Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Aal-i-Imraan
Tafsir Ibn Kathir · The Family of Imraan · 200 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
جھوٹا دعویٰ ٭٭
اس آیت نے فیصلہ کر دیا جو شخص اللہ کی محبت کا دعویٰ کرے اور اس کے اعمال افعال عقائد فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق نہ ہوں، طریقہ محمد یہ پر وہ کار بند نہ ہو تو وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے۔
صفحہ نمبر1064
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص کوئی ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے، اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھنے کے دعوے میں سچے ہو تو میری سنتوں پر عمل کرو اس وقت تمہاری چاہت سے زیادہ اللہ تمہیں دے گا یعنی وہ خود تمہارا چاہنے والابن جائے گا۔ جیسے کہ بعض حکیم علماء نے کہا ہے کہ تیرا چاہنا کوئی چیز نہیں لطف تو اس وقت ہے کہ اللہ تجھے چاہنے لگ جائے۔ غرض اللہ کی محبت کی نشانی یہی ہے کہ ہر کام میں اتباع سنت مدنظر ہو۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین صرف اللہ کے لیے محبت اور اسی کے لیے دشمنی کا نام ہے، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی، لیکن یہ حدیث سنداً منکر ہے۔
صفحہ نمبر1065
پھر فرماتا ہے کہ حدیث پر چلنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارے تمام تر گناہوں کو بھی معاف فرما دے گا۔ پھر ہر عام خاص کو حکم ملتا ہے کہ سب اللہ و رسول کے فرماں بردار رہیں جو نافرمان ہو جائیں یعنی اللہ رسول کی اطاعت سے ہٹ جائیں تو وہ کافر ہیں اور اللہ ان سے محبت نہیں رکھتا۔
اس سے واضح ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی مخالفت کفر ہے، ایسے لوگ اللہ کے دوست نہیں ہو سکتے گو ان کا دعویٰ ہو، لیکن جب تک اللہ کے سچے نبی امی خاتم الرسل رسول جن و بشر کی تابعداری پیروی اور اتباع سنت نہ کریں وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ ہیں کہ اگر آج انبیاء اور رسول بلکہ بہترین اور اولوالعزم پیغمبر بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی آپ کے مانے بغیر اور آپ کی شریعت پر کاربند ہوئے بغیر چارہ ہی نہ تھا، اس کا بیان تفصیل کے ساتھ «وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ» [3-آل عمران:81] کی تفسیر میں آئے گا۔ «ان شاءاللہ تعالیٰ»
صفحہ نمبر1066
جھوٹا دعویٰ ٭٭
اس آیت نے فیصلہ کر دیا جو شخص اللہ کی محبت کا دعویٰ کرے اور اس کے اعمال افعال عقائد فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق نہ ہوں، طریقہ محمد یہ پر وہ کار بند نہ ہو تو وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے۔
صفحہ نمبر1064
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص کوئی ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے، اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھنے کے دعوے میں سچے ہو تو میری سنتوں پر عمل کرو اس وقت تمہاری چاہت سے زیادہ اللہ تمہیں دے گا یعنی وہ خود تمہارا چاہنے والابن جائے گا۔ جیسے کہ بعض حکیم علماء نے کہا ہے کہ تیرا چاہنا کوئی چیز نہیں لطف تو اس وقت ہے کہ اللہ تجھے چاہنے لگ جائے۔ غرض اللہ کی محبت کی نشانی یہی ہے کہ ہر کام میں اتباع سنت مدنظر ہو۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین صرف اللہ کے لیے محبت اور اسی کے لیے دشمنی کا نام ہے، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی، لیکن یہ حدیث سنداً منکر ہے۔
صفحہ نمبر1065
پھر فرماتا ہے کہ حدیث پر چلنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارے تمام تر گناہوں کو بھی معاف فرما دے گا۔ پھر ہر عام خاص کو حکم ملتا ہے کہ سب اللہ و رسول کے فرماں بردار رہیں جو نافرمان ہو جائیں یعنی اللہ رسول کی اطاعت سے ہٹ جائیں تو وہ کافر ہیں اور اللہ ان سے محبت نہیں رکھتا۔
اس سے واضح ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی مخالفت کفر ہے، ایسے لوگ اللہ کے دوست نہیں ہو سکتے گو ان کا دعویٰ ہو، لیکن جب تک اللہ کے سچے نبی امی خاتم الرسل رسول جن و بشر کی تابعداری پیروی اور اتباع سنت نہ کریں وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ ہیں کہ اگر آج انبیاء اور رسول بلکہ بہترین اور اولوالعزم پیغمبر بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی آپ کے مانے بغیر اور آپ کی شریعت پر کاربند ہوئے بغیر چارہ ہی نہ تھا، اس کا بیان تفصیل کے ساتھ «وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ» [3-آل عمران:81] کی تفسیر میں آئے گا۔ «ان شاءاللہ تعالیٰ»
صفحہ نمبر1066
سب سے پہلے نبی ٭٭
یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان بزرگ ہستیوں کو تمام جہان پر فضیلت عنایت فرمائی، سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ اپنی روح ان میں پھونکی ہرچیز کے نام انہیں بتلائے، جنت میں انہیں بسایا پھر اپنی حکمت کے اظہار کے لیے زمین پر اتارا، جب زمین پر بت پرستی قائم ہو گئی توسیدنا نوح علیہ السلام کو سب سے پہلا رسول بنا کر بھیجا پھر جب ان کی قوم نے سرکشی کی پیغمبر کی ہدایت پر عمل نہ کیا، سیدنا نوح علیہ السلام نے دن رات پوشیدہ اور ظاہر اللہ کی طرف دعوت دی لیکن قوم نے ایک نہ سنی توسیدنا نوح علیہ السلام کے فرماں برداروں کے سوا باقی سب کو پانی کے عذاب یعنی مشہور طوفان نوح بھیج کر ڈبو دیا۔
صفحہ نمبر1068
خاندان خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے برگزیدگی عنایت فرمائی اسی خاندان میں سے سیدالبشر خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، عمران کے خاندان کو بھی اس نے منتخب کر لیا، عمران نام ہے مریم کے والد صاحب کا جو عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں، ان کا نسب نامہ بقول محمد بن اسحاق یہ ہے، عمران بن ہاشم بن امون بن میثابن خرقیابن اخریق بن موثم بن عزار یا بن امیصا بن یاوش بن اجریھو بن یازم بن یھفا شاط بن ایشابن ایان بن رخیعم بن سلیمان بن داؤد علیہما السلام، پس عیسیٰ علیہ السلام بھی ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں اس کا مفصل بیان سورۃ الانعام کی تفسیر میں آئے گا۔ «ان شاءاللہ الرحمن»
صفحہ نمبر1069
سب سے پہلے نبی ٭٭
یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان بزرگ ہستیوں کو تمام جہان پر فضیلت عنایت فرمائی، سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ اپنی روح ان میں پھونکی ہرچیز کے نام انہیں بتلائے، جنت میں انہیں بسایا پھر اپنی حکمت کے اظہار کے لیے زمین پر اتارا، جب زمین پر بت پرستی قائم ہو گئی توسیدنا نوح علیہ السلام کو سب سے پہلا رسول بنا کر بھیجا پھر جب ان کی قوم نے سرکشی کی پیغمبر کی ہدایت پر عمل نہ کیا، سیدنا نوح علیہ السلام نے دن رات پوشیدہ اور ظاہر اللہ کی طرف دعوت دی لیکن قوم نے ایک نہ سنی توسیدنا نوح علیہ السلام کے فرماں برداروں کے سوا باقی سب کو پانی کے عذاب یعنی مشہور طوفان نوح بھیج کر ڈبو دیا۔
صفحہ نمبر1068
خاندان خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے برگزیدگی عنایت فرمائی اسی خاندان میں سے سیدالبشر خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، عمران کے خاندان کو بھی اس نے منتخب کر لیا، عمران نام ہے مریم کے والد صاحب کا جو عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں، ان کا نسب نامہ بقول محمد بن اسحاق یہ ہے، عمران بن ہاشم بن امون بن میثابن خرقیابن اخریق بن موثم بن عزار یا بن امیصا بن یاوش بن اجریھو بن یازم بن یھفا شاط بن ایشابن ایان بن رخیعم بن سلیمان بن داؤد علیہما السلام، پس عیسیٰ علیہ السلام بھی ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں اس کا مفصل بیان سورۃ الانعام کی تفسیر میں آئے گا۔ «ان شاءاللہ الرحمن»
صفحہ نمبر1069
مریم بنت عمران علیہا السلام ٭٭
عمران کی بیوی صاحبہ کا نام حسنہ بنت فاقوذ تھا سیدہ مریم علیہما السلام کی والدہ تھیں محمد اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں انہیں اولاد نہیں ہوتی تھی ایک دن ایک چڑیا کو دیکھا کہ وہ اپنے بچوں کو چوغہ دے رہی ہے تو انہیں ولولہ اٹھا اور اللہ تعالیٰ سے اسی وقت دعا کی اور خلوص کے ساتھ اللہ کو پکارا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی دعا قبول فرما لی اور اسی رات انہیں حمل ٹھہر گیا جب حمل کا یقین ہو گیا تو نذر مانی کہ اللہ تعالیٰ مجھے جو اولاد دے گا اسے بیت المقدس کی خدمت کے لیے اللہ کے نام پر آزاد کر دوں گی، پھر اللہ سے دعا کی کہ پروردگار تو میری اس مخلصانہ نذر کو قبول فرما تو میری دعا کو سن رہا ہے اور تو میری نیت کو بھی خوب جان رہا ہے، اب یہ معلوم نہ تھا لڑکا ہو گا یا لڑکی جب بچہ پیدا ہوا تو دیکھا کہ وہ لڑکی ہے اور لڑکی تو اس قابل نہیں کہ وہ مسجد مقدس کی خدمت انجام دے سکے اس کے لیے تو لڑکا ہونا چاہیئے تو عاجزی کے طور پر اپنی مجبوری جناب باری میں ظاہر کی کہ اے اللہ میں تو اسے تیرے نام پر وقف کر چکی تھی لیکن مجھے تو لڑکی ہوئی ہے، «وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ» بھی پڑھا گیا یعنی یہ قول بھی سیدہ حنہ کا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے ہاں لڑکی ہوئی اور ”تا“ کے جزم کے ساتھ بھی آیا ہے، یعنی اللہ کا یہ فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی ہے، اور فرماتی ہے کہ مرد عورت برابر نہیں، میں اس کا نام مریم رکھتی ہوں۔
صفحہ نمبر1071
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جس دن بچہ ہوا اسی دن نام رکھنا بھی جائز ہے، کیونکہ ہم سے پہلے لوگوں کی شریعت ہماری شریعت ہے اور یہاں یہ بیان کیا گیا اور تردید نہیں کی گئی بلکہ اسے ثابت اور مقرر رکھا گیا۔
اسی طرح حدیث شریف میں بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج رات میرے ہاں لڑکا ہوا اور میں نے اس کا نام اپنے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے نام پر ابراہیم رکھا ملاحظہ ہو بخاری مسلم، [صحیح مسلم:2315]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے بھائی کو جبکہ وہ تولد ہوئے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے انہیں اپنے ہاتھ سے گھٹی دی اور ان کا نام عبداللہ رکھا، یہ حدیث بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے [صحیح بخاری:5470]
صفحہ نمبر1072
ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں رات کو بچہ ہوا ہے کیا نام رکھوں؟ فرمایا عبدالرحمٰن نام رکھو [صحیح بخاری:6189] ۔
ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ کے ہاں بچہ ہوا جسے لے کر آپ حاضر خدمت نبوی ہوئے تاکہ آپ اپنے دست مبارک سے اس بچے کو گھٹی دیں آپ اور طرف متوجہ ہو گئے بچہ کا خیال نہ رہا۔ ابواسید رضی اللہ عنہ نے بچے کو واپس گھر بھیج دیا جب آپ فارغ ہوئے بچے کی طرف نظر ڈالی تو اسے نہ پایا گھبرا کر پوچھا اور معلوم کر کے کہا اس کا نام منذر رکھو [یعنی ڈرا دینے والا] [صحیح بخاری:6191] ۔
مسند احمد اور سنن میں ایک اور حدیث مروی ہے جسے امام ترمذی صحیح کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ اپنے عقیقہ میں گروی ہے ساتویں دن عقیقہ کرے یعنی جانور ذبح کرے اور نام رکھے، اور بچہ کا سر منڈوائے۔ [سنن ابوداود:2837،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۔
ایک روایت میں ہے اور خون بہایا جائے۔ [سنن ابوداود:2837،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور یہ زیادہ ثبوت والی اور زیادہ حفظ والی روایت ہے واللہ اعلم،۔
لیکن زبیر بن بکار کی روایت جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادے ابراہیم کا عقیقہ کیا اور نام ابراہیم رکھا یہ حدیث سنداً ثابت نہیں اور صحیح حدیث اس کے خلاف موجود ہے اور یہ تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ اس نام کی شہرت اس دن ہوئی۔ «واللہ اعلم»
صفحہ نمبر1073
مریم علیہما السلام کی والدہ صاحبہ پھر اپنی بچی کو اور اس کی ہونے والی اولاد کو شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ میں دیتی ہیں اللہ تعالیٰ نے ام مریم ڑجی اللہ عنہما کی اس دعا کو قبول فرمایا۔
چنانچہ مسند عبدالرزاق میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر بچے کو شیطان اس کی پیدائش کے وقت ٹہوکا دیتا ہے اسی سے وہ چیخ کر رونے لگتا ہے لیکن مریم اور عیسیٰ اس سے بچے رہے، اس حدیث کو بیان فرما کر ابوہریرہ فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «وَاِنِّىْٓ اُعِيْذُھَابِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ» [3-آل عمران:36] یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی موجود ہے۔
یہ حدیث اور بھی بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے مروی ہے۔ [صحیح بخاری:4548] کسی میں ہے ایک یا دو دھچکے مارتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6887] ایک حدیث میں صرف عیسیٰ علیہ السلام کا ہی ذکر ہے کہ شیطان نے انہیں بھی دھچکا مارنا چاہا لیکن انہیں دیا ہوا ٹہوکا پردے میں لگ کر رہ گیا۔ [صحیح بخاری:3286]
صفحہ نمبر1074
مریم بنت عمران علیہا السلام ٭٭
عمران کی بیوی صاحبہ کا نام حسنہ بنت فاقوذ تھا سیدہ مریم علیہما السلام کی والدہ تھیں محمد اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں انہیں اولاد نہیں ہوتی تھی ایک دن ایک چڑیا کو دیکھا کہ وہ اپنے بچوں کو چوغہ دے رہی ہے تو انہیں ولولہ اٹھا اور اللہ تعالیٰ سے اسی وقت دعا کی اور خلوص کے ساتھ اللہ کو پکارا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی دعا قبول فرما لی اور اسی رات انہیں حمل ٹھہر گیا جب حمل کا یقین ہو گیا تو نذر مانی کہ اللہ تعالیٰ مجھے جو اولاد دے گا اسے بیت المقدس کی خدمت کے لیے اللہ کے نام پر آزاد کر دوں گی، پھر اللہ سے دعا کی کہ پروردگار تو میری اس مخلصانہ نذر کو قبول فرما تو میری دعا کو سن رہا ہے اور تو میری نیت کو بھی خوب جان رہا ہے، اب یہ معلوم نہ تھا لڑکا ہو گا یا لڑکی جب بچہ پیدا ہوا تو دیکھا کہ وہ لڑکی ہے اور لڑکی تو اس قابل نہیں کہ وہ مسجد مقدس کی خدمت انجام دے سکے اس کے لیے تو لڑکا ہونا چاہیئے تو عاجزی کے طور پر اپنی مجبوری جناب باری میں ظاہر کی کہ اے اللہ میں تو اسے تیرے نام پر وقف کر چکی تھی لیکن مجھے تو لڑکی ہوئی ہے، «وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ» بھی پڑھا گیا یعنی یہ قول بھی سیدہ حنہ کا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے ہاں لڑکی ہوئی اور ”تا“ کے جزم کے ساتھ بھی آیا ہے، یعنی اللہ کا یہ فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی ہے، اور فرماتی ہے کہ مرد عورت برابر نہیں، میں اس کا نام مریم رکھتی ہوں۔
صفحہ نمبر1071
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جس دن بچہ ہوا اسی دن نام رکھنا بھی جائز ہے، کیونکہ ہم سے پہلے لوگوں کی شریعت ہماری شریعت ہے اور یہاں یہ بیان کیا گیا اور تردید نہیں کی گئی بلکہ اسے ثابت اور مقرر رکھا گیا۔
اسی طرح حدیث شریف میں بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج رات میرے ہاں لڑکا ہوا اور میں نے اس کا نام اپنے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے نام پر ابراہیم رکھا ملاحظہ ہو بخاری مسلم، [صحیح مسلم:2315]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے بھائی کو جبکہ وہ تولد ہوئے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے انہیں اپنے ہاتھ سے گھٹی دی اور ان کا نام عبداللہ رکھا، یہ حدیث بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے [صحیح بخاری:5470]
صفحہ نمبر1072
ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں رات کو بچہ ہوا ہے کیا نام رکھوں؟ فرمایا عبدالرحمٰن نام رکھو [صحیح بخاری:6189] ۔
ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ کے ہاں بچہ ہوا جسے لے کر آپ حاضر خدمت نبوی ہوئے تاکہ آپ اپنے دست مبارک سے اس بچے کو گھٹی دیں آپ اور طرف متوجہ ہو گئے بچہ کا خیال نہ رہا۔ ابواسید رضی اللہ عنہ نے بچے کو واپس گھر بھیج دیا جب آپ فارغ ہوئے بچے کی طرف نظر ڈالی تو اسے نہ پایا گھبرا کر پوچھا اور معلوم کر کے کہا اس کا نام منذر رکھو [یعنی ڈرا دینے والا] [صحیح بخاری:6191] ۔
مسند احمد اور سنن میں ایک اور حدیث مروی ہے جسے امام ترمذی صحیح کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ اپنے عقیقہ میں گروی ہے ساتویں دن عقیقہ کرے یعنی جانور ذبح کرے اور نام رکھے، اور بچہ کا سر منڈوائے۔ [سنن ابوداود:2837،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۔
ایک روایت میں ہے اور خون بہایا جائے۔ [سنن ابوداود:2837،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور یہ زیادہ ثبوت والی اور زیادہ حفظ والی روایت ہے واللہ اعلم،۔
لیکن زبیر بن بکار کی روایت جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادے ابراہیم کا عقیقہ کیا اور نام ابراہیم رکھا یہ حدیث سنداً ثابت نہیں اور صحیح حدیث اس کے خلاف موجود ہے اور یہ تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ اس نام کی شہرت اس دن ہوئی۔ «واللہ اعلم»
صفحہ نمبر1073
مریم علیہما السلام کی والدہ صاحبہ پھر اپنی بچی کو اور اس کی ہونے والی اولاد کو شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ میں دیتی ہیں اللہ تعالیٰ نے ام مریم ڑجی اللہ عنہما کی اس دعا کو قبول فرمایا۔
چنانچہ مسند عبدالرزاق میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر بچے کو شیطان اس کی پیدائش کے وقت ٹہوکا دیتا ہے اسی سے وہ چیخ کر رونے لگتا ہے لیکن مریم اور عیسیٰ اس سے بچے رہے، اس حدیث کو بیان فرما کر ابوہریرہ فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «وَاِنِّىْٓ اُعِيْذُھَابِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ» [3-آل عمران:36] یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی موجود ہے۔
یہ حدیث اور بھی بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے مروی ہے۔ [صحیح بخاری:4548] کسی میں ہے ایک یا دو دھچکے مارتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6887] ایک حدیث میں صرف عیسیٰ علیہ السلام کا ہی ذکر ہے کہ شیطان نے انہیں بھی دھچکا مارنا چاہا لیکن انہیں دیا ہوا ٹہوکا پردے میں لگ کر رہ گیا۔ [صحیح بخاری:3286]
صفحہ نمبر1074
زکریا علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ حنہ کی نذر کو اللہ تعالیٰ نے بخوشی قبول فرما لیا اور اسے بہترین طور سے نشوونما بخشی، ظاہری خوبی بھی عطا فرمائی اور باطنی خوبی سے بھرپور کر دیا اور اپنے نیک بندوں میں ان کی پرورش کرائی تاکہ علم اور خیر اور دین سیکھ لیں، زکریا علیہ السلام کو ان کا کفیل بنا دیا۔
ابن اسحاق رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں یہ اس لیے کہ مریم علیہما السلام یتیم ہو گئی تھیں، لیکن دوسرے بزرگ فرماتے ہیں کہ قحط سالی کی وجہ سے ان کی کفالت کا بوجھ زکریا علیہ السلام نے اپنے ذمہ لے لیا تھا، ہو سکتا ہے کہ دونوں وجوہات اتفاقاً آپس میں مل گئی ہوں۔ «واللہ اعلم»
ابن اسحاق وغیرہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ زکریا علیہ السلام ان کے خالو تھے، اور بعض لوگ کہتے ہیں ان کے بہنوئی تھے، جیسے معراج والی صحیح حدیث میں ہے کہ آپ نے یحییٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی جو دونوں خالہ زاد بھائی ہیں۔ [صحیح بخاری:3887] ۔
ابن اسحاق کے قول پر یہ حدیث ٹھیک ہے کیونکہ اصطلاح عرب میں ماں کی خالہ کے لڑکے کو بھی خالہ زاد بھائی کہہ دیتے ہیں پس ثابت ہوا کہ مریم اپنی خالہ کی پرورش میں تھیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ رضی اللہ عنہ کی یتیم صاحبزادی عمرہ کو ان کی خالہ جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہا کی بیوی صاحبہ کے سپرد کیا تھا اور فرمایا تھا کہ خالہ قائم مقام ماں کے ہے۔ [صحیح بخاری:2699] ۔
اب اللہ تعالیٰ مریم رضی اللہ عنہما کی بزرگی اور ان کی کرامت بیان فرماتا ہے کہ زکریا علیہ السلام جب کبھی ان کے پاس ان کے حجرے میں جاتے تو بے موسمی میوے ان کے پاس پاتے مثلاً جاڑوں میں گرمیوں کے میوے اور گرمیوں میں جاڑے کے میوے۔ مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، ابوالشعشاء، ابراہیم نخعی، ضحاک، قتادہ، ربیع بن انس، عطیہ عوفی، سدی رحمہ اللہ علیہم اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں [تفسیر ابن ابی حاتم:2/227]
صفحہ نمبر1076
مجاہد رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ یہاں رزق سے مراد علم اور وہ صحیفے ہیں جن میں علمی باتیں ہوتی تھیں لیکن اول قول ہی زیادہ صحیح ہے۔
اس آیت میں اولیاء اللہ کی کرامات کی دلیل ہے اور اس کے ثبوت میں بہت سی حدیثیں بھی آتی ہیں۔ زکریا علیہ السلام ایک دن پوچھ بیٹھے کہ مریم تمہارے پاس یہ رزق کہاں سے آتا ہے؟ صدیقہ نے جواب دیا کہ اللہ کے پاس سے، وہ جسے چاہے بےحساب روزی دیتا ہے۔ مسند حافظ ابویعلیٰ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کئی دن بغیر کچھ کھائے گزر گئے بھوک سے آپ کو تکلیف ہونے لگی اپنی سب بیویوں کے گھر ہو آئے لیکن کہیں بھی کچھ نہ پایا۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور دریافت فرمایا کہ بچی تمہارے پاس کچھ ہے؟ کہ میں کھا لوں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے، وہاں سے بھی یہی جواب ملا کہ اے اللہ کے رسول کچھ بھی نہیں، اللہ کے نبی «اللھم صلی وسلم علیہ» وہاں سے نکلے ہی تھے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی نے دو روٹیاں اور ٹکڑا گوشت فاطمہ کے پاس بھیجا آپ نے اسے لے کر برتن میں رکھ لیا اور فرمانے لگیں گو مجھے، میرے خاوند اور بچوں کو بھوک ہے لیکن ہم سب فاقے ہی سے گزار دیں گے اور اللہ کی قسم آج تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو دوں گی، پھر حسن یا حسین کو آپ کی خدمت میں بھیجا کہ آپ کو بلا لائیں۔
صفحہ نمبر1077
نبی صلی اللہ علیہ وسلم راستے ہی میں ملے اور ساتھ ہو لیے، آپ آئے تو کہنے لگیں میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اللہ نے کچھ بھجوا دیا ہے جسے میں نے آپ کے لیے چھپا کر رکھ دیا ہے، آپ نے فرمایا میری پیاری بچی لے آؤ، اب جو طشت کھولا تو دیکھتی ہے کہ روٹی سالن سے ابل رہا ہے دیکھ کر حیران ہو گئیں لیکن فوراً سمجھ گئیں کہ اللہ کی طرف سے اس میں برکت نازل ہو گئی ہے، اللہ کا شکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ پر درود پڑھا اور آپ کے پاس لا کر پیش کر دیا آپ نے بھی اسے دیکھ کر اللہ کی تعریف کی اور دریافت فرمایا کہ بیٹی یہ کہاں سے آیا؟ جواب دیا کہ ابا جان اللہ کے پاس سے وہ جسے چاہے بیحساب روزی دے، آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ اے پیاری بچی تجھے بھی اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی تمام عورتوں کی سردار جیسا کر دیا۔
