John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Ar-Rahmaan

Tafsir Ibn Kathir · The Beneficent · 78 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

تفسیر سورۃ الرحمٰن:

سیدنا زر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا قرآن میں جو لفظ «من ماء غیر اسن» ہے یہ ( «اٰسن») لفظ ہے یا ( «اَسن») تو آپ نے فرمایا: گویا تو نے باقی سارا قرآن سمجھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں مفصل کی تمام سورتوں کو ایک رکعت میں پڑھ لیا کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: پھر تو جیسے شعر جلدی جلدی پڑھے جاتے ہیں، اسی طرح تو قرآن کو بھی جلدی جلدی پڑھتا ہو گا۔ افسوس! مجھے خوب یاد ہے کہ مفصل کی ابتدائى كون كون سى دو برابر والى سورتوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ملایا کرتے تھے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں مفصل کی سب سے پہلی سورت یہی سورۃ الرحمن ہے۔ (مسند احمد:412/1،حسن) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے مجمع میں ایک روز تشریف لائے اور سورۃ الرحمن کی اول سے آخرت تک تلاوت فرمائی- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چپ چاپ سنتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے تو جنات ہی جواب دینے میں اچھے رہے، میں نے جب ان کے سامنے اس سورت کی تلاوت کی تو میں جب کبھی آیت «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» ‏ (55-الرحمن:13) پڑھتا تو وہ کہتے «‏لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْد» ‏ یعنی ” اے ہمارے پروردگار! ہم تیری نعمتوں میں سے کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں “۔ (سنن ترمذي:3291،قال الشيخ الألباني:حسن) یہ حدیث غریب ہے۔ اور یہی روایت ابن جریر میں بھی مروی ہے اس میں ہے کہ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت پڑھی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی تلاوت کی گئی اس وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کی خاموشی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا اور جواب کے الفاظ یہ ہیں «لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ» ‏۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:582/11)

تفسیر سورۂ رحمٰن ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کر دیا، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔

صفحہ نمبر9060

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک ٭٭

قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں «بیان» سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے، خواہ حلق سے نکلتا ہو، خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھا دی «لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ‏ سورج اور چاند ایک دوسرے کے پیچھے اپنے اپنے مقررہ حساب کے مطابق گردش میں ہیں، نہ ان میں اختلاف ہو، نہ اضطراب، نہ یہ آگے بڑھے، نہ وہ اس پر غالب آئے ہر ایک اپنی اپنی جگہ تیرتا پھرتا ہے۔

اور جگہ فرمایا ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الانعام:96] ‏ الخ، اللہ صبح کو نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو تمہارے لیے آرام کا وقت بنایا ہے اور سورج چاند کو حساب پر رکھا ہے یہ مقررہ محور غالب و دانا اللہ کا طے کردہ ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام انسانوں، جنات، چوپایوں، پرندوں کی آنکھوں کی بصارت ایک ہی شخص کی آنکھوں میں سمودی جائے پھر بھی سورج کے سامنے جو ستر پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ ہٹا دیا جائے تو ناممکن ہے کہ یہ شخص پھر بھی اس کی طرف دیکھ سکے باوجود یہ کہ سورج کا نور اللہ کی کرسی کے نور کا سترواں حصہ ہے اور کرسی کا نور عرش کے نور کا سترواں حصہ ہے اور عرش کے نور کے جو پردے اللہ کے سامنے ہیں اس کے ایک پردے کے نور کا سترواں حصہ ہے پس خیال کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جنتی بندوں کی آنکھوں میں کس قدر نور دے رکھا ہو گا کہ وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے چہرے کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے بےروک دیکھیں گے [ابن ابی حاتم] ‏

اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ «شجر» اس درخت کو کہتے ہیں جو تنے والا ہوʻ لیکن «نجم» کے معنی کئی ایک ہیں بعض تو کہتے ہیں «نجم» سے مراد بیلیں ہیں جن کا تنہ نہیں ہوتا اور زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔

بعض کہتے ہیں مراد اس سے ستارے ہیں جو آسمان میں ہیں۔ یہی قول زیادہ ظاہر ہے، گو اول قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا اختیار کردہ ہے۔ «واللہ اعلم»

قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس دوسرے قول کی تائید کرتی ہے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ إِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ» [22-الحج:18] ‏ الخ، ” کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے “۔

صفحہ نمبر9061

تفسیر سورۃ الرحمٰن:

سیدنا زر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا قرآن میں جو لفظ «من ماء غیر اسن» ہے یہ ( «اٰسن») لفظ ہے یا ( «اَسن») تو آپ نے فرمایا: گویا تو نے باقی سارا قرآن سمجھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں مفصل کی تمام سورتوں کو ایک رکعت میں پڑھ لیا کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: پھر تو جیسے شعر جلدی جلدی پڑھے جاتے ہیں، اسی طرح تو قرآن کو بھی جلدی جلدی پڑھتا ہو گا۔ افسوس! مجھے خوب یاد ہے کہ مفصل کی ابتدائى كون كون سى دو برابر والى سورتوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ملایا کرتے تھے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں مفصل کی سب سے پہلی سورت یہی سورۃ الرحمن ہے۔ (مسند احمد:412/1،حسن) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے مجمع میں ایک روز تشریف لائے اور سورۃ الرحمن کی اول سے آخرت تک تلاوت فرمائی- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چپ چاپ سنتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے تو جنات ہی جواب دینے میں اچھے رہے، میں نے جب ان کے سامنے اس سورت کی تلاوت کی تو میں جب کبھی آیت «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» ‏ (55-الرحمن:13) پڑھتا تو وہ کہتے «‏لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْد» ‏ یعنی ” اے ہمارے پروردگار! ہم تیری نعمتوں میں سے کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں “۔ (سنن ترمذي:3291،قال الشيخ الألباني:حسن) یہ حدیث غریب ہے۔ اور یہی روایت ابن جریر میں بھی مروی ہے اس میں ہے کہ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت پڑھی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی تلاوت کی گئی اس وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کی خاموشی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا اور جواب کے الفاظ یہ ہیں «لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ» ‏۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:582/11)

تفسیر سورۂ رحمٰن ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کر دیا، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔

صفحہ نمبر9060

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک ٭٭

قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں «بیان» سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے، خواہ حلق سے نکلتا ہو، خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھا دی «لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ‏ سورج اور چاند ایک دوسرے کے پیچھے اپنے اپنے مقررہ حساب کے مطابق گردش میں ہیں، نہ ان میں اختلاف ہو، نہ اضطراب، نہ یہ آگے بڑھے، نہ وہ اس پر غالب آئے ہر ایک اپنی اپنی جگہ تیرتا پھرتا ہے۔

اور جگہ فرمایا ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الانعام:96] ‏ الخ، اللہ صبح کو نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو تمہارے لیے آرام کا وقت بنایا ہے اور سورج چاند کو حساب پر رکھا ہے یہ مقررہ محور غالب و دانا اللہ کا طے کردہ ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام انسانوں، جنات، چوپایوں، پرندوں کی آنکھوں کی بصارت ایک ہی شخص کی آنکھوں میں سمودی جائے پھر بھی سورج کے سامنے جو ستر پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ ہٹا دیا جائے تو ناممکن ہے کہ یہ شخص پھر بھی اس کی طرف دیکھ سکے باوجود یہ کہ سورج کا نور اللہ کی کرسی کے نور کا سترواں حصہ ہے اور کرسی کا نور عرش کے نور کا سترواں حصہ ہے اور عرش کے نور کے جو پردے اللہ کے سامنے ہیں اس کے ایک پردے کے نور کا سترواں حصہ ہے پس خیال کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جنتی بندوں کی آنکھوں میں کس قدر نور دے رکھا ہو گا کہ وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے چہرے کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے بےروک دیکھیں گے [ابن ابی حاتم] ‏

اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ «شجر» اس درخت کو کہتے ہیں جو تنے والا ہوʻ لیکن «نجم» کے معنی کئی ایک ہیں بعض تو کہتے ہیں «نجم» سے مراد بیلیں ہیں جن کا تنہ نہیں ہوتا اور زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔

بعض کہتے ہیں مراد اس سے ستارے ہیں جو آسمان میں ہیں۔ یہی قول زیادہ ظاہر ہے، گو اول قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا اختیار کردہ ہے۔ «واللہ اعلم»

قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس دوسرے قول کی تائید کرتی ہے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ إِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ» [22-الحج:18] ‏ الخ، ” کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے “۔

صفحہ نمبر9061

تفسیر سورۃ الرحمٰن:

سیدنا زر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا قرآن میں جو لفظ «من ماء غیر اسن» ہے یہ ( «اٰسن») لفظ ہے یا ( «اَسن») تو آپ نے فرمایا: گویا تو نے باقی سارا قرآن سمجھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں مفصل کی تمام سورتوں کو ایک رکعت میں پڑھ لیا کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: پھر تو جیسے شعر جلدی جلدی پڑھے جاتے ہیں، اسی طرح تو قرآن کو بھی جلدی جلدی پڑھتا ہو گا۔ افسوس! مجھے خوب یاد ہے کہ مفصل کی ابتدائى كون كون سى دو برابر والى سورتوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ملایا کرتے تھے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں مفصل کی سب سے پہلی سورت یہی سورۃ الرحمن ہے۔ (مسند احمد:412/1،حسن) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے مجمع میں ایک روز تشریف لائے اور سورۃ الرحمن کی اول سے آخرت تک تلاوت فرمائی- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چپ چاپ سنتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے تو جنات ہی جواب دینے میں اچھے رہے، میں نے جب ان کے سامنے اس سورت کی تلاوت کی تو میں جب کبھی آیت «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» ‏ (55-الرحمن:13) پڑھتا تو وہ کہتے «‏لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْد» ‏ یعنی ” اے ہمارے پروردگار! ہم تیری نعمتوں میں سے کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں “۔ (سنن ترمذي:3291،قال الشيخ الألباني:حسن) یہ حدیث غریب ہے۔ اور یہی روایت ابن جریر میں بھی مروی ہے اس میں ہے کہ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت پڑھی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی تلاوت کی گئی اس وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کی خاموشی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا اور جواب کے الفاظ یہ ہیں «لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ» ‏۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:582/11)

تفسیر سورۂ رحمٰن ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کر دیا، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔

صفحہ نمبر9060

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک ٭٭

قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں «بیان» سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے، خواہ حلق سے نکلتا ہو، خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھا دی «لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ‏ سورج اور چاند ایک دوسرے کے پیچھے اپنے اپنے مقررہ حساب کے مطابق گردش میں ہیں، نہ ان میں اختلاف ہو، نہ اضطراب، نہ یہ آگے بڑھے، نہ وہ اس پر غالب آئے ہر ایک اپنی اپنی جگہ تیرتا پھرتا ہے۔

اور جگہ فرمایا ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الانعام:96] ‏ الخ، اللہ صبح کو نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو تمہارے لیے آرام کا وقت بنایا ہے اور سورج چاند کو حساب پر رکھا ہے یہ مقررہ محور غالب و دانا اللہ کا طے کردہ ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام انسانوں، جنات، چوپایوں، پرندوں کی آنکھوں کی بصارت ایک ہی شخص کی آنکھوں میں سمودی جائے پھر بھی سورج کے سامنے جو ستر پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ ہٹا دیا جائے تو ناممکن ہے کہ یہ شخص پھر بھی اس کی طرف دیکھ سکے باوجود یہ کہ سورج کا نور اللہ کی کرسی کے نور کا سترواں حصہ ہے اور کرسی کا نور عرش کے نور کا سترواں حصہ ہے اور عرش کے نور کے جو پردے اللہ کے سامنے ہیں اس کے ایک پردے کے نور کا سترواں حصہ ہے پس خیال کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جنتی بندوں کی آنکھوں میں کس قدر نور دے رکھا ہو گا کہ وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے چہرے کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے بےروک دیکھیں گے [ابن ابی حاتم] ‏

اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ «شجر» اس درخت کو کہتے ہیں جو تنے والا ہوʻ لیکن «نجم» کے معنی کئی ایک ہیں بعض تو کہتے ہیں «نجم» سے مراد بیلیں ہیں جن کا تنہ نہیں ہوتا اور زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔

بعض کہتے ہیں مراد اس سے ستارے ہیں جو آسمان میں ہیں۔ یہی قول زیادہ ظاہر ہے، گو اول قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا اختیار کردہ ہے۔ «واللہ اعلم»

قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس دوسرے قول کی تائید کرتی ہے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ إِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ» [22-الحج:18] ‏ الخ، ” کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے “۔

صفحہ نمبر9061

تفسیر سورۃ الرحمٰن:

