Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Ar-Rahmaan
Tafsir Ibn Kathir · The Beneficent · 78 ayat · ayat 61–78 · Quran text →
حوروں کے اوصاف ٭٭
چونکہ فروش کا بیان ہوا تھا تو ساتھ ہی فرمایا کہ ان فروش پر ان کے ساتھ ان کی بیویاں ہوں گی، جو عفیفہ، پاکدامن، شرمیلی نگاہوں والی ہوں گی اپنے خاوندوں کے سوا کسی پر نظریں نہ ڈالیں گی اور ان کے خاوند بھی ان پر سو جان سے مائل ہوں گے۔ یہ بھی جنت کی کسی چیز کو اپنے ان مومن خاوندوں سے بہتر نہ پائیں گی۔ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ یہ حوریں اپنے خاوندوں سے کہیں گی اللہ کی قسم ساری جنت میں میرے لیے تم سے بہتر کوئی چیز نہیں، اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے دل میں جنت کی کسی چیز کی خواہش و محبت اتنی نہیں جتنی آپ کی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے آپ کو میرے حصے میں کر دیا اور مجھے آپ کی خدمت کا شرف بخشا۔ یہ حوریں کنواری اچھوتی نوجوان ہوں گی ان جنتیوں سے پہلے ان کے پاک جسم کو کسی انس و جن کا ہاتھ بھی نہ لگا۔ یہ آیت بھی مومن جنوں کے جنت میں جانے کی دلیل ہے۔
ضمرہ بن حبیب رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ کیا مومن جن بھی جنت میں جائیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں اور جنیہ عورتوں سے ان کے نکاح ہوں گے جیسے انسان کے انسان عورتوں سے۔ پھر یہی آیتیں تلاوت کیں پھر ان حوروں کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنی صفائی خوبی اور حسن میں ایسی ہو گی جیسے یاقوت و مرجان، یاقوت سے صفائی میں تشبیہ دی اور مرجان سے بیاض میں، پس مرجان سے مراد یہاں لؤلؤ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اہل جنت کی بیویوں میں سے ہر ایک ایسی ہے کہ ان کی پنڈلی کی سفیدی ستر ستر حلوں کے پہننے کے بعد بھی نظر آتی ہے یہاں تک کہ اندر کا گودا بھی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ» [55- الرحمن:58] پڑھی اور فرمایا: ”دیکھو یاقوت ایک پتھر ہے لیکن قدرت نے اس کی صفائی اور جوت ایسی رکھی ہے کہ اس کے بیچ میں دھاگہ پرو دو تو باہر سے نظر آتا ہے“ [ابن ابی حاتم] یہ روایت ترمذی میں بھی موقوفاً عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور امام ترمذی اس کو زیادہ صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2533،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
مسند احمد میں ہے پیغمبر مدنی احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر اہل جنت کی دو بیویاں اس صفت کی ہوں گی کہ ستر ستر حلے پہن لینے کے بعد بھی ان کی پنڈلیوں کی جھلک نمودار رہے گی بلکہ اندر کا گودا بھی بوجہ صفائی کے دکھائی دے گا۔ [مسند احمد:34/2]
صفحہ نمبر9125
صحیح مسلم میں ہے کہ یا تو فخر کے طور پر یا مذاکراہ کے طور پر یہ بحث چھڑ گئی کہ جنت میں عورتیں زیادہ ہوں گی یا مرد؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا؟ کہ پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی وہ چاند جیسی صورتوں والی ہو گی ان کے پیچھے جو جماعت ہو گی وہ آسمان کے بہترین چمکیلے تاروں جیسے چہروں والی ہو گی۔ ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ایسی ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا اور جنت میں کوئی بغیر بیوی کے نہ ہو گا۔ [صحیح مسلم:2834-14] اس حدیث کی اصل بخاری میں بھی ہے-
مسند احمد میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کی راہ کی صبح اور شام ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے بہتر ہے۔ جنت میں جو جگہ ملے گی اس میں سے ایک کمان یا ایک کوڑے کے برابر کی جگہ ساری دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے افضل ہے، اگر جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت دنیا میں جھانک لے تو زمین و آسمان کو جگمگا دے اور خوشبو سے تمام عالم مہک اٹھے۔ ان کے سر کا دوپٹہ بھی دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے گراں ہے، صحیح بخاری میں یہ حدیث بھی ہے- [صحیح بخاری:2796]
پھر ارشاد ہے کہ جس نے دنیا میں نیکی کی اس کا بدلہ آخرت میں سلوک و احسان کے سوا اور کچھ نہیں، جیسے ارشاد ہے «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ» [10-یونس:26] نیکی کرنے والے کے لیے نیکی ہے اور زیادتی یعنی جنت اور دیدار باری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”جانتے ہو تمہارے رب نے کیا کہا؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو ہی علم ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جس پر اپنی توحید کا انعام دنیا میں کروں اس کا بدلہ آخرت میں جنت ہے [بغوی فی التفسير:41/251،ضعيف] اور چونکہ یہ بھی ایک عظیم الشان نعمت ہے جو دراصل کسی عمل کے بدلے نہیں بلکہ صرف اسی کا احسان اور فضل و کرم ہے اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا اب تم میری کس کس نعمت سے لاپرواہی برتو گے؟
رب کے مقام سے ڈرنے والے کی بشارت کے متعلق ترمذی شریف کی یہ حدیث بھی خیال میں رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ڈرے گا وہ رات کے وقت ہی کوچ کرے گا اور جو اندھیری رات میں چل پڑا وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا خبردار ہو جاؤ اللہ کا سودا بہت گراں ہے یاد رکھو! وہ سودا جنت ہے،“ امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:2450،قال الشيخ الألباني:صحيح]
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے منبر پر وعظ بیان فرماتے ہوئے سنا کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:46] پڑھی تو میں نے کہا اگرچہ زنا کیا ہو؟ اگرچہ چوری کی ہو؟ باقی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔
صفحہ نمبر9126
اصحاب یمین اور مقربین ٭٭
یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گزرا اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔
پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی- الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں، جس کی دلیلیں بہت سی ہیں- ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صفت ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی۔ پھر یہاں آیت «وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت «ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ» [55-الرحمن:48] کہا تھا یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخوں دار۔ یہاں فرمایا آیت «مُدْهَامَّتٰنِ» [55-الرحمن:64] یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ۔
صفحہ نمبر9132
اصحاب یمین اور مقربین ٭٭
یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گزرا اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔
پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی- الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں، جس کی دلیلیں بہت سی ہیں- ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صفت ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی۔ پھر یہاں آیت «وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت «ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ» [55-الرحمن:48] کہا تھا یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخوں دار۔ یہاں فرمایا آیت «مُدْهَامَّتٰنِ» [55-الرحمن:64] یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ۔
