Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Qamar
Tafsir Ibn Kathir · The Moon · 55 ayat · ayat 1–30 · Quran text →
تفسیر سورۃ القمر:
واقدی کی روایت سے پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں سورۃ ق اور سورۃ اقتربت الساعۃ پڑھا کرتے تھے اسی طرح بڑی بڑی محفلوں میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم:891) کیونکہ اس میں وعدے وعید کا، ابتداء آفرینش اور دوبارہ زندگی کا، ساتھ ہی توحید اور اثبات رسالت وغیرہ اہم مقاصد اسلامیہ کا ذکر ہے۔
قیامت قریب آ چکی ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» [16-النحل:1] یعنی ” اللہ کا امر آ چکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو “۔
اور فرمایا «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ» [21-الأنبياء:1] یعنی ” لوگوں کے حساب کا وقت ان کے سروں پر آ پہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں “۔
اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں، مسند بزار میں ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خطبہ دیا جس میں فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا کے گزرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گزرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے ۔ اس حدیث کے راویوں میں خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے۔ [مسند بزار343/2]
صفحہ نمبر8991
باب
دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہو چکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے“ ۔ [مسند احمد:116/2:حسن]
مسند کی اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے ۔ [مسند احمد:338/5:صحیح]
ولید بن عبدالملک کے پاس جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر آپ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم اور قربتِ قیامت ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو“ ۔ [مسند احمد:223/3:صحیح]
اس کی شہادت اس حدیث سے ہو سکتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام «حاشر» آیا ہے اور «حاشر» وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو۔ [صحیح بخاری:3532]
صفحہ نمبر8992
بہز کی روایت سے مروی ہے کہ سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہو چکا، یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھا لیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے، اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا، صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے، تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں، پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ، سنو! ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہو گی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی ۔ [صحیح مسلم:2967]
صفحہ نمبر8993
ابوعبدالرحمٰن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لیے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا سیدنا حذیفہ خطیب رضی اللہ عنہ تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: لوگو سنو! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند دو ٹکرے ہو گیا۔ بیشک قیامت قریب آ چکی ہے، بیشک چاند پھٹ گیا ہے، بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے، آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے، کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہو گا، میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہو گی؟ جس میں آگے نکلنا ہو گا؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا: تم نادان ہو، یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ «غایت» آگ ہے اور «سابق» وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں «اللزام» بدر کی لڑائی کی ہلاکت، «الروم» غلبہ روم، «البطشة» سخت پکڑ، «القمر» چاند کے ٹکڑے ہونا اور «والدخان» دھواں یہ سب گزر چکا ہے۔ [صحیح بخاری:4825]
اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہو گیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے ۔ [صحیح مسلم:2802]
بخاری میں ہے کہ انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے، ایک حراء کے اس طرف، ایک اس طرف [صحیح بخاری:3285] ۔
مسند میں ہے ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد نے ہماری آنکھوں پر جادو کر دیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کر دیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کر سکتا ۔ [مسند احمد:81/4:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں ۔ [طبرانی کبیر:11642:ضعیف]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ“، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے۔ [صحیح مسلم:2801-44]
صفحہ نمبر8994
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا“ ۔ [صحیح مسلم:48] آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب منیٰ میں تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:32697:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے۔
ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ [ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو، ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کر سکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چنانچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے، کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آ کر یہی کہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا، جب کبھی آیا، جس طرف سے آیا، ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:545/11:]
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا ۔ [مسند احمد:413/1:صحیح]
صفحہ نمبر8995
اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصاً سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوبکر! تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:32714:مرسل]
کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آ چکے ہیں، ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لا سکتا۔ جیسے فرمایا «قُلْ فَلِلَّـهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ» [6-الانعام:149] ” اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا “۔
اور جگہ ہے «وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» [10-یونس:101] ” بے ایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا “۔ ٖ
صفحہ نمبر8996
تفسیر سورۃ القمر:
واقدی کی روایت سے پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں سورۃ ق اور سورۃ اقتربت الساعۃ پڑھا کرتے تھے اسی طرح بڑی بڑی محفلوں میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم:891) کیونکہ اس میں وعدے وعید کا، ابتداء آفرینش اور دوبارہ زندگی کا، ساتھ ہی توحید اور اثبات رسالت وغیرہ اہم مقاصد اسلامیہ کا ذکر ہے۔
قیامت قریب آ چکی ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» [16-النحل:1] یعنی ” اللہ کا امر آ چکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو “۔
اور فرمایا «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ» [21-الأنبياء:1] یعنی ” لوگوں کے حساب کا وقت ان کے سروں پر آ پہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں “۔
اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں، مسند بزار میں ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خطبہ دیا جس میں فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا کے گزرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گزرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے ۔ اس حدیث کے راویوں میں خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے۔ [مسند بزار343/2]
صفحہ نمبر8991
باب
دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہو چکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے“ ۔ [مسند احمد:116/2:حسن]
