John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah An-Naba

Tafsir Ibn Kathir · The Announcement · 40 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ “

10176

پھر خود فرماتا ہے کہ ” یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے “۔

مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔

پھر اس آیت «‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏ [78-النبأ:3] ‏ ” جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں “، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ” تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے “، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟

زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ” دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے “۔

انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ” زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں “۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏ [30-الروم:21] ‏ ” اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا “۔

10177

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ “

10176

پھر خود فرماتا ہے کہ ” یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے “۔

مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔

پھر اس آیت «‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏ [78-النبأ:3] ‏ ” جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں “، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ” تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے “، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟

زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ” دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے “۔

انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ” زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں “۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏ [30-الروم:21] ‏ ” اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا “۔

10177

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ “

10176

پھر خود فرماتا ہے کہ ” یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے “۔

مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔

پھر اس آیت «‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏ [78-النبأ:3] ‏ ” جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں “، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ” تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے “، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟

زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ” دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے “۔

انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ” زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں “۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏ [30-الروم:21] ‏ ” اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا “۔

10177

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ “

10176

پھر خود فرماتا ہے کہ ” یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے “۔

مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔

پھر اس آیت «‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏ [78-النبأ:3] ‏ ” جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں “، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ” تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے “، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟

زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ” دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے “۔

انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ” زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں “۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏ [30-الروم:21] ‏ ” اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا “۔

10177

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ “

10176

پھر خود فرماتا ہے کہ ” یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے “۔

مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔

پھر اس آیت «‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏ [78-النبأ:3] ‏ ” جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں “، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ” تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے “، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟

زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ” دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے “۔

انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ” زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں “۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏ [30-الروم:21] ‏ ” اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا “۔

10177

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ “

10176

پھر خود فرماتا ہے کہ ” یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے “۔

مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔

پھر اس آیت «‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏ [78-النبأ:3] ‏ ” جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں “، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ” تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے “، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟

زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ” دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے “۔

انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ” زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں “۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏ [30-الروم:21] ‏ ” اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا “۔

10177

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ “

10176

پھر خود فرماتا ہے کہ ” یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے “۔

مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔

پھر اس آیت «‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏ [78-النبأ:3] ‏ ” جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں “، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ” تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے “، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟

زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ” دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے “۔

انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ” زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں “۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏ [30-الروم:21] ‏ ” اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا “۔

10177

پہاڑیوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے ٭٭

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ ” یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟ “

10176

پھر خود فرماتا ہے کہ ” یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے “۔

مگر مجاہد رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ”اس سے مراد قرآن ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12/395] ‏ لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ قتادہ اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے۔

پھر اس آیت «‏الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ» ‏ [78-النبأ:3] ‏ ” جس میں یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں “، میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مومن تو مانتے ہیں کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے، پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ ” تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے “، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر، اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟

زمین کا تذکرہ: تو فرماتا ہے ” دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اور پہاڑوں کو میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دئیے ہیں، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے “۔

انسان کی جوڑا جوڑا تخلیق: ” زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد و تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں “۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے «‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» ‏ [30-الروم:21] ‏ ” اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا “۔

10177

باب

پھر فرماتا ہے ” ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے “، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ” رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے “۔

جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:4] ‏ ” قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے “۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔

قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔

10185

پھر فرمایا ” ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔

«الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔

جیسے اور جگہ ہے «‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» [30-الروم:48] ‏ ” اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے “۔

«ثَجَّاجًا» ‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏

«ثَجّاجًا» کی تشریح:

ایک حدیث میں ہے «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں ۔ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روئی کا پھایا رکھ لو ، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10186

” پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں “۔

«أَلْفَافًا» ‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [13-الرعد:4] ‏ ” زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں “۔

10187

باب

پھر فرماتا ہے ” ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے “، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ” رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے “۔

جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:4] ‏ ” قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے “۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔

قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔

10185

پھر فرمایا ” ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔

«الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔

جیسے اور جگہ ہے «‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» [30-الروم:48] ‏ ” اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے “۔

«ثَجَّاجًا» ‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏

«ثَجّاجًا» کی تشریح:

ایک حدیث میں ہے «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں ۔ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روئی کا پھایا رکھ لو ، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10186

” پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں “۔

«أَلْفَافًا» ‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [13-الرعد:4] ‏ ” زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں “۔

10187

باب

پھر فرماتا ہے ” ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے “، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ” رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے “۔

جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:4] ‏ ” قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے “۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔

قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔

10185

پھر فرمایا ” ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔

«الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔

جیسے اور جگہ ہے «‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» [30-الروم:48] ‏ ” اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے “۔

«ثَجَّاجًا» ‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏

«ثَجّاجًا» کی تشریح:

ایک حدیث میں ہے «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں ۔ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روئی کا پھایا رکھ لو ، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10186

” پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں “۔

«أَلْفَافًا» ‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [13-الرعد:4] ‏ ” زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں “۔

10187

باب

پھر فرماتا ہے ” ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے “، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ” رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے “۔

جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:4] ‏ ” قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے “۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔

قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔

10185

پھر فرمایا ” ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔

«الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔

جیسے اور جگہ ہے «‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» [30-الروم:48] ‏ ” اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے “۔

«ثَجَّاجًا» ‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏

«ثَجّاجًا» کی تشریح:

ایک حدیث میں ہے «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں ۔ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روئی کا پھایا رکھ لو ، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10186

” پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں “۔

«أَلْفَافًا» ‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [13-الرعد:4] ‏ ” زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں “۔

10187

باب

پھر فرماتا ہے ” ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے “، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ” رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے “۔

جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:4] ‏ ” قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے “۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔

قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔

10185

پھر فرمایا ” ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔

«الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔

جیسے اور جگہ ہے «‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» [30-الروم:48] ‏ ” اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے “۔

«ثَجَّاجًا» ‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏

«ثَجّاجًا» کی تشریح:

ایک حدیث میں ہے «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں ۔ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روئی کا پھایا رکھ لو ، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10186

” پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں “۔

«أَلْفَافًا» ‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [13-الرعد:4] ‏ ” زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں “۔

10187

باب

پھر فرماتا ہے ” ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے “، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ” رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے “۔

جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:4] ‏ ” قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے “۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔

قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔

10185

پھر فرمایا ” ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔

«الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔

جیسے اور جگہ ہے «‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» [30-الروم:48] ‏ ” اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے “۔

«ثَجَّاجًا» ‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏

«ثَجّاجًا» کی تشریح:

ایک حدیث میں ہے «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں ۔ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روئی کا پھایا رکھ لو ، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10186

” پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں “۔

«أَلْفَافًا» ‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [13-الرعد:4] ‏ ” زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں “۔

10187

باب

پھر فرماتا ہے ” ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے “، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ” رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے “۔

جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:4] ‏ ” قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے “۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔

قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔

10185

پھر فرمایا ” ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔

«الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔

جیسے اور جگہ ہے «‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» [30-الروم:48] ‏ ” اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے “۔

«ثَجَّاجًا» ‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏

«ثَجّاجًا» کی تشریح:

ایک حدیث میں ہے «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں ۔ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روئی کا پھایا رکھ لو ، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10186

” پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں “۔

«أَلْفَافًا» ‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [13-الرعد:4] ‏ ” زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں “۔

10187

باب

پھر فرماتا ہے ” ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ساکن ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے “، اسی معنی کی اور آیت سورۃ الفرقان میں بھی گزر چکی ہے، ” رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے “۔

جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:4] ‏ ” قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھانپ لے “۔ عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں۔

قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”رات سکون کا باعث بن جاتی ہے“ اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو، ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں۔

10185

پھر فرمایا ” ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے“ اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔

«الْمُعْصِرَاتِ» سے مراد بعض نے تو ہوا مراد لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔ «امْرَأَةٌ مُعْصِرٌ» ‏عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو۔ حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے فرمایا «مُعْصِرَاتِ» سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں۔

جیسے اور جگہ ہے «‏اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا» [30-الروم:48] ‏ ” اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے “۔

«ثَجَّاجًا» ‏کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو، ‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:400/12] ‏

«ثَجّاجًا» کی تشریح:

ایک حدیث میں ہے «أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ» افضل حج وہ ہے جس میں «لبیک» خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں ۔ [سنن ترمذي:827،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس حدیث میں بھی لفظ «ثَّجُّ» ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روئی کا پھایا رکھ لو ، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں۔ [سنن ابوداود:287،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس روایت میں بھی لفظ «‏أَثُجّ ثَجًّا» ‏ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ پانی ابر سے بکثرت برستا رہتا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

10186

” پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو تروتازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں، خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں “۔

«أَلْفَافًا» ‏کے معنی جمع کے ہیں اور جگہ ہے «‏وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [13-الرعد:4] ‏ ” زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، اور وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک کو بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں یقیناً عقلمندوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں “۔

10187

جماعت در جماعت حاضری ٭٭

یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آ جائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ ‏ «‏وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» [11-ھود:104] ‏ ” نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لیے “۔

اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «‏يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ» [17-الإسراء:71] ‏ ” جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے “۔

