Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah An-Najm
Tafsir Ibn Kathir · The Star · 62 ayat · ayat 1–30 · Quran text →
تفسیر سورۃ النجم:
صحیح بخاری میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے پہلی سورت جس میں سجدہ تھا سورۃ النجم اتری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے جتنے تھے سب نے سجدہ کیا لیکن ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ اس نے اپنی مٹھی میں مٹی لے کر اسی پر سجدہ کر لیا پھر میں نے دیکھا کہ وہ اس کے بعد کفر کی حالت میں ہی مارا گیا یہ امیہ بن خلف تھا۔ (صحیح بخاری:1067) لیکن اس میں ایک اشکال یہ ہے کہ دوسری روایت میں ہے کہ یہ عتبہ بن ربیعہ تھا۔
تفسیر سورۂ النجم ٭٭
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا لے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی [ابن ابی حاتم] ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا ستارے کا غائب ہونا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:503/11]
بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہو سکتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت «فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ» * «وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ» * «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» * «فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ» * «لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ» * «تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» [56-الواقعة:80-75] ہے۔
صفحہ نمبر8900
باب
پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں، وہ بے علمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپ کا راستہ سیدھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول، کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپ کو حکم الٰہی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے، کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام پاک ہوتا ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں، مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے، برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے، قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر۔“ اس پر ایک شخص نے کہا: کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔“ [مسند احمد:257/5:صحیح بطرقه و شواھد]
صفحہ نمبر8901
مسند کی اور حدیث میں ہے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا، اسے حفظ کرنے کے لیے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں، کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں، چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھ لیا کرو، اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا۔“ [مسند احمد:192/2،صحیح] یہ حدیث ابوداؤد [سنن ابوداود:3646،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے۔
بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔“ [مسند بزار:121]
مسند احمد میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا“ اس پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ ! کبھی کبھی آپ ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔“ [مسند احمد:340/2:حسن]
صفحہ نمبر8902
تفسیر سورۃ النجم:
صحیح بخاری میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے پہلی سورت جس میں سجدہ تھا سورۃ النجم اتری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے جتنے تھے سب نے سجدہ کیا لیکن ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ اس نے اپنی مٹھی میں مٹی لے کر اسی پر سجدہ کر لیا پھر میں نے دیکھا کہ وہ اس کے بعد کفر کی حالت میں ہی مارا گیا یہ امیہ بن خلف تھا۔ (صحیح بخاری:1067) لیکن اس میں ایک اشکال یہ ہے کہ دوسری روایت میں ہے کہ یہ عتبہ بن ربیعہ تھا۔
تفسیر سورۂ النجم ٭٭
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا لے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی [ابن ابی حاتم] ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا ستارے کا غائب ہونا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:503/11]
بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہو سکتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت «فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ» * «وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ» * «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» * «فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ» * «لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ» * «تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» [56-الواقعة:80-75] ہے۔
صفحہ نمبر8900
باب
پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں، وہ بے علمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپ کا راستہ سیدھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول، کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپ کو حکم الٰہی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے، کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام پاک ہوتا ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں، مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے، برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے، قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر۔“ اس پر ایک شخص نے کہا: کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔“ [مسند احمد:257/5:صحیح بطرقه و شواھد]
صفحہ نمبر8901
مسند کی اور حدیث میں ہے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا، اسے حفظ کرنے کے لیے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں، کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں، چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھ لیا کرو، اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا۔“ [مسند احمد:192/2،صحیح] یہ حدیث ابوداؤد [سنن ابوداود:3646،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے۔
بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔“ [مسند بزار:121]
مسند احمد میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا“ اس پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ ! کبھی کبھی آپ ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔“ [مسند احمد:340/2:حسن]
صفحہ نمبر8902
تفسیر سورۃ النجم:
صحیح بخاری میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے پہلی سورت جس میں سجدہ تھا سورۃ النجم اتری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے جتنے تھے سب نے سجدہ کیا لیکن ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ اس نے اپنی مٹھی میں مٹی لے کر اسی پر سجدہ کر لیا پھر میں نے دیکھا کہ وہ اس کے بعد کفر کی حالت میں ہی مارا گیا یہ امیہ بن خلف تھا۔ (صحیح بخاری:1067) لیکن اس میں ایک اشکال یہ ہے کہ دوسری روایت میں ہے کہ یہ عتبہ بن ربیعہ تھا۔
تفسیر سورۂ النجم ٭٭
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا لے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی [ابن ابی حاتم] ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا ستارے کا غائب ہونا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:503/11]
بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہو سکتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت «فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ» * «وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ» * «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» * «فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ» * «لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ» * «تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» [56-الواقعة:80-75] ہے۔
صفحہ نمبر8900
باب
پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں، وہ بے علمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپ کا راستہ سیدھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول، کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپ کو حکم الٰہی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے، کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام پاک ہوتا ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں، مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے، برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے، قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر۔“ اس پر ایک شخص نے کہا: کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔“ [مسند احمد:257/5:صحیح بطرقه و شواھد]
صفحہ نمبر8901
مسند کی اور حدیث میں ہے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا، اسے حفظ کرنے کے لیے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں، کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں، چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھ لیا کرو، اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا۔“ [مسند احمد:192/2،صحیح] یہ حدیث ابوداؤد [سنن ابوداود:3646،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے۔
بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔“ [مسند بزار:121]
مسند احمد میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا“ اس پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ ! کبھی کبھی آپ ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔“ [مسند احمد:340/2:حسن]
صفحہ نمبر8902
تفسیر سورۃ النجم:
