John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Qaaf

Tafsir Ibn Kathir · The letter Qaaf · 45 ayat · ayat 31–45 · Quran text →

متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ ٭٭

چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لیے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس“ ۔ [صحیح بخاری:4848] ‏

مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم، بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک نئی مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ [صحیح مسلم:2848] ‏

صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی، جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لیے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی، تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لیے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا۔ [صحیح بخاری:4850] ‏

مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے، تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے۔ [مسند احمد:13/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8736

مسند ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا، میں سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گزرنے لگے گی، بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے، بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گزر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔‏“ لوگوں نے کہا: حوض کیا ہے؟ فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے۔ [ذکرہ ابن حجر فی المطالب العالیہ:383/4:ضعیف و موضوع] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے؟ میں بھر گئی۔

صفحہ نمبر8737

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے؟

امام ابن جریر رحمہ اللہ پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے، اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آ سکے؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی۔ عوفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8738

پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لیے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔

«اواب» کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔

«حفیظ» کے معنی وعدوں کا پابند۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «اواب حفیظ» وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔

حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ [صحیح بخاری:660] ‏

اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ «خلود» کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔

پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی۔

صفحہ نمبر8739

کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا“ ۔

مسند احمد میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی ۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اور آیت میں ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» [10-يونس:26] ‏

صہیب بن سنان رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ [صحیح مسلم:181] ‏

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں آپ کے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی آپ کے لیے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام «یوم المزید» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں، جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے، اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام رونق افروز ہوتے ہیں، یہ منبر سونے کے ہیں، جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضا مندی مطلوب ہے، اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا، اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے، پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہشمند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی۔ [مسند ابویعلیٰ:229/7:ضعیف] ‏

اسی طرح اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے، وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں «مزید» کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے“ ۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8740

متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ ٭٭

چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لیے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس“ ۔ [صحیح بخاری:4848] ‏

مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم، بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک نئی مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ [صحیح مسلم:2848] ‏

صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی، جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لیے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی، تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لیے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا۔ [صحیح بخاری:4850] ‏

مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے، تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے۔ [مسند احمد:13/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8736

مسند ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا، میں سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گزرنے لگے گی، بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے، بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گزر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔‏“ لوگوں نے کہا: حوض کیا ہے؟ فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے۔ [ذکرہ ابن حجر فی المطالب العالیہ:383/4:ضعیف و موضوع] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے؟ میں بھر گئی۔

صفحہ نمبر8737

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے؟

امام ابن جریر رحمہ اللہ پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے، اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آ سکے؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی۔ عوفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8738

پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لیے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔

«اواب» کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔

«حفیظ» کے معنی وعدوں کا پابند۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «اواب حفیظ» وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔

حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ [صحیح بخاری:660] ‏

اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ «خلود» کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔

پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی۔

صفحہ نمبر8739

کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا“ ۔

مسند احمد میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی ۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اور آیت میں ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» [10-يونس:26] ‏

صہیب بن سنان رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ [صحیح مسلم:181] ‏

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں آپ کے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی آپ کے لیے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام «یوم المزید» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں، جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے، اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام رونق افروز ہوتے ہیں، یہ منبر سونے کے ہیں، جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضا مندی مطلوب ہے، اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا، اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے، پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہشمند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی۔ [مسند ابویعلیٰ:229/7:ضعیف] ‏

اسی طرح اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے، وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں «مزید» کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے“ ۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8740

متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ ٭٭

چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لیے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس“ ۔ [صحیح بخاری:4848] ‏

مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم، بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک نئی مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ [صحیح مسلم:2848] ‏

صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی، جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لیے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی، تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لیے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا۔ [صحیح بخاری:4850] ‏

مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے، تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے۔ [مسند احمد:13/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8736

مسند ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا، میں سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گزرنے لگے گی، بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے، بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گزر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔‏“ لوگوں نے کہا: حوض کیا ہے؟ فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے۔ [ذکرہ ابن حجر فی المطالب العالیہ:383/4:ضعیف و موضوع] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے؟ میں بھر گئی۔

