Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah At-Tur
Tafsir Ibn Kathir · The Mount · 49 ayat · ayat 31–49 · Quran text →
کاہن کی پہچان ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔
پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
صفحہ نمبر8875
پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔
صفحہ نمبر8876
کاہن کی پہچان ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔
پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
صفحہ نمبر8875
پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔
صفحہ نمبر8876
کاہن کی پہچان ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔
پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
صفحہ نمبر8875
پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔
صفحہ نمبر8876
کاہن کی پہچان ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں، ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے۔ «کاہن» اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ «الحمداللہ» آپ نہ تو جنات والے ہیں، نہ جنوں والے۔
پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا، پھر اپنے نبی کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو، ادھر میں بھی منتظر ہوں، دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے؟ دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو، وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔
صفحہ نمبر8875
پھر فرماتا ہے کیا ان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں، دشمنی میں آ کر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں، کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنا لیا ہے؟ فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں، یہ کفار قریش تو کیا؟ اگر ان کے ساتھ روئے زمین کے جنات و انسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے۔
صفحہ نمبر8876
توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭
توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ” یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] یہ داروغہ ہیں “ [52-الطور:37] تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4854]
بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔
صفحہ نمبر8882
پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟
پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔
صفحہ نمبر8883
توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭
توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ” یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] یہ داروغہ ہیں “ [52-الطور:37] تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4854]
بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔
صفحہ نمبر8882
پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟
پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔
صفحہ نمبر8883
توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭
توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ” یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] یہ داروغہ ہیں “ [52-الطور:37] تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4854]
بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔
صفحہ نمبر8882
پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟
پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔
صفحہ نمبر8883
توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭
توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ” یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] یہ داروغہ ہیں “ [52-الطور:37] تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4854]
بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔
صفحہ نمبر8882
پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟
پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔
صفحہ نمبر8883
توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭
توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ” یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] یہ داروغہ ہیں “ [52-الطور:37] تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4854]
بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔
صفحہ نمبر8882
پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟
پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔
صفحہ نمبر8883
توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭
توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ” یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] یہ داروغہ ہیں “ [52-الطور:37] تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4854]
بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔
صفحہ نمبر8882
پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟
پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔
صفحہ نمبر8883
توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭
توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ” یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] یہ داروغہ ہیں “ [52-الطور:37] تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4854]
بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔
صفحہ نمبر8882
پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟
پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔
صفحہ نمبر8883
توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭
توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ” یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] یہ داروغہ ہیں “ [52-الطور:37] تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4854]
بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔
صفحہ نمبر8882
پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟
پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔
صفحہ نمبر8883
توحید ربوبیت اور الوہیت ٭٭
توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے، فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہو گئے؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت «أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ» ” یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا [ان خزانوں کے] یہ داروغہ ہیں “ [52-الطور:37] تک پہنچے تو میری حالت ہو گئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:4854]
بدری قیدیوں میں ہی یہ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے، قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لیے اسلام کا ذریعہ بن گیا۔ پھر فرمایا ہے کیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں؟ یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنی بےیقینی سے باز نہیں آتے، پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے؟ کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں؟ یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے۔
صفحہ نمبر8882
پھر فرماتا ہے کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے؟ اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے، نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں، یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں، کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کریں، انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں؟
پھر فرمایا کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے؟ یعنی نبی اللہ، دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے؟ کیا یہ لوگ غیب دان ہیں؟ نہیں! بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مومنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں؟ اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اللہ تو شرکت سے مبرا، شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے۔
صفحہ نمبر8883
طے شدہ بدنصیب اور نشست و برخواست کے آداب ٭٭
