Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-A'raaf
Tafsir Ibn Kathir · The Heights · 206 ayat · ayat 1–30 · Quran text →
باب
اس سورت کی ابتداء میں جو حروف ہیں، ان کے متعلق جو کچھ بیان ہمیں کرنا تھا، اسے تفصیل کے ساتھ سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں معہ اختلاف علماء کے ہم لکھ آئے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے معنی میں مروی ہے کہ ”اس سے مراد «اَنَا اللهُ اُفَصِّلُ» ہے یعنی میں اللہ ہوں، میں تفصیل وار بیان فرما رہا ہوں۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:14315]
صفحہ نمبر2844
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہ مروی ہے۔
”یہ کتاب قرآن کریم تیری جانب تیرے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہ کرنا، دل تنگ نہ ہونا، اس کے پہنچانے میں کسی سے نہ ڈرنا، نہ کسی کا لحاظ کرنا، بلکہ سابقہ اولوالعزم پیغمبروں علیہم السلام کی طرح صبر و استقامت کے ساتھ کلام اللہ کی تبلیغ مخلوق الٰہی میں کرنا۔ اس کا نزول اس لیے ہوا ہے کہ تو کافروں کو ڈرا کر ہوشیار اور چوکنا کر دے۔ یہ قرآن مومنوں کے لئے نصیحت و عبرت، وعظ و پند ہے۔“
اس کے بعد تمام دنیا کو حکم ہوتا ہے کہ ”اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری پیروی کرو، اس کے قدم بہ قدم چلو۔ یہ تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہے، کلام اللہ تمہارے پاس لایا ہے۔ وہ اللہ تم سب کا خالق، مالک ہے اور تمام جان داروں کا رب ہے۔ خبردار! ہرگز ہرگز نبی سے ہٹ کر دوسرے کی تابعداری نہ کرنا ورنہ حکم عدولی پر سزا ملے گی۔ افسوس! تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔“
جیسے فرمان ہے کہ ” گو تم چاہو لیکن اکثر لوگ اپنی بے ایمانی پر اڑے ہی رہیں گے۔ “ [12-يوسف:103]
اور آیت میں ہے: «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» [6-الأنعام:116] یعنی ” اگر تو انسانوں کی کثرت کی طرف جھک جائے گا تو وہ بھی تجھے بہکا کر ہی چین لیں گے۔ “
سورۃ یوسف میں فرمان ہے: ” اکثر لوگ اللہ کو مانتے ہوئے بھی شرک سے باز نہیں رہتے۔ “ [12-يوسف:106]
صفحہ نمبر2845
باب
اس سورت کی ابتداء میں جو حروف ہیں، ان کے متعلق جو کچھ بیان ہمیں کرنا تھا، اسے تفصیل کے ساتھ سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں معہ اختلاف علماء کے ہم لکھ آئے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے معنی میں مروی ہے کہ ”اس سے مراد «اَنَا اللهُ اُفَصِّلُ» ہے یعنی میں اللہ ہوں، میں تفصیل وار بیان فرما رہا ہوں۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:14315]
صفحہ نمبر2844
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہ مروی ہے۔
”یہ کتاب قرآن کریم تیری جانب تیرے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہ کرنا، دل تنگ نہ ہونا، اس کے پہنچانے میں کسی سے نہ ڈرنا، نہ کسی کا لحاظ کرنا، بلکہ سابقہ اولوالعزم پیغمبروں علیہم السلام کی طرح صبر و استقامت کے ساتھ کلام اللہ کی تبلیغ مخلوق الٰہی میں کرنا۔ اس کا نزول اس لیے ہوا ہے کہ تو کافروں کو ڈرا کر ہوشیار اور چوکنا کر دے۔ یہ قرآن مومنوں کے لئے نصیحت و عبرت، وعظ و پند ہے۔“
اس کے بعد تمام دنیا کو حکم ہوتا ہے کہ ”اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری پیروی کرو، اس کے قدم بہ قدم چلو۔ یہ تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہے، کلام اللہ تمہارے پاس لایا ہے۔ وہ اللہ تم سب کا خالق، مالک ہے اور تمام جان داروں کا رب ہے۔ خبردار! ہرگز ہرگز نبی سے ہٹ کر دوسرے کی تابعداری نہ کرنا ورنہ حکم عدولی پر سزا ملے گی۔ افسوس! تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔“
جیسے فرمان ہے کہ ” گو تم چاہو لیکن اکثر لوگ اپنی بے ایمانی پر اڑے ہی رہیں گے۔ “ [12-يوسف:103]
اور آیت میں ہے: «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» [6-الأنعام:116] یعنی ” اگر تو انسانوں کی کثرت کی طرف جھک جائے گا تو وہ بھی تجھے بہکا کر ہی چین لیں گے۔ “
سورۃ یوسف میں فرمان ہے: ” اکثر لوگ اللہ کو مانتے ہوئے بھی شرک سے باز نہیں رہتے۔ “ [12-يوسف:106]
صفحہ نمبر2845
باب
اس سورت کی ابتداء میں جو حروف ہیں، ان کے متعلق جو کچھ بیان ہمیں کرنا تھا، اسے تفصیل کے ساتھ سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں معہ اختلاف علماء کے ہم لکھ آئے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے معنی میں مروی ہے کہ ”اس سے مراد «اَنَا اللهُ اُفَصِّلُ» ہے یعنی میں اللہ ہوں، میں تفصیل وار بیان فرما رہا ہوں۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:14315]
صفحہ نمبر2844
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہ مروی ہے۔
”یہ کتاب قرآن کریم تیری جانب تیرے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہ کرنا، دل تنگ نہ ہونا، اس کے پہنچانے میں کسی سے نہ ڈرنا، نہ کسی کا لحاظ کرنا، بلکہ سابقہ اولوالعزم پیغمبروں علیہم السلام کی طرح صبر و استقامت کے ساتھ کلام اللہ کی تبلیغ مخلوق الٰہی میں کرنا۔ اس کا نزول اس لیے ہوا ہے کہ تو کافروں کو ڈرا کر ہوشیار اور چوکنا کر دے۔ یہ قرآن مومنوں کے لئے نصیحت و عبرت، وعظ و پند ہے۔“
اس کے بعد تمام دنیا کو حکم ہوتا ہے کہ ”اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری پیروی کرو، اس کے قدم بہ قدم چلو۔ یہ تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہے، کلام اللہ تمہارے پاس لایا ہے۔ وہ اللہ تم سب کا خالق، مالک ہے اور تمام جان داروں کا رب ہے۔ خبردار! ہرگز ہرگز نبی سے ہٹ کر دوسرے کی تابعداری نہ کرنا ورنہ حکم عدولی پر سزا ملے گی۔ افسوس! تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔“
جیسے فرمان ہے کہ ” گو تم چاہو لیکن اکثر لوگ اپنی بے ایمانی پر اڑے ہی رہیں گے۔ “ [12-يوسف:103]
اور آیت میں ہے: «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» [6-الأنعام:116] یعنی ” اگر تو انسانوں کی کثرت کی طرف جھک جائے گا تو وہ بھی تجھے بہکا کر ہی چین لیں گے۔ “
سورۃ یوسف میں فرمان ہے: ” اکثر لوگ اللہ کو مانتے ہوئے بھی شرک سے باز نہیں رہتے۔ “ [12-يوسف:106]
صفحہ نمبر2845
سابقہ باغیوں کی بستیوں کے کھنڈرات باعث عبرت ہیں ٭٭
ان لوگوں کو جو ہمارے رسولوں کی مخالفت کرتے تھے، انہیں جھٹلاتے تھے، تم سے پہلے ہم ہلاک کر چکے ہیں۔ دنیا اور آخرت کی ذلت ان پر برس پڑی۔ جیسے فرمان ہے: ”تجھ سے اگلے رسولوں سے بھی مذاق کیا گیا، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ مذاق کرنے والوں کے مذاق نے انہیں تہہ و بالا کر دیا۔“
ایک اور آیت میں ہے: ”بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے غارت کر دیا جو اب تک الٹی پڑی ہیں۔“
اور جگہ ارشاد ہے: بہت سے اتراتے ہوئے لوگوں کے شہر ہم نے ویران کر دیئے۔ دیکھ لو کہ اب تک ان کے کھنڈرات تمہارے سامنے ہیں جو بہت کم آباد ہوئے۔ حقیقتاً وارث و مالک ہم ہی ہیں۔ ایسے ظالموں کے پاس ہمارے عذاب اچانک آ گئے اور وہ اپنی غفلتوں اور عیاشیوں میں مشغول تھے۔ کہیں دن کو دوپہر کے آرام کے وقت، کہیں رات کے سونے کے وقت۔
صفحہ نمبر2848
چنانچہ ایک آیت میں ہے «أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ» [7-الأعراف:97] یعنی ” لوگ اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ان کے سوتے ہوئے راتوں رات اچانک ہمارا عذاب آ جائے؟ یا انہیں ڈر نہیں کہ دن دیہاڑے دوپہر کو ان کے آرام کے وقت ان پر ہمارے عذاب آ جائیں؟ “
اور آیت میں ہے: کیا مکاریوں سے ہماری نافرمانیاں کرنے والے اس بات سے نڈر ہو گئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے؟ یا ان کے پاس عذاب الٰہی اس طرح آ جائیں کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے، یا اللہ انہیں ان کی بے خبری میں آرام کی گھڑیوں میں ہی پکڑ لے۔ کوئی نہیں جو اللہ کو عاجز کر سکے، یہ تو رب کی رحمت و رافت ہے جو گنہگار زمین پر چلتے پھرتے ہیں۔ عذاب رب آ جانے کے بعد تو یہ خود اپنی زبانوں سے اپنے گناہوں کا اقرار کر لیں گے لیکن اس وقت کیا نفع؟ اسی مضمون کو آیت «وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ» [21-الأنبياء:11] میں بیان فرمایا ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر ختم نہیں کر دیتا، انہیں عذاب نہیں کرتا۔ عبدالملک سے جب یہ حدیث ان کے شاگردوں نے سنی تو دریافت کیا کہ اس کی صورت کیا ہے؟ تو آپ نے یہ آیت «فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا إِلَّا أَن قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ» پڑھ سنائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14328:منقطع]
پھر فرمایا: امتوں سے بھی، ان کے رسولوں سے بھی یعنی سب سے قیامت کے دن سوال ہو گا۔
صفحہ نمبر2849
جیسے فرمان ہے «وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ» [28-القصص:65] یعنی ” اس دن ندا کی جائے گی اور دریافت کیا جائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ “ اس آیت میں امتوں سے سوال کیا جانا بیان کیا گیا ہے۔
اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ» [5-المائدة:109] ” رسولوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں، غیب کا جاننے والا تو ہی ہے۔ “ پس امت سے رسولوں کی قبولیت کی بابت اور رسولوں سے تبلیغ کی بابت قیامت کے دن سوال ہو گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تم میں سے ہر ایک بااختیار ہے اور اپنے زیر اختیار لوگوں کی بابت اس سے سوال کیا جانے والا ہے۔ بادشاہ سے اس کی رعایا کا، ہر آدمی سے اس کے اہل و عیال کا، ہر عورت سے اس کے خاوند کے گھر کا، ہر غلام سے اس کے آقا کے مال کا سوال ہو گا۔ راوی حدیث طاؤس نے اس حدیث کو بیان فرما کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ اس زیادتی کے بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم کی نکالی ہوئی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:893] اور زیادتی ابن مردویہ نے نقل کی ہے۔
قیامت کے دن اعمال نامے رکھے جائیں گے اور سارے اعمال ظاہر ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اعمال کی خبر دے گا۔ کسی کے عمل کے وقت اللہ غائب نہ تھا۔ ہر ایک چھوٹے بڑے، چھپے کھلے عمل کی اللہ کی طرف سے خبر دی جائے گی۔ اللہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے، اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ نہ وہ کسی چیز سے غافل ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے سینوں کی چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا ہے۔ ” ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے۔ زمین کی اندھیریوں میں جو دانہ ہوتا ہے، اسے بھی وہ جانتا ہے۔ تر و خشک چیز اس کے پاس کھلی کتاب میں موجود ہے۔ “ [6-الأنعام:59]
صفحہ نمبر2850
سابقہ باغیوں کی بستیوں کے کھنڈرات باعث عبرت ہیں ٭٭
ان لوگوں کو جو ہمارے رسولوں کی مخالفت کرتے تھے، انہیں جھٹلاتے تھے، تم سے پہلے ہم ہلاک کر چکے ہیں۔ دنیا اور آخرت کی ذلت ان پر برس پڑی۔ جیسے فرمان ہے: ”تجھ سے اگلے رسولوں سے بھی مذاق کیا گیا، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ مذاق کرنے والوں کے مذاق نے انہیں تہہ و بالا کر دیا۔“
ایک اور آیت میں ہے: ”بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے غارت کر دیا جو اب تک الٹی پڑی ہیں۔“
