Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah At-Tur
Tafsir Ibn Kathir · The Mount · 49 ayat · ayat 1–30 · Quran text →
تفسیر سورۃ الطور:
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619)
تفسیر سورۂ طور ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207]
صفحہ نمبر8840
جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8841
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع]
یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔
صفحہ نمبر8842
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32]
ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» ( «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔
جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی -
علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔
صفحہ نمبر8843
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف]
دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔
صفحہ نمبر8844
ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
صفحہ نمبر8845
تفسیر سورۃ الطور:
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619)
تفسیر سورۂ طور ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207]
صفحہ نمبر8840
جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8841
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع]
یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔
صفحہ نمبر8842
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32]
ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» ( «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔
جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی -
علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔
صفحہ نمبر8843
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف]
دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔
صفحہ نمبر8844
ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
صفحہ نمبر8845
تفسیر سورۃ الطور:
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619)
تفسیر سورۂ طور ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207]
صفحہ نمبر8840
جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8841
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع]
یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔
صفحہ نمبر8842
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32]
ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» ( «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔
جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی -
علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔
صفحہ نمبر8843
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف]
دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔
صفحہ نمبر8844
ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
صفحہ نمبر8845
تفسیر سورۃ الطور:
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619)
تفسیر سورۂ طور ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207]
صفحہ نمبر8840
جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8841
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع]
یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔
صفحہ نمبر8842
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32]
ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» ( «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔
جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی -
علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔
صفحہ نمبر8843
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف]
دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔
صفحہ نمبر8844
ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
صفحہ نمبر8845
تفسیر سورۃ الطور:
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619)
تفسیر سورۂ طور ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207]
صفحہ نمبر8840
جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8841
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع]
یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔
صفحہ نمبر8842
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32]
ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» ( «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔
جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی -
علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔
صفحہ نمبر8843
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف]
دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔
صفحہ نمبر8844
ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
صفحہ نمبر8845
تفسیر سورۃ الطور:
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619)
تفسیر سورۂ طور ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207]
صفحہ نمبر8840
جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8841
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع]
یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔
صفحہ نمبر8842
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32]
ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» ( «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔
جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی -
علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔
صفحہ نمبر8843
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف]
دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔
صفحہ نمبر8844
ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
صفحہ نمبر8845
تفسیر سورۃ الطور:
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619)
تفسیر سورۂ طور ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207]
صفحہ نمبر8840
جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8841
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع]
یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔
صفحہ نمبر8842
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32]
ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» ( «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔
جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی -
علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔
صفحہ نمبر8843
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف]
دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔
صفحہ نمبر8844
ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
صفحہ نمبر8845
تفسیر سورۃ الطور:
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619)
تفسیر سورۂ طور ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207]
صفحہ نمبر8840
جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8841
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع]
یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔
صفحہ نمبر8842
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32]
ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» ( «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔
جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی -
علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔
صفحہ نمبر8843
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف]
دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔
صفحہ نمبر8844
ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
صفحہ نمبر8845
تفسیر سورۃ الطور:
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619)
تفسیر سورۂ طور ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207]
صفحہ نمبر8840
جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8841
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع]
یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔
صفحہ نمبر8842
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32]
ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» ( «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔
جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی -
علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔
صفحہ نمبر8843
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف]
دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔
صفحہ نمبر8844
ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
صفحہ نمبر8845
تفسیر سورۃ الطور:
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619)
تفسیر سورۂ طور ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207]
صفحہ نمبر8840
جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8841
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع]
یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔
صفحہ نمبر8842
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32]
ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» ( «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔
جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی -
علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔
صفحہ نمبر8843
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف]
دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔
صفحہ نمبر8844
ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
صفحہ نمبر8845
تفسیر سورۃ الطور:
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش آواز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی قرأت والا میں نے تو کسی کو نہیں سنا۔ (موطا مالک) (صحیح مسلم:463)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ حج میں میں بیمار تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو“، چنانچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور آیت «وَالطُّوْر وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ» (52-الطور:1) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (صحیح بخاری:1619)
تفسیر سورۂ طور ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا، جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے۔ «طور» اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور جہاں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے «جبل» کہا جاتا ہے «طور» نہیں کہا جاتا۔ «كِتَابٍ مَسْطُور» سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی، لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لیے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں۔ «الْبَيْتِ الْمَعْمُور» کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد مجھے بیت المعمور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لیے جاتے ہیں، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی۔“ [صحیح بخاری:3207]
صفحہ نمبر8840
جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کا طواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ بیت العمور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی، یہ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8841
ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان میں ایک گھر ہے جسے «معمور» کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر «حیوان» ہے، جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہٰ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں، جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت المعمور میں جائیں اور نماز ادا کریں، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے، [الموضاعات لابن الجوزی:147/1،موضوع]
یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں، حافظوں کی ایک جماعت نے ان پر ایک حدیث کا انکار کیا ہے، جیسے جوزجانی، عقیلی، حاکم وغیرہ امام حاکم ابوعبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ اسے بالکل بے اصل بتاتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ بیت المعمور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ آسمان میں ہے، اسے «صراح» کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:480/11:مرسل] ایک روایت میں ہے یہ پوچھنے والے ابن کواء رحمہ اللہ تھے۔