صفحہ نمبر8737

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے؟

امام ابن جریر رحمہ اللہ پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے، اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آ سکے؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی۔ عوفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8738

پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لیے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔

«اواب» کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔

«حفیظ» کے معنی وعدوں کا پابند۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «اواب حفیظ» وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔

حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ [صحیح بخاری:660] ‏

اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ «خلود» کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔

پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی۔

صفحہ نمبر8739

کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا“ ۔

مسند احمد میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی ۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اور آیت میں ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» [10-يونس:26] ‏

صہیب بن سنان رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ [صحیح مسلم:181] ‏

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں آپ کے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی آپ کے لیے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام «یوم المزید» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں، جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے، اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام رونق افروز ہوتے ہیں، یہ منبر سونے کے ہیں، جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضا مندی مطلوب ہے، اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا، اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے، پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہشمند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی۔ [مسند ابویعلیٰ:229/7:ضعیف] ‏

اسی طرح اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے، وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں «مزید» کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے“ ۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8740

متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ ٭٭

چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لیے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس“ ۔ [صحیح بخاری:4848] ‏

مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم، بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک نئی مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ [صحیح مسلم:2848] ‏

صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی، جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لیے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی، تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لیے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا۔ [صحیح بخاری:4850] ‏

مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے، تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے۔ [مسند احمد:13/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8736

مسند ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا، میں سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گزرنے لگے گی، بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے، بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گزر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔‏“ لوگوں نے کہا: حوض کیا ہے؟ فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے۔ [ذکرہ ابن حجر فی المطالب العالیہ:383/4:ضعیف و موضوع] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے؟ میں بھر گئی۔

صفحہ نمبر8737

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے؟

امام ابن جریر رحمہ اللہ پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے، اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آ سکے؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی۔ عوفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8738

پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لیے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔

«اواب» کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔

«حفیظ» کے معنی وعدوں کا پابند۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «اواب حفیظ» وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔

حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ [صحیح بخاری:660] ‏

اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ «خلود» کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔

پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی۔

صفحہ نمبر8739

کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا“ ۔

مسند احمد میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی ۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اور آیت میں ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» [10-يونس:26] ‏

صہیب بن سنان رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ [صحیح مسلم:181] ‏

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں آپ کے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی آپ کے لیے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام «یوم المزید» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں، جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے، اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام رونق افروز ہوتے ہیں، یہ منبر سونے کے ہیں، جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضا مندی مطلوب ہے، اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا، اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے، پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہشمند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی۔ [مسند ابویعلیٰ:229/7:ضعیف] ‏

اسی طرح اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے، وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں «مزید» کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے“ ۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8740

متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ ٭٭

چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لیے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس“ ۔ [صحیح بخاری:4848] ‏

مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم، بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک نئی مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ [صحیح مسلم:2848] ‏

صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی، جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لیے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی، تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لیے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا۔ [صحیح بخاری:4850] ‏

مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے، تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے۔ [مسند احمد:13/3:صحیح] ‏

صفحہ نمبر8736

مسند ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا، میں سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گزرنے لگے گی، بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے، بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گزر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔‏“ لوگوں نے کہا: حوض کیا ہے؟ فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے۔ [ذکرہ ابن حجر فی المطالب العالیہ:383/4:ضعیف و موضوع] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے؟ میں بھر گئی۔

صفحہ نمبر8737

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے؟

امام ابن جریر رحمہ اللہ پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے، اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آ سکے؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی۔ عوفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8738

پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لیے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔

«اواب» کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔

«حفیظ» کے معنی وعدوں کا پابند۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «اواب حفیظ» وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔

حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ [صحیح بخاری:660] ‏

اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ «خلود» کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔

پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی۔

صفحہ نمبر8739

کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا“ ۔

مسند احمد میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی ۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اور آیت میں ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» [10-يونس:26] ‏

صہیب بن سنان رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ [صحیح مسلم:181] ‏

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں آپ کے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی آپ کے لیے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام «یوم المزید» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں، جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے، اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام رونق افروز ہوتے ہیں، یہ منبر سونے کے ہیں، جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضا مندی مطلوب ہے، اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا، اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے، پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہشمند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی۔ [مسند ابویعلیٰ:229/7:ضعیف] ‏