مسند کی اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے ۔ [مسند احمد:338/5:صحیح]
ولید بن عبدالملک کے پاس جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر آپ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم اور قربتِ قیامت ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو“ ۔ [مسند احمد:223/3:صحیح]
اس کی شہادت اس حدیث سے ہو سکتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام «حاشر» آیا ہے اور «حاشر» وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو۔ [صحیح بخاری:3532]
صفحہ نمبر8992
بہز کی روایت سے مروی ہے کہ سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہو چکا، یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھا لیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے، اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا، صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے، تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں، پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ، سنو! ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہو گی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی ۔ [صحیح مسلم:2967]
صفحہ نمبر8993
ابوعبدالرحمٰن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لیے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا سیدنا حذیفہ خطیب رضی اللہ عنہ تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: لوگو سنو! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند دو ٹکرے ہو گیا۔ بیشک قیامت قریب آ چکی ہے، بیشک چاند پھٹ گیا ہے، بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے، آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے، کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہو گا، میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہو گی؟ جس میں آگے نکلنا ہو گا؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا: تم نادان ہو، یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ «غایت» آگ ہے اور «سابق» وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں «اللزام» بدر کی لڑائی کی ہلاکت، «الروم» غلبہ روم، «البطشة» سخت پکڑ، «القمر» چاند کے ٹکڑے ہونا اور «والدخان» دھواں یہ سب گزر چکا ہے۔ [صحیح بخاری:4825]
اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہو گیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے ۔ [صحیح مسلم:2802]
بخاری میں ہے کہ انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے، ایک حراء کے اس طرف، ایک اس طرف [صحیح بخاری:3285] ۔
مسند میں ہے ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد نے ہماری آنکھوں پر جادو کر دیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کر دیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کر سکتا ۔ [مسند احمد:81/4:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں ۔ [طبرانی کبیر:11642:ضعیف]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ“، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے۔ [صحیح مسلم:2801-44]
صفحہ نمبر8994
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا“ ۔ [صحیح مسلم:48] آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب منیٰ میں تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:32697:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے۔
ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ [ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو، ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کر سکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چنانچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے، کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آ کر یہی کہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا، جب کبھی آیا، جس طرف سے آیا، ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:545/11:]
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا ۔ [مسند احمد:413/1:صحیح]
صفحہ نمبر8995
اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصاً سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوبکر! تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:32714:مرسل]
کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آ چکے ہیں، ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لا سکتا۔ جیسے فرمایا «قُلْ فَلِلَّـهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ» [6-الانعام:149] ” اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا “۔
اور جگہ ہے «وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» [10-یونس:101] ” بے ایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا “۔ ٖ
صفحہ نمبر8996
تفسیر سورۃ القمر:
واقدی کی روایت سے پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں سورۃ ق اور سورۃ اقتربت الساعۃ پڑھا کرتے تھے اسی طرح بڑی بڑی محفلوں میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم:891) کیونکہ اس میں وعدے وعید کا، ابتداء آفرینش اور دوبارہ زندگی کا، ساتھ ہی توحید اور اثبات رسالت وغیرہ اہم مقاصد اسلامیہ کا ذکر ہے۔
قیامت قریب آ چکی ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» [16-النحل:1] یعنی ” اللہ کا امر آ چکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو “۔
اور فرمایا «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ» [21-الأنبياء:1] یعنی ” لوگوں کے حساب کا وقت ان کے سروں پر آ پہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں “۔
اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں، مسند بزار میں ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خطبہ دیا جس میں فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا کے گزرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گزرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے ۔ اس حدیث کے راویوں میں خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے۔ [مسند بزار343/2]
صفحہ نمبر8991
باب
دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہو چکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے“ ۔ [مسند احمد:116/2:حسن]
مسند کی اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے ۔ [مسند احمد:338/5:صحیح]
ولید بن عبدالملک کے پاس جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر آپ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم اور قربتِ قیامت ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو“ ۔ [مسند احمد:223/3:صحیح]
اس کی شہادت اس حدیث سے ہو سکتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام «حاشر» آیا ہے اور «حاشر» وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو۔ [صحیح بخاری:3532]
صفحہ نمبر8992
بہز کی روایت سے مروی ہے کہ سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہو چکا، یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھا لیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے، اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا، صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے، تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں، پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ، سنو! ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہو گی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی ۔ [صحیح مسلم:2967]
صفحہ نمبر8993
