John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah An-Naazi'aat

Tafsir Ibn Kathir · Those who drag forth · 46 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

فرشتے موت اور ستارے ٭٭

اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔

بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔‏“

اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» [73-المزمل:14] ‏ ” جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے “۔

دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» [69-الحاقة:14] ‏ ” اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے “۔

10225

مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ ۔ [مسند احمد:5/136:حسن] ‏

ترمذی میں ہے کہ وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

10226

«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔

«حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم»، «سقر»، «جہنم»، «ہاویہ»، «حافرہ»، «لظی»، «حطمہ» وغیرہ۔

اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے “، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے،

جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏، ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے “۔

اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ‏ [16-النحل:77] ‏ ” امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب “۔

10227

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا “۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔

«سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔‏“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔‏“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔‏“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔

اور جگہ ہے «‏يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ‏ [14-إبراھیم:48] ‏، یعنی ” جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی “۔

اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ‏ [20-طه:105-106] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ “۔

اور جگہ ہے «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ‏ [18-الكهف:47] ‏ ” ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی “۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔

10228

فرشتے موت اور ستارے ٭٭

اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔

بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔‏“

اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» [73-المزمل:14] ‏ ” جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے “۔

دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» [69-الحاقة:14] ‏ ” اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے “۔

10225

مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ ۔ [مسند احمد:5/136:حسن] ‏

ترمذی میں ہے کہ وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

10226

«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔

«حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم»، «سقر»، «جہنم»، «ہاویہ»، «حافرہ»، «لظی»، «حطمہ» وغیرہ۔

اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے “، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے،

جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏، ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے “۔

اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ‏ [16-النحل:77] ‏ ” امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب “۔

10227

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا “۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔

«سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔‏“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔‏“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔‏“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔

اور جگہ ہے «‏يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ‏ [14-إبراھیم:48] ‏، یعنی ” جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی “۔

اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ‏ [20-طه:105-106] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ “۔

اور جگہ ہے «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ‏ [18-الكهف:47] ‏ ” ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی “۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔

10228

فرشتے موت اور ستارے ٭٭

اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔

بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔‏“

اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» [73-المزمل:14] ‏ ” جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے “۔

دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» [69-الحاقة:14] ‏ ” اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے “۔

10225

مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ ۔ [مسند احمد:5/136:حسن] ‏

ترمذی میں ہے کہ وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

10226

«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔

«حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم»، «سقر»، «جہنم»، «ہاویہ»، «حافرہ»، «لظی»، «حطمہ» وغیرہ۔

اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے “، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے،

جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏، ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے “۔

اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ‏ [16-النحل:77] ‏ ” امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب “۔

10227

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا “۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔

«سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔‏“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔‏“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔‏“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔

اور جگہ ہے «‏يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ‏ [14-إبراھیم:48] ‏، یعنی ” جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی “۔

اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ‏ [20-طه:105-106] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ “۔

اور جگہ ہے «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ‏ [18-الكهف:47] ‏ ” ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی “۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔

10228

فرشتے موت اور ستارے ٭٭

اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔

بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔‏“

اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» [73-المزمل:14] ‏ ” جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے “۔

دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» [69-الحاقة:14] ‏ ” اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے “۔

10225

مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ ۔ [مسند احمد:5/136:حسن] ‏

ترمذی میں ہے کہ وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

10226

«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔

«حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم»، «سقر»، «جہنم»، «ہاویہ»، «حافرہ»، «لظی»، «حطمہ» وغیرہ۔

اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے “، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے،

جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏، ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے “۔

اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ‏ [16-النحل:77] ‏ ” امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب “۔

10227

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا “۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔

«سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔‏“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔‏“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔‏“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔

اور جگہ ہے «‏يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ‏ [14-إبراھیم:48] ‏، یعنی ” جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی “۔

اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ‏ [20-طه:105-106] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ “۔

اور جگہ ہے «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ‏ [18-الكهف:47] ‏ ” ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی “۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔

10228

فرشتے موت اور ستارے ٭٭

اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔

بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔‏“

اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» [73-المزمل:14] ‏ ” جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے “۔

دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» [69-الحاقة:14] ‏ ” اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے “۔