صحیح بخاری میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے پہلی سورت جس میں سجدہ تھا سورۃ النجم اتری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے جتنے تھے سب نے سجدہ کیا لیکن ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ اس نے اپنی مٹھی میں مٹی لے کر اسی پر سجدہ کر لیا پھر میں نے دیکھا کہ وہ اس کے بعد کفر کی حالت میں ہی مارا گیا یہ امیہ بن خلف تھا۔ (صحیح بخاری:1067) لیکن اس میں ایک اشکال یہ ہے کہ دوسری روایت میں ہے کہ یہ عتبہ بن ربیعہ تھا۔
تفسیر سورۂ النجم ٭٭
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا لے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی [ابن ابی حاتم] ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا ستارے کا غائب ہونا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:503/11]
بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہو سکتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت «فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ» * «وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ» * «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» * «فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ» * «لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ» * «تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» [56-الواقعة:80-75] ہے۔
صفحہ نمبر8900
باب
پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں، وہ بے علمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپ کا راستہ سیدھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول، کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپ کو حکم الٰہی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے، کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام پاک ہوتا ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں، مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے، برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے، قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر۔“ اس پر ایک شخص نے کہا: کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔“ [مسند احمد:257/5:صحیح بطرقه و شواھد]
صفحہ نمبر8901
مسند کی اور حدیث میں ہے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا، اسے حفظ کرنے کے لیے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں، کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں، چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھ لیا کرو، اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا۔“ [مسند احمد:192/2،صحیح] یہ حدیث ابوداؤد [سنن ابوداود:3646،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے۔
بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔“ [مسند بزار:121]
مسند احمد میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا“ اس پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ ! کبھی کبھی آپ ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔“ [مسند احمد:340/2:حسن]
صفحہ نمبر8902
تعارف جبرائیل امین علیہ السلام ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” محمد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے معلم جبرائیل علیہ السلام ہیں۔“ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ» [81-التكوير:19-21] ” یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے۔ “ یہاں بھی فرمایا ” وہ قوت والا ہے۔ “ آیت «ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے۔ حدیث میں بھی «مِرَّةٍ» کا لفظ آیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ” «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي» صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔“ [سنن ابوداود:1634،قال الشيخ الألباني:صحیح]
” پھر وہ سیدھے کھڑے ہو گئے “ یعنی جبرائیل علیہ السلام، ” اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے۔“
ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] کا۔ [ضعیف]
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے۔
صفحہ نمبر8906
امام ابن جریر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لیے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جبرائیل علیہ السلام اترے تھے اور قریب ہو گئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اس کے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔
یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی چند آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو چکی تھیں پھر وحی بند ہو گئی تھی جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے جبرائیل علیہ السلام کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غم غلط ہو جاتا، دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہو جاتا واپس چلے آتے۔ [فتح الباری:360/12]
لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامن گیر ہوتا اور وحی الٰہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح جبرائیل علیہ السلام تسکین و تسلی کر دیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے، چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لیے تھے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب آ گئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔
مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کی تائید میں پیش ہو سکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں۔
صفحہ نمبر8907
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جا سکتی۔ ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو۔
اس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں، ایک میں تو جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا، میں نے دیکھا کہ جبرائیل،اس وقت ہیبت الٰہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا، میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ [مسند احمد:395/1:اسنادہ ضعیف]
صفحہ نمبر8908
مسند میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد، موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیہوش ہو گئے، جبرائیل علیہ السلام فوراً آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ [مسند احمد:322/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8909
ابن عساکر میں ہے کہ ابولہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا: سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چنانچہ یہ آیا اور کہا اے محمد! جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آ گیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بے ادب تھا اور باربار گستاخی سے پیش آتا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے لیے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے۔
یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا: بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہو گیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سر زمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا، راہب نے ان سے کہا: یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آ گئے؟ ابولہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا: دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لیے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے، تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو۔ لوگوں نے اسے منظور کر لیا۔ یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا، جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا، اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا، پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابولہب کہنے لگا، اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ [مستدرک حاکم:539/2:صحیح]
صفحہ نمبر8910
تعارف جبرائیل امین علیہ السلام ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” محمد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے معلم جبرائیل علیہ السلام ہیں۔“ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ» [81-التكوير:19-21] ” یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے۔ “ یہاں بھی فرمایا ” وہ قوت والا ہے۔ “ آیت «ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے۔ حدیث میں بھی «مِرَّةٍ» کا لفظ آیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ” «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي» صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔“ [سنن ابوداود:1634،قال الشيخ الألباني:صحیح]
” پھر وہ سیدھے کھڑے ہو گئے “ یعنی جبرائیل علیہ السلام، ” اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے۔“
ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] کا۔ [ضعیف]
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے۔
صفحہ نمبر8906
امام ابن جریر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لیے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جبرائیل علیہ السلام اترے تھے اور قریب ہو گئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اس کے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔
یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی چند آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو چکی تھیں پھر وحی بند ہو گئی تھی جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے جبرائیل علیہ السلام کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غم غلط ہو جاتا، دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہو جاتا واپس چلے آتے۔ [فتح الباری:360/12]
لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامن گیر ہوتا اور وحی الٰہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح جبرائیل علیہ السلام تسکین و تسلی کر دیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے، چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لیے تھے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب آ گئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔
مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کی تائید میں پیش ہو سکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں۔
صفحہ نمبر8907
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جا سکتی۔ ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو۔
اس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں، ایک میں تو جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا، میں نے دیکھا کہ جبرائیل،اس وقت ہیبت الٰہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا، میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ [مسند احمد:395/1:اسنادہ ضعیف]
صفحہ نمبر8908
مسند میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد، موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیہوش ہو گئے، جبرائیل علیہ السلام فوراً آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ [مسند احمد:322/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8909
ابن عساکر میں ہے کہ ابولہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا: سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چنانچہ یہ آیا اور کہا اے محمد! جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آ گیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بے ادب تھا اور باربار گستاخی سے پیش آتا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے لیے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے۔
یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا: بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہو گیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سر زمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا، راہب نے ان سے کہا: یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آ گئے؟ ابولہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا: دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لیے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے، تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو۔ لوگوں نے اسے منظور کر لیا۔ یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا، جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا، اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا، پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابولہب کہنے لگا، اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ [مستدرک حاکم:539/2:صحیح]
صفحہ نمبر8910
تعارف جبرائیل امین علیہ السلام ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” محمد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے معلم جبرائیل علیہ السلام ہیں۔“ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ» [81-التكوير:19-21] ” یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے۔ “ یہاں بھی فرمایا ” وہ قوت والا ہے۔ “ آیت «ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے۔ حدیث میں بھی «مِرَّةٍ» کا لفظ آیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ” «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي» صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔“ [سنن ابوداود:1634،قال الشيخ الألباني:صحیح]
” پھر وہ سیدھے کھڑے ہو گئے “ یعنی جبرائیل علیہ السلام، ” اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے۔“
ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] کا۔ [ضعیف]
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے۔
صفحہ نمبر8906
امام ابن جریر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لیے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جبرائیل علیہ السلام اترے تھے اور قریب ہو گئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اس کے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔
یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» [96-العلق:1] کی چند آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو چکی تھیں پھر وحی بند ہو گئی تھی جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے جبرائیل علیہ السلام کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غم غلط ہو جاتا، دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہو جاتا واپس چلے آتے۔ [فتح الباری:360/12]
لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامن گیر ہوتا اور وحی الٰہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح جبرائیل علیہ السلام تسکین و تسلی کر دیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے، چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لیے تھے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب آ گئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔
مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کی تائید میں پیش ہو سکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں۔
صفحہ نمبر8907
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جا سکتی۔ ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو۔
اس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں، ایک میں تو جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا، میں نے دیکھا کہ جبرائیل،اس وقت ہیبت الٰہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا، میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ [مسند احمد:395/1:اسنادہ ضعیف]
صفحہ نمبر8908
مسند میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد، موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیہوش ہو گئے، جبرائیل علیہ السلام فوراً آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ [مسند احمد:322/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8909
ابن عساکر میں ہے کہ ابولہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا: سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چنانچہ یہ آیا اور کہا اے محمد! جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آ گیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بے ادب تھا اور باربار گستاخی سے پیش آتا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے لیے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے۔
یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا: بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہو گیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سر زمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا، راہب نے ان سے کہا: یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آ گئے؟ ابولہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا: دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لیے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے، تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو۔ لوگوں نے اسے منظور کر لیا۔ یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا، جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا، اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا، پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابولہب کہنے لگا، اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ [مستدرک حاکم:539/2:صحیح]
صفحہ نمبر8910
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “
یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔
جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “
ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “
اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “
پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر8913
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] میں ہے۔ [صحیح مسلم:286]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
صفحہ نمبر8914
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔
پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
صفحہ نمبر8915
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔
جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8916
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔
ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8917
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291]
ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] پڑھی۔ [ضعیف]
اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف]
عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔
ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح]
چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8918
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔
پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح]
صفحہ نمبر8919
مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855]
مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186]
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
صفحہ نمبر8920
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
صفحہ نمبر8921
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“
ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8922
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “
یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔
جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “
ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “
اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “
پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر8913
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] میں ہے۔ [صحیح مسلم:286]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
صفحہ نمبر8914
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔
پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
صفحہ نمبر8915
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔
جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8916
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔
ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8917
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291]
ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] پڑھی۔ [ضعیف]
اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف]
عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔
ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح]
چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8918
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔
پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح]
صفحہ نمبر8919
مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855]
مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186]
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
صفحہ نمبر8920
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
صفحہ نمبر8921
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“
ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8922
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “
یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔
جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “
ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “
اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “
پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر8913
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] میں ہے۔ [صحیح مسلم:286]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
صفحہ نمبر8914
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔
پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
صفحہ نمبر8915
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔
جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8916
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔
ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8917
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291]
ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] پڑھی۔ [ضعیف]
اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف]
عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔
ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح]
چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8918
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔
پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح]
صفحہ نمبر8919
مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855]
مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186]
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
صفحہ نمبر8920
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
صفحہ نمبر8921
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“
ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8922
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “
یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔
جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “
ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “
اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “
پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر8913
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] میں ہے۔ [صحیح مسلم:286]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
صفحہ نمبر8914
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔
پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
صفحہ نمبر8915
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔
جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8916
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔
ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8917
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291]
ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] پڑھی۔ [ضعیف]
اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف]
عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔
ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح]
چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8918
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔
پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح]
صفحہ نمبر8919
مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855]
مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186]
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
صفحہ نمبر8920
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
صفحہ نمبر8921
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“
ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8922
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “
یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔
جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “
ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “
اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “
پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر8913
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] میں ہے۔ [صحیح مسلم:286]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
صفحہ نمبر8914
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔
پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
صفحہ نمبر8915
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔
جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8916
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔
ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8917
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291]
ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] پڑھی۔ [ضعیف]
اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف]
عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔
ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح]
چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8918
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔
پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح]
صفحہ نمبر8919
مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855]
مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186]
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
صفحہ نمبر8920
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
صفحہ نمبر8921
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“
ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8922
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “
یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔
جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “
ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “
اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “
پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر8913
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] میں ہے۔ [صحیح مسلم:286]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
صفحہ نمبر8914
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔
پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
صفحہ نمبر8915
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔
جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8916
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔
ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8917
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291]
ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] پڑھی۔ [ضعیف]
اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف]
عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔
ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح]
چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8918
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔
پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح]
صفحہ نمبر8919
مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855]
مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186]
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
صفحہ نمبر8920
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
صفحہ نمبر8921
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“
ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8922
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “
یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔
جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “
ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “
اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “
پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر8913
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] میں ہے۔ [صحیح مسلم:286]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
