Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Furqaan
Tafsir Ibn Kathir · The Criterion · 77 ayat · ayat 1–30 · Quran text →
اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بیان ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا بیان فرماتا ہے تاکہ لوگوں پر اس کی بزرگی عیاں ہو جائے کہ اس نے اس پاک کلام کو اپنے بندے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے۔
سورۃ الکہف کے شروع میں بھی اپنی حمد اسی اندازے سے بیان کی ہے، یہاں اپنی ذات کا بابرکت ہونا بیان فرمایا اور یہی وصف بیان کیا۔ یہاں لفظ «نَزَّلَ» فرمایا جس سے بار بار بکثرت اترنا ثابت ہوتا ہے۔
جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ» [4-النساء:136] پس پہلی کتابوں کو لفظ «أَنزَلَ» سے اور اس آخر کتاب کو لفظ «نَزَّلَ» سے تعبیر فرمانا۔ اسی لیے ہے کہ پہلی کتابیں ایک ساتھ اترتی رہیں اور قرآن کریم تھوڑا تھوڑا کر کے حسب ضرورت اترتا رہا۔ کبھی کچھ آیتیں، کبھی کچھ سورتیں، کبھی کچھ احکام۔ اس میں ایک بڑی حکمت یہ بھی تھی کہ لوگوں کو اس پر عمل مشکل نہ ہو اور خوب یاد ہو جائے اور مان لینے کے لیے دل کھل جائے۔
جیسے کہ اسی سورت میں فرمایا ہے کہ کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ قرآن کریم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ساتھ کیوں نہ اترا؟ جواب دیا گیا ہے کہ اس طرح اس لیے اترا کہ اس کے ساتھ تیری دل جمعی رہے اور ہم نے ٹھہرا ٹھہرا کر نازل فرمایا۔ یہ جو بھی بات بنائیں گے ہم اس کا صحیح اور جچاتلا جواب دیں جو خوب تفصیل والا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس آیت میں اس کا نام فرقان رکھا۔ اس لیے کہ یہ حق و باطل میں، ہدایت و گمراہی میں فرق کرنے والا ہے۔ اس سے بھلائی برائی میں، حلال حرام میں تمیز ہوتی ہے۔
قرآن کریم کی یہ پاک صفت بیان فرما کر، جس پر قرآن اترا ان کی ایک پاک صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ خاص اس کی عبادت میں لگے رہنے والے ہیں، اس کے مخلص بندے ہیں۔ یہ وصف سب سے اعلیٰ وصف ہے۔ اسی لیے بڑی بڑی نعمتوں کے بیان کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی وصف بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسے معراج کے موقعہ پر فرمایا «سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» [17-الإسراء:1]
اور جیسے اپنی خاص عبادت نماز کے موقعہ پر فرمایا «وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا» [72-الجن:19] ” اور جب بندہ اللہ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی عبادت کرنے کھڑے ہوتے ہیں “ یہی وصف قرآن کریم کے اترنے اور آپ کے پاس بزرگ فرشتے کے آنے کے اکرام کے بیان کرنے کے موقعہ پر بیان فرمایا۔
صفحہ نمبر6001
پھر ارشاد ہوا کہ اس پاک کتاب کا آپ کی طرف اترنا اس لیے ہے کہ آپ تمام جہان کے لیے آگاہ کرنے والے بن جائیں، ایسی کتاب جو سراسر حکمت و ہدایت والی ہے۔ جو مفصل، مبین اور محکم ہے۔ جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا۔ جو حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔
آپ اس کی تبلیغ دنیا بھر میں کر دیں، ہر سرخ و سفید کو، ہر دور و نزدیک والے کو اللہ کے عذابوں سے ڈرا دیں، جو بھی آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر ہے اس کی طرف آپ کی رسالت ہے۔ جیسے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: میں تمام سرخ و سفید انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح مسلم:521] اور فرمان ہے: مجھے پانچ باتیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا لیکن میں تمام دنیا کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح بخاری:335]
خود قرآن میں ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ» [7-الأعراف:158] ” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اعلان کر دو کہ اے دنیا کے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر ہوں۔ “
پھر فرمایا مجھے رسول بنا کر بھیجنے والا، مجھ پر یہ پاک کتاب اتارنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان و زمین کا تنہا مالک ہے، جو جس کام کو کرنا چاہے اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔ وہی مارتا اور جلاتا ہے، اس کی کوئی اولاد نہیں، نہ اس کا کوئی شریک ہے۔ ہر چیز اس کی مخلوق اور اس کی زیر پرورش ہے۔ سب کا خالق، مالک، رازق، معبود اور رب وہی ہے۔ ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے والا اور تدبیر کرنے والا وہی ہے۔
صفحہ نمبر6002
اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بیان ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا بیان فرماتا ہے تاکہ لوگوں پر اس کی بزرگی عیاں ہو جائے کہ اس نے اس پاک کلام کو اپنے بندے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے۔
سورۃ الکہف کے شروع میں بھی اپنی حمد اسی اندازے سے بیان کی ہے، یہاں اپنی ذات کا بابرکت ہونا بیان فرمایا اور یہی وصف بیان کیا۔ یہاں لفظ «نَزَّلَ» فرمایا جس سے بار بار بکثرت اترنا ثابت ہوتا ہے۔
جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ» [4-النساء:136] پس پہلی کتابوں کو لفظ «أَنزَلَ» سے اور اس آخر کتاب کو لفظ «نَزَّلَ» سے تعبیر فرمانا۔ اسی لیے ہے کہ پہلی کتابیں ایک ساتھ اترتی رہیں اور قرآن کریم تھوڑا تھوڑا کر کے حسب ضرورت اترتا رہا۔ کبھی کچھ آیتیں، کبھی کچھ سورتیں، کبھی کچھ احکام۔ اس میں ایک بڑی حکمت یہ بھی تھی کہ لوگوں کو اس پر عمل مشکل نہ ہو اور خوب یاد ہو جائے اور مان لینے کے لیے دل کھل جائے۔
جیسے کہ اسی سورت میں فرمایا ہے کہ کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ قرآن کریم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ساتھ کیوں نہ اترا؟ جواب دیا گیا ہے کہ اس طرح اس لیے اترا کہ اس کے ساتھ تیری دل جمعی رہے اور ہم نے ٹھہرا ٹھہرا کر نازل فرمایا۔ یہ جو بھی بات بنائیں گے ہم اس کا صحیح اور جچاتلا جواب دیں جو خوب تفصیل والا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس آیت میں اس کا نام فرقان رکھا۔ اس لیے کہ یہ حق و باطل میں، ہدایت و گمراہی میں فرق کرنے والا ہے۔ اس سے بھلائی برائی میں، حلال حرام میں تمیز ہوتی ہے۔
قرآن کریم کی یہ پاک صفت بیان فرما کر، جس پر قرآن اترا ان کی ایک پاک صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ خاص اس کی عبادت میں لگے رہنے والے ہیں، اس کے مخلص بندے ہیں۔ یہ وصف سب سے اعلیٰ وصف ہے۔ اسی لیے بڑی بڑی نعمتوں کے بیان کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی وصف بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسے معراج کے موقعہ پر فرمایا «سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» [17-الإسراء:1]
اور جیسے اپنی خاص عبادت نماز کے موقعہ پر فرمایا «وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا» [72-الجن:19] ” اور جب بندہ اللہ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی عبادت کرنے کھڑے ہوتے ہیں “ یہی وصف قرآن کریم کے اترنے اور آپ کے پاس بزرگ فرشتے کے آنے کے اکرام کے بیان کرنے کے موقعہ پر بیان فرمایا۔
صفحہ نمبر6001
پھر ارشاد ہوا کہ اس پاک کتاب کا آپ کی طرف اترنا اس لیے ہے کہ آپ تمام جہان کے لیے آگاہ کرنے والے بن جائیں، ایسی کتاب جو سراسر حکمت و ہدایت والی ہے۔ جو مفصل، مبین اور محکم ہے۔ جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا۔ جو حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔
آپ اس کی تبلیغ دنیا بھر میں کر دیں، ہر سرخ و سفید کو، ہر دور و نزدیک والے کو اللہ کے عذابوں سے ڈرا دیں، جو بھی آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر ہے اس کی طرف آپ کی رسالت ہے۔ جیسے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: میں تمام سرخ و سفید انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح مسلم:521] اور فرمان ہے: مجھے پانچ باتیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا لیکن میں تمام دنیا کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح بخاری:335]
خود قرآن میں ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ» [7-الأعراف:158] ” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اعلان کر دو کہ اے دنیا کے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر ہوں۔ “
پھر فرمایا مجھے رسول بنا کر بھیجنے والا، مجھ پر یہ پاک کتاب اتارنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان و زمین کا تنہا مالک ہے، جو جس کام کو کرنا چاہے اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔ وہی مارتا اور جلاتا ہے، اس کی کوئی اولاد نہیں، نہ اس کا کوئی شریک ہے۔ ہر چیز اس کی مخلوق اور اس کی زیر پرورش ہے۔ سب کا خالق، مالک، رازق، معبود اور رب وہی ہے۔ ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے والا اور تدبیر کرنے والا وہی ہے۔
صفحہ نمبر6002
مشرکوں کی جہالت ٭٭
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ خالق، مالک، مختار بادشاہ کو چھوڑ کر ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو ایک مچھر کا پر بھی نہیں بنا سکتے بلکہ وہ خود اللہ کے بنائے ہوئے اور اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بھی کسی نفع نقصان کے پہنچانے کے مالک نہیں چہ جائیکہ دوسرے کا بھلا کریں یا دوسرے کا نقصان کریں۔ یا دوسری کوئی بات کر سکیں۔ وہ اپنی موت زیست کا یا دوبارہ جی اٹھنے کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ پھر اپنی عبادت کرنے والوں کی ان چیزوں کے مالک وہ کیسے ہو جائیں گے؟
بات یہی ہے کہ ان تمام کاموں کا مالک اللہ ہی ہے، وہی جلاتا اور مارتا ہے، وہی اپنی تمام مخلوق کو قیامت کے دن نئے سرے سے پیدا کرے گا۔ اس پر یہ کام مشکل نہیں، ایک کا پیدا کرنا اور سب کو پیدا کرنا، ایک کو موت کے بعد زندہ کرنا اور سب کو کرنا، اس پر یکساں اور برابر ہے۔ ایک آنکھ جھپکانے میں اس کا پورا ہو جاتا ہے۔ صرف ایک آواز کے ساتھ تمام مری ہوئی مخلوق زندہ ہو کر اس کے سامنے ایک چٹیل میدان میں کھڑی ہو جائے گی۔ اور آیت میں فرمایا ہے صرف ایک دفعہ کی ایک آواز ہو گی کہ ساری مخلوق ہمارے سامنے حاضر ہو جائے گی، وہی معبود برحق ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی رب ہے، نہ لائق عبادت ہے۔ اس کا چاہا ہوتا ہے، اس کے چاہے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا۔ وہ ماں باپ سے، لڑکی لڑکوں سے، عدیل و بدیل سے، وزیر و نظیر سے، شریک وسہیم سب سے پاک ہے۔ وہ «أَحَدٌ» ہے، «الصَّمَدُ» ہے، «لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ» ہے، اس کا کفو کوئی نہیں۔
صفحہ نمبر6004
خود فریب مشرک ٭٭
خود فریب مشرکین ایک جہالت اوپر کی آیتوں میں بیان ہوئی۔ جو ذات الٰہی کی نسبت تھی۔ یہاں دوسری جہالت بیان ہو رہی ہے جو ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو تو اس نے اوروں کی مدد سے خود ہی جھوٹ موٹ گھڑ لیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ان کا ظلم اور جھوٹ ہے جس کے باطل ہونے کا خود انہیں بھی علم ہے۔ جو کچھ کہتے ہیں وہ خود اپنی معلومات کے بھی خلاف کہتے ہیں۔ کبھی ہانک لگانے لگتے ہیں کہ اگلی کتابوں کے قصے اس نے لکھوا لئے ہیں، وہی صبح شام اس کی مجلس میں پڑھے جا رہے ہیں۔ یہ جھوٹ وہ ہے جس میں کسی کو کوئی شک نہ ہو سکے۔ اس لیے کہ صرف اہل مکہ ہی نہیں بلکہ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے نبی امی تھے نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔ چالیس سال کی نبوت سے پہلے کی زندگی آپ نے انہی لوگوں میں گزاری تھی اور وہ اس طرح کہ اتنی مدت میں ایک واقعہ بھی آپ کی زندگی میں یا ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جس پر انگلی اٹھا سکے۔ ایک ایک وصف آپ کا وہ تھا جس پر زمانہ شیدا تھا جس پر اہل مکہ رشک کرتے تھے۔ آپ کی عام مقبولیت اور محبوبیت، بلند اخلاق اور خوش معاملگی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ہر ایک دل میں آپ کے لیے جگہ تھی۔ عام زبانیں آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم امین کے پیارے خطاب سے پکارتی تھیں، دنیا آپ کے قدموں تلے آنکھیں بچھاتی تھی۔ کون سا دل تھا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر نہ ہو، کون سی آنکھ تھی جس میں احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت نہ ہو؟ کون سا مجمع تھا جس میں آپ کا ذکر خیر نہ ہو؟ کون وہ شخص تھا جو آپ کی بزرگی، صداقت، امانت، نیکی اور بھلائی کا قائل نہ ہو؟
صفحہ نمبر6005
پھر جب کہ اللہ کی بلند ترین عزت سے آپ معزز کئے گئے۔ آسمانی وحی کے آپ امین بنائے گئے تو صرف باپ دادوں کی روش کو پامال ہوتے ہوئے دیکھ کر یہ بےوقوف بےپیندے لوٹے کی طرح لڑھک گئے، تھالی کے بینگن کی طرح ادھر سے ادھر ہو گئے، لگے باتیں بنانے، اور عیب جوئی کرنے لیکن جھوٹ کے پاؤں کہاں؟
کبھی آپ کو شاعر کہتے، کبھی ساحر اور کبھی کذاب۔ حیران تھے کہ کیا کہیں اور کس طرح اپنی جاہلانہ روش کو باقی رکھیں اور اپنے معبودان باطل کے جھنڈے اوندھے نہ ہونے دیں اور کس طرح ظلم کدہ دنیا کو نور الہٰی سے نہ جگمگانے دیں؟ اب انہیں جواب ملتا ہے کہ قرآن کی سچی حقائق پہ مبنی اور سچی خبریں اللہ کی دی ہوئی ہیں جو علام الغیوب ہے، جس سے ایک ذرہ پوشیدہ نہیں کہ اس میں ماضی کے بیان سبھی سچ ہیں۔ جو آئندہ کی خبر اس میں ہے وہ بھی سچ ہے۔ اللہ کے سامنے ہو چکی ہوئی اور ہونے والی بات یکساں ہے۔ وہ غیب کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح ظاہر کو۔ اس کے بعد اپنی شان غفاریت کو اور شان رحم و کرم کو بیان فرمایا تاکہ بدلوگ بھی اس سے مایوس نہ ہوں۔ کچھ بھی کیا ہو، اب بھی اس کی طرف جھک جائیں، توبہ کریں، اپنے کئے پر پچھتائیں۔ نادم ہوں، اور رب کی رضا چاہیں۔
صفحہ نمبر6006
رحمت رحیم کے قربان جائیے کہ ایسے سرکش و دشمن، اللہ و رسول پر بہتان باز، اس قدر ایذائیں دینے والے لوگوں کو بھی اپنی عام رحمت کی دعوت دیتا ہے اور اپنے کرم کی طرف انہیں بلاتا ہے۔ وہ اللہ کو برا کہیں، وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہیں، وہ کلام اللہ پر باتیں بنائیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کی طرف رہنمائی کرے، اپنے فضل و کرم کی طرف دعوت دے، اسلام اور ہدایت ان پر پیش کرے، اپنی بھلی باتیں ان کو سجھائے اور سمجھائے۔
چنانچہ اور آیت میں عیسائیوں کی تثلیث پرستی کا ذکر کر کے ان کی سزا کا بیان کرتے ہوئے فرمایا «اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [5-المائدة:74] ” یہ لوگ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے؟ اور کیوں اس کی طرف جھک کر اس سے اپنے گناہوں کی معافی طلب نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی بخشنے والا اور بہت ہی مہربان ہے۔ “
مومنوں کو ستانے اور انہیں فتنے میں ڈالنے والوں کا ذکر کر کے سورۃ البروج میں فرمایا کہ اگر ایسے لوگ بھی توبہ کر لیں، اپنے برے کاموں سے ہٹ جائیں، باز آئیں تو میں بھی ان پر سے اپنے عذاب ہٹالوں گا اور رحمتوں سے نواز دونگا۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کیسے مزے کی بات بیان فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: اللہ کے رحم و کرم کو دیکھو، یہ لوگ اس کے نیک چہیتے بندوں کو ستائیں، ماریں، پیٹیں، قتل کریں اور وہ انہیں توبہ کی طرف اور اپنے رحم و کرم کی طرف بلائے! «فسبحانہ ما اعظم شانہ» ۔
صفحہ نمبر6007
خود فریب مشرک ٭٭
خود فریب مشرکین ایک جہالت اوپر کی آیتوں میں بیان ہوئی۔ جو ذات الٰہی کی نسبت تھی۔ یہاں دوسری جہالت بیان ہو رہی ہے جو ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو تو اس نے اوروں کی مدد سے خود ہی جھوٹ موٹ گھڑ لیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ان کا ظلم اور جھوٹ ہے جس کے باطل ہونے کا خود انہیں بھی علم ہے۔ جو کچھ کہتے ہیں وہ خود اپنی معلومات کے بھی خلاف کہتے ہیں۔ کبھی ہانک لگانے لگتے ہیں کہ اگلی کتابوں کے قصے اس نے لکھوا لئے ہیں، وہی صبح شام اس کی مجلس میں پڑھے جا رہے ہیں۔ یہ جھوٹ وہ ہے جس میں کسی کو کوئی شک نہ ہو سکے۔ اس لیے کہ صرف اہل مکہ ہی نہیں بلکہ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے نبی امی تھے نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔ چالیس سال کی نبوت سے پہلے کی زندگی آپ نے انہی لوگوں میں گزاری تھی اور وہ اس طرح کہ اتنی مدت میں ایک واقعہ بھی آپ کی زندگی میں یا ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جس پر انگلی اٹھا سکے۔ ایک ایک وصف آپ کا وہ تھا جس پر زمانہ شیدا تھا جس پر اہل مکہ رشک کرتے تھے۔ آپ کی عام مقبولیت اور محبوبیت، بلند اخلاق اور خوش معاملگی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ہر ایک دل میں آپ کے لیے جگہ تھی۔ عام زبانیں آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم امین کے پیارے خطاب سے پکارتی تھیں، دنیا آپ کے قدموں تلے آنکھیں بچھاتی تھی۔ کون سا دل تھا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر نہ ہو، کون سی آنکھ تھی جس میں احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت نہ ہو؟ کون سا مجمع تھا جس میں آپ کا ذکر خیر نہ ہو؟ کون وہ شخص تھا جو آپ کی بزرگی، صداقت، امانت، نیکی اور بھلائی کا قائل نہ ہو؟
صفحہ نمبر6005
پھر جب کہ اللہ کی بلند ترین عزت سے آپ معزز کئے گئے۔ آسمانی وحی کے آپ امین بنائے گئے تو صرف باپ دادوں کی روش کو پامال ہوتے ہوئے دیکھ کر یہ بےوقوف بےپیندے لوٹے کی طرح لڑھک گئے، تھالی کے بینگن کی طرح ادھر سے ادھر ہو گئے، لگے باتیں بنانے، اور عیب جوئی کرنے لیکن جھوٹ کے پاؤں کہاں؟
کبھی آپ کو شاعر کہتے، کبھی ساحر اور کبھی کذاب۔ حیران تھے کہ کیا کہیں اور کس طرح اپنی جاہلانہ روش کو باقی رکھیں اور اپنے معبودان باطل کے جھنڈے اوندھے نہ ہونے دیں اور کس طرح ظلم کدہ دنیا کو نور الہٰی سے نہ جگمگانے دیں؟ اب انہیں جواب ملتا ہے کہ قرآن کی سچی حقائق پہ مبنی اور سچی خبریں اللہ کی دی ہوئی ہیں جو علام الغیوب ہے، جس سے ایک ذرہ پوشیدہ نہیں کہ اس میں ماضی کے بیان سبھی سچ ہیں۔ جو آئندہ کی خبر اس میں ہے وہ بھی سچ ہے۔ اللہ کے سامنے ہو چکی ہوئی اور ہونے والی بات یکساں ہے۔ وہ غیب کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح ظاہر کو۔ اس کے بعد اپنی شان غفاریت کو اور شان رحم و کرم کو بیان فرمایا تاکہ بدلوگ بھی اس سے مایوس نہ ہوں۔ کچھ بھی کیا ہو، اب بھی اس کی طرف جھک جائیں، توبہ کریں، اپنے کئے پر پچھتائیں۔ نادم ہوں، اور رب کی رضا چاہیں۔