انہیں جب کبھی اللہ تعالیٰ کوئی چیز عطا فرماتا اور ان سے پوچھا جاتا تو یہی جواب دیا کرتی تھیں کہ اللہ کے پاس سے ہے اللہ جسے چاہے بےحساب رزق دیتا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور آپ نے علی رضی اللہ عنہ نے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اور حسین رضی اللہ عنہ نے اور آپ کی سب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اور اہل بیت نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا پھر بھی اتنا ہی باقی رہا جتنا پہلے تھا جو آس پاس کے پڑوسیوں کے ہاں بھیجا گیا یہ خیر کثیر اور برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی۔ [الدار االمسشور اللسیوطی:2/36:ضعیف جداً]
صفحہ نمبر1078
حاصل دعا یحییٰ علیہ السلام ٭٭
سیدنا زکریا علیہ السلام نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ سیدہ مریم علیہما السلام کو بے موسم میوہ دیتا ہے جاڑوں میں گرمیوں کے پھل اور گرمی میں جاڑوں کے میوے ان کے پاس رکھے رہتے ہیں تو باوجود اپنے پورے بڑھاپے کے اور باوجود اپنی بیوی کے بانجھ ہونے کے علم کے آپ بھی بے موسم میوہ یعنی نیک اولاد طلب کرنے لگے، اور چونکہ یہ طلب بظاہر ایک ناممکن چیز کی طلب تھی اس لیے نہایت پوشیدگی سے یہ دعا مانگی جیسے اور جگہ ہے «نِدَآءً خَفِیًّا» [19-مريم:3] یہ اپنے عبادت خانے میں ہی تھے جو فرشتوں نے انہیں آواز دی اور انہیں سنا کر کہا کہ آپ کے ہاں ایک لڑکا ہو گا جس کا نام یحییٰ علیہ السلام رکھنا، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ یہ بشارت ہماری طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ یحییٰ نام کی وجہ یہ ہے کہ ان کی حیاۃ ایمان کے ساتھ ہو گی، [تفسیر ابن ابی حاتم:235/2]
وہ اللہ کے کلمہ کے یعنی سیدنا عیسیٰ بن مریم کی تصدیق کریں گے، سیدنا ربیع بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب سے پہلے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کو تسلیم کرنے والے بھی سیدنا یحییٰ علیہ السلام ہیں، جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی روش اور آپ کے طریق پر تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ دونوں خالہ زاد بھائی تھے۔ سیدنا یحییٰ علیہ السلام کی والدہ مریم علیہ السلام سے اکثر ذکر کیا کرتی تھیں کہ میں اپنے پیٹ کی چیز کو تیرے پیٹ کی چیز کو سجدہ کرتی ہوئی پاتی ہوں، یہ تھی یحییٰ علیہ السلام کی تصدیق دنیا میں آنے سے پیشتر سب سے پہلے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی سچائی کو انہوں نے ہی پہچانا یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے عمر میں بڑے تھے۔
صفحہ نمبر1079
سید کے معنی حلیم، بردبار، علم و عبادت میں بڑھا ہوا، متقی، پرہیزگار، فقیہ، عالم، خلق و دین میں سب سے افضل جسے غصہ اور غضب مغلوب نہ کر سکے، شریف اور کریم کے ہیں، «حصور» کے معنی ہیں جو عورتوں کے پاس نہ آ سکے جس کے ہاں نہ اولاد ہو نہ جس میں شہوت کا پانی ہو، اس معنی کی ایک مرفوع حدیث بھی ابن ابی حاتم میں ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لفظ تلاوت کر کے زمین سے کچھ اٹھا کر فرمایا اس کا عضو اس جیسا تھا [تفسیر ابن ابی حاتم:246/2:ضعیف] ، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ ساری مخلوق میں صرف سیدنا یحییٰ علیہ السلام ہی اللہ سے بےگناہ ملیں گے پھر آپ نے یہ الفاظ پڑھے اور زمین سے کچھ اٹھایا اور فرمایا حصور اسے کہتے ہیں جس کا عضو اس جیسا ہو، اور سیدنا یحییٰ بن سعید قطان نے اپنی کلمہ کی انگلی سے اشارہ کیا، یہ روایت جو مرفوع بیان ہوئی ہے اس کی حوالے سے اس موقوف کی سند زیادہ صحیح ہے، اور مرفوع روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کے پھندے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ایسا تھا، اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے زمین سے ایک مرجھایا ہوا تنکا اٹھا کر اس کی طرف اشارہ کر کے یہی فرمایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6977: ضعیف]
صفحہ نمبر1080
اس کے بعد سیدنا زکریا علیہ السلام کو دوسری بشارت دی جاتی ہے کہ تمہارا لڑکا نبی ہو گا یہ بشارت پہلی خوشخبری سے بھی بڑھ گئی، جب بشارت آ چکی تب زکریا کو خیال پیدا ہوا کہ بظاہر اسباب سے تو اس کا ہونا محال ہے تو کہنے لگے اللہ میری ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بوڑھا ہوں میری بیوی بالکل بانجھ، فرشتے نے اسی وقت جواب دیا کہ اللہ کا امر سب سے بڑا ہے اس کے پاس کوئی چیز ان ہونی نہیں، نہ اسے کوئی کام کرنا مشکل نہ، وہ کسی کام سے عاجز، اس کا ارادہ ہو چکا وہ اسی طرح کرے گا، اب سیدنا زکریا علیہ السلام اللہ سے اس کی علامت طلب کرنے لگے تو ذات باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا کہ نشان یہ ہے کہ تو تین دن تک لوگوں سے بات نہ کر سکے گا، رہے گا تندرست صحیح سالم لیکن زبان سے لوگوں سے بات چیت نہ کی جائے گی صرف اشاروں سے کام لینا پڑے گا، جیسے اور جگہ ہے «ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا» [19-مريم:10] یعنی تین راتیں تندرستی کی حالت پھر حکم دیا کہ اس حال میں تمہیں چاہیئے کہ ذکر اور تکبیر اور تسبیح میں زیادہ مشغول رہو، صبح شام اسی میں لگے رہو، اس کا دوسرا حصہ اور پورا بیان تفصیل کے ساتھ سورۃ مریم کے شروع میں آئے گا، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر1081
حاصل دعا یحییٰ علیہ السلام ٭٭
سیدنا زکریا علیہ السلام نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ سیدہ مریم علیہما السلام کو بے موسم میوہ دیتا ہے جاڑوں میں گرمیوں کے پھل اور گرمی میں جاڑوں کے میوے ان کے پاس رکھے رہتے ہیں تو باوجود اپنے پورے بڑھاپے کے اور باوجود اپنی بیوی کے بانجھ ہونے کے علم کے آپ بھی بے موسم میوہ یعنی نیک اولاد طلب کرنے لگے، اور چونکہ یہ طلب بظاہر ایک ناممکن چیز کی طلب تھی اس لیے نہایت پوشیدگی سے یہ دعا مانگی جیسے اور جگہ ہے «نِدَآءً خَفِیًّا» [19-مريم:3] یہ اپنے عبادت خانے میں ہی تھے جو فرشتوں نے انہیں آواز دی اور انہیں سنا کر کہا کہ آپ کے ہاں ایک لڑکا ہو گا جس کا نام یحییٰ علیہ السلام رکھنا، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ یہ بشارت ہماری طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ یحییٰ نام کی وجہ یہ ہے کہ ان کی حیاۃ ایمان کے ساتھ ہو گی، [تفسیر ابن ابی حاتم:235/2]
وہ اللہ کے کلمہ کے یعنی سیدنا عیسیٰ بن مریم کی تصدیق کریں گے، سیدنا ربیع بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب سے پہلے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کو تسلیم کرنے والے بھی سیدنا یحییٰ علیہ السلام ہیں، جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی روش اور آپ کے طریق پر تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ دونوں خالہ زاد بھائی تھے۔ سیدنا یحییٰ علیہ السلام کی والدہ مریم علیہ السلام سے اکثر ذکر کیا کرتی تھیں کہ میں اپنے پیٹ کی چیز کو تیرے پیٹ کی چیز کو سجدہ کرتی ہوئی پاتی ہوں، یہ تھی یحییٰ علیہ السلام کی تصدیق دنیا میں آنے سے پیشتر سب سے پہلے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی سچائی کو انہوں نے ہی پہچانا یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے عمر میں بڑے تھے۔
صفحہ نمبر1079
سید کے معنی حلیم، بردبار، علم و عبادت میں بڑھا ہوا، متقی، پرہیزگار، فقیہ، عالم، خلق و دین میں سب سے افضل جسے غصہ اور غضب مغلوب نہ کر سکے، شریف اور کریم کے ہیں، «حصور» کے معنی ہیں جو عورتوں کے پاس نہ آ سکے جس کے ہاں نہ اولاد ہو نہ جس میں شہوت کا پانی ہو، اس معنی کی ایک مرفوع حدیث بھی ابن ابی حاتم میں ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لفظ تلاوت کر کے زمین سے کچھ اٹھا کر فرمایا اس کا عضو اس جیسا تھا [تفسیر ابن ابی حاتم:246/2:ضعیف] ، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ ساری مخلوق میں صرف سیدنا یحییٰ علیہ السلام ہی اللہ سے بےگناہ ملیں گے پھر آپ نے یہ الفاظ پڑھے اور زمین سے کچھ اٹھایا اور فرمایا حصور اسے کہتے ہیں جس کا عضو اس جیسا ہو، اور سیدنا یحییٰ بن سعید قطان نے اپنی کلمہ کی انگلی سے اشارہ کیا، یہ روایت جو مرفوع بیان ہوئی ہے اس کی حوالے سے اس موقوف کی سند زیادہ صحیح ہے، اور مرفوع روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کے پھندے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ایسا تھا، اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے زمین سے ایک مرجھایا ہوا تنکا اٹھا کر اس کی طرف اشارہ کر کے یہی فرمایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6977: ضعیف]
صفحہ نمبر1080
اس کے بعد سیدنا زکریا علیہ السلام کو دوسری بشارت دی جاتی ہے کہ تمہارا لڑکا نبی ہو گا یہ بشارت پہلی خوشخبری سے بھی بڑھ گئی، جب بشارت آ چکی تب زکریا کو خیال پیدا ہوا کہ بظاہر اسباب سے تو اس کا ہونا محال ہے تو کہنے لگے اللہ میری ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بوڑھا ہوں میری بیوی بالکل بانجھ، فرشتے نے اسی وقت جواب دیا کہ اللہ کا امر سب سے بڑا ہے اس کے پاس کوئی چیز ان ہونی نہیں، نہ اسے کوئی کام کرنا مشکل نہ، وہ کسی کام سے عاجز، اس کا ارادہ ہو چکا وہ اسی طرح کرے گا، اب سیدنا زکریا علیہ السلام اللہ سے اس کی علامت طلب کرنے لگے تو ذات باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا کہ نشان یہ ہے کہ تو تین دن تک لوگوں سے بات نہ کر سکے گا، رہے گا تندرست صحیح سالم لیکن زبان سے لوگوں سے بات چیت نہ کی جائے گی صرف اشاروں سے کام لینا پڑے گا، جیسے اور جگہ ہے «ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا» [19-مريم:10] یعنی تین راتیں تندرستی کی حالت پھر حکم دیا کہ اس حال میں تمہیں چاہیئے کہ ذکر اور تکبیر اور تسبیح میں زیادہ مشغول رہو، صبح شام اسی میں لگے رہو، اس کا دوسرا حصہ اور پورا بیان تفصیل کے ساتھ سورۃ مریم کے شروع میں آئے گا، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر1081
يحيىٰ علیہ السلام، ایک معجزہ ٭٭
اس کے بعد زکریا علیہ السلام کو دوسری بشارت دی جاتی ہے کہ تمہارا لڑکا نبی ہو گا۔ یہ بشارت پہلی خوشخبری سے بھی بڑھ گئی۔ جب بشارت آ گئی تو زکریا علیہ السلام کو خیال پیدا ہوا کہ بظاہر اسباب سے تو اس کا ہونا محال ہے تو کہنے لگے کہ اے اللہ! میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بوڑھا ہوں، میری بیوی بالکل بانجھ، فرشتے نے اسی وقت جواب دیا کہ اللہ کا امر سب سے بڑا ہے۔ اس کے پاس کوئی چیز ان ہونی نہیں، نہ اسے کوئی کام کرنا مشکل، نہ وہ کسی کام سے عاجز، اس کا ارادہ ہو چکا وہ اسی طرح کرے گا، اب سیدنا زکریا علیہ السلام اللہ سے اس کی علامت طلب کرنے لگے تو ذات باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا نشان یہ ہے کہ تو تین دن تک لوگوں سے بات نہ کر سکے گا، رہے گا تندرست صحیح سالم لیکن زبان سے لوگوں سے بات چیت نہ کی جائے گی صرف اشاروں سے کام لینا پڑے گا، جیسے اور جگہ ہے «ثَلَـثَ لَيَالٍ سَوِيّاً» [19-مريم:10] یعنی تین راتیں تندرستی کی حالت پھر حکم دیا کہ اس حال میں تمہیں چاہیئے کہ ذکر اور تکبیر اور تسبیح میں زیادہ مشغول رہو، صبح شام اسی میں لگے رہو، اس کا دوسرا حصہ اور پورا بیان تفصیل کے ساتھ سورۃ مریم کے شروع میں آئے گا، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر1083
يحيىٰ علیہ السلام، ایک معجزہ ٭٭
اس کے بعد زکریا علیہ السلام کو دوسری بشارت دی جاتی ہے کہ تمہارا لڑکا نبی ہو گا۔ یہ بشارت پہلی خوشخبری سے بھی بڑھ گئی۔ جب بشارت آ گئی تو زکریا علیہ السلام کو خیال پیدا ہوا کہ بظاہر اسباب سے تو اس کا ہونا محال ہے تو کہنے لگے کہ اے اللہ! میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بوڑھا ہوں، میری بیوی بالکل بانجھ، فرشتے نے اسی وقت جواب دیا کہ اللہ کا امر سب سے بڑا ہے۔ اس کے پاس کوئی چیز ان ہونی نہیں، نہ اسے کوئی کام کرنا مشکل، نہ وہ کسی کام سے عاجز، اس کا ارادہ ہو چکا وہ اسی طرح کرے گا، اب سیدنا زکریا علیہ السلام اللہ سے اس کی علامت طلب کرنے لگے تو ذات باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا نشان یہ ہے کہ تو تین دن تک لوگوں سے بات نہ کر سکے گا، رہے گا تندرست صحیح سالم لیکن زبان سے لوگوں سے بات چیت نہ کی جائے گی صرف اشاروں سے کام لینا پڑے گا، جیسے اور جگہ ہے «ثَلَـثَ لَيَالٍ سَوِيّاً» [19-مريم:10] یعنی تین راتیں تندرستی کی حالت پھر حکم دیا کہ اس حال میں تمہیں چاہیئے کہ ذکر اور تکبیر اور تسبیح میں زیادہ مشغول رہو، صبح شام اسی میں لگے رہو، اس کا دوسرا حصہ اور پورا بیان تفصیل کے ساتھ سورۃ مریم کے شروع میں آئے گا، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر1083
تین افضل ترین عورتیں ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریم علیہما السلام کو فرشتوں نے خبر پہنچائی کہ اللہ نے انہیں ان کی کثرت عبادت، ان کی دنیا کی بے رغبتی، ان کی شرافت اور شیطانی وسواس سے دوری کی وجہ سے اپنے قرب خاص عنایت فرما دیا ہے، اور تمام جہان کی عورتوں پر انہیں خاص فضیلت دے رکھی ہے،
صحیح مسلم شریف وغیرہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی عورتیں اونٹ پر سوار ہونے والیاں ہیں ان میں سے بہتر عورتیں قریش کی ہیں جو اپنے چھوٹے بچوں پر بہت ہی شفقت اور پیار کرنے والی اور اپنے خاوند کی چیزوں کی پوری حفاظت کرنے والی ہیں، سیدہ مریم بنت عمران اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئیں [صحیح مسلم:2527]
، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے عورتوں میں سے بہتر عورت سیدہ مریم بنت عمران ہیں اور عورتوں میں سے بہتر عورت خدیجہ بنت خویلد ہیں رضی اللہ عنہا [صحیح بخاری:3432]
ترمذی کی صحیح حدیث میں ہے ساری دنیا کی عورتوں میں سے بہتر مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، آسیہ فرعون کی بیوی ہیں رضی اللہ عنھن [سنن ترمذي:3878،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے یہ چاروں عورتیں تمام عالم کی عورتوں سے افضل اور بہتر ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری:7025:صحیح بالشواھد]
اور حدیث میں ہے مردوں میں سے کامل مرد بہت سے ہیں لیکن عورتوں میں کمال والی عورتیں صرف تین ہیں، مریم بنت عمران، آسیہ فرعون کی بیوی اور خدیجہ بنت خویلدرضی اللہ عنھمن اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید یعنی گوشت کے شوربے میں بھگوئی ہوئی روٹی کی تمام کھانوں پر [صحیح بخاری:3411]
یہ حدیث ابوداؤد کے علاوہ اور سب کتابوں میں ہے، صحیح بخاری شریف کی اس حدیث میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں، میں نے اس حدیث کی تمام سندیں اور ہر سند کے الفاظ اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں جمع کر دئیے ہیں «وللہ الحمد والمنۃ»
پھر فرشتے فرماتے ہیں کہ اے مریم رضی اللہ عنہا تو خشوع و خضوع رکوع و سجود میں رہا کر اللہ تبارک وتعالیٰ تجھے اپنی قدرت کا ایک عظیم الشان نشان بنانے والا ہے اس لیے تجھے رب کی طرف پوری رغبت رکھنی چاہیئے،
صفحہ نمبر1085
قنوت کے معنی اطاعت کے ہیں جو عاجزی اور دل کی حاضری کے ساتھ ہو، جیسے ارشاد «وَلَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ» [30-الروم:26] یعنی اس کی ماتحتی اور ملکیت میں زمین و آسمان کی ہرچیز ہے سب کے سب اس کے محکوم اور تابع فرمان ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ قرآن میں جہاں کہیں قنوت کا لفظ ہے اس سے مراد اطاعت گذاری ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:261/2:ضعیف]
یہی حدیث ابن جریر میں بھی ہے لیکن سند میں نکارت ہے، سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ مریم علیہما السلام نماز میں اتنا لمبا قیام کرتی تھیں کہ دونوں ٹخنوں پر ورم آ جاتا تھا، قنوت سے مراد نماز میں لمبے لمبے رکوع کرنا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس سے یہ مراد ہے کہ اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہ اور رکوع سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جا، سیدنا اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے عبادت خانے میں اس قدر بکثرت باخشوع اور لمبی نمازیں پڑھا کرتی تھیں کہ دونوں پیروں میں زرد پانی اتر آیا، [ضعیف] «رضی اللہ عنھا و ارضاھا» ۔
صفحہ نمبر1086
یہ اہم خبریں بیان کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کا علم تمہیں صرف میری وحی سے ہوا ورنہ تمہیں کیا خبر؟ تم کچھ اس وقت ان کے پاس تھوڑے ہی موجود تھے جو ان واقعات کی خبر لوگوں کو پہنچاتے؟ لیکن اپنی وحی سے ہم نے ان واقعات کو اس طرح آپ پر کھول دیا گویا آپ اس وقت خود موجود تھے جبکہ سیدہ مریمرضی اللہ عنہا کی پرورش کے بارے میں ہر ایک دوسرے پر سبقت کرتا تھا سب کی چاہت تھی کہ اس دولت سے مالا مال ہو جاؤں اور یہ اجر مجھے مل جائے، جب آپ کی والدہ صاحبہ آپ کو لے کر بیت المقدس کی مسجد سلیمانی میں تشریف لائیں اور وہاں کے خادموں سے جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بھائی اور سیدنا ہارون علیہ السلام کی نسل میں سے تھے کہا کہ میں انہیں اپنی نذر کے مطابق نام اللہ پر آزاد کر چکی ہوں تم اسے سنبھالو،
یہ ظاہر ہے کہ لڑکی ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ حیض کی حالت میں عورتیں مسجد میں نہیں آسکتیں اب تم جانو تمہارا کام، میں تو اسے گھر واپس نہیں لے جا سکتی کیونکہ نام اللہ اسے نذر کر چکی ہوں، سیدنا عمران علیہ السلام یہاں کے امام نماز تھے اور قربانیوں کے مہتمم تھے اور یہ ان کی صاحبزادی تھیں تو ہر ایک نے بڑی چاہت سے ان کے لیے ہاتھ پھیلا دئیے ادھر سے سیدنا زکریاعلیہ السلام نے اپنا ایک حق اور جتایا کہ میں رشتہ میں بھی ان کا خالو ہوتا ہوں تو یہ لڑکی مجھ ہی کو ملنی چاہیئے اور لوگ راضی نہ ہوئے آخر قرعہ ڈالا گیا اور قرعہ میں ان سب نے اپنی وہ قلمیں ڈالیں جن سے توراۃ لکھتے تھے، تو قرعہ سیدنا زکریا علیہ السلام کے نام نکلا [تفسیر ابن جریر الطبری:351/6]
اور یہی اس سعادت سے مشرف ہوئے دوسری مفصل روایتوں میں یہ بھی ہے کہ نہر اردن پر جا کر یہ قلمیں ڈالی گئیں کہ پانی کے بہاؤ کے ساتھ جو قلم نکل جائے وہ نہیں اور جس کا قلم ٹھہر جائے وہ سیدہ مریم علیھا السلام کا کفیل بنے، چنانچہ سب کی قلمیں تو پانی بہا کر لے گیا صرف سیدنا زکریا علیہ السلام کا قلم ٹھہر گیا بلکہ الٹا اوپر کو چڑھنے لگا تو ایک تو قرعے میں ان کا نام نکلا دوسرے قریب کے رشتہ داری تھے پھر یہ خود ان تمام کے سردار امام بلکہ نبی تھے صلوات اللہ وسلامہ علیہ پس انہی کو سیدہ مریم علیھا السلام سونپ دی گئیں۔
صفحہ نمبر1087
تین افضل ترین عورتیں ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریم علیہما السلام کو فرشتوں نے خبر پہنچائی کہ اللہ نے انہیں ان کی کثرت عبادت، ان کی دنیا کی بے رغبتی، ان کی شرافت اور شیطانی وسواس سے دوری کی وجہ سے اپنے قرب خاص عنایت فرما دیا ہے، اور تمام جہان کی عورتوں پر انہیں خاص فضیلت دے رکھی ہے،
صحیح مسلم شریف وغیرہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی عورتیں اونٹ پر سوار ہونے والیاں ہیں ان میں سے بہتر عورتیں قریش کی ہیں جو اپنے چھوٹے بچوں پر بہت ہی شفقت اور پیار کرنے والی اور اپنے خاوند کی چیزوں کی پوری حفاظت کرنے والی ہیں، سیدہ مریم بنت عمران اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئیں [صحیح مسلم:2527]
، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے عورتوں میں سے بہتر عورت سیدہ مریم بنت عمران ہیں اور عورتوں میں سے بہتر عورت خدیجہ بنت خویلد ہیں رضی اللہ عنہا [صحیح بخاری:3432]
ترمذی کی صحیح حدیث میں ہے ساری دنیا کی عورتوں میں سے بہتر مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، آسیہ فرعون کی بیوی ہیں رضی اللہ عنھن [سنن ترمذي:3878،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے یہ چاروں عورتیں تمام عالم کی عورتوں سے افضل اور بہتر ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری:7025:صحیح بالشواھد]
اور حدیث میں ہے مردوں میں سے کامل مرد بہت سے ہیں لیکن عورتوں میں کمال والی عورتیں صرف تین ہیں، مریم بنت عمران، آسیہ فرعون کی بیوی اور خدیجہ بنت خویلدرضی اللہ عنھمن اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید یعنی گوشت کے شوربے میں بھگوئی ہوئی روٹی کی تمام کھانوں پر [صحیح بخاری:3411]
یہ حدیث ابوداؤد کے علاوہ اور سب کتابوں میں ہے، صحیح بخاری شریف کی اس حدیث میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں، میں نے اس حدیث کی تمام سندیں اور ہر سند کے الفاظ اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں جمع کر دئیے ہیں «وللہ الحمد والمنۃ»
پھر فرشتے فرماتے ہیں کہ اے مریم رضی اللہ عنہا تو خشوع و خضوع رکوع و سجود میں رہا کر اللہ تبارک وتعالیٰ تجھے اپنی قدرت کا ایک عظیم الشان نشان بنانے والا ہے اس لیے تجھے رب کی طرف پوری رغبت رکھنی چاہیئے،
صفحہ نمبر1085
قنوت کے معنی اطاعت کے ہیں جو عاجزی اور دل کی حاضری کے ساتھ ہو، جیسے ارشاد «وَلَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ» [30-الروم:26] یعنی اس کی ماتحتی اور ملکیت میں زمین و آسمان کی ہرچیز ہے سب کے سب اس کے محکوم اور تابع فرمان ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ قرآن میں جہاں کہیں قنوت کا لفظ ہے اس سے مراد اطاعت گذاری ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:261/2:ضعیف]
یہی حدیث ابن جریر میں بھی ہے لیکن سند میں نکارت ہے، سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ مریم علیہما السلام نماز میں اتنا لمبا قیام کرتی تھیں کہ دونوں ٹخنوں پر ورم آ جاتا تھا، قنوت سے مراد نماز میں لمبے لمبے رکوع کرنا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس سے یہ مراد ہے کہ اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہ اور رکوع سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جا، سیدنا اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے عبادت خانے میں اس قدر بکثرت باخشوع اور لمبی نمازیں پڑھا کرتی تھیں کہ دونوں پیروں میں زرد پانی اتر آیا، [ضعیف] «رضی اللہ عنھا و ارضاھا» ۔
صفحہ نمبر1086