صفحہ نمبر8914
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔
پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
صفحہ نمبر8915
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔
جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8916
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔
ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8917
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291]
ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] پڑھی۔ [ضعیف]
اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف]
عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔
ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح]
چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8918
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔
پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح]
صفحہ نمبر8919
مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855]
مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186]
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
صفحہ نمبر8920
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
صفحہ نمبر8921
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“
ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8922
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “
یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔
جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “
ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “
اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “
پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر8913
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] میں ہے۔ [صحیح مسلم:286]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
صفحہ نمبر8914
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔
پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
صفحہ نمبر8915
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔
جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8916
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔
ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8917
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291]
ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] پڑھی۔ [ضعیف]
اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف]
عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔
ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح]
چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8918
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔
پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح]
صفحہ نمبر8919
مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855]
مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186]
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
صفحہ نمبر8920
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
صفحہ نمبر8921
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“
ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8922
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “
یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔
جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “
ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “
اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “
پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر8913
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] میں ہے۔ [صحیح مسلم:286]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
صفحہ نمبر8914
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔
پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
صفحہ نمبر8915
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔
جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8916
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔
ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8917
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291]
ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] پڑھی۔ [ضعیف]
اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف]
عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔
ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح]
چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8918
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔
پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح]
صفحہ نمبر8919
مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855]
مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186]
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
صفحہ نمبر8920
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
صفحہ نمبر8921
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“
ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8922
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “
یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔
جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “
ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “
اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “
پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر8913
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] میں ہے۔ [صحیح مسلم:286]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
صفحہ نمبر8914
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔
پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
صفحہ نمبر8915
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔
جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8916
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔
ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8917
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291]
ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] پڑھی۔ [ضعیف]
اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف]
عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔
ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح]
چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8918
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔
پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح]
صفحہ نمبر8919
مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855]
مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186]
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
صفحہ نمبر8920
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
صفحہ نمبر8921
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“
ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8922
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ” جبرائیل، نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ “
یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔
جیسے اور جگہ ہے ” پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں “ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» [2-البقرة:74] ” بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت“ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ” پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ “
ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» [4-النساء:77] ” وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے “ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ” بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ “
اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» [37-الصفات:147] ” ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف “ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ” اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ “
پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر8913
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] میں ہے۔ [صحیح مسلم:286]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
صفحہ نمبر8914
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔
پھر فرمایا ” اس نے وحی کی “ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
صفحہ نمبر8915
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔
جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر8916
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الانعام:103] ” اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ “ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔
ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر8917
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ [صحیح مسلم:291]
ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ [صحیح مسلم:291]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] پڑھی۔ [ضعیف]
اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» [53-النجم:8] پڑھی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف]
عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔
ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ [مسند احمد:285/1:صحیح]
چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر8918
