John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Furqaan

Tafsir Ibn Kathir · The Criterion · 77 ayat · ayat 61–77 · Quran text →

اللہ تعالٰی کی رفعت و عظمت ٭٭

اللہ تعالیٰ کی بڑائی، عظمت، رفعت کو دیکھو کہ اس نے آسمان میں برج بنائے۔ اس سے مراد یا تو بڑے بڑے ستارے ہیں یا چوکیداری کے برج ہیں۔ پہلا قول زیادہ ظاہر ہے اور ہوسکتا ہے کہ بڑے بڑے ستاروں سے مراد بھی یہی برج ہوں۔

اور آیت میں ہے: آسمان دنیا کو ہم نے ستاروں کے ساتھ مزین بنایا۔ سراج سے مراد سورج ہے، جو چمکتا رہتا ہے اور مثل چراغ کے ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا» [78-النبأ:13] ‏ ” اور ہم نے روشن چراغ یعنی سورج بنایا۔ “

اور چاند بنایا جو منور اور روشن ہے، دوسرے نور سے جو سورج کے سوا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” اس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو نور بنایا۔ “ [10-يونس:5] ‏

نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا: «اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا» [71-نوح:15-16] ‏ ” کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمان پیدا کیے اور ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو چراغ بنایا۔ “

دن رات کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اس کی قدرت کا نظام ہے۔ یہ جاتا ہے، وہ آتا ہے۔ اس کا جانا اس کا آنا ہے۔ جیسے فرمان ہے: اس نے تمہارے لیے سورج، چاند پے در پے آنے جانے والے بنائے ہیں۔ اور جگہ ہے: رات دن کو ڈھانپ لیتی ہے اور جلدی جلدی اسے طلب کرتی آتی ہے۔ نہ سورج چاند سے آگے بڑھ سکے، نہ رات دن سے سبقت لے سکے۔ اسی سے اس کے بندوں کو اس کی عبادتوں کے وقت معلوم ہوتے ہیں۔ رات کا فوت شدہ عمل دن میں پورا کر لیں، دن کا رہ گیا ہوا عمل رات کو ادا کر لیں۔ صحیح حدیث شریف میں ہے: اللہ تعالیٰ رات کو اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گنہگار توبہ کر لے اور دن کو ہاتھ پھیلاتا ہے کہ رات کا گنہگار توبہ کر لے۔ [صحیح مسلم:2759] ‏

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک دن ضحیٰ کی نماز میں بڑی دیر لگا دی۔ سوال پر فرمایا کہ رات کا کچھ میرا وظیفہ باقی رہ گیا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے پورا کر لوں یا قضاء کر لوں۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ «خِلْفَةً» کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مختلف یعنی دن روشن، رات تاریک۔ اس میں اجالا، اس میں اندھیرا۔ یہ نورانی اور وہ ظلماتی۔

صفحہ نمبر6092

اللہ تعالٰی کی رفعت و عظمت ٭٭

اللہ تعالیٰ کی بڑائی، عظمت، رفعت کو دیکھو کہ اس نے آسمان میں برج بنائے۔ اس سے مراد یا تو بڑے بڑے ستارے ہیں یا چوکیداری کے برج ہیں۔ پہلا قول زیادہ ظاہر ہے اور ہوسکتا ہے کہ بڑے بڑے ستاروں سے مراد بھی یہی برج ہوں۔

اور آیت میں ہے: آسمان دنیا کو ہم نے ستاروں کے ساتھ مزین بنایا۔ سراج سے مراد سورج ہے، جو چمکتا رہتا ہے اور مثل چراغ کے ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا» [78-النبأ:13] ‏ ” اور ہم نے روشن چراغ یعنی سورج بنایا۔ “

اور چاند بنایا جو منور اور روشن ہے، دوسرے نور سے جو سورج کے سوا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” اس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو نور بنایا۔ “ [10-يونس:5] ‏

نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا: «اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا» [71-نوح:15-16] ‏ ” کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمان پیدا کیے اور ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو چراغ بنایا۔ “

دن رات کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اس کی قدرت کا نظام ہے۔ یہ جاتا ہے، وہ آتا ہے۔ اس کا جانا اس کا آنا ہے۔ جیسے فرمان ہے: اس نے تمہارے لیے سورج، چاند پے در پے آنے جانے والے بنائے ہیں۔ اور جگہ ہے: رات دن کو ڈھانپ لیتی ہے اور جلدی جلدی اسے طلب کرتی آتی ہے۔ نہ سورج چاند سے آگے بڑھ سکے، نہ رات دن سے سبقت لے سکے۔ اسی سے اس کے بندوں کو اس کی عبادتوں کے وقت معلوم ہوتے ہیں۔ رات کا فوت شدہ عمل دن میں پورا کر لیں، دن کا رہ گیا ہوا عمل رات کو ادا کر لیں۔ صحیح حدیث شریف میں ہے: اللہ تعالیٰ رات کو اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گنہگار توبہ کر لے اور دن کو ہاتھ پھیلاتا ہے کہ رات کا گنہگار توبہ کر لے۔ [صحیح مسلم:2759] ‏

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک دن ضحیٰ کی نماز میں بڑی دیر لگا دی۔ سوال پر فرمایا کہ رات کا کچھ میرا وظیفہ باقی رہ گیا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے پورا کر لوں یا قضاء کر لوں۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ «خِلْفَةً» کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مختلف یعنی دن روشن، رات تاریک۔ اس میں اجالا، اس میں اندھیرا۔ یہ نورانی اور وہ ظلماتی۔

صفحہ نمبر6092

مومنوں کا کردار ٭٭

اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم و ستم نہیں کرتے۔

جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر مریضوں کی طرح قدم قدم چلنا۔ یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لیے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اس کے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔

سلف صالحین نے بیماروں کی سی تکلف والی چال کو مکروہ فرمایا ہے۔

صفحہ نمبر6094

فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تو کچھ بیمار ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر یہ کیا چال ہے؟ خبردار! جو اب اس طرح چلا تو کوڑے کھائے گا۔ طاقت کے ساتھ جلدی جلدی چلا کرو۔ پس یہاں مراد تسکین اور وقار کے ساتھ شریفانہ چال چلنا ہے، نہ کہ ضعیفانہ اور مریضانہ۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تسکین کے ساتھ آؤ۔ جو جماعت کے ساتھ مل جائے، ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے، پوری کر لو۔ [صحیح بخاری:636] ‏

امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نہایت ہی عمدہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ مومنوں کی آنکھیں اور ان کے کان اور ان کے اعضاء جھکے ہوئے اور رکے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ گنوار اور بےوقوف لوگ انہیں بیمار سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الٰہی سے جھکے جاتے ہیں۔ ویسے پورے تندرست ہیں لیکن دل اللہ کے خوف سے پر ہیں۔ آخرت کا علم دنیا طلبی سے اور یہاں کے ٹھاٹھ سے انہیں روکے ہوئے ہے۔ یہ قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کا غم لگا رہتا تھا، نہیں نہیں، اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی غم ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہاں انہیں آخرت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا تھا۔ جنت کے کسی کام کو وہ بھاری نہیں سمجھتے تھے، ہاں جہنم کا خوف انہیں رلاتا رہتا تھا۔ جو شخص اللہ کے خوف دلانے سے بھی خوف نہ کھائے، اس کا نفس حسرتوں کا مالک ہے۔ جو شخص کھانے پینے کو ہی اللہ کی نعمت سمجھے، وہ کم علم ہے اور عذابوں میں پھنسا ہوا ہے۔ پھر اپنے نیک بندوں کا اور وصف بیان فرمایا کہ جب جاہل لوگ ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں اور سوائے بھلی بات کے، گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جوں جوں دوسرا آپ پر تیز ہوتا، آپ اتنے ہی نرم ہوتے۔ یہی وصف قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے «وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» [28-القصص:55] ‏ ” مومن لوگ بے ہودہ باتیں سن کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ “

صفحہ نمبر6095

ایک حسن سند سے مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو برا بھلا کہا لیکن اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تجھ پر سلام ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کے درمیان فرشتہ موجود تھا، وہ تیری طرف سے گالیاں دینے والے کو جواب دیتا تھا۔ وہ جو گالی تجھے دیتا تھا، فرشتہ کہتا تھا یہ نہیں بلکہ تو۔ اور جب تو کہتا تھا تجھ پر سلام تو فرشتہ کہتا تھا اس پر نہیں بلکہ تجھ پر، تو ہی سلامتی کو پورا حق دار ہے۔ [مسند احمد:445/5:حسن لغیرہ] ‏

پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے، سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا ان پر ظلم کرے، یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ دن اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کی کڑوی کسیلی سن لیتے ہیں۔ رات کو جس حالت میں گزارتے ہیں، اس کا بیان اگلی آیت میں ہے۔

صفحہ نمبر6096

فرماتا ہے کہ رات اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں بسر ہوتی ہے، بہت کم سوتے ہیں۔ صبح کو استغفار کرتے ہیں، کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ امید رحمت ہوتی ہے اور راتوں کی گھڑیوں کو اللہ کی عبادتوں میں گزارتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ! عذاب جہنم ہم سے دور رکھ، وہ تو دائمی اور لازمی عذاب ہے۔

جیسے شاعر نے اللہ کی شان بتائی ہے کہ «اِنْ یُعَذِّبْ یَکُنْ غَرَامًا وَ اِنْ یُّعْطِ جَزِیْلًا فَاِنَّہُ لَا یُبَالِی»

یعنی اس کے عذاب بھی سخت اور لازمی اور ابدی۔ اور اس کی عطا اور انعام بھی بے حد، ان گنت اور بے حساب۔ جو چیز آئے اور ہٹ جائے وہ غرام نہیں۔ غرام وہ ہے جو آنے کے بعد ہٹنے اور دور ہونے کا نام ہی نہ لے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ عذاب جہنم تاوان ہے جو کفران نعمت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے اللہ کے دیئے کو اس کی راہ میں نہیں لگایا لہٰذا آج اس کا تاوان یہ بھرنا پڑے گا جہنم کو پر کر دیں۔ وہ بری جگہ ہے، بدمنظر ہے، تکلیف دہ ہے، مصیبت ناک ہے۔

صفحہ نمبر6097

مالک بن حارث رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب دوزخی کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کتنی مدت تک وہ نیچے ہی نیچے چلا جائے گا۔ اس کے بعد جہنم کے ایک دروازے پر اسے روک دیا جائے گا اور کہا جائے گا: تم بہت پیاسے ہو رہے ہو گے، لو ایک جام تو نوش کر لو۔ یہ کہہ کر انہیں کالے ناگ اور زہریلے بچھوؤں کے زہر کا ایک پیالہ پلا دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ان کی کھالیں الگ جھڑ جائیں گی، بال الگ ہو جائیں گے، رگیں الگ جا پڑیں گی، ہڈیاں جدا جدا ہو جائیں گی۔

عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہنم میں گڑھے ہیں، کنویں ہیں۔ ان میں سانپ ہیں جیسے بختی اونٹ اور بچھو ہیں جیسے خچر۔ جب کسی جہنمی کو جہنم میں ڈالا جاتا ہے تو وہ وہاں سے نکل کر آتے اور انہیں لپٹ جاتے ہیں، ہونٹوں پر، سروں پر اور جسم کے اور حصوں پر ڈستے اور ڈنک مارتے ہیں۔ جس سے ان کے سارے بدن میں زہر پھیل جاتا ہے اور پھکنے لگتے ہیں۔ سارے سر کی کھال جھلس کر گر پڑتی ہے پھر وہ سانپ چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جہنمی ایک ہزار سال تک جہنم میں چلاتا رہے گا «یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ» تب اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ دیکھو، یہ کیا کہہ رہا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آ کر دیکھیں گے کہ سب جہنمی برے حال سر جھکائے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ جا کر جناب باری تعالیٰ میں خبر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر جاؤ، فلاں فلاں جگہ یہ شخص ہے، جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ بحکم الٰہی جائیں گے اور اسے لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو کیسی جگہ پر ہے؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! ٹھہرنے کی بری جگہ اور سونے بیٹھے کی بھی بدترین جگہ ہے۔ اللہ فرمائے گا: اچھا اب اسے اس کی جگہ واپس لے جاؤ تو یہ گڑگڑائے گا، عرض کرے گا کہ اے میرے ارحم الراحمین اللہ! جب تو نے مجھے اس سے باہر نکالا تو تیری ذات ایسی نہیں کہ پھر مجھے اس میں داخل کر دے، مجھے تو تجھ سے رحم و کرم کی ہی امید ہے۔ اے اللہ! بس اب مجھ پر کرم فرما۔ جب تو نے مجھے جہنم سے نکالا تو میں خوش ہو گیا تھا کہ اب تو اس میں نہ ڈالے گا۔ اس مالک و رحمن و رحیم اللہ کو بھی رحم آ جائے گا اور فرمائے گا: اچھا میرے بندے کو چھوڑ دو۔ [مسند احمد:230/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6098

پھر ان کا ایک اور وصف بیان ہوتا ہے کہ نہ تو وہ مسرف ہیں، نہ بخیل ہیں، نہ بےجا خرچ کرتے ہیں، نہ ضروری اخراجات میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔ نہ ہی ایسا کرتے ہیں کہ اپنے والوں کو، اہل و عیال کو بھی تنگ رکھیں، نہ ایسا کرتے ہیں کہ جو ہو سب لٹا دیں۔

اسی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرماتا ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» [17-الإسراء:29] ‏ یعنی ” نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ اور نہ انہیں بالکل ہی چھوڑ دے۔ “

مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اپنی گزران میں میانہ روی کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے۔ [مسند احمد:194/5:ضعیف] ‏

اور حدیث میں ہے: جو افراط تفریط سے بچتا ہے، وہ کبھی فقیر محتاج نہیں ہوتا۔ [مسند احمد:447/1:ضعیف] ‏

بزار کی حدیث میں ہے کہ امیری میں، فقیری میں، عبادت میں میانہ روی بڑی ہی بہتر اور احسن چیز ہے۔ [مسند بزار:3604:ضعیف] ‏

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں کتنا ہی چاہو دو، اس کا نام اسراف نہیں ہے۔ ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کہیں تو حکم اللہ سے آگے بڑھ جائے، وہی اسراف ہے۔ اور بزرگوں کا قول ہے: اللہ کی نافرمانی کا خرچ اسراف کہلاتا ہے۔

صفحہ نمبر6099

مومنوں کا کردار ٭٭

اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم و ستم نہیں کرتے۔

جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر مریضوں کی طرح قدم قدم چلنا۔ یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لیے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اس کے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔

سلف صالحین نے بیماروں کی سی تکلف والی چال کو مکروہ فرمایا ہے۔

صفحہ نمبر6094

فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تو کچھ بیمار ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر یہ کیا چال ہے؟ خبردار! جو اب اس طرح چلا تو کوڑے کھائے گا۔ طاقت کے ساتھ جلدی جلدی چلا کرو۔ پس یہاں مراد تسکین اور وقار کے ساتھ شریفانہ چال چلنا ہے، نہ کہ ضعیفانہ اور مریضانہ۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تسکین کے ساتھ آؤ۔ جو جماعت کے ساتھ مل جائے، ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے، پوری کر لو۔ [صحیح بخاری:636] ‏

امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نہایت ہی عمدہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ مومنوں کی آنکھیں اور ان کے کان اور ان کے اعضاء جھکے ہوئے اور رکے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ گنوار اور بےوقوف لوگ انہیں بیمار سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الٰہی سے جھکے جاتے ہیں۔ ویسے پورے تندرست ہیں لیکن دل اللہ کے خوف سے پر ہیں۔ آخرت کا علم دنیا طلبی سے اور یہاں کے ٹھاٹھ سے انہیں روکے ہوئے ہے۔ یہ قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کا غم لگا رہتا تھا، نہیں نہیں، اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی غم ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہاں انہیں آخرت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا تھا۔ جنت کے کسی کام کو وہ بھاری نہیں سمجھتے تھے، ہاں جہنم کا خوف انہیں رلاتا رہتا تھا۔ جو شخص اللہ کے خوف دلانے سے بھی خوف نہ کھائے، اس کا نفس حسرتوں کا مالک ہے۔ جو شخص کھانے پینے کو ہی اللہ کی نعمت سمجھے، وہ کم علم ہے اور عذابوں میں پھنسا ہوا ہے۔ پھر اپنے نیک بندوں کا اور وصف بیان فرمایا کہ جب جاہل لوگ ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں اور سوائے بھلی بات کے، گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جوں جوں دوسرا آپ پر تیز ہوتا، آپ اتنے ہی نرم ہوتے۔ یہی وصف قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے «وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» [28-القصص:55] ‏ ” مومن لوگ بے ہودہ باتیں سن کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ “

