John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Kahf

Tafsir Ibn Kathir · The Cave · 110 ayat · ayat 91–110 · Quran text →

ایک وحشی بستی ٭٭

ذوالقرنین مغرب سے واپس مشرق کی طرف چلے۔ راستے میں جو قومیں ملتیں، اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی انہیں دعوت دیتے۔ اگر وہ قبول کر لیتے تو بہت اچھا، ورنہ ان سے لڑائی ہوتی اور اللہ کے فضل سے وہ ہارتے۔ آپ انہیں اپنا ماتحت کر کے وہاں کے مال ومویشی اور خادم وغیرہ لے کر آگے کو چلتے۔ بنی اسرائیلی خبروں میں ہے کہ یہ ایک ہزار چھ سو سال تک زندہ رہے۔ اور برابر زمین پر دین الٰہی کی تبلیغ میں رہے، ساتھ ہی بادشاہت بھی پھیلتی رہی۔ جب آپ سورج نکلنے کی جگہ پہنچے وہاں دیکھا کہ ایک بستی آباد ہے لیکن وہاں کے لوگ بالکل نیم وحشی جیسے ہیں۔ نہ وہ مکانات بناتے ہیں نہ وہاں کوئی درخت ہے، سورج کی دھوپ سے پناہ دینے والی کوئی چیز وہاں انہیں نظر نہ آئی۔ ان کے رنگ سرخ تھے ان کے قد پست تھے عام خوراک ان کی مچھلی تھی۔

صفحہ نمبر4982

حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، سورج کے نکلنے کے وقت وہ پانی میں چلے جایا کرتے تھے اور غروب ہونے کے بعد جانوروں کی طرح ادھر ادھر ہو جایا کرتے تھے۔ [ ابو شیخ فی العظمة989-978] ‏ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ وہاں تو کچھ اگتا نہ تھا، سورج کے نکلنے کے وقت وہ پانی میں چلے جاتے اور زوال کے بعد دوردراز اپنی کھیتیوں وغیرہ میں مشغول ہو جاتے۔ سلمہ کا قول ہے کہ ان کے کان بڑے بڑے تھے ایک اوڑھ لیتے، ایک بچھا لیتے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ وحشی حبشی تھے۔

ابن جریر فرماتے ہیں کہ وہاں کبھی کوئی مکان یا دیوار یا احاطہٰ نہیں بنا، سورج کے نکلنے کے وقت یہ لوگ پانی میں گھس جاتے۔ وہاں کوئی پہاڑ بھی نہیں۔ پہلے کسی وقت ان کے پاس ایک لشکر پہنچا تو انہوں نے ان سے کہا کہ دیکھو سورج نکلتے وقت باہر نہ ٹھہرنا۔ انہوں نے کہا نہیں ہم تو رات ہی رات یہاں سے چلے جائیں گے لیکن یہ تو بتاؤ کہ یہ ہڈیوں کے چمکیلے ڈھیر کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا یہاں پہلے ایک لشکر آیا تھا۔ سورج کے نکلنے کے وقت وہ یہیں ٹھہرا رہا، سب مر گئے، یہ ان کی ہڈیاں ہیں۔ یہ سنتے ہی وہ وہاں سے واپس ہو گئے۔ پھر فرماتا ہے کہ ذوالقرنین کی، اس کے ساتھیوں کی کوئی حرکت کوئی گفتار اور رفتار ہم پر پوشیدہ نہ تھی۔ گو اس کا لاؤ لشکر بہت تھا زمین کے ہر حصے پر پھیلا ہوا تھا۔ «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَخْفَىٰ عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ» [ 3-آل عمران: 5 ] ‏ لیکن ہمارا علم زمین و آسمان پر حاوی ہے۔ ہم سے کوئی چیز مخفی نہیں۔

صفحہ نمبر4983

یاجوج ماجوج ٭٭

اپنے شرقی سفر کو ختم کر کے پھر ذوالقرنین وہیں مشرق کی طرف ایک راہ چلے۔ دیکھا کہ دو پہاڑ ہیں جو ملے ہوئے ہیں لیکن ان کے درمیان ایک گھاٹی ہے، جہاں سے یاجوج ماجوج نکل کر ترکوں پر تباہی ڈالا کرتے ہیں، انہیں قتل کرتے ہیں، کھیت باغات تباہ کرتے ہیں، بال بچوں کو بھی ہلاک کرتے ہیں اور سخت فساد برپا کرتے رہتے ہیں۔ یاجوج ماجوج بھی انسان ہیں جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث سے ثابت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اللہ عزوجل آدم علیہ السلام سے فرمائے گا کہ اے آدم! آپ لبیک وسعدیک کے ساتھ جواب دیں گے، حکم ہو گا آگ کا حصہ الگ کر، پوچھیں گے کتنا حصہ؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ میں اور ایک جنت میں۔ یہی وہ وقت ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا۔ پھر حضور علیہ السلام نے فرمایا تم میں دو امتیں ہیں کہ وہ جن میں ہوں انہیں کثرت کو پہنچا دیتی ہیں یعنی یاجوج ماجوج۔ [صحیح بخاری:6530] ‏

صفحہ نمبر4986

امام نووی رحمہ اللہ نے شرح صحیح مسلم میں ایک عجیب بات لکھی ہے وہ لکھتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کے خاص پانی کے چند قطرے جو مٹی میں گرے تھے، انہی سے یاجوج ماجوج پیدا کئے گئے ہیں۔ گویا وہ حواء اور آدم علیہ السلام کی نسل سے نہیں بلکہ صرف نسل آدم علیہ السلام سے ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ قول بالکل ہی غریب ہے نہ اس پر عقلی دلیل ہے نہ نقلی اور ایسی باتیں جو اہل کتاب سے پہنچتی ہیں، وہ ماننے کے قابل نہیں ہوتیں۔ بلکہ ان کے ہاں کے ایسے قصے ملاوٹی اور بناوٹی ہوتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

مسند احمد میں حدیث ہے کہ نوح علیہ السلام کے تین لڑکے تھے سام، حام اور یافث۔ سام کی نسل سے کل عرب ہیں اور حام کی نسل سے کل حبشی ہیں اور یافث کی نسل سے کل ترک ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ یاجوج ماجوج ترکوں کے اس جد اعلیٰ یافث کی ہی اولاد ہیں، انہیں ترک اس لیے کہا گیا ہے کہ انہیں بوجہ ان کے فساد اور شرارت کے انسانوں کی دیگر آبادی کے پس پشت پہاڑوں کی آڑ میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

صفحہ نمبر4987

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ذوالقرنین کے سفر کے متعلق اور اس دیوار کے بنانے کے متعلق اور یاجوج ماجوج کے جسموں، ان کی شکلوں اور ان کے کانوں وغیرہ کے متعلق وہب بن منبہ سے ایک بہت لمبا چوڑا واقعہ اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے جو علاوہ عجیب و غریب ہونے کے صحت سے دور ہے۔ ابن ابی حاتم میں بھی ایسے بہت سے واقعات درج ہیں لیکن سب غریب اور غیر صحیح ہیں۔ ان پہاڑوں کے درے میں ذوالقرنین نے انسانوں کی ایک آبادی پائی جو بوجہ دنیا کے دیگر لوگوں سے دوری کے اور ان کی اپنی مخصوص زبان کے اوروں کی بات بھی تقریبا نہیں سمجھ سکتے تھے۔ ان لوگوں نے ذوالقرنین کی قوت وطاقت، عقل و ہنر کو دیکھ کر درخواست کی کہ اگر آپ رضا مند ہوں تو ہم آپ کے لیے بہت سا مال جمع کر دیں اور آپ ان پہاڑوں کے درمیان کی گھاٹی کو کسی مضبوط دیوار سے بند کر دیں تاکہ ہم ان فسادیوں کی روزمرہ کی ان تکالیف سے بچ جائیں۔ اس کے جواب میں ذوالقرنین نے فرمایا، مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں اللہ کا دیا سب کچھ میرے پاس موجود ہے اور وہ تمہارے مال سے بہت بہتر ہے۔ یہی جواب سلیمان علیہ السلام کی طرف سے ملکہ سبا کے قاصدوں کو دیا گیا تھا «أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّـهُ خَيْرٌ مِّمَّا آتَاكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ» [ 27-النمل: 36 ] ‏۔ ذوالقرنین نے اپنے اس جواب کے بعد فرمایا کہ ہاں تم اپنی قوت وطاقت اور کام کاج سے میرا ساتھ دو تو میں تم میں اور ان میں ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دیتا ہوں۔ زبر جمع ہے زبرۃ کی۔ ذوالقرنین فرماتے ہیں کہ لوہے کے ٹکڑے اینٹوں کی طرح کے میرے پاس لاؤ۔ جب یہ ٹکڑے جمع ہو گئے تو آپ نے دیوار بنانی شروع کرا دی اور وہ لمبائی چوڑائی میں اتنی ہو گئی کہ تمام جگہ گھر گئی اور پہاڑ کی چوٹی کے برابر پہنچ گئی۔ اس کے طول و عرض اور موٹائی کی ناپ میں بہت سے مختلف اقوال ہیں۔

صفحہ نمبر4988

جب یہ دیوار بالکل بن گئی تو حکم دیا کہ اب اس کے چاروں طرف آگ بھڑکاؤ۔ جب وہ لوہے کی دیوار بالکل انگارے جیسی سرخ ہو گئی تو حکم دیا کہ اب پگھلا ہوا تانبا لاؤ اور ہر طرف سے اس کے اوپر بہا دو چنانچہ یہ بھی کیا گیا۔ پس ٹھنڈی ہو کر یہ دیوار بہت ہی مضبوط اور پختہ ہو گئی اور دیکھنے میں ایسی معلوم ہونے لگی جیسے کوئی دھاری دار چادر ہو۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے وہ دیوار دیکھی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیسی ہے؟ اس نے کہا دھاری دار چادر جیسی، جس میں سرخ و سیاہ دھاریاں ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:23340:مرسل] ‏ لیکن یہ روایت مرسل ہے۔ خلیفہ واثق نے اپنے زمانے میں اپنے امیروں کو ایک وافر لشکر اور بہت سا سامان دے کر روانہ کیا تھا کہ وہ اس دیوار کی خبر لائیں۔ یہ لشکر دو سال سے زیادہ سفر میں رہا اور ملک در ملک پھرتا ہوا آخر اس دیوار تک پہنچا، دیکھا کہ لوہے اور تانبے کی دیوار ہے۔ اس میں ایک بہت بڑا نہایت پختہ عظیم الشان دروازہ بھی اسی کا ہے جس پر منوں کے وزنی قفل لگے ہوئے ہیں اور جو مال مسالہ دیوار کا بچا ہوا ہے، وہ وہیں پر ایک برج میں رکھا ہوا ہے جہاں پہرہ چوکی مقرر ہے۔ دیوار بے حد بلند ہے کتنی ہی کوشش کی جائے لیکن اس پر چڑھنا ناممکن ہے۔ اس سے ملا ہوا پہاڑیوں کا سلسلہ دونوں طرف برابر چلا گیا ہے اور بھی بہت سے عجائب وغرائب امور دیکھے جو انہوں نے واپس آ کر خلیفہ کی خدمت میں عرض کئے۔

صفحہ نمبر4989

یاجوج ماجوج ٭٭

اپنے شرقی سفر کو ختم کر کے پھر ذوالقرنین وہیں مشرق کی طرف ایک راہ چلے۔ دیکھا کہ دو پہاڑ ہیں جو ملے ہوئے ہیں لیکن ان کے درمیان ایک گھاٹی ہے، جہاں سے یاجوج ماجوج نکل کر ترکوں پر تباہی ڈالا کرتے ہیں، انہیں قتل کرتے ہیں، کھیت باغات تباہ کرتے ہیں، بال بچوں کو بھی ہلاک کرتے ہیں اور سخت فساد برپا کرتے رہتے ہیں۔ یاجوج ماجوج بھی انسان ہیں جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث سے ثابت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اللہ عزوجل آدم علیہ السلام سے فرمائے گا کہ اے آدم! آپ لبیک وسعدیک کے ساتھ جواب دیں گے، حکم ہو گا آگ کا حصہ الگ کر، پوچھیں گے کتنا حصہ؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ میں اور ایک جنت میں۔ یہی وہ وقت ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا۔ پھر حضور علیہ السلام نے فرمایا تم میں دو امتیں ہیں کہ وہ جن میں ہوں انہیں کثرت کو پہنچا دیتی ہیں یعنی یاجوج ماجوج۔ [صحیح بخاری:6530] ‏

صفحہ نمبر4986

امام نووی رحمہ اللہ نے شرح صحیح مسلم میں ایک عجیب بات لکھی ہے وہ لکھتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کے خاص پانی کے چند قطرے جو مٹی میں گرے تھے، انہی سے یاجوج ماجوج پیدا کئے گئے ہیں۔ گویا وہ حواء اور آدم علیہ السلام کی نسل سے نہیں بلکہ صرف نسل آدم علیہ السلام سے ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ قول بالکل ہی غریب ہے نہ اس پر عقلی دلیل ہے نہ نقلی اور ایسی باتیں جو اہل کتاب سے پہنچتی ہیں، وہ ماننے کے قابل نہیں ہوتیں۔ بلکہ ان کے ہاں کے ایسے قصے ملاوٹی اور بناوٹی ہوتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

مسند احمد میں حدیث ہے کہ نوح علیہ السلام کے تین لڑکے تھے سام، حام اور یافث۔ سام کی نسل سے کل عرب ہیں اور حام کی نسل سے کل حبشی ہیں اور یافث کی نسل سے کل ترک ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ یاجوج ماجوج ترکوں کے اس جد اعلیٰ یافث کی ہی اولاد ہیں، انہیں ترک اس لیے کہا گیا ہے کہ انہیں بوجہ ان کے فساد اور شرارت کے انسانوں کی دیگر آبادی کے پس پشت پہاڑوں کی آڑ میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