صفحہ نمبر6006
رحمت رحیم کے قربان جائیے کہ ایسے سرکش و دشمن، اللہ و رسول پر بہتان باز، اس قدر ایذائیں دینے والے لوگوں کو بھی اپنی عام رحمت کی دعوت دیتا ہے اور اپنے کرم کی طرف انہیں بلاتا ہے۔ وہ اللہ کو برا کہیں، وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہیں، وہ کلام اللہ پر باتیں بنائیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کی طرف رہنمائی کرے، اپنے فضل و کرم کی طرف دعوت دے، اسلام اور ہدایت ان پر پیش کرے، اپنی بھلی باتیں ان کو سجھائے اور سمجھائے۔
چنانچہ اور آیت میں عیسائیوں کی تثلیث پرستی کا ذکر کر کے ان کی سزا کا بیان کرتے ہوئے فرمایا «اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [5-المائدة:74] ” یہ لوگ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے؟ اور کیوں اس کی طرف جھک کر اس سے اپنے گناہوں کی معافی طلب نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی بخشنے والا اور بہت ہی مہربان ہے۔ “
مومنوں کو ستانے اور انہیں فتنے میں ڈالنے والوں کا ذکر کر کے سورۃ البروج میں فرمایا کہ اگر ایسے لوگ بھی توبہ کر لیں، اپنے برے کاموں سے ہٹ جائیں، باز آئیں تو میں بھی ان پر سے اپنے عذاب ہٹالوں گا اور رحمتوں سے نواز دونگا۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کیسے مزے کی بات بیان فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: اللہ کے رحم و کرم کو دیکھو، یہ لوگ اس کے نیک چہیتے بندوں کو ستائیں، ماریں، پیٹیں، قتل کریں اور وہ انہیں توبہ کی طرف اور اپنے رحم و کرم کی طرف بلائے! «فسبحانہ ما اعظم شانہ» ۔
صفحہ نمبر6007
خود فریب مشرک ٭٭
خود فریب مشرکین ایک جہالت اوپر کی آیتوں میں بیان ہوئی۔ جو ذات الٰہی کی نسبت تھی۔ یہاں دوسری جہالت بیان ہو رہی ہے جو ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو تو اس نے اوروں کی مدد سے خود ہی جھوٹ موٹ گھڑ لیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ان کا ظلم اور جھوٹ ہے جس کے باطل ہونے کا خود انہیں بھی علم ہے۔ جو کچھ کہتے ہیں وہ خود اپنی معلومات کے بھی خلاف کہتے ہیں۔ کبھی ہانک لگانے لگتے ہیں کہ اگلی کتابوں کے قصے اس نے لکھوا لئے ہیں، وہی صبح شام اس کی مجلس میں پڑھے جا رہے ہیں۔ یہ جھوٹ وہ ہے جس میں کسی کو کوئی شک نہ ہو سکے۔ اس لیے کہ صرف اہل مکہ ہی نہیں بلکہ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے نبی امی تھے نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔ چالیس سال کی نبوت سے پہلے کی زندگی آپ نے انہی لوگوں میں گزاری تھی اور وہ اس طرح کہ اتنی مدت میں ایک واقعہ بھی آپ کی زندگی میں یا ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جس پر انگلی اٹھا سکے۔ ایک ایک وصف آپ کا وہ تھا جس پر زمانہ شیدا تھا جس پر اہل مکہ رشک کرتے تھے۔ آپ کی عام مقبولیت اور محبوبیت، بلند اخلاق اور خوش معاملگی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ہر ایک دل میں آپ کے لیے جگہ تھی۔ عام زبانیں آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم امین کے پیارے خطاب سے پکارتی تھیں، دنیا آپ کے قدموں تلے آنکھیں بچھاتی تھی۔ کون سا دل تھا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر نہ ہو، کون سی آنکھ تھی جس میں احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت نہ ہو؟ کون سا مجمع تھا جس میں آپ کا ذکر خیر نہ ہو؟ کون وہ شخص تھا جو آپ کی بزرگی، صداقت، امانت، نیکی اور بھلائی کا قائل نہ ہو؟
صفحہ نمبر6005
پھر جب کہ اللہ کی بلند ترین عزت سے آپ معزز کئے گئے۔ آسمانی وحی کے آپ امین بنائے گئے تو صرف باپ دادوں کی روش کو پامال ہوتے ہوئے دیکھ کر یہ بےوقوف بےپیندے لوٹے کی طرح لڑھک گئے، تھالی کے بینگن کی طرح ادھر سے ادھر ہو گئے، لگے باتیں بنانے، اور عیب جوئی کرنے لیکن جھوٹ کے پاؤں کہاں؟
کبھی آپ کو شاعر کہتے، کبھی ساحر اور کبھی کذاب۔ حیران تھے کہ کیا کہیں اور کس طرح اپنی جاہلانہ روش کو باقی رکھیں اور اپنے معبودان باطل کے جھنڈے اوندھے نہ ہونے دیں اور کس طرح ظلم کدہ دنیا کو نور الہٰی سے نہ جگمگانے دیں؟ اب انہیں جواب ملتا ہے کہ قرآن کی سچی حقائق پہ مبنی اور سچی خبریں اللہ کی دی ہوئی ہیں جو علام الغیوب ہے، جس سے ایک ذرہ پوشیدہ نہیں کہ اس میں ماضی کے بیان سبھی سچ ہیں۔ جو آئندہ کی خبر اس میں ہے وہ بھی سچ ہے۔ اللہ کے سامنے ہو چکی ہوئی اور ہونے والی بات یکساں ہے۔ وہ غیب کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح ظاہر کو۔ اس کے بعد اپنی شان غفاریت کو اور شان رحم و کرم کو بیان فرمایا تاکہ بدلوگ بھی اس سے مایوس نہ ہوں۔ کچھ بھی کیا ہو، اب بھی اس کی طرف جھک جائیں، توبہ کریں، اپنے کئے پر پچھتائیں۔ نادم ہوں، اور رب کی رضا چاہیں۔
صفحہ نمبر6006
رحمت رحیم کے قربان جائیے کہ ایسے سرکش و دشمن، اللہ و رسول پر بہتان باز، اس قدر ایذائیں دینے والے لوگوں کو بھی اپنی عام رحمت کی دعوت دیتا ہے اور اپنے کرم کی طرف انہیں بلاتا ہے۔ وہ اللہ کو برا کہیں، وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہیں، وہ کلام اللہ پر باتیں بنائیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کی طرف رہنمائی کرے، اپنے فضل و کرم کی طرف دعوت دے، اسلام اور ہدایت ان پر پیش کرے، اپنی بھلی باتیں ان کو سجھائے اور سمجھائے۔
چنانچہ اور آیت میں عیسائیوں کی تثلیث پرستی کا ذکر کر کے ان کی سزا کا بیان کرتے ہوئے فرمایا «اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [5-المائدة:74] ” یہ لوگ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے؟ اور کیوں اس کی طرف جھک کر اس سے اپنے گناہوں کی معافی طلب نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی بخشنے والا اور بہت ہی مہربان ہے۔ “
مومنوں کو ستانے اور انہیں فتنے میں ڈالنے والوں کا ذکر کر کے سورۃ البروج میں فرمایا کہ اگر ایسے لوگ بھی توبہ کر لیں، اپنے برے کاموں سے ہٹ جائیں، باز آئیں تو میں بھی ان پر سے اپنے عذاب ہٹالوں گا اور رحمتوں سے نواز دونگا۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کیسے مزے کی بات بیان فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: اللہ کے رحم و کرم کو دیکھو، یہ لوگ اس کے نیک چہیتے بندوں کو ستائیں، ماریں، پیٹیں، قتل کریں اور وہ انہیں توبہ کی طرف اور اپنے رحم و کرم کی طرف بلائے! «فسبحانہ ما اعظم شانہ» ۔
صفحہ نمبر6007
مشرکین کی حماقتیں ٭٭
اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔
فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» [43-الزخرف:53] الخ، ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ “ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔
یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر6010
دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔
حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔
پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف]
صفحہ نمبر6011
پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔
اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
صفحہ نمبر6012
جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ” جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ “ [67-الملك:7-8]
ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف]
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر6013
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔
اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف]
یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ [مسند احمد:152/3:ضعیف]
«ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [17-الإسراء:102] ” فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ “ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
صفحہ نمبر6014
مشرکین کی حماقتیں ٭٭
اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔
فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» [43-الزخرف:53] الخ، ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ “ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔
یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر6010
دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔
حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔
پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف]
صفحہ نمبر6011
پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔
اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
صفحہ نمبر6012
جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ” جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ “ [67-الملك:7-8]
ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف]
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر6013
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔
اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف]
یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ [مسند احمد:152/3:ضعیف]
«ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [17-الإسراء:102] ” فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ “ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
صفحہ نمبر6014
مشرکین کی حماقتیں ٭٭
اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔
فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» [43-الزخرف:53] الخ، ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ “ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔
یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر6010
دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔
حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔
پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف]
صفحہ نمبر6011
پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔
اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
صفحہ نمبر6012
جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ” جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ “ [67-الملك:7-8]
ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف]
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر6013
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔
اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف]
یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ [مسند احمد:152/3:ضعیف]
«ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [17-الإسراء:102] ” فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ “ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
صفحہ نمبر6014
مشرکین کی حماقتیں ٭٭
اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔
فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» [43-الزخرف:53] الخ، ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ “ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔
یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر6010
دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔
حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔
پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف]
صفحہ نمبر6011
پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔
اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
صفحہ نمبر6012
جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ” جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ “ [67-الملك:7-8]
ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف]
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر6013
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔
اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف]
یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ [مسند احمد:152/3:ضعیف]
«ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [17-الإسراء:102] ” فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ “ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
صفحہ نمبر6014
مشرکین کی حماقتیں ٭٭
اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔
فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» [43-الزخرف:53] الخ، ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ “ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔
یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر6010
دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔
حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔
پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف]
صفحہ نمبر6011
پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔
اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
صفحہ نمبر6012
جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ” جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ “ [67-الملك:7-8]
ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف]
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر6013
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔
اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف]
یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ [مسند احمد:152/3:ضعیف]
«ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [17-الإسراء:102] ” فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ “ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
صفحہ نمبر6014
مشرکین کی حماقتیں ٭٭
اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔
فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» [43-الزخرف:53] الخ، ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ “ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔
یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر6010
دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔
حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔
پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف]
صفحہ نمبر6011
پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔
اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
صفحہ نمبر6012
جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ” جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ “ [67-الملك:7-8]
ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف]
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر6013
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔
اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف]
یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ [مسند احمد:152/3:ضعیف]
«ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [17-الإسراء:102] ” فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ “ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
صفحہ نمبر6014
مشرکین کی حماقتیں ٭٭
اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔
فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» [43-الزخرف:53] الخ، ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ “ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔
یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر6010
دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔
حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔
پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف]
صفحہ نمبر6011
پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔
اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
صفحہ نمبر6012
جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ” جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ “ [67-الملك:7-8]
ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف]
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر6013
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔
اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف]
یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ [مسند احمد:152/3:ضعیف]
«ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [17-الإسراء:102] ” فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ “ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
صفحہ نمبر6014
مشرکین کی حماقتیں ٭٭
اس حماقت کو ملاحظہ فرمائیے کہ رسول کی رسالت کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کھانے پینے کا محتاج کیوں ہے؟ اور بازاروں میں تجارت اور لین دین کے لیے آتا جاتا کیوں ہے؟ اس کے ساتھ ہی کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو اس کے دین کی طرف بلاتا اور عذاب الٰہی سے آگاہ کرتا۔
فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ «فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلٰىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ» [43-الزخرف:53] الخ، ” اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ یا اس کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے۔ “ چونکہ دل ان تمام کافروں کے یکساں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار نے بھی کہا کہ اچھا یہ نہیں تو اسے کوئی خزانہ ہی دے دیا جاتا کہ یہ خود باآرام اپنی زندگی بسر کرتا اور دوسرں کو بھی دیتا یا اس کے ساتھ کوئی چلتا پھرتا باغ ہوتا کہ یہ اپنے کھانے پینے سے تو بےفکر ہو جاتا۔ بےشک یہ سب کچھ اللہ کے لیے آسان ہے لیکن سردست ان سب چیزوں کے نہ دینے میں بھی حکمت ہے۔
یہ ظالم مسلمانوں کو بھی بہکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر6010
