John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Adh-Dhaariyat

Tafsir Ibn Kathir · The Winnowing Winds · 60 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

باب

خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔

مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8761

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔

«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»

یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏

صفحہ نمبر8762

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔

چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔

پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔

ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔

ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏

صفحہ نمبر8763

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔

صفحہ نمبر8764

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔

پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏ یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

صفحہ نمبر8765

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏“

پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔

پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8766

باب

خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔

مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8761

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔

«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»

یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏

صفحہ نمبر8762

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔

چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔

پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔

ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔

ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏

صفحہ نمبر8763

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔

صفحہ نمبر8764

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔

پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏ یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

صفحہ نمبر8765

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏“

پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔

پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8766

باب

خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔

مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8761

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔

«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»

یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏

صفحہ نمبر8762

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔

چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔

پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔

ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔

ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏

صفحہ نمبر8763

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔

صفحہ نمبر8764

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔

پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏ یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

صفحہ نمبر8765

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏“

پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔

پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8766

باب

خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔

مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8761

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔

«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»

یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏

صفحہ نمبر8762

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔

چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔

پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔

ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔

ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏

صفحہ نمبر8763

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔

صفحہ نمبر8764

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔

پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏ یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

صفحہ نمبر8765

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏“

پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔

پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8766

باب

خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔

مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8761

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔

«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»

یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏

صفحہ نمبر8762

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔

چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔

پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔

ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔

ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏

صفحہ نمبر8763

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔

صفحہ نمبر8764

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔

پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏ یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

صفحہ نمبر8765

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏“

پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔

پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8766

باب

خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔

مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8761

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔

«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»

یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏

صفحہ نمبر8762

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔

چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔

پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔

ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔

ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏

صفحہ نمبر8763

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔

صفحہ نمبر8764

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔

پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏ یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

صفحہ نمبر8765

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏“

پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔

پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8766

باب

خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔

مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8761

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔

«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»

یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏

صفحہ نمبر8762

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔

چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔

پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔

ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔

ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏

صفحہ نمبر8763

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔

صفحہ نمبر8764

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔

پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏ یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

صفحہ نمبر8765

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏“

پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔

پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8766

باب

خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔

مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8761

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔

«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»

یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏

صفحہ نمبر8762

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔

چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔

پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔

ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔

ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏

صفحہ نمبر8763

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔

صفحہ نمبر8764

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔

پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏ یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

صفحہ نمبر8765

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏“

پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔

پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8766

باب

خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔

مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8761

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔

«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»

یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏

صفحہ نمبر8762

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔

چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔

پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔

ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔

ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏

صفحہ نمبر8763

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔

صفحہ نمبر8764

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔

پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏ یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

صفحہ نمبر8765

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏“

پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔

پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8766

باب

خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔

مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8761

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔

«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»

یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏

صفحہ نمبر8762

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔

چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔

پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔

ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔

ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏

صفحہ نمبر8763

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔

صفحہ نمبر8764

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔

پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏ یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

صفحہ نمبر8765

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏“

پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔

پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8766

باب

خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔

مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8761

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔

«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»

یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏

صفحہ نمبر8762

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔

چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔

پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔

ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔

ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏

صفحہ نمبر8763

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔

صفحہ نمبر8764

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔

پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏ یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

صفحہ نمبر8765

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏“

پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔

پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8766

باب

خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔

مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8761

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔

«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»

یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏

صفحہ نمبر8762

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔

چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔

پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔

ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔

ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏

صفحہ نمبر8763

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔

صفحہ نمبر8764

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔

پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏ یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

صفحہ نمبر8765

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏“

پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔

پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8766

باب

خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔

مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8761

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔

«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»

یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏

صفحہ نمبر8762

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔

چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔

پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔

ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔

ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏

صفحہ نمبر8763

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔

صفحہ نمبر8764

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔

پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏ یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

صفحہ نمبر8765

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏“

پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔

پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8766

باب

خلیفۃ المسلمین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ”قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کر لو“، اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، پوچھا: «الْحَامِلَات» سے؟ فرمایا: ”ابر“، کہا: «الْجَارِيَات» سے؟ فرمایا: ”کشتیاں“، کہا: «الْمُقَسِّمَات» سے؟ فرمایا: ”فرشتے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:442/11] ‏ اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔

مسند بزار میں ہے صبیغ تمیمی، امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: بتاؤ «الذَّارِيَاتِ» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ہوا“، اور اسے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا: «الْمُقَسِّمَات» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”فرشتے“ اور اسے بھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے۔ پوچھا: «الْجَارِيَات» سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”کشتیاں۔‏“ یہ بھی میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوتا تو تجھ سے نہ کہتا۔ پھر حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، چنانچہ اسے درے مارے گئے اور ایک مکان میں رکھا گیا، جب زخم اچھے ہو گئے، تو بلوا کر پھر کوڑے پٹوائے، اور سوار کرا کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ کسی مجلس میں نہ بیٹھنے پائے کچھ دنوں بعد یہ سیدنا موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر انہیں یقین دلایا کہ اب میرے خیالات کی پوری اصلاح ہو چکی، اب میرے دل میں بدعقیدگی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ چنانچہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المومنین کی خدمت میں اس کی اطلاع دی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ میرا خیال ہے کہ اب وہ واقعی ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس کے جواب میں دربار خلافت سے فرمان پہنچا کہ پھر انہیں مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے۔ [مسند بزار:2259:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر8761

امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے دو راویوں میں کلام ہے پس یہ حدیث ضعیف ہے۔ ٹھیک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ حدیث بھی موقوف ہے یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے مرفوع حدیث نہیں۔

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے اسے جو پٹوایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی بد عقیدگی آپ پر ظاہر ہو چکی تھی اور اس کے یہ سوالات ازروئے انکار اور مخالفت کے تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صبیغ کے باپ کا نام عسل تھا اور اس کا یہ قصہ مشہور ہے جسے پورا پورا حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لائے ہیں۔ یہی تفسیر سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی رحمہم اللہ وغیرہ سے مروی ہے۔ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم رحمہا اللہ نے ان آیتوں کی تفسیر میں اور کوئی قول وارد ہی نہیں کیا «حَامِلَاتِ» سے مراد ابر ہونے کا محاورہ اس شعر میں بھی پایا جاتا ہے۔

«وَاَسْلَمْتُ نَفْسِیْ لـمَنْ اَسْلَمْتُ» ‏ *** «لَهُ الْـمُـزْنُ تَحْمِلُ عَذْبًا زُلَالاً»

یعنی ”میں اپنے آپ کو اس اللہ کا تابع فرمان کرتا ہوں جس کے تابع فرمان وہ بادل ہیں جو صاف شفاف میٹھے اور ہلکے پانی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔‏“ [سیرۃ ابن ھشام:231/1] ‏

صفحہ نمبر8762

«الْجَارِيَات» سے مراد بعض نے ستارے لیے ہیں جو آسمان پر چلتے پھرتے رہتے ہیں، یہ معنی لینے میں یعنی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہو گی۔ اولًا ہوا، پھر بادل، پھر ستارے، پھر فرشتے، جو کبھی اللہ کا حکم لے کر اترتے ہیں، کبھی کوئی سپرد کردہ کام بجا لانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔

چونکہ یہ سب قسمیں اس بات پر ہیں کہ قیامت ضرور آنی ہے اور لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اس لیے ان کے بعد ہی فرمایا کہ ” تمہیں جو وعدہ دیا جاتا ہے وہ سچا ہے اور حساب کتاب جزا سزا ضرور واقع ہونے والی ہے “۔

پھر آسمان کی قسم کھائی جو خوبصورتی رونق حسن اور برابری والا ہے، بہت سے سلف نے یہی معنی «حُبُكْ» کے بیان کئے ہیں۔

ضحاک رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ پانی کی موجیں، ریت کے ذرے، کھیتیوں کے پتے، ہوا کے زور سے جب لہراتے ہیں اور پرشکن لہرائے دار ہو جاتے ہیں اور گویا ان میں راستے پڑ جاتے ہیں، اسی کو «حُبُكْ» کہتے ہیں۔

ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارے پیچھے کذاب بہکانے والا ہے، اس کے سر کے بال پیچھے کی طرف سے «حُبُكْ حُبُكْ» ہیں یعنی گھونگر والے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:445/11] ‏

صفحہ نمبر8763

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حُبُكْ» سے مراد شدت والا، «خصیف» سے مراد خوش منظر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی خوبصورتی اس کے ستارے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔ ممکن ہے آپ کا مطلب یہ ہو کہ قائم رہنے والے ستارے اس آسمان میں ہیں اکثر علماء ہیئت کا بیان ہے کہ یہ آٹھویں آسمان میں ہیں جو ساتویں کے اوپر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ان تمام اقوال کا ماحصل ایک ہی ہے یعنی حسن و رونق والا آسمان، اس کی بلندی، صفائی، پاکیزگی، بناوٹ کی عمدگی، اس کی مضبوطی، اس کی چوڑائی اور کشادگی، اس کا ستاروں کا جگمگانا، جن میں سے بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ٹھہرے ہوئے ہیں، اس کا سورج اور چاند جیسے سیاروں سے مزین ہونا یہ سب اس کی خوبصورتی اور عمدگی کی چیزیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے ” اے مشرکو! تم اپنے ہی اقوال میں مختلف اور مضطرب ہو تم کسی صحیح نتیجے پر اب تک خود اپنے طور پر بھی نہیں پہنچے ہو، کسی رائے پر تمہارا اجتماع نہیں “۔

صفحہ نمبر8764

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو قرآن کو سچا جانتے تھے بعض اس کی تکذیب کرتے تھے۔