مشرکوں اور کافروں کے عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ اپنی سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اللہ کے عذاب کو محسوس کر لینے کے بعد بھی انہیں ایمان کی توفیق نہ ہو گی، یہ اگر دیکھ لیں گے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا اللہ کا عذاب بن کر ان کے سروں پر گر رہا ہے، تو بھی انہیں تصدیق و یقین نہ ہو گا بلکہ صاف کہہ دیں گے کہ غلیظ ابر ہے جو پانی برسانے کو آ رہا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ» * «لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ» [15-الحجر:15،14] ” اور اگر ہم ان پر آسمان کا دروازه کھول بھی دیں اور یہ وہاں چڑھنے بھی لگ جائیں، تب بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے “، یعنی معجزات جو یہ طلب کر رہے ہیں اگر ان کی چاہت کے مطابق ہی دکھا دئیے جائیں بلکہ خود انہیں آسمانوں پر چڑھا دیا جائے جب بھی یہ کوئی بات بنا کر ٹال دیں گے اور ایمان نہ لائیں گے۔ اے نبی! آپ انہیں چھوڑ دیجئیے قیامت والے دن خود انہیں معلوم ہو جائے گا اس دن ان کی ساری فریب کاریاں دھری کی دھری رہ جائیں گی، کوئی مکاری وہاں کام نہ دے گی، چوکڑی بھول جائیں گے اور چالاکی بھول جائیں گے۔ آج جن جن کو یہ پکارتے ہیں اور اپنا مددگار جانتے ہیں اس دن سب کے منہ تکیں گے اور کوئی نہ ہو گا جو ان کی ذرا سی بھی مدد کر سکے بلکہ ان کی طرف سے کچھ عذر بھی پیش کر سکے یہی نہیں کہ انہیں صرف قیامت کے دن ہی عذاب ہو اور یہاں اطمینان و آرام کے ساتھ زندگی گزار لیں بلکہ ان ناانصافوں کے لیے اس سے پہلے دنیا میں بھی عذاب تیار ہیں۔
صفحہ نمبر8892
طے شدہ بدنصیب اور نشست و برخواست کے آداب ٭٭
مشرکوں اور کافروں کے عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ اپنی سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اللہ کے عذاب کو محسوس کر لینے کے بعد بھی انہیں ایمان کی توفیق نہ ہو گی، یہ اگر دیکھ لیں گے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا اللہ کا عذاب بن کر ان کے سروں پر گر رہا ہے، تو بھی انہیں تصدیق و یقین نہ ہو گا بلکہ صاف کہہ دیں گے کہ غلیظ ابر ہے جو پانی برسانے کو آ رہا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ» * «لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ» [15-الحجر:15،14] ” اور اگر ہم ان پر آسمان کا دروازه کھول بھی دیں اور یہ وہاں چڑھنے بھی لگ جائیں، تب بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے “، یعنی معجزات جو یہ طلب کر رہے ہیں اگر ان کی چاہت کے مطابق ہی دکھا دئیے جائیں بلکہ خود انہیں آسمانوں پر چڑھا دیا جائے جب بھی یہ کوئی بات بنا کر ٹال دیں گے اور ایمان نہ لائیں گے۔ اے نبی! آپ انہیں چھوڑ دیجئیے قیامت والے دن خود انہیں معلوم ہو جائے گا اس دن ان کی ساری فریب کاریاں دھری کی دھری رہ جائیں گی، کوئی مکاری وہاں کام نہ دے گی، چوکڑی بھول جائیں گے اور چالاکی بھول جائیں گے۔ آج جن جن کو یہ پکارتے ہیں اور اپنا مددگار جانتے ہیں اس دن سب کے منہ تکیں گے اور کوئی نہ ہو گا جو ان کی ذرا سی بھی مدد کر سکے بلکہ ان کی طرف سے کچھ عذر بھی پیش کر سکے یہی نہیں کہ انہیں صرف قیامت کے دن ہی عذاب ہو اور یہاں اطمینان و آرام کے ساتھ زندگی گزار لیں بلکہ ان ناانصافوں کے لیے اس سے پہلے دنیا میں بھی عذاب تیار ہیں۔
صفحہ نمبر8892
طے شدہ بدنصیب اور نشست و برخواست کے آداب ٭٭
مشرکوں اور کافروں کے عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ اپنی سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اللہ کے عذاب کو محسوس کر لینے کے بعد بھی انہیں ایمان کی توفیق نہ ہو گی، یہ اگر دیکھ لیں گے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا اللہ کا عذاب بن کر ان کے سروں پر گر رہا ہے، تو بھی انہیں تصدیق و یقین نہ ہو گا بلکہ صاف کہہ دیں گے کہ غلیظ ابر ہے جو پانی برسانے کو آ رہا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ» * «لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ» [15-الحجر:15،14] ” اور اگر ہم ان پر آسمان کا دروازه کھول بھی دیں اور یہ وہاں چڑھنے بھی لگ جائیں، تب بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے “، یعنی معجزات جو یہ طلب کر رہے ہیں اگر ان کی چاہت کے مطابق ہی دکھا دئیے جائیں بلکہ خود انہیں آسمانوں پر چڑھا دیا جائے جب بھی یہ کوئی بات بنا کر ٹال دیں گے اور ایمان نہ لائیں گے۔ اے نبی! آپ انہیں چھوڑ دیجئیے قیامت والے دن خود انہیں معلوم ہو جائے گا اس دن ان کی ساری فریب کاریاں دھری کی دھری رہ جائیں گی، کوئی مکاری وہاں کام نہ دے گی، چوکڑی بھول جائیں گے اور چالاکی بھول جائیں گے۔ آج جن جن کو یہ پکارتے ہیں اور اپنا مددگار جانتے ہیں اس دن سب کے منہ تکیں گے اور کوئی نہ ہو گا جو ان کی ذرا سی بھی مدد کر سکے بلکہ ان کی طرف سے کچھ عذر بھی پیش کر سکے یہی نہیں کہ انہیں صرف قیامت کے دن ہی عذاب ہو اور یہاں اطمینان و آرام کے ساتھ زندگی گزار لیں بلکہ ان ناانصافوں کے لیے اس سے پہلے دنیا میں بھی عذاب تیار ہیں۔