سیدنا زر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا قرآن میں جو لفظ «من ماء غیر اسن» ہے یہ ( «اٰسن») لفظ ہے یا ( «اَسن») تو آپ نے فرمایا: گویا تو نے باقی سارا قرآن سمجھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں مفصل کی تمام سورتوں کو ایک رکعت میں پڑھ لیا کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: پھر تو جیسے شعر جلدی جلدی پڑھے جاتے ہیں، اسی طرح تو قرآن کو بھی جلدی جلدی پڑھتا ہو گا۔ افسوس! مجھے خوب یاد ہے کہ مفصل کی ابتدائى كون كون سى دو برابر والى سورتوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ملایا کرتے تھے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں مفصل کی سب سے پہلی سورت یہی سورۃ الرحمن ہے۔ (مسند احمد:412/1،حسن) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے مجمع میں ایک روز تشریف لائے اور سورۃ الرحمن کی اول سے آخرت تک تلاوت فرمائی- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چپ چاپ سنتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے تو جنات ہی جواب دینے میں اچھے رہے، میں نے جب ان کے سامنے اس سورت کی تلاوت کی تو میں جب کبھی آیت «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» ‏ (55-الرحمن:13) پڑھتا تو وہ کہتے «‏لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْد» ‏ یعنی ” اے ہمارے پروردگار! ہم تیری نعمتوں میں سے کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں “۔ (سنن ترمذي:3291،قال الشيخ الألباني:حسن) یہ حدیث غریب ہے۔ اور یہی روایت ابن جریر میں بھی مروی ہے اس میں ہے کہ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت پڑھی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی تلاوت کی گئی اس وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کی خاموشی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا اور جواب کے الفاظ یہ ہیں «لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ» ‏۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:582/11)

تفسیر سورۂ رحمٰن ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کر دیا، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔

صفحہ نمبر9060

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک ٭٭

قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں «بیان» سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے، خواہ حلق سے نکلتا ہو، خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھا دی «لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ‏ سورج اور چاند ایک دوسرے کے پیچھے اپنے اپنے مقررہ حساب کے مطابق گردش میں ہیں، نہ ان میں اختلاف ہو، نہ اضطراب، نہ یہ آگے بڑھے، نہ وہ اس پر غالب آئے ہر ایک اپنی اپنی جگہ تیرتا پھرتا ہے۔

اور جگہ فرمایا ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الانعام:96] ‏ الخ، اللہ صبح کو نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو تمہارے لیے آرام کا وقت بنایا ہے اور سورج چاند کو حساب پر رکھا ہے یہ مقررہ محور غالب و دانا اللہ کا طے کردہ ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام انسانوں، جنات، چوپایوں، پرندوں کی آنکھوں کی بصارت ایک ہی شخص کی آنکھوں میں سمودی جائے پھر بھی سورج کے سامنے جو ستر پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ ہٹا دیا جائے تو ناممکن ہے کہ یہ شخص پھر بھی اس کی طرف دیکھ سکے باوجود یہ کہ سورج کا نور اللہ کی کرسی کے نور کا سترواں حصہ ہے اور کرسی کا نور عرش کے نور کا سترواں حصہ ہے اور عرش کے نور کے جو پردے اللہ کے سامنے ہیں اس کے ایک پردے کے نور کا سترواں حصہ ہے پس خیال کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جنتی بندوں کی آنکھوں میں کس قدر نور دے رکھا ہو گا کہ وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے چہرے کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے بےروک دیکھیں گے [ابن ابی حاتم] ‏

اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ «شجر» اس درخت کو کہتے ہیں جو تنے والا ہوʻ لیکن «نجم» کے معنی کئی ایک ہیں بعض تو کہتے ہیں «نجم» سے مراد بیلیں ہیں جن کا تنہ نہیں ہوتا اور زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔

بعض کہتے ہیں مراد اس سے ستارے ہیں جو آسمان میں ہیں۔ یہی قول زیادہ ظاہر ہے، گو اول قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا اختیار کردہ ہے۔ «واللہ اعلم»

قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس دوسرے قول کی تائید کرتی ہے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ إِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ» [22-الحج:18] ‏ الخ، ” کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے “۔

صفحہ نمبر9061

تفسیر سورۃ الرحمٰن:

سیدنا زر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا قرآن میں جو لفظ «من ماء غیر اسن» ہے یہ ( «اٰسن») لفظ ہے یا ( «اَسن») تو آپ نے فرمایا: گویا تو نے باقی سارا قرآن سمجھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں مفصل کی تمام سورتوں کو ایک رکعت میں پڑھ لیا کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: پھر تو جیسے شعر جلدی جلدی پڑھے جاتے ہیں، اسی طرح تو قرآن کو بھی جلدی جلدی پڑھتا ہو گا۔ افسوس! مجھے خوب یاد ہے کہ مفصل کی ابتدائى كون كون سى دو برابر والى سورتوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ملایا کرتے تھے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں مفصل کی سب سے پہلی سورت یہی سورۃ الرحمن ہے۔ (مسند احمد:412/1،حسن) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے مجمع میں ایک روز تشریف لائے اور سورۃ الرحمن کی اول سے آخرت تک تلاوت فرمائی- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چپ چاپ سنتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے تو جنات ہی جواب دینے میں اچھے رہے، میں نے جب ان کے سامنے اس سورت کی تلاوت کی تو میں جب کبھی آیت «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» ‏ (55-الرحمن:13) پڑھتا تو وہ کہتے «‏لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْد» ‏ یعنی ” اے ہمارے پروردگار! ہم تیری نعمتوں میں سے کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں “۔ (سنن ترمذي:3291،قال الشيخ الألباني:حسن) یہ حدیث غریب ہے۔ اور یہی روایت ابن جریر میں بھی مروی ہے اس میں ہے کہ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت پڑھی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی تلاوت کی گئی اس وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کی خاموشی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا اور جواب کے الفاظ یہ ہیں «لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ» ‏۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:582/11)

تفسیر سورۂ رحمٰن ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کر دیا، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔

صفحہ نمبر9060

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک ٭٭

قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں «بیان» سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے، خواہ حلق سے نکلتا ہو، خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھا دی «لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ‏ سورج اور چاند ایک دوسرے کے پیچھے اپنے اپنے مقررہ حساب کے مطابق گردش میں ہیں، نہ ان میں اختلاف ہو، نہ اضطراب، نہ یہ آگے بڑھے، نہ وہ اس پر غالب آئے ہر ایک اپنی اپنی جگہ تیرتا پھرتا ہے۔

اور جگہ فرمایا ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الانعام:96] ‏ الخ، اللہ صبح کو نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو تمہارے لیے آرام کا وقت بنایا ہے اور سورج چاند کو حساب پر رکھا ہے یہ مقررہ محور غالب و دانا اللہ کا طے کردہ ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام انسانوں، جنات، چوپایوں، پرندوں کی آنکھوں کی بصارت ایک ہی شخص کی آنکھوں میں سمودی جائے پھر بھی سورج کے سامنے جو ستر پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ ہٹا دیا جائے تو ناممکن ہے کہ یہ شخص پھر بھی اس کی طرف دیکھ سکے باوجود یہ کہ سورج کا نور اللہ کی کرسی کے نور کا سترواں حصہ ہے اور کرسی کا نور عرش کے نور کا سترواں حصہ ہے اور عرش کے نور کے جو پردے اللہ کے سامنے ہیں اس کے ایک پردے کے نور کا سترواں حصہ ہے پس خیال کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جنتی بندوں کی آنکھوں میں کس قدر نور دے رکھا ہو گا کہ وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے چہرے کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے بےروک دیکھیں گے [ابن ابی حاتم] ‏

اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ «شجر» اس درخت کو کہتے ہیں جو تنے والا ہوʻ لیکن «نجم» کے معنی کئی ایک ہیں بعض تو کہتے ہیں «نجم» سے مراد بیلیں ہیں جن کا تنہ نہیں ہوتا اور زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔

بعض کہتے ہیں مراد اس سے ستارے ہیں جو آسمان میں ہیں۔ یہی قول زیادہ ظاہر ہے، گو اول قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا اختیار کردہ ہے۔ «واللہ اعلم»

قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس دوسرے قول کی تائید کرتی ہے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ إِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ» [22-الحج:18] ‏ الخ، ” کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے “۔

صفحہ نمبر9061

تفسیر سورۃ الرحمٰن:

سیدنا زر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا قرآن میں جو لفظ «من ماء غیر اسن» ہے یہ ( «اٰسن») لفظ ہے یا ( «اَسن») تو آپ نے فرمایا: گویا تو نے باقی سارا قرآن سمجھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں مفصل کی تمام سورتوں کو ایک رکعت میں پڑھ لیا کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: پھر تو جیسے شعر جلدی جلدی پڑھے جاتے ہیں، اسی طرح تو قرآن کو بھی جلدی جلدی پڑھتا ہو گا۔ افسوس! مجھے خوب یاد ہے کہ مفصل کی ابتدائى كون كون سى دو برابر والى سورتوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ملایا کرتے تھے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں مفصل کی سب سے پہلی سورت یہی سورۃ الرحمن ہے۔ (مسند احمد:412/1،حسن) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے مجمع میں ایک روز تشریف لائے اور سورۃ الرحمن کی اول سے آخرت تک تلاوت فرمائی- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چپ چاپ سنتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے تو جنات ہی جواب دینے میں اچھے رہے، میں نے جب ان کے سامنے اس سورت کی تلاوت کی تو میں جب کبھی آیت «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» ‏ (55-الرحمن:13) پڑھتا تو وہ کہتے «‏لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْد» ‏ یعنی ” اے ہمارے پروردگار! ہم تیری نعمتوں میں سے کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تیرے ہی لیے تمام تعریفیں سزاوار ہیں “۔ (سنن ترمذي:3291،قال الشيخ الألباني:حسن) یہ حدیث غریب ہے۔ اور یہی روایت ابن جریر میں بھی مروی ہے اس میں ہے کہ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت پڑھی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی تلاوت کی گئی اس وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کی خاموشی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا اور جواب کے الفاظ یہ ہیں «لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ» ‏۔ (تفسیر ابن جریر الطبری:582/11)

تفسیر سورۂ رحمٰن ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کر دیا، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔

صفحہ نمبر9060

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک ٭٭

قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں «بیان» سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے، خواہ حلق سے نکلتا ہو، خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھا دی «لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ‏ سورج اور چاند ایک دوسرے کے پیچھے اپنے اپنے مقررہ حساب کے مطابق گردش میں ہیں، نہ ان میں اختلاف ہو، نہ اضطراب، نہ یہ آگے بڑھے، نہ وہ اس پر غالب آئے ہر ایک اپنی اپنی جگہ تیرتا پھرتا ہے۔

اور جگہ فرمایا ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الانعام:96] ‏ الخ، اللہ صبح کو نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو تمہارے لیے آرام کا وقت بنایا ہے اور سورج چاند کو حساب پر رکھا ہے یہ مقررہ محور غالب و دانا اللہ کا طے کردہ ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام انسانوں، جنات، چوپایوں، پرندوں کی آنکھوں کی بصارت ایک ہی شخص کی آنکھوں میں سمودی جائے پھر بھی سورج کے سامنے جو ستر پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ ہٹا دیا جائے تو ناممکن ہے کہ یہ شخص پھر بھی اس کی طرف دیکھ سکے باوجود یہ کہ سورج کا نور اللہ کی کرسی کے نور کا سترواں حصہ ہے اور کرسی کا نور عرش کے نور کا سترواں حصہ ہے اور عرش کے نور کے جو پردے اللہ کے سامنے ہیں اس کے ایک پردے کے نور کا سترواں حصہ ہے پس خیال کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جنتی بندوں کی آنکھوں میں کس قدر نور دے رکھا ہو گا کہ وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے چہرے کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے بےروک دیکھیں گے [ابن ابی حاتم] ‏

اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ «شجر» اس درخت کو کہتے ہیں جو تنے والا ہوʻ لیکن «نجم» کے معنی کئی ایک ہیں بعض تو کہتے ہیں «نجم» سے مراد بیلیں ہیں جن کا تنہ نہیں ہوتا اور زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔

بعض کہتے ہیں مراد اس سے ستارے ہیں جو آسمان میں ہیں۔ یہی قول زیادہ ظاہر ہے، گو اول قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا اختیار کردہ ہے۔ «واللہ اعلم»

قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس دوسرے قول کی تائید کرتی ہے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ إِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ» [22-الحج:18] ‏ الخ، ” کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے “۔

