Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah An-Noor
Tafsir Ibn Kathir · The Light · 64 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
مومنہ عورتوں کو تاکید ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ مومنہ عورتوں کو چند حکم دیتا ہے تاکہ ان کے باغیرت مردوں کو تسکین ہو اور جاہلیت کی بری رسمیں نکل جائیں۔ مروی ہے کہ اسماء بنت مرثد رضی اللہ عنہا کا مکان بنوحارثہ کے محلے میں تھا، ان کے پاس عورتیں آتی تھیں اور دستور کے مطابق اپنے پیروں کے زیور، سینے اور بال کھولے آیا کرتی تھیں۔ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یہ کیسی بری بات ہے؟ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
پس حکم ہوتا ہے کہ ” مسلمان عورتوں کو بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھنی چاہئیں۔ سوا اپنے خاوند کے کسی کو بہ نظر شہوت نہ دیکھنا چاہیئے “۔ اجنبی مردوں کی طرف تو دیکھنا ہی حرام ہے خواہ شہوت سے ہو خواہ بغیر شہوت کے۔
ابوداؤد اور ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیٹھی تھیں کہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، یہ واقعہ پردے کی آیتیں اترنے کے بعد کا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پردہ کرلو ۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! وہ تو نابینا ہیں، نہ ہمیں دیکھیں گے، نہ پہچانیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تو نابینا نہیں ہو کہ اس کو نہ دیکھو؟ ۔ [سنن ابوداود:4112،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ہاں بعض علماء نے بے شہوت نظر کرنا حرام نہیں کہا۔ ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ عید والے دن حبشی لوگوں نے مسجد میں ہتھیاروں کے کرتب شروع کئے اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا آپ رضی اللہ عنہا دیکھ ہی رہی تھیں یہاں تک کہ جی بھر گیا اور تھک کر چلی گئیں ۔ [صحیح بخاری:455]
عورتوں کو بھی اپنی عصمت کا بچاؤ چاہیئے، بدکاری سے دور رہیں، اپنا آپ کسی کو نا دکھائیں۔ اجنبی غیر مردوں کے سامنے اپنی زینت کی کسی چیز کو ظاہر نہ کریں ہاں جس کاچھپانا ممکن ہی نہ ہو، اس کی اور بات ہے جیسے چادر اور اوپر کا کپڑا وغیرہ جنکا پوشیدہ رکھنا عورتوں کے لیے ناممکنات سے ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد چہرہ، پہنچوں تک کے ہاتھ اور انگوٹھی ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ یہی زینت کے وہ محل ہیں، جن کے ظاہر کرنے سے شریعت نے ممانعت کر دی ہے۔
صفحہ نمبر5912
جب کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں یعنی بالیاں ہار پاؤں کا زیور وغیرہ۔“ فرماتے ہیں ”زینت دو طرح کی ہے ایک تو وہ جسے خاوند ہی دیکھے جیسے انگوٹھی اور کنگن اور دوسری زینت وہ جسے غیر بھی دیکھیں جیسے اوپر کا کپڑا۔“
زہری رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اسی آیت میں جن رشتہ داروں کا ذکر ہے ان کے سامنے تو کنگن دوپٹہ بالیاں کھل جائیں تو حرج نہیں لیکن اور لوگوں کے سامنے صرف انگوٹھیاں ظاہر ہو جائیں تو پکڑ نہیں“، اور روایت میں انگوٹھیوں کے ساتھ ہی پیر کے خلخال کا بھی ذکر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ «مَا ظَهَرَ مِنْهَا» کی تفیسر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے منہ اور پہنچوں سے کی ہو۔
جیسے ابوداؤد میں ہے کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں کپڑے باریک پہنے ہوئے تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا اور فرمایا: جب عورت بلوغت کو پہنچ جائے تو سوا اس کے اور اس کے یعنی چہرہ کے اور پہنچوں کے اس کا کوئی عضو دکھانا ٹھیک نہیں ۔ [سنن ابوداود:4104،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن یہ مرسل ہے۔ خالد بن دریک رحمۃاللہ علیہ اسے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں اور ان کا ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے ملاقات کرنا ثابت نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر5913
عورتوں کو چاہیئے کہ اپنے دوپٹوں سے یا اور کپڑے سے بکل مار لیں تاکہ سینہ اور گلے کا زیور چھپا رہے۔ جاہلیت میں اس کا بھی رواج نہ تھا۔ عورتیں اپنے سینوں پر کچھ نہیں ڈالتیں تھیں بسا اوقات گردن اور بال چوٹی بالیاں وغیرہ صاف نظر آتی تھیں۔
ایک اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا» [33-الأحزاب:59] ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے، اپنی بیٹیوں سے اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئیے کہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکا لیا کریں تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں “۔
«خُمُرُ» «خِمَارٍ» کی جمع ہے «خِمَارٍ» کہتے ہیں ہر اس چیز کو جو ڈھانپ لے۔ چونکہ دوپٹہ سر کو ڈھانپ لیتا ہے اس لیے اسے بھی «خِمَارٍ» کہتے ہیں۔ پس عورتوں کو چاہے کہ اپنی اوڑھنی سے یا کسی اور کپڑے سے اپنا گلا اور سینہ بھی چھپائے رکھیں۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اللہ تعالیٰ ان عورتوں پر رحم فرمائے جنہوں نے شروع شروع ہجرت کی تھی کہ جب یہ آیت اتری انہوں نے اپنی چادروں کو پھاڑ کر دوپٹے بنائے۔ بعض نے اپنے تہمد کے کنارے کاٹ کر ان سے سر ڈھک لیا۔“ [صحیح بخاری:4858]
ایک مرتبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس عورتوں نے قریش عورتوں کی فضیلت بیان کرنی شروع کی تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”ان کی فضیلت کی قائل میں بھی ہوں لیکن واللہ میں نے انصار کی عورتوں سے افضل عورتیں نہیں دیکھیں، ان کے دلوں میں جو کتاب اللہ کی تصدیق اور اس پر کامل ایمان ہے، وہ بیشک قابل قدر ہے۔“
صفحہ نمبر5914
سورۃ النور کی آیت «وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ» [24-النور:31] إلخ، جب نازل ہوئی اور ان کے مردوں نے گھر میں جا کر یہ آیت انہیں سنائی، اسی وقت ان عورتوں نے اس پر عمل کر لیا اور صبح کی نماز میں وہ آئیں تو سب کے سروں پر دوپٹے موجود تھے۔ گویا ڈول رکھے ہوئے ہیں۔
اس کے بعد ان مردوں کا بیان فرمایا جن کے سامنے عورت ہوسکتی ہے اور بغیر بناؤ سنگھار کے ان کے سامنے شرم وحیاء کے ساتھ آ جا سکتی ہے گو بعض ظاہری زینت کی چیزوں پر بھی ان کی نظر پڑ جائے۔ سوائے خاوند کے کہ اس کے سامنے تو عورت اپنا پورا سنگھار زیب زینت کرے۔ گو چچا اور ماموں بھی ذی محرم ہیں لیکن ان کا نام یہاں اس لیے نہیں لیا گیا کہ ممکن ہے وہ اپنے بیٹوں کے سامنے ان کے محاسن بیان کریں۔ اس لیے ان کے سامنے بغیر دوپٹے کے نہ آنا چاہیئے۔ پھر فرمایا تمہاری عورتیں یعنی مسلمان عورتوں کے سامنے بھی اس زینت کے اظہار میں کوئی حرج نہیں۔ اہل ذمہ کی عورتوں کے سامنے اس لیے رخصت نہیں دی گئی کہ بہت ممکن ہے وہ اپنے مردوں میں ان کی خوبصورتی اور زینت کا ذکر کریں۔ گو مومن عورتوں سے بھی یہ خوف ہے مگر شریعت نے چونکہ اسے حرام قرار دیا ہے اس لیے مسلمان عورتیں تو ایسا نہ کریں گی لیکن ذمی کافروں کی عورتوں کو اس سے کون سی چیز روک سکتی ہے؟ بخاری مسلم میں ہے کہ کسی عورت کو جائز نہیں کہ دوسری عورت سے مل کر اس کے اوصاف اپنے خاوند کے سامنے اس طرح بیان کرے کہ گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:5240]
صفحہ نمبر5915
امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض مسلمان عورتیں حمام میں جاتی ہیں، ان کے ساتھ مشرکہ عورتیں بھی ہوتی ہیں۔ سنو کسی مسلمان عورت کو حلال نہیں کہ وہ اپنا جسم کسی غیر مسلمہ عورت کو دکھائے۔“
مجاہد رحمہ اللہ بھی آیت «أَوْ نِسَائِهِنَّ» [سورۃ النور:31] کی تفسیر میں فرماتے ہیں ”مراد اس سے مسلمان عورتیں ہیں تو ان کے سامنے وہ زینت ظاہر کر سکتی ہے جو اپنے ذی محرم رشتے داروں کے سامنے ظاہر کر سکتی ہے۔ یعنی گلا بالیاں اور ہار۔ پس مسلمان عورت کو ننگے سر کسی مشرکہ عورت کے سامنے ہونا جائز نہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ جب صحابہ بیت المقدس پہنچے تو ان کی بیویوں کے لیے دایہ یہودیہ اور نصرانیہ عورتیں ہی تھیں۔ پس اگر یہ ثابت ہو جائے تو محمول ہو گا ضرورت پر یا ان عورتوں کی ذلت پر۔ پھر اس میں غیر ضروری جسم کا کھلنا بھی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ہاں مشرکہ عورتوں میں جو لونڈیاں باندیاں ہوں وہ اس حکم سے خارج ہیں۔ بعض کہتے ہیں غلاموں کا بھی یہی حکم ہے۔
صفحہ نمبر5916
ابوداؤد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس انہیں دینے کے لیے ایک غلام لے کر آئے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اسے دیکھ کر اپنے آپ کو اپنے دوپٹے میں چھپانے لگیں۔ لیکن چونکہ کپڑا چھوٹا تھا، سر ڈھانپتی تھیں تو پیر کھل جاتے تھے اور پیر ڈھانپتی تھیں تو سرکھل جاتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا: بیٹی کیوں تکلیف کرتی ہو میں تو تمہارا والد ہوں اور یہ تمہارا غلام ہے ۔ [سنن ابوداود:4106،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن عساکر کی روایت میں ہے کہ اس غلام کا نام عبداللہ بن مسعدہ تھا۔ یہ فزاری تھے۔ سخت سیاہ فام۔ سیدہ فاطمۃالزھرا رضی اللہ عنہا نے انہیں پرورش کرکے آزاد کر دیا تھا۔ صفین کی جنگ میں یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بہت مخالف تھے۔
صفحہ نمبر5917
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: تم میں سے جس کسی کا مکاتب غلام ہو جس سے یہ شرط ہوگئی ہو کہ اتنا روپیہ دیدے تو تو آزاد، پھر اس کے پاس اتنی رقم بھی جمع ہوگئی ہو تو چاہیئے کہ اس سے پردہ کرے ۔ [سنن ابوداود:3928،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر بیان فرمایا کہ نوکر چاکر کام کاج کرنے والے ان مردوں کے سامنے جو مردانگی نہیں رکھتے عورتوں کی خواہش جنہیں نہیں۔ اس مطلب کے ہی وہ نہیں، ان کا حکم بھی ذی محرم مردوں کا ہے یعنی ان کے سامنے بھی اپنی زینت کے اظہار میں مضائقہ نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سست ہو گئے ہیں عورتوں کے کام کے ہی نہیں۔ لیکن وہ مخنث اور ہیجڑے جو بدزبان اور برائی کے پھیلانے والے ہوتے ہیں ان کا یہ حکم نہیں۔ جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ میں ہے کہ ایک ایسا ہی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آیا تھا چونکہ اسے اسی آیت کے ماتحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے سمجھا اسے منع نہ کیا تھا۔ اتفاق سے اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے، اس وقت وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بھائی عبداللہ سے کہہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ جب طائف کو فتح کرائے گا تو میں تجھے غیلان کی لڑائی دکھاؤں گا کہ آتے ہوئے اس کے پیٹ پر چار شکنیں پڑتی ہیں اور واپس جاتے ہوئے آٹھ نظر آتی ہیں۔ اسے سنتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار ایسے لوگوں کو ہرگز نہ آنے دیا کرو۔ اس سے پردہ کر لو ۔ [صحیح بخاری:4324] چنانچہ اسے مدینے سے نکال دیا گیا۔ بیداء میں یہ رہنے لگا وہاں سے جمعہ کے روز آ جاتا اور لوگوں سے کھانے پینے کو کچھ لے جاتا۔ [سنن ابوداود:4107،قال الشيخ الألباني:صحیح]
چھوٹے بچوں کے سامنے ہونے کی اجازت ہے جو اب تک عورتوں کے مخصوص اوصاف سے واقف نہ ہوں۔ عورتوں پر ان کی للچائی ہوئی نظریں نہ پڑتی ہوں۔ ہاں جب وہ اس عمر کو پہنچ جائیں کہ ان میں تمیز آ جائے۔ عورتوں کی خوبیاں ان کی نگاہوں میں جچنے لگیں، خوبصورت بدصورت کا فرق معلوم کر لیں۔ پھر ان سے بھی پردہ ہے گو وہ پورے جوان نہ بھی ہوئے ہوں۔
صفحہ نمبر5918
بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! عورتوں کے پاس جانے سے بچو پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ دیور جیٹھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو موت ہے ۔ [صحیح بخاری:5232]
پھر فرمایا کہ ” عورتیں اپنے پیروں کو زمین پر زور زور سے مار مار کر نہ چلیں “ جاہلیت میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ وہ زور سے پاؤں زمین پر رکھ کر چلتی تھیں تاکہ پیر کا زیور بجے۔ اسلام نے اس سے منع فرما دیا۔ پس عورت کو ہر ایک ایسی حرکت منع ہے جس سے اس کا کوئی چھپا ہوا سنگھار کھل سکے۔ پس اسے گھر سے عطر اور خوشبو لگا کر باہر نکلنا بھی ممنوع ہے۔
ترمذی میں ہے کہ ہر آنکھ زانیہ ہے ۔ [سنن ترمذي:2786،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک عورت خوشبو سے مہکتی ہوئی ملی۔ آپ نے اس سے پوچھا کیا تو مسجد سے آ رہی ہے؟ اس نے کہا ہاں فرمایا کیا تم نے خوشبو لگائی ہے؟ اس نے کہا ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں نے اپنے حبیب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو عورت اس مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے، اس کی نماز نا مقبول ہے جب کہ وہ لوٹ کر جنابت کی طرح غسل نہ کر لے ۔ [سنن ابوداود:4174،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
ترمذی میں ہے کہ اپنی زینت کو غیر جگہ ظاہر کرنے والی عورت کی مثال قیامت کے اس اندھیرے جیسی ہے جس میں نور نہ ہو ۔ [سنن ترمذي:1167،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ابوداؤد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں عورتوں کو راستے میں ملے جلے چلتے ہوئے دیکھ کر فرمایا: عورتو! تم ادھر ادھر ہو جاؤ، تمہیں بیچ راہ میں نہ چلنا چاہیئے ۔ یہ سن کر عورتیں دیوار سے لگ کر چلنے لگیں یہاں تک کہ ان کے کپڑے دیواروں سے رگڑتے تھے ۔ [سنن ابوداود:5272،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر فرماتا ہے کہ ” اے مومنو! میری بات پر عمل کرو، ان نیک صفتوں کو لے لو، جاہلیت کی بدخصلتوں سے رک جاؤ۔ پوری فلاح اور نجات اور کامیابی اسی کے لیے ہے جو اللہ کا فرمانبردار ہو، اس کے منع کردہ کاموں سے رک جاتا ہو، اللہ ہی سے ہم مدد چاہتے ہیں “۔
صفحہ نمبر5919
نکاح اور شرم و حیا کی تعلیم ٭٭
اس میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام بیان فرما دئیے ہیں اولاً نکاح کا۔ علماء کی جماعت کا خیال ہے کہ جو شخص نکاح کی قدرت رکھتا ہو اس پر نکاح کرنا واجب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اے نوجوانو! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہو، اسے نکاح کر لینا چاہیئے۔ نکاح نظر کو نیچی رکھنے والا شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے طاقت نہ ہو وہ لازمی طور پر روزے رکھے، یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے ۔ [صحیح بخاری:1905]
سنن میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں زیادہ اولاد جن سے ہونے کی امید ہو ان سے نکاح کرو تاکہ نسل بڑھے میں تمہارے ساتھ اور امتوں میں فخر کرنے والا ہوں ۔ ایک روایت میں ہے یہاں تک کہ کچے گرے ہوئے بچے کی گنتی کے ساتھ بھی ۔ [سنن ابوداود:2050، قال الشيخ الألباني:صحیح]
«أَيَامَى» جمع ہے «أَيِّمٍ» کی۔ جوہری رحمہ اللہ کہتے ہیں اہل لغت کے نزدیک بے بیوی کا مرد اور بے خاوند کی عورت کو «أَيِّمٍ» کہتے ہیں، خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ہو۔
پھر مزید رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” اگر وہ مسکین بھی ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل و کرم سے مالدار بنا دے گا۔ خواہ وہ آزاد ہوں خواہ غلام ہوں “۔
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”تم نکاح کے بارے میں اللہ کا حکم مانو، وہ تم سے اپناوعدہ پورا کرے گا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”امیری کو نکاح میں طلب کرو۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تین قسم کے لوگوں کی مدد کا اللہ کے ذمے حق ہے۔ نکاح کرنے والا جو حرام کاری سے بچنے کی نیت سے نکاح کرے۔ وہ لکھت لکھ دینے والا غلام جس کا ارادہ ادائیگی کا ہو، وہ غازی جو اللہ کی راہ میں نکلا ہو ۔ [سنن ترمذي:1655،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5920
اسی کی تایئد میں وہ روایت ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا نکاح ایک عورت سے کرا دیا، جس کے پاس سوائے تہبند کے اور کچھ نہ تھا یہاں تک کہ لوہے کی انگوٹھی بھی اس کے پاس سے نہیں نکلی تھی اس فقیری اور مفلسی کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح کر دیا اور مہر یہ ٹھہرایا کہ جو قرآن اسے یاد ہے، اپنی بیوی کو یاد کرا دے ۔ [صحیح بخاری:5057] یہ اسی بنا پر کہ نظریں اللہ کے فضل و کرم پر تھیں کہ وہ مالک انہیں وسعت دے گا اور اتنی روزی پہنچائے گا کہ اسے اور اس کی بیوی کو کفالت ہو۔
ایک حدیث اکثر لوگ وارد کیا کرتے ہیں کہ فقیری میں بھی نکاح کیا کرو اللہ تمہیں غنی کر دے گا میری نگاہ سے تو یہ حدیث نہیں گزری۔ نہ کسی قوی سند سے نہ ضعیف سند سے۔ اور نہ ہمیں ایسی لاپتہ روایت کے اس مضمون میں کوئی ضرورت ہے کیونکہ قرآن کی اس آیت اور ان احادیث میں یہ چیز موجود ہے، «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
پھر حکم دیا کہ ” جنہیں نکاح کا مقدور نہیں وہ حرام کاری سے بچیں “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اے جوان لوگو! تم میں سے جو نکاح کی وسعت رکھتے ہوں، وہ نکاح کر لیں یہ نگاہ نیچی کرنے والا، شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے اس کی طاقت نہ ہو وہ اپنے ذمے روزوں کا رکھنا ضروری کر لے یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے ۔
یہ آیت مطلق ہے اور سورۃ نساء کی آیت اس سے خاص ہے یعنی یہ فرمان آیت «وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ» [4-النساء:25] پس لونڈیوں سے نکاح کرنے سے صبر کرنا بہتر ہے۔ اس لیے کہ اس صورت میں اولاد پر غلامی کا حرف آتا ہے۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو مرد کسی عورت کو دیکھے اور اس کے دل میں خواہش پیدا ہو اسے چاہیئے کہ اگر اس کی بیوی موجود ہو تو اس کے پاس چلا جائے ورنہ اللہ کی مخلوق میں نظریں ڈالے اور صبر کرے یہاں تک کہ اللہ اسے غنی کر دے۔“
صفحہ نمبر5921
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرماتا ہے جو غلاموں کے مالک ہیں کہ ” اگر ان کے غلام ان سے اپنی آزادگی کی بابت کوئی تحریر کرنی چاہیں تو وہ انکار نہ کریں، غلام اپنی کمائی سے وہ مال جمع کر کے اپنے آقا کو دیدے گا اور آزاد ہو جائے گا “۔
اکثر علماء فرماتے ہیں یہ حکم ضروری نہیں فرض و واجب نہیں بلکہ بطور استحباب کے اور خیر خواہی کے ہے۔ آقا کو اختیار ہے کہ غلام جب کوئی ہنر جانتا ہو اور وہ کہے کہ مجھ سے اسی قدر روپیہ لے لو اور مجھے آزاد کر دو تو اسے اختیار ہے خواہ اس قسم کا غلام اس سے اپنی آزادگی کی بابت تحریر چاہے وہ اس کی بات کو قبول کر لے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں، انس رضی اللہ عنہ کا غلام سیرین نے جو مالدار تھا ان سے درخواست کی کہ مجھ سے میری آزادی کی کتابت کرلو۔ انس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، دربار فاروقی رضی اللہ عنہ میں مقدمہ گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور ان کے نہ ماننے پر کوڑے لگوائے اور یہی آیت تلاوت فرمائی یہاں تک کہ انہوں نے تحریر لکھوا دی۔ [ بخاری ]
صفحہ نمبر5922
عطاء رحمہ اللہ سے دونوں قول مروی ہیں۔ امام شافعی رحمۃاللہ علیہ کا قول یہی تھا لیکن نیا قول یہ ہے کہ واجب نہیں۔ کیونکہ حدیث میں ہے مسلمان کا مال بغیر اس کی دلی خوشی کے حلال نہیں ۔ [مسند احمد:72/5:ضعیف]
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ واجب نہیں۔ میں نے نہیں سنا کہ کسی امام نے کسی آقا کو مجبور کیا ہو کہ وہ اپنے غلام کی آزادگی کی تحریر کر دے، اللہ کا یہ حکم بطور اجازت کے ہے نہ کہ بطور وجوب کے۔ یہی قول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک مختار قول وجوب کا ہے۔ خیر سے مراد امانت داری، سچائی، مال اور مال کے حاصل کرنے پر قدرت وغیرہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر تم اپنے غلاموں میں جو تم سے مکاتب کرنا چاہیں، مال کے کمانے کی صلاحیت دیکھو تو ان کی اس خواہش کو پوری کرو ورنہ نہیں کیونکہ اس صورت میں وہ لوگوں پر اپنا بوجھ ڈالیں گے ۔ [المراسیل لابی داود:162:مرسل و ضعیف] یعنی ان سے سوال کریں گے اور رقم پوری کرنا چاہیں گے۔
اس کے بعد فرمایا ہے کہ ” انہیں اپنے مال میں سے کچھ دو “۔ یعنی جو رقم ٹھہر چکی ہے، اس میں سے کچھ معاف کر دو، چوتھائی یا تہائی یا آدھا یا کچھ حصہ۔
صفحہ نمبر5923
یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ مال زکوٰۃ سے ان کی مدد کرو آقا بھی اور دوسرے مسلمان بھی اسے مال زکوٰۃ دیں تاکہ وہ مقرر رقم پوری کر کے آزاد ہو جائے۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جن تین قسم کے لوگوں کی مدد اللہ پر برحق ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے لیکن پہلا قول زیادہ مشہور ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام ابوامیہ نے مکاتبہ کیا تھا جب وہ اپنی رقم کی پہلی قسط لے کر آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جاؤ اپنی اس رقم میں دوسروں سے بھی مدد طلب کرو اس نے جواب دیا کہ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ آخری قسط تک تو مجھے ہی محنت کرنے دیجئیے۔ فرمایا نہیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ کے اس فرمان کو ہم چھوڑ نہ بیٹھیں کہ انہیں اللہ کا وہ مال دو جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے۔ پس یہ پہلی قسطیں تھیں جو اسلام میں ادا کی گئیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ شروع شروع میں آپ رضی اللہ عنہ نہ کچھ دیتے تھے نہ معاف فرماتے تھے کیونکہ خیال ہوتا تھا کہ ایسا نہ ہو آخر میں یہ رقم پوری نہ کرسکے تو میرا دیا ہوا مجھے ہی واپس آ جائے۔ ہاں آخری قسطیں ہوتیں تو جو چاہتے اپنی طرف سے معاف کر دیتے۔ ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ چوتھائی چھوڑ دو ۔ [مستدرک حاکم:397/2:موقوف] لیکن صحیح یہی ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔
صفحہ نمبر5924
پھر فرماتا ہے کہ ” اپنی لونڈیوں سے زبردستی بدکاریاں نہ کراؤ “۔ جاہلیت کے بدترین طریقوں میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ اپنی لونڈیوں کو مجبور کرتے تھے کہ وہ زناکاری کرائیں اور وہ رقم اپنے مالکوں کو دیں۔ اسلام نے آ کر اس بد رسم کو توڑا۔ منقول ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کے بارے میں اتری ہے، وہ ایسا ہی کرتا تھا تاکہ روپیہ بھی ملے اور لونڈی زادوں سے شان ریاست بھی بڑھے۔ اس کی لونڈی کا نام معاذہ تھا۔ اور روایت میں ہے اس کا نام مسیکہ تھا۔ اور یہ بدکاری سے انکار کرتی تھی۔ جاہلیت میں تو یہ کام چلتا رہا یہاں تک اسے ناجائز اولاد بھی ہوئی لیکن اسلام لانے کے بعد اس نے انکار کر دیا، اس پر اس منافق نے اسے زدوکوب کیا، پس یہ آیت اتری۔
مروی ہے کہ بدر کا ایک قریشی قیدی عبداللہ بن ابی کے پاس تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کی لونڈی سے ملے، لونڈی بوجہ اسلام کے حرام کاری سے بچتی تھی۔ عبداللہ کی خواہش تھی کہ یہ اس قریشی سے ملے، اس لیے اسے مجبور کرتا تھا اور مارتا پیٹتا تھا، پس یہ آیت اتری۔
صفحہ نمبر5925
اور روایت میں ہے کہ یہ سردار منافقین اپنی اس لونڈی کو اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے بھیج دیا کرتا تھا۔ اسلام کے بعد اس لونڈی سے جب یہ ارادہ کیا گیا تو اس نے انکار کر دیا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اپنی یہ مصیبت بیان کی۔ صدیق رضی اللہ عنہ نے دربار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ بات پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس لونڈی کو اس کے ہاں نہ بھیجو۔ اس نے لوگوں میں غل مچانا شروع کیا کہ دیکھو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری لونڈیوں کو چھین لیتا ہے اس پر یہ آسمانی حکم اترا۔
ایک روایت میں ہے کہ مسیکہ اور معاذ دو لونڈیاں دو شخصوں کی تھیں، جو ان سے بدکاری کراتے تھے۔ اسلام کے بعد مسیکہ اور اس کی ماں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، اس پر یہ آیت اتری۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ ” اگر وہ لونڈیاں پاک دامنی کا ارادہ کریں “ اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ اگر ان کا ارادہ یہ نہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں کیونکہ اس وقت واقعہ یہی تھا اس لیے یوں فرمایا گیا۔ پس اکثریت اور غلبہ کے طور پر یہ فرمایا گیا ہے کوئی قید اور شرط نہیں ہے۔ اس سے غرض ان کی یہ تھی کہ مال حاصل ہو، اولادیں ہوں جو لونڈیاں غلام بنیں۔
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے کی اجرت، بدکاری کی اجرت، کاہن کی اجرت سے منع فرما دیا ۔ [صحیح مسلم:1568] ایک اور روایت میں ہے زنا کی خرچی اور پچھنے لگانے والی کی قیمت اور کتے کی قیمت خبیث ہے ۔ [صحیح مسلم:1568]
صفحہ نمبر5926
