John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Kahf

Tafsir Ibn Kathir · The Cave · 110 ayat · ayat 1–30 · Quran text →

تفسیر سورۃ الکہف:

اس سورت کی فضیلت کا بیان خصوصاً اس کی اول آخر کی دس آیتوں کی فضیلت کا بیان اور یہ کہ یہ سورت فتنہ دجال سے محفوظ رکھنے والی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک صحابی نے اس کی تلاوت شروع کی، ان کے گھر میں ایک جانور تھا اس نے اچھلنا بدکنا شروع کر دیا، صحابی نے جو غور سے دیکھا تو انہیں سائبان کی طرح کا ایک بادل نظر پڑا جس نے ان پر سایہ کر رکھا تھا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، آپ نے فرمایا: ”پڑھتے رہو، یہ ہے وہ سکینہ جو اللہ کی طرف سے قرآن کی تلاوت پر نازل ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:3614] ‏ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے یہ صحابی سیدنا اسید بن حضیر تھے، جیسے کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں ہم بیان کر چکے ہیں۔

مسند احمد میں ہے کہ جس شخص نے سورہ کہف کے شروع کی دس آیتیں حفظ کر لیں وہ فتنہ دجال سے بچا لیا گیا۔ [صحیح مسلم:809] ‏

ترمذی میں تین آیتوں کا بیان ہے، مسلم میں آخری دس آیتوں کا ذکر ہے، نسائی میں دس آیتوں کو مطلق بیان کیا گیا ہے۔ [صحیح مسلم:809] ‏

مسند احمد میں ہے جو شخص اس سورۃ کہف کا اول آخر پڑھ لے اس کے لئے اس کے پاؤں سے سر تک نور ہو گا اور جو اس ساری سورت کو پڑھے اسے زمین سے آسمان تک کا نور ملے گا۔ [مسند احمد:439/3:ضعیف] ‏

ایک غریب سند سے ابن مردویہ میں ہے کہ جمعہ کے دن جو شخص سورۃ کہف پڑھ لے اس کے پیر کے تلوؤں سے لے کر آسمان کی بلندی تک کا نور ملے گا جو قیامت کے دن خوب روشن ہو گا اور دوسرے جمعہ تک کے اس کے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ [ابن مردويه:ضعیف جدا] ‏ اس حدیث کے مرفوع ہونے میں نظر ہے۔ زیادہ اچھا تو اس کا موقوف ہونا ہی ہے۔

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس نے سورۃ کہف جمعہ کے دن پڑھ لی اس کے پاس سے لے کر بیت اللہ شریف تک نورانیت ہو جاتی ہے۔ مستدرک حاکم میں مرفوعا مروی ہے کہ جس نے سورۃ کہف جمعہ کے دن پڑھی اس کے لئے وہ جمعہ کے درمیان تک نور کی روشنی رہتی ہے۔ [مستدرک حاکم:368/2:قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

بیہقی میں ہے کہ جس نے سورۃ کہف اسی طرح پڑھی جس طرح نازل ہوئی ہے اس کے لئے قیامت کے دن نور ہو گا۔ [مستدرک حاکم:564/1:قال الشيخ الألباني:موقوف] ‏

حافظ ضیاء مقدسی کی کتاب المختارہ میں ہے جو شخص جمعہ کے دن سورۃ کہف کی تلاوت کر لے گا وہ آٹھ دن تک ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رہے گا یہاں تک کہ اگر دجال بھی اس عرصہ میں نکلے تو وہ اس سے بھی بچا دیا جائے گا۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2013:ضعیف] ‏

مستحق تعریف قرآن مجید ٭٭

ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اللہ ہر امر کے شروع اور اس کے خاتمے پر اپنی تعریف و حمد کرتا ہے۔ ہر حال میں وہ قابل حمد اور لائق ثنا اور سزاوار تعریف ہے، اول آخر مستحق حمد فقط اسی کی ذات والا صفات ہے۔ اس نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم نازل فرمایا جو اس کی بہت بڑی نعمت ہے، جس سے اللہ کے تمام بندے اندھیروں سے نکل کر نور کی طرف آ سکتے ہیں۔ اس نے اس کتاب کو ٹھیک ٹھاک اور سیدھا اور راست رکھا ہے جس میں کوئی کجی، کوئی کسر، کوئی کمی نہیں، صراط مستقیم کی رہبر، واضح جلی، صاف اور واضح ہے۔ بدکاروں کو ڈرانے والی، نیک کاروں کو خوشخبریاں سنانے والی، معتدل، سیدھی، مخالفوں منکروں کو خوفناک عذابوں کی خبر دینے والی یہ کتاب ہے، جو عذاب اللہ کی طرف سے ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، ایسے عذاب کہ نہ اس کے سے عذاب کسی کے نہ اس کی سی پکڑ کسی کی۔ ہاں جو اس پر یقین کرے، ایمان لائے، نیک عمل کرے، اسے یہ کتاب اجر عظیم کی خوشی سناتی ہے۔

جس ثواب کو پائندگی اور دوام ہے، وہ جنت انہیں ملے گی جس میں کبھی فنا نہیں جس کی نعمتیں غیر فانی ہیں۔ اور انہیں بھی یہ عذابوں سے آگاہ کرتا ہے جو اللہ کی اولاد ٹھیراتے ہیں جیسے مشرکین مکہ کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے۔

صفحہ نمبر4838

تفسیر سورۃ الکہف:

اس سورت کی فضیلت کا بیان خصوصاً اس کی اول آخر کی دس آیتوں کی فضیلت کا بیان اور یہ کہ یہ سورت فتنہ دجال سے محفوظ رکھنے والی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک صحابی نے اس کی تلاوت شروع کی، ان کے گھر میں ایک جانور تھا اس نے اچھلنا بدکنا شروع کر دیا، صحابی نے جو غور سے دیکھا تو انہیں سائبان کی طرح کا ایک بادل نظر پڑا جس نے ان پر سایہ کر رکھا تھا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، آپ نے فرمایا: ”پڑھتے رہو، یہ ہے وہ سکینہ جو اللہ کی طرف سے قرآن کی تلاوت پر نازل ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:3614] ‏ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے یہ صحابی سیدنا اسید بن حضیر تھے، جیسے کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں ہم بیان کر چکے ہیں۔

مسند احمد میں ہے کہ جس شخص نے سورہ کہف کے شروع کی دس آیتیں حفظ کر لیں وہ فتنہ دجال سے بچا لیا گیا۔ [صحیح مسلم:809] ‏

ترمذی میں تین آیتوں کا بیان ہے، مسلم میں آخری دس آیتوں کا ذکر ہے، نسائی میں دس آیتوں کو مطلق بیان کیا گیا ہے۔ [صحیح مسلم:809] ‏

مسند احمد میں ہے جو شخص اس سورۃ کہف کا اول آخر پڑھ لے اس کے لئے اس کے پاؤں سے سر تک نور ہو گا اور جو اس ساری سورت کو پڑھے اسے زمین سے آسمان تک کا نور ملے گا۔ [مسند احمد:439/3:ضعیف] ‏

ایک غریب سند سے ابن مردویہ میں ہے کہ جمعہ کے دن جو شخص سورۃ کہف پڑھ لے اس کے پیر کے تلوؤں سے لے کر آسمان کی بلندی تک کا نور ملے گا جو قیامت کے دن خوب روشن ہو گا اور دوسرے جمعہ تک کے اس کے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ [ابن مردويه:ضعیف جدا] ‏ اس حدیث کے مرفوع ہونے میں نظر ہے۔ زیادہ اچھا تو اس کا موقوف ہونا ہی ہے۔

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس نے سورۃ کہف جمعہ کے دن پڑھ لی اس کے پاس سے لے کر بیت اللہ شریف تک نورانیت ہو جاتی ہے۔ مستدرک حاکم میں مرفوعا مروی ہے کہ جس نے سورۃ کہف جمعہ کے دن پڑھی اس کے لئے وہ جمعہ کے درمیان تک نور کی روشنی رہتی ہے۔ [مستدرک حاکم:368/2:قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

بیہقی میں ہے کہ جس نے سورۃ کہف اسی طرح پڑھی جس طرح نازل ہوئی ہے اس کے لئے قیامت کے دن نور ہو گا۔ [مستدرک حاکم:564/1:قال الشيخ الألباني:موقوف] ‏

حافظ ضیاء مقدسی کی کتاب المختارہ میں ہے جو شخص جمعہ کے دن سورۃ کہف کی تلاوت کر لے گا وہ آٹھ دن تک ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رہے گا یہاں تک کہ اگر دجال بھی اس عرصہ میں نکلے تو وہ اس سے بھی بچا دیا جائے گا۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2013:ضعیف] ‏

مستحق تعریف قرآن مجید ٭٭

ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اللہ ہر امر کے شروع اور اس کے خاتمے پر اپنی تعریف و حمد کرتا ہے۔ ہر حال میں وہ قابل حمد اور لائق ثنا اور سزاوار تعریف ہے، اول آخر مستحق حمد فقط اسی کی ذات والا صفات ہے۔ اس نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم نازل فرمایا جو اس کی بہت بڑی نعمت ہے، جس سے اللہ کے تمام بندے اندھیروں سے نکل کر نور کی طرف آ سکتے ہیں۔ اس نے اس کتاب کو ٹھیک ٹھاک اور سیدھا اور راست رکھا ہے جس میں کوئی کجی، کوئی کسر، کوئی کمی نہیں، صراط مستقیم کی رہبر، واضح جلی، صاف اور واضح ہے۔ بدکاروں کو ڈرانے والی، نیک کاروں کو خوشخبریاں سنانے والی، معتدل، سیدھی، مخالفوں منکروں کو خوفناک عذابوں کی خبر دینے والی یہ کتاب ہے، جو عذاب اللہ کی طرف سے ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، ایسے عذاب کہ نہ اس کے سے عذاب کسی کے نہ اس کی سی پکڑ کسی کی۔ ہاں جو اس پر یقین کرے، ایمان لائے، نیک عمل کرے، اسے یہ کتاب اجر عظیم کی خوشی سناتی ہے۔

جس ثواب کو پائندگی اور دوام ہے، وہ جنت انہیں ملے گی جس میں کبھی فنا نہیں جس کی نعمتیں غیر فانی ہیں۔ اور انہیں بھی یہ عذابوں سے آگاہ کرتا ہے جو اللہ کی اولاد ٹھیراتے ہیں جیسے مشرکین مکہ کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے۔

صفحہ نمبر4838

تفسیر سورۃ الکہف:

اس سورت کی فضیلت کا بیان خصوصاً اس کی اول آخر کی دس آیتوں کی فضیلت کا بیان اور یہ کہ یہ سورت فتنہ دجال سے محفوظ رکھنے والی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک صحابی نے اس کی تلاوت شروع کی، ان کے گھر میں ایک جانور تھا اس نے اچھلنا بدکنا شروع کر دیا، صحابی نے جو غور سے دیکھا تو انہیں سائبان کی طرح کا ایک بادل نظر پڑا جس نے ان پر سایہ کر رکھا تھا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، آپ نے فرمایا: ”پڑھتے رہو، یہ ہے وہ سکینہ جو اللہ کی طرف سے قرآن کی تلاوت پر نازل ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:3614] ‏ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے یہ صحابی سیدنا اسید بن حضیر تھے، جیسے کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں ہم بیان کر چکے ہیں۔

مسند احمد میں ہے کہ جس شخص نے سورہ کہف کے شروع کی دس آیتیں حفظ کر لیں وہ فتنہ دجال سے بچا لیا گیا۔ [صحیح مسلم:809] ‏

ترمذی میں تین آیتوں کا بیان ہے، مسلم میں آخری دس آیتوں کا ذکر ہے، نسائی میں دس آیتوں کو مطلق بیان کیا گیا ہے۔ [صحیح مسلم:809] ‏

مسند احمد میں ہے جو شخص اس سورۃ کہف کا اول آخر پڑھ لے اس کے لئے اس کے پاؤں سے سر تک نور ہو گا اور جو اس ساری سورت کو پڑھے اسے زمین سے آسمان تک کا نور ملے گا۔ [مسند احمد:439/3:ضعیف] ‏

ایک غریب سند سے ابن مردویہ میں ہے کہ جمعہ کے دن جو شخص سورۃ کہف پڑھ لے اس کے پیر کے تلوؤں سے لے کر آسمان کی بلندی تک کا نور ملے گا جو قیامت کے دن خوب روشن ہو گا اور دوسرے جمعہ تک کے اس کے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ [ابن مردويه:ضعیف جدا] ‏ اس حدیث کے مرفوع ہونے میں نظر ہے۔ زیادہ اچھا تو اس کا موقوف ہونا ہی ہے۔

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس نے سورۃ کہف جمعہ کے دن پڑھ لی اس کے پاس سے لے کر بیت اللہ شریف تک نورانیت ہو جاتی ہے۔ مستدرک حاکم میں مرفوعا مروی ہے کہ جس نے سورۃ کہف جمعہ کے دن پڑھی اس کے لئے وہ جمعہ کے درمیان تک نور کی روشنی رہتی ہے۔ [مستدرک حاکم:368/2:قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

بیہقی میں ہے کہ جس نے سورۃ کہف اسی طرح پڑھی جس طرح نازل ہوئی ہے اس کے لئے قیامت کے دن نور ہو گا۔ [مستدرک حاکم:564/1:قال الشيخ الألباني:موقوف] ‏

حافظ ضیاء مقدسی کی کتاب المختارہ میں ہے جو شخص جمعہ کے دن سورۃ کہف کی تلاوت کر لے گا وہ آٹھ دن تک ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رہے گا یہاں تک کہ اگر دجال بھی اس عرصہ میں نکلے تو وہ اس سے بھی بچا دیا جائے گا۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2013:ضعیف] ‏

مستحق تعریف قرآن مجید ٭٭

ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اللہ ہر امر کے شروع اور اس کے خاتمے پر اپنی تعریف و حمد کرتا ہے۔ ہر حال میں وہ قابل حمد اور لائق ثنا اور سزاوار تعریف ہے، اول آخر مستحق حمد فقط اسی کی ذات والا صفات ہے۔ اس نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم نازل فرمایا جو اس کی بہت بڑی نعمت ہے، جس سے اللہ کے تمام بندے اندھیروں سے نکل کر نور کی طرف آ سکتے ہیں۔ اس نے اس کتاب کو ٹھیک ٹھاک اور سیدھا اور راست رکھا ہے جس میں کوئی کجی، کوئی کسر، کوئی کمی نہیں، صراط مستقیم کی رہبر، واضح جلی، صاف اور واضح ہے۔ بدکاروں کو ڈرانے والی، نیک کاروں کو خوشخبریاں سنانے والی، معتدل، سیدھی، مخالفوں منکروں کو خوفناک عذابوں کی خبر دینے والی یہ کتاب ہے، جو عذاب اللہ کی طرف سے ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، ایسے عذاب کہ نہ اس کے سے عذاب کسی کے نہ اس کی سی پکڑ کسی کی۔ ہاں جو اس پر یقین کرے، ایمان لائے، نیک عمل کرے، اسے یہ کتاب اجر عظیم کی خوشی سناتی ہے۔

جس ثواب کو پائندگی اور دوام ہے، وہ جنت انہیں ملے گی جس میں کبھی فنا نہیں جس کی نعمتیں غیر فانی ہیں۔ اور انہیں بھی یہ عذابوں سے آگاہ کرتا ہے جو اللہ کی اولاد ٹھیراتے ہیں جیسے مشرکین مکہ کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے۔

صفحہ نمبر4838

مشرکین کے سوالات ٭٭

بے علمی اور جہالت کے ساتھ منہ سے بول پڑتے ہیں۔ یہ تو یہ، ان کے بڑے بھی ایسی باتیں بےعلمی سے کہتے رہے۔ «كَلِمَةً» کا نصب تمیز کی بنا پر ہے، تقدیر عبارت اس طرح ہے «كَبُرَتْ كَلِمَة ھٰذِہِ کَلِمَۃً» اور کہا گیا ہے کہ یہ تعجب کے طور پر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے «اَعْظِمْ بِکَلِمتِہِمُ کَلِمَۃً» جیسے کہا جاتا ہے «اَکْرِمُ بِذَیْدٍ رَجُلًا» بعض بصریوں کا یہی قول ہے۔ مکہ کے بعض قاریوں نے اسے کلمتہ پڑھا ہے جیسے کہا جاتا ہے «عَظُمَ قَوْلُکَ وَکَبُرَ شَانُکَ» جمہور کی قرأت پر تو معنی بالکل ظاہر ہیں کہ ان کے اس کلمے کی برائی اور اس کا نہایت ہی برا ہونا بیان ہو رہا ہے جو محض بے دل یل ہے، صرف کذب و افترا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ محض جھوٹ بکتے ہیں۔

صفحہ نمبر4841

اس سورت کا شان نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ قریشیوں نے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابو محیط کو مدینے کے یہودی علماء کے پاس بھیجا کہ تم جا کر محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ کی بابت کل حالات ان سے بیان کرو۔ ان کے پاس اگلے انبیاء کا علم ہے، ان سے پوچھو ان کی آپ کی بابت کیا رائے ہے؟ یہ دونوں مدینے گئے احبار مدینہ سے ملے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات و اوصاف بیان کئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا ذکر کیا اور کہا کہ تم ذی علم ہو بتاؤ ان کی نسبت کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا دیکھو ہم تمہیں ایک فیصلہ کن بات بتاتے ہیں تم جا کر ان سے تین سوالات کرو، اگر جواب دے دیں تو ان کے سچے ہونے میں کچھ شک نہیں، بیشک وہ اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور اگر جواب نہ دیں سکیں تو آپ کے جھوٹا ہونے میں بھی کوئی شک نہیں پھر جو تم چاہو کرو۔ ان سے پوچھو اگلے زمانے میں جو نوجوان چلے گئے تھے ان کا واقعہ بیان کرو۔ وہ ایک عجیب واقعہ ہے۔ اور اس شخص کے حالات دریافت کرو جس نے تمام زمین کا گشت لگایا تھا، مشرق مغرب ہو آیا تھا۔ اور روح کی ماہیت دریافت کرو۔ اگر بتا دے تو اسے نبی مان کر اس کی اتباع کرو اور اگر نہ بتا سکے تو وہ شخص جھوٹا ہے جو چاہو کرو۔

یہ دونوں وہاں سے واپس آئے اور قریشیوں سے کہا، لو بھئی آخری اور انتہائی فیصلے کی بات انہوں نے بتا دی ہے۔ اب چلو صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کریں چنانچہ یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور تینوں سوالات کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کل آؤ میں تمہیں جواب دوں گا لیکن ان شاءاللہ کہنا بھول گئے، پندرہ دن گزر گئے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی نہ اللہ کی طرف سے ان باتوں کا جواب معلوم کرایا گیا۔ اہل مکہ جوش میں آ گئے اور کہنے لگے کہ لیجئے صاحب کل کا وعدہ تھا، آج پندرھواں دن ہے لیکن وہ بتا نہیں سکے۔ ادھر آپ کو دوہرا غم ستانے لگا، قریشیوں کو جواب نہ ملنے پر ان کی باتیں سننے کا اور وحی کے بند ہو جانے کا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام آئے سورۃ الکہف نازل ہوئی۔ اسی میں ان شاءاللہ نہ کہنے پر آپ کو ڈانٹا گیا، ان نوجوانوں کا قصہ بیان کیا گیا اور اس سیاح کا ذکر کیا گیا اور «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا» [ 17- الإسراء: 85 ] ‏ میں روح کی بابت جواب دیا گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22861] ‏