ابوعبدالرحمٰن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لیے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا سیدنا حذیفہ خطیب رضی اللہ عنہ تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: لوگو سنو! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند دو ٹکرے ہو گیا۔ بیشک قیامت قریب آ چکی ہے، بیشک چاند پھٹ گیا ہے، بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے، آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے، کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہو گا، میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہو گی؟ جس میں آگے نکلنا ہو گا؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا: تم نادان ہو، یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ «غایت» آگ ہے اور «سابق» وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں «اللزام» بدر کی لڑائی کی ہلاکت، «الروم» غلبہ روم، «البطشة» سخت پکڑ، «القمر» چاند کے ٹکڑے ہونا اور «والدخان» دھواں یہ سب گزر چکا ہے۔ [صحیح بخاری:4825]
اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہو گیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے ۔ [صحیح مسلم:2802]
بخاری میں ہے کہ انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے، ایک حراء کے اس طرف، ایک اس طرف [صحیح بخاری:3285] ۔
مسند میں ہے ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد نے ہماری آنکھوں پر جادو کر دیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کر دیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کر سکتا ۔ [مسند احمد:81/4:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں ۔ [طبرانی کبیر:11642:ضعیف]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ“، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے۔ [صحیح مسلم:2801-44]
صفحہ نمبر8994
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا“ ۔ [صحیح مسلم:48] آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب منیٰ میں تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:32697:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے۔
ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ [ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو، ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کر سکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چنانچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے، کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آ کر یہی کہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا، جب کبھی آیا، جس طرف سے آیا، ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:545/11:]
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا ۔ [مسند احمد:413/1:صحیح]
صفحہ نمبر8995
اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصاً سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوبکر! تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:32714:مرسل]
کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آ چکے ہیں، ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لا سکتا۔ جیسے فرمایا «قُلْ فَلِلَّـهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ» [6-الانعام:149] ” اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا “۔
اور جگہ ہے «وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» [10-یونس:101] ” بے ایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا “۔ ٖ
صفحہ نمبر8996
تفسیر سورۃ القمر:
واقدی کی روایت سے پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں سورۃ ق اور سورۃ اقتربت الساعۃ پڑھا کرتے تھے اسی طرح بڑی بڑی محفلوں میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم:891) کیونکہ اس میں وعدے وعید کا، ابتداء آفرینش اور دوبارہ زندگی کا، ساتھ ہی توحید اور اثبات رسالت وغیرہ اہم مقاصد اسلامیہ کا ذکر ہے۔
قیامت قریب آ چکی ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» [16-النحل:1] یعنی ” اللہ کا امر آ چکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو “۔
اور فرمایا «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ» [21-الأنبياء:1] یعنی ” لوگوں کے حساب کا وقت ان کے سروں پر آ پہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں “۔
اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں، مسند بزار میں ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خطبہ دیا جس میں فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا کے گزرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گزرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے ۔ اس حدیث کے راویوں میں خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے۔ [مسند بزار343/2]
صفحہ نمبر8991
باب
دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہو چکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے“ ۔ [مسند احمد:116/2:حسن]
مسند کی اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے ۔ [مسند احمد:338/5:صحیح]
ولید بن عبدالملک کے پاس جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر آپ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم اور قربتِ قیامت ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو“ ۔ [مسند احمد:223/3:صحیح]
اس کی شہادت اس حدیث سے ہو سکتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام «حاشر» آیا ہے اور «حاشر» وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو۔ [صحیح بخاری:3532]
صفحہ نمبر8992
بہز کی روایت سے مروی ہے کہ سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہو چکا، یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھا لیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے، اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا، صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے، تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں، پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ، سنو! ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہو گی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی ۔ [صحیح مسلم:2967]
صفحہ نمبر8993
ابوعبدالرحمٰن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لیے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا سیدنا حذیفہ خطیب رضی اللہ عنہ تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: لوگو سنو! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند دو ٹکرے ہو گیا۔ بیشک قیامت قریب آ چکی ہے، بیشک چاند پھٹ گیا ہے، بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے، آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے، کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہو گا، میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہو گی؟ جس میں آگے نکلنا ہو گا؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا: تم نادان ہو، یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ «غایت» آگ ہے اور «سابق» وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں «اللزام» بدر کی لڑائی کی ہلاکت، «الروم» غلبہ روم، «البطشة» سخت پکڑ، «القمر» چاند کے ٹکڑے ہونا اور «والدخان» دھواں یہ سب گزر چکا ہے۔ [صحیح بخاری:4825]
اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہو گیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے ۔ [صحیح مسلم:2802]
بخاری میں ہے کہ انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے، ایک حراء کے اس طرف، ایک اس طرف [صحیح بخاری:3285] ۔
مسند میں ہے ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد نے ہماری آنکھوں پر جادو کر دیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کر دیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کر سکتا ۔ [مسند احمد:81/4:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں ۔ [طبرانی کبیر:11642:ضعیف]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ“، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے۔ [صحیح مسلم:2801-44]
صفحہ نمبر8994
