John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Ash-Shu'araa

Tafsir Ibn Kathir · The Poets · 227 ayat · ayat 211–227 · Quran text →

یہ کتاب عزیز ٭٭

” یہ کتاب عزیز جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا جو حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتری ہے جس کو روح الامین جو قوت وطاقت والے ہیں لے کر آئیں ہیں اسے شیاطین نہیں لائے “

۔ پھر ان کے نہ لانے پر تین وجوہات بیان کی گئیں، ایک تو یہ کہ وہ اس کے لائق نہیں۔ ان کا کام مخلوق کو بہکانا ہے نہ کہ راہ راست پر لانا۔ «الْأَمْر بِالْمَعْرُوفِ» اور «وَالنَّهْي عَنْ الْمُنْكَر» جو اس کتاب کی شان ہے اس کے سراسر خلاف ہے۔ یہ نور یہ ہدایت ہے یہ برہان ہے اور شیاطین ان تینوں چیزوں سے چڑتے ہیں وہ ظلمت کے دلدادہ اور ضلالت کے ہیرو ہیں۔ وہ جہالت کے شیدا ہیں پس اس کتاب میں اور ان میں تو تباین اور اختلاف ہے۔ کہاں وہ کہاں یہ؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ جہاں اس کے اہل نہیں وہاں ان میں اس کو اٹھانے اور لانے کی طاقت بھی نہیں۔ «لَوْ أَنزَلْنَا هَـٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّـهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ» [59-الحشر:21] ‏ یہ تو وہ ذی عزت والا کام ہے کہ ” اگر کسی بڑے سے بڑے پہاڑ بھی اترے تو اس کو بھی چکنا چور کر دے “۔

صفحہ نمبر6352

پھر تیسری وجہ یہ بیان فرمائی کہ ” وہ تو اس کے نزول کے وقت ہٹادئیے گئے تھے انہیں تو سننا بھی نہیں ملا۔ تمام آسمان پر سخت پہرہ چوکی تھی یہ سننے کے لیے چڑھتے تھے تو ان پر آگ برسائی جاتی تھیں۔ اس کا ایک حرف سن لینا بھی ان کی طاقت سے باہر تھا۔ تاکہ اللہ کا کلام محفوظ طریقے پر اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے مخلوق الٰہی کو پہنچے “۔

جیسے سورۃ الجن میں «وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَّصَدًا وَأَنَّا لَا نَدْرِي أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِي الْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا» [72-الجن:8-10] ‏ خود جنات کا مقولہ بیان ہوا ہے کہ ” ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہر چوکی سے بھرپور پایا اور جگہ جگہ شعلے متعین پائے پہلے تو ہم بیٹھ کراکا دکا بات اڑا لایا کرتے تھے لیکن اب تو کان لگاتے ہی شعلہ لپکتا ہے اور جلا کر بھسم کر دیتا ہے “۔

صفحہ نمبر6353

یہ کتاب عزیز ٭٭

” یہ کتاب عزیز جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا جو حکیم و حمید اللہ کی طرف سے اتری ہے جس کو روح الامین جو قوت وطاقت والے ہیں لے کر آئیں ہیں اسے شیاطین نہیں لائے “

۔ پھر ان کے نہ لانے پر تین وجوہات بیان کی گئیں، ایک تو یہ کہ وہ اس کے لائق نہیں۔ ان کا کام مخلوق کو بہکانا ہے نہ کہ راہ راست پر لانا۔ «الْأَمْر بِالْمَعْرُوفِ» اور «وَالنَّهْي عَنْ الْمُنْكَر» جو اس کتاب کی شان ہے اس کے سراسر خلاف ہے۔ یہ نور یہ ہدایت ہے یہ برہان ہے اور شیاطین ان تینوں چیزوں سے چڑتے ہیں وہ ظلمت کے دلدادہ اور ضلالت کے ہیرو ہیں۔ وہ جہالت کے شیدا ہیں پس اس کتاب میں اور ان میں تو تباین اور اختلاف ہے۔ کہاں وہ کہاں یہ؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ جہاں اس کے اہل نہیں وہاں ان میں اس کو اٹھانے اور لانے کی طاقت بھی نہیں۔ «لَوْ أَنزَلْنَا هَـٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّـهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ» [59-الحشر:21] ‏ یہ تو وہ ذی عزت والا کام ہے کہ ” اگر کسی بڑے سے بڑے پہاڑ بھی اترے تو اس کو بھی چکنا چور کر دے “۔

صفحہ نمبر6352

پھر تیسری وجہ یہ بیان فرمائی کہ ” وہ تو اس کے نزول کے وقت ہٹادئیے گئے تھے انہیں تو سننا بھی نہیں ملا۔ تمام آسمان پر سخت پہرہ چوکی تھی یہ سننے کے لیے چڑھتے تھے تو ان پر آگ برسائی جاتی تھیں۔ اس کا ایک حرف سن لینا بھی ان کی طاقت سے باہر تھا۔ تاکہ اللہ کا کلام محفوظ طریقے پر اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے مخلوق الٰہی کو پہنچے “۔

جیسے سورۃ الجن میں «وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَّصَدًا وَأَنَّا لَا نَدْرِي أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِي الْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا» [72-الجن:8-10] ‏ خود جنات کا مقولہ بیان ہوا ہے کہ ” ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہر چوکی سے بھرپور پایا اور جگہ جگہ شعلے متعین پائے پہلے تو ہم بیٹھ کراکا دکا بات اڑا لایا کرتے تھے لیکن اب تو کان لگاتے ہی شعلہ لپکتا ہے اور جلا کر بھسم کر دیتا ہے “۔

صفحہ نمبر6353

مستحق سزا لوگوں سے الگ ہو جاؤ ٭٭

خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر دے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں “۔

پھر حکم دیتا ہے کہ ” موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بے تعلق ہو جا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کر دے “۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔

اور جگہ ارشاد ہے ” تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں “۔ اور آیت میں ہے «وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا» [6-الأنعام:92] ‏ ” تا کہ تو مکے والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے “۔

اور آیت میں ہے ” تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کر دے، جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں “۔

دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ” تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور سرکشوں کو ڈرادے “۔

اور آیت میں فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] ‏ ” تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں “۔

اور فرمان ہے ” اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے “۔

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑ جائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا ۔ [صحیح مسلم:153] ‏ اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔

صفحہ نمبر6356

[١] ‏ مسند احمد میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور «یَا صَبَاحَاہ» کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہو گئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد عبدالمطلب! اے اولاد فہر! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں ۔ اس پر ابولہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہو جائے یہی سنانے کے لیے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورۃ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» [111-المسد:1-5] ‏ اتری ۔ [صحیح بخاری:4971] ‏

صفحہ نمبر6357

[٢] ‏ مسند احمد میں ہے اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آ سکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ [صحیح مسلم:205] ‏

صفحہ نمبر6358

[٣] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کر کے اور عام طور پر خطاب کر کے فرمایا: اے قریشیو! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبدالمطلب کے لڑکو! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں ۔ [صحیح مسلم:204] ‏

بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی صفیہ اور اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو ۔ [صحیح بخاری:3527] ‏

ابویعلیٰ میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اے قصی! اے ہاشم! اے عبد مناف کی اولادو! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے ۔ [مسند ابویعلیٰ:6149:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6359

[٤] ‏ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کر دینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لیے آیا تاکہ وہ بچاؤ کر لیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کر دیا کہ پہلے ہی خبردار ہو جائیں ۔ [صحیح مسلم:207] ‏

صفحہ نمبر6360

[۵] ‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی میرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا ۔ تو ایک شخص نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سمندر ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا ”یا رسول اللہ میں اس کے لیے تیار ہوں“ ۔ [مسند احمد:111/1:ضعیف] ‏

ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھاجاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے کھانے کے لیے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد عبدالمطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموماً نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ ، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیعت لی ۔ [مسند احمد:159/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6361