صفحہ نمبر6095

ایک حسن سند سے مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو برا بھلا کہا لیکن اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تجھ پر سلام ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کے درمیان فرشتہ موجود تھا، وہ تیری طرف سے گالیاں دینے والے کو جواب دیتا تھا۔ وہ جو گالی تجھے دیتا تھا، فرشتہ کہتا تھا یہ نہیں بلکہ تو۔ اور جب تو کہتا تھا تجھ پر سلام تو فرشتہ کہتا تھا اس پر نہیں بلکہ تجھ پر، تو ہی سلامتی کو پورا حق دار ہے۔ [مسند احمد:445/5:حسن لغیرہ] ‏

پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے، سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا ان پر ظلم کرے، یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ دن اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کی کڑوی کسیلی سن لیتے ہیں۔ رات کو جس حالت میں گزارتے ہیں، اس کا بیان اگلی آیت میں ہے۔

صفحہ نمبر6096

فرماتا ہے کہ رات اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں بسر ہوتی ہے، بہت کم سوتے ہیں۔ صبح کو استغفار کرتے ہیں، کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ امید رحمت ہوتی ہے اور راتوں کی گھڑیوں کو اللہ کی عبادتوں میں گزارتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ! عذاب جہنم ہم سے دور رکھ، وہ تو دائمی اور لازمی عذاب ہے۔

جیسے شاعر نے اللہ کی شان بتائی ہے کہ «اِنْ یُعَذِّبْ یَکُنْ غَرَامًا وَ اِنْ یُّعْطِ جَزِیْلًا فَاِنَّہُ لَا یُبَالِی»

یعنی اس کے عذاب بھی سخت اور لازمی اور ابدی۔ اور اس کی عطا اور انعام بھی بے حد، ان گنت اور بے حساب۔ جو چیز آئے اور ہٹ جائے وہ غرام نہیں۔ غرام وہ ہے جو آنے کے بعد ہٹنے اور دور ہونے کا نام ہی نہ لے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ عذاب جہنم تاوان ہے جو کفران نعمت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے اللہ کے دیئے کو اس کی راہ میں نہیں لگایا لہٰذا آج اس کا تاوان یہ بھرنا پڑے گا جہنم کو پر کر دیں۔ وہ بری جگہ ہے، بدمنظر ہے، تکلیف دہ ہے، مصیبت ناک ہے۔

صفحہ نمبر6097

مالک بن حارث رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب دوزخی کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کتنی مدت تک وہ نیچے ہی نیچے چلا جائے گا۔ اس کے بعد جہنم کے ایک دروازے پر اسے روک دیا جائے گا اور کہا جائے گا: تم بہت پیاسے ہو رہے ہو گے، لو ایک جام تو نوش کر لو۔ یہ کہہ کر انہیں کالے ناگ اور زہریلے بچھوؤں کے زہر کا ایک پیالہ پلا دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ان کی کھالیں الگ جھڑ جائیں گی، بال الگ ہو جائیں گے، رگیں الگ جا پڑیں گی، ہڈیاں جدا جدا ہو جائیں گی۔

عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہنم میں گڑھے ہیں، کنویں ہیں۔ ان میں سانپ ہیں جیسے بختی اونٹ اور بچھو ہیں جیسے خچر۔ جب کسی جہنمی کو جہنم میں ڈالا جاتا ہے تو وہ وہاں سے نکل کر آتے اور انہیں لپٹ جاتے ہیں، ہونٹوں پر، سروں پر اور جسم کے اور حصوں پر ڈستے اور ڈنک مارتے ہیں۔ جس سے ان کے سارے بدن میں زہر پھیل جاتا ہے اور پھکنے لگتے ہیں۔ سارے سر کی کھال جھلس کر گر پڑتی ہے پھر وہ سانپ چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جہنمی ایک ہزار سال تک جہنم میں چلاتا رہے گا «یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ» تب اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ دیکھو، یہ کیا کہہ رہا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آ کر دیکھیں گے کہ سب جہنمی برے حال سر جھکائے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ جا کر جناب باری تعالیٰ میں خبر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر جاؤ، فلاں فلاں جگہ یہ شخص ہے، جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ بحکم الٰہی جائیں گے اور اسے لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو کیسی جگہ پر ہے؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! ٹھہرنے کی بری جگہ اور سونے بیٹھے کی بھی بدترین جگہ ہے۔ اللہ فرمائے گا: اچھا اب اسے اس کی جگہ واپس لے جاؤ تو یہ گڑگڑائے گا، عرض کرے گا کہ اے میرے ارحم الراحمین اللہ! جب تو نے مجھے اس سے باہر نکالا تو تیری ذات ایسی نہیں کہ پھر مجھے اس میں داخل کر دے، مجھے تو تجھ سے رحم و کرم کی ہی امید ہے۔ اے اللہ! بس اب مجھ پر کرم فرما۔ جب تو نے مجھے جہنم سے نکالا تو میں خوش ہو گیا تھا کہ اب تو اس میں نہ ڈالے گا۔ اس مالک و رحمن و رحیم اللہ کو بھی رحم آ جائے گا اور فرمائے گا: اچھا میرے بندے کو چھوڑ دو۔ [مسند احمد:230/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6098

پھر ان کا ایک اور وصف بیان ہوتا ہے کہ نہ تو وہ مسرف ہیں، نہ بخیل ہیں، نہ بےجا خرچ کرتے ہیں، نہ ضروری اخراجات میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔ نہ ہی ایسا کرتے ہیں کہ اپنے والوں کو، اہل و عیال کو بھی تنگ رکھیں، نہ ایسا کرتے ہیں کہ جو ہو سب لٹا دیں۔

اسی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرماتا ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» [17-الإسراء:29] ‏ یعنی ” نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ اور نہ انہیں بالکل ہی چھوڑ دے۔ “

مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اپنی گزران میں میانہ روی کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے۔ [مسند احمد:194/5:ضعیف] ‏

اور حدیث میں ہے: جو افراط تفریط سے بچتا ہے، وہ کبھی فقیر محتاج نہیں ہوتا۔ [مسند احمد:447/1:ضعیف] ‏

بزار کی حدیث میں ہے کہ امیری میں، فقیری میں، عبادت میں میانہ روی بڑی ہی بہتر اور احسن چیز ہے۔ [مسند بزار:3604:ضعیف] ‏

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں کتنا ہی چاہو دو، اس کا نام اسراف نہیں ہے۔ ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کہیں تو حکم اللہ سے آگے بڑھ جائے، وہی اسراف ہے۔ اور بزرگوں کا قول ہے: اللہ کی نافرمانی کا خرچ اسراف کہلاتا ہے۔

صفحہ نمبر6099

مومنوں کا کردار ٭٭

اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم و ستم نہیں کرتے۔

جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر مریضوں کی طرح قدم قدم چلنا۔ یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لیے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اس کے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔

سلف صالحین نے بیماروں کی سی تکلف والی چال کو مکروہ فرمایا ہے۔

صفحہ نمبر6094

فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تو کچھ بیمار ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر یہ کیا چال ہے؟ خبردار! جو اب اس طرح چلا تو کوڑے کھائے گا۔ طاقت کے ساتھ جلدی جلدی چلا کرو۔ پس یہاں مراد تسکین اور وقار کے ساتھ شریفانہ چال چلنا ہے، نہ کہ ضعیفانہ اور مریضانہ۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تسکین کے ساتھ آؤ۔ جو جماعت کے ساتھ مل جائے، ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے، پوری کر لو۔ [صحیح بخاری:636] ‏

امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نہایت ہی عمدہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ مومنوں کی آنکھیں اور ان کے کان اور ان کے اعضاء جھکے ہوئے اور رکے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ گنوار اور بےوقوف لوگ انہیں بیمار سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الٰہی سے جھکے جاتے ہیں۔ ویسے پورے تندرست ہیں لیکن دل اللہ کے خوف سے پر ہیں۔ آخرت کا علم دنیا طلبی سے اور یہاں کے ٹھاٹھ سے انہیں روکے ہوئے ہے۔ یہ قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کا غم لگا رہتا تھا، نہیں نہیں، اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی غم ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہاں انہیں آخرت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا تھا۔ جنت کے کسی کام کو وہ بھاری نہیں سمجھتے تھے، ہاں جہنم کا خوف انہیں رلاتا رہتا تھا۔ جو شخص اللہ کے خوف دلانے سے بھی خوف نہ کھائے، اس کا نفس حسرتوں کا مالک ہے۔ جو شخص کھانے پینے کو ہی اللہ کی نعمت سمجھے، وہ کم علم ہے اور عذابوں میں پھنسا ہوا ہے۔ پھر اپنے نیک بندوں کا اور وصف بیان فرمایا کہ جب جاہل لوگ ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں اور سوائے بھلی بات کے، گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جوں جوں دوسرا آپ پر تیز ہوتا، آپ اتنے ہی نرم ہوتے۔ یہی وصف قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے «وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» [28-القصص:55] ‏ ” مومن لوگ بے ہودہ باتیں سن کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ “

صفحہ نمبر6095

ایک حسن سند سے مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو برا بھلا کہا لیکن اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تجھ پر سلام ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کے درمیان فرشتہ موجود تھا، وہ تیری طرف سے گالیاں دینے والے کو جواب دیتا تھا۔ وہ جو گالی تجھے دیتا تھا، فرشتہ کہتا تھا یہ نہیں بلکہ تو۔ اور جب تو کہتا تھا تجھ پر سلام تو فرشتہ کہتا تھا اس پر نہیں بلکہ تجھ پر، تو ہی سلامتی کو پورا حق دار ہے۔ [مسند احمد:445/5:حسن لغیرہ] ‏

پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے، سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا ان پر ظلم کرے، یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ دن اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کی کڑوی کسیلی سن لیتے ہیں۔ رات کو جس حالت میں گزارتے ہیں، اس کا بیان اگلی آیت میں ہے۔

صفحہ نمبر6096

فرماتا ہے کہ رات اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں بسر ہوتی ہے، بہت کم سوتے ہیں۔ صبح کو استغفار کرتے ہیں، کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ امید رحمت ہوتی ہے اور راتوں کی گھڑیوں کو اللہ کی عبادتوں میں گزارتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ! عذاب جہنم ہم سے دور رکھ، وہ تو دائمی اور لازمی عذاب ہے۔

جیسے شاعر نے اللہ کی شان بتائی ہے کہ «اِنْ یُعَذِّبْ یَکُنْ غَرَامًا وَ اِنْ یُّعْطِ جَزِیْلًا فَاِنَّہُ لَا یُبَالِی»

یعنی اس کے عذاب بھی سخت اور لازمی اور ابدی۔ اور اس کی عطا اور انعام بھی بے حد، ان گنت اور بے حساب۔ جو چیز آئے اور ہٹ جائے وہ غرام نہیں۔ غرام وہ ہے جو آنے کے بعد ہٹنے اور دور ہونے کا نام ہی نہ لے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ عذاب جہنم تاوان ہے جو کفران نعمت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے اللہ کے دیئے کو اس کی راہ میں نہیں لگایا لہٰذا آج اس کا تاوان یہ بھرنا پڑے گا جہنم کو پر کر دیں۔ وہ بری جگہ ہے، بدمنظر ہے، تکلیف دہ ہے، مصیبت ناک ہے۔

صفحہ نمبر6097

مالک بن حارث رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب دوزخی کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کتنی مدت تک وہ نیچے ہی نیچے چلا جائے گا۔ اس کے بعد جہنم کے ایک دروازے پر اسے روک دیا جائے گا اور کہا جائے گا: تم بہت پیاسے ہو رہے ہو گے، لو ایک جام تو نوش کر لو۔ یہ کہہ کر انہیں کالے ناگ اور زہریلے بچھوؤں کے زہر کا ایک پیالہ پلا دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ان کی کھالیں الگ جھڑ جائیں گی، بال الگ ہو جائیں گے، رگیں الگ جا پڑیں گی، ہڈیاں جدا جدا ہو جائیں گی۔

عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہنم میں گڑھے ہیں، کنویں ہیں۔ ان میں سانپ ہیں جیسے بختی اونٹ اور بچھو ہیں جیسے خچر۔ جب کسی جہنمی کو جہنم میں ڈالا جاتا ہے تو وہ وہاں سے نکل کر آتے اور انہیں لپٹ جاتے ہیں، ہونٹوں پر، سروں پر اور جسم کے اور حصوں پر ڈستے اور ڈنک مارتے ہیں۔ جس سے ان کے سارے بدن میں زہر پھیل جاتا ہے اور پھکنے لگتے ہیں۔ سارے سر کی کھال جھلس کر گر پڑتی ہے پھر وہ سانپ چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جہنمی ایک ہزار سال تک جہنم میں چلاتا رہے گا «یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ» تب اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ دیکھو، یہ کیا کہہ رہا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آ کر دیکھیں گے کہ سب جہنمی برے حال سر جھکائے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ جا کر جناب باری تعالیٰ میں خبر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر جاؤ، فلاں فلاں جگہ یہ شخص ہے، جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ بحکم الٰہی جائیں گے اور اسے لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو کیسی جگہ پر ہے؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! ٹھہرنے کی بری جگہ اور سونے بیٹھے کی بھی بدترین جگہ ہے۔ اللہ فرمائے گا: اچھا اب اسے اس کی جگہ واپس لے جاؤ تو یہ گڑگڑائے گا، عرض کرے گا کہ اے میرے ارحم الراحمین اللہ! جب تو نے مجھے اس سے باہر نکالا تو تیری ذات ایسی نہیں کہ پھر مجھے اس میں داخل کر دے، مجھے تو تجھ سے رحم و کرم کی ہی امید ہے۔ اے اللہ! بس اب مجھ پر کرم فرما۔ جب تو نے مجھے جہنم سے نکالا تو میں خوش ہو گیا تھا کہ اب تو اس میں نہ ڈالے گا۔ اس مالک و رحمن و رحیم اللہ کو بھی رحم آ جائے گا اور فرمائے گا: اچھا میرے بندے کو چھوڑ دو۔ [مسند احمد:230/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6098

پھر ان کا ایک اور وصف بیان ہوتا ہے کہ نہ تو وہ مسرف ہیں، نہ بخیل ہیں، نہ بےجا خرچ کرتے ہیں، نہ ضروری اخراجات میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔ نہ ہی ایسا کرتے ہیں کہ اپنے والوں کو، اہل و عیال کو بھی تنگ رکھیں، نہ ایسا کرتے ہیں کہ جو ہو سب لٹا دیں۔

اسی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرماتا ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» [17-الإسراء:29] ‏ یعنی ” نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ اور نہ انہیں بالکل ہی چھوڑ دے۔ “

مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اپنی گزران میں میانہ روی کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے۔ [مسند احمد:194/5:ضعیف] ‏

اور حدیث میں ہے: جو افراط تفریط سے بچتا ہے، وہ کبھی فقیر محتاج نہیں ہوتا۔ [مسند احمد:447/1:ضعیف] ‏

بزار کی حدیث میں ہے کہ امیری میں، فقیری میں، عبادت میں میانہ روی بڑی ہی بہتر اور احسن چیز ہے۔ [مسند بزار:3604:ضعیف] ‏

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں کتنا ہی چاہو دو، اس کا نام اسراف نہیں ہے۔ ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کہیں تو حکم اللہ سے آگے بڑھ جائے، وہی اسراف ہے۔ اور بزرگوں کا قول ہے: اللہ کی نافرمانی کا خرچ اسراف کہلاتا ہے۔

صفحہ نمبر6099

مومنوں کا کردار ٭٭

اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم و ستم نہیں کرتے۔

جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر مریضوں کی طرح قدم قدم چلنا۔ یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لیے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اس کے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔

سلف صالحین نے بیماروں کی سی تکلف والی چال کو مکروہ فرمایا ہے۔

صفحہ نمبر6094

فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تو کچھ بیمار ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر یہ کیا چال ہے؟ خبردار! جو اب اس طرح چلا تو کوڑے کھائے گا۔ طاقت کے ساتھ جلدی جلدی چلا کرو۔ پس یہاں مراد تسکین اور وقار کے ساتھ شریفانہ چال چلنا ہے، نہ کہ ضعیفانہ اور مریضانہ۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تسکین کے ساتھ آؤ۔ جو جماعت کے ساتھ مل جائے، ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے، پوری کر لو۔ [صحیح بخاری:636] ‏

امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نہایت ہی عمدہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ مومنوں کی آنکھیں اور ان کے کان اور ان کے اعضاء جھکے ہوئے اور رکے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ گنوار اور بےوقوف لوگ انہیں بیمار سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الٰہی سے جھکے جاتے ہیں۔ ویسے پورے تندرست ہیں لیکن دل اللہ کے خوف سے پر ہیں۔ آخرت کا علم دنیا طلبی سے اور یہاں کے ٹھاٹھ سے انہیں روکے ہوئے ہے۔ یہ قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کا غم لگا رہتا تھا، نہیں نہیں، اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی غم ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہاں انہیں آخرت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا تھا۔ جنت کے کسی کام کو وہ بھاری نہیں سمجھتے تھے، ہاں جہنم کا خوف انہیں رلاتا رہتا تھا۔ جو شخص اللہ کے خوف دلانے سے بھی خوف نہ کھائے، اس کا نفس حسرتوں کا مالک ہے۔ جو شخص کھانے پینے کو ہی اللہ کی نعمت سمجھے، وہ کم علم ہے اور عذابوں میں پھنسا ہوا ہے۔ پھر اپنے نیک بندوں کا اور وصف بیان فرمایا کہ جب جاہل لوگ ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں اور سوائے بھلی بات کے، گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جوں جوں دوسرا آپ پر تیز ہوتا، آپ اتنے ہی نرم ہوتے۔ یہی وصف قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے «وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» [28-القصص:55] ‏ ” مومن لوگ بے ہودہ باتیں سن کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ “

صفحہ نمبر6095

ایک حسن سند سے مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو برا بھلا کہا لیکن اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تجھ پر سلام ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کے درمیان فرشتہ موجود تھا، وہ تیری طرف سے گالیاں دینے والے کو جواب دیتا تھا۔ وہ جو گالی تجھے دیتا تھا، فرشتہ کہتا تھا یہ نہیں بلکہ تو۔ اور جب تو کہتا تھا تجھ پر سلام تو فرشتہ کہتا تھا اس پر نہیں بلکہ تجھ پر، تو ہی سلامتی کو پورا حق دار ہے۔ [مسند احمد:445/5:حسن لغیرہ] ‏

پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے، سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا ان پر ظلم کرے، یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ دن اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کی کڑوی کسیلی سن لیتے ہیں۔ رات کو جس حالت میں گزارتے ہیں، اس کا بیان اگلی آیت میں ہے۔

صفحہ نمبر6096

فرماتا ہے کہ رات اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں بسر ہوتی ہے، بہت کم سوتے ہیں۔ صبح کو استغفار کرتے ہیں، کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ امید رحمت ہوتی ہے اور راتوں کی گھڑیوں کو اللہ کی عبادتوں میں گزارتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ! عذاب جہنم ہم سے دور رکھ، وہ تو دائمی اور لازمی عذاب ہے۔

جیسے شاعر نے اللہ کی شان بتائی ہے کہ «اِنْ یُعَذِّبْ یَکُنْ غَرَامًا وَ اِنْ یُّعْطِ جَزِیْلًا فَاِنَّہُ لَا یُبَالِی»

یعنی اس کے عذاب بھی سخت اور لازمی اور ابدی۔ اور اس کی عطا اور انعام بھی بے حد، ان گنت اور بے حساب۔ جو چیز آئے اور ہٹ جائے وہ غرام نہیں۔ غرام وہ ہے جو آنے کے بعد ہٹنے اور دور ہونے کا نام ہی نہ لے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ عذاب جہنم تاوان ہے جو کفران نعمت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے اللہ کے دیئے کو اس کی راہ میں نہیں لگایا لہٰذا آج اس کا تاوان یہ بھرنا پڑے گا جہنم کو پر کر دیں۔ وہ بری جگہ ہے، بدمنظر ہے، تکلیف دہ ہے، مصیبت ناک ہے۔

صفحہ نمبر6097

مالک بن حارث رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب دوزخی کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کتنی مدت تک وہ نیچے ہی نیچے چلا جائے گا۔ اس کے بعد جہنم کے ایک دروازے پر اسے روک دیا جائے گا اور کہا جائے گا: تم بہت پیاسے ہو رہے ہو گے، لو ایک جام تو نوش کر لو۔ یہ کہہ کر انہیں کالے ناگ اور زہریلے بچھوؤں کے زہر کا ایک پیالہ پلا دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ان کی کھالیں الگ جھڑ جائیں گی، بال الگ ہو جائیں گے، رگیں الگ جا پڑیں گی، ہڈیاں جدا جدا ہو جائیں گی۔

عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہنم میں گڑھے ہیں، کنویں ہیں۔ ان میں سانپ ہیں جیسے بختی اونٹ اور بچھو ہیں جیسے خچر۔ جب کسی جہنمی کو جہنم میں ڈالا جاتا ہے تو وہ وہاں سے نکل کر آتے اور انہیں لپٹ جاتے ہیں، ہونٹوں پر، سروں پر اور جسم کے اور حصوں پر ڈستے اور ڈنک مارتے ہیں۔ جس سے ان کے سارے بدن میں زہر پھیل جاتا ہے اور پھکنے لگتے ہیں۔ سارے سر کی کھال جھلس کر گر پڑتی ہے پھر وہ سانپ چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جہنمی ایک ہزار سال تک جہنم میں چلاتا رہے گا «یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ» تب اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ دیکھو، یہ کیا کہہ رہا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آ کر دیکھیں گے کہ سب جہنمی برے حال سر جھکائے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ جا کر جناب باری تعالیٰ میں خبر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر جاؤ، فلاں فلاں جگہ یہ شخص ہے، جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ بحکم الٰہی جائیں گے اور اسے لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو کیسی جگہ پر ہے؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! ٹھہرنے کی بری جگہ اور سونے بیٹھے کی بھی بدترین جگہ ہے۔ اللہ فرمائے گا: اچھا اب اسے اس کی جگہ واپس لے جاؤ تو یہ گڑگڑائے گا، عرض کرے گا کہ اے میرے ارحم الراحمین اللہ! جب تو نے مجھے اس سے باہر نکالا تو تیری ذات ایسی نہیں کہ پھر مجھے اس میں داخل کر دے، مجھے تو تجھ سے رحم و کرم کی ہی امید ہے۔ اے اللہ! بس اب مجھ پر کرم فرما۔ جب تو نے مجھے جہنم سے نکالا تو میں خوش ہو گیا تھا کہ اب تو اس میں نہ ڈالے گا۔ اس مالک و رحمن و رحیم اللہ کو بھی رحم آ جائے گا اور فرمائے گا: اچھا میرے بندے کو چھوڑ دو۔ [مسند احمد:230/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6098

پھر ان کا ایک اور وصف بیان ہوتا ہے کہ نہ تو وہ مسرف ہیں، نہ بخیل ہیں، نہ بےجا خرچ کرتے ہیں، نہ ضروری اخراجات میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔ نہ ہی ایسا کرتے ہیں کہ اپنے والوں کو، اہل و عیال کو بھی تنگ رکھیں، نہ ایسا کرتے ہیں کہ جو ہو سب لٹا دیں۔

اسی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرماتا ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» [17-الإسراء:29] ‏ یعنی ” نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ اور نہ انہیں بالکل ہی چھوڑ دے۔ “

مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اپنی گزران میں میانہ روی کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے۔ [مسند احمد:194/5:ضعیف] ‏

اور حدیث میں ہے: جو افراط تفریط سے بچتا ہے، وہ کبھی فقیر محتاج نہیں ہوتا۔ [مسند احمد:447/1:ضعیف] ‏

بزار کی حدیث میں ہے کہ امیری میں، فقیری میں، عبادت میں میانہ روی بڑی ہی بہتر اور احسن چیز ہے۔ [مسند بزار:3604:ضعیف] ‏

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں کتنا ہی چاہو دو، اس کا نام اسراف نہیں ہے۔ ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کہیں تو حکم اللہ سے آگے بڑھ جائے، وہی اسراف ہے۔ اور بزرگوں کا قول ہے: اللہ کی نافرمانی کا خرچ اسراف کہلاتا ہے۔

صفحہ نمبر6099

مومنوں کا کردار ٭٭

اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم و ستم نہیں کرتے۔

جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر مریضوں کی طرح قدم قدم چلنا۔ یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لیے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اس کے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔

سلف صالحین نے بیماروں کی سی تکلف والی چال کو مکروہ فرمایا ہے۔

صفحہ نمبر6094

فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا ہے۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تو کچھ بیمار ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر یہ کیا چال ہے؟ خبردار! جو اب اس طرح چلا تو کوڑے کھائے گا۔ طاقت کے ساتھ جلدی جلدی چلا کرو۔ پس یہاں مراد تسکین اور وقار کے ساتھ شریفانہ چال چلنا ہے، نہ کہ ضعیفانہ اور مریضانہ۔

چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تسکین کے ساتھ آؤ۔ جو جماعت کے ساتھ مل جائے، ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے، پوری کر لو۔ [صحیح بخاری:636] ‏

امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نہایت ہی عمدہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ مومنوں کی آنکھیں اور ان کے کان اور ان کے اعضاء جھکے ہوئے اور رکے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ گنوار اور بےوقوف لوگ انہیں بیمار سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الٰہی سے جھکے جاتے ہیں۔ ویسے پورے تندرست ہیں لیکن دل اللہ کے خوف سے پر ہیں۔ آخرت کا علم دنیا طلبی سے اور یہاں کے ٹھاٹھ سے انہیں روکے ہوئے ہے۔ یہ قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کا غم لگا رہتا تھا، نہیں نہیں، اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی غم ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہاں انہیں آخرت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا تھا۔ جنت کے کسی کام کو وہ بھاری نہیں سمجھتے تھے، ہاں جہنم کا خوف انہیں رلاتا رہتا تھا۔ جو شخص اللہ کے خوف دلانے سے بھی خوف نہ کھائے، اس کا نفس حسرتوں کا مالک ہے۔ جو شخص کھانے پینے کو ہی اللہ کی نعمت سمجھے، وہ کم علم ہے اور عذابوں میں پھنسا ہوا ہے۔ پھر اپنے نیک بندوں کا اور وصف بیان فرمایا کہ جب جاہل لوگ ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں اور سوائے بھلی بات کے، گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جوں جوں دوسرا آپ پر تیز ہوتا، آپ اتنے ہی نرم ہوتے۔ یہی وصف قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے «وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» [28-القصص:55] ‏ ” مومن لوگ بے ہودہ باتیں سن کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ “

صفحہ نمبر6095

ایک حسن سند سے مسند احمد میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو برا بھلا کہا لیکن اس نے پلٹ کر جواب دیا کہ تجھ پر سلام ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں کے درمیان فرشتہ موجود تھا، وہ تیری طرف سے گالیاں دینے والے کو جواب دیتا تھا۔ وہ جو گالی تجھے دیتا تھا، فرشتہ کہتا تھا یہ نہیں بلکہ تو۔ اور جب تو کہتا تھا تجھ پر سلام تو فرشتہ کہتا تھا اس پر نہیں بلکہ تجھ پر، تو ہی سلامتی کو پورا حق دار ہے۔ [مسند احمد:445/5:حسن لغیرہ] ‏

پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے، سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا ان پر ظلم کرے، یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ دن اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کی کڑوی کسیلی سن لیتے ہیں۔ رات کو جس حالت میں گزارتے ہیں، اس کا بیان اگلی آیت میں ہے۔

صفحہ نمبر6096

فرماتا ہے کہ رات اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں بسر ہوتی ہے، بہت کم سوتے ہیں۔ صبح کو استغفار کرتے ہیں، کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ امید رحمت ہوتی ہے اور راتوں کی گھڑیوں کو اللہ کی عبادتوں میں گزارتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ! عذاب جہنم ہم سے دور رکھ، وہ تو دائمی اور لازمی عذاب ہے۔

جیسے شاعر نے اللہ کی شان بتائی ہے کہ «اِنْ یُعَذِّبْ یَکُنْ غَرَامًا وَ اِنْ یُّعْطِ جَزِیْلًا فَاِنَّہُ لَا یُبَالِی»

یعنی اس کے عذاب بھی سخت اور لازمی اور ابدی۔ اور اس کی عطا اور انعام بھی بے حد، ان گنت اور بے حساب۔ جو چیز آئے اور ہٹ جائے وہ غرام نہیں۔ غرام وہ ہے جو آنے کے بعد ہٹنے اور دور ہونے کا نام ہی نہ لے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ عذاب جہنم تاوان ہے جو کفران نعمت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے اللہ کے دیئے کو اس کی راہ میں نہیں لگایا لہٰذا آج اس کا تاوان یہ بھرنا پڑے گا جہنم کو پر کر دیں۔ وہ بری جگہ ہے، بدمنظر ہے، تکلیف دہ ہے، مصیبت ناک ہے۔

صفحہ نمبر6097

مالک بن حارث رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب دوزخی کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کتنی مدت تک وہ نیچے ہی نیچے چلا جائے گا۔ اس کے بعد جہنم کے ایک دروازے پر اسے روک دیا جائے گا اور کہا جائے گا: تم بہت پیاسے ہو رہے ہو گے، لو ایک جام تو نوش کر لو۔ یہ کہہ کر انہیں کالے ناگ اور زہریلے بچھوؤں کے زہر کا ایک پیالہ پلا دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ان کی کھالیں الگ جھڑ جائیں گی، بال الگ ہو جائیں گے، رگیں الگ جا پڑیں گی، ہڈیاں جدا جدا ہو جائیں گی۔

عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہنم میں گڑھے ہیں، کنویں ہیں۔ ان میں سانپ ہیں جیسے بختی اونٹ اور بچھو ہیں جیسے خچر۔ جب کسی جہنمی کو جہنم میں ڈالا جاتا ہے تو وہ وہاں سے نکل کر آتے اور انہیں لپٹ جاتے ہیں، ہونٹوں پر، سروں پر اور جسم کے اور حصوں پر ڈستے اور ڈنک مارتے ہیں۔ جس سے ان کے سارے بدن میں زہر پھیل جاتا ہے اور پھکنے لگتے ہیں۔ سارے سر کی کھال جھلس کر گر پڑتی ہے پھر وہ سانپ چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جہنمی ایک ہزار سال تک جہنم میں چلاتا رہے گا «یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ» تب اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ دیکھو، یہ کیا کہہ رہا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آ کر دیکھیں گے کہ سب جہنمی برے حال سر جھکائے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ جا کر جناب باری تعالیٰ میں خبر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر جاؤ، فلاں فلاں جگہ یہ شخص ہے، جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ بحکم الٰہی جائیں گے اور اسے لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو کیسی جگہ پر ہے؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! ٹھہرنے کی بری جگہ اور سونے بیٹھے کی بھی بدترین جگہ ہے۔ اللہ فرمائے گا: اچھا اب اسے اس کی جگہ واپس لے جاؤ تو یہ گڑگڑائے گا، عرض کرے گا کہ اے میرے ارحم الراحمین اللہ! جب تو نے مجھے اس سے باہر نکالا تو تیری ذات ایسی نہیں کہ پھر مجھے اس میں داخل کر دے، مجھے تو تجھ سے رحم و کرم کی ہی امید ہے۔ اے اللہ! بس اب مجھ پر کرم فرما۔ جب تو نے مجھے جہنم سے نکالا تو میں خوش ہو گیا تھا کہ اب تو اس میں نہ ڈالے گا۔ اس مالک و رحمن و رحیم اللہ کو بھی رحم آ جائے گا اور فرمائے گا: اچھا میرے بندے کو چھوڑ دو۔ [مسند احمد:230/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6098

پھر ان کا ایک اور وصف بیان ہوتا ہے کہ نہ تو وہ مسرف ہیں، نہ بخیل ہیں، نہ بےجا خرچ کرتے ہیں، نہ ضروری اخراجات میں کوتاہی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی سے کام لیتے ہیں۔ نہ ہی ایسا کرتے ہیں کہ اپنے والوں کو، اہل و عیال کو بھی تنگ رکھیں، نہ ایسا کرتے ہیں کہ جو ہو سب لٹا دیں۔

اسی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرماتا ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» [17-الإسراء:29] ‏ یعنی ” نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ اور نہ انہیں بالکل ہی چھوڑ دے۔ “

مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اپنی گزران میں میانہ روی کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے۔ [مسند احمد:194/5:ضعیف] ‏

اور حدیث میں ہے: جو افراط تفریط سے بچتا ہے، وہ کبھی فقیر محتاج نہیں ہوتا۔ [مسند احمد:447/1:ضعیف] ‏

بزار کی حدیث میں ہے کہ امیری میں، فقیری میں، عبادت میں میانہ روی بڑی ہی بہتر اور احسن چیز ہے۔ [مسند بزار:3604:ضعیف] ‏