اور جگہ ارشاد ہے: بہت سے اتراتے ہوئے لوگوں کے شہر ہم نے ویران کر دیئے۔ دیکھ لو کہ اب تک ان کے کھنڈرات تمہارے سامنے ہیں جو بہت کم آباد ہوئے۔ حقیقتاً وارث و مالک ہم ہی ہیں۔ ایسے ظالموں کے پاس ہمارے عذاب اچانک آ گئے اور وہ اپنی غفلتوں اور عیاشیوں میں مشغول تھے۔ کہیں دن کو دوپہر کے آرام کے وقت، کہیں رات کے سونے کے وقت۔
صفحہ نمبر2848
چنانچہ ایک آیت میں ہے «أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ» [7-الأعراف:97] یعنی ” لوگ اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ان کے سوتے ہوئے راتوں رات اچانک ہمارا عذاب آ جائے؟ یا انہیں ڈر نہیں کہ دن دیہاڑے دوپہر کو ان کے آرام کے وقت ان پر ہمارے عذاب آ جائیں؟ “
اور آیت میں ہے: کیا مکاریوں سے ہماری نافرمانیاں کرنے والے اس بات سے نڈر ہو گئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے؟ یا ان کے پاس عذاب الٰہی اس طرح آ جائیں کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے، یا اللہ انہیں ان کی بے خبری میں آرام کی گھڑیوں میں ہی پکڑ لے۔ کوئی نہیں جو اللہ کو عاجز کر سکے، یہ تو رب کی رحمت و رافت ہے جو گنہگار زمین پر چلتے پھرتے ہیں۔ عذاب رب آ جانے کے بعد تو یہ خود اپنی زبانوں سے اپنے گناہوں کا اقرار کر لیں گے لیکن اس وقت کیا نفع؟ اسی مضمون کو آیت «وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ» [21-الأنبياء:11] میں بیان فرمایا ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر ختم نہیں کر دیتا، انہیں عذاب نہیں کرتا۔ عبدالملک سے جب یہ حدیث ان کے شاگردوں نے سنی تو دریافت کیا کہ اس کی صورت کیا ہے؟ تو آپ نے یہ آیت «فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا إِلَّا أَن قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ» پڑھ سنائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14328:منقطع]
پھر فرمایا: امتوں سے بھی، ان کے رسولوں سے بھی یعنی سب سے قیامت کے دن سوال ہو گا۔
صفحہ نمبر2849
جیسے فرمان ہے «وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ» [28-القصص:65] یعنی ” اس دن ندا کی جائے گی اور دریافت کیا جائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ “ اس آیت میں امتوں سے سوال کیا جانا بیان کیا گیا ہے۔
اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ» [5-المائدة:109] ” رسولوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں، غیب کا جاننے والا تو ہی ہے۔ “ پس امت سے رسولوں کی قبولیت کی بابت اور رسولوں سے تبلیغ کی بابت قیامت کے دن سوال ہو گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تم میں سے ہر ایک بااختیار ہے اور اپنے زیر اختیار لوگوں کی بابت اس سے سوال کیا جانے والا ہے۔ بادشاہ سے اس کی رعایا کا، ہر آدمی سے اس کے اہل و عیال کا، ہر عورت سے اس کے خاوند کے گھر کا، ہر غلام سے اس کے آقا کے مال کا سوال ہو گا۔ راوی حدیث طاؤس نے اس حدیث کو بیان فرما کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ اس زیادتی کے بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم کی نکالی ہوئی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:893] اور زیادتی ابن مردویہ نے نقل کی ہے۔
قیامت کے دن اعمال نامے رکھے جائیں گے اور سارے اعمال ظاہر ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اعمال کی خبر دے گا۔ کسی کے عمل کے وقت اللہ غائب نہ تھا۔ ہر ایک چھوٹے بڑے، چھپے کھلے عمل کی اللہ کی طرف سے خبر دی جائے گی۔ اللہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے، اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ نہ وہ کسی چیز سے غافل ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے سینوں کی چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا ہے۔ ” ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے۔ زمین کی اندھیریوں میں جو دانہ ہوتا ہے، اسے بھی وہ جانتا ہے۔ تر و خشک چیز اس کے پاس کھلی کتاب میں موجود ہے۔ “ [6-الأنعام:59]
صفحہ نمبر2850
سابقہ باغیوں کی بستیوں کے کھنڈرات باعث عبرت ہیں ٭٭
ان لوگوں کو جو ہمارے رسولوں کی مخالفت کرتے تھے، انہیں جھٹلاتے تھے، تم سے پہلے ہم ہلاک کر چکے ہیں۔ دنیا اور آخرت کی ذلت ان پر برس پڑی۔ جیسے فرمان ہے: ”تجھ سے اگلے رسولوں سے بھی مذاق کیا گیا، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ مذاق کرنے والوں کے مذاق نے انہیں تہہ و بالا کر دیا۔“
ایک اور آیت میں ہے: ”بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے غارت کر دیا جو اب تک الٹی پڑی ہیں۔“
اور جگہ ارشاد ہے: بہت سے اتراتے ہوئے لوگوں کے شہر ہم نے ویران کر دیئے۔ دیکھ لو کہ اب تک ان کے کھنڈرات تمہارے سامنے ہیں جو بہت کم آباد ہوئے۔ حقیقتاً وارث و مالک ہم ہی ہیں۔ ایسے ظالموں کے پاس ہمارے عذاب اچانک آ گئے اور وہ اپنی غفلتوں اور عیاشیوں میں مشغول تھے۔ کہیں دن کو دوپہر کے آرام کے وقت، کہیں رات کے سونے کے وقت۔
صفحہ نمبر2848
چنانچہ ایک آیت میں ہے «أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ» [7-الأعراف:97] یعنی ” لوگ اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ان کے سوتے ہوئے راتوں رات اچانک ہمارا عذاب آ جائے؟ یا انہیں ڈر نہیں کہ دن دیہاڑے دوپہر کو ان کے آرام کے وقت ان پر ہمارے عذاب آ جائیں؟ “
اور آیت میں ہے: کیا مکاریوں سے ہماری نافرمانیاں کرنے والے اس بات سے نڈر ہو گئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے؟ یا ان کے پاس عذاب الٰہی اس طرح آ جائیں کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے، یا اللہ انہیں ان کی بے خبری میں آرام کی گھڑیوں میں ہی پکڑ لے۔ کوئی نہیں جو اللہ کو عاجز کر سکے، یہ تو رب کی رحمت و رافت ہے جو گنہگار زمین پر چلتے پھرتے ہیں۔ عذاب رب آ جانے کے بعد تو یہ خود اپنی زبانوں سے اپنے گناہوں کا اقرار کر لیں گے لیکن اس وقت کیا نفع؟ اسی مضمون کو آیت «وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ» [21-الأنبياء:11] میں بیان فرمایا ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر ختم نہیں کر دیتا، انہیں عذاب نہیں کرتا۔ عبدالملک سے جب یہ حدیث ان کے شاگردوں نے سنی تو دریافت کیا کہ اس کی صورت کیا ہے؟ تو آپ نے یہ آیت «فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا إِلَّا أَن قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ» پڑھ سنائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14328:منقطع]
پھر فرمایا: امتوں سے بھی، ان کے رسولوں سے بھی یعنی سب سے قیامت کے دن سوال ہو گا۔
صفحہ نمبر2849
جیسے فرمان ہے «وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ» [28-القصص:65] یعنی ” اس دن ندا کی جائے گی اور دریافت کیا جائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ “ اس آیت میں امتوں سے سوال کیا جانا بیان کیا گیا ہے۔
اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ» [5-المائدة:109] ” رسولوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں، غیب کا جاننے والا تو ہی ہے۔ “ پس امت سے رسولوں کی قبولیت کی بابت اور رسولوں سے تبلیغ کی بابت قیامت کے دن سوال ہو گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تم میں سے ہر ایک بااختیار ہے اور اپنے زیر اختیار لوگوں کی بابت اس سے سوال کیا جانے والا ہے۔ بادشاہ سے اس کی رعایا کا، ہر آدمی سے اس کے اہل و عیال کا، ہر عورت سے اس کے خاوند کے گھر کا، ہر غلام سے اس کے آقا کے مال کا سوال ہو گا۔ راوی حدیث طاؤس نے اس حدیث کو بیان فرما کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ اس زیادتی کے بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم کی نکالی ہوئی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:893] اور زیادتی ابن مردویہ نے نقل کی ہے۔
قیامت کے دن اعمال نامے رکھے جائیں گے اور سارے اعمال ظاہر ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اعمال کی خبر دے گا۔ کسی کے عمل کے وقت اللہ غائب نہ تھا۔ ہر ایک چھوٹے بڑے، چھپے کھلے عمل کی اللہ کی طرف سے خبر دی جائے گی۔ اللہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے، اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ نہ وہ کسی چیز سے غافل ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے سینوں کی چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا ہے۔ ” ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے۔ زمین کی اندھیریوں میں جو دانہ ہوتا ہے، اسے بھی وہ جانتا ہے۔ تر و خشک چیز اس کے پاس کھلی کتاب میں موجود ہے۔ “ [6-الأنعام:59]
صفحہ نمبر2850
سابقہ باغیوں کی بستیوں کے کھنڈرات باعث عبرت ہیں ٭٭
ان لوگوں کو جو ہمارے رسولوں کی مخالفت کرتے تھے، انہیں جھٹلاتے تھے، تم سے پہلے ہم ہلاک کر چکے ہیں۔ دنیا اور آخرت کی ذلت ان پر برس پڑی۔ جیسے فرمان ہے: ”تجھ سے اگلے رسولوں سے بھی مذاق کیا گیا، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ مذاق کرنے والوں کے مذاق نے انہیں تہہ و بالا کر دیا۔“
ایک اور آیت میں ہے: ”بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے غارت کر دیا جو اب تک الٹی پڑی ہیں۔“
اور جگہ ارشاد ہے: بہت سے اتراتے ہوئے لوگوں کے شہر ہم نے ویران کر دیئے۔ دیکھ لو کہ اب تک ان کے کھنڈرات تمہارے سامنے ہیں جو بہت کم آباد ہوئے۔ حقیقتاً وارث و مالک ہم ہی ہیں۔ ایسے ظالموں کے پاس ہمارے عذاب اچانک آ گئے اور وہ اپنی غفلتوں اور عیاشیوں میں مشغول تھے۔ کہیں دن کو دوپہر کے آرام کے وقت، کہیں رات کے سونے کے وقت۔
صفحہ نمبر2848
چنانچہ ایک آیت میں ہے «أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ» [7-الأعراف:97] یعنی ” لوگ اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ان کے سوتے ہوئے راتوں رات اچانک ہمارا عذاب آ جائے؟ یا انہیں ڈر نہیں کہ دن دیہاڑے دوپہر کو ان کے آرام کے وقت ان پر ہمارے عذاب آ جائیں؟ “
اور آیت میں ہے: کیا مکاریوں سے ہماری نافرمانیاں کرنے والے اس بات سے نڈر ہو گئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے؟ یا ان کے پاس عذاب الٰہی اس طرح آ جائیں کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے، یا اللہ انہیں ان کی بے خبری میں آرام کی گھڑیوں میں ہی پکڑ لے۔ کوئی نہیں جو اللہ کو عاجز کر سکے، یہ تو رب کی رحمت و رافت ہے جو گنہگار زمین پر چلتے پھرتے ہیں۔ عذاب رب آ جانے کے بعد تو یہ خود اپنی زبانوں سے اپنے گناہوں کا اقرار کر لیں گے لیکن اس وقت کیا نفع؟ اسی مضمون کو آیت «وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ» [21-الأنبياء:11] میں بیان فرمایا ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر ختم نہیں کر دیتا، انہیں عذاب نہیں کرتا۔ عبدالملک سے جب یہ حدیث ان کے شاگردوں نے سنی تو دریافت کیا کہ اس کی صورت کیا ہے؟ تو آپ نے یہ آیت «فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا إِلَّا أَن قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ» پڑھ سنائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14328:منقطع]
پھر فرمایا: امتوں سے بھی، ان کے رسولوں سے بھی یعنی سب سے قیامت کے دن سوال ہو گا۔
صفحہ نمبر2849
جیسے فرمان ہے «وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ» [28-القصص:65] یعنی ” اس دن ندا کی جائے گی اور دریافت کیا جائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ “ اس آیت میں امتوں سے سوال کیا جانا بیان کیا گیا ہے۔
اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ» [5-المائدة:109] ” رسولوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں، غیب کا جاننے والا تو ہی ہے۔ “ پس امت سے رسولوں کی قبولیت کی بابت اور رسولوں سے تبلیغ کی بابت قیامت کے دن سوال ہو گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تم میں سے ہر ایک بااختیار ہے اور اپنے زیر اختیار لوگوں کی بابت اس سے سوال کیا جانے والا ہے۔ بادشاہ سے اس کی رعایا کا، ہر آدمی سے اس کے اہل و عیال کا، ہر عورت سے اس کے خاوند کے گھر کا، ہر غلام سے اس کے آقا کے مال کا سوال ہو گا۔ راوی حدیث طاؤس نے اس حدیث کو بیان فرما کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ اس زیادتی کے بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم کی نکالی ہوئی بھی ہے۔ [صحیح بخاری:893] اور زیادتی ابن مردویہ نے نقل کی ہے۔
قیامت کے دن اعمال نامے رکھے جائیں گے اور سارے اعمال ظاہر ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اعمال کی خبر دے گا۔ کسی کے عمل کے وقت اللہ غائب نہ تھا۔ ہر ایک چھوٹے بڑے، چھپے کھلے عمل کی اللہ کی طرف سے خبر دی جائے گی۔ اللہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے، اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ نہ وہ کسی چیز سے غافل ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے سینوں کی چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا ہے۔ ” ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے۔ زمین کی اندھیریوں میں جو دانہ ہوتا ہے، اسے بھی وہ جانتا ہے۔ تر و خشک چیز اس کے پاس کھلی کتاب میں موجود ہے۔ “ [6-الأنعام:59]
صفحہ نمبر2850
میزان اور اعمال کا دین ٭٭
قیامت کے دن نیکی، بدی، انصاف و عدل کے ساتھ تولی جائے گی، اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ جیسے فرمان ہے «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» [21-الأنبياء:47] ” قیامت کے دن ہم عدل کا ترازو رکھیں گے، کسی پر کوئی ظلم نہ ہو گا، رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہو گا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے میں کافی ہیں۔ “
اور آیت میں ہے: ” اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، وہ نیکی کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ “ [4-النساء:40]
سورۃ القارعہ میں فرمایا: ” جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا اسے عیش و نشاط کی زندگی ملی اور جس کا نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے جو بھڑکتی ہوئی آگ کے خزانے کا نام ہے۔ “ [101-القارعة:6-11]
صفحہ نمبر2854
اور آیت میں ہے «فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ» [23-المؤمنون:101] یعنی ” جب نفحہ پھونک دیا جائے گا، سارے رشتے ناطے اور نسب حسب ٹوٹ جائیں گے، کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا۔ اگر تول میں نیک اعمال بڑھ گئے تو فلاح پا لی ورنہ خسارے کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔ “
صفحہ نمبر2855
فصل ٭٭
کوئی تو کہتا ہے کہ خود اعمال تولے جائیں گے، کوئی کہتا ہے: نامہ اعمال تولے جائیں گے۔ کوئی کہتا ہے: خود عمل کرنے والے تولے جائیں گے۔ ان تینوں قولوں کو اس طرح جمع کرنا بھی ممکن ہے کہ ہم کہیں یہ سب صحیح ہیں۔ کبھی اعمال تولے جائیں گے، کبھی نامہ اعمال، کبھی خود اعمال کرنے والے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ان تینوں باتوں کی دلیلیں بھی موجود ہیں۔ پہلے قول کا مطلب یہ ہے کہ اعمال گو ایک بےجسم چیز ہیں لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں جسم عطا فرمائے گا جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے: سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران قیامت کے دن دو سائبانوں کی یا دو ابر کی یا پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے دو جھنڈ کی صورت میں آئیں گی۔ [صحیح مسلم:805]
اور حدیث میں ہے کہ قرآن اپنے قاری اور عامل کے پاس ایک نوجوان خوش شکل، نورانی چہرے والے کی صورت میں آئے گا۔ یہ اسے دیکھ کر پوچھے گا کہ تو کون ہے؟ یہ کہے گا: میں قرآن ہوں جو تجھے راتوں کی نیند نہیں سونے دیتا تھا اور دنوں میں پانی پینے سے روکتا تھا۔ [سنن ابن ماجه:3781، قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی حدیث میں، جس میں قبر کے سوال جواب کا ذکر ہے، اس میں یہ بھی فرمان ہے کہ مومن کے پاس ایک نوجوان خوبصورت، خوشبودار آئے گا۔ یہ اس سے پوچھے گا کہ تو کون ہے؟ وہ جواب دے گا کہ میں تیرا نیک عمل ہوں۔ [مسند احمد:287/4:صحیح] اور کافر و منافق کے پاس اس کے برخلاف شخص کے آنے کا بیان ہے۔
یہ تو تھیں پہلے قول کی دلیلیں۔ دوسرے قول کی دلیلیں یہ ہیں:
صفحہ نمبر2856
ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص کے سامنے اس کے گناہوں کے ننانوے دفتر پھیلائے جائیں گے جس میں سے ہر ایک اتنا بڑا ہو گا جتنی دور تک نظر پہنچے۔ پھر ایک پرچہ نیکی کا لایا جائے گا جس پر «لَا اِلٰہَ اِلَا اللہُ» ہو گا۔ یہ کہے گا: یااللہ! اتنا سا پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو اس سے بےخطر رہ کہ تجھ پر ظلم کیا جائے۔ اب وہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلہ میں نیکی کے پلڑے میں رکھا جائے گا تو وہ سب دفتر اونچے ہو جائیں گے اور یہ سب سے زیادہ وزن دار اور بھاری ہو جائیں گے۔ [سنن ترمذي:2639، قال الشيخ الألباني:صحیح] (ترمذی)
تیسرا قول بھی دلیل رکھتا ہے: حدیث میں ہے: ایک بہت موٹا تازہ گنہگار انسان اللہ کے سامنے لایا جائے گا لیکن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن اللہ کے پاس اس کا نہ ہو گا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَاىِٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا» [18-الكهف:105] ” ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن قائم نہ کریں گے۔ “ [صحیح بخاری:4729]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تعریف میں جو حدیثیں ہیں، ان میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی پتلی پنڈلیوں پہ نہ جانا۔ اللہ کی قسم! اللہ کے نزدیک یہ احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزن دار ہے۔ [مسند احمد:420/1:حسن]
صفحہ نمبر2857
میزان اور اعمال کا دین ٭٭
قیامت کے دن نیکی، بدی، انصاف و عدل کے ساتھ تولی جائے گی، اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ جیسے فرمان ہے «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» [21-الأنبياء:47] ” قیامت کے دن ہم عدل کا ترازو رکھیں گے، کسی پر کوئی ظلم نہ ہو گا، رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہو گا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے میں کافی ہیں۔ “
اور آیت میں ہے: ” اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، وہ نیکی کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ “ [4-النساء:40]
سورۃ القارعہ میں فرمایا: ” جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا اسے عیش و نشاط کی زندگی ملی اور جس کا نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے جو بھڑکتی ہوئی آگ کے خزانے کا نام ہے۔ “ [101-القارعة:6-11]
صفحہ نمبر2854
اور آیت میں ہے «فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ» [23-المؤمنون:101] یعنی ” جب نفحہ پھونک دیا جائے گا، سارے رشتے ناطے اور نسب حسب ٹوٹ جائیں گے، کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا۔ اگر تول میں نیک اعمال بڑھ گئے تو فلاح پا لی ورنہ خسارے کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔ “
صفحہ نمبر2855
فصل ٭٭
کوئی تو کہتا ہے کہ خود اعمال تولے جائیں گے، کوئی کہتا ہے: نامہ اعمال تولے جائیں گے۔ کوئی کہتا ہے: خود عمل کرنے والے تولے جائیں گے۔ ان تینوں قولوں کو اس طرح جمع کرنا بھی ممکن ہے کہ ہم کہیں یہ سب صحیح ہیں۔ کبھی اعمال تولے جائیں گے، کبھی نامہ اعمال، کبھی خود اعمال کرنے والے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ان تینوں باتوں کی دلیلیں بھی موجود ہیں۔ پہلے قول کا مطلب یہ ہے کہ اعمال گو ایک بےجسم چیز ہیں لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں جسم عطا فرمائے گا جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے: سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران قیامت کے دن دو سائبانوں کی یا دو ابر کی یا پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے دو جھنڈ کی صورت میں آئیں گی۔ [صحیح مسلم:805]
اور حدیث میں ہے کہ قرآن اپنے قاری اور عامل کے پاس ایک نوجوان خوش شکل، نورانی چہرے والے کی صورت میں آئے گا۔ یہ اسے دیکھ کر پوچھے گا کہ تو کون ہے؟ یہ کہے گا: میں قرآن ہوں جو تجھے راتوں کی نیند نہیں سونے دیتا تھا اور دنوں میں پانی پینے سے روکتا تھا۔ [سنن ابن ماجه:3781، قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی حدیث میں، جس میں قبر کے سوال جواب کا ذکر ہے، اس میں یہ بھی فرمان ہے کہ مومن کے پاس ایک نوجوان خوبصورت، خوشبودار آئے گا۔ یہ اس سے پوچھے گا کہ تو کون ہے؟ وہ جواب دے گا کہ میں تیرا نیک عمل ہوں۔ [مسند احمد:287/4:صحیح] اور کافر و منافق کے پاس اس کے برخلاف شخص کے آنے کا بیان ہے۔
یہ تو تھیں پہلے قول کی دلیلیں۔ دوسرے قول کی دلیلیں یہ ہیں:
صفحہ نمبر2856
ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص کے سامنے اس کے گناہوں کے ننانوے دفتر پھیلائے جائیں گے جس میں سے ہر ایک اتنا بڑا ہو گا جتنی دور تک نظر پہنچے۔ پھر ایک پرچہ نیکی کا لایا جائے گا جس پر «لَا اِلٰہَ اِلَا اللہُ» ہو گا۔ یہ کہے گا: یااللہ! اتنا سا پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو اس سے بےخطر رہ کہ تجھ پر ظلم کیا جائے۔ اب وہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلہ میں نیکی کے پلڑے میں رکھا جائے گا تو وہ سب دفتر اونچے ہو جائیں گے اور یہ سب سے زیادہ وزن دار اور بھاری ہو جائیں گے۔ [سنن ترمذي:2639، قال الشيخ الألباني:صحیح] (ترمذی)
تیسرا قول بھی دلیل رکھتا ہے: حدیث میں ہے: ایک بہت موٹا تازہ گنہگار انسان اللہ کے سامنے لایا جائے گا لیکن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن اللہ کے پاس اس کا نہ ہو گا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَاىِٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا» [18-الكهف:105] ” ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن قائم نہ کریں گے۔ “ [صحیح بخاری:4729]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تعریف میں جو حدیثیں ہیں، ان میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی پتلی پنڈلیوں پہ نہ جانا۔ اللہ کی قسم! اللہ کے نزدیک یہ احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزن دار ہے۔ [مسند احمد:420/1:حسن]
صفحہ نمبر2857
اللہ تعالیٰ کے احسانات ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ اس نے زمین اپنے بندوں کے رہنے سہنے کے لئے بنائی۔ اس میں مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے کہ ہلے جلے نہیں، اس میں چشمے جاری کر دیئے، اس میں منزلیں اور گھر بنانے کی طاقت انسان کو عطا فرمائی اور بہت سی نفع کی چیزیں اس لیے پیدا فرمائیں۔