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا“ ۔ [صحیح مسلم:48] آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب منیٰ میں تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:32697:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے۔
ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ [ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو، ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کر سکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چنانچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے، کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آ کر یہی کہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا، جب کبھی آیا، جس طرف سے آیا، ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:545/11:]
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا ۔ [مسند احمد:413/1:صحیح]
صفحہ نمبر8995
اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصاً سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوبکر! تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:32714:مرسل]
کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آ چکے ہیں، ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لا سکتا۔ جیسے فرمایا «قُلْ فَلِلَّـهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ» [6-الانعام:149] ” اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا “۔
اور جگہ ہے «وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» [10-یونس:101] ” بے ایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا “۔ ٖ
صفحہ نمبر8996
تفسیر سورۃ القمر:
واقدی کی روایت سے پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں سورۃ ق اور سورۃ اقتربت الساعۃ پڑھا کرتے تھے اسی طرح بڑی بڑی محفلوں میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم:891) کیونکہ اس میں وعدے وعید کا، ابتداء آفرینش اور دوبارہ زندگی کا، ساتھ ہی توحید اور اثبات رسالت وغیرہ اہم مقاصد اسلامیہ کا ذکر ہے۔
قیامت قریب آ چکی ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» [16-النحل:1] یعنی ” اللہ کا امر آ چکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو “۔
اور فرمایا «اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ» [21-الأنبياء:1] یعنی ” لوگوں کے حساب کا وقت ان کے سروں پر آ پہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں “۔
اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں، مسند بزار میں ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو خطبہ دیا جس میں فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا کے گزرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گزرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے ۔ اس حدیث کے راویوں میں خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے۔ [مسند بزار343/2]
صفحہ نمبر8991
باب
دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہو چکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے“ ۔ [مسند احمد:116/2:حسن]
مسند کی اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے ۔ [مسند احمد:338/5:صحیح]
ولید بن عبدالملک کے پاس جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر آپ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم اور قربتِ قیامت ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو“ ۔ [مسند احمد:223/3:صحیح]
اس کی شہادت اس حدیث سے ہو سکتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ناموں میں سے ایک نام «حاشر» آیا ہے اور «حاشر» وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو۔ [صحیح بخاری:3532]
صفحہ نمبر8992
بہز کی روایت سے مروی ہے کہ سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہو چکا، یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھا لیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے، اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا، صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے، تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں، پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ، سنو! ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہو گی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی ۔ [صحیح مسلم:2967]
صفحہ نمبر8993
ابوعبدالرحمٰن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لیے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا سیدنا حذیفہ خطیب رضی اللہ عنہ تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: لوگو سنو! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آ گئی اور چاند دو ٹکرے ہو گیا۔ بیشک قیامت قریب آ چکی ہے، بیشک چاند پھٹ گیا ہے، بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے، آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے، کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہو گا، میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہو گی؟ جس میں آگے نکلنا ہو گا؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا: تم نادان ہو، یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ «غایت» آگ ہے اور «سابق» وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں «اللزام» بدر کی لڑائی کی ہلاکت، «الروم» غلبہ روم، «البطشة» سخت پکڑ، «القمر» چاند کے ٹکڑے ہونا اور «والدخان» دھواں یہ سب گزر چکا ہے۔ [صحیح بخاری:4825]
اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہو گیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے ۔ [صحیح مسلم:2802]
بخاری میں ہے کہ انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے، ایک حراء کے اس طرف، ایک اس طرف [صحیح بخاری:3285] ۔
مسند میں ہے ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد نے ہماری آنکھوں پر جادو کر دیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کر دیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کر سکتا ۔ [مسند احمد:81/4:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں ۔ [طبرانی کبیر:11642:ضعیف]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ رہ“، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے۔ [صحیح مسلم:2801-44]
صفحہ نمبر8994
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا“ ۔ [صحیح مسلم:48] آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب منیٰ میں تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:32697:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے۔
ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ [ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو، ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کر سکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چنانچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے، کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آ کر یہی کہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا، جب کبھی آیا، جس طرف سے آیا، ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:545/11:]
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا ۔ [مسند احمد:413/1:صحیح]
صفحہ نمبر8995
اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصاً سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوبکر! تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:32714:مرسل]
کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آ چکے ہیں، ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لا سکتا۔ جیسے فرمایا «قُلْ فَلِلَّـهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ» [6-الانعام:149] ” اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا “۔