یہ اہم خبریں بیان کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کا علم تمہیں صرف میری وحی سے ہوا ورنہ تمہیں کیا خبر؟ تم کچھ اس وقت ان کے پاس تھوڑے ہی موجود تھے جو ان واقعات کی خبر لوگوں کو پہنچاتے؟ لیکن اپنی وحی سے ہم نے ان واقعات کو اس طرح آپ پر کھول دیا گویا آپ اس وقت خود موجود تھے جبکہ سیدہ مریمرضی اللہ عنہا کی پرورش کے بارے میں ہر ایک دوسرے پر سبقت کرتا تھا سب کی چاہت تھی کہ اس دولت سے مالا مال ہو جاؤں اور یہ اجر مجھے مل جائے، جب آپ کی والدہ صاحبہ آپ کو لے کر بیت المقدس کی مسجد سلیمانی میں تشریف لائیں اور وہاں کے خادموں سے جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بھائی اور سیدنا ہارون علیہ السلام کی نسل میں سے تھے کہا کہ میں انہیں اپنی نذر کے مطابق نام اللہ پر آزاد کر چکی ہوں تم اسے سنبھالو،
یہ ظاہر ہے کہ لڑکی ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ حیض کی حالت میں عورتیں مسجد میں نہیں آسکتیں اب تم جانو تمہارا کام، میں تو اسے گھر واپس نہیں لے جا سکتی کیونکہ نام اللہ اسے نذر کر چکی ہوں، سیدنا عمران علیہ السلام یہاں کے امام نماز تھے اور قربانیوں کے مہتمم تھے اور یہ ان کی صاحبزادی تھیں تو ہر ایک نے بڑی چاہت سے ان کے لیے ہاتھ پھیلا دئیے ادھر سے سیدنا زکریاعلیہ السلام نے اپنا ایک حق اور جتایا کہ میں رشتہ میں بھی ان کا خالو ہوتا ہوں تو یہ لڑکی مجھ ہی کو ملنی چاہیئے اور لوگ راضی نہ ہوئے آخر قرعہ ڈالا گیا اور قرعہ میں ان سب نے اپنی وہ قلمیں ڈالیں جن سے توراۃ لکھتے تھے، تو قرعہ سیدنا زکریا علیہ السلام کے نام نکلا [تفسیر ابن جریر الطبری:351/6]
اور یہی اس سعادت سے مشرف ہوئے دوسری مفصل روایتوں میں یہ بھی ہے کہ نہر اردن پر جا کر یہ قلمیں ڈالی گئیں کہ پانی کے بہاؤ کے ساتھ جو قلم نکل جائے وہ نہیں اور جس کا قلم ٹھہر جائے وہ سیدہ مریم علیھا السلام کا کفیل بنے، چنانچہ سب کی قلمیں تو پانی بہا کر لے گیا صرف سیدنا زکریا علیہ السلام کا قلم ٹھہر گیا بلکہ الٹا اوپر کو چڑھنے لگا تو ایک تو قرعے میں ان کا نام نکلا دوسرے قریب کے رشتہ داری تھے پھر یہ خود ان تمام کے سردار امام بلکہ نبی تھے صلوات اللہ وسلامہ علیہ پس انہی کو سیدہ مریم علیھا السلام سونپ دی گئیں۔
صفحہ نمبر1087
تین افضل ترین عورتیں ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریم علیہما السلام کو فرشتوں نے خبر پہنچائی کہ اللہ نے انہیں ان کی کثرت عبادت، ان کی دنیا کی بے رغبتی، ان کی شرافت اور شیطانی وسواس سے دوری کی وجہ سے اپنے قرب خاص عنایت فرما دیا ہے، اور تمام جہان کی عورتوں پر انہیں خاص فضیلت دے رکھی ہے،
صحیح مسلم شریف وغیرہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی عورتیں اونٹ پر سوار ہونے والیاں ہیں ان میں سے بہتر عورتیں قریش کی ہیں جو اپنے چھوٹے بچوں پر بہت ہی شفقت اور پیار کرنے والی اور اپنے خاوند کی چیزوں کی پوری حفاظت کرنے والی ہیں، سیدہ مریم بنت عمران اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئیں [صحیح مسلم:2527]
، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے عورتوں میں سے بہتر عورت سیدہ مریم بنت عمران ہیں اور عورتوں میں سے بہتر عورت خدیجہ بنت خویلد ہیں رضی اللہ عنہا [صحیح بخاری:3432]
ترمذی کی صحیح حدیث میں ہے ساری دنیا کی عورتوں میں سے بہتر مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، آسیہ فرعون کی بیوی ہیں رضی اللہ عنھن [سنن ترمذي:3878،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے یہ چاروں عورتیں تمام عالم کی عورتوں سے افضل اور بہتر ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری:7025:صحیح بالشواھد]
اور حدیث میں ہے مردوں میں سے کامل مرد بہت سے ہیں لیکن عورتوں میں کمال والی عورتیں صرف تین ہیں، مریم بنت عمران، آسیہ فرعون کی بیوی اور خدیجہ بنت خویلدرضی اللہ عنھمن اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید یعنی گوشت کے شوربے میں بھگوئی ہوئی روٹی کی تمام کھانوں پر [صحیح بخاری:3411]
یہ حدیث ابوداؤد کے علاوہ اور سب کتابوں میں ہے، صحیح بخاری شریف کی اس حدیث میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں، میں نے اس حدیث کی تمام سندیں اور ہر سند کے الفاظ اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں جمع کر دئیے ہیں «وللہ الحمد والمنۃ»
پھر فرشتے فرماتے ہیں کہ اے مریم رضی اللہ عنہا تو خشوع و خضوع رکوع و سجود میں رہا کر اللہ تبارک وتعالیٰ تجھے اپنی قدرت کا ایک عظیم الشان نشان بنانے والا ہے اس لیے تجھے رب کی طرف پوری رغبت رکھنی چاہیئے،
صفحہ نمبر1085
قنوت کے معنی اطاعت کے ہیں جو عاجزی اور دل کی حاضری کے ساتھ ہو، جیسے ارشاد «وَلَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ» [30-الروم:26] یعنی اس کی ماتحتی اور ملکیت میں زمین و آسمان کی ہرچیز ہے سب کے سب اس کے محکوم اور تابع فرمان ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ قرآن میں جہاں کہیں قنوت کا لفظ ہے اس سے مراد اطاعت گذاری ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:261/2:ضعیف]
یہی حدیث ابن جریر میں بھی ہے لیکن سند میں نکارت ہے، سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ مریم علیہما السلام نماز میں اتنا لمبا قیام کرتی تھیں کہ دونوں ٹخنوں پر ورم آ جاتا تھا، قنوت سے مراد نماز میں لمبے لمبے رکوع کرنا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس سے یہ مراد ہے کہ اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہ اور رکوع سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جا، سیدنا اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے عبادت خانے میں اس قدر بکثرت باخشوع اور لمبی نمازیں پڑھا کرتی تھیں کہ دونوں پیروں میں زرد پانی اتر آیا، [ضعیف] «رضی اللہ عنھا و ارضاھا» ۔
صفحہ نمبر1086
یہ اہم خبریں بیان کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کا علم تمہیں صرف میری وحی سے ہوا ورنہ تمہیں کیا خبر؟ تم کچھ اس وقت ان کے پاس تھوڑے ہی موجود تھے جو ان واقعات کی خبر لوگوں کو پہنچاتے؟ لیکن اپنی وحی سے ہم نے ان واقعات کو اس طرح آپ پر کھول دیا گویا آپ اس وقت خود موجود تھے جبکہ سیدہ مریمرضی اللہ عنہا کی پرورش کے بارے میں ہر ایک دوسرے پر سبقت کرتا تھا سب کی چاہت تھی کہ اس دولت سے مالا مال ہو جاؤں اور یہ اجر مجھے مل جائے، جب آپ کی والدہ صاحبہ آپ کو لے کر بیت المقدس کی مسجد سلیمانی میں تشریف لائیں اور وہاں کے خادموں سے جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بھائی اور سیدنا ہارون علیہ السلام کی نسل میں سے تھے کہا کہ میں انہیں اپنی نذر کے مطابق نام اللہ پر آزاد کر چکی ہوں تم اسے سنبھالو،
یہ ظاہر ہے کہ لڑکی ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ حیض کی حالت میں عورتیں مسجد میں نہیں آسکتیں اب تم جانو تمہارا کام، میں تو اسے گھر واپس نہیں لے جا سکتی کیونکہ نام اللہ اسے نذر کر چکی ہوں، سیدنا عمران علیہ السلام یہاں کے امام نماز تھے اور قربانیوں کے مہتمم تھے اور یہ ان کی صاحبزادی تھیں تو ہر ایک نے بڑی چاہت سے ان کے لیے ہاتھ پھیلا دئیے ادھر سے سیدنا زکریاعلیہ السلام نے اپنا ایک حق اور جتایا کہ میں رشتہ میں بھی ان کا خالو ہوتا ہوں تو یہ لڑکی مجھ ہی کو ملنی چاہیئے اور لوگ راضی نہ ہوئے آخر قرعہ ڈالا گیا اور قرعہ میں ان سب نے اپنی وہ قلمیں ڈالیں جن سے توراۃ لکھتے تھے، تو قرعہ سیدنا زکریا علیہ السلام کے نام نکلا [تفسیر ابن جریر الطبری:351/6]
اور یہی اس سعادت سے مشرف ہوئے دوسری مفصل روایتوں میں یہ بھی ہے کہ نہر اردن پر جا کر یہ قلمیں ڈالی گئیں کہ پانی کے بہاؤ کے ساتھ جو قلم نکل جائے وہ نہیں اور جس کا قلم ٹھہر جائے وہ سیدہ مریم علیھا السلام کا کفیل بنے، چنانچہ سب کی قلمیں تو پانی بہا کر لے گیا صرف سیدنا زکریا علیہ السلام کا قلم ٹھہر گیا بلکہ الٹا اوپر کو چڑھنے لگا تو ایک تو قرعے میں ان کا نام نکلا دوسرے قریب کے رشتہ داری تھے پھر یہ خود ان تمام کے سردار امام بلکہ نبی تھے صلوات اللہ وسلامہ علیہ پس انہی کو سیدہ مریم علیھا السلام سونپ دی گئیں۔
صفحہ نمبر1087
مسیح ابن مریم علیہ السلام ٭٭
یہ خوشخبری سیدہ مریم علیھا السلام کو فرشتے سنا رہے ہیں کہ ان سے ایک لڑکا ہو گا جو بڑی شان والا اور صرف اللہ کے کلمہ «کن» کے کہنے سے ہو گا یہی تفسیر اللہ تعالیٰ کے فرمان «مُصَدِّقًـا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ» [3-آل عمران:39] کی بھی ہے، جیسے کہ جمہور نے ذکر کیا اور جس کا بیان اس سے پہلے گزر چکا، اس کا نام مسیح ہو گا، عیسیٰ بیٹا مریم علیھا السلام کا، ہر مومن اسے اسی نام سے پہچانے گا، مسیح نام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زمین میں وہ بکثرت سیاحت کریں گے، ماں کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا باپ کوئی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ دونوں جہان میں برگزیدہ ہیں اور مقربان خاص میں سے ہیں، ان پر اللہ عزوجل کی شریعت اور کتاب اترے گی اور بڑی بڑی مہربانیاں ان پر دنیا میں نازل ہوں گی اور آخرت میں بھی اور اولوالعزم پیغمبروں کی طرح اللہ کے حکم سے جس کے لیے اللہ چاہے گا وہ شفاعت کریں گے جو قبول ہو جاے گی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین وہ اپنے جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں باتیں کریں گے یعنی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی لوگوں کو بچنے ہی میں دعوت دیں گے جو ان کا معجزہ ہو گا اور بڑی عمر میں بھی جب اللہ ان کی طرف وحی کرے گا، وہ اپنے قول و فعل میں علم صحیح رکھنے والے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے، ایک حدیث میں ہے کہ بچپن میں کلام صرف سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور جریج کے ساتھی نے کیا [تفسیر ابن ابی حاتم:272/2] اور ان کے علاوہ حدیث میں ایک اور بچے کا کلام کرنا بھی مروی ہے تو یہ تین ہوئے۔ [صحیح بخاری:3436]
صفحہ نمبر1090
سیدہ مریم علیھا السلام اس بشارت کو سن کر اپنی مناجات میں کہنے لگیں اللہ مجھے بچہ کیسے ہو گا؟ میں نے تو نکاح نہیں کیا اور نہ میرا ارادہ نکاح کرنے کا ہے اور نہ میں ایسی بدکار عورت ہوں حا شاء اللہ، اللہ عزوجل کی طرف سے فرشتے نے جواب میں کہا کہ اللہ کا امر بہت بڑا ہے اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی وہ جو چاہے پیدا کر دے، اس نکتے کو خیال میں رکھنا چاہیئے کہ سیدنا زکریا کے اس سوال کے جواب میں اس جگہ لفظ «یفعل» تھا یہاں لفظ «یخلق» ہے یعنی پیدا کرتا ہے۔ اس لیے کہ کسی باطل پرست کو کسی شبہ کا موقع باقی نہ رہے اور صاف لفظوں میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا اللہ جل شانہ کی مخلوق ہونا معلوم ہو جائے۔ پھر اس کی مزید تاکید کی اور فرمایا وہ جس کسی کام کو جب کبھی کرنا چاہتا ہے تو صرف اتنا فرما دیتا ہے کہ ہو جا، بس وہ وہیں ہو جاتا ہے اس کے حکم کے بعد ڈھیل اور دیر نہیں لگتی، جیسے اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] یعنی ہمارے صرف ایک مرتبہ کے حکم سے ہی بلاتاخیر فی الفور آنکھ جھپکتے ہی وہ کام ہو جاتا ہے ہمیں دوبارہ اسے کہنا نہیں پڑتا۔
صفحہ نمبر1091
مسیح ابن مریم علیہ السلام ٭٭
یہ خوشخبری سیدہ مریم علیھا السلام کو فرشتے سنا رہے ہیں کہ ان سے ایک لڑکا ہو گا جو بڑی شان والا اور صرف اللہ کے کلمہ «کن» کے کہنے سے ہو گا یہی تفسیر اللہ تعالیٰ کے فرمان «مُصَدِّقًـا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ» [3-آل عمران:39] کی بھی ہے، جیسے کہ جمہور نے ذکر کیا اور جس کا بیان اس سے پہلے گزر چکا، اس کا نام مسیح ہو گا، عیسیٰ بیٹا مریم علیھا السلام کا، ہر مومن اسے اسی نام سے پہچانے گا، مسیح نام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زمین میں وہ بکثرت سیاحت کریں گے، ماں کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا باپ کوئی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ دونوں جہان میں برگزیدہ ہیں اور مقربان خاص میں سے ہیں، ان پر اللہ عزوجل کی شریعت اور کتاب اترے گی اور بڑی بڑی مہربانیاں ان پر دنیا میں نازل ہوں گی اور آخرت میں بھی اور اولوالعزم پیغمبروں کی طرح اللہ کے حکم سے جس کے لیے اللہ چاہے گا وہ شفاعت کریں گے جو قبول ہو جاے گی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین وہ اپنے جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں باتیں کریں گے یعنی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی لوگوں کو بچنے ہی میں دعوت دیں گے جو ان کا معجزہ ہو گا اور بڑی عمر میں بھی جب اللہ ان کی طرف وحی کرے گا، وہ اپنے قول و فعل میں علم صحیح رکھنے والے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے، ایک حدیث میں ہے کہ بچپن میں کلام صرف سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور جریج کے ساتھی نے کیا [تفسیر ابن ابی حاتم:272/2] اور ان کے علاوہ حدیث میں ایک اور بچے کا کلام کرنا بھی مروی ہے تو یہ تین ہوئے۔ [صحیح بخاری:3436]
صفحہ نمبر1090
سیدہ مریم علیھا السلام اس بشارت کو سن کر اپنی مناجات میں کہنے لگیں اللہ مجھے بچہ کیسے ہو گا؟ میں نے تو نکاح نہیں کیا اور نہ میرا ارادہ نکاح کرنے کا ہے اور نہ میں ایسی بدکار عورت ہوں حا شاء اللہ، اللہ عزوجل کی طرف سے فرشتے نے جواب میں کہا کہ اللہ کا امر بہت بڑا ہے اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی وہ جو چاہے پیدا کر دے، اس نکتے کو خیال میں رکھنا چاہیئے کہ سیدنا زکریا کے اس سوال کے جواب میں اس جگہ لفظ «یفعل» تھا یہاں لفظ «یخلق» ہے یعنی پیدا کرتا ہے۔ اس لیے کہ کسی باطل پرست کو کسی شبہ کا موقع باقی نہ رہے اور صاف لفظوں میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا اللہ جل شانہ کی مخلوق ہونا معلوم ہو جائے۔ پھر اس کی مزید تاکید کی اور فرمایا وہ جس کسی کام کو جب کبھی کرنا چاہتا ہے تو صرف اتنا فرما دیتا ہے کہ ہو جا، بس وہ وہیں ہو جاتا ہے اس کے حکم کے بعد ڈھیل اور دیر نہیں لگتی، جیسے اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] یعنی ہمارے صرف ایک مرتبہ کے حکم سے ہی بلاتاخیر فی الفور آنکھ جھپکتے ہی وہ کام ہو جاتا ہے ہمیں دوبارہ اسے کہنا نہیں پڑتا۔
صفحہ نمبر1091
مسیح ابن مریم علیہ السلام ٭٭
یہ خوشخبری سیدہ مریم علیھا السلام کو فرشتے سنا رہے ہیں کہ ان سے ایک لڑکا ہو گا جو بڑی شان والا اور صرف اللہ کے کلمہ «کن» کے کہنے سے ہو گا یہی تفسیر اللہ تعالیٰ کے فرمان «مُصَدِّقًـا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ» [3-آل عمران:39] کی بھی ہے، جیسے کہ جمہور نے ذکر کیا اور جس کا بیان اس سے پہلے گزر چکا، اس کا نام مسیح ہو گا، عیسیٰ بیٹا مریم علیھا السلام کا، ہر مومن اسے اسی نام سے پہچانے گا، مسیح نام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زمین میں وہ بکثرت سیاحت کریں گے، ماں کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا باپ کوئی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ دونوں جہان میں برگزیدہ ہیں اور مقربان خاص میں سے ہیں، ان پر اللہ عزوجل کی شریعت اور کتاب اترے گی اور بڑی بڑی مہربانیاں ان پر دنیا میں نازل ہوں گی اور آخرت میں بھی اور اولوالعزم پیغمبروں کی طرح اللہ کے حکم سے جس کے لیے اللہ چاہے گا وہ شفاعت کریں گے جو قبول ہو جاے گی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین وہ اپنے جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں باتیں کریں گے یعنی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی لوگوں کو بچنے ہی میں دعوت دیں گے جو ان کا معجزہ ہو گا اور بڑی عمر میں بھی جب اللہ ان کی طرف وحی کرے گا، وہ اپنے قول و فعل میں علم صحیح رکھنے والے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے، ایک حدیث میں ہے کہ بچپن میں کلام صرف سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور جریج کے ساتھی نے کیا [تفسیر ابن ابی حاتم:272/2] اور ان کے علاوہ حدیث میں ایک اور بچے کا کلام کرنا بھی مروی ہے تو یہ تین ہوئے۔ [صحیح بخاری:3436]
صفحہ نمبر1090
سیدہ مریم علیھا السلام اس بشارت کو سن کر اپنی مناجات میں کہنے لگیں اللہ مجھے بچہ کیسے ہو گا؟ میں نے تو نکاح نہیں کیا اور نہ میرا ارادہ نکاح کرنے کا ہے اور نہ میں ایسی بدکار عورت ہوں حا شاء اللہ، اللہ عزوجل کی طرف سے فرشتے نے جواب میں کہا کہ اللہ کا امر بہت بڑا ہے اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی وہ جو چاہے پیدا کر دے، اس نکتے کو خیال میں رکھنا چاہیئے کہ سیدنا زکریا کے اس سوال کے جواب میں اس جگہ لفظ «یفعل» تھا یہاں لفظ «یخلق» ہے یعنی پیدا کرتا ہے۔ اس لیے کہ کسی باطل پرست کو کسی شبہ کا موقع باقی نہ رہے اور صاف لفظوں میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا اللہ جل شانہ کی مخلوق ہونا معلوم ہو جائے۔ پھر اس کی مزید تاکید کی اور فرمایا وہ جس کسی کام کو جب کبھی کرنا چاہتا ہے تو صرف اتنا فرما دیتا ہے کہ ہو جا، بس وہ وہیں ہو جاتا ہے اس کے حکم کے بعد ڈھیل اور دیر نہیں لگتی، جیسے اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] یعنی ہمارے صرف ایک مرتبہ کے حکم سے ہی بلاتاخیر فی الفور آنکھ جھپکتے ہی وہ کام ہو جاتا ہے ہمیں دوبارہ اسے کہنا نہیں پڑتا۔
صفحہ نمبر1091
فرشتوں کا مریم علیہا السلام سے خطاب ٭٭
فرشتے سیدہ مریم علیہا السلام سے کہتے ہیں کہ تیرے اس لڑکے یعنی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو پروردگار عالم لکھنا سکھائے گا حکمت سکھائے گا لفظ حکمت کی تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے، اور اسے توراۃ سکھائے گا جو سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر اتری تھی اور انجیل سکھائے گا جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہی پر اتری، چنانچہ آپ کو یہ دونوں کتابیں حفظ تھیں، انہیں بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجے گا، اور اس بات کو کہنے کے لیے کہ میرا یہ معجزہ دیکھو کہ مٹی لی اس کا پرندہ بنایا پھر پھونک مارتے ہی وہ سچ مچ کا جیتا جاگتا پرند بن کر سب کے سامنے اڑنے لگا، یہ اللہ کے حکم اور اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کے سبب تھا،سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی قدرت سے نہیں یہ ایک معجزہ تھا جو آپ کی نبوت کا نشان تھا، «اکمه» اس اندھے کو کہتے ہیں جسے دن کے وقت دکھائی نہ دے اور رات کو دکھائی دے، بعض نے کہا «اکمه» اس نابینا کو کہتے ہیں جسے دن کو دکھائی دے اور رات کو دکھائی نہ دے، بعض کہتے ہیں بھینگا اور ترچھا اور کانا مراد ہے، بعض کا قول یہ بھی ہے کہ جو ماں کے پیٹ سے بالکل اندھا پیدا ہوا ہو، یہاں یہی ترجمہ زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس میں معجزے کا کمال یہی ہے اور مخالفین کو عاجز کرنے کے لیے اس کی یہ صورت اور صورتوں سے اعلیٰ ہے، «ابرص» سفید دانے والے کوڑھی کو کہتے ہیں ایسے بیمار بھی اللہ جل شانہ کے حکم سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اچھے کر دیتے تھے اور مردوں کو بھی اللہ عزوجل کے حکم سے آپ زندہ کر دیا کرتے تھے۔
صفحہ نمبر1094
اکثر علماء کا قول ہے کہ ہر زمانے کے نبی کو اس زمانے والوں کی مناسبت سے خاص خاص معجزات جناب باری تعالیٰ نے عطا فرمائے ہیں،سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جادو کا بڑا چرچا تھا اور جادو گروں کی بڑی قدرو تعظیم تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ معجزہ دیا جس سے تمام جادوگروں کی آنکھیں کھل گئیں اور ان پر حیرت طاری ہو گئی اور انہیں کامل یقین ہو گیا کہ یہ تو الہ واحد و قہار کی طرف سے عطیہ ہے جادو ہرگز نہیں چنانچہ ان کی گردنیں جھک گئیں اور یک لخت وہ حلقہ بگوش اسلام ہو گئے اور بالاخر اللہ کے مقرب بندے بن گئے،
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں طبیبوں اور حکیموں کا دور دورہ تھا۔ کامل اطباء اور ماہر حکیم علم طب کے پورے عالم اور لاجواب کامل الفن استاد موجود تھے پس آپ کو وہ معجزے دے گئے جس سے وہ سب عاجز تھے بھلا مادر زاد اندھوں کو بالکل بینا کر دینا اور کوڑھیوں کو اس مہلک بیماری سے اچھا کر دینا اتنا ہی نہیں بلکہ جمادات جو محض بے جان چیز ہے اس میں روح ڈال دینا اور قبروں میں سے مردوں کو زندہ کر دینا یہ کسی کے بس کی بات نہیں؟ صرف اللہ سبحانہ کے حکم سے بطور معجزہ یہ باتیں آپ سے ظاہر ہوئیں، ٹھیک اسی طرح جب ہمارے نبی اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس وقت فصاحت بلاغت نکتہ رسی اور بلند خیالی بول چال میں نزانت و لطافت کا زمانہ تھا اس فن میں بلند پایہ شاعروں نے وہ کمال حاصل کر لیا تھا کہ دنیا ان کے قدموں پر جھکتی تھی پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کتاب اللہ ایسی عطا فرمائی گئی کہ ان سب کو کوندتی ہوئی بجلیاں ماند پڑ گئیں اور کلام اللہ کے نور نے انہیں نیچا دکھایا اور یقین کامل ہو گیا کہ یہ انسانی کلام نہیں، تمام دنیا سے کہہ دیا گیا اور جتا جتا کر، بتا بتا کر، سنا سنا کر، منادی کر کے باربار اعلان کیا گیا کہ ہے کوئی؟
صفحہ نمبر1095
جو اس جیسا کلام کہہ سکے؟ اکیلے اکیلے نہیں سب مل جاؤ اور انسان ہی نہیں جنات کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لو پھر سارے قرآن کے برابر بھی نہیں صرف دس سورتوں کے برابر سہی، اور اچھا یہ بھی نہ سہی ایک ہی سورت اس کی مانند تو بنا کر لاؤ لیکن سب کمریں ٹوٹ گئیں، ہمتیں پست ہو گئیں، گلے خشک ہو گئے۔زبان گنگ ہو گئی اور آج تک ساری دنیا سے نہ بن پڑا اور نہ کبھی ہو سکے گا بھلا کہاں اللہ جل شانہ کا کلام اور کہاں مخلوق؟
صفحہ نمبر1096
پس اس زمانہ کے اعتبار سے اس معجزے نے اپنا اثر کیا اور مخالفین کو ہتھیار ڈالتے ہی بن پڑی اور جوق درجوق اسلامی حلقے بڑھتے گئے۔ پھر سیدنا مسیح علیہ السلام کا اور معجزہ بیان ہو رہا ہے کہ آپ نے فرمایا بھی اور کر کے بھی دکھایا بھی، کہ جو کوئی تم میں سے آج اپنے گھر سے جو کچھ کھا کر آیا ہو میں اسے بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع بتا دوں گا یہی نہیں بلکہ کل کے لیے بھی اس نے جو تیاری کی ہو گی مجھے اللہ تعالیٰ کے معلوم کرانے پر معلوم ہو جاتا ہے، یہ سب میری سچائی کی دلیل ہے کہ میں جو تعلیم تمہیں دے رہا ہوں وہ برحق ہے ہاں اگر تم میں ایمان ہی نہیں تو پھر کیا؟ میں اپنے سے پہلی کتاب توراۃ کو بھی ماننے والا اس کی سچائی کا دنیا میں اعلان کرنے والا ہوں، میں تم پر بعض وہ چیزیں حلال کرنے آیا ہوں جو مجھ سے پہلے تم پر حرام کی گئی ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے توراۃ کے بعض احکام منسوخ نہیں کئے ہیں
