Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Aal-i-Imraan
Tafsir Ibn Kathir · The Family of Imraan · 200 ayat · ayat 121–150 · Quran text →
غزوہ احد کی افتاد ٭٭
یہ احد کے واقعہ کا ذکر ہے [تفسیر ابن ابی حاتم:510/2] بعض مفسرین نے اسے جنگِ خندق کا قصہ بھی کہا ہے لیکن ٹھیک یہ ہے کہ واقعہ جنگ احد کا ہے جو سن 3 ہجری 11 شوال بروز ہفتہ پیش آیا تھا، جنگ بدر میں مشرکین کو کامل شکست ہوئی تھی ان کے سردار موت کے گھاٹ اترے تھے، اب اس کا بدلہ لینے کیلئے مشرکین نے بڑی بھاری تیاری کی تھی وہ تجارتی مال جو بدر والی لڑائی کے موقعہ پر دوسرے راستے سے بچ کر آ گیا تھا وہ سب اس لڑائی کیلئے روک رکھا تھا اور چاروں طرف سے لوگوں کو جمع کر کے تین ہزار کا ایک لشکر جرار تیار کیا اور پورے سازو سامان کے ساتھ مدینہ پر چڑھائی کی، ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی نماز کے بعد مالک بن عمرو رضی اللہ عنہ کے جنازے کی نماز پڑھائی جو قبیلہ بنی النجار میں سے تھے۔
صفحہ نمبر1258
پھر لوگوں سے مشورہ کیا کہ ان کی مدافعت کی کیا صورت تمہارے نزدیک بہتر ہے؟ تو عبداللہ بن ابی نے کہا کہ ہمیں مدینہ سے باہر نہ نکلنا چاہیئے اگر وہ آئے اور ٹھہرے تو گویا ہمارے جیل خانہ میں آ گئے۔ رکے اور کھڑے رہیں اور اگر مدینہ میں گھسے تو ایک طرف سے ہمارے بہادروں کی تلواریں ہوں گی دوسری جانب تیر اندازوں کے بےپناہ تیر ہوں گے پھر اوپر سے عورتوں اور بچوں کی سنگ باری ہو گی اور اگر یونہی لوٹ گئے تو بربادی اور خسارے کے ساتھ لوٹیں گے لیکن اس کے برخلاف بعض صحابہ رضی اللہ عنہم جو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے ان کی رائے تھی کہ مدینہ کے باہر میدان میں جا کر خوب دل کھول کر ان کا مقابلہ کرنا چاہیئے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے اور ہتھیار لگا کر باہر آئے ان صحابہ کو اب خیال ہوا کہ کہیں ہم نے اللہ کے نبی کی خلاف منشاء تو میدان کی لڑائی پر زور نہیں دیا اس لیے یہ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہیں ٹھہر کر لڑنے کا ارادہ ہو تو یونہی کیجئے ہماری جانب سے کوئی اصرار نہیں، آپ نے فرمایا اللہ کے نبی کو لائق نہیں کہ وہ ہتھیار پہن کر اتارے اب تو میں نہ لوٹوں گا جب تک کہ وہ نہ جائے جو اللہ عزوجل کو منظور ہو [مستدرک حاکم:129/2-128]
صفحہ نمبر1259
چنانجہ ایک ہزار کا لشکر لے کر آپ مدینہ شریف سے نکل کھڑے ہوئے، شوط پر پہنچ کر اس منافق عبداللہ بن ابی نے دغا بازی کی اور اپنی تین سو کی جماعت کو لے کر واپس مڑ گیا یہ لوگ کہنے لگے ہم جانتے ہیں کہ لڑائی تو ہونے کی نہیں خواہ مخواہ زحمت کیوں اٹھائیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور صرف سات سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر میدان میں اترے اور حکم دیا کہ جب تک میں نہ کہوں لڑائی شروع نہ کرنا پچاس تیر انداز صحابیوں کو الگ کر کے ان کا امیر سیدنا عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو بنایا اور ان سے فرما دیا کہ پہاڑی پر چڑھ جاؤ اور اس بات کا خیال رکھو کہ دشمن پیچھے سے حملہ آور نہ ہو دیکھو ہم غالب آ جائیں یا [ اللہ نہ کرے ] مغلوب ہو جائیں تم ہرگز اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، یہ انتظامات کر کے خود آپ بھی تیار ہو گئے دوہری زرہ پہنی سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیا آج چند لڑکے بھی لشکر محمدی میں نظر آتے تھے یہ چھوٹے سپاہی بھی جانبازی کیلئے ہمہ تن مستعد تھے بعض اور بچوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ لیا تھا انہیں جنگ خندق کے لشکر میں بھرتی کیا گیا جنگ خندق اس کے دو سال بعد ہوئی تھی،
قریش کا لشکر بڑے ٹھاٹھ سے مقابلہ پر آڈٹا یہ تین ہزار سپاہیوں کا گروہ تھا ان کے ساتھ دو سو کوتل گھوڑے تھے جنہیں موقعہ پر کام آنے کیلئے ساتھ رکھا تھا ان کے داہنے حصہ پر خالد بن ولید تھا اور بائیں حصہ پر عکرمہ بن ابوجہل تھا [ یہ دونوں سردار بعد میں مسلمان ہو گئے تھے رضی اللہ عنہما ] ان کا جھنڈے بردار قبیلہ بنو عبدالدار تھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:7716]
پھر لڑائی شروع ہوئی جس کے تفصیلی واقعات انہی آیتوں کی موقعہ بہ موقعہ تفسیر کے ساتھ آتے رہیں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر1260
الغرض اس آیت میں اسی کا بیان ہو رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف سے نکلے اور لوگوں کو لڑائی کے مواقعہ کی جگہ مقرر کرنے لگے میمنہ میسرہ لشکر کا مقرر کیا اللہ تعالیٰ تمام باتوں کو سننے والا اور سب کے دلوں کے بھید جاننے والا ہے، روایتوں میں یہ آ چکا ہے کہ حضور علیہ السلام جمعہ کے دن مدینہ شریف سے لڑائی کیلئے نکلے اور قرآن فرماتا ہے صبح ہی صبح تم لشکریوں کی جگہ مقرر کرتے تھے تو مطلب یہ ہے کہ جمعہ کے دن تو جا کر پڑاؤ ڈال دیا باقی کاروائی ہفتہ کی صبح شروع ہوئی۔
صفحہ نمبر1261
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمارے بارے میں یعنی بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ تمہارے دو گروہوں بزدلی کا ارادہ کیا تھا گو اس میں ہماری ایک کمزوری کا بیان ہے لیکن ہم اپنے حق میں اس آیت کو بہت بہتر جانتے ہیں کیونکہ اس میں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اللہ ان دونوں کا ولی ہے [صحیح بخاری:4051] پھر فرمایا کہ دیکھو میں نے بدر والے دن بھی تمہیں غالب کیا حالانکہ تم سب ہی کم اور بےسرد سامان تھے، بدر کی لڑائی سن 2 ہجری 17 رمضان بروز جمعہ ہوئی تھی۔ اسی کا نام یوم الفرقان رکھا گیا اس دن اسلام اور اہل اسلام کی عزت ملی شرک برباد ہوا محل شرک ویران ہوا حالانکہ اس دن مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے ان کے پاس صرف دو گھوڑے تھے فقط ستر اونٹ تھے باقی سب پیدل تھے ہتھیار بھی اتنے کم تھے کہ گویا نہ تھے اور دشمن کی تعداد اس دن تین گنا تھی۔
صفحہ نمبر1262
ایک ہزار میں کچھ ہی کم تھے ہر ایک زرہ بکتر لگائے ہوئے , ضرورت سے زیادہ وافر ہتھیار عمدہ عمدہ، کافی سے زیادہ مالداری،گھوڑے نشان زدہ، جن کو سونے کے زیور پہنائے گئے تھے اس موقعہ پر اللہ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت اور غلبہ دیا حالات کے بارے میں ظاہر و باطن وحی کی۔ اپنے نبی اور آپ کے ساتھیوں کو سرخرو کیا اور شیطان اور اس کے لشکریوں کو ذلیل و خوار کیا اب اپنے مومن بندوں اور جنتی لشکریوں کو اس آیت میں یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ تمہاری تعداد کی کمی اور ظاہری اسباب کی غیر موجودگی کے باوجود تم ہی کو غالب رکھا تاکہ تم معلوم کر لو کہ غلبہ ظاہری اسباب پر موقوف نہیں،
اسی لیے دوسری آیت میں صاف فرما دیا کہ جنگ حنین میں تم نے ظاہری اسباب پر نظر ڈالی اور اپنی زیادتی دیکھ کر خوش ہوئے لیکن اس زیادتی تعداد اور اسباب کی موجودگی نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا
صفحہ نمبر1263
سیدنا عیاض اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ یرموک میں ہمارے پانچ سردار تھے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ،سیدنا یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سیدنا ابن حسنہ رضی اللہ عنہ،سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عیاض اور خلیفتہ المسلمین عمر رضی اللہ عنہ کا حکم تھا کہ لڑائی کے وقت سیدنا ابوعبیدہ سردار ہوں گے اس لڑائی میں ہمیں چاروں طرف سے شکست کے آثار نظر آنے لگے تو ہم نے خلیفہ وقت کو خط لکھا کہ ہمیں موت نے گھیر رکھا ہے امداد کیجئے، فاروق رضی اللہ عنہ کا مکتوب گرامی ہماری گزارش کے جواب میں آیا جس میں تحریر تھا کہ تمہارا طلبِ امداد کا خط پہنچا میں تمہیں ایک ایسی ذات بتاتا ہوں جو سب سے زیادہ مددگار اور سب سے زیادہ مضبوط لشکر والی ہے وہ ذات اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے جس نے اپنے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد بدر والے دن کی تھی بدری لشکر تو تم سے بہت ہی کم تھا
صفحہ نمبر1264
میرا یہ خط پڑھتے ہی جہاد شروع کر دو اور اب مجھے کچھ نہ لکھنا نہ کچھ پوچھنا، اس خط سے ہماری جراتیں بڑھ گئیں ہمتیں بلند ہو گئیں پھر ہم نے جم کر لڑنا شروع کیا الحمداللہ دشمن کو شکست ہوئی اور وہ بھاگے۔ ہم نے بارہ میل تک انکا تعاقب کیا بہت سا مال غنیمت ہمیں ملا جو ہم نے آپس میں بانٹ لیا پھر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میرے ساتھ دوڑ کون لگائے گا؟ ایک نوجوان نے کہا اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں حاضر ہوں چنانچہ دوڑنے میں وہ آگے نکل گئے میں نے دیکھا ان کی دونوں زلفیں ہوا میں اڑ رہی تھیں اور وہ اس نوجوان کے پیچھے گھوڑا دوڑائے چلے جا رہے تھے، [مسند احمد:49/1:حسن]
بدر بن نارین ایک شخص تھا اس کے نام سے ایک کنواں مشہور تھا اور اس میدان کا جس میں یہ کنواں تھا یہی نام ہو گیا تھا بدر کی جنگ بھی اسی نام سے مشہور ہو گئی یہ جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے پھر فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ شکر کی توفیق ملے اور اطاعت گزاری کر سکو۔
صفحہ نمبر1265
غزوہ احد کی افتاد ٭٭
یہ احد کے واقعہ کا ذکر ہے [تفسیر ابن ابی حاتم:510/2] بعض مفسرین نے اسے جنگِ خندق کا قصہ بھی کہا ہے لیکن ٹھیک یہ ہے کہ واقعہ جنگ احد کا ہے جو سن 3 ہجری 11 شوال بروز ہفتہ پیش آیا تھا، جنگ بدر میں مشرکین کو کامل شکست ہوئی تھی ان کے سردار موت کے گھاٹ اترے تھے، اب اس کا بدلہ لینے کیلئے مشرکین نے بڑی بھاری تیاری کی تھی وہ تجارتی مال جو بدر والی لڑائی کے موقعہ پر دوسرے راستے سے بچ کر آ گیا تھا وہ سب اس لڑائی کیلئے روک رکھا تھا اور چاروں طرف سے لوگوں کو جمع کر کے تین ہزار کا ایک لشکر جرار تیار کیا اور پورے سازو سامان کے ساتھ مدینہ پر چڑھائی کی، ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی نماز کے بعد مالک بن عمرو رضی اللہ عنہ کے جنازے کی نماز پڑھائی جو قبیلہ بنی النجار میں سے تھے۔
صفحہ نمبر1258
پھر لوگوں سے مشورہ کیا کہ ان کی مدافعت کی کیا صورت تمہارے نزدیک بہتر ہے؟ تو عبداللہ بن ابی نے کہا کہ ہمیں مدینہ سے باہر نہ نکلنا چاہیئے اگر وہ آئے اور ٹھہرے تو گویا ہمارے جیل خانہ میں آ گئے۔ رکے اور کھڑے رہیں اور اگر مدینہ میں گھسے تو ایک طرف سے ہمارے بہادروں کی تلواریں ہوں گی دوسری جانب تیر اندازوں کے بےپناہ تیر ہوں گے پھر اوپر سے عورتوں اور بچوں کی سنگ باری ہو گی اور اگر یونہی لوٹ گئے تو بربادی اور خسارے کے ساتھ لوٹیں گے لیکن اس کے برخلاف بعض صحابہ رضی اللہ عنہم جو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے ان کی رائے تھی کہ مدینہ کے باہر میدان میں جا کر خوب دل کھول کر ان کا مقابلہ کرنا چاہیئے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے اور ہتھیار لگا کر باہر آئے ان صحابہ کو اب خیال ہوا کہ کہیں ہم نے اللہ کے نبی کی خلاف منشاء تو میدان کی لڑائی پر زور نہیں دیا اس لیے یہ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہیں ٹھہر کر لڑنے کا ارادہ ہو تو یونہی کیجئے ہماری جانب سے کوئی اصرار نہیں، آپ نے فرمایا اللہ کے نبی کو لائق نہیں کہ وہ ہتھیار پہن کر اتارے اب تو میں نہ لوٹوں گا جب تک کہ وہ نہ جائے جو اللہ عزوجل کو منظور ہو [مستدرک حاکم:129/2-128]
صفحہ نمبر1259
چنانجہ ایک ہزار کا لشکر لے کر آپ مدینہ شریف سے نکل کھڑے ہوئے، شوط پر پہنچ کر اس منافق عبداللہ بن ابی نے دغا بازی کی اور اپنی تین سو کی جماعت کو لے کر واپس مڑ گیا یہ لوگ کہنے لگے ہم جانتے ہیں کہ لڑائی تو ہونے کی نہیں خواہ مخواہ زحمت کیوں اٹھائیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور صرف سات سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر میدان میں اترے اور حکم دیا کہ جب تک میں نہ کہوں لڑائی شروع نہ کرنا پچاس تیر انداز صحابیوں کو الگ کر کے ان کا امیر سیدنا عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو بنایا اور ان سے فرما دیا کہ پہاڑی پر چڑھ جاؤ اور اس بات کا خیال رکھو کہ دشمن پیچھے سے حملہ آور نہ ہو دیکھو ہم غالب آ جائیں یا [ اللہ نہ کرے ] مغلوب ہو جائیں تم ہرگز اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، یہ انتظامات کر کے خود آپ بھی تیار ہو گئے دوہری زرہ پہنی سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیا آج چند لڑکے بھی لشکر محمدی میں نظر آتے تھے یہ چھوٹے سپاہی بھی جانبازی کیلئے ہمہ تن مستعد تھے بعض اور بچوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ لیا تھا انہیں جنگ خندق کے لشکر میں بھرتی کیا گیا جنگ خندق اس کے دو سال بعد ہوئی تھی،
قریش کا لشکر بڑے ٹھاٹھ سے مقابلہ پر آڈٹا یہ تین ہزار سپاہیوں کا گروہ تھا ان کے ساتھ دو سو کوتل گھوڑے تھے جنہیں موقعہ پر کام آنے کیلئے ساتھ رکھا تھا ان کے داہنے حصہ پر خالد بن ولید تھا اور بائیں حصہ پر عکرمہ بن ابوجہل تھا [ یہ دونوں سردار بعد میں مسلمان ہو گئے تھے رضی اللہ عنہما ] ان کا جھنڈے بردار قبیلہ بنو عبدالدار تھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:7716]
پھر لڑائی شروع ہوئی جس کے تفصیلی واقعات انہی آیتوں کی موقعہ بہ موقعہ تفسیر کے ساتھ آتے رہیں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر1260
الغرض اس آیت میں اسی کا بیان ہو رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف سے نکلے اور لوگوں کو لڑائی کے مواقعہ کی جگہ مقرر کرنے لگے میمنہ میسرہ لشکر کا مقرر کیا اللہ تعالیٰ تمام باتوں کو سننے والا اور سب کے دلوں کے بھید جاننے والا ہے، روایتوں میں یہ آ چکا ہے کہ حضور علیہ السلام جمعہ کے دن مدینہ شریف سے لڑائی کیلئے نکلے اور قرآن فرماتا ہے صبح ہی صبح تم لشکریوں کی جگہ مقرر کرتے تھے تو مطلب یہ ہے کہ جمعہ کے دن تو جا کر پڑاؤ ڈال دیا باقی کاروائی ہفتہ کی صبح شروع ہوئی۔
صفحہ نمبر1261
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمارے بارے میں یعنی بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ تمہارے دو گروہوں بزدلی کا ارادہ کیا تھا گو اس میں ہماری ایک کمزوری کا بیان ہے لیکن ہم اپنے حق میں اس آیت کو بہت بہتر جانتے ہیں کیونکہ اس میں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اللہ ان دونوں کا ولی ہے [صحیح بخاری:4051] پھر فرمایا کہ دیکھو میں نے بدر والے دن بھی تمہیں غالب کیا حالانکہ تم سب ہی کم اور بےسرد سامان تھے، بدر کی لڑائی سن 2 ہجری 17 رمضان بروز جمعہ ہوئی تھی۔ اسی کا نام یوم الفرقان رکھا گیا اس دن اسلام اور اہل اسلام کی عزت ملی شرک برباد ہوا محل شرک ویران ہوا حالانکہ اس دن مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے ان کے پاس صرف دو گھوڑے تھے فقط ستر اونٹ تھے باقی سب پیدل تھے ہتھیار بھی اتنے کم تھے کہ گویا نہ تھے اور دشمن کی تعداد اس دن تین گنا تھی۔
صفحہ نمبر1262
ایک ہزار میں کچھ ہی کم تھے ہر ایک زرہ بکتر لگائے ہوئے , ضرورت سے زیادہ وافر ہتھیار عمدہ عمدہ، کافی سے زیادہ مالداری،گھوڑے نشان زدہ، جن کو سونے کے زیور پہنائے گئے تھے اس موقعہ پر اللہ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت اور غلبہ دیا حالات کے بارے میں ظاہر و باطن وحی کی۔ اپنے نبی اور آپ کے ساتھیوں کو سرخرو کیا اور شیطان اور اس کے لشکریوں کو ذلیل و خوار کیا اب اپنے مومن بندوں اور جنتی لشکریوں کو اس آیت میں یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ تمہاری تعداد کی کمی اور ظاہری اسباب کی غیر موجودگی کے باوجود تم ہی کو غالب رکھا تاکہ تم معلوم کر لو کہ غلبہ ظاہری اسباب پر موقوف نہیں،
اسی لیے دوسری آیت میں صاف فرما دیا کہ جنگ حنین میں تم نے ظاہری اسباب پر نظر ڈالی اور اپنی زیادتی دیکھ کر خوش ہوئے لیکن اس زیادتی تعداد اور اسباب کی موجودگی نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا
صفحہ نمبر1263
سیدنا عیاض اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ یرموک میں ہمارے پانچ سردار تھے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ،سیدنا یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سیدنا ابن حسنہ رضی اللہ عنہ،سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عیاض اور خلیفتہ المسلمین عمر رضی اللہ عنہ کا حکم تھا کہ لڑائی کے وقت سیدنا ابوعبیدہ سردار ہوں گے اس لڑائی میں ہمیں چاروں طرف سے شکست کے آثار نظر آنے لگے تو ہم نے خلیفہ وقت کو خط لکھا کہ ہمیں موت نے گھیر رکھا ہے امداد کیجئے، فاروق رضی اللہ عنہ کا مکتوب گرامی ہماری گزارش کے جواب میں آیا جس میں تحریر تھا کہ تمہارا طلبِ امداد کا خط پہنچا میں تمہیں ایک ایسی ذات بتاتا ہوں جو سب سے زیادہ مددگار اور سب سے زیادہ مضبوط لشکر والی ہے وہ ذات اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے جس نے اپنے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد بدر والے دن کی تھی بدری لشکر تو تم سے بہت ہی کم تھا
صفحہ نمبر1264
میرا یہ خط پڑھتے ہی جہاد شروع کر دو اور اب مجھے کچھ نہ لکھنا نہ کچھ پوچھنا، اس خط سے ہماری جراتیں بڑھ گئیں ہمتیں بلند ہو گئیں پھر ہم نے جم کر لڑنا شروع کیا الحمداللہ دشمن کو شکست ہوئی اور وہ بھاگے۔ ہم نے بارہ میل تک انکا تعاقب کیا بہت سا مال غنیمت ہمیں ملا جو ہم نے آپس میں بانٹ لیا پھر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میرے ساتھ دوڑ کون لگائے گا؟ ایک نوجوان نے کہا اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں حاضر ہوں چنانچہ دوڑنے میں وہ آگے نکل گئے میں نے دیکھا ان کی دونوں زلفیں ہوا میں اڑ رہی تھیں اور وہ اس نوجوان کے پیچھے گھوڑا دوڑائے چلے جا رہے تھے، [مسند احمد:49/1:حسن]
بدر بن نارین ایک شخص تھا اس کے نام سے ایک کنواں مشہور تھا اور اس میدان کا جس میں یہ کنواں تھا یہی نام ہو گیا تھا بدر کی جنگ بھی اسی نام سے مشہور ہو گئی یہ جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے پھر فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ شکر کی توفیق ملے اور اطاعت گزاری کر سکو۔
صفحہ نمبر1265
غزوہ احد کی افتاد ٭٭
یہ احد کے واقعہ کا ذکر ہے [تفسیر ابن ابی حاتم:510/2] بعض مفسرین نے اسے جنگِ خندق کا قصہ بھی کہا ہے لیکن ٹھیک یہ ہے کہ واقعہ جنگ احد کا ہے جو سن 3 ہجری 11 شوال بروز ہفتہ پیش آیا تھا، جنگ بدر میں مشرکین کو کامل شکست ہوئی تھی ان کے سردار موت کے گھاٹ اترے تھے، اب اس کا بدلہ لینے کیلئے مشرکین نے بڑی بھاری تیاری کی تھی وہ تجارتی مال جو بدر والی لڑائی کے موقعہ پر دوسرے راستے سے بچ کر آ گیا تھا وہ سب اس لڑائی کیلئے روک رکھا تھا اور چاروں طرف سے لوگوں کو جمع کر کے تین ہزار کا ایک لشکر جرار تیار کیا اور پورے سازو سامان کے ساتھ مدینہ پر چڑھائی کی، ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی نماز کے بعد مالک بن عمرو رضی اللہ عنہ کے جنازے کی نماز پڑھائی جو قبیلہ بنی النجار میں سے تھے۔
صفحہ نمبر1258
پھر لوگوں سے مشورہ کیا کہ ان کی مدافعت کی کیا صورت تمہارے نزدیک بہتر ہے؟ تو عبداللہ بن ابی نے کہا کہ ہمیں مدینہ سے باہر نہ نکلنا چاہیئے اگر وہ آئے اور ٹھہرے تو گویا ہمارے جیل خانہ میں آ گئے۔ رکے اور کھڑے رہیں اور اگر مدینہ میں گھسے تو ایک طرف سے ہمارے بہادروں کی تلواریں ہوں گی دوسری جانب تیر اندازوں کے بےپناہ تیر ہوں گے پھر اوپر سے عورتوں اور بچوں کی سنگ باری ہو گی اور اگر یونہی لوٹ گئے تو بربادی اور خسارے کے ساتھ لوٹیں گے لیکن اس کے برخلاف بعض صحابہ رضی اللہ عنہم جو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے ان کی رائے تھی کہ مدینہ کے باہر میدان میں جا کر خوب دل کھول کر ان کا مقابلہ کرنا چاہیئے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے اور ہتھیار لگا کر باہر آئے ان صحابہ کو اب خیال ہوا کہ کہیں ہم نے اللہ کے نبی کی خلاف منشاء تو میدان کی لڑائی پر زور نہیں دیا اس لیے یہ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہیں ٹھہر کر لڑنے کا ارادہ ہو تو یونہی کیجئے ہماری جانب سے کوئی اصرار نہیں، آپ نے فرمایا اللہ کے نبی کو لائق نہیں کہ وہ ہتھیار پہن کر اتارے اب تو میں نہ لوٹوں گا جب تک کہ وہ نہ جائے جو اللہ عزوجل کو منظور ہو [مستدرک حاکم:129/2-128]
صفحہ نمبر1259
چنانجہ ایک ہزار کا لشکر لے کر آپ مدینہ شریف سے نکل کھڑے ہوئے، شوط پر پہنچ کر اس منافق عبداللہ بن ابی نے دغا بازی کی اور اپنی تین سو کی جماعت کو لے کر واپس مڑ گیا یہ لوگ کہنے لگے ہم جانتے ہیں کہ لڑائی تو ہونے کی نہیں خواہ مخواہ زحمت کیوں اٹھائیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور صرف سات سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر میدان میں اترے اور حکم دیا کہ جب تک میں نہ کہوں لڑائی شروع نہ کرنا پچاس تیر انداز صحابیوں کو الگ کر کے ان کا امیر سیدنا عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو بنایا اور ان سے فرما دیا کہ پہاڑی پر چڑھ جاؤ اور اس بات کا خیال رکھو کہ دشمن پیچھے سے حملہ آور نہ ہو دیکھو ہم غالب آ جائیں یا [ اللہ نہ کرے ] مغلوب ہو جائیں تم ہرگز اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، یہ انتظامات کر کے خود آپ بھی تیار ہو گئے دوہری زرہ پہنی سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیا آج چند لڑکے بھی لشکر محمدی میں نظر آتے تھے یہ چھوٹے سپاہی بھی جانبازی کیلئے ہمہ تن مستعد تھے بعض اور بچوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ لیا تھا انہیں جنگ خندق کے لشکر میں بھرتی کیا گیا جنگ خندق اس کے دو سال بعد ہوئی تھی،
قریش کا لشکر بڑے ٹھاٹھ سے مقابلہ پر آڈٹا یہ تین ہزار سپاہیوں کا گروہ تھا ان کے ساتھ دو سو کوتل گھوڑے تھے جنہیں موقعہ پر کام آنے کیلئے ساتھ رکھا تھا ان کے داہنے حصہ پر خالد بن ولید تھا اور بائیں حصہ پر عکرمہ بن ابوجہل تھا [ یہ دونوں سردار بعد میں مسلمان ہو گئے تھے رضی اللہ عنہما ] ان کا جھنڈے بردار قبیلہ بنو عبدالدار تھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:7716]
پھر لڑائی شروع ہوئی جس کے تفصیلی واقعات انہی آیتوں کی موقعہ بہ موقعہ تفسیر کے ساتھ آتے رہیں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر1260
الغرض اس آیت میں اسی کا بیان ہو رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف سے نکلے اور لوگوں کو لڑائی کے مواقعہ کی جگہ مقرر کرنے لگے میمنہ میسرہ لشکر کا مقرر کیا اللہ تعالیٰ تمام باتوں کو سننے والا اور سب کے دلوں کے بھید جاننے والا ہے، روایتوں میں یہ آ چکا ہے کہ حضور علیہ السلام جمعہ کے دن مدینہ شریف سے لڑائی کیلئے نکلے اور قرآن فرماتا ہے صبح ہی صبح تم لشکریوں کی جگہ مقرر کرتے تھے تو مطلب یہ ہے کہ جمعہ کے دن تو جا کر پڑاؤ ڈال دیا باقی کاروائی ہفتہ کی صبح شروع ہوئی۔
صفحہ نمبر1261
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمارے بارے میں یعنی بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ تمہارے دو گروہوں بزدلی کا ارادہ کیا تھا گو اس میں ہماری ایک کمزوری کا بیان ہے لیکن ہم اپنے حق میں اس آیت کو بہت بہتر جانتے ہیں کیونکہ اس میں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اللہ ان دونوں کا ولی ہے [صحیح بخاری:4051] پھر فرمایا کہ دیکھو میں نے بدر والے دن بھی تمہیں غالب کیا حالانکہ تم سب ہی کم اور بےسرد سامان تھے، بدر کی لڑائی سن 2 ہجری 17 رمضان بروز جمعہ ہوئی تھی۔ اسی کا نام یوم الفرقان رکھا گیا اس دن اسلام اور اہل اسلام کی عزت ملی شرک برباد ہوا محل شرک ویران ہوا حالانکہ اس دن مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے ان کے پاس صرف دو گھوڑے تھے فقط ستر اونٹ تھے باقی سب پیدل تھے ہتھیار بھی اتنے کم تھے کہ گویا نہ تھے اور دشمن کی تعداد اس دن تین گنا تھی۔
صفحہ نمبر1262
ایک ہزار میں کچھ ہی کم تھے ہر ایک زرہ بکتر لگائے ہوئے , ضرورت سے زیادہ وافر ہتھیار عمدہ عمدہ، کافی سے زیادہ مالداری،گھوڑے نشان زدہ، جن کو سونے کے زیور پہنائے گئے تھے اس موقعہ پر اللہ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت اور غلبہ دیا حالات کے بارے میں ظاہر و باطن وحی کی۔ اپنے نبی اور آپ کے ساتھیوں کو سرخرو کیا اور شیطان اور اس کے لشکریوں کو ذلیل و خوار کیا اب اپنے مومن بندوں اور جنتی لشکریوں کو اس آیت میں یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ تمہاری تعداد کی کمی اور ظاہری اسباب کی غیر موجودگی کے باوجود تم ہی کو غالب رکھا تاکہ تم معلوم کر لو کہ غلبہ ظاہری اسباب پر موقوف نہیں،
اسی لیے دوسری آیت میں صاف فرما دیا کہ جنگ حنین میں تم نے ظاہری اسباب پر نظر ڈالی اور اپنی زیادتی دیکھ کر خوش ہوئے لیکن اس زیادتی تعداد اور اسباب کی موجودگی نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا
صفحہ نمبر1263
