے برکت والی اور عمدہ ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے تو التحیات قرآن سے ہی سیکھی ہے نماز کی التحیات یوں ہے «‏التَّحِيَّات الْمُبَارَكَات الصَّلَوَات الطَّيِّبَات لِلَّهِ أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَأَشْهَد أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْده وَرَسُوله السَّلَام عَلَيْك أَيّهَا النَّبِيّ وَرَحْمَة اللَّه وَبَرَكَاته السَّلَام عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَاد اللَّه الصَّالِحِينَ» اسے پڑھ کر نمازی کو اپنے لیے دعا کرنی چاہیئے پھر سلام پھیر دے۔‏“

انہی ابن عباس رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً صحیح مسلم شریف میں اس کے سوا بھی مروی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [صحیح مسلم:403] ‏

اس سورۃ کے احکام کا ذکر کرکے پھر فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے اپنے واضح احکام مفید فرمان کھول کھول کر اسی طرح بیان فرمایا کرتا ہے تاکہ وہ غور وفکر کریں، سوچیں سمجھیں اور عقلمندی حاصل کریں “۔

صفحہ نمبر5993

رخصت پر بھی اجازت مانگو ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک ادب اور بھی سکھاتا ہے کہ ” جیسے آتے ہوئے اجازت مانگ کر آتے ہو ایسے جانے کے وقت بھی میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگ کر جاؤ۔ خصوصاً ایسے وقت جب کہ مجمع ہو اور کسی ضروری امر پر مجلس ہوئی ہو مثلا نماز جمعہ ہے یا نماز عید ہے یا جماعت ہے یا کوئی مجلس شوری ہم تو ایسے موقعوں پر جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لو ہرگز ادھر ادھر نہ جاؤ مومن کامل کی ایک نشانی یہ بھی ہے “۔

پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ ” جب یہ اپنے کسی ضروری کام کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیا کریں اور ان کے لیے طلب بخشش کی دعائیں بھی کرتے رہیں “۔

ابوداؤد وغیرہ میں ہے جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں جائے تو اہل مجلس کو سلام کر لیا کرے اور جب وہاں سے آنا چاہے تو بھی سلام کر لیا کرے آخری دفعہ کا سلام پہلی مرتبہ کے سلام سے کچھ کم نہیں ہے ۔ [سنن ابوداود:5208،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام صاحب نے اسے حسن فرمایا ہے۔

صفحہ نمبر5994

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنے کے آداب ٭٭

لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بلاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام یا کنیت سے معمولی طور پر جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارا کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پکار لیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس گستاخی سے منع فرمایا کہ ” نام نہ لو بلکہ یا نبی اللہ یا رسول اللہ کہہ کر پکارو۔ تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور عزت وادب کا پاس رہے “۔

اسی کے مثل آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ» [2-البقرة:104] ‏ ہے اور اسی جیسی آیات «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّـهِ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [49-الحجرات:2-5] ‏ ہے یعنی ” ایمان والو! اپنی آوازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پربلند نہ کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اونچی اونچی آوازوں سے نہ بولو جیسے کہ بے تکلفی سے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو اگر ایسا کیا تو سب اعمال غارت ہو جائیں گے اور پتہ بھی نہ چلے “۔

یہاں تک کہ فرمایا ” جو لوگ تجھے حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم خود ان کے پاس آ جاتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا “۔

پس یہ سب آداب سکھائے گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کس طرح کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کس طرح کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کس طرح بولیں چالیں بلکہ پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشیاں کرنے کے لیے صدقہ کرنے کا بھی حکم تھا۔

صفحہ نمبر5995

ایک مطلب تو اس آیت کا یہ ہوا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو تم اپنی دعاؤں کی طرح سمجھو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا مقبول و مستجاب ہے۔ خبردار کبھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف نہ دینا کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے منہ سے کوئی کلمہ نکل جائے تو تہس نہس ہو جاؤ “۔

اس سے اگلے جملے کی تفسیر میں مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جمعہ کے دن خطبے میں بیٹھا رہنا منافقوں پر بہت بھاری پڑتا تھا جب کسی کو کوئی ایسی ضرورت ہوتی تو اشارے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دے دیتے اس لیے کہ خطبے کی حالت میں بولنے سے جمعہ باطل ہو جاتا ہے تو یہ منافق آڑ ہی آڑ میں نظریں بچا کر سرک جاتے تھے۔‏“

صفحہ نمبر5996

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جماعت میں جب منافق ہوتے تو ایک دوسرے کی آڑ لے کر بھاگ جاتے۔ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اللہ کی کتاب سے ہٹ جاتے، صف سے نکل جاتے، مخالفت پر آمادہ ہو جاتے۔ جو لوگ امر رسول، سنت رسول، فرمان رسول، طریقہ رسول اور شرع رسول کے خلاف کریں وہ سزا یاب ہونگے۔ انسان کو اپنے اقوال وافعال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں اور احادیث سے ملانے چاہئیں جو موافق ہوں اچھے ہیں جو موافق نہ ہوں مردود ہے۔‏“