دیکھو تو سہی کہ کیسی بےبنیاد باتیں بناتے ہیں، کسی ایک بات پر جم ہی نہیں سکتے، ادھر ادھر کروٹیں لے رہے ہیں۔ کبھی جادوگر کہہ دیا تو کبھی جادو کیا ہوا بتا دیا، کبھی شاعر کہہ دیا، کبھی جن کا سکھایا ہوا کہہ دیا، کبھی کذاب کہا، کبھی مجنون۔ حالانکہ یہ سب باتیں محض غلط ہیں اور ان کا غلط ہونا اس سے بھی واضح ہے کہ خود ان میں تضاد ہے۔ کسی ایک بات پر خود ان مشرکین کا اعتماد نہیں۔ گھڑتے ہیں پھر چھوڑتے ہیں پھر گھڑتے ہیں پھر بدلتے ہیں، کسی ٹھیک بات پر جمتے ہی نہیں۔ جدھر متوجہ ہوتے ہیں راہ بھولتے اور ٹھوکر کھاتے ہیں۔
حق تو ایک ہوتا ہے، اس میں تضاد اور تعارض نہیں ہوسکتا۔ ناممکن ہے کہ یہ لوگ ان بھول بھلیوں سے نکل سکیں۔ بےشک اگر رب چاہے تو جو یہ کافر کہتے ہیں، اس سے بہت بہتر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں ہی دے دے۔ وہ بڑی برکتوں والا ہے۔
پتھر سے بنے ہوئے گھر کو عرب قصر کہتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جناب باری تعالیٰ کی جانب سے فرمایا گیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو زمین کے خزانے اور یہاں کی کنجیاں آپ کو دے دی جائیں اور اس قدر دنیا کا مالک بنا کر دیا جائے کہ کسی اور کو اتنی ملی نہ ہو۔ ساتھ ہی آخرت کی آپ کی تمام نعمتیں جوں کی توں برقرار ہیں لیکن آپ نے اسے پسند نہ فرمایا اور جواب دیا کہ نہیں میرے لیے تو سب کچھ آخرت میں ہی جمع ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26286:ضعیف]
صفحہ نمبر6011
پھر فرماتا ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ صرف تکبر، عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کا کہا ہوا ہو جائے تو یہ مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت پھر اور کچھ حیلہ بہانہ ٹٹول نکالیں گے۔ ان کے دل میں تو یہ خیال جما ہوا ہے کہ قیامت ہونے کی نہیں۔
اور ایسے لوگوں کے لیے ہم نے بھی عذاب الیم تیار کر رکھا ہے جو ان کے دل کی برداشت سے باہر ہے جو بھڑکانے اور سلگانے والی، جھلس دینے والی تیز آگ کا ہے۔ ابھی تو جہنم ان سے سو سال کے فاصلے پر ہو گی، جب ان کی نظریں اس پر اور اس کی نگاہیں ان پر پڑیں گی، وہیں جہنم پیچ و تاب کھائے گی اور جوش و خروش سے آوازیں نکالے گا۔ جسے یہ بدنصیب سن لیں گے اور ان کے ہوش و حواس خطا ہو جائیں گے، ہوش جاتے رہیں گے، ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
صفحہ نمبر6012
جہنم ان بدکاروں پر دانت پیس رہی ہو گی اور غصے کے مارے بل کھا رہی ہو گی اور شور مچا رہی ہو گی کہ کب ان کفار کا نوالہ بناؤں؟ اور کب ان ظالموں سے انتقام لوں؟ سورۃ تبارک میں ہے: ” جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو دور ہی سے اس کی خوفناک آوازیں سنیں گے اور وہ ایسی بھڑک رہی ہو گے کہ ابھی ابھی مارے جوش کے پھٹ پڑے۔ “ [67-الملك:7-8]
ابن ابی حاتم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میرا نام لے کر میرے ذمے وہ بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اور جو شخص اپنے ماں باپ کے سوا دوسروں کو اپنا ماں باپ کہے اور جو غلام اپنے آقا کے سوا اور کی طرف اپنی غلامی کی نسبت کرے، وہ جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانا بنا لے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کی بھی آنکھیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ کے کلام کی یہ آیت نہیں سنی «اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا» الخ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:26287:ضعیف]
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ربیع وغیرہ کو ساتھ لیے ہوئے کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی، آپ وہاں ٹھہر گئے اور لوہا جو آگ میں تپایا جا رہا تھا اسے دیکھنے لگے۔ ربیع رحمہ اللہ کا تو برا حال ہو گیا۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں تلے پھر گیا۔ قریب تھا کہ بےہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس کے بعد آپ فرات کے کنارے گئے، وہاں آپ نے تنور کو دیکھا کہ اس کے بیچ میں آگ شعلے مار رہی ہے۔ بےساختہ آپ کی زبان سے یہ آیت نکل گئی، اسے سنتے ہی ربیع رحمہ اللہ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ چارپائی پر ڈال کر آپ کو گھر پہنچایا گیا، صبح سے لے کر دوپہر تک سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے رہے اور چارہ جوئی کرتے رہے لیکن ربیع کو ہوش نہ آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف گھسیٹا جائے گا، جہنم چیخے گی اور ایک ایسی جھرجھری لے گی، کل اہل محشر خوف زدہ ہو جائیں گے۔ اور راویت میں ہے کہ بعض لوگوں کو جب دوزخ کی طرف لے چلیں گے دوزخ سمٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مالک و رحمن اس سے پوچھے گا: یہ کیا بات ہے؟ وہ جواب دے گی کہ اے اللہ! یہ تو اپنی دعاؤں میں تجھ سے جہنم سے پناہ مانگا کرتا تھا، آج بھی پناہ مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رحم آ جائے گا، حکم ہو گا اسے چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگوں کو لے چلیں گے۔ وہ کہیں گے: پروردگار! ہمارا گمان تو تیری نسبت یہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر تم کیا سمجھ رہے تھے؟ یہ کہیں گے: یہی کہ تیری رحمت ہمیں چھپا لے گی، تیرا کرم ہمارے شامل حال ہو گا، تیری وسیع رحمت ہمیں اپنے دامن میں لے لے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی آرزو بھی پوری کرے گا اور حکم دے گا کہ میرے ان بندوں کو بھی چھوڑ دو۔ کچھ اور لوگ گھسٹتے ہوئے آئیں گے، انہیں دیکھتے ہی جہنم ان کی طرف شور مچاتی ہوئی بڑھے گی اور اس طرح جھرجھری لے گی کہ تمام مجمع محشر خوف زدہ ہو جائے گا۔
صفحہ نمبر6013
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جہنم مارے غصے کے تھرتھرائے گی اور شور و غل اور چیخ و پکار اور جوش و خروش شروع کرے گی، اس وقت تمام مقرب فرشتے اور ذی رتبہ انبیاء علیہم السلام کانپنے لگیں گے یہاں تک خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور کہنے لگیں گے: اے اللہ! میں آج تجھ سے صرف اپنی جان کا بچاؤ چاہتا ہوں اور کچھ نہیں مانگتا۔ یہ لوگ جہنم کے ایسے تنگ و تاریک مکان میں ٹھوس دیئے جائیں گے جیسے بھالا کسی سوراخ میں۔
اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت سوال ہونا اور آپ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ جیسے کیل دیوار میں بمشکل گاڑی جاتی ہے، اس طرح ان دوزخیوں کو ٹھونسا جائے گا۔ [الدر المنشور للسیوطی:117/5:ضعیف]
یہ اس وقت خوب جکڑے ہوئے ہوں گے، بال بال بندھا ہوا ہو گا۔ وہاں وہ موت کو، فوت کو، ہلاکت کو، حسرت کو پکارنے لگیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: ایک موت کو کیوں پکارتے ہو؟ صدہا ہزارہا موتوں کو کیوں نہیں پکارتے؟ مسند احمد میں ہے: سب سے پہلے ابلیس کو جہنمی لباس پہنایا جائے گا، یہ اسے اپنی پیشانی پر رکھ کر پیچھے سے گھسیٹتا ہوا اپنی ذریت کو پیچھے لگائے ہوئے موت و ہلاکت کو پکارتا ہوا دوڑتا پھرے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی اولاد بھی سب۔ حسرت و افسوس، موت و غارت کو پکار رہی ہو گی۔ اس وقت ان سے یہ کہا جائے گا۔ [مسند احمد:152/3:ضعیف]
«ثبور» سے مراد موت، ہلاکت، ویل، حسرت، خسارہ، بربادی وغیرہ ہے۔ جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا تھا: «وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا» [17-الإسراء:102] ” فرعون! میں تو سمجھتا ہوں کہ تو مٹ کر برباد ہو کر ہی رہے گا۔ “ شاعر بھی لفظ «ثبور» کو ہلاکت و بربادی کے معنی میں لائے ہیں۔
صفحہ نمبر6014
ابدی لذتیں اور مسرتیں ٭٭
اوپر بیان فرمایا ان بدکاروں کا جو ذلت و خواری کے ساتھ اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے جائیں گے اور سر کے بل وہاں پھینک دئیے جائیں گے۔ بندھے بندھائے ہوں گے اور تنگ و تاریک جگہ ہوں گے، نہ چھوٹ سکیں، نہ حرکت کر سکیں، نہ بھاگ سکیں، نہ نکل سکیں۔
پھر فرماتا ہے: بتلاؤ یہ اچھے ہیں یا وہ؟ جو دنیا میں گناہوں سے بچتے رہے، اللہ کا ڈر دل میں رکھتے رہے اور آج اس کے بدلے اپنے اصلی ٹھکانے پہنچ گئے یعنی جنت میں جہاں من مانی نعمتیں، ابدی لذتیں، دائمی مسرتیں ان کے لیے موجود ہیں۔ عمدہ کھانے، اچھے بچھونے، بہترین سواریاں، پرتکلف لباس، بہتر سے بہتر مکانات، بنی سنوری پاکیزہ حوریں، راحت افزا منظر، ان کے لیے مہیا ہیں، جہاں تک کسی کی نگاہیں تو کہاں خیالات بھی نہیں پہنچ سکتے۔ نہ ان راحتوں کے بیانات کسی کان میں پہنچے۔ پھر ان کے کم ہو جانے، ختم ہو جانے کا بھی کوئی خطرہ نہیں اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں نہ، وہ نعمتیں کم ہوں۔ لازوال، بہترین زندگی، ابدی رحمت، دوامی کی دولت انہیں مل گئی اور ان کی ہو گئی۔ یہ رب کا احسان و انعام ہے جو ان پر ہوا اور جس کے یہ مستحق تھے۔ رب کا وعدہ ہے جو اس نے اپنے ذمے کر لیا ہے جو ہو کر رہنے والا ہے جس کا عدم ایفا ناممکن ہے، جس کا غلط ہونا محال ہے۔ اس سے اس کے وعدے کے پورا کرنے کا سوال کرو، اس سے جنت طلب کرو، اسے اس کا وعدہ یاد دلاؤ۔ یہ بھی اس کا فضل ہے کہ اس کے فرشتے اس سے دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ رب العالمین مومن بندوں سے جو تیرا وعدہ ہے، اسے پورا کر اور انہیں جنت عدن میں لے جا۔ قیامت کے دن مومن کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! تیرے وعدے کو سامنے رکھ کر ہم عمل کرتے رہے، آج تو اپنا وعدہ پورا کر۔ یہاں پہلے دوزخیوں کا ذکر کر کے پھر سوال کے بعد جنتیوں کا ذکر ہوا۔ سورۃ الصافات میں جنتیوں کا ذکر کر کے پھر سوال کے بعد دوزخیوں کا ذکر ہوا کہ ” کیا یہی بہتر ہے یا زقوم کا درخت؟ جسے ہم نے ظالموں کے لیے فتنہ بنا رکھا ہے جو جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے پھل ایسے بدنما ہیں جیسے سانپ کے پھن۔ دوزخی اسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھرنا پڑے گا۔ پھر کھولتا ہوا گرم پانی پیپ وغیرہ سے ملا جلا پینے کو دیا جائے گا۔ پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔ انہوں نے اپنے پاپ دادوں کو گمراہ پایا اور بےتحاشا ان کے پیچھے لپکنا شروع کر دیا۔ “ [37-الصافات:62-70]
صفحہ نمبر6022
ابدی لذتیں اور مسرتیں ٭٭
اوپر بیان فرمایا ان بدکاروں کا جو ذلت و خواری کے ساتھ اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے جائیں گے اور سر کے بل وہاں پھینک دئیے جائیں گے۔ بندھے بندھائے ہوں گے اور تنگ و تاریک جگہ ہوں گے، نہ چھوٹ سکیں، نہ حرکت کر سکیں، نہ بھاگ سکیں، نہ نکل سکیں۔
پھر فرماتا ہے: بتلاؤ یہ اچھے ہیں یا وہ؟ جو دنیا میں گناہوں سے بچتے رہے، اللہ کا ڈر دل میں رکھتے رہے اور آج اس کے بدلے اپنے اصلی ٹھکانے پہنچ گئے یعنی جنت میں جہاں من مانی نعمتیں، ابدی لذتیں، دائمی مسرتیں ان کے لیے موجود ہیں۔ عمدہ کھانے، اچھے بچھونے، بہترین سواریاں، پرتکلف لباس، بہتر سے بہتر مکانات، بنی سنوری پاکیزہ حوریں، راحت افزا منظر، ان کے لیے مہیا ہیں، جہاں تک کسی کی نگاہیں تو کہاں خیالات بھی نہیں پہنچ سکتے۔ نہ ان راحتوں کے بیانات کسی کان میں پہنچے۔ پھر ان کے کم ہو جانے، ختم ہو جانے کا بھی کوئی خطرہ نہیں اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں نہ، وہ نعمتیں کم ہوں۔ لازوال، بہترین زندگی، ابدی رحمت، دوامی کی دولت انہیں مل گئی اور ان کی ہو گئی۔ یہ رب کا احسان و انعام ہے جو ان پر ہوا اور جس کے یہ مستحق تھے۔ رب کا وعدہ ہے جو اس نے اپنے ذمے کر لیا ہے جو ہو کر رہنے والا ہے جس کا عدم ایفا ناممکن ہے، جس کا غلط ہونا محال ہے۔ اس سے اس کے وعدے کے پورا کرنے کا سوال کرو، اس سے جنت طلب کرو، اسے اس کا وعدہ یاد دلاؤ۔ یہ بھی اس کا فضل ہے کہ اس کے فرشتے اس سے دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ رب العالمین مومن بندوں سے جو تیرا وعدہ ہے، اسے پورا کر اور انہیں جنت عدن میں لے جا۔ قیامت کے دن مومن کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! تیرے وعدے کو سامنے رکھ کر ہم عمل کرتے رہے، آج تو اپنا وعدہ پورا کر۔ یہاں پہلے دوزخیوں کا ذکر کر کے پھر سوال کے بعد جنتیوں کا ذکر ہوا۔ سورۃ الصافات میں جنتیوں کا ذکر کر کے پھر سوال کے بعد دوزخیوں کا ذکر ہوا کہ ” کیا یہی بہتر ہے یا زقوم کا درخت؟ جسے ہم نے ظالموں کے لیے فتنہ بنا رکھا ہے جو جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے جس کے پھل ایسے بدنما ہیں جیسے سانپ کے پھن۔ دوزخی اسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھرنا پڑے گا۔ پھر کھولتا ہوا گرم پانی پیپ وغیرہ سے ملا جلا پینے کو دیا جائے گا۔ پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔ انہوں نے اپنے پاپ دادوں کو گمراہ پایا اور بےتحاشا ان کے پیچھے لپکنا شروع کر دیا۔ “ [37-الصافات:62-70]
صفحہ نمبر6022
عیسیٰ علیہ السلام سے سولات ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ مشرک جن جن کی عبادتیں اللہ کے سوا کرتے رہے، قیامت کے دن انہیں ان کے سامنے ان پر عذاب کے علاوہ زبانی سرزنش بھی کی جائے گی تاکہ وہ نادم ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام، عزیر علیہ السلام اور فرشتے جن جن کی عبادت ہوئی تھی، سب موجود ہوں گے اور ان کے عابد بھی۔
سب اسی مجمع میں حاضر ہوں گے۔ اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ان معبودوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں سے اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا یا یہ از خود ایسا کرنے لگے؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے بھی یہی سوال ہو گا۔ جس کا وہ جواب دیں گے کہ میں نے انہیں ہرگز اس بات کی تعلیم نہیں دی یہ جیسا کہ تجھ پر خوب روشن ہے، میں نے تو انہیں وہی کہا تھا جو تو نے مجھ سے کہا تھا کہ عبادت کے لائق فقط اللہ ہی ہے۔ یہ سب معبود جو اللہ کے سوا تھے اور سچے بندے تھے اور شرک سے بیزار تھے۔ جواب دیں گے کہ کسی مخلوق کو، ہم کو یا ان کو یہ لائق ہی نہ تھا کہ تیرے سوا کسی اور کی عبادت کریں۔ ہم نے ہرگز انہیں اس شرک کی تعلیم نہیں دی۔ خود ہی انہوں نے اپنی خوشی سے دوسروں کی پوجا شروع کر دی تھی۔ ہم ان سے اور ان کی عبادتوں سے بیزار ہیں۔ ہم ان کے اس شرک سے بری الذمہ ہیں۔ ہم تو خود تیرے عابد ہیں۔ پھر کیسے ممکن تھا کہ معبودیت کے منصب پر آ جاتے؟ یہ تو ہمارے لائق ہی نہ تھا، تیری ذات اس سے بہت پاک اور برتر ہے کہ کوئی تیرا شریک ہو۔
صفحہ نمبر6024
چنانچہ اور آیت میں صرف فرشتوں سے اس سوال جواب کا ہونا بھی بیان ہوا ہے۔
«نَّتَّخِذَ» کی دوسری قرأت «نُتَّخَذََ» بھی ہے یعنی یہ کسی طرح نہیں ہوسکتا تھا، نہ یہ ہمارے لائق تھا کہ لوگ ہمیں پوجنے لگیں اور تیری عبادت چھوڑ دیں۔ کیونکہ ہم تو خود تیرے بندے ہیں، تیرے در کے بھکاری ہیں۔ مطلب دونوں صورتوں میں قریب قریب ایک ہی ہے۔ ان کے بہکنے کی وجہ ہماری سمجھ میں تو یہ آتی ہے کہ انہیں عمریں ملیں، بہت کھانے پینے کو ملتا رہا۔ بد مستی میں بڑھتے گئے یہاں تک کہ جو نصیحت رسولوں کی معرفت پہنچتی تھی اسے بھلا دیا۔ تیری عبادت سے اور سچی توحید سے ہٹ گئے۔ یہ لوگ تھے یہ بےخبر، ہلاکت کے گڑھے میں گر پڑے۔ تباہ و برباد ہو گئے «ُبوراً» سے مطلب ہلاکت والے ہی ہیں۔
صفحہ نمبر6025
جیسے ابن زبعری نے اپنے شعر میں اس لفظ کو اس معنی میں باندھا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ ان مشرکوں سے فرمائے گا: لو اب تو تمہارے یہ معبود خود تمہیں جھٹلا رہے ہیں، تم تو انہیں اپنا سمجھ کر اس خیال سے کہ یہ تمہیں اللہ کے مقرب بنا دیں گے ان کی پوجا پاٹ کرتے رہے، آج یہ تم سے کوسوں دور بھاگ رہے ہیں، تم سے یکسو ہو رہے ہیں اور بیزاری ظاہر کر رہے ہیں۔
جیسے ارشاد ہے: «وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [46-الأحقاف:5-6] الخ، ” اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی چاہت پوری نہ کر سکیں بلکہ وہ تو ان کی دعا سے محض غافل ہیں اور محشر والے دن یہ سب ان سب کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادتوں کے صاف منکر ہو جائیں گے۔ “
پس قیامت کے دن یہ مشرکین نہ تو اپنی جانوں سے عذاب اللہ ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی مدد کر سکیں گے، نہ کسی کو اپنا مددگار پائیں گے۔ تم میں سے جو بھی اللہ واحد کے ساتھ شرک کرے، ہم اسے زبردست اور نہایت سخت عذاب کریں گے۔
صفحہ نمبر6026
عیسیٰ علیہ السلام سے سولات ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ مشرک جن جن کی عبادتیں اللہ کے سوا کرتے رہے، قیامت کے دن انہیں ان کے سامنے ان پر عذاب کے علاوہ زبانی سرزنش بھی کی جائے گی تاکہ وہ نادم ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام، عزیر علیہ السلام اور فرشتے جن جن کی عبادت ہوئی تھی، سب موجود ہوں گے اور ان کے عابد بھی۔
سب اسی مجمع میں حاضر ہوں گے۔ اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ان معبودوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں سے اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا یا یہ از خود ایسا کرنے لگے؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے بھی یہی سوال ہو گا۔ جس کا وہ جواب دیں گے کہ میں نے انہیں ہرگز اس بات کی تعلیم نہیں دی یہ جیسا کہ تجھ پر خوب روشن ہے، میں نے تو انہیں وہی کہا تھا جو تو نے مجھ سے کہا تھا کہ عبادت کے لائق فقط اللہ ہی ہے۔ یہ سب معبود جو اللہ کے سوا تھے اور سچے بندے تھے اور شرک سے بیزار تھے۔ جواب دیں گے کہ کسی مخلوق کو، ہم کو یا ان کو یہ لائق ہی نہ تھا کہ تیرے سوا کسی اور کی عبادت کریں۔ ہم نے ہرگز انہیں اس شرک کی تعلیم نہیں دی۔ خود ہی انہوں نے اپنی خوشی سے دوسروں کی پوجا شروع کر دی تھی۔ ہم ان سے اور ان کی عبادتوں سے بیزار ہیں۔ ہم ان کے اس شرک سے بری الذمہ ہیں۔ ہم تو خود تیرے عابد ہیں۔ پھر کیسے ممکن تھا کہ معبودیت کے منصب پر آ جاتے؟ یہ تو ہمارے لائق ہی نہ تھا، تیری ذات اس سے بہت پاک اور برتر ہے کہ کوئی تیرا شریک ہو۔
صفحہ نمبر6024
چنانچہ اور آیت میں صرف فرشتوں سے اس سوال جواب کا ہونا بھی بیان ہوا ہے۔
«نَّتَّخِذَ» کی دوسری قرأت «نُتَّخَذََ» بھی ہے یعنی یہ کسی طرح نہیں ہوسکتا تھا، نہ یہ ہمارے لائق تھا کہ لوگ ہمیں پوجنے لگیں اور تیری عبادت چھوڑ دیں۔ کیونکہ ہم تو خود تیرے بندے ہیں، تیرے در کے بھکاری ہیں۔ مطلب دونوں صورتوں میں قریب قریب ایک ہی ہے۔ ان کے بہکنے کی وجہ ہماری سمجھ میں تو یہ آتی ہے کہ انہیں عمریں ملیں، بہت کھانے پینے کو ملتا رہا۔ بد مستی میں بڑھتے گئے یہاں تک کہ جو نصیحت رسولوں کی معرفت پہنچتی تھی اسے بھلا دیا۔ تیری عبادت سے اور سچی توحید سے ہٹ گئے۔ یہ لوگ تھے یہ بےخبر، ہلاکت کے گڑھے میں گر پڑے۔ تباہ و برباد ہو گئے «ُبوراً» سے مطلب ہلاکت والے ہی ہیں۔