سیدنا عیاض اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ یرموک میں ہمارے پانچ سردار تھے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ،سیدنا یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سیدنا ابن حسنہ رضی اللہ عنہ،سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عیاض اور خلیفتہ المسلمین عمر رضی اللہ عنہ کا حکم تھا کہ لڑائی کے وقت سیدنا ابوعبیدہ سردار ہوں گے اس لڑائی میں ہمیں چاروں طرف سے شکست کے آثار نظر آنے لگے تو ہم نے خلیفہ وقت کو خط لکھا کہ ہمیں موت نے گھیر رکھا ہے امداد کیجئے، فاروق رضی اللہ عنہ کا مکتوب گرامی ہماری گزارش کے جواب میں آیا جس میں تحریر تھا کہ تمہارا طلبِ امداد کا خط پہنچا میں تمہیں ایک ایسی ذات بتاتا ہوں جو سب سے زیادہ مددگار اور سب سے زیادہ مضبوط لشکر والی ہے وہ ذات اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے جس نے اپنے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد بدر والے دن کی تھی بدری لشکر تو تم سے بہت ہی کم تھا
صفحہ نمبر1264
میرا یہ خط پڑھتے ہی جہاد شروع کر دو اور اب مجھے کچھ نہ لکھنا نہ کچھ پوچھنا، اس خط سے ہماری جراتیں بڑھ گئیں ہمتیں بلند ہو گئیں پھر ہم نے جم کر لڑنا شروع کیا الحمداللہ دشمن کو شکست ہوئی اور وہ بھاگے۔ ہم نے بارہ میل تک انکا تعاقب کیا بہت سا مال غنیمت ہمیں ملا جو ہم نے آپس میں بانٹ لیا پھر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میرے ساتھ دوڑ کون لگائے گا؟ ایک نوجوان نے کہا اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں حاضر ہوں چنانچہ دوڑنے میں وہ آگے نکل گئے میں نے دیکھا ان کی دونوں زلفیں ہوا میں اڑ رہی تھیں اور وہ اس نوجوان کے پیچھے گھوڑا دوڑائے چلے جا رہے تھے، [مسند احمد:49/1:حسن]
بدر بن نارین ایک شخص تھا اس کے نام سے ایک کنواں مشہور تھا اور اس میدان کا جس میں یہ کنواں تھا یہی نام ہو گیا تھا بدر کی جنگ بھی اسی نام سے مشہور ہو گئی یہ جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے پھر فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ شکر کی توفیق ملے اور اطاعت گزاری کر سکو۔
صفحہ نمبر1265
غزوہ بدر اور تائید الٰہی ٭٭
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری، عامر شعبی، ربیع بن انس رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے [تفسیر ابن ابی حاتم:519/2] ابن جریر رحمہ اللہ کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبیرحمہ اللہ کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے
ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہو گئے پھر پانچ ہزار، [تفسیر ابن جریر الطبری:178/7]
یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت «اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ» [8-الأنفال:9] اور تطبیق دونوں آیتوں میں یہی ہے کیونکہ «مُرْدِفِيْنَ» کا لفظ موجود ہے پس پہلے ایک ہزار اترے پھر ان کے بعد تین ہزار پورے ہوئے آخر پانچ ہزار ہو گئے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ جنگ بدر کے لیے تھا نہ کہ جنگ احد کیلئے، بعض کہتے ہیں جنگ احد کے موقعہ پر وعدہ ہوا تھا مجاہد، عکرمہ،ضحاک، زہری، موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے اس لیے یہ فرشتے نازل نہ ہوئے، کیونکہ «وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا» [3-آل عمران:120] ساتھ ہی فرمایا تھا یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو فور کے معنی وجہ اور غضب کے ہیں مسومین کے معنی علامت والے۔
صفحہ نمبر1268
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی [تفسیر ابن ابی حاتم:565/2]
اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کی نشانی سرخ تھی، سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں گردن کے بالوں اور دم کا نشان تھا اور یہی نشان آپ کے لشکریوں کا تھا یعنی صوف کا۔ مکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں فرشتوں کی نشانی ان کی پگڑیاں تھیں جو سیاہ رنگ کے عمامے تھے اور حنین والے دن سرخ رنگ عمامے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے علاوہ فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے [ابن ابی شیبہ:354/14] اور سفید رنگ عماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کیلئے اور تعداد بڑھانے کیلئے تھے نہ کہ لڑائی کیلئے، یہ بھی مروی ہے کہ جنگِ بدر میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے فر پر سفید رنگ کا صافہ تھا اور فرشتوں پر زرد رنگ کا [تفسیر ابن ابی حاتم:567/2]
پھر فرمایا کہ یہ فرشتوں کا نازل کرنا اور تمہیں اس کی خبر دینا صرف تمہاری خوشی، دلجوئی اور اطمینان کیلئے ہے ورنہ اللہ کو قدرت ہے کہ ان کو اتارے بغیر بلکہ بغیر تمہارے لڑے بھی تمہیں غالب کر دے مدد اسی کی طرف سے ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ» [47-محمد: 6- 4] ، اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ ہر ایک کو آزما رہا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو قتل کئے جائیں ان کے اعمال اکارت نہیں ہوتے اللہ انہیں راہ دکھائے گا ان کے اعمال سنوار دے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا جس کی تعریف وہ کر چکا ہے، وہ عزت والا ہے اور اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔
یہ جہاد کا حکم بھی طرح طرح کی حکمتوں پر مبنی ہے اس سے کفار ہلاک ہوں گے یا ذلیل ہوں گے یا نامراد واپس ہو جائیں گے۔
صفحہ نمبر1269
اس کے بعد بیان ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے کل امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کسی امر کا اختیار نہیں جیسے فرمایا آیت «فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] تمہارا ذمہ صرف تبلیغ ہے حساب تو تمہارے ذمہ ہے
اور جگہ ہے آیت «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» [2-البقرة:272] ، ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں اللہ جسے چاہے ہدایت دے
اور «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ» [28-القصص:56] ، تو جسے چاہے ہدایت نہیں کر سکتا بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، پس میرے بندوں میں تجھے کوئی اختیار نہیں جو حکم پہنچے اسے اوروں کو پہنچا دے تیرے ذمہ یہی ہے۔ ممکن ہے اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور برائی کے بعد وہ بھلائی کرنے لگیں اور اللہ رحیم ان کی توبہ قبول فرما لے یا ممکن ہے کہ انہیں ان کے کفرو گناہ کی بناء پر عذاب کرے تو یہ ظالم اس کے بھی مستحق ہیں۔
صفحہ نمبر1270
صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے اور «سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا ولَکَ الْحَمْدُ» کہہ لیتے تو کفار پر بد دعا کرتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر اس کے بارے میں یہ آیت «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ» [3-آل عمران:128] نازل ہوئی [صحیح بخاری:4069] مسند احمد میں ان کافروں کے نام بھی آئے ہیں مثلاً حارث بن ہشام سہیل بن عمرو صفوان بن امیہ اور اسی میں ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور یہ مسلمان ہو گئے، [سنن ترمذي:3004،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں پر یہ بد دعا تھی جس سے روک دیئے گئے۔ [سنن ترمذي:3005،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی پر بد دعا کرنا یا کسی کے حق میں نیک دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد «سمع اللہ» اور «ربنا» پڑھ کر دعا مانگتے کبھی کہتے اے اللہ! ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کفار سے نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ اور اپنا عذاب نازل فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی یوسف کے زمانہ میں تھی یہ دعا با آواز بلند ہوا کرتی تھی اور بعض مرتبہ صبح کی نماز کے قنوت میں یوں بھی کہتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے بعض قبیلوں کے نام لیتے تھے۔ [صحیح بخاری:4560]
صفحہ نمبر1271
اور روایت میں ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے چہرہ زخمی ہوا خون بہنے لگا تو زبان سے نکل کیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کیا؟ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ خالق کل کی طرف سے انہیں بلاتا تھا اس وقت یہ آیت «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ» [3-آل عمران:128] نازل ہوئی، [صحیح بخاری:4069]
آپ اس غزوے میں ایک گڑھ میں گر پڑے تھے اور خون بہت نکل گیا تھا کچھ تو اس ضعف کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھے اٹھ نہ سکے۔سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ سیدنا سالم رضی اللہ عنہ پہنچے اور چہرے پر سے خون پونچھا جب افاقہ ہوا تو آپ نے یہ فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:7811]
پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ہے سب اس کے غلام ہیں جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے متصرف وہی ہے جو چاہے حکم کرے کوئی اس پر پرشس نہیں کر سکتا وہ غفور اور رحیم ہے۔
صفحہ نمبر1272
غزوہ بدر اور تائید الٰہی ٭٭
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری، عامر شعبی، ربیع بن انس رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے [تفسیر ابن ابی حاتم:519/2] ابن جریر رحمہ اللہ کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبیرحمہ اللہ کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے
ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہو گئے پھر پانچ ہزار، [تفسیر ابن جریر الطبری:178/7]
یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت «اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ» [8-الأنفال:9] اور تطبیق دونوں آیتوں میں یہی ہے کیونکہ «مُرْدِفِيْنَ» کا لفظ موجود ہے پس پہلے ایک ہزار اترے پھر ان کے بعد تین ہزار پورے ہوئے آخر پانچ ہزار ہو گئے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ جنگ بدر کے لیے تھا نہ کہ جنگ احد کیلئے، بعض کہتے ہیں جنگ احد کے موقعہ پر وعدہ ہوا تھا مجاہد، عکرمہ،ضحاک، زہری، موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے اس لیے یہ فرشتے نازل نہ ہوئے، کیونکہ «وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا» [3-آل عمران:120] ساتھ ہی فرمایا تھا یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو فور کے معنی وجہ اور غضب کے ہیں مسومین کے معنی علامت والے۔
صفحہ نمبر1268
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی [تفسیر ابن ابی حاتم:565/2]
اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کی نشانی سرخ تھی، سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں گردن کے بالوں اور دم کا نشان تھا اور یہی نشان آپ کے لشکریوں کا تھا یعنی صوف کا۔ مکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں فرشتوں کی نشانی ان کی پگڑیاں تھیں جو سیاہ رنگ کے عمامے تھے اور حنین والے دن سرخ رنگ عمامے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے علاوہ فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے [ابن ابی شیبہ:354/14] اور سفید رنگ عماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کیلئے اور تعداد بڑھانے کیلئے تھے نہ کہ لڑائی کیلئے، یہ بھی مروی ہے کہ جنگِ بدر میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے فر پر سفید رنگ کا صافہ تھا اور فرشتوں پر زرد رنگ کا [تفسیر ابن ابی حاتم:567/2]
پھر فرمایا کہ یہ فرشتوں کا نازل کرنا اور تمہیں اس کی خبر دینا صرف تمہاری خوشی، دلجوئی اور اطمینان کیلئے ہے ورنہ اللہ کو قدرت ہے کہ ان کو اتارے بغیر بلکہ بغیر تمہارے لڑے بھی تمہیں غالب کر دے مدد اسی کی طرف سے ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ» [47-محمد: 6- 4] ، اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ ہر ایک کو آزما رہا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو قتل کئے جائیں ان کے اعمال اکارت نہیں ہوتے اللہ انہیں راہ دکھائے گا ان کے اعمال سنوار دے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا جس کی تعریف وہ کر چکا ہے، وہ عزت والا ہے اور اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔
یہ جہاد کا حکم بھی طرح طرح کی حکمتوں پر مبنی ہے اس سے کفار ہلاک ہوں گے یا ذلیل ہوں گے یا نامراد واپس ہو جائیں گے۔
صفحہ نمبر1269
اس کے بعد بیان ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے کل امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کسی امر کا اختیار نہیں جیسے فرمایا آیت «فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] تمہارا ذمہ صرف تبلیغ ہے حساب تو تمہارے ذمہ ہے
اور جگہ ہے آیت «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» [2-البقرة:272] ، ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں اللہ جسے چاہے ہدایت دے
اور «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ» [28-القصص:56] ، تو جسے چاہے ہدایت نہیں کر سکتا بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، پس میرے بندوں میں تجھے کوئی اختیار نہیں جو حکم پہنچے اسے اوروں کو پہنچا دے تیرے ذمہ یہی ہے۔ ممکن ہے اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور برائی کے بعد وہ بھلائی کرنے لگیں اور اللہ رحیم ان کی توبہ قبول فرما لے یا ممکن ہے کہ انہیں ان کے کفرو گناہ کی بناء پر عذاب کرے تو یہ ظالم اس کے بھی مستحق ہیں۔
صفحہ نمبر1270
صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے اور «سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا ولَکَ الْحَمْدُ» کہہ لیتے تو کفار پر بد دعا کرتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر اس کے بارے میں یہ آیت «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ» [3-آل عمران:128] نازل ہوئی [صحیح بخاری:4069] مسند احمد میں ان کافروں کے نام بھی آئے ہیں مثلاً حارث بن ہشام سہیل بن عمرو صفوان بن امیہ اور اسی میں ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور یہ مسلمان ہو گئے، [سنن ترمذي:3004،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں پر یہ بد دعا تھی جس سے روک دیئے گئے۔ [سنن ترمذي:3005،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی پر بد دعا کرنا یا کسی کے حق میں نیک دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد «سمع اللہ» اور «ربنا» پڑھ کر دعا مانگتے کبھی کہتے اے اللہ! ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کفار سے نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ اور اپنا عذاب نازل فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی یوسف کے زمانہ میں تھی یہ دعا با آواز بلند ہوا کرتی تھی اور بعض مرتبہ صبح کی نماز کے قنوت میں یوں بھی کہتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے بعض قبیلوں کے نام لیتے تھے۔ [صحیح بخاری:4560]
صفحہ نمبر1271
اور روایت میں ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے چہرہ زخمی ہوا خون بہنے لگا تو زبان سے نکل کیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کیا؟ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ خالق کل کی طرف سے انہیں بلاتا تھا اس وقت یہ آیت «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ» [3-آل عمران:128] نازل ہوئی، [صحیح بخاری:4069]
آپ اس غزوے میں ایک گڑھ میں گر پڑے تھے اور خون بہت نکل گیا تھا کچھ تو اس ضعف کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھے اٹھ نہ سکے۔سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ سیدنا سالم رضی اللہ عنہ پہنچے اور چہرے پر سے خون پونچھا جب افاقہ ہوا تو آپ نے یہ فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:7811]
پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ہے سب اس کے غلام ہیں جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے متصرف وہی ہے جو چاہے حکم کرے کوئی اس پر پرشس نہیں کر سکتا وہ غفور اور رحیم ہے۔
صفحہ نمبر1272
غزوہ بدر اور تائید الٰہی ٭٭
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری، عامر شعبی، ربیع بن انس رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے [تفسیر ابن ابی حاتم:519/2] ابن جریر رحمہ اللہ کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبیرحمہ اللہ کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے
ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہو گئے پھر پانچ ہزار، [تفسیر ابن جریر الطبری:178/7]
یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت «اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ» [8-الأنفال:9] اور تطبیق دونوں آیتوں میں یہی ہے کیونکہ «مُرْدِفِيْنَ» کا لفظ موجود ہے پس پہلے ایک ہزار اترے پھر ان کے بعد تین ہزار پورے ہوئے آخر پانچ ہزار ہو گئے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ جنگ بدر کے لیے تھا نہ کہ جنگ احد کیلئے، بعض کہتے ہیں جنگ احد کے موقعہ پر وعدہ ہوا تھا مجاہد، عکرمہ،ضحاک، زہری، موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے اس لیے یہ فرشتے نازل نہ ہوئے، کیونکہ «وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا» [3-آل عمران:120] ساتھ ہی فرمایا تھا یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو فور کے معنی وجہ اور غضب کے ہیں مسومین کے معنی علامت والے۔
صفحہ نمبر1268
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی [تفسیر ابن ابی حاتم:565/2]
اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کی نشانی سرخ تھی، سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں گردن کے بالوں اور دم کا نشان تھا اور یہی نشان آپ کے لشکریوں کا تھا یعنی صوف کا۔ مکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں فرشتوں کی نشانی ان کی پگڑیاں تھیں جو سیاہ رنگ کے عمامے تھے اور حنین والے دن سرخ رنگ عمامے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے علاوہ فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے [ابن ابی شیبہ:354/14] اور سفید رنگ عماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کیلئے اور تعداد بڑھانے کیلئے تھے نہ کہ لڑائی کیلئے، یہ بھی مروی ہے کہ جنگِ بدر میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے فر پر سفید رنگ کا صافہ تھا اور فرشتوں پر زرد رنگ کا [تفسیر ابن ابی حاتم:567/2]
پھر فرمایا کہ یہ فرشتوں کا نازل کرنا اور تمہیں اس کی خبر دینا صرف تمہاری خوشی، دلجوئی اور اطمینان کیلئے ہے ورنہ اللہ کو قدرت ہے کہ ان کو اتارے بغیر بلکہ بغیر تمہارے لڑے بھی تمہیں غالب کر دے مدد اسی کی طرف سے ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ» [47-محمد: 6- 4] ، اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ ہر ایک کو آزما رہا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو قتل کئے جائیں ان کے اعمال اکارت نہیں ہوتے اللہ انہیں راہ دکھائے گا ان کے اعمال سنوار دے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا جس کی تعریف وہ کر چکا ہے، وہ عزت والا ہے اور اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔
یہ جہاد کا حکم بھی طرح طرح کی حکمتوں پر مبنی ہے اس سے کفار ہلاک ہوں گے یا ذلیل ہوں گے یا نامراد واپس ہو جائیں گے۔
صفحہ نمبر1269
اس کے بعد بیان ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے کل امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کسی امر کا اختیار نہیں جیسے فرمایا آیت «فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] تمہارا ذمہ صرف تبلیغ ہے حساب تو تمہارے ذمہ ہے
اور جگہ ہے آیت «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» [2-البقرة:272] ، ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں اللہ جسے چاہے ہدایت دے
اور «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ» [28-القصص:56] ، تو جسے چاہے ہدایت نہیں کر سکتا بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، پس میرے بندوں میں تجھے کوئی اختیار نہیں جو حکم پہنچے اسے اوروں کو پہنچا دے تیرے ذمہ یہی ہے۔ ممکن ہے اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور برائی کے بعد وہ بھلائی کرنے لگیں اور اللہ رحیم ان کی توبہ قبول فرما لے یا ممکن ہے کہ انہیں ان کے کفرو گناہ کی بناء پر عذاب کرے تو یہ ظالم اس کے بھی مستحق ہیں۔
صفحہ نمبر1270
صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے اور «سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا ولَکَ الْحَمْدُ» کہہ لیتے تو کفار پر بد دعا کرتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر اس کے بارے میں یہ آیت «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ» [3-آل عمران:128] نازل ہوئی [صحیح بخاری:4069] مسند احمد میں ان کافروں کے نام بھی آئے ہیں مثلاً حارث بن ہشام سہیل بن عمرو صفوان بن امیہ اور اسی میں ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور یہ مسلمان ہو گئے، [سنن ترمذي:3004،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں پر یہ بد دعا تھی جس سے روک دیئے گئے۔ [سنن ترمذي:3005،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی پر بد دعا کرنا یا کسی کے حق میں نیک دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد «سمع اللہ» اور «ربنا» پڑھ کر دعا مانگتے کبھی کہتے اے اللہ! ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کفار سے نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ اور اپنا عذاب نازل فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی یوسف کے زمانہ میں تھی یہ دعا با آواز بلند ہوا کرتی تھی اور بعض مرتبہ صبح کی نماز کے قنوت میں یوں بھی کہتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے بعض قبیلوں کے نام لیتے تھے۔ [صحیح بخاری:4560]
صفحہ نمبر1271
اور روایت میں ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے چہرہ زخمی ہوا خون بہنے لگا تو زبان سے نکل کیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کیا؟ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ خالق کل کی طرف سے انہیں بلاتا تھا اس وقت یہ آیت «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ» [3-آل عمران:128] نازل ہوئی، [صحیح بخاری:4069]
آپ اس غزوے میں ایک گڑھ میں گر پڑے تھے اور خون بہت نکل گیا تھا کچھ تو اس ضعف کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھے اٹھ نہ سکے۔سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ سیدنا سالم رضی اللہ عنہ پہنچے اور چہرے پر سے خون پونچھا جب افاقہ ہوا تو آپ نے یہ فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:7811]
پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ہے سب اس کے غلام ہیں جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے متصرف وہی ہے جو چاہے حکم کرے کوئی اس پر پرشس نہیں کر سکتا وہ غفور اور رحیم ہے۔
صفحہ نمبر1272
غزوہ بدر اور تائید الٰہی ٭٭
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری، عامر شعبی، ربیع بن انس رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے [تفسیر ابن ابی حاتم:519/2] ابن جریر رحمہ اللہ کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبیرحمہ اللہ کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے
ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہو گئے پھر پانچ ہزار، [تفسیر ابن جریر الطبری:178/7]
یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت «اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ» [8-الأنفال:9] اور تطبیق دونوں آیتوں میں یہی ہے کیونکہ «مُرْدِفِيْنَ» کا لفظ موجود ہے پس پہلے ایک ہزار اترے پھر ان کے بعد تین ہزار پورے ہوئے آخر پانچ ہزار ہو گئے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ جنگ بدر کے لیے تھا نہ کہ جنگ احد کیلئے، بعض کہتے ہیں جنگ احد کے موقعہ پر وعدہ ہوا تھا مجاہد، عکرمہ،ضحاک، زہری، موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے اس لیے یہ فرشتے نازل نہ ہوئے، کیونکہ «وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا» [3-آل عمران:120] ساتھ ہی فرمایا تھا یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو فور کے معنی وجہ اور غضب کے ہیں مسومین کے معنی علامت والے۔
صفحہ نمبر1268
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی [تفسیر ابن ابی حاتم:565/2]
اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کی نشانی سرخ تھی، سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں گردن کے بالوں اور دم کا نشان تھا اور یہی نشان آپ کے لشکریوں کا تھا یعنی صوف کا۔ مکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں فرشتوں کی نشانی ان کی پگڑیاں تھیں جو سیاہ رنگ کے عمامے تھے اور حنین والے دن سرخ رنگ عمامے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے علاوہ فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے [ابن ابی شیبہ:354/14] اور سفید رنگ عماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کیلئے اور تعداد بڑھانے کیلئے تھے نہ کہ لڑائی کیلئے، یہ بھی مروی ہے کہ جنگِ بدر میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے فر پر سفید رنگ کا صافہ تھا اور فرشتوں پر زرد رنگ کا [تفسیر ابن ابی حاتم:567/2]
پھر فرمایا کہ یہ فرشتوں کا نازل کرنا اور تمہیں اس کی خبر دینا صرف تمہاری خوشی، دلجوئی اور اطمینان کیلئے ہے ورنہ اللہ کو قدرت ہے کہ ان کو اتارے بغیر بلکہ بغیر تمہارے لڑے بھی تمہیں غالب کر دے مدد اسی کی طرف سے ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ» [47-محمد: 6- 4] ، اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ ہر ایک کو آزما رہا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو قتل کئے جائیں ان کے اعمال اکارت نہیں ہوتے اللہ انہیں راہ دکھائے گا ان کے اعمال سنوار دے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا جس کی تعریف وہ کر چکا ہے، وہ عزت والا ہے اور اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔
یہ جہاد کا حکم بھی طرح طرح کی حکمتوں پر مبنی ہے اس سے کفار ہلاک ہوں گے یا ذلیل ہوں گے یا نامراد واپس ہو جائیں گے۔
صفحہ نمبر1269
اس کے بعد بیان ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے کل امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کسی امر کا اختیار نہیں جیسے فرمایا آیت «فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] تمہارا ذمہ صرف تبلیغ ہے حساب تو تمہارے ذمہ ہے
اور جگہ ہے آیت «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» [2-البقرة:272] ، ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں اللہ جسے چاہے ہدایت دے
اور «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ» [28-القصص:56] ، تو جسے چاہے ہدایت نہیں کر سکتا بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، پس میرے بندوں میں تجھے کوئی اختیار نہیں جو حکم پہنچے اسے اوروں کو پہنچا دے تیرے ذمہ یہی ہے۔ ممکن ہے اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور برائی کے بعد وہ بھلائی کرنے لگیں اور اللہ رحیم ان کی توبہ قبول فرما لے یا ممکن ہے کہ انہیں ان کے کفرو گناہ کی بناء پر عذاب کرے تو یہ ظالم اس کے بھی مستحق ہیں۔
صفحہ نمبر1270
صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے اور «سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا ولَکَ الْحَمْدُ» کہہ لیتے تو کفار پر بد دعا کرتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر اس کے بارے میں یہ آیت «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ» [3-آل عمران:128] نازل ہوئی [صحیح بخاری:4069] مسند احمد میں ان کافروں کے نام بھی آئے ہیں مثلاً حارث بن ہشام سہیل بن عمرو صفوان بن امیہ اور اسی میں ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور یہ مسلمان ہو گئے، [سنن ترمذي:3004،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں پر یہ بد دعا تھی جس سے روک دیئے گئے۔ [سنن ترمذي:3005،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی پر بد دعا کرنا یا کسی کے حق میں نیک دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد «سمع اللہ» اور «ربنا» پڑھ کر دعا مانگتے کبھی کہتے اے اللہ! ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کفار سے نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ اور اپنا عذاب نازل فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی یوسف کے زمانہ میں تھی یہ دعا با آواز بلند ہوا کرتی تھی اور بعض مرتبہ صبح کی نماز کے قنوت میں یوں بھی کہتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے بعض قبیلوں کے نام لیتے تھے۔ [صحیح بخاری:4560]
صفحہ نمبر1271
اور روایت میں ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے چہرہ زخمی ہوا خون بہنے لگا تو زبان سے نکل کیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کیا؟ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ خالق کل کی طرف سے انہیں بلاتا تھا اس وقت یہ آیت «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ» [3-آل عمران:128] نازل ہوئی، [صحیح بخاری:4069]
آپ اس غزوے میں ایک گڑھ میں گر پڑے تھے اور خون بہت نکل گیا تھا کچھ تو اس ضعف کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھے اٹھ نہ سکے۔سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ سیدنا سالم رضی اللہ عنہ پہنچے اور چہرے پر سے خون پونچھا جب افاقہ ہوا تو آپ نے یہ فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:7811]
پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ہے سب اس کے غلام ہیں جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے متصرف وہی ہے جو چاہے حکم کرے کوئی اس پر پرشس نہیں کر سکتا وہ غفور اور رحیم ہے۔
صفحہ نمبر1272
غزوہ بدر اور تائید الٰہی ٭٭
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری، عامر شعبی، ربیع بن انس رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے [تفسیر ابن ابی حاتم:519/2] ابن جریر رحمہ اللہ کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبیرحمہ اللہ کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے
ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہو گئے پھر پانچ ہزار، [تفسیر ابن جریر الطبری:178/7]
یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت «اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ» [8-الأنفال:9] اور تطبیق دونوں آیتوں میں یہی ہے کیونکہ «مُرْدِفِيْنَ» کا لفظ موجود ہے پس پہلے ایک ہزار اترے پھر ان کے بعد تین ہزار پورے ہوئے آخر پانچ ہزار ہو گئے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ جنگ بدر کے لیے تھا نہ کہ جنگ احد کیلئے، بعض کہتے ہیں جنگ احد کے موقعہ پر وعدہ ہوا تھا مجاہد، عکرمہ،ضحاک، زہری، موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے اس لیے یہ فرشتے نازل نہ ہوئے، کیونکہ «وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا» [3-آل عمران:120] ساتھ ہی فرمایا تھا یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو فور کے معنی وجہ اور غضب کے ہیں مسومین کے معنی علامت والے۔
صفحہ نمبر1268
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی [تفسیر ابن ابی حاتم:565/2]
اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کی نشانی سرخ تھی، سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں گردن کے بالوں اور دم کا نشان تھا اور یہی نشان آپ کے لشکریوں کا تھا یعنی صوف کا۔ مکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں فرشتوں کی نشانی ان کی پگڑیاں تھیں جو سیاہ رنگ کے عمامے تھے اور حنین والے دن سرخ رنگ عمامے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے علاوہ فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے [ابن ابی شیبہ:354/14] اور سفید رنگ عماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کیلئے اور تعداد بڑھانے کیلئے تھے نہ کہ لڑائی کیلئے، یہ بھی مروی ہے کہ جنگِ بدر میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے فر پر سفید رنگ کا صافہ تھا اور فرشتوں پر زرد رنگ کا [تفسیر ابن ابی حاتم:567/2]
پھر فرمایا کہ یہ فرشتوں کا نازل کرنا اور تمہیں اس کی خبر دینا صرف تمہاری خوشی، دلجوئی اور اطمینان کیلئے ہے ورنہ اللہ کو قدرت ہے کہ ان کو اتارے بغیر بلکہ بغیر تمہارے لڑے بھی تمہیں غالب کر دے مدد اسی کی طرف سے ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ» [47-محمد: 6- 4] ، اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ ہر ایک کو آزما رہا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو قتل کئے جائیں ان کے اعمال اکارت نہیں ہوتے اللہ انہیں راہ دکھائے گا ان کے اعمال سنوار دے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا جس کی تعریف وہ کر چکا ہے، وہ عزت والا ہے اور اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔
یہ جہاد کا حکم بھی طرح طرح کی حکمتوں پر مبنی ہے اس سے کفار ہلاک ہوں گے یا ذلیل ہوں گے یا نامراد واپس ہو جائیں گے۔
صفحہ نمبر1269
اس کے بعد بیان ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے کل امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کسی امر کا اختیار نہیں جیسے فرمایا آیت «فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] تمہارا ذمہ صرف تبلیغ ہے حساب تو تمہارے ذمہ ہے
اور جگہ ہے آیت «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» [2-البقرة:272] ، ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں اللہ جسے چاہے ہدایت دے
اور «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ» [28-القصص:56] ، تو جسے چاہے ہدایت نہیں کر سکتا بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، پس میرے بندوں میں تجھے کوئی اختیار نہیں جو حکم پہنچے اسے اوروں کو پہنچا دے تیرے ذمہ یہی ہے۔ ممکن ہے اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور برائی کے بعد وہ بھلائی کرنے لگیں اور اللہ رحیم ان کی توبہ قبول فرما لے یا ممکن ہے کہ انہیں ان کے کفرو گناہ کی بناء پر عذاب کرے تو یہ ظالم اس کے بھی مستحق ہیں۔
صفحہ نمبر1270
صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے اور «سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا ولَکَ الْحَمْدُ» کہہ لیتے تو کفار پر بد دعا کرتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر اس کے بارے میں یہ آیت «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ» [3-آل عمران:128] نازل ہوئی [صحیح بخاری:4069] مسند احمد میں ان کافروں کے نام بھی آئے ہیں مثلاً حارث بن ہشام سہیل بن عمرو صفوان بن امیہ اور اسی میں ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور یہ مسلمان ہو گئے، [سنن ترمذي:3004،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں پر یہ بد دعا تھی جس سے روک دیئے گئے۔ [سنن ترمذي:3005،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی پر بد دعا کرنا یا کسی کے حق میں نیک دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد «سمع اللہ» اور «ربنا» پڑھ کر دعا مانگتے کبھی کہتے اے اللہ! ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کفار سے نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ اور اپنا عذاب نازل فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی یوسف کے زمانہ میں تھی یہ دعا با آواز بلند ہوا کرتی تھی اور بعض مرتبہ صبح کی نماز کے قنوت میں یوں بھی کہتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے بعض قبیلوں کے نام لیتے تھے۔ [صحیح بخاری:4560]
صفحہ نمبر1271
اور روایت میں ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے چہرہ زخمی ہوا خون بہنے لگا تو زبان سے نکل کیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کیا؟ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ خالق کل کی طرف سے انہیں بلاتا تھا اس وقت یہ آیت «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ» [3-آل عمران:128] نازل ہوئی، [صحیح بخاری:4069]
آپ اس غزوے میں ایک گڑھ میں گر پڑے تھے اور خون بہت نکل گیا تھا کچھ تو اس ضعف کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھے اٹھ نہ سکے۔سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ سیدنا سالم رضی اللہ عنہ پہنچے اور چہرے پر سے خون پونچھا جب افاقہ ہوا تو آپ نے یہ فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:7811]
پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ہے سب اس کے غلام ہیں جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے متصرف وہی ہے جو چاہے حکم کرے کوئی اس پر پرشس نہیں کر سکتا وہ غفور اور رحیم ہے۔
صفحہ نمبر1272
غزوہ بدر اور تائید الٰہی ٭٭
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تسلیاں دینا بعض تو کہتے ہیں بدر والے دن تھا حسن بصری، عامر شعبی، ربیع بن انس رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے [تفسیر ابن ابی حاتم:519/2] ابن جریر رحمہ اللہ کا بھی اسی سے اتفاق ہے عامر شعبیرحمہ اللہ کا قول ہے کہ مسلمانوں کو یہ خبر ملی تھی کہ کرز بن جابر مشرکوں کی امداد میں آئے گا اس پر اس امداد کا وعدہ ہوا تھا لیکن نہ وہ نہیں آیا اور نہ ہی یہ گئے
ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کیلئے پہلے تو ایک ہزار فرشتے بھیجے پھر تین ہزار ہو گئے پھر پانچ ہزار، [تفسیر ابن جریر الطبری:178/7]
یہاں اس آیت میں تین ہزار اور پانچ ہزار سے مدد کرنے کا وعدہ ہے اور بدر کے واقعہ کے بیان کے وقت ایک ہزار فرشتوں کی امداد کا وعدہ ہے۔ فرمایا آیت «اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ» [8-الأنفال:9] اور تطبیق دونوں آیتوں میں یہی ہے کیونکہ «مُرْدِفِيْنَ» کا لفظ موجود ہے پس پہلے ایک ہزار اترے پھر ان کے بعد تین ہزار پورے ہوئے آخر پانچ ہزار ہو گئے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ جنگ بدر کے لیے تھا نہ کہ جنگ احد کیلئے، بعض کہتے ہیں جنگ احد کے موقعہ پر وعدہ ہوا تھا مجاہد، عکرمہ،ضحاک، زہری، موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلمان میدان چھوڑ کر ہٹ گئے اس لیے یہ فرشتے نازل نہ ہوئے، کیونکہ «وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا» [3-آل عمران:120] ساتھ ہی فرمایا تھا یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کرو فور کے معنی وجہ اور غضب کے ہیں مسومین کے معنی علامت والے۔
صفحہ نمبر1268
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں فرشتوں کی نشانی بدر والے دن سفید رنگ کے لباس کی تھی [تفسیر ابن ابی حاتم:565/2]
اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کی نشانی سرخ تھی، سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں گردن کے بالوں اور دم کا نشان تھا اور یہی نشان آپ کے لشکریوں کا تھا یعنی صوف کا۔ مکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں فرشتوں کی نشانی ان کی پگڑیاں تھیں جو سیاہ رنگ کے عمامے تھے اور حنین والے دن سرخ رنگ عمامے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے علاوہ فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے [ابن ابی شیبہ:354/14] اور سفید رنگ عماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کیلئے اور تعداد بڑھانے کیلئے تھے نہ کہ لڑائی کیلئے، یہ بھی مروی ہے کہ جنگِ بدر میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے فر پر سفید رنگ کا صافہ تھا اور فرشتوں پر زرد رنگ کا [تفسیر ابن ابی حاتم:567/2]
پھر فرمایا کہ یہ فرشتوں کا نازل کرنا اور تمہیں اس کی خبر دینا صرف تمہاری خوشی، دلجوئی اور اطمینان کیلئے ہے ورنہ اللہ کو قدرت ہے کہ ان کو اتارے بغیر بلکہ بغیر تمہارے لڑے بھی تمہیں غالب کر دے مدد اسی کی طرف سے ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ» [47-محمد: 6- 4] ، اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا لیکن وہ ہر ایک کو آزما رہا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو قتل کئے جائیں ان کے اعمال اکارت نہیں ہوتے اللہ انہیں راہ دکھائے گا ان کے اعمال سنوار دے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا جس کی تعریف وہ کر چکا ہے، وہ عزت والا ہے اور اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے۔
یہ جہاد کا حکم بھی طرح طرح کی حکمتوں پر مبنی ہے اس سے کفار ہلاک ہوں گے یا ذلیل ہوں گے یا نامراد واپس ہو جائیں گے۔
صفحہ نمبر1269
اس کے بعد بیان ہوتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے کل امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کسی امر کا اختیار نہیں جیسے فرمایا آیت «فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] تمہارا ذمہ صرف تبلیغ ہے حساب تو تمہارے ذمہ ہے
اور جگہ ہے آیت «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» [2-البقرة:272] ، ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں اللہ جسے چاہے ہدایت دے
اور «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ» [28-القصص:56] ، تو جسے چاہے ہدایت نہیں کر سکتا بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، پس میرے بندوں میں تجھے کوئی اختیار نہیں جو حکم پہنچے اسے اوروں کو پہنچا دے تیرے ذمہ یہی ہے۔ ممکن ہے اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے اور برائی کے بعد وہ بھلائی کرنے لگیں اور اللہ رحیم ان کی توبہ قبول فرما لے یا ممکن ہے کہ انہیں ان کے کفرو گناہ کی بناء پر عذاب کرے تو یہ ظالم اس کے بھی مستحق ہیں۔
صفحہ نمبر1270
صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں جب دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے اور «سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا ولَکَ الْحَمْدُ» کہہ لیتے تو کفار پر بد دعا کرتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر اس کے بارے میں یہ آیت «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ» [3-آل عمران:128] نازل ہوئی [صحیح بخاری:4069] مسند احمد میں ان کافروں کے نام بھی آئے ہیں مثلاً حارث بن ہشام سہیل بن عمرو صفوان بن امیہ اور اسی میں ہے کہ بالآخر ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور یہ مسلمان ہو گئے، [سنن ترمذي:3004،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک روایت میں ہے کہ چار آدمیوں پر یہ بد دعا تھی جس سے روک دیئے گئے۔ [سنن ترمذي:3005،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی پر بد دعا کرنا یا کسی کے حق میں نیک دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد «سمع اللہ» اور «ربنا» پڑھ کر دعا مانگتے کبھی کہتے اے اللہ! ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابو ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کفار سے نجات دے اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ اور اپنا عذاب نازل فرما اور ان پر ایسی قحط سالی بھیج جیسی یوسف کے زمانہ میں تھی یہ دعا با آواز بلند ہوا کرتی تھی اور بعض مرتبہ صبح کی نماز کے قنوت میں یوں بھی کہتے کہ اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت بھیج اور عرب کے بعض قبیلوں کے نام لیتے تھے۔ [صحیح بخاری:4560]
صفحہ نمبر1271
اور روایت میں ہے کہ جنگ احد میں جب آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے چہرہ زخمی ہوا خون بہنے لگا تو زبان سے نکل کیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کیا؟ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ خالق کل کی طرف سے انہیں بلاتا تھا اس وقت یہ آیت «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ» [3-آل عمران:128] نازل ہوئی، [صحیح بخاری:4069]
آپ اس غزوے میں ایک گڑھ میں گر پڑے تھے اور خون بہت نکل گیا تھا کچھ تو اس ضعف کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھے اٹھ نہ سکے۔سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ سیدنا سالم رضی اللہ عنہ پہنچے اور چہرے پر سے خون پونچھا جب افاقہ ہوا تو آپ نے یہ فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:7811]
پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ہے سب اس کے غلام ہیں جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے متصرف وہی ہے جو چاہے حکم کرے کوئی اس پر پرشس نہیں کر سکتا وہ غفور اور رحیم ہے۔
صفحہ نمبر1272
سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے۔
صفحہ نمبر1278
سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے۔
صفحہ نمبر1278
سود خور جہنمی ہے اور غصہ شیطان کی دین ہے اس سے بچو ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو سودی لین دین سے اور سود خوری سے روک رہا ہے، اہل جاہلیت سودی قرضہ دیتے تھے مدت مقرر ہوتی تھی اگر اس مدت پر روپیہ وصول نہ ہوتا تو مدت بڑھا کر سود پر سود بڑھا دیا کرتے تھے اسی طرح سود در سود ملا کر اصل رقم کئی گنا بڑھ جاتی، اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو اس طرح ناحق لوگوں کے مال غصب کرنے سے روک رہا ہے اور تقوے کا حکم دے کر اس پر نجات کا وعدہ کر رہا ہے، پھر آگ سے ڈراتا ہے اور اپنے عذابوں سے دھمکاتا ہے پھر اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور اس پر رحم و کرم کا وعدہ دیتا ہے۔
صفحہ نمبر1278
جنت کی خصوصیات ٭٭
پھر سعادت دارین کے حصول کیلئے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کو فرماتا ہے اور جنت کی تعریف کرتا ہے، چوڑائی کو بیان کر کے لمبائی کا اندازہ سننے والوں پر ہی چھوڑا جاتا ہے جس طرح جنتی فرش کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا «مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍ بَطَاىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ» [55-الرحمن:54] یعنی اس کا استر نرم ریشم کا ہے تو مطلب یہ ہے کہ جب استر ایسا ہے تو ابرے کا کیا ٹھکانا ہے؟ اسی طرح یہاں بھی بیان ہو رہا ہے کہ جب عرض ساتوں آسمانوں اور ساتویں زمینوں کے برابر ہے تو طول کتنا بڑا ہو گا اور بعض نے کہا ہے کہ عرض و طول یعنی لمبائی چوڑائی دونوں برابر ہے کیونکہ جنت مثل قبہ کے عرش کے نیچے ہے اور جو چیز قبہ نما ہو یا مستدیر ہو اس کا عرض و طول یکساں ہوتا ہے۔
ایک صحیح حدیث میں ہے جب تم اللہ سے جنت مانگو تو فردوس کا سوال کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے اچھی جنت ہے اسی جنت سے سب نہریں جاری ہوتی ہیں اور اسی کی چھت اللہ تعالیٰ رحمن رحیم کا عرش ہے۔ [صحیح بخاری:335/2]
صفحہ نمبر1281
مسند امام احمد میں ہے کہ ہرقل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور اعتراض کے ایک سوال لکھ بھیجا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دے رہے ہیں جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے تو یہ فرمایئے کہ پھر جہنم کہاں گئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سبحان اللہ! جب دن آتا ہے تو رات کہاں جاتی ہے؟ [مسند احمد:441/3:ضعیف]
، جو قاصد ہرقل کا یہ خط لے کر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا تھا، اس سے سیدنا یعلیٰ بن مرہ رحمہ اللہ کی ملاقات حمص میں ہوئی تھی کہتے ہیں اس وقت یہ بہت ہی بوڑھا ہو گیا تھا کہنے لگا جب میں نے یہ خط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو آپ نے اپنی بائیں طرف کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو دیا میں نے لوگوں سے پوچھا ان کا کیا نام ہے؟ لوگوں نے کہا یہ سیدنا معاویہ ہیں رضی اللہ عنہ ہیں۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی سوال ہوا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ دن کے وقت رات اور رات کے وقت دن کہاں جاتا ہے؟ یہودی یہ جواب سن کر کھسیانے ہو کر کہنے لگے کہ یہ توراۃ سے ماخوذ کیا ہو گا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہ جواب مروی ہے۔
صفحہ نمبر1282
ایک مرفوع حدیث میں ہے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے جواب میں فرمایا جب ہر چیز پر رات آ جاتی ہے تو دن کہاں جاتا ہے؟ اس نے کہا جہاں اللہ چاہے، آپ نے فرمایا اسی طرح جہنم بھی جہاں چاہے [ بزار ] [بزار فی کشف الاستار:2196:حسن] اس جملہ کے دو معنی ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ رات کے وقت ہم گو دن کو نہیں دیکھ سکتے لیکن تاہم دن کا کسی جگہ ہونا ناممکن نہیں، اسی طرح گو جنت کا عرض اتنا ہی ہے لیکن پھر بھی جہنم کے وجود سے انکار نہیں ہو سکتا جہاں اللہ چاہے وہ بھی ہے، دوسرے معنی یہ کہ جب دن ایک طرف چڑھنے لگا رات دوسری جانب ہوتی ہے اسی طرح جنت اعلیٰ علیین میں ہے اور دوزخ اسفل السافلین میں تو کوئی نفی کا امکان ہی نہ رہا۔ واللہ اعلم۔
صفحہ نمبر1283
اہلِ جنت کے اوصاف ٭٭
پھر اللہ تعالیٰ اہل جنت کا وصف بیان فرماتا ہے کہ وہ سختی میں اور آسانی میں، خوشی میں اور غمی میں، تندرستی میں اور بیماری میں غرض ہر حال میں راہ للہ اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت «اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ» [2-البقرة:274] یعنی وہ لوگ دن رات چھپے کھلے خرچ کرتے رہتے ہیں کوئی امر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باز نہیں رکھ سکتا اس کی مخلوق پر اس کے حکم سے احسان کرتے رہتے ہیں۔ یہ غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کی برائیوں سے درگزر کرنے والے ہیں
