Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Aal-i-Imraan
Tafsir Ibn Kathir · The Family of Imraan · 200 ayat · ayat 151–180 · Quran text →
کافر اور منافقوں کے ارادے اور غزوہ احد کا پھر اندوہناک تذکرہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو کافروں اور منافقوں کی باتوں کے ماننے سے روک رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ اگر ان کی مانی تو دنیا اور آخرت کی ذلت تم پر آئے گی ان کی چاہت تو یہی ہے کہ تمہیں دین اسلام سے ہٹا دیں پھر فرماتا ہے مجھ ہی کو اپنا والی اور مددگار جانو مجھ ہی سے دوستی کرو مجھ ہی پر بھروسہ کرو مجھ ہی سے مدد چاہو پھر فرمایا کہ ان شریروں کے دلوں میں ان کے کفر کے سبب ڈر خوف ڈال دوں گا۔
صفحہ نمبر1319
بخاری مسلم میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ باتیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی ہے میرے لیے زمین مسجد اور اس کی مٹی وضو کی پاک چیز بنائی گئی، میرے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور مجھے شفاعت دی گئی اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف سے مخصوص بھیجا جاتا تھا اور میری بعثت، میری نبوت تمام دنیا کیلئے عام ہوئی۔ [صحیح بخاری:335]
صفحہ نمبر1320
مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں پر اور بعض روایتوں میں ہے تمام امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطا فرمائی ہیں، مجھے تمام دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا، میرے اور میری امت کیلئے تمام زمین مسجد اور پاک بنائی گئی، میرے امتی کو جہاں نماز کا وقت آ جائے وہیں اس کی مسجد اور اس کا وضو ہے، میرا دشمن مجھ سے مہینہ بھر کی راہ پر ہو وہیں سے اللہ تعالیٰ اس کا دل رعب سے پُر کر دیتا ہے اور وہ کانپنے لگتا ہے اور میرے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے [مسند احمد:248/5:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ میں مدد کیا گیا ہوں میرے رعب سے ہر دشمن پر [صحیح مسلم:523]
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے مجھے پانچ چیزیں دی گئیں میں ہر سرخ و سفید کی طرف بھیجا گیا میرے لیے تمام زمین وضو اور مسجد بنائی گی۔ میرے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے جو میرے پہلے کسی کے حلال نہ تھے اور میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی اور مجھے شفاعت دی گئی تمام انبیاء نے شفاعت مانگ لی لیکن میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لوگوں کیلئے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو بچار کھی ہے [مسند احمد:416/4:صحیح لغیرہ]
،سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ لڑائی سے لوٹ گیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:598/2:ضعیف]
صفحہ نمبر1321
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور تمہاری مدد کی اس سے بھی یہ استدلال ہو سکتا ہے کہ یہ وعدہ احد کے دن کا تھا تین ہزار دشمن کا لشکر تھا تاہم مقابلہ پر آتے ہی ان کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی لیکن پھر تیر اندازوں کی نافرمانی کی وجہ سے اور بعض حضرات کی پست ہمتی کی بناء پر وہ وعدہ جو مشروط تھا رک گیا، پس فرماتا ہے کہ تم انہیں اپنے ہاتھوں سے کاٹتے تھے۔
شروع دن میں ہی اللہ نے تمہیں ان پر غالب کر دیا لیکن تم نے پھر بزدلی دکھائی اور نبی کی نافرمانی کی ان کی بتائی ہوئی جگہ سے ہٹ گئے اور آپس میں اختلاف کرنے لگے حالانکہ اللہ عزوجل نے تمہیں تمہاری پسند کی *چیز فتح* دکھا دی تھی، یعنی مسلمان صاف طور پر غالب آ گئے تھے مال غنیمت آنکھوں کے سامنے موجود تھا کفار پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے تم میں سے بعض نے دنیا طلبی کی اور کفار کی ہزیمت کو دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا خیال نہ کر کے مال غنیمت کی طرف لپکے، گو بعض اور نیک آخرت طلب بھی تھے لیکن اس نافرمانی وغیرہ کی بنا پر کفار کی پھر بن آئی اور ایک مرتبہ تمہاری پوری آزمائش ہو گئی غالب ہو کر مغلوب ہو گئے فتح کے بعد شکست ہو گئی لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس جرم کو معاف فرما دیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بظاہر تم ان سے تعداد میں اور اسباب میں کم تھے خطا کا معاف ہونا بھی «عفاعنکم» میں داخل ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ کچھ یونہی سی گوشمالی کر کے کچھ بزرگوں کی شہادت کے بعد اس نے اپنی آزمائش کو اٹھا لیا اور باقی والوں کو معاف فرما دیا، اللہ تعالیٰ باایمان لوگوں پر فضل و کرم لطف و رحم ہی کرتا ہے۔
صفحہ نمبر1322
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد جیسی احد میں ہوئی ہے کہیں نہیں ہوئی۔ اسی کے بارے میں ارشاد باری ہے کہ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا لیکن پھر تمہارے کرتوتوں سے معاملہ برعکس ہو گیا، بعض لوگوں نے دنیا طلبی کر کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی یعنی بعض تیر اندوزوں نے جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ کے درے پر کھڑا کیا تھا اور فرما دیا تھا کہ تم یہاں سے دشمنوں کی نگہبانی کرو وہ تمہاری پیٹھ کی طرف سے نہ آ جائیں، اگر تم ہار دیکھو بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور اگر تم ہر طرح غالب آ گئے تو بھی تم غنیمت جمع کرنے کیلئے بھی اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا،
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غالب آ گئے تو تیر اندوزوں نے حکم عدولی کی اور وہ اپنی جگہ کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آ ملے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کر دیا صفوں کا کوئی خیال نہ رہا درے کو خالی پا کر مشرکوں نے بھاگنا بند کیا اور غور و فکر کر کے اس جگہ حملہ کر دیا، چند مسلمانوں کی پیٹھ کے پیچھے سے ان کی بے خبری میں اس زور کا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے قدم نہ جم سکے اور شروع دن کی فتح اب شکست سے بدل گئی اور یہ مشہور ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے اور لڑائی کے رنگ نے مسلمانوں کو اس بات کا یقین بھی دلا دیا، تھوڑی دیر بعد جبکہ مسلمانوں کی نظریں چہرہ مبارک پر پڑیں تو وہ اپنی سب کوفت اور ساری مصیبت بھول گئے اور خوشی کے مارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لپکے آپ ادھر آ رہے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب نازل ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو خون آلودہ کر دیا، انہیں کوئی حق نہ تھا کہ اس طرح ہم پر غالب رہ جائیں۔
صفحہ نمبر1323
تھوڑی دیر میں ہم نے سنا کہ ابوسفیان پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوا کہہ رہا تھا «اعل ہبل اعل ھبل» ہبل بت کا بول بالا ہو ابوبکر کہاں ہیں؟ عمر کہاں ہیں؟ عمر نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے جواب دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تو عمر فاروق نے اس کے جواب میں فرمایا «اللہ اعلی واجل اللہ اعلی واجل» اللہ بہت بلند ہے اور جلال و عزت والا ہے اللہ بہت بلند اور جلال و عزت والا ہے، وہ پوچھنے لگا بتاؤ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ ابوبکر کہاں ہیں؟ عمر کہاں ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ ہیں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور یہ ہوں میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ ابوسفیان کہنے لگا یہ بدر کا بدلہ ہے یونہی دھوپ چھاؤں الٹتی پلٹتی رہتی ہے، لڑائی کی مثال کنویں کے ڈول کی سی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا برابری کا معاملہ ہرگز نہیں تمہارے مقتول تو جہنم میں گئے اور ہمارے شہید جنت میں پہنچے، ابوسفیان کہنے لگا اگر یونہی ہو تو یقیناً ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، سنو تمہارے مقتولین میں بعض ناک کان کٹے لوگ بھی تم پاؤ گے گویہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا لیکن ہمیں کچھ برا بھی نہیں معلوم ہوا، [مسند احمد:278/1:صحیح بالشواھد]
یہ حدیث غریب ہے اور یہ قصہ بھی عجیب ہے، یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مرسلات سے ہے اور وہ یا ان کے والد جنگ احد میں موجود نہ تھے، مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت موجود ہے۔
صفحہ نمبر1324
ابن ابی حاتم اور بیہقی فی دلائل النبوۃ میں بھی یہ مروی ہے اور صحیح احادیث میں اس کے بعض حصوں کے شواہد بھی ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ احد والے دن عورتیں مسلمانوں کے پیچھے تھیں جو زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں مجھے تو پوری طرح یقین تھا کہ آج کے دن ہم میں کوئی ایک بھی طالب دنیا نہیں بلکہ اس وقت اگر مجھے اس بات پر قسم کھلوائی جاتی تو کھا لیتا لیکن قرآن میں یہ آیت اتری «مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ» [3-آل عمران:152]
یعنی تم میں سے بعض طالب دنیا بھی ہیں، جب صحابہ رضی اللہ عنہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف آپ کی نافرمانی سرزد ہوئی تو ان کے قدم اکھڑ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو مہاجر باقی رہ گئے جب مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا تو آپ فرمانے لگے اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو انہیں ہٹائے تو ایک انصاری اٹھ کھڑے ہوئے اور اس جمِ غفیر کے مقابل تن تنہا داد شجاعت دینے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے پھر کفار نے حملہ کیا آپ نے یہی فرمایا ایک انصاری تیار ہو گئے اور اس بے جگری سے لڑے کہ انہیں آگے نہ بڑھنے دیا لیکن بالآخر یہ بھی شہید ہو گئے یہاں تک کہ ساتوں صحابہ رضی اللہ عنہم اللہ کے ہاں پہنچ گئے اللہ ان سے خوش ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین سے فرمایا افسوس ہم نے اپنے ساتھیوں سے منصفانہ معاملہ نہ کیا، اب ابوسفیان نے ہانک لگائی کہ «اعل ہبل» آپ نے فرمایا کہو «اللہ اعلی واجل» ابوسفیان نے کہا «لنا العزی ولا عزی لکم» ہمارا عزی بت ہے تمہاری کوئی عزی نہیں، آپ نے فرمایا کہو «اللہ مولانا والکافرون لا مولی لھم اللہ» ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں، ابوسفیان کہنے لگا آج کے دن بدر کے دن کا بدلہ ہے کوئی دن ہمارا اور کوئی دن تمہارا۔ یہ تو ہاتھوں ہاتھ کا سودا ہے، ایک کے بدلے ایک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز برابر نہیں ہمارے شہداء زندہ ہیں وہاں رزق دئیے جاتے ہیں اور تمہارے مقتول جہنم میں عذاب کئے جا رہے ہیں پھر ابوسفیان بولا تمہارے مقتولوں میں تم دیکھو گے کہ بعض کے کان ناک وغیرہ کاٹ لیے گئے ہیں لیکن میں نے نہ یہ کہا نہ اسے روکا نہ اسے میں نے پسند کیا نہ مجھے یہ بھلا معلوم ہوا نہ برا۔
صفحہ نمبر1325
اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ چاک کر دیا گیا تھا اور ہندہ نے انکا کلیجہ لے کر چبایا تھا لیکن نگل نہ سکی تو اگل دیا، حضور علیہ السلام نے فرمایا نا ممکن تھا کہ اس کے پیٹ میں حمزہ کا ذرا سا گوشت بھی چلا جائے اللہ تعالیٰ حمزہ کے کسی عضو بدن کو جہنم میں لے جانا نہیں چاہتا چنانچہ حمزہ کے جنازے کو اپنے سامنے رکھ کر نماز جنازہ ادا کی پھر ایک انصاری رضی اللہ عنہ کا جنازہ لایا گیا وہ حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا اور آپ نے پھر نماز جنازہ پڑھی انصاری رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھا لیا گیا لیکن سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ وہیں رہا اسی طرح ستر شخص لائے گئے اور حمزہ کی ستر دفعہ جنازے کی نماز پڑھی گئی [مسند احمد:463/1:حسن لغیرہ] [ مسند ]
صفحہ نمبر1326
صحیح بخاری شریف میں سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ احد والے دن مشرکوں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو الگ جما دیا اور انکا سردار سیدنا عبداللہ بن جیبر رضی اللہ عنہ کو بنایا اور فرما دیا کہ اگر تم ہمیں ان پر غالب آیا ہوا دیکھو تو بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور وہ ہم پر غالب آ جائیں تو بھی تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا، لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ کے فضل سے مشرکوں کے قدم پیچھے ہٹنے لگے یہاں تک کہ عورتیں بھی تہبند اونچا کر کر کے پہاڑوں میں ادھر دوڑنے لگیں، اب تیر انداز گروہ غنیمت غنیمت کہتا ہوا نیچے اتر آیا، ان کے امیر نے انہیں ہر چند سمجھایا لیکن کسی نے ان کی نہ سنی، بس اب مشرکین مسلمانوں کی پیٹھ کی طرف سے آن پڑے اور ستر بزرگ شہید ہو گئے۔
صفحہ نمبر1327
ابوسفیان ایک ٹیلے پر چڑھ کر کہنے لگا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم حیات ہیں؟ کیا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہیں؟ کیا عمر رضی اللہ عنہ زندہ ہیں؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے صحابہ خاموش رہے تو وہ خوشی کے مارے اچھل پڑا اور کہنے لگا یہ سب ہماری تلواروں کے گھاٹ اتر گئے اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تاب ضبط نہ رہی فرمانے لگے، اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے بحمد للہ ہم سب موجود ہیں اور تیری تباہی اور بربادی کرنے والے زندہ ہیں، پھر وہ باتیں ہوئیں جو اوپر بیان ہو چکی ہیں، [صحیح بخاری:4043]
صحیح بخاری شریف میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جنگ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی اور ابلیس نے آواز لگائی اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے کی خبر لو اگلی جماعتیں پچھلی جماعتوں پر ٹوٹ پڑیں، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تلواریں ان کے والد سیدنا یمان رضی اللہ عنہ پر برس رہی ہیں ہر چند کہتے رہے کہ اے اللہ کے بندو! یہ میرے باپ یمان ہیں مگر کون سنتا تھا وہ یونہی شہید ہو گئے لیکن سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کچھ نہ کہا بلکہ فرمایا اللہ تمہیں معاف کرے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی یہ بھلائی ان کے آخری دم تک ان میں رہی۔ [صحیح بخاری:4065]
صفحہ نمبر1328
سیرت ابن اسحٰق میں ہے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے خود دیکھا کہ مشرک مسلمانوں کے اول حملہ میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کی عورتیں ہندہ وغیرہ تہبند اٹھائے تیز تیز دوڑ رہی تھیں لیکن اس کے بعد جب تیر اندازوں نے مرکز چھوڑا اور کفار نے سمٹ کر پیچھے کی طرف سے ہم پر حملہ کر دیا ادھر کسی نے آواز لگائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے پھر معاملہ برعکس ہو گیا ورنہ ہم مشرکین کے علم برداروں تک پہنچ چکے تھے اور جھنڈا اس کے ہاتھ سے گر پڑا تھا لیکن عمرہ بن علقمہ حارثیہ عورت نے اسے تھام لیا اور قریش کا مجمع پھر یہاں جمع ہو گیا،سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ چچا سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ یہ رنگ دیکھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کے پاس آتے ہیں اور فرماتے ہیں تم نے کیوں ہمتیں چھوڑ دیں؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو شہید ہو گئے۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تم جی کر کیا کرو گے؟ یہ کہا اور مشرکین میں گھسے پھر لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت سے جا ملے، [تفسیر ابن جریر الطبری:4945:ضعیف]
یہ بدر والے دن جہاد میں نہیں پہنچ سکے تھے تو عہد کیا تھا کہ آئندہ اگر کوئی موقعہ آیا تو میں دکھا دوں گا چنانچہ اس جنگ میں وہ موجود تھے جب مسلمانوں میں کھلبلی مچی تو انہوں نے کہا اللہ میں مسلمانوں کے اس کام سے معذور ہوں اور مشرکوں کے اس کام سے بری ہوں پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھ گئے راہ میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہنے لگے کہاں جا رہے ہو؟ مجھے تو جنت کی خوشبو کی لپٹیں احد پہاڑ سے چلی آ رہی ہیں چنانچہ مشرکوں میں گھس گئے اور بڑی بے جگری سے لڑے یہاں تک کہ شہادت حاصل کی اسی (80) سے زیادہ تیر و تلوار کے زخم بدن پر آئے تھے پہچانے نہ جاتے تھے انگلی کو دیکھ کر پہچانے گئے۔ [صحیح بخاری:4048]
صفحہ نمبر1329
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک حاجی نے بیت اللہ شریف میں ایک مجلس دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے کہا قریشی ہیں پوچھا ان کے شیخ کون ہیں؟ جواب ملا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، اب وہ آیا اور کہنے لگا میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پوچھو اس نے کہا آپ کو اس بیت اللہ کی حرمت کی قسم کیا آپ کو علم ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ احد والے دن بھاگ گئے تھے؟ آپ نے جواب دیا ہاں۔ کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر والے دن بھی حاضر نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا ہاں، کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت الرضوان میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے، اب اس نے [ خوش ہو کر ] تکبیر کہی، عبداللہ نے فرمایا ادھر آ، اب میں تجھے پورے واقعات سناؤں، احد کے دن کا بھاگنا تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا، بدر کے دن کی غیر حاضری کے باعث یہ ہوا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت سخت بیمار تھیں تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ تم نہ آؤ مدینہ میں ہی رہو تمہیں اللہ تعالیٰ اس جنگ میں حاضر ہونے کا اجر دے گا اور غنیمت میں بھی تمہارا حصہ ہے۔
صفحہ نمبر1330
بیعت الرضوان کا واقعہ یہ ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کے پاس اپنا پیغام دے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا اس لیے کہ مکہ میں جو عزت انہیں حاصل تھی کسی اور کو اتنی نہ تھی ان کے تشریف لے جانے کے بعد یہ بیعت لی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ کھڑا کر کے کہا یہ عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ہے پھر اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا [ گویا بیعت کی ] پھر اس شخص سے کہا اب جاؤ اور اسے ساتھ لے جاؤ۔ [صحیح بخاری:3699]