امام بہیقی رحمہ اللہ دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمانے لگے ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا ہوگی۔‏“ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کر کے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہو گا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کر کے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھرلو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو ۔ میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے۔ ابوطالب، حمزہ، عباس، اور ابولہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا: لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو ۔ سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا: اے علی انہیں پلاؤ ۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہو گئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابولہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لیے تھی۔ چنانچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت وتبلیغ کو موقعہ نہ ملا۔ دوسرے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا ۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابولہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہو گئے۔ تیسرے دن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کر دی اور فرمایا: اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں ۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:178/2:ضعیف] ‏

اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اس کی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہو گا اور یہ درجے ملیں گے ۔ لوگ سب خاموش ہو گئے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یا رسول اللہ اس امر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وزارت میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو ۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/19:ضعیف] ‏ لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیاکرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔

اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یہ ہے کہ کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا ۔ [ضعیف] ‏

ان روایتوں میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے؟ اس سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہو جائیں گے اور مجھے قتل کر دیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدة:67] ‏ ” اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا “۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے خطر ہو گئے۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنو ہاشم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق ویقین والا کوئی نہ تھا۔

صفحہ نمبر6362

اس لیے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔

ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ابودرداء رضی اللہ عنہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بے پرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [26-سورةالشعراء:214-216] ‏ ہے۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:587/10:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6363

پھر فرماتا ہے ” اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ و ناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں “۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ» [52-الطور:48] ‏ ” اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے“۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ” جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو “۔

یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں رہتے تھے۔

چنانچہ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے صفیں درست کر لیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں ۔ [صحیح بخاری:718] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔‏“

وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، ان کی حرکات وسکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» [10-یونس:61] ‏، ” تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں “۔

صفحہ نمبر6364

مستحق سزا لوگوں سے الگ ہو جاؤ ٭٭

خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر دے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں “۔

پھر حکم دیتا ہے کہ ” موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بے تعلق ہو جا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کر دے “۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔

اور جگہ ارشاد ہے ” تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں “۔ اور آیت میں ہے «وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا» [6-الأنعام:92] ‏ ” تا کہ تو مکے والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے “۔

اور آیت میں ہے ” تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کر دے، جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں “۔

دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ” تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور سرکشوں کو ڈرادے “۔

اور آیت میں فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] ‏ ” تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں “۔

اور فرمان ہے ” اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے “۔

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑ جائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا ۔ [صحیح مسلم:153] ‏ اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔

صفحہ نمبر6356

[١] ‏ مسند احمد میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور «یَا صَبَاحَاہ» کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہو گئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد عبدالمطلب! اے اولاد فہر! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں ۔ اس پر ابولہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہو جائے یہی سنانے کے لیے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورۃ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» [111-المسد:1-5] ‏ اتری ۔ [صحیح بخاری:4971] ‏

صفحہ نمبر6357

[٢] ‏ مسند احمد میں ہے اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آ سکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ [صحیح مسلم:205] ‏

صفحہ نمبر6358

[٣] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کر کے اور عام طور پر خطاب کر کے فرمایا: اے قریشیو! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبدالمطلب کے لڑکو! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں ۔ [صحیح مسلم:204] ‏

بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی صفیہ اور اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو ۔ [صحیح بخاری:3527] ‏

ابویعلیٰ میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اے قصی! اے ہاشم! اے عبد مناف کی اولادو! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے ۔ [مسند ابویعلیٰ:6149:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6359

[٤] ‏ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کر دینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لیے آیا تاکہ وہ بچاؤ کر لیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کر دیا کہ پہلے ہی خبردار ہو جائیں ۔ [صحیح مسلم:207] ‏

صفحہ نمبر6360

[۵] ‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی میرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا ۔ تو ایک شخص نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سمندر ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا ”یا رسول اللہ میں اس کے لیے تیار ہوں“ ۔ [مسند احمد:111/1:ضعیف] ‏

ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھاجاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے کھانے کے لیے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد عبدالمطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموماً نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ ، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیعت لی ۔ [مسند احمد:159/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6361

امام بہیقی رحمہ اللہ دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمانے لگے ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا ہوگی۔‏“ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کر کے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہو گا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کر کے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھرلو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو ۔ میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے۔ ابوطالب، حمزہ، عباس، اور ابولہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا: لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو ۔ سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا: اے علی انہیں پلاؤ ۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہو گئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابولہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لیے تھی۔ چنانچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت وتبلیغ کو موقعہ نہ ملا۔ دوسرے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا ۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابولہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہو گئے۔ تیسرے دن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کر دی اور فرمایا: اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں ۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:178/2:ضعیف] ‏

اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اس کی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہو گا اور یہ درجے ملیں گے ۔ لوگ سب خاموش ہو گئے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یا رسول اللہ اس امر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وزارت میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو ۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/19:ضعیف] ‏ لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیاکرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔

اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یہ ہے کہ کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا ۔ [ضعیف] ‏

ان روایتوں میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے؟ اس سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہو جائیں گے اور مجھے قتل کر دیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدة:67] ‏ ” اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا “۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے خطر ہو گئے۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنو ہاشم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق ویقین والا کوئی نہ تھا۔

صفحہ نمبر6362

اس لیے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔

ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ابودرداء رضی اللہ عنہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بے پرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [26-سورةالشعراء:214-216] ‏ ہے۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:587/10:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6363

پھر فرماتا ہے ” اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ و ناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں “۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ» [52-الطور:48] ‏ ” اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے“۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ” جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو “۔

یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں رہتے تھے۔

چنانچہ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے صفیں درست کر لیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں ۔ [صحیح بخاری:718] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔‏“

وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، ان کی حرکات وسکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» [10-یونس:61] ‏، ” تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں “۔

صفحہ نمبر6364

مستحق سزا لوگوں سے الگ ہو جاؤ ٭٭

خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر دے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں “۔

پھر حکم دیتا ہے کہ ” موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بے تعلق ہو جا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کر دے “۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔

اور جگہ ارشاد ہے ” تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں “۔ اور آیت میں ہے «وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا» [6-الأنعام:92] ‏ ” تا کہ تو مکے والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے “۔

اور آیت میں ہے ” تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کر دے، جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں “۔

دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ” تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور سرکشوں کو ڈرادے “۔

اور آیت میں فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] ‏ ” تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں “۔

اور فرمان ہے ” اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے “۔

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑ جائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا ۔ [صحیح مسلم:153] ‏ اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔

صفحہ نمبر6356

[١] ‏ مسند احمد میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور «یَا صَبَاحَاہ» کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہو گئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد عبدالمطلب! اے اولاد فہر! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں ۔ اس پر ابولہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہو جائے یہی سنانے کے لیے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورۃ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» [111-المسد:1-5] ‏ اتری ۔ [صحیح بخاری:4971] ‏

صفحہ نمبر6357

[٢] ‏ مسند احمد میں ہے اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آ سکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ [صحیح مسلم:205] ‏

صفحہ نمبر6358

[٣] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کر کے اور عام طور پر خطاب کر کے فرمایا: اے قریشیو! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبدالمطلب کے لڑکو! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں ۔ [صحیح مسلم:204] ‏

بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی صفیہ اور اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو ۔ [صحیح بخاری:3527] ‏

ابویعلیٰ میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اے قصی! اے ہاشم! اے عبد مناف کی اولادو! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے ۔ [مسند ابویعلیٰ:6149:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6359

[٤] ‏ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کر دینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لیے آیا تاکہ وہ بچاؤ کر لیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کر دیا کہ پہلے ہی خبردار ہو جائیں ۔ [صحیح مسلم:207] ‏

صفحہ نمبر6360

[۵] ‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی میرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا ۔ تو ایک شخص نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سمندر ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا ”یا رسول اللہ میں اس کے لیے تیار ہوں“ ۔ [مسند احمد:111/1:ضعیف] ‏

ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھاجاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے کھانے کے لیے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد عبدالمطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموماً نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ ، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیعت لی ۔ [مسند احمد:159/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6361

امام بہیقی رحمہ اللہ دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمانے لگے ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا ہوگی۔‏“ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کر کے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہو گا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کر کے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھرلو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو ۔ میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے۔ ابوطالب، حمزہ، عباس، اور ابولہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا: لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو ۔ سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا: اے علی انہیں پلاؤ ۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہو گئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابولہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لیے تھی۔ چنانچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت وتبلیغ کو موقعہ نہ ملا۔ دوسرے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا ۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابولہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہو گئے۔ تیسرے دن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کر دی اور فرمایا: اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں ۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:178/2:ضعیف] ‏

اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اس کی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہو گا اور یہ درجے ملیں گے ۔ لوگ سب خاموش ہو گئے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یا رسول اللہ اس امر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وزارت میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو ۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/19:ضعیف] ‏ لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیاکرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔

اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یہ ہے کہ کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا ۔ [ضعیف] ‏

ان روایتوں میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے؟ اس سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہو جائیں گے اور مجھے قتل کر دیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدة:67] ‏ ” اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا “۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے خطر ہو گئے۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنو ہاشم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق ویقین والا کوئی نہ تھا۔

صفحہ نمبر6362

اس لیے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔

ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ابودرداء رضی اللہ عنہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بے پرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [26-سورةالشعراء:214-216] ‏ ہے۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:587/10:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6363

پھر فرماتا ہے ” اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ و ناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں “۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ» [52-الطور:48] ‏ ” اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے“۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ” جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو “۔

یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں رہتے تھے۔

چنانچہ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے صفیں درست کر لیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں ۔ [صحیح بخاری:718] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔‏“

وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، ان کی حرکات وسکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» [10-یونس:61] ‏، ” تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں “۔

صفحہ نمبر6364

مستحق سزا لوگوں سے الگ ہو جاؤ ٭٭

خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر دے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں “۔

پھر حکم دیتا ہے کہ ” موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بے تعلق ہو جا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کر دے “۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔

اور جگہ ارشاد ہے ” تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں “۔ اور آیت میں ہے «وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا» [6-الأنعام:92] ‏ ” تا کہ تو مکے والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے “۔

اور آیت میں ہے ” تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کر دے، جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں “۔

دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ” تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور سرکشوں کو ڈرادے “۔

اور آیت میں فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] ‏ ” تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں “۔

اور فرمان ہے ” اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے “۔

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑ جائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا ۔ [صحیح مسلم:153] ‏ اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔

صفحہ نمبر6356

[١] ‏ مسند احمد میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور «یَا صَبَاحَاہ» کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہو گئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد عبدالمطلب! اے اولاد فہر! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں ۔ اس پر ابولہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہو جائے یہی سنانے کے لیے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورۃ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» [111-المسد:1-5] ‏ اتری ۔ [صحیح بخاری:4971] ‏

صفحہ نمبر6357

[٢] ‏ مسند احمد میں ہے اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آ سکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ [صحیح مسلم:205] ‏

صفحہ نمبر6358

[٣] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کر کے اور عام طور پر خطاب کر کے فرمایا: اے قریشیو! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبدالمطلب کے لڑکو! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں ۔ [صحیح مسلم:204] ‏

بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی صفیہ اور اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو ۔ [صحیح بخاری:3527] ‏

ابویعلیٰ میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اے قصی! اے ہاشم! اے عبد مناف کی اولادو! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے ۔ [مسند ابویعلیٰ:6149:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6359

[٤] ‏ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کر دینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لیے آیا تاکہ وہ بچاؤ کر لیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کر دیا کہ پہلے ہی خبردار ہو جائیں ۔ [صحیح مسلم:207] ‏

صفحہ نمبر6360

[۵] ‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی میرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا ۔ تو ایک شخص نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سمندر ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا ”یا رسول اللہ میں اس کے لیے تیار ہوں“ ۔ [مسند احمد:111/1:ضعیف] ‏

ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھاجاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے کھانے کے لیے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد عبدالمطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموماً نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ ، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیعت لی ۔ [مسند احمد:159/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6361

امام بہیقی رحمہ اللہ دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمانے لگے ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا ہوگی۔‏“ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کر کے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہو گا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کر کے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھرلو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو ۔ میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے۔ ابوطالب، حمزہ، عباس، اور ابولہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا: لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو ۔ سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا: اے علی انہیں پلاؤ ۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہو گئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابولہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لیے تھی۔ چنانچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت وتبلیغ کو موقعہ نہ ملا۔ دوسرے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا ۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابولہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہو گئے۔ تیسرے دن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کر دی اور فرمایا: اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں ۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:178/2:ضعیف] ‏

اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اس کی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہو گا اور یہ درجے ملیں گے ۔ لوگ سب خاموش ہو گئے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یا رسول اللہ اس امر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وزارت میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو ۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/19:ضعیف] ‏ لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیاکرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔

اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یہ ہے کہ کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا ۔ [ضعیف] ‏

ان روایتوں میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے؟ اس سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہو جائیں گے اور مجھے قتل کر دیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدة:67] ‏ ” اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا “۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے خطر ہو گئے۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنو ہاشم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق ویقین والا کوئی نہ تھا۔

صفحہ نمبر6362

اس لیے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔

ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ابودرداء رضی اللہ عنہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بے پرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [26-سورةالشعراء:214-216] ‏ ہے۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:587/10:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6363

پھر فرماتا ہے ” اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ و ناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں “۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ» [52-الطور:48] ‏ ” اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے“۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ” جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو “۔

یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں رہتے تھے۔

چنانچہ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے صفیں درست کر لیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں ۔ [صحیح بخاری:718] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔‏“

وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، ان کی حرکات وسکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» [10-یونس:61] ‏، ” تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں “۔

صفحہ نمبر6364

مستحق سزا لوگوں سے الگ ہو جاؤ ٭٭

خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر دے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں “۔

پھر حکم دیتا ہے کہ ” موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بے تعلق ہو جا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کر دے “۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔

اور جگہ ارشاد ہے ” تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں “۔ اور آیت میں ہے «وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا» [6-الأنعام:92] ‏ ” تا کہ تو مکے والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے “۔

اور آیت میں ہے ” تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کر دے، جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں “۔

دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ” تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور سرکشوں کو ڈرادے “۔

اور آیت میں فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] ‏ ” تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں “۔

اور فرمان ہے ” اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے “۔

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑ جائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا ۔ [صحیح مسلم:153] ‏ اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔

صفحہ نمبر6356

[١] ‏ مسند احمد میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور «یَا صَبَاحَاہ» کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہو گئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد عبدالمطلب! اے اولاد فہر! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں ۔ اس پر ابولہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہو جائے یہی سنانے کے لیے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورۃ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» [111-المسد:1-5] ‏ اتری ۔ [صحیح بخاری:4971] ‏

صفحہ نمبر6357

[٢] ‏ مسند احمد میں ہے اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آ سکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ [صحیح مسلم:205] ‏

صفحہ نمبر6358

[٣] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کر کے اور عام طور پر خطاب کر کے فرمایا: اے قریشیو! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبدالمطلب کے لڑکو! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں ۔ [صحیح مسلم:204] ‏

بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی صفیہ اور اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو ۔ [صحیح بخاری:3527] ‏

ابویعلیٰ میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اے قصی! اے ہاشم! اے عبد مناف کی اولادو! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے ۔ [مسند ابویعلیٰ:6149:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6359

[٤] ‏ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کر دینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لیے آیا تاکہ وہ بچاؤ کر لیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کر دیا کہ پہلے ہی خبردار ہو جائیں ۔ [صحیح مسلم:207] ‏

