Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Kahf
Tafsir Ibn Kathir · The Cave · 110 ayat · ayat 61–90 · Quran text →
موسیٰ علیہ السلام اور اللہ کا ایک بندہ ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ذکر کیا گیا کہ اللہ کا ایک بندہ دو دریا ملنے کی جگہ ہے، اس کے پاس وہ علم ہے جو تمہیں حاصل نہیں، آپ علیہ السلام نے اسی وقت ان سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی۔ اب اپنے ساتھی سے فرماتے ہیں کہ میں تو پہنچے بغیر دم نہ لوں گا۔ کہتے ہیں، یہ دو سمندر ایک تو بحیرہ فارس مشرقی اور دوسرا بحیرہ روم مغربی ہے۔ یہ جگہ طنجہ کے پاس مغرب کے شہروں کے آخر میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تو فرماتے ہیں کہ گو مجھے قرنوں تک چلنا پڑے کوئی حرج نہیں۔ کہتے ہیں کہ قیس کے لغت میں برس کو حقب کہتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حقب سے مراد اسی برس ہیں۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ ستر برس کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما زمانہ بتلاتے ہیں۔
صفحہ نمبر4932
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ملا تھا کہ اپنے ساتھ نمک چڑھی ہوئی ایک مچھلی لیں، جہاں وہ گم ہو جائے وہیں ہمارا بندہ ملے گا۔ یہ دونوں مچھلی کو ساتھ لیے چلے مجمع البحرین میں پہنچ گئے، وہاں نہر حیات تھی وہیں دونوں لیٹ گئے۔ اس نہر کے پانی کے چھینٹے مچھلی پر پڑے، مچھلی ہلنے جلنے لگ گئی۔ آپ علیہ السلام کے ساتھی یوشع علیہ السلام کی زنبیل میں یہ مچھلی رکھی ہوئی تھی اور وہ سمندر کے کنارے تھا۔ مچھلی نے سمندر کے اندر کود جانے کے لیے جست لگائی اور یوشع کی آنکھ کھل گئی۔ مچھلی ان کے دیکھتے ہوئی پانی میں گئی اور پانی میں سیدھا سوراخ ہوتا چلا گیا۔ پس جس طرح زمین میں سوراخ اور سرنگ بن جاتی ہے، اسی طرح پانی میں جہاں سے وہ گئی سوراخ ہو گیا، ادھر ادھر پانی کھڑا ہو گیا اور وہ سوراخ بالکل کھلا ہوا رہا۔ پتھر کی طرح پانی میں چھید ہو گیا، جہاں جس پانی کو لگتی ہوئی وہ مچھلی گئی، وہاں کا وہ پانی پتھر جیسا ہو گیا اور وہ سوراخ بنتا چلا گیا۔
حضرت محمد بن اسحاق رحمہ اللہ مرفوعاً لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ پانی اس طرح ابتداء دنیا سے نہیں جما، سوائے اس مچھلی کے چلے جانے کی جگہ کے اردگرد کے پانی کے۔ یہ نشان مثل سوراخ زمین کے برابر موسیٰ علیہ السلام کے واپس پہنچنے تک باقی ہی رہے۔ اس نشان کو دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، اسی کی تلاش میں تو ہم تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23185:ضعیف] جب مچھلی کو بھول کر یہ دونوں آگے بڑھے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ایک کا کام دونوں ساتھیوں کی طرف منسوب ہوا ہے۔ بھولنے والے صرف یوشع علیہ السلام تھے۔ جیسے فرمان ہے «يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ» [ 55-الرحمن: 22 ] یعنی ان دونوں سمندروں میں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ حالانکہ دو قولوں میں سے ایک یہ ہے کہ لولو اور مرجان صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں۔ جب وہاں سے ایک مرحلہ اور طے کر گئے تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے ناشتہ طلب کیا اور سفر کی تکلیف بھی بیان کی، یہ تکلیف مقصود سے آگے نکل آنے کے بعد ہوئی۔ اس پر آپ کے ساتھی کو مچھلی کا چلا جانا یاد آیا اور کہا جس چٹان کے پاس ہم ٹھہرے تھے، اس وقت میں مچھلی بھول گیا اور آپ سے ذکر کرنا بھی شیطان نے یاد سے ہٹا دیا۔
صفحہ نمبر4933
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت «اَنْ اَذْکُرَ لَہُ» ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس مچھلی نے تو عجیب و غریب طور پر پانی میں اپنی راہ پکڑی۔ اسی وقت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا لو اور سنو اسی جگہ کی تلاش میں ہم تھے۔ تو وہ دونوں اپنے اسی راستے پر اپنے نشانات قدم کے کھوج پر واپس لوٹے۔ وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنے پاس کی رحمت اور اپنے پاس کا علم عطا فرما رکھا تھا۔ یہ خضر علیہ السلام ہیں۔
صفحہ نمبر4934
صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف کا خیال ہے کہ خضر علیہ السلام سے ملنے والے موسیٰ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہ تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، وہ دشمن رب جھوٹا ہے، ہم سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے سنا کہ موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہو کر بنی اسرائیل میں خطبہ کر رہے تھے جو آپ سے سوال ہوا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں، تو چونکہ آپ علیہ السلام نے اس کے جواب میں یہ نہ فرمایا کہ اللہ جانے، اس لیے رب کو یہ کلمہ ناپسند آیا۔ اسی وقت وحی آئی کہ ہاں مجمع البحرین میں ہمارا ایک بندہ ہے جو تجھ سے بھی زیادہ عالم ہے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا پھر پروردگار میں اس تک کیسے پہنچ سکتا ہوں؟ حکم ہوا کہ اپنے ساتھ ایک مچھلی رکھ لو، اسے توشے دان میں ڈال لو، جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے وہیں وہ مل جائیں گے۔ تو آپعلیہ السلام اپنے ساتھ اپنے ساتھی یوشع بن نون علیہ السلام کو لے کر چلے، پتھر کے پاس پہنچ کر اپنے سر اس پر رکھ کر دو گھڑی سو رہے۔ مچھلی اس توشے دان میں تڑپی اور کود کر اس سے نکل گئی، سمندر میں ایسی گئی جیسے کوئی سرنگ لگا کر زمین میں اتر گیا ہو۔ پانی کا چلنا بہنا اللہ تعالیٰ نے موقوف کر دیا اور طاق کی طرح وہ سوراخ باقی رہ گیا۔ موسیٰ علیہ السلام جب جا گے تو آپ کے ساتھی یہ ذکر آپ سے بھول گئے، اسی وقت وہاں سے چل پڑے۔ دن پورا ہونے کے بعد رات بھر چلتے رہے، صبح موسیٰ علیہ السلام کو تھکان اور بھوک محسوس ہوئی۔ اللہ نے جہاں جانے کا حکم دیا تھا جب تک وہاں سے آگے نہ نکل گئے، تھکان کا نام تک نہ تھا۔ اب اپنے ساتھی سے کھانا مانگا اور تکلیف بیان کی۔
صفحہ نمبر4935
اس وقت آپ کے ساتھی نے فرمایا کہ پتھر کے پاس جب ہم نے آرام لیا تھا، وہیں اسی وقت مچھلی تو میں بھول گیا اور اس کے ذکر کو بھی شیطان نے بھلا دیا اور اس مچھلی نے تو سمندر میں عجیب طور پر اپنی راہ نکال لی۔ مچھلی کے لیے سرنگ بن گئی اور ان کے لیے حیرت کا باعث بن گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اسی کی تو تلاش تھی۔ چنانچہ اپنے نشان قدم دیکھتے ہوئے دونوں واپس ہوئے، اسی پتھر کے پاس پہنچے دیکھا کہ ایک صاحب کپڑوں میں لپٹے ہوئے بیٹھے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے سلام کیا، اس نے کہا تعجب ہے آپ کی سر زمین میں یہ سلام کہاں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا میں موسیٰ ہوں۔ انہوں نے پوچھا کیا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں اور میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ مجھے وہ سکھائیں جو بھلائی آپ کو اللہ کی طرف سے سکھائی گئی ہے۔ آپ نے فرمایا موسیٰ علیہ السلام آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ اس لیے کہ مجھے جو علم ہے وہ آپ علیہ السلام کو نہیں اور آپ کو جو علم ہے وہ مجھے نہیں، اللہ تعالیٰ نے دونوں کو جداگانہ علم عطا فرما رکھا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ان شاءاللہ آپ دیکھیں گے کہ میں صبر کروں گا اور آپ کے کسی فرمان کی نافرمانی نہ کروں گا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا اچھا اگر تم میرا ساتھ چاہتے ہو تو مجھ سے خود کسی بات کا سوال نہ کرنا یہاں تک کہ میں آپ تمہیں اس کی بابت خبردار کروں۔
صفحہ نمبر4936
اتنی باتیں طے کر کے دونوں ساتھ چلے، دریا کے کنارے ایک کشتی تھی، ان سے اپنے ساتھ لے جانے کی بات چیت کرنے لگے۔ انہوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کرایہ لیے دونوں کو سوار کر لیا۔ کچھ ہی دور چلے ہوں گے جو موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ خضر علیہ السلام چپ چاپ کشتی کے تختے کلہاڑے سے توڑ رہے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیا؟ ان لوگوں نے تو ہمارے ساتھ احسان کیا بغیر کرایہ لیے کشتی میں سوار کیا اور آپ نے اس کے تختے توڑنے شروع کر دئیے جس سے تمام اہل کشتی ڈوب جائیں، یہ تو بڑا ہی ناخوش گوار کام کرنے لگے۔ اسی وقت خضر علیہ السلام نے فرمایا، دیکھو میں نے تو تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ موسیٰ علیہ السلام معذرت کرنے لگے کہ خطا ہو گئی، بھولے سے پوچھ بیٹھا، معاف فرمائیے اور سختی نہ کیجیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں واقعی یہ پہلی غلطی بھول سے ہی تھی۔ فرماتے ہیں کشتی کے ایک تختے پر ایک چڑیا آ بیٹھی اور سمندر میں چونچ ڈال کر پانی لے کر اڑ گئی، اس وقت خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا، میرے اور تیرے علم نے اللہ کے علم میں سے اتنا ہی کم کیا ہے جتنا پانی سے سمندر میں سے اس چڑیا کی چونچ نے کم کیا ہے۔ اب کشتی کنارے لگی اور ساحل پر دونوں چلنے لگے جو خضر علیہ السلام کی نگاہ چند کھیلتے ہوئے بچوں پر پڑی ان میں سے ایک بچے کا سر پکڑ کر خضر علیہ السلام نے اس طرح مروڑ دیا کہ اسی وقت اس کا دم نکل گیا۔ موسیٰ علیہ السلام گھبرا گئے اور فرمانے لگے، بغیر کسی قتل کے اس بچے کو آپ نے ناحق مار ڈالا؟ آپ نے بڑا ہی منکر کام کیا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا دیکھو اسی کو میں نے پہلے ہی سے کہہ دیا تھا کہ تمہاری ہماری نبھ نہیں سکتی، اس وقت خضر علیہ السلام نے پہلے سے زیادہ سختی کی۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اچھا اب اگر میں کوئی سوال کر بیٹھوں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا، یقیناً اب آپ معذور ہو گئے۔
صفحہ نمبر4937
چنانچہ پھر دونوں ہمراہ چلے ایک بستی والوں کے پاس پہنچے ان سے کھانا مانگا لیکن انہوں نے ان کی مہمانداری سے صاف انکار کر دیا۔ وہیں ایک دیوار دیکھی جو جھک گئی تھی اور گرنے کے قریب تھی، اسی وقت خضر نے ہاتھ لگا کر اسے ٹھیک اور درست کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا خیال تو فرمائیے، ہم یہاں آئے، ان لوگوں سے کھانا طلب کیا، انہوں نے نہ دیا، مہمان نوازی کے خلاف کیا، ان کا یہ کام تھا، آپ ان سے اجرت لے سکتے تھے۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا، یہ ہے مجھ میں اور تم میں جدائی۔ اب میں تمہیں ان کاموں کی اصلیت بتلا دوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کاش کہ موسیٰ علیہ السلام صبر سے کام لیتے تو ان دونوں کی اور بھی بہت سی باتیں ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «وَکَانُ وَرَاۤئَہُمْ» کے بدلے «وَکَانُ اَمَامَہُمْ» ہے اور «سَّفِينَةِ» کے بعد «صَالِحَةٍ» کا لفظ بھی ہے اور «وَاَمَّا الْغُلَامُ» کے بعد «فَکَانُ کَافِرَا» کے لفظ بھی ہیں۔ [صحیح بخاری:4725]
اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ اس پتھر کے پاس موسیٰ علیہ السلام رک گئے، وہیں ایک چشمہ تھا جس کا نام نہر حیات تھا، اس کا پانی جس چیز کو لگ جاتا وہ زندہ ہو جاتی تھی۔ اس میں چڑیا کے پانی لینے کے بعد خضر علیہ السلام کا یہ قول منقول ہے کہ میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا علم اللہ کے علم میں اتنا ہی ہے جتنا اس چڑیا کی چونچ کا پانی اس سمندر کے مقابلے میں، الخ۔ [صحیح بخاری:4727]
صفحہ نمبر4938
صحیح بخاری شریف کی ایک اور حدیث میں ہے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے گھر میں ان کے پاس تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس کو جو سوال کرنا ہو کر لے، میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے آپ رضی اللہ عنہما پر فدا کرے، کوفے میں ایک واعظ ہیں جن کا نام نوف ہے پھر پوری حدیث بیان کی جیسا کہ اوپر گزری۔ اس میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے اس خطبہ سے آنکھوں سے آنسو بہ نکلے اور دل نرم پڑ گئے تھے، جب آپ جانے لگے تو ایک شخص آپ کے پاس پہنچا اور اس نے سوال کیا کہ روئے زمین پر آپ سے زیادہ علم والا بھی کوئی ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا نہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عتاب کیا کیونکہ انہوں نے اللہ کی طرف علم کو نہ لوٹایا۔ اس میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے نشان طلب کیا تو ارشاد ہوا کہ ایک مری ہوئی مچھلی اپنے ساتھ رکھ لو، جس جگہ اس میں روح پڑ جائے، وہیں پر آپ کی اس شخص سے ملاقات ہو گئی۔ چنانچہ آپ نے مچھلی لی زنبیل میں رکھ لی اور اپنے ساتھی سے کہا، آپ کا صرف اتنا ہی کام ہے کہ جہاں یہ مچھلی آپ کے پاس سے چلی جائے، وہاں آپ مجھے خبر کر دینا۔ انہوں نے کہا یہ تو بالکل آسان سی بات ہے۔ ان کا نام یوشع بن نون تھا۔ لفتہ سے یہی مراد ہے۔
صفحہ نمبر4939
یہ دونوں بزرگ تر جگہ میں ایک درخت تلے تھے موسیٰ علیہ السلام کو نیند آ گئی تھی اور یوشع علیہ السلام جاگ رہے تھے جو مچھلی کود گئی۔ انہوں نے خیال کیا کہ جگانا تو ٹھیک نہیں، جب آنکھ کھلے گی ذکر کر دوں گا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ پانی میں جانے کے وقت جو سوراخ ہو گیا تھا، اسے روای حدیث عمرو نے اپنے انگوٹھے اور اس کے پاس کی دونوں انگلیوں کا حلقہ کر کے دکھایا کہ اس طرح کا تھا جیسے پتھر میں ہوتا ہے۔ واپسی پر خضر سمندر کے کنارے سبز گدی بچھائے ملے، ایک چادر میں لپٹے ہوئے تھے، اس کا ایک سرا تو دونوں پیروں کے نیچے رکھا ہوا تھا اور دوسرا کنارہ سر تلے تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کے سلام پر آپعلیہ السلام نے منہ کھولا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں توراۃ موجود ہے، وحی آسمان سے آ رہی ہے، کیا یہ بس نہیں؟ اور میرا علم آپ کے لائق بھی نہیں اور نہ میں آپ کے علم کے قابل ہوں۔ اس میں ہے کہ کشتی کا تختہ توڑ کر آپ نے ایک تانت سے باندھ دیا تھا۔ پہلی دفعہ کا آپ کا سوال تو بھولے سے ہی تھا، دوسری مربتہ کا بطور شرط کے تھا، ہاں تیسری بار کا سوال قصداً علیحدگی کی وجہ سے تھا۔ اس میں ہے کہ لڑکوں میں ایک لڑکا تھا کافر ہوشیار، اسے خضر نے لٹا کر چھری سے ذبح کر دیا۔ ایک قرأت میں زاکیتہ مسلمۃ بھی ہے۔ ورائہم کی قرأت امامہم بھی ہے۔ اس ظالم بادشاہ کا نام اس میں ہدد بن بدر ہے اور جس بچے کو قتل کیا گیا تھا اس کا نام جیسور تھا۔ کہتے ہیں کہ اس لڑکے کے بدلے ان کے ہاں ایک لڑکی ہوئی۔
صفحہ نمبر4940
ایک روایت میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام خطبہ کر رہے تھے اور فرمایا کہ اللہ کو اور اس کے امر کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ الخ۔ یہ نوف کعب رضی اللہ عنہ کی بیوی کے لڑکے تھے اور ان کا قول تھا کہ جس موسیٰ کا ان آیتوں میں ذکر ہے یہ موسیٰ بن میشا تھے۔ اور روایت میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری تعالیٰ سے سوال کیا کہ اے اللہ اگر تیرے بندوں میں مجھ سے بڑا عالم کوئی ہو تو مجھے آگاہ فرما، اس میں ہے کہ نمک چڑھی ہوئی مچھلی آپ نے اپنے ساتھ رکھی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ خضر علیہ السلام نے فرمایا تم یہاں کیوں آئے؟ آپ علیہ السلام کو تو ابھی بنی اسرائیل میں ہی مشغول کار رہنا ہے۔ اس میں ہے کہ چھپی ہوئی باتیں خضر علیہ السلام کو معلوم کرائی جاتی تھیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم میرے ساتھ ٹھہر نہیں سکتے کیونکہ آپ تو ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے اور مجھے راز پر اطلاع ہوتی ہے۔ چنانچہ شرط ہو گئی کہ گو آپ کیسا ہی خلاف دیکھیں لیکن لب نہ ہلائیں جب تک کہ خضر خود نہ بتلائیں۔ کہتے ہیں کہ یہ کشتی تمام کشتیوں سے مضبوط عمدہ اور اچھی تھی، وہ بچہ ایک بے مثل بچہ تھا بڑا حسین بڑا ہوشیار بڑا ہی طرار، خضر نے اسے پکڑ کر پتھر سے اس کا سر کچل کر اسے مار ڈالا۔ موسیٰ خوف الٰہی سے کانپ اٹھے کہ ننھا سا پیارا بےگناہ بچہ اس بیدردی سے بغیر کسی سبب کے خضر نے جان سے مار ڈالا۔ دیوار گرتی ہوئی دیکھ کر ٹھہر گئے، پہلے تو اسے باقاعدہ گرایا اور پھر بہ آرام چننے بیٹھے۔ موسیٰ علیہ السلام اکتا گئے کہ بیٹھے بٹھائے اچھا دھندا لے بیٹھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس دیوار کے نیچے کا خزانہ صرف علم تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23209:ضعیف]
صفحہ نمبر4941
اور روایت میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اور آپ کی قوم مصر پر غالب آ گئی اور یہاں آ کر وہ با آرام رہنے سہنے لگے تو حکم الٰہی ہوا کہ انہیں اللہ کے احسانات یاد دلاؤ۔ آپ خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ کے احسانات بیان کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ یہ نعمتیں عطا فرمائیں، آل فرعون سے اس نے تمہیں نجات دی، تمہارے دشمنوں کو غارت اور غرق کر دیا، پھر تمہیں ان کی زمین کا مالک کر دیا، تمہارے نبی سے باتیں کیں، اسے اپنے لیے پسند فرما لیا، اس پر اپنی محبت ڈال دی، تمہاری تمام حاجتیں پوری کیں، تمہارے نبی تمام زمین والوں سے افضل ہیں، اس نے تمہیں تورات عطا فرمائی۔ الغرض پورے زوروں سے اللہ کی بےشمار اور ان گنت نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔ اس پر ایک بنی اسرائیلی نے کہا، فی الواقع بات یہی ہے اے نبی اللہ کیا زمین پر آپ سے زیادہ علم والا بھی کوئی ہے؟ آپ نے بےساختہ فرمایا کہ نہیں ہے۔ اسی وقت جناب باری تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا کہ ان سے کہو کہ تمہیں کیا معلوم کہ میں اپنا علم کہاں کہاں رکھتا ہوں؟ بیشک سمندر کے کنارے پر ایک شخص ہے جو تجھ سے بھی زیادہ عالم ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، اس سے مراد خضر علیہ السلام ہیں۔
صفحہ نمبر4942
پس موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ ان کو میں دیکھ لوں۔ وحی ہوئی کہ اچھا سمندر کے کنارے جاؤ، وہاں تمہیں ایک مچھلی ملے گی، اسے لے لو اور اسے اپنے ساتھی کو سونپ دو۔ پھر سمندر کے کنارے چل دو جہاں تو مچھلی کو بھول جائے اور وہ تجھ سے گم ہو جائے، وہیں تو میرے اس نیک بندے کو پائے گا۔ موسیٰ علیہ السلام جب چلتے چلتے تھک گئے تو اپنے ساتھی سے جو ان کا غلام تھا، مچھلی کے بارے میں سوال کیا، اس نے جواب دیا کہ جس پتھر کے پاس ہم ٹھہرے تھے، وہیں میں مچھلی کو بھول گیا اور آپ سے ذکر کرنا شیطان نے بالکل بھلا دیا، میں نے دیکھا کہ مچھلی تو گویا سرنگ بناتی ہوئی دریا میں جا رہی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو یہ سن کر بڑا ہی تعجب ہوا، جب لوٹ کر وہاں آئے تو دیکھا کہ مچھلی نے پانی میں جانا شروع کیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام بھی اپنی لکڑی سے پانی کو چیرتے ہوئے اس کے پیچھے ہو لیے۔ مچھلی جہاں سے گزرتی تھی، اس کے دونوں طرف کا پانی پتھر بن جاتا تھا، اس سے بھی اللہ کے نبی سخت متعجب ہوئے۔ اب مچھلی ایک جزیرے میں آپ کو لے گئی الخ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حر بن قیس میں اختلاف تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے یہ صاحب کون تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان تھا کہ یہ خضر تھے۔ اسی وقت ان کے پاس سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما گزرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلا کر اپنا اختلاف بیان کیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی وہ حدیث بیان کی جو تقریباً اوپر گزر چکی ہے۔ اس میں سائل کے سوال کے الفاظ یہ ہیں کہ کیا آپ اس شخص کا ہونا بھی جانتے ہیں جو آپ سے زیادہ علم والا ہو؟ [صحیح مسلم:2380]
صفحہ نمبر4943
موسیٰ علیہ السلام اور اللہ کا ایک بندہ ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ذکر کیا گیا کہ اللہ کا ایک بندہ دو دریا ملنے کی جگہ ہے، اس کے پاس وہ علم ہے جو تمہیں حاصل نہیں، آپ علیہ السلام نے اسی وقت ان سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی۔ اب اپنے ساتھی سے فرماتے ہیں کہ میں تو پہنچے بغیر دم نہ لوں گا۔ کہتے ہیں، یہ دو سمندر ایک تو بحیرہ فارس مشرقی اور دوسرا بحیرہ روم مغربی ہے۔ یہ جگہ طنجہ کے پاس مغرب کے شہروں کے آخر میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تو فرماتے ہیں کہ گو مجھے قرنوں تک چلنا پڑے کوئی حرج نہیں۔ کہتے ہیں کہ قیس کے لغت میں برس کو حقب کہتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حقب سے مراد اسی برس ہیں۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ ستر برس کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما زمانہ بتلاتے ہیں۔
صفحہ نمبر4932
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ملا تھا کہ اپنے ساتھ نمک چڑھی ہوئی ایک مچھلی لیں، جہاں وہ گم ہو جائے وہیں ہمارا بندہ ملے گا۔ یہ دونوں مچھلی کو ساتھ لیے چلے مجمع البحرین میں پہنچ گئے، وہاں نہر حیات تھی وہیں دونوں لیٹ گئے۔ اس نہر کے پانی کے چھینٹے مچھلی پر پڑے، مچھلی ہلنے جلنے لگ گئی۔ آپ علیہ السلام کے ساتھی یوشع علیہ السلام کی زنبیل میں یہ مچھلی رکھی ہوئی تھی اور وہ سمندر کے کنارے تھا۔ مچھلی نے سمندر کے اندر کود جانے کے لیے جست لگائی اور یوشع کی آنکھ کھل گئی۔ مچھلی ان کے دیکھتے ہوئی پانی میں گئی اور پانی میں سیدھا سوراخ ہوتا چلا گیا۔ پس جس طرح زمین میں سوراخ اور سرنگ بن جاتی ہے، اسی طرح پانی میں جہاں سے وہ گئی سوراخ ہو گیا، ادھر ادھر پانی کھڑا ہو گیا اور وہ سوراخ بالکل کھلا ہوا رہا۔ پتھر کی طرح پانی میں چھید ہو گیا، جہاں جس پانی کو لگتی ہوئی وہ مچھلی گئی، وہاں کا وہ پانی پتھر جیسا ہو گیا اور وہ سوراخ بنتا چلا گیا۔