صفحہ نمبر9061

باب

پھر فرماتا ہے آسمان کو اس نے بلند کیا ہے اور اسی میں میزان قائم کی ہے یعنی عدلʻ جیسے اور آیت میں ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» ‏ [57-الحديد:25] ‏ یعنی ” یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (‏ترازو)‏ نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں “ یہاں بھی اس کے ساتھ ہی فرمایا تاکہ تم ترازو میں حد سے نہ گزر جاؤ یعنی اس اللہ نے آسمان و زمین کو حق اور عدل کے ساتھ پیدا کیا تاکہ تمام چیزیں حق و عدل کے ساتھ ہو جائیں۔

پس فرماتا ہے جب وزن کرو تو سیدھی ترازو سے عدل و حق کے ساتھ وزن کرو کمی زیادتی نہ کرو کہ لیتے وقت بڑھتی تول لیا اور دیتے وقت کم دے دیا۔ اور جگہ ارشاد ہے «‏وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ» ‏ [26-الشعراء:182] ‏ صحت کے ساتھ کھرے پن سے تول کیا کرو، آسمان کو تو اس نے بلند و بالا کیا اور زمین کو اس نے نیچی اور پست کر کے بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ مثل میخ کے گاڑ دئیے کہ وہ ہلے جلے نہیں اور اس پر جو مخلوق بستی ہے وہ باآرام رہے۔ پھر زمین کی مخلوق کو دیکھو ان کی مختلف قسموں، مختلف شکلوں، مختلف رنگوں، مختلف زبانوں، مختلف عادات واطوار پر نظر ڈال کر اللہ کی قدرت کاملہ کا اندازہ کرو۔ ساتھ ہی زمین کی پیداوار کو دیکھو کہ رنگ برنگ کے کھٹے میٹھے، پھیکے سلونے طرح طرح کی خوشبوؤں والے میوے پھل فروٹ اور خاصۃً کھجور کے درخت جو نفع دینے والا اور لگنے کے وقت سے خشک ہو جانے تک اور اس کے بعد بھی کھانے کے کام میں آنے والا عام میوہ ہے، اس پر خوشے ہوتے ہیں جنہیں چیر کر یہ باہر آتا ہے پھر گدلا ہو جاتا ہے پھر تر ہو جاتا ہے پھر پک کر ٹھیک ہو جاتا ہے بہت نافع ہے، ساتھ ہی اس کا درخت بالکل سیدھا اور بےضرر ہوتا ہے۔

صفحہ نمبر9067

ابن ابی حاتم میں ہے کہ قیصر نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میرے قاصد جو آپ کے پاس سے واپس آئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں ایک درخت ہوتا ہے جس کی سی خو خصلت کسی اور میں نہیں، وہ جانور کے کان کی طرح زمین سے نکلتا ہے پھر کھل کر موتی کی طرح ہو جاتا ہے پھر سبز ہو کر زمرد کی طرح ہو جاتا ہے، پھر سرخ ہو کر یاقوت جیسا بن جاتا ہے اور تیار ہو کر بہترین فالودے کے مزے کا ہو جاتا ہے، پھر خشک ہو کر مقیم لوگوں کے بچاؤ کی اور مسافروں کے توشے بھتے کی چیز بن جاتا ہے، پس اگر میرے قاصد کی یہ روایت صحیح ہے تو میرے خیال سے تو یہ درخت جنتی درخت ہے۔ اس کے جواب میں شاہ اسلام سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ یہ خط ہے اللہ کے غلام مسلمانوں کے بادشاہ عمر کی طرف سے شاہ روم قیصر کے نام، آپ کے قاصدوں نے جو خبر آپ کو دی ہے وہ سچ ہے اس قسم کے درخت ملک عرب میں بکثرت ہیں یہی وہ درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مریم عليها السلام کے پاس اگایا تھا جبکہ ان کے لڑکے عیسیٰ عليہ السلام ان کے بطن سے پیدا ہوئے تھے پس اے بادشاہ! اللہ سے ڈر اور عیسیٰ عليہ السلام کو اللہ نہ سمجھ اللہ ايک ہی ہے۔ عیسیٰ عليہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم عليہ السلام جیسی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا پس وہ ہو گئے، اللہ کی طرف سے سچی اور حق بات یہی ہے، تجھے چاہیئے کہ شک و شبہ کرنے والوں میں نہ رہے۔ [3-آل عمران:59-60] ‏

«اَکَمَامِ» کے معنی «لیف» کے بھی کئے گئے ہیں جو درخت کھجور کی گردن پر پوست کی طرح ہوتا ہے اور اس نے زمین میں بھوسی اور اناج پیدا کیا۔

«عَصف» کے معنی کھیتی کے وہ سبز پتے جو اوپر سے کاٹ دئیے گئے ہوں پھر سکھا لئے گئے ہوں۔

«رَ̛يحان» سے مراد پتے يا يہی ريحان جو اسی نام سے مشہور ہے یا کھیتی کے سبز پتے، مطلب یہ ہے کہ گیہوں جو وغیرہ کے وہ دانے جو خوشہ میں بھوسی سمیت ہوتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھیتی سے پہلے ہی اگے ہوئے پتوں کو تو «عَصف» کہتے ہیں اور جب دانے نکل آئیں بالیں پیدا ہو جائیں تو انہیں «رَ̛يحان» کہتے ہیں جیسے کہ زید بن عمرو بن نفیل کے مشہور قصیدے میں ہے۔

صفحہ نمبر9068

پھر فرماتا ہے، اے جنو اور انسانو! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے یعنی تم اس کی نعمتوں ميں سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے ہو اور مالا مال ہو رہے ہو، ناممکن ہے کہ حقیقی طور پر تم کسی نعمت کا انکار کر سکو اور اسے جھوٹ بتا سکو، ایک دو نعمتیں ہوں تو خیر یہاں تو سر تا پا اس کی نعمتوں سے دبے ہوئے ہو، اسی لیے مومن جنوں نے اسے سن کر جھٹ سے جواب دیا «اللھم ولا بشئی من الائک ربنا نکذب فلک الحمد» ‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے «لا فایھا یارب» ‏ یعنی اے رب! ہم ان میں سے کسی نعمت کا انکار نہیں کر سکتے۔

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ شروع شروع رسالت کے زمانہ میں ابھی امر اسلام کا پوری طرح اعلان نہ ہوا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں رکن کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں اس سورت کی تلاوت فرما رہے تھے اور مشرکین بھی سن رہے تھے۔

صفحہ نمبر9069

باب

پھر فرماتا ہے آسمان کو اس نے بلند کیا ہے اور اسی میں میزان قائم کی ہے یعنی عدلʻ جیسے اور آیت میں ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» ‏ [57-الحديد:25] ‏ یعنی ” یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (‏ترازو)‏ نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں “ یہاں بھی اس کے ساتھ ہی فرمایا تاکہ تم ترازو میں حد سے نہ گزر جاؤ یعنی اس اللہ نے آسمان و زمین کو حق اور عدل کے ساتھ پیدا کیا تاکہ تمام چیزیں حق و عدل کے ساتھ ہو جائیں۔

پس فرماتا ہے جب وزن کرو تو سیدھی ترازو سے عدل و حق کے ساتھ وزن کرو کمی زیادتی نہ کرو کہ لیتے وقت بڑھتی تول لیا اور دیتے وقت کم دے دیا۔ اور جگہ ارشاد ہے «‏وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ» ‏ [26-الشعراء:182] ‏ صحت کے ساتھ کھرے پن سے تول کیا کرو، آسمان کو تو اس نے بلند و بالا کیا اور زمین کو اس نے نیچی اور پست کر کے بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ مثل میخ کے گاڑ دئیے کہ وہ ہلے جلے نہیں اور اس پر جو مخلوق بستی ہے وہ باآرام رہے۔ پھر زمین کی مخلوق کو دیکھو ان کی مختلف قسموں، مختلف شکلوں، مختلف رنگوں، مختلف زبانوں، مختلف عادات واطوار پر نظر ڈال کر اللہ کی قدرت کاملہ کا اندازہ کرو۔ ساتھ ہی زمین کی پیداوار کو دیکھو کہ رنگ برنگ کے کھٹے میٹھے، پھیکے سلونے طرح طرح کی خوشبوؤں والے میوے پھل فروٹ اور خاصۃً کھجور کے درخت جو نفع دینے والا اور لگنے کے وقت سے خشک ہو جانے تک اور اس کے بعد بھی کھانے کے کام میں آنے والا عام میوہ ہے، اس پر خوشے ہوتے ہیں جنہیں چیر کر یہ باہر آتا ہے پھر گدلا ہو جاتا ہے پھر تر ہو جاتا ہے پھر پک کر ٹھیک ہو جاتا ہے بہت نافع ہے، ساتھ ہی اس کا درخت بالکل سیدھا اور بےضرر ہوتا ہے۔

صفحہ نمبر9067

ابن ابی حاتم میں ہے کہ قیصر نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میرے قاصد جو آپ کے پاس سے واپس آئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں ایک درخت ہوتا ہے جس کی سی خو خصلت کسی اور میں نہیں، وہ جانور کے کان کی طرح زمین سے نکلتا ہے پھر کھل کر موتی کی طرح ہو جاتا ہے پھر سبز ہو کر زمرد کی طرح ہو جاتا ہے، پھر سرخ ہو کر یاقوت جیسا بن جاتا ہے اور تیار ہو کر بہترین فالودے کے مزے کا ہو جاتا ہے، پھر خشک ہو کر مقیم لوگوں کے بچاؤ کی اور مسافروں کے توشے بھتے کی چیز بن جاتا ہے، پس اگر میرے قاصد کی یہ روایت صحیح ہے تو میرے خیال سے تو یہ درخت جنتی درخت ہے۔ اس کے جواب میں شاہ اسلام سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ یہ خط ہے اللہ کے غلام مسلمانوں کے بادشاہ عمر کی طرف سے شاہ روم قیصر کے نام، آپ کے قاصدوں نے جو خبر آپ کو دی ہے وہ سچ ہے اس قسم کے درخت ملک عرب میں بکثرت ہیں یہی وہ درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مریم عليها السلام کے پاس اگایا تھا جبکہ ان کے لڑکے عیسیٰ عليہ السلام ان کے بطن سے پیدا ہوئے تھے پس اے بادشاہ! اللہ سے ڈر اور عیسیٰ عليہ السلام کو اللہ نہ سمجھ اللہ ايک ہی ہے۔ عیسیٰ عليہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم عليہ السلام جیسی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا پس وہ ہو گئے، اللہ کی طرف سے سچی اور حق بات یہی ہے، تجھے چاہیئے کہ شک و شبہ کرنے والوں میں نہ رہے۔ [3-آل عمران:59-60] ‏

«اَکَمَامِ» کے معنی «لیف» کے بھی کئے گئے ہیں جو درخت کھجور کی گردن پر پوست کی طرح ہوتا ہے اور اس نے زمین میں بھوسی اور اناج پیدا کیا۔

«عَصف» کے معنی کھیتی کے وہ سبز پتے جو اوپر سے کاٹ دئیے گئے ہوں پھر سکھا لئے گئے ہوں۔

«رَ̛يحان» سے مراد پتے يا يہی ريحان جو اسی نام سے مشہور ہے یا کھیتی کے سبز پتے، مطلب یہ ہے کہ گیہوں جو وغیرہ کے وہ دانے جو خوشہ میں بھوسی سمیت ہوتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھیتی سے پہلے ہی اگے ہوئے پتوں کو تو «عَصف» کہتے ہیں اور جب دانے نکل آئیں بالیں پیدا ہو جائیں تو انہیں «رَ̛يحان» کہتے ہیں جیسے کہ زید بن عمرو بن نفیل کے مشہور قصیدے میں ہے۔

صفحہ نمبر9068

پھر فرماتا ہے، اے جنو اور انسانو! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے یعنی تم اس کی نعمتوں ميں سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے ہو اور مالا مال ہو رہے ہو، ناممکن ہے کہ حقیقی طور پر تم کسی نعمت کا انکار کر سکو اور اسے جھوٹ بتا سکو، ایک دو نعمتیں ہوں تو خیر یہاں تو سر تا پا اس کی نعمتوں سے دبے ہوئے ہو، اسی لیے مومن جنوں نے اسے سن کر جھٹ سے جواب دیا «اللھم ولا بشئی من الائک ربنا نکذب فلک الحمد» ‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے «لا فایھا یارب» ‏ یعنی اے رب! ہم ان میں سے کسی نعمت کا انکار نہیں کر سکتے۔

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ شروع شروع رسالت کے زمانہ میں ابھی امر اسلام کا پوری طرح اعلان نہ ہوا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں رکن کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں اس سورت کی تلاوت فرما رہے تھے اور مشرکین بھی سن رہے تھے۔