«كَاظِم» کے معنی چھپانے کے بھی ہیں یعنی اپنے غصہ کا اظہار بھی نہیں کرتے۔
صفحہ نمبر1284
غصہ پر قابو پانا ٭٭
بعض روایتوں میں ہے اے ابن آدم! اگر غصہ کے وقت تو مجھے یاد رکھے گا یعنی میرا حکم مان کر خصہ پی جائے گا تو میں بھی اپنے غصے کے وقت تجھے یاد رکھوں گا یعنی ہلاکت کے وقت تجھے ہلاکت سے بچا لوں گا [ ابن ابی حاتم ]
اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنے عذاب ہٹا لیتا ہے اور جو بھی اپنی زبان [ خلاف شرع باتوں سے ] روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت لے جائے اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرماتا ہے [مسند ابویعلیٰ:4338:ضعیف] [ مسند ابو یعلیٰ ]
یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں بھی اختلاف ہے اور حدیث شریف میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ حقیقتاً پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے [صحیح بخاری:6114] [ احمد ]
صفحہ نمبر1285
صحیح بخاری صحیح مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نہیں آپ نے فرمایا میں تو دیکھتا ہوں کہ تم اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال چاہتے ہو اس لیے کہ تمہارا مال تو درحقیقت وہ ہے جو تم راہ اللہ اپنی زندگی میں خرچ کر دو اور جو چھوڑ کر جاؤ وہ تمہارا مال نہیں بلکہ تمہارے وارثوں کا مال ہے تو تمہارا راہ للہ کم خرچ کرنا اور جمع زیادہ کرنا یہ دلیل ہے اس امر کی کہ تم اپنے مال سے اپنے وارثوں کے مال کو زیادہ عزیز رکھتے ہو، پھر فرمایا تم پہلوان کسے جانتے ہو؟ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے جسے کوئی گرا نہ سکے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ حقیقتاً زور دار پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے جذبات پر پورا قابو رکھے، پھر فرمایا بے اولاد کسے کہتے ہو؟ لوگوں نے کہا جس کی اولاد نہ ہو، فرمایا نہیں بلکہ فی الواقع بے اولاد وہ ہے جس کے سامنے اس کی کوئی اولاد مری نہ ہو [صحیح بخاری:6442] [ مسلم ]
صفحہ نمبر1286
ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو مفلس کنگال کون ہے؟ لوگوں نے کہا جس کے پاس مال نہ ہو آپ نے فرمایا بلکہ وہ جس نے اپنا مال اپنی زندگی میں راہ اللہ نہ دیا ہو [مسند احمد:367/5:صحیح] [ مسند احمد ]
سیدنا حارثہ بن قدامہ سعدی رضی اللہ عنہ حاضر خدمت نبوی میں عرض کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی نفع کی بات کہیے جو مختصر ہو تاکہ میں یاد بھی رکھ سکوں آپ نے فرمایا غصہ نہ کر اس نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا کئی کئی مرتبہ یہی کہا [مسند احمد:34/5:صحیح] [ مسند احمد ]
کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا مجھے کچھ وصیت کیجئے آپ نے فرمایا غصہ نہ کر وہ کہتے ہیں میں نے جو غور کیا تو معلوم ہوا کہ تمام برائیوں کا مرکز غصہ ہی ہے [مسند احمد:152/5:صحیح] [ مسند احمد ]
صفحہ نمبر1287
ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا تو آپ بیٹھ گئے اور پھر لیٹ گئے ان سے پوچھا گیا یہ کیا؟ تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جسے غصہ آئے وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے بھی غصہ نہ جائے تو لیٹ جائے [مسند احمد:152/5:صحیح] [ مسند احمد ]
مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے کہ عروہ بن محمد رحمہ اللہ کو غصہ چڑھا آپ وضو کرنے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے میں نے اپنے استادوں سے یہ حدیث سنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ بجھانے والی چیز پانی ہے پس تم غصہ کے وقت وضو کرنے بیٹھ جاؤ [مسند احمد:226/4:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اپنا قرض اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے لوگو سنو! جنت کے اعمال سخت اور مشکل ہیں اور جہنم کے کام آسان اور سہل ہیں نیک بخت وہی ہے جو فتنوں سے بچ جائے کسی گھونٹ کا پینا اللہ کو ایسا پسند نہیں جتنا غصہ کے گھونٹ کا پی جانا ایسے شخص کے دل میں ایمان رچ جاتا ہے۔ [ مسند احمد ] [مسند احمد:327/1:ضعیف جداً]
صفحہ نمبر1288
حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص اپنا غصہ اتارنے کی طاقت رکھتے ہوئے پھر بھی ضبط کر لے اللہ تعالیٰ اس کا دل امن و امان سے پر کر دیتا ہے جو شخص باوجود موجود ہونے کے شہرت کے کپڑے کو تواضع کی وجہ سے چھوڑ دے اسے اللہ تعالیٰ کرامت اور عزت کا حلہ قیامت کے دن پہنائے گا اور جو کسی کا سرچھپائے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن بادشاہت کا تاج پہنائے گا [سنن ابوداود:4778،قال الشيخ الألباني:ضعیف] [ ابوداؤد ]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص باوجود قدرت کے اپنا غصہ ضبط کر لے اسی اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے پسند کر لے [سنن ابوداود:4777،قال الشيخ الألباني:حسن] [ مسند احمد ]
اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں، پس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے غصہ میں آپے سے باہر نہیں ہوتے لوگوں کو ان کی طرف سے برائی نہیں پہنچتی بلکہ اپنے جذبات کو دبائے رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈر کر ثواب کی امید پر معاملہ سپر دالہ کرتے ہیں، لوگوں سے درگزر کرتے ہیں ظالموں کے ظلم کا بدلہ بھی نہیں لیتے اسی کو احسان کہتے ہیں اور ان محسن بندوں سے اللہ محبت رکھتا ہے حدیث میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں ایک تو یہ کہ صدقہ سے مال نہیں گھٹتا دوسرے یہ کہ عفو و درگزر کرنے سے انسان کی عزت بڑھتی ہے تیسرے یہ کہ تواضع فروتنی اور عاجزی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔ [سنن ترمذي:2325،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1289
مستدرک کی حدیث میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ اس کی بنیاد بلند ہو اور اس کے درجے بڑھیں تو اسے ظالموں سے درگزر کرنا چاہیئے اور نہ دینے والوں کو دینا چاہیئے اور توڑنے والوں سے جوڑنا چاہیئے [طبرانی کبیر:199/1:ضعیف]
اور حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک پکارے گا کہ اے لوگو درگزر کرنے والو اپنے رب کے پاس آؤ اور اپنا اجر لو۔ مسلمانوں کی خطاؤں کے معاف کرنے والے جنتی لوگ ہیں۔ [ضعیف و منقطع]
صفحہ نمبر1290
استغفار کرنا ٭٭
پھر فرمایا یہ لوگ گناہ کے بعد فوراً ذکر اللہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مسند احمد میں یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اللہ رحمن و رحیم کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہو گیا تو معاف فرما اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے سے گو گناہ ہو گیا لیکن اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو معاف بھی فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہو تو فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہو جاتا ہے یہ پھر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ پھر بخشتا ہے چوتھی مرتبہ پھر گناہ کر بیٹھتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر کہتا ہے اب میرا بندہ جو چاہے کرے [ مسند احمد ] یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:7507]
صفحہ نمبر1291
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے ایک مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دلوں میں رقت طاری ہو جاتی ہے اور ہم اللہ والے بن جاتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی عورتوں بچوں میں پھنس جاتے ہیں، گھربار کے دھندوں میں لگ جاتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اگر تمہاری حالت یہی ہر وقت رہتی تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہاری ملاقات کو تمہارے گھر پر آتے، سنو اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں یہاں سے ہٹا دے اور دوسری قوم کو لے آئے جو گناہ کرے پھر بخشش مانگے اور اللہ انہیں بخشے۔ ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے کہ جنت کی بنیادیں کس طرح استوار ہیں آپ نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی تو ایک چاندی کی ہے اس کا گارہ مشک خالص ہے اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جنتیوں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی ان کی زندگی ہمیشہ کی ہو گی، ان کے کپڑے پرانے نہیں ہونگے جوانی کبھی نہیں ڈھلے گی اور تین اشخاص کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی 1۔عادل بادشاہ کی دعا 2-افطاری کے وقت روزے دار کی دعا 3- مظلوم کی دعا بادلوں سے اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جناب باری ارشاد فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو۔ [مسند احمد:305/2:صحیح] [ مسند احمد ]
صفحہ نمبر1292
امیرالمؤمنین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور اپنے گناہ کی معافی چاہے تو اللہ عزوجل اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے [سنن ابوداود:1521،قال الشيخ الألباني:صحیح] [ مسند احمد ]
صحیح مسلم میں روایت امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے دعا «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے اندر چلا جائے، [صحیح مسلم:234] امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ [ بخاری مسلم ] [صحیح بخاری:159]
صفحہ نمبر1293
پس یہ حدیث کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے، اس سے اگلی روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اور اس سے اگلی روایت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اور اس سے تیسری روایت کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔
تو الحمداللہ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور اس کی بے انتہاء مہربانی کی خبر سید الاولین والاخرین کی زبانی آپ کے چاروں برحق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی [ آؤ اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں اللہ تعالیٰ اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اے عفو ودرگزر کرنے والے! اور کسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے! تو ہم خطا کاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی درگزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرما دے۔ مترجم ]
یہی وہ مبارک آیت ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو ابلیس رونے لگا۔ [عبدالرزاق:133/1] [ مسند عبدالرزاق ]
صفحہ نمبر1294
استعفار اور لا الہ الا اللہ ٭٭
مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» کثرت سے پڑھا کرو اور استغفار پر مداو مت کرو ابلیس گناہوں سے لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس کی اپنی ہلاکت «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» اور استغفار سے ہے،
یہ حدیث دیکھ کر ابلیس نے لوگوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا پس وہ اپنے آپ کو راہ راست پر جانتے ہیں حالانکہ ہلاکت میں ہوتے ہیں۔ [مسند ابویعلیٰ:136:ضعیف جداً] لیکن اس حدیث کے دو راوی ضعیف ہیں۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ابلیس نے کہا اے رب مجھے تیری عزت کی قسم میں بنی آدم کو ان کے آخری دم تک بہکاتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میرے جلال اور میری عزت کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا [مسند احمد:29/3:ضعیف]
مسند بزاز میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا مجھ سے گناہ ہو گیا آپ نے فرمایا پھر استغفار کر اس نے کہا مجھ سے اور گناہ ہوا فرمایا استغفار کئے جا، یہاں تک کہ شیطان تھک جائے [بزار فی کشف الاستار:3249:صحیح بالشواھد] پھر فرمایا گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
صفحہ نمبر1295
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قیدی آیا اور کہنے لگایا اللہ میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف توبہ نہیں کرتا [ یعنی اللہ میں تیری ہی بخشش چاہتا ہوں ] آپ نے فرمایا اس نے حق حقدار کو پہنچایا۔ [مسند احمد:435/3:ضعیف] اصرار کرنے سے مراد یہ ہے کہ معصیت پر بغیر توبہ کئے اڑ نہیں جاتے اگر کئی مرتبہ گناہ ہو جائے تو کئی مرتبہ استغفار کرتے ہیں،
مسند ابویعلیٰ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وہ اصرار کرنے والا اور اڑنے والا نہیں جو استغفار کرتا رہتا ہے اگرچہ [ بالفرض ] اس سے ایک دن میں ستر مرتبہ بھی گناہ ہو جائے۔ [سنن ابوداود:1514،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر1296
پھر فرمایا کہ وہ جانتے ہوں یعنی اس بات کو کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ» [9-التوبة:104] کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جگہ ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [4-النساء:110] ، جو شخص کوئی برا کام کرے یا گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ اللہ عزوجل بخشش کرنے والا مہربان ہے۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیان فرمایا لوگو! تم اوروں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا لوگو! تم دوسروں کی خطائیں معاف کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخشے گا باتیں بنانے والوں کی ہلاکت ہے [مسند احمد:165/2:صحیح]
گناہ پر جم جانے والوں کی ہلاکت ہے پھر فرمایا ان کاموں کے بدلے ان کی جزا مغفرت ہے اور طرح طرح کی بہتی نہروں والی جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑے اچھے اعمال ہیں۔
صفحہ نمبر1297
استغفار کرنا ٭٭
پھر فرمایا یہ لوگ گناہ کے بعد فوراً ذکر اللہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مسند احمد میں یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اللہ رحمن و رحیم کے سامنے حاضر ہو کر کہتا ہے کہ پروردگار مجھ سے گناہ ہو گیا تو معاف فرما اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے سے گو گناہ ہو گیا لیکن اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب گناہ پر پکڑ بھی کرتا ہے اور اگر چاہے تو معاف بھی فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہو تو فرما دیتا ہے میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف فرمایا، اس سے پھر گناہ ہو جاتا ہے یہ پھر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ پھر بخشتا ہے چوتھی مرتبہ پھر گناہ کر بیٹھتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر کہتا ہے اب میرا بندہ جو چاہے کرے [ مسند احمد ] یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:7507]
صفحہ نمبر1291
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے ایک مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم آپ کو دیکھتے ہیں تو ہمارے دلوں میں رقت طاری ہو جاتی ہے اور ہم اللہ والے بن جاتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی عورتوں بچوں میں پھنس جاتے ہیں، گھربار کے دھندوں میں لگ جاتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اگر تمہاری حالت یہی ہر وقت رہتی تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کرتے اور تمہاری ملاقات کو تمہارے گھر پر آتے، سنو اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں یہاں سے ہٹا دے اور دوسری قوم کو لے آئے جو گناہ کرے پھر بخشش مانگے اور اللہ انہیں بخشے۔ ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے کہ جنت کی بنیادیں کس طرح استوار ہیں آپ نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی تو ایک چاندی کی ہے اس کا گارہ مشک خالص ہے اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے، جنتیوں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی ان کی زندگی ہمیشہ کی ہو گی، ان کے کپڑے پرانے نہیں ہونگے جوانی کبھی نہیں ڈھلے گی اور تین اشخاص کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی 1۔عادل بادشاہ کی دعا 2-افطاری کے وقت روزے دار کی دعا 3- مظلوم کی دعا بادلوں سے اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جناب باری ارشاد فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو۔ [مسند احمد:305/2:صحیح] [ مسند احمد ]
صفحہ نمبر1292
امیرالمؤمنین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے اور اپنے گناہ کی معافی چاہے تو اللہ عزوجل اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے [سنن ابوداود:1521،قال الشيخ الألباني:صحیح] [ مسند احمد ]
صحیح مسلم میں روایت امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے دعا «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے اندر چلا جائے، [صحیح مسلم:234] امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ [ بخاری مسلم ] [صحیح بخاری:159]
صفحہ نمبر1293
پس یہ حدیث کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے، اس سے اگلی روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اور اس سے اگلی روایت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اور اس سے تیسری روایت کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔
تو الحمداللہ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور اس کی بے انتہاء مہربانی کی خبر سید الاولین والاخرین کی زبانی آپ کے چاروں برحق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی [ آؤ اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں اللہ تعالیٰ اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اے عفو ودرگزر کرنے والے! اور کسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے! تو ہم خطا کاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی درگزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرما دے۔ مترجم ]
یہی وہ مبارک آیت ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو ابلیس رونے لگا۔ [عبدالرزاق:133/1] [ مسند عبدالرزاق ]
صفحہ نمبر1294
استعفار اور لا الہ الا اللہ ٭٭
مسند ابو یعلیٰ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» کثرت سے پڑھا کرو اور استغفار پر مداو مت کرو ابلیس گناہوں سے لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس کی اپنی ہلاکت «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» اور استغفار سے ہے،
یہ حدیث دیکھ کر ابلیس نے لوگوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا پس وہ اپنے آپ کو راہ راست پر جانتے ہیں حالانکہ ہلاکت میں ہوتے ہیں۔ [مسند ابویعلیٰ:136:ضعیف جداً] لیکن اس حدیث کے دو راوی ضعیف ہیں۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ابلیس نے کہا اے رب مجھے تیری عزت کی قسم میں بنی آدم کو ان کے آخری دم تک بہکاتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میرے جلال اور میری عزت کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا [مسند احمد:29/3:ضعیف]
مسند بزاز میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا مجھ سے گناہ ہو گیا آپ نے فرمایا پھر استغفار کر اس نے کہا مجھ سے اور گناہ ہوا فرمایا استغفار کئے جا، یہاں تک کہ شیطان تھک جائے [بزار فی کشف الاستار:3249:صحیح بالشواھد] پھر فرمایا گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
صفحہ نمبر1295
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قیدی آیا اور کہنے لگایا اللہ میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف توبہ نہیں کرتا [ یعنی اللہ میں تیری ہی بخشش چاہتا ہوں ] آپ نے فرمایا اس نے حق حقدار کو پہنچایا۔ [مسند احمد:435/3:ضعیف] اصرار کرنے سے مراد یہ ہے کہ معصیت پر بغیر توبہ کئے اڑ نہیں جاتے اگر کئی مرتبہ گناہ ہو جائے تو کئی مرتبہ استغفار کرتے ہیں،
مسند ابویعلیٰ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وہ اصرار کرنے والا اور اڑنے والا نہیں جو استغفار کرتا رہتا ہے اگرچہ [ بالفرض ] اس سے ایک دن میں ستر مرتبہ بھی گناہ ہو جائے۔ [سنن ابوداود:1514،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر1296
پھر فرمایا کہ وہ جانتے ہوں یعنی اس بات کو کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ» [9-التوبة:104] کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جگہ ہے «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [4-النساء:110] ، جو شخص کوئی برا کام کرے یا گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ اللہ عزوجل بخشش کرنے والا مہربان ہے۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیان فرمایا لوگو! تم اوروں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا لوگو! تم دوسروں کی خطائیں معاف کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخشے گا باتیں بنانے والوں کی ہلاکت ہے [مسند احمد:165/2:صحیح]
گناہ پر جم جانے والوں کی ہلاکت ہے پھر فرمایا ان کاموں کے بدلے ان کی جزا مغفرت ہے اور طرح طرح کی بہتی نہروں والی جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑے اچھے اعمال ہیں۔
صفحہ نمبر1297
شہادت اور بشارت ٭٭
چونکہ احد والے دن ستر (70) مسلمان صحابی رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے،
مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بد دل نہ ہو جانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند و بالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لیے ہی ہے۔
صفحہ نمبر1299
اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہو چکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے، اور یہ ہم نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی، اس لیے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کر لیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں،
اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لیے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہو جائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اترائیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جا سکتا جیسے سورۃ البقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہو گا۔ اور جگہ ہے آیت «الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّـهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ» [29-العنكبوت:2-1] کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہو جائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آ جائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی۔
صفحہ نمبر1300
پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر، اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑ جائے پھر لوہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے [صحیح بخاری:2966]
پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔
صفحہ نمبر1301
شہادت اور بشارت ٭٭
چونکہ احد والے دن ستر (70) مسلمان صحابی رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے،
مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بد دل نہ ہو جانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند و بالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لیے ہی ہے۔
صفحہ نمبر1299
اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہو چکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے، اور یہ ہم نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی، اس لیے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کر لیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں،
اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لیے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہو جائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اترائیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جا سکتا جیسے سورۃ البقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہو گا۔ اور جگہ ہے آیت «الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّـهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ» [29-العنكبوت:2-1] کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہو جائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آ جائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی۔
صفحہ نمبر1300
پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر، اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑ جائے پھر لوہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے [صحیح بخاری:2966]
پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔
صفحہ نمبر1301
شہادت اور بشارت ٭٭
چونکہ احد والے دن ستر (70) مسلمان صحابی رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے،
مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بد دل نہ ہو جانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند و بالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لیے ہی ہے۔
صفحہ نمبر1299
اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہو چکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے، اور یہ ہم نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی، اس لیے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کر لیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں،
اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لیے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہو جائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اترائیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جا سکتا جیسے سورۃ البقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہو گا۔ اور جگہ ہے آیت «الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّـهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ» [29-العنكبوت:2-1] کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہو جائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آ جائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی۔
صفحہ نمبر1300
پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر، اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑ جائے پھر لوہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے [صحیح بخاری:2966]
پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔
صفحہ نمبر1301
شہادت اور بشارت ٭٭
چونکہ احد والے دن ستر (70) مسلمان صحابی رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے،
مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بد دل نہ ہو جانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند و بالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لیے ہی ہے۔
صفحہ نمبر1299
اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہو چکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے، اور یہ ہم نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی، اس لیے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کر لیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں،
اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لیے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہو جائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اترائیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جا سکتا جیسے سورۃ البقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہو گا۔ اور جگہ ہے آیت «الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّـهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ» [29-العنكبوت:2-1] کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہو جائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آ جائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی۔
صفحہ نمبر1300
پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر، اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑ جائے پھر لوہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے [صحیح بخاری:2966]
پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔
صفحہ نمبر1301
شہادت اور بشارت ٭٭
چونکہ احد والے دن ستر (70) مسلمان صحابی رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے،
مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بد دل نہ ہو جانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند و بالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لیے ہی ہے۔
صفحہ نمبر1299
اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہو چکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے، اور یہ ہم نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی، اس لیے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کر لیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں،
اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لیے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہو جائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اترائیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جا سکتا جیسے سورۃ البقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہو گا۔ اور جگہ ہے آیت «الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّـهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ» [29-العنكبوت:2-1] کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہو جائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آ جائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی۔
صفحہ نمبر1300
پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر، اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑ جائے پھر لوہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے [صحیح بخاری:2966]
پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔
صفحہ نمبر1301
شہادت اور بشارت ٭٭
چونکہ احد والے دن ستر (70) مسلمان صحابی رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے،
مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بد دل نہ ہو جانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند و بالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لیے ہی ہے۔
صفحہ نمبر1299
اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہو چکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے، اور یہ ہم نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی، اس لیے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کر لیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں،
اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لیے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہو جائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اترائیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جا سکتا جیسے سورۃ البقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہو گا۔ اور جگہ ہے آیت «الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّـهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ» [29-العنكبوت:2-1] کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہو جائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آ جائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی۔
صفحہ نمبر1300
پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر، اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑ جائے پھر لوہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے [صحیح بخاری:2966]
پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔
صفحہ نمبر1301
شہادت اور بشارت ٭٭
چونکہ احد والے دن ستر (70) مسلمان صحابی رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈھارس دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیندار لوگ مال و جان کا نقصان اٹھاتے رہے لیکن بالآخر غلبہ انہی کا ہوا تم اگلے واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو تو یہ راز تم پر کھل جائے گا۔ اس قرآن میں لوگوں کیلئے اگلی امتوں کا بیان بھی ہے اور یہ ہدایت و وعظ بھی ہے۔ یعنی تمہارے دلوں کی ہدایت اور تمہیں برائی بھلائی سے آگاہ کرنے والا یہی قرآن ہے،
مسلمانوں کو یہ واقعات یاد دلا کر پھر مزید تسلی کے طور پر فرمایا کہ تم اس جنگ کے نتائج دیکھ کر بد دل نہ ہو جانا نہ مغموم بن کر بیٹھ رہنا فتح و نصرت غلبہ اور بلند و بالا مقام بالآخر مومنو تمہارے لیے ہی ہے۔
صفحہ نمبر1299
اگر تمہیں زخم لگے ہیں تمہارے آدمی شہید ہوئے تو اس سے پہلے تمہارے دشمن بھی تو قتل ہو چکے ہیں وہ بھی تو زخم خوردہ ہیں یہ تو چڑھتی ڈھلتی چھاؤں ہے ہاں بھلا وہ ہے جو انجام کار غالب رہے، اور یہ ہم نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ یہ بعض مرتبہ شکست بالخصوص اس جنگ احد کی، اس لیے تھی کہ ہم صابروں کا اور غیر صابروں کا امتحان کر لیں اور جو مدت سے شہادت کی آرزو رکھتے تھے انہیں کامیاب بنائیں کہ وہ اپنا جان و مال ہماری راہ میں خرچ کریں،
اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ جملہ معترضہ بیان کر کے فرمایا یہ اس لیے بھی کہ ایمان والوں کے گناہ اگر ہوں تو دور ہو جائیں اور ان کے درجات بڑھیں اور اس میں کافروں کا مٹانا بھی ہے کیونکہ وہ غالب ہو کر اترائیں گے سرکشی اور تکبر میں اور بڑھیں گے اور یہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنے گا اور پھر مر کھپ جائیں گے ان سختیوں اور زلزلوں اور ان آزمائشوں کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جا سکتا جیسے سورۃ البقرہ میں ہے کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگوں کی جیسی آزمائش ہوئی ایسی تمہاری نہ ہو اور تم جنت میں چلے جاؤ یہ نہیں ہو گا۔ اور جگہ ہے آیت «الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّـهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ» [29-العنكبوت:2-1] کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم صرف ان کے اس قول پر کہ ہم ایمان لائے انہیں چھوڑ دیں گے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی؟ یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ جب تک صبر کرنے والے معلوم نہ ہو جائیں یعنی دنیا میں ہی ظہور میں نہ آ جائیں تب تک جنت نہیں مل سکتی۔
صفحہ نمبر1300
پھر فرمایا کہ تم اس سے پہلے تو ایسے موقعہ کی آرزو میں تھے کہ تم اپنا صبر، اپنی بہادری اور مضبوطی اور استقامت اللہ تعالیٰ کو دکھاؤ اللہ کی راہ میں شہادت پاؤ، لو اب ہم نے تمہیں یہ موقعہ دیا تم بھی اپنی ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، حدیث شریف میں ہے دشمن کی ملاقات کی آرزو نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب میدان پڑ جائے پھر لوہے کی لاٹ کی طرح جم جاؤ اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے [صحیح بخاری:2966]
پھر فرمایا کہ تم نے اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ لیا کہ نیزے تنے ہوئے ہیں تلواریں کھچ رہی ہیں بھالے اچھل رہے ہیں تیر برس رہے ہیں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ادھر ادھر لاشیں گر رہی ہیں۔
صفحہ نمبر1301
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد ٭٭
میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کر دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بے اصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ قدرے زخمی ہو گیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کر دیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء علیہم السلہم کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کر دیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا
ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنا کام کر گئے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہو جاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:248/3]
صفحہ نمبر1308
پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری میں مضبوط ہو جائیں خواہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہوں یا نہ ہوں،
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی خبر سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے عائشہ کے گھر پر آئے یہاں حضور علیہ السلام پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونہ چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آ چکی۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہو جاؤ۔
صفحہ نمبر1309
انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کر لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے صلی اللہ علیہ وسلم صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی، انہیں بھی یقین ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے، [صحیح بخاری:4454-4453]
سیدنا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر۔ اللہ کی قسم اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر آپ شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہو گا۔ [مستدرک حاکم:126/3:ضعیف]
صفحہ نمبر1310
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کر کے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے «ووَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ» [35-فاطر:11] نہ کوئی عمر بڑھائی جاتی ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے «هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا» [6-الأنعام:2] ، ”جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی“ اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جا رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ جوانمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی۔ موت تو اپنے وقت پر آ کر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ۔
صفحہ نمبر1311
حجر بن عدی رضی اللہ عنہ جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آ جاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہو جاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بے اجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کا خون خشک ہو جاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہو جاتی ہے۔ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چنانچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔
صفحہ نمبر1312
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلب ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا «مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ ۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ» [42-الشورى:20] ، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں
اور جگہ ہے «مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء: 19-18] جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ اس میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا بدلہ دے دیتے ہیں۔
صفحہ نمبر1313
احد کے مجاہدین کو خطاب ٭٭
پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی،
ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کر سکی پھر تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہو گئے «ربیون» کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ [تفسیر ابن جریر الطبری:266/7] ۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔
صفحہ نمبر1314
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد ٭٭
میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کر دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بے اصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ قدرے زخمی ہو گیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کر دیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء علیہم السلہم کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کر دیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا
ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنا کام کر گئے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہو جاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:248/3]
صفحہ نمبر1308
پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری میں مضبوط ہو جائیں خواہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہوں یا نہ ہوں،
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی خبر سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے عائشہ کے گھر پر آئے یہاں حضور علیہ السلام پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونہ چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آ چکی۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہو جاؤ۔
صفحہ نمبر1309
انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کر لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے صلی اللہ علیہ وسلم صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی، انہیں بھی یقین ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے، [صحیح بخاری:4454-4453]
سیدنا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر۔ اللہ کی قسم اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر آپ شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہو گا۔ [مستدرک حاکم:126/3:ضعیف]
صفحہ نمبر1310
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کر کے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے «ووَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ» [35-فاطر:11] نہ کوئی عمر بڑھائی جاتی ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے «هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا» [6-الأنعام:2] ، ”جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی“ اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جا رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ جوانمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی۔ موت تو اپنے وقت پر آ کر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ۔
صفحہ نمبر1311
حجر بن عدی رضی اللہ عنہ جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آ جاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہو جاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بے اجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کا خون خشک ہو جاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہو جاتی ہے۔ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چنانچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔
صفحہ نمبر1312
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلب ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا «مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ ۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ» [42-الشورى:20] ، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں
اور جگہ ہے «مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء: 19-18] جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ اس میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا بدلہ دے دیتے ہیں۔
صفحہ نمبر1313
احد کے مجاہدین کو خطاب ٭٭
پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی،
ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کر سکی پھر تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہو گئے «ربیون» کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ [تفسیر ابن جریر الطبری:266/7] ۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔
صفحہ نمبر1314
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد ٭٭
میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کر دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بے اصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ قدرے زخمی ہو گیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کر دیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء علیہم السلہم کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کر دیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا
ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنا کام کر گئے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہو جاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:248/3]
صفحہ نمبر1308
پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری میں مضبوط ہو جائیں خواہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہوں یا نہ ہوں،
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی خبر سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے عائشہ کے گھر پر آئے یہاں حضور علیہ السلام پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونہ چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آ چکی۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہو جاؤ۔
صفحہ نمبر1309
انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کر لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے صلی اللہ علیہ وسلم صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی، انہیں بھی یقین ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے، [صحیح بخاری:4454-4453]
سیدنا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر۔ اللہ کی قسم اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر آپ شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہو گا۔ [مستدرک حاکم:126/3:ضعیف]
صفحہ نمبر1310
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کر کے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے «ووَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ» [35-فاطر:11] نہ کوئی عمر بڑھائی جاتی ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے «هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا» [6-الأنعام:2] ، ”جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی“ اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جا رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ جوانمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی۔ موت تو اپنے وقت پر آ کر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ۔
صفحہ نمبر1311
حجر بن عدی رضی اللہ عنہ جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آ جاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہو جاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بے اجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کا خون خشک ہو جاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہو جاتی ہے۔ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چنانچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔
صفحہ نمبر1312
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلب ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا «مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ ۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ» [42-الشورى:20] ، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں
اور جگہ ہے «مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء: 19-18] جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ اس میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا بدلہ دے دیتے ہیں۔
صفحہ نمبر1313
احد کے مجاہدین کو خطاب ٭٭
پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی،
ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کر سکی پھر تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہو گئے «ربیون» کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ [تفسیر ابن جریر الطبری:266/7] ۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔
صفحہ نمبر1314
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد ٭٭
میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کر دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بے اصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ قدرے زخمی ہو گیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کر دیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء علیہم السلہم کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کر دیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا
ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنا کام کر گئے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہو جاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:248/3]
صفحہ نمبر1308
پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری میں مضبوط ہو جائیں خواہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہوں یا نہ ہوں،
