John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Ash-Shu'araa

Tafsir Ibn Kathir · The Poets · 227 ayat · ayat 121–150 · Quran text →

تذکرہ نوح علیہ السلام ٭٭

لمبی مدت تک جناب نوح علیہ السلام ان میں رہے دن رات چھپے کھلے انہیں اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہے لیکن جوں جوں آپ علیہ السلام اپنی نیکی میں بڑھتے گئے وہ اپنی بدی میں سوار ہوتے گئے بالآخر زور باندھتے باندھتے صاف کہہ دیا کہ ”اگر اب ہمیں اپنے دین کی دعوت دی تو ہم تجھ پر پتھراؤ کر کے تیری جان لے لیں گے۔‏“

آپ علیہ السلام کے ہاتھ بھی جناب باری میں اٹھ گئے قوم کی تکذیب کی شکایت آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ اور آپ نے فتح کی دعا کی فرمایا کہ ”اے اللہ! میں مغلوب اور عاجز ہوں میری مدد کر میرے ساتھ میرے ساتھیوں کو بھی بچا لے۔‏“

پس جناب باری عزوجل نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول کی۔ انسانوں جانوروں اور سامان اسباب سے کچھا کچھ بھری ہوئی کشتی میں سوار ہو جانے کا حکم دے دیا۔ ” یقیناً یہ واقعہ بھی عبرت آموز ہے لیکن اکثر لوگ بےیقین ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رب بڑے غلبے والا لیکن وہ مہربان بھی بہت ہے “۔

صفحہ نمبر6247

تذکرہ نوح علیہ السلام ٭٭

لمبی مدت تک جناب نوح علیہ السلام ان میں رہے دن رات چھپے کھلے انہیں اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہے لیکن جوں جوں آپ علیہ السلام اپنی نیکی میں بڑھتے گئے وہ اپنی بدی میں سوار ہوتے گئے بالآخر زور باندھتے باندھتے صاف کہہ دیا کہ ”اگر اب ہمیں اپنے دین کی دعوت دی تو ہم تجھ پر پتھراؤ کر کے تیری جان لے لیں گے۔‏“

آپ علیہ السلام کے ہاتھ بھی جناب باری میں اٹھ گئے قوم کی تکذیب کی شکایت آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ اور آپ نے فتح کی دعا کی فرمایا کہ ”اے اللہ! میں مغلوب اور عاجز ہوں میری مدد کر میرے ساتھ میرے ساتھیوں کو بھی بچا لے۔‏“

پس جناب باری عزوجل نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول کی۔ انسانوں جانوروں اور سامان اسباب سے کچھا کچھ بھری ہوئی کشتی میں سوار ہو جانے کا حکم دے دیا۔ ” یقیناً یہ واقعہ بھی عبرت آموز ہے لیکن اکثر لوگ بےیقین ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رب بڑے غلبے والا لیکن وہ مہربان بھی بہت ہے “۔

صفحہ نمبر6247

ہود علیہ السلام اور ان کی قوم ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضر موت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ سورۃ الاعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جا بجا دئیے۔

الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی علیہ السلام نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا۔

صفحہ نمبر6254

اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح علیہ السلام نے دی تھی۔ اپنا بے لاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر و ریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لیے بلند و بالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی ہود علیہ السلام نے روکا کیونکہ اس میں بے کار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔

بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی علیہ السلام نے نصیحت کی کہ ”کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہو گے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔‏“

ایک قرأت میں «کَاَنَّکُمْ خَالِدُوْنَ» ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہٰ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کر دی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو! لوگ سب جمع ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کر دیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کر دئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کر دیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہو گئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے۔‏“

صفحہ نمبر6255

ان کے مال ومکانات کا بیان فرما کر ” ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے “۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ ”اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔‏“

صفحہ نمبر6256

ہود علیہ السلام اور ان کی قوم ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضر موت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ سورۃ الاعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جا بجا دئیے۔

الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی علیہ السلام نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا۔

صفحہ نمبر6254

اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح علیہ السلام نے دی تھی۔ اپنا بے لاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر و ریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لیے بلند و بالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی ہود علیہ السلام نے روکا کیونکہ اس میں بے کار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔

بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی علیہ السلام نے نصیحت کی کہ ”کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہو گے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔‏“

ایک قرأت میں «کَاَنَّکُمْ خَالِدُوْنَ» ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہٰ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کر دی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو! لوگ سب جمع ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کر دیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کر دئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کر دیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہو گئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے۔‏“

صفحہ نمبر6255

ان کے مال ومکانات کا بیان فرما کر ” ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے “۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ ”اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔‏“

صفحہ نمبر6256

ہود علیہ السلام اور ان کی قوم ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضر موت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ سورۃ الاعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جا بجا دئیے۔

الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی علیہ السلام نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا۔

صفحہ نمبر6254

اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح علیہ السلام نے دی تھی۔ اپنا بے لاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر و ریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لیے بلند و بالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی ہود علیہ السلام نے روکا کیونکہ اس میں بے کار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔

بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی علیہ السلام نے نصیحت کی کہ ”کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہو گے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔‏“

ایک قرأت میں «کَاَنَّکُمْ خَالِدُوْنَ» ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہٰ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کر دی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو! لوگ سب جمع ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کر دیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کر دئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کر دیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہو گئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے۔‏“

صفحہ نمبر6255

ان کے مال ومکانات کا بیان فرما کر ” ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے “۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ ”اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔‏“

صفحہ نمبر6256

ہود علیہ السلام اور ان کی قوم ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضر موت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ سورۃ الاعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جا بجا دئیے۔

الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی علیہ السلام نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا۔

صفحہ نمبر6254

اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح علیہ السلام نے دی تھی۔ اپنا بے لاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر و ریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لیے بلند و بالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی ہود علیہ السلام نے روکا کیونکہ اس میں بے کار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔

بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی علیہ السلام نے نصیحت کی کہ ”کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہو گے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔‏“

ایک قرأت میں «کَاَنَّکُمْ خَالِدُوْنَ» ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہٰ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کر دی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو! لوگ سب جمع ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کر دیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کر دئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کر دیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہو گئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے۔‏“

صفحہ نمبر6255

ان کے مال ومکانات کا بیان فرما کر ” ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے “۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ ”اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔‏“

صفحہ نمبر6256

ہود علیہ السلام اور ان کی قوم ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضر موت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ سورۃ الاعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جا بجا دئیے۔

الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی علیہ السلام نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا۔

صفحہ نمبر6254

اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح علیہ السلام نے دی تھی۔ اپنا بے لاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر و ریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لیے بلند و بالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی ہود علیہ السلام نے روکا کیونکہ اس میں بے کار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔

بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی علیہ السلام نے نصیحت کی کہ ”کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہو گے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔‏“

