Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Kahf
Tafsir Ibn Kathir · The Cave · 110 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
سونے کے کنگن اور ریشمی لباس ٭٭
اوپر برے لوگوں کا حال اور انجام بیان فرمایا، اب نیکوں کا آغاز و انجام بیان ہو رہا ہے۔ یہ اللہ، رسول اور کتاب کے ماننے والے نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ ان کے لیے ہمیشگی والی دائمی جنتیں ہیں، ان کے بالاخانوں کے اور باغات کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں۔ انہیں زیورات خصوصا سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ ان کا لباس وہاں خالص ریشم کا ہو گا، نرم باریک اور نرم موٹے ریشم کا لباس ہو گا۔ یہ باآرام شاہانہ شان سے مسندوں پر جو تختوں پر ہوں گے، تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ کہا گیا ہے کہ لیٹنے اور چار زانوں بیٹھنے کا نام بھی اتکا ہے، ممکن ہے یہی مراد یہاں بھی ہو، چنانچہ حدیث میں ہے میں اتکا کر کے کھانا نہیں کھاتا۔ [صحیح بخاری:5398]
اس میں بھی یہی دو قول ہیں، «أَرَائِكِ» جمع ہے «اَرِیْکَة» کی، تخت چھپر کھٹ وغیرہ کو کہتے ہیں۔ کیا ہی اچھا بدلہ ہے اور کتنی ہی اچھی اور آرام دہ جگہ ہے برخلاف دوزخیوں کے کہ ان کے لیے بری سزا اور بری جگہ ہے۔ سورۃ الفرقان میں بھی انہیں دونوں گروہ کا اسی طرح مقابلہ کا بیان ہے «أُولَـٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا خَالِدِينَ فِيهَا حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا» [ 25-الفرقان: 75، 76 ] ۔ یہی وه لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلے جنت کے بلند و باﻻخانے دیئے جائیں گے جہاں انہیں دعا سلام پہنچایا جائے گا، اس میں یہ ہمیشہ رہیں گے، وه بہت ہی اچھی جگہ اور عمده مقام ہے۔
صفحہ نمبر4889
فخر و غرور ٭٭
[41-فصلت:50] چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا، یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھرپور، کسی قسم کا نقصان نہیں، ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت «ثُمْر» بھی ہے یہ جمع ہے «ثَمْرَۃ» کی جیسے «خَشْبَة» کی جمع «خُشْبٌ» ۔
الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں۔ ایک فاجر شخص کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں اس کے پاس بکثرت ہوں۔ یہ اپنے باغ میں گیا اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا یعنی تکبر، اکڑ، انکار قیامت اور کفر کرتا ہوا۔ اس قدر مست تھا کہ اس کی زبان سے نکلا کہ ناممکن ہے میری یہ لہلہاتی کھیتیاں، یہ پھلدار درخت، یہ جاری نہریں، یہ سرسبز بیلیں کبھی فنا ہو جائیں۔ حقیقت میں یہ اس کی کم عقلی، بےایمانی اور دنیا کی خر مستی اور اللہ کے ساتھ کفر کی وجہ تھی۔ اسی لیے کہہ رہا ہے کہ میرے خیال سے تو قیامت آنے والی نہیں۔ اور اگر بالفرض آئی بھی تو ظاہر ہے کہ اللہ کا میں پیارا ہوں ورنہ وہ مجھے اس قدر مال و متاع کیسے دے دیتا؟ تو وہاں بھی وہ مجھے اس سے بھی بہتر عطا فرمائے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَئِن رُّجِعْتُ إِلَىٰ رَبِّي إِنَّ لِي عِندَهُ لَلْحُسْنَىٰ» [ 41- فصلت: 50 ] اگر میں لوٹایا گیا تو وہاں میرے لیے اور اچھائی ہو گئی۔ اور آیت میں ارشاد ہے «اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا» [ 19- مريم: 77 ] یعنی تو نے اسے بھی دیکھا جو ہماری آیتوں سے کفر کر رہا ہے، اور باوجود اس کے اس کی تمنا یہ ہے کہ مجھے قیامت کے دن بھی بکثرت مال و اولاد ملے گی، یہ اللہ کے سامنے دلیری کرتا ہے اور اللہ پر باتیں بناتا ہے۔ اس آیت کا شان نزول عاص بن وائل ہے جیسے کہ اپنے موقعہ پر آئے گا ان شاءاللہ۔
صفحہ نمبر4891
فخر و غرور ٭٭
[41-فصلت:50] چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا، یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھرپور، کسی قسم کا نقصان نہیں، ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت «ثُمْر» بھی ہے یہ جمع ہے «ثَمْرَۃ» کی جیسے «خَشْبَة» کی جمع «خُشْبٌ» ۔
الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں۔ ایک فاجر شخص کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں اس کے پاس بکثرت ہوں۔ یہ اپنے باغ میں گیا اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا یعنی تکبر، اکڑ، انکار قیامت اور کفر کرتا ہوا۔ اس قدر مست تھا کہ اس کی زبان سے نکلا کہ ناممکن ہے میری یہ لہلہاتی کھیتیاں، یہ پھلدار درخت، یہ جاری نہریں، یہ سرسبز بیلیں کبھی فنا ہو جائیں۔ حقیقت میں یہ اس کی کم عقلی، بےایمانی اور دنیا کی خر مستی اور اللہ کے ساتھ کفر کی وجہ تھی۔ اسی لیے کہہ رہا ہے کہ میرے خیال سے تو قیامت آنے والی نہیں۔ اور اگر بالفرض آئی بھی تو ظاہر ہے کہ اللہ کا میں پیارا ہوں ورنہ وہ مجھے اس قدر مال و متاع کیسے دے دیتا؟ تو وہاں بھی وہ مجھے اس سے بھی بہتر عطا فرمائے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَئِن رُّجِعْتُ إِلَىٰ رَبِّي إِنَّ لِي عِندَهُ لَلْحُسْنَىٰ» [ 41- فصلت: 50 ] اگر میں لوٹایا گیا تو وہاں میرے لیے اور اچھائی ہو گئی۔ اور آیت میں ارشاد ہے «اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا» [ 19- مريم: 77 ] یعنی تو نے اسے بھی دیکھا جو ہماری آیتوں سے کفر کر رہا ہے، اور باوجود اس کے اس کی تمنا یہ ہے کہ مجھے قیامت کے دن بھی بکثرت مال و اولاد ملے گی، یہ اللہ کے سامنے دلیری کرتا ہے اور اللہ پر باتیں بناتا ہے۔ اس آیت کا شان نزول عاص بن وائل ہے جیسے کہ اپنے موقعہ پر آئے گا ان شاءاللہ۔
صفحہ نمبر4891
فخر و غرور ٭٭
[41-فصلت:50] چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا، یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھرپور، کسی قسم کا نقصان نہیں، ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت «ثُمْر» بھی ہے یہ جمع ہے «ثَمْرَۃ» کی جیسے «خَشْبَة» کی جمع «خُشْبٌ» ۔
الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں۔ ایک فاجر شخص کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں اس کے پاس بکثرت ہوں۔ یہ اپنے باغ میں گیا اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا یعنی تکبر، اکڑ، انکار قیامت اور کفر کرتا ہوا۔ اس قدر مست تھا کہ اس کی زبان سے نکلا کہ ناممکن ہے میری یہ لہلہاتی کھیتیاں، یہ پھلدار درخت، یہ جاری نہریں، یہ سرسبز بیلیں کبھی فنا ہو جائیں۔ حقیقت میں یہ اس کی کم عقلی، بےایمانی اور دنیا کی خر مستی اور اللہ کے ساتھ کفر کی وجہ تھی۔ اسی لیے کہہ رہا ہے کہ میرے خیال سے تو قیامت آنے والی نہیں۔ اور اگر بالفرض آئی بھی تو ظاہر ہے کہ اللہ کا میں پیارا ہوں ورنہ وہ مجھے اس قدر مال و متاع کیسے دے دیتا؟ تو وہاں بھی وہ مجھے اس سے بھی بہتر عطا فرمائے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَئِن رُّجِعْتُ إِلَىٰ رَبِّي إِنَّ لِي عِندَهُ لَلْحُسْنَىٰ» [ 41- فصلت: 50 ] اگر میں لوٹایا گیا تو وہاں میرے لیے اور اچھائی ہو گئی۔ اور آیت میں ارشاد ہے «اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا» [ 19- مريم: 77 ] یعنی تو نے اسے بھی دیکھا جو ہماری آیتوں سے کفر کر رہا ہے، اور باوجود اس کے اس کی تمنا یہ ہے کہ مجھے قیامت کے دن بھی بکثرت مال و اولاد ملے گی، یہ اللہ کے سامنے دلیری کرتا ہے اور اللہ پر باتیں بناتا ہے۔ اس آیت کا شان نزول عاص بن وائل ہے جیسے کہ اپنے موقعہ پر آئے گا ان شاءاللہ۔
صفحہ نمبر4891
فخر و غرور ٭٭
[41-فصلت:50] چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا، یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھرپور، کسی قسم کا نقصان نہیں، ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت «ثُمْر» بھی ہے یہ جمع ہے «ثَمْرَۃ» کی جیسے «خَشْبَة» کی جمع «خُشْبٌ» ۔
الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں۔ ایک فاجر شخص کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں اس کے پاس بکثرت ہوں۔ یہ اپنے باغ میں گیا اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا یعنی تکبر، اکڑ، انکار قیامت اور کفر کرتا ہوا۔ اس قدر مست تھا کہ اس کی زبان سے نکلا کہ ناممکن ہے میری یہ لہلہاتی کھیتیاں، یہ پھلدار درخت، یہ جاری نہریں، یہ سرسبز بیلیں کبھی فنا ہو جائیں۔ حقیقت میں یہ اس کی کم عقلی، بےایمانی اور دنیا کی خر مستی اور اللہ کے ساتھ کفر کی وجہ تھی۔ اسی لیے کہہ رہا ہے کہ میرے خیال سے تو قیامت آنے والی نہیں۔ اور اگر بالفرض آئی بھی تو ظاہر ہے کہ اللہ کا میں پیارا ہوں ورنہ وہ مجھے اس قدر مال و متاع کیسے دے دیتا؟ تو وہاں بھی وہ مجھے اس سے بھی بہتر عطا فرمائے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَئِن رُّجِعْتُ إِلَىٰ رَبِّي إِنَّ لِي عِندَهُ لَلْحُسْنَىٰ» [ 41- فصلت: 50 ] اگر میں لوٹایا گیا تو وہاں میرے لیے اور اچھائی ہو گئی۔ اور آیت میں ارشاد ہے «اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا» [ 19- مريم: 77 ] یعنی تو نے اسے بھی دیکھا جو ہماری آیتوں سے کفر کر رہا ہے، اور باوجود اس کے اس کی تمنا یہ ہے کہ مجھے قیامت کے دن بھی بکثرت مال و اولاد ملے گی، یہ اللہ کے سامنے دلیری کرتا ہے اور اللہ پر باتیں بناتا ہے۔ اس آیت کا شان نزول عاص بن وائل ہے جیسے کہ اپنے موقعہ پر آئے گا ان شاءاللہ۔
صفحہ نمبر4891
فخر و غرور ٭٭
[41-فصلت:50] چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا، یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھرپور، کسی قسم کا نقصان نہیں، ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت «ثُمْر» بھی ہے یہ جمع ہے «ثَمْرَۃ» کی جیسے «خَشْبَة» کی جمع «خُشْبٌ» ۔
الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں۔ ایک فاجر شخص کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں اس کے پاس بکثرت ہوں۔ یہ اپنے باغ میں گیا اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا یعنی تکبر، اکڑ، انکار قیامت اور کفر کرتا ہوا۔ اس قدر مست تھا کہ اس کی زبان سے نکلا کہ ناممکن ہے میری یہ لہلہاتی کھیتیاں، یہ پھلدار درخت، یہ جاری نہریں، یہ سرسبز بیلیں کبھی فنا ہو جائیں۔ حقیقت میں یہ اس کی کم عقلی، بےایمانی اور دنیا کی خر مستی اور اللہ کے ساتھ کفر کی وجہ تھی۔ اسی لیے کہہ رہا ہے کہ میرے خیال سے تو قیامت آنے والی نہیں۔ اور اگر بالفرض آئی بھی تو ظاہر ہے کہ اللہ کا میں پیارا ہوں ورنہ وہ مجھے اس قدر مال و متاع کیسے دے دیتا؟ تو وہاں بھی وہ مجھے اس سے بھی بہتر عطا فرمائے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَئِن رُّجِعْتُ إِلَىٰ رَبِّي إِنَّ لِي عِندَهُ لَلْحُسْنَىٰ» [ 41- فصلت: 50 ] اگر میں لوٹایا گیا تو وہاں میرے لیے اور اچھائی ہو گئی۔ اور آیت میں ارشاد ہے «اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا» [ 19- مريم: 77 ] یعنی تو نے اسے بھی دیکھا جو ہماری آیتوں سے کفر کر رہا ہے، اور باوجود اس کے اس کی تمنا یہ ہے کہ مجھے قیامت کے دن بھی بکثرت مال و اولاد ملے گی، یہ اللہ کے سامنے دلیری کرتا ہے اور اللہ پر باتیں بناتا ہے۔ اس آیت کا شان نزول عاص بن وائل ہے جیسے کہ اپنے موقعہ پر آئے گا ان شاءاللہ۔
صفحہ نمبر4891
احسان فراموشی مترادف کفر ہے ٭٭
اس کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی، ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا، فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائش مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» [ 2- البقرة: 28 ] میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کر سکتے ہو؟ اس کی نعمتوں کے، اس کی قدرتوں کے بےشمار نمونے خود تم میں اور تم پر موجود ہیں۔ کون نادان ایسا ہے جو نہ جانتا ہو کہ وہ پہلے کچھ نہ تھا اللہ نے اسے موجود کر دیا۔ وہ خودبخود اپنے ہونے پر قادر نہ تھا اللہ نے اس کا وجود پیدا کیا۔ پھر وہ انکار کے لائق کیسے ہو گیا؟ اس کی توحید الوہیت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ میں تو تیرے مقابلے میں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا رب وہی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے میں اپنے رب کے ساتھ مشرک بننا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر اپنے ساتھی کو نیک رغبت دلانے کے لیے کہتا ہے کہ اپنی لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے میووں سے لدے باغ کو دیکھ کر تو اللہ کا شکر کیوں نہیں کرتا؟ کیوں «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» نہیں کہتا؟ اسی آیت کو سامنے رکھ کر بعض سلف کا مقولہ ہے کہ جسے اپنی اولاد یا مال یا حال پسند آئے اسے یہ کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔
ابو یعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «مَا أَنْعَمَ اللَّه عَلَى عَبْد نِعْمَة مِنْ أَهْل أَوْ مَال أَوْ وَلَد فَيَقُول مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ فَيُرَى فِيهِ آفَة دُون الْمَوْت» جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے، اہل و عیال ہوں، دولتمندی ہو، فرزند ہوں، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے، پھر آپ اس آیت «وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِن تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا» [ 39: الكهف ] کی تلاوت کرتے۔ [البدایة و النھایة141/2:ضعیف] حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں۔
صفحہ نمبر4896
مسند احمد، صحیح البخاری، صحیح مسلم میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتا دوں؟ وہ خزانہ «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» کہنا ہے۔ [صحیح بخاری:6384] اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کر دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورۃ الکہف میں ہے یعنی «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ [مسند احمد:335/2:صحیح] پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے، تباہ کر دے۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے۔ «غَوْرً» مصدر ہے معنی میں «غائر» کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے۔
صفحہ نمبر4897
احسان فراموشی مترادف کفر ہے ٭٭
اس کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی، ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا، فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائش مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» [ 2- البقرة: 28 ] میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کر سکتے ہو؟ اس کی نعمتوں کے، اس کی قدرتوں کے بےشمار نمونے خود تم میں اور تم پر موجود ہیں۔ کون نادان ایسا ہے جو نہ جانتا ہو کہ وہ پہلے کچھ نہ تھا اللہ نے اسے موجود کر دیا۔ وہ خودبخود اپنے ہونے پر قادر نہ تھا اللہ نے اس کا وجود پیدا کیا۔ پھر وہ انکار کے لائق کیسے ہو گیا؟ اس کی توحید الوہیت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ میں تو تیرے مقابلے میں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا رب وہی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے میں اپنے رب کے ساتھ مشرک بننا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر اپنے ساتھی کو نیک رغبت دلانے کے لیے کہتا ہے کہ اپنی لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے میووں سے لدے باغ کو دیکھ کر تو اللہ کا شکر کیوں نہیں کرتا؟ کیوں «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» نہیں کہتا؟ اسی آیت کو سامنے رکھ کر بعض سلف کا مقولہ ہے کہ جسے اپنی اولاد یا مال یا حال پسند آئے اسے یہ کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔
ابو یعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «مَا أَنْعَمَ اللَّه عَلَى عَبْد نِعْمَة مِنْ أَهْل أَوْ مَال أَوْ وَلَد فَيَقُول مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ فَيُرَى فِيهِ آفَة دُون الْمَوْت» جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے، اہل و عیال ہوں، دولتمندی ہو، فرزند ہوں، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے، پھر آپ اس آیت «وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِن تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا» [ 39: الكهف ] کی تلاوت کرتے۔ [البدایة و النھایة141/2:ضعیف] حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں۔
صفحہ نمبر4896
مسند احمد، صحیح البخاری، صحیح مسلم میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتا دوں؟ وہ خزانہ «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» کہنا ہے۔ [صحیح بخاری:6384] اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کر دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورۃ الکہف میں ہے یعنی «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ [مسند احمد:335/2:صحیح] پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے، تباہ کر دے۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے۔ «غَوْرً» مصدر ہے معنی میں «غائر» کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے۔
صفحہ نمبر4897
احسان فراموشی مترادف کفر ہے ٭٭
اس کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی، ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا، فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائش مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» [ 2- البقرة: 28 ] میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کر سکتے ہو؟ اس کی نعمتوں کے، اس کی قدرتوں کے بےشمار نمونے خود تم میں اور تم پر موجود ہیں۔ کون نادان ایسا ہے جو نہ جانتا ہو کہ وہ پہلے کچھ نہ تھا اللہ نے اسے موجود کر دیا۔ وہ خودبخود اپنے ہونے پر قادر نہ تھا اللہ نے اس کا وجود پیدا کیا۔ پھر وہ انکار کے لائق کیسے ہو گیا؟ اس کی توحید الوہیت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ میں تو تیرے مقابلے میں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا رب وہی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے میں اپنے رب کے ساتھ مشرک بننا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر اپنے ساتھی کو نیک رغبت دلانے کے لیے کہتا ہے کہ اپنی لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے میووں سے لدے باغ کو دیکھ کر تو اللہ کا شکر کیوں نہیں کرتا؟ کیوں «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» نہیں کہتا؟ اسی آیت کو سامنے رکھ کر بعض سلف کا مقولہ ہے کہ جسے اپنی اولاد یا مال یا حال پسند آئے اسے یہ کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔
ابو یعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «مَا أَنْعَمَ اللَّه عَلَى عَبْد نِعْمَة مِنْ أَهْل أَوْ مَال أَوْ وَلَد فَيَقُول مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ فَيُرَى فِيهِ آفَة دُون الْمَوْت» جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے، اہل و عیال ہوں، دولتمندی ہو، فرزند ہوں، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے، پھر آپ اس آیت «وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِن تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا» [ 39: الكهف ] کی تلاوت کرتے۔ [البدایة و النھایة141/2:ضعیف] حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں۔
صفحہ نمبر4896
مسند احمد، صحیح البخاری، صحیح مسلم میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتا دوں؟ وہ خزانہ «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» کہنا ہے۔ [صحیح بخاری:6384] اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کر دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورۃ الکہف میں ہے یعنی «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ [مسند احمد:335/2:صحیح] پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے، تباہ کر دے۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے۔ «غَوْرً» مصدر ہے معنی میں «غائر» کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے۔
صفحہ نمبر4897
احسان فراموشی مترادف کفر ہے ٭٭
اس کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی، ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا، فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائش مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» [ 2- البقرة: 28 ] میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کر سکتے ہو؟ اس کی نعمتوں کے، اس کی قدرتوں کے بےشمار نمونے خود تم میں اور تم پر موجود ہیں۔ کون نادان ایسا ہے جو نہ جانتا ہو کہ وہ پہلے کچھ نہ تھا اللہ نے اسے موجود کر دیا۔ وہ خودبخود اپنے ہونے پر قادر نہ تھا اللہ نے اس کا وجود پیدا کیا۔ پھر وہ انکار کے لائق کیسے ہو گیا؟ اس کی توحید الوہیت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ میں تو تیرے مقابلے میں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا رب وہی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے میں اپنے رب کے ساتھ مشرک بننا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر اپنے ساتھی کو نیک رغبت دلانے کے لیے کہتا ہے کہ اپنی لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے میووں سے لدے باغ کو دیکھ کر تو اللہ کا شکر کیوں نہیں کرتا؟ کیوں «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» نہیں کہتا؟ اسی آیت کو سامنے رکھ کر بعض سلف کا مقولہ ہے کہ جسے اپنی اولاد یا مال یا حال پسند آئے اسے یہ کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔
ابو یعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «مَا أَنْعَمَ اللَّه عَلَى عَبْد نِعْمَة مِنْ أَهْل أَوْ مَال أَوْ وَلَد فَيَقُول مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ فَيُرَى فِيهِ آفَة دُون الْمَوْت» جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے، اہل و عیال ہوں، دولتمندی ہو، فرزند ہوں، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے، پھر آپ اس آیت «وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِن تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا» [ 39: الكهف ] کی تلاوت کرتے۔ [البدایة و النھایة141/2:ضعیف] حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں۔
صفحہ نمبر4896
مسند احمد، صحیح البخاری، صحیح مسلم میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتا دوں؟ وہ خزانہ «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» کہنا ہے۔ [صحیح بخاری:6384] اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کر دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورۃ الکہف میں ہے یعنی «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ [مسند احمد:335/2:صحیح] پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے، تباہ کر دے۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے۔ «غَوْرً» مصدر ہے معنی میں «غائر» کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے۔
صفحہ نمبر4897
احسان فراموشی مترادف کفر ہے ٭٭
اس کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی، ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا، فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائش مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت «كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» [ 2- البقرة: 28 ] میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کر سکتے ہو؟ اس کی نعمتوں کے، اس کی قدرتوں کے بےشمار نمونے خود تم میں اور تم پر موجود ہیں۔ کون نادان ایسا ہے جو نہ جانتا ہو کہ وہ پہلے کچھ نہ تھا اللہ نے اسے موجود کر دیا۔ وہ خودبخود اپنے ہونے پر قادر نہ تھا اللہ نے اس کا وجود پیدا کیا۔ پھر وہ انکار کے لائق کیسے ہو گیا؟ اس کی توحید الوہیت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ میں تو تیرے مقابلے میں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ میرا رب وہی اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے میں اپنے رب کے ساتھ مشرک بننا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر اپنے ساتھی کو نیک رغبت دلانے کے لیے کہتا ہے کہ اپنی لہلہاتی ہوئی کھیتی اور ہرے بھرے میووں سے لدے باغ کو دیکھ کر تو اللہ کا شکر کیوں نہیں کرتا؟ کیوں «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» نہیں کہتا؟ اسی آیت کو سامنے رکھ کر بعض سلف کا مقولہ ہے کہ جسے اپنی اولاد یا مال یا حال پسند آئے اسے یہ کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔
ابو یعلیٰ موصلی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «مَا أَنْعَمَ اللَّه عَلَى عَبْد نِعْمَة مِنْ أَهْل أَوْ مَال أَوْ وَلَد فَيَقُول مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ فَيُرَى فِيهِ آفَة دُون الْمَوْت» جس بندے پر اللہ اپنی کوئی نعمت انعام فرمائے، اہل و عیال ہوں، دولتمندی ہو، فرزند ہوں، پھر وہ اس کلمہ کو کہہ لے تو اس میں کوئی آنچ نہ آئے گی سوائے موت کے، پھر آپ اس آیت «وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِن تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا» [ 39: الكهف ] کی تلاوت کرتے۔ [البدایة و النھایة141/2:ضعیف] حافظ ابو الفتح کہتے ہیں یہ حدیث صحیح نہیں۔
صفحہ نمبر4896
مسند احمد، صحیح البخاری، صحیح مسلم میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ بتا دوں؟ وہ خزانہ «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» کہنا ہے۔ [صحیح بخاری:6384] اور روایت میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے میرے اس بندے نے مان لیا اور اپنا معاملہ میرے سپرد کر دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، صرف لاحول نہیں بلکہ وہ جو سورۃ الکہف میں ہے یعنی «مَا شَاءَ اللَّه لَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ [مسند احمد:335/2:صحیح] پھر فرمایا کہ اس نیک شخص نے کہا کہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے آخرت کے دن اس سے بہتر نعمتیں عطا فرمائے اور تیرے اس باغ کو جسے تو ہمیشگی والا سمجھے بیٹھا ہے، تباہ کر دے۔ آسمان سے اس پر عذاب بھیج دے۔ زور کی بارش آندھی کے ساتھ آئے۔ تمام کھیت اور باغ اجڑ جائیں۔ سوکھی صاف زمین رہ جائے گویا کہ کبھی یہاں کوئی چیز اگی ہی نہ تھی۔ یا اس کی نہروں کا پانی دھنسا دے۔ «غَوْرً» مصدر ہے معنی میں «غائر» کے بطور مبالغے کے لایا گیا ہے۔
صفحہ نمبر4897
کف افسوس ٭٭
اس کا کل مال کل پھل غارت ہو گیا۔ وہ مومن اسے جس بات سے ڈرا رہا تھا، وہی ہو کر رہی۔ اب تو وہ اپنے مال کی بربادی پر کف افسوس ملنے لگا اور آرزو کرنے لگا کہ اے کاش کہ میں اللہ کے ساتھ مشرک نہ بنتا۔ جن پر فخر کرتا تھا، ان میں سے کوئی اس وقت کام نہ آیا، فرزند قبیلہ سب رہ گیا۔ فخر و غرور سب مٹ گیا، نہ اور کوئی کھڑا ہوا نہ خود میں ہی کوئی ہمت ہوئی۔ بعض لوگ «هُنَالِكَ» پر وقف کرتے ہیں اور اسے پہلے جملے کے ساتھ ملا لیتے ہیں یعنی وہاں وہ اپنا انتقام نہ لے سکا۔ اور بعض «مُنتَصِرًا» پر آیت کر کے آگے سے نئے جملے کی ابتداء کرتے ہیں، «وَلَايَةُ» کی دوسری قرأت «وِلَایَةُ» بھی ہے۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہوا کہ ہر مومن و کافر اللہ ہی کی طرف رجوع کرنے والا ہے، اس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں۔ عذاب کے وقت کوئی بھی سوائے اس کے کام نہیں آ سکتا جیسے فرمان ہے «فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ» [ 40- غافر: 84 ] یعنی ہمارے عذاب دیکھ کر کہنے لگے کہ ہم اللہ واحد پر ایمان لاتے ہیں اور اس سے پہلے جنہیں ہم شریک الٰہی ٹھہرایا کرتے تھے، ان سے انکار کرتے ہیں۔ اور جیسے کہ فرعون نے ڈوبتے وقت کہا تھا کہ «حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» [ 10-يونس: 91، 90 ] میں اس اللہ پر ایمان لاتا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں شامل ہوتا ہوں، اس وقت جواب ملا کہ اب ایمان قبول کرتا ہے؟ اس سے پہلے تو نافرمان رہا اور مفسدوں میں شامل رہا۔
واؤ کے کسر کی قرأت پر یہ معنی ہوئے کہ وہاں حکم صحیح طور پر اللہ ہی کے لیے ہے۔ «لِلَّهِ الْحَقِّ» کی دوسری قرأت قاف کے پیش سے بھی ہے کیونکہ یہ «الْوَلَايَةُ» کی صفت ہے جیسے فرمان ہے «اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا» [ 25- الفرقان: 26 ] میں ہے۔ بعض لوگ قاف کا زیر پڑھتے ہیں ان کے نزدیک یہ صفت ہے حق تعالیٰ کی۔ جیسے اور آیت میں ہے «ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ» [ 6- الانعام: 62 ] ۔ اسی لیے پھر فرماتا ہے کہ جو اعمال صرف اللہ ہی کے لیے ہوں، ان کا ثواب بہت ہوتا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی وہ بہت بہتر ہیں۔
صفحہ نمبر4902
کف افسوس ٭٭
اس کا کل مال کل پھل غارت ہو گیا۔ وہ مومن اسے جس بات سے ڈرا رہا تھا، وہی ہو کر رہی۔ اب تو وہ اپنے مال کی بربادی پر کف افسوس ملنے لگا اور آرزو کرنے لگا کہ اے کاش کہ میں اللہ کے ساتھ مشرک نہ بنتا۔ جن پر فخر کرتا تھا، ان میں سے کوئی اس وقت کام نہ آیا، فرزند قبیلہ سب رہ گیا۔ فخر و غرور سب مٹ گیا، نہ اور کوئی کھڑا ہوا نہ خود میں ہی کوئی ہمت ہوئی۔ بعض لوگ «هُنَالِكَ» پر وقف کرتے ہیں اور اسے پہلے جملے کے ساتھ ملا لیتے ہیں یعنی وہاں وہ اپنا انتقام نہ لے سکا۔ اور بعض «مُنتَصِرًا» پر آیت کر کے آگے سے نئے جملے کی ابتداء کرتے ہیں، «وَلَايَةُ» کی دوسری قرأت «وِلَایَةُ» بھی ہے۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہوا کہ ہر مومن و کافر اللہ ہی کی طرف رجوع کرنے والا ہے، اس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں۔ عذاب کے وقت کوئی بھی سوائے اس کے کام نہیں آ سکتا جیسے فرمان ہے «فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ» [ 40- غافر: 84 ] یعنی ہمارے عذاب دیکھ کر کہنے لگے کہ ہم اللہ واحد پر ایمان لاتے ہیں اور اس سے پہلے جنہیں ہم شریک الٰہی ٹھہرایا کرتے تھے، ان سے انکار کرتے ہیں۔ اور جیسے کہ فرعون نے ڈوبتے وقت کہا تھا کہ «حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» [ 10-يونس: 91، 90 ] میں اس اللہ پر ایمان لاتا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں شامل ہوتا ہوں، اس وقت جواب ملا کہ اب ایمان قبول کرتا ہے؟ اس سے پہلے تو نافرمان رہا اور مفسدوں میں شامل رہا۔