صفحہ نمبر6025
جیسے ابن زبعری نے اپنے شعر میں اس لفظ کو اس معنی میں باندھا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ ان مشرکوں سے فرمائے گا: لو اب تو تمہارے یہ معبود خود تمہیں جھٹلا رہے ہیں، تم تو انہیں اپنا سمجھ کر اس خیال سے کہ یہ تمہیں اللہ کے مقرب بنا دیں گے ان کی پوجا پاٹ کرتے رہے، آج یہ تم سے کوسوں دور بھاگ رہے ہیں، تم سے یکسو ہو رہے ہیں اور بیزاری ظاہر کر رہے ہیں۔
جیسے ارشاد ہے: «وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [46-الأحقاف:5-6] الخ، ” اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی چاہت پوری نہ کر سکیں بلکہ وہ تو ان کی دعا سے محض غافل ہیں اور محشر والے دن یہ سب ان سب کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادتوں کے صاف منکر ہو جائیں گے۔ “
پس قیامت کے دن یہ مشرکین نہ تو اپنی جانوں سے عذاب اللہ ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی مدد کر سکیں گے، نہ کسی کو اپنا مددگار پائیں گے۔ تم میں سے جو بھی اللہ واحد کے ساتھ شرک کرے، ہم اسے زبردست اور نہایت سخت عذاب کریں گے۔
صفحہ نمبر6026
عیسیٰ علیہ السلام سے سولات ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ مشرک جن جن کی عبادتیں اللہ کے سوا کرتے رہے، قیامت کے دن انہیں ان کے سامنے ان پر عذاب کے علاوہ زبانی سرزنش بھی کی جائے گی تاکہ وہ نادم ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام، عزیر علیہ السلام اور فرشتے جن جن کی عبادت ہوئی تھی، سب موجود ہوں گے اور ان کے عابد بھی۔
سب اسی مجمع میں حاضر ہوں گے۔ اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ان معبودوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں سے اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا یا یہ از خود ایسا کرنے لگے؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے بھی یہی سوال ہو گا۔ جس کا وہ جواب دیں گے کہ میں نے انہیں ہرگز اس بات کی تعلیم نہیں دی یہ جیسا کہ تجھ پر خوب روشن ہے، میں نے تو انہیں وہی کہا تھا جو تو نے مجھ سے کہا تھا کہ عبادت کے لائق فقط اللہ ہی ہے۔ یہ سب معبود جو اللہ کے سوا تھے اور سچے بندے تھے اور شرک سے بیزار تھے۔ جواب دیں گے کہ کسی مخلوق کو، ہم کو یا ان کو یہ لائق ہی نہ تھا کہ تیرے سوا کسی اور کی عبادت کریں۔ ہم نے ہرگز انہیں اس شرک کی تعلیم نہیں دی۔ خود ہی انہوں نے اپنی خوشی سے دوسروں کی پوجا شروع کر دی تھی۔ ہم ان سے اور ان کی عبادتوں سے بیزار ہیں۔ ہم ان کے اس شرک سے بری الذمہ ہیں۔ ہم تو خود تیرے عابد ہیں۔ پھر کیسے ممکن تھا کہ معبودیت کے منصب پر آ جاتے؟ یہ تو ہمارے لائق ہی نہ تھا، تیری ذات اس سے بہت پاک اور برتر ہے کہ کوئی تیرا شریک ہو۔
صفحہ نمبر6024
چنانچہ اور آیت میں صرف فرشتوں سے اس سوال جواب کا ہونا بھی بیان ہوا ہے۔
«نَّتَّخِذَ» کی دوسری قرأت «نُتَّخَذََ» بھی ہے یعنی یہ کسی طرح نہیں ہوسکتا تھا، نہ یہ ہمارے لائق تھا کہ لوگ ہمیں پوجنے لگیں اور تیری عبادت چھوڑ دیں۔ کیونکہ ہم تو خود تیرے بندے ہیں، تیرے در کے بھکاری ہیں۔ مطلب دونوں صورتوں میں قریب قریب ایک ہی ہے۔ ان کے بہکنے کی وجہ ہماری سمجھ میں تو یہ آتی ہے کہ انہیں عمریں ملیں، بہت کھانے پینے کو ملتا رہا۔ بد مستی میں بڑھتے گئے یہاں تک کہ جو نصیحت رسولوں کی معرفت پہنچتی تھی اسے بھلا دیا۔ تیری عبادت سے اور سچی توحید سے ہٹ گئے۔ یہ لوگ تھے یہ بےخبر، ہلاکت کے گڑھے میں گر پڑے۔ تباہ و برباد ہو گئے «ُبوراً» سے مطلب ہلاکت والے ہی ہیں۔
صفحہ نمبر6025
جیسے ابن زبعری نے اپنے شعر میں اس لفظ کو اس معنی میں باندھا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ ان مشرکوں سے فرمائے گا: لو اب تو تمہارے یہ معبود خود تمہیں جھٹلا رہے ہیں، تم تو انہیں اپنا سمجھ کر اس خیال سے کہ یہ تمہیں اللہ کے مقرب بنا دیں گے ان کی پوجا پاٹ کرتے رہے، آج یہ تم سے کوسوں دور بھاگ رہے ہیں، تم سے یکسو ہو رہے ہیں اور بیزاری ظاہر کر رہے ہیں۔
جیسے ارشاد ہے: «وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [46-الأحقاف:5-6] الخ، ” اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی چاہت پوری نہ کر سکیں بلکہ وہ تو ان کی دعا سے محض غافل ہیں اور محشر والے دن یہ سب ان سب کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادتوں کے صاف منکر ہو جائیں گے۔ “
پس قیامت کے دن یہ مشرکین نہ تو اپنی جانوں سے عذاب اللہ ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی مدد کر سکیں گے، نہ کسی کو اپنا مددگار پائیں گے۔ تم میں سے جو بھی اللہ واحد کے ساتھ شرک کرے، ہم اسے زبردست اور نہایت سخت عذاب کریں گے۔
صفحہ نمبر6026
باب
کافر اس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ نبی کو کھانے پینے اور تجارت بیوپار سے کیا مطلب؟ اس کا جواب ہو رہا ہے کہ اگلے سب پیغمبر بھی انسانی ضرورتیں بھی رکھتے تھے، کھانا پینا ان کے ساتھ بھی لگا ہوا تھا۔ بیوپار، تجارت اور کسب معاش وہ بھی کیا کرتے تھے۔ یہ چیزیں نبوت کے خلاف نہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنی عنایت خاص سے انہیں وہ پاکیزہ اوصاف، نیک خصائل، عمدہ اقوال، مختار افعال، ظاہر دلیلیں، اعلیٰ معجزے دیتا ہے کہ ہر عقل سلیم والا، ہر دانا بینا مجبور ہو جاتا ہے کہ ان کی نبوت کو تسلیم کر لے اور ان کی سچائی کو مان لے۔
اسی آیت جیسی اور آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] الخ، ہے۔ ” یعنی تجھ سے پہلے بھی جتنے نبی آئے، سب شہروں میں رہنے والے انسان ہی تھے۔ “
اور آیت میں ہے «وَمَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا يَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوْا خٰلِدِيْنَ» [21-الأنبياء:8] الخ، ” ہم نے انہیں ایسے جثے نہیں بنائے تھے کہ کھانے پینے سے وہ آزاد ہوں۔ “ ہم تو تم میں سے ایک ایک کی آزمائش ایک ایک سے کر لیا کرتے ہیں تاکہ فرمانبردار اور نافرمان ظاہر ہو جائیں۔ صابر اور غیر صابر معلوم ہو جائیں۔ تیرا رب دانا و بینا ہے، خوب جانتا ہے کہ مستحق نبوت کون ہے؟
جیسے فرمایا «اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ» [6-الأنعام:124] ” منصب رسالت کی اہلیت کس میں ہے؟ اسے اللہ ہی بخوبی جانتا ہے۔ “ اسی کو اس کا بھی علم ہے کہ مستحق ہدایت کون ہیں؟ اور کون نہیں؟ چونکہ اللہ کا ارادہ بندوں کا امتحان لینے کا ہے، اس لیے نبیوں کو عموماً معمولی حالت میں رکھتا ہے ورنہ اگر انہیں بکثرت دنیا دیتا تو ان کے مال کے لالچ میں بہت سے ان کے ساتھ ہو جاتے تو پھر سچے جھوٹے مل جاتے۔
صحیح مسلم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں خود تجھے اور تیری وجہ سے اور لوگوں کو آزمانے والا ہوں۔ [صحیح مسلم:2865]
مسند میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اگر میں چاہتا تو میرے ساتھ سونے چاندی کے پہاڑ چلتے رہتے۔ [مسند ابویعلیٰ:4920:صحیح]
اور صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی اور بادشاہ بننے میں اور نبی اور بندہ بننے میں اختیار دیا گیا تو آپ نے بندہ اور نبی بننا پسند فرمایا۔ [مسند احمد:231/2:صحیح] «فصلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی الہ واصحابہ اجمعین»
صفحہ نمبر6029
تصدیق نبوت کے لئے احمقانہ شرائط ٭٭
کافر لوگ انکار نبوت کا ایک بہانہ یہ بھی بناتے تھے کہ اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو کسی فرشتے کو کیوں نہ بھیجا؟
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ وہ ایک بہانہ یہ بھی کرتے تھے کہ «قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ» [6-الأنعام:124] یعنی ” جب تک خود ہمیں وہ نہ دیا جائے جو رسولوں کو دیا گیا، ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ “ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبیوں کے پاس اللہ کی طرف سے فرشتہ وحی لے کر آتا ہے، ہمارے پاس بھی آئے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہو کہ فرشتوں کو دیکھ لیں۔ خود فرشتے آ کر ہمیں سمجھائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کریں تو ہم آپ کو نبی مان لیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ کفار نے کہا: «أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا» [17-الإسراء:92] یعنی ” تو اللہ کو لے آ، فرشتوں کو بنفس نفیس ہمارے پاس لے آ۔ “ اس کی پوری تفسیر سورۃ سبحان میں گزر چکی ہے۔
یہاں بھی ان کا یہی مطالبہ بیان ہوا ہے کہ یا تو ہمارے اوپر فرشتے اتریں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ یہ بات اس لیے ان کی منہ سے نکلی کہ یہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے تھے اور ان کا غرور حد سے بڑھ گیا تھا۔ ان کی ایمان لانے کی نیت نہ تھی۔ جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111] الخ، یعنی ” اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے، اس قسم کی اور بھی تمام چیزیں ہم ان کے سامنے کر دیتے۔ جب بھی انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہوتا۔ “
صفحہ نمبر6030
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فرشتوں کو یہ دیکھیں گے لیکن اس وقت ان کے لیے ان کا دیکھنا کچھ سود مند نہ ہو گا۔ اس سے مراد سکرات موت کا وقت ہے جب کہ فرشتے کافروں کے پاس آتے ہیں اور اللہ کے غضب اور جہنم کی آگ کی خبر انہیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خبیث نفس! تو خبیث اور ناپاک جسم میں تھا، اب گرم ہواؤں، گرم پانی اور نامبارک سایوں کی طرف چل، وہ نکلنے سے کتراتی ہے اور بدن میں چھپتی پھرتی ہے۔ اس پر فرشتے ان کے چہروں پر اور ان کی کمروں پر ضربیں مارتے ہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» [6-الأنعام:93] یعنی ” کاش کہ تو ظالموں کو ان کی سکرات کے وقت دیکھتا جب کہ فرشتے انہیں مارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے ہوئے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کے عذاب چکھنے پڑیں گے کیونکہ تم اللہ تعالیٰ سے متعلق ناحق الزامات تراشتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔ “
مومنوں کا حال ان کے بالکل برعکس ہو گا، وہ اپنی موت کے وقت خوشخبریاں سنائے جاتے ہیں اور ابدی مسرتوں کی بشارتیں دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ” جنہوں نے اللہ کو اپنا رب کہا اور مانا پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس ہمارے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو بلکہ ان جنتوں میں جانے کی خوشی مناؤ جن کا تمہیں وعدہ دیا جاتا رہا۔ ہم تمہارے والی ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، تم جو کچھ چاہو گے پاؤ گے اور جس چیز کی خواہش کرو گے موجود ہو جائے گی، بخشنے والے مہربان اللہ کی طرف سے یہ تمہاری میزبانی ہو گی۔ “
صحیح حدیث میں ہے کہ فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں: اے پاک روح! جو پاک جسم میں تھی، تو اللہ تعالیٰ کے رحم اور رحمت کی طرف چل، جو تجھ سے نارض نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:4262،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سورۃ ابراہیم کی آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّـهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّـهُ مَا يَشَاءُ» [14-إبراهيم:27] کی تفسیر میں یہ سب حدیثیں مفصل بیان ہو چکی ہیں۔
صفحہ نمبر6031
بعض نے کہا ہے: مراد اس سے قیامت کے دن فرشتوں کا دیکھنا ہو سکتا ہے کہ دونوں موقعوں پر فرشتوں کا دیکھنا مراد ہو۔ اس میں ایک قول کی دوسرے قول سے نفی نہیں کیونکہ دونوں موقعوں پر ہر نیک و بد فرشتوں کو دیکھیں گے، مومنوں کو رحمت و رضوان کی خوشخبری کے ساتھ فرشتوں کا دیدار ہو گا اور کافروں کو لعنت و پھٹکار اور عذابوں کی خبروں کے ساتھ۔ فرشتے اس وقت ان کافروں سے صاف کہہ دیں گے کہ اب فلاح و بہبود تم پر حرام ہے۔
حجر کے لفظی معنی روک ہیں چنانچہ قاضی جب کسی کو اس کی مفلسی یا حماقت یا بچپن کی وجہ سے مال کے تصرف سے روک دے تو کہتے ہیں: «حَجرَ الْقَاضِیَ عَلیٰ فُلاَنٍ» ۔ حطیم کو بھی حجر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ طواف کرنے والوں کو اپنے اندر طواف کرنے سے روک دیتا ہے بلکہ اس کے باہر سے طواف کیا جاتا ہے۔ عقل کو بھی عربی میں حجر کہتے ہیں اس لیے وہ بھی انسان کو برے کاموں سے روک دیتی ہے۔
پس فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ جو خوشخبریاں مومنوں کو اس وقت ملتی ہیں، اس سے تم محروم ہو۔ یہ معنی تو اس بنا پر ہیں کہ اس جملے کو فرشتوں کا قول کہا جائے۔
صفحہ نمبر6032
دوسرا قول یہ ہے کہ یہ مقولہ اس وقت کافروں کا ہو گا۔ وہ فرشتوں کو دیکھ کر کہیں گے کہ اللہ کرے تم ہم سے آڑ میں رہو، تمہیں ہمارے پاس آنا نہ ملے۔ گو یہ معنی ہو سکتے ہیں لیکن دور کے معنی ہیں۔ بالخصوص اس وقت کہ جب اس کے خلاف وہ تفسیر جو ہم نے اوپر بیان کی، سلف سے مروی ہے۔
البتہ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک قول ایسا مروی ہے لیکن انہی سے صراحت کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ یہ قول فرشتوں کا ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر قیامت کے دن اعمال کے حساب کے وقت ان کے اعمال غارت و اکارت ہو جائیں گے۔ یہ جنہیں اپنی نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھے، وہ بےکار ہو جائیں گے کیونکہ یا تو وہ خلوص والے نہ تھے یا سنت کے مطابق نہ تھے۔ اور جو عمل ان دونوں سے یا ان میں سے ایک چیز سے خالی ہو، وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ اس لیے کافروں کے نیک اعمال بھی مردود ہیں۔ ہم نے ان کے اعمال کا ملاحظہ کیا اور ان کو مثل بکھرے ہوئے ذروں کے کر دیا کہ وہ سورج کی شعاعیں جو کسی سوراخ میں سے آ رہی ہوں، ان میں نظر تو آتے ہیں لیکن کوئی انہیں پکڑنا چاہے تو ہاتھ نہیں آتے۔ جس طرح پانی جو زمین پر بہا دیا جائے، وہ پھر ہاتھ نہیں آ سکتا۔ یا غبار جو ہاتھ نہیں لگ سکتا۔ یا درختوں کے پتوں کا چورا جو ہوا میں بکھر گیا ہو یا راکھ اور خاک جو اڑتی پھرتی ہو۔ اسی طرح ان کے اعمال ہیں جو محض بے کار ہو گئے، ان کا کوئی ثواب ان کے ہاتھ نہیں لگے گا۔ اس لیے کہ یا تو ان میں خلوص نہ تھا یا شریعت کے مطابقت نہ تھی یا دونوں وصف نہ تھے۔
پس جب یہ عالم و عادل حاکم حقیقی کے سامنے پیش ہوئے تو محض نکمے ثابت ہوئے، اسی لیے اسے ردی اور نہ ہاتھ لگنے والی چیز سے تشبیہ دی گئی۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَىٰ شَيْءٍ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ» [14-إبراهيم:18] ” کافروں کے اعمال کی مثال راکھ جیسی ہے جسے تیز ہوا اڑا دے۔ “
انسان کی نیکیاں بعض بدیوں سے بھی ضائع ہو جاتی ہیں جیسے صدقہ و خیرات کہ وہ احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے ضائع ہو جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ» [2-البقرة:264] پس ان کے اعمال میں سے آج یہ کسی عمل پر قادر نہیں۔
اور آیت میں ان کی مثال اس ریت کے ٹیلے سے دی گئی جو دور سے مثل دریا کے لہریں مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جسے دیکھ کر پیاسا آدمی پانی سمجھتا ہے لیکن جب پاس آتا ہے تو امید ٹوٹ جاتی ہے۔ [24-النور:39] اس کی تفسیر بھی اللہ کے فضل سے گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر6033
پھر فرمایا کہ ان کے مقابلے میں جنتیوں کی بھی سن لو کیونکہ یہ دونوں فریق برابر کے نہیں۔ جنتی تو بلند درجوں میں، اعلیٰ بالاخانوں میں امن و امان، راحت و آرام کے ساتھ عیش و عشرت میں ہوں گے۔
مقام اچھا، منظر دل پسند، ہر راحت موجود، ہر دل خوش کن چیز سامنے، جگہ اچھی، مکان طیب، منزل مبارک، سونے بیٹھنے رہنے سہنے کا آرام۔ برخلاف اس کے جہنمی دوزخ کے نیچے کے طبقوں میں جکڑ بند، اوپر نیچے، دائیں بائیں آگ، حسرت افسوس، رنج و غم پھکنا، جلنا و بےقراری، جگرسوزی، مقام بد، بری منزل، خوفناک منظر، عذاب سخت۔ نیک لوگوں کے جن کے دل میں ایمان تھا اعمال مقبول ہوئے، اچھی جزائیں دی گئیں، بدلے ملے۔ جہنم سے بچے، جنت کے مالک وارث بنے۔ پس یہ جو تمام بھلائیوں کو سمیٹ بیٹھے اور وہ جو ہر نیکی سے محروم رہے، کہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ پس نیکوں کی سعادت بیان فرما کر بدوں کی شقاوت پر تنبیہ کر دی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوئی ساعت ایسی بھی ہو گی کہ جنتی حوروں کے ساتھ دن دوپہر کو آرام فرمائیں اور جہنمی شیطانوں کے ساتھ جکڑے ہوئے دوپہر کو گھبرائیں۔
صفحہ نمبر6034
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آدھے دن میں بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ پس جنتیوں کا دوپہر کے سونے کا وقت جنت میں ہو گا اور دوزخیوں کا جہنم میں۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہوا ہے کہ کس وقت جنتی جنت میں جائیں گے اور جہنمی جہنم میں۔ یہ وہ وقت ہو گا جب یہاں دنیا میں دوپہر کا وقت ہوتا ہے اور لوگ اپنے گھروں کو دو گھڑی آرام حاصل کرنے کی غرض سے لوٹتے ہیں۔ جنتیوں کا یہ قیلولہ جنت میں ہو گا۔ مچھلی کی کلیجی انہیں پیٹ بھر کر کھلائی جائے گی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دن آدھا ہو، اس سے بھی پہلے جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں قیلولہ کریں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور آیت «ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» [37-الصافات:68] بھی پڑھی۔ جنت میں جانے والے صرف ایک مرتبہ جناب باری کے سامنے پیش ہونگے، یہی آسانی سے حساب لینا ہے پھر یہ جنت میں جا کر دوپہر کا آرام کریں گے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے: «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ٧ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ٨ وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا» [84-الانشقاق:7-9] یعنی ” جس شخص کو اپنا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے بہت آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے والوں کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔ “ اس کا قیام اور منزل بہتر ہے۔
صفحہ نمبر6035