حضرت محمد بن اسحاق رحمہ اللہ مرفوعاً لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ پانی اس طرح ابتداء دنیا سے نہیں جما، سوائے اس مچھلی کے چلے جانے کی جگہ کے اردگرد کے پانی کے۔ یہ نشان مثل سوراخ زمین کے برابر موسیٰ علیہ السلام کے واپس پہنچنے تک باقی ہی رہے۔ اس نشان کو دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، اسی کی تلاش میں تو ہم تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23185:ضعیف] جب مچھلی کو بھول کر یہ دونوں آگے بڑھے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ایک کا کام دونوں ساتھیوں کی طرف منسوب ہوا ہے۔ بھولنے والے صرف یوشع علیہ السلام تھے۔ جیسے فرمان ہے «يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ» [ 55-الرحمن: 22 ] یعنی ان دونوں سمندروں میں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ حالانکہ دو قولوں میں سے ایک یہ ہے کہ لولو اور مرجان صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں۔ جب وہاں سے ایک مرحلہ اور طے کر گئے تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے ناشتہ طلب کیا اور سفر کی تکلیف بھی بیان کی، یہ تکلیف مقصود سے آگے نکل آنے کے بعد ہوئی۔ اس پر آپ کے ساتھی کو مچھلی کا چلا جانا یاد آیا اور کہا جس چٹان کے پاس ہم ٹھہرے تھے، اس وقت میں مچھلی بھول گیا اور آپ سے ذکر کرنا بھی شیطان نے یاد سے ہٹا دیا۔
صفحہ نمبر4933
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت «اَنْ اَذْکُرَ لَہُ» ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس مچھلی نے تو عجیب و غریب طور پر پانی میں اپنی راہ پکڑی۔ اسی وقت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا لو اور سنو اسی جگہ کی تلاش میں ہم تھے۔ تو وہ دونوں اپنے اسی راستے پر اپنے نشانات قدم کے کھوج پر واپس لوٹے۔ وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنے پاس کی رحمت اور اپنے پاس کا علم عطا فرما رکھا تھا۔ یہ خضر علیہ السلام ہیں۔
صفحہ نمبر4934
صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف کا خیال ہے کہ خضر علیہ السلام سے ملنے والے موسیٰ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہ تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، وہ دشمن رب جھوٹا ہے، ہم سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے سنا کہ موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہو کر بنی اسرائیل میں خطبہ کر رہے تھے جو آپ سے سوال ہوا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں، تو چونکہ آپ علیہ السلام نے اس کے جواب میں یہ نہ فرمایا کہ اللہ جانے، اس لیے رب کو یہ کلمہ ناپسند آیا۔ اسی وقت وحی آئی کہ ہاں مجمع البحرین میں ہمارا ایک بندہ ہے جو تجھ سے بھی زیادہ عالم ہے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا پھر پروردگار میں اس تک کیسے پہنچ سکتا ہوں؟ حکم ہوا کہ اپنے ساتھ ایک مچھلی رکھ لو، اسے توشے دان میں ڈال لو، جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے وہیں وہ مل جائیں گے۔ تو آپعلیہ السلام اپنے ساتھ اپنے ساتھی یوشع بن نون علیہ السلام کو لے کر چلے، پتھر کے پاس پہنچ کر اپنے سر اس پر رکھ کر دو گھڑی سو رہے۔ مچھلی اس توشے دان میں تڑپی اور کود کر اس سے نکل گئی، سمندر میں ایسی گئی جیسے کوئی سرنگ لگا کر زمین میں اتر گیا ہو۔ پانی کا چلنا بہنا اللہ تعالیٰ نے موقوف کر دیا اور طاق کی طرح وہ سوراخ باقی رہ گیا۔ موسیٰ علیہ السلام جب جا گے تو آپ کے ساتھی یہ ذکر آپ سے بھول گئے، اسی وقت وہاں سے چل پڑے۔ دن پورا ہونے کے بعد رات بھر چلتے رہے، صبح موسیٰ علیہ السلام کو تھکان اور بھوک محسوس ہوئی۔ اللہ نے جہاں جانے کا حکم دیا تھا جب تک وہاں سے آگے نہ نکل گئے، تھکان کا نام تک نہ تھا۔ اب اپنے ساتھی سے کھانا مانگا اور تکلیف بیان کی۔
صفحہ نمبر4935
اس وقت آپ کے ساتھی نے فرمایا کہ پتھر کے پاس جب ہم نے آرام لیا تھا، وہیں اسی وقت مچھلی تو میں بھول گیا اور اس کے ذکر کو بھی شیطان نے بھلا دیا اور اس مچھلی نے تو سمندر میں عجیب طور پر اپنی راہ نکال لی۔ مچھلی کے لیے سرنگ بن گئی اور ان کے لیے حیرت کا باعث بن گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اسی کی تو تلاش تھی۔ چنانچہ اپنے نشان قدم دیکھتے ہوئے دونوں واپس ہوئے، اسی پتھر کے پاس پہنچے دیکھا کہ ایک صاحب کپڑوں میں لپٹے ہوئے بیٹھے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے سلام کیا، اس نے کہا تعجب ہے آپ کی سر زمین میں یہ سلام کہاں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا میں موسیٰ ہوں۔ انہوں نے پوچھا کیا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں اور میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ مجھے وہ سکھائیں جو بھلائی آپ کو اللہ کی طرف سے سکھائی گئی ہے۔ آپ نے فرمایا موسیٰ علیہ السلام آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ اس لیے کہ مجھے جو علم ہے وہ آپ علیہ السلام کو نہیں اور آپ کو جو علم ہے وہ مجھے نہیں، اللہ تعالیٰ نے دونوں کو جداگانہ علم عطا فرما رکھا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ان شاءاللہ آپ دیکھیں گے کہ میں صبر کروں گا اور آپ کے کسی فرمان کی نافرمانی نہ کروں گا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا اچھا اگر تم میرا ساتھ چاہتے ہو تو مجھ سے خود کسی بات کا سوال نہ کرنا یہاں تک کہ میں آپ تمہیں اس کی بابت خبردار کروں۔
صفحہ نمبر4936
اتنی باتیں طے کر کے دونوں ساتھ چلے، دریا کے کنارے ایک کشتی تھی، ان سے اپنے ساتھ لے جانے کی بات چیت کرنے لگے۔ انہوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کرایہ لیے دونوں کو سوار کر لیا۔ کچھ ہی دور چلے ہوں گے جو موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ خضر علیہ السلام چپ چاپ کشتی کے تختے کلہاڑے سے توڑ رہے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیا؟ ان لوگوں نے تو ہمارے ساتھ احسان کیا بغیر کرایہ لیے کشتی میں سوار کیا اور آپ نے اس کے تختے توڑنے شروع کر دئیے جس سے تمام اہل کشتی ڈوب جائیں، یہ تو بڑا ہی ناخوش گوار کام کرنے لگے۔ اسی وقت خضر علیہ السلام نے فرمایا، دیکھو میں نے تو تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ موسیٰ علیہ السلام معذرت کرنے لگے کہ خطا ہو گئی، بھولے سے پوچھ بیٹھا، معاف فرمائیے اور سختی نہ کیجیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں واقعی یہ پہلی غلطی بھول سے ہی تھی۔ فرماتے ہیں کشتی کے ایک تختے پر ایک چڑیا آ بیٹھی اور سمندر میں چونچ ڈال کر پانی لے کر اڑ گئی، اس وقت خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا، میرے اور تیرے علم نے اللہ کے علم میں سے اتنا ہی کم کیا ہے جتنا پانی سے سمندر میں سے اس چڑیا کی چونچ نے کم کیا ہے۔ اب کشتی کنارے لگی اور ساحل پر دونوں چلنے لگے جو خضر علیہ السلام کی نگاہ چند کھیلتے ہوئے بچوں پر پڑی ان میں سے ایک بچے کا سر پکڑ کر خضر علیہ السلام نے اس طرح مروڑ دیا کہ اسی وقت اس کا دم نکل گیا۔ موسیٰ علیہ السلام گھبرا گئے اور فرمانے لگے، بغیر کسی قتل کے اس بچے کو آپ نے ناحق مار ڈالا؟ آپ نے بڑا ہی منکر کام کیا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا دیکھو اسی کو میں نے پہلے ہی سے کہہ دیا تھا کہ تمہاری ہماری نبھ نہیں سکتی، اس وقت خضر علیہ السلام نے پہلے سے زیادہ سختی کی۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اچھا اب اگر میں کوئی سوال کر بیٹھوں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا، یقیناً اب آپ معذور ہو گئے۔
صفحہ نمبر4937
چنانچہ پھر دونوں ہمراہ چلے ایک بستی والوں کے پاس پہنچے ان سے کھانا مانگا لیکن انہوں نے ان کی مہمانداری سے صاف انکار کر دیا۔ وہیں ایک دیوار دیکھی جو جھک گئی تھی اور گرنے کے قریب تھی، اسی وقت خضر نے ہاتھ لگا کر اسے ٹھیک اور درست کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا خیال تو فرمائیے، ہم یہاں آئے، ان لوگوں سے کھانا طلب کیا، انہوں نے نہ دیا، مہمان نوازی کے خلاف کیا، ان کا یہ کام تھا، آپ ان سے اجرت لے سکتے تھے۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا، یہ ہے مجھ میں اور تم میں جدائی۔ اب میں تمہیں ان کاموں کی اصلیت بتلا دوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کاش کہ موسیٰ علیہ السلام صبر سے کام لیتے تو ان دونوں کی اور بھی بہت سی باتیں ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «وَکَانُ وَرَاۤئَہُمْ» کے بدلے «وَکَانُ اَمَامَہُمْ» ہے اور «سَّفِينَةِ» کے بعد «صَالِحَةٍ» کا لفظ بھی ہے اور «وَاَمَّا الْغُلَامُ» کے بعد «فَکَانُ کَافِرَا» کے لفظ بھی ہیں۔ [صحیح بخاری:4725]
اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ اس پتھر کے پاس موسیٰ علیہ السلام رک گئے، وہیں ایک چشمہ تھا جس کا نام نہر حیات تھا، اس کا پانی جس چیز کو لگ جاتا وہ زندہ ہو جاتی تھی۔ اس میں چڑیا کے پانی لینے کے بعد خضر علیہ السلام کا یہ قول منقول ہے کہ میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا علم اللہ کے علم میں اتنا ہی ہے جتنا اس چڑیا کی چونچ کا پانی اس سمندر کے مقابلے میں، الخ۔ [صحیح بخاری:4727]
صفحہ نمبر4938
صحیح بخاری شریف کی ایک اور حدیث میں ہے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے گھر میں ان کے پاس تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس کو جو سوال کرنا ہو کر لے، میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے آپ رضی اللہ عنہما پر فدا کرے، کوفے میں ایک واعظ ہیں جن کا نام نوف ہے پھر پوری حدیث بیان کی جیسا کہ اوپر گزری۔ اس میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے اس خطبہ سے آنکھوں سے آنسو بہ نکلے اور دل نرم پڑ گئے تھے، جب آپ جانے لگے تو ایک شخص آپ کے پاس پہنچا اور اس نے سوال کیا کہ روئے زمین پر آپ سے زیادہ علم والا بھی کوئی ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا نہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عتاب کیا کیونکہ انہوں نے اللہ کی طرف علم کو نہ لوٹایا۔ اس میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے نشان طلب کیا تو ارشاد ہوا کہ ایک مری ہوئی مچھلی اپنے ساتھ رکھ لو، جس جگہ اس میں روح پڑ جائے، وہیں پر آپ کی اس شخص سے ملاقات ہو گئی۔ چنانچہ آپ نے مچھلی لی زنبیل میں رکھ لی اور اپنے ساتھی سے کہا، آپ کا صرف اتنا ہی کام ہے کہ جہاں یہ مچھلی آپ کے پاس سے چلی جائے، وہاں آپ مجھے خبر کر دینا۔ انہوں نے کہا یہ تو بالکل آسان سی بات ہے۔ ان کا نام یوشع بن نون تھا۔ لفتہ سے یہی مراد ہے۔
صفحہ نمبر4939
یہ دونوں بزرگ تر جگہ میں ایک درخت تلے تھے موسیٰ علیہ السلام کو نیند آ گئی تھی اور یوشع علیہ السلام جاگ رہے تھے جو مچھلی کود گئی۔ انہوں نے خیال کیا کہ جگانا تو ٹھیک نہیں، جب آنکھ کھلے گی ذکر کر دوں گا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ پانی میں جانے کے وقت جو سوراخ ہو گیا تھا، اسے روای حدیث عمرو نے اپنے انگوٹھے اور اس کے پاس کی دونوں انگلیوں کا حلقہ کر کے دکھایا کہ اس طرح کا تھا جیسے پتھر میں ہوتا ہے۔ واپسی پر خضر سمندر کے کنارے سبز گدی بچھائے ملے، ایک چادر میں لپٹے ہوئے تھے، اس کا ایک سرا تو دونوں پیروں کے نیچے رکھا ہوا تھا اور دوسرا کنارہ سر تلے تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کے سلام پر آپعلیہ السلام نے منہ کھولا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں توراۃ موجود ہے، وحی آسمان سے آ رہی ہے، کیا یہ بس نہیں؟ اور میرا علم آپ کے لائق بھی نہیں اور نہ میں آپ کے علم کے قابل ہوں۔ اس میں ہے کہ کشتی کا تختہ توڑ کر آپ نے ایک تانت سے باندھ دیا تھا۔ پہلی دفعہ کا آپ کا سوال تو بھولے سے ہی تھا، دوسری مربتہ کا بطور شرط کے تھا، ہاں تیسری بار کا سوال قصداً علیحدگی کی وجہ سے تھا۔ اس میں ہے کہ لڑکوں میں ایک لڑکا تھا کافر ہوشیار، اسے خضر نے لٹا کر چھری سے ذبح کر دیا۔ ایک قرأت میں زاکیتہ مسلمۃ بھی ہے۔ ورائہم کی قرأت امامہم بھی ہے۔ اس ظالم بادشاہ کا نام اس میں ہدد بن بدر ہے اور جس بچے کو قتل کیا گیا تھا اس کا نام جیسور تھا۔ کہتے ہیں کہ اس لڑکے کے بدلے ان کے ہاں ایک لڑکی ہوئی۔
صفحہ نمبر4940
ایک روایت میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام خطبہ کر رہے تھے اور فرمایا کہ اللہ کو اور اس کے امر کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ الخ۔ یہ نوف کعب رضی اللہ عنہ کی بیوی کے لڑکے تھے اور ان کا قول تھا کہ جس موسیٰ کا ان آیتوں میں ذکر ہے یہ موسیٰ بن میشا تھے۔ اور روایت میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری تعالیٰ سے سوال کیا کہ اے اللہ اگر تیرے بندوں میں مجھ سے بڑا عالم کوئی ہو تو مجھے آگاہ فرما، اس میں ہے کہ نمک چڑھی ہوئی مچھلی آپ نے اپنے ساتھ رکھی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ خضر علیہ السلام نے فرمایا تم یہاں کیوں آئے؟ آپ علیہ السلام کو تو ابھی بنی اسرائیل میں ہی مشغول کار رہنا ہے۔ اس میں ہے کہ چھپی ہوئی باتیں خضر علیہ السلام کو معلوم کرائی جاتی تھیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم میرے ساتھ ٹھہر نہیں سکتے کیونکہ آپ تو ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے اور مجھے راز پر اطلاع ہوتی ہے۔ چنانچہ شرط ہو گئی کہ گو آپ کیسا ہی خلاف دیکھیں لیکن لب نہ ہلائیں جب تک کہ خضر خود نہ بتلائیں۔ کہتے ہیں کہ یہ کشتی تمام کشتیوں سے مضبوط عمدہ اور اچھی تھی، وہ بچہ ایک بے مثل بچہ تھا بڑا حسین بڑا ہوشیار بڑا ہی طرار، خضر نے اسے پکڑ کر پتھر سے اس کا سر کچل کر اسے مار ڈالا۔ موسیٰ خوف الٰہی سے کانپ اٹھے کہ ننھا سا پیارا بےگناہ بچہ اس بیدردی سے بغیر کسی سبب کے خضر نے جان سے مار ڈالا۔ دیوار گرتی ہوئی دیکھ کر ٹھہر گئے، پہلے تو اسے باقاعدہ گرایا اور پھر بہ آرام چننے بیٹھے۔ موسیٰ علیہ السلام اکتا گئے کہ بیٹھے بٹھائے اچھا دھندا لے بیٹھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس دیوار کے نیچے کا خزانہ صرف علم تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23209:ضعیف]
صفحہ نمبر4941
اور روایت میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اور آپ کی قوم مصر پر غالب آ گئی اور یہاں آ کر وہ با آرام رہنے سہنے لگے تو حکم الٰہی ہوا کہ انہیں اللہ کے احسانات یاد دلاؤ۔ آپ خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ کے احسانات بیان کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ یہ نعمتیں عطا فرمائیں، آل فرعون سے اس نے تمہیں نجات دی، تمہارے دشمنوں کو غارت اور غرق کر دیا، پھر تمہیں ان کی زمین کا مالک کر دیا، تمہارے نبی سے باتیں کیں، اسے اپنے لیے پسند فرما لیا، اس پر اپنی محبت ڈال دی، تمہاری تمام حاجتیں پوری کیں، تمہارے نبی تمام زمین والوں سے افضل ہیں، اس نے تمہیں تورات عطا فرمائی۔ الغرض پورے زوروں سے اللہ کی بےشمار اور ان گنت نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔ اس پر ایک بنی اسرائیلی نے کہا، فی الواقع بات یہی ہے اے نبی اللہ کیا زمین پر آپ سے زیادہ علم والا بھی کوئی ہے؟ آپ نے بےساختہ فرمایا کہ نہیں ہے۔ اسی وقت جناب باری تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا کہ ان سے کہو کہ تمہیں کیا معلوم کہ میں اپنا علم کہاں کہاں رکھتا ہوں؟ بیشک سمندر کے کنارے پر ایک شخص ہے جو تجھ سے بھی زیادہ عالم ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، اس سے مراد خضر علیہ السلام ہیں۔
صفحہ نمبر4942
پس موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ ان کو میں دیکھ لوں۔ وحی ہوئی کہ اچھا سمندر کے کنارے جاؤ، وہاں تمہیں ایک مچھلی ملے گی، اسے لے لو اور اسے اپنے ساتھی کو سونپ دو۔ پھر سمندر کے کنارے چل دو جہاں تو مچھلی کو بھول جائے اور وہ تجھ سے گم ہو جائے، وہیں تو میرے اس نیک بندے کو پائے گا۔ موسیٰ علیہ السلام جب چلتے چلتے تھک گئے تو اپنے ساتھی سے جو ان کا غلام تھا، مچھلی کے بارے میں سوال کیا، اس نے جواب دیا کہ جس پتھر کے پاس ہم ٹھہرے تھے، وہیں میں مچھلی کو بھول گیا اور آپ سے ذکر کرنا شیطان نے بالکل بھلا دیا، میں نے دیکھا کہ مچھلی تو گویا سرنگ بناتی ہوئی دریا میں جا رہی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو یہ سن کر بڑا ہی تعجب ہوا، جب لوٹ کر وہاں آئے تو دیکھا کہ مچھلی نے پانی میں جانا شروع کیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام بھی اپنی لکڑی سے پانی کو چیرتے ہوئے اس کے پیچھے ہو لیے۔ مچھلی جہاں سے گزرتی تھی، اس کے دونوں طرف کا پانی پتھر بن جاتا تھا، اس سے بھی اللہ کے نبی سخت متعجب ہوئے۔ اب مچھلی ایک جزیرے میں آپ کو لے گئی الخ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حر بن قیس میں اختلاف تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے یہ صاحب کون تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان تھا کہ یہ خضر تھے۔ اسی وقت ان کے پاس سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما گزرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلا کر اپنا اختلاف بیان کیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی وہ حدیث بیان کی جو تقریباً اوپر گزر چکی ہے۔ اس میں سائل کے سوال کے الفاظ یہ ہیں کہ کیا آپ اس شخص کا ہونا بھی جانتے ہیں جو آپ سے زیادہ علم والا ہو؟ [صحیح مسلم:2380]
صفحہ نمبر4943
موسیٰ علیہ السلام اور اللہ کا ایک بندہ ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ذکر کیا گیا کہ اللہ کا ایک بندہ دو دریا ملنے کی جگہ ہے، اس کے پاس وہ علم ہے جو تمہیں حاصل نہیں، آپ علیہ السلام نے اسی وقت ان سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی۔ اب اپنے ساتھی سے فرماتے ہیں کہ میں تو پہنچے بغیر دم نہ لوں گا۔ کہتے ہیں، یہ دو سمندر ایک تو بحیرہ فارس مشرقی اور دوسرا بحیرہ روم مغربی ہے۔ یہ جگہ طنجہ کے پاس مغرب کے شہروں کے آخر میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تو فرماتے ہیں کہ گو مجھے قرنوں تک چلنا پڑے کوئی حرج نہیں۔ کہتے ہیں کہ قیس کے لغت میں برس کو حقب کہتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حقب سے مراد اسی برس ہیں۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ ستر برس کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما زمانہ بتلاتے ہیں۔
صفحہ نمبر4932
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ملا تھا کہ اپنے ساتھ نمک چڑھی ہوئی ایک مچھلی لیں، جہاں وہ گم ہو جائے وہیں ہمارا بندہ ملے گا۔ یہ دونوں مچھلی کو ساتھ لیے چلے مجمع البحرین میں پہنچ گئے، وہاں نہر حیات تھی وہیں دونوں لیٹ گئے۔ اس نہر کے پانی کے چھینٹے مچھلی پر پڑے، مچھلی ہلنے جلنے لگ گئی۔ آپ علیہ السلام کے ساتھی یوشع علیہ السلام کی زنبیل میں یہ مچھلی رکھی ہوئی تھی اور وہ سمندر کے کنارے تھا۔ مچھلی نے سمندر کے اندر کود جانے کے لیے جست لگائی اور یوشع کی آنکھ کھل گئی۔ مچھلی ان کے دیکھتے ہوئی پانی میں گئی اور پانی میں سیدھا سوراخ ہوتا چلا گیا۔ پس جس طرح زمین میں سوراخ اور سرنگ بن جاتی ہے، اسی طرح پانی میں جہاں سے وہ گئی سوراخ ہو گیا، ادھر ادھر پانی کھڑا ہو گیا اور وہ سوراخ بالکل کھلا ہوا رہا۔ پتھر کی طرح پانی میں چھید ہو گیا، جہاں جس پانی کو لگتی ہوئی وہ مچھلی گئی، وہاں کا وہ پانی پتھر جیسا ہو گیا اور وہ سوراخ بنتا چلا گیا۔
حضرت محمد بن اسحاق رحمہ اللہ مرفوعاً لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ پانی اس طرح ابتداء دنیا سے نہیں جما، سوائے اس مچھلی کے چلے جانے کی جگہ کے اردگرد کے پانی کے۔ یہ نشان مثل سوراخ زمین کے برابر موسیٰ علیہ السلام کے واپس پہنچنے تک باقی ہی رہے۔ اس نشان کو دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، اسی کی تلاش میں تو ہم تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23185:ضعیف] جب مچھلی کو بھول کر یہ دونوں آگے بڑھے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ایک کا کام دونوں ساتھیوں کی طرف منسوب ہوا ہے۔ بھولنے والے صرف یوشع علیہ السلام تھے۔ جیسے فرمان ہے «يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ» [ 55-الرحمن: 22 ] یعنی ان دونوں سمندروں میں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ حالانکہ دو قولوں میں سے ایک یہ ہے کہ لولو اور مرجان صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں۔ جب وہاں سے ایک مرحلہ اور طے کر گئے تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے ناشتہ طلب کیا اور سفر کی تکلیف بھی بیان کی، یہ تکلیف مقصود سے آگے نکل آنے کے بعد ہوئی۔ اس پر آپ کے ساتھی کو مچھلی کا چلا جانا یاد آیا اور کہا جس چٹان کے پاس ہم ٹھہرے تھے، اس وقت میں مچھلی بھول گیا اور آپ سے ذکر کرنا بھی شیطان نے یاد سے ہٹا دیا۔
صفحہ نمبر4933
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت «اَنْ اَذْکُرَ لَہُ» ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس مچھلی نے تو عجیب و غریب طور پر پانی میں اپنی راہ پکڑی۔ اسی وقت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا لو اور سنو اسی جگہ کی تلاش میں ہم تھے۔ تو وہ دونوں اپنے اسی راستے پر اپنے نشانات قدم کے کھوج پر واپس لوٹے۔ وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنے پاس کی رحمت اور اپنے پاس کا علم عطا فرما رکھا تھا۔ یہ خضر علیہ السلام ہیں۔
صفحہ نمبر4934
صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف کا خیال ہے کہ خضر علیہ السلام سے ملنے والے موسیٰ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہ تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، وہ دشمن رب جھوٹا ہے، ہم سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے سنا کہ موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہو کر بنی اسرائیل میں خطبہ کر رہے تھے جو آپ سے سوال ہوا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں، تو چونکہ آپ علیہ السلام نے اس کے جواب میں یہ نہ فرمایا کہ اللہ جانے، اس لیے رب کو یہ کلمہ ناپسند آیا۔ اسی وقت وحی آئی کہ ہاں مجمع البحرین میں ہمارا ایک بندہ ہے جو تجھ سے بھی زیادہ عالم ہے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا پھر پروردگار میں اس تک کیسے پہنچ سکتا ہوں؟ حکم ہوا کہ اپنے ساتھ ایک مچھلی رکھ لو، اسے توشے دان میں ڈال لو، جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے وہیں وہ مل جائیں گے۔ تو آپعلیہ السلام اپنے ساتھ اپنے ساتھی یوشع بن نون علیہ السلام کو لے کر چلے، پتھر کے پاس پہنچ کر اپنے سر اس پر رکھ کر دو گھڑی سو رہے۔ مچھلی اس توشے دان میں تڑپی اور کود کر اس سے نکل گئی، سمندر میں ایسی گئی جیسے کوئی سرنگ لگا کر زمین میں اتر گیا ہو۔ پانی کا چلنا بہنا اللہ تعالیٰ نے موقوف کر دیا اور طاق کی طرح وہ سوراخ باقی رہ گیا۔ موسیٰ علیہ السلام جب جا گے تو آپ کے ساتھی یہ ذکر آپ سے بھول گئے، اسی وقت وہاں سے چل پڑے۔ دن پورا ہونے کے بعد رات بھر چلتے رہے، صبح موسیٰ علیہ السلام کو تھکان اور بھوک محسوس ہوئی۔ اللہ نے جہاں جانے کا حکم دیا تھا جب تک وہاں سے آگے نہ نکل گئے، تھکان کا نام تک نہ تھا۔ اب اپنے ساتھی سے کھانا مانگا اور تکلیف بیان کی۔