ایک قرأت میں «کَاَنَّکُمْ خَالِدُوْنَ» ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہٰ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کر دی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو! لوگ سب جمع ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کر دیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کر دئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کر دیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہو گئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے۔‏“

صفحہ نمبر6255

ان کے مال ومکانات کا بیان فرما کر ” ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے “۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ ”اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔‏“

صفحہ نمبر6256

ہود علیہ السلام اور ان کی قوم ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضر موت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ سورۃ الاعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جا بجا دئیے۔

الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی علیہ السلام نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا۔

صفحہ نمبر6254

اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح علیہ السلام نے دی تھی۔ اپنا بے لاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر و ریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لیے بلند و بالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی ہود علیہ السلام نے روکا کیونکہ اس میں بے کار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔

بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی علیہ السلام نے نصیحت کی کہ ”کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہو گے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔‏“

ایک قرأت میں «کَاَنَّکُمْ خَالِدُوْنَ» ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہٰ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کر دی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو! لوگ سب جمع ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کر دیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کر دئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کر دیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہو گئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے۔‏“

صفحہ نمبر6255

ان کے مال ومکانات کا بیان فرما کر ” ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے “۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ ”اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔‏“

صفحہ نمبر6256

ہود علیہ السلام اور ان کی قوم ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضر موت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ سورۃ الاعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جا بجا دئیے۔

الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی علیہ السلام نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا۔

صفحہ نمبر6254

اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح علیہ السلام نے دی تھی۔ اپنا بے لاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر و ریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لیے بلند و بالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی ہود علیہ السلام نے روکا کیونکہ اس میں بے کار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔

بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی علیہ السلام نے نصیحت کی کہ ”کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہو گے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔‏“

ایک قرأت میں «کَاَنَّکُمْ خَالِدُوْنَ» ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہٰ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کر دی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو! لوگ سب جمع ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کر دیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کر دئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کر دیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہو گئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے۔‏“

صفحہ نمبر6255

ان کے مال ومکانات کا بیان فرما کر ” ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے “۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ ”اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔‏“

صفحہ نمبر6256

ہود علیہ السلام اور ان کی قوم ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضر موت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ سورۃ الاعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جا بجا دئیے۔

الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی علیہ السلام نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا۔

صفحہ نمبر6254

اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح علیہ السلام نے دی تھی۔ اپنا بے لاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر و ریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لیے بلند و بالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی ہود علیہ السلام نے روکا کیونکہ اس میں بے کار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔

بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی علیہ السلام نے نصیحت کی کہ ”کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہو گے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔‏“

ایک قرأت میں «کَاَنَّکُمْ خَالِدُوْنَ» ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہٰ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کر دی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو! لوگ سب جمع ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کر دیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کر دئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کر دیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہو گئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے۔‏“

صفحہ نمبر6255

ان کے مال ومکانات کا بیان فرما کر ” ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے “۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ ”اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔‏“

صفحہ نمبر6256

ہود علیہ السلام اور ان کی قوم ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضر موت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ سورۃ الاعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جا بجا دئیے۔

الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی علیہ السلام نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا۔

صفحہ نمبر6254

اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح علیہ السلام نے دی تھی۔ اپنا بے لاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر و ریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لیے بلند و بالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی ہود علیہ السلام نے روکا کیونکہ اس میں بے کار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔

بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی علیہ السلام نے نصیحت کی کہ ”کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہو گے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔‏“

ایک قرأت میں «کَاَنَّکُمْ خَالِدُوْنَ» ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہٰ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کر دی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو! لوگ سب جمع ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کر دیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کر دئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کر دیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہو گئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے۔‏“

صفحہ نمبر6255

ان کے مال ومکانات کا بیان فرما کر ” ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے “۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ ”اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔‏“

صفحہ نمبر6256

ہود علیہ السلام اور ان کی قوم ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضر موت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ سورۃ الاعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جا بجا دئیے۔

الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی علیہ السلام نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا۔

صفحہ نمبر6254

اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح علیہ السلام نے دی تھی۔ اپنا بے لاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر و ریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لیے بلند و بالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی ہود علیہ السلام نے روکا کیونکہ اس میں بے کار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔

بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی علیہ السلام نے نصیحت کی کہ ”کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہو گے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔‏“

ایک قرأت میں «کَاَنَّکُمْ خَالِدُوْنَ» ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہٰ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کر دی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو! لوگ سب جمع ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کر دیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کر دئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کر دیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہو گئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے۔‏“

صفحہ نمبر6255

ان کے مال ومکانات کا بیان فرما کر ” ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے “۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ ”اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔‏“

صفحہ نمبر6256

ہود علیہ السلام اور ان کی قوم ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضر موت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ سورۃ الاعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جا بجا دئیے۔

الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی علیہ السلام نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا۔

صفحہ نمبر6254

اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح علیہ السلام نے دی تھی۔ اپنا بے لاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر و ریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لیے بلند و بالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی ہود علیہ السلام نے روکا کیونکہ اس میں بے کار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔

بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی علیہ السلام نے نصیحت کی کہ ”کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہو گے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔‏“

ایک قرأت میں «کَاَنَّکُمْ خَالِدُوْنَ» ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہٰ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کر دی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو! لوگ سب جمع ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کر دیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کر دئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کر دیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہو گئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے۔‏“

صفحہ نمبر6255

ان کے مال ومکانات کا بیان فرما کر ” ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے “۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ ”اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔‏“

صفحہ نمبر6256

ہود علیہ السلام اور ان کی قوم ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضر موت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ سورۃ الاعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جا بجا دئیے۔

الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی علیہ السلام نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا۔

صفحہ نمبر6254

اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح علیہ السلام نے دی تھی۔ اپنا بے لاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر و ریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لیے بلند و بالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی ہود علیہ السلام نے روکا کیونکہ اس میں بے کار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔

بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی علیہ السلام نے نصیحت کی کہ ”کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہو گے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔‏“

ایک قرأت میں «کَاَنَّکُمْ خَالِدُوْنَ» ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہٰ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کر دی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو! لوگ سب جمع ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کر دیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کر دئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کر دیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہو گئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے۔‏“

صفحہ نمبر6255

ان کے مال ومکانات کا بیان فرما کر ” ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے “۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ ”اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔‏“

صفحہ نمبر6256

ہود علیہ السلام اور ان کی قوم ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضر موت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ سورۃ الاعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جا بجا دئیے۔

الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی علیہ السلام نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا۔

صفحہ نمبر6254

اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح علیہ السلام نے دی تھی۔ اپنا بے لاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر و ریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لیے بلند و بالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی ہود علیہ السلام نے روکا کیونکہ اس میں بے کار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔

بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی علیہ السلام نے نصیحت کی کہ ”کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہو گے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔‏“

