Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Qiyaama
Tafsir Ibn Kathir · The Resurrection · 40 ayat · ayat 31–40 · Quran text →
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ٭٭
یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ «كَلَّا» کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ” اے ابن آدم! تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے “ اور اگر اس لفظ کو «حقا» کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی ” یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے “۔
«تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [56-الواقعة:87-83] فرمایا ہے یعنی ” جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ “
اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ «تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟
اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔“
دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔
10062
چوتھا مطلب ضحاک رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دو کام دو طرف جمع ہو جاتے ہیں ادھر تو لوگ اس کے جسم کو نہلا دھلا کر سپرد خاک کرنے کو تیار ہیں، ادھر فرشتے اس کی روح لے جانے میں مشغول ہیں، اگر نیک ہے تو عمدہ تیاری اور دھوم کے ساتھ، اگر بد ہے تو نہایت ہی برائی اور بدتر حالت کے ساتھ، اب لوٹنے، قرار پانے، رہنے سہنے، پہنچ جانے، کھچ کر اور چل کر پہنچنے کی جگہ اللہ ہی کی طرف ہے روح آسمان کی طرف چڑھائی جاتی ہے پھر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ میں نے ان سب کو اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹا کر لے جاؤں گا اور پھر اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔“
جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الأنعام:62،61] ، ” وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے “۔
پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔
10063
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ٭٭
یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ «كَلَّا» کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ” اے ابن آدم! تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے “ اور اگر اس لفظ کو «حقا» کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی ” یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے “۔
«تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» [56-الواقعة:87-83] فرمایا ہے یعنی ” جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ “
اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ «تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟
اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔“
دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔
10062
چوتھا مطلب ضحاک رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دو کام دو طرف جمع ہو جاتے ہیں ادھر تو لوگ اس کے جسم کو نہلا دھلا کر سپرد خاک کرنے کو تیار ہیں، ادھر فرشتے اس کی روح لے جانے میں مشغول ہیں، اگر نیک ہے تو عمدہ تیاری اور دھوم کے ساتھ، اگر بد ہے تو نہایت ہی برائی اور بدتر حالت کے ساتھ، اب لوٹنے، قرار پانے، رہنے سہنے، پہنچ جانے، کھچ کر اور چل کر پہنچنے کی جگہ اللہ ہی کی طرف ہے روح آسمان کی طرف چڑھائی جاتی ہے پھر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ میں نے ان سب کو اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹا کر لے جاؤں گا اور پھر اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔“
جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الأنعام:62،61] ، ” وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے “۔
پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔
10063
باب
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» [83-المطففين:31] یعنی ” جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» [84-الإنشقاق:13-15] یعنی ” یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں “۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ” خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» [44-الدخان:49] یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ” لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا “۔
اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» [77-المرسلات:46] ” کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو “۔
اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:15] ” جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو “ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» [75-القيامة:34] ، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل]
10070
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل]
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے “۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10071
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے ۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» [95-التين:8] پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ” ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں “ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» [75-القيامة:40] پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» [77-المرسلات:50] پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔
ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔
سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10072
باب
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» [83-المطففين:31] یعنی ” جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» [84-الإنشقاق:13-15] یعنی ” یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں “۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ” خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» [44-الدخان:49] یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ” لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا “۔
اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» [77-المرسلات:46] ” کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو “۔
اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:15] ” جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو “ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» [75-القيامة:34] ، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل]
10070
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل]
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے “۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10071
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے ۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» [95-التين:8] پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ” ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں “ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» [75-القيامة:40] پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» [77-المرسلات:50] پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔
ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔
سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10072
باب
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» [83-المطففين:31] یعنی ” جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» [84-الإنشقاق:13-15] یعنی ” یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں “۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ” خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» [44-الدخان:49] یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ” لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا “۔
اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» [77-المرسلات:46] ” کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو “۔
اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:15] ” جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو “ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» [75-القيامة:34] ، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل]
10070
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل]
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے “۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10071
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے ۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» [95-التين:8] پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ” ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں “ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» [75-القيامة:40] پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» [77-المرسلات:50] پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔
ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔
سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10072
باب
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» [83-المطففين:31] یعنی ” جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» [84-الإنشقاق:13-15] یعنی ” یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں “۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ” خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» [44-الدخان:49] یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ” لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا “۔
اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» [77-المرسلات:46] ” کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو “۔
اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:15] ” جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو “ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» [75-القيامة:34] ، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل]
10070
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل]
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے “۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10071
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے ۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» [95-التين:8] پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ” ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں “ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» [75-القيامة:40] پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» [77-المرسلات:50] پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔
ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔
سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10072
باب
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» [83-المطففين:31] یعنی ” جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» [84-الإنشقاق:13-15] یعنی ” یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں “۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ” خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» [44-الدخان:49] یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ” لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا “۔
اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» [77-المرسلات:46] ” کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو “۔
اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:15] ” جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو “ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» [75-القيامة:34] ، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل]
10070
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل]
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے “۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10071
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے ۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» [95-التين:8] پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ” ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں “ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» [75-القيامة:40] پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» [77-المرسلات:50] پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔
ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔
سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10072
باب
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» [83-المطففين:31] یعنی ” جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» [84-الإنشقاق:13-15] یعنی ” یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں “۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ” خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» [44-الدخان:49] یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ” لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا “۔
اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» [77-المرسلات:46] ” کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو “۔
اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:15] ” جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو “ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» [75-القيامة:34] ، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل]
10070
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل]
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے “۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10071
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے ۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» [95-التين:8] پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ” ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں “ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» [75-القيامة:40] پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» [77-المرسلات:50] پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔
ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔
سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10072
باب
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» [83-المطففين:31] یعنی ” جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» [84-الإنشقاق:13-15] یعنی ” یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں “۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ” خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» [44-الدخان:49] یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ” لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا “۔
اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» [77-المرسلات:46] ” کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو “۔
اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:15] ” جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو “ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» [75-القيامة:34] ، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل]
10070
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل]
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے “۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10071
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے ۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» [95-التين:8] پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ” ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں “ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» [75-القيامة:40] پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» [77-المرسلات:50] پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔
ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔
سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10072
باب
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» [83-المطففين:31] یعنی ” جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں “۔
اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» [84-الإنشقاق:13-15] یعنی ” یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں “۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ” خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» [44-الدخان:49] یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ” لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا “۔
اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» [77-المرسلات:46] ” کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو “۔
اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:15] ” جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو “ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» [75-القيامة:34] ، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل]
10070
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل]
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم:27] ” اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے “۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
10071
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے ۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» [95-التين:8] پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ” ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں “ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» [75-القيامة:40] پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» [77-المرسلات:50] پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ ۔ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔
ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔
سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
10072