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں کتنا ہی چاہو دو، اس کا نام اسراف نہیں ہے۔ ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کہیں تو حکم اللہ سے آگے بڑھ جائے، وہی اسراف ہے۔ اور بزرگوں کا قول ہے: اللہ کی نافرمانی کا خرچ اسراف کہلاتا ہے۔

صفحہ نمبر6099

سب سے بڑا گناہ ٭٭

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: تیرا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا: اس سے کم؟ فرمایا: تیرا اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالنا کہ تو اسے کھلائے گا کہاں سے؟ پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: تیرا اپنے پڑوس کی کسی عورت سے بدکاری کرنا۔ پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ [صحیح بخاری:4761] ‏

اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر جانے لگے، تنہا تھے۔ میں بھی ساتھ ہو لیا۔ آپ ایک اونچی جگہ بیٹھ گئے۔ میں آپ سے نیچے بیٹھ گیا اور اس تنہائی کے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ سوالات کئے، جو اوپر مذکور ہوئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26509] ‏

حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار گناہوں سے بہت بچو ؛ اللہ کے ساتھ شرک، کسی حرمت والے نفس کا قتل، زناکاری اور چوری۔ [مسند احمد:339/4:حسن] ‏

مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: زنا کی بابت تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: وہ حرام ہے اور قیامت تک حرام ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں سنو! انسان کا اپنے پڑوس کی عورت سے زنا کرنا دوسری دس عورتوں کے زنا سے بھی بدتر ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: چوری کی نسبت کیا کہتے ہو؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ وہ حرام ہے، اللہ و رسول اسے حرام قرار دے چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سنو! دس جگہ کی چوری بھی اتنی بری نہیں جیسی پڑوس کی ایک جگہ کی چوری۔ [مسند احمد:8/6:جید] ‏

صفحہ نمبر6104

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ شرک کے بعد اس سے بڑا گناہ کوئی نہیں کہ انسان اپنا نطفہ اس رحم میں ڈالے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ [الورع لابن ابی الدنیا:137:ضعیف] ‏

یہ بھی مروی ہے کہ بعض مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ کی دعوت اچھی ہے، سچی ہے لیکن ہم نے تو شرک بھی کیا ہے، قتل بھی کیا ہے، زناکاریاں بھی کی ہیں اور یہ سب بکثرت کیے ہیں تو فرمائیے ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت اتری اور آیت «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [39-الزمر:53] ‏ نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26504] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اللہ تمہیں اس سے منع فرماتا ہے کہ تم خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کرو اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنے کتے کو تو پالو اور اپنے بچے کو قتل کر ڈالو۔ اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنی پڑوسن سے بدکاری کرو۔ [الدر المنشور للسیوطی:277/6] ‏

«اثام» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔ یہی وہ وادیاں ہیں جن میں زانیوں کو عذاب کیا جائے گا۔ اس کے معنی عذاب و سزا کے بھی آتے ہیں۔

لقمان حکیم رحمہ اللہ کی نصیحتوں میں ہے کہ اے بچے! زناکاری سے بچنا، اس کے شروع میں ڈر، خوف ہے اور اس کا انجام ندامت و حسرت ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ «غی» اور «اثام» دوزخ کے دو کنوئیں ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29/19] ‏ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔ «اثام» کے معنی بدلے کے بھی مروی ہیں اور یہی ظاہر آیت کے بھی مشابہ بھی ہے۔ اور گویا اس کے بعد کی آیت اسی بدلے اور سزا کی تفسیر ہے کہ اسے بار بار عذاب کیا جائے گا اور سختی کی جائے گی اور ذلت کے دائمی عذابوں میں پھنس جائے گا۔ «اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا»

ان کاموں کے کرنے والے کی سزا تو بیان ہو چکی ہے مگر اس سزا سے وہ بچ جائیں گے جو دنیا ہی میں اس سے توبہ کر لیں، اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کی توبہ بھی قبول ہے جو آیت سورۃ نساء میں ہیں «وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا» [4-النساء:93] ‏ وہ اس کے خلاف نہیں گو وہ مدنی آیت ہے لیکن وہ مطلق ہے تو وہ محمول کی جائے گی ان قاتلوں پر جو اپنے اس فعل سے توبہ نہ کریں اور یہ آیت ان قاتلوں کے بارے میں، جو توبہ کریں۔

پھر مشرکوں کی بخشش نہ ہونے کا بیان فرمایا ہے اور صحیح احادیث سے بھی قاتل کی توبہ کی مقبولیت ثابت ہے۔ جیسے اس شخص کا قصہ جس نے ایک سو قتل کیے تھے اور اس کی توبہ قبول ہوئی۔ وغیرہ۔ یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دیتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے گناہ کے کام کئے تھے۔ اسلام میں آنے کے بعد نیکیاں کیں تو اللہ نے ان گناہ کے کاموں کے بدلے نیکیوں کی توفیق عنایت فرمائی۔ اس آیت کی تلاوت کے وقت آپ ایک عربی شعر پڑھتے تھے جس میں احوال کے تغیر کا بیان ہے جیسے گرمی سے ٹھنڈک۔ عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ دنیا کا ذکر ہے کہ انسان کی بری خصلت کو اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے نیک عادت سے بدل دیتا ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ بتوں کی پرستش کے بدلے اللہ تعالیٰ کی توفیق انہیں ملی۔ مومنوں سے لڑنے کے بجائے کافروں سے جہاد کرنے لگے۔ مشرکہ عورتوں سے نکاح کے بجائے مومنہ عورتوں سے نکاح کئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گناہ کے بدلے ثواب کے عمل کرنے لگے۔ شرک کے بدلے توحید و اخلاص ملا۔ بدکاری کے بدلے پاکدامنی حاصل ہوئی۔ کفر کے بدلے اسلام ملا۔ ایک معنی تو اس آیت کے یہ ہوئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ خلوص کے ساتھ ان کی جو توبہ تھی، اس سے خوش ہو کر اللہ عزوجل نے ان کے گناہوں کو نیکوں میں بدل دیا۔ یہ اس لیے کہ توبہ کے بعد جب کبھی انہیں اپنے گزشتہ گناہ یاد آتے تھے، انہیں ندامت ہوتی تھی۔ یہ غمگین ہو جاتے تھے، شرمانے لگتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے گناہ اطاعت سے بدل گئے گو وہ ان کے نامہ اعمال میں گناہ کے طور پر لکھے ہوئے تھے لیکن قیامت کے دن وہ سب نیکیاں بن جائیں گے۔ جیسے کہ احادیث و آثار میں ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں اس شخص کو پہچانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، یہ ایک وہ شخص ہو گا جسے اللہ کے سامنے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کے بڑے بڑے گناہوں کو چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے گناہوں کی نسبت اس سے بازپرس کرو چنانچہ اس سے سوال ہو گا کہ فلاں فلاں دن تو نے فلاں کام کیا تھا؟ فلاں دن فلاں گناہ کیا تھا؟ یہ ایک کا بھی انکار نہ کر سکے گا، اقرار کرے گا۔ آخر میں کہا جائے گا: تجھے ہم نے ہر گناہ کے بدلے نیکی دی ہے تو اب اس کی باچھیں کھل جائیں گی اور کہے گا: اے میرے پروردگار! میں نے اور بھی بہت سے اعمال کئے تھے جنہیں یہاں پا نہیں رہا۔ یہ فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ کے مسوڑھے دیکھے جانے لگے۔ [صحیح مسلم:190ـ314] ‏ (‏مسلم)

آپ فرماتے ہیں کہ جب انسان سوتا ہے تو فرشتہ شیطان سے کہتا ہے: مجھے اپنا صحیفہ جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہیں دے، وہ دیتا ہے تو ایک ایک نیکی کے بدلے دس دس گناہ وہ اس کے صحیفے سے مٹا دیتا ہے اور انہیں نیکیاں لکھ دیتا ہے پس تم میں سے جو بھی سونے کا ارادہ کرے، وہ چونتیس دفعہ «اللہ اکبر» کہے اور تینتیس دفعہ «الحمدللہ» کہے اور تینتیس دفعہ «سبحان اللہ» کہے، یہ مل کر سو مرتبہ ہو گئے۔ [طبرانی کبیر:3451:ضعیف] ‏ (‏ابن ابی دنیا)

صفحہ نمبر6105

سلمان فرماتے ہیں: انسان کو قیامت کے دن نامہ اعمال دیا جائے گا۔ وہ پڑھنا شروع کرے گا تو اوپر برائیاں درج ہوں گی جنہیں پڑھ کر یہ کچھ ناامید سا ہونے لگے گا۔ اسی وقت اس کی نظر نیچے کی طرف پڑے گی تو اپنی نیکیاں لکھی ہوئی پائے گا جس سے کچھ ڈھارس بندھے گی۔ اب دوبارہ اوپر کی طرف دیکھے گا تو وہاں کی برائیوں کو بھی بھلائیوں سے بدلا ہوا پائے گا۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے آئیں گے جن کے پاس کچھ گناہ ہوں گے۔ پوچھا گیا کہ وہ کون سے لوگ ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ جن کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنتی جنت میں چار قسم کے جائیں گے ؛ متقین یعنی پرہیزگاری کرنے والے، پھر شاکرین یعنی شکر الٰہی کرنے والے، پھر خائفین یعنی خوف الٰہی رکھنے والے، پھر اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پانے والے۔ پوچھا گیا کہ انہیں اصحاب یمین کیوں کہا جاتا ہے؟ جواب دیا: اس لیے کہ انہوں نے نیکیاں، بدیاں سب کی تھیں۔ ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ ملے، اپنی بدیوں کا ایک ایک حرف پڑھ کر یہ کہنے لگے کہ اے اللہ! ہماری نیکیاں کہاں ہیں؟ یہاں تو سب بدیاں لکھی ہوئی ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان بدیوں کو مٹا دے گا اور ان کے بدلے نیکیاں لکھ دے گا۔ انہیں پڑھ کر خوش ہو کر اب تو یہ ایک دوسروں سے کہیں گے کہ آؤ، ہمارے اعمال نامے دیکھو۔ جنتیوں میں اکثر یہی لوگ ہونگے۔ علی بن حسین زین العابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: برائیوں کو بھلائیوں میں بدلنا آخرت میں ہو گا۔ مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخشے گا اور انہیں نیکیوں میں بدل دے گا۔ مکحول رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ حدیث بیان کی کہ ایک بہت بوڑھے ضعیف آدمی جن کی بھویں آنکھوں پر اتر آئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسا شخص ہوں جس نے کوئی غداری، کوئی گناہ، کوئی بدکاری باقی نہیں چھوڑی۔ میرے گناہ اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اگر تمام انسانوں پر تقسیم ہو جائیں تو سب کے سب غضب الٰہی میں گرفتار ہو جائیں، کیا میری بخشش کی بھی کوئی صورت ہے؟ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔ اس نے کلمہ پڑھ لیا کہ «اَشْھَدُاَنْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُهُ» تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری تمام برائیاں، گناہ، بدکاریاں سب کچھ معاف کر دے گا بلکہ جب تک تو اس پر قائم رہے گا، اللہ تعالیٰ تیری برائیاں بھلائیوں میں بدل دے گا۔ اس نے پھر پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے چھوٹے بڑے سب گناہ صاف ہو جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں سب کے سب، پھر تو وہ شخص خوشی خوشی واپس جانے لگا اور تکبیر و تہلیل پکارتا ہوا لوٹ گیا۔ (‏ابن ابی حاتم)

سیدنا ابوفروہ رضی اللہ عنہ حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے سارے گناہ کئے ہوں۔ جو جی میں آیا ہو، پورا کیا ہو۔ کیا ایسے شخص کی بھی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: تم مسلمان ہو گئے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اب نیکیاں کرو، برائیوں سے بچو تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بھی نیکوں میں بدل دے گا۔ اس نے کہا: میری غداریاں اور بدکاریاں بھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اب وہ اللہ اکبر کہتا ہوا واپس چلا گیا۔ (‏طبرانی) [طبرانی کبیر:7235:صحیح] ‏

ایک عورت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور دریافت کیا فرمایا کہ مجھ سے بدکاری ہو گئی، اس سے بچہ ہو گیا، میں نے اسے مار ڈالا۔ اب کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب نہ تیری آنکھیں ٹھنڈی ہو سکتی ہیں، نہ اللہ کے ہاں تیری بزرگی ہو سکتی ہے، تیرے لیے توبہ ہرگز نہیں۔ وہ روتی پیٹتی واپس چلی گئی۔ صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر میں نے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تو نے اس سے بہت ہی بری بات کہی، کیا تو ان آیتوں کو قرآن میں نہیں پڑھتا؟ «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ» مجھے بڑا ہی رنج ہوا اور میں لوٹ کر اس عورت کے پاس پہنچا۔ اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ وہ خوش ہو گئی اور اسی وقت سجدے میں گر پڑی اور کہنے لگی: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت پیدا کر دی۔ (‏طبرانی) [تفسیر ابن جریر الطبری:26515:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا پہلا فتویٰ سن کر وہ حسرت و افسوس کے ساتھ یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی کہ ہائے ہائے، یہ اچھی صورت کیا جہنم کے لے بنائی گئی تھی؟

صفحہ نمبر6106

اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس عورت کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے۔ تمام مدینہ اور ایک ایک گلی چھان ماری لیکن کہیں پتہ نہ چلا۔ اتفاق سے رات کو وہی عوت پھر آئی۔ تب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں صحیح مسئلہ بتلایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اس نے اللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت بنائی اور میری توبہ کو قبول فرمایا۔ یہ کہہ کر اس کے ساتھ جو لونڈی تھی، اسے آزاد کر دیا۔ اس لونڈی کی ایک لڑکی بھی تھی اور سچے دل سے توبہ کر لی۔

پھر فرماتا ہے اور اپنے عام لطف و کرم، فضل و رحم کی خبر دیتا ہے کہ جو بھی اللہ کی طرف جھکے اور اپنی سیاہ کاریوں پر نادم ہو کر توبہ کرے، اللہ اس کی سنتا ہے، قبول فرماتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے۔ جیسا ارشاد ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [4-النساء:110] ‏ ” جو برا عمل کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے، وہ اللہ کو غفور رحیم پائے گا۔ “

اور جگہ ارشاد ہے «أَلَم يَعلَموا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقبَلُ التَّوبَةَ عَن عِبادِهِ» [9-التوبة:104] ‏ ” کیا انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول فرمانے والا ہے۔ “

اور آیت میں ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» [39-الزمر:53] ‏ ” میرے ان بندوں سے جو گنہگار ہیں، کہہ دیجئیے کہ وہ میری رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ “ یعنی توبہ کرنے والا محروم نہیں۔

صفحہ نمبر6107

سب سے بڑا گناہ ٭٭

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: تیرا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا: اس سے کم؟ فرمایا: تیرا اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالنا کہ تو اسے کھلائے گا کہاں سے؟ پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: تیرا اپنے پڑوس کی کسی عورت سے بدکاری کرنا۔ پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ [صحیح بخاری:4761] ‏

اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر جانے لگے، تنہا تھے۔ میں بھی ساتھ ہو لیا۔ آپ ایک اونچی جگہ بیٹھ گئے۔ میں آپ سے نیچے بیٹھ گیا اور اس تنہائی کے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ سوالات کئے، جو اوپر مذکور ہوئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26509] ‏

حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار گناہوں سے بہت بچو ؛ اللہ کے ساتھ شرک، کسی حرمت والے نفس کا قتل، زناکاری اور چوری۔ [مسند احمد:339/4:حسن] ‏

مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: زنا کی بابت تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: وہ حرام ہے اور قیامت تک حرام ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں سنو! انسان کا اپنے پڑوس کی عورت سے زنا کرنا دوسری دس عورتوں کے زنا سے بھی بدتر ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: چوری کی نسبت کیا کہتے ہو؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ وہ حرام ہے، اللہ و رسول اسے حرام قرار دے چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سنو! دس جگہ کی چوری بھی اتنی بری نہیں جیسی پڑوس کی ایک جگہ کی چوری۔ [مسند احمد:8/6:جید] ‏

صفحہ نمبر6104

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ شرک کے بعد اس سے بڑا گناہ کوئی نہیں کہ انسان اپنا نطفہ اس رحم میں ڈالے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ [الورع لابن ابی الدنیا:137:ضعیف] ‏

یہ بھی مروی ہے کہ بعض مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ کی دعوت اچھی ہے، سچی ہے لیکن ہم نے تو شرک بھی کیا ہے، قتل بھی کیا ہے، زناکاریاں بھی کی ہیں اور یہ سب بکثرت کیے ہیں تو فرمائیے ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت اتری اور آیت «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [39-الزمر:53] ‏ نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26504] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اللہ تمہیں اس سے منع فرماتا ہے کہ تم خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کرو اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنے کتے کو تو پالو اور اپنے بچے کو قتل کر ڈالو۔ اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنی پڑوسن سے بدکاری کرو۔ [الدر المنشور للسیوطی:277/6] ‏