صفحہ نمبر4935
اس وقت آپ کے ساتھی نے فرمایا کہ پتھر کے پاس جب ہم نے آرام لیا تھا، وہیں اسی وقت مچھلی تو میں بھول گیا اور اس کے ذکر کو بھی شیطان نے بھلا دیا اور اس مچھلی نے تو سمندر میں عجیب طور پر اپنی راہ نکال لی۔ مچھلی کے لیے سرنگ بن گئی اور ان کے لیے حیرت کا باعث بن گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اسی کی تو تلاش تھی۔ چنانچہ اپنے نشان قدم دیکھتے ہوئے دونوں واپس ہوئے، اسی پتھر کے پاس پہنچے دیکھا کہ ایک صاحب کپڑوں میں لپٹے ہوئے بیٹھے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے سلام کیا، اس نے کہا تعجب ہے آپ کی سر زمین میں یہ سلام کہاں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا میں موسیٰ ہوں۔ انہوں نے پوچھا کیا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں اور میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ مجھے وہ سکھائیں جو بھلائی آپ کو اللہ کی طرف سے سکھائی گئی ہے۔ آپ نے فرمایا موسیٰ علیہ السلام آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ اس لیے کہ مجھے جو علم ہے وہ آپ علیہ السلام کو نہیں اور آپ کو جو علم ہے وہ مجھے نہیں، اللہ تعالیٰ نے دونوں کو جداگانہ علم عطا فرما رکھا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ان شاءاللہ آپ دیکھیں گے کہ میں صبر کروں گا اور آپ کے کسی فرمان کی نافرمانی نہ کروں گا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا اچھا اگر تم میرا ساتھ چاہتے ہو تو مجھ سے خود کسی بات کا سوال نہ کرنا یہاں تک کہ میں آپ تمہیں اس کی بابت خبردار کروں۔
صفحہ نمبر4936
اتنی باتیں طے کر کے دونوں ساتھ چلے، دریا کے کنارے ایک کشتی تھی، ان سے اپنے ساتھ لے جانے کی بات چیت کرنے لگے۔ انہوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کرایہ لیے دونوں کو سوار کر لیا۔ کچھ ہی دور چلے ہوں گے جو موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ خضر علیہ السلام چپ چاپ کشتی کے تختے کلہاڑے سے توڑ رہے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیا؟ ان لوگوں نے تو ہمارے ساتھ احسان کیا بغیر کرایہ لیے کشتی میں سوار کیا اور آپ نے اس کے تختے توڑنے شروع کر دئیے جس سے تمام اہل کشتی ڈوب جائیں، یہ تو بڑا ہی ناخوش گوار کام کرنے لگے۔ اسی وقت خضر علیہ السلام نے فرمایا، دیکھو میں نے تو تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ موسیٰ علیہ السلام معذرت کرنے لگے کہ خطا ہو گئی، بھولے سے پوچھ بیٹھا، معاف فرمائیے اور سختی نہ کیجیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں واقعی یہ پہلی غلطی بھول سے ہی تھی۔ فرماتے ہیں کشتی کے ایک تختے پر ایک چڑیا آ بیٹھی اور سمندر میں چونچ ڈال کر پانی لے کر اڑ گئی، اس وقت خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا، میرے اور تیرے علم نے اللہ کے علم میں سے اتنا ہی کم کیا ہے جتنا پانی سے سمندر میں سے اس چڑیا کی چونچ نے کم کیا ہے۔ اب کشتی کنارے لگی اور ساحل پر دونوں چلنے لگے جو خضر علیہ السلام کی نگاہ چند کھیلتے ہوئے بچوں پر پڑی ان میں سے ایک بچے کا سر پکڑ کر خضر علیہ السلام نے اس طرح مروڑ دیا کہ اسی وقت اس کا دم نکل گیا۔ موسیٰ علیہ السلام گھبرا گئے اور فرمانے لگے، بغیر کسی قتل کے اس بچے کو آپ نے ناحق مار ڈالا؟ آپ نے بڑا ہی منکر کام کیا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا دیکھو اسی کو میں نے پہلے ہی سے کہہ دیا تھا کہ تمہاری ہماری نبھ نہیں سکتی، اس وقت خضر علیہ السلام نے پہلے سے زیادہ سختی کی۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اچھا اب اگر میں کوئی سوال کر بیٹھوں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا، یقیناً اب آپ معذور ہو گئے۔
صفحہ نمبر4937
چنانچہ پھر دونوں ہمراہ چلے ایک بستی والوں کے پاس پہنچے ان سے کھانا مانگا لیکن انہوں نے ان کی مہمانداری سے صاف انکار کر دیا۔ وہیں ایک دیوار دیکھی جو جھک گئی تھی اور گرنے کے قریب تھی، اسی وقت خضر نے ہاتھ لگا کر اسے ٹھیک اور درست کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا خیال تو فرمائیے، ہم یہاں آئے، ان لوگوں سے کھانا طلب کیا، انہوں نے نہ دیا، مہمان نوازی کے خلاف کیا، ان کا یہ کام تھا، آپ ان سے اجرت لے سکتے تھے۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا، یہ ہے مجھ میں اور تم میں جدائی۔ اب میں تمہیں ان کاموں کی اصلیت بتلا دوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کاش کہ موسیٰ علیہ السلام صبر سے کام لیتے تو ان دونوں کی اور بھی بہت سی باتیں ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «وَکَانُ وَرَاۤئَہُمْ» کے بدلے «وَکَانُ اَمَامَہُمْ» ہے اور «سَّفِينَةِ» کے بعد «صَالِحَةٍ» کا لفظ بھی ہے اور «وَاَمَّا الْغُلَامُ» کے بعد «فَکَانُ کَافِرَا» کے لفظ بھی ہیں۔ [صحیح بخاری:4725]
اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ اس پتھر کے پاس موسیٰ علیہ السلام رک گئے، وہیں ایک چشمہ تھا جس کا نام نہر حیات تھا، اس کا پانی جس چیز کو لگ جاتا وہ زندہ ہو جاتی تھی۔ اس میں چڑیا کے پانی لینے کے بعد خضر علیہ السلام کا یہ قول منقول ہے کہ میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا علم اللہ کے علم میں اتنا ہی ہے جتنا اس چڑیا کی چونچ کا پانی اس سمندر کے مقابلے میں، الخ۔ [صحیح بخاری:4727]
صفحہ نمبر4938
صحیح بخاری شریف کی ایک اور حدیث میں ہے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے گھر میں ان کے پاس تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس کو جو سوال کرنا ہو کر لے، میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے آپ رضی اللہ عنہما پر فدا کرے، کوفے میں ایک واعظ ہیں جن کا نام نوف ہے پھر پوری حدیث بیان کی جیسا کہ اوپر گزری۔ اس میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے اس خطبہ سے آنکھوں سے آنسو بہ نکلے اور دل نرم پڑ گئے تھے، جب آپ جانے لگے تو ایک شخص آپ کے پاس پہنچا اور اس نے سوال کیا کہ روئے زمین پر آپ سے زیادہ علم والا بھی کوئی ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا نہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عتاب کیا کیونکہ انہوں نے اللہ کی طرف علم کو نہ لوٹایا۔ اس میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے نشان طلب کیا تو ارشاد ہوا کہ ایک مری ہوئی مچھلی اپنے ساتھ رکھ لو، جس جگہ اس میں روح پڑ جائے، وہیں پر آپ کی اس شخص سے ملاقات ہو گئی۔ چنانچہ آپ نے مچھلی لی زنبیل میں رکھ لی اور اپنے ساتھی سے کہا، آپ کا صرف اتنا ہی کام ہے کہ جہاں یہ مچھلی آپ کے پاس سے چلی جائے، وہاں آپ مجھے خبر کر دینا۔ انہوں نے کہا یہ تو بالکل آسان سی بات ہے۔ ان کا نام یوشع بن نون تھا۔ لفتہ سے یہی مراد ہے۔
صفحہ نمبر4939
یہ دونوں بزرگ تر جگہ میں ایک درخت تلے تھے موسیٰ علیہ السلام کو نیند آ گئی تھی اور یوشع علیہ السلام جاگ رہے تھے جو مچھلی کود گئی۔ انہوں نے خیال کیا کہ جگانا تو ٹھیک نہیں، جب آنکھ کھلے گی ذکر کر دوں گا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ پانی میں جانے کے وقت جو سوراخ ہو گیا تھا، اسے روای حدیث عمرو نے اپنے انگوٹھے اور اس کے پاس کی دونوں انگلیوں کا حلقہ کر کے دکھایا کہ اس طرح کا تھا جیسے پتھر میں ہوتا ہے۔ واپسی پر خضر سمندر کے کنارے سبز گدی بچھائے ملے، ایک چادر میں لپٹے ہوئے تھے، اس کا ایک سرا تو دونوں پیروں کے نیچے رکھا ہوا تھا اور دوسرا کنارہ سر تلے تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کے سلام پر آپعلیہ السلام نے منہ کھولا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں توراۃ موجود ہے، وحی آسمان سے آ رہی ہے، کیا یہ بس نہیں؟ اور میرا علم آپ کے لائق بھی نہیں اور نہ میں آپ کے علم کے قابل ہوں۔ اس میں ہے کہ کشتی کا تختہ توڑ کر آپ نے ایک تانت سے باندھ دیا تھا۔ پہلی دفعہ کا آپ کا سوال تو بھولے سے ہی تھا، دوسری مربتہ کا بطور شرط کے تھا، ہاں تیسری بار کا سوال قصداً علیحدگی کی وجہ سے تھا۔ اس میں ہے کہ لڑکوں میں ایک لڑکا تھا کافر ہوشیار، اسے خضر نے لٹا کر چھری سے ذبح کر دیا۔ ایک قرأت میں زاکیتہ مسلمۃ بھی ہے۔ ورائہم کی قرأت امامہم بھی ہے۔ اس ظالم بادشاہ کا نام اس میں ہدد بن بدر ہے اور جس بچے کو قتل کیا گیا تھا اس کا نام جیسور تھا۔ کہتے ہیں کہ اس لڑکے کے بدلے ان کے ہاں ایک لڑکی ہوئی۔
صفحہ نمبر4940
ایک روایت میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام خطبہ کر رہے تھے اور فرمایا کہ اللہ کو اور اس کے امر کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ الخ۔ یہ نوف کعب رضی اللہ عنہ کی بیوی کے لڑکے تھے اور ان کا قول تھا کہ جس موسیٰ کا ان آیتوں میں ذکر ہے یہ موسیٰ بن میشا تھے۔ اور روایت میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری تعالیٰ سے سوال کیا کہ اے اللہ اگر تیرے بندوں میں مجھ سے بڑا عالم کوئی ہو تو مجھے آگاہ فرما، اس میں ہے کہ نمک چڑھی ہوئی مچھلی آپ نے اپنے ساتھ رکھی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ خضر علیہ السلام نے فرمایا تم یہاں کیوں آئے؟ آپ علیہ السلام کو تو ابھی بنی اسرائیل میں ہی مشغول کار رہنا ہے۔ اس میں ہے کہ چھپی ہوئی باتیں خضر علیہ السلام کو معلوم کرائی جاتی تھیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم میرے ساتھ ٹھہر نہیں سکتے کیونکہ آپ تو ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے اور مجھے راز پر اطلاع ہوتی ہے۔ چنانچہ شرط ہو گئی کہ گو آپ کیسا ہی خلاف دیکھیں لیکن لب نہ ہلائیں جب تک کہ خضر خود نہ بتلائیں۔ کہتے ہیں کہ یہ کشتی تمام کشتیوں سے مضبوط عمدہ اور اچھی تھی، وہ بچہ ایک بے مثل بچہ تھا بڑا حسین بڑا ہوشیار بڑا ہی طرار، خضر نے اسے پکڑ کر پتھر سے اس کا سر کچل کر اسے مار ڈالا۔ موسیٰ خوف الٰہی سے کانپ اٹھے کہ ننھا سا پیارا بےگناہ بچہ اس بیدردی سے بغیر کسی سبب کے خضر نے جان سے مار ڈالا۔ دیوار گرتی ہوئی دیکھ کر ٹھہر گئے، پہلے تو اسے باقاعدہ گرایا اور پھر بہ آرام چننے بیٹھے۔ موسیٰ علیہ السلام اکتا گئے کہ بیٹھے بٹھائے اچھا دھندا لے بیٹھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس دیوار کے نیچے کا خزانہ صرف علم تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23209:ضعیف]
صفحہ نمبر4941
اور روایت میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اور آپ کی قوم مصر پر غالب آ گئی اور یہاں آ کر وہ با آرام رہنے سہنے لگے تو حکم الٰہی ہوا کہ انہیں اللہ کے احسانات یاد دلاؤ۔ آپ خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ کے احسانات بیان کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ یہ نعمتیں عطا فرمائیں، آل فرعون سے اس نے تمہیں نجات دی، تمہارے دشمنوں کو غارت اور غرق کر دیا، پھر تمہیں ان کی زمین کا مالک کر دیا، تمہارے نبی سے باتیں کیں، اسے اپنے لیے پسند فرما لیا، اس پر اپنی محبت ڈال دی، تمہاری تمام حاجتیں پوری کیں، تمہارے نبی تمام زمین والوں سے افضل ہیں، اس نے تمہیں تورات عطا فرمائی۔ الغرض پورے زوروں سے اللہ کی بےشمار اور ان گنت نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔ اس پر ایک بنی اسرائیلی نے کہا، فی الواقع بات یہی ہے اے نبی اللہ کیا زمین پر آپ سے زیادہ علم والا بھی کوئی ہے؟ آپ نے بےساختہ فرمایا کہ نہیں ہے۔ اسی وقت جناب باری تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا کہ ان سے کہو کہ تمہیں کیا معلوم کہ میں اپنا علم کہاں کہاں رکھتا ہوں؟ بیشک سمندر کے کنارے پر ایک شخص ہے جو تجھ سے بھی زیادہ عالم ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، اس سے مراد خضر علیہ السلام ہیں۔
صفحہ نمبر4942
پس موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ ان کو میں دیکھ لوں۔ وحی ہوئی کہ اچھا سمندر کے کنارے جاؤ، وہاں تمہیں ایک مچھلی ملے گی، اسے لے لو اور اسے اپنے ساتھی کو سونپ دو۔ پھر سمندر کے کنارے چل دو جہاں تو مچھلی کو بھول جائے اور وہ تجھ سے گم ہو جائے، وہیں تو میرے اس نیک بندے کو پائے گا۔ موسیٰ علیہ السلام جب چلتے چلتے تھک گئے تو اپنے ساتھی سے جو ان کا غلام تھا، مچھلی کے بارے میں سوال کیا، اس نے جواب دیا کہ جس پتھر کے پاس ہم ٹھہرے تھے، وہیں میں مچھلی کو بھول گیا اور آپ سے ذکر کرنا شیطان نے بالکل بھلا دیا، میں نے دیکھا کہ مچھلی تو گویا سرنگ بناتی ہوئی دریا میں جا رہی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو یہ سن کر بڑا ہی تعجب ہوا، جب لوٹ کر وہاں آئے تو دیکھا کہ مچھلی نے پانی میں جانا شروع کیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام بھی اپنی لکڑی سے پانی کو چیرتے ہوئے اس کے پیچھے ہو لیے۔ مچھلی جہاں سے گزرتی تھی، اس کے دونوں طرف کا پانی پتھر بن جاتا تھا، اس سے بھی اللہ کے نبی سخت متعجب ہوئے۔ اب مچھلی ایک جزیرے میں آپ کو لے گئی الخ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حر بن قیس میں اختلاف تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے یہ صاحب کون تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان تھا کہ یہ خضر تھے۔ اسی وقت ان کے پاس سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما گزرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلا کر اپنا اختلاف بیان کیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی وہ حدیث بیان کی جو تقریباً اوپر گزر چکی ہے۔ اس میں سائل کے سوال کے الفاظ یہ ہیں کہ کیا آپ اس شخص کا ہونا بھی جانتے ہیں جو آپ سے زیادہ علم والا ہو؟ [صحیح مسلم:2380]
صفحہ نمبر4943
موسیٰ علیہ السلام اور اللہ کا ایک بندہ ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ذکر کیا گیا کہ اللہ کا ایک بندہ دو دریا ملنے کی جگہ ہے، اس کے پاس وہ علم ہے جو تمہیں حاصل نہیں، آپ علیہ السلام نے اسی وقت ان سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی۔ اب اپنے ساتھی سے فرماتے ہیں کہ میں تو پہنچے بغیر دم نہ لوں گا۔ کہتے ہیں، یہ دو سمندر ایک تو بحیرہ فارس مشرقی اور دوسرا بحیرہ روم مغربی ہے۔ یہ جگہ طنجہ کے پاس مغرب کے شہروں کے آخر میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تو فرماتے ہیں کہ گو مجھے قرنوں تک چلنا پڑے کوئی حرج نہیں۔ کہتے ہیں کہ قیس کے لغت میں برس کو حقب کہتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حقب سے مراد اسی برس ہیں۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ ستر برس کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما زمانہ بتلاتے ہیں۔
صفحہ نمبر4932
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ملا تھا کہ اپنے ساتھ نمک چڑھی ہوئی ایک مچھلی لیں، جہاں وہ گم ہو جائے وہیں ہمارا بندہ ملے گا۔ یہ دونوں مچھلی کو ساتھ لیے چلے مجمع البحرین میں پہنچ گئے، وہاں نہر حیات تھی وہیں دونوں لیٹ گئے۔ اس نہر کے پانی کے چھینٹے مچھلی پر پڑے، مچھلی ہلنے جلنے لگ گئی۔ آپ علیہ السلام کے ساتھی یوشع علیہ السلام کی زنبیل میں یہ مچھلی رکھی ہوئی تھی اور وہ سمندر کے کنارے تھا۔ مچھلی نے سمندر کے اندر کود جانے کے لیے جست لگائی اور یوشع کی آنکھ کھل گئی۔ مچھلی ان کے دیکھتے ہوئی پانی میں گئی اور پانی میں سیدھا سوراخ ہوتا چلا گیا۔ پس جس طرح زمین میں سوراخ اور سرنگ بن جاتی ہے، اسی طرح پانی میں جہاں سے وہ گئی سوراخ ہو گیا، ادھر ادھر پانی کھڑا ہو گیا اور وہ سوراخ بالکل کھلا ہوا رہا۔ پتھر کی طرح پانی میں چھید ہو گیا، جہاں جس پانی کو لگتی ہوئی وہ مچھلی گئی، وہاں کا وہ پانی پتھر جیسا ہو گیا اور وہ سوراخ بنتا چلا گیا۔
حضرت محمد بن اسحاق رحمہ اللہ مرفوعاً لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ پانی اس طرح ابتداء دنیا سے نہیں جما، سوائے اس مچھلی کے چلے جانے کی جگہ کے اردگرد کے پانی کے۔ یہ نشان مثل سوراخ زمین کے برابر موسیٰ علیہ السلام کے واپس پہنچنے تک باقی ہی رہے۔ اس نشان کو دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، اسی کی تلاش میں تو ہم تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23185:ضعیف] جب مچھلی کو بھول کر یہ دونوں آگے بڑھے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ایک کا کام دونوں ساتھیوں کی طرف منسوب ہوا ہے۔ بھولنے والے صرف یوشع علیہ السلام تھے۔ جیسے فرمان ہے «يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ» [ 55-الرحمن: 22 ] یعنی ان دونوں سمندروں میں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ حالانکہ دو قولوں میں سے ایک یہ ہے کہ لولو اور مرجان صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں۔ جب وہاں سے ایک مرحلہ اور طے کر گئے تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے ناشتہ طلب کیا اور سفر کی تکلیف بھی بیان کی، یہ تکلیف مقصود سے آگے نکل آنے کے بعد ہوئی۔ اس پر آپ کے ساتھی کو مچھلی کا چلا جانا یاد آیا اور کہا جس چٹان کے پاس ہم ٹھہرے تھے، اس وقت میں مچھلی بھول گیا اور آپ سے ذکر کرنا بھی شیطان نے یاد سے ہٹا دیا۔
صفحہ نمبر4933
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت «اَنْ اَذْکُرَ لَہُ» ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس مچھلی نے تو عجیب و غریب طور پر پانی میں اپنی راہ پکڑی۔ اسی وقت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا لو اور سنو اسی جگہ کی تلاش میں ہم تھے۔ تو وہ دونوں اپنے اسی راستے پر اپنے نشانات قدم کے کھوج پر واپس لوٹے۔ وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنے پاس کی رحمت اور اپنے پاس کا علم عطا فرما رکھا تھا۔ یہ خضر علیہ السلام ہیں۔
صفحہ نمبر4934
صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف کا خیال ہے کہ خضر علیہ السلام سے ملنے والے موسیٰ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہ تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، وہ دشمن رب جھوٹا ہے، ہم سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے سنا کہ موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہو کر بنی اسرائیل میں خطبہ کر رہے تھے جو آپ سے سوال ہوا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں، تو چونکہ آپ علیہ السلام نے اس کے جواب میں یہ نہ فرمایا کہ اللہ جانے، اس لیے رب کو یہ کلمہ ناپسند آیا۔ اسی وقت وحی آئی کہ ہاں مجمع البحرین میں ہمارا ایک بندہ ہے جو تجھ سے بھی زیادہ عالم ہے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا پھر پروردگار میں اس تک کیسے پہنچ سکتا ہوں؟ حکم ہوا کہ اپنے ساتھ ایک مچھلی رکھ لو، اسے توشے دان میں ڈال لو، جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے وہیں وہ مل جائیں گے۔ تو آپعلیہ السلام اپنے ساتھ اپنے ساتھی یوشع بن نون علیہ السلام کو لے کر چلے، پتھر کے پاس پہنچ کر اپنے سر اس پر رکھ کر دو گھڑی سو رہے۔ مچھلی اس توشے دان میں تڑپی اور کود کر اس سے نکل گئی، سمندر میں ایسی گئی جیسے کوئی سرنگ لگا کر زمین میں اتر گیا ہو۔ پانی کا چلنا بہنا اللہ تعالیٰ نے موقوف کر دیا اور طاق کی طرح وہ سوراخ باقی رہ گیا۔ موسیٰ علیہ السلام جب جا گے تو آپ کے ساتھی یہ ذکر آپ سے بھول گئے، اسی وقت وہاں سے چل پڑے۔ دن پورا ہونے کے بعد رات بھر چلتے رہے، صبح موسیٰ علیہ السلام کو تھکان اور بھوک محسوس ہوئی۔ اللہ نے جہاں جانے کا حکم دیا تھا جب تک وہاں سے آگے نہ نکل گئے، تھکان کا نام تک نہ تھا۔ اب اپنے ساتھی سے کھانا مانگا اور تکلیف بیان کی۔
صفحہ نمبر4935
اس وقت آپ کے ساتھی نے فرمایا کہ پتھر کے پاس جب ہم نے آرام لیا تھا، وہیں اسی وقت مچھلی تو میں بھول گیا اور اس کے ذکر کو بھی شیطان نے بھلا دیا اور اس مچھلی نے تو سمندر میں عجیب طور پر اپنی راہ نکال لی۔ مچھلی کے لیے سرنگ بن گئی اور ان کے لیے حیرت کا باعث بن گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اسی کی تو تلاش تھی۔ چنانچہ اپنے نشان قدم دیکھتے ہوئے دونوں واپس ہوئے، اسی پتھر کے پاس پہنچے دیکھا کہ ایک صاحب کپڑوں میں لپٹے ہوئے بیٹھے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے سلام کیا، اس نے کہا تعجب ہے آپ کی سر زمین میں یہ سلام کہاں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا میں موسیٰ ہوں۔ انہوں نے پوچھا کیا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں اور میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ مجھے وہ سکھائیں جو بھلائی آپ کو اللہ کی طرف سے سکھائی گئی ہے۔ آپ نے فرمایا موسیٰ علیہ السلام آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ اس لیے کہ مجھے جو علم ہے وہ آپ علیہ السلام کو نہیں اور آپ کو جو علم ہے وہ مجھے نہیں، اللہ تعالیٰ نے دونوں کو جداگانہ علم عطا فرما رکھا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ان شاءاللہ آپ دیکھیں گے کہ میں صبر کروں گا اور آپ کے کسی فرمان کی نافرمانی نہ کروں گا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا اچھا اگر تم میرا ساتھ چاہتے ہو تو مجھ سے خود کسی بات کا سوال نہ کرنا یہاں تک کہ میں آپ تمہیں اس کی بابت خبردار کروں۔
صفحہ نمبر4936