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی خبر سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے عائشہ کے گھر پر آئے یہاں حضور علیہ السلام پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونہ چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آ چکی۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہو جاؤ۔
صفحہ نمبر1309
انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کر لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے صلی اللہ علیہ وسلم صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی، انہیں بھی یقین ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے، [صحیح بخاری:4454-4453]
سیدنا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر۔ اللہ کی قسم اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر آپ شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہو گا۔ [مستدرک حاکم:126/3:ضعیف]
صفحہ نمبر1310
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کر کے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے «ووَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ» [35-فاطر:11] نہ کوئی عمر بڑھائی جاتی ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے «هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا» [6-الأنعام:2] ، ”جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی“ اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جا رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ جوانمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی۔ موت تو اپنے وقت پر آ کر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ۔
صفحہ نمبر1311
حجر بن عدی رضی اللہ عنہ جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آ جاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہو جاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بے اجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کا خون خشک ہو جاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہو جاتی ہے۔ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چنانچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔
صفحہ نمبر1312
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلب ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا «مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ ۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ» [42-الشورى:20] ، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں
اور جگہ ہے «مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء: 19-18] جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ اس میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا بدلہ دے دیتے ہیں۔
صفحہ نمبر1313
احد کے مجاہدین کو خطاب ٭٭
پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی،
ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کر سکی پھر تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہو گئے «ربیون» کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ [تفسیر ابن جریر الطبری:266/7] ۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔
صفحہ نمبر1314
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا مغالطہٰ اور غزوہ احد ٭٭
میدان احد میں مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور ان کے بعض قتل بھی کئے گئے۔ اس دن شیطان نے یہ بھی مشہور کر دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے اور ابن قمیہ کافر نے مشرکوں میں جا کر یہ خبر اڑا دی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے آیا ہوں اور دراصل وہ افواہ بے اصل تھی اور اس شخص کا یہ قول بھی غلط تھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ تو کیا تھا لیکن اس سے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ قدرے زخمی ہو گیا تھا اور کوئی بات نہ تھی اس غلط بات کی شہرت نے مسلمانوں کے دل چھوٹے کر دیئے ان کے قدم اکھڑ گئے اور لڑائی سے بددل ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلے انبیاء علیہم السلہم کی طرح یہ بھی ایک نبی ہیں ہوسکتا ہے کہ میدان میں قتل کر دیئے جائیں لیکن کچھ اللہ کا دین نہیں جاتا رہے گا
ایک روایت میں ہے کہ ایک مہاجر نے دیکھا کہ ایک انصاری جنگ احد میں زخموں سے چور زمین پر گرا پڑا ہے اور خاک و خون میں لوٹ رہا ہے اس سے کہا کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے اس نے کہا اگر یہ صحیح ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنا کام کر گئے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر سے تم سب بھی قربان ہو جاؤ، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:248/3]
صفحہ نمبر1308
پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل یا انتقال ایسی چیز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین سے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ اور ایسا کرنے والے اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے، اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو جزائے خیر دے گا جو اس کی اطاعت پر جم جائیں اور اس کے دین کی مدد میں لگ جائیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری میں مضبوط ہو جائیں خواہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہوں یا نہ ہوں،
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی خبر سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جلدی سے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں کی حالت دیکھی بھالی اور بغیر کچھ کہے سنے عائشہ کے گھر پر آئے یہاں حضور علیہ السلام پر حبرہ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی آپ نے چادر کا کونہ چہرہ مبارک پر سے ہٹا کر بےساختہ بوسہ لے لیا اور روتے ہوئے فرمانے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو مرتبہ موت نہ لائے گا جو موت آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ کو آ چکی۔ اس کے بعد آپ پھر مسجد میں آئے اور دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خطبہ سنا رہے ہیں ان سے فرمایا کہ خاموش ہو جاؤ۔
صفحہ نمبر1309
انہیں چپ کرا کر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مرگئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ خوش رہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر موت نہیں آتی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لوگوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا یہ آیت اب اتری ہے پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہ آیت چڑھ گئی اور لوگوں نے یقین کر لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے صلی اللہ علیہ وسلم صدیق اکبر کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر عمر کے تو گویا قدموں تلے سے زمین نکل گئی، انہیں بھی یقین ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس جہان فانی کو چھوڑ کر چل بسے، [صحیح بخاری:4454-4453]
سیدنا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ نہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر مرتد ہوں نہ آپ کی شہادت پر۔ اللہ کی قسم اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کئے جائیں تو ہم بھی اس دین پر مرمٹیں جس پر آپ شہید ہوئے اللہ کی قسم میں آپ کا بھائی ہوں آپ کا ولی ہوں آپ کا چچا زاد بھائی ہوں اور آپ کا وارث ہوں مجھ سے زیادہ حقدار آپ کا اور کون ہو گا۔ [مستدرک حاکم:126/3:ضعیف]
صفحہ نمبر1310
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنی مدت پوری کر کے ہی مرتا ہے جیسے اور جگہ ہے «ووَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ» [35-فاطر:11] نہ کوئی عمر بڑھائی جاتی ہے نہ عمر گھٹائی جاتی ہے مگر سب کتاب اللہ میں موجود ہے اور جگہ ہے «هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا» [6-الأنعام:2] ، ”جس اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر وقت پورا کیا اور اجل مقرر کی“ اس آیت میں بزدل لوگوں کو شجاعت کی رغبت دلائی گئی ہے اور اللہ کی راہ کے جہاد کا شوق دلایا جا رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ جوانمردی کی وجہ سے کچھ عمر گھٹ نہیں جاتی اور پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عمر بڑھ نہیں جاتی۔ موت تو اپنے وقت پر آ کر ہی رہے گی خواہ شجاعت اور بہادری برتو خواہ نامردی اور بزدلی دکھاؤ۔
صفحہ نمبر1311
حجر بن عدی رضی اللہ عنہ جب دشمنان دین کے مقابلے میں جاتے ہیں اور دریائے دجلہ بیچ میں آ جاتا ہے اور لشکر اسلام ٹھٹھک کر کھڑا ہو جاتا ہے تو آپ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بے اجل نہیں مرتا آؤ اسی دجلہ میں گھوڑے ڈال دو، یہ فرما کر آپ اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیتے ہیں آپ کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی اپنے گھوڑوں کو پانی میں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کا خون خشک ہو جاتا ہے اور اس پر ہیبت طاری ہو جاتی ہے۔ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو دیوانے آدمی ہیں یہ تو پانی کی موجوں سے بھی نہیں ڈرتے بھاگو بھاگو چنانچہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔
صفحہ نمبر1312
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس کا عمل صرف دنیا کیلئے ہو تو اس میں سے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے مل جاتا ہے لیکن آخرت میں وہ خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور جس کا مقصد آخرت طلب ہو اسے آخرت تو ملتی ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اپنے مقدر کا پالیتا ہے جیسے اور جگہ فرمایا «مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ ۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ» [42-الشورى:20] ، آخرت کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم زیادتی کے ساتھ دیتے ہیں اور دنیا کی کھیتی کے چاہنے والے کو ہم گو دنیا دے دیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں
اور جگہ ہے «مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا» [17-الإسراء: 19-18] جو شخص صرف دنیا طلب ہی ہو ہم ان میں سے جسے چاہیں جس قدر چاہیں دنیا دے دیتے ہیں پھر وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ساتھ اس میں جاتا ہے اور جو آخرت کا خواہاں ہو اور کوشاں بھی ہو اور باایمان بھی ہو ان کی کوشش اللہ تعالیٰ کے ہاں مشکور ہے اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ ہم شکر گزاروں کو اچھا بدلہ دے دیتے ہیں۔
صفحہ نمبر1313
احد کے مجاہدین کو خطاب ٭٭
پھر اللہ تعالیٰ احد کے مجاہدین کو خطاب کرتا ہوا فرماتا ہے کہ اس سے پہلے بھی بہت سے نبی اپنی جماعتوں کو ساتھ لے کر دشمنان دین سے لڑے بھڑے اور وہ تمہاری طرح اللہ کی راہ میں تکلیفیں بھی پہنچائے گئے لیکن پھر بھی مضبوط دل اور صابرو شاکر رہے نہ سست ہوئے نہ ہمت ہاری اور اس صبر کے بدلے انہوں نے اللہ کریم کی محبت مول لے لی،
ایک یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اے مجاہدین احد تم یہ سن کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوئے کیوں ہمت ہار بیٹھے؟ اور کفر کے مقابلے میں کیوں دب گئے؟ حالانکہ تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء کی شہادت کو دیکھ کر بھی نہ دبے نہ پیچھے ہٹے بلکہ اور تیزی کے ساتھ لڑے، یہ اتنی بڑی مصیبت بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی اور کے دل چھوٹے نہ کر سکی پھر تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر اتنے بودے کیوں ہو گئے «ربیون» کے بہت سے معنی آتے ہیں مثلاً علماء ابرار متقی عابد زاہد تابع فرمان وغیرہ وغیرہ [تفسیر ابن جریر الطبری:266/7] ۔ پس قرآن کریم ان کی اس مصیبت کے وقت دعا کو نقل کرتا ہے پھر فرماتا ہے کہ انہیں دنیا کا ثواب نصرت و مدد ظفرو اقبال ملا اور آخرت کی بھلائی اور اچھائی بھی اسی کے ساتھ جمع ہوئی یہ محسن لوگ اللہ کے چہیتے بندے ہیں۔
صفحہ نمبر1314
کافر اور منافقوں کے ارادے اور غزوہ احد کا پھر اندوہناک تذکرہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو کافروں اور منافقوں کی باتوں کے ماننے سے روک رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ اگر ان کی مانی تو دنیا اور آخرت کی ذلت تم پر آئے گی ان کی چاہت تو یہی ہے کہ تمہیں دین اسلام سے ہٹا دیں پھر فرماتا ہے مجھ ہی کو اپنا والی اور مددگار جانو مجھ ہی سے دوستی کرو مجھ ہی پر بھروسہ کرو مجھ ہی سے مدد چاہو پھر فرمایا کہ ان شریروں کے دلوں میں ان کے کفر کے سبب ڈر خوف ڈال دوں گا۔
صفحہ نمبر1319
بخاری مسلم میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ باتیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی ہے میرے لیے زمین مسجد اور اس کی مٹی وضو کی پاک چیز بنائی گئی، میرے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور مجھے شفاعت دی گئی اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف سے مخصوص بھیجا جاتا تھا اور میری بعثت، میری نبوت تمام دنیا کیلئے عام ہوئی۔ [صحیح بخاری:335]
صفحہ نمبر1320
مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں پر اور بعض روایتوں میں ہے تمام امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطا فرمائی ہیں، مجھے تمام دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا، میرے اور میری امت کیلئے تمام زمین مسجد اور پاک بنائی گئی، میرے امتی کو جہاں نماز کا وقت آ جائے وہیں اس کی مسجد اور اس کا وضو ہے، میرا دشمن مجھ سے مہینہ بھر کی راہ پر ہو وہیں سے اللہ تعالیٰ اس کا دل رعب سے پُر کر دیتا ہے اور وہ کانپنے لگتا ہے اور میرے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے [مسند احمد:248/5:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ میں مدد کیا گیا ہوں میرے رعب سے ہر دشمن پر [صحیح مسلم:523]
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے مجھے پانچ چیزیں دی گئیں میں ہر سرخ و سفید کی طرف بھیجا گیا میرے لیے تمام زمین وضو اور مسجد بنائی گی۔ میرے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے جو میرے پہلے کسی کے حلال نہ تھے اور میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی اور مجھے شفاعت دی گئی تمام انبیاء نے شفاعت مانگ لی لیکن میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لوگوں کیلئے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو بچار کھی ہے [مسند احمد:416/4:صحیح لغیرہ]
،سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ لڑائی سے لوٹ گیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:598/2:ضعیف]
صفحہ نمبر1321
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور تمہاری مدد کی اس سے بھی یہ استدلال ہو سکتا ہے کہ یہ وعدہ احد کے دن کا تھا تین ہزار دشمن کا لشکر تھا تاہم مقابلہ پر آتے ہی ان کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی لیکن پھر تیر اندازوں کی نافرمانی کی وجہ سے اور بعض حضرات کی پست ہمتی کی بناء پر وہ وعدہ جو مشروط تھا رک گیا، پس فرماتا ہے کہ تم انہیں اپنے ہاتھوں سے کاٹتے تھے۔
شروع دن میں ہی اللہ نے تمہیں ان پر غالب کر دیا لیکن تم نے پھر بزدلی دکھائی اور نبی کی نافرمانی کی ان کی بتائی ہوئی جگہ سے ہٹ گئے اور آپس میں اختلاف کرنے لگے حالانکہ اللہ عزوجل نے تمہیں تمہاری پسند کی *چیز فتح* دکھا دی تھی، یعنی مسلمان صاف طور پر غالب آ گئے تھے مال غنیمت آنکھوں کے سامنے موجود تھا کفار پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے تم میں سے بعض نے دنیا طلبی کی اور کفار کی ہزیمت کو دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا خیال نہ کر کے مال غنیمت کی طرف لپکے، گو بعض اور نیک آخرت طلب بھی تھے لیکن اس نافرمانی وغیرہ کی بنا پر کفار کی پھر بن آئی اور ایک مرتبہ تمہاری پوری آزمائش ہو گئی غالب ہو کر مغلوب ہو گئے فتح کے بعد شکست ہو گئی لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس جرم کو معاف فرما دیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بظاہر تم ان سے تعداد میں اور اسباب میں کم تھے خطا کا معاف ہونا بھی «عفاعنکم» میں داخل ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ کچھ یونہی سی گوشمالی کر کے کچھ بزرگوں کی شہادت کے بعد اس نے اپنی آزمائش کو اٹھا لیا اور باقی والوں کو معاف فرما دیا، اللہ تعالیٰ باایمان لوگوں پر فضل و کرم لطف و رحم ہی کرتا ہے۔
صفحہ نمبر1322
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد جیسی احد میں ہوئی ہے کہیں نہیں ہوئی۔ اسی کے بارے میں ارشاد باری ہے کہ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا لیکن پھر تمہارے کرتوتوں سے معاملہ برعکس ہو گیا، بعض لوگوں نے دنیا طلبی کر کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی یعنی بعض تیر اندوزوں نے جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ کے درے پر کھڑا کیا تھا اور فرما دیا تھا کہ تم یہاں سے دشمنوں کی نگہبانی کرو وہ تمہاری پیٹھ کی طرف سے نہ آ جائیں، اگر تم ہار دیکھو بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور اگر تم ہر طرح غالب آ گئے تو بھی تم غنیمت جمع کرنے کیلئے بھی اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا،
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غالب آ گئے تو تیر اندوزوں نے حکم عدولی کی اور وہ اپنی جگہ کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آ ملے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کر دیا صفوں کا کوئی خیال نہ رہا درے کو خالی پا کر مشرکوں نے بھاگنا بند کیا اور غور و فکر کر کے اس جگہ حملہ کر دیا، چند مسلمانوں کی پیٹھ کے پیچھے سے ان کی بے خبری میں اس زور کا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے قدم نہ جم سکے اور شروع دن کی فتح اب شکست سے بدل گئی اور یہ مشہور ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے اور لڑائی کے رنگ نے مسلمانوں کو اس بات کا یقین بھی دلا دیا، تھوڑی دیر بعد جبکہ مسلمانوں کی نظریں چہرہ مبارک پر پڑیں تو وہ اپنی سب کوفت اور ساری مصیبت بھول گئے اور خوشی کے مارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لپکے آپ ادھر آ رہے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب نازل ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو خون آلودہ کر دیا، انہیں کوئی حق نہ تھا کہ اس طرح ہم پر غالب رہ جائیں۔
صفحہ نمبر1323
تھوڑی دیر میں ہم نے سنا کہ ابوسفیان پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوا کہہ رہا تھا «اعل ہبل اعل ھبل» ہبل بت کا بول بالا ہو ابوبکر کہاں ہیں؟ عمر کہاں ہیں؟ عمر نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے جواب دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تو عمر فاروق نے اس کے جواب میں فرمایا «اللہ اعلی واجل اللہ اعلی واجل» اللہ بہت بلند ہے اور جلال و عزت والا ہے اللہ بہت بلند اور جلال و عزت والا ہے، وہ پوچھنے لگا بتاؤ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ ابوبکر کہاں ہیں؟ عمر کہاں ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ ہیں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور یہ ہوں میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ ابوسفیان کہنے لگا یہ بدر کا بدلہ ہے یونہی دھوپ چھاؤں الٹتی پلٹتی رہتی ہے، لڑائی کی مثال کنویں کے ڈول کی سی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا برابری کا معاملہ ہرگز نہیں تمہارے مقتول تو جہنم میں گئے اور ہمارے شہید جنت میں پہنچے، ابوسفیان کہنے لگا اگر یونہی ہو تو یقیناً ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، سنو تمہارے مقتولین میں بعض ناک کان کٹے لوگ بھی تم پاؤ گے گویہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا لیکن ہمیں کچھ برا بھی نہیں معلوم ہوا، [مسند احمد:278/1:صحیح بالشواھد]
یہ حدیث غریب ہے اور یہ قصہ بھی عجیب ہے، یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مرسلات سے ہے اور وہ یا ان کے والد جنگ احد میں موجود نہ تھے، مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت موجود ہے۔
صفحہ نمبر1324
ابن ابی حاتم اور بیہقی فی دلائل النبوۃ میں بھی یہ مروی ہے اور صحیح احادیث میں اس کے بعض حصوں کے شواہد بھی ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ احد والے دن عورتیں مسلمانوں کے پیچھے تھیں جو زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں مجھے تو پوری طرح یقین تھا کہ آج کے دن ہم میں کوئی ایک بھی طالب دنیا نہیں بلکہ اس وقت اگر مجھے اس بات پر قسم کھلوائی جاتی تو کھا لیتا لیکن قرآن میں یہ آیت اتری «مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ» [3-آل عمران:152]
یعنی تم میں سے بعض طالب دنیا بھی ہیں، جب صحابہ رضی اللہ عنہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف آپ کی نافرمانی سرزد ہوئی تو ان کے قدم اکھڑ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو مہاجر باقی رہ گئے جب مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا تو آپ فرمانے لگے اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو انہیں ہٹائے تو ایک انصاری اٹھ کھڑے ہوئے اور اس جمِ غفیر کے مقابل تن تنہا داد شجاعت دینے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے پھر کفار نے حملہ کیا آپ نے یہی فرمایا ایک انصاری تیار ہو گئے اور اس بے جگری سے لڑے کہ انہیں آگے نہ بڑھنے دیا لیکن بالآخر یہ بھی شہید ہو گئے یہاں تک کہ ساتوں صحابہ رضی اللہ عنہم اللہ کے ہاں پہنچ گئے اللہ ان سے خوش ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین سے فرمایا افسوس ہم نے اپنے ساتھیوں سے منصفانہ معاملہ نہ کیا، اب ابوسفیان نے ہانک لگائی کہ «اعل ہبل» آپ نے فرمایا کہو «اللہ اعلی واجل» ابوسفیان نے کہا «لنا العزی ولا عزی لکم» ہمارا عزی بت ہے تمہاری کوئی عزی نہیں، آپ نے فرمایا کہو «اللہ مولانا والکافرون لا مولی لھم اللہ» ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں، ابوسفیان کہنے لگا آج کے دن بدر کے دن کا بدلہ ہے کوئی دن ہمارا اور کوئی دن تمہارا۔ یہ تو ہاتھوں ہاتھ کا سودا ہے، ایک کے بدلے ایک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز برابر نہیں ہمارے شہداء زندہ ہیں وہاں رزق دئیے جاتے ہیں اور تمہارے مقتول جہنم میں عذاب کئے جا رہے ہیں پھر ابوسفیان بولا تمہارے مقتولوں میں تم دیکھو گے کہ بعض کے کان ناک وغیرہ کاٹ لیے گئے ہیں لیکن میں نے نہ یہ کہا نہ اسے روکا نہ اسے میں نے پسند کیا نہ مجھے یہ بھلا معلوم ہوا نہ برا۔
صفحہ نمبر1325
اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ چاک کر دیا گیا تھا اور ہندہ نے انکا کلیجہ لے کر چبایا تھا لیکن نگل نہ سکی تو اگل دیا، حضور علیہ السلام نے فرمایا نا ممکن تھا کہ اس کے پیٹ میں حمزہ کا ذرا سا گوشت بھی چلا جائے اللہ تعالیٰ حمزہ کے کسی عضو بدن کو جہنم میں لے جانا نہیں چاہتا چنانچہ حمزہ کے جنازے کو اپنے سامنے رکھ کر نماز جنازہ ادا کی پھر ایک انصاری رضی اللہ عنہ کا جنازہ لایا گیا وہ حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا اور آپ نے پھر نماز جنازہ پڑھی انصاری رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھا لیا گیا لیکن سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ وہیں رہا اسی طرح ستر شخص لائے گئے اور حمزہ کی ستر دفعہ جنازے کی نماز پڑھی گئی [مسند احمد:463/1:حسن لغیرہ] [ مسند ]
صفحہ نمبر1326
صحیح بخاری شریف میں سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ احد والے دن مشرکوں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو الگ جما دیا اور انکا سردار سیدنا عبداللہ بن جیبر رضی اللہ عنہ کو بنایا اور فرما دیا کہ اگر تم ہمیں ان پر غالب آیا ہوا دیکھو تو بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور وہ ہم پر غالب آ جائیں تو بھی تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا، لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ کے فضل سے مشرکوں کے قدم پیچھے ہٹنے لگے یہاں تک کہ عورتیں بھی تہبند اونچا کر کر کے پہاڑوں میں ادھر دوڑنے لگیں، اب تیر انداز گروہ غنیمت غنیمت کہتا ہوا نیچے اتر آیا، ان کے امیر نے انہیں ہر چند سمجھایا لیکن کسی نے ان کی نہ سنی، بس اب مشرکین مسلمانوں کی پیٹھ کی طرف سے آن پڑے اور ستر بزرگ شہید ہو گئے۔
صفحہ نمبر1327