پھر فرماتا ہے ” جو شخص ان لونڈیوں پر جبر کرے تو انہیں تو اللہ بوجہ ان کی مجبوری بخش دے گا اور ان مالکوں کو جنہوں نے ان پر دباؤ زور زبردستی ڈالی تھی انہیں پکڑ لے گا، اس صورت میں یہی گنہگار رہیں گے “۔ بلکہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «رَحِيمٌ» کے بعد «وَإِثْمُهُنَّ عَلَى مَنْ أَكْرَهَهُنَّ» ہے۔ یعنی ” اس حالت میں جبر اور زبردستی کرنے والوں پر گناہ ہے “۔
مرفوع حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطا سے، بھول سے اور جن کاموں پر وہ مجبور کر دئیے جائیں، ان پر زبردستی کی جائے ان سے درگزر فرما لیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:2043،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ان احکام کو تفصیل وار بیان کرنے کے بعد بیان ہوتا ہے کہ ” ہم نے اپنے کلام قرآن کریم کی یہ روشن و واضح آیات تمہارے سامنے بیان فرما دیں۔ اگلے لوگوں کے واقعات بھی تمہارے سامنے آچکے کہ ان کی مخالفت حق کا انجام کیا اور کیسا ہوا؟ وہ ایک افسانہ بنا دئے گئے اور آنے والوں کے لیے عبرتناک واقعہ بنا دیئے گئے کہ متقی ان سے عبرت حاصل کریں اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچیں “۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے، ”قرآن میں تمہارے اختلاف کے فیصلے موجود ہیں، تم سے پہلے زمانہ کے لوگوں کی خبریں موجود ہیں، بعد میں ہونے والے امور کے احوال کا بیان ہے۔ یہ مفصل ہے بکواس نہیں اسے جو بھی بے پرواہی سے چھوڑے گا، اسے اللہ برباد کر دے گا اور جو اس کے سوا دوسری کتاب میں ہدایت تلاش کرے گا اسے اللہ گمراہ کر دے گا۔“ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5927
نکاح اور شرم و حیا کی تعلیم ٭٭
اس میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام بیان فرما دئیے ہیں اولاً نکاح کا۔ علماء کی جماعت کا خیال ہے کہ جو شخص نکاح کی قدرت رکھتا ہو اس پر نکاح کرنا واجب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اے نوجوانو! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہو، اسے نکاح کر لینا چاہیئے۔ نکاح نظر کو نیچی رکھنے والا شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے طاقت نہ ہو وہ لازمی طور پر روزے رکھے، یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے ۔ [صحیح بخاری:1905]
سنن میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں زیادہ اولاد جن سے ہونے کی امید ہو ان سے نکاح کرو تاکہ نسل بڑھے میں تمہارے ساتھ اور امتوں میں فخر کرنے والا ہوں ۔ ایک روایت میں ہے یہاں تک کہ کچے گرے ہوئے بچے کی گنتی کے ساتھ بھی ۔ [سنن ابوداود:2050، قال الشيخ الألباني:صحیح]
«أَيَامَى» جمع ہے «أَيِّمٍ» کی۔ جوہری رحمہ اللہ کہتے ہیں اہل لغت کے نزدیک بے بیوی کا مرد اور بے خاوند کی عورت کو «أَيِّمٍ» کہتے ہیں، خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ہو۔
پھر مزید رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” اگر وہ مسکین بھی ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل و کرم سے مالدار بنا دے گا۔ خواہ وہ آزاد ہوں خواہ غلام ہوں “۔
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”تم نکاح کے بارے میں اللہ کا حکم مانو، وہ تم سے اپناوعدہ پورا کرے گا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”امیری کو نکاح میں طلب کرو۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تین قسم کے لوگوں کی مدد کا اللہ کے ذمے حق ہے۔ نکاح کرنے والا جو حرام کاری سے بچنے کی نیت سے نکاح کرے۔ وہ لکھت لکھ دینے والا غلام جس کا ارادہ ادائیگی کا ہو، وہ غازی جو اللہ کی راہ میں نکلا ہو ۔ [سنن ترمذي:1655،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5920
اسی کی تایئد میں وہ روایت ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا نکاح ایک عورت سے کرا دیا، جس کے پاس سوائے تہبند کے اور کچھ نہ تھا یہاں تک کہ لوہے کی انگوٹھی بھی اس کے پاس سے نہیں نکلی تھی اس فقیری اور مفلسی کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح کر دیا اور مہر یہ ٹھہرایا کہ جو قرآن اسے یاد ہے، اپنی بیوی کو یاد کرا دے ۔ [صحیح بخاری:5057] یہ اسی بنا پر کہ نظریں اللہ کے فضل و کرم پر تھیں کہ وہ مالک انہیں وسعت دے گا اور اتنی روزی پہنچائے گا کہ اسے اور اس کی بیوی کو کفالت ہو۔
ایک حدیث اکثر لوگ وارد کیا کرتے ہیں کہ فقیری میں بھی نکاح کیا کرو اللہ تمہیں غنی کر دے گا میری نگاہ سے تو یہ حدیث نہیں گزری۔ نہ کسی قوی سند سے نہ ضعیف سند سے۔ اور نہ ہمیں ایسی لاپتہ روایت کے اس مضمون میں کوئی ضرورت ہے کیونکہ قرآن کی اس آیت اور ان احادیث میں یہ چیز موجود ہے، «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
پھر حکم دیا کہ ” جنہیں نکاح کا مقدور نہیں وہ حرام کاری سے بچیں “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اے جوان لوگو! تم میں سے جو نکاح کی وسعت رکھتے ہوں، وہ نکاح کر لیں یہ نگاہ نیچی کرنے والا، شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے اس کی طاقت نہ ہو وہ اپنے ذمے روزوں کا رکھنا ضروری کر لے یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے ۔
یہ آیت مطلق ہے اور سورۃ نساء کی آیت اس سے خاص ہے یعنی یہ فرمان آیت «وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ» [4-النساء:25] پس لونڈیوں سے نکاح کرنے سے صبر کرنا بہتر ہے۔ اس لیے کہ اس صورت میں اولاد پر غلامی کا حرف آتا ہے۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو مرد کسی عورت کو دیکھے اور اس کے دل میں خواہش پیدا ہو اسے چاہیئے کہ اگر اس کی بیوی موجود ہو تو اس کے پاس چلا جائے ورنہ اللہ کی مخلوق میں نظریں ڈالے اور صبر کرے یہاں تک کہ اللہ اسے غنی کر دے۔“
صفحہ نمبر5921
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرماتا ہے جو غلاموں کے مالک ہیں کہ ” اگر ان کے غلام ان سے اپنی آزادگی کی بابت کوئی تحریر کرنی چاہیں تو وہ انکار نہ کریں، غلام اپنی کمائی سے وہ مال جمع کر کے اپنے آقا کو دیدے گا اور آزاد ہو جائے گا “۔
اکثر علماء فرماتے ہیں یہ حکم ضروری نہیں فرض و واجب نہیں بلکہ بطور استحباب کے اور خیر خواہی کے ہے۔ آقا کو اختیار ہے کہ غلام جب کوئی ہنر جانتا ہو اور وہ کہے کہ مجھ سے اسی قدر روپیہ لے لو اور مجھے آزاد کر دو تو اسے اختیار ہے خواہ اس قسم کا غلام اس سے اپنی آزادگی کی بابت تحریر چاہے وہ اس کی بات کو قبول کر لے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں، انس رضی اللہ عنہ کا غلام سیرین نے جو مالدار تھا ان سے درخواست کی کہ مجھ سے میری آزادی کی کتابت کرلو۔ انس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، دربار فاروقی رضی اللہ عنہ میں مقدمہ گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور ان کے نہ ماننے پر کوڑے لگوائے اور یہی آیت تلاوت فرمائی یہاں تک کہ انہوں نے تحریر لکھوا دی۔ [ بخاری ]
صفحہ نمبر5922
عطاء رحمہ اللہ سے دونوں قول مروی ہیں۔ امام شافعی رحمۃاللہ علیہ کا قول یہی تھا لیکن نیا قول یہ ہے کہ واجب نہیں۔ کیونکہ حدیث میں ہے مسلمان کا مال بغیر اس کی دلی خوشی کے حلال نہیں ۔ [مسند احمد:72/5:ضعیف]
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ واجب نہیں۔ میں نے نہیں سنا کہ کسی امام نے کسی آقا کو مجبور کیا ہو کہ وہ اپنے غلام کی آزادگی کی تحریر کر دے، اللہ کا یہ حکم بطور اجازت کے ہے نہ کہ بطور وجوب کے۔ یہی قول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک مختار قول وجوب کا ہے۔ خیر سے مراد امانت داری، سچائی، مال اور مال کے حاصل کرنے پر قدرت وغیرہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر تم اپنے غلاموں میں جو تم سے مکاتب کرنا چاہیں، مال کے کمانے کی صلاحیت دیکھو تو ان کی اس خواہش کو پوری کرو ورنہ نہیں کیونکہ اس صورت میں وہ لوگوں پر اپنا بوجھ ڈالیں گے ۔ [المراسیل لابی داود:162:مرسل و ضعیف] یعنی ان سے سوال کریں گے اور رقم پوری کرنا چاہیں گے۔
اس کے بعد فرمایا ہے کہ ” انہیں اپنے مال میں سے کچھ دو “۔ یعنی جو رقم ٹھہر چکی ہے، اس میں سے کچھ معاف کر دو، چوتھائی یا تہائی یا آدھا یا کچھ حصہ۔
صفحہ نمبر5923
یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ مال زکوٰۃ سے ان کی مدد کرو آقا بھی اور دوسرے مسلمان بھی اسے مال زکوٰۃ دیں تاکہ وہ مقرر رقم پوری کر کے آزاد ہو جائے۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جن تین قسم کے لوگوں کی مدد اللہ پر برحق ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے لیکن پہلا قول زیادہ مشہور ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام ابوامیہ نے مکاتبہ کیا تھا جب وہ اپنی رقم کی پہلی قسط لے کر آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جاؤ اپنی اس رقم میں دوسروں سے بھی مدد طلب کرو اس نے جواب دیا کہ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ آخری قسط تک تو مجھے ہی محنت کرنے دیجئیے۔ فرمایا نہیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ کے اس فرمان کو ہم چھوڑ نہ بیٹھیں کہ انہیں اللہ کا وہ مال دو جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے۔ پس یہ پہلی قسطیں تھیں جو اسلام میں ادا کی گئیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ شروع شروع میں آپ رضی اللہ عنہ نہ کچھ دیتے تھے نہ معاف فرماتے تھے کیونکہ خیال ہوتا تھا کہ ایسا نہ ہو آخر میں یہ رقم پوری نہ کرسکے تو میرا دیا ہوا مجھے ہی واپس آ جائے۔ ہاں آخری قسطیں ہوتیں تو جو چاہتے اپنی طرف سے معاف کر دیتے۔ ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ چوتھائی چھوڑ دو ۔ [مستدرک حاکم:397/2:موقوف] لیکن صحیح یہی ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔
صفحہ نمبر5924
پھر فرماتا ہے کہ ” اپنی لونڈیوں سے زبردستی بدکاریاں نہ کراؤ “۔ جاہلیت کے بدترین طریقوں میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ اپنی لونڈیوں کو مجبور کرتے تھے کہ وہ زناکاری کرائیں اور وہ رقم اپنے مالکوں کو دیں۔ اسلام نے آ کر اس بد رسم کو توڑا۔ منقول ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کے بارے میں اتری ہے، وہ ایسا ہی کرتا تھا تاکہ روپیہ بھی ملے اور لونڈی زادوں سے شان ریاست بھی بڑھے۔ اس کی لونڈی کا نام معاذہ تھا۔ اور روایت میں ہے اس کا نام مسیکہ تھا۔ اور یہ بدکاری سے انکار کرتی تھی۔ جاہلیت میں تو یہ کام چلتا رہا یہاں تک اسے ناجائز اولاد بھی ہوئی لیکن اسلام لانے کے بعد اس نے انکار کر دیا، اس پر اس منافق نے اسے زدوکوب کیا، پس یہ آیت اتری۔
مروی ہے کہ بدر کا ایک قریشی قیدی عبداللہ بن ابی کے پاس تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کی لونڈی سے ملے، لونڈی بوجہ اسلام کے حرام کاری سے بچتی تھی۔ عبداللہ کی خواہش تھی کہ یہ اس قریشی سے ملے، اس لیے اسے مجبور کرتا تھا اور مارتا پیٹتا تھا، پس یہ آیت اتری۔
صفحہ نمبر5925
اور روایت میں ہے کہ یہ سردار منافقین اپنی اس لونڈی کو اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے بھیج دیا کرتا تھا۔ اسلام کے بعد اس لونڈی سے جب یہ ارادہ کیا گیا تو اس نے انکار کر دیا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اپنی یہ مصیبت بیان کی۔ صدیق رضی اللہ عنہ نے دربار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ بات پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس لونڈی کو اس کے ہاں نہ بھیجو۔ اس نے لوگوں میں غل مچانا شروع کیا کہ دیکھو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری لونڈیوں کو چھین لیتا ہے اس پر یہ آسمانی حکم اترا۔
ایک روایت میں ہے کہ مسیکہ اور معاذ دو لونڈیاں دو شخصوں کی تھیں، جو ان سے بدکاری کراتے تھے۔ اسلام کے بعد مسیکہ اور اس کی ماں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، اس پر یہ آیت اتری۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ ” اگر وہ لونڈیاں پاک دامنی کا ارادہ کریں “ اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ اگر ان کا ارادہ یہ نہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں کیونکہ اس وقت واقعہ یہی تھا اس لیے یوں فرمایا گیا۔ پس اکثریت اور غلبہ کے طور پر یہ فرمایا گیا ہے کوئی قید اور شرط نہیں ہے۔ اس سے غرض ان کی یہ تھی کہ مال حاصل ہو، اولادیں ہوں جو لونڈیاں غلام بنیں۔
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے کی اجرت، بدکاری کی اجرت، کاہن کی اجرت سے منع فرما دیا ۔ [صحیح مسلم:1568] ایک اور روایت میں ہے زنا کی خرچی اور پچھنے لگانے والی کی قیمت اور کتے کی قیمت خبیث ہے ۔ [صحیح مسلم:1568]
صفحہ نمبر5926
پھر فرماتا ہے ” جو شخص ان لونڈیوں پر جبر کرے تو انہیں تو اللہ بوجہ ان کی مجبوری بخش دے گا اور ان مالکوں کو جنہوں نے ان پر دباؤ زور زبردستی ڈالی تھی انہیں پکڑ لے گا، اس صورت میں یہی گنہگار رہیں گے “۔ بلکہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «رَحِيمٌ» کے بعد «وَإِثْمُهُنَّ عَلَى مَنْ أَكْرَهَهُنَّ» ہے۔ یعنی ” اس حالت میں جبر اور زبردستی کرنے والوں پر گناہ ہے “۔
مرفوع حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطا سے، بھول سے اور جن کاموں پر وہ مجبور کر دئیے جائیں، ان پر زبردستی کی جائے ان سے درگزر فرما لیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:2043،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ان احکام کو تفصیل وار بیان کرنے کے بعد بیان ہوتا ہے کہ ” ہم نے اپنے کلام قرآن کریم کی یہ روشن و واضح آیات تمہارے سامنے بیان فرما دیں۔ اگلے لوگوں کے واقعات بھی تمہارے سامنے آچکے کہ ان کی مخالفت حق کا انجام کیا اور کیسا ہوا؟ وہ ایک افسانہ بنا دئے گئے اور آنے والوں کے لیے عبرتناک واقعہ بنا دیئے گئے کہ متقی ان سے عبرت حاصل کریں اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچیں “۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے، ”قرآن میں تمہارے اختلاف کے فیصلے موجود ہیں، تم سے پہلے زمانہ کے لوگوں کی خبریں موجود ہیں، بعد میں ہونے والے امور کے احوال کا بیان ہے۔ یہ مفصل ہے بکواس نہیں اسے جو بھی بے پرواہی سے چھوڑے گا، اسے اللہ برباد کر دے گا اور جو اس کے سوا دوسری کتاب میں ہدایت تلاش کرے گا اسے اللہ گمراہ کر دے گا۔“ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5927
نکاح اور شرم و حیا کی تعلیم ٭٭
اس میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام بیان فرما دئیے ہیں اولاً نکاح کا۔ علماء کی جماعت کا خیال ہے کہ جو شخص نکاح کی قدرت رکھتا ہو اس پر نکاح کرنا واجب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اے نوجوانو! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتا ہو، اسے نکاح کر لینا چاہیئے۔ نکاح نظر کو نیچی رکھنے والا شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے طاقت نہ ہو وہ لازمی طور پر روزے رکھے، یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے ۔ [صحیح بخاری:1905]
سنن میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں زیادہ اولاد جن سے ہونے کی امید ہو ان سے نکاح کرو تاکہ نسل بڑھے میں تمہارے ساتھ اور امتوں میں فخر کرنے والا ہوں ۔ ایک روایت میں ہے یہاں تک کہ کچے گرے ہوئے بچے کی گنتی کے ساتھ بھی ۔ [سنن ابوداود:2050، قال الشيخ الألباني:صحیح]
«أَيَامَى» جمع ہے «أَيِّمٍ» کی۔ جوہری رحمہ اللہ کہتے ہیں اہل لغت کے نزدیک بے بیوی کا مرد اور بے خاوند کی عورت کو «أَيِّمٍ» کہتے ہیں، خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ہو۔
پھر مزید رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” اگر وہ مسکین بھی ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل و کرم سے مالدار بنا دے گا۔ خواہ وہ آزاد ہوں خواہ غلام ہوں “۔
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”تم نکاح کے بارے میں اللہ کا حکم مانو، وہ تم سے اپناوعدہ پورا کرے گا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”امیری کو نکاح میں طلب کرو۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تین قسم کے لوگوں کی مدد کا اللہ کے ذمے حق ہے۔ نکاح کرنے والا جو حرام کاری سے بچنے کی نیت سے نکاح کرے۔ وہ لکھت لکھ دینے والا غلام جس کا ارادہ ادائیگی کا ہو، وہ غازی جو اللہ کی راہ میں نکلا ہو ۔ [سنن ترمذي:1655،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5920
اسی کی تایئد میں وہ روایت ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا نکاح ایک عورت سے کرا دیا، جس کے پاس سوائے تہبند کے اور کچھ نہ تھا یہاں تک کہ لوہے کی انگوٹھی بھی اس کے پاس سے نہیں نکلی تھی اس فقیری اور مفلسی کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح کر دیا اور مہر یہ ٹھہرایا کہ جو قرآن اسے یاد ہے، اپنی بیوی کو یاد کرا دے ۔ [صحیح بخاری:5057] یہ اسی بنا پر کہ نظریں اللہ کے فضل و کرم پر تھیں کہ وہ مالک انہیں وسعت دے گا اور اتنی روزی پہنچائے گا کہ اسے اور اس کی بیوی کو کفالت ہو۔
ایک حدیث اکثر لوگ وارد کیا کرتے ہیں کہ فقیری میں بھی نکاح کیا کرو اللہ تمہیں غنی کر دے گا میری نگاہ سے تو یہ حدیث نہیں گزری۔ نہ کسی قوی سند سے نہ ضعیف سند سے۔ اور نہ ہمیں ایسی لاپتہ روایت کے اس مضمون میں کوئی ضرورت ہے کیونکہ قرآن کی اس آیت اور ان احادیث میں یہ چیز موجود ہے، «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
پھر حکم دیا کہ ” جنہیں نکاح کا مقدور نہیں وہ حرام کاری سے بچیں “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اے جوان لوگو! تم میں سے جو نکاح کی وسعت رکھتے ہوں، وہ نکاح کر لیں یہ نگاہ نیچی کرنے والا، شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے اس کی طاقت نہ ہو وہ اپنے ذمے روزوں کا رکھنا ضروری کر لے یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے ۔
یہ آیت مطلق ہے اور سورۃ نساء کی آیت اس سے خاص ہے یعنی یہ فرمان آیت «وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ» [4-النساء:25] پس لونڈیوں سے نکاح کرنے سے صبر کرنا بہتر ہے۔ اس لیے کہ اس صورت میں اولاد پر غلامی کا حرف آتا ہے۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو مرد کسی عورت کو دیکھے اور اس کے دل میں خواہش پیدا ہو اسے چاہیئے کہ اگر اس کی بیوی موجود ہو تو اس کے پاس چلا جائے ورنہ اللہ کی مخلوق میں نظریں ڈالے اور صبر کرے یہاں تک کہ اللہ اسے غنی کر دے۔“
صفحہ نمبر5921
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرماتا ہے جو غلاموں کے مالک ہیں کہ ” اگر ان کے غلام ان سے اپنی آزادگی کی بابت کوئی تحریر کرنی چاہیں تو وہ انکار نہ کریں، غلام اپنی کمائی سے وہ مال جمع کر کے اپنے آقا کو دیدے گا اور آزاد ہو جائے گا “۔
اکثر علماء فرماتے ہیں یہ حکم ضروری نہیں فرض و واجب نہیں بلکہ بطور استحباب کے اور خیر خواہی کے ہے۔ آقا کو اختیار ہے کہ غلام جب کوئی ہنر جانتا ہو اور وہ کہے کہ مجھ سے اسی قدر روپیہ لے لو اور مجھے آزاد کر دو تو اسے اختیار ہے خواہ اس قسم کا غلام اس سے اپنی آزادگی کی بابت تحریر چاہے وہ اس کی بات کو قبول کر لے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں، انس رضی اللہ عنہ کا غلام سیرین نے جو مالدار تھا ان سے درخواست کی کہ مجھ سے میری آزادی کی کتابت کرلو۔ انس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، دربار فاروقی رضی اللہ عنہ میں مقدمہ گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور ان کے نہ ماننے پر کوڑے لگوائے اور یہی آیت تلاوت فرمائی یہاں تک کہ انہوں نے تحریر لکھوا دی۔ [ بخاری ]
صفحہ نمبر5922
عطاء رحمہ اللہ سے دونوں قول مروی ہیں۔ امام شافعی رحمۃاللہ علیہ کا قول یہی تھا لیکن نیا قول یہ ہے کہ واجب نہیں۔ کیونکہ حدیث میں ہے مسلمان کا مال بغیر اس کی دلی خوشی کے حلال نہیں ۔ [مسند احمد:72/5:ضعیف]
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ واجب نہیں۔ میں نے نہیں سنا کہ کسی امام نے کسی آقا کو مجبور کیا ہو کہ وہ اپنے غلام کی آزادگی کی تحریر کر دے، اللہ کا یہ حکم بطور اجازت کے ہے نہ کہ بطور وجوب کے۔ یہی قول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک مختار قول وجوب کا ہے۔ خیر سے مراد امانت داری، سچائی، مال اور مال کے حاصل کرنے پر قدرت وغیرہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر تم اپنے غلاموں میں جو تم سے مکاتب کرنا چاہیں، مال کے کمانے کی صلاحیت دیکھو تو ان کی اس خواہش کو پوری کرو ورنہ نہیں کیونکہ اس صورت میں وہ لوگوں پر اپنا بوجھ ڈالیں گے ۔ [المراسیل لابی داود:162:مرسل و ضعیف] یعنی ان سے سوال کریں گے اور رقم پوری کرنا چاہیں گے۔
اس کے بعد فرمایا ہے کہ ” انہیں اپنے مال میں سے کچھ دو “۔ یعنی جو رقم ٹھہر چکی ہے، اس میں سے کچھ معاف کر دو، چوتھائی یا تہائی یا آدھا یا کچھ حصہ۔
صفحہ نمبر5923
یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ مال زکوٰۃ سے ان کی مدد کرو آقا بھی اور دوسرے مسلمان بھی اسے مال زکوٰۃ دیں تاکہ وہ مقرر رقم پوری کر کے آزاد ہو جائے۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جن تین قسم کے لوگوں کی مدد اللہ پر برحق ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے لیکن پہلا قول زیادہ مشہور ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام ابوامیہ نے مکاتبہ کیا تھا جب وہ اپنی رقم کی پہلی قسط لے کر آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جاؤ اپنی اس رقم میں دوسروں سے بھی مدد طلب کرو اس نے جواب دیا کہ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ آخری قسط تک تو مجھے ہی محنت کرنے دیجئیے۔ فرمایا نہیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ کے اس فرمان کو ہم چھوڑ نہ بیٹھیں کہ انہیں اللہ کا وہ مال دو جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے۔ پس یہ پہلی قسطیں تھیں جو اسلام میں ادا کی گئیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ شروع شروع میں آپ رضی اللہ عنہ نہ کچھ دیتے تھے نہ معاف فرماتے تھے کیونکہ خیال ہوتا تھا کہ ایسا نہ ہو آخر میں یہ رقم پوری نہ کرسکے تو میرا دیا ہوا مجھے ہی واپس آ جائے۔ ہاں آخری قسطیں ہوتیں تو جو چاہتے اپنی طرف سے معاف کر دیتے۔ ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ چوتھائی چھوڑ دو ۔ [مستدرک حاکم:397/2:موقوف] لیکن صحیح یہی ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔
صفحہ نمبر5924
پھر فرماتا ہے کہ ” اپنی لونڈیوں سے زبردستی بدکاریاں نہ کراؤ “۔ جاہلیت کے بدترین طریقوں میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ اپنی لونڈیوں کو مجبور کرتے تھے کہ وہ زناکاری کرائیں اور وہ رقم اپنے مالکوں کو دیں۔ اسلام نے آ کر اس بد رسم کو توڑا۔ منقول ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کے بارے میں اتری ہے، وہ ایسا ہی کرتا تھا تاکہ روپیہ بھی ملے اور لونڈی زادوں سے شان ریاست بھی بڑھے۔ اس کی لونڈی کا نام معاذہ تھا۔ اور روایت میں ہے اس کا نام مسیکہ تھا۔ اور یہ بدکاری سے انکار کرتی تھی۔ جاہلیت میں تو یہ کام چلتا رہا یہاں تک اسے ناجائز اولاد بھی ہوئی لیکن اسلام لانے کے بعد اس نے انکار کر دیا، اس پر اس منافق نے اسے زدوکوب کیا، پس یہ آیت اتری۔
مروی ہے کہ بدر کا ایک قریشی قیدی عبداللہ بن ابی کے پاس تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کی لونڈی سے ملے، لونڈی بوجہ اسلام کے حرام کاری سے بچتی تھی۔ عبداللہ کی خواہش تھی کہ یہ اس قریشی سے ملے، اس لیے اسے مجبور کرتا تھا اور مارتا پیٹتا تھا، پس یہ آیت اتری۔
صفحہ نمبر5925
اور روایت میں ہے کہ یہ سردار منافقین اپنی اس لونڈی کو اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے بھیج دیا کرتا تھا۔ اسلام کے بعد اس لونڈی سے جب یہ ارادہ کیا گیا تو اس نے انکار کر دیا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اپنی یہ مصیبت بیان کی۔ صدیق رضی اللہ عنہ نے دربار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ بات پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس لونڈی کو اس کے ہاں نہ بھیجو۔ اس نے لوگوں میں غل مچانا شروع کیا کہ دیکھو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری لونڈیوں کو چھین لیتا ہے اس پر یہ آسمانی حکم اترا۔
ایک روایت میں ہے کہ مسیکہ اور معاذ دو لونڈیاں دو شخصوں کی تھیں، جو ان سے بدکاری کراتے تھے۔ اسلام کے بعد مسیکہ اور اس کی ماں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، اس پر یہ آیت اتری۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ ” اگر وہ لونڈیاں پاک دامنی کا ارادہ کریں “ اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ اگر ان کا ارادہ یہ نہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں کیونکہ اس وقت واقعہ یہی تھا اس لیے یوں فرمایا گیا۔ پس اکثریت اور غلبہ کے طور پر یہ فرمایا گیا ہے کوئی قید اور شرط نہیں ہے۔ اس سے غرض ان کی یہ تھی کہ مال حاصل ہو، اولادیں ہوں جو لونڈیاں غلام بنیں۔
