Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Ma'aarij
Tafsir Ibn Kathir · The Ascending Stairways · 44 ayat · ayat 1–30 · Quran text →
کافروں کا عذاب الٰہی طلب کرنا ٭٭
«بِعَذَابٍ» میں جو «ب» ہے وہ بتا رہا ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» [22-الحج:47] یعنی ” یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا “، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا۔
نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد ہے کہ ”کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے“، یعنی آخرت میں۔
ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ قرآن میں منقول ہیں کہتے ہیں «اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» [8-الإنفال:32] یعنی ” الٰہی اگر یہ تیرے پاس سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمارے پاس کوئی درد ناک عذاب لا “۔
ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں کہ ”اس سے مراد وہ عذاب کی وادی ہے جو قیامت کے دن عذابوں سے بہہ نکلے گی“، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مطلب سے بہت دور ہے صحیح قول پہلا ہی ہے جس پر روش کلام کی دلالت ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” وہ عذاب کافروں کے لیے تیار ہے اور ان پر آ پڑنے والا ہے جب آ جائے گا تو اسے دور کرنے والا نہیں اور نہ کسی میں اتنی طاقت ہے کہ اسے ہٹا سکے “۔
صفحہ نمبر9792
معارج سے مراد ٭٭
«مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ» [70-المعارج:3] کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کے مطابق ”درجوں والا ہے“، یعنی بلندیوں اور بزرگیوں والا اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد معارج سے آسمان کی سیڑھیاں ہیں“، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”فضل و کرم اور نعمت و رحم والا“، یعنی یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے ہے جو ان صفتوں والا ہے، اس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں۔
روح کی تفسیر میں ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم کی مخلوق ہے انسان تو نہیں لیکن انسانوں سے بالکل مشابہ ہے، میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں اور یہ عطف ہو عام پر خاص کا، اور ممکن ہے کہ اس سے مراد بنی آدم کی روحیں ہوں، اس لیے کہ وہ بھی قبض ہونے کے بعد آسمانوں کی طرف چڑھتی ہیں، جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی لمبی حدیث میں ہے کہ جب فرشتے پاک روح نکالتے ہیں تو اسے لے کر ایک آسمان سے دوسرے پر چڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں ، گو اس کے بعض راویوں میں کلام ہے لیکن یہ حدیث مشہور ہے اور اس کی شہادت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی ہے جیسے کہ پہلے بروایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ گزر چکی ہے جس کی سند کے راوی ایک جماعت کی شرط پر ہیں، پہلی حدیث بھی مسند احمد، ابوداؤد، و نسائی اور ابن ماجہ میں ہے، ہم نے اس کے الفاظ اور اس کے طرق کا بسیط بیان آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْن وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» [14-ابراھیم:27] کی تفسیر میں کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر9793
روز قیامت کتنا بڑا ہے ٭٭
پھر فرمایا ” اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے “، اس میں چار قول ہیں ایک تو یہ کہ ”اس سے مراد وہ دوری ہے جو «أَسْفَلَ سَافِلِينَ» سے عرش معلی تک ہے اور اسی طرح عرش کے نیچے سے اوپر تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے اور عرش معلی سرخ یاقوت کا ہے“، جیسے کہ امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”صفتہ العرش“ میں ذکر کیا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اس کے حکم کی انتہاء نیچے کی زمین سے آسمانوں کے اوپر تک کی پچاس ہزار سال کی ہے اور ایک دن ایک ہزار سال کا ہے یعنی آسمان سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں جو ایک ہزار سال کے برابر ہے، اس لیے کہ آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے۔“
یہی روایت دوسرے طریق سے مجاہد رحمہ اللہ کے قول سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن ابی حاتم میں روایت ہے کہ ”ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کے فاصلہ کی ہے اور ایک زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی دوری ہے تو سات ہزار سال یہ ہو گئے، اسی طرح آسمان، تو چودہ ہزار سال یہ ہوئی اور ساتویں آسمان سے عرش عظیم تک چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے کہ ” اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے “۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ”مراد اس سے یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے تب سے لے کر قیامت تک کہ اس کی بقاء کی آخر تک مدت پچاس ہزار سال کی ہے“، چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا کی کل عمر پچاس ہزار سال کی ہے، اور یہی ایک دن ہے جو اس آیت میں مراد لیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دنیا کی پوری مدت یہی ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ کس قدر گزر گئی اور کتنی باقی ہے سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے“ ـ
تیسرا قول یہ ہے کہ ”یہ دن وہ ہے جو دنیا اور آخرت میں فاصلے کا ہے“، سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔
چوتھا قول یہ ہے کہ ”اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بہ سند صحیح مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ کافروں پر پچاس ہزار سال کا کر دے گا۔“
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یہ دن تو بہت ہی بڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ مومن پر اس قدر ہلکا ہو جائے گا کہ دنیا کی ایک فرض نماز کی ادائیگی میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے بھی کم ہو گا“ ، یہ حدیث ابن جریر میں بھی ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9794
بے زکوۃ جانور قیامت کے دن وبال جان ٭٭
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص گزرا لوگوں نے کہا حضرت یہ اپنے قبیلے میں سب سے بڑا مالدار ہے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا ”کیا واقع میں تم سب سے زیادہ مالدار ہو؟“، اس نے کہا: ہاں، میرے پاس رنگ برنگ سینکڑوں اونٹ، قسم قسم کے غلام، اعلیٰ اعلیٰ درجہ کے گھوڑے وغیرہ ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو خبردار ایسا نہ ہو کہ یہ جانور اپنے پاؤں سے تمہیں روندیں اور اپنے سینگوں سے تمہیں ماریں، باربار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ عامری کے چرے کا رنگ اڑ گیا اور اس نے کہا حضرت یہ کیوں؟ آپ نے فرمایا سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے ان کی سختی میں اور ان کی آسانی میں اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک چٹیل لمبے چوڑے صاف میدان میں چت لٹائے گا اور ان تمام جانوروں کو خوب موٹا تازہ کر کے حکم دے گا کہ اسے روندتے ہوئے چلو چنانچہ ایک ایک کر کے اسے کچلتے ہوئے گزریں گے جب آخر والا گزر جائے گا تو اول والا لوٹ کر آ جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا، اسی طرح گائے گھوڑے بکری وغیرہ یہی سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے بھی اسے مارتے جائیں گے کوئی ان میں بےسینگ کا یا ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہو گا۔ عامری نے پوچھا: اے ابوہریرہ فرمایئے اونٹوں میں اللہ کا حق کیا ہے؟ فرمایا: ”مسکنیوں کو سواری کے لیے تحفتًہ دینا غرباء کے ساتھ سلوک کرنا دودھ پینے کے لیے جانور دینا، ان کے نروں کی ضرورت جنہیں مادہ کے لیے ہو، انہیں مانگا ہوا بے قیمت دینا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی دسرے سند سے مذکور ہے۔ [سنن ابوداود:1660،قال الشيخ الألباني:حسن لغیره]
صفحہ نمبر9795
زکوۃ کے بغیر مال کی سزا ٭٭
مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ جو سونے چاندی کے خزانے والا اس کا حق ادا نہ کرے اس کا سونا چاندی کی تختیوں کی صورت میں بنایا جائے گا اور جہنم کی آگ میں تپا کر اس کی پیشانی، کروٹ اور پیٹھ داغی جائے گی یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے فیصلے کر لے اس دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی سے پچاس ہزار سال کی ہو گی پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا ۔
پھر آگے بکریوں اور اونٹوں کا بیان ہے جیسے اوپر گزرا، اور یہ بھی بیان ہے کہ گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لیے ہیں، ایک تو اجر دلانے والے، دوسری قسم کے پردہ پوشی کرنے والے، تیسری قسم کے بوجھ ڈھونے والے ۔ یہ حدیث پوری پوری صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:987]
ان روایتوں کے پورا بیان کرنے کی اور ان کی سندوں اور الفاظ کے تمام تر نقل کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتاب الزکوٰۃ ہے، یہاں ان کے وارد کرنے سے ہماری غرض صرف ان الفاظ سے ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ وہ دن کیا ہے، جس کی مقدار ایک ہزار سال کی ہے؟ آپ فرماتے ہیں ”اور وہ دن کیا ہے جو پچاس ہزار سال کا ہے؟“ اس نے کہا حضرت میں تو خود دریافت کرنے آیا ہوں؟ آپ نے فرمایا ”سنو! یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو ان کی حقیقت کا بخوبی علم ہے میں تو باوجود نہ جاننے کے کتاب اللہ میں کچھ کہنا مکروہ جانتا ہوں۔“
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم اپنی قوم کو جھٹلانے پر اور عذاب کے مانگنے کی جلدی پر جسے وہ اپنے نزدیک نہ آنے والا جانتے ہیں صبر و تحمل کرو “۔
جیسے اور جگہ ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍ بَعِيْدٍ» [42-الشورى:18] ، یعنی ” بے ایمان تو قیامت کے جلد آنے کی تمنائیں کرتے ہیں اور ایماندار اس کے آنے کو حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں “۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ” یہ تو اسے دور جان رہے ہیں بلکہ محال اور واقع نہ ہونے والا مانتے ہیں لیکن ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں “، یعنی مومن تو اس کا آنا حق جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب آیا ہی چاہتی ہے، نہ جانے کب قیامت قائم ہو جائے اور کب عذاب آ پڑیں، کیونکہ اس کے صحیح وقت کو تو سوائے اللہ کے اور کوئی جانتا ہی نہیں، پس ہر وہ چیز جس کے آنے اور ہونے میں کوئی شک نہ ہو اس کا آنا قریب ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے ہو پڑنے کا ہر وقت کھٹکا ہی رہتا ہے۔
صفحہ نمبر9796
کافروں کا عذاب الٰہی طلب کرنا ٭٭
«بِعَذَابٍ» میں جو «ب» ہے وہ بتا رہا ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» [22-الحج:47] یعنی ” یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا “، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا۔
نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد ہے کہ ”کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے“، یعنی آخرت میں۔
ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ قرآن میں منقول ہیں کہتے ہیں «اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» [8-الإنفال:32] یعنی ” الٰہی اگر یہ تیرے پاس سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمارے پاس کوئی درد ناک عذاب لا “۔
ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں کہ ”اس سے مراد وہ عذاب کی وادی ہے جو قیامت کے دن عذابوں سے بہہ نکلے گی“، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مطلب سے بہت دور ہے صحیح قول پہلا ہی ہے جس پر روش کلام کی دلالت ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” وہ عذاب کافروں کے لیے تیار ہے اور ان پر آ پڑنے والا ہے جب آ جائے گا تو اسے دور کرنے والا نہیں اور نہ کسی میں اتنی طاقت ہے کہ اسے ہٹا سکے “۔
صفحہ نمبر9792
معارج سے مراد ٭٭
«مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ» [70-المعارج:3] کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کے مطابق ”درجوں والا ہے“، یعنی بلندیوں اور بزرگیوں والا اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد معارج سے آسمان کی سیڑھیاں ہیں“، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”فضل و کرم اور نعمت و رحم والا“، یعنی یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے ہے جو ان صفتوں والا ہے، اس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں۔
روح کی تفسیر میں ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم کی مخلوق ہے انسان تو نہیں لیکن انسانوں سے بالکل مشابہ ہے، میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں اور یہ عطف ہو عام پر خاص کا، اور ممکن ہے کہ اس سے مراد بنی آدم کی روحیں ہوں، اس لیے کہ وہ بھی قبض ہونے کے بعد آسمانوں کی طرف چڑھتی ہیں، جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی لمبی حدیث میں ہے کہ جب فرشتے پاک روح نکالتے ہیں تو اسے لے کر ایک آسمان سے دوسرے پر چڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں ، گو اس کے بعض راویوں میں کلام ہے لیکن یہ حدیث مشہور ہے اور اس کی شہادت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی ہے جیسے کہ پہلے بروایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ گزر چکی ہے جس کی سند کے راوی ایک جماعت کی شرط پر ہیں، پہلی حدیث بھی مسند احمد، ابوداؤد، و نسائی اور ابن ماجہ میں ہے، ہم نے اس کے الفاظ اور اس کے طرق کا بسیط بیان آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْن وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» [14-ابراھیم:27] کی تفسیر میں کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر9793