«اثام» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔ یہی وہ وادیاں ہیں جن میں زانیوں کو عذاب کیا جائے گا۔ اس کے معنی عذاب و سزا کے بھی آتے ہیں۔

لقمان حکیم رحمہ اللہ کی نصیحتوں میں ہے کہ اے بچے! زناکاری سے بچنا، اس کے شروع میں ڈر، خوف ہے اور اس کا انجام ندامت و حسرت ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ «غی» اور «اثام» دوزخ کے دو کنوئیں ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29/19] ‏ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔ «اثام» کے معنی بدلے کے بھی مروی ہیں اور یہی ظاہر آیت کے بھی مشابہ بھی ہے۔ اور گویا اس کے بعد کی آیت اسی بدلے اور سزا کی تفسیر ہے کہ اسے بار بار عذاب کیا جائے گا اور سختی کی جائے گی اور ذلت کے دائمی عذابوں میں پھنس جائے گا۔ «اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا»

ان کاموں کے کرنے والے کی سزا تو بیان ہو چکی ہے مگر اس سزا سے وہ بچ جائیں گے جو دنیا ہی میں اس سے توبہ کر لیں، اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کی توبہ بھی قبول ہے جو آیت سورۃ نساء میں ہیں «وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا» [4-النساء:93] ‏ وہ اس کے خلاف نہیں گو وہ مدنی آیت ہے لیکن وہ مطلق ہے تو وہ محمول کی جائے گی ان قاتلوں پر جو اپنے اس فعل سے توبہ نہ کریں اور یہ آیت ان قاتلوں کے بارے میں، جو توبہ کریں۔

پھر مشرکوں کی بخشش نہ ہونے کا بیان فرمایا ہے اور صحیح احادیث سے بھی قاتل کی توبہ کی مقبولیت ثابت ہے۔ جیسے اس شخص کا قصہ جس نے ایک سو قتل کیے تھے اور اس کی توبہ قبول ہوئی۔ وغیرہ۔ یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دیتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے گناہ کے کام کئے تھے۔ اسلام میں آنے کے بعد نیکیاں کیں تو اللہ نے ان گناہ کے کاموں کے بدلے نیکیوں کی توفیق عنایت فرمائی۔ اس آیت کی تلاوت کے وقت آپ ایک عربی شعر پڑھتے تھے جس میں احوال کے تغیر کا بیان ہے جیسے گرمی سے ٹھنڈک۔ عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ دنیا کا ذکر ہے کہ انسان کی بری خصلت کو اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے نیک عادت سے بدل دیتا ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ بتوں کی پرستش کے بدلے اللہ تعالیٰ کی توفیق انہیں ملی۔ مومنوں سے لڑنے کے بجائے کافروں سے جہاد کرنے لگے۔ مشرکہ عورتوں سے نکاح کے بجائے مومنہ عورتوں سے نکاح کئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گناہ کے بدلے ثواب کے عمل کرنے لگے۔ شرک کے بدلے توحید و اخلاص ملا۔ بدکاری کے بدلے پاکدامنی حاصل ہوئی۔ کفر کے بدلے اسلام ملا۔ ایک معنی تو اس آیت کے یہ ہوئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ خلوص کے ساتھ ان کی جو توبہ تھی، اس سے خوش ہو کر اللہ عزوجل نے ان کے گناہوں کو نیکوں میں بدل دیا۔ یہ اس لیے کہ توبہ کے بعد جب کبھی انہیں اپنے گزشتہ گناہ یاد آتے تھے، انہیں ندامت ہوتی تھی۔ یہ غمگین ہو جاتے تھے، شرمانے لگتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے گناہ اطاعت سے بدل گئے گو وہ ان کے نامہ اعمال میں گناہ کے طور پر لکھے ہوئے تھے لیکن قیامت کے دن وہ سب نیکیاں بن جائیں گے۔ جیسے کہ احادیث و آثار میں ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں اس شخص کو پہچانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، یہ ایک وہ شخص ہو گا جسے اللہ کے سامنے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کے بڑے بڑے گناہوں کو چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے گناہوں کی نسبت اس سے بازپرس کرو چنانچہ اس سے سوال ہو گا کہ فلاں فلاں دن تو نے فلاں کام کیا تھا؟ فلاں دن فلاں گناہ کیا تھا؟ یہ ایک کا بھی انکار نہ کر سکے گا، اقرار کرے گا۔ آخر میں کہا جائے گا: تجھے ہم نے ہر گناہ کے بدلے نیکی دی ہے تو اب اس کی باچھیں کھل جائیں گی اور کہے گا: اے میرے پروردگار! میں نے اور بھی بہت سے اعمال کئے تھے جنہیں یہاں پا نہیں رہا۔ یہ فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ کے مسوڑھے دیکھے جانے لگے۔ [صحیح مسلم:190ـ314] ‏ (‏مسلم)

آپ فرماتے ہیں کہ جب انسان سوتا ہے تو فرشتہ شیطان سے کہتا ہے: مجھے اپنا صحیفہ جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہیں دے، وہ دیتا ہے تو ایک ایک نیکی کے بدلے دس دس گناہ وہ اس کے صحیفے سے مٹا دیتا ہے اور انہیں نیکیاں لکھ دیتا ہے پس تم میں سے جو بھی سونے کا ارادہ کرے، وہ چونتیس دفعہ «اللہ اکبر» کہے اور تینتیس دفعہ «الحمدللہ» کہے اور تینتیس دفعہ «سبحان اللہ» کہے، یہ مل کر سو مرتبہ ہو گئے۔ [طبرانی کبیر:3451:ضعیف] ‏ (‏ابن ابی دنیا)

صفحہ نمبر6105

سلمان فرماتے ہیں: انسان کو قیامت کے دن نامہ اعمال دیا جائے گا۔ وہ پڑھنا شروع کرے گا تو اوپر برائیاں درج ہوں گی جنہیں پڑھ کر یہ کچھ ناامید سا ہونے لگے گا۔ اسی وقت اس کی نظر نیچے کی طرف پڑے گی تو اپنی نیکیاں لکھی ہوئی پائے گا جس سے کچھ ڈھارس بندھے گی۔ اب دوبارہ اوپر کی طرف دیکھے گا تو وہاں کی برائیوں کو بھی بھلائیوں سے بدلا ہوا پائے گا۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے آئیں گے جن کے پاس کچھ گناہ ہوں گے۔ پوچھا گیا کہ وہ کون سے لوگ ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ جن کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنتی جنت میں چار قسم کے جائیں گے ؛ متقین یعنی پرہیزگاری کرنے والے، پھر شاکرین یعنی شکر الٰہی کرنے والے، پھر خائفین یعنی خوف الٰہی رکھنے والے، پھر اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پانے والے۔ پوچھا گیا کہ انہیں اصحاب یمین کیوں کہا جاتا ہے؟ جواب دیا: اس لیے کہ انہوں نے نیکیاں، بدیاں سب کی تھیں۔ ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ ملے، اپنی بدیوں کا ایک ایک حرف پڑھ کر یہ کہنے لگے کہ اے اللہ! ہماری نیکیاں کہاں ہیں؟ یہاں تو سب بدیاں لکھی ہوئی ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان بدیوں کو مٹا دے گا اور ان کے بدلے نیکیاں لکھ دے گا۔ انہیں پڑھ کر خوش ہو کر اب تو یہ ایک دوسروں سے کہیں گے کہ آؤ، ہمارے اعمال نامے دیکھو۔ جنتیوں میں اکثر یہی لوگ ہونگے۔ علی بن حسین زین العابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: برائیوں کو بھلائیوں میں بدلنا آخرت میں ہو گا۔ مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخشے گا اور انہیں نیکیوں میں بدل دے گا۔ مکحول رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ حدیث بیان کی کہ ایک بہت بوڑھے ضعیف آدمی جن کی بھویں آنکھوں پر اتر آئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسا شخص ہوں جس نے کوئی غداری، کوئی گناہ، کوئی بدکاری باقی نہیں چھوڑی۔ میرے گناہ اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اگر تمام انسانوں پر تقسیم ہو جائیں تو سب کے سب غضب الٰہی میں گرفتار ہو جائیں، کیا میری بخشش کی بھی کوئی صورت ہے؟ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔ اس نے کلمہ پڑھ لیا کہ «اَشْھَدُاَنْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُهُ» تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری تمام برائیاں، گناہ، بدکاریاں سب کچھ معاف کر دے گا بلکہ جب تک تو اس پر قائم رہے گا، اللہ تعالیٰ تیری برائیاں بھلائیوں میں بدل دے گا۔ اس نے پھر پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے چھوٹے بڑے سب گناہ صاف ہو جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں سب کے سب، پھر تو وہ شخص خوشی خوشی واپس جانے لگا اور تکبیر و تہلیل پکارتا ہوا لوٹ گیا۔ (‏ابن ابی حاتم)

سیدنا ابوفروہ رضی اللہ عنہ حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے سارے گناہ کئے ہوں۔ جو جی میں آیا ہو، پورا کیا ہو۔ کیا ایسے شخص کی بھی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: تم مسلمان ہو گئے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اب نیکیاں کرو، برائیوں سے بچو تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بھی نیکوں میں بدل دے گا۔ اس نے کہا: میری غداریاں اور بدکاریاں بھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اب وہ اللہ اکبر کہتا ہوا واپس چلا گیا۔ (‏طبرانی) [طبرانی کبیر:7235:صحیح] ‏

ایک عورت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور دریافت کیا فرمایا کہ مجھ سے بدکاری ہو گئی، اس سے بچہ ہو گیا، میں نے اسے مار ڈالا۔ اب کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب نہ تیری آنکھیں ٹھنڈی ہو سکتی ہیں، نہ اللہ کے ہاں تیری بزرگی ہو سکتی ہے، تیرے لیے توبہ ہرگز نہیں۔ وہ روتی پیٹتی واپس چلی گئی۔ صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر میں نے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تو نے اس سے بہت ہی بری بات کہی، کیا تو ان آیتوں کو قرآن میں نہیں پڑھتا؟ «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ» مجھے بڑا ہی رنج ہوا اور میں لوٹ کر اس عورت کے پاس پہنچا۔ اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ وہ خوش ہو گئی اور اسی وقت سجدے میں گر پڑی اور کہنے لگی: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت پیدا کر دی۔ (‏طبرانی) [تفسیر ابن جریر الطبری:26515:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا پہلا فتویٰ سن کر وہ حسرت و افسوس کے ساتھ یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی کہ ہائے ہائے، یہ اچھی صورت کیا جہنم کے لے بنائی گئی تھی؟

صفحہ نمبر6106

اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس عورت کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے۔ تمام مدینہ اور ایک ایک گلی چھان ماری لیکن کہیں پتہ نہ چلا۔ اتفاق سے رات کو وہی عوت پھر آئی۔ تب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں صحیح مسئلہ بتلایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اس نے اللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت بنائی اور میری توبہ کو قبول فرمایا۔ یہ کہہ کر اس کے ساتھ جو لونڈی تھی، اسے آزاد کر دیا۔ اس لونڈی کی ایک لڑکی بھی تھی اور سچے دل سے توبہ کر لی۔

پھر فرماتا ہے اور اپنے عام لطف و کرم، فضل و رحم کی خبر دیتا ہے کہ جو بھی اللہ کی طرف جھکے اور اپنی سیاہ کاریوں پر نادم ہو کر توبہ کرے، اللہ اس کی سنتا ہے، قبول فرماتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے۔ جیسا ارشاد ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [4-النساء:110] ‏ ” جو برا عمل کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے، وہ اللہ کو غفور رحیم پائے گا۔ “

اور جگہ ارشاد ہے «أَلَم يَعلَموا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقبَلُ التَّوبَةَ عَن عِبادِهِ» [9-التوبة:104] ‏ ” کیا انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول فرمانے والا ہے۔ “

اور آیت میں ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» [39-الزمر:53] ‏ ” میرے ان بندوں سے جو گنہگار ہیں، کہہ دیجئیے کہ وہ میری رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ “ یعنی توبہ کرنے والا محروم نہیں۔

صفحہ نمبر6107

سب سے بڑا گناہ ٭٭

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: تیرا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا: اس سے کم؟ فرمایا: تیرا اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالنا کہ تو اسے کھلائے گا کہاں سے؟ پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: تیرا اپنے پڑوس کی کسی عورت سے بدکاری کرنا۔ پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ [صحیح بخاری:4761] ‏

اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر جانے لگے، تنہا تھے۔ میں بھی ساتھ ہو لیا۔ آپ ایک اونچی جگہ بیٹھ گئے۔ میں آپ سے نیچے بیٹھ گیا اور اس تنہائی کے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ سوالات کئے، جو اوپر مذکور ہوئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26509] ‏

حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار گناہوں سے بہت بچو ؛ اللہ کے ساتھ شرک، کسی حرمت والے نفس کا قتل، زناکاری اور چوری۔ [مسند احمد:339/4:حسن] ‏

مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: زنا کی بابت تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: وہ حرام ہے اور قیامت تک حرام ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں سنو! انسان کا اپنے پڑوس کی عورت سے زنا کرنا دوسری دس عورتوں کے زنا سے بھی بدتر ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: چوری کی نسبت کیا کہتے ہو؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ وہ حرام ہے، اللہ و رسول اسے حرام قرار دے چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سنو! دس جگہ کی چوری بھی اتنی بری نہیں جیسی پڑوس کی ایک جگہ کی چوری۔ [مسند احمد:8/6:جید] ‏

صفحہ نمبر6104

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ شرک کے بعد اس سے بڑا گناہ کوئی نہیں کہ انسان اپنا نطفہ اس رحم میں ڈالے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ [الورع لابن ابی الدنیا:137:ضعیف] ‏

یہ بھی مروی ہے کہ بعض مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ کی دعوت اچھی ہے، سچی ہے لیکن ہم نے تو شرک بھی کیا ہے، قتل بھی کیا ہے، زناکاریاں بھی کی ہیں اور یہ سب بکثرت کیے ہیں تو فرمائیے ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت اتری اور آیت «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [39-الزمر:53] ‏ نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26504] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اللہ تمہیں اس سے منع فرماتا ہے کہ تم خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کرو اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنے کتے کو تو پالو اور اپنے بچے کو قتل کر ڈالو۔ اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنی پڑوسن سے بدکاری کرو۔ [الدر المنشور للسیوطی:277/6] ‏

«اثام» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔ یہی وہ وادیاں ہیں جن میں زانیوں کو عذاب کیا جائے گا۔ اس کے معنی عذاب و سزا کے بھی آتے ہیں۔

لقمان حکیم رحمہ اللہ کی نصیحتوں میں ہے کہ اے بچے! زناکاری سے بچنا، اس کے شروع میں ڈر، خوف ہے اور اس کا انجام ندامت و حسرت ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ «غی» اور «اثام» دوزخ کے دو کنوئیں ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29/19] ‏ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔ «اثام» کے معنی بدلے کے بھی مروی ہیں اور یہی ظاہر آیت کے بھی مشابہ بھی ہے۔ اور گویا اس کے بعد کی آیت اسی بدلے اور سزا کی تفسیر ہے کہ اسے بار بار عذاب کیا جائے گا اور سختی کی جائے گی اور ذلت کے دائمی عذابوں میں پھنس جائے گا۔ «اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا»

ان کاموں کے کرنے والے کی سزا تو بیان ہو چکی ہے مگر اس سزا سے وہ بچ جائیں گے جو دنیا ہی میں اس سے توبہ کر لیں، اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کی توبہ بھی قبول ہے جو آیت سورۃ نساء میں ہیں «وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا» [4-النساء:93] ‏ وہ اس کے خلاف نہیں گو وہ مدنی آیت ہے لیکن وہ مطلق ہے تو وہ محمول کی جائے گی ان قاتلوں پر جو اپنے اس فعل سے توبہ نہ کریں اور یہ آیت ان قاتلوں کے بارے میں، جو توبہ کریں۔