ابر مقرر کر کے اس میں سے پانی برسا کر ان کے لیے کھیت اور باغات پیدا کئے۔ تلاش معاش کے وسائل مہیا فرمائے۔ تجارت اور کمائی کے طریقے سکھا دیئے۔ باوجود اس کے اکثر لوگ پوری شکر گزاری نہیں کرتے۔ ایک آیت میں فرمان ہے «وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّـهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ» [14-إبراهيم:34] یعنی ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے بیٹھو تو یہ بھی تمہارے بس کی بات نہیں لیکن انسان بڑا ہی ناانصاف اور ناشکرا ہے۔ “
«مَعَايِشَ» تو جمہور کی قرأت ہے لیکن عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج «مَعَاۤیِـْش» پڑھتے ہیں اور ٹھیک وہی ہے جس پر اکثریت ہے۔ اس لیے کہ «مَعَايِشَ» جمع ہے «مَعِیْشَتہٌ» کی۔ اس کا باب «عَاشَ یَعِیْشُ عَیْشًا» ہے۔ «مَعِیْشَتہٌ» کی اصل «مَعِیْشَتہٌ» ہے۔ کسرہ «یا» پر تقلیل تھا، نقل کر کے ماقبل کو دیا «مَعِیْشَتہٌ» ہو گیا لیکن جمع کے وقت پھر کسرہ «یا» پر آ گیا کیونکہ اب ثقل نہ رہا۔ پس «مَفَاعِلٌ» کے وزن پر «مَعَايِشَ» ہو گیا کیونکہ اس کلمہ میں «یا» اصلی ہے۔
بخلاف «مدائن»، «صحائف» اور «بصائر» کے جو «مدینہ»، «صحیفہ» اور «بصیرہ» کی جمع ہے باب «مدن»، «صحف» اور «ابصر» سے۔ ان میں چونکہ «یا» زائد ہے اس لیے ہمزہ دی جاتی ہے اور «مفاعل» کے وزن پر جمع آتی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2859
ابلیس، آدم علیہ السلام اور نسل آدم ٭٭
انسان کے شرف کو اس طرح بیان فرماتا ہے کہ تمہارے باپ آدم کو میں نے خود ہی بنایا اور ابلیس کی عداوت کو بیان فرما رہا ہے کہ اس نے تمہارے باپ آدم کا حسد کیا۔ ہمارے فرمان سے سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر اس نے نافرمانی کی۔ پس تمہیں چاہئے کہ دشمن کو دشمن سمجھو اور اس کے داؤ پیچ سے ہوشیار رہو۔
اسی واقعہ کا ذکر آیت «وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ أَن يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ» [15-الحجر28-30] آدم علیہ السلام کو پروردگار نے اپنے ہاتھ سے مٹی سے بنایا، انسانی صورت عطا فرمائی۔ پھر اپنے پاس سے اس میں روح پھونکی۔ پھر اپنی شان کی جلالت منوانے کیلئے فرشتوں کو حکم دیا کہ ان کے سامنے جھک جاؤ۔ سب نے سنتے ہی اطاعت کی لیکن ابلیس نہ مانا۔
اس واقعہ کو سورۃ البقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار لکھ آئے ہیں۔ اس آیت کا بھی یہی مطلب ہے اور اسی کو امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی پسند فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر2860
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انسان اپنے باپ کی پیٹھ سے پیدا کیا جاتا ہے اور اپنی ماں کے پیٹ میں صورت دیا جاتا ہے اور بعض سلف نے بھی لکھا ہے کہ اس آیت میں مراد اولاد آدم علیہ السلام ہے۔
ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آدم کو پیدا کیا پھر اس کی اولاد کی صورت بنائی۔ لیکن یہ سب اقوال غور طلب ہیں کیونکہ آیت میں اس کے بعد ہی فرشتوں کے سجدے کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ سجدہ آدم علیہ السلام کے لیے ہی ہوا تھا۔ جمع کے صیغہ سے اس کا بیان اس لیے ہوا کہ آدم علیہ السلام تمام انسانوں کے باپ ہیں آیت «وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ» [2-البقرة:57] اسی کی نظیر ہے۔ یہاں خطاب ان بنی اسرائیل سے ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھے اور دراصل ابر کا سایہ ان کے سابقوں پر ہوا تھا جو موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تھے نہ کہ ان پر۔ لیکن چونکہ ان کے اکابر پر سایہ کرنا ایسا احسان تھا کہ ان کو بھی اس کا شکر گزار ہونا چاہیئے تھا۔ اس لیے انہی کو خطاب کر کے اپنی وہ نعمت یاد دلائی، یہاں یہ بات واضح ہے۔
اس کے بالکل برعکس آیت «وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ» [23-المؤمنون:12] ہے کہ مراد آدم علیہ السلام ہیں کیونکہ صرف وہی مٹی سے بنائے گئے۔ ان کی کل اولاد نطفے سے پیدا ہوئی اور یہی صحیح ہے کیونکہ مراد جنس انسان ہے نہ کہ معین۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر2861
عذر گناہ بدتر از گناہ ٭٭
«أَلَّا تَسْجُدَ» «لَا» بقول بعض نحویوں کے زائد ہے اور بعض کے نزدیک انکار کی تاکید کے لئے ہے۔ جیسے کہ شاعر کے قول «مَا اِنْ رَاَیْتُ وَلَا سَمِعْتُ بِمِثْلِہِ» میں «ما» نافیہ پر «اِن» نفی کے لیے صرف تاکیداً داخل ہوا ہے۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ پہلے «لَمْ يَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ» ہے۔ پھر «مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ» ہے۔
صفحہ نمبر2862
امام ابن جریر رحمہ اللہ ان دونوں قولوں کو بیان کر کے انہیں رد کرتے ہیں اور فرماتے ہیں «مَنَعَكَ» ایک دوسرے فعل مقدر کا متضمن ہے تو تقدیر عبارت یوں ہوئی «مَا اَحْرَجَکَ وَ اَلْزَمَکَ وَ اضْطَرَّکَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُکَ» یعنی تجھے کس چیز نے بےبس، محتاج اور ملزم کر دیا کہ تو سجدہ نہ کرے؟ وغیرہ۔ یہ قول بہت ہی قوی ہے اور بہت عمدہ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابلیس نے جو وجہ بتائی، سچ تو یہ ہے کہ وہ عذر گناہ بدتر از گناہ کی مصداق ہے۔ گویا وہ اطاعت سے اس لیے باز رہتا ہے کہ اس کے نزدیک فاضل کو مفضول کے سامنے سجدہ کئے جانے کا حکم ہی نہیں دیا جا سکتا۔ تو وہ ملعون کہہ رہا ہے کہ میں اس سے بہتر ہوں پھر مجھے اس کے سامنے جھکنے کا حکم کیوں ہو رہا ہے؟ پھر اپنے بہتر ہونے کے ثبوت میں کہتا ہے کہ میں آگ سے بنا، یہ مٹی سے۔ ملعون اصل عنصر کو دیکھتا ہے اور اس فضیلت کو بھول جاتا ہے کہ مٹی والے کو اللہ عز و جل نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور اپنی روح پھونکی ہے۔ پس اس وجہ سے کہ اس نے فرمان الٰہی کے مقابلے میں قیاس فاسد سے کام لیا اور سجدے سے رک گیا، اللہ کی رحمتوں سے دور کر دیا گیا اور تمام نعمتوں سے محروم ہو گیا۔ اس ملعون نے اپنے قیاس اور اپنے دعوے میں بھی خطا کی۔ مٹی کے اوصاف ہیں: نرم ہونا، حامل مشقت ہونا، دوسروں کا بوجھ سہارنا، چیزوں کو اگانا، پرورش کرنا، اصلاح کرنا وغیرہ اور آگ کی صفت ہے: جلدی کرنا، جلا دینا، بےچینی پھیلانا، پھونک دینا۔ اسی وجہ سے ابلیس اپنے گناہ پر اڑ گیا اور آدم علیہ السلام نے اپنے گناہ کی معذرت کی، اس سے توبہ کی اور اللہ کی طرف رجوع کیا۔ رب کے احکام کو تسلیم کیا، اپنے گناہ کا اقرار کیا، رب سے معافی چاہی، بخشش کے طالب ہوئے۔
صفحہ نمبر2863
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں، ابلیس آگ کے شعلے سے اور انسان اس چیز سے جو تمہاے سامنے بیان کر دی گئی ہے یعنی مٹی سے۔ [صحیح مسلم:2996] (مسلم)
ایک اور روایت میں ہے: فرشتے نور عرش سے، جنات آگ سے۔ ایک غیر صحیح حدیث میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ حور عین زعفران سے بنائی گئی ہیں۔ [طبرانی کبیر:7813/8:ضعیف]
امام حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابلیس نے یہ قیاس کیا اور یہی پہلا شخص ہے جس نے قیاس کا دروازہ کھولا۔ اس کی اسناد صحیح ہے۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سب سے پہلے قیاس کرنے والا ابلیس ہے۔ یاد رکھو! سورج چاند کی پرستش اسی قیاس کی بدولت شروع ہوئی ہے۔ اس کی اسناد بھی صحیح ہے۔
صفحہ نمبر2864
نافرمانی کی سزا ٭٭
ابلیس کو اسی وقت حکم ملا کہ ”میری نافرمانی اور میری اطاعت سے رکنے کے باعث اب تو یہاں جنت میں رہ نہیں سکتا، یہاں سے اتر جا کیونکہ یہ جگہ تکبر کرنے کی نہیں۔“
بعض نے کہا ہے: «فیھا» کی ضمیر کا مرجع منزلت ہے یعنی جن ملکوت اعلی میں تو ہے، اس مرتبے میں کوئی سرکش رہ نہیں سکتا۔ جا یہاں سے چلا جا۔ تو اپنی سرکشی کے بدلے ذلیل و خوار ہستیوں میں شامل کر دیا گیا۔ تیری ضد اور ہٹ دھرمی کی یہی سزا ہے۔
اب لعین گھبرایا اور اللہ سے مہلت چاہنے لگا کہ مجھے قیامت تک کی ڈھیل دی جائے۔ چونکہ جناب باری جل جلالہ کی اس میں مصلحتیں اور حکمتیں تھیں، بھلے بروں کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا اور اپنی حجت پوری کرنا تھی۔ اس ملعون کی اس درخواست کو منظور فرما لیا۔ اس حاکم پر کسی کی حکومت نہیں، اس کے سامنے بولنے کی کسی کو مجال نہیں، کوئی نہیں جو اس کے ارادے کو ٹال سکے، کوئی نہیں جو اس کے حکم کو بدل سکے۔ وہ سریع الحساب ہے۔
صفحہ نمبر2865
نافرمانی کی سزا ٭٭
ابلیس کو اسی وقت حکم ملا کہ ”میری نافرمانی اور میری اطاعت سے رکنے کے باعث اب تو یہاں جنت میں رہ نہیں سکتا، یہاں سے اتر جا کیونکہ یہ جگہ تکبر کرنے کی نہیں۔“
بعض نے کہا ہے: «فیھا» کی ضمیر کا مرجع منزلت ہے یعنی جن ملکوت اعلی میں تو ہے، اس مرتبے میں کوئی سرکش رہ نہیں سکتا۔ جا یہاں سے چلا جا۔ تو اپنی سرکشی کے بدلے ذلیل و خوار ہستیوں میں شامل کر دیا گیا۔ تیری ضد اور ہٹ دھرمی کی یہی سزا ہے۔
اب لعین گھبرایا اور اللہ سے مہلت چاہنے لگا کہ مجھے قیامت تک کی ڈھیل دی جائے۔ چونکہ جناب باری جل جلالہ کی اس میں مصلحتیں اور حکمتیں تھیں، بھلے بروں کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا اور اپنی حجت پوری کرنا تھی۔ اس ملعون کی اس درخواست کو منظور فرما لیا۔ اس حاکم پر کسی کی حکومت نہیں، اس کے سامنے بولنے کی کسی کو مجال نہیں، کوئی نہیں جو اس کے ارادے کو ٹال سکے، کوئی نہیں جو اس کے حکم کو بدل سکے۔ وہ سریع الحساب ہے۔
صفحہ نمبر2865
نافرمانی کی سزا ٭٭
ابلیس کو اسی وقت حکم ملا کہ ”میری نافرمانی اور میری اطاعت سے رکنے کے باعث اب تو یہاں جنت میں رہ نہیں سکتا، یہاں سے اتر جا کیونکہ یہ جگہ تکبر کرنے کی نہیں۔“
بعض نے کہا ہے: «فیھا» کی ضمیر کا مرجع منزلت ہے یعنی جن ملکوت اعلی میں تو ہے، اس مرتبے میں کوئی سرکش رہ نہیں سکتا۔ جا یہاں سے چلا جا۔ تو اپنی سرکشی کے بدلے ذلیل و خوار ہستیوں میں شامل کر دیا گیا۔ تیری ضد اور ہٹ دھرمی کی یہی سزا ہے۔
اب لعین گھبرایا اور اللہ سے مہلت چاہنے لگا کہ مجھے قیامت تک کی ڈھیل دی جائے۔ چونکہ جناب باری جل جلالہ کی اس میں مصلحتیں اور حکمتیں تھیں، بھلے بروں کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا اور اپنی حجت پوری کرنا تھی۔ اس ملعون کی اس درخواست کو منظور فرما لیا۔ اس حاکم پر کسی کی حکومت نہیں، اس کے سامنے بولنے کی کسی کو مجال نہیں، کوئی نہیں جو اس کے ارادے کو ٹال سکے، کوئی نہیں جو اس کے حکم کو بدل سکے۔ وہ سریع الحساب ہے۔
صفحہ نمبر2865
ابلیس کا طریقہ واردات اس کی اپنی زبانی ٭٭
ابلیس نے جب عہد الٰہی لے لیا تو اب بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگا کہ جیسے تو نے میری راہ ماری، میں بھی اس کی اولاد کی راہ ماروں گا اور حق و نجات کے سیدھے راستے سے انہیں روکوں گا، تیری توحید سے بہکا کر تیری عبادت سے سب کو ہٹا دوں گا۔
بعض نحوی کہتے ہیں کہ «فَبِمَا» میں «با» قسم کے لیے ہے یعنی مجھے قسم ہے، میں اپنی بربادی کے مقابلہ میں اس کی اولاد کو برباد کر کے رہوں گا۔ عون بن عبداللہ کہتے ہیں: میں مکے کے راستے میں بیٹھ جاؤں گا لیکن صحیح یہی ہے کہ نیکی کے ہر راستے پر۔
صفحہ نمبر2868
چنانچہ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ شیطان ابن آدم کی تمام راہوں میں بیٹھتا ہے۔ وہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ بننے کے لئے اسلام لانے والے کے دل میں وسوسے پیدا کرتا ہے کہ تو اپنے اور اپنے باپ دادا کے دین کو کیوں چھوڑتا ہے۔ اللہ کو اگر بہتری منظور ہوتی ہے تو وہ اس کی باتوں میں نہیں آتا اور اسلام قبول کر لیتا ہے۔ ہجرت کی راہ سے روکنے کیلئے آڑے آتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ تو اپنے وطن کو کیوں چھوڑتا ہے؟ اپنی زمین و آسمان سے کیوں الگ ہوتا ہے؟ غربت و بےکسی کی زندگی اختیار کرتا ہے؟ لیکن مسلمان اس کے بہکاوے میں نہیں آتا اور ہجرت کر گزرتا ہے۔ پھر جہاد کی روک کے لیے آتا ہے اور جہاد مال سے ہے اور جان سے۔ اس سے کہتا ہے کہ تو کیوں جہاد میں جاتا ہے؟ وہاں قتل کر دیا جائے گا، پھر تیری بیوی دوسرے کے نکاح میں چلی جائے گی، تیرا مال اوروں کے قبضے میں چلا جائے گا لیکن مسلمان اس کی نہیں مانتا اور جہاد میں قدم رکھ دیتا ہے۔ پس ایسے لوگوں کا اللہ پر حق ہے کہ وہ انہیں جنت میں لے جائے گو وہ جانور سے گر کر ہی مر جائیں۔ [مسند احمد:483/3:حسن]