10195

صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دونوں صور کے درمیان چالیس ہوں گے“، لوگوں نے پوچھا چالیس دن؟ کہا ”میں نہیں کہہ سکتا“، پوچھا: چالیس مہینے؟ کہا ”مجھے خبر نہیں۔‏“ پوچھا: چالیس سال؟ کہا ”میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا، پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا اور جس طرح درخت اگتے ہیں لوگ زمین سے اگیں گے، انسان کا تمام بدن گل سڑ جاتا ہے لیکن ایک ہڈی اور وہ کمر کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی سے قیامت کے دن مخلوق مرکب کی جائے گی۔‏“ [صحیح بخاری:4935] ‏ آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے، پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذرے بن جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ اِنَّهٗ خَبِيْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ» [27-النمل:88] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو، جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں گے “۔ اور جگہ ہے‏ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ‏ ” پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے “۔ یہاں فرمایا ” پہاڑ سراب ہو جائیں گے “ یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے، نام و نشان تک نہ رہے گا۔

10196

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» ‏ [20-طه:107-105] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ انہیں میرا رب پراگندہ کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان میں رہ جائے گی جس میں نہ کوئی موڑ ہو گا نہ ٹیلا “۔

اور جگہ ہے ‏ «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏ ” جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین بالکل کھل گئی ہے “۔

10197

جماعت در جماعت حاضری ٭٭

یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آ جائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ ‏ «‏وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» [11-ھود:104] ‏ ” نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لیے “۔

اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «‏يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ» [17-الإسراء:71] ‏ ” جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے “۔

10195

صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دونوں صور کے درمیان چالیس ہوں گے“، لوگوں نے پوچھا چالیس دن؟ کہا ”میں نہیں کہہ سکتا“، پوچھا: چالیس مہینے؟ کہا ”مجھے خبر نہیں۔‏“ پوچھا: چالیس سال؟ کہا ”میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا، پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا اور جس طرح درخت اگتے ہیں لوگ زمین سے اگیں گے، انسان کا تمام بدن گل سڑ جاتا ہے لیکن ایک ہڈی اور وہ کمر کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی سے قیامت کے دن مخلوق مرکب کی جائے گی۔‏“ [صحیح بخاری:4935] ‏ آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے، پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذرے بن جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ اِنَّهٗ خَبِيْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ» [27-النمل:88] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو، جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں گے “۔ اور جگہ ہے‏ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ‏ ” پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے “۔ یہاں فرمایا ” پہاڑ سراب ہو جائیں گے “ یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے، نام و نشان تک نہ رہے گا۔

10196

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» ‏ [20-طه:107-105] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ انہیں میرا رب پراگندہ کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان میں رہ جائے گی جس میں نہ کوئی موڑ ہو گا نہ ٹیلا “۔

اور جگہ ہے ‏ «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏ ” جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین بالکل کھل گئی ہے “۔

10197

جماعت در جماعت حاضری ٭٭

یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آ جائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ ‏ «‏وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» [11-ھود:104] ‏ ” نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لیے “۔

اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «‏يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ» [17-الإسراء:71] ‏ ” جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے “۔

10195

صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دونوں صور کے درمیان چالیس ہوں گے“، لوگوں نے پوچھا چالیس دن؟ کہا ”میں نہیں کہہ سکتا“، پوچھا: چالیس مہینے؟ کہا ”مجھے خبر نہیں۔‏“ پوچھا: چالیس سال؟ کہا ”میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا، پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا اور جس طرح درخت اگتے ہیں لوگ زمین سے اگیں گے، انسان کا تمام بدن گل سڑ جاتا ہے لیکن ایک ہڈی اور وہ کمر کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی سے قیامت کے دن مخلوق مرکب کی جائے گی۔‏“ [صحیح بخاری:4935] ‏ آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے، پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذرے بن جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ اِنَّهٗ خَبِيْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ» [27-النمل:88] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو، جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں گے “۔ اور جگہ ہے‏ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ‏ ” پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے “۔ یہاں فرمایا ” پہاڑ سراب ہو جائیں گے “ یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے، نام و نشان تک نہ رہے گا۔

10196

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» ‏ [20-طه:107-105] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ انہیں میرا رب پراگندہ کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان میں رہ جائے گی جس میں نہ کوئی موڑ ہو گا نہ ٹیلا “۔

اور جگہ ہے ‏ «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏ ” جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین بالکل کھل گئی ہے “۔

10197

جماعت در جماعت حاضری ٭٭

یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آ جائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ ‏ «‏وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» [11-ھود:104] ‏ ” نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لیے “۔

اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی۔ جیسے فرمایا «‏يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ» [17-الإسراء:71] ‏ ” جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے “۔

10195

صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دونوں صور کے درمیان چالیس ہوں گے“، لوگوں نے پوچھا چالیس دن؟ کہا ”میں نہیں کہہ سکتا“، پوچھا: چالیس مہینے؟ کہا ”مجھے خبر نہیں۔‏“ پوچھا: چالیس سال؟ کہا ”میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا، پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا اور جس طرح درخت اگتے ہیں لوگ زمین سے اگیں گے، انسان کا تمام بدن گل سڑ جاتا ہے لیکن ایک ہڈی اور وہ کمر کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی سے قیامت کے دن مخلوق مرکب کی جائے گی۔‏“ [صحیح بخاری:4935] ‏ آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے، پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذرے بن جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ اِنَّهٗ خَبِيْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ» [27-النمل:88] ‏ یعنی ” تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو، جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں گے “۔ اور جگہ ہے‏ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [101-القارعة:5] ‏ ” پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے “۔ یہاں فرمایا ” پہاڑ سراب ہو جائیں گے “ یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے، نام و نشان تک نہ رہے گا۔