صفحہ نمبر1097
البتہ بعض حلال چیزوں میں جو اختلاف تھا اور بڑھتے بڑھتے گویا ان کی حرمت پر اجماع ہو چکا تھا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی حقیقت بیان فرما دی اور ان کے حلال ہونے پر مہر کر دی، جیسے قرآن حکیم نے اور جگہ فرمایا «وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ» [43-الزخرف:63] میں تمہارے بعض آپس کے اختلاف میں صاف فیصلہ کر دونگا «وَاللهُ اَعْلَمُ»، پھر فرمایا کہ میرے پاس اپنی سچائی کی اللہ جل شانہ کی دلیلیں موجود ہیں تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو، جس کا خلاصہ صرف اسی قدر ہے کہ اسے پوجو جو میرا اور تمہارا پالنہار ہے سیدھی اور سچی راہ تو صرف یہی ہے۔
صفحہ نمبر1098
فرشتوں کا مریم علیہا السلام سے خطاب ٭٭
فرشتے سیدہ مریم علیہا السلام سے کہتے ہیں کہ تیرے اس لڑکے یعنی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو پروردگار عالم لکھنا سکھائے گا حکمت سکھائے گا لفظ حکمت کی تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے، اور اسے توراۃ سکھائے گا جو سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر اتری تھی اور انجیل سکھائے گا جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہی پر اتری، چنانچہ آپ کو یہ دونوں کتابیں حفظ تھیں، انہیں بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجے گا، اور اس بات کو کہنے کے لیے کہ میرا یہ معجزہ دیکھو کہ مٹی لی اس کا پرندہ بنایا پھر پھونک مارتے ہی وہ سچ مچ کا جیتا جاگتا پرند بن کر سب کے سامنے اڑنے لگا، یہ اللہ کے حکم اور اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کے سبب تھا،سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی قدرت سے نہیں یہ ایک معجزہ تھا جو آپ کی نبوت کا نشان تھا، «اکمه» اس اندھے کو کہتے ہیں جسے دن کے وقت دکھائی نہ دے اور رات کو دکھائی دے، بعض نے کہا «اکمه» اس نابینا کو کہتے ہیں جسے دن کو دکھائی دے اور رات کو دکھائی نہ دے، بعض کہتے ہیں بھینگا اور ترچھا اور کانا مراد ہے، بعض کا قول یہ بھی ہے کہ جو ماں کے پیٹ سے بالکل اندھا پیدا ہوا ہو، یہاں یہی ترجمہ زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس میں معجزے کا کمال یہی ہے اور مخالفین کو عاجز کرنے کے لیے اس کی یہ صورت اور صورتوں سے اعلیٰ ہے، «ابرص» سفید دانے والے کوڑھی کو کہتے ہیں ایسے بیمار بھی اللہ جل شانہ کے حکم سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اچھے کر دیتے تھے اور مردوں کو بھی اللہ عزوجل کے حکم سے آپ زندہ کر دیا کرتے تھے۔
صفحہ نمبر1094
اکثر علماء کا قول ہے کہ ہر زمانے کے نبی کو اس زمانے والوں کی مناسبت سے خاص خاص معجزات جناب باری تعالیٰ نے عطا فرمائے ہیں،سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جادو کا بڑا چرچا تھا اور جادو گروں کی بڑی قدرو تعظیم تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ معجزہ دیا جس سے تمام جادوگروں کی آنکھیں کھل گئیں اور ان پر حیرت طاری ہو گئی اور انہیں کامل یقین ہو گیا کہ یہ تو الہ واحد و قہار کی طرف سے عطیہ ہے جادو ہرگز نہیں چنانچہ ان کی گردنیں جھک گئیں اور یک لخت وہ حلقہ بگوش اسلام ہو گئے اور بالاخر اللہ کے مقرب بندے بن گئے،
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں طبیبوں اور حکیموں کا دور دورہ تھا۔ کامل اطباء اور ماہر حکیم علم طب کے پورے عالم اور لاجواب کامل الفن استاد موجود تھے پس آپ کو وہ معجزے دے گئے جس سے وہ سب عاجز تھے بھلا مادر زاد اندھوں کو بالکل بینا کر دینا اور کوڑھیوں کو اس مہلک بیماری سے اچھا کر دینا اتنا ہی نہیں بلکہ جمادات جو محض بے جان چیز ہے اس میں روح ڈال دینا اور قبروں میں سے مردوں کو زندہ کر دینا یہ کسی کے بس کی بات نہیں؟ صرف اللہ سبحانہ کے حکم سے بطور معجزہ یہ باتیں آپ سے ظاہر ہوئیں، ٹھیک اسی طرح جب ہمارے نبی اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس وقت فصاحت بلاغت نکتہ رسی اور بلند خیالی بول چال میں نزانت و لطافت کا زمانہ تھا اس فن میں بلند پایہ شاعروں نے وہ کمال حاصل کر لیا تھا کہ دنیا ان کے قدموں پر جھکتی تھی پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کتاب اللہ ایسی عطا فرمائی گئی کہ ان سب کو کوندتی ہوئی بجلیاں ماند پڑ گئیں اور کلام اللہ کے نور نے انہیں نیچا دکھایا اور یقین کامل ہو گیا کہ یہ انسانی کلام نہیں، تمام دنیا سے کہہ دیا گیا اور جتا جتا کر، بتا بتا کر، سنا سنا کر، منادی کر کے باربار اعلان کیا گیا کہ ہے کوئی؟
صفحہ نمبر1095
جو اس جیسا کلام کہہ سکے؟ اکیلے اکیلے نہیں سب مل جاؤ اور انسان ہی نہیں جنات کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لو پھر سارے قرآن کے برابر بھی نہیں صرف دس سورتوں کے برابر سہی، اور اچھا یہ بھی نہ سہی ایک ہی سورت اس کی مانند تو بنا کر لاؤ لیکن سب کمریں ٹوٹ گئیں، ہمتیں پست ہو گئیں، گلے خشک ہو گئے۔زبان گنگ ہو گئی اور آج تک ساری دنیا سے نہ بن پڑا اور نہ کبھی ہو سکے گا بھلا کہاں اللہ جل شانہ کا کلام اور کہاں مخلوق؟
صفحہ نمبر1096
پس اس زمانہ کے اعتبار سے اس معجزے نے اپنا اثر کیا اور مخالفین کو ہتھیار ڈالتے ہی بن پڑی اور جوق درجوق اسلامی حلقے بڑھتے گئے۔ پھر سیدنا مسیح علیہ السلام کا اور معجزہ بیان ہو رہا ہے کہ آپ نے فرمایا بھی اور کر کے بھی دکھایا بھی، کہ جو کوئی تم میں سے آج اپنے گھر سے جو کچھ کھا کر آیا ہو میں اسے بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع بتا دوں گا یہی نہیں بلکہ کل کے لیے بھی اس نے جو تیاری کی ہو گی مجھے اللہ تعالیٰ کے معلوم کرانے پر معلوم ہو جاتا ہے، یہ سب میری سچائی کی دلیل ہے کہ میں جو تعلیم تمہیں دے رہا ہوں وہ برحق ہے ہاں اگر تم میں ایمان ہی نہیں تو پھر کیا؟ میں اپنے سے پہلی کتاب توراۃ کو بھی ماننے والا اس کی سچائی کا دنیا میں اعلان کرنے والا ہوں، میں تم پر بعض وہ چیزیں حلال کرنے آیا ہوں جو مجھ سے پہلے تم پر حرام کی گئی ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے توراۃ کے بعض احکام منسوخ نہیں کئے ہیں
صفحہ نمبر1097
البتہ بعض حلال چیزوں میں جو اختلاف تھا اور بڑھتے بڑھتے گویا ان کی حرمت پر اجماع ہو چکا تھا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی حقیقت بیان فرما دی اور ان کے حلال ہونے پر مہر کر دی، جیسے قرآن حکیم نے اور جگہ فرمایا «وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ» [43-الزخرف:63] میں تمہارے بعض آپس کے اختلاف میں صاف فیصلہ کر دونگا «وَاللهُ اَعْلَمُ»، پھر فرمایا کہ میرے پاس اپنی سچائی کی اللہ جل شانہ کی دلیلیں موجود ہیں تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو، جس کا خلاصہ صرف اسی قدر ہے کہ اسے پوجو جو میرا اور تمہارا پالنہار ہے سیدھی اور سچی راہ تو صرف یہی ہے۔
صفحہ نمبر1098
باب
پھر مسیح علیہ السلام کا اور معجزہ بیان ہو رہا ہے کہ آپ نے فرمایا بھی اور کر کے بھی دکھایا بھی، کہ جو کوئی تم میں سے آج اپنے گھر سے جو کچھ کھا کر آیا ہو میں اسے بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع سے بتا دوں گا یہی نہیں بلکہ کل کے لیے بھی اس نے جو تیاری کی ہو گی مجھے اللہ تعالیٰ کے معلوم کرانے پر معلوم ہو جاتا ہے، یہ سب میری سچائی کی دلیل ہے کہ میں جو تعلیم تمہیں دے رہا ہوں وہ برحق ہے ہاں اگر تم میں ایمان ہی نہیں تو پھر کیا؟ میں اپنے سے پہلی کتاب توراۃ کو بھی ماننے والا اس کی سچائی کا دنیا میں اعلان کرنے والا ہوں، میں تم پر بعض وہ چیزیں حلال کرنے آیا ہوں جو مجھ سے پہلے تم پر حرام کی گئی ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے توراۃ کے بعض احکام منسوخ کئے ہیں، گو اس کے خلاف بھی مفسرین کا خیال ہے، لیکن درست بات یہی ہے۔
صفحہ نمبر1100
بعض حضرات فرماتے ہیں کہ تورات کا کوئی حکم آپ نے منسوخ نہیں کیا البتہ بعض حلال چیزوں میں جو اختلاف تھا اور بڑھتے بڑھتے گویا ان کی حرمت پر اجماع ہو چکا تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی حقیقت بیان فرما دی اور ان کے حلال ہونے پر مہر کر دی، جیسے قرآن حکیم نے اور جگہ فرمایا: «وَلأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِى تَخْتَلِفُونَ فِيهِ» [ 43-الزخرف: 63 ] میں تمہارے بعض آپس کے اختلاف میں صاف فیصلہ کر دونگا۔ پھر فرمایا کہ میرے پاس اپنی سچائی کی اللہ جل شانہ کی دلیلیں موجود ہیں تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو، جس کا خلاصہ صرف اسی قدر ہے کہ اسے پوجو جو میرا اور تمہارا پالنہار ہے سیدھی اور سچی راہ تو صرف یہی ہے۔
صفحہ نمبر1101
باب
پھر مسیح علیہ السلام کا اور معجزہ بیان ہو رہا ہے کہ آپ نے فرمایا بھی اور کر کے بھی دکھایا بھی، کہ جو کوئی تم میں سے آج اپنے گھر سے جو کچھ کھا کر آیا ہو میں اسے بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع سے بتا دوں گا یہی نہیں بلکہ کل کے لیے بھی اس نے جو تیاری کی ہو گی مجھے اللہ تعالیٰ کے معلوم کرانے پر معلوم ہو جاتا ہے، یہ سب میری سچائی کی دلیل ہے کہ میں جو تعلیم تمہیں دے رہا ہوں وہ برحق ہے ہاں اگر تم میں ایمان ہی نہیں تو پھر کیا؟ میں اپنے سے پہلی کتاب توراۃ کو بھی ماننے والا اس کی سچائی کا دنیا میں اعلان کرنے والا ہوں، میں تم پر بعض وہ چیزیں حلال کرنے آیا ہوں جو مجھ سے پہلے تم پر حرام کی گئی ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے توراۃ کے بعض احکام منسوخ کئے ہیں، گو اس کے خلاف بھی مفسرین کا خیال ہے، لیکن درست بات یہی ہے۔
صفحہ نمبر1100
بعض حضرات فرماتے ہیں کہ تورات کا کوئی حکم آپ نے منسوخ نہیں کیا البتہ بعض حلال چیزوں میں جو اختلاف تھا اور بڑھتے بڑھتے گویا ان کی حرمت پر اجماع ہو چکا تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی حقیقت بیان فرما دی اور ان کے حلال ہونے پر مہر کر دی، جیسے قرآن حکیم نے اور جگہ فرمایا: «وَلأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِى تَخْتَلِفُونَ فِيهِ» [ 43-الزخرف: 63 ] میں تمہارے بعض آپس کے اختلاف میں صاف فیصلہ کر دونگا۔ پھر فرمایا کہ میرے پاس اپنی سچائی کی اللہ جل شانہ کی دلیلیں موجود ہیں تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو، جس کا خلاصہ صرف اسی قدر ہے کہ اسے پوجو جو میرا اور تمہارا پالنہار ہے سیدھی اور سچی راہ تو صرف یہی ہے۔
صفحہ نمبر1101
پھانسی کون چڑھا؟ ٭٭
جب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ لیا کہ اپنی گمراہی کج روی اور کفر و انکار سے یہ لوگ ہٹتے ہی نہیں، تو فرمانے لگے کہ کوئی ایسا بھی ہے؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے لیے میری تابعداری کرے [تفسیر ابن ابی حاتم:290/3] اس کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ کوئی ہے جو اللہ جل شانہ کے ساتھ میرا مددگار بنے؟ لیکن پہلا قول زیادہ قریب ہے، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی طرف پکارنے میں میرا ہاتھ بٹانے والا کون ہے؟ جیسے کہ نبی اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف سے ہجرت کرنے کے پہلے موسم حج کے موقع پر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے اللہ جل شانہ کا کلام پہنچانے کے لیے جگہ دے؟ قریش تو کلام الٰہی کی تبلیغ سے مجھے روک رہے ہیں [مسند احمد:339/3:حسن]
یہاں تک کہ مدینہ شریف کے باشندے انصار کرام رضی اللہ عنہم اس خدمت کے لیے کمربستہ ہوئے آپ کو جگہ بھی دی آپ کی مدد بھی کی اور جب آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے تو پوری خیر خواہی اور بے مثال ہمدردی کا مظاہرہ کیا، ساری دنیا کے مقابلہ میں اپنا سینہ سپر کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت خیر خواہی اور آپ کے مقاصد کی کامیابی میں ہمہ تن مصروف ہو گئے «رضی الله عنهم وارضاهم»
صفحہ نمبر1103
اسی طرح سیدنا عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی اس آواز پر بھی چند بنی اسرائیلیوں نے لبیک کہی آپ پر ایمان لائے آپ کی تائید کی تصدیق کی اور پوری مدد پہنچائی اور اس نور کی اطاعت میں لگ گئے جو اللہ ذوالجلال نے ان پر اتارا تھا یعنی انجیل یہ لوگ دھوبی تھے اور حواری انہیں ان کے کپڑوں کی سفیدی کی وجہ سے کہا گیا ہے، بعض کہتے ہیں یہ شکاری تھے، صحیح یہ ہے کہ حواری کہتے ہیں مددگار کو،
جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کوئی جو سینہ سپر ہو جائے؟ اس آواز کو سنتے ہی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تیار ہو گئے آپ نے دوبارہ یہی فرمایا پھر بھی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ہی قدم اٹھایا پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرا حواری زبیر ہے رضی اللہ عنہ۔ [صحیح بخاری:2846]
پھر یہ لوگ اپنی دعا میں کہتے ہیں ہمیں شاہدوں میں لکھ لے، اس سے مراد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں لکھ لینا ہے [تفسیر ابن ابی حاتم:294/2] ، اس تفسیر کی روایت سنداً بہت عمدہ ہے
صفحہ نمبر1104
پھر بنی اسرائیل کے اس ناپاک گروہ کا ذکر ہو رہا ہے جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے جانی دشمن تھے۔ انہیں مروا دینے اور سولی دئیے جانے کا قصد رکھتے تھے جنہوں نے اس زمانی کے بادشاہ کے کان میں سیدنا عیسٰی علیہ السلام کی طرف سے بھرے تھے کہ یہ شخص لوگوں کو بہکاتا پھرتا ہے ملک میں بغاوت پھیلا رہا ہے اور رعایا کو بگاڑ رہا ہے، باپ بیٹوں میں فساد برپا کر رہا ہے، بلکہ اپنی خباثت خیانت کذب و جھوٹ [ دروغ ] میں یہاں تک بڑھ گئے کہ آپ کو زانیہ کا بیٹا کہا اور آپ پر بڑے بڑے بہتان باندھے، یہاں تک کہ بادشاہ بھی دشمن جان بن گیا اور اپنی فوج کو بھیجا تاکہ اسے گرفتار کر کے سخت سزا کے ساتھ پھانسی دے دو، چنانچہ یہاں سے فوج جاتی ہے اور جس گھر میں آپ تھے اسے چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے ناکہ بندی کر کے گھر میں گھستی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو ان مکاروں کے ہاتھ سے صاف بچا لیتا ہے اس گھر کے روزن [ روشن دان ] سے آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیتا ہے اور آپ کی شباہت ایک اور شخص پر ڈال دی جاتی ہے جو اسی گھر میں تھا
، یہ لوگ رات کے اندھیرے میں اس کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ لیتے ہیں گرفتار کر کے لے جاتے ہیں٠ سخت توہین کرتے ہیں اور سر پر کانٹوں کو تاج رکھ کر اسے صلیب پر چڑھا دیتے ہیں، یہی ان کے ساتھ اللہ کا مکر تھا کہ وہ تو اپنے نزدیک یہ سمجھتے رہے کہ ہم نے اللہ کے نبی کو پھانسی پر لٹکا دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تو نجات دے دی تھی، اس بدبختی اور بدنیتی کا ثمرہ انہیں یہ ملا کہ ان کے دل ہمیشہ کے لیے سخت ہو گئے باطل پر اڑ گئے اور دنیا میں ذلیل و خوار ہو گئے اور آخر دنیا تک اس ذلت میں ہی ڈوبے رہے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اگر انہیں خفیہ تدبیریں کرنی آتی ہیں تو کیا ہم خفیہ تدبیر کرنا نہیں جانتے بلکہ ہم تو ان سے بہتر خفیہ تدبیریں کرنے والے ہیں۔
صفحہ نمبر1105
پھانسی کون چڑھا؟ ٭٭
جب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ لیا کہ اپنی گمراہی کج روی اور کفر و انکار سے یہ لوگ ہٹتے ہی نہیں، تو فرمانے لگے کہ کوئی ایسا بھی ہے؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے لیے میری تابعداری کرے [تفسیر ابن ابی حاتم:290/3] اس کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ کوئی ہے جو اللہ جل شانہ کے ساتھ میرا مددگار بنے؟ لیکن پہلا قول زیادہ قریب ہے، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی طرف پکارنے میں میرا ہاتھ بٹانے والا کون ہے؟ جیسے کہ نبی اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف سے ہجرت کرنے کے پہلے موسم حج کے موقع پر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے اللہ جل شانہ کا کلام پہنچانے کے لیے جگہ دے؟ قریش تو کلام الٰہی کی تبلیغ سے مجھے روک رہے ہیں [مسند احمد:339/3:حسن]
یہاں تک کہ مدینہ شریف کے باشندے انصار کرام رضی اللہ عنہم اس خدمت کے لیے کمربستہ ہوئے آپ کو جگہ بھی دی آپ کی مدد بھی کی اور جب آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے تو پوری خیر خواہی اور بے مثال ہمدردی کا مظاہرہ کیا، ساری دنیا کے مقابلہ میں اپنا سینہ سپر کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت خیر خواہی اور آپ کے مقاصد کی کامیابی میں ہمہ تن مصروف ہو گئے «رضی الله عنهم وارضاهم»
صفحہ نمبر1103
اسی طرح سیدنا عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی اس آواز پر بھی چند بنی اسرائیلیوں نے لبیک کہی آپ پر ایمان لائے آپ کی تائید کی تصدیق کی اور پوری مدد پہنچائی اور اس نور کی اطاعت میں لگ گئے جو اللہ ذوالجلال نے ان پر اتارا تھا یعنی انجیل یہ لوگ دھوبی تھے اور حواری انہیں ان کے کپڑوں کی سفیدی کی وجہ سے کہا گیا ہے، بعض کہتے ہیں یہ شکاری تھے، صحیح یہ ہے کہ حواری کہتے ہیں مددگار کو،
جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کوئی جو سینہ سپر ہو جائے؟ اس آواز کو سنتے ہی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تیار ہو گئے آپ نے دوبارہ یہی فرمایا پھر بھی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ہی قدم اٹھایا پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرا حواری زبیر ہے رضی اللہ عنہ۔ [صحیح بخاری:2846]
پھر یہ لوگ اپنی دعا میں کہتے ہیں ہمیں شاہدوں میں لکھ لے، اس سے مراد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں لکھ لینا ہے [تفسیر ابن ابی حاتم:294/2] ، اس تفسیر کی روایت سنداً بہت عمدہ ہے
صفحہ نمبر1104
پھر بنی اسرائیل کے اس ناپاک گروہ کا ذکر ہو رہا ہے جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے جانی دشمن تھے۔ انہیں مروا دینے اور سولی دئیے جانے کا قصد رکھتے تھے جنہوں نے اس زمانی کے بادشاہ کے کان میں سیدنا عیسٰی علیہ السلام کی طرف سے بھرے تھے کہ یہ شخص لوگوں کو بہکاتا پھرتا ہے ملک میں بغاوت پھیلا رہا ہے اور رعایا کو بگاڑ رہا ہے، باپ بیٹوں میں فساد برپا کر رہا ہے، بلکہ اپنی خباثت خیانت کذب و جھوٹ [ دروغ ] میں یہاں تک بڑھ گئے کہ آپ کو زانیہ کا بیٹا کہا اور آپ پر بڑے بڑے بہتان باندھے، یہاں تک کہ بادشاہ بھی دشمن جان بن گیا اور اپنی فوج کو بھیجا تاکہ اسے گرفتار کر کے سخت سزا کے ساتھ پھانسی دے دو، چنانچہ یہاں سے فوج جاتی ہے اور جس گھر میں آپ تھے اسے چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے ناکہ بندی کر کے گھر میں گھستی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو ان مکاروں کے ہاتھ سے صاف بچا لیتا ہے اس گھر کے روزن [ روشن دان ] سے آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیتا ہے اور آپ کی شباہت ایک اور شخص پر ڈال دی جاتی ہے جو اسی گھر میں تھا
، یہ لوگ رات کے اندھیرے میں اس کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ لیتے ہیں گرفتار کر کے لے جاتے ہیں٠ سخت توہین کرتے ہیں اور سر پر کانٹوں کو تاج رکھ کر اسے صلیب پر چڑھا دیتے ہیں، یہی ان کے ساتھ اللہ کا مکر تھا کہ وہ تو اپنے نزدیک یہ سمجھتے رہے کہ ہم نے اللہ کے نبی کو پھانسی پر لٹکا دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تو نجات دے دی تھی، اس بدبختی اور بدنیتی کا ثمرہ انہیں یہ ملا کہ ان کے دل ہمیشہ کے لیے سخت ہو گئے باطل پر اڑ گئے اور دنیا میں ذلیل و خوار ہو گئے اور آخر دنیا تک اس ذلت میں ہی ڈوبے رہے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اگر انہیں خفیہ تدبیریں کرنی آتی ہیں تو کیا ہم خفیہ تدبیر کرنا نہیں جانتے بلکہ ہم تو ان سے بہتر خفیہ تدبیریں کرنے والے ہیں۔
صفحہ نمبر1105
پھانسی کون چڑھا؟ ٭٭
جب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ لیا کہ اپنی گمراہی کج روی اور کفر و انکار سے یہ لوگ ہٹتے ہی نہیں، تو فرمانے لگے کہ کوئی ایسا بھی ہے؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے لیے میری تابعداری کرے [تفسیر ابن ابی حاتم:290/3] اس کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ کوئی ہے جو اللہ جل شانہ کے ساتھ میرا مددگار بنے؟ لیکن پہلا قول زیادہ قریب ہے، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی طرف پکارنے میں میرا ہاتھ بٹانے والا کون ہے؟ جیسے کہ نبی اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف سے ہجرت کرنے کے پہلے موسم حج کے موقع پر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے اللہ جل شانہ کا کلام پہنچانے کے لیے جگہ دے؟ قریش تو کلام الٰہی کی تبلیغ سے مجھے روک رہے ہیں [مسند احمد:339/3:حسن]
یہاں تک کہ مدینہ شریف کے باشندے انصار کرام رضی اللہ عنہم اس خدمت کے لیے کمربستہ ہوئے آپ کو جگہ بھی دی آپ کی مدد بھی کی اور جب آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے تو پوری خیر خواہی اور بے مثال ہمدردی کا مظاہرہ کیا، ساری دنیا کے مقابلہ میں اپنا سینہ سپر کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت خیر خواہی اور آپ کے مقاصد کی کامیابی میں ہمہ تن مصروف ہو گئے «رضی الله عنهم وارضاهم»
صفحہ نمبر1103
اسی طرح سیدنا عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی اس آواز پر بھی چند بنی اسرائیلیوں نے لبیک کہی آپ پر ایمان لائے آپ کی تائید کی تصدیق کی اور پوری مدد پہنچائی اور اس نور کی اطاعت میں لگ گئے جو اللہ ذوالجلال نے ان پر اتارا تھا یعنی انجیل یہ لوگ دھوبی تھے اور حواری انہیں ان کے کپڑوں کی سفیدی کی وجہ سے کہا گیا ہے، بعض کہتے ہیں یہ شکاری تھے، صحیح یہ ہے کہ حواری کہتے ہیں مددگار کو،
جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کوئی جو سینہ سپر ہو جائے؟ اس آواز کو سنتے ہی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تیار ہو گئے آپ نے دوبارہ یہی فرمایا پھر بھی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ہی قدم اٹھایا پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرا حواری زبیر ہے رضی اللہ عنہ۔ [صحیح بخاری:2846]
پھر یہ لوگ اپنی دعا میں کہتے ہیں ہمیں شاہدوں میں لکھ لے، اس سے مراد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں لکھ لینا ہے [تفسیر ابن ابی حاتم:294/2] ، اس تفسیر کی روایت سنداً بہت عمدہ ہے
صفحہ نمبر1104