صفحہ نمبر8892
ظالموں کا حال ٭٭
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ» [32-السجدة:21] یعنی ” بالیقین ہم انہیں قریب کے چھوٹے سے بعض عذاب اس بڑے عذاب کے سوا چکھائیں گے تاکہ وه لوٹ آئیں “ لیکن ان میں سے اکثر بےعلم ہیں نہیں جانتے کہ یہ دنیوی مصیبتوں میں بھی مبتلا ہوں گے اور اللہ کی نافرمانیاں رنگ لائیں گی۔ یہی بےعلمی ہے جو انہیں اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ گناہ پر گناہ، ظلم پر ظلم کرتے جائیں۔ پکڑے جانے پر عبرت حاصل ہوتی ہے لیکن جیسے ہی پکڑ ہٹی یہ پھر ویسے کے ویسے، سخت دل بدکار بن گئے۔
بعض احادیث میں ہے کہ منافق کی مثال اونٹ کی سی ہے جس طرح اونٹ نہیں جانتا کہ اسے کیوں باندھا اور کیوں کھولا؟ [سنن ابوداود:3089،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اسی طرح منافق بھی نہیں جانتا کہ کیوں بیمار کیا گیا؟ اور کیوں تندرست کر دیا گیا؟ اثر الٰہی میں ہے کہ میں کتنی ایک تیری نافرمانیاں کروں گا اور تو مجھے سزا نہ دے گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے میرے بندے کتنی مرتبہ میں نے تجھے عافیت دی اور تجھے علم بھی نہ ہوا۔
صفحہ نمبر8895
حمد باری کا حکم ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ اے نبی! آپ صبر کیجئے ان کی ایذاء دہی سے تنگ دل نہ ہو جائیے، ان کی طرف سے کوئی خطرہ بھی دل میں نہ لائیے، سنئیے آپ ہماری حفاظت میں ہیں، آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، آپ کی نگہبانی کے ذمہ دار ہم ہیں، تمام دشمنوں سے آپ کو بچانا ہمارے سپرد ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ جب آپ کھڑے ہوں تو اللہ کی پاکی اور تعریف بیان کیجئے اس کا ایک مطلب یہ کیا گیا ہے کہ جب رات کو جاگیں۔ دونوں مطلب درست ہیں
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نماز کو شروع کرتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے «سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ، وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکَ» یعنی اے اللہ تو پاک ہے تمام تعریفوں کا مستحق ہے تیرا نام برکتوں والا ہے تیری بزرگی بہت بلند و بالا ہے، تیرے سوا معبود برحق کوئی اور نہیں ۔
مسند احمد اور سنن میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا مروی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کو جاگے اور کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير. الحمد لله، وسبحان الله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله» پھر خواہ اپنے لیے بخشش کی دعا کرے خواہ جو چاہے طلب کرے اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے پھر اگر اس نے پختہ ارادہ کیا اور وضو کر کے نماز بھی ادا کی تو وہ نماز قبول کی جاتی ہے۔ یہ حدیث صحیح بخاری شریف میں اور سنن میں بھی ہے“ ۔ [صحیح بخاری:1154]
صفحہ نمبر8896
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی تسبیح اور حمد کے بیان کرنے کا حکم ہر مجلس سے کھڑے ہونے کے وقت ہے۔ ابوالاحوص رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے کہ جب مجلس سے اٹھنا چاہے یہ پڑھے «سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ» عطا بن ابورباح رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر اس مجلس میں نیکی ہوئی ہے تو وہ اور بڑھ جاتی ہے اور اگر کچھ اور ہوا ہے تو یہ کلمہ اس کا کفارہ ہو جاتا ہے۔
جامع عبدالرزاق میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی کہ جب کبھی کسی مجلس سے کھڑے ہوں تو «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وبَحَمْدكَ أشْهدُ أنْ لا إلهَ إلا أنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وأتُوبُ إِلَيْكَ» پڑھو۔ اس کے راوی معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے یہ بھی سنا ہے کہ یہ قول اس مجلس کا کفارہ ہو جاتا ہے ۔ [عبدالرزاق:19796مرسل] یہ حدیث تو مرسل ہے لیکن مسند حدیثیں بھی اس بارے میں بہت سی مروی ہیں جن کی سندیں ایک دوسری کو تقویت پہنچاتی ہیں۔
ایک حدیث میں ہے جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے وہاں کچھ بک جھک ہو اور کھڑا ہونے سے پہلے ان کلمات کو کہہ لے تو اس مجلس میں جو کچھ ہوا ہے اس کا کفارہ ہو جاتا ہے ۔ [سنن ترمذي:3433،قال الشيخ الألباني:حسن] اس حدیث کو امام ترمذی حسن صحیح کہتے ہیں۔
