John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Furqaan

Tafsir Ibn Kathir · The Criterion · 77 ayat · ayat 31–60 · Quran text →

شکایت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

قیامت والے دن اللہ کے سچے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی شکایت جناب باری تعالیٰ میں کریں گے کہ نہ یہ لوگ قرآن کی طرف مائل تھے، نہ رغبت سے قبولیت کے ساتھ سنتے تھے بلکہ اوروں کو بھی اس کے سننے سے روکتے تھے۔ جیسے کہ کفار کا مقولہ خود قرآن میں ہے کہ وہ کہتے تھے «وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» [41-فصلت:26] ‏ ” اس قرآن کو نہ سنو اور اس کے پڑھے جانے کے وقت شور و غل کرو۔ “

یہی اس کا چھوڑ رکھنا تھا۔ نہ اس پر ایمان لاتے تھے، نہ اسے سچا جانتے تھے، نہ اس پر غور و فکر کرتے تھے، نہ ہی اسے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ نہ اس پر عمل تھا، نہ اس کے احکام کو بجا لاتے تھے، نہ اس کے منع کردہ کاموں سے رکتے تھے بلکہ اس کے سوا اور کاموں میں مشغول و منہمک رہتے تھے جیسے شعر، اشعار، غزلیات، باجے، گانے، راگ، راگنیاں، اسی طرح اور لوگوں کے کلام سے دلچسپی لیتے تھے اور ان پر عامل تھے، یہی اسے چھوڑ دینا تھا۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کریم و منان، جو ہر چیز پر قادر ہے، ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے ناپسندیدہ کاموں سے دست بردار ہو جائیں اور اس کے پسندیدہ کاموں کی طرف جھک جائیں۔ وہ ہمیں اپنے کلام کی سمجھ دے اور دن رات اس پر عمل کرنے کی ہدایت دے، جس سے وہ خوش ہو۔ وہ کریم و وہاب ہے۔

صفحہ نمبر6048

پھر فرمایا: جس طرح اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی قوم میں قرآن کو نظر انداز کر دینے والے لوگ ہیں۔ اسی طرح اگلی امتوں میں بھی ایسے لوگ تھے جو خود کفر کر کے دوسروں کو اپنے کفر میں شریک کار کرتے تھے اور اپنی گمراہی کے پھیلانے کی فکر میں لگے رہتے تھے۔

جیسے فرمان ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ» [6-الأنعام:112] ‏ یعنی ” اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن شیاطین و انسان بنا دئیے ہیں۔ “

صفحہ نمبر6049

پھر فرمایا: جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرے، کتاب اللہ پر ایمان لائے، اللہ کی وحی پر یقین کرے، اس کا ہادی اور ناصر خود اللہ تعالیٰ ہے۔

مشرکوں کی جو خصلت اوپر بیان ہوئی، اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ لوگوں کو ہدایت پر نہ آنے دیں اور آپ مسلمانوں پر غالب رہیں۔ اس لیے قرآن نے فیصلہ کیا کہ یہ نامراد ہی رہیں گے۔ اللہ اپنے نیک بندوں کو خود ہدایت کرے گا اور مسلمان کی خود مدد کرے گا۔ یہ معاملہ اور ایسوں کا مقابلہ کچھ تجھ سے ہی نہیں، تمام اگلے نبیوں کے ساتھ یہی ہوتا رہا ہے۔

صفحہ نمبر6050

قرآن حکیم مختلف اوقات میں کیوں اتارا ٭٭

کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جیسے تورات، انجیل، زبور وغیرہ ایک ساتھ پیغمبروں پر نازل ہوتی رہیں۔ یہ قرآن ایک ہی دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیوں نہ ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں واقعی یہ متفرق طور پر اترا ہے، بیس برس میں نازل ہوا ہے جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی، جو جو واقعات ہوتے رہے، احکام نازل ہوتے گئے تاکہ مومنوں کا دل جما رہے۔ ٹھہر ٹھہر کر احکام اتریں تاکہ ایک دم عمل مشکل نہ ہو پڑے، وضاحت کے ساتھ بیان ہو جائے۔ سمجھ میں آ جائے۔ تفسیر بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتی رہے۔

ہم ان کے کل اعتراضات کا صحیح اور سچا جواب دیں گے جو ان کے بیان سے بھی واضح اور سچا ہو گا۔ جو کمی یہ بیان کریں گے، ہم ان کی تسلی کر دیں گے۔ صبح و شام، رات دن، سفر حضر میں بار بار اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور اپنے خاص بندوں کی ہدایت کے لیے ہمارا کلام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی تک اترتا رہا۔ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضیلت بھی ظاہر ہوتی رہی لیکن دوسرے انبیاء علیہم السلام پر ایک ہی مرتبہ سارا کلام اترا مگر اس سے بہترین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تبارک و تعالیٰ بار بار خطاب کرتا رہا تاکہ اس قرآن کی عظمت بھی آشکار ہو جائے، اس لیے کہ یہ کتنی لمبی مدت میں نازل ہوا۔

پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب نبیوں میں اعلیٰ اور قرآن بھی سب کلاموں میں بالا۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ قرآن کو دونوں بزرگیاں ملیں۔ یہ ایک ساتھ لوح محفوظ سے ملأ اعلیٰ میں اترا۔ لوح محفوظ سے پورے کا پورا دنیا کے آسمان تک پہنچا۔ پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوتا رہا۔

صفحہ نمبر6052

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: سارا قرآن ایک دفعہ ہی لیلۃ القدر میں دنیا کے آسمان پر نازل ہوا پھر بیس سال تک زمین پر اترتا رہا۔ پھر اس کے ثبوت میں آپ نے آیت «وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرًا» اور آیت «وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا» [17-الإسراء:106] ‏ تلاوت فرمائی۔

اس کے بعد کافروں کی جو درگت قیامت کے روز ہونے والی ہے، اس کا بیان فرمایا کہ بدترین حالت اور قبیح تر ذلت میں ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا۔ یہ اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے، یہی برے ٹھکانے والے اور سب سے بڑھ کر گمراہ ہیں۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کافروں کا حشر منہ کے بل کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے انہیں پیر کے بل چلایا ہے ِ، وہ سر کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔

صفحہ نمبر6053

قرآن حکیم مختلف اوقات میں کیوں اتارا ٭٭

کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جیسے تورات، انجیل، زبور وغیرہ ایک ساتھ پیغمبروں پر نازل ہوتی رہیں۔ یہ قرآن ایک ہی دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیوں نہ ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں واقعی یہ متفرق طور پر اترا ہے، بیس برس میں نازل ہوا ہے جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی، جو جو واقعات ہوتے رہے، احکام نازل ہوتے گئے تاکہ مومنوں کا دل جما رہے۔ ٹھہر ٹھہر کر احکام اتریں تاکہ ایک دم عمل مشکل نہ ہو پڑے، وضاحت کے ساتھ بیان ہو جائے۔ سمجھ میں آ جائے۔ تفسیر بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتی رہے۔

ہم ان کے کل اعتراضات کا صحیح اور سچا جواب دیں گے جو ان کے بیان سے بھی واضح اور سچا ہو گا۔ جو کمی یہ بیان کریں گے، ہم ان کی تسلی کر دیں گے۔ صبح و شام، رات دن، سفر حضر میں بار بار اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور اپنے خاص بندوں کی ہدایت کے لیے ہمارا کلام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی تک اترتا رہا۔ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضیلت بھی ظاہر ہوتی رہی لیکن دوسرے انبیاء علیہم السلام پر ایک ہی مرتبہ سارا کلام اترا مگر اس سے بہترین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تبارک و تعالیٰ بار بار خطاب کرتا رہا تاکہ اس قرآن کی عظمت بھی آشکار ہو جائے، اس لیے کہ یہ کتنی لمبی مدت میں نازل ہوا۔

پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب نبیوں میں اعلیٰ اور قرآن بھی سب کلاموں میں بالا۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ قرآن کو دونوں بزرگیاں ملیں۔ یہ ایک ساتھ لوح محفوظ سے ملأ اعلیٰ میں اترا۔ لوح محفوظ سے پورے کا پورا دنیا کے آسمان تک پہنچا۔ پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوتا رہا۔

صفحہ نمبر6052

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: سارا قرآن ایک دفعہ ہی لیلۃ القدر میں دنیا کے آسمان پر نازل ہوا پھر بیس سال تک زمین پر اترتا رہا۔ پھر اس کے ثبوت میں آپ نے آیت «وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرًا» اور آیت «وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا» [17-الإسراء:106] ‏ تلاوت فرمائی۔

اس کے بعد کافروں کی جو درگت قیامت کے روز ہونے والی ہے، اس کا بیان فرمایا کہ بدترین حالت اور قبیح تر ذلت میں ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا۔ یہ اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے، یہی برے ٹھکانے والے اور سب سے بڑھ کر گمراہ ہیں۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کافروں کا حشر منہ کے بل کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے انہیں پیر کے بل چلایا ہے ِ، وہ سر کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔

صفحہ نمبر6053

قرآن حکیم مختلف اوقات میں کیوں اتارا ٭٭

کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جیسے تورات، انجیل، زبور وغیرہ ایک ساتھ پیغمبروں پر نازل ہوتی رہیں۔ یہ قرآن ایک ہی دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیوں نہ ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں واقعی یہ متفرق طور پر اترا ہے، بیس برس میں نازل ہوا ہے جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی، جو جو واقعات ہوتے رہے، احکام نازل ہوتے گئے تاکہ مومنوں کا دل جما رہے۔ ٹھہر ٹھہر کر احکام اتریں تاکہ ایک دم عمل مشکل نہ ہو پڑے، وضاحت کے ساتھ بیان ہو جائے۔ سمجھ میں آ جائے۔ تفسیر بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتی رہے۔

ہم ان کے کل اعتراضات کا صحیح اور سچا جواب دیں گے جو ان کے بیان سے بھی واضح اور سچا ہو گا۔ جو کمی یہ بیان کریں گے، ہم ان کی تسلی کر دیں گے۔ صبح و شام، رات دن، سفر حضر میں بار بار اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور اپنے خاص بندوں کی ہدایت کے لیے ہمارا کلام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی تک اترتا رہا۔ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضیلت بھی ظاہر ہوتی رہی لیکن دوسرے انبیاء علیہم السلام پر ایک ہی مرتبہ سارا کلام اترا مگر اس سے بہترین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تبارک و تعالیٰ بار بار خطاب کرتا رہا تاکہ اس قرآن کی عظمت بھی آشکار ہو جائے، اس لیے کہ یہ کتنی لمبی مدت میں نازل ہوا۔

پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب نبیوں میں اعلیٰ اور قرآن بھی سب کلاموں میں بالا۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ قرآن کو دونوں بزرگیاں ملیں۔ یہ ایک ساتھ لوح محفوظ سے ملأ اعلیٰ میں اترا۔ لوح محفوظ سے پورے کا پورا دنیا کے آسمان تک پہنچا۔ پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوتا رہا۔

صفحہ نمبر6052

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: سارا قرآن ایک دفعہ ہی لیلۃ القدر میں دنیا کے آسمان پر نازل ہوا پھر بیس سال تک زمین پر اترتا رہا۔ پھر اس کے ثبوت میں آپ نے آیت «وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرًا» اور آیت «وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا» [17-الإسراء:106] ‏ تلاوت فرمائی۔

اس کے بعد کافروں کی جو درگت قیامت کے روز ہونے والی ہے، اس کا بیان فرمایا کہ بدترین حالت اور قبیح تر ذلت میں ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا۔ یہ اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے، یہی برے ٹھکانے والے اور سب سے بڑھ کر گمراہ ہیں۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کافروں کا حشر منہ کے بل کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے انہیں پیر کے بل چلایا ہے ِ، وہ سر کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔

صفحہ نمبر6053

انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔

فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔

جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «‏اَصْحَابَ الرَّسِّ» ‏ کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔

صفحہ نمبر6056

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (‏یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] ‏ یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6057

اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6058

پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔

جیسے فرمان ہے کہ ” نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ “ [17-الإسراء:17] ‏

قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ “ [23-المؤمنون:31] ‏

قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ [صحیح بخاری:3651] ‏

پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔

صفحہ نمبر6059

انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔

فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔

جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «‏اَصْحَابَ الرَّسِّ» ‏ کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔

صفحہ نمبر6056

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (‏یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] ‏ یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6057

اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6058

پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔

جیسے فرمان ہے کہ ” نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ “ [17-الإسراء:17] ‏

قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ “ [23-المؤمنون:31] ‏

قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ [صحیح بخاری:3651] ‏

پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔

صفحہ نمبر6059

انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔

فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔

جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «‏اَصْحَابَ الرَّسِّ» ‏ کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔

صفحہ نمبر6056

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (‏یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] ‏ یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6057

اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6058

پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔

جیسے فرمان ہے کہ ” نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ “ [17-الإسراء:17] ‏

قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ “ [23-المؤمنون:31] ‏

قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ [صحیح بخاری:3651] ‏

پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔

صفحہ نمبر6059

انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔

فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔

جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «‏اَصْحَابَ الرَّسِّ» ‏ کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔

صفحہ نمبر6056

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (‏یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] ‏ یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6057

اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6058

پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔

جیسے فرمان ہے کہ ” نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ “ [17-الإسراء:17] ‏

قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ “ [23-المؤمنون:31] ‏

قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ [صحیح بخاری:3651] ‏

پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔

صفحہ نمبر6059

انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔

فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔

جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «‏اَصْحَابَ الرَّسِّ» ‏ کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔

صفحہ نمبر6056

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (‏یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] ‏ یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6057

اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6058

پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔

جیسے فرمان ہے کہ ” نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ “ [17-الإسراء:17] ‏

قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ “ [23-المؤمنون:31] ‏

قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ [صحیح بخاری:3651] ‏

پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔

صفحہ نمبر6059

انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔

فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔

جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «‏اَصْحَابَ الرَّسِّ» ‏ کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔

صفحہ نمبر6056

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (‏یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] ‏ یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6057

اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6058

پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔

جیسے فرمان ہے کہ ” نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ “ [17-الإسراء:17] ‏

قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ “ [23-المؤمنون:31] ‏

قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ [صحیح بخاری:3651] ‏

پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔

صفحہ نمبر6059

انبیاء کا مذاق ٭٭

کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔

جیسے فرمان ہے «وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» [13-الرعد:32] ‏ ” تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ “

کہنے لگے: وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے۔ نفس و شیطان جس چیز کو اچھا ظاہر کرتا ہے، یہ بھی اسے اچھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بھلا ان کا ذمہ دار تو کیسے ٹھہر سکتا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ حالت تھی کہ جہاں کسی سفید گول مول پتھر کو دیکھا، اس کے سامنے جھکنے اور سجدے کرنے لگے۔ اس سے اچھا کوئی نظر پڑ گیا تو اس کے سامنے جھک گئے۔ اور اول کو چھوڑ دیا۔ پھر فرماتا ہے: یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ نہ ان کے کان ہیں، نہ دل ہیں۔ چوپائے تو خیر قدرتاً آزاد ہیں لیکن یہ جو عبادت کے لیے پیدا کیے گئے تھے، یہ ان سے بھی زیادہ بہک گئے بلکہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔ اور قیام حجت کے بعد، رسولوں کے پہنچ چکنے کے بعد بھی اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ اس کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتے۔

صفحہ نمبر6065

انبیاء کا مذاق ٭٭

کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔

جیسے فرمان ہے «وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» [13-الرعد:32] ‏ ” تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ “

کہنے لگے: وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے۔ نفس و شیطان جس چیز کو اچھا ظاہر کرتا ہے، یہ بھی اسے اچھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بھلا ان کا ذمہ دار تو کیسے ٹھہر سکتا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ حالت تھی کہ جہاں کسی سفید گول مول پتھر کو دیکھا، اس کے سامنے جھکنے اور سجدے کرنے لگے۔ اس سے اچھا کوئی نظر پڑ گیا تو اس کے سامنے جھک گئے۔ اور اول کو چھوڑ دیا۔ پھر فرماتا ہے: یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ نہ ان کے کان ہیں، نہ دل ہیں۔ چوپائے تو خیر قدرتاً آزاد ہیں لیکن یہ جو عبادت کے لیے پیدا کیے گئے تھے، یہ ان سے بھی زیادہ بہک گئے بلکہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔ اور قیام حجت کے بعد، رسولوں کے پہنچ چکنے کے بعد بھی اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ اس کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتے۔

صفحہ نمبر6065

انبیاء کا مذاق ٭٭

کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔

جیسے فرمان ہے «وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» [13-الرعد:32] ‏ ” تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ “

کہنے لگے: وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے۔ نفس و شیطان جس چیز کو اچھا ظاہر کرتا ہے، یہ بھی اسے اچھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بھلا ان کا ذمہ دار تو کیسے ٹھہر سکتا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ حالت تھی کہ جہاں کسی سفید گول مول پتھر کو دیکھا، اس کے سامنے جھکنے اور سجدے کرنے لگے۔ اس سے اچھا کوئی نظر پڑ گیا تو اس کے سامنے جھک گئے۔ اور اول کو چھوڑ دیا۔ پھر فرماتا ہے: یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ نہ ان کے کان ہیں، نہ دل ہیں۔ چوپائے تو خیر قدرتاً آزاد ہیں لیکن یہ جو عبادت کے لیے پیدا کیے گئے تھے، یہ ان سے بھی زیادہ بہک گئے بلکہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔ اور قیام حجت کے بعد، رسولوں کے پہنچ چکنے کے بعد بھی اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ اس کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتے۔

صفحہ نمبر6065

انبیاء کا مذاق ٭٭

کافر لوگ اللہ کے برتر و بہتر پیغمبر احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہنسی مذاق اڑاتے تھے، عیب جوئی کرتے تھے اور آپ میں نقصان بتاتے تھے۔ یہی حالت ہر زمانے کے کفار کی اپنے نبیوں کے ساتھ رہی۔

جیسے فرمان ہے «وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاق بالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ» [13-الرعد:32] ‏ ” تجھ سے پہلے کے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ “

کہنے لگے: وہ تو کہئے کہ ہم جمے رہے ورنہ اس رسول نے ہمیں بہکانے میں کوئی کمی نہ رکھی تھی۔ اچھا عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر یہ کہاں تک تھے؟ عذابوں کو دیکھتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے۔ نفس و شیطان جس چیز کو اچھا ظاہر کرتا ہے، یہ بھی اسے اچھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بھلا ان کا ذمہ دار تو کیسے ٹھہر سکتا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ حالت تھی کہ جہاں کسی سفید گول مول پتھر کو دیکھا، اس کے سامنے جھکنے اور سجدے کرنے لگے۔ اس سے اچھا کوئی نظر پڑ گیا تو اس کے سامنے جھک گئے۔ اور اول کو چھوڑ دیا۔ پھر فرماتا ہے: یہ تو چوپایوں سے بھی بدتر ہیں۔ نہ ان کے کان ہیں، نہ دل ہیں۔ چوپائے تو خیر قدرتاً آزاد ہیں لیکن یہ جو عبادت کے لیے پیدا کیے گئے تھے، یہ ان سے بھی زیادہ بہک گئے بلکہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے۔ اور قیام حجت کے بعد، رسولوں کے پہنچ چکنے کے بعد بھی اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ اس کی توحید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو نہیں مانتے۔

صفحہ نمبر6065

اگر وہ چاہے تو رات دن نہ بدلے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت پر دلیلیں بیان ہو رہی ہے کہ مختلف اور متضاد چیزوں کو وہ پیدا کر رہا ہے۔ سائے کو وہ بڑھاتا ہے، کہتے ہیں کہ یہ وقت صبح صادق سے لے کر سورج نکلنے تک کا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو اسے ایک ہی حالت پر رکھ دیتا۔

جیسے فرمان ہے کہ اگر وہ رات ہی رات رکھے تو کوئی دن نہیں کر سکتا اور اگر دن ہی دن رکھے تو کوئی رات نہیں لا سکتا۔ اگر سورج نہ نکلتا تو سائے کا حال ہی معلوم نہ ہوتا۔ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ سائے کے پیچھے دھوپ، دھوپ کے پیچھے سایہ، یہ بھی قدرت کا انتظام ہے۔ پھر سہج سہج ہم اسے یعنی سائے کو یا سورج کو اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک گھٹتا جاتا ہے تو دوسرا بڑھتا جاتا ہے اور یہ انقلاب سرعت سے عمل میں آتا ہے۔ کوئی جگہ سایہ دار باقی نہیں رہتی۔ صرف گھروں کے چھپڑوں کے اور درختوں کے نیچے سایہ رہ جاتا ہے اور ان کے بھی اوپر دھوپ کھلی ہوئی ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا کر کے ہم اسے اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔

صفحہ نمبر6069

اسی نے رات کو تمہارے لیے لباس بنایا ہے کہ وہ تمہارے وجود پر چھا جاتی ہے اور اسے ڈھانپ لیتی ہے جیسے فرمان ہے: قسم ہے رات کی جبکہ ڈھانپ لے، اسی نے نیند کو سبب راحت و سکون بنایا ہے کہ اس وقت حرکت موقوف ہو جاتی ہے۔ اور دن بھر کے کام کاج سے جو تھکن چڑھ گئی تھی، وہ اس آرام سے اتر جاتی ہے۔ بدن کو اور روح کو راحت حاصل ہو جاتی ہے۔ پھر دن کو اٹھ کھڑے ہوتے ہو، پھیل جاتے ہو۔ اور روزی کی تلاش میں لگ جاتے ہو۔

جیسے فرمان ہے کہ ” اس نے اپنی رحمت سے رات دن مقرر کر دیا ہے کہ تم سکون و آرام بھی حاصل کر لو اور اپنی روزیاں بھی تلاش کرو۔ “ [28-القصص:73] ‏

صفحہ نمبر6070

اگر وہ چاہے تو رات دن نہ بدلے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت پر دلیلیں بیان ہو رہی ہے کہ مختلف اور متضاد چیزوں کو وہ پیدا کر رہا ہے۔ سائے کو وہ بڑھاتا ہے، کہتے ہیں کہ یہ وقت صبح صادق سے لے کر سورج نکلنے تک کا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو اسے ایک ہی حالت پر رکھ دیتا۔

جیسے فرمان ہے کہ اگر وہ رات ہی رات رکھے تو کوئی دن نہیں کر سکتا اور اگر دن ہی دن رکھے تو کوئی رات نہیں لا سکتا۔ اگر سورج نہ نکلتا تو سائے کا حال ہی معلوم نہ ہوتا۔ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ سائے کے پیچھے دھوپ، دھوپ کے پیچھے سایہ، یہ بھی قدرت کا انتظام ہے۔ پھر سہج سہج ہم اسے یعنی سائے کو یا سورج کو اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک گھٹتا جاتا ہے تو دوسرا بڑھتا جاتا ہے اور یہ انقلاب سرعت سے عمل میں آتا ہے۔ کوئی جگہ سایہ دار باقی نہیں رہتی۔ صرف گھروں کے چھپڑوں کے اور درختوں کے نیچے سایہ رہ جاتا ہے اور ان کے بھی اوپر دھوپ کھلی ہوئی ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا کر کے ہم اسے اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔

صفحہ نمبر6069

اسی نے رات کو تمہارے لیے لباس بنایا ہے کہ وہ تمہارے وجود پر چھا جاتی ہے اور اسے ڈھانپ لیتی ہے جیسے فرمان ہے: قسم ہے رات کی جبکہ ڈھانپ لے، اسی نے نیند کو سبب راحت و سکون بنایا ہے کہ اس وقت حرکت موقوف ہو جاتی ہے۔ اور دن بھر کے کام کاج سے جو تھکن چڑھ گئی تھی، وہ اس آرام سے اتر جاتی ہے۔ بدن کو اور روح کو راحت حاصل ہو جاتی ہے۔ پھر دن کو اٹھ کھڑے ہوتے ہو، پھیل جاتے ہو۔ اور روزی کی تلاش میں لگ جاتے ہو۔

جیسے فرمان ہے کہ ” اس نے اپنی رحمت سے رات دن مقرر کر دیا ہے کہ تم سکون و آرام بھی حاصل کر لو اور اپنی روزیاں بھی تلاش کرو۔ “ [28-القصص:73] ‏

صفحہ نمبر6070

اگر وہ چاہے تو رات دن نہ بدلے ٭٭

اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت پر دلیلیں بیان ہو رہی ہے کہ مختلف اور متضاد چیزوں کو وہ پیدا کر رہا ہے۔ سائے کو وہ بڑھاتا ہے، کہتے ہیں کہ یہ وقت صبح صادق سے لے کر سورج نکلنے تک کا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو اسے ایک ہی حالت پر رکھ دیتا۔

جیسے فرمان ہے کہ اگر وہ رات ہی رات رکھے تو کوئی دن نہیں کر سکتا اور اگر دن ہی دن رکھے تو کوئی رات نہیں لا سکتا۔ اگر سورج نہ نکلتا تو سائے کا حال ہی معلوم نہ ہوتا۔ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ سائے کے پیچھے دھوپ، دھوپ کے پیچھے سایہ، یہ بھی قدرت کا انتظام ہے۔ پھر سہج سہج ہم اسے یعنی سائے کو یا سورج کو اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک گھٹتا جاتا ہے تو دوسرا بڑھتا جاتا ہے اور یہ انقلاب سرعت سے عمل میں آتا ہے۔ کوئی جگہ سایہ دار باقی نہیں رہتی۔ صرف گھروں کے چھپڑوں کے اور درختوں کے نیچے سایہ رہ جاتا ہے اور ان کے بھی اوپر دھوپ کھلی ہوئی ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا کر کے ہم اسے اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔

صفحہ نمبر6069

اسی نے رات کو تمہارے لیے لباس بنایا ہے کہ وہ تمہارے وجود پر چھا جاتی ہے اور اسے ڈھانپ لیتی ہے جیسے فرمان ہے: قسم ہے رات کی جبکہ ڈھانپ لے، اسی نے نیند کو سبب راحت و سکون بنایا ہے کہ اس وقت حرکت موقوف ہو جاتی ہے۔ اور دن بھر کے کام کاج سے جو تھکن چڑھ گئی تھی، وہ اس آرام سے اتر جاتی ہے۔ بدن کو اور روح کو راحت حاصل ہو جاتی ہے۔ پھر دن کو اٹھ کھڑے ہوتے ہو، پھیل جاتے ہو۔ اور روزی کی تلاش میں لگ جاتے ہو۔

جیسے فرمان ہے کہ ” اس نے اپنی رحمت سے رات دن مقرر کر دیا ہے کہ تم سکون و آرام بھی حاصل کر لو اور اپنی روزیاں بھی تلاش کرو۔ “ [28-القصص:73] ‏

صفحہ نمبر6070

بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی ایک اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے۔

ان ہواؤں میں رب نے بہت سے خواص رکھے ہیں۔ بعض بادلوں کو پراگندہ کر دیتی ہیں، بعض انہیں اٹھاتی ہیں، بعض انہیں لے چلتی ہیں، بعض خنک اور بھیگی ہوئی چل کر لوگوں کو باران رحمت کی طرف متوجہ کر دیتی ہیں، بعض اس سے پہلے زمین کو تیار کر دیتی ہیں، بعض بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں اور انہیں بوجھل کر دیتی ہیں۔ آسمان سے ہم پاک صاف پانی برساتے ہیں کہ وہ پاکیزگی کا آلہ بنے۔ یہاں طہور ایسا ہی ہے جیسا سحور اور وجور وغیرہ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ فعول معنی فاعل کے ہے یا یہ مبالغہ کے لیے مبنی ہے یا متعدی کے لیے۔ یہ سب اقوال لغت اور حکم کے اعتبار سے مشکل ہیں۔ پوری تفصیل کے لائق یہ مقام نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ثابت بنانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ابوالعالیہ رحمہ اللہ کے ساتھ بارش کے زمانہ میں نکلا۔ بصرے کے راستے اس وقت بڑے گندے ہو رہے تھے۔ آپ نے ایسے راستہ پر نماز ادا کی۔ میں نے آپ کو توجہ دلائی تو آپ نے فرمایا: اسے آسمان کے پاک پانی نے پاک کر دیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے اسے پاک اتارا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔

صفحہ نمبر6073

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ بئر بضاعہ سے وضو کر لیں؟ یہ ایک کنواں ہے جس میں لوگ گندگی اور کتوں کا گوشت پھینکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ [سنن ابوداود:66،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ نے اسے وارد کیا ہے۔ امام ابوداؤد اور امام ترمذی رحمہما اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔

عبدالملک بن مروان کے دربار میں ایک مرتبہ پانی کا ذکر چھڑا تو خالد بن یزید رحمہ اللہ نے کہا: بعض پانی آسمان کے ہوتے ہیں، بعض پانی وہ ہوتے ہیں جسے بادل سمندر سے پیتا ہے اور اسے گرج، کڑک اور بجلی میٹھا کر دیتی ہے لیکن اس سے زمین میں پیداوار نہیں ہوتی۔ ہاں آسمانی پانی سے پیداوار اگتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آسمان کے پانی کے ہر قطرہ سے چارہ، گھاس وغیرہ پیدا ہوتا ہے۔ سمندر میں لؤلؤ اور موتی پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی «فِیْ الْبَرِّ بَرٌّ وَّ فِیْ الْبَحْرِ دَرٌّ» زمین میں گیہوں اور سمندر میں موتی۔

پھر فرمایا کہ اسی سے ہم غیر آباد بنجر خشک زمین کو زندہ کر دیتے ہیں، وہ لہلہانے لگتی ہے اور تروتازہ ہو جاتی ہے۔ جیسے فرمان ہے «فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [22-الحج:5] ‏

علاوہ مردہ زمین کے زندہ ہو جانے کے، یہ پانی حیوانوں اور انسانوں کے پینے میں آتا ہے، ان کے کھیتوں اور باغات کو پلایا جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” وہ اللہ وہی ہے، جو لوگوں کی کامل ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برساتا ہے۔ “ [42-الشورى:28] ‏

اور آیت میں ہے کہ ” اللہ کے آثار رحمت کو دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے۔ “ [30-الروم:5] ‏

پھر فرماتا ہے: ساتھ ہی میری قدرت کا ایک نظارہ یہ بھی دیکھو کہ ابر اٹھتا ہے، گرجتا ہے لیکن جہاں میں چاہتا ہوں برستا ہے، اس میں بھی حکمت و حجت ہے۔

صفحہ نمبر6074

بارش اللہ کے حکم سے ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ کوئی سال کسی سال کے کم و بیش بارش کا نہیں لیکن اللہ جہاں چاہے، برسائے۔ جہاں سے چاہے، پھیرے۔ پس چاہئے تھا کہ ان نشانات کو دیکھ کر اللہ کی ان زبردست حکمتوں کو اور قدرتوں کو سامنے رکھ کر اس بات کو بھی مان لیتے کہ بیشک ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور یہ بھی جان لیتے کہ بارشیں ہمارے گناہوں کی شامت سے بند کر دی جاتی ہیں تو ہم گناہ چھوڑ دیں لیکن ان لوگوں نے ایسا نہ کیا بلکہ ہماری نعمتوں پر اور ناشکری کی۔

ایک مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ میں بادل کی نسبت کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: بادلوں پر جو فرشتہ مقرر ہے، وہ یہ ہے۔ آپ ان سے جو چاہیں، دریافت فرما لیں۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس تو اللہ کا حکم آتا ہے کہ فلاں فلاں شہر اتنے اتنے قطرے برساؤ، ہم تعمیل ارشاد کر دیتے ہیں۔

بارشیں جیسی نعمت کے وقت اکثر لوگوں کے کفر کا طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے یہ بارش برسائے گئے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ بارش برس چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جاننے والا ہے۔ آپ نے فرمایا: سنو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ مومن ہو گئے اور بہت سے کافر ہو گئے۔ جنہوں نے کہا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بارش ہم پر برسی ہے، وہ تو میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں سے کفر کرنے والے ہوئے اور جنہوں نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں تارے کے اثر سے پانی برسایا گیا، انہوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور تاروں پر ایمان لائے۔ [صحیح بخاری:810] ‏

صفحہ نمبر6075

بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی ایک اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے۔

ان ہواؤں میں رب نے بہت سے خواص رکھے ہیں۔ بعض بادلوں کو پراگندہ کر دیتی ہیں، بعض انہیں اٹھاتی ہیں، بعض انہیں لے چلتی ہیں، بعض خنک اور بھیگی ہوئی چل کر لوگوں کو باران رحمت کی طرف متوجہ کر دیتی ہیں، بعض اس سے پہلے زمین کو تیار کر دیتی ہیں، بعض بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں اور انہیں بوجھل کر دیتی ہیں۔ آسمان سے ہم پاک صاف پانی برساتے ہیں کہ وہ پاکیزگی کا آلہ بنے۔ یہاں طہور ایسا ہی ہے جیسا سحور اور وجور وغیرہ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ فعول معنی فاعل کے ہے یا یہ مبالغہ کے لیے مبنی ہے یا متعدی کے لیے۔ یہ سب اقوال لغت اور حکم کے اعتبار سے مشکل ہیں۔ پوری تفصیل کے لائق یہ مقام نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ثابت بنانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ابوالعالیہ رحمہ اللہ کے ساتھ بارش کے زمانہ میں نکلا۔ بصرے کے راستے اس وقت بڑے گندے ہو رہے تھے۔ آپ نے ایسے راستہ پر نماز ادا کی۔ میں نے آپ کو توجہ دلائی تو آپ نے فرمایا: اسے آسمان کے پاک پانی نے پاک کر دیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے اسے پاک اتارا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔

صفحہ نمبر6073

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ بئر بضاعہ سے وضو کر لیں؟ یہ ایک کنواں ہے جس میں لوگ گندگی اور کتوں کا گوشت پھینکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ [سنن ابوداود:66،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ نے اسے وارد کیا ہے۔ امام ابوداؤد اور امام ترمذی رحمہما اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔

عبدالملک بن مروان کے دربار میں ایک مرتبہ پانی کا ذکر چھڑا تو خالد بن یزید رحمہ اللہ نے کہا: بعض پانی آسمان کے ہوتے ہیں، بعض پانی وہ ہوتے ہیں جسے بادل سمندر سے پیتا ہے اور اسے گرج، کڑک اور بجلی میٹھا کر دیتی ہے لیکن اس سے زمین میں پیداوار نہیں ہوتی۔ ہاں آسمانی پانی سے پیداوار اگتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آسمان کے پانی کے ہر قطرہ سے چارہ، گھاس وغیرہ پیدا ہوتا ہے۔ سمندر میں لؤلؤ اور موتی پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی «فِیْ الْبَرِّ بَرٌّ وَّ فِیْ الْبَحْرِ دَرٌّ» زمین میں گیہوں اور سمندر میں موتی۔

پھر فرمایا کہ اسی سے ہم غیر آباد بنجر خشک زمین کو زندہ کر دیتے ہیں، وہ لہلہانے لگتی ہے اور تروتازہ ہو جاتی ہے۔ جیسے فرمان ہے «فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [22-الحج:5] ‏

علاوہ مردہ زمین کے زندہ ہو جانے کے، یہ پانی حیوانوں اور انسانوں کے پینے میں آتا ہے، ان کے کھیتوں اور باغات کو پلایا جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” وہ اللہ وہی ہے، جو لوگوں کی کامل ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برساتا ہے۔ “ [42-الشورى:28] ‏