پھر بنی اسرائیل کے اس ناپاک گروہ کا ذکر ہو رہا ہے جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے جانی دشمن تھے۔ انہیں مروا دینے اور سولی دئیے جانے کا قصد رکھتے تھے جنہوں نے اس زمانی کے بادشاہ کے کان میں سیدنا عیسٰی علیہ السلام کی طرف سے بھرے تھے کہ یہ شخص لوگوں کو بہکاتا پھرتا ہے ملک میں بغاوت پھیلا رہا ہے اور رعایا کو بگاڑ رہا ہے، باپ بیٹوں میں فساد برپا کر رہا ہے، بلکہ اپنی خباثت خیانت کذب و جھوٹ [ دروغ ] میں یہاں تک بڑھ گئے کہ آپ کو زانیہ کا بیٹا کہا اور آپ پر بڑے بڑے بہتان باندھے، یہاں تک کہ بادشاہ بھی دشمن جان بن گیا اور اپنی فوج کو بھیجا تاکہ اسے گرفتار کر کے سخت سزا کے ساتھ پھانسی دے دو، چنانچہ یہاں سے فوج جاتی ہے اور جس گھر میں آپ تھے اسے چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے ناکہ بندی کر کے گھر میں گھستی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو ان مکاروں کے ہاتھ سے صاف بچا لیتا ہے اس گھر کے روزن [ روشن دان ] سے آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیتا ہے اور آپ کی شباہت ایک اور شخص پر ڈال دی جاتی ہے جو اسی گھر میں تھا
، یہ لوگ رات کے اندھیرے میں اس کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ لیتے ہیں گرفتار کر کے لے جاتے ہیں٠ سخت توہین کرتے ہیں اور سر پر کانٹوں کو تاج رکھ کر اسے صلیب پر چڑھا دیتے ہیں، یہی ان کے ساتھ اللہ کا مکر تھا کہ وہ تو اپنے نزدیک یہ سمجھتے رہے کہ ہم نے اللہ کے نبی کو پھانسی پر لٹکا دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تو نجات دے دی تھی، اس بدبختی اور بدنیتی کا ثمرہ انہیں یہ ملا کہ ان کے دل ہمیشہ کے لیے سخت ہو گئے باطل پر اڑ گئے اور دنیا میں ذلیل و خوار ہو گئے اور آخر دنیا تک اس ذلت میں ہی ڈوبے رہے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اگر انہیں خفیہ تدبیریں کرنی آتی ہیں تو کیا ہم خفیہ تدبیر کرنا نہیں جانتے بلکہ ہم تو ان سے بہتر خفیہ تدبیریں کرنے والے ہیں۔
صفحہ نمبر1105
اظہار خودمختاری ٭٭
قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں، وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فوت کر دیا تھا، ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں نصاریٰ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات ساعت تک فوت رکھا پھر زندہ کر دیا، وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں تین دن تک موت کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھا لیا، مطر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی میں تجھے دنیا میں پورا پورا دینے والا ہوں یہاں وفات موت مراد نہیں، اسی طرح ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «تَوَّفّٰی» سے یہاں مراد ان کا رفع ہے
اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ وفات سے مراد یہاں نیند ہے، جیسے اور جگہ قرآن حکیم میں ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ» [6-الأنعام:60] وہ اللہ جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے یعنی سلا دیتا ہے اور جگہ ہے «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا» [39-الزمر:42] یعنی اللہ تعالیٰ ان کی موت کے وقت جانوں کو فوت کرتا ہے اور جو نہیں مرتیں انہیں ان کی نیند کے وقت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے [ حدیث ] «الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا» یعنی اللہ عزوجل کا شکر ہے جس نے ہمیں مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کر دیا، [صحیح بخاری:6312]
اور جگہ فرمان باری تعالٰی «وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» [4-النساء:159-156] تک پڑھو جہاں فرمایا گیا ہے ان کے کفر کی وجہ سے اور سیدہ مریم علیہ السلام پر بہتان عظیم باندھ لینے کی بنا پر اور اس باعث کہ وہ کہتے ہیں ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ علیہ السلام کو قتل کر دیا حالانکہ نہ قتل کیا ہے اور نہ صلیب دی لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا «مَوْتِه» کی ضمیر کا مرجع سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں یعنی تمام اہل کتاب عیسیٰ پر ایمان لائیں گے جبکہ وہ قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آ رہا ہے۔ ان شاء اللہ
صفحہ نمبر1108
پس اس وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے کیونکہ نہ وہ جزیہ لیں گے نہ سوائے اسلام کے اور کوئی بات قبول کریں گے، ابن ابی حاتم میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے «إِنِّي مُتَوَفِّيكَ» کی تفسیر یہ مروی ہے کہ ان پر نیند ڈالی گئی اور نیند کی حالت میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا، [تفسیر ابن ابی حاتم:296/2]
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:7129:مرسل ضعیف]
پھر فرماتا ہے میں تجھے اپنی طرف اٹھا کر کافروں کی گرفت سے آزاد کرنے والا ہوں، اور تیرے تابعداروں کو کافروں پر غالب رکھنے والا ہوں قیامت تک، چنانچہ ایسا ہی ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا لیا تو ان کے بعد ان کے ساتھیوں کے کئی فریق ہو گئے ایک فرقہ تو آپ کی بعثت پر ایمان رکھنے والا تھا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی ایک بندی کے لڑکے ہیں بعض وہ تھے جنہوں نے غلو سے کام لیا اور بڑھ گئے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہنے لگے، اوروں نے آپ کو اللہ کہا، دوسروں نے تین میں کا ایک آپ کو بتایا، اللہ تعالیٰ ان کے ان عقائد کا ذکر قرآن مجید میں فرماتا ہے پھر ان کی تردید بھی کر دی ہے تین سو سال تک تو یہ اسی طرح رہے۔
صفحہ نمبر1109
پھر یونان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ جو بڑا فلیسوف تھا جس کا نام قسطنطین تھا کہا جاتا ہے کہ صرف اس دین کو بگڑانے کے لیے منافقانہ انداز سے اس دین میں داخل ہوا یا جہالت سے داخل ہوا ہو، بہر صورت اس نے دین مسیح کو بالکل بدل ڈالا اور بڑی تحریف اور تفسیر کی اس دین میں اور کمی زیادہ بھی کر ڈالی، بہت سے قانون ایجاد کئے اور امانت کبریٰ بھی اسی کی ایجاد ہے جو دراصل کمینہ پن کی خیانت ہے، اسی نے اپنے زمانہ میں سود کو حلال کیا اسی کے حکم سے عیسائی مشرق کی طرف نمازیں پڑھنے لگے اسی نے گرجاؤں اور کلیساؤں میں عبادت خانوں اور خانقاہوں میں تصویریں بنوائیں٠ اور اپنے ایک گناہ کے باعث دس روزے روزوں میں بڑھوا دئیے،
غرض اس کے زمانہ سے دین مسیح مسیحی دین نہ رہا بلکہ دین قسطنطین ہو گیا، اس نے ظاہری رونق تو خوب دی بارہ ہزار سے زائد تو عبادت گاہیں بنوا دیں اور ایک شہر اپنے نام سے بسایا، ملکیہ گروہ نے اس کی تمام باتیں مان لیں لیکن باوجود ان سب سیاہ کاریوں کے یہودی اس بات پر تلے رہے اور دراصل نسبتاً حق سے زیادہ قریب یہی تھے گو فی الواقع سارے کے سارے کفار تھے اللہ خالق کل کی ان پر پھٹکار ہو، اب جبکہ ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنا برگزیدہ بنا کر دنیا میں بھیجا تو آپ پر جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی تھا اس کے فرشتوں پر بھی تھا اس کی کتابوں پر بھی تھا اور اس کے تمام رسولوں پر بھی تھا پس حقیقت میں نبیوں کے سچے تابع فرمان یہی لوگ تھے یعنی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اس لیے کہ یہ نبی امی عربی خاتم الرسول سید اولاد آدم کے ماننے والے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم برحق تعلیم کو سچا ماننے والے تھے، لہٰذا دراصل ہر نبی کے سچے تابعدار اور صحیح معنی میں امتی کہلانے کے مستحق یہی لوگ تھے کیونکہ ان لوگوں نے جو اپنے تئیں عیسیٰ کی امت کہتے تھے تو دین عیسوی کو بالکل مسخ اور فسخ کر دیا تھا
صفحہ نمبر1110
علاوہ ازیں پیغمبر آخرالزمان کا دین بھی اور تمام اگلی شریعتوں کا ناسخ تھا پھر محفوظ رہنے والا تھا جس کا ایک شوشہ بھی قیامت تک بدلنے والا نہیں اس لیے اس آیت «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» [24-النور:55] کے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اس امت کو غالب کر دیا اور یہ مشرق سے لے کر مغرب تک چھا گئے ملکوں کو اپنے پاؤں تلے روند دیا اور بڑے بڑے جابر اور کٹر کافروں کی گردنیں مروڑ دیں دولتیں ان کے پیروں میں آ گئیں فتح و غنیمت ان کی رکابیں٠ چومنے لگی مدتوں کی پرانی سلطنتوں کے تخت انہوں نے الٹ دئیے،
کسریٰ کی عظیم الشان پر شان سلطنت اور ان کے بھڑکتے ہوئے آتش کدے ان کے ہاتھوں ویران اور سرد ہو گئے، قیصر کا تاج و تخت ان اللہ والوں نے تاخت و تاراج کیا اور انہیں مسیح پرستی کا خوب مزا چکھایا اور ان کے خزانوں کو اللہ واحد کی رضا مندی میں اور اس کے سچے نبی کے دین کی اشاعت میں دل کھول کر خرچ کئے اور اللہ کے لکھے اور نبی کے وعدے چڑھے ہوئے سورج اور چودھویں کے روشن چاند کی طرح سچے ہوئے لوگوں نے دیکھ لیے، مسیح علیہ السلام کے نام کو بدنام کرنے والے مسیح کے نام شیطانوں کو پوجنے والے ان پاکباز اللہ پرستوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر شام کے لہلہاتے ہوئے باغات اور آباد شہروں کو ان کے حوالے کر کے بدحواس بھاگتے ہوئے روم میں جا بسے پھر وہاں سے بھی یہ بےعزت کر کے نکالے گئے اور اپنے بادشاہ کے خاص شہر قسطنطنیہ میں پہنچے لیکن پھر وہاں سے بھی ذلیل خوار کر کے نکال دئیے گئے اور ان شاءاللہ العزیز اسلام اور اہل اسلام قیامت تک ان پر غالب ہی رہیں گے۔ سب سچوں کے سردار جن کی سچائی پر مہر الٰہی لگ چکی ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خبر دے چکے ہیں جو اٹل ہے نہ کاٹے کٹے نہ توڑے ٹوٹے، نہ ٹالے ٹلے، فرماتے ہیں کہ آپ کی امت کا آخری گروہ قسطنطنیہ کو فتح کرے گا اور وہاں کے تمام خزانے اپنے قبضے میں لے گا اور رومیوں سے ان کی گھمسان کی لڑائی ہو گی کہ اس کی نظیر سے دنیا خالی ہو۔
صفحہ نمبر1111
(ہماری دعا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ قادر کل اس امت کا حامی و ناصر رہے اور روئے زمین کے کفار پر انہیں غالب رکھے اور انہیں سمجھ دے تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کریں نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کی اطاعت کریں، یہی اسلام کی اصل ہے اور یہی عروج دینوی کا گر ہے) میں نے سب کو علیحدہ کتاب میں جمع کر دیا ہے، آگے اللہ تعالیٰ کے قول پر نظر ڈالیے کہ «وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ» [13-الرعد:34] مسیح علیہ السلام کے ساتھ کفر کرنے والے یہود اور آپ کی شان میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنا کر بہکنے والے نصرانیوں کو قتل و قید کی مار اور سلطنت کے تباہ ہو جانے کی یہاں بھی سزا دی اور آخرت کا عذاب وہاں دیکھ لیں گے جہاں نہ کوئی بچا سکے نہ مدد کر سکے گا لیکن برخلاف ان کے ایمانداروں کو پورا اجر اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا دنیا میں بھی فتح اور نصرت عزت و حرمت عطا ہو گی اور آخرت میں بھی خاص رحمتیں اور نعمتیں ملیں گی، اللہ تعالیٰ ظالموں کو ناپسند رکھتا ہے۔
پھر فرمایا اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تھی حقیقت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ابتداء پیدائش کی اور ان کے امر کی جو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ سے آپ کی طرف بذریعہ اپنی خاص وحی کے اتار دی جس میں کوئی شک و شبہ نہیں جیسے سورۃ مریم میں فرمایا «ذَٰلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ» [19-مريم:34] «مَا كَانَ لِلَّـهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [19-مريم:35] ، عیسیٰ بن مریم یہی ہیں یہی سچی حقیقت ہے جس میں تم شک و شبہ میں پڑے ہو، اللہ تعالیٰ کو تو لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو وہ اس سے بالکل پاک ہے وہ جو کرنا چاہے کہ دیتا ہے ہو جا، بس وہ ہو جاتا ہے، اب یہاں بھی اس کے بعد بیان ہو رہا ہے۔
صفحہ نمبر1112
اظہار خودمختاری ٭٭
قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں، وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فوت کر دیا تھا، ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں نصاریٰ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات ساعت تک فوت رکھا پھر زندہ کر دیا، وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں تین دن تک موت کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھا لیا، مطر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی میں تجھے دنیا میں پورا پورا دینے والا ہوں یہاں وفات موت مراد نہیں، اسی طرح ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «تَوَّفّٰی» سے یہاں مراد ان کا رفع ہے
اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ وفات سے مراد یہاں نیند ہے، جیسے اور جگہ قرآن حکیم میں ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ» [6-الأنعام:60] وہ اللہ جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے یعنی سلا دیتا ہے اور جگہ ہے «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا» [39-الزمر:42] یعنی اللہ تعالیٰ ان کی موت کے وقت جانوں کو فوت کرتا ہے اور جو نہیں مرتیں انہیں ان کی نیند کے وقت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے [ حدیث ] «الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا» یعنی اللہ عزوجل کا شکر ہے جس نے ہمیں مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کر دیا، [صحیح بخاری:6312]
اور جگہ فرمان باری تعالٰی «وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» [4-النساء:159-156] تک پڑھو جہاں فرمایا گیا ہے ان کے کفر کی وجہ سے اور سیدہ مریم علیہ السلام پر بہتان عظیم باندھ لینے کی بنا پر اور اس باعث کہ وہ کہتے ہیں ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ علیہ السلام کو قتل کر دیا حالانکہ نہ قتل کیا ہے اور نہ صلیب دی لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا «مَوْتِه» کی ضمیر کا مرجع سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں یعنی تمام اہل کتاب عیسیٰ پر ایمان لائیں گے جبکہ وہ قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آ رہا ہے۔ ان شاء اللہ
صفحہ نمبر1108
پس اس وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے کیونکہ نہ وہ جزیہ لیں گے نہ سوائے اسلام کے اور کوئی بات قبول کریں گے، ابن ابی حاتم میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے «إِنِّي مُتَوَفِّيكَ» کی تفسیر یہ مروی ہے کہ ان پر نیند ڈالی گئی اور نیند کی حالت میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا، [تفسیر ابن ابی حاتم:296/2]
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:7129:مرسل ضعیف]
پھر فرماتا ہے میں تجھے اپنی طرف اٹھا کر کافروں کی گرفت سے آزاد کرنے والا ہوں، اور تیرے تابعداروں کو کافروں پر غالب رکھنے والا ہوں قیامت تک، چنانچہ ایسا ہی ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا لیا تو ان کے بعد ان کے ساتھیوں کے کئی فریق ہو گئے ایک فرقہ تو آپ کی بعثت پر ایمان رکھنے والا تھا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی ایک بندی کے لڑکے ہیں بعض وہ تھے جنہوں نے غلو سے کام لیا اور بڑھ گئے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہنے لگے، اوروں نے آپ کو اللہ کہا، دوسروں نے تین میں کا ایک آپ کو بتایا، اللہ تعالیٰ ان کے ان عقائد کا ذکر قرآن مجید میں فرماتا ہے پھر ان کی تردید بھی کر دی ہے تین سو سال تک تو یہ اسی طرح رہے۔
صفحہ نمبر1109
پھر یونان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ جو بڑا فلیسوف تھا جس کا نام قسطنطین تھا کہا جاتا ہے کہ صرف اس دین کو بگڑانے کے لیے منافقانہ انداز سے اس دین میں داخل ہوا یا جہالت سے داخل ہوا ہو، بہر صورت اس نے دین مسیح کو بالکل بدل ڈالا اور بڑی تحریف اور تفسیر کی اس دین میں اور کمی زیادہ بھی کر ڈالی، بہت سے قانون ایجاد کئے اور امانت کبریٰ بھی اسی کی ایجاد ہے جو دراصل کمینہ پن کی خیانت ہے، اسی نے اپنے زمانہ میں سود کو حلال کیا اسی کے حکم سے عیسائی مشرق کی طرف نمازیں پڑھنے لگے اسی نے گرجاؤں اور کلیساؤں میں عبادت خانوں اور خانقاہوں میں تصویریں بنوائیں٠ اور اپنے ایک گناہ کے باعث دس روزے روزوں میں بڑھوا دئیے،
غرض اس کے زمانہ سے دین مسیح مسیحی دین نہ رہا بلکہ دین قسطنطین ہو گیا، اس نے ظاہری رونق تو خوب دی بارہ ہزار سے زائد تو عبادت گاہیں بنوا دیں اور ایک شہر اپنے نام سے بسایا، ملکیہ گروہ نے اس کی تمام باتیں مان لیں لیکن باوجود ان سب سیاہ کاریوں کے یہودی اس بات پر تلے رہے اور دراصل نسبتاً حق سے زیادہ قریب یہی تھے گو فی الواقع سارے کے سارے کفار تھے اللہ خالق کل کی ان پر پھٹکار ہو، اب جبکہ ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنا برگزیدہ بنا کر دنیا میں بھیجا تو آپ پر جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی تھا اس کے فرشتوں پر بھی تھا اس کی کتابوں پر بھی تھا اور اس کے تمام رسولوں پر بھی تھا پس حقیقت میں نبیوں کے سچے تابع فرمان یہی لوگ تھے یعنی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اس لیے کہ یہ نبی امی عربی خاتم الرسول سید اولاد آدم کے ماننے والے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم برحق تعلیم کو سچا ماننے والے تھے، لہٰذا دراصل ہر نبی کے سچے تابعدار اور صحیح معنی میں امتی کہلانے کے مستحق یہی لوگ تھے کیونکہ ان لوگوں نے جو اپنے تئیں عیسیٰ کی امت کہتے تھے تو دین عیسوی کو بالکل مسخ اور فسخ کر دیا تھا
صفحہ نمبر1110
علاوہ ازیں پیغمبر آخرالزمان کا دین بھی اور تمام اگلی شریعتوں کا ناسخ تھا پھر محفوظ رہنے والا تھا جس کا ایک شوشہ بھی قیامت تک بدلنے والا نہیں اس لیے اس آیت «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» [24-النور:55] کے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اس امت کو غالب کر دیا اور یہ مشرق سے لے کر مغرب تک چھا گئے ملکوں کو اپنے پاؤں تلے روند دیا اور بڑے بڑے جابر اور کٹر کافروں کی گردنیں مروڑ دیں دولتیں ان کے پیروں میں آ گئیں فتح و غنیمت ان کی رکابیں٠ چومنے لگی مدتوں کی پرانی سلطنتوں کے تخت انہوں نے الٹ دئیے،
کسریٰ کی عظیم الشان پر شان سلطنت اور ان کے بھڑکتے ہوئے آتش کدے ان کے ہاتھوں ویران اور سرد ہو گئے، قیصر کا تاج و تخت ان اللہ والوں نے تاخت و تاراج کیا اور انہیں مسیح پرستی کا خوب مزا چکھایا اور ان کے خزانوں کو اللہ واحد کی رضا مندی میں اور اس کے سچے نبی کے دین کی اشاعت میں دل کھول کر خرچ کئے اور اللہ کے لکھے اور نبی کے وعدے چڑھے ہوئے سورج اور چودھویں کے روشن چاند کی طرح سچے ہوئے لوگوں نے دیکھ لیے، مسیح علیہ السلام کے نام کو بدنام کرنے والے مسیح کے نام شیطانوں کو پوجنے والے ان پاکباز اللہ پرستوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر شام کے لہلہاتے ہوئے باغات اور آباد شہروں کو ان کے حوالے کر کے بدحواس بھاگتے ہوئے روم میں جا بسے پھر وہاں سے بھی یہ بےعزت کر کے نکالے گئے اور اپنے بادشاہ کے خاص شہر قسطنطنیہ میں پہنچے لیکن پھر وہاں سے بھی ذلیل خوار کر کے نکال دئیے گئے اور ان شاءاللہ العزیز اسلام اور اہل اسلام قیامت تک ان پر غالب ہی رہیں گے۔ سب سچوں کے سردار جن کی سچائی پر مہر الٰہی لگ چکی ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خبر دے چکے ہیں جو اٹل ہے نہ کاٹے کٹے نہ توڑے ٹوٹے، نہ ٹالے ٹلے، فرماتے ہیں کہ آپ کی امت کا آخری گروہ قسطنطنیہ کو فتح کرے گا اور وہاں کے تمام خزانے اپنے قبضے میں لے گا اور رومیوں سے ان کی گھمسان کی لڑائی ہو گی کہ اس کی نظیر سے دنیا خالی ہو۔
صفحہ نمبر1111
(ہماری دعا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ قادر کل اس امت کا حامی و ناصر رہے اور روئے زمین کے کفار پر انہیں غالب رکھے اور انہیں سمجھ دے تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کریں نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کی اطاعت کریں، یہی اسلام کی اصل ہے اور یہی عروج دینوی کا گر ہے) میں نے سب کو علیحدہ کتاب میں جمع کر دیا ہے، آگے اللہ تعالیٰ کے قول پر نظر ڈالیے کہ «وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ» [13-الرعد:34] مسیح علیہ السلام کے ساتھ کفر کرنے والے یہود اور آپ کی شان میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنا کر بہکنے والے نصرانیوں کو قتل و قید کی مار اور سلطنت کے تباہ ہو جانے کی یہاں بھی سزا دی اور آخرت کا عذاب وہاں دیکھ لیں گے جہاں نہ کوئی بچا سکے نہ مدد کر سکے گا لیکن برخلاف ان کے ایمانداروں کو پورا اجر اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا دنیا میں بھی فتح اور نصرت عزت و حرمت عطا ہو گی اور آخرت میں بھی خاص رحمتیں اور نعمتیں ملیں گی، اللہ تعالیٰ ظالموں کو ناپسند رکھتا ہے۔
پھر فرمایا اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تھی حقیقت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ابتداء پیدائش کی اور ان کے امر کی جو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ سے آپ کی طرف بذریعہ اپنی خاص وحی کے اتار دی جس میں کوئی شک و شبہ نہیں جیسے سورۃ مریم میں فرمایا «ذَٰلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ» [19-مريم:34] «مَا كَانَ لِلَّـهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [19-مريم:35] ، عیسیٰ بن مریم یہی ہیں یہی سچی حقیقت ہے جس میں تم شک و شبہ میں پڑے ہو، اللہ تعالیٰ کو تو لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو وہ اس سے بالکل پاک ہے وہ جو کرنا چاہے کہ دیتا ہے ہو جا، بس وہ ہو جاتا ہے، اب یہاں بھی اس کے بعد بیان ہو رہا ہے۔
صفحہ نمبر1112
اظہار خودمختاری ٭٭
قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں، وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فوت کر دیا تھا، ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں نصاریٰ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات ساعت تک فوت رکھا پھر زندہ کر دیا، وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں تین دن تک موت کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھا لیا، مطر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی میں تجھے دنیا میں پورا پورا دینے والا ہوں یہاں وفات موت مراد نہیں، اسی طرح ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «تَوَّفّٰی» سے یہاں مراد ان کا رفع ہے
اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ وفات سے مراد یہاں نیند ہے، جیسے اور جگہ قرآن حکیم میں ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ» [6-الأنعام:60] وہ اللہ جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے یعنی سلا دیتا ہے اور جگہ ہے «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا» [39-الزمر:42] یعنی اللہ تعالیٰ ان کی موت کے وقت جانوں کو فوت کرتا ہے اور جو نہیں مرتیں انہیں ان کی نیند کے وقت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے [ حدیث ] «الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا» یعنی اللہ عزوجل کا شکر ہے جس نے ہمیں مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کر دیا، [صحیح بخاری:6312]
اور جگہ فرمان باری تعالٰی «وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» [4-النساء:159-156] تک پڑھو جہاں فرمایا گیا ہے ان کے کفر کی وجہ سے اور سیدہ مریم علیہ السلام پر بہتان عظیم باندھ لینے کی بنا پر اور اس باعث کہ وہ کہتے ہیں ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ علیہ السلام کو قتل کر دیا حالانکہ نہ قتل کیا ہے اور نہ صلیب دی لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا «مَوْتِه» کی ضمیر کا مرجع سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں یعنی تمام اہل کتاب عیسیٰ پر ایمان لائیں گے جبکہ وہ قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آ رہا ہے۔ ان شاء اللہ
صفحہ نمبر1108
پس اس وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے کیونکہ نہ وہ جزیہ لیں گے نہ سوائے اسلام کے اور کوئی بات قبول کریں گے، ابن ابی حاتم میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے «إِنِّي مُتَوَفِّيكَ» کی تفسیر یہ مروی ہے کہ ان پر نیند ڈالی گئی اور نیند کی حالت میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا، [تفسیر ابن ابی حاتم:296/2]
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:7129:مرسل ضعیف]
پھر فرماتا ہے میں تجھے اپنی طرف اٹھا کر کافروں کی گرفت سے آزاد کرنے والا ہوں، اور تیرے تابعداروں کو کافروں پر غالب رکھنے والا ہوں قیامت تک، چنانچہ ایسا ہی ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا لیا تو ان کے بعد ان کے ساتھیوں کے کئی فریق ہو گئے ایک فرقہ تو آپ کی بعثت پر ایمان رکھنے والا تھا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی ایک بندی کے لڑکے ہیں بعض وہ تھے جنہوں نے غلو سے کام لیا اور بڑھ گئے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہنے لگے، اوروں نے آپ کو اللہ کہا، دوسروں نے تین میں کا ایک آپ کو بتایا، اللہ تعالیٰ ان کے ان عقائد کا ذکر قرآن مجید میں فرماتا ہے پھر ان کی تردید بھی کر دی ہے تین سو سال تک تو یہ اسی طرح رہے۔
صفحہ نمبر1109
پھر یونان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ جو بڑا فلیسوف تھا جس کا نام قسطنطین تھا کہا جاتا ہے کہ صرف اس دین کو بگڑانے کے لیے منافقانہ انداز سے اس دین میں داخل ہوا یا جہالت سے داخل ہوا ہو، بہر صورت اس نے دین مسیح کو بالکل بدل ڈالا اور بڑی تحریف اور تفسیر کی اس دین میں اور کمی زیادہ بھی کر ڈالی، بہت سے قانون ایجاد کئے اور امانت کبریٰ بھی اسی کی ایجاد ہے جو دراصل کمینہ پن کی خیانت ہے، اسی نے اپنے زمانہ میں سود کو حلال کیا اسی کے حکم سے عیسائی مشرق کی طرف نمازیں پڑھنے لگے اسی نے گرجاؤں اور کلیساؤں میں عبادت خانوں اور خانقاہوں میں تصویریں بنوائیں٠ اور اپنے ایک گناہ کے باعث دس روزے روزوں میں بڑھوا دئیے،
غرض اس کے زمانہ سے دین مسیح مسیحی دین نہ رہا بلکہ دین قسطنطین ہو گیا، اس نے ظاہری رونق تو خوب دی بارہ ہزار سے زائد تو عبادت گاہیں بنوا دیں اور ایک شہر اپنے نام سے بسایا، ملکیہ گروہ نے اس کی تمام باتیں مان لیں لیکن باوجود ان سب سیاہ کاریوں کے یہودی اس بات پر تلے رہے اور دراصل نسبتاً حق سے زیادہ قریب یہی تھے گو فی الواقع سارے کے سارے کفار تھے اللہ خالق کل کی ان پر پھٹکار ہو، اب جبکہ ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنا برگزیدہ بنا کر دنیا میں بھیجا تو آپ پر جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی تھا اس کے فرشتوں پر بھی تھا اس کی کتابوں پر بھی تھا اور اس کے تمام رسولوں پر بھی تھا پس حقیقت میں نبیوں کے سچے تابع فرمان یہی لوگ تھے یعنی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اس لیے کہ یہ نبی امی عربی خاتم الرسول سید اولاد آدم کے ماننے والے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم برحق تعلیم کو سچا ماننے والے تھے، لہٰذا دراصل ہر نبی کے سچے تابعدار اور صحیح معنی میں امتی کہلانے کے مستحق یہی لوگ تھے کیونکہ ان لوگوں نے جو اپنے تئیں عیسیٰ کی امت کہتے تھے تو دین عیسوی کو بالکل مسخ اور فسخ کر دیا تھا
صفحہ نمبر1110
علاوہ ازیں پیغمبر آخرالزمان کا دین بھی اور تمام اگلی شریعتوں کا ناسخ تھا پھر محفوظ رہنے والا تھا جس کا ایک شوشہ بھی قیامت تک بدلنے والا نہیں اس لیے اس آیت «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» [24-النور:55] کے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اس امت کو غالب کر دیا اور یہ مشرق سے لے کر مغرب تک چھا گئے ملکوں کو اپنے پاؤں تلے روند دیا اور بڑے بڑے جابر اور کٹر کافروں کی گردنیں مروڑ دیں دولتیں ان کے پیروں میں آ گئیں فتح و غنیمت ان کی رکابیں٠ چومنے لگی مدتوں کی پرانی سلطنتوں کے تخت انہوں نے الٹ دئیے،
کسریٰ کی عظیم الشان پر شان سلطنت اور ان کے بھڑکتے ہوئے آتش کدے ان کے ہاتھوں ویران اور سرد ہو گئے، قیصر کا تاج و تخت ان اللہ والوں نے تاخت و تاراج کیا اور انہیں مسیح پرستی کا خوب مزا چکھایا اور ان کے خزانوں کو اللہ واحد کی رضا مندی میں اور اس کے سچے نبی کے دین کی اشاعت میں دل کھول کر خرچ کئے اور اللہ کے لکھے اور نبی کے وعدے چڑھے ہوئے سورج اور چودھویں کے روشن چاند کی طرح سچے ہوئے لوگوں نے دیکھ لیے، مسیح علیہ السلام کے نام کو بدنام کرنے والے مسیح کے نام شیطانوں کو پوجنے والے ان پاکباز اللہ پرستوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر شام کے لہلہاتے ہوئے باغات اور آباد شہروں کو ان کے حوالے کر کے بدحواس بھاگتے ہوئے روم میں جا بسے پھر وہاں سے بھی یہ بےعزت کر کے نکالے گئے اور اپنے بادشاہ کے خاص شہر قسطنطنیہ میں پہنچے لیکن پھر وہاں سے بھی ذلیل خوار کر کے نکال دئیے گئے اور ان شاءاللہ العزیز اسلام اور اہل اسلام قیامت تک ان پر غالب ہی رہیں گے۔ سب سچوں کے سردار جن کی سچائی پر مہر الٰہی لگ چکی ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خبر دے چکے ہیں جو اٹل ہے نہ کاٹے کٹے نہ توڑے ٹوٹے، نہ ٹالے ٹلے، فرماتے ہیں کہ آپ کی امت کا آخری گروہ قسطنطنیہ کو فتح کرے گا اور وہاں کے تمام خزانے اپنے قبضے میں لے گا اور رومیوں سے ان کی گھمسان کی لڑائی ہو گی کہ اس کی نظیر سے دنیا خالی ہو۔
صفحہ نمبر1111
(ہماری دعا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ قادر کل اس امت کا حامی و ناصر رہے اور روئے زمین کے کفار پر انہیں غالب رکھے اور انہیں سمجھ دے تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کریں نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کی اطاعت کریں، یہی اسلام کی اصل ہے اور یہی عروج دینوی کا گر ہے) میں نے سب کو علیحدہ کتاب میں جمع کر دیا ہے، آگے اللہ تعالیٰ کے قول پر نظر ڈالیے کہ «وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ» [13-الرعد:34] مسیح علیہ السلام کے ساتھ کفر کرنے والے یہود اور آپ کی شان میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنا کر بہکنے والے نصرانیوں کو قتل و قید کی مار اور سلطنت کے تباہ ہو جانے کی یہاں بھی سزا دی اور آخرت کا عذاب وہاں دیکھ لیں گے جہاں نہ کوئی بچا سکے نہ مدد کر سکے گا لیکن برخلاف ان کے ایمانداروں کو پورا اجر اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا دنیا میں بھی فتح اور نصرت عزت و حرمت عطا ہو گی اور آخرت میں بھی خاص رحمتیں اور نعمتیں ملیں گی، اللہ تعالیٰ ظالموں کو ناپسند رکھتا ہے۔
پھر فرمایا اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تھی حقیقت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ابتداء پیدائش کی اور ان کے امر کی جو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ سے آپ کی طرف بذریعہ اپنی خاص وحی کے اتار دی جس میں کوئی شک و شبہ نہیں جیسے سورۃ مریم میں فرمایا «ذَٰلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ» [19-مريم:34] «مَا كَانَ لِلَّـهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [19-مريم:35] ، عیسیٰ بن مریم یہی ہیں یہی سچی حقیقت ہے جس میں تم شک و شبہ میں پڑے ہو، اللہ تعالیٰ کو تو لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو وہ اس سے بالکل پاک ہے وہ جو کرنا چاہے کہ دیتا ہے ہو جا، بس وہ ہو جاتا ہے، اب یہاں بھی اس کے بعد بیان ہو رہا ہے۔
صفحہ نمبر1112
اظہار خودمختاری ٭٭
قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں، وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فوت کر دیا تھا، ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں نصاریٰ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات ساعت تک فوت رکھا پھر زندہ کر دیا، وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں تین دن تک موت کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھا لیا، مطر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی میں تجھے دنیا میں پورا پورا دینے والا ہوں یہاں وفات موت مراد نہیں، اسی طرح ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «تَوَّفّٰی» سے یہاں مراد ان کا رفع ہے
اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ وفات سے مراد یہاں نیند ہے، جیسے اور جگہ قرآن حکیم میں ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ» [6-الأنعام:60] وہ اللہ جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے یعنی سلا دیتا ہے اور جگہ ہے «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا» [39-الزمر:42] یعنی اللہ تعالیٰ ان کی موت کے وقت جانوں کو فوت کرتا ہے اور جو نہیں مرتیں انہیں ان کی نیند کے وقت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے [ حدیث ] «الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا» یعنی اللہ عزوجل کا شکر ہے جس نے ہمیں مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کر دیا، [صحیح بخاری:6312]
اور جگہ فرمان باری تعالٰی «وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» [4-النساء:159-156] تک پڑھو جہاں فرمایا گیا ہے ان کے کفر کی وجہ سے اور سیدہ مریم علیہ السلام پر بہتان عظیم باندھ لینے کی بنا پر اور اس باعث کہ وہ کہتے ہیں ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ علیہ السلام کو قتل کر دیا حالانکہ نہ قتل کیا ہے اور نہ صلیب دی لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا «مَوْتِه» کی ضمیر کا مرجع سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں یعنی تمام اہل کتاب عیسیٰ پر ایمان لائیں گے جبکہ وہ قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آ رہا ہے۔ ان شاء اللہ
صفحہ نمبر1108
پس اس وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے کیونکہ نہ وہ جزیہ لیں گے نہ سوائے اسلام کے اور کوئی بات قبول کریں گے، ابن ابی حاتم میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے «إِنِّي مُتَوَفِّيكَ» کی تفسیر یہ مروی ہے کہ ان پر نیند ڈالی گئی اور نیند کی حالت میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا، [تفسیر ابن ابی حاتم:296/2]
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:7129:مرسل ضعیف]
پھر فرماتا ہے میں تجھے اپنی طرف اٹھا کر کافروں کی گرفت سے آزاد کرنے والا ہوں، اور تیرے تابعداروں کو کافروں پر غالب رکھنے والا ہوں قیامت تک، چنانچہ ایسا ہی ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا لیا تو ان کے بعد ان کے ساتھیوں کے کئی فریق ہو گئے ایک فرقہ تو آپ کی بعثت پر ایمان رکھنے والا تھا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی ایک بندی کے لڑکے ہیں بعض وہ تھے جنہوں نے غلو سے کام لیا اور بڑھ گئے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہنے لگے، اوروں نے آپ کو اللہ کہا، دوسروں نے تین میں کا ایک آپ کو بتایا، اللہ تعالیٰ ان کے ان عقائد کا ذکر قرآن مجید میں فرماتا ہے پھر ان کی تردید بھی کر دی ہے تین سو سال تک تو یہ اسی طرح رہے۔
صفحہ نمبر1109
پھر یونان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ جو بڑا فلیسوف تھا جس کا نام قسطنطین تھا کہا جاتا ہے کہ صرف اس دین کو بگڑانے کے لیے منافقانہ انداز سے اس دین میں داخل ہوا یا جہالت سے داخل ہوا ہو، بہر صورت اس نے دین مسیح کو بالکل بدل ڈالا اور بڑی تحریف اور تفسیر کی اس دین میں اور کمی زیادہ بھی کر ڈالی، بہت سے قانون ایجاد کئے اور امانت کبریٰ بھی اسی کی ایجاد ہے جو دراصل کمینہ پن کی خیانت ہے، اسی نے اپنے زمانہ میں سود کو حلال کیا اسی کے حکم سے عیسائی مشرق کی طرف نمازیں پڑھنے لگے اسی نے گرجاؤں اور کلیساؤں میں عبادت خانوں اور خانقاہوں میں تصویریں بنوائیں٠ اور اپنے ایک گناہ کے باعث دس روزے روزوں میں بڑھوا دئیے،
غرض اس کے زمانہ سے دین مسیح مسیحی دین نہ رہا بلکہ دین قسطنطین ہو گیا، اس نے ظاہری رونق تو خوب دی بارہ ہزار سے زائد تو عبادت گاہیں بنوا دیں اور ایک شہر اپنے نام سے بسایا، ملکیہ گروہ نے اس کی تمام باتیں مان لیں لیکن باوجود ان سب سیاہ کاریوں کے یہودی اس بات پر تلے رہے اور دراصل نسبتاً حق سے زیادہ قریب یہی تھے گو فی الواقع سارے کے سارے کفار تھے اللہ خالق کل کی ان پر پھٹکار ہو، اب جبکہ ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنا برگزیدہ بنا کر دنیا میں بھیجا تو آپ پر جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی تھا اس کے فرشتوں پر بھی تھا اس کی کتابوں پر بھی تھا اور اس کے تمام رسولوں پر بھی تھا پس حقیقت میں نبیوں کے سچے تابع فرمان یہی لوگ تھے یعنی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اس لیے کہ یہ نبی امی عربی خاتم الرسول سید اولاد آدم کے ماننے والے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم برحق تعلیم کو سچا ماننے والے تھے، لہٰذا دراصل ہر نبی کے سچے تابعدار اور صحیح معنی میں امتی کہلانے کے مستحق یہی لوگ تھے کیونکہ ان لوگوں نے جو اپنے تئیں عیسیٰ کی امت کہتے تھے تو دین عیسوی کو بالکل مسخ اور فسخ کر دیا تھا
صفحہ نمبر1110
علاوہ ازیں پیغمبر آخرالزمان کا دین بھی اور تمام اگلی شریعتوں کا ناسخ تھا پھر محفوظ رہنے والا تھا جس کا ایک شوشہ بھی قیامت تک بدلنے والا نہیں اس لیے اس آیت «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» [24-النور:55] کے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اس امت کو غالب کر دیا اور یہ مشرق سے لے کر مغرب تک چھا گئے ملکوں کو اپنے پاؤں تلے روند دیا اور بڑے بڑے جابر اور کٹر کافروں کی گردنیں مروڑ دیں دولتیں ان کے پیروں میں آ گئیں فتح و غنیمت ان کی رکابیں٠ چومنے لگی مدتوں کی پرانی سلطنتوں کے تخت انہوں نے الٹ دئیے،
کسریٰ کی عظیم الشان پر شان سلطنت اور ان کے بھڑکتے ہوئے آتش کدے ان کے ہاتھوں ویران اور سرد ہو گئے، قیصر کا تاج و تخت ان اللہ والوں نے تاخت و تاراج کیا اور انہیں مسیح پرستی کا خوب مزا چکھایا اور ان کے خزانوں کو اللہ واحد کی رضا مندی میں اور اس کے سچے نبی کے دین کی اشاعت میں دل کھول کر خرچ کئے اور اللہ کے لکھے اور نبی کے وعدے چڑھے ہوئے سورج اور چودھویں کے روشن چاند کی طرح سچے ہوئے لوگوں نے دیکھ لیے، مسیح علیہ السلام کے نام کو بدنام کرنے والے مسیح کے نام شیطانوں کو پوجنے والے ان پاکباز اللہ پرستوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر شام کے لہلہاتے ہوئے باغات اور آباد شہروں کو ان کے حوالے کر کے بدحواس بھاگتے ہوئے روم میں جا بسے پھر وہاں سے بھی یہ بےعزت کر کے نکالے گئے اور اپنے بادشاہ کے خاص شہر قسطنطنیہ میں پہنچے لیکن پھر وہاں سے بھی ذلیل خوار کر کے نکال دئیے گئے اور ان شاءاللہ العزیز اسلام اور اہل اسلام قیامت تک ان پر غالب ہی رہیں گے۔ سب سچوں کے سردار جن کی سچائی پر مہر الٰہی لگ چکی ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خبر دے چکے ہیں جو اٹل ہے نہ کاٹے کٹے نہ توڑے ٹوٹے، نہ ٹالے ٹلے، فرماتے ہیں کہ آپ کی امت کا آخری گروہ قسطنطنیہ کو فتح کرے گا اور وہاں کے تمام خزانے اپنے قبضے میں لے گا اور رومیوں سے ان کی گھمسان کی لڑائی ہو گی کہ اس کی نظیر سے دنیا خالی ہو۔
صفحہ نمبر1111
(ہماری دعا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ قادر کل اس امت کا حامی و ناصر رہے اور روئے زمین کے کفار پر انہیں غالب رکھے اور انہیں سمجھ دے تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کریں نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کی اطاعت کریں، یہی اسلام کی اصل ہے اور یہی عروج دینوی کا گر ہے) میں نے سب کو علیحدہ کتاب میں جمع کر دیا ہے، آگے اللہ تعالیٰ کے قول پر نظر ڈالیے کہ «وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ» [13-الرعد:34] مسیح علیہ السلام کے ساتھ کفر کرنے والے یہود اور آپ کی شان میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنا کر بہکنے والے نصرانیوں کو قتل و قید کی مار اور سلطنت کے تباہ ہو جانے کی یہاں بھی سزا دی اور آخرت کا عذاب وہاں دیکھ لیں گے جہاں نہ کوئی بچا سکے نہ مدد کر سکے گا لیکن برخلاف ان کے ایمانداروں کو پورا اجر اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا دنیا میں بھی فتح اور نصرت عزت و حرمت عطا ہو گی اور آخرت میں بھی خاص رحمتیں اور نعمتیں ملیں گی، اللہ تعالیٰ ظالموں کو ناپسند رکھتا ہے۔
پھر فرمایا اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تھی حقیقت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ابتداء پیدائش کی اور ان کے امر کی جو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ سے آپ کی طرف بذریعہ اپنی خاص وحی کے اتار دی جس میں کوئی شک و شبہ نہیں جیسے سورۃ مریم میں فرمایا «ذَٰلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ» [19-مريم:34] «مَا كَانَ لِلَّـهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [19-مريم:35] ، عیسیٰ بن مریم یہی ہیں یہی سچی حقیقت ہے جس میں تم شک و شبہ میں پڑے ہو، اللہ تعالیٰ کو تو لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو وہ اس سے بالکل پاک ہے وہ جو کرنا چاہے کہ دیتا ہے ہو جا، بس وہ ہو جاتا ہے، اب یہاں بھی اس کے بعد بیان ہو رہا ہے۔
صفحہ نمبر1112
اختیارات کی وضاحت اور نجرانی وفد کی روداد ٭٭
حضرت باری جل اسمه وعلا قدرہ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کر دیا تو کون سی حیرانی بات ہے؟ میں نے سیدنا آدم علیہ السلام کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہ دیا آدم علیہ السلام ہو جا اسی وقت ہو گیا، پھر میرے لیے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہو سکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کر دیا، پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹا کہلانے کے مستحق ہو سکتے ہیں تو حضرت آدم علیہ السلام بطریق اولیٰ اسکا استحقاق رکھتے ہیں اور انہیں خود تم بھی نہیں مانتے بھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہیئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر ہے یہاں ماں تو ہے وہاں تو نہ ماں تھی نہ باپ، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی قدرت کاملہ کا ظہور ہے کہ آدم علیہ السلام کو بغیر مرد و عورت کے پیدا کیا اور حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا، اور عیسیٰ علیہ السلام کو صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کر دیا اور باقی مخلوق کو مرد و عورت سے پیدا کیا اسی لیے سورۃ مریم میں فرمایا «وَلِنَجْعَلَهٗٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا» [19-مريم:21] ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کے لیے اپنی قدرت کا نشان بنایا
اور یہاں فرمایا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اللہ کا سچا فیصلہ یہی ہے اس کے سوا اور کچھ کسی کمی یا زیادتی کی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ حق کے بعد گمراہی ہی ہوتی ہے پس تجھے اے نبی ہرگز ان شکی لوگوں میں نہ ہونا چاہیئے۔
صفحہ نمبر1116
اللہ رب العالمین اس کے بعد اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اگر اس قدر واضح اور کامل بیان کے بعد بھی کوئی شخص تجھ سے امر عیسیٰ کے بارے میں جھگڑے تو تو انہیں مباہلہ کی دعوت دے کہ ہم فریقین مع اپنے بیٹوں اور بیویوں کے مباہلہ کے لیے نکلیں اور اللہ جل شانہ سے عاجزی کے ساتھ کہیں کہ اے اللہ ہم دونوں میں جو بھی جھوٹا ہو اس پر تو اپنی لعنت نازل فرما، اس مباہلہ کے نازل ہونے اور سورت کی ابتداء سے یہاں تک کی ان تمام آیتوں کے نازل ہونے کا سبب نجران کے نصاریٰ کا وفد تھا یہ لوگ یہاں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عیسیٰ کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام حکمرانی کے حصہ دار اور اللہ جل شانہ کے بیٹے ہیں پس ان کی تردید اور ان کے جواب میں یہ سب آیتیں نازل ہوئیں، ابن اسحاق رحمہ اللہ اپنی مشہور عام سیرت میں لکھتے ہیں ان کے علاوہ دوسرے مؤرخین نے بھی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ نجران کے نصرانیوں نے بطور وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ساٹھ آدمی بھیجے تھے جن میں چودہ شخص ان کے سردار تھے جن کے نام یہ ہیں، عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا، سید جس کا نام ایہم تھا، ابو حارثہ بن علقمہ جو بکر بن وائل کا بھائی تھا، اور اویس بن حارث، زید، قیس، یزید اور اس کے دونوں لڑکے، اور خویلد اور عمرو، خالد، عبداللہ اور محسن یہ سب چودہ سردار تھے
صفحہ نمبر1117
لیکن پھر ان میں بڑے سردار تین شخص تھے عاقب جو امیر قوم تھا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اور صاحب مشورہ تھا اور اسی کی رائے پر یہ لوگ مطمئن ہو جاتے تھے اور سید جو ان کا لاٹ پادری تھا اور مدرس اعلیٰ تھا یہ بنوبکر بن وائل کے عرب قبیلے میں سے تھا لیکن نصرانی بن گیا تھا اور رومیوں کے ہاں اس کی بڑی آؤ بھگت تھی اس کے لیے انہوں نے بڑے بڑے گرجے بنا دئیے تھے اور اس کے دین کی مضبوطی دیکھ کر اس کی بہت کچھ خاطر و مدارات اور خدمت و عزت کرتے رہتے تھے [دلائل النبوۃ للبیهقی:382/5:مرسل ضعیف]
یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و شان سے واقف تھا اور اگلی کتابوں میں آپ کی صفتیں پڑھ چکا تھا دل سے آپ کی نبوت کا قائل تھا لیکن نصرانیوں میں جو اس کی تکریم و تعظیم تھی اور وہاں جو جاہ و منصب اسے حاصل تھا اس کے چھن جانے کے خوف سے راہ حق کی طرف نہیں آتا تھا
، غرض یہ وفد مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسجد نبوی میں حاضر ہوا آپ اس وقت عصر کی نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہی تھے یہ لوگ نفیس پوشاکیں پہنے ہوئے اور خوبصورت نرم چادریں اوڑھے ہوئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بنو حارث بن کعب کے خاندان کے لوگ ہوں صحابہ کہتے ہیں ان کے بعد ان جیسا باشوکت وفد کوئی نہیں آیا،
صفحہ نمبر1118
ان کی نماز کا وقت آ گیا تو آپ کی اجازت سے انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے مسجد نبوی میں ہی اپنے طریق پر نماز ادا کر لی۔ بعد نماز کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی گفتگو ہوئی ادھر سے بولنے والے یہ تین شخص تھے حارثہ بن علقمہ عاقب یعنی عبدالمسیح اور سید یعنی ایہم یہ گو شاہی مذہب پر تھے لیکن کچھ امور میں اختلاف رکھتے تھے۔ مسیح کی نسبت ان کے تینوں خیال تھے یعنی وہ خود اللہ جل شانہ ہے اور اللہ کا لڑکا ہے اور تین میں کا تیسرا ہے اللہ ان کے اس ناپاک قول سے مبرا ہے اور بہت ہی بلند و بالا،
تقریباً تمام نصاریٰ کا یہی عقیدہ ہے، مسیح کے اللہ ہونے کی دلیل تو ان کے پاس یہ تھی کہ وہ مردوں کو زندہ کر دیتا تھا اور اندھوں اور کوڑھیوں اور بیماروں کو شفاء دیتا تھا، غیب کی خبریں دیتا تھا اور مٹی کی چڑیا بنا کر پھونک مار کر اڑا دیا کرتا تھا اور جواب اس کا یہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس سے اللہ کے حکم سے سرزد ہوتی تھیں اس لیے کہ اللہ کی نشانیاں اللہ کی باتوں کے سچ ثابت ہونے پر اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر مثبت دلیل ہو جائیں، اللہ کا لڑکا ماننے والوں کی حجت یہ تھی کہ ان کا بہ ظاہر کوئی باپ نہ تھا اور گہوارے میں ہی بولنے لگے تھے، یہ باتیں بھی ایسی ہیں کہ ان سے پہلے دیکھنے میں ہی نہیں آئی تھیں (اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی اللہ کی قدرت کی نشانیاں تھیں تاکہ لوگ اللہ کو اسباب کا محکوم اور عادت کا محتاج نہ سمجھیں وغیرہ۔ مترجم) اور تین میں تیسرا اس لیے کہتے تھے کہ اس نے اپنے کلام میں فرمایا ہے ہم نے کیا ہمارا امر ہماری مخلوق ہم نے فیصلہ کیا وغیرہ پس اگر اللہ اکیلا ایک ہی ہوتا تو یوں نہ فرماتا بلکہ فرماتا میں نے کیا میرا امر میری مخلوق میں نے فیصلہ کیا وغیرہ پس ثابت ہوا کہ اللہ تین ہیں خود اللہ رب کعبہ اور عیسیٰ اور مریم (جس کا جواب یہ ہے کہ ہم کا لفظ صرف بڑائی کے لیے اور عظمت کے لیے ہے۔ مترجم)
اللہ تعالیٰ ان ظالموں منکروں کے قول سے پاک و بلند ہے، ان کے تمام عقائد کی تردید قرآن کریم میں نازل ہوئی،
صفحہ نمبر1119
جب یہ تینوں پادری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کر چکے تو آپ نے فرمایا تم مسلمان ہو جاؤ انہوں نے کہا ہم تو ماننے والے ہیں ہی، آپ نے فرمایا نہیں نہیں تمہیں چاہیئے کہ اسلام قبول کر لو وہ کہنے لگے ہم تو آپ سے پہلے کے مسلمان ہیں فرمایا نہیں تمہارا اسلام قبول نہیں اس لیے کہ تم اللہ کی اولاد مانتے ہو صلیب کی پوجا کرتے ہو خنزیر کھاتے ہو۔ انہوں نے کہا اچھا پھر یہ تو فرمائے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا باپ کون تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس پر خاموش رہے اور سورۃ آل عمران کی شروع سے لے کر اوپر اوپر تک کی آیتیں ان کے جواب میں نازل ہوئیں،
ابن اسحاق ان سب کی مختصر سی تفسیر بیان کر کے پھر لکھتے ہیں آپ نے یہ سب تلاوت کر کے انہیں سمجھا دیں۔ اس مباہلہ کی آیت کو پڑھ کر آپ نے فرمایا اگر نہیں مانتے تو آؤ مباہلہ کا نکلو یہ سن کر وہ کہنے لگے اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مہلت دیجئیے کہ ہم آپس میں مشورہ کر لیں پھر تمہیں اس کا جواب دیں گے اب تنہائی میں بیٹھ کر انہوں نے عاقب سے مشورہ لیا جو بڑا دانا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اس نے اپنا حتمی فیصلہ ان الفاظ میں سنایا کہ اے جماعت نصاریٰ تم نے یقین کے ساتھ اتنا تو معلوم کر لیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ عیسیٰ کی حقیت وہی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تم سن چکے ہو اور تمہیں بخوبی علم ہے کہ جو قوم نبی کے ساتھ ملاعنہ کرتی ہے نہ ان کے بڑے باقی رہتے ہیں نہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں بلکہ سب کے سب جڑ بنیاد سے اکھیڑ کر پھینک دئیے جاتے ہیں یاد رکھو کہ اگر تم نے مباہلہ کے لیے قدم بڑھایا تو تمہارا ستیاناس ہو جائے گا، پس یا تو تم اسی دین کو قبول کر لو اور اگر کسی طرح نہیں ماننا چاہتے ہو اور اپنے دین پر اور عیسیٰ کے متعلق اپنے ہی خیالات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو آپ سے صلح کر لو اور اپنے وطن کو لوٹ جاؤ
صفحہ نمبر1120
چنانچہ یہ لوگ صلاح مشورہ کر کے پھر دربار نبوی میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے ملاعنہ کرنے کے لیے تیار نہیں آپ اپنے دین پر رہیے اور ہم اپنے خیالات پر ہیں لیکن آپ ہمارے ساتھ اپنے صحابیوں میں سے کیسی ایسے شخص کو بھیج دیجئیے جن سے آپ خوش ہوں کہ وہ ہمارے مالی جھگڑوں کا ہم میں فیصلہ کر دیں آپ لوگ ہماری نظروں میں بہت ہی پسندیدہ ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تم دوپہر کو پھر آنا میں تمہارے ساتھ کسی مضبوط امانت دار کو کر دوں گا،سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کسی دن بھی سردار بننے کی خواہش نہیں کی لیکن اس دن صرف اس خیال سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعریف کی ہے اس کا تصدیق کرنے والا اللہ کے نزدیک میں بن جاؤں، اسی لیے میں اس روز سویرے سویرے ظہر کی نماز کے لیے چل پڑا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے نماز ظہر پڑھائی پھر دائیں بائیں نظریں دوڑانے لگے میں باربار اپنی جگہ اونچا ہوتا تھا تاکہ آپ کی نگاہیں مجھ پر پڑھیں، آپ برابر بغور دیکھتے ہی رہے یہاں تک کہ نگاہیں سیدنا ابو عبید بن جراح رضی اللہ عنہ پر پڑیں انہیں طلب فرمایا اور کہا کہ ان کے ساتھ جاؤ اور ان کے اختلافات کا فیصلہ حق سے کر دو چنانچہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تشریف لے گئے [دلائل النبوۃ للبیهقی:385/5:مرسل و ضعیف]
ابن مردویہ میں بھی یہ واقعہ اسی طرح منقول ہے لیکن وہاں سرداروں کی گنتی بارہ کی ہے اور اس واقعہ میں بھی قدرے طوالت ہے اور کچھ زائد باتیں بھی ہیں،
صفحہ نمبر1121
صحیح بخاری شریف میں بروایت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مروی ہے نجرانی سردار عاقب اور سید مباہلہ کے ارادے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے لیکن ایک نے دوسرے سے کہا یہ نہ کر اللہ کی قسم اگر یہ نبی ہیں اور ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم اپنی اولادوں سمیت تباہ ہو جائیں گے چنانچہ پھر دونوں نے متفق ہو کر کہا آپ ہم سے جو طلب فرماتے ہیں ہم وہ سب ادا کر دیں گے [ یعنی جزیہ دینا قبول کر لیا ] آپ کسی امین شخص کو ہمارے ساتھ کر دیجئیے اور امین کو ہی بھیجنا، آپ نے فرمایا بہتر میں تمہارے ساتھ کامل امین کو ہی کروں گا اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے کو تکنے لگے یہ دیکھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس کا انتخاب کرتے ہیں آپ نے فرمایا اے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تم کھڑے ہو جاؤ جب یہ کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا یہ ہیں اس امت کے امین [صحیح بخاری:4380] ،
صحیح بخاری شریف کی اور حدیث میں ہے ہر امت کا امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے [ رضی اللہ عنہ ] [صحیح بخاری:4382]
صفحہ نمبر1122
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل ملعون نے کہا۔ اگر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن کچل دوں گا فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتا تو سب کے سب دیکھتے کہ فرشتے اسے دبوچ لیتے، اور یہودیوں سے جب قرآن نے کہا تھا کہ آؤ جھوٹوں کے لیے موت مانگو اگر وہ مانگتے تو یقیناً سب کے سب مر جاتے اور اپنی جگہیں جہنم کی آگ میں دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مباہلے کے لیے نکلتے تو لوٹ کر اپنے مالوں کو اور اپنے بال بچوں کو نہ پاتے، صحیح بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے [صحیح بخاری:4958] ، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں
صفحہ نمبر1123
امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی وفد نجران کے قصے کو طویل تر بیان کیا ہے، ہم اسے یہاں نقل کرتے ہیں کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں گو اس میں غرابت بھی ہے اور اس مقام سے وہ نہایت مناسبت رکھتا ہے، سلمہ بن عبد یسوع اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں جو پہلے نصرانی تھے پھر مسلمان ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ طس قرآن میں نازل ہونے سے پیشتر اہل نجران کو نامہ مبارک لکھا جس کی عبارت یہ تھی «بسم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب من محمد النبی رسول اللہ الی اسقف نجران واھل نجران اسلم انتم فانی احمد الیکم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب۔ اما بعد فانی ادعوکم الی عبادۃ اللہ من عبادۃ العباد وادعوکم الی ولایتہ اللہ من ولایتہ العباد فان ابیتم فالجزیتہ فان ابیتم فقد اذنتکم بحرب والسلام» یعنی اس خط کو میں شروع کرتا ہوں سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا اسحاق علیہ السلام اور سیدنا یعقوب علیہ السلام کے اللہ تعالیٰ کے نام سے، یہ خط ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو اللہ رب العزت کے نبی اور رسول، نجران کے سردار کی طرف۔ میں اللہ تعالیٰ کی تمہارے سامنے حمد و ثناء بیان کرتا ہوں جو سیدنا ابراہیم، سیدنا اسحاق اور سیدنا یعقوب کا معبود ہے، پھر میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ بندوں کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی عبادت کی طرف آؤ اور بندوں کی ولایت کو چھوڑ کر اللہ کی ولایت کی طرف آ جاؤ، اگر تم اسے نہ مانو تو جزیہ دو اور ماتحتی اختیار کرو اگر اس سے بھی انکار ہو تو تمہیں لڑائی کا اعلان ہے والسلام۔
صفحہ نمبر1124
جب یہ خط اسقف کو پہنچا اور اس نے اسے پڑھایا تو بڑا سٹپٹایا گھبرا گیا اور تھرانے لگا، جھٹ سے شرحیل بن وداعہ کو بلوایا جو ہمدان قبیلہ کا تھا سب سے بڑا مشیر سلطنت یہی تھا جب کبھی کوئی اہم کام آپڑتا تو سب سے پہلے یعنی ایہم اور سید اور عاقب سے بھی پیشر اس سے مشورہ ہوتا جب یہ آ گیا تو اسقف نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط اسے دیا جب اس نے پڑھ لیا تو اسقف نے پوچھا بتاؤ کیا خیال ہے؟ شرحیل نے کہا بادشاہ کو خوب علم ہے کہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے اللہ کے ایک نبی کے آنے کا وعدہ اللہ کی کتاب میں ہے کیا عجب کہ وہ نبی یہی ہو، امر نبوت میں کیا رائے دے سکتا ہوں ہاں اگر امور سلطنت کی کوئی بات ہوتی تو بیشک میں اپنے دماغ پر زور ڈال کر کوئی بات نکال لیتا، اسقف نے انہیں تو الگ بٹھا دیا اور عبداللہ بن شرحیل کو بلایا یہ بھی مشیر سلطنت تھا اور حمیر کے قبیلے میں سے تھا اسے خط دیا پڑھایا رائے پوچھی تو اس نے بھی ٹھیک وہی بات کہی جو پہلا مشیر کہہ چکا تھا اسے بھی بادشاہ نے دور بٹھا دیا پھر جبار بن فیض کو بلایا جو بنو حارث میں سے تھا اس نے بھی یہی کہا جو ان دونوں نے کہا تھا، بادشاہ نے جب دیکھا کہ ان تینوں کی رائے متفق ہے تو حکم دیا گیا کہ ناقوس بجائے جائیں آگ جلا دی جائے اور گرجوں میں جھنڈے بلند کر دئیے جائیں وہاں کا یہ دستور تھا کہ جب سلطنت کا کوئی اہم کام ہوتا تو رات کو جمع کرنا مقصود ہوتا تو یہی کرتے اور اگر دن کا وقت ہوتا تو گرجوں میں آگ جلا دی جاتی
صفحہ نمبر1125
اور ناقوس زور زور سے بجائے جاتے، اس حکم کے ہوتے ہی چاروں طرف آگ جلا دی گئی اور ناقوس کی آواز نے ہر ایک کو ہوشیار کر دیا اور جھنڈے اونچے دیکھ دیکھ کر آس پاس کے وادی کے تمام لوگ جمع ہو گئے اس وادی کا طول اتنا تھا کہ تیز سوار صبح سے شام تک دوسرے کنارے پہنچتا تھا اس میں تہتر گاؤں آباد تھے اور ایک لاکھ بیس ہزار تلوار چلانے والے یہاں آباد تھے جب یہ سب لوگ آ گئے تو اسقف نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پڑھ کر سنایا اور پوچھا بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ تو تمام عقلمندوں نے کہا کہ شرحیل بن وداعہ ہمدانی عبداللہ بن شرحیل اصبحی اور جبار بن فیض حارثی کو بطور وفد کے بھیجا جائے، یہ وہاں سے پختہ خبر لائیں
صفحہ نمبر1126
اب یہاں سے یہ وفد ان تینوں کی سرداری کے ماتحت روانہ ہوا مدینہ پہنچ کر انہوں نے سفری لباس اتار ڈالا اور نقش بنے ہوئے ریشمی لمبے لمبے حلے پہن لیے اور سونے کی انگوٹھیاں انگلیوں میں ڈال لیں اور اپنی چادروں کے پلے تھامے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا بہت دیر تک انتظار کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بات کریں لیکن ان ریشمی حلوں اور سونے کی انگوٹھیوں کی وجہ سے آپ نے ان سے کلام بھی نہ کیا اب یہ لوگ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی تلاش میں نکلے اور ان دونوں بزرگوں سے ان کی پہلی ملاقات تھی مہاجرین اور انصار کے ایک مجمع میں ان دونوں حضرات کو پا لیا ان سے واقعہ بیان کیا تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خط لکھا ہم اس کا جواب دینے کے لیے خود حاضر ہوئے آپ کے پاس گئے سلام کیا لیکن جواب نہ دیا پھر بہت دیر تک انتظار میں بیٹھے رہے کہ آپ سے کچھ باتیں ہو جاتیں لیکن آپ نے ہم سے کوئی بات نہ کی آخر ہم لوگ تھک کر چلے آئے اب آپ حضرات فرمائے کہ کیا ہم یونہی واپس چلے جائیں، ان دونوں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ہی انہیں جواب دیجئیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ یہ لوگ اپنے حلے اور اپنی انگوٹھیاں اتار دیں اور وہی سفری معمولی لباس پہن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ جائیں چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور اسی معمولی لباس میں گئے سلام کیا آپ نے جواب دیا پھر فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ جب میرے پاس پہلی مرتبہ آئے تھے تو ان کے ساتھ ابلیس تھا
صفحہ نمبر1127
اب سوال جواب بات چیت شروع ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پوچھتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے اسی طرح وہ بھی سوال کرتے اور جواب پاتے، آخر میں انہوں نے پوچھا آپ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بابت کیا فرماتے ہیں؟ تاکہ ہم اپنی قوم کے پاس جا کر وہ کہیں ہمیں اس کی خوشی ہے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کی زبانیں سنیں کہ آپ کا ان کی بابت کیا خیال ہے؟ تو آپ نے فرمایا میرے پاس اس کا جواب آج تو نہیں تم ٹھہرو تو میرا رب مجھ سے اس کی بابت جو فرمائے گا وہ میں تمہیں سنا دوں گا، دوسرے دن وہ پھر آئے تو آپ نے اسی وقت کی اتری ہوئی اس آیت «إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [3-آل عمران:59] کی «لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ» [3-آل عمران:60] تک تلاوت کر سنائی انہوں نے اس بات کا اقرار کرنے سے انکار کر دیا،
دوسرے دن صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاعنہ کے لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر میں لیے ہوئے تشریف لائے پیچھے پیچھے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آ رہی تھیں اس وقت آپ کی کئی ایک بیویاں تھیں، شرحیل یہ دیکھتے ہی اپنے دونوں ساتھیوں سے کہنے لگا تم جانتے ہو کہ نجران کی ساری وادی میری بات کو مانتی ہے اور میری رائے پر کاربند ہوتی ہے،
سنو اللہ کی قسم یہ معاملہ بڑا بھاری ہے اگر یہ شخص صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کیا گیا ہے تو سب سے پہلے اس کی نگاہوں میں ہم ہی مطعون ہوں گے اور سب سے پہلے اس کی تردید کرنے والے ہم ہی ٹھہریں گے یہ بات اس کے اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں نہیں جائے گی اور ہم پر کوئی نہ کوئی مصیبت و آفت آئے گی عرب بھر میں سب سے زیادہ قریب ان سے میں ہی ہوں اور سنو اگر یہ شخص بنی مرسل ہے تو مباہلہ کرتے ہی روئے زمین پر ایک بال یا ایک ناخن بھی ہمارا نہ رہے گا۔
صفحہ نمبر1128
اس کے دونوں ساتھیوں نے کہا پھر اے ابو مریم آپ کی کیا رائے ہے؟ اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ اسی کو ہم حاکم بنا دیں جو کچھ یہ حکم دے ہم اسے منظور کر لیں یہ کبھی بھی خلاف عدل حکم نہ دے گا، ان دونوں نے اس بات کو تسلیم کر لیا، اب شرجیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں اس ملاعنہ سے بہتر چیز جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں آپ نے دریافت فرمایا وہ کیا؟ کہا آج کا دن آنے والی رات اور کل کی صبح تک آپ ہمارے بارے میں جو حکم کریں ہمیں منظور ہے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید اور لوگ تمہارے اس فیصلے کو نہ مانیں، شرحیل نے کہا اس کی بابت میرے ان دونوں ساتھیوں سے دریافت فرما لیجئے آپ نے ان دونوں سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ سارے وادی کے لوگ انہی کی رائے پر چلتے ہیں وہاں ایک بھی ایسا نہیں جو ان کے فیصلے کو ٹال سکے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درخواست قبول فرمائی۔ مباہلہ نہ کیا اور واپس لوٹ گئے دوسرے دن صبح ہی وہ حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے ایک تحریر انہیں لکھ دی کہ جس میں بسم اللہ کے بعد یہ مضمون تھا کہ ”تحریر“ اللہ کے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نجرانیوں کے لیے ہے ان پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم جاری تھا ہر پھل، ہر سیاہ و سفید اور ہر غلام پر لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب انہی کو دیتے ہیں یہ ہر سال صرف دو ہزار حلے دے دیا کریں ایک ہزار رجب میں اور ایک ہزار صفر میں وغیرہ وغیرہ، [دلائل النبوۃ للبیهقی:384/5:ضعیف]
پورا عہد نامہ انہیں عطا فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ وفد سن ٩ ہجری میں آیا تھا اس لیے کہ زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سب سے پہلے جزیہ انہی اہل نجران نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا،
صفحہ نمبر1129
اور جزیہ کی آیت فتح مکہ کے بعد اتری ہے جو یہ ہے «قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ» [9-التوبة:29] اس آیت میں اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم ہوا ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ عاقب اور طیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے انہیں ملاعنہ کے لیے کہا اور صبح کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو لیے ہوئے آپ تشریف لائے اور انہیں کہلا بھیجا انہوں نے قبول نہ کیا اور خراج دینا منظور کر لیا، آپ نے فرمایا اس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر یہ دونوں ”نہیں“ کہتے تو ان پر یہی وادی آگ برساتی،
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ندع ابنائنا» الخ، والی آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے «انفسنا» سے مراد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ «ابنائنا» سے مراد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ «نسائنا» سے مراد سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا [ابو نعیم فی الدلائل:244:ضعیف] مستدرک حاکم وغیرہ میں بھی اس معنی کی حدیث مروی ہے۔
صفحہ نمبر1130
پھر جناب باری کا ارشاد ہے یہ جو ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کی شان فرمائی ہے حق اور سچ ہے اس میں بال برابر کمی بیشی نہیں، اللہ قابل عبادت ہے کوئی اور نہیں اور وہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے، اب بھی اگر یہ منہ پھیر لیں اور دوسری باتوں میں پڑیں تو اللہ بھی ایسے باطل پسندوں کو اور مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے انہیں بدترین سزا دے گا اس میں پوری قدرت ہے کوئی اس سے نہ بھاگ سکے نہ اس کا مقابلہ کر سکے، وہ پاک ہے اور تعریفوں والا ہے ہم اس کے عذاب سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں۔
صفحہ نمبر1131
اختیارات کی وضاحت اور نجرانی وفد کی روداد ٭٭
حضرت باری جل اسمه وعلا قدرہ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کر دیا تو کون سی حیرانی بات ہے؟ میں نے سیدنا آدم علیہ السلام کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہ دیا آدم علیہ السلام ہو جا اسی وقت ہو گیا، پھر میرے لیے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہو سکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کر دیا، پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹا کہلانے کے مستحق ہو سکتے ہیں تو حضرت آدم علیہ السلام بطریق اولیٰ اسکا استحقاق رکھتے ہیں اور انہیں خود تم بھی نہیں مانتے بھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہیئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر ہے یہاں ماں تو ہے وہاں تو نہ ماں تھی نہ باپ، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی قدرت کاملہ کا ظہور ہے کہ آدم علیہ السلام کو بغیر مرد و عورت کے پیدا کیا اور حواء کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا، اور عیسیٰ علیہ السلام کو صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کر دیا اور باقی مخلوق کو مرد و عورت سے پیدا کیا اسی لیے سورۃ مریم میں فرمایا «وَلِنَجْعَلَهٗٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا» [19-مريم:21] ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کے لیے اپنی قدرت کا نشان بنایا
اور یہاں فرمایا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اللہ کا سچا فیصلہ یہی ہے اس کے سوا اور کچھ کسی کمی یا زیادتی کی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ حق کے بعد گمراہی ہی ہوتی ہے پس تجھے اے نبی ہرگز ان شکی لوگوں میں نہ ہونا چاہیئے۔
صفحہ نمبر1116