صفحہ نمبر1331
پھر فرمایا آیت «إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ» [3-آل عمران:153] الخ، یعنی تم اپنے دشمن سے بھاگ کر پہاڑ چڑھ رہے تھے اور مارے خوف و دہشت کے دوسری جانب توجہ بھی نہیں کرتے تھے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تم نے وہیں چھوڑ دیا تھا وہ تمہیں آوازیں دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے کہ بھاگو نہیں لوٹ آؤ، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشرکین کے اس خفیہ اور پر زور اور اچانک حملہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے کچھ تو مدینہ کی طرف لوٹ آئے کچھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اللہ کے نبی آوازیں دیتے رہے کہ اللہ کے بندوں میری طرف آؤ اللہ کے بندو میری طرف آؤ، اس واقعہ کا بیان اس آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:301/7]
عبداللہ بن زحری شاعر نے اس واقعہ کو نظم میں بھی ادا کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ رہ گئے تھے [مسند احمد:293/4:صحیح]
مسند احمد کی ایک طویل حدیث میں بھی ان تمام واقعات کا ذکر ہے، دلائل النبوۃ میں ہے کہ جب ہزیمت ہوئی تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف گیارہ شخص رہ گئے اور ایک سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما تھے، آپ پہاڑ پر چڑھنے لگے لیکن مشرکین نے آگھیرا آپ نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کوئی ہے جو ان سے مقابلہ کرے۔
صفحہ نمبر1332
سیدنا طلحہ نے اس آواز پر فوراً لبیک کہا اور تیار ہو گئے لیکن آپ نے فرمایا تم ابھی ٹھہر جاؤ اب ایک انصاری تیار ہوئے اور وہ ان سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہوئے اسی طرح سب کے سب ایک ایک کر کے شہید ہو گئے اور اب صرف طلحہ رہ گئے گو یہ بزرگ ہر مرتبہ تیار ہو جاتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روک لیا کرتے تھے آخر یہ مقابلہ پر آئے اور اس طرح جم کر لڑے کہ ان سب کی لڑائی ایک طرف اور یہ ایک طرف، اس لڑائی میں ان کی انگلیاں کٹ گئیں تو زبان سے حس نکل گیا آپ نے فرمایا اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے یا اللہ کا نام لیتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور آسمان کی بلندی کی طرف لے چڑھتے اور لوگ دیکھتے رہتے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں پہنچ چکے تھے۔ [سنن نسائی:3151،قال الشيخ الألباني:حسن]
صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا قیس بن حازم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ جسے انہوں نے ڈھال بنایا تھا شل ہو گیا تھا۔ [صحیح بخاری:4063]
صفحہ نمبر1333
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ترکش سے احد والے دن تمام تیر پھیلا دئیے اور فرمایا تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، لے مشرکین کو مار [صحیح بخاری:3725]
آپ اٹھا اٹھا کر دیتے جاتے تھے اور میں تاک تاک کر مشرکین کو مارتا جاتا تھا اس دن میں نے دو شخصوں کو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں تھے اور سخت ترین جنگ کر رہے تھے میں نے نہ تو اس سے پہلے کبھی انہیں دیکھا تھا نہ اس کے بعد یہ دونوں سیدنا جبرائیل علیہ السلام اور سیدنا میکائیل علیہعلیہ السلام تھے۔ [صحیح بخاری:2306]
ایک اور روایت میں ہے کہ جو بزرگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھگدڑ کے بعد تھے اور ایک ایک ہو کر شہید ہوئے تھے انہیں آپ فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ہے جو انہیں رو کے اور جنت میں جائے میرا رفیق ہے۔ [صحیح مسلم:1789]
صفحہ نمبر1334
ابی بن خلف نے مکہ میں قسم کھائی تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کروں گا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ تو نہیں بلکہ میں ان شاءاللہ اسے قتل کروں گا احد والے دن یہ خبیث سر تا پا لوہے میں غرق زرہ بکتر لگائے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا اور یہ کہتا آتا تھا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بچ گئے تو میں اپنے آپکو ہلاک کر ڈالوں گا ادھر سے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اس ناہنجار کی طرف بڑھے لیکن آپ شہید ہو گئے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف بڑھے اس کا سارا جسم لوہے میں چھپا ہوا تھا صرف ذرا سی پیشانی نظر آ رہی تھی آپ نے اپنا نیزہ تاک کر وہیں لگایا جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا اور یہ تیورا کر گھوڑے پر سے گرا گو اس زخم سے خون بھی نہ نکلا تھا لیکن اس کی یہ حالت تھی کہ بلبلا رہا تھا لوگوں نے اسے اٹھا لیا لشکر میں لے گئے اور تشفی دینے لگے کہ ایسا کوئی کاری زخم نہیں لگا کیوں اس قدر نامردی کرتا ہے آخر ان کے طعنوں سے مجبور ہو کر اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں ابی کو قتل کروں گا سچ مانو اب میں کبھی نہیں بچ سکتا تم اس پر نہ جاؤ کہ مجھے ذرا سی خراش ہی آئی ہے اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کل اہل ذی المجاز کو اتنا زخم اس ہاتھ سے لگ جاتا تو سب ہلاک ہو جاتے پس یونہی تڑپتے تڑپتے اور بلکتے بلکتے اس جہنمی کی ہلاکت ہوئی اور مر کر جہنم رسید ہوا۔ [صحیح مسلم:1789]
صفحہ نمبر1335
مغازی محمد بن اسحاق میں ہے کہ جب یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے مقابلہ کی خواہش کی لیکن آپ نے انہیں روک دیا اور فرمایا اسے آنے دو جب وہ قریب آ گیا تو آپ نے حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ سے نیزہ لے کر اس پر حملہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نیزہ دیکھتے ہی وہ کانپ اٹھا ہم نے اسی وقت سمجھ لیا کہ اس کی خیر نہیں آپ نے اس کی گردن پر وار کیا اور وہ لڑکھڑا کر گھوڑے پر سے گرا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ بطن رابغ میں اس کافر کو موت آئی، ایک مرتبہ میں پچھلی رات یہاں سے گزراتو میں نے ایک جگہ سے آگ کے دہشت ناک شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے اور دیکھا کہ ایک شخص کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس آگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور وہ پیاس پیاس کر رہا ہے اور دوسرا شخص کہتا ہے اسے پانی نہ دینا یہ پیغمبر کے ہاتھ کا مارا ہوا ہے یہ ابی بن خلف ہے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:259/3:ضعیف]
صفحہ نمبر1336
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے آپ اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف جنہیں مشرکین نے احد والے دن شہید کیا تھا اشارہ کر کے فرما رہے تھے اللہ کا سخت تر غضب ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کیا اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا غضب ہے جسے اللہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں قتل کرے [صحیح بخاری:4073]
اور روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی کیا، [صحیح بخاری:4073] عتبہ بن ابی وقاص کے ہاتھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ زخم لگا تھا سامنے کے چار دانٹ ٹوٹ گئے تھے، رخسار پر زخم آیا تھا اور ہونٹ پر بھی، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے مجھے جس قدر اس شخص کی حرص تھی کسی اور کے قتل کی نہ تھی۔ یہ شخص بڑا بدخلق تھا اور ساری قوم سے اس کی دشمنی تھی اس کی برائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کافی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی ہونے والے پر اللہ سخت غضبناک ہے، [دلائل النبوۃ للبیهقی:265/3:ضعیف] عبدالرزاق میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے بد دعا کی کہ اے اللہ سال بھر میں یہ ہلاک ہو جائے اور کفر پر اس کی موت ہو چنانچہ یہی ہوا اور یہ بدبخت کافر مرا اور جہنم واصل ہوا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:265/3:ضعیف مرسل]
ایک مہاجر کا بیان ہے کہ چاروں طرف سے احد والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تیروں کی بارش ہو رہی تھی لیکن اللہ کی قدرت سے وہ سب پھیر دیئے جاتے تھے۔
صفحہ نمبر1337
عبداللہ بن شہاب زہری نے اس دن قسم کھا کر کہا کہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھا دو وہ آج میرے ہاتھ سے بچ نہیں سکتا اگر وہ نجات پا گیا تو میری نجات نہیں اب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لپکا اور بالکل آپ کے پاس آ گیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نظر ہی نہ آئے جب وہ نامراد پلٹا تو صفوان نے اسے طعنہ زنی کی اس نے کہا اللہ تعالیٰ کی طرف سے محفوظ ہیں ہمارے ہاتھ نہیں لگنے کے سنو! ہم چار شخصوں نے ان کے قتل کا پختہ مشورہ کیا تھا اور آپس میں عہدو پیمان کئے تھے ہم نے ہر چند چاہا لیکن کامیابی نہ ہوئی [مغازی الواقدی:238/1:ضعیف]
واقدی کہتے ہیں لیکن ثابت شدہ بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی کو زخمی کرنے والا ابن قمیہ اور ہونٹ اور دانتوں پر صدمہ پہچانے والا عتبہ بن ابی وقاص تھا۔
صفحہ نمبر1338
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میرے والد سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ جب احد کا ذکر فرماتے تو صاف کہتے کہ اس دن کی تمام تر فضیلت کا سہرا طلحہ رضی اللہ عنہ کے سر ہے میں جب لوٹ کر آیا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں جان ٹکائے لڑ رہا ہے میں نے کہا اللہ کرے یہ طلحہ ہو اب جو قریب آ کر دیکھا تو طلحہ ہی تھے رضی اللہ عنہ۔ میں نے کہا الحمداللہ! میری ہی قوم کا ایک شخص ہے میرے اور مشرکوں کے درمیان ایک شخص تھا جو مشرکین میں کھڑا ہوا تھا لیکن اس کے بےپناہ حملے مشرکوں کی ہمت توڑ رہے تھے غور سے دیکھا تو وہ سیدنا عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، اب جو میں نے بغور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے ہیں چہرہ زخمی ہو رہا ہے اور پیشانی میں زرہ کی دو کڑیاں کھب گئی ہیں میں آپ کی طرف لپکا لیکن آپ نے فرمایا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی خبر لو میں نے چاہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں سے دونوں کڑیاں نکالوں لیکن ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے مجھے قسم دے کر روک دیا اور خود قریب آئے اور ہاتھ سے نکالنے میں زیادہ تکلیف محسوس کر کے دانتوں سے پکڑ کر ایک کو نکال لیا لیکن اس میں ان کا دانت بھی ٹوٹ گیا میں نے اب پھر چاہا کہ دوسری میں نکال لوں لیکن ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے پھر قسم دی تو میں رک رہا انہوں نے پھر دوسری کڑی نکالی اب کی مرتبہ بھی ان کے دانت ٹوٹے اس سے فارغ ہو کر ہم طلحہ کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے دیکھا کہ ستر سے زیادہ زخم انہیں لگ چکے ہیں انگلیاں کٹ گئی ہیں ہم نے پھر ان کی بھی خبر لی [طیالسی:6:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کا خون سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے چوسا تاکہ خون تھم جائے پھر ان سے کہا گیا کہ کلی کر ڈالو لیکن انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں کلی نہ کروں گا پھر میدان جنگ میں چلے گئے
صفحہ نمبر1339
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص جنتی شخص کو دیکھنا چاہتا ہو تو انہیں دیکھ لے چنانچہ یہ اسی میدان میں شہید ہوئے، [دلائل النبوۃ للبیهقی:266/5:ضعیف مرسل]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہوا سامنے کے دانت ٹوٹے سر کا خود ٹوٹا، فاطمہ خون دھوتی تھیں اور علی ڈھال میں پانی لا لا کر ڈالتے جاتے تھے جب دیکھا کہ خون کسی طرح تھمتا ہی نہیں تو فاطمہ نے بوریا جلا کر اس کا راکھ زخم پر رکھ دی جس سے خون بند ہوا۔ [صحیح بخاری:2911]
صفحہ نمبر1340
پھر فرماتا ہے، تمہیں غم پر غم پہنچا «بِغَمِّ» کا «با» معنی میں «علیٰ» کے ہے جیسے آیت «فِي جُذُوعِ النَّخْلِ وَلَتَعْلَمُنَّ» [20-طه:71] میں «فِي» معنی میں علیٰ کے ہے، ایک غم تو شکست کا تھا جبکہ یہ مشہور ہو گیا کہ [ اللہ نہ کرے ] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان پر بن آئی، دوسرا غم مشرکوں کو پہاڑ کے اوپر غالب آ کر چڑھ جانے کا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے یہ بلندی کے لائق نہ تھے، عبدالرحمٰن بن عوف فرماتے ہیں ایک غم شکست کا دوسرا غم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی خبر کا اور یہ غم پہلے غم سے زیادہ تھا،
اسی طرح یہ بھی ہے کہ ایک غم تو غنیمت کا ہاتھ میں آ کر نکل جانے کا تھا دوسرا شکست ہونے کا اسی طرح ایک اپنے بھائیوں کے قتل کا غم دوسرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایسی منحوس خبر کا غم۔ پھر فرماتا ہے جو غنیمت اور فتح مندی تمہارے ہاتھ سے گئی اور جو زخم و شہادت ملی اس پر غم نہ کھاؤ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جو بلندی اور جلال والا ہے وہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔
صفحہ نمبر1341
کافر اور منافقوں کے ارادے اور غزوہ احد کا پھر اندوہناک تذکرہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو کافروں اور منافقوں کی باتوں کے ماننے سے روک رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ اگر ان کی مانی تو دنیا اور آخرت کی ذلت تم پر آئے گی ان کی چاہت تو یہی ہے کہ تمہیں دین اسلام سے ہٹا دیں پھر فرماتا ہے مجھ ہی کو اپنا والی اور مددگار جانو مجھ ہی سے دوستی کرو مجھ ہی پر بھروسہ کرو مجھ ہی سے مدد چاہو پھر فرمایا کہ ان شریروں کے دلوں میں ان کے کفر کے سبب ڈر خوف ڈال دوں گا۔
صفحہ نمبر1319
بخاری مسلم میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ باتیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی ہے میرے لیے زمین مسجد اور اس کی مٹی وضو کی پاک چیز بنائی گئی، میرے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور مجھے شفاعت دی گئی اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف سے مخصوص بھیجا جاتا تھا اور میری بعثت، میری نبوت تمام دنیا کیلئے عام ہوئی۔ [صحیح بخاری:335]
صفحہ نمبر1320
مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں پر اور بعض روایتوں میں ہے تمام امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطا فرمائی ہیں، مجھے تمام دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا، میرے اور میری امت کیلئے تمام زمین مسجد اور پاک بنائی گئی، میرے امتی کو جہاں نماز کا وقت آ جائے وہیں اس کی مسجد اور اس کا وضو ہے، میرا دشمن مجھ سے مہینہ بھر کی راہ پر ہو وہیں سے اللہ تعالیٰ اس کا دل رعب سے پُر کر دیتا ہے اور وہ کانپنے لگتا ہے اور میرے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے [مسند احمد:248/5:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ میں مدد کیا گیا ہوں میرے رعب سے ہر دشمن پر [صحیح مسلم:523]
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے مجھے پانچ چیزیں دی گئیں میں ہر سرخ و سفید کی طرف بھیجا گیا میرے لیے تمام زمین وضو اور مسجد بنائی گی۔ میرے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے جو میرے پہلے کسی کے حلال نہ تھے اور میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی اور مجھے شفاعت دی گئی تمام انبیاء نے شفاعت مانگ لی لیکن میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لوگوں کیلئے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو بچار کھی ہے [مسند احمد:416/4:صحیح لغیرہ]
،سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ لڑائی سے لوٹ گیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:598/2:ضعیف]
صفحہ نمبر1321
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور تمہاری مدد کی اس سے بھی یہ استدلال ہو سکتا ہے کہ یہ وعدہ احد کے دن کا تھا تین ہزار دشمن کا لشکر تھا تاہم مقابلہ پر آتے ہی ان کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی لیکن پھر تیر اندازوں کی نافرمانی کی وجہ سے اور بعض حضرات کی پست ہمتی کی بناء پر وہ وعدہ جو مشروط تھا رک گیا، پس فرماتا ہے کہ تم انہیں اپنے ہاتھوں سے کاٹتے تھے۔
شروع دن میں ہی اللہ نے تمہیں ان پر غالب کر دیا لیکن تم نے پھر بزدلی دکھائی اور نبی کی نافرمانی کی ان کی بتائی ہوئی جگہ سے ہٹ گئے اور آپس میں اختلاف کرنے لگے حالانکہ اللہ عزوجل نے تمہیں تمہاری پسند کی *چیز فتح* دکھا دی تھی، یعنی مسلمان صاف طور پر غالب آ گئے تھے مال غنیمت آنکھوں کے سامنے موجود تھا کفار پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے تم میں سے بعض نے دنیا طلبی کی اور کفار کی ہزیمت کو دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا خیال نہ کر کے مال غنیمت کی طرف لپکے، گو بعض اور نیک آخرت طلب بھی تھے لیکن اس نافرمانی وغیرہ کی بنا پر کفار کی پھر بن آئی اور ایک مرتبہ تمہاری پوری آزمائش ہو گئی غالب ہو کر مغلوب ہو گئے فتح کے بعد شکست ہو گئی لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس جرم کو معاف فرما دیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بظاہر تم ان سے تعداد میں اور اسباب میں کم تھے خطا کا معاف ہونا بھی «عفاعنکم» میں داخل ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ کچھ یونہی سی گوشمالی کر کے کچھ بزرگوں کی شہادت کے بعد اس نے اپنی آزمائش کو اٹھا لیا اور باقی والوں کو معاف فرما دیا، اللہ تعالیٰ باایمان لوگوں پر فضل و کرم لطف و رحم ہی کرتا ہے۔
صفحہ نمبر1322