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے کی اجرت، بدکاری کی اجرت، کاہن کی اجرت سے منع فرما دیا ۔ [صحیح مسلم:1568] ایک اور روایت میں ہے زنا کی خرچی اور پچھنے لگانے والی کی قیمت اور کتے کی قیمت خبیث ہے ۔ [صحیح مسلم:1568]
صفحہ نمبر5926
پھر فرماتا ہے ” جو شخص ان لونڈیوں پر جبر کرے تو انہیں تو اللہ بوجہ ان کی مجبوری بخش دے گا اور ان مالکوں کو جنہوں نے ان پر دباؤ زور زبردستی ڈالی تھی انہیں پکڑ لے گا، اس صورت میں یہی گنہگار رہیں گے “۔ بلکہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «رَحِيمٌ» کے بعد «وَإِثْمُهُنَّ عَلَى مَنْ أَكْرَهَهُنَّ» ہے۔ یعنی ” اس حالت میں جبر اور زبردستی کرنے والوں پر گناہ ہے “۔
مرفوع حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطا سے، بھول سے اور جن کاموں پر وہ مجبور کر دئیے جائیں، ان پر زبردستی کی جائے ان سے درگزر فرما لیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:2043،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ان احکام کو تفصیل وار بیان کرنے کے بعد بیان ہوتا ہے کہ ” ہم نے اپنے کلام قرآن کریم کی یہ روشن و واضح آیات تمہارے سامنے بیان فرما دیں۔ اگلے لوگوں کے واقعات بھی تمہارے سامنے آچکے کہ ان کی مخالفت حق کا انجام کیا اور کیسا ہوا؟ وہ ایک افسانہ بنا دئے گئے اور آنے والوں کے لیے عبرتناک واقعہ بنا دیئے گئے کہ متقی ان سے عبرت حاصل کریں اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچیں “۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے، ”قرآن میں تمہارے اختلاف کے فیصلے موجود ہیں، تم سے پہلے زمانہ کے لوگوں کی خبریں موجود ہیں، بعد میں ہونے والے امور کے احوال کا بیان ہے۔ یہ مفصل ہے بکواس نہیں اسے جو بھی بے پرواہی سے چھوڑے گا، اسے اللہ برباد کر دے گا اور جو اس کے سوا دوسری کتاب میں ہدایت تلاش کرے گا اسے اللہ گمراہ کر دے گا۔“ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر5927
مدبر کائنات نور ہی نور ہے ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اللہ ہادی ہے، آسمان والوں اور زمین والوں کا، وہی ان دونوں میں سورج چاند اور ستاروں کی تدبیر کرتا ہے۔“
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اللہ کا نور ہدایت ہے۔“ ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو اختیار کرتے ہیں۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس کے نور کی مثال یعنی اس کا نور رکھنے والے مومن کی مثال جن کے سینے میں ایمان و قرآن ہے، اس کی مثال اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ اولاً اپنے نور کا ذکر کیا پھر مومن کی نورانیت کا کہ اللہ پر ایمان رکھنے والے کے نور کی مثال“ بلکہ ابی رضی اللہ عنہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت «مَثَلُ نُورِ مَنْ آمَنَ بِهِ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس طرح پڑھنا بھی مروی ہے «نُورِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ» ۔
بعض کی قرأت میں «اللَّهُ نَوَّرَ» ہے یعنی ” اس نے آسمان و زمین کو نورانی بنا دیا ہے “۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسی کے نور سے آسمان و زمین روشن ہیں۔
صفحہ نمبر5930
سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ جس دن اہل طائف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ایذاء پہنچائی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں فرمایا تھا «" أُعُوذُ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ الظُّلُمَاتُ، وَصَلُحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، أَنْ يَحِلَّ بِيَ غَضَبُكَ أَوْ يَنْزِلَ بِي سَخَطُكَ، لَكَ الْعُتْبَى حَتَّى تَرْضَى، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ» اس دعا میں ہے کہ تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ میں آ رہا ہوں جو اندھیروں کو روشن کر دیتا ہے اور جس پر دنیا آخرت کی صلاحیت موقوف ہے الخ۔ [السيرة النبوية:420/1]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تب یہ فرماتے کہ «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِنْ فِيهِنَّ» اللہ تیرے ہی لیے ہے سب تعریف سزاوار ہے تو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا نورہے ۔ [صحیح بخاری:1120]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تمہارے رب کے ہاں رات اور دن نہیں، اس کے چہرے کے نور کی وجہ سے اس کے عرش کا نور ہے۔“
صفحہ نمبر5931
«نُورِهِ» کی ضمیر کا مرجع بعض کے نزدیک تو لفظ اللہ ہی ہے یعنی اللہ کی ہدایت جو مومن کے دل میں ہے اس کی مثال یہ ہے اور بعض کے نزدیک مومن ہے جس پر سیاق کلام کی دلالت ہے یعنی مومن کے دل کے نور کی مثال مثل طاق کے ہے۔
جیسے فرمان ہے کہ ایک شخص ہے جو اپنے رب کی دلیل اور ساتھ ہی شہادت لیے ہوئے ہے پس مومن کے دل کی صفائی کو بلور کے فانوس سے مشابہت دی اور پھر قرآن اور شریعت سے جو مدد اسے ملتی رہتی ہے اس کی زیتون کے اس تیل سے تشبیہ دی جو خود صاف شفاف چمکیلا اور روشن ہے۔ پس طاق اور طاق میں چراغ اور وہ بھی روشن چراغ۔ یہودیوں نے اعتراضاً کہا تھا کہ اللہ کانور آسمانوں کے پار کیسے ہوتا ہے؟ تو مثال دے کر سمجھایا گیا کہ جیسے فانوس کے شیشے سے روشنی۔ پس فرمایا کہ ” اللہ آسمان زمین کا نور ہے “۔
«مِشْكَاةٍ» کے معنی گھر کے طاق کے ہیں یہ مثال اللہ نے اپنی فرمانبرداری کی دی ہے اور اپنی اطاعت کو نور فرمایا ہے پھر اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، حبشہ کی لغت میں اسے طاق کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں ایسا طاق جس میں کوئی اور سوراخ وغیرہ نہ ہو۔ فرماتے ہیں اسی میں قندیل رکھی جاتی ہے۔
پہلا قول زیادہ قوی ہے یعنی قندیل رکھنے کی جگہ۔ چنانچہ قرآن میں بھی ہے کہ اس میں چراغ ہے۔ پس «مِصْبَاحٌ» سے مراد نور ہے یعنی قرآن اور ایمان جو مسلمان کے دل میں ہوتا ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں چراغ مراد ہے۔
صفحہ نمبر5932
پھر فرمایا ” یہ روشنی جس میں بہت ہی خوبصورتی ہے، یہ صاف قندیل میں ہے “، یہ مومن کے دل کی مثال ہے۔ پھر وہ قندیل ایسی ہے جیسے موتی جیسا چمکیلا روشن ستارہ۔
اس کی دوسری قرأت «دِرِّيءٌ» اور «دُرِّيءٌ» بھی ہے۔ یہ ماخوذ ہے «دَرْءِ» سے جس کے معنی دفع کے ہیں۔ مطلب چمکدار اور روشن ستارہ ٹوٹتا ہے اس وقت وہ بہت روشن ہوتا ہے اور جو ستارے غیر معروف ہیں انہیں بھی عرب «دَرَارِيَّ» کہتے ہیں۔ مطلب چمکدار اور روشن ستارہ ہے جو خوب ظاہر ہو اور بڑا ہو۔ پھر اس چراغ میں تیل بھی مبارک درخت زیتون کا ہو۔
«زَيْتُونَةٍ» کا لفظ بدل ہے یا عطف بیان ہے۔ پھر وہ زیتون کا درخت بھی نہ مشرقی ہے کہ اول دن سے اس پر دھوپ آ جائے۔ اور نہ مغربی ہے کہ غروب سورج سے پہلے اس پر سے سایہ ہٹ جائے بلکہ وسط جگہ میں ہے۔ صبح سے شام تک سورج کی صاف روشنی میں رہے۔
صفحہ نمبر5933
پس اس کا تیل بھی بہت صاف، چمکدار اور معتدل ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ وہ درخت میدان میں ہے کوئی درخت، پہاڑ، غار یا کوئی اور چیز اسے چھپائے ہوئے نہیں ہے۔ اس وجہ سے اس درخت کا تیل بہت صاف ہوتا ہے۔“
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”صبح سے شام تک کھلی ہوا اور صاف دھوپ اسے پہنچتی رہتی ہے کیونکہ وہ کھلے میدان میں درمیان کی جگہ ہے۔ اسی وجہ سے اس کا تیل بہت پاک صاف اور روشن چمکدار ہوتا ہے اور اسے نہ مشرقی کہہ سکتے ہیں نہ مغربی۔ ایسا درخت بہت سرسبز اور کھلا ہوتا ہے پس جیسے یہ درخت آفتوں سے بچا ہوا ہوتا ہے، اسی طرح مومن فتنوں سے محفوظ ہوتا ہے اگر کسی فتنے کی آزمائش میں پڑتا بھی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدم رکھتا ہے۔“
پس اسے چار صفتیں قدرت دے دیتی ہے [١] بات میں سچ [٢] حکم میں عدل [٣] بلا پر صبر [٤] نعمت پر شکر پھر وہ اور تمام انسانوں میں ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی زندہ جو مردوں میں ہو۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر یہ درخت دنیا میں زمین پر ہوتا تو ضرور تھا کہ مشرقی ہوتا یا مغربی لیکن یہ تو نور الٰہی کی مثال ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”یہ مثال ہے نیک مرد کی جو نہ یہودی ہے نہ نصرانی۔“
ان سب اقوال میں بہترین قول پہلا ہے کہ وہ درمیانہ زمین میں ہے کہ صبح سے شام تک بے روک ہوا اور دھوپ پہنچتی ہے کیونکہ چاروں طرف سے کوئی آڑ نہیں تو لامحالہ ایسے درخت کا تیل بہت زیادہ صاف ہوگا اور لطیف اور چمکدار ہوگا۔
صفحہ نمبر5934
اسی لیے فرمایا کہ خود وہ تیل اتنا لطیف ہے کہ گویا بغیر جلائے روشنی دے۔ نور پر نور ہے۔ یعنی ایمان کانور پھر اس پر نیک اعمال کا نور۔ خود زیتون کا تیل روشن پھر وہ جل رہا ہے اور روشنی دے رہا ہے پس اسے پانچ نور حاصل ہو جاتے ہیں اس کا کلام نور ہے اس کا عمل نور ہے۔ اس کا آنا نور اس کا جانا نور ہے اور اس کا آخری ٹھکانا نورہے یعنی جنت۔
کعب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ مثال ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اس قدر ظاہر ہے کہ گو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زبانی نہ بھی فرمائیں تاہم لوگوں پر ظاہر ہو جائے۔ جیسے یہ زیتون کہ بغیر روشن کئے روشن ہے۔ تو دونوں یہاں جمع ہیں ایک زیتون کا ایک آگ کا۔ ان کے مجموعے سے روشنی حاصل ہوتی ہوئی۔ اسی طرح نور قرآن نور ایمان جمع ہو جاتے ہیں اور مومن کا دل روشن ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے پسند فرمائے، اپنی ہدایت کی راہ لگا دیتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو ایک اندھیرے میں پیدا کیا پھر اس دن ان پر اپنا نور ڈالا جیسے وہ نور پہنچا اس نے راہ پائی اور جو محروم رہا وہ گمراہ ہوا۔ اس لیے کہتا ہوں کہ قلم اللہ کے علم کے مطابق چل کر خشک ہو گیا ۔ [سنن ترمذي:2642،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5935
اللہ تعالیٰ نے مومن کے دل کی ہدایت کی مثال نور سے دے کر پھر فرمایا کہ ” اللہ یہ مثالیں لوگوں کے سمجھنے کے لئے بیان فرما رہا ہے، اس کے علم میں بھی کوئی اس جیسا نہیں، وہ ہدایت وضلالت کے ہر مستحق کو بخوبی جانتا ہے “۔
مسند کی ایک حدیث میں ہے دلوں کی چار قسمیں ہیں ایک تو صاف اور روشن، ایک غلاف دار اور بندھا ہوا، ایک الٹا اور اور اوندھا، ایک پھرا ہوا الٹا سیدھا۔ پہلا دل تو مومن کا دل ہے جو نورانی ہوتا ہے۔ اور دوسرا دل کافر کا دل ہے اور تیسرا دل منافق کا دل ہے کہ اس نے جانا پھر انجان ہو گیا۔ پہچان لیا پھر منکر ہو گیا۔ چوتھا دل وہ دل ہے جس میں ایمان بھی ہے اور نفاق بھی ہے۔ ایمان کی مثال تو اس میں ترکاری کے درخت کی مانند ہے کہ اچھا پانی اسے بڑھا دیتا ہے اور اس میں نفاق کی مثال دمثل پھوڑے کے ہے کہ خون پیپ اسے ابھاردیتا ہے ۔ اب ان میں سے جو غالب آ گیا وہ اس دل پر چھا جاتا ہے۔ [مسند احمد:17/3:ضعیف]
صفحہ نمبر5936
مومن کے دل سے مماثلت ٭٭
مومن کے دل کی اور اس میں جو ہدایت وعلم ہے اس کی مثال اوپر والی آیت میں اس روشن چراغ سے دی تھی جو شیشہ کی ہانڈی میں ہو اور صاف زیتون کے روشن تیل سے جل رہا ہے۔ اس لیئے یہاں اس کی عبادت کی جاتی ہے اور اس کی توحید بیان کی جاتی ہے۔ جن کی نگہبانی اور پاک صاف رکھنے کا اور بے ہودہ اقوال و افعال سے بچانے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ ” «أَنْ تُرْفَعَ» کے معنی اس میں بیہودگی نہ کرنے کے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے یہی مسجدیں ہیں جن کی تعمیر، آبادی، ادب اور پاکیزگی کا حکم اللہ نے دیا ہے۔“ کعب رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے کہ زمین پر مسجدیں میرا گھر ہیں، جو بھی باوضو میرے گھر پر میری ملاقات کے لیے آئے گا، میں اس کی عزت کرونگا ہر اس شخص پر جس سے ملنے کے لیے کوئی اس کے گھر آئے حق ہے کہ وہ اس کی تکریم کرے [ تفسیر ابن ابی حاتم ]
مسجدوں کے بنانے اور ان کا ادب احترام کرنے انہیں خوشبودار اور پاک صاف رکھنے کے بارے میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں جنہیں بحمد اللہ میں نے ایک مستقل کتاب میں لکھا ہے یہاں بھی ان میں سے تھوڑی بہت وارد کرتا ہوں، اللہ مدد کرے اسی پر بھروسہ اور توکل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اسی جیسا گھر جنت میں بناتا ہے ۔ [صحیح بخاری:450]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نام اللہ کے ذکر کئے جانے کے لیے جو شخص مسجد بنائے اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:735،قال الشيخ الألباني:صحیح]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور پاک صاف اور خوشبودار رکھی جائیں ۔ [سنن ابوداود:455،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5937
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے ”لوگوں کے لیے مسجدیں بناؤ جہاں انہیں جگہ ملے لیکن سرخ یا زردرنگ سے بچو تاکہ لوگ فتنے میں نہ پڑیں۔“ [صحیح بخاری تعلیقا:کتاب الصلواۃ:باب:بنیان المسجد]
ایک ضعیف سند سے مروی ہے کہ جب تک کسی قوم نے اپنی مسجدوں کو ٹیپ ٹاپ والا، نقش و نگار اور رنگ روغن والا نہ بنایا ان کے اعلام برے نہیں ہوئے ۔ [سنن ابن ماجه:741، قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے مسجدوں کو بلند و بالا اور پختہ بنانے کا حکم نہیں دیا گیا ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ ”تم یقیناً مسجدوں کو مزین، منقش اور رنگ دار کرو گے جیسے کہ یہودونصاری نے کیا۔“ [سنن ابوداود:448، قال الشيخ الألباني:صحیح]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ لوگ مسجدوں کے بارے میں آپس میں ایک دوسرے پر فخر و غرور نہ کرنے لگیں ۔ [سنن ابوداود:449،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک شخص مسجد میں اپنے اونٹ کو ڈھونڈتا ہوا آیا اور کہنے لگا ہے کوئی جو مجھے میرے سرخ رنگ کے اونٹ کا پتہ دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی کہ اللہ کرے تجھے نہ ملے۔ مسجدیں تو جس مطلب کے لیے بنائی گئی ہیں، اسی کام کے لیے ہیں ۔ [صحیح مسلم:569]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدوں میں خرید و فروخت، تجارت کرنے سے اور وہاں اشعار کے گائے جانے سے منع فرما دیا ہے ۔ [سنن ابوداود:1079،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5938
فرمان ہے کہ جسے مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہو کہ اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے اور جب کسی کو گمشدہ جانور مسجد میں تلاش کرتا ہوا پاؤ تو کہو کہ اللہ کرے نہ ملے ۔ [سنن ترمذي:1321،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بہت سی باتیں مسجد کے لائق نہیں، مسجد کو راستہ نہ بنایا جائے، نہ تیر پھیلائے جائیں نہ کچا گوشت لایا جائے، نہ یہاں حد ماری جائے، نہ یہاں باتیں اور قصے کہے جائیں نہ اسے بازار بنایا جائے ۔ [سنن ابن ماجه:748،قال الشيخ الألباني:ضعیف و صحت منه الخصلة الاولى]
صفحہ نمبر5939
فرمان ہے کہ ہماری مسجدوں سے اپنے بچوں کو، دیوانوں کو، خرید و فروخت کو، لڑائی جھگڑے کو اور بلند آواز سے بولنے کو اور حد جاری کرنے کو اور تلواروں کے ننگی کرنے کو روکو۔ ان کے دروازوں پر وضو وغیرہ کی جگہ بناؤ اور جمعہ کے دن انہیں خوشبو سے مہکا دو ۔ [سنن ابن ماجه:750،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔
بعض علماء نے بلا ضرورت کے مسجدوں کو گزرگاہ بنانا مکروہ کہا ہے۔ ایک اثر میں ہے کہ جو شخص بغیر نماز پڑھے مسجد سے گزر جائے، فرشتے اس پر تعجب کرتے ہیں۔ ہتھیاروں اور تیروں سے جو منع فرمایا یہ اس لیے کہ مسلمان وہاں بکثرت جمع ہوتے ہیں ایسان نہ ہو کہ کسی کے لگ جائے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ تیر یا نیزہ لے کر گزرے تو اسے چاہیئے کہ اس کا پھل اپنے ہاتھ میں رکھے تاکہ کسی کو ایذاء نہ پہنچے ۔ [صحیح بخاری:452]
کچا گوشت لانا اس لیے منع ہے کہ خوف ہے اس میں سے خون نہ ٹپکے جیسے کہ حائضہ عورت کو بھی اسی وجہ سے مسجد میں آنے کی ممانعت کر دی گئی ہے۔ مسجد میں حد لگانا اور قصاص لینا اس لیے منع کیا گیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شخص مسجد کو نجس نہ کر دے۔ بازار بنانا اس لیے منع ہے کہ وہ خرید و فروخت کی جگہ ہے اور مسجد میں یہ دونوں باتیں منع ہیں۔ کیونکہ مسجدیں ذکر اللہ اور نماز کی جگہ ہیں۔ جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے فرمایا تھا، جس نے مسجد کے گوشے میں پیشاب کر دیا تھا کہ مسجدیں اس لیے نہیں بنیں، بلکہ وہ اللہ کے ذکر اور نماز کی جگہ ہے ۔ پھر اس کے پیشاب پر ایک بڑا ڈول پانی کا بہانے کا حکم دیا ۔ [صحیح بخاری:6025]
دوسری حدیث میں ہے اپنے بچوں کو اپنی مسجدوں سے روکو [سنن ابن ماجه:750،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس لیے کہ کھیل کود ہی ان کا کام ہے اور مسجد میں یہ مناسب نہیں۔
چنانچہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہا جب کسی بچے کو مسجد میں کھیلتا ہوا دیکھ لیتے تو اسے کوڑے سے پیٹتے اور عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں کسی کو نہ رہنے دیتے۔ دیوانوں کو بھی مسجدوں سے روکا گیا کیونکہ وہ بےعقل ہوتے ہیں اور لوگوں کے مذاق کا ذریعہ ہوتے ہیں اور مسجد اس تماشے کے لائق نہیں۔ اور یہ بھی ہے کہ ان کی نجاست وغیرہ کا خوف ہے۔ بیع و شرا سے روکا گیا کیونکہ وہ ذکر اللہ سے مانع ہے۔ جھگڑوں کی مصالحتیٰ مجلس منعقد کرنے سے اس لیے منع کر دیا گیا کہ اس میں آوازیں بلند ہوتی ہیں ایسے الفاظ بھی نکل جاتے ہیں جو آداب مسجد کے خلاف ہیں۔
صفحہ نمبر5940
اکثر علماء کا قول ہے کہ فیصلے مسجد میں نہ کئے جائیں اسی لیے اس جملے کے بعد بلند آواز سے منع فرمایا۔ سائب بن یزید کندی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ”میں مسجد میں کھڑا تھا کہ اچانک مجھ پر کسی نے کنکر پھینکا، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے مجھ سے فرمانے لگے، جاؤ ان دونوں شخصوں کو میرے پاس لاؤ، جب میں آپ کے پاس انہیں لایا تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا۔ تم کون ہو؟ یا پوچھا کہ ”تم کہاں کے ہو“؟ انہوں نے کہ ”ہم طائف کے رہنے والے ہیں۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر تم یہاں رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سخت سزا دیتا تم مسجد نبوی میں اونچی اونچی آوازوں سے بول رہے ہو“؟ [صحیح بخاری:470]
ایک شخص کی اونچی آواز سن کر جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا۔ ”جانتا بھی ہے تو کہاں ہے؟۔“ [ نسائی ]
اور مسجد کے دروازوں پر وضو کرنے والے اور پاکیزگی حاصل کرنے کی جگہ بنانے کا حکم دیا۔ مسجد نبوی کے قریب ہی کنویں تھے جن میں سے پانی کھینچ کر پیتے تھے اور وضو اور پاکیزگی حاصل کرتے تھے۔ اور جمعہ کے دن اسے خوشبودار کرنے کا حکم ہوا ہے کیونکہ اس دن لوگ بکثر جمع ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ہر جمعہ کے دن مسجد نبوی کو مہکایا کرتے تھے۔ بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جماعت کی نماز انسان کی اکیلی نماز پر جو گھر میں یا دوکان پر پڑھی جائے، پچیس درجے زیادہ ثواب رکھتی ہے، یہ اس لیے کہ جب وہ اچھی طرح سے وضو کرکے صرف نماز کے ارادے سے چلتا ہے تو ہر ایک قدم کے اٹھانے پر اس کا ایک درجہ بڑھتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے اور جب نماز پڑھ چکتا ہے پھر جت تک وہ اپنی نماز کی جگہ رہے، فرشتے اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اے اللہ اس پر اپنی رحمت نازل فرما اور اس پر رحم کر۔ اور جب تک جماعت کے انتظار میں رہے نماز کا ثواب ملتا رہتا ہے ۔ [صحیح بخاری:477]
دارقطنی میں ہے مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے سوا نہیں ہوتی ۔ [دارقطنی:420/1:موقوف]
صفحہ نمبر5941
سنن میں ہے اندھیروں میں مسجد جانے والوں کو خوشخبری سنا دو کہ انہیں قیامت کے دن پورا پورا نور ملے گا ۔ [سنن ابوداود:561،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ بھی مستحب ہے کہ مسجد میں جانے والا پہلے اپنا داہنا قدم رکھے اور یہ دعا پڑھے۔ بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں آتے یہ کہتے «أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ، وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ، وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ، مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ۔ فرمان ہے کہ جب کوئی شخص یہ پڑھتا ہے شیطان کہتا ہے میرے شر سے یہ تمام دن محفوظ ہو گیا ۔ [سنن ابوداود:466،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ تم میں سے کوئی مسجد میں جانا چاہے یہ دعا پڑھے «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے“ اور جب مسجد سے باہر جائے تو یہ کہے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ» ”اے اللہ! میں تیرے فضل کا طالب ہوں ۔ [صحیح مسلم:713]
ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے پھر دعا «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» پڑھے اور جب مسجد سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیج کر دعا «اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» پڑھے ۔ [سنن ابن ماجه:773،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ترمذی وغیرہ میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آتے تو درود پڑھ کر دعا «اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» پڑھتے اور جب مسجد سے نکلتے تو درود کے بعد دعا «اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ» پڑھتے ۔ [سنن ترمذي:314،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس حدیث کی سند متصل نہیں۔
الغرض یہ اور ان جیسی اور بہت سی حدیثیں اس آیت کے متعلق ہیں جو مسجد اور احکام مسجد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ اور آیت میں ہے «يَابَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ» [7-الأعراف:31] ” تم ہر مسجد میں اپنا منہ سیدھا رکھو “۔ «وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» [7-الأعراف:29] ” اور خلوص کے ساتھ صرف اللہ کو پکارو “۔
ایک اور آیت میں ہے کہ «وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا» [72-الجن:18] ” مسجدیں اللہ ہی کی ہیں۔ اس کا نام ان میں لیا جائے “ یعنی کتاب اللہ کی تلاوت کی جائے۔
” صبح شام وہاں اس اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں “ «آصَالُ» جمع ہے «أَصِيلٍ» کی، شام کے وقت کو «أَصِيلٍ» کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر5942
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جہاں کہیں قرآن میں «تَسْبِيحٍ» کا لفظ ہے وہاں مراد نماز ہے۔“ پس یہاں مراد صبح کی اور عصر کی نماز ہے۔ پہلے پہلے یہی دو نمازیں فرض ہوئی تھیں پس وہی یاد دلائی گئیں۔
ایک قرأت میں «يُسَبِّحُ» ہے اور اس قرأت پر «وَالْآصَالِ» پر پورا وقف ہے اور «رِجَالٌ» سے پھر دوسری بات شروع ہے گویا کہ وہ مفسر ہے فاعل محذوف کے لیے۔ تو گویا کہا گیا کہ وہاں تسبیح کون کرتے ہیں؟ تو جواب دیا گیا کہ ایسے لوگ اور «يُسَبِّحُ» کی قرأت پر «رِجَالٌ» فاعل ہے تو وقف فاعل کے بیان کے بعد چاہیئے۔ کہتے ہیں «رِجَالٌ» اشارہ ہے ان کے بہترین مقاصد اور ان کی پاک نیتوں اور اعلی کاموں کی طرف یہ اللہ کے گھروں کے آباد رکھنے والے ہیں۔ اس کی عبادت کی جگہیں ان سے زینت پاتی ہیں، توحید اور شکر گزری کرنے والے ہیں۔
جیسے فرمان ہے آیت «مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ» [33-الأحزاب:23] ، یعنی ” مومنوں میں ایسے بھی مرد ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کئے تھے انہیں پورے کر دکھایا “۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کی اپنے گھر کی نماز اس کی اپنے صحن کی نماز سے افضل ہے، اور اس کی اپنی اس کوٹھری کی نماز اس کے اپنے گھر کی نماز سے افضل ہے ۔ [سنن ابوداود:570،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے عورتوں کی بہترین مسجد گھر کے اندر کا کونا ہے ۔ [مسند احمد:297/6:حسن بالشواهد]
مسند احمد میں ہے کہ ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت پسند کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مجھے بھی معلوم ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تیری اپنے گھر کی نماز صحن کی نماز سے اور حجرے کی نماز گھر کی نماز سے اور گھر کی کوٹھڑی کی نماز حجرے کی نماز سے افضل ہے۔ اور محلے کی مسجد سے افضل گھر کی نماز ہے اور محلے کی مسجد کی نماز میری مسجد کی نماز سے افضل ہے ۔ یہ سن کر مائی صاحبہ نے اپنے گھر کے بالکل انتہائی حصے میں ایک جگہ کو بطور مسجد کے مقرر کر لیا اور آخری گھڑی تک وہیں نماز پڑھتی رہیں ۔ رضی اللہ عنہا۔ [مسند احمد:371/6:حسن]
ہاں البتہ عورتوں کے لیے بھی مسجد میں مردوں کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ضرور ہے۔ بشرطیکہ مردوں پر اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں اور نہ خوشبو لگا کر نکلیں۔ صحیح حدیث میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو ۔ [صحیح بخاری:900]