پھر فرماتا ہے ” یہ حالت اسی کی ہوتی ہے جو خود گمراہ ہو “، وہ اپنے ایسے باطل اقوال کی وجہ سے بہک اور بھٹک جاتا ہے صحیح سمجھ اور سچا علم اس سے فوت ہو جاتا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ» * «مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ» * «إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ» [37-الصافات:163-161] ‏ یعنی ” تم لوگ مع اپنے معبودان باطل کے سوائے جہنمی لوگوں کے کسی کو بہکا نہیں سکتے، بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے گمراہ وہی ہوتا ہے جو خود بہکا ہوا ہو۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے دور وہی ہوتا ہے جو بھلائیوں سے دور ڈال دیا گیا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن سے وہی ہٹتا ہے جو اسے پہلے ہی سے جھٹلانے پر کمر کس لیے ہو پھر فرماتا ہے کہ ”بے سند باتیں کہنے والے ہلاک ہوں “ یعنی جھوٹی باتیں بنانے والے جنہیں یقین نہ تھا جو کہتے تھے کہ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے۔

صفحہ نمبر8765

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی شک کرنے والے ملعون ہیں۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنے خطبے میں یہی فرماتے تھے، ”یہ دھوکے والے اور بدگمان لوگ ہیں۔‏“

پھر فرمایا ” جو لوگ اپنے کفر و شک میں غافل اور بےپرواہ ہیں “ یہ لوگ ازروئے انکار پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب آئے گا؟ اللہ فرماتا ہے ” اس دن تو یہ آگ میں تپائے جائیں گے، جس طرح سونا تپایا جاتا ہے، یہ اس میں جلیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جلنے کا مزہ چکھو۔ اپنے کرتوت کے بدلے برداشت کرو “۔

پھر ان کی اور زیادہ حقارت کے لیے ان سے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا ” یہی ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے کہ کب آئے گا، کب آئے گا “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر8766

حسن کارکردگی کے انعامات ٭٭

پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے دن جنتوں میں اور نہروں میں ہوں گے بخلاف ان بدکرداروں کے جو عذاب و سزا، طوق و زنجیر، سختی اور مار پیٹ میں ہوں گے۔ جو فرائض الٰہی ان کے پاس آئے تھے یہ ان کے عامل تھے اور ان سے پہلے بھی وہ اخلاص سے کام کرنے والے تھے۔

لیکن اس تفسیر میں ذرا تامل ہے دو وجہ سے اول تو یہ کہ یہ تفسیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی کہی جاتی ہے لیکن سند صحیح سے ان تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کی یہ سند بالکل ضعیف ہے۔ دوسرے یہ کہ «اٰخِذِیْنَ» کا لفظ حال ہے، اگلے جملے سے تو یہ مطلب ہوا کہ متقی لوگ جنت میں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں حاصل کر رہے ہوں گے اس سے پہلے وہ بھلائی کے کام کرنے والے تھے یعنی دنیا میں جیسے اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے اور آیتوں میں فرمایا «كُلُوا وَاشْرَ‌بُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ‏ یعنی ” دار دنیا میں تم نے جو نیکیاں کی تھیں ان کے بدلے اب تم یہاں شوق سے پاکیزہ و پسندیدہ کھاتے پیتے رہو “۔

صفحہ نمبر8780

حسن کارکردگی کے انعامات ٭٭

پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے دن جنتوں میں اور نہروں میں ہوں گے بخلاف ان بدکرداروں کے جو عذاب و سزا، طوق و زنجیر، سختی اور مار پیٹ میں ہوں گے۔ جو فرائض الٰہی ان کے پاس آئے تھے یہ ان کے عامل تھے اور ان سے پہلے بھی وہ اخلاص سے کام کرنے والے تھے۔

لیکن اس تفسیر میں ذرا تامل ہے دو وجہ سے اول تو یہ کہ یہ تفسیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی کہی جاتی ہے لیکن سند صحیح سے ان تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کی یہ سند بالکل ضعیف ہے۔ دوسرے یہ کہ «اٰخِذِیْنَ» کا لفظ حال ہے، اگلے جملے سے تو یہ مطلب ہوا کہ متقی لوگ جنت میں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں حاصل کر رہے ہوں گے اس سے پہلے وہ بھلائی کے کام کرنے والے تھے یعنی دنیا میں جیسے اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے اور آیتوں میں فرمایا «كُلُوا وَاشْرَ‌بُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] ‏ یعنی ” دار دنیا میں تم نے جو نیکیاں کی تھیں ان کے بدلے اب تم یہاں شوق سے پاکیزہ و پسندیدہ کھاتے پیتے رہو “۔

صفحہ نمبر8780

باب

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔

بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔‏“

ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔‏“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔‏“

بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔‏“

احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔‏“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔

”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ‌ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ» [9-التوبة:102] ‏ یعنی ” جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے “۔

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔‏“

صفحہ نمبر8782

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ ۔ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ ۔ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ] ‏

زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔‏“

ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔

پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ” سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں “۔

مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔‏“

جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» [3-آل عمران:17] ‏ یعنی ” سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں “۔

اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:1145] ‏

اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏ [12-یوسف:98] ‏ ” میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا “، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔

صفحہ نمبر8783

پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔

ابوداؤد وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ ۔ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔‏“

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔‏“

اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔

ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ ۔ [صحیح بخاری:1479] ‏

صفحہ نمبر8784

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔

امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11] ‏

ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔

پھر فرماتا ہے ” یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں “، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ” خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ “

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ” آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت “۔

واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔

صفحہ نمبر8785

پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے “۔

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] ‏ یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔

صفحہ نمبر8786

باب

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔

بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔‏“

ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔‏“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔‏“

بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔‏“

احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔‏“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔

”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ‌ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ» [9-التوبة:102] ‏ یعنی ” جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے “۔

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔‏“

صفحہ نمبر8782

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ ۔ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ ۔ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ] ‏

زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔‏“

ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔

پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ” سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں “۔

مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔‏“

جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» [3-آل عمران:17] ‏ یعنی ” سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں “۔

اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:1145] ‏

اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏ [12-یوسف:98] ‏ ” میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا “، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔

صفحہ نمبر8783

پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔

ابوداؤد وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ ۔ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔‏“

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔‏“

اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔

ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ ۔ [صحیح بخاری:1479] ‏

صفحہ نمبر8784

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔

امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11] ‏

ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔

پھر فرماتا ہے ” یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں “، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ” خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ “

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ” آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت “۔

واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔

صفحہ نمبر8785

پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے “۔

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] ‏ یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔

صفحہ نمبر8786

باب

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔

بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔‏“

ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔‏“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔‏“

بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔‏“

احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔‏“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔

”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ‌ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ» [9-التوبة:102] ‏ یعنی ” جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے “۔

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔‏“

صفحہ نمبر8782

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ ۔ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ ۔ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ] ‏

زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔‏“

ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔

پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ” سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں “۔

مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔‏“

جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» [3-آل عمران:17] ‏ یعنی ” سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں “۔

اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:1145] ‏

اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏ [12-یوسف:98] ‏ ” میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا “، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔

صفحہ نمبر8783

پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔

ابوداؤد وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ ۔ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔‏“

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔‏“

اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔

ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ ۔ [صحیح بخاری:1479] ‏

صفحہ نمبر8784

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔

امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11] ‏

ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔

پھر فرماتا ہے ” یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں “، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ” خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ “

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ” آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت “۔

واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔

صفحہ نمبر8785

پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے “۔

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] ‏ یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔

صفحہ نمبر8786

باب

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔

بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔‏“

ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔‏“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔‏“

بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔‏“

احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔‏“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔

”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ‌ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ» [9-التوبة:102] ‏ یعنی ” جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے “۔

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔‏“

صفحہ نمبر8782

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ ۔ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ ۔ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ] ‏

زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔‏“

ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔

پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ” سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں “۔

مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔‏“

جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» [3-آل عمران:17] ‏ یعنی ” سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں “۔

اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:1145] ‏

اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏ [12-یوسف:98] ‏ ” میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا “، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔

صفحہ نمبر8783

پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔

ابوداؤد وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ ۔ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔‏“

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔‏“

اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔

ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ ۔ [صحیح بخاری:1479] ‏

صفحہ نمبر8784

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔

امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11] ‏

ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔

پھر فرماتا ہے ” یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں “، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ” خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ “

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ” آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت “۔

واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔

صفحہ نمبر8785

پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے “۔

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] ‏ یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔

صفحہ نمبر8786

باب

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔

بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔‏“

ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔‏“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔‏“

بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔‏“

احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔‏“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔

”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ‌ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ» [9-التوبة:102] ‏ یعنی ” جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے “۔

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔‏“

صفحہ نمبر8782

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ ۔ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ ۔ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ] ‏

زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔‏“

ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔

پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ” سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں “۔

مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔‏“

جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» [3-آل عمران:17] ‏ یعنی ” سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں “۔

اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:1145] ‏

اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏ [12-یوسف:98] ‏ ” میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا “، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔

صفحہ نمبر8783

پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔

ابوداؤد وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ ۔ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔‏“

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔‏“

اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔

ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ ۔ [صحیح بخاری:1479] ‏

صفحہ نمبر8784

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔

امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11] ‏

ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔

پھر فرماتا ہے ” یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں “، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ” خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ “

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ” آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت “۔

واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔

صفحہ نمبر8785

پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے “۔

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] ‏ یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔

صفحہ نمبر8786

باب

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔

بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔‏“

ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔‏“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔‏“

بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔‏“

احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔‏“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔

”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ‌ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ» [9-التوبة:102] ‏ یعنی ” جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے “۔

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔‏“

صفحہ نمبر8782

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ ۔ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ ۔ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ] ‏

زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔‏“

ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔

پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ” سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں “۔

مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔‏“

جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» [3-آل عمران:17] ‏ یعنی ” سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں “۔

اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:1145] ‏

اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏ [12-یوسف:98] ‏ ” میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا “، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔

صفحہ نمبر8783

پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔

ابوداؤد وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ ۔ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔‏“

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔‏“

اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔

ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ ۔ [صحیح بخاری:1479] ‏

صفحہ نمبر8784

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔

امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11] ‏

ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔

پھر فرماتا ہے ” یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں “، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ” خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ “

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ” آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت “۔

واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔

صفحہ نمبر8785

پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے “۔

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] ‏ یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔

صفحہ نمبر8786

باب

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے عمل کے اخلاص یعنی ان کے احسان کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ یہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔

بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں «مَا» نافیہ ہے تو بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہ مطلب ہو گا کہ ”ان پر کوئی رات ایسی نہ گزرتی تھی جس کا کچھ حصہ یاد الٰہی میں نہ گزارتے ہوں خواہ اول وقت میں کچھ نوافل پڑھ لیں خواہ درمیان میں“ یعنی ”کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی وقت نماز عموماً ہر رات پڑھ ہی لیا کرتے تھے ساری رات سوتے سوتے نہیں گزارتے تھے۔‏“

ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ مغرب عشاء کے درمیان کچھ نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔‏“ امام ابو جعفر باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ ”عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہیں سوتے تھے۔‏“

بعض مفسرین کا قول ہے کہ «مَا» یہاں موصولہ ہے یعنی ”ان کی نیند رات کی کم تھی کچھ سوتے تھے کچھ جاگتے تھے اور اگر دل لگ گیا تو صبح ہو جاتی تھی اور پھر پچھلی رات کو جناب باری میں گڑگڑا کر توبہ استغفار کرتے تھے۔‏“

احنف بن قیس رحمہ اللہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کر کے پھر فرماتے تھے ”افسوس مجھ میں یہ بات نہیں۔‏“ آپ کے شاگرد حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے، جنتیوں کے جو اعمال اور جو صفات بیان ہوئے ہیں، میں جب کبھی اپنے اعمال و صفات کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں تو بہت کچھ فاصلہ پاتا ہوں۔

”لیکن «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جہنمیوں کے عقائد کے بالمقابل جب میں اپنے عقائد کو لاتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ تو بالکل ہی خیر سے خالی تھے وہ کتاب اللہ کے منکر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر، وہ موت کے بعد کی زندگی کے منکر، پس ہماری تو حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے لوگوں کی بتائی ہے «خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ‌ سَيِّئًا عَسَى اللَّـهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ» [9-التوبة:102] ‏ یعنی ” جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے “۔

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص نے کہا: اے ابوسلمہ! یہ صفت تو ہم میں نہیں پائی جاتی کہ ہم رات کو بہت کم سوتے ہوں بلکہ ہم تو بہت کم وقت عبادت اللہ میں گزارتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص بھی بہت ہی خوش نصیب ہے جو نیند آئے تو سو جائے اور جاگے تو اللہ سے ڈرتا رہے۔‏“

صفحہ نمبر8782

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب شروع شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف میں تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے اور اس مجمع میں میں بھی تھا، واللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرہ پر نظر پڑتے ہی اتنا تو میں نے یقین کر لیا کہ یہ نورانی چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلی بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے کان میں پڑی یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اے لوگو! کھانا کھلاتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو اور سلام کیا کرو اور راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز ادا کرو تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“ ۔ [سنن ترمذي:2485،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے“، یہ سن کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! یہ کن کے لیے ہیں؟ فرمایا: ”ان کے لیے جو نرم کلام کریں اور دوسروں کو کھلاتے پلاتے رہیں اور جب لوگ سوتے ہوں یہ نمازیں پڑھتے رہیں“ ۔ [مسند احمد:173/2:حسن لغیرہ] ‏

زہری اور حسن رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”وہ رات کا اکثر حصہ تہجد گزاری میں نکالتے ہیں۔‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”رات کا بہت کم حصہ وہ سوتے ہیں۔‏“

ضحاک رحمہ اللہ «كَانُوْا قَلِيلًا» کو اس سے پہلے کے جملے کے ساتھ ملاتے ہیں اور «مِنَ اللَّيْلِ» سے ابتداء بتاتے ہیں لیکن اس قول میں بہت دوری اور تکلف ہے۔

پھر اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ” سحر کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں “۔

مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”نماز پڑھتے ہیں“ اور مفسرین فرماتے ہیں ”راتوں کو قیام کرتے ہیں اور صبح کے ہونے کے وقت اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔‏“

جیسے اور جگہ فرمان باری ہے «وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بالْاَسْحَارِ» [3-آل عمران:17] ‏ یعنی ” سحر کے وقت یہ لوگ استغفار کرنے لگ جاتے ہیں “۔

اگر یہ استغفار نماز میں ہی ہو تو بھی بہت اچھا ہے، صحاح وغیرہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کی کئی روایتوں سے ثابت ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی گنہگار ہے؟ جو توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے؟ جو استغفار کرے اور میں اسے بخشوں، کوئی مانگنے والا ہے؟ جو مانگے اور میں اسے دوں، فجر کے طلوع ہونے تک یہی فرماتا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:1145] ‏

اکثر مفسرین نے فرمایا کہ اللہ کے نبی یقعوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے جو فرمایا تھا «سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ‏ [12-یوسف:98] ‏ ” میں اب عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا “، اس سے بھی مطلب یہی تھا کہ سحر کا وقت جب آئے گا تب استغفار کروں گا۔