صفحہ نمبر8842
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاذ میں سے ہے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المعمور کو جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32297:مرسل] ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ» [21-الأنبياء:32]
ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لیے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے، اس قول کی توجیہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو، «الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ» ( «بحر مسجور» سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے، جو بارش کی طرح برسے گا، جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے)۔
جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں، انہیں جو «الْمَسْجُور» کہا گیا ہے یہ اس لیے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے «وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» [81-التكوير:6] جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی، جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی -
علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا، یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرُشُدہ ادھر ادھر جاری۔
صفحہ نمبر8843
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «مسجور» سے مراد فارغ یعنی خالی ہے، کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض «مسجور» ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ڈبو نہ سکے۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد:43/1:ضعیف]
دوسری روایت میں ہے کہ ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے، فرماتے ہیں: ایک رات میں چوکیداری کے لیے نکلا، اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا، میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں، تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے، باربار یہی نظارہ میں نے دیکھا۔ میں نے ابوصالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بروایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اوپر والی حدیث مجھے سنائی لیکن اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام نہیں لیا گیا۔ ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہٰی ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے، جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورۃ والطور پڑھ رہے تھے، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ ”رب کعبہ کی قسم سچی ہے“، پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے، چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے، وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے؟۔
صفحہ نمبر8844
ایک روایت میں ہے آپ رضی اللہ عنہ کی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی، اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے، چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی۔ اس دن آسمان تھرتھرائے گا، پھٹ جائے گا، چکر کھانے لگے گا، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے، ہٹ جائیں گے، ادھر کے ادھر ہو جائیں گے، کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے ویل، و حسرت،خرابی ہلاکت ہو گی۔
صفحہ نمبر8845
باب
اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔
صفحہ نمبر8856
باب
اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔
صفحہ نمبر8856
باب
اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔
صفحہ نمبر8856
باب
اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔
صفحہ نمبر8856
باب
اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔
صفحہ نمبر8856
جنت کے مناظر ٭٭
اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے، جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال، خوش دل ہیں، قسم قسم کے کھانے، طرح طرح کے پینے، بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند و بالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں، کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی، غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں، جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو، نہ کسی کان نے سنا ہو، نہ کسی دل پر خیال تک گزرا ہو، پھر اللہ کی طرف سے باربار مہمان نوازی کے طور پر ان سے کہا جاتا ہے «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] کھاتے پیتے رہو، خوش گوار، خوش ذائقہ، بےتکلف مزید مرغوب چیزیں تمہارے لیے مہیا ہیں۔
صفحہ نمبر8861
پھر ان کا دل خوش کرنے حوصلہ بڑھانے اور طبیعت میں امنگ پیدا کرنے کے لیے ساتھ ہی اعلان ہوتا ہے کہ یہ تو تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جو تم اس جہان میں کر آئے ہو «عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ» [37-الصفات:45] مرصع اور جڑاؤ شاہانہ تخت پر بڑی بےفکری اور فارغ البالی سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، ستر ستر سال گزر جائیں گے انہیں ضرورت نہ ہو گی کہ اٹھیں یا ہلیں جلیں، بےشمار سلیقہ شعار، ادب دان خدام ہر طرح کی خدمت کے لیے کمربستہ جس چیز کو جی چاہے آن کی آن میں موجود، آنکھوں کا نور، دل کا سرور، وافر و موفور سامنے بے انتہاء خوبصورت، خوب سیرت، گورے گورے پنڈے والی، بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی، بہت سی حوریں پاک دل، عفت مآب عصمت، خوش دل بہلانے اور خواہش پوری کرنے کے لیے سامنے کھڑی ہر ایک نعمت و رحمت چاروں طرف بکھری ہوئی، پھر بھلا انہیں کس چیز کی کمی۔ ستر سال کے بعد جب دوسری طرف مائل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اور ہی منظر ہے، ہر چیز نئی ہے، ہر نعمت جوبن پر ہے، اس طرف کی حوروں پر نظریں ڈالتے ہیں تو ان کے نور کی چکا چوند حیرت میں ڈال دیتی ہے، ان کی پیاری پیاری، بھولی بھالی شکلیں، اچھوتے پنڈے اور کنوار پن کی شرمیلی نظریں اور جوانی کا بانکپن دل پر مقناطیسی اثر ڈالتا ہے