ابوداؤد میں ہے کہ عورتوں کے لیے ان کے گھر افضل ہیں ۔ [سنن ابوداود:567،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ وہ خوشبو استعمال کرکے نہ نکلیں ۔ [سنن ابوداود:565،قال الشيخ الألباني:صحیح بالشواهد]
صفحہ نمبر5943
صحیح مسلم شریف میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد آنا چاہے تو خوشبو کو ہاتھ بھی نہ لگائے ۔ [صحیح مسلم:443]
بخاری و مسلم میں ہے کہ ”مسلمان عورتیں صبح کی نماز میں آتی تھیں پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی چلی جاتی تھیں اور بوجہ رات کے اندھیرے کی وجہ سے وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔“ [صحیح بخاری:372]
ام المؤمنین سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”عورتوں نے یہ جو نئی نئی باتیں نکالیں ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کو پالیتے تو انہیں مسجدوں میں آنے سے روک دیتے جیسے کہ بنو اسرائیل کی عورتیں روک دی گئیں۔“ [صحیح بخاری:869]
صفحہ نمبر5944
ایسے لوگ جنہیں خرید و فروخت یاد الٰہی سے نہیں روکتی۔ جیسے ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» [63-المنافقون:9] ” ایمان والو، مال و اولاد تمہیں ذکر اللہ سے غافل نہ کر دے “۔ سورۃ الجمعہ میں ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» [62-الجمعة:9] ” جمعہ کی اذان سن کر ذکر اللہ کی طرف چل پڑو اور تجارت چھوڑ دو “۔
مطلب یہ ہے کہ ان نیک لوگوں کو دنیا اور متاع آخرت اور ذکر اللہ سے غافل نہ کر سکتی، انہیں آخرت اور آخرت کی نعمتوں پر یقین کامل ہے اور انہیں ہمیشہ رہنے والا سمجھتے ہیں اور یہاں کی چیزوں کو فانی جانتے ہیں اس لیے انہیں چھوڑ کر اس طرف توجہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو، اس کی محبت کو، اس کے احکام کو مقدم کرتے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ تجارت پیشہ حضرات کو اذان سن کر اپنے کام کاج چھوڑ کر مسجد کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا ”یہ لوگ انہی میں سے ہیں۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔
صفحہ نمبر5945
ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”میں سوداگری یا تجارت کروں اگرچہ اس میں مجھے ہر دن تین سو اشرفیاں ملتی ہوں لیکن میں نمازوں کے وقت یہ سب چھوڑ کر ضرور چلا جاؤں گا۔“ میرا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تجارت کرنا حرام ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم میں یہ وصف ہونا چاہیئے، جو اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ نماز کے لیے جا رہے تھے، دیکھا کہ مدینہ شریف کے سوداگر اپنی اپنی دوکانوں پر کپڑے ڈھک کر نماز کے لیے گئے ہوئے ہیں اور کوئی بھی دوکان پر موجود نہیں تو یہی آیت پڑھی اور فرمایا ”یہ انہی میں سے ہیں جن کی تعریف جناب باری نے فرمائی ہے۔“
اس بات کا سلف میں یہاں تک خیال تھا کہ ترازو اٹھائے تول رہے ہیں اور اذان کان میں پڑی تو ترازو رکھ دی اور مسجد کی طرف چل دئے فرض نماز باجماعت مسجد میں ادا کرنے کا انہیں عشق تھا۔ وہ نماز کے اوقات کی ارکان اور آداب کی حفاظت کے ساتھ نمازوں کے پابند تھے۔ یہ اس لیے کہ دلوں میں خوف الٰہی تھا قیامت کا آنا برحق جانتے تھے اس دن کی خوفناکی سے واقف تھے کہ سخت تر گھبراہٹ اور کامل پریشانی اور بے حد الجھن کی وجہ سے آنکھیں پتھرا جائیں گی، دل اڑ جائیں گے، کلیجے دہل جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا» [76-الإنسان:8-12] ” میرے نیک بندے میری محبت کی بنا پر مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہیں محض اللہ کی رضاجوئی کے لیے کھلا رہے ہیں، ہمارا مقصد تم سے شکریہ طلب کرنے یا بدلہ لینے کا نہیں۔ ہمیں تو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر ہے جب کہ لوگ مارے رنج و غم کے منہ بسورے ہوئے اور تیوریاں بدلے ہوئے ہوں گے۔ پس اللہ ہی انہیں اس دن کی مصیبتوں سے نجات دے گا اور انہیں تروتازگی بشاشت، ہنسی خوشی اور راحت و آرام سے ملا دے گا۔ اور ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا “۔
صفحہ نمبر5946
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” ان کی نیکیاں مقبول ہیں، برائیاں معاف ہیں ان کے ایک ایک عمل کا بہترین بدلہ مع زیادتی اور اللہ کے فضل کے انہیں ضرور ملنا ہے “۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» [4-النساء:40] ” اللہ تعالیٰ بقدر ایک ذرے کے بھی ظلم نہیں کرتا “۔ اور آیت میں ہے «مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا» [6-الأنعام:160] ” نیکی دس گناہ کر دی جاتی ہے “۔
اور آیت میں ہے «مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرة:245] ” جو اللہ کو اچھا قرض دے گا، اسے اللہ تعالیٰ بڑھا چڑھا کر زیادہ سے زیادہ کرکے دے گا “۔ فرمان ہے آیت «يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاءُ» [2-البقرة:261] ” وہ بڑھا دیتا ہے جس کے لیے چاہے “۔ یہاں فرمان ہے ” وہ جسے چاہے بے حساب دیتا ہے “۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مرتبہ دودھ لایا گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی مجلس کے ساتھیوں میں سے ہر ایک کو پلانا چاہا مگر سب روزے سے تھے۔ اس لیے آپ رضی اللہ عنہ ہی کے پاس پھر برتن آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت «يَخَافُونَ» سے پڑھی اور پی لیا۔
صفحہ نمبر5947
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہونگے، اللہ تعالیٰ ایک منادی کو حکم دے گا جو باآواز بلند ندا کرے گا جسے تمام اہل محشر سنیں گے کہ آج سب کو معلوم ہو جائے گا کہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ بزرگ کون ہے؟ پھر فرمائے گا ” وہ لوگ کھڑے ہو جائیں گے جنہیں لین دین اور تجارت ذکر اللہ سے روکتا نہ تھا “،طپس وہ کھڑے ہو جائیں گے اور وہ بہت ہی کم ہوں گے سب سے پہلے انہیں حساب سے فارغ کیا جائے گا ۔
[الدر المنشور للسیوطی:95/5]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی نیکیوں کا اجر یعنی جنت بھی انہیں ملے گی اور مزید فضل الٰہی یہ ہو گا کہ جن لوگوں نے ان کے ساتھ احسان کئے ہوں گے اور وہ مستحق شفاعت ہونگے ان سب کی شفاعت کا منصب انہیں حاصل ہو جائے گا ۔ [طبرانی کبیر:10462:ضعیف]
صفحہ نمبر5948
مومن کے دل سے مماثلت ٭٭
مومن کے دل کی اور اس میں جو ہدایت وعلم ہے اس کی مثال اوپر والی آیت میں اس روشن چراغ سے دی تھی جو شیشہ کی ہانڈی میں ہو اور صاف زیتون کے روشن تیل سے جل رہا ہے۔ اس لیئے یہاں اس کی عبادت کی جاتی ہے اور اس کی توحید بیان کی جاتی ہے۔ جن کی نگہبانی اور پاک صاف رکھنے کا اور بے ہودہ اقوال و افعال سے بچانے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ ” «أَنْ تُرْفَعَ» کے معنی اس میں بیہودگی نہ کرنے کے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے یہی مسجدیں ہیں جن کی تعمیر، آبادی، ادب اور پاکیزگی کا حکم اللہ نے دیا ہے۔“ کعب رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے کہ زمین پر مسجدیں میرا گھر ہیں، جو بھی باوضو میرے گھر پر میری ملاقات کے لیے آئے گا، میں اس کی عزت کرونگا ہر اس شخص پر جس سے ملنے کے لیے کوئی اس کے گھر آئے حق ہے کہ وہ اس کی تکریم کرے [ تفسیر ابن ابی حاتم ]
مسجدوں کے بنانے اور ان کا ادب احترام کرنے انہیں خوشبودار اور پاک صاف رکھنے کے بارے میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں جنہیں بحمد اللہ میں نے ایک مستقل کتاب میں لکھا ہے یہاں بھی ان میں سے تھوڑی بہت وارد کرتا ہوں، اللہ مدد کرے اسی پر بھروسہ اور توکل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اسی جیسا گھر جنت میں بناتا ہے ۔ [صحیح بخاری:450]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نام اللہ کے ذکر کئے جانے کے لیے جو شخص مسجد بنائے اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:735،قال الشيخ الألباني:صحیح]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور پاک صاف اور خوشبودار رکھی جائیں ۔ [سنن ابوداود:455،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5937
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے ”لوگوں کے لیے مسجدیں بناؤ جہاں انہیں جگہ ملے لیکن سرخ یا زردرنگ سے بچو تاکہ لوگ فتنے میں نہ پڑیں۔“ [صحیح بخاری تعلیقا:کتاب الصلواۃ:باب:بنیان المسجد]
ایک ضعیف سند سے مروی ہے کہ جب تک کسی قوم نے اپنی مسجدوں کو ٹیپ ٹاپ والا، نقش و نگار اور رنگ روغن والا نہ بنایا ان کے اعلام برے نہیں ہوئے ۔ [سنن ابن ماجه:741، قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے مسجدوں کو بلند و بالا اور پختہ بنانے کا حکم نہیں دیا گیا ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ ”تم یقیناً مسجدوں کو مزین، منقش اور رنگ دار کرو گے جیسے کہ یہودونصاری نے کیا۔“ [سنن ابوداود:448، قال الشيخ الألباني:صحیح]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ لوگ مسجدوں کے بارے میں آپس میں ایک دوسرے پر فخر و غرور نہ کرنے لگیں ۔ [سنن ابوداود:449،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک شخص مسجد میں اپنے اونٹ کو ڈھونڈتا ہوا آیا اور کہنے لگا ہے کوئی جو مجھے میرے سرخ رنگ کے اونٹ کا پتہ دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی کہ اللہ کرے تجھے نہ ملے۔ مسجدیں تو جس مطلب کے لیے بنائی گئی ہیں، اسی کام کے لیے ہیں ۔ [صحیح مسلم:569]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدوں میں خرید و فروخت، تجارت کرنے سے اور وہاں اشعار کے گائے جانے سے منع فرما دیا ہے ۔ [سنن ابوداود:1079،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5938
فرمان ہے کہ جسے مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہو کہ اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے اور جب کسی کو گمشدہ جانور مسجد میں تلاش کرتا ہوا پاؤ تو کہو کہ اللہ کرے نہ ملے ۔ [سنن ترمذي:1321،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بہت سی باتیں مسجد کے لائق نہیں، مسجد کو راستہ نہ بنایا جائے، نہ تیر پھیلائے جائیں نہ کچا گوشت لایا جائے، نہ یہاں حد ماری جائے، نہ یہاں باتیں اور قصے کہے جائیں نہ اسے بازار بنایا جائے ۔ [سنن ابن ماجه:748،قال الشيخ الألباني:ضعیف و صحت منه الخصلة الاولى]
صفحہ نمبر5939
فرمان ہے کہ ہماری مسجدوں سے اپنے بچوں کو، دیوانوں کو، خرید و فروخت کو، لڑائی جھگڑے کو اور بلند آواز سے بولنے کو اور حد جاری کرنے کو اور تلواروں کے ننگی کرنے کو روکو۔ ان کے دروازوں پر وضو وغیرہ کی جگہ بناؤ اور جمعہ کے دن انہیں خوشبو سے مہکا دو ۔ [سنن ابن ماجه:750،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔
بعض علماء نے بلا ضرورت کے مسجدوں کو گزرگاہ بنانا مکروہ کہا ہے۔ ایک اثر میں ہے کہ جو شخص بغیر نماز پڑھے مسجد سے گزر جائے، فرشتے اس پر تعجب کرتے ہیں۔ ہتھیاروں اور تیروں سے جو منع فرمایا یہ اس لیے کہ مسلمان وہاں بکثرت جمع ہوتے ہیں ایسان نہ ہو کہ کسی کے لگ جائے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ تیر یا نیزہ لے کر گزرے تو اسے چاہیئے کہ اس کا پھل اپنے ہاتھ میں رکھے تاکہ کسی کو ایذاء نہ پہنچے ۔ [صحیح بخاری:452]
کچا گوشت لانا اس لیے منع ہے کہ خوف ہے اس میں سے خون نہ ٹپکے جیسے کہ حائضہ عورت کو بھی اسی وجہ سے مسجد میں آنے کی ممانعت کر دی گئی ہے۔ مسجد میں حد لگانا اور قصاص لینا اس لیے منع کیا گیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شخص مسجد کو نجس نہ کر دے۔ بازار بنانا اس لیے منع ہے کہ وہ خرید و فروخت کی جگہ ہے اور مسجد میں یہ دونوں باتیں منع ہیں۔ کیونکہ مسجدیں ذکر اللہ اور نماز کی جگہ ہیں۔ جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے فرمایا تھا، جس نے مسجد کے گوشے میں پیشاب کر دیا تھا کہ مسجدیں اس لیے نہیں بنیں، بلکہ وہ اللہ کے ذکر اور نماز کی جگہ ہے ۔ پھر اس کے پیشاب پر ایک بڑا ڈول پانی کا بہانے کا حکم دیا ۔ [صحیح بخاری:6025]
دوسری حدیث میں ہے اپنے بچوں کو اپنی مسجدوں سے روکو [سنن ابن ماجه:750،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس لیے کہ کھیل کود ہی ان کا کام ہے اور مسجد میں یہ مناسب نہیں۔
چنانچہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہا جب کسی بچے کو مسجد میں کھیلتا ہوا دیکھ لیتے تو اسے کوڑے سے پیٹتے اور عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں کسی کو نہ رہنے دیتے۔ دیوانوں کو بھی مسجدوں سے روکا گیا کیونکہ وہ بےعقل ہوتے ہیں اور لوگوں کے مذاق کا ذریعہ ہوتے ہیں اور مسجد اس تماشے کے لائق نہیں۔ اور یہ بھی ہے کہ ان کی نجاست وغیرہ کا خوف ہے۔ بیع و شرا سے روکا گیا کیونکہ وہ ذکر اللہ سے مانع ہے۔ جھگڑوں کی مصالحتیٰ مجلس منعقد کرنے سے اس لیے منع کر دیا گیا کہ اس میں آوازیں بلند ہوتی ہیں ایسے الفاظ بھی نکل جاتے ہیں جو آداب مسجد کے خلاف ہیں۔
صفحہ نمبر5940
اکثر علماء کا قول ہے کہ فیصلے مسجد میں نہ کئے جائیں اسی لیے اس جملے کے بعد بلند آواز سے منع فرمایا۔ سائب بن یزید کندی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ”میں مسجد میں کھڑا تھا کہ اچانک مجھ پر کسی نے کنکر پھینکا، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے مجھ سے فرمانے لگے، جاؤ ان دونوں شخصوں کو میرے پاس لاؤ، جب میں آپ کے پاس انہیں لایا تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا۔ تم کون ہو؟ یا پوچھا کہ ”تم کہاں کے ہو“؟ انہوں نے کہ ”ہم طائف کے رہنے والے ہیں۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر تم یہاں رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سخت سزا دیتا تم مسجد نبوی میں اونچی اونچی آوازوں سے بول رہے ہو“؟ [صحیح بخاری:470]
ایک شخص کی اونچی آواز سن کر جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا۔ ”جانتا بھی ہے تو کہاں ہے؟۔“ [ نسائی ]
اور مسجد کے دروازوں پر وضو کرنے والے اور پاکیزگی حاصل کرنے کی جگہ بنانے کا حکم دیا۔ مسجد نبوی کے قریب ہی کنویں تھے جن میں سے پانی کھینچ کر پیتے تھے اور وضو اور پاکیزگی حاصل کرتے تھے۔ اور جمعہ کے دن اسے خوشبودار کرنے کا حکم ہوا ہے کیونکہ اس دن لوگ بکثر جمع ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ہر جمعہ کے دن مسجد نبوی کو مہکایا کرتے تھے۔ بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جماعت کی نماز انسان کی اکیلی نماز پر جو گھر میں یا دوکان پر پڑھی جائے، پچیس درجے زیادہ ثواب رکھتی ہے، یہ اس لیے کہ جب وہ اچھی طرح سے وضو کرکے صرف نماز کے ارادے سے چلتا ہے تو ہر ایک قدم کے اٹھانے پر اس کا ایک درجہ بڑھتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے اور جب نماز پڑھ چکتا ہے پھر جت تک وہ اپنی نماز کی جگہ رہے، فرشتے اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اے اللہ اس پر اپنی رحمت نازل فرما اور اس پر رحم کر۔ اور جب تک جماعت کے انتظار میں رہے نماز کا ثواب ملتا رہتا ہے ۔ [صحیح بخاری:477]
دارقطنی میں ہے مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے سوا نہیں ہوتی ۔ [دارقطنی:420/1:موقوف]
صفحہ نمبر5941
سنن میں ہے اندھیروں میں مسجد جانے والوں کو خوشخبری سنا دو کہ انہیں قیامت کے دن پورا پورا نور ملے گا ۔ [سنن ابوداود:561،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ بھی مستحب ہے کہ مسجد میں جانے والا پہلے اپنا داہنا قدم رکھے اور یہ دعا پڑھے۔ بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں آتے یہ کہتے «أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ، وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ، وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ، مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ۔ فرمان ہے کہ جب کوئی شخص یہ پڑھتا ہے شیطان کہتا ہے میرے شر سے یہ تمام دن محفوظ ہو گیا ۔ [سنن ابوداود:466،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ تم میں سے کوئی مسجد میں جانا چاہے یہ دعا پڑھے «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے“ اور جب مسجد سے باہر جائے تو یہ کہے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ» ”اے اللہ! میں تیرے فضل کا طالب ہوں ۔ [صحیح مسلم:713]
ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے پھر دعا «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» پڑھے اور جب مسجد سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیج کر دعا «اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» پڑھے ۔ [سنن ابن ماجه:773،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ترمذی وغیرہ میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آتے تو درود پڑھ کر دعا «اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» پڑھتے اور جب مسجد سے نکلتے تو درود کے بعد دعا «اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ» پڑھتے ۔ [سنن ترمذي:314،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس حدیث کی سند متصل نہیں۔
الغرض یہ اور ان جیسی اور بہت سی حدیثیں اس آیت کے متعلق ہیں جو مسجد اور احکام مسجد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ اور آیت میں ہے «يَابَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ» [7-الأعراف:31] ” تم ہر مسجد میں اپنا منہ سیدھا رکھو “۔ «وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» [7-الأعراف:29] ” اور خلوص کے ساتھ صرف اللہ کو پکارو “۔
ایک اور آیت میں ہے کہ «وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا» [72-الجن:18] ” مسجدیں اللہ ہی کی ہیں۔ اس کا نام ان میں لیا جائے “ یعنی کتاب اللہ کی تلاوت کی جائے۔
” صبح شام وہاں اس اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں “ «آصَالُ» جمع ہے «أَصِيلٍ» کی، شام کے وقت کو «أَصِيلٍ» کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر5942
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جہاں کہیں قرآن میں «تَسْبِيحٍ» کا لفظ ہے وہاں مراد نماز ہے۔“ پس یہاں مراد صبح کی اور عصر کی نماز ہے۔ پہلے پہلے یہی دو نمازیں فرض ہوئی تھیں پس وہی یاد دلائی گئیں۔
ایک قرأت میں «يُسَبِّحُ» ہے اور اس قرأت پر «وَالْآصَالِ» پر پورا وقف ہے اور «رِجَالٌ» سے پھر دوسری بات شروع ہے گویا کہ وہ مفسر ہے فاعل محذوف کے لیے۔ تو گویا کہا گیا کہ وہاں تسبیح کون کرتے ہیں؟ تو جواب دیا گیا کہ ایسے لوگ اور «يُسَبِّحُ» کی قرأت پر «رِجَالٌ» فاعل ہے تو وقف فاعل کے بیان کے بعد چاہیئے۔ کہتے ہیں «رِجَالٌ» اشارہ ہے ان کے بہترین مقاصد اور ان کی پاک نیتوں اور اعلی کاموں کی طرف یہ اللہ کے گھروں کے آباد رکھنے والے ہیں۔ اس کی عبادت کی جگہیں ان سے زینت پاتی ہیں، توحید اور شکر گزری کرنے والے ہیں۔
جیسے فرمان ہے آیت «مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ» [33-الأحزاب:23] ، یعنی ” مومنوں میں ایسے بھی مرد ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کئے تھے انہیں پورے کر دکھایا “۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کی اپنے گھر کی نماز اس کی اپنے صحن کی نماز سے افضل ہے، اور اس کی اپنی اس کوٹھری کی نماز اس کے اپنے گھر کی نماز سے افضل ہے ۔ [سنن ابوداود:570،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے عورتوں کی بہترین مسجد گھر کے اندر کا کونا ہے ۔ [مسند احمد:297/6:حسن بالشواهد]
مسند احمد میں ہے کہ ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت پسند کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مجھے بھی معلوم ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تیری اپنے گھر کی نماز صحن کی نماز سے اور حجرے کی نماز گھر کی نماز سے اور گھر کی کوٹھڑی کی نماز حجرے کی نماز سے افضل ہے۔ اور محلے کی مسجد سے افضل گھر کی نماز ہے اور محلے کی مسجد کی نماز میری مسجد کی نماز سے افضل ہے ۔ یہ سن کر مائی صاحبہ نے اپنے گھر کے بالکل انتہائی حصے میں ایک جگہ کو بطور مسجد کے مقرر کر لیا اور آخری گھڑی تک وہیں نماز پڑھتی رہیں ۔ رضی اللہ عنہا۔ [مسند احمد:371/6:حسن]
ہاں البتہ عورتوں کے لیے بھی مسجد میں مردوں کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ضرور ہے۔ بشرطیکہ مردوں پر اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں اور نہ خوشبو لگا کر نکلیں۔ صحیح حدیث میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو ۔ [صحیح بخاری:900]
ابوداؤد میں ہے کہ عورتوں کے لیے ان کے گھر افضل ہیں ۔ [سنن ابوداود:567،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ وہ خوشبو استعمال کرکے نہ نکلیں ۔ [سنن ابوداود:565،قال الشيخ الألباني:صحیح بالشواهد]
صفحہ نمبر5943
صحیح مسلم شریف میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد آنا چاہے تو خوشبو کو ہاتھ بھی نہ لگائے ۔ [صحیح مسلم:443]
بخاری و مسلم میں ہے کہ ”مسلمان عورتیں صبح کی نماز میں آتی تھیں پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی چلی جاتی تھیں اور بوجہ رات کے اندھیرے کی وجہ سے وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔“ [صحیح بخاری:372]
ام المؤمنین سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”عورتوں نے یہ جو نئی نئی باتیں نکالیں ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کو پالیتے تو انہیں مسجدوں میں آنے سے روک دیتے جیسے کہ بنو اسرائیل کی عورتیں روک دی گئیں۔“ [صحیح بخاری:869]
صفحہ نمبر5944
ایسے لوگ جنہیں خرید و فروخت یاد الٰہی سے نہیں روکتی۔ جیسے ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» [63-المنافقون:9] ” ایمان والو، مال و اولاد تمہیں ذکر اللہ سے غافل نہ کر دے “۔ سورۃ الجمعہ میں ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» [62-الجمعة:9] ” جمعہ کی اذان سن کر ذکر اللہ کی طرف چل پڑو اور تجارت چھوڑ دو “۔
مطلب یہ ہے کہ ان نیک لوگوں کو دنیا اور متاع آخرت اور ذکر اللہ سے غافل نہ کر سکتی، انہیں آخرت اور آخرت کی نعمتوں پر یقین کامل ہے اور انہیں ہمیشہ رہنے والا سمجھتے ہیں اور یہاں کی چیزوں کو فانی جانتے ہیں اس لیے انہیں چھوڑ کر اس طرف توجہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو، اس کی محبت کو، اس کے احکام کو مقدم کرتے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ تجارت پیشہ حضرات کو اذان سن کر اپنے کام کاج چھوڑ کر مسجد کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا ”یہ لوگ انہی میں سے ہیں۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔
صفحہ نمبر5945
ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”میں سوداگری یا تجارت کروں اگرچہ اس میں مجھے ہر دن تین سو اشرفیاں ملتی ہوں لیکن میں نمازوں کے وقت یہ سب چھوڑ کر ضرور چلا جاؤں گا۔“ میرا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تجارت کرنا حرام ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم میں یہ وصف ہونا چاہیئے، جو اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ نماز کے لیے جا رہے تھے، دیکھا کہ مدینہ شریف کے سوداگر اپنی اپنی دوکانوں پر کپڑے ڈھک کر نماز کے لیے گئے ہوئے ہیں اور کوئی بھی دوکان پر موجود نہیں تو یہی آیت پڑھی اور فرمایا ”یہ انہی میں سے ہیں جن کی تعریف جناب باری نے فرمائی ہے۔“
اس بات کا سلف میں یہاں تک خیال تھا کہ ترازو اٹھائے تول رہے ہیں اور اذان کان میں پڑی تو ترازو رکھ دی اور مسجد کی طرف چل دئے فرض نماز باجماعت مسجد میں ادا کرنے کا انہیں عشق تھا۔ وہ نماز کے اوقات کی ارکان اور آداب کی حفاظت کے ساتھ نمازوں کے پابند تھے۔ یہ اس لیے کہ دلوں میں خوف الٰہی تھا قیامت کا آنا برحق جانتے تھے اس دن کی خوفناکی سے واقف تھے کہ سخت تر گھبراہٹ اور کامل پریشانی اور بے حد الجھن کی وجہ سے آنکھیں پتھرا جائیں گی، دل اڑ جائیں گے، کلیجے دہل جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا» [76-الإنسان:8-12] ” میرے نیک بندے میری محبت کی بنا پر مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہیں محض اللہ کی رضاجوئی کے لیے کھلا رہے ہیں، ہمارا مقصد تم سے شکریہ طلب کرنے یا بدلہ لینے کا نہیں۔ ہمیں تو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر ہے جب کہ لوگ مارے رنج و غم کے منہ بسورے ہوئے اور تیوریاں بدلے ہوئے ہوں گے۔ پس اللہ ہی انہیں اس دن کی مصیبتوں سے نجات دے گا اور انہیں تروتازگی بشاشت، ہنسی خوشی اور راحت و آرام سے ملا دے گا۔ اور ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا “۔
صفحہ نمبر5946
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” ان کی نیکیاں مقبول ہیں، برائیاں معاف ہیں ان کے ایک ایک عمل کا بہترین بدلہ مع زیادتی اور اللہ کے فضل کے انہیں ضرور ملنا ہے “۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» [4-النساء:40] ” اللہ تعالیٰ بقدر ایک ذرے کے بھی ظلم نہیں کرتا “۔ اور آیت میں ہے «مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا» [6-الأنعام:160] ” نیکی دس گناہ کر دی جاتی ہے “۔