صفحہ نمبر4987

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ذوالقرنین کے سفر کے متعلق اور اس دیوار کے بنانے کے متعلق اور یاجوج ماجوج کے جسموں، ان کی شکلوں اور ان کے کانوں وغیرہ کے متعلق وہب بن منبہ سے ایک بہت لمبا چوڑا واقعہ اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے جو علاوہ عجیب و غریب ہونے کے صحت سے دور ہے۔ ابن ابی حاتم میں بھی ایسے بہت سے واقعات درج ہیں لیکن سب غریب اور غیر صحیح ہیں۔ ان پہاڑوں کے درے میں ذوالقرنین نے انسانوں کی ایک آبادی پائی جو بوجہ دنیا کے دیگر لوگوں سے دوری کے اور ان کی اپنی مخصوص زبان کے اوروں کی بات بھی تقریبا نہیں سمجھ سکتے تھے۔ ان لوگوں نے ذوالقرنین کی قوت وطاقت، عقل و ہنر کو دیکھ کر درخواست کی کہ اگر آپ رضا مند ہوں تو ہم آپ کے لیے بہت سا مال جمع کر دیں اور آپ ان پہاڑوں کے درمیان کی گھاٹی کو کسی مضبوط دیوار سے بند کر دیں تاکہ ہم ان فسادیوں کی روزمرہ کی ان تکالیف سے بچ جائیں۔ اس کے جواب میں ذوالقرنین نے فرمایا، مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں اللہ کا دیا سب کچھ میرے پاس موجود ہے اور وہ تمہارے مال سے بہت بہتر ہے۔ یہی جواب سلیمان علیہ السلام کی طرف سے ملکہ سبا کے قاصدوں کو دیا گیا تھا «أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّـهُ خَيْرٌ مِّمَّا آتَاكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ» [ 27-النمل: 36 ] ‏۔ ذوالقرنین نے اپنے اس جواب کے بعد فرمایا کہ ہاں تم اپنی قوت وطاقت اور کام کاج سے میرا ساتھ دو تو میں تم میں اور ان میں ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دیتا ہوں۔ زبر جمع ہے زبرۃ کی۔ ذوالقرنین فرماتے ہیں کہ لوہے کے ٹکڑے اینٹوں کی طرح کے میرے پاس لاؤ۔ جب یہ ٹکڑے جمع ہو گئے تو آپ نے دیوار بنانی شروع کرا دی اور وہ لمبائی چوڑائی میں اتنی ہو گئی کہ تمام جگہ گھر گئی اور پہاڑ کی چوٹی کے برابر پہنچ گئی۔ اس کے طول و عرض اور موٹائی کی ناپ میں بہت سے مختلف اقوال ہیں۔

صفحہ نمبر4988

جب یہ دیوار بالکل بن گئی تو حکم دیا کہ اب اس کے چاروں طرف آگ بھڑکاؤ۔ جب وہ لوہے کی دیوار بالکل انگارے جیسی سرخ ہو گئی تو حکم دیا کہ اب پگھلا ہوا تانبا لاؤ اور ہر طرف سے اس کے اوپر بہا دو چنانچہ یہ بھی کیا گیا۔ پس ٹھنڈی ہو کر یہ دیوار بہت ہی مضبوط اور پختہ ہو گئی اور دیکھنے میں ایسی معلوم ہونے لگی جیسے کوئی دھاری دار چادر ہو۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے وہ دیوار دیکھی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیسی ہے؟ اس نے کہا دھاری دار چادر جیسی، جس میں سرخ و سیاہ دھاریاں ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:23340:مرسل] ‏ لیکن یہ روایت مرسل ہے۔ خلیفہ واثق نے اپنے زمانے میں اپنے امیروں کو ایک وافر لشکر اور بہت سا سامان دے کر روانہ کیا تھا کہ وہ اس دیوار کی خبر لائیں۔ یہ لشکر دو سال سے زیادہ سفر میں رہا اور ملک در ملک پھرتا ہوا آخر اس دیوار تک پہنچا، دیکھا کہ لوہے اور تانبے کی دیوار ہے۔ اس میں ایک بہت بڑا نہایت پختہ عظیم الشان دروازہ بھی اسی کا ہے جس پر منوں کے وزنی قفل لگے ہوئے ہیں اور جو مال مسالہ دیوار کا بچا ہوا ہے، وہ وہیں پر ایک برج میں رکھا ہوا ہے جہاں پہرہ چوکی مقرر ہے۔ دیوار بے حد بلند ہے کتنی ہی کوشش کی جائے لیکن اس پر چڑھنا ناممکن ہے۔ اس سے ملا ہوا پہاڑیوں کا سلسلہ دونوں طرف برابر چلا گیا ہے اور بھی بہت سے عجائب وغرائب امور دیکھے جو انہوں نے واپس آ کر خلیفہ کی خدمت میں عرض کئے۔

صفحہ نمبر4989

یاجوج ماجوج ٭٭

اپنے شرقی سفر کو ختم کر کے پھر ذوالقرنین وہیں مشرق کی طرف ایک راہ چلے۔ دیکھا کہ دو پہاڑ ہیں جو ملے ہوئے ہیں لیکن ان کے درمیان ایک گھاٹی ہے، جہاں سے یاجوج ماجوج نکل کر ترکوں پر تباہی ڈالا کرتے ہیں، انہیں قتل کرتے ہیں، کھیت باغات تباہ کرتے ہیں، بال بچوں کو بھی ہلاک کرتے ہیں اور سخت فساد برپا کرتے رہتے ہیں۔ یاجوج ماجوج بھی انسان ہیں جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث سے ثابت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اللہ عزوجل آدم علیہ السلام سے فرمائے گا کہ اے آدم! آپ لبیک وسعدیک کے ساتھ جواب دیں گے، حکم ہو گا آگ کا حصہ الگ کر، پوچھیں گے کتنا حصہ؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ میں اور ایک جنت میں۔ یہی وہ وقت ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا۔ پھر حضور علیہ السلام نے فرمایا تم میں دو امتیں ہیں کہ وہ جن میں ہوں انہیں کثرت کو پہنچا دیتی ہیں یعنی یاجوج ماجوج۔ [صحیح بخاری:6530] ‏

صفحہ نمبر4986

امام نووی رحمہ اللہ نے شرح صحیح مسلم میں ایک عجیب بات لکھی ہے وہ لکھتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کے خاص پانی کے چند قطرے جو مٹی میں گرے تھے، انہی سے یاجوج ماجوج پیدا کئے گئے ہیں۔ گویا وہ حواء اور آدم علیہ السلام کی نسل سے نہیں بلکہ صرف نسل آدم علیہ السلام سے ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ قول بالکل ہی غریب ہے نہ اس پر عقلی دلیل ہے نہ نقلی اور ایسی باتیں جو اہل کتاب سے پہنچتی ہیں، وہ ماننے کے قابل نہیں ہوتیں۔ بلکہ ان کے ہاں کے ایسے قصے ملاوٹی اور بناوٹی ہوتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

مسند احمد میں حدیث ہے کہ نوح علیہ السلام کے تین لڑکے تھے سام، حام اور یافث۔ سام کی نسل سے کل عرب ہیں اور حام کی نسل سے کل حبشی ہیں اور یافث کی نسل سے کل ترک ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ یاجوج ماجوج ترکوں کے اس جد اعلیٰ یافث کی ہی اولاد ہیں، انہیں ترک اس لیے کہا گیا ہے کہ انہیں بوجہ ان کے فساد اور شرارت کے انسانوں کی دیگر آبادی کے پس پشت پہاڑوں کی آڑ میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

صفحہ نمبر4987

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ذوالقرنین کے سفر کے متعلق اور اس دیوار کے بنانے کے متعلق اور یاجوج ماجوج کے جسموں، ان کی شکلوں اور ان کے کانوں وغیرہ کے متعلق وہب بن منبہ سے ایک بہت لمبا چوڑا واقعہ اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے جو علاوہ عجیب و غریب ہونے کے صحت سے دور ہے۔ ابن ابی حاتم میں بھی ایسے بہت سے واقعات درج ہیں لیکن سب غریب اور غیر صحیح ہیں۔ ان پہاڑوں کے درے میں ذوالقرنین نے انسانوں کی ایک آبادی پائی جو بوجہ دنیا کے دیگر لوگوں سے دوری کے اور ان کی اپنی مخصوص زبان کے اوروں کی بات بھی تقریبا نہیں سمجھ سکتے تھے۔ ان لوگوں نے ذوالقرنین کی قوت وطاقت، عقل و ہنر کو دیکھ کر درخواست کی کہ اگر آپ رضا مند ہوں تو ہم آپ کے لیے بہت سا مال جمع کر دیں اور آپ ان پہاڑوں کے درمیان کی گھاٹی کو کسی مضبوط دیوار سے بند کر دیں تاکہ ہم ان فسادیوں کی روزمرہ کی ان تکالیف سے بچ جائیں۔ اس کے جواب میں ذوالقرنین نے فرمایا، مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں اللہ کا دیا سب کچھ میرے پاس موجود ہے اور وہ تمہارے مال سے بہت بہتر ہے۔ یہی جواب سلیمان علیہ السلام کی طرف سے ملکہ سبا کے قاصدوں کو دیا گیا تھا «أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّـهُ خَيْرٌ مِّمَّا آتَاكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ» [ 27-النمل: 36 ] ‏۔ ذوالقرنین نے اپنے اس جواب کے بعد فرمایا کہ ہاں تم اپنی قوت وطاقت اور کام کاج سے میرا ساتھ دو تو میں تم میں اور ان میں ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دیتا ہوں۔ زبر جمع ہے زبرۃ کی۔ ذوالقرنین فرماتے ہیں کہ لوہے کے ٹکڑے اینٹوں کی طرح کے میرے پاس لاؤ۔ جب یہ ٹکڑے جمع ہو گئے تو آپ نے دیوار بنانی شروع کرا دی اور وہ لمبائی چوڑائی میں اتنی ہو گئی کہ تمام جگہ گھر گئی اور پہاڑ کی چوٹی کے برابر پہنچ گئی۔ اس کے طول و عرض اور موٹائی کی ناپ میں بہت سے مختلف اقوال ہیں۔

صفحہ نمبر4988

جب یہ دیوار بالکل بن گئی تو حکم دیا کہ اب اس کے چاروں طرف آگ بھڑکاؤ۔ جب وہ لوہے کی دیوار بالکل انگارے جیسی سرخ ہو گئی تو حکم دیا کہ اب پگھلا ہوا تانبا لاؤ اور ہر طرف سے اس کے اوپر بہا دو چنانچہ یہ بھی کیا گیا۔ پس ٹھنڈی ہو کر یہ دیوار بہت ہی مضبوط اور پختہ ہو گئی اور دیکھنے میں ایسی معلوم ہونے لگی جیسے کوئی دھاری دار چادر ہو۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے وہ دیوار دیکھی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیسی ہے؟ اس نے کہا دھاری دار چادر جیسی، جس میں سرخ و سیاہ دھاریاں ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:23340:مرسل] ‏ لیکن یہ روایت مرسل ہے۔ خلیفہ واثق نے اپنے زمانے میں اپنے امیروں کو ایک وافر لشکر اور بہت سا سامان دے کر روانہ کیا تھا کہ وہ اس دیوار کی خبر لائیں۔ یہ لشکر دو سال سے زیادہ سفر میں رہا اور ملک در ملک پھرتا ہوا آخر اس دیوار تک پہنچا، دیکھا کہ لوہے اور تانبے کی دیوار ہے۔ اس میں ایک بہت بڑا نہایت پختہ عظیم الشان دروازہ بھی اسی کا ہے جس پر منوں کے وزنی قفل لگے ہوئے ہیں اور جو مال مسالہ دیوار کا بچا ہوا ہے، وہ وہیں پر ایک برج میں رکھا ہوا ہے جہاں پہرہ چوکی مقرر ہے۔ دیوار بے حد بلند ہے کتنی ہی کوشش کی جائے لیکن اس پر چڑھنا ناممکن ہے۔ اس سے ملا ہوا پہاڑیوں کا سلسلہ دونوں طرف برابر چلا گیا ہے اور بھی بہت سے عجائب وغرائب امور دیکھے جو انہوں نے واپس آ کر خلیفہ کی خدمت میں عرض کئے۔

صفحہ نمبر4989

یاجوج ماجوج ٭٭

اپنے شرقی سفر کو ختم کر کے پھر ذوالقرنین وہیں مشرق کی طرف ایک راہ چلے۔ دیکھا کہ دو پہاڑ ہیں جو ملے ہوئے ہیں لیکن ان کے درمیان ایک گھاٹی ہے، جہاں سے یاجوج ماجوج نکل کر ترکوں پر تباہی ڈالا کرتے ہیں، انہیں قتل کرتے ہیں، کھیت باغات تباہ کرتے ہیں، بال بچوں کو بھی ہلاک کرتے ہیں اور سخت فساد برپا کرتے رہتے ہیں۔ یاجوج ماجوج بھی انسان ہیں جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث سے ثابت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اللہ عزوجل آدم علیہ السلام سے فرمائے گا کہ اے آدم! آپ لبیک وسعدیک کے ساتھ جواب دیں گے، حکم ہو گا آگ کا حصہ الگ کر، پوچھیں گے کتنا حصہ؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ میں اور ایک جنت میں۔ یہی وہ وقت ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا۔ پھر حضور علیہ السلام نے فرمایا تم میں دو امتیں ہیں کہ وہ جن میں ہوں انہیں کثرت کو پہنچا دیتی ہیں یعنی یاجوج ماجوج۔ [صحیح بخاری:6530] ‏

صفحہ نمبر4986

امام نووی رحمہ اللہ نے شرح صحیح مسلم میں ایک عجیب بات لکھی ہے وہ لکھتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کے خاص پانی کے چند قطرے جو مٹی میں گرے تھے، انہی سے یاجوج ماجوج پیدا کئے گئے ہیں۔ گویا وہ حواء اور آدم علیہ السلام کی نسل سے نہیں بلکہ صرف نسل آدم علیہ السلام سے ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ قول بالکل ہی غریب ہے نہ اس پر عقلی دلیل ہے نہ نقلی اور ایسی باتیں جو اہل کتاب سے پہنچتی ہیں، وہ ماننے کے قابل نہیں ہوتیں۔ بلکہ ان کے ہاں کے ایسے قصے ملاوٹی اور بناوٹی ہوتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

مسند احمد میں حدیث ہے کہ نوح علیہ السلام کے تین لڑکے تھے سام، حام اور یافث۔ سام کی نسل سے کل عرب ہیں اور حام کی نسل سے کل حبشی ہیں اور یافث کی نسل سے کل ترک ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ یاجوج ماجوج ترکوں کے اس جد اعلیٰ یافث کی ہی اولاد ہیں، انہیں ترک اس لیے کہا گیا ہے کہ انہیں بوجہ ان کے فساد اور شرارت کے انسانوں کی دیگر آبادی کے پس پشت پہاڑوں کی آڑ میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