ایک قرأت میں «کَاَنَّکُمْ خَالِدُوْنَ» ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہٰ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کر دی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو! لوگ سب جمع ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کر دیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کر دئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کر دیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہو گئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے۔‏“

صفحہ نمبر6255

ان کے مال ومکانات کا بیان فرما کر ” ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے “۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ ”اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔‏“

صفحہ نمبر6256

موثر بیانات بھی بےاثر ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کے موثر بیانات نے اور آپ کے رغبت اور ڈر بھرے خطبوں نے قوم پر کوئی اثر نہیں کیا اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ ہمیں وعظ سنائیں یا نہ سنائیں نصیحت کریں یا نہ کریں ہم تو اپنی روش کو نہیں چھوڑ سکتے۔ «قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ» [11-هود:53] ‏ ” ہم آپ کی بات مان کر اپنے معبودوں سے دست بردار ہو جائیں یہ یقیناً محال ہے ہمارے ایمان سے آپ مایوس ہو جائیں ہم آپ کی نہیں مانیں گے “۔ فی الوقع کافروں کا یہی حال ہے کہ انہیں سمجھانا بےسود رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخرالزماں سے بھی یہی فرمایا کہا «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ» [2-البقرة:6] ‏ ” ان ازلی کفار پر آپ کی نصیحت مطلق اثر نہیں کرے گی یہ نصیحت کرنے اور ہوشیار کر دینے کے بعد بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے پہلے تھے “۔ «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [ 10-يونس: 96، 97 ] ‏ یہ تو قدرتی طور پر ایمان سے محروم کر دیے گئے ہیں۔ جن پر تیرے رب کی بات صادق آنے والی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے والا “۔

«إِنْ هَـٰذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ» [26-الشعراء:137] ‏ «خُلُقُ الْأَوَّلِينَ» کی دوسری قرأت «خَلْقُ الْاَوَّلِیْنَ» بھی ہے یعنی ” جو باتیں تو ہمیں کہتا ہے یہ تو اگلوں کی کہی ہوئی ہیں “، جیسے قریشیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو صبح شام تمہارے سامنے پڑھی جاتی ہیں۔

یہ ایک بہتان ہے جسے تو نے گھڑ لیا ہے اور کچھ لوگ اپنے طرفدار کرلئے ہیں۔ مشہور قرأت کی بنا پر معنی یہی ہوئے کہ ” جس پر ہم ہیں وہی ہمارے پرانے باپ دادوں کا مذہب ہے ہم تو انہیں کی راہ چلیں گے اور اسی روش پر رہیں گے جیئں گے پھر مرجائیں گے جیسے وہ مرگئے۔ یہ محض لاف ہے کہ پھر ہم اللہ کے ہاں زندہ کئے جائیں گے۔ یہ بھی غلط ہے کہ ہمیں عذاب کیا جائے گا “۔

آخر شان کی تکذیب اور مخالفت کی وجہ سے انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ سخت تیز وتند آندھی ان پر بھیجی گئی اور یہ برباد کر دئیے گئے یہ عاد اولیٰ تھے جنہیں آیت «اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ بھی کہا گیا۔ یہ ارم سام بن نوح علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ عمد میں یہ رہتے تھے ارم نوح علیہ السالم کے پوتے کا نام ہے نہ کہ کسی شہر کا۔ گو بعض لوگوں سے یہ بھی مروی ہے لیکن اس کے قائل بنی اسرائیل ہیں۔ ان سے سن سنا کر اوروں نے بھی یہ کہہ دیا حقیقت میں اس کی کوئی مضبوط دلیل نہیں۔

اسی لیے قرآن نے ارم کا ذکر کرتے ہی فرمایا کہ آیت «لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:8] ‏۔ ” ان جیسا اور کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا “۔

صفحہ نمبر6269

اگر اس سے مراد شہر ارم ہوتا تو یوں فرمایا جاتا کہ اس جیسا اور کوئی شہر بنایا نہیں گیا۔ قرآن کریم کی اور آیت میں ہے آیت «فَاَمَّا عَادٌ فَاسْـتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏، ” عادیوں نے زمین میں تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے بڑھ کر قوت والا کون ہے؟ “

” کیا وہ اسے بھی بھول گئے ان کا پیدا کرنے والا ان سے زیادہ قوی ہے دراصل انہیں ہماری آیتوں سے انکار تھا “۔ یہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ان پر صرف بیل کے نتھنے کے برابر ہوا چھوڑی گئی تھی۔ جس نے ان کو ان کے شہروں کا ان کے مکانات کا نام و نشان مٹا دیا جہاں سے گزر گئی صفایا کر دیا شائیں شائیں کرتی تمام چیزوں کا ستیاناس کرتی چلی تھی۔ تمام قوم کے سر الگ ہو گئے اور دھڑ الگ ہو گئے۔ عذاب الٰہی کو ہوا کی صورت آتا دیکھ کر قلعوں میں محلات میں محفوظ مکانات میں گھس گئے تھے۔

زمین میں گڑھے کھود کھود کر آدھے آدھے جسم ان میں ڈال کر محفوظ ہوئے تھے لیکن بھلا عذاب اللہ کو کوئی چیز روک سکتی ہے؟ وہ ایک منٹ کے لیے بھی کسی کو مہلت اور دم لینے دیتا ہے؟ سب چٹ پٹ کر دئیے گئے اور اس واقعہ کو بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا گیا۔ ان میں سے پھر بھی اکثر لوگ بے ایمان ہی رہے اللہ کا غلبہ اور رحم دونوں مسلم تھے۔

صفحہ نمبر6270

موثر بیانات بھی بےاثر ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کے موثر بیانات نے اور آپ کے رغبت اور ڈر بھرے خطبوں نے قوم پر کوئی اثر نہیں کیا اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ ہمیں وعظ سنائیں یا نہ سنائیں نصیحت کریں یا نہ کریں ہم تو اپنی روش کو نہیں چھوڑ سکتے۔ «قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ» [11-هود:53] ‏ ” ہم آپ کی بات مان کر اپنے معبودوں سے دست بردار ہو جائیں یہ یقیناً محال ہے ہمارے ایمان سے آپ مایوس ہو جائیں ہم آپ کی نہیں مانیں گے “۔ فی الوقع کافروں کا یہی حال ہے کہ انہیں سمجھانا بےسود رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخرالزماں سے بھی یہی فرمایا کہا «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ» [2-البقرة:6] ‏ ” ان ازلی کفار پر آپ کی نصیحت مطلق اثر نہیں کرے گی یہ نصیحت کرنے اور ہوشیار کر دینے کے بعد بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے پہلے تھے “۔ «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [ 10-يونس: 96، 97 ] ‏ یہ تو قدرتی طور پر ایمان سے محروم کر دیے گئے ہیں۔ جن پر تیرے رب کی بات صادق آنے والی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے والا “۔

