John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Ar-Rahmaan

Tafsir Ibn Kathir · The Beneficent · 78 ayat · ayat 31–60 · Quran text →

باب

فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بطور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آ گیا ہے، اب کھرے کھرے فیصلے ہو جائیں گے، اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہو گا۔

محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے، جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نپٹنے کو نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ «الثَّقَلَان» سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے «‏ثقلین» کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے انسانوں اور جنوں کے۔ [صحیح بخاری:1338] ‏ اور حدیث «صور» میں صاف ہے کہ «ثقلین» یعنی جن و انس، پھر تم اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کا انکار کر سکتے ہو؟ اے جنو اور انسانو! تم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر سے بھاگ کر بچ نہیں سکتے بلکہ وہ تم سب کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے، اس کا ہر ہر حکم تم پر بےروک جاری ہے جہاں جاؤ اسی کی سلطنت ہے حقیقتاً یہ میدان محشر میں واقع ہو گا کہ مخلوقات کو ہر طرف سے فرشتے احاطہٰ کئے ہوئے ہوں گے چاروں جانب ان کی سات سات صفیں ہوں گی کوئی شخص بغیر دلیل کے ادھر سے ادھر نہ ہو سکے گا اور دلیل سوائے امر الٰہی یعنی حکم اللہ کے اور کچھ نہیں «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ» * «كَلَّا لَا وَزَرَ» * «إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» [75-القيامة:10-12] ‏ ” انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کدھر ہے؟ لیکن جواب ملے گا کہ آج تو رب کے سامنے ہی کھڑا ہونے کی جگہ ہے“۔

اور آیت میں ہے «‏وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاءُ سَـيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ» [10-یونس:27] ‏ یعنی بدیاں کرنے والوں کو ان کی برائیوں کے مانند سزا ملے گی ان پر ذلت سوار ہو گی اور اللہ کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہ ہو گا ان کے منہ مثل اندھیری رات کے ٹکڑوں کے ہوں گے یہ جہنمی گروہ ہے جو ہمیشہ جہنم میں ہی رہے گا۔

«شُوَاظٌ» کے معنی آگ کے شعلے جو دھواں ملے ہوئے سبز رنگ کے جھلسا دینے والے ہوں گے۔

بعض کہتے ہیں بےدھویں کا آگ کے اوپر کا شعلہ جو اس طرح لپکتا ہے کہ گویا پانی کی موج ہے۔ «‏نُحَاسٌ» کہتے ہیں دھویں کو، یہ لفظ نون کے زبر سے بھی آتا ہے لیکن یہاں قرأت نون کے پیش سے ہی ہے۔ نابغہ کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔

ہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «شواظ» سے مراد وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سند میں امیہ بن صلت کا شعر پڑھ کر سنایا۔ اور «‏نُحَاسٌ» کے معنی آپ نے کئے ہیں محض دھواں جس میں شعلہ نہ ہو اور اس کی شہادت میں بھی ایک عربی شعر نابغہ کا پڑھ کر سنایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:597/11] ‏

صفحہ نمبر9097

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «نُحَاسٌ» سے مراد پیتل ہے جو پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں پر بہایا جائے گا۔ بہر صورت مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت کے دن میدان محشر سے بھاگنا چاہو تو میرے فرشتے اور جہنم کے داروغے تم پر آگ برسا کر دھواں چھوڑ کر تمہارے سر پر پگھلا ہوا پیتل بہا کر تمہیں واپس لوٹا لائیں گے، تم نہ ان کا مقابلہ کر سکتے ہو، نہ انہیں دفع کر سکتے ہو، نہ ان سے انتقام لے سکتے ہو۔ پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت سے انکار کرو گے؟۔

صفحہ نمبر9098

باب

فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بطور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آ گیا ہے، اب کھرے کھرے فیصلے ہو جائیں گے، اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہو گا۔

محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے، جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نپٹنے کو نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ «الثَّقَلَان» سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے «‏ثقلین» کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے انسانوں اور جنوں کے۔ [صحیح بخاری:1338] ‏ اور حدیث «صور» میں صاف ہے کہ «ثقلین» یعنی جن و انس، پھر تم اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کا انکار کر سکتے ہو؟ اے جنو اور انسانو! تم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر سے بھاگ کر بچ نہیں سکتے بلکہ وہ تم سب کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے، اس کا ہر ہر حکم تم پر بےروک جاری ہے جہاں جاؤ اسی کی سلطنت ہے حقیقتاً یہ میدان محشر میں واقع ہو گا کہ مخلوقات کو ہر طرف سے فرشتے احاطہٰ کئے ہوئے ہوں گے چاروں جانب ان کی سات سات صفیں ہوں گی کوئی شخص بغیر دلیل کے ادھر سے ادھر نہ ہو سکے گا اور دلیل سوائے امر الٰہی یعنی حکم اللہ کے اور کچھ نہیں «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ» * «كَلَّا لَا وَزَرَ» * «إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» [75-القيامة:10-12] ‏ ” انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کدھر ہے؟ لیکن جواب ملے گا کہ آج تو رب کے سامنے ہی کھڑا ہونے کی جگہ ہے“۔

اور آیت میں ہے «‏وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاءُ سَـيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ» [10-یونس:27] ‏ یعنی بدیاں کرنے والوں کو ان کی برائیوں کے مانند سزا ملے گی ان پر ذلت سوار ہو گی اور اللہ کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہ ہو گا ان کے منہ مثل اندھیری رات کے ٹکڑوں کے ہوں گے یہ جہنمی گروہ ہے جو ہمیشہ جہنم میں ہی رہے گا۔

«شُوَاظٌ» کے معنی آگ کے شعلے جو دھواں ملے ہوئے سبز رنگ کے جھلسا دینے والے ہوں گے۔

بعض کہتے ہیں بےدھویں کا آگ کے اوپر کا شعلہ جو اس طرح لپکتا ہے کہ گویا پانی کی موج ہے۔ «‏نُحَاسٌ» کہتے ہیں دھویں کو، یہ لفظ نون کے زبر سے بھی آتا ہے لیکن یہاں قرأت نون کے پیش سے ہی ہے۔ نابغہ کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔

ہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «شواظ» سے مراد وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سند میں امیہ بن صلت کا شعر پڑھ کر سنایا۔ اور «‏نُحَاسٌ» کے معنی آپ نے کئے ہیں محض دھواں جس میں شعلہ نہ ہو اور اس کی شہادت میں بھی ایک عربی شعر نابغہ کا پڑھ کر سنایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:597/11] ‏

صفحہ نمبر9097

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «نُحَاسٌ» سے مراد پیتل ہے جو پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں پر بہایا جائے گا۔ بہر صورت مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت کے دن میدان محشر سے بھاگنا چاہو تو میرے فرشتے اور جہنم کے داروغے تم پر آگ برسا کر دھواں چھوڑ کر تمہارے سر پر پگھلا ہوا پیتل بہا کر تمہیں واپس لوٹا لائیں گے، تم نہ ان کا مقابلہ کر سکتے ہو، نہ انہیں دفع کر سکتے ہو، نہ ان سے انتقام لے سکتے ہو۔ پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت سے انکار کرو گے؟۔

صفحہ نمبر9098

باب

فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بطور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آ گیا ہے، اب کھرے کھرے فیصلے ہو جائیں گے، اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہو گا۔

محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے، جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نپٹنے کو نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ «الثَّقَلَان» سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے «‏ثقلین» کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے انسانوں اور جنوں کے۔ [صحیح بخاری:1338] ‏ اور حدیث «صور» میں صاف ہے کہ «ثقلین» یعنی جن و انس، پھر تم اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کا انکار کر سکتے ہو؟ اے جنو اور انسانو! تم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر سے بھاگ کر بچ نہیں سکتے بلکہ وہ تم سب کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے، اس کا ہر ہر حکم تم پر بےروک جاری ہے جہاں جاؤ اسی کی سلطنت ہے حقیقتاً یہ میدان محشر میں واقع ہو گا کہ مخلوقات کو ہر طرف سے فرشتے احاطہٰ کئے ہوئے ہوں گے چاروں جانب ان کی سات سات صفیں ہوں گی کوئی شخص بغیر دلیل کے ادھر سے ادھر نہ ہو سکے گا اور دلیل سوائے امر الٰہی یعنی حکم اللہ کے اور کچھ نہیں «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ» * «كَلَّا لَا وَزَرَ» * «إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» [75-القيامة:10-12] ‏ ” انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کدھر ہے؟ لیکن جواب ملے گا کہ آج تو رب کے سامنے ہی کھڑا ہونے کی جگہ ہے“۔