صفحہ نمبر4842

مشرکین کے سوالات ٭٭

بے علمی اور جہالت کے ساتھ منہ سے بول پڑتے ہیں۔ یہ تو یہ، ان کے بڑے بھی ایسی باتیں بےعلمی سے کہتے رہے۔ «كَلِمَةً» کا نصب تمیز کی بنا پر ہے، تقدیر عبارت اس طرح ہے «كَبُرَتْ كَلِمَة ھٰذِہِ کَلِمَۃً» اور کہا گیا ہے کہ یہ تعجب کے طور پر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے «اَعْظِمْ بِکَلِمتِہِمُ کَلِمَۃً» جیسے کہا جاتا ہے «اَکْرِمُ بِذَیْدٍ رَجُلًا» بعض بصریوں کا یہی قول ہے۔ مکہ کے بعض قاریوں نے اسے کلمتہ پڑھا ہے جیسے کہا جاتا ہے «عَظُمَ قَوْلُکَ وَکَبُرَ شَانُکَ» جمہور کی قرأت پر تو معنی بالکل ظاہر ہیں کہ ان کے اس کلمے کی برائی اور اس کا نہایت ہی برا ہونا بیان ہو رہا ہے جو محض بے دل یل ہے، صرف کذب و افترا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ محض جھوٹ بکتے ہیں۔

صفحہ نمبر4841

اس سورت کا شان نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ قریشیوں نے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابو محیط کو مدینے کے یہودی علماء کے پاس بھیجا کہ تم جا کر محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ کی بابت کل حالات ان سے بیان کرو۔ ان کے پاس اگلے انبیاء کا علم ہے، ان سے پوچھو ان کی آپ کی بابت کیا رائے ہے؟ یہ دونوں مدینے گئے احبار مدینہ سے ملے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات و اوصاف بیان کئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا ذکر کیا اور کہا کہ تم ذی علم ہو بتاؤ ان کی نسبت کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا دیکھو ہم تمہیں ایک فیصلہ کن بات بتاتے ہیں تم جا کر ان سے تین سوالات کرو، اگر جواب دے دیں تو ان کے سچے ہونے میں کچھ شک نہیں، بیشک وہ اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور اگر جواب نہ دیں سکیں تو آپ کے جھوٹا ہونے میں بھی کوئی شک نہیں پھر جو تم چاہو کرو۔ ان سے پوچھو اگلے زمانے میں جو نوجوان چلے گئے تھے ان کا واقعہ بیان کرو۔ وہ ایک عجیب واقعہ ہے۔ اور اس شخص کے حالات دریافت کرو جس نے تمام زمین کا گشت لگایا تھا، مشرق مغرب ہو آیا تھا۔ اور روح کی ماہیت دریافت کرو۔ اگر بتا دے تو اسے نبی مان کر اس کی اتباع کرو اور اگر نہ بتا سکے تو وہ شخص جھوٹا ہے جو چاہو کرو۔

یہ دونوں وہاں سے واپس آئے اور قریشیوں سے کہا، لو بھئی آخری اور انتہائی فیصلے کی بات انہوں نے بتا دی ہے۔ اب چلو صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کریں چنانچہ یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور تینوں سوالات کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کل آؤ میں تمہیں جواب دوں گا لیکن ان شاءاللہ کہنا بھول گئے، پندرہ دن گزر گئے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی نہ اللہ کی طرف سے ان باتوں کا جواب معلوم کرایا گیا۔ اہل مکہ جوش میں آ گئے اور کہنے لگے کہ لیجئے صاحب کل کا وعدہ تھا، آج پندرھواں دن ہے لیکن وہ بتا نہیں سکے۔ ادھر آپ کو دوہرا غم ستانے لگا، قریشیوں کو جواب نہ ملنے پر ان کی باتیں سننے کا اور وحی کے بند ہو جانے کا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام آئے سورۃ الکہف نازل ہوئی۔ اسی میں ان شاءاللہ نہ کہنے پر آپ کو ڈانٹا گیا، ان نوجوانوں کا قصہ بیان کیا گیا اور اس سیاح کا ذکر کیا گیا اور «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا» [ 17- الإسراء: 85 ] ‏ میں روح کی بابت جواب دیا گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22861] ‏

صفحہ نمبر4842

مشرکین کی گمراہی پر افسوس نہ کرو ٭٭

مشرکین جو آپ سے دور بھاگتے تھے، ایمان نہ لاتے تھے، اس پر جو رنج و افسوس آپ کو ہوتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی کر رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» [ 35-فاطر: 8 ] ‏ ان پر اتنا رنج نہ کرو، اور جگہ ہے «وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ» [ 16-النحل: 127 ] ‏ ان پر اتنے غمگین نہ ہو، اور جگہ ہے «لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [ 26-الشعراء: 3 ] ‏ ان کے ایمان نہ لانے سے اپنے آپ کو ہلاک نہ کر۔ یہاں بھی یہی فرمایا ہے کہ یہ اس قرآن پر ایمان نہ لائیں تو تو اپنی جان کو روگ نہ لگا لے، اس قدر غم و غصہ، رنج و افسوس نہ کر، نہ گھبرا نہ دل تنگ کر اپنا کام کئے جا۔ تبلیغ میں کوتاہی نہ کر۔ راہ یافتہ اپنا بھلا کریں گے۔ گمراہ اپنا برا کریں گے۔ ہر ایک کا عمل اس کے ساتھ ہے۔ پھر فرماتا ہے دنیا فانی ہے، اس کی زینت زوال والی ہے، آخرت باقی ہے، اس کی نعمت دوامی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا میٹھی اور سبز رنگ ہے، اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلیفہ بنا کر دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو؟ پس دنیا سے اور عورتوں سے بچو، بنو اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کا ہی تھا۔ [صحیح مسلم:2742] ‏

یہ دنیا ختم ہونے والی اور خراب ہونے والی ہے، اجڑنے والی اور غارت ہونے والی ہے، زمین ہموار صاف رہ جائے گی جس پر کسی قسم کی روئیدگی بھی نہ ہو گی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ أَفَلَا يُبْصِرُونَ» [ 32-السجدة: 27 ] ‏ کیا لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم غیر آباد بنجر زمین کی طرف پانی کو لے چلتے ہیں اور اس میں سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جسے وہ خود کھاتے ہیں اور ان کے چوپائے بھی۔ کیا پھر بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔ زمین اور زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے اور اپنے مالک حقیقی کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔ پس تو کچھ بھی ان سے سنے، انہیں کیسے ہی حال میں دیکھے، مطلق افسوس اور رنج نہ کر۔

صفحہ نمبر4844

مشرکین کی گمراہی پر افسوس نہ کرو ٭٭

مشرکین جو آپ سے دور بھاگتے تھے، ایمان نہ لاتے تھے، اس پر جو رنج و افسوس آپ کو ہوتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی کر رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» [ 35-فاطر: 8 ] ‏ ان پر اتنا رنج نہ کرو، اور جگہ ہے «وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ» [ 16-النحل: 127 ] ‏ ان پر اتنے غمگین نہ ہو، اور جگہ ہے «لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [ 26-الشعراء: 3 ] ‏ ان کے ایمان نہ لانے سے اپنے آپ کو ہلاک نہ کر۔ یہاں بھی یہی فرمایا ہے کہ یہ اس قرآن پر ایمان نہ لائیں تو تو اپنی جان کو روگ نہ لگا لے، اس قدر غم و غصہ، رنج و افسوس نہ کر، نہ گھبرا نہ دل تنگ کر اپنا کام کئے جا۔ تبلیغ میں کوتاہی نہ کر۔ راہ یافتہ اپنا بھلا کریں گے۔ گمراہ اپنا برا کریں گے۔ ہر ایک کا عمل اس کے ساتھ ہے۔ پھر فرماتا ہے دنیا فانی ہے، اس کی زینت زوال والی ہے، آخرت باقی ہے، اس کی نعمت دوامی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا میٹھی اور سبز رنگ ہے، اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلیفہ بنا کر دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو؟ پس دنیا سے اور عورتوں سے بچو، بنو اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کا ہی تھا۔ [صحیح مسلم:2742] ‏

یہ دنیا ختم ہونے والی اور خراب ہونے والی ہے، اجڑنے والی اور غارت ہونے والی ہے، زمین ہموار صاف رہ جائے گی جس پر کسی قسم کی روئیدگی بھی نہ ہو گی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ أَفَلَا يُبْصِرُونَ» [ 32-السجدة: 27 ] ‏ کیا لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم غیر آباد بنجر زمین کی طرف پانی کو لے چلتے ہیں اور اس میں سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جسے وہ خود کھاتے ہیں اور ان کے چوپائے بھی۔ کیا پھر بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔ زمین اور زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے اور اپنے مالک حقیقی کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔ پس تو کچھ بھی ان سے سنے، انہیں کیسے ہی حال میں دیکھے، مطلق افسوس اور رنج نہ کر۔

صفحہ نمبر4844

مشرکین کی گمراہی پر افسوس نہ کرو ٭٭

مشرکین جو آپ سے دور بھاگتے تھے، ایمان نہ لاتے تھے، اس پر جو رنج و افسوس آپ کو ہوتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی کر رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» [ 35-فاطر: 8 ] ‏ ان پر اتنا رنج نہ کرو، اور جگہ ہے «وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ» [ 16-النحل: 127 ] ‏ ان پر اتنے غمگین نہ ہو، اور جگہ ہے «لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [ 26-الشعراء: 3 ] ‏ ان کے ایمان نہ لانے سے اپنے آپ کو ہلاک نہ کر۔ یہاں بھی یہی فرمایا ہے کہ یہ اس قرآن پر ایمان نہ لائیں تو تو اپنی جان کو روگ نہ لگا لے، اس قدر غم و غصہ، رنج و افسوس نہ کر، نہ گھبرا نہ دل تنگ کر اپنا کام کئے جا۔ تبلیغ میں کوتاہی نہ کر۔ راہ یافتہ اپنا بھلا کریں گے۔ گمراہ اپنا برا کریں گے۔ ہر ایک کا عمل اس کے ساتھ ہے۔ پھر فرماتا ہے دنیا فانی ہے، اس کی زینت زوال والی ہے، آخرت باقی ہے، اس کی نعمت دوامی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا میٹھی اور سبز رنگ ہے، اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلیفہ بنا کر دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو؟ پس دنیا سے اور عورتوں سے بچو، بنو اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کا ہی تھا۔ [صحیح مسلم:2742] ‏

یہ دنیا ختم ہونے والی اور خراب ہونے والی ہے، اجڑنے والی اور غارت ہونے والی ہے، زمین ہموار صاف رہ جائے گی جس پر کسی قسم کی روئیدگی بھی نہ ہو گی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ أَفَلَا يُبْصِرُونَ» [ 32-السجدة: 27 ] ‏ کیا لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم غیر آباد بنجر زمین کی طرف پانی کو لے چلتے ہیں اور اس میں سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جسے وہ خود کھاتے ہیں اور ان کے چوپائے بھی۔ کیا پھر بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔ زمین اور زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے اور اپنے مالک حقیقی کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔ پس تو کچھ بھی ان سے سنے، انہیں کیسے ہی حال میں دیکھے، مطلق افسوس اور رنج نہ کر۔

صفحہ نمبر4844

اصحاف کہف ٭٭

اصحاف کہف کا قصہ اجمال کے ساتھ بیان ہو رہا ہے پھر تفصیل کے ساتھ بیان ہو گا۔ فرماتا ہے کہ وہ واقعہ ہماری قدرت کے بےشمار واقعات میں سے ایک نہایت معمولی واقعہ ہے۔ اس سے بڑے بڑے نشان روز مرہ تمہارے سامنے ہیں۔ آسمان و زمین کی پیدائش، رات دن کا آنا جانا، سورج چاند کی اطاعت گزاری وغیرہ قدرت کی ان گنت نشانیاں ہیں جو بتلا رہی ہیں کہ اللہ کی قدرت بے انداز ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس پر کوئی کام مشکل نہیں۔ اصحاب کہف سے تو کہیں زیادہ تعجب خیز اور اہم نشان قدرت تمہارے سامنے دن رات موجود ہیں، کتاب و سنت کا جو علم میں نے تجھے عطا فرمایا ہے، وہ اصحاب کہف کی شان سے کہیں زیادہ ہے۔ بہت سی حجتیں میں نے اپنے بندوں پر اصحاب کہف سے زیادہ واضح کر دی ہیں۔ کہف کہتے ہیں پہاڑی غار کو، وہیں یہ نوجوان چھپ گئے تھے۔

صفحہ نمبر4847

رقیم یا توایلہ کے پاس کی وادی کا نام ہے یا ان کی اس جگہ کی عمارت کا نام ہے یا کسی آبادی کا نام ہے یا اس پہاڑ کا نام ہے، اس پہاڑ کا نام نجلوس بھی آیا ہے، غار کا نام حیزوم کہا گیا ہے اور ان کے کتے کا نام حمران بتایا گیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سارے قرآن کو میں جانتا ہوں لیکن لفظ «حنان» اور لفظ «اواہ» اور لفظ «رَّقِيمِ» کو۔ مجھے نہیں معلوم کہ «رَّقِيمِ» کسی کتاب کا نام ہے یا کسی بنا کا۔

اور روایت میں آپ سے مروی ہے کہ وہ کتاب ہے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ پتھر کی ایک لوح تھی جس پر اصحاب کہف کا قصہ لکھ کر غار کے دروازے پر اسے لگا دیا گیا تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن کہتے ہیں قرآن میں ہے «كِتَابٌ مَّرْقُومٌ» [ 83-المطففين: 9 ] ‏ پس آیت کے ظاہری الفاظ تو اس کی تائید کرتے ہیں اور یہی امام ابن جریر کا مختار قول ہے کہ «رَّقِيمِ» فعیل کے وزن پر مرقوم کے معنی میں ہے جیسے مقتول قتیل اور مجروح جریح۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4848

یہ نوجوان اپنے دین کے بچاؤ کیلئے اپنی قوم سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے کہ کہیں وہ انہیں دین سے بہکا نہ دیں، ایک پہاڑ کے غار میں گھس گئے اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ہمیں اپنی جانب سے رحمت عطا فرما، ہمیں اپنی قوم سے چھپائے رکھ، ہمارے اس کام میں اچھائی کا انجام کر۔ حدیث کی ایک دعا میں ہے کہ اے اللہ جو فیصلہ تو ہمارے حق میں کرے، اسے انجام کے لحاظ سے بھلا کر۔ مسند میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں عرض کرتے کہ اے اللہ ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا کر اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذابوں سے بچا لے۔ [مسند احمد:181/4:ضعیف] ‏

یہ غار میں جا کر جو پڑ کر سوئے تو برسوں گزر گئے، پھر ہم نے انہیں بیدار کیا، ایک صاحب درہم لے کر بازار سے سودا خریدنے چلے، جیسے کہ آگے آ رہا ہے۔ یہ اس لیے کہ انہیں وہاں کتنی مدت گزری، اسے دونوں گروہوں میں سے کون زیادہ یاد رکھنے والا ہے؟ اسے ہم بھی معلوم کریں۔ «أَمَدً» کے معنی عدد یعنی گنتی کے ہیں اور کہا گیا ہے کہ غایت کے معنی میں بھی یہ لفظ آیا ہے جیسے کہ عرب کے شاعروں نے اپنے شعروں میں اسے غایت کے معنی میں باندھا ہے۔

صفحہ نمبر4849

اصحاف کہف ٭٭

اصحاف کہف کا قصہ اجمال کے ساتھ بیان ہو رہا ہے پھر تفصیل کے ساتھ بیان ہو گا۔ فرماتا ہے کہ وہ واقعہ ہماری قدرت کے بےشمار واقعات میں سے ایک نہایت معمولی واقعہ ہے۔ اس سے بڑے بڑے نشان روز مرہ تمہارے سامنے ہیں۔ آسمان و زمین کی پیدائش، رات دن کا آنا جانا، سورج چاند کی اطاعت گزاری وغیرہ قدرت کی ان گنت نشانیاں ہیں جو بتلا رہی ہیں کہ اللہ کی قدرت بے انداز ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس پر کوئی کام مشکل نہیں۔ اصحاب کہف سے تو کہیں زیادہ تعجب خیز اور اہم نشان قدرت تمہارے سامنے دن رات موجود ہیں، کتاب و سنت کا جو علم میں نے تجھے عطا فرمایا ہے، وہ اصحاب کہف کی شان سے کہیں زیادہ ہے۔ بہت سی حجتیں میں نے اپنے بندوں پر اصحاب کہف سے زیادہ واضح کر دی ہیں۔ کہف کہتے ہیں پہاڑی غار کو، وہیں یہ نوجوان چھپ گئے تھے۔

صفحہ نمبر4847

رقیم یا توایلہ کے پاس کی وادی کا نام ہے یا ان کی اس جگہ کی عمارت کا نام ہے یا کسی آبادی کا نام ہے یا اس پہاڑ کا نام ہے، اس پہاڑ کا نام نجلوس بھی آیا ہے، غار کا نام حیزوم کہا گیا ہے اور ان کے کتے کا نام حمران بتایا گیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سارے قرآن کو میں جانتا ہوں لیکن لفظ «حنان» اور لفظ «اواہ» اور لفظ «رَّقِيمِ» کو۔ مجھے نہیں معلوم کہ «رَّقِيمِ» کسی کتاب کا نام ہے یا کسی بنا کا۔

اور روایت میں آپ سے مروی ہے کہ وہ کتاب ہے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ پتھر کی ایک لوح تھی جس پر اصحاب کہف کا قصہ لکھ کر غار کے دروازے پر اسے لگا دیا گیا تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن کہتے ہیں قرآن میں ہے «كِتَابٌ مَّرْقُومٌ» [ 83-المطففين: 9 ] ‏ پس آیت کے ظاہری الفاظ تو اس کی تائید کرتے ہیں اور یہی امام ابن جریر کا مختار قول ہے کہ «رَّقِيمِ» فعیل کے وزن پر مرقوم کے معنی میں ہے جیسے مقتول قتیل اور مجروح جریح۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4848

یہ نوجوان اپنے دین کے بچاؤ کیلئے اپنی قوم سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے کہ کہیں وہ انہیں دین سے بہکا نہ دیں، ایک پہاڑ کے غار میں گھس گئے اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ہمیں اپنی جانب سے رحمت عطا فرما، ہمیں اپنی قوم سے چھپائے رکھ، ہمارے اس کام میں اچھائی کا انجام کر۔ حدیث کی ایک دعا میں ہے کہ اے اللہ جو فیصلہ تو ہمارے حق میں کرے، اسے انجام کے لحاظ سے بھلا کر۔ مسند میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں عرض کرتے کہ اے اللہ ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا کر اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذابوں سے بچا لے۔ [مسند احمد:181/4:ضعیف] ‏