صفحہ نمبر9069

باب

پھر فرماتا ہے آسمان کو اس نے بلند کیا ہے اور اسی میں میزان قائم کی ہے یعنی عدلʻ جیسے اور آیت میں ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» ‏ [57-الحديد:25] ‏ یعنی ” یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (‏ترازو)‏ نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں “ یہاں بھی اس کے ساتھ ہی فرمایا تاکہ تم ترازو میں حد سے نہ گزر جاؤ یعنی اس اللہ نے آسمان و زمین کو حق اور عدل کے ساتھ پیدا کیا تاکہ تمام چیزیں حق و عدل کے ساتھ ہو جائیں۔

پس فرماتا ہے جب وزن کرو تو سیدھی ترازو سے عدل و حق کے ساتھ وزن کرو کمی زیادتی نہ کرو کہ لیتے وقت بڑھتی تول لیا اور دیتے وقت کم دے دیا۔ اور جگہ ارشاد ہے «‏وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ» ‏ [26-الشعراء:182] ‏ صحت کے ساتھ کھرے پن سے تول کیا کرو، آسمان کو تو اس نے بلند و بالا کیا اور زمین کو اس نے نیچی اور پست کر کے بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ مثل میخ کے گاڑ دئیے کہ وہ ہلے جلے نہیں اور اس پر جو مخلوق بستی ہے وہ باآرام رہے۔ پھر زمین کی مخلوق کو دیکھو ان کی مختلف قسموں، مختلف شکلوں، مختلف رنگوں، مختلف زبانوں، مختلف عادات واطوار پر نظر ڈال کر اللہ کی قدرت کاملہ کا اندازہ کرو۔ ساتھ ہی زمین کی پیداوار کو دیکھو کہ رنگ برنگ کے کھٹے میٹھے، پھیکے سلونے طرح طرح کی خوشبوؤں والے میوے پھل فروٹ اور خاصۃً کھجور کے درخت جو نفع دینے والا اور لگنے کے وقت سے خشک ہو جانے تک اور اس کے بعد بھی کھانے کے کام میں آنے والا عام میوہ ہے، اس پر خوشے ہوتے ہیں جنہیں چیر کر یہ باہر آتا ہے پھر گدلا ہو جاتا ہے پھر تر ہو جاتا ہے پھر پک کر ٹھیک ہو جاتا ہے بہت نافع ہے، ساتھ ہی اس کا درخت بالکل سیدھا اور بےضرر ہوتا ہے۔

صفحہ نمبر9067

ابن ابی حاتم میں ہے کہ قیصر نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میرے قاصد جو آپ کے پاس سے واپس آئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں ایک درخت ہوتا ہے جس کی سی خو خصلت کسی اور میں نہیں، وہ جانور کے کان کی طرح زمین سے نکلتا ہے پھر کھل کر موتی کی طرح ہو جاتا ہے پھر سبز ہو کر زمرد کی طرح ہو جاتا ہے، پھر سرخ ہو کر یاقوت جیسا بن جاتا ہے اور تیار ہو کر بہترین فالودے کے مزے کا ہو جاتا ہے، پھر خشک ہو کر مقیم لوگوں کے بچاؤ کی اور مسافروں کے توشے بھتے کی چیز بن جاتا ہے، پس اگر میرے قاصد کی یہ روایت صحیح ہے تو میرے خیال سے تو یہ درخت جنتی درخت ہے۔ اس کے جواب میں شاہ اسلام سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ یہ خط ہے اللہ کے غلام مسلمانوں کے بادشاہ عمر کی طرف سے شاہ روم قیصر کے نام، آپ کے قاصدوں نے جو خبر آپ کو دی ہے وہ سچ ہے اس قسم کے درخت ملک عرب میں بکثرت ہیں یہی وہ درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مریم عليها السلام کے پاس اگایا تھا جبکہ ان کے لڑکے عیسیٰ عليہ السلام ان کے بطن سے پیدا ہوئے تھے پس اے بادشاہ! اللہ سے ڈر اور عیسیٰ عليہ السلام کو اللہ نہ سمجھ اللہ ايک ہی ہے۔ عیسیٰ عليہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم عليہ السلام جیسی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا پس وہ ہو گئے، اللہ کی طرف سے سچی اور حق بات یہی ہے، تجھے چاہیئے کہ شک و شبہ کرنے والوں میں نہ رہے۔ [3-آل عمران:59-60] ‏

«اَکَمَامِ» کے معنی «لیف» کے بھی کئے گئے ہیں جو درخت کھجور کی گردن پر پوست کی طرح ہوتا ہے اور اس نے زمین میں بھوسی اور اناج پیدا کیا۔

«عَصف» کے معنی کھیتی کے وہ سبز پتے جو اوپر سے کاٹ دئیے گئے ہوں پھر سکھا لئے گئے ہوں۔

«رَ̛يحان» سے مراد پتے يا يہی ريحان جو اسی نام سے مشہور ہے یا کھیتی کے سبز پتے، مطلب یہ ہے کہ گیہوں جو وغیرہ کے وہ دانے جو خوشہ میں بھوسی سمیت ہوتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھیتی سے پہلے ہی اگے ہوئے پتوں کو تو «عَصف» کہتے ہیں اور جب دانے نکل آئیں بالیں پیدا ہو جائیں تو انہیں «رَ̛يحان» کہتے ہیں جیسے کہ زید بن عمرو بن نفیل کے مشہور قصیدے میں ہے۔

صفحہ نمبر9068

پھر فرماتا ہے، اے جنو اور انسانو! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے یعنی تم اس کی نعمتوں ميں سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے ہو اور مالا مال ہو رہے ہو، ناممکن ہے کہ حقیقی طور پر تم کسی نعمت کا انکار کر سکو اور اسے جھوٹ بتا سکو، ایک دو نعمتیں ہوں تو خیر یہاں تو سر تا پا اس کی نعمتوں سے دبے ہوئے ہو، اسی لیے مومن جنوں نے اسے سن کر جھٹ سے جواب دیا «اللھم ولا بشئی من الائک ربنا نکذب فلک الحمد» ‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے «لا فایھا یارب» ‏ یعنی اے رب! ہم ان میں سے کسی نعمت کا انکار نہیں کر سکتے۔

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ شروع شروع رسالت کے زمانہ میں ابھی امر اسلام کا پوری طرح اعلان نہ ہوا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں رکن کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں اس سورت کی تلاوت فرما رہے تھے اور مشرکین بھی سن رہے تھے۔

صفحہ نمبر9069

باب

پھر فرماتا ہے آسمان کو اس نے بلند کیا ہے اور اسی میں میزان قائم کی ہے یعنی عدلʻ جیسے اور آیت میں ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» ‏ [57-الحديد:25] ‏ یعنی ” یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (‏ترازو)‏ نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں “ یہاں بھی اس کے ساتھ ہی فرمایا تاکہ تم ترازو میں حد سے نہ گزر جاؤ یعنی اس اللہ نے آسمان و زمین کو حق اور عدل کے ساتھ پیدا کیا تاکہ تمام چیزیں حق و عدل کے ساتھ ہو جائیں۔

پس فرماتا ہے جب وزن کرو تو سیدھی ترازو سے عدل و حق کے ساتھ وزن کرو کمی زیادتی نہ کرو کہ لیتے وقت بڑھتی تول لیا اور دیتے وقت کم دے دیا۔ اور جگہ ارشاد ہے «‏وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ» ‏ [26-الشعراء:182] ‏ صحت کے ساتھ کھرے پن سے تول کیا کرو، آسمان کو تو اس نے بلند و بالا کیا اور زمین کو اس نے نیچی اور پست کر کے بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ مثل میخ کے گاڑ دئیے کہ وہ ہلے جلے نہیں اور اس پر جو مخلوق بستی ہے وہ باآرام رہے۔ پھر زمین کی مخلوق کو دیکھو ان کی مختلف قسموں، مختلف شکلوں، مختلف رنگوں، مختلف زبانوں، مختلف عادات واطوار پر نظر ڈال کر اللہ کی قدرت کاملہ کا اندازہ کرو۔ ساتھ ہی زمین کی پیداوار کو دیکھو کہ رنگ برنگ کے کھٹے میٹھے، پھیکے سلونے طرح طرح کی خوشبوؤں والے میوے پھل فروٹ اور خاصۃً کھجور کے درخت جو نفع دینے والا اور لگنے کے وقت سے خشک ہو جانے تک اور اس کے بعد بھی کھانے کے کام میں آنے والا عام میوہ ہے، اس پر خوشے ہوتے ہیں جنہیں چیر کر یہ باہر آتا ہے پھر گدلا ہو جاتا ہے پھر تر ہو جاتا ہے پھر پک کر ٹھیک ہو جاتا ہے بہت نافع ہے، ساتھ ہی اس کا درخت بالکل سیدھا اور بےضرر ہوتا ہے۔

صفحہ نمبر9067

ابن ابی حاتم میں ہے کہ قیصر نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میرے قاصد جو آپ کے پاس سے واپس آئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں ایک درخت ہوتا ہے جس کی سی خو خصلت کسی اور میں نہیں، وہ جانور کے کان کی طرح زمین سے نکلتا ہے پھر کھل کر موتی کی طرح ہو جاتا ہے پھر سبز ہو کر زمرد کی طرح ہو جاتا ہے، پھر سرخ ہو کر یاقوت جیسا بن جاتا ہے اور تیار ہو کر بہترین فالودے کے مزے کا ہو جاتا ہے، پھر خشک ہو کر مقیم لوگوں کے بچاؤ کی اور مسافروں کے توشے بھتے کی چیز بن جاتا ہے، پس اگر میرے قاصد کی یہ روایت صحیح ہے تو میرے خیال سے تو یہ درخت جنتی درخت ہے۔ اس کے جواب میں شاہ اسلام سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ یہ خط ہے اللہ کے غلام مسلمانوں کے بادشاہ عمر کی طرف سے شاہ روم قیصر کے نام، آپ کے قاصدوں نے جو خبر آپ کو دی ہے وہ سچ ہے اس قسم کے درخت ملک عرب میں بکثرت ہیں یہی وہ درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مریم عليها السلام کے پاس اگایا تھا جبکہ ان کے لڑکے عیسیٰ عليہ السلام ان کے بطن سے پیدا ہوئے تھے پس اے بادشاہ! اللہ سے ڈر اور عیسیٰ عليہ السلام کو اللہ نہ سمجھ اللہ ايک ہی ہے۔ عیسیٰ عليہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم عليہ السلام جیسی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا پس وہ ہو گئے، اللہ کی طرف سے سچی اور حق بات یہی ہے، تجھے چاہیئے کہ شک و شبہ کرنے والوں میں نہ رہے۔ [3-آل عمران:59-60] ‏

«اَکَمَامِ» کے معنی «لیف» کے بھی کئے گئے ہیں جو درخت کھجور کی گردن پر پوست کی طرح ہوتا ہے اور اس نے زمین میں بھوسی اور اناج پیدا کیا۔

«عَصف» کے معنی کھیتی کے وہ سبز پتے جو اوپر سے کاٹ دئیے گئے ہوں پھر سکھا لئے گئے ہوں۔

«رَ̛يحان» سے مراد پتے يا يہی ريحان جو اسی نام سے مشہور ہے یا کھیتی کے سبز پتے، مطلب یہ ہے کہ گیہوں جو وغیرہ کے وہ دانے جو خوشہ میں بھوسی سمیت ہوتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھیتی سے پہلے ہی اگے ہوئے پتوں کو تو «عَصف» کہتے ہیں اور جب دانے نکل آئیں بالیں پیدا ہو جائیں تو انہیں «رَ̛يحان» کہتے ہیں جیسے کہ زید بن عمرو بن نفیل کے مشہور قصیدے میں ہے۔

صفحہ نمبر9068

پھر فرماتا ہے، اے جنو اور انسانو! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے یعنی تم اس کی نعمتوں ميں سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے ہو اور مالا مال ہو رہے ہو، ناممکن ہے کہ حقیقی طور پر تم کسی نعمت کا انکار کر سکو اور اسے جھوٹ بتا سکو، ایک دو نعمتیں ہوں تو خیر یہاں تو سر تا پا اس کی نعمتوں سے دبے ہوئے ہو، اسی لیے مومن جنوں نے اسے سن کر جھٹ سے جواب دیا «اللھم ولا بشئی من الائک ربنا نکذب فلک الحمد» ‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے «لا فایھا یارب» ‏ یعنی اے رب! ہم ان میں سے کسی نعمت کا انکار نہیں کر سکتے۔

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ شروع شروع رسالت کے زمانہ میں ابھی امر اسلام کا پوری طرح اعلان نہ ہوا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں رکن کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں اس سورت کی تلاوت فرما رہے تھے اور مشرکین بھی سن رہے تھے۔