اور آیت میں ہے کہ ” اللہ کے آثار رحمت کو دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے۔ “ [30-الروم:5] ‏

پھر فرماتا ہے: ساتھ ہی میری قدرت کا ایک نظارہ یہ بھی دیکھو کہ ابر اٹھتا ہے، گرجتا ہے لیکن جہاں میں چاہتا ہوں برستا ہے، اس میں بھی حکمت و حجت ہے۔

صفحہ نمبر6074

بارش اللہ کے حکم سے ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ کوئی سال کسی سال کے کم و بیش بارش کا نہیں لیکن اللہ جہاں چاہے، برسائے۔ جہاں سے چاہے، پھیرے۔ پس چاہئے تھا کہ ان نشانات کو دیکھ کر اللہ کی ان زبردست حکمتوں کو اور قدرتوں کو سامنے رکھ کر اس بات کو بھی مان لیتے کہ بیشک ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور یہ بھی جان لیتے کہ بارشیں ہمارے گناہوں کی شامت سے بند کر دی جاتی ہیں تو ہم گناہ چھوڑ دیں لیکن ان لوگوں نے ایسا نہ کیا بلکہ ہماری نعمتوں پر اور ناشکری کی۔

ایک مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ میں بادل کی نسبت کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: بادلوں پر جو فرشتہ مقرر ہے، وہ یہ ہے۔ آپ ان سے جو چاہیں، دریافت فرما لیں۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس تو اللہ کا حکم آتا ہے کہ فلاں فلاں شہر اتنے اتنے قطرے برساؤ، ہم تعمیل ارشاد کر دیتے ہیں۔

بارشیں جیسی نعمت کے وقت اکثر لوگوں کے کفر کا طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے یہ بارش برسائے گئے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ بارش برس چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جاننے والا ہے۔ آپ نے فرمایا: سنو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ مومن ہو گئے اور بہت سے کافر ہو گئے۔ جنہوں نے کہا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بارش ہم پر برسی ہے، وہ تو میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں سے کفر کرنے والے ہوئے اور جنہوں نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں تارے کے اثر سے پانی برسایا گیا، انہوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور تاروں پر ایمان لائے۔ [صحیح بخاری:810] ‏

صفحہ نمبر6075

بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی ایک اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے۔

ان ہواؤں میں رب نے بہت سے خواص رکھے ہیں۔ بعض بادلوں کو پراگندہ کر دیتی ہیں، بعض انہیں اٹھاتی ہیں، بعض انہیں لے چلتی ہیں، بعض خنک اور بھیگی ہوئی چل کر لوگوں کو باران رحمت کی طرف متوجہ کر دیتی ہیں، بعض اس سے پہلے زمین کو تیار کر دیتی ہیں، بعض بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں اور انہیں بوجھل کر دیتی ہیں۔ آسمان سے ہم پاک صاف پانی برساتے ہیں کہ وہ پاکیزگی کا آلہ بنے۔ یہاں طہور ایسا ہی ہے جیسا سحور اور وجور وغیرہ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ فعول معنی فاعل کے ہے یا یہ مبالغہ کے لیے مبنی ہے یا متعدی کے لیے۔ یہ سب اقوال لغت اور حکم کے اعتبار سے مشکل ہیں۔ پوری تفصیل کے لائق یہ مقام نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ثابت بنانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ابوالعالیہ رحمہ اللہ کے ساتھ بارش کے زمانہ میں نکلا۔ بصرے کے راستے اس وقت بڑے گندے ہو رہے تھے۔ آپ نے ایسے راستہ پر نماز ادا کی۔ میں نے آپ کو توجہ دلائی تو آپ نے فرمایا: اسے آسمان کے پاک پانی نے پاک کر دیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے اسے پاک اتارا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔

صفحہ نمبر6073

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ بئر بضاعہ سے وضو کر لیں؟ یہ ایک کنواں ہے جس میں لوگ گندگی اور کتوں کا گوشت پھینکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ [سنن ابوداود:66،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ نے اسے وارد کیا ہے۔ امام ابوداؤد اور امام ترمذی رحمہما اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔

عبدالملک بن مروان کے دربار میں ایک مرتبہ پانی کا ذکر چھڑا تو خالد بن یزید رحمہ اللہ نے کہا: بعض پانی آسمان کے ہوتے ہیں، بعض پانی وہ ہوتے ہیں جسے بادل سمندر سے پیتا ہے اور اسے گرج، کڑک اور بجلی میٹھا کر دیتی ہے لیکن اس سے زمین میں پیداوار نہیں ہوتی۔ ہاں آسمانی پانی سے پیداوار اگتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آسمان کے پانی کے ہر قطرہ سے چارہ، گھاس وغیرہ پیدا ہوتا ہے۔ سمندر میں لؤلؤ اور موتی پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی «فِیْ الْبَرِّ بَرٌّ وَّ فِیْ الْبَحْرِ دَرٌّ» زمین میں گیہوں اور سمندر میں موتی۔

پھر فرمایا کہ اسی سے ہم غیر آباد بنجر خشک زمین کو زندہ کر دیتے ہیں، وہ لہلہانے لگتی ہے اور تروتازہ ہو جاتی ہے۔ جیسے فرمان ہے «فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [22-الحج:5] ‏

علاوہ مردہ زمین کے زندہ ہو جانے کے، یہ پانی حیوانوں اور انسانوں کے پینے میں آتا ہے، ان کے کھیتوں اور باغات کو پلایا جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” وہ اللہ وہی ہے، جو لوگوں کی کامل ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برساتا ہے۔ “ [42-الشورى:28] ‏

اور آیت میں ہے کہ ” اللہ کے آثار رحمت کو دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے۔ “ [30-الروم:5] ‏

پھر فرماتا ہے: ساتھ ہی میری قدرت کا ایک نظارہ یہ بھی دیکھو کہ ابر اٹھتا ہے، گرجتا ہے لیکن جہاں میں چاہتا ہوں برستا ہے، اس میں بھی حکمت و حجت ہے۔

صفحہ نمبر6074

بارش اللہ کے حکم سے ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ کوئی سال کسی سال کے کم و بیش بارش کا نہیں لیکن اللہ جہاں چاہے، برسائے۔ جہاں سے چاہے، پھیرے۔ پس چاہئے تھا کہ ان نشانات کو دیکھ کر اللہ کی ان زبردست حکمتوں کو اور قدرتوں کو سامنے رکھ کر اس بات کو بھی مان لیتے کہ بیشک ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور یہ بھی جان لیتے کہ بارشیں ہمارے گناہوں کی شامت سے بند کر دی جاتی ہیں تو ہم گناہ چھوڑ دیں لیکن ان لوگوں نے ایسا نہ کیا بلکہ ہماری نعمتوں پر اور ناشکری کی۔

ایک مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ میں بادل کی نسبت کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: بادلوں پر جو فرشتہ مقرر ہے، وہ یہ ہے۔ آپ ان سے جو چاہیں، دریافت فرما لیں۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس تو اللہ کا حکم آتا ہے کہ فلاں فلاں شہر اتنے اتنے قطرے برساؤ، ہم تعمیل ارشاد کر دیتے ہیں۔

بارشیں جیسی نعمت کے وقت اکثر لوگوں کے کفر کا طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے یہ بارش برسائے گئے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ بارش برس چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جاننے والا ہے۔ آپ نے فرمایا: سنو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ مومن ہو گئے اور بہت سے کافر ہو گئے۔ جنہوں نے کہا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بارش ہم پر برسی ہے، وہ تو میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں سے کفر کرنے والے ہوئے اور جنہوں نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں تارے کے اثر سے پانی برسایا گیا، انہوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور تاروں پر ایمان لائے۔ [صحیح بخاری:810] ‏

صفحہ نمبر6075

النبی کل عالم علیہ السلام ٭٭

اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا۔ اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کر دوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی کفر کرے، اس کے ٹھہرنے کی جگہ جہنم ہے۔ اور فرمان ہے کہ ” تو مکے والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کر دے۔ “ [6-الأنعام:92] ‏

اور آیت میں ہے کہ ” اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بن کر آیا ہوں۔ “ [7-الأعراف:158] ‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: میں سرخ و سیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح مسلم:3] ‏

بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ [صحیح بخاری:335] ‏

پھر فرمایا: کافروں کا کہنا نہ ماننا اور اس قرآن کے ساتھ ان سے بہت بڑا جہاد کرنا۔ جیسے ارشاد ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» [9-التوبة:73] ‏ یعنی ” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرتے رہو۔

صفحہ نمبر6078

اسی رب نے پانی کو دو طرح کا کر دیا ہے، میٹھا اور کھاری۔ نہروں، چشموں اور کنوؤں کا پانی عموماً شیریں، صاف اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ بعض ٹھہرے ہوئے سمندروں کا پانی کھاری اور بدمزہ ہوتا ہے۔

اللہ کی اس نعمت پر بھی شکر کرنا چاہیے کہ اس نے میٹھے پانی کی چاروں طرف ریل پیل کر دی تاکہ لوگوں کو نہانے دھونے اور اپنے کھیت اور باغات کو پانی دینے میں آسانی رہے۔ مشرقوں اور مغربوں میں محیط سمندر کھاری پانی کے اس نے بہا دیئے جو ٹھہرے ہوئے ہیں، ادھر ادھر بہتے نہیں لیکن موجیں مار رہے ہیں، تلاطم پیدا کر رہے ہیں، بعض میں مدوجزر ہے،۔ ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں تو ان میں زیادتی اور بہاؤ ہوتا ہے پھر چاند کے گھٹنے کے ساتھ وہ گھٹتا جاتا ہے یہاں تک آخر میں اپنی حالت پر آ جاتا ہے پھر جہاں چاند چڑھا، یہ بھی چڑھنے لگا۔ چودہ تاریخ تک برابر چاند کے ساتھ چڑھتا رہا، پھر اترنا شروع ہوا۔ ان تمام سمندروں کو اسی اللہ نے پیدا کیا ہے، وہ پوری اور زبردست قدرت والا ہے۔ کھاری اور گرم پانی گو پینے کے کام نہیں آتا لیکن ہواؤں کو صاف کر دیتا ہے۔ جس سے انسانی زندگی ہلاکت میں نہ پڑے۔ اس میں جو جانور مر جاتے ہیں، ان کی بدبو دنیا والوں کو ستا نہیں سکتی اور کھاری پانی کے سبب سے اس کی ہوا صحت بخش اور اس کا مردہ پاک، طیب ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سمندر کے پانی کی نسبت سوال ہوا کہ کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟ تو آپ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ مالک، شافعی رحمۃ اللہ علیہما اور اہل سنن رحمۃ اللہ علیہم نے اسے روایت کیا ہے اور اسناد بھی صحیح ہے۔

صفحہ نمبر6079

پھر اس کی قدرت دیکھو کہ محض اپنی طاقت سے اور اپنے حکم سے ایک دوسرے سے جدا رکھا ہے۔ نہ کھاری میٹھے میں مل سکے، نہ میٹھا کھاری میں مل سکے۔ جیسے فرمان ہے «مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» [55-الرحمن:19-21] ‏ ” اس نے دونوں سمندر جاری کر دئیے ہیں کہ دونوں مل جائیں اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب قائم کر دیا ہے کہ حد سے نہ بڑھیں۔ پھر تم اپنے رب کی کس نعمت کے منکر ہو؟ “

اور آیت میں ہے: ” کون ہے وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں جگہ جگہ دریا جاری کر دئیے، اس پر پہاڑ قائم کر دئیے اور سمندروں کے درمیان اوٹ کر دی۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بات یہ ہے کہ ان مشرکوں کے اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ “ [27-النمل:61] ‏

اس نے انسان کو ضعیف نطفے سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک اور برابر بنایا ہے۔ اور اچھی پیدائش میں پیدا کر کے پھر اسے مرد یا عورت بنایا۔ پھر اس کے لیے نسب کے رشتےدار بنا دئیے پھر کچھ مدت بعد سسرالی رشتے قائم کر دئیے۔ اتنے بڑے قادر اللہ کی قدرتیں تمہارے سامنے ہیں۔

