John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Qamar

Tafsir Ibn Kathir · The Moon · 55 ayat · ayat 31–55 · Quran text →

فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭

ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔

جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ‏ ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔

جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ‏ ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9020

فریب نظر کا شکار لوگ ٭٭

ثمودیوں نے اللہ کے رسول صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم، ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے، ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ علیہ السلام کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا، بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے: اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا؟، ان کی آزمائش کے لیے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو، دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ہی کا رہے گا، اب ان سے کہہ دیجئیے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہو گا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔

جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [26-الشعراء:155] ‏ ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا۔

جیسے اور آیت میں ہے «ذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا» [91-الشمس:12] ‏ ان کا بدترین آدمی اٹھا، اس نے آ کر اسے پکڑا اور زخمی کیا، پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہو جاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بے نام و نشان کر دیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انہیں بھی برباد کر دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہو جاتی ہے وہی حالت ان کی ہو گئی کہ ایک بھی نہ بچا، نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اوّل قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9020

ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭

لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔

پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] ‏ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] ‏ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔

جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟

صفحہ نمبر9030

ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭

لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔

پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] ‏ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] ‏ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔

جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟

صفحہ نمبر9030

ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭

لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔

پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] ‏ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] ‏ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔

جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟

صفحہ نمبر9030

ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭

لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔

پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] ‏ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] ‏ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔

جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟

صفحہ نمبر9030

ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭

لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔

پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] ‏ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] ‏ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔

جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟

صفحہ نمبر9030

ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭

لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔

پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] ‏ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] ‏ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔

جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟

صفحہ نمبر9030

ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭

لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔

پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] ‏ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] ‏ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔

جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟

صفحہ نمبر9030

ہم جنس پرستوں کی ہلاکت و بربادی ٭٭

لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لیے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے ان کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے، ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط علیہ السلام کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا، انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، لوط علیہ السلام پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود لوط علیہ السلام کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی، قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔

پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی، صرف آپ علیہ السلام اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لیے گئے، شاکروں کو اللہ اسی طرح برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گزاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے لوط علیہ السلام انہیں آگاہ کر چکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکما دینا چاہا۔ جبرائیل علیہ السلام، میکائیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے، پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت لوط علیہ السلام کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام بازی کی بد عادت تو تھی ہی، دوڑ بھاگ کر لوط علیہ السلام کے مکان کو گھیر لیا۔ لوط علیہ السلام نے دروازے بند کر لیے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں، جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، شام کا وقت تھا، لوط علیہ السلام انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ» [15-الحجر:71] ‏ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ «قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ» [11-هود:79] ‏ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔

جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گزر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور لوط علیہ السلام بےحد زچ آ گئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب جبرائیل علیہ السلام باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے، آنکھیں بالکل جاتی رہیں، اب تو لوط علیہ السلام کو برا کہتے ہوئے، دیواریں ٹٹولتے ہوئے، صبح کا وعدہ دے کر، پچھلے پاؤں واپس ہوئے لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آ گیا، جس میں سے نہ بھاگ سکے، نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے، عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا، یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کر سکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کر لے؟

صفحہ نمبر9030

سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭

فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔

صفحہ نمبر9038

پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] ‏ جاری تھیں ۔ [صحیح بخاری:4877] ‏

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔

صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] ‏ اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] ‏ مسلم میں یہ حدیث نہیں۔

صفحہ نمبر9039

سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭

فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔

صفحہ نمبر9038

پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] ‏ جاری تھیں ۔ [صحیح بخاری:4877] ‏

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔

صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] ‏ اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] ‏ مسلم میں یہ حدیث نہیں۔

صفحہ نمبر9039

سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭

فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔

صفحہ نمبر9038

پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] ‏ جاری تھیں ۔ [صحیح بخاری:4877] ‏

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔

صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] ‏ اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] ‏ مسلم میں یہ حدیث نہیں۔

صفحہ نمبر9039

سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭

فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔

صفحہ نمبر9038

پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] ‏ جاری تھیں ۔ [صحیح بخاری:4877] ‏

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔

صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] ‏ اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] ‏ مسلم میں یہ حدیث نہیں۔

صفحہ نمبر9039

سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭

فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔

صفحہ نمبر9038

پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] ‏ جاری تھیں ۔ [صحیح بخاری:4877] ‏

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔

صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] ‏ اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] ‏ مسلم میں یہ حدیث نہیں۔