صفحہ نمبر6360

[۵] ‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی میرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا ۔ تو ایک شخص نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سمندر ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا ”یا رسول اللہ میں اس کے لیے تیار ہوں“ ۔ [مسند احمد:111/1:ضعیف] ‏

ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھاجاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے کھانے کے لیے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد عبدالمطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموماً نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ ، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیعت لی ۔ [مسند احمد:159/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6361

امام بہیقی رحمہ اللہ دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمانے لگے ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا ہوگی۔‏“ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کر کے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہو گا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کر کے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھرلو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو ۔ میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے۔ ابوطالب، حمزہ، عباس، اور ابولہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا: لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو ۔ سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا: اے علی انہیں پلاؤ ۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہو گئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابولہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لیے تھی۔ چنانچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت وتبلیغ کو موقعہ نہ ملا۔ دوسرے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا ۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابولہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہو گئے۔ تیسرے دن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کر دی اور فرمایا: اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں ۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:178/2:ضعیف] ‏

اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اس کی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہو گا اور یہ درجے ملیں گے ۔ لوگ سب خاموش ہو گئے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یا رسول اللہ اس امر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وزارت میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو ۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/19:ضعیف] ‏ لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیاکرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔

اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یہ ہے کہ کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا ۔ [ضعیف] ‏

ان روایتوں میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے؟ اس سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہو جائیں گے اور مجھے قتل کر دیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدة:67] ‏ ” اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا “۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے خطر ہو گئے۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنو ہاشم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق ویقین والا کوئی نہ تھا۔

صفحہ نمبر6362

اس لیے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔

ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ابودرداء رضی اللہ عنہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بے پرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [26-سورةالشعراء:214-216] ‏ ہے۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:587/10:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6363

پھر فرماتا ہے ” اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ و ناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں “۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ» [52-الطور:48] ‏ ” اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے“۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ” جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو “۔

یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں رہتے تھے۔

چنانچہ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے صفیں درست کر لیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں ۔ [صحیح بخاری:718] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔‏“

وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، ان کی حرکات وسکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» [10-یونس:61] ‏، ” تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں “۔

صفحہ نمبر6364

مستحق سزا لوگوں سے الگ ہو جاؤ ٭٭

خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر دے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں “۔

پھر حکم دیتا ہے کہ ” موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بے تعلق ہو جا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کر دے “۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔

اور جگہ ارشاد ہے ” تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں “۔ اور آیت میں ہے «وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا» [6-الأنعام:92] ‏ ” تا کہ تو مکے والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے “۔

اور آیت میں ہے ” تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کر دے، جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں “۔

دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ” تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور سرکشوں کو ڈرادے “۔

اور آیت میں فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] ‏ ” تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں “۔

اور فرمان ہے ” اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے “۔

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑ جائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا ۔ [صحیح مسلم:153] ‏ اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔

صفحہ نمبر6356

[١] ‏ مسند احمد میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور «یَا صَبَاحَاہ» کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہو گئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد عبدالمطلب! اے اولاد فہر! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں ۔ اس پر ابولہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہو جائے یہی سنانے کے لیے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورۃ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» [111-المسد:1-5] ‏ اتری ۔ [صحیح بخاری:4971] ‏

صفحہ نمبر6357

[٢] ‏ مسند احمد میں ہے اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آ سکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ [صحیح مسلم:205] ‏

صفحہ نمبر6358

[٣] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کر کے اور عام طور پر خطاب کر کے فرمایا: اے قریشیو! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبدالمطلب کے لڑکو! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں ۔ [صحیح مسلم:204] ‏

بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی صفیہ اور اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو ۔ [صحیح بخاری:3527] ‏

ابویعلیٰ میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اے قصی! اے ہاشم! اے عبد مناف کی اولادو! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے ۔ [مسند ابویعلیٰ:6149:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6359

[٤] ‏ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کر دینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لیے آیا تاکہ وہ بچاؤ کر لیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کر دیا کہ پہلے ہی خبردار ہو جائیں ۔ [صحیح مسلم:207] ‏

صفحہ نمبر6360

[۵] ‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی میرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا ۔ تو ایک شخص نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سمندر ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا ”یا رسول اللہ میں اس کے لیے تیار ہوں“ ۔ [مسند احمد:111/1:ضعیف] ‏

ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھاجاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے کھانے کے لیے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد عبدالمطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموماً نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ ، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیعت لی ۔ [مسند احمد:159/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6361

امام بہیقی رحمہ اللہ دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمانے لگے ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا ہوگی۔‏“ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کر کے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہو گا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کر کے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھرلو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو ۔ میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے۔ ابوطالب، حمزہ، عباس، اور ابولہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا: لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو ۔ سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا: اے علی انہیں پلاؤ ۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہو گئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابولہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لیے تھی۔ چنانچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت وتبلیغ کو موقعہ نہ ملا۔ دوسرے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا ۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابولہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہو گئے۔ تیسرے دن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کر دی اور فرمایا: اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں ۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:178/2:ضعیف] ‏

اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اس کی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہو گا اور یہ درجے ملیں گے ۔ لوگ سب خاموش ہو گئے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یا رسول اللہ اس امر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وزارت میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو ۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/19:ضعیف] ‏ لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیاکرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔

اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یہ ہے کہ کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا ۔ [ضعیف] ‏

ان روایتوں میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے؟ اس سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہو جائیں گے اور مجھے قتل کر دیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدة:67] ‏ ” اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا “۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے خطر ہو گئے۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنو ہاشم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق ویقین والا کوئی نہ تھا۔

صفحہ نمبر6362

اس لیے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔

ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ابودرداء رضی اللہ عنہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بے پرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [26-سورةالشعراء:214-216] ‏ ہے۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:587/10:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6363

پھر فرماتا ہے ” اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ و ناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں “۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ» [52-الطور:48] ‏ ” اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے“۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ” جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو “۔

یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں رہتے تھے۔

چنانچہ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے صفیں درست کر لیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں ۔ [صحیح بخاری:718] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔‏“

وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، ان کی حرکات وسکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» [10-یونس:61] ‏، ” تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں “۔

صفحہ نمبر6364

مستحق سزا لوگوں سے الگ ہو جاؤ ٭٭

خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر دے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں “۔

پھر حکم دیتا ہے کہ ” موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بے تعلق ہو جا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کر دے “۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔

اور جگہ ارشاد ہے ” تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں “۔ اور آیت میں ہے «وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا» [6-الأنعام:92] ‏ ” تا کہ تو مکے والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے “۔

اور آیت میں ہے ” تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کر دے، جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں “۔

دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ” تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور سرکشوں کو ڈرادے “۔

اور آیت میں فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] ‏ ” تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں “۔

اور فرمان ہے ” اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے “۔

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑ جائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا ۔ [صحیح مسلم:153] ‏ اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔

صفحہ نمبر6356

[١] ‏ مسند احمد میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور «یَا صَبَاحَاہ» کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہو گئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد عبدالمطلب! اے اولاد فہر! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں ۔ اس پر ابولہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہو جائے یہی سنانے کے لیے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورۃ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» [111-المسد:1-5] ‏ اتری ۔ [صحیح بخاری:4971] ‏

صفحہ نمبر6357

[٢] ‏ مسند احمد میں ہے اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آ سکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ [صحیح مسلم:205] ‏

صفحہ نمبر6358

[٣] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کر کے اور عام طور پر خطاب کر کے فرمایا: اے قریشیو! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبدالمطلب کے لڑکو! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں ۔ [صحیح مسلم:204] ‏

بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی صفیہ اور اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو ۔ [صحیح بخاری:3527] ‏

ابویعلیٰ میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اے قصی! اے ہاشم! اے عبد مناف کی اولادو! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے ۔ [مسند ابویعلیٰ:6149:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6359