صفحہ نمبر6080

النبی کل عالم علیہ السلام ٭٭

اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا۔ اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کر دوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی کفر کرے، اس کے ٹھہرنے کی جگہ جہنم ہے۔ اور فرمان ہے کہ ” تو مکے والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کر دے۔ “ [6-الأنعام:92] ‏

اور آیت میں ہے کہ ” اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بن کر آیا ہوں۔ “ [7-الأعراف:158] ‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: میں سرخ و سیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح مسلم:3] ‏

بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ [صحیح بخاری:335] ‏

پھر فرمایا: کافروں کا کہنا نہ ماننا اور اس قرآن کے ساتھ ان سے بہت بڑا جہاد کرنا۔ جیسے ارشاد ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» [9-التوبة:73] ‏ یعنی ” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرتے رہو۔

صفحہ نمبر6078

اسی رب نے پانی کو دو طرح کا کر دیا ہے، میٹھا اور کھاری۔ نہروں، چشموں اور کنوؤں کا پانی عموماً شیریں، صاف اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ بعض ٹھہرے ہوئے سمندروں کا پانی کھاری اور بدمزہ ہوتا ہے۔

اللہ کی اس نعمت پر بھی شکر کرنا چاہیے کہ اس نے میٹھے پانی کی چاروں طرف ریل پیل کر دی تاکہ لوگوں کو نہانے دھونے اور اپنے کھیت اور باغات کو پانی دینے میں آسانی رہے۔ مشرقوں اور مغربوں میں محیط سمندر کھاری پانی کے اس نے بہا دیئے جو ٹھہرے ہوئے ہیں، ادھر ادھر بہتے نہیں لیکن موجیں مار رہے ہیں، تلاطم پیدا کر رہے ہیں، بعض میں مدوجزر ہے،۔ ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں تو ان میں زیادتی اور بہاؤ ہوتا ہے پھر چاند کے گھٹنے کے ساتھ وہ گھٹتا جاتا ہے یہاں تک آخر میں اپنی حالت پر آ جاتا ہے پھر جہاں چاند چڑھا، یہ بھی چڑھنے لگا۔ چودہ تاریخ تک برابر چاند کے ساتھ چڑھتا رہا، پھر اترنا شروع ہوا۔ ان تمام سمندروں کو اسی اللہ نے پیدا کیا ہے، وہ پوری اور زبردست قدرت والا ہے۔ کھاری اور گرم پانی گو پینے کے کام نہیں آتا لیکن ہواؤں کو صاف کر دیتا ہے۔ جس سے انسانی زندگی ہلاکت میں نہ پڑے۔ اس میں جو جانور مر جاتے ہیں، ان کی بدبو دنیا والوں کو ستا نہیں سکتی اور کھاری پانی کے سبب سے اس کی ہوا صحت بخش اور اس کا مردہ پاک، طیب ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سمندر کے پانی کی نسبت سوال ہوا کہ کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟ تو آپ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ مالک، شافعی رحمۃ اللہ علیہما اور اہل سنن رحمۃ اللہ علیہم نے اسے روایت کیا ہے اور اسناد بھی صحیح ہے۔

صفحہ نمبر6079

پھر اس کی قدرت دیکھو کہ محض اپنی طاقت سے اور اپنے حکم سے ایک دوسرے سے جدا رکھا ہے۔ نہ کھاری میٹھے میں مل سکے، نہ میٹھا کھاری میں مل سکے۔ جیسے فرمان ہے «مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» [55-الرحمن:19-21] ‏ ” اس نے دونوں سمندر جاری کر دئیے ہیں کہ دونوں مل جائیں اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب قائم کر دیا ہے کہ حد سے نہ بڑھیں۔ پھر تم اپنے رب کی کس نعمت کے منکر ہو؟ “

اور آیت میں ہے: ” کون ہے وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں جگہ جگہ دریا جاری کر دئیے، اس پر پہاڑ قائم کر دئیے اور سمندروں کے درمیان اوٹ کر دی۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بات یہ ہے کہ ان مشرکوں کے اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ “ [27-النمل:61] ‏

اس نے انسان کو ضعیف نطفے سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک اور برابر بنایا ہے۔ اور اچھی پیدائش میں پیدا کر کے پھر اسے مرد یا عورت بنایا۔ پھر اس کے لیے نسب کے رشتےدار بنا دئیے پھر کچھ مدت بعد سسرالی رشتے قائم کر دئیے۔ اتنے بڑے قادر اللہ کی قدرتیں تمہارے سامنے ہیں۔

صفحہ نمبر6080

النبی کل عالم علیہ السلام ٭٭

اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا۔ اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کر دوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی کفر کرے، اس کے ٹھہرنے کی جگہ جہنم ہے۔ اور فرمان ہے کہ ” تو مکے والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کر دے۔ “ [6-الأنعام:92] ‏

اور آیت میں ہے کہ ” اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بن کر آیا ہوں۔ “ [7-الأعراف:158] ‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: میں سرخ و سیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح مسلم:3] ‏

بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ [صحیح بخاری:335] ‏

پھر فرمایا: کافروں کا کہنا نہ ماننا اور اس قرآن کے ساتھ ان سے بہت بڑا جہاد کرنا۔ جیسے ارشاد ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» [9-التوبة:73] ‏ یعنی ” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرتے رہو۔

صفحہ نمبر6078

اسی رب نے پانی کو دو طرح کا کر دیا ہے، میٹھا اور کھاری۔ نہروں، چشموں اور کنوؤں کا پانی عموماً شیریں، صاف اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ بعض ٹھہرے ہوئے سمندروں کا پانی کھاری اور بدمزہ ہوتا ہے۔

اللہ کی اس نعمت پر بھی شکر کرنا چاہیے کہ اس نے میٹھے پانی کی چاروں طرف ریل پیل کر دی تاکہ لوگوں کو نہانے دھونے اور اپنے کھیت اور باغات کو پانی دینے میں آسانی رہے۔ مشرقوں اور مغربوں میں محیط سمندر کھاری پانی کے اس نے بہا دیئے جو ٹھہرے ہوئے ہیں، ادھر ادھر بہتے نہیں لیکن موجیں مار رہے ہیں، تلاطم پیدا کر رہے ہیں، بعض میں مدوجزر ہے،۔ ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں تو ان میں زیادتی اور بہاؤ ہوتا ہے پھر چاند کے گھٹنے کے ساتھ وہ گھٹتا جاتا ہے یہاں تک آخر میں اپنی حالت پر آ جاتا ہے پھر جہاں چاند چڑھا، یہ بھی چڑھنے لگا۔ چودہ تاریخ تک برابر چاند کے ساتھ چڑھتا رہا، پھر اترنا شروع ہوا۔ ان تمام سمندروں کو اسی اللہ نے پیدا کیا ہے، وہ پوری اور زبردست قدرت والا ہے۔ کھاری اور گرم پانی گو پینے کے کام نہیں آتا لیکن ہواؤں کو صاف کر دیتا ہے۔ جس سے انسانی زندگی ہلاکت میں نہ پڑے۔ اس میں جو جانور مر جاتے ہیں، ان کی بدبو دنیا والوں کو ستا نہیں سکتی اور کھاری پانی کے سبب سے اس کی ہوا صحت بخش اور اس کا مردہ پاک، طیب ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سمندر کے پانی کی نسبت سوال ہوا کہ کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟ تو آپ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ مالک، شافعی رحمۃ اللہ علیہما اور اہل سنن رحمۃ اللہ علیہم نے اسے روایت کیا ہے اور اسناد بھی صحیح ہے۔

صفحہ نمبر6079

پھر اس کی قدرت دیکھو کہ محض اپنی طاقت سے اور اپنے حکم سے ایک دوسرے سے جدا رکھا ہے۔ نہ کھاری میٹھے میں مل سکے، نہ میٹھا کھاری میں مل سکے۔ جیسے فرمان ہے «مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» [55-الرحمن:19-21] ‏ ” اس نے دونوں سمندر جاری کر دئیے ہیں کہ دونوں مل جائیں اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب قائم کر دیا ہے کہ حد سے نہ بڑھیں۔ پھر تم اپنے رب کی کس نعمت کے منکر ہو؟ “

اور آیت میں ہے: ” کون ہے وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں جگہ جگہ دریا جاری کر دئیے، اس پر پہاڑ قائم کر دئیے اور سمندروں کے درمیان اوٹ کر دی۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بات یہ ہے کہ ان مشرکوں کے اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ “ [27-النمل:61] ‏

اس نے انسان کو ضعیف نطفے سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک اور برابر بنایا ہے۔ اور اچھی پیدائش میں پیدا کر کے پھر اسے مرد یا عورت بنایا۔ پھر اس کے لیے نسب کے رشتےدار بنا دئیے پھر کچھ مدت بعد سسرالی رشتے قائم کر دئیے۔ اتنے بڑے قادر اللہ کی قدرتیں تمہارے سامنے ہیں۔

صفحہ نمبر6080

النبی کل عالم علیہ السلام ٭٭

اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا۔ اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کر دوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی کفر کرے، اس کے ٹھہرنے کی جگہ جہنم ہے۔ اور فرمان ہے کہ ” تو مکے والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کر دے۔ “ [6-الأنعام:92] ‏

اور آیت میں ہے کہ ” اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بن کر آیا ہوں۔ “ [7-الأعراف:158] ‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: میں سرخ و سیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح مسلم:3] ‏

بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ [صحیح بخاری:335] ‏

پھر فرمایا: کافروں کا کہنا نہ ماننا اور اس قرآن کے ساتھ ان سے بہت بڑا جہاد کرنا۔ جیسے ارشاد ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» [9-التوبة:73] ‏ یعنی ” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرتے رہو۔

صفحہ نمبر6078

اسی رب نے پانی کو دو طرح کا کر دیا ہے، میٹھا اور کھاری۔ نہروں، چشموں اور کنوؤں کا پانی عموماً شیریں، صاف اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ بعض ٹھہرے ہوئے سمندروں کا پانی کھاری اور بدمزہ ہوتا ہے۔

اللہ کی اس نعمت پر بھی شکر کرنا چاہیے کہ اس نے میٹھے پانی کی چاروں طرف ریل پیل کر دی تاکہ لوگوں کو نہانے دھونے اور اپنے کھیت اور باغات کو پانی دینے میں آسانی رہے۔ مشرقوں اور مغربوں میں محیط سمندر کھاری پانی کے اس نے بہا دیئے جو ٹھہرے ہوئے ہیں، ادھر ادھر بہتے نہیں لیکن موجیں مار رہے ہیں، تلاطم پیدا کر رہے ہیں، بعض میں مدوجزر ہے،۔ ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں تو ان میں زیادتی اور بہاؤ ہوتا ہے پھر چاند کے گھٹنے کے ساتھ وہ گھٹتا جاتا ہے یہاں تک آخر میں اپنی حالت پر آ جاتا ہے پھر جہاں چاند چڑھا، یہ بھی چڑھنے لگا۔ چودہ تاریخ تک برابر چاند کے ساتھ چڑھتا رہا، پھر اترنا شروع ہوا۔ ان تمام سمندروں کو اسی اللہ نے پیدا کیا ہے، وہ پوری اور زبردست قدرت والا ہے۔ کھاری اور گرم پانی گو پینے کے کام نہیں آتا لیکن ہواؤں کو صاف کر دیتا ہے۔ جس سے انسانی زندگی ہلاکت میں نہ پڑے۔ اس میں جو جانور مر جاتے ہیں، ان کی بدبو دنیا والوں کو ستا نہیں سکتی اور کھاری پانی کے سبب سے اس کی ہوا صحت بخش اور اس کا مردہ پاک، طیب ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سمندر کے پانی کی نسبت سوال ہوا کہ کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟ تو آپ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ مالک، شافعی رحمۃ اللہ علیہما اور اہل سنن رحمۃ اللہ علیہم نے اسے روایت کیا ہے اور اسناد بھی صحیح ہے۔