صفحہ نمبر4987

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ذوالقرنین کے سفر کے متعلق اور اس دیوار کے بنانے کے متعلق اور یاجوج ماجوج کے جسموں، ان کی شکلوں اور ان کے کانوں وغیرہ کے متعلق وہب بن منبہ سے ایک بہت لمبا چوڑا واقعہ اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے جو علاوہ عجیب و غریب ہونے کے صحت سے دور ہے۔ ابن ابی حاتم میں بھی ایسے بہت سے واقعات درج ہیں لیکن سب غریب اور غیر صحیح ہیں۔ ان پہاڑوں کے درے میں ذوالقرنین نے انسانوں کی ایک آبادی پائی جو بوجہ دنیا کے دیگر لوگوں سے دوری کے اور ان کی اپنی مخصوص زبان کے اوروں کی بات بھی تقریبا نہیں سمجھ سکتے تھے۔ ان لوگوں نے ذوالقرنین کی قوت وطاقت، عقل و ہنر کو دیکھ کر درخواست کی کہ اگر آپ رضا مند ہوں تو ہم آپ کے لیے بہت سا مال جمع کر دیں اور آپ ان پہاڑوں کے درمیان کی گھاٹی کو کسی مضبوط دیوار سے بند کر دیں تاکہ ہم ان فسادیوں کی روزمرہ کی ان تکالیف سے بچ جائیں۔ اس کے جواب میں ذوالقرنین نے فرمایا، مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں اللہ کا دیا سب کچھ میرے پاس موجود ہے اور وہ تمہارے مال سے بہت بہتر ہے۔ یہی جواب سلیمان علیہ السلام کی طرف سے ملکہ سبا کے قاصدوں کو دیا گیا تھا «أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّـهُ خَيْرٌ مِّمَّا آتَاكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ» [ 27-النمل: 36 ] ‏۔ ذوالقرنین نے اپنے اس جواب کے بعد فرمایا کہ ہاں تم اپنی قوت وطاقت اور کام کاج سے میرا ساتھ دو تو میں تم میں اور ان میں ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دیتا ہوں۔ زبر جمع ہے زبرۃ کی۔ ذوالقرنین فرماتے ہیں کہ لوہے کے ٹکڑے اینٹوں کی طرح کے میرے پاس لاؤ۔ جب یہ ٹکڑے جمع ہو گئے تو آپ نے دیوار بنانی شروع کرا دی اور وہ لمبائی چوڑائی میں اتنی ہو گئی کہ تمام جگہ گھر گئی اور پہاڑ کی چوٹی کے برابر پہنچ گئی۔ اس کے طول و عرض اور موٹائی کی ناپ میں بہت سے مختلف اقوال ہیں۔

صفحہ نمبر4988

جب یہ دیوار بالکل بن گئی تو حکم دیا کہ اب اس کے چاروں طرف آگ بھڑکاؤ۔ جب وہ لوہے کی دیوار بالکل انگارے جیسی سرخ ہو گئی تو حکم دیا کہ اب پگھلا ہوا تانبا لاؤ اور ہر طرف سے اس کے اوپر بہا دو چنانچہ یہ بھی کیا گیا۔ پس ٹھنڈی ہو کر یہ دیوار بہت ہی مضبوط اور پختہ ہو گئی اور دیکھنے میں ایسی معلوم ہونے لگی جیسے کوئی دھاری دار چادر ہو۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے وہ دیوار دیکھی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیسی ہے؟ اس نے کہا دھاری دار چادر جیسی، جس میں سرخ و سیاہ دھاریاں ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:23340:مرسل] ‏ لیکن یہ روایت مرسل ہے۔ خلیفہ واثق نے اپنے زمانے میں اپنے امیروں کو ایک وافر لشکر اور بہت سا سامان دے کر روانہ کیا تھا کہ وہ اس دیوار کی خبر لائیں۔ یہ لشکر دو سال سے زیادہ سفر میں رہا اور ملک در ملک پھرتا ہوا آخر اس دیوار تک پہنچا، دیکھا کہ لوہے اور تانبے کی دیوار ہے۔ اس میں ایک بہت بڑا نہایت پختہ عظیم الشان دروازہ بھی اسی کا ہے جس پر منوں کے وزنی قفل لگے ہوئے ہیں اور جو مال مسالہ دیوار کا بچا ہوا ہے، وہ وہیں پر ایک برج میں رکھا ہوا ہے جہاں پہرہ چوکی مقرر ہے۔ دیوار بے حد بلند ہے کتنی ہی کوشش کی جائے لیکن اس پر چڑھنا ناممکن ہے۔ اس سے ملا ہوا پہاڑیوں کا سلسلہ دونوں طرف برابر چلا گیا ہے اور بھی بہت سے عجائب وغرائب امور دیکھے جو انہوں نے واپس آ کر خلیفہ کی خدمت میں عرض کئے۔

صفحہ نمبر4989

یاجوج ماجوج ٭٭

اپنے شرقی سفر کو ختم کر کے پھر ذوالقرنین وہیں مشرق کی طرف ایک راہ چلے۔ دیکھا کہ دو پہاڑ ہیں جو ملے ہوئے ہیں لیکن ان کے درمیان ایک گھاٹی ہے، جہاں سے یاجوج ماجوج نکل کر ترکوں پر تباہی ڈالا کرتے ہیں، انہیں قتل کرتے ہیں، کھیت باغات تباہ کرتے ہیں، بال بچوں کو بھی ہلاک کرتے ہیں اور سخت فساد برپا کرتے رہتے ہیں۔ یاجوج ماجوج بھی انسان ہیں جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث سے ثابت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اللہ عزوجل آدم علیہ السلام سے فرمائے گا کہ اے آدم! آپ لبیک وسعدیک کے ساتھ جواب دیں گے، حکم ہو گا آگ کا حصہ الگ کر، پوچھیں گے کتنا حصہ؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ میں اور ایک جنت میں۔ یہی وہ وقت ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا۔ پھر حضور علیہ السلام نے فرمایا تم میں دو امتیں ہیں کہ وہ جن میں ہوں انہیں کثرت کو پہنچا دیتی ہیں یعنی یاجوج ماجوج۔ [صحیح بخاری:6530] ‏

صفحہ نمبر4986

امام نووی رحمہ اللہ نے شرح صحیح مسلم میں ایک عجیب بات لکھی ہے وہ لکھتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کے خاص پانی کے چند قطرے جو مٹی میں گرے تھے، انہی سے یاجوج ماجوج پیدا کئے گئے ہیں۔ گویا وہ حواء اور آدم علیہ السلام کی نسل سے نہیں بلکہ صرف نسل آدم علیہ السلام سے ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ قول بالکل ہی غریب ہے نہ اس پر عقلی دلیل ہے نہ نقلی اور ایسی باتیں جو اہل کتاب سے پہنچتی ہیں، وہ ماننے کے قابل نہیں ہوتیں۔ بلکہ ان کے ہاں کے ایسے قصے ملاوٹی اور بناوٹی ہوتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

مسند احمد میں حدیث ہے کہ نوح علیہ السلام کے تین لڑکے تھے سام، حام اور یافث۔ سام کی نسل سے کل عرب ہیں اور حام کی نسل سے کل حبشی ہیں اور یافث کی نسل سے کل ترک ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ یاجوج ماجوج ترکوں کے اس جد اعلیٰ یافث کی ہی اولاد ہیں، انہیں ترک اس لیے کہا گیا ہے کہ انہیں بوجہ ان کے فساد اور شرارت کے انسانوں کی دیگر آبادی کے پس پشت پہاڑوں کی آڑ میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

صفحہ نمبر4987

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ذوالقرنین کے سفر کے متعلق اور اس دیوار کے بنانے کے متعلق اور یاجوج ماجوج کے جسموں، ان کی شکلوں اور ان کے کانوں وغیرہ کے متعلق وہب بن منبہ سے ایک بہت لمبا چوڑا واقعہ اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے جو علاوہ عجیب و غریب ہونے کے صحت سے دور ہے۔ ابن ابی حاتم میں بھی ایسے بہت سے واقعات درج ہیں لیکن سب غریب اور غیر صحیح ہیں۔ ان پہاڑوں کے درے میں ذوالقرنین نے انسانوں کی ایک آبادی پائی جو بوجہ دنیا کے دیگر لوگوں سے دوری کے اور ان کی اپنی مخصوص زبان کے اوروں کی بات بھی تقریبا نہیں سمجھ سکتے تھے۔ ان لوگوں نے ذوالقرنین کی قوت وطاقت، عقل و ہنر کو دیکھ کر درخواست کی کہ اگر آپ رضا مند ہوں تو ہم آپ کے لیے بہت سا مال جمع کر دیں اور آپ ان پہاڑوں کے درمیان کی گھاٹی کو کسی مضبوط دیوار سے بند کر دیں تاکہ ہم ان فسادیوں کی روزمرہ کی ان تکالیف سے بچ جائیں۔ اس کے جواب میں ذوالقرنین نے فرمایا، مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں اللہ کا دیا سب کچھ میرے پاس موجود ہے اور وہ تمہارے مال سے بہت بہتر ہے۔ یہی جواب سلیمان علیہ السلام کی طرف سے ملکہ سبا کے قاصدوں کو دیا گیا تھا «أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّـهُ خَيْرٌ مِّمَّا آتَاكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ» [ 27-النمل: 36 ] ‏۔ ذوالقرنین نے اپنے اس جواب کے بعد فرمایا کہ ہاں تم اپنی قوت وطاقت اور کام کاج سے میرا ساتھ دو تو میں تم میں اور ان میں ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دیتا ہوں۔ زبر جمع ہے زبرۃ کی۔ ذوالقرنین فرماتے ہیں کہ لوہے کے ٹکڑے اینٹوں کی طرح کے میرے پاس لاؤ۔ جب یہ ٹکڑے جمع ہو گئے تو آپ نے دیوار بنانی شروع کرا دی اور وہ لمبائی چوڑائی میں اتنی ہو گئی کہ تمام جگہ گھر گئی اور پہاڑ کی چوٹی کے برابر پہنچ گئی۔ اس کے طول و عرض اور موٹائی کی ناپ میں بہت سے مختلف اقوال ہیں۔

صفحہ نمبر4988

جب یہ دیوار بالکل بن گئی تو حکم دیا کہ اب اس کے چاروں طرف آگ بھڑکاؤ۔ جب وہ لوہے کی دیوار بالکل انگارے جیسی سرخ ہو گئی تو حکم دیا کہ اب پگھلا ہوا تانبا لاؤ اور ہر طرف سے اس کے اوپر بہا دو چنانچہ یہ بھی کیا گیا۔ پس ٹھنڈی ہو کر یہ دیوار بہت ہی مضبوط اور پختہ ہو گئی اور دیکھنے میں ایسی معلوم ہونے لگی جیسے کوئی دھاری دار چادر ہو۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے وہ دیوار دیکھی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیسی ہے؟ اس نے کہا دھاری دار چادر جیسی، جس میں سرخ و سیاہ دھاریاں ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:23340:مرسل] ‏ لیکن یہ روایت مرسل ہے۔ خلیفہ واثق نے اپنے زمانے میں اپنے امیروں کو ایک وافر لشکر اور بہت سا سامان دے کر روانہ کیا تھا کہ وہ اس دیوار کی خبر لائیں۔ یہ لشکر دو سال سے زیادہ سفر میں رہا اور ملک در ملک پھرتا ہوا آخر اس دیوار تک پہنچا، دیکھا کہ لوہے اور تانبے کی دیوار ہے۔ اس میں ایک بہت بڑا نہایت پختہ عظیم الشان دروازہ بھی اسی کا ہے جس پر منوں کے وزنی قفل لگے ہوئے ہیں اور جو مال مسالہ دیوار کا بچا ہوا ہے، وہ وہیں پر ایک برج میں رکھا ہوا ہے جہاں پہرہ چوکی مقرر ہے۔ دیوار بے حد بلند ہے کتنی ہی کوشش کی جائے لیکن اس پر چڑھنا ناممکن ہے۔ اس سے ملا ہوا پہاڑیوں کا سلسلہ دونوں طرف برابر چلا گیا ہے اور بھی بہت سے عجائب وغرائب امور دیکھے جو انہوں نے واپس آ کر خلیفہ کی خدمت میں عرض کئے۔

صفحہ نمبر4989

دیوار بنا دی گئی ٭٭

اس دیوار پر نہ تو چڑھنے کی طاقت یاجوج ماجوج کو ہے، نہ وہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے ہیں کہ وہاں سے نکل آئیں۔ چونکہ چڑھنا بہ نسبت توڑنے کے زیادہ آسان ہے، اسی لیے چڑھنے میں «مَااسْطَاعُوْا» کا لفظ لائے اور توڑنے میں «مَااسْـتَـطَاعُوْا» کا لفظ لائے۔ غرض نہ تو وہ چڑھ کر آ سکتے ہیں نہ سوراخ کر کے۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہر روز یاجوج ماجوج اس دیوار کو کھودتے ہیں یہاں تک کہ قریب ہوتا ہے کہ سورج کی شعاعیں ان کو نظر آ جائیں، چونکہ دن گزر جاتا ہے اس لیے ان کے سردار کا حکم ہوتا ہے کہ اب بس کرو کل آ کر توڑ دیں گے لیکن جب وہ دوسرے دن آتے ہیں تو اسے پہلے دن سے زیادہ مضبوط پاتے ہیں۔ قیامت کے قریب جب ان کا نکلنا اللہ کو منظور ہو گا تو یہ کھودتے ہوئے جب دیوار کو چھلکے جیسی کر دیں گے تو ان کا سردار کہے گا، اب چھوڑ دو کل ان شاءاللہ اسے توڑ ڈالیں گے، پس ان شاءاللہ کہہ لینے کی برکت سے دوسرے دن جب وہ آئیں گے تو جیسی چھوڑ گئے تھے ویسی ہی پائیں گے۔ فوراً گرا دیں گے اور باہر نکل پڑیں گے۔ تمام پانی چاٹ جائیں گے، لوگ تنگ آ کر قلعوں میں پناہ گزیں ہو جائیں گے۔ یہ اپنے تیر آسمان کی طرف چلائیں گے اور مثل خون آلود تیروں کے ان کی طرف لوٹائے جائیں گے تو یہ کہیں گے، زمین والے سب دب گئے آسمان والوں پر بھی ہم غالب آ گئے۔ اب ان کی گردنوں میں گلٹیاں نکلیں گی اور سب کے سب بحکم الٰہی اسی وبا سے ہلاک کر دئے جائیں گے۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ زمین کے جانوروں کی خوراک ان کے جسم و خون ہوں گے جس سے وہ خوب موٹے تازے ہو جائیں گے۔ [مسند احمد:510/2:صحیح] ‏

ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ بھی اسے لائے ہیں اور فرمایا ہے یہ روایت غریب ہے سوائے اس سند کے مشہور نہیں۔ اس کی سند بہت قوی ہے لیکن اس کا متن نکارت سے خالی نہیں۔ اس لیے کہ آیت کے ظاہری الفاظ صاف ہیں کہ نہ وہ چڑھ سکتے ہیں نہ سوراخ کر سکتے ہیں کیونکہ دیوار نہایت مضبوط، بہت پختہ اور سخت ہے۔