صفحہ نمبر9069

باب

پھر فرماتا ہے آسمان کو اس نے بلند کیا ہے اور اسی میں میزان قائم کی ہے یعنی عدلʻ جیسے اور آیت میں ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» ‏ [57-الحديد:25] ‏ یعنی ” یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (‏ترازو)‏ نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں “ یہاں بھی اس کے ساتھ ہی فرمایا تاکہ تم ترازو میں حد سے نہ گزر جاؤ یعنی اس اللہ نے آسمان و زمین کو حق اور عدل کے ساتھ پیدا کیا تاکہ تمام چیزیں حق و عدل کے ساتھ ہو جائیں۔

پس فرماتا ہے جب وزن کرو تو سیدھی ترازو سے عدل و حق کے ساتھ وزن کرو کمی زیادتی نہ کرو کہ لیتے وقت بڑھتی تول لیا اور دیتے وقت کم دے دیا۔ اور جگہ ارشاد ہے «‏وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ» ‏ [26-الشعراء:182] ‏ صحت کے ساتھ کھرے پن سے تول کیا کرو، آسمان کو تو اس نے بلند و بالا کیا اور زمین کو اس نے نیچی اور پست کر کے بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ مثل میخ کے گاڑ دئیے کہ وہ ہلے جلے نہیں اور اس پر جو مخلوق بستی ہے وہ باآرام رہے۔ پھر زمین کی مخلوق کو دیکھو ان کی مختلف قسموں، مختلف شکلوں، مختلف رنگوں، مختلف زبانوں، مختلف عادات واطوار پر نظر ڈال کر اللہ کی قدرت کاملہ کا اندازہ کرو۔ ساتھ ہی زمین کی پیداوار کو دیکھو کہ رنگ برنگ کے کھٹے میٹھے، پھیکے سلونے طرح طرح کی خوشبوؤں والے میوے پھل فروٹ اور خاصۃً کھجور کے درخت جو نفع دینے والا اور لگنے کے وقت سے خشک ہو جانے تک اور اس کے بعد بھی کھانے کے کام میں آنے والا عام میوہ ہے، اس پر خوشے ہوتے ہیں جنہیں چیر کر یہ باہر آتا ہے پھر گدلا ہو جاتا ہے پھر تر ہو جاتا ہے پھر پک کر ٹھیک ہو جاتا ہے بہت نافع ہے، ساتھ ہی اس کا درخت بالکل سیدھا اور بےضرر ہوتا ہے۔

صفحہ نمبر9067

ابن ابی حاتم میں ہے کہ قیصر نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میرے قاصد جو آپ کے پاس سے واپس آئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں ایک درخت ہوتا ہے جس کی سی خو خصلت کسی اور میں نہیں، وہ جانور کے کان کی طرح زمین سے نکلتا ہے پھر کھل کر موتی کی طرح ہو جاتا ہے پھر سبز ہو کر زمرد کی طرح ہو جاتا ہے، پھر سرخ ہو کر یاقوت جیسا بن جاتا ہے اور تیار ہو کر بہترین فالودے کے مزے کا ہو جاتا ہے، پھر خشک ہو کر مقیم لوگوں کے بچاؤ کی اور مسافروں کے توشے بھتے کی چیز بن جاتا ہے، پس اگر میرے قاصد کی یہ روایت صحیح ہے تو میرے خیال سے تو یہ درخت جنتی درخت ہے۔ اس کے جواب میں شاہ اسلام سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ یہ خط ہے اللہ کے غلام مسلمانوں کے بادشاہ عمر کی طرف سے شاہ روم قیصر کے نام، آپ کے قاصدوں نے جو خبر آپ کو دی ہے وہ سچ ہے اس قسم کے درخت ملک عرب میں بکثرت ہیں یہی وہ درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مریم عليها السلام کے پاس اگایا تھا جبکہ ان کے لڑکے عیسیٰ عليہ السلام ان کے بطن سے پیدا ہوئے تھے پس اے بادشاہ! اللہ سے ڈر اور عیسیٰ عليہ السلام کو اللہ نہ سمجھ اللہ ايک ہی ہے۔ عیسیٰ عليہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم عليہ السلام جیسی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا پس وہ ہو گئے، اللہ کی طرف سے سچی اور حق بات یہی ہے، تجھے چاہیئے کہ شک و شبہ کرنے والوں میں نہ رہے۔ [3-آل عمران:59-60] ‏

«اَکَمَامِ» کے معنی «لیف» کے بھی کئے گئے ہیں جو درخت کھجور کی گردن پر پوست کی طرح ہوتا ہے اور اس نے زمین میں بھوسی اور اناج پیدا کیا۔

«عَصف» کے معنی کھیتی کے وہ سبز پتے جو اوپر سے کاٹ دئیے گئے ہوں پھر سکھا لئے گئے ہوں۔

«رَ̛يحان» سے مراد پتے يا يہی ريحان جو اسی نام سے مشہور ہے یا کھیتی کے سبز پتے، مطلب یہ ہے کہ گیہوں جو وغیرہ کے وہ دانے جو خوشہ میں بھوسی سمیت ہوتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھیتی سے پہلے ہی اگے ہوئے پتوں کو تو «عَصف» کہتے ہیں اور جب دانے نکل آئیں بالیں پیدا ہو جائیں تو انہیں «رَ̛يحان» کہتے ہیں جیسے کہ زید بن عمرو بن نفیل کے مشہور قصیدے میں ہے۔

صفحہ نمبر9068

پھر فرماتا ہے، اے جنو اور انسانو! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے یعنی تم اس کی نعمتوں ميں سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے ہو اور مالا مال ہو رہے ہو، ناممکن ہے کہ حقیقی طور پر تم کسی نعمت کا انکار کر سکو اور اسے جھوٹ بتا سکو، ایک دو نعمتیں ہوں تو خیر یہاں تو سر تا پا اس کی نعمتوں سے دبے ہوئے ہو، اسی لیے مومن جنوں نے اسے سن کر جھٹ سے جواب دیا «اللھم ولا بشئی من الائک ربنا نکذب فلک الحمد» ‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے «لا فایھا یارب» ‏ یعنی اے رب! ہم ان میں سے کسی نعمت کا انکار نہیں کر سکتے۔

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ شروع شروع رسالت کے زمانہ میں ابھی امر اسلام کا پوری طرح اعلان نہ ہوا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں رکن کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں اس سورت کی تلاوت فرما رہے تھے اور مشرکین بھی سن رہے تھے۔

صفحہ نمبر9069

باب

پھر فرماتا ہے آسمان کو اس نے بلند کیا ہے اور اسی میں میزان قائم کی ہے یعنی عدلʻ جیسے اور آیت میں ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» ‏ [57-الحديد:25] ‏ یعنی ” یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (‏ترازو)‏ نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں “ یہاں بھی اس کے ساتھ ہی فرمایا تاکہ تم ترازو میں حد سے نہ گزر جاؤ یعنی اس اللہ نے آسمان و زمین کو حق اور عدل کے ساتھ پیدا کیا تاکہ تمام چیزیں حق و عدل کے ساتھ ہو جائیں۔

پس فرماتا ہے جب وزن کرو تو سیدھی ترازو سے عدل و حق کے ساتھ وزن کرو کمی زیادتی نہ کرو کہ لیتے وقت بڑھتی تول لیا اور دیتے وقت کم دے دیا۔ اور جگہ ارشاد ہے «‏وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ» ‏ [26-الشعراء:182] ‏ صحت کے ساتھ کھرے پن سے تول کیا کرو، آسمان کو تو اس نے بلند و بالا کیا اور زمین کو اس نے نیچی اور پست کر کے بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ مثل میخ کے گاڑ دئیے کہ وہ ہلے جلے نہیں اور اس پر جو مخلوق بستی ہے وہ باآرام رہے۔ پھر زمین کی مخلوق کو دیکھو ان کی مختلف قسموں، مختلف شکلوں، مختلف رنگوں، مختلف زبانوں، مختلف عادات واطوار پر نظر ڈال کر اللہ کی قدرت کاملہ کا اندازہ کرو۔ ساتھ ہی زمین کی پیداوار کو دیکھو کہ رنگ برنگ کے کھٹے میٹھے، پھیکے سلونے طرح طرح کی خوشبوؤں والے میوے پھل فروٹ اور خاصۃً کھجور کے درخت جو نفع دینے والا اور لگنے کے وقت سے خشک ہو جانے تک اور اس کے بعد بھی کھانے کے کام میں آنے والا عام میوہ ہے، اس پر خوشے ہوتے ہیں جنہیں چیر کر یہ باہر آتا ہے پھر گدلا ہو جاتا ہے پھر تر ہو جاتا ہے پھر پک کر ٹھیک ہو جاتا ہے بہت نافع ہے، ساتھ ہی اس کا درخت بالکل سیدھا اور بےضرر ہوتا ہے۔

صفحہ نمبر9067

ابن ابی حاتم میں ہے کہ قیصر نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میرے قاصد جو آپ کے پاس سے واپس آئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں ایک درخت ہوتا ہے جس کی سی خو خصلت کسی اور میں نہیں، وہ جانور کے کان کی طرح زمین سے نکلتا ہے پھر کھل کر موتی کی طرح ہو جاتا ہے پھر سبز ہو کر زمرد کی طرح ہو جاتا ہے، پھر سرخ ہو کر یاقوت جیسا بن جاتا ہے اور تیار ہو کر بہترین فالودے کے مزے کا ہو جاتا ہے، پھر خشک ہو کر مقیم لوگوں کے بچاؤ کی اور مسافروں کے توشے بھتے کی چیز بن جاتا ہے، پس اگر میرے قاصد کی یہ روایت صحیح ہے تو میرے خیال سے تو یہ درخت جنتی درخت ہے۔ اس کے جواب میں شاہ اسلام سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ یہ خط ہے اللہ کے غلام مسلمانوں کے بادشاہ عمر کی طرف سے شاہ روم قیصر کے نام، آپ کے قاصدوں نے جو خبر آپ کو دی ہے وہ سچ ہے اس قسم کے درخت ملک عرب میں بکثرت ہیں یہی وہ درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مریم عليها السلام کے پاس اگایا تھا جبکہ ان کے لڑکے عیسیٰ عليہ السلام ان کے بطن سے پیدا ہوئے تھے پس اے بادشاہ! اللہ سے ڈر اور عیسیٰ عليہ السلام کو اللہ نہ سمجھ اللہ ايک ہی ہے۔ عیسیٰ عليہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم عليہ السلام جیسی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا پس وہ ہو گئے، اللہ کی طرف سے سچی اور حق بات یہی ہے، تجھے چاہیئے کہ شک و شبہ کرنے والوں میں نہ رہے۔ [3-آل عمران:59-60] ‏

«اَکَمَامِ» کے معنی «لیف» کے بھی کئے گئے ہیں جو درخت کھجور کی گردن پر پوست کی طرح ہوتا ہے اور اس نے زمین میں بھوسی اور اناج پیدا کیا۔

«عَصف» کے معنی کھیتی کے وہ سبز پتے جو اوپر سے کاٹ دئیے گئے ہوں پھر سکھا لئے گئے ہوں۔

«رَ̛يحان» سے مراد پتے يا يہی ريحان جو اسی نام سے مشہور ہے یا کھیتی کے سبز پتے، مطلب یہ ہے کہ گیہوں جو وغیرہ کے وہ دانے جو خوشہ میں بھوسی سمیت ہوتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھیتی سے پہلے ہی اگے ہوئے پتوں کو تو «عَصف» کہتے ہیں اور جب دانے نکل آئیں بالیں پیدا ہو جائیں تو انہیں «رَ̛يحان» کہتے ہیں جیسے کہ زید بن عمرو بن نفیل کے مشہور قصیدے میں ہے۔

صفحہ نمبر9068

پھر فرماتا ہے، اے جنو اور انسانو! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے یعنی تم اس کی نعمتوں ميں سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے ہو اور مالا مال ہو رہے ہو، ناممکن ہے کہ حقیقی طور پر تم کسی نعمت کا انکار کر سکو اور اسے جھوٹ بتا سکو، ایک دو نعمتیں ہوں تو خیر یہاں تو سر تا پا اس کی نعمتوں سے دبے ہوئے ہو، اسی لیے مومن جنوں نے اسے سن کر جھٹ سے جواب دیا «اللھم ولا بشئی من الائک ربنا نکذب فلک الحمد» ‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے «لا فایھا یارب» ‏ یعنی اے رب! ہم ان میں سے کسی نعمت کا انکار نہیں کر سکتے۔

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ شروع شروع رسالت کے زمانہ میں ابھی امر اسلام کا پوری طرح اعلان نہ ہوا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں رکن کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں اس سورت کی تلاوت فرما رہے تھے اور مشرکین بھی سن رہے تھے۔