صفحہ نمبر9132
اصحاب یمین اور مقربین ٭٭
یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گزرا اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔
پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی- الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں، جس کی دلیلیں بہت سی ہیں- ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صفت ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی۔ پھر یہاں آیت «وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت «ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ» [55-الرحمن:48] کہا تھا یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخوں دار۔ یہاں فرمایا آیت «مُدْهَامَّتٰنِ» [55-الرحمن:64] یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ۔
صفحہ نمبر9132
اصحاب یمین اور مقربین ٭٭
یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گزرا اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔
پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی- الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں، جس کی دلیلیں بہت سی ہیں- ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صفت ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی۔ پھر یہاں آیت «وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت «ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ» [55-الرحمن:48] کہا تھا یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخوں دار۔ یہاں فرمایا آیت «مُدْهَامَّتٰنِ» [55-الرحمن:64] یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ۔
صفحہ نمبر9132
اصحاب یمین اور مقربین ٭٭
یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گزرا اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔
پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی- الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں، جس کی دلیلیں بہت سی ہیں- ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صفت ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی۔ پھر یہاں آیت «وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت «ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ» [55-الرحمن:48] کہا تھا یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخوں دار۔ یہاں فرمایا آیت «مُدْهَامَّتٰنِ» [55-الرحمن:64] یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ۔
صفحہ نمبر9132
اصحاب یمین اور مقربین ٭٭
یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گزرا اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔
پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی- الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں، جس کی دلیلیں بہت سی ہیں- ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صفت ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی۔ پھر یہاں آیت «وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62] فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت «ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ» [55-الرحمن:48] کہا تھا یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخوں دار۔ یہاں فرمایا آیت «مُدْهَامَّتٰنِ» [55-الرحمن:64] یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ۔
صفحہ نمبر9132
جنت کے میوے ٭٭
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سر سبز معلوم ہو رہی ہے، الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے، ان کی نہروں کی بابت لفظ «تَجْرِيَانِ» ہے اور یہاں لفظ «نَضَّاخَتٰنِ» ہے یعنی ابلنے والی، اور یہ ظاہر ہے کہ «نضخ» سے «جری» یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں، پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لیے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضیلت رکھتے ہیں، کیونکہ یہاں لفظ «فَاكِهَة» گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لیے عام نہ ہو گا، اسی لیے بطور تفسیر کے بعد میں «نَخْلٌ وَرُمَّانٌ» کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے-
امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے۔ کھجور اور انار کو «خاصۃ» اس لیے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔
مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہاں ہیں“، انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں گے پئیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ“، انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہو جائے گا۔“ [ضعيف الترغيب:242/2،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے، اس کے تنے سبز زمردیں ہوں گے، اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے، گٹھلی بالکل نہ ہو گی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج [ضعيف] - «خیرات» کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق- ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33172،ضعيف]
صفحہ نمبر9138
جنت کے میوے ٭٭
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سر سبز معلوم ہو رہی ہے، الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے، ان کی نہروں کی بابت لفظ «تَجْرِيَانِ» ہے اور یہاں لفظ «نَضَّاخَتٰنِ» ہے یعنی ابلنے والی، اور یہ ظاہر ہے کہ «نضخ» سے «جری» یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں، پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لیے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضیلت رکھتے ہیں، کیونکہ یہاں لفظ «فَاكِهَة» گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لیے عام نہ ہو گا، اسی لیے بطور تفسیر کے بعد میں «نَخْلٌ وَرُمَّانٌ» کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے-
امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے۔ کھجور اور انار کو «خاصۃ» اس لیے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔
مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ہاں ہیں“، انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں گے پئیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ“، انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہو جائے گا۔“ [ضعيف الترغيب:242/2،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے، اس کے تنے سبز زمردیں ہوں گے، اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے، گٹھلی بالکل نہ ہو گی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج [ضعيف] - «خیرات» کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق- ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33172،ضعيف]
صفحہ نمبر9138
جنت کی نعمتیں ٭٭
ایک اور حدیث میں ہے کہ حورعین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں، جو بزرگ خاوندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں، یہ پوری حدیث سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو؟ حوریں جو خیموں میں رہتی ہيں، یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے، گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔
صفحہ نمبر9140
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لیے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لیے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے، نہ سختی، نہ گندگی، نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔
صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک خیمہ ہے درمجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ [صحیح بخاری:4879]
دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے، یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے- سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا، چار فرسخ چوڑا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں کی سونے کی ہوں گی۔
صفحہ نمبر9141
ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی [80] ہزار خادم ہوں گے اور بہتر [72] بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعا تک پہنچے۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے، ہاں پہلے جنت کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لیے یہ نہیں فرمایا گیا، پھر سوال ہوا کہ تمہيں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیئے، یہ جنتی سبز رنگ، اعلیٰ قیمتی فرشوں، غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے، تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے، یہ تخت، یہ فرش، یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے، کوئی سرخ رنگ ہو گا، کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ، جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جا سکے، یہ بسترے مخملی ہوں گے، جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے، کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے، ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبقر ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر9142
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا ”میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو۔“ [صحیح بخاری:3682]
یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے، وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لیے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف کے خاتمے پر فرمايا تھا کہ اطاعت کا صلہ سوا عنايت کے اور کيا ہو سکتا ہے؟ تو اہل جنت کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے۔ جیسے کہ جبرائیل عليہ السلام والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے ميں، پھر احسان کے بارے میں، پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ «آمین»
صفحہ نمبر9143
وہی مستحق احترام و اکرام ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا۔ [مسند احمد:199/5،ضعیف]
ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ [سنن ابوداود:4843،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر9144
ابویعلی میں ہے «یا ذَالجَلالِ وَ اْلاِکْرام» کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:3525،قال الشيخ الألباني:صحيح]
مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں «یا» کا لفظ نہیں [مسند احمد:177/4،حسن]
جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لے تو عرب کہتے ہیں «اَلَظَّ» یہی لفظ اس حدیث میں آیا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ
صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَباَرَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ»
«الحمداللہ» اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔
صفحہ نمبر9145
جنت کی نعمتیں ٭٭
ایک اور حدیث میں ہے کہ حورعین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں، جو بزرگ خاوندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں، یہ پوری حدیث سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو؟ حوریں جو خیموں میں رہتی ہيں، یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے، گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔
صفحہ نمبر9140
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لیے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لیے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے، نہ سختی، نہ گندگی، نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔
صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک خیمہ ہے درمجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ [صحیح بخاری:4879]
دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے، یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے- سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا، چار فرسخ چوڑا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں کی سونے کی ہوں گی۔
صفحہ نمبر9141
ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی [80] ہزار خادم ہوں گے اور بہتر [72] بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعا تک پہنچے۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے، ہاں پہلے جنت کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لیے یہ نہیں فرمایا گیا، پھر سوال ہوا کہ تمہيں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیئے، یہ جنتی سبز رنگ، اعلیٰ قیمتی فرشوں، غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے، تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے، یہ تخت، یہ فرش، یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے، کوئی سرخ رنگ ہو گا، کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ، جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جا سکے، یہ بسترے مخملی ہوں گے، جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے، کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے، ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبقر ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر9142
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا ”میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو۔“ [صحیح بخاری:3682]
یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے، وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لیے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف کے خاتمے پر فرمايا تھا کہ اطاعت کا صلہ سوا عنايت کے اور کيا ہو سکتا ہے؟ تو اہل جنت کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے۔ جیسے کہ جبرائیل عليہ السلام والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے ميں، پھر احسان کے بارے میں، پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ «آمین»
صفحہ نمبر9143
وہی مستحق احترام و اکرام ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا۔ [مسند احمد:199/5،ضعیف]
ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ [سنن ابوداود:4843،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر9144
ابویعلی میں ہے «یا ذَالجَلالِ وَ اْلاِکْرام» کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:3525،قال الشيخ الألباني:صحيح]
مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں «یا» کا لفظ نہیں [مسند احمد:177/4،حسن]
جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لے تو عرب کہتے ہیں «اَلَظَّ» یہی لفظ اس حدیث میں آیا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ
صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَباَرَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ»
«الحمداللہ» اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔
صفحہ نمبر9145
جنت کی نعمتیں ٭٭
ایک اور حدیث میں ہے کہ حورعین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں، جو بزرگ خاوندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں، یہ پوری حدیث سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو؟ حوریں جو خیموں میں رہتی ہيں، یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے، گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔
صفحہ نمبر9140
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لیے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لیے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے، نہ سختی، نہ گندگی، نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔
صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک خیمہ ہے درمجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ [صحیح بخاری:4879]
دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے، یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے- سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا، چار فرسخ چوڑا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں کی سونے کی ہوں گی۔
صفحہ نمبر9141
ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی [80] ہزار خادم ہوں گے اور بہتر [72] بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعا تک پہنچے۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے، ہاں پہلے جنت کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لیے یہ نہیں فرمایا گیا، پھر سوال ہوا کہ تمہيں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیئے، یہ جنتی سبز رنگ، اعلیٰ قیمتی فرشوں، غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے، تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے، یہ تخت، یہ فرش، یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے، کوئی سرخ رنگ ہو گا، کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ، جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جا سکے، یہ بسترے مخملی ہوں گے، جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے، کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے، ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبقر ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر9142
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا ”میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو۔“ [صحیح بخاری:3682]
یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے، وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لیے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف کے خاتمے پر فرمايا تھا کہ اطاعت کا صلہ سوا عنايت کے اور کيا ہو سکتا ہے؟ تو اہل جنت کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے۔ جیسے کہ جبرائیل عليہ السلام والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے ميں، پھر احسان کے بارے میں، پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ «آمین»
صفحہ نمبر9143
وہی مستحق احترام و اکرام ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا۔ [مسند احمد:199/5،ضعیف]
ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ [سنن ابوداود:4843،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر9144
ابویعلی میں ہے «یا ذَالجَلالِ وَ اْلاِکْرام» کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:3525،قال الشيخ الألباني:صحيح]
مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں «یا» کا لفظ نہیں [مسند احمد:177/4،حسن]
جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لے تو عرب کہتے ہیں «اَلَظَّ» یہی لفظ اس حدیث میں آیا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ
صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَباَرَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ»
«الحمداللہ» اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔
صفحہ نمبر9145
جنت کی نعمتیں ٭٭
ایک اور حدیث میں ہے کہ حورعین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں، جو بزرگ خاوندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں، یہ پوری حدیث سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو؟ حوریں جو خیموں میں رہتی ہيں، یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے، گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔
صفحہ نمبر9140
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لیے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لیے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے، نہ سختی، نہ گندگی، نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔
صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک خیمہ ہے درمجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ [صحیح بخاری:4879]
دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے، یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے- سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا، چار فرسخ چوڑا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں کی سونے کی ہوں گی۔
صفحہ نمبر9141
ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی [80] ہزار خادم ہوں گے اور بہتر [72] بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعا تک پہنچے۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے، ہاں پہلے جنت کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لیے یہ نہیں فرمایا گیا، پھر سوال ہوا کہ تمہيں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیئے، یہ جنتی سبز رنگ، اعلیٰ قیمتی فرشوں، غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے، تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے، یہ تخت، یہ فرش، یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے، کوئی سرخ رنگ ہو گا، کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ، جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جا سکے، یہ بسترے مخملی ہوں گے، جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے، کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے، ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبقر ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر9142
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا ”میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو۔“ [صحیح بخاری:3682]
یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے، وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لیے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف کے خاتمے پر فرمايا تھا کہ اطاعت کا صلہ سوا عنايت کے اور کيا ہو سکتا ہے؟ تو اہل جنت کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے۔ جیسے کہ جبرائیل عليہ السلام والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے ميں، پھر احسان کے بارے میں، پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ «آمین»
صفحہ نمبر9143
وہی مستحق احترام و اکرام ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا۔ [مسند احمد:199/5،ضعیف]
ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ [سنن ابوداود:4843،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر9144
ابویعلی میں ہے «یا ذَالجَلالِ وَ اْلاِکْرام» کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:3525،قال الشيخ الألباني:صحيح]
مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں «یا» کا لفظ نہیں [مسند احمد:177/4،حسن]
جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لے تو عرب کہتے ہیں «اَلَظَّ» یہی لفظ اس حدیث میں آیا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ
صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَباَرَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ»
«الحمداللہ» اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔
صفحہ نمبر9145
جنت کی نعمتیں ٭٭
ایک اور حدیث میں ہے کہ حورعین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں، جو بزرگ خاوندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں، یہ پوری حدیث سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو؟ حوریں جو خیموں میں رہتی ہيں، یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے، گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔
صفحہ نمبر9140
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لیے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لیے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے، نہ سختی، نہ گندگی، نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔
صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک خیمہ ہے درمجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ [صحیح بخاری:4879]
دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے، یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے- سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا، چار فرسخ چوڑا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں کی سونے کی ہوں گی۔
صفحہ نمبر9141
ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی [80] ہزار خادم ہوں گے اور بہتر [72] بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعا تک پہنچے۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے، ہاں پہلے جنت کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لیے یہ نہیں فرمایا گیا، پھر سوال ہوا کہ تمہيں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیئے، یہ جنتی سبز رنگ، اعلیٰ قیمتی فرشوں، غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے، تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے، یہ تخت، یہ فرش، یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے، کوئی سرخ رنگ ہو گا، کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ، جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جا سکے، یہ بسترے مخملی ہوں گے، جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے، کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے، ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبقر ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر9142
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا ”میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو۔“ [صحیح بخاری:3682]
یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے، وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لیے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف کے خاتمے پر فرمايا تھا کہ اطاعت کا صلہ سوا عنايت کے اور کيا ہو سکتا ہے؟ تو اہل جنت کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے۔ جیسے کہ جبرائیل عليہ السلام والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے ميں، پھر احسان کے بارے میں، پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ «آمین»
صفحہ نمبر9143
وہی مستحق احترام و اکرام ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا۔ [مسند احمد:199/5،ضعیف]
ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ [سنن ابوداود:4843،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر9144
ابویعلی میں ہے «یا ذَالجَلالِ وَ اْلاِکْرام» کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:3525،قال الشيخ الألباني:صحيح]
مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں «یا» کا لفظ نہیں [مسند احمد:177/4،حسن]
جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لے تو عرب کہتے ہیں «اَلَظَّ» یہی لفظ اس حدیث میں آیا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ
صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَباَرَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ»
«الحمداللہ» اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔
صفحہ نمبر9145
جنت کی نعمتیں ٭٭
ایک اور حدیث میں ہے کہ حورعین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں، جو بزرگ خاوندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں، یہ پوری حدیث سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو؟ حوریں جو خیموں میں رہتی ہيں، یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے، گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔
صفحہ نمبر9140
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لیے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لیے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے، نہ سختی، نہ گندگی، نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔
صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک خیمہ ہے درمجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ [صحیح بخاری:4879]
دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے، یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے- سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا، چار فرسخ چوڑا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں کی سونے کی ہوں گی۔
صفحہ نمبر9141
ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی [80] ہزار خادم ہوں گے اور بہتر [72] بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعا تک پہنچے۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے، ہاں پہلے جنت کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لیے یہ نہیں فرمایا گیا، پھر سوال ہوا کہ تمہيں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیئے، یہ جنتی سبز رنگ، اعلیٰ قیمتی فرشوں، غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے، تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے، یہ تخت، یہ فرش، یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے، کوئی سرخ رنگ ہو گا، کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ، جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جا سکے، یہ بسترے مخملی ہوں گے، جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے، کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے، ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبقر ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر9142