اتنی باتیں طے کر کے دونوں ساتھ چلے، دریا کے کنارے ایک کشتی تھی، ان سے اپنے ساتھ لے جانے کی بات چیت کرنے لگے۔ انہوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کرایہ لیے دونوں کو سوار کر لیا۔ کچھ ہی دور چلے ہوں گے جو موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ خضر علیہ السلام چپ چاپ کشتی کے تختے کلہاڑے سے توڑ رہے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیا؟ ان لوگوں نے تو ہمارے ساتھ احسان کیا بغیر کرایہ لیے کشتی میں سوار کیا اور آپ نے اس کے تختے توڑنے شروع کر دئیے جس سے تمام اہل کشتی ڈوب جائیں، یہ تو بڑا ہی ناخوش گوار کام کرنے لگے۔ اسی وقت خضر علیہ السلام نے فرمایا، دیکھو میں نے تو تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ موسیٰ علیہ السلام معذرت کرنے لگے کہ خطا ہو گئی، بھولے سے پوچھ بیٹھا، معاف فرمائیے اور سختی نہ کیجیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں واقعی یہ پہلی غلطی بھول سے ہی تھی۔ فرماتے ہیں کشتی کے ایک تختے پر ایک چڑیا آ بیٹھی اور سمندر میں چونچ ڈال کر پانی لے کر اڑ گئی، اس وقت خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا، میرے اور تیرے علم نے اللہ کے علم میں سے اتنا ہی کم کیا ہے جتنا پانی سے سمندر میں سے اس چڑیا کی چونچ نے کم کیا ہے۔ اب کشتی کنارے لگی اور ساحل پر دونوں چلنے لگے جو خضر علیہ السلام کی نگاہ چند کھیلتے ہوئے بچوں پر پڑی ان میں سے ایک بچے کا سر پکڑ کر خضر علیہ السلام نے اس طرح مروڑ دیا کہ اسی وقت اس کا دم نکل گیا۔ موسیٰ علیہ السلام گھبرا گئے اور فرمانے لگے، بغیر کسی قتل کے اس بچے کو آپ نے ناحق مار ڈالا؟ آپ نے بڑا ہی منکر کام کیا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا دیکھو اسی کو میں نے پہلے ہی سے کہہ دیا تھا کہ تمہاری ہماری نبھ نہیں سکتی، اس وقت خضر علیہ السلام نے پہلے سے زیادہ سختی کی۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اچھا اب اگر میں کوئی سوال کر بیٹھوں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا، یقیناً اب آپ معذور ہو گئے۔
صفحہ نمبر4937
چنانچہ پھر دونوں ہمراہ چلے ایک بستی والوں کے پاس پہنچے ان سے کھانا مانگا لیکن انہوں نے ان کی مہمانداری سے صاف انکار کر دیا۔ وہیں ایک دیوار دیکھی جو جھک گئی تھی اور گرنے کے قریب تھی، اسی وقت خضر نے ہاتھ لگا کر اسے ٹھیک اور درست کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا خیال تو فرمائیے، ہم یہاں آئے، ان لوگوں سے کھانا طلب کیا، انہوں نے نہ دیا، مہمان نوازی کے خلاف کیا، ان کا یہ کام تھا، آپ ان سے اجرت لے سکتے تھے۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا، یہ ہے مجھ میں اور تم میں جدائی۔ اب میں تمہیں ان کاموں کی اصلیت بتلا دوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کاش کہ موسیٰ علیہ السلام صبر سے کام لیتے تو ان دونوں کی اور بھی بہت سی باتیں ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «وَکَانُ وَرَاۤئَہُمْ» کے بدلے «وَکَانُ اَمَامَہُمْ» ہے اور «سَّفِينَةِ» کے بعد «صَالِحَةٍ» کا لفظ بھی ہے اور «وَاَمَّا الْغُلَامُ» کے بعد «فَکَانُ کَافِرَا» کے لفظ بھی ہیں۔ [صحیح بخاری:4725]
اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ اس پتھر کے پاس موسیٰ علیہ السلام رک گئے، وہیں ایک چشمہ تھا جس کا نام نہر حیات تھا، اس کا پانی جس چیز کو لگ جاتا وہ زندہ ہو جاتی تھی۔ اس میں چڑیا کے پانی لینے کے بعد خضر علیہ السلام کا یہ قول منقول ہے کہ میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا علم اللہ کے علم میں اتنا ہی ہے جتنا اس چڑیا کی چونچ کا پانی اس سمندر کے مقابلے میں، الخ۔ [صحیح بخاری:4727]
صفحہ نمبر4938
صحیح بخاری شریف کی ایک اور حدیث میں ہے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے گھر میں ان کے پاس تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس کو جو سوال کرنا ہو کر لے، میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے آپ رضی اللہ عنہما پر فدا کرے، کوفے میں ایک واعظ ہیں جن کا نام نوف ہے پھر پوری حدیث بیان کی جیسا کہ اوپر گزری۔ اس میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے اس خطبہ سے آنکھوں سے آنسو بہ نکلے اور دل نرم پڑ گئے تھے، جب آپ جانے لگے تو ایک شخص آپ کے پاس پہنچا اور اس نے سوال کیا کہ روئے زمین پر آپ سے زیادہ علم والا بھی کوئی ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا نہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عتاب کیا کیونکہ انہوں نے اللہ کی طرف علم کو نہ لوٹایا۔ اس میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے نشان طلب کیا تو ارشاد ہوا کہ ایک مری ہوئی مچھلی اپنے ساتھ رکھ لو، جس جگہ اس میں روح پڑ جائے، وہیں پر آپ کی اس شخص سے ملاقات ہو گئی۔ چنانچہ آپ نے مچھلی لی زنبیل میں رکھ لی اور اپنے ساتھی سے کہا، آپ کا صرف اتنا ہی کام ہے کہ جہاں یہ مچھلی آپ کے پاس سے چلی جائے، وہاں آپ مجھے خبر کر دینا۔ انہوں نے کہا یہ تو بالکل آسان سی بات ہے۔ ان کا نام یوشع بن نون تھا۔ لفتہ سے یہی مراد ہے۔
صفحہ نمبر4939
یہ دونوں بزرگ تر جگہ میں ایک درخت تلے تھے موسیٰ علیہ السلام کو نیند آ گئی تھی اور یوشع علیہ السلام جاگ رہے تھے جو مچھلی کود گئی۔ انہوں نے خیال کیا کہ جگانا تو ٹھیک نہیں، جب آنکھ کھلے گی ذکر کر دوں گا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ پانی میں جانے کے وقت جو سوراخ ہو گیا تھا، اسے روای حدیث عمرو نے اپنے انگوٹھے اور اس کے پاس کی دونوں انگلیوں کا حلقہ کر کے دکھایا کہ اس طرح کا تھا جیسے پتھر میں ہوتا ہے۔ واپسی پر خضر سمندر کے کنارے سبز گدی بچھائے ملے، ایک چادر میں لپٹے ہوئے تھے، اس کا ایک سرا تو دونوں پیروں کے نیچے رکھا ہوا تھا اور دوسرا کنارہ سر تلے تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کے سلام پر آپعلیہ السلام نے منہ کھولا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں توراۃ موجود ہے، وحی آسمان سے آ رہی ہے، کیا یہ بس نہیں؟ اور میرا علم آپ کے لائق بھی نہیں اور نہ میں آپ کے علم کے قابل ہوں۔ اس میں ہے کہ کشتی کا تختہ توڑ کر آپ نے ایک تانت سے باندھ دیا تھا۔ پہلی دفعہ کا آپ کا سوال تو بھولے سے ہی تھا، دوسری مربتہ کا بطور شرط کے تھا، ہاں تیسری بار کا سوال قصداً علیحدگی کی وجہ سے تھا۔ اس میں ہے کہ لڑکوں میں ایک لڑکا تھا کافر ہوشیار، اسے خضر نے لٹا کر چھری سے ذبح کر دیا۔ ایک قرأت میں زاکیتہ مسلمۃ بھی ہے۔ ورائہم کی قرأت امامہم بھی ہے۔ اس ظالم بادشاہ کا نام اس میں ہدد بن بدر ہے اور جس بچے کو قتل کیا گیا تھا اس کا نام جیسور تھا۔ کہتے ہیں کہ اس لڑکے کے بدلے ان کے ہاں ایک لڑکی ہوئی۔
صفحہ نمبر4940
ایک روایت میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام خطبہ کر رہے تھے اور فرمایا کہ اللہ کو اور اس کے امر کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ الخ۔ یہ نوف کعب رضی اللہ عنہ کی بیوی کے لڑکے تھے اور ان کا قول تھا کہ جس موسیٰ کا ان آیتوں میں ذکر ہے یہ موسیٰ بن میشا تھے۔ اور روایت میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری تعالیٰ سے سوال کیا کہ اے اللہ اگر تیرے بندوں میں مجھ سے بڑا عالم کوئی ہو تو مجھے آگاہ فرما، اس میں ہے کہ نمک چڑھی ہوئی مچھلی آپ نے اپنے ساتھ رکھی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ خضر علیہ السلام نے فرمایا تم یہاں کیوں آئے؟ آپ علیہ السلام کو تو ابھی بنی اسرائیل میں ہی مشغول کار رہنا ہے۔ اس میں ہے کہ چھپی ہوئی باتیں خضر علیہ السلام کو معلوم کرائی جاتی تھیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم میرے ساتھ ٹھہر نہیں سکتے کیونکہ آپ تو ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے اور مجھے راز پر اطلاع ہوتی ہے۔ چنانچہ شرط ہو گئی کہ گو آپ کیسا ہی خلاف دیکھیں لیکن لب نہ ہلائیں جب تک کہ خضر خود نہ بتلائیں۔ کہتے ہیں کہ یہ کشتی تمام کشتیوں سے مضبوط عمدہ اور اچھی تھی، وہ بچہ ایک بے مثل بچہ تھا بڑا حسین بڑا ہوشیار بڑا ہی طرار، خضر نے اسے پکڑ کر پتھر سے اس کا سر کچل کر اسے مار ڈالا۔ موسیٰ خوف الٰہی سے کانپ اٹھے کہ ننھا سا پیارا بےگناہ بچہ اس بیدردی سے بغیر کسی سبب کے خضر نے جان سے مار ڈالا۔ دیوار گرتی ہوئی دیکھ کر ٹھہر گئے، پہلے تو اسے باقاعدہ گرایا اور پھر بہ آرام چننے بیٹھے۔ موسیٰ علیہ السلام اکتا گئے کہ بیٹھے بٹھائے اچھا دھندا لے بیٹھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس دیوار کے نیچے کا خزانہ صرف علم تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23209:ضعیف]
صفحہ نمبر4941
اور روایت میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اور آپ کی قوم مصر پر غالب آ گئی اور یہاں آ کر وہ با آرام رہنے سہنے لگے تو حکم الٰہی ہوا کہ انہیں اللہ کے احسانات یاد دلاؤ۔ آپ خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ کے احسانات بیان کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ یہ نعمتیں عطا فرمائیں، آل فرعون سے اس نے تمہیں نجات دی، تمہارے دشمنوں کو غارت اور غرق کر دیا، پھر تمہیں ان کی زمین کا مالک کر دیا، تمہارے نبی سے باتیں کیں، اسے اپنے لیے پسند فرما لیا، اس پر اپنی محبت ڈال دی، تمہاری تمام حاجتیں پوری کیں، تمہارے نبی تمام زمین والوں سے افضل ہیں، اس نے تمہیں تورات عطا فرمائی۔ الغرض پورے زوروں سے اللہ کی بےشمار اور ان گنت نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔ اس پر ایک بنی اسرائیلی نے کہا، فی الواقع بات یہی ہے اے نبی اللہ کیا زمین پر آپ سے زیادہ علم والا بھی کوئی ہے؟ آپ نے بےساختہ فرمایا کہ نہیں ہے۔ اسی وقت جناب باری تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا کہ ان سے کہو کہ تمہیں کیا معلوم کہ میں اپنا علم کہاں کہاں رکھتا ہوں؟ بیشک سمندر کے کنارے پر ایک شخص ہے جو تجھ سے بھی زیادہ عالم ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، اس سے مراد خضر علیہ السلام ہیں۔
صفحہ نمبر4942
پس موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ ان کو میں دیکھ لوں۔ وحی ہوئی کہ اچھا سمندر کے کنارے جاؤ، وہاں تمہیں ایک مچھلی ملے گی، اسے لے لو اور اسے اپنے ساتھی کو سونپ دو۔ پھر سمندر کے کنارے چل دو جہاں تو مچھلی کو بھول جائے اور وہ تجھ سے گم ہو جائے، وہیں تو میرے اس نیک بندے کو پائے گا۔ موسیٰ علیہ السلام جب چلتے چلتے تھک گئے تو اپنے ساتھی سے جو ان کا غلام تھا، مچھلی کے بارے میں سوال کیا، اس نے جواب دیا کہ جس پتھر کے پاس ہم ٹھہرے تھے، وہیں میں مچھلی کو بھول گیا اور آپ سے ذکر کرنا شیطان نے بالکل بھلا دیا، میں نے دیکھا کہ مچھلی تو گویا سرنگ بناتی ہوئی دریا میں جا رہی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو یہ سن کر بڑا ہی تعجب ہوا، جب لوٹ کر وہاں آئے تو دیکھا کہ مچھلی نے پانی میں جانا شروع کیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام بھی اپنی لکڑی سے پانی کو چیرتے ہوئے اس کے پیچھے ہو لیے۔ مچھلی جہاں سے گزرتی تھی، اس کے دونوں طرف کا پانی پتھر بن جاتا تھا، اس سے بھی اللہ کے نبی سخت متعجب ہوئے۔ اب مچھلی ایک جزیرے میں آپ کو لے گئی الخ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حر بن قیس میں اختلاف تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے یہ صاحب کون تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان تھا کہ یہ خضر تھے۔ اسی وقت ان کے پاس سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما گزرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلا کر اپنا اختلاف بیان کیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی وہ حدیث بیان کی جو تقریباً اوپر گزر چکی ہے۔ اس میں سائل کے سوال کے الفاظ یہ ہیں کہ کیا آپ اس شخص کا ہونا بھی جانتے ہیں جو آپ سے زیادہ علم والا ہو؟ [صحیح مسلم:2380]
صفحہ نمبر4943
موسیٰ علیہ السلام اور اللہ کا ایک بندہ ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ذکر کیا گیا کہ اللہ کا ایک بندہ دو دریا ملنے کی جگہ ہے، اس کے پاس وہ علم ہے جو تمہیں حاصل نہیں، آپ علیہ السلام نے اسی وقت ان سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی۔ اب اپنے ساتھی سے فرماتے ہیں کہ میں تو پہنچے بغیر دم نہ لوں گا۔ کہتے ہیں، یہ دو سمندر ایک تو بحیرہ فارس مشرقی اور دوسرا بحیرہ روم مغربی ہے۔ یہ جگہ طنجہ کے پاس مغرب کے شہروں کے آخر میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تو فرماتے ہیں کہ گو مجھے قرنوں تک چلنا پڑے کوئی حرج نہیں۔ کہتے ہیں کہ قیس کے لغت میں برس کو حقب کہتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حقب سے مراد اسی برس ہیں۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ ستر برس کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما زمانہ بتلاتے ہیں۔
صفحہ نمبر4932
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ملا تھا کہ اپنے ساتھ نمک چڑھی ہوئی ایک مچھلی لیں، جہاں وہ گم ہو جائے وہیں ہمارا بندہ ملے گا۔ یہ دونوں مچھلی کو ساتھ لیے چلے مجمع البحرین میں پہنچ گئے، وہاں نہر حیات تھی وہیں دونوں لیٹ گئے۔ اس نہر کے پانی کے چھینٹے مچھلی پر پڑے، مچھلی ہلنے جلنے لگ گئی۔ آپ علیہ السلام کے ساتھی یوشع علیہ السلام کی زنبیل میں یہ مچھلی رکھی ہوئی تھی اور وہ سمندر کے کنارے تھا۔ مچھلی نے سمندر کے اندر کود جانے کے لیے جست لگائی اور یوشع کی آنکھ کھل گئی۔ مچھلی ان کے دیکھتے ہوئی پانی میں گئی اور پانی میں سیدھا سوراخ ہوتا چلا گیا۔ پس جس طرح زمین میں سوراخ اور سرنگ بن جاتی ہے، اسی طرح پانی میں جہاں سے وہ گئی سوراخ ہو گیا، ادھر ادھر پانی کھڑا ہو گیا اور وہ سوراخ بالکل کھلا ہوا رہا۔ پتھر کی طرح پانی میں چھید ہو گیا، جہاں جس پانی کو لگتی ہوئی وہ مچھلی گئی، وہاں کا وہ پانی پتھر جیسا ہو گیا اور وہ سوراخ بنتا چلا گیا۔
حضرت محمد بن اسحاق رحمہ اللہ مرفوعاً لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ پانی اس طرح ابتداء دنیا سے نہیں جما، سوائے اس مچھلی کے چلے جانے کی جگہ کے اردگرد کے پانی کے۔ یہ نشان مثل سوراخ زمین کے برابر موسیٰ علیہ السلام کے واپس پہنچنے تک باقی ہی رہے۔ اس نشان کو دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، اسی کی تلاش میں تو ہم تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23185:ضعیف] جب مچھلی کو بھول کر یہ دونوں آگے بڑھے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ایک کا کام دونوں ساتھیوں کی طرف منسوب ہوا ہے۔ بھولنے والے صرف یوشع علیہ السلام تھے۔ جیسے فرمان ہے «يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ» [ 55-الرحمن: 22 ] یعنی ان دونوں سمندروں میں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ حالانکہ دو قولوں میں سے ایک یہ ہے کہ لولو اور مرجان صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں۔ جب وہاں سے ایک مرحلہ اور طے کر گئے تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے ناشتہ طلب کیا اور سفر کی تکلیف بھی بیان کی، یہ تکلیف مقصود سے آگے نکل آنے کے بعد ہوئی۔ اس پر آپ کے ساتھی کو مچھلی کا چلا جانا یاد آیا اور کہا جس چٹان کے پاس ہم ٹھہرے تھے، اس وقت میں مچھلی بھول گیا اور آپ سے ذکر کرنا بھی شیطان نے یاد سے ہٹا دیا۔
صفحہ نمبر4933
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت «اَنْ اَذْکُرَ لَہُ» ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس مچھلی نے تو عجیب و غریب طور پر پانی میں اپنی راہ پکڑی۔ اسی وقت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا لو اور سنو اسی جگہ کی تلاش میں ہم تھے۔ تو وہ دونوں اپنے اسی راستے پر اپنے نشانات قدم کے کھوج پر واپس لوٹے۔ وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنے پاس کی رحمت اور اپنے پاس کا علم عطا فرما رکھا تھا۔ یہ خضر علیہ السلام ہیں۔
صفحہ نمبر4934
صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف کا خیال ہے کہ خضر علیہ السلام سے ملنے والے موسیٰ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہ تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، وہ دشمن رب جھوٹا ہے، ہم سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے سنا کہ موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہو کر بنی اسرائیل میں خطبہ کر رہے تھے جو آپ سے سوال ہوا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں، تو چونکہ آپ علیہ السلام نے اس کے جواب میں یہ نہ فرمایا کہ اللہ جانے، اس لیے رب کو یہ کلمہ ناپسند آیا۔ اسی وقت وحی آئی کہ ہاں مجمع البحرین میں ہمارا ایک بندہ ہے جو تجھ سے بھی زیادہ عالم ہے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا پھر پروردگار میں اس تک کیسے پہنچ سکتا ہوں؟ حکم ہوا کہ اپنے ساتھ ایک مچھلی رکھ لو، اسے توشے دان میں ڈال لو، جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے وہیں وہ مل جائیں گے۔ تو آپعلیہ السلام اپنے ساتھ اپنے ساتھی یوشع بن نون علیہ السلام کو لے کر چلے، پتھر کے پاس پہنچ کر اپنے سر اس پر رکھ کر دو گھڑی سو رہے۔ مچھلی اس توشے دان میں تڑپی اور کود کر اس سے نکل گئی، سمندر میں ایسی گئی جیسے کوئی سرنگ لگا کر زمین میں اتر گیا ہو۔ پانی کا چلنا بہنا اللہ تعالیٰ نے موقوف کر دیا اور طاق کی طرح وہ سوراخ باقی رہ گیا۔ موسیٰ علیہ السلام جب جا گے تو آپ کے ساتھی یہ ذکر آپ سے بھول گئے، اسی وقت وہاں سے چل پڑے۔ دن پورا ہونے کے بعد رات بھر چلتے رہے، صبح موسیٰ علیہ السلام کو تھکان اور بھوک محسوس ہوئی۔ اللہ نے جہاں جانے کا حکم دیا تھا جب تک وہاں سے آگے نہ نکل گئے، تھکان کا نام تک نہ تھا۔ اب اپنے ساتھی سے کھانا مانگا اور تکلیف بیان کی۔
صفحہ نمبر4935
اس وقت آپ کے ساتھی نے فرمایا کہ پتھر کے پاس جب ہم نے آرام لیا تھا، وہیں اسی وقت مچھلی تو میں بھول گیا اور اس کے ذکر کو بھی شیطان نے بھلا دیا اور اس مچھلی نے تو سمندر میں عجیب طور پر اپنی راہ نکال لی۔ مچھلی کے لیے سرنگ بن گئی اور ان کے لیے حیرت کا باعث بن گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اسی کی تو تلاش تھی۔ چنانچہ اپنے نشان قدم دیکھتے ہوئے دونوں واپس ہوئے، اسی پتھر کے پاس پہنچے دیکھا کہ ایک صاحب کپڑوں میں لپٹے ہوئے بیٹھے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے سلام کیا، اس نے کہا تعجب ہے آپ کی سر زمین میں یہ سلام کہاں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا میں موسیٰ ہوں۔ انہوں نے پوچھا کیا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں اور میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ مجھے وہ سکھائیں جو بھلائی آپ کو اللہ کی طرف سے سکھائی گئی ہے۔ آپ نے فرمایا موسیٰ علیہ السلام آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ اس لیے کہ مجھے جو علم ہے وہ آپ علیہ السلام کو نہیں اور آپ کو جو علم ہے وہ مجھے نہیں، اللہ تعالیٰ نے دونوں کو جداگانہ علم عطا فرما رکھا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ان شاءاللہ آپ دیکھیں گے کہ میں صبر کروں گا اور آپ کے کسی فرمان کی نافرمانی نہ کروں گا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا اچھا اگر تم میرا ساتھ چاہتے ہو تو مجھ سے خود کسی بات کا سوال نہ کرنا یہاں تک کہ میں آپ تمہیں اس کی بابت خبردار کروں۔
صفحہ نمبر4936
اتنی باتیں طے کر کے دونوں ساتھ چلے، دریا کے کنارے ایک کشتی تھی، ان سے اپنے ساتھ لے جانے کی بات چیت کرنے لگے۔ انہوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کرایہ لیے دونوں کو سوار کر لیا۔ کچھ ہی دور چلے ہوں گے جو موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ خضر علیہ السلام چپ چاپ کشتی کے تختے کلہاڑے سے توڑ رہے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیا؟ ان لوگوں نے تو ہمارے ساتھ احسان کیا بغیر کرایہ لیے کشتی میں سوار کیا اور آپ نے اس کے تختے توڑنے شروع کر دئیے جس سے تمام اہل کشتی ڈوب جائیں، یہ تو بڑا ہی ناخوش گوار کام کرنے لگے۔ اسی وقت خضر علیہ السلام نے فرمایا، دیکھو میں نے تو تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ موسیٰ علیہ السلام معذرت کرنے لگے کہ خطا ہو گئی، بھولے سے پوچھ بیٹھا، معاف فرمائیے اور سختی نہ کیجیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں واقعی یہ پہلی غلطی بھول سے ہی تھی۔ فرماتے ہیں کشتی کے ایک تختے پر ایک چڑیا آ بیٹھی اور سمندر میں چونچ ڈال کر پانی لے کر اڑ گئی، اس وقت خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا، میرے اور تیرے علم نے اللہ کے علم میں سے اتنا ہی کم کیا ہے جتنا پانی سے سمندر میں سے اس چڑیا کی چونچ نے کم کیا ہے۔ اب کشتی کنارے لگی اور ساحل پر دونوں چلنے لگے جو خضر علیہ السلام کی نگاہ چند کھیلتے ہوئے بچوں پر پڑی ان میں سے ایک بچے کا سر پکڑ کر خضر علیہ السلام نے اس طرح مروڑ دیا کہ اسی وقت اس کا دم نکل گیا۔ موسیٰ علیہ السلام گھبرا گئے اور فرمانے لگے، بغیر کسی قتل کے اس بچے کو آپ نے ناحق مار ڈالا؟ آپ نے بڑا ہی منکر کام کیا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا دیکھو اسی کو میں نے پہلے ہی سے کہہ دیا تھا کہ تمہاری ہماری نبھ نہیں سکتی، اس وقت خضر علیہ السلام نے پہلے سے زیادہ سختی کی۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اچھا اب اگر میں کوئی سوال کر بیٹھوں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا، یقیناً اب آپ معذور ہو گئے۔
صفحہ نمبر4937
چنانچہ پھر دونوں ہمراہ چلے ایک بستی والوں کے پاس پہنچے ان سے کھانا مانگا لیکن انہوں نے ان کی مہمانداری سے صاف انکار کر دیا۔ وہیں ایک دیوار دیکھی جو جھک گئی تھی اور گرنے کے قریب تھی، اسی وقت خضر نے ہاتھ لگا کر اسے ٹھیک اور درست کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا خیال تو فرمائیے، ہم یہاں آئے، ان لوگوں سے کھانا طلب کیا، انہوں نے نہ دیا، مہمان نوازی کے خلاف کیا، ان کا یہ کام تھا، آپ ان سے اجرت لے سکتے تھے۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا، یہ ہے مجھ میں اور تم میں جدائی۔ اب میں تمہیں ان کاموں کی اصلیت بتلا دوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کاش کہ موسیٰ علیہ السلام صبر سے کام لیتے تو ان دونوں کی اور بھی بہت سی باتیں ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «وَکَانُ وَرَاۤئَہُمْ» کے بدلے «وَکَانُ اَمَامَہُمْ» ہے اور «سَّفِينَةِ» کے بعد «صَالِحَةٍ» کا لفظ بھی ہے اور «وَاَمَّا الْغُلَامُ» کے بعد «فَکَانُ کَافِرَا» کے لفظ بھی ہیں۔ [صحیح بخاری:4725]
اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ اس پتھر کے پاس موسیٰ علیہ السلام رک گئے، وہیں ایک چشمہ تھا جس کا نام نہر حیات تھا، اس کا پانی جس چیز کو لگ جاتا وہ زندہ ہو جاتی تھی۔ اس میں چڑیا کے پانی لینے کے بعد خضر علیہ السلام کا یہ قول منقول ہے کہ میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا علم اللہ کے علم میں اتنا ہی ہے جتنا اس چڑیا کی چونچ کا پانی اس سمندر کے مقابلے میں، الخ۔ [صحیح بخاری:4727]
صفحہ نمبر4938
صحیح بخاری شریف کی ایک اور حدیث میں ہے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے گھر میں ان کے پاس تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس کو جو سوال کرنا ہو کر لے، میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے آپ رضی اللہ عنہما پر فدا کرے، کوفے میں ایک واعظ ہیں جن کا نام نوف ہے پھر پوری حدیث بیان کی جیسا کہ اوپر گزری۔ اس میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے اس خطبہ سے آنکھوں سے آنسو بہ نکلے اور دل نرم پڑ گئے تھے، جب آپ جانے لگے تو ایک شخص آپ کے پاس پہنچا اور اس نے سوال کیا کہ روئے زمین پر آپ سے زیادہ علم والا بھی کوئی ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا نہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عتاب کیا کیونکہ انہوں نے اللہ کی طرف علم کو نہ لوٹایا۔ اس میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے نشان طلب کیا تو ارشاد ہوا کہ ایک مری ہوئی مچھلی اپنے ساتھ رکھ لو، جس جگہ اس میں روح پڑ جائے، وہیں پر آپ کی اس شخص سے ملاقات ہو گئی۔ چنانچہ آپ نے مچھلی لی زنبیل میں رکھ لی اور اپنے ساتھی سے کہا، آپ کا صرف اتنا ہی کام ہے کہ جہاں یہ مچھلی آپ کے پاس سے چلی جائے، وہاں آپ مجھے خبر کر دینا۔ انہوں نے کہا یہ تو بالکل آسان سی بات ہے۔ ان کا نام یوشع بن نون تھا۔ لفتہ سے یہی مراد ہے۔
صفحہ نمبر4939
یہ دونوں بزرگ تر جگہ میں ایک درخت تلے تھے موسیٰ علیہ السلام کو نیند آ گئی تھی اور یوشع علیہ السلام جاگ رہے تھے جو مچھلی کود گئی۔ انہوں نے خیال کیا کہ جگانا تو ٹھیک نہیں، جب آنکھ کھلے گی ذکر کر دوں گا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ پانی میں جانے کے وقت جو سوراخ ہو گیا تھا، اسے روای حدیث عمرو نے اپنے انگوٹھے اور اس کے پاس کی دونوں انگلیوں کا حلقہ کر کے دکھایا کہ اس طرح کا تھا جیسے پتھر میں ہوتا ہے۔ واپسی پر خضر سمندر کے کنارے سبز گدی بچھائے ملے، ایک چادر میں لپٹے ہوئے تھے، اس کا ایک سرا تو دونوں پیروں کے نیچے رکھا ہوا تھا اور دوسرا کنارہ سر تلے تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کے سلام پر آپعلیہ السلام نے منہ کھولا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں توراۃ موجود ہے، وحی آسمان سے آ رہی ہے، کیا یہ بس نہیں؟ اور میرا علم آپ کے لائق بھی نہیں اور نہ میں آپ کے علم کے قابل ہوں۔ اس میں ہے کہ کشتی کا تختہ توڑ کر آپ نے ایک تانت سے باندھ دیا تھا۔ پہلی دفعہ کا آپ کا سوال تو بھولے سے ہی تھا، دوسری مربتہ کا بطور شرط کے تھا، ہاں تیسری بار کا سوال قصداً علیحدگی کی وجہ سے تھا۔ اس میں ہے کہ لڑکوں میں ایک لڑکا تھا کافر ہوشیار، اسے خضر نے لٹا کر چھری سے ذبح کر دیا۔ ایک قرأت میں زاکیتہ مسلمۃ بھی ہے۔ ورائہم کی قرأت امامہم بھی ہے۔ اس ظالم بادشاہ کا نام اس میں ہدد بن بدر ہے اور جس بچے کو قتل کیا گیا تھا اس کا نام جیسور تھا۔ کہتے ہیں کہ اس لڑکے کے بدلے ان کے ہاں ایک لڑکی ہوئی۔
صفحہ نمبر4940
ایک روایت میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام خطبہ کر رہے تھے اور فرمایا کہ اللہ کو اور اس کے امر کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ الخ۔ یہ نوف کعب رضی اللہ عنہ کی بیوی کے لڑکے تھے اور ان کا قول تھا کہ جس موسیٰ کا ان آیتوں میں ذکر ہے یہ موسیٰ بن میشا تھے۔ اور روایت میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری تعالیٰ سے سوال کیا کہ اے اللہ اگر تیرے بندوں میں مجھ سے بڑا عالم کوئی ہو تو مجھے آگاہ فرما، اس میں ہے کہ نمک چڑھی ہوئی مچھلی آپ نے اپنے ساتھ رکھی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ خضر علیہ السلام نے فرمایا تم یہاں کیوں آئے؟ آپ علیہ السلام کو تو ابھی بنی اسرائیل میں ہی مشغول کار رہنا ہے۔ اس میں ہے کہ چھپی ہوئی باتیں خضر علیہ السلام کو معلوم کرائی جاتی تھیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم میرے ساتھ ٹھہر نہیں سکتے کیونکہ آپ تو ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے اور مجھے راز پر اطلاع ہوتی ہے۔ چنانچہ شرط ہو گئی کہ گو آپ کیسا ہی خلاف دیکھیں لیکن لب نہ ہلائیں جب تک کہ خضر خود نہ بتلائیں۔ کہتے ہیں کہ یہ کشتی تمام کشتیوں سے مضبوط عمدہ اور اچھی تھی، وہ بچہ ایک بے مثل بچہ تھا بڑا حسین بڑا ہوشیار بڑا ہی طرار، خضر نے اسے پکڑ کر پتھر سے اس کا سر کچل کر اسے مار ڈالا۔ موسیٰ خوف الٰہی سے کانپ اٹھے کہ ننھا سا پیارا بےگناہ بچہ اس بیدردی سے بغیر کسی سبب کے خضر نے جان سے مار ڈالا۔ دیوار گرتی ہوئی دیکھ کر ٹھہر گئے، پہلے تو اسے باقاعدہ گرایا اور پھر بہ آرام چننے بیٹھے۔ موسیٰ علیہ السلام اکتا گئے کہ بیٹھے بٹھائے اچھا دھندا لے بیٹھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس دیوار کے نیچے کا خزانہ صرف علم تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23209:ضعیف]
صفحہ نمبر4941
اور روایت میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اور آپ کی قوم مصر پر غالب آ گئی اور یہاں آ کر وہ با آرام رہنے سہنے لگے تو حکم الٰہی ہوا کہ انہیں اللہ کے احسانات یاد دلاؤ۔ آپ خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ کے احسانات بیان کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ یہ نعمتیں عطا فرمائیں، آل فرعون سے اس نے تمہیں نجات دی، تمہارے دشمنوں کو غارت اور غرق کر دیا، پھر تمہیں ان کی زمین کا مالک کر دیا، تمہارے نبی سے باتیں کیں، اسے اپنے لیے پسند فرما لیا، اس پر اپنی محبت ڈال دی، تمہاری تمام حاجتیں پوری کیں، تمہارے نبی تمام زمین والوں سے افضل ہیں، اس نے تمہیں تورات عطا فرمائی۔ الغرض پورے زوروں سے اللہ کی بےشمار اور ان گنت نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔ اس پر ایک بنی اسرائیلی نے کہا، فی الواقع بات یہی ہے اے نبی اللہ کیا زمین پر آپ سے زیادہ علم والا بھی کوئی ہے؟ آپ نے بےساختہ فرمایا کہ نہیں ہے۔ اسی وقت جناب باری تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا کہ ان سے کہو کہ تمہیں کیا معلوم کہ میں اپنا علم کہاں کہاں رکھتا ہوں؟ بیشک سمندر کے کنارے پر ایک شخص ہے جو تجھ سے بھی زیادہ عالم ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، اس سے مراد خضر علیہ السلام ہیں۔
صفحہ نمبر4942
پس موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ ان کو میں دیکھ لوں۔ وحی ہوئی کہ اچھا سمندر کے کنارے جاؤ، وہاں تمہیں ایک مچھلی ملے گی، اسے لے لو اور اسے اپنے ساتھی کو سونپ دو۔ پھر سمندر کے کنارے چل دو جہاں تو مچھلی کو بھول جائے اور وہ تجھ سے گم ہو جائے، وہیں تو میرے اس نیک بندے کو پائے گا۔ موسیٰ علیہ السلام جب چلتے چلتے تھک گئے تو اپنے ساتھی سے جو ان کا غلام تھا، مچھلی کے بارے میں سوال کیا، اس نے جواب دیا کہ جس پتھر کے پاس ہم ٹھہرے تھے، وہیں میں مچھلی کو بھول گیا اور آپ سے ذکر کرنا شیطان نے بالکل بھلا دیا، میں نے دیکھا کہ مچھلی تو گویا سرنگ بناتی ہوئی دریا میں جا رہی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو یہ سن کر بڑا ہی تعجب ہوا، جب لوٹ کر وہاں آئے تو دیکھا کہ مچھلی نے پانی میں جانا شروع کیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام بھی اپنی لکڑی سے پانی کو چیرتے ہوئے اس کے پیچھے ہو لیے۔ مچھلی جہاں سے گزرتی تھی، اس کے دونوں طرف کا پانی پتھر بن جاتا تھا، اس سے بھی اللہ کے نبی سخت متعجب ہوئے۔ اب مچھلی ایک جزیرے میں آپ کو لے گئی الخ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حر بن قیس میں اختلاف تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے یہ صاحب کون تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان تھا کہ یہ خضر تھے۔ اسی وقت ان کے پاس سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما گزرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلا کر اپنا اختلاف بیان کیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی وہ حدیث بیان کی جو تقریباً اوپر گزر چکی ہے۔ اس میں سائل کے سوال کے الفاظ یہ ہیں کہ کیا آپ اس شخص کا ہونا بھی جانتے ہیں جو آپ سے زیادہ علم والا ہو؟ [صحیح مسلم:2380]
صفحہ نمبر4943
شوق تعلیم و تعلم ٭٭
یہاں اس گفتگو کا ذکر ہو رہا ہے جو موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کے درمیان ہوئی تھی۔ خضر اس علم کے ساتھ مخصوص کئے گئے تھے جو موسیٰ علیہ السلام کو نہ تھا۔ اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس وہ علم تھا جس سے خضر بے خبر تھے۔ پس موسیٰ علیہ السلام ادب سے اور اس لیے کہ خضر کو مہربان کر لیں، ان سے سوال کرتے ہیں۔ شاگرد کو اسی طرح ادب کے ساتھ اپنے استاد سے دریافت کرنا چاہیئے، پوچھتے ہیں کہ اگر اجازت ہو تو میں آپ کے ساتھ رہوں، آپ کی خدمت کرتا رہوں اور آپ سے علم حاصل کروں جس سے مجھے نفع پہنچے اور میرے عمل نیک ہو جائیں۔ خضر علیہ السلام اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ تم میرا ساتھ نہیں نبھا سکتے، میرے کام آپ کو اپنے علم کے خلاف نظر آئیں گے۔ میرا علم آپ کو نہیں اور آپ کو جو علم ہے، وہ اللہ نے مجھے نہیں سکھایا، پس میں اپنی ایک الگ خدمت پر مقرر ہوں اور آپ الگ خدمت پر۔ ناممکن ہے کہ آپ اپنی معلومات کے خلاف میرے افعال دیکھیں اور پھر صبر کر سکیں۔ اور واقعہ میں آپ اس حال میں معذور بھی ہیں۔ کیونکہ باطنی حکمت اور مصلحت آپ کو معلوم نہیں اور مجھے اللہ تعالیٰ ان پر مطلع فرما دیا کرتا ہے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ آپ جو کچھ کریں گے، میں اسے صبر سے برداشت کرتا رہوں گا، کسی بات میں آپ کے خلاف نہ کروں گا۔
صفحہ نمبر4949
پھر خضر نے ایک شرط پیش کی کہ اچھا کسی چیز کے بارے میں تم مجھ سے سوال نہ کرنا، میں جو کہوں وہ سن لینا، تم اپنی طرف سے کسی سوال کی ابتداء نہ کرنا۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ رب العالمین عز و جل سے سوال کیا کہ تجھے اپنے بندوں میں سے زیادہ پیارا کون ہے؟ جواب ملا کہ جو ہر وقت میری یاد میں رہے اور مجھے نہ بھلائے۔ پوچھا کہ تمام بندوں میں سے سب سے اچھا فیصلہ کرنے ولا کون ہے؟ فرمایا جو حق کے ساتھ فیصلے کرے اور خواہش کے پیچھے نہ پڑے۔ دریافت کیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ فرمایا وہ عالم جو زیادہ علم کی جستجو میں رہے، ہر ایک سے سیکھتا رہے کہ ممکن ہے کوئی ہدایت کا کلمہ مل جائے اور ممکن ہے کوئی بات گمراہی سے نکلنے کی ہاتھ لگ جائے۔ موسیٰ علیہ السلام نے پھر دریافت کیا کہ کیا زمین میں تیرا کوئی بندہ مجھ سے بھی زیادہ عالم ہے؟ فرمایا ہاں، پوچھا وہ کون ہے؟ فرمایا خضر علیہ السلام۔ فرمایا میں اسے کہاں تلاش کروں؟ فرمایا دریا کے کنارے پتھر کے پاس جہاں سے مچھلی بھاگ کھڑی ہو۔ پس موسیٰ علیہ السلام ان کی جستجو میں چلے۔ پھر وہ ہوا جس کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔ اسی پتھر کے پاس دونوں کی ملاقات ہوئی۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ سمندروں کے ملاپ کی جگہ جہاں سے زیادہ پانی کہیں بھی نہیں، چڑیا نے چونچ میں پانی لیا تھا۔
صفحہ نمبر4950
شوق تعلیم و تعلم ٭٭
یہاں اس گفتگو کا ذکر ہو رہا ہے جو موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کے درمیان ہوئی تھی۔ خضر اس علم کے ساتھ مخصوص کئے گئے تھے جو موسیٰ علیہ السلام کو نہ تھا۔ اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس وہ علم تھا جس سے خضر بے خبر تھے۔ پس موسیٰ علیہ السلام ادب سے اور اس لیے کہ خضر کو مہربان کر لیں، ان سے سوال کرتے ہیں۔ شاگرد کو اسی طرح ادب کے ساتھ اپنے استاد سے دریافت کرنا چاہیئے، پوچھتے ہیں کہ اگر اجازت ہو تو میں آپ کے ساتھ رہوں، آپ کی خدمت کرتا رہوں اور آپ سے علم حاصل کروں جس سے مجھے نفع پہنچے اور میرے عمل نیک ہو جائیں۔ خضر علیہ السلام اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ تم میرا ساتھ نہیں نبھا سکتے، میرے کام آپ کو اپنے علم کے خلاف نظر آئیں گے۔ میرا علم آپ کو نہیں اور آپ کو جو علم ہے، وہ اللہ نے مجھے نہیں سکھایا، پس میں اپنی ایک الگ خدمت پر مقرر ہوں اور آپ الگ خدمت پر۔ ناممکن ہے کہ آپ اپنی معلومات کے خلاف میرے افعال دیکھیں اور پھر صبر کر سکیں۔ اور واقعہ میں آپ اس حال میں معذور بھی ہیں۔ کیونکہ باطنی حکمت اور مصلحت آپ کو معلوم نہیں اور مجھے اللہ تعالیٰ ان پر مطلع فرما دیا کرتا ہے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ آپ جو کچھ کریں گے، میں اسے صبر سے برداشت کرتا رہوں گا، کسی بات میں آپ کے خلاف نہ کروں گا۔
صفحہ نمبر4949
پھر خضر نے ایک شرط پیش کی کہ اچھا کسی چیز کے بارے میں تم مجھ سے سوال نہ کرنا، میں جو کہوں وہ سن لینا، تم اپنی طرف سے کسی سوال کی ابتداء نہ کرنا۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ رب العالمین عز و جل سے سوال کیا کہ تجھے اپنے بندوں میں سے زیادہ پیارا کون ہے؟ جواب ملا کہ جو ہر وقت میری یاد میں رہے اور مجھے نہ بھلائے۔ پوچھا کہ تمام بندوں میں سے سب سے اچھا فیصلہ کرنے ولا کون ہے؟ فرمایا جو حق کے ساتھ فیصلے کرے اور خواہش کے پیچھے نہ پڑے۔ دریافت کیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ فرمایا وہ عالم جو زیادہ علم کی جستجو میں رہے، ہر ایک سے سیکھتا رہے کہ ممکن ہے کوئی ہدایت کا کلمہ مل جائے اور ممکن ہے کوئی بات گمراہی سے نکلنے کی ہاتھ لگ جائے۔ موسیٰ علیہ السلام نے پھر دریافت کیا کہ کیا زمین میں تیرا کوئی بندہ مجھ سے بھی زیادہ عالم ہے؟ فرمایا ہاں، پوچھا وہ کون ہے؟ فرمایا خضر علیہ السلام۔ فرمایا میں اسے کہاں تلاش کروں؟ فرمایا دریا کے کنارے پتھر کے پاس جہاں سے مچھلی بھاگ کھڑی ہو۔ پس موسیٰ علیہ السلام ان کی جستجو میں چلے۔ پھر وہ ہوا جس کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔ اسی پتھر کے پاس دونوں کی ملاقات ہوئی۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ سمندروں کے ملاپ کی جگہ جہاں سے زیادہ پانی کہیں بھی نہیں، چڑیا نے چونچ میں پانی لیا تھا۔
صفحہ نمبر4950
شوق تعلیم و تعلم ٭٭
یہاں اس گفتگو کا ذکر ہو رہا ہے جو موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کے درمیان ہوئی تھی۔ خضر اس علم کے ساتھ مخصوص کئے گئے تھے جو موسیٰ علیہ السلام کو نہ تھا۔ اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس وہ علم تھا جس سے خضر بے خبر تھے۔ پس موسیٰ علیہ السلام ادب سے اور اس لیے کہ خضر کو مہربان کر لیں، ان سے سوال کرتے ہیں۔ شاگرد کو اسی طرح ادب کے ساتھ اپنے استاد سے دریافت کرنا چاہیئے، پوچھتے ہیں کہ اگر اجازت ہو تو میں آپ کے ساتھ رہوں، آپ کی خدمت کرتا رہوں اور آپ سے علم حاصل کروں جس سے مجھے نفع پہنچے اور میرے عمل نیک ہو جائیں۔ خضر علیہ السلام اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ تم میرا ساتھ نہیں نبھا سکتے، میرے کام آپ کو اپنے علم کے خلاف نظر آئیں گے۔ میرا علم آپ کو نہیں اور آپ کو جو علم ہے، وہ اللہ نے مجھے نہیں سکھایا، پس میں اپنی ایک الگ خدمت پر مقرر ہوں اور آپ الگ خدمت پر۔ ناممکن ہے کہ آپ اپنی معلومات کے خلاف میرے افعال دیکھیں اور پھر صبر کر سکیں۔ اور واقعہ میں آپ اس حال میں معذور بھی ہیں۔ کیونکہ باطنی حکمت اور مصلحت آپ کو معلوم نہیں اور مجھے اللہ تعالیٰ ان پر مطلع فرما دیا کرتا ہے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ آپ جو کچھ کریں گے، میں اسے صبر سے برداشت کرتا رہوں گا، کسی بات میں آپ کے خلاف نہ کروں گا۔
صفحہ نمبر4949
پھر خضر نے ایک شرط پیش کی کہ اچھا کسی چیز کے بارے میں تم مجھ سے سوال نہ کرنا، میں جو کہوں وہ سن لینا، تم اپنی طرف سے کسی سوال کی ابتداء نہ کرنا۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ رب العالمین عز و جل سے سوال کیا کہ تجھے اپنے بندوں میں سے زیادہ پیارا کون ہے؟ جواب ملا کہ جو ہر وقت میری یاد میں رہے اور مجھے نہ بھلائے۔ پوچھا کہ تمام بندوں میں سے سب سے اچھا فیصلہ کرنے ولا کون ہے؟ فرمایا جو حق کے ساتھ فیصلے کرے اور خواہش کے پیچھے نہ پڑے۔ دریافت کیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ فرمایا وہ عالم جو زیادہ علم کی جستجو میں رہے، ہر ایک سے سیکھتا رہے کہ ممکن ہے کوئی ہدایت کا کلمہ مل جائے اور ممکن ہے کوئی بات گمراہی سے نکلنے کی ہاتھ لگ جائے۔ موسیٰ علیہ السلام نے پھر دریافت کیا کہ کیا زمین میں تیرا کوئی بندہ مجھ سے بھی زیادہ عالم ہے؟ فرمایا ہاں، پوچھا وہ کون ہے؟ فرمایا خضر علیہ السلام۔ فرمایا میں اسے کہاں تلاش کروں؟ فرمایا دریا کے کنارے پتھر کے پاس جہاں سے مچھلی بھاگ کھڑی ہو۔ پس موسیٰ علیہ السلام ان کی جستجو میں چلے۔ پھر وہ ہوا جس کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔ اسی پتھر کے پاس دونوں کی ملاقات ہوئی۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ سمندروں کے ملاپ کی جگہ جہاں سے زیادہ پانی کہیں بھی نہیں، چڑیا نے چونچ میں پانی لیا تھا۔
صفحہ نمبر4950
شوق تعلیم و تعلم ٭٭
یہاں اس گفتگو کا ذکر ہو رہا ہے جو موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کے درمیان ہوئی تھی۔ خضر اس علم کے ساتھ مخصوص کئے گئے تھے جو موسیٰ علیہ السلام کو نہ تھا۔ اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس وہ علم تھا جس سے خضر بے خبر تھے۔ پس موسیٰ علیہ السلام ادب سے اور اس لیے کہ خضر کو مہربان کر لیں، ان سے سوال کرتے ہیں۔ شاگرد کو اسی طرح ادب کے ساتھ اپنے استاد سے دریافت کرنا چاہیئے، پوچھتے ہیں کہ اگر اجازت ہو تو میں آپ کے ساتھ رہوں، آپ کی خدمت کرتا رہوں اور آپ سے علم حاصل کروں جس سے مجھے نفع پہنچے اور میرے عمل نیک ہو جائیں۔ خضر علیہ السلام اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ تم میرا ساتھ نہیں نبھا سکتے، میرے کام آپ کو اپنے علم کے خلاف نظر آئیں گے۔ میرا علم آپ کو نہیں اور آپ کو جو علم ہے، وہ اللہ نے مجھے نہیں سکھایا، پس میں اپنی ایک الگ خدمت پر مقرر ہوں اور آپ الگ خدمت پر۔ ناممکن ہے کہ آپ اپنی معلومات کے خلاف میرے افعال دیکھیں اور پھر صبر کر سکیں۔ اور واقعہ میں آپ اس حال میں معذور بھی ہیں۔ کیونکہ باطنی حکمت اور مصلحت آپ کو معلوم نہیں اور مجھے اللہ تعالیٰ ان پر مطلع فرما دیا کرتا ہے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ آپ جو کچھ کریں گے، میں اسے صبر سے برداشت کرتا رہوں گا، کسی بات میں آپ کے خلاف نہ کروں گا۔
صفحہ نمبر4949
پھر خضر نے ایک شرط پیش کی کہ اچھا کسی چیز کے بارے میں تم مجھ سے سوال نہ کرنا، میں جو کہوں وہ سن لینا، تم اپنی طرف سے کسی سوال کی ابتداء نہ کرنا۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ رب العالمین عز و جل سے سوال کیا کہ تجھے اپنے بندوں میں سے زیادہ پیارا کون ہے؟ جواب ملا کہ جو ہر وقت میری یاد میں رہے اور مجھے نہ بھلائے۔ پوچھا کہ تمام بندوں میں سے سب سے اچھا فیصلہ کرنے ولا کون ہے؟ فرمایا جو حق کے ساتھ فیصلے کرے اور خواہش کے پیچھے نہ پڑے۔ دریافت کیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ فرمایا وہ عالم جو زیادہ علم کی جستجو میں رہے، ہر ایک سے سیکھتا رہے کہ ممکن ہے کوئی ہدایت کا کلمہ مل جائے اور ممکن ہے کوئی بات گمراہی سے نکلنے کی ہاتھ لگ جائے۔ موسیٰ علیہ السلام نے پھر دریافت کیا کہ کیا زمین میں تیرا کوئی بندہ مجھ سے بھی زیادہ عالم ہے؟ فرمایا ہاں، پوچھا وہ کون ہے؟ فرمایا خضر علیہ السلام۔ فرمایا میں اسے کہاں تلاش کروں؟ فرمایا دریا کے کنارے پتھر کے پاس جہاں سے مچھلی بھاگ کھڑی ہو۔ پس موسیٰ علیہ السلام ان کی جستجو میں چلے۔ پھر وہ ہوا جس کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔ اسی پتھر کے پاس دونوں کی ملاقات ہوئی۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ سمندروں کے ملاپ کی جگہ جہاں سے زیادہ پانی کہیں بھی نہیں، چڑیا نے چونچ میں پانی لیا تھا۔
صفحہ نمبر4950
شوق تعلیم و تعلم ٭٭
یہاں اس گفتگو کا ذکر ہو رہا ہے جو موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کے درمیان ہوئی تھی۔ خضر اس علم کے ساتھ مخصوص کئے گئے تھے جو موسیٰ علیہ السلام کو نہ تھا۔ اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس وہ علم تھا جس سے خضر بے خبر تھے۔ پس موسیٰ علیہ السلام ادب سے اور اس لیے کہ خضر کو مہربان کر لیں، ان سے سوال کرتے ہیں۔ شاگرد کو اسی طرح ادب کے ساتھ اپنے استاد سے دریافت کرنا چاہیئے، پوچھتے ہیں کہ اگر اجازت ہو تو میں آپ کے ساتھ رہوں، آپ کی خدمت کرتا رہوں اور آپ سے علم حاصل کروں جس سے مجھے نفع پہنچے اور میرے عمل نیک ہو جائیں۔ خضر علیہ السلام اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ تم میرا ساتھ نہیں نبھا سکتے، میرے کام آپ کو اپنے علم کے خلاف نظر آئیں گے۔ میرا علم آپ کو نہیں اور آپ کو جو علم ہے، وہ اللہ نے مجھے نہیں سکھایا، پس میں اپنی ایک الگ خدمت پر مقرر ہوں اور آپ الگ خدمت پر۔ ناممکن ہے کہ آپ اپنی معلومات کے خلاف میرے افعال دیکھیں اور پھر صبر کر سکیں۔ اور واقعہ میں آپ اس حال میں معذور بھی ہیں۔ کیونکہ باطنی حکمت اور مصلحت آپ کو معلوم نہیں اور مجھے اللہ تعالیٰ ان پر مطلع فرما دیا کرتا ہے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ آپ جو کچھ کریں گے، میں اسے صبر سے برداشت کرتا رہوں گا، کسی بات میں آپ کے خلاف نہ کروں گا۔
صفحہ نمبر4949