یہ غار میں جا کر جو پڑ کر سوئے تو برسوں گزر گئے، پھر ہم نے انہیں بیدار کیا، ایک صاحب درہم لے کر بازار سے سودا خریدنے چلے، جیسے کہ آگے آ رہا ہے۔ یہ اس لیے کہ انہیں وہاں کتنی مدت گزری، اسے دونوں گروہوں میں سے کون زیادہ یاد رکھنے والا ہے؟ اسے ہم بھی معلوم کریں۔ «أَمَدً» کے معنی عدد یعنی گنتی کے ہیں اور کہا گیا ہے کہ غایت کے معنی میں بھی یہ لفظ آیا ہے جیسے کہ عرب کے شاعروں نے اپنے شعروں میں اسے غایت کے معنی میں باندھا ہے۔

صفحہ نمبر4849

اصحاف کہف ٭٭

اصحاف کہف کا قصہ اجمال کے ساتھ بیان ہو رہا ہے پھر تفصیل کے ساتھ بیان ہو گا۔ فرماتا ہے کہ وہ واقعہ ہماری قدرت کے بےشمار واقعات میں سے ایک نہایت معمولی واقعہ ہے۔ اس سے بڑے بڑے نشان روز مرہ تمہارے سامنے ہیں۔ آسمان و زمین کی پیدائش، رات دن کا آنا جانا، سورج چاند کی اطاعت گزاری وغیرہ قدرت کی ان گنت نشانیاں ہیں جو بتلا رہی ہیں کہ اللہ کی قدرت بے انداز ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس پر کوئی کام مشکل نہیں۔ اصحاب کہف سے تو کہیں زیادہ تعجب خیز اور اہم نشان قدرت تمہارے سامنے دن رات موجود ہیں، کتاب و سنت کا جو علم میں نے تجھے عطا فرمایا ہے، وہ اصحاب کہف کی شان سے کہیں زیادہ ہے۔ بہت سی حجتیں میں نے اپنے بندوں پر اصحاب کہف سے زیادہ واضح کر دی ہیں۔ کہف کہتے ہیں پہاڑی غار کو، وہیں یہ نوجوان چھپ گئے تھے۔

صفحہ نمبر4847

رقیم یا توایلہ کے پاس کی وادی کا نام ہے یا ان کی اس جگہ کی عمارت کا نام ہے یا کسی آبادی کا نام ہے یا اس پہاڑ کا نام ہے، اس پہاڑ کا نام نجلوس بھی آیا ہے، غار کا نام حیزوم کہا گیا ہے اور ان کے کتے کا نام حمران بتایا گیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سارے قرآن کو میں جانتا ہوں لیکن لفظ «حنان» اور لفظ «اواہ» اور لفظ «رَّقِيمِ» کو۔ مجھے نہیں معلوم کہ «رَّقِيمِ» کسی کتاب کا نام ہے یا کسی بنا کا۔

اور روایت میں آپ سے مروی ہے کہ وہ کتاب ہے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ پتھر کی ایک لوح تھی جس پر اصحاب کہف کا قصہ لکھ کر غار کے دروازے پر اسے لگا دیا گیا تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن کہتے ہیں قرآن میں ہے «كِتَابٌ مَّرْقُومٌ» [ 83-المطففين: 9 ] ‏ پس آیت کے ظاہری الفاظ تو اس کی تائید کرتے ہیں اور یہی امام ابن جریر کا مختار قول ہے کہ «رَّقِيمِ» فعیل کے وزن پر مرقوم کے معنی میں ہے جیسے مقتول قتیل اور مجروح جریح۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4848

یہ نوجوان اپنے دین کے بچاؤ کیلئے اپنی قوم سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے کہ کہیں وہ انہیں دین سے بہکا نہ دیں، ایک پہاڑ کے غار میں گھس گئے اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ہمیں اپنی جانب سے رحمت عطا فرما، ہمیں اپنی قوم سے چھپائے رکھ، ہمارے اس کام میں اچھائی کا انجام کر۔ حدیث کی ایک دعا میں ہے کہ اے اللہ جو فیصلہ تو ہمارے حق میں کرے، اسے انجام کے لحاظ سے بھلا کر۔ مسند میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں عرض کرتے کہ اے اللہ ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا کر اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذابوں سے بچا لے۔ [مسند احمد:181/4:ضعیف] ‏

یہ غار میں جا کر جو پڑ کر سوئے تو برسوں گزر گئے، پھر ہم نے انہیں بیدار کیا، ایک صاحب درہم لے کر بازار سے سودا خریدنے چلے، جیسے کہ آگے آ رہا ہے۔ یہ اس لیے کہ انہیں وہاں کتنی مدت گزری، اسے دونوں گروہوں میں سے کون زیادہ یاد رکھنے والا ہے؟ اسے ہم بھی معلوم کریں۔ «أَمَدً» کے معنی عدد یعنی گنتی کے ہیں اور کہا گیا ہے کہ غایت کے معنی میں بھی یہ لفظ آیا ہے جیسے کہ عرب کے شاعروں نے اپنے شعروں میں اسے غایت کے معنی میں باندھا ہے۔

صفحہ نمبر4849

اصحاف کہف ٭٭

اصحاف کہف کا قصہ اجمال کے ساتھ بیان ہو رہا ہے پھر تفصیل کے ساتھ بیان ہو گا۔ فرماتا ہے کہ وہ واقعہ ہماری قدرت کے بےشمار واقعات میں سے ایک نہایت معمولی واقعہ ہے۔ اس سے بڑے بڑے نشان روز مرہ تمہارے سامنے ہیں۔ آسمان و زمین کی پیدائش، رات دن کا آنا جانا، سورج چاند کی اطاعت گزاری وغیرہ قدرت کی ان گنت نشانیاں ہیں جو بتلا رہی ہیں کہ اللہ کی قدرت بے انداز ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس پر کوئی کام مشکل نہیں۔ اصحاب کہف سے تو کہیں زیادہ تعجب خیز اور اہم نشان قدرت تمہارے سامنے دن رات موجود ہیں، کتاب و سنت کا جو علم میں نے تجھے عطا فرمایا ہے، وہ اصحاب کہف کی شان سے کہیں زیادہ ہے۔ بہت سی حجتیں میں نے اپنے بندوں پر اصحاب کہف سے زیادہ واضح کر دی ہیں۔ کہف کہتے ہیں پہاڑی غار کو، وہیں یہ نوجوان چھپ گئے تھے۔

صفحہ نمبر4847

رقیم یا توایلہ کے پاس کی وادی کا نام ہے یا ان کی اس جگہ کی عمارت کا نام ہے یا کسی آبادی کا نام ہے یا اس پہاڑ کا نام ہے، اس پہاڑ کا نام نجلوس بھی آیا ہے، غار کا نام حیزوم کہا گیا ہے اور ان کے کتے کا نام حمران بتایا گیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سارے قرآن کو میں جانتا ہوں لیکن لفظ «حنان» اور لفظ «اواہ» اور لفظ «رَّقِيمِ» کو۔ مجھے نہیں معلوم کہ «رَّقِيمِ» کسی کتاب کا نام ہے یا کسی بنا کا۔

اور روایت میں آپ سے مروی ہے کہ وہ کتاب ہے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ پتھر کی ایک لوح تھی جس پر اصحاب کہف کا قصہ لکھ کر غار کے دروازے پر اسے لگا دیا گیا تھا۔ حضرت عبدالرحمٰن کہتے ہیں قرآن میں ہے «كِتَابٌ مَّرْقُومٌ» [ 83-المطففين: 9 ] ‏ پس آیت کے ظاہری الفاظ تو اس کی تائید کرتے ہیں اور یہی امام ابن جریر کا مختار قول ہے کہ «رَّقِيمِ» فعیل کے وزن پر مرقوم کے معنی میں ہے جیسے مقتول قتیل اور مجروح جریح۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4848

یہ نوجوان اپنے دین کے بچاؤ کیلئے اپنی قوم سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے کہ کہیں وہ انہیں دین سے بہکا نہ دیں، ایک پہاڑ کے غار میں گھس گئے اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ہمیں اپنی جانب سے رحمت عطا فرما، ہمیں اپنی قوم سے چھپائے رکھ، ہمارے اس کام میں اچھائی کا انجام کر۔ حدیث کی ایک دعا میں ہے کہ اے اللہ جو فیصلہ تو ہمارے حق میں کرے، اسے انجام کے لحاظ سے بھلا کر۔ مسند میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں عرض کرتے کہ اے اللہ ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا کر اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذابوں سے بچا لے۔ [مسند احمد:181/4:ضعیف] ‏

یہ غار میں جا کر جو پڑ کر سوئے تو برسوں گزر گئے، پھر ہم نے انہیں بیدار کیا، ایک صاحب درہم لے کر بازار سے سودا خریدنے چلے، جیسے کہ آگے آ رہا ہے۔ یہ اس لیے کہ انہیں وہاں کتنی مدت گزری، اسے دونوں گروہوں میں سے کون زیادہ یاد رکھنے والا ہے؟ اسے ہم بھی معلوم کریں۔ «أَمَدً» کے معنی عدد یعنی گنتی کے ہیں اور کہا گیا ہے کہ غایت کے معنی میں بھی یہ لفظ آیا ہے جیسے کہ عرب کے شاعروں نے اپنے شعروں میں اسے غایت کے معنی میں باندھا ہے۔

صفحہ نمبر4849

اصحاب کہف کا قصہ ٭٭

یہاں سے تفصیل کے ساتھ اصحاب کہف کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ یہ چند نوجوان تھے جو دین حق کی طرف مائل ہوئے اور ہدایت پر آ گئے۔ قریش میں بھی یہی ہوا تھا کہ جوانوں نے تو حق کی آواز پر لبیک کہی تھی لیکن بجز چند کے اور بوڑھے لوگ اسلام کی طرف جرات سے مائل نہ ہوئے۔ کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض کے کانوں میں بالے تھے۔ یہ متقی مومن اور راہ یافتہ نوجوانوں کی جماعت تھی، اپنے رب کی وحدانیت کو مانتے تھے، اس کی توحید کے قائل ہو گئے تھے اور روز بروز ایمان و ہدایت میں بڑھ رہے تھے۔ یہ اور اس جیسی اور آیتوں اور احادیث سے استدلال کر کے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ محدثین کرام کا مذہب ہے کہ ایمان میں زیادتی ہوتی ہے۔ اس میں مرتبے ہیں، یہ کم و بیش ہوتا رہتا ہے۔ یہاں ہے ہم نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا اور جگہ ہے آیت «وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّاٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ» [ 47- محمد: 17 ] ‏ ہدایت والوں کی ہدایت بڑھ جاتی ہے الخ اور آیت میں ہے «فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْھُمْ اِيْمَانًا وَّھُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ» [ 9- التوبہ: 124 ] ‏ الخ ایمان والوں کے ایمان کو بڑھاتی ہے الخ۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «لِيَزْدَادُوْٓا اِيْمَانًا مَّعَ اِيْمَانِهِمْ» [ 48- الفتح: 4 ] ‏ تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ایمان میں اور بڑھ جائیں۔ اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

صفحہ نمبر4853

مذکور ہے کہ یہ لوگ مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین پر تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسیح علیہ السلام کے زمانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر یہ لوگ نصرانی ہوتے تو یہود اس قدر توجہ سے نہ ان کے حالات معلوم کرتے نہ معلوم کرنے کی ہدایت کرتے۔ حالانکہ یہ بیان گزر چکا ہے قریشیوں نے اپنا وفد مدینے کے یہود کے علماء کے پاس بھیجا تھا کہ تم ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلاؤ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آزمائش کر لیں تو انہوں نے کہا کہ تم اصحاب کہف کا اور ذوالقرنین کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو اور روح کے متعلق سوال کرو، پس معلوم ہوتا ہے کہ یہود کی کتاب میں ان کا ذکر تھا اور انہیں اس واقعہ کا علم تھا، جب یہ ثابت ہوا تو یہ ظاہر ہے کہ یہود کی کتاب نصرانیت سے پہلے کی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں قوم کی مخالفت پر صبر عطا فرمایا اور انہوں نے قوم کی کچھ پرواہ نہ کی بلکہ وطن اور راحت و آرام کو بھی چھوڑ دیا۔ بعض سلف کا بیان ہے کہ یہ لوگ رومی بادشاہ کی اولاد اور روم کے سردار تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ نوجوان ایک مرتبہ قوم کے ساتھ عید منانے گئے تھے۔ اس زمانے کے بادشاہ کا نام دقیانوس تھا، بڑا سخت اور سرکش شخص تھا، سب کو شرک کی تعلیم کرتا اور سب سے بت پرستی کراتا تھا۔

صفحہ نمبر4854

یہ نوجوان جو اپنے باپ دادوں کے ساتھ اس میلے میں گئے تھے، انہوں نے جب وہاں یہ تماشا دیکھا تو ان کے دل میں خیال آیا کہ بت پرستی محض لغو اور باطل چیز ہے، عبادتیں اور ذبیحے صرف اللہ کے نام پر ہونے چاہئیں جو آسمان و زمین کا خالق مالک ہے۔ پس یہ لوگ ایک ایک کر کے یہاں سے سرکنے لگے، ایک درخت تلے جا کر ان میں سے ایک صاحب بیٹھ گئے دوسرے بھی یہیں آ گئے اور بیٹھ گئے تیسرے بھی آئے چوتھے بھی آئے غرض ایک ایک کر کے سب یہیں جمع ہو گئے حالانکہ ایک دوسرے میں تعارف نہ تھا لیکن ایمان کی روشنی نے ایک دوسرے کو ملا دیا۔ حدیث شریف میں ہے کہ روحیں بھی ایک جمع شدہ لشکر ہیں جو روز ازل میں تعارف والی ہیں وہ یہاں مل جل کر رہتی ہیں اور جو وہیں انجان رہیں ان کا یہاں بھی ان میں اختلاف رہتا ہے۔ [صحیح مسلم:2638] ‏

صفحہ نمبر4855

عرب کہا کرتے ہیں کہ جنسیت ہی میل جول کی علت ہے۔ اب سب خاموش تھے ایک کو ایک سے ڈر تھا کہ اگر میں اپنے ما فی الضمیر کو بتا دوں گا تو یہ دشمن ہو جائیں گے، کسی کو دوسرے کی نسبت اطلاع نہ تھی کہ وہ بھی اس کی طرح قوم کی اس احمقانہ اور مشرکانہ رسم سے بیزار ہے۔ آخر ایک دانا اور جری نوجوان نے کہا کہ دوستو! کوئی نہ کوئی بات تو ضرور ہے کہ لوگوں کے اس عام شغل کو چھوڑ کر تم ان سے یکسو ہو کر یہاں آ بیٹھے ہو میرا تو جی چاہتا ہے کہ ہر شخص اس بات کو ظاہر کر دے جس کی وجہ سے اس نے قوم کو چھوڑا ہے۔ اس پر ایک نے کہا، بھائی بات یہ ہے کہ مجھے تو اپنی قوم کی یہ رسم ایک آنکھ نہیں بھاتی جب کہ آسمان و زمین کا اور ہمارا تمہارا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر ہم اس کے سوا دوسرے کی عبادت کیوں کریں؟ یہ سن کر دوسرے نے کہا اللہ کی قسم یہی نفرت مجھے یہاں لائی ہے تیسرے نے بھی یہی کہا۔ جب ہر ایک نے یہی وجہ بیان کی تو سب کے دل میں محبت کی ایک لہر دوڑ گئی اور یہ سب روشن خیال موحد آپس میں سچے دوست اور ماں جائے بھائیوں سے بھی زیادہ ایک دوسرے کے خیرخواہ بن گئے۔ آپس میں اتحاد و اتفاق ہو گیا۔

صفحہ نمبر4856

اب انہوں نے ایک جگہ مقرر کر لی وہیں اللہ واحد کی عبادت کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ قوم کو بھی پتہ چل گیا وہ ان سب کو پکڑ کر اس ظالم مشرک بادشاہ کے پاس لے گئے اور شکایت پیش کی۔ بادشاہ نے ان سے پوچھا، انہوں نے نہایت دلیری سے اپنی توحید اور اپنا مسلک بیان کیا بلکہ بادشاہ اور اہل دربار اور کل دنیا کو اس کی دعوت دی، دل مضبوط کر لیا اور صاف کہہ دیا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمان و زمین کا مالک و خالق ہے۔ ناممکن ہے کہ ہم اس کے سوا کسی اور کو معبود بنائیں، ہم سے یہ کبھی نہ ہو سکے گا کہ اس کے سوا کسی اور کو پکاریں۔ اس لیے کہ شرک نہایت باطل چیز ہے ہم اس کام کو کبھی نہیں کرنے کے۔ یہ نہایت ہی بیجا بات اور لغو حرکت اور جھوٹی راہ ہے۔ یہ ہماری قوم مشرک ہے اللہ کے سوا دوسروں کی پکار اور ان کی عبادت میں مشغول ہے جس کی کوئی دلیل یہ پیش نہیں کر سکتے، پس یہ ظالم اور کاذب ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان کی اس صاف گوئی اور حق گوئی سے بادشاہ بہت بگڑا انہیں دھمکایا ڈرایا اور حکم دیا کہ ان کے لباس اتار لو اور اگر یہ باز نہ آئیں گے تو میں انہیں سخت سزا دوں گا۔ اب ان لوگوں کے دل اور مضبوط ہو گئے لیکن یہ انہیں معلوم ہو گیا کہ یہاں رہ کر ہم دینداری پر قائم نہیں رہ سکتے، اس لیے انہوں نے قوم، وطن، دیس اور رشتے کنبے کو چھوڑنے کا ارادہ پختہ کر لیا۔

صفحہ نمبر4857

یہی حکم بھی ہے کہ جب انسان دین کا خطرہ محسوس کرے اس وقت ہجرت کر جائے۔ حدیث میں ہے کہ انسان کا بہترین مال ممکن ہے کہ بکریاں ہوں جنہیں لے کر دامن کوہ میں اور مرغزاوں میں رہے سہے اور اپنے دین کے بچاؤ کی خاطر بھاگتا پھرے۔ [صحیح بخاری:19] ‏

پس ایسے حال میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو جانا امر مشروع ہے۔ ہاں اگر ایسی حالت نہ ہو، دین کی بربادی کا خوف نہ ہو تو پھر جنگلوں میں نکل جانا مشروع نہیں کیونکہ جمعہ جماعت کی فضیلت ہاتھ سے جاتی رہتی ہے۔ جب یہ لوگ دین کے بچاؤ کے لیے اتنی اہم قربانی پر آمادہ ہو گئے تو ان پر رب رحمت نازل ہوئی۔ فرما دیا گیا کہ ٹھیک ہے جب تم ان کے دین سے الگ ہو گئے تو بہتر ہے کہ جسموں سے بھی ان سے جدا ہو جاؤ۔ جاؤ تم کسی غار میں پناہ حاصل کرو تم پر تمہارے رب کی رحمت کی چھاؤں ہو گی، وہ تمہیں تمہارے دشمن کی نگاہوں سے چھپا لے گا اور تمہارے کام میں آسانی اور راحت مہیا فرمائے گا۔ پس یہ لوگ موقعہ پا کر یہاں سے بھاگ نکلے اور پہاڑ کے غار میں چھپ رہے۔