«إِنْ هَـٰذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ» [26-الشعراء:137] ‏ «خُلُقُ الْأَوَّلِينَ» کی دوسری قرأت «خَلْقُ الْاَوَّلِیْنَ» بھی ہے یعنی ” جو باتیں تو ہمیں کہتا ہے یہ تو اگلوں کی کہی ہوئی ہیں “، جیسے قریشیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو صبح شام تمہارے سامنے پڑھی جاتی ہیں۔

یہ ایک بہتان ہے جسے تو نے گھڑ لیا ہے اور کچھ لوگ اپنے طرفدار کرلئے ہیں۔ مشہور قرأت کی بنا پر معنی یہی ہوئے کہ ” جس پر ہم ہیں وہی ہمارے پرانے باپ دادوں کا مذہب ہے ہم تو انہیں کی راہ چلیں گے اور اسی روش پر رہیں گے جیئں گے پھر مرجائیں گے جیسے وہ مرگئے۔ یہ محض لاف ہے کہ پھر ہم اللہ کے ہاں زندہ کئے جائیں گے۔ یہ بھی غلط ہے کہ ہمیں عذاب کیا جائے گا “۔

آخر شان کی تکذیب اور مخالفت کی وجہ سے انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ سخت تیز وتند آندھی ان پر بھیجی گئی اور یہ برباد کر دئیے گئے یہ عاد اولیٰ تھے جنہیں آیت «اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ بھی کہا گیا۔ یہ ارم سام بن نوح علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ عمد میں یہ رہتے تھے ارم نوح علیہ السالم کے پوتے کا نام ہے نہ کہ کسی شہر کا۔ گو بعض لوگوں سے یہ بھی مروی ہے لیکن اس کے قائل بنی اسرائیل ہیں۔ ان سے سن سنا کر اوروں نے بھی یہ کہہ دیا حقیقت میں اس کی کوئی مضبوط دلیل نہیں۔

اسی لیے قرآن نے ارم کا ذکر کرتے ہی فرمایا کہ آیت «لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:8] ‏۔ ” ان جیسا اور کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا “۔

صفحہ نمبر6269

اگر اس سے مراد شہر ارم ہوتا تو یوں فرمایا جاتا کہ اس جیسا اور کوئی شہر بنایا نہیں گیا۔ قرآن کریم کی اور آیت میں ہے آیت «فَاَمَّا عَادٌ فَاسْـتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏، ” عادیوں نے زمین میں تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے بڑھ کر قوت والا کون ہے؟ “

” کیا وہ اسے بھی بھول گئے ان کا پیدا کرنے والا ان سے زیادہ قوی ہے دراصل انہیں ہماری آیتوں سے انکار تھا “۔ یہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ان پر صرف بیل کے نتھنے کے برابر ہوا چھوڑی گئی تھی۔ جس نے ان کو ان کے شہروں کا ان کے مکانات کا نام و نشان مٹا دیا جہاں سے گزر گئی صفایا کر دیا شائیں شائیں کرتی تمام چیزوں کا ستیاناس کرتی چلی تھی۔ تمام قوم کے سر الگ ہو گئے اور دھڑ الگ ہو گئے۔ عذاب الٰہی کو ہوا کی صورت آتا دیکھ کر قلعوں میں محلات میں محفوظ مکانات میں گھس گئے تھے۔

زمین میں گڑھے کھود کھود کر آدھے آدھے جسم ان میں ڈال کر محفوظ ہوئے تھے لیکن بھلا عذاب اللہ کو کوئی چیز روک سکتی ہے؟ وہ ایک منٹ کے لیے بھی کسی کو مہلت اور دم لینے دیتا ہے؟ سب چٹ پٹ کر دئیے گئے اور اس واقعہ کو بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا گیا۔ ان میں سے پھر بھی اکثر لوگ بے ایمان ہی رہے اللہ کا غلبہ اور رحم دونوں مسلم تھے۔

صفحہ نمبر6270

موثر بیانات بھی بےاثر ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کے موثر بیانات نے اور آپ کے رغبت اور ڈر بھرے خطبوں نے قوم پر کوئی اثر نہیں کیا اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ ہمیں وعظ سنائیں یا نہ سنائیں نصیحت کریں یا نہ کریں ہم تو اپنی روش کو نہیں چھوڑ سکتے۔ «قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ» [11-هود:53] ‏ ” ہم آپ کی بات مان کر اپنے معبودوں سے دست بردار ہو جائیں یہ یقیناً محال ہے ہمارے ایمان سے آپ مایوس ہو جائیں ہم آپ کی نہیں مانیں گے “۔ فی الوقع کافروں کا یہی حال ہے کہ انہیں سمجھانا بےسود رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخرالزماں سے بھی یہی فرمایا کہا «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ» [2-البقرة:6] ‏ ” ان ازلی کفار پر آپ کی نصیحت مطلق اثر نہیں کرے گی یہ نصیحت کرنے اور ہوشیار کر دینے کے بعد بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے پہلے تھے “۔ «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [ 10-يونس: 96، 97 ] ‏ یہ تو قدرتی طور پر ایمان سے محروم کر دیے گئے ہیں۔ جن پر تیرے رب کی بات صادق آنے والی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے والا “۔

«إِنْ هَـٰذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ» [26-الشعراء:137] ‏ «خُلُقُ الْأَوَّلِينَ» کی دوسری قرأت «خَلْقُ الْاَوَّلِیْنَ» بھی ہے یعنی ” جو باتیں تو ہمیں کہتا ہے یہ تو اگلوں کی کہی ہوئی ہیں “، جیسے قریشیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو صبح شام تمہارے سامنے پڑھی جاتی ہیں۔

یہ ایک بہتان ہے جسے تو نے گھڑ لیا ہے اور کچھ لوگ اپنے طرفدار کرلئے ہیں۔ مشہور قرأت کی بنا پر معنی یہی ہوئے کہ ” جس پر ہم ہیں وہی ہمارے پرانے باپ دادوں کا مذہب ہے ہم تو انہیں کی راہ چلیں گے اور اسی روش پر رہیں گے جیئں گے پھر مرجائیں گے جیسے وہ مرگئے۔ یہ محض لاف ہے کہ پھر ہم اللہ کے ہاں زندہ کئے جائیں گے۔ یہ بھی غلط ہے کہ ہمیں عذاب کیا جائے گا “۔

آخر شان کی تکذیب اور مخالفت کی وجہ سے انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ سخت تیز وتند آندھی ان پر بھیجی گئی اور یہ برباد کر دئیے گئے یہ عاد اولیٰ تھے جنہیں آیت «اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ بھی کہا گیا۔ یہ ارم سام بن نوح علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ عمد میں یہ رہتے تھے ارم نوح علیہ السالم کے پوتے کا نام ہے نہ کہ کسی شہر کا۔ گو بعض لوگوں سے یہ بھی مروی ہے لیکن اس کے قائل بنی اسرائیل ہیں۔ ان سے سن سنا کر اوروں نے بھی یہ کہہ دیا حقیقت میں اس کی کوئی مضبوط دلیل نہیں۔