پھر مشرکوں کی بخشش نہ ہونے کا بیان فرمایا ہے اور صحیح احادیث سے بھی قاتل کی توبہ کی مقبولیت ثابت ہے۔ جیسے اس شخص کا قصہ جس نے ایک سو قتل کیے تھے اور اس کی توبہ قبول ہوئی۔ وغیرہ۔ یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دیتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے گناہ کے کام کئے تھے۔ اسلام میں آنے کے بعد نیکیاں کیں تو اللہ نے ان گناہ کے کاموں کے بدلے نیکیوں کی توفیق عنایت فرمائی۔ اس آیت کی تلاوت کے وقت آپ ایک عربی شعر پڑھتے تھے جس میں احوال کے تغیر کا بیان ہے جیسے گرمی سے ٹھنڈک۔ عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ دنیا کا ذکر ہے کہ انسان کی بری خصلت کو اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے نیک عادت سے بدل دیتا ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ بتوں کی پرستش کے بدلے اللہ تعالیٰ کی توفیق انہیں ملی۔ مومنوں سے لڑنے کے بجائے کافروں سے جہاد کرنے لگے۔ مشرکہ عورتوں سے نکاح کے بجائے مومنہ عورتوں سے نکاح کئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گناہ کے بدلے ثواب کے عمل کرنے لگے۔ شرک کے بدلے توحید و اخلاص ملا۔ بدکاری کے بدلے پاکدامنی حاصل ہوئی۔ کفر کے بدلے اسلام ملا۔ ایک معنی تو اس آیت کے یہ ہوئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ خلوص کے ساتھ ان کی جو توبہ تھی، اس سے خوش ہو کر اللہ عزوجل نے ان کے گناہوں کو نیکوں میں بدل دیا۔ یہ اس لیے کہ توبہ کے بعد جب کبھی انہیں اپنے گزشتہ گناہ یاد آتے تھے، انہیں ندامت ہوتی تھی۔ یہ غمگین ہو جاتے تھے، شرمانے لگتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے گناہ اطاعت سے بدل گئے گو وہ ان کے نامہ اعمال میں گناہ کے طور پر لکھے ہوئے تھے لیکن قیامت کے دن وہ سب نیکیاں بن جائیں گے۔ جیسے کہ احادیث و آثار میں ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں اس شخص کو پہچانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، یہ ایک وہ شخص ہو گا جسے اللہ کے سامنے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کے بڑے بڑے گناہوں کو چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے گناہوں کی نسبت اس سے بازپرس کرو چنانچہ اس سے سوال ہو گا کہ فلاں فلاں دن تو نے فلاں کام کیا تھا؟ فلاں دن فلاں گناہ کیا تھا؟ یہ ایک کا بھی انکار نہ کر سکے گا، اقرار کرے گا۔ آخر میں کہا جائے گا: تجھے ہم نے ہر گناہ کے بدلے نیکی دی ہے تو اب اس کی باچھیں کھل جائیں گی اور کہے گا: اے میرے پروردگار! میں نے اور بھی بہت سے اعمال کئے تھے جنہیں یہاں پا نہیں رہا۔ یہ فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ کے مسوڑھے دیکھے جانے لگے۔ [صحیح مسلم:190ـ314] ‏ (‏مسلم)

آپ فرماتے ہیں کہ جب انسان سوتا ہے تو فرشتہ شیطان سے کہتا ہے: مجھے اپنا صحیفہ جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہیں دے، وہ دیتا ہے تو ایک ایک نیکی کے بدلے دس دس گناہ وہ اس کے صحیفے سے مٹا دیتا ہے اور انہیں نیکیاں لکھ دیتا ہے پس تم میں سے جو بھی سونے کا ارادہ کرے، وہ چونتیس دفعہ «اللہ اکبر» کہے اور تینتیس دفعہ «الحمدللہ» کہے اور تینتیس دفعہ «سبحان اللہ» کہے، یہ مل کر سو مرتبہ ہو گئے۔ [طبرانی کبیر:3451:ضعیف] ‏ (‏ابن ابی دنیا)

صفحہ نمبر6105

سلمان فرماتے ہیں: انسان کو قیامت کے دن نامہ اعمال دیا جائے گا۔ وہ پڑھنا شروع کرے گا تو اوپر برائیاں درج ہوں گی جنہیں پڑھ کر یہ کچھ ناامید سا ہونے لگے گا۔ اسی وقت اس کی نظر نیچے کی طرف پڑے گی تو اپنی نیکیاں لکھی ہوئی پائے گا جس سے کچھ ڈھارس بندھے گی۔ اب دوبارہ اوپر کی طرف دیکھے گا تو وہاں کی برائیوں کو بھی بھلائیوں سے بدلا ہوا پائے گا۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے آئیں گے جن کے پاس کچھ گناہ ہوں گے۔ پوچھا گیا کہ وہ کون سے لوگ ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ جن کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنتی جنت میں چار قسم کے جائیں گے ؛ متقین یعنی پرہیزگاری کرنے والے، پھر شاکرین یعنی شکر الٰہی کرنے والے، پھر خائفین یعنی خوف الٰہی رکھنے والے، پھر اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پانے والے۔ پوچھا گیا کہ انہیں اصحاب یمین کیوں کہا جاتا ہے؟ جواب دیا: اس لیے کہ انہوں نے نیکیاں، بدیاں سب کی تھیں۔ ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ ملے، اپنی بدیوں کا ایک ایک حرف پڑھ کر یہ کہنے لگے کہ اے اللہ! ہماری نیکیاں کہاں ہیں؟ یہاں تو سب بدیاں لکھی ہوئی ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان بدیوں کو مٹا دے گا اور ان کے بدلے نیکیاں لکھ دے گا۔ انہیں پڑھ کر خوش ہو کر اب تو یہ ایک دوسروں سے کہیں گے کہ آؤ، ہمارے اعمال نامے دیکھو۔ جنتیوں میں اکثر یہی لوگ ہونگے۔ علی بن حسین زین العابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: برائیوں کو بھلائیوں میں بدلنا آخرت میں ہو گا۔ مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخشے گا اور انہیں نیکیوں میں بدل دے گا۔ مکحول رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ حدیث بیان کی کہ ایک بہت بوڑھے ضعیف آدمی جن کی بھویں آنکھوں پر اتر آئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسا شخص ہوں جس نے کوئی غداری، کوئی گناہ، کوئی بدکاری باقی نہیں چھوڑی۔ میرے گناہ اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اگر تمام انسانوں پر تقسیم ہو جائیں تو سب کے سب غضب الٰہی میں گرفتار ہو جائیں، کیا میری بخشش کی بھی کوئی صورت ہے؟ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔ اس نے کلمہ پڑھ لیا کہ «اَشْھَدُاَنْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُهُ» تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری تمام برائیاں، گناہ، بدکاریاں سب کچھ معاف کر دے گا بلکہ جب تک تو اس پر قائم رہے گا، اللہ تعالیٰ تیری برائیاں بھلائیوں میں بدل دے گا۔ اس نے پھر پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے چھوٹے بڑے سب گناہ صاف ہو جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں سب کے سب، پھر تو وہ شخص خوشی خوشی واپس جانے لگا اور تکبیر و تہلیل پکارتا ہوا لوٹ گیا۔ (‏ابن ابی حاتم)

سیدنا ابوفروہ رضی اللہ عنہ حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے سارے گناہ کئے ہوں۔ جو جی میں آیا ہو، پورا کیا ہو۔ کیا ایسے شخص کی بھی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: تم مسلمان ہو گئے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اب نیکیاں کرو، برائیوں سے بچو تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بھی نیکوں میں بدل دے گا۔ اس نے کہا: میری غداریاں اور بدکاریاں بھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اب وہ اللہ اکبر کہتا ہوا واپس چلا گیا۔ (‏طبرانی) [طبرانی کبیر:7235:صحیح] ‏

ایک عورت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور دریافت کیا فرمایا کہ مجھ سے بدکاری ہو گئی، اس سے بچہ ہو گیا، میں نے اسے مار ڈالا۔ اب کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب نہ تیری آنکھیں ٹھنڈی ہو سکتی ہیں، نہ اللہ کے ہاں تیری بزرگی ہو سکتی ہے، تیرے لیے توبہ ہرگز نہیں۔ وہ روتی پیٹتی واپس چلی گئی۔ صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر میں نے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تو نے اس سے بہت ہی بری بات کہی، کیا تو ان آیتوں کو قرآن میں نہیں پڑھتا؟ «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ» مجھے بڑا ہی رنج ہوا اور میں لوٹ کر اس عورت کے پاس پہنچا۔ اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ وہ خوش ہو گئی اور اسی وقت سجدے میں گر پڑی اور کہنے لگی: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت پیدا کر دی۔ (‏طبرانی) [تفسیر ابن جریر الطبری:26515:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا پہلا فتویٰ سن کر وہ حسرت و افسوس کے ساتھ یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی کہ ہائے ہائے، یہ اچھی صورت کیا جہنم کے لے بنائی گئی تھی؟

صفحہ نمبر6106

اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس عورت کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے۔ تمام مدینہ اور ایک ایک گلی چھان ماری لیکن کہیں پتہ نہ چلا۔ اتفاق سے رات کو وہی عوت پھر آئی۔ تب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں صحیح مسئلہ بتلایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اس نے اللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت بنائی اور میری توبہ کو قبول فرمایا۔ یہ کہہ کر اس کے ساتھ جو لونڈی تھی، اسے آزاد کر دیا۔ اس لونڈی کی ایک لڑکی بھی تھی اور سچے دل سے توبہ کر لی۔

پھر فرماتا ہے اور اپنے عام لطف و کرم، فضل و رحم کی خبر دیتا ہے کہ جو بھی اللہ کی طرف جھکے اور اپنی سیاہ کاریوں پر نادم ہو کر توبہ کرے، اللہ اس کی سنتا ہے، قبول فرماتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے۔ جیسا ارشاد ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [4-النساء:110] ‏ ” جو برا عمل کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے، وہ اللہ کو غفور رحیم پائے گا۔ “

اور جگہ ارشاد ہے «أَلَم يَعلَموا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقبَلُ التَّوبَةَ عَن عِبادِهِ» [9-التوبة:104] ‏ ” کیا انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول فرمانے والا ہے۔ “

اور آیت میں ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» [39-الزمر:53] ‏ ” میرے ان بندوں سے جو گنہگار ہیں، کہہ دیجئیے کہ وہ میری رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ “ یعنی توبہ کرنے والا محروم نہیں۔

صفحہ نمبر6107

سب سے بڑا گناہ ٭٭

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: تیرا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا: اس سے کم؟ فرمایا: تیرا اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالنا کہ تو اسے کھلائے گا کہاں سے؟ پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: تیرا اپنے پڑوس کی کسی عورت سے بدکاری کرنا۔ پس اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ [صحیح بخاری:4761] ‏

اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر جانے لگے، تنہا تھے۔ میں بھی ساتھ ہو لیا۔ آپ ایک اونچی جگہ بیٹھ گئے۔ میں آپ سے نیچے بیٹھ گیا اور اس تنہائی کے موقعہ کو غنیمت سمجھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ سوالات کئے، جو اوپر مذکور ہوئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26509] ‏

حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار گناہوں سے بہت بچو ؛ اللہ کے ساتھ شرک، کسی حرمت والے نفس کا قتل، زناکاری اور چوری۔ [مسند احمد:339/4:حسن] ‏

مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: زنا کی بابت تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: وہ حرام ہے اور قیامت تک حرام ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں سنو! انسان کا اپنے پڑوس کی عورت سے زنا کرنا دوسری دس عورتوں کے زنا سے بھی بدتر ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: چوری کی نسبت کیا کہتے ہو؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ وہ حرام ہے، اللہ و رسول اسے حرام قرار دے چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سنو! دس جگہ کی چوری بھی اتنی بری نہیں جیسی پڑوس کی ایک جگہ کی چوری۔ [مسند احمد:8/6:جید] ‏

صفحہ نمبر6104

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ شرک کے بعد اس سے بڑا گناہ کوئی نہیں کہ انسان اپنا نطفہ اس رحم میں ڈالے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ [الورع لابن ابی الدنیا:137:ضعیف] ‏

یہ بھی مروی ہے کہ بعض مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ کی دعوت اچھی ہے، سچی ہے لیکن ہم نے تو شرک بھی کیا ہے، قتل بھی کیا ہے، زناکاریاں بھی کی ہیں اور یہ سب بکثرت کیے ہیں تو فرمائیے ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت اتری اور آیت «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [39-الزمر:53] ‏ نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26504] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اللہ تمہیں اس سے منع فرماتا ہے کہ تم خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کرو اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنے کتے کو تو پالو اور اپنے بچے کو قتل کر ڈالو۔ اور اس سے بھی منع فرماتا ہے کہ اپنی پڑوسن سے بدکاری کرو۔ [الدر المنشور للسیوطی:277/6] ‏

«اثام» جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔ یہی وہ وادیاں ہیں جن میں زانیوں کو عذاب کیا جائے گا۔ اس کے معنی عذاب و سزا کے بھی آتے ہیں۔

لقمان حکیم رحمہ اللہ کی نصیحتوں میں ہے کہ اے بچے! زناکاری سے بچنا، اس کے شروع میں ڈر، خوف ہے اور اس کا انجام ندامت و حسرت ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ «غی» اور «اثام» دوزخ کے دو کنوئیں ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29/19] ‏ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔ «اثام» کے معنی بدلے کے بھی مروی ہیں اور یہی ظاہر آیت کے بھی مشابہ بھی ہے۔ اور گویا اس کے بعد کی آیت اسی بدلے اور سزا کی تفسیر ہے کہ اسے بار بار عذاب کیا جائے گا اور سختی کی جائے گی اور ذلت کے دائمی عذابوں میں پھنس جائے گا۔ «اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا»

ان کاموں کے کرنے والے کی سزا تو بیان ہو چکی ہے مگر اس سزا سے وہ بچ جائیں گے جو دنیا ہی میں اس سے توبہ کر لیں، اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کی توبہ بھی قبول ہے جو آیت سورۃ نساء میں ہیں «وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا» [4-النساء:93] ‏ وہ اس کے خلاف نہیں گو وہ مدنی آیت ہے لیکن وہ مطلق ہے تو وہ محمول کی جائے گی ان قاتلوں پر جو اپنے اس فعل سے توبہ نہ کریں اور یہ آیت ان قاتلوں کے بارے میں، جو توبہ کریں۔

پھر مشرکوں کی بخشش نہ ہونے کا بیان فرمایا ہے اور صحیح احادیث سے بھی قاتل کی توبہ کی مقبولیت ثابت ہے۔ جیسے اس شخص کا قصہ جس نے ایک سو قتل کیے تھے اور اس کی توبہ قبول ہوئی۔ وغیرہ۔ یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دیتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے گناہ کے کام کئے تھے۔ اسلام میں آنے کے بعد نیکیاں کیں تو اللہ نے ان گناہ کے کاموں کے بدلے نیکیوں کی توفیق عنایت فرمائی۔ اس آیت کی تلاوت کے وقت آپ ایک عربی شعر پڑھتے تھے جس میں احوال کے تغیر کا بیان ہے جیسے گرمی سے ٹھنڈک۔ عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ دنیا کا ذکر ہے کہ انسان کی بری خصلت کو اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے نیک عادت سے بدل دیتا ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ بتوں کی پرستش کے بدلے اللہ تعالیٰ کی توفیق انہیں ملی۔ مومنوں سے لڑنے کے بجائے کافروں سے جہاد کرنے لگے۔ مشرکہ عورتوں سے نکاح کے بجائے مومنہ عورتوں سے نکاح کئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گناہ کے بدلے ثواب کے عمل کرنے لگے۔ شرک کے بدلے توحید و اخلاص ملا۔ بدکاری کے بدلے پاکدامنی حاصل ہوئی۔ کفر کے بدلے اسلام ملا۔ ایک معنی تو اس آیت کے یہ ہوئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ خلوص کے ساتھ ان کی جو توبہ تھی، اس سے خوش ہو کر اللہ عزوجل نے ان کے گناہوں کو نیکوں میں بدل دیا۔ یہ اس لیے کہ توبہ کے بعد جب کبھی انہیں اپنے گزشتہ گناہ یاد آتے تھے، انہیں ندامت ہوتی تھی۔ یہ غمگین ہو جاتے تھے، شرمانے لگتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے گناہ اطاعت سے بدل گئے گو وہ ان کے نامہ اعمال میں گناہ کے طور پر لکھے ہوئے تھے لیکن قیامت کے دن وہ سب نیکیاں بن جائیں گے۔ جیسے کہ احادیث و آثار میں ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں اس شخص کو پہچانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، یہ ایک وہ شخص ہو گا جسے اللہ کے سامنے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کے بڑے بڑے گناہوں کو چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے گناہوں کی نسبت اس سے بازپرس کرو چنانچہ اس سے سوال ہو گا کہ فلاں فلاں دن تو نے فلاں کام کیا تھا؟ فلاں دن فلاں گناہ کیا تھا؟ یہ ایک کا بھی انکار نہ کر سکے گا، اقرار کرے گا۔ آخر میں کہا جائے گا: تجھے ہم نے ہر گناہ کے بدلے نیکی دی ہے تو اب اس کی باچھیں کھل جائیں گی اور کہے گا: اے میرے پروردگار! میں نے اور بھی بہت سے اعمال کئے تھے جنہیں یہاں پا نہیں رہا۔ یہ فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ کے مسوڑھے دیکھے جانے لگے۔ [صحیح مسلم:190ـ314] ‏ (‏مسلم)