اور آیت میں ہے «‏وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاءُ سَـيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ» [10-یونس:27] ‏ یعنی بدیاں کرنے والوں کو ان کی برائیوں کے مانند سزا ملے گی ان پر ذلت سوار ہو گی اور اللہ کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہ ہو گا ان کے منہ مثل اندھیری رات کے ٹکڑوں کے ہوں گے یہ جہنمی گروہ ہے جو ہمیشہ جہنم میں ہی رہے گا۔

«شُوَاظٌ» کے معنی آگ کے شعلے جو دھواں ملے ہوئے سبز رنگ کے جھلسا دینے والے ہوں گے۔

بعض کہتے ہیں بےدھویں کا آگ کے اوپر کا شعلہ جو اس طرح لپکتا ہے کہ گویا پانی کی موج ہے۔ «‏نُحَاسٌ» کہتے ہیں دھویں کو، یہ لفظ نون کے زبر سے بھی آتا ہے لیکن یہاں قرأت نون کے پیش سے ہی ہے۔ نابغہ کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔

ہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «شواظ» سے مراد وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سند میں امیہ بن صلت کا شعر پڑھ کر سنایا۔ اور «‏نُحَاسٌ» کے معنی آپ نے کئے ہیں محض دھواں جس میں شعلہ نہ ہو اور اس کی شہادت میں بھی ایک عربی شعر نابغہ کا پڑھ کر سنایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:597/11] ‏

صفحہ نمبر9097

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «نُحَاسٌ» سے مراد پیتل ہے جو پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں پر بہایا جائے گا۔ بہر صورت مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت کے دن میدان محشر سے بھاگنا چاہو تو میرے فرشتے اور جہنم کے داروغے تم پر آگ برسا کر دھواں چھوڑ کر تمہارے سر پر پگھلا ہوا پیتل بہا کر تمہیں واپس لوٹا لائیں گے، تم نہ ان کا مقابلہ کر سکتے ہو، نہ انہیں دفع کر سکتے ہو، نہ ان سے انتقام لے سکتے ہو۔ پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت سے انکار کرو گے؟۔

صفحہ نمبر9098

باب

فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بطور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آ گیا ہے، اب کھرے کھرے فیصلے ہو جائیں گے، اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہو گا۔

محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے، جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نپٹنے کو نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ «الثَّقَلَان» سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے «‏ثقلین» کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے انسانوں اور جنوں کے۔ [صحیح بخاری:1338] ‏ اور حدیث «صور» میں صاف ہے کہ «ثقلین» یعنی جن و انس، پھر تم اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کا انکار کر سکتے ہو؟ اے جنو اور انسانو! تم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر سے بھاگ کر بچ نہیں سکتے بلکہ وہ تم سب کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے، اس کا ہر ہر حکم تم پر بےروک جاری ہے جہاں جاؤ اسی کی سلطنت ہے حقیقتاً یہ میدان محشر میں واقع ہو گا کہ مخلوقات کو ہر طرف سے فرشتے احاطہٰ کئے ہوئے ہوں گے چاروں جانب ان کی سات سات صفیں ہوں گی کوئی شخص بغیر دلیل کے ادھر سے ادھر نہ ہو سکے گا اور دلیل سوائے امر الٰہی یعنی حکم اللہ کے اور کچھ نہیں «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ» * «كَلَّا لَا وَزَرَ» * «إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» [75-القيامة:10-12] ‏ ” انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کدھر ہے؟ لیکن جواب ملے گا کہ آج تو رب کے سامنے ہی کھڑا ہونے کی جگہ ہے“۔

اور آیت میں ہے «‏وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاءُ سَـيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ» [10-یونس:27] ‏ یعنی بدیاں کرنے والوں کو ان کی برائیوں کے مانند سزا ملے گی ان پر ذلت سوار ہو گی اور اللہ کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہ ہو گا ان کے منہ مثل اندھیری رات کے ٹکڑوں کے ہوں گے یہ جہنمی گروہ ہے جو ہمیشہ جہنم میں ہی رہے گا۔

«شُوَاظٌ» کے معنی آگ کے شعلے جو دھواں ملے ہوئے سبز رنگ کے جھلسا دینے والے ہوں گے۔

بعض کہتے ہیں بےدھویں کا آگ کے اوپر کا شعلہ جو اس طرح لپکتا ہے کہ گویا پانی کی موج ہے۔ «‏نُحَاسٌ» کہتے ہیں دھویں کو، یہ لفظ نون کے زبر سے بھی آتا ہے لیکن یہاں قرأت نون کے پیش سے ہی ہے۔ نابغہ کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔

ہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «شواظ» سے مراد وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سند میں امیہ بن صلت کا شعر پڑھ کر سنایا۔ اور «‏نُحَاسٌ» کے معنی آپ نے کئے ہیں محض دھواں جس میں شعلہ نہ ہو اور اس کی شہادت میں بھی ایک عربی شعر نابغہ کا پڑھ کر سنایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:597/11] ‏

صفحہ نمبر9097

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «نُحَاسٌ» سے مراد پیتل ہے جو پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں پر بہایا جائے گا۔ بہر صورت مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت کے دن میدان محشر سے بھاگنا چاہو تو میرے فرشتے اور جہنم کے داروغے تم پر آگ برسا کر دھواں چھوڑ کر تمہارے سر پر پگھلا ہوا پیتل بہا کر تمہیں واپس لوٹا لائیں گے، تم نہ ان کا مقابلہ کر سکتے ہو، نہ انہیں دفع کر سکتے ہو، نہ ان سے انتقام لے سکتے ہو۔ پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت سے انکار کرو گے؟۔

صفحہ نمبر9098

باب

فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بطور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آ گیا ہے، اب کھرے کھرے فیصلے ہو جائیں گے، اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہو گا۔

محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے، جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نپٹنے کو نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ «الثَّقَلَان» سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے «‏ثقلین» کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے انسانوں اور جنوں کے۔ [صحیح بخاری:1338] ‏ اور حدیث «صور» میں صاف ہے کہ «ثقلین» یعنی جن و انس، پھر تم اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کا انکار کر سکتے ہو؟ اے جنو اور انسانو! تم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر سے بھاگ کر بچ نہیں سکتے بلکہ وہ تم سب کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے، اس کا ہر ہر حکم تم پر بےروک جاری ہے جہاں جاؤ اسی کی سلطنت ہے حقیقتاً یہ میدان محشر میں واقع ہو گا کہ مخلوقات کو ہر طرف سے فرشتے احاطہٰ کئے ہوئے ہوں گے چاروں جانب ان کی سات سات صفیں ہوں گی کوئی شخص بغیر دلیل کے ادھر سے ادھر نہ ہو سکے گا اور دلیل سوائے امر الٰہی یعنی حکم اللہ کے اور کچھ نہیں «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ» * «كَلَّا لَا وَزَرَ» * «إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» [75-القيامة:10-12] ‏ ” انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کدھر ہے؟ لیکن جواب ملے گا کہ آج تو رب کے سامنے ہی کھڑا ہونے کی جگہ ہے“۔

اور آیت میں ہے «‏وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاءُ سَـيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ» [10-یونس:27] ‏ یعنی بدیاں کرنے والوں کو ان کی برائیوں کے مانند سزا ملے گی ان پر ذلت سوار ہو گی اور اللہ کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہ ہو گا ان کے منہ مثل اندھیری رات کے ٹکڑوں کے ہوں گے یہ جہنمی گروہ ہے جو ہمیشہ جہنم میں ہی رہے گا۔

«شُوَاظٌ» کے معنی آگ کے شعلے جو دھواں ملے ہوئے سبز رنگ کے جھلسا دینے والے ہوں گے۔

بعض کہتے ہیں بےدھویں کا آگ کے اوپر کا شعلہ جو اس طرح لپکتا ہے کہ گویا پانی کی موج ہے۔ «‏نُحَاسٌ» کہتے ہیں دھویں کو، یہ لفظ نون کے زبر سے بھی آتا ہے لیکن یہاں قرأت نون کے پیش سے ہی ہے۔ نابغہ کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔

ہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «شواظ» سے مراد وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سند میں امیہ بن صلت کا شعر پڑھ کر سنایا۔ اور «‏نُحَاسٌ» کے معنی آپ نے کئے ہیں محض دھواں جس میں شعلہ نہ ہو اور اس کی شہادت میں بھی ایک عربی شعر نابغہ کا پڑھ کر سنایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:597/11] ‏

صفحہ نمبر9097

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «نُحَاسٌ» سے مراد پیتل ہے جو پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں پر بہایا جائے گا۔ بہر صورت مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت کے دن میدان محشر سے بھاگنا چاہو تو میرے فرشتے اور جہنم کے داروغے تم پر آگ برسا کر دھواں چھوڑ کر تمہارے سر پر پگھلا ہوا پیتل بہا کر تمہیں واپس لوٹا لائیں گے، تم نہ ان کا مقابلہ کر سکتے ہو، نہ انہیں دفع کر سکتے ہو، نہ ان سے انتقام لے سکتے ہو۔ پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت سے انکار کرو گے؟۔

صفحہ نمبر9098

باب

فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بطور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آ گیا ہے، اب کھرے کھرے فیصلے ہو جائیں گے، اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہو گا۔

محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے، جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نپٹنے کو نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ «الثَّقَلَان» سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے «‏ثقلین» کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے انسانوں اور جنوں کے۔ [صحیح بخاری:1338] ‏ اور حدیث «صور» میں صاف ہے کہ «ثقلین» یعنی جن و انس، پھر تم اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کا انکار کر سکتے ہو؟ اے جنو اور انسانو! تم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر سے بھاگ کر بچ نہیں سکتے بلکہ وہ تم سب کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے، اس کا ہر ہر حکم تم پر بےروک جاری ہے جہاں جاؤ اسی کی سلطنت ہے حقیقتاً یہ میدان محشر میں واقع ہو گا کہ مخلوقات کو ہر طرف سے فرشتے احاطہٰ کئے ہوئے ہوں گے چاروں جانب ان کی سات سات صفیں ہوں گی کوئی شخص بغیر دلیل کے ادھر سے ادھر نہ ہو سکے گا اور دلیل سوائے امر الٰہی یعنی حکم اللہ کے اور کچھ نہیں «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ» * «كَلَّا لَا وَزَرَ» * «إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» [75-القيامة:10-12] ‏ ” انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کدھر ہے؟ لیکن جواب ملے گا کہ آج تو رب کے سامنے ہی کھڑا ہونے کی جگہ ہے“۔

اور آیت میں ہے «‏وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاءُ سَـيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ» [10-یونس:27] ‏ یعنی بدیاں کرنے والوں کو ان کی برائیوں کے مانند سزا ملے گی ان پر ذلت سوار ہو گی اور اللہ کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہ ہو گا ان کے منہ مثل اندھیری رات کے ٹکڑوں کے ہوں گے یہ جہنمی گروہ ہے جو ہمیشہ جہنم میں ہی رہے گا۔

«شُوَاظٌ» کے معنی آگ کے شعلے جو دھواں ملے ہوئے سبز رنگ کے جھلسا دینے والے ہوں گے۔

بعض کہتے ہیں بےدھویں کا آگ کے اوپر کا شعلہ جو اس طرح لپکتا ہے کہ گویا پانی کی موج ہے۔ «‏نُحَاسٌ» کہتے ہیں دھویں کو، یہ لفظ نون کے زبر سے بھی آتا ہے لیکن یہاں قرأت نون کے پیش سے ہی ہے۔ نابغہ کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔

ہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «شواظ» سے مراد وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سند میں امیہ بن صلت کا شعر پڑھ کر سنایا۔ اور «‏نُحَاسٌ» کے معنی آپ نے کئے ہیں محض دھواں جس میں شعلہ نہ ہو اور اس کی شہادت میں بھی ایک عربی شعر نابغہ کا پڑھ کر سنایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:597/11] ‏

صفحہ نمبر9097

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «نُحَاسٌ» سے مراد پیتل ہے جو پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں پر بہایا جائے گا۔ بہر صورت مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت کے دن میدان محشر سے بھاگنا چاہو تو میرے فرشتے اور جہنم کے داروغے تم پر آگ برسا کر دھواں چھوڑ کر تمہارے سر پر پگھلا ہوا پیتل بہا کر تمہیں واپس لوٹا لائیں گے، تم نہ ان کا مقابلہ کر سکتے ہو، نہ انہیں دفع کر سکتے ہو، نہ ان سے انتقام لے سکتے ہو۔ پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت سے انکار کرو گے؟۔

صفحہ نمبر9098

آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا ٭٭

تتتتت

صفحہ نمبر9104

آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا ٭٭

تتتتت

صفحہ نمبر9104

آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا ٭٭

تتتتت

صفحہ نمبر9104

آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا ٭٭

تتتتت

صفحہ نمبر9104

آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا ٭٭

تتتتت

صفحہ نمبر9104

آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا ٭٭

تتتتت

صفحہ نمبر9104

آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا ٭٭

تتتتت

صفحہ نمبر9104

آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا ٭٭

تتتتت

صفحہ نمبر9104

آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہو گا ٭٭

تتتتت

صفحہ نمبر9104

فکر آخرت اور انسان ٭٭

ابن شوذب اور عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏ [55- الرحمن:46] ‏ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

عطیہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں، یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ [الدر المنشور-202/6] ‏ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔

مطلب یہ ہے کہ «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ» [النازعات:40] ‏ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے، فرائض بجا لاتا ہے، محرمات سے رکتا ہے، قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی۔

صفحہ نمبر9113

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہو گا، ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے ، [صحیح بخاری:4878] ‏ یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابوداؤد کے راوی حدیث حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے۔

تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46] ‏ اور آیت «‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏ کی۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لیے اور چاندی کی دو جنتیں اصحاب یمین کے لیے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوالدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [نسائی في التفسير:580،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏ بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔

یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں، وہ جنت میں جائیں گے، اسی لیے جن و انس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں، بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو۔ «افنان» شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں- یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا،

عکرمہ رضی اللہ عنہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں، یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی ہوں گی، رنگ برنگ کی ہوں گی۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گی، کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے۔

صفحہ نمبر9114

اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے۔‏“ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کر لیں۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں اور بہت بڑی گول جتنے تھے- [سنن ترمذي:2541،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏ پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیئے ایک کا نام «تسنیم» ہے، دوسری کا «سلسبیل» ہے- یہ دونوں نہریں پوری روانگی کے ساتھ بہہ رہی ہیں۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی، ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، نہ کسی دماغ میں آ سکتی ہیں، تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں، وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ «حنظل» یعنی اندرائن بھی۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جداگانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے، اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے۔

صفحہ نمبر9115

فکر آخرت اور انسان ٭٭

ابن شوذب اور عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏ [55- الرحمن:46] ‏ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

عطیہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں، یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ [الدر المنشور-202/6] ‏ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔

مطلب یہ ہے کہ «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ» [النازعات:40] ‏ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے، فرائض بجا لاتا ہے، محرمات سے رکتا ہے، قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی۔

صفحہ نمبر9113

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہو گا، ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے ، [صحیح بخاری:4878] ‏ یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابوداؤد کے راوی حدیث حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے۔

تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46] ‏ اور آیت «‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏ کی۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لیے اور چاندی کی دو جنتیں اصحاب یمین کے لیے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوالدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [نسائی في التفسير:580،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏ بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔

یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں، وہ جنت میں جائیں گے، اسی لیے جن و انس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں، بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو۔ «افنان» شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں- یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا،

عکرمہ رضی اللہ عنہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں، یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی ہوں گی، رنگ برنگ کی ہوں گی۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گی، کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے۔

صفحہ نمبر9114

اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے۔‏“ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کر لیں۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں اور بہت بڑی گول جتنے تھے- [سنن ترمذي:2541،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏ پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیئے ایک کا نام «تسنیم» ہے، دوسری کا «سلسبیل» ہے- یہ دونوں نہریں پوری روانگی کے ساتھ بہہ رہی ہیں۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی، ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، نہ کسی دماغ میں آ سکتی ہیں، تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں، وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ «حنظل» یعنی اندرائن بھی۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جداگانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے، اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے۔

صفحہ نمبر9115

فکر آخرت اور انسان ٭٭

ابن شوذب اور عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏ [55- الرحمن:46] ‏ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

عطیہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں، یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ [الدر المنشور-202/6] ‏ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔

مطلب یہ ہے کہ «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ» [النازعات:40] ‏ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے، فرائض بجا لاتا ہے، محرمات سے رکتا ہے، قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی۔

صفحہ نمبر9113

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہو گا، ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے ، [صحیح بخاری:4878] ‏ یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابوداؤد کے راوی حدیث حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے۔

تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46] ‏ اور آیت «‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏ کی۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لیے اور چاندی کی دو جنتیں اصحاب یمین کے لیے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوالدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [نسائی في التفسير:580،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏ بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔

یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں، وہ جنت میں جائیں گے، اسی لیے جن و انس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں، بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو۔ «افنان» شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں- یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا،

عکرمہ رضی اللہ عنہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں، یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی ہوں گی، رنگ برنگ کی ہوں گی۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گی، کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے۔

صفحہ نمبر9114

اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے۔‏“ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کر لیں۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں اور بہت بڑی گول جتنے تھے- [سنن ترمذي:2541،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏ پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیئے ایک کا نام «تسنیم» ہے، دوسری کا «سلسبیل» ہے- یہ دونوں نہریں پوری روانگی کے ساتھ بہہ رہی ہیں۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی، ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، نہ کسی دماغ میں آ سکتی ہیں، تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں، وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ «حنظل» یعنی اندرائن بھی۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جداگانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے، اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے۔

صفحہ نمبر9115

فکر آخرت اور انسان ٭٭

ابن شوذب اور عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏ [55- الرحمن:46] ‏ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

عطیہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں، یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ [الدر المنشور-202/6] ‏ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔

مطلب یہ ہے کہ «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ» [النازعات:40] ‏ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے، فرائض بجا لاتا ہے، محرمات سے رکتا ہے، قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی۔

صفحہ نمبر9113

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہو گا، ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے ، [صحیح بخاری:4878] ‏ یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابوداؤد کے راوی حدیث حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے۔

تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46] ‏ اور آیت «‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏ کی۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لیے اور چاندی کی دو جنتیں اصحاب یمین کے لیے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوالدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [نسائی في التفسير:580،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏ بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔

یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں، وہ جنت میں جائیں گے، اسی لیے جن و انس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں، بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو۔ «افنان» شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں- یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا،

عکرمہ رضی اللہ عنہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں، یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی ہوں گی، رنگ برنگ کی ہوں گی۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گی، کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے۔

صفحہ نمبر9114

اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے۔‏“ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کر لیں۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں اور بہت بڑی گول جتنے تھے- [سنن ترمذي:2541،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏ پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیئے ایک کا نام «تسنیم» ہے، دوسری کا «سلسبیل» ہے- یہ دونوں نہریں پوری روانگی کے ساتھ بہہ رہی ہیں۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی، ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، نہ کسی دماغ میں آ سکتی ہیں، تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں، وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ «حنظل» یعنی اندرائن بھی۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جداگانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے، اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے۔

صفحہ نمبر9115

فکر آخرت اور انسان ٭٭

ابن شوذب اور عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏ [55- الرحمن:46] ‏ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

عطیہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں، یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ [الدر المنشور-202/6] ‏ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔

مطلب یہ ہے کہ «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ» [النازعات:40] ‏ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے، فرائض بجا لاتا ہے، محرمات سے رکتا ہے، قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی۔

صفحہ نمبر9113

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہو گا، ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے ، [صحیح بخاری:4878] ‏ یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابوداؤد کے راوی حدیث حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے۔

تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46] ‏ اور آیت «‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏ کی۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لیے اور چاندی کی دو جنتیں اصحاب یمین کے لیے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوالدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [نسائی في التفسير:580،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏ بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔

یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں، وہ جنت میں جائیں گے، اسی لیے جن و انس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں، بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو۔ «افنان» شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں- یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا،

عکرمہ رضی اللہ عنہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں، یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی ہوں گی، رنگ برنگ کی ہوں گی۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گی، کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے۔

صفحہ نمبر9114

اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے۔‏“ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کر لیں۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں اور بہت بڑی گول جتنے تھے- [سنن ترمذي:2541،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏ پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیئے ایک کا نام «تسنیم» ہے، دوسری کا «سلسبیل» ہے- یہ دونوں نہریں پوری روانگی کے ساتھ بہہ رہی ہیں۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی، ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، نہ کسی دماغ میں آ سکتی ہیں، تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں، وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ «حنظل» یعنی اندرائن بھی۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جداگانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے، اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے۔

صفحہ نمبر9115

فکر آخرت اور انسان ٭٭

ابن شوذب اور عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏ [55- الرحمن:46] ‏ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

عطیہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں، یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ [الدر المنشور-202/6] ‏ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔

مطلب یہ ہے کہ «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ» [النازعات:40] ‏ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے، فرائض بجا لاتا ہے، محرمات سے رکتا ہے، قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی۔

صفحہ نمبر9113

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہو گا، ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے ، [صحیح بخاری:4878] ‏ یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابوداؤد کے راوی حدیث حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے۔

تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46] ‏ اور آیت «‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏ کی۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لیے اور چاندی کی دو جنتیں اصحاب یمین کے لیے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوالدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [نسائی في التفسير:580،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏ بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔

یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں، وہ جنت میں جائیں گے، اسی لیے جن و انس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں، بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو۔ «افنان» شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں- یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا،

عکرمہ رضی اللہ عنہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں، یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی ہوں گی، رنگ برنگ کی ہوں گی۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گی، کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے۔

صفحہ نمبر9114

اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے۔‏“ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کر لیں۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں اور بہت بڑی گول جتنے تھے- [سنن ترمذي:2541،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏ پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیئے ایک کا نام «تسنیم» ہے، دوسری کا «سلسبیل» ہے- یہ دونوں نہریں پوری روانگی کے ساتھ بہہ رہی ہیں۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی، ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، نہ کسی دماغ میں آ سکتی ہیں، تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں، وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ «حنظل» یعنی اندرائن بھی۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جداگانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے، اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے۔

صفحہ نمبر9115

فکر آخرت اور انسان ٭٭

ابن شوذب اور عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏ [55- الرحمن:46] ‏ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

عطیہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں، یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ [الدر المنشور-202/6] ‏ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔

مطلب یہ ہے کہ «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ» [النازعات:40] ‏ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے، فرائض بجا لاتا ہے، محرمات سے رکتا ہے، قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی۔

صفحہ نمبر9113

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہو گا، ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے ، [صحیح بخاری:4878] ‏ یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابوداؤد کے راوی حدیث حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے۔

تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46] ‏ اور آیت «‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏ کی۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لیے اور چاندی کی دو جنتیں اصحاب یمین کے لیے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوالدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [نسائی في التفسير:580،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏ بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔

یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں، وہ جنت میں جائیں گے، اسی لیے جن و انس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں، بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو۔ «افنان» شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں- یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا،

عکرمہ رضی اللہ عنہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں، یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی ہوں گی، رنگ برنگ کی ہوں گی۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گی، کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے۔

صفحہ نمبر9114

اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے۔‏“ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کر لیں۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں اور بہت بڑی گول جتنے تھے- [سنن ترمذي:2541،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏ پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیئے ایک کا نام «تسنیم» ہے، دوسری کا «سلسبیل» ہے- یہ دونوں نہریں پوری روانگی کے ساتھ بہہ رہی ہیں۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی، ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، نہ کسی دماغ میں آ سکتی ہیں، تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں، وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ «حنظل» یعنی اندرائن بھی۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جداگانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے، اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے۔

صفحہ نمبر9115

فکر آخرت اور انسان ٭٭

ابن شوذب اور عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏ [55- الرحمن:46] ‏ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

عطیہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں، یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ [الدر المنشور-202/6] ‏ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔

مطلب یہ ہے کہ «وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ» [النازعات:40] ‏ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے، فرائض بجا لاتا ہے، محرمات سے رکتا ہے، قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی۔

صفحہ نمبر9113

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہو گا، ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے ، [صحیح بخاری:4878] ‏ یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابوداؤد کے راوی حدیث حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے۔

تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46] ‏ اور آیت «‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] ‏ کی۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لیے اور چاندی کی دو جنتیں اصحاب یمین کے لیے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت کی تلاوت کی میں نے پھر یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت پڑھی میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوالدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے۔ [نسائی في التفسير:580،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏ بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے۔

یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں، وہ جنت میں جائیں گے، اسی لیے جن و انس کو اس کے بعد خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے؟ پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں، بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں۔ تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو۔ «افنان» شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں- یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا،

عکرمہ رضی اللہ عنہ یہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں، یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی ہوں گی، رنگ برنگ کی ہوں گی۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گی، کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی۔ یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے۔

صفحہ نمبر9114

اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے۔‏“ یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کر لیں۔ سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں اور بہت بڑی گول جتنے تھے- [سنن ترمذي:2541،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏ پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔ اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیئے ایک کا نام «تسنیم» ہے، دوسری کا «سلسبیل» ہے- یہ دونوں نہریں پوری روانگی کے ساتھ بہہ رہی ہیں۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی، ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں، نہ کسی دماغ میں آ سکتی ہیں، تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں، وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ «حنظل» یعنی اندرائن بھی۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جداگانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے، اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے۔

صفحہ نمبر9115

جنت یافتہ لوگ ٭٭

جنتی لوگ بےفکری سے تکئيے لگائے ہوئے ہوں گے، خواہ لیٹے ہوئے ہوں خواہ باآرام بیٹھے ہوئے تکیہ سے لگے ہوئے ہوں، ان کے بچھاؤنے بھی اتنے بڑھیا ہوں گے کہ ان کے اندر کا استر بھی دبیز اور خالص زرین ریشم کا ہو گا، پھر اوپر کا ابرا کچھ ایسا ہو گا، اسے تم خود سوچ لو۔

مالک بن دینار اور سفیان ثوری رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں استر کا یہ حال ہے اور ابرا تو محض نورانی ہو گا- جو سراسر اظہار رحمت و نور ہو گا۔ پھر اس پر بہترین گلکاریاں ہوں گی، جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان جنتوں کے پھل جنتیوں سے بالکل قریب ہیں۔ جب چاہے جس حال میں چاہیں وہاں سے لے لیں، لیٹے ہوں تو بیٹھا ہونے کی اور بیٹھے ہوں تو کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں، خودبخود شاخیں جھوم جھوم کر جھکتی رہتی ہیں۔ جیسے فرمایا «‏قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌ» [69- الحاقة:23] ‏ اور فرمایا «‏وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَذُلِّـلَتْ قُـطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا» ‏ [76- الإنسان:14] ‏ الخ، یعنی بے حد قریب میوے ہیں لینے والے کو کوئی تکلیف یا تکلف کی ضرورت نہیں، خود شاخیں جھک جھک کر انہیں میوے دے رہی ہیں پس تم اپنے رب کی نعمتوں کے انکار سے باز رہو۔

صفحہ نمبر9123

جنت یافتہ لوگ ٭٭

جنتی لوگ بےفکری سے تکئيے لگائے ہوئے ہوں گے، خواہ لیٹے ہوئے ہوں خواہ باآرام بیٹھے ہوئے تکیہ سے لگے ہوئے ہوں، ان کے بچھاؤنے بھی اتنے بڑھیا ہوں گے کہ ان کے اندر کا استر بھی دبیز اور خالص زرین ریشم کا ہو گا، پھر اوپر کا ابرا کچھ ایسا ہو گا، اسے تم خود سوچ لو۔

مالک بن دینار اور سفیان ثوری رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں استر کا یہ حال ہے اور ابرا تو محض نورانی ہو گا- جو سراسر اظہار رحمت و نور ہو گا۔ پھر اس پر بہترین گلکاریاں ہوں گی، جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان جنتوں کے پھل جنتیوں سے بالکل قریب ہیں۔ جب چاہے جس حال میں چاہیں وہاں سے لے لیں، لیٹے ہوں تو بیٹھا ہونے کی اور بیٹھے ہوں تو کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں، خودبخود شاخیں جھوم جھوم کر جھکتی رہتی ہیں۔ جیسے فرمایا «‏قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌ» [69- الحاقة:23] ‏ اور فرمایا «‏وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَذُلِّـلَتْ قُـطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا» ‏ [76- الإنسان:14] ‏ الخ، یعنی بے حد قریب میوے ہیں لینے والے کو کوئی تکلیف یا تکلف کی ضرورت نہیں، خود شاخیں جھک جھک کر انہیں میوے دے رہی ہیں پس تم اپنے رب کی نعمتوں کے انکار سے باز رہو۔

صفحہ نمبر9123

حوروں کے اوصاف ٭٭

چونکہ فروش کا بیان ہوا تھا تو ساتھ ہی فرمایا کہ ان فروش پر ان کے ساتھ ان کی بیویاں ہوں گی، جو عفیفہ، پاکدامن، شرمیلی نگاہوں والی ہوں گی اپنے خاوندوں کے سوا کسی پر نظریں نہ ڈالیں گی اور ان کے خاوند بھی ان پر سو جان سے مائل ہوں گے۔ یہ بھی جنت کی کسی چیز کو اپنے ان مومن خاوندوں سے بہتر نہ پائیں گی۔ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ یہ حوریں اپنے خاوندوں سے کہیں گی اللہ کی قسم ساری جنت میں میرے لیے تم سے بہتر کوئی چیز نہیں، اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے دل میں جنت کی کسی چیز کی خواہش و محبت اتنی نہیں جتنی آپ کی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے آپ کو میرے حصے میں کر دیا اور مجھے آپ کی خدمت کا شرف بخشا۔ یہ حوریں کنواری اچھوتی نوجوان ہوں گی ان جنتیوں سے پہلے ان کے پاک جسم کو کسی انس و جن کا ہاتھ بھی نہ لگا۔ یہ آیت بھی مومن جنوں کے جنت میں جانے کی دلیل ہے۔

ضمرہ بن حبیب رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ کیا مومن جن بھی جنت میں جائیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں اور جنیہ عورتوں سے ان کے نکاح ہوں گے جیسے انسان کے انسان عورتوں سے۔ پھر یہی آیتیں تلاوت کیں پھر ان حوروں کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنی صفائی خوبی اور حسن میں ایسی ہو گی جیسے یاقوت و مرجان، یاقوت سے صفائی میں تشبیہ دی اور مرجان سے بیاض میں، پس مرجان سے مراد یہاں لؤلؤ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اہل جنت کی بیویوں میں سے ہر ایک ایسی ہے کہ ان کی پنڈلی کی سفیدی ستر ستر حلوں کے پہننے کے بعد بھی نظر آتی ہے یہاں تک کہ اندر کا گودا بھی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ» [55- الرحمن:58] ‏ پڑھی اور فرمایا: ”دیکھو یاقوت ایک پتھر ہے لیکن قدرت نے اس کی صفائی اور جوت ایسی رکھی ہے کہ اس کے بیچ میں دھاگہ پرو دو تو باہر سے نظر آتا ہے“ [ابن ابی حاتم] ‏ یہ روایت ترمذی میں بھی موقوفاً عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور امام ترمذی اس کو زیادہ صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2533،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏

مسند احمد میں ہے پیغمبر مدنی احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر اہل جنت کی دو بیویاں اس صفت کی ہوں گی کہ ستر ستر حلے پہن لینے کے بعد بھی ان کی پنڈلیوں کی جھلک نمودار رہے گی بلکہ اندر کا گودا بھی بوجہ صفائی کے دکھائی دے گا۔ [مسند احمد:34/2] ‏

صفحہ نمبر9125

صحیح مسلم میں ہے کہ یا تو فخر کے طور پر یا مذاکراہ کے طور پر یہ بحث چھڑ گئی کہ جنت میں عورتیں زیادہ ہوں گی یا مرد؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا؟ کہ پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی وہ چاند جیسی صورتوں والی ہو گی ان کے پیچھے جو جماعت ہو گی وہ آسمان کے بہترین چمکیلے تاروں جیسے چہروں والی ہو گی۔ ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ایسی ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا اور جنت میں کوئی بغیر بیوی کے نہ ہو گا۔ [صحیح مسلم:2834-14] ‏ اس حدیث کی اصل بخاری میں بھی ہے-