اسی طرح اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے، وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں «مزید» کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے“ ۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8740

بےسود کوشش ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں؟ ان سے بہت زیادہ قوت و طاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ و بالا کر چکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں، زمین میں خوب فساد کیا، لمبے لمبے سفر کرتے تھے، ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے، مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی، اللہ کی قضاء و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا؟

پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آ گیا، بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لیے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ کان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پا سکتا ہے، یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/11] ‏

پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس کے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کیا اور وہ تھکا نہیں، اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کر چکا ہے اس پر مردوں کو جلانا کیا بھاری ہے؟ قتادۃ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتوں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے «یوم الراحت» رکھ چھوڑا تھا۔

صفحہ نمبر8746

پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا؟ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [46-الأحقاف:33] ‏ ” یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے “

اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ‏ ” البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے “

اور آیت میں ہے «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاءُ بَنٰىهَا» [79-النازعات:27] ‏ ” کیا تمہاری پیدائش زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی، اسے اللہ نے بنایا ہے۔ “

پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہو گیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے۔

صفحہ نمبر8747

مسند احمد میں ہے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا: ”تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے، وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں، پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہو جایا کرو“ ۔ پھر آپ نے آیت «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى» [20-طه:130] ‏ پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:554] ‏

رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] ‏ یعنی ” رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لیے ہی ہے، تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے “، سجدوں کے پیچھے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔

بخاری و مسلم میں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کر چکے آپ نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“، جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کر سکتے آپ نے فرمایا: ”آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سبحان اللہ»، تینتیس مرتبہ «الحمداللہ»، تینتیس مرتبہ «اللہ اکبر» پڑھ لیا کرو“، پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے“ ۔ [صحیح بخاری:841] ‏

دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا حسن بن علی، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہم کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے مجاہد عکرمہ شعبی نخعی قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے، عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ [مسند احمد:124/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8748

ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں، پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا: ”اے ابن عباس! فجر کے پہلے کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ» [52-الطور:49] ‏ ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ» ہیں۔ [50-ق:40] ‏ [سنن ترمذي:3275،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ [صحیح بخاری:1198] ‏ ممکن ہے کہ پچھلا کلام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8749

بےسود کوشش ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں؟ ان سے بہت زیادہ قوت و طاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ و بالا کر چکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں، زمین میں خوب فساد کیا، لمبے لمبے سفر کرتے تھے، ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے، مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی، اللہ کی قضاء و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا؟

پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آ گیا، بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لیے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ کان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پا سکتا ہے، یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/11] ‏

پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس کے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کیا اور وہ تھکا نہیں، اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کر چکا ہے اس پر مردوں کو جلانا کیا بھاری ہے؟ قتادۃ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتوں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے «یوم الراحت» رکھ چھوڑا تھا۔

صفحہ نمبر8746

پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا؟ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [46-الأحقاف:33] ‏ ” یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے “

اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ‏ ” البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے “

اور آیت میں ہے «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاءُ بَنٰىهَا» [79-النازعات:27] ‏ ” کیا تمہاری پیدائش زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی، اسے اللہ نے بنایا ہے۔ “

پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہو گیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے۔

صفحہ نمبر8747

مسند احمد میں ہے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا: ”تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے، وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں، پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہو جایا کرو“ ۔ پھر آپ نے آیت «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى» [20-طه:130] ‏ پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:554] ‏

رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] ‏ یعنی ” رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لیے ہی ہے، تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے “، سجدوں کے پیچھے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔

بخاری و مسلم میں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کر چکے آپ نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“، جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کر سکتے آپ نے فرمایا: ”آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سبحان اللہ»، تینتیس مرتبہ «الحمداللہ»، تینتیس مرتبہ «اللہ اکبر» پڑھ لیا کرو“، پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے“ ۔ [صحیح بخاری:841] ‏

دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا حسن بن علی، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہم کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے مجاہد عکرمہ شعبی نخعی قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے، عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ [مسند احمد:124/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8748

ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں، پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا: ”اے ابن عباس! فجر کے پہلے کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ» [52-الطور:49] ‏ ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ» ہیں۔ [50-ق:40] ‏ [سنن ترمذي:3275،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ [صحیح بخاری:1198] ‏ ممکن ہے کہ پچھلا کلام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8749