10225

مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ ۔ [مسند احمد:5/136:حسن] ‏

ترمذی میں ہے کہ وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

10226

«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔

«حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم»، «سقر»، «جہنم»، «ہاویہ»، «حافرہ»، «لظی»، «حطمہ» وغیرہ۔

اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے “، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے،

جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏، ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے “۔

اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ‏ [16-النحل:77] ‏ ” امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب “۔

10227

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا “۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔

«سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔‏“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔‏“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔‏“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔

اور جگہ ہے «‏يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ‏ [14-إبراھیم:48] ‏، یعنی ” جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی “۔

اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ‏ [20-طه:105-106] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ “۔

اور جگہ ہے «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ‏ [18-الكهف:47] ‏ ” ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی “۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔

10228

فرشتے موت اور ستارے ٭٭

اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔

بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔‏“

اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» [73-المزمل:14] ‏ ” جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے “۔

دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» [69-الحاقة:14] ‏ ” اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے “۔

10225

مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ ۔ [مسند احمد:5/136:حسن] ‏

ترمذی میں ہے کہ وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

10226

«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔

«حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم»، «سقر»، «جہنم»، «ہاویہ»، «حافرہ»، «لظی»، «حطمہ» وغیرہ۔

اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے “، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے،

جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏، ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے “۔

اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ‏ [16-النحل:77] ‏ ” امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب “۔

10227

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا “۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔

«سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔‏“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔‏“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔‏“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔

اور جگہ ہے «‏يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ‏ [14-إبراھیم:48] ‏، یعنی ” جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی “۔

اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ‏ [20-طه:105-106] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ “۔

اور جگہ ہے «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ‏ [18-الكهف:47] ‏ ” ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی “۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔

10228

فرشتے موت اور ستارے ٭٭

اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔

بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔‏“

اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» [73-المزمل:14] ‏ ” جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے “۔

دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» [69-الحاقة:14] ‏ ” اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے “۔

10225

مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ ۔ [مسند احمد:5/136:حسن] ‏

ترمذی میں ہے کہ وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

10226

«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔

«حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم»، «سقر»، «جہنم»، «ہاویہ»، «حافرہ»، «لظی»، «حطمہ» وغیرہ۔

اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے “، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے،

جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏، ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے “۔

اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ‏ [16-النحل:77] ‏ ” امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب “۔

10227

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا “۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔

«سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔‏“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔‏“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔‏“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔

اور جگہ ہے «‏يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ‏ [14-إبراھیم:48] ‏، یعنی ” جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی “۔

اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ‏ [20-طه:105-106] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ “۔

اور جگہ ہے «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ‏ [18-الكهف:47] ‏ ” ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی “۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔

10228

فرشتے موت اور ستارے ٭٭

اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔

بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔‏“

اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» [73-المزمل:14] ‏ ” جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے “۔

دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» [69-الحاقة:14] ‏ ” اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے “۔

10225

مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ ۔ [مسند احمد:5/136:حسن] ‏

ترمذی میں ہے کہ وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

10226

«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔

«حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم»، «سقر»، «جہنم»، «ہاویہ»، «حافرہ»، «لظی»، «حطمہ» وغیرہ۔

اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے “، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے،

جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏، ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے “۔

اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ‏ [16-النحل:77] ‏ ” امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب “۔

10227

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا “۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔

«سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔‏“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔‏“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔‏“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔

اور جگہ ہے «‏يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ‏ [14-إبراھیم:48] ‏، یعنی ” جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی “۔

اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ‏ [20-طه:105-106] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ “۔

اور جگہ ہے «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ‏ [18-الكهف:47] ‏ ” ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی “۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔

10228

فرشتے موت اور ستارے ٭٭

اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔

بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔‏“

اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» [73-المزمل:14] ‏ ” جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے “۔

دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» [69-الحاقة:14] ‏ ” اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے “۔

10225

مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ ۔ [مسند احمد:5/136:حسن] ‏

ترمذی میں ہے کہ وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

10226

«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔

«حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم»، «سقر»، «جہنم»، «ہاویہ»، «حافرہ»، «لظی»، «حطمہ» وغیرہ۔

اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے “، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے،

جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏، ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے “۔

اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ‏ [16-النحل:77] ‏ ” امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب “۔

10227

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا “۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔

«سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔‏“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔‏“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔‏“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔

اور جگہ ہے «‏يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ‏ [14-إبراھیم:48] ‏، یعنی ” جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی “۔

اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ‏ [20-طه:105-106] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ “۔

اور جگہ ہے «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ‏ [18-الكهف:47] ‏ ” ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی “۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔

10228

فرشتے موت اور ستارے ٭٭

اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔

بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔‏“

اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» [73-المزمل:14] ‏ ” جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے “۔

دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» [69-الحاقة:14] ‏ ” اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے “۔

10225

مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ ۔ [مسند احمد:5/136:حسن] ‏

ترمذی میں ہے کہ وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

10226

«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔

«حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم»، «سقر»، «جہنم»، «ہاویہ»، «حافرہ»، «لظی»، «حطمہ» وغیرہ۔

اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے “، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے،

جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏، ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے “۔

اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ‏ [16-النحل:77] ‏ ” امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب “۔

10227

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا “۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔

«سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔‏“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔‏“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔‏“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔

اور جگہ ہے «‏يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ‏ [14-إبراھیم:48] ‏، یعنی ” جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی “۔

اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ‏ [20-طه:105-106] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ “۔

اور جگہ ہے «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ‏ [18-الكهف:47] ‏ ” ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی “۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔

10228

فرشتے موت اور ستارے ٭٭

اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔

بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔‏“

اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» [73-المزمل:14] ‏ ” جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے “۔

دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» [69-الحاقة:14] ‏ ” اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے “۔

10225

مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ ۔ [مسند احمد:5/136:حسن] ‏

ترمذی میں ہے کہ وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

10226

«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔

«حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم»، «سقر»، «جہنم»، «ہاویہ»، «حافرہ»، «لظی»، «حطمہ» وغیرہ۔

اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے “، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے،

جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏، ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے “۔

اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ‏ [16-النحل:77] ‏ ” امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب “۔

10227

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا “۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔

«سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔‏“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔‏“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔‏“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔

اور جگہ ہے «‏يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ‏ [14-إبراھیم:48] ‏، یعنی ” جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی “۔

اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ‏ [20-طه:105-106] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ “۔

اور جگہ ہے «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ‏ [18-الكهف:47] ‏ ” ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی “۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔

10228

فرشتے موت اور ستارے ٭٭

اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔

بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔‏“

اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» [73-المزمل:14] ‏ ” جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے “۔

دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» [69-الحاقة:14] ‏ ” اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے “۔

10225

مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ ۔ [مسند احمد:5/136:حسن] ‏

ترمذی میں ہے کہ وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

10226

«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔

«حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم»، «سقر»، «جہنم»، «ہاویہ»، «حافرہ»، «لظی»، «حطمہ» وغیرہ۔

اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے “، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے،

جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏، ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے “۔

اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ‏ [16-النحل:77] ‏ ” امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب “۔

10227

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا “۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔

«سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔‏“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔‏“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔‏“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔

اور جگہ ہے «‏يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ‏ [14-إبراھیم:48] ‏، یعنی ” جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی “۔

اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ‏ [20-طه:105-106] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ “۔

اور جگہ ہے «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ‏ [18-الكهف:47] ‏ ” ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی “۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔

10228

فرشتے موت اور ستارے ٭٭

اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔

بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔‏“

اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» [73-المزمل:14] ‏ ” جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے “۔

دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» [69-الحاقة:14] ‏ ” اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے “۔

10225

مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ ۔ [مسند احمد:5/136:حسن] ‏

ترمذی میں ہے کہ وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

10226

«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔

«حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم»، «سقر»، «جہنم»، «ہاویہ»، «حافرہ»، «لظی»، «حطمہ» وغیرہ۔

اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے “، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے،

جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏، ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے “۔

اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ‏ [16-النحل:77] ‏ ” امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب “۔

10227

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا “۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔

«سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔‏“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔‏“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔‏“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔

اور جگہ ہے «‏يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ‏ [14-إبراھیم:48] ‏، یعنی ” جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی “۔

اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ‏ [20-طه:105-106] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ “۔

اور جگہ ہے «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ‏ [18-الكهف:47] ‏ ” ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی “۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔

10228

فرشتے موت اور ستارے ٭٭

اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔

بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔‏“

اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔‏“

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» [73-المزمل:14] ‏ ” جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے “۔

دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» [69-الحاقة:14] ‏ ” اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے “۔

10225

مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ ۔ [مسند احمد:5/136:حسن] ‏

ترمذی میں ہے کہ وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

10226

«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔

«حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم»، «سقر»، «جہنم»، «ہاویہ»، «حافرہ»، «لظی»، «حطمہ» وغیرہ۔

اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے “، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے،

جیسے اور جگہ ہے «‏يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [17-الإسراء:52] ‏، ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے “۔

اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] ‏ ” ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔

اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ‏ [16-النحل:77] ‏ ” امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب “۔

10227

یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ” صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا “۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔

«سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔‏“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔‏“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔‏“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔

اور جگہ ہے «‏يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ‏ [14-إبراھیم:48] ‏، یعنی ” جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی “۔

اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ‏ [20-طه:105-106] ‏ ” لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ “۔

اور جگہ ہے «‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ‏ [18-الكهف:47] ‏ ” ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی “۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔

10228

معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ” اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا “۔

اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ” تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے “۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ” فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو “۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔

10242

لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔

اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» [28-القصص:38] ‏ یعنی ” میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو “۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں “۔

جیسے فرمایا «‏وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ‏ [28-القصص:41] ‏ یعنی ” ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے “۔

پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔

10243

معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ” اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا “۔

اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ” تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے “۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ” فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو “۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔

10242

لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔

اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» [28-القصص:38] ‏ یعنی ” میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو “۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں “۔

جیسے فرمایا «‏وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ‏ [28-القصص:41] ‏ یعنی ” ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے “۔

پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔

10243

معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ” اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا “۔

اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ” تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے “۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ” فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو “۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔

10242

لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔

اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» [28-القصص:38] ‏ یعنی ” میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو “۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں “۔

جیسے فرمایا «‏وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ‏ [28-القصص:41] ‏ یعنی ” ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے “۔

پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔

10243

معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ” اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا “۔

اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ” تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے “۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ” فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو “۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔

10242

لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔

اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» [28-القصص:38] ‏ یعنی ” میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو “۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں “۔

جیسے فرمایا «‏وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ‏ [28-القصص:41] ‏ یعنی ” ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے “۔

پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔

10243

معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ” اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا “۔

اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ” تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے “۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ” فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو “۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔

10242

لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔

اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» [28-القصص:38] ‏ یعنی ” میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو “۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں “۔

جیسے فرمایا «‏وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ‏ [28-القصص:41] ‏ یعنی ” ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے “۔

پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔

10243

معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ” اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا “۔

اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ” تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے “۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ” فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو “۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔

10242

لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔

اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» [28-القصص:38] ‏ یعنی ” میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو “۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں “۔

جیسے فرمایا «‏وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ‏ [28-القصص:41] ‏ یعنی ” ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے “۔

پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔

10243

معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ” اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا “۔

اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ” تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے “۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ” فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو “۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔

10242

لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔

اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» [28-القصص:38] ‏ یعنی ” میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو “۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں “۔

جیسے فرمایا «‏وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ‏ [28-القصص:41] ‏ یعنی ” ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے “۔

پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔

10243

معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ” اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا “۔

اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ” تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے “۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ” فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو “۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔

10242

لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔

اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» [28-القصص:38] ‏ یعنی ” میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو “۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں “۔

جیسے فرمایا «‏وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ‏ [28-القصص:41] ‏ یعنی ” ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے “۔

پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔

10243

معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ” اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا “۔

اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ” تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے “۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ” فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو “۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔

10242

لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔

اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» [28-القصص:38] ‏ یعنی ” میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو “۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں “۔

جیسے فرمایا «‏وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ‏ [28-القصص:41] ‏ یعنی ” ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے “۔

پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔

10243

معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ” اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا “۔

اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ” تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے “۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ” فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو “۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔

10242

لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔

اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» [28-القصص:38] ‏ یعنی ” میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو “۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں “۔

جیسے فرمایا «‏وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ‏ [28-القصص:41] ‏ یعنی ” ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے “۔

پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔

10243

معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ” اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا “۔

اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ” تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے “۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ” فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو “۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔

10242

لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔

اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» [28-القصص:38] ‏ یعنی ” میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو “۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں “۔

جیسے فرمایا «‏وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ‏ [28-القصص:41] ‏ یعنی ” ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے “۔

پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔

10243

معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ” اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا “۔

اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ” تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے “۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ” فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو “۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔

10242

لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔

اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» [28-القصص:38] ‏ یعنی ” میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو “۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں “۔

جیسے فرمایا «‏وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ‏ [28-القصص:41] ‏ یعنی ” ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے “۔

پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔

10243

موت و حیات کی سرگزشت ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ ” تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ‏ [40-غافر:57] ‏ یعنی ” زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے “۔

اور جگہ ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ» ‏ [36-يس:81] ‏ ” کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کر دیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ ضرور وہ قادر ہے اور وہ ہی بڑا پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے “۔

آسمانوں کو اس نے بنایا یعنی بلند و بالا خوب چوڑا اور کشادہ اور بالکل برابر بنایا پھر اندھیری راتوں میں خوب چمکنے والے ستارے اس میں جڑ دیئے، رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور دن کو روشن اور نور والا بنایا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی پانی اور چارہ نکالا۔ سورۃ حم سجدہ میں یہ بیان گزر چکا ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے ہے ہاں اس کی برکات کا اظہار آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوا جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں، اس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے اور پہاڑوں کو اس نے خوب مضبوط گاڑ دیا ہے وہ حکمتوں والا صحیح علم والا ہے اور ساتھ ہی اپنی مخلوق پر بے حد مہربان ہے۔

10255

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا وہ ہلنے لگی پروردگار نے پہاڑوں کو پیدا کر کے زمین پر گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی فرشتوں کو اس سے سخت تر تعجب ہوا اور پوچھنے لگے: اے اللہ! تیری مخلوق میں ان پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت چیز کوئی اور ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں لوہا، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: آگ، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہاں پانی، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہوا۔ پوچھا: پروردگار کیا تیری مخلوق میں اس سے بھاری کوئی اور چیز ہے؟ فرمایا: ہاں ابن آدم وہ یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ سے جو خرچ کرتا ہے اس کی خبر پائیں ہاتھ کو بھی نہیں ہوتی“ [مسند احمد:124/3:ضعیف] ‏

ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو وہ کانپنے لگی اور کہنے لگی مجھ پر تو آدم اور اس کی اولاد کو پیدا کرنے والا ہے جو اپنی گندگی مجھ پر ڈالیں گے اور میری پیٹھ پر تیری نافرمانیاں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ گاڑ کر زمین کو ٹھہرا دیا بہت سے پہاڑ تم دیکھ رہے ہو اور بہت سے تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہیں، زمین کا پہاڑوں کے بعد سکون حاصل کرنا بالکل ایسا ہی تھا جیسے اونٹ کو ذبح کرتے ہی اس کا گوشت تھرکتا رہتا ہے پھر کچھ دیر بعد ٹھہر جاتا ہے۔‏“

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہے “، یعنی زمین سے چشموں اور نہروں کا جاری کرنا، زمین کے پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرنا، کھیتیاں اور درخت اگانا، پہاڑوں کا گاڑنا تاکہ زمین سے پورا پورا فائدہ تم اٹھا سکو، یہ سب باتیں انسانوں کے فائدے کیلئے ہیں اور ان کے جانوروں کے فائدے کے لیے پھر وہ جانور بھی انہی کے فائدے کے لیے ہیں کہ بعض کا گوشت کھاتے ہیں بعض پر سواریاں لیتے ہیں اور اپنی عمر اس دنیا میں سکھ چین سے بسر کر رہے ہیں۔

10256

موت و حیات کی سرگزشت ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ ” تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ‏ [40-غافر:57] ‏ یعنی ” زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے “۔

اور جگہ ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ» ‏ [36-يس:81] ‏ ” کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کر دیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ ضرور وہ قادر ہے اور وہ ہی بڑا پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے “۔

آسمانوں کو اس نے بنایا یعنی بلند و بالا خوب چوڑا اور کشادہ اور بالکل برابر بنایا پھر اندھیری راتوں میں خوب چمکنے والے ستارے اس میں جڑ دیئے، رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور دن کو روشن اور نور والا بنایا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی پانی اور چارہ نکالا۔ سورۃ حم سجدہ میں یہ بیان گزر چکا ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے ہے ہاں اس کی برکات کا اظہار آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوا جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں، اس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے اور پہاڑوں کو اس نے خوب مضبوط گاڑ دیا ہے وہ حکمتوں والا صحیح علم والا ہے اور ساتھ ہی اپنی مخلوق پر بے حد مہربان ہے۔