صفحہ نمبر4858

بادشاہ اور قوم نے ہر چندان کی تلاش کی لیکن کوئی پتہ نہ چلا، اللہ نے ان کے غار کو اندھیرے میں چھپا دیا۔ دیکھئیے یہی بلکہ اس سے بہت زیادہ تعجب خیز واقعہ ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا۔ آپ مع اپنے رفیق خاص یار غار ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے غار ثور میں جا چھپے، مشرکین نے بہت کچھ دوڑ دھوپ کی، تگ و دو میں کوئی کمی نہ کی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری تلاش اور سخت کوشش کے باوجود نہ ملے، اللہ نے ان کی بینائی چھین لی۔ آس پاس سے گزرتے تھے، آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں اور انہیں دکھائی نہیں دیتے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما پریشان حال ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی نے اپنے پیر کی طرف بھی نظر ڈال لی تو ہم دیکھ لیے جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطمینان سے جواب دیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان دو کے ساتھ تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔ [صحیح بخاری:3922] ‏

قرآن فرماتا ہے کہ «إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّـهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ وَكَلِمَةُ اللَّـهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [ 9-التوبہ: 40 ] ‏ اگر تم میرے نبی کی امداد نہ کرو تو کیا ہوا؟ جب کافروں نے اسے نکال دیا، میں نے خود اس امداد کی جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غمگین نہ ہو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے سکون اس پر نازل فرمایا اور ایسے لشکر سے اس کی مدد کی جسے تم نہ دیکھ سکتے تھے آخر اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور اپنا کلمہ بلند فرمایا۔ اللہ عزت و حکمت والا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ یہ واقعہ اصحاب کہف کے واقعہ سے بھی عجیب تر اور انوکھا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان نوجوانوں کو قوم اور بادشاہ نے پا لیا، جب غار میں انہیں دیکھ لیا تو کہا بس ہم تو خود ہی یہی چاہتے تھے، چنانچہ انہوں نے اس کا منہ ایک دیوار سے بند کر دیا کہ یہیں مر جائیں لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ قرآن کا فرمان ہے کہ صبح شام ان پر دھوپ آتی جاتی ہے وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4859

اصحاب کہف کا قصہ ٭٭

یہاں سے تفصیل کے ساتھ اصحاب کہف کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ یہ چند نوجوان تھے جو دین حق کی طرف مائل ہوئے اور ہدایت پر آ گئے۔ قریش میں بھی یہی ہوا تھا کہ جوانوں نے تو حق کی آواز پر لبیک کہی تھی لیکن بجز چند کے اور بوڑھے لوگ اسلام کی طرف جرات سے مائل نہ ہوئے۔ کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض کے کانوں میں بالے تھے۔ یہ متقی مومن اور راہ یافتہ نوجوانوں کی جماعت تھی، اپنے رب کی وحدانیت کو مانتے تھے، اس کی توحید کے قائل ہو گئے تھے اور روز بروز ایمان و ہدایت میں بڑھ رہے تھے۔ یہ اور اس جیسی اور آیتوں اور احادیث سے استدلال کر کے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ محدثین کرام کا مذہب ہے کہ ایمان میں زیادتی ہوتی ہے۔ اس میں مرتبے ہیں، یہ کم و بیش ہوتا رہتا ہے۔ یہاں ہے ہم نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا اور جگہ ہے آیت «وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّاٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ» [ 47- محمد: 17 ] ‏ ہدایت والوں کی ہدایت بڑھ جاتی ہے الخ اور آیت میں ہے «فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْھُمْ اِيْمَانًا وَّھُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ» [ 9- التوبہ: 124 ] ‏ الخ ایمان والوں کے ایمان کو بڑھاتی ہے الخ۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «لِيَزْدَادُوْٓا اِيْمَانًا مَّعَ اِيْمَانِهِمْ» [ 48- الفتح: 4 ] ‏ تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ایمان میں اور بڑھ جائیں۔ اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

صفحہ نمبر4853

مذکور ہے کہ یہ لوگ مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین پر تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسیح علیہ السلام کے زمانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر یہ لوگ نصرانی ہوتے تو یہود اس قدر توجہ سے نہ ان کے حالات معلوم کرتے نہ معلوم کرنے کی ہدایت کرتے۔ حالانکہ یہ بیان گزر چکا ہے قریشیوں نے اپنا وفد مدینے کے یہود کے علماء کے پاس بھیجا تھا کہ تم ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلاؤ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آزمائش کر لیں تو انہوں نے کہا کہ تم اصحاب کہف کا اور ذوالقرنین کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو اور روح کے متعلق سوال کرو، پس معلوم ہوتا ہے کہ یہود کی کتاب میں ان کا ذکر تھا اور انہیں اس واقعہ کا علم تھا، جب یہ ثابت ہوا تو یہ ظاہر ہے کہ یہود کی کتاب نصرانیت سے پہلے کی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں قوم کی مخالفت پر صبر عطا فرمایا اور انہوں نے قوم کی کچھ پرواہ نہ کی بلکہ وطن اور راحت و آرام کو بھی چھوڑ دیا۔ بعض سلف کا بیان ہے کہ یہ لوگ رومی بادشاہ کی اولاد اور روم کے سردار تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ نوجوان ایک مرتبہ قوم کے ساتھ عید منانے گئے تھے۔ اس زمانے کے بادشاہ کا نام دقیانوس تھا، بڑا سخت اور سرکش شخص تھا، سب کو شرک کی تعلیم کرتا اور سب سے بت پرستی کراتا تھا۔

صفحہ نمبر4854

یہ نوجوان جو اپنے باپ دادوں کے ساتھ اس میلے میں گئے تھے، انہوں نے جب وہاں یہ تماشا دیکھا تو ان کے دل میں خیال آیا کہ بت پرستی محض لغو اور باطل چیز ہے، عبادتیں اور ذبیحے صرف اللہ کے نام پر ہونے چاہئیں جو آسمان و زمین کا خالق مالک ہے۔ پس یہ لوگ ایک ایک کر کے یہاں سے سرکنے لگے، ایک درخت تلے جا کر ان میں سے ایک صاحب بیٹھ گئے دوسرے بھی یہیں آ گئے اور بیٹھ گئے تیسرے بھی آئے چوتھے بھی آئے غرض ایک ایک کر کے سب یہیں جمع ہو گئے حالانکہ ایک دوسرے میں تعارف نہ تھا لیکن ایمان کی روشنی نے ایک دوسرے کو ملا دیا۔ حدیث شریف میں ہے کہ روحیں بھی ایک جمع شدہ لشکر ہیں جو روز ازل میں تعارف والی ہیں وہ یہاں مل جل کر رہتی ہیں اور جو وہیں انجان رہیں ان کا یہاں بھی ان میں اختلاف رہتا ہے۔ [صحیح مسلم:2638] ‏

صفحہ نمبر4855

عرب کہا کرتے ہیں کہ جنسیت ہی میل جول کی علت ہے۔ اب سب خاموش تھے ایک کو ایک سے ڈر تھا کہ اگر میں اپنے ما فی الضمیر کو بتا دوں گا تو یہ دشمن ہو جائیں گے، کسی کو دوسرے کی نسبت اطلاع نہ تھی کہ وہ بھی اس کی طرح قوم کی اس احمقانہ اور مشرکانہ رسم سے بیزار ہے۔ آخر ایک دانا اور جری نوجوان نے کہا کہ دوستو! کوئی نہ کوئی بات تو ضرور ہے کہ لوگوں کے اس عام شغل کو چھوڑ کر تم ان سے یکسو ہو کر یہاں آ بیٹھے ہو میرا تو جی چاہتا ہے کہ ہر شخص اس بات کو ظاہر کر دے جس کی وجہ سے اس نے قوم کو چھوڑا ہے۔ اس پر ایک نے کہا، بھائی بات یہ ہے کہ مجھے تو اپنی قوم کی یہ رسم ایک آنکھ نہیں بھاتی جب کہ آسمان و زمین کا اور ہمارا تمہارا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر ہم اس کے سوا دوسرے کی عبادت کیوں کریں؟ یہ سن کر دوسرے نے کہا اللہ کی قسم یہی نفرت مجھے یہاں لائی ہے تیسرے نے بھی یہی کہا۔ جب ہر ایک نے یہی وجہ بیان کی تو سب کے دل میں محبت کی ایک لہر دوڑ گئی اور یہ سب روشن خیال موحد آپس میں سچے دوست اور ماں جائے بھائیوں سے بھی زیادہ ایک دوسرے کے خیرخواہ بن گئے۔ آپس میں اتحاد و اتفاق ہو گیا۔

صفحہ نمبر4856

اب انہوں نے ایک جگہ مقرر کر لی وہیں اللہ واحد کی عبادت کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ قوم کو بھی پتہ چل گیا وہ ان سب کو پکڑ کر اس ظالم مشرک بادشاہ کے پاس لے گئے اور شکایت پیش کی۔ بادشاہ نے ان سے پوچھا، انہوں نے نہایت دلیری سے اپنی توحید اور اپنا مسلک بیان کیا بلکہ بادشاہ اور اہل دربار اور کل دنیا کو اس کی دعوت دی، دل مضبوط کر لیا اور صاف کہہ دیا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمان و زمین کا مالک و خالق ہے۔ ناممکن ہے کہ ہم اس کے سوا کسی اور کو معبود بنائیں، ہم سے یہ کبھی نہ ہو سکے گا کہ اس کے سوا کسی اور کو پکاریں۔ اس لیے کہ شرک نہایت باطل چیز ہے ہم اس کام کو کبھی نہیں کرنے کے۔ یہ نہایت ہی بیجا بات اور لغو حرکت اور جھوٹی راہ ہے۔ یہ ہماری قوم مشرک ہے اللہ کے سوا دوسروں کی پکار اور ان کی عبادت میں مشغول ہے جس کی کوئی دلیل یہ پیش نہیں کر سکتے، پس یہ ظالم اور کاذب ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان کی اس صاف گوئی اور حق گوئی سے بادشاہ بہت بگڑا انہیں دھمکایا ڈرایا اور حکم دیا کہ ان کے لباس اتار لو اور اگر یہ باز نہ آئیں گے تو میں انہیں سخت سزا دوں گا۔ اب ان لوگوں کے دل اور مضبوط ہو گئے لیکن یہ انہیں معلوم ہو گیا کہ یہاں رہ کر ہم دینداری پر قائم نہیں رہ سکتے، اس لیے انہوں نے قوم، وطن، دیس اور رشتے کنبے کو چھوڑنے کا ارادہ پختہ کر لیا۔

صفحہ نمبر4857

یہی حکم بھی ہے کہ جب انسان دین کا خطرہ محسوس کرے اس وقت ہجرت کر جائے۔ حدیث میں ہے کہ انسان کا بہترین مال ممکن ہے کہ بکریاں ہوں جنہیں لے کر دامن کوہ میں اور مرغزاوں میں رہے سہے اور اپنے دین کے بچاؤ کی خاطر بھاگتا پھرے۔ [صحیح بخاری:19] ‏

پس ایسے حال میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو جانا امر مشروع ہے۔ ہاں اگر ایسی حالت نہ ہو، دین کی بربادی کا خوف نہ ہو تو پھر جنگلوں میں نکل جانا مشروع نہیں کیونکہ جمعہ جماعت کی فضیلت ہاتھ سے جاتی رہتی ہے۔ جب یہ لوگ دین کے بچاؤ کے لیے اتنی اہم قربانی پر آمادہ ہو گئے تو ان پر رب رحمت نازل ہوئی۔ فرما دیا گیا کہ ٹھیک ہے جب تم ان کے دین سے الگ ہو گئے تو بہتر ہے کہ جسموں سے بھی ان سے جدا ہو جاؤ۔ جاؤ تم کسی غار میں پناہ حاصل کرو تم پر تمہارے رب کی رحمت کی چھاؤں ہو گی، وہ تمہیں تمہارے دشمن کی نگاہوں سے چھپا لے گا اور تمہارے کام میں آسانی اور راحت مہیا فرمائے گا۔ پس یہ لوگ موقعہ پا کر یہاں سے بھاگ نکلے اور پہاڑ کے غار میں چھپ رہے۔

صفحہ نمبر4858

بادشاہ اور قوم نے ہر چندان کی تلاش کی لیکن کوئی پتہ نہ چلا، اللہ نے ان کے غار کو اندھیرے میں چھپا دیا۔ دیکھئیے یہی بلکہ اس سے بہت زیادہ تعجب خیز واقعہ ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا۔ آپ مع اپنے رفیق خاص یار غار ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے غار ثور میں جا چھپے، مشرکین نے بہت کچھ دوڑ دھوپ کی، تگ و دو میں کوئی کمی نہ کی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری تلاش اور سخت کوشش کے باوجود نہ ملے، اللہ نے ان کی بینائی چھین لی۔ آس پاس سے گزرتے تھے، آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں اور انہیں دکھائی نہیں دیتے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما پریشان حال ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی نے اپنے پیر کی طرف بھی نظر ڈال لی تو ہم دیکھ لیے جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطمینان سے جواب دیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان دو کے ساتھ تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔ [صحیح بخاری:3922] ‏

قرآن فرماتا ہے کہ «إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّـهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ وَكَلِمَةُ اللَّـهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [ 9-التوبہ: 40 ] ‏ اگر تم میرے نبی کی امداد نہ کرو تو کیا ہوا؟ جب کافروں نے اسے نکال دیا، میں نے خود اس امداد کی جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غمگین نہ ہو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے سکون اس پر نازل فرمایا اور ایسے لشکر سے اس کی مدد کی جسے تم نہ دیکھ سکتے تھے آخر اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور اپنا کلمہ بلند فرمایا۔ اللہ عزت و حکمت والا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ یہ واقعہ اصحاب کہف کے واقعہ سے بھی عجیب تر اور انوکھا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان نوجوانوں کو قوم اور بادشاہ نے پا لیا، جب غار میں انہیں دیکھ لیا تو کہا بس ہم تو خود ہی یہی چاہتے تھے، چنانچہ انہوں نے اس کا منہ ایک دیوار سے بند کر دیا کہ یہیں مر جائیں لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ قرآن کا فرمان ہے کہ صبح شام ان پر دھوپ آتی جاتی ہے وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4859

اصحاب کہف کا قصہ ٭٭

یہاں سے تفصیل کے ساتھ اصحاب کہف کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ یہ چند نوجوان تھے جو دین حق کی طرف مائل ہوئے اور ہدایت پر آ گئے۔ قریش میں بھی یہی ہوا تھا کہ جوانوں نے تو حق کی آواز پر لبیک کہی تھی لیکن بجز چند کے اور بوڑھے لوگ اسلام کی طرف جرات سے مائل نہ ہوئے۔ کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض کے کانوں میں بالے تھے۔ یہ متقی مومن اور راہ یافتہ نوجوانوں کی جماعت تھی، اپنے رب کی وحدانیت کو مانتے تھے، اس کی توحید کے قائل ہو گئے تھے اور روز بروز ایمان و ہدایت میں بڑھ رہے تھے۔ یہ اور اس جیسی اور آیتوں اور احادیث سے استدلال کر کے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ محدثین کرام کا مذہب ہے کہ ایمان میں زیادتی ہوتی ہے۔ اس میں مرتبے ہیں، یہ کم و بیش ہوتا رہتا ہے۔ یہاں ہے ہم نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا اور جگہ ہے آیت «وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّاٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ» [ 47- محمد: 17 ] ‏ ہدایت والوں کی ہدایت بڑھ جاتی ہے الخ اور آیت میں ہے «فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْھُمْ اِيْمَانًا وَّھُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ» [ 9- التوبہ: 124 ] ‏ الخ ایمان والوں کے ایمان کو بڑھاتی ہے الخ۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «لِيَزْدَادُوْٓا اِيْمَانًا مَّعَ اِيْمَانِهِمْ» [ 48- الفتح: 4 ] ‏ تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ایمان میں اور بڑھ جائیں۔ اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

صفحہ نمبر4853

مذکور ہے کہ یہ لوگ مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین پر تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسیح علیہ السلام کے زمانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر یہ لوگ نصرانی ہوتے تو یہود اس قدر توجہ سے نہ ان کے حالات معلوم کرتے نہ معلوم کرنے کی ہدایت کرتے۔ حالانکہ یہ بیان گزر چکا ہے قریشیوں نے اپنا وفد مدینے کے یہود کے علماء کے پاس بھیجا تھا کہ تم ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلاؤ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آزمائش کر لیں تو انہوں نے کہا کہ تم اصحاب کہف کا اور ذوالقرنین کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو اور روح کے متعلق سوال کرو، پس معلوم ہوتا ہے کہ یہود کی کتاب میں ان کا ذکر تھا اور انہیں اس واقعہ کا علم تھا، جب یہ ثابت ہوا تو یہ ظاہر ہے کہ یہود کی کتاب نصرانیت سے پہلے کی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں قوم کی مخالفت پر صبر عطا فرمایا اور انہوں نے قوم کی کچھ پرواہ نہ کی بلکہ وطن اور راحت و آرام کو بھی چھوڑ دیا۔ بعض سلف کا بیان ہے کہ یہ لوگ رومی بادشاہ کی اولاد اور روم کے سردار تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ نوجوان ایک مرتبہ قوم کے ساتھ عید منانے گئے تھے۔ اس زمانے کے بادشاہ کا نام دقیانوس تھا، بڑا سخت اور سرکش شخص تھا، سب کو شرک کی تعلیم کرتا اور سب سے بت پرستی کراتا تھا۔

صفحہ نمبر4854

یہ نوجوان جو اپنے باپ دادوں کے ساتھ اس میلے میں گئے تھے، انہوں نے جب وہاں یہ تماشا دیکھا تو ان کے دل میں خیال آیا کہ بت پرستی محض لغو اور باطل چیز ہے، عبادتیں اور ذبیحے صرف اللہ کے نام پر ہونے چاہئیں جو آسمان و زمین کا خالق مالک ہے۔ پس یہ لوگ ایک ایک کر کے یہاں سے سرکنے لگے، ایک درخت تلے جا کر ان میں سے ایک صاحب بیٹھ گئے دوسرے بھی یہیں آ گئے اور بیٹھ گئے تیسرے بھی آئے چوتھے بھی آئے غرض ایک ایک کر کے سب یہیں جمع ہو گئے حالانکہ ایک دوسرے میں تعارف نہ تھا لیکن ایمان کی روشنی نے ایک دوسرے کو ملا دیا۔ حدیث شریف میں ہے کہ روحیں بھی ایک جمع شدہ لشکر ہیں جو روز ازل میں تعارف والی ہیں وہ یہاں مل جل کر رہتی ہیں اور جو وہیں انجان رہیں ان کا یہاں بھی ان میں اختلاف رہتا ہے۔ [صحیح مسلم:2638] ‏