اسی لیے قرآن نے ارم کا ذکر کرتے ہی فرمایا کہ آیت «لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:8] ‏۔ ” ان جیسا اور کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا “۔

صفحہ نمبر6269

اگر اس سے مراد شہر ارم ہوتا تو یوں فرمایا جاتا کہ اس جیسا اور کوئی شہر بنایا نہیں گیا۔ قرآن کریم کی اور آیت میں ہے آیت «فَاَمَّا عَادٌ فَاسْـتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏، ” عادیوں نے زمین میں تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے بڑھ کر قوت والا کون ہے؟ “

” کیا وہ اسے بھی بھول گئے ان کا پیدا کرنے والا ان سے زیادہ قوی ہے دراصل انہیں ہماری آیتوں سے انکار تھا “۔ یہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ان پر صرف بیل کے نتھنے کے برابر ہوا چھوڑی گئی تھی۔ جس نے ان کو ان کے شہروں کا ان کے مکانات کا نام و نشان مٹا دیا جہاں سے گزر گئی صفایا کر دیا شائیں شائیں کرتی تمام چیزوں کا ستیاناس کرتی چلی تھی۔ تمام قوم کے سر الگ ہو گئے اور دھڑ الگ ہو گئے۔ عذاب الٰہی کو ہوا کی صورت آتا دیکھ کر قلعوں میں محلات میں محفوظ مکانات میں گھس گئے تھے۔

زمین میں گڑھے کھود کھود کر آدھے آدھے جسم ان میں ڈال کر محفوظ ہوئے تھے لیکن بھلا عذاب اللہ کو کوئی چیز روک سکتی ہے؟ وہ ایک منٹ کے لیے بھی کسی کو مہلت اور دم لینے دیتا ہے؟ سب چٹ پٹ کر دئیے گئے اور اس واقعہ کو بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا گیا۔ ان میں سے پھر بھی اکثر لوگ بے ایمان ہی رہے اللہ کا غلبہ اور رحم دونوں مسلم تھے۔

صفحہ نمبر6270

موثر بیانات بھی بےاثر ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کے موثر بیانات نے اور آپ کے رغبت اور ڈر بھرے خطبوں نے قوم پر کوئی اثر نہیں کیا اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ ہمیں وعظ سنائیں یا نہ سنائیں نصیحت کریں یا نہ کریں ہم تو اپنی روش کو نہیں چھوڑ سکتے۔ «قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ» [11-هود:53] ‏ ” ہم آپ کی بات مان کر اپنے معبودوں سے دست بردار ہو جائیں یہ یقیناً محال ہے ہمارے ایمان سے آپ مایوس ہو جائیں ہم آپ کی نہیں مانیں گے “۔ فی الوقع کافروں کا یہی حال ہے کہ انہیں سمجھانا بےسود رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخرالزماں سے بھی یہی فرمایا کہا «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ» [2-البقرة:6] ‏ ” ان ازلی کفار پر آپ کی نصیحت مطلق اثر نہیں کرے گی یہ نصیحت کرنے اور ہوشیار کر دینے کے بعد بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے پہلے تھے “۔ «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [ 10-يونس: 96، 97 ] ‏ یہ تو قدرتی طور پر ایمان سے محروم کر دیے گئے ہیں۔ جن پر تیرے رب کی بات صادق آنے والی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے والا “۔

«إِنْ هَـٰذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ» [26-الشعراء:137] ‏ «خُلُقُ الْأَوَّلِينَ» کی دوسری قرأت «خَلْقُ الْاَوَّلِیْنَ» بھی ہے یعنی ” جو باتیں تو ہمیں کہتا ہے یہ تو اگلوں کی کہی ہوئی ہیں “، جیسے قریشیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو صبح شام تمہارے سامنے پڑھی جاتی ہیں۔

یہ ایک بہتان ہے جسے تو نے گھڑ لیا ہے اور کچھ لوگ اپنے طرفدار کرلئے ہیں۔ مشہور قرأت کی بنا پر معنی یہی ہوئے کہ ” جس پر ہم ہیں وہی ہمارے پرانے باپ دادوں کا مذہب ہے ہم تو انہیں کی راہ چلیں گے اور اسی روش پر رہیں گے جیئں گے پھر مرجائیں گے جیسے وہ مرگئے۔ یہ محض لاف ہے کہ پھر ہم اللہ کے ہاں زندہ کئے جائیں گے۔ یہ بھی غلط ہے کہ ہمیں عذاب کیا جائے گا “۔

آخر شان کی تکذیب اور مخالفت کی وجہ سے انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ سخت تیز وتند آندھی ان پر بھیجی گئی اور یہ برباد کر دئیے گئے یہ عاد اولیٰ تھے جنہیں آیت «اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ بھی کہا گیا۔ یہ ارم سام بن نوح علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ عمد میں یہ رہتے تھے ارم نوح علیہ السالم کے پوتے کا نام ہے نہ کہ کسی شہر کا۔ گو بعض لوگوں سے یہ بھی مروی ہے لیکن اس کے قائل بنی اسرائیل ہیں۔ ان سے سن سنا کر اوروں نے بھی یہ کہہ دیا حقیقت میں اس کی کوئی مضبوط دلیل نہیں۔

اسی لیے قرآن نے ارم کا ذکر کرتے ہی فرمایا کہ آیت «لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:8] ‏۔ ” ان جیسا اور کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا “۔

صفحہ نمبر6269

اگر اس سے مراد شہر ارم ہوتا تو یوں فرمایا جاتا کہ اس جیسا اور کوئی شہر بنایا نہیں گیا۔ قرآن کریم کی اور آیت میں ہے آیت «فَاَمَّا عَادٌ فَاسْـتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏، ” عادیوں نے زمین میں تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے بڑھ کر قوت والا کون ہے؟ “

” کیا وہ اسے بھی بھول گئے ان کا پیدا کرنے والا ان سے زیادہ قوی ہے دراصل انہیں ہماری آیتوں سے انکار تھا “۔ یہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ان پر صرف بیل کے نتھنے کے برابر ہوا چھوڑی گئی تھی۔ جس نے ان کو ان کے شہروں کا ان کے مکانات کا نام و نشان مٹا دیا جہاں سے گزر گئی صفایا کر دیا شائیں شائیں کرتی تمام چیزوں کا ستیاناس کرتی چلی تھی۔ تمام قوم کے سر الگ ہو گئے اور دھڑ الگ ہو گئے۔ عذاب الٰہی کو ہوا کی صورت آتا دیکھ کر قلعوں میں محلات میں محفوظ مکانات میں گھس گئے تھے۔

زمین میں گڑھے کھود کھود کر آدھے آدھے جسم ان میں ڈال کر محفوظ ہوئے تھے لیکن بھلا عذاب اللہ کو کوئی چیز روک سکتی ہے؟ وہ ایک منٹ کے لیے بھی کسی کو مہلت اور دم لینے دیتا ہے؟ سب چٹ پٹ کر دئیے گئے اور اس واقعہ کو بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا گیا۔ ان میں سے پھر بھی اکثر لوگ بے ایمان ہی رہے اللہ کا غلبہ اور رحم دونوں مسلم تھے۔