اس دوسری آیت کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ آگے سے آنے کا مطلب آخرت کے معاملہ میں شک و شبہ میں پیدا کرنا ہے۔ دوسرے جملے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی رغبتیں دلاؤں گا۔ دائیں طرف سے آنا، امر دین کو مشکوک کرنا ہے۔ بائیں طرف سے آنا، گناہوں کو لذیذ بنانا ہے۔ شیطانوں کا یہی کام ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ شیطان کہتا ہے: میں ان کی دنیا و آخرت، نیکیاں، بھلائیاں سب تباہ کر دینے کی کوشش میں رہوں گا اور برائیوں کی طرف ان کی رہبری کروں گا۔ وہ سامنے سے آ کر کہتا ہے کہ جنت، دوزخ، قیامت کوئی چیز نہیں۔ وہ پشت کی جانب سے آ کر کہتا ہے: دیکھ دنیا کس قدر زینت دار ہے۔ وہ دائیں سے آ کر کہتا ہے: خبردار نیکی کی راہ بہت کٹھن ہے۔ وہ بائیں سے آ کر کہتا ہے: دیکھ گناہ کس قدر لذیذ ہیں۔ پس ہر طرف سے آ کر ہر طرح بہکاتا ہے۔ ہاں! یہ اللہ کا کرم ہے کہ وہ اوپر کی طرف سے نہیں آ سکتا۔ اللہ کے اور بندے کے درمیان حائل ہو کر رحمت الٰہی کو روک نہیں بن سکتا۔ پس سامنے یعنی دنیا اور پیچھے یعنی آخرت اور دائیں یعنی اس طرح کی دیکھیں اور بائیں یعنی اس طرح نہ دیکھ سکیں، یہ سبب اقوال ٹھیک ہیں۔
صفحہ نمبر2869
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ تمام خیر کے کاموں سے روکتا ہے اور شر کے تمام کام سمجھا جاتا ہے، اوپر کی سمت کا نام آیت میں نہیں۔ وہ سمت رحمت رب کے آنے کیلئے خالی ہے، وہاں شیطان کی روک نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اکثروں کو تو شاکر نہیں پائے گا یعنی موحد۔
ابلیس کو یہ وہم ہی وہم تھا لیکن نکلا مطابق واقعہ۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلاَّ فَرِيقاً مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ ـ وَمَا كَانَ لَهُ عَلَيْهِمْ مِّن سُلْطَـنٍ إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَن يُؤْمِنُ بِالاٌّخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِى شَكٍّ وَرَبُّكَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ حَفُيظٌ» [34-سبأ:20-21] یعنی ” ابلیس نے اپنا گمان پورا کر دکھایا۔ سوائے مومنوں کی پاکباز جماعت کے اور لوگ اس کے مطیع بن گئے حالانکہ شیطان کی کچھ حکومت تو ان پر نہ تھی مگر ہاں! ہم صحیح طور سے ایمان رکھنے والوں کو اور شکی لوگوں کو الگ الگ کر دینا چاہتے تھے۔ تیرا رب ہر چیز کا حافظ ہے۔ “
مسند بزار کی ایک حدیث میں ہر طرف سے پناہ مانگنے کی ایک دعا آئی ہے۔ الفاظ یہ ہیں «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي وَأَعُوذُ بِعَظَمتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي» [طبرانی فی الدعا:1297:ضعیف]
مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر صبح و شام اس دعا کو پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» اس کے بعد کی دعا کے کچھ فرق سے تقریباً وہی الفاظ ہیں جو اوپر مذکور ہوئے۔ [سنن ابوداود:5074، قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2870
ابلیس کا طریقہ واردات اس کی اپنی زبانی ٭٭
ابلیس نے جب عہد الٰہی لے لیا تو اب بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگا کہ جیسے تو نے میری راہ ماری، میں بھی اس کی اولاد کی راہ ماروں گا اور حق و نجات کے سیدھے راستے سے انہیں روکوں گا، تیری توحید سے بہکا کر تیری عبادت سے سب کو ہٹا دوں گا۔
بعض نحوی کہتے ہیں کہ «فَبِمَا» میں «با» قسم کے لیے ہے یعنی مجھے قسم ہے، میں اپنی بربادی کے مقابلہ میں اس کی اولاد کو برباد کر کے رہوں گا۔ عون بن عبداللہ کہتے ہیں: میں مکے کے راستے میں بیٹھ جاؤں گا لیکن صحیح یہی ہے کہ نیکی کے ہر راستے پر۔
صفحہ نمبر2868
چنانچہ مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ شیطان ابن آدم کی تمام راہوں میں بیٹھتا ہے۔ وہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ بننے کے لئے اسلام لانے والے کے دل میں وسوسے پیدا کرتا ہے کہ تو اپنے اور اپنے باپ دادا کے دین کو کیوں چھوڑتا ہے۔ اللہ کو اگر بہتری منظور ہوتی ہے تو وہ اس کی باتوں میں نہیں آتا اور اسلام قبول کر لیتا ہے۔ ہجرت کی راہ سے روکنے کیلئے آڑے آتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ تو اپنے وطن کو کیوں چھوڑتا ہے؟ اپنی زمین و آسمان سے کیوں الگ ہوتا ہے؟ غربت و بےکسی کی زندگی اختیار کرتا ہے؟ لیکن مسلمان اس کے بہکاوے میں نہیں آتا اور ہجرت کر گزرتا ہے۔ پھر جہاد کی روک کے لیے آتا ہے اور جہاد مال سے ہے اور جان سے۔ اس سے کہتا ہے کہ تو کیوں جہاد میں جاتا ہے؟ وہاں قتل کر دیا جائے گا، پھر تیری بیوی دوسرے کے نکاح میں چلی جائے گی، تیرا مال اوروں کے قبضے میں چلا جائے گا لیکن مسلمان اس کی نہیں مانتا اور جہاد میں قدم رکھ دیتا ہے۔ پس ایسے لوگوں کا اللہ پر حق ہے کہ وہ انہیں جنت میں لے جائے گو وہ جانور سے گر کر ہی مر جائیں۔ [مسند احمد:483/3:حسن]
اس دوسری آیت کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ آگے سے آنے کا مطلب آخرت کے معاملہ میں شک و شبہ میں پیدا کرنا ہے۔ دوسرے جملے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی رغبتیں دلاؤں گا۔ دائیں طرف سے آنا، امر دین کو مشکوک کرنا ہے۔ بائیں طرف سے آنا، گناہوں کو لذیذ بنانا ہے۔ شیطانوں کا یہی کام ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ شیطان کہتا ہے: میں ان کی دنیا و آخرت، نیکیاں، بھلائیاں سب تباہ کر دینے کی کوشش میں رہوں گا اور برائیوں کی طرف ان کی رہبری کروں گا۔ وہ سامنے سے آ کر کہتا ہے کہ جنت، دوزخ، قیامت کوئی چیز نہیں۔ وہ پشت کی جانب سے آ کر کہتا ہے: دیکھ دنیا کس قدر زینت دار ہے۔ وہ دائیں سے آ کر کہتا ہے: خبردار نیکی کی راہ بہت کٹھن ہے۔ وہ بائیں سے آ کر کہتا ہے: دیکھ گناہ کس قدر لذیذ ہیں۔ پس ہر طرف سے آ کر ہر طرح بہکاتا ہے۔ ہاں! یہ اللہ کا کرم ہے کہ وہ اوپر کی طرف سے نہیں آ سکتا۔ اللہ کے اور بندے کے درمیان حائل ہو کر رحمت الٰہی کو روک نہیں بن سکتا۔ پس سامنے یعنی دنیا اور پیچھے یعنی آخرت اور دائیں یعنی اس طرح کی دیکھیں اور بائیں یعنی اس طرح نہ دیکھ سکیں، یہ سبب اقوال ٹھیک ہیں۔
صفحہ نمبر2869
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ تمام خیر کے کاموں سے روکتا ہے اور شر کے تمام کام سمجھا جاتا ہے، اوپر کی سمت کا نام آیت میں نہیں۔ وہ سمت رحمت رب کے آنے کیلئے خالی ہے، وہاں شیطان کی روک نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اکثروں کو تو شاکر نہیں پائے گا یعنی موحد۔
ابلیس کو یہ وہم ہی وہم تھا لیکن نکلا مطابق واقعہ۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلاَّ فَرِيقاً مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ ـ وَمَا كَانَ لَهُ عَلَيْهِمْ مِّن سُلْطَـنٍ إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَن يُؤْمِنُ بِالاٌّخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِى شَكٍّ وَرَبُّكَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ حَفُيظٌ» [34-سبأ:20-21] یعنی ” ابلیس نے اپنا گمان پورا کر دکھایا۔ سوائے مومنوں کی پاکباز جماعت کے اور لوگ اس کے مطیع بن گئے حالانکہ شیطان کی کچھ حکومت تو ان پر نہ تھی مگر ہاں! ہم صحیح طور سے ایمان رکھنے والوں کو اور شکی لوگوں کو الگ الگ کر دینا چاہتے تھے۔ تیرا رب ہر چیز کا حافظ ہے۔ “
مسند بزار کی ایک حدیث میں ہر طرف سے پناہ مانگنے کی ایک دعا آئی ہے۔ الفاظ یہ ہیں «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي وَأَعُوذُ بِعَظَمتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي» [طبرانی فی الدعا:1297:ضعیف]
مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر صبح و شام اس دعا کو پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» اس کے بعد کی دعا کے کچھ فرق سے تقریباً وہی الفاظ ہیں جو اوپر مذکور ہوئے۔ [سنن ابوداود:5074، قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2870
اللہ تعالیٰ کے نافرمان جہنم کا ایندھن ہیں ٭٭
اس پر اللہ کی لعنت نازل ہوتی ہے، رحمت سے دور کر دیا جاتا ہے۔ فرشتوں کی جماعت سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ عیب دار کر کے اتار دیا جاتا ہے۔
لفظ «مَذْءُومًا» ماخوذ ہے، «ذام» اور «ذیم» سے۔ یہ لفظ بہ نسبت لفظ «ذم» کے زیادہ مبالغے والا ہے، پس اس کے معنی عیب دار کے ہوئے اور «مَّدْحُورً» کے معنی دور کئے ہوئے کے ہیں۔ مقصد دونوں سے ایک ہی ہے۔ پس یہ ذلیل ہو کر اللہ کے غضب میں مبتلا ہو کر نیچے اتار دیا گیا۔ اللہ کی لعنت اس پر نازل ہوئی اور نکال دیا گیا۔
اور فرمایا گیا کہ تو اور تیرے ماننے والے سب کے سب جہنم کا ایندھن ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا ـ وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِم بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِى الاٌّمْوَلِ وَالاٌّوْلَـدِ وَعِدْهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَـنُ إِلاَّ غُرُورًا ـ إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً» [17-الإسراء:63-65] ” تمہاری سب کی سزا جہنم ہے تو جس طرح چاہ انہیں بہکا لیکن اس سے مایوس ہو جا کہ میرے خاص بندے تیرے وسوسوں میں آ جائیں ان کا وکیل میں آپ ہوں۔ “
صفحہ نمبر2872
پہلا امتحان اور اسی میں لغزش اور اس کا انجام ٭٭
ابلیس کو نکال کر آدم و حواء علیہم السلام کو جنت میں پہنچا دیا گیا اور بجز ایک درخت کے، انہیں ساری جنت کی چیزیں کھانے کی رخصت دے دی گئی۔ اس کا تفصیلی بیان سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔
شیطان کو اس سے بڑا ہی حسد ہوا، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر لعین جل گیا اور ٹھان لی کہ جس طرح سے ہو، انہیں بہکا کر اللہ کے خلاف کرا دوں۔ چنانچہ جھوٹ، افتراء باندھ کر ان سے کہنے لگا کہ دیکھو یہ درخت وہ ہے جس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے اور ہمیشہ کی زندگی اسی جنت میں پاؤ گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ابلیس نے کہا: میں تمہیں ایک درخت کا پتہ دیتا ہوں جس سے تمہیں بقاء اور ہمیشگی والا ملک مل جائے گا۔ یہاں ہے کہ ان سے کہا: تمہیں اس درخت سے اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ۔ جیسے فرمان ہے «يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّواْ» [4-النساء:176] مطلب یہ ہے کہ «أَن لَّا تَضِلُّواْ»
اور آیت میں ہے «وَأَلْقَى فِى الاٌّرْضِ رَوَاسِىَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ» [16-النحل:15] «أَن تَمِيدَ بِكُمْ» یہاں بھی یہی مطلب ہے۔
«مَلَكَيْنِ» کی دوسری قرأت «مَلِكَيْنِ» بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت «لام» کے زبر کے ساتھ ہے۔
پھر اپنا اعتبار جمانے کیلئے قسمیں کھانے لگا کہ دیکھو میری بات کو سچ مانو، میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔ تم سے پہلے سے ہی یہاں رہتا ہوں، ہر ایک چیز کے خواص سے واقف ہوں۔ تم اسے کھا لو، بس پھر یہیں رہو گے بلکہ فرشتے بن جاؤ گے۔ «قَاسَمَ» گو باب «مفاعلہ» سے ہے اور اس کی خاصیت طرفین کی مشارکت ہے لیکن یہاں یہ خاصیت نہیں ہے۔ ایسے اشعار بھی ہیں جہاں «قَاسَمَ» آیا ہے اور صرف ایک طرف کے لیے۔