صفحہ نمبر6079

پھر اس کی قدرت دیکھو کہ محض اپنی طاقت سے اور اپنے حکم سے ایک دوسرے سے جدا رکھا ہے۔ نہ کھاری میٹھے میں مل سکے، نہ میٹھا کھاری میں مل سکے۔ جیسے فرمان ہے «مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» [55-الرحمن:19-21] ‏ ” اس نے دونوں سمندر جاری کر دئیے ہیں کہ دونوں مل جائیں اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب قائم کر دیا ہے کہ حد سے نہ بڑھیں۔ پھر تم اپنے رب کی کس نعمت کے منکر ہو؟ “

اور آیت میں ہے: ” کون ہے وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں جگہ جگہ دریا جاری کر دئیے، اس پر پہاڑ قائم کر دئیے اور سمندروں کے درمیان اوٹ کر دی۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بات یہ ہے کہ ان مشرکوں کے اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ “ [27-النمل:61] ‏

اس نے انسان کو ضعیف نطفے سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک اور برابر بنایا ہے۔ اور اچھی پیدائش میں پیدا کر کے پھر اسے مرد یا عورت بنایا۔ پھر اس کے لیے نسب کے رشتےدار بنا دئیے پھر کچھ مدت بعد سسرالی رشتے قائم کر دئیے۔ اتنے بڑے قادر اللہ کی قدرتیں تمہارے سامنے ہیں۔

صفحہ نمبر6080

آبائی گمراہی ٭٭

مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہو گئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہو گئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہو گا۔

یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں۔ انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کا پروردگار ان کی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ نہیں۔ سچے اللہ کی عداوت ان کے دل میں ڈال دیتا ہے، شرک کی محبت بٹھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کے احکام سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔

صفحہ نمبر6084

پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں مومنوں کو خوشخبری سنانے والا اور کفار کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اطاعت گزاروں کو جنت کی بشارت دیجئے اور نافرمانوں کو جہنم کے عذابوں سے مطلع فرما دیجئے۔ لوگوں میں عام طور پر اعلان کر دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا بدلہ، اپنے وعظ کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ارادہ سوائے اللہ کی رضا مندی کی تلاش کے اور کچھ نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے جو راہ راست پر آنا چاہے، اس کے سامنے صحیح راستہ نمایاں کر دوں۔

اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے کاموں میں اس اللہ پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ اور دوام والا ہے، جو موت و فوت سے پاک ہے، جو اول و آخر، ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم ہے، جو دائم، باقی، سرمدی، ابدی، حی و قیوم ہے، جو ہر چیز کا مالک ہے اور رب ہے، اس کو اپنا ماویٰ و ملجا ٹھہرا لے۔

اسی کی ذات ایسی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ ہر گھبراہٹ میں اسی کی طرف جھکا جائے۔ وہ کافی ہے، وہی ناصر ہے، وہی موید و مظفر ہے۔ جیسے فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» [5-المائدة:67] ‏ الخ، ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ آپ بےفکر رہیے، اللہ آپ کو لوگوں کے برے ارادوں سے بچالے گا۔ “

ایک مرسل حدیث میں ہے کہ مدینے کی کسی گلی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! مجھے سجدہ نہ کر۔ سجدے کے لائق وہ ہے جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے، جس پر کبھی موت نہیں۔ (‏ابن ابی حاتم) اور اس کی تسبیح و حمد بیان کرتا رہ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعمیل میں فرمایا کرتے تھے: «سُبْحَانَکَ الّٰلہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ» [صحیح بخاری:794] ‏ مراد اس سے یہ کہ عبادت اللہ ہی کی کر، توکل صرف اسی کی ذات پر کر۔

جیسے فرمان ہے: ” مشرق و مغرب کا رب وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ۔ “ [73-المزمل:9] ‏

اور جگہ ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» [11-هود:123] ‏ ” اسی کی عبادت کر، اسی پر بھروسہ رکھ۔ “

اور آیت میں ہے: اعلان کر دے کہ اسی رحمن کے ہم بندے ہیں اور اسی پر ہمارا کامل بھروسہ ہے۔ اس پر بندوں کے سب اعمال ظاہر ہیں۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی پراسرار بات بھی اس سے مخفی نہیں۔

صفحہ نمبر6085

وہی تمام چیزوں کا خالق ہے، مالک و قابض ہے، وہی ہر جاندار کا روزی رساں ہے، اس نے اپنی قدرت و عظمت سے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ پھر عرش پر قرار پکڑا، کاموں کی تدبیروں کا انجام اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور تدبیر کا مرہون ہے۔

اس کا فیصلہ اعلی اور اچھا ہی ہوتا ہے۔ جو ذات الٰہ کا عالم ہو اور صفات الٰہ سے آگاہ ہو، اس سے اس کی شان دریافت کر لے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی پوری خبر رکھنے والے، اس کی ذات سے پورے واقف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ جو دنیا اور آخرت میں تمام اولاد آدم کے علی الاطلاق سردار تھے۔ جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو فرماتے تھے، وہ فرمودہ الٰہ ہی ہوتا تھا۔

آپ نے جو جو صفتیں اللہ کی بیان کیں، سب برحق ہیں، آپ نے جو خبریں دیں، سب سچ ہیں۔ سچے امام آپ ہی ہیں، تمام جھگڑوں کا فیصلہ آپ ہی کے حکم سے کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کی بات بتلائے، وہ سچا۔ جو آپ کے خلاف کہے، وہ مردود خواہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان واجب الاذعان کھلے طور سے صادر ہو چکا ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [4-النساء:59] ‏ ” تم اگر کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ “

اور فرمان ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ» [42-الشورى:10] ‏ ” تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ “

اور فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [6-الأنعام:115] ‏ ” تیرے رب کی باتیں جو خبروں میں سچی اور حکم و ممانعت میں عدل کی ہیں، پوری ہوچکیں۔ “ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔

مشرکین اللہ کے سوا اوروں کو سجدے کرتے تھے۔ ان سے جب رحمان کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ وہ اس سے منکر تھے کہ اللہ کا نام رحمان ہے۔ جیسے حدیبیہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے کاتب سے فرمایا: «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھ۔ تو مشرکین نے کہا: نہ ہم رحمان کو جانیں، نہ رحیم کو۔ ہمارے رواج کے مطابق «بِاسْمِکَ الّٰلہُمَّ» لکھ۔ [صحیح بخاری:2731-2732] ‏ اس کے جواب میں یہ آیت اتری «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:110] ‏ ” کہہ دے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو، جس نام سے چاہو پکارو۔ اس کے بہت سے بہترین نام ہیں۔ “

وہی اللہ ہے، وہی رحمن ہے۔ پس مشرکین کہتے تھے کہ کیا صرف تیرے کہنے سے ہم ایسا مان لیں؟ الغرض وہ اور نفرت میں بڑھ گئے۔ برخلاف مومنوں کے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو رحمان و رحیم ہے۔ اسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ علماء رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفرقان کی اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ مشروع ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل موجود ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6086

آبائی گمراہی ٭٭

مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہو گئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہو گئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہو گا۔

یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں۔ انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کا پروردگار ان کی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ نہیں۔ سچے اللہ کی عداوت ان کے دل میں ڈال دیتا ہے، شرک کی محبت بٹھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کے احکام سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔

صفحہ نمبر6084

پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں مومنوں کو خوشخبری سنانے والا اور کفار کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اطاعت گزاروں کو جنت کی بشارت دیجئے اور نافرمانوں کو جہنم کے عذابوں سے مطلع فرما دیجئے۔ لوگوں میں عام طور پر اعلان کر دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا بدلہ، اپنے وعظ کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ارادہ سوائے اللہ کی رضا مندی کی تلاش کے اور کچھ نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے جو راہ راست پر آنا چاہے، اس کے سامنے صحیح راستہ نمایاں کر دوں۔

اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے کاموں میں اس اللہ پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ اور دوام والا ہے، جو موت و فوت سے پاک ہے، جو اول و آخر، ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم ہے، جو دائم، باقی، سرمدی، ابدی، حی و قیوم ہے، جو ہر چیز کا مالک ہے اور رب ہے، اس کو اپنا ماویٰ و ملجا ٹھہرا لے۔

اسی کی ذات ایسی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ ہر گھبراہٹ میں اسی کی طرف جھکا جائے۔ وہ کافی ہے، وہی ناصر ہے، وہی موید و مظفر ہے۔ جیسے فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» [5-المائدة:67] ‏ الخ، ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ آپ بےفکر رہیے، اللہ آپ کو لوگوں کے برے ارادوں سے بچالے گا۔ “

ایک مرسل حدیث میں ہے کہ مدینے کی کسی گلی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! مجھے سجدہ نہ کر۔ سجدے کے لائق وہ ہے جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے، جس پر کبھی موت نہیں۔ (‏ابن ابی حاتم) اور اس کی تسبیح و حمد بیان کرتا رہ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعمیل میں فرمایا کرتے تھے: «سُبْحَانَکَ الّٰلہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ» [صحیح بخاری:794] ‏ مراد اس سے یہ کہ عبادت اللہ ہی کی کر، توکل صرف اسی کی ذات پر کر۔

جیسے فرمان ہے: ” مشرق و مغرب کا رب وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ۔ “ [73-المزمل:9] ‏

اور جگہ ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» [11-هود:123] ‏ ” اسی کی عبادت کر، اسی پر بھروسہ رکھ۔ “

اور آیت میں ہے: اعلان کر دے کہ اسی رحمن کے ہم بندے ہیں اور اسی پر ہمارا کامل بھروسہ ہے۔ اس پر بندوں کے سب اعمال ظاہر ہیں۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی پراسرار بات بھی اس سے مخفی نہیں۔

صفحہ نمبر6085

وہی تمام چیزوں کا خالق ہے، مالک و قابض ہے، وہی ہر جاندار کا روزی رساں ہے، اس نے اپنی قدرت و عظمت سے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ پھر عرش پر قرار پکڑا، کاموں کی تدبیروں کا انجام اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور تدبیر کا مرہون ہے۔

اس کا فیصلہ اعلی اور اچھا ہی ہوتا ہے۔ جو ذات الٰہ کا عالم ہو اور صفات الٰہ سے آگاہ ہو، اس سے اس کی شان دریافت کر لے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی پوری خبر رکھنے والے، اس کی ذات سے پورے واقف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ جو دنیا اور آخرت میں تمام اولاد آدم کے علی الاطلاق سردار تھے۔ جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو فرماتے تھے، وہ فرمودہ الٰہ ہی ہوتا تھا۔

آپ نے جو جو صفتیں اللہ کی بیان کیں، سب برحق ہیں، آپ نے جو خبریں دیں، سب سچ ہیں۔ سچے امام آپ ہی ہیں، تمام جھگڑوں کا فیصلہ آپ ہی کے حکم سے کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کی بات بتلائے، وہ سچا۔ جو آپ کے خلاف کہے، وہ مردود خواہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان واجب الاذعان کھلے طور سے صادر ہو چکا ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [4-النساء:59] ‏ ” تم اگر کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ “

اور فرمان ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ» [42-الشورى:10] ‏ ” تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ “

اور فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [6-الأنعام:115] ‏ ” تیرے رب کی باتیں جو خبروں میں سچی اور حکم و ممانعت میں عدل کی ہیں، پوری ہوچکیں۔ “ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔

مشرکین اللہ کے سوا اوروں کو سجدے کرتے تھے۔ ان سے جب رحمان کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ وہ اس سے منکر تھے کہ اللہ کا نام رحمان ہے۔ جیسے حدیبیہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے کاتب سے فرمایا: «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھ۔ تو مشرکین نے کہا: نہ ہم رحمان کو جانیں، نہ رحیم کو۔ ہمارے رواج کے مطابق «بِاسْمِکَ الّٰلہُمَّ» لکھ۔ [صحیح بخاری:2731-2732] ‏ اس کے جواب میں یہ آیت اتری «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:110] ‏ ” کہہ دے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو، جس نام سے چاہو پکارو۔ اس کے بہت سے بہترین نام ہیں۔ “