واؤ کے کسر کی قرأت پر یہ معنی ہوئے کہ وہاں حکم صحیح طور پر اللہ ہی کے لیے ہے۔ «لِلَّهِ الْحَقِّ» کی دوسری قرأت قاف کے پیش سے بھی ہے کیونکہ یہ «الْوَلَايَةُ» کی صفت ہے جیسے فرمان ہے «اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا» [ 25- الفرقان: 26 ] میں ہے۔ بعض لوگ قاف کا زیر پڑھتے ہیں ان کے نزدیک یہ صفت ہے حق تعالیٰ کی۔ جیسے اور آیت میں ہے «ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ» [ 6- الانعام: 62 ] ۔ اسی لیے پھر فرماتا ہے کہ جو اعمال صرف اللہ ہی کے لیے ہوں، ان کا ثواب بہت ہوتا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی وہ بہت بہتر ہیں۔
صفحہ نمبر4902
کف افسوس ٭٭
اس کا کل مال کل پھل غارت ہو گیا۔ وہ مومن اسے جس بات سے ڈرا رہا تھا، وہی ہو کر رہی۔ اب تو وہ اپنے مال کی بربادی پر کف افسوس ملنے لگا اور آرزو کرنے لگا کہ اے کاش کہ میں اللہ کے ساتھ مشرک نہ بنتا۔ جن پر فخر کرتا تھا، ان میں سے کوئی اس وقت کام نہ آیا، فرزند قبیلہ سب رہ گیا۔ فخر و غرور سب مٹ گیا، نہ اور کوئی کھڑا ہوا نہ خود میں ہی کوئی ہمت ہوئی۔ بعض لوگ «هُنَالِكَ» پر وقف کرتے ہیں اور اسے پہلے جملے کے ساتھ ملا لیتے ہیں یعنی وہاں وہ اپنا انتقام نہ لے سکا۔ اور بعض «مُنتَصِرًا» پر آیت کر کے آگے سے نئے جملے کی ابتداء کرتے ہیں، «وَلَايَةُ» کی دوسری قرأت «وِلَایَةُ» بھی ہے۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہوا کہ ہر مومن و کافر اللہ ہی کی طرف رجوع کرنے والا ہے، اس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں۔ عذاب کے وقت کوئی بھی سوائے اس کے کام نہیں آ سکتا جیسے فرمان ہے «فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ» [ 40- غافر: 84 ] یعنی ہمارے عذاب دیکھ کر کہنے لگے کہ ہم اللہ واحد پر ایمان لاتے ہیں اور اس سے پہلے جنہیں ہم شریک الٰہی ٹھہرایا کرتے تھے، ان سے انکار کرتے ہیں۔ اور جیسے کہ فرعون نے ڈوبتے وقت کہا تھا کہ «حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» [ 10-يونس: 91، 90 ] میں اس اللہ پر ایمان لاتا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں شامل ہوتا ہوں، اس وقت جواب ملا کہ اب ایمان قبول کرتا ہے؟ اس سے پہلے تو نافرمان رہا اور مفسدوں میں شامل رہا۔
واؤ کے کسر کی قرأت پر یہ معنی ہوئے کہ وہاں حکم صحیح طور پر اللہ ہی کے لیے ہے۔ «لِلَّهِ الْحَقِّ» کی دوسری قرأت قاف کے پیش سے بھی ہے کیونکہ یہ «الْوَلَايَةُ» کی صفت ہے جیسے فرمان ہے «اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا» [ 25- الفرقان: 26 ] میں ہے۔ بعض لوگ قاف کا زیر پڑھتے ہیں ان کے نزدیک یہ صفت ہے حق تعالیٰ کی۔ جیسے اور آیت میں ہے «ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ» [ 6- الانعام: 62 ] ۔ اسی لیے پھر فرماتا ہے کہ جو اعمال صرف اللہ ہی کے لیے ہوں، ان کا ثواب بہت ہوتا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی وہ بہت بہتر ہیں۔
صفحہ نمبر4902
حیات و موت کا نقشہ ٭٭
دنیا اپنے زوال، فنا، خاتمے اور بردباری کے لحاظ سے مثل آسمانی بارش کے ہے جو زمین کے دانوں وغیرہ سے ملتی ہے اور ہزار ہا پودے لہلہانے لگتے ہیں۔ تروتازگی اور زندگی کے آثار ہر چیز سے ظاہر ہونے لگتے ہیں لیکن کچھ دنوں کے گزرتے ہی وہ سوکھ ساکھ کر چورا چورا ہو جاتے ہیں اور ہوائیں انہیں دائیں بائیں اڑائے پھرتی ہیں۔ اس حالت پر جو اللہ قادر تھا، وہ اس حالت پر بھی قادر ہے۔ عموماً دنیا کی مثال بارش سے بیان فرمائی جاتی ہے جیسے سورۃ یونس کی آیت «اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا يَاْكُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ» [ 10- یونس: 24 ] الخ میں اور جیسے سورۃ الزمر کی آیت «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ» [39-الزمر:21] الخ میں۔ اور جیسے سورۃ الحدید کی آیت «اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا وَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» [ 57- الحديد: 20 ] میں۔
صحیح حدیث میں بھی ہے «الدُّنْيَا خَضِرَة حُلْوَة» دنیا سبز رنگ میٹھی ہے، الخ۔ [صحیح مسلم:2742] پھر فرماتا ہے کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں۔ جیسے فرمایا ہے «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللَّـهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ» [ 6-الانعام: 14 ] انسان کے لیے خواہشوں کی محبت مثلا عورتیں، بیٹے، خزانے وغیرہ مزین کر دی گئی ہے۔ اور آیت میں ہے «اِنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللّٰهُ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ» [ 64- التغابن: 15 ] الخ، تمہارے مال، تمہاری اولادیں فتنہ ہیں اور اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔ یعنی اس کی طرف جھکنا اس کی عبادت میں مشغول رہنا دنیا طلبی سے بہتر ہے۔ اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ باقیات صالحات ہر لحاظ سے عمدہ چیز ہے۔ مثلا پانچوں وقت کی نمازیں اور [ دعا ] «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر»، اور [ دعا ] «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَسُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَاَللَّه أَكْبَر وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ۔
صفحہ نمبر4905
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے غلام فرماتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں میں بیٹھے ہوئے تھے جو مؤذن پہنچا۔ آپ رضی اللہ عنہما نے پانی منگوایا، ایک برتن میں قریب تین پاؤ کے پانی آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے وضو کر کے فرمایا، حضور علیہ السلام نے اسی طرح وضو کر کے فرمایا جو میرے اس وضو جیسا وضو کر کے ظہر کی نماز ادا کرے تو صبح سے لے کر ظہر تک کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ پھر عصر میں بھی اسی طرح نماز پڑھ لی تو ظہر سے عصر تک کے تمام گناہ معاف، پھر مغرب کی نماز پڑھی تو عصر سے مغرب تک کے گناہ معاف۔ پھر عشاء کی نماز پڑھی تو مغرب سے عشاء تک کے گناہ معاف پھر رات کو وہ سو رہا، صبح اٹھ کر نماز فجر ادا کی تو عشاء سے لے کے صبح تک کے گناہ معاف۔ یہی وہ نیکیاں ہیں جو برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ لوگوں نے پوچھا یہ تو ہوئیں نیکیاں، اب اے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما آپ بتلائیے کہ باقیات صالحات کیا ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا دعا «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَاَللَّه أَكْبَر وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ۔ [مسند احمد:71/1:صحیح]
صفحہ نمبر4906
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں، باقیات صالحات یہ ہیں دعا «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَاَللَّه أَكْبَر وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ۔ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے اپنے شاگرد عمارہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ بتاؤ باقیات صالحات کیا ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ نماز اور روزہ۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا تم نے صحیح جواب نہیں دیا، انہوں نے کہا زکوٰۃ اور حج، فرمایا ابھی جواب ٹھیک نہیں ہوا۔ سنو وہ پانچ کلمے ہیں دعا «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَسُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَاَللَّه أَكْبَر وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا تو آپ نے بجز «الحمدللہ» کے اور چار کلمات بتلائے۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ بجز «لا حول» کے اور چاروں کلمات بتلاتے ہیں۔
صفحہ نمبر4907
حضرت حسن رحمہ اللہ اور قتادۃ رحمہ اللہ بھی ان ہی چاروں کلمات کو باقیات صالحات بتلاتے ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» یہ ہیں باقیات صالحات۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23100] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، باقیات صالحات کی کثرت کرو، پوچھا گیا وہ کیا ہیں؟ فرمایا ملت، پوچھا گیا وہ کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تکبیر تہلیل، تسبیح اور «الحمد للہ» اور «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» [تفسیر ابن جریر الطبری:32102:ضعیف] ۔
حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کے مولی عبداللہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے سالم رحمہ اللہ نے محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کے پاس کسی کام کے لیے بھیجا تو انہوں نے کہا سالم رحمہ اللہ سے کہہ دینا کہ فلاں قبر کے پاس کے کونے میں مجھ سے ملاقات کریں، مجھے ان سے کچھ کام ہے۔ چنانچہ دونوں کی وہاں ملاقات ہوئی سلام علیک ہوا تو سالم رحمہ اللہ نے پوچھا، کچھ کے نزدیک باقیات صالحات کیا ہیں؟ انہوں نے فرمایا دعا «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» اور «سبحان اللہ» اور «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ سالم نے کہا یہ آخری کلمہ آپ رحمہ اللہ نے اس میں کب سے بڑھایا؟
قرظی نے کہا میں تو ہمیشہ سے اس کلمے کو شمار کرتا ہوں، دو تین بار یہی سوال جواب ہوا تو محمد بن کعب نے فرمایا، کیا تمہیں اس کلمے سے انکار ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں انکار ہے۔ کہا، سنو میں نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے، جب مجھے معراج کرائی گئی میں نے آسمان پر ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، آپ علیہ السلام نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ انہوں نے مجھے مرحبا اور خوش آمدید کہا اور فرمایا آپ اپنی امت سے فرما دیجئیے کہ وہ جنت میں اپنے لیے بہت کچھ باغات لگا لیں، اس کی مٹی پاک ہے، اس کی زمین کشادہ ہے۔ میں نے پوچھا، وہاں باغات لگانے کی کیا صورت ہے؟ فرمایا «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» بکثرت پڑھیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23099:ضعیف]
صفحہ نمبر4908
مسند احمد میں نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک رات عشاء کی نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے آسمان کی طرف دیکھ کر نظریں نیچی کر لیں، ہمیں خیال ہوا کہ شاید آسمان میں کوئی نئی بات ہوئی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میرے بعد جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے والے بادشاہ ہوں گے جو ان کے جھوٹ کو تسلیم کرے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری کرے، وہ مجھ سے نہیں اور نہ میں اس کا ہوں۔ اور جو ان کے جھوٹ کو نہ بچائے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری کرے، وہ مجھ سے نہیں اور نہ میں اس کا ہوں۔ اور جو ان کے جھوٹ کو نہ بچائے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری نہ کرے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔ لوگو سن رکھو «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» یہ باقیات صالحات یعنی باقی رہنے والی نیکیاں ہیں۔ [مسند احمد:267/4:ضعیف]
مسند میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ واہ پانچ کلمات ہیں اور نیکی کی ترازو میں بے حد وزنی ہیں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ» اور وہ بچہ جس کے انتقال پر اس کا باپ طلب اجر کے لیے صبر کرے۔ واہ واہ پانچ چیزیں ہیں، جو ان کا یقین رکھتا ہو اللہ سے ملاقات کرے، وہ قطعا جنتی ہے۔ اللہ پر، قیامت کے دن پر، جنت دوزخ پر، مرنے کے بعد کے جی اٹھنے پر اور حساب پر ایمان رکھے۔ [مسند احمد:443/3:حسن]
صفحہ نمبر4909
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہا ایک سفر میں تھے کسی جگہ اترے اور اپنے غلام سے فرمایا کہ چھری لاؤ کھیلیں۔ حضرت حسان بن عطیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے اس وقت کہا کہ یہ آپ رضی اللہ عنہ نے کیا کہا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، واقعی میں نے غلطی کی۔ سنو اسلام لانے کے بعد سے لے کر آج تک میں نے کوئی کلمہ اپنی زبان سے ایسا نہیں نکالا جو میرے لیے لگام بن جائے، بجز اس ایک کلمے کے، پس تم لوگ اسے یاد سے بھلا دو اور اب جو میں کہہ رہا ہوں اسے یاد رکھو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جب لوگ سونے چاندی کے جمع کرنے میں لگ جائیں، تم اس وقت ان کلمات کو بکثرت پڑھا کرو۔ دعا «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك الثَّبَات فِي الْأَمْر وَالْعَزِيمَة عَلَى الرُّشْد وَأَسْأَلك شُكْر نِعْمَتك وَأَسْأَلك حُسْن عِبَادَتك وَأَسْأَلك قَلْبًا سَلِيمًا وَأَسْأَلك لِسَانًا صَادِقًا وَأَسْأَلك مِنْ خَيْر مَا تَعْلَم وَأَعُوذ بِك مِنْ شَرّ مَا تَعْلَم وَأَسْتَغْفِرك لِمَا تَعْلَم إِنَّك أَنْتَ عَلَّام الْغُيُوب» یعنی اے اللہ میں تجھ سے اپنے کام کی ثابت قدمی اور نیکی کے کام کا پورا قصد اور تیری نعمتوں کی شکر گزاری کی توفیق طلب کرتا ہوں اور تجھ سے دعا ہے کہ تو مجھے سلامتی والا دل اور سچی زبان عطا فرما، تیرے علم میں جو بھلائی ہے میں اس کا خواستگار ہوں اور تیرے علم میں جو برائی ہے، میں اس سے تیری پناہ چاہتا ہوں، پروردگار ہر اس برائی سے میری توبہ ہے جو تیرے علم میں ہو، بیشک غیب داں صرف تو ہی ہے۔
سیدنا سعید بن جنادہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہل طائف میں سے سب سے پہلے میں نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اپنے گھر سے صبح ہی صبح چل کھڑا ہوا اور عصر کے وقت منی میں پہنچ گیا، پہاڑ پر چڑھا، پھر اترا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، اسلام قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّه أَحَد» اور سورۃ «إِذَا زُلْزِلَتْ» سکھائی اور یہ کلمات تعلیم فرمائے۔ [ دعا ] «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» ۔ فرمایا یہ ہیں باقی رہنے والی نیکیاں۔ [طبرانی کبیر:5482:ضعیف]
صفحہ نمبر4910
اس سند سے مروی ہے کہ جو شخص رات کو اٹھے، وضو کرے، کلی کرے پھر سو سو بار «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» پڑھے اس کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں، بجز قتل و خون کے کہ وہ معاف نہیں ہوتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، باقیات صالحات ذکر اللہ ہے اور «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر وَسُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَتَبَارَكَ اللَّه وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ وَأَسْتَغْفِر اللَّه وَصَلَّى اللَّه عَلَى رَسُول اللَّه» ہے اور روزہ، نماز، حج، صدقہ، غلاموں کی آزادی، جہاد، صلہ رحمی اور کل نیکیاں یہ سب باقیات صالحات ہیں جن کا ثواب جنت والوں کو جب تک آسمان و زمین ہیں، ملتا رہتا ہے۔ فرماتے ہیں پاکیزہ کلام بھی اسی میں داخل ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کل اعمال صالحہ اسی میں داخل ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسے مختار بتلاتے ہیں۔
صفحہ نمبر4911