آپ فرماتے ہیں کہ جب انسان سوتا ہے تو فرشتہ شیطان سے کہتا ہے: مجھے اپنا صحیفہ جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہیں دے، وہ دیتا ہے تو ایک ایک نیکی کے بدلے دس دس گناہ وہ اس کے صحیفے سے مٹا دیتا ہے اور انہیں نیکیاں لکھ دیتا ہے پس تم میں سے جو بھی سونے کا ارادہ کرے، وہ چونتیس دفعہ «اللہ اکبر» کہے اور تینتیس دفعہ «الحمدللہ» کہے اور تینتیس دفعہ «سبحان اللہ» کہے، یہ مل کر سو مرتبہ ہو گئے۔ [طبرانی کبیر:3451:ضعیف] ‏ (‏ابن ابی دنیا)

صفحہ نمبر6105

سلمان فرماتے ہیں: انسان کو قیامت کے دن نامہ اعمال دیا جائے گا۔ وہ پڑھنا شروع کرے گا تو اوپر برائیاں درج ہوں گی جنہیں پڑھ کر یہ کچھ ناامید سا ہونے لگے گا۔ اسی وقت اس کی نظر نیچے کی طرف پڑے گی تو اپنی نیکیاں لکھی ہوئی پائے گا جس سے کچھ ڈھارس بندھے گی۔ اب دوبارہ اوپر کی طرف دیکھے گا تو وہاں کی برائیوں کو بھی بھلائیوں سے بدلا ہوا پائے گا۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے آئیں گے جن کے پاس کچھ گناہ ہوں گے۔ پوچھا گیا کہ وہ کون سے لوگ ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ جن کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ بھلائیوں سے بدل دے گا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنتی جنت میں چار قسم کے جائیں گے ؛ متقین یعنی پرہیزگاری کرنے والے، پھر شاکرین یعنی شکر الٰہی کرنے والے، پھر خائفین یعنی خوف الٰہی رکھنے والے، پھر اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پانے والے۔ پوچھا گیا کہ انہیں اصحاب یمین کیوں کہا جاتا ہے؟ جواب دیا: اس لیے کہ انہوں نے نیکیاں، بدیاں سب کی تھیں۔ ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ ملے، اپنی بدیوں کا ایک ایک حرف پڑھ کر یہ کہنے لگے کہ اے اللہ! ہماری نیکیاں کہاں ہیں؟ یہاں تو سب بدیاں لکھی ہوئی ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان بدیوں کو مٹا دے گا اور ان کے بدلے نیکیاں لکھ دے گا۔ انہیں پڑھ کر خوش ہو کر اب تو یہ ایک دوسروں سے کہیں گے کہ آؤ، ہمارے اعمال نامے دیکھو۔ جنتیوں میں اکثر یہی لوگ ہونگے۔ علی بن حسین زین العابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: برائیوں کو بھلائیوں میں بدلنا آخرت میں ہو گا۔ مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخشے گا اور انہیں نیکیوں میں بدل دے گا۔ مکحول رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ حدیث بیان کی کہ ایک بہت بوڑھے ضعیف آدمی جن کی بھویں آنکھوں پر اتر آئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسا شخص ہوں جس نے کوئی غداری، کوئی گناہ، کوئی بدکاری باقی نہیں چھوڑی۔ میرے گناہ اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اگر تمام انسانوں پر تقسیم ہو جائیں تو سب کے سب غضب الٰہی میں گرفتار ہو جائیں، کیا میری بخشش کی بھی کوئی صورت ہے؟ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔ اس نے کلمہ پڑھ لیا کہ «اَشْھَدُاَنْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُهُ» تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری تمام برائیاں، گناہ، بدکاریاں سب کچھ معاف کر دے گا بلکہ جب تک تو اس پر قائم رہے گا، اللہ تعالیٰ تیری برائیاں بھلائیوں میں بدل دے گا۔ اس نے پھر پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے چھوٹے بڑے سب گناہ صاف ہو جائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں سب کے سب، پھر تو وہ شخص خوشی خوشی واپس جانے لگا اور تکبیر و تہلیل پکارتا ہوا لوٹ گیا۔ (‏ابن ابی حاتم)

سیدنا ابوفروہ رضی اللہ عنہ حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے سارے گناہ کئے ہوں۔ جو جی میں آیا ہو، پورا کیا ہو۔ کیا ایسے شخص کی بھی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: تم مسلمان ہو گئے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اب نیکیاں کرو، برائیوں سے بچو تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بھی نیکوں میں بدل دے گا۔ اس نے کہا: میری غداریاں اور بدکاریاں بھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اب وہ اللہ اکبر کہتا ہوا واپس چلا گیا۔ (‏طبرانی) [طبرانی کبیر:7235:صحیح] ‏

ایک عورت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور دریافت کیا فرمایا کہ مجھ سے بدکاری ہو گئی، اس سے بچہ ہو گیا، میں نے اسے مار ڈالا۔ اب کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب نہ تیری آنکھیں ٹھنڈی ہو سکتی ہیں، نہ اللہ کے ہاں تیری بزرگی ہو سکتی ہے، تیرے لیے توبہ ہرگز نہیں۔ وہ روتی پیٹتی واپس چلی گئی۔ صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر میں نے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تو نے اس سے بہت ہی بری بات کہی، کیا تو ان آیتوں کو قرآن میں نہیں پڑھتا؟ «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَن تَابَ» مجھے بڑا ہی رنج ہوا اور میں لوٹ کر اس عورت کے پاس پہنچا۔ اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ وہ خوش ہو گئی اور اسی وقت سجدے میں گر پڑی اور کہنے لگی: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت پیدا کر دی۔ (‏طبرانی) [تفسیر ابن جریر الطبری:26515:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا پہلا فتویٰ سن کر وہ حسرت و افسوس کے ساتھ یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی کہ ہائے ہائے، یہ اچھی صورت کیا جہنم کے لے بنائی گئی تھی؟

صفحہ نمبر6106

اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس عورت کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے۔ تمام مدینہ اور ایک ایک گلی چھان ماری لیکن کہیں پتہ نہ چلا۔ اتفاق سے رات کو وہی عوت پھر آئی۔ تب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں صحیح مسئلہ بتلایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اس نے اللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے میرے لیے چھٹکارے کی صورت بنائی اور میری توبہ کو قبول فرمایا۔ یہ کہہ کر اس کے ساتھ جو لونڈی تھی، اسے آزاد کر دیا۔ اس لونڈی کی ایک لڑکی بھی تھی اور سچے دل سے توبہ کر لی۔

پھر فرماتا ہے اور اپنے عام لطف و کرم، فضل و رحم کی خبر دیتا ہے کہ جو بھی اللہ کی طرف جھکے اور اپنی سیاہ کاریوں پر نادم ہو کر توبہ کرے، اللہ اس کی سنتا ہے، قبول فرماتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے۔ جیسا ارشاد ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [4-النساء:110] ‏ ” جو برا عمل کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے، وہ اللہ کو غفور رحیم پائے گا۔ “

اور جگہ ارشاد ہے «أَلَم يَعلَموا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقبَلُ التَّوبَةَ عَن عِبادِهِ» [9-التوبة:104] ‏ ” کیا انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول فرمانے والا ہے۔ “

اور آیت میں ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» [39-الزمر:53] ‏ ” میرے ان بندوں سے جو گنہگار ہیں، کہہ دیجئیے کہ وہ میری رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ “ یعنی توبہ کرنے والا محروم نہیں۔

صفحہ نمبر6107

عباد الرحمن کے اوصاف ٭٭

عباد الرحمان کے اور نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے یعنی شرک نہیں کرتے، بت پرستی سے بچتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے، فسق و فجور نہیں کرتے، کفر سے الگ رہتے ہیں، لغو اور باطل کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، گانا نہیں سنتے، مشرکوں کی عیدیں نہیں مناتے، خیانت نہیں کرتے، بری مجلسوں میں نشست نہیں رکھتے، شرابیں نہیں پیتے، شراب خانوں میں نہیں جاتے، اس کی رغبت نہیں کرتے۔

حدیث میں بھی ہے کہ سچے مومن کو چاہئے کہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر دور شراب چل رہا ہو اور یہ مطلب ہے کہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ [مسند احمد:20/1:حسن] ‏

بخاری و مسلم میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ بتا دوں؟ تین دفعہ یہی فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ اس وقت تک آپ تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے، اب اس سے الگ ہو کر فرمانے لگے: سنو اور جھوٹی بات کہنا، سنو اور جھوٹی گواہی دینا، اسے باربار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے دل میں کہنے لگے کہ کاش! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب خاموش ہو جاتے۔ [صحیح بخاری:2654] ‏

زیادہ ظاہر لفظوں سے تو یہ ہے کہ وہ جھوٹ کے پاس نہیں جاتے۔ اللہ کے ان بزرگ بندوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ قرآن کی آیتیں سن کر ان کے دل دہل جاتے ہیں، ان کے ایمان اور توکل بڑھ جاتے ہیں بخلاف کفار کے کہ ان پر کلام الٰہی کا اثر نہیں ہوتا، وہ اپنی بداعمالیوں سے باز نہیں رہتے۔ نہ اپنا کفر چھوڑتے ہیں نہ سرکشی، طغیانی اور جہالت و ضلالت سے باز آتے ہیں۔ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور بیمار دل والوں کی گندگی ابھر آتی ہے۔ پس کافر اللہ کی آیتوں سے بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں۔ ان مومنوں کی حالت ان کے برعکس ہے، نہ یہ حق سے بہرے ہیں، نہ حق سے اندھے ہیں۔ سنتے ہیں، سمجھتے ہیں، نفع حاصل کرتے ہیں، اپنی اصلاح کرتے ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو پڑھتے تو ہیں لیکن اندھا پن، بہرا پن نہیں چھوڑتے۔ شعبی رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص آتا ہے اور وہ دوسروں کو سجدے میں پاتا ہے لیکن اسے نہیں معلوم کہ کس آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا ہے؟ تو کیا وہ بھی ان کے ساتھ سجدہ کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھی یعنی سجدہ نہ کرے۔ اس لیے کہ اس نے سجدے کی آیت پڑھی، نہ سنی، نہ سوچی تو مومن کا کوئی کام اندھا دھند نہ کرنا چاہیے جب تک اس کے سامنے کسی چیز کی حقیقت نہ ہو، اسے شامل نہ ہونا چائیے۔

صفحہ نمبر6111

پھر ان بزرگ بندوں کی ایک دعا بیان ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں کہ ان کی اولادیں بھی ان کی طرح رب کی فرمانبردار، عبادت گزار، موحد اور غیر مشرک ہوں تاکہ دنیا میں بھی اس نیک اولاد سے ان کا دل ٹھنڈا رہے اور آخرت میں بھی۔ یہ انہیں اچھی حالت میں دیکھ کر خوش ہوں۔

اس دعا سے ان کی غرض خوبصورتی اور جمال نہیں بلکہ نیکی اور خوش خلقی کی ہے۔ مسلمان کی سچی خوشی اسی میں ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو، دوست احباب کو اللہ کا فرماں بردار دیکھے۔ وہ ظالم نہ ہوں، بدکار نہ ہوں۔ سچے مسلمان ہوں۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر ایک صاحب فرمانے لگے: ان کی آنکھوں کو مبارک باد ہو جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔ کاش کہ ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور تمہاری طرح فیض صحبت حاصل کرتے۔ اس پر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے تو نفیر کہتے ہیں: مجھے تعجب معلوم ہوا کہ اس بات میں کوئی برائی نہیں، پھر یہ کیوں خفا ہو رہے ہیں؟ اتنے میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ کہ اس چیز کی آرزو کرتے ہیں کہ جو قدرت نے انہیں نہیں دی۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ اگر اس وقت ہوتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ واللہ وہ لوگ بھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے جنہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی، نہ تابعداری کی اور اوندھے منہ جہنم میں گئے۔ تم اللہ کا یہ احسان نہیں مانتے کہ اللہ نے تمہیں اسلام میں اور مسلمان گھروں میں پیدا کیا؟ پیدا ہوتے ہی تمہارے کانوں میں اللہ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پڑی اور ان بلاؤں سے تم بچالئے گئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے زمانے میں مبعوث ہوئے تھے جس وقت دنیا کی اندھیر نگری اپنی انتہا پر تھی۔ اس وقت دنیا والوں کے نزدیک بت پرستی سے بہتر کوئی مذہب نہ تھا۔ آپ فرقان لے کر آئے، حق و باطل میں تمیز کی۔ باپ بیٹے جدا ہو گئے۔ مسلمان اپنے باپ دادوں، بیٹوں، پوتوں، دوست احباب کو کفر پر دیکھتے، ان سے انہیں کوئی محبت پیار نہیں ہوتا تھا بلکہ کڑہتے تھے کہ یہ جہنمی ہیں اسی لیے ان کی دعائیں ہوتی تھیں کہ ہمیں ہماری اولاد اور بیویوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما کیونکہ کفار کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوتی تھیں۔ [مسند احمد:3/6:صحیح] ‏

اس دعا کا آخر یہ ہے کہ ہمیں لوگوں کا رہبر بنا دے کہ ہم انہیں نیکی کی تعلیم دیں، لوگ بھلائی میں ہماری اقتداء کریں۔ ہماری اولاد ہماری راہ چلے تاکہ ثواب بڑھ جائے اور ان کی نیکیوں کا باعث بھی ہم بن جائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر تین چیزیں ؛ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے یا علم جس سے اس کے بعد نفع اٹھایا جائے یا صدقہ جاریہ۔ [صحیح مسلم:3084] ‏

صفحہ نمبر6112

عباد الرحمن کے اوصاف ٭٭

عباد الرحمان کے اور نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے یعنی شرک نہیں کرتے، بت پرستی سے بچتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے، فسق و فجور نہیں کرتے، کفر سے الگ رہتے ہیں، لغو اور باطل کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، گانا نہیں سنتے، مشرکوں کی عیدیں نہیں مناتے، خیانت نہیں کرتے، بری مجلسوں میں نشست نہیں رکھتے، شرابیں نہیں پیتے، شراب خانوں میں نہیں جاتے، اس کی رغبت نہیں کرتے۔

حدیث میں بھی ہے کہ سچے مومن کو چاہئے کہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر دور شراب چل رہا ہو اور یہ مطلب ہے کہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ [مسند احمد:20/1:حسن] ‏

بخاری و مسلم میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ بتا دوں؟ تین دفعہ یہی فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ اس وقت تک آپ تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے، اب اس سے الگ ہو کر فرمانے لگے: سنو اور جھوٹی بات کہنا، سنو اور جھوٹی گواہی دینا، اسے باربار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے دل میں کہنے لگے کہ کاش! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب خاموش ہو جاتے۔ [صحیح بخاری:2654] ‏

زیادہ ظاہر لفظوں سے تو یہ ہے کہ وہ جھوٹ کے پاس نہیں جاتے۔ اللہ کے ان بزرگ بندوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ قرآن کی آیتیں سن کر ان کے دل دہل جاتے ہیں، ان کے ایمان اور توکل بڑھ جاتے ہیں بخلاف کفار کے کہ ان پر کلام الٰہی کا اثر نہیں ہوتا، وہ اپنی بداعمالیوں سے باز نہیں رہتے۔ نہ اپنا کفر چھوڑتے ہیں نہ سرکشی، طغیانی اور جہالت و ضلالت سے باز آتے ہیں۔ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور بیمار دل والوں کی گندگی ابھر آتی ہے۔ پس کافر اللہ کی آیتوں سے بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں۔ ان مومنوں کی حالت ان کے برعکس ہے، نہ یہ حق سے بہرے ہیں، نہ حق سے اندھے ہیں۔ سنتے ہیں، سمجھتے ہیں، نفع حاصل کرتے ہیں، اپنی اصلاح کرتے ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو پڑھتے تو ہیں لیکن اندھا پن، بہرا پن نہیں چھوڑتے۔ شعبی رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص آتا ہے اور وہ دوسروں کو سجدے میں پاتا ہے لیکن اسے نہیں معلوم کہ کس آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا ہے؟ تو کیا وہ بھی ان کے ساتھ سجدہ کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھی یعنی سجدہ نہ کرے۔ اس لیے کہ اس نے سجدے کی آیت پڑھی، نہ سنی، نہ سوچی تو مومن کا کوئی کام اندھا دھند نہ کرنا چاہیے جب تک اس کے سامنے کسی چیز کی حقیقت نہ ہو، اسے شامل نہ ہونا چائیے۔