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد جیسی احد میں ہوئی ہے کہیں نہیں ہوئی۔ اسی کے بارے میں ارشاد باری ہے کہ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا لیکن پھر تمہارے کرتوتوں سے معاملہ برعکس ہو گیا، بعض لوگوں نے دنیا طلبی کر کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی یعنی بعض تیر اندوزوں نے جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ کے درے پر کھڑا کیا تھا اور فرما دیا تھا کہ تم یہاں سے دشمنوں کی نگہبانی کرو وہ تمہاری پیٹھ کی طرف سے نہ آ جائیں، اگر تم ہار دیکھو بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور اگر تم ہر طرح غالب آ گئے تو بھی تم غنیمت جمع کرنے کیلئے بھی اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا،
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غالب آ گئے تو تیر اندوزوں نے حکم عدولی کی اور وہ اپنی جگہ کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آ ملے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کر دیا صفوں کا کوئی خیال نہ رہا درے کو خالی پا کر مشرکوں نے بھاگنا بند کیا اور غور و فکر کر کے اس جگہ حملہ کر دیا، چند مسلمانوں کی پیٹھ کے پیچھے سے ان کی بے خبری میں اس زور کا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے قدم نہ جم سکے اور شروع دن کی فتح اب شکست سے بدل گئی اور یہ مشہور ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے اور لڑائی کے رنگ نے مسلمانوں کو اس بات کا یقین بھی دلا دیا، تھوڑی دیر بعد جبکہ مسلمانوں کی نظریں چہرہ مبارک پر پڑیں تو وہ اپنی سب کوفت اور ساری مصیبت بھول گئے اور خوشی کے مارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لپکے آپ ادھر آ رہے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب نازل ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو خون آلودہ کر دیا، انہیں کوئی حق نہ تھا کہ اس طرح ہم پر غالب رہ جائیں۔
صفحہ نمبر1323
تھوڑی دیر میں ہم نے سنا کہ ابوسفیان پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوا کہہ رہا تھا «اعل ہبل اعل ھبل» ہبل بت کا بول بالا ہو ابوبکر کہاں ہیں؟ عمر کہاں ہیں؟ عمر نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے جواب دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تو عمر فاروق نے اس کے جواب میں فرمایا «اللہ اعلی واجل اللہ اعلی واجل» اللہ بہت بلند ہے اور جلال و عزت والا ہے اللہ بہت بلند اور جلال و عزت والا ہے، وہ پوچھنے لگا بتاؤ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ ابوبکر کہاں ہیں؟ عمر کہاں ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ ہیں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور یہ ہوں میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ ابوسفیان کہنے لگا یہ بدر کا بدلہ ہے یونہی دھوپ چھاؤں الٹتی پلٹتی رہتی ہے، لڑائی کی مثال کنویں کے ڈول کی سی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا برابری کا معاملہ ہرگز نہیں تمہارے مقتول تو جہنم میں گئے اور ہمارے شہید جنت میں پہنچے، ابوسفیان کہنے لگا اگر یونہی ہو تو یقیناً ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، سنو تمہارے مقتولین میں بعض ناک کان کٹے لوگ بھی تم پاؤ گے گویہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا لیکن ہمیں کچھ برا بھی نہیں معلوم ہوا، [مسند احمد:278/1:صحیح بالشواھد]
یہ حدیث غریب ہے اور یہ قصہ بھی عجیب ہے، یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مرسلات سے ہے اور وہ یا ان کے والد جنگ احد میں موجود نہ تھے، مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت موجود ہے۔
صفحہ نمبر1324
ابن ابی حاتم اور بیہقی فی دلائل النبوۃ میں بھی یہ مروی ہے اور صحیح احادیث میں اس کے بعض حصوں کے شواہد بھی ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ احد والے دن عورتیں مسلمانوں کے پیچھے تھیں جو زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں مجھے تو پوری طرح یقین تھا کہ آج کے دن ہم میں کوئی ایک بھی طالب دنیا نہیں بلکہ اس وقت اگر مجھے اس بات پر قسم کھلوائی جاتی تو کھا لیتا لیکن قرآن میں یہ آیت اتری «مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ» [3-آل عمران:152]
یعنی تم میں سے بعض طالب دنیا بھی ہیں، جب صحابہ رضی اللہ عنہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف آپ کی نافرمانی سرزد ہوئی تو ان کے قدم اکھڑ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو مہاجر باقی رہ گئے جب مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا تو آپ فرمانے لگے اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو انہیں ہٹائے تو ایک انصاری اٹھ کھڑے ہوئے اور اس جمِ غفیر کے مقابل تن تنہا داد شجاعت دینے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے پھر کفار نے حملہ کیا آپ نے یہی فرمایا ایک انصاری تیار ہو گئے اور اس بے جگری سے لڑے کہ انہیں آگے نہ بڑھنے دیا لیکن بالآخر یہ بھی شہید ہو گئے یہاں تک کہ ساتوں صحابہ رضی اللہ عنہم اللہ کے ہاں پہنچ گئے اللہ ان سے خوش ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین سے فرمایا افسوس ہم نے اپنے ساتھیوں سے منصفانہ معاملہ نہ کیا، اب ابوسفیان نے ہانک لگائی کہ «اعل ہبل» آپ نے فرمایا کہو «اللہ اعلی واجل» ابوسفیان نے کہا «لنا العزی ولا عزی لکم» ہمارا عزی بت ہے تمہاری کوئی عزی نہیں، آپ نے فرمایا کہو «اللہ مولانا والکافرون لا مولی لھم اللہ» ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں، ابوسفیان کہنے لگا آج کے دن بدر کے دن کا بدلہ ہے کوئی دن ہمارا اور کوئی دن تمہارا۔ یہ تو ہاتھوں ہاتھ کا سودا ہے، ایک کے بدلے ایک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز برابر نہیں ہمارے شہداء زندہ ہیں وہاں رزق دئیے جاتے ہیں اور تمہارے مقتول جہنم میں عذاب کئے جا رہے ہیں پھر ابوسفیان بولا تمہارے مقتولوں میں تم دیکھو گے کہ بعض کے کان ناک وغیرہ کاٹ لیے گئے ہیں لیکن میں نے نہ یہ کہا نہ اسے روکا نہ اسے میں نے پسند کیا نہ مجھے یہ بھلا معلوم ہوا نہ برا۔
صفحہ نمبر1325
اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ چاک کر دیا گیا تھا اور ہندہ نے انکا کلیجہ لے کر چبایا تھا لیکن نگل نہ سکی تو اگل دیا، حضور علیہ السلام نے فرمایا نا ممکن تھا کہ اس کے پیٹ میں حمزہ کا ذرا سا گوشت بھی چلا جائے اللہ تعالیٰ حمزہ کے کسی عضو بدن کو جہنم میں لے جانا نہیں چاہتا چنانچہ حمزہ کے جنازے کو اپنے سامنے رکھ کر نماز جنازہ ادا کی پھر ایک انصاری رضی اللہ عنہ کا جنازہ لایا گیا وہ حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا اور آپ نے پھر نماز جنازہ پڑھی انصاری رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھا لیا گیا لیکن سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ وہیں رہا اسی طرح ستر شخص لائے گئے اور حمزہ کی ستر دفعہ جنازے کی نماز پڑھی گئی [مسند احمد:463/1:حسن لغیرہ] [ مسند ]
صفحہ نمبر1326
صحیح بخاری شریف میں سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ احد والے دن مشرکوں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو الگ جما دیا اور انکا سردار سیدنا عبداللہ بن جیبر رضی اللہ عنہ کو بنایا اور فرما دیا کہ اگر تم ہمیں ان پر غالب آیا ہوا دیکھو تو بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور وہ ہم پر غالب آ جائیں تو بھی تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا، لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ کے فضل سے مشرکوں کے قدم پیچھے ہٹنے لگے یہاں تک کہ عورتیں بھی تہبند اونچا کر کر کے پہاڑوں میں ادھر دوڑنے لگیں، اب تیر انداز گروہ غنیمت غنیمت کہتا ہوا نیچے اتر آیا، ان کے امیر نے انہیں ہر چند سمجھایا لیکن کسی نے ان کی نہ سنی، بس اب مشرکین مسلمانوں کی پیٹھ کی طرف سے آن پڑے اور ستر بزرگ شہید ہو گئے۔
صفحہ نمبر1327
ابوسفیان ایک ٹیلے پر چڑھ کر کہنے لگا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم حیات ہیں؟ کیا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہیں؟ کیا عمر رضی اللہ عنہ زندہ ہیں؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے صحابہ خاموش رہے تو وہ خوشی کے مارے اچھل پڑا اور کہنے لگا یہ سب ہماری تلواروں کے گھاٹ اتر گئے اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تاب ضبط نہ رہی فرمانے لگے، اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے بحمد للہ ہم سب موجود ہیں اور تیری تباہی اور بربادی کرنے والے زندہ ہیں، پھر وہ باتیں ہوئیں جو اوپر بیان ہو چکی ہیں، [صحیح بخاری:4043]
صحیح بخاری شریف میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جنگ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی اور ابلیس نے آواز لگائی اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے کی خبر لو اگلی جماعتیں پچھلی جماعتوں پر ٹوٹ پڑیں، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تلواریں ان کے والد سیدنا یمان رضی اللہ عنہ پر برس رہی ہیں ہر چند کہتے رہے کہ اے اللہ کے بندو! یہ میرے باپ یمان ہیں مگر کون سنتا تھا وہ یونہی شہید ہو گئے لیکن سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کچھ نہ کہا بلکہ فرمایا اللہ تمہیں معاف کرے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی یہ بھلائی ان کے آخری دم تک ان میں رہی۔ [صحیح بخاری:4065]
صفحہ نمبر1328
سیرت ابن اسحٰق میں ہے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے خود دیکھا کہ مشرک مسلمانوں کے اول حملہ میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کی عورتیں ہندہ وغیرہ تہبند اٹھائے تیز تیز دوڑ رہی تھیں لیکن اس کے بعد جب تیر اندازوں نے مرکز چھوڑا اور کفار نے سمٹ کر پیچھے کی طرف سے ہم پر حملہ کر دیا ادھر کسی نے آواز لگائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے پھر معاملہ برعکس ہو گیا ورنہ ہم مشرکین کے علم برداروں تک پہنچ چکے تھے اور جھنڈا اس کے ہاتھ سے گر پڑا تھا لیکن عمرہ بن علقمہ حارثیہ عورت نے اسے تھام لیا اور قریش کا مجمع پھر یہاں جمع ہو گیا،سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ چچا سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ یہ رنگ دیکھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کے پاس آتے ہیں اور فرماتے ہیں تم نے کیوں ہمتیں چھوڑ دیں؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو شہید ہو گئے۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تم جی کر کیا کرو گے؟ یہ کہا اور مشرکین میں گھسے پھر لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت سے جا ملے، [تفسیر ابن جریر الطبری:4945:ضعیف]
یہ بدر والے دن جہاد میں نہیں پہنچ سکے تھے تو عہد کیا تھا کہ آئندہ اگر کوئی موقعہ آیا تو میں دکھا دوں گا چنانچہ اس جنگ میں وہ موجود تھے جب مسلمانوں میں کھلبلی مچی تو انہوں نے کہا اللہ میں مسلمانوں کے اس کام سے معذور ہوں اور مشرکوں کے اس کام سے بری ہوں پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھ گئے راہ میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہنے لگے کہاں جا رہے ہو؟ مجھے تو جنت کی خوشبو کی لپٹیں احد پہاڑ سے چلی آ رہی ہیں چنانچہ مشرکوں میں گھس گئے اور بڑی بے جگری سے لڑے یہاں تک کہ شہادت حاصل کی اسی (80) سے زیادہ تیر و تلوار کے زخم بدن پر آئے تھے پہچانے نہ جاتے تھے انگلی کو دیکھ کر پہچانے گئے۔ [صحیح بخاری:4048]
صفحہ نمبر1329
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک حاجی نے بیت اللہ شریف میں ایک مجلس دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے کہا قریشی ہیں پوچھا ان کے شیخ کون ہیں؟ جواب ملا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، اب وہ آیا اور کہنے لگا میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پوچھو اس نے کہا آپ کو اس بیت اللہ کی حرمت کی قسم کیا آپ کو علم ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ احد والے دن بھاگ گئے تھے؟ آپ نے جواب دیا ہاں۔ کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر والے دن بھی حاضر نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا ہاں، کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت الرضوان میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے، اب اس نے [ خوش ہو کر ] تکبیر کہی، عبداللہ نے فرمایا ادھر آ، اب میں تجھے پورے واقعات سناؤں، احد کے دن کا بھاگنا تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا، بدر کے دن کی غیر حاضری کے باعث یہ ہوا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت سخت بیمار تھیں تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ تم نہ آؤ مدینہ میں ہی رہو تمہیں اللہ تعالیٰ اس جنگ میں حاضر ہونے کا اجر دے گا اور غنیمت میں بھی تمہارا حصہ ہے۔
صفحہ نمبر1330
بیعت الرضوان کا واقعہ یہ ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کے پاس اپنا پیغام دے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا اس لیے کہ مکہ میں جو عزت انہیں حاصل تھی کسی اور کو اتنی نہ تھی ان کے تشریف لے جانے کے بعد یہ بیعت لی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ کھڑا کر کے کہا یہ عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ہے پھر اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا [ گویا بیعت کی ] پھر اس شخص سے کہا اب جاؤ اور اسے ساتھ لے جاؤ۔ [صحیح بخاری:3699]
صفحہ نمبر1331
پھر فرمایا آیت «إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ» [3-آل عمران:153] الخ، یعنی تم اپنے دشمن سے بھاگ کر پہاڑ چڑھ رہے تھے اور مارے خوف و دہشت کے دوسری جانب توجہ بھی نہیں کرتے تھے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تم نے وہیں چھوڑ دیا تھا وہ تمہیں آوازیں دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے کہ بھاگو نہیں لوٹ آؤ، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشرکین کے اس خفیہ اور پر زور اور اچانک حملہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے کچھ تو مدینہ کی طرف لوٹ آئے کچھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اللہ کے نبی آوازیں دیتے رہے کہ اللہ کے بندوں میری طرف آؤ اللہ کے بندو میری طرف آؤ، اس واقعہ کا بیان اس آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:301/7]
عبداللہ بن زحری شاعر نے اس واقعہ کو نظم میں بھی ادا کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ رہ گئے تھے [مسند احمد:293/4:صحیح]
مسند احمد کی ایک طویل حدیث میں بھی ان تمام واقعات کا ذکر ہے، دلائل النبوۃ میں ہے کہ جب ہزیمت ہوئی تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف گیارہ شخص رہ گئے اور ایک سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما تھے، آپ پہاڑ پر چڑھنے لگے لیکن مشرکین نے آگھیرا آپ نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کوئی ہے جو ان سے مقابلہ کرے۔
صفحہ نمبر1332
سیدنا طلحہ نے اس آواز پر فوراً لبیک کہا اور تیار ہو گئے لیکن آپ نے فرمایا تم ابھی ٹھہر جاؤ اب ایک انصاری تیار ہوئے اور وہ ان سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہوئے اسی طرح سب کے سب ایک ایک کر کے شہید ہو گئے اور اب صرف طلحہ رہ گئے گو یہ بزرگ ہر مرتبہ تیار ہو جاتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روک لیا کرتے تھے آخر یہ مقابلہ پر آئے اور اس طرح جم کر لڑے کہ ان سب کی لڑائی ایک طرف اور یہ ایک طرف، اس لڑائی میں ان کی انگلیاں کٹ گئیں تو زبان سے حس نکل گیا آپ نے فرمایا اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے یا اللہ کا نام لیتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور آسمان کی بلندی کی طرف لے چڑھتے اور لوگ دیکھتے رہتے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں پہنچ چکے تھے۔ [سنن نسائی:3151،قال الشيخ الألباني:حسن]
صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا قیس بن حازم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ جسے انہوں نے ڈھال بنایا تھا شل ہو گیا تھا۔ [صحیح بخاری:4063]
صفحہ نمبر1333
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ترکش سے احد والے دن تمام تیر پھیلا دئیے اور فرمایا تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، لے مشرکین کو مار [صحیح بخاری:3725]
آپ اٹھا اٹھا کر دیتے جاتے تھے اور میں تاک تاک کر مشرکین کو مارتا جاتا تھا اس دن میں نے دو شخصوں کو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں تھے اور سخت ترین جنگ کر رہے تھے میں نے نہ تو اس سے پہلے کبھی انہیں دیکھا تھا نہ اس کے بعد یہ دونوں سیدنا جبرائیل علیہ السلام اور سیدنا میکائیل علیہعلیہ السلام تھے۔ [صحیح بخاری:2306]
ایک اور روایت میں ہے کہ جو بزرگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھگدڑ کے بعد تھے اور ایک ایک ہو کر شہید ہوئے تھے انہیں آپ فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ہے جو انہیں رو کے اور جنت میں جائے میرا رفیق ہے۔ [صحیح مسلم:1789]
صفحہ نمبر1334
ابی بن خلف نے مکہ میں قسم کھائی تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کروں گا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ تو نہیں بلکہ میں ان شاءاللہ اسے قتل کروں گا احد والے دن یہ خبیث سر تا پا لوہے میں غرق زرہ بکتر لگائے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا اور یہ کہتا آتا تھا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بچ گئے تو میں اپنے آپکو ہلاک کر ڈالوں گا ادھر سے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اس ناہنجار کی طرف بڑھے لیکن آپ شہید ہو گئے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف بڑھے اس کا سارا جسم لوہے میں چھپا ہوا تھا صرف ذرا سی پیشانی نظر آ رہی تھی آپ نے اپنا نیزہ تاک کر وہیں لگایا جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا اور یہ تیورا کر گھوڑے پر سے گرا گو اس زخم سے خون بھی نہ نکلا تھا لیکن اس کی یہ حالت تھی کہ بلبلا رہا تھا لوگوں نے اسے اٹھا لیا لشکر میں لے گئے اور تشفی دینے لگے کہ ایسا کوئی کاری زخم نہیں لگا کیوں اس قدر نامردی کرتا ہے آخر ان کے طعنوں سے مجبور ہو کر اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں ابی کو قتل کروں گا سچ مانو اب میں کبھی نہیں بچ سکتا تم اس پر نہ جاؤ کہ مجھے ذرا سی خراش ہی آئی ہے اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کل اہل ذی المجاز کو اتنا زخم اس ہاتھ سے لگ جاتا تو سب ہلاک ہو جاتے پس یونہی تڑپتے تڑپتے اور بلکتے بلکتے اس جہنمی کی ہلاکت ہوئی اور مر کر جہنم رسید ہوا۔ [صحیح مسلم:1789]