صفحہ نمبر4855

عرب کہا کرتے ہیں کہ جنسیت ہی میل جول کی علت ہے۔ اب سب خاموش تھے ایک کو ایک سے ڈر تھا کہ اگر میں اپنے ما فی الضمیر کو بتا دوں گا تو یہ دشمن ہو جائیں گے، کسی کو دوسرے کی نسبت اطلاع نہ تھی کہ وہ بھی اس کی طرح قوم کی اس احمقانہ اور مشرکانہ رسم سے بیزار ہے۔ آخر ایک دانا اور جری نوجوان نے کہا کہ دوستو! کوئی نہ کوئی بات تو ضرور ہے کہ لوگوں کے اس عام شغل کو چھوڑ کر تم ان سے یکسو ہو کر یہاں آ بیٹھے ہو میرا تو جی چاہتا ہے کہ ہر شخص اس بات کو ظاہر کر دے جس کی وجہ سے اس نے قوم کو چھوڑا ہے۔ اس پر ایک نے کہا، بھائی بات یہ ہے کہ مجھے تو اپنی قوم کی یہ رسم ایک آنکھ نہیں بھاتی جب کہ آسمان و زمین کا اور ہمارا تمہارا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر ہم اس کے سوا دوسرے کی عبادت کیوں کریں؟ یہ سن کر دوسرے نے کہا اللہ کی قسم یہی نفرت مجھے یہاں لائی ہے تیسرے نے بھی یہی کہا۔ جب ہر ایک نے یہی وجہ بیان کی تو سب کے دل میں محبت کی ایک لہر دوڑ گئی اور یہ سب روشن خیال موحد آپس میں سچے دوست اور ماں جائے بھائیوں سے بھی زیادہ ایک دوسرے کے خیرخواہ بن گئے۔ آپس میں اتحاد و اتفاق ہو گیا۔

صفحہ نمبر4856

اب انہوں نے ایک جگہ مقرر کر لی وہیں اللہ واحد کی عبادت کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ قوم کو بھی پتہ چل گیا وہ ان سب کو پکڑ کر اس ظالم مشرک بادشاہ کے پاس لے گئے اور شکایت پیش کی۔ بادشاہ نے ان سے پوچھا، انہوں نے نہایت دلیری سے اپنی توحید اور اپنا مسلک بیان کیا بلکہ بادشاہ اور اہل دربار اور کل دنیا کو اس کی دعوت دی، دل مضبوط کر لیا اور صاف کہہ دیا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمان و زمین کا مالک و خالق ہے۔ ناممکن ہے کہ ہم اس کے سوا کسی اور کو معبود بنائیں، ہم سے یہ کبھی نہ ہو سکے گا کہ اس کے سوا کسی اور کو پکاریں۔ اس لیے کہ شرک نہایت باطل چیز ہے ہم اس کام کو کبھی نہیں کرنے کے۔ یہ نہایت ہی بیجا بات اور لغو حرکت اور جھوٹی راہ ہے۔ یہ ہماری قوم مشرک ہے اللہ کے سوا دوسروں کی پکار اور ان کی عبادت میں مشغول ہے جس کی کوئی دلیل یہ پیش نہیں کر سکتے، پس یہ ظالم اور کاذب ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان کی اس صاف گوئی اور حق گوئی سے بادشاہ بہت بگڑا انہیں دھمکایا ڈرایا اور حکم دیا کہ ان کے لباس اتار لو اور اگر یہ باز نہ آئیں گے تو میں انہیں سخت سزا دوں گا۔ اب ان لوگوں کے دل اور مضبوط ہو گئے لیکن یہ انہیں معلوم ہو گیا کہ یہاں رہ کر ہم دینداری پر قائم نہیں رہ سکتے، اس لیے انہوں نے قوم، وطن، دیس اور رشتے کنبے کو چھوڑنے کا ارادہ پختہ کر لیا۔

صفحہ نمبر4857

یہی حکم بھی ہے کہ جب انسان دین کا خطرہ محسوس کرے اس وقت ہجرت کر جائے۔ حدیث میں ہے کہ انسان کا بہترین مال ممکن ہے کہ بکریاں ہوں جنہیں لے کر دامن کوہ میں اور مرغزاوں میں رہے سہے اور اپنے دین کے بچاؤ کی خاطر بھاگتا پھرے۔ [صحیح بخاری:19] ‏

پس ایسے حال میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو جانا امر مشروع ہے۔ ہاں اگر ایسی حالت نہ ہو، دین کی بربادی کا خوف نہ ہو تو پھر جنگلوں میں نکل جانا مشروع نہیں کیونکہ جمعہ جماعت کی فضیلت ہاتھ سے جاتی رہتی ہے۔ جب یہ لوگ دین کے بچاؤ کے لیے اتنی اہم قربانی پر آمادہ ہو گئے تو ان پر رب رحمت نازل ہوئی۔ فرما دیا گیا کہ ٹھیک ہے جب تم ان کے دین سے الگ ہو گئے تو بہتر ہے کہ جسموں سے بھی ان سے جدا ہو جاؤ۔ جاؤ تم کسی غار میں پناہ حاصل کرو تم پر تمہارے رب کی رحمت کی چھاؤں ہو گی، وہ تمہیں تمہارے دشمن کی نگاہوں سے چھپا لے گا اور تمہارے کام میں آسانی اور راحت مہیا فرمائے گا۔ پس یہ لوگ موقعہ پا کر یہاں سے بھاگ نکلے اور پہاڑ کے غار میں چھپ رہے۔

صفحہ نمبر4858

بادشاہ اور قوم نے ہر چندان کی تلاش کی لیکن کوئی پتہ نہ چلا، اللہ نے ان کے غار کو اندھیرے میں چھپا دیا۔ دیکھئیے یہی بلکہ اس سے بہت زیادہ تعجب خیز واقعہ ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا۔ آپ مع اپنے رفیق خاص یار غار ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے غار ثور میں جا چھپے، مشرکین نے بہت کچھ دوڑ دھوپ کی، تگ و دو میں کوئی کمی نہ کی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری تلاش اور سخت کوشش کے باوجود نہ ملے، اللہ نے ان کی بینائی چھین لی۔ آس پاس سے گزرتے تھے، آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں اور انہیں دکھائی نہیں دیتے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما پریشان حال ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی نے اپنے پیر کی طرف بھی نظر ڈال لی تو ہم دیکھ لیے جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطمینان سے جواب دیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان دو کے ساتھ تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔ [صحیح بخاری:3922] ‏

قرآن فرماتا ہے کہ «إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّـهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ وَكَلِمَةُ اللَّـهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [ 9-التوبہ: 40 ] ‏ اگر تم میرے نبی کی امداد نہ کرو تو کیا ہوا؟ جب کافروں نے اسے نکال دیا، میں نے خود اس امداد کی جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غمگین نہ ہو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے سکون اس پر نازل فرمایا اور ایسے لشکر سے اس کی مدد کی جسے تم نہ دیکھ سکتے تھے آخر اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور اپنا کلمہ بلند فرمایا۔ اللہ عزت و حکمت والا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ یہ واقعہ اصحاب کہف کے واقعہ سے بھی عجیب تر اور انوکھا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان نوجوانوں کو قوم اور بادشاہ نے پا لیا، جب غار میں انہیں دیکھ لیا تو کہا بس ہم تو خود ہی یہی چاہتے تھے، چنانچہ انہوں نے اس کا منہ ایک دیوار سے بند کر دیا کہ یہیں مر جائیں لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ قرآن کا فرمان ہے کہ صبح شام ان پر دھوپ آتی جاتی ہے وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4859

اصحاب کہف کا قصہ ٭٭

یہاں سے تفصیل کے ساتھ اصحاب کہف کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ یہ چند نوجوان تھے جو دین حق کی طرف مائل ہوئے اور ہدایت پر آ گئے۔ قریش میں بھی یہی ہوا تھا کہ جوانوں نے تو حق کی آواز پر لبیک کہی تھی لیکن بجز چند کے اور بوڑھے لوگ اسلام کی طرف جرات سے مائل نہ ہوئے۔ کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض کے کانوں میں بالے تھے۔ یہ متقی مومن اور راہ یافتہ نوجوانوں کی جماعت تھی، اپنے رب کی وحدانیت کو مانتے تھے، اس کی توحید کے قائل ہو گئے تھے اور روز بروز ایمان و ہدایت میں بڑھ رہے تھے۔ یہ اور اس جیسی اور آیتوں اور احادیث سے استدلال کر کے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ محدثین کرام کا مذہب ہے کہ ایمان میں زیادتی ہوتی ہے۔ اس میں مرتبے ہیں، یہ کم و بیش ہوتا رہتا ہے۔ یہاں ہے ہم نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا اور جگہ ہے آیت «وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّاٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ» [ 47- محمد: 17 ] ‏ ہدایت والوں کی ہدایت بڑھ جاتی ہے الخ اور آیت میں ہے «فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْھُمْ اِيْمَانًا وَّھُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ» [ 9- التوبہ: 124 ] ‏ الخ ایمان والوں کے ایمان کو بڑھاتی ہے الخ۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «لِيَزْدَادُوْٓا اِيْمَانًا مَّعَ اِيْمَانِهِمْ» [ 48- الفتح: 4 ] ‏ تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ایمان میں اور بڑھ جائیں۔ اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

صفحہ نمبر4853

مذکور ہے کہ یہ لوگ مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین پر تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسیح علیہ السلام کے زمانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر یہ لوگ نصرانی ہوتے تو یہود اس قدر توجہ سے نہ ان کے حالات معلوم کرتے نہ معلوم کرنے کی ہدایت کرتے۔ حالانکہ یہ بیان گزر چکا ہے قریشیوں نے اپنا وفد مدینے کے یہود کے علماء کے پاس بھیجا تھا کہ تم ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلاؤ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آزمائش کر لیں تو انہوں نے کہا کہ تم اصحاب کہف کا اور ذوالقرنین کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو اور روح کے متعلق سوال کرو، پس معلوم ہوتا ہے کہ یہود کی کتاب میں ان کا ذکر تھا اور انہیں اس واقعہ کا علم تھا، جب یہ ثابت ہوا تو یہ ظاہر ہے کہ یہود کی کتاب نصرانیت سے پہلے کی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں قوم کی مخالفت پر صبر عطا فرمایا اور انہوں نے قوم کی کچھ پرواہ نہ کی بلکہ وطن اور راحت و آرام کو بھی چھوڑ دیا۔ بعض سلف کا بیان ہے کہ یہ لوگ رومی بادشاہ کی اولاد اور روم کے سردار تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ نوجوان ایک مرتبہ قوم کے ساتھ عید منانے گئے تھے۔ اس زمانے کے بادشاہ کا نام دقیانوس تھا، بڑا سخت اور سرکش شخص تھا، سب کو شرک کی تعلیم کرتا اور سب سے بت پرستی کراتا تھا۔

صفحہ نمبر4854

یہ نوجوان جو اپنے باپ دادوں کے ساتھ اس میلے میں گئے تھے، انہوں نے جب وہاں یہ تماشا دیکھا تو ان کے دل میں خیال آیا کہ بت پرستی محض لغو اور باطل چیز ہے، عبادتیں اور ذبیحے صرف اللہ کے نام پر ہونے چاہئیں جو آسمان و زمین کا خالق مالک ہے۔ پس یہ لوگ ایک ایک کر کے یہاں سے سرکنے لگے، ایک درخت تلے جا کر ان میں سے ایک صاحب بیٹھ گئے دوسرے بھی یہیں آ گئے اور بیٹھ گئے تیسرے بھی آئے چوتھے بھی آئے غرض ایک ایک کر کے سب یہیں جمع ہو گئے حالانکہ ایک دوسرے میں تعارف نہ تھا لیکن ایمان کی روشنی نے ایک دوسرے کو ملا دیا۔ حدیث شریف میں ہے کہ روحیں بھی ایک جمع شدہ لشکر ہیں جو روز ازل میں تعارف والی ہیں وہ یہاں مل جل کر رہتی ہیں اور جو وہیں انجان رہیں ان کا یہاں بھی ان میں اختلاف رہتا ہے۔ [صحیح مسلم:2638] ‏

صفحہ نمبر4855

عرب کہا کرتے ہیں کہ جنسیت ہی میل جول کی علت ہے۔ اب سب خاموش تھے ایک کو ایک سے ڈر تھا کہ اگر میں اپنے ما فی الضمیر کو بتا دوں گا تو یہ دشمن ہو جائیں گے، کسی کو دوسرے کی نسبت اطلاع نہ تھی کہ وہ بھی اس کی طرح قوم کی اس احمقانہ اور مشرکانہ رسم سے بیزار ہے۔ آخر ایک دانا اور جری نوجوان نے کہا کہ دوستو! کوئی نہ کوئی بات تو ضرور ہے کہ لوگوں کے اس عام شغل کو چھوڑ کر تم ان سے یکسو ہو کر یہاں آ بیٹھے ہو میرا تو جی چاہتا ہے کہ ہر شخص اس بات کو ظاہر کر دے جس کی وجہ سے اس نے قوم کو چھوڑا ہے۔ اس پر ایک نے کہا، بھائی بات یہ ہے کہ مجھے تو اپنی قوم کی یہ رسم ایک آنکھ نہیں بھاتی جب کہ آسمان و زمین کا اور ہمارا تمہارا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر ہم اس کے سوا دوسرے کی عبادت کیوں کریں؟ یہ سن کر دوسرے نے کہا اللہ کی قسم یہی نفرت مجھے یہاں لائی ہے تیسرے نے بھی یہی کہا۔ جب ہر ایک نے یہی وجہ بیان کی تو سب کے دل میں محبت کی ایک لہر دوڑ گئی اور یہ سب روشن خیال موحد آپس میں سچے دوست اور ماں جائے بھائیوں سے بھی زیادہ ایک دوسرے کے خیرخواہ بن گئے۔ آپس میں اتحاد و اتفاق ہو گیا۔

صفحہ نمبر4856

اب انہوں نے ایک جگہ مقرر کر لی وہیں اللہ واحد کی عبادت کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ قوم کو بھی پتہ چل گیا وہ ان سب کو پکڑ کر اس ظالم مشرک بادشاہ کے پاس لے گئے اور شکایت پیش کی۔ بادشاہ نے ان سے پوچھا، انہوں نے نہایت دلیری سے اپنی توحید اور اپنا مسلک بیان کیا بلکہ بادشاہ اور اہل دربار اور کل دنیا کو اس کی دعوت دی، دل مضبوط کر لیا اور صاف کہہ دیا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمان و زمین کا مالک و خالق ہے۔ ناممکن ہے کہ ہم اس کے سوا کسی اور کو معبود بنائیں، ہم سے یہ کبھی نہ ہو سکے گا کہ اس کے سوا کسی اور کو پکاریں۔ اس لیے کہ شرک نہایت باطل چیز ہے ہم اس کام کو کبھی نہیں کرنے کے۔ یہ نہایت ہی بیجا بات اور لغو حرکت اور جھوٹی راہ ہے۔ یہ ہماری قوم مشرک ہے اللہ کے سوا دوسروں کی پکار اور ان کی عبادت میں مشغول ہے جس کی کوئی دلیل یہ پیش نہیں کر سکتے، پس یہ ظالم اور کاذب ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان کی اس صاف گوئی اور حق گوئی سے بادشاہ بہت بگڑا انہیں دھمکایا ڈرایا اور حکم دیا کہ ان کے لباس اتار لو اور اگر یہ باز نہ آئیں گے تو میں انہیں سخت سزا دوں گا۔ اب ان لوگوں کے دل اور مضبوط ہو گئے لیکن یہ انہیں معلوم ہو گیا کہ یہاں رہ کر ہم دینداری پر قائم نہیں رہ سکتے، اس لیے انہوں نے قوم، وطن، دیس اور رشتے کنبے کو چھوڑنے کا ارادہ پختہ کر لیا۔

صفحہ نمبر4857

یہی حکم بھی ہے کہ جب انسان دین کا خطرہ محسوس کرے اس وقت ہجرت کر جائے۔ حدیث میں ہے کہ انسان کا بہترین مال ممکن ہے کہ بکریاں ہوں جنہیں لے کر دامن کوہ میں اور مرغزاوں میں رہے سہے اور اپنے دین کے بچاؤ کی خاطر بھاگتا پھرے۔ [صحیح بخاری:19] ‏

پس ایسے حال میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو جانا امر مشروع ہے۔ ہاں اگر ایسی حالت نہ ہو، دین کی بربادی کا خوف نہ ہو تو پھر جنگلوں میں نکل جانا مشروع نہیں کیونکہ جمعہ جماعت کی فضیلت ہاتھ سے جاتی رہتی ہے۔ جب یہ لوگ دین کے بچاؤ کے لیے اتنی اہم قربانی پر آمادہ ہو گئے تو ان پر رب رحمت نازل ہوئی۔ فرما دیا گیا کہ ٹھیک ہے جب تم ان کے دین سے الگ ہو گئے تو بہتر ہے کہ جسموں سے بھی ان سے جدا ہو جاؤ۔ جاؤ تم کسی غار میں پناہ حاصل کرو تم پر تمہارے رب کی رحمت کی چھاؤں ہو گی، وہ تمہیں تمہارے دشمن کی نگاہوں سے چھپا لے گا اور تمہارے کام میں آسانی اور راحت مہیا فرمائے گا۔ پس یہ لوگ موقعہ پا کر یہاں سے بھاگ نکلے اور پہاڑ کے غار میں چھپ رہے۔

صفحہ نمبر4858

بادشاہ اور قوم نے ہر چندان کی تلاش کی لیکن کوئی پتہ نہ چلا، اللہ نے ان کے غار کو اندھیرے میں چھپا دیا۔ دیکھئیے یہی بلکہ اس سے بہت زیادہ تعجب خیز واقعہ ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا۔ آپ مع اپنے رفیق خاص یار غار ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے غار ثور میں جا چھپے، مشرکین نے بہت کچھ دوڑ دھوپ کی، تگ و دو میں کوئی کمی نہ کی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری تلاش اور سخت کوشش کے باوجود نہ ملے، اللہ نے ان کی بینائی چھین لی۔ آس پاس سے گزرتے تھے، آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں اور انہیں دکھائی نہیں دیتے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما پریشان حال ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی نے اپنے پیر کی طرف بھی نظر ڈال لی تو ہم دیکھ لیے جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطمینان سے جواب دیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان دو کے ساتھ تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔ [صحیح بخاری:3922] ‏

