Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Adh-Dhaariyat
Tafsir Ibn Kathir · The Winnowing Winds · 60 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ” جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی “، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔
سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» [29-العنكبوت:32] یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ” اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا “، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔
صفحہ نمبر8803
چنانچہ فرما دیا گیا کہ ” وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں “۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔
معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ ” ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر8804
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ” جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی “، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔
سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» [29-العنكبوت:32] یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ” اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا “، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔
صفحہ نمبر8803
چنانچہ فرما دیا گیا کہ ” وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں “۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔
معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ ” ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر8804
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ” جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی “، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔
سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» [29-العنكبوت:32] یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ” اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا “، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔
صفحہ نمبر8803
چنانچہ فرما دیا گیا کہ ” وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں “۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔
معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ ” ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر8804
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ” جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی “، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔
سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» [29-العنكبوت:32] یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ” اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا “، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔
صفحہ نمبر8803
چنانچہ فرما دیا گیا کہ ” وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں “۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔
معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ ” ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر8804
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ” جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی “، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔
سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» [29-العنكبوت:32] یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ” اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا “، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔
صفحہ نمبر8803
چنانچہ فرما دیا گیا کہ ” وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں “۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔
معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ ” ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر8804
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ” جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی “، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔
سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» [29-العنكبوت:32] یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ” اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا “، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔
صفحہ نمبر8803
چنانچہ فرما دیا گیا کہ ” وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں “۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔
معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ ” ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر8804
ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ” جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی “، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔
سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» [29-العنكبوت:32] یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ” اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا “، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔
صفحہ نمبر8803
چنانچہ فرما دیا گیا کہ ” وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں “۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔
معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔ پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔ (امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ ” ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں “۔
صفحہ نمبر8804
انجام تکبر ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ” جس طرح قوم لوط کے انجام کو دیکھ کر لوگ عبرت حاصل کر سکتے ہیں اسی قسم کا فرعونیوں کا واقعہ ہے ہم نے ان کی طرف اپنے کلیم پیغمبر موسیٰ علیہ السلام کو روشن دلیلیں اور واضح برہان دے کر بھیجا لیکن ان کے سردار فرعون نے جو تکبر کا مجسمہ تھا حق کے ماننے سے عناد کیا اور ہمارے فرمان کو بےپرواہی سے ٹال دیا “۔
اس دشمن الٰہی نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر اپنے راج لشکر کے بل بوتے پر رب کے فرمان کی عزت نہ کی اور اپنے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر موسیٰ علیہ السلام کی ایذاء رسانی پر اتر آیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ یا تو جادوگر ہے یا دیوانہ ہے ” پس اس ملامتی کافر، فاجر، معاند، متکبر شخص کو ہم نے اس کے لاؤ لشکر سمیت دریا برد کر دیا “۔