صفحہ نمبر4994

کعب احبار رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یاجوج ماجوج روزانہ اسے چاٹتے ہیں اور بالکل چھلکے جیسی کر دیتے ہیں، پھر کہتے ہیں چلو کل توڑ دیں گے۔ دوسرے دن جو آتے ہیں تو جیسی اصل میں تھی ویسی ہی پاتے ہیں۔ آخری دن وہ بہ الہام الٰہی جاتے وقت ان شاءاللہ کہیں گے، دوسرے دن جو آئیں گے تو جیسی چھوڑ گئے تھے، ویسی ہی پائیں گے اور توڑ ڈالیں گے۔ بہت ممکن ہے کہ انہی کعب سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی ہو پھر بیان کی ہو اور کسی راوی کو وہم ہو گیا ہو اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سمجھ کر اسے مرفوعاً بیان کر دیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» یہ جو ہم کہہ رہے ہیں اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ جو مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور فرماتے جاتے تھے۔ «لا الہ الا اللہ» عرب کی خرابی کا وقت قریب آ گیا، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا پھر آپ نے اپنی انگلیوں سے حلقہ بنا کر دکھایا۔ اس پر ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم بھلے لوگوں کی موجودگی میں بھی ہلاک کر دئیے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جب خبیث لوگوں کی کثرت ہو جائے۔ [صحیح بخاری:3346] ‏ یہ حدیث بالکل صحیح ہے بخاری مسلم دونوں میں ہے۔ ہاں بخاری شریف میں راویوں کے ذکر میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں۔ مسلم میں ہے اور بھی اس کی سند میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جو بہت ہی کم پائی گئی ہیں۔

صفحہ نمبر4995

مثلا زہری کی روایت عروہ سے حالانکہ یہ دونوں بزرگ تابعی ہیں اور چار عورتوں کا آپس میں ایک دوسرے سے روایت کرنا پھر چاروں عورتیں صحابیہ رضی اللہ عنہن۔ پھر ان میں بھی دو حضور علیہ السلام کی بیویوں کی لڑکیاں اور دو آپ کی بیویاں رضی اللہ عنہن۔ بزار میں یہی روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ [ مترجم کہتا ہے اس تکلف کی اور ان مرفوع احادیث کے متعلق اس قول کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ہم آیت قرآنی اور ان صحیح مرفوع احادیث کے درمیان بہت آسانی سے یہ تطبیق دے سکتے ہیں کہ کوئی ایسا سوراخ نہیں کر سکتے جس میں سے نکل آئیں۔ پتلی کر دینا یا حلقے کے برابر سوراخ کر دینا اور بات ہے، جو مقصود ذوالقرنین کا اس دیوار کے بنانے سے تھا، وہ بفضلہ حاصل ہے کہ نہ وہ اوپر سے اتر سکیں نہ توڑ کر یا سوراخ کر کے نکل سکیں اور اسی کی خبر آیت میں ہے اور اس کے خلاف کوئی حدیث نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم ] ‏

اس دیوار کو بنا کر ذوالقرنین اطمینان کا سانس لیتے ہیں اور اللہ کا شکر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ لوگو یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے ان شریروں کی شرارت سے مخلوق کو اب امن دے دیا، ہاں جب اللہ کا وعدہ آ جائے گا تو اس کا ڈھیر ہو جائے گا۔ یہ زمین دوز ہو جائے گی۔ مضبوطی کچھ کام نہ آئے گی۔ اونٹنی کا کوہان جب اس کی پیٹھ سے ملا ہوا ہو تو عرب میں اسے «ناقتہ دکاء» کہتے ہیں۔ قرآن میں اور جگہ ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام کے سامنے پہاڑ پر رب نے تجلی کی تو وہ پہاڑ زمین دوز ہو گیا وہاں بھی لفظ «جعلہ دکاء» ہے۔ پس قریب بہ قیامت یہ دیوار پاش پاش ہو جائے گی اور ان کے نکلنے کا راستہ بن جائے گا۔ اللہ کے وعدے اٹل ہیں، قیامت کا آنا یقینی ہے۔ اس دیوار کے ٹوٹتے ہی یہ لوگ نکل پڑیں گے اور لوگوں میں گھس جائیں گے، اپنوں بیگانوں کی تمیز اٹھ جائے گی۔ یہ واقعہ دجال کے آجانے کے بعد قیامت کے قیام سے پہلے ہو گا۔ اس کا پورا بیان آیت «اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ» [ 21- الأنبياء: 96 ] ‏ کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ۔

صفحہ نمبر4996

جب صور پھونکا جاے گا ٭٭

اس کے بعد صور پھونکا جائے گا اور سب جمع ہو جائیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن انسان جن سب خلط ملط ہو جائیں گے۔ بنی خزارہ کے ایک شیخ کا بیان ابن جریر میں ہے کہ جب جن انسان آپس میں گتھم گتھا ہو جائیں گے، اس وقت ابلیس کہے گا کہ میں جاتا ہوں، معلوم کرتا ہوں کہ یہ کیا بات ہے؟ مشرق کی طرف بھاگے گا لیکن وہاں فرشتوں کی جماعتوں کو دیکھ کر رک جائے گا اور لوٹ کر مغرب کو پہنچے گا، وہاں بھی یہی رنگ دیکھ کر دائیں بائیں بھاگے گا لیکن چاروں طرف سے فرشتوں کا محاصرہ دیکھ کر ناامید ہو کر چیخ پکار شروع کر دے گا۔ اچانک اسے ایک چھوٹا سا راستہ دکھائی دے گا، اپنی ساری ذریات کو لے کر اس میں چل پڑے گا آگے جا کر دیکھے گا کہ دوزخ بھڑک رہی ہے۔ ایک دروغہ جہنم اس سے کہے گا کہ اے موذی خبیث! کیا اللہ نے تیرا مرتبہ نہیں بڑھایا تھا؟ کیا تو جنتیوں میں نہ تھا؟ یہ کہے گا آج ڈانٹ ڈپٹ کیوں کرتے ہو؟ آج تو چھٹکارے کا راستہ بتاؤ، میں عبادت الٰہی کے لیے تیار ہوں، اگر حکم ہو تو اتنی اور ایسی عبادت کروں کہ روئے زمین پر کسی نے نہ کی ہو۔ داروغہ فرمائے گا اللہ تعالیٰ تیرے لیے ایک فریِضہ مقرر کرتا ہے، وہ خوش ہو کر کہے گا میں اس کے حکم کی بجا آوری کے لیے پوری مستعدی سے موجود ہوں۔ حکم ہو گا کہ یہی کہ تم سب جہنم میں چلے جاؤ۔ اب یہ خبیث ہکا بکا رہ جائے گا۔ وہیں فرشتہ اپنے پر سے اسے اور اس کی تمام ذریت کو گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دے گا۔ جہنم انہیں لے کر آ دبوچے گی اور ایک مرتبہ تو وہ جلائے گی کہ تمام مقرب فرشتے اور تمام نبی رسول گھٹنوں کے بل اللہ کے سامنے عاجزی میں گر پڑیں گے۔

طبرانی میں ہے کہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، یاجوج ماجوج آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں، اگر وہ چھوڑ دئے جائیں تو دنیا کی معاش میں فساد ڈال دیں، ایک ایک اپنے پیچھے ہزار ہزار بلکہ زیادہ چھوڑ کر مرتا ہے، پھر ان کے سوا تین امتیں اور ہیں تاویل، مارس اور منسک۔ [طبرانی اوسط:8598:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے بلکہ منکر اور ضعیف ہے۔

صفحہ نمبر4997

نسائی میں ہے کہ ان کی بیویاں بچے ہیں، ایک ایک اپنے پیچھے ہزار ہزار بلکہ زیادہ چھوڑ کر مرتا ہے۔ پھر فرمایا صور پھونک دیا جائے گا جیسے حدیث میں ہے کہ وہ ایک قرن ہے جس میں صور پھونک دیا جائے گا، [سنن ابوداود:4732،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پھونکنے والے اسرافیل علیہ السلام ہوں گے۔ جیسے کہ لمبی حدیث بیان ہو چکی ہے۔ اور بھی بہت سی احادیث سے اس کا ثبوت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں کیسے چین اور آرام سے بیٹھوں؟ صور والا فرشتہ صور کو منہ سے لگائے ہوئے پیشانی جھکائے ہوئے کان لگائے ہوئے منتظر بیٹھا ہے کہ کب حکم ہو اور میں پھونک دوں۔ لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر ہم کیا کہیں؟ فرمایا «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الوَكِيلُ، عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا» ۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پھر فرماتا ہے، ہم سب کو حساب کے لیے جمع کریں گے۔ سب کا حشر ہمارے سامنے ہو گا جیسے سورۃ الواقعہ میں ہے کہ «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [ 56-الواقعہ: 49، 50 ] ‏ اگلے پچھلے سب کے سب مقررہ دن کے وقت اکٹھے کئے جائیں گے اور آیت میں ہے «وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [ 18- الكهف: 47 ] ‏ ہم سب کو جمع کریں گے۔ ایک بھی تو باقی نہ بچے گا۔

صفحہ نمبر4998

دیوار بنا دی گئی ٭٭

اس دیوار پر نہ تو چڑھنے کی طاقت یاجوج ماجوج کو ہے، نہ وہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے ہیں کہ وہاں سے نکل آئیں۔ چونکہ چڑھنا بہ نسبت توڑنے کے زیادہ آسان ہے، اسی لیے چڑھنے میں «مَااسْطَاعُوْا» کا لفظ لائے اور توڑنے میں «مَااسْـتَـطَاعُوْا» کا لفظ لائے۔ غرض نہ تو وہ چڑھ کر آ سکتے ہیں نہ سوراخ کر کے۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہر روز یاجوج ماجوج اس دیوار کو کھودتے ہیں یہاں تک کہ قریب ہوتا ہے کہ سورج کی شعاعیں ان کو نظر آ جائیں، چونکہ دن گزر جاتا ہے اس لیے ان کے سردار کا حکم ہوتا ہے کہ اب بس کرو کل آ کر توڑ دیں گے لیکن جب وہ دوسرے دن آتے ہیں تو اسے پہلے دن سے زیادہ مضبوط پاتے ہیں۔ قیامت کے قریب جب ان کا نکلنا اللہ کو منظور ہو گا تو یہ کھودتے ہوئے جب دیوار کو چھلکے جیسی کر دیں گے تو ان کا سردار کہے گا، اب چھوڑ دو کل ان شاءاللہ اسے توڑ ڈالیں گے، پس ان شاءاللہ کہہ لینے کی برکت سے دوسرے دن جب وہ آئیں گے تو جیسی چھوڑ گئے تھے ویسی ہی پائیں گے۔ فوراً گرا دیں گے اور باہر نکل پڑیں گے۔ تمام پانی چاٹ جائیں گے، لوگ تنگ آ کر قلعوں میں پناہ گزیں ہو جائیں گے۔ یہ اپنے تیر آسمان کی طرف چلائیں گے اور مثل خون آلود تیروں کے ان کی طرف لوٹائے جائیں گے تو یہ کہیں گے، زمین والے سب دب گئے آسمان والوں پر بھی ہم غالب آ گئے۔ اب ان کی گردنوں میں گلٹیاں نکلیں گی اور سب کے سب بحکم الٰہی اسی وبا سے ہلاک کر دئے جائیں گے۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ زمین کے جانوروں کی خوراک ان کے جسم و خون ہوں گے جس سے وہ خوب موٹے تازے ہو جائیں گے۔ [مسند احمد:510/2:صحیح] ‏

ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ بھی اسے لائے ہیں اور فرمایا ہے یہ روایت غریب ہے سوائے اس سند کے مشہور نہیں۔ اس کی سند بہت قوی ہے لیکن اس کا متن نکارت سے خالی نہیں۔ اس لیے کہ آیت کے ظاہری الفاظ صاف ہیں کہ نہ وہ چڑھ سکتے ہیں نہ سوراخ کر سکتے ہیں کیونکہ دیوار نہایت مضبوط، بہت پختہ اور سخت ہے۔

صفحہ نمبر4994

کعب احبار رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یاجوج ماجوج روزانہ اسے چاٹتے ہیں اور بالکل چھلکے جیسی کر دیتے ہیں، پھر کہتے ہیں چلو کل توڑ دیں گے۔ دوسرے دن جو آتے ہیں تو جیسی اصل میں تھی ویسی ہی پاتے ہیں۔ آخری دن وہ بہ الہام الٰہی جاتے وقت ان شاءاللہ کہیں گے، دوسرے دن جو آئیں گے تو جیسی چھوڑ گئے تھے، ویسی ہی پائیں گے اور توڑ ڈالیں گے۔ بہت ممکن ہے کہ انہی کعب سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی ہو پھر بیان کی ہو اور کسی راوی کو وہم ہو گیا ہو اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سمجھ کر اسے مرفوعاً بیان کر دیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» یہ جو ہم کہہ رہے ہیں اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ جو مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور فرماتے جاتے تھے۔ «لا الہ الا اللہ» عرب کی خرابی کا وقت قریب آ گیا، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا پھر آپ نے اپنی انگلیوں سے حلقہ بنا کر دکھایا۔ اس پر ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم بھلے لوگوں کی موجودگی میں بھی ہلاک کر دئیے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جب خبیث لوگوں کی کثرت ہو جائے۔ [صحیح بخاری:3346] ‏ یہ حدیث بالکل صحیح ہے بخاری مسلم دونوں میں ہے۔ ہاں بخاری شریف میں راویوں کے ذکر میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں۔ مسلم میں ہے اور بھی اس کی سند میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جو بہت ہی کم پائی گئی ہیں۔

صفحہ نمبر4995

مثلا زہری کی روایت عروہ سے حالانکہ یہ دونوں بزرگ تابعی ہیں اور چار عورتوں کا آپس میں ایک دوسرے سے روایت کرنا پھر چاروں عورتیں صحابیہ رضی اللہ عنہن۔ پھر ان میں بھی دو حضور علیہ السلام کی بیویوں کی لڑکیاں اور دو آپ کی بیویاں رضی اللہ عنہن۔ بزار میں یہی روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ [ مترجم کہتا ہے اس تکلف کی اور ان مرفوع احادیث کے متعلق اس قول کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ہم آیت قرآنی اور ان صحیح مرفوع احادیث کے درمیان بہت آسانی سے یہ تطبیق دے سکتے ہیں کہ کوئی ایسا سوراخ نہیں کر سکتے جس میں سے نکل آئیں۔ پتلی کر دینا یا حلقے کے برابر سوراخ کر دینا اور بات ہے، جو مقصود ذوالقرنین کا اس دیوار کے بنانے سے تھا، وہ بفضلہ حاصل ہے کہ نہ وہ اوپر سے اتر سکیں نہ توڑ کر یا سوراخ کر کے نکل سکیں اور اسی کی خبر آیت میں ہے اور اس کے خلاف کوئی حدیث نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم ] ‏