صفحہ نمبر8783

پھر ان کا یہ وصف بیان کیا جاتا ہے کہ جہاں یہ نمازی ہیں اور حق اللہ ادا کرتے ہیں وہاں لوگوں کے حق بھی نہیں بھولتے، زکوٰۃ دیتے ہیں، سلوک احسان اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ان کے مال میں ایک مقررہ حصہ مانگنے والوں اور ان حقداروں کا ہے جو سوال سے بچتے ہیں۔

ابوداؤد وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”سائل کا حق ہے گو وہ گھوڑ سوار ہو، «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کا کوئی حصہ بیت المال میں نہ ہو خود اس کے پاس کوئی کام کاج نہ ہو صنعت و حرفت یاد نہ ہو جس سے روزی کما سکے“ ۔ [سنن ابوداود:1665،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ کچھ سلسلہ کمانے کا کر رکھا ہے لیکن اتنا نہیں پاتے کہ انہیں کافی ہو جائے۔‏“

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ شخص جو مالدار تھا لیکن مال تباہ ہو گیا“، چنانچہ یمامہ میں جب پانی کی طغیانی آئی اور ایک شخص کا تمام مال اسباب بہا لے گئی تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ «مَحْرُوْمٌ» ہے۔‏“

اور بزرگ مفسرین فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا۔

ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو گھومتے پھرتے ہیں اور جنہیں ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں تم دے دیا کرتے وہ بلکہ حقیقتًا وہ لوگ بھی مسکین ہیں جو اتنا نہیں پاتے کہ انہیں حاجت نہ رہے اپنا حال قال ایسا رکھتے ہیں کہ کسی پر ان کی حاجت و افلاس ظاہر ہو اور کوئی انہیں صدقہ دے“ ۔ [صحیح بخاری:1479] ‏

صفحہ نمبر8784

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مکے شریف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک کتا پاس آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے ذبح کردہ بکری کا ایک شانہ کاٹ کر اس کی طرف ڈال دیا اور فرمایا: لوگ کہتے ہیں یہ بھی «مَحْرُوْمٌ» میں سے ہے۔

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو عاجز آ گیا لیکن «مَحْرُوْمٌ» معنی معلوم نہ کر سکا۔

امام ابن جریر فرماتے ہیں «مَحْرُوْمٌ» وہ ہے جس کے پاس مال نہ رہا ہو خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔ یعنی حاصل ہی نہ کر سکا کمانے کھانے کا سلیقہ ہی نہ ہو یا کام ہی نہ چلتا ہو یا کسی آفت کے باعث جمع شدہ مال ضائع ہو گیا ہو وغیرہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:458/11] ‏

ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر کافروں کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا، اللہ نے انہیں غلبہ دیا اور مال غنیمت بھی ملا پھر کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ بھی آ گئے جو غنیمت حاصل ہونے کے وقت موجود نہ تھے پس یہ آیت اتری۔ اس کا اقتضاء تو یہ ہے کہ یہ مدنی ہو لیکن دراصل ایسا نہیں بلکہ یہ آیت مکی ہے۔

پھر فرماتا ہے ” یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں بھی بہت سے نشانات قدرت موجود ہیں “، جو خالق کی عظمت و عزت ہیبت و جلالت پر دلالت کرتے ہیں دیکھو کہ کس طرح اس میں حیوانات اور نباتات کو پھیلا دیا ہے اور کس طرح اس میں پہاڑوں، میدانوں، سمندروں اور دریاؤں کو رواں کیا ہے۔ پھر انسان پر نظر ڈالو ان کی زبانوں کے اختلاف کو ان کے رنگ و روپ کے اختلاف کو ان کے ارادوں اور قوتوں کے اختلاف ہو ان کی عقل و فہم کے اختلاف کو ان کی حرکات و سکنات کو ان کی نیکی بدی کو دیکھو ان کی بناوٹ پر غور کرو کہ ہر عضو کیسی مناسب جگہ ہے۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا ” خود تمہارے وجود میں ہی اس کی بہت سی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ “

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اپنی پیدائش میں غور کرے گا اپنے جوڑوں کی ترکیب پر نظر ڈالے گا وہ یقین کر لے گا کہ بیشک اسے اللہ نے ہی پیدا کیا اور اپنی عبادت کے لیے ہی بنایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ” آسمان میں تمہاری روزی ہے یعنی بارش اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جنت “۔

واصل احدب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”افسوس میرا رزق تو آسمانوں میں ہے اور میں اسے زمین میں تلاش کر رہا ہوں؟“ یہ کہہ کر بستی چھوڑی اجاڑ جنگل میں چلے گئے۔ تین دن تک تو انہیں کچھ بھی نہ ملا لیکن تیسرے دن دیکھتے ہیں کہ تر کھجوروں کا ایک خوشہ ان کے پاس رکھا ہوا ہے۔ ان کے بھائی ساتھ ہی تھے دونوں بھائی آخری دم تک اسی طرح جنگلوں میں رہے۔