حیات و موت کا نقشہ ٭٭
دنیا اپنے زوال، فنا، خاتمے اور بردباری کے لحاظ سے مثل آسمانی بارش کے ہے جو زمین کے دانوں وغیرہ سے ملتی ہے اور ہزار ہا پودے لہلہانے لگتے ہیں۔ تروتازگی اور زندگی کے آثار ہر چیز سے ظاہر ہونے لگتے ہیں لیکن کچھ دنوں کے گزرتے ہی وہ سوکھ ساکھ کر چورا چورا ہو جاتے ہیں اور ہوائیں انہیں دائیں بائیں اڑائے پھرتی ہیں۔ اس حالت پر جو اللہ قادر تھا، وہ اس حالت پر بھی قادر ہے۔ عموماً دنیا کی مثال بارش سے بیان فرمائی جاتی ہے جیسے سورۃ یونس کی آیت «اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا يَاْكُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ» [ 10- یونس: 24 ] الخ میں اور جیسے سورۃ الزمر کی آیت «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ» [39-الزمر:21] الخ میں۔ اور جیسے سورۃ الحدید کی آیت «اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا وَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» [ 57- الحديد: 20 ] میں۔
صحیح حدیث میں بھی ہے «الدُّنْيَا خَضِرَة حُلْوَة» دنیا سبز رنگ میٹھی ہے، الخ۔ [صحیح مسلم:2742] پھر فرماتا ہے کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں۔ جیسے فرمایا ہے «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللَّـهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ» [ 6-الانعام: 14 ] انسان کے لیے خواہشوں کی محبت مثلا عورتیں، بیٹے، خزانے وغیرہ مزین کر دی گئی ہے۔ اور آیت میں ہے «اِنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللّٰهُ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ» [ 64- التغابن: 15 ] الخ، تمہارے مال، تمہاری اولادیں فتنہ ہیں اور اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔ یعنی اس کی طرف جھکنا اس کی عبادت میں مشغول رہنا دنیا طلبی سے بہتر ہے۔ اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ باقیات صالحات ہر لحاظ سے عمدہ چیز ہے۔ مثلا پانچوں وقت کی نمازیں اور [ دعا ] «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر»، اور [ دعا ] «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَسُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَاَللَّه أَكْبَر وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ۔
صفحہ نمبر4905
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے غلام فرماتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں میں بیٹھے ہوئے تھے جو مؤذن پہنچا۔ آپ رضی اللہ عنہما نے پانی منگوایا، ایک برتن میں قریب تین پاؤ کے پانی آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے وضو کر کے فرمایا، حضور علیہ السلام نے اسی طرح وضو کر کے فرمایا جو میرے اس وضو جیسا وضو کر کے ظہر کی نماز ادا کرے تو صبح سے لے کر ظہر تک کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ پھر عصر میں بھی اسی طرح نماز پڑھ لی تو ظہر سے عصر تک کے تمام گناہ معاف، پھر مغرب کی نماز پڑھی تو عصر سے مغرب تک کے گناہ معاف۔ پھر عشاء کی نماز پڑھی تو مغرب سے عشاء تک کے گناہ معاف پھر رات کو وہ سو رہا، صبح اٹھ کر نماز فجر ادا کی تو عشاء سے لے کے صبح تک کے گناہ معاف۔ یہی وہ نیکیاں ہیں جو برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ لوگوں نے پوچھا یہ تو ہوئیں نیکیاں، اب اے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما آپ بتلائیے کہ باقیات صالحات کیا ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا دعا «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَاَللَّه أَكْبَر وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ۔ [مسند احمد:71/1:صحیح]
صفحہ نمبر4906
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں، باقیات صالحات یہ ہیں دعا «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَاَللَّه أَكْبَر وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيّ الْعَظِيم» ۔ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے اپنے شاگرد عمارہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ بتاؤ باقیات صالحات کیا ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ نماز اور روزہ۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا تم نے صحیح جواب نہیں دیا، انہوں نے کہا زکوٰۃ اور حج، فرمایا ابھی جواب ٹھیک نہیں ہوا۔ سنو وہ پانچ کلمے ہیں دعا «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَسُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَاَللَّه أَكْبَر وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا تو آپ نے بجز «الحمدللہ» کے اور چار کلمات بتلائے۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ بجز «لا حول» کے اور چاروں کلمات بتلاتے ہیں۔
صفحہ نمبر4907
حضرت حسن رحمہ اللہ اور قتادۃ رحمہ اللہ بھی ان ہی چاروں کلمات کو باقیات صالحات بتلاتے ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» یہ ہیں باقیات صالحات۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23100] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، باقیات صالحات کی کثرت کرو، پوچھا گیا وہ کیا ہیں؟ فرمایا ملت، پوچھا گیا وہ کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تکبیر تہلیل، تسبیح اور «الحمد للہ» اور «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» [تفسیر ابن جریر الطبری:32102:ضعیف] ۔
حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کے مولی عبداللہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے سالم رحمہ اللہ نے محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کے پاس کسی کام کے لیے بھیجا تو انہوں نے کہا سالم رحمہ اللہ سے کہہ دینا کہ فلاں قبر کے پاس کے کونے میں مجھ سے ملاقات کریں، مجھے ان سے کچھ کام ہے۔ چنانچہ دونوں کی وہاں ملاقات ہوئی سلام علیک ہوا تو سالم رحمہ اللہ نے پوچھا، کچھ کے نزدیک باقیات صالحات کیا ہیں؟ انہوں نے فرمایا دعا «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» اور «سبحان اللہ» اور «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» ۔ سالم نے کہا یہ آخری کلمہ آپ رحمہ اللہ نے اس میں کب سے بڑھایا؟
قرظی نے کہا میں تو ہمیشہ سے اس کلمے کو شمار کرتا ہوں، دو تین بار یہی سوال جواب ہوا تو محمد بن کعب نے فرمایا، کیا تمہیں اس کلمے سے انکار ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں انکار ہے۔ کہا، سنو میں نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے، جب مجھے معراج کرائی گئی میں نے آسمان پر ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، آپ علیہ السلام نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ انہوں نے مجھے مرحبا اور خوش آمدید کہا اور فرمایا آپ اپنی امت سے فرما دیجئیے کہ وہ جنت میں اپنے لیے بہت کچھ باغات لگا لیں، اس کی مٹی پاک ہے، اس کی زمین کشادہ ہے۔ میں نے پوچھا، وہاں باغات لگانے کی کیا صورت ہے؟ فرمایا «لَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ» بکثرت پڑھیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23099:ضعیف]
صفحہ نمبر4908
مسند احمد میں نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک رات عشاء کی نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے آسمان کی طرف دیکھ کر نظریں نیچی کر لیں، ہمیں خیال ہوا کہ شاید آسمان میں کوئی نئی بات ہوئی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میرے بعد جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے والے بادشاہ ہوں گے جو ان کے جھوٹ کو تسلیم کرے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری کرے، وہ مجھ سے نہیں اور نہ میں اس کا ہوں۔ اور جو ان کے جھوٹ کو نہ بچائے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری کرے، وہ مجھ سے نہیں اور نہ میں اس کا ہوں۔ اور جو ان کے جھوٹ کو نہ بچائے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری نہ کرے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔ لوگو سن رکھو «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» یہ باقیات صالحات یعنی باقی رہنے والی نیکیاں ہیں۔ [مسند احمد:267/4:ضعیف]
مسند میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ واہ پانچ کلمات ہیں اور نیکی کی ترازو میں بے حد وزنی ہیں «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ» اور وہ بچہ جس کے انتقال پر اس کا باپ طلب اجر کے لیے صبر کرے۔ واہ واہ پانچ چیزیں ہیں، جو ان کا یقین رکھتا ہو اللہ سے ملاقات کرے، وہ قطعا جنتی ہے۔ اللہ پر، قیامت کے دن پر، جنت دوزخ پر، مرنے کے بعد کے جی اٹھنے پر اور حساب پر ایمان رکھے۔ [مسند احمد:443/3:حسن]
صفحہ نمبر4909
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہا ایک سفر میں تھے کسی جگہ اترے اور اپنے غلام سے فرمایا کہ چھری لاؤ کھیلیں۔ حضرت حسان بن عطیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے اس وقت کہا کہ یہ آپ رضی اللہ عنہ نے کیا کہا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، واقعی میں نے غلطی کی۔ سنو اسلام لانے کے بعد سے لے کر آج تک میں نے کوئی کلمہ اپنی زبان سے ایسا نہیں نکالا جو میرے لیے لگام بن جائے، بجز اس ایک کلمے کے، پس تم لوگ اسے یاد سے بھلا دو اور اب جو میں کہہ رہا ہوں اسے یاد رکھو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جب لوگ سونے چاندی کے جمع کرنے میں لگ جائیں، تم اس وقت ان کلمات کو بکثرت پڑھا کرو۔ دعا «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك الثَّبَات فِي الْأَمْر وَالْعَزِيمَة عَلَى الرُّشْد وَأَسْأَلك شُكْر نِعْمَتك وَأَسْأَلك حُسْن عِبَادَتك وَأَسْأَلك قَلْبًا سَلِيمًا وَأَسْأَلك لِسَانًا صَادِقًا وَأَسْأَلك مِنْ خَيْر مَا تَعْلَم وَأَعُوذ بِك مِنْ شَرّ مَا تَعْلَم وَأَسْتَغْفِرك لِمَا تَعْلَم إِنَّك أَنْتَ عَلَّام الْغُيُوب» یعنی اے اللہ میں تجھ سے اپنے کام کی ثابت قدمی اور نیکی کے کام کا پورا قصد اور تیری نعمتوں کی شکر گزاری کی توفیق طلب کرتا ہوں اور تجھ سے دعا ہے کہ تو مجھے سلامتی والا دل اور سچی زبان عطا فرما، تیرے علم میں جو بھلائی ہے میں اس کا خواستگار ہوں اور تیرے علم میں جو برائی ہے، میں اس سے تیری پناہ چاہتا ہوں، پروردگار ہر اس برائی سے میری توبہ ہے جو تیرے علم میں ہو، بیشک غیب داں صرف تو ہی ہے۔
سیدنا سعید بن جنادہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہل طائف میں سے سب سے پہلے میں نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اپنے گھر سے صبح ہی صبح چل کھڑا ہوا اور عصر کے وقت منی میں پہنچ گیا، پہاڑ پر چڑھا، پھر اترا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، اسلام قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۃ «قُلْ هُوَ اللَّه أَحَد» اور سورۃ «إِذَا زُلْزِلَتْ» سکھائی اور یہ کلمات تعلیم فرمائے۔ [ دعا ] «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» ۔ فرمایا یہ ہیں باقی رہنے والی نیکیاں۔ [طبرانی کبیر:5482:ضعیف]
صفحہ نمبر4910
اس سند سے مروی ہے کہ جو شخص رات کو اٹھے، وضو کرے، کلی کرے پھر سو سو بار «سُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَلَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر» پڑھے اس کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں، بجز قتل و خون کے کہ وہ معاف نہیں ہوتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، باقیات صالحات ذکر اللہ ہے اور «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر وَسُبْحَان اللَّه وَالْحَمْد لِلَّهِ وَتَبَارَكَ اللَّه وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ وَأَسْتَغْفِر اللَّه وَصَلَّى اللَّه عَلَى رَسُول اللَّه» ہے اور روزہ، نماز، حج، صدقہ، غلاموں کی آزادی، جہاد، صلہ رحمی اور کل نیکیاں یہ سب باقیات صالحات ہیں جن کا ثواب جنت والوں کو جب تک آسمان و زمین ہیں، ملتا رہتا ہے۔ فرماتے ہیں پاکیزہ کلام بھی اسی میں داخل ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کل اعمال صالحہ اسی میں داخل ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسے مختار بتلاتے ہیں۔
صفحہ نمبر4911
سب کے سب میدان حشر میں ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر فرما رہا ہے اور جب تعجب خیز بڑے بڑے کام اس دن ہوں گے، ان کا ذکر کر رہا ہے کہ «يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاءُ مَوْرًا وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْرًا» [ 52-الطور: 9، 10 ] آسمان پھٹ جائے گا، «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ» [ 27-النمل: 88 ] پہاڑ اڑ جائیں گے گو تمہیں جمے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن اس دن تو بادلوں کی طرح تیزی سے چل رہے ہوں گے۔ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [ 101-القارعة: 5 ] آخر روئی کے گالوں کی طرح ہو جائیں گے، «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» [ 20-طٰہ: 105-107 ] زمین صاف چٹیل میدان ہو جائے گی جس میں کوئی اونچ نیچ تک باقی نہ رہے گی، نہ اس میں کوئی مکان ہو گا نہ چھپر۔ ساری مخلوق بغیر کسی آڑ کے اللہ کے بالکل سامنے ہو گی۔ کوئی بھی مالک سے کسی جگہ چھپ نہ سکے گا، کوئی جائے پناہ یا سر چھپانے کی جگہ نہ ہو گی۔ کوئی درخت، پتھر، گھاس پھوس دکھائی نہ دے گا۔
«قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [ 56-الواقعة: 50، 49 ] تمام اول و آخر کے لوگ جمع ہوں گے، کوئی چھوٹا بڑا غیر حاضر نہ ہو گا۔ تمام اگلے پچھلے اس مقرر دن جمع کئے جائیں گے، «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» [ 11-ھود: 103 ] اس دن سب لوگ حاضر شدہ ہوں گے اور سب موجود ہوں گے۔ «يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» [ 78-النبإ: 38 ] تمام لوگ اللہ کے سامنے صف بستہ پیش ہوں گے، روح اور فرشتے صفیں باندھے ہوئے کھڑے ہوں گے، کسی کو بات کرنے کی بھی تاب نہ ہو گی بجز ان کے جنہیں اللہ رحمان اجازت دے اور وہ بات بھی معقول کہیں۔ پس یا تو سب کی ایک ہی صف ہو گی یا کئی صفوں میں ہوں گے۔ جیسے ارشاد قرآن ہے «وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا» [ 89-الفجر: 22 ] تیرا رب آئے گا اور فرشتے صف بہ صف۔ وہاں منکرین قیامت کو سب کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ ہو گی کہ دیکھو جس طرح ہم نے تمہیں اول بار پیدا کیا تھا، اسی طرح دوسری بار پیدا کر کے اپنے سامنے کھڑا کر لیا، اس سے پہلے تو تم اس کے قائل نہ تھے۔
صفحہ نمبر4913