پھر خضر نے ایک شرط پیش کی کہ اچھا کسی چیز کے بارے میں تم مجھ سے سوال نہ کرنا، میں جو کہوں وہ سن لینا، تم اپنی طرف سے کسی سوال کی ابتداء نہ کرنا۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ رب العالمین عز و جل سے سوال کیا کہ تجھے اپنے بندوں میں سے زیادہ پیارا کون ہے؟ جواب ملا کہ جو ہر وقت میری یاد میں رہے اور مجھے نہ بھلائے۔ پوچھا کہ تمام بندوں میں سے سب سے اچھا فیصلہ کرنے ولا کون ہے؟ فرمایا جو حق کے ساتھ فیصلے کرے اور خواہش کے پیچھے نہ پڑے۔ دریافت کیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ فرمایا وہ عالم جو زیادہ علم کی جستجو میں رہے، ہر ایک سے سیکھتا رہے کہ ممکن ہے کوئی ہدایت کا کلمہ مل جائے اور ممکن ہے کوئی بات گمراہی سے نکلنے کی ہاتھ لگ جائے۔ موسیٰ علیہ السلام نے پھر دریافت کیا کہ کیا زمین میں تیرا کوئی بندہ مجھ سے بھی زیادہ عالم ہے؟ فرمایا ہاں، پوچھا وہ کون ہے؟ فرمایا خضر علیہ السلام۔ فرمایا میں اسے کہاں تلاش کروں؟ فرمایا دریا کے کنارے پتھر کے پاس جہاں سے مچھلی بھاگ کھڑی ہو۔ پس موسیٰ علیہ السلام ان کی جستجو میں چلے۔ پھر وہ ہوا جس کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔ اسی پتھر کے پاس دونوں کی ملاقات ہوئی۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ سمندروں کے ملاپ کی جگہ جہاں سے زیادہ پانی کہیں بھی نہیں، چڑیا نے چونچ میں پانی لیا تھا۔
صفحہ نمبر4950
شرائط طے ہو گئیں ٭٭
دونوں میں جب شرط طے ہو گئی کہ تو سوال نہ کرنا جب تک میں خود ہی اس کی حکمت تجھ پر ظاہر نہ کروں تو دونوں ایک ساتھ چلے۔ پہلے مفصل روایتیں گزر چکی ہیں کہ کشتی والوں نے انہیں پہچان کر بغیر کرایہ لیے سوار کر لیا تھا۔ جب کشتی چلی اور بیچ سمندر میں پہنچی تو خضر علیہ السلام نے ایک تختہ اکھیڑ ڈالا پھر اسے اوپر سے ہی جوڑ دیا۔ یہ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سے صبر نہ ہو سکا، شرط کو بھول گئے اور جھٹ سے کہنے لگے کہ یہ کیا واہیات ہے؟ [لِتُغْرِقَ] کا لام لام عاقبت ہے، لام تعلیل نہیں ہے، جیسے شاعر کے اس قول میں [لدوا للموت وبنوا للحزاب] یعنی ہر پیدا شدہ جان دار کا انجام موت ہے اور ہر بنائی ہوئی عمارت کا انجام اجڑنا ہے۔ امرا کے معنی منکر اور عجیب کے ہیں۔ یہ سن کر خضر علیہ السلام نے انہیں ان کا وعدہ یاد دلایا کہ تم نے اپنی شرط کا خلاف کیا۔ میں تو تم سے پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ تمہیں ان باتوں کا علم نہیں، تم خاموش رہنا، مجھ سے نہ کچھ کہنا نہ سوال کرنا۔ ان کاموں کی مصلحت و حکمت اللہ مجھے معلوم کراتا ہے اور تم سے یہ چیزیں مخفی ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے معذرت کی کہ اس بھول کو معاف کرو اور مجھ پر سختی نہ کرو، پہلے جو لمبی حدیث مفصل واقعہ کی بیان ہوئی ہے، اس میں ہے کہ یہ پہلا سوال فی الواقع بھول چوک سے ہی تھا۔
صفحہ نمبر4955
شرائط طے ہو گئیں ٭٭
دونوں میں جب شرط طے ہو گئی کہ تو سوال نہ کرنا جب تک میں خود ہی اس کی حکمت تجھ پر ظاہر نہ کروں تو دونوں ایک ساتھ چلے۔ پہلے مفصل روایتیں گزر چکی ہیں کہ کشتی والوں نے انہیں پہچان کر بغیر کرایہ لیے سوار کر لیا تھا۔ جب کشتی چلی اور بیچ سمندر میں پہنچی تو خضر علیہ السلام نے ایک تختہ اکھیڑ ڈالا پھر اسے اوپر سے ہی جوڑ دیا۔ یہ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سے صبر نہ ہو سکا، شرط کو بھول گئے اور جھٹ سے کہنے لگے کہ یہ کیا واہیات ہے؟ [لِتُغْرِقَ] کا لام لام عاقبت ہے، لام تعلیل نہیں ہے، جیسے شاعر کے اس قول میں [لدوا للموت وبنوا للحزاب] یعنی ہر پیدا شدہ جان دار کا انجام موت ہے اور ہر بنائی ہوئی عمارت کا انجام اجڑنا ہے۔ امرا کے معنی منکر اور عجیب کے ہیں۔ یہ سن کر خضر علیہ السلام نے انہیں ان کا وعدہ یاد دلایا کہ تم نے اپنی شرط کا خلاف کیا۔ میں تو تم سے پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ تمہیں ان باتوں کا علم نہیں، تم خاموش رہنا، مجھ سے نہ کچھ کہنا نہ سوال کرنا۔ ان کاموں کی مصلحت و حکمت اللہ مجھے معلوم کراتا ہے اور تم سے یہ چیزیں مخفی ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے معذرت کی کہ اس بھول کو معاف کرو اور مجھ پر سختی نہ کرو، پہلے جو لمبی حدیث مفصل واقعہ کی بیان ہوئی ہے، اس میں ہے کہ یہ پہلا سوال فی الواقع بھول چوک سے ہی تھا۔
صفحہ نمبر4955
شرائط طے ہو گئیں ٭٭
دونوں میں جب شرط طے ہو گئی کہ تو سوال نہ کرنا جب تک میں خود ہی اس کی حکمت تجھ پر ظاہر نہ کروں تو دونوں ایک ساتھ چلے۔ پہلے مفصل روایتیں گزر چکی ہیں کہ کشتی والوں نے انہیں پہچان کر بغیر کرایہ لیے سوار کر لیا تھا۔ جب کشتی چلی اور بیچ سمندر میں پہنچی تو خضر علیہ السلام نے ایک تختہ اکھیڑ ڈالا پھر اسے اوپر سے ہی جوڑ دیا۔ یہ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سے صبر نہ ہو سکا، شرط کو بھول گئے اور جھٹ سے کہنے لگے کہ یہ کیا واہیات ہے؟ [لِتُغْرِقَ] کا لام لام عاقبت ہے، لام تعلیل نہیں ہے، جیسے شاعر کے اس قول میں [لدوا للموت وبنوا للحزاب] یعنی ہر پیدا شدہ جان دار کا انجام موت ہے اور ہر بنائی ہوئی عمارت کا انجام اجڑنا ہے۔ امرا کے معنی منکر اور عجیب کے ہیں۔ یہ سن کر خضر علیہ السلام نے انہیں ان کا وعدہ یاد دلایا کہ تم نے اپنی شرط کا خلاف کیا۔ میں تو تم سے پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ تمہیں ان باتوں کا علم نہیں، تم خاموش رہنا، مجھ سے نہ کچھ کہنا نہ سوال کرنا۔ ان کاموں کی مصلحت و حکمت اللہ مجھے معلوم کراتا ہے اور تم سے یہ چیزیں مخفی ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے معذرت کی کہ اس بھول کو معاف کرو اور مجھ پر سختی نہ کرو، پہلے جو لمبی حدیث مفصل واقعہ کی بیان ہوئی ہے، اس میں ہے کہ یہ پہلا سوال فی الواقع بھول چوک سے ہی تھا۔
صفحہ نمبر4955
حکمت الہی کے مظاہر ٭٭
فرمان ہے کہ اس واقعہ کے بعد دونوں صاحب ایک ساتھ چلے، ایک بستی میں چند بچے کھیلتے ہوئے ملے۔ ان میں سے ایک بہت ہی تیز طرار، نہایت خوبصورت، چالاک اور بھلا لڑکا تھا۔ اس کو پکڑ کر خضر علیہ السلام نے اس کا سر توڑ دیا یا تو پتھر سے یا ہاتھ سے ہی گردن مروڑ دی بچہ اسی وقت مر گیا۔ موسیٰ علیہ السلام کانپ اٹھے اور بڑے سخت لہجے میں کہا، یہ کیا واہیات ہے؟ چھوٹے بےگناہ بچے کو بغیر کسی شرعی سبب کے مار ڈالنا یہ کون سی بھلائی ہے؟ بیشک تم نہایت منکر کام کرتے ہو۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» تفسیر محمدی کا پندرھواں پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔ آمین۔ ثم آمین۔
صفحہ نمبر4958
موسیٰ علیہ السلام کی بےصبری ٭٭
حضرت خضر علیہ السلام نے اس دوسری مرتبہ اور زیادہ تاکید سے موسیٰ علیہ السلام کو ان کی منظور کی ہوئی شرط کے خلاف کرنے پر تنبیہ فرمائی۔ اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے بھی اس بار اور ہی راہ اختیار کی اور فرمانے لگے، اچھا اب کی دفعہ اور جانے دو اب اگر میں آپ پر اعتراض کروں تو مجھے آپ اپنے ساتھ نہ رہنے دینا، یقیناً آپ بار بار مجھے متنبہ فرماتے رہے اور اپنی طرف سے آپ نے کوئی کمی نہیں کی۔ اب اگر قصور کروں تو سزا پاؤں۔ ابن جریر میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی یاد آ جاتا اور اس کے لیے آپ دعا کرتے تو پہلے اپنے لیے کرتے۔ ایک روز فرمانے لگے ہم پر اللہ کی رحمت ہو اور موسیٰ علیہ السلام پر کاش کہ وہ اپنے ساتھی کے ساتھ اور بھی ٹھہرتے اور صبر کرتے تو اور یعنی بہت سی تعجب خیز باتیں معلوم ہوتیں۔ لیکن انہوں نے تو یہ کہہ کر چھٹی لے لی کہ اب اگر پوچھوں تو ساتھ چھوٹ جائے۔ میں اب زیادہ تکلیف میں آپ کو ڈالنا نہیں چاہتا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23232:صحیح]
صفحہ نمبر4959
موسیٰ علیہ السلام کی بےصبری ٭٭
حضرت خضر علیہ السلام نے اس دوسری مرتبہ اور زیادہ تاکید سے موسیٰ علیہ السلام کو ان کی منظور کی ہوئی شرط کے خلاف کرنے پر تنبیہ فرمائی۔ اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے بھی اس بار اور ہی راہ اختیار کی اور فرمانے لگے، اچھا اب کی دفعہ اور جانے دو اب اگر میں آپ پر اعتراض کروں تو مجھے آپ اپنے ساتھ نہ رہنے دینا، یقیناً آپ بار بار مجھے متنبہ فرماتے رہے اور اپنی طرف سے آپ نے کوئی کمی نہیں کی۔ اب اگر قصور کروں تو سزا پاؤں۔ ابن جریر میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی یاد آ جاتا اور اس کے لیے آپ دعا کرتے تو پہلے اپنے لیے کرتے۔ ایک روز فرمانے لگے ہم پر اللہ کی رحمت ہو اور موسیٰ علیہ السلام پر کاش کہ وہ اپنے ساتھی کے ساتھ اور بھی ٹھہرتے اور صبر کرتے تو اور یعنی بہت سی تعجب خیز باتیں معلوم ہوتیں۔ لیکن انہوں نے تو یہ کہہ کر چھٹی لے لی کہ اب اگر پوچھوں تو ساتھ چھوٹ جائے۔ میں اب زیادہ تکلیف میں آپ کو ڈالنا نہیں چاہتا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23232:صحیح]
صفحہ نمبر4959
ایک اور انوکھی بات ٭٭
دو دفعہ کے اس واقعہ کے بعد پھر دونوں صاحب مل کر چلے اور ایک بستی میں پہنچے۔ مروی ہے وہ بستی ایک تھی یہاں کے لوگ بڑے ہی بخیل تھے۔ [صحیح مسلم:2380] انتہا یہ کہ دو بھوکے مسافروں کے طلب کرنے پر انہوں نے روٹی کھلانے سے بھی صاف انکار کر دیا۔ وہاں دیکھتے ہیں کہ ایک دیوار گرنا ہی چاہتی ہے، جگہ چھوڑ چکی ہے، جھک پڑی ہے۔ دیوار کی طرف ارادے کی اسناد بطور استعارہ کے ہے۔ اسے دیکھتے ہی یہ کمر کس کر لگ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اسے مضبوط کر دیا اور بالکل درست کر دیا۔ پہلے حدیث بیان ہو چکی ہے کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے لوٹا دیا۔ خم ٹھیک ہو گیا اور دیوار درست بن گئی۔ اس وقت پھر کلیم اللہ علیہ السلام بول اٹھے کہ سبحان اللہ ان لوگوں نے تو ہمیں کھانے تک کو نہ پوچھا بلکہ مانگنے پر بھاگ گئے۔ اب جو تم نے ان کی یہ مزدوری کر دی، اس پر کچھ اجرت کیوں نہ لے لی جو بالکل ہمارا حق تھا؟ اس وقت وہ بندہ الٰہی بول اٹھے! لو صاحب اب مجھ میں اور آپ میں حسب معاہدہ خود جدائی ہو گئی۔ کیونکہ بچے کے قتل پر آپ نے سوال کیا تھا اس وقت جب میں نے آپ کو اس غلطی پر متنبہ کیا تھا تو آپ نے خود ہی کہا تھا کہ اب اگر کسی بات کو پوچھوں تو مجھے اپنے ساتھ سے الگ کر دینا۔ اب سنو! جن باتوں پر آپ نے تعجب سے سوال کیا اور برداشت نہ کر سکے، ان کی اصلی حکمت آپ پر ظاہر کئے دیتا ہوں۔
صفحہ نمبر4961
ایک اور انوکھی بات ٭٭
دو دفعہ کے اس واقعہ کے بعد پھر دونوں صاحب مل کر چلے اور ایک بستی میں پہنچے۔ مروی ہے وہ بستی ایک تھی یہاں کے لوگ بڑے ہی بخیل تھے۔ [صحیح مسلم:2380] انتہا یہ کہ دو بھوکے مسافروں کے طلب کرنے پر انہوں نے روٹی کھلانے سے بھی صاف انکار کر دیا۔ وہاں دیکھتے ہیں کہ ایک دیوار گرنا ہی چاہتی ہے، جگہ چھوڑ چکی ہے، جھک پڑی ہے۔ دیوار کی طرف ارادے کی اسناد بطور استعارہ کے ہے۔ اسے دیکھتے ہی یہ کمر کس کر لگ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اسے مضبوط کر دیا اور بالکل درست کر دیا۔ پہلے حدیث بیان ہو چکی ہے کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے لوٹا دیا۔ خم ٹھیک ہو گیا اور دیوار درست بن گئی۔ اس وقت پھر کلیم اللہ علیہ السلام بول اٹھے کہ سبحان اللہ ان لوگوں نے تو ہمیں کھانے تک کو نہ پوچھا بلکہ مانگنے پر بھاگ گئے۔ اب جو تم نے ان کی یہ مزدوری کر دی، اس پر کچھ اجرت کیوں نہ لے لی جو بالکل ہمارا حق تھا؟ اس وقت وہ بندہ الٰہی بول اٹھے! لو صاحب اب مجھ میں اور آپ میں حسب معاہدہ خود جدائی ہو گئی۔ کیونکہ بچے کے قتل پر آپ نے سوال کیا تھا اس وقت جب میں نے آپ کو اس غلطی پر متنبہ کیا تھا تو آپ نے خود ہی کہا تھا کہ اب اگر کسی بات کو پوچھوں تو مجھے اپنے ساتھ سے الگ کر دینا۔ اب سنو! جن باتوں پر آپ نے تعجب سے سوال کیا اور برداشت نہ کر سکے، ان کی اصلی حکمت آپ پر ظاہر کئے دیتا ہوں۔
صفحہ نمبر4961
اللہ کی مصلحتوں کی وضاحت ٭٭
بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کے انجام سے خضر علیہ السلام کو مطلع کر دیا تھا اور انہیں جو حکم ملا تھا، وہ انہوں نے کیا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو اس راز کا علم نہ تھا اس لیے بظاہر اسے خلاف سمجھ کر اس پر انکار کرتے تھے لہٰذا خضر علیہ السلام نے اب اصل معاملہ سمجھا دیا۔ فرمایا کہ کشتی کو عیب دار کرنے میں تو یہ مصلحت تھی کہ اگر صحیح سالم ہوتی تو آگے چل کر ایک ظالم بادشاہ تھا جو ہر ایک اچھی کشتی کو ظلما چھین لیتا تھا۔ جب اسے وہ ٹوٹی پھوٹی دیکھے گا تو چھوڑ دے گا۔ اگر یہ ٹھیک ٹھاک اور ثابت ہوتی تو ساری کشتی ہی ان مسکینوں کے ہاتھ سے چھن جاتی اور ان کی روزی کمانے کا یہی ایک ذریعہ تھا جو بالکل جاتا رہتا۔ مروی ہے کہ اس کشتی کے مالک چند یتیم بچے تھے۔ ابن جریج کہتے ہیں اس بادشاہ کا نام حدوبن بدو تھا۔ بخاری شریف کے حوالے سے یہ راویت پہلے گزر چکی ہے۔ تورات میں ہے کہ یہ عیص بن اسحاق کی نسل سے تھا، توراۃ میں جن بادشاہوں کا صریح ذکر ہے ان میں ایک یہ بھی ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4963
اللہ کی رضا اور انسان ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس نوجوان کا نام جیسور تھا۔ حدیث میں ہے کہ اس کی جبلت میں ہی کفر تھا۔ [صحیح مسلم:2661] خضر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بہت ممکن تھا کہ اس بچے کی محبت اس کے ماں باپ کو بھی کفر کی طرف مائل کر دے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس کی پیدائش سے اس کے ماں باپ بہت خوش ہوئے تھے اور اس کی ہلاکت سے وہ بہت غمگین ہوئے، حالانکہ اس کی زندگی ان کے لیے ہلاکت تھی۔ پس انسان کو چاہیئے کہ اللہ کی قضاء پر راضی رہے۔ رب انجام کو جانتا ہے اور ہم اس سے غافل ہیں۔ مومن جو کام اپنے لیے پسند کرتا ہے، اس کی اپنی پسند سے وہ اچھا ہے جو اللہ اس کے لیے پسند فرماتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کے لیے جو اللہ کے فیصلے ہوتے ہیں، وہ سراسر بہتری اور عمدگی والے ہی ہوتے ہیں۔ [مسند احمد:117/3:صحیح] قرآن کریم میں ہے «وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ» [ 2-البقرہ: 216 ] یعنی بہت ممکن ہے کہ ایک کام تم اپنے لیے برا اور ضرر والا سمجھتے ہو اور وہی دراصل تمہارے لیے بھلا اور مفید ہو۔
خضر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہم نے چاہا کہ اللہ انہیں ایسا بچہ دے جو بہت پرہیزگار ہو اور جس پر ماں باپ کو زیادہ پیار ہو۔ یا یہ کہ جو ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہو۔ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس لڑکے کے بدلے اللہ نے ان کے ہاں ایک لڑکی دی۔ مروی ہے کہ اس بچے کے قتل کے وقت اس کی والدہ کے حمل سے ایک مسلمان لڑکا تھا اور وہ حاملہ تھیں۔
صفحہ نمبر4964
اللہ کی رضا اور انسان ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس نوجوان کا نام جیسور تھا۔ حدیث میں ہے کہ اس کی جبلت میں ہی کفر تھا۔ [صحیح مسلم:2661] خضر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بہت ممکن تھا کہ اس بچے کی محبت اس کے ماں باپ کو بھی کفر کی طرف مائل کر دے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس کی پیدائش سے اس کے ماں باپ بہت خوش ہوئے تھے اور اس کی ہلاکت سے وہ بہت غمگین ہوئے، حالانکہ اس کی زندگی ان کے لیے ہلاکت تھی۔ پس انسان کو چاہیئے کہ اللہ کی قضاء پر راضی رہے۔ رب انجام کو جانتا ہے اور ہم اس سے غافل ہیں۔ مومن جو کام اپنے لیے پسند کرتا ہے، اس کی اپنی پسند سے وہ اچھا ہے جو اللہ اس کے لیے پسند فرماتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کے لیے جو اللہ کے فیصلے ہوتے ہیں، وہ سراسر بہتری اور عمدگی والے ہی ہوتے ہیں۔ [مسند احمد:117/3:صحیح] قرآن کریم میں ہے «وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ» [ 2-البقرہ: 216 ] یعنی بہت ممکن ہے کہ ایک کام تم اپنے لیے برا اور ضرر والا سمجھتے ہو اور وہی دراصل تمہارے لیے بھلا اور مفید ہو۔
خضر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہم نے چاہا کہ اللہ انہیں ایسا بچہ دے جو بہت پرہیزگار ہو اور جس پر ماں باپ کو زیادہ پیار ہو۔ یا یہ کہ جو ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہو۔ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس لڑکے کے بدلے اللہ نے ان کے ہاں ایک لڑکی دی۔ مروی ہے کہ اس بچے کے قتل کے وقت اس کی والدہ کے حمل سے ایک مسلمان لڑکا تھا اور وہ حاملہ تھیں۔
صفحہ نمبر4964
اللہ کی حفاظت کا ایک انداز ٭٭
اس آیت سے ثابت ہوا کہ بڑے شہر پر بھی قریہ کا اطلاق ہو سکتا ہے کیونکہ پہلے «فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ» [ الکھف: 77 ] فرمایا تھا اور یہاں «فِي الْمَدِينَةِ» فرمایا۔ اسی طرح مکہ شریف کو بھی قریہ کہا گیا ہے۔ فرمان ہے «وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ» [ 47-محمد: 13 ] الخ۔ اور آیت میں مکہ اور طائف دونوں شہروں کو قریہ فرمایا گیا ہے چنانچہ ارشاد ہے «وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ» [ 43- الزخرف: 31 ] ۔ آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ اس دیوار کو درست کر دینے میں مصلحت الٰہی یہ تھی کہ یہ اس شہر کے دو یتیموں کی تھی اس کے نیچے انکا مال دفن تھا۔ ٹھیک تفسیر تو یہی ہے گو یہ بھی مروی ہے کہ وہ علمی خزانہ تھا۔ بلکہ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ جس خزانے کا ذکر کتاب اللہ میں ہے، یہ خالص سونے کی تختیاں تھیں جن پر لکھا ہوا تھا کہ تعجب ہے اس شخص پر جو تقدیر کا قائل ہوتے ہوئے اپنی جان کو محنت و مشقت میں ڈال رہا ہے اور رنج و غم برداشت کر رہا ہے۔ تعجب ہے کہ جو جہنم کے عذابوں کا ماننے والا ہے، پھر بھی ہنسی کھیل میں مشغول ہے۔ تعجب ہے کہ موت کا یقین رکھتے ہوئے غفلت میں پڑا ہوا ہے۔ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» ۔ یہ عبارت ان تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔ [مسند بزار:2229:ضعیف] لیکن اس میں ایک راوی بشر بن منذر ہیں۔ کہا گیا ہے کہ یہ مصیصہ کے قاضی تھے ان کی حدیث میں وہم ہے۔
صفحہ نمبر4966
سلف سے بھی اس بارے میں بعض آثار مروی ہیں۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، یہ سونے کی تختی تھی جس میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کے بعد قریب قریب مندرجہ بالا نصحیتں اور آخر میں کلمہ طیبہ تھا۔ عمر مولیٰ غفرہ سے بھی تقریباً یہی مروی ہے۔ امام جعفر بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں ڈھائی سطریں تھیں پوری تین نہ تھیں، الخ۔ مذکور ہے کہ یہ دونوں یتیم بوجہ اپنے ساتویں دادا کی نیکیوں کے محفوظ رکھے گئے تھے۔ جن بزرگوں نے یہ تفسیر کی ہے، وہ بھی پہلی تفسیر کے خلاف نہیں کیونکہ اس میں بھی ہے کہ یہ علمی باتیں سونے کی تختی پر لکھی ہوئی تھیں اور ظاہر ہے کہ سونے کی تختی خود مال ہے اور بہت بڑی رقم کی چیز ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4967
والدین کے سبب اولاد پر رحم ٭٭
اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی نیکیوں کی وجہ سے اس کے بال بچے بھی دنیا اور آخرت میں اللہ کی مہربانی حاصل کر لیتے ہیں۔ جیسے قرآن و حدیث میں صراحتا مذکور ہے دیکھئیے آیت میں ان کی کوئی صلاحیت بیان نہیں ہوئی ہاں ان کے والد کی نیک بختی اور نیک عملی بیان ہوئی ہے۔ اور پہلے گزر چکا ہے یہ باپ جس کی نیکی کی وجہ سے ان کی حفاظت ہوئی یہ ان بچوں کا ساتواں دادا تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ آیت میں ہے تیرے رب نے چاہا، یہ اسناد اللہ کی طرف اس لیے کی گئی ہے کہ جوانی تک پہنچانے پر بجز اس کے اور کوئی قادر نہیں۔ دیکھئیے بچے کی بارے میں اور کشتی کے بارے میں ارادے کی نسبت اپنی طرف کی گئی ہے «فَأَرَدْنَا» اور «فَأَرَدتُّ» کے لفظ ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرماتے ہیں کہ دراصل یہ تینوں باتیں جنہیں تم نے خطرناک سمجھا سراسر رحمت تھیں۔ کشتی والوں کو گو قدرے نقصان ہوا لیکن اس سے پوری کشتی بچ گئی۔ بچے کے مرنے کی وجہ سے گو ماں باپ کو رنج ہوا لیکن ہمیشہ کے رنج اور عذاب الٰہی سے بچ گئے اور پھر نیک بدلہ ہاتھوں ہاتھ مل گیا۔ اور یہاں اس نیک شخص کی اولاد کا بھلا ہوا۔ یہ کام میں نے اپنی خوشی سے نہیں کئے بلکہ احکام الٰہی بجا لایا۔ اس سے بعض لوگوں نے خضر علیہ السلام کی نبوت پر استدلال کیا ہے اور پوری بحث پہلے گزر چکی ہے اور کچھ لوگ کہتے ہیں یہ رسول تھے۔ ایک قول ہے کہ یہ فرشتے تھے لیکن اکثر بزرگوں کا فرمان ہے کہ یہ ایک ولی اللہ تھے۔
صفحہ نمبر4968
امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ نے معارف میں لکھا ہے کہ ان کا نام بلیابن ملکان بن خالغ بن عاجر بن شانح بن ارفحشد بن سام بن نوح علیہ السلام تھا۔ ان کی کنیت ابو العباس ہے، لقب خضر ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے تہذیب الاسماء میں لکھا ہے کہ یہ شہزادے تھے۔ یہ اور ابن صلاح تو قائل ہیں کہ وہ اب تک زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گے۔ گو بعض احادیث میں بھی یہ ذکر آیا ہے لیکن ان میں سے ایک بھی صحیح نہیں۔ سب سے زیادہ مشہور حدیث اس بارے میں وہ ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعزیت کے لیے آپ تشریف لائے تھے [تفسیر قرطبی،4189:ضعیف و باطل] ۔ لیکن اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ اکثر محدثین وغیرہ اس کے برخلاف ہیں اور وہ حیات خضر کے قائل نہیں۔ ان کی ایک دلیل آیت قرآنی «وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ اَفَا۟ىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ» [ 21- الأنبياء: 34 ] ہے یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی کو ہمیشہ کی زندگی نہیں دی۔ اور دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غزوہ بدر میں یہ فرمانا ہے کہ الٰہی اگر میری یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو زمین میں تیری عبادت پھر نہ کی جائے گی۔ [صحیح مسلم:1763]
ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اگر خضر رحمۃ اللہ علیہ زندہ ہوتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتے اور اسلام قبول کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں ملتے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام جن و انس کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام زندہ [ زمین پر ] ہوتے تو انہیں بھی بجز میری تابعداری کے چارہ نہ تھا۔ [حاشیة العقیدہ الطحاویة، ارواء الغلیل:1589،منکر] آپ اپنی وفات سے کچھ دن پہلے فرماتے ہیں کہ آج جو زمین پر ہیں، ان میں سے ایک بھی آج سے لے کر سو سال تک باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح بخاری:116] ان کے علاوہ اور بھی بہت سے دلائل ہیں۔
