John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Mursalaat

Tafsir Ibn Kathir · The Emissaries · 50 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

تفسیر سورۃ المرسلات:

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏

فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭

بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔

جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔

اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔

«عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔

«فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔

10123

ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔

جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔

جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔

اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔

ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

10124

تفسیر سورۃ المرسلات:

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏

فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭

بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔

جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔

اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔

«عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔

«فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔

10123

ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔

جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔

جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔

اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔

ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

10124

تفسیر سورۃ المرسلات:

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏

فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭

بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔

جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔

اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔

«عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔

«فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔

10123

ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔

جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔

جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔

اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔

ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

10124

تفسیر سورۃ المرسلات:

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏

فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭

بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔

جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔

اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔

«عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔

«فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔

10123

ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔

جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔

جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔

اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔

ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

10124

تفسیر سورۃ المرسلات:

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏

فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭

بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔

جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔

اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔

«عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔

«فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔

10123

ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔

جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔

جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔

اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔

ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

10124

تفسیر سورۃ المرسلات:

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏

فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭

بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔

جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔

اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔

«عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔

«فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔

10123

ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔

جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔

جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔

اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔

ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

10124

تفسیر سورۃ المرسلات:

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏

فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭

بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔

جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔

اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔

«عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔

«فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔

10123

ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔

جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔

جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔

اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔

ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

10124

تفسیر سورۃ المرسلات:

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏

فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭

بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔

جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔

اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔

«عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔

«فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔

10123

ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔

جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔

جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔

اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔

ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

10124

تفسیر سورۃ المرسلات:

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏

فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭

بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔

جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔

اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔

«عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔

«فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔

10123

ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔

جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔

جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔

اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔

ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

10124

تفسیر سورۃ المرسلات:

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏

فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭

بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔

جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔

اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔

«عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔

«فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔

10123

ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔

جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔

جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔

اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔

ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

10124

تفسیر سورۃ المرسلات:

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏

فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭

بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔

جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔

اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔

«عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔

«فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔

10123

ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔

جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔

جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔

اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔

ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

10124

تفسیر سورۃ المرسلات:

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏

فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭

بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔

جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔

اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔

«عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔

«فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔

10123

ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔

جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔

جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔

اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔

ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

10124

تفسیر سورۃ المرسلات:

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏

فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭

بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔

جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔

اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔

«عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔

«فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔

10123

ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔

جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔

جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔

اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔

ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

10124

تفسیر سورۃ المرسلات:

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏

فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭

بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔

جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔

اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔

«عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔

«فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔

10123

ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔

جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔

جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔

اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔

ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

10124

تفسیر سورۃ المرسلات:

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے جب یہ سورت اتری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کر رہا تھا کہ ناگہاں ایک سانپ ہم پر کودا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“، ہم گو جھپٹے لیکن وہ نکل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری سزا سے وہ بچ گیا جیسے تم اس کی برائی سے محفوظ رہے۔‏“ [بخاری مسلم] ‏ [صحیح بخاری:1830] ‏

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی والدہ صاحبہ سیدہ ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں اس سورت کی قرات کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائی:987،،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے سن کر ام المؤمنین نے فرمایا پیارے بچے! آج تو تم نے یاد دلا دیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورت کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے آخری مرتبہ سنا ہے۔ [بخاری و مسلم و مسند احمد] ‏ [صحیح بخاری:763] ‏

فرشتوں اور ہواؤں کی قسم ٭٭

بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں، بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے۔ بعض نے توقف کیا ہے کہ «وَالْمُرْسَلَاتِ» سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں، ہاں «والْعَاصِفَاتِ» میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض «عاصفات» میں یہ فرماتے ہیں اور «نَّاشِرَاتِ» میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے، یہ بھی مروی ہے کہ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بارش ہے، بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ «مُُرْسَلَاتِ» سے مراد ہوائیں ہے۔

جیسے اور جگہ فرمان باری «‏وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» [15-الحجر:22] ‏ یعنی ” ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں “۔

اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [30-الروم:46] ‏ الخ ” اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے “۔

«عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔

«فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔

10123

ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ ” جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئیے جاؤ گے یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے، اس دن ستاروں کا نور اور ان کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی“۔

جیسے فرمایا «‏وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» [81-التكوير:2] ‏ اور جگہ فرمايا «‏وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» [82-الإنفطار:2] ‏ ” ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» [20-طه:105] ‏ اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏، یعنی ” پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا “۔ جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» [5-المائدة:109] ‏ ” اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ ” زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا “۔

پھر فرماتا ہے کہ ” ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے “۔

جیسے فرمایا «‏فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» [14-إبراھیم:47] ‏ ” یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے “۔

اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ” میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے “۔

ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

10124

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔

پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔

پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔

10139

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔

پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔

پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔

10139

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔

پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔

پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔

10139

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔

پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔

پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔

10139

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔

پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔

پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔

10139

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔

پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔

پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔

10139

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔

پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔

پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔

10139

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔

پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔

پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔

10139

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔

پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔

پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔

10139

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔

پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔

پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔

10139

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔

پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔

پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔

10139

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔

پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔

پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔

10139

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی “۔

پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ” ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا “، جیسے سورۃ یس کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ ” اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا “۔

پھر فرمایا ” کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لیے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم، خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے “۔

10139

جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ٭٭

جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے۔

لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے، نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بکثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناور درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کر لیتے اسے ہم «قصر» کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہو جاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہو چکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہو گئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا، مکرنا، چھپانا، عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے۔

تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہو جائیں گی تو اب بول چال، عذر معذرت، ختم ہو جائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ، کسی وقت وہ، اسی لیے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے ” یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کر لو “۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ ” اب خاموش کیوں ہو؟ وہ عیاری، چالاکی اور بے باکی کیا ہوئی؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کر دیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ» [55-الرحمن:33] ‏ یعنی ” اے جن و انس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جا سکتے اور وہ تم میں نہیں “۔

10152

اور جگہ ہے «وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ» ‏ [11-ھود:57] ‏ یعنی ” تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “۔

حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے میرے بندو نہ تو تمہیں، مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے، نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو، نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو “ ۔ [صحیح مسلم:2577] ‏

سیدنا ابوعبداللہ جدلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں عبادہ، عبداللہ اور کعب احبار رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کر دیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب، مکر حیلہ کر سکتے ہو تو کر لو، سنو! متکبر، سرکش، منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پا سکتا ہے “۔‏“ ”سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں“، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر باآواز بلند کہے گی، اے لوگو! تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہو گا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں، نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہو جائیں گے۔ (‏اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے)۔ آمین

10153

جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ٭٭

جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے۔

لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے، نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بکثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناور درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کر لیتے اسے ہم «قصر» کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہو جاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہو چکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہو گئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا، مکرنا، چھپانا، عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے۔

تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہو جائیں گی تو اب بول چال، عذر معذرت، ختم ہو جائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ، کسی وقت وہ، اسی لیے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے ” یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کر لو “۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ ” اب خاموش کیوں ہو؟ وہ عیاری، چالاکی اور بے باکی کیا ہوئی؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کر دیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ» [55-الرحمن:33] ‏ یعنی ” اے جن و انس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جا سکتے اور وہ تم میں نہیں “۔

10152

اور جگہ ہے «وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ» ‏ [11-ھود:57] ‏ یعنی ” تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “۔

حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے میرے بندو نہ تو تمہیں، مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے، نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو، نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو “ ۔ [صحیح مسلم:2577] ‏

سیدنا ابوعبداللہ جدلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں عبادہ، عبداللہ اور کعب احبار رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کر دیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب، مکر حیلہ کر سکتے ہو تو کر لو، سنو! متکبر، سرکش، منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پا سکتا ہے “۔‏“ ”سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں“، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر باآواز بلند کہے گی، اے لوگو! تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہو گا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں، نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہو جائیں گے۔ (‏اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے)۔ آمین

10153

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com