صفحہ نمبر9039

سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام ٭٭

فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول موسیٰ اور ہارون علیہما السلام بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں، بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں، جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔

صفحہ نمبر9038

پھر فرماتا ہے: اے مشرکین قریش! اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لیے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ دی جائے؟ پھر فرماتا ہے: کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی وجہ سے نہیں چھوئے گی؟ اگر یہ خیال ہو تو انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کی یہ بدبختی توڑ دی جائے گی، ان کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا، انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا فرما رہے تھے ”اے اللہ! تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں، اے اللہ! اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے“، بس اتنا ہی کہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کیجئے، آپ نے بہت فریاد کر لی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں «سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ» * «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46،45] ‏ جاری تھیں ۔ [صحیح بخاری:4877] ‏

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کون سی جماعت ہو گی؟ جب بدر والے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آ گئی۔

صحیح بخاری میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی، اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت «بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ» [54-القمر:46] ‏ اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے [صحیح بخاری:4993] ‏ مسلم میں یہ حدیث نہیں۔

صفحہ نمبر9039

شکوک و شبہات کے مریض لوگ ٭٭

بدکار لوگ گمراہ ہو چکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں، خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بے خبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لیے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً» [25-الفرقان:2] ‏ ” ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا “۔

اور جگہ فرمایا «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» * «الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى» * «وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى» [87-سورةالأعلى:1-3] ‏ ” اپنے رب کی جو بلند و بالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی “۔

یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے۔ فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم نے صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں [صحیح مسلم:6696] ‏

بروایت «عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ» مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں۔ [مسند بزار:2265ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9045

ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا: ”یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے“ ۔ [طبرانی کبیر:5316صحیح] ‏

عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے، آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے، میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے، لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں ایسا ہو رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» * «إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ» ۔ [54-سورةالقمر:48،49] ‏ یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں ۔

صفحہ نمبر9046

ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا: اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو، لوگوں نے کہا: آپ نابینا ہیں، آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے؟ فرمایا: اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آ گئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا ۔ [مسند احمد:333/1:ضعیف] ‏

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک دوست شامی تھا، جس سے آپ کی خط و کتابت تھی، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے، آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے، اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا، آج سے بند سمجھنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے ۔ [سنن ابوداود:4613،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر9047

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو ۔ [مسند احمد:86/2:ضعیف] ‏

اس امت میں مسخ ہو گا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہو گا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں ۔ [سنن ترمذي:2153،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقلمندی بھی۔‏“ [صحیح مسلم:2655] ‏ صحیح حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن، پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لیے کہ اس طرح ”اگر“ کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2664] ‏

صفحہ نمبر9048

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے، قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے ۔ [مسند احمد:293/1] ‏

سیدنا ولید بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی! ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا مجھے بٹھا دو، جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا، تو آپ نے فرمایا: اے میرے پیارے بچے! ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو، میں نے پوچھا: ابا جی! میں یہ کیسے معلوم کر سکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے؟ فرمایا: اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا، وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا، وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا، میرے بچو سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا ”لکھ“ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا، اے بیٹے! اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہو گا ۔ [سنن ترمذي:2155،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔

صفحہ نمبر9049

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو، گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے۔‏“ [سنن ترمذي:2145،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی «وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ» [11-هود:7] ‏ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا ۔ [صحیح مسلم:2653] ‏ امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک و ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے، تو ٹھیک اسی طرح، جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے، دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہو جاتا ہے۔ عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے «اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولةً فیکون» یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔

صفحہ نمبر9050

شکوک و شبہات کے مریض لوگ ٭٭

بدکار لوگ گمراہ ہو چکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں، خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بے خبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لیے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً» [25-الفرقان:2] ‏ ” ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا “۔

اور جگہ فرمایا «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» * «الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى» * «وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى» [87-سورةالأعلى:1-3] ‏ ” اپنے رب کی جو بلند و بالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی “۔

یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے۔ فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم نے صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں [صحیح مسلم:6696] ‏

بروایت «عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ» مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں۔ [مسند بزار:2265ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9045

ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا: ”یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے“ ۔ [طبرانی کبیر:5316صحیح] ‏

عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے، آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے، میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے، لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں ایسا ہو رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» * «إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ» ۔ [54-سورةالقمر:48،49] ‏ یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں ۔