اور آیت میں ہے «مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرة:245] ” جو اللہ کو اچھا قرض دے گا، اسے اللہ تعالیٰ بڑھا چڑھا کر زیادہ سے زیادہ کرکے دے گا “۔ فرمان ہے آیت «يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاءُ» [2-البقرة:261] ” وہ بڑھا دیتا ہے جس کے لیے چاہے “۔ یہاں فرمان ہے ” وہ جسے چاہے بے حساب دیتا ہے “۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مرتبہ دودھ لایا گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی مجلس کے ساتھیوں میں سے ہر ایک کو پلانا چاہا مگر سب روزے سے تھے۔ اس لیے آپ رضی اللہ عنہ ہی کے پاس پھر برتن آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت «يَخَافُونَ» سے پڑھی اور پی لیا۔
صفحہ نمبر5947
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہونگے، اللہ تعالیٰ ایک منادی کو حکم دے گا جو باآواز بلند ندا کرے گا جسے تمام اہل محشر سنیں گے کہ آج سب کو معلوم ہو جائے گا کہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ بزرگ کون ہے؟ پھر فرمائے گا ” وہ لوگ کھڑے ہو جائیں گے جنہیں لین دین اور تجارت ذکر اللہ سے روکتا نہ تھا “،طپس وہ کھڑے ہو جائیں گے اور وہ بہت ہی کم ہوں گے سب سے پہلے انہیں حساب سے فارغ کیا جائے گا ۔
[الدر المنشور للسیوطی:95/5]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی نیکیوں کا اجر یعنی جنت بھی انہیں ملے گی اور مزید فضل الٰہی یہ ہو گا کہ جن لوگوں نے ان کے ساتھ احسان کئے ہوں گے اور وہ مستحق شفاعت ہونگے ان سب کی شفاعت کا منصب انہیں حاصل ہو جائے گا ۔ [طبرانی کبیر:10462:ضعیف]
صفحہ نمبر5948
مومن کے دل سے مماثلت ٭٭
مومن کے دل کی اور اس میں جو ہدایت وعلم ہے اس کی مثال اوپر والی آیت میں اس روشن چراغ سے دی تھی جو شیشہ کی ہانڈی میں ہو اور صاف زیتون کے روشن تیل سے جل رہا ہے۔ اس لیئے یہاں اس کی عبادت کی جاتی ہے اور اس کی توحید بیان کی جاتی ہے۔ جن کی نگہبانی اور پاک صاف رکھنے کا اور بے ہودہ اقوال و افعال سے بچانے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ ” «أَنْ تُرْفَعَ» کے معنی اس میں بیہودگی نہ کرنے کے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے یہی مسجدیں ہیں جن کی تعمیر، آبادی، ادب اور پاکیزگی کا حکم اللہ نے دیا ہے۔“ کعب رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے کہ زمین پر مسجدیں میرا گھر ہیں، جو بھی باوضو میرے گھر پر میری ملاقات کے لیے آئے گا، میں اس کی عزت کرونگا ہر اس شخص پر جس سے ملنے کے لیے کوئی اس کے گھر آئے حق ہے کہ وہ اس کی تکریم کرے [ تفسیر ابن ابی حاتم ]
مسجدوں کے بنانے اور ان کا ادب احترام کرنے انہیں خوشبودار اور پاک صاف رکھنے کے بارے میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں جنہیں بحمد اللہ میں نے ایک مستقل کتاب میں لکھا ہے یہاں بھی ان میں سے تھوڑی بہت وارد کرتا ہوں، اللہ مدد کرے اسی پر بھروسہ اور توکل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اسی جیسا گھر جنت میں بناتا ہے ۔ [صحیح بخاری:450]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نام اللہ کے ذکر کئے جانے کے لیے جو شخص مسجد بنائے اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے ۔ [سنن ابن ماجه:735،قال الشيخ الألباني:صحیح]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور پاک صاف اور خوشبودار رکھی جائیں ۔ [سنن ابوداود:455،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5937
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے ”لوگوں کے لیے مسجدیں بناؤ جہاں انہیں جگہ ملے لیکن سرخ یا زردرنگ سے بچو تاکہ لوگ فتنے میں نہ پڑیں۔“ [صحیح بخاری تعلیقا:کتاب الصلواۃ:باب:بنیان المسجد]
ایک ضعیف سند سے مروی ہے کہ جب تک کسی قوم نے اپنی مسجدوں کو ٹیپ ٹاپ والا، نقش و نگار اور رنگ روغن والا نہ بنایا ان کے اعلام برے نہیں ہوئے ۔ [سنن ابن ماجه:741، قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے مسجدوں کو بلند و بالا اور پختہ بنانے کا حکم نہیں دیا گیا ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ ”تم یقیناً مسجدوں کو مزین، منقش اور رنگ دار کرو گے جیسے کہ یہودونصاری نے کیا۔“ [سنن ابوداود:448، قال الشيخ الألباني:صحیح]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ لوگ مسجدوں کے بارے میں آپس میں ایک دوسرے پر فخر و غرور نہ کرنے لگیں ۔ [سنن ابوداود:449،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک شخص مسجد میں اپنے اونٹ کو ڈھونڈتا ہوا آیا اور کہنے لگا ہے کوئی جو مجھے میرے سرخ رنگ کے اونٹ کا پتہ دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی کہ اللہ کرے تجھے نہ ملے۔ مسجدیں تو جس مطلب کے لیے بنائی گئی ہیں، اسی کام کے لیے ہیں ۔ [صحیح مسلم:569]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدوں میں خرید و فروخت، تجارت کرنے سے اور وہاں اشعار کے گائے جانے سے منع فرما دیا ہے ۔ [سنن ابوداود:1079،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر5938
فرمان ہے کہ جسے مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہو کہ اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے اور جب کسی کو گمشدہ جانور مسجد میں تلاش کرتا ہوا پاؤ تو کہو کہ اللہ کرے نہ ملے ۔ [سنن ترمذي:1321،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بہت سی باتیں مسجد کے لائق نہیں، مسجد کو راستہ نہ بنایا جائے، نہ تیر پھیلائے جائیں نہ کچا گوشت لایا جائے، نہ یہاں حد ماری جائے، نہ یہاں باتیں اور قصے کہے جائیں نہ اسے بازار بنایا جائے ۔ [سنن ابن ماجه:748،قال الشيخ الألباني:ضعیف و صحت منه الخصلة الاولى]
صفحہ نمبر5939
فرمان ہے کہ ہماری مسجدوں سے اپنے بچوں کو، دیوانوں کو، خرید و فروخت کو، لڑائی جھگڑے کو اور بلند آواز سے بولنے کو اور حد جاری کرنے کو اور تلواروں کے ننگی کرنے کو روکو۔ ان کے دروازوں پر وضو وغیرہ کی جگہ بناؤ اور جمعہ کے دن انہیں خوشبو سے مہکا دو ۔ [سنن ابن ماجه:750،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔
بعض علماء نے بلا ضرورت کے مسجدوں کو گزرگاہ بنانا مکروہ کہا ہے۔ ایک اثر میں ہے کہ جو شخص بغیر نماز پڑھے مسجد سے گزر جائے، فرشتے اس پر تعجب کرتے ہیں۔ ہتھیاروں اور تیروں سے جو منع فرمایا یہ اس لیے کہ مسلمان وہاں بکثرت جمع ہوتے ہیں ایسان نہ ہو کہ کسی کے لگ جائے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ تیر یا نیزہ لے کر گزرے تو اسے چاہیئے کہ اس کا پھل اپنے ہاتھ میں رکھے تاکہ کسی کو ایذاء نہ پہنچے ۔ [صحیح بخاری:452]
کچا گوشت لانا اس لیے منع ہے کہ خوف ہے اس میں سے خون نہ ٹپکے جیسے کہ حائضہ عورت کو بھی اسی وجہ سے مسجد میں آنے کی ممانعت کر دی گئی ہے۔ مسجد میں حد لگانا اور قصاص لینا اس لیے منع کیا گیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شخص مسجد کو نجس نہ کر دے۔ بازار بنانا اس لیے منع ہے کہ وہ خرید و فروخت کی جگہ ہے اور مسجد میں یہ دونوں باتیں منع ہیں۔ کیونکہ مسجدیں ذکر اللہ اور نماز کی جگہ ہیں۔ جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے فرمایا تھا، جس نے مسجد کے گوشے میں پیشاب کر دیا تھا کہ مسجدیں اس لیے نہیں بنیں، بلکہ وہ اللہ کے ذکر اور نماز کی جگہ ہے ۔ پھر اس کے پیشاب پر ایک بڑا ڈول پانی کا بہانے کا حکم دیا ۔ [صحیح بخاری:6025]
دوسری حدیث میں ہے اپنے بچوں کو اپنی مسجدوں سے روکو [سنن ابن ماجه:750،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس لیے کہ کھیل کود ہی ان کا کام ہے اور مسجد میں یہ مناسب نہیں۔
چنانچہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہا جب کسی بچے کو مسجد میں کھیلتا ہوا دیکھ لیتے تو اسے کوڑے سے پیٹتے اور عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں کسی کو نہ رہنے دیتے۔ دیوانوں کو بھی مسجدوں سے روکا گیا کیونکہ وہ بےعقل ہوتے ہیں اور لوگوں کے مذاق کا ذریعہ ہوتے ہیں اور مسجد اس تماشے کے لائق نہیں۔ اور یہ بھی ہے کہ ان کی نجاست وغیرہ کا خوف ہے۔ بیع و شرا سے روکا گیا کیونکہ وہ ذکر اللہ سے مانع ہے۔ جھگڑوں کی مصالحتیٰ مجلس منعقد کرنے سے اس لیے منع کر دیا گیا کہ اس میں آوازیں بلند ہوتی ہیں ایسے الفاظ بھی نکل جاتے ہیں جو آداب مسجد کے خلاف ہیں۔
صفحہ نمبر5940
اکثر علماء کا قول ہے کہ فیصلے مسجد میں نہ کئے جائیں اسی لیے اس جملے کے بعد بلند آواز سے منع فرمایا۔ سائب بن یزید کندی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ”میں مسجد میں کھڑا تھا کہ اچانک مجھ پر کسی نے کنکر پھینکا، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے مجھ سے فرمانے لگے، جاؤ ان دونوں شخصوں کو میرے پاس لاؤ، جب میں آپ کے پاس انہیں لایا تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا۔ تم کون ہو؟ یا پوچھا کہ ”تم کہاں کے ہو“؟ انہوں نے کہ ”ہم طائف کے رہنے والے ہیں۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر تم یہاں رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سخت سزا دیتا تم مسجد نبوی میں اونچی اونچی آوازوں سے بول رہے ہو“؟ [صحیح بخاری:470]
ایک شخص کی اونچی آواز سن کر جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا۔ ”جانتا بھی ہے تو کہاں ہے؟۔“ [ نسائی ]
اور مسجد کے دروازوں پر وضو کرنے والے اور پاکیزگی حاصل کرنے کی جگہ بنانے کا حکم دیا۔ مسجد نبوی کے قریب ہی کنویں تھے جن میں سے پانی کھینچ کر پیتے تھے اور وضو اور پاکیزگی حاصل کرتے تھے۔ اور جمعہ کے دن اسے خوشبودار کرنے کا حکم ہوا ہے کیونکہ اس دن لوگ بکثر جمع ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ہر جمعہ کے دن مسجد نبوی کو مہکایا کرتے تھے۔ بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جماعت کی نماز انسان کی اکیلی نماز پر جو گھر میں یا دوکان پر پڑھی جائے، پچیس درجے زیادہ ثواب رکھتی ہے، یہ اس لیے کہ جب وہ اچھی طرح سے وضو کرکے صرف نماز کے ارادے سے چلتا ہے تو ہر ایک قدم کے اٹھانے پر اس کا ایک درجہ بڑھتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے اور جب نماز پڑھ چکتا ہے پھر جت تک وہ اپنی نماز کی جگہ رہے، فرشتے اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اے اللہ اس پر اپنی رحمت نازل فرما اور اس پر رحم کر۔ اور جب تک جماعت کے انتظار میں رہے نماز کا ثواب ملتا رہتا ہے ۔ [صحیح بخاری:477]
دارقطنی میں ہے مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے سوا نہیں ہوتی ۔ [دارقطنی:420/1:موقوف]
صفحہ نمبر5941
سنن میں ہے اندھیروں میں مسجد جانے والوں کو خوشخبری سنا دو کہ انہیں قیامت کے دن پورا پورا نور ملے گا ۔ [سنن ابوداود:561،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ بھی مستحب ہے کہ مسجد میں جانے والا پہلے اپنا داہنا قدم رکھے اور یہ دعا پڑھے۔ بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں آتے یہ کہتے «أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ، وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ، وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ، مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ۔ فرمان ہے کہ جب کوئی شخص یہ پڑھتا ہے شیطان کہتا ہے میرے شر سے یہ تمام دن محفوظ ہو گیا ۔ [سنن ابوداود:466،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ تم میں سے کوئی مسجد میں جانا چاہے یہ دعا پڑھے «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے“ اور جب مسجد سے باہر جائے تو یہ کہے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ» ”اے اللہ! میں تیرے فضل کا طالب ہوں ۔ [صحیح مسلم:713]
ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے پھر دعا «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» پڑھے اور جب مسجد سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیج کر دعا «اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» پڑھے ۔ [سنن ابن ماجه:773،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ترمذی وغیرہ میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آتے تو درود پڑھ کر دعا «اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» پڑھتے اور جب مسجد سے نکلتے تو درود کے بعد دعا «اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ» پڑھتے ۔ [سنن ترمذي:314،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس حدیث کی سند متصل نہیں۔
الغرض یہ اور ان جیسی اور بہت سی حدیثیں اس آیت کے متعلق ہیں جو مسجد اور احکام مسجد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ اور آیت میں ہے «يَابَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ» [7-الأعراف:31] ” تم ہر مسجد میں اپنا منہ سیدھا رکھو “۔ «وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» [7-الأعراف:29] ” اور خلوص کے ساتھ صرف اللہ کو پکارو “۔
ایک اور آیت میں ہے کہ «وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا» [72-الجن:18] ” مسجدیں اللہ ہی کی ہیں۔ اس کا نام ان میں لیا جائے “ یعنی کتاب اللہ کی تلاوت کی جائے۔
” صبح شام وہاں اس اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں “ «آصَالُ» جمع ہے «أَصِيلٍ» کی، شام کے وقت کو «أَصِيلٍ» کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر5942
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جہاں کہیں قرآن میں «تَسْبِيحٍ» کا لفظ ہے وہاں مراد نماز ہے۔“ پس یہاں مراد صبح کی اور عصر کی نماز ہے۔ پہلے پہلے یہی دو نمازیں فرض ہوئی تھیں پس وہی یاد دلائی گئیں۔
ایک قرأت میں «يُسَبِّحُ» ہے اور اس قرأت پر «وَالْآصَالِ» پر پورا وقف ہے اور «رِجَالٌ» سے پھر دوسری بات شروع ہے گویا کہ وہ مفسر ہے فاعل محذوف کے لیے۔ تو گویا کہا گیا کہ وہاں تسبیح کون کرتے ہیں؟ تو جواب دیا گیا کہ ایسے لوگ اور «يُسَبِّحُ» کی قرأت پر «رِجَالٌ» فاعل ہے تو وقف فاعل کے بیان کے بعد چاہیئے۔ کہتے ہیں «رِجَالٌ» اشارہ ہے ان کے بہترین مقاصد اور ان کی پاک نیتوں اور اعلی کاموں کی طرف یہ اللہ کے گھروں کے آباد رکھنے والے ہیں۔ اس کی عبادت کی جگہیں ان سے زینت پاتی ہیں، توحید اور شکر گزری کرنے والے ہیں۔
جیسے فرمان ہے آیت «مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ» [33-الأحزاب:23] ، یعنی ” مومنوں میں ایسے بھی مرد ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کئے تھے انہیں پورے کر دکھایا “۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کی اپنے گھر کی نماز اس کی اپنے صحن کی نماز سے افضل ہے، اور اس کی اپنی اس کوٹھری کی نماز اس کے اپنے گھر کی نماز سے افضل ہے ۔ [سنن ابوداود:570،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے عورتوں کی بہترین مسجد گھر کے اندر کا کونا ہے ۔ [مسند احمد:297/6:حسن بالشواهد]
مسند احمد میں ہے کہ ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت پسند کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مجھے بھی معلوم ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تیری اپنے گھر کی نماز صحن کی نماز سے اور حجرے کی نماز گھر کی نماز سے اور گھر کی کوٹھڑی کی نماز حجرے کی نماز سے افضل ہے۔ اور محلے کی مسجد سے افضل گھر کی نماز ہے اور محلے کی مسجد کی نماز میری مسجد کی نماز سے افضل ہے ۔ یہ سن کر مائی صاحبہ نے اپنے گھر کے بالکل انتہائی حصے میں ایک جگہ کو بطور مسجد کے مقرر کر لیا اور آخری گھڑی تک وہیں نماز پڑھتی رہیں ۔ رضی اللہ عنہا۔ [مسند احمد:371/6:حسن]
ہاں البتہ عورتوں کے لیے بھی مسجد میں مردوں کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ضرور ہے۔ بشرطیکہ مردوں پر اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں اور نہ خوشبو لگا کر نکلیں۔ صحیح حدیث میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو ۔ [صحیح بخاری:900]
ابوداؤد میں ہے کہ عورتوں کے لیے ان کے گھر افضل ہیں ۔ [سنن ابوداود:567،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ وہ خوشبو استعمال کرکے نہ نکلیں ۔ [سنن ابوداود:565،قال الشيخ الألباني:صحیح بالشواهد]
صفحہ نمبر5943
صحیح مسلم شریف میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد آنا چاہے تو خوشبو کو ہاتھ بھی نہ لگائے ۔ [صحیح مسلم:443]
بخاری و مسلم میں ہے کہ ”مسلمان عورتیں صبح کی نماز میں آتی تھیں پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی چلی جاتی تھیں اور بوجہ رات کے اندھیرے کی وجہ سے وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔“ [صحیح بخاری:372]
ام المؤمنین سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”عورتوں نے یہ جو نئی نئی باتیں نکالیں ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کو پالیتے تو انہیں مسجدوں میں آنے سے روک دیتے جیسے کہ بنو اسرائیل کی عورتیں روک دی گئیں۔“ [صحیح بخاری:869]
صفحہ نمبر5944
ایسے لوگ جنہیں خرید و فروخت یاد الٰہی سے نہیں روکتی۔ جیسے ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» [63-المنافقون:9] ” ایمان والو، مال و اولاد تمہیں ذکر اللہ سے غافل نہ کر دے “۔ سورۃ الجمعہ میں ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّـهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» [62-الجمعة:9] ” جمعہ کی اذان سن کر ذکر اللہ کی طرف چل پڑو اور تجارت چھوڑ دو “۔
مطلب یہ ہے کہ ان نیک لوگوں کو دنیا اور متاع آخرت اور ذکر اللہ سے غافل نہ کر سکتی، انہیں آخرت اور آخرت کی نعمتوں پر یقین کامل ہے اور انہیں ہمیشہ رہنے والا سمجھتے ہیں اور یہاں کی چیزوں کو فانی جانتے ہیں اس لیے انہیں چھوڑ کر اس طرف توجہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو، اس کی محبت کو، اس کے احکام کو مقدم کرتے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ تجارت پیشہ حضرات کو اذان سن کر اپنے کام کاج چھوڑ کر مسجد کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا ”یہ لوگ انہی میں سے ہیں۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔
صفحہ نمبر5945
ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”میں سوداگری یا تجارت کروں اگرچہ اس میں مجھے ہر دن تین سو اشرفیاں ملتی ہوں لیکن میں نمازوں کے وقت یہ سب چھوڑ کر ضرور چلا جاؤں گا۔“ میرا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تجارت کرنا حرام ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم میں یہ وصف ہونا چاہیئے، جو اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ نماز کے لیے جا رہے تھے، دیکھا کہ مدینہ شریف کے سوداگر اپنی اپنی دوکانوں پر کپڑے ڈھک کر نماز کے لیے گئے ہوئے ہیں اور کوئی بھی دوکان پر موجود نہیں تو یہی آیت پڑھی اور فرمایا ”یہ انہی میں سے ہیں جن کی تعریف جناب باری نے فرمائی ہے۔“
اس بات کا سلف میں یہاں تک خیال تھا کہ ترازو اٹھائے تول رہے ہیں اور اذان کان میں پڑی تو ترازو رکھ دی اور مسجد کی طرف چل دئے فرض نماز باجماعت مسجد میں ادا کرنے کا انہیں عشق تھا۔ وہ نماز کے اوقات کی ارکان اور آداب کی حفاظت کے ساتھ نمازوں کے پابند تھے۔ یہ اس لیے کہ دلوں میں خوف الٰہی تھا قیامت کا آنا برحق جانتے تھے اس دن کی خوفناکی سے واقف تھے کہ سخت تر گھبراہٹ اور کامل پریشانی اور بے حد الجھن کی وجہ سے آنکھیں پتھرا جائیں گی، دل اڑ جائیں گے، کلیجے دہل جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا» [76-الإنسان:8-12] ” میرے نیک بندے میری محبت کی بنا پر مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہیں محض اللہ کی رضاجوئی کے لیے کھلا رہے ہیں، ہمارا مقصد تم سے شکریہ طلب کرنے یا بدلہ لینے کا نہیں۔ ہمیں تو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر ہے جب کہ لوگ مارے رنج و غم کے منہ بسورے ہوئے اور تیوریاں بدلے ہوئے ہوں گے۔ پس اللہ ہی انہیں اس دن کی مصیبتوں سے نجات دے گا اور انہیں تروتازگی بشاشت، ہنسی خوشی اور راحت و آرام سے ملا دے گا۔ اور ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا “۔
صفحہ نمبر5946
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” ان کی نیکیاں مقبول ہیں، برائیاں معاف ہیں ان کے ایک ایک عمل کا بہترین بدلہ مع زیادتی اور اللہ کے فضل کے انہیں ضرور ملنا ہے “۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» [4-النساء:40] ” اللہ تعالیٰ بقدر ایک ذرے کے بھی ظلم نہیں کرتا “۔ اور آیت میں ہے «مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا» [6-الأنعام:160] ” نیکی دس گناہ کر دی جاتی ہے “۔
اور آیت میں ہے «مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرة:245] ” جو اللہ کو اچھا قرض دے گا، اسے اللہ تعالیٰ بڑھا چڑھا کر زیادہ سے زیادہ کرکے دے گا “۔ فرمان ہے آیت «يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاءُ» [2-البقرة:261] ” وہ بڑھا دیتا ہے جس کے لیے چاہے “۔ یہاں فرمان ہے ” وہ جسے چاہے بے حساب دیتا ہے “۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مرتبہ دودھ لایا گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی مجلس کے ساتھیوں میں سے ہر ایک کو پلانا چاہا مگر سب روزے سے تھے۔ اس لیے آپ رضی اللہ عنہ ہی کے پاس پھر برتن آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت «يَخَافُونَ» سے پڑھی اور پی لیا۔
صفحہ نمبر5947
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہونگے، اللہ تعالیٰ ایک منادی کو حکم دے گا جو باآواز بلند ندا کرے گا جسے تمام اہل محشر سنیں گے کہ آج سب کو معلوم ہو جائے گا کہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ بزرگ کون ہے؟ پھر فرمائے گا ” وہ لوگ کھڑے ہو جائیں گے جنہیں لین دین اور تجارت ذکر اللہ سے روکتا نہ تھا “،طپس وہ کھڑے ہو جائیں گے اور وہ بہت ہی کم ہوں گے سب سے پہلے انہیں حساب سے فارغ کیا جائے گا ۔
[الدر المنشور للسیوطی:95/5]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی نیکیوں کا اجر یعنی جنت بھی انہیں ملے گی اور مزید فضل الٰہی یہ ہو گا کہ جن لوگوں نے ان کے ساتھ احسان کئے ہوں گے اور وہ مستحق شفاعت ہونگے ان سب کی شفاعت کا منصب انہیں حاصل ہو جائے گا ۔ [طبرانی کبیر:10462:ضعیف]
صفحہ نمبر5948
دو قسم کے کافر ٭٭
یہ دو مثالیں ہیں اور دو قسم کے کافروں کی ہیں۔ جیسے سورۃ البقرہ کی شروع میں دو مثالیں دو قسم کی منافقوں کی بیان ہوئی ہیں۔ ایک آگ کی ایک پانی کی۔ اور جیسے کہ سورۃ الرعد میں ہدایت وعلم کی جو انسان کے دل میں جگہ پکڑ جائے۔ ایسی ہی دو مثالیں ایک آگ کی ایک پانی کی بیان ہوئی ہیں۔ دونوں سورتوں میں ان آیتوں کی تفسیر کامل گزر چکی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
یہاں پہلی مثال تو ان کافروں کی ہے جو کفر کی طرف دوسروں کو بھی بلاتے ہیں، اور اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں حالانکہ وہ سخت گمراہ ہیں۔ ان کی تو ایسی مثال ہے جیسے کسی پیاسے کو جنگل میں دور سے ریت کا چمکتا ہوا تودہ دکھائی دیتا ہے اور وہ اسے پانی کا موج دریا سمجھ بیٹھتا ہے۔ «قِيعَةُ» جمع ہے «قَاعٍ» کی جیسے «جَارٍ» کی جمع «جِيرَةٍ» اور «قَاعُ» واحد بھی ہوتا ہے اور جمع «قِيعَانِ» ہوتی ہے جیسے «جَارٍ» کی جمع «جِيرَانٌ» ہے۔ معنی اس کے چٹیل وسیع پھیلے ہوئے میدان کے ہیں۔ ایسے ہی میدانوں میں سراب نظر آیا کرتے ہیں۔ دوپہر کے وقت بالکل یہی معلوم ہوتا ہے کہ پانی کا وسیع دریا لہریں لے رہا ہے۔ جنگل میں جو پیاسا ہو، پانی کی تلاش میں اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور اسے پانی سمجھ کر جان توڑ کوشش کرکے وہاں تک پہنچتا ہے لیکن حیرت وحسرت سے اپنا منہ لپیٹ لیتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ وہاں پانی کا قطرہ چھوڑ نام و نشان بھی نہیں۔
اسی طرح یہ کفار ہیں کہ اپنے دل میں سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ اعمال کئے ہیں، بہت سی بھلائیاں جمع کر لی ہیں لیکن قیامت کے دن دیکھیں گے کہ ایک نیکی بھی ان کے پاس نہیں یا تو ان کی بدنیتی سے وہ غارت ہو چکی ہے یا شرع کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے برباد ہو گئی ہے۔ غرض ان کے یہاں پہنچنے سے پہلے ان کے کام جہنم رسید ہو چکے ہیں، یہاں یہ بالکل خالی ہاتھ رہ گئے ہیں۔
صفحہ نمبر5951
حساب کے موقعہ پر اللہ خود موجود ہے اور ایک ایک عمل کا حساب لے رہا ہے اور کوئی عمل ان کا قابل ثواب نہیں نکلتا۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ یہودیوں سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے رہے؟ وہ جواب دیں گے کہ اللہ کے بیٹے عزیر کی۔ کہا جائے گا کہ جھوٹے ہو اللہ کا کوئی بیٹا نہیں۔ اچھا بتاؤ اب کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت پیاسے ہو رہے ہیں، ہمیں پانی پلوایا جائے تو ان سے کہا جائے گا کہ دیکھو وہ کیا نظر آ رہا ہے؟ تم وہاں کیوں نہیں جاتے؟ اب انہیں دور سے جہنم ایسی نظر آئے گی جیسے دنیا میں سراب ہوتا ہے جس پر جاری پانی کا دھوکہ ہوتا ہے یہ وہاں جائیں گے اور دوزخ میں ڈال دئیے جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:4581] یہ مثال تو تھی جہل مرکب والوں کی۔