جنتی کچھ کہے اس سے پہلے ہی وہ اپنی شیریں کلامی سے عجیب انداز سے کہتی ہیں، شکر ہے کہ آپ کا التفات ہماری طرف بھی ہوا، غرض اسی طرح من مانی نعمتوں سے مست ہو رہے ہیں۔ پھر ان جنتیوں کے تخت باوجود قطار وار ہونے کے اس طرح نہ ہوں گے کہ کسی کو کسی کی پیٹھ ہو بلکہ آمنے سامنے ہوں گے جیسے اور جگہ ہے «وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ» [15-الحجر:47] تختوں پر ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ہم نے ان کے نکاح میں حوریں دے رکھی ہیں جو کبھی دل میلا نہ کریں، جب آنکھ پڑے، جی خوش ہو جائے اور ظاہری خوبصورتی کی تو کسی سے تعریف ہی کیا ہو سکتی ہے؟ ان کے اوصاف کے بیان کی حدیثیں وغیرہ کئی مقامات پر گزر چکی ہیں اس لئے انہیں یہاں وارد کرنا کچھ چنداں ضروری نہیں۔
صفحہ نمبر8862
جنت کے مناظر ٭٭
اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے، جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال، خوش دل ہیں، قسم قسم کے کھانے، طرح طرح کے پینے، بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند و بالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں، کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی، غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں، جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو، نہ کسی کان نے سنا ہو، نہ کسی دل پر خیال تک گزرا ہو، پھر اللہ کی طرف سے باربار مہمان نوازی کے طور پر ان سے کہا جاتا ہے «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] کھاتے پیتے رہو، خوش گوار، خوش ذائقہ، بےتکلف مزید مرغوب چیزیں تمہارے لیے مہیا ہیں۔
صفحہ نمبر8861
پھر ان کا دل خوش کرنے حوصلہ بڑھانے اور طبیعت میں امنگ پیدا کرنے کے لیے ساتھ ہی اعلان ہوتا ہے کہ یہ تو تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جو تم اس جہان میں کر آئے ہو «عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ» [37-الصفات:45] مرصع اور جڑاؤ شاہانہ تخت پر بڑی بےفکری اور فارغ البالی سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، ستر ستر سال گزر جائیں گے انہیں ضرورت نہ ہو گی کہ اٹھیں یا ہلیں جلیں، بےشمار سلیقہ شعار، ادب دان خدام ہر طرح کی خدمت کے لیے کمربستہ جس چیز کو جی چاہے آن کی آن میں موجود، آنکھوں کا نور، دل کا سرور، وافر و موفور سامنے بے انتہاء خوبصورت، خوب سیرت، گورے گورے پنڈے والی، بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی، بہت سی حوریں پاک دل، عفت مآب عصمت، خوش دل بہلانے اور خواہش پوری کرنے کے لیے سامنے کھڑی ہر ایک نعمت و رحمت چاروں طرف بکھری ہوئی، پھر بھلا انہیں کس چیز کی کمی۔ ستر سال کے بعد جب دوسری طرف مائل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اور ہی منظر ہے، ہر چیز نئی ہے، ہر نعمت جوبن پر ہے، اس طرف کی حوروں پر نظریں ڈالتے ہیں تو ان کے نور کی چکا چوند حیرت میں ڈال دیتی ہے، ان کی پیاری پیاری، بھولی بھالی شکلیں، اچھوتے پنڈے اور کنوار پن کی شرمیلی نظریں اور جوانی کا بانکپن دل پر مقناطیسی اثر ڈالتا ہے
جنتی کچھ کہے اس سے پہلے ہی وہ اپنی شیریں کلامی سے عجیب انداز سے کہتی ہیں، شکر ہے کہ آپ کا التفات ہماری طرف بھی ہوا، غرض اسی طرح من مانی نعمتوں سے مست ہو رہے ہیں۔ پھر ان جنتیوں کے تخت باوجود قطار وار ہونے کے اس طرح نہ ہوں گے کہ کسی کو کسی کی پیٹھ ہو بلکہ آمنے سامنے ہوں گے جیسے اور جگہ ہے «وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ» [15-الحجر:47] تختوں پر ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ہم نے ان کے نکاح میں حوریں دے رکھی ہیں جو کبھی دل میلا نہ کریں، جب آنکھ پڑے، جی خوش ہو جائے اور ظاہری خوبصورتی کی تو کسی سے تعریف ہی کیا ہو سکتی ہے؟ ان کے اوصاف کے بیان کی حدیثیں وغیرہ کئی مقامات پر گزر چکی ہیں اس لئے انہیں یہاں وارد کرنا کچھ چنداں ضروری نہیں۔
صفحہ نمبر8862
جنت کے مناظر ٭٭
اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے، جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال، خوش دل ہیں، قسم قسم کے کھانے، طرح طرح کے پینے، بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند و بالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں، کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی، غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں، جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو، نہ کسی کان نے سنا ہو، نہ کسی دل پر خیال تک گزرا ہو، پھر اللہ کی طرف سے باربار مہمان نوازی کے طور پر ان سے کہا جاتا ہے «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] کھاتے پیتے رہو، خوش گوار، خوش ذائقہ، بےتکلف مزید مرغوب چیزیں تمہارے لیے مہیا ہیں۔
صفحہ نمبر8861
پھر ان کا دل خوش کرنے حوصلہ بڑھانے اور طبیعت میں امنگ پیدا کرنے کے لیے ساتھ ہی اعلان ہوتا ہے کہ یہ تو تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جو تم اس جہان میں کر آئے ہو «عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ» [37-الصفات:45] مرصع اور جڑاؤ شاہانہ تخت پر بڑی بےفکری اور فارغ البالی سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، ستر ستر سال گزر جائیں گے انہیں ضرورت نہ ہو گی کہ اٹھیں یا ہلیں جلیں، بےشمار سلیقہ شعار، ادب دان خدام ہر طرح کی خدمت کے لیے کمربستہ جس چیز کو جی چاہے آن کی آن میں موجود، آنکھوں کا نور، دل کا سرور، وافر و موفور سامنے بے انتہاء خوبصورت، خوب سیرت، گورے گورے پنڈے والی، بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی، بہت سی حوریں پاک دل، عفت مآب عصمت، خوش دل بہلانے اور خواہش پوری کرنے کے لیے سامنے کھڑی ہر ایک نعمت و رحمت چاروں طرف بکھری ہوئی، پھر بھلا انہیں کس چیز کی کمی۔ ستر سال کے بعد جب دوسری طرف مائل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اور ہی منظر ہے، ہر چیز نئی ہے، ہر نعمت جوبن پر ہے، اس طرف کی حوروں پر نظریں ڈالتے ہیں تو ان کے نور کی چکا چوند حیرت میں ڈال دیتی ہے، ان کی پیاری پیاری، بھولی بھالی شکلیں، اچھوتے پنڈے اور کنوار پن کی شرمیلی نظریں اور جوانی کا بانکپن دل پر مقناطیسی اثر ڈالتا ہے