ابوسفیان ایک ٹیلے پر چڑھ کر کہنے لگا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم حیات ہیں؟ کیا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہیں؟ کیا عمر رضی اللہ عنہ زندہ ہیں؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے صحابہ خاموش رہے تو وہ خوشی کے مارے اچھل پڑا اور کہنے لگا یہ سب ہماری تلواروں کے گھاٹ اتر گئے اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تاب ضبط نہ رہی فرمانے لگے، اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے بحمد للہ ہم سب موجود ہیں اور تیری تباہی اور بربادی کرنے والے زندہ ہیں، پھر وہ باتیں ہوئیں جو اوپر بیان ہو چکی ہیں، [صحیح بخاری:4043]
صحیح بخاری شریف میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جنگ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی اور ابلیس نے آواز لگائی اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے کی خبر لو اگلی جماعتیں پچھلی جماعتوں پر ٹوٹ پڑیں، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تلواریں ان کے والد سیدنا یمان رضی اللہ عنہ پر برس رہی ہیں ہر چند کہتے رہے کہ اے اللہ کے بندو! یہ میرے باپ یمان ہیں مگر کون سنتا تھا وہ یونہی شہید ہو گئے لیکن سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کچھ نہ کہا بلکہ فرمایا اللہ تمہیں معاف کرے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی یہ بھلائی ان کے آخری دم تک ان میں رہی۔ [صحیح بخاری:4065]
صفحہ نمبر1328
سیرت ابن اسحٰق میں ہے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے خود دیکھا کہ مشرک مسلمانوں کے اول حملہ میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کی عورتیں ہندہ وغیرہ تہبند اٹھائے تیز تیز دوڑ رہی تھیں لیکن اس کے بعد جب تیر اندازوں نے مرکز چھوڑا اور کفار نے سمٹ کر پیچھے کی طرف سے ہم پر حملہ کر دیا ادھر کسی نے آواز لگائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے پھر معاملہ برعکس ہو گیا ورنہ ہم مشرکین کے علم برداروں تک پہنچ چکے تھے اور جھنڈا اس کے ہاتھ سے گر پڑا تھا لیکن عمرہ بن علقمہ حارثیہ عورت نے اسے تھام لیا اور قریش کا مجمع پھر یہاں جمع ہو گیا،سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ چچا سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ یہ رنگ دیکھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کے پاس آتے ہیں اور فرماتے ہیں تم نے کیوں ہمتیں چھوڑ دیں؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو شہید ہو گئے۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تم جی کر کیا کرو گے؟ یہ کہا اور مشرکین میں گھسے پھر لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت سے جا ملے، [تفسیر ابن جریر الطبری:4945:ضعیف]
یہ بدر والے دن جہاد میں نہیں پہنچ سکے تھے تو عہد کیا تھا کہ آئندہ اگر کوئی موقعہ آیا تو میں دکھا دوں گا چنانچہ اس جنگ میں وہ موجود تھے جب مسلمانوں میں کھلبلی مچی تو انہوں نے کہا اللہ میں مسلمانوں کے اس کام سے معذور ہوں اور مشرکوں کے اس کام سے بری ہوں پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھ گئے راہ میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہنے لگے کہاں جا رہے ہو؟ مجھے تو جنت کی خوشبو کی لپٹیں احد پہاڑ سے چلی آ رہی ہیں چنانچہ مشرکوں میں گھس گئے اور بڑی بے جگری سے لڑے یہاں تک کہ شہادت حاصل کی اسی (80) سے زیادہ تیر و تلوار کے زخم بدن پر آئے تھے پہچانے نہ جاتے تھے انگلی کو دیکھ کر پہچانے گئے۔ [صحیح بخاری:4048]
صفحہ نمبر1329
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک حاجی نے بیت اللہ شریف میں ایک مجلس دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے کہا قریشی ہیں پوچھا ان کے شیخ کون ہیں؟ جواب ملا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، اب وہ آیا اور کہنے لگا میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پوچھو اس نے کہا آپ کو اس بیت اللہ کی حرمت کی قسم کیا آپ کو علم ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ احد والے دن بھاگ گئے تھے؟ آپ نے جواب دیا ہاں۔ کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر والے دن بھی حاضر نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا ہاں، کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت الرضوان میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے، اب اس نے [ خوش ہو کر ] تکبیر کہی، عبداللہ نے فرمایا ادھر آ، اب میں تجھے پورے واقعات سناؤں، احد کے دن کا بھاگنا تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا، بدر کے دن کی غیر حاضری کے باعث یہ ہوا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت سخت بیمار تھیں تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ تم نہ آؤ مدینہ میں ہی رہو تمہیں اللہ تعالیٰ اس جنگ میں حاضر ہونے کا اجر دے گا اور غنیمت میں بھی تمہارا حصہ ہے۔
صفحہ نمبر1330
بیعت الرضوان کا واقعہ یہ ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کے پاس اپنا پیغام دے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا اس لیے کہ مکہ میں جو عزت انہیں حاصل تھی کسی اور کو اتنی نہ تھی ان کے تشریف لے جانے کے بعد یہ بیعت لی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ کھڑا کر کے کہا یہ عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ہے پھر اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا [ گویا بیعت کی ] پھر اس شخص سے کہا اب جاؤ اور اسے ساتھ لے جاؤ۔ [صحیح بخاری:3699]
صفحہ نمبر1331
پھر فرمایا آیت «إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ» [3-آل عمران:153] الخ، یعنی تم اپنے دشمن سے بھاگ کر پہاڑ چڑھ رہے تھے اور مارے خوف و دہشت کے دوسری جانب توجہ بھی نہیں کرتے تھے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تم نے وہیں چھوڑ دیا تھا وہ تمہیں آوازیں دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے کہ بھاگو نہیں لوٹ آؤ، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشرکین کے اس خفیہ اور پر زور اور اچانک حملہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے کچھ تو مدینہ کی طرف لوٹ آئے کچھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اللہ کے نبی آوازیں دیتے رہے کہ اللہ کے بندوں میری طرف آؤ اللہ کے بندو میری طرف آؤ، اس واقعہ کا بیان اس آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:301/7]
عبداللہ بن زحری شاعر نے اس واقعہ کو نظم میں بھی ادا کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ رہ گئے تھے [مسند احمد:293/4:صحیح]
مسند احمد کی ایک طویل حدیث میں بھی ان تمام واقعات کا ذکر ہے، دلائل النبوۃ میں ہے کہ جب ہزیمت ہوئی تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف گیارہ شخص رہ گئے اور ایک سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما تھے، آپ پہاڑ پر چڑھنے لگے لیکن مشرکین نے آگھیرا آپ نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کوئی ہے جو ان سے مقابلہ کرے۔
صفحہ نمبر1332
سیدنا طلحہ نے اس آواز پر فوراً لبیک کہا اور تیار ہو گئے لیکن آپ نے فرمایا تم ابھی ٹھہر جاؤ اب ایک انصاری تیار ہوئے اور وہ ان سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہوئے اسی طرح سب کے سب ایک ایک کر کے شہید ہو گئے اور اب صرف طلحہ رہ گئے گو یہ بزرگ ہر مرتبہ تیار ہو جاتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روک لیا کرتے تھے آخر یہ مقابلہ پر آئے اور اس طرح جم کر لڑے کہ ان سب کی لڑائی ایک طرف اور یہ ایک طرف، اس لڑائی میں ان کی انگلیاں کٹ گئیں تو زبان سے حس نکل گیا آپ نے فرمایا اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے یا اللہ کا نام لیتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور آسمان کی بلندی کی طرف لے چڑھتے اور لوگ دیکھتے رہتے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں پہنچ چکے تھے۔ [سنن نسائی:3151،قال الشيخ الألباني:حسن]
صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا قیس بن حازم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ جسے انہوں نے ڈھال بنایا تھا شل ہو گیا تھا۔ [صحیح بخاری:4063]
صفحہ نمبر1333
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ترکش سے احد والے دن تمام تیر پھیلا دئیے اور فرمایا تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، لے مشرکین کو مار [صحیح بخاری:3725]
آپ اٹھا اٹھا کر دیتے جاتے تھے اور میں تاک تاک کر مشرکین کو مارتا جاتا تھا اس دن میں نے دو شخصوں کو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں تھے اور سخت ترین جنگ کر رہے تھے میں نے نہ تو اس سے پہلے کبھی انہیں دیکھا تھا نہ اس کے بعد یہ دونوں سیدنا جبرائیل علیہ السلام اور سیدنا میکائیل علیہعلیہ السلام تھے۔ [صحیح بخاری:2306]
ایک اور روایت میں ہے کہ جو بزرگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھگدڑ کے بعد تھے اور ایک ایک ہو کر شہید ہوئے تھے انہیں آپ فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ہے جو انہیں رو کے اور جنت میں جائے میرا رفیق ہے۔ [صحیح مسلم:1789]
صفحہ نمبر1334
ابی بن خلف نے مکہ میں قسم کھائی تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کروں گا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ تو نہیں بلکہ میں ان شاءاللہ اسے قتل کروں گا احد والے دن یہ خبیث سر تا پا لوہے میں غرق زرہ بکتر لگائے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا اور یہ کہتا آتا تھا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بچ گئے تو میں اپنے آپکو ہلاک کر ڈالوں گا ادھر سے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اس ناہنجار کی طرف بڑھے لیکن آپ شہید ہو گئے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف بڑھے اس کا سارا جسم لوہے میں چھپا ہوا تھا صرف ذرا سی پیشانی نظر آ رہی تھی آپ نے اپنا نیزہ تاک کر وہیں لگایا جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا اور یہ تیورا کر گھوڑے پر سے گرا گو اس زخم سے خون بھی نہ نکلا تھا لیکن اس کی یہ حالت تھی کہ بلبلا رہا تھا لوگوں نے اسے اٹھا لیا لشکر میں لے گئے اور تشفی دینے لگے کہ ایسا کوئی کاری زخم نہیں لگا کیوں اس قدر نامردی کرتا ہے آخر ان کے طعنوں سے مجبور ہو کر اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں ابی کو قتل کروں گا سچ مانو اب میں کبھی نہیں بچ سکتا تم اس پر نہ جاؤ کہ مجھے ذرا سی خراش ہی آئی ہے اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کل اہل ذی المجاز کو اتنا زخم اس ہاتھ سے لگ جاتا تو سب ہلاک ہو جاتے پس یونہی تڑپتے تڑپتے اور بلکتے بلکتے اس جہنمی کی ہلاکت ہوئی اور مر کر جہنم رسید ہوا۔ [صحیح مسلم:1789]
صفحہ نمبر1335
مغازی محمد بن اسحاق میں ہے کہ جب یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے مقابلہ کی خواہش کی لیکن آپ نے انہیں روک دیا اور فرمایا اسے آنے دو جب وہ قریب آ گیا تو آپ نے حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ سے نیزہ لے کر اس پر حملہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نیزہ دیکھتے ہی وہ کانپ اٹھا ہم نے اسی وقت سمجھ لیا کہ اس کی خیر نہیں آپ نے اس کی گردن پر وار کیا اور وہ لڑکھڑا کر گھوڑے پر سے گرا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ بطن رابغ میں اس کافر کو موت آئی، ایک مرتبہ میں پچھلی رات یہاں سے گزراتو میں نے ایک جگہ سے آگ کے دہشت ناک شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے اور دیکھا کہ ایک شخص کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس آگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور وہ پیاس پیاس کر رہا ہے اور دوسرا شخص کہتا ہے اسے پانی نہ دینا یہ پیغمبر کے ہاتھ کا مارا ہوا ہے یہ ابی بن خلف ہے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:259/3:ضعیف]
صفحہ نمبر1336
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے آپ اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف جنہیں مشرکین نے احد والے دن شہید کیا تھا اشارہ کر کے فرما رہے تھے اللہ کا سخت تر غضب ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کیا اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا غضب ہے جسے اللہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں قتل کرے [صحیح بخاری:4073]
اور روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی کیا، [صحیح بخاری:4073] عتبہ بن ابی وقاص کے ہاتھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ زخم لگا تھا سامنے کے چار دانٹ ٹوٹ گئے تھے، رخسار پر زخم آیا تھا اور ہونٹ پر بھی، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے مجھے جس قدر اس شخص کی حرص تھی کسی اور کے قتل کی نہ تھی۔ یہ شخص بڑا بدخلق تھا اور ساری قوم سے اس کی دشمنی تھی اس کی برائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کافی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی ہونے والے پر اللہ سخت غضبناک ہے، [دلائل النبوۃ للبیهقی:265/3:ضعیف] عبدالرزاق میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے بد دعا کی کہ اے اللہ سال بھر میں یہ ہلاک ہو جائے اور کفر پر اس کی موت ہو چنانچہ یہی ہوا اور یہ بدبخت کافر مرا اور جہنم واصل ہوا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:265/3:ضعیف مرسل]
ایک مہاجر کا بیان ہے کہ چاروں طرف سے احد والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تیروں کی بارش ہو رہی تھی لیکن اللہ کی قدرت سے وہ سب پھیر دیئے جاتے تھے۔
صفحہ نمبر1337
عبداللہ بن شہاب زہری نے اس دن قسم کھا کر کہا کہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھا دو وہ آج میرے ہاتھ سے بچ نہیں سکتا اگر وہ نجات پا گیا تو میری نجات نہیں اب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لپکا اور بالکل آپ کے پاس آ گیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نظر ہی نہ آئے جب وہ نامراد پلٹا تو صفوان نے اسے طعنہ زنی کی اس نے کہا اللہ تعالیٰ کی طرف سے محفوظ ہیں ہمارے ہاتھ نہیں لگنے کے سنو! ہم چار شخصوں نے ان کے قتل کا پختہ مشورہ کیا تھا اور آپس میں عہدو پیمان کئے تھے ہم نے ہر چند چاہا لیکن کامیابی نہ ہوئی [مغازی الواقدی:238/1:ضعیف]
واقدی کہتے ہیں لیکن ثابت شدہ بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی کو زخمی کرنے والا ابن قمیہ اور ہونٹ اور دانتوں پر صدمہ پہچانے والا عتبہ بن ابی وقاص تھا۔
صفحہ نمبر1338
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میرے والد سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ جب احد کا ذکر فرماتے تو صاف کہتے کہ اس دن کی تمام تر فضیلت کا سہرا طلحہ رضی اللہ عنہ کے سر ہے میں جب لوٹ کر آیا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں جان ٹکائے لڑ رہا ہے میں نے کہا اللہ کرے یہ طلحہ ہو اب جو قریب آ کر دیکھا تو طلحہ ہی تھے رضی اللہ عنہ۔ میں نے کہا الحمداللہ! میری ہی قوم کا ایک شخص ہے میرے اور مشرکوں کے درمیان ایک شخص تھا جو مشرکین میں کھڑا ہوا تھا لیکن اس کے بےپناہ حملے مشرکوں کی ہمت توڑ رہے تھے غور سے دیکھا تو وہ سیدنا عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، اب جو میں نے بغور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے ہیں چہرہ زخمی ہو رہا ہے اور پیشانی میں زرہ کی دو کڑیاں کھب گئی ہیں میں آپ کی طرف لپکا لیکن آپ نے فرمایا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی خبر لو میں نے چاہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں سے دونوں کڑیاں نکالوں لیکن ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے مجھے قسم دے کر روک دیا اور خود قریب آئے اور ہاتھ سے نکالنے میں زیادہ تکلیف محسوس کر کے دانتوں سے پکڑ کر ایک کو نکال لیا لیکن اس میں ان کا دانت بھی ٹوٹ گیا میں نے اب پھر چاہا کہ دوسری میں نکال لوں لیکن ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے پھر قسم دی تو میں رک رہا انہوں نے پھر دوسری کڑی نکالی اب کی مرتبہ بھی ان کے دانت ٹوٹے اس سے فارغ ہو کر ہم طلحہ کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے دیکھا کہ ستر سے زیادہ زخم انہیں لگ چکے ہیں انگلیاں کٹ گئی ہیں ہم نے پھر ان کی بھی خبر لی [طیالسی:6:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کا خون سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے چوسا تاکہ خون تھم جائے پھر ان سے کہا گیا کہ کلی کر ڈالو لیکن انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں کلی نہ کروں گا پھر میدان جنگ میں چلے گئے
صفحہ نمبر1339
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص جنتی شخص کو دیکھنا چاہتا ہو تو انہیں دیکھ لے چنانچہ یہ اسی میدان میں شہید ہوئے، [دلائل النبوۃ للبیهقی:266/5:ضعیف مرسل]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہوا سامنے کے دانت ٹوٹے سر کا خود ٹوٹا، فاطمہ خون دھوتی تھیں اور علی ڈھال میں پانی لا لا کر ڈالتے جاتے تھے جب دیکھا کہ خون کسی طرح تھمتا ہی نہیں تو فاطمہ نے بوریا جلا کر اس کا راکھ زخم پر رکھ دی جس سے خون بند ہوا۔ [صحیح بخاری:2911]
صفحہ نمبر1340
پھر فرماتا ہے، تمہیں غم پر غم پہنچا «بِغَمِّ» کا «با» معنی میں «علیٰ» کے ہے جیسے آیت «فِي جُذُوعِ النَّخْلِ وَلَتَعْلَمُنَّ» [20-طه:71] میں «فِي» معنی میں علیٰ کے ہے، ایک غم تو شکست کا تھا جبکہ یہ مشہور ہو گیا کہ [ اللہ نہ کرے ] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان پر بن آئی، دوسرا غم مشرکوں کو پہاڑ کے اوپر غالب آ کر چڑھ جانے کا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے یہ بلندی کے لائق نہ تھے، عبدالرحمٰن بن عوف فرماتے ہیں ایک غم شکست کا دوسرا غم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی خبر کا اور یہ غم پہلے غم سے زیادہ تھا،
اسی طرح یہ بھی ہے کہ ایک غم تو غنیمت کا ہاتھ میں آ کر نکل جانے کا تھا دوسرا شکست ہونے کا اسی طرح ایک اپنے بھائیوں کے قتل کا غم دوسرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایسی منحوس خبر کا غم۔ پھر فرماتا ہے جو غنیمت اور فتح مندی تمہارے ہاتھ سے گئی اور جو زخم و شہادت ملی اس پر غم نہ کھاؤ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جو بلندی اور جلال والا ہے وہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔
صفحہ نمبر1341
کافر اور منافقوں کے ارادے اور غزوہ احد کا پھر اندوہناک تذکرہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو کافروں اور منافقوں کی باتوں کے ماننے سے روک رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ اگر ان کی مانی تو دنیا اور آخرت کی ذلت تم پر آئے گی ان کی چاہت تو یہی ہے کہ تمہیں دین اسلام سے ہٹا دیں پھر فرماتا ہے مجھ ہی کو اپنا والی اور مددگار جانو مجھ ہی سے دوستی کرو مجھ ہی پر بھروسہ کرو مجھ ہی سے مدد چاہو پھر فرمایا کہ ان شریروں کے دلوں میں ان کے کفر کے سبب ڈر خوف ڈال دوں گا۔
صفحہ نمبر1319
بخاری مسلم میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ باتیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی ہے میرے لیے زمین مسجد اور اس کی مٹی وضو کی پاک چیز بنائی گئی، میرے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور مجھے شفاعت دی گئی اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف سے مخصوص بھیجا جاتا تھا اور میری بعثت، میری نبوت تمام دنیا کیلئے عام ہوئی۔ [صحیح بخاری:335]
صفحہ نمبر1320
مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں پر اور بعض روایتوں میں ہے تمام امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطا فرمائی ہیں، مجھے تمام دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا، میرے اور میری امت کیلئے تمام زمین مسجد اور پاک بنائی گئی، میرے امتی کو جہاں نماز کا وقت آ جائے وہیں اس کی مسجد اور اس کا وضو ہے، میرا دشمن مجھ سے مہینہ بھر کی راہ پر ہو وہیں سے اللہ تعالیٰ اس کا دل رعب سے پُر کر دیتا ہے اور وہ کانپنے لگتا ہے اور میرے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے [مسند احمد:248/5:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ میں مدد کیا گیا ہوں میرے رعب سے ہر دشمن پر [صحیح مسلم:523]
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے مجھے پانچ چیزیں دی گئیں میں ہر سرخ و سفید کی طرف بھیجا گیا میرے لیے تمام زمین وضو اور مسجد بنائی گی۔ میرے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے جو میرے پہلے کسی کے حلال نہ تھے اور میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی اور مجھے شفاعت دی گئی تمام انبیاء نے شفاعت مانگ لی لیکن میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لوگوں کیلئے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو بچار کھی ہے [مسند احمد:416/4:صحیح لغیرہ]
،سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ لڑائی سے لوٹ گیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:598/2:ضعیف]
صفحہ نمبر1321
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور تمہاری مدد کی اس سے بھی یہ استدلال ہو سکتا ہے کہ یہ وعدہ احد کے دن کا تھا تین ہزار دشمن کا لشکر تھا تاہم مقابلہ پر آتے ہی ان کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی لیکن پھر تیر اندازوں کی نافرمانی کی وجہ سے اور بعض حضرات کی پست ہمتی کی بناء پر وہ وعدہ جو مشروط تھا رک گیا، پس فرماتا ہے کہ تم انہیں اپنے ہاتھوں سے کاٹتے تھے۔
شروع دن میں ہی اللہ نے تمہیں ان پر غالب کر دیا لیکن تم نے پھر بزدلی دکھائی اور نبی کی نافرمانی کی ان کی بتائی ہوئی جگہ سے ہٹ گئے اور آپس میں اختلاف کرنے لگے حالانکہ اللہ عزوجل نے تمہیں تمہاری پسند کی *چیز فتح* دکھا دی تھی، یعنی مسلمان صاف طور پر غالب آ گئے تھے مال غنیمت آنکھوں کے سامنے موجود تھا کفار پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے تم میں سے بعض نے دنیا طلبی کی اور کفار کی ہزیمت کو دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا خیال نہ کر کے مال غنیمت کی طرف لپکے، گو بعض اور نیک آخرت طلب بھی تھے لیکن اس نافرمانی وغیرہ کی بنا پر کفار کی پھر بن آئی اور ایک مرتبہ تمہاری پوری آزمائش ہو گئی غالب ہو کر مغلوب ہو گئے فتح کے بعد شکست ہو گئی لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس جرم کو معاف فرما دیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بظاہر تم ان سے تعداد میں اور اسباب میں کم تھے خطا کا معاف ہونا بھی «عفاعنکم» میں داخل ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ کچھ یونہی سی گوشمالی کر کے کچھ بزرگوں کی شہادت کے بعد اس نے اپنی آزمائش کو اٹھا لیا اور باقی والوں کو معاف فرما دیا، اللہ تعالیٰ باایمان لوگوں پر فضل و کرم لطف و رحم ہی کرتا ہے۔
صفحہ نمبر1322
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد جیسی احد میں ہوئی ہے کہیں نہیں ہوئی۔ اسی کے بارے میں ارشاد باری ہے کہ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا لیکن پھر تمہارے کرتوتوں سے معاملہ برعکس ہو گیا، بعض لوگوں نے دنیا طلبی کر کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی یعنی بعض تیر اندوزوں نے جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ کے درے پر کھڑا کیا تھا اور فرما دیا تھا کہ تم یہاں سے دشمنوں کی نگہبانی کرو وہ تمہاری پیٹھ کی طرف سے نہ آ جائیں، اگر تم ہار دیکھو بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور اگر تم ہر طرح غالب آ گئے تو بھی تم غنیمت جمع کرنے کیلئے بھی اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا،
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غالب آ گئے تو تیر اندوزوں نے حکم عدولی کی اور وہ اپنی جگہ کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آ ملے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کر دیا صفوں کا کوئی خیال نہ رہا درے کو خالی پا کر مشرکوں نے بھاگنا بند کیا اور غور و فکر کر کے اس جگہ حملہ کر دیا، چند مسلمانوں کی پیٹھ کے پیچھے سے ان کی بے خبری میں اس زور کا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے قدم نہ جم سکے اور شروع دن کی فتح اب شکست سے بدل گئی اور یہ مشہور ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے اور لڑائی کے رنگ نے مسلمانوں کو اس بات کا یقین بھی دلا دیا، تھوڑی دیر بعد جبکہ مسلمانوں کی نظریں چہرہ مبارک پر پڑیں تو وہ اپنی سب کوفت اور ساری مصیبت بھول گئے اور خوشی کے مارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لپکے آپ ادھر آ رہے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب نازل ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو خون آلودہ کر دیا، انہیں کوئی حق نہ تھا کہ اس طرح ہم پر غالب رہ جائیں۔