قرآن فرماتا ہے کہ «إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّـهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ وَكَلِمَةُ اللَّـهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [ 9-التوبہ: 40 ] ‏ اگر تم میرے نبی کی امداد نہ کرو تو کیا ہوا؟ جب کافروں نے اسے نکال دیا، میں نے خود اس امداد کی جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غمگین نہ ہو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے سکون اس پر نازل فرمایا اور ایسے لشکر سے اس کی مدد کی جسے تم نہ دیکھ سکتے تھے آخر اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور اپنا کلمہ بلند فرمایا۔ اللہ عزت و حکمت والا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ یہ واقعہ اصحاب کہف کے واقعہ سے بھی عجیب تر اور انوکھا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان نوجوانوں کو قوم اور بادشاہ نے پا لیا، جب غار میں انہیں دیکھ لیا تو کہا بس ہم تو خود ہی یہی چاہتے تھے، چنانچہ انہوں نے اس کا منہ ایک دیوار سے بند کر دیا کہ یہیں مر جائیں لیکن یہ قول تامل طلب ہے۔ قرآن کا فرمان ہے کہ صبح شام ان پر دھوپ آتی جاتی ہے وغیرہ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4859

غار اور سورج کی شعائیں ٭٭

یہ دلیل ہے اس امر کی کہ اس غار کا منہ شمال رخ ہے۔ سورج کے طلوع کے وقت ان کے دائیں جانب دھوپ کی چھاؤں جھک جاتی ہے پس دوپہر کے وقت وہاں بالکل دھوپ نہیں رہتی۔ سورج کی بلندی کے ساتھ ہی ایسی جگہ سے شعاعیں دھوپ کی کم ہوتی جاتی ہیں اور سورج کے ڈوبنے کے وقت دھوپ ان کے غار کی طرف اس کے دروازے کے شمال رخ سے جاتی ہے مشرق کی جانب سے۔ علم ہیئت کے جاننے والے اسے خوب سمجھ سکتے ہیں، جنہیں سورج چاند اور ستاروں کی چال کا علم ہے۔ اگر غار کا دروازہ مشرق رخ ہوتا تو سورج کے غروب کے وقت وہاں دھوپ بالکل نہ جاتی اور اگر قبلہ رخ ہوتا تو سورج کے طلوع کے وقت دھوپ نہ پہنچتی اور نہ غروب کے وقت پہنچتی اور نہ سایہ دائیں بائیں جھکتا اور اگر دروازہ مغرب رخ ہوتا تو بھی سورج نکلنے کے وقت اندر دھوپ نہ جا سکتی بلکہ زوال کے بعد اندر پہنچتی اور پھر برابر مغرب تک رہتی۔ پس ٹھیک بات وہی ہے جو ہم بیان نے کی «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ «تَّقْرِضُهُمْ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ترک کرنے اور چھوڑ دینے کے کئے ہیں۔

صفحہ نمبر4863

اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تو بتا دیا تاکہ ہم اسے سوچیں سمجھیں اور یہ نہیں بتایا کہ وہ غار کس شہر کے کس پہاڑ میں ہے اس لیے کہ ہمیں اس سے کوئی فائدہ نہیں، نہ اس سے کسی شرعی مقصد کا حصول ہوتا ہے۔ پھر بھی بعض مفسرین نے اس میں تکلیف اٹھائی ہے، کوئی کہتا ہے وہ ایلہ کے قریب ہے، کوئی کہتا ہے نینویٰ کے پاس ہے، کوئی کہتا ہے روم میں ہے، کوئی کہتا ہے بلقا میں ہے۔ اصل علم اللہ ہی کو ہے کہ وہ کہاں ہے۔ اگر اس میں کوئی دینی مصلحت یا ہمارا کوئی مذہبی فائدہ ہوتا تو یقیناً اللہ تعالیٰ ہمیں بتا دیتا اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی بیان کرا دیتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ تمہیں جو جو کام اور چیزیں جنت سے قریب اور جہنم سے دور کرنے والی تھیں ان میں سے ایک بھی ترک کئے بغیر میں نے بتا دی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کی صفت بیان فرما دی اور اس کی جگہ نہیں بتائی۔ فرما دیا کہ سورج کے طلوع کے وقت ان کے غار سے وہ دائیں جانب جھک جاتا ہے اور غروب کے وقت انہیں بائیں طرف چھوڑ دیتا ہے۔ وہ اس سے فراخی میں ہیں، انہیں دھوپ کی تپش نہیں پہنچتی ورنہ ان کے بدن اور کپڑے جل جاتے۔ یہ اللہ کی ایک نشانی ہے کہ رب نے انہیں اس غار میں پہنچایا جہاں انہیں زندہ رکھا، دھوپ بھی پہنچے، ہوا بھی جائے، چاندنی بھی رہے تاکہ نہ نیند میں خلل آئے نہ نقصان پہنچے۔ فی الواقع اللہ کر طرف سے یہ بھی کامل نشان قدرت ہے۔ ان نوجوانوں موحدوں کی ہدایت خود اللہ نے کی تھی، یہ راہ راست پا چکے تھے، کسی کے بس میں نہ تھا کہ انہیں گمراہ کر سکے اور اس کے برعکس جسے وہ راہ نہ دکھائے اس کا ہادی کوئی نہیں۔

صفحہ نمبر4864

ایک آنکھ بند ایک کھلی ٭٭

یہ سو رہے ہیں لیکن دیکھنے والا انہیں بیدار سمجھتا ہے کیونکہ ان کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں۔ مذکور ہے کہ بھیڑیا جب سوتا ہے تو ایک آنکھ بند رکھتا ہے، ایک کھلی ہوتی ہے۔ پھر اسے بند کر کے اسے کھول دیتا ہے، چنانچہ کسی شاعر نے کہا ہے۔ «ینام باحدی مقلتیہ ویتقی» «باخری الرزایا فہو یقطان نائم» جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں اور دشمنوں سے بچانے کے لیے تو اللہ نے نیند میں بھی ان کی آنکھیں کھلی رکھی ہیں اور زمین نہ کھا جائے، کروٹیں گل نہ جائیں اس لیے اللہ تعالیٰ انہیں کروٹیں بدلوا دیتا ہے، کہتے ہیں سال بھر میں دو مرتبہ کروٹ بدلتے ہیں۔ ان کا کتا بھی انگنائی میں دروازے کے پاس مٹی میں چوکھٹ کے قریب بطور پہریدار کے بازو زمین پر ٹکائے ہوئے بیٹھا ہوا ہے، دروازے کے باہر اس لیے ہے کہ جس گھر میں کتا، تصویر، جنبی اور کافر شخص ہو اس گھر میں فرشتے نہیں جاتے۔ جیسے کہ ایک حسن حدیث میں وارد ہوا ہے۔ [سنن ابوداود:227،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کتے کو بھی اسی حالت میں نیند آ گئی ہے۔ سچ ہے بھلے لوگوں کی صحبت بھی بھلائی پیدا کرتی ہے دیکھئیے نا اس کتے کی کتنی شان ہو گئی کہ کلام اللہ میں اس کا ذکر آیا۔ کہتے ہیں کہ ان میں سے کسی کا یہ شکاری کتا پلا ہوا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ بادشاہ کے باورچی کا یہ کتا تھا۔ چونکہ وہ بھی ان کے ہم مسلک تھے، ان کے ساتھ ہجرت میں تھے، ان کا کتا ان کے پیچھے لگ گیا تھا۔ واللہ اعلم۔

صفحہ نمبر4865

کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں ذبیح اللہ علیہ السلام کے بدلے جو مینڈھا ذبح ہوا اس کا نام جریر تھا۔ سلیمان علیہ السلام کو جس ہدہد نے ملکہ سبا کی خبر دی تھی اس کا نام عنز تھا اور اصحاب کہف کے اس کتے کا نام قطمیر تھا اور بنی اسرائیل نے جس بچھڑے کی پوجا شروع کی تھی اس کا نام بہموت تھا۔ آدم علیہ السلام بہشت بریں سے ہند میں اترے تھے، حواء جدہ میں، ابلیس دشت بیسان میں اور سانپ اصفہان میں۔

ایک قول ہے کہ اس کتے کا نام حمران تھا۔ نیز اس کتے کے رنگ میں بھی بہت سے اقوال ہیں، لیکن ہمیں حیرت ہے کہ اس سے کیا نتیجہ؟ کیا فائدہ؟ کیا ضرورت؟ بلکہ عجب نہیں کہ ایسی بحثیں ممنوع ہوں۔ اس لیے کہ یہ تو آنکھیں بند کر کے پتھر پھینکنا ہے، بے دلیل زبان کھولنا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں وہ رعب دیا ہے کہ کوئی انہیں دیکھ ہی نہیں سکتا۔ یہ اس لیے کہ لوگ ان کا تماشہ نہ بنا لیں، کوئی جرات کر کے ان کے پاس نہ چلا جائے، کوئی انہیں ہاتھ نہ لگا سکے۔ وہ آرام اور چین سے جب تک حکمت الٰہی مقتضی ہے، باآرام سوتے رہیں۔ جو انہیں دیکھتا ہے، مارے رعب کے کلیجہ تھر تھرا جاتا ہے۔ اسی وقت الٹے پیروں واپس لوٹتا ہے، انہیں نظر بھر کر دیکھنا بھی ہر ایک کے لیے محال ہے۔

صفحہ نمبر4866

موت کے بعد زندگی ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ جیسے ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے انہیں سلا دیا تھا، اسی طرح اپنی قدت سے انہیں جگا دیا۔ تین سو نو سال تک سوتے رہے لیکن جب جاگے بالکل ویسے ہی تھے جیسے سوتے وقت تھے، بدن بال کھال سب اصلی حالت میں تھے۔ بس جیسے سوتے وقت تھے ویسے ہی اب بھی تھے، کسی قسم کا کوئی تغیر نہ تھا۔ آپس میں کہنے لگے کہ کیوں جی ہم کتنی مدت سوتے رہے؟ تو جواب ملا کہ ایک دن بلکہ اس سے بھی کم کیونکہ صبح کے وقت یہ سو گئے تھے اور اس وقت شام کا وقت تھا اس لیے انہیں یہی خیال ہوا۔ لیکن پھر خود انہیں خیال ہوا کہ ایسا تو نہیں اس لیے انہوں نے ذہن لڑانا چھوڑ دیا اور فیصلہ کن بات کہہ دی کہ اس کا صحیح علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ اب چونکہ بھوک پیاس معلوم ہو رہی تھی اس لیے انہوں نے بازار سے سودا منگوانے کی تجویز کی۔ دام ان کے پاس تھے۔ جن میں سے کچھ راہ اللہ خرچ کئے تھے، کچھ موجود تھے۔ کہنے لگے کہ اسی شہر میں کسی کو دام دے کر بھیج دو، وہ وہاں سے کوئی پاکیزہ چیز کھانے پینے کی لائے یعنی عمدہ اور بہتر چیز جیسے آیت «وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ مَا زَكٰي مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاءُ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ» [ 24- النور: 21 ] ‏ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی پاک نہ ہوتا اور آیت میں ہے «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى» [ 87- الأعلى: 14 ] ‏ وہ فلاح پا گیا جس نے پاکیزگی کی۔ زکوٰۃ کو بھی زکوٰۃ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ مال کو طیب و طاہر کر دیتی ہے۔

صفحہ نمبر4867

دوسرا قول یہ ہے کہ مراد بہت سارا کھانا لانے سے ہے جیسے کھیتی کے بڑھ جانے کے وقت عرب کہتے ہیں «زکا الزرع» اور جیسے شاعر کا قول ہے «قبائلنا سبع وانتم ثلاثۃ» «واسبع ازکی من ثلاث واطیب» پس یہاں بھی یہ لفظ زیادتی اور کثرت کے معنی میں ہے۔ لیکن پہلا قول ہی صحیح ہے اس لیے کہ اصحاب کہف کا مقصد اس قول سے حلال چیز کا لانا تھا۔ خواہ وہ زیادہ ہو یا کم۔ کہتے ہیں کہ جانے والے کو بہت احتیاط برتنی چاہیئے، آنے جانے اور سودا خریدنے میں ہوشیاری سے کام لے۔ جہاں تک ہو سکے لوگوں کی نگاہوں میں نہ چڑھے دیکھو ایسا نہ ہو کوئی معلوم کر لے۔ اگر انہیں علم ہو گیا تو پھر خیر نہیں۔ دقیانوس کے آدمی اگر تمہاری جگہ کی خبر پا گئے تو وہ طرح طرح کی سخت سزائیں تمہیں دیں گے کہ یا تو تم ان سے گھبرا کر دین حق چھوڑ کر پھر سے کافر بن جاؤ یا یہ کہ وہ انہی سزاؤں میں تمہارا کام ہی ختم کر دیں۔ اگر تم ان کے دین میں جا ملے تو سمجھ لو کہ تم نجات سے دست بردار ہو گئے پھر تو اللہ کے ہاں کا چھٹکارا تمہارے لیے محال ہو جائے گا۔

صفحہ نمبر4868

موت کے بعد زندگی ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ جیسے ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے انہیں سلا دیا تھا، اسی طرح اپنی قدت سے انہیں جگا دیا۔ تین سو نو سال تک سوتے رہے لیکن جب جاگے بالکل ویسے ہی تھے جیسے سوتے وقت تھے، بدن بال کھال سب اصلی حالت میں تھے۔ بس جیسے سوتے وقت تھے ویسے ہی اب بھی تھے، کسی قسم کا کوئی تغیر نہ تھا۔ آپس میں کہنے لگے کہ کیوں جی ہم کتنی مدت سوتے رہے؟ تو جواب ملا کہ ایک دن بلکہ اس سے بھی کم کیونکہ صبح کے وقت یہ سو گئے تھے اور اس وقت شام کا وقت تھا اس لیے انہیں یہی خیال ہوا۔ لیکن پھر خود انہیں خیال ہوا کہ ایسا تو نہیں اس لیے انہوں نے ذہن لڑانا چھوڑ دیا اور فیصلہ کن بات کہہ دی کہ اس کا صحیح علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ اب چونکہ بھوک پیاس معلوم ہو رہی تھی اس لیے انہوں نے بازار سے سودا منگوانے کی تجویز کی۔ دام ان کے پاس تھے۔ جن میں سے کچھ راہ اللہ خرچ کئے تھے، کچھ موجود تھے۔ کہنے لگے کہ اسی شہر میں کسی کو دام دے کر بھیج دو، وہ وہاں سے کوئی پاکیزہ چیز کھانے پینے کی لائے یعنی عمدہ اور بہتر چیز جیسے آیت «وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ مَا زَكٰي مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاءُ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ» [ 24- النور: 21 ] ‏ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی پاک نہ ہوتا اور آیت میں ہے «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى» [ 87- الأعلى: 14 ] ‏ وہ فلاح پا گیا جس نے پاکیزگی کی۔ زکوٰۃ کو بھی زکوٰۃ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ مال کو طیب و طاہر کر دیتی ہے۔

صفحہ نمبر4867

دوسرا قول یہ ہے کہ مراد بہت سارا کھانا لانے سے ہے جیسے کھیتی کے بڑھ جانے کے وقت عرب کہتے ہیں «زکا الزرع» اور جیسے شاعر کا قول ہے «قبائلنا سبع وانتم ثلاثۃ» «واسبع ازکی من ثلاث واطیب» پس یہاں بھی یہ لفظ زیادتی اور کثرت کے معنی میں ہے۔ لیکن پہلا قول ہی صحیح ہے اس لیے کہ اصحاب کہف کا مقصد اس قول سے حلال چیز کا لانا تھا۔ خواہ وہ زیادہ ہو یا کم۔ کہتے ہیں کہ جانے والے کو بہت احتیاط برتنی چاہیئے، آنے جانے اور سودا خریدنے میں ہوشیاری سے کام لے۔ جہاں تک ہو سکے لوگوں کی نگاہوں میں نہ چڑھے دیکھو ایسا نہ ہو کوئی معلوم کر لے۔ اگر انہیں علم ہو گیا تو پھر خیر نہیں۔ دقیانوس کے آدمی اگر تمہاری جگہ کی خبر پا گئے تو وہ طرح طرح کی سخت سزائیں تمہیں دیں گے کہ یا تو تم ان سے گھبرا کر دین حق چھوڑ کر پھر سے کافر بن جاؤ یا یہ کہ وہ انہی سزاؤں میں تمہارا کام ہی ختم کر دیں۔ اگر تم ان کے دین میں جا ملے تو سمجھ لو کہ تم نجات سے دست بردار ہو گئے پھر تو اللہ کے ہاں کا چھٹکارا تمہارے لیے محال ہو جائے گا۔

صفحہ نمبر4868

دوبارہ جینے کی حجت ٭٭

ارشاد ہے کہ اسی طرح ہم نے اپنی قدرت سے لوگوں کو ان کے حال پر آگاہ کر دیا تاکہ اللہ کے وعدے اور قیامت کے آنے کی سچائی کا انہیں علم ہو جائے۔ کہتے ہیں کہ اس زمانے کے وہاں موجود لوگوں کو قیامت کے آنے میں کچھ شکوک پیدا ہو چلے تھے۔ ایک جماعت تو کہتی تھی کہ فقط روحیں دوبارہ جی اٹھیں گی، جسم کا اعادہ نہ ہو گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے صدیوں بعد اصحاب کہف کو جگا کر قیامت کے ہونے اور جسموں کے دوبارہ جینے کی حجت واضح کر دی اور عینی دلیل دے دی۔ مذکور ہے کہ جب ان میں سے ایک صاحب دام لے کر سودا خریدنے کو غار سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ان کی دیکھی ہوئی ایک چیز نہیں، سارا نقشہ بدلا ہوا ہے۔ اس شہر کا نام افسوس تھا۔ زمانے گزر چکے تھے، بستیاں بدل چکی تھیں، صدیاں بیت گئی تھیں اور یہ تو اپنے نزدیک یہی سمجھے ہوئے تھے کہ ہمیں یہاں پہنچے ایک آدھ دن گزرا ہے۔ یہاں انقلاب زمانہ اور کا اور ہو چکا تھا، جیسے کسی نے کہا ہے۔ «اما الدیار فانہا کدیارہم» «واری رجال الحی غیر رجالہ»

صفحہ نمبر4870

گھر گو انہی جیسے ہیں لیکن قبیلے کے لوگ تو سب اور ہی ہیں۔ اس نے دیکھا کہ نہ تو شہر کی کوئی چیز اپنے حال پر ہے، نہ شہر کا کوئی بھی رہنے والا جان پہچان کا ہے، نہ یہ کسی کو جانیں نہ انہیں اور کوئی پہچانے۔ تمام عام خاص اور ہی ہیں۔ یہ اپنے دل میں حیران تھا۔ دماغ چکرا رہا تھا کہ کل شام ہم اس شہر کو چھوڑ کر گئے ہیں، یہ دفعتا ہو کیا گیا؟ ہر چند سوچتا تھا کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تھی۔ آخر خیال کرنے لگا کہ شاید میں مجنوں ہو گیا ہوں یا میرے حواس ٹھکانے نہیں رہے یا مجھے کوئی مرض لگ گیا ہے یا میں خواب میں ہوں۔ لیکن فوراً ہی یہ خیالات ہٹ گئے مگر کسی بات پر تسلی نہ ہو سکی اس لیے ارادہ کر لیا کہ مجھے سودا لے کر اس شہر کو جلد چھوڑ دینا چاہیئے۔ ایک دکان پر جا کر اسے دام دئیے اور سودا کھانے پینے کا طلب کیا۔ اس نے اس سکے کو دیکھ کر سخت تر تعجب کا اظہار کیا اپنے پڑوسی کو دیا کہ دیکھنا یہ سکہ کیا ہے؟ کب کا ہے؟ کسی زمانے کا ہے؟ اس نے دوسرے کو دیا اس سے کسی اور نے دیکھنے کو مانگ لیا۔ الغرض وہ تو ایک تماشہ بن گیا، ہر زبان سے یہی نکلنے لگا کہ اس نے کسی پرانے زمانے کا خزانہ پایا ہے، اس میں سے یہ لایا ہے اس سے پوچھو یہ کہاں کا ہے؟ کون ہے؟ یہ سکہ کہاں سے پایا؟