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ” کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ “ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔
پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ” اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ “ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ [مسند احمد:49/6:صحیح]
صفحہ نمبر8919
مسند احمد میں ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4855]
مسند احمد میں ہے عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ [صحیح مسلم:186]
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
صفحہ نمبر8920
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:279]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ” جو مانگنا ہو مانگو۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
صفحہ نمبر8921
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» [20-طه:23] ” اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔“
ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
صفحہ نمبر8922
بت کدے کیا تھے؟ ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔
«لات» ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا، غلاف چڑھائے جاتے تھے، مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے، اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے، اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا، قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ «لات» بنایا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/11] گویا اس کا مؤنث بنایا تھا۔
اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ «لات» تا کی تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے «لات» اس معنی میں اس لیے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا، موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا، اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کر دی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ «عزیٰ» لفظ «عزیز» سے لیا گیا ہے مکے اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابوسفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا «عزیٰ» ہے اور تمہارا نہیں، جس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری والی کوئی نہیں۔ [صحیح بخاری:3039]
صفحہ نمبر8933
صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے اسے چاہیئے کہ فوراً «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آو جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیئے۔ [صحیح بخاری:4860]
مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔ سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» پڑھ لو اور تین مرتبہ «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا۔“ [سنن ابن ماجہ:2097،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مکے اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں «مناۃ» تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لیے جاتے تھے۔ [صحیح بخاری:4861] اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لیے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔
ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا۔ [سیرۃ ابن ھشام:83/1]
اس بت کے توڑنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہتے جاتے تھے «یَا عُزَّی کُفْرَانَكِ لَا سُبْحَانَك» *** «اِنِّیْ رَاَیْتُ اللهَ قَدْ اَهانَكِ» اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا جو کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ نہیں کیا، لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ۔“ خالد رضی اللہ عنہ کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکر و فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر ”یا عزیٰ، یا عزیٰ“ کے نعرے لگائے، خالد رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزیٰ یہی تھی۔“ [سنن نسائی:567:حسن]
صفحہ نمبر8934
«لات» قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیرہ بن شعبہ اور ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہم کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنا دی۔
«مناۃ» اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔
«ذوالخلصہ» نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فنا ہوا
«فلس» نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مامور ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں۔
قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں «ریام» نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کر دیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور «رضا» نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔
ابن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے۔ «ذوالکعبات» نامی صنم خانہ بکر تغلب اور ایاد قبیلے کا سنداد میں تھا۔
پھر فرماتا ہے کہ ” تمہارے لیے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں؟“ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہو گا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لیے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لیے لڑکے پسند کرو “۔
صفحہ نمبر8935
بت کدے کیا تھے؟ ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔
«لات» ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا، غلاف چڑھائے جاتے تھے، مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے، اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے، اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا، قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ «لات» بنایا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/11] گویا اس کا مؤنث بنایا تھا۔
اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ «لات» تا کی تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے «لات» اس معنی میں اس لیے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا، موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا، اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کر دی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ «عزیٰ» لفظ «عزیز» سے لیا گیا ہے مکے اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابوسفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا «عزیٰ» ہے اور تمہارا نہیں، جس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری والی کوئی نہیں۔ [صحیح بخاری:3039]
صفحہ نمبر8933
صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے اسے چاہیئے کہ فوراً «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آو جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیئے۔ [صحیح بخاری:4860]
مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔ سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» پڑھ لو اور تین مرتبہ «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا۔“ [سنن ابن ماجہ:2097،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مکے اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں «مناۃ» تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لیے جاتے تھے۔ [صحیح بخاری:4861] اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لیے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔
ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا۔ [سیرۃ ابن ھشام:83/1]
اس بت کے توڑنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہتے جاتے تھے «یَا عُزَّی کُفْرَانَكِ لَا سُبْحَانَك» *** «اِنِّیْ رَاَیْتُ اللهَ قَدْ اَهانَكِ» اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا جو کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ نہیں کیا، لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ۔“ خالد رضی اللہ عنہ کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکر و فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر ”یا عزیٰ، یا عزیٰ“ کے نعرے لگائے، خالد رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزیٰ یہی تھی۔“ [سنن نسائی:567:حسن]
صفحہ نمبر8934
«لات» قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیرہ بن شعبہ اور ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہم کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنا دی۔
«مناۃ» اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔
«ذوالخلصہ» نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فنا ہوا
«فلس» نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مامور ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں۔
قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں «ریام» نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کر دیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور «رضا» نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔
ابن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے۔ «ذوالکعبات» نامی صنم خانہ بکر تغلب اور ایاد قبیلے کا سنداد میں تھا۔
پھر فرماتا ہے کہ ” تمہارے لیے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں؟“ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہو گا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لیے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لیے لڑکے پسند کرو “۔
صفحہ نمبر8935
بت کدے کیا تھے؟ ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔
«لات» ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا، غلاف چڑھائے جاتے تھے، مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے، اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے، اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا، قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ «لات» بنایا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/11] گویا اس کا مؤنث بنایا تھا۔
اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ «لات» تا کی تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے «لات» اس معنی میں اس لیے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا، موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا، اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کر دی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ «عزیٰ» لفظ «عزیز» سے لیا گیا ہے مکے اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابوسفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا «عزیٰ» ہے اور تمہارا نہیں، جس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری والی کوئی نہیں۔ [صحیح بخاری:3039]
صفحہ نمبر8933
صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے اسے چاہیئے کہ فوراً «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آو جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیئے۔ [صحیح بخاری:4860]
مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔ سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» پڑھ لو اور تین مرتبہ «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا۔“ [سنن ابن ماجہ:2097،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مکے اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں «مناۃ» تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لیے جاتے تھے۔ [صحیح بخاری:4861] اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لیے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔
ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا۔ [سیرۃ ابن ھشام:83/1]
اس بت کے توڑنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہتے جاتے تھے «یَا عُزَّی کُفْرَانَكِ لَا سُبْحَانَك» *** «اِنِّیْ رَاَیْتُ اللهَ قَدْ اَهانَكِ» اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا جو کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ نہیں کیا، لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ۔“ خالد رضی اللہ عنہ کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکر و فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر ”یا عزیٰ، یا عزیٰ“ کے نعرے لگائے، خالد رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزیٰ یہی تھی۔“ [سنن نسائی:567:حسن]
صفحہ نمبر8934
«لات» قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیرہ بن شعبہ اور ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہم کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنا دی۔
«مناۃ» اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔
«ذوالخلصہ» نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فنا ہوا
«فلس» نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مامور ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں۔
قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں «ریام» نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کر دیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور «رضا» نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔
ابن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے۔ «ذوالکعبات» نامی صنم خانہ بکر تغلب اور ایاد قبیلے کا سنداد میں تھا۔
پھر فرماتا ہے کہ ” تمہارے لیے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں؟“ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہو گا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لیے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لیے لڑکے پسند کرو “۔
صفحہ نمبر8935
بت کدے کیا تھے؟ ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔
«لات» ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا، غلاف چڑھائے جاتے تھے، مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے، اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے، اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا، قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ «لات» بنایا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/11] گویا اس کا مؤنث بنایا تھا۔
اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ «لات» تا کی تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے «لات» اس معنی میں اس لیے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا، موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا، اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کر دی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ «عزیٰ» لفظ «عزیز» سے لیا گیا ہے مکے اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابوسفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا «عزیٰ» ہے اور تمہارا نہیں، جس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری والی کوئی نہیں۔ [صحیح بخاری:3039]
صفحہ نمبر8933
صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے اسے چاہیئے کہ فوراً «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آو جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیئے۔ [صحیح بخاری:4860]
مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔ سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» پڑھ لو اور تین مرتبہ «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا۔“ [سنن ابن ماجہ:2097،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مکے اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں «مناۃ» تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لیے جاتے تھے۔ [صحیح بخاری:4861] اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لیے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔
ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا۔ [سیرۃ ابن ھشام:83/1]
اس بت کے توڑنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہتے جاتے تھے «یَا عُزَّی کُفْرَانَكِ لَا سُبْحَانَك» *** «اِنِّیْ رَاَیْتُ اللهَ قَدْ اَهانَكِ» اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا جو کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ نہیں کیا، لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ۔“ خالد رضی اللہ عنہ کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکر و فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر ”یا عزیٰ، یا عزیٰ“ کے نعرے لگائے، خالد رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزیٰ یہی تھی۔“ [سنن نسائی:567:حسن]
صفحہ نمبر8934
«لات» قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیرہ بن شعبہ اور ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہم کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنا دی۔
«مناۃ» اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔
«ذوالخلصہ» نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فنا ہوا
«فلس» نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مامور ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں۔
قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں «ریام» نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کر دیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور «رضا» نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔
ابن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے۔ «ذوالکعبات» نامی صنم خانہ بکر تغلب اور ایاد قبیلے کا سنداد میں تھا۔
پھر فرماتا ہے کہ ” تمہارے لیے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں؟“ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہو گا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لیے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لیے لڑکے پسند کرو “۔
صفحہ نمبر8935
باب
پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جو چاہا نام گھڑ لیا ہے، ورنہ نہ وہ معبود ہیں، نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں۔ خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں، مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں، مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آ جانے، اللہ کی باتیں واضح ہو جانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔
پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان کی ہر تمنا خواہ مخواہ پوری ہو ہی جاتی ہے؟ جو کہے میں حق پر ہوں تو کیا وہ حق پر ہو ہی گیا؟ تم گو دعوے لمبے چوڑے کرو لیکن دعوؤں سے مراد اور مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ “ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمنا کرتے وقت سوچ لیا کرو کہ کیا تمنا کرتے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم کہ اس تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا؟“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2255،]
تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہو گا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لیے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا، جیسے فرمایا «مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ» [2-البقرة:255] ” کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کر سکے۔“ «وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ» [34-سبأ:23] ” اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ “ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے، تمام رسول علیہ السلام اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔
صفحہ نمبر8939
باب
پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جو چاہا نام گھڑ لیا ہے، ورنہ نہ وہ معبود ہیں، نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں۔ خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں، مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں، مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آ جانے، اللہ کی باتیں واضح ہو جانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔
پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان کی ہر تمنا خواہ مخواہ پوری ہو ہی جاتی ہے؟ جو کہے میں حق پر ہوں تو کیا وہ حق پر ہو ہی گیا؟ تم گو دعوے لمبے چوڑے کرو لیکن دعوؤں سے مراد اور مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ “ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمنا کرتے وقت سوچ لیا کرو کہ کیا تمنا کرتے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم کہ اس تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا؟“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2255،]
تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہو گا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لیے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا، جیسے فرمایا «مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ» [2-البقرة:255] ” کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کر سکے۔“ «وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ» [34-سبأ:23] ” اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ “ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے، تمام رسول علیہ السلام اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔
صفحہ نمبر8939
باب
پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جو چاہا نام گھڑ لیا ہے، ورنہ نہ وہ معبود ہیں، نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں۔ خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں، مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں، مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آ جانے، اللہ کی باتیں واضح ہو جانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔
پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان کی ہر تمنا خواہ مخواہ پوری ہو ہی جاتی ہے؟ جو کہے میں حق پر ہوں تو کیا وہ حق پر ہو ہی گیا؟ تم گو دعوے لمبے چوڑے کرو لیکن دعوؤں سے مراد اور مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ “ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمنا کرتے وقت سوچ لیا کرو کہ کیا تمنا کرتے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم کہ اس تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا؟“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2255،]
تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہو گا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لیے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا، جیسے فرمایا «مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ» [2-البقرة:255] ” کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کر سکے۔“ «وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ» [34-سبأ:23] ” اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ “ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے، تمام رسول علیہ السلام اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔
صفحہ نمبر8939
باب
پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جو چاہا نام گھڑ لیا ہے، ورنہ نہ وہ معبود ہیں، نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں۔ خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں، مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں، مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آ جانے، اللہ کی باتیں واضح ہو جانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔
پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان کی ہر تمنا خواہ مخواہ پوری ہو ہی جاتی ہے؟ جو کہے میں حق پر ہوں تو کیا وہ حق پر ہو ہی گیا؟ تم گو دعوے لمبے چوڑے کرو لیکن دعوؤں سے مراد اور مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ “ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمنا کرتے وقت سوچ لیا کرو کہ کیا تمنا کرتے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم کہ اس تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا؟“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2255،]
تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہو گا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لیے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا، جیسے فرمایا «مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ» [2-البقرة:255] ” کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کر سکے۔“ «وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ» [34-سبأ:23] ” اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ “ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے، تمام رسول علیہ السلام اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔
صفحہ نمبر8939
آخرت کا گھر اور دنیا ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» [43-الزخرف:19] یعنی ” اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرسش کی جائے گی۔ “
یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے۔ محض جھوٹ، کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے۔ [صحیح بخاری:6066]
صفحہ نمبر8943
پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کر لیں، ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے، اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال ہو اسے جمع کرنے کی دھن میں وہ رہتا ہے۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1933،]
ایک منقول دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں «اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا» پروردگار! تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ [سنن ترمذي:3502،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے، جسے چاہے ہدایت دے، جسے چاہے ضلالت دے، سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بے انصافی نہیں کرتا۔
صفحہ نمبر8944
آخرت کا گھر اور دنیا ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» [43-الزخرف:19] یعنی ” اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرسش کی جائے گی۔ “
یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے۔ محض جھوٹ، کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے۔ [صحیح بخاری:6066]
صفحہ نمبر8943
پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کر لیں، ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے، اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال ہو اسے جمع کرنے کی دھن میں وہ رہتا ہے۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1933،]
ایک منقول دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں «اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا» پروردگار! تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ [سنن ترمذي:3502،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے، جسے چاہے ہدایت دے، جسے چاہے ضلالت دے، سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بے انصافی نہیں کرتا۔
صفحہ نمبر8944
آخرت کا گھر اور دنیا ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» [43-الزخرف:19] یعنی ” اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرسش کی جائے گی۔ “
یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے۔ محض جھوٹ، کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے۔ [صحیح بخاری:6066]
صفحہ نمبر8943
پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کر لیں، ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے، اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال ہو اسے جمع کرنے کی دھن میں وہ رہتا ہے۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1933،]
ایک منقول دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں «اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا» پروردگار! تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ [سنن ترمذي:3502،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے، جسے چاہے ہدایت دے، جسے چاہے ضلالت دے، سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بے انصافی نہیں کرتا۔
صفحہ نمبر8944
آخرت کا گھر اور دنیا ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» [43-الزخرف:19] یعنی ” اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرسش کی جائے گی۔ “
یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے۔ محض جھوٹ، کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے۔ [صحیح بخاری:6066]
صفحہ نمبر8943
پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کر لیں، ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے، اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال ہو اسے جمع کرنے کی دھن میں وہ رہتا ہے۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1933،]
ایک منقول دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں «اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا» پروردگار! تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ [سنن ترمذي:3502،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے، جسے چاہے ہدایت دے، جسے چاہے ضلالت دے، سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بے انصافی نہیں کرتا۔
صفحہ نمبر8944