صفحہ نمبر1335
مغازی محمد بن اسحاق میں ہے کہ جب یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے مقابلہ کی خواہش کی لیکن آپ نے انہیں روک دیا اور فرمایا اسے آنے دو جب وہ قریب آ گیا تو آپ نے حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ سے نیزہ لے کر اس پر حملہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نیزہ دیکھتے ہی وہ کانپ اٹھا ہم نے اسی وقت سمجھ لیا کہ اس کی خیر نہیں آپ نے اس کی گردن پر وار کیا اور وہ لڑکھڑا کر گھوڑے پر سے گرا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ بطن رابغ میں اس کافر کو موت آئی، ایک مرتبہ میں پچھلی رات یہاں سے گزراتو میں نے ایک جگہ سے آگ کے دہشت ناک شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے اور دیکھا کہ ایک شخص کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس آگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور وہ پیاس پیاس کر رہا ہے اور دوسرا شخص کہتا ہے اسے پانی نہ دینا یہ پیغمبر کے ہاتھ کا مارا ہوا ہے یہ ابی بن خلف ہے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:259/3:ضعیف]
صفحہ نمبر1336
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے آپ اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف جنہیں مشرکین نے احد والے دن شہید کیا تھا اشارہ کر کے فرما رہے تھے اللہ کا سخت تر غضب ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کیا اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا غضب ہے جسے اللہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں قتل کرے [صحیح بخاری:4073]
اور روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی کیا، [صحیح بخاری:4073] عتبہ بن ابی وقاص کے ہاتھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ زخم لگا تھا سامنے کے چار دانٹ ٹوٹ گئے تھے، رخسار پر زخم آیا تھا اور ہونٹ پر بھی، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے مجھے جس قدر اس شخص کی حرص تھی کسی اور کے قتل کی نہ تھی۔ یہ شخص بڑا بدخلق تھا اور ساری قوم سے اس کی دشمنی تھی اس کی برائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کافی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی ہونے والے پر اللہ سخت غضبناک ہے، [دلائل النبوۃ للبیهقی:265/3:ضعیف] عبدالرزاق میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے بد دعا کی کہ اے اللہ سال بھر میں یہ ہلاک ہو جائے اور کفر پر اس کی موت ہو چنانچہ یہی ہوا اور یہ بدبخت کافر مرا اور جہنم واصل ہوا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:265/3:ضعیف مرسل]
ایک مہاجر کا بیان ہے کہ چاروں طرف سے احد والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تیروں کی بارش ہو رہی تھی لیکن اللہ کی قدرت سے وہ سب پھیر دیئے جاتے تھے۔
صفحہ نمبر1337
عبداللہ بن شہاب زہری نے اس دن قسم کھا کر کہا کہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھا دو وہ آج میرے ہاتھ سے بچ نہیں سکتا اگر وہ نجات پا گیا تو میری نجات نہیں اب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لپکا اور بالکل آپ کے پاس آ گیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نظر ہی نہ آئے جب وہ نامراد پلٹا تو صفوان نے اسے طعنہ زنی کی اس نے کہا اللہ تعالیٰ کی طرف سے محفوظ ہیں ہمارے ہاتھ نہیں لگنے کے سنو! ہم چار شخصوں نے ان کے قتل کا پختہ مشورہ کیا تھا اور آپس میں عہدو پیمان کئے تھے ہم نے ہر چند چاہا لیکن کامیابی نہ ہوئی [مغازی الواقدی:238/1:ضعیف]
واقدی کہتے ہیں لیکن ثابت شدہ بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی کو زخمی کرنے والا ابن قمیہ اور ہونٹ اور دانتوں پر صدمہ پہچانے والا عتبہ بن ابی وقاص تھا۔
صفحہ نمبر1338
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میرے والد سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ جب احد کا ذکر فرماتے تو صاف کہتے کہ اس دن کی تمام تر فضیلت کا سہرا طلحہ رضی اللہ عنہ کے سر ہے میں جب لوٹ کر آیا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں جان ٹکائے لڑ رہا ہے میں نے کہا اللہ کرے یہ طلحہ ہو اب جو قریب آ کر دیکھا تو طلحہ ہی تھے رضی اللہ عنہ۔ میں نے کہا الحمداللہ! میری ہی قوم کا ایک شخص ہے میرے اور مشرکوں کے درمیان ایک شخص تھا جو مشرکین میں کھڑا ہوا تھا لیکن اس کے بےپناہ حملے مشرکوں کی ہمت توڑ رہے تھے غور سے دیکھا تو وہ سیدنا عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، اب جو میں نے بغور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے ہیں چہرہ زخمی ہو رہا ہے اور پیشانی میں زرہ کی دو کڑیاں کھب گئی ہیں میں آپ کی طرف لپکا لیکن آپ نے فرمایا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی خبر لو میں نے چاہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں سے دونوں کڑیاں نکالوں لیکن ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے مجھے قسم دے کر روک دیا اور خود قریب آئے اور ہاتھ سے نکالنے میں زیادہ تکلیف محسوس کر کے دانتوں سے پکڑ کر ایک کو نکال لیا لیکن اس میں ان کا دانت بھی ٹوٹ گیا میں نے اب پھر چاہا کہ دوسری میں نکال لوں لیکن ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے پھر قسم دی تو میں رک رہا انہوں نے پھر دوسری کڑی نکالی اب کی مرتبہ بھی ان کے دانت ٹوٹے اس سے فارغ ہو کر ہم طلحہ کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے دیکھا کہ ستر سے زیادہ زخم انہیں لگ چکے ہیں انگلیاں کٹ گئی ہیں ہم نے پھر ان کی بھی خبر لی [طیالسی:6:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کا خون سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے چوسا تاکہ خون تھم جائے پھر ان سے کہا گیا کہ کلی کر ڈالو لیکن انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں کلی نہ کروں گا پھر میدان جنگ میں چلے گئے
صفحہ نمبر1339
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص جنتی شخص کو دیکھنا چاہتا ہو تو انہیں دیکھ لے چنانچہ یہ اسی میدان میں شہید ہوئے، [دلائل النبوۃ للبیهقی:266/5:ضعیف مرسل]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہوا سامنے کے دانت ٹوٹے سر کا خود ٹوٹا، فاطمہ خون دھوتی تھیں اور علی ڈھال میں پانی لا لا کر ڈالتے جاتے تھے جب دیکھا کہ خون کسی طرح تھمتا ہی نہیں تو فاطمہ نے بوریا جلا کر اس کا راکھ زخم پر رکھ دی جس سے خون بند ہوا۔ [صحیح بخاری:2911]
صفحہ نمبر1340
پھر فرماتا ہے، تمہیں غم پر غم پہنچا «بِغَمِّ» کا «با» معنی میں «علیٰ» کے ہے جیسے آیت «فِي جُذُوعِ النَّخْلِ وَلَتَعْلَمُنَّ» [20-طه:71] میں «فِي» معنی میں علیٰ کے ہے، ایک غم تو شکست کا تھا جبکہ یہ مشہور ہو گیا کہ [ اللہ نہ کرے ] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان پر بن آئی، دوسرا غم مشرکوں کو پہاڑ کے اوپر غالب آ کر چڑھ جانے کا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے یہ بلندی کے لائق نہ تھے، عبدالرحمٰن بن عوف فرماتے ہیں ایک غم شکست کا دوسرا غم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی خبر کا اور یہ غم پہلے غم سے زیادہ تھا،
اسی طرح یہ بھی ہے کہ ایک غم تو غنیمت کا ہاتھ میں آ کر نکل جانے کا تھا دوسرا شکست ہونے کا اسی طرح ایک اپنے بھائیوں کے قتل کا غم دوسرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایسی منحوس خبر کا غم۔ پھر فرماتا ہے جو غنیمت اور فتح مندی تمہارے ہاتھ سے گئی اور جو زخم و شہادت ملی اس پر غم نہ کھاؤ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جو بلندی اور جلال والا ہے وہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔
صفحہ نمبر1341
کافر اور منافقوں کے ارادے اور غزوہ احد کا پھر اندوہناک تذکرہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو کافروں اور منافقوں کی باتوں کے ماننے سے روک رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ اگر ان کی مانی تو دنیا اور آخرت کی ذلت تم پر آئے گی ان کی چاہت تو یہی ہے کہ تمہیں دین اسلام سے ہٹا دیں پھر فرماتا ہے مجھ ہی کو اپنا والی اور مددگار جانو مجھ ہی سے دوستی کرو مجھ ہی پر بھروسہ کرو مجھ ہی سے مدد چاہو پھر فرمایا کہ ان شریروں کے دلوں میں ان کے کفر کے سبب ڈر خوف ڈال دوں گا۔
صفحہ نمبر1319
بخاری مسلم میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ باتیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی ہے میرے لیے زمین مسجد اور اس کی مٹی وضو کی پاک چیز بنائی گئی، میرے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے اور مجھے شفاعت دی گئی اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کی طرف سے مخصوص بھیجا جاتا تھا اور میری بعثت، میری نبوت تمام دنیا کیلئے عام ہوئی۔ [صحیح بخاری:335]
صفحہ نمبر1320
مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں پر اور بعض روایتوں میں ہے تمام امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطا فرمائی ہیں، مجھے تمام دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا، میرے اور میری امت کیلئے تمام زمین مسجد اور پاک بنائی گئی، میرے امتی کو جہاں نماز کا وقت آ جائے وہیں اس کی مسجد اور اس کا وضو ہے، میرا دشمن مجھ سے مہینہ بھر کی راہ پر ہو وہیں سے اللہ تعالیٰ اس کا دل رعب سے پُر کر دیتا ہے اور وہ کانپنے لگتا ہے اور میرے لیے غنیمت کے مال حلال کئے گئے [مسند احمد:248/5:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ میں مدد کیا گیا ہوں میرے رعب سے ہر دشمن پر [صحیح مسلم:523]
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے مجھے پانچ چیزیں دی گئیں میں ہر سرخ و سفید کی طرف بھیجا گیا میرے لیے تمام زمین وضو اور مسجد بنائی گی۔ میرے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے جو میرے پہلے کسی کے حلال نہ تھے اور میری مدد مہینہ بھر کی راہ تک رعب سے کی گئی اور مجھے شفاعت دی گئی تمام انبیاء نے شفاعت مانگ لی لیکن میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لوگوں کیلئے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو بچار کھی ہے [مسند احمد:416/4:صحیح لغیرہ]
،سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ لڑائی سے لوٹ گیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:598/2:ضعیف]
صفحہ نمبر1321
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور تمہاری مدد کی اس سے بھی یہ استدلال ہو سکتا ہے کہ یہ وعدہ احد کے دن کا تھا تین ہزار دشمن کا لشکر تھا تاہم مقابلہ پر آتے ہی ان کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی لیکن پھر تیر اندازوں کی نافرمانی کی وجہ سے اور بعض حضرات کی پست ہمتی کی بناء پر وہ وعدہ جو مشروط تھا رک گیا، پس فرماتا ہے کہ تم انہیں اپنے ہاتھوں سے کاٹتے تھے۔
شروع دن میں ہی اللہ نے تمہیں ان پر غالب کر دیا لیکن تم نے پھر بزدلی دکھائی اور نبی کی نافرمانی کی ان کی بتائی ہوئی جگہ سے ہٹ گئے اور آپس میں اختلاف کرنے لگے حالانکہ اللہ عزوجل نے تمہیں تمہاری پسند کی *چیز فتح* دکھا دی تھی، یعنی مسلمان صاف طور پر غالب آ گئے تھے مال غنیمت آنکھوں کے سامنے موجود تھا کفار پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے تم میں سے بعض نے دنیا طلبی کی اور کفار کی ہزیمت کو دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا خیال نہ کر کے مال غنیمت کی طرف لپکے، گو بعض اور نیک آخرت طلب بھی تھے لیکن اس نافرمانی وغیرہ کی بنا پر کفار کی پھر بن آئی اور ایک مرتبہ تمہاری پوری آزمائش ہو گئی غالب ہو کر مغلوب ہو گئے فتح کے بعد شکست ہو گئی لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس جرم کو معاف فرما دیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بظاہر تم ان سے تعداد میں اور اسباب میں کم تھے خطا کا معاف ہونا بھی «عفاعنکم» میں داخل ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ کچھ یونہی سی گوشمالی کر کے کچھ بزرگوں کی شہادت کے بعد اس نے اپنی آزمائش کو اٹھا لیا اور باقی والوں کو معاف فرما دیا، اللہ تعالیٰ باایمان لوگوں پر فضل و کرم لطف و رحم ہی کرتا ہے۔
صفحہ نمبر1322
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد جیسی احد میں ہوئی ہے کہیں نہیں ہوئی۔ اسی کے بارے میں ارشاد باری ہے کہ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا لیکن پھر تمہارے کرتوتوں سے معاملہ برعکس ہو گیا، بعض لوگوں نے دنیا طلبی کر کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی یعنی بعض تیر اندوزوں نے جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ کے درے پر کھڑا کیا تھا اور فرما دیا تھا کہ تم یہاں سے دشمنوں کی نگہبانی کرو وہ تمہاری پیٹھ کی طرف سے نہ آ جائیں، اگر تم ہار دیکھو بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور اگر تم ہر طرح غالب آ گئے تو بھی تم غنیمت جمع کرنے کیلئے بھی اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا،
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غالب آ گئے تو تیر اندوزوں نے حکم عدولی کی اور وہ اپنی جگہ کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آ ملے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کر دیا صفوں کا کوئی خیال نہ رہا درے کو خالی پا کر مشرکوں نے بھاگنا بند کیا اور غور و فکر کر کے اس جگہ حملہ کر دیا، چند مسلمانوں کی پیٹھ کے پیچھے سے ان کی بے خبری میں اس زور کا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے قدم نہ جم سکے اور شروع دن کی فتح اب شکست سے بدل گئی اور یہ مشہور ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شہید ہو گئے اور لڑائی کے رنگ نے مسلمانوں کو اس بات کا یقین بھی دلا دیا، تھوڑی دیر بعد جبکہ مسلمانوں کی نظریں چہرہ مبارک پر پڑیں تو وہ اپنی سب کوفت اور ساری مصیبت بھول گئے اور خوشی کے مارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لپکے آپ ادھر آ رہے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت غضب نازل ہو ان لوگوں پر جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو خون آلودہ کر دیا، انہیں کوئی حق نہ تھا کہ اس طرح ہم پر غالب رہ جائیں۔
صفحہ نمبر1323
تھوڑی دیر میں ہم نے سنا کہ ابوسفیان پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوا کہہ رہا تھا «اعل ہبل اعل ھبل» ہبل بت کا بول بالا ہو ابوبکر کہاں ہیں؟ عمر کہاں ہیں؟ عمر نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے جواب دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تو عمر فاروق نے اس کے جواب میں فرمایا «اللہ اعلی واجل اللہ اعلی واجل» اللہ بہت بلند ہے اور جلال و عزت والا ہے اللہ بہت بلند اور جلال و عزت والا ہے، وہ پوچھنے لگا بتاؤ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ ابوبکر کہاں ہیں؟ عمر کہاں ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہ ہیں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور یہ ہوں میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ ابوسفیان کہنے لگا یہ بدر کا بدلہ ہے یونہی دھوپ چھاؤں الٹتی پلٹتی رہتی ہے، لڑائی کی مثال کنویں کے ڈول کی سی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا برابری کا معاملہ ہرگز نہیں تمہارے مقتول تو جہنم میں گئے اور ہمارے شہید جنت میں پہنچے، ابوسفیان کہنے لگا اگر یونہی ہو تو یقیناً ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، سنو تمہارے مقتولین میں بعض ناک کان کٹے لوگ بھی تم پاؤ گے گویہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا لیکن ہمیں کچھ برا بھی نہیں معلوم ہوا، [مسند احمد:278/1:صحیح بالشواھد]
یہ حدیث غریب ہے اور یہ قصہ بھی عجیب ہے، یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مرسلات سے ہے اور وہ یا ان کے والد جنگ احد میں موجود نہ تھے، مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت موجود ہے۔
صفحہ نمبر1324
ابن ابی حاتم اور بیہقی فی دلائل النبوۃ میں بھی یہ مروی ہے اور صحیح احادیث میں اس کے بعض حصوں کے شواہد بھی ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ احد والے دن عورتیں مسلمانوں کے پیچھے تھیں جو زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں مجھے تو پوری طرح یقین تھا کہ آج کے دن ہم میں کوئی ایک بھی طالب دنیا نہیں بلکہ اس وقت اگر مجھے اس بات پر قسم کھلوائی جاتی تو کھا لیتا لیکن قرآن میں یہ آیت اتری «مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ» [3-آل عمران:152]