اب جہل بسیط والوں کی مثال سنئے جو کورے مقلد تھے، اپنی گرہ کی عقل مطلق نہیں رکھتے تھے۔ مندرجہ بالا مثال والے ائمہ کفر کی تقلید کرتے تھے اور آنکھیں بند کرکے ان کی آواز پر لگے ہوئے تھے کہ ان کی مثال گہرے سمندر کی تہہ کے اندھیروں جیسی ہے جسے اوپر سے تہہ بہ تہہ موجوں نے ڈھانپ رکھا ہو اور پھر اوپر سے ابر ڈھانکے ہوئے ہوں۔ یعنی اندھیرے پر اندھیرا ہو۔ یہاں تک کہ ہاتھ کو ہاتھ بھی سجھائی نہ دیتا ہو۔ یہی حال ان سفلے جاہل کافروں کا ہے کہ نرے مقلد ہیں۔ یہاں تک کہ جس کی تقلید کر رہے ہیں لیکن معلوم نہیں کہ وہ انہیں کہاں لے جا رہا ہے؟ چنانچہ مثالاً کہا جاتا ہے کہ کسی جاہل سے پوچھا گیا کہاں جا رہا ہے؟ اس نے کہا ان کے ساتھ جا رہا ہوں۔ پوچھنے والے نے پھر دریافت کیا کہ یہ کہاں جار ہے ہیں؟ اس نے کہا مجھے تو معلوم نہیں۔ پس جیسے اس سمندر پر موجیں اٹھ رہی ہیں، اسی طرح کافر کے دل پر، اس کے کانوں پر، اس کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» [2-البقرة:7] ” اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگا دی ہے “۔
صفحہ نمبر5952
ایک اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے «اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰي عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰي سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِهٖ غِشٰوَة» [45-الجاثية:23] ، ” تو نے انہیں دیکھا؟ جنہوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے اور اللہ نے انہیں علم پر بہکا دیا ہے اور ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے “۔
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ایسے لوگ پانچ اندھیروں میں ہوتے ہیں [١] کلام [٢] عمل [٣] جانا [٤] آنا [٥] اور انجام سب اندھیروں میں ہیں۔ جسے اللہ اپنے نور کی طرف ہدایت نہ کرے وہ نورانیت سے خالی رہ جاتا ہے۔ جہالت میں مبتلا رہ کر ہلاکت میں پڑ جاتا ہے۔“
جیسے فرمایا آیت «مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» [7-الأعراف:186] ” جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لیے کوئی ہادی نہیں ہوتا “۔ یہ اس کے مقابل ہے جو مومنوں کی مثال کے بیان میں فرمایا تھا کہ «يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ» ” اللہ اپنے نور کی ہدایت کرتا ہے جسے چاہے “۔
اللہ تعالیٰ عظیم وکریم سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں میں نور پیدا کر دے اور ہمارے دائیں بائیں بھی نور عطا فرمائے اور ہمارے نور کو بڑھا دے اور اسے بہت بڑا اور زیادہ کرے۔ آمین۔
صفحہ نمبر5953
دو قسم کے کافر ٭٭
یہ دو مثالیں ہیں اور دو قسم کے کافروں کی ہیں۔ جیسے سورۃ البقرہ کی شروع میں دو مثالیں دو قسم کی منافقوں کی بیان ہوئی ہیں۔ ایک آگ کی ایک پانی کی۔ اور جیسے کہ سورۃ الرعد میں ہدایت وعلم کی جو انسان کے دل میں جگہ پکڑ جائے۔ ایسی ہی دو مثالیں ایک آگ کی ایک پانی کی بیان ہوئی ہیں۔ دونوں سورتوں میں ان آیتوں کی تفسیر کامل گزر چکی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
یہاں پہلی مثال تو ان کافروں کی ہے جو کفر کی طرف دوسروں کو بھی بلاتے ہیں، اور اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں حالانکہ وہ سخت گمراہ ہیں۔ ان کی تو ایسی مثال ہے جیسے کسی پیاسے کو جنگل میں دور سے ریت کا چمکتا ہوا تودہ دکھائی دیتا ہے اور وہ اسے پانی کا موج دریا سمجھ بیٹھتا ہے۔ «قِيعَةُ» جمع ہے «قَاعٍ» کی جیسے «جَارٍ» کی جمع «جِيرَةٍ» اور «قَاعُ» واحد بھی ہوتا ہے اور جمع «قِيعَانِ» ہوتی ہے جیسے «جَارٍ» کی جمع «جِيرَانٌ» ہے۔ معنی اس کے چٹیل وسیع پھیلے ہوئے میدان کے ہیں۔ ایسے ہی میدانوں میں سراب نظر آیا کرتے ہیں۔ دوپہر کے وقت بالکل یہی معلوم ہوتا ہے کہ پانی کا وسیع دریا لہریں لے رہا ہے۔ جنگل میں جو پیاسا ہو، پانی کی تلاش میں اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور اسے پانی سمجھ کر جان توڑ کوشش کرکے وہاں تک پہنچتا ہے لیکن حیرت وحسرت سے اپنا منہ لپیٹ لیتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ وہاں پانی کا قطرہ چھوڑ نام و نشان بھی نہیں۔
اسی طرح یہ کفار ہیں کہ اپنے دل میں سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ اعمال کئے ہیں، بہت سی بھلائیاں جمع کر لی ہیں لیکن قیامت کے دن دیکھیں گے کہ ایک نیکی بھی ان کے پاس نہیں یا تو ان کی بدنیتی سے وہ غارت ہو چکی ہے یا شرع کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے برباد ہو گئی ہے۔ غرض ان کے یہاں پہنچنے سے پہلے ان کے کام جہنم رسید ہو چکے ہیں، یہاں یہ بالکل خالی ہاتھ رہ گئے ہیں۔
صفحہ نمبر5951
حساب کے موقعہ پر اللہ خود موجود ہے اور ایک ایک عمل کا حساب لے رہا ہے اور کوئی عمل ان کا قابل ثواب نہیں نکلتا۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ یہودیوں سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے رہے؟ وہ جواب دیں گے کہ اللہ کے بیٹے عزیر کی۔ کہا جائے گا کہ جھوٹے ہو اللہ کا کوئی بیٹا نہیں۔ اچھا بتاؤ اب کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت پیاسے ہو رہے ہیں، ہمیں پانی پلوایا جائے تو ان سے کہا جائے گا کہ دیکھو وہ کیا نظر آ رہا ہے؟ تم وہاں کیوں نہیں جاتے؟ اب انہیں دور سے جہنم ایسی نظر آئے گی جیسے دنیا میں سراب ہوتا ہے جس پر جاری پانی کا دھوکہ ہوتا ہے یہ وہاں جائیں گے اور دوزخ میں ڈال دئیے جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:4581] یہ مثال تو تھی جہل مرکب والوں کی۔
اب جہل بسیط والوں کی مثال سنئے جو کورے مقلد تھے، اپنی گرہ کی عقل مطلق نہیں رکھتے تھے۔ مندرجہ بالا مثال والے ائمہ کفر کی تقلید کرتے تھے اور آنکھیں بند کرکے ان کی آواز پر لگے ہوئے تھے کہ ان کی مثال گہرے سمندر کی تہہ کے اندھیروں جیسی ہے جسے اوپر سے تہہ بہ تہہ موجوں نے ڈھانپ رکھا ہو اور پھر اوپر سے ابر ڈھانکے ہوئے ہوں۔ یعنی اندھیرے پر اندھیرا ہو۔ یہاں تک کہ ہاتھ کو ہاتھ بھی سجھائی نہ دیتا ہو۔ یہی حال ان سفلے جاہل کافروں کا ہے کہ نرے مقلد ہیں۔ یہاں تک کہ جس کی تقلید کر رہے ہیں لیکن معلوم نہیں کہ وہ انہیں کہاں لے جا رہا ہے؟ چنانچہ مثالاً کہا جاتا ہے کہ کسی جاہل سے پوچھا گیا کہاں جا رہا ہے؟ اس نے کہا ان کے ساتھ جا رہا ہوں۔ پوچھنے والے نے پھر دریافت کیا کہ یہ کہاں جار ہے ہیں؟ اس نے کہا مجھے تو معلوم نہیں۔ پس جیسے اس سمندر پر موجیں اٹھ رہی ہیں، اسی طرح کافر کے دل پر، اس کے کانوں پر، اس کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» [2-البقرة:7] ” اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگا دی ہے “۔
صفحہ نمبر5952
ایک اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے «اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰي عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰي سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِهٖ غِشٰوَة» [45-الجاثية:23] ، ” تو نے انہیں دیکھا؟ جنہوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے اور اللہ نے انہیں علم پر بہکا دیا ہے اور ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے “۔
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ایسے لوگ پانچ اندھیروں میں ہوتے ہیں [١] کلام [٢] عمل [٣] جانا [٤] آنا [٥] اور انجام سب اندھیروں میں ہیں۔ جسے اللہ اپنے نور کی طرف ہدایت نہ کرے وہ نورانیت سے خالی رہ جاتا ہے۔ جہالت میں مبتلا رہ کر ہلاکت میں پڑ جاتا ہے۔“
جیسے فرمایا آیت «مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» [7-الأعراف:186] ” جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لیے کوئی ہادی نہیں ہوتا “۔ یہ اس کے مقابل ہے جو مومنوں کی مثال کے بیان میں فرمایا تھا کہ «يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ» ” اللہ اپنے نور کی ہدایت کرتا ہے جسے چاہے “۔
اللہ تعالیٰ عظیم وکریم سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں میں نور پیدا کر دے اور ہمارے دائیں بائیں بھی نور عطا فرمائے اور ہمارے نور کو بڑھا دے اور اسے بہت بڑا اور زیادہ کرے۔ آمین۔
صفحہ نمبر5953
ہر ایک تسبیح خوان ہے ٭٭
کل کے کل انسان، جنات، فرشتے اور حیوان یہاں تک کہ جمادات بھی اللہ کی تسبیح کے بیان میں مشغول ہیں۔ ایک اور جگہ ہے کہ «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» [17-الإسراء:44] ” ساتوں آسمان اور سب زمینیں اور ان میں جو ہیں سب اللہ کی پاکیزگی کی بیان میں مشغول ہیں “۔
اپنے پروں سے اڑنے والے پرند بھی اپنے رب کی عبادت اور پاکیزگی کے بیان میں مشغول ہیں۔ ان سب کو جو جو تسبیح لائق تھی اللہ نے انہیں سکھا دی ہے، سب کو اپنی عبادت کے مختلف جداگانہ طریقے سکھا دئے ہیں اور اللہ پر کوئی کام مخفی نہیں، وہ عالم کل ہے۔ حاکم، متصرف، مالک، مختار کل، معبود حقیقی، آسمان و زمین کا بادشاہ صرف وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کے حکموں کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔ قیامت کے دن سب کو اسی کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ جو چاہے گا اپنی مخلوقات میں حکم فرمائے گا۔ برے لوگ برا بدلہ پائیں گے۔ نیک نیکیوں کا پھل حاصل کریں گے۔ خالق مالک وہی ہے، دنیا اور آخرت کا حاکم حقیقی وہی ہے اور اسی کی ذات لائق حمد و ثنا ہے۔
صفحہ نمبر5955
ہر ایک تسبیح خوان ہے ٭٭
کل کے کل انسان، جنات، فرشتے اور حیوان یہاں تک کہ جمادات بھی اللہ کی تسبیح کے بیان میں مشغول ہیں۔ ایک اور جگہ ہے کہ «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» [17-الإسراء:44] ” ساتوں آسمان اور سب زمینیں اور ان میں جو ہیں سب اللہ کی پاکیزگی کی بیان میں مشغول ہیں “۔
اپنے پروں سے اڑنے والے پرند بھی اپنے رب کی عبادت اور پاکیزگی کے بیان میں مشغول ہیں۔ ان سب کو جو جو تسبیح لائق تھی اللہ نے انہیں سکھا دی ہے، سب کو اپنی عبادت کے مختلف جداگانہ طریقے سکھا دئے ہیں اور اللہ پر کوئی کام مخفی نہیں، وہ عالم کل ہے۔ حاکم، متصرف، مالک، مختار کل، معبود حقیقی، آسمان و زمین کا بادشاہ صرف وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کے حکموں کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔ قیامت کے دن سب کو اسی کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ جو چاہے گا اپنی مخلوقات میں حکم فرمائے گا۔ برے لوگ برا بدلہ پائیں گے۔ نیک نیکیوں کا پھل حاصل کریں گے۔ خالق مالک وہی ہے، دنیا اور آخرت کا حاکم حقیقی وہی ہے اور اسی کی ذات لائق حمد و ثنا ہے۔
صفحہ نمبر5955
بادل مرحلہ وار ٭٭
پتلے دھوئیں جیسے بادل اول اول تو قدرت الٰہی سے اٹھتے ہیں پھر مل جل کر وہ جسیم ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر جم جاتے ہیں پھر ان میں سے بارش برستی ہے۔ ہوائیں چلتی ہیں، زمین کو قابل بناتی ہیں، پھر ابر کو اٹھاتی ہیں، پھر انہیں ملاتی ہیں، پھر وہ پانی سے بھر جاتے ہیں، پھر برس پڑتے ہیں۔ پھر آسمان سے اولوں کو برسانے کا ذکر ہے اس جملے میں پہلا «مِنِ» ابتداء غایت کا ہے، دوسرا تبعیض کا ہے، تیسرا بیان جنس کا ہے۔
یہ اس تفسیر کی بنا پر ہے کہ آیت کے معنی یہ کئے جائیں کہ اولوں کے پہاڑ آسمان پر ہیں۔ اور جن کے نزدیک یہاں پہاڑ کا لفظ ابر کے لیے بطور کنایہ ہے ان کے نزدیک «مِنِ» ثانیہ بھی ابتداء غایت کے لیے ہے لیکن وہ پہلے کا بدل ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس کے بعد کے جملے کا یہ مطلب ہے کہ بارش اور اولے جہاں اللہ برسانا چاہے، وہاں اس کی رحمت سے برستے ہیں اور جہاں نہ چاہے نہیں برستے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اولوں سے جن کی چاہے، کھیتیاں اور باغات خراب کر دیتا ہے اور جن پر مہربانی فرمائے انہیں بچالیتا ہے۔ پھر بجلی کی چمک کی قوت بیان ہو رہی ہے کہ قریب ہے وہ آنکھوں کی روشنی کھودے۔ دن رات کا تصرف بھی اسی کے قبضے میں ہے، جب چاہتا ہے دن کو چھوٹا اور رات کو بڑی کر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے رات کو بڑی کر کے دن کو چھوٹا کر دیتا ہے۔ یہ تمام نشانیاں ہیں جو قدرت قادر کو ظاہر کرتی ہیں، اللہ کی عظمت کو آ شکارا کرتی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لِآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ» [3-آل عمران:190] ” آسمان و زمین کی پیدائش، رات دن کے اختلاف میں عقلمندوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں “۔
صفحہ نمبر5957
بادل مرحلہ وار ٭٭
پتلے دھوئیں جیسے بادل اول اول تو قدرت الٰہی سے اٹھتے ہیں پھر مل جل کر وہ جسیم ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر جم جاتے ہیں پھر ان میں سے بارش برستی ہے۔ ہوائیں چلتی ہیں، زمین کو قابل بناتی ہیں، پھر ابر کو اٹھاتی ہیں، پھر انہیں ملاتی ہیں، پھر وہ پانی سے بھر جاتے ہیں، پھر برس پڑتے ہیں۔ پھر آسمان سے اولوں کو برسانے کا ذکر ہے اس جملے میں پہلا «مِنِ» ابتداء غایت کا ہے، دوسرا تبعیض کا ہے، تیسرا بیان جنس کا ہے۔
یہ اس تفسیر کی بنا پر ہے کہ آیت کے معنی یہ کئے جائیں کہ اولوں کے پہاڑ آسمان پر ہیں۔ اور جن کے نزدیک یہاں پہاڑ کا لفظ ابر کے لیے بطور کنایہ ہے ان کے نزدیک «مِنِ» ثانیہ بھی ابتداء غایت کے لیے ہے لیکن وہ پہلے کا بدل ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس کے بعد کے جملے کا یہ مطلب ہے کہ بارش اور اولے جہاں اللہ برسانا چاہے، وہاں اس کی رحمت سے برستے ہیں اور جہاں نہ چاہے نہیں برستے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اولوں سے جن کی چاہے، کھیتیاں اور باغات خراب کر دیتا ہے اور جن پر مہربانی فرمائے انہیں بچالیتا ہے۔ پھر بجلی کی چمک کی قوت بیان ہو رہی ہے کہ قریب ہے وہ آنکھوں کی روشنی کھودے۔ دن رات کا تصرف بھی اسی کے قبضے میں ہے، جب چاہتا ہے دن کو چھوٹا اور رات کو بڑی کر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے رات کو بڑی کر کے دن کو چھوٹا کر دیتا ہے۔ یہ تمام نشانیاں ہیں جو قدرت قادر کو ظاہر کرتی ہیں، اللہ کی عظمت کو آ شکارا کرتی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لِآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ» [3-آل عمران:190] ” آسمان و زمین کی پیدائش، رات دن کے اختلاف میں عقلمندوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں “۔
صفحہ نمبر5957
ایک ہی پانی اور مختلف اجناس کی پیدائش ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی کامل قدرت اور زبردست سلطنت کا بیان فرماتا ہے کہ ” اس نے ایک ہی پانی سے طرح طرح کی مخلوق پیدا کر دی ہے۔ سانپ وغیرہ کو دیکھو جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں۔ انسان اور پرند کو دیکھو ان کے دوپاؤں ہوتے ہیں۔ حیوانوں اور چوپاوں کو دیکھو وہ چار پاؤں پر چلتے ہیں، وہ بڑا قادر ہے جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوسکتا، وہ قادر کل ہے “۔
صفحہ نمبر5959
باب
یہ حکمت بھرے احکام، یہ روشن، اس قرآن کریم میں اللہ ہی نے بیان فرمائی ہیں۔ عقلمندوں کو ان کے سمجھنے کی توفیق دی ہے، رب جسے چاہے اپنی سیدھی راہ پر لگائے۔
صفحہ نمبر5960
منافق کی زبان اور ، دل ٭٭
منافقوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں، عمل کچھ ہے قول کچھ ہے، اس لیے کہ دراصل ایماندار نہیں “۔
حدیث میں ہے کہ جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے ۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں۔
جیسے آیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا» [4-النساء:60،61] تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہو جائے کہ شرعی فیصلہ ان کی طبعی خواہش کے خلاف ہے، دنیوں مفاد کے خلاف ہے تو حق کی طرف مڑ کر دیکھیں گے بھی نہیں۔ پس ایسے لوگ پکے کافر ہیں۔ اس لیے کہ تین حال سے خالی نہیں یا تو یہ کہ ان کے دلوں میں ہی بے ایمانی گھر کرگئی ہے یا انہیں اللہ کے دین کی حقانیت میں شکوک ہیں یاخوف ہے کہ کہیں اللہ اور رسول ان کا حق نہ مارلیں، ان پر ظلم وستم کریں گے اور یہ تینوں صورتیں کفر کی ہیں۔ اللہ ان میں سے ہر ایک کو جانتا ہے جو جیسا باطن میں ہے اس کے پاس وہ ظاہر ہے۔
صفحہ نمبر5961
دراصل یہی لوگ جابر ہیں، ظالم ہیں، اللہ اور رسول اللہ اس سے پاک ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایسے کافر جو ظاہر میں مسلمان تھے، بہت سے تھے، انہیں جب اپنا مطلب قرآن و حدیث میں نکلتا نظر آتا تو خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے جھگڑے پیش کرتے اور جب انہیں دوسروں سے مطلب براری نظر آتی تو سرکار محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آنے سے صاف انکار کر جاتے۔
پس یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن دو شخصوں میں کوئی جھگڑا ہو اور وہ اسلامی حکم کے مطابق فیصلے کی طرف بلایا جائے اور وہ اس سے انکار کرے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے ۔ [طبرانی کبیر:6939:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
صفحہ نمبر5962
منافق کی زبان اور ، دل ٭٭
منافقوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں، عمل کچھ ہے قول کچھ ہے، اس لیے کہ دراصل ایماندار نہیں “۔
حدیث میں ہے کہ جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے ۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں۔
جیسے آیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا» [4-النساء:60،61] تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہو جائے کہ شرعی فیصلہ ان کی طبعی خواہش کے خلاف ہے، دنیوں مفاد کے خلاف ہے تو حق کی طرف مڑ کر دیکھیں گے بھی نہیں۔ پس ایسے لوگ پکے کافر ہیں۔ اس لیے کہ تین حال سے خالی نہیں یا تو یہ کہ ان کے دلوں میں ہی بے ایمانی گھر کرگئی ہے یا انہیں اللہ کے دین کی حقانیت میں شکوک ہیں یاخوف ہے کہ کہیں اللہ اور رسول ان کا حق نہ مارلیں، ان پر ظلم وستم کریں گے اور یہ تینوں صورتیں کفر کی ہیں۔ اللہ ان میں سے ہر ایک کو جانتا ہے جو جیسا باطن میں ہے اس کے پاس وہ ظاہر ہے۔
صفحہ نمبر5961
دراصل یہی لوگ جابر ہیں، ظالم ہیں، اللہ اور رسول اللہ اس سے پاک ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایسے کافر جو ظاہر میں مسلمان تھے، بہت سے تھے، انہیں جب اپنا مطلب قرآن و حدیث میں نکلتا نظر آتا تو خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے جھگڑے پیش کرتے اور جب انہیں دوسروں سے مطلب براری نظر آتی تو سرکار محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آنے سے صاف انکار کر جاتے۔
پس یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن دو شخصوں میں کوئی جھگڑا ہو اور وہ اسلامی حکم کے مطابق فیصلے کی طرف بلایا جائے اور وہ اس سے انکار کرے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے ۔ [طبرانی کبیر:6939:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
صفحہ نمبر5962
باب
پھر سچے مومنوں کی شان بیان ہوتی ہے کہ ” وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی تیسری چیز کو داخل دین نہیں سمجھتے۔ وہ تو قرآن و حدیث سنتے ہی، اس کی دعوت کی ندا کان میں پڑتے ہی صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا یہ کامیاب، بامراد اور نجات یافتہ لوگ ہیں “۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو بدری صحابی ہیں، انصاری ہیں، انصاروں کے ایک سردار ہیں، انہوں نے اپنے بھتیجے جنادہ بن امیہ سے بوقت انتقال فرمایا کہ ”آؤ مجھ سے سن لو کہ تمہارے ذمے کیا ہے؟ سننا اور ماننا سختی میں بھی آسانی میں بھی، خوشی میں بھی ناخوشی میں بھی، اس وقت بھی جب کہ تیرا حق دوسرے کو دیا جا رہا ہو، اپنی زبان کو عدل اور سچائی کے ساتھ سیدھی رکھ۔ کام کے اہل لوگوں سے کام کو نہ چھین، ہاں اگر کسی کھلی نافرمانی کا وہ حکم دیں تو نہ ماننا۔ کتاب اللہ کے خلاف کوئی بھی کہے ہرگز نہ ماننا۔ کتاب اللہ کی پیروی میں لگے رہنا۔“
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اسلام بغیر اللہ کی اطاعت کے نہیں اور بہتری جو کچھ ہے وہ جماعت کی، اللہ کی، اس کے رسول کی، خلیفۃ المسلمین کی اور عام مسلمانوں کی خیر خواہی میں ہے۔“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اسلام کا مضبوط کڑا، اللہ کی وحدانیت کی گواہی، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور مسلمانوں کے بادشاہ کی اطاعت ہے۔“ جو احادیث و آثار کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بارے میں اور مسلمان بادشاہوں کی ماننے کے بارے میں مروی ہیں وہ اس کثرت سے ہیں کہ سب یہاں کسی طرح بیان ہو ہی نہیں سکتیں۔
جو شخص اللہ اور رسول کا نافرمان بن جائے جو حکم ملے بجا لائے جس چیز سے روک دیں رک جائے جو گناہ ہو جائے اس سے خوف کھاتا رہے آئندہ کے لیے اس سے بچتا رہے ایسے لوگ تمام بھلائیوں کو سمیٹنے والے اور تمام برائیوں سے بچ جانے والے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں وہ نجات یافتہ ہیں۔
صفحہ نمبر5964
باب
پھر سچے مومنوں کی شان بیان ہوتی ہے کہ ” وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی تیسری چیز کو داخل دین نہیں سمجھتے۔ وہ تو قرآن و حدیث سنتے ہی، اس کی دعوت کی ندا کان میں پڑتے ہی صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا یہ کامیاب، بامراد اور نجات یافتہ لوگ ہیں “۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو بدری صحابی ہیں، انصاری ہیں، انصاروں کے ایک سردار ہیں، انہوں نے اپنے بھتیجے جنادہ بن امیہ سے بوقت انتقال فرمایا کہ ”آؤ مجھ سے سن لو کہ تمہارے ذمے کیا ہے؟ سننا اور ماننا سختی میں بھی آسانی میں بھی، خوشی میں بھی ناخوشی میں بھی، اس وقت بھی جب کہ تیرا حق دوسرے کو دیا جا رہا ہو، اپنی زبان کو عدل اور سچائی کے ساتھ سیدھی رکھ۔ کام کے اہل لوگوں سے کام کو نہ چھین، ہاں اگر کسی کھلی نافرمانی کا وہ حکم دیں تو نہ ماننا۔ کتاب اللہ کے خلاف کوئی بھی کہے ہرگز نہ ماننا۔ کتاب اللہ کی پیروی میں لگے رہنا۔“
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اسلام بغیر اللہ کی اطاعت کے نہیں اور بہتری جو کچھ ہے وہ جماعت کی، اللہ کی، اس کے رسول کی، خلیفۃ المسلمین کی اور عام مسلمانوں کی خیر خواہی میں ہے۔“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اسلام کا مضبوط کڑا، اللہ کی وحدانیت کی گواہی، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور مسلمانوں کے بادشاہ کی اطاعت ہے۔“ جو احادیث و آثار کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بارے میں اور مسلمان بادشاہوں کی ماننے کے بارے میں مروی ہیں وہ اس کثرت سے ہیں کہ سب یہاں کسی طرح بیان ہو ہی نہیں سکتیں۔
جو شخص اللہ اور رسول کا نافرمان بن جائے جو حکم ملے بجا لائے جس چیز سے روک دیں رک جائے جو گناہ ہو جائے اس سے خوف کھاتا رہے آئندہ کے لیے اس سے بچتا رہے ایسے لوگ تمام بھلائیوں کو سمیٹنے والے اور تمام برائیوں سے بچ جانے والے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں وہ نجات یافتہ ہیں۔
صفحہ نمبر5964
باب
پھر سچے مومنوں کی شان بیان ہوتی ہے کہ ” وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی تیسری چیز کو داخل دین نہیں سمجھتے۔ وہ تو قرآن و حدیث سنتے ہی، اس کی دعوت کی ندا کان میں پڑتے ہی صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا یہ کامیاب، بامراد اور نجات یافتہ لوگ ہیں “۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو بدری صحابی ہیں، انصاری ہیں، انصاروں کے ایک سردار ہیں، انہوں نے اپنے بھتیجے جنادہ بن امیہ سے بوقت انتقال فرمایا کہ ”آؤ مجھ سے سن لو کہ تمہارے ذمے کیا ہے؟ سننا اور ماننا سختی میں بھی آسانی میں بھی، خوشی میں بھی ناخوشی میں بھی، اس وقت بھی جب کہ تیرا حق دوسرے کو دیا جا رہا ہو، اپنی زبان کو عدل اور سچائی کے ساتھ سیدھی رکھ۔ کام کے اہل لوگوں سے کام کو نہ چھین، ہاں اگر کسی کھلی نافرمانی کا وہ حکم دیں تو نہ ماننا۔ کتاب اللہ کے خلاف کوئی بھی کہے ہرگز نہ ماننا۔ کتاب اللہ کی پیروی میں لگے رہنا۔“
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اسلام بغیر اللہ کی اطاعت کے نہیں اور بہتری جو کچھ ہے وہ جماعت کی، اللہ کی، اس کے رسول کی، خلیفۃ المسلمین کی اور عام مسلمانوں کی خیر خواہی میں ہے۔“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اسلام کا مضبوط کڑا، اللہ کی وحدانیت کی گواہی، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور مسلمانوں کے بادشاہ کی اطاعت ہے۔“ جو احادیث و آثار کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بارے میں اور مسلمان بادشاہوں کی ماننے کے بارے میں مروی ہیں وہ اس کثرت سے ہیں کہ سب یہاں کسی طرح بیان ہو ہی نہیں سکتیں۔