صفحہ نمبر4871

چنانچہ لوگوں نے اسے گھیر لیا مجمع لگا کر کھڑے ہو گئے اور اوپر تلے ٹیڑھے ترچھے سوالات شروع کر دئے۔ اس نے کہا میں تو اسی شہر کا رہنے والا ہوں، کل شام کو میں یہاں سے گیا ہوں، یہاں کا بادشاہ دقیانوس ہے۔ اب تو سب نے قہقہہ لگا کر کہا، بھئی یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ آخر اسے بادشاہ کے سامنے پیش کیا اس سے سوالات ہوئے اس نے تمام حال کہہ سنایا، اب ایک طرف بادشاہ اور دوسرے سب لوگ متحیر ایک طرف سے خود ششدر و حیران۔ آخر سب لوگ ان کے ساتھ ہوئے۔ اچھا ہمیں اپنے اور ساتھی دکھاؤ اور اپنا غار بھی دکھا دو۔ یہ انہیں لے کر چلے غار کے پاس پہنچ کر کہا تم ذرا ٹھیرو میں پہلے انہیں جا کر خبر کر دوں۔ ان کے الگ ہٹتے ہی اللہ تعالیٰ نے ان پر بے خبری کے پردے ڈال دئے۔ انہیں نہ معلوم ہو سکا کہ وہ کہاں گیا؟ اللہ نے پھر اس راز کو مخفی کر لیا۔ ایک روایت یہ بھی آئی ہے کہ یہ لوگ مع بادشاہ کے گئے، ان سے ملے، سلام علیک ہوئی، بغلگیر ہوئے۔ یہ بادشاہ خود مسلمان تھا، اس کا نام تندوسیس تھا۔ اصحاب کہف ان سے مل کر بہت خوش ہوئے اور محبت و انسیت سے ملے جلے، باتیں کیں، پھر واپس جا کر اپنی اپنی جگہ لیٹے، پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں فوت کر لیا، رحمہم اللہ اجمعین۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4872

کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، وہاں انہوں نے روم کے شہروں میں ایک غار دیکھا، جس میں ہڈیاں تھیں، لوگوں نے کہا یہ ہڈیاں اصحاب کہف کی ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تین سو سال گزر چکے کہ ان کی ہڈیاں کھوکھلی ہو کر مٹی ہو گئیں [ ابن جریر ] ‏

پس فرماتا ہے کہ جیسے ہم نے انہیں انوکھی طرز پر سلایا اور بالکل انوکھے طور پر جگایا، اسی طرح بالکل نرالے طرز پر اہل شہر کو ان کے حالات سے مطلع فرمایا تاکہ انہیں اللہ کے وعدوں کی حقانیت کا علم ہو جائے اور قیامت کے ہونے میں اور اس کے برحق ہونے میں انہیں کوئی شک نہ رہے۔ اس وقت وہ آپس میں سخت مختلف تھے، لڑ جھگڑ رہے تھے، بعض قیامت کے قائل تھے، بعض منکر تھے۔ پس اصحاب کہف کا ظہور منکروں پر حجت اور ماننے والوں کے لیے دلیل بن گیا۔ اب اس بستی والوں کا ارادہ ہوا کہ ان کے غار کا منہ بند کر دیا جائے اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ جنہیں سرداری حاصل تھی، انہوں نے ارادہ کیا کہ ہم تو ان کے اردگرد مسجد بنا لیں گے۔ امام ابن جریر ان لوگوں کے بارے میں دو قول نقل کرتے ہیں ایک یہ کہ ان میں سے مسلمانوں نے یہ کہا تھا دوسرے یہ کہ یہ قول کفار کا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس کے قائل کلمہ گو تھے، ہاں یہ اور بات ہے کہ ان کا یہ کہنا اچھا تھا یا برا؟ تو اس بارے میں صاف حدیث موجود ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا [ حدیث ] ‏ «لَعَنَ اللَّه الْيَهُود وَالنَّصَارَى اِتَّخَذُوا قُبُور أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِد» اللہ تعالیٰ یہود و نصاری پر لعنت فرمائے کہ انہوں نے اپنے انبیاء اور اولیا کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ [صحیح بخاری:435] ‏ جو انہوں نے کیا، اس سے آپ اپنی امت کو بچانا چاہتے تھے۔ اسی لیے امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی خلافت کے زمانے میں جب دانیال کی قبر عراق میں پائی تو حکم فرمایا کہ اسے پوشیدہ کر دیا جائے اور جو رقعہ ملا ہے جس میں بعض لڑائیوں وغیرہ کا ذکر ہے اسے دفن کر دیا جائے۔

صفحہ نمبر4873

اصحاف کہف کی تعداد ٭٭

لوگ اصحاف کہف کی گنتی میں کچھ کا کچھ کہا کرتے تھے۔ تین قسم کے لوگ تھے۔ چوتھی گنتی بیان نہیں فرمائی۔ پہلے دو کے اقوال کو تو ضعیف کر دیا کہ یہ اٹکل کے تکے ہیں، بے نشانے کے پتھر ہیں کہ اگر کہیں لگ جائیں تو کمال نہیں، نہ لگیں تو زوال نہیں۔ ہاں تیسرا قول بیان فرما کر سکوت اختیار فرمایا تردید نہیں کی۔ یعنی سات وہ آٹھواں ان کا کتا۔ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی بات صحیح اور واقع میں یونہی ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ایسے موقع پر بہتر یہی ہے کہ علم اللہ کی طرف اسے لوٹا دیا جائے۔ ایسی باتوں میں کوئی صحیح علم نہ ہونے کی وجہ سے غور و خوض کرنا عبث ہے۔ جس بات کا علم ہو جائے، منہ سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔

صفحہ نمبر4874

اس گنتی کا صحیح علم بہت کم لوگوں کو ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں انہیں میں سے ہوں، میں جانتا ہوں وہ سات تھے۔ حضرت عطا خراسانی رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور یہی ہم نے پہلے لکھا تھا۔ ان میں سے بعض تو بہت ہی کم عمر تھے۔ عنفوان شباب میں تھے۔ یہ لوگ دن رات اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے تھے، روتے رہتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے رہتے تھے۔ مروی ہے کہ یہ نو تھے۔ ان میں سے جو سب سے بڑے تھے ان کا نام مکسلمین تھا۔ اسی نے بادشاہ سے باتیں کی تھیں اور اسے اللہ واحد کی عبادت کی دعوت دی تھی۔ باقی کے نام یہ ہیں فحستلمین، تملیخ، مطونس، کشطونس، بیرونس، دنیموس، بطونس اور قابوس۔ ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی صحیح روایت یہی ہے کہ یہ سات شخص تھے آیت کے ظاہری الفاظ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔

شعیب جبائی کہتے ہیں ان کے کتے کا نام حمران تھا لیکن ان ناموں کی صحت میں نظر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ان میں کی بہت سی چیزیں اہل کتاب سے لی ہوئی ہیں۔ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرمایا کہ آپ ان کے بارے میں زیادہ بحث مباحثہ نہ کریں۔ یہ ایک نہایت ہی ہلکا کام ہے جس میں کوئی بڑا فائدہ نہیں اور نہ ان کے بارے میں کسی سے دریافت کیجئے، کیونکہ عموماً وہ اپنے دل سے جوڑ کر کہتے ہیں، کوئی صحیح اور سچی دلیل ان کے ہاتھوں میں نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کے سامنے بیان فرمایا ہے، یہ جھوٹ سے پاک ہے، شک شبہ سے دور ہے، قابل ایمان و یقین ہے، بس یہی حق ہے اور سب سے مقدم ہے۔

صفحہ نمبر4875

اصحاف کہف کی تعداد ٭٭

لوگ اصحاف کہف کی گنتی میں کچھ کا کچھ کہا کرتے تھے۔ تین قسم کے لوگ تھے۔ چوتھی گنتی بیان نہیں فرمائی۔ پہلے دو کے اقوال کو تو ضعیف کر دیا کہ یہ اٹکل کے تکے ہیں، بے نشانے کے پتھر ہیں کہ اگر کہیں لگ جائیں تو کمال نہیں، نہ لگیں تو زوال نہیں۔ ہاں تیسرا قول بیان فرما کر سکوت اختیار فرمایا تردید نہیں کی۔ یعنی سات وہ آٹھواں ان کا کتا۔ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی بات صحیح اور واقع میں یونہی ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ایسے موقع پر بہتر یہی ہے کہ علم اللہ کی طرف اسے لوٹا دیا جائے۔ ایسی باتوں میں کوئی صحیح علم نہ ہونے کی وجہ سے غور و خوض کرنا عبث ہے۔ جس بات کا علم ہو جائے، منہ سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔

صفحہ نمبر4874

اس گنتی کا صحیح علم بہت کم لوگوں کو ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں انہیں میں سے ہوں، میں جانتا ہوں وہ سات تھے۔ حضرت عطا خراسانی رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور یہی ہم نے پہلے لکھا تھا۔ ان میں سے بعض تو بہت ہی کم عمر تھے۔ عنفوان شباب میں تھے۔ یہ لوگ دن رات اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے تھے، روتے رہتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے رہتے تھے۔ مروی ہے کہ یہ نو تھے۔ ان میں سے جو سب سے بڑے تھے ان کا نام مکسلمین تھا۔ اسی نے بادشاہ سے باتیں کی تھیں اور اسے اللہ واحد کی عبادت کی دعوت دی تھی۔ باقی کے نام یہ ہیں فحستلمین، تملیخ، مطونس، کشطونس، بیرونس، دنیموس، بطونس اور قابوس۔ ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی صحیح روایت یہی ہے کہ یہ سات شخص تھے آیت کے ظاہری الفاظ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔

شعیب جبائی کہتے ہیں ان کے کتے کا نام حمران تھا لیکن ان ناموں کی صحت میں نظر ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ان میں کی بہت سی چیزیں اہل کتاب سے لی ہوئی ہیں۔ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرمایا کہ آپ ان کے بارے میں زیادہ بحث مباحثہ نہ کریں۔ یہ ایک نہایت ہی ہلکا کام ہے جس میں کوئی بڑا فائدہ نہیں اور نہ ان کے بارے میں کسی سے دریافت کیجئے، کیونکہ عموماً وہ اپنے دل سے جوڑ کر کہتے ہیں، کوئی صحیح اور سچی دلیل ان کے ہاتھوں میں نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کے سامنے بیان فرمایا ہے، یہ جھوٹ سے پاک ہے، شک شبہ سے دور ہے، قابل ایمان و یقین ہے، بس یہی حق ہے اور سب سے مقدم ہے۔

صفحہ نمبر4875

ان شاء اللہ کہنے کا حکم ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ختم المرسلین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتا ہے کہ جس کام کو کل کرنا چاہو تو یوں نہ کہہ دیا کرو کہ کل کروں گا بلکہ اس کے ساتھ ہی ان شاءاللہ کہہ لیا کرو کیونکہ کل کیا ہو گا؟ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ علام الغیوب اور تمام چیزوں پر قادر صرف وہی ہے۔ اس کی مدد طلب کر لیا کرو۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سلیمان بن داؤد علیہ السلام کی نوے بیویاں تھیں۔ ایک روایت میں ہے سو تھیں۔ ایک میں ہے بہتر [ ٧٢ ] ‏ تھیں۔ تو آپ علیہ السلام نے ایک بار کہا کہ آج رات میں ان سب کے پاس جاؤں گا ہر عورت کو بچہ ہو گا تو سب اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے۔ اس وقت فرشتے نے کہا ان شاءاللہ کہہ مگر سلیمان علیہ السلام نے نہ کہا۔ اپنے ارادے کے مطابق وہ سب بیویوں کے پاس گئے، مگر سوائے ایک بیوی کے کسی کے ہاں بچہ نہ ہوا اور جس ایک کے ہاں ہوا بھی، وہ بھی آدھے جسم کا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر وہ ان شاءاللہ کہہ لیتے تو یہ ارادہ ان کا پورا ہوتا اور ان کی حاجت روائی ہو جاتی۔ اور یہ سب بچے جوان ہو کر راہ حق کے مجاہد بنتے۔ [صحیح بخاری:5242] ‏

صفحہ نمبر4877

اسی سورت کی تفسیر کے شروع میں اس آیت کا شان نزول بیان ہو چکا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصحاب کہف کا قصہ دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کل تمہیں جواب دوں گا۔ ان شاءاللہ نہ کہا اس بنا پر پندرہ دن تک وحی نازل نہ ہوئی۔ اس حدیث کو پوری طرح ہم نے اس سورت کی تفسیر کے شروع میں بیان کر دیا ہے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی حاجت نہیں۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ جب بھول جائے تب اپنے رب کو یاد کر، یعنی ان شاءاللہ کہنا اگر موقعہ پر یاد نہ آیا تو جب یاد آئے کہہ لیا کر۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو حلف کھائے کہ اسے پھر بھی ان شاءاللہ کہنے کا حق ہے گو سال بھر گزر چکا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے کلام میں یا قسم میں ان شاءاللہ کہنا بھول گیا تو جب بھی یاد آئے کہہ لے، گو کتنی مدت گزر چکی ہو اور گو اس کا خلاف بھی ہو چکا ہو۔ اس سے یہ مطلب نہیں کہ اب اس پر قسم کا کفارہ نہیں رہے گا اور اسے قسم توڑنے کا اختیار ہے۔ یہی مطلب اس قول کا امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے اور یہی بالکل ٹھیک ہے۔ اسی پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کا کلام محمول کیا جا سکتا ہے، ان سے اور حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مراد ان شاءاللہ کہنا بھول جانا ہے۔ اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے،

دوسرا کوئی تو اپنی قسم کے ساتھ ہی متصل طور پر ان شاءاللہ کہے تو معتبر ہے۔ یہ بھی ایک مطلب ہے کہ جب کوئی بات بھول جاؤ تو اللہ کا ذکر کرو کیونکہ بھول شیطانی حرکت ہے اور ذکر الٰہی یاد کا ذریعہ ہے۔ پھر فرمایا کہ تجھ سے کسی ایسی بات کا سوال کیا جائے کہ تجھے اس کا علم نہ ہو تو تو اللہ تعالیٰ سے دریافت کر لیا کر اور اس کی طرف توجہ کر تاکہ وہ تجھے ٹھیک بات اور ہدایت والی راہ بتا اور دکھا دے۔ اور بھی اقوال اس بارے میں مروی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4878

اصحاب کہف کتنا سوئے ؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی علیہ السلام کو اس مدت کی خبر دیتا ہے، جو اصحاب کہف نے اپنے سونے کے زمانے میں گزاری کہ وہ مدت سورج کے حساب سے تین سو سال کی تھی اور چاند کے حساب سے تین سو نو سال کی تھی۔ فی الواقع شمسی اور قمری سال میں سو سال پر تین سال کا فرق پڑتا ہے، اسی لیے تین سو الگ بیان کر کے پھر نو الگ بیان کئے۔

صفحہ نمبر4879

پھر فرماتا ہے کہ جب تجھ سے ان کے سونے کی مدت دریافت کی جائے اور تیرے پاس اس کا کچھ علم نہ ہو اور نہ اللہ نے تجھے واقف کیا ہو تو تو آگے نہ بڑھ اور ایسے امور میں یہ جواب دیا کر کہ اللہ ہی کوصحیح علم ہے، آسمان اور زمین کا غیب وہی جانتا ہے، ہاں جسے وہ جو بات بتا دے وہ جان لیتا ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ تین سو سال ٹھہرے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے اللہ ہی کو اس کا پورا علم ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی معنی کی قرأت مروی ہے۔ لیکن حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا یہ قول تامل طلب ہے اس لیے کہ اہل کتاب کے ہاں شمسی سال کا رواج ہے اور وہ تین سو سال مانتے ہیں۔ تین سو نو کا ان کا قول نہیں، اگر ان ہی کا قول نقل ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ اور نو سال زیادہ کئے۔ بظاہر تو یہی ٹھیک معلوم ہوتا ہے کہ خود اللہ تبارک و تعالیٰ اس بات کی خبر دے رہا ہے نہ کہ کسی کا قول بیان فرماتا ہے، یہی اختیار امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کی روایت اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت دونوں منقطع ہیں۔ پھر شاذ بھی ہیں، جمہور کی قرأت وہی ہے جو قرآن میں ہے۔ پس وہ شاذ دلیل کے قابل نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4880

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے اور ان کی آواز کو خوب سن رہا ہے۔ ان الفاظ میں تعریف کا مبالغہ ہے، ان دونوں لفظوں میں مدح کا مبالغہ ہے یعنی وہ خوب دیکھنے سننے والا ہے۔ ہر موجود چیز کو دیکھ رہا ہے اور ہر آواز کو سن رہا ہے۔ کوئی کام کوئی کلام اس سے مخفی نہیں، کوئی اس سے زیادہ سننے دیکھنے والا نہیں۔ سب کے عمل دیکھ رہا ہے، سب کی باتیں سن رہا ہے، خلق کا خالق، امر کا مالک وہی ہے۔ کوئی اس کے فرمان کو رد نہیں کر سکتا۔ اس کا کوئی وزیر اور مددگار نہیں، نہ کوئی شریک اور مشیر ہے۔ وہ ان تمام کمیوں سے پاک ہے، تمام نقائص سے دور ہے۔

صفحہ نمبر4881

اصحاب کہف کتنا سوئے ؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی علیہ السلام کو اس مدت کی خبر دیتا ہے، جو اصحاب کہف نے اپنے سونے کے زمانے میں گزاری کہ وہ مدت سورج کے حساب سے تین سو سال کی تھی اور چاند کے حساب سے تین سو نو سال کی تھی۔ فی الواقع شمسی اور قمری سال میں سو سال پر تین سال کا فرق پڑتا ہے، اسی لیے تین سو الگ بیان کر کے پھر نو الگ بیان کئے۔

صفحہ نمبر4879

پھر فرماتا ہے کہ جب تجھ سے ان کے سونے کی مدت دریافت کی جائے اور تیرے پاس اس کا کچھ علم نہ ہو اور نہ اللہ نے تجھے واقف کیا ہو تو تو آگے نہ بڑھ اور ایسے امور میں یہ جواب دیا کر کہ اللہ ہی کوصحیح علم ہے، آسمان اور زمین کا غیب وہی جانتا ہے، ہاں جسے وہ جو بات بتا دے وہ جان لیتا ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ تین سو سال ٹھہرے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے اللہ ہی کو اس کا پورا علم ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی معنی کی قرأت مروی ہے۔ لیکن حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا یہ قول تامل طلب ہے اس لیے کہ اہل کتاب کے ہاں شمسی سال کا رواج ہے اور وہ تین سو سال مانتے ہیں۔ تین سو نو کا ان کا قول نہیں، اگر ان ہی کا قول نقل ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ اور نو سال زیادہ کئے۔ بظاہر تو یہی ٹھیک معلوم ہوتا ہے کہ خود اللہ تبارک و تعالیٰ اس بات کی خبر دے رہا ہے نہ کہ کسی کا قول بیان فرماتا ہے، یہی اختیار امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کی روایت اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت دونوں منقطع ہیں۔ پھر شاذ بھی ہیں، جمہور کی قرأت وہی ہے جو قرآن میں ہے۔ پس وہ شاذ دلیل کے قابل نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4880