نامہ اعمال سامنے کر دیئے جائیں گے جس میں ہر چھوٹا بڑا، کھلا چھپا عمل لکھا ہوا ہو گا۔ اپنی بد اعمالیوں کو دیکھ دیکھ کر گناہ گار خوف و حیرت زدہ ہو جائیں گے اور افسوس و رنج سے کہیں گے کہ ہائے ہم نے اپنی عمر کیسی غفلت میں بسر کی، افسوس بد کرداریوں میں لگے رہے اور دیکھو تو اس کتاب نے ایک معاملہ بھی ایسا نہیں چھوڑا جسے لکھا نہ ہو، چھوٹے بڑے تمام گناہ اس میں لکھے ہوئے ہیں۔ طبرانی میں ہے کہ غزوہ حنین سے فارغ ہو کر ہم چلے، ایک میدان میں منزل کی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا جاؤ جسے کوئی لکڑی، کوئی کوڑا، کوئی گھاس پھوس مل جائے لے آؤ۔ ہم سب ادھر ادھر ہو گئے چپٹیاں، چھال، لکڑی، پتے، کانٹے، درخت، جھاڑ، جھنکار جو ملا لے آئے۔ ڈھیر لگ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھ رہے ہو؟ اسی طرح گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے، اللہ سے ڈرتے رہو، چھوٹے بڑے گناہوں سے بچو کیونکہ سب لکھے جا رہے ہیں اور شمار کئے جا رہے ہیں۔ [طبرانی کبیر:5485:ضعیف] جو خیر و شر، بھلائی برائی جس کسی نے کی ہو گی، اسے موجود پائے گا جیسے آیت «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا» [ 3- آل عمران: 30 ] اور آیت «يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ» [ 75- القيامة: 13 ] اور آیت «يَوْمَ تُبْلَى السَّرَاىِٕرُ» [ 86- الطارق: 9 ] الخ میں ہے، تمام چھپی ہوئی باتیں ظاہر ہو جائیں گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ہر بدعہد کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا اس کی بدعہدی کے مطابق جس سے اس کی پہچان ہو جائے۔ [صحیح بخاری:3187] اور حدیث میں ہے کہ یہ جھنڈا اس کی رانوں کے پاس ہو گا اور اعلان ہو گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی ہے۔ [صحیح بخاری:3186] تیرا رب ایسا نہیں کہ مخلوق میں سے کسی پر بھی ظلم کرے، ہاں البتہ درگزر کرنا، معاف فرما دینا، عفو کرنا، یہ اس کی صفت ہے۔ ہاں بدکاروں کو اپنی قدرت و حکمت اور عدل و انصاف سے وہ سزا بھی دیتا ہے۔ جہنم گنہگاروں اور نافرمانوں سے بھر جائے پھر کافروں اور مشرکوں کے سوا اور مومن گنہگار چھوٹ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ناانصافی نہیں کرتا، نیکیوں کو بڑھاتا ہے، گناہوں کو برابر ہی رکھتا ہے۔ عدل کا ترازو اس دن سامنے ہو گا کسی کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہ ہو گی، الخ۔
صفحہ نمبر4914
مسند احمد میں ہے، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، مجھے روایت پہنچی کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے اس حدیث کو خاص ان سے سننے کے لیے ایک اونٹ خریدا، سامان کس کر سفر کیا، مہینہ بھر کے بعد شام میں ان کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہما ہیں۔ میں نے دربان سے کہا جاؤ خبر کرو کہ جابر رضی اللہ عنہ دروازے پر ہے، انہوں نے پوچھا کیا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما؟ میں نے کہا جی ہاں۔ یہ سنتے ہی جلدی کے مارے چادر سنبھالتے ہوئے جھٹ سے باہر آ گئے اور مجھے لپٹ گئے۔ معانقہ سے فارغ ہو کر میں نے کہا، مجھے یہ روایت پہنچی کہ آپ نے قصاص کے بارے میں کوئی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میں نے چاہا کہ خود آپ سے میں وہ حدیث سن لوں، اس لیے یہاں آیا اور سنتے ہی سفر شروع کر دیا، اس خوف سے کہ کہیں اس حدیث کے سننے سے پہلے مر نہ جاؤں یا آپ کو موت نہ آ جائے۔ اب آپ سنائیے وہ حدیث کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عز و جل قیامت کے دن اپنے تمام بندوں کا اپنے سامنے حشر کرے گا، ننگے بدن، بے ختنہ، بےسر و سامان۔ پھر انہیں ندا کرے گا جسے دور نزدیک والے سب یکساں سنیں گے، فرمائے گا کہ میں مالک ہوں، میں بدلے دلوانے والا ہوں۔ کوئی جہنمی اس وقت تک جہنم میں نہ جائے گا جب تک اس کا جو حق کسی جنتی کے ذمہ ہو میں نہ دلوا دوں اور نہ کوئی جنتی جنت میں داخل ہو سکتا ہے جب تک اس کا حق جو جہنمی پر ہے میں نہ دلوا دوں گو ایک تھپڑ ہی ہو۔ ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ حق کیسے دلوائے جائیں گے حالانکہ ہم سب تو وہاں ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے مال و اسباب ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس دن حق نیکیوں اور برائیوں سے ادا کئے جائیں گے۔ [مسند احمد:495/3:حسن]
اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ دار بکری نے مارا ہے تو اس سے بھی اس کو بدلہ دلوایا جائے گا۔ [صحیح مسلم:2582 [21-الأنبياء:47] ] اس کے اور بھی بہت سے شواہد ہیں جنہیں ہم نے بالتفصیل آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» [ 21- الأنبياء: 47 ] الخ کی تفسیر میں اور آیت «اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ» [ 6- الانعام: 38 ] الخ کی تفسیر میں بیان کئے ہیں۔
صفحہ نمبر4915
سب کے سب میدان حشر میں ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر فرما رہا ہے اور جب تعجب خیز بڑے بڑے کام اس دن ہوں گے، ان کا ذکر کر رہا ہے کہ «يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاءُ مَوْرًا وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْرًا» [ 52-الطور: 9، 10 ] آسمان پھٹ جائے گا، «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ» [ 27-النمل: 88 ] پہاڑ اڑ جائیں گے گو تمہیں جمے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن اس دن تو بادلوں کی طرح تیزی سے چل رہے ہوں گے۔ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [ 101-القارعة: 5 ] آخر روئی کے گالوں کی طرح ہو جائیں گے، «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» [ 20-طٰہ: 105-107 ] زمین صاف چٹیل میدان ہو جائے گی جس میں کوئی اونچ نیچ تک باقی نہ رہے گی، نہ اس میں کوئی مکان ہو گا نہ چھپر۔ ساری مخلوق بغیر کسی آڑ کے اللہ کے بالکل سامنے ہو گی۔ کوئی بھی مالک سے کسی جگہ چھپ نہ سکے گا، کوئی جائے پناہ یا سر چھپانے کی جگہ نہ ہو گی۔ کوئی درخت، پتھر، گھاس پھوس دکھائی نہ دے گا۔
«قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [ 56-الواقعة: 50، 49 ] تمام اول و آخر کے لوگ جمع ہوں گے، کوئی چھوٹا بڑا غیر حاضر نہ ہو گا۔ تمام اگلے پچھلے اس مقرر دن جمع کئے جائیں گے، «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» [ 11-ھود: 103 ] اس دن سب لوگ حاضر شدہ ہوں گے اور سب موجود ہوں گے۔ «يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» [ 78-النبإ: 38 ] تمام لوگ اللہ کے سامنے صف بستہ پیش ہوں گے، روح اور فرشتے صفیں باندھے ہوئے کھڑے ہوں گے، کسی کو بات کرنے کی بھی تاب نہ ہو گی بجز ان کے جنہیں اللہ رحمان اجازت دے اور وہ بات بھی معقول کہیں۔ پس یا تو سب کی ایک ہی صف ہو گی یا کئی صفوں میں ہوں گے۔ جیسے ارشاد قرآن ہے «وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا» [ 89-الفجر: 22 ] تیرا رب آئے گا اور فرشتے صف بہ صف۔ وہاں منکرین قیامت کو سب کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ ہو گی کہ دیکھو جس طرح ہم نے تمہیں اول بار پیدا کیا تھا، اسی طرح دوسری بار پیدا کر کے اپنے سامنے کھڑا کر لیا، اس سے پہلے تو تم اس کے قائل نہ تھے۔
صفحہ نمبر4913
نامہ اعمال سامنے کر دیئے جائیں گے جس میں ہر چھوٹا بڑا، کھلا چھپا عمل لکھا ہوا ہو گا۔ اپنی بد اعمالیوں کو دیکھ دیکھ کر گناہ گار خوف و حیرت زدہ ہو جائیں گے اور افسوس و رنج سے کہیں گے کہ ہائے ہم نے اپنی عمر کیسی غفلت میں بسر کی، افسوس بد کرداریوں میں لگے رہے اور دیکھو تو اس کتاب نے ایک معاملہ بھی ایسا نہیں چھوڑا جسے لکھا نہ ہو، چھوٹے بڑے تمام گناہ اس میں لکھے ہوئے ہیں۔ طبرانی میں ہے کہ غزوہ حنین سے فارغ ہو کر ہم چلے، ایک میدان میں منزل کی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا جاؤ جسے کوئی لکڑی، کوئی کوڑا، کوئی گھاس پھوس مل جائے لے آؤ۔ ہم سب ادھر ادھر ہو گئے چپٹیاں، چھال، لکڑی، پتے، کانٹے، درخت، جھاڑ، جھنکار جو ملا لے آئے۔ ڈھیر لگ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھ رہے ہو؟ اسی طرح گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے، اللہ سے ڈرتے رہو، چھوٹے بڑے گناہوں سے بچو کیونکہ سب لکھے جا رہے ہیں اور شمار کئے جا رہے ہیں۔ [طبرانی کبیر:5485:ضعیف] جو خیر و شر، بھلائی برائی جس کسی نے کی ہو گی، اسے موجود پائے گا جیسے آیت «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا» [ 3- آل عمران: 30 ] اور آیت «يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ» [ 75- القيامة: 13 ] اور آیت «يَوْمَ تُبْلَى السَّرَاىِٕرُ» [ 86- الطارق: 9 ] الخ میں ہے، تمام چھپی ہوئی باتیں ظاہر ہو جائیں گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ہر بدعہد کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا اس کی بدعہدی کے مطابق جس سے اس کی پہچان ہو جائے۔ [صحیح بخاری:3187] اور حدیث میں ہے کہ یہ جھنڈا اس کی رانوں کے پاس ہو گا اور اعلان ہو گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی ہے۔ [صحیح بخاری:3186] تیرا رب ایسا نہیں کہ مخلوق میں سے کسی پر بھی ظلم کرے، ہاں البتہ درگزر کرنا، معاف فرما دینا، عفو کرنا، یہ اس کی صفت ہے۔ ہاں بدکاروں کو اپنی قدرت و حکمت اور عدل و انصاف سے وہ سزا بھی دیتا ہے۔ جہنم گنہگاروں اور نافرمانوں سے بھر جائے پھر کافروں اور مشرکوں کے سوا اور مومن گنہگار چھوٹ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ناانصافی نہیں کرتا، نیکیوں کو بڑھاتا ہے، گناہوں کو برابر ہی رکھتا ہے۔ عدل کا ترازو اس دن سامنے ہو گا کسی کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہ ہو گی، الخ۔
صفحہ نمبر4914
مسند احمد میں ہے، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، مجھے روایت پہنچی کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے اس حدیث کو خاص ان سے سننے کے لیے ایک اونٹ خریدا، سامان کس کر سفر کیا، مہینہ بھر کے بعد شام میں ان کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہما ہیں۔ میں نے دربان سے کہا جاؤ خبر کرو کہ جابر رضی اللہ عنہ دروازے پر ہے، انہوں نے پوچھا کیا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما؟ میں نے کہا جی ہاں۔ یہ سنتے ہی جلدی کے مارے چادر سنبھالتے ہوئے جھٹ سے باہر آ گئے اور مجھے لپٹ گئے۔ معانقہ سے فارغ ہو کر میں نے کہا، مجھے یہ روایت پہنچی کہ آپ نے قصاص کے بارے میں کوئی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میں نے چاہا کہ خود آپ سے میں وہ حدیث سن لوں، اس لیے یہاں آیا اور سنتے ہی سفر شروع کر دیا، اس خوف سے کہ کہیں اس حدیث کے سننے سے پہلے مر نہ جاؤں یا آپ کو موت نہ آ جائے۔ اب آپ سنائیے وہ حدیث کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عز و جل قیامت کے دن اپنے تمام بندوں کا اپنے سامنے حشر کرے گا، ننگے بدن، بے ختنہ، بےسر و سامان۔ پھر انہیں ندا کرے گا جسے دور نزدیک والے سب یکساں سنیں گے، فرمائے گا کہ میں مالک ہوں، میں بدلے دلوانے والا ہوں۔ کوئی جہنمی اس وقت تک جہنم میں نہ جائے گا جب تک اس کا جو حق کسی جنتی کے ذمہ ہو میں نہ دلوا دوں اور نہ کوئی جنتی جنت میں داخل ہو سکتا ہے جب تک اس کا حق جو جہنمی پر ہے میں نہ دلوا دوں گو ایک تھپڑ ہی ہو۔ ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ حق کیسے دلوائے جائیں گے حالانکہ ہم سب تو وہاں ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے مال و اسباب ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس دن حق نیکیوں اور برائیوں سے ادا کئے جائیں گے۔ [مسند احمد:495/3:حسن]
اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ دار بکری نے مارا ہے تو اس سے بھی اس کو بدلہ دلوایا جائے گا۔ [صحیح مسلم:2582 [21-الأنبياء:47] ] اس کے اور بھی بہت سے شواہد ہیں جنہیں ہم نے بالتفصیل آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» [ 21- الأنبياء: 47 ] الخ کی تفسیر میں اور آیت «اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ» [ 6- الانعام: 38 ] الخ کی تفسیر میں بیان کئے ہیں۔
صفحہ نمبر4915
سب کے سب میدان حشر میں ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر فرما رہا ہے اور جب تعجب خیز بڑے بڑے کام اس دن ہوں گے، ان کا ذکر کر رہا ہے کہ «يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاءُ مَوْرًا وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْرًا» [ 52-الطور: 9، 10 ] آسمان پھٹ جائے گا، «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ» [ 27-النمل: 88 ] پہاڑ اڑ جائیں گے گو تمہیں جمے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن اس دن تو بادلوں کی طرح تیزی سے چل رہے ہوں گے۔ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» [ 101-القارعة: 5 ] آخر روئی کے گالوں کی طرح ہو جائیں گے، «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» [ 20-طٰہ: 105-107 ] زمین صاف چٹیل میدان ہو جائے گی جس میں کوئی اونچ نیچ تک باقی نہ رہے گی، نہ اس میں کوئی مکان ہو گا نہ چھپر۔ ساری مخلوق بغیر کسی آڑ کے اللہ کے بالکل سامنے ہو گی۔ کوئی بھی مالک سے کسی جگہ چھپ نہ سکے گا، کوئی جائے پناہ یا سر چھپانے کی جگہ نہ ہو گی۔ کوئی درخت، پتھر، گھاس پھوس دکھائی نہ دے گا۔
«قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [ 56-الواقعة: 50، 49 ] تمام اول و آخر کے لوگ جمع ہوں گے، کوئی چھوٹا بڑا غیر حاضر نہ ہو گا۔ تمام اگلے پچھلے اس مقرر دن جمع کئے جائیں گے، «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» [ 11-ھود: 103 ] اس دن سب لوگ حاضر شدہ ہوں گے اور سب موجود ہوں گے۔ «يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا» [ 78-النبإ: 38 ] تمام لوگ اللہ کے سامنے صف بستہ پیش ہوں گے، روح اور فرشتے صفیں باندھے ہوئے کھڑے ہوں گے، کسی کو بات کرنے کی بھی تاب نہ ہو گی بجز ان کے جنہیں اللہ رحمان اجازت دے اور وہ بات بھی معقول کہیں۔ پس یا تو سب کی ایک ہی صف ہو گی یا کئی صفوں میں ہوں گے۔ جیسے ارشاد قرآن ہے «وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا» [ 89-الفجر: 22 ] تیرا رب آئے گا اور فرشتے صف بہ صف۔ وہاں منکرین قیامت کو سب کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ ہو گی کہ دیکھو جس طرح ہم نے تمہیں اول بار پیدا کیا تھا، اسی طرح دوسری بار پیدا کر کے اپنے سامنے کھڑا کر لیا، اس سے پہلے تو تم اس کے قائل نہ تھے۔
صفحہ نمبر4913
نامہ اعمال سامنے کر دیئے جائیں گے جس میں ہر چھوٹا بڑا، کھلا چھپا عمل لکھا ہوا ہو گا۔ اپنی بد اعمالیوں کو دیکھ دیکھ کر گناہ گار خوف و حیرت زدہ ہو جائیں گے اور افسوس و رنج سے کہیں گے کہ ہائے ہم نے اپنی عمر کیسی غفلت میں بسر کی، افسوس بد کرداریوں میں لگے رہے اور دیکھو تو اس کتاب نے ایک معاملہ بھی ایسا نہیں چھوڑا جسے لکھا نہ ہو، چھوٹے بڑے تمام گناہ اس میں لکھے ہوئے ہیں۔ طبرانی میں ہے کہ غزوہ حنین سے فارغ ہو کر ہم چلے، ایک میدان میں منزل کی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا جاؤ جسے کوئی لکڑی، کوئی کوڑا، کوئی گھاس پھوس مل جائے لے آؤ۔ ہم سب ادھر ادھر ہو گئے چپٹیاں، چھال، لکڑی، پتے، کانٹے، درخت، جھاڑ، جھنکار جو ملا لے آئے۔ ڈھیر لگ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھ رہے ہو؟ اسی طرح گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے، اللہ سے ڈرتے رہو، چھوٹے بڑے گناہوں سے بچو کیونکہ سب لکھے جا رہے ہیں اور شمار کئے جا رہے ہیں۔ [طبرانی کبیر:5485:ضعیف] جو خیر و شر، بھلائی برائی جس کسی نے کی ہو گی، اسے موجود پائے گا جیسے آیت «يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا» [ 3- آل عمران: 30 ] اور آیت «يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ» [ 75- القيامة: 13 ] اور آیت «يَوْمَ تُبْلَى السَّرَاىِٕرُ» [ 86- الطارق: 9 ] الخ میں ہے، تمام چھپی ہوئی باتیں ظاہر ہو جائیں گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ہر بدعہد کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا اس کی بدعہدی کے مطابق جس سے اس کی پہچان ہو جائے۔ [صحیح بخاری:3187] اور حدیث میں ہے کہ یہ جھنڈا اس کی رانوں کے پاس ہو گا اور اعلان ہو گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی ہے۔ [صحیح بخاری:3186] تیرا رب ایسا نہیں کہ مخلوق میں سے کسی پر بھی ظلم کرے، ہاں البتہ درگزر کرنا، معاف فرما دینا، عفو کرنا، یہ اس کی صفت ہے۔ ہاں بدکاروں کو اپنی قدرت و حکمت اور عدل و انصاف سے وہ سزا بھی دیتا ہے۔ جہنم گنہگاروں اور نافرمانوں سے بھر جائے پھر کافروں اور مشرکوں کے سوا اور مومن گنہگار چھوٹ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ناانصافی نہیں کرتا، نیکیوں کو بڑھاتا ہے، گناہوں کو برابر ہی رکھتا ہے۔ عدل کا ترازو اس دن سامنے ہو گا کسی کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہ ہو گی، الخ۔