روز قیامت کتنا بڑا ہے ٭٭
پھر فرمایا ” اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے “، اس میں چار قول ہیں ایک تو یہ کہ ”اس سے مراد وہ دوری ہے جو «أَسْفَلَ سَافِلِينَ» سے عرش معلی تک ہے اور اسی طرح عرش کے نیچے سے اوپر تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے اور عرش معلی سرخ یاقوت کا ہے“، جیسے کہ امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”صفتہ العرش“ میں ذکر کیا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اس کے حکم کی انتہاء نیچے کی زمین سے آسمانوں کے اوپر تک کی پچاس ہزار سال کی ہے اور ایک دن ایک ہزار سال کا ہے یعنی آسمان سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں جو ایک ہزار سال کے برابر ہے، اس لیے کہ آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے۔“
یہی روایت دوسرے طریق سے مجاہد رحمہ اللہ کے قول سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن ابی حاتم میں روایت ہے کہ ”ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کے فاصلہ کی ہے اور ایک زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی دوری ہے تو سات ہزار سال یہ ہو گئے، اسی طرح آسمان، تو چودہ ہزار سال یہ ہوئی اور ساتویں آسمان سے عرش عظیم تک چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے کہ ” اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے “۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ”مراد اس سے یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے تب سے لے کر قیامت تک کہ اس کی بقاء کی آخر تک مدت پچاس ہزار سال کی ہے“، چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا کی کل عمر پچاس ہزار سال کی ہے، اور یہی ایک دن ہے جو اس آیت میں مراد لیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دنیا کی پوری مدت یہی ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ کس قدر گزر گئی اور کتنی باقی ہے سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے“ ـ
تیسرا قول یہ ہے کہ ”یہ دن وہ ہے جو دنیا اور آخرت میں فاصلے کا ہے“، سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔
چوتھا قول یہ ہے کہ ”اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بہ سند صحیح مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ کافروں پر پچاس ہزار سال کا کر دے گا۔“
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یہ دن تو بہت ہی بڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ مومن پر اس قدر ہلکا ہو جائے گا کہ دنیا کی ایک فرض نماز کی ادائیگی میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے بھی کم ہو گا“ ، یہ حدیث ابن جریر میں بھی ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9794
بے زکوۃ جانور قیامت کے دن وبال جان ٭٭
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص گزرا لوگوں نے کہا حضرت یہ اپنے قبیلے میں سب سے بڑا مالدار ہے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا ”کیا واقع میں تم سب سے زیادہ مالدار ہو؟“، اس نے کہا: ہاں، میرے پاس رنگ برنگ سینکڑوں اونٹ، قسم قسم کے غلام، اعلیٰ اعلیٰ درجہ کے گھوڑے وغیرہ ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو خبردار ایسا نہ ہو کہ یہ جانور اپنے پاؤں سے تمہیں روندیں اور اپنے سینگوں سے تمہیں ماریں، باربار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ عامری کے چرے کا رنگ اڑ گیا اور اس نے کہا حضرت یہ کیوں؟ آپ نے فرمایا سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے ان کی سختی میں اور ان کی آسانی میں اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک چٹیل لمبے چوڑے صاف میدان میں چت لٹائے گا اور ان تمام جانوروں کو خوب موٹا تازہ کر کے حکم دے گا کہ اسے روندتے ہوئے چلو چنانچہ ایک ایک کر کے اسے کچلتے ہوئے گزریں گے جب آخر والا گزر جائے گا تو اول والا لوٹ کر آ جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا، اسی طرح گائے گھوڑے بکری وغیرہ یہی سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے بھی اسے مارتے جائیں گے کوئی ان میں بےسینگ کا یا ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہو گا۔ عامری نے پوچھا: اے ابوہریرہ فرمایئے اونٹوں میں اللہ کا حق کیا ہے؟ فرمایا: ”مسکنیوں کو سواری کے لیے تحفتًہ دینا غرباء کے ساتھ سلوک کرنا دودھ پینے کے لیے جانور دینا، ان کے نروں کی ضرورت جنہیں مادہ کے لیے ہو، انہیں مانگا ہوا بے قیمت دینا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی دسرے سند سے مذکور ہے۔ [سنن ابوداود:1660،قال الشيخ الألباني:حسن لغیره]
صفحہ نمبر9795
زکوۃ کے بغیر مال کی سزا ٭٭
مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ جو سونے چاندی کے خزانے والا اس کا حق ادا نہ کرے اس کا سونا چاندی کی تختیوں کی صورت میں بنایا جائے گا اور جہنم کی آگ میں تپا کر اس کی پیشانی، کروٹ اور پیٹھ داغی جائے گی یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے فیصلے کر لے اس دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی سے پچاس ہزار سال کی ہو گی پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا ۔
پھر آگے بکریوں اور اونٹوں کا بیان ہے جیسے اوپر گزرا، اور یہ بھی بیان ہے کہ گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لیے ہیں، ایک تو اجر دلانے والے، دوسری قسم کے پردہ پوشی کرنے والے، تیسری قسم کے بوجھ ڈھونے والے ۔ یہ حدیث پوری پوری صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:987]
ان روایتوں کے پورا بیان کرنے کی اور ان کی سندوں اور الفاظ کے تمام تر نقل کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتاب الزکوٰۃ ہے، یہاں ان کے وارد کرنے سے ہماری غرض صرف ان الفاظ سے ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ وہ دن کیا ہے، جس کی مقدار ایک ہزار سال کی ہے؟ آپ فرماتے ہیں ”اور وہ دن کیا ہے جو پچاس ہزار سال کا ہے؟“ اس نے کہا حضرت میں تو خود دریافت کرنے آیا ہوں؟ آپ نے فرمایا ”سنو! یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو ان کی حقیقت کا بخوبی علم ہے میں تو باوجود نہ جاننے کے کتاب اللہ میں کچھ کہنا مکروہ جانتا ہوں۔“
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم اپنی قوم کو جھٹلانے پر اور عذاب کے مانگنے کی جلدی پر جسے وہ اپنے نزدیک نہ آنے والا جانتے ہیں صبر و تحمل کرو “۔
جیسے اور جگہ ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍ بَعِيْدٍ» [42-الشورى:18] ، یعنی ” بے ایمان تو قیامت کے جلد آنے کی تمنائیں کرتے ہیں اور ایماندار اس کے آنے کو حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں “۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ” یہ تو اسے دور جان رہے ہیں بلکہ محال اور واقع نہ ہونے والا مانتے ہیں لیکن ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں “، یعنی مومن تو اس کا آنا حق جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب آیا ہی چاہتی ہے، نہ جانے کب قیامت قائم ہو جائے اور کب عذاب آ پڑیں، کیونکہ اس کے صحیح وقت کو تو سوائے اللہ کے اور کوئی جانتا ہی نہیں، پس ہر وہ چیز جس کے آنے اور ہونے میں کوئی شک نہ ہو اس کا آنا قریب ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے ہو پڑنے کا ہر وقت کھٹکا ہی رہتا ہے۔
صفحہ نمبر9796
کافروں کا عذاب الٰہی طلب کرنا ٭٭
«بِعَذَابٍ» میں جو «ب» ہے وہ بتا رہا ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» [22-الحج:47] یعنی ” یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا “، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا۔
نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد ہے کہ ”کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے“، یعنی آخرت میں۔
ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ قرآن میں منقول ہیں کہتے ہیں «اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» [8-الإنفال:32] یعنی ” الٰہی اگر یہ تیرے پاس سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمارے پاس کوئی درد ناک عذاب لا “۔
ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں کہ ”اس سے مراد وہ عذاب کی وادی ہے جو قیامت کے دن عذابوں سے بہہ نکلے گی“، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مطلب سے بہت دور ہے صحیح قول پہلا ہی ہے جس پر روش کلام کی دلالت ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” وہ عذاب کافروں کے لیے تیار ہے اور ان پر آ پڑنے والا ہے جب آ جائے گا تو اسے دور کرنے والا نہیں اور نہ کسی میں اتنی طاقت ہے کہ اسے ہٹا سکے “۔
صفحہ نمبر9792
معارج سے مراد ٭٭
«مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ» [70-المعارج:3] کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کے مطابق ”درجوں والا ہے“، یعنی بلندیوں اور بزرگیوں والا اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد معارج سے آسمان کی سیڑھیاں ہیں“، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”فضل و کرم اور نعمت و رحم والا“، یعنی یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے ہے جو ان صفتوں والا ہے، اس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں۔
روح کی تفسیر میں ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم کی مخلوق ہے انسان تو نہیں لیکن انسانوں سے بالکل مشابہ ہے، میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں اور یہ عطف ہو عام پر خاص کا، اور ممکن ہے کہ اس سے مراد بنی آدم کی روحیں ہوں، اس لیے کہ وہ بھی قبض ہونے کے بعد آسمانوں کی طرف چڑھتی ہیں، جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی لمبی حدیث میں ہے کہ جب فرشتے پاک روح نکالتے ہیں تو اسے لے کر ایک آسمان سے دوسرے پر چڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں ، گو اس کے بعض راویوں میں کلام ہے لیکن یہ حدیث مشہور ہے اور اس کی شہادت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی ہے جیسے کہ پہلے بروایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ گزر چکی ہے جس کی سند کے راوی ایک جماعت کی شرط پر ہیں، پہلی حدیث بھی مسند احمد، ابوداؤد، و نسائی اور ابن ماجہ میں ہے، ہم نے اس کے الفاظ اور اس کے طرق کا بسیط بیان آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْن وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» [14-ابراھیم:27] کی تفسیر میں کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر9793
روز قیامت کتنا بڑا ہے ٭٭
پھر فرمایا ” اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے “، اس میں چار قول ہیں ایک تو یہ کہ ”اس سے مراد وہ دوری ہے جو «أَسْفَلَ سَافِلِينَ» سے عرش معلی تک ہے اور اسی طرح عرش کے نیچے سے اوپر تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے اور عرش معلی سرخ یاقوت کا ہے“، جیسے کہ امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”صفتہ العرش“ میں ذکر کیا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اس کے حکم کی انتہاء نیچے کی زمین سے آسمانوں کے اوپر تک کی پچاس ہزار سال کی ہے اور ایک دن ایک ہزار سال کا ہے یعنی آسمان سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں جو ایک ہزار سال کے برابر ہے، اس لیے کہ آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے۔“
یہی روایت دوسرے طریق سے مجاہد رحمہ اللہ کے قول سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن ابی حاتم میں روایت ہے کہ ”ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کے فاصلہ کی ہے اور ایک زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی دوری ہے تو سات ہزار سال یہ ہو گئے، اسی طرح آسمان، تو چودہ ہزار سال یہ ہوئی اور ساتویں آسمان سے عرش عظیم تک چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے کہ ” اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے “۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ”مراد اس سے یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے تب سے لے کر قیامت تک کہ اس کی بقاء کی آخر تک مدت پچاس ہزار سال کی ہے“، چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا کی کل عمر پچاس ہزار سال کی ہے، اور یہی ایک دن ہے جو اس آیت میں مراد لیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دنیا کی پوری مدت یہی ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ کس قدر گزر گئی اور کتنی باقی ہے سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے“ ـ
تیسرا قول یہ ہے کہ ”یہ دن وہ ہے جو دنیا اور آخرت میں فاصلے کا ہے“، سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔
چوتھا قول یہ ہے کہ ”اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بہ سند صحیح مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ کافروں پر پچاس ہزار سال کا کر دے گا۔“
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یہ دن تو بہت ہی بڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ مومن پر اس قدر ہلکا ہو جائے گا کہ دنیا کی ایک فرض نماز کی ادائیگی میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے بھی کم ہو گا“ ، یہ حدیث ابن جریر میں بھی ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9794
بے زکوۃ جانور قیامت کے دن وبال جان ٭٭