10255

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا وہ ہلنے لگی پروردگار نے پہاڑوں کو پیدا کر کے زمین پر گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی فرشتوں کو اس سے سخت تر تعجب ہوا اور پوچھنے لگے: اے اللہ! تیری مخلوق میں ان پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت چیز کوئی اور ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں لوہا، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: آگ، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہاں پانی، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہوا۔ پوچھا: پروردگار کیا تیری مخلوق میں اس سے بھاری کوئی اور چیز ہے؟ فرمایا: ہاں ابن آدم وہ یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ سے جو خرچ کرتا ہے اس کی خبر پائیں ہاتھ کو بھی نہیں ہوتی“ [مسند احمد:124/3:ضعیف] ‏

ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو وہ کانپنے لگی اور کہنے لگی مجھ پر تو آدم اور اس کی اولاد کو پیدا کرنے والا ہے جو اپنی گندگی مجھ پر ڈالیں گے اور میری پیٹھ پر تیری نافرمانیاں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ گاڑ کر زمین کو ٹھہرا دیا بہت سے پہاڑ تم دیکھ رہے ہو اور بہت سے تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہیں، زمین کا پہاڑوں کے بعد سکون حاصل کرنا بالکل ایسا ہی تھا جیسے اونٹ کو ذبح کرتے ہی اس کا گوشت تھرکتا رہتا ہے پھر کچھ دیر بعد ٹھہر جاتا ہے۔‏“

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہے “، یعنی زمین سے چشموں اور نہروں کا جاری کرنا، زمین کے پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرنا، کھیتیاں اور درخت اگانا، پہاڑوں کا گاڑنا تاکہ زمین سے پورا پورا فائدہ تم اٹھا سکو، یہ سب باتیں انسانوں کے فائدے کیلئے ہیں اور ان کے جانوروں کے فائدے کے لیے پھر وہ جانور بھی انہی کے فائدے کے لیے ہیں کہ بعض کا گوشت کھاتے ہیں بعض پر سواریاں لیتے ہیں اور اپنی عمر اس دنیا میں سکھ چین سے بسر کر رہے ہیں۔

10256

موت و حیات کی سرگزشت ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ ” تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ‏ [40-غافر:57] ‏ یعنی ” زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے “۔

اور جگہ ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ» ‏ [36-يس:81] ‏ ” کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کر دیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ ضرور وہ قادر ہے اور وہ ہی بڑا پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے “۔

آسمانوں کو اس نے بنایا یعنی بلند و بالا خوب چوڑا اور کشادہ اور بالکل برابر بنایا پھر اندھیری راتوں میں خوب چمکنے والے ستارے اس میں جڑ دیئے، رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور دن کو روشن اور نور والا بنایا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی پانی اور چارہ نکالا۔ سورۃ حم سجدہ میں یہ بیان گزر چکا ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے ہے ہاں اس کی برکات کا اظہار آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوا جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں، اس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے اور پہاڑوں کو اس نے خوب مضبوط گاڑ دیا ہے وہ حکمتوں والا صحیح علم والا ہے اور ساتھ ہی اپنی مخلوق پر بے حد مہربان ہے۔

10255

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا وہ ہلنے لگی پروردگار نے پہاڑوں کو پیدا کر کے زمین پر گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی فرشتوں کو اس سے سخت تر تعجب ہوا اور پوچھنے لگے: اے اللہ! تیری مخلوق میں ان پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت چیز کوئی اور ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں لوہا، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: آگ، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہاں پانی، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہوا۔ پوچھا: پروردگار کیا تیری مخلوق میں اس سے بھاری کوئی اور چیز ہے؟ فرمایا: ہاں ابن آدم وہ یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ سے جو خرچ کرتا ہے اس کی خبر پائیں ہاتھ کو بھی نہیں ہوتی“ [مسند احمد:124/3:ضعیف] ‏

ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو وہ کانپنے لگی اور کہنے لگی مجھ پر تو آدم اور اس کی اولاد کو پیدا کرنے والا ہے جو اپنی گندگی مجھ پر ڈالیں گے اور میری پیٹھ پر تیری نافرمانیاں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ گاڑ کر زمین کو ٹھہرا دیا بہت سے پہاڑ تم دیکھ رہے ہو اور بہت سے تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہیں، زمین کا پہاڑوں کے بعد سکون حاصل کرنا بالکل ایسا ہی تھا جیسے اونٹ کو ذبح کرتے ہی اس کا گوشت تھرکتا رہتا ہے پھر کچھ دیر بعد ٹھہر جاتا ہے۔‏“

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہے “، یعنی زمین سے چشموں اور نہروں کا جاری کرنا، زمین کے پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرنا، کھیتیاں اور درخت اگانا، پہاڑوں کا گاڑنا تاکہ زمین سے پورا پورا فائدہ تم اٹھا سکو، یہ سب باتیں انسانوں کے فائدے کیلئے ہیں اور ان کے جانوروں کے فائدے کے لیے پھر وہ جانور بھی انہی کے فائدے کے لیے ہیں کہ بعض کا گوشت کھاتے ہیں بعض پر سواریاں لیتے ہیں اور اپنی عمر اس دنیا میں سکھ چین سے بسر کر رہے ہیں۔

10256

موت و حیات کی سرگزشت ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ ” تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ‏ [40-غافر:57] ‏ یعنی ” زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے “۔

اور جگہ ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ» ‏ [36-يس:81] ‏ ” کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کر دیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ ضرور وہ قادر ہے اور وہ ہی بڑا پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے “۔

آسمانوں کو اس نے بنایا یعنی بلند و بالا خوب چوڑا اور کشادہ اور بالکل برابر بنایا پھر اندھیری راتوں میں خوب چمکنے والے ستارے اس میں جڑ دیئے، رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور دن کو روشن اور نور والا بنایا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی پانی اور چارہ نکالا۔ سورۃ حم سجدہ میں یہ بیان گزر چکا ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے ہے ہاں اس کی برکات کا اظہار آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوا جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں، اس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے اور پہاڑوں کو اس نے خوب مضبوط گاڑ دیا ہے وہ حکمتوں والا صحیح علم والا ہے اور ساتھ ہی اپنی مخلوق پر بے حد مہربان ہے۔

10255

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا وہ ہلنے لگی پروردگار نے پہاڑوں کو پیدا کر کے زمین پر گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی فرشتوں کو اس سے سخت تر تعجب ہوا اور پوچھنے لگے: اے اللہ! تیری مخلوق میں ان پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت چیز کوئی اور ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں لوہا، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: آگ، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہاں پانی، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہوا۔ پوچھا: پروردگار کیا تیری مخلوق میں اس سے بھاری کوئی اور چیز ہے؟ فرمایا: ہاں ابن آدم وہ یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ سے جو خرچ کرتا ہے اس کی خبر پائیں ہاتھ کو بھی نہیں ہوتی“ [مسند احمد:124/3:ضعیف] ‏

ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو وہ کانپنے لگی اور کہنے لگی مجھ پر تو آدم اور اس کی اولاد کو پیدا کرنے والا ہے جو اپنی گندگی مجھ پر ڈالیں گے اور میری پیٹھ پر تیری نافرمانیاں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ گاڑ کر زمین کو ٹھہرا دیا بہت سے پہاڑ تم دیکھ رہے ہو اور بہت سے تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہیں، زمین کا پہاڑوں کے بعد سکون حاصل کرنا بالکل ایسا ہی تھا جیسے اونٹ کو ذبح کرتے ہی اس کا گوشت تھرکتا رہتا ہے پھر کچھ دیر بعد ٹھہر جاتا ہے۔‏“

پھر فرماتا ہے کہ ” یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہے “، یعنی زمین سے چشموں اور نہروں کا جاری کرنا، زمین کے پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرنا، کھیتیاں اور درخت اگانا، پہاڑوں کا گاڑنا تاکہ زمین سے پورا پورا فائدہ تم اٹھا سکو، یہ سب باتیں انسانوں کے فائدے کیلئے ہیں اور ان کے جانوروں کے فائدے کے لیے پھر وہ جانور بھی انہی کے فائدے کے لیے ہیں کہ بعض کا گوشت کھاتے ہیں بعض پر سواریاں لیتے ہیں اور اپنی عمر اس دنیا میں سکھ چین سے بسر کر رہے ہیں۔

10256

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com