جنتی کچھ کہے اس سے پہلے ہی وہ اپنی شیریں کلامی سے عجیب انداز سے کہتی ہیں، شکر ہے کہ آپ کا التفات ہماری طرف بھی ہوا، غرض اسی طرح من مانی نعمتوں سے مست ہو رہے ہیں۔ پھر ان جنتیوں کے تخت باوجود قطار وار ہونے کے اس طرح نہ ہوں گے کہ کسی کو کسی کی پیٹھ ہو بلکہ آمنے سامنے ہوں گے جیسے اور جگہ ہے «وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ» [15-الحجر:47] تختوں پر ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ہم نے ان کے نکاح میں حوریں دے رکھی ہیں جو کبھی دل میلا نہ کریں، جب آنکھ پڑے، جی خوش ہو جائے اور ظاہری خوبصورتی کی تو کسی سے تعریف ہی کیا ہو سکتی ہے؟ ان کے اوصاف کے بیان کی حدیثیں وغیرہ کئی مقامات پر گزر چکی ہیں اس لئے انہیں یہاں وارد کرنا کچھ چنداں ضروری نہیں۔
صفحہ نمبر8862
جنت کے مناظر ٭٭
اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے، جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال، خوش دل ہیں، قسم قسم کے کھانے، طرح طرح کے پینے، بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند و بالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں، کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی، غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں، جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو، نہ کسی کان نے سنا ہو، نہ کسی دل پر خیال تک گزرا ہو، پھر اللہ کی طرف سے باربار مہمان نوازی کے طور پر ان سے کہا جاتا ہے «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24] کھاتے پیتے رہو، خوش گوار، خوش ذائقہ، بےتکلف مزید مرغوب چیزیں تمہارے لیے مہیا ہیں۔
صفحہ نمبر8861
پھر ان کا دل خوش کرنے حوصلہ بڑھانے اور طبیعت میں امنگ پیدا کرنے کے لیے ساتھ ہی اعلان ہوتا ہے کہ یہ تو تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جو تم اس جہان میں کر آئے ہو «عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ» [37-الصفات:45] مرصع اور جڑاؤ شاہانہ تخت پر بڑی بےفکری اور فارغ البالی سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، ستر ستر سال گزر جائیں گے انہیں ضرورت نہ ہو گی کہ اٹھیں یا ہلیں جلیں، بےشمار سلیقہ شعار، ادب دان خدام ہر طرح کی خدمت کے لیے کمربستہ جس چیز کو جی چاہے آن کی آن میں موجود، آنکھوں کا نور، دل کا سرور، وافر و موفور سامنے بے انتہاء خوبصورت، خوب سیرت، گورے گورے پنڈے والی، بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی، بہت سی حوریں پاک دل، عفت مآب عصمت، خوش دل بہلانے اور خواہش پوری کرنے کے لیے سامنے کھڑی ہر ایک نعمت و رحمت چاروں طرف بکھری ہوئی، پھر بھلا انہیں کس چیز کی کمی۔ ستر سال کے بعد جب دوسری طرف مائل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اور ہی منظر ہے، ہر چیز نئی ہے، ہر نعمت جوبن پر ہے، اس طرف کی حوروں پر نظریں ڈالتے ہیں تو ان کے نور کی چکا چوند حیرت میں ڈال دیتی ہے، ان کی پیاری پیاری، بھولی بھالی شکلیں، اچھوتے پنڈے اور کنوار پن کی شرمیلی نظریں اور جوانی کا بانکپن دل پر مقناطیسی اثر ڈالتا ہے
جنتی کچھ کہے اس سے پہلے ہی وہ اپنی شیریں کلامی سے عجیب انداز سے کہتی ہیں، شکر ہے کہ آپ کا التفات ہماری طرف بھی ہوا، غرض اسی طرح من مانی نعمتوں سے مست ہو رہے ہیں۔ پھر ان جنتیوں کے تخت باوجود قطار وار ہونے کے اس طرح نہ ہوں گے کہ کسی کو کسی کی پیٹھ ہو بلکہ آمنے سامنے ہوں گے جیسے اور جگہ ہے «وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ» [15-الحجر:47] تختوں پر ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ہم نے ان کے نکاح میں حوریں دے رکھی ہیں جو کبھی دل میلا نہ کریں، جب آنکھ پڑے، جی خوش ہو جائے اور ظاہری خوبصورتی کی تو کسی سے تعریف ہی کیا ہو سکتی ہے؟ ان کے اوصاف کے بیان کی حدیثیں وغیرہ کئی مقامات پر گزر چکی ہیں اس لئے انہیں یہاں وارد کرنا کچھ چنداں ضروری نہیں۔
صفحہ نمبر8862
صالح اولاد انمول اثاثہ ٭٭
اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مومنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں۔ ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں۔
ایک مرفوع حدیث بھی اس مضمون کی مروی ہے ایک اور روایت میں ہے کہ جب جنتی شخص جنت میں جائے گا اور اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کو نہ پائے گا تو دریافت کرے گا کہ وہ کہاں ہیں جواب ملے گا کہ وہ تمہارے مرتبہ تک نہیں پہنچے یہ کہے گا باری تعالیٰ میں نے تو اپنے لیے اور ان کے لیے نیک اعمال کئے تھے چنانچہ حکم دیا جائے گا اور انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دیا جائے گا۔ یہ بھی مروی ہے کہ جنتیوں کے بچوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کئے وہ تو ان کے ساتھ ملا دئیے جائیں گے لیکن ان کے جو چھوٹے بچے بچپن ہی میں انتقال کر گئے تھے وہ بھی ان کے پاس پہنچا دئیے جائیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، شعبی، سعید بن جبیر، ابراہیم، قتادہ، ابوصالح، ربیع بن انس، ضحاک بن زید رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دو بچوں کی نسبت دریافت کیا جو زمانہ جاہلیت میں مرے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں جہنم میں ہیں“، پھر جب مائی صاحبہ کو غمگین دیکھا تو فرمایا اگر تم ان کی جگہ دیکھ لیتیں تو تمہارے دل میں ان کا بغض پیدا ہو جاتا، مائی صاحبہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! میرا بچہ جو آپ سے ہوا وہ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنت میں ہے مومن مع اپنی اولاد کے جنت میں ہیں۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔
یہ تو ہوئی ماں باپ کے اعمال صالحہ کی وجہ سے اولاد کی بزرگی اب اولاد کی دعا خیر کی وجہ سے ماں باپ کی بزرگی ملاحظہ ہو۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کا درجہ جنت میں دفعۃً بڑھاتا ہے، وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ میرا یہ درجہ کیسے بڑھ گیا؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ تیری اولاد نے تیرے لیے استغفار کیا اس بنا پر میں نے تیرا درجہ بڑھا دیا“ ۔ [مسند احمد:509/2:حسن] اس حدیث کی اسناد بالکل صحیح ہیں گو بخاری مسلم میں ان لفظوں سے نہیں آئی۔
لیکن اس جیسی ایک روایت صحیح مسلم میں اسی طرح مروی ہے کہ ابن آدم کے مرتے ہی اس کے اعمال موقوف ہو جاتے ہیں لیکن تین عمل کہ وہ مرنے کے بعد بھی ثواب پہنچاتے رہتے ہیں، صدقہ جاریہ، علم دین جس سے نفع پہنچتا ہے، نیک اولاد جو مرنے والے کے لیے دعائے خیر کرتی رہے ۔ [صحیح مسلم:1631]