” اسی طرح عادیوں کے سراسر عبرتناک واقعات بھی تمہارے گوش گزار ہو چکے ہیں جن کی سیاہ کاریوں کے وبال میں ان پر بے برکت ہوائیں بھیجی گئیں جن ہواؤں نے سب کے حلیے بگاڑ دئیے ایک لپٹ جس چیز کو لگ گئی وہ گلی سڑی ہڈی کی طرح ہو گئی “۔
صفحہ نمبر8811
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہوا دوسری زمین میں مسخر ہے جب اللہ تعالیٰ نے عادیوں کو ہلاک کرنا چاہا تو ہوا کے داروغہ کو حکم دیا کہ ان کی تباہی کے لیے ہوائیں چلا دو، فرشتے نے کہا: کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا وزن کر دوں جتنا بیل کا نتھنا ہوتا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: نہیں، اگر اتنا وزن کر دیا تو زمین کو اور اس کائنات کو الٹ دے گی بلکہ اتنا وزن کرو جتنا انگوٹھی کا حلقہ ہوتا ہے یہ تھیں وہ ہوائیں جو کہ جہاں جہاں سے گزر گئیں تمام چیزوں کو تہ و بالا کرتی گئیں“ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/22:ضعیف] اس حدیث کا فرمان رسول ہونا تو منکر ہے سمجھ سے زیادہ قریب بات یہی ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا قول ہے یرموک کی لڑائی میں انہیں دو بورے اہل کتاب کی کتابوں کے ملے تھے ممکن ہے انہی میں سے یہ بات آپ نے بیان فرمائی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
یہ ہوائیں جنوبی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میری مدد پروا ہواؤں سے کی گئی ہے اور عادی پچھوا ہواؤں سے ہلاک ہوئے ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4105]
صفحہ نمبر8812
ٹھیک اسی طرح ثمودیوں کے حالات پر اور ان کے انجام پر غور کرو کہ ان سے کہہ دیا گیا کہ ایک وقت مقررہ تک تو تم فائدہ اٹھاؤ جیسے اور جگہ فرمایا «وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَـهُمْ فَاسْتَحَبُّواْ الْعَمَى عَلَى الْهُدَى فَأَخَذَتْهُمْ صَـعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُونِ» [41-فصلت:17] یعنی ” ثمودیوں کو ہم نے ہدایت دی لیکن انہوں نے ہدایت پر ضلالت کو پسند کیا جس کے باعث ذلت کے عذاب کی ہولناک چیخ نے ان کے پتے پانی کر دئیے اور کلیجے پھاڑ دئیے یہ صرف ان کی سرکشی سرتابی نافرمانی اور سیاہ کاری کا بدلہ تھا “۔
صفحہ نمبر8813
ان پر ان کے دیکھتے دیکھتے عذاب الٰہی آ گیا تین دن تک تو یہ انتظار میں رہے عذاب کے آثار دیکھتے رہے، آخر چوتھے دن صبح ہی صبح رب کا عذاب دفعۃً آ پڑا، حواس باختہ ہو گئے کوئی تدبیر نہ بن پڑی، اتنی بھی مہلت نہ ملی کہ کھڑے ہو کر بھاگنے کی کوشش تو کرتے یا کسی اور طرح اپنے بچاؤ کی کچھ تو فکر کر سکتے اسی طرح ان سے پہلے قوم نوح بھی ہمارے عذاب چکھ چکی ہے اپنی بدکاری اور کھلی نافرمانی کا خمیازہ وہ بھی بھگت چکی ہے یہ تمام مفصل واقعات فرعونیوں، عادیوں، ثمودیوں اور قوم نوح کے اس سے پہلے کی سورتوں کی تفسیر میں کئی بار بیان ہو چکے۔
صفحہ نمبر8814
گناہ گاروں کا انجام ٭٭
no t(fseer
صفحہ نمبر8815
no t(fseer
صفحہ نمبر8816
no t(fseer
صفحہ نمبر8817
گناہ گاروں کا انجام ٭٭
no t(fseer
صفحہ نمبر8815
no t(fseer
صفحہ نمبر8816
no t(fseer
صفحہ نمبر8817
گناہ گاروں کا انجام ٭٭
no t(fseer
صفحہ نمبر8815
no t(fseer
صفحہ نمبر8816
no t(fseer
صفحہ نمبر8817
گناہ گاروں کا انجام ٭٭
no t(fseer
صفحہ نمبر8815
no t(fseer
صفحہ نمبر8816
no t(fseer
صفحہ نمبر8817
گناہ گاروں کا انجام ٭٭
no t(fseer
صفحہ نمبر8815
no t(fseer
صفحہ نمبر8816
no t(fseer
صفحہ نمبر8817
گناہ گاروں کا انجام ٭٭
no t(fseer
صفحہ نمبر8815
no t(fseer
صفحہ نمبر8816
no t(fseer
صفحہ نمبر8817
گناہ گاروں کا انجام ٭٭
no t(fseer
صفحہ نمبر8815
no t(fseer
صفحہ نمبر8816
no t(fseer
صفحہ نمبر8817
گناہ گاروں کا انجام ٭٭
no t(fseer
صفحہ نمبر8815
no t(fseer
صفحہ نمبر8816
no t(fseer
صفحہ نمبر8817
تخلیق کائنات ٭٭
زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ” ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنا دیا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، ثوری رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ” ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کر دیا ہے اور قائم رکھا ہے، زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لیے بچھونا بنا دیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے، تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے، جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس لیے کہ تمہیں نصیحت حاصل ہو تم جان لو کہ ان کا سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ لاشریک اور یکتا ہے پس تم اس کی طرف دوڑو اپنی توجہ کا مرکز صرف اسی کو بناؤ اپنے تمام تر کاموں میں اسی کی ذات پر اعتماد کرو تو تم سب کو صاف صاف آگاہ کر دینے والا ہوں خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا میرے کھلم کھلا خوف دلانے کا لحاظ رکھنا “۔
صفحہ نمبر8825
تخلیق کائنات ٭٭
زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ” ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنا دیا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، ثوری رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ” ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کر دیا ہے اور قائم رکھا ہے، زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لیے بچھونا بنا دیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے، تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے، جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس لیے کہ تمہیں نصیحت حاصل ہو تم جان لو کہ ان کا سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ لاشریک اور یکتا ہے پس تم اس کی طرف دوڑو اپنی توجہ کا مرکز صرف اسی کو بناؤ اپنے تمام تر کاموں میں اسی کی ذات پر اعتماد کرو تو تم سب کو صاف صاف آگاہ کر دینے والا ہوں خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا میرے کھلم کھلا خوف دلانے کا لحاظ رکھنا “۔
صفحہ نمبر8825
تخلیق کائنات ٭٭
زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ” ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنا دیا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، ثوری رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ” ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کر دیا ہے اور قائم رکھا ہے، زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لیے بچھونا بنا دیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے، تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے، جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس لیے کہ تمہیں نصیحت حاصل ہو تم جان لو کہ ان کا سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ لاشریک اور یکتا ہے پس تم اس کی طرف دوڑو اپنی توجہ کا مرکز صرف اسی کو بناؤ اپنے تمام تر کاموں میں اسی کی ذات پر اعتماد کرو تو تم سب کو صاف صاف آگاہ کر دینے والا ہوں خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا میرے کھلم کھلا خوف دلانے کا لحاظ رکھنا “۔
صفحہ نمبر8825
تخلیق کائنات ٭٭
زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ” ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنا دیا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، ثوری رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ” ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کر دیا ہے اور قائم رکھا ہے، زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لیے بچھونا بنا دیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے، تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے، جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس لیے کہ تمہیں نصیحت حاصل ہو تم جان لو کہ ان کا سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ لاشریک اور یکتا ہے پس تم اس کی طرف دوڑو اپنی توجہ کا مرکز صرف اسی کو بناؤ اپنے تمام تر کاموں میں اسی کی ذات پر اعتماد کرو تو تم سب کو صاف صاف آگاہ کر دینے والا ہوں خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا میرے کھلم کھلا خوف دلانے کا لحاظ رکھنا “۔
صفحہ نمبر8825
تخلیق کائنات ٭٭
زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ” ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنا دیا ہے “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، ثوری رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ” ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کر دیا ہے اور قائم رکھا ہے، زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لیے بچھونا بنا دیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے، تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے، جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس لیے کہ تمہیں نصیحت حاصل ہو تم جان لو کہ ان کا سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ لاشریک اور یکتا ہے پس تم اس کی طرف دوڑو اپنی توجہ کا مرکز صرف اسی کو بناؤ اپنے تمام تر کاموں میں اسی کی ذات پر اعتماد کرو تو تم سب کو صاف صاف آگاہ کر دینے والا ہوں خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا میرے کھلم کھلا خوف دلانے کا لحاظ رکھنا “۔
صفحہ نمبر8825
تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25]
اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح]
غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
صفحہ نمبر8830
مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔
خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف]
بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر8831
تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25]
اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح]
غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
صفحہ نمبر8830
مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔
خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف]
بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر8831
تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25]
اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح]
غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
صفحہ نمبر8830
مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔
خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف]
بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر8831
تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25]
اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح]
غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
صفحہ نمبر8830
مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔
خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف]
بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر8831
تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25]
اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح]
غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
صفحہ نمبر8830
مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔
خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف]
بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر8831
تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25]
اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح]
غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
صفحہ نمبر8830
مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔
خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف]
بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر8831
تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25]
اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح]
غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
صفحہ نمبر8830
مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔
خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف]
بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر8831
تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25]
اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح]
غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
صفحہ نمبر8830
مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔
خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف]
بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر8831
تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25]
اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح]
غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
صفحہ نمبر8830
مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔
خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف]
بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔
صفحہ نمبر8831