یعنی تم میں سے بعض طالب دنیا بھی ہیں، جب صحابہ رضی اللہ عنہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف آپ کی نافرمانی سرزد ہوئی تو ان کے قدم اکھڑ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو مہاجر باقی رہ گئے جب مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا تو آپ فرمانے لگے اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو انہیں ہٹائے تو ایک انصاری اٹھ کھڑے ہوئے اور اس جمِ غفیر کے مقابل تن تنہا داد شجاعت دینے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے پھر کفار نے حملہ کیا آپ نے یہی فرمایا ایک انصاری تیار ہو گئے اور اس بے جگری سے لڑے کہ انہیں آگے نہ بڑھنے دیا لیکن بالآخر یہ بھی شہید ہو گئے یہاں تک کہ ساتوں صحابہ رضی اللہ عنہم اللہ کے ہاں پہنچ گئے اللہ ان سے خوش ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین سے فرمایا افسوس ہم نے اپنے ساتھیوں سے منصفانہ معاملہ نہ کیا، اب ابوسفیان نے ہانک لگائی کہ «اعل ہبل» آپ نے فرمایا کہو «اللہ اعلی واجل» ابوسفیان نے کہا «لنا العزی ولا عزی لکم» ہمارا عزی بت ہے تمہاری کوئی عزی نہیں، آپ نے فرمایا کہو «اللہ مولانا والکافرون لا مولی لھم اللہ» ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں، ابوسفیان کہنے لگا آج کے دن بدر کے دن کا بدلہ ہے کوئی دن ہمارا اور کوئی دن تمہارا۔ یہ تو ہاتھوں ہاتھ کا سودا ہے، ایک کے بدلے ایک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز برابر نہیں ہمارے شہداء زندہ ہیں وہاں رزق دئیے جاتے ہیں اور تمہارے مقتول جہنم میں عذاب کئے جا رہے ہیں پھر ابوسفیان بولا تمہارے مقتولوں میں تم دیکھو گے کہ بعض کے کان ناک وغیرہ کاٹ لیے گئے ہیں لیکن میں نے نہ یہ کہا نہ اسے روکا نہ اسے میں نے پسند کیا نہ مجھے یہ بھلا معلوم ہوا نہ برا۔
صفحہ نمبر1325
اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ چاک کر دیا گیا تھا اور ہندہ نے انکا کلیجہ لے کر چبایا تھا لیکن نگل نہ سکی تو اگل دیا، حضور علیہ السلام نے فرمایا نا ممکن تھا کہ اس کے پیٹ میں حمزہ کا ذرا سا گوشت بھی چلا جائے اللہ تعالیٰ حمزہ کے کسی عضو بدن کو جہنم میں لے جانا نہیں چاہتا چنانچہ حمزہ کے جنازے کو اپنے سامنے رکھ کر نماز جنازہ ادا کی پھر ایک انصاری رضی اللہ عنہ کا جنازہ لایا گیا وہ حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا اور آپ نے پھر نماز جنازہ پڑھی انصاری رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھا لیا گیا لیکن سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ وہیں رہا اسی طرح ستر شخص لائے گئے اور حمزہ کی ستر دفعہ جنازے کی نماز پڑھی گئی [مسند احمد:463/1:حسن لغیرہ] [ مسند ]
صفحہ نمبر1326
صحیح بخاری شریف میں سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ احد والے دن مشرکوں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو الگ جما دیا اور انکا سردار سیدنا عبداللہ بن جیبر رضی اللہ عنہ کو بنایا اور فرما دیا کہ اگر تم ہمیں ان پر غالب آیا ہوا دیکھو تو بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور وہ ہم پر غالب آ جائیں تو بھی تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا، لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ کے فضل سے مشرکوں کے قدم پیچھے ہٹنے لگے یہاں تک کہ عورتیں بھی تہبند اونچا کر کر کے پہاڑوں میں ادھر دوڑنے لگیں، اب تیر انداز گروہ غنیمت غنیمت کہتا ہوا نیچے اتر آیا، ان کے امیر نے انہیں ہر چند سمجھایا لیکن کسی نے ان کی نہ سنی، بس اب مشرکین مسلمانوں کی پیٹھ کی طرف سے آن پڑے اور ستر بزرگ شہید ہو گئے۔
صفحہ نمبر1327
ابوسفیان ایک ٹیلے پر چڑھ کر کہنے لگا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم حیات ہیں؟ کیا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہیں؟ کیا عمر رضی اللہ عنہ زندہ ہیں؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے صحابہ خاموش رہے تو وہ خوشی کے مارے اچھل پڑا اور کہنے لگا یہ سب ہماری تلواروں کے گھاٹ اتر گئے اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تاب ضبط نہ رہی فرمانے لگے، اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے بحمد للہ ہم سب موجود ہیں اور تیری تباہی اور بربادی کرنے والے زندہ ہیں، پھر وہ باتیں ہوئیں جو اوپر بیان ہو چکی ہیں، [صحیح بخاری:4043]
صحیح بخاری شریف میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جنگ احد میں مشرکوں کو ہزیمت ہوئی اور ابلیس نے آواز لگائی اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے کی خبر لو اگلی جماعتیں پچھلی جماعتوں پر ٹوٹ پڑیں، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تلواریں ان کے والد سیدنا یمان رضی اللہ عنہ پر برس رہی ہیں ہر چند کہتے رہے کہ اے اللہ کے بندو! یہ میرے باپ یمان ہیں مگر کون سنتا تھا وہ یونہی شہید ہو گئے لیکن سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کچھ نہ کہا بلکہ فرمایا اللہ تمہیں معاف کرے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی یہ بھلائی ان کے آخری دم تک ان میں رہی۔ [صحیح بخاری:4065]
صفحہ نمبر1328
سیرت ابن اسحٰق میں ہے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے خود دیکھا کہ مشرک مسلمانوں کے اول حملہ میں ہی بھاگ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کی عورتیں ہندہ وغیرہ تہبند اٹھائے تیز تیز دوڑ رہی تھیں لیکن اس کے بعد جب تیر اندازوں نے مرکز چھوڑا اور کفار نے سمٹ کر پیچھے کی طرف سے ہم پر حملہ کر دیا ادھر کسی نے آواز لگائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے پھر معاملہ برعکس ہو گیا ورنہ ہم مشرکین کے علم برداروں تک پہنچ چکے تھے اور جھنڈا اس کے ہاتھ سے گر پڑا تھا لیکن عمرہ بن علقمہ حارثیہ عورت نے اسے تھام لیا اور قریش کا مجمع پھر یہاں جمع ہو گیا،سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ چچا سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ یہ رنگ دیکھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کے پاس آتے ہیں اور فرماتے ہیں تم نے کیوں ہمتیں چھوڑ دیں؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو شہید ہو گئے۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تم جی کر کیا کرو گے؟ یہ کہا اور مشرکین میں گھسے پھر لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ رب العزت سے جا ملے، [تفسیر ابن جریر الطبری:4945:ضعیف]
یہ بدر والے دن جہاد میں نہیں پہنچ سکے تھے تو عہد کیا تھا کہ آئندہ اگر کوئی موقعہ آیا تو میں دکھا دوں گا چنانچہ اس جنگ میں وہ موجود تھے جب مسلمانوں میں کھلبلی مچی تو انہوں نے کہا اللہ میں مسلمانوں کے اس کام سے معذور ہوں اور مشرکوں کے اس کام سے بری ہوں پھر اپنی تلوار لے کر آگے بڑھ گئے راہ میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہنے لگے کہاں جا رہے ہو؟ مجھے تو جنت کی خوشبو کی لپٹیں احد پہاڑ سے چلی آ رہی ہیں چنانچہ مشرکوں میں گھس گئے اور بڑی بے جگری سے لڑے یہاں تک کہ شہادت حاصل کی اسی (80) سے زیادہ تیر و تلوار کے زخم بدن پر آئے تھے پہچانے نہ جاتے تھے انگلی کو دیکھ کر پہچانے گئے۔ [صحیح بخاری:4048]
صفحہ نمبر1329
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک حاجی نے بیت اللہ شریف میں ایک مجلس دیکھ کر پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے کہا قریشی ہیں پوچھا ان کے شیخ کون ہیں؟ جواب ملا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، اب وہ آیا اور کہنے لگا میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پوچھو اس نے کہا آپ کو اس بیت اللہ کی حرمت کی قسم کیا آپ کو علم ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ احد والے دن بھاگ گئے تھے؟ آپ نے جواب دیا ہاں۔ کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر والے دن بھی حاضر نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا ہاں، کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت الرضوان میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے، اب اس نے [ خوش ہو کر ] تکبیر کہی، عبداللہ نے فرمایا ادھر آ، اب میں تجھے پورے واقعات سناؤں، احد کے دن کا بھاگنا تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا، بدر کے دن کی غیر حاضری کے باعث یہ ہوا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت سخت بیمار تھیں تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ تم نہ آؤ مدینہ میں ہی رہو تمہیں اللہ تعالیٰ اس جنگ میں حاضر ہونے کا اجر دے گا اور غنیمت میں بھی تمہارا حصہ ہے۔
صفحہ نمبر1330
بیعت الرضوان کا واقعہ یہ ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کے پاس اپنا پیغام دے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا اس لیے کہ مکہ میں جو عزت انہیں حاصل تھی کسی اور کو اتنی نہ تھی ان کے تشریف لے جانے کے بعد یہ بیعت لی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ کھڑا کر کے کہا یہ عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ہے پھر اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا [ گویا بیعت کی ] پھر اس شخص سے کہا اب جاؤ اور اسے ساتھ لے جاؤ۔ [صحیح بخاری:3699]
صفحہ نمبر1331
پھر فرمایا آیت «إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ» [3-آل عمران:153] الخ، یعنی تم اپنے دشمن سے بھاگ کر پہاڑ چڑھ رہے تھے اور مارے خوف و دہشت کے دوسری جانب توجہ بھی نہیں کرتے تھے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تم نے وہیں چھوڑ دیا تھا وہ تمہیں آوازیں دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے کہ بھاگو نہیں لوٹ آؤ، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشرکین کے اس خفیہ اور پر زور اور اچانک حملہ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے کچھ تو مدینہ کی طرف لوٹ آئے کچھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اللہ کے نبی آوازیں دیتے رہے کہ اللہ کے بندوں میری طرف آؤ اللہ کے بندو میری طرف آؤ، اس واقعہ کا بیان اس آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:301/7]
عبداللہ بن زحری شاعر نے اس واقعہ کو نظم میں بھی ادا کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صرف بارہ آدمیوں کے ساتھ رہ گئے تھے [مسند احمد:293/4:صحیح]
مسند احمد کی ایک طویل حدیث میں بھی ان تمام واقعات کا ذکر ہے، دلائل النبوۃ میں ہے کہ جب ہزیمت ہوئی تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف گیارہ شخص رہ گئے اور ایک سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما تھے، آپ پہاڑ پر چڑھنے لگے لیکن مشرکین نے آگھیرا آپ نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کوئی ہے جو ان سے مقابلہ کرے۔
صفحہ نمبر1332
سیدنا طلحہ نے اس آواز پر فوراً لبیک کہا اور تیار ہو گئے لیکن آپ نے فرمایا تم ابھی ٹھہر جاؤ اب ایک انصاری تیار ہوئے اور وہ ان سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہوئے اسی طرح سب کے سب ایک ایک کر کے شہید ہو گئے اور اب صرف طلحہ رہ گئے گو یہ بزرگ ہر مرتبہ تیار ہو جاتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روک لیا کرتے تھے آخر یہ مقابلہ پر آئے اور اس طرح جم کر لڑے کہ ان سب کی لڑائی ایک طرف اور یہ ایک طرف، اس لڑائی میں ان کی انگلیاں کٹ گئیں تو زبان سے حس نکل گیا آپ نے فرمایا اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے یا اللہ کا نام لیتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور آسمان کی بلندی کی طرف لے چڑھتے اور لوگ دیکھتے رہتے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں پہنچ چکے تھے۔ [سنن نسائی:3151،قال الشيخ الألباني:حسن]
صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا قیس بن حازم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ جسے انہوں نے ڈھال بنایا تھا شل ہو گیا تھا۔ [صحیح بخاری:4063]
صفحہ نمبر1333
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ترکش سے احد والے دن تمام تیر پھیلا دئیے اور فرمایا تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، لے مشرکین کو مار [صحیح بخاری:3725]
آپ اٹھا اٹھا کر دیتے جاتے تھے اور میں تاک تاک کر مشرکین کو مارتا جاتا تھا اس دن میں نے دو شخصوں کو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں تھے اور سخت ترین جنگ کر رہے تھے میں نے نہ تو اس سے پہلے کبھی انہیں دیکھا تھا نہ اس کے بعد یہ دونوں سیدنا جبرائیل علیہ السلام اور سیدنا میکائیل علیہعلیہ السلام تھے۔ [صحیح بخاری:2306]
ایک اور روایت میں ہے کہ جو بزرگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھگدڑ کے بعد تھے اور ایک ایک ہو کر شہید ہوئے تھے انہیں آپ فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ہے جو انہیں رو کے اور جنت میں جائے میرا رفیق ہے۔ [صحیح مسلم:1789]
صفحہ نمبر1334
ابی بن خلف نے مکہ میں قسم کھائی تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کروں گا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ تو نہیں بلکہ میں ان شاءاللہ اسے قتل کروں گا احد والے دن یہ خبیث سر تا پا لوہے میں غرق زرہ بکتر لگائے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا اور یہ کہتا آتا تھا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بچ گئے تو میں اپنے آپکو ہلاک کر ڈالوں گا ادھر سے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اس ناہنجار کی طرف بڑھے لیکن آپ شہید ہو گئے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف بڑھے اس کا سارا جسم لوہے میں چھپا ہوا تھا صرف ذرا سی پیشانی نظر آ رہی تھی آپ نے اپنا نیزہ تاک کر وہیں لگایا جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا اور یہ تیورا کر گھوڑے پر سے گرا گو اس زخم سے خون بھی نہ نکلا تھا لیکن اس کی یہ حالت تھی کہ بلبلا رہا تھا لوگوں نے اسے اٹھا لیا لشکر میں لے گئے اور تشفی دینے لگے کہ ایسا کوئی کاری زخم نہیں لگا کیوں اس قدر نامردی کرتا ہے آخر ان کے طعنوں سے مجبور ہو کر اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں ابی کو قتل کروں گا سچ مانو اب میں کبھی نہیں بچ سکتا تم اس پر نہ جاؤ کہ مجھے ذرا سی خراش ہی آئی ہے اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کل اہل ذی المجاز کو اتنا زخم اس ہاتھ سے لگ جاتا تو سب ہلاک ہو جاتے پس یونہی تڑپتے تڑپتے اور بلکتے بلکتے اس جہنمی کی ہلاکت ہوئی اور مر کر جہنم رسید ہوا۔ [صحیح مسلم:1789]
صفحہ نمبر1335
مغازی محمد بن اسحاق میں ہے کہ جب یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے مقابلہ کی خواہش کی لیکن آپ نے انہیں روک دیا اور فرمایا اسے آنے دو جب وہ قریب آ گیا تو آپ نے حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ سے نیزہ لے کر اس پر حملہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نیزہ دیکھتے ہی وہ کانپ اٹھا ہم نے اسی وقت سمجھ لیا کہ اس کی خیر نہیں آپ نے اس کی گردن پر وار کیا اور وہ لڑکھڑا کر گھوڑے پر سے گرا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ بطن رابغ میں اس کافر کو موت آئی، ایک مرتبہ میں پچھلی رات یہاں سے گزراتو میں نے ایک جگہ سے آگ کے دہشت ناک شعلے اٹھتے ہوئے دیکھے اور دیکھا کہ ایک شخص کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس آگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور وہ پیاس پیاس کر رہا ہے اور دوسرا شخص کہتا ہے اسے پانی نہ دینا یہ پیغمبر کے ہاتھ کا مارا ہوا ہے یہ ابی بن خلف ہے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:259/3:ضعیف]
صفحہ نمبر1336
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے آپ اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف جنہیں مشرکین نے احد والے دن شہید کیا تھا اشارہ کر کے فرما رہے تھے اللہ کا سخت تر غضب ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کیا اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا غضب ہے جسے اللہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں قتل کرے [صحیح بخاری:4073]
اور روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی کیا، [صحیح بخاری:4073] عتبہ بن ابی وقاص کے ہاتھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ زخم لگا تھا سامنے کے چار دانٹ ٹوٹ گئے تھے، رخسار پر زخم آیا تھا اور ہونٹ پر بھی، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے مجھے جس قدر اس شخص کی حرص تھی کسی اور کے قتل کی نہ تھی۔ یہ شخص بڑا بدخلق تھا اور ساری قوم سے اس کی دشمنی تھی اس کی برائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کافی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی ہونے والے پر اللہ سخت غضبناک ہے، [دلائل النبوۃ للبیهقی:265/3:ضعیف] عبدالرزاق میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے بد دعا کی کہ اے اللہ سال بھر میں یہ ہلاک ہو جائے اور کفر پر اس کی موت ہو چنانچہ یہی ہوا اور یہ بدبخت کافر مرا اور جہنم واصل ہوا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:265/3:ضعیف مرسل]
ایک مہاجر کا بیان ہے کہ چاروں طرف سے احد والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تیروں کی بارش ہو رہی تھی لیکن اللہ کی قدرت سے وہ سب پھیر دیئے جاتے تھے۔
صفحہ نمبر1337
عبداللہ بن شہاب زہری نے اس دن قسم کھا کر کہا کہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھا دو وہ آج میرے ہاتھ سے بچ نہیں سکتا اگر وہ نجات پا گیا تو میری نجات نہیں اب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لپکا اور بالکل آپ کے پاس آ گیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نظر ہی نہ آئے جب وہ نامراد پلٹا تو صفوان نے اسے طعنہ زنی کی اس نے کہا اللہ تعالیٰ کی طرف سے محفوظ ہیں ہمارے ہاتھ نہیں لگنے کے سنو! ہم چار شخصوں نے ان کے قتل کا پختہ مشورہ کیا تھا اور آپس میں عہدو پیمان کئے تھے ہم نے ہر چند چاہا لیکن کامیابی نہ ہوئی [مغازی الواقدی:238/1:ضعیف]
واقدی کہتے ہیں لیکن ثابت شدہ بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی کو زخمی کرنے والا ابن قمیہ اور ہونٹ اور دانتوں پر صدمہ پہچانے والا عتبہ بن ابی وقاص تھا۔
صفحہ نمبر1338