10196

جیسے اور جگہ ہے «‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» ‏ [20-طه:107-105] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ انہیں میرا رب پراگندہ کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان میں رہ جائے گی جس میں نہ کوئی موڑ ہو گا نہ ٹیلا “۔

اور جگہ ہے ‏ «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏ ” جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین بالکل کھل گئی ہے “۔

10197

باب

پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔

«أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔

بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔

ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏

10201

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“

مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔

حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔

«حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

10202

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔

بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔

پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔

«كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔

ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏

10203

باب

پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔

«أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔

بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔

ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏

10201

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“

مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔

حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔

«حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

10202

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔

بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔

پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔

«كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔

ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏

10203

باب

پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔

«أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔

بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔

ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏

10201

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“

مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔

حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔

«حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

10202

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔

بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔

پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔

«كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔

ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏

10203

باب

پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔

«أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔

بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔

ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏

10201

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“

مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔

حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔

«حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

10202

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔

بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔

پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔

«كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔

ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏

10203

باب

پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔

«أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔

بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔

ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏

10201

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“

مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔

حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔

«حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

10202

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔

بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔

پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔

«كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔

ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏

10203

باب

پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔

«أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔

بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔

ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏

10201

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“

مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔

حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔

«حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

10202

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔

بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔

پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔

«كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔

ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏

10203

باب

پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔

«أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔

بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔

ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏

10201

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“

مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔

حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔

«حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

10202

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔

بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔

پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔

«كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔

ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏

10203

باب

پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔

«أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔

بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔

ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏

10201

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“

مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔

حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔

«حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

10202

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔

بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔

پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔

«كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔

ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏

10203

باب

پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔

«أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔

بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔

ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏

10201

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“

مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔

حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔

«حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

10202

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔

بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔

پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔

«كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔

ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏

10203

باب

پھر فرماتا ہے ” سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے “۔ اس کے معنی حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے یہ بھی کیے ہیں کہ ”کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا۔‏“ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس پر تین تین پل ہیں۔‏“ پھر فرمایا ” وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے رہیں گے “۔

«أَحْقَابًا» جمع ہے «حُقْبٍ» کی ایک لمبے زمانے کو «حُقْبٍ» کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں «حُقْبٍ» اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے یہ مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں ستر سال کا «حُقْبٍ» ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا۔

بشیر بن کعب رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک «حُقْبٍ» ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے «حُقْبٍ» مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ۔ [طبرانی کبیر:7957:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں۔

ایک اور روایت میں ہے کہ ابوعلاء سلیمان بن مسلم نے سلیمان تیمی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا“ پھر کہا «حُقْبٍہ» اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو۔ [مسند بزار:5303:موضوع و باطل] ‏

10201

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”سات سو «حقب» رہیں گے ہر «حقب» ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا۔‏“

مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت «فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔‏“ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت «‏إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ» [11-ھود:107] ‏ یعنی ” جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے “، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ «احقاب» تک رہنا متعلق ہو آیت «إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا» [78-النبإ:25] ‏ کے ساتھ یعنی ” وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا “، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں۔

حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ ” «أَحْقَابً» سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن «حقب» کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔‏“

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” «أَحْقَابً» کبھی ختم نہیں ہوتے ایک «حقب» ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان «أَحْقَابً» کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک «حقب» اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی ملے گا، ہاں ٹھنڈک کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی۔

«حَمِيمً» اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو، اور «غَسَّاقً» کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو، پیپ، پسینہ، آنسو اور زخموں سے بہے ہوئے خون، پیپ وغیرہ کو، اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بے حد بدبودار ہے۔

10202

سورۃ ص میں «غَسَّاقً» کی پوری تفسیر بیان ہو چکی ہے اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے۔

بعض نے کہا ہے «بَرْدً» سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی «بَرْدً» نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔

پھر فرمایا ” یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے “، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔

«كِذَّابًا» مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں، پھر فرمایا کہ ” ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے “۔

ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ ” اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے “۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں، ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے۔‏“ سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لیے اس سے زیادہ سخت آیت کونسی ہے؟ تو فرمایا نبی علیہ السلام نے اس آیت «فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا» [78-النبأ:30] ‏ کو پڑھ کر فرمایا: ”ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا“، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11/30:ضعیف] ‏

10203

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com