اس دیوار کو بنا کر ذوالقرنین اطمینان کا سانس لیتے ہیں اور اللہ کا شکر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ لوگو یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے ان شریروں کی شرارت سے مخلوق کو اب امن دے دیا، ہاں جب اللہ کا وعدہ آ جائے گا تو اس کا ڈھیر ہو جائے گا۔ یہ زمین دوز ہو جائے گی۔ مضبوطی کچھ کام نہ آئے گی۔ اونٹنی کا کوہان جب اس کی پیٹھ سے ملا ہوا ہو تو عرب میں اسے «ناقتہ دکاء» کہتے ہیں۔ قرآن میں اور جگہ ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام کے سامنے پہاڑ پر رب نے تجلی کی تو وہ پہاڑ زمین دوز ہو گیا وہاں بھی لفظ «جعلہ دکاء» ہے۔ پس قریب بہ قیامت یہ دیوار پاش پاش ہو جائے گی اور ان کے نکلنے کا راستہ بن جائے گا۔ اللہ کے وعدے اٹل ہیں، قیامت کا آنا یقینی ہے۔ اس دیوار کے ٹوٹتے ہی یہ لوگ نکل پڑیں گے اور لوگوں میں گھس جائیں گے، اپنوں بیگانوں کی تمیز اٹھ جائے گی۔ یہ واقعہ دجال کے آجانے کے بعد قیامت کے قیام سے پہلے ہو گا۔ اس کا پورا بیان آیت «اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ» [ 21- الأنبياء: 96 ] ‏ کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ۔

صفحہ نمبر4996

جب صور پھونکا جاے گا ٭٭

اس کے بعد صور پھونکا جائے گا اور سب جمع ہو جائیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن انسان جن سب خلط ملط ہو جائیں گے۔ بنی خزارہ کے ایک شیخ کا بیان ابن جریر میں ہے کہ جب جن انسان آپس میں گتھم گتھا ہو جائیں گے، اس وقت ابلیس کہے گا کہ میں جاتا ہوں، معلوم کرتا ہوں کہ یہ کیا بات ہے؟ مشرق کی طرف بھاگے گا لیکن وہاں فرشتوں کی جماعتوں کو دیکھ کر رک جائے گا اور لوٹ کر مغرب کو پہنچے گا، وہاں بھی یہی رنگ دیکھ کر دائیں بائیں بھاگے گا لیکن چاروں طرف سے فرشتوں کا محاصرہ دیکھ کر ناامید ہو کر چیخ پکار شروع کر دے گا۔ اچانک اسے ایک چھوٹا سا راستہ دکھائی دے گا، اپنی ساری ذریات کو لے کر اس میں چل پڑے گا آگے جا کر دیکھے گا کہ دوزخ بھڑک رہی ہے۔ ایک دروغہ جہنم اس سے کہے گا کہ اے موذی خبیث! کیا اللہ نے تیرا مرتبہ نہیں بڑھایا تھا؟ کیا تو جنتیوں میں نہ تھا؟ یہ کہے گا آج ڈانٹ ڈپٹ کیوں کرتے ہو؟ آج تو چھٹکارے کا راستہ بتاؤ، میں عبادت الٰہی کے لیے تیار ہوں، اگر حکم ہو تو اتنی اور ایسی عبادت کروں کہ روئے زمین پر کسی نے نہ کی ہو۔ داروغہ فرمائے گا اللہ تعالیٰ تیرے لیے ایک فریِضہ مقرر کرتا ہے، وہ خوش ہو کر کہے گا میں اس کے حکم کی بجا آوری کے لیے پوری مستعدی سے موجود ہوں۔ حکم ہو گا کہ یہی کہ تم سب جہنم میں چلے جاؤ۔ اب یہ خبیث ہکا بکا رہ جائے گا۔ وہیں فرشتہ اپنے پر سے اسے اور اس کی تمام ذریت کو گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دے گا۔ جہنم انہیں لے کر آ دبوچے گی اور ایک مرتبہ تو وہ جلائے گی کہ تمام مقرب فرشتے اور تمام نبی رسول گھٹنوں کے بل اللہ کے سامنے عاجزی میں گر پڑیں گے۔

طبرانی میں ہے کہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، یاجوج ماجوج آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں، اگر وہ چھوڑ دئے جائیں تو دنیا کی معاش میں فساد ڈال دیں، ایک ایک اپنے پیچھے ہزار ہزار بلکہ زیادہ چھوڑ کر مرتا ہے، پھر ان کے سوا تین امتیں اور ہیں تاویل، مارس اور منسک۔ [طبرانی اوسط:8598:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے بلکہ منکر اور ضعیف ہے۔

صفحہ نمبر4997

نسائی میں ہے کہ ان کی بیویاں بچے ہیں، ایک ایک اپنے پیچھے ہزار ہزار بلکہ زیادہ چھوڑ کر مرتا ہے۔ پھر فرمایا صور پھونک دیا جائے گا جیسے حدیث میں ہے کہ وہ ایک قرن ہے جس میں صور پھونک دیا جائے گا، [سنن ابوداود:4732،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پھونکنے والے اسرافیل علیہ السلام ہوں گے۔ جیسے کہ لمبی حدیث بیان ہو چکی ہے۔ اور بھی بہت سی احادیث سے اس کا ثبوت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں کیسے چین اور آرام سے بیٹھوں؟ صور والا فرشتہ صور کو منہ سے لگائے ہوئے پیشانی جھکائے ہوئے کان لگائے ہوئے منتظر بیٹھا ہے کہ کب حکم ہو اور میں پھونک دوں۔ لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر ہم کیا کہیں؟ فرمایا «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الوَكِيلُ، عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا» ۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پھر فرماتا ہے، ہم سب کو حساب کے لیے جمع کریں گے۔ سب کا حشر ہمارے سامنے ہو گا جیسے سورۃ الواقعہ میں ہے کہ «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [ 56-الواقعہ: 49، 50 ] ‏ اگلے پچھلے سب کے سب مقررہ دن کے وقت اکٹھے کئے جائیں گے اور آیت میں ہے «وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [ 18- الكهف: 47 ] ‏ ہم سب کو جمع کریں گے۔ ایک بھی تو باقی نہ بچے گا۔

صفحہ نمبر4998

دیوار بنا دی گئی ٭٭

اس دیوار پر نہ تو چڑھنے کی طاقت یاجوج ماجوج کو ہے، نہ وہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے ہیں کہ وہاں سے نکل آئیں۔ چونکہ چڑھنا بہ نسبت توڑنے کے زیادہ آسان ہے، اسی لیے چڑھنے میں «مَااسْطَاعُوْا» کا لفظ لائے اور توڑنے میں «مَااسْـتَـطَاعُوْا» کا لفظ لائے۔ غرض نہ تو وہ چڑھ کر آ سکتے ہیں نہ سوراخ کر کے۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہر روز یاجوج ماجوج اس دیوار کو کھودتے ہیں یہاں تک کہ قریب ہوتا ہے کہ سورج کی شعاعیں ان کو نظر آ جائیں، چونکہ دن گزر جاتا ہے اس لیے ان کے سردار کا حکم ہوتا ہے کہ اب بس کرو کل آ کر توڑ دیں گے لیکن جب وہ دوسرے دن آتے ہیں تو اسے پہلے دن سے زیادہ مضبوط پاتے ہیں۔ قیامت کے قریب جب ان کا نکلنا اللہ کو منظور ہو گا تو یہ کھودتے ہوئے جب دیوار کو چھلکے جیسی کر دیں گے تو ان کا سردار کہے گا، اب چھوڑ دو کل ان شاءاللہ اسے توڑ ڈالیں گے، پس ان شاءاللہ کہہ لینے کی برکت سے دوسرے دن جب وہ آئیں گے تو جیسی چھوڑ گئے تھے ویسی ہی پائیں گے۔ فوراً گرا دیں گے اور باہر نکل پڑیں گے۔ تمام پانی چاٹ جائیں گے، لوگ تنگ آ کر قلعوں میں پناہ گزیں ہو جائیں گے۔ یہ اپنے تیر آسمان کی طرف چلائیں گے اور مثل خون آلود تیروں کے ان کی طرف لوٹائے جائیں گے تو یہ کہیں گے، زمین والے سب دب گئے آسمان والوں پر بھی ہم غالب آ گئے۔ اب ان کی گردنوں میں گلٹیاں نکلیں گی اور سب کے سب بحکم الٰہی اسی وبا سے ہلاک کر دئے جائیں گے۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ زمین کے جانوروں کی خوراک ان کے جسم و خون ہوں گے جس سے وہ خوب موٹے تازے ہو جائیں گے۔ [مسند احمد:510/2:صحیح] ‏

ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ بھی اسے لائے ہیں اور فرمایا ہے یہ روایت غریب ہے سوائے اس سند کے مشہور نہیں۔ اس کی سند بہت قوی ہے لیکن اس کا متن نکارت سے خالی نہیں۔ اس لیے کہ آیت کے ظاہری الفاظ صاف ہیں کہ نہ وہ چڑھ سکتے ہیں نہ سوراخ کر سکتے ہیں کیونکہ دیوار نہایت مضبوط، بہت پختہ اور سخت ہے۔

صفحہ نمبر4994

کعب احبار رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یاجوج ماجوج روزانہ اسے چاٹتے ہیں اور بالکل چھلکے جیسی کر دیتے ہیں، پھر کہتے ہیں چلو کل توڑ دیں گے۔ دوسرے دن جو آتے ہیں تو جیسی اصل میں تھی ویسی ہی پاتے ہیں۔ آخری دن وہ بہ الہام الٰہی جاتے وقت ان شاءاللہ کہیں گے، دوسرے دن جو آئیں گے تو جیسی چھوڑ گئے تھے، ویسی ہی پائیں گے اور توڑ ڈالیں گے۔ بہت ممکن ہے کہ انہی کعب سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی ہو پھر بیان کی ہو اور کسی راوی کو وہم ہو گیا ہو اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سمجھ کر اسے مرفوعاً بیان کر دیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» یہ جو ہم کہہ رہے ہیں اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ جو مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور فرماتے جاتے تھے۔ «لا الہ الا اللہ» عرب کی خرابی کا وقت قریب آ گیا، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا پھر آپ نے اپنی انگلیوں سے حلقہ بنا کر دکھایا۔ اس پر ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم بھلے لوگوں کی موجودگی میں بھی ہلاک کر دئیے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جب خبیث لوگوں کی کثرت ہو جائے۔ [صحیح بخاری:3346] ‏ یہ حدیث بالکل صحیح ہے بخاری مسلم دونوں میں ہے۔ ہاں بخاری شریف میں راویوں کے ذکر میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں۔ مسلم میں ہے اور بھی اس کی سند میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جو بہت ہی کم پائی گئی ہیں۔

صفحہ نمبر4995

مثلا زہری کی روایت عروہ سے حالانکہ یہ دونوں بزرگ تابعی ہیں اور چار عورتوں کا آپس میں ایک دوسرے سے روایت کرنا پھر چاروں عورتیں صحابیہ رضی اللہ عنہن۔ پھر ان میں بھی دو حضور علیہ السلام کی بیویوں کی لڑکیاں اور دو آپ کی بیویاں رضی اللہ عنہن۔ بزار میں یہی روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ [ مترجم کہتا ہے اس تکلف کی اور ان مرفوع احادیث کے متعلق اس قول کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ہم آیت قرآنی اور ان صحیح مرفوع احادیث کے درمیان بہت آسانی سے یہ تطبیق دے سکتے ہیں کہ کوئی ایسا سوراخ نہیں کر سکتے جس میں سے نکل آئیں۔ پتلی کر دینا یا حلقے کے برابر سوراخ کر دینا اور بات ہے، جو مقصود ذوالقرنین کا اس دیوار کے بنانے سے تھا، وہ بفضلہ حاصل ہے کہ نہ وہ اوپر سے اتر سکیں نہ توڑ کر یا سوراخ کر کے نکل سکیں اور اسی کی خبر آیت میں ہے اور اس کے خلاف کوئی حدیث نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم ] ‏

اس دیوار کو بنا کر ذوالقرنین اطمینان کا سانس لیتے ہیں اور اللہ کا شکر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ لوگو یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے ان شریروں کی شرارت سے مخلوق کو اب امن دے دیا، ہاں جب اللہ کا وعدہ آ جائے گا تو اس کا ڈھیر ہو جائے گا۔ یہ زمین دوز ہو جائے گی۔ مضبوطی کچھ کام نہ آئے گی۔ اونٹنی کا کوہان جب اس کی پیٹھ سے ملا ہوا ہو تو عرب میں اسے «ناقتہ دکاء» کہتے ہیں۔ قرآن میں اور جگہ ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام کے سامنے پہاڑ پر رب نے تجلی کی تو وہ پہاڑ زمین دوز ہو گیا وہاں بھی لفظ «جعلہ دکاء» ہے۔ پس قریب بہ قیامت یہ دیوار پاش پاش ہو جائے گی اور ان کے نکلنے کا راستہ بن جائے گا۔ اللہ کے وعدے اٹل ہیں، قیامت کا آنا یقینی ہے۔ اس دیوار کے ٹوٹتے ہی یہ لوگ نکل پڑیں گے اور لوگوں میں گھس جائیں گے، اپنوں بیگانوں کی تمیز اٹھ جائے گی۔ یہ واقعہ دجال کے آجانے کے بعد قیامت کے قیام سے پہلے ہو گا۔ اس کا پورا بیان آیت «اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ» [ 21- الأنبياء: 96 ] ‏ کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ۔