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص گزرا لوگوں نے کہا حضرت یہ اپنے قبیلے میں سب سے بڑا مالدار ہے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا ”کیا واقع میں تم سب سے زیادہ مالدار ہو؟“، اس نے کہا: ہاں، میرے پاس رنگ برنگ سینکڑوں اونٹ، قسم قسم کے غلام، اعلیٰ اعلیٰ درجہ کے گھوڑے وغیرہ ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو خبردار ایسا نہ ہو کہ یہ جانور اپنے پاؤں سے تمہیں روندیں اور اپنے سینگوں سے تمہیں ماریں، باربار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ عامری کے چرے کا رنگ اڑ گیا اور اس نے کہا حضرت یہ کیوں؟ آپ نے فرمایا سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے ان کی سختی میں اور ان کی آسانی میں اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک چٹیل لمبے چوڑے صاف میدان میں چت لٹائے گا اور ان تمام جانوروں کو خوب موٹا تازہ کر کے حکم دے گا کہ اسے روندتے ہوئے چلو چنانچہ ایک ایک کر کے اسے کچلتے ہوئے گزریں گے جب آخر والا گزر جائے گا تو اول والا لوٹ کر آ جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا، اسی طرح گائے گھوڑے بکری وغیرہ یہی سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے بھی اسے مارتے جائیں گے کوئی ان میں بےسینگ کا یا ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہو گا۔ عامری نے پوچھا: اے ابوہریرہ فرمایئے اونٹوں میں اللہ کا حق کیا ہے؟ فرمایا: ”مسکنیوں کو سواری کے لیے تحفتًہ دینا غرباء کے ساتھ سلوک کرنا دودھ پینے کے لیے جانور دینا، ان کے نروں کی ضرورت جنہیں مادہ کے لیے ہو، انہیں مانگا ہوا بے قیمت دینا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی دسرے سند سے مذکور ہے۔ [سنن ابوداود:1660،قال الشيخ الألباني:حسن لغیره]
صفحہ نمبر9795
زکوۃ کے بغیر مال کی سزا ٭٭
مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ جو سونے چاندی کے خزانے والا اس کا حق ادا نہ کرے اس کا سونا چاندی کی تختیوں کی صورت میں بنایا جائے گا اور جہنم کی آگ میں تپا کر اس کی پیشانی، کروٹ اور پیٹھ داغی جائے گی یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے فیصلے کر لے اس دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی سے پچاس ہزار سال کی ہو گی پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا ۔
پھر آگے بکریوں اور اونٹوں کا بیان ہے جیسے اوپر گزرا، اور یہ بھی بیان ہے کہ گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لیے ہیں، ایک تو اجر دلانے والے، دوسری قسم کے پردہ پوشی کرنے والے، تیسری قسم کے بوجھ ڈھونے والے ۔ یہ حدیث پوری پوری صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:987]
ان روایتوں کے پورا بیان کرنے کی اور ان کی سندوں اور الفاظ کے تمام تر نقل کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتاب الزکوٰۃ ہے، یہاں ان کے وارد کرنے سے ہماری غرض صرف ان الفاظ سے ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ وہ دن کیا ہے، جس کی مقدار ایک ہزار سال کی ہے؟ آپ فرماتے ہیں ”اور وہ دن کیا ہے جو پچاس ہزار سال کا ہے؟“ اس نے کہا حضرت میں تو خود دریافت کرنے آیا ہوں؟ آپ نے فرمایا ”سنو! یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو ان کی حقیقت کا بخوبی علم ہے میں تو باوجود نہ جاننے کے کتاب اللہ میں کچھ کہنا مکروہ جانتا ہوں۔“
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم اپنی قوم کو جھٹلانے پر اور عذاب کے مانگنے کی جلدی پر جسے وہ اپنے نزدیک نہ آنے والا جانتے ہیں صبر و تحمل کرو “۔
جیسے اور جگہ ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍ بَعِيْدٍ» [42-الشورى:18] ، یعنی ” بے ایمان تو قیامت کے جلد آنے کی تمنائیں کرتے ہیں اور ایماندار اس کے آنے کو حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں “۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ” یہ تو اسے دور جان رہے ہیں بلکہ محال اور واقع نہ ہونے والا مانتے ہیں لیکن ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں “، یعنی مومن تو اس کا آنا حق جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب آیا ہی چاہتی ہے، نہ جانے کب قیامت قائم ہو جائے اور کب عذاب آ پڑیں، کیونکہ اس کے صحیح وقت کو تو سوائے اللہ کے اور کوئی جانتا ہی نہیں، پس ہر وہ چیز جس کے آنے اور ہونے میں کوئی شک نہ ہو اس کا آنا قریب ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے ہو پڑنے کا ہر وقت کھٹکا ہی رہتا ہے۔
صفحہ نمبر9796
کافروں کا عذاب الٰہی طلب کرنا ٭٭
«بِعَذَابٍ» میں جو «ب» ہے وہ بتا رہا ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» [22-الحج:47] یعنی ” یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا “، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا۔
نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد ہے کہ ”کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے“، یعنی آخرت میں۔
ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ قرآن میں منقول ہیں کہتے ہیں «اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» [8-الإنفال:32] یعنی ” الٰہی اگر یہ تیرے پاس سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمارے پاس کوئی درد ناک عذاب لا “۔
ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں کہ ”اس سے مراد وہ عذاب کی وادی ہے جو قیامت کے دن عذابوں سے بہہ نکلے گی“، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مطلب سے بہت دور ہے صحیح قول پہلا ہی ہے جس پر روش کلام کی دلالت ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” وہ عذاب کافروں کے لیے تیار ہے اور ان پر آ پڑنے والا ہے جب آ جائے گا تو اسے دور کرنے والا نہیں اور نہ کسی میں اتنی طاقت ہے کہ اسے ہٹا سکے “۔
صفحہ نمبر9792
معارج سے مراد ٭٭
«مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ» [70-المعارج:3] کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کے مطابق ”درجوں والا ہے“، یعنی بلندیوں اور بزرگیوں والا اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد معارج سے آسمان کی سیڑھیاں ہیں“، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”فضل و کرم اور نعمت و رحم والا“، یعنی یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے ہے جو ان صفتوں والا ہے، اس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں۔
روح کی تفسیر میں ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم کی مخلوق ہے انسان تو نہیں لیکن انسانوں سے بالکل مشابہ ہے، میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں اور یہ عطف ہو عام پر خاص کا، اور ممکن ہے کہ اس سے مراد بنی آدم کی روحیں ہوں، اس لیے کہ وہ بھی قبض ہونے کے بعد آسمانوں کی طرف چڑھتی ہیں، جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی لمبی حدیث میں ہے کہ جب فرشتے پاک روح نکالتے ہیں تو اسے لے کر ایک آسمان سے دوسرے پر چڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں ، گو اس کے بعض راویوں میں کلام ہے لیکن یہ حدیث مشہور ہے اور اس کی شہادت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی ہے جیسے کہ پہلے بروایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ گزر چکی ہے جس کی سند کے راوی ایک جماعت کی شرط پر ہیں، پہلی حدیث بھی مسند احمد، ابوداؤد، و نسائی اور ابن ماجہ میں ہے، ہم نے اس کے الفاظ اور اس کے طرق کا بسیط بیان آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْن وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» [14-ابراھیم:27] کی تفسیر میں کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر9793
روز قیامت کتنا بڑا ہے ٭٭
پھر فرمایا ” اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے “، اس میں چار قول ہیں ایک تو یہ کہ ”اس سے مراد وہ دوری ہے جو «أَسْفَلَ سَافِلِينَ» سے عرش معلی تک ہے اور اسی طرح عرش کے نیچے سے اوپر تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے اور عرش معلی سرخ یاقوت کا ہے“، جیسے کہ امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”صفتہ العرش“ میں ذکر کیا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اس کے حکم کی انتہاء نیچے کی زمین سے آسمانوں کے اوپر تک کی پچاس ہزار سال کی ہے اور ایک دن ایک ہزار سال کا ہے یعنی آسمان سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں جو ایک ہزار سال کے برابر ہے، اس لیے کہ آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے۔“
یہی روایت دوسرے طریق سے مجاہد رحمہ اللہ کے قول سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن ابی حاتم میں روایت ہے کہ ”ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کے فاصلہ کی ہے اور ایک زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی دوری ہے تو سات ہزار سال یہ ہو گئے، اسی طرح آسمان، تو چودہ ہزار سال یہ ہوئی اور ساتویں آسمان سے عرش عظیم تک چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے کہ ” اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے “۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ”مراد اس سے یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے تب سے لے کر قیامت تک کہ اس کی بقاء کی آخر تک مدت پچاس ہزار سال کی ہے“، چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا کی کل عمر پچاس ہزار سال کی ہے، اور یہی ایک دن ہے جو اس آیت میں مراد لیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دنیا کی پوری مدت یہی ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ کس قدر گزر گئی اور کتنی باقی ہے سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے“ ـ
تیسرا قول یہ ہے کہ ”یہ دن وہ ہے جو دنیا اور آخرت میں فاصلے کا ہے“، سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔
چوتھا قول یہ ہے کہ ”اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بہ سند صحیح مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ کافروں پر پچاس ہزار سال کا کر دے گا۔“
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یہ دن تو بہت ہی بڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ مومن پر اس قدر ہلکا ہو جائے گا کہ دنیا کی ایک فرض نماز کی ادائیگی میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے بھی کم ہو گا“ ، یہ حدیث ابن جریر میں بھی ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9794
بے زکوۃ جانور قیامت کے دن وبال جان ٭٭
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص گزرا لوگوں نے کہا حضرت یہ اپنے قبیلے میں سب سے بڑا مالدار ہے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا ”کیا واقع میں تم سب سے زیادہ مالدار ہو؟“، اس نے کہا: ہاں، میرے پاس رنگ برنگ سینکڑوں اونٹ، قسم قسم کے غلام، اعلیٰ اعلیٰ درجہ کے گھوڑے وغیرہ ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو خبردار ایسا نہ ہو کہ یہ جانور اپنے پاؤں سے تمہیں روندیں اور اپنے سینگوں سے تمہیں ماریں، باربار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ عامری کے چرے کا رنگ اڑ گیا اور اس نے کہا حضرت یہ کیوں؟ آپ نے فرمایا سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے ان کی سختی میں اور ان کی آسانی میں اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک چٹیل لمبے چوڑے صاف میدان میں چت لٹائے گا اور ان تمام جانوروں کو خوب موٹا تازہ کر کے حکم دے گا کہ اسے روندتے ہوئے چلو چنانچہ ایک ایک کر کے اسے کچلتے ہوئے گزریں گے جب آخر والا گزر جائے گا تو اول والا لوٹ کر آ جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا، اسی طرح گائے گھوڑے بکری وغیرہ یہی سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے بھی اسے مارتے جائیں گے کوئی ان میں بےسینگ کا یا ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہو گا۔ عامری نے پوچھا: اے ابوہریرہ فرمایئے اونٹوں میں اللہ کا حق کیا ہے؟ فرمایا: ”مسکنیوں کو سواری کے لیے تحفتًہ دینا غرباء کے ساتھ سلوک کرنا دودھ پینے کے لیے جانور دینا، ان کے نروں کی ضرورت جنہیں مادہ کے لیے ہو، انہیں مانگا ہوا بے قیمت دینا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی دسرے سند سے مذکور ہے۔ [سنن ابوداود:1660،قال الشيخ الألباني:حسن لغیره]
صفحہ نمبر9795
زکوۃ کے بغیر مال کی سزا ٭٭
مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ جو سونے چاندی کے خزانے والا اس کا حق ادا نہ کرے اس کا سونا چاندی کی تختیوں کی صورت میں بنایا جائے گا اور جہنم کی آگ میں تپا کر اس کی پیشانی، کروٹ اور پیٹھ داغی جائے گی یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے فیصلے کر لے اس دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی سے پچاس ہزار سال کی ہو گی پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا ۔
پھر آگے بکریوں اور اونٹوں کا بیان ہے جیسے اوپر گزرا، اور یہ بھی بیان ہے کہ گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لیے ہیں، ایک تو اجر دلانے والے، دوسری قسم کے پردہ پوشی کرنے والے، تیسری قسم کے بوجھ ڈھونے والے ۔ یہ حدیث پوری پوری صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:987]
ان روایتوں کے پورا بیان کرنے کی اور ان کی سندوں اور الفاظ کے تمام تر نقل کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتاب الزکوٰۃ ہے، یہاں ان کے وارد کرنے سے ہماری غرض صرف ان الفاظ سے ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ وہ دن کیا ہے، جس کی مقدار ایک ہزار سال کی ہے؟ آپ فرماتے ہیں ”اور وہ دن کیا ہے جو پچاس ہزار سال کا ہے؟“ اس نے کہا حضرت میں تو خود دریافت کرنے آیا ہوں؟ آپ نے فرمایا ”سنو! یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو ان کی حقیقت کا بخوبی علم ہے میں تو باوجود نہ جاننے کے کتاب اللہ میں کچھ کہنا مکروہ جانتا ہوں۔“