صفحہ نمبر9046

ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا: اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو، لوگوں نے کہا: آپ نابینا ہیں، آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے؟ فرمایا: اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آ گئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا ۔ [مسند احمد:333/1:ضعیف] ‏

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک دوست شامی تھا، جس سے آپ کی خط و کتابت تھی، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے، آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے، اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا، آج سے بند سمجھنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے ۔ [سنن ابوداود:4613،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر9047

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو ۔ [مسند احمد:86/2:ضعیف] ‏

اس امت میں مسخ ہو گا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہو گا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں ۔ [سنن ترمذي:2153،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقلمندی بھی۔‏“ [صحیح مسلم:2655] ‏ صحیح حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن، پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لیے کہ اس طرح ”اگر“ کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2664] ‏

صفحہ نمبر9048

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے، قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے ۔ [مسند احمد:293/1] ‏

سیدنا ولید بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی! ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا مجھے بٹھا دو، جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا، تو آپ نے فرمایا: اے میرے پیارے بچے! ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو، میں نے پوچھا: ابا جی! میں یہ کیسے معلوم کر سکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے؟ فرمایا: اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا، وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا، وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا، میرے بچو سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا ”لکھ“ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا، اے بیٹے! اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہو گا ۔ [سنن ترمذي:2155،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔

صفحہ نمبر9049

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو، گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے۔‏“ [سنن ترمذي:2145،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی «وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ» [11-هود:7] ‏ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا ۔ [صحیح مسلم:2653] ‏ امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک و ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے، تو ٹھیک اسی طرح، جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے، دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہو جاتا ہے۔ عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے «اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولةً فیکون» یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔

صفحہ نمبر9050

شکوک و شبہات کے مریض لوگ ٭٭

بدکار لوگ گمراہ ہو چکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں، خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بے خبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لیے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً» [25-الفرقان:2] ‏ ” ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا “۔

اور جگہ فرمایا «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» * «الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى» * «وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى» [87-سورةالأعلى:1-3] ‏ ” اپنے رب کی جو بلند و بالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی “۔

یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے۔ فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم نے صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں [صحیح مسلم:6696] ‏

بروایت «عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ» مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں۔ [مسند بزار:2265ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9045

ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا: ”یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے“ ۔ [طبرانی کبیر:5316صحیح] ‏

عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے، آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے، میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے، لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں ایسا ہو رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» * «إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ» ۔ [54-سورةالقمر:48،49] ‏ یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں ۔

صفحہ نمبر9046

ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا: اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو، لوگوں نے کہا: آپ نابینا ہیں، آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے؟ فرمایا: اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آ گئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا ۔ [مسند احمد:333/1:ضعیف] ‏

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک دوست شامی تھا، جس سے آپ کی خط و کتابت تھی، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے، آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے، اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا، آج سے بند سمجھنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے ۔ [سنن ابوداود:4613،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر9047

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو ۔ [مسند احمد:86/2:ضعیف] ‏

اس امت میں مسخ ہو گا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہو گا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں ۔ [سنن ترمذي:2153،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقلمندی بھی۔‏“ [صحیح مسلم:2655] ‏ صحیح حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن، پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لیے کہ اس طرح ”اگر“ کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2664] ‏

صفحہ نمبر9048

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے، قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے ۔ [مسند احمد:293/1] ‏

سیدنا ولید بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی! ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا مجھے بٹھا دو، جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا، تو آپ نے فرمایا: اے میرے پیارے بچے! ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو، میں نے پوچھا: ابا جی! میں یہ کیسے معلوم کر سکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے؟ فرمایا: اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا، وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا، وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا، میرے بچو سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا ”لکھ“ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا، اے بیٹے! اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہو گا ۔ [سنن ترمذي:2155،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔

صفحہ نمبر9049

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو، گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے۔‏“ [سنن ترمذي:2145،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی «وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ» [11-هود:7] ‏ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا ۔ [صحیح مسلم:2653] ‏ امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک و ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے، تو ٹھیک اسی طرح، جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے، دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہو جاتا ہے۔ عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے «اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولةً فیکون» یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔

صفحہ نمبر9050

شکوک و شبہات کے مریض لوگ ٭٭

بدکار لوگ گمراہ ہو چکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں، خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بے خبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لیے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً» [25-الفرقان:2] ‏ ” ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا “۔

اور جگہ فرمایا «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» * «الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى» * «وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى» [87-سورةالأعلى:1-3] ‏ ” اپنے رب کی جو بلند و بالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی “۔

یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے۔ فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم نے صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں [صحیح مسلم:6696] ‏

بروایت «عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ» مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں۔ [مسند بزار:2265ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9045

ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا: ”یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے“ ۔ [طبرانی کبیر:5316صحیح] ‏

عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے، آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے، میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے، لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں ایسا ہو رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» * «إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ» ۔ [54-سورةالقمر:48،49] ‏ یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں ۔

صفحہ نمبر9046

ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا: اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو، لوگوں نے کہا: آپ نابینا ہیں، آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے؟ فرمایا: اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آ گئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا ۔ [مسند احمد:333/1:ضعیف] ‏

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک دوست شامی تھا، جس سے آپ کی خط و کتابت تھی، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے، آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے، اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا، آج سے بند سمجھنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے ۔ [سنن ابوداود:4613،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر9047

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو ۔ [مسند احمد:86/2:ضعیف] ‏

اس امت میں مسخ ہو گا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہو گا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں ۔ [سنن ترمذي:2153،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقلمندی بھی۔‏“ [صحیح مسلم:2655] ‏ صحیح حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن، پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لیے کہ اس طرح ”اگر“ کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2664] ‏

صفحہ نمبر9048

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے، قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے ۔ [مسند احمد:293/1] ‏

سیدنا ولید بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی! ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا مجھے بٹھا دو، جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا، تو آپ نے فرمایا: اے میرے پیارے بچے! ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو، میں نے پوچھا: ابا جی! میں یہ کیسے معلوم کر سکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے؟ فرمایا: اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا، وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا، وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا، میرے بچو سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا ”لکھ“ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا، اے بیٹے! اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہو گا ۔ [سنن ترمذي:2155،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔

صفحہ نمبر9049

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو، گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے۔‏“ [سنن ترمذي:2145،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی «وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ» [11-هود:7] ‏ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا ۔ [صحیح مسلم:2653] ‏ امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک و ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے، تو ٹھیک اسی طرح، جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے، دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہو جاتا ہے۔ عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے «اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولةً فیکون» یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔

صفحہ نمبر9050

باب

ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لیے نصیحت و تذکیر نہیں؟

جیسے اور آیت میں فرمایا «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم مِّن قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُّرِيبٍ» [34-سورةسبا:54] ‏ یعنی ” ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا “۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو، اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے“ ۔ [سنن ابن ماجہ:4242،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سلیمان بن مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہو گیا جسے میں نے حقیر سمجھا، رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے، اے سلیمان! «لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا» یعنی ”صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہو جائیں گے، گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں، بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہو جا کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے، بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہو جاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر، ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہو گا۔‏“

صفحہ نمبر9054

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہو گی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان، نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہو گا، جو تمام چیزوں کا خالق ہے، سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا، ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا۔

مسند احمد میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عدل و انصاف کرنے والے نیک کردار لوگ اللہ کے پاس نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب ہوں گے، اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہی ہیں، یہ عادل لوگ وہ ہیں، جو اپنے احکام میں اپنے اہل و عیال میں اور جو چیز ان کے قبضے میں ہو، اس میں اللہ تعالٰی کے فرمان کے خلاف نہیں کرتے بلکہ عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں“ ۔ [صحیح مسلم:1827] ‏

«الحمداللہ» اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔

صفحہ نمبر9055

باب

ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لیے نصیحت و تذکیر نہیں؟

جیسے اور آیت میں فرمایا «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم مِّن قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُّرِيبٍ» [34-سورةسبا:54] ‏ یعنی ” ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا “۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو، اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے“ ۔ [سنن ابن ماجہ:4242،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سلیمان بن مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہو گیا جسے میں نے حقیر سمجھا، رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے، اے سلیمان! «لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا» یعنی ”صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہو جائیں گے، گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں، بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہو جا کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے، بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہو جاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر، ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہو گا۔‏“

صفحہ نمبر9054

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہو گی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان، نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہو گا، جو تمام چیزوں کا خالق ہے، سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا، ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا۔