صفوان بن محرز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن دو شخصوں کو لایا جائے گا، ایک تو وہ جو ساری دنیا کا بادشاہ تھا، اس سے حساب لیا جائے گا تو اس کی پوری عمر میں ایک بھی نیکی نہ نکلے گی پس اسے جہنم کے داخلے کا حکم ملے گا۔ پھر دوسرا شخص آئے گا جس نے ایک کمبل میں دنیا گزاری تھی، جب اس سے حساب لیا جائے گا تو یہ کہے گا کہ اللہ میرے پاس دنیا میں تھا ہی کیا جس کا حساب لیا جائے؟ اللہ فرمائے گا: یہ سچا ہے، اسے چھوڑ دو۔ اسے جنت میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ پھر کچھ عرصے کے بعد دونوں کو بلایا جائے گا تو جہنمی بادشاہ تو مثل سوختہ کوئلے کے ہو گیا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کس حال میں ہو؟ کہے گا: نہایت برے حال میں اور نہایت خراب جگہ میں ہوں۔ پھر جنتی کو بلایا جائے گا اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کیسی گزرتی ہے؟ یہ کہے گا: الحمدللہ بہت اچھی اور نہایت بہتر جگہ میں ہوں۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنی اپنی جگہ پھر چلے جاؤ۔
سعید صواف رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ مومن پر تو قیامت کا دن ایسا چھوٹا ہو جائے گا جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت۔ یہ جنت کی کیاریوں میں پہنچا دئیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اور مخلوق کے حساب ہو جائیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/9] پس جنتی بہتر ٹھکانے والے اور عمدہ جگہ والے ہوں گے۔
صفحہ نمبر6036
تصدیق نبوت کے لئے احمقانہ شرائط ٭٭
کافر لوگ انکار نبوت کا ایک بہانہ یہ بھی بناتے تھے کہ اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو کسی فرشتے کو کیوں نہ بھیجا؟
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ وہ ایک بہانہ یہ بھی کرتے تھے کہ «قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ» [6-الأنعام:124] یعنی ” جب تک خود ہمیں وہ نہ دیا جائے جو رسولوں کو دیا گیا، ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ “ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبیوں کے پاس اللہ کی طرف سے فرشتہ وحی لے کر آتا ہے، ہمارے پاس بھی آئے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہو کہ فرشتوں کو دیکھ لیں۔ خود فرشتے آ کر ہمیں سمجھائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کریں تو ہم آپ کو نبی مان لیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ کفار نے کہا: «أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا» [17-الإسراء:92] یعنی ” تو اللہ کو لے آ، فرشتوں کو بنفس نفیس ہمارے پاس لے آ۔ “ اس کی پوری تفسیر سورۃ سبحان میں گزر چکی ہے۔
یہاں بھی ان کا یہی مطالبہ بیان ہوا ہے کہ یا تو ہمارے اوپر فرشتے اتریں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ یہ بات اس لیے ان کی منہ سے نکلی کہ یہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے تھے اور ان کا غرور حد سے بڑھ گیا تھا۔ ان کی ایمان لانے کی نیت نہ تھی۔ جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111] الخ، یعنی ” اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے، اس قسم کی اور بھی تمام چیزیں ہم ان کے سامنے کر دیتے۔ جب بھی انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہوتا۔ “
صفحہ نمبر6030
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فرشتوں کو یہ دیکھیں گے لیکن اس وقت ان کے لیے ان کا دیکھنا کچھ سود مند نہ ہو گا۔ اس سے مراد سکرات موت کا وقت ہے جب کہ فرشتے کافروں کے پاس آتے ہیں اور اللہ کے غضب اور جہنم کی آگ کی خبر انہیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خبیث نفس! تو خبیث اور ناپاک جسم میں تھا، اب گرم ہواؤں، گرم پانی اور نامبارک سایوں کی طرف چل، وہ نکلنے سے کتراتی ہے اور بدن میں چھپتی پھرتی ہے۔ اس پر فرشتے ان کے چہروں پر اور ان کی کمروں پر ضربیں مارتے ہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» [6-الأنعام:93] یعنی ” کاش کہ تو ظالموں کو ان کی سکرات کے وقت دیکھتا جب کہ فرشتے انہیں مارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے ہوئے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کے عذاب چکھنے پڑیں گے کیونکہ تم اللہ تعالیٰ سے متعلق ناحق الزامات تراشتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔ “
مومنوں کا حال ان کے بالکل برعکس ہو گا، وہ اپنی موت کے وقت خوشخبریاں سنائے جاتے ہیں اور ابدی مسرتوں کی بشارتیں دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ” جنہوں نے اللہ کو اپنا رب کہا اور مانا پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس ہمارے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو بلکہ ان جنتوں میں جانے کی خوشی مناؤ جن کا تمہیں وعدہ دیا جاتا رہا۔ ہم تمہارے والی ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، تم جو کچھ چاہو گے پاؤ گے اور جس چیز کی خواہش کرو گے موجود ہو جائے گی، بخشنے والے مہربان اللہ کی طرف سے یہ تمہاری میزبانی ہو گی۔ “
صحیح حدیث میں ہے کہ فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں: اے پاک روح! جو پاک جسم میں تھی، تو اللہ تعالیٰ کے رحم اور رحمت کی طرف چل، جو تجھ سے نارض نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:4262،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سورۃ ابراہیم کی آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّـهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّـهُ مَا يَشَاءُ» [14-إبراهيم:27] کی تفسیر میں یہ سب حدیثیں مفصل بیان ہو چکی ہیں۔
صفحہ نمبر6031
بعض نے کہا ہے: مراد اس سے قیامت کے دن فرشتوں کا دیکھنا ہو سکتا ہے کہ دونوں موقعوں پر فرشتوں کا دیکھنا مراد ہو۔ اس میں ایک قول کی دوسرے قول سے نفی نہیں کیونکہ دونوں موقعوں پر ہر نیک و بد فرشتوں کو دیکھیں گے، مومنوں کو رحمت و رضوان کی خوشخبری کے ساتھ فرشتوں کا دیدار ہو گا اور کافروں کو لعنت و پھٹکار اور عذابوں کی خبروں کے ساتھ۔ فرشتے اس وقت ان کافروں سے صاف کہہ دیں گے کہ اب فلاح و بہبود تم پر حرام ہے۔
حجر کے لفظی معنی روک ہیں چنانچہ قاضی جب کسی کو اس کی مفلسی یا حماقت یا بچپن کی وجہ سے مال کے تصرف سے روک دے تو کہتے ہیں: «حَجرَ الْقَاضِیَ عَلیٰ فُلاَنٍ» ۔ حطیم کو بھی حجر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ طواف کرنے والوں کو اپنے اندر طواف کرنے سے روک دیتا ہے بلکہ اس کے باہر سے طواف کیا جاتا ہے۔ عقل کو بھی عربی میں حجر کہتے ہیں اس لیے وہ بھی انسان کو برے کاموں سے روک دیتی ہے۔
پس فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ جو خوشخبریاں مومنوں کو اس وقت ملتی ہیں، اس سے تم محروم ہو۔ یہ معنی تو اس بنا پر ہیں کہ اس جملے کو فرشتوں کا قول کہا جائے۔
صفحہ نمبر6032
دوسرا قول یہ ہے کہ یہ مقولہ اس وقت کافروں کا ہو گا۔ وہ فرشتوں کو دیکھ کر کہیں گے کہ اللہ کرے تم ہم سے آڑ میں رہو، تمہیں ہمارے پاس آنا نہ ملے۔ گو یہ معنی ہو سکتے ہیں لیکن دور کے معنی ہیں۔ بالخصوص اس وقت کہ جب اس کے خلاف وہ تفسیر جو ہم نے اوپر بیان کی، سلف سے مروی ہے۔
البتہ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک قول ایسا مروی ہے لیکن انہی سے صراحت کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ یہ قول فرشتوں کا ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر قیامت کے دن اعمال کے حساب کے وقت ان کے اعمال غارت و اکارت ہو جائیں گے۔ یہ جنہیں اپنی نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھے، وہ بےکار ہو جائیں گے کیونکہ یا تو وہ خلوص والے نہ تھے یا سنت کے مطابق نہ تھے۔ اور جو عمل ان دونوں سے یا ان میں سے ایک چیز سے خالی ہو، وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ اس لیے کافروں کے نیک اعمال بھی مردود ہیں۔ ہم نے ان کے اعمال کا ملاحظہ کیا اور ان کو مثل بکھرے ہوئے ذروں کے کر دیا کہ وہ سورج کی شعاعیں جو کسی سوراخ میں سے آ رہی ہوں، ان میں نظر تو آتے ہیں لیکن کوئی انہیں پکڑنا چاہے تو ہاتھ نہیں آتے۔ جس طرح پانی جو زمین پر بہا دیا جائے، وہ پھر ہاتھ نہیں آ سکتا۔ یا غبار جو ہاتھ نہیں لگ سکتا۔ یا درختوں کے پتوں کا چورا جو ہوا میں بکھر گیا ہو یا راکھ اور خاک جو اڑتی پھرتی ہو۔ اسی طرح ان کے اعمال ہیں جو محض بے کار ہو گئے، ان کا کوئی ثواب ان کے ہاتھ نہیں لگے گا۔ اس لیے کہ یا تو ان میں خلوص نہ تھا یا شریعت کے مطابقت نہ تھی یا دونوں وصف نہ تھے۔
پس جب یہ عالم و عادل حاکم حقیقی کے سامنے پیش ہوئے تو محض نکمے ثابت ہوئے، اسی لیے اسے ردی اور نہ ہاتھ لگنے والی چیز سے تشبیہ دی گئی۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَىٰ شَيْءٍ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ» [14-إبراهيم:18] ” کافروں کے اعمال کی مثال راکھ جیسی ہے جسے تیز ہوا اڑا دے۔ “
انسان کی نیکیاں بعض بدیوں سے بھی ضائع ہو جاتی ہیں جیسے صدقہ و خیرات کہ وہ احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے ضائع ہو جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ» [2-البقرة:264] پس ان کے اعمال میں سے آج یہ کسی عمل پر قادر نہیں۔
اور آیت میں ان کی مثال اس ریت کے ٹیلے سے دی گئی جو دور سے مثل دریا کے لہریں مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جسے دیکھ کر پیاسا آدمی پانی سمجھتا ہے لیکن جب پاس آتا ہے تو امید ٹوٹ جاتی ہے۔ [24-النور:39] اس کی تفسیر بھی اللہ کے فضل سے گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر6033
پھر فرمایا کہ ان کے مقابلے میں جنتیوں کی بھی سن لو کیونکہ یہ دونوں فریق برابر کے نہیں۔ جنتی تو بلند درجوں میں، اعلیٰ بالاخانوں میں امن و امان، راحت و آرام کے ساتھ عیش و عشرت میں ہوں گے۔
مقام اچھا، منظر دل پسند، ہر راحت موجود، ہر دل خوش کن چیز سامنے، جگہ اچھی، مکان طیب، منزل مبارک، سونے بیٹھنے رہنے سہنے کا آرام۔ برخلاف اس کے جہنمی دوزخ کے نیچے کے طبقوں میں جکڑ بند، اوپر نیچے، دائیں بائیں آگ، حسرت افسوس، رنج و غم پھکنا، جلنا و بےقراری، جگرسوزی، مقام بد، بری منزل، خوفناک منظر، عذاب سخت۔ نیک لوگوں کے جن کے دل میں ایمان تھا اعمال مقبول ہوئے، اچھی جزائیں دی گئیں، بدلے ملے۔ جہنم سے بچے، جنت کے مالک وارث بنے۔ پس یہ جو تمام بھلائیوں کو سمیٹ بیٹھے اور وہ جو ہر نیکی سے محروم رہے، کہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ پس نیکوں کی سعادت بیان فرما کر بدوں کی شقاوت پر تنبیہ کر دی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوئی ساعت ایسی بھی ہو گی کہ جنتی حوروں کے ساتھ دن دوپہر کو آرام فرمائیں اور جہنمی شیطانوں کے ساتھ جکڑے ہوئے دوپہر کو گھبرائیں۔
صفحہ نمبر6034
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آدھے دن میں بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ پس جنتیوں کا دوپہر کے سونے کا وقت جنت میں ہو گا اور دوزخیوں کا جہنم میں۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہوا ہے کہ کس وقت جنتی جنت میں جائیں گے اور جہنمی جہنم میں۔ یہ وہ وقت ہو گا جب یہاں دنیا میں دوپہر کا وقت ہوتا ہے اور لوگ اپنے گھروں کو دو گھڑی آرام حاصل کرنے کی غرض سے لوٹتے ہیں۔ جنتیوں کا یہ قیلولہ جنت میں ہو گا۔ مچھلی کی کلیجی انہیں پیٹ بھر کر کھلائی جائے گی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دن آدھا ہو، اس سے بھی پہلے جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں قیلولہ کریں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور آیت «ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» [37-الصافات:68] بھی پڑھی۔ جنت میں جانے والے صرف ایک مرتبہ جناب باری کے سامنے پیش ہونگے، یہی آسانی سے حساب لینا ہے پھر یہ جنت میں جا کر دوپہر کا آرام کریں گے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے: «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ٧ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ٨ وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا» [84-الانشقاق:7-9] یعنی ” جس شخص کو اپنا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے بہت آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے والوں کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔ “ اس کا قیام اور منزل بہتر ہے۔
صفحہ نمبر6035
صفوان بن محرز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن دو شخصوں کو لایا جائے گا، ایک تو وہ جو ساری دنیا کا بادشاہ تھا، اس سے حساب لیا جائے گا تو اس کی پوری عمر میں ایک بھی نیکی نہ نکلے گی پس اسے جہنم کے داخلے کا حکم ملے گا۔ پھر دوسرا شخص آئے گا جس نے ایک کمبل میں دنیا گزاری تھی، جب اس سے حساب لیا جائے گا تو یہ کہے گا کہ اللہ میرے پاس دنیا میں تھا ہی کیا جس کا حساب لیا جائے؟ اللہ فرمائے گا: یہ سچا ہے، اسے چھوڑ دو۔ اسے جنت میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ پھر کچھ عرصے کے بعد دونوں کو بلایا جائے گا تو جہنمی بادشاہ تو مثل سوختہ کوئلے کے ہو گیا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کس حال میں ہو؟ کہے گا: نہایت برے حال میں اور نہایت خراب جگہ میں ہوں۔ پھر جنتی کو بلایا جائے گا اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کیسی گزرتی ہے؟ یہ کہے گا: الحمدللہ بہت اچھی اور نہایت بہتر جگہ میں ہوں۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنی اپنی جگہ پھر چلے جاؤ۔
سعید صواف رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ مومن پر تو قیامت کا دن ایسا چھوٹا ہو جائے گا جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت۔ یہ جنت کی کیاریوں میں پہنچا دئیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اور مخلوق کے حساب ہو جائیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/9] پس جنتی بہتر ٹھکانے والے اور عمدہ جگہ والے ہوں گے۔
صفحہ نمبر6036
تصدیق نبوت کے لئے احمقانہ شرائط ٭٭
کافر لوگ انکار نبوت کا ایک بہانہ یہ بھی بناتے تھے کہ اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو کسی فرشتے کو کیوں نہ بھیجا؟
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ وہ ایک بہانہ یہ بھی کرتے تھے کہ «قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ» [6-الأنعام:124] یعنی ” جب تک خود ہمیں وہ نہ دیا جائے جو رسولوں کو دیا گیا، ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ “ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبیوں کے پاس اللہ کی طرف سے فرشتہ وحی لے کر آتا ہے، ہمارے پاس بھی آئے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہو کہ فرشتوں کو دیکھ لیں۔ خود فرشتے آ کر ہمیں سمجھائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کریں تو ہم آپ کو نبی مان لیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ کفار نے کہا: «أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا» [17-الإسراء:92] یعنی ” تو اللہ کو لے آ، فرشتوں کو بنفس نفیس ہمارے پاس لے آ۔ “ اس کی پوری تفسیر سورۃ سبحان میں گزر چکی ہے۔
یہاں بھی ان کا یہی مطالبہ بیان ہوا ہے کہ یا تو ہمارے اوپر فرشتے اتریں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ یہ بات اس لیے ان کی منہ سے نکلی کہ یہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے تھے اور ان کا غرور حد سے بڑھ گیا تھا۔ ان کی ایمان لانے کی نیت نہ تھی۔ جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111] الخ، یعنی ” اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے، اس قسم کی اور بھی تمام چیزیں ہم ان کے سامنے کر دیتے۔ جب بھی انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہوتا۔ “
صفحہ نمبر6030
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فرشتوں کو یہ دیکھیں گے لیکن اس وقت ان کے لیے ان کا دیکھنا کچھ سود مند نہ ہو گا۔ اس سے مراد سکرات موت کا وقت ہے جب کہ فرشتے کافروں کے پاس آتے ہیں اور اللہ کے غضب اور جہنم کی آگ کی خبر انہیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خبیث نفس! تو خبیث اور ناپاک جسم میں تھا، اب گرم ہواؤں، گرم پانی اور نامبارک سایوں کی طرف چل، وہ نکلنے سے کتراتی ہے اور بدن میں چھپتی پھرتی ہے۔ اس پر فرشتے ان کے چہروں پر اور ان کی کمروں پر ضربیں مارتے ہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» [6-الأنعام:93] یعنی ” کاش کہ تو ظالموں کو ان کی سکرات کے وقت دیکھتا جب کہ فرشتے انہیں مارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے ہوئے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کے عذاب چکھنے پڑیں گے کیونکہ تم اللہ تعالیٰ سے متعلق ناحق الزامات تراشتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔ “
مومنوں کا حال ان کے بالکل برعکس ہو گا، وہ اپنی موت کے وقت خوشخبریاں سنائے جاتے ہیں اور ابدی مسرتوں کی بشارتیں دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ” جنہوں نے اللہ کو اپنا رب کہا اور مانا پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس ہمارے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو بلکہ ان جنتوں میں جانے کی خوشی مناؤ جن کا تمہیں وعدہ دیا جاتا رہا۔ ہم تمہارے والی ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، تم جو کچھ چاہو گے پاؤ گے اور جس چیز کی خواہش کرو گے موجود ہو جائے گی، بخشنے والے مہربان اللہ کی طرف سے یہ تمہاری میزبانی ہو گی۔ “
صحیح حدیث میں ہے کہ فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں: اے پاک روح! جو پاک جسم میں تھی، تو اللہ تعالیٰ کے رحم اور رحمت کی طرف چل، جو تجھ سے نارض نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:4262،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سورۃ ابراہیم کی آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّـهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّـهُ مَا يَشَاءُ» [14-إبراهيم:27] کی تفسیر میں یہ سب حدیثیں مفصل بیان ہو چکی ہیں۔
صفحہ نمبر6031