[٤] ‏ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کر دینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لیے آیا تاکہ وہ بچاؤ کر لیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کر دیا کہ پہلے ہی خبردار ہو جائیں ۔ [صحیح مسلم:207] ‏

صفحہ نمبر6360

[۵] ‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی میرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا ۔ تو ایک شخص نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سمندر ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا ”یا رسول اللہ میں اس کے لیے تیار ہوں“ ۔ [مسند احمد:111/1:ضعیف] ‏

ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھاجاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے کھانے کے لیے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد عبدالمطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموماً نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ ، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیعت لی ۔ [مسند احمد:159/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6361

امام بہیقی رحمہ اللہ دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمانے لگے ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا ہوگی۔‏“ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کر کے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہو گا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کر کے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھرلو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو ۔ میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے۔ ابوطالب، حمزہ، عباس، اور ابولہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا: لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو ۔ سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا: اے علی انہیں پلاؤ ۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہو گئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابولہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لیے تھی۔ چنانچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت وتبلیغ کو موقعہ نہ ملا۔ دوسرے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا ۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابولہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہو گئے۔ تیسرے دن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کر دی اور فرمایا: اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں ۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:178/2:ضعیف] ‏

اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اس کی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہو گا اور یہ درجے ملیں گے ۔ لوگ سب خاموش ہو گئے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یا رسول اللہ اس امر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وزارت میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو ۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/19:ضعیف] ‏ لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیاکرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔

اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یہ ہے کہ کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا ۔ [ضعیف] ‏

ان روایتوں میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے؟ اس سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہو جائیں گے اور مجھے قتل کر دیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدة:67] ‏ ” اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا “۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے خطر ہو گئے۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنو ہاشم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق ویقین والا کوئی نہ تھا۔

صفحہ نمبر6362

اس لیے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔

ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ابودرداء رضی اللہ عنہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بے پرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [26-سورةالشعراء:214-216] ‏ ہے۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:587/10:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6363

پھر فرماتا ہے ” اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ و ناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں “۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ» [52-الطور:48] ‏ ” اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے“۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ” جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو “۔

یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں رہتے تھے۔

چنانچہ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے صفیں درست کر لیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں ۔ [صحیح بخاری:718] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔‏“

وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، ان کی حرکات وسکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» [10-یونس:61] ‏، ” تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں “۔

صفحہ نمبر6364

مستحق سزا لوگوں سے الگ ہو جاؤ ٭٭

خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر دے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں “۔

پھر حکم دیتا ہے کہ ” موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بے تعلق ہو جا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کر دے “۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔

اور جگہ ارشاد ہے ” تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں “۔ اور آیت میں ہے «وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا» [6-الأنعام:92] ‏ ” تا کہ تو مکے والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے “۔

اور آیت میں ہے ” تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کر دے، جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں “۔

دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ” تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور سرکشوں کو ڈرادے “۔

اور آیت میں فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] ‏ ” تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں “۔

اور فرمان ہے ” اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے “۔

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑ جائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا ۔ [صحیح مسلم:153] ‏ اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔

صفحہ نمبر6356

[١] ‏ مسند احمد میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور «یَا صَبَاحَاہ» کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہو گئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد عبدالمطلب! اے اولاد فہر! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں ۔ اس پر ابولہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہو جائے یہی سنانے کے لیے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورۃ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» [111-المسد:1-5] ‏ اتری ۔ [صحیح بخاری:4971] ‏

صفحہ نمبر6357

[٢] ‏ مسند احمد میں ہے اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آ سکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ [صحیح مسلم:205] ‏

صفحہ نمبر6358

[٣] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کر کے اور عام طور پر خطاب کر کے فرمایا: اے قریشیو! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبدالمطلب کے لڑکو! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں ۔ [صحیح مسلم:204] ‏

بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی صفیہ اور اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو ۔ [صحیح بخاری:3527] ‏

ابویعلیٰ میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اے قصی! اے ہاشم! اے عبد مناف کی اولادو! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے ۔ [مسند ابویعلیٰ:6149:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6359

[٤] ‏ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کر دینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لیے آیا تاکہ وہ بچاؤ کر لیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کر دیا کہ پہلے ہی خبردار ہو جائیں ۔ [صحیح مسلم:207] ‏

صفحہ نمبر6360

[۵] ‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی میرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا ۔ تو ایک شخص نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سمندر ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا ”یا رسول اللہ میں اس کے لیے تیار ہوں“ ۔ [مسند احمد:111/1:ضعیف] ‏

ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھاجاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے کھانے کے لیے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد عبدالمطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموماً نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ ، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیعت لی ۔ [مسند احمد:159/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6361

امام بہیقی رحمہ اللہ دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمانے لگے ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا ہوگی۔‏“ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کر کے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہو گا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کر کے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھرلو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو ۔ میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے۔ ابوطالب، حمزہ، عباس، اور ابولہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا: لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو ۔ سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا: اے علی انہیں پلاؤ ۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہو گئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابولہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لیے تھی۔ چنانچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت وتبلیغ کو موقعہ نہ ملا۔ دوسرے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا ۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابولہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہو گئے۔ تیسرے دن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کر دی اور فرمایا: اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں ۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:178/2:ضعیف] ‏

اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اس کی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہو گا اور یہ درجے ملیں گے ۔ لوگ سب خاموش ہو گئے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یا رسول اللہ اس امر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وزارت میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو ۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/19:ضعیف] ‏ لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیاکرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔

اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یہ ہے کہ کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا ۔ [ضعیف] ‏

ان روایتوں میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے؟ اس سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہو جائیں گے اور مجھے قتل کر دیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدة:67] ‏ ” اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا “۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے خطر ہو گئے۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنو ہاشم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق ویقین والا کوئی نہ تھا۔

صفحہ نمبر6362

اس لیے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔

ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ابودرداء رضی اللہ عنہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بے پرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [26-سورةالشعراء:214-216] ‏ ہے۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:587/10:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6363

پھر فرماتا ہے ” اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ و ناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں “۔

جیسے فرمان ہے آیت «وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ» [52-الطور:48] ‏ ” اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے“۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ” جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو “۔

یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں رہتے تھے۔

چنانچہ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے صفیں درست کر لیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں ۔ [صحیح بخاری:718] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔‏“

وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، ان کی حرکات وسکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» [10-یونس:61] ‏، ” تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں “۔

صفحہ نمبر6364

شیاطین اور جادوگر ٭٭

مشرکین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اس کو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔

پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔

اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملا کر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کر کے لوگوں میں ڈینگیں مار دیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کوئی چیز نہیں ہیں ۔ لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اس کے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر کہہ دیتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:5762] ‏

صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الٰہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث سیدنا سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلا کر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلا کر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچا دیتے ہیں اس میں کاہن وجادوگر اپنے سوجھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:4800] ‏

ان تمام احایث کا بیان آیت «حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ» [34-سبأ:23] ‏ کی تفسیر میں آئے گا۔ ان شاءاللہ۔

صفحہ نمبر6372

بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:3288] ‏

پھر فرمایا کہ ” کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں “۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہو جاتی تھی اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شیطان کو پکڑ لو یا فرمایا: روکو! تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے ۔ [صحیح مسلم:2259] ‏

انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لیے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کر سکتے ہوں۔ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا نے اپنی خلافت کے زمانے میں نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ ”کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہو سکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔‏“ اللہ کرے امیر المؤمنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔

یہ اشعار سچ مچ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے آپ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں «حم تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ» [40-غافر:1-3] ‏ تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ ”تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔‏“

چنانچہ اس خط کو پڑھتے ہی نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المؤمنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ وگانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دوں۔‏“ پس معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لیے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔

صفحہ نمبر6373

چنانچہ حدیث میں ہے کہ پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بد تر ہے ۔ [صحیح مسلم:2258] ‏ مطلب یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہر حال ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان عیوب سے برأت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ‌ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ‌ وَقُرْ‌آنٌ مُّبِينٌ» [36-يس:69] ‏ ” تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے “۔

اور آیت میں ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَ‌سُولٍ كَرِ‌يمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ‌ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُ‌ونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّ‌بِّ الْعَالَمِينَ» [69-الحاقة:40-43] ‏ ” یہ رسول اللہ کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے “۔

اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ ” یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کر دے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کر دئیے گئے ہیں “۔

جو جھوٹے مفتری اور بد کردار ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سنا کر ان کے کانوں میں آ کر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ، کعب بن مالک رضی اللہ عنہم روتے ہوئے دربار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ” ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مستثنٰی ہو “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26848:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر6374

ایک روایت میں کعب رضی اللہ عنہ کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس شکایت پر کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر تو میں بھی ہوں۔‏“ اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکن یہ قابل نظر، اس لیے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقیناً محل غور ہو گا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت بے شک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء رضی اللہ عنہم ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہو جائے توبہ کر لے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔

حسنات سیئات کو دور کر دیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے عبداللہ بن زبعری رضی اللہ عنہ نے اسلام سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا۔

اسی طرح ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ (‏رضی اللہ عنہ)

صفحہ نمبر6375

صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوسفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجئیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لیے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجئیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی ۔ [صحیح مسلم:2501] ‏

پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقیناً وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ ” اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں “۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں ۔ [صحیح بخاری:3213] ‏

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں ۔ [مسند احمد:387/6:صحیح] ‏ پھر فرمایا ” ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہو جائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے ۔ [صحیح مسلم:2578] ‏ آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا ”اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں“، کہا گیا کہ ”اس سے مراد اہل مکہ ہیں“، یہ بھی مروی ہے کہ ”مراد مشرک ہیں۔‏“ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔

صفحہ نمبر6376

ابن ابی حاتم میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی «‏ «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» » ‏ یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہو جاتا، فاجر بھی توبہ کر لیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بنا جا رہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں ۔ [ضعیف] ‏ سورۃ الشعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر6377

شیاطین اور جادوگر ٭٭

مشرکین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اس کو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔

پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔

اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملا کر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کر کے لوگوں میں ڈینگیں مار دیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کوئی چیز نہیں ہیں ۔ لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اس کے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر کہہ دیتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:5762] ‏

صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الٰہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث سیدنا سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلا کر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلا کر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچا دیتے ہیں اس میں کاہن وجادوگر اپنے سوجھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:4800] ‏

ان تمام احایث کا بیان آیت «حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ» [34-سبأ:23] ‏ کی تفسیر میں آئے گا۔ ان شاءاللہ۔

صفحہ نمبر6372

بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:3288] ‏

پھر فرمایا کہ ” کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں “۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہو جاتی تھی اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شیطان کو پکڑ لو یا فرمایا: روکو! تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے ۔ [صحیح مسلم:2259] ‏

انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لیے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کر سکتے ہوں۔ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا نے اپنی خلافت کے زمانے میں نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ ”کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہو سکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔‏“ اللہ کرے امیر المؤمنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔

یہ اشعار سچ مچ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے آپ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں «حم تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ» [40-غافر:1-3] ‏ تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ ”تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔‏“

چنانچہ اس خط کو پڑھتے ہی نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المؤمنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ وگانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دوں۔‏“ پس معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لیے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔

صفحہ نمبر6373

چنانچہ حدیث میں ہے کہ پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بد تر ہے ۔ [صحیح مسلم:2258] ‏ مطلب یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہر حال ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان عیوب سے برأت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ‌ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ‌ وَقُرْ‌آنٌ مُّبِينٌ» [36-يس:69] ‏ ” تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے “۔

اور آیت میں ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَ‌سُولٍ كَرِ‌يمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ‌ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُ‌ونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّ‌بِّ الْعَالَمِينَ» [69-الحاقة:40-43] ‏ ” یہ رسول اللہ کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے “۔

اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ ” یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کر دے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کر دئیے گئے ہیں “۔

جو جھوٹے مفتری اور بد کردار ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سنا کر ان کے کانوں میں آ کر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ، کعب بن مالک رضی اللہ عنہم روتے ہوئے دربار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ” ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مستثنٰی ہو “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26848:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر6374

ایک روایت میں کعب رضی اللہ عنہ کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس شکایت پر کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر تو میں بھی ہوں۔‏“ اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکن یہ قابل نظر، اس لیے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقیناً محل غور ہو گا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت بے شک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء رضی اللہ عنہم ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہو جائے توبہ کر لے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔

حسنات سیئات کو دور کر دیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے عبداللہ بن زبعری رضی اللہ عنہ نے اسلام سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا۔

اسی طرح ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ (‏رضی اللہ عنہ)

صفحہ نمبر6375

صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوسفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجئیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لیے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجئیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی ۔ [صحیح مسلم:2501] ‏

پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقیناً وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ ” اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں “۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں ۔ [صحیح بخاری:3213] ‏

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں ۔ [مسند احمد:387/6:صحیح] ‏ پھر فرمایا ” ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہو جائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے ۔ [صحیح مسلم:2578] ‏ آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا ”اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں“، کہا گیا کہ ”اس سے مراد اہل مکہ ہیں“، یہ بھی مروی ہے کہ ”مراد مشرک ہیں۔‏“ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔

صفحہ نمبر6376

ابن ابی حاتم میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی «‏ «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» » ‏ یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہو جاتا، فاجر بھی توبہ کر لیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بنا جا رہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں ۔ [ضعیف] ‏ سورۃ الشعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر6377

شیاطین اور جادوگر ٭٭

مشرکین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اس کو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔

پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔

اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملا کر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کر کے لوگوں میں ڈینگیں مار دیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کوئی چیز نہیں ہیں ۔ لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اس کے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر کہہ دیتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:5762] ‏

صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الٰہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث سیدنا سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلا کر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلا کر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچا دیتے ہیں اس میں کاہن وجادوگر اپنے سوجھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:4800] ‏

ان تمام احایث کا بیان آیت «حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ» [34-سبأ:23] ‏ کی تفسیر میں آئے گا۔ ان شاءاللہ۔

صفحہ نمبر6372

بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:3288] ‏

پھر فرمایا کہ ” کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں “۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہو جاتی تھی اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شیطان کو پکڑ لو یا فرمایا: روکو! تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے ۔ [صحیح مسلم:2259] ‏

انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لیے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کر سکتے ہوں۔ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا نے اپنی خلافت کے زمانے میں نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ ”کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہو سکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔‏“ اللہ کرے امیر المؤمنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔

یہ اشعار سچ مچ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے آپ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں «حم تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ» [40-غافر:1-3] ‏ تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ ”تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔‏“

چنانچہ اس خط کو پڑھتے ہی نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المؤمنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ وگانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دوں۔‏“ پس معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لیے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔

صفحہ نمبر6373

چنانچہ حدیث میں ہے کہ پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بد تر ہے ۔ [صحیح مسلم:2258] ‏ مطلب یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہر حال ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان عیوب سے برأت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ‌ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ‌ وَقُرْ‌آنٌ مُّبِينٌ» [36-يس:69] ‏ ” تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے “۔

اور آیت میں ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَ‌سُولٍ كَرِ‌يمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ‌ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُ‌ونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّ‌بِّ الْعَالَمِينَ» [69-الحاقة:40-43] ‏ ” یہ رسول اللہ کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے “۔

اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ ” یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کر دے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کر دئیے گئے ہیں “۔

جو جھوٹے مفتری اور بد کردار ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سنا کر ان کے کانوں میں آ کر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ، کعب بن مالک رضی اللہ عنہم روتے ہوئے دربار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ” ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مستثنٰی ہو “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26848:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر6374