صفحہ نمبر4996

جب صور پھونکا جاے گا ٭٭

اس کے بعد صور پھونکا جائے گا اور سب جمع ہو جائیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن انسان جن سب خلط ملط ہو جائیں گے۔ بنی خزارہ کے ایک شیخ کا بیان ابن جریر میں ہے کہ جب جن انسان آپس میں گتھم گتھا ہو جائیں گے، اس وقت ابلیس کہے گا کہ میں جاتا ہوں، معلوم کرتا ہوں کہ یہ کیا بات ہے؟ مشرق کی طرف بھاگے گا لیکن وہاں فرشتوں کی جماعتوں کو دیکھ کر رک جائے گا اور لوٹ کر مغرب کو پہنچے گا، وہاں بھی یہی رنگ دیکھ کر دائیں بائیں بھاگے گا لیکن چاروں طرف سے فرشتوں کا محاصرہ دیکھ کر ناامید ہو کر چیخ پکار شروع کر دے گا۔ اچانک اسے ایک چھوٹا سا راستہ دکھائی دے گا، اپنی ساری ذریات کو لے کر اس میں چل پڑے گا آگے جا کر دیکھے گا کہ دوزخ بھڑک رہی ہے۔ ایک دروغہ جہنم اس سے کہے گا کہ اے موذی خبیث! کیا اللہ نے تیرا مرتبہ نہیں بڑھایا تھا؟ کیا تو جنتیوں میں نہ تھا؟ یہ کہے گا آج ڈانٹ ڈپٹ کیوں کرتے ہو؟ آج تو چھٹکارے کا راستہ بتاؤ، میں عبادت الٰہی کے لیے تیار ہوں، اگر حکم ہو تو اتنی اور ایسی عبادت کروں کہ روئے زمین پر کسی نے نہ کی ہو۔ داروغہ فرمائے گا اللہ تعالیٰ تیرے لیے ایک فریِضہ مقرر کرتا ہے، وہ خوش ہو کر کہے گا میں اس کے حکم کی بجا آوری کے لیے پوری مستعدی سے موجود ہوں۔ حکم ہو گا کہ یہی کہ تم سب جہنم میں چلے جاؤ۔ اب یہ خبیث ہکا بکا رہ جائے گا۔ وہیں فرشتہ اپنے پر سے اسے اور اس کی تمام ذریت کو گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دے گا۔ جہنم انہیں لے کر آ دبوچے گی اور ایک مرتبہ تو وہ جلائے گی کہ تمام مقرب فرشتے اور تمام نبی رسول گھٹنوں کے بل اللہ کے سامنے عاجزی میں گر پڑیں گے۔

طبرانی میں ہے کہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، یاجوج ماجوج آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں، اگر وہ چھوڑ دئے جائیں تو دنیا کی معاش میں فساد ڈال دیں، ایک ایک اپنے پیچھے ہزار ہزار بلکہ زیادہ چھوڑ کر مرتا ہے، پھر ان کے سوا تین امتیں اور ہیں تاویل، مارس اور منسک۔ [طبرانی اوسط:8598:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے بلکہ منکر اور ضعیف ہے۔

صفحہ نمبر4997

نسائی میں ہے کہ ان کی بیویاں بچے ہیں، ایک ایک اپنے پیچھے ہزار ہزار بلکہ زیادہ چھوڑ کر مرتا ہے۔ پھر فرمایا صور پھونک دیا جائے گا جیسے حدیث میں ہے کہ وہ ایک قرن ہے جس میں صور پھونک دیا جائے گا، [سنن ابوداود:4732،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پھونکنے والے اسرافیل علیہ السلام ہوں گے۔ جیسے کہ لمبی حدیث بیان ہو چکی ہے۔ اور بھی بہت سی احادیث سے اس کا ثبوت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں کیسے چین اور آرام سے بیٹھوں؟ صور والا فرشتہ صور کو منہ سے لگائے ہوئے پیشانی جھکائے ہوئے کان لگائے ہوئے منتظر بیٹھا ہے کہ کب حکم ہو اور میں پھونک دوں۔ لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر ہم کیا کہیں؟ فرمایا «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الوَكِيلُ، عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا» ۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پھر فرماتا ہے، ہم سب کو حساب کے لیے جمع کریں گے۔ سب کا حشر ہمارے سامنے ہو گا جیسے سورۃ الواقعہ میں ہے کہ «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [ 56-الواقعہ: 49، 50 ] ‏ اگلے پچھلے سب کے سب مقررہ دن کے وقت اکٹھے کئے جائیں گے اور آیت میں ہے «وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» [ 18- الكهف: 47 ] ‏ ہم سب کو جمع کریں گے۔ ایک بھی تو باقی نہ بچے گا۔

صفحہ نمبر4998

جہنم کو دیکھ کر ٭٭

کافر جہنم میں جانے سے پہلے جہنم کو اور اس کے عذاب کو دیکھ لیں گے اور یہ یقین کر کے کہ وہ اسی میں داخل ہونے والے ہیں، داخل ہونے سے پہلے ہی جلنے کڑھنے لگیں گے۔ غم و رنج، ڈر خوف کے مارے گھلنے لگیں گے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جہنم کو قیامت کے دن گھسیٹ کر لایا جائے گا جس کی ستر ہزار لگامیں ہونگی۔ ہر ایک لگام پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ [صحیح مسلم:2842] ‏ یہ کافر دنیا کی ساری زندگی میں اپنی آنکھوں اور کانوں کو بے کار کئے بیٹھے رہے، «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» [ 43-الزخرف: 36 ] ‏ نہ حق دیکھا نہ حق سنا، نہ مانا نہ عمل کیا۔ شیطان کا ساتھ دیا اور رحمان کے ذکر سے غفلت برتی۔ اللہ کے احکام اور ممانعت کو پس پشت ڈالے رہے۔ یہی سمجھتے رہے کہ ان کے جھوٹے معبود ہی انہیں سارا نفع پہنچائیں گے اور کل سختیاں دور کریں گے۔ محض غلط خیال ہے بلکہ وہ تو ان کی عبادت کے بھی منکر ہو جائیں گے اور ان کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ ان کافروں کی منزل تو جہنم ہی ہے جو ابھی سے تیار ہے۔

صفحہ نمبر5001

جہنم کو دیکھ کر ٭٭

کافر جہنم میں جانے سے پہلے جہنم کو اور اس کے عذاب کو دیکھ لیں گے اور یہ یقین کر کے کہ وہ اسی میں داخل ہونے والے ہیں، داخل ہونے سے پہلے ہی جلنے کڑھنے لگیں گے۔ غم و رنج، ڈر خوف کے مارے گھلنے لگیں گے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جہنم کو قیامت کے دن گھسیٹ کر لایا جائے گا جس کی ستر ہزار لگامیں ہونگی۔ ہر ایک لگام پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ [صحیح مسلم:2842] ‏ یہ کافر دنیا کی ساری زندگی میں اپنی آنکھوں اور کانوں کو بے کار کئے بیٹھے رہے، «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» [ 43-الزخرف: 36 ] ‏ نہ حق دیکھا نہ حق سنا، نہ مانا نہ عمل کیا۔ شیطان کا ساتھ دیا اور رحمان کے ذکر سے غفلت برتی۔ اللہ کے احکام اور ممانعت کو پس پشت ڈالے رہے۔ یہی سمجھتے رہے کہ ان کے جھوٹے معبود ہی انہیں سارا نفع پہنچائیں گے اور کل سختیاں دور کریں گے۔ محض غلط خیال ہے بلکہ وہ تو ان کی عبادت کے بھی منکر ہو جائیں گے اور ان کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ ان کافروں کی منزل تو جہنم ہی ہے جو ابھی سے تیار ہے۔

صفحہ نمبر5001

جہنم کو دیکھ کر ٭٭

کافر جہنم میں جانے سے پہلے جہنم کو اور اس کے عذاب کو دیکھ لیں گے اور یہ یقین کر کے کہ وہ اسی میں داخل ہونے والے ہیں، داخل ہونے سے پہلے ہی جلنے کڑھنے لگیں گے۔ غم و رنج، ڈر خوف کے مارے گھلنے لگیں گے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جہنم کو قیامت کے دن گھسیٹ کر لایا جائے گا جس کی ستر ہزار لگامیں ہونگی۔ ہر ایک لگام پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ [صحیح مسلم:2842] ‏ یہ کافر دنیا کی ساری زندگی میں اپنی آنکھوں اور کانوں کو بے کار کئے بیٹھے رہے، «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» [ 43-الزخرف: 36 ] ‏ نہ حق دیکھا نہ حق سنا، نہ مانا نہ عمل کیا۔ شیطان کا ساتھ دیا اور رحمان کے ذکر سے غفلت برتی۔ اللہ کے احکام اور ممانعت کو پس پشت ڈالے رہے۔ یہی سمجھتے رہے کہ ان کے جھوٹے معبود ہی انہیں سارا نفع پہنچائیں گے اور کل سختیاں دور کریں گے۔ محض غلط خیال ہے بلکہ وہ تو ان کی عبادت کے بھی منکر ہو جائیں گے اور ان کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ ان کافروں کی منزل تو جہنم ہی ہے جو ابھی سے تیار ہے۔

صفحہ نمبر5001

عبادت واطاعت کا طریقہ ٭٭

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے ان کے صاحبزادے مصعب رحمہ اللہ نے سوال کیا کہ کیا اس آیت سے مراد خارجی ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں بلکہ مراد اس سے یہود و نصاری ہیں۔ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور نصرانیوں نے جنت کو سچا نہ جانا اور کہا کہ وہاں کھانا پینا کچھ نہیں۔ خارجیوں نے اللہ کے وعدے کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیا۔ پس سعد رضی اللہ عنہما خارجیوں کو فاسق کہتے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں، اس سے مراد خارجی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے یہ آیت یہود ونصاری وغیرہ کفار کو شامل ہے، اسی طرح خارجیوں کا حکم بھی اس میں ہے کیونکہ آیت عام ہے۔ جو بھی اللہ کی عبادت و اطاعت اس طریقے سے بجا لائے جو طریقہ اللہ کو پسند نہیں تو گو وہ اپنے اعمال سے خوش ہو اور سمجھ رہا ہو کہ میں نے آخرت کا توشہ بہت کچھ جمع کر لیا ہے، میرے نیک اعمال اللہ کے پسندیدہ ہیں اور مجھے ان پر اجرو ثواب ضرور ملے گا لیکن اس کا یہ گمان غلط ہے۔ اس کے اعمال مقبول نہیں بلکہ مردود ہیں اور وہ غلط گمان شخص ہے۔ آیت مکی ہے اور ظاہر ہے کہ مکے میں یہود ونصاری مخاطب نہ تھے۔ اور خارجیوں کا تو اس وقت تک وجود بھی نہ تھا۔ پس ان بزرگوں کا یہی مطلب ہے کہ آیت کے عام الفاظ ان سب کو اور ان جیسے اور سب کو شامل ہیں۔

صفحہ نمبر5004

جیسے سورۃ الغاشیہ میں ہے کہ «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً» [ 88-الغاشیہ: 2-4 ] ‏ قیامت کے دن بہت سے چہرے ذلیل وخوار ہوں گے جو دنیا میں بہت محنت کرنے والے بلکہ اعمال سے تھکے ہوئے تھے اور سخت تکلیفیں اٹھائے ہوتے تھے، آج وہ باوجود ریاضت وعبادت کے جہنم واصل ہوں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیے جائیں گے۔ اور آیت میں ہے «وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاءً مَّنْثُوْرًا» [ 25- الفرقان: 23 ] ‏ ان کے تمام کئے کرائے اعمال کو ہم نے آگے بڑھ کر ردی اور بے کار کر دیا۔ اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا» [ 24-النور: 39 ] ‏، کافروں کے اعمال کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی پیاسا ریت کے تودے کو پانی کا دریا سمجھ رہا ہو لیکن جب پاس آتا ہے تو ایک بوند بھی پانی کی نہیں پاتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے طور پر عبادت ریاضت تو کرتے رہے اور دل میں بھی سمجھتے رہے کہ ہم بہت کچھ نیکیاں کر رہے ہیں اور وہ مقبول اور اللہ کی پسندیدہ ہیں لیکن چونکہ وہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق نہ تھیں، نبیوں کے فرمان کے مطابق نہ تھیں، اس لیے بجائے مقبول ہونے کے مردود ہو گئیں اور بجائے محبوب ہونے کے مغضوب ہو گئے۔ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے رہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول کی رسالت کے تمام تر ثبوت ان کے سامنے تھے لیکن انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور مانے ہی نہیں۔ ان کا نیکی کا پلڑا بالکل خالی رہے گا۔

بخاری شریف کی حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک موٹا تازہ بڑا بھاری آدمی آئے گا لیکن اللہ کے نزدیک اس کا وزن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گا۔ پھر آپ نے فرمایا اگر تم چاہو اس آیت کی تلاوت کر لو «فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا» [ 18- الكهف: 105 ] ‏۔ [صحیح بخاری:4729] ‏

صفحہ نمبر5005

ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے، بہت زیادہ کھانے پینے والے موٹے تازے انسان کو قیامت کے دن اللہ کے سامنے لایا جائے گا لیکن اس کا وزن اناج کے ایک دانے کے برابر بھی نہ ہو گا۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23399] ‏ بزار میں ہے ایک قریشی کافر اپنے حلے میں اتراتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو آپ نے بریدہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ ان میں سے ہے جن کا کوئی وزن قیامت کے دن اللہ کے پاس نہ ہو گا۔ [مسند بزار،2956:ضعیف] ‏ مرفوع حدیث کی طرح کعب کا قول بھی مروی ہے۔ یہ بدلہ ہے ان کے کفر کا، اللہ کی آیتوں اور اس کے رسولوں کو ہنسی مذاق میں اڑانے کا۔ اور ان کے نہ ماننے بلکہ انہیں جھٹلانے کا۔

صفحہ نمبر5006

عبادت واطاعت کا طریقہ ٭٭

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے ان کے صاحبزادے مصعب رحمہ اللہ نے سوال کیا کہ کیا اس آیت سے مراد خارجی ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں بلکہ مراد اس سے یہود و نصاری ہیں۔ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور نصرانیوں نے جنت کو سچا نہ جانا اور کہا کہ وہاں کھانا پینا کچھ نہیں۔ خارجیوں نے اللہ کے وعدے کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیا۔ پس سعد رضی اللہ عنہما خارجیوں کو فاسق کہتے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں، اس سے مراد خارجی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے یہ آیت یہود ونصاری وغیرہ کفار کو شامل ہے، اسی طرح خارجیوں کا حکم بھی اس میں ہے کیونکہ آیت عام ہے۔ جو بھی اللہ کی عبادت و اطاعت اس طریقے سے بجا لائے جو طریقہ اللہ کو پسند نہیں تو گو وہ اپنے اعمال سے خوش ہو اور سمجھ رہا ہو کہ میں نے آخرت کا توشہ بہت کچھ جمع کر لیا ہے، میرے نیک اعمال اللہ کے پسندیدہ ہیں اور مجھے ان پر اجرو ثواب ضرور ملے گا لیکن اس کا یہ گمان غلط ہے۔ اس کے اعمال مقبول نہیں بلکہ مردود ہیں اور وہ غلط گمان شخص ہے۔ آیت مکی ہے اور ظاہر ہے کہ مکے میں یہود ونصاری مخاطب نہ تھے۔ اور خارجیوں کا تو اس وقت تک وجود بھی نہ تھا۔ پس ان بزرگوں کا یہی مطلب ہے کہ آیت کے عام الفاظ ان سب کو اور ان جیسے اور سب کو شامل ہیں۔