مسند احمد میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کی راہ کی صبح اور شام ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔ جنت میں جو جگہ ملے گی اس میں سے ایک کمان یا ایک کوڑے کے برابر کی جگہ ساری دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے افضل ہے، اگر جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت دنیا میں جھانک لے تو زمین و آسمان کو جگمگا دے اور خوشبو سے تمام عالم مہک اٹھے۔ ان کے سر کا دوپٹہ بھی دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے گراں ہے، صحیح بخاری میں یہ حدیث بھی ہے- [صحیح بخاری:2796] ‏

پھر ارشاد ہے کہ جس نے دنیا میں نیکی کی اس کا بدلہ آخرت میں سلوک و احسان کے سوا اور کچھ نہیں، جیسے ارشاد ہے «‏لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ» [10-یونس:26] ‏ نیکی کرنے والے کے لیے نیکی ہے اور زیادتی یعنی جنت اور دیدار باری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”جانتے ہو تمہارے رب نے کیا کہا؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو ہی علم ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جس پر اپنی توحید کا انعام دنیا میں کروں اس کا بدلہ آخرت میں جنت ہے [بغوی فی التفسير:41/251،ضعيف] ‏ اور چونکہ یہ بھی ایک عظیم الشان نعمت ہے جو دراصل کسی عمل کے بدلے نہیں بلکہ صرف اسی کا احسان اور فضل و کرم ہے اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا اب تم میری کس کس نعمت سے لاپرواہی برتو گے؟

رب کے مقام سے ڈرنے والے کی بشارت کے متعلق ترمذی شریف کی یہ حدیث بھی خیال میں رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ڈرے گا وہ رات کے وقت ہی کوچ کرے گا اور جو اندھیری رات میں چل پڑا وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا خبردار ہو جاؤ اللہ کا سودا بہت گراں ہے یاد رکھو! وہ سودا جنت ہے،“ امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:2450،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے منبر پر وعظ بیان فرماتے ہوئے سنا کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏ [55-الرحمن:46] ‏ پڑھی تو میں نے کہا اگرچہ زنا کیا ہو؟ اگرچہ چوری کی ہو؟ باقی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔

صفحہ نمبر9126

حوروں کے اوصاف ٭٭

چونکہ فروش کا بیان ہوا تھا تو ساتھ ہی فرمایا کہ ان فروش پر ان کے ساتھ ان کی بیویاں ہوں گی، جو عفیفہ، پاکدامن، شرمیلی نگاہوں والی ہوں گی اپنے خاوندوں کے سوا کسی پر نظریں نہ ڈالیں گی اور ان کے خاوند بھی ان پر سو جان سے مائل ہوں گے۔ یہ بھی جنت کی کسی چیز کو اپنے ان مومن خاوندوں سے بہتر نہ پائیں گی۔ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ یہ حوریں اپنے خاوندوں سے کہیں گی اللہ کی قسم ساری جنت میں میرے لیے تم سے بہتر کوئی چیز نہیں، اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے دل میں جنت کی کسی چیز کی خواہش و محبت اتنی نہیں جتنی آپ کی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے آپ کو میرے حصے میں کر دیا اور مجھے آپ کی خدمت کا شرف بخشا۔ یہ حوریں کنواری اچھوتی نوجوان ہوں گی ان جنتیوں سے پہلے ان کے پاک جسم کو کسی انس و جن کا ہاتھ بھی نہ لگا۔ یہ آیت بھی مومن جنوں کے جنت میں جانے کی دلیل ہے۔

ضمرہ بن حبیب رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ کیا مومن جن بھی جنت میں جائیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں اور جنیہ عورتوں سے ان کے نکاح ہوں گے جیسے انسان کے انسان عورتوں سے۔ پھر یہی آیتیں تلاوت کیں پھر ان حوروں کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنی صفائی خوبی اور حسن میں ایسی ہو گی جیسے یاقوت و مرجان، یاقوت سے صفائی میں تشبیہ دی اور مرجان سے بیاض میں، پس مرجان سے مراد یہاں لؤلؤ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اہل جنت کی بیویوں میں سے ہر ایک ایسی ہے کہ ان کی پنڈلی کی سفیدی ستر ستر حلوں کے پہننے کے بعد بھی نظر آتی ہے یہاں تک کہ اندر کا گودا بھی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ» [55- الرحمن:58] ‏ پڑھی اور فرمایا: ”دیکھو یاقوت ایک پتھر ہے لیکن قدرت نے اس کی صفائی اور جوت ایسی رکھی ہے کہ اس کے بیچ میں دھاگہ پرو دو تو باہر سے نظر آتا ہے“ [ابن ابی حاتم] ‏ یہ روایت ترمذی میں بھی موقوفاً عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور امام ترمذی اس کو زیادہ صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2533،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏

مسند احمد میں ہے پیغمبر مدنی احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر اہل جنت کی دو بیویاں اس صفت کی ہوں گی کہ ستر ستر حلے پہن لینے کے بعد بھی ان کی پنڈلیوں کی جھلک نمودار رہے گی بلکہ اندر کا گودا بھی بوجہ صفائی کے دکھائی دے گا۔ [مسند احمد:34/2] ‏

صفحہ نمبر9125

صحیح مسلم میں ہے کہ یا تو فخر کے طور پر یا مذاکراہ کے طور پر یہ بحث چھڑ گئی کہ جنت میں عورتیں زیادہ ہوں گی یا مرد؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا؟ کہ پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی وہ چاند جیسی صورتوں والی ہو گی ان کے پیچھے جو جماعت ہو گی وہ آسمان کے بہترین چمکیلے تاروں جیسے چہروں والی ہو گی۔ ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ایسی ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا اور جنت میں کوئی بغیر بیوی کے نہ ہو گا۔ [صحیح مسلم:2834-14] ‏ اس حدیث کی اصل بخاری میں بھی ہے-

مسند احمد میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کی راہ کی صبح اور شام ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔ جنت میں جو جگہ ملے گی اس میں سے ایک کمان یا ایک کوڑے کے برابر کی جگہ ساری دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے افضل ہے، اگر جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت دنیا میں جھانک لے تو زمین و آسمان کو جگمگا دے اور خوشبو سے تمام عالم مہک اٹھے۔ ان کے سر کا دوپٹہ بھی دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے گراں ہے، صحیح بخاری میں یہ حدیث بھی ہے- [صحیح بخاری:2796] ‏

پھر ارشاد ہے کہ جس نے دنیا میں نیکی کی اس کا بدلہ آخرت میں سلوک و احسان کے سوا اور کچھ نہیں، جیسے ارشاد ہے «‏لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ» [10-یونس:26] ‏ نیکی کرنے والے کے لیے نیکی ہے اور زیادتی یعنی جنت اور دیدار باری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”جانتے ہو تمہارے رب نے کیا کہا؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو ہی علم ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جس پر اپنی توحید کا انعام دنیا میں کروں اس کا بدلہ آخرت میں جنت ہے [بغوی فی التفسير:41/251،ضعيف] ‏ اور چونکہ یہ بھی ایک عظیم الشان نعمت ہے جو دراصل کسی عمل کے بدلے نہیں بلکہ صرف اسی کا احسان اور فضل و کرم ہے اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا اب تم میری کس کس نعمت سے لاپرواہی برتو گے؟

رب کے مقام سے ڈرنے والے کی بشارت کے متعلق ترمذی شریف کی یہ حدیث بھی خیال میں رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ڈرے گا وہ رات کے وقت ہی کوچ کرے گا اور جو اندھیری رات میں چل پڑا وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا خبردار ہو جاؤ اللہ کا سودا بہت گراں ہے یاد رکھو! وہ سودا جنت ہے،“ امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:2450،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے منبر پر وعظ بیان فرماتے ہوئے سنا کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏ [55-الرحمن:46] ‏ پڑھی تو میں نے کہا اگرچہ زنا کیا ہو؟ اگرچہ چوری کی ہو؟ باقی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔

صفحہ نمبر9126

حوروں کے اوصاف ٭٭

چونکہ فروش کا بیان ہوا تھا تو ساتھ ہی فرمایا کہ ان فروش پر ان کے ساتھ ان کی بیویاں ہوں گی، جو عفیفہ، پاکدامن، شرمیلی نگاہوں والی ہوں گی اپنے خاوندوں کے سوا کسی پر نظریں نہ ڈالیں گی اور ان کے خاوند بھی ان پر سو جان سے مائل ہوں گے۔ یہ بھی جنت کی کسی چیز کو اپنے ان مومن خاوندوں سے بہتر نہ پائیں گی۔ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ یہ حوریں اپنے خاوندوں سے کہیں گی اللہ کی قسم ساری جنت میں میرے لیے تم سے بہتر کوئی چیز نہیں، اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے دل میں جنت کی کسی چیز کی خواہش و محبت اتنی نہیں جتنی آپ کی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے آپ کو میرے حصے میں کر دیا اور مجھے آپ کی خدمت کا شرف بخشا۔ یہ حوریں کنواری اچھوتی نوجوان ہوں گی ان جنتیوں سے پہلے ان کے پاک جسم کو کسی انس و جن کا ہاتھ بھی نہ لگا۔ یہ آیت بھی مومن جنوں کے جنت میں جانے کی دلیل ہے۔

ضمرہ بن حبیب رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ کیا مومن جن بھی جنت میں جائیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں اور جنیہ عورتوں سے ان کے نکاح ہوں گے جیسے انسان کے انسان عورتوں سے۔ پھر یہی آیتیں تلاوت کیں پھر ان حوروں کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنی صفائی خوبی اور حسن میں ایسی ہو گی جیسے یاقوت و مرجان، یاقوت سے صفائی میں تشبیہ دی اور مرجان سے بیاض میں، پس مرجان سے مراد یہاں لؤلؤ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اہل جنت کی بیویوں میں سے ہر ایک ایسی ہے کہ ان کی پنڈلی کی سفیدی ستر ستر حلوں کے پہننے کے بعد بھی نظر آتی ہے یہاں تک کہ اندر کا گودا بھی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ» [55- الرحمن:58] ‏ پڑھی اور فرمایا: ”دیکھو یاقوت ایک پتھر ہے لیکن قدرت نے اس کی صفائی اور جوت ایسی رکھی ہے کہ اس کے بیچ میں دھاگہ پرو دو تو باہر سے نظر آتا ہے“ [ابن ابی حاتم] ‏ یہ روایت ترمذی میں بھی موقوفاً عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور امام ترمذی اس کو زیادہ صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2533،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏

مسند احمد میں ہے پیغمبر مدنی احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر اہل جنت کی دو بیویاں اس صفت کی ہوں گی کہ ستر ستر حلے پہن لینے کے بعد بھی ان کی پنڈلیوں کی جھلک نمودار رہے گی بلکہ اندر کا گودا بھی بوجہ صفائی کے دکھائی دے گا۔ [مسند احمد:34/2] ‏

صفحہ نمبر9125

صحیح مسلم میں ہے کہ یا تو فخر کے طور پر یا مذاکراہ کے طور پر یہ بحث چھڑ گئی کہ جنت میں عورتیں زیادہ ہوں گی یا مرد؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا؟ کہ پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی وہ چاند جیسی صورتوں والی ہو گی ان کے پیچھے جو جماعت ہو گی وہ آسمان کے بہترین چمکیلے تاروں جیسے چہروں والی ہو گی۔ ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ایسی ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا اور جنت میں کوئی بغیر بیوی کے نہ ہو گا۔ [صحیح مسلم:2834-14] ‏ اس حدیث کی اصل بخاری میں بھی ہے-

مسند احمد میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کی راہ کی صبح اور شام ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔ جنت میں جو جگہ ملے گی اس میں سے ایک کمان یا ایک کوڑے کے برابر کی جگہ ساری دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے افضل ہے، اگر جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت دنیا میں جھانک لے تو زمین و آسمان کو جگمگا دے اور خوشبو سے تمام عالم مہک اٹھے۔ ان کے سر کا دوپٹہ بھی دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے گراں ہے، صحیح بخاری میں یہ حدیث بھی ہے- [صحیح بخاری:2796] ‏

پھر ارشاد ہے کہ جس نے دنیا میں نیکی کی اس کا بدلہ آخرت میں سلوک و احسان کے سوا اور کچھ نہیں، جیسے ارشاد ہے «‏لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ» [10-یونس:26] ‏ نیکی کرنے والے کے لیے نیکی ہے اور زیادتی یعنی جنت اور دیدار باری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”جانتے ہو تمہارے رب نے کیا کہا؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو ہی علم ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جس پر اپنی توحید کا انعام دنیا میں کروں اس کا بدلہ آخرت میں جنت ہے [بغوی فی التفسير:41/251،ضعيف] ‏ اور چونکہ یہ بھی ایک عظیم الشان نعمت ہے جو دراصل کسی عمل کے بدلے نہیں بلکہ صرف اسی کا احسان اور فضل و کرم ہے اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا اب تم میری کس کس نعمت سے لاپرواہی برتو گے؟

رب کے مقام سے ڈرنے والے کی بشارت کے متعلق ترمذی شریف کی یہ حدیث بھی خیال میں رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ڈرے گا وہ رات کے وقت ہی کوچ کرے گا اور جو اندھیری رات میں چل پڑا وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا خبردار ہو جاؤ اللہ کا سودا بہت گراں ہے یاد رکھو! وہ سودا جنت ہے،“ امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:2450،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے منبر پر وعظ بیان فرماتے ہوئے سنا کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏ [55-الرحمن:46] ‏ پڑھی تو میں نے کہا اگرچہ زنا کیا ہو؟ اگرچہ چوری کی ہو؟ باقی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔

صفحہ نمبر9126

حوروں کے اوصاف ٭٭

چونکہ فروش کا بیان ہوا تھا تو ساتھ ہی فرمایا کہ ان فروش پر ان کے ساتھ ان کی بیویاں ہوں گی، جو عفیفہ، پاکدامن، شرمیلی نگاہوں والی ہوں گی اپنے خاوندوں کے سوا کسی پر نظریں نہ ڈالیں گی اور ان کے خاوند بھی ان پر سو جان سے مائل ہوں گے۔ یہ بھی جنت کی کسی چیز کو اپنے ان مومن خاوندوں سے بہتر نہ پائیں گی۔ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ یہ حوریں اپنے خاوندوں سے کہیں گی اللہ کی قسم ساری جنت میں میرے لیے تم سے بہتر کوئی چیز نہیں، اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے دل میں جنت کی کسی چیز کی خواہش و محبت اتنی نہیں جتنی آپ کی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے آپ کو میرے حصے میں کر دیا اور مجھے آپ کی خدمت کا شرف بخشا۔ یہ حوریں کنواری اچھوتی نوجوان ہوں گی ان جنتیوں سے پہلے ان کے پاک جسم کو کسی انس و جن کا ہاتھ بھی نہ لگا۔ یہ آیت بھی مومن جنوں کے جنت میں جانے کی دلیل ہے۔

ضمرہ بن حبیب رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ کیا مومن جن بھی جنت میں جائیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں اور جنیہ عورتوں سے ان کے نکاح ہوں گے جیسے انسان کے انسان عورتوں سے۔ پھر یہی آیتیں تلاوت کیں پھر ان حوروں کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنی صفائی خوبی اور حسن میں ایسی ہو گی جیسے یاقوت و مرجان، یاقوت سے صفائی میں تشبیہ دی اور مرجان سے بیاض میں، پس مرجان سے مراد یہاں لؤلؤ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اہل جنت کی بیویوں میں سے ہر ایک ایسی ہے کہ ان کی پنڈلی کی سفیدی ستر ستر حلوں کے پہننے کے بعد بھی نظر آتی ہے یہاں تک کہ اندر کا گودا بھی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ» [55- الرحمن:58] ‏ پڑھی اور فرمایا: ”دیکھو یاقوت ایک پتھر ہے لیکن قدرت نے اس کی صفائی اور جوت ایسی رکھی ہے کہ اس کے بیچ میں دھاگہ پرو دو تو باہر سے نظر آتا ہے“ [ابن ابی حاتم] ‏ یہ روایت ترمذی میں بھی موقوفاً عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور امام ترمذی اس کو زیادہ صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2533،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏

مسند احمد میں ہے پیغمبر مدنی احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر اہل جنت کی دو بیویاں اس صفت کی ہوں گی کہ ستر ستر حلے پہن لینے کے بعد بھی ان کی پنڈلیوں کی جھلک نمودار رہے گی بلکہ اندر کا گودا بھی بوجہ صفائی کے دکھائی دے گا۔ [مسند احمد:34/2] ‏