صفحہ نمبر6270

موثر بیانات بھی بےاثر ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کے موثر بیانات نے اور آپ کے رغبت اور ڈر بھرے خطبوں نے قوم پر کوئی اثر نہیں کیا اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ ہمیں وعظ سنائیں یا نہ سنائیں نصیحت کریں یا نہ کریں ہم تو اپنی روش کو نہیں چھوڑ سکتے۔ «قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ» [11-هود:53] ‏ ” ہم آپ کی بات مان کر اپنے معبودوں سے دست بردار ہو جائیں یہ یقیناً محال ہے ہمارے ایمان سے آپ مایوس ہو جائیں ہم آپ کی نہیں مانیں گے “۔ فی الوقع کافروں کا یہی حال ہے کہ انہیں سمجھانا بےسود رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخرالزماں سے بھی یہی فرمایا کہا «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ» [2-البقرة:6] ‏ ” ان ازلی کفار پر آپ کی نصیحت مطلق اثر نہیں کرے گی یہ نصیحت کرنے اور ہوشیار کر دینے کے بعد بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے پہلے تھے “۔ «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [ 10-يونس: 96، 97 ] ‏ یہ تو قدرتی طور پر ایمان سے محروم کر دیے گئے ہیں۔ جن پر تیرے رب کی بات صادق آنے والی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے والا “۔

«إِنْ هَـٰذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ» [26-الشعراء:137] ‏ «خُلُقُ الْأَوَّلِينَ» کی دوسری قرأت «خَلْقُ الْاَوَّلِیْنَ» بھی ہے یعنی ” جو باتیں تو ہمیں کہتا ہے یہ تو اگلوں کی کہی ہوئی ہیں “، جیسے قریشیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو صبح شام تمہارے سامنے پڑھی جاتی ہیں۔

یہ ایک بہتان ہے جسے تو نے گھڑ لیا ہے اور کچھ لوگ اپنے طرفدار کرلئے ہیں۔ مشہور قرأت کی بنا پر معنی یہی ہوئے کہ ” جس پر ہم ہیں وہی ہمارے پرانے باپ دادوں کا مذہب ہے ہم تو انہیں کی راہ چلیں گے اور اسی روش پر رہیں گے جیئں گے پھر مرجائیں گے جیسے وہ مرگئے۔ یہ محض لاف ہے کہ پھر ہم اللہ کے ہاں زندہ کئے جائیں گے۔ یہ بھی غلط ہے کہ ہمیں عذاب کیا جائے گا “۔

آخر شان کی تکذیب اور مخالفت کی وجہ سے انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ سخت تیز وتند آندھی ان پر بھیجی گئی اور یہ برباد کر دئیے گئے یہ عاد اولیٰ تھے جنہیں آیت «اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7] ‏ بھی کہا گیا۔ یہ ارم سام بن نوح علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ عمد میں یہ رہتے تھے ارم نوح علیہ السالم کے پوتے کا نام ہے نہ کہ کسی شہر کا۔ گو بعض لوگوں سے یہ بھی مروی ہے لیکن اس کے قائل بنی اسرائیل ہیں۔ ان سے سن سنا کر اوروں نے بھی یہ کہہ دیا حقیقت میں اس کی کوئی مضبوط دلیل نہیں۔

اسی لیے قرآن نے ارم کا ذکر کرتے ہی فرمایا کہ آیت «لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:8] ‏۔ ” ان جیسا اور کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا “۔

صفحہ نمبر6269

اگر اس سے مراد شہر ارم ہوتا تو یوں فرمایا جاتا کہ اس جیسا اور کوئی شہر بنایا نہیں گیا۔ قرآن کریم کی اور آیت میں ہے آیت «فَاَمَّا عَادٌ فَاسْـتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً» [41-فصلت:15] ‏، ” عادیوں نے زمین میں تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے بڑھ کر قوت والا کون ہے؟ “

” کیا وہ اسے بھی بھول گئے ان کا پیدا کرنے والا ان سے زیادہ قوی ہے دراصل انہیں ہماری آیتوں سے انکار تھا “۔ یہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ان پر صرف بیل کے نتھنے کے برابر ہوا چھوڑی گئی تھی۔ جس نے ان کو ان کے شہروں کا ان کے مکانات کا نام و نشان مٹا دیا جہاں سے گزر گئی صفایا کر دیا شائیں شائیں کرتی تمام چیزوں کا ستیاناس کرتی چلی تھی۔ تمام قوم کے سر الگ ہو گئے اور دھڑ الگ ہو گئے۔ عذاب الٰہی کو ہوا کی صورت آتا دیکھ کر قلعوں میں محلات میں محفوظ مکانات میں گھس گئے تھے۔

زمین میں گڑھے کھود کھود کر آدھے آدھے جسم ان میں ڈال کر محفوظ ہوئے تھے لیکن بھلا عذاب اللہ کو کوئی چیز روک سکتی ہے؟ وہ ایک منٹ کے لیے بھی کسی کو مہلت اور دم لینے دیتا ہے؟ سب چٹ پٹ کر دئیے گئے اور اس واقعہ کو بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا گیا۔ ان میں سے پھر بھی اکثر لوگ بے ایمان ہی رہے اللہ کا غلبہ اور رحم دونوں مسلم تھے۔

صفحہ نمبر6270

صالح علیہ السلام اور قوم ثمود ٭٭

اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول صالح علیہ السلام کا واقعہ بیان ہو رہا کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یہ لوگ عرب حجر نامی شہر میں رہتے تھے جو وادی القری اور ملک شام کے درمیان ہے۔ یہ عادیوں کے بعد اور ابراہمیوں سے پہلے تھے شام کی طرف جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس جگہ سے گزرنے کا بیان سورۃ الاعراف کی تفسیر میں پہلے گزر چکا ہے۔

انہیں ان کے نبی علیہ السلام نے اللہ کی طرف بلایا کہ یہ اللہ کی توحید کو مانیں اور صالح علیہ السلام کی رسالت کا اقرار کریں لیکن انہوں نے بھی انکار کر دیا اور اپنے کفر پر جمے رہے اللہ کے پیغمبر علیہ السلام کو جھوٹا کہا۔ باوجود اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت سننے کی پرہیزگاری اختیار نہ کی۔ باوجود رسول امین کی موجودگی کے راہ ہدایت اختیار نہ کی۔ حالانکہ نبی کا صاف اعلان تھا کہ ”میں اپنا کوئی بوجھ تم پر ڈال نہیں رہا میں تو رسالت کی تبلیغ کے اجرا کا صرف اللہ تعالیٰ سے خواہاں ہوں۔‏“ اس کے بعد اللہ کی نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔

صفحہ نمبر6275

صالح علیہ السلام اور قوم ثمود ٭٭

اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول صالح علیہ السلام کا واقعہ بیان ہو رہا کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یہ لوگ عرب حجر نامی شہر میں رہتے تھے جو وادی القری اور ملک شام کے درمیان ہے۔ یہ عادیوں کے بعد اور ابراہمیوں سے پہلے تھے شام کی طرف جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس جگہ سے گزرنے کا بیان سورۃ الاعراف کی تفسیر میں پہلے گزر چکا ہے۔

انہیں ان کے نبی علیہ السلام نے اللہ کی طرف بلایا کہ یہ اللہ کی توحید کو مانیں اور صالح علیہ السلام کی رسالت کا اقرار کریں لیکن انہوں نے بھی انکار کر دیا اور اپنے کفر پر جمے رہے اللہ کے پیغمبر علیہ السلام کو جھوٹا کہا۔ باوجود اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت سننے کی پرہیزگاری اختیار نہ کی۔ باوجود رسول امین کی موجودگی کے راہ ہدایت اختیار نہ کی۔ حالانکہ نبی کا صاف اعلان تھا کہ ”میں اپنا کوئی بوجھ تم پر ڈال نہیں رہا میں تو رسالت کی تبلیغ کے اجرا کا صرف اللہ تعالیٰ سے خواہاں ہوں۔‏“ اس کے بعد اللہ کی نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔

صفحہ نمبر6275

صالح علیہ السلام اور قوم ثمود ٭٭

اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول صالح علیہ السلام کا واقعہ بیان ہو رہا کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یہ لوگ عرب حجر نامی شہر میں رہتے تھے جو وادی القری اور ملک شام کے درمیان ہے۔ یہ عادیوں کے بعد اور ابراہمیوں سے پہلے تھے شام کی طرف جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس جگہ سے گزرنے کا بیان سورۃ الاعراف کی تفسیر میں پہلے گزر چکا ہے۔

انہیں ان کے نبی علیہ السلام نے اللہ کی طرف بلایا کہ یہ اللہ کی توحید کو مانیں اور صالح علیہ السلام کی رسالت کا اقرار کریں لیکن انہوں نے بھی انکار کر دیا اور اپنے کفر پر جمے رہے اللہ کے پیغمبر علیہ السلام کو جھوٹا کہا۔ باوجود اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت سننے کی پرہیزگاری اختیار نہ کی۔ باوجود رسول امین کی موجودگی کے راہ ہدایت اختیار نہ کی۔ حالانکہ نبی کا صاف اعلان تھا کہ ”میں اپنا کوئی بوجھ تم پر ڈال نہیں رہا میں تو رسالت کی تبلیغ کے اجرا کا صرف اللہ تعالیٰ سے خواہاں ہوں۔‏“ اس کے بعد اللہ کی نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔

صفحہ نمبر6275

صالح علیہ السلام اور قوم ثمود ٭٭

اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول صالح علیہ السلام کا واقعہ بیان ہو رہا کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یہ لوگ عرب حجر نامی شہر میں رہتے تھے جو وادی القری اور ملک شام کے درمیان ہے۔ یہ عادیوں کے بعد اور ابراہمیوں سے پہلے تھے شام کی طرف جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس جگہ سے گزرنے کا بیان سورۃ الاعراف کی تفسیر میں پہلے گزر چکا ہے۔

انہیں ان کے نبی علیہ السلام نے اللہ کی طرف بلایا کہ یہ اللہ کی توحید کو مانیں اور صالح علیہ السلام کی رسالت کا اقرار کریں لیکن انہوں نے بھی انکار کر دیا اور اپنے کفر پر جمے رہے اللہ کے پیغمبر علیہ السلام کو جھوٹا کہا۔ باوجود اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت سننے کی پرہیزگاری اختیار نہ کی۔ باوجود رسول امین کی موجودگی کے راہ ہدایت اختیار نہ کی۔ حالانکہ نبی کا صاف اعلان تھا کہ ”میں اپنا کوئی بوجھ تم پر ڈال نہیں رہا میں تو رسالت کی تبلیغ کے اجرا کا صرف اللہ تعالیٰ سے خواہاں ہوں۔‏“ اس کے بعد اللہ کی نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔

صفحہ نمبر6275

صالح علیہ السلام اور قوم ثمود ٭٭

اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول صالح علیہ السلام کا واقعہ بیان ہو رہا کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یہ لوگ عرب حجر نامی شہر میں رہتے تھے جو وادی القری اور ملک شام کے درمیان ہے۔ یہ عادیوں کے بعد اور ابراہمیوں سے پہلے تھے شام کی طرف جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس جگہ سے گزرنے کا بیان سورۃ الاعراف کی تفسیر میں پہلے گزر چکا ہے۔

انہیں ان کے نبی علیہ السلام نے اللہ کی طرف بلایا کہ یہ اللہ کی توحید کو مانیں اور صالح علیہ السلام کی رسالت کا اقرار کریں لیکن انہوں نے بھی انکار کر دیا اور اپنے کفر پر جمے رہے اللہ کے پیغمبر علیہ السلام کو جھوٹا کہا۔ باوجود اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت سننے کی پرہیزگاری اختیار نہ کی۔ باوجود رسول امین کی موجودگی کے راہ ہدایت اختیار نہ کی۔ حالانکہ نبی کا صاف اعلان تھا کہ ”میں اپنا کوئی بوجھ تم پر ڈال نہیں رہا میں تو رسالت کی تبلیغ کے اجرا کا صرف اللہ تعالیٰ سے خواہاں ہوں۔‏“ اس کے بعد اللہ کی نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔

صفحہ نمبر6275

صالح علیہ السلام کی باغی قوم ٭٭

حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اس کے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ ”وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لیے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کر رہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جا سکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھرپور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش ذائقہ کجھوروں سے لدی ہوئے ہیں تم اللہ کی نافرمانیاں کر کے ان کو بہ آرام ہضم نہیں کر سکتے۔ اللہ نے تمہیں اس وقت جن مضبوط اور پرتکلف بلند اور عمدہ گھروں میں رکھ چھوڑا ہے اللہ کی توحید اور میری رسالت سے انکار کے بعد یہ بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ افسوس تم اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اپنا وقت اپنا روپیہ بیجا برباد کر کے یہ نقش و نگار والے مکانات پہاڑوں میں بہ تصنع وتکلف صرف بڑائی اور ریاکاری کیلئے اپنی عظمت اور قوت کے مظاہرے کیلے تراش رہے ہو جس میں کوئی نفع نہیں بلکہ اس کا وبال تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہیئے اور میری اتباع کرنی چاہیئے اپنے خالق رازق منعم محسن کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری اور اس کی توحید کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جانا چاہیئے۔ جس کا نفع تمہیں اپنے دنیا اور آخرت میں ملے تمہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیئے اس کی تسبیح وتہلیل کرنی چاہئیے صبح و شام اس کی عبادت کرنی چاہیئے تمہیں اپنے ان موجودہ سردارں کی ہرگز نہ ماننی چاہیئے یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے، توحید کو، اتباع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زمین میں فسادپھیلا رہے ہیں نافرمانی، گناہ، فسق وفجور پر خود لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلا رہے ہیں اور حق کی موافقت اور اتباع کر کے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔‏“