بےسود کوشش ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں؟ ان سے بہت زیادہ قوت و طاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ و بالا کر چکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں، زمین میں خوب فساد کیا، لمبے لمبے سفر کرتے تھے، ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے، مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی، اللہ کی قضاء و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا؟

پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آ گیا، بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لیے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ کان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پا سکتا ہے، یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/11] ‏

پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس کے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کیا اور وہ تھکا نہیں، اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کر چکا ہے اس پر مردوں کو جلانا کیا بھاری ہے؟ قتادۃ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتوں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے «یوم الراحت» رکھ چھوڑا تھا۔

صفحہ نمبر8746

پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا؟ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [46-الأحقاف:33] ‏ ” یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے “

اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ‏ ” البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے “

اور آیت میں ہے «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاءُ بَنٰىهَا» [79-النازعات:27] ‏ ” کیا تمہاری پیدائش زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی، اسے اللہ نے بنایا ہے۔ “

پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہو گیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے۔

صفحہ نمبر8747

مسند احمد میں ہے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا: ”تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے، وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں، پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہو جایا کرو“ ۔ پھر آپ نے آیت «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى» [20-طه:130] ‏ پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:554] ‏

رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] ‏ یعنی ” رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لیے ہی ہے، تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے “، سجدوں کے پیچھے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔

بخاری و مسلم میں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کر چکے آپ نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“، جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کر سکتے آپ نے فرمایا: ”آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سبحان اللہ»، تینتیس مرتبہ «الحمداللہ»، تینتیس مرتبہ «اللہ اکبر» پڑھ لیا کرو“، پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے“ ۔ [صحیح بخاری:841] ‏

دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا حسن بن علی، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہم کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے مجاہد عکرمہ شعبی نخعی قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے، عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ [مسند احمد:124/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8748

ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں، پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا: ”اے ابن عباس! فجر کے پہلے کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ» [52-الطور:49] ‏ ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ» ہیں۔ [50-ق:40] ‏ [سنن ترمذي:3275،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ [صحیح بخاری:1198] ‏ ممکن ہے کہ پچھلا کلام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8749

بےسود کوشش ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں؟ ان سے بہت زیادہ قوت و طاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ و بالا کر چکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں، زمین میں خوب فساد کیا، لمبے لمبے سفر کرتے تھے، ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے، مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی، اللہ کی قضاء و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا؟

پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آ گیا، بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لیے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ کان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پا سکتا ہے، یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/11] ‏

پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس کے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کیا اور وہ تھکا نہیں، اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کر چکا ہے اس پر مردوں کو جلانا کیا بھاری ہے؟ قتادۃ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتوں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے «یوم الراحت» رکھ چھوڑا تھا۔

صفحہ نمبر8746

پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا؟ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [46-الأحقاف:33] ‏ ” یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے “

اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ‏ ” البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے “

اور آیت میں ہے «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاءُ بَنٰىهَا» [79-النازعات:27] ‏ ” کیا تمہاری پیدائش زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی، اسے اللہ نے بنایا ہے۔ “

پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہو گیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے۔

صفحہ نمبر8747

مسند احمد میں ہے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا: ”تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے، وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں، پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہو جایا کرو“ ۔ پھر آپ نے آیت «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى» [20-طه:130] ‏ پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:554] ‏

رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] ‏ یعنی ” رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لیے ہی ہے، تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے “، سجدوں کے پیچھے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔

بخاری و مسلم میں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کر چکے آپ نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“، جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کر سکتے آپ نے فرمایا: ”آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سبحان اللہ»، تینتیس مرتبہ «الحمداللہ»، تینتیس مرتبہ «اللہ اکبر» پڑھ لیا کرو“، پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے“ ۔ [صحیح بخاری:841] ‏

دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا حسن بن علی، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہم کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے مجاہد عکرمہ شعبی نخعی قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے، عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ [مسند احمد:124/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8748

ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں، پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا: ”اے ابن عباس! فجر کے پہلے کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ» [52-الطور:49] ‏ ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ» ہیں۔ [50-ق:40] ‏ [سنن ترمذي:3275،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ [صحیح بخاری:1198] ‏ ممکن ہے کہ پچھلا کلام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8749