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میرے والد سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ جب احد کا ذکر فرماتے تو صاف کہتے کہ اس دن کی تمام تر فضیلت کا سہرا طلحہ رضی اللہ عنہ کے سر ہے میں جب لوٹ کر آیا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں جان ٹکائے لڑ رہا ہے میں نے کہا اللہ کرے یہ طلحہ ہو اب جو قریب آ کر دیکھا تو طلحہ ہی تھے رضی اللہ عنہ۔ میں نے کہا الحمداللہ! میری ہی قوم کا ایک شخص ہے میرے اور مشرکوں کے درمیان ایک شخص تھا جو مشرکین میں کھڑا ہوا تھا لیکن اس کے بےپناہ حملے مشرکوں کی ہمت توڑ رہے تھے غور سے دیکھا تو وہ سیدنا عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، اب جو میں نے بغور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے ہیں چہرہ زخمی ہو رہا ہے اور پیشانی میں زرہ کی دو کڑیاں کھب گئی ہیں میں آپ کی طرف لپکا لیکن آپ نے فرمایا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی خبر لو میں نے چاہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں سے دونوں کڑیاں نکالوں لیکن ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے مجھے قسم دے کر روک دیا اور خود قریب آئے اور ہاتھ سے نکالنے میں زیادہ تکلیف محسوس کر کے دانتوں سے پکڑ کر ایک کو نکال لیا لیکن اس میں ان کا دانت بھی ٹوٹ گیا میں نے اب پھر چاہا کہ دوسری میں نکال لوں لیکن ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے پھر قسم دی تو میں رک رہا انہوں نے پھر دوسری کڑی نکالی اب کی مرتبہ بھی ان کے دانت ٹوٹے اس سے فارغ ہو کر ہم طلحہ کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے دیکھا کہ ستر سے زیادہ زخم انہیں لگ چکے ہیں انگلیاں کٹ گئی ہیں ہم نے پھر ان کی بھی خبر لی [طیالسی:6:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کا خون سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے چوسا تاکہ خون تھم جائے پھر ان سے کہا گیا کہ کلی کر ڈالو لیکن انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں کلی نہ کروں گا پھر میدان جنگ میں چلے گئے
صفحہ نمبر1339
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص جنتی شخص کو دیکھنا چاہتا ہو تو انہیں دیکھ لے چنانچہ یہ اسی میدان میں شہید ہوئے، [دلائل النبوۃ للبیهقی:266/5:ضعیف مرسل]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہوا سامنے کے دانت ٹوٹے سر کا خود ٹوٹا، فاطمہ خون دھوتی تھیں اور علی ڈھال میں پانی لا لا کر ڈالتے جاتے تھے جب دیکھا کہ خون کسی طرح تھمتا ہی نہیں تو فاطمہ نے بوریا جلا کر اس کا راکھ زخم پر رکھ دی جس سے خون بند ہوا۔ [صحیح بخاری:2911]
صفحہ نمبر1340
پھر فرماتا ہے، تمہیں غم پر غم پہنچا «بِغَمِّ» کا «با» معنی میں «علیٰ» کے ہے جیسے آیت «فِي جُذُوعِ النَّخْلِ وَلَتَعْلَمُنَّ» [20-طه:71] میں «فِي» معنی میں علیٰ کے ہے، ایک غم تو شکست کا تھا جبکہ یہ مشہور ہو گیا کہ [ اللہ نہ کرے ] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان پر بن آئی، دوسرا غم مشرکوں کو پہاڑ کے اوپر غالب آ کر چڑھ جانے کا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے یہ بلندی کے لائق نہ تھے، عبدالرحمٰن بن عوف فرماتے ہیں ایک غم شکست کا دوسرا غم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی خبر کا اور یہ غم پہلے غم سے زیادہ تھا،
اسی طرح یہ بھی ہے کہ ایک غم تو غنیمت کا ہاتھ میں آ کر نکل جانے کا تھا دوسرا شکست ہونے کا اسی طرح ایک اپنے بھائیوں کے قتل کا غم دوسرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایسی منحوس خبر کا غم۔ پھر فرماتا ہے جو غنیمت اور فتح مندی تمہارے ہاتھ سے گئی اور جو زخم و شہادت ملی اس پر غم نہ کھاؤ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جو بلندی اور جلال والا ہے وہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔
صفحہ نمبر1341
تلواروں کے سایہ میں ایمان کی جانچ ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس غم و رنج کے وقت جو احسان فرمایا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے ان پر اونگھ ڈال دی ہتھیار ہاتھ میں ہیں دشمن سامنے ہے لیکن دل میں اتنی تسکین ہے کہ آنکھیں اونگھ سے جھکی جا رہی ہیں جو امن و امان کا نشان ہے جیسے سورۃ الانفال میں بدر کے واقعہ میں ہے آیت «إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِّنْهُ» [8-الأنفال:11] یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے امن بصورت اونگھ نازل ہوئی۔اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حکمت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لڑائی کے وقت ان کی اونگھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حکمت ہے،
سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ احد والے دن مجھے اس زور کی اونگھ آنے لگی کہ بار بار تلوار میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی آپ فرماتے ہیں جب میں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو تقریباً ہر شخص کو اسی حالت میں پایا، [صحیح بخاری:4068]
ہاں البتہ ایک جماعت وہ بھی تھی جن کے دلوں میں نفاق تھا یہ مارے خوف و دہشت کے ہلکان ہو رہے تھے اور ان کی بدگمانیاں اور برے خیال حد کو پہنچ گئے تھے۔ [سنن ترمذي:3008،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1346
پس اہل ایمان،اہل یقین،اہل ثبات، اہل توکل اور اہل صدق تو یقین کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرور مدد کرے گا اور ان کی منہ مانگی مراد پوری ہو کر رہے گی لیکن اہل نفاق، اہل شک، بےیقین، ڈھلمل ایمان والوں کی عجب حالت تھی ان کی جان عذاب میں تھی وہ ہائے وائے کر رہے تھے اور ان کے دل میں طرح طرح کے وسواس پیدا ہو رہے تھے انہیں یقین کامل ہو گیا تھا کہ اب مرے، وہ جان چکے تھے کہ رسول اور مومن [ نعوذ باللہ ] اب بچ کر نہیں جائیں گے، اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔ فی الواقع منافقوں کا یہی حال ہے۔ کہ جہاں جیسا کہ آیت میں ہے کہ «بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰ أَهْلِيهِمْ أَبَدًا» [ 48-الفتح: 12 ] اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں، فی الواقع منافقوں کا یہی حال ہے کہ جہاں ذرا نیچا پانسہ دیکھا تو ناامیدی کی گھٹگھور گھٹاؤں نے انہیں گھیر لیا ان کے برخلاف ایماندار بد سے بد تر حالت میں بھی اللہ تعالیٰ سے نیک گمان رکھتا ہے۔
صفحہ نمبر1347
ان کے دلوں کے خیالات یہ تھے کہ اگر ہمارا کچھ بھی بس چلتا تو آج کی موت سے بچ جاتے اور چپکے چپکے یوں کہتے بھی تھے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس سخت خوف کے وقت ہمیں تو اس قدر نیند آنے لگی کہ ہماری ٹھوڑیاں سینوں سے لگ گئیں میں نے اپنی اسی حالت میں معتب بن قشیر کے یہ الفاظ سنے کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا تو یہاں قتل نہ ہوتے [تفسیر ابن جریر الطبری:8093:حسن]
اللہ تعالیٰ انہیں فرماتا ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہیں مرنے کا وقت نہیں ٹلتا گو تم گھروں میں ہوتے لیکن پھر بھی جن پر یہاں کٹنا لکھا جا چکا ہوتا وہ گھروں کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے اور یہاں میدان میں آ کر ڈٹ گئے اور اللہ کا لکھا پورا اترا۔ یہ وقت اس لیے تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے ارادوں اور تمہارے مخفی بھیدوں کو بے نقاب کردے، اس آزمائش سے بھلے اور برے نیک اور بد میں تمیز ہو گئی، اللہ تعالیٰ جو دلوں کے بھیدوں اور ارادوں سے پوری طرح واقف ہے اس نے اس ذرا سے واقعہ سے منافقوں کو بے نقاب کر دیا اور مسلمانوں کا بھی ظاہری امتحان ہو گیا، اب سچے مسلمانوں کی لغزش کا بیان ہو رہا ہے جو انسانی کمزوری کی وجہ سے ان سے سرزد ہوئی فرماتا ہے شیطان نے یہ لغزش ان سے کرا دی دراصل یہ سب ان کے عمل کا نتیجہ تھا نہ یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتے نہ ان کے قدم اکھڑتے، انہیں اللہ تعالیٰ معذور جانتا ہے اور ان سے اس نے درگزر فرما لیا اور ان کی اس خطا کو معاف کر دیا اللہ کا کام ہی درگزر کرنا بخشنا معاف فرمانا، حلم اور بربادی برتنا تحمل اور عفو کرنا ہے اس سے معلوم ہوا کہ عثمان وغیرہ کی اس لغزش کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔
صفحہ نمبر1348
مسند احمد میں ہے کہ ولید بن عقبہ نے ایک مرتبہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا آخر تم امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اس قدر کیوں بگڑے ہوئے ہو؟ انہوں نے کہا اس سے کہ دو کہ میں نے احد والے دن فرار نہیں کیا بدر کے غزوے میں غیر حاضر نہیں رہا اور نہ سنت عمر رضی اللہ عنہ ترک کی، ولید نے جا کر عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ قرآن کہہ رہا ہے «وَلَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْھُمْ» [3-آل عمران:155] یعنی احد والے دن کی اس لغزش سے اللہ تعالیٰ نے درگزر فرمایا پھر جس خطا کو اللہ نے معاف کر دیا اس پر عذر لانا کیا؟
بدر والے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میری بیوی رقیہ کی تیمارداری میں مصروف تھا یہاں تک کہ وہ اسی بیماری میں فوت ہو گئیں چنانچہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں سے پور احصہ دیا اور ظاہر ہے کہ حصہ انہیں ملتا ہے جو موجود ہیں پس حکماً میری موجودگی ثابت ہوا ہے، رہی سنت عمر رضی اللہ عنہ اس کی طاقت نہ مجھ میں ہے نہ عبدالرحمٰن میں، جاؤ انہیں یہ جواب بھی پہنچا دو۔ [مسند احمد:68/1:حسن]
صفحہ نمبر1349
تلواروں کے سایہ میں ایمان کی جانچ ٭٭
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس غم و رنج کے وقت جو احسان فرمایا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ اس نے ان پر اونگھ ڈال دی ہتھیار ہاتھ میں ہیں دشمن سامنے ہے لیکن دل میں اتنی تسکین ہے کہ آنکھیں اونگھ سے جھکی جا رہی ہیں جو امن و امان کا نشان ہے جیسے سورۃ الانفال میں بدر کے واقعہ میں ہے آیت «إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِّنْهُ» [8-الأنفال:11] یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے امن بصورت اونگھ نازل ہوئی۔اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حکمت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لڑائی کے وقت ان کی اونگھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حکمت ہے،
سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ احد والے دن مجھے اس زور کی اونگھ آنے لگی کہ بار بار تلوار میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی آپ فرماتے ہیں جب میں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو تقریباً ہر شخص کو اسی حالت میں پایا، [صحیح بخاری:4068]
ہاں البتہ ایک جماعت وہ بھی تھی جن کے دلوں میں نفاق تھا یہ مارے خوف و دہشت کے ہلکان ہو رہے تھے اور ان کی بدگمانیاں اور برے خیال حد کو پہنچ گئے تھے۔ [سنن ترمذي:3008،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1346
پس اہل ایمان،اہل یقین،اہل ثبات، اہل توکل اور اہل صدق تو یقین کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرور مدد کرے گا اور ان کی منہ مانگی مراد پوری ہو کر رہے گی لیکن اہل نفاق، اہل شک، بےیقین، ڈھلمل ایمان والوں کی عجب حالت تھی ان کی جان عذاب میں تھی وہ ہائے وائے کر رہے تھے اور ان کے دل میں طرح طرح کے وسواس پیدا ہو رہے تھے انہیں یقین کامل ہو گیا تھا کہ اب مرے، وہ جان چکے تھے کہ رسول اور مومن [ نعوذ باللہ ] اب بچ کر نہیں جائیں گے، اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔ فی الواقع منافقوں کا یہی حال ہے۔ کہ جہاں جیسا کہ آیت میں ہے کہ «بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰ أَهْلِيهِمْ أَبَدًا» [ 48-الفتح: 12 ] اب بچاؤ کی کوئی صورت نہیں، فی الواقع منافقوں کا یہی حال ہے کہ جہاں ذرا نیچا پانسہ دیکھا تو ناامیدی کی گھٹگھور گھٹاؤں نے انہیں گھیر لیا ان کے برخلاف ایماندار بد سے بد تر حالت میں بھی اللہ تعالیٰ سے نیک گمان رکھتا ہے۔
صفحہ نمبر1347
ان کے دلوں کے خیالات یہ تھے کہ اگر ہمارا کچھ بھی بس چلتا تو آج کی موت سے بچ جاتے اور چپکے چپکے یوں کہتے بھی تھے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس سخت خوف کے وقت ہمیں تو اس قدر نیند آنے لگی کہ ہماری ٹھوڑیاں سینوں سے لگ گئیں میں نے اپنی اسی حالت میں معتب بن قشیر کے یہ الفاظ سنے کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا تو یہاں قتل نہ ہوتے [تفسیر ابن جریر الطبری:8093:حسن]
اللہ تعالیٰ انہیں فرماتا ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہیں مرنے کا وقت نہیں ٹلتا گو تم گھروں میں ہوتے لیکن پھر بھی جن پر یہاں کٹنا لکھا جا چکا ہوتا وہ گھروں کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے اور یہاں میدان میں آ کر ڈٹ گئے اور اللہ کا لکھا پورا اترا۔ یہ وقت اس لیے تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے ارادوں اور تمہارے مخفی بھیدوں کو بے نقاب کردے، اس آزمائش سے بھلے اور برے نیک اور بد میں تمیز ہو گئی، اللہ تعالیٰ جو دلوں کے بھیدوں اور ارادوں سے پوری طرح واقف ہے اس نے اس ذرا سے واقعہ سے منافقوں کو بے نقاب کر دیا اور مسلمانوں کا بھی ظاہری امتحان ہو گیا، اب سچے مسلمانوں کی لغزش کا بیان ہو رہا ہے جو انسانی کمزوری کی وجہ سے ان سے سرزد ہوئی فرماتا ہے شیطان نے یہ لغزش ان سے کرا دی دراصل یہ سب ان کے عمل کا نتیجہ تھا نہ یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتے نہ ان کے قدم اکھڑتے، انہیں اللہ تعالیٰ معذور جانتا ہے اور ان سے اس نے درگزر فرما لیا اور ان کی اس خطا کو معاف کر دیا اللہ کا کام ہی درگزر کرنا بخشنا معاف فرمانا، حلم اور بربادی برتنا تحمل اور عفو کرنا ہے اس سے معلوم ہوا کہ عثمان وغیرہ کی اس لغزش کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔
صفحہ نمبر1348
مسند احمد میں ہے کہ ولید بن عقبہ نے ایک مرتبہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا آخر تم امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اس قدر کیوں بگڑے ہوئے ہو؟ انہوں نے کہا اس سے کہ دو کہ میں نے احد والے دن فرار نہیں کیا بدر کے غزوے میں غیر حاضر نہیں رہا اور نہ سنت عمر رضی اللہ عنہ ترک کی، ولید نے جا کر عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ قرآن کہہ رہا ہے «وَلَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْھُمْ» [3-آل عمران:155] یعنی احد والے دن کی اس لغزش سے اللہ تعالیٰ نے درگزر فرمایا پھر جس خطا کو اللہ نے معاف کر دیا اس پر عذر لانا کیا؟
بدر والے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میری بیوی رقیہ کی تیمارداری میں مصروف تھا یہاں تک کہ وہ اسی بیماری میں فوت ہو گئیں چنانچہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں سے پور احصہ دیا اور ظاہر ہے کہ حصہ انہیں ملتا ہے جو موجود ہیں پس حکماً میری موجودگی ثابت ہوا ہے، رہی سنت عمر رضی اللہ عنہ اس کی طاقت نہ مجھ میں ہے نہ عبدالرحمٰن میں، جاؤ انہیں یہ جواب بھی پہنچا دو۔ [مسند احمد:68/1:حسن]
صفحہ نمبر1349
باطل خیالات کی نشاندہی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں جیسے فاسد اعتقاد رکھنے کی ممانعت فرما رہا ہے یہ کفار سمجھتے تھے کہ ان کے لوگ جو سفر میں یا لڑائی میں مرے اگر وہ سفر اور لڑائی نہ کرتے تو نہ مرتے پھر فرماتا ہے کہ یہ باطل خیال بھی ان کی حسرت و افسوس کا بڑھانے والا ہے، دراصل موت و حیات اللہ کے ہاتھ ہے مرتا ہے اس کی چاہت سے اور زندگی ملتی ہے تو اس کے ارادے سے، تمام امور کا جاری کرنا اس کے قبضہ میں ہے اس کی قضاء و قدر ٹلتی نہیں اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے کوئی چیز باہر نہیں تمام مخلوق کے ہر امر کو وہ بخوبی جانتا ہے۔
دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا یا مرنا اللہ کی مغفرت و رحمت کا ذریعہ ہے اور یہ قطعاً دنیا و مافیہا سے بہتر ہے کیونکہ یہ فانی ہے اور وہ باقی اور ابدی ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ خواہ کسی طرح دنیا چھوڑو مر کر یا قتل ہو کر لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے پھر اپنے اعمال کا بدلہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے برا ہو تو بھلا ہو تو۔!
صفحہ نمبر1351
باطل خیالات کی نشاندہی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں جیسے فاسد اعتقاد رکھنے کی ممانعت فرما رہا ہے یہ کفار سمجھتے تھے کہ ان کے لوگ جو سفر میں یا لڑائی میں مرے اگر وہ سفر اور لڑائی نہ کرتے تو نہ مرتے پھر فرماتا ہے کہ یہ باطل خیال بھی ان کی حسرت و افسوس کا بڑھانے والا ہے، دراصل موت و حیات اللہ کے ہاتھ ہے مرتا ہے اس کی چاہت سے اور زندگی ملتی ہے تو اس کے ارادے سے، تمام امور کا جاری کرنا اس کے قبضہ میں ہے اس کی قضاء و قدر ٹلتی نہیں اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے کوئی چیز باہر نہیں تمام مخلوق کے ہر امر کو وہ بخوبی جانتا ہے۔
دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا یا مرنا اللہ کی مغفرت و رحمت کا ذریعہ ہے اور یہ قطعاً دنیا و مافیہا سے بہتر ہے کیونکہ یہ فانی ہے اور وہ باقی اور ابدی ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ خواہ کسی طرح دنیا چھوڑو مر کر یا قتل ہو کر لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے پھر اپنے اعمال کا بدلہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے برا ہو تو بھلا ہو تو۔!
صفحہ نمبر1351
باطل خیالات کی نشاندہی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں جیسے فاسد اعتقاد رکھنے کی ممانعت فرما رہا ہے یہ کفار سمجھتے تھے کہ ان کے لوگ جو سفر میں یا لڑائی میں مرے اگر وہ سفر اور لڑائی نہ کرتے تو نہ مرتے پھر فرماتا ہے کہ یہ باطل خیال بھی ان کی حسرت و افسوس کا بڑھانے والا ہے، دراصل موت و حیات اللہ کے ہاتھ ہے مرتا ہے اس کی چاہت سے اور زندگی ملتی ہے تو اس کے ارادے سے، تمام امور کا جاری کرنا اس کے قبضہ میں ہے اس کی قضاء و قدر ٹلتی نہیں اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے کوئی چیز باہر نہیں تمام مخلوق کے ہر امر کو وہ بخوبی جانتا ہے۔
دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونا یا مرنا اللہ کی مغفرت و رحمت کا ذریعہ ہے اور یہ قطعاً دنیا و مافیہا سے بہتر ہے کیونکہ یہ فانی ہے اور وہ باقی اور ابدی ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ خواہ کسی طرح دنیا چھوڑو مر کر یا قتل ہو کر لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے پھر اپنے اعمال کا بدلہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے برا ہو تو بھلا ہو تو۔!