صفحہ نمبر9069

باب

پھر فرماتا ہے آسمان کو اس نے بلند کیا ہے اور اسی میں میزان قائم کی ہے یعنی عدلʻ جیسے اور آیت میں ہے «لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ» ‏ [57-الحديد:25] ‏ یعنی ” یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (‏ترازو)‏ نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں “ یہاں بھی اس کے ساتھ ہی فرمایا تاکہ تم ترازو میں حد سے نہ گزر جاؤ یعنی اس اللہ نے آسمان و زمین کو حق اور عدل کے ساتھ پیدا کیا تاکہ تمام چیزیں حق و عدل کے ساتھ ہو جائیں۔

پس فرماتا ہے جب وزن کرو تو سیدھی ترازو سے عدل و حق کے ساتھ وزن کرو کمی زیادتی نہ کرو کہ لیتے وقت بڑھتی تول لیا اور دیتے وقت کم دے دیا۔ اور جگہ ارشاد ہے «‏وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ» ‏ [26-الشعراء:182] ‏ صحت کے ساتھ کھرے پن سے تول کیا کرو، آسمان کو تو اس نے بلند و بالا کیا اور زمین کو اس نے نیچی اور پست کر کے بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ مثل میخ کے گاڑ دئیے کہ وہ ہلے جلے نہیں اور اس پر جو مخلوق بستی ہے وہ باآرام رہے۔ پھر زمین کی مخلوق کو دیکھو ان کی مختلف قسموں، مختلف شکلوں، مختلف رنگوں، مختلف زبانوں، مختلف عادات واطوار پر نظر ڈال کر اللہ کی قدرت کاملہ کا اندازہ کرو۔ ساتھ ہی زمین کی پیداوار کو دیکھو کہ رنگ برنگ کے کھٹے میٹھے، پھیکے سلونے طرح طرح کی خوشبوؤں والے میوے پھل فروٹ اور خاصۃً کھجور کے درخت جو نفع دینے والا اور لگنے کے وقت سے خشک ہو جانے تک اور اس کے بعد بھی کھانے کے کام میں آنے والا عام میوہ ہے، اس پر خوشے ہوتے ہیں جنہیں چیر کر یہ باہر آتا ہے پھر گدلا ہو جاتا ہے پھر تر ہو جاتا ہے پھر پک کر ٹھیک ہو جاتا ہے بہت نافع ہے، ساتھ ہی اس کا درخت بالکل سیدھا اور بےضرر ہوتا ہے۔

صفحہ نمبر9067

ابن ابی حاتم میں ہے کہ قیصر نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میرے قاصد جو آپ کے پاس سے واپس آئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں ایک درخت ہوتا ہے جس کی سی خو خصلت کسی اور میں نہیں، وہ جانور کے کان کی طرح زمین سے نکلتا ہے پھر کھل کر موتی کی طرح ہو جاتا ہے پھر سبز ہو کر زمرد کی طرح ہو جاتا ہے، پھر سرخ ہو کر یاقوت جیسا بن جاتا ہے اور تیار ہو کر بہترین فالودے کے مزے کا ہو جاتا ہے، پھر خشک ہو کر مقیم لوگوں کے بچاؤ کی اور مسافروں کے توشے بھتے کی چیز بن جاتا ہے، پس اگر میرے قاصد کی یہ روایت صحیح ہے تو میرے خیال سے تو یہ درخت جنتی درخت ہے۔ اس کے جواب میں شاہ اسلام سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ یہ خط ہے اللہ کے غلام مسلمانوں کے بادشاہ عمر کی طرف سے شاہ روم قیصر کے نام، آپ کے قاصدوں نے جو خبر آپ کو دی ہے وہ سچ ہے اس قسم کے درخت ملک عرب میں بکثرت ہیں یہی وہ درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مریم عليها السلام کے پاس اگایا تھا جبکہ ان کے لڑکے عیسیٰ عليہ السلام ان کے بطن سے پیدا ہوئے تھے پس اے بادشاہ! اللہ سے ڈر اور عیسیٰ عليہ السلام کو اللہ نہ سمجھ اللہ ايک ہی ہے۔ عیسیٰ عليہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم عليہ السلام جیسی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا پس وہ ہو گئے، اللہ کی طرف سے سچی اور حق بات یہی ہے، تجھے چاہیئے کہ شک و شبہ کرنے والوں میں نہ رہے۔ [3-آل عمران:59-60] ‏

«اَکَمَامِ» کے معنی «لیف» کے بھی کئے گئے ہیں جو درخت کھجور کی گردن پر پوست کی طرح ہوتا ہے اور اس نے زمین میں بھوسی اور اناج پیدا کیا۔

«عَصف» کے معنی کھیتی کے وہ سبز پتے جو اوپر سے کاٹ دئیے گئے ہوں پھر سکھا لئے گئے ہوں۔

«رَ̛يحان» سے مراد پتے يا يہی ريحان جو اسی نام سے مشہور ہے یا کھیتی کے سبز پتے، مطلب یہ ہے کہ گیہوں جو وغیرہ کے وہ دانے جو خوشہ میں بھوسی سمیت ہوتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھیتی سے پہلے ہی اگے ہوئے پتوں کو تو «عَصف» کہتے ہیں اور جب دانے نکل آئیں بالیں پیدا ہو جائیں تو انہیں «رَ̛يحان» کہتے ہیں جیسے کہ زید بن عمرو بن نفیل کے مشہور قصیدے میں ہے۔

صفحہ نمبر9068

پھر فرماتا ہے، اے جنو اور انسانو! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے یعنی تم اس کی نعمتوں ميں سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے ہو اور مالا مال ہو رہے ہو، ناممکن ہے کہ حقیقی طور پر تم کسی نعمت کا انکار کر سکو اور اسے جھوٹ بتا سکو، ایک دو نعمتیں ہوں تو خیر یہاں تو سر تا پا اس کی نعمتوں سے دبے ہوئے ہو، اسی لیے مومن جنوں نے اسے سن کر جھٹ سے جواب دیا «اللھم ولا بشئی من الائک ربنا نکذب فلک الحمد» ‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے «لا فایھا یارب» ‏ یعنی اے رب! ہم ان میں سے کسی نعمت کا انکار نہیں کر سکتے۔

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ شروع شروع رسالت کے زمانہ میں ابھی امر اسلام کا پوری طرح اعلان نہ ہوا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ میں رکن کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں اس سورت کی تلاوت فرما رہے تھے اور مشرکین بھی سن رہے تھے۔

صفحہ نمبر9069

انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔

مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر9076

سورۃ الفرقان کی آیت «‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏ [25- الفرقان:53] ‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے-

امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔

جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏

اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں-

بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

صفحہ نمبر9077

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔

صفحہ نمبر9078

انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔

مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر9076

سورۃ الفرقان کی آیت «‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏ [25- الفرقان:53] ‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے-

امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔

جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏

اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں-

بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

صفحہ نمبر9077

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔

صفحہ نمبر9078

انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔

مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر9076

سورۃ الفرقان کی آیت «‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏ [25- الفرقان:53] ‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے-

امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔

جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏

اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں-

بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

صفحہ نمبر9077

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔

صفحہ نمبر9078

انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔

مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر9076

سورۃ الفرقان کی آیت «‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏ [25- الفرقان:53] ‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے-

امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔

جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏

اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں-

بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

صفحہ نمبر9077

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔

صفحہ نمبر9078

انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔

مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر9076

سورۃ الفرقان کی آیت «‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏ [25- الفرقان:53] ‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے-

امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔

جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏

اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں-

بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

صفحہ نمبر9077

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔

صفحہ نمبر9078

انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔

مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر9076

سورۃ الفرقان کی آیت «‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏ [25- الفرقان:53] ‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے-

امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔

جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏

اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں-

بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

صفحہ نمبر9077

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔

صفحہ نمبر9078

انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔

مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر9076

سورۃ الفرقان کی آیت «‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏ [25- الفرقان:53] ‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے-

امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔

جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏

اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں-

بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

صفحہ نمبر9077

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔

صفحہ نمبر9078

انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔

مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر9076

سورۃ الفرقان کی آیت «‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏ [25- الفرقان:53] ‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے-

امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔

جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏

اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں-

بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

صفحہ نمبر9077

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔

صفحہ نمبر9078

انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔

مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر9076

سورۃ الفرقان کی آیت «‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏ [25- الفرقان:53] ‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے-

امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔

جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏

اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں-

بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

صفحہ نمبر9077

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔

صفحہ نمبر9078

انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔

مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر9076

سورۃ الفرقان کی آیت «‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏ [25- الفرقان:53] ‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے-

امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔

جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏

اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں-

بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

صفحہ نمبر9077

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔

صفحہ نمبر9078

انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔

مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر9076

سورۃ الفرقان کی آیت «‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏ [25- الفرقان:53] ‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے-

امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔

جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏

اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں-

بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

صفحہ نمبر9077

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔

صفحہ نمبر9078

انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق ٭٭

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا۔

مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”فرشتے نور سے، جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:2996-60] ‏ پھر اپنی کسی نعمت کے نہ جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے، دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے، دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی رہتی ہیں، ہر دن انقلاب لاتا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» [73-المزمل:9] ‏ مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ۔، تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لیے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں۔ ایک کھاری پانی کا ہے، دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے، نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار ميں چل رہے ہیں، دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، نہ وہ اس میں مل سکے، نہ وہ اس میں جا سکے، یہ اپنی حد میں ہے، وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے، حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر9076

سورۃ الفرقان کی آیت «‏وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا» ‏ [25- الفرقان:53] ‏، الخ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے-

امام ابن جریر رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور «صدف» جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر «لؤلؤ» پیدا ہوتا ہے، واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں، مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے، آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے۔

جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسانوں میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا- تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے- 2اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے «لؤلؤ» یعنی موتی تو ایک مشہور و معروف چيز ہے- «مرجان» کی نسبت کہا گیا ہے کہ چھوٹے موتی کو کہتے ہیں کو کہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری589/11] ‏

اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو «مرجان» کہتے ہیں-

بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [35- فاطر:12] ‏ یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے۔

صفحہ نمبر9077

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے، اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے، مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادلوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے جاتے ہیں، یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی؟ عمیرہ بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا، اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے، نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا، نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا، نہ ان سے خوش، نہ ان پر نرم۔

صفحہ نمبر9078

اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب فنا ٭٭

فرماتا ہے کہ زمین کی کل مخلوق فنا ہونے والی ہے ایک دن آئے گا کہ اس پر کچھ نہ ہو گا، کل جاندار مخلوق کو موت آ جائے گی، اسی طرح کل آسمان والے بھی موت کا مزہ چکھیں گے، مگر جسے اللہ چاہے صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک رہے گی، جو موت و فوت سے پاک ہے،

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولاً تو پیدائش عالم کا ذکر فرمایا پھر ان کی فنا کا بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک منقول دعا میں یہ بھی ہے «یا حی یا قیوم یا بدیع السموات والارض یا ذا الجلال والاکرام لا الہ الا انت برحمتک نستغیث اصلح لنا شاننا کلہ ولا تکلنا الی انفسنا طرفتہ عین ولا الی احد من خلقک» ‏ یعنی اے ہمیشہ جینے اور ابدالآباد تک باقی اور تمام قائم رہنے والے اللہ! اے آسمان و زمین کے ابتداءً پیدا کرنے والے۔ اے رب جلال اور بزرگی والے پروردگار تیرے سوا کوئی معبود نہیں، ہم تیری رحمت ہی سے استغاثہ کرتے ہیں ہمارے تمام کام تو بنا دے اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تو ہماری طرف نہ سونپ اور نہ اپنی مخلوق میں سے کسی کی طرف۔

صفحہ نمبر9090

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تو آیت «کُلُّ مَنْ علَيْهَا فَانٍ» ‏ پڑھے تو ٹھہر نہیں اور ساتھ ہی آیت «‏وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُوْ الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ» [55- الرحمن:27] ‏ پڑھ لے۔ اس آیت کا مضمون دوسری آیت میں ان الفاظ سے ہے «كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ۭ لَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [28- القص:88] ‏ سوائے ذات باری کے ہر چیز ناپید ہونے والی ہے، پھر اپنے چہرے کی تعریف میں فرماتا ہے وہ ذوالجلال ہے یعنی اس قابل ہے کہ اس کی عزت کی جائے اس کا جاہ و جلال مانا جائے اور اس کے احکام کی پوری اطاعت کی جائے اور اس کے فرمان کی خلاف ورزی سے رکا جائے۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ» [18- الكهف:28] ‏، جو لوگ صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے رہتے ہیں اور اسی کی ذات کے مرید ہیں تو انہی کے ساتھ اپنے نفس کو وابستہ رکھ۔

اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ «إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ» [76-الانسان:9] ‏ نیک لوگ صدقہ دیتے وقت سمجھتے ہیں کہ ہم محض اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے پلاتے ہیں، وہ کبریائی بڑائی عظمت اور جلال والا ہے، پس اس بات کو بیان فرما کر کہ تمام اہل زمین فوت ہونے میں اور پھر اللہ کے سامنے قیامت کے دن پیش ہونے میں برابر ہیں، اور اس دن وہ بزرگی والا اللہ ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ حکم فرمائے گا۔

ساتھ ہی فرمایا: اب تم اے جن و انس رب کی کون سی نعمت کا انکار کرتے ہو؟ پھر فرماتا ہے کہ وہ ساری مخلوق سے بےنیاز ہے اور کل مخلوق اس کی یکسر محتاج ہے- سب کے سب سائل ہیں اور وہ غنی ہے، سب فقیر ہیں اور وہ سب کے سوال پورے کرنے والا ہے، ہر مخلوق اپنے حال و قال سے اپنی حاجتیں اس کی بارگاہ میں لے جاتی ہے اور ان کے پورا ہونے کا سوال کرتی ہے۔ وہ ہر دن نئی شان میں ہے، اس کی شان ہے کہ ہر پکارنے والے کو جواب دے۔ مانگنے والے کو عطا فرمائے، تنگ حالوں کو کشادگی دے، مصیبت و آفات والوں کو رہائی بخشے، بیماروں کو تندرستی عنایت فرمائے، غم و وہم دور کرے، بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو قبول فرما کر اسے قرار اور آرام عنایت فرمائے۔ گنہگاروں کے واویلا پر متوجہ ہو کر خطاؤں سے درگزر فرمائے، گناہوں کو بخشے، زندگی وہ دے، موت وہ دے، تمام زمین والے، کل آسمان والے اس کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے اور دامن پھیلائے ہوئے ہیں، چھوٹوں کو بڑا وہ کرتا ہے، قیدیوں کو رہائی وہ دیتا ہے، نیک لوگوں کی حاجتوں کو پورا کرنے والا، ان کی پکار کا مدعا، ان کے شکوے شکایت کا مراجع وہی ہے، غلاموں کو آزاد کرنے کی رغبت وہی دلانے والا اور ان کو اپنی طرف سے عطیہ وہی عطا فرماتا ہے یہی اس کی شان ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! وہ شان کیا ہے؟ فرمایا: ”گناہوں کو بخشنا، دکھ کو دور کرنا، لوگوں کو ترقی اور تنزلی پر لانا۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11،ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9091

ابن ابی حاتم میں اور ابن عساکر میں بھی اسی کے ہم معنی ایک حدیث ہے۔ صحیح بخاری میں یہ روایت معلقاً سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے قول سے مروی ہے [مسند ابویعلی:ضعیف،2268] ‏ بزار میں بھی کچھ کمی کے ساتھ مرفوعًا مروی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے دونوں تختے سرخ یاقوت کے ہیں- اس کا علم نوری ہے، اس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔ ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے، ہر نگاہ پر کسی کو زندگی دیتا ہے اور مارتا اور کسی کو عزت و ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11] ‏

صفحہ نمبر9092

اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب فنا ٭٭

فرماتا ہے کہ زمین کی کل مخلوق فنا ہونے والی ہے ایک دن آئے گا کہ اس پر کچھ نہ ہو گا، کل جاندار مخلوق کو موت آ جائے گی، اسی طرح کل آسمان والے بھی موت کا مزہ چکھیں گے، مگر جسے اللہ چاہے صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک رہے گی، جو موت و فوت سے پاک ہے،

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولاً تو پیدائش عالم کا ذکر فرمایا پھر ان کی فنا کا بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک منقول دعا میں یہ بھی ہے «یا حی یا قیوم یا بدیع السموات والارض یا ذا الجلال والاکرام لا الہ الا انت برحمتک نستغیث اصلح لنا شاننا کلہ ولا تکلنا الی انفسنا طرفتہ عین ولا الی احد من خلقک» ‏ یعنی اے ہمیشہ جینے اور ابدالآباد تک باقی اور تمام قائم رہنے والے اللہ! اے آسمان و زمین کے ابتداءً پیدا کرنے والے۔ اے رب جلال اور بزرگی والے پروردگار تیرے سوا کوئی معبود نہیں، ہم تیری رحمت ہی سے استغاثہ کرتے ہیں ہمارے تمام کام تو بنا دے اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تو ہماری طرف نہ سونپ اور نہ اپنی مخلوق میں سے کسی کی طرف۔

صفحہ نمبر9090

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تو آیت «کُلُّ مَنْ علَيْهَا فَانٍ» ‏ پڑھے تو ٹھہر نہیں اور ساتھ ہی آیت «‏وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُوْ الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ» [55- الرحمن:27] ‏ پڑھ لے۔ اس آیت کا مضمون دوسری آیت میں ان الفاظ سے ہے «كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ۭ لَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [28- القص:88] ‏ سوائے ذات باری کے ہر چیز ناپید ہونے والی ہے، پھر اپنے چہرے کی تعریف میں فرماتا ہے وہ ذوالجلال ہے یعنی اس قابل ہے کہ اس کی عزت کی جائے اس کا جاہ و جلال مانا جائے اور اس کے احکام کی پوری اطاعت کی جائے اور اس کے فرمان کی خلاف ورزی سے رکا جائے۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ» [18- الكهف:28] ‏، جو لوگ صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے رہتے ہیں اور اسی کی ذات کے مرید ہیں تو انہی کے ساتھ اپنے نفس کو وابستہ رکھ۔

اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ «إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ» [76-الانسان:9] ‏ نیک لوگ صدقہ دیتے وقت سمجھتے ہیں کہ ہم محض اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے پلاتے ہیں، وہ کبریائی بڑائی عظمت اور جلال والا ہے، پس اس بات کو بیان فرما کر کہ تمام اہل زمین فوت ہونے میں اور پھر اللہ کے سامنے قیامت کے دن پیش ہونے میں برابر ہیں، اور اس دن وہ بزرگی والا اللہ ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ حکم فرمائے گا۔

ساتھ ہی فرمایا: اب تم اے جن و انس رب کی کون سی نعمت کا انکار کرتے ہو؟ پھر فرماتا ہے کہ وہ ساری مخلوق سے بےنیاز ہے اور کل مخلوق اس کی یکسر محتاج ہے- سب کے سب سائل ہیں اور وہ غنی ہے، سب فقیر ہیں اور وہ سب کے سوال پورے کرنے والا ہے، ہر مخلوق اپنے حال و قال سے اپنی حاجتیں اس کی بارگاہ میں لے جاتی ہے اور ان کے پورا ہونے کا سوال کرتی ہے۔ وہ ہر دن نئی شان میں ہے، اس کی شان ہے کہ ہر پکارنے والے کو جواب دے۔ مانگنے والے کو عطا فرمائے، تنگ حالوں کو کشادگی دے، مصیبت و آفات والوں کو رہائی بخشے، بیماروں کو تندرستی عنایت فرمائے، غم و وہم دور کرے، بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو قبول فرما کر اسے قرار اور آرام عنایت فرمائے۔ گنہگاروں کے واویلا پر متوجہ ہو کر خطاؤں سے درگزر فرمائے، گناہوں کو بخشے، زندگی وہ دے، موت وہ دے، تمام زمین والے، کل آسمان والے اس کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے اور دامن پھیلائے ہوئے ہیں، چھوٹوں کو بڑا وہ کرتا ہے، قیدیوں کو رہائی وہ دیتا ہے، نیک لوگوں کی حاجتوں کو پورا کرنے والا، ان کی پکار کا مدعا، ان کے شکوے شکایت کا مراجع وہی ہے، غلاموں کو آزاد کرنے کی رغبت وہی دلانے والا اور ان کو اپنی طرف سے عطیہ وہی عطا فرماتا ہے یہی اس کی شان ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! وہ شان کیا ہے؟ فرمایا: ”گناہوں کو بخشنا، دکھ کو دور کرنا، لوگوں کو ترقی اور تنزلی پر لانا۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11،ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9091

ابن ابی حاتم میں اور ابن عساکر میں بھی اسی کے ہم معنی ایک حدیث ہے۔ صحیح بخاری میں یہ روایت معلقاً سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے قول سے مروی ہے [مسند ابویعلی:ضعیف،2268] ‏ بزار میں بھی کچھ کمی کے ساتھ مرفوعًا مروی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے دونوں تختے سرخ یاقوت کے ہیں- اس کا علم نوری ہے، اس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔ ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے، ہر نگاہ پر کسی کو زندگی دیتا ہے اور مارتا اور کسی کو عزت و ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11] ‏

صفحہ نمبر9092

اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب فنا ٭٭

فرماتا ہے کہ زمین کی کل مخلوق فنا ہونے والی ہے ایک دن آئے گا کہ اس پر کچھ نہ ہو گا، کل جاندار مخلوق کو موت آ جائے گی، اسی طرح کل آسمان والے بھی موت کا مزہ چکھیں گے، مگر جسے اللہ چاہے صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک رہے گی، جو موت و فوت سے پاک ہے،

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولاً تو پیدائش عالم کا ذکر فرمایا پھر ان کی فنا کا بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک منقول دعا میں یہ بھی ہے «یا حی یا قیوم یا بدیع السموات والارض یا ذا الجلال والاکرام لا الہ الا انت برحمتک نستغیث اصلح لنا شاننا کلہ ولا تکلنا الی انفسنا طرفتہ عین ولا الی احد من خلقک» ‏ یعنی اے ہمیشہ جینے اور ابدالآباد تک باقی اور تمام قائم رہنے والے اللہ! اے آسمان و زمین کے ابتداءً پیدا کرنے والے۔ اے رب جلال اور بزرگی والے پروردگار تیرے سوا کوئی معبود نہیں، ہم تیری رحمت ہی سے استغاثہ کرتے ہیں ہمارے تمام کام تو بنا دے اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تو ہماری طرف نہ سونپ اور نہ اپنی مخلوق میں سے کسی کی طرف۔

صفحہ نمبر9090

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تو آیت «کُلُّ مَنْ علَيْهَا فَانٍ» ‏ پڑھے تو ٹھہر نہیں اور ساتھ ہی آیت «‏وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُوْ الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ» [55- الرحمن:27] ‏ پڑھ لے۔ اس آیت کا مضمون دوسری آیت میں ان الفاظ سے ہے «كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ۭ لَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [28- القص:88] ‏ سوائے ذات باری کے ہر چیز ناپید ہونے والی ہے، پھر اپنے چہرے کی تعریف میں فرماتا ہے وہ ذوالجلال ہے یعنی اس قابل ہے کہ اس کی عزت کی جائے اس کا جاہ و جلال مانا جائے اور اس کے احکام کی پوری اطاعت کی جائے اور اس کے فرمان کی خلاف ورزی سے رکا جائے۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ» [18- الكهف:28] ‏، جو لوگ صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے رہتے ہیں اور اسی کی ذات کے مرید ہیں تو انہی کے ساتھ اپنے نفس کو وابستہ رکھ۔

اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ «إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ» [76-الانسان:9] ‏ نیک لوگ صدقہ دیتے وقت سمجھتے ہیں کہ ہم محض اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے پلاتے ہیں، وہ کبریائی بڑائی عظمت اور جلال والا ہے، پس اس بات کو بیان فرما کر کہ تمام اہل زمین فوت ہونے میں اور پھر اللہ کے سامنے قیامت کے دن پیش ہونے میں برابر ہیں، اور اس دن وہ بزرگی والا اللہ ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ حکم فرمائے گا۔

