Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah An-Naazi'aat
Tafsir Ibn Kathir · Those who drag forth · 46 ayat · ayat 31–46 · Quran text →
موت و حیات کی سرگزشت ٭٭
جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ ” تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] یعنی ” زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے “۔
اور جگہ ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ» [36-يس:81] ” کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کر دیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ ضرور وہ قادر ہے اور وہ ہی بڑا پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے “۔
آسمانوں کو اس نے بنایا یعنی بلند و بالا خوب چوڑا اور کشادہ اور بالکل برابر بنایا پھر اندھیری راتوں میں خوب چمکنے والے ستارے اس میں جڑ دیئے، رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور دن کو روشن اور نور والا بنایا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی پانی اور چارہ نکالا۔ سورۃ حم سجدہ میں یہ بیان گزر چکا ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے ہے ہاں اس کی برکات کا اظہار آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوا جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں، اس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے اور پہاڑوں کو اس نے خوب مضبوط گاڑ دیا ہے وہ حکمتوں والا صحیح علم والا ہے اور ساتھ ہی اپنی مخلوق پر بے حد مہربان ہے۔
10255
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا وہ ہلنے لگی پروردگار نے پہاڑوں کو پیدا کر کے زمین پر گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی فرشتوں کو اس سے سخت تر تعجب ہوا اور پوچھنے لگے: اے اللہ! تیری مخلوق میں ان پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت چیز کوئی اور ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں لوہا، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: آگ، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہاں پانی، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہوا۔ پوچھا: پروردگار کیا تیری مخلوق میں اس سے بھاری کوئی اور چیز ہے؟ فرمایا: ہاں ابن آدم وہ یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ سے جو خرچ کرتا ہے اس کی خبر پائیں ہاتھ کو بھی نہیں ہوتی“ [مسند احمد:124/3:ضعیف]
ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو وہ کانپنے لگی اور کہنے لگی مجھ پر تو آدم اور اس کی اولاد کو پیدا کرنے والا ہے جو اپنی گندگی مجھ پر ڈالیں گے اور میری پیٹھ پر تیری نافرمانیاں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ گاڑ کر زمین کو ٹھہرا دیا بہت سے پہاڑ تم دیکھ رہے ہو اور بہت سے تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہیں، زمین کا پہاڑوں کے بعد سکون حاصل کرنا بالکل ایسا ہی تھا جیسے اونٹ کو ذبح کرتے ہی اس کا گوشت تھرکتا رہتا ہے پھر کچھ دیر بعد ٹھہر جاتا ہے۔“
پھر فرماتا ہے کہ ” یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہے “، یعنی زمین سے چشموں اور نہروں کا جاری کرنا، زمین کے پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرنا، کھیتیاں اور درخت اگانا، پہاڑوں کا گاڑنا تاکہ زمین سے پورا پورا فائدہ تم اٹھا سکو، یہ سب باتیں انسانوں کے فائدے کیلئے ہیں اور ان کے جانوروں کے فائدے کے لیے پھر وہ جانور بھی انہی کے فائدے کے لیے ہیں کہ بعض کا گوشت کھاتے ہیں بعض پر سواریاں لیتے ہیں اور اپنی عمر اس دنیا میں سکھ چین سے بسر کر رہے ہیں۔
10256
موت و حیات کی سرگزشت ٭٭
جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ ” تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] یعنی ” زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے “۔
اور جگہ ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ» [36-يس:81] ” کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کر دیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ ضرور وہ قادر ہے اور وہ ہی بڑا پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے “۔
آسمانوں کو اس نے بنایا یعنی بلند و بالا خوب چوڑا اور کشادہ اور بالکل برابر بنایا پھر اندھیری راتوں میں خوب چمکنے والے ستارے اس میں جڑ دیئے، رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور دن کو روشن اور نور والا بنایا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی پانی اور چارہ نکالا۔ سورۃ حم سجدہ میں یہ بیان گزر چکا ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے ہے ہاں اس کی برکات کا اظہار آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوا جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں، اس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے اور پہاڑوں کو اس نے خوب مضبوط گاڑ دیا ہے وہ حکمتوں والا صحیح علم والا ہے اور ساتھ ہی اپنی مخلوق پر بے حد مہربان ہے۔
10255
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا وہ ہلنے لگی پروردگار نے پہاڑوں کو پیدا کر کے زمین پر گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی فرشتوں کو اس سے سخت تر تعجب ہوا اور پوچھنے لگے: اے اللہ! تیری مخلوق میں ان پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت چیز کوئی اور ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں لوہا، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: آگ، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہاں پانی، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہوا۔ پوچھا: پروردگار کیا تیری مخلوق میں اس سے بھاری کوئی اور چیز ہے؟ فرمایا: ہاں ابن آدم وہ یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ سے جو خرچ کرتا ہے اس کی خبر پائیں ہاتھ کو بھی نہیں ہوتی“ [مسند احمد:124/3:ضعیف]
ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو وہ کانپنے لگی اور کہنے لگی مجھ پر تو آدم اور اس کی اولاد کو پیدا کرنے والا ہے جو اپنی گندگی مجھ پر ڈالیں گے اور میری پیٹھ پر تیری نافرمانیاں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ گاڑ کر زمین کو ٹھہرا دیا بہت سے پہاڑ تم دیکھ رہے ہو اور بہت سے تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہیں، زمین کا پہاڑوں کے بعد سکون حاصل کرنا بالکل ایسا ہی تھا جیسے اونٹ کو ذبح کرتے ہی اس کا گوشت تھرکتا رہتا ہے پھر کچھ دیر بعد ٹھہر جاتا ہے۔“
پھر فرماتا ہے کہ ” یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہے “، یعنی زمین سے چشموں اور نہروں کا جاری کرنا، زمین کے پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرنا، کھیتیاں اور درخت اگانا، پہاڑوں کا گاڑنا تاکہ زمین سے پورا پورا فائدہ تم اٹھا سکو، یہ سب باتیں انسانوں کے فائدے کیلئے ہیں اور ان کے جانوروں کے فائدے کے لیے پھر وہ جانور بھی انہی کے فائدے کے لیے ہیں کہ بعض کا گوشت کھاتے ہیں بعض پر سواریاں لیتے ہیں اور اپنی عمر اس دنیا میں سکھ چین سے بسر کر رہے ہیں۔
10256
موت و حیات کی سرگزشت ٭٭
جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ ” تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے “۔
جیسے اور جگہ ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [40-غافر:57] یعنی ” زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے “۔
اور جگہ ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ» [36-يس:81] ” کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کر دیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ ضرور وہ قادر ہے اور وہ ہی بڑا پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے “۔
آسمانوں کو اس نے بنایا یعنی بلند و بالا خوب چوڑا اور کشادہ اور بالکل برابر بنایا پھر اندھیری راتوں میں خوب چمکنے والے ستارے اس میں جڑ دیئے، رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور دن کو روشن اور نور والا بنایا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی پانی اور چارہ نکالا۔ سورۃ حم سجدہ میں یہ بیان گزر چکا ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے ہے ہاں اس کی برکات کا اظہار آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوا جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں، اس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے اور پہاڑوں کو اس نے خوب مضبوط گاڑ دیا ہے وہ حکمتوں والا صحیح علم والا ہے اور ساتھ ہی اپنی مخلوق پر بے حد مہربان ہے۔
10255
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا وہ ہلنے لگی پروردگار نے پہاڑوں کو پیدا کر کے زمین پر گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی فرشتوں کو اس سے سخت تر تعجب ہوا اور پوچھنے لگے: اے اللہ! تیری مخلوق میں ان پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت چیز کوئی اور ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں لوہا، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: آگ، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہاں پانی، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہوا۔ پوچھا: پروردگار کیا تیری مخلوق میں اس سے بھاری کوئی اور چیز ہے؟ فرمایا: ہاں ابن آدم وہ یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ سے جو خرچ کرتا ہے اس کی خبر پائیں ہاتھ کو بھی نہیں ہوتی“ [مسند احمد:124/3:ضعیف]
ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو وہ کانپنے لگی اور کہنے لگی مجھ پر تو آدم اور اس کی اولاد کو پیدا کرنے والا ہے جو اپنی گندگی مجھ پر ڈالیں گے اور میری پیٹھ پر تیری نافرمانیاں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ گاڑ کر زمین کو ٹھہرا دیا بہت سے پہاڑ تم دیکھ رہے ہو اور بہت سے تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہیں، زمین کا پہاڑوں کے بعد سکون حاصل کرنا بالکل ایسا ہی تھا جیسے اونٹ کو ذبح کرتے ہی اس کا گوشت تھرکتا رہتا ہے پھر کچھ دیر بعد ٹھہر جاتا ہے۔“
پھر فرماتا ہے کہ ” یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہے “، یعنی زمین سے چشموں اور نہروں کا جاری کرنا، زمین کے پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرنا، کھیتیاں اور درخت اگانا، پہاڑوں کا گاڑنا تاکہ زمین سے پورا پورا فائدہ تم اٹھا سکو، یہ سب باتیں انسانوں کے فائدے کیلئے ہیں اور ان کے جانوروں کے فائدے کے لیے پھر وہ جانور بھی انہی کے فائدے کے لیے ہیں کہ بعض کا گوشت کھاتے ہیں بعض پر سواریاں لیتے ہیں اور اپنی عمر اس دنیا میں سکھ چین سے بسر کر رہے ہیں۔
10256
انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات ٭٭
«طَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ» سے مراد قیامت کا دن ہے اس لیے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہو گا۔
جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ» [54-القمر:46] یعنی ” قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے “، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کر لے گا۔
جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» [89-الفجر:23] یعنی ” اس دن آدمی نصیحت حاصل کر لے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے “۔
10263
انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات ٭٭
«طَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ» سے مراد قیامت کا دن ہے اس لیے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہو گا۔
جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ» [54-القمر:46] یعنی ” قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے “، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کر لے گا۔
جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» [89-الفجر:23] یعنی ” اس دن آدمی نصیحت حاصل کر لے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے “۔
10263
انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات ٭٭
«طَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ» سے مراد قیامت کا دن ہے اس لیے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہو گا۔
جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ» [54-القمر:46] یعنی ” قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے “، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کر لے گا۔
جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» [89-الفجر:23] یعنی ” اس دن آدمی نصیحت حاصل کر لے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے “۔
10263
انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات ٭٭
«طَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ» سے مراد قیامت کا دن ہے اس لیے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہو گا۔
جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ» [54-القمر:46] یعنی ” قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے “، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کر لے گا۔
جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» [89-الفجر:23] یعنی ” اس دن آدمی نصیحت حاصل کر لے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے “۔
10263
باب
اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔
10267
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی “۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔
سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ [صحیح بخاری:50]
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے “۔
لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔
سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»
10268
باب
اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔
10267
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی “۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔
سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ [صحیح بخاری:50]
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے “۔
لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔
سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»
10268
باب
اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔
10267
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی “۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔
سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ [صحیح بخاری:50]
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے “۔
لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔
سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»
10268
باب
اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔
10267
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی “۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔
سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ [صحیح بخاری:50]
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے “۔
لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔
سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»
10268
باب
اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔
10267
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی “۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔
سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ [صحیح بخاری:50]
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے “۔
لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔
سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»
10268
باب
اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔
10267
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی “۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔
سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ [صحیح بخاری:50]
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے “۔
لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔
سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»
10268
باب
اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔
10267
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی “۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔
سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ [صحیح بخاری:50]
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے “۔
لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔
سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»
10268
باب
اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔
10267
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی “۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔
سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ [صحیح بخاری:50]
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے “۔
لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔
سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»
10268
باب
اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔
10267
پھر فرمایا کہ ” قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی “۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔
سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ [صحیح بخاری:50]
پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے “۔
لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔
سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»
10268