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے اور ان کی آواز کو خوب سن رہا ہے۔ ان الفاظ میں تعریف کا مبالغہ ہے، ان دونوں لفظوں میں مدح کا مبالغہ ہے یعنی وہ خوب دیکھنے سننے والا ہے۔ ہر موجود چیز کو دیکھ رہا ہے اور ہر آواز کو سن رہا ہے۔ کوئی کام کوئی کلام اس سے مخفی نہیں، کوئی اس سے زیادہ سننے دیکھنے والا نہیں۔ سب کے عمل دیکھ رہا ہے، سب کی باتیں سن رہا ہے، خلق کا خالق، امر کا مالک وہی ہے۔ کوئی اس کے فرمان کو رد نہیں کر سکتا۔ اس کا کوئی وزیر اور مددگار نہیں، نہ کوئی شریک اور مشیر ہے۔ وہ ان تمام کمیوں سے پاک ہے، تمام نقائص سے دور ہے۔

صفحہ نمبر4881

تلاوت و تبلیغ ٭٭

اللہ کریم اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کلام کی تلاوت اور اس کی تبلیغ کی ہدایت کرتا ہے، اس کے کلمات کو نہ کوئی بدل سکے نہ ٹال سکے، نہ ادھر ادھر کر سکے، سمجھ لے کہ اس کے سوائے جائے پناہ نہیں، اگر تلاوت و تبلیغ چھوڑ دی تو پھر بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [ 5-المائدة: 67 ] ‏ اے رسول جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے اس کی تبلیغ کرتا رہ اگر نہ کی تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا لوگوں کے شر سے اللہ تجھے بچائے رکھے گا۔ اور آیت میں ہے «اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَادُّكَ اِلٰى مَعَادٍ قُلْ رَّبِّيْٓ اَعْلَمُ مَنْ جَاءَ بالْهُدٰى وَمَنْ هُوَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» [ 28- القص: 85 ] ‏ یعنی اللہ تعالیٰ تجھ سے تیرے منصب کی بابت قیامت کے دن ضرور سوال کرے گا۔ اللہ کا ذکر، اس کی تسبیح، حمد، بڑائ اور بزرگی بیان کرنے والوں کے پاس بیٹھا رہا کر جو صبح شام یاد الٰہی میں لگے رہتے ہیں، خواہ وہ فقیر ہوں خواہ امیر، ‎خواہ رزیل ہوں خواہ شریف، خواہ قوی ہوں خواہ ضعیف۔

صفحہ نمبر4883

قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ آپ چھوٹے لوگوں کی مجلس میں نہ بیٹھا کریں جیسے بلال، عمار، صہیب، خباب، ابن مسعود رضی اللہ عنہم وغیرہ۔ اور ہماری مجلسوں میں بیٹھا کریں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی درخواست رد کرنے کا حکم فرمایا جیسے اور آیت میں ہے «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» [ 6- الانعام: 52 ] ‏ یعنی صبح شام یاد الٰہی کرنے والوں کو اپنی مجلس سے نہ ہٹا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ ہم چھ شخص غریب غرباء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، سعد بن ابی وقاص، ابن مسعود، قبیلہ ہذیل کا ایک شخص، بلال اور دو آدمی اور رضی اللہ عنہم اتنے میں معزز مشرکین آئے اور کہنے لگے انہیں اپنی مجلس میں اس جرات کے ساتھ نہ بیٹھنے دو۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جی میں کیا آیا؟ جو اس وقت آیت «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» اتری۔ [صحیح مسلم:2413] ‏

مسند احمد میں ہے کہ ایک واعظ قصہ گوئی کر رہا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، وہ خاموش ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بیان کئے چلے جاؤ۔ میں تو صبح کی نماز سے لے کر آفتاب کے نکلنے تک اسی مجلس میں بیٹھا رہوں، تو اپنے لئے چار غلام آزاد کرنے سے بہتر سمجھتا ہوں۔ [مسند احمد:261/5:ضعیف] ‏ اور حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں ایسی مجلس میں بیٹھ جاؤں، یہ مجھے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ [مسند احمد:474/3:ضعیف] ‏۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ ذکر اللہ کرنے والوں کے ساتھ صبح کی نماز سے سورج نکلنے تک بیٹھ جانا مجھے تو تمام دنیا سے زیادہ پیارا ہے، اور نماز عصر کے بعد سے سورج کے غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کرنا مجھے آٹھ غلاموں کے آزاد کرنے سے زیادہ پیارا ہے، گو وہ غلام اولاد اسماعیل سے گراں قدر اور قیمتی کیوں نہ ہوں، گو ان میں سے ایک ایک کی دیت بارہ بارہ ہزار کی ہو تو مجموعی قیمت چھیانوے ہزار کی ہوئی۔ بعض لوگ چار غلام بتاتے ہیں لیکن انس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، واللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ غلام فرمائے ہیں۔ [مسند طیالسی،2104:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر4884

بزار میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے ایک صاحب سورۃ الکہف کی قرأت کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر خاموش ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی ان لوگوں کی مجلس ہے جہاں اپنے نفس کو روک کر رکھنے کا مجھے حکم الٰہی ہوا ہے۔ [مجمع الزوائد،167/7:ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ یا تو سورۃ الحج کی وہ تلاوت کر رہے تھے یا سورۃ الکہف کی۔ [مسند بزار،2636:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے فرماتے ہیں ذکر اللہ کے لیے جو مجلس جمع ہو، نیت بھی ان کی بخیر ہو تو آسمان سے منادی ندا کرتا ہے کہ اٹھو اللہ نے تمہیں بخش دیا، تمہاری برائیاں بھلائیوں سے بدل گئیں۔ [مسند احمد:142/3:صحیح لغیرہ] ‏ طبرانی میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو آپ اپنے کسی گھر میں تھے، اسی وقت ایسے لوگوں کی تلاش میں نکلے۔ کچھ لوگوں کو ذکر اللہ میں پایا، جن کے بال بکھرے ہوئے تھے، کھالیں خشک تھیں، بمشکل ایک ایک کپڑا انہیں حاصل تھا، فوراً ان کی مجلس میں بیٹھ گئے اور کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسے لوگ رکھے ہیں، جن کے ساتھ بیٹھنے کا مجھے حکم ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23017:ضعیف] ‏ پھر فرماتا ہے ان سے تیری آنکھیں تجاوز نہ کریں، ان یاد اللہ کرنے والوں کو چھوڑ کر مالداروں کی تلاش میں نہ لگ جانا جو دین سے برگشتہ ہیں، جو عبادت سے دور ہیں، جن کی برائیاں بڑھ گئی ہیں، جن کے اعمال حماقت کے ہیں، تو ان کی پیروی نہ کرنا، ان کے طریقے کو پسند نہ کرنا، ان پر رشک بھری نگاہیں نہ ڈالنا، ان کی نعمتیں للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھنا۔ جیسے فرمان ہے «وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [ 20- طه: 131 ] ‏، ہم نے انہیں جو دنیوی عیش و عشرت دے رکھی ہے یہ صرف ان کی آزمائش کے لیے ہے۔ تو للچائی ہوئی نگاہوں سے انہیں نہ دیکھنا، دراصل تیرے رب کے پاس کی روزی بہتر اور بہت باقی ہے۔

صفحہ نمبر4885

تلاوت و تبلیغ ٭٭

اللہ کریم اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کلام کی تلاوت اور اس کی تبلیغ کی ہدایت کرتا ہے، اس کے کلمات کو نہ کوئی بدل سکے نہ ٹال سکے، نہ ادھر ادھر کر سکے، سمجھ لے کہ اس کے سوائے جائے پناہ نہیں، اگر تلاوت و تبلیغ چھوڑ دی تو پھر بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [ 5-المائدة: 67 ] ‏ اے رسول جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے اس کی تبلیغ کرتا رہ اگر نہ کی تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا لوگوں کے شر سے اللہ تجھے بچائے رکھے گا۔ اور آیت میں ہے «اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَادُّكَ اِلٰى مَعَادٍ قُلْ رَّبِّيْٓ اَعْلَمُ مَنْ جَاءَ بالْهُدٰى وَمَنْ هُوَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» [ 28- القص: 85 ] ‏ یعنی اللہ تعالیٰ تجھ سے تیرے منصب کی بابت قیامت کے دن ضرور سوال کرے گا۔ اللہ کا ذکر، اس کی تسبیح، حمد، بڑائ اور بزرگی بیان کرنے والوں کے پاس بیٹھا رہا کر جو صبح شام یاد الٰہی میں لگے رہتے ہیں، خواہ وہ فقیر ہوں خواہ امیر، ‎خواہ رزیل ہوں خواہ شریف، خواہ قوی ہوں خواہ ضعیف۔

صفحہ نمبر4883

قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ آپ چھوٹے لوگوں کی مجلس میں نہ بیٹھا کریں جیسے بلال، عمار، صہیب، خباب، ابن مسعود رضی اللہ عنہم وغیرہ۔ اور ہماری مجلسوں میں بیٹھا کریں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی درخواست رد کرنے کا حکم فرمایا جیسے اور آیت میں ہے «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» [ 6- الانعام: 52 ] ‏ یعنی صبح شام یاد الٰہی کرنے والوں کو اپنی مجلس سے نہ ہٹا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ ہم چھ شخص غریب غرباء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، سعد بن ابی وقاص، ابن مسعود، قبیلہ ہذیل کا ایک شخص، بلال اور دو آدمی اور رضی اللہ عنہم اتنے میں معزز مشرکین آئے اور کہنے لگے انہیں اپنی مجلس میں اس جرات کے ساتھ نہ بیٹھنے دو۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جی میں کیا آیا؟ جو اس وقت آیت «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» اتری۔ [صحیح مسلم:2413] ‏

مسند احمد میں ہے کہ ایک واعظ قصہ گوئی کر رہا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، وہ خاموش ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بیان کئے چلے جاؤ۔ میں تو صبح کی نماز سے لے کر آفتاب کے نکلنے تک اسی مجلس میں بیٹھا رہوں، تو اپنے لئے چار غلام آزاد کرنے سے بہتر سمجھتا ہوں۔ [مسند احمد:261/5:ضعیف] ‏ اور حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں ایسی مجلس میں بیٹھ جاؤں، یہ مجھے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ [مسند احمد:474/3:ضعیف] ‏۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ ذکر اللہ کرنے والوں کے ساتھ صبح کی نماز سے سورج نکلنے تک بیٹھ جانا مجھے تو تمام دنیا سے زیادہ پیارا ہے، اور نماز عصر کے بعد سے سورج کے غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کرنا مجھے آٹھ غلاموں کے آزاد کرنے سے زیادہ پیارا ہے، گو وہ غلام اولاد اسماعیل سے گراں قدر اور قیمتی کیوں نہ ہوں، گو ان میں سے ایک ایک کی دیت بارہ بارہ ہزار کی ہو تو مجموعی قیمت چھیانوے ہزار کی ہوئی۔ بعض لوگ چار غلام بتاتے ہیں لیکن انس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، واللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ غلام فرمائے ہیں۔ [مسند طیالسی،2104:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر4884

بزار میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے ایک صاحب سورۃ الکہف کی قرأت کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر خاموش ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی ان لوگوں کی مجلس ہے جہاں اپنے نفس کو روک کر رکھنے کا مجھے حکم الٰہی ہوا ہے۔ [مجمع الزوائد،167/7:ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ یا تو سورۃ الحج کی وہ تلاوت کر رہے تھے یا سورۃ الکہف کی۔ [مسند بزار،2636:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے فرماتے ہیں ذکر اللہ کے لیے جو مجلس جمع ہو، نیت بھی ان کی بخیر ہو تو آسمان سے منادی ندا کرتا ہے کہ اٹھو اللہ نے تمہیں بخش دیا، تمہاری برائیاں بھلائیوں سے بدل گئیں۔ [مسند احمد:142/3:صحیح لغیرہ] ‏ طبرانی میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو آپ اپنے کسی گھر میں تھے، اسی وقت ایسے لوگوں کی تلاش میں نکلے۔ کچھ لوگوں کو ذکر اللہ میں پایا، جن کے بال بکھرے ہوئے تھے، کھالیں خشک تھیں، بمشکل ایک ایک کپڑا انہیں حاصل تھا، فوراً ان کی مجلس میں بیٹھ گئے اور کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسے لوگ رکھے ہیں، جن کے ساتھ بیٹھنے کا مجھے حکم ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23017:ضعیف] ‏ پھر فرماتا ہے ان سے تیری آنکھیں تجاوز نہ کریں، ان یاد اللہ کرنے والوں کو چھوڑ کر مالداروں کی تلاش میں نہ لگ جانا جو دین سے برگشتہ ہیں، جو عبادت سے دور ہیں، جن کی برائیاں بڑھ گئی ہیں، جن کے اعمال حماقت کے ہیں، تو ان کی پیروی نہ کرنا، ان کے طریقے کو پسند نہ کرنا، ان پر رشک بھری نگاہیں نہ ڈالنا، ان کی نعمتیں للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھنا۔ جیسے فرمان ہے «وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [ 20- طه: 131 ] ‏، ہم نے انہیں جو دنیوی عیش و عشرت دے رکھی ہے یہ صرف ان کی آزمائش کے لیے ہے۔ تو للچائی ہوئی نگاہوں سے انہیں نہ دیکھنا، دراصل تیرے رب کے پاس کی روزی بہتر اور بہت باقی ہے۔

صفحہ نمبر4885

جہنم کی دیواریں ٭٭

جو کچھ میں اپنے رب کے پاس سے لایا ہوں وہی حق صدق اور سچائی ہے شک و شبہ سے بالکل خالی۔ اب جس کا جی چاہے مانے نہ چاہے نہ مانے۔ نہ ماننے والوں کے لیے آگ جہنم تیار ہے، جس کی چار دیواری کے جیل خانے میں یہ بے بس ہوں گے۔ حدیث میں ہے کہ جہنم کی چار دیواری کی وسعت چالیس چالیس سال کی راہ کی ہے [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اور خود وہ دیواریں بھی آگ کی ہیں۔ اور روایت میں ہے، سمندر بھی جہنم ہے۔ پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا، واللہ نہ اس میں جاؤں جب تک بھی زندہ رہوں اور نہ اس کا کوئی قطرہ مجھے پہنچے۔ [مسند احمد:223/4:ضعیف] ‏ «مُهْلِ» کہتے ہیں غلیظ پانی کو جیسے زیتون کے تیل کی تلچھٹ اور جیسے خون اور پیپ جو بے حد گرم ہو۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ سونا پگھلایا جب وہ پانی جیسا ہو گیا اور جوش مارنے لگا فرمایا مھل کی مشابہت اس میں ہے۔ جہنم کا پانی بھی سیاہ ہے، وہ خود بھی سیاہ ہے، جہنمی بھی سیاہ ہیں۔ مھل سیاہ رنگ، بدبودار، غلیظ، گندگی، سخت گرم چیز ہے، چہرے کے پاس جاتے ہی کھال جھلسا دیتی ہے، منہ جلا دیتی ہے۔

صفحہ نمبر4887

مسند احمد میں ہے کافر کے منہ کے پاس جاتے ہی اس کے چہرے کی کھال جھلس کر اس میں آ پڑے گی۔ [مسند احمد:70/3:ضعیف] ‏ قرآن میں ہے وہ پیپ پلائے جائیں گے بمشکل ان کے حلق سے اترے گی۔ چہرے کے پاس آتے ہی کھال جل کر گر پڑے گی، پیتے ہی آنتیں کٹ جائیں گی، ان کی ہائے وائے شور و غل پر یہ پانی انکو پینے کو دیا جائے گا۔ بھوک کی شکایت پر زقوم کا درخت دیا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اس طرح جسم چھوڑ کر اتر جائیں گی کہ ان کے پہچاننے والا ان کھالوں کو دیکھ کر بھی پہچان لے، پھر پیاس کی شکایت پر سخت گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا جو منہ کے پس پہنچتے ہی تمام گوشت کو بھون ڈالے گا۔ ہائے کیا برا پانی ہے۔ یہ وہ گرم پانی پلایا جائے گا، انکا ٹھکانہ، ان کی منزل، انکا گھر، ان کی آرام گاہ بھی نہایت بری ہے۔ جیسے اور آیت میں «اِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَــقَرًّا وَّمُقَامًا» [ 25- الفرقان: 66 ] ‏ وہ بڑی بری جگہ اور بے حد کٹھن منزل ہے۔

صفحہ نمبر4888

سونے کے کنگن اور ریشمی لباس ٭٭

اوپر برے لوگوں کا حال اور انجام بیان فرمایا، اب نیکوں کا آغاز و انجام بیان ہو رہا ہے۔ یہ اللہ، رسول اور کتاب کے ماننے والے نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ ان کے لیے ہمیشگی والی دائمی جنتیں ہیں، ان کے بالاخانوں کے اور باغات کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں۔ انہیں زیورات خصوصا سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ ان کا لباس وہاں خالص ریشم کا ہو گا، نرم باریک اور نرم موٹے ریشم کا لباس ہو گا۔ یہ باآرام شاہانہ شان سے مسندوں پر جو تختوں پر ہوں گے، تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ کہا گیا ہے کہ لیٹنے اور چار زانوں بیٹھنے کا نام بھی اتکا ہے، ممکن ہے یہی مراد یہاں بھی ہو، چنانچہ حدیث میں ہے میں اتکا کر کے کھانا نہیں کھاتا۔ [صحیح بخاری:5398] ‏

اس میں بھی یہی دو قول ہیں، «أَرَائِكِ» جمع ہے «اَرِیْکَة» کی، تخت چھپر کھٹ وغیرہ کو کہتے ہیں۔ کیا ہی اچھا بدلہ ہے اور کتنی ہی اچھی اور آرام دہ جگہ ہے برخلاف دوزخیوں کے کہ ان کے لیے بری سزا اور بری جگہ ہے۔ سورۃ الفرقان میں بھی انہیں دونوں گروہ کا اسی طرح مقابلہ کا بیان ہے «أُولَـٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا خَالِدِينَ فِيهَا حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا» [ 25-الفرقان: 75، 76 ] ‏۔ یہی وه لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلے جنت کے بلند و باﻻخانے دیئے جائیں گے جہاں انہیں دعا سلام پہنچایا جائے گا، اس میں یہ ہمیشہ رہیں گے، وه بہت ہی اچھی جگہ اور عمده مقام ہے۔

صفحہ نمبر4889

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com