صفحہ نمبر4914
مسند احمد میں ہے، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، مجھے روایت پہنچی کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے اس حدیث کو خاص ان سے سننے کے لیے ایک اونٹ خریدا، سامان کس کر سفر کیا، مہینہ بھر کے بعد شام میں ان کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہما ہیں۔ میں نے دربان سے کہا جاؤ خبر کرو کہ جابر رضی اللہ عنہ دروازے پر ہے، انہوں نے پوچھا کیا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما؟ میں نے کہا جی ہاں۔ یہ سنتے ہی جلدی کے مارے چادر سنبھالتے ہوئے جھٹ سے باہر آ گئے اور مجھے لپٹ گئے۔ معانقہ سے فارغ ہو کر میں نے کہا، مجھے یہ روایت پہنچی کہ آپ نے قصاص کے بارے میں کوئی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میں نے چاہا کہ خود آپ سے میں وہ حدیث سن لوں، اس لیے یہاں آیا اور سنتے ہی سفر شروع کر دیا، اس خوف سے کہ کہیں اس حدیث کے سننے سے پہلے مر نہ جاؤں یا آپ کو موت نہ آ جائے۔ اب آپ سنائیے وہ حدیث کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عز و جل قیامت کے دن اپنے تمام بندوں کا اپنے سامنے حشر کرے گا، ننگے بدن، بے ختنہ، بےسر و سامان۔ پھر انہیں ندا کرے گا جسے دور نزدیک والے سب یکساں سنیں گے، فرمائے گا کہ میں مالک ہوں، میں بدلے دلوانے والا ہوں۔ کوئی جہنمی اس وقت تک جہنم میں نہ جائے گا جب تک اس کا جو حق کسی جنتی کے ذمہ ہو میں نہ دلوا دوں اور نہ کوئی جنتی جنت میں داخل ہو سکتا ہے جب تک اس کا حق جو جہنمی پر ہے میں نہ دلوا دوں گو ایک تھپڑ ہی ہو۔ ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ حق کیسے دلوائے جائیں گے حالانکہ ہم سب تو وہاں ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے مال و اسباب ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس دن حق نیکیوں اور برائیوں سے ادا کئے جائیں گے۔ [مسند احمد:495/3:حسن]
اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ دار بکری نے مارا ہے تو اس سے بھی اس کو بدلہ دلوایا جائے گا۔ [صحیح مسلم:2582 [21-الأنبياء:47] ] اس کے اور بھی بہت سے شواہد ہیں جنہیں ہم نے بالتفصیل آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» [ 21- الأنبياء: 47 ] الخ کی تفسیر میں اور آیت «اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ» [ 6- الانعام: 38 ] الخ کی تفسیر میں بیان کئے ہیں۔
صفحہ نمبر4915
محسن کو چھوڑ کر دشمن سے دوستی ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ ابلیس تمہارا بلکہ تمہارے اصلی باپ آدم علیہ السلام کا بھی قدیمی دشمن رہا ہے , اپنے خالق و مالک کو چھوڑ کر تمہیں اس کی بات نہ ماننی چاہیئے۔ اللہ کے احسان و اکرام، اس کے لطف و کرم کو دیکھو کہ اسی نے تمہیں پیدا کیا، تمہیں پالا پوسا، پھر اسے چھوڑ کر اس کے بلکہ اپنے بھی دشمن کو دوست بنانا کس قدر خطرناک غلطی ہے؟ اس کی پوری تفسیر سورۃ البقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کر کے تمام فرشتوں کو بطور ان کی تعظیم اور تکریم کے ان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ سب نے حکم برداری کی لیکن چونکہ ابلیس بد اصل تھا، آگ سے پیدا شدہ تھا، اس نے انکار کر دیا اور فاسق بن گیا۔ فرشتوں کی پیدائش نورانی تھی۔
صفحہ نمبر4918
صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں، ابلیس شعلے مارنے والی آگ سے اور آدم علیہ السلام اس سے جس کا بیان تمہارے سامنے کر دیا گیا ہے۔ [صحیح مسلم:2996] ظاہر ہے کہ ہر چیز اپنی اصلیت پر آ جاتی ہے اور وقت پر برتن میں جو ہو، وہی ٹپکتا ہے۔ گو ابلیس فرشتوں کے سے اعمال کر رہا تھا، انہی کی مشابہت کرتا تھا اور اللہ کی رضا مندی میں دن رات مشغول تھا، اسی لیے ان کے خطاب میں یہ بھی آ گیا، لیکن یہ سنتے ہی وہ اپنی اصلیت پر آ گیا، تکبر اس کی طبیعت میں سما گیا اور صاف انکار کر بیٹھا۔ اس کی پیدائش ہی آگ سے تھی جیسے اس نے خود کہا کہ تو نے مجھے آگ سے بنایا ہے اور اسے مٹی سے۔ ابلیس کبھی بھی فرشتوں میں سے نہ تھا، وہ جنات کی اصل ہے جیسے کہ آدم علیہ السلام انسان کی اصل ہیں۔ یہ بھی منقول ہے کہ یہ جنات ایک قسم تھی فرشتوں کی، جو تیز آگ سے پیدا کیے گئے تھے۔ اس کا نام حارث تھا، جنت کا داروغہ تھا۔ اس جماعت کے سوا اور فرشتے نوری تھے۔ جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے تھی۔
صفحہ نمبر4919
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ابلیس شریف فرشتوں میں سے تھا اور بزرگ قبیلے کا تھا، جنتوں کا داروغہ تھا، آسمان دنیا کا بادشاہ تھا، زمین کا بھی سلطان تھا۔ اس سے کچھ اس کے دل میں گھمنڈ آ گیا تھا کہ وہ تمام اہل آسمان سے شریف ہے، وہ گھمنڈ بڑھتا جا رہا تھا، اس کا صحیح اندازہ اللہ ہی کو تھا۔ پس اس کے اظہار کے لیے آدم کو سجدے کرنے کا حکم ہوا تو اس کا گھمنڈ ظاہر ہو گیا، از روئے تکبر کے صاف انکار کر دیا اور کافروں میں جا ملا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ جن تھا یعنی جنت کا خازن تھا جیسے لوگوں کو شہروں کی طرف نسبت کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں مکی، مدنی، بصریٰ، کوفی۔ یہ جنت کا خازن آسمان دنیا کے کاموں کا مدبر تھا، یہاں کے فرشتوں کا رئیس تھا۔ اس معصیت سے پہلے وہ ملائکہ میں داخل تھا، لیکن زمین پر رہتا تھا۔ سب فرشتوں سے زیادہ کوشش سے عبادت کرنے والا اور سب سے زیادہ علم والا تھا، اسی وجہ سے پھول گیا تھا۔ اس کے قبیلے کا نام جن تھا، آسمان و زمین کے درمیان آمد و رفت رکھتا تھا۔ رب کی نافرمانی سے غضب میں آ گیا اور شیطان رجیم بن گیا اور ملعون ہو گیا۔
پس متکبر شخص سے توبہ کی امید نہیں ہو سکتی۔ ہاں تکبر نہ ہو اور کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس سے ناامید نہ ہونا چاہیئے۔ کہتے ہیں کہ یہ تو جنت کے اندر کام کاج کرنے والوں میں تھا۔ سلف کے اور بھی اس بارے میں بہت سے آثار مروی ہیں، لیکن یہ اکثر و بیشتر بنی اسرائیلی ہیں، صرف اس لیے نقل کئے گئے ہیں کہ نگاہ سے گزر جائیں۔ اللہ ہی کو ان کے اکثر کا صحیح حال معلوم ہے۔ ہاں بنی اسرائیل کی وہ روایتیں تو قطعا قابل تردید ہیں جو ہمارے ہاں کے دلائل کے خلاف ہوں۔
صفحہ نمبر4920
بات یہ ہے کہ ہمیں تو قرآن کافی وافی ہے، ہمیں اگلی کتابوں کی باتوں کی کوئی ضرورت نہیں، ہم ان سے محض بے نیاز ہیں۔ اس لیے کہ وہ تبدیلی، ترمیم، کمی بیشی سے خالی نہیں۔ بہت سی بناوٹی چیزیں ان میں داخل ہو گئی ہیں اور ایسے لوگ ان میں نہیں پائے جاتے جو اعلیٰ درجہ کے حافظ ہوں کہ میل کچیل دور کر دیں، کھرا کھوٹا پرکھ لیں، زیادتی اور باطل کے ملانے والوں کی دال نہ گلنے دیں جیسے کہ اللہ رحمن نے اس امت میں اپنے فضل و کرم سے ایسے امام اور علماء اور سادات اور بزرگ اور متقی اور پاکباز اور حفاظ پیدا کئے ہیں جنہوں نے احادیث کو جمع کیا، تحریر کیا۔ صحیح، حسن، ضعیف، منکر، متروک، موضوع سب کو الگ الگ کر دکھایا۔ گھڑنے والوں، بنانے والوں، جھوٹ بولنے والوں کو چھانٹ کر الگ کھڑا کر دیا تاکہ ختم المرسلین سید العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک اور متبرک کلام محفوظ رہ سکے اور باطل سے بچ سکے اور کسی کا بس نہ چلے کہ آپ کے نام سے جھوٹ کو رواج دے لے اور باطل کو حق میں ملا دے۔ پس ہماری دعا ہے کہ اس کل طبقہ پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و رضا مندی نازل فرمائے اور ان سب سے خوش رہے! آمین! اللہ رحمن انہیں جنت الفردوس نصیب فرمائے اور یقیناً ان کا منصب اسی لائق ہے رضی اللہ عنہم و ارضاہم۔
الغرض ابلیس اطاعت الٰہی سے نکل گیا۔ پس تمہیں چاہیئے کہ اپنے دشمن سے دوستی نہ کرو اور مجھے چھوڑ کر اس سے تعلق نہ جوڑو۔ ظالموں کو بڑا برا بدلہ ملے گا۔ یہ مقام بھی بالکل ایسا ہی ہے جیسے سورۃ یاسین میں قیامت کا، اس کی ہولناکیوں کا اور نیک و بد لوگوں کے نتیجوں کا ذکر کر کے فرمایا کہ اے مجرمو! تم آج کے دن الگ ہو جاؤ۔ الخ۔
صفحہ نمبر4921
اللہ کے سوا سب ہی بے اختیار ہیں ٭٭
جنہیں تم اللہ کے سوا الہ بنائے ہوئے ہو وہ سب تم جیسے ہی میرے غلام ہیں۔ کسی چیز کی ملکیت انہیں حاصل نہیں۔ زمین و آسمان کی پیدائش میں میں نے انہیں شامل نہیں رکھا تھا بلکہ اس وقت وہ موجود بھی نہ تھے۔ تمام چیزوں کو صرف میں نے ہی پیدا کیا ہے۔ سب کی تدبیر صرف میرے ہی ہاتھ ہے۔ میرا کوئی شریک، وزیر، مشیر، نظیر نہیں۔ جیسے اور آیت میں فرمایا «قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍ» [ 34-سبإ: 23، 22 ] الخ، جن جن کو تم اپنے گمان میں کچھ سمجھ رہے ہو، سب کو ہی سوا اللہ کے پکار کر دیکھ لو۔ یاد رکھو انہیں آسمان و زمین میں کسی ایک ذرے کے برابر بھی اختیارات حاصل نہیں، نہ ان کا ان میں کوئی ساجھا ہے، نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔ نہ ان میں سے کوئی شفاعت کر سکتا ہے، جب تک اللہ کی اجازت نہ ہو جائے الخ۔ مجھے یہ لائق نہیں نہ اس کی ضرورت کہ کسی کو خصوصا گمراہ کرنے والوں کو اپنا دست و بازو اور مددگار بناؤں۔
صفحہ نمبر4922
مشرک قیامت کو شرمندہ ہوں گے ٭٭
تمام مشرکوں کو قیامت کے دن شرمندہ کرنے کے لیے سب کے سامنے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو پکارو جنہیں تم دنیا میں پکارتے رہے تاکہ وہ تمہیں آج کے دن کی مصیبت سے بچا لیں، وہ پکاریں گے لیکن کہیں سے کوئی جواب نہ پائیں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَاءَ ظُهُوْرِكُمْ» [ 6- الانعام: 94 ] الخ، ہم تمہیں اسی طرح تنہا تنہا لائے جیسے کہ ہم نے تمہیں اول بار پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تمہیں دنیا میں دے رکھا تھا، تم وہ سب اپنے پیچھے چھوڑ آئے۔ آج تو ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان شریکوں میں سے کسی ایک کو بھی نہیں دیکھتے جنہیں تم شریک الٰہی ٹھہرائے ہوئے تھے اور جن کی شفاعت کا یقین کئے ہوئے تھے۔ تمہارے اور ان کے درمیان میں تعلقات ٹوٹ گئے اور تمہارے گمان باطل ثابت ہو چکے۔ اور آیت میں ہے «وَقِيْلَ ادْعُوْا شُرَكَاءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَرَاَوُا الْعَذَابَ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا يَهْتَدُوْنَ» [ 28- القص: 64 ] کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو پکارو، یہ پکاریں گے لیکن وہ جواب نہ دیں گے الخ۔
اسی مضمون کو آیت «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [ 46-الأحقاف: 5، 6 ] تک بیان فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر4923
سورۃ مریم میں ارشاد ہے کہ «وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [ 19-مریم: 81، 82 ] انہوں نے اپنی عزت کے لیے اللہ کے سوا اور بہت معبود بنا رکھے ہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ہو گا، وہ تو سب ان کی عبادت کے منکر ہو جائیں گے اور الٹے ان کے دشمن بن جائیں گے۔ ان میں اور ان کے معبودان باطل میں ہم آڑ، حجاب اور ہلاکت کا گڑھا بنا دیں گے تاکہ یہ ان سے اور وہ ان سے نہ مل سکیں۔ نیک راہ اور گمراہ الگ الگ رہیں، جہنم کی یہ وادی انہیں آپس میں ملنے نہ دے گی۔ کہتے ہیں یہ وادی لہو اور پیپ کی ہو گی، ان میں آپس میں اس دن دشمنی ہو جائے گی۔ بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مراد اس سے ہلاکت ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جہنم کی کوئی وادی بھی ہو یا اور کوئی فاصلے کی وادی ہو۔ مقصود یہ ہے کہ ان عابدوں کو وہ معبود جواب تک نہ دیں گے، نہ یہ آپس میں ایک دوسرے سے مل سکیں گے۔ کیونکہ ان کے درمیان ہلاکت ہو گی اور ہولناک امور ہوں گے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا ہے، مراد یہ ہے کہ مشرکوں اور مسلمانوں میں ہم آڑ کر دیں گے جیسے آیت «وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ» [ 30- الروم: 14 ] اور آیت «فَاَقِمْ وَجْهَكَ للدِّيْنِ الْقَيِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ يَوْمَىِٕذٍ يَّصَّدَّعُوْنَ» [ 30- الروم: 43 ] اور آیت «وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ» [ 36- يس: 59 ] الخ اور آیت «وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ» [ 10-يونس: 28 ] الخ وغیرہ میں ہے۔ یہ گنہگار جہنم دیکھ لیں گے۔ ستر ہزار لگاموں میں وہ جکڑی ہوئی ہو گی، ہر ایک لگام پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے، دیکھتے ہی سمجھ لیں گے کہ ہمارا قیدخانہ یہی ہے۔ داخلے کے بغیر داخلے سے بھی زیادہ رنج و غم اور مصیبت والم شروع ہو جائے گا۔ عذاب کا یقین عذاب سے پہلے کا عذاب ہے لیکن کوئی چھٹکارے کی راہ نہ پائیں گے، کوئی نجات کی صورت نظر نہ آئے گی۔ حدیث میں ہے کہ پانچ ہزار سال تک کافر اسی تھر تھری میں رہے گا کہ جہنم اس کے سامنے اور اس کا کلیجہ قابو سے باہر ہے۔ [مسند احمد:75/3:حسن لغیرہ]
صفحہ نمبر4924
مشرک قیامت کو شرمندہ ہوں گے ٭٭
تمام مشرکوں کو قیامت کے دن شرمندہ کرنے کے لیے سب کے سامنے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو پکارو جنہیں تم دنیا میں پکارتے رہے تاکہ وہ تمہیں آج کے دن کی مصیبت سے بچا لیں، وہ پکاریں گے لیکن کہیں سے کوئی جواب نہ پائیں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَاءَ ظُهُوْرِكُمْ» [ 6- الانعام: 94 ] الخ، ہم تمہیں اسی طرح تنہا تنہا لائے جیسے کہ ہم نے تمہیں اول بار پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تمہیں دنیا میں دے رکھا تھا، تم وہ سب اپنے پیچھے چھوڑ آئے۔ آج تو ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان شریکوں میں سے کسی ایک کو بھی نہیں دیکھتے جنہیں تم شریک الٰہی ٹھہرائے ہوئے تھے اور جن کی شفاعت کا یقین کئے ہوئے تھے۔ تمہارے اور ان کے درمیان میں تعلقات ٹوٹ گئے اور تمہارے گمان باطل ثابت ہو چکے۔ اور آیت میں ہے «وَقِيْلَ ادْعُوْا شُرَكَاءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَرَاَوُا الْعَذَابَ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا يَهْتَدُوْنَ» [ 28- القص: 64 ] کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو پکارو، یہ پکاریں گے لیکن وہ جواب نہ دیں گے الخ۔
اسی مضمون کو آیت «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [ 46-الأحقاف: 5، 6 ] تک بیان فرمایا ہے۔
صفحہ نمبر4923