صفحہ نمبر1351
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کر دیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ما» صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ» [5-المائدة:13] ، میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے «عَمَّا قَلِيلٍ» [23-المؤمنون:40] میں اسی طرح یہاں ہے،
یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لیے نرم دل ہوا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے۔
صفحہ نمبر1354
یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:129] ، یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے حریص ہیں جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے والے ہیں،
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابوامامہ! بعض مومن وہ ہیں جن کے لیے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، [مسند احمد:217/5:حسن] «فَظًّا» سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد «غَلِيظَ الْقَلْبِ» کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہو جاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنا دیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لیے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام، سخت دل، بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ در گزر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں، [صحیح بخاری:4838]
ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا۔ [ابن عدی فی الکامل:15/2:ضعیف]
صفحہ نمبر1355
چنانچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے تو ان سے درگزر کر، ان کے لیے استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے لیا کر، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ ان سے لیا کرتے تھے،، جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ لیا اور جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اگر آپ سمندر کے کنارے پر کھڑا کر کے ہمیں فرمائیں گے کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے اور اگر ہمیں برک الغماد تک لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم وہ نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے صحابیوں کی طرح کہدیں کہ تو اور تیرا رب لڑ لے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں صفیں باندھ کر، جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، [صحیح بخاری:3952]
اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو؟ اور منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا رضی اللہ عنہ باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہیئے چنانچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کر لی جائے؟ تو سیدنا سعد بن عبادہ اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کر لیا اور مصالحت چھوڑ دی۔
صفحہ نمبر1356
اسی طرح آپ نے حدیبیہ والے دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے گھروں پر دھاوا بول دیں؟ تو صدیق نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہمارا ارادہ صرف عمرے کا ہے چنانچہ اسے بھی آپ نے منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے آپ کی بیوی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تو آپ نے فرمایا اے مسلمانوں مجھے مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے گھر والوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میرے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں واللہ! میرے نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے [صحیح بخاری:4757]
اور آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جدائی کے لیے سیدنا علی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کرتے تھے،
اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ کرنے کا حکم ہے۔ [مستدرک حاکم:70/3:صحیح]
[ حاکم ] یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں [ضعیف]
[ کلبی ] مسند احمد میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہو جائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا، [مسند احمد:227/4:ضعیف جداً] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا [الدار المنشور للسیوطی:160/2] [ ابن مردویہ ]
ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہو، ابوداؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے
صفحہ نمبر1357
امام ترمذی رضی اللہ عنہ اسے حسن کہتے ہیں، [سنن ابوداود:5128،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہیئے بھلی بات کا مشورہ دے [سنن ابن ماجہ:3747،قال الشيخ الألباني:ضعیف] [ ابن ماجہ ]
پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گزرا ہے کہ آیت «وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» [3-آل عمران:126] یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہیئے۔
پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں نے کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری [ ترمذی ] [سنن ابوداود:3971،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت «وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ» [3-آل عمران:161] اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو،
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کر سکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپا لے اور امت تک نہ پہنچائے۔
صفحہ نمبر1358
یغل کے معنی اور خائن ٭٭
«یغل» کو“یُ“ کے پیش سے بھی پڑھا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ نبی کی ذات ایسی نہیں کہ ان کے پاس والے ان کی خیانت کریں، چنانچہ سیدنا قتادہ اور سیدنا ربیع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن آپ کے اصحاب نے مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لیے لیا تھا اس پر یہ آیت اتری [ ابن جریر ]
صفحہ نمبر1359
پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بابت بہت کچھ سخت وعید ہے چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ شخص ہے جو پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین دبا لے اگر ایک ہاتھ زمین بھی ناحق اپنی طرف کر لے گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا [مسند احمد:341/5:حسن بالشواھد]
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کر سکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہو گا، [مسند احمد:229/4:ضعیف] یہ حدیث ابوداؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے، [سنن ابوداود:2945،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تیرے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہو گا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کہوں گا میں تیرے لیے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کر چکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لیے ہوئے حاضر ہو گا اور کہہ رہا ہو یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتا چکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8157:صحیح]
صفحہ نمبر1360
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے * ابن اللتبیه * کہتے تھے یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے آئے تو کہنے لگے یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ہم انہیں کسی کام پر بھیجتے ہیں تو آ کر کہتے ہیں یہ تمہارا اور یہ ہمارے لیے تحفے ہے یہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے پھر دیکھتے کہ انہیں تحفہ دیا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی لے لے گا وہ قیامت کے دن اسے گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اونٹ ہے تو چلا رہا ہو گا۔ گائے ہے تو بول رہی ہو گی بکری ہے تو چیخ رہی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ اس قدر بلند کئے کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ [صحیح بخاری:2597] مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے ایسے تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے ملیں وہ خیانت ہیں [مسند احمد:424/5:صحیح بالشواھد]
یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے
صفحہ نمبر1361
ترمذی میں ہے سیدنا معاذ بن جبل میں رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے مجھے بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے تمہیں صرف ایک بات کہنے کے لیے بلوایا ہے کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ لو گے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے کام میں لگو، [سنن ترمذي:1335،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کر دینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہو چکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، [صحیح بخاری:3073]
مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہو گا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری سیدنا سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو! ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہیئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابوداؤد میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:1833]
صفحہ نمبر1362
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً نماز عصر کے بعد بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے تھے اور تقریباً مغرب تک وہیں مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے وقت وہاں سے واپس چلے وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے تھے بقیع میں آ کر فرمانے لگے تف ہے تجھے تف ہے تجھے میں سمجھا آپ مجھے فرما رہے ہیں چنانچہ میں اپنے کپڑے ٹھیک ٹھاک کرنے لگا اور پیچھے رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے اسے میں نے قبیلے کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک چادر لے لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔ [ مسند احمد ] [مسند احمد:392/6:صحیح]
صفحہ نمبر1363
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال لیتے پھر فرماتے میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا، خیانت سے بچو خیانت کرنے والے کی رسوائی قیامت کے دن ہو گی سوئی دھاگے تک پہنچا دو اور اس سے حقیر چیز بھی
اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے [ مسند احمد ] اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، [مسند احمد:330/5:صحیح]
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابومسعود! جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں [ ابوداؤد ] [سنن ابوداود:2947،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1364
ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا رہے لیکن تہہ کو نہیں پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر خیانت والے سے کہا جائے گا جا اسے لے آ، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے آیت «وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» [3-آل عمران:161]
مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آنے لگے اور کہنے لگے فلاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کر لی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کر دو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چنانچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کر دی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحیح مسلم:114]
صفحہ نمبر1365
ابن جریر میں ہے کہ ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے صدقات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا؟ کہ آپ نے صدقات میں خیانت کرنے والے کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے لے وہ قیامت والے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، [سنن ابن ماجہ:1810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد رضی اللہ عنہ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8162:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ مسلمہ بن عبدالملک رحمہ اللہ کے ساتھ روم کی جنگ میں سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردارِ لشکر نے سیدنا سالم رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو، چنانچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا سیدنا سالم رضی اللہ عنہ سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے، [مسند احمد:22/1:ضعیف]
امام علی بن مدینی اور امام بخاری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا سالم رحمہ اللہ کا اپنا فتویٰ ہے، سیدنا امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر1366
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کا اسباب جلا دیا جائے اور اسے مملوک کی حد سے کم مارا جائے اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابوحنیفہ،مالک، شافعی رحمہ اللہ علیہم اور جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے یہ کہتے ہیں اس کا اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کے مثل اسے تعزیر یعنی سزا دی جائے،
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کر دیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم
مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریف کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں؟ [مسند احمد:414/1:صحیح موقوف] امام وکیع رحمہ اللہ بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں،
ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے اور وہ لوگوں میں منادی کرتے کہ جس جس کے پاس جو جو ہو لے آئے پھر آپ اس میں سے پانچواں حصہ نکال لیتے اور باقی کو تقسیم کر دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی منادی سنی تھی؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔ [سنن ابوداود:2712،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1367
اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شرع پر چل کر، اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے مستحق ہونے والے،اس کے ثوابوں کو حاصل کرنے والے اس کے عذابوں سے بچنے والے اور وہ لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے والا اور اس سے اندھا رہنے والا برابر نہیں،
اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہو چکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:646/2]
وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں، جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت «وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا» [6-الأنعام:32] ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہو گی۔
صفحہ نمبر1368
پھر فرماتا ہے کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ انہی کی جنس سے ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے بات چیت کر سکیں، پوچھ گچھ کر سکیں، ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کر سکیں، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً» [30-الروم:21] ، یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے اس نے پیدا کئے اور جگہ ہے آیت «قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ» [18-الكهف:110] ، کہ دے کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] یعنی تم سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔
اور جگہ ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے «يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا» [6-الأنعام:130] یعنی اے جنو اور انسانو! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں۔
صفحہ نمبر1369
پس اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں پڑھاتا ہے اور اچھی باتوں کا حکم دے کر اور برائیوں سے روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے اور شرک و جاہلیت کی ناپاکی کے اثرات سے زائل کرتا ہے اور انہیں کتاب اور سنت سکھاتا ہے۔ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے تو یہ صاف بھٹکے ہوئے تھے ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے۔
صفحہ نمبر1370
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کر دیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ما» صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ» [5-المائدة:13] ، میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے «عَمَّا قَلِيلٍ» [23-المؤمنون:40] میں اسی طرح یہاں ہے،
یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لیے نرم دل ہوا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے۔
صفحہ نمبر1354
یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:129] ، یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے حریص ہیں جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے والے ہیں،
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابوامامہ! بعض مومن وہ ہیں جن کے لیے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، [مسند احمد:217/5:حسن] «فَظًّا» سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد «غَلِيظَ الْقَلْبِ» کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہو جاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنا دیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لیے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام، سخت دل، بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ در گزر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں، [صحیح بخاری:4838]
ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا۔ [ابن عدی فی الکامل:15/2:ضعیف]
صفحہ نمبر1355
چنانچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے تو ان سے درگزر کر، ان کے لیے استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے لیا کر، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ ان سے لیا کرتے تھے،، جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ لیا اور جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اگر آپ سمندر کے کنارے پر کھڑا کر کے ہمیں فرمائیں گے کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے اور اگر ہمیں برک الغماد تک لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم وہ نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے صحابیوں کی طرح کہدیں کہ تو اور تیرا رب لڑ لے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں صفیں باندھ کر، جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، [صحیح بخاری:3952]
اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو؟ اور منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا رضی اللہ عنہ باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہیئے چنانچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کر لی جائے؟ تو سیدنا سعد بن عبادہ اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کر لیا اور مصالحت چھوڑ دی۔
صفحہ نمبر1356
اسی طرح آپ نے حدیبیہ والے دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے گھروں پر دھاوا بول دیں؟ تو صدیق نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہمارا ارادہ صرف عمرے کا ہے چنانچہ اسے بھی آپ نے منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے آپ کی بیوی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تو آپ نے فرمایا اے مسلمانوں مجھے مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے گھر والوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میرے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں واللہ! میرے نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے [صحیح بخاری:4757]
اور آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جدائی کے لیے سیدنا علی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کرتے تھے،
اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ کرنے کا حکم ہے۔ [مستدرک حاکم:70/3:صحیح]
[ حاکم ] یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں [ضعیف]
[ کلبی ] مسند احمد میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہو جائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا، [مسند احمد:227/4:ضعیف جداً] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا [الدار المنشور للسیوطی:160/2] [ ابن مردویہ ]
ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہو، ابوداؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے
صفحہ نمبر1357
امام ترمذی رضی اللہ عنہ اسے حسن کہتے ہیں، [سنن ابوداود:5128،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہیئے بھلی بات کا مشورہ دے [سنن ابن ماجہ:3747،قال الشيخ الألباني:ضعیف] [ ابن ماجہ ]
پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گزرا ہے کہ آیت «وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» [3-آل عمران:126] یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہیئے۔
پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں نے کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری [ ترمذی ] [سنن ابوداود:3971،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت «وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ» [3-آل عمران:161] اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو،
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کر سکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپا لے اور امت تک نہ پہنچائے۔
صفحہ نمبر1358
یغل کے معنی اور خائن ٭٭
«یغل» کو“یُ“ کے پیش سے بھی پڑھا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ نبی کی ذات ایسی نہیں کہ ان کے پاس والے ان کی خیانت کریں، چنانچہ سیدنا قتادہ اور سیدنا ربیع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن آپ کے اصحاب نے مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لیے لیا تھا اس پر یہ آیت اتری [ ابن جریر ]
صفحہ نمبر1359
پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بابت بہت کچھ سخت وعید ہے چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ شخص ہے جو پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین دبا لے اگر ایک ہاتھ زمین بھی ناحق اپنی طرف کر لے گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا [مسند احمد:341/5:حسن بالشواھد]
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کر سکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہو گا، [مسند احمد:229/4:ضعیف] یہ حدیث ابوداؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے، [سنن ابوداود:2945،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تیرے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہو گا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کہوں گا میں تیرے لیے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کر چکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لیے ہوئے حاضر ہو گا اور کہہ رہا ہو یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتا چکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8157:صحیح]
صفحہ نمبر1360
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے * ابن اللتبیه * کہتے تھے یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے آئے تو کہنے لگے یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ہم انہیں کسی کام پر بھیجتے ہیں تو آ کر کہتے ہیں یہ تمہارا اور یہ ہمارے لیے تحفے ہے یہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے پھر دیکھتے کہ انہیں تحفہ دیا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی لے لے گا وہ قیامت کے دن اسے گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اونٹ ہے تو چلا رہا ہو گا۔ گائے ہے تو بول رہی ہو گی بکری ہے تو چیخ رہی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ اس قدر بلند کئے کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ [صحیح بخاری:2597] مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے ایسے تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے ملیں وہ خیانت ہیں [مسند احمد:424/5:صحیح بالشواھد]
یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے
صفحہ نمبر1361
ترمذی میں ہے سیدنا معاذ بن جبل میں رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے مجھے بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے تمہیں صرف ایک بات کہنے کے لیے بلوایا ہے کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ لو گے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے کام میں لگو، [سنن ترمذي:1335،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کر دینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہو چکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، [صحیح بخاری:3073]
مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہو گا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری سیدنا سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو! ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہیئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابوداؤد میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:1833]
صفحہ نمبر1362
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً نماز عصر کے بعد بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے تھے اور تقریباً مغرب تک وہیں مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے وقت وہاں سے واپس چلے وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے تھے بقیع میں آ کر فرمانے لگے تف ہے تجھے تف ہے تجھے میں سمجھا آپ مجھے فرما رہے ہیں چنانچہ میں اپنے کپڑے ٹھیک ٹھاک کرنے لگا اور پیچھے رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے اسے میں نے قبیلے کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک چادر لے لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔ [ مسند احمد ] [مسند احمد:392/6:صحیح]
صفحہ نمبر1363
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال لیتے پھر فرماتے میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا، خیانت سے بچو خیانت کرنے والے کی رسوائی قیامت کے دن ہو گی سوئی دھاگے تک پہنچا دو اور اس سے حقیر چیز بھی
اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے [ مسند احمد ] اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، [مسند احمد:330/5:صحیح]
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابومسعود! جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں [ ابوداؤد ] [سنن ابوداود:2947،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1364
ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا رہے لیکن تہہ کو نہیں پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر خیانت والے سے کہا جائے گا جا اسے لے آ، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے آیت «وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» [3-آل عمران:161]
مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آنے لگے اور کہنے لگے فلاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کر لی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کر دو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چنانچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کر دی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحیح مسلم:114]
صفحہ نمبر1365
ابن جریر میں ہے کہ ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے صدقات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا؟ کہ آپ نے صدقات میں خیانت کرنے والے کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے لے وہ قیامت والے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، [سنن ابن ماجہ:1810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد رضی اللہ عنہ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8162:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ مسلمہ بن عبدالملک رحمہ اللہ کے ساتھ روم کی جنگ میں سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردارِ لشکر نے سیدنا سالم رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو، چنانچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا سیدنا سالم رضی اللہ عنہ سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے، [مسند احمد:22/1:ضعیف]
امام علی بن مدینی اور امام بخاری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا سالم رحمہ اللہ کا اپنا فتویٰ ہے، سیدنا امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر1366
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کا اسباب جلا دیا جائے اور اسے مملوک کی حد سے کم مارا جائے اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابوحنیفہ،مالک، شافعی رحمہ اللہ علیہم اور جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے یہ کہتے ہیں اس کا اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کے مثل اسے تعزیر یعنی سزا دی جائے،
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کر دیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم
مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریف کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں؟ [مسند احمد:414/1:صحیح موقوف] امام وکیع رحمہ اللہ بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں،
ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے اور وہ لوگوں میں منادی کرتے کہ جس جس کے پاس جو جو ہو لے آئے پھر آپ اس میں سے پانچواں حصہ نکال لیتے اور باقی کو تقسیم کر دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی منادی سنی تھی؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔ [سنن ابوداود:2712،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1367
اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شرع پر چل کر، اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے مستحق ہونے والے،اس کے ثوابوں کو حاصل کرنے والے اس کے عذابوں سے بچنے والے اور وہ لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے والا اور اس سے اندھا رہنے والا برابر نہیں،
اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہو چکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:646/2]
وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں، جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت «وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا» [6-الأنعام:32] ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہو گی۔
صفحہ نمبر1368
پھر فرماتا ہے کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ انہی کی جنس سے ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے بات چیت کر سکیں، پوچھ گچھ کر سکیں، ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کر سکیں، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً» [30-الروم:21] ، یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے اس نے پیدا کئے اور جگہ ہے آیت «قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ» [18-الكهف:110] ، کہ دے کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] یعنی تم سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔
اور جگہ ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے «يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا» [6-الأنعام:130] یعنی اے جنو اور انسانو! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں۔
صفحہ نمبر1369
پس اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں پڑھاتا ہے اور اچھی باتوں کا حکم دے کر اور برائیوں سے روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے اور شرک و جاہلیت کی ناپاکی کے اثرات سے زائل کرتا ہے اور انہیں کتاب اور سنت سکھاتا ہے۔ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے تو یہ صاف بھٹکے ہوئے تھے ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے۔
صفحہ نمبر1370
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کر دیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ما» صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ» [5-المائدة:13] ، میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے «عَمَّا قَلِيلٍ» [23-المؤمنون:40] میں اسی طرح یہاں ہے،
یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لیے نرم دل ہوا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے۔
صفحہ نمبر1354
یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:129] ، یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے حریص ہیں جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے والے ہیں،
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابوامامہ! بعض مومن وہ ہیں جن کے لیے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، [مسند احمد:217/5:حسن] «فَظًّا» سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد «غَلِيظَ الْقَلْبِ» کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہو جاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنا دیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لیے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام، سخت دل، بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ در گزر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں، [صحیح بخاری:4838]
ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا۔ [ابن عدی فی الکامل:15/2:ضعیف]
صفحہ نمبر1355
چنانچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے تو ان سے درگزر کر، ان کے لیے استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے لیا کر، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ ان سے لیا کرتے تھے،، جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ لیا اور جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اگر آپ سمندر کے کنارے پر کھڑا کر کے ہمیں فرمائیں گے کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے اور اگر ہمیں برک الغماد تک لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم وہ نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے صحابیوں کی طرح کہدیں کہ تو اور تیرا رب لڑ لے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں صفیں باندھ کر، جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، [صحیح بخاری:3952]
اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو؟ اور منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا رضی اللہ عنہ باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہیئے چنانچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کر لی جائے؟ تو سیدنا سعد بن عبادہ اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کر لیا اور مصالحت چھوڑ دی۔
صفحہ نمبر1356
اسی طرح آپ نے حدیبیہ والے دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے گھروں پر دھاوا بول دیں؟ تو صدیق نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہمارا ارادہ صرف عمرے کا ہے چنانچہ اسے بھی آپ نے منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے آپ کی بیوی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تو آپ نے فرمایا اے مسلمانوں مجھے مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے گھر والوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میرے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں واللہ! میرے نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے [صحیح بخاری:4757]
اور آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جدائی کے لیے سیدنا علی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کرتے تھے،
اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ کرنے کا حکم ہے۔ [مستدرک حاکم:70/3:صحیح]
[ حاکم ] یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں [ضعیف]
[ کلبی ] مسند احمد میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہو جائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا، [مسند احمد:227/4:ضعیف جداً] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا [الدار المنشور للسیوطی:160/2] [ ابن مردویہ ]
ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہو، ابوداؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے
صفحہ نمبر1357
امام ترمذی رضی اللہ عنہ اسے حسن کہتے ہیں، [سنن ابوداود:5128،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہیئے بھلی بات کا مشورہ دے [سنن ابن ماجہ:3747،قال الشيخ الألباني:ضعیف] [ ابن ماجہ ]
پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گزرا ہے کہ آیت «وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» [3-آل عمران:126] یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہیئے۔
پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں نے کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری [ ترمذی ] [سنن ابوداود:3971،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت «وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ» [3-آل عمران:161] اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو،
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کر سکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپا لے اور امت تک نہ پہنچائے۔
صفحہ نمبر1358
یغل کے معنی اور خائن ٭٭
«یغل» کو“یُ“ کے پیش سے بھی پڑھا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ نبی کی ذات ایسی نہیں کہ ان کے پاس والے ان کی خیانت کریں، چنانچہ سیدنا قتادہ اور سیدنا ربیع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن آپ کے اصحاب نے مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لیے لیا تھا اس پر یہ آیت اتری [ ابن جریر ]