صفحہ نمبر9125

صحیح مسلم میں ہے کہ یا تو فخر کے طور پر یا مذاکراہ کے طور پر یہ بحث چھڑ گئی کہ جنت میں عورتیں زیادہ ہوں گی یا مرد؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا؟ کہ پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی وہ چاند جیسی صورتوں والی ہو گی ان کے پیچھے جو جماعت ہو گی وہ آسمان کے بہترین چمکیلے تاروں جیسے چہروں والی ہو گی۔ ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ایسی ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا اور جنت میں کوئی بغیر بیوی کے نہ ہو گا۔ [صحیح مسلم:2834-14] ‏ اس حدیث کی اصل بخاری میں بھی ہے-

مسند احمد میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کی راہ کی صبح اور شام ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔ جنت میں جو جگہ ملے گی اس میں سے ایک کمان یا ایک کوڑے کے برابر کی جگہ ساری دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے افضل ہے، اگر جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت دنیا میں جھانک لے تو زمین و آسمان کو جگمگا دے اور خوشبو سے تمام عالم مہک اٹھے۔ ان کے سر کا دوپٹہ بھی دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے گراں ہے، صحیح بخاری میں یہ حدیث بھی ہے- [صحیح بخاری:2796] ‏

پھر ارشاد ہے کہ جس نے دنیا میں نیکی کی اس کا بدلہ آخرت میں سلوک و احسان کے سوا اور کچھ نہیں، جیسے ارشاد ہے «‏لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ» [10-یونس:26] ‏ نیکی کرنے والے کے لیے نیکی ہے اور زیادتی یعنی جنت اور دیدار باری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”جانتے ہو تمہارے رب نے کیا کہا؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو ہی علم ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جس پر اپنی توحید کا انعام دنیا میں کروں اس کا بدلہ آخرت میں جنت ہے [بغوی فی التفسير:41/251،ضعيف] ‏ اور چونکہ یہ بھی ایک عظیم الشان نعمت ہے جو دراصل کسی عمل کے بدلے نہیں بلکہ صرف اسی کا احسان اور فضل و کرم ہے اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا اب تم میری کس کس نعمت سے لاپرواہی برتو گے؟

رب کے مقام سے ڈرنے والے کی بشارت کے متعلق ترمذی شریف کی یہ حدیث بھی خیال میں رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ڈرے گا وہ رات کے وقت ہی کوچ کرے گا اور جو اندھیری رات میں چل پڑا وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا خبردار ہو جاؤ اللہ کا سودا بہت گراں ہے یاد رکھو! وہ سودا جنت ہے،“ امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:2450،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے منبر پر وعظ بیان فرماتے ہوئے سنا کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏ [55-الرحمن:46] ‏ پڑھی تو میں نے کہا اگرچہ زنا کیا ہو؟ اگرچہ چوری کی ہو؟ باقی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔

صفحہ نمبر9126

حوروں کے اوصاف ٭٭

چونکہ فروش کا بیان ہوا تھا تو ساتھ ہی فرمایا کہ ان فروش پر ان کے ساتھ ان کی بیویاں ہوں گی، جو عفیفہ، پاکدامن، شرمیلی نگاہوں والی ہوں گی اپنے خاوندوں کے سوا کسی پر نظریں نہ ڈالیں گی اور ان کے خاوند بھی ان پر سو جان سے مائل ہوں گے۔ یہ بھی جنت کی کسی چیز کو اپنے ان مومن خاوندوں سے بہتر نہ پائیں گی۔ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ یہ حوریں اپنے خاوندوں سے کہیں گی اللہ کی قسم ساری جنت میں میرے لیے تم سے بہتر کوئی چیز نہیں، اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے دل میں جنت کی کسی چیز کی خواہش و محبت اتنی نہیں جتنی آپ کی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے آپ کو میرے حصے میں کر دیا اور مجھے آپ کی خدمت کا شرف بخشا۔ یہ حوریں کنواری اچھوتی نوجوان ہوں گی ان جنتیوں سے پہلے ان کے پاک جسم کو کسی انس و جن کا ہاتھ بھی نہ لگا۔ یہ آیت بھی مومن جنوں کے جنت میں جانے کی دلیل ہے۔

ضمرہ بن حبیب رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ کیا مومن جن بھی جنت میں جائیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں اور جنیہ عورتوں سے ان کے نکاح ہوں گے جیسے انسان کے انسان عورتوں سے۔ پھر یہی آیتیں تلاوت کیں پھر ان حوروں کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنی صفائی خوبی اور حسن میں ایسی ہو گی جیسے یاقوت و مرجان، یاقوت سے صفائی میں تشبیہ دی اور مرجان سے بیاض میں، پس مرجان سے مراد یہاں لؤلؤ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اہل جنت کی بیویوں میں سے ہر ایک ایسی ہے کہ ان کی پنڈلی کی سفیدی ستر ستر حلوں کے پہننے کے بعد بھی نظر آتی ہے یہاں تک کہ اندر کا گودا بھی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ» [55- الرحمن:58] ‏ پڑھی اور فرمایا: ”دیکھو یاقوت ایک پتھر ہے لیکن قدرت نے اس کی صفائی اور جوت ایسی رکھی ہے کہ اس کے بیچ میں دھاگہ پرو دو تو باہر سے نظر آتا ہے“ [ابن ابی حاتم] ‏ یہ روایت ترمذی میں بھی موقوفاً عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور امام ترمذی اس کو زیادہ صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2533،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ‏

مسند احمد میں ہے پیغمبر مدنی احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر اہل جنت کی دو بیویاں اس صفت کی ہوں گی کہ ستر ستر حلے پہن لینے کے بعد بھی ان کی پنڈلیوں کی جھلک نمودار رہے گی بلکہ اندر کا گودا بھی بوجہ صفائی کے دکھائی دے گا۔ [مسند احمد:34/2] ‏

صفحہ نمبر9125

صحیح مسلم میں ہے کہ یا تو فخر کے طور پر یا مذاکراہ کے طور پر یہ بحث چھڑ گئی کہ جنت میں عورتیں زیادہ ہوں گی یا مرد؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا؟ کہ پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی وہ چاند جیسی صورتوں والی ہو گی ان کے پیچھے جو جماعت ہو گی وہ آسمان کے بہترین چمکیلے تاروں جیسے چہروں والی ہو گی۔ ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ایسی ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا اور جنت میں کوئی بغیر بیوی کے نہ ہو گا۔ [صحیح مسلم:2834-14] ‏ اس حدیث کی اصل بخاری میں بھی ہے-

مسند احمد میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کی راہ کی صبح اور شام ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔ جنت میں جو جگہ ملے گی اس میں سے ایک کمان یا ایک کوڑے کے برابر کی جگہ ساری دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے افضل ہے، اگر جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت دنیا میں جھانک لے تو زمین و آسمان کو جگمگا دے اور خوشبو سے تمام عالم مہک اٹھے۔ ان کے سر کا دوپٹہ بھی دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے گراں ہے، صحیح بخاری میں یہ حدیث بھی ہے- [صحیح بخاری:2796] ‏

پھر ارشاد ہے کہ جس نے دنیا میں نیکی کی اس کا بدلہ آخرت میں سلوک و احسان کے سوا اور کچھ نہیں، جیسے ارشاد ہے «‏لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ» [10-یونس:26] ‏ نیکی کرنے والے کے لیے نیکی ہے اور زیادتی یعنی جنت اور دیدار باری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”جانتے ہو تمہارے رب نے کیا کہا؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو ہی علم ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جس پر اپنی توحید کا انعام دنیا میں کروں اس کا بدلہ آخرت میں جنت ہے [بغوی فی التفسير:41/251،ضعيف] ‏ اور چونکہ یہ بھی ایک عظیم الشان نعمت ہے جو دراصل کسی عمل کے بدلے نہیں بلکہ صرف اسی کا احسان اور فضل و کرم ہے اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا اب تم میری کس کس نعمت سے لاپرواہی برتو گے؟

رب کے مقام سے ڈرنے والے کی بشارت کے متعلق ترمذی شریف کی یہ حدیث بھی خیال میں رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ڈرے گا وہ رات کے وقت ہی کوچ کرے گا اور جو اندھیری رات میں چل پڑا وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا خبردار ہو جاؤ اللہ کا سودا بہت گراں ہے یاد رکھو! وہ سودا جنت ہے،“ امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:2450،قال الشيخ الألباني:صحيح] ‏

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے منبر پر وعظ بیان فرماتے ہوئے سنا کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «‏وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» ‏ [55-الرحمن:46] ‏ پڑھی تو میں نے کہا اگرچہ زنا کیا ہو؟ اگرچہ چوری کی ہو؟ باقی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔

صفحہ نمبر9126

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com