بعض نے کہا ہے: مراد اس سے قیامت کے دن فرشتوں کا دیکھنا ہو سکتا ہے کہ دونوں موقعوں پر فرشتوں کا دیکھنا مراد ہو۔ اس میں ایک قول کی دوسرے قول سے نفی نہیں کیونکہ دونوں موقعوں پر ہر نیک و بد فرشتوں کو دیکھیں گے، مومنوں کو رحمت و رضوان کی خوشخبری کے ساتھ فرشتوں کا دیدار ہو گا اور کافروں کو لعنت و پھٹکار اور عذابوں کی خبروں کے ساتھ۔ فرشتے اس وقت ان کافروں سے صاف کہہ دیں گے کہ اب فلاح و بہبود تم پر حرام ہے۔
حجر کے لفظی معنی روک ہیں چنانچہ قاضی جب کسی کو اس کی مفلسی یا حماقت یا بچپن کی وجہ سے مال کے تصرف سے روک دے تو کہتے ہیں: «حَجرَ الْقَاضِیَ عَلیٰ فُلاَنٍ» ۔ حطیم کو بھی حجر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ طواف کرنے والوں کو اپنے اندر طواف کرنے سے روک دیتا ہے بلکہ اس کے باہر سے طواف کیا جاتا ہے۔ عقل کو بھی عربی میں حجر کہتے ہیں اس لیے وہ بھی انسان کو برے کاموں سے روک دیتی ہے۔
پس فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ جو خوشخبریاں مومنوں کو اس وقت ملتی ہیں، اس سے تم محروم ہو۔ یہ معنی تو اس بنا پر ہیں کہ اس جملے کو فرشتوں کا قول کہا جائے۔
صفحہ نمبر6032
دوسرا قول یہ ہے کہ یہ مقولہ اس وقت کافروں کا ہو گا۔ وہ فرشتوں کو دیکھ کر کہیں گے کہ اللہ کرے تم ہم سے آڑ میں رہو، تمہیں ہمارے پاس آنا نہ ملے۔ گو یہ معنی ہو سکتے ہیں لیکن دور کے معنی ہیں۔ بالخصوص اس وقت کہ جب اس کے خلاف وہ تفسیر جو ہم نے اوپر بیان کی، سلف سے مروی ہے۔
البتہ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک قول ایسا مروی ہے لیکن انہی سے صراحت کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ یہ قول فرشتوں کا ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر قیامت کے دن اعمال کے حساب کے وقت ان کے اعمال غارت و اکارت ہو جائیں گے۔ یہ جنہیں اپنی نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھے، وہ بےکار ہو جائیں گے کیونکہ یا تو وہ خلوص والے نہ تھے یا سنت کے مطابق نہ تھے۔ اور جو عمل ان دونوں سے یا ان میں سے ایک چیز سے خالی ہو، وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ اس لیے کافروں کے نیک اعمال بھی مردود ہیں۔ ہم نے ان کے اعمال کا ملاحظہ کیا اور ان کو مثل بکھرے ہوئے ذروں کے کر دیا کہ وہ سورج کی شعاعیں جو کسی سوراخ میں سے آ رہی ہوں، ان میں نظر تو آتے ہیں لیکن کوئی انہیں پکڑنا چاہے تو ہاتھ نہیں آتے۔ جس طرح پانی جو زمین پر بہا دیا جائے، وہ پھر ہاتھ نہیں آ سکتا۔ یا غبار جو ہاتھ نہیں لگ سکتا۔ یا درختوں کے پتوں کا چورا جو ہوا میں بکھر گیا ہو یا راکھ اور خاک جو اڑتی پھرتی ہو۔ اسی طرح ان کے اعمال ہیں جو محض بے کار ہو گئے، ان کا کوئی ثواب ان کے ہاتھ نہیں لگے گا۔ اس لیے کہ یا تو ان میں خلوص نہ تھا یا شریعت کے مطابقت نہ تھی یا دونوں وصف نہ تھے۔
پس جب یہ عالم و عادل حاکم حقیقی کے سامنے پیش ہوئے تو محض نکمے ثابت ہوئے، اسی لیے اسے ردی اور نہ ہاتھ لگنے والی چیز سے تشبیہ دی گئی۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَىٰ شَيْءٍ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ» [14-إبراهيم:18] ” کافروں کے اعمال کی مثال راکھ جیسی ہے جسے تیز ہوا اڑا دے۔ “
انسان کی نیکیاں بعض بدیوں سے بھی ضائع ہو جاتی ہیں جیسے صدقہ و خیرات کہ وہ احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے ضائع ہو جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ» [2-البقرة:264] پس ان کے اعمال میں سے آج یہ کسی عمل پر قادر نہیں۔
اور آیت میں ان کی مثال اس ریت کے ٹیلے سے دی گئی جو دور سے مثل دریا کے لہریں مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جسے دیکھ کر پیاسا آدمی پانی سمجھتا ہے لیکن جب پاس آتا ہے تو امید ٹوٹ جاتی ہے۔ [24-النور:39] اس کی تفسیر بھی اللہ کے فضل سے گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر6033
پھر فرمایا کہ ان کے مقابلے میں جنتیوں کی بھی سن لو کیونکہ یہ دونوں فریق برابر کے نہیں۔ جنتی تو بلند درجوں میں، اعلیٰ بالاخانوں میں امن و امان، راحت و آرام کے ساتھ عیش و عشرت میں ہوں گے۔
مقام اچھا، منظر دل پسند، ہر راحت موجود، ہر دل خوش کن چیز سامنے، جگہ اچھی، مکان طیب، منزل مبارک، سونے بیٹھنے رہنے سہنے کا آرام۔ برخلاف اس کے جہنمی دوزخ کے نیچے کے طبقوں میں جکڑ بند، اوپر نیچے، دائیں بائیں آگ، حسرت افسوس، رنج و غم پھکنا، جلنا و بےقراری، جگرسوزی، مقام بد، بری منزل، خوفناک منظر، عذاب سخت۔ نیک لوگوں کے جن کے دل میں ایمان تھا اعمال مقبول ہوئے، اچھی جزائیں دی گئیں، بدلے ملے۔ جہنم سے بچے، جنت کے مالک وارث بنے۔ پس یہ جو تمام بھلائیوں کو سمیٹ بیٹھے اور وہ جو ہر نیکی سے محروم رہے، کہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ پس نیکوں کی سعادت بیان فرما کر بدوں کی شقاوت پر تنبیہ کر دی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوئی ساعت ایسی بھی ہو گی کہ جنتی حوروں کے ساتھ دن دوپہر کو آرام فرمائیں اور جہنمی شیطانوں کے ساتھ جکڑے ہوئے دوپہر کو گھبرائیں۔
صفحہ نمبر6034
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آدھے دن میں بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ پس جنتیوں کا دوپہر کے سونے کا وقت جنت میں ہو گا اور دوزخیوں کا جہنم میں۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہوا ہے کہ کس وقت جنتی جنت میں جائیں گے اور جہنمی جہنم میں۔ یہ وہ وقت ہو گا جب یہاں دنیا میں دوپہر کا وقت ہوتا ہے اور لوگ اپنے گھروں کو دو گھڑی آرام حاصل کرنے کی غرض سے لوٹتے ہیں۔ جنتیوں کا یہ قیلولہ جنت میں ہو گا۔ مچھلی کی کلیجی انہیں پیٹ بھر کر کھلائی جائے گی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دن آدھا ہو، اس سے بھی پہلے جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں قیلولہ کریں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور آیت «ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» [37-الصافات:68] بھی پڑھی۔ جنت میں جانے والے صرف ایک مرتبہ جناب باری کے سامنے پیش ہونگے، یہی آسانی سے حساب لینا ہے پھر یہ جنت میں جا کر دوپہر کا آرام کریں گے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے: «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ٧ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ٨ وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا» [84-الانشقاق:7-9] یعنی ” جس شخص کو اپنا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے بہت آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے والوں کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔ “ اس کا قیام اور منزل بہتر ہے۔
صفحہ نمبر6035
صفوان بن محرز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن دو شخصوں کو لایا جائے گا، ایک تو وہ جو ساری دنیا کا بادشاہ تھا، اس سے حساب لیا جائے گا تو اس کی پوری عمر میں ایک بھی نیکی نہ نکلے گی پس اسے جہنم کے داخلے کا حکم ملے گا۔ پھر دوسرا شخص آئے گا جس نے ایک کمبل میں دنیا گزاری تھی، جب اس سے حساب لیا جائے گا تو یہ کہے گا کہ اللہ میرے پاس دنیا میں تھا ہی کیا جس کا حساب لیا جائے؟ اللہ فرمائے گا: یہ سچا ہے، اسے چھوڑ دو۔ اسے جنت میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ پھر کچھ عرصے کے بعد دونوں کو بلایا جائے گا تو جہنمی بادشاہ تو مثل سوختہ کوئلے کے ہو گیا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کس حال میں ہو؟ کہے گا: نہایت برے حال میں اور نہایت خراب جگہ میں ہوں۔ پھر جنتی کو بلایا جائے گا اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کیسی گزرتی ہے؟ یہ کہے گا: الحمدللہ بہت اچھی اور نہایت بہتر جگہ میں ہوں۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنی اپنی جگہ پھر چلے جاؤ۔
سعید صواف رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ مومن پر تو قیامت کا دن ایسا چھوٹا ہو جائے گا جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت۔ یہ جنت کی کیاریوں میں پہنچا دئیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اور مخلوق کے حساب ہو جائیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/9] پس جنتی بہتر ٹھکانے والے اور عمدہ جگہ والے ہوں گے۔
صفحہ نمبر6036
تصدیق نبوت کے لئے احمقانہ شرائط ٭٭
کافر لوگ انکار نبوت کا ایک بہانہ یہ بھی بناتے تھے کہ اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو کسی فرشتے کو کیوں نہ بھیجا؟
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ وہ ایک بہانہ یہ بھی کرتے تھے کہ «قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ» [6-الأنعام:124] یعنی ” جب تک خود ہمیں وہ نہ دیا جائے جو رسولوں کو دیا گیا، ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ “ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبیوں کے پاس اللہ کی طرف سے فرشتہ وحی لے کر آتا ہے، ہمارے پاس بھی آئے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہو کہ فرشتوں کو دیکھ لیں۔ خود فرشتے آ کر ہمیں سمجھائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کریں تو ہم آپ کو نبی مان لیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ کفار نے کہا: «أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا» [17-الإسراء:92] یعنی ” تو اللہ کو لے آ، فرشتوں کو بنفس نفیس ہمارے پاس لے آ۔ “ اس کی پوری تفسیر سورۃ سبحان میں گزر چکی ہے۔
یہاں بھی ان کا یہی مطالبہ بیان ہوا ہے کہ یا تو ہمارے اوپر فرشتے اتریں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ یہ بات اس لیے ان کی منہ سے نکلی کہ یہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے تھے اور ان کا غرور حد سے بڑھ گیا تھا۔ ان کی ایمان لانے کی نیت نہ تھی۔ جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111] الخ، یعنی ” اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے، اس قسم کی اور بھی تمام چیزیں ہم ان کے سامنے کر دیتے۔ جب بھی انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہوتا۔ “
صفحہ نمبر6030
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فرشتوں کو یہ دیکھیں گے لیکن اس وقت ان کے لیے ان کا دیکھنا کچھ سود مند نہ ہو گا۔ اس سے مراد سکرات موت کا وقت ہے جب کہ فرشتے کافروں کے پاس آتے ہیں اور اللہ کے غضب اور جہنم کی آگ کی خبر انہیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خبیث نفس! تو خبیث اور ناپاک جسم میں تھا، اب گرم ہواؤں، گرم پانی اور نامبارک سایوں کی طرف چل، وہ نکلنے سے کتراتی ہے اور بدن میں چھپتی پھرتی ہے۔ اس پر فرشتے ان کے چہروں پر اور ان کی کمروں پر ضربیں مارتے ہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» [6-الأنعام:93] یعنی ” کاش کہ تو ظالموں کو ان کی سکرات کے وقت دیکھتا جب کہ فرشتے انہیں مارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے ہوئے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کے عذاب چکھنے پڑیں گے کیونکہ تم اللہ تعالیٰ سے متعلق ناحق الزامات تراشتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔ “
مومنوں کا حال ان کے بالکل برعکس ہو گا، وہ اپنی موت کے وقت خوشخبریاں سنائے جاتے ہیں اور ابدی مسرتوں کی بشارتیں دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» [41-فصلت:30-32] ” جنہوں نے اللہ کو اپنا رب کہا اور مانا پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس ہمارے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو بلکہ ان جنتوں میں جانے کی خوشی مناؤ جن کا تمہیں وعدہ دیا جاتا رہا۔ ہم تمہارے والی ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، تم جو کچھ چاہو گے پاؤ گے اور جس چیز کی خواہش کرو گے موجود ہو جائے گی، بخشنے والے مہربان اللہ کی طرف سے یہ تمہاری میزبانی ہو گی۔ “
صحیح حدیث میں ہے کہ فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں: اے پاک روح! جو پاک جسم میں تھی، تو اللہ تعالیٰ کے رحم اور رحمت کی طرف چل، جو تجھ سے نارض نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:4262،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سورۃ ابراہیم کی آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّـهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّـهُ مَا يَشَاءُ» [14-إبراهيم:27] کی تفسیر میں یہ سب حدیثیں مفصل بیان ہو چکی ہیں۔
صفحہ نمبر6031
بعض نے کہا ہے: مراد اس سے قیامت کے دن فرشتوں کا دیکھنا ہو سکتا ہے کہ دونوں موقعوں پر فرشتوں کا دیکھنا مراد ہو۔ اس میں ایک قول کی دوسرے قول سے نفی نہیں کیونکہ دونوں موقعوں پر ہر نیک و بد فرشتوں کو دیکھیں گے، مومنوں کو رحمت و رضوان کی خوشخبری کے ساتھ فرشتوں کا دیدار ہو گا اور کافروں کو لعنت و پھٹکار اور عذابوں کی خبروں کے ساتھ۔ فرشتے اس وقت ان کافروں سے صاف کہہ دیں گے کہ اب فلاح و بہبود تم پر حرام ہے۔
حجر کے لفظی معنی روک ہیں چنانچہ قاضی جب کسی کو اس کی مفلسی یا حماقت یا بچپن کی وجہ سے مال کے تصرف سے روک دے تو کہتے ہیں: «حَجرَ الْقَاضِیَ عَلیٰ فُلاَنٍ» ۔ حطیم کو بھی حجر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ طواف کرنے والوں کو اپنے اندر طواف کرنے سے روک دیتا ہے بلکہ اس کے باہر سے طواف کیا جاتا ہے۔ عقل کو بھی عربی میں حجر کہتے ہیں اس لیے وہ بھی انسان کو برے کاموں سے روک دیتی ہے۔
پس فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ جو خوشخبریاں مومنوں کو اس وقت ملتی ہیں، اس سے تم محروم ہو۔ یہ معنی تو اس بنا پر ہیں کہ اس جملے کو فرشتوں کا قول کہا جائے۔
صفحہ نمبر6032
دوسرا قول یہ ہے کہ یہ مقولہ اس وقت کافروں کا ہو گا۔ وہ فرشتوں کو دیکھ کر کہیں گے کہ اللہ کرے تم ہم سے آڑ میں رہو، تمہیں ہمارے پاس آنا نہ ملے۔ گو یہ معنی ہو سکتے ہیں لیکن دور کے معنی ہیں۔ بالخصوص اس وقت کہ جب اس کے خلاف وہ تفسیر جو ہم نے اوپر بیان کی، سلف سے مروی ہے۔
البتہ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک قول ایسا مروی ہے لیکن انہی سے صراحت کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ یہ قول فرشتوں کا ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر قیامت کے دن اعمال کے حساب کے وقت ان کے اعمال غارت و اکارت ہو جائیں گے۔ یہ جنہیں اپنی نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھے، وہ بےکار ہو جائیں گے کیونکہ یا تو وہ خلوص والے نہ تھے یا سنت کے مطابق نہ تھے۔ اور جو عمل ان دونوں سے یا ان میں سے ایک چیز سے خالی ہو، وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ اس لیے کافروں کے نیک اعمال بھی مردود ہیں۔ ہم نے ان کے اعمال کا ملاحظہ کیا اور ان کو مثل بکھرے ہوئے ذروں کے کر دیا کہ وہ سورج کی شعاعیں جو کسی سوراخ میں سے آ رہی ہوں، ان میں نظر تو آتے ہیں لیکن کوئی انہیں پکڑنا چاہے تو ہاتھ نہیں آتے۔ جس طرح پانی جو زمین پر بہا دیا جائے، وہ پھر ہاتھ نہیں آ سکتا۔ یا غبار جو ہاتھ نہیں لگ سکتا۔ یا درختوں کے پتوں کا چورا جو ہوا میں بکھر گیا ہو یا راکھ اور خاک جو اڑتی پھرتی ہو۔ اسی طرح ان کے اعمال ہیں جو محض بے کار ہو گئے، ان کا کوئی ثواب ان کے ہاتھ نہیں لگے گا۔ اس لیے کہ یا تو ان میں خلوص نہ تھا یا شریعت کے مطابقت نہ تھی یا دونوں وصف نہ تھے۔
پس جب یہ عالم و عادل حاکم حقیقی کے سامنے پیش ہوئے تو محض نکمے ثابت ہوئے، اسی لیے اسے ردی اور نہ ہاتھ لگنے والی چیز سے تشبیہ دی گئی۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَىٰ شَيْءٍ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ» [14-إبراهيم:18] ” کافروں کے اعمال کی مثال راکھ جیسی ہے جسے تیز ہوا اڑا دے۔ “
انسان کی نیکیاں بعض بدیوں سے بھی ضائع ہو جاتی ہیں جیسے صدقہ و خیرات کہ وہ احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے ضائع ہو جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ» [2-البقرة:264] پس ان کے اعمال میں سے آج یہ کسی عمل پر قادر نہیں۔
اور آیت میں ان کی مثال اس ریت کے ٹیلے سے دی گئی جو دور سے مثل دریا کے لہریں مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جسے دیکھ کر پیاسا آدمی پانی سمجھتا ہے لیکن جب پاس آتا ہے تو امید ٹوٹ جاتی ہے۔ [24-النور:39] اس کی تفسیر بھی اللہ کے فضل سے گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر6033
پھر فرمایا کہ ان کے مقابلے میں جنتیوں کی بھی سن لو کیونکہ یہ دونوں فریق برابر کے نہیں۔ جنتی تو بلند درجوں میں، اعلیٰ بالاخانوں میں امن و امان، راحت و آرام کے ساتھ عیش و عشرت میں ہوں گے۔
مقام اچھا، منظر دل پسند، ہر راحت موجود، ہر دل خوش کن چیز سامنے، جگہ اچھی، مکان طیب، منزل مبارک، سونے بیٹھنے رہنے سہنے کا آرام۔ برخلاف اس کے جہنمی دوزخ کے نیچے کے طبقوں میں جکڑ بند، اوپر نیچے، دائیں بائیں آگ، حسرت افسوس، رنج و غم پھکنا، جلنا و بےقراری، جگرسوزی، مقام بد، بری منزل، خوفناک منظر، عذاب سخت۔ نیک لوگوں کے جن کے دل میں ایمان تھا اعمال مقبول ہوئے، اچھی جزائیں دی گئیں، بدلے ملے۔ جہنم سے بچے، جنت کے مالک وارث بنے۔ پس یہ جو تمام بھلائیوں کو سمیٹ بیٹھے اور وہ جو ہر نیکی سے محروم رہے، کہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ پس نیکوں کی سعادت بیان فرما کر بدوں کی شقاوت پر تنبیہ کر دی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوئی ساعت ایسی بھی ہو گی کہ جنتی حوروں کے ساتھ دن دوپہر کو آرام فرمائیں اور جہنمی شیطانوں کے ساتھ جکڑے ہوئے دوپہر کو گھبرائیں۔
صفحہ نمبر6034
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آدھے دن میں بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ پس جنتیوں کا دوپہر کے سونے کا وقت جنت میں ہو گا اور دوزخیوں کا جہنم میں۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہوا ہے کہ کس وقت جنتی جنت میں جائیں گے اور جہنمی جہنم میں۔ یہ وہ وقت ہو گا جب یہاں دنیا میں دوپہر کا وقت ہوتا ہے اور لوگ اپنے گھروں کو دو گھڑی آرام حاصل کرنے کی غرض سے لوٹتے ہیں۔ جنتیوں کا یہ قیلولہ جنت میں ہو گا۔ مچھلی کی کلیجی انہیں پیٹ بھر کر کھلائی جائے گی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دن آدھا ہو، اس سے بھی پہلے جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں قیلولہ کریں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور آیت «ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» [37-الصافات:68] بھی پڑھی۔ جنت میں جانے والے صرف ایک مرتبہ جناب باری کے سامنے پیش ہونگے، یہی آسانی سے حساب لینا ہے پھر یہ جنت میں جا کر دوپہر کا آرام کریں گے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے: «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ٧ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ٨ وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا» [84-الانشقاق:7-9] یعنی ” جس شخص کو اپنا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے بہت آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے والوں کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔ “ اس کا قیام اور منزل بہتر ہے۔