چونکہ یہاں بیان ہوا تھا کہ مومنوں کی اولاد کے درجے بےعمل بڑھا دئیے گئے تھے تو ساتھ ہی ساتھ اپنے اس فضل کے بعد اپنے عدل کا بیان فرماتا ہے کہ کسی کو کسی کے اعمال میں پکڑا نہ جائے گا بلکہ ہر شخص اپنے اپنے عمل میں رہن ہو گا، باپ کا بوجھ بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر نہ ہو گا۔
صفحہ نمبر8866
جیسے اور جگہ ہے «كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ» * «إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ» * «فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ» * «عَنِ الْمُجْرِمِينَ» [74-المدثر:41-38] ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پہنچے وہ جنتوں میں بیٹھے ہوئے گنہگاروں سے دریافت کرتے ہیں۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان جنتیوں کو قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے گوشت دئیے جاتے ہیں، جس چیز کو جی چاہے، جس پر دل آئے وہ یک لخت موجود ہو جاتی ہے، شراب طہور کے چھلکتے ہوئے جام ایک دوسرے کو پلا رہے ہیں، جس کے پینے سے سرور اور کیف لطف اور بہار حاصل ہوتا ہے لیکن بدزبانی بےہودہ گوئی نہیں ہوتی، ہذیان نہیں بکتے، بیہوش نہیں ہوتے، سچا سرور اور پوری خوشی حاصل، بک جھک سے دور، گناہ سے غافل، باطل وکذب سے دور، غیبت و گناہ سے نفور، دنیا میں شرابیوں کی حالت دیکھی ہو گی کہ ان کے سر میں چکر، پیٹ میں درد، عقل زائل، بکواس بہت، بو بری، چہرے بے رونق، اسی طرح شراب کے بدذائقہ اور بدبو یہاں جنت کی شراب ان تمام گندگیوں سے کوسوں دور ہے «بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ» * «لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ» [37-الصافات:46،47] یہ رنگ میں سفید، پینے میں خوش ذائقہ، نہ اس کے پینے سے حواس معطل ہوں، نہ بک جھک ہو، نہ بہکیں، نہ بھٹکیں، نہ مستی ہو، نہ اور کسی طرح ضرر پہنچائے، ہنسی خوشی اس پاک شراب کے جام پلا رہے ہوں گے۔
صفحہ نمبر8867
صالح اولاد انمول اثاثہ ٭٭
اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مومنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں۔ ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں۔
ایک مرفوع حدیث بھی اس مضمون کی مروی ہے ایک اور روایت میں ہے کہ جب جنتی شخص جنت میں جائے گا اور اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کو نہ پائے گا تو دریافت کرے گا کہ وہ کہاں ہیں جواب ملے گا کہ وہ تمہارے مرتبہ تک نہیں پہنچے یہ کہے گا باری تعالیٰ میں نے تو اپنے لیے اور ان کے لیے نیک اعمال کئے تھے چنانچہ حکم دیا جائے گا اور انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دیا جائے گا۔ یہ بھی مروی ہے کہ جنتیوں کے بچوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کئے وہ تو ان کے ساتھ ملا دئیے جائیں گے لیکن ان کے جو چھوٹے بچے بچپن ہی میں انتقال کر گئے تھے وہ بھی ان کے پاس پہنچا دئیے جائیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، شعبی، سعید بن جبیر، ابراہیم، قتادہ، ابوصالح، ربیع بن انس، ضحاک بن زید رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دو بچوں کی نسبت دریافت کیا جو زمانہ جاہلیت میں مرے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں جہنم میں ہیں“، پھر جب مائی صاحبہ کو غمگین دیکھا تو فرمایا اگر تم ان کی جگہ دیکھ لیتیں تو تمہارے دل میں ان کا بغض پیدا ہو جاتا، مائی صاحبہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! میرا بچہ جو آپ سے ہوا وہ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنت میں ہے مومن مع اپنی اولاد کے جنت میں ہیں۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔
یہ تو ہوئی ماں باپ کے اعمال صالحہ کی وجہ سے اولاد کی بزرگی اب اولاد کی دعا خیر کی وجہ سے ماں باپ کی بزرگی ملاحظہ ہو۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کا درجہ جنت میں دفعۃً بڑھاتا ہے، وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ میرا یہ درجہ کیسے بڑھ گیا؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ تیری اولاد نے تیرے لیے استغفار کیا اس بنا پر میں نے تیرا درجہ بڑھا دیا“ ۔ [مسند احمد:509/2:حسن] اس حدیث کی اسناد بالکل صحیح ہیں گو بخاری مسلم میں ان لفظوں سے نہیں آئی۔
لیکن اس جیسی ایک روایت صحیح مسلم میں اسی طرح مروی ہے کہ ابن آدم کے مرتے ہی اس کے اعمال موقوف ہو جاتے ہیں لیکن تین عمل کہ وہ مرنے کے بعد بھی ثواب پہنچاتے رہتے ہیں، صدقہ جاریہ، علم دین جس سے نفع پہنچتا ہے، نیک اولاد جو مرنے والے کے لیے دعائے خیر کرتی رہے ۔ [صحیح مسلم:1631]
چونکہ یہاں بیان ہوا تھا کہ مومنوں کی اولاد کے درجے بےعمل بڑھا دئیے گئے تھے تو ساتھ ہی ساتھ اپنے اس فضل کے بعد اپنے عدل کا بیان فرماتا ہے کہ کسی کو کسی کے اعمال میں پکڑا نہ جائے گا بلکہ ہر شخص اپنے اپنے عمل میں رہن ہو گا، باپ کا بوجھ بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر نہ ہو گا۔
صفحہ نمبر8866
جیسے اور جگہ ہے «كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ» * «إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ» * «فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ» * «عَنِ الْمُجْرِمِينَ» [74-المدثر:41-38] ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پہنچے وہ جنتوں میں بیٹھے ہوئے گنہگاروں سے دریافت کرتے ہیں۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان جنتیوں کو قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے گوشت دئیے جاتے ہیں، جس چیز کو جی چاہے، جس پر دل آئے وہ یک لخت موجود ہو جاتی ہے، شراب طہور کے چھلکتے ہوئے جام ایک دوسرے کو پلا رہے ہیں، جس کے پینے سے سرور اور کیف لطف اور بہار حاصل ہوتا ہے لیکن بدزبانی بےہودہ گوئی نہیں ہوتی، ہذیان نہیں بکتے، بیہوش نہیں ہوتے، سچا سرور اور پوری خوشی حاصل، بک جھک سے دور، گناہ سے غافل، باطل وکذب سے دور، غیبت و گناہ سے نفور، دنیا میں شرابیوں کی حالت دیکھی ہو گی کہ ان کے سر میں چکر، پیٹ میں درد، عقل زائل، بکواس بہت، بو بری، چہرے بے رونق، اسی طرح شراب کے بدذائقہ اور بدبو یہاں جنت کی شراب ان تمام گندگیوں سے کوسوں دور ہے «بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ» * «لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ» [37-الصافات:46،47] یہ رنگ میں سفید، پینے میں خوش ذائقہ، نہ اس کے پینے سے حواس معطل ہوں، نہ بک جھک ہو، نہ بہکیں، نہ بھٹکیں، نہ مستی ہو، نہ اور کسی طرح ضرر پہنچائے، ہنسی خوشی اس پاک شراب کے جام پلا رہے ہوں گے۔