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم اپنی قوم کو جھٹلانے پر اور عذاب کے مانگنے کی جلدی پر جسے وہ اپنے نزدیک نہ آنے والا جانتے ہیں صبر و تحمل کرو “۔
جیسے اور جگہ ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍ بَعِيْدٍ» [42-الشورى:18] ، یعنی ” بے ایمان تو قیامت کے جلد آنے کی تمنائیں کرتے ہیں اور ایماندار اس کے آنے کو حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں “۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ” یہ تو اسے دور جان رہے ہیں بلکہ محال اور واقع نہ ہونے والا مانتے ہیں لیکن ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں “، یعنی مومن تو اس کا آنا حق جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب آیا ہی چاہتی ہے، نہ جانے کب قیامت قائم ہو جائے اور کب عذاب آ پڑیں، کیونکہ اس کے صحیح وقت کو تو سوائے اللہ کے اور کوئی جانتا ہی نہیں، پس ہر وہ چیز جس کے آنے اور ہونے میں کوئی شک نہ ہو اس کا آنا قریب ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے ہو پڑنے کا ہر وقت کھٹکا ہی رہتا ہے۔
صفحہ نمبر9796
کافروں کا عذاب الٰہی طلب کرنا ٭٭
«بِعَذَابٍ» میں جو «ب» ہے وہ بتا رہا ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» [22-الحج:47] یعنی ” یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا “، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا۔
نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد ہے کہ ”کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے“، یعنی آخرت میں۔
ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ قرآن میں منقول ہیں کہتے ہیں «اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» [8-الإنفال:32] یعنی ” الٰہی اگر یہ تیرے پاس سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمارے پاس کوئی درد ناک عذاب لا “۔
ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں کہ ”اس سے مراد وہ عذاب کی وادی ہے جو قیامت کے دن عذابوں سے بہہ نکلے گی“، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مطلب سے بہت دور ہے صحیح قول پہلا ہی ہے جس پر روش کلام کی دلالت ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” وہ عذاب کافروں کے لیے تیار ہے اور ان پر آ پڑنے والا ہے جب آ جائے گا تو اسے دور کرنے والا نہیں اور نہ کسی میں اتنی طاقت ہے کہ اسے ہٹا سکے “۔
صفحہ نمبر9792
معارج سے مراد ٭٭
«مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ» [70-المعارج:3] کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کے مطابق ”درجوں والا ہے“، یعنی بلندیوں اور بزرگیوں والا اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد معارج سے آسمان کی سیڑھیاں ہیں“، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”فضل و کرم اور نعمت و رحم والا“، یعنی یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے ہے جو ان صفتوں والا ہے، اس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں۔
روح کی تفسیر میں ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم کی مخلوق ہے انسان تو نہیں لیکن انسانوں سے بالکل مشابہ ہے، میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں اور یہ عطف ہو عام پر خاص کا، اور ممکن ہے کہ اس سے مراد بنی آدم کی روحیں ہوں، اس لیے کہ وہ بھی قبض ہونے کے بعد آسمانوں کی طرف چڑھتی ہیں، جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی لمبی حدیث میں ہے کہ جب فرشتے پاک روح نکالتے ہیں تو اسے لے کر ایک آسمان سے دوسرے پر چڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں ، گو اس کے بعض راویوں میں کلام ہے لیکن یہ حدیث مشہور ہے اور اس کی شہادت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی ہے جیسے کہ پہلے بروایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ گزر چکی ہے جس کی سند کے راوی ایک جماعت کی شرط پر ہیں، پہلی حدیث بھی مسند احمد، ابوداؤد، و نسائی اور ابن ماجہ میں ہے، ہم نے اس کے الفاظ اور اس کے طرق کا بسیط بیان آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْن وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» [14-ابراھیم:27] کی تفسیر میں کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر9793
روز قیامت کتنا بڑا ہے ٭٭
پھر فرمایا ” اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے “، اس میں چار قول ہیں ایک تو یہ کہ ”اس سے مراد وہ دوری ہے جو «أَسْفَلَ سَافِلِينَ» سے عرش معلی تک ہے اور اسی طرح عرش کے نیچے سے اوپر تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے اور عرش معلی سرخ یاقوت کا ہے“، جیسے کہ امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”صفتہ العرش“ میں ذکر کیا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اس کے حکم کی انتہاء نیچے کی زمین سے آسمانوں کے اوپر تک کی پچاس ہزار سال کی ہے اور ایک دن ایک ہزار سال کا ہے یعنی آسمان سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں جو ایک ہزار سال کے برابر ہے، اس لیے کہ آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے۔“
یہی روایت دوسرے طریق سے مجاہد رحمہ اللہ کے قول سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن ابی حاتم میں روایت ہے کہ ”ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کے فاصلہ کی ہے اور ایک زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی دوری ہے تو سات ہزار سال یہ ہو گئے، اسی طرح آسمان، تو چودہ ہزار سال یہ ہوئی اور ساتویں آسمان سے عرش عظیم تک چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے کہ ” اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے “۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ”مراد اس سے یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے تب سے لے کر قیامت تک کہ اس کی بقاء کی آخر تک مدت پچاس ہزار سال کی ہے“، چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا کی کل عمر پچاس ہزار سال کی ہے، اور یہی ایک دن ہے جو اس آیت میں مراد لیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دنیا کی پوری مدت یہی ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ کس قدر گزر گئی اور کتنی باقی ہے سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے“ ـ
تیسرا قول یہ ہے کہ ”یہ دن وہ ہے جو دنیا اور آخرت میں فاصلے کا ہے“، سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔
چوتھا قول یہ ہے کہ ”اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بہ سند صحیح مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ کافروں پر پچاس ہزار سال کا کر دے گا۔“
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یہ دن تو بہت ہی بڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ مومن پر اس قدر ہلکا ہو جائے گا کہ دنیا کی ایک فرض نماز کی ادائیگی میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے بھی کم ہو گا“ ، یہ حدیث ابن جریر میں بھی ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9794
بے زکوۃ جانور قیامت کے دن وبال جان ٭٭
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص گزرا لوگوں نے کہا حضرت یہ اپنے قبیلے میں سب سے بڑا مالدار ہے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا ”کیا واقع میں تم سب سے زیادہ مالدار ہو؟“، اس نے کہا: ہاں، میرے پاس رنگ برنگ سینکڑوں اونٹ، قسم قسم کے غلام، اعلیٰ اعلیٰ درجہ کے گھوڑے وغیرہ ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو خبردار ایسا نہ ہو کہ یہ جانور اپنے پاؤں سے تمہیں روندیں اور اپنے سینگوں سے تمہیں ماریں، باربار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ عامری کے چرے کا رنگ اڑ گیا اور اس نے کہا حضرت یہ کیوں؟ آپ نے فرمایا سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے ان کی سختی میں اور ان کی آسانی میں اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک چٹیل لمبے چوڑے صاف میدان میں چت لٹائے گا اور ان تمام جانوروں کو خوب موٹا تازہ کر کے حکم دے گا کہ اسے روندتے ہوئے چلو چنانچہ ایک ایک کر کے اسے کچلتے ہوئے گزریں گے جب آخر والا گزر جائے گا تو اول والا لوٹ کر آ جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا، اسی طرح گائے گھوڑے بکری وغیرہ یہی سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے بھی اسے مارتے جائیں گے کوئی ان میں بےسینگ کا یا ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہو گا۔ عامری نے پوچھا: اے ابوہریرہ فرمایئے اونٹوں میں اللہ کا حق کیا ہے؟ فرمایا: ”مسکنیوں کو سواری کے لیے تحفتًہ دینا غرباء کے ساتھ سلوک کرنا دودھ پینے کے لیے جانور دینا، ان کے نروں کی ضرورت جنہیں مادہ کے لیے ہو، انہیں مانگا ہوا بے قیمت دینا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی دسرے سند سے مذکور ہے۔ [سنن ابوداود:1660،قال الشيخ الألباني:حسن لغیره]
صفحہ نمبر9795
زکوۃ کے بغیر مال کی سزا ٭٭
مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ جو سونے چاندی کے خزانے والا اس کا حق ادا نہ کرے اس کا سونا چاندی کی تختیوں کی صورت میں بنایا جائے گا اور جہنم کی آگ میں تپا کر اس کی پیشانی، کروٹ اور پیٹھ داغی جائے گی یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے فیصلے کر لے اس دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی سے پچاس ہزار سال کی ہو گی پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا ۔
پھر آگے بکریوں اور اونٹوں کا بیان ہے جیسے اوپر گزرا، اور یہ بھی بیان ہے کہ گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لیے ہیں، ایک تو اجر دلانے والے، دوسری قسم کے پردہ پوشی کرنے والے، تیسری قسم کے بوجھ ڈھونے والے ۔ یہ حدیث پوری پوری صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:987]
ان روایتوں کے پورا بیان کرنے کی اور ان کی سندوں اور الفاظ کے تمام تر نقل کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتاب الزکوٰۃ ہے، یہاں ان کے وارد کرنے سے ہماری غرض صرف ان الفاظ سے ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ وہ دن کیا ہے، جس کی مقدار ایک ہزار سال کی ہے؟ آپ فرماتے ہیں ”اور وہ دن کیا ہے جو پچاس ہزار سال کا ہے؟“ اس نے کہا حضرت میں تو خود دریافت کرنے آیا ہوں؟ آپ نے فرمایا ”سنو! یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو ان کی حقیقت کا بخوبی علم ہے میں تو باوجود نہ جاننے کے کتاب اللہ میں کچھ کہنا مکروہ جانتا ہوں۔“
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم اپنی قوم کو جھٹلانے پر اور عذاب کے مانگنے کی جلدی پر جسے وہ اپنے نزدیک نہ آنے والا جانتے ہیں صبر و تحمل کرو “۔
جیسے اور جگہ ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍ بَعِيْدٍ» [42-الشورى:18] ، یعنی ” بے ایمان تو قیامت کے جلد آنے کی تمنائیں کرتے ہیں اور ایماندار اس کے آنے کو حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں “۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ” یہ تو اسے دور جان رہے ہیں بلکہ محال اور واقع نہ ہونے والا مانتے ہیں لیکن ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں “، یعنی مومن تو اس کا آنا حق جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب آیا ہی چاہتی ہے، نہ جانے کب قیامت قائم ہو جائے اور کب عذاب آ پڑیں، کیونکہ اس کے صحیح وقت کو تو سوائے اللہ کے اور کوئی جانتا ہی نہیں، پس ہر وہ چیز جس کے آنے اور ہونے میں کوئی شک نہ ہو اس کا آنا قریب ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے ہو پڑنے کا ہر وقت کھٹکا ہی رہتا ہے۔
صفحہ نمبر9796
کافروں کا عذاب الٰہی طلب کرنا ٭٭
«بِعَذَابٍ» میں جو «ب» ہے وہ بتا رہا ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» [22-الحج:47] یعنی ” یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا “، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا۔
نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد ہے کہ ”کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے“، یعنی آخرت میں۔
ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ قرآن میں منقول ہیں کہتے ہیں «اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» [8-الإنفال:32] یعنی ” الٰہی اگر یہ تیرے پاس سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمارے پاس کوئی درد ناک عذاب لا “۔
ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں کہ ”اس سے مراد وہ عذاب کی وادی ہے جو قیامت کے دن عذابوں سے بہہ نکلے گی“، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مطلب سے بہت دور ہے صحیح قول پہلا ہی ہے جس پر روش کلام کی دلالت ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” وہ عذاب کافروں کے لیے تیار ہے اور ان پر آ پڑنے والا ہے جب آ جائے گا تو اسے دور کرنے والا نہیں اور نہ کسی میں اتنی طاقت ہے کہ اسے ہٹا سکے “۔
صفحہ نمبر9792
معارج سے مراد ٭٭
«مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ» [70-المعارج:3] کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کے مطابق ”درجوں والا ہے“، یعنی بلندیوں اور بزرگیوں والا اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد معارج سے آسمان کی سیڑھیاں ہیں“، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”فضل و کرم اور نعمت و رحم والا“، یعنی یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے ہے جو ان صفتوں والا ہے، اس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں۔