صفحہ نمبر8785

پھر اللہ کریم خود اپنی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ” میرے جو وعدے ہیں مثلاً قیامت کے دن دوبارہ جلانے کا، جزا سزا کا، یہ یقیناً سراسر سچے اور قطعًا بے شبہ ہو کر رہنے والے ہیں، جیسے تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میں شک نہیں ہوتا اسی طرح تمہیں ان میں بھی کوئی شک ہرگز ہرگز نہ کرنا چاہیئے “۔

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کہتے تو فرماتے: یہ بالکل حق ہے جیسے کہ تیرا یہاں ہونا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ انہیں برباد کرے جو اللہ کی قسم کو بھی نہ مانیں“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32191:مرسل و ضعیف] ‏ یہ حدیث مرسل ہے یعنی تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیتے۔

صفحہ نمبر8786

مہمان اور میزبان ؟ ٭٭

یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔

حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُ‌دُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» [4-النساء:86] ‏ یعنی ” جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی “۔

پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔

صفحہ نمبر8793

ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“

اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” خلیل اللہ (‏علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے “۔

جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَ‌أَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَ‌هُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْ‌سِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَ‌أَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْ‌نَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَ‌اءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ‏، یعنی ” آپ (‏علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں “، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ” تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب “۔

اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔‏“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ” بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے “۔

صفحہ نمبر8794

پھر فرماتا ہے ” یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ “

اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔

صفحہ نمبر8795

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»

صفحہ نمبر8796

مہمان اور میزبان ؟ ٭٭

یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔

حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُ‌دُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» [4-النساء:86] ‏ یعنی ” جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی “۔

پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔

صفحہ نمبر8793

ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“

اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” خلیل اللہ (‏علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے “۔

جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَ‌أَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَ‌هُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْ‌سِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَ‌أَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْ‌نَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَ‌اءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ‏، یعنی ” آپ (‏علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں “، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ” تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب “۔

اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔‏“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ” بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے “۔

صفحہ نمبر8794

پھر فرماتا ہے ” یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ “

اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔

صفحہ نمبر8795

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»

صفحہ نمبر8796

مہمان اور میزبان ؟ ٭٭

یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔

حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُ‌دُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» [4-النساء:86] ‏ یعنی ” جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی “۔

پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔

صفحہ نمبر8793

ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“

اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” خلیل اللہ (‏علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے “۔

جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَ‌أَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَ‌هُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْ‌سِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَ‌أَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْ‌نَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَ‌اءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ‏، یعنی ” آپ (‏علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں “، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ” تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب “۔

اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔‏“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ” بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے “۔

صفحہ نمبر8794

پھر فرماتا ہے ” یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ “

اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔

صفحہ نمبر8795

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»

صفحہ نمبر8796

مہمان اور میزبان ؟ ٭٭

یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔

حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُ‌دُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» [4-النساء:86] ‏ یعنی ” جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی “۔

پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔

صفحہ نمبر8793

ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“

اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” خلیل اللہ (‏علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے “۔

جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَ‌أَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَ‌هُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْ‌سِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَ‌أَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْ‌نَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَ‌اءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ‏، یعنی ” آپ (‏علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں “، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ” تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب “۔

اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔‏“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ” بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے “۔

صفحہ نمبر8794

پھر فرماتا ہے ” یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ “

اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔

صفحہ نمبر8795

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»

صفحہ نمبر8796

مہمان اور میزبان ؟ ٭٭

یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔

حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُ‌دُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» [4-النساء:86] ‏ یعنی ” جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی “۔

پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔

صفحہ نمبر8793

ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“

اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” خلیل اللہ (‏علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے “۔

جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَ‌أَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَ‌هُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْ‌سِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَ‌أَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْ‌نَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَ‌اءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ‏، یعنی ” آپ (‏علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں “، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ” تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب “۔

اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔‏“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ” بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے “۔

صفحہ نمبر8794

پھر فرماتا ہے ” یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ “

اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔

صفحہ نمبر8795

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»

صفحہ نمبر8796

مہمان اور میزبان ؟ ٭٭

یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔

حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُ‌دُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» [4-النساء:86] ‏ یعنی ” جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی “۔

پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔

صفحہ نمبر8793

ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“

اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” خلیل اللہ (‏علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے “۔

جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَ‌أَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَ‌هُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْ‌سِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَ‌أَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْ‌نَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَ‌اءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ‏، یعنی ” آپ (‏علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں “، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ” تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب “۔

اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔‏“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ” بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے “۔

صفحہ نمبر8794

پھر فرماتا ہے ” یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ “

اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔

صفحہ نمبر8795

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»

صفحہ نمبر8796

مہمان اور میزبان ؟ ٭٭

یہ واقعہ سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بھی گزر چکا ہے یہ مہمان فرشتے تھے جو بشکل انسان آئے تھے جنہیں اللہ نے عزت و شرافت دے رکھی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر علمائے کرام کی ایک جماعت کہتی ہے کہ مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے۔