صفحہ نمبر8867
صالح اولاد انمول اثاثہ ٭٭
اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مومنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں۔ ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں۔
ایک مرفوع حدیث بھی اس مضمون کی مروی ہے ایک اور روایت میں ہے کہ جب جنتی شخص جنت میں جائے گا اور اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کو نہ پائے گا تو دریافت کرے گا کہ وہ کہاں ہیں جواب ملے گا کہ وہ تمہارے مرتبہ تک نہیں پہنچے یہ کہے گا باری تعالیٰ میں نے تو اپنے لیے اور ان کے لیے نیک اعمال کئے تھے چنانچہ حکم دیا جائے گا اور انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دیا جائے گا۔ یہ بھی مروی ہے کہ جنتیوں کے بچوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کئے وہ تو ان کے ساتھ ملا دئیے جائیں گے لیکن ان کے جو چھوٹے بچے بچپن ہی میں انتقال کر گئے تھے وہ بھی ان کے پاس پہنچا دئیے جائیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، شعبی، سعید بن جبیر، ابراہیم، قتادہ، ابوصالح، ربیع بن انس، ضحاک بن زید رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دو بچوں کی نسبت دریافت کیا جو زمانہ جاہلیت میں مرے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں جہنم میں ہیں“، پھر جب مائی صاحبہ کو غمگین دیکھا تو فرمایا اگر تم ان کی جگہ دیکھ لیتیں تو تمہارے دل میں ان کا بغض پیدا ہو جاتا، مائی صاحبہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! میرا بچہ جو آپ سے ہوا وہ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنت میں ہے مومن مع اپنی اولاد کے جنت میں ہیں۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔
یہ تو ہوئی ماں باپ کے اعمال صالحہ کی وجہ سے اولاد کی بزرگی اب اولاد کی دعا خیر کی وجہ سے ماں باپ کی بزرگی ملاحظہ ہو۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کا درجہ جنت میں دفعۃً بڑھاتا ہے، وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ میرا یہ درجہ کیسے بڑھ گیا؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ تیری اولاد نے تیرے لیے استغفار کیا اس بنا پر میں نے تیرا درجہ بڑھا دیا“ ۔ [مسند احمد:509/2:حسن] اس حدیث کی اسناد بالکل صحیح ہیں گو بخاری مسلم میں ان لفظوں سے نہیں آئی۔
لیکن اس جیسی ایک روایت صحیح مسلم میں اسی طرح مروی ہے کہ ابن آدم کے مرتے ہی اس کے اعمال موقوف ہو جاتے ہیں لیکن تین عمل کہ وہ مرنے کے بعد بھی ثواب پہنچاتے رہتے ہیں، صدقہ جاریہ، علم دین جس سے نفع پہنچتا ہے، نیک اولاد جو مرنے والے کے لیے دعائے خیر کرتی رہے ۔ [صحیح مسلم:1631]
چونکہ یہاں بیان ہوا تھا کہ مومنوں کی اولاد کے درجے بےعمل بڑھا دئیے گئے تھے تو ساتھ ہی ساتھ اپنے اس فضل کے بعد اپنے عدل کا بیان فرماتا ہے کہ کسی کو کسی کے اعمال میں پکڑا نہ جائے گا بلکہ ہر شخص اپنے اپنے عمل میں رہن ہو گا، باپ کا بوجھ بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر نہ ہو گا۔
صفحہ نمبر8866
جیسے اور جگہ ہے «كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ» * «إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ» * «فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ» * «عَنِ الْمُجْرِمِينَ» [74-المدثر:41-38] ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پہنچے وہ جنتوں میں بیٹھے ہوئے گنہگاروں سے دریافت کرتے ہیں۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان جنتیوں کو قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے گوشت دئیے جاتے ہیں، جس چیز کو جی چاہے، جس پر دل آئے وہ یک لخت موجود ہو جاتی ہے، شراب طہور کے چھلکتے ہوئے جام ایک دوسرے کو پلا رہے ہیں، جس کے پینے سے سرور اور کیف لطف اور بہار حاصل ہوتا ہے لیکن بدزبانی بےہودہ گوئی نہیں ہوتی، ہذیان نہیں بکتے، بیہوش نہیں ہوتے، سچا سرور اور پوری خوشی حاصل، بک جھک سے دور، گناہ سے غافل، باطل وکذب سے دور، غیبت و گناہ سے نفور، دنیا میں شرابیوں کی حالت دیکھی ہو گی کہ ان کے سر میں چکر، پیٹ میں درد، عقل زائل، بکواس بہت، بو بری، چہرے بے رونق، اسی طرح شراب کے بدذائقہ اور بدبو یہاں جنت کی شراب ان تمام گندگیوں سے کوسوں دور ہے «بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ» * «لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ» [37-الصافات:46،47] یہ رنگ میں سفید، پینے میں خوش ذائقہ، نہ اس کے پینے سے حواس معطل ہوں، نہ بک جھک ہو، نہ بہکیں، نہ بھٹکیں، نہ مستی ہو، نہ اور کسی طرح ضرر پہنچائے، ہنسی خوشی اس پاک شراب کے جام پلا رہے ہوں گے۔
صفحہ نمبر8867
باب
ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں، کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں، ان کی آبداری، صفائی، چمک دمک، روپ رنگ کا کیا پوچھنا؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے «يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ» * «بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ» [56-الواقعة:18،17] یعنی ہمیشہ نوعمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو، نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس باربار لانے کے لیے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے، دنیا کے احوال یاد آئیں گے، کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے، تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے، الحمداللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا، ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے، اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔
مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے، اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے، دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا ۔ [مسند بزار:3553:ضعیف]
اس حدیث کی سند کمزور ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ مُنَّ عَلَيْنَا وَقِنَا عَذَاب السَّمُوم إِنَّك أَنْتَ الْبَرّ الرَّحِيم» اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی؟ جواب دیا ہاں۔
صفحہ نمبر8870
باب
ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں، کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں، ان کی آبداری، صفائی، چمک دمک، روپ رنگ کا کیا پوچھنا؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے «يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ» * «بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ» [56-الواقعة:18،17] یعنی ہمیشہ نوعمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو، نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس باربار لانے کے لیے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے، دنیا کے احوال یاد آئیں گے، کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے، تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے، الحمداللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا، ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے، اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔
مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے، اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے، دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا ۔ [مسند بزار:3553:ضعیف]
اس حدیث کی سند کمزور ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ مُنَّ عَلَيْنَا وَقِنَا عَذَاب السَّمُوم إِنَّك أَنْتَ الْبَرّ الرَّحِيم» اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی؟ جواب دیا ہاں۔
صفحہ نمبر8870
باب
ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں، کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں، ان کی آبداری، صفائی، چمک دمک، روپ رنگ کا کیا پوچھنا؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے «يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ» * «بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ» [56-الواقعة:18،17] یعنی ہمیشہ نوعمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو، نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس باربار لانے کے لیے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے، دنیا کے احوال یاد آئیں گے، کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے، تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے، الحمداللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا، ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے، اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔
مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے، اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے، دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا ۔ [مسند بزار:3553:ضعیف]
اس حدیث کی سند کمزور ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ مُنَّ عَلَيْنَا وَقِنَا عَذَاب السَّمُوم إِنَّك أَنْتَ الْبَرّ الرَّحِيم» اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی؟ جواب دیا ہاں۔
صفحہ نمبر8870
باب
ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں، کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں، ان کی آبداری، صفائی، چمک دمک، روپ رنگ کا کیا پوچھنا؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے «يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ» * «بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ» [56-الواقعة:18،17] یعنی ہمیشہ نوعمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو، نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس باربار لانے کے لیے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے، دنیا کے احوال یاد آئیں گے، کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے، تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے، الحمداللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا، ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے، اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔
مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے، اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے، دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا ۔ [مسند بزار:3553:ضعیف]
اس حدیث کی سند کمزور ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ مُنَّ عَلَيْنَا وَقِنَا عَذَاب السَّمُوم إِنَّك أَنْتَ الْبَرّ الرَّحِيم» اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی؟ جواب دیا ہاں۔
صفحہ نمبر8870
باب
ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں، کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں، ان کی آبداری، صفائی، چمک دمک، روپ رنگ کا کیا پوچھنا؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے «يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ» * «بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ» [56-الواقعة:18،17] یعنی ہمیشہ نوعمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو، نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس باربار لانے کے لیے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے، دنیا کے احوال یاد آئیں گے، کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے، تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے، الحمداللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا، ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے، اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔
مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے، اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے، دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا ۔ [مسند بزار:3553:ضعیف]
اس حدیث کی سند کمزور ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ مُنَّ عَلَيْنَا وَقِنَا عَذَاب السَّمُوم إِنَّك أَنْتَ الْبَرّ الرَّحِيم» اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی؟ جواب دیا ہاں۔
صفحہ نمبر8870
کاہن کی پہچان ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔
پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
صفحہ نمبر8875
پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔
صفحہ نمبر8876
کاہن کی پہچان ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔
پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
صفحہ نمبر8875
پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔
صفحہ نمبر8876