اس قسم کی وجہ سے اس خبیث کے بہکاوے میں آدم علیہ السلام آ گئے۔ سچ ہے! مومن اس وقت دھوکا کھا جاتا ہے جب کوئی ناپاک انسان اللہ کو بیچ میں دیتا ہے۔ چنانچہ سلف کا قول ہے کہ ہم اللہ کے نام کے بعد اپنے ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر2873
پہلا امتحان اور اسی میں لغزش اور اس کا انجام ٭٭
ابلیس کو نکال کر آدم و حواء علیہم السلام کو جنت میں پہنچا دیا گیا اور بجز ایک درخت کے، انہیں ساری جنت کی چیزیں کھانے کی رخصت دے دی گئی۔ اس کا تفصیلی بیان سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔
شیطان کو اس سے بڑا ہی حسد ہوا، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر لعین جل گیا اور ٹھان لی کہ جس طرح سے ہو، انہیں بہکا کر اللہ کے خلاف کرا دوں۔ چنانچہ جھوٹ، افتراء باندھ کر ان سے کہنے لگا کہ دیکھو یہ درخت وہ ہے جس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے اور ہمیشہ کی زندگی اسی جنت میں پاؤ گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ابلیس نے کہا: میں تمہیں ایک درخت کا پتہ دیتا ہوں جس سے تمہیں بقاء اور ہمیشگی والا ملک مل جائے گا۔ یہاں ہے کہ ان سے کہا: تمہیں اس درخت سے اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ۔ جیسے فرمان ہے «يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّواْ» [4-النساء:176] مطلب یہ ہے کہ «أَن لَّا تَضِلُّواْ»
اور آیت میں ہے «وَأَلْقَى فِى الاٌّرْضِ رَوَاسِىَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ» [16-النحل:15] «أَن تَمِيدَ بِكُمْ» یہاں بھی یہی مطلب ہے۔
«مَلَكَيْنِ» کی دوسری قرأت «مَلِكَيْنِ» بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت «لام» کے زبر کے ساتھ ہے۔
پھر اپنا اعتبار جمانے کیلئے قسمیں کھانے لگا کہ دیکھو میری بات کو سچ مانو، میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔ تم سے پہلے سے ہی یہاں رہتا ہوں، ہر ایک چیز کے خواص سے واقف ہوں۔ تم اسے کھا لو، بس پھر یہیں رہو گے بلکہ فرشتے بن جاؤ گے۔ «قَاسَمَ» گو باب «مفاعلہ» سے ہے اور اس کی خاصیت طرفین کی مشارکت ہے لیکن یہاں یہ خاصیت نہیں ہے۔ ایسے اشعار بھی ہیں جہاں «قَاسَمَ» آیا ہے اور صرف ایک طرف کے لیے۔
اس قسم کی وجہ سے اس خبیث کے بہکاوے میں آدم علیہ السلام آ گئے۔ سچ ہے! مومن اس وقت دھوکا کھا جاتا ہے جب کوئی ناپاک انسان اللہ کو بیچ میں دیتا ہے۔ چنانچہ سلف کا قول ہے کہ ہم اللہ کے نام کے بعد اپنے ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر2873
پہلا امتحان اور اسی میں لغزش اور اس کا انجام ٭٭
ابلیس کو نکال کر آدم و حواء علیہم السلام کو جنت میں پہنچا دیا گیا اور بجز ایک درخت کے، انہیں ساری جنت کی چیزیں کھانے کی رخصت دے دی گئی۔ اس کا تفصیلی بیان سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔
شیطان کو اس سے بڑا ہی حسد ہوا، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر لعین جل گیا اور ٹھان لی کہ جس طرح سے ہو، انہیں بہکا کر اللہ کے خلاف کرا دوں۔ چنانچہ جھوٹ، افتراء باندھ کر ان سے کہنے لگا کہ دیکھو یہ درخت وہ ہے جس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے اور ہمیشہ کی زندگی اسی جنت میں پاؤ گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ابلیس نے کہا: میں تمہیں ایک درخت کا پتہ دیتا ہوں جس سے تمہیں بقاء اور ہمیشگی والا ملک مل جائے گا۔ یہاں ہے کہ ان سے کہا: تمہیں اس درخت سے اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ۔ جیسے فرمان ہے «يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّواْ» [4-النساء:176] مطلب یہ ہے کہ «أَن لَّا تَضِلُّواْ»
اور آیت میں ہے «وَأَلْقَى فِى الاٌّرْضِ رَوَاسِىَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ» [16-النحل:15] «أَن تَمِيدَ بِكُمْ» یہاں بھی یہی مطلب ہے۔
«مَلَكَيْنِ» کی دوسری قرأت «مَلِكَيْنِ» بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت «لام» کے زبر کے ساتھ ہے۔
پھر اپنا اعتبار جمانے کیلئے قسمیں کھانے لگا کہ دیکھو میری بات کو سچ مانو، میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔ تم سے پہلے سے ہی یہاں رہتا ہوں، ہر ایک چیز کے خواص سے واقف ہوں۔ تم اسے کھا لو، بس پھر یہیں رہو گے بلکہ فرشتے بن جاؤ گے۔ «قَاسَمَ» گو باب «مفاعلہ» سے ہے اور اس کی خاصیت طرفین کی مشارکت ہے لیکن یہاں یہ خاصیت نہیں ہے۔ ایسے اشعار بھی ہیں جہاں «قَاسَمَ» آیا ہے اور صرف ایک طرف کے لیے۔
اس قسم کی وجہ سے اس خبیث کے بہکاوے میں آدم علیہ السلام آ گئے۔ سچ ہے! مومن اس وقت دھوکا کھا جاتا ہے جب کوئی ناپاک انسان اللہ کو بیچ میں دیتا ہے۔ چنانچہ سلف کا قول ہے کہ ہم اللہ کے نام کے بعد اپنے ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر2873
لغزش کے بعد کیا ہوا ؟ ٭٭
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”آدم علیہ السلام کا قد مثل درخت کھجور کے، بہت لمبا تھا اور سر پر بہت لمبے لمبے بال تھے، درخت کھانے سے پہلے انہیں اپنی شرمگاہ کا علم بھی نہ تھا، نظر ہی نہ پڑی تھی۔ لیکن اس خطا کے ہوتے ہی وہ ظاہر ہو گئی۔ بھاگنے لگے تو بال ایک درخت میں الجھ گئے، کہنے لگے: اے درخت! مجھے چھوڑ دے۔ درخت سے جواب ملا کہ ناممکن ہے۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی کہ اے آدم! مجھ سے بھاگ رہا ہے؟ کہنے لگے: یا اللہ! شرمندگی ہے، شرمسار ہوں۔“ گو یہ روایت مرفوع بھی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح موقوف ہونا ہی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”درخت کا پھل کھا لیا اور چھپانے کی چیز ظاہر ہو گئی، جنت کے پتوں سے چھپانے لگے، ایک کو ایک پر چپکا نے لگے، آدم علیہ السلام مارے غیرت کے ادھر ادھر بھاگنے لگے لیکن ایک درخت کے ساتھ الجھ کر رہ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ندا دی کہ آدم! مجھ سے بھاگتا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، یااللہ! مگر شرماتا ہوں۔ جناب باری نے فرمایا: آدم جو کچھ میں نے تجھے دے رکھا تھا، کیا وہ تجھے کافی نہ تھا؟ آپ نے جواب دیا: بیشک کافی تھا لیکن یااللہ مجھے یہ علم نہ تھا کہ کوئی تیرا نام لے کر، تیری قسم کھا کر جھوٹ کہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اب تو میری نافرمانی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور تکلیفیں اٹھانا ہوں گی۔
صفحہ نمبر2876
چنانچہ جنت سے دونوں کو اتار دیا گیا، اب اس کشادگی کے بعد کی یہ تنگی ان پر بہت گراں گزری، کھانے پینے کو ترس گئے -پھر انہیں لوہے کی صنعت سکھائی گئی، کھیتی کا کام بتایا گیا، آپ نے زمین صاف کی، دانے بوئے، وہ آگے بڑھے، بالیں نکلیں، دانے پکے، پھر توڑے گئے، پھر پیسے گئے، آٹا گندھا، پھر روٹی تیار ہوئی، پھر کھائی -جب جا کر بھوک کی تکلیف سے نجات پائی۔ تین کے پتوں سے اپنا آگا پیچھا چھپاتے پھرتے تھے جو مثل کپڑے کے تھے، وہ نورانی پردے جن سے ایک دوسرے سے یہ اعضاء چھپے ہوئے تھے، نافرمانی ہوتے ہی ہٹ گئے اور وہ نظر آنے لگے۔ آدم علیہ السلام اسی وقت اللہ کی طرف رغبت کرنے لگے، توبہ استغفار کی طرف جھک پڑے، بخلاف ابلیس کے کہ اس نے سزا کا نام سنتے ہی اپنے ابلیسی ہتھیار یعنی ہمیشہ کی زندگی وغیرہ طلب کی۔ اللہ نے دونوں کی دعا سنی اور دونوں کی طلب کردہ چیزیں عنایت فرمائی۔“
مروی ہے کہ آدم علیہ السلام نے جب درخت کھا لیا، اسی وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس درخت سے میں نے تمہیں روک دیا تھا، پھر تم نے اسے کیوں کھایا؟ کہنے لگے: حواء نے مجھے اس کی رغبت دلائی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان کی سزا یہ ہے کہ حمل کی حالت میں بھی تکلیف میں رہیں گی، بچہ ہونے کے وقت بھی تکلیف اٹھائیں گی۔ یہ سنتے ہی حواء نے نوحہ شروع کیا، حکم ہوا کہ یہی تجھ پر اور تیری اولاد پر لکھ دیا گیا۔ آدم علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی اور اللہ نے انہیں دعا سکھائی۔ انہوں نے دعا کی، جو قبول ہوئی، قصور معاف فرما دیا گیا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» !
صفحہ نمبر2877
لغزش کے بعد کیا ہوا ؟ ٭٭
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”آدم علیہ السلام کا قد مثل درخت کھجور کے، بہت لمبا تھا اور سر پر بہت لمبے لمبے بال تھے، درخت کھانے سے پہلے انہیں اپنی شرمگاہ کا علم بھی نہ تھا، نظر ہی نہ پڑی تھی۔ لیکن اس خطا کے ہوتے ہی وہ ظاہر ہو گئی۔ بھاگنے لگے تو بال ایک درخت میں الجھ گئے، کہنے لگے: اے درخت! مجھے چھوڑ دے۔ درخت سے جواب ملا کہ ناممکن ہے۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی کہ اے آدم! مجھ سے بھاگ رہا ہے؟ کہنے لگے: یا اللہ! شرمندگی ہے، شرمسار ہوں۔“ گو یہ روایت مرفوع بھی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح موقوف ہونا ہی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”درخت کا پھل کھا لیا اور چھپانے کی چیز ظاہر ہو گئی، جنت کے پتوں سے چھپانے لگے، ایک کو ایک پر چپکا نے لگے، آدم علیہ السلام مارے غیرت کے ادھر ادھر بھاگنے لگے لیکن ایک درخت کے ساتھ الجھ کر رہ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ندا دی کہ آدم! مجھ سے بھاگتا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، یااللہ! مگر شرماتا ہوں۔ جناب باری نے فرمایا: آدم جو کچھ میں نے تجھے دے رکھا تھا، کیا وہ تجھے کافی نہ تھا؟ آپ نے جواب دیا: بیشک کافی تھا لیکن یااللہ مجھے یہ علم نہ تھا کہ کوئی تیرا نام لے کر، تیری قسم کھا کر جھوٹ کہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اب تو میری نافرمانی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور تکلیفیں اٹھانا ہوں گی۔
صفحہ نمبر2876
چنانچہ جنت سے دونوں کو اتار دیا گیا، اب اس کشادگی کے بعد کی یہ تنگی ان پر بہت گراں گزری، کھانے پینے کو ترس گئے -پھر انہیں لوہے کی صنعت سکھائی گئی، کھیتی کا کام بتایا گیا، آپ نے زمین صاف کی، دانے بوئے، وہ آگے بڑھے، بالیں نکلیں، دانے پکے، پھر توڑے گئے، پھر پیسے گئے، آٹا گندھا، پھر روٹی تیار ہوئی، پھر کھائی -جب جا کر بھوک کی تکلیف سے نجات پائی۔ تین کے پتوں سے اپنا آگا پیچھا چھپاتے پھرتے تھے جو مثل کپڑے کے تھے، وہ نورانی پردے جن سے ایک دوسرے سے یہ اعضاء چھپے ہوئے تھے، نافرمانی ہوتے ہی ہٹ گئے اور وہ نظر آنے لگے۔ آدم علیہ السلام اسی وقت اللہ کی طرف رغبت کرنے لگے، توبہ استغفار کی طرف جھک پڑے، بخلاف ابلیس کے کہ اس نے سزا کا نام سنتے ہی اپنے ابلیسی ہتھیار یعنی ہمیشہ کی زندگی وغیرہ طلب کی۔ اللہ نے دونوں کی دعا سنی اور دونوں کی طلب کردہ چیزیں عنایت فرمائی۔“
مروی ہے کہ آدم علیہ السلام نے جب درخت کھا لیا، اسی وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس درخت سے میں نے تمہیں روک دیا تھا، پھر تم نے اسے کیوں کھایا؟ کہنے لگے: حواء نے مجھے اس کی رغبت دلائی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان کی سزا یہ ہے کہ حمل کی حالت میں بھی تکلیف میں رہیں گی، بچہ ہونے کے وقت بھی تکلیف اٹھائیں گی۔ یہ سنتے ہی حواء نے نوحہ شروع کیا، حکم ہوا کہ یہی تجھ پر اور تیری اولاد پر لکھ دیا گیا۔ آدم علیہ السلام نے جناب باری میں عرض کی اور اللہ نے انہیں دعا سکھائی۔ انہوں نے دعا کی، جو قبول ہوئی، قصور معاف فرما دیا گیا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» !