صفحہ نمبر5004

جیسے سورۃ الغاشیہ میں ہے کہ «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً» [ 88-الغاشیہ: 2-4 ] ‏ قیامت کے دن بہت سے چہرے ذلیل وخوار ہوں گے جو دنیا میں بہت محنت کرنے والے بلکہ اعمال سے تھکے ہوئے تھے اور سخت تکلیفیں اٹھائے ہوتے تھے، آج وہ باوجود ریاضت وعبادت کے جہنم واصل ہوں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیے جائیں گے۔ اور آیت میں ہے «وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاءً مَّنْثُوْرًا» [ 25- الفرقان: 23 ] ‏ ان کے تمام کئے کرائے اعمال کو ہم نے آگے بڑھ کر ردی اور بے کار کر دیا۔ اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا» [ 24-النور: 39 ] ‏، کافروں کے اعمال کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی پیاسا ریت کے تودے کو پانی کا دریا سمجھ رہا ہو لیکن جب پاس آتا ہے تو ایک بوند بھی پانی کی نہیں پاتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے طور پر عبادت ریاضت تو کرتے رہے اور دل میں بھی سمجھتے رہے کہ ہم بہت کچھ نیکیاں کر رہے ہیں اور وہ مقبول اور اللہ کی پسندیدہ ہیں لیکن چونکہ وہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق نہ تھیں، نبیوں کے فرمان کے مطابق نہ تھیں، اس لیے بجائے مقبول ہونے کے مردود ہو گئیں اور بجائے محبوب ہونے کے مغضوب ہو گئے۔ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے رہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول کی رسالت کے تمام تر ثبوت ان کے سامنے تھے لیکن انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور مانے ہی نہیں۔ ان کا نیکی کا پلڑا بالکل خالی رہے گا۔

بخاری شریف کی حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک موٹا تازہ بڑا بھاری آدمی آئے گا لیکن اللہ کے نزدیک اس کا وزن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گا۔ پھر آپ نے فرمایا اگر تم چاہو اس آیت کی تلاوت کر لو «فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا» [ 18- الكهف: 105 ] ‏۔ [صحیح بخاری:4729] ‏

صفحہ نمبر5005

ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے، بہت زیادہ کھانے پینے والے موٹے تازے انسان کو قیامت کے دن اللہ کے سامنے لایا جائے گا لیکن اس کا وزن اناج کے ایک دانے کے برابر بھی نہ ہو گا۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23399] ‏ بزار میں ہے ایک قریشی کافر اپنے حلے میں اتراتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو آپ نے بریدہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ ان میں سے ہے جن کا کوئی وزن قیامت کے دن اللہ کے پاس نہ ہو گا۔ [مسند بزار،2956:ضعیف] ‏ مرفوع حدیث کی طرح کعب کا قول بھی مروی ہے۔ یہ بدلہ ہے ان کے کفر کا، اللہ کی آیتوں اور اس کے رسولوں کو ہنسی مذاق میں اڑانے کا۔ اور ان کے نہ ماننے بلکہ انہیں جھٹلانے کا۔

صفحہ نمبر5006

عبادت واطاعت کا طریقہ ٭٭

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے ان کے صاحبزادے مصعب رحمہ اللہ نے سوال کیا کہ کیا اس آیت سے مراد خارجی ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں بلکہ مراد اس سے یہود و نصاری ہیں۔ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور نصرانیوں نے جنت کو سچا نہ جانا اور کہا کہ وہاں کھانا پینا کچھ نہیں۔ خارجیوں نے اللہ کے وعدے کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیا۔ پس سعد رضی اللہ عنہما خارجیوں کو فاسق کہتے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں، اس سے مراد خارجی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے یہ آیت یہود ونصاری وغیرہ کفار کو شامل ہے، اسی طرح خارجیوں کا حکم بھی اس میں ہے کیونکہ آیت عام ہے۔ جو بھی اللہ کی عبادت و اطاعت اس طریقے سے بجا لائے جو طریقہ اللہ کو پسند نہیں تو گو وہ اپنے اعمال سے خوش ہو اور سمجھ رہا ہو کہ میں نے آخرت کا توشہ بہت کچھ جمع کر لیا ہے، میرے نیک اعمال اللہ کے پسندیدہ ہیں اور مجھے ان پر اجرو ثواب ضرور ملے گا لیکن اس کا یہ گمان غلط ہے۔ اس کے اعمال مقبول نہیں بلکہ مردود ہیں اور وہ غلط گمان شخص ہے۔ آیت مکی ہے اور ظاہر ہے کہ مکے میں یہود ونصاری مخاطب نہ تھے۔ اور خارجیوں کا تو اس وقت تک وجود بھی نہ تھا۔ پس ان بزرگوں کا یہی مطلب ہے کہ آیت کے عام الفاظ ان سب کو اور ان جیسے اور سب کو شامل ہیں۔

صفحہ نمبر5004

جیسے سورۃ الغاشیہ میں ہے کہ «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً» [ 88-الغاشیہ: 2-4 ] ‏ قیامت کے دن بہت سے چہرے ذلیل وخوار ہوں گے جو دنیا میں بہت محنت کرنے والے بلکہ اعمال سے تھکے ہوئے تھے اور سخت تکلیفیں اٹھائے ہوتے تھے، آج وہ باوجود ریاضت وعبادت کے جہنم واصل ہوں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیے جائیں گے۔ اور آیت میں ہے «وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاءً مَّنْثُوْرًا» [ 25- الفرقان: 23 ] ‏ ان کے تمام کئے کرائے اعمال کو ہم نے آگے بڑھ کر ردی اور بے کار کر دیا۔ اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا» [ 24-النور: 39 ] ‏، کافروں کے اعمال کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی پیاسا ریت کے تودے کو پانی کا دریا سمجھ رہا ہو لیکن جب پاس آتا ہے تو ایک بوند بھی پانی کی نہیں پاتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے طور پر عبادت ریاضت تو کرتے رہے اور دل میں بھی سمجھتے رہے کہ ہم بہت کچھ نیکیاں کر رہے ہیں اور وہ مقبول اور اللہ کی پسندیدہ ہیں لیکن چونکہ وہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق نہ تھیں، نبیوں کے فرمان کے مطابق نہ تھیں، اس لیے بجائے مقبول ہونے کے مردود ہو گئیں اور بجائے محبوب ہونے کے مغضوب ہو گئے۔ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے رہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول کی رسالت کے تمام تر ثبوت ان کے سامنے تھے لیکن انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور مانے ہی نہیں۔ ان کا نیکی کا پلڑا بالکل خالی رہے گا۔

بخاری شریف کی حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک موٹا تازہ بڑا بھاری آدمی آئے گا لیکن اللہ کے نزدیک اس کا وزن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گا۔ پھر آپ نے فرمایا اگر تم چاہو اس آیت کی تلاوت کر لو «فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا» [ 18- الكهف: 105 ] ‏۔ [صحیح بخاری:4729] ‏

صفحہ نمبر5005

ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے، بہت زیادہ کھانے پینے والے موٹے تازے انسان کو قیامت کے دن اللہ کے سامنے لایا جائے گا لیکن اس کا وزن اناج کے ایک دانے کے برابر بھی نہ ہو گا۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23399] ‏ بزار میں ہے ایک قریشی کافر اپنے حلے میں اتراتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو آپ نے بریدہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ ان میں سے ہے جن کا کوئی وزن قیامت کے دن اللہ کے پاس نہ ہو گا۔ [مسند بزار،2956:ضعیف] ‏ مرفوع حدیث کی طرح کعب کا قول بھی مروی ہے۔ یہ بدلہ ہے ان کے کفر کا، اللہ کی آیتوں اور اس کے رسولوں کو ہنسی مذاق میں اڑانے کا۔ اور ان کے نہ ماننے بلکہ انہیں جھٹلانے کا۔

صفحہ نمبر5006

عبادت واطاعت کا طریقہ ٭٭

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے ان کے صاحبزادے مصعب رحمہ اللہ نے سوال کیا کہ کیا اس آیت سے مراد خارجی ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں بلکہ مراد اس سے یہود و نصاری ہیں۔ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور نصرانیوں نے جنت کو سچا نہ جانا اور کہا کہ وہاں کھانا پینا کچھ نہیں۔ خارجیوں نے اللہ کے وعدے کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیا۔ پس سعد رضی اللہ عنہما خارجیوں کو فاسق کہتے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں، اس سے مراد خارجی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے یہ آیت یہود ونصاری وغیرہ کفار کو شامل ہے، اسی طرح خارجیوں کا حکم بھی اس میں ہے کیونکہ آیت عام ہے۔ جو بھی اللہ کی عبادت و اطاعت اس طریقے سے بجا لائے جو طریقہ اللہ کو پسند نہیں تو گو وہ اپنے اعمال سے خوش ہو اور سمجھ رہا ہو کہ میں نے آخرت کا توشہ بہت کچھ جمع کر لیا ہے، میرے نیک اعمال اللہ کے پسندیدہ ہیں اور مجھے ان پر اجرو ثواب ضرور ملے گا لیکن اس کا یہ گمان غلط ہے۔ اس کے اعمال مقبول نہیں بلکہ مردود ہیں اور وہ غلط گمان شخص ہے۔ آیت مکی ہے اور ظاہر ہے کہ مکے میں یہود ونصاری مخاطب نہ تھے۔ اور خارجیوں کا تو اس وقت تک وجود بھی نہ تھا۔ پس ان بزرگوں کا یہی مطلب ہے کہ آیت کے عام الفاظ ان سب کو اور ان جیسے اور سب کو شامل ہیں۔

صفحہ نمبر5004

جیسے سورۃ الغاشیہ میں ہے کہ «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً» [ 88-الغاشیہ: 2-4 ] ‏ قیامت کے دن بہت سے چہرے ذلیل وخوار ہوں گے جو دنیا میں بہت محنت کرنے والے بلکہ اعمال سے تھکے ہوئے تھے اور سخت تکلیفیں اٹھائے ہوتے تھے، آج وہ باوجود ریاضت وعبادت کے جہنم واصل ہوں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیے جائیں گے۔ اور آیت میں ہے «وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاءً مَّنْثُوْرًا» [ 25- الفرقان: 23 ] ‏ ان کے تمام کئے کرائے اعمال کو ہم نے آگے بڑھ کر ردی اور بے کار کر دیا۔ اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا» [ 24-النور: 39 ] ‏، کافروں کے اعمال کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی پیاسا ریت کے تودے کو پانی کا دریا سمجھ رہا ہو لیکن جب پاس آتا ہے تو ایک بوند بھی پانی کی نہیں پاتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے طور پر عبادت ریاضت تو کرتے رہے اور دل میں بھی سمجھتے رہے کہ ہم بہت کچھ نیکیاں کر رہے ہیں اور وہ مقبول اور اللہ کی پسندیدہ ہیں لیکن چونکہ وہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق نہ تھیں، نبیوں کے فرمان کے مطابق نہ تھیں، اس لیے بجائے مقبول ہونے کے مردود ہو گئیں اور بجائے محبوب ہونے کے مغضوب ہو گئے۔ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے رہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول کی رسالت کے تمام تر ثبوت ان کے سامنے تھے لیکن انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور مانے ہی نہیں۔ ان کا نیکی کا پلڑا بالکل خالی رہے گا۔

بخاری شریف کی حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک موٹا تازہ بڑا بھاری آدمی آئے گا لیکن اللہ کے نزدیک اس کا وزن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گا۔ پھر آپ نے فرمایا اگر تم چاہو اس آیت کی تلاوت کر لو «فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا» [ 18- الكهف: 105 ] ‏۔ [صحیح بخاری:4729] ‏

صفحہ نمبر5005

ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے، بہت زیادہ کھانے پینے والے موٹے تازے انسان کو قیامت کے دن اللہ کے سامنے لایا جائے گا لیکن اس کا وزن اناج کے ایک دانے کے برابر بھی نہ ہو گا۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23399] ‏ بزار میں ہے ایک قریشی کافر اپنے حلے میں اتراتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو آپ نے بریدہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ ان میں سے ہے جن کا کوئی وزن قیامت کے دن اللہ کے پاس نہ ہو گا۔ [مسند بزار،2956:ضعیف] ‏ مرفوع حدیث کی طرح کعب کا قول بھی مروی ہے۔ یہ بدلہ ہے ان کے کفر کا، اللہ کی آیتوں اور اس کے رسولوں کو ہنسی مذاق میں اڑانے کا۔ اور ان کے نہ ماننے بلکہ انہیں جھٹلانے کا۔

صفحہ نمبر5006

جنت الفردوس کا تعارف ٭٭

اللہ پر ایمان رکھنے والے، اس کے رسولوں کو سچا ماننے والے، ان کی باتوں پر عمل کرنے والے بہترین جنتوں میں ہوں گے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس کا سوال کرو۔ یہ سب سے اعلی سب سے عمدہ جنت ہے، اسی سے اور جنتوں کی نہریں بہتی ہیں۔ [صحیح بخاری:2790] ‏

یہی ان کا مہمان خانہ ہو گی۔ یہ یہاں ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔ نہ نکالے جائیں، نہ نکلنے کا خیال آئے، نہ اس سے بہتر کوئی اور جگہ، نہ وہ وہاں کے رہنے سے گھبرائیں کیونکہ ہر طرح کے اعلی عیش مہیا ہیں۔ ایک پر ایک رحمت مل رہی ہے۔ روز بروز رغبت ومحبت، انس والفت بڑھتی جا رہی ہے اس لیے نہ طبیعت اکتاتی ہے نہ دل بھرتا ہے بلکہ روز شوق بڑھتا ہے اور نئی نعمت ملتی ہے۔

صفحہ نمبر5010

جنت الفردوس کا تعارف ٭٭

اللہ پر ایمان رکھنے والے، اس کے رسولوں کو سچا ماننے والے، ان کی باتوں پر عمل کرنے والے بہترین جنتوں میں ہوں گے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس کا سوال کرو۔ یہ سب سے اعلی سب سے عمدہ جنت ہے، اسی سے اور جنتوں کی نہریں بہتی ہیں۔ [صحیح بخاری:2790] ‏