مسند احمد میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عدل و انصاف کرنے والے نیک کردار لوگ اللہ کے پاس نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب ہوں گے، اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہی ہیں، یہ عادل لوگ وہ ہیں، جو اپنے احکام میں اپنے اہل و عیال میں اور جو چیز ان کے قبضے میں ہو، اس میں اللہ تعالٰی کے فرمان کے خلاف نہیں کرتے بلکہ عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں“ ۔ [صحیح مسلم:1827] ‏

«الحمداللہ» اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔

صفحہ نمبر9055

باب

ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لیے نصیحت و تذکیر نہیں؟

جیسے اور آیت میں فرمایا «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم مِّن قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُّرِيبٍ» [34-سورةسبا:54] ‏ یعنی ” ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا “۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو، اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے“ ۔ [سنن ابن ماجہ:4242،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سلیمان بن مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہو گیا جسے میں نے حقیر سمجھا، رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے، اے سلیمان! «لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا» یعنی ”صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہو جائیں گے، گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں، بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہو جا کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے، بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہو جاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر، ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہو گا۔‏“

صفحہ نمبر9054

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہو گی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان، نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہو گا، جو تمام چیزوں کا خالق ہے، سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا، ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا۔

مسند احمد میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عدل و انصاف کرنے والے نیک کردار لوگ اللہ کے پاس نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب ہوں گے، اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہی ہیں، یہ عادل لوگ وہ ہیں، جو اپنے احکام میں اپنے اہل و عیال میں اور جو چیز ان کے قبضے میں ہو، اس میں اللہ تعالٰی کے فرمان کے خلاف نہیں کرتے بلکہ عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں“ ۔ [صحیح مسلم:1827] ‏

«الحمداللہ» اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔

صفحہ نمبر9055

باب

ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لیے نصیحت و تذکیر نہیں؟

جیسے اور آیت میں فرمایا «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم مِّن قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُّرِيبٍ» [34-سورةسبا:54] ‏ یعنی ” ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا “۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو، اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے“ ۔ [سنن ابن ماجہ:4242،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سلیمان بن مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہو گیا جسے میں نے حقیر سمجھا، رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے، اے سلیمان! «لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا» یعنی ”صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہو جائیں گے، گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں، بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہو جا کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے، بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہو جاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر، ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہو گا۔‏“

صفحہ نمبر9054

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہو گی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان، نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہو گا، جو تمام چیزوں کا خالق ہے، سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا، ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا۔

مسند احمد میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عدل و انصاف کرنے والے نیک کردار لوگ اللہ کے پاس نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب ہوں گے، اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہی ہیں، یہ عادل لوگ وہ ہیں، جو اپنے احکام میں اپنے اہل و عیال میں اور جو چیز ان کے قبضے میں ہو، اس میں اللہ تعالٰی کے فرمان کے خلاف نہیں کرتے بلکہ عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں“ ۔ [صحیح مسلم:1827] ‏

«الحمداللہ» اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔

صفحہ نمبر9055

باب

ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لیے نصیحت و تذکیر نہیں؟

جیسے اور آیت میں فرمایا «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم مِّن قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُّرِيبٍ» [34-سورةسبا:54] ‏ یعنی ” ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا “۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو، اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے“ ۔ [سنن ابن ماجہ:4242،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سلیمان بن مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہو گیا جسے میں نے حقیر سمجھا، رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے، اے سلیمان! «لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا» یعنی ”صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہو جائیں گے، گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں، بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہو جا کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے، بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہو جاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر، ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہو گا۔‏“

صفحہ نمبر9054

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہو گی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان، نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہو گا، جو تمام چیزوں کا خالق ہے، سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا، ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا۔

مسند احمد میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عدل و انصاف کرنے والے نیک کردار لوگ اللہ کے پاس نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب ہوں گے، اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہی ہیں، یہ عادل لوگ وہ ہیں، جو اپنے احکام میں اپنے اہل و عیال میں اور جو چیز ان کے قبضے میں ہو، اس میں اللہ تعالٰی کے فرمان کے خلاف نہیں کرتے بلکہ عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں“ ۔ [صحیح مسلم:1827] ‏

«الحمداللہ» اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔

صفحہ نمبر9055

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com