بےسود کوشش ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں؟ ان سے بہت زیادہ قوت و طاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ و بالا کر چکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں، زمین میں خوب فساد کیا، لمبے لمبے سفر کرتے تھے، ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے، مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی، اللہ کی قضاء و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا؟

پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آ گیا، بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لیے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ کان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پا سکتا ہے، یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/11] ‏

پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس کے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کیا اور وہ تھکا نہیں، اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کر چکا ہے اس پر مردوں کو جلانا کیا بھاری ہے؟ قتادۃ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتوں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے «یوم الراحت» رکھ چھوڑا تھا۔

صفحہ نمبر8746

پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا؟ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [46-الأحقاف:33] ‏ ” یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے “

اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] ‏ ” البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے “

اور آیت میں ہے «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاءُ بَنٰىهَا» [79-النازعات:27] ‏ ” کیا تمہاری پیدائش زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی، اسے اللہ نے بنایا ہے۔ “

پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہو گیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے۔

صفحہ نمبر8747

مسند احمد میں ہے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا: ”تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے، وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں، پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہو جایا کرو“ ۔ پھر آپ نے آیت «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى» [20-طه:130] ‏ پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:554] ‏

رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] ‏ یعنی ” رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لیے ہی ہے، تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے “، سجدوں کے پیچھے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔

بخاری و مسلم میں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کر چکے آپ نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“، جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کر سکتے آپ نے فرمایا: ”آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سبحان اللہ»، تینتیس مرتبہ «الحمداللہ»، تینتیس مرتبہ «اللہ اکبر» پڑھ لیا کرو“، پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے“ ۔ [صحیح بخاری:841] ‏

دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا حسن بن علی، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہم کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے مجاہد عکرمہ شعبی نخعی قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے، عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ [مسند احمد:124/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8748

ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں، پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا: ”اے ابن عباس! فجر کے پہلے کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ» [52-الطور:49] ‏ ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ» ہیں۔ [50-ق:40] ‏ [سنن ترمذي:3275،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ [صحیح بخاری:1198] ‏ ممکن ہے کہ پچھلا کلام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8749

جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ٭٭

سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیوں اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ، اللہ تمہیں جمع ہو جانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے، یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہو گا، ابتداء پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پا لے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا، جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی، ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ‏ ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہو جائے گی یہ وقت ہو گا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہو گا۔

فرمان باری ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏ یعنی ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے “۔

صفحہ نمبر8754

صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہو گی“ ۔ [صحیح مسلم:2278-3] ‏

فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور آیت میں ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» [31-لقمان:28] ‏ ” یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ “

پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» [15-الحجر:99-97] ‏ ” واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں، اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں، سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہئیے اور نمازوں میں رہئیے اور موت آ جانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہئیے۔ “

پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا، نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے۔ جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا جیسے فرمایا ہے «وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] ‏ ” یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے “

اور آیت میں ہے «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [88-الغاشية:22-21] ‏ ” تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں “۔

اور جگہ ہے «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ» [2-البقرة:272] ‏ ” تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے “

اور جگہ ہے «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» [28-القصص:56] ‏ ” یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے “ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔

صفحہ نمبر8755

قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے «اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم» ‏ یعنی اے اللہ! تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں، اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔

سورۃ ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ «والحمدللہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل»

صفحہ نمبر8756

جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ٭٭

سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیوں اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ، اللہ تمہیں جمع ہو جانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے، یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہو گا، ابتداء پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پا لے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا، جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی، ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ‏ ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہو جائے گی یہ وقت ہو گا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہو گا۔

فرمان باری ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏ یعنی ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے “۔

صفحہ نمبر8754

صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہو گی“ ۔ [صحیح مسلم:2278-3] ‏

فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور آیت میں ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» [31-لقمان:28] ‏ ” یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ “

پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» [15-الحجر:99-97] ‏ ” واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں، اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں، سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہئیے اور نمازوں میں رہئیے اور موت آ جانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہئیے۔ “

پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا، نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے۔ جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا جیسے فرمایا ہے «وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] ‏ ” یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے “

اور آیت میں ہے «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [88-الغاشية:22-21] ‏ ” تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں “۔

اور جگہ ہے «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ» [2-البقرة:272] ‏ ” تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے “

اور جگہ ہے «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» [28-القصص:56] ‏ ” یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے “ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔

صفحہ نمبر8755

قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے «اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم» ‏ یعنی اے اللہ! تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں، اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔

سورۃ ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ «والحمدللہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل»

صفحہ نمبر8756

جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ٭٭

سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیوں اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ، اللہ تمہیں جمع ہو جانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے، یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہو گا، ابتداء پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پا لے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا، جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی، ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ‏ ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہو جائے گی یہ وقت ہو گا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہو گا۔

فرمان باری ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏ یعنی ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے “۔

صفحہ نمبر8754

صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہو گی“ ۔ [صحیح مسلم:2278-3] ‏

فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور آیت میں ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» [31-لقمان:28] ‏ ” یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ “

پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» [15-الحجر:99-97] ‏ ” واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں، اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں، سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہئیے اور نمازوں میں رہئیے اور موت آ جانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہئیے۔ “

پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا، نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے۔ جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا جیسے فرمایا ہے «وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] ‏ ” یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے “

اور آیت میں ہے «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [88-الغاشية:22-21] ‏ ” تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں “۔

اور جگہ ہے «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ» [2-البقرة:272] ‏ ” تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے “

اور جگہ ہے «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» [28-القصص:56] ‏ ” یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے “ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔

صفحہ نمبر8755

قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے «اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم» ‏ یعنی اے اللہ! تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں، اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔

سورۃ ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ «والحمدللہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل»

صفحہ نمبر8756

جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ٭٭

سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیوں اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ، اللہ تمہیں جمع ہو جانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے، یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہو گا، ابتداء پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پا لے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا، جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی، ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ‏ ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہو جائے گی یہ وقت ہو گا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہو گا۔

فرمان باری ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏ یعنی ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے “۔

صفحہ نمبر8754

صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہو گی“ ۔ [صحیح مسلم:2278-3] ‏

فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور آیت میں ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» [31-لقمان:28] ‏ ” یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ “

پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» [15-الحجر:99-97] ‏ ” واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں، اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں، سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہئیے اور نمازوں میں رہئیے اور موت آ جانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہئیے۔ “

پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا، نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے۔ جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا جیسے فرمایا ہے «وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] ‏ ” یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے “

اور آیت میں ہے «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [88-الغاشية:22-21] ‏ ” تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں “۔

اور جگہ ہے «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ» [2-البقرة:272] ‏ ” تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے “

اور جگہ ہے «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» [28-القصص:56] ‏ ” یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے “ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔

صفحہ نمبر8755

قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے «اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم» ‏ یعنی اے اللہ! تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں، اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔

سورۃ ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ «والحمدللہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل»

صفحہ نمبر8756

جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ٭٭

سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیوں اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ، اللہ تمہیں جمع ہو جانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے، یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہو گا، ابتداء پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پا لے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا، جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی، ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ‏ ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہو جائے گی یہ وقت ہو گا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہو گا۔

فرمان باری ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏ یعنی ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے “۔

صفحہ نمبر8754

صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہو گی“ ۔ [صحیح مسلم:2278-3] ‏

فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور آیت میں ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» [31-لقمان:28] ‏ ” یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ “

پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» [15-الحجر:99-97] ‏ ” واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں، اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں، سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہئیے اور نمازوں میں رہئیے اور موت آ جانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہئیے۔ “

پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا، نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے۔ جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا جیسے فرمایا ہے «وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] ‏ ” یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے “

اور آیت میں ہے «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [88-الغاشية:22-21] ‏ ” تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں “۔

اور جگہ ہے «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ» [2-البقرة:272] ‏ ” تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے “

اور جگہ ہے «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» [28-القصص:56] ‏ ” یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے “ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔

صفحہ نمبر8755

قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے «اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم» ‏ یعنی اے اللہ! تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں، اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔

سورۃ ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ «والحمدللہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل»

صفحہ نمبر8756

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com