ساتھ ہی فرمایا: اب تم اے جن و انس رب کی کون سی نعمت کا انکار کرتے ہو؟ پھر فرماتا ہے کہ وہ ساری مخلوق سے بےنیاز ہے اور کل مخلوق اس کی یکسر محتاج ہے- سب کے سب سائل ہیں اور وہ غنی ہے، سب فقیر ہیں اور وہ سب کے سوال پورے کرنے والا ہے، ہر مخلوق اپنے حال و قال سے اپنی حاجتیں اس کی بارگاہ میں لے جاتی ہے اور ان کے پورا ہونے کا سوال کرتی ہے۔ وہ ہر دن نئی شان میں ہے، اس کی شان ہے کہ ہر پکارنے والے کو جواب دے۔ مانگنے والے کو عطا فرمائے، تنگ حالوں کو کشادگی دے، مصیبت و آفات والوں کو رہائی بخشے، بیماروں کو تندرستی عنایت فرمائے، غم و وہم دور کرے، بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو قبول فرما کر اسے قرار اور آرام عنایت فرمائے۔ گنہگاروں کے واویلا پر متوجہ ہو کر خطاؤں سے درگزر فرمائے، گناہوں کو بخشے، زندگی وہ دے، موت وہ دے، تمام زمین والے، کل آسمان والے اس کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے اور دامن پھیلائے ہوئے ہیں، چھوٹوں کو بڑا وہ کرتا ہے، قیدیوں کو رہائی وہ دیتا ہے، نیک لوگوں کی حاجتوں کو پورا کرنے والا، ان کی پکار کا مدعا، ان کے شکوے شکایت کا مراجع وہی ہے، غلاموں کو آزاد کرنے کی رغبت وہی دلانے والا اور ان کو اپنی طرف سے عطیہ وہی عطا فرماتا ہے یہی اس کی شان ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! وہ شان کیا ہے؟ فرمایا: ”گناہوں کو بخشنا، دکھ کو دور کرنا، لوگوں کو ترقی اور تنزلی پر لانا۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11،ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9091

ابن ابی حاتم میں اور ابن عساکر میں بھی اسی کے ہم معنی ایک حدیث ہے۔ صحیح بخاری میں یہ روایت معلقاً سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے قول سے مروی ہے [مسند ابویعلی:ضعیف،2268] ‏ بزار میں بھی کچھ کمی کے ساتھ مرفوعًا مروی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے دونوں تختے سرخ یاقوت کے ہیں- اس کا علم نوری ہے، اس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔ ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے، ہر نگاہ پر کسی کو زندگی دیتا ہے اور مارتا اور کسی کو عزت و ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11] ‏

صفحہ نمبر9092

اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب فنا ٭٭

فرماتا ہے کہ زمین کی کل مخلوق فنا ہونے والی ہے ایک دن آئے گا کہ اس پر کچھ نہ ہو گا، کل جاندار مخلوق کو موت آ جائے گی، اسی طرح کل آسمان والے بھی موت کا مزہ چکھیں گے، مگر جسے اللہ چاہے صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک رہے گی، جو موت و فوت سے پاک ہے،

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولاً تو پیدائش عالم کا ذکر فرمایا پھر ان کی فنا کا بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک منقول دعا میں یہ بھی ہے «یا حی یا قیوم یا بدیع السموات والارض یا ذا الجلال والاکرام لا الہ الا انت برحمتک نستغیث اصلح لنا شاننا کلہ ولا تکلنا الی انفسنا طرفتہ عین ولا الی احد من خلقک» ‏ یعنی اے ہمیشہ جینے اور ابدالآباد تک باقی اور تمام قائم رہنے والے اللہ! اے آسمان و زمین کے ابتداءً پیدا کرنے والے۔ اے رب جلال اور بزرگی والے پروردگار تیرے سوا کوئی معبود نہیں، ہم تیری رحمت ہی سے استغاثہ کرتے ہیں ہمارے تمام کام تو بنا دے اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تو ہماری طرف نہ سونپ اور نہ اپنی مخلوق میں سے کسی کی طرف۔

صفحہ نمبر9090

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تو آیت «کُلُّ مَنْ علَيْهَا فَانٍ» ‏ پڑھے تو ٹھہر نہیں اور ساتھ ہی آیت «‏وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُوْ الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ» [55- الرحمن:27] ‏ پڑھ لے۔ اس آیت کا مضمون دوسری آیت میں ان الفاظ سے ہے «كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ۭ لَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [28- القص:88] ‏ سوائے ذات باری کے ہر چیز ناپید ہونے والی ہے، پھر اپنے چہرے کی تعریف میں فرماتا ہے وہ ذوالجلال ہے یعنی اس قابل ہے کہ اس کی عزت کی جائے اس کا جاہ و جلال مانا جائے اور اس کے احکام کی پوری اطاعت کی جائے اور اس کے فرمان کی خلاف ورزی سے رکا جائے۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ» [18- الكهف:28] ‏، جو لوگ صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے رہتے ہیں اور اسی کی ذات کے مرید ہیں تو انہی کے ساتھ اپنے نفس کو وابستہ رکھ۔

اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ «إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ» [76-الانسان:9] ‏ نیک لوگ صدقہ دیتے وقت سمجھتے ہیں کہ ہم محض اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے پلاتے ہیں، وہ کبریائی بڑائی عظمت اور جلال والا ہے، پس اس بات کو بیان فرما کر کہ تمام اہل زمین فوت ہونے میں اور پھر اللہ کے سامنے قیامت کے دن پیش ہونے میں برابر ہیں، اور اس دن وہ بزرگی والا اللہ ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ حکم فرمائے گا۔

ساتھ ہی فرمایا: اب تم اے جن و انس رب کی کون سی نعمت کا انکار کرتے ہو؟ پھر فرماتا ہے کہ وہ ساری مخلوق سے بےنیاز ہے اور کل مخلوق اس کی یکسر محتاج ہے- سب کے سب سائل ہیں اور وہ غنی ہے، سب فقیر ہیں اور وہ سب کے سوال پورے کرنے والا ہے، ہر مخلوق اپنے حال و قال سے اپنی حاجتیں اس کی بارگاہ میں لے جاتی ہے اور ان کے پورا ہونے کا سوال کرتی ہے۔ وہ ہر دن نئی شان میں ہے، اس کی شان ہے کہ ہر پکارنے والے کو جواب دے۔ مانگنے والے کو عطا فرمائے، تنگ حالوں کو کشادگی دے، مصیبت و آفات والوں کو رہائی بخشے، بیماروں کو تندرستی عنایت فرمائے، غم و وہم دور کرے، بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو قبول فرما کر اسے قرار اور آرام عنایت فرمائے۔ گنہگاروں کے واویلا پر متوجہ ہو کر خطاؤں سے درگزر فرمائے، گناہوں کو بخشے، زندگی وہ دے، موت وہ دے، تمام زمین والے، کل آسمان والے اس کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے اور دامن پھیلائے ہوئے ہیں، چھوٹوں کو بڑا وہ کرتا ہے، قیدیوں کو رہائی وہ دیتا ہے، نیک لوگوں کی حاجتوں کو پورا کرنے والا، ان کی پکار کا مدعا، ان کے شکوے شکایت کا مراجع وہی ہے، غلاموں کو آزاد کرنے کی رغبت وہی دلانے والا اور ان کو اپنی طرف سے عطیہ وہی عطا فرماتا ہے یہی اس کی شان ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! وہ شان کیا ہے؟ فرمایا: ”گناہوں کو بخشنا، دکھ کو دور کرنا، لوگوں کو ترقی اور تنزلی پر لانا۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11،ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9091

ابن ابی حاتم میں اور ابن عساکر میں بھی اسی کے ہم معنی ایک حدیث ہے۔ صحیح بخاری میں یہ روایت معلقاً سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے قول سے مروی ہے [مسند ابویعلی:ضعیف،2268] ‏ بزار میں بھی کچھ کمی کے ساتھ مرفوعًا مروی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے دونوں تختے سرخ یاقوت کے ہیں- اس کا علم نوری ہے، اس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔ ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے، ہر نگاہ پر کسی کو زندگی دیتا ہے اور مارتا اور کسی کو عزت و ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11] ‏

صفحہ نمبر9092

اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب فنا ٭٭

فرماتا ہے کہ زمین کی کل مخلوق فنا ہونے والی ہے ایک دن آئے گا کہ اس پر کچھ نہ ہو گا، کل جاندار مخلوق کو موت آ جائے گی، اسی طرح کل آسمان والے بھی موت کا مزہ چکھیں گے، مگر جسے اللہ چاہے صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک رہے گی، جو موت و فوت سے پاک ہے،

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولاً تو پیدائش عالم کا ذکر فرمایا پھر ان کی فنا کا بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک منقول دعا میں یہ بھی ہے «یا حی یا قیوم یا بدیع السموات والارض یا ذا الجلال والاکرام لا الہ الا انت برحمتک نستغیث اصلح لنا شاننا کلہ ولا تکلنا الی انفسنا طرفتہ عین ولا الی احد من خلقک» ‏ یعنی اے ہمیشہ جینے اور ابدالآباد تک باقی اور تمام قائم رہنے والے اللہ! اے آسمان و زمین کے ابتداءً پیدا کرنے والے۔ اے رب جلال اور بزرگی والے پروردگار تیرے سوا کوئی معبود نہیں، ہم تیری رحمت ہی سے استغاثہ کرتے ہیں ہمارے تمام کام تو بنا دے اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تو ہماری طرف نہ سونپ اور نہ اپنی مخلوق میں سے کسی کی طرف۔

صفحہ نمبر9090

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تو آیت «کُلُّ مَنْ علَيْهَا فَانٍ» ‏ پڑھے تو ٹھہر نہیں اور ساتھ ہی آیت «‏وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُوْ الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ» [55- الرحمن:27] ‏ پڑھ لے۔ اس آیت کا مضمون دوسری آیت میں ان الفاظ سے ہے «كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ۭ لَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» [28- القص:88] ‏ سوائے ذات باری کے ہر چیز ناپید ہونے والی ہے، پھر اپنے چہرے کی تعریف میں فرماتا ہے وہ ذوالجلال ہے یعنی اس قابل ہے کہ اس کی عزت کی جائے اس کا جاہ و جلال مانا جائے اور اس کے احکام کی پوری اطاعت کی جائے اور اس کے فرمان کی خلاف ورزی سے رکا جائے۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ» [18- الكهف:28] ‏، جو لوگ صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے رہتے ہیں اور اسی کی ذات کے مرید ہیں تو انہی کے ساتھ اپنے نفس کو وابستہ رکھ۔

اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ «إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ» [76-الانسان:9] ‏ نیک لوگ صدقہ دیتے وقت سمجھتے ہیں کہ ہم محض اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے پلاتے ہیں، وہ کبریائی بڑائی عظمت اور جلال والا ہے، پس اس بات کو بیان فرما کر کہ تمام اہل زمین فوت ہونے میں اور پھر اللہ کے سامنے قیامت کے دن پیش ہونے میں برابر ہیں، اور اس دن وہ بزرگی والا اللہ ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ حکم فرمائے گا۔

ساتھ ہی فرمایا: اب تم اے جن و انس رب کی کون سی نعمت کا انکار کرتے ہو؟ پھر فرماتا ہے کہ وہ ساری مخلوق سے بےنیاز ہے اور کل مخلوق اس کی یکسر محتاج ہے- سب کے سب سائل ہیں اور وہ غنی ہے، سب فقیر ہیں اور وہ سب کے سوال پورے کرنے والا ہے، ہر مخلوق اپنے حال و قال سے اپنی حاجتیں اس کی بارگاہ میں لے جاتی ہے اور ان کے پورا ہونے کا سوال کرتی ہے۔ وہ ہر دن نئی شان میں ہے، اس کی شان ہے کہ ہر پکارنے والے کو جواب دے۔ مانگنے والے کو عطا فرمائے، تنگ حالوں کو کشادگی دے، مصیبت و آفات والوں کو رہائی بخشے، بیماروں کو تندرستی عنایت فرمائے، غم و وہم دور کرے، بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو قبول فرما کر اسے قرار اور آرام عنایت فرمائے۔ گنہگاروں کے واویلا پر متوجہ ہو کر خطاؤں سے درگزر فرمائے، گناہوں کو بخشے، زندگی وہ دے، موت وہ دے، تمام زمین والے، کل آسمان والے اس کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے اور دامن پھیلائے ہوئے ہیں، چھوٹوں کو بڑا وہ کرتا ہے، قیدیوں کو رہائی وہ دیتا ہے، نیک لوگوں کی حاجتوں کو پورا کرنے والا، ان کی پکار کا مدعا، ان کے شکوے شکایت کا مراجع وہی ہے، غلاموں کو آزاد کرنے کی رغبت وہی دلانے والا اور ان کو اپنی طرف سے عطیہ وہی عطا فرماتا ہے یہی اس کی شان ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! وہ شان کیا ہے؟ فرمایا: ”گناہوں کو بخشنا، دکھ کو دور کرنا، لوگوں کو ترقی اور تنزلی پر لانا۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11،ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9091

ابن ابی حاتم میں اور ابن عساکر میں بھی اسی کے ہم معنی ایک حدیث ہے۔ صحیح بخاری میں یہ روایت معلقاً سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے قول سے مروی ہے [مسند ابویعلی:ضعیف،2268] ‏ بزار میں بھی کچھ کمی کے ساتھ مرفوعًا مروی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے دونوں تختے سرخ یاقوت کے ہیں- اس کا علم نوری ہے، اس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔ ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے، ہر نگاہ پر کسی کو زندگی دیتا ہے اور مارتا اور کسی کو عزت و ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:592/11] ‏

صفحہ نمبر9092

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com