صفحہ نمبر6035
صفوان بن محرز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن دو شخصوں کو لایا جائے گا، ایک تو وہ جو ساری دنیا کا بادشاہ تھا، اس سے حساب لیا جائے گا تو اس کی پوری عمر میں ایک بھی نیکی نہ نکلے گی پس اسے جہنم کے داخلے کا حکم ملے گا۔ پھر دوسرا شخص آئے گا جس نے ایک کمبل میں دنیا گزاری تھی، جب اس سے حساب لیا جائے گا تو یہ کہے گا کہ اللہ میرے پاس دنیا میں تھا ہی کیا جس کا حساب لیا جائے؟ اللہ فرمائے گا: یہ سچا ہے، اسے چھوڑ دو۔ اسے جنت میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ پھر کچھ عرصے کے بعد دونوں کو بلایا جائے گا تو جہنمی بادشاہ تو مثل سوختہ کوئلے کے ہو گیا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کس حال میں ہو؟ کہے گا: نہایت برے حال میں اور نہایت خراب جگہ میں ہوں۔ پھر جنتی کو بلایا جائے گا اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کیسی گزرتی ہے؟ یہ کہے گا: الحمدللہ بہت اچھی اور نہایت بہتر جگہ میں ہوں۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنی اپنی جگہ پھر چلے جاؤ۔
سعید صواف رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ مومن پر تو قیامت کا دن ایسا چھوٹا ہو جائے گا جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت۔ یہ جنت کی کیاریوں میں پہنچا دئیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اور مخلوق کے حساب ہو جائیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/9] پس جنتی بہتر ٹھکانے والے اور عمدہ جگہ والے ہوں گے۔
صفحہ نمبر6036
فیصلوں کا دن ٭٭
قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے، ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی شامل ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی، پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے: «هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ» [2-البقرة:210] یعنی کہ ” انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ تمام جانور، چوپائے، درندے، پرندے اور کل مخلوق وہاں ہو گی پھر آسمان اول پھٹے گا اور اس کے فرشتے اتریں گے جو تمام مخلوق کو دو طرف سے گھیرلیں گے اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہوں گے۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے فرشتے بھی آئیں گے جو زمین کی اور آسمان اول کی تمام مخلوق کی گنتی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر تیسرا آسمان شق ہو گا اس کے فرشتے بھی، دونوں آسمانوں کے فرشتے مل کر زمین کی مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، سب کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح چوتھا پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں۔ پھر ہمارا رب عز و جل ابر کے سائے میں تشریف لائے گا، اس کے اردگرد بزرگ تر پاک فرشتے ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کی کل مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، ان پر سینگوں جیسے نشان ہونگے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ کی تسبیح و تہلیل و تقدس بیان کریں گے، ان کے تلوے سے لے کر ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کا راستہ ہو گا اور ٹخنے سے گھٹنے تک کا بھی اتنا ہی۔ اور گھٹنے سے ناف تک کا بھی اتنا فاصلہ ہو گا۔ اور ناف سے گردن کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور گردن سے کان کی لو تک بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور اس کے اوپر سے سر تک کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا۔ [ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ قیامت کا نام «یَوْمَ التَّلاَقِ» اسی لیے ہے کہ اس میں زمین و آسمان والے ملیں گے، انہیں دیکھ کر پہلے تو محشر والے سمجھ لیں گے کہ ہمارا اللہ آیا۔
صفحہ نمبر6040
لیکن فرشتے سمجھا دیں گے کہ وہ آنے والا ہے، ابھی تک نازل نہیں ہوا۔ پھر جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر تشریف لائے گا جسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے جن کے ٹخنے سے گھٹنے تک ستر سال کا راستہ ہے اور ران اور مونڈھے کے درمیان بھی ستر سال کا راستہ ہے۔ ہر فرشتہ دوسرے سے علیحدہ اور جداگانہ ہے۔ ہر ایک کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی ہے اور زبان پر «سبُْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» کا وظیفہ ہے۔ ان کے سروں پر ایک پھیلی ہوئی چیز ہے جیسے سرخ شفق، اس کے اوپر عرش ہو گا۔ اس میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں اور بھی اس حدیث میں بہت سی خامیاں ہیں۔ صور کی مشہور حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6041
اور آیت میں ہے کہ ” اس دن ہو پڑنے والی ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ کر روئی کی طرح ہو جائے گا۔ اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے لیے ہوں گے۔ “ [69-الحاقة:15-17]
شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکّ الْحَمْدُ عَلیٰ حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے، تو قابل ستائش و تعریف ہے۔ باوجود علم کے پھر بھی بردباری برتنا تیرا وصف ہے جس پر ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اور چار کی تسبیح یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلیٰ عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے تیرے ہی لیے سب تعریف ہے کہ تو باوجود قدرت کے معاف فرماتا رہتا ہے۔
ابوبکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرش کو اترتا دیکھ کر اہل محشر کی آنکھیں پھٹ جائیں گی، جسم کانپ اٹھیں گے، دل لرز جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ عز و جل مخلوق کی طرف اترے گا تو درمیان میں ستر ہزار پردے ہوں گے۔ بعض نور کے، بعض ظلمت کے۔ اس ظلمت میں سے ایک ایسی آواز نکلے گی جس سے دل پاش پاش ہو جائیں گے۔ شاید ان کی یہ روایت انہی دو تھیلوں میں سے لی ہوئی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6042
اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [40-غافر:16] ” آج ملک کس کے لیے ہے؟ صرف اللہ غالب و قہار کے لیے۔ “
صحیح حدیث میں ہے: اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں مالک ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ [صحیح بخاری:7413]
وہ دن کفار پر بڑا بھاری پڑا ہو گا۔ اسی کا بیان اور جگہ بھی ہے کہ کافروں پر وہ دن گراں گزرے گا۔ [74-المدثر:9-10]
ہاں مومنوں کو اس دن مطلق گھبراہٹ یا پریشانی نہ ہو گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پچاس ہزار سال کا دن تو بہت ہی دراز ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مومنوں پر تو وہ ایک وقت کی فرض نماز سے بھی ہلکا اور آسان ہو گا۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
پیغمبر علیہ السلام کے طریقے اور آپ کے لائے ہوئے کھلے حق سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کے سوا دوسری راہوں پہ چلنے والے اس دن بڑے ہی نادم ہونگے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ چبائیں گے۔
گو اس کا نزول عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر ایسے ظالم کو شامل ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» [33-الأحزاب:66-67] ” پس ہر ظالم قیامت کے دن پچھتائے گا، اپنے ہاتھوں کو چبائے گا اور آہ و زاری کر کے کہے گا: کاش! کہ میں نے نبی کی راہ اپنائی ہوتی۔ کاش! کہ میں نے فلاں کی عقیدت مندی نہ کی ہوتی۔ جس نے مجھے راہ حق سے گمراہ کر دیا۔ “
امیہ بن خلف کا اور اس کے بھائی ابی بن خلف کا بھی یہی حال ہو گا اور ان کے سوا اور بھی ایسے لوگوں کا یہ حال ہو گا۔ کہے گا کہ اس نے مجھے ذکر یعنی قرآن سے بیگانہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہے، وہ اسے ناحق کی طرف بلاتا ہے اور حق سے ہٹا دیتا ہے۔
صفحہ نمبر6043
فیصلوں کا دن ٭٭
قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے، ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی شامل ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی، پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے: «هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ» [2-البقرة:210] یعنی کہ ” انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ تمام جانور، چوپائے، درندے، پرندے اور کل مخلوق وہاں ہو گی پھر آسمان اول پھٹے گا اور اس کے فرشتے اتریں گے جو تمام مخلوق کو دو طرف سے گھیرلیں گے اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہوں گے۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے فرشتے بھی آئیں گے جو زمین کی اور آسمان اول کی تمام مخلوق کی گنتی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر تیسرا آسمان شق ہو گا اس کے فرشتے بھی، دونوں آسمانوں کے فرشتے مل کر زمین کی مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، سب کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح چوتھا پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں۔ پھر ہمارا رب عز و جل ابر کے سائے میں تشریف لائے گا، اس کے اردگرد بزرگ تر پاک فرشتے ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کی کل مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، ان پر سینگوں جیسے نشان ہونگے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ کی تسبیح و تہلیل و تقدس بیان کریں گے، ان کے تلوے سے لے کر ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کا راستہ ہو گا اور ٹخنے سے گھٹنے تک کا بھی اتنا ہی۔ اور گھٹنے سے ناف تک کا بھی اتنا فاصلہ ہو گا۔ اور ناف سے گردن کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور گردن سے کان کی لو تک بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور اس کے اوپر سے سر تک کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا۔ [ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ قیامت کا نام «یَوْمَ التَّلاَقِ» اسی لیے ہے کہ اس میں زمین و آسمان والے ملیں گے، انہیں دیکھ کر پہلے تو محشر والے سمجھ لیں گے کہ ہمارا اللہ آیا۔
صفحہ نمبر6040
لیکن فرشتے سمجھا دیں گے کہ وہ آنے والا ہے، ابھی تک نازل نہیں ہوا۔ پھر جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر تشریف لائے گا جسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے جن کے ٹخنے سے گھٹنے تک ستر سال کا راستہ ہے اور ران اور مونڈھے کے درمیان بھی ستر سال کا راستہ ہے۔ ہر فرشتہ دوسرے سے علیحدہ اور جداگانہ ہے۔ ہر ایک کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی ہے اور زبان پر «سبُْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» کا وظیفہ ہے۔ ان کے سروں پر ایک پھیلی ہوئی چیز ہے جیسے سرخ شفق، اس کے اوپر عرش ہو گا۔ اس میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں اور بھی اس حدیث میں بہت سی خامیاں ہیں۔ صور کی مشہور حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6041
اور آیت میں ہے کہ ” اس دن ہو پڑنے والی ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ کر روئی کی طرح ہو جائے گا۔ اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے لیے ہوں گے۔ “ [69-الحاقة:15-17]
شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکّ الْحَمْدُ عَلیٰ حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے، تو قابل ستائش و تعریف ہے۔ باوجود علم کے پھر بھی بردباری برتنا تیرا وصف ہے جس پر ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اور چار کی تسبیح یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلیٰ عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے تیرے ہی لیے سب تعریف ہے کہ تو باوجود قدرت کے معاف فرماتا رہتا ہے۔
ابوبکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرش کو اترتا دیکھ کر اہل محشر کی آنکھیں پھٹ جائیں گی، جسم کانپ اٹھیں گے، دل لرز جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ عز و جل مخلوق کی طرف اترے گا تو درمیان میں ستر ہزار پردے ہوں گے۔ بعض نور کے، بعض ظلمت کے۔ اس ظلمت میں سے ایک ایسی آواز نکلے گی جس سے دل پاش پاش ہو جائیں گے۔ شاید ان کی یہ روایت انہی دو تھیلوں میں سے لی ہوئی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6042
اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [40-غافر:16] ” آج ملک کس کے لیے ہے؟ صرف اللہ غالب و قہار کے لیے۔ “
صحیح حدیث میں ہے: اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں مالک ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ [صحیح بخاری:7413]
وہ دن کفار پر بڑا بھاری پڑا ہو گا۔ اسی کا بیان اور جگہ بھی ہے کہ کافروں پر وہ دن گراں گزرے گا۔ [74-المدثر:9-10]
ہاں مومنوں کو اس دن مطلق گھبراہٹ یا پریشانی نہ ہو گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پچاس ہزار سال کا دن تو بہت ہی دراز ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مومنوں پر تو وہ ایک وقت کی فرض نماز سے بھی ہلکا اور آسان ہو گا۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
پیغمبر علیہ السلام کے طریقے اور آپ کے لائے ہوئے کھلے حق سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کے سوا دوسری راہوں پہ چلنے والے اس دن بڑے ہی نادم ہونگے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ چبائیں گے۔
گو اس کا نزول عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر ایسے ظالم کو شامل ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» [33-الأحزاب:66-67] ” پس ہر ظالم قیامت کے دن پچھتائے گا، اپنے ہاتھوں کو چبائے گا اور آہ و زاری کر کے کہے گا: کاش! کہ میں نے نبی کی راہ اپنائی ہوتی۔ کاش! کہ میں نے فلاں کی عقیدت مندی نہ کی ہوتی۔ جس نے مجھے راہ حق سے گمراہ کر دیا۔ “
امیہ بن خلف کا اور اس کے بھائی ابی بن خلف کا بھی یہی حال ہو گا اور ان کے سوا اور بھی ایسے لوگوں کا یہ حال ہو گا۔ کہے گا کہ اس نے مجھے ذکر یعنی قرآن سے بیگانہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہے، وہ اسے ناحق کی طرف بلاتا ہے اور حق سے ہٹا دیتا ہے۔
صفحہ نمبر6043
فیصلوں کا دن ٭٭
قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے، ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی شامل ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی، پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے: «هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ» [2-البقرة:210] یعنی کہ ” انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ تمام جانور، چوپائے، درندے، پرندے اور کل مخلوق وہاں ہو گی پھر آسمان اول پھٹے گا اور اس کے فرشتے اتریں گے جو تمام مخلوق کو دو طرف سے گھیرلیں گے اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہوں گے۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے فرشتے بھی آئیں گے جو زمین کی اور آسمان اول کی تمام مخلوق کی گنتی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر تیسرا آسمان شق ہو گا اس کے فرشتے بھی، دونوں آسمانوں کے فرشتے مل کر زمین کی مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، سب کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح چوتھا پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں۔ پھر ہمارا رب عز و جل ابر کے سائے میں تشریف لائے گا، اس کے اردگرد بزرگ تر پاک فرشتے ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کی کل مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، ان پر سینگوں جیسے نشان ہونگے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ کی تسبیح و تہلیل و تقدس بیان کریں گے، ان کے تلوے سے لے کر ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کا راستہ ہو گا اور ٹخنے سے گھٹنے تک کا بھی اتنا ہی۔ اور گھٹنے سے ناف تک کا بھی اتنا فاصلہ ہو گا۔ اور ناف سے گردن کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور گردن سے کان کی لو تک بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور اس کے اوپر سے سر تک کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا۔ [ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ قیامت کا نام «یَوْمَ التَّلاَقِ» اسی لیے ہے کہ اس میں زمین و آسمان والے ملیں گے، انہیں دیکھ کر پہلے تو محشر والے سمجھ لیں گے کہ ہمارا اللہ آیا۔
صفحہ نمبر6040
لیکن فرشتے سمجھا دیں گے کہ وہ آنے والا ہے، ابھی تک نازل نہیں ہوا۔ پھر جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر تشریف لائے گا جسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے جن کے ٹخنے سے گھٹنے تک ستر سال کا راستہ ہے اور ران اور مونڈھے کے درمیان بھی ستر سال کا راستہ ہے۔ ہر فرشتہ دوسرے سے علیحدہ اور جداگانہ ہے۔ ہر ایک کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی ہے اور زبان پر «سبُْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» کا وظیفہ ہے۔ ان کے سروں پر ایک پھیلی ہوئی چیز ہے جیسے سرخ شفق، اس کے اوپر عرش ہو گا۔ اس میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں اور بھی اس حدیث میں بہت سی خامیاں ہیں۔ صور کی مشہور حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6041
اور آیت میں ہے کہ ” اس دن ہو پڑنے والی ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ کر روئی کی طرح ہو جائے گا۔ اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے لیے ہوں گے۔ “ [69-الحاقة:15-17]
شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکّ الْحَمْدُ عَلیٰ حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے، تو قابل ستائش و تعریف ہے۔ باوجود علم کے پھر بھی بردباری برتنا تیرا وصف ہے جس پر ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اور چار کی تسبیح یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلیٰ عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے تیرے ہی لیے سب تعریف ہے کہ تو باوجود قدرت کے معاف فرماتا رہتا ہے۔
ابوبکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرش کو اترتا دیکھ کر اہل محشر کی آنکھیں پھٹ جائیں گی، جسم کانپ اٹھیں گے، دل لرز جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ عز و جل مخلوق کی طرف اترے گا تو درمیان میں ستر ہزار پردے ہوں گے۔ بعض نور کے، بعض ظلمت کے۔ اس ظلمت میں سے ایک ایسی آواز نکلے گی جس سے دل پاش پاش ہو جائیں گے۔ شاید ان کی یہ روایت انہی دو تھیلوں میں سے لی ہوئی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6042
اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [40-غافر:16] ” آج ملک کس کے لیے ہے؟ صرف اللہ غالب و قہار کے لیے۔ “
صحیح حدیث میں ہے: اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں مالک ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ [صحیح بخاری:7413]
وہ دن کفار پر بڑا بھاری پڑا ہو گا۔ اسی کا بیان اور جگہ بھی ہے کہ کافروں پر وہ دن گراں گزرے گا۔ [74-المدثر:9-10]
ہاں مومنوں کو اس دن مطلق گھبراہٹ یا پریشانی نہ ہو گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پچاس ہزار سال کا دن تو بہت ہی دراز ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مومنوں پر تو وہ ایک وقت کی فرض نماز سے بھی ہلکا اور آسان ہو گا۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
پیغمبر علیہ السلام کے طریقے اور آپ کے لائے ہوئے کھلے حق سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کے سوا دوسری راہوں پہ چلنے والے اس دن بڑے ہی نادم ہونگے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ چبائیں گے۔
گو اس کا نزول عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر ایسے ظالم کو شامل ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» [33-الأحزاب:66-67] ” پس ہر ظالم قیامت کے دن پچھتائے گا، اپنے ہاتھوں کو چبائے گا اور آہ و زاری کر کے کہے گا: کاش! کہ میں نے نبی کی راہ اپنائی ہوتی۔ کاش! کہ میں نے فلاں کی عقیدت مندی نہ کی ہوتی۔ جس نے مجھے راہ حق سے گمراہ کر دیا۔ “
امیہ بن خلف کا اور اس کے بھائی ابی بن خلف کا بھی یہی حال ہو گا اور ان کے سوا اور بھی ایسے لوگوں کا یہ حال ہو گا۔ کہے گا کہ اس نے مجھے ذکر یعنی قرآن سے بیگانہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہے، وہ اسے ناحق کی طرف بلاتا ہے اور حق سے ہٹا دیتا ہے۔
صفحہ نمبر6043
فیصلوں کا دن ٭٭
قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے، ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی شامل ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی، پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے: «هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ» [2-البقرة:210] یعنی کہ ” انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ تمام جانور، چوپائے، درندے، پرندے اور کل مخلوق وہاں ہو گی پھر آسمان اول پھٹے گا اور اس کے فرشتے اتریں گے جو تمام مخلوق کو دو طرف سے گھیرلیں گے اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہوں گے۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے فرشتے بھی آئیں گے جو زمین کی اور آسمان اول کی تمام مخلوق کی گنتی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر تیسرا آسمان شق ہو گا اس کے فرشتے بھی، دونوں آسمانوں کے فرشتے مل کر زمین کی مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، سب کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح چوتھا پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں۔ پھر ہمارا رب عز و جل ابر کے سائے میں تشریف لائے گا، اس کے اردگرد بزرگ تر پاک فرشتے ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کی کل مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، ان پر سینگوں جیسے نشان ہونگے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ کی تسبیح و تہلیل و تقدس بیان کریں گے، ان کے تلوے سے لے کر ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کا راستہ ہو گا اور ٹخنے سے گھٹنے تک کا بھی اتنا ہی۔ اور گھٹنے سے ناف تک کا بھی اتنا فاصلہ ہو گا۔ اور ناف سے گردن کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور گردن سے کان کی لو تک بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور اس کے اوپر سے سر تک کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا۔ [ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ قیامت کا نام «یَوْمَ التَّلاَقِ» اسی لیے ہے کہ اس میں زمین و آسمان والے ملیں گے، انہیں دیکھ کر پہلے تو محشر والے سمجھ لیں گے کہ ہمارا اللہ آیا۔
صفحہ نمبر6040
لیکن فرشتے سمجھا دیں گے کہ وہ آنے والا ہے، ابھی تک نازل نہیں ہوا۔ پھر جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر تشریف لائے گا جسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے جن کے ٹخنے سے گھٹنے تک ستر سال کا راستہ ہے اور ران اور مونڈھے کے درمیان بھی ستر سال کا راستہ ہے۔ ہر فرشتہ دوسرے سے علیحدہ اور جداگانہ ہے۔ ہر ایک کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی ہے اور زبان پر «سبُْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» کا وظیفہ ہے۔ ان کے سروں پر ایک پھیلی ہوئی چیز ہے جیسے سرخ شفق، اس کے اوپر عرش ہو گا۔ اس میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں اور بھی اس حدیث میں بہت سی خامیاں ہیں۔ صور کی مشہور حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6041
اور آیت میں ہے کہ ” اس دن ہو پڑنے والی ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ کر روئی کی طرح ہو جائے گا۔ اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے لیے ہوں گے۔ “ [69-الحاقة:15-17]
شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکّ الْحَمْدُ عَلیٰ حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے، تو قابل ستائش و تعریف ہے۔ باوجود علم کے پھر بھی بردباری برتنا تیرا وصف ہے جس پر ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اور چار کی تسبیح یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلیٰ عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے تیرے ہی لیے سب تعریف ہے کہ تو باوجود قدرت کے معاف فرماتا رہتا ہے۔
ابوبکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرش کو اترتا دیکھ کر اہل محشر کی آنکھیں پھٹ جائیں گی، جسم کانپ اٹھیں گے، دل لرز جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ عز و جل مخلوق کی طرف اترے گا تو درمیان میں ستر ہزار پردے ہوں گے۔ بعض نور کے، بعض ظلمت کے۔ اس ظلمت میں سے ایک ایسی آواز نکلے گی جس سے دل پاش پاش ہو جائیں گے۔ شاید ان کی یہ روایت انہی دو تھیلوں میں سے لی ہوئی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6042
اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [40-غافر:16] ” آج ملک کس کے لیے ہے؟ صرف اللہ غالب و قہار کے لیے۔ “
صحیح حدیث میں ہے: اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں مالک ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ [صحیح بخاری:7413]
وہ دن کفار پر بڑا بھاری پڑا ہو گا۔ اسی کا بیان اور جگہ بھی ہے کہ کافروں پر وہ دن گراں گزرے گا۔ [74-المدثر:9-10]
ہاں مومنوں کو اس دن مطلق گھبراہٹ یا پریشانی نہ ہو گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پچاس ہزار سال کا دن تو بہت ہی دراز ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مومنوں پر تو وہ ایک وقت کی فرض نماز سے بھی ہلکا اور آسان ہو گا۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
پیغمبر علیہ السلام کے طریقے اور آپ کے لائے ہوئے کھلے حق سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کے سوا دوسری راہوں پہ چلنے والے اس دن بڑے ہی نادم ہونگے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ چبائیں گے۔
گو اس کا نزول عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر ایسے ظالم کو شامل ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» [33-الأحزاب:66-67] ” پس ہر ظالم قیامت کے دن پچھتائے گا، اپنے ہاتھوں کو چبائے گا اور آہ و زاری کر کے کہے گا: کاش! کہ میں نے نبی کی راہ اپنائی ہوتی۔ کاش! کہ میں نے فلاں کی عقیدت مندی نہ کی ہوتی۔ جس نے مجھے راہ حق سے گمراہ کر دیا۔ “
امیہ بن خلف کا اور اس کے بھائی ابی بن خلف کا بھی یہی حال ہو گا اور ان کے سوا اور بھی ایسے لوگوں کا یہ حال ہو گا۔ کہے گا کہ اس نے مجھے ذکر یعنی قرآن سے بیگانہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہے، وہ اسے ناحق کی طرف بلاتا ہے اور حق سے ہٹا دیتا ہے۔
صفحہ نمبر6043
فیصلوں کا دن ٭٭
قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے، ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی شامل ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی، پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے: «هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ» [2-البقرة:210] یعنی کہ ” انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ تمام جانور، چوپائے، درندے، پرندے اور کل مخلوق وہاں ہو گی پھر آسمان اول پھٹے گا اور اس کے فرشتے اتریں گے جو تمام مخلوق کو دو طرف سے گھیرلیں گے اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہوں گے۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے فرشتے بھی آئیں گے جو زمین کی اور آسمان اول کی تمام مخلوق کی گنتی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر تیسرا آسمان شق ہو گا اس کے فرشتے بھی، دونوں آسمانوں کے فرشتے مل کر زمین کی مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، سب کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح چوتھا پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں۔ پھر ہمارا رب عز و جل ابر کے سائے میں تشریف لائے گا، اس کے اردگرد بزرگ تر پاک فرشتے ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کی کل مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، ان پر سینگوں جیسے نشان ہونگے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ کی تسبیح و تہلیل و تقدس بیان کریں گے، ان کے تلوے سے لے کر ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کا راستہ ہو گا اور ٹخنے سے گھٹنے تک کا بھی اتنا ہی۔ اور گھٹنے سے ناف تک کا بھی اتنا فاصلہ ہو گا۔ اور ناف سے گردن کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور گردن سے کان کی لو تک بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور اس کے اوپر سے سر تک کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا۔ [ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ قیامت کا نام «یَوْمَ التَّلاَقِ» اسی لیے ہے کہ اس میں زمین و آسمان والے ملیں گے، انہیں دیکھ کر پہلے تو محشر والے سمجھ لیں گے کہ ہمارا اللہ آیا۔
صفحہ نمبر6040
لیکن فرشتے سمجھا دیں گے کہ وہ آنے والا ہے، ابھی تک نازل نہیں ہوا۔ پھر جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر تشریف لائے گا جسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے جن کے ٹخنے سے گھٹنے تک ستر سال کا راستہ ہے اور ران اور مونڈھے کے درمیان بھی ستر سال کا راستہ ہے۔ ہر فرشتہ دوسرے سے علیحدہ اور جداگانہ ہے۔ ہر ایک کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی ہے اور زبان پر «سبُْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» کا وظیفہ ہے۔ ان کے سروں پر ایک پھیلی ہوئی چیز ہے جیسے سرخ شفق، اس کے اوپر عرش ہو گا۔ اس میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں اور بھی اس حدیث میں بہت سی خامیاں ہیں۔ صور کی مشہور حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6041
اور آیت میں ہے کہ ” اس دن ہو پڑنے والی ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ کر روئی کی طرح ہو جائے گا۔ اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے لیے ہوں گے۔ “ [69-الحاقة:15-17]
شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکّ الْحَمْدُ عَلیٰ حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے، تو قابل ستائش و تعریف ہے۔ باوجود علم کے پھر بھی بردباری برتنا تیرا وصف ہے جس پر ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اور چار کی تسبیح یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلیٰ عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے تیرے ہی لیے سب تعریف ہے کہ تو باوجود قدرت کے معاف فرماتا رہتا ہے۔
ابوبکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرش کو اترتا دیکھ کر اہل محشر کی آنکھیں پھٹ جائیں گی، جسم کانپ اٹھیں گے، دل لرز جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ عز و جل مخلوق کی طرف اترے گا تو درمیان میں ستر ہزار پردے ہوں گے۔ بعض نور کے، بعض ظلمت کے۔ اس ظلمت میں سے ایک ایسی آواز نکلے گی جس سے دل پاش پاش ہو جائیں گے۔ شاید ان کی یہ روایت انہی دو تھیلوں میں سے لی ہوئی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6042
اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [40-غافر:16] ” آج ملک کس کے لیے ہے؟ صرف اللہ غالب و قہار کے لیے۔ “
صحیح حدیث میں ہے: اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں مالک ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ [صحیح بخاری:7413]
وہ دن کفار پر بڑا بھاری پڑا ہو گا۔ اسی کا بیان اور جگہ بھی ہے کہ کافروں پر وہ دن گراں گزرے گا۔ [74-المدثر:9-10]
ہاں مومنوں کو اس دن مطلق گھبراہٹ یا پریشانی نہ ہو گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پچاس ہزار سال کا دن تو بہت ہی دراز ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مومنوں پر تو وہ ایک وقت کی فرض نماز سے بھی ہلکا اور آسان ہو گا۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
پیغمبر علیہ السلام کے طریقے اور آپ کے لائے ہوئے کھلے حق سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کے سوا دوسری راہوں پہ چلنے والے اس دن بڑے ہی نادم ہونگے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ چبائیں گے۔
گو اس کا نزول عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر ایسے ظالم کو شامل ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» [33-الأحزاب:66-67] ” پس ہر ظالم قیامت کے دن پچھتائے گا، اپنے ہاتھوں کو چبائے گا اور آہ و زاری کر کے کہے گا: کاش! کہ میں نے نبی کی راہ اپنائی ہوتی۔ کاش! کہ میں نے فلاں کی عقیدت مندی نہ کی ہوتی۔ جس نے مجھے راہ حق سے گمراہ کر دیا۔ “
امیہ بن خلف کا اور اس کے بھائی ابی بن خلف کا بھی یہی حال ہو گا اور ان کے سوا اور بھی ایسے لوگوں کا یہ حال ہو گا۔ کہے گا کہ اس نے مجھے ذکر یعنی قرآن سے بیگانہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہے، وہ اسے ناحق کی طرف بلاتا ہے اور حق سے ہٹا دیتا ہے۔
صفحہ نمبر6043
شکایت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
قیامت والے دن اللہ کے سچے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی شکایت جناب باری تعالیٰ میں کریں گے کہ نہ یہ لوگ قرآن کی طرف مائل تھے، نہ رغبت سے قبولیت کے ساتھ سنتے تھے بلکہ اوروں کو بھی اس کے سننے سے روکتے تھے۔ جیسے کہ کفار کا مقولہ خود قرآن میں ہے کہ وہ کہتے تھے «وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ» [41-فصلت:26] ” اس قرآن کو نہ سنو اور اس کے پڑھے جانے کے وقت شور و غل کرو۔ “
یہی اس کا چھوڑ رکھنا تھا۔ نہ اس پر ایمان لاتے تھے، نہ اسے سچا جانتے تھے، نہ اس پر غور و فکر کرتے تھے، نہ ہی اسے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ نہ اس پر عمل تھا، نہ اس کے احکام کو بجا لاتے تھے، نہ اس کے منع کردہ کاموں سے رکتے تھے بلکہ اس کے سوا اور کاموں میں مشغول و منہمک رہتے تھے جیسے شعر، اشعار، غزلیات، باجے، گانے، راگ، راگنیاں، اسی طرح اور لوگوں کے کلام سے دلچسپی لیتے تھے اور ان پر عامل تھے، یہی اسے چھوڑ دینا تھا۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کریم و منان، جو ہر چیز پر قادر ہے، ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے ناپسندیدہ کاموں سے دست بردار ہو جائیں اور اس کے پسندیدہ کاموں کی طرف جھک جائیں۔ وہ ہمیں اپنے کلام کی سمجھ دے اور دن رات اس پر عمل کرنے کی ہدایت دے، جس سے وہ خوش ہو۔ وہ کریم و وہاب ہے۔
صفحہ نمبر6048
پھر فرمایا: جس طرح اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی قوم میں قرآن کو نظر انداز کر دینے والے لوگ ہیں۔ اسی طرح اگلی امتوں میں بھی ایسے لوگ تھے جو خود کفر کر کے دوسروں کو اپنے کفر میں شریک کار کرتے تھے اور اپنی گمراہی کے پھیلانے کی فکر میں لگے رہتے تھے۔
جیسے فرمان ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ» [6-الأنعام:112] یعنی ” اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن شیاطین و انسان بنا دئیے ہیں۔ “
صفحہ نمبر6049
پھر فرمایا: جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرے، کتاب اللہ پر ایمان لائے، اللہ کی وحی پر یقین کرے، اس کا ہادی اور ناصر خود اللہ تعالیٰ ہے۔
مشرکوں کی جو خصلت اوپر بیان ہوئی، اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ لوگوں کو ہدایت پر نہ آنے دیں اور آپ مسلمانوں پر غالب رہیں۔ اس لیے قرآن نے فیصلہ کیا کہ یہ نامراد ہی رہیں گے۔ اللہ اپنے نیک بندوں کو خود ہدایت کرے گا اور مسلمان کی خود مدد کرے گا۔ یہ معاملہ اور ایسوں کا مقابلہ کچھ تجھ سے ہی نہیں، تمام اگلے نبیوں کے ساتھ یہی ہوتا رہا ہے۔
صفحہ نمبر6050