یہی ان کا مہمان خانہ ہو گی۔ یہ یہاں ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔ نہ نکالے جائیں، نہ نکلنے کا خیال آئے، نہ اس سے بہتر کوئی اور جگہ، نہ وہ وہاں کے رہنے سے گھبرائیں کیونکہ ہر طرح کے اعلی عیش مہیا ہیں۔ ایک پر ایک رحمت مل رہی ہے۔ روز بروز رغبت ومحبت، انس والفت بڑھتی جا رہی ہے اس لیے نہ طبیعت اکتاتی ہے نہ دل بھرتا ہے بلکہ روز شوق بڑھتا ہے اور نئی نعمت ملتی ہے۔

صفحہ نمبر5010

اللہ تعالٰی کی عظمتوں کا شمار ناممکن ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ اللہ کی عظمت سمجھانے کے لیے دنیا میں اعلان کر دیجئیے کہ اگر روئے زمین کے سمندروں کی سیاہی بن جائے اور پھر اللہ کے کلمات، اللہ کی قدرتوں کے اظہار، اللہ کی باتیں، اللہ کی حکمتیں لکھنی شروع کی جائیں تو یہ تمام سیاہی ختم ہو جائے گی لیکن اللہ کی تعریفیں ختم نہ ہوں گی۔ گو پھر ایسے ہی دریا لائے جائیں اور پھر لائے جائیں اور پھر لائے جائیں لیکن ناممکن کہ اللہ کی قدرتیں، اس کی حکمتیں، اس کی دلیلیں ختم ہو جائیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کا فرمان ہے «وَلَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» [ 31- لقمان: 27 ] ‏ یعنی روئے زمین کے درختوں کی قلمیں بن جائیں اور تمام سمندروں کی سیاہیاں بن جائیں پھر ان کے بعد سات سمندر اور بھی لائے جائیں لیکن ناممکن ہے کہ کلمات الٰہی پورے لکھ لیے جائیں۔ اللہ کی عزت اور حکمت، اس کا غلبہ اور قدرت وہی جانتا ہے۔ تمام انسانوں کا علم اللہ کے علم کے مقابلہ میں اتنا بھی نہیں جتنا سمندر کے مقابلے میں قطرہ۔ تمام درختوں کی قلمیں گھس گھس کر ختم ہو جائیں، تمام سمندروں کی سیاہیاں ختم ہو جائیں لیکن کلمات الٰہی ویسے ہی رہ جائیں گے جیسے تھے، وہ ان گنت ہیں، بےشمار ہیں۔

کون ہے جو اللہ کی صحیح اور پوری قدر و عزت جان سکے؟ کون ہے جو اس کی پوری ثنا و صفت بجا لا سکے؟ بیشک ہمارا رب ویسا ہی ہے جیسا وہ خود فرما رہا ہے۔ بیشک ہم جو تعریفیں اس کی کریں، وہ ان سب سے سوا ہے اور ان سب سے بڑھ چڑھ کر ہے۔ یاد رکھو جس طرح ساری زمین کے مقابلے پر ایک رائی کا دانہ ہے اسی طرح جنت کی اور آخرت کی نعمتوں کے مقابل تمام دنیا کی نعمتیں ہیں۔

صفحہ نمبر5012

سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭

سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ سب سے آخری آیت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری۔ حکم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے فرمائیں کہ میں تم جیسا ہی ایک انسان ہوں، تم بھی انسان ہو، اگر مجھے جھوٹا جانتے ہو تو لاؤ اس قرآن جیسا ایک قرآن تم بھی بنا کر پیش کر دو۔ دیکھو میں کوئی غیب داں تو نہیں، تم نے مجھ سے ذوالقرنین کا واقعہ دریافت کیا، اصحاب کہف کا قصہ پوچھا تو میں نے ان کے صحیح واقعات تمہارے سامنے بیان کر دئیے جو نفس الامر کے مطابق ہیں۔ اگر میرے پاس اللہ کی وحی نہ آتی تو میں ان گزشتہ واقعات کو جس طرح وہ ہوئے ہیں، تمہارے سامنے کس طرح بیان کر سکتا؟ سنو تمام تر وحی کا خلاصہ یہ ہے کہ تم موحد بن جاؤ۔ شرک کو چھوڑ دو۔ میری دعوت یہی ہے جو بھی تم میں سے اللہ سے مل کر اجر و ثواب لینا چاہتا ہو، اسے شریعت کے مطابق عمل کرنے چاہئیں اور شرک سے بالکل بچنا چاہیئے۔ ان دونوں ارکان کے بغیر کوئی عمل اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں، خلوص ہو اور مطابقت سنت ہو۔

ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا کہ بہت سے نیک کاموں میں باوجود مرضی الٰہی کی تلاش کے میرا ارادہ یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ میری نیکی دیکھیں تو میرے لیے کیا حکم ہے، آپ خاموش رہے اور یہ آیت اتری، یہ حدیث مرسل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23427:مرسل] ‏ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ ایک شخص نماز، روزہ، صدقہ، خیرات، حج زکوٰۃ کرتا ہے، اللہ کی رضا مندی بھی ڈھونڈتا ہے اور لوگوں میں نیک نامی اور بڑائی بھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کی کل عبادت اکارت ہے، اللہ تعالیٰ شرک سے بیزار ہے، جو اس کی عبادت میں اور نیت بھی کرے تو اللہ تعالیٰ فرما دیتا ہے کہ یہ سب اسی دوسرے کو دے دو مجھے اس کی کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/16:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5013

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باری باری آتے، رات گزارتے، کبھی آپ کو کوئی کام ہوتا تو فرما دیتے۔ ایسے لوگ بہت زیادہ تھے۔ ایک شب ہم آپس میں کچھ باتیں کر رہے تھے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا یہ کیا کھسر پھسر کر رہے ہو؟ ہم نے جواب دیا، یا رسول اللہ ہماری توبہ ہے ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے اور دل ہمارے خوفزدہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم [سنن ابن ماجہ:4204،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ نے فرمایا، میں تمہیں اس سے بھی زیادہ دہشت ناک بات بتاؤں؟ وہ پوشیدہ شرک ہے کہ انسان دوسرے انسان کو دکھانے کے لیے نماز پڑھے۔

صفحہ نمبر5014

مسند احمد میں ہے، ابن غنم کہتے ہیں، میں اور ابودرداء جابیہ کی مسجد میں گئے، وہاں ہمیں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ملے، بائیں ہاتھ سے تو انہوں نے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا اور اپنے داہنے ہاتھ سے ابودرداء رضی اللہ عنہ کا بایاں ہاتھ تھام لیا اور اسی طرح ہم تینوں وہاں سے باتیں کرتے ہوئے نکلے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے، دیکھو اگر تم دونوں یا تم میں سے جو بھی زندہ رہا تو ممکن ہے اس وقت کو بھی وہ دیکھ لے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قرآن سیکھا ہوا بھلا آدمی حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھنے والا اور ہر حکم کو مناسب جگہ رکھنے والا آئے اور اس کی قدرو منزلت لوگوں میں ایسی ہو جیسی مردہ گدھے کی سر کی۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہما آ گئے اور بیٹھتے ہی شداد رضی اللہ عنہا نے فرمایا، لوگو مجھے تو تم پر سب سے زیادہ اس کا ڈر ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے یعنی پوشیدہ خواہش اور شرک کا۔ اس پر عبادہ رضی اللہ عنہما اور ابودرداء رضی اللہ عنہما نے فرمایا، اللہ معاف فرمائے، ہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس بات سے شیطان مایوس ہو گیا ہے کہ اس جزیرہ عرب میں اس کی عبادت کی جائے۔ ہاں پوشیدہ شہوات تو یہی خواہش کی چیزیں عورتیں وغیرہ ہیں لیکن یہ شرک ہماری سمجھ میں تو نہیں آیا جس سے آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں۔

صفحہ نمبر5015

حضرت شداد رضی اللہ عنہما فرمانے لگے، اچھا بتاؤ تو ایک آدمی دوسروں کے دکھانے کے لیے نماز، روزہ، صدقہ، خیرات کرتا ہے۔ اس کا حکم تمہارے نزدیک کیا ہے؟ کیا اس نے شرک کیا؟ سب نے جواب دیا، بیشک ایسا شخص مشرک ہے۔ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص دکھاوے کے لیے نماز پڑھے وہ مشرک ہے، جو دنیا کو دکھانے کے لیے روزے رکھے وہ مشرک ہے، جو لوگوں میں اپنی سخاوت جتانے کے لیے صدقہ خیرات کرے وہ بھی مشرک ہے۔ اس پر عوف بن مالک رضی اللہ عنہما نے کہا، کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ ایسے اعمال میں جو اللہ کے لیے ہو، اللہ اسے قبول فرمالے اور جو دوسرے کے لیے ہو، اسے رد کر دے؟ شداد رضی اللہ عنہما نے جواب دیا، یہ ہرگز نہیں ہونے کا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جناب باری عزوجل کا ارشاد ہے کہ میں سب سے بہتر حصے والا ہوں، جو بھی میرے ساتھ کسی عمل میں دوسرے کو شریک کرے، میں اپنا حصہ بھی اسی دوسرے کے سپرد کر دیتا ہوں۔ اور نہایت بےپرواہی سے جز کل سب کو چھوڑ دیتا ہوں۔ [مسند احمد:125/4:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہما ایک دن رونے لگے، ہم نے پوچھا، آپ کیسے رو رہے ہیں؟ فرمانے لگے ایک حدیث یاد آ گئی اور اس نے رلا دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر شرک اور پوشیدہ شہوت کا ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں سنو وہ سورج چاند، پتھر، بت کو نہ پوجے گی بلکہ اپنے اعمال میں ریا کاری کرے گی۔ پوشیدہ شہوت یہ ہے کہ صبح روزے سے ہے اور کوئی خواہش سامنے آئی، روزہ چھوڑ دیا [مسند احمد:124/4:ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر5016

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے میں تمام شریکوں سے بہتر ہوں۔ میرے ساتھ جو بھی کسی کو شریک کرے، میں اپنا حصہ بھی اسی کو دے دیتا ہوں۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:2764،صحیح] ‏ اور روایت میں ہے کہ جو شخص کسی عمل میں میرے ساتھ دوسرے کو ملا لے، میں اس سے بری ہوں اور اس کا وہ پورا عمل اس غیر کے لیے ہی ہے۔ [مسند احمد:301/2:صحیح] ‏ ایک اور حدیث میں ہے، مجھے تمہاری نسبت سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے، لوگوں نے پوچھا، وہ چھوٹا شرک کیا ہے؟ فرمایا ریاکاری۔ قیامت کے دن ریاکاروں کو جواب ملے گا کہ جاؤ جن کے لیے عمل کئے تھے، انہی کے پاس جزا مانگو۔ دیکھو پاتے بھی ہو؟ [مسند احمد:428/5:صحیح] ‏

صفحہ نمبر5017

ابوسعید بن ابو فضالہ انصاری صحابی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جب اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو جمع کرے گا، جس دن کے آنے میں کوئی شک شبہ نہیں، اس دن ایک پکارنے والا پکارے گا کہ جس نے اپنے جس عمل میں اللہ کے ساتھ دوسرے کو ملایا ہو، اسے چاہیئے کہ اپنے اس عمل کا بدلہ اس دوسرے سے مانگ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ ساجھے سے بہت ہی بے نیاز ہے۔ [مسند احمد:466/3:حسن] ‏ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، ریاکار کو عذاب بھی سب کو دکھا کر ہو گا اور نیک اعمال لوگوں کو سنانے والے کو عذاب بھی سب کو سنا کر ہو گا [ مسند احمد 45/5:صحیح لغیرہ] ‏ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے بھی یہ روایت مروی ہے۔ [مسند احمد:40/3:صحیح] ‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، اپنے نیک اعمال اچھالنے والے کو اللہ تعالیٰ ضرور رسوا کرے گا، اس کے اخلاق بگڑ جائیں گے اور وہ لوگوں کی نگاہوں میں حقیر و ذلیل ہو گا۔ یہ بیان فرما کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما رونے لگے۔ [مسند احمد:162/2:صحیح] ‏

انس رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، قیامت کے دن انسان کے نیک اعمال کے مہر شدہ صحیفے اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔ جناب باری عزوجل فرمائے گا، اسے پھینک دو، اسے قبول کرو، اسے قبول کرو، اسے پھینک دو۔ اس وقت فرشتے عرض کریں گے کہ اے اللہ تبارک وتعالیٰ جہاں تک ہمارا علم ہے ہم تو اس شخص کے اعمال نیک ہی جانتے ہیں، جواب ملے گا کہ جن کو میں پھینکوا رہا ہوں یہ وہ اعمال ہیں جن میں صرف میری ہی رضا مندی مطلوب نہ تھی بلکہ ان میں ریاکاری تھی۔ آج میں تو صرف ان اعمال کو قبول کروں گا جو صرف میرے لیے ہی کئے گئے ہوں۔ [الدر المنثور للسیوطی:460/4:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5018

ارشاد ہے کہ جو دکھاوے سناوے کے لیے کھڑا ہوا ہو، وہ جب تک نہ بیٹھے اللہ کے غصے اور غضب میں ہی رہتا ہے۔ [مجمع الزوائد:223/10:ضعیف] ‏ ابو یعلیٰ کی حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، جو شخص لوگوں کے دیکھتے ہوئے تو ٹھہر ٹھہر کر اچھی کر کے نماز پڑھے اور تنہائی میں بری طرح جلدی جلدی بے دلی سے ادا کرے، اس نے اپنے پروردگار عزوجل کی توہین کی۔ [مسند ابویعلیٰ:5117:ضعیف] ‏ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس آیت کو امیر معاویہ رضی اللہ عنہما قرآن کی آخری آیت بتاتے ہیں۔ [ضعیف] ‏ لیکن یہ قول اشکال سے خالی نہیں کیونکہ سورۃ الکہف پوری کی پوری مکے شریف میں نازل ہوئی ہے اور ظاہر ہے کہ اس کے بعد مدینے میں برابر دس سال تک قرآن کریم اترتا رہا تو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ ہو کہ یہ آیت آخری ہے یعنی کسی دوسری آیت سے منسوخ نہیں ہوئی۔ اس میں جو حکم ہے وہ آخر تک بدلا نہیں گیا۔ اس کے بعد کوئی ایسی آیت نہیں اتری جو اس میں تبدیلی وتغیر کرے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ایک بہت ہی غریب حدیث حافظ ابوبکر بزار رحمہ اللہ اپنی کتاب میں لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص آیت «فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا» [ الکھف: 110 ] ‏، کو رات کے وقت پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اسے اتنا بڑا نور عطا فرمائے گا جو عدن سے مکے شریف تک پہنچے۔ [مستدرک حاکم371/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر5019

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com