صفحہ نمبر2877
سفر ارضی کے بارے میں یہودی روایات ٭٭
بعض کہتے ہیں یہ خطاب آدم، حواء، شیطان ملعون اور سانپ کو ہے -بعض سانپ کا ذکر نہیں کرتے -یہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد آدم علیہ السلام ہیں اور شیطان ملعون۔ جیسے سورۃ طہٰ میں ہے آیت «اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعاً» [20-طه:123] حواء آدم علیہ السلام کے تابع تھیں اور سانپ کا ذکر اگر صحت تک پہنچ جائے تو وہ ابلیس کے حکم میں آ گیا۔
مفسرین نے بہت سے اقوال ذکر کئے ہیں کہ آدم کہاں اترے؟ شیطان کہاں پھینکا گیا وغیرہ۔ لیکن دراصل ان کا مخرج بنی اسرائیل کی روایتیں ہیں اور ان کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس جگہ کے جان لینے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اگر ہوتا تو ان کا بیان قرآن یا حدیث میں ضرور ہوتا۔ کہہ دیا گیا کہ اب تمہارے قرار کی جگہ زمین ہے، وہیں تم اپنی مقررہ زندگی کے دن پورے کرو گے۔ جیسے کہ ہماری پہلی کتاب لوح محفوظ میں اول سے ہی لکھا ہوا موجود ہے۔ اسی زمین پر جیو گے اور مرنے کے بعد بھی اسی میں دبائے جاؤ گے اور پھر حشر و نشر بھی اسی میں ہو گا۔ جیسے فرمان ہے «مِنْهَا خَلَقْنَـكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى» [20-طه:55] پس اولاد آدم کے جینے کی جگہ بھی یہی اور مرنے کی جگہ بھی یہی، قبریں بھی اسی میں اور قیامت کے دن اٹھیں گے بھی اسی سے، پھر بدلہ دیئے جائیں گے۔
صفحہ نمبر2879
سفر ارضی کے بارے میں یہودی روایات ٭٭
بعض کہتے ہیں یہ خطاب آدم، حواء، شیطان ملعون اور سانپ کو ہے -بعض سانپ کا ذکر نہیں کرتے -یہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد آدم علیہ السلام ہیں اور شیطان ملعون۔ جیسے سورۃ طہٰ میں ہے آیت «اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعاً» [20-طه:123] حواء آدم علیہ السلام کے تابع تھیں اور سانپ کا ذکر اگر صحت تک پہنچ جائے تو وہ ابلیس کے حکم میں آ گیا۔
مفسرین نے بہت سے اقوال ذکر کئے ہیں کہ آدم کہاں اترے؟ شیطان کہاں پھینکا گیا وغیرہ۔ لیکن دراصل ان کا مخرج بنی اسرائیل کی روایتیں ہیں اور ان کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس جگہ کے جان لینے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اگر ہوتا تو ان کا بیان قرآن یا حدیث میں ضرور ہوتا۔ کہہ دیا گیا کہ اب تمہارے قرار کی جگہ زمین ہے، وہیں تم اپنی مقررہ زندگی کے دن پورے کرو گے۔ جیسے کہ ہماری پہلی کتاب لوح محفوظ میں اول سے ہی لکھا ہوا موجود ہے۔ اسی زمین پر جیو گے اور مرنے کے بعد بھی اسی میں دبائے جاؤ گے اور پھر حشر و نشر بھی اسی میں ہو گا۔ جیسے فرمان ہے «مِنْهَا خَلَقْنَـكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى» [20-طه:55] پس اولاد آدم کے جینے کی جگہ بھی یہی اور مرنے کی جگہ بھی یہی، قبریں بھی اسی میں اور قیامت کے دن اٹھیں گے بھی اسی سے، پھر بدلہ دیئے جائیں گے۔
صفحہ نمبر2879
لباس اور داڑھی جمال و جلال ٭٭
یہاں اللہ تعالیٰ اپنا احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے لباس اتارا اور ریش بھی۔ لباس تو وہ ہے جس سے انسان اپنا ستر چھپائے اور ریش وہ ہے جو بطور زینت، رونق اور جمال کے پہنا جائے۔ اول تو ضروریات زندگی سے ہے اور ثانی زیادتی ہے۔ ریش کے معنی مال کے بھی ہیں اور ظاہری پوشاک کے بھی ہیں اور جمال، خوش لباسی کے بھی ہیں۔
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے نیا کرتہ پہنتے ہوئے جبکہ گلے تک وہ پہن لیا فرمایا «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ مَا اُوَارِیْ بِہٖ عَوْرَتِیْ وَ اَتَجَمَّلُ بِہٖ فِیْ حَیَاتِیْ» پھر فرمانے لگے: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جو شخص نیا کپڑا پہنے اور اس کے گلے تک پہنچتے ہی یہ دعا پڑھے، پھر پرانا کپڑا راہ للہ دے دے تو وہ اللہ کے ذمہ میں، اللہ کی پناہ میں اور اللہ کی حفاظت میں آ جاتا ہے۔ زندگی میں بھی اور بعد از مرگ بھی۔ [سنن ابن ماجه:3557، قال الشيخ الألباني:ضعیف] (ترمذی، ابن ماجہ وغیرہ)
مسند احمد میں ہے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان سے ایک کرتہ تین درہم کا خریدا اور اسے پہنا -جب پہنچوں اور ٹخنوں تک پہنچا تو آپ نے یہ دعا پڑھی «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي» یہ دعا سن کر آپ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ اسے کپڑا پہننے کے وقت پڑھتے تھے یا آپ از خود اسے پڑھ رہے ہیں؟ فرمایا: میں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [مسند احمد:158/1:ضعیف]
صفحہ نمبر2881
«لِبَاسُ التَّقْوَىٰ» کی دوسری قرأت «لِبَاسَ التَّقْوَىٰ» سین کے زبر سے بھی ہے -رفع سے پڑھنے والے اسے مبتدا کہتے ہیں اور اس کے بعد کا جملہ اس کی خبر ہے -عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس سے مراد قیامت کے دن پرہیزگاروں کو جو لباس عطا ہو گا، وہ ہے۔“
ابن جریج کا قول ہے: ”لباس تقویٰ ایمان ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”عمل صالح ہے اور اسی سے ہنس مکھ ہوتا ہے۔“
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مراد اس سے مشیت ربانی ہے۔“ عبدالرحمٰن کہتے رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اللہ کے ڈر سے اپنی ستر پوشی کرنا لباس تقویٰ ہے۔“
یہ کل اقوال آپس میں ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ مراد یہ سب کچھ ہے اور یہ سب چیزیں ملی جلی اور آپس میں ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں۔ ایک ضعیف سند والی روایت میں حسن سے مرقوم ہے کہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو منبر نبوی پر کھلی گھنڈیوں کا کرتا پہنے ہوئے کھڑا دیکھا۔ اس وقت آپ کتوں کے مار ڈالنے اور کبوتر بازی کی ممانعت کا حکم دے رہے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا: لوگو اللہ سے ڈرو! خصوصاً اپنی پوشیدگیوں میں اور چپکے چپکے کانا پھوسی کرنے میں۔ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ قسم کھا کر بیان فرماتے تھے کہ جو شخص جس کام کو پوشیدہ سے پوشیدہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اسی کی چادر اس پر اعلانیہ ڈال دے گا۔ اگر نیک ہے تو نیک اور اگر بد ہے تو بد۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14451:ضعیف] اور فرمایا اس سے مراد خوش خلقی ہے۔
ہاں صحیح حدیث میں صرف اتنا مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر کتوں کے قتل کرنے اور کبوتروں کے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد:72/1:ضعیف]
صفحہ نمبر2882
ابلیس سے بچنے کی تاکید ٭٭
تمام انسانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ ہوشیار کر رہا ہے کہ دیکھو ابلیس کی مکاریوں سے بچتے رہنا، وہ تمہارا بڑا ہی دشمن ہے۔ دیکھو! اسی نے تمہارے باپ آدم علیہ السلام کو دار سرور سے نکالا اور اس مصیبت کے قید خانے میں ڈالا، ان کی پردہ دری کی۔ پس تمہیں اس کے ہتھکنڈوں سے بچنا چاہیئے۔
جیسے فرمان ہے «اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ للظّٰلِمِيْنَ بَدَلً» یعنی [18-الكهف:50] ” کیا تم ابلیس اور اس کی قوم کو اپنا دوست بناتے ہو؟ مجھے چھوڑ کر؟ حالانکہ وہ تو تمہارا دشمن ہے۔ ظالموں کا بہت ہی برا بدلہ ہے۔ “
صفحہ نمبر2883
جہالت اور طواف کعبہ ٭٭
مشرکین ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جیسے ہم پیدا ہوئے ہیں اسی حالت میں طواف کریں گے۔ عورتیں بھی آگے کوئی چمڑے کا ٹکڑا یا کوئی چیز رکھ لیتی تھیں اور کہتی تھیں۔
«اَلْیَوْمَ یَبْدَوُ بَعْضُہُ اَوْ کُلُّہُ» «وَمَا بَدَاَ مِنْہُ فَلَا اُحِلُّہُ»
آج اس کا تھوڑا سا حصہ یا کل حصہ ظاہر ہو جائے گا۔ اور جتنا بھی ظاہر ہو، میں اسے اس کے لیے جائز نہیں رکھتی۔
صفحہ نمبر2884
اس پر آیت «وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا» الخ، نازل ہوئی ہے۔ یہ دستور تھا کہ قریش کے سوا تمام عرب بیت اللہ شریف کا طواف اپنے پہنے ہوئے کپڑوں میں نہیں کرتے تھے۔ سمجھتے تھے کہ یہ کپڑے جنہیں پہن کر اللہ کی نافرمانیاں کی ہیں، اس قابل نہیں رہے کہ انہیں پہنے ہوئے طواف کر سکیں۔ ہاں قریش جو اپنے آپ کو حمس کہتے تھے، اپنے کپڑوں میں ہی طواف کرتے تھے اور جن لوگوں کو قریش کپڑے بطور ادھار دیں، وہ بھی ان کے دیئے ہوئے کپڑے پہن کر طواف کر سکتا تھا یا وہ شخص کپڑے پہنے طواف کر سکتا تھا جس کے پاس نئے کپڑے ہوں۔ پھر طواف کے بعد ہی انہیں اتار ڈالتا تھا، اب یہ کسی کی ملکیت نہیں ہو سکتے تھے۔
پس جس کے پاس نیا کپڑا نہ ہو اور حمس بھی اس کو اپنا کپڑا نہ دے تو اسے ضروری تھا کہ وہ ننگا ہو کر طواف کرے۔ خواہ عورت ہو خواہ مرد۔ عورت اپنے آگے کے عضو پر ذرا سی کوئی چیز رکھ لیتی اور وہ کہتی جس کا بیان اوپر گزرا لیکن عموماً عورتیں رات کے وقت طواف کرتی تھیں۔ یہ بدعت انہوں نے از خود گھڑ لی تھی۔ اس فعل کی دلیل سوائے باپ دادا کی تقلید کے اور ان کے پاس کچھ نہ تھی لیکن اپنی خوش فہمی اور نیک ظنی سے کہہ دیتے تھے کہ اللہ کا بھی یہی حکم ہے۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر یہ فرمودہ رب نہ ہوتا تو ہمارے بزرگ اس طرح نہ کرتے۔ اس لیے حکم ہوتا ہے کہ اے نبی! آپ ان سے کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کے کاموں کا حکم نہیں کرتا۔ ایک تو برا کام کرتے ہو۔ دوسرے جھوٹ موٹ اس کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہو۔ یہ چوری اور سینہ زوری ہے۔
صفحہ نمبر2885
باب
کہہ دے کہ رب العالمین کا حکم تو عدل و انصاف کا ہے، استقامت اور دیانت داری کا ہے، برائیوں اور گندے کاموں کو چھوڑنے کا ہے، عبادات ٹھیک طور پر بجا لانے کا ہے۔ جو اللہ کے سچے رسولوں کے طریقہ کے مطابق ہوں، جن کی سچائی ان کے زبردست معجزوں سے اللہ نے ثابت کر دی ہے، ان کی لائی ہوئی شریعت پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے ہوں۔ جب تک اخلاص اور پیغمبر کی تابعداری کسی کام میں نہ ہو، اللہ کے ہاں وہ مقبول نہیں ہوتا۔
اس نے جس طرح تمہیں اول اول پیدا کیا ہے، اسی طرح وہ دوبارہ بھی لوٹائے گا۔ دنیا میں بھی اسی نے پیدا کیا، آخرت میں بھی وہی قبروں سے دوبارہ پیدا کرے گا۔ پہلے تم کچھ نہیں تھے، اس نے تمہیں بنایا۔ اب مرنے کے بعد پھر بھی وہ تمہیں زندہ کر دے گا۔ جیسے اس نے شروع میں تمہاری ابتداء کی تھی، اسی طرح پھر سے تمہارا اعادہ کرے گا۔
صفحہ نمبر2886
چنانچہ حدیث میں بھی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وعظ میں فرمایا: لوگو! تم اللہ کے سامنے ننگے پیروں، ننگے بدنوں، بےختنہ جمع کئے جاؤ گے۔ جیسے کہ ہم نے تمہیں پیدائش میں کیا تھا اسی کو پھر دوہرائیں گے۔ یہ ہمارا وعدہ ہے اور ہم اسے کر کے ہی رہنے والے ہیں۔ یہ روایت بخاری و مسلم میں بھی نکالی گئی ہے۔ [صحیح بخاری:4625]
یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جیسے ہم نے لکھ دیا ہے، ویسے ہی تم ہوؤ گے۔ ایک روایت میں ہے: جیسے تمہارے اعمال تھے ویسے ہی تم ہوؤ گے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ جس کی ابتداء میں بدبختی لکھ دی ہے، وہ بدبختی اور بداعمالی کی طرف ہی لوٹے گا، گو درمیان میں نیک ہو گیا ہو۔ اور جس کی تقدیر میں شروع سے ہی نیکی اور سعادت لکھ دی گئی ہے، وہ انجام کار نیک ہی ہو گا، گو اس سے کسی وقت برائی کے اعمال بھی سرزد ہو جائیں گے۔ جیسے کہ فرعون کے زمانے کے جادوگر کہ ساری عمر سیاہ کاریوں اور کفر میں کٹی لیکن آخر وقت مسلمان اولیاء ہو کر مرے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ اللہ تم میں سے ہر ایک کو ہدایت پر یا گمراہی پر پیدا کر چکا ہے، ایسے ہی ہو کر تم ماں کے بطن سے نکلو گے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کی پیدائش مومن و کافر ہونے کی حالت میں کی۔ جیسے فرمان ہے «هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ» [64-التغابن:2] پھر انہیں اسی طرح قیامت کے دن لوٹائے گا یعنی مومن و کافر کے گروہوں میں۔
اسی قول کی تائید صحیح بخاری کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اس کی قسم جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں کہ تم میں سے ایک شخص جنتیوں کے اعمال کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک بام بھر کا یا ہاتھ بھر کا فرق رہ جاتا ہے۔ پھر اس پر لکھا ہوا سبقت کر جاتا ہے اور دوزخیوں کے اعمال شروع کر دیتا ہے اور اسی میں داخل ہو جاتا ہے اور کوئی جہنمیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ جہنم سے ایک ہاتھ یا ایک بام دور رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھا آگے آ جاتا ہے اور وہ جنتیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے اور جنت نشین ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594]
دوسری روایت بھی اسی طرح کی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اس کے وہ کام لوگوں کی نظروں میں جہنم اور جنت کے ہوتے ہیں۔ اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے۔ [صحیح بخاری:6493]
اور حدیث میں ہے: ہر نفس اسی پر اٹھایا جائے گا جس پر تھا۔ [صحیح مسلم:2878] (مسلم)
صفحہ نمبر2887
ایک اور روایت میں ہے: جس پر مرا۔
اگر اس آیت سے مراد یہی لی جائے تو اس میں اس کے بعد فرمان «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا» [30-الروم:30] میں اور بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ [صحیح بخاری:4775]
اور صحیح مسلم کی حدیث میں فرمان باری ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و حنیف پیدا کیا۔ پھر شیطان نے ان کے دین سے انہیں بہکا دیا۔ [صحیح مسلم:2865]
اس میں کوئی جمع کی وجہ ہونی چاہیئے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے انہیں دوسرے حال میں مومن و کافر ہونے کے لئے پیدا کیا۔ گو پہلے حال میں تمام مخلوق کو اپنی معرفت و توحید پر پیدا کیا تھا کہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ جیسے کہ اس نے ان سے روز میثاق میں عہد بھی لیا تھا اور اسی وعدے کو ان کی جبلت گھٹی میں رکھ دیا تھا۔ اس کے باوجود اس نے مقدر کیا تھا کہ ان میں سے بعض شقی اور بدبخت ہوں گے اور بعض سعید اور نیک بخت ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے: اسی نے تمہیں پیدا کیا پھر تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مومن۔ اور حدیث میں ہے: ہر شخص صبح کرتا ہے، پھر اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اسے آزاد کرا لیتے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو اسے ہلاک کر بیٹھتے ہیں۔ [صحیح مسلم:223] اللہ کی تقدیر، اللہ کی مخلوق میں جاری ہے، اسی نے مقدر کیا، اسی نے ہدایت کی، اسی نے ہر ایک کو اس کی پیدائش دی، پھر رہنمائی کی۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جو لوگ سعادت والوں میں سے ہیں، ان پر نیکوں کے کام آسان ہوں گے اور جو شقاوت والے ہیں، ان پر بدیاں آسان ہوں گی۔ [صحیح بخاری:1362]
چنانچہ قرآن کریم میں ہے: ایک فرقے نے راہ پائی اور ایک فرقے پر گمراہی ثابت ہو چکی۔ پھر اس کی وجہ بیان فرمائی کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنا لیا ہے۔ اس آیت سے اس مذہب کی تردید ہوتی ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو کسی معصیت کے عمل پر یا کسی گمراہی کے عقیدے پر عذاب نہیں کرتا تاوقتیکہ اس کے پاس صحیح چیز صاف آ جائے اور پھر وہ اپنی برائی پر ضد اور عناد سے جما رہے۔ کیونکہ اگر یہ مذہب صحیح ہوتا تو جو لوگ گمراہ ہیں لیکن اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں اور جو واقعی ہدایت پر ہیں، ان میں کوئی فرق نہ ہونا چاہیئے تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میں فرق کیا۔ ان کے نام میں بھی اور ان کے احکام میں بھی۔ آیت آپ کے سامنے موجود ہے، پڑھ لیجئے۔
صفحہ نمبر2888
باب
کہہ دے کہ رب العالمین کا حکم تو عدل و انصاف کا ہے، استقامت اور دیانت داری کا ہے، برائیوں اور گندے کاموں کو چھوڑنے کا ہے، عبادات ٹھیک طور پر بجا لانے کا ہے۔ جو اللہ کے سچے رسولوں کے طریقہ کے مطابق ہوں، جن کی سچائی ان کے زبردست معجزوں سے اللہ نے ثابت کر دی ہے، ان کی لائی ہوئی شریعت پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے ہوں۔ جب تک اخلاص اور پیغمبر کی تابعداری کسی کام میں نہ ہو، اللہ کے ہاں وہ مقبول نہیں ہوتا۔
اس نے جس طرح تمہیں اول اول پیدا کیا ہے، اسی طرح وہ دوبارہ بھی لوٹائے گا۔ دنیا میں بھی اسی نے پیدا کیا، آخرت میں بھی وہی قبروں سے دوبارہ پیدا کرے گا۔ پہلے تم کچھ نہیں تھے، اس نے تمہیں بنایا۔ اب مرنے کے بعد پھر بھی وہ تمہیں زندہ کر دے گا۔ جیسے اس نے شروع میں تمہاری ابتداء کی تھی، اسی طرح پھر سے تمہارا اعادہ کرے گا۔
صفحہ نمبر2886
چنانچہ حدیث میں بھی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وعظ میں فرمایا: لوگو! تم اللہ کے سامنے ننگے پیروں، ننگے بدنوں، بےختنہ جمع کئے جاؤ گے۔ جیسے کہ ہم نے تمہیں پیدائش میں کیا تھا اسی کو پھر دوہرائیں گے۔ یہ ہمارا وعدہ ہے اور ہم اسے کر کے ہی رہنے والے ہیں۔ یہ روایت بخاری و مسلم میں بھی نکالی گئی ہے۔ [صحیح بخاری:4625]
یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جیسے ہم نے لکھ دیا ہے، ویسے ہی تم ہوؤ گے۔ ایک روایت میں ہے: جیسے تمہارے اعمال تھے ویسے ہی تم ہوؤ گے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ جس کی ابتداء میں بدبختی لکھ دی ہے، وہ بدبختی اور بداعمالی کی طرف ہی لوٹے گا، گو درمیان میں نیک ہو گیا ہو۔ اور جس کی تقدیر میں شروع سے ہی نیکی اور سعادت لکھ دی گئی ہے، وہ انجام کار نیک ہی ہو گا، گو اس سے کسی وقت برائی کے اعمال بھی سرزد ہو جائیں گے۔ جیسے کہ فرعون کے زمانے کے جادوگر کہ ساری عمر سیاہ کاریوں اور کفر میں کٹی لیکن آخر وقت مسلمان اولیاء ہو کر مرے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ اللہ تم میں سے ہر ایک کو ہدایت پر یا گمراہی پر پیدا کر چکا ہے، ایسے ہی ہو کر تم ماں کے بطن سے نکلو گے۔ یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کی پیدائش مومن و کافر ہونے کی حالت میں کی۔ جیسے فرمان ہے «هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ» [64-التغابن:2] پھر انہیں اسی طرح قیامت کے دن لوٹائے گا یعنی مومن و کافر کے گروہوں میں۔
اسی قول کی تائید صحیح بخاری کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اس کی قسم جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں کہ تم میں سے ایک شخص جنتیوں کے اعمال کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک بام بھر کا یا ہاتھ بھر کا فرق رہ جاتا ہے۔ پھر اس پر لکھا ہوا سبقت کر جاتا ہے اور دوزخیوں کے اعمال شروع کر دیتا ہے اور اسی میں داخل ہو جاتا ہے اور کوئی جہنمیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ جہنم سے ایک ہاتھ یا ایک بام دور رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھا آگے آ جاتا ہے اور وہ جنتیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے اور جنت نشین ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594]
دوسری روایت بھی اسی طرح کی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اس کے وہ کام لوگوں کی نظروں میں جہنم اور جنت کے ہوتے ہیں۔ اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے۔ [صحیح بخاری:6493]
اور حدیث میں ہے: ہر نفس اسی پر اٹھایا جائے گا جس پر تھا۔ [صحیح مسلم:2878] (مسلم)
صفحہ نمبر2887
ایک اور روایت میں ہے: جس پر مرا۔
اگر اس آیت سے مراد یہی لی جائے تو اس میں اس کے بعد فرمان «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا» [30-الروم:30] میں اور بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ [صحیح بخاری:4775]
اور صحیح مسلم کی حدیث میں فرمان باری ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و حنیف پیدا کیا۔ پھر شیطان نے ان کے دین سے انہیں بہکا دیا۔ [صحیح مسلم:2865]
اس میں کوئی جمع کی وجہ ہونی چاہیئے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے انہیں دوسرے حال میں مومن و کافر ہونے کے لئے پیدا کیا۔ گو پہلے حال میں تمام مخلوق کو اپنی معرفت و توحید پر پیدا کیا تھا کہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ جیسے کہ اس نے ان سے روز میثاق میں عہد بھی لیا تھا اور اسی وعدے کو ان کی جبلت گھٹی میں رکھ دیا تھا۔ اس کے باوجود اس نے مقدر کیا تھا کہ ان میں سے بعض شقی اور بدبخت ہوں گے اور بعض سعید اور نیک بخت ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے: اسی نے تمہیں پیدا کیا پھر تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مومن۔ اور حدیث میں ہے: ہر شخص صبح کرتا ہے، پھر اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اسے آزاد کرا لیتے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو اسے ہلاک کر بیٹھتے ہیں۔ [صحیح مسلم:223] اللہ کی تقدیر، اللہ کی مخلوق میں جاری ہے، اسی نے مقدر کیا، اسی نے ہدایت کی، اسی نے ہر ایک کو اس کی پیدائش دی، پھر رہنمائی کی۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جو لوگ سعادت والوں میں سے ہیں، ان پر نیکوں کے کام آسان ہوں گے اور جو شقاوت والے ہیں، ان پر بدیاں آسان ہوں گی۔ [صحیح بخاری:1362]
چنانچہ قرآن کریم میں ہے: ایک فرقے نے راہ پائی اور ایک فرقے پر گمراہی ثابت ہو چکی۔ پھر اس کی وجہ بیان فرمائی کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنا لیا ہے۔ اس آیت سے اس مذہب کی تردید ہوتی ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو کسی معصیت کے عمل پر یا کسی گمراہی کے عقیدے پر عذاب نہیں کرتا تاوقتیکہ اس کے پاس صحیح چیز صاف آ جائے اور پھر وہ اپنی برائی پر ضد اور عناد سے جما رہے۔ کیونکہ اگر یہ مذہب صحیح ہوتا تو جو لوگ گمراہ ہیں لیکن اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں اور جو واقعی ہدایت پر ہیں، ان میں کوئی فرق نہ ہونا چاہیئے تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میں فرق کیا۔ ان کے نام میں بھی اور ان کے احکام میں بھی۔ آیت آپ کے سامنے موجود ہے، پڑھ لیجئے۔
صفحہ نمبر2888