وہی اللہ ہے، وہی رحمن ہے۔ پس مشرکین کہتے تھے کہ کیا صرف تیرے کہنے سے ہم ایسا مان لیں؟ الغرض وہ اور نفرت میں بڑھ گئے۔ برخلاف مومنوں کے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو رحمان و رحیم ہے۔ اسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ علماء رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفرقان کی اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ مشروع ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل موجود ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6086

آبائی گمراہی ٭٭

مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہو گئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہو گئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہو گا۔

یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں۔ انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کا پروردگار ان کی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ نہیں۔ سچے اللہ کی عداوت ان کے دل میں ڈال دیتا ہے، شرک کی محبت بٹھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کے احکام سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔

صفحہ نمبر6084

پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں مومنوں کو خوشخبری سنانے والا اور کفار کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اطاعت گزاروں کو جنت کی بشارت دیجئے اور نافرمانوں کو جہنم کے عذابوں سے مطلع فرما دیجئے۔ لوگوں میں عام طور پر اعلان کر دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا بدلہ، اپنے وعظ کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ارادہ سوائے اللہ کی رضا مندی کی تلاش کے اور کچھ نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے جو راہ راست پر آنا چاہے، اس کے سامنے صحیح راستہ نمایاں کر دوں۔

اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے کاموں میں اس اللہ پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ اور دوام والا ہے، جو موت و فوت سے پاک ہے، جو اول و آخر، ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم ہے، جو دائم، باقی، سرمدی، ابدی، حی و قیوم ہے، جو ہر چیز کا مالک ہے اور رب ہے، اس کو اپنا ماویٰ و ملجا ٹھہرا لے۔

اسی کی ذات ایسی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ ہر گھبراہٹ میں اسی کی طرف جھکا جائے۔ وہ کافی ہے، وہی ناصر ہے، وہی موید و مظفر ہے۔ جیسے فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» [5-المائدة:67] ‏ الخ، ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ آپ بےفکر رہیے، اللہ آپ کو لوگوں کے برے ارادوں سے بچالے گا۔ “

ایک مرسل حدیث میں ہے کہ مدینے کی کسی گلی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! مجھے سجدہ نہ کر۔ سجدے کے لائق وہ ہے جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے، جس پر کبھی موت نہیں۔ (‏ابن ابی حاتم) اور اس کی تسبیح و حمد بیان کرتا رہ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعمیل میں فرمایا کرتے تھے: «سُبْحَانَکَ الّٰلہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ» [صحیح بخاری:794] ‏ مراد اس سے یہ کہ عبادت اللہ ہی کی کر، توکل صرف اسی کی ذات پر کر۔

جیسے فرمان ہے: ” مشرق و مغرب کا رب وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ۔ “ [73-المزمل:9] ‏

اور جگہ ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» [11-هود:123] ‏ ” اسی کی عبادت کر، اسی پر بھروسہ رکھ۔ “

اور آیت میں ہے: اعلان کر دے کہ اسی رحمن کے ہم بندے ہیں اور اسی پر ہمارا کامل بھروسہ ہے۔ اس پر بندوں کے سب اعمال ظاہر ہیں۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی پراسرار بات بھی اس سے مخفی نہیں۔

صفحہ نمبر6085

وہی تمام چیزوں کا خالق ہے، مالک و قابض ہے، وہی ہر جاندار کا روزی رساں ہے، اس نے اپنی قدرت و عظمت سے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ پھر عرش پر قرار پکڑا، کاموں کی تدبیروں کا انجام اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور تدبیر کا مرہون ہے۔

اس کا فیصلہ اعلی اور اچھا ہی ہوتا ہے۔ جو ذات الٰہ کا عالم ہو اور صفات الٰہ سے آگاہ ہو، اس سے اس کی شان دریافت کر لے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی پوری خبر رکھنے والے، اس کی ذات سے پورے واقف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ جو دنیا اور آخرت میں تمام اولاد آدم کے علی الاطلاق سردار تھے۔ جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو فرماتے تھے، وہ فرمودہ الٰہ ہی ہوتا تھا۔

آپ نے جو جو صفتیں اللہ کی بیان کیں، سب برحق ہیں، آپ نے جو خبریں دیں، سب سچ ہیں۔ سچے امام آپ ہی ہیں، تمام جھگڑوں کا فیصلہ آپ ہی کے حکم سے کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کی بات بتلائے، وہ سچا۔ جو آپ کے خلاف کہے، وہ مردود خواہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان واجب الاذعان کھلے طور سے صادر ہو چکا ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [4-النساء:59] ‏ ” تم اگر کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ “

اور فرمان ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ» [42-الشورى:10] ‏ ” تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ “

اور فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [6-الأنعام:115] ‏ ” تیرے رب کی باتیں جو خبروں میں سچی اور حکم و ممانعت میں عدل کی ہیں، پوری ہوچکیں۔ “ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔

مشرکین اللہ کے سوا اوروں کو سجدے کرتے تھے۔ ان سے جب رحمان کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ وہ اس سے منکر تھے کہ اللہ کا نام رحمان ہے۔ جیسے حدیبیہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے کاتب سے فرمایا: «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھ۔ تو مشرکین نے کہا: نہ ہم رحمان کو جانیں، نہ رحیم کو۔ ہمارے رواج کے مطابق «بِاسْمِکَ الّٰلہُمَّ» لکھ۔ [صحیح بخاری:2731-2732] ‏ اس کے جواب میں یہ آیت اتری «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:110] ‏ ” کہہ دے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو، جس نام سے چاہو پکارو۔ اس کے بہت سے بہترین نام ہیں۔ “

وہی اللہ ہے، وہی رحمن ہے۔ پس مشرکین کہتے تھے کہ کیا صرف تیرے کہنے سے ہم ایسا مان لیں؟ الغرض وہ اور نفرت میں بڑھ گئے۔ برخلاف مومنوں کے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو رحمان و رحیم ہے۔ اسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ علماء رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفرقان کی اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ مشروع ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل موجود ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6086

آبائی گمراہی ٭٭

مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہو گئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہو گئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہو گا۔

یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں۔ انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کا پروردگار ان کی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ نہیں۔ سچے اللہ کی عداوت ان کے دل میں ڈال دیتا ہے، شرک کی محبت بٹھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کے احکام سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔

صفحہ نمبر6084

پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں مومنوں کو خوشخبری سنانے والا اور کفار کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اطاعت گزاروں کو جنت کی بشارت دیجئے اور نافرمانوں کو جہنم کے عذابوں سے مطلع فرما دیجئے۔ لوگوں میں عام طور پر اعلان کر دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا بدلہ، اپنے وعظ کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ارادہ سوائے اللہ کی رضا مندی کی تلاش کے اور کچھ نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے جو راہ راست پر آنا چاہے، اس کے سامنے صحیح راستہ نمایاں کر دوں۔

اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے کاموں میں اس اللہ پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ اور دوام والا ہے، جو موت و فوت سے پاک ہے، جو اول و آخر، ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم ہے، جو دائم، باقی، سرمدی، ابدی، حی و قیوم ہے، جو ہر چیز کا مالک ہے اور رب ہے، اس کو اپنا ماویٰ و ملجا ٹھہرا لے۔

اسی کی ذات ایسی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ ہر گھبراہٹ میں اسی کی طرف جھکا جائے۔ وہ کافی ہے، وہی ناصر ہے، وہی موید و مظفر ہے۔ جیسے فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» [5-المائدة:67] ‏ الخ، ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ آپ بےفکر رہیے، اللہ آپ کو لوگوں کے برے ارادوں سے بچالے گا۔ “

ایک مرسل حدیث میں ہے کہ مدینے کی کسی گلی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! مجھے سجدہ نہ کر۔ سجدے کے لائق وہ ہے جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے، جس پر کبھی موت نہیں۔ (‏ابن ابی حاتم) اور اس کی تسبیح و حمد بیان کرتا رہ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعمیل میں فرمایا کرتے تھے: «سُبْحَانَکَ الّٰلہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ» [صحیح بخاری:794] ‏ مراد اس سے یہ کہ عبادت اللہ ہی کی کر، توکل صرف اسی کی ذات پر کر۔

جیسے فرمان ہے: ” مشرق و مغرب کا رب وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ۔ “ [73-المزمل:9] ‏

اور جگہ ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» [11-هود:123] ‏ ” اسی کی عبادت کر، اسی پر بھروسہ رکھ۔ “

اور آیت میں ہے: اعلان کر دے کہ اسی رحمن کے ہم بندے ہیں اور اسی پر ہمارا کامل بھروسہ ہے۔ اس پر بندوں کے سب اعمال ظاہر ہیں۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی پراسرار بات بھی اس سے مخفی نہیں۔

صفحہ نمبر6085

وہی تمام چیزوں کا خالق ہے، مالک و قابض ہے، وہی ہر جاندار کا روزی رساں ہے، اس نے اپنی قدرت و عظمت سے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ پھر عرش پر قرار پکڑا، کاموں کی تدبیروں کا انجام اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور تدبیر کا مرہون ہے۔

اس کا فیصلہ اعلی اور اچھا ہی ہوتا ہے۔ جو ذات الٰہ کا عالم ہو اور صفات الٰہ سے آگاہ ہو، اس سے اس کی شان دریافت کر لے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی پوری خبر رکھنے والے، اس کی ذات سے پورے واقف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ جو دنیا اور آخرت میں تمام اولاد آدم کے علی الاطلاق سردار تھے۔ جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو فرماتے تھے، وہ فرمودہ الٰہ ہی ہوتا تھا۔

آپ نے جو جو صفتیں اللہ کی بیان کیں، سب برحق ہیں، آپ نے جو خبریں دیں، سب سچ ہیں۔ سچے امام آپ ہی ہیں، تمام جھگڑوں کا فیصلہ آپ ہی کے حکم سے کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کی بات بتلائے، وہ سچا۔ جو آپ کے خلاف کہے، وہ مردود خواہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان واجب الاذعان کھلے طور سے صادر ہو چکا ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [4-النساء:59] ‏ ” تم اگر کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ “

اور فرمان ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ» [42-الشورى:10] ‏ ” تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ “

اور فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [6-الأنعام:115] ‏ ” تیرے رب کی باتیں جو خبروں میں سچی اور حکم و ممانعت میں عدل کی ہیں، پوری ہوچکیں۔ “ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔

مشرکین اللہ کے سوا اوروں کو سجدے کرتے تھے۔ ان سے جب رحمان کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ وہ اس سے منکر تھے کہ اللہ کا نام رحمان ہے۔ جیسے حدیبیہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے کاتب سے فرمایا: «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھ۔ تو مشرکین نے کہا: نہ ہم رحمان کو جانیں، نہ رحیم کو۔ ہمارے رواج کے مطابق «بِاسْمِکَ الّٰلہُمَّ» لکھ۔ [صحیح بخاری:2731-2732] ‏ اس کے جواب میں یہ آیت اتری «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:110] ‏ ” کہہ دے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو، جس نام سے چاہو پکارو۔ اس کے بہت سے بہترین نام ہیں۔ “

وہی اللہ ہے، وہی رحمن ہے۔ پس مشرکین کہتے تھے کہ کیا صرف تیرے کہنے سے ہم ایسا مان لیں؟ الغرض وہ اور نفرت میں بڑھ گئے۔ برخلاف مومنوں کے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو رحمان و رحیم ہے۔ اسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ علماء رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفرقان کی اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ مشروع ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل موجود ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6086

آبائی گمراہی ٭٭

مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہو گئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہو گئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہو گا۔

یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں۔ انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کا پروردگار ان کی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ نہیں۔ سچے اللہ کی عداوت ان کے دل میں ڈال دیتا ہے، شرک کی محبت بٹھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کے احکام سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔

صفحہ نمبر6084

پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں مومنوں کو خوشخبری سنانے والا اور کفار کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اطاعت گزاروں کو جنت کی بشارت دیجئے اور نافرمانوں کو جہنم کے عذابوں سے مطلع فرما دیجئے۔ لوگوں میں عام طور پر اعلان کر دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا بدلہ، اپنے وعظ کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ارادہ سوائے اللہ کی رضا مندی کی تلاش کے اور کچھ نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے جو راہ راست پر آنا چاہے، اس کے سامنے صحیح راستہ نمایاں کر دوں۔

اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے کاموں میں اس اللہ پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ اور دوام والا ہے، جو موت و فوت سے پاک ہے، جو اول و آخر، ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم ہے، جو دائم، باقی، سرمدی، ابدی، حی و قیوم ہے، جو ہر چیز کا مالک ہے اور رب ہے، اس کو اپنا ماویٰ و ملجا ٹھہرا لے۔

اسی کی ذات ایسی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ ہر گھبراہٹ میں اسی کی طرف جھکا جائے۔ وہ کافی ہے، وہی ناصر ہے، وہی موید و مظفر ہے۔ جیسے فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» [5-المائدة:67] ‏ الخ، ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ آپ بےفکر رہیے، اللہ آپ کو لوگوں کے برے ارادوں سے بچالے گا۔ “

ایک مرسل حدیث میں ہے کہ مدینے کی کسی گلی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! مجھے سجدہ نہ کر۔ سجدے کے لائق وہ ہے جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے، جس پر کبھی موت نہیں۔ (‏ابن ابی حاتم) اور اس کی تسبیح و حمد بیان کرتا رہ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعمیل میں فرمایا کرتے تھے: «سُبْحَانَکَ الّٰلہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ» [صحیح بخاری:794] ‏ مراد اس سے یہ کہ عبادت اللہ ہی کی کر، توکل صرف اسی کی ذات پر کر۔

جیسے فرمان ہے: ” مشرق و مغرب کا رب وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ۔ “ [73-المزمل:9] ‏

اور جگہ ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» [11-هود:123] ‏ ” اسی کی عبادت کر، اسی پر بھروسہ رکھ۔ “

اور آیت میں ہے: اعلان کر دے کہ اسی رحمن کے ہم بندے ہیں اور اسی پر ہمارا کامل بھروسہ ہے۔ اس پر بندوں کے سب اعمال ظاہر ہیں۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی پراسرار بات بھی اس سے مخفی نہیں۔

صفحہ نمبر6085

وہی تمام چیزوں کا خالق ہے، مالک و قابض ہے، وہی ہر جاندار کا روزی رساں ہے، اس نے اپنی قدرت و عظمت سے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ پھر عرش پر قرار پکڑا، کاموں کی تدبیروں کا انجام اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور تدبیر کا مرہون ہے۔

اس کا فیصلہ اعلی اور اچھا ہی ہوتا ہے۔ جو ذات الٰہ کا عالم ہو اور صفات الٰہ سے آگاہ ہو، اس سے اس کی شان دریافت کر لے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی پوری خبر رکھنے والے، اس کی ذات سے پورے واقف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ جو دنیا اور آخرت میں تمام اولاد آدم کے علی الاطلاق سردار تھے۔ جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو فرماتے تھے، وہ فرمودہ الٰہ ہی ہوتا تھا۔

آپ نے جو جو صفتیں اللہ کی بیان کیں، سب برحق ہیں، آپ نے جو خبریں دیں، سب سچ ہیں۔ سچے امام آپ ہی ہیں، تمام جھگڑوں کا فیصلہ آپ ہی کے حکم سے کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کی بات بتلائے، وہ سچا۔ جو آپ کے خلاف کہے، وہ مردود خواہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان واجب الاذعان کھلے طور سے صادر ہو چکا ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [4-النساء:59] ‏ ” تم اگر کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ “

اور فرمان ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ» [42-الشورى:10] ‏ ” تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ “

اور فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [6-الأنعام:115] ‏ ” تیرے رب کی باتیں جو خبروں میں سچی اور حکم و ممانعت میں عدل کی ہیں، پوری ہوچکیں۔ “ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔

مشرکین اللہ کے سوا اوروں کو سجدے کرتے تھے۔ ان سے جب رحمان کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ وہ اس سے منکر تھے کہ اللہ کا نام رحمان ہے۔ جیسے حدیبیہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے کاتب سے فرمایا: «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھ۔ تو مشرکین نے کہا: نہ ہم رحمان کو جانیں، نہ رحیم کو۔ ہمارے رواج کے مطابق «بِاسْمِکَ الّٰلہُمَّ» لکھ۔ [صحیح بخاری:2731-2732] ‏ اس کے جواب میں یہ آیت اتری «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:110] ‏ ” کہہ دے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو، جس نام سے چاہو پکارو۔ اس کے بہت سے بہترین نام ہیں۔ “

وہی اللہ ہے، وہی رحمن ہے۔ پس مشرکین کہتے تھے کہ کیا صرف تیرے کہنے سے ہم ایسا مان لیں؟ الغرض وہ اور نفرت میں بڑھ گئے۔ برخلاف مومنوں کے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو رحمان و رحیم ہے۔ اسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ علماء رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفرقان کی اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ مشروع ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل موجود ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6086

آبائی گمراہی ٭٭

مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شیطانی لشکر میں شامل ہو گئے ہیں اور رحمانی لشکر کے مخالف ہو گئے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ انجام کار غلبہ اللہ والوں کو ہی ہو گا۔

یہ خواہ مخواہ ان کی طرف سے سینہ سپر ہو رہے ہیں۔ انجام کار مومنوں کے ہی ہاتھ رہے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کا پروردگار ان کی امداد کرے گا۔ ان کفار کو تو شیطان صرف اللہ کی مخالفت پر ابھار دیتا ہے اور کچھ نہیں۔ سچے اللہ کی عداوت ان کے دل میں ڈال دیتا ہے، شرک کی محبت بٹھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کے احکام سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔

صفحہ نمبر6084

پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں مومنوں کو خوشخبری سنانے والا اور کفار کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اطاعت گزاروں کو جنت کی بشارت دیجئے اور نافرمانوں کو جہنم کے عذابوں سے مطلع فرما دیجئے۔ لوگوں میں عام طور پر اعلان کر دیجئے کہ میں اپنی تبلیغ کا بدلہ، اپنے وعظ کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ارادہ سوائے اللہ کی رضا مندی کی تلاش کے اور کچھ نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے جو راہ راست پر آنا چاہے، اس کے سامنے صحیح راستہ نمایاں کر دوں۔

اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے کاموں میں اس اللہ پر بھروسہ رکھئے جو ہمیشہ اور دوام والا ہے، جو موت و فوت سے پاک ہے، جو اول و آخر، ظاہر و باطن اور ہر چیز کا عالم ہے، جو دائم، باقی، سرمدی، ابدی، حی و قیوم ہے، جو ہر چیز کا مالک ہے اور رب ہے، اس کو اپنا ماویٰ و ملجا ٹھہرا لے۔

اسی کی ذات ایسی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔ ہر گھبراہٹ میں اسی کی طرف جھکا جائے۔ وہ کافی ہے، وہی ناصر ہے، وہی موید و مظفر ہے۔ جیسے فرمان ہے «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» [5-المائدة:67] ‏ الخ، ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ آپ بےفکر رہیے، اللہ آپ کو لوگوں کے برے ارادوں سے بچالے گا۔ “

ایک مرسل حدیث میں ہے کہ مدینے کی کسی گلی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: اے سلمان! مجھے سجدہ نہ کر۔ سجدے کے لائق وہ ہے جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے، جس پر کبھی موت نہیں۔ (‏ابن ابی حاتم) اور اس کی تسبیح و حمد بیان کرتا رہ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعمیل میں فرمایا کرتے تھے: «سُبْحَانَکَ الّٰلہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ» [صحیح بخاری:794] ‏ مراد اس سے یہ کہ عبادت اللہ ہی کی کر، توکل صرف اسی کی ذات پر کر۔

جیسے فرمان ہے: ” مشرق و مغرب کا رب وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز سمجھ۔ “ [73-المزمل:9] ‏

اور جگہ ہے «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» [11-هود:123] ‏ ” اسی کی عبادت کر، اسی پر بھروسہ رکھ۔ “

اور آیت میں ہے: اعلان کر دے کہ اسی رحمن کے ہم بندے ہیں اور اسی پر ہمارا کامل بھروسہ ہے۔ اس پر بندوں کے سب اعمال ظاہر ہیں۔ کوئی ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی پراسرار بات بھی اس سے مخفی نہیں۔

صفحہ نمبر6085

وہی تمام چیزوں کا خالق ہے، مالک و قابض ہے، وہی ہر جاندار کا روزی رساں ہے، اس نے اپنی قدرت و عظمت سے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو صرف چھ دن میں پیدا کر دیا ہے۔ پھر عرش پر قرار پکڑا، کاموں کی تدبیروں کا انجام اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور تدبیر کا مرہون ہے۔

اس کا فیصلہ اعلی اور اچھا ہی ہوتا ہے۔ جو ذات الٰہ کا عالم ہو اور صفات الٰہ سے آگاہ ہو، اس سے اس کی شان دریافت کر لے۔ یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی پوری خبر رکھنے والے، اس کی ذات سے پورے واقف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ جو دنیا اور آخرت میں تمام اولاد آدم کے علی الاطلاق سردار تھے۔ جو ایک بات بھی اپنی طرف سے نہیں کہتے تھے بلکہ جو فرماتے تھے، وہ فرمودہ الٰہ ہی ہوتا تھا۔

آپ نے جو جو صفتیں اللہ کی بیان کیں، سب برحق ہیں، آپ نے جو خبریں دیں، سب سچ ہیں۔ سچے امام آپ ہی ہیں، تمام جھگڑوں کا فیصلہ آپ ہی کے حکم سے کیا جا سکتا ہے۔ جو آپ کی بات بتلائے، وہ سچا۔ جو آپ کے خلاف کہے، وہ مردود خواہ کوئی بھی ہو۔ اللہ کا فرمان واجب الاذعان کھلے طور سے صادر ہو چکا ہے «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا» [4-النساء:59] ‏ ” تم اگر کسی چیز میں جھگڑو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ “

اور فرمان ہے «وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّـهِ ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ» [42-الشورى:10] ‏ ” تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔ “

اور فرمان ہے «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [6-الأنعام:115] ‏ ” تیرے رب کی باتیں جو خبروں میں سچی اور حکم و ممانعت میں عدل کی ہیں، پوری ہوچکیں۔ “ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے۔

مشرکین اللہ کے سوا اوروں کو سجدے کرتے تھے۔ ان سے جب رحمان کو سجدہ کرنے کو کہا جاتا تھا تو کہتے تھے کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ وہ اس سے منکر تھے کہ اللہ کا نام رحمان ہے۔ جیسے حدیبیہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے کاتب سے فرمایا: «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھ۔ تو مشرکین نے کہا: نہ ہم رحمان کو جانیں، نہ رحیم کو۔ ہمارے رواج کے مطابق «بِاسْمِکَ الّٰلہُمَّ» لکھ۔ [صحیح بخاری:2731-2732] ‏ اس کے جواب میں یہ آیت اتری «قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰى وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا» [17-الإسراء:110] ‏ ” کہہ دے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو، جس نام سے چاہو پکارو۔ اس کے بہت سے بہترین نام ہیں۔ “

وہی اللہ ہے، وہی رحمن ہے۔ پس مشرکین کہتے تھے کہ کیا صرف تیرے کہنے سے ہم ایسا مان لیں؟ الغرض وہ اور نفرت میں بڑھ گئے۔ برخلاف مومنوں کے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو رحمان و رحیم ہے۔ اسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے سجدے کرتے ہیں۔ علماء رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے کہ سورۃ الفرقان کی اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ مشروع ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل موجود ہے «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر6086

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com