اور جگہ ہے «وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» [10-یونس:101] ” بے ایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا “۔ ٖ
صفحہ نمبر8996
معجزات بھی بےاثر ٭٭
رشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کارآمد نہیں، چھوڑ دو، ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لیے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہو گی، جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی، ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہو گی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر جس طرح ٹڈی دل چلتا ہے یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے، پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے، نہ مخالفت کی تاب ہے، نہ دیر لگانے کی طاقت «ذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ» * «عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ» [74-المدثر:9،10] اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر کافر چیخ اٹھیں گے کہ یہ تو بڑا بھاری اور بےحد سخت دن ہے۔
صفحہ نمبر9001
معجزات بھی بےاثر ٭٭
رشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کارآمد نہیں، چھوڑ دو، ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لیے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہو گی، جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی، ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہو گی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر جس طرح ٹڈی دل چلتا ہے یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے، پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے، نہ مخالفت کی تاب ہے، نہ دیر لگانے کی طاقت «ذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ» * «عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ» [74-المدثر:9،10] اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر کافر چیخ اٹھیں گے کہ یہ تو بڑا بھاری اور بےحد سخت دن ہے۔
صفحہ نمبر9001
معجزات بھی بےاثر ٭٭
رشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کارآمد نہیں، چھوڑ دو، ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لیے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہو گی، جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی، ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہو گی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر جس طرح ٹڈی دل چلتا ہے یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے، پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے، نہ مخالفت کی تاب ہے، نہ دیر لگانے کی طاقت «ذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ» * «عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ» [74-المدثر:9،10] اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر کافر چیخ اٹھیں گے کہ یہ تو بڑا بھاری اور بےحد سخت دن ہے۔
صفحہ نمبر9001
دیرینہ انداز کفر ٭٭
یعنی اے نبی! آپ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے نوح تھے تکذیب کی، اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا، ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ «قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ» [26-الشعراء:116] ” اے نوح علیہ السلام اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے “، ہمارے بندے اور رسول نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں، میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کر سکتا ہوں، تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے، ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا گیا۔
صفحہ نمبر9004
دیرینہ انداز کفر ٭٭
یعنی اے نبی! آپ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے نوح تھے تکذیب کی، اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا، ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ «قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ» [26-الشعراء:116] ” اے نوح علیہ السلام اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے “، ہمارے بندے اور رسول نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں، میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کر سکتا ہوں، تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے، ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا گیا۔
صفحہ نمبر9004
دیرینہ انداز کفر ٭٭
یعنی اے نبی! آپ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے نوح تھے تکذیب کی، اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا، ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ «قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ» [26-الشعراء:116] ” اے نوح علیہ السلام اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے “، ہمارے بندے اور رسول نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں، میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کر سکتا ہوں، تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے، ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا گیا۔
صفحہ نمبر9004
طوفان نوح ٭٭
موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔
صفحہ نمبر9007
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] یعنی ” ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] یعنی ” جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ “۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے ۔ [مسند احمد:395/1:صحیح]
اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے ۔ [صحیح بخاری:4874] اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔
پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔
صفحہ نمبر9008
جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ” ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ”۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] یعنی ” ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے “۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے ۔ [صحیح بخاری:2419] اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔
صفحہ نمبر9009
طوفان نوح ٭٭
موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔
صفحہ نمبر9007
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] یعنی ” ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] یعنی ” جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ “۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے ۔ [مسند احمد:395/1:صحیح]
اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے ۔ [صحیح بخاری:4874] اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔
پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔
صفحہ نمبر9008
جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ” ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ”۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] یعنی ” ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے “۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے ۔ [صحیح بخاری:2419] اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔
صفحہ نمبر9009
طوفان نوح ٭٭
موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔
صفحہ نمبر9007
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] یعنی ” ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] یعنی ” جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ “۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے ۔ [مسند احمد:395/1:صحیح]
اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے ۔ [صحیح بخاری:4874] اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔
پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔
صفحہ نمبر9008
جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ” ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ”۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] یعنی ” ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے “۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے ۔ [صحیح بخاری:2419] اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔
صفحہ نمبر9009
طوفان نوح ٭٭
موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔
صفحہ نمبر9007
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] یعنی ” ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] یعنی ” جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ “۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے ۔ [مسند احمد:395/1:صحیح]
اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے ۔ [صحیح بخاری:4874] اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔
پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔
صفحہ نمبر9008
جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ” ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ”۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] یعنی ” ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے “۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے ۔ [صحیح بخاری:2419] اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔
صفحہ نمبر9009
طوفان نوح ٭٭
موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔
صفحہ نمبر9007
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] یعنی ” ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] یعنی ” جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ “۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے ۔ [مسند احمد:395/1:صحیح]
اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے ۔ [صحیح بخاری:4874] اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔
پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔
صفحہ نمبر9008
جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ” ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ”۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] یعنی ” ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے “۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے ۔ [صحیح بخاری:2419] اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔
صفحہ نمبر9009
طوفان نوح ٭٭
موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے، ہر طرف پانی بھر جاتا ہے، نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے، نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے، پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا، نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا، نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے، ادھر سے آسمان کی یہ رنگت، ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہو گئی۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کر لیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ «دُسُر» کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح و سالم آرپار جار ہی تھی۔ نوح علیہ السلام کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا۔
صفحہ نمبر9007
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ» * «وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ» [36-يس:42،41] یعنی ” ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ» * «لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:12،11] یعنی ” جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لیے نصیحت و عبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے؟ “۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مُدَّكِرٍ» پڑھایا ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے ۔ [مسند احمد:395/1:صحیح]
اسود رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے؟ فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دال کے ساتھ سنا ہے ۔ [صحیح بخاری:4874] اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دال کے ساتھ سنا ہے۔
پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست و نابود کر دیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لیے آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے۔
صفحہ نمبر9008
جیسے فرمایا «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ» [38-ص:29] ” ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لیے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں ”۔ اور جگہ ہے «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مریم:97] یعنی ” ہم نے اسے تیری زبان پر اس لیے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے “۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کر دی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گزر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے ۔ [صحیح بخاری:2419] اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کر دیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لیے بالکل آسان ہے۔
صفحہ نمبر9009
کفار کی بدترین روایات ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔
صفحہ نمبر9015
کفار کی بدترین روایات ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔
صفحہ نمبر9015
کفار کی بدترین روایات ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔
صفحہ نمبر9015
کفار کی بدترین روایات ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔
صفحہ نمبر9015
کفار کی بدترین روایات ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔
صفحہ نمبر9015
فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭
ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔
جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔
جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9020
فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭
ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔
جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔
جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9020
فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭
ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔
جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔
جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9020
فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭
ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔
جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔
جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9020
فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭
ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔
جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔
جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9020
فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭
ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔
جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔
جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9020
فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭
ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔
جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔
جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9020
فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭
ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔
جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔
جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9020