صحیح البخاری میں ہے کہ خضر کو خضر اس لیے کہا گیا کہ وہ سفید رنگ سوکھی گھاس پر بیٹھ گئے تھے یہاں تک کہ اس کے نیچے سے سبزہ اگ آیا۔ [صحیح بخاری:3402] اور ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ آپ خشک زمین پر بیٹھ گئے تھے اور پھر وہ لہلہانے لگی۔
صفحہ نمبر4969
الغرض خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کے سامنے جب یہ گتھی سلجھا دی اور ان کاموں کی اصل حکمت بیان کر دی تو فرمایا کہ یہ تھے وہ راز جن کے آشکارا کرنے کے لیے آپ جلدی کر رہے تھے۔ چونکہ پہلے شوق و مشقت زیادہ تھی، اس لیے لفظ «لَمْ تَسْطِع» کہا اور اب بیان کر دینے کے بعد وہ بات نہ رہی اس لیے لفظ «لَمْ تَسْطِع» کہا۔ یہی صفت آیت «فَمَا اسْطَاعُوْٓا اَنْ يَّظْهَرُوْهُ وَمَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا» [ 18- الكهف: 97 ] میں ہے یعنی یاجوج ماجوج نہ اس دیوار پر چڑھ سکے اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکے۔ پس چڑھنے میں تکلیف بہ نسبت سوراخ کرنے کے کم ہے اس لیے ثقیل کا مقابلہ ثقیل سے اور خفیف کا مقابلہ خفیف سے کیا گیا اور لفظی اور معنوی مناسبت قائم کر دی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کا ذکر ابتداء قصہ میں تو تھا لیکن پھر نہیں، اس لیے کہ مقصود صرف موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کا واقعہ بیان کرنا تھا۔ حدیثوں میں ہے کہ آپ کے یہ ساتھی یو شع بن نون علیہ السلام تھے۔ یہی موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے والی بنائے گئے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے آب حیات پی لیا تھا اس لیے انہیں کشتی میں بٹھا کر بیچ سمندر کے چھوڑ دیا، وہ کشتی یونہی ہمیشہ تک موجوں کے تلاطم میں رہے گی۔ یہ بالکل ضعیف ہے کیونکہ اس واقعہ کے راویوں میں ایک میں تو حسن ہے جو متروک ہے، دوسرا اس کا باپ ہے جو غیر معروف ہے۔ یہ واقعہ سندا ٹھیک نہیں۔
صفحہ نمبر4970
کفار کے سوالات کے جوابات ٭٭
پہلے گزر چکا ہے کہ کفار مکہ نے اہل کتاب سے کہلوایا تھا کہ ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلاؤ جو ہم محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] سے دریافت کریں اور ان کے جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ بن پڑیں۔ تو انہوں نے سکھایا تھا کہ ایک تو ان سے اس شخص کا واقعہ پوچھو جس نے روئے زمین کی سیاحت کی تھی۔ دوسرا سوال ان سے ان نوجوانوں کی نسبت کرو جو بالکل لا پتہ ہو گئے ہیں اور تیسرا سوال ان سے روح کی بابت کرو۔ ان کے ان سوالوں کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22861] یہ بھی روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالقرنین کا قصہ دریافت کرنے کو آئی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا کہ تم اس لیے آئے ہو۔ پھر آپ نے وہ واقعہ بیان فرمایا۔ اس میں ہے کہ وہ ایک رومی نوجوان تھا اسی نے اسکندریہ بنایا۔ اسے ایک فرشتہ آسمان تک چڑھا لے گیا تھا اور دیوار تک لے گیا تھا اس نے کچھ لوگوں کو دیکھا جن کے منہ کتوں جیسے تھے وغیرہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23275:ضعیف] لیکن اس میں بہت طول ہے اور بے کار ہے اور ضعف ہے اس کا مرفوع ہونا ثابت نہیں۔ دراصل یہ بنی اسرائیل کی روایات ہیں۔ تعجب ہے کہ امام ابوزرعہ رازی جیسے علامہ زماں نے اسے اپنی کتاب دلائل نبوت میں مکمل وارد کیا ہے۔
فی الواقع یہ ان جیسے بزرگ سے تو تعجب خیز چیز ہی ہے۔ اس میں جو ہے کہ یہ رومی تھا، یہ بھی ٹھیک نہیں۔ اسکندر ثانی البتہ رومی تھا وہ فیلبس مقدونی کا لڑکا ہے جس سے روم کی تاریخ شروع ہوتی ہے اور سکندر اول تو بقول ازرقی وغیرہ ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں تھا۔ اس نے آپ کے ساتھ بیت اللہ شریف کی بنا کے بعد طواف بیت اللہ کیا ہے۔ آپ پر ایمان لایا تھا، آپ کا تابعدار بنا تھا، انہی کے وزیر خضر علیہ السلام تھے۔ اور سکندر ثانی کا وزیر ارسطا طالیس مشہور فلسفی تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اسی نے مملکت روم کی تاریخ لکھی یہ میسح علیہ السلام سے تقریباً تین سو سال پہلے تھا۔ اور سکندر اول جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے یہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے زمانے میں تھا جیسے کہ ازرقی وغیرہ نے ذکر کیا ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ بنایا تو اس نے آپ علیہ السلام کے ساتھ طواف کیا تھا اور اللہ کے نام بہت سی قربانیاں کی تھیں۔ ہم نے اللہ کے فضل سے ان کے بہت سے واقعات اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں ذکر کر دیے ہیں۔
صفحہ نمبر4971
وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں، یہ بادشاہ تھے چونکہ ان کے سر کے دونوں طرف تانبا رہتا تھا، اس لیے انہیں ذوالقرنین کہا گیا۔ یہ وجہ بھی بتلائی گئی ہے کہ یہ روم اور فارس دونوں کا بادشاہ تھا۔ بعض کا قول ہے کہ فی الواقع اس کے سر کے دونوں طرف کچھ سینگ سے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ کے نیک بندے تھے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا۔ یہ لوگ مخالف ہو گئے اور ان کے سر کے ایک جانب اس قدر مارا کہ یہ شہید ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندہ کر دیا، قوم نے پھر سر کے دوسری طرف اسی قدر مارا جس سے یہ پھر مر گئے اس لیے انہیں ذوالقرنین کہا جاتا ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ چونکہ یہ مشرق سے مغرب تک سیاحت کر آئے تھے اس لیے انہیں ذوالقرنین کہا گیا ہے۔ ہم نے اسے بڑی سلطنت دے رکھی تھی۔ ساتھ ہی قوت لشکر، آلات حرب سب کچھ ہی دے رکھا تھا۔ مشرق سے مغرب تک اس کی سلطنت تھی، عرب و عجم سب اس کے ماتحت تھے۔ ہرچیز کا اسے علم دے رکھا تھا۔ زمین کے ادنٰی و اعلیٰ نشانات بتلا دیے تھے۔ تمام زبانیں جانتے تھے۔ جس قوم سے لڑائی ہوتی، اس کی زبان بول لیتے تھے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہما سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا، کیا تم کہتے ہو کہ ذوالقرنین نے اپنے گھوڑے ثریا سے باندھے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر آپ یہ فرماتے ہیں تو سنیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، ہم نے اسے ہرچیز کا سامان دیا تھا۔ حقیقت میں اس بات میں حق سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ ہے اس لیے بھی کہ حضرت کعب رحمہ اللہ کو جو کچھ کہیں لکھا ملتا تھا، روایت کر دیا کرتے تھے گو وہ جھوٹ ہی ہو۔ اسی لیے آپ نے فرمایا ہے کہ کعب کا کذب تو بار ہا سامنے آ چکا ہے یعنی خود تو جھوٹ نہیں گھڑتے تھے لیکن جو روایت ملتی گو بے سند ہو، بیان کرنے سے نہ چوکتے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کی روایات جھوٹ، خرافات، تحریف، تبدیلی سے محفوظ نہ تھیں۔ بات یہ ہے کہ ہمیں ان اسرائیلی روایات کی طرف التفات کرنے کی بھی کیا ضرورت؟ جب کہ ہمارے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور صحیح احادیث موجود ہیں۔
صفحہ نمبر4972
افسوس! انہی بنی اسرائیلی روایات نے بہت سی برائی مسلمانوں میں ڈال دی اور بڑا فساد پھیل گیا۔ کعب رحمہ اللہ نے اس بنی اسرائیل کی روایت کے ثبوت میں قرآن کی اس آیت کا آخری حصہ جو پیش کیا ہے، یہ بھی کچھ ٹھیک نہیں کیونکہ یہ تو بالکل ظاہر بات ہے کہ کسی انسان کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اور ثریا پر پہنچنے کی طاقت نہیں دی۔ دیکھئیے بلقیس کے حق میں بھی قرآن نے یہی الفاظ کہے ہیں «وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ» [ 27- النمل: 23 ] اسے ہرچیز دی گئی تھی۔ اس سے بھی مراد صرف اسی قدر ہے کہ بادشاہوں کے ہاں عموماً جو ہوتا ہے، وہ سب اس کے پاس بھی تھا۔ اسی طرح ذوالقرنین کو اللہ تعالیٰ نے تمام راستے اور ذرائع مہیا کر دیے تھے کہ وہ اپنی فتوحات کو وسعت دیتے جائیں اور زمین سرکشوں اور کافروں سے خالی کراتے جائیں اور اس کی توحید کے ساتھ موحدین کی بادشاہت دنیا پر پھیلائیں اور اللہ والوں کی حکومت جمائیں۔ ان کاموں میں جن اسباب کی ضرورت پڑتی ہے، وہ سب رب عزوجل نے ذوالقرنین کو دے رکھے تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ مشرق و مغرب تک کیسے پہنچ گئے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا سبحان اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو ان کے لیے مسخر کر دیا تھا اور تمام اسباب انہیں مہیا کر دیے تھے اور پوری قوت وطاقت دے دی تھی۔
صفحہ نمبر4973
کفار کے سوالات کے جوابات ٭٭
پہلے گزر چکا ہے کہ کفار مکہ نے اہل کتاب سے کہلوایا تھا کہ ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلاؤ جو ہم محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] سے دریافت کریں اور ان کے جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ بن پڑیں۔ تو انہوں نے سکھایا تھا کہ ایک تو ان سے اس شخص کا واقعہ پوچھو جس نے روئے زمین کی سیاحت کی تھی۔ دوسرا سوال ان سے ان نوجوانوں کی نسبت کرو جو بالکل لا پتہ ہو گئے ہیں اور تیسرا سوال ان سے روح کی بابت کرو۔ ان کے ان سوالوں کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22861] یہ بھی روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالقرنین کا قصہ دریافت کرنے کو آئی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا کہ تم اس لیے آئے ہو۔ پھر آپ نے وہ واقعہ بیان فرمایا۔ اس میں ہے کہ وہ ایک رومی نوجوان تھا اسی نے اسکندریہ بنایا۔ اسے ایک فرشتہ آسمان تک چڑھا لے گیا تھا اور دیوار تک لے گیا تھا اس نے کچھ لوگوں کو دیکھا جن کے منہ کتوں جیسے تھے وغیرہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23275:ضعیف] لیکن اس میں بہت طول ہے اور بے کار ہے اور ضعف ہے اس کا مرفوع ہونا ثابت نہیں۔ دراصل یہ بنی اسرائیل کی روایات ہیں۔ تعجب ہے کہ امام ابوزرعہ رازی جیسے علامہ زماں نے اسے اپنی کتاب دلائل نبوت میں مکمل وارد کیا ہے۔
فی الواقع یہ ان جیسے بزرگ سے تو تعجب خیز چیز ہی ہے۔ اس میں جو ہے کہ یہ رومی تھا، یہ بھی ٹھیک نہیں۔ اسکندر ثانی البتہ رومی تھا وہ فیلبس مقدونی کا لڑکا ہے جس سے روم کی تاریخ شروع ہوتی ہے اور سکندر اول تو بقول ازرقی وغیرہ ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں تھا۔ اس نے آپ کے ساتھ بیت اللہ شریف کی بنا کے بعد طواف بیت اللہ کیا ہے۔ آپ پر ایمان لایا تھا، آپ کا تابعدار بنا تھا، انہی کے وزیر خضر علیہ السلام تھے۔ اور سکندر ثانی کا وزیر ارسطا طالیس مشہور فلسفی تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اسی نے مملکت روم کی تاریخ لکھی یہ میسح علیہ السلام سے تقریباً تین سو سال پہلے تھا۔ اور سکندر اول جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے یہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے زمانے میں تھا جیسے کہ ازرقی وغیرہ نے ذکر کیا ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ بنایا تو اس نے آپ علیہ السلام کے ساتھ طواف کیا تھا اور اللہ کے نام بہت سی قربانیاں کی تھیں۔ ہم نے اللہ کے فضل سے ان کے بہت سے واقعات اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں ذکر کر دیے ہیں۔
صفحہ نمبر4971
وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں، یہ بادشاہ تھے چونکہ ان کے سر کے دونوں طرف تانبا رہتا تھا، اس لیے انہیں ذوالقرنین کہا گیا۔ یہ وجہ بھی بتلائی گئی ہے کہ یہ روم اور فارس دونوں کا بادشاہ تھا۔ بعض کا قول ہے کہ فی الواقع اس کے سر کے دونوں طرف کچھ سینگ سے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ کے نیک بندے تھے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا۔ یہ لوگ مخالف ہو گئے اور ان کے سر کے ایک جانب اس قدر مارا کہ یہ شہید ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندہ کر دیا، قوم نے پھر سر کے دوسری طرف اسی قدر مارا جس سے یہ پھر مر گئے اس لیے انہیں ذوالقرنین کہا جاتا ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ چونکہ یہ مشرق سے مغرب تک سیاحت کر آئے تھے اس لیے انہیں ذوالقرنین کہا گیا ہے۔ ہم نے اسے بڑی سلطنت دے رکھی تھی۔ ساتھ ہی قوت لشکر، آلات حرب سب کچھ ہی دے رکھا تھا۔ مشرق سے مغرب تک اس کی سلطنت تھی، عرب و عجم سب اس کے ماتحت تھے۔ ہرچیز کا اسے علم دے رکھا تھا۔ زمین کے ادنٰی و اعلیٰ نشانات بتلا دیے تھے۔ تمام زبانیں جانتے تھے۔ جس قوم سے لڑائی ہوتی، اس کی زبان بول لیتے تھے۔ ایک مرتبہ سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہما سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا، کیا تم کہتے ہو کہ ذوالقرنین نے اپنے گھوڑے ثریا سے باندھے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر آپ یہ فرماتے ہیں تو سنیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، ہم نے اسے ہرچیز کا سامان دیا تھا۔ حقیقت میں اس بات میں حق سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ ہے اس لیے بھی کہ حضرت کعب رحمہ اللہ کو جو کچھ کہیں لکھا ملتا تھا، روایت کر دیا کرتے تھے گو وہ جھوٹ ہی ہو۔ اسی لیے آپ نے فرمایا ہے کہ کعب کا کذب تو بار ہا سامنے آ چکا ہے یعنی خود تو جھوٹ نہیں گھڑتے تھے لیکن جو روایت ملتی گو بے سند ہو، بیان کرنے سے نہ چوکتے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کی روایات جھوٹ، خرافات، تحریف، تبدیلی سے محفوظ نہ تھیں۔ بات یہ ہے کہ ہمیں ان اسرائیلی روایات کی طرف التفات کرنے کی بھی کیا ضرورت؟ جب کہ ہمارے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور صحیح احادیث موجود ہیں۔
صفحہ نمبر4972
افسوس! انہی بنی اسرائیلی روایات نے بہت سی برائی مسلمانوں میں ڈال دی اور بڑا فساد پھیل گیا۔ کعب رحمہ اللہ نے اس بنی اسرائیل کی روایت کے ثبوت میں قرآن کی اس آیت کا آخری حصہ جو پیش کیا ہے، یہ بھی کچھ ٹھیک نہیں کیونکہ یہ تو بالکل ظاہر بات ہے کہ کسی انسان کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اور ثریا پر پہنچنے کی طاقت نہیں دی۔ دیکھئیے بلقیس کے حق میں بھی قرآن نے یہی الفاظ کہے ہیں «وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ» [ 27- النمل: 23 ] اسے ہرچیز دی گئی تھی۔ اس سے بھی مراد صرف اسی قدر ہے کہ بادشاہوں کے ہاں عموماً جو ہوتا ہے، وہ سب اس کے پاس بھی تھا۔ اسی طرح ذوالقرنین کو اللہ تعالیٰ نے تمام راستے اور ذرائع مہیا کر دیے تھے کہ وہ اپنی فتوحات کو وسعت دیتے جائیں اور زمین سرکشوں اور کافروں سے خالی کراتے جائیں اور اس کی توحید کے ساتھ موحدین کی بادشاہت دنیا پر پھیلائیں اور اللہ والوں کی حکومت جمائیں۔ ان کاموں میں جن اسباب کی ضرورت پڑتی ہے، وہ سب رب عزوجل نے ذوالقرنین کو دے رکھے تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ مشرق و مغرب تک کیسے پہنچ گئے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا سبحان اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو ان کے لیے مسخر کر دیا تھا اور تمام اسباب انہیں مہیا کر دیے تھے اور پوری قوت وطاقت دے دی تھی۔
صفحہ نمبر4973
ذوالقرنین کا تعارف ٭٭
ذوالقرنین ایک راہ لگ گئے، زمین کی ایک سمت یعنی مغربی جانب کوچ کر دیا۔ جو نشانات زمین پر تھے ان کے سہارے چل کھڑے ہوئے۔ جہاں تک مغربی رخ چل سکتے تھے چلتے رہے، یہاں تک کہ اب سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچ گئے۔ یہ یاد رہے کہ اس سے مراد آسمان کا وہ حصہ نہیں، جہاں سورج غروب ہوتا ہے کیونکہ وہاں تک تو کسی کا جانا ناممکن ہے۔ ہاں اس رخ جہاں تک زمین پر جانا ممکن ہے، ذوالقرنین پہنچ گئے۔ اور یہ جو بعض قصے مشہور ہیں کہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ سے بھی آپ تجاوز کر گئے اور سورج مدتوں ان کی پشت پر غروب ہوتا رہا، یہ بے بنیاد باتیں ہیں اور عموماً اہل کتاب کی خرافات ہیں اور ان میں سے بھی بددینوں کی گھڑنت ہیں اور محض دروغ بے مروغ ہیں۔
صفحہ نمبر4975
الغرض جب انتہائے مغرب کی سمت پہنچ گئے تو یہ معلوم ہوا کہ گویا بحر محیط میں سورج غروب ہو رہا ہے۔ جو بھی کسی سمندر کے کنارے کھڑا ہو کر سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھے گا تو بظاہر یہی منظر اس کے سامنے ہو گا کہ گویا سورج پانی میں ڈوب رہا ہے۔ حالانکہ سورج چوتھے آسمان پر ہے اور اس سے الگ کبھی نہیں ہوتا «حَمِئَةٍ» یا تو مشتق ہے «حماۃ» سے یعنی چکنی مٹی۔ آیت قرآنی «وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰىِٕكَةِ اِنِّىْ خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ» [ 15- الحجر: 28 ] میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔ یہی مطلب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سن کر نافع نے سنا کہ حضرت کعب رحمہ اللہ فرماتے تھے تم ہم سے زیادہ قرآن کے عالم ہو لیکن میں تو کتاب میں دیکھتا ہوں کہ وہ سیاہ رنگ مٹی میں غائب ہو جاتا تھا۔ ایک قرأت میں «فِیْ عَیْنٍ حَامِیَةِ» ہے یعنی گرم چشمے میں غروب ہونا پایا۔ یہ دونوں قرأتیں مشہور ہیں اور دونوں درست ہیں خواہ کوئی سی قرأت پڑھے اور ان کے معنی میں بھی کوئی تفاوت نہیں کیونکہ سورج کی نزدیکی کی وجہ سے پانی، گرم ہوا اور وہاں کی مٹی کے سیاہ رنگ کی وجہ سے اس کا پانی کیچڑ جیسا ہی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سورج کو غروب ہوتے دیکھ کر فرمایا، اللہ کی بھڑکی آگ میں اگر اللہ کے حکم سے اس کی سوزش کم نہ ہو جاتی تو یہ تو زمین کی تمام چیزوں کو جھلسا ڈالتا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:236307:ضعیف] اس کی صحت میں نظر ہے بلکہ مرفوع ہونے میں بھی۔ بہت ممکن ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا اپنا کلام ہو اور ان دو تھیلوں کی کتابوں سے لیا گیا ہو جو انہیں یرموک سے ملے تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4976
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے سورۃ الکہف کی یہی آیت تلاوت فرمائی تو آپ نے «عَیْنٍ حَامِیَةِ» پڑھا۔ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہم تو «حَمِئَةٍ» پڑھتے ہیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے پوچھا، آپ کس طرح پڑھتے ہیں، انہوں نے جواب دیا جس طرح آپ نے پڑھا۔ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، میرے گھر میں قرآن کریم نازل ہوا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما نے کعب رحمہ اللہ کے پاس آدمی بھیجا کہ بتلاؤ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ تورات میں اس کے متعلق کچھ ہے؟ کعب رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ اسے عربیت والوں سے پوچھنا چاہیئے، وہی اس کے پورے عالم ہیں۔ ہاں تورات میں تو میں یہ پاتا ہوں کہ وہ پانی اور مٹی میں یعنی کیچڑ میں چھپ جاتا ہے اور مغرب کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
یہ سب قصہ سن کر ابن حاضر نے کہا اگر میں اس وقت ہوتا تو آپ کی تائید میں تبع کے وہ دو شعر پڑھ دیتا جس میں اس نے ذو القرنین کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مشرق و مغرب تک پہنچا کیونکہ اللہ نے اسے ہر قسم کے سامان مہیا فرمائے تھے اس نے دیکھا کہ سورج سیاہ مٹی جیسے کیچڑ میں غروب ہوتا نظر آتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا اس شعر میں تین لفظ ہیں خلب، ثاط اور حرمد۔ ان کے کیا معنی ہیں؟ مٹی، کیچڑ اور سیاہ۔ اسی وقت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام سے یا کسی اور شخص سے فرمایا، یہ جو کہتے ہیں لکھ لو۔
صفحہ نمبر4977
ایک مرتبہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ الکہف کی تلاوت حضرت کعب رحمہ اللہ نے سنی اور جب آپ نے «حَمِئَةٍ» پڑھا تو کہا کہ واللہ جس طرح تورات میں ہے، اسی طرح پڑھتے ہوئے میں نے آپ ہی کو سنا۔ تورات میں بھی یہی ہے کہ وہ سیاہ رنگ کیچڑ میں ڈوبتا ہے۔ وہیں ایک شہر تھا جو بہت بڑا تھا اس کے بارہ ہزار دروازے تھے۔ اگر وہاں شور غل نہ ہو تو کیا عجب کہ ان لوگوں کو سورج کے غروب ہونے کی آواز تک آئے۔ وہاں ایک بہت بڑی امت کو آپ نے بستا ہوا پایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بستی والوں پر بھی انہیں غلبہ دیا، اب ان کے اختیار میں تھا کہ یہ ان پر جبر وظلم کریں یا ان میں عدل وانصاف کریں۔ اس پر ذوالقرنین نے اپنے عدل و ایمان کا ثبوت دیا اور عرض کیا کہ جو اپنے کفر و شرک پر اڑا رہے گا، اسے تو ہم سزا دیں گے قتل وغارت سے یا یہ کہ تانبے کے برتن کو گرم آگ کر کے اس میں ڈال دیں گے کہ وہیں اس کا مرنڈا ہو جائے یا یہ کہ سپاہیوں کے ہاتھوں انہیں بدترین سزائیں کرائیں گے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور پھر جب وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے سخت تر اور درد ناک عذاب کرے گا۔ اس سے قیامت کے دن کا بھی ثبوت ہوتا ہے۔ اور جو ایمان لائے، ہماری توحید کی دعوت قبول کر لے، اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے دست برداری کر لے، اسے اللہ اپنے ہاں بہترین بدلہ دے گا اور خود ہم بھی اس کی عزت افزائی کریں گے اور بھلی بات کہیں گے۔
صفحہ نمبر4978
ذوالقرنین کا تعارف ٭٭
ذوالقرنین ایک راہ لگ گئے، زمین کی ایک سمت یعنی مغربی جانب کوچ کر دیا۔ جو نشانات زمین پر تھے ان کے سہارے چل کھڑے ہوئے۔ جہاں تک مغربی رخ چل سکتے تھے چلتے رہے، یہاں تک کہ اب سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچ گئے۔ یہ یاد رہے کہ اس سے مراد آسمان کا وہ حصہ نہیں، جہاں سورج غروب ہوتا ہے کیونکہ وہاں تک تو کسی کا جانا ناممکن ہے۔ ہاں اس رخ جہاں تک زمین پر جانا ممکن ہے، ذوالقرنین پہنچ گئے۔ اور یہ جو بعض قصے مشہور ہیں کہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ سے بھی آپ تجاوز کر گئے اور سورج مدتوں ان کی پشت پر غروب ہوتا رہا، یہ بے بنیاد باتیں ہیں اور عموماً اہل کتاب کی خرافات ہیں اور ان میں سے بھی بددینوں کی گھڑنت ہیں اور محض دروغ بے مروغ ہیں۔
صفحہ نمبر4975