امام حاکم اسے مستدرک میں روایت کر کے فرماتے ہیں اس کی سند شرط مسلم پر ہے، ہاں امام بخاری نے اس میں علت نکالی ہے، میں کہتا ہوں امام احمد، امام مسلم، امام ابوحاتم، امام ابوزرعہ، امام دارقطنی رحمہم اللہ وغیرہ نے بھی اسے معلول کہا ہے اور وہم کی نسبت ابن جریج کی طرف کی ہے مگر یہ روایت ابوداؤد میں جس سند سے مروی ہے اس میں ابن جریج رحمہ اللہ ہیں ہی نہیں، اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں جس مجلس سے کھڑے ہوتے ان کلمات کو کہتے بلکہ ایک شخص نے پوچھا بھی کہ یا رسول اللہ! آپ اس سے پہلے تو اسے نہیں کہتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجلس میں جو کچھ ہوا ہو یہ کلمات اس کا کفارہ ہو جاتے ہیں“ ، یہ روایت مرسل سند سے بھی ابوالعالیہ رحمہ اللہ سے مروی ہے «واللہ اعلم» نسائی وغیرہ۔ [سنن ابوداود:4859،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8897
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ کلمات ایسے ہیں کہ جو انہیں مجلس سے اٹھتے وقت تین مرتبہ کہہ لے اس کے لیے یہ کفارہ ہو جاتے ہیں، مجلس خیر اور مجلس ذکر میں انہیں کہنے سے یہ مثل مہر کے ہو جاتے ہیں [ ابوداؤد وغیرہ ] الحمداللہ میں نے ایک علیحدہ جزو میں ان تمام احادیث کو ان کے الفاظ کو اور ان کی سندوں کو جمع کر دیا ہے اور ان کی علتیں بھی بیان کر دی ہیں اور اس کے متعلق جو کچھ لکھنا تھا لکھ دیا ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ رات کے وقت اس کی یاد اور اس کی عبادت تلاوت اور نماز کے ساتھ کرتے رہو جیسے فرمان ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] رات کے وقت تہجد پڑھا کرو، یہ تیرے لیے نفل ہے، ممکن ہے تیرا رب تجھے مقام محمود پر اٹھائے۔ ستاروں کے ڈوبتے وقت سے مراد صبح کی فرض نماز سے پہلے کی دو رکعتیں ہیں کہ وہ دونوں ستاروں کے غروب ہونے کے لیے جھک جانے کے وقت پڑھی جاتی ہیں چنانچہ ایک مرفوع حدیث میں ہے ان سنتوں کو نہ چھوڑو گو تمہیں گھوڑے کچل ڈالیں۔ [سنن ابوداود:1258،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اسی حدیث پر نظریں رکھ کر امام احمد رحمہ اللہ کے بعض اصحاب نے تو انہیں واجب کہا ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ حدیث میں ہے دن رات میں پانچ نمازیں ہیں، سننے والے نے کہا: کیا مجھ پر اس کے سوا اور کچھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں مگر یہ کہ تو نفل ادا کرے۔“ [صحیح بخاری:1891]
بخاری و مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سے کسی نفل کی بہ نسبت صبح کی دو سنتوں کے زیادہ پابندی اور نگرانی نہ کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:1169]
صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبح کے فرضوں سے پہلے یہ دو سنتیں ساری دنیا سے اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہیں“ ۔ [صحیح مسلم:96]
«الحمداللہ» سورۃ الطور کی تفسیر پوری ہوئی۔
صفحہ نمبر8898
حمد باری کا حکم ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ اے نبی! آپ صبر کیجئے ان کی ایذاء دہی سے تنگ دل نہ ہو جائیے، ان کی طرف سے کوئی خطرہ بھی دل میں نہ لائیے، سنئیے آپ ہماری حفاظت میں ہیں، آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، آپ کی نگہبانی کے ذمہ دار ہم ہیں، تمام دشمنوں سے آپ کو بچانا ہمارے سپرد ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ جب آپ کھڑے ہوں تو اللہ کی پاکی اور تعریف بیان کیجئے اس کا ایک مطلب یہ کیا گیا ہے کہ جب رات کو جاگیں۔ دونوں مطلب درست ہیں
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نماز کو شروع کرتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے «سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ، وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکَ» یعنی اے اللہ تو پاک ہے تمام تعریفوں کا مستحق ہے تیرا نام برکتوں والا ہے تیری بزرگی بہت بلند و بالا ہے، تیرے سوا معبود برحق کوئی اور نہیں ۔
مسند احمد اور سنن میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا مروی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کو جاگے اور کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير. الحمد لله، وسبحان الله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله» پھر خواہ اپنے لیے بخشش کی دعا کرے خواہ جو چاہے طلب کرے اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے پھر اگر اس نے پختہ ارادہ کیا اور وضو کر کے نماز بھی ادا کی تو وہ نماز قبول کی جاتی ہے۔ یہ حدیث صحیح بخاری شریف میں اور سنن میں بھی ہے“ ۔ [صحیح بخاری:1154]