صفحہ نمبر1323
تھوڑی دیر میں ہم نے سنا کہ ابوسفیان پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوا کہہ رہا تھا «اعل ہبل اعل ھبل» ہبل بت کا بول بالا ہو ابوبکر کہاں ہیں؟ عمر کہاں ہیں؟ عمر نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے جواب دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تو عمر فاروق نے اس کے جواب میں فرمایا «اللہ اعلی واجل اللہ اعلی واجل» اللہ بہت بلند ہے اور جلال و عزت والا ہے اللہ بہت بلند اور جلال و عزت والا ہے، وہ پوچھنے لگا بتاؤ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ ابوبکر کہاں ہیں؟ عمر کہاں ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ ہیں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور یہ ہوں میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ ابوسفیان کہنے لگا یہ بدر کا بدلہ ہے یونہی دھوپ چھاؤں الٹتی پلٹتی رہتی ہے، لڑائی کی مثال کنویں کے ڈول کی سی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا برابری کا معاملہ ہرگز نہیں تمہارے مقتول تو جہنم میں گئے اور ہمارے شہید جنت میں پہنچے، ابوسفیان کہنے لگا اگر یونہی ہو تو یقیناً ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، سنو تمہارے مقتولین میں بعض ناک کان کٹے لوگ بھی تم پاؤ گے گویہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا لیکن ہمیں کچھ برا بھی نہیں معلوم ہوا، [مسند احمد:278/1:صحیح بالشواھد]
یہ حدیث غریب ہے اور یہ قصہ بھی عجیب ہے، یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مرسلات سے ہے اور وہ یا ان کے والد جنگ احد میں موجود نہ تھے، مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت موجود ہے۔
صفحہ نمبر1324
ابن ابی حاتم اور بیہقی فی دلائل النبوۃ میں بھی یہ مروی ہے اور صحیح احادیث میں اس کے بعض حصوں کے شواہد بھی ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ احد والے دن عورتیں مسلمانوں کے پیچھے تھیں جو زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں مجھے تو پوری طرح یقین تھا کہ آج کے دن ہم میں کوئی ایک بھی طالب دنیا نہیں بلکہ اس وقت اگر مجھے اس بات پر قسم کھلوائی جاتی تو کھا لیتا لیکن قرآن میں یہ آیت اتری «مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ» [3-آل عمران:152]
یعنی تم میں سے بعض طالب دنیا بھی ہیں، جب صحابہ رضی اللہ عنہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف آپ کی نافرمانی سرزد ہوئی تو ان کے قدم اکھڑ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو مہاجر باقی رہ گئے جب مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا تو آپ فرمانے لگے اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو انہیں ہٹائے تو ایک انصاری اٹھ کھڑے ہوئے اور اس جمِ غفیر کے مقابل تن تنہا داد شجاعت دینے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے پھر کفار نے حملہ کیا آپ نے یہی فرمایا ایک انصاری تیار ہو گئے اور اس بے جگری سے لڑے کہ انہیں آگے نہ بڑھنے دیا لیکن بالآخر یہ بھی شہید ہو گئے یہاں تک کہ ساتوں صحابہ رضی اللہ عنہم اللہ کے ہاں پہنچ گئے اللہ ان سے خوش ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین سے فرمایا افسوس ہم نے اپنے ساتھیوں سے منصفانہ معاملہ نہ کیا، اب ابوسفیان نے ہانک لگائی کہ «اعل ہبل» آپ نے فرمایا کہو «اللہ اعلی واجل» ابوسفیان نے کہا «لنا العزی ولا عزی لکم» ہمارا عزی بت ہے تمہاری کوئی عزی نہیں، آپ نے فرمایا کہو «اللہ مولانا والکافرون لا مولی لھم اللہ» ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں، ابوسفیان کہنے لگا آج کے دن بدر کے دن کا بدلہ ہے کوئی دن ہمارا اور کوئی دن تمہارا۔ یہ تو ہاتھوں ہاتھ کا سودا ہے، ایک کے بدلے ایک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز برابر نہیں ہمارے شہداء زندہ ہیں وہاں رزق دئیے جاتے ہیں اور تمہارے مقتول جہنم میں عذاب کئے جا رہے ہیں پھر ابوسفیان بولا تمہارے مقتولوں میں تم دیکھو گے کہ بعض کے کان ناک وغیرہ کاٹ لیے گئے ہیں لیکن میں نے نہ یہ کہا نہ اسے روکا نہ اسے میں نے پسند کیا نہ مجھے یہ بھلا معلوم ہوا نہ برا۔
صفحہ نمبر1325
اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ چاک کر دیا گیا تھا اور ہندہ نے انکا کلیجہ لے کر چبایا تھا لیکن نگل نہ سکی تو اگل دیا، حضور علیہ السلام نے فرمایا نا ممکن تھا کہ اس کے پیٹ میں حمزہ کا ذرا سا گوشت بھی چلا جائے اللہ تعالیٰ حمزہ کے کسی عضو بدن کو جہنم میں لے جانا نہیں چاہتا چنانچہ حمزہ کے جنازے کو اپنے سامنے رکھ کر نماز جنازہ ادا کی پھر ایک انصاری رضی اللہ عنہ کا جنازہ لایا گیا وہ حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا اور آپ نے پھر نماز جنازہ پڑھی انصاری رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھا لیا گیا لیکن سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ وہیں رہا اسی طرح ستر شخص لائے گئے اور حمزہ کی ستر دفعہ جنازے کی نماز پڑھی گئی [مسند احمد:463/1:حسن لغیرہ] [ مسند ]
صفحہ نمبر1326
صحیح بخاری شریف میں سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ احد والے دن مشرکوں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو الگ جما دیا اور انکا سردار سیدنا عبداللہ بن جیبر رضی اللہ عنہ کو بنایا اور فرما دیا کہ اگر تم ہمیں ان پر غالب آیا ہوا دیکھو تو بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور وہ ہم پر غالب آ جائیں تو بھی تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا، لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ کے فضل سے مشرکوں کے قدم پیچھے ہٹنے لگے یہاں تک کہ عورتیں بھی تہبند اونچا کر کر کے پہاڑوں میں ادھر دوڑنے لگیں، اب تیر انداز گروہ غنیمت غنیمت کہتا ہوا نیچے اتر آیا، ان کے امیر نے انہیں ہر چند سمجھایا لیکن کسی نے ان کی نہ سنی، بس اب مشرکین مسلمانوں کی پیٹھ کی طرف سے آن پڑے اور ستر بزرگ شہید ہو گئے۔
صفحہ نمبر1327
ابوسفیان ایک ٹیلے پر چڑھ کر کہنے لگا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم حیات ہیں؟ کیا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہیں؟ کیا عمر رضی اللہ عنہ زندہ ہیں؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے صحابہ خاموش رہے تو وہ خوشی کے مارے اچھل پڑا اور کہنے لگا یہ سب ہماری تلواروں کے گھاٹ اتر گئے اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تاب ضبط نہ رہی فرمانے لگے، اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے بحمد للہ ہم سب موجود ہیں اور تیری تباہی اور بربادی کرنے والے زندہ ہیں، پھر وہ باتیں ہوئیں جو اوپر بیان ہو چکی ہیں، [صحیح بخاری:4043]
صحیح بخاری شریف میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جنگ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی اور ابلیس نے آواز لگائی اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے کی خبر لو اگلی جماعتیں پچھلی جماعتوں پر ٹوٹ پڑیں، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تلواریں ان کے والد سیدنا یمان رضی اللہ عنہ پر برس رہی ہیں ہر چند کہتے رہے کہ اے اللہ کے بندو! یہ میرے باپ یمان ہیں مگر کون سنتا تھا وہ یونہی شہید ہو گئے لیکن سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کچھ نہ کہا بلکہ فرمایا اللہ تمہیں معاف کرے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی یہ بھلائی ان کے آخری دم تک ان میں رہی۔ [صحیح بخاری:4065]
صفحہ نمبر1328
سیرت ابن اسحٰق میں ہے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے خود دیکھا کہ مشرک مسلمانوں کے اول حملہ میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کی عورتیں ہندہ وغیرہ تہبند اٹھائے تیز تیز دوڑ رہی تھیں لیکن اس کے بعد جب تیر اندازوں نے مرکز چھوڑا اور کفار نے سمٹ کر پیچھے کی طرف سے ہم پر حملہ کر دیا ادھر کسی نے آواز لگائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے پھر معاملہ برعکس ہو گیا ورنہ ہم مشرکین کے علم برداروں تک پہنچ چکے تھے اور جھنڈا اس کے ہاتھ سے گر پڑا تھا لیکن عمرہ بن علقمہ حارثیہ عورت نے اسے تھام لیا اور قریش کا مجمع پھر یہاں جمع ہو گیا،سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ چچا سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ یہ رنگ دیکھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کے پاس آتے ہیں اور فرماتے ہیں تم نے کیوں ہمتیں چھوڑ دیں؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو شہید ہو گئے۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تم جی کر کیا کرو گے؟ یہ کہا اور مشرکین میں گھسے پھر لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت سے جا ملے، [تفسیر ابن جریر الطبری:4945:ضعیف]
یہ بدر والے دن جہاد میں نہیں پہنچ سکے تھے تو عہد کیا تھا کہ آئندہ اگر کوئی موقعہ آیا تو میں دکھا دوں گا چنانچہ اس جنگ میں وہ موجود تھے جب مسلمانوں میں کھلبلی مچی تو انہوں نے کہا اللہ میں مسلمانوں کے اس کام سے معذور ہوں اور مشرکوں کے اس کام سے بری ہوں پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھ گئے راہ میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہنے لگے کہاں جا رہے ہو؟ مجھے تو جنت کی خوشبو کی لپٹیں احد پہاڑ سے چلی آ رہی ہیں چنانچہ مشرکوں میں گھس گئے اور بڑی بے جگری سے لڑے یہاں تک کہ شہادت حاصل کی اسی (80) سے زیادہ تیر و تلوار کے زخم بدن پر آئے تھے پہچانے نہ جاتے تھے انگلی کو دیکھ کر پہچانے گئے۔ [صحیح بخاری:4048]
صفحہ نمبر1329
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک حاجی نے بیت اللہ شریف میں ایک مجلس دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے کہا قریشی ہیں پوچھا ان کے شیخ کون ہیں؟ جواب ملا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، اب وہ آیا اور کہنے لگا میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پوچھو اس نے کہا آپ کو اس بیت اللہ کی حرمت کی قسم کیا آپ کو علم ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ احد والے دن بھاگ گئے تھے؟ آپ نے جواب دیا ہاں۔ کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر والے دن بھی حاضر نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا ہاں، کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت الرضوان میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے، اب اس نے [ خوش ہو کر ] تکبیر کہی، عبداللہ نے فرمایا ادھر آ، اب میں تجھے پورے واقعات سناؤں، احد کے دن کا بھاگنا تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا، بدر کے دن کی غیر حاضری کے باعث یہ ہوا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت سخت بیمار تھیں تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ تم نہ آؤ مدینہ میں ہی رہو تمہیں اللہ تعالیٰ اس جنگ میں حاضر ہونے کا اجر دے گا اور غنیمت میں بھی تمہارا حصہ ہے۔
صفحہ نمبر1330
بیعت الرضوان کا واقعہ یہ ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کے پاس اپنا پیغام دے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا اس لیے کہ مکہ میں جو عزت انہیں حاصل تھی کسی اور کو اتنی نہ تھی ان کے تشریف لے جانے کے بعد یہ بیعت لی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ کھڑا کر کے کہا یہ عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ہے پھر اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا [ گویا بیعت کی ] پھر اس شخص سے کہا اب جاؤ اور اسے ساتھ لے جاؤ۔ [صحیح بخاری:3699]
صفحہ نمبر1331
پھر فرمایا آیت «إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ» [3-آل عمران:153] الخ، یعنی تم اپنے دشمن سے بھاگ کر پہاڑ چڑھ رہے تھے اور مارے خوف و دہشت کے دوسری جانب توجہ بھی نہیں کرتے تھے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تم نے وہیں چھوڑ دیا تھا وہ تمہیں آوازیں دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے کہ بھاگو نہیں لوٹ آؤ، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشرکین کے اس خفیہ اور پر زور اور اچانک حملہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے کچھ تو مدینہ کی طرف لوٹ آئے کچھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اللہ کے نبی آوازیں دیتے رہے کہ اللہ کے بندوں میری طرف آؤ اللہ کے بندو میری طرف آؤ، اس واقعہ کا بیان اس آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:301/7]
عبداللہ بن زحری شاعر نے اس واقعہ کو نظم میں بھی ادا کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ رہ گئے تھے [مسند احمد:293/4:صحیح]
مسند احمد کی ایک طویل حدیث میں بھی ان تمام واقعات کا ذکر ہے، دلائل النبوۃ میں ہے کہ جب ہزیمت ہوئی تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف گیارہ شخص رہ گئے اور ایک سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما تھے، آپ پہاڑ پر چڑھنے لگے لیکن مشرکین نے آگھیرا آپ نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کوئی ہے جو ان سے مقابلہ کرے۔
صفحہ نمبر1332
سیدنا طلحہ نے اس آواز پر فوراً لبیک کہا اور تیار ہو گئے لیکن آپ نے فرمایا تم ابھی ٹھہر جاؤ اب ایک انصاری تیار ہوئے اور وہ ان سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہوئے اسی طرح سب کے سب ایک ایک کر کے شہید ہو گئے اور اب صرف طلحہ رہ گئے گو یہ بزرگ ہر مرتبہ تیار ہو جاتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روک لیا کرتے تھے آخر یہ مقابلہ پر آئے اور اس طرح جم کر لڑے کہ ان سب کی لڑائی ایک طرف اور یہ ایک طرف، اس لڑائی میں ان کی انگلیاں کٹ گئیں تو زبان سے حس نکل گیا آپ نے فرمایا اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے یا اللہ کا نام لیتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور آسمان کی بلندی کی طرف لے چڑھتے اور لوگ دیکھتے رہتے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں پہنچ چکے تھے۔ [سنن نسائی:3151،قال الشيخ الألباني:حسن]
صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا قیس بن حازم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ جسے انہوں نے ڈھال بنایا تھا شل ہو گیا تھا۔ [صحیح بخاری:4063]
صفحہ نمبر1333
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ترکش سے احد والے دن تمام تیر پھیلا دئیے اور فرمایا تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، لے مشرکین کو مار [صحیح بخاری:3725]
آپ اٹھا اٹھا کر دیتے جاتے تھے اور میں تاک تاک کر مشرکین کو مارتا جاتا تھا اس دن میں نے دو شخصوں کو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں تھے اور سخت ترین جنگ کر رہے تھے میں نے نہ تو اس سے پہلے کبھی انہیں دیکھا تھا نہ اس کے بعد یہ دونوں سیدنا جبرائیل علیہ السلام اور سیدنا میکائیل علیہعلیہ السلام تھے۔ [صحیح بخاری:2306]
ایک اور روایت میں ہے کہ جو بزرگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھگدڑ کے بعد تھے اور ایک ایک ہو کر شہید ہوئے تھے انہیں آپ فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ہے جو انہیں رو کے اور جنت میں جائے میرا رفیق ہے۔ [صحیح مسلم:1789]
صفحہ نمبر1334
ابی بن خلف نے مکہ میں قسم کھائی تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کروں گا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ تو نہیں بلکہ میں ان شاءاللہ اسے قتل کروں گا احد والے دن یہ خبیث سر تا پا لوہے میں غرق زرہ بکتر لگائے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا اور یہ کہتا آتا تھا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بچ گئے تو میں اپنے آپکو ہلاک کر ڈالوں گا ادھر سے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اس ناہنجار کی طرف بڑھے لیکن آپ شہید ہو گئے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف بڑھے اس کا سارا جسم لوہے میں چھپا ہوا تھا صرف ذرا سی پیشانی نظر آ رہی تھی آپ نے اپنا نیزہ تاک کر وہیں لگایا جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا اور یہ تیورا کر گھوڑے پر سے گرا گو اس زخم سے خون بھی نہ نکلا تھا لیکن اس کی یہ حالت تھی کہ بلبلا رہا تھا لوگوں نے اسے اٹھا لیا لشکر میں لے گئے اور تشفی دینے لگے کہ ایسا کوئی کاری زخم نہیں لگا کیوں اس قدر نامردی کرتا ہے آخر ان کے طعنوں سے مجبور ہو کر اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں ابی کو قتل کروں گا سچ مانو اب میں کبھی نہیں بچ سکتا تم اس پر نہ جاؤ کہ مجھے ذرا سی خراش ہی آئی ہے اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کل اہل ذی المجاز کو اتنا زخم اس ہاتھ سے لگ جاتا تو سب ہلاک ہو جاتے پس یونہی تڑپتے تڑپتے اور بلکتے بلکتے اس جہنمی کی ہلاکت ہوئی اور مر کر جہنم رسید ہوا۔ [صحیح مسلم:1789]
صفحہ نمبر1335
مغازی محمد بن اسحاق میں ہے کہ جب یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے مقابلہ کی خواہش کی لیکن آپ نے انہیں روک دیا اور فرمایا اسے آنے دو جب وہ قریب آ گیا تو آپ نے حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ سے نیزہ لے کر اس پر حملہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نیزہ دیکھتے ہی وہ کانپ اٹھا ہم نے اسی وقت سمجھ لیا کہ اس کی خیر نہیں آپ نے اس کی گردن پر وار کیا اور وہ لڑکھڑا کر گھوڑے پر سے گرا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ بطن رابغ میں اس کافر کو موت آئی، ایک مرتبہ میں پچھلی رات یہاں سے گزراتو میں نے ایک جگہ سے آگ کے دہشت ناک شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے اور دیکھا کہ ایک شخص کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس آگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور وہ پیاس پیاس کر رہا ہے اور دوسرا شخص کہتا ہے اسے پانی نہ دینا یہ پیغمبر کے ہاتھ کا مارا ہوا ہے یہ ابی بن خلف ہے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:259/3:ضعیف]
صفحہ نمبر1336
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے آپ اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف جنہیں مشرکین نے احد والے دن شہید کیا تھا اشارہ کر کے فرما رہے تھے اللہ کا سخت تر غضب ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کیا اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا غضب ہے جسے اللہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں قتل کرے [صحیح بخاری:4073]
اور روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی کیا، [صحیح بخاری:4073] عتبہ بن ابی وقاص کے ہاتھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ زخم لگا تھا سامنے کے چار دانٹ ٹوٹ گئے تھے، رخسار پر زخم آیا تھا اور ہونٹ پر بھی، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے مجھے جس قدر اس شخص کی حرص تھی کسی اور کے قتل کی نہ تھی۔ یہ شخص بڑا بدخلق تھا اور ساری قوم سے اس کی دشمنی تھی اس کی برائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کافی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی ہونے والے پر اللہ سخت غضبناک ہے، [دلائل النبوۃ للبیهقی:265/3:ضعیف] عبدالرزاق میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے بد دعا کی کہ اے اللہ سال بھر میں یہ ہلاک ہو جائے اور کفر پر اس کی موت ہو چنانچہ یہی ہوا اور یہ بدبخت کافر مرا اور جہنم واصل ہوا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:265/3:ضعیف مرسل]
ایک مہاجر کا بیان ہے کہ چاروں طرف سے احد والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تیروں کی بارش ہو رہی تھی لیکن اللہ کی قدرت سے وہ سب پھیر دیئے جاتے تھے۔
صفحہ نمبر1337
عبداللہ بن شہاب زہری نے اس دن قسم کھا کر کہا کہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھا دو وہ آج میرے ہاتھ سے بچ نہیں سکتا اگر وہ نجات پا گیا تو میری نجات نہیں اب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لپکا اور بالکل آپ کے پاس آ گیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نظر ہی نہ آئے جب وہ نامراد پلٹا تو صفوان نے اسے طعنہ زنی کی اس نے کہا اللہ تعالیٰ کی طرف سے محفوظ ہیں ہمارے ہاتھ نہیں لگنے کے سنو! ہم چار شخصوں نے ان کے قتل کا پختہ مشورہ کیا تھا اور آپس میں عہدو پیمان کئے تھے ہم نے ہر چند چاہا لیکن کامیابی نہ ہوئی [مغازی الواقدی:238/1:ضعیف]
واقدی کہتے ہیں لیکن ثابت شدہ بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی کو زخمی کرنے والا ابن قمیہ اور ہونٹ اور دانتوں پر صدمہ پہچانے والا عتبہ بن ابی وقاص تھا۔
صفحہ نمبر1338
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میرے والد سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ جب احد کا ذکر فرماتے تو صاف کہتے کہ اس دن کی تمام تر فضیلت کا سہرا طلحہ رضی اللہ عنہ کے سر ہے میں جب لوٹ کر آیا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں جان ٹکائے لڑ رہا ہے میں نے کہا اللہ کرے یہ طلحہ ہو اب جو قریب آ کر دیکھا تو طلحہ ہی تھے رضی اللہ عنہ۔ میں نے کہا الحمداللہ! میری ہی قوم کا ایک شخص ہے میرے اور مشرکوں کے درمیان ایک شخص تھا جو مشرکین میں کھڑا ہوا تھا لیکن اس کے بےپناہ حملے مشرکوں کی ہمت توڑ رہے تھے غور سے دیکھا تو وہ سیدنا عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، اب جو میں نے بغور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے ہیں چہرہ زخمی ہو رہا ہے اور پیشانی میں زرہ کی دو کڑیاں کھب گئی ہیں میں آپ کی طرف لپکا لیکن آپ نے فرمایا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی خبر لو میں نے چاہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں سے دونوں کڑیاں نکالوں لیکن ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے مجھے قسم دے کر روک دیا اور خود قریب آئے اور ہاتھ سے نکالنے میں زیادہ تکلیف محسوس کر کے دانتوں سے پکڑ کر ایک کو نکال لیا لیکن اس میں ان کا دانت بھی ٹوٹ گیا میں نے اب پھر چاہا کہ دوسری میں نکال لوں لیکن ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے پھر قسم دی تو میں رک رہا انہوں نے پھر دوسری کڑی نکالی اب کی مرتبہ بھی ان کے دانت ٹوٹے اس سے فارغ ہو کر ہم طلحہ کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے دیکھا کہ ستر سے زیادہ زخم انہیں لگ چکے ہیں انگلیاں کٹ گئی ہیں ہم نے پھر ان کی بھی خبر لی [طیالسی:6:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کا خون سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے چوسا تاکہ خون تھم جائے پھر ان سے کہا گیا کہ کلی کر ڈالو لیکن انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں کلی نہ کروں گا پھر میدان جنگ میں چلے گئے
صفحہ نمبر1339
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص جنتی شخص کو دیکھنا چاہتا ہو تو انہیں دیکھ لے چنانچہ یہ اسی میدان میں شہید ہوئے، [دلائل النبوۃ للبیهقی:266/5:ضعیف مرسل]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہوا سامنے کے دانت ٹوٹے سر کا خود ٹوٹا، فاطمہ خون دھوتی تھیں اور علی ڈھال میں پانی لا لا کر ڈالتے جاتے تھے جب دیکھا کہ خون کسی طرح تھمتا ہی نہیں تو فاطمہ نے بوریا جلا کر اس کا راکھ زخم پر رکھ دی جس سے خون بند ہوا۔ [صحیح بخاری:2911]
صفحہ نمبر1340
پھر فرماتا ہے، تمہیں غم پر غم پہنچا «بِغَمِّ» کا «با» معنی میں «علیٰ» کے ہے جیسے آیت «فِي جُذُوعِ النَّخْلِ وَلَتَعْلَمُنَّ» [20-طه:71] میں «فِي» معنی میں علیٰ کے ہے، ایک غم تو شکست کا تھا جبکہ یہ مشہور ہو گیا کہ [ اللہ نہ کرے ] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان پر بن آئی، دوسرا غم مشرکوں کو پہاڑ کے اوپر غالب آ کر چڑھ جانے کا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے یہ بلندی کے لائق نہ تھے، عبدالرحمٰن بن عوف فرماتے ہیں ایک غم شکست کا دوسرا غم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی خبر کا اور یہ غم پہلے غم سے زیادہ تھا،
اسی طرح یہ بھی ہے کہ ایک غم تو غنیمت کا ہاتھ میں آ کر نکل جانے کا تھا دوسرا شکست ہونے کا اسی طرح ایک اپنے بھائیوں کے قتل کا غم دوسرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایسی منحوس خبر کا غم۔ پھر فرماتا ہے جو غنیمت اور فتح مندی تمہارے ہاتھ سے گئی اور جو زخم و شہادت ملی اس پر غم نہ کھاؤ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جو بلندی اور جلال والا ہے وہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔
صفحہ نمبر1341