روح کی تفسیر میں ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم کی مخلوق ہے انسان تو نہیں لیکن انسانوں سے بالکل مشابہ ہے، میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں اور یہ عطف ہو عام پر خاص کا، اور ممکن ہے کہ اس سے مراد بنی آدم کی روحیں ہوں، اس لیے کہ وہ بھی قبض ہونے کے بعد آسمانوں کی طرف چڑھتی ہیں، جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی لمبی حدیث میں ہے کہ جب فرشتے پاک روح نکالتے ہیں تو اسے لے کر ایک آسمان سے دوسرے پر چڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں ، گو اس کے بعض راویوں میں کلام ہے لیکن یہ حدیث مشہور ہے اور اس کی شہادت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی ہے جیسے کہ پہلے بروایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ گزر چکی ہے جس کی سند کے راوی ایک جماعت کی شرط پر ہیں، پہلی حدیث بھی مسند احمد، ابوداؤد، و نسائی اور ابن ماجہ میں ہے، ہم نے اس کے الفاظ اور اس کے طرق کا بسیط بیان آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْن وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» [14-ابراھیم:27] کی تفسیر میں کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر9793
روز قیامت کتنا بڑا ہے ٭٭
پھر فرمایا ” اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے “، اس میں چار قول ہیں ایک تو یہ کہ ”اس سے مراد وہ دوری ہے جو «أَسْفَلَ سَافِلِينَ» سے عرش معلی تک ہے اور اسی طرح عرش کے نیچے سے اوپر تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے اور عرش معلی سرخ یاقوت کا ہے“، جیسے کہ امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”صفتہ العرش“ میں ذکر کیا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اس کے حکم کی انتہاء نیچے کی زمین سے آسمانوں کے اوپر تک کی پچاس ہزار سال کی ہے اور ایک دن ایک ہزار سال کا ہے یعنی آسمان سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں جو ایک ہزار سال کے برابر ہے، اس لیے کہ آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے۔“
یہی روایت دوسرے طریق سے مجاہد رحمہ اللہ کے قول سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن ابی حاتم میں روایت ہے کہ ”ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کے فاصلہ کی ہے اور ایک زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی دوری ہے تو سات ہزار سال یہ ہو گئے، اسی طرح آسمان، تو چودہ ہزار سال یہ ہوئی اور ساتویں آسمان سے عرش عظیم تک چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے کہ ” اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے “۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ”مراد اس سے یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے تب سے لے کر قیامت تک کہ اس کی بقاء کی آخر تک مدت پچاس ہزار سال کی ہے“، چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا کی کل عمر پچاس ہزار سال کی ہے، اور یہی ایک دن ہے جو اس آیت میں مراد لیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دنیا کی پوری مدت یہی ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ کس قدر گزر گئی اور کتنی باقی ہے سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے“ ـ
تیسرا قول یہ ہے کہ ”یہ دن وہ ہے جو دنیا اور آخرت میں فاصلے کا ہے“، سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔
چوتھا قول یہ ہے کہ ”اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بہ سند صحیح مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ کافروں پر پچاس ہزار سال کا کر دے گا۔“
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یہ دن تو بہت ہی بڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ مومن پر اس قدر ہلکا ہو جائے گا کہ دنیا کی ایک فرض نماز کی ادائیگی میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے بھی کم ہو گا“ ، یہ حدیث ابن جریر میں بھی ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9794
بے زکوۃ جانور قیامت کے دن وبال جان ٭٭
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص گزرا لوگوں نے کہا حضرت یہ اپنے قبیلے میں سب سے بڑا مالدار ہے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا ”کیا واقع میں تم سب سے زیادہ مالدار ہو؟“، اس نے کہا: ہاں، میرے پاس رنگ برنگ سینکڑوں اونٹ، قسم قسم کے غلام، اعلیٰ اعلیٰ درجہ کے گھوڑے وغیرہ ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو خبردار ایسا نہ ہو کہ یہ جانور اپنے پاؤں سے تمہیں روندیں اور اپنے سینگوں سے تمہیں ماریں، باربار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ عامری کے چرے کا رنگ اڑ گیا اور اس نے کہا حضرت یہ کیوں؟ آپ نے فرمایا سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے ان کی سختی میں اور ان کی آسانی میں اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک چٹیل لمبے چوڑے صاف میدان میں چت لٹائے گا اور ان تمام جانوروں کو خوب موٹا تازہ کر کے حکم دے گا کہ اسے روندتے ہوئے چلو چنانچہ ایک ایک کر کے اسے کچلتے ہوئے گزریں گے جب آخر والا گزر جائے گا تو اول والا لوٹ کر آ جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا، اسی طرح گائے گھوڑے بکری وغیرہ یہی سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے بھی اسے مارتے جائیں گے کوئی ان میں بےسینگ کا یا ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہو گا۔ عامری نے پوچھا: اے ابوہریرہ فرمایئے اونٹوں میں اللہ کا حق کیا ہے؟ فرمایا: ”مسکنیوں کو سواری کے لیے تحفتًہ دینا غرباء کے ساتھ سلوک کرنا دودھ پینے کے لیے جانور دینا، ان کے نروں کی ضرورت جنہیں مادہ کے لیے ہو، انہیں مانگا ہوا بے قیمت دینا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی دسرے سند سے مذکور ہے۔ [سنن ابوداود:1660،قال الشيخ الألباني:حسن لغیره]
صفحہ نمبر9795
زکوۃ کے بغیر مال کی سزا ٭٭
مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ جو سونے چاندی کے خزانے والا اس کا حق ادا نہ کرے اس کا سونا چاندی کی تختیوں کی صورت میں بنایا جائے گا اور جہنم کی آگ میں تپا کر اس کی پیشانی، کروٹ اور پیٹھ داغی جائے گی یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے فیصلے کر لے اس دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی سے پچاس ہزار سال کی ہو گی پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا ۔
پھر آگے بکریوں اور اونٹوں کا بیان ہے جیسے اوپر گزرا، اور یہ بھی بیان ہے کہ گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لیے ہیں، ایک تو اجر دلانے والے، دوسری قسم کے پردہ پوشی کرنے والے، تیسری قسم کے بوجھ ڈھونے والے ۔ یہ حدیث پوری پوری صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:987]
ان روایتوں کے پورا بیان کرنے کی اور ان کی سندوں اور الفاظ کے تمام تر نقل کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتاب الزکوٰۃ ہے، یہاں ان کے وارد کرنے سے ہماری غرض صرف ان الفاظ سے ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ وہ دن کیا ہے، جس کی مقدار ایک ہزار سال کی ہے؟ آپ فرماتے ہیں ”اور وہ دن کیا ہے جو پچاس ہزار سال کا ہے؟“ اس نے کہا حضرت میں تو خود دریافت کرنے آیا ہوں؟ آپ نے فرمایا ”سنو! یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو ان کی حقیقت کا بخوبی علم ہے میں تو باوجود نہ جاننے کے کتاب اللہ میں کچھ کہنا مکروہ جانتا ہوں۔“
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم اپنی قوم کو جھٹلانے پر اور عذاب کے مانگنے کی جلدی پر جسے وہ اپنے نزدیک نہ آنے والا جانتے ہیں صبر و تحمل کرو “۔
جیسے اور جگہ ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍ بَعِيْدٍ» [42-الشورى:18] ، یعنی ” بے ایمان تو قیامت کے جلد آنے کی تمنائیں کرتے ہیں اور ایماندار اس کے آنے کو حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں “۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ” یہ تو اسے دور جان رہے ہیں بلکہ محال اور واقع نہ ہونے والا مانتے ہیں لیکن ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں “، یعنی مومن تو اس کا آنا حق جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب آیا ہی چاہتی ہے، نہ جانے کب قیامت قائم ہو جائے اور کب عذاب آ پڑیں، کیونکہ اس کے صحیح وقت کو تو سوائے اللہ کے اور کوئی جانتا ہی نہیں، پس ہر وہ چیز جس کے آنے اور ہونے میں کوئی شک نہ ہو اس کا آنا قریب ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے ہو پڑنے کا ہر وقت کھٹکا ہی رہتا ہے۔
صفحہ نمبر9796
کافروں کا عذاب الٰہی طلب کرنا ٭٭
«بِعَذَابٍ» میں جو «ب» ہے وہ بتا رہا ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» [22-الحج:47] یعنی ” یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا “، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا۔
نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد ہے کہ ”کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے“، یعنی آخرت میں۔
ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ قرآن میں منقول ہیں کہتے ہیں «اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» [8-الإنفال:32] یعنی ” الٰہی اگر یہ تیرے پاس سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمارے پاس کوئی درد ناک عذاب لا “۔
ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں کہ ”اس سے مراد وہ عذاب کی وادی ہے جو قیامت کے دن عذابوں سے بہہ نکلے گی“، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مطلب سے بہت دور ہے صحیح قول پہلا ہی ہے جس پر روش کلام کی دلالت ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” وہ عذاب کافروں کے لیے تیار ہے اور ان پر آ پڑنے والا ہے جب آ جائے گا تو اسے دور کرنے والا نہیں اور نہ کسی میں اتنی طاقت ہے کہ اسے ہٹا سکے “۔
صفحہ نمبر9792
معارج سے مراد ٭٭
«مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ» [70-المعارج:3] کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کے مطابق ”درجوں والا ہے“، یعنی بلندیوں اور بزرگیوں والا اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد معارج سے آسمان کی سیڑھیاں ہیں“، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”فضل و کرم اور نعمت و رحم والا“، یعنی یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے ہے جو ان صفتوں والا ہے، اس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں۔
روح کی تفسیر میں ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم کی مخلوق ہے انسان تو نہیں لیکن انسانوں سے بالکل مشابہ ہے، میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہوں اور یہ عطف ہو عام پر خاص کا، اور ممکن ہے کہ اس سے مراد بنی آدم کی روحیں ہوں، اس لیے کہ وہ بھی قبض ہونے کے بعد آسمانوں کی طرف چڑھتی ہیں، جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی لمبی حدیث میں ہے کہ جب فرشتے پاک روح نکالتے ہیں تو اسے لے کر ایک آسمان سے دوسرے پر چڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں ، گو اس کے بعض راویوں میں کلام ہے لیکن یہ حدیث مشہور ہے اور اس کی شہادت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی ہے جیسے کہ پہلے بروایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ گزر چکی ہے جس کی سند کے راوی ایک جماعت کی شرط پر ہیں، پہلی حدیث بھی مسند احمد، ابوداؤد، و نسائی اور ابن ماجہ میں ہے، ہم نے اس کے الفاظ اور اس کے طرق کا بسیط بیان آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْن وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» [14-ابراھیم:27] کی تفسیر میں کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر9793
روز قیامت کتنا بڑا ہے ٭٭
پھر فرمایا ” اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے “، اس میں چار قول ہیں ایک تو یہ کہ ”اس سے مراد وہ دوری ہے جو «أَسْفَلَ سَافِلِينَ» سے عرش معلی تک ہے اور اسی طرح عرش کے نیچے سے اوپر تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے اور عرش معلی سرخ یاقوت کا ہے“، جیسے کہ امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”صفتہ العرش“ میں ذکر کیا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اس کے حکم کی انتہاء نیچے کی زمین سے آسمانوں کے اوپر تک کی پچاس ہزار سال کی ہے اور ایک دن ایک ہزار سال کا ہے یعنی آسمان سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں جو ایک ہزار سال کے برابر ہے، اس لیے کہ آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے۔“
یہی روایت دوسرے طریق سے مجاہد رحمہ اللہ کے قول سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن ابی حاتم میں روایت ہے کہ ”ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کے فاصلہ کی ہے اور ایک زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی دوری ہے تو سات ہزار سال یہ ہو گئے، اسی طرح آسمان، تو چودہ ہزار سال یہ ہوئی اور ساتویں آسمان سے عرش عظیم تک چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے کہ ” اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے “۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ”مراد اس سے یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے تب سے لے کر قیامت تک کہ اس کی بقاء کی آخر تک مدت پچاس ہزار سال کی ہے“، چنانچہ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا کی کل عمر پچاس ہزار سال کی ہے، اور یہی ایک دن ہے جو اس آیت میں مراد لیا گیا ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دنیا کی پوری مدت یہی ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ کس قدر گزر گئی اور کتنی باقی ہے سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے“ ـ
تیسرا قول یہ ہے کہ ”یہ دن وہ ہے جو دنیا اور آخرت میں فاصلے کا ہے“، سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔
چوتھا قول یہ ہے کہ ”اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بہ سند صحیح مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ کافروں پر پچاس ہزار سال کا کر دے گا۔“
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یہ دن تو بہت ہی بڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ مومن پر اس قدر ہلکا ہو جائے گا کہ دنیا کی ایک فرض نماز کی ادائیگی میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے بھی کم ہو گا“ ، یہ حدیث ابن جریر میں بھی ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر9794
بے زکوۃ جانور قیامت کے دن وبال جان ٭٭
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص گزرا لوگوں نے کہا حضرت یہ اپنے قبیلے میں سب سے بڑا مالدار ہے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا ”کیا واقع میں تم سب سے زیادہ مالدار ہو؟“، اس نے کہا: ہاں، میرے پاس رنگ برنگ سینکڑوں اونٹ، قسم قسم کے غلام، اعلیٰ اعلیٰ درجہ کے گھوڑے وغیرہ ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو خبردار ایسا نہ ہو کہ یہ جانور اپنے پاؤں سے تمہیں روندیں اور اپنے سینگوں سے تمہیں ماریں، باربار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ عامری کے چرے کا رنگ اڑ گیا اور اس نے کہا حضرت یہ کیوں؟ آپ نے فرمایا سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے ان کی سختی میں اور ان کی آسانی میں اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک چٹیل لمبے چوڑے صاف میدان میں چت لٹائے گا اور ان تمام جانوروں کو خوب موٹا تازہ کر کے حکم دے گا کہ اسے روندتے ہوئے چلو چنانچہ ایک ایک کر کے اسے کچلتے ہوئے گزریں گے جب آخر والا گزر جائے گا تو اول والا لوٹ کر آ جائے گا یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا، اسی طرح گائے گھوڑے بکری وغیرہ یہی سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے بھی اسے مارتے جائیں گے کوئی ان میں بےسینگ کا یا ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہو گا۔ عامری نے پوچھا: اے ابوہریرہ فرمایئے اونٹوں میں اللہ کا حق کیا ہے؟ فرمایا: ”مسکنیوں کو سواری کے لیے تحفتًہ دینا غرباء کے ساتھ سلوک کرنا دودھ پینے کے لیے جانور دینا، ان کے نروں کی ضرورت جنہیں مادہ کے لیے ہو، انہیں مانگا ہوا بے قیمت دینا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی دسرے سند سے مذکور ہے۔ [سنن ابوداود:1660،قال الشيخ الألباني:حسن لغیره]
صفحہ نمبر9795
زکوۃ کے بغیر مال کی سزا ٭٭
مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ جو سونے چاندی کے خزانے والا اس کا حق ادا نہ کرے اس کا سونا چاندی کی تختیوں کی صورت میں بنایا جائے گا اور جہنم کی آگ میں تپا کر اس کی پیشانی، کروٹ اور پیٹھ داغی جائے گی یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے فیصلے کر لے اس دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی سے پچاس ہزار سال کی ہو گی پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف یا جہنم کی طرف دیکھ لے گا ۔
پھر آگے بکریوں اور اونٹوں کا بیان ہے جیسے اوپر گزرا، اور یہ بھی بیان ہے کہ گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے لیے ہیں، ایک تو اجر دلانے والے، دوسری قسم کے پردہ پوشی کرنے والے، تیسری قسم کے بوجھ ڈھونے والے ۔ یہ حدیث پوری پوری صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:987]
ان روایتوں کے پورا بیان کرنے کی اور ان کی سندوں اور الفاظ کے تمام تر نقل کرنے کی مناسب جگہ احکام کی کتاب الزکوٰۃ ہے، یہاں ان کے وارد کرنے سے ہماری غرض صرف ان الفاظ سے ہے کہ یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے ایک شخص پوچھتا ہے کہ وہ دن کیا ہے، جس کی مقدار ایک ہزار سال کی ہے؟ آپ فرماتے ہیں ”اور وہ دن کیا ہے جو پچاس ہزار سال کا ہے؟“ اس نے کہا حضرت میں تو خود دریافت کرنے آیا ہوں؟ آپ نے فرمایا ”سنو! یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو ان کی حقیقت کا بخوبی علم ہے میں تو باوجود نہ جاننے کے کتاب اللہ میں کچھ کہنا مکروہ جانتا ہوں۔“
پھر فرماتا ہے ” اے نبی! تم اپنی قوم کو جھٹلانے پر اور عذاب کے مانگنے کی جلدی پر جسے وہ اپنے نزدیک نہ آنے والا جانتے ہیں صبر و تحمل کرو “۔
جیسے اور جگہ ہے «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ اَلَآ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍ بَعِيْدٍ» [42-الشورى:18] ، یعنی ” بے ایمان تو قیامت کے جلد آنے کی تمنائیں کرتے ہیں اور ایماندار اس کے آنے کو حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں “۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ” یہ تو اسے دور جان رہے ہیں بلکہ محال اور واقع نہ ہونے والا مانتے ہیں لیکن ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں “، یعنی مومن تو اس کا آنا حق جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب آیا ہی چاہتی ہے، نہ جانے کب قیامت قائم ہو جائے اور کب عذاب آ پڑیں، کیونکہ اس کے صحیح وقت کو تو سوائے اللہ کے اور کوئی جانتا ہی نہیں، پس ہر وہ چیز جس کے آنے اور ہونے میں کوئی شک نہ ہو اس کا آنا قریب ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے ہو پڑنے کا ہر وقت کھٹکا ہی رہتا ہے۔
صفحہ نمبر9796
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے “، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ” اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون “، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ۔
پھر فرماتا ہے ” کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ” ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا “۔
ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» [31-لقمان:33] ” لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» [35-فاطر:18] ” کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں “۔
اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» [23-المؤمنون:101] یعنی ” صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی “۔
اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80- عبس:34-37] یعنی ” اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا “۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
صفحہ نمبر9803
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔
یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا ۔ [صحیح بخاری:1434]
عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
صفحہ نمبر9804
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے “، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ” اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون “، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ۔
پھر فرماتا ہے ” کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ” ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا “۔
ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» [31-لقمان:33] ” لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» [35-فاطر:18] ” کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں “۔
اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» [23-المؤمنون:101] یعنی ” صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی “۔
اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80- عبس:34-37] یعنی ” اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا “۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
صفحہ نمبر9803
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔
یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا ۔ [صحیح بخاری:1434]
عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
صفحہ نمبر9804
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے “، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ” اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون “، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ۔
پھر فرماتا ہے ” کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ” ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا “۔
ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» [31-لقمان:33] ” لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» [35-فاطر:18] ” کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں “۔
اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» [23-المؤمنون:101] یعنی ” صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی “۔
اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80- عبس:34-37] یعنی ” اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا “۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
صفحہ نمبر9803
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔
یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا ۔ [صحیح بخاری:1434]
عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
صفحہ نمبر9804
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے “، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ” اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون “، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ۔
پھر فرماتا ہے ” کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ” ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا “۔
ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» [31-لقمان:33] ” لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» [35-فاطر:18] ” کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں “۔
اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» [23-المؤمنون:101] یعنی ” صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی “۔
اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80- عبس:34-37] یعنی ” اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا “۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
صفحہ نمبر9803
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔
یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا ۔ [صحیح بخاری:1434]
عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
صفحہ نمبر9804
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے “، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ” اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون “، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ۔
پھر فرماتا ہے ” کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ” ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا “۔
ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» [31-لقمان:33] ” لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» [35-فاطر:18] ” کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں “۔
اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» [23-المؤمنون:101] یعنی ” صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی “۔
اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80- عبس:34-37] یعنی ” اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا “۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
صفحہ نمبر9803
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔
یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا ۔ [صحیح بخاری:1434]
عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
صفحہ نمبر9804
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے “، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ” اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون “، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ۔
پھر فرماتا ہے ” کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ” ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا “۔
ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» [31-لقمان:33] ” لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» [35-فاطر:18] ” کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں “۔
اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» [23-المؤمنون:101] یعنی ” صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی “۔
اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80- عبس:34-37] یعنی ” اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا “۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
صفحہ نمبر9803
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔
یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا ۔ [صحیح بخاری:1434]
عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
صفحہ نمبر9804
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے “، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ” اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون “، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ۔
پھر فرماتا ہے ” کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ” ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا “۔
ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» [31-لقمان:33] ” لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» [35-فاطر:18] ” کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں “۔
اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» [23-المؤمنون:101] یعنی ” صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی “۔
اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80- عبس:34-37] یعنی ” اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا “۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
صفحہ نمبر9803
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔
یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا ۔ [صحیح بخاری:1434]
عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
صفحہ نمبر9804
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے “، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ” اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون “، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ۔
پھر فرماتا ہے ” کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ” ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا “۔
ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» [31-لقمان:33] ” لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» [35-فاطر:18] ” کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں “۔
اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» [23-المؤمنون:101] یعنی ” صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی “۔
اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80- عبس:34-37] یعنی ” اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا “۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
صفحہ نمبر9803
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔
یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا ۔ [صحیح بخاری:1434]
عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
صفحہ نمبر9804
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے “، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ” اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون “، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ۔
پھر فرماتا ہے ” کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ” ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا “۔
ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» [31-لقمان:33] ” لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» [35-فاطر:18] ” کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں “۔
اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» [23-المؤمنون:101] یعنی ” صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی “۔
اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80- عبس:34-37] یعنی ” اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا “۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
صفحہ نمبر9803
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔
یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا ۔ [صحیح بخاری:1434]
عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
صفحہ نمبر9804
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے “، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ” اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون “، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ۔
پھر فرماتا ہے ” کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ” ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا “۔
ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» [31-لقمان:33] ” لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» [35-فاطر:18] ” کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں “۔
اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» [23-المؤمنون:101] یعنی ” صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی “۔
اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80- عبس:34-37] یعنی ” اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا “۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
صفحہ نمبر9803
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔
یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا ۔ [صحیح بخاری:1434]
عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
صفحہ نمبر9804
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل «مُهْلِ» کے ہو جائے “، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے، ” اور پہاڑ ایسے ہو جائیں جیسے دھنی ہوئی اون “، یہی فرمان اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ۔
پھر فرماتا ہے ” کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں، سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے لگا لیکن پھر بھاگ کھڑا ہو گا“، جیسے اور جگہ ہے «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80-عبس:37] یعنی ” ہر ایک ایسے مشغلے میں لگا ہوا ہو گا جو دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہ دے گا “۔
ایک اور جگہ فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ» [31-لقمان:33] ” لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنی اولاد کے اور اولاد اپنے باپ کے کچھ کام نہ آئے گا “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» [35-فاطر:18] ” کوئی کسی کا بوجھ نہ بٹائے گا، گو قرابت دار ہوں “۔
اور جگہ فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ» [23-المؤمنون:101] یعنی ” صور پھونکتے ہی سب آپس کے رشتے ناتے اور پوچھ گچھ ختم ہو جائے گی “۔
اور جگہ فرمان ہے «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [80- عبس:34-37] یعنی ” اس دن انسان اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور فرزند سے بھاگتا پھرے گا “۔ ہر شخص اپنی پریشانیوں کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو گا، یہ وہ دن ہو گا کہ اس دن ہر گنہگار دل سے چاہے گا کہ اپنی اولاد کو اپنے فدیہ میں دے کر جہنم کے آج کے عذاب سے چھوٹ جائے اور اپنی بیوی، بھائی، اپنے رشتے کنبے، اپنے خاندان اور قبیلے کو بلکہ چاہے گا کہ تمام روئے زمین کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اسے آزاد کر دیا جائے۔ آہ! کیا ہی دل گداز منظر ہے کہ انسان اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو، اپنی شاخوں، اپنی جڑوں سب کو آج فدا کرنے پر تیار ہے تاکہ خود بچ جائے۔
صفحہ نمبر9803
«فَصِيلَتِهِ» کے معنی ماں کے بھی کئے گئے ہیں، غرض تمام تر محبوب ہستیوں کو اپنی طرف سے بھینٹ میں دینے پر دل سے رضامند ہو گا، لیکن کوئی چیز کام نہ آئے گی کوئی بدلہ اور فدیہ نہ کھپے گا، کوئی عوض اور معاوضہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اس آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا جو اونچے اونچے اور تیز تیز شعلے پھینکنے والی اور سخت بھڑکنے والی ہے، جو سر کی کھال تک جھلسا کر کھینچ لاتی ہے، بدن کی کھال دور کر دیتی ہے اور کھوپڑی پلپلی کر دیتی ہے، ہڈیوں کو گوشت سے الگ کر دیتی ہے، رگ پٹھے کھنچنے لگتے ہیں، ہاتھ پاؤں اینٹھنے لگتے ہیں، پنڈلیاں کٹی جاتی ہیں، چہرہ بگڑ جاتا ہے، ہر ایک عضو بدل جاتا ہے، چیخ پکار کرتا رہتا ہے، ہڈیوں کا چورا کرتی رہتی ہے، کھالیں جلائی جاتی ہے۔
یہ آگ اپنی فصیح زبان اور اونچی آواز سے اپنے والوں کو جنہوں نے دنیا میں بدکاریاں اور اللہ کی نافرمانیاں کی تھیں پکارتی ہے پھر جس طرح پرند جانور دانہ چگتا ہے اسی طرح میدان محشر میں سے ایسے بدلوگوں کو ایک ایک کر کے دیکھ بھال کر چن لیتی ہے، اب ان کی بداعمالیاں بیان ہو رہی ہیں کہ یہ دل سے جھٹلانے والے اور بدن سے عمل چھوڑ دینے والے تھے، یہ مال کو جمع کرنے والے اور سربند کر کے رکھ چھوڑنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے ضروری احکام میں بھی مال خرچ کرنے سے بھاگتے تھے بلکہ زکوٰۃ تک ادا نہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے سمیٹ سمیٹ کر سینت سینت کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے روک لے گا ۔ [صحیح بخاری:1434]
عبداللہ بن حکیم رحمہ اللہ تو اس آیت پر عمل کرتے ہوئے کبھی تھیلی کا منہ ہی نہ باندھتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کی وعید سن رہا ہے پھر مال سمیٹتا جا رہا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مال کو جمع کرنے میں حلال حرام کا پاس نہ رکھتا تھا اور فرمان اللہ ہوتے ہوئے بھی خرچ کی ہمت نہیں کرتا تھا۔“
صفحہ نمبر9804
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ” یہ بڑا ہی بے صبرا ہے “، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ” ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے “۔
صفحہ نمبر9815
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» [23-المؤمنون:2-1] ، ” ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں “۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔
جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو ۔ [صحیح بخاری:6464]
خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
صفحہ نمبر9816
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے “، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔
ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے ـ [صحیح بخاری:33]
اور ایک روایت میں جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے ۔ [صحیح بخاری:33]
یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں “ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ” جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے “۔ [2-البقرة:283]
صفحہ نمبر9817
پھر فرمایا ” وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں “ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔
سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ” یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں “ اور یہاں فرمایا ” یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں “۔
صفحہ نمبر9818
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ” یہ بڑا ہی بے صبرا ہے “، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ” ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے “۔
صفحہ نمبر9815
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» [23-المؤمنون:2-1] ، ” ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں “۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔
جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو ۔ [صحیح بخاری:6464]
خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
صفحہ نمبر9816
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے “، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔
ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے ـ [صحیح بخاری:33]
اور ایک روایت میں جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے ۔ [صحیح بخاری:33]
یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں “ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ” جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے “۔ [2-البقرة:283]
صفحہ نمبر9817
پھر فرمایا ” وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں “ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔
سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ” یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں “ اور یہاں فرمایا ” یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں “۔
صفحہ نمبر9818
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ” یہ بڑا ہی بے صبرا ہے “، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ” ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے “۔
صفحہ نمبر9815
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» [23-المؤمنون:2-1] ، ” ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں “۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔
جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو ۔ [صحیح بخاری:6464]
خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
صفحہ نمبر9816
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے “، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔
ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے ـ [صحیح بخاری:33]
اور ایک روایت میں جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے ۔ [صحیح بخاری:33]
یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں “ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ” جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے “۔ [2-البقرة:283]
صفحہ نمبر9817
پھر فرمایا ” وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں “ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔
سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ” یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں “ اور یہاں فرمایا ” یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں “۔
صفحہ نمبر9818
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ” یہ بڑا ہی بے صبرا ہے “، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ” ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے “۔
صفحہ نمبر9815
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» [23-المؤمنون:2-1] ، ” ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں “۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔
جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو ۔ [صحیح بخاری:6464]
خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
صفحہ نمبر9816
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے “، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔
ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے ـ [صحیح بخاری:33]
اور ایک روایت میں جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے ۔ [صحیح بخاری:33]
یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں “ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ” جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے “۔ [2-البقرة:283]
صفحہ نمبر9817
پھر فرمایا ” وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں “ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔
سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ” یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں “ اور یہاں فرمایا ” یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں “۔
صفحہ نمبر9818
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ” یہ بڑا ہی بے صبرا ہے “، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ” ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے “۔
صفحہ نمبر9815
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» [23-المؤمنون:2-1] ، ” ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں “۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔
جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو ۔ [صحیح بخاری:6464]
خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
صفحہ نمبر9816
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے “، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔
ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے ـ [صحیح بخاری:33]
اور ایک روایت میں جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے ۔ [صحیح بخاری:33]
یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں “ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ” جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے “۔ [2-البقرة:283]
صفحہ نمبر9817
پھر فرمایا ” وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں “ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔
سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ” یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں “ اور یہاں فرمایا ” یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں “۔
صفحہ نمبر9818
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ” یہ بڑا ہی بے صبرا ہے “، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ” ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے “۔
صفحہ نمبر9815
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» [23-المؤمنون:2-1] ، ” ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں “۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔
جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو ۔ [صحیح بخاری:6464]
خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
صفحہ نمبر9816
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے “، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔
ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے ـ [صحیح بخاری:33]
اور ایک روایت میں جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے ۔ [صحیح بخاری:33]
یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں “ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ” جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے “۔ [2-البقرة:283]
صفحہ نمبر9817
پھر فرمایا ” وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں “ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔
سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ” یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں “ اور یہاں فرمایا ” یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں “۔
صفحہ نمبر9818
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ” یہ بڑا ہی بے صبرا ہے “، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ” ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے “۔
صفحہ نمبر9815
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» [23-المؤمنون:2-1] ، ” ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں “۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔
جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو ۔ [صحیح بخاری:6464]
خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
صفحہ نمبر9816
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے “، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔
ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے ـ [صحیح بخاری:33]
اور ایک روایت میں جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے ۔ [صحیح بخاری:33]
یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں “ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ” جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے “۔ [2-البقرة:283]
صفحہ نمبر9817
پھر فرمایا ” وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں “ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔
سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ” یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں “ اور یہاں فرمایا ” یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں “۔
صفحہ نمبر9818
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ” یہ بڑا ہی بے صبرا ہے “، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ” ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے “۔
صفحہ نمبر9815
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» [23-المؤمنون:2-1] ، ” ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں “۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔
جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو ۔ [صحیح بخاری:6464]
خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
صفحہ نمبر9816
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے “، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔
ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے ـ [صحیح بخاری:33]
اور ایک روایت میں جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے ۔ [صحیح بخاری:33]
یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں “ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ” جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے “۔ [2-البقرة:283]
صفحہ نمبر9817
پھر فرمایا ” وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں “ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔
سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ” یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں “ اور یہاں فرمایا ” یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں “۔
صفحہ نمبر9818
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ” یہ بڑا ہی بے صبرا ہے “، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ” ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے “۔
صفحہ نمبر9815
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» [23-المؤمنون:2-1] ، ” ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں “۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔
جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو ۔ [صحیح بخاری:6464]
خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
صفحہ نمبر9816
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے “، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔
ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے ـ [صحیح بخاری:33]
اور ایک روایت میں جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے ۔ [صحیح بخاری:33]
یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں “ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ” جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے “۔ [2-البقرة:283]
صفحہ نمبر9817
پھر فرمایا ” وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں “ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔
سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ” یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں “ اور یہاں فرمایا ” یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں “۔
صفحہ نمبر9818
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ” یہ بڑا ہی بے صبرا ہے “، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ” ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے “۔
صفحہ نمبر9815
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» [23-المؤمنون:2-1] ، ” ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں “۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔
جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو ۔ [صحیح بخاری:6464]
خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
صفحہ نمبر9816
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے “، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔
ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے ـ [صحیح بخاری:33]
اور ایک روایت میں جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے ۔ [صحیح بخاری:33]
یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں “ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ” جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے “۔ [2-البقرة:283]
صفحہ نمبر9817
پھر فرمایا ” وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں “ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔
سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ” یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں “ اور یہاں فرمایا ” یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں “۔
صفحہ نمبر9818
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ” یہ بڑا ہی بے صبرا ہے “، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ” ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے “۔
صفحہ نمبر9815
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» [23-المؤمنون:2-1] ، ” ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں “۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔
جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو ۔ [صحیح بخاری:6464]
خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
صفحہ نمبر9816
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے “، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔
ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے ـ [صحیح بخاری:33]
اور ایک روایت میں جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے ۔ [صحیح بخاری:33]
یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں “ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ” جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے “۔ [2-البقرة:283]
صفحہ نمبر9817
پھر فرمایا ” وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں “ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔
سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ” یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں “ اور یہاں فرمایا ” یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں “۔
صفحہ نمبر9818
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ” یہ بڑا ہی بے صبرا ہے “، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر فرمایا کہ ” ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے “۔
صفحہ نمبر9815
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» [23-المؤمنون:2-1] ، ” ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں “۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔
جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو ۔ [صحیح بخاری:6464]
خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
صفحہ نمبر9816
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“
پھر فرماتا ہے ” ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے “، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔
ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے ـ [صحیح بخاری:33]
اور ایک روایت میں جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے ۔ [صحیح بخاری:33]
یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں “ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ” جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے “۔ [2-البقرة:283]
صفحہ نمبر9817
پھر فرمایا ” وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں “ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔
سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ” یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں “ اور یہاں فرمایا ” یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں “۔
صفحہ نمبر9818