صفحہ نمبر8896
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی تسبیح اور حمد کے بیان کرنے کا حکم ہر مجلس سے کھڑے ہونے کے وقت ہے۔ ابوالاحوص رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے کہ جب مجلس سے اٹھنا چاہے یہ پڑھے «سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ» عطا بن ابورباح رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر اس مجلس میں نیکی ہوئی ہے تو وہ اور بڑھ جاتی ہے اور اگر کچھ اور ہوا ہے تو یہ کلمہ اس کا کفارہ ہو جاتا ہے۔
جامع عبدالرزاق میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی کہ جب کبھی کسی مجلس سے کھڑے ہوں تو «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وبَحَمْدكَ أشْهدُ أنْ لا إلهَ إلا أنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وأتُوبُ إِلَيْكَ» پڑھو۔ اس کے راوی معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے یہ بھی سنا ہے کہ یہ قول اس مجلس کا کفارہ ہو جاتا ہے ۔ [عبدالرزاق:19796مرسل] یہ حدیث تو مرسل ہے لیکن مسند حدیثیں بھی اس بارے میں بہت سی مروی ہیں جن کی سندیں ایک دوسری کو تقویت پہنچاتی ہیں۔
ایک حدیث میں ہے جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے وہاں کچھ بک جھک ہو اور کھڑا ہونے سے پہلے ان کلمات کو کہہ لے تو اس مجلس میں جو کچھ ہوا ہے اس کا کفارہ ہو جاتا ہے ۔ [سنن ترمذي:3433،قال الشيخ الألباني:حسن] اس حدیث کو امام ترمذی حسن صحیح کہتے ہیں۔
امام حاکم اسے مستدرک میں روایت کر کے فرماتے ہیں اس کی سند شرط مسلم پر ہے، ہاں امام بخاری نے اس میں علت نکالی ہے، میں کہتا ہوں امام احمد، امام مسلم، امام ابوحاتم، امام ابوزرعہ، امام دارقطنی رحمہم اللہ وغیرہ نے بھی اسے معلول کہا ہے اور وہم کی نسبت ابن جریج کی طرف کی ہے مگر یہ روایت ابوداؤد میں جس سند سے مروی ہے اس میں ابن جریج رحمہ اللہ ہیں ہی نہیں، اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں جس مجلس سے کھڑے ہوتے ان کلمات کو کہتے بلکہ ایک شخص نے پوچھا بھی کہ یا رسول اللہ! آپ اس سے پہلے تو اسے نہیں کہتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجلس میں جو کچھ ہوا ہو یہ کلمات اس کا کفارہ ہو جاتے ہیں“ ، یہ روایت مرسل سند سے بھی ابوالعالیہ رحمہ اللہ سے مروی ہے «واللہ اعلم» نسائی وغیرہ۔ [سنن ابوداود:4859،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8897
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ کلمات ایسے ہیں کہ جو انہیں مجلس سے اٹھتے وقت تین مرتبہ کہہ لے اس کے لیے یہ کفارہ ہو جاتے ہیں، مجلس خیر اور مجلس ذکر میں انہیں کہنے سے یہ مثل مہر کے ہو جاتے ہیں [ ابوداؤد وغیرہ ] الحمداللہ میں نے ایک علیحدہ جزو میں ان تمام احادیث کو ان کے الفاظ کو اور ان کی سندوں کو جمع کر دیا ہے اور ان کی علتیں بھی بیان کر دی ہیں اور اس کے متعلق جو کچھ لکھنا تھا لکھ دیا ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ رات کے وقت اس کی یاد اور اس کی عبادت تلاوت اور نماز کے ساتھ کرتے رہو جیسے فرمان ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الإسراء:79] رات کے وقت تہجد پڑھا کرو، یہ تیرے لیے نفل ہے، ممکن ہے تیرا رب تجھے مقام محمود پر اٹھائے۔ ستاروں کے ڈوبتے وقت سے مراد صبح کی فرض نماز سے پہلے کی دو رکعتیں ہیں کہ وہ دونوں ستاروں کے غروب ہونے کے لیے جھک جانے کے وقت پڑھی جاتی ہیں چنانچہ ایک مرفوع حدیث میں ہے ان سنتوں کو نہ چھوڑو گو تمہیں گھوڑے کچل ڈالیں۔ [سنن ابوداود:1258،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اسی حدیث پر نظریں رکھ کر امام احمد رحمہ اللہ کے بعض اصحاب نے تو انہیں واجب کہا ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ حدیث میں ہے دن رات میں پانچ نمازیں ہیں، سننے والے نے کہا: کیا مجھ پر اس کے سوا اور کچھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں مگر یہ کہ تو نفل ادا کرے۔“ [صحیح بخاری:1891]
بخاری و مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سے کسی نفل کی بہ نسبت صبح کی دو سنتوں کے زیادہ پابندی اور نگرانی نہ کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:1169]
صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صبح کے فرضوں سے پہلے یہ دو سنتیں ساری دنیا سے اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہیں“ ۔ [صحیح مسلم:96]
«الحمداللہ» سورۃ الطور کی تفسیر پوری ہوئی۔
صفحہ نمبر8898