اللہ رب العالمین اس کے بعد اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اگر اس قدر واضح اور کامل بیان کے بعد بھی کوئی شخص تجھ سے امر عیسیٰ کے بارے میں جھگڑے تو تو انہیں مباہلہ کی دعوت دے کہ ہم فریقین مع اپنے بیٹوں اور بیویوں کے مباہلہ کے لیے نکلیں اور اللہ جل شانہ سے عاجزی کے ساتھ کہیں کہ اے اللہ ہم دونوں میں جو بھی جھوٹا ہو اس پر تو اپنی لعنت نازل فرما، اس مباہلہ کے نازل ہونے اور سورت کی ابتداء سے یہاں تک کی ان تمام آیتوں کے نازل ہونے کا سبب نجران کے نصاریٰ کا وفد تھا یہ لوگ یہاں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عیسیٰ کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام حکمرانی کے حصہ دار اور اللہ جل شانہ کے بیٹے ہیں پس ان کی تردید اور ان کے جواب میں یہ سب آیتیں نازل ہوئیں، ابن اسحاق رحمہ اللہ اپنی مشہور عام سیرت میں لکھتے ہیں ان کے علاوہ دوسرے مؤرخین نے بھی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ نجران کے نصرانیوں نے بطور وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ساٹھ آدمی بھیجے تھے جن میں چودہ شخص ان کے سردار تھے جن کے نام یہ ہیں، عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا، سید جس کا نام ایہم تھا، ابو حارثہ بن علقمہ جو بکر بن وائل کا بھائی تھا، اور اویس بن حارث، زید، قیس، یزید اور اس کے دونوں لڑکے، اور خویلد اور عمرو، خالد، عبداللہ اور محسن یہ سب چودہ سردار تھے
صفحہ نمبر1117
لیکن پھر ان میں بڑے سردار تین شخص تھے عاقب جو امیر قوم تھا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اور صاحب مشورہ تھا اور اسی کی رائے پر یہ لوگ مطمئن ہو جاتے تھے اور سید جو ان کا لاٹ پادری تھا اور مدرس اعلیٰ تھا یہ بنوبکر بن وائل کے عرب قبیلے میں سے تھا لیکن نصرانی بن گیا تھا اور رومیوں کے ہاں اس کی بڑی آؤ بھگت تھی اس کے لیے انہوں نے بڑے بڑے گرجے بنا دئیے تھے اور اس کے دین کی مضبوطی دیکھ کر اس کی بہت کچھ خاطر و مدارات اور خدمت و عزت کرتے رہتے تھے [دلائل النبوۃ للبیهقی:382/5:مرسل ضعیف]
یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و شان سے واقف تھا اور اگلی کتابوں میں آپ کی صفتیں پڑھ چکا تھا دل سے آپ کی نبوت کا قائل تھا لیکن نصرانیوں میں جو اس کی تکریم و تعظیم تھی اور وہاں جو جاہ و منصب اسے حاصل تھا اس کے چھن جانے کے خوف سے راہ حق کی طرف نہیں آتا تھا
، غرض یہ وفد مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسجد نبوی میں حاضر ہوا آپ اس وقت عصر کی نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہی تھے یہ لوگ نفیس پوشاکیں پہنے ہوئے اور خوبصورت نرم چادریں اوڑھے ہوئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بنو حارث بن کعب کے خاندان کے لوگ ہوں صحابہ کہتے ہیں ان کے بعد ان جیسا باشوکت وفد کوئی نہیں آیا،
صفحہ نمبر1118
ان کی نماز کا وقت آ گیا تو آپ کی اجازت سے انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے مسجد نبوی میں ہی اپنے طریق پر نماز ادا کر لی۔ بعد نماز کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی گفتگو ہوئی ادھر سے بولنے والے یہ تین شخص تھے حارثہ بن علقمہ عاقب یعنی عبدالمسیح اور سید یعنی ایہم یہ گو شاہی مذہب پر تھے لیکن کچھ امور میں اختلاف رکھتے تھے۔ مسیح کی نسبت ان کے تینوں خیال تھے یعنی وہ خود اللہ جل شانہ ہے اور اللہ کا لڑکا ہے اور تین میں کا تیسرا ہے اللہ ان کے اس ناپاک قول سے مبرا ہے اور بہت ہی بلند و بالا،
تقریباً تمام نصاریٰ کا یہی عقیدہ ہے، مسیح کے اللہ ہونے کی دلیل تو ان کے پاس یہ تھی کہ وہ مردوں کو زندہ کر دیتا تھا اور اندھوں اور کوڑھیوں اور بیماروں کو شفاء دیتا تھا، غیب کی خبریں دیتا تھا اور مٹی کی چڑیا بنا کر پھونک مار کر اڑا دیا کرتا تھا اور جواب اس کا یہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس سے اللہ کے حکم سے سرزد ہوتی تھیں اس لیے کہ اللہ کی نشانیاں اللہ کی باتوں کے سچ ثابت ہونے پر اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر مثبت دلیل ہو جائیں، اللہ کا لڑکا ماننے والوں کی حجت یہ تھی کہ ان کا بہ ظاہر کوئی باپ نہ تھا اور گہوارے میں ہی بولنے لگے تھے، یہ باتیں بھی ایسی ہیں کہ ان سے پہلے دیکھنے میں ہی نہیں آئی تھیں (اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی اللہ کی قدرت کی نشانیاں تھیں تاکہ لوگ اللہ کو اسباب کا محکوم اور عادت کا محتاج نہ سمجھیں وغیرہ۔ مترجم) اور تین میں تیسرا اس لیے کہتے تھے کہ اس نے اپنے کلام میں فرمایا ہے ہم نے کیا ہمارا امر ہماری مخلوق ہم نے فیصلہ کیا وغیرہ پس اگر اللہ اکیلا ایک ہی ہوتا تو یوں نہ فرماتا بلکہ فرماتا میں نے کیا میرا امر میری مخلوق میں نے فیصلہ کیا وغیرہ پس ثابت ہوا کہ اللہ تین ہیں خود اللہ رب کعبہ اور عیسیٰ اور مریم (جس کا جواب یہ ہے کہ ہم کا لفظ صرف بڑائی کے لیے اور عظمت کے لیے ہے۔ مترجم)
اللہ تعالیٰ ان ظالموں منکروں کے قول سے پاک و بلند ہے، ان کے تمام عقائد کی تردید قرآن کریم میں نازل ہوئی،
صفحہ نمبر1119
جب یہ تینوں پادری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کر چکے تو آپ نے فرمایا تم مسلمان ہو جاؤ انہوں نے کہا ہم تو ماننے والے ہیں ہی، آپ نے فرمایا نہیں نہیں تمہیں چاہیئے کہ اسلام قبول کر لو وہ کہنے لگے ہم تو آپ سے پہلے کے مسلمان ہیں فرمایا نہیں تمہارا اسلام قبول نہیں اس لیے کہ تم اللہ کی اولاد مانتے ہو صلیب کی پوجا کرتے ہو خنزیر کھاتے ہو۔ انہوں نے کہا اچھا پھر یہ تو فرمائے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا باپ کون تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس پر خاموش رہے اور سورۃ آل عمران کی شروع سے لے کر اوپر اوپر تک کی آیتیں ان کے جواب میں نازل ہوئیں،
ابن اسحاق ان سب کی مختصر سی تفسیر بیان کر کے پھر لکھتے ہیں آپ نے یہ سب تلاوت کر کے انہیں سمجھا دیں۔ اس مباہلہ کی آیت کو پڑھ کر آپ نے فرمایا اگر نہیں مانتے تو آؤ مباہلہ کا نکلو یہ سن کر وہ کہنے لگے اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مہلت دیجئیے کہ ہم آپس میں مشورہ کر لیں پھر تمہیں اس کا جواب دیں گے اب تنہائی میں بیٹھ کر انہوں نے عاقب سے مشورہ لیا جو بڑا دانا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اس نے اپنا حتمی فیصلہ ان الفاظ میں سنایا کہ اے جماعت نصاریٰ تم نے یقین کے ساتھ اتنا تو معلوم کر لیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ عیسیٰ کی حقیت وہی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تم سن چکے ہو اور تمہیں بخوبی علم ہے کہ جو قوم نبی کے ساتھ ملاعنہ کرتی ہے نہ ان کے بڑے باقی رہتے ہیں نہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں بلکہ سب کے سب جڑ بنیاد سے اکھیڑ کر پھینک دئیے جاتے ہیں یاد رکھو کہ اگر تم نے مباہلہ کے لیے قدم بڑھایا تو تمہارا ستیاناس ہو جائے گا، پس یا تو تم اسی دین کو قبول کر لو اور اگر کسی طرح نہیں ماننا چاہتے ہو اور اپنے دین پر اور عیسیٰ کے متعلق اپنے ہی خیالات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو آپ سے صلح کر لو اور اپنے وطن کو لوٹ جاؤ
صفحہ نمبر1120
چنانچہ یہ لوگ صلاح مشورہ کر کے پھر دربار نبوی میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے ملاعنہ کرنے کے لیے تیار نہیں آپ اپنے دین پر رہیے اور ہم اپنے خیالات پر ہیں لیکن آپ ہمارے ساتھ اپنے صحابیوں میں سے کیسی ایسے شخص کو بھیج دیجئیے جن سے آپ خوش ہوں کہ وہ ہمارے مالی جھگڑوں کا ہم میں فیصلہ کر دیں آپ لوگ ہماری نظروں میں بہت ہی پسندیدہ ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تم دوپہر کو پھر آنا میں تمہارے ساتھ کسی مضبوط امانت دار کو کر دوں گا،سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کسی دن بھی سردار بننے کی خواہش نہیں کی لیکن اس دن صرف اس خیال سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعریف کی ہے اس کا تصدیق کرنے والا اللہ کے نزدیک میں بن جاؤں، اسی لیے میں اس روز سویرے سویرے ظہر کی نماز کے لیے چل پڑا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے نماز ظہر پڑھائی پھر دائیں بائیں نظریں دوڑانے لگے میں باربار اپنی جگہ اونچا ہوتا تھا تاکہ آپ کی نگاہیں مجھ پر پڑھیں، آپ برابر بغور دیکھتے ہی رہے یہاں تک کہ نگاہیں سیدنا ابو عبید بن جراح رضی اللہ عنہ پر پڑیں انہیں طلب فرمایا اور کہا کہ ان کے ساتھ جاؤ اور ان کے اختلافات کا فیصلہ حق سے کر دو چنانچہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تشریف لے گئے [دلائل النبوۃ للبیهقی:385/5:مرسل و ضعیف]
ابن مردویہ میں بھی یہ واقعہ اسی طرح منقول ہے لیکن وہاں سرداروں کی گنتی بارہ کی ہے اور اس واقعہ میں بھی قدرے طوالت ہے اور کچھ زائد باتیں بھی ہیں،
صفحہ نمبر1121
صحیح بخاری شریف میں بروایت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مروی ہے نجرانی سردار عاقب اور سید مباہلہ کے ارادے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے لیکن ایک نے دوسرے سے کہا یہ نہ کر اللہ کی قسم اگر یہ نبی ہیں اور ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم اپنی اولادوں سمیت تباہ ہو جائیں گے چنانچہ پھر دونوں نے متفق ہو کر کہا آپ ہم سے جو طلب فرماتے ہیں ہم وہ سب ادا کر دیں گے [ یعنی جزیہ دینا قبول کر لیا ] آپ کسی امین شخص کو ہمارے ساتھ کر دیجئیے اور امین کو ہی بھیجنا، آپ نے فرمایا بہتر میں تمہارے ساتھ کامل امین کو ہی کروں گا اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے کو تکنے لگے یہ دیکھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس کا انتخاب کرتے ہیں آپ نے فرمایا اے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تم کھڑے ہو جاؤ جب یہ کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا یہ ہیں اس امت کے امین [صحیح بخاری:4380] ،
صحیح بخاری شریف کی اور حدیث میں ہے ہر امت کا امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے [ رضی اللہ عنہ ] [صحیح بخاری:4382]
صفحہ نمبر1122
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل ملعون نے کہا۔ اگر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن کچل دوں گا فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتا تو سب کے سب دیکھتے کہ فرشتے اسے دبوچ لیتے، اور یہودیوں سے جب قرآن نے کہا تھا کہ آؤ جھوٹوں کے لیے موت مانگو اگر وہ مانگتے تو یقیناً سب کے سب مر جاتے اور اپنی جگہیں جہنم کی آگ میں دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مباہلے کے لیے نکلتے تو لوٹ کر اپنے مالوں کو اور اپنے بال بچوں کو نہ پاتے، صحیح بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے [صحیح بخاری:4958] ، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں
صفحہ نمبر1123
امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی وفد نجران کے قصے کو طویل تر بیان کیا ہے، ہم اسے یہاں نقل کرتے ہیں کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں گو اس میں غرابت بھی ہے اور اس مقام سے وہ نہایت مناسبت رکھتا ہے، سلمہ بن عبد یسوع اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں جو پہلے نصرانی تھے پھر مسلمان ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ طس قرآن میں نازل ہونے سے پیشتر اہل نجران کو نامہ مبارک لکھا جس کی عبارت یہ تھی «بسم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب من محمد النبی رسول اللہ الی اسقف نجران واھل نجران اسلم انتم فانی احمد الیکم الہ ابراہیم واسحاق ویعقوب۔ اما بعد فانی ادعوکم الی عبادۃ اللہ من عبادۃ العباد وادعوکم الی ولایتہ اللہ من ولایتہ العباد فان ابیتم فالجزیتہ فان ابیتم فقد اذنتکم بحرب والسلام» یعنی اس خط کو میں شروع کرتا ہوں سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا اسحاق علیہ السلام اور سیدنا یعقوب علیہ السلام کے اللہ تعالیٰ کے نام سے، یہ خط ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو اللہ رب العزت کے نبی اور رسول، نجران کے سردار کی طرف۔ میں اللہ تعالیٰ کی تمہارے سامنے حمد و ثناء بیان کرتا ہوں جو سیدنا ابراہیم، سیدنا اسحاق اور سیدنا یعقوب کا معبود ہے، پھر میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ بندوں کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی عبادت کی طرف آؤ اور بندوں کی ولایت کو چھوڑ کر اللہ کی ولایت کی طرف آ جاؤ، اگر تم اسے نہ مانو تو جزیہ دو اور ماتحتی اختیار کرو اگر اس سے بھی انکار ہو تو تمہیں لڑائی کا اعلان ہے والسلام۔
صفحہ نمبر1124
جب یہ خط اسقف کو پہنچا اور اس نے اسے پڑھایا تو بڑا سٹپٹایا گھبرا گیا اور تھرانے لگا، جھٹ سے شرحیل بن وداعہ کو بلوایا جو ہمدان قبیلہ کا تھا سب سے بڑا مشیر سلطنت یہی تھا جب کبھی کوئی اہم کام آپڑتا تو سب سے پہلے یعنی ایہم اور سید اور عاقب سے بھی پیشر اس سے مشورہ ہوتا جب یہ آ گیا تو اسقف نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط اسے دیا جب اس نے پڑھ لیا تو اسقف نے پوچھا بتاؤ کیا خیال ہے؟ شرحیل نے کہا بادشاہ کو خوب علم ہے کہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے اللہ کے ایک نبی کے آنے کا وعدہ اللہ کی کتاب میں ہے کیا عجب کہ وہ نبی یہی ہو، امر نبوت میں کیا رائے دے سکتا ہوں ہاں اگر امور سلطنت کی کوئی بات ہوتی تو بیشک میں اپنے دماغ پر زور ڈال کر کوئی بات نکال لیتا، اسقف نے انہیں تو الگ بٹھا دیا اور عبداللہ بن شرحیل کو بلایا یہ بھی مشیر سلطنت تھا اور حمیر کے قبیلے میں سے تھا اسے خط دیا پڑھایا رائے پوچھی تو اس نے بھی ٹھیک وہی بات کہی جو پہلا مشیر کہہ چکا تھا اسے بھی بادشاہ نے دور بٹھا دیا پھر جبار بن فیض کو بلایا جو بنو حارث میں سے تھا اس نے بھی یہی کہا جو ان دونوں نے کہا تھا، بادشاہ نے جب دیکھا کہ ان تینوں کی رائے متفق ہے تو حکم دیا گیا کہ ناقوس بجائے جائیں آگ جلا دی جائے اور گرجوں میں جھنڈے بلند کر دئیے جائیں وہاں کا یہ دستور تھا کہ جب سلطنت کا کوئی اہم کام ہوتا تو رات کو جمع کرنا مقصود ہوتا تو یہی کرتے اور اگر دن کا وقت ہوتا تو گرجوں میں آگ جلا دی جاتی
صفحہ نمبر1125
اور ناقوس زور زور سے بجائے جاتے، اس حکم کے ہوتے ہی چاروں طرف آگ جلا دی گئی اور ناقوس کی آواز نے ہر ایک کو ہوشیار کر دیا اور جھنڈے اونچے دیکھ دیکھ کر آس پاس کے وادی کے تمام لوگ جمع ہو گئے اس وادی کا طول اتنا تھا کہ تیز سوار صبح سے شام تک دوسرے کنارے پہنچتا تھا اس میں تہتر گاؤں آباد تھے اور ایک لاکھ بیس ہزار تلوار چلانے والے یہاں آباد تھے جب یہ سب لوگ آ گئے تو اسقف نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پڑھ کر سنایا اور پوچھا بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ تو تمام عقلمندوں نے کہا کہ شرحیل بن وداعہ ہمدانی عبداللہ بن شرحیل اصبحی اور جبار بن فیض حارثی کو بطور وفد کے بھیجا جائے، یہ وہاں سے پختہ خبر لائیں
صفحہ نمبر1126
اب یہاں سے یہ وفد ان تینوں کی سرداری کے ماتحت روانہ ہوا مدینہ پہنچ کر انہوں نے سفری لباس اتار ڈالا اور نقش بنے ہوئے ریشمی لمبے لمبے حلے پہن لیے اور سونے کی انگوٹھیاں انگلیوں میں ڈال لیں اور اپنی چادروں کے پلے تھامے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا بہت دیر تک انتظار کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بات کریں لیکن ان ریشمی حلوں اور سونے کی انگوٹھیوں کی وجہ سے آپ نے ان سے کلام بھی نہ کیا اب یہ لوگ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی تلاش میں نکلے اور ان دونوں بزرگوں سے ان کی پہلی ملاقات تھی مہاجرین اور انصار کے ایک مجمع میں ان دونوں حضرات کو پا لیا ان سے واقعہ بیان کیا تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خط لکھا ہم اس کا جواب دینے کے لیے خود حاضر ہوئے آپ کے پاس گئے سلام کیا لیکن جواب نہ دیا پھر بہت دیر تک انتظار میں بیٹھے رہے کہ آپ سے کچھ باتیں ہو جاتیں لیکن آپ نے ہم سے کوئی بات نہ کی آخر ہم لوگ تھک کر چلے آئے اب آپ حضرات فرمائے کہ کیا ہم یونہی واپس چلے جائیں، ان دونوں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ہی انہیں جواب دیجئیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ یہ لوگ اپنے حلے اور اپنی انگوٹھیاں اتار دیں اور وہی سفری معمولی لباس پہن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ جائیں چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور اسی معمولی لباس میں گئے سلام کیا آپ نے جواب دیا پھر فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ جب میرے پاس پہلی مرتبہ آئے تھے تو ان کے ساتھ ابلیس تھا
صفحہ نمبر1127
اب سوال جواب بات چیت شروع ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پوچھتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے اسی طرح وہ بھی سوال کرتے اور جواب پاتے، آخر میں انہوں نے پوچھا آپ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بابت کیا فرماتے ہیں؟ تاکہ ہم اپنی قوم کے پاس جا کر وہ کہیں ہمیں اس کی خوشی ہے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کی زبانیں سنیں کہ آپ کا ان کی بابت کیا خیال ہے؟ تو آپ نے فرمایا میرے پاس اس کا جواب آج تو نہیں تم ٹھہرو تو میرا رب مجھ سے اس کی بابت جو فرمائے گا وہ میں تمہیں سنا دوں گا، دوسرے دن وہ پھر آئے تو آپ نے اسی وقت کی اتری ہوئی اس آیت «إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [3-آل عمران:59] کی «لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ» [3-آل عمران:60] تک تلاوت کر سنائی انہوں نے اس بات کا اقرار کرنے سے انکار کر دیا،
دوسرے دن صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاعنہ کے لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر میں لیے ہوئے تشریف لائے پیچھے پیچھے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آ رہی تھیں اس وقت آپ کی کئی ایک بیویاں تھیں، شرحیل یہ دیکھتے ہی اپنے دونوں ساتھیوں سے کہنے لگا تم جانتے ہو کہ نجران کی ساری وادی میری بات کو مانتی ہے اور میری رائے پر کاربند ہوتی ہے،
سنو اللہ کی قسم یہ معاملہ بڑا بھاری ہے اگر یہ شخص صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کیا گیا ہے تو سب سے پہلے اس کی نگاہوں میں ہم ہی مطعون ہوں گے اور سب سے پہلے اس کی تردید کرنے والے ہم ہی ٹھہریں گے یہ بات اس کے اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں نہیں جائے گی اور ہم پر کوئی نہ کوئی مصیبت و آفت آئے گی عرب بھر میں سب سے زیادہ قریب ان سے میں ہی ہوں اور سنو اگر یہ شخص بنی مرسل ہے تو مباہلہ کرتے ہی روئے زمین پر ایک بال یا ایک ناخن بھی ہمارا نہ رہے گا۔
صفحہ نمبر1128
اس کے دونوں ساتھیوں نے کہا پھر اے ابو مریم آپ کی کیا رائے ہے؟ اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ اسی کو ہم حاکم بنا دیں جو کچھ یہ حکم دے ہم اسے منظور کر لیں یہ کبھی بھی خلاف عدل حکم نہ دے گا، ان دونوں نے اس بات کو تسلیم کر لیا، اب شرجیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں اس ملاعنہ سے بہتر چیز جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں آپ نے دریافت فرمایا وہ کیا؟ کہا آج کا دن آنے والی رات اور کل کی صبح تک آپ ہمارے بارے میں جو حکم کریں ہمیں منظور ہے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید اور لوگ تمہارے اس فیصلے کو نہ مانیں، شرحیل نے کہا اس کی بابت میرے ان دونوں ساتھیوں سے دریافت فرما لیجئے آپ نے ان دونوں سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ سارے وادی کے لوگ انہی کی رائے پر چلتے ہیں وہاں ایک بھی ایسا نہیں جو ان کے فیصلے کو ٹال سکے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درخواست قبول فرمائی۔ مباہلہ نہ کیا اور واپس لوٹ گئے دوسرے دن صبح ہی وہ حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے ایک تحریر انہیں لکھ دی کہ جس میں بسم اللہ کے بعد یہ مضمون تھا کہ ”تحریر“ اللہ کے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نجرانیوں کے لیے ہے ان پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم جاری تھا ہر پھل، ہر سیاہ و سفید اور ہر غلام پر لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب انہی کو دیتے ہیں یہ ہر سال صرف دو ہزار حلے دے دیا کریں ایک ہزار رجب میں اور ایک ہزار صفر میں وغیرہ وغیرہ، [دلائل النبوۃ للبیهقی:384/5:ضعیف]
پورا عہد نامہ انہیں عطا فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ وفد سن ٩ ہجری میں آیا تھا اس لیے کہ زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سب سے پہلے جزیہ انہی اہل نجران نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا،
صفحہ نمبر1129
اور جزیہ کی آیت فتح مکہ کے بعد اتری ہے جو یہ ہے «قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ» [9-التوبة:29] اس آیت میں اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم ہوا ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ عاقب اور طیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے انہیں ملاعنہ کے لیے کہا اور صبح کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو لیے ہوئے آپ تشریف لائے اور انہیں کہلا بھیجا انہوں نے قبول نہ کیا اور خراج دینا منظور کر لیا، آپ نے فرمایا اس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر یہ دونوں ”نہیں“ کہتے تو ان پر یہی وادی آگ برساتی،
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ندع ابنائنا» الخ، والی آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے «انفسنا» سے مراد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ «ابنائنا» سے مراد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ «نسائنا» سے مراد سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا [ابو نعیم فی الدلائل:244:ضعیف] مستدرک حاکم وغیرہ میں بھی اس معنی کی حدیث مروی ہے۔
صفحہ نمبر1130
پھر جناب باری کا ارشاد ہے یہ جو ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کی شان فرمائی ہے حق اور سچ ہے اس میں بال برابر کمی بیشی نہیں، اللہ قابل عبادت ہے کوئی اور نہیں اور وہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے، اب بھی اگر یہ منہ پھیر لیں اور دوسری باتوں میں پڑیں تو اللہ بھی ایسے باطل پسندوں کو اور مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے انہیں بدترین سزا دے گا اس میں پوری قدرت ہے کوئی اس سے نہ بھاگ سکے نہ اس کا مقابلہ کر سکے، وہ پاک ہے اور تعریفوں والا ہے ہم اس کے عذاب سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں۔
صفحہ نمبر1131