صفحہ نمبر6280

صالح علیہ السلام کی باغی قوم ٭٭

حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اس کے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ ”وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لیے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کر رہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جا سکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھرپور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش ذائقہ کجھوروں سے لدی ہوئے ہیں تم اللہ کی نافرمانیاں کر کے ان کو بہ آرام ہضم نہیں کر سکتے۔ اللہ نے تمہیں اس وقت جن مضبوط اور پرتکلف بلند اور عمدہ گھروں میں رکھ چھوڑا ہے اللہ کی توحید اور میری رسالت سے انکار کے بعد یہ بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ افسوس تم اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اپنا وقت اپنا روپیہ بیجا برباد کر کے یہ نقش و نگار والے مکانات پہاڑوں میں بہ تصنع وتکلف صرف بڑائی اور ریاکاری کیلئے اپنی عظمت اور قوت کے مظاہرے کیلے تراش رہے ہو جس میں کوئی نفع نہیں بلکہ اس کا وبال تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہیئے اور میری اتباع کرنی چاہیئے اپنے خالق رازق منعم محسن کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری اور اس کی توحید کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جانا چاہیئے۔ جس کا نفع تمہیں اپنے دنیا اور آخرت میں ملے تمہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیئے اس کی تسبیح وتہلیل کرنی چاہئیے صبح و شام اس کی عبادت کرنی چاہیئے تمہیں اپنے ان موجودہ سردارں کی ہرگز نہ ماننی چاہیئے یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے، توحید کو، اتباع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زمین میں فسادپھیلا رہے ہیں نافرمانی، گناہ، فسق وفجور پر خود لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلا رہے ہیں اور حق کی موافقت اور اتباع کر کے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔‏“

صفحہ نمبر6280

صالح علیہ السلام کی باغی قوم ٭٭

حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اس کے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ ”وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لیے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کر رہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جا سکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھرپور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش ذائقہ کجھوروں سے لدی ہوئے ہیں تم اللہ کی نافرمانیاں کر کے ان کو بہ آرام ہضم نہیں کر سکتے۔ اللہ نے تمہیں اس وقت جن مضبوط اور پرتکلف بلند اور عمدہ گھروں میں رکھ چھوڑا ہے اللہ کی توحید اور میری رسالت سے انکار کے بعد یہ بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ افسوس تم اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اپنا وقت اپنا روپیہ بیجا برباد کر کے یہ نقش و نگار والے مکانات پہاڑوں میں بہ تصنع وتکلف صرف بڑائی اور ریاکاری کیلئے اپنی عظمت اور قوت کے مظاہرے کیلے تراش رہے ہو جس میں کوئی نفع نہیں بلکہ اس کا وبال تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہیئے اور میری اتباع کرنی چاہیئے اپنے خالق رازق منعم محسن کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری اور اس کی توحید کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جانا چاہیئے۔ جس کا نفع تمہیں اپنے دنیا اور آخرت میں ملے تمہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیئے اس کی تسبیح وتہلیل کرنی چاہئیے صبح و شام اس کی عبادت کرنی چاہیئے تمہیں اپنے ان موجودہ سردارں کی ہرگز نہ ماننی چاہیئے یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے، توحید کو، اتباع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زمین میں فسادپھیلا رہے ہیں نافرمانی، گناہ، فسق وفجور پر خود لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلا رہے ہیں اور حق کی موافقت اور اتباع کر کے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔‏“

صفحہ نمبر6280

صالح علیہ السلام کی باغی قوم ٭٭

حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اس کے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ ”وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لیے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کر رہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جا سکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھرپور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش ذائقہ کجھوروں سے لدی ہوئے ہیں تم اللہ کی نافرمانیاں کر کے ان کو بہ آرام ہضم نہیں کر سکتے۔ اللہ نے تمہیں اس وقت جن مضبوط اور پرتکلف بلند اور عمدہ گھروں میں رکھ چھوڑا ہے اللہ کی توحید اور میری رسالت سے انکار کے بعد یہ بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ افسوس تم اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اپنا وقت اپنا روپیہ بیجا برباد کر کے یہ نقش و نگار والے مکانات پہاڑوں میں بہ تصنع وتکلف صرف بڑائی اور ریاکاری کیلئے اپنی عظمت اور قوت کے مظاہرے کیلے تراش رہے ہو جس میں کوئی نفع نہیں بلکہ اس کا وبال تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہیئے اور میری اتباع کرنی چاہیئے اپنے خالق رازق منعم محسن کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری اور اس کی توحید کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جانا چاہیئے۔ جس کا نفع تمہیں اپنے دنیا اور آخرت میں ملے تمہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیئے اس کی تسبیح وتہلیل کرنی چاہئیے صبح و شام اس کی عبادت کرنی چاہیئے تمہیں اپنے ان موجودہ سردارں کی ہرگز نہ ماننی چاہیئے یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے، توحید کو، اتباع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زمین میں فسادپھیلا رہے ہیں نافرمانی، گناہ، فسق وفجور پر خود لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلا رہے ہیں اور حق کی موافقت اور اتباع کر کے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔‏“

صفحہ نمبر6280

صالح علیہ السلام کی باغی قوم ٭٭

حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اس کے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ ”وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لیے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کر رہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جا سکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھرپور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش ذائقہ کجھوروں سے لدی ہوئے ہیں تم اللہ کی نافرمانیاں کر کے ان کو بہ آرام ہضم نہیں کر سکتے۔ اللہ نے تمہیں اس وقت جن مضبوط اور پرتکلف بلند اور عمدہ گھروں میں رکھ چھوڑا ہے اللہ کی توحید اور میری رسالت سے انکار کے بعد یہ بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ افسوس تم اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اپنا وقت اپنا روپیہ بیجا برباد کر کے یہ نقش و نگار والے مکانات پہاڑوں میں بہ تصنع وتکلف صرف بڑائی اور ریاکاری کیلئے اپنی عظمت اور قوت کے مظاہرے کیلے تراش رہے ہو جس میں کوئی نفع نہیں بلکہ اس کا وبال تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہیئے اور میری اتباع کرنی چاہیئے اپنے خالق رازق منعم محسن کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری اور اس کی توحید کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جانا چاہیئے۔ جس کا نفع تمہیں اپنے دنیا اور آخرت میں ملے تمہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیئے اس کی تسبیح وتہلیل کرنی چاہئیے صبح و شام اس کی عبادت کرنی چاہیئے تمہیں اپنے ان موجودہ سردارں کی ہرگز نہ ماننی چاہیئے یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے، توحید کو، اتباع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زمین میں فسادپھیلا رہے ہیں نافرمانی، گناہ، فسق وفجور پر خود لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلا رہے ہیں اور حق کی موافقت اور اتباع کر کے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔‏“

صفحہ نمبر6280

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com