سورۃ مریم میں ارشاد ہے کہ «وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [ 19-مریم: 81، 82 ] انہوں نے اپنی عزت کے لیے اللہ کے سوا اور بہت معبود بنا رکھے ہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ہو گا، وہ تو سب ان کی عبادت کے منکر ہو جائیں گے اور الٹے ان کے دشمن بن جائیں گے۔ ان میں اور ان کے معبودان باطل میں ہم آڑ، حجاب اور ہلاکت کا گڑھا بنا دیں گے تاکہ یہ ان سے اور وہ ان سے نہ مل سکیں۔ نیک راہ اور گمراہ الگ الگ رہیں، جہنم کی یہ وادی انہیں آپس میں ملنے نہ دے گی۔ کہتے ہیں یہ وادی لہو اور پیپ کی ہو گی، ان میں آپس میں اس دن دشمنی ہو جائے گی۔ بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مراد اس سے ہلاکت ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جہنم کی کوئی وادی بھی ہو یا اور کوئی فاصلے کی وادی ہو۔ مقصود یہ ہے کہ ان عابدوں کو وہ معبود جواب تک نہ دیں گے، نہ یہ آپس میں ایک دوسرے سے مل سکیں گے۔ کیونکہ ان کے درمیان ہلاکت ہو گی اور ہولناک امور ہوں گے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا ہے، مراد یہ ہے کہ مشرکوں اور مسلمانوں میں ہم آڑ کر دیں گے جیسے آیت «وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ» [ 30- الروم: 14 ] اور آیت «فَاَقِمْ وَجْهَكَ للدِّيْنِ الْقَيِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ يَوْمَىِٕذٍ يَّصَّدَّعُوْنَ» [ 30- الروم: 43 ] اور آیت «وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ» [ 36- يس: 59 ] الخ اور آیت «وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ» [ 10-يونس: 28 ] الخ وغیرہ میں ہے۔ یہ گنہگار جہنم دیکھ لیں گے۔ ستر ہزار لگاموں میں وہ جکڑی ہوئی ہو گی، ہر ایک لگام پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے، دیکھتے ہی سمجھ لیں گے کہ ہمارا قیدخانہ یہی ہے۔ داخلے کے بغیر داخلے سے بھی زیادہ رنج و غم اور مصیبت والم شروع ہو جائے گا۔ عذاب کا یقین عذاب سے پہلے کا عذاب ہے لیکن کوئی چھٹکارے کی راہ نہ پائیں گے، کوئی نجات کی صورت نظر نہ آئے گی۔ حدیث میں ہے کہ پانچ ہزار سال تک کافر اسی تھر تھری میں رہے گا کہ جہنم اس کے سامنے اور اس کا کلیجہ قابو سے باہر ہے۔ [مسند احمد:75/3:حسن لغیرہ]
صفحہ نمبر4924
ہر بات صاف صاف کہہ دی گئی ٭٭
انسانوں کے لیے ہم نے اس اپنی کتاب میں ہر بات کا بیان خوب کھول کھول کر بیان کر دیا ہے تاکہ لوگ راہ حق سے نہ بہکیں، ہدایت کی راہ سے نہ بھٹکیں لیکن باوجود اس بیان، اس فرقان کے پھر بھی بجز راہ یافتہ لوگوں کے اور تمام کے تمام راہ نجات سے ہٹے ہوئے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، فاطمہ رضی اللہ عنہا اور علی رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے مکان میں آئے اور فرمایا تم سوئے ہوئے ہو نماز میں نہیں ہو؟ اس پر علی رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ ہیں، وہ جب ہمیں اٹھانا چاہتا ہے، اٹھا بٹھاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر بغیر کچھ فرمائے لوٹ گئے لیکن اپنی زانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے یہ فرماتے ہوئے جا رہے تھے کہ انسان تمام چیزوں سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ [صحیح بخاری:4724]
صفحہ نمبر4926
عذاب الہٰی کے منتظر کفار ٭٭
اگلے زمانے کے اور اس وقت کے کافروں کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ حق واضح ہو چکنے کے بعد بھی اس کی تابعداری سے رکے رہتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں کو اپنے آنکھوں دیکھ لیں۔ کسی نے تمنا کی کہ آسمان ہم پر گر پڑے، کسی نے کہا کہ لا جو عذاب لا سکتا ہے لے آ۔ قریش نے بھی کہا اے اللہ اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسایا کوئی اور درد ناک عذاب ہمیں کر۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اے نبی ہم تو تجھے مجنوں جانتے ہیں اور اگر فی الواقع تو سچا نبی ہے تو ہمارے سامنے فرشتے کیوں نہیں لاتا؟ وغیرہ وغیرہ۔ پس عذاب الٰہی کے انتظار میں رہتے ہیں اور اس کے معائنہ کے درپے رہتے ہیں۔ رسولوں کا کام تو صرف مومنوں کو بشارتیں دینا اور کافروں کو ڈرا دینا ہے۔ کافر لوگ ناحق کی حجتیں کر کے حق کو اپنی جگہ سے پھسلا دینا چاہتے ہیں لیکن ان کی یہ چاہت کبھی پوری نہیں ہو گی، حق ان کی باطل باتوں سے دبنے والا نہیں۔ یہ میری آیتوں اور ڈراوے کی باتوں کو خالی مذاق ہی سمجھ رہے ہیں اور اپنی بےایمانی میں بڑھ رہے ہیں۔
صفحہ نمبر4927
عذاب الہٰی کے منتظر کفار ٭٭
اگلے زمانے کے اور اس وقت کے کافروں کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ حق واضح ہو چکنے کے بعد بھی اس کی تابعداری سے رکے رہتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں کو اپنے آنکھوں دیکھ لیں۔ کسی نے تمنا کی کہ آسمان ہم پر گر پڑے، کسی نے کہا کہ لا جو عذاب لا سکتا ہے لے آ۔ قریش نے بھی کہا اے اللہ اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسایا کوئی اور درد ناک عذاب ہمیں کر۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اے نبی ہم تو تجھے مجنوں جانتے ہیں اور اگر فی الواقع تو سچا نبی ہے تو ہمارے سامنے فرشتے کیوں نہیں لاتا؟ وغیرہ وغیرہ۔ پس عذاب الٰہی کے انتظار میں رہتے ہیں اور اس کے معائنہ کے درپے رہتے ہیں۔ رسولوں کا کام تو صرف مومنوں کو بشارتیں دینا اور کافروں کو ڈرا دینا ہے۔ کافر لوگ ناحق کی حجتیں کر کے حق کو اپنی جگہ سے پھسلا دینا چاہتے ہیں لیکن ان کی یہ چاہت کبھی پوری نہیں ہو گی، حق ان کی باطل باتوں سے دبنے والا نہیں۔ یہ میری آیتوں اور ڈراوے کی باتوں کو خالی مذاق ہی سمجھ رہے ہیں اور اپنی بےایمانی میں بڑھ رہے ہیں۔
صفحہ نمبر4927
بدترین شخص کون ہے ؟ ٭٭
فی الحقیقت اس سے بڑھ کر پاپی کون ہے؟ جس کے سامنے اس کے پالنے پوسنے والے کا کلام پڑھا جائے اور وہ اس کی طرف التفات تک نہ کرے، اس سے مانوس نہ ہو بلکہ منہ پھیر کر انکار کر جائے اور بدعملیاں اور سیاہ کاریاں اس سے پہلے کی ہیں، انہیں بھی فراموش کر جائے۔ اس ڈھٹائی کی سزا یہ ہوتی ہے کہ دلوں پر پردے پڑ جاتے ہیں، پھر قرآن و بیان کا سمجھنا نصیب نہیں ہوتا، کانوں میں گرانی ہو جاتی ہے، بھلی بات کی طرف توجہ نہیں رہتی۔ اب لاکھ دعوت ہدایت دو لیکن راہ یابی مشکل و محال ہے۔ اے نبی تیرا رب بڑا ہی مہربان بہت اعلیٰ رحمت والا ہے، اگر وہ گنہگاروں کی سزا جلدی ہی کر ڈالا کرتا، تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ بچتا، وہ لوگوں کے ظلم سے درگزر کر رہا ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ پکڑے گا ہی نہیں۔ یاد رکھو وہ سخت عذابوں والا ہے، یہ تو اس کا حلم ہے، پردہ پوشی ہے، معافی ہے تاکہ گمراہی والے راہ راست پر آ جائیں، گناہوں والے توبہ کر لیں اور اس کے دامن رحمت کو تھام لیں۔ لیکن جس نے اس حلم سے فائدہ نہ اٹھایا اور اپنی سرکشی پر جما رہا تو اس کی پکڑ کا دن قریب ہے، جو اتنا سخت دن ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے، حمل گر جائیں گے، اس دن کوئی جائے پناہ نہ ہو گی، کوئی چھٹکارے کی صورت نہ ہو گی۔ یہ ہیں تم سے پہلے کی امتیں کہ وہ بھی تمہاری طرح کفر و انکار میں پڑ گئیں اور آخر مٹا دی گئیں۔ ان کی ہلاکت کا مقررہ وقت آ پہنچا اور وہ تباہ برباد ہو گئیں۔ پس اے منکرو! تم بھی ڈرتے رہو، تم اشرف الرسل اعظم ہی کو ستا رہے ہو اور انہیں جھٹلا رہے ہو حالانکہ اگلے کفار سے تم قوت و طاقت میں، سامان و اسباب میں بہت کم ہو۔ میرے عذابوں سے ڈرو، میری باتوں سے نصیحت پکڑو۔
صفحہ نمبر4929
بدترین شخص کون ہے ؟ ٭٭
فی الحقیقت اس سے بڑھ کر پاپی کون ہے؟ جس کے سامنے اس کے پالنے پوسنے والے کا کلام پڑھا جائے اور وہ اس کی طرف التفات تک نہ کرے، اس سے مانوس نہ ہو بلکہ منہ پھیر کر انکار کر جائے اور بدعملیاں اور سیاہ کاریاں اس سے پہلے کی ہیں، انہیں بھی فراموش کر جائے۔ اس ڈھٹائی کی سزا یہ ہوتی ہے کہ دلوں پر پردے پڑ جاتے ہیں، پھر قرآن و بیان کا سمجھنا نصیب نہیں ہوتا، کانوں میں گرانی ہو جاتی ہے، بھلی بات کی طرف توجہ نہیں رہتی۔ اب لاکھ دعوت ہدایت دو لیکن راہ یابی مشکل و محال ہے۔ اے نبی تیرا رب بڑا ہی مہربان بہت اعلیٰ رحمت والا ہے، اگر وہ گنہگاروں کی سزا جلدی ہی کر ڈالا کرتا، تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ بچتا، وہ لوگوں کے ظلم سے درگزر کر رہا ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ پکڑے گا ہی نہیں۔ یاد رکھو وہ سخت عذابوں والا ہے، یہ تو اس کا حلم ہے، پردہ پوشی ہے، معافی ہے تاکہ گمراہی والے راہ راست پر آ جائیں، گناہوں والے توبہ کر لیں اور اس کے دامن رحمت کو تھام لیں۔ لیکن جس نے اس حلم سے فائدہ نہ اٹھایا اور اپنی سرکشی پر جما رہا تو اس کی پکڑ کا دن قریب ہے، جو اتنا سخت دن ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے، حمل گر جائیں گے، اس دن کوئی جائے پناہ نہ ہو گی، کوئی چھٹکارے کی صورت نہ ہو گی۔ یہ ہیں تم سے پہلے کی امتیں کہ وہ بھی تمہاری طرح کفر و انکار میں پڑ گئیں اور آخر مٹا دی گئیں۔ ان کی ہلاکت کا مقررہ وقت آ پہنچا اور وہ تباہ برباد ہو گئیں۔ پس اے منکرو! تم بھی ڈرتے رہو، تم اشرف الرسل اعظم ہی کو ستا رہے ہو اور انہیں جھٹلا رہے ہو حالانکہ اگلے کفار سے تم قوت و طاقت میں، سامان و اسباب میں بہت کم ہو۔ میرے عذابوں سے ڈرو، میری باتوں سے نصیحت پکڑو۔
صفحہ نمبر4929
بدترین شخص کون ہے ؟ ٭٭
فی الحقیقت اس سے بڑھ کر پاپی کون ہے؟ جس کے سامنے اس کے پالنے پوسنے والے کا کلام پڑھا جائے اور وہ اس کی طرف التفات تک نہ کرے، اس سے مانوس نہ ہو بلکہ منہ پھیر کر انکار کر جائے اور بدعملیاں اور سیاہ کاریاں اس سے پہلے کی ہیں، انہیں بھی فراموش کر جائے۔ اس ڈھٹائی کی سزا یہ ہوتی ہے کہ دلوں پر پردے پڑ جاتے ہیں، پھر قرآن و بیان کا سمجھنا نصیب نہیں ہوتا، کانوں میں گرانی ہو جاتی ہے، بھلی بات کی طرف توجہ نہیں رہتی۔ اب لاکھ دعوت ہدایت دو لیکن راہ یابی مشکل و محال ہے۔ اے نبی تیرا رب بڑا ہی مہربان بہت اعلیٰ رحمت والا ہے، اگر وہ گنہگاروں کی سزا جلدی ہی کر ڈالا کرتا، تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ بچتا، وہ لوگوں کے ظلم سے درگزر کر رہا ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ پکڑے گا ہی نہیں۔ یاد رکھو وہ سخت عذابوں والا ہے، یہ تو اس کا حلم ہے، پردہ پوشی ہے، معافی ہے تاکہ گمراہی والے راہ راست پر آ جائیں، گناہوں والے توبہ کر لیں اور اس کے دامن رحمت کو تھام لیں۔ لیکن جس نے اس حلم سے فائدہ نہ اٹھایا اور اپنی سرکشی پر جما رہا تو اس کی پکڑ کا دن قریب ہے، جو اتنا سخت دن ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے، حمل گر جائیں گے، اس دن کوئی جائے پناہ نہ ہو گی، کوئی چھٹکارے کی صورت نہ ہو گی۔ یہ ہیں تم سے پہلے کی امتیں کہ وہ بھی تمہاری طرح کفر و انکار میں پڑ گئیں اور آخر مٹا دی گئیں۔ ان کی ہلاکت کا مقررہ وقت آ پہنچا اور وہ تباہ برباد ہو گئیں۔ پس اے منکرو! تم بھی ڈرتے رہو، تم اشرف الرسل اعظم ہی کو ستا رہے ہو اور انہیں جھٹلا رہے ہو حالانکہ اگلے کفار سے تم قوت و طاقت میں، سامان و اسباب میں بہت کم ہو۔ میرے عذابوں سے ڈرو، میری باتوں سے نصیحت پکڑو۔
صفحہ نمبر4929
موسیٰ علیہ السلام اور اللہ کا ایک بندہ ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ذکر کیا گیا کہ اللہ کا ایک بندہ دو دریا ملنے کی جگہ ہے، اس کے پاس وہ علم ہے جو تمہیں حاصل نہیں، آپ علیہ السلام نے اسی وقت ان سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی۔ اب اپنے ساتھی سے فرماتے ہیں کہ میں تو پہنچے بغیر دم نہ لوں گا۔ کہتے ہیں، یہ دو سمندر ایک تو بحیرہ فارس مشرقی اور دوسرا بحیرہ روم مغربی ہے۔ یہ جگہ طنجہ کے پاس مغرب کے شہروں کے آخر میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تو فرماتے ہیں کہ گو مجھے قرنوں تک چلنا پڑے کوئی حرج نہیں۔ کہتے ہیں کہ قیس کے لغت میں برس کو حقب کہتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حقب سے مراد اسی برس ہیں۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ ستر برس کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما زمانہ بتلاتے ہیں۔
صفحہ نمبر4932
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ملا تھا کہ اپنے ساتھ نمک چڑھی ہوئی ایک مچھلی لیں، جہاں وہ گم ہو جائے وہیں ہمارا بندہ ملے گا۔ یہ دونوں مچھلی کو ساتھ لیے چلے مجمع البحرین میں پہنچ گئے، وہاں نہر حیات تھی وہیں دونوں لیٹ گئے۔ اس نہر کے پانی کے چھینٹے مچھلی پر پڑے، مچھلی ہلنے جلنے لگ گئی۔ آپ علیہ السلام کے ساتھی یوشع علیہ السلام کی زنبیل میں یہ مچھلی رکھی ہوئی تھی اور وہ سمندر کے کنارے تھا۔ مچھلی نے سمندر کے اندر کود جانے کے لیے جست لگائی اور یوشع کی آنکھ کھل گئی۔ مچھلی ان کے دیکھتے ہوئی پانی میں گئی اور پانی میں سیدھا سوراخ ہوتا چلا گیا۔ پس جس طرح زمین میں سوراخ اور سرنگ بن جاتی ہے، اسی طرح پانی میں جہاں سے وہ گئی سوراخ ہو گیا، ادھر ادھر پانی کھڑا ہو گیا اور وہ سوراخ بالکل کھلا ہوا رہا۔ پتھر کی طرح پانی میں چھید ہو گیا، جہاں جس پانی کو لگتی ہوئی وہ مچھلی گئی، وہاں کا وہ پانی پتھر جیسا ہو گیا اور وہ سوراخ بنتا چلا گیا۔
حضرت محمد بن اسحاق رحمہ اللہ مرفوعاً لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ پانی اس طرح ابتداء دنیا سے نہیں جما، سوائے اس مچھلی کے چلے جانے کی جگہ کے اردگرد کے پانی کے۔ یہ نشان مثل سوراخ زمین کے برابر موسیٰ علیہ السلام کے واپس پہنچنے تک باقی ہی رہے۔ اس نشان کو دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، اسی کی تلاش میں تو ہم تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23185:ضعیف] جب مچھلی کو بھول کر یہ دونوں آگے بڑھے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ایک کا کام دونوں ساتھیوں کی طرف منسوب ہوا ہے۔ بھولنے والے صرف یوشع علیہ السلام تھے۔ جیسے فرمان ہے «يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ» [ 55-الرحمن: 22 ] یعنی ان دونوں سمندروں میں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ حالانکہ دو قولوں میں سے ایک یہ ہے کہ لولو اور مرجان صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں۔ جب وہاں سے ایک مرحلہ اور طے کر گئے تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے ناشتہ طلب کیا اور سفر کی تکلیف بھی بیان کی، یہ تکلیف مقصود سے آگے نکل آنے کے بعد ہوئی۔ اس پر آپ کے ساتھی کو مچھلی کا چلا جانا یاد آیا اور کہا جس چٹان کے پاس ہم ٹھہرے تھے، اس وقت میں مچھلی بھول گیا اور آپ سے ذکر کرنا بھی شیطان نے یاد سے ہٹا دیا۔
صفحہ نمبر4933
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت «اَنْ اَذْکُرَ لَہُ» ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس مچھلی نے تو عجیب و غریب طور پر پانی میں اپنی راہ پکڑی۔ اسی وقت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا لو اور سنو اسی جگہ کی تلاش میں ہم تھے۔ تو وہ دونوں اپنے اسی راستے پر اپنے نشانات قدم کے کھوج پر واپس لوٹے۔ وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنے پاس کی رحمت اور اپنے پاس کا علم عطا فرما رکھا تھا۔ یہ خضر علیہ السلام ہیں۔
صفحہ نمبر4934
صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف کا خیال ہے کہ خضر علیہ السلام سے ملنے والے موسیٰ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہ تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، وہ دشمن رب جھوٹا ہے، ہم سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے سنا کہ موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہو کر بنی اسرائیل میں خطبہ کر رہے تھے جو آپ سے سوال ہوا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں، تو چونکہ آپ علیہ السلام نے اس کے جواب میں یہ نہ فرمایا کہ اللہ جانے، اس لیے رب کو یہ کلمہ ناپسند آیا۔ اسی وقت وحی آئی کہ ہاں مجمع البحرین میں ہمارا ایک بندہ ہے جو تجھ سے بھی زیادہ عالم ہے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا پھر پروردگار میں اس تک کیسے پہنچ سکتا ہوں؟ حکم ہوا کہ اپنے ساتھ ایک مچھلی رکھ لو، اسے توشے دان میں ڈال لو، جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے وہیں وہ مل جائیں گے۔ تو آپعلیہ السلام اپنے ساتھ اپنے ساتھی یوشع بن نون علیہ السلام کو لے کر چلے، پتھر کے پاس پہنچ کر اپنے سر اس پر رکھ کر دو گھڑی سو رہے۔ مچھلی اس توشے دان میں تڑپی اور کود کر اس سے نکل گئی، سمندر میں ایسی گئی جیسے کوئی سرنگ لگا کر زمین میں اتر گیا ہو۔ پانی کا چلنا بہنا اللہ تعالیٰ نے موقوف کر دیا اور طاق کی طرح وہ سوراخ باقی رہ گیا۔ موسیٰ علیہ السلام جب جا گے تو آپ کے ساتھی یہ ذکر آپ سے بھول گئے، اسی وقت وہاں سے چل پڑے۔ دن پورا ہونے کے بعد رات بھر چلتے رہے، صبح موسیٰ علیہ السلام کو تھکان اور بھوک محسوس ہوئی۔ اللہ نے جہاں جانے کا حکم دیا تھا جب تک وہاں سے آگے نہ نکل گئے، تھکان کا نام تک نہ تھا۔ اب اپنے ساتھی سے کھانا مانگا اور تکلیف بیان کی۔
صفحہ نمبر4935
اس وقت آپ کے ساتھی نے فرمایا کہ پتھر کے پاس جب ہم نے آرام لیا تھا، وہیں اسی وقت مچھلی تو میں بھول گیا اور اس کے ذکر کو بھی شیطان نے بھلا دیا اور اس مچھلی نے تو سمندر میں عجیب طور پر اپنی راہ نکال لی۔ مچھلی کے لیے سرنگ بن گئی اور ان کے لیے حیرت کا باعث بن گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اسی کی تو تلاش تھی۔ چنانچہ اپنے نشان قدم دیکھتے ہوئے دونوں واپس ہوئے، اسی پتھر کے پاس پہنچے دیکھا کہ ایک صاحب کپڑوں میں لپٹے ہوئے بیٹھے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے سلام کیا، اس نے کہا تعجب ہے آپ کی سر زمین میں یہ سلام کہاں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا میں موسیٰ ہوں۔ انہوں نے پوچھا کیا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں اور میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ مجھے وہ سکھائیں جو بھلائی آپ کو اللہ کی طرف سے سکھائی گئی ہے۔ آپ نے فرمایا موسیٰ علیہ السلام آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ اس لیے کہ مجھے جو علم ہے وہ آپ علیہ السلام کو نہیں اور آپ کو جو علم ہے وہ مجھے نہیں، اللہ تعالیٰ نے دونوں کو جداگانہ علم عطا فرما رکھا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ان شاءاللہ آپ دیکھیں گے کہ میں صبر کروں گا اور آپ کے کسی فرمان کی نافرمانی نہ کروں گا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا اچھا اگر تم میرا ساتھ چاہتے ہو تو مجھ سے خود کسی بات کا سوال نہ کرنا یہاں تک کہ میں آپ تمہیں اس کی بابت خبردار کروں۔
صفحہ نمبر4936
اتنی باتیں طے کر کے دونوں ساتھ چلے، دریا کے کنارے ایک کشتی تھی، ان سے اپنے ساتھ لے جانے کی بات چیت کرنے لگے۔ انہوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کرایہ لیے دونوں کو سوار کر لیا۔ کچھ ہی دور چلے ہوں گے جو موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ خضر علیہ السلام چپ چاپ کشتی کے تختے کلہاڑے سے توڑ رہے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیا؟ ان لوگوں نے تو ہمارے ساتھ احسان کیا بغیر کرایہ لیے کشتی میں سوار کیا اور آپ نے اس کے تختے توڑنے شروع کر دئیے جس سے تمام اہل کشتی ڈوب جائیں، یہ تو بڑا ہی ناخوش گوار کام کرنے لگے۔ اسی وقت خضر علیہ السلام نے فرمایا، دیکھو میں نے تو تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ موسیٰ علیہ السلام معذرت کرنے لگے کہ خطا ہو گئی، بھولے سے پوچھ بیٹھا، معاف فرمائیے اور سختی نہ کیجیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں واقعی یہ پہلی غلطی بھول سے ہی تھی۔ فرماتے ہیں کشتی کے ایک تختے پر ایک چڑیا آ بیٹھی اور سمندر میں چونچ ڈال کر پانی لے کر اڑ گئی، اس وقت خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا، میرے اور تیرے علم نے اللہ کے علم میں سے اتنا ہی کم کیا ہے جتنا پانی سے سمندر میں سے اس چڑیا کی چونچ نے کم کیا ہے۔ اب کشتی کنارے لگی اور ساحل پر دونوں چلنے لگے جو خضر علیہ السلام کی نگاہ چند کھیلتے ہوئے بچوں پر پڑی ان میں سے ایک بچے کا سر پکڑ کر خضر علیہ السلام نے اس طرح مروڑ دیا کہ اسی وقت اس کا دم نکل گیا۔ موسیٰ علیہ السلام گھبرا گئے اور فرمانے لگے، بغیر کسی قتل کے اس بچے کو آپ نے ناحق مار ڈالا؟ آپ نے بڑا ہی منکر کام کیا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا دیکھو اسی کو میں نے پہلے ہی سے کہہ دیا تھا کہ تمہاری ہماری نبھ نہیں سکتی، اس وقت خضر علیہ السلام نے پہلے سے زیادہ سختی کی۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اچھا اب اگر میں کوئی سوال کر بیٹھوں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا، یقیناً اب آپ معذور ہو گئے۔
صفحہ نمبر4937
چنانچہ پھر دونوں ہمراہ چلے ایک بستی والوں کے پاس پہنچے ان سے کھانا مانگا لیکن انہوں نے ان کی مہمانداری سے صاف انکار کر دیا۔ وہیں ایک دیوار دیکھی جو جھک گئی تھی اور گرنے کے قریب تھی، اسی وقت خضر نے ہاتھ لگا کر اسے ٹھیک اور درست کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا خیال تو فرمائیے، ہم یہاں آئے، ان لوگوں سے کھانا طلب کیا، انہوں نے نہ دیا، مہمان نوازی کے خلاف کیا، ان کا یہ کام تھا، آپ ان سے اجرت لے سکتے تھے۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا، یہ ہے مجھ میں اور تم میں جدائی۔ اب میں تمہیں ان کاموں کی اصلیت بتلا دوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کاش کہ موسیٰ علیہ السلام صبر سے کام لیتے تو ان دونوں کی اور بھی بہت سی باتیں ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «وَکَانُ وَرَاۤئَہُمْ» کے بدلے «وَکَانُ اَمَامَہُمْ» ہے اور «سَّفِينَةِ» کے بعد «صَالِحَةٍ» کا لفظ بھی ہے اور «وَاَمَّا الْغُلَامُ» کے بعد «فَکَانُ کَافِرَا» کے لفظ بھی ہیں۔ [صحیح بخاری:4725]
اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ اس پتھر کے پاس موسیٰ علیہ السلام رک گئے، وہیں ایک چشمہ تھا جس کا نام نہر حیات تھا، اس کا پانی جس چیز کو لگ جاتا وہ زندہ ہو جاتی تھی۔ اس میں چڑیا کے پانی لینے کے بعد خضر علیہ السلام کا یہ قول منقول ہے کہ میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا علم اللہ کے علم میں اتنا ہی ہے جتنا اس چڑیا کی چونچ کا پانی اس سمندر کے مقابلے میں، الخ۔ [صحیح بخاری:4727]
صفحہ نمبر4938
صحیح بخاری شریف کی ایک اور حدیث میں ہے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے گھر میں ان کے پاس تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس کو جو سوال کرنا ہو کر لے، میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے آپ رضی اللہ عنہما پر فدا کرے، کوفے میں ایک واعظ ہیں جن کا نام نوف ہے پھر پوری حدیث بیان کی جیسا کہ اوپر گزری۔ اس میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے اس خطبہ سے آنکھوں سے آنسو بہ نکلے اور دل نرم پڑ گئے تھے، جب آپ جانے لگے تو ایک شخص آپ کے پاس پہنچا اور اس نے سوال کیا کہ روئے زمین پر آپ سے زیادہ علم والا بھی کوئی ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا نہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عتاب کیا کیونکہ انہوں نے اللہ کی طرف علم کو نہ لوٹایا۔ اس میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے نشان طلب کیا تو ارشاد ہوا کہ ایک مری ہوئی مچھلی اپنے ساتھ رکھ لو، جس جگہ اس میں روح پڑ جائے، وہیں پر آپ کی اس شخص سے ملاقات ہو گئی۔ چنانچہ آپ نے مچھلی لی زنبیل میں رکھ لی اور اپنے ساتھی سے کہا، آپ کا صرف اتنا ہی کام ہے کہ جہاں یہ مچھلی آپ کے پاس سے چلی جائے، وہاں آپ مجھے خبر کر دینا۔ انہوں نے کہا یہ تو بالکل آسان سی بات ہے۔ ان کا نام یوشع بن نون تھا۔ لفتہ سے یہی مراد ہے۔
صفحہ نمبر4939
یہ دونوں بزرگ تر جگہ میں ایک درخت تلے تھے موسیٰ علیہ السلام کو نیند آ گئی تھی اور یوشع علیہ السلام جاگ رہے تھے جو مچھلی کود گئی۔ انہوں نے خیال کیا کہ جگانا تو ٹھیک نہیں، جب آنکھ کھلے گی ذکر کر دوں گا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ پانی میں جانے کے وقت جو سوراخ ہو گیا تھا، اسے روای حدیث عمرو نے اپنے انگوٹھے اور اس کے پاس کی دونوں انگلیوں کا حلقہ کر کے دکھایا کہ اس طرح کا تھا جیسے پتھر میں ہوتا ہے۔ واپسی پر خضر سمندر کے کنارے سبز گدی بچھائے ملے، ایک چادر میں لپٹے ہوئے تھے، اس کا ایک سرا تو دونوں پیروں کے نیچے رکھا ہوا تھا اور دوسرا کنارہ سر تلے تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کے سلام پر آپعلیہ السلام نے منہ کھولا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں توراۃ موجود ہے، وحی آسمان سے آ رہی ہے، کیا یہ بس نہیں؟ اور میرا علم آپ کے لائق بھی نہیں اور نہ میں آپ کے علم کے قابل ہوں۔ اس میں ہے کہ کشتی کا تختہ توڑ کر آپ نے ایک تانت سے باندھ دیا تھا۔ پہلی دفعہ کا آپ کا سوال تو بھولے سے ہی تھا، دوسری مربتہ کا بطور شرط کے تھا، ہاں تیسری بار کا سوال قصداً علیحدگی کی وجہ سے تھا۔ اس میں ہے کہ لڑکوں میں ایک لڑکا تھا کافر ہوشیار، اسے خضر نے لٹا کر چھری سے ذبح کر دیا۔ ایک قرأت میں زاکیتہ مسلمۃ بھی ہے۔ ورائہم کی قرأت امامہم بھی ہے۔ اس ظالم بادشاہ کا نام اس میں ہدد بن بدر ہے اور جس بچے کو قتل کیا گیا تھا اس کا نام جیسور تھا۔ کہتے ہیں کہ اس لڑکے کے بدلے ان کے ہاں ایک لڑکی ہوئی۔
صفحہ نمبر4940
ایک روایت میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام خطبہ کر رہے تھے اور فرمایا کہ اللہ کو اور اس کے امر کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ الخ۔ یہ نوف کعب رضی اللہ عنہ کی بیوی کے لڑکے تھے اور ان کا قول تھا کہ جس موسیٰ کا ان آیتوں میں ذکر ہے یہ موسیٰ بن میشا تھے۔ اور روایت میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جناب باری تعالیٰ سے سوال کیا کہ اے اللہ اگر تیرے بندوں میں مجھ سے بڑا عالم کوئی ہو تو مجھے آگاہ فرما، اس میں ہے کہ نمک چڑھی ہوئی مچھلی آپ نے اپنے ساتھ رکھی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ خضر علیہ السلام نے فرمایا تم یہاں کیوں آئے؟ آپ علیہ السلام کو تو ابھی بنی اسرائیل میں ہی مشغول کار رہنا ہے۔ اس میں ہے کہ چھپی ہوئی باتیں خضر علیہ السلام کو معلوم کرائی جاتی تھیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم میرے ساتھ ٹھہر نہیں سکتے کیونکہ آپ تو ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے اور مجھے راز پر اطلاع ہوتی ہے۔ چنانچہ شرط ہو گئی کہ گو آپ کیسا ہی خلاف دیکھیں لیکن لب نہ ہلائیں جب تک کہ خضر خود نہ بتلائیں۔ کہتے ہیں کہ یہ کشتی تمام کشتیوں سے مضبوط عمدہ اور اچھی تھی، وہ بچہ ایک بے مثل بچہ تھا بڑا حسین بڑا ہوشیار بڑا ہی طرار، خضر نے اسے پکڑ کر پتھر سے اس کا سر کچل کر اسے مار ڈالا۔ موسیٰ خوف الٰہی سے کانپ اٹھے کہ ننھا سا پیارا بےگناہ بچہ اس بیدردی سے بغیر کسی سبب کے خضر نے جان سے مار ڈالا۔ دیوار گرتی ہوئی دیکھ کر ٹھہر گئے، پہلے تو اسے باقاعدہ گرایا اور پھر بہ آرام چننے بیٹھے۔ موسیٰ علیہ السلام اکتا گئے کہ بیٹھے بٹھائے اچھا دھندا لے بیٹھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس دیوار کے نیچے کا خزانہ صرف علم تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23209:ضعیف]
صفحہ نمبر4941
اور روایت میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اور آپ کی قوم مصر پر غالب آ گئی اور یہاں آ کر وہ با آرام رہنے سہنے لگے تو حکم الٰہی ہوا کہ انہیں اللہ کے احسانات یاد دلاؤ۔ آپ خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ کے احسانات بیان کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ یہ نعمتیں عطا فرمائیں، آل فرعون سے اس نے تمہیں نجات دی، تمہارے دشمنوں کو غارت اور غرق کر دیا، پھر تمہیں ان کی زمین کا مالک کر دیا، تمہارے نبی سے باتیں کیں، اسے اپنے لیے پسند فرما لیا، اس پر اپنی محبت ڈال دی، تمہاری تمام حاجتیں پوری کیں، تمہارے نبی تمام زمین والوں سے افضل ہیں، اس نے تمہیں تورات عطا فرمائی۔ الغرض پورے زوروں سے اللہ کی بےشمار اور ان گنت نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔ اس پر ایک بنی اسرائیلی نے کہا، فی الواقع بات یہی ہے اے نبی اللہ کیا زمین پر آپ سے زیادہ علم والا بھی کوئی ہے؟ آپ نے بےساختہ فرمایا کہ نہیں ہے۔ اسی وقت جناب باری تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا کہ ان سے کہو کہ تمہیں کیا معلوم کہ میں اپنا علم کہاں کہاں رکھتا ہوں؟ بیشک سمندر کے کنارے پر ایک شخص ہے جو تجھ سے بھی زیادہ عالم ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، اس سے مراد خضر علیہ السلام ہیں۔
صفحہ نمبر4942
پس موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ ان کو میں دیکھ لوں۔ وحی ہوئی کہ اچھا سمندر کے کنارے جاؤ، وہاں تمہیں ایک مچھلی ملے گی، اسے لے لو اور اسے اپنے ساتھی کو سونپ دو۔ پھر سمندر کے کنارے چل دو جہاں تو مچھلی کو بھول جائے اور وہ تجھ سے گم ہو جائے، وہیں تو میرے اس نیک بندے کو پائے گا۔ موسیٰ علیہ السلام جب چلتے چلتے تھک گئے تو اپنے ساتھی سے جو ان کا غلام تھا، مچھلی کے بارے میں سوال کیا، اس نے جواب دیا کہ جس پتھر کے پاس ہم ٹھہرے تھے، وہیں میں مچھلی کو بھول گیا اور آپ سے ذکر کرنا شیطان نے بالکل بھلا دیا، میں نے دیکھا کہ مچھلی تو گویا سرنگ بناتی ہوئی دریا میں جا رہی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو یہ سن کر بڑا ہی تعجب ہوا، جب لوٹ کر وہاں آئے تو دیکھا کہ مچھلی نے پانی میں جانا شروع کیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام بھی اپنی لکڑی سے پانی کو چیرتے ہوئے اس کے پیچھے ہو لیے۔ مچھلی جہاں سے گزرتی تھی، اس کے دونوں طرف کا پانی پتھر بن جاتا تھا، اس سے بھی اللہ کے نبی سخت متعجب ہوئے۔ اب مچھلی ایک جزیرے میں آپ کو لے گئی الخ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حر بن قیس میں اختلاف تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے یہ صاحب کون تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان تھا کہ یہ خضر تھے۔ اسی وقت ان کے پاس سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما گزرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلا کر اپنا اختلاف بیان کیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی وہ حدیث بیان کی جو تقریباً اوپر گزر چکی ہے۔ اس میں سائل کے سوال کے الفاظ یہ ہیں کہ کیا آپ اس شخص کا ہونا بھی جانتے ہیں جو آپ سے زیادہ علم والا ہو؟ [صحیح مسلم:2380]
صفحہ نمبر4943