بخاری مسلم میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے ۔ [صحیح بخاری:2697] ‏

ظاہر یا باطن میں جو بھی ہے شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کرے اس کے دل میں کفر ونفاق، بدعت وبرائی کا بیج بودیا جاتا ہے یا اسے سخت عذاب ہوتا ہے۔ یا تو دنیا میں ہی قتل قید حد وغیر جیسی سزائیں ملتی ہیں یا آخرت میں عذاب اخروی ملے گا۔

صفحہ نمبر5997

مسند احمد میں حدیث ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی جب وہ روشن ہوئی تو پتنگوں اور پروانوں کا اجتماع ہوگیا اور وہ دھڑا دھڑ اس میں گرنے لگے۔ اب یہ انہیں ہر چند روک رہا ہے لیکن وہ ہیں شوق سے اس میں گرے جاتے ہیں اور اس شخص کے روکنے سے نہیں روکتے۔ یہی حالت میری اور تمہاری ہے کہ تم آگ میں گرنا چاہتے ہو اور میں تمہیں اپنی بانہوں میں لپیٹ لپیٹ کر اس سے روک رہا ہوں کہ آگ میں نہ گھسو، آگ سے بچو لیکن تم میری نہیں مانتے اور اس آگ میں گھسے چلے جا رہے ہو ۔ [صحیح بخاری:6483] ‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔

صفحہ نمبر5998

ہر ایک اس کے علم میں ہے ٭٭

مالک زمین و آسمان عالم غیب و حاضر بندوں کے چھپے کھلے اعمال کا جاننے والا ہی ہے۔ «قَدْ يَعْلَمُ» میں «قَدْ» تحقیق کے لیے ہے جیسے اس سے پہلے کی آیت «قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّـلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا» [24-النور:63] ‏ میں۔

اور جیسے آیت «قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِيْنَ مِنْكُمْ وَالْقَاىِٕلِيْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَيْنَا وَلَا يَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِيْلًا» [33-الأحزاب:18] ‏ میں۔ اور جیسے آیت «قَدْ سَمِعَ اللَّـهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّـهِ وَاللَّـهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ» [58-المجادلة:1] ‏ میں اور جیسے آیت «قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِيْ يَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ» [6-الأنعام:33] ‏ میں اور جیسے «قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا» [2-البقرة:144] ‏ میں۔

اور جیسے مؤذن کہتا ہے «قَدْ قَامَتِ الصَّلوةُ» تو فرماتا ہے کہ «الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» [26-الشعراء:217-220] ‏ ” جس حال پر تم جن اعمال وعقائد کے تم ہو اللہ پر خوب روشن ہے۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ بھی اللہ پر پوشیدہ نہیں۔ جو عمل تم کرو جو حالت تمہاری ہو اس اللہ پر عیاں ہے۔ کوئی ذرہ اس سے چھپا ہوا نہیں “۔

«وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِن قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» [10-يونس:61] ‏ ” ہر چھوٹی بڑی چیز کتاب مبین میں محفوظ ہے “۔

«أَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ» [11-هود:5] ‏ ” بندوں کے تمام خیر و شر کا وہ عالم ہے کپڑوں میں ڈھک جاؤ چھپ لک کر کچھ کرو ہر پوشیدہ اور ہر ظاہر اس پر یکساں ہے “۔

«سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» [13-الرعد:10] ‏ ” سرگوشیاں اور بلند آواز کی باتیں اس کے کانوں میں ہیں تمام جانداروں کا روزی رساں وہی ہے ہر ایک جاندار کے ہر حال کو جاننے والا وہی ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں پہلے سے درج ہے “۔

«وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» [6-الأنعام:59] ‏ ” غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جہنیں اس کے سوا کوئی اور نہیں جانتا۔ خشکی تری کی ہر ہرچیز کو وہ جانتا ہے “۔

«وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» [11-هود:6] ‏ ” کسی پتے کا جھڑنا اس کے علم سے باہر نہیں زمین کی اندھیریوں کے اندر کا دانہ اور کوئی تر وخشک چیز ایسی نہیں جو کتاب مبین میں نہ ہو “۔ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں اور حدیثیں ہیں۔

صفحہ نمبر5999

«يُنَبَّأُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» [75-القيامة:13] ‏ ” جب مخلوق اللہ کی طرف لوٹائی جائے گی “۔ «وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَـٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» [18-الكهف:49] ‏ ” اس وقت ان کے سامنے ان کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی اور بدی پیش کر دی جائے گی۔ تمام اگلے پچھلے اعمال دیکھ لے گا۔ اعمال نامہ کو ڈرتا ہوا دیکھے گا اور اپنی پوری سوانح عمری اس میں پاکر حیرت زدہ ہو کر کہے گا کہ یہ کیسی کتاب ہے جس نے بڑی تو بڑی کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی نہیں چھوڑی جو جس نے کیا تھا وہ وہاں پائے گا۔ تیرے رب کی ذات ظلم سے پاک ہے “۔

آخر میں فرمایا ” اللہ بڑا ہی دانا ہے ہرچیز اس کے علم میں ہے “۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ النور کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر6000

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com