جو شخص اللہ اور رسول کا نافرمان بن جائے جو حکم ملے بجا لائے جس چیز سے روک دیں رک جائے جو گناہ ہو جائے اس سے خوف کھاتا رہے آئندہ کے لیے اس سے بچتا رہے ایسے لوگ تمام بھلائیوں کو سمیٹنے والے اور تمام برائیوں سے بچ جانے والے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں وہ نجات یافتہ ہیں۔
صفحہ نمبر5964
باب
پھر سچے مومنوں کی شان بیان ہوتی ہے کہ ” وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی تیسری چیز کو داخل دین نہیں سمجھتے۔ وہ تو قرآن و حدیث سنتے ہی، اس کی دعوت کی ندا کان میں پڑتے ہی صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا یہ کامیاب، بامراد اور نجات یافتہ لوگ ہیں “۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو بدری صحابی ہیں، انصاری ہیں، انصاروں کے ایک سردار ہیں، انہوں نے اپنے بھتیجے جنادہ بن امیہ سے بوقت انتقال فرمایا کہ ”آؤ مجھ سے سن لو کہ تمہارے ذمے کیا ہے؟ سننا اور ماننا سختی میں بھی آسانی میں بھی، خوشی میں بھی ناخوشی میں بھی، اس وقت بھی جب کہ تیرا حق دوسرے کو دیا جا رہا ہو، اپنی زبان کو عدل اور سچائی کے ساتھ سیدھی رکھ۔ کام کے اہل لوگوں سے کام کو نہ چھین، ہاں اگر کسی کھلی نافرمانی کا وہ حکم دیں تو نہ ماننا۔ کتاب اللہ کے خلاف کوئی بھی کہے ہرگز نہ ماننا۔ کتاب اللہ کی پیروی میں لگے رہنا۔“
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اسلام بغیر اللہ کی اطاعت کے نہیں اور بہتری جو کچھ ہے وہ جماعت کی، اللہ کی، اس کے رسول کی، خلیفۃ المسلمین کی اور عام مسلمانوں کی خیر خواہی میں ہے۔“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اسلام کا مضبوط کڑا، اللہ کی وحدانیت کی گواہی، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور مسلمانوں کے بادشاہ کی اطاعت ہے۔“ جو احادیث و آثار کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بارے میں اور مسلمان بادشاہوں کی ماننے کے بارے میں مروی ہیں وہ اس کثرت سے ہیں کہ سب یہاں کسی طرح بیان ہو ہی نہیں سکتیں۔
جو شخص اللہ اور رسول کا نافرمان بن جائے جو حکم ملے بجا لائے جس چیز سے روک دیں رک جائے جو گناہ ہو جائے اس سے خوف کھاتا رہے آئندہ کے لیے اس سے بچتا رہے ایسے لوگ تمام بھلائیوں کو سمیٹنے والے اور تمام برائیوں سے بچ جانے والے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں وہ نجات یافتہ ہیں۔
صفحہ نمبر5964
مکار منافق ٭٭
اہل نفاق کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنی ایمانداری اور خیر خواہی جتاتے ہوئے قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم جہاد کیلئے تیار بیٹھے ہیں بلکہ بے قرار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی دیر ہے فرمان ہوتے ہی گھربار بال بچے چھوڑ کر میدان جنگ میں پہنچ جائیں گے “۔
اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے «يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِن تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ» [9-التوبة:96] ” ان سے کہہ دو کہ قسمیں نہ کھاؤ تمہاری اطاعت کی حقیقت تو روشن ہے “، زبانی ڈینگیں بہت ہیں، عملی حصہ صفر ہے۔ «اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [63-المنافقون:2] ” تمہاری قسموں کی حقیقت بھی معلوم ہے، دل میں کچھ ہے، زبان پر کچھ ہے، جتنی زبان مومن ہے اتنا ہی دل کافر ہے۔ یہ قسمیں صرف مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ہیں “۔ «لَئِنْ أُخْرِجُوا لَا يَخْرُجُونَ مَعَهُمْ وَلَئِن قُوتِلُوا لَا يَنصُرُونَهُمْ وَلَئِن نَّصَرُوهُمْ لَيُوَلُّنَّ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ» [59-الحشر:12] ” ان قسموں کو تو یہ لوگ ڈھال بنائے ہوئے ہیں تم سے ہی نہیں بلکہ کافروں کے سامنے بھی ان کی موافقت اور ان کی امداد کی قسمیں کھاتے ہیں لیکن اتنے بزدل ہیں کہ ان کا ساتھ خاک بھی نہیں دے سکتے “۔
اس جملے کے ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ” تمہیں تو معقول اور پسندیدہ اطاعت کاشیوہ چاہے نہ کہ قسمیں کھانے اور ڈینگیں مارنے کا، تمہارے سامنے مسلمان موجود ہیں دیکھو نہ وہ قسمیں کھاتے ہیں نہ بڑھ بڑھ کر باتیں بناتے ہیں، ہاں کام کے وقت سب سے آگے نکل آتے ہیں اور فعلی حصہ بڑھ چڑھ کر لیتے ہیں۔ اللہ پر کسی کا کوئی عمل مخفی نہیں وہ اپنے بندوں کے ایک ایک عمل سے باخبر ہے۔ ہر عاصی اور مطیع اس پر ظاہر ہے۔ ہر ایک باطن پر بھی اس کی نگاہیں ویسی ہی ہیں جیسی ظاہر پر، گو تم ظاہر کچھ کرو لیکن وہ باطن پر بھی اگاہ ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یعنی قرآن اور حدیث کی اتباع کرو اگر تم اس سے منہ موڑ لو، اسے چھوڑ دو تو تمہارے اس گناہ کا وبال میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں۔ اس کے ذمے تو صرف پیغام الٰہی پہنچانا اور ادائے امانت کر دینا ہے۔ تم پر وہ ہے جس کے ذمے دار تم ہو یعنی قبول کرنا، عمل کرنا وغیرہ “۔
ہدایت صرف اطاعت رسول میں ہے، اس لیے کہ «صِرَاطِ اللَّـهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ أَلَا إِلَى اللَّـهِ تَصِيرُ الْأُمُورُ» [42-الشورى:53] ” صراط مستقیم کا داعی وہی ہے جو صراط مستقیم اس اللہ تک پہنچاتی ہے جس کی سلطنت تمام زمین آسمان ہے “۔ «وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] ” رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے صرف پہنچادینا ہی ہے، سب کا حساب ہمارے ذمے ہے “۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [88-الغاشية:22،21] ، ” تو صرف ناصح و واعظ ہے۔ انہیں نصیحت کر دیا کر، تو ان کا وکیل یا داروغہ نہیں “۔
صفحہ نمبر5968
وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”شعیاء علیہ السلام کی طرف وحی الٰہی آئی کہ ” تو بنی اسرائیل کے مجمع میں کھڑا ہوجا، میں تیری زبان سے جو چاہوں گا نکلواؤں گا “، چنانچہ آپ علیہ السلام کھڑے ہوئے تو آپ علیہ السلام کی زبان سے بہ حکم الٰہی یہ خطبہ بیان ہوا:
”اے آسمان سن، اے زمین خاموش رہ، اللہ تعالیٰ ایک شان پوری کرنا اور ایک امر کی تدبیر کرنے والا ہے وہ چاہتا ہے کہ جنگلوں کو آباد کردے، ویرانے کو بسا دے، صحراوں کو سرسبز بنا دے، فقیروں کو غنی کر دے، چرواہوں کو سلطان بنا دے، ان پڑھوں میں سے ایک امی کو نبی بنا کر بھیجے جو نہ بدگو ہو نہ بد اخلاق ہو، نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والا ہو، اتنا مسکین صفت ہو اور متواضع ہو کہ اس کے دامن کی ہوا سے چراغ بھی نہ بجھے، جس کے پاس سے وہ گزرا ہو۔ اگر وہ سوکھے بانسوں پر پیر رکھ کر چلے تو بھی چراچراہٹ کسی کے کان میں نہ پہنچے۔ میں اسے بشیر و نذیر بنا کر بھیجوں گا، وہ زبان کا پاک ہو گا، اندھی آنکھیں اس کی وجہ سے روشن ہو جائیں گی، بہرے کان اس کے باعث سننے لگیں گے، غلاف والے دل اس کی برکت سے کھل جائیں گے۔ ہر ایک بھلے کام سے میں اسے سنواردوں گا۔ حکمت اس کی باتیں ہوں گی، صدق و وفا کی کی طبیعت ہوگی، عفو ودرگزر کرنا اور عمدگی و بھلائی چاہنا اس کی خصلت ہو گی۔ حق اس کی شریعت ہوگی، عدل اس کی سیرت ہو گی، ہدایت اس کی امام ہوگی۔ اسلام اس کی ملت ہو گا۔
احمد اس کا نام ہوگا ( صلی اللہ علیہ وسلم ) گمراہی کے بعد اس کی وجہ سے میں ہدایت پھیلاوں گا، جہالت کے بعد علم چمک اٹھے گا، پستی کے بعد اس کی وجہ سے ترقی ہو گی۔ نادانی اس کی ذات سے دانائی میں بدل جائے گی۔ کمی زیادتی سے بدل جائے گی، فقیری کو اس کی وجہ سے میں امیری سے بدل دوں گا۔ اس کی ذات سے جدا جدا لوگوں کو میں ملا دوں گا، فرقت کے بعد الفت ہوگی، انتشار کے بعد اتحاد ہوگا، اختلاف کے بعد اتفاق ہوگا، مختلف دل، جداگانہ خواہشیں ایک ہو جائیں گی۔ بے شمار بندگان رب ہلاکت سے بچ جائیں گے، اس کی امت کو میں تمام امتوں سے بہتر کر دوں گا جو لوگوں کے نفع کے لیے ہوگی، بھلائیوں کا حکم کرنے والی برائیوں سے روکنے والی ہوگی، موحد مومن مخلص ہوں گے، اللہ کے جتنے رسول اللہ کی طرف سے جو لائے ہیں یہ سب کو مانیں گے، کسی کے منکر نہ ہوں گے۔“
صفحہ نمبر5969
مکار منافق ٭٭
اہل نفاق کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنی ایمانداری اور خیر خواہی جتاتے ہوئے قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم جہاد کیلئے تیار بیٹھے ہیں بلکہ بے قرار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی دیر ہے فرمان ہوتے ہی گھربار بال بچے چھوڑ کر میدان جنگ میں پہنچ جائیں گے “۔
اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے «يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِن تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ» [9-التوبة:96] ” ان سے کہہ دو کہ قسمیں نہ کھاؤ تمہاری اطاعت کی حقیقت تو روشن ہے “، زبانی ڈینگیں بہت ہیں، عملی حصہ صفر ہے۔ «اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [63-المنافقون:2] ” تمہاری قسموں کی حقیقت بھی معلوم ہے، دل میں کچھ ہے، زبان پر کچھ ہے، جتنی زبان مومن ہے اتنا ہی دل کافر ہے۔ یہ قسمیں صرف مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ہیں “۔ «لَئِنْ أُخْرِجُوا لَا يَخْرُجُونَ مَعَهُمْ وَلَئِن قُوتِلُوا لَا يَنصُرُونَهُمْ وَلَئِن نَّصَرُوهُمْ لَيُوَلُّنَّ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ» [59-الحشر:12] ” ان قسموں کو تو یہ لوگ ڈھال بنائے ہوئے ہیں تم سے ہی نہیں بلکہ کافروں کے سامنے بھی ان کی موافقت اور ان کی امداد کی قسمیں کھاتے ہیں لیکن اتنے بزدل ہیں کہ ان کا ساتھ خاک بھی نہیں دے سکتے “۔
اس جملے کے ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ” تمہیں تو معقول اور پسندیدہ اطاعت کاشیوہ چاہے نہ کہ قسمیں کھانے اور ڈینگیں مارنے کا، تمہارے سامنے مسلمان موجود ہیں دیکھو نہ وہ قسمیں کھاتے ہیں نہ بڑھ بڑھ کر باتیں بناتے ہیں، ہاں کام کے وقت سب سے آگے نکل آتے ہیں اور فعلی حصہ بڑھ چڑھ کر لیتے ہیں۔ اللہ پر کسی کا کوئی عمل مخفی نہیں وہ اپنے بندوں کے ایک ایک عمل سے باخبر ہے۔ ہر عاصی اور مطیع اس پر ظاہر ہے۔ ہر ایک باطن پر بھی اس کی نگاہیں ویسی ہی ہیں جیسی ظاہر پر، گو تم ظاہر کچھ کرو لیکن وہ باطن پر بھی اگاہ ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یعنی قرآن اور حدیث کی اتباع کرو اگر تم اس سے منہ موڑ لو، اسے چھوڑ دو تو تمہارے اس گناہ کا وبال میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں۔ اس کے ذمے تو صرف پیغام الٰہی پہنچانا اور ادائے امانت کر دینا ہے۔ تم پر وہ ہے جس کے ذمے دار تم ہو یعنی قبول کرنا، عمل کرنا وغیرہ “۔
ہدایت صرف اطاعت رسول میں ہے، اس لیے کہ «صِرَاطِ اللَّـهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ أَلَا إِلَى اللَّـهِ تَصِيرُ الْأُمُورُ» [42-الشورى:53] ” صراط مستقیم کا داعی وہی ہے جو صراط مستقیم اس اللہ تک پہنچاتی ہے جس کی سلطنت تمام زمین آسمان ہے “۔ «وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] ” رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے صرف پہنچادینا ہی ہے، سب کا حساب ہمارے ذمے ہے “۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [88-الغاشية:22،21] ، ” تو صرف ناصح و واعظ ہے۔ انہیں نصیحت کر دیا کر، تو ان کا وکیل یا داروغہ نہیں “۔
صفحہ نمبر5968
وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”شعیاء علیہ السلام کی طرف وحی الٰہی آئی کہ ” تو بنی اسرائیل کے مجمع میں کھڑا ہوجا، میں تیری زبان سے جو چاہوں گا نکلواؤں گا “، چنانچہ آپ علیہ السلام کھڑے ہوئے تو آپ علیہ السلام کی زبان سے بہ حکم الٰہی یہ خطبہ بیان ہوا:
”اے آسمان سن، اے زمین خاموش رہ، اللہ تعالیٰ ایک شان پوری کرنا اور ایک امر کی تدبیر کرنے والا ہے وہ چاہتا ہے کہ جنگلوں کو آباد کردے، ویرانے کو بسا دے، صحراوں کو سرسبز بنا دے، فقیروں کو غنی کر دے، چرواہوں کو سلطان بنا دے، ان پڑھوں میں سے ایک امی کو نبی بنا کر بھیجے جو نہ بدگو ہو نہ بد اخلاق ہو، نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والا ہو، اتنا مسکین صفت ہو اور متواضع ہو کہ اس کے دامن کی ہوا سے چراغ بھی نہ بجھے، جس کے پاس سے وہ گزرا ہو۔ اگر وہ سوکھے بانسوں پر پیر رکھ کر چلے تو بھی چراچراہٹ کسی کے کان میں نہ پہنچے۔ میں اسے بشیر و نذیر بنا کر بھیجوں گا، وہ زبان کا پاک ہو گا، اندھی آنکھیں اس کی وجہ سے روشن ہو جائیں گی، بہرے کان اس کے باعث سننے لگیں گے، غلاف والے دل اس کی برکت سے کھل جائیں گے۔ ہر ایک بھلے کام سے میں اسے سنواردوں گا۔ حکمت اس کی باتیں ہوں گی، صدق و وفا کی کی طبیعت ہوگی، عفو ودرگزر کرنا اور عمدگی و بھلائی چاہنا اس کی خصلت ہو گی۔ حق اس کی شریعت ہوگی، عدل اس کی سیرت ہو گی، ہدایت اس کی امام ہوگی۔ اسلام اس کی ملت ہو گا۔
احمد اس کا نام ہوگا ( صلی اللہ علیہ وسلم ) گمراہی کے بعد اس کی وجہ سے میں ہدایت پھیلاوں گا، جہالت کے بعد علم چمک اٹھے گا، پستی کے بعد اس کی وجہ سے ترقی ہو گی۔ نادانی اس کی ذات سے دانائی میں بدل جائے گی۔ کمی زیادتی سے بدل جائے گی، فقیری کو اس کی وجہ سے میں امیری سے بدل دوں گا۔ اس کی ذات سے جدا جدا لوگوں کو میں ملا دوں گا، فرقت کے بعد الفت ہوگی، انتشار کے بعد اتحاد ہوگا، اختلاف کے بعد اتفاق ہوگا، مختلف دل، جداگانہ خواہشیں ایک ہو جائیں گی۔ بے شمار بندگان رب ہلاکت سے بچ جائیں گے، اس کی امت کو میں تمام امتوں سے بہتر کر دوں گا جو لوگوں کے نفع کے لیے ہوگی، بھلائیوں کا حکم کرنے والی برائیوں سے روکنے والی ہوگی، موحد مومن مخلص ہوں گے، اللہ کے جتنے رسول اللہ کی طرف سے جو لائے ہیں یہ سب کو مانیں گے، کسی کے منکر نہ ہوں گے۔“
صفحہ نمبر5969
عروج اسلام لازم ہے ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ فرما رہا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو زمین کا مالک بنا دے گا، لوگوں کا سردار بنا دے گا، ملک ان کی وجہ سے آباد ہوگا، بندگان رب ان سے دل شاد ہوں گے۔ آج یہ لوگوں سے لرزاں وترساں ہیں کل یہ باامن و اطمینان ہوں گے، حکومت ان کی ہو گی، سلطنت ان کے ہاتھوں میں ہوگی “۔
الحمدللہ یہی ہوا بھی، مکہ، خیبر، بحرین، جزیرہ عرب اور یمن تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں فتح ہوگیا۔ حجر کے مجوسیوں نے جزیہ دے کر ماتحتی قبول کرلی، شام کے بعض حصوں کا بھی یہی حال ہوا۔ شاہ روم ہرقل نے تحفے تحائف روانہ کئے۔ مصر کے والی نے بھی خدمت اقدس میں تحفے بھیجے، اسکندریہ کے بادشاہ مقوقس نے، عمان کے شاہوں نے بھی یہی کیا اور اس طرح اپنی اطاعت گزاری کا ثبوت دیا۔
حبشہ کے بادشاہ اصحمہ رحمہ اللہ تو مسلمان ہی ہوگئے اور ان کے بعد جو والی حبشہ ہوا۔ اس نے بھی سرکار محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں عقیدت مندی کے ساتھ تحائف روانہ کئے۔ پھر جب کہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی مہمانداری میں بلوالیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سنبھالی، جزیرہ عرب کی حکومت کو مضبوط اور مستقل بنایا اور ساتھ ہی ایک جرار لشکر سیف اللہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں بلاد فارس کی طرف بھیجا جس نے وہاں فتوحات کا سلسلہ شروع کیا، کفر کے درختوں کو چھانٹ دیا اور اسلامی پودے ہر طرف لگادئیے۔
صفحہ نمبر5971
سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ وغیرہ امراء کے ماتحت شام کے ملکوں کی طرف لشکر اسلام کے جاں بازوں کو روانہ فرمایا، انہوں نے بھی یہاں محمدی جھنڈا بلند کیا اور صلیبی نشان اوندھے منہ گرائے، پھر مصر کی طرف مجاہدین کا لشکر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی سرداری میں روانہ فرمایا۔ بصریٰ، دمشق، حران وغیرہ کی فتوحات کے بعد آپ رضی اللہ عنہ بھی راہی ملک بقا ہوئے اور بہ الہام الٰہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے فاروق کے زبردست زورآور ہاتھوں میں سلطنت اسلام کی باگیں دے گئے۔
سچ تو یہ ہے کہ آسمان تلے کسی نبی علیہ السلام کے بعد ایسے پاک خلیفوں کا دور نہیں ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی قوت، طبیعت، آپ رضی اللہ عنہ کی نیکی، سیرت، آپ رضی اللہ عنہ کے عدل کا کمال، آپ رضی اللہ عنہ کی ترسی کی مثال دنیا میں آپ رضی اللہ عنہ کے بعد تلاش کرنا محض بے سود اور بالکل لا حاصل ہے۔ تمام ملک شام، پورا علاقہ مصر، اکثر حصہ فارس آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں فتح ہوا۔ سلطنت کسریٰ کے ٹکڑے اڑگئے، خود کسریٰ کو منہ چھپانے کے لیے کوئی جگہ نہ ملی۔ کامل ذلت واہانت کے ساتھ بھاگتا پھرا۔ قیصر کو فنا کر دیا۔ مٹا دیا۔ شام کی سلطنت سے دست بردار ہونا پڑا۔ قسطنطنیہ میں جا کر منہ چھپایا ان سلطنتوں کی صدیوں کی دولت اور جمع کئے ہوئے بے شمار خزانے ان بندگان رب نے اللہ کے نیک نفس اور مسکین خصلت بندوں پر خرچ کئے اور اللہ کے وعدے پورے ہوئے جو اس نے حبیب اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کہلوائے تھے۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
صفحہ نمبر5972
پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور آتا ہے اور مشرق و مغرب کی انتہا تک اللہ کا دین پھیل جاتا ہے۔ اللہ کا لشکر ایک طرف اقصیٰ مشرق تک اور دوسری طرف انتہاء مغرب تک پہنچ کر دم لیتے ہیں۔ اور مجاہدین کی آب دار تلواریں اللہ کی توحید کو دنیا کے گوشے گوشے اور چپے چپے میں پہنچا دیتی ہیں۔ اندلس، قبرص، قیروان وسبتہ یہاں تک کہ چین تک آپ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں فتح ہوئے۔ کسریٰ قتل کر دیا گیا اس کا ملک تو ایک طرف نام و نشان تک کھود کر پھینک دیا گیا اور ہزارہا برس کے آتش کدے بجھا دئیے گئے اور ہر اونچے ٹیلے سے صدائے اللہ اکبر آنے لگی۔
دوسری جانب مدائن، عراق، خراسان، اھواز سب فتح ہو گئے ترکوں سے جنگ عظیم ہوئی آخر ان کا بڑا بادشاہ خاقان خاک میں ملا ذلیل وخوار ہوا اور زمین کے مشرقی اور مغربی کونوں نے اپنے خراج بارگاہ خلافت عثمانی رضی اللہ عنہ میں پہنچوائے۔ حق تو یہ ہے کہ مجاہدین کی ان جانبازیوں میں جان ڈالنے والی چیز سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تلاوت قرآن کی برکت تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو قرآن سے کچھ ایسا شغف تھا جو بیان سے باہر ہے۔ قرآن کے جمع کرنے، اس کے حفظ کرنے، اس کی اشاعت کرنے، اس کے سنبھالنے میں جو نمایاں خدمیتں خلیفہ ثالث نے انجام دیں وہ یقیناً عدیم المثال ہیں۔
صفحہ نمبر5973
آپ رضی اللہ عنہ کے زمانے کو دیکھو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی کو دیکھو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میرے لیے زمین سمیٹ دی گئی یہاں تک کہ میں نے مشرق و مغرب دیکھ لی عنقریب میری امت کی سلطنت وہاں تک پہنچ جائے گی جہاں تک اس وقت مجھے دکھائی گئی ہے ۔ [صحیح مسلم:2889]
(مسلمانو! رب کے اس وعدے کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی کو دیکھو پھر تاریخ کے اوراق پلٹو اور اپنی گزشتہ عظمت وشان کو دیکھو آؤ نظریں ڈالو کہ آج تک اسلام کا پرچم بحمد اللہ بلند ہے اور مسلمان ان مجاہدین کرام کی مفتوح زمینوں میں شاہانہ حیثیت سے چل پھر رہے ہیں اللہ اور اس کے رسول سچے ہیں مسلمانو حیف اور صد حیف اس پر جو قرآن حدیث کے دائرے سے باہر نکلے حسرت اور صد حسرت اس پر جو اپنے آبائی ذخیرے کو غیر کے حوالے کرے۔ اپنے آباؤ اجداد کے خون کے قطروں سے خریدی ہوئی چیز کو اپنی نالائقیوں اور بے دینیوں سے غیر کی بھینٹ چڑھاوے اور سکھ سے بیٹھا، لیٹا رہے۔ اللہ ہمیں اپنا لشکری بنا لے آمین آمین)۔
صفحہ نمبر5974
حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں کا کام بھلائی سے جاری رہے گا یہاں تک کہ ان میں بارہ خلفاء ہوں گے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جملہ آہسۃ بولا جو راوی حدیث جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہا سن نہ سکے تو انہوں نے اپنے والد صاحب سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا انہوں نے بیان کیا کہ یہ فرمایا ہے یہ سب کے سب قریشی ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:7222]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اس شام کو بیان فرمائی تھی جس دن ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو رجم کیا گیا تھا۔ پس معلوم ہوا کہ ان بارہ خلیفوں کا ہونا ضروری ہے لیکن یہ یاد رہے کہ یہ وہ خلفاء نہیں جو شیعوں نے سمجھ رکھے ہیں کیونکہ شیعوں کے اماموں میں بہت سے وہ بھی ہیں جنہیں خلافت وسلطنت کا کوئی حصہ بھی پوری عمر میں نہیں ملا تھا اور یہ بارہ خلفاء ہوں گے۔ سب کے سب قریشی ہوں گے، حکم میں عدل کرنے والے ہوں گے، ان کی بشارت اگلی کتابوں میں بھی ہے اور یہ شرط نہیں ہے کہ یہ سب یکے بعد دیگرے ہوں گے بلکہ ان کا ہونایقینی ہے خواہ پے در پے کچھ ہوں خواہ متفرق زمانوں میں کچھ ہوں۔
چنانچہ چاروں خلیفہ تو بالترتیب ہوئے اول سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے بعد پھر سلسلہ ٹوٹ گیا پھر بھی ایسے خلیفہ ہوئے اور ممکن ہے آگے چل کر بھی ہوں۔ ان کے صحیح زمانوں کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہاں اتنا یقینی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام بھی انہی بارہ میں سے ہوں گے جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے جن کی کنیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت سے مطابق ہوگی تمام زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے جیسے کہ وہ ظلم وناانصافی سے بھرگئی ہوگی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے میرے بعد خلافت تیس سال رہے گی پھر کاٹ کھانے والا ملک ہو جائے گا ۔ [سنن ابوداود:4646، قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوالعالیہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم بیس سال تک مکے میں رہے اللہ کی توحید اور اس کی عبادت کی طرف دنیا کو دعوت دیتے رہے لیکن یہ زمانہ پوشیدگی کا، ڈر خوف کا اور بے اطمینانی کا تھا، جہاد کا حکم نہیں آیا تھا۔ مسلمان بے حد کمزور تھے اس کے بعد ہجرت کا حکم ہوا۔ مدینے پہنچے اب جہاد کا حکم ملا جہاد شروع ہوا دشمنوں نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔ اہل اسلام بہت خائف تھے۔ خطرے سے کوئی وقت خالی نہیں جاتا تھا صبح شام صحابہ رضی اللہ عنہم ہتھیاروں سے آراستہ رہتے تھے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم اسی طرح خوف زدہ ہی رہیں گے؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہماری زندگی کی کوئی گھڑی بھی اطمینان سے نہیں گزرے گی؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہتھیار اتار کر بھی ہمیں کبھی آسودگی کا سانس لینا میسر آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے سکون سے فرمایا: کچھ دن اور صبر کر لو پھر تو اس قدر امن و اطمینان ہو جائے گا کہ پوری مجلس میں، بھرے دربار میں چوکڑی بھر کر آرام سے بیٹھے ہوئے رہو گے۔ ایک کے پاس کیا کسی کے پاس بھی کوئی ہتھیار نہ ہوگا کیونکہ کامل امن وامان پورا اطمینان ہوگا ۔
اسی وقت یہ آیت اتری۔ پھر تو اللہ کے نبی جزیرہ عرب پر غالب آگئے عرب میں بھی کوئی کافر نہ رہا مسلمانوں کے دل خوف سے خالی ہو گئے اور ہتھیار ہر وقت لگائے رہنے ضروری نہ رہے۔ پھر یہی امن و راحت کا دور دورہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے بعد بھی تین خلافتوں تک رہا یعنی ابوبکر وعمر و عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانے تک۔ پھر مسلمان ان جھگڑوں میں پڑگئے جو رونما ہوئے پھر خوف زدہ رہنے لگے اور پہرے دار اور چوکیدار داروغے وغیرہ مقرر کئے اپنی حالتوں کو متغیر کیا تو متغیر ہوگئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:26179:مرسل]
صفحہ نمبر5975
بعض سلف سے منقول ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کی خلافت کی حقانیت کے بارے میں اس آیت کو پیش کیا۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس وقت یہ آیت اتری ہے اس وقت ہم انتہائی خوف اور اضطراب کی حالت میں تھے۔ جیسے فرمان ہے آیت «اذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [8-الأنفال:26] ، یعنی ” یہ وہ وقت بھی تھا کہ تم بے حد کمزور اور تھوڑے تھے اور قدم قدم اور دم دم پر خوف زدہ رہتے تھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعداد بڑھا دی تمہیں قوت وطاقت عنایت فرمائی اور امن وامان دیا “۔
پھر فرمایا کہ ” جیسے ان سے پہلے کے لوگوں کو اس نے زمین کا مالک کر دیا تھا “ جیسے کہ کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ» [7-الأعراف:129] ، ” بہت ممکن ہے بلکہ بہت ہی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو ہلاک کر دے اور تمہیں ان کا جانشین بنا دے “۔
اور آیت میں ہے «وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَي الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ اَىِٕمَّةً وَّنَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِيْنَ» [28-القصص:5-6] یعنی ” ہم نے ان پر احسان کرنا چاہا جو زمین بھر میں سب سے زیادہ ضعیف اور ناتواں تھے “۔
صفحہ نمبر5976