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا ”میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو۔“ [صحیح بخاری:3682]
یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے، وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لیے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف کے خاتمے پر فرمايا تھا کہ اطاعت کا صلہ سوا عنايت کے اور کيا ہو سکتا ہے؟ تو اہل جنت کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے۔ جیسے کہ جبرائیل عليہ السلام والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے ميں، پھر احسان کے بارے میں، پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ «آمین»
صفحہ نمبر9143
وہی مستحق احترام و اکرام ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا۔ [مسند احمد:199/5،ضعیف]
ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ [سنن ابوداود:4843،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر9144
ابویعلی میں ہے «یا ذَالجَلالِ وَ اْلاِکْرام» کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:3525،قال الشيخ الألباني:صحيح]
مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں «یا» کا لفظ نہیں [مسند احمد:177/4،حسن]
جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لے تو عرب کہتے ہیں «اَلَظَّ» یہی لفظ اس حدیث میں آیا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ
صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَباَرَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ»
«الحمداللہ» اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔
صفحہ نمبر9145
جنت کی نعمتیں ٭٭
ایک اور حدیث میں ہے کہ حورعین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں، جو بزرگ خاوندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں، یہ پوری حدیث سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو؟ حوریں جو خیموں میں رہتی ہيں، یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے، گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔
صفحہ نمبر9140
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لیے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لیے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے، نہ سختی، نہ گندگی، نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔
صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک خیمہ ہے درمجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ [صحیح بخاری:4879]
دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے، یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے- سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا، چار فرسخ چوڑا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں کی سونے کی ہوں گی۔
صفحہ نمبر9141
ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی [80] ہزار خادم ہوں گے اور بہتر [72] بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعا تک پہنچے۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے، ہاں پہلے جنت کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لیے یہ نہیں فرمایا گیا، پھر سوال ہوا کہ تمہيں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیئے، یہ جنتی سبز رنگ، اعلیٰ قیمتی فرشوں، غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے، تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے، یہ تخت، یہ فرش، یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے، کوئی سرخ رنگ ہو گا، کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ، جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جا سکے، یہ بسترے مخملی ہوں گے، جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے، کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے، ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبقر ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر9142
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا ”میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو۔“ [صحیح بخاری:3682]
یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے، وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لیے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف کے خاتمے پر فرمايا تھا کہ اطاعت کا صلہ سوا عنايت کے اور کيا ہو سکتا ہے؟ تو اہل جنت کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے۔ جیسے کہ جبرائیل عليہ السلام والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے ميں، پھر احسان کے بارے میں، پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ «آمین»
صفحہ نمبر9143
وہی مستحق احترام و اکرام ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا۔ [مسند احمد:199/5،ضعیف]
ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ [سنن ابوداود:4843،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر9144
ابویعلی میں ہے «یا ذَالجَلالِ وَ اْلاِکْرام» کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:3525،قال الشيخ الألباني:صحيح]
مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں «یا» کا لفظ نہیں [مسند احمد:177/4،حسن]
جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لے تو عرب کہتے ہیں «اَلَظَّ» یہی لفظ اس حدیث میں آیا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ
صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَباَرَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ»
«الحمداللہ» اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔
صفحہ نمبر9145
جنت کی نعمتیں ٭٭
ایک اور حدیث میں ہے کہ حورعین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں، جو بزرگ خاوندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں، یہ پوری حدیث سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو؟ حوریں جو خیموں میں رہتی ہيں، یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے، گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔
صفحہ نمبر9140
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لیے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لیے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے، نہ سختی، نہ گندگی، نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔
صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک خیمہ ہے درمجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ [صحیح بخاری:4879]
دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے، یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے- سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا، چار فرسخ چوڑا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں کی سونے کی ہوں گی۔
صفحہ نمبر9141
ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی [80] ہزار خادم ہوں گے اور بہتر [72] بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعا تک پہنچے۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے، ہاں پہلے جنت کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لیے یہ نہیں فرمایا گیا، پھر سوال ہوا کہ تمہيں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیئے، یہ جنتی سبز رنگ، اعلیٰ قیمتی فرشوں، غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے، تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے، یہ تخت، یہ فرش، یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے، کوئی سرخ رنگ ہو گا، کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ، جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جا سکے، یہ بسترے مخملی ہوں گے، جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے، کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے، ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبقر ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر9142
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا ”میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو۔“ [صحیح بخاری:3682]
یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے، وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لیے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف کے خاتمے پر فرمايا تھا کہ اطاعت کا صلہ سوا عنايت کے اور کيا ہو سکتا ہے؟ تو اہل جنت کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے۔ جیسے کہ جبرائیل عليہ السلام والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے ميں، پھر احسان کے بارے میں، پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ «آمین»
صفحہ نمبر9143
وہی مستحق احترام و اکرام ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا۔ [مسند احمد:199/5،ضعیف]
ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ [سنن ابوداود:4843،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر9144
ابویعلی میں ہے «یا ذَالجَلالِ وَ اْلاِکْرام» کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:3525،قال الشيخ الألباني:صحيح]
مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں «یا» کا لفظ نہیں [مسند احمد:177/4،حسن]
جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لے تو عرب کہتے ہیں «اَلَظَّ» یہی لفظ اس حدیث میں آیا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ
صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَباَرَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ»
«الحمداللہ» اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔
صفحہ نمبر9145
جنت کی نعمتیں ٭٭
ایک اور حدیث میں ہے کہ حورعین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں، جو بزرگ خاوندوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں، یہ پوری حدیث سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی۔ «ان شاء اللہ تعالیٰ»
یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو؟ حوریں جو خیموں میں رہتی ہيں، یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے، گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔
صفحہ نمبر9140
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لیے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لیے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے، نہ سختی، نہ گندگی، نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔
صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنت میں ایک خیمہ ہے درمجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ [صحیح بخاری:4879]
دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے، یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے- سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا، چار فرسخ چوڑا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں کی سونے کی ہوں گی۔
صفحہ نمبر9141
ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی [80] ہزار خادم ہوں گے اور بہتر [72] بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعا تک پہنچے۔ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے، ہاں پہلے جنت کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لیے یہ نہیں فرمایا گیا، پھر سوال ہوا کہ تمہيں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیئے، یہ جنتی سبز رنگ، اعلیٰ قیمتی فرشوں، غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے، تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے، یہ تخت، یہ فرش، یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے، کوئی سرخ رنگ ہو گا، کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ، جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جا سکے، یہ بسترے مخملی ہوں گے، جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے، کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے، ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبقر ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر9142
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا ”میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو۔“ [صحیح بخاری:3682]
یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے، وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لیے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف کے خاتمے پر فرمايا تھا کہ اطاعت کا صلہ سوا عنايت کے اور کيا ہو سکتا ہے؟ تو اہل جنت کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے۔ جیسے کہ جبرائیل عليہ السلام والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے ميں، پھر احسان کے بارے میں، پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کی دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ «آمین»
صفحہ نمبر9143
وہی مستحق احترام و اکرام ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا۔ [مسند احمد:199/5،ضعیف]
ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ [سنن ابوداود:4843،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر9144
ابویعلی میں ہے «یا ذَالجَلالِ وَ اْلاِکْرام» کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں [سنن ترمذي:3525،قال الشيخ الألباني:صحيح]
مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں «یا» کا لفظ نہیں [مسند احمد:177/4،حسن]
جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لے تو عرب کہتے ہیں «اَلَظَّ» یہی لفظ اس حدیث میں آیا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ
صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَباَرَکْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ»
«الحمداللہ» اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔
صفحہ نمبر9145