ایک روایت میں کعب رضی اللہ عنہ کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس شکایت پر کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر تو میں بھی ہوں۔‏“ اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکن یہ قابل نظر، اس لیے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقیناً محل غور ہو گا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت بے شک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء رضی اللہ عنہم ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہو جائے توبہ کر لے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔

حسنات سیئات کو دور کر دیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے عبداللہ بن زبعری رضی اللہ عنہ نے اسلام سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا۔

اسی طرح ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ (‏رضی اللہ عنہ)

صفحہ نمبر6375

صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوسفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجئیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لیے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجئیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی ۔ [صحیح مسلم:2501] ‏

پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقیناً وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ ” اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں “۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں ۔ [صحیح بخاری:3213] ‏

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں ۔ [مسند احمد:387/6:صحیح] ‏ پھر فرمایا ” ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہو جائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے ۔ [صحیح مسلم:2578] ‏ آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا ”اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں“، کہا گیا کہ ”اس سے مراد اہل مکہ ہیں“، یہ بھی مروی ہے کہ ”مراد مشرک ہیں۔‏“ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔

صفحہ نمبر6376

ابن ابی حاتم میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی «‏ «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» » ‏ یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہو جاتا، فاجر بھی توبہ کر لیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بنا جا رہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں ۔ [ضعیف] ‏ سورۃ الشعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر6377

شیاطین اور جادوگر ٭٭

مشرکین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اس کو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔

پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔

اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملا کر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کر کے لوگوں میں ڈینگیں مار دیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کوئی چیز نہیں ہیں ۔ لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اس کے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر کہہ دیتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:5762] ‏

صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الٰہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث سیدنا سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلا کر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلا کر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچا دیتے ہیں اس میں کاہن وجادوگر اپنے سوجھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:4800] ‏

ان تمام احایث کا بیان آیت «حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ» [34-سبأ:23] ‏ کی تفسیر میں آئے گا۔ ان شاءاللہ۔

صفحہ نمبر6372

بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:3288] ‏

پھر فرمایا کہ ” کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں “۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہو جاتی تھی اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شیطان کو پکڑ لو یا فرمایا: روکو! تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے ۔ [صحیح مسلم:2259] ‏

انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لیے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کر سکتے ہوں۔ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا نے اپنی خلافت کے زمانے میں نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ ”کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہو سکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔‏“ اللہ کرے امیر المؤمنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔

یہ اشعار سچ مچ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے آپ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں «حم تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ» [40-غافر:1-3] ‏ تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ ”تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔‏“

چنانچہ اس خط کو پڑھتے ہی نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المؤمنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ وگانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دوں۔‏“ پس معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لیے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔

صفحہ نمبر6373

چنانچہ حدیث میں ہے کہ پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بد تر ہے ۔ [صحیح مسلم:2258] ‏ مطلب یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہر حال ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان عیوب سے برأت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ‌ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ‌ وَقُرْ‌آنٌ مُّبِينٌ» [36-يس:69] ‏ ” تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے “۔

اور آیت میں ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَ‌سُولٍ كَرِ‌يمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ‌ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُ‌ونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّ‌بِّ الْعَالَمِينَ» [69-الحاقة:40-43] ‏ ” یہ رسول اللہ کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے “۔

اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ ” یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کر دے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کر دئیے گئے ہیں “۔

جو جھوٹے مفتری اور بد کردار ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سنا کر ان کے کانوں میں آ کر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ، کعب بن مالک رضی اللہ عنہم روتے ہوئے دربار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ” ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مستثنٰی ہو “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26848:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر6374

ایک روایت میں کعب رضی اللہ عنہ کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس شکایت پر کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر تو میں بھی ہوں۔‏“ اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکن یہ قابل نظر، اس لیے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقیناً محل غور ہو گا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت بے شک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء رضی اللہ عنہم ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہو جائے توبہ کر لے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔

حسنات سیئات کو دور کر دیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے عبداللہ بن زبعری رضی اللہ عنہ نے اسلام سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا۔

اسی طرح ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ (‏رضی اللہ عنہ)

صفحہ نمبر6375

صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوسفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجئیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لیے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجئیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی ۔ [صحیح مسلم:2501] ‏

پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقیناً وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ ” اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں “۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں ۔ [صحیح بخاری:3213] ‏

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں ۔ [مسند احمد:387/6:صحیح] ‏ پھر فرمایا ” ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہو جائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے ۔ [صحیح مسلم:2578] ‏ آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا ”اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں“، کہا گیا کہ ”اس سے مراد اہل مکہ ہیں“، یہ بھی مروی ہے کہ ”مراد مشرک ہیں۔‏“ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔

صفحہ نمبر6376

ابن ابی حاتم میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی «‏ «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» » ‏ یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہو جاتا، فاجر بھی توبہ کر لیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بنا جا رہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں ۔ [ضعیف] ‏ سورۃ الشعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر6377

شیاطین اور جادوگر ٭٭

مشرکین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اس کو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔

پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔

اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملا کر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کر کے لوگوں میں ڈینگیں مار دیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کوئی چیز نہیں ہیں ۔ لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اس کے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر کہہ دیتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:5762] ‏

صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الٰہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث سیدنا سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلا کر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلا کر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچا دیتے ہیں اس میں کاہن وجادوگر اپنے سوجھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:4800] ‏

ان تمام احایث کا بیان آیت «حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ» [34-سبأ:23] ‏ کی تفسیر میں آئے گا۔ ان شاءاللہ۔

صفحہ نمبر6372

بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:3288] ‏

پھر فرمایا کہ ” کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں “۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہو جاتی تھی اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شیطان کو پکڑ لو یا فرمایا: روکو! تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے ۔ [صحیح مسلم:2259] ‏

انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لیے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کر سکتے ہوں۔ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا نے اپنی خلافت کے زمانے میں نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ ”کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہو سکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔‏“ اللہ کرے امیر المؤمنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔

یہ اشعار سچ مچ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے آپ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں «حم تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ» [40-غافر:1-3] ‏ تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ ”تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔‏“

چنانچہ اس خط کو پڑھتے ہی نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المؤمنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ وگانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دوں۔‏“ پس معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لیے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔

صفحہ نمبر6373

چنانچہ حدیث میں ہے کہ پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بد تر ہے ۔ [صحیح مسلم:2258] ‏ مطلب یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہر حال ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان عیوب سے برأت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ‌ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ‌ وَقُرْ‌آنٌ مُّبِينٌ» [36-يس:69] ‏ ” تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے “۔

اور آیت میں ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَ‌سُولٍ كَرِ‌يمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ‌ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُ‌ونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّ‌بِّ الْعَالَمِينَ» [69-الحاقة:40-43] ‏ ” یہ رسول اللہ کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے “۔

اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ ” یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کر دے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کر دئیے گئے ہیں “۔

جو جھوٹے مفتری اور بد کردار ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سنا کر ان کے کانوں میں آ کر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ، کعب بن مالک رضی اللہ عنہم روتے ہوئے دربار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ” ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مستثنٰی ہو “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26848:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر6374

ایک روایت میں کعب رضی اللہ عنہ کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس شکایت پر کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر تو میں بھی ہوں۔‏“ اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکن یہ قابل نظر، اس لیے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقیناً محل غور ہو گا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت بے شک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء رضی اللہ عنہم ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہو جائے توبہ کر لے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔

حسنات سیئات کو دور کر دیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے عبداللہ بن زبعری رضی اللہ عنہ نے اسلام سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا۔

اسی طرح ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ (‏رضی اللہ عنہ)

صفحہ نمبر6375

صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوسفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجئیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لیے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجئیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی ۔ [صحیح مسلم:2501] ‏

پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقیناً وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ ” اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں “۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں ۔ [صحیح بخاری:3213] ‏

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں ۔ [مسند احمد:387/6:صحیح] ‏ پھر فرمایا ” ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہو جائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے ۔ [صحیح مسلم:2578] ‏ آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا ”اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں“، کہا گیا کہ ”اس سے مراد اہل مکہ ہیں“، یہ بھی مروی ہے کہ ”مراد مشرک ہیں۔‏“ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔

صفحہ نمبر6376

ابن ابی حاتم میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی «‏ «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» » ‏ یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہو جاتا، فاجر بھی توبہ کر لیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بنا جا رہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں ۔ [ضعیف] ‏ سورۃ الشعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر6377

شیاطین اور جادوگر ٭٭

مشرکین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اس کو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔

پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔

اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملا کر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کر کے لوگوں میں ڈینگیں مار دیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کوئی چیز نہیں ہیں ۔ لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اس کے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر کہہ دیتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:5762] ‏

صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الٰہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث سیدنا سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلا کر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلا کر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچا دیتے ہیں اس میں کاہن وجادوگر اپنے سوجھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:4800] ‏

ان تمام احایث کا بیان آیت «حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ» [34-سبأ:23] ‏ کی تفسیر میں آئے گا۔ ان شاءاللہ۔

صفحہ نمبر6372

بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:3288] ‏

پھر فرمایا کہ ” کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں “۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہو جاتی تھی اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شیطان کو پکڑ لو یا فرمایا: روکو! تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے ۔ [صحیح مسلم:2259] ‏

انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لیے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کر سکتے ہوں۔ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا نے اپنی خلافت کے زمانے میں نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ ”کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہو سکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔‏“ اللہ کرے امیر المؤمنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔

یہ اشعار سچ مچ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے آپ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں «حم تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ» [40-غافر:1-3] ‏ تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ ”تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔‏“

چنانچہ اس خط کو پڑھتے ہی نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المؤمنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ وگانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دوں۔‏“ پس معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لیے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔

صفحہ نمبر6373

چنانچہ حدیث میں ہے کہ پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بد تر ہے ۔ [صحیح مسلم:2258] ‏ مطلب یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہر حال ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان عیوب سے برأت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ‌ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ‌ وَقُرْ‌آنٌ مُّبِينٌ» [36-يس:69] ‏ ” تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے “۔

اور آیت میں ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَ‌سُولٍ كَرِ‌يمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ‌ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُ‌ونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّ‌بِّ الْعَالَمِينَ» [69-الحاقة:40-43] ‏ ” یہ رسول اللہ کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے “۔

اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ ” یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کر دے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کر دئیے گئے ہیں “۔

جو جھوٹے مفتری اور بد کردار ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سنا کر ان کے کانوں میں آ کر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ، کعب بن مالک رضی اللہ عنہم روتے ہوئے دربار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ” ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مستثنٰی ہو “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26848:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر6374

ایک روایت میں کعب رضی اللہ عنہ کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس شکایت پر کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر تو میں بھی ہوں۔‏“ اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکن یہ قابل نظر، اس لیے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقیناً محل غور ہو گا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت بے شک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء رضی اللہ عنہم ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہو جائے توبہ کر لے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔

حسنات سیئات کو دور کر دیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے عبداللہ بن زبعری رضی اللہ عنہ نے اسلام سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا۔

اسی طرح ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ (‏رضی اللہ عنہ)

صفحہ نمبر6375

صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوسفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجئیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لیے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجئیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی ۔ [صحیح مسلم:2501] ‏

پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقیناً وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ ” اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں “۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں ۔ [صحیح بخاری:3213] ‏

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں ۔ [مسند احمد:387/6:صحیح] ‏ پھر فرمایا ” ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہو جائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے ۔ [صحیح مسلم:2578] ‏ آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا ”اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں“، کہا گیا کہ ”اس سے مراد اہل مکہ ہیں“، یہ بھی مروی ہے کہ ”مراد مشرک ہیں۔‏“ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔

صفحہ نمبر6376

ابن ابی حاتم میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی «‏ «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» » ‏ یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہو جاتا، فاجر بھی توبہ کر لیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بنا جا رہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں ۔ [ضعیف] ‏ سورۃ الشعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر6377

شیاطین اور جادوگر ٭٭

مشرکین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اس کو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔

پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔

اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملا کر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کر کے لوگوں میں ڈینگیں مار دیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کوئی چیز نہیں ہیں ۔ لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اس کے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر کہہ دیتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:5762] ‏

صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الٰہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث سیدنا سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلا کر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلا کر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچا دیتے ہیں اس میں کاہن وجادوگر اپنے سوجھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:4800] ‏

ان تمام احایث کا بیان آیت «حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ» [34-سبأ:23] ‏ کی تفسیر میں آئے گا۔ ان شاءاللہ۔

صفحہ نمبر6372

بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:3288] ‏

پھر فرمایا کہ ” کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں “۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہو جاتی تھی اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شیطان کو پکڑ لو یا فرمایا: روکو! تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے ۔ [صحیح مسلم:2259] ‏

انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لیے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کر سکتے ہوں۔ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا نے اپنی خلافت کے زمانے میں نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ ”کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہو سکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔‏“ اللہ کرے امیر المؤمنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔

یہ اشعار سچ مچ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے آپ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں «حم تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ» [40-غافر:1-3] ‏ تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ ”تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔‏“

چنانچہ اس خط کو پڑھتے ہی نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المؤمنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ وگانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دوں۔‏“ پس معلوم ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لیے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔

صفحہ نمبر6373

چنانچہ حدیث میں ہے کہ پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بد تر ہے ۔ [صحیح مسلم:2258] ‏ مطلب یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہر حال ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان عیوب سے برأت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ «وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ‌ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ‌ وَقُرْ‌آنٌ مُّبِينٌ» [36-يس:69] ‏ ” تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے “۔

اور آیت میں ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَ‌سُولٍ كَرِ‌يمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ‌ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُ‌ونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّ‌بِّ الْعَالَمِينَ» [69-الحاقة:40-43] ‏ ” یہ رسول اللہ کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے “۔

اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ ” یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کر دے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کر دئیے گئے ہیں “۔

جو جھوٹے مفتری اور بد کردار ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سنا کر ان کے کانوں میں آ کر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ، کعب بن مالک رضی اللہ عنہم روتے ہوئے دربار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ” ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مستثنٰی ہو “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26848:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر6374

ایک روایت میں کعب رضی اللہ عنہ کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس شکایت پر کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر تو میں بھی ہوں۔‏“ اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکن یہ قابل نظر، اس لیے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقیناً محل غور ہو گا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت بے شک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء رضی اللہ عنہم ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہو جائے توبہ کر لے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔

حسنات سیئات کو دور کر دیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے عبداللہ بن زبعری رضی اللہ عنہ نے اسلام سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا۔

اسی طرح ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ (‏رضی اللہ عنہ)

صفحہ نمبر6375

صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوسفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجئیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لیے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجئیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی ۔ [صحیح مسلم:2501] ‏

پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقیناً وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ ” اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں “۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں ۔ [صحیح بخاری:3213] ‏

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں ۔ [مسند احمد:387/6:صحیح] ‏ پھر فرمایا ” ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہو جائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے ۔ [صحیح مسلم:2578] ‏ آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا ”اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں“، کہا گیا کہ ”اس سے مراد اہل مکہ ہیں“، یہ بھی مروی ہے کہ ”مراد مشرک ہیں۔‏“ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔

صفحہ نمبر6376

ابن ابی حاتم میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی «‏ «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» » ‏ یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہو جاتا، فاجر بھی توبہ کر لیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بنا جا رہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں ۔ [ضعیف] ‏ سورۃ الشعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر6377

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com