الغرض جب انتہائے مغرب کی سمت پہنچ گئے تو یہ معلوم ہوا کہ گویا بحر محیط میں سورج غروب ہو رہا ہے۔ جو بھی کسی سمندر کے کنارے کھڑا ہو کر سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھے گا تو بظاہر یہی منظر اس کے سامنے ہو گا کہ گویا سورج پانی میں ڈوب رہا ہے۔ حالانکہ سورج چوتھے آسمان پر ہے اور اس سے الگ کبھی نہیں ہوتا «حَمِئَةٍ» یا تو مشتق ہے «حماۃ» سے یعنی چکنی مٹی۔ آیت قرآنی «وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰىِٕكَةِ اِنِّىْ خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ» [ 15- الحجر: 28 ] میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔ یہی مطلب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سن کر نافع نے سنا کہ حضرت کعب رحمہ اللہ فرماتے تھے تم ہم سے زیادہ قرآن کے عالم ہو لیکن میں تو کتاب میں دیکھتا ہوں کہ وہ سیاہ رنگ مٹی میں غائب ہو جاتا تھا۔ ایک قرأت میں «فِیْ عَیْنٍ حَامِیَةِ» ہے یعنی گرم چشمے میں غروب ہونا پایا۔ یہ دونوں قرأتیں مشہور ہیں اور دونوں درست ہیں خواہ کوئی سی قرأت پڑھے اور ان کے معنی میں بھی کوئی تفاوت نہیں کیونکہ سورج کی نزدیکی کی وجہ سے پانی، گرم ہوا اور وہاں کی مٹی کے سیاہ رنگ کی وجہ سے اس کا پانی کیچڑ جیسا ہی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سورج کو غروب ہوتے دیکھ کر فرمایا، اللہ کی بھڑکی آگ میں اگر اللہ کے حکم سے اس کی سوزش کم نہ ہو جاتی تو یہ تو زمین کی تمام چیزوں کو جھلسا ڈالتا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:236307:ضعیف] اس کی صحت میں نظر ہے بلکہ مرفوع ہونے میں بھی۔ بہت ممکن ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا اپنا کلام ہو اور ان دو تھیلوں کی کتابوں سے لیا گیا ہو جو انہیں یرموک سے ملے تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4976
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے سورۃ الکہف کی یہی آیت تلاوت فرمائی تو آپ نے «عَیْنٍ حَامِیَةِ» پڑھا۔ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہم تو «حَمِئَةٍ» پڑھتے ہیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے پوچھا، آپ کس طرح پڑھتے ہیں، انہوں نے جواب دیا جس طرح آپ نے پڑھا۔ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، میرے گھر میں قرآن کریم نازل ہوا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما نے کعب رحمہ اللہ کے پاس آدمی بھیجا کہ بتلاؤ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ تورات میں اس کے متعلق کچھ ہے؟ کعب رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ اسے عربیت والوں سے پوچھنا چاہیئے، وہی اس کے پورے عالم ہیں۔ ہاں تورات میں تو میں یہ پاتا ہوں کہ وہ پانی اور مٹی میں یعنی کیچڑ میں چھپ جاتا ہے اور مغرب کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
یہ سب قصہ سن کر ابن حاضر نے کہا اگر میں اس وقت ہوتا تو آپ کی تائید میں تبع کے وہ دو شعر پڑھ دیتا جس میں اس نے ذو القرنین کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مشرق و مغرب تک پہنچا کیونکہ اللہ نے اسے ہر قسم کے سامان مہیا فرمائے تھے اس نے دیکھا کہ سورج سیاہ مٹی جیسے کیچڑ میں غروب ہوتا نظر آتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا اس شعر میں تین لفظ ہیں خلب، ثاط اور حرمد۔ ان کے کیا معنی ہیں؟ مٹی، کیچڑ اور سیاہ۔ اسی وقت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام سے یا کسی اور شخص سے فرمایا، یہ جو کہتے ہیں لکھ لو۔
صفحہ نمبر4977
ایک مرتبہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ الکہف کی تلاوت حضرت کعب رحمہ اللہ نے سنی اور جب آپ نے «حَمِئَةٍ» پڑھا تو کہا کہ واللہ جس طرح تورات میں ہے، اسی طرح پڑھتے ہوئے میں نے آپ ہی کو سنا۔ تورات میں بھی یہی ہے کہ وہ سیاہ رنگ کیچڑ میں ڈوبتا ہے۔ وہیں ایک شہر تھا جو بہت بڑا تھا اس کے بارہ ہزار دروازے تھے۔ اگر وہاں شور غل نہ ہو تو کیا عجب کہ ان لوگوں کو سورج کے غروب ہونے کی آواز تک آئے۔ وہاں ایک بہت بڑی امت کو آپ نے بستا ہوا پایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بستی والوں پر بھی انہیں غلبہ دیا، اب ان کے اختیار میں تھا کہ یہ ان پر جبر وظلم کریں یا ان میں عدل وانصاف کریں۔ اس پر ذوالقرنین نے اپنے عدل و ایمان کا ثبوت دیا اور عرض کیا کہ جو اپنے کفر و شرک پر اڑا رہے گا، اسے تو ہم سزا دیں گے قتل وغارت سے یا یہ کہ تانبے کے برتن کو گرم آگ کر کے اس میں ڈال دیں گے کہ وہیں اس کا مرنڈا ہو جائے یا یہ کہ سپاہیوں کے ہاتھوں انہیں بدترین سزائیں کرائیں گے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور پھر جب وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے سخت تر اور درد ناک عذاب کرے گا۔ اس سے قیامت کے دن کا بھی ثبوت ہوتا ہے۔ اور جو ایمان لائے، ہماری توحید کی دعوت قبول کر لے، اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے دست برداری کر لے، اسے اللہ اپنے ہاں بہترین بدلہ دے گا اور خود ہم بھی اس کی عزت افزائی کریں گے اور بھلی بات کہیں گے۔
صفحہ نمبر4978
ذوالقرنین کا تعارف ٭٭
ذوالقرنین ایک راہ لگ گئے، زمین کی ایک سمت یعنی مغربی جانب کوچ کر دیا۔ جو نشانات زمین پر تھے ان کے سہارے چل کھڑے ہوئے۔ جہاں تک مغربی رخ چل سکتے تھے چلتے رہے، یہاں تک کہ اب سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچ گئے۔ یہ یاد رہے کہ اس سے مراد آسمان کا وہ حصہ نہیں، جہاں سورج غروب ہوتا ہے کیونکہ وہاں تک تو کسی کا جانا ناممکن ہے۔ ہاں اس رخ جہاں تک زمین پر جانا ممکن ہے، ذوالقرنین پہنچ گئے۔ اور یہ جو بعض قصے مشہور ہیں کہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ سے بھی آپ تجاوز کر گئے اور سورج مدتوں ان کی پشت پر غروب ہوتا رہا، یہ بے بنیاد باتیں ہیں اور عموماً اہل کتاب کی خرافات ہیں اور ان میں سے بھی بددینوں کی گھڑنت ہیں اور محض دروغ بے مروغ ہیں۔
صفحہ نمبر4975
الغرض جب انتہائے مغرب کی سمت پہنچ گئے تو یہ معلوم ہوا کہ گویا بحر محیط میں سورج غروب ہو رہا ہے۔ جو بھی کسی سمندر کے کنارے کھڑا ہو کر سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھے گا تو بظاہر یہی منظر اس کے سامنے ہو گا کہ گویا سورج پانی میں ڈوب رہا ہے۔ حالانکہ سورج چوتھے آسمان پر ہے اور اس سے الگ کبھی نہیں ہوتا «حَمِئَةٍ» یا تو مشتق ہے «حماۃ» سے یعنی چکنی مٹی۔ آیت قرآنی «وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰىِٕكَةِ اِنِّىْ خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ» [ 15- الحجر: 28 ] میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔ یہی مطلب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سن کر نافع نے سنا کہ حضرت کعب رحمہ اللہ فرماتے تھے تم ہم سے زیادہ قرآن کے عالم ہو لیکن میں تو کتاب میں دیکھتا ہوں کہ وہ سیاہ رنگ مٹی میں غائب ہو جاتا تھا۔ ایک قرأت میں «فِیْ عَیْنٍ حَامِیَةِ» ہے یعنی گرم چشمے میں غروب ہونا پایا۔ یہ دونوں قرأتیں مشہور ہیں اور دونوں درست ہیں خواہ کوئی سی قرأت پڑھے اور ان کے معنی میں بھی کوئی تفاوت نہیں کیونکہ سورج کی نزدیکی کی وجہ سے پانی، گرم ہوا اور وہاں کی مٹی کے سیاہ رنگ کی وجہ سے اس کا پانی کیچڑ جیسا ہی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سورج کو غروب ہوتے دیکھ کر فرمایا، اللہ کی بھڑکی آگ میں اگر اللہ کے حکم سے اس کی سوزش کم نہ ہو جاتی تو یہ تو زمین کی تمام چیزوں کو جھلسا ڈالتا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:236307:ضعیف] اس کی صحت میں نظر ہے بلکہ مرفوع ہونے میں بھی۔ بہت ممکن ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا اپنا کلام ہو اور ان دو تھیلوں کی کتابوں سے لیا گیا ہو جو انہیں یرموک سے ملے تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4976
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے سورۃ الکہف کی یہی آیت تلاوت فرمائی تو آپ نے «عَیْنٍ حَامِیَةِ» پڑھا۔ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہم تو «حَمِئَةٍ» پڑھتے ہیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے پوچھا، آپ کس طرح پڑھتے ہیں، انہوں نے جواب دیا جس طرح آپ نے پڑھا۔ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، میرے گھر میں قرآن کریم نازل ہوا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما نے کعب رحمہ اللہ کے پاس آدمی بھیجا کہ بتلاؤ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ تورات میں اس کے متعلق کچھ ہے؟ کعب رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ اسے عربیت والوں سے پوچھنا چاہیئے، وہی اس کے پورے عالم ہیں۔ ہاں تورات میں تو میں یہ پاتا ہوں کہ وہ پانی اور مٹی میں یعنی کیچڑ میں چھپ جاتا ہے اور مغرب کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
یہ سب قصہ سن کر ابن حاضر نے کہا اگر میں اس وقت ہوتا تو آپ کی تائید میں تبع کے وہ دو شعر پڑھ دیتا جس میں اس نے ذو القرنین کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مشرق و مغرب تک پہنچا کیونکہ اللہ نے اسے ہر قسم کے سامان مہیا فرمائے تھے اس نے دیکھا کہ سورج سیاہ مٹی جیسے کیچڑ میں غروب ہوتا نظر آتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا اس شعر میں تین لفظ ہیں خلب، ثاط اور حرمد۔ ان کے کیا معنی ہیں؟ مٹی، کیچڑ اور سیاہ۔ اسی وقت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام سے یا کسی اور شخص سے فرمایا، یہ جو کہتے ہیں لکھ لو۔
صفحہ نمبر4977
ایک مرتبہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ الکہف کی تلاوت حضرت کعب رحمہ اللہ نے سنی اور جب آپ نے «حَمِئَةٍ» پڑھا تو کہا کہ واللہ جس طرح تورات میں ہے، اسی طرح پڑھتے ہوئے میں نے آپ ہی کو سنا۔ تورات میں بھی یہی ہے کہ وہ سیاہ رنگ کیچڑ میں ڈوبتا ہے۔ وہیں ایک شہر تھا جو بہت بڑا تھا اس کے بارہ ہزار دروازے تھے۔ اگر وہاں شور غل نہ ہو تو کیا عجب کہ ان لوگوں کو سورج کے غروب ہونے کی آواز تک آئے۔ وہاں ایک بہت بڑی امت کو آپ نے بستا ہوا پایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بستی والوں پر بھی انہیں غلبہ دیا، اب ان کے اختیار میں تھا کہ یہ ان پر جبر وظلم کریں یا ان میں عدل وانصاف کریں۔ اس پر ذوالقرنین نے اپنے عدل و ایمان کا ثبوت دیا اور عرض کیا کہ جو اپنے کفر و شرک پر اڑا رہے گا، اسے تو ہم سزا دیں گے قتل وغارت سے یا یہ کہ تانبے کے برتن کو گرم آگ کر کے اس میں ڈال دیں گے کہ وہیں اس کا مرنڈا ہو جائے یا یہ کہ سپاہیوں کے ہاتھوں انہیں بدترین سزائیں کرائیں گے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور پھر جب وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے سخت تر اور درد ناک عذاب کرے گا۔ اس سے قیامت کے دن کا بھی ثبوت ہوتا ہے۔ اور جو ایمان لائے، ہماری توحید کی دعوت قبول کر لے، اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے دست برداری کر لے، اسے اللہ اپنے ہاں بہترین بدلہ دے گا اور خود ہم بھی اس کی عزت افزائی کریں گے اور بھلی بات کہیں گے۔
صفحہ نمبر4978
ذوالقرنین کا تعارف ٭٭
ذوالقرنین ایک راہ لگ گئے، زمین کی ایک سمت یعنی مغربی جانب کوچ کر دیا۔ جو نشانات زمین پر تھے ان کے سہارے چل کھڑے ہوئے۔ جہاں تک مغربی رخ چل سکتے تھے چلتے رہے، یہاں تک کہ اب سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچ گئے۔ یہ یاد رہے کہ اس سے مراد آسمان کا وہ حصہ نہیں، جہاں سورج غروب ہوتا ہے کیونکہ وہاں تک تو کسی کا جانا ناممکن ہے۔ ہاں اس رخ جہاں تک زمین پر جانا ممکن ہے، ذوالقرنین پہنچ گئے۔ اور یہ جو بعض قصے مشہور ہیں کہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ سے بھی آپ تجاوز کر گئے اور سورج مدتوں ان کی پشت پر غروب ہوتا رہا، یہ بے بنیاد باتیں ہیں اور عموماً اہل کتاب کی خرافات ہیں اور ان میں سے بھی بددینوں کی گھڑنت ہیں اور محض دروغ بے مروغ ہیں۔
صفحہ نمبر4975
الغرض جب انتہائے مغرب کی سمت پہنچ گئے تو یہ معلوم ہوا کہ گویا بحر محیط میں سورج غروب ہو رہا ہے۔ جو بھی کسی سمندر کے کنارے کھڑا ہو کر سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھے گا تو بظاہر یہی منظر اس کے سامنے ہو گا کہ گویا سورج پانی میں ڈوب رہا ہے۔ حالانکہ سورج چوتھے آسمان پر ہے اور اس سے الگ کبھی نہیں ہوتا «حَمِئَةٍ» یا تو مشتق ہے «حماۃ» سے یعنی چکنی مٹی۔ آیت قرآنی «وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰىِٕكَةِ اِنِّىْ خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ» [ 15- الحجر: 28 ] میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔ یہی مطلب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سن کر نافع نے سنا کہ حضرت کعب رحمہ اللہ فرماتے تھے تم ہم سے زیادہ قرآن کے عالم ہو لیکن میں تو کتاب میں دیکھتا ہوں کہ وہ سیاہ رنگ مٹی میں غائب ہو جاتا تھا۔ ایک قرأت میں «فِیْ عَیْنٍ حَامِیَةِ» ہے یعنی گرم چشمے میں غروب ہونا پایا۔ یہ دونوں قرأتیں مشہور ہیں اور دونوں درست ہیں خواہ کوئی سی قرأت پڑھے اور ان کے معنی میں بھی کوئی تفاوت نہیں کیونکہ سورج کی نزدیکی کی وجہ سے پانی، گرم ہوا اور وہاں کی مٹی کے سیاہ رنگ کی وجہ سے اس کا پانی کیچڑ جیسا ہی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سورج کو غروب ہوتے دیکھ کر فرمایا، اللہ کی بھڑکی آگ میں اگر اللہ کے حکم سے اس کی سوزش کم نہ ہو جاتی تو یہ تو زمین کی تمام چیزوں کو جھلسا ڈالتا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:236307:ضعیف] اس کی صحت میں نظر ہے بلکہ مرفوع ہونے میں بھی۔ بہت ممکن ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا اپنا کلام ہو اور ان دو تھیلوں کی کتابوں سے لیا گیا ہو جو انہیں یرموک سے ملے تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر4976
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے سورۃ الکہف کی یہی آیت تلاوت فرمائی تو آپ نے «عَیْنٍ حَامِیَةِ» پڑھا۔ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہم تو «حَمِئَةٍ» پڑھتے ہیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے پوچھا، آپ کس طرح پڑھتے ہیں، انہوں نے جواب دیا جس طرح آپ نے پڑھا۔ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، میرے گھر میں قرآن کریم نازل ہوا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما نے کعب رحمہ اللہ کے پاس آدمی بھیجا کہ بتلاؤ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ تورات میں اس کے متعلق کچھ ہے؟ کعب رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ اسے عربیت والوں سے پوچھنا چاہیئے، وہی اس کے پورے عالم ہیں۔ ہاں تورات میں تو میں یہ پاتا ہوں کہ وہ پانی اور مٹی میں یعنی کیچڑ میں چھپ جاتا ہے اور مغرب کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
یہ سب قصہ سن کر ابن حاضر نے کہا اگر میں اس وقت ہوتا تو آپ کی تائید میں تبع کے وہ دو شعر پڑھ دیتا جس میں اس نے ذو القرنین کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مشرق و مغرب تک پہنچا کیونکہ اللہ نے اسے ہر قسم کے سامان مہیا فرمائے تھے اس نے دیکھا کہ سورج سیاہ مٹی جیسے کیچڑ میں غروب ہوتا نظر آتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا اس شعر میں تین لفظ ہیں خلب، ثاط اور حرمد۔ ان کے کیا معنی ہیں؟ مٹی، کیچڑ اور سیاہ۔ اسی وقت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام سے یا کسی اور شخص سے فرمایا، یہ جو کہتے ہیں لکھ لو۔
صفحہ نمبر4977
ایک مرتبہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ الکہف کی تلاوت حضرت کعب رحمہ اللہ نے سنی اور جب آپ نے «حَمِئَةٍ» پڑھا تو کہا کہ واللہ جس طرح تورات میں ہے، اسی طرح پڑھتے ہوئے میں نے آپ ہی کو سنا۔ تورات میں بھی یہی ہے کہ وہ سیاہ رنگ کیچڑ میں ڈوبتا ہے۔ وہیں ایک شہر تھا جو بہت بڑا تھا اس کے بارہ ہزار دروازے تھے۔ اگر وہاں شور غل نہ ہو تو کیا عجب کہ ان لوگوں کو سورج کے غروب ہونے کی آواز تک آئے۔ وہاں ایک بہت بڑی امت کو آپ نے بستا ہوا پایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بستی والوں پر بھی انہیں غلبہ دیا، اب ان کے اختیار میں تھا کہ یہ ان پر جبر وظلم کریں یا ان میں عدل وانصاف کریں۔ اس پر ذوالقرنین نے اپنے عدل و ایمان کا ثبوت دیا اور عرض کیا کہ جو اپنے کفر و شرک پر اڑا رہے گا، اسے تو ہم سزا دیں گے قتل وغارت سے یا یہ کہ تانبے کے برتن کو گرم آگ کر کے اس میں ڈال دیں گے کہ وہیں اس کا مرنڈا ہو جائے یا یہ کہ سپاہیوں کے ہاتھوں انہیں بدترین سزائیں کرائیں گے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور پھر جب وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے سخت تر اور درد ناک عذاب کرے گا۔ اس سے قیامت کے دن کا بھی ثبوت ہوتا ہے۔ اور جو ایمان لائے، ہماری توحید کی دعوت قبول کر لے، اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے دست برداری کر لے، اسے اللہ اپنے ہاں بہترین بدلہ دے گا اور خود ہم بھی اس کی عزت افزائی کریں گے اور بھلی بات کہیں گے۔
صفحہ نمبر4978
ایک وحشی بستی ٭٭
ذوالقرنین مغرب سے واپس مشرق کی طرف چلے۔ راستے میں جو قومیں ملتیں، اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی انہیں دعوت دیتے۔ اگر وہ قبول کر لیتے تو بہت اچھا، ورنہ ان سے لڑائی ہوتی اور اللہ کے فضل سے وہ ہارتے۔ آپ انہیں اپنا ماتحت کر کے وہاں کے مال ومویشی اور خادم وغیرہ لے کر آگے کو چلتے۔ بنی اسرائیلی خبروں میں ہے کہ یہ ایک ہزار چھ سو سال تک زندہ رہے۔ اور برابر زمین پر دین الٰہی کی تبلیغ میں رہے، ساتھ ہی بادشاہت بھی پھیلتی رہی۔ جب آپ سورج نکلنے کی جگہ پہنچے وہاں دیکھا کہ ایک بستی آباد ہے لیکن وہاں کے لوگ بالکل نیم وحشی جیسے ہیں۔ نہ وہ مکانات بناتے ہیں نہ وہاں کوئی درخت ہے، سورج کی دھوپ سے پناہ دینے والی کوئی چیز وہاں انہیں نظر نہ آئی۔ ان کے رنگ سرخ تھے ان کے قد پست تھے عام خوراک ان کی مچھلی تھی۔
صفحہ نمبر4982
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، سورج کے نکلنے کے وقت وہ پانی میں چلے جایا کرتے تھے اور غروب ہونے کے بعد جانوروں کی طرح ادھر ادھر ہو جایا کرتے تھے۔ [ ابو شیخ فی العظمة989-978] حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ وہاں تو کچھ اگتا نہ تھا، سورج کے نکلنے کے وقت وہ پانی میں چلے جاتے اور زوال کے بعد دوردراز اپنی کھیتیوں وغیرہ میں مشغول ہو جاتے۔ سلمہ کا قول ہے کہ ان کے کان بڑے بڑے تھے ایک اوڑھ لیتے، ایک بچھا لیتے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ وحشی حبشی تھے۔
ابن جریر فرماتے ہیں کہ وہاں کبھی کوئی مکان یا دیوار یا احاطہٰ نہیں بنا، سورج کے نکلنے کے وقت یہ لوگ پانی میں گھس جاتے۔ وہاں کوئی پہاڑ بھی نہیں۔ پہلے کسی وقت ان کے پاس ایک لشکر پہنچا تو انہوں نے ان سے کہا کہ دیکھو سورج نکلتے وقت باہر نہ ٹھہرنا۔ انہوں نے کہا نہیں ہم تو رات ہی رات یہاں سے چلے جائیں گے لیکن یہ تو بتاؤ کہ یہ ہڈیوں کے چمکیلے ڈھیر کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا یہاں پہلے ایک لشکر آیا تھا۔ سورج کے نکلنے کے وقت وہ یہیں ٹھہرا رہا، سب مر گئے، یہ ان کی ہڈیاں ہیں۔ یہ سنتے ہی وہ وہاں سے واپس ہو گئے۔ پھر فرماتا ہے کہ ذوالقرنین کی، اس کے ساتھیوں کی کوئی حرکت کوئی گفتار اور رفتار ہم پر پوشیدہ نہ تھی۔ گو اس کا لاؤ لشکر بہت تھا زمین کے ہر حصے پر پھیلا ہوا تھا۔ «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَخْفَىٰ عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ» [ 3-آل عمران: 5 ] لیکن ہمارا علم زمین و آسمان پر حاوی ہے۔ ہم سے کوئی چیز مخفی نہیں۔
صفحہ نمبر4983
ایک وحشی بستی ٭٭
ذوالقرنین مغرب سے واپس مشرق کی طرف چلے۔ راستے میں جو قومیں ملتیں، اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی انہیں دعوت دیتے۔ اگر وہ قبول کر لیتے تو بہت اچھا، ورنہ ان سے لڑائی ہوتی اور اللہ کے فضل سے وہ ہارتے۔ آپ انہیں اپنا ماتحت کر کے وہاں کے مال ومویشی اور خادم وغیرہ لے کر آگے کو چلتے۔ بنی اسرائیلی خبروں میں ہے کہ یہ ایک ہزار چھ سو سال تک زندہ رہے۔ اور برابر زمین پر دین الٰہی کی تبلیغ میں رہے، ساتھ ہی بادشاہت بھی پھیلتی رہی۔ جب آپ سورج نکلنے کی جگہ پہنچے وہاں دیکھا کہ ایک بستی آباد ہے لیکن وہاں کے لوگ بالکل نیم وحشی جیسے ہیں۔ نہ وہ مکانات بناتے ہیں نہ وہاں کوئی درخت ہے، سورج کی دھوپ سے پناہ دینے والی کوئی چیز وہاں انہیں نظر نہ آئی۔ ان کے رنگ سرخ تھے ان کے قد پست تھے عام خوراک ان کی مچھلی تھی۔
صفحہ نمبر4982
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں، سورج کے نکلنے کے وقت وہ پانی میں چلے جایا کرتے تھے اور غروب ہونے کے بعد جانوروں کی طرح ادھر ادھر ہو جایا کرتے تھے۔ [ ابو شیخ فی العظمة989-978] حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ وہاں تو کچھ اگتا نہ تھا، سورج کے نکلنے کے وقت وہ پانی میں چلے جاتے اور زوال کے بعد دوردراز اپنی کھیتیوں وغیرہ میں مشغول ہو جاتے۔ سلمہ کا قول ہے کہ ان کے کان بڑے بڑے تھے ایک اوڑھ لیتے، ایک بچھا لیتے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ وحشی حبشی تھے۔
ابن جریر فرماتے ہیں کہ وہاں کبھی کوئی مکان یا دیوار یا احاطہٰ نہیں بنا، سورج کے نکلنے کے وقت یہ لوگ پانی میں گھس جاتے۔ وہاں کوئی پہاڑ بھی نہیں۔ پہلے کسی وقت ان کے پاس ایک لشکر پہنچا تو انہوں نے ان سے کہا کہ دیکھو سورج نکلتے وقت باہر نہ ٹھہرنا۔ انہوں نے کہا نہیں ہم تو رات ہی رات یہاں سے چلے جائیں گے لیکن یہ تو بتاؤ کہ یہ ہڈیوں کے چمکیلے ڈھیر کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا یہاں پہلے ایک لشکر آیا تھا۔ سورج کے نکلنے کے وقت وہ یہیں ٹھہرا رہا، سب مر گئے، یہ ان کی ہڈیاں ہیں۔ یہ سنتے ہی وہ وہاں سے واپس ہو گئے۔ پھر فرماتا ہے کہ ذوالقرنین کی، اس کے ساتھیوں کی کوئی حرکت کوئی گفتار اور رفتار ہم پر پوشیدہ نہ تھی۔ گو اس کا لاؤ لشکر بہت تھا زمین کے ہر حصے پر پھیلا ہوا تھا۔ «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَخْفَىٰ عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ» [ 3-آل عمران: 5 ] لیکن ہمارا علم زمین و آسمان پر حاوی ہے۔ ہم سے کوئی چیز مخفی نہیں۔
صفحہ نمبر4983