حدیث میں بھی یہ آیا ہے اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ انہوں نے سلام کیا جس کا جواب خلیل اللہ علیہ السلام نے بڑھا کر دیا اس کا ثبوت دوسرے سلام پر دو پیش کا ہونا ہے۔ اور یہی فرمان باری تعالیٰ ہے فرماتا ہے «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُ‌دُّوهَا إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا» [4-النساء:86] ‏ یعنی ” جب کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اتنا ہی “۔

پس خلیل اللہ علیہ السلام نے افضل صورت کو اختیار کیا ابراہیم علیہ السلام چونکہ اس سے ناواقف تھے کہ یہ دراصل فرشتے ہیں اس لیے کہا کہ یہ لوگ تو ناشناسا ہیں۔ یہ فرشتے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جو خوبصورت نوجوان انسانوں کی شکل میں آئے تھے ان کے چہروں پر ہیبت و جلال تھا۔

صفحہ نمبر8793

ابراہیم علیہ السلام اب ان کے لیے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے اور چپ چاپ بہت جلد اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ذرا سی دیر میں تیار بچھڑے کا گوشت بھنا بھنایا ہوا لے آئے اور ان کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا ”آپ کھاتے کیوں نہیں؟“

اس سے ضیافت کے آداب معلوم ہوئے کہ مہمان سے پوچھے بغیر ہی ان پر شروع سے احسان رکھنے سے پہلے آپ چپ چاپ انہیں خبر کئے بغیر ہی چلے گئے اور بہ عجلت بہتر سے بہتر جو چیز پائی اسے تیار کر کے لے آئے۔ تیار فربہ کم عمر بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے اور کہیں اور رکھ کر مہمان کی کھینچ تان نہ کی بلکہ ان کے سامنے ان کے پاس لا کر رکھا۔ پھر انہیں یوں نہیں کہتے کہ کھاؤ کیونکہ اس میں بھی ایک حکم پایا جاتا ہے بلکہ نہایت تواضع اور پیار سے فرماتے ہیں: آپ تناول فرمانا شروع کیوں نہیں کرتے؟ جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کہ اگر آپ فضل و کرم، احسان و سلوک کرنا چاہیں تو کیجئے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” خلیل اللہ (‏علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہو گئے “۔

جیسے کہ اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَ‌أَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَ‌هُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْ‌سِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ وَامْرَ‌أَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْ‌نَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَ‌اءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71-70] ‏، یعنی ” آپ (‏علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف بڑھتے نہیں تو دہشت زدہ ہو گئے اور دل میں خوف کھانے لگے اس پر مہمانوں نے کہا: ڈرو مت ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں “، آپ کی بیوی صاحبہ جو کھڑی ہوئی سن رہی تھیں وہ سن کر ہنس دیں تو فرشتوں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ ” تمہارے ہاں اسحاق پیدا ہوں گے اور ان کے ہاں یعقوب “۔

اس پر بیوی صاحبہ کو تعجب ہوا اور کہا: ہائے افسوس! اب میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا؟ میں تو بڑھیا پھوس ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بالکل بوڑھے ہو گئے۔ یہ سخت تر تعجب کی چیز ہے، فرشتوں نے کہا: ”کیا تم اللہ کے کاموں سے تعجب کرتی ہو؟ خصوصاً تم جیسی ایسی پاک گھرانے کی عورت؟ تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تعریفوں کے لائق اور بڑی بزرگی اور اعلیٰ شان والا ہے۔‏“ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ” بشارت ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی کیونکہ بچے کا ہونا دونوں کی خوشی کا موجب ہے “۔

صفحہ نمبر8794

پھر فرماتا ہے ” یہ بشارت سن کر آپ کی اہلیہ صاحبہ کے منہ سے زور کی آواز نکل گئی اور اپنے تئیں دو ہتڑ مار کر ایسی عجیب و غریب خبر کو سن کر حیرت کے ساتھ کہنے لگیں کہ جوانی میں تو میں بانجھ رہی اب میاں بیوی دونوں بوڑھے ہو گئے تو مجھے حمل ٹھہرے گا؟ “

اس کے جواب میں فرشتوں نے کہا کہ یہ خوشخبری کچھ ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم تمہیں یہ خبر پہنچائیں، وہ حکمت والا اور علم والا ہے، تم جس عزت و کرامت کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے اور اس کا فرمان ہے کہ تمہارے ہاں اس عمر میں بچہ ہو گا اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں نہ اس کا کوئی فرمان حکمت سے خالی ہے۔

صفحہ نمبر8795

«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے تفسیر محمدی کا چھبیسواں پارہ حم بھی ختم ہوا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے کلام پاک کا صحیح اور حقیقی مطلب سمجھائے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اے پروردگار علم جس طرح تو نے مجھ پر اپنا یہ فضل کیا ہے کہ اپنے کلام کی خدمت مجھ سے لی اسی طرح یہ بھی فضل کر کہ اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں اسے کر لے۔ اور اس تفسیر کو میری تقصیر کی معافی کا سبب بنا دے اپنے تمام بندوں کو اس سے فائدہ پہنچا اور سب کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما۔ «آمین»

صفحہ نمبر8796

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com