پھر فرمایا کہ ” ان کے دین کو جو اللہ کا پسندیدہ ہے جما دے گا اور اسے قوت و طاقت دے گا “۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ جب بطور وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تو نے حیرہ دیکھا ہے اس نے جواب دیا کہ میں حیرہ کو نہیں جانتا ہاں اس کا نام سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اللہ تعالیٰ میرے اس دین کو کامل طور پر پھیلائے گا یہاں تک کہ امن وامان قائم ہو جائے گا کہ حیرہ سے ایک سانڈنی سوار عورت تنہا نکلے گی اور وہ بیت اللہ تک پہنچ کر طواف سے فارغ ہو کر واپس ہوگی نہ خوف زدہ ہوگی نہ ہی اس کے ساتھ محافظ ہوگا۔ یقین مان کہ کسریٰ بن ھرمز کے خزانے مسلمانوں کی فتوحات میں آئیں گے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اسی کسری بن ھرمز کے۔ سنو اس قدر مال بڑھ جائے گا کہ کوئی قبول کرنے والا نہ ملے گا ۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اب تم دیکھ لو کہ فی الواقع حیرہ سے عورتیں بغیر کسی کی پناہ کی آتی جاتی ہیں۔ اس پیشن گوئی کو پورا ہوتے ہوئے ہم نے دیکھ لیا دوسری پیشین گوئی تو میری نگاہوں کے سامنے پوری ہوئی کسریٰ کے خزانے فتح کرنے والوں نے بتایا خود میں موجود تھا اور تیسری پیشین گوئی یقیناً پوری ہو کر رہے گی کیونکہ وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ [صحیح بخاری:3595]
مسند احمد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اس امت کو ترقی اور بڑھوتری کی مدد اور دین کی اشاعت کی بشارت دو۔ ہاں جو شخص آخرت کا عمل دنیا کے حاصل کرنے کے لیے کرے وہ جان لے کہ آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ملے گا ۔ [مسند احمد:134/5:صحیح]
صفحہ نمبر5977
پھر فرماتا ہے کہ ” وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے “۔
مسند میں ہے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک گدھے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف پالان کی لکڑی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے نام سے مجھے آواز دی میں نے «لبیک و سعدیک» کہا پھر تھوڑی سی دیر کے بعد چلنے کے بعد اسی طرح مجھے پکارا اور میں نے بھی اسی طرح جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانتے ہو اللہ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ پھر تھوڑی سی دیر چلنے کے بعد مجھے پکارا اور میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانتے ہو جب بندے اللہ کا حق ادا کریں تو اللہ کے ذمے بندوں کا حق کیا ہے؟ میں نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی پورا علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ انہیں عذاب نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:5967]
پھر فرمایا ” اس کے بعد جو منکر ہو جائے وہ یقیناً فاسق ہے “۔ یعنی اس کے بعد بھی جو میری فرمانبرداری چھوڑ دے اس نے میری حکم عدولی کی اور یہ گناہ سخت اور بہت بڑا ہے۔ شان الٰہی دیکھو جتنا جس زمانے میں اسلام کا زور رہا اتنی ہی مدد اللہ کی ہوئی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے ایمان میں بڑھے ہوئے تھے فتوحات میں بھی سب سے آگے نکل گئے جوں جوں ایمان کمزور ہوتا گیا دنیوی حالت سلطنت وشوکت بھی گرتی گئی۔
بخاری و مسلم میں ہے میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ برسر حق رہے گی اور وہ غالب اور نڈر رہے گی ان کی مخالفت ان کا کچھ نہ بگاڑسکیں گے قیامت تک یہ اسی طرح رہے گی ۔ [صحیح بخاری:7459]
صفحہ نمبر5978
اور روایت میں ہے یہاں تک اللہ کا وعدہ آ جائے گا ۔ [صحیح مسلم:1923]
ایک اور روایت میں ہے یہاں تک کہ یہی جماعت سب سے آخر دجال سے جہاد کرے گی ۔ [مسند بزار:3387:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے اترنے تک یہ لوگ کافروں پر غالب رہیں گے ۔ [مسند ابو یعلی:2078:ضعیف وله شواهد] یہ سب روایتیں صحیح ہیں اور ایک ہی مطلب سب کا ہے۔
صفحہ نمبر5979
صلوۃ اور حسن سلوک کی ہدایات ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے با ایمان بندوں کو صرف اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے کہ ” اسی کے لیے نمازیں پڑھتے رہو، اور ساتھ ہی اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہو۔ ضعیفوں، مسکینوں، فقیروں کی خبرگیری کرتے رہو۔ مال میں سے اللہ کا حق یعنی زکوٰۃ نکالتے رہو۔ اور ہر امر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے رہو۔ جس بات کا وہ حکم فرمائے لاؤ جس امر سے وہ روکیں رک جاؤ۔ یقین مانوکہ اللہ کی رحمت کے حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے “۔
چنانچہ اور آیت میں ہے «اُولٰىِٕكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [9-التوبة:71] ” یہی لوگ ہیں جن پر ضرور بضرور اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ گمان نہ کرنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہ ماننے والے ہم پر غالب آجائیں گے یا ادھر ادھر بھاگ کر ہمارے بے پناہ عذابوں سے بچ جائیں گے۔ ہم تو ان کا اصلی ٹھکانہ جہنم میں مقرر کر چکے ہیں جو نہایت بری جگہ ہے۔ قرار گاہ کے اعتبار اور بازگشت کے اعتبار سے بھی “۔
صفحہ نمبر5980
صلوۃ اور حسن سلوک کی ہدایات ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے با ایمان بندوں کو صرف اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے کہ ” اسی کے لیے نمازیں پڑھتے رہو، اور ساتھ ہی اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہو۔ ضعیفوں، مسکینوں، فقیروں کی خبرگیری کرتے رہو۔ مال میں سے اللہ کا حق یعنی زکوٰۃ نکالتے رہو۔ اور ہر امر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے رہو۔ جس بات کا وہ حکم فرمائے لاؤ جس امر سے وہ روکیں رک جاؤ۔ یقین مانوکہ اللہ کی رحمت کے حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے “۔
چنانچہ اور آیت میں ہے «اُولٰىِٕكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [9-التوبة:71] ” یہی لوگ ہیں جن پر ضرور بضرور اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ گمان نہ کرنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہ ماننے والے ہم پر غالب آجائیں گے یا ادھر ادھر بھاگ کر ہمارے بے پناہ عذابوں سے بچ جائیں گے۔ ہم تو ان کا اصلی ٹھکانہ جہنم میں مقرر کر چکے ہیں جو نہایت بری جگہ ہے۔ قرار گاہ کے اعتبار اور بازگشت کے اعتبار سے بھی “۔
صفحہ نمبر5980
گھروں میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں ٭٭
اس آیت میں قریب رشتے داروں کو بھی حکم ہو رہا ہے کہ وہ اجازت حاصل کر کے آیا کریں۔ اس سے پہلے کہ اس سورت کی شروع کی آیت میں جو حکم تھا وہ اجنبیوں کے لیے تھا۔ پس فرماتا ہے کہ ” تین وقتوں میں غلاموں کو نابالغ بچوں کو بھی اجازت مانگنی چاہے “۔ صبح کی نماز سے پہلے کیونکہ وہ وقت سونے کا ہوتا ہے۔ اور دوپہر کو جب انسان دو گھڑی راحت حاصل کرنے کے لیے عموماً اپنے گھر میں بالائی کپڑے اتار کر سوتا ہے اور عشاء کی نماز کے بعد کیونکہ وہ بھی بال بچوں کے ساتھ سونے کا وقت ہے۔
پس تین وقتوں میں نہ جائیں انسان بے فکری سے اپنے گھر میں کس حالت میں ہوتا ہے؟ اس لیے گھر کے لونڈی غلام اور چھوٹے بچے بھی بے اطلاع ان وقتوں میں چپ چاپ نہ گھس آئیں۔ ہاں ان خاص وقتوں کے علاوہ انہیں آنے کی اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کا آنا جانا تو ضروری ہے باربار کے آنے جانے والے ہیں ہر وقت کی اجازت طلبی ان کے لیے اور نیز تمہارے لیے بھی بڑی حرج کی چیز ہوگی۔ ایک حدیث میں ہے کہ بلی نجس نہیں وہ تو تمہارے گھروں میں تمہارے آس پاس گھومنے پھرنے والی ہے ۔ [سنن ابوداود:75،قال الشيخ الألباني:صحیح] حکم تو یہی ہے اور عمل اس پر بہت کم ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تین آیتوں پر عموماً لوگوں نے عمل چھوڑ رکھا ہے۔ ایک تو یہی آیت اور ایک سورۃ نساء کی آیت «وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنُ فَارْزُقُوْھُمْ مِّنْهُ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا» [4-النساء:8] اور ایک سورۃ الحجرات کی آیت «اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [49-الحجرات:13] ، شیطان لوگوں پر چھا گیا اور انہیں ان آیتوں پر عمل کرنے سے غافل کر دیا گویا ان پر ایمان ہی نہیں میں نے تو اپنی اس لونڈی سے بھی کہہ رکھا ہے کہ ان تینوں وقتوں میں بے اجازت ہرگز نہ آئے۔“ [سنن ابوداود:5191،قال الشيخ الألباني:صحيح الإسناد موقوف]
پہلی آیت میں تو ان تین وقتوں میں لونڈی غلاموں اور نابالغ بچوں کو بھی اجازت لینے کا حکم ہے دوسری آیت میں ورثے کی تقسیم کے وقت جو قرابت دار اور یتیم مسکین آجائیں انہیں بنام الٰہی کچھ دے دینے اور ان سے نرمی سے بات کرنے کا حکم ہے اور تیسری آیت میں حسب ونسب پر فخر کرنے بلکہ قابل اکرام خوف الٰہی کے ہونے کا ذکر ہے۔
صفحہ نمبر5982
حضرت شعمی رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کیا یہ آیت منسوخ ہو گئی ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”ہرگز نہیں۔“ اس نے کہا پھر لوگوں نے اس پر عمل کیوں چھوڑ رکھا ہے؟ فرمایا ”اللہ سے توفیق طلب کرنی چاہے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس آیت پر عمل کے ترک کی وجہ مالداری اور فراخ دلی ہے۔ پہلے تو لوگوں کے پاس اتنا بھی نہ تھا کہ اپنے دروازوں پر پردے لٹکا لیتے یا کشادہ گھر کئی کئی الگ الگ کمروں والے ہوتے ہیں تو بسا اوقات لونڈی غلام بے خبری میں چلے آتے اور میاں بیوی مشغول ہوتے تو آنے والے بھی شرما جاتے اور گھر والوں پر بھی شاق گزرتا اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کشادگی دی، کمرے جداگانہ بن گئے، دروازے باقاعدہ لگ گئے، دروازوں پر پردے پڑ گئے تو محفوظ ہو گئے۔ حکم الٰہی کی مصلحت پوری ہوگئی اس لیے اجازت کی پابندی اٹھ گئی اور لوگوں نے اس میں سستی اور غفلت شروع کر دی۔“
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہی تین وقت ایسے ہیں کہ انسان کو ذرا فرصت ہوتی ہے گھر میں ہوتا ہے اللہ جانے کس حالت میں ہو اس لیے لونڈی غلاموں کو بھی اجازت کا پابند کر دیا ہے کیونکہ اسی وقت میں عموماً لوگ اپنی گھر والیوں سے ملتے ہیں تاکہ نہا دھو کر بہ آرام گھر سے نکلیں اور نمازوں میں شامل ہوں۔“
یہ بھی مروی ہے کہ ایک انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ کھانا پکایا لوگ بلا اجازت ان کے گھر میں جانے لگے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو نہایت بری بات ہے کہ غلام بے اجازت گھر میں آ جائے ممکن ہے میاں بیوی ایک ہی کپڑے میں ہوں۔ پس یہ آیت اتری ۔ [مرسل و ضعیف]
اس آیت کے منسوخ نہ ہونے پر اس آیت کے خاتمے کے الفاظ بھی دلالت کرتے ہیں کہ اسی طرح تین وقتوں میں جن کا بیان اوپر گزرا اجازت مانگنی ضروری ہے لیکن بعد بلوغت تو ہر وقت اطلاع کر کے ہی جانا چاہے، جیسے کہ اور بڑے لوگ اجازت مانگ کر آتے ہیں خواہ اپنے ہوں یا پرائے۔
صفحہ نمبر5983
جو بڑھیا عورتیں اس عمر کو پہنچ جائیں کہ نہ اب انہیں مرد کی خواہش رہے نہ نکاح کی توقع حیض بند ہو جائے عمر سے اتر جائیں تو ان پر پردے کی وہ پابندیاں نہیں جو اور عورتوں پر ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں آیت «وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ» [24-النور:31] سے یہ آیت مستثنیٰ ہے۔ [سنن ابوداود:4111،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر5984
سیدنا ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ایسی عورتوں کو اجازت ہے کہ وہ برقعہ اور چادر اتار دیا کریں صرف دوپٹے میں اور کرتے پاجامے میں رہیں۔“ آپ رضی اللہ عنہ کی قرأت بھی «اَنْ يَّضَعْنَ مِنْ ثِيَابِهِنَّ» [24-النور:60] ہے۔ مراد اس سے دوپٹے کے اوپر کی چادر ڈالنا ضروری نہیں۔ لیکن مقصود اس سے بھی اظہار زینت نہ ہو۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب اس قسم کے سوالات عورتوں نے کئے تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”تمہارے لیے بناؤ سنگھار بے شک حلال اور طیب ہے لیکن غیر مردوں کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے نہیں۔“
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ جب بالکل بڑھیا پھوس ہو گئیں تو آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے غلام کے ہاتھوں اپنے سر کے بالوں میں مہندی لگوائی جب ان سے سوال کیا گیا تو فرمایا ”میں ان عمر رسیدہ عورتوں میں ہوں جنہیں خواہش نہیں رہی۔“
آخر میں فرمایا ” گو چادر کا نہ لینا ان بڑی عورتوں کے لیے جائز تو ہے مگر تاہم افضل یہی ہے کہ چادروں اور برقعوں میں ہی رہیں۔ اللہ تعالیٰ سننے جاننے والا ہے “۔
صفحہ نمبر5985
گھروں میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں ٭٭
اس آیت میں قریب رشتے داروں کو بھی حکم ہو رہا ہے کہ وہ اجازت حاصل کر کے آیا کریں۔ اس سے پہلے کہ اس سورت کی شروع کی آیت میں جو حکم تھا وہ اجنبیوں کے لیے تھا۔ پس فرماتا ہے کہ ” تین وقتوں میں غلاموں کو نابالغ بچوں کو بھی اجازت مانگنی چاہے “۔ صبح کی نماز سے پہلے کیونکہ وہ وقت سونے کا ہوتا ہے۔ اور دوپہر کو جب انسان دو گھڑی راحت حاصل کرنے کے لیے عموماً اپنے گھر میں بالائی کپڑے اتار کر سوتا ہے اور عشاء کی نماز کے بعد کیونکہ وہ بھی بال بچوں کے ساتھ سونے کا وقت ہے۔
پس تین وقتوں میں نہ جائیں انسان بے فکری سے اپنے گھر میں کس حالت میں ہوتا ہے؟ اس لیے گھر کے لونڈی غلام اور چھوٹے بچے بھی بے اطلاع ان وقتوں میں چپ چاپ نہ گھس آئیں۔ ہاں ان خاص وقتوں کے علاوہ انہیں آنے کی اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کا آنا جانا تو ضروری ہے باربار کے آنے جانے والے ہیں ہر وقت کی اجازت طلبی ان کے لیے اور نیز تمہارے لیے بھی بڑی حرج کی چیز ہوگی۔ ایک حدیث میں ہے کہ بلی نجس نہیں وہ تو تمہارے گھروں میں تمہارے آس پاس گھومنے پھرنے والی ہے ۔ [سنن ابوداود:75،قال الشيخ الألباني:صحیح] حکم تو یہی ہے اور عمل اس پر بہت کم ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تین آیتوں پر عموماً لوگوں نے عمل چھوڑ رکھا ہے۔ ایک تو یہی آیت اور ایک سورۃ نساء کی آیت «وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنُ فَارْزُقُوْھُمْ مِّنْهُ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا» [4-النساء:8] اور ایک سورۃ الحجرات کی آیت «اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [49-الحجرات:13] ، شیطان لوگوں پر چھا گیا اور انہیں ان آیتوں پر عمل کرنے سے غافل کر دیا گویا ان پر ایمان ہی نہیں میں نے تو اپنی اس لونڈی سے بھی کہہ رکھا ہے کہ ان تینوں وقتوں میں بے اجازت ہرگز نہ آئے۔“ [سنن ابوداود:5191،قال الشيخ الألباني:صحيح الإسناد موقوف]
پہلی آیت میں تو ان تین وقتوں میں لونڈی غلاموں اور نابالغ بچوں کو بھی اجازت لینے کا حکم ہے دوسری آیت میں ورثے کی تقسیم کے وقت جو قرابت دار اور یتیم مسکین آجائیں انہیں بنام الٰہی کچھ دے دینے اور ان سے نرمی سے بات کرنے کا حکم ہے اور تیسری آیت میں حسب ونسب پر فخر کرنے بلکہ قابل اکرام خوف الٰہی کے ہونے کا ذکر ہے۔
صفحہ نمبر5982
حضرت شعمی رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کیا یہ آیت منسوخ ہو گئی ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”ہرگز نہیں۔“ اس نے کہا پھر لوگوں نے اس پر عمل کیوں چھوڑ رکھا ہے؟ فرمایا ”اللہ سے توفیق طلب کرنی چاہے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس آیت پر عمل کے ترک کی وجہ مالداری اور فراخ دلی ہے۔ پہلے تو لوگوں کے پاس اتنا بھی نہ تھا کہ اپنے دروازوں پر پردے لٹکا لیتے یا کشادہ گھر کئی کئی الگ الگ کمروں والے ہوتے ہیں تو بسا اوقات لونڈی غلام بے خبری میں چلے آتے اور میاں بیوی مشغول ہوتے تو آنے والے بھی شرما جاتے اور گھر والوں پر بھی شاق گزرتا اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کشادگی دی، کمرے جداگانہ بن گئے، دروازے باقاعدہ لگ گئے، دروازوں پر پردے پڑ گئے تو محفوظ ہو گئے۔ حکم الٰہی کی مصلحت پوری ہوگئی اس لیے اجازت کی پابندی اٹھ گئی اور لوگوں نے اس میں سستی اور غفلت شروع کر دی۔“
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہی تین وقت ایسے ہیں کہ انسان کو ذرا فرصت ہوتی ہے گھر میں ہوتا ہے اللہ جانے کس حالت میں ہو اس لیے لونڈی غلاموں کو بھی اجازت کا پابند کر دیا ہے کیونکہ اسی وقت میں عموماً لوگ اپنی گھر والیوں سے ملتے ہیں تاکہ نہا دھو کر بہ آرام گھر سے نکلیں اور نمازوں میں شامل ہوں۔“
یہ بھی مروی ہے کہ ایک انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ کھانا پکایا لوگ بلا اجازت ان کے گھر میں جانے لگے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو نہایت بری بات ہے کہ غلام بے اجازت گھر میں آ جائے ممکن ہے میاں بیوی ایک ہی کپڑے میں ہوں۔ پس یہ آیت اتری ۔ [مرسل و ضعیف]
اس آیت کے منسوخ نہ ہونے پر اس آیت کے خاتمے کے الفاظ بھی دلالت کرتے ہیں کہ اسی طرح تین وقتوں میں جن کا بیان اوپر گزرا اجازت مانگنی ضروری ہے لیکن بعد بلوغت تو ہر وقت اطلاع کر کے ہی جانا چاہے، جیسے کہ اور بڑے لوگ اجازت مانگ کر آتے ہیں خواہ اپنے ہوں یا پرائے۔
صفحہ نمبر5983
جو بڑھیا عورتیں اس عمر کو پہنچ جائیں کہ نہ اب انہیں مرد کی خواہش رہے نہ نکاح کی توقع حیض بند ہو جائے عمر سے اتر جائیں تو ان پر پردے کی وہ پابندیاں نہیں جو اور عورتوں پر ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں آیت «وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ» [24-النور:31] سے یہ آیت مستثنیٰ ہے۔ [سنن ابوداود:4111،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر5984
سیدنا ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ایسی عورتوں کو اجازت ہے کہ وہ برقعہ اور چادر اتار دیا کریں صرف دوپٹے میں اور کرتے پاجامے میں رہیں۔“ آپ رضی اللہ عنہ کی قرأت بھی «اَنْ يَّضَعْنَ مِنْ ثِيَابِهِنَّ» [24-النور:60] ہے۔ مراد اس سے دوپٹے کے اوپر کی چادر ڈالنا ضروری نہیں۔ لیکن مقصود اس سے بھی اظہار زینت نہ ہو۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب اس قسم کے سوالات عورتوں نے کئے تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”تمہارے لیے بناؤ سنگھار بے شک حلال اور طیب ہے لیکن غیر مردوں کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے نہیں۔“
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ جب بالکل بڑھیا پھوس ہو گئیں تو آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے غلام کے ہاتھوں اپنے سر کے بالوں میں مہندی لگوائی جب ان سے سوال کیا گیا تو فرمایا ”میں ان عمر رسیدہ عورتوں میں ہوں جنہیں خواہش نہیں رہی۔“
آخر میں فرمایا ” گو چادر کا نہ لینا ان بڑی عورتوں کے لیے جائز تو ہے مگر تاہم افضل یہی ہے کہ چادروں اور برقعوں میں ہی رہیں۔ اللہ تعالیٰ سننے جاننے والا ہے “۔
صفحہ نمبر5985
گھروں میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں ٭٭
اس آیت میں قریب رشتے داروں کو بھی حکم ہو رہا ہے کہ وہ اجازت حاصل کر کے آیا کریں۔ اس سے پہلے کہ اس سورت کی شروع کی آیت میں جو حکم تھا وہ اجنبیوں کے لیے تھا۔ پس فرماتا ہے کہ ” تین وقتوں میں غلاموں کو نابالغ بچوں کو بھی اجازت مانگنی چاہے “۔ صبح کی نماز سے پہلے کیونکہ وہ وقت سونے کا ہوتا ہے۔ اور دوپہر کو جب انسان دو گھڑی راحت حاصل کرنے کے لیے عموماً اپنے گھر میں بالائی کپڑے اتار کر سوتا ہے اور عشاء کی نماز کے بعد کیونکہ وہ بھی بال بچوں کے ساتھ سونے کا وقت ہے۔
پس تین وقتوں میں نہ جائیں انسان بے فکری سے اپنے گھر میں کس حالت میں ہوتا ہے؟ اس لیے گھر کے لونڈی غلام اور چھوٹے بچے بھی بے اطلاع ان وقتوں میں چپ چاپ نہ گھس آئیں۔ ہاں ان خاص وقتوں کے علاوہ انہیں آنے کی اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کا آنا جانا تو ضروری ہے باربار کے آنے جانے والے ہیں ہر وقت کی اجازت طلبی ان کے لیے اور نیز تمہارے لیے بھی بڑی حرج کی چیز ہوگی۔ ایک حدیث میں ہے کہ بلی نجس نہیں وہ تو تمہارے گھروں میں تمہارے آس پاس گھومنے پھرنے والی ہے ۔ [سنن ابوداود:75،قال الشيخ الألباني:صحیح] حکم تو یہی ہے اور عمل اس پر بہت کم ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تین آیتوں پر عموماً لوگوں نے عمل چھوڑ رکھا ہے۔ ایک تو یہی آیت اور ایک سورۃ نساء کی آیت «وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنُ فَارْزُقُوْھُمْ مِّنْهُ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا» [4-النساء:8] اور ایک سورۃ الحجرات کی آیت «اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [49-الحجرات:13] ، شیطان لوگوں پر چھا گیا اور انہیں ان آیتوں پر عمل کرنے سے غافل کر دیا گویا ان پر ایمان ہی نہیں میں نے تو اپنی اس لونڈی سے بھی کہہ رکھا ہے کہ ان تینوں وقتوں میں بے اجازت ہرگز نہ آئے۔“ [سنن ابوداود:5191،قال الشيخ الألباني:صحيح الإسناد موقوف]
پہلی آیت میں تو ان تین وقتوں میں لونڈی غلاموں اور نابالغ بچوں کو بھی اجازت لینے کا حکم ہے دوسری آیت میں ورثے کی تقسیم کے وقت جو قرابت دار اور یتیم مسکین آجائیں انہیں بنام الٰہی کچھ دے دینے اور ان سے نرمی سے بات کرنے کا حکم ہے اور تیسری آیت میں حسب ونسب پر فخر کرنے بلکہ قابل اکرام خوف الٰہی کے ہونے کا ذکر ہے۔
صفحہ نمبر5982
حضرت شعمی رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کیا یہ آیت منسوخ ہو گئی ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”ہرگز نہیں۔“ اس نے کہا پھر لوگوں نے اس پر عمل کیوں چھوڑ رکھا ہے؟ فرمایا ”اللہ سے توفیق طلب کرنی چاہے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس آیت پر عمل کے ترک کی وجہ مالداری اور فراخ دلی ہے۔ پہلے تو لوگوں کے پاس اتنا بھی نہ تھا کہ اپنے دروازوں پر پردے لٹکا لیتے یا کشادہ گھر کئی کئی الگ الگ کمروں والے ہوتے ہیں تو بسا اوقات لونڈی غلام بے خبری میں چلے آتے اور میاں بیوی مشغول ہوتے تو آنے والے بھی شرما جاتے اور گھر والوں پر بھی شاق گزرتا اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کشادگی دی، کمرے جداگانہ بن گئے، دروازے باقاعدہ لگ گئے، دروازوں پر پردے پڑ گئے تو محفوظ ہو گئے۔ حکم الٰہی کی مصلحت پوری ہوگئی اس لیے اجازت کی پابندی اٹھ گئی اور لوگوں نے اس میں سستی اور غفلت شروع کر دی۔“
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہی تین وقت ایسے ہیں کہ انسان کو ذرا فرصت ہوتی ہے گھر میں ہوتا ہے اللہ جانے کس حالت میں ہو اس لیے لونڈی غلاموں کو بھی اجازت کا پابند کر دیا ہے کیونکہ اسی وقت میں عموماً لوگ اپنی گھر والیوں سے ملتے ہیں تاکہ نہا دھو کر بہ آرام گھر سے نکلیں اور نمازوں میں شامل ہوں۔“
یہ بھی مروی ہے کہ ایک انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ کھانا پکایا لوگ بلا اجازت ان کے گھر میں جانے لگے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو نہایت بری بات ہے کہ غلام بے اجازت گھر میں آ جائے ممکن ہے میاں بیوی ایک ہی کپڑے میں ہوں۔ پس یہ آیت اتری ۔ [مرسل و ضعیف]
اس آیت کے منسوخ نہ ہونے پر اس آیت کے خاتمے کے الفاظ بھی دلالت کرتے ہیں کہ اسی طرح تین وقتوں میں جن کا بیان اوپر گزرا اجازت مانگنی ضروری ہے لیکن بعد بلوغت تو ہر وقت اطلاع کر کے ہی جانا چاہے، جیسے کہ اور بڑے لوگ اجازت مانگ کر آتے ہیں خواہ اپنے ہوں یا پرائے۔
صفحہ نمبر5983
جو بڑھیا عورتیں اس عمر کو پہنچ جائیں کہ نہ اب انہیں مرد کی خواہش رہے نہ نکاح کی توقع حیض بند ہو جائے عمر سے اتر جائیں تو ان پر پردے کی وہ پابندیاں نہیں جو اور عورتوں پر ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں آیت «وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ» [24-النور:31] سے یہ آیت مستثنیٰ ہے۔ [سنن ابوداود:4111،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر5984
سیدنا ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ایسی عورتوں کو اجازت ہے کہ وہ برقعہ اور چادر اتار دیا کریں صرف دوپٹے میں اور کرتے پاجامے میں رہیں۔“ آپ رضی اللہ عنہ کی قرأت بھی «اَنْ يَّضَعْنَ مِنْ ثِيَابِهِنَّ» [24-النور:60] ہے۔ مراد اس سے دوپٹے کے اوپر کی چادر ڈالنا ضروری نہیں۔ لیکن مقصود اس سے بھی اظہار زینت نہ ہو۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب اس قسم کے سوالات عورتوں نے کئے تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”تمہارے لیے بناؤ سنگھار بے شک حلال اور طیب ہے لیکن غیر مردوں کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے نہیں۔“
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ جب بالکل بڑھیا پھوس ہو گئیں تو آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے غلام کے ہاتھوں اپنے سر کے بالوں میں مہندی لگوائی جب ان سے سوال کیا گیا تو فرمایا ”میں ان عمر رسیدہ عورتوں میں ہوں جنہیں خواہش نہیں رہی۔“
آخر میں فرمایا ” گو چادر کا نہ لینا ان بڑی عورتوں کے لیے جائز تو ہے مگر تاہم افضل یہی ہے کہ چادروں اور برقعوں میں ہی رہیں۔ اللہ تعالیٰ سننے جاننے والا ہے “۔
صفحہ نمبر5985