صفحہ نمبر6111

پھر ان بزرگ بندوں کی ایک دعا بیان ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں کہ ان کی اولادیں بھی ان کی طرح رب کی فرمانبردار، عبادت گزار، موحد اور غیر مشرک ہوں تاکہ دنیا میں بھی اس نیک اولاد سے ان کا دل ٹھنڈا رہے اور آخرت میں بھی۔ یہ انہیں اچھی حالت میں دیکھ کر خوش ہوں۔

اس دعا سے ان کی غرض خوبصورتی اور جمال نہیں بلکہ نیکی اور خوش خلقی کی ہے۔ مسلمان کی سچی خوشی اسی میں ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو، دوست احباب کو اللہ کا فرماں بردار دیکھے۔ وہ ظالم نہ ہوں، بدکار نہ ہوں۔ سچے مسلمان ہوں۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر ایک صاحب فرمانے لگے: ان کی آنکھوں کو مبارک باد ہو جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔ کاش کہ ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور تمہاری طرح فیض صحبت حاصل کرتے۔ اس پر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے تو نفیر کہتے ہیں: مجھے تعجب معلوم ہوا کہ اس بات میں کوئی برائی نہیں، پھر یہ کیوں خفا ہو رہے ہیں؟ اتنے میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ کہ اس چیز کی آرزو کرتے ہیں کہ جو قدرت نے انہیں نہیں دی۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ اگر اس وقت ہوتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ واللہ وہ لوگ بھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے جنہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی، نہ تابعداری کی اور اوندھے منہ جہنم میں گئے۔ تم اللہ کا یہ احسان نہیں مانتے کہ اللہ نے تمہیں اسلام میں اور مسلمان گھروں میں پیدا کیا؟ پیدا ہوتے ہی تمہارے کانوں میں اللہ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پڑی اور ان بلاؤں سے تم بچالئے گئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے زمانے میں مبعوث ہوئے تھے جس وقت دنیا کی اندھیر نگری اپنی انتہا پر تھی۔ اس وقت دنیا والوں کے نزدیک بت پرستی سے بہتر کوئی مذہب نہ تھا۔ آپ فرقان لے کر آئے، حق و باطل میں تمیز کی۔ باپ بیٹے جدا ہو گئے۔ مسلمان اپنے باپ دادوں، بیٹوں، پوتوں، دوست احباب کو کفر پر دیکھتے، ان سے انہیں کوئی محبت پیار نہیں ہوتا تھا بلکہ کڑہتے تھے کہ یہ جہنمی ہیں اسی لیے ان کی دعائیں ہوتی تھیں کہ ہمیں ہماری اولاد اور بیویوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما کیونکہ کفار کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوتی تھیں۔ [مسند احمد:3/6:صحیح] ‏

اس دعا کا آخر یہ ہے کہ ہمیں لوگوں کا رہبر بنا دے کہ ہم انہیں نیکی کی تعلیم دیں، لوگ بھلائی میں ہماری اقتداء کریں۔ ہماری اولاد ہماری راہ چلے تاکہ ثواب بڑھ جائے اور ان کی نیکیوں کا باعث بھی ہم بن جائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر تین چیزیں ؛ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے یا علم جس سے اس کے بعد نفع اٹھایا جائے یا صدقہ جاریہ۔ [صحیح مسلم:3084] ‏

صفحہ نمبر6112

عباد الرحمن کے اوصاف ٭٭

عباد الرحمان کے اور نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے یعنی شرک نہیں کرتے، بت پرستی سے بچتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے، فسق و فجور نہیں کرتے، کفر سے الگ رہتے ہیں، لغو اور باطل کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، گانا نہیں سنتے، مشرکوں کی عیدیں نہیں مناتے، خیانت نہیں کرتے، بری مجلسوں میں نشست نہیں رکھتے، شرابیں نہیں پیتے، شراب خانوں میں نہیں جاتے، اس کی رغبت نہیں کرتے۔

حدیث میں بھی ہے کہ سچے مومن کو چاہئے کہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر دور شراب چل رہا ہو اور یہ مطلب ہے کہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ [مسند احمد:20/1:حسن] ‏

بخاری و مسلم میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ بتا دوں؟ تین دفعہ یہی فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ اس وقت تک آپ تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے، اب اس سے الگ ہو کر فرمانے لگے: سنو اور جھوٹی بات کہنا، سنو اور جھوٹی گواہی دینا، اسے باربار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے دل میں کہنے لگے کہ کاش! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب خاموش ہو جاتے۔ [صحیح بخاری:2654] ‏

زیادہ ظاہر لفظوں سے تو یہ ہے کہ وہ جھوٹ کے پاس نہیں جاتے۔ اللہ کے ان بزرگ بندوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ قرآن کی آیتیں سن کر ان کے دل دہل جاتے ہیں، ان کے ایمان اور توکل بڑھ جاتے ہیں بخلاف کفار کے کہ ان پر کلام الٰہی کا اثر نہیں ہوتا، وہ اپنی بداعمالیوں سے باز نہیں رہتے۔ نہ اپنا کفر چھوڑتے ہیں نہ سرکشی، طغیانی اور جہالت و ضلالت سے باز آتے ہیں۔ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور بیمار دل والوں کی گندگی ابھر آتی ہے۔ پس کافر اللہ کی آیتوں سے بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں۔ ان مومنوں کی حالت ان کے برعکس ہے، نہ یہ حق سے بہرے ہیں، نہ حق سے اندھے ہیں۔ سنتے ہیں، سمجھتے ہیں، نفع حاصل کرتے ہیں، اپنی اصلاح کرتے ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو پڑھتے تو ہیں لیکن اندھا پن، بہرا پن نہیں چھوڑتے۔ شعبی رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص آتا ہے اور وہ دوسروں کو سجدے میں پاتا ہے لیکن اسے نہیں معلوم کہ کس آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا ہے؟ تو کیا وہ بھی ان کے ساتھ سجدہ کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھی یعنی سجدہ نہ کرے۔ اس لیے کہ اس نے سجدے کی آیت پڑھی، نہ سنی، نہ سوچی تو مومن کا کوئی کام اندھا دھند نہ کرنا چاہیے جب تک اس کے سامنے کسی چیز کی حقیقت نہ ہو، اسے شامل نہ ہونا چائیے۔

صفحہ نمبر6111

پھر ان بزرگ بندوں کی ایک دعا بیان ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں کہ ان کی اولادیں بھی ان کی طرح رب کی فرمانبردار، عبادت گزار، موحد اور غیر مشرک ہوں تاکہ دنیا میں بھی اس نیک اولاد سے ان کا دل ٹھنڈا رہے اور آخرت میں بھی۔ یہ انہیں اچھی حالت میں دیکھ کر خوش ہوں۔

اس دعا سے ان کی غرض خوبصورتی اور جمال نہیں بلکہ نیکی اور خوش خلقی کی ہے۔ مسلمان کی سچی خوشی اسی میں ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو، دوست احباب کو اللہ کا فرماں بردار دیکھے۔ وہ ظالم نہ ہوں، بدکار نہ ہوں۔ سچے مسلمان ہوں۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر ایک صاحب فرمانے لگے: ان کی آنکھوں کو مبارک باد ہو جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔ کاش کہ ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور تمہاری طرح فیض صحبت حاصل کرتے۔ اس پر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے تو نفیر کہتے ہیں: مجھے تعجب معلوم ہوا کہ اس بات میں کوئی برائی نہیں، پھر یہ کیوں خفا ہو رہے ہیں؟ اتنے میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ کہ اس چیز کی آرزو کرتے ہیں کہ جو قدرت نے انہیں نہیں دی۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ اگر اس وقت ہوتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ واللہ وہ لوگ بھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے جنہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی، نہ تابعداری کی اور اوندھے منہ جہنم میں گئے۔ تم اللہ کا یہ احسان نہیں مانتے کہ اللہ نے تمہیں اسلام میں اور مسلمان گھروں میں پیدا کیا؟ پیدا ہوتے ہی تمہارے کانوں میں اللہ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پڑی اور ان بلاؤں سے تم بچالئے گئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے زمانے میں مبعوث ہوئے تھے جس وقت دنیا کی اندھیر نگری اپنی انتہا پر تھی۔ اس وقت دنیا والوں کے نزدیک بت پرستی سے بہتر کوئی مذہب نہ تھا۔ آپ فرقان لے کر آئے، حق و باطل میں تمیز کی۔ باپ بیٹے جدا ہو گئے۔ مسلمان اپنے باپ دادوں، بیٹوں، پوتوں، دوست احباب کو کفر پر دیکھتے، ان سے انہیں کوئی محبت پیار نہیں ہوتا تھا بلکہ کڑہتے تھے کہ یہ جہنمی ہیں اسی لیے ان کی دعائیں ہوتی تھیں کہ ہمیں ہماری اولاد اور بیویوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما کیونکہ کفار کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوتی تھیں۔ [مسند احمد:3/6:صحیح] ‏

اس دعا کا آخر یہ ہے کہ ہمیں لوگوں کا رہبر بنا دے کہ ہم انہیں نیکی کی تعلیم دیں، لوگ بھلائی میں ہماری اقتداء کریں۔ ہماری اولاد ہماری راہ چلے تاکہ ثواب بڑھ جائے اور ان کی نیکیوں کا باعث بھی ہم بن جائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر تین چیزیں ؛ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے یا علم جس سے اس کے بعد نفع اٹھایا جائے یا صدقہ جاریہ۔ [صحیح مسلم:3084] ‏

صفحہ نمبر6112

مومنوں کے اعمال اور اللہ کے انعامات ٭٭

مومنوں کی پاک صفتیں، ان کے بھلے اقوال، عمدہ افعال بیان فرما کر ان کا بدلہ بیان ہو رہا ہے کہ انہیں جنت ملے گی جو بلند تر جگہ ہے۔ اس وجہ سے کہ یہ ان کے اوصاف پر جمے رہے۔ وہاں ان کی عزت ہو گی، اکرام ہو گا، ادب و تعظیم ہو گی، احترام اور توقیر ہو گی۔ ان کے لیے سلامتی ہے، ان پر سلامتی ہے، ہر دروازہ جنت سے فرشتے حاضر خدمت ہوتے ہیں اور سلام کر کے کہتے ہیں کہ تمہارا انجام بہتر ہو گیا کیونکہ تم صبر کرنے والے تھے۔

یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے، نہ نکلیں، نہ نکالے جائیں، نہ نعمتیں کم ہوں، نہ راحتیں فنا ہوں۔ یہ سعید بخت ہیں۔ جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے رہنے سہنے، راحت و آرام کرنے کی جگہ بڑی سہانی و پاک، صاف، طیب و طاہر ہے۔ دیکھنے میں خوش منظر، رہنے میں آرام دہ۔ اللہ نے اپنی مخلوق کو اپنی عبادت اور تسبیح و تہلیل کے لیے پیدا کیا ہے۔ اگر مخلوق یہ نہ بجا لائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہایت حقیر ہے۔ ایمان کے بغیر انسان ناکارہ محض ہے۔ اگر اللہ کو کافروں کی چاہت ہوتی تو وہ انہیں بھی اپنی عبادت کی طرف جھکا دیتا لیکن اللہ کے نزدیک یہ کسی گنتی میں ہی نہیں۔ کافرو! تم نے جھٹلایا۔ اب تم نہ سمجھو کہ بس معاملہ ختم ہو گیا۔ نہیں اس کا وبال تمہارے ساتھ ہی ساتھ ہے، دنیا اور آخرت میں تم برباد ہو گے اور عذاب اللہ تم سے چمٹے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی بدر کے دن کی کفار کی ہزیمت اور شکست تھی جیسے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے: قیامت کے دن کی سزا ابھی باقی ہے۔ الحمدللہ کہ سورۃ الفرقان کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر6115

مومنوں کے اعمال اور اللہ کے انعامات ٭٭

مومنوں کی پاک صفتیں، ان کے بھلے اقوال، عمدہ افعال بیان فرما کر ان کا بدلہ بیان ہو رہا ہے کہ انہیں جنت ملے گی جو بلند تر جگہ ہے۔ اس وجہ سے کہ یہ ان کے اوصاف پر جمے رہے۔ وہاں ان کی عزت ہو گی، اکرام ہو گا، ادب و تعظیم ہو گی، احترام اور توقیر ہو گی۔ ان کے لیے سلامتی ہے، ان پر سلامتی ہے، ہر دروازہ جنت سے فرشتے حاضر خدمت ہوتے ہیں اور سلام کر کے کہتے ہیں کہ تمہارا انجام بہتر ہو گیا کیونکہ تم صبر کرنے والے تھے۔

یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے، نہ نکلیں، نہ نکالے جائیں، نہ نعمتیں کم ہوں، نہ راحتیں فنا ہوں۔ یہ سعید بخت ہیں۔ جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے رہنے سہنے، راحت و آرام کرنے کی جگہ بڑی سہانی و پاک، صاف، طیب و طاہر ہے۔ دیکھنے میں خوش منظر، رہنے میں آرام دہ۔ اللہ نے اپنی مخلوق کو اپنی عبادت اور تسبیح و تہلیل کے لیے پیدا کیا ہے۔ اگر مخلوق یہ نہ بجا لائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہایت حقیر ہے۔ ایمان کے بغیر انسان ناکارہ محض ہے۔ اگر اللہ کو کافروں کی چاہت ہوتی تو وہ انہیں بھی اپنی عبادت کی طرف جھکا دیتا لیکن اللہ کے نزدیک یہ کسی گنتی میں ہی نہیں۔ کافرو! تم نے جھٹلایا۔ اب تم نہ سمجھو کہ بس معاملہ ختم ہو گیا۔ نہیں اس کا وبال تمہارے ساتھ ہی ساتھ ہے، دنیا اور آخرت میں تم برباد ہو گے اور عذاب اللہ تم سے چمٹے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی بدر کے دن کی کفار کی ہزیمت اور شکست تھی جیسے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے: قیامت کے دن کی سزا ابھی باقی ہے۔ الحمدللہ کہ سورۃ الفرقان کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر6115

مومنوں کے اعمال اور اللہ کے انعامات ٭٭

مومنوں کی پاک صفتیں، ان کے بھلے اقوال، عمدہ افعال بیان فرما کر ان کا بدلہ بیان ہو رہا ہے کہ انہیں جنت ملے گی جو بلند تر جگہ ہے۔ اس وجہ سے کہ یہ ان کے اوصاف پر جمے رہے۔ وہاں ان کی عزت ہو گی، اکرام ہو گا، ادب و تعظیم ہو گی، احترام اور توقیر ہو گی۔ ان کے لیے سلامتی ہے، ان پر سلامتی ہے، ہر دروازہ جنت سے فرشتے حاضر خدمت ہوتے ہیں اور سلام کر کے کہتے ہیں کہ تمہارا انجام بہتر ہو گیا کیونکہ تم صبر کرنے والے تھے۔

یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے، نہ نکلیں، نہ نکالے جائیں، نہ نعمتیں کم ہوں، نہ راحتیں فنا ہوں۔ یہ سعید بخت ہیں۔ جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے رہنے سہنے، راحت و آرام کرنے کی جگہ بڑی سہانی و پاک، صاف، طیب و طاہر ہے۔ دیکھنے میں خوش منظر، رہنے میں آرام دہ۔ اللہ نے اپنی مخلوق کو اپنی عبادت اور تسبیح و تہلیل کے لیے پیدا کیا ہے۔ اگر مخلوق یہ نہ بجا لائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہایت حقیر ہے۔ ایمان کے بغیر انسان ناکارہ محض ہے۔ اگر اللہ کو کافروں کی چاہت ہوتی تو وہ انہیں بھی اپنی عبادت کی طرف جھکا دیتا لیکن اللہ کے نزدیک یہ کسی گنتی میں ہی نہیں۔ کافرو! تم نے جھٹلایا۔ اب تم نہ سمجھو کہ بس معاملہ ختم ہو گیا۔ نہیں اس کا وبال تمہارے ساتھ ہی ساتھ ہے، دنیا اور آخرت میں تم برباد ہو گے اور عذاب اللہ تم سے چمٹے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی بدر کے دن کی کفار کی ہزیمت اور شکست تھی جیسے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے: قیامت کے دن کی سزا ابھی باقی ہے۔ الحمدللہ کہ سورۃ الفرقان کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر6115

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com