صفحہ نمبر1359
پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بابت بہت کچھ سخت وعید ہے چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ شخص ہے جو پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین دبا لے اگر ایک ہاتھ زمین بھی ناحق اپنی طرف کر لے گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا [مسند احمد:341/5:حسن بالشواھد]
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کر سکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہو گا، [مسند احمد:229/4:ضعیف] یہ حدیث ابوداؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے، [سنن ابوداود:2945،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تیرے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہو گا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کہوں گا میں تیرے لیے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کر چکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لیے ہوئے حاضر ہو گا اور کہہ رہا ہو یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتا چکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8157:صحیح]
صفحہ نمبر1360
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے * ابن اللتبیه * کہتے تھے یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے آئے تو کہنے لگے یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ہم انہیں کسی کام پر بھیجتے ہیں تو آ کر کہتے ہیں یہ تمہارا اور یہ ہمارے لیے تحفے ہے یہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے پھر دیکھتے کہ انہیں تحفہ دیا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی لے لے گا وہ قیامت کے دن اسے گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اونٹ ہے تو چلا رہا ہو گا۔ گائے ہے تو بول رہی ہو گی بکری ہے تو چیخ رہی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ اس قدر بلند کئے کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ [صحیح بخاری:2597] مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے ایسے تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے ملیں وہ خیانت ہیں [مسند احمد:424/5:صحیح بالشواھد]
یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے
صفحہ نمبر1361
ترمذی میں ہے سیدنا معاذ بن جبل میں رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے مجھے بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے تمہیں صرف ایک بات کہنے کے لیے بلوایا ہے کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ لو گے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے کام میں لگو، [سنن ترمذي:1335،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کر دینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہو چکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، [صحیح بخاری:3073]
مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہو گا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری سیدنا سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو! ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہیئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابوداؤد میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:1833]
صفحہ نمبر1362
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً نماز عصر کے بعد بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے تھے اور تقریباً مغرب تک وہیں مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے وقت وہاں سے واپس چلے وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے تھے بقیع میں آ کر فرمانے لگے تف ہے تجھے تف ہے تجھے میں سمجھا آپ مجھے فرما رہے ہیں چنانچہ میں اپنے کپڑے ٹھیک ٹھاک کرنے لگا اور پیچھے رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے اسے میں نے قبیلے کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک چادر لے لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔ [ مسند احمد ] [مسند احمد:392/6:صحیح]
صفحہ نمبر1363
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال لیتے پھر فرماتے میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا، خیانت سے بچو خیانت کرنے والے کی رسوائی قیامت کے دن ہو گی سوئی دھاگے تک پہنچا دو اور اس سے حقیر چیز بھی
اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے [ مسند احمد ] اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، [مسند احمد:330/5:صحیح]
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابومسعود! جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں [ ابوداؤد ] [سنن ابوداود:2947،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1364
ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا رہے لیکن تہہ کو نہیں پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر خیانت والے سے کہا جائے گا جا اسے لے آ، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے آیت «وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» [3-آل عمران:161]
مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آنے لگے اور کہنے لگے فلاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کر لی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کر دو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چنانچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کر دی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحیح مسلم:114]
صفحہ نمبر1365
ابن جریر میں ہے کہ ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے صدقات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا؟ کہ آپ نے صدقات میں خیانت کرنے والے کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے لے وہ قیامت والے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، [سنن ابن ماجہ:1810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد رضی اللہ عنہ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8162:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ مسلمہ بن عبدالملک رحمہ اللہ کے ساتھ روم کی جنگ میں سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردارِ لشکر نے سیدنا سالم رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو، چنانچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا سیدنا سالم رضی اللہ عنہ سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے، [مسند احمد:22/1:ضعیف]
امام علی بن مدینی اور امام بخاری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا سالم رحمہ اللہ کا اپنا فتویٰ ہے، سیدنا امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر1366
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کا اسباب جلا دیا جائے اور اسے مملوک کی حد سے کم مارا جائے اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابوحنیفہ،مالک، شافعی رحمہ اللہ علیہم اور جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے یہ کہتے ہیں اس کا اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کے مثل اسے تعزیر یعنی سزا دی جائے،
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کر دیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم
مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریف کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں؟ [مسند احمد:414/1:صحیح موقوف] امام وکیع رحمہ اللہ بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں،
ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے اور وہ لوگوں میں منادی کرتے کہ جس جس کے پاس جو جو ہو لے آئے پھر آپ اس میں سے پانچواں حصہ نکال لیتے اور باقی کو تقسیم کر دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی منادی سنی تھی؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔ [سنن ابوداود:2712،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1367
اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شرع پر چل کر، اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے مستحق ہونے والے،اس کے ثوابوں کو حاصل کرنے والے اس کے عذابوں سے بچنے والے اور وہ لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے والا اور اس سے اندھا رہنے والا برابر نہیں،
اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہو چکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:646/2]
وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں، جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت «وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا» [6-الأنعام:32] ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہو گی۔
صفحہ نمبر1368
پھر فرماتا ہے کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ انہی کی جنس سے ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے بات چیت کر سکیں، پوچھ گچھ کر سکیں، ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کر سکیں، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً» [30-الروم:21] ، یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے اس نے پیدا کئے اور جگہ ہے آیت «قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ» [18-الكهف:110] ، کہ دے کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] یعنی تم سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔
اور جگہ ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے «يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا» [6-الأنعام:130] یعنی اے جنو اور انسانو! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں۔
صفحہ نمبر1369
پس اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں پڑھاتا ہے اور اچھی باتوں کا حکم دے کر اور برائیوں سے روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے اور شرک و جاہلیت کی ناپاکی کے اثرات سے زائل کرتا ہے اور انہیں کتاب اور سنت سکھاتا ہے۔ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے تو یہ صاف بھٹکے ہوئے تھے ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے۔
صفحہ نمبر1370
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کر دیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ما» صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ» [5-المائدة:13] ، میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے «عَمَّا قَلِيلٍ» [23-المؤمنون:40] میں اسی طرح یہاں ہے،
یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لیے نرم دل ہوا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے۔
صفحہ نمبر1354
یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:129] ، یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے حریص ہیں جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے والے ہیں،
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابوامامہ! بعض مومن وہ ہیں جن کے لیے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، [مسند احمد:217/5:حسن] «فَظًّا» سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد «غَلِيظَ الْقَلْبِ» کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہو جاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنا دیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لیے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام، سخت دل، بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ در گزر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں، [صحیح بخاری:4838]
ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا۔ [ابن عدی فی الکامل:15/2:ضعیف]
صفحہ نمبر1355
چنانچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے تو ان سے درگزر کر، ان کے لیے استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے لیا کر، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ ان سے لیا کرتے تھے،، جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ لیا اور جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اگر آپ سمندر کے کنارے پر کھڑا کر کے ہمیں فرمائیں گے کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے اور اگر ہمیں برک الغماد تک لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم وہ نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے صحابیوں کی طرح کہدیں کہ تو اور تیرا رب لڑ لے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں صفیں باندھ کر، جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، [صحیح بخاری:3952]
اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو؟ اور منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا رضی اللہ عنہ باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہیئے چنانچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کر لی جائے؟ تو سیدنا سعد بن عبادہ اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کر لیا اور مصالحت چھوڑ دی۔
صفحہ نمبر1356
اسی طرح آپ نے حدیبیہ والے دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے گھروں پر دھاوا بول دیں؟ تو صدیق نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہمارا ارادہ صرف عمرے کا ہے چنانچہ اسے بھی آپ نے منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے آپ کی بیوی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تو آپ نے فرمایا اے مسلمانوں مجھے مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے گھر والوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میرے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں واللہ! میرے نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے [صحیح بخاری:4757]
اور آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جدائی کے لیے سیدنا علی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کرتے تھے،
اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ کرنے کا حکم ہے۔ [مستدرک حاکم:70/3:صحیح]
[ حاکم ] یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں [ضعیف]
[ کلبی ] مسند احمد میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہو جائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا، [مسند احمد:227/4:ضعیف جداً] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا [الدار المنشور للسیوطی:160/2] [ ابن مردویہ ]
ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہو، ابوداؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے
صفحہ نمبر1357
امام ترمذی رضی اللہ عنہ اسے حسن کہتے ہیں، [سنن ابوداود:5128،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہیئے بھلی بات کا مشورہ دے [سنن ابن ماجہ:3747،قال الشيخ الألباني:ضعیف] [ ابن ماجہ ]
پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گزرا ہے کہ آیت «وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» [3-آل عمران:126] یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہیئے۔
پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں نے کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری [ ترمذی ] [سنن ابوداود:3971،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت «وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ» [3-آل عمران:161] اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو،
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کر سکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپا لے اور امت تک نہ پہنچائے۔
صفحہ نمبر1358
یغل کے معنی اور خائن ٭٭
«یغل» کو“یُ“ کے پیش سے بھی پڑھا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ نبی کی ذات ایسی نہیں کہ ان کے پاس والے ان کی خیانت کریں، چنانچہ سیدنا قتادہ اور سیدنا ربیع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن آپ کے اصحاب نے مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لیے لیا تھا اس پر یہ آیت اتری [ ابن جریر ]
صفحہ نمبر1359
پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بابت بہت کچھ سخت وعید ہے چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ شخص ہے جو پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین دبا لے اگر ایک ہاتھ زمین بھی ناحق اپنی طرف کر لے گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا [مسند احمد:341/5:حسن بالشواھد]
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کر سکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہو گا، [مسند احمد:229/4:ضعیف] یہ حدیث ابوداؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے، [سنن ابوداود:2945،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تیرے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہو گا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کہوں گا میں تیرے لیے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کر چکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لیے ہوئے حاضر ہو گا اور کہہ رہا ہو یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتا چکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8157:صحیح]
صفحہ نمبر1360
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے * ابن اللتبیه * کہتے تھے یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے آئے تو کہنے لگے یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ہم انہیں کسی کام پر بھیجتے ہیں تو آ کر کہتے ہیں یہ تمہارا اور یہ ہمارے لیے تحفے ہے یہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے پھر دیکھتے کہ انہیں تحفہ دیا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی لے لے گا وہ قیامت کے دن اسے گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اونٹ ہے تو چلا رہا ہو گا۔ گائے ہے تو بول رہی ہو گی بکری ہے تو چیخ رہی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ اس قدر بلند کئے کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ [صحیح بخاری:2597] مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے ایسے تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے ملیں وہ خیانت ہیں [مسند احمد:424/5:صحیح بالشواھد]
یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے
صفحہ نمبر1361
ترمذی میں ہے سیدنا معاذ بن جبل میں رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے مجھے بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے تمہیں صرف ایک بات کہنے کے لیے بلوایا ہے کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ لو گے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے کام میں لگو، [سنن ترمذي:1335،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کر دینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہو چکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، [صحیح بخاری:3073]
مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہو گا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری سیدنا سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو! ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہیئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابوداؤد میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:1833]
صفحہ نمبر1362
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً نماز عصر کے بعد بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے تھے اور تقریباً مغرب تک وہیں مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے وقت وہاں سے واپس چلے وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے تھے بقیع میں آ کر فرمانے لگے تف ہے تجھے تف ہے تجھے میں سمجھا آپ مجھے فرما رہے ہیں چنانچہ میں اپنے کپڑے ٹھیک ٹھاک کرنے لگا اور پیچھے رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے اسے میں نے قبیلے کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک چادر لے لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔ [ مسند احمد ] [مسند احمد:392/6:صحیح]
صفحہ نمبر1363
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال لیتے پھر فرماتے میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا، خیانت سے بچو خیانت کرنے والے کی رسوائی قیامت کے دن ہو گی سوئی دھاگے تک پہنچا دو اور اس سے حقیر چیز بھی
اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے [ مسند احمد ] اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، [مسند احمد:330/5:صحیح]
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابومسعود! جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں [ ابوداؤد ] [سنن ابوداود:2947،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1364
ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا رہے لیکن تہہ کو نہیں پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر خیانت والے سے کہا جائے گا جا اسے لے آ، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے آیت «وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» [3-آل عمران:161]
مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آنے لگے اور کہنے لگے فلاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کر لی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کر دو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چنانچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کر دی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحیح مسلم:114]
صفحہ نمبر1365
ابن جریر میں ہے کہ ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے صدقات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا؟ کہ آپ نے صدقات میں خیانت کرنے والے کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے لے وہ قیامت والے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، [سنن ابن ماجہ:1810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد رضی اللہ عنہ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8162:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ مسلمہ بن عبدالملک رحمہ اللہ کے ساتھ روم کی جنگ میں سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردارِ لشکر نے سیدنا سالم رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو، چنانچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا سیدنا سالم رضی اللہ عنہ سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے، [مسند احمد:22/1:ضعیف]
امام علی بن مدینی اور امام بخاری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا سالم رحمہ اللہ کا اپنا فتویٰ ہے، سیدنا امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر1366
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کا اسباب جلا دیا جائے اور اسے مملوک کی حد سے کم مارا جائے اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابوحنیفہ،مالک، شافعی رحمہ اللہ علیہم اور جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے یہ کہتے ہیں اس کا اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کے مثل اسے تعزیر یعنی سزا دی جائے،
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کر دیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم
مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریف کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں؟ [مسند احمد:414/1:صحیح موقوف] امام وکیع رحمہ اللہ بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں،
ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے اور وہ لوگوں میں منادی کرتے کہ جس جس کے پاس جو جو ہو لے آئے پھر آپ اس میں سے پانچواں حصہ نکال لیتے اور باقی کو تقسیم کر دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی منادی سنی تھی؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔ [سنن ابوداود:2712،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1367
اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شرع پر چل کر، اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے مستحق ہونے والے،اس کے ثوابوں کو حاصل کرنے والے اس کے عذابوں سے بچنے والے اور وہ لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے والا اور اس سے اندھا رہنے والا برابر نہیں،
اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہو چکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:646/2]
وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں، جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت «وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا» [6-الأنعام:32] ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہو گی۔
صفحہ نمبر1368
پھر فرماتا ہے کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ انہی کی جنس سے ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے بات چیت کر سکیں، پوچھ گچھ کر سکیں، ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کر سکیں، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً» [30-الروم:21] ، یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے اس نے پیدا کئے اور جگہ ہے آیت «قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ» [18-الكهف:110] ، کہ دے کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] یعنی تم سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔
اور جگہ ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے «يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا» [6-الأنعام:130] یعنی اے جنو اور انسانو! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں۔
صفحہ نمبر1369
پس اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں پڑھاتا ہے اور اچھی باتوں کا حکم دے کر اور برائیوں سے روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے اور شرک و جاہلیت کی ناپاکی کے اثرات سے زائل کرتا ہے اور انہیں کتاب اور سنت سکھاتا ہے۔ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے تو یہ صاف بھٹکے ہوئے تھے ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے۔
صفحہ نمبر1370
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کر دیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ما» صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ» [5-المائدة:13] ، میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے «عَمَّا قَلِيلٍ» [23-المؤمنون:40] میں اسی طرح یہاں ہے،
یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لیے نرم دل ہوا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے۔
صفحہ نمبر1354
یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:129] ، یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے حریص ہیں جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے والے ہیں،
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابوامامہ! بعض مومن وہ ہیں جن کے لیے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، [مسند احمد:217/5:حسن] «فَظًّا» سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد «غَلِيظَ الْقَلْبِ» کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہو جاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنا دیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لیے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام، سخت دل، بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ در گزر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں، [صحیح بخاری:4838]
ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا۔ [ابن عدی فی الکامل:15/2:ضعیف]
صفحہ نمبر1355
چنانچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے تو ان سے درگزر کر، ان کے لیے استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے لیا کر، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ ان سے لیا کرتے تھے،، جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ لیا اور جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اگر آپ سمندر کے کنارے پر کھڑا کر کے ہمیں فرمائیں گے کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے اور اگر ہمیں برک الغماد تک لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم وہ نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے صحابیوں کی طرح کہدیں کہ تو اور تیرا رب لڑ لے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں صفیں باندھ کر، جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، [صحیح بخاری:3952]
اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو؟ اور منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا رضی اللہ عنہ باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہیئے چنانچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کر لی جائے؟ تو سیدنا سعد بن عبادہ اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کر لیا اور مصالحت چھوڑ دی۔
صفحہ نمبر1356
اسی طرح آپ نے حدیبیہ والے دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے گھروں پر دھاوا بول دیں؟ تو صدیق نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہمارا ارادہ صرف عمرے کا ہے چنانچہ اسے بھی آپ نے منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے آپ کی بیوی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تو آپ نے فرمایا اے مسلمانوں مجھے مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے گھر والوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میرے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں واللہ! میرے نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے [صحیح بخاری:4757]
اور آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جدائی کے لیے سیدنا علی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کرتے تھے،
اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ کرنے کا حکم ہے۔ [مستدرک حاکم:70/3:صحیح]
[ حاکم ] یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں [ضعیف]
[ کلبی ] مسند احمد میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہو جائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا، [مسند احمد:227/4:ضعیف جداً] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا [الدار المنشور للسیوطی:160/2] [ ابن مردویہ ]
ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہو، ابوداؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے
صفحہ نمبر1357
امام ترمذی رضی اللہ عنہ اسے حسن کہتے ہیں، [سنن ابوداود:5128،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہیئے بھلی بات کا مشورہ دے [سنن ابن ماجہ:3747،قال الشيخ الألباني:ضعیف] [ ابن ماجہ ]
پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گزرا ہے کہ آیت «وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» [3-آل عمران:126] یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہیئے۔
پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں نے کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری [ ترمذی ] [سنن ابوداود:3971،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت «وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ» [3-آل عمران:161] اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو،
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کر سکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپا لے اور امت تک نہ پہنچائے۔
صفحہ نمبر1358
یغل کے معنی اور خائن ٭٭
«یغل» کو“یُ“ کے پیش سے بھی پڑھا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ نبی کی ذات ایسی نہیں کہ ان کے پاس والے ان کی خیانت کریں، چنانچہ سیدنا قتادہ اور سیدنا ربیع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن آپ کے اصحاب نے مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لیے لیا تھا اس پر یہ آیت اتری [ ابن جریر ]
صفحہ نمبر1359
پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بابت بہت کچھ سخت وعید ہے چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ شخص ہے جو پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین دبا لے اگر ایک ہاتھ زمین بھی ناحق اپنی طرف کر لے گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا [مسند احمد:341/5:حسن بالشواھد]
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کر سکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہو گا، [مسند احمد:229/4:ضعیف] یہ حدیث ابوداؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے، [سنن ابوداود:2945،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تیرے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہو گا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کہوں گا میں تیرے لیے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کر چکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لیے ہوئے حاضر ہو گا اور کہہ رہا ہو یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتا چکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8157:صحیح]
صفحہ نمبر1360
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے * ابن اللتبیه * کہتے تھے یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے آئے تو کہنے لگے یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ہم انہیں کسی کام پر بھیجتے ہیں تو آ کر کہتے ہیں یہ تمہارا اور یہ ہمارے لیے تحفے ہے یہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے پھر دیکھتے کہ انہیں تحفہ دیا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی لے لے گا وہ قیامت کے دن اسے گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اونٹ ہے تو چلا رہا ہو گا۔ گائے ہے تو بول رہی ہو گی بکری ہے تو چیخ رہی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ اس قدر بلند کئے کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ [صحیح بخاری:2597] مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے ایسے تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے ملیں وہ خیانت ہیں [مسند احمد:424/5:صحیح بالشواھد]
یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے
صفحہ نمبر1361
ترمذی میں ہے سیدنا معاذ بن جبل میں رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے مجھے بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے تمہیں صرف ایک بات کہنے کے لیے بلوایا ہے کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ لو گے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے کام میں لگو، [سنن ترمذي:1335،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کر دینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہو چکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، [صحیح بخاری:3073]
مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہو گا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری سیدنا سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو! ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہیئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابوداؤد میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:1833]
صفحہ نمبر1362
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً نماز عصر کے بعد بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے تھے اور تقریباً مغرب تک وہیں مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے وقت وہاں سے واپس چلے وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے تھے بقیع میں آ کر فرمانے لگے تف ہے تجھے تف ہے تجھے میں سمجھا آپ مجھے فرما رہے ہیں چنانچہ میں اپنے کپڑے ٹھیک ٹھاک کرنے لگا اور پیچھے رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے اسے میں نے قبیلے کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک چادر لے لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔ [ مسند احمد ] [مسند احمد:392/6:صحیح]
صفحہ نمبر1363
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال لیتے پھر فرماتے میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا، خیانت سے بچو خیانت کرنے والے کی رسوائی قیامت کے دن ہو گی سوئی دھاگے تک پہنچا دو اور اس سے حقیر چیز بھی
اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے [ مسند احمد ] اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، [مسند احمد:330/5:صحیح]
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابومسعود! جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں [ ابوداؤد ] [سنن ابوداود:2947،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1364
ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا رہے لیکن تہہ کو نہیں پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر خیانت والے سے کہا جائے گا جا اسے لے آ، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے آیت «وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» [3-آل عمران:161]
مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آنے لگے اور کہنے لگے فلاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کر لی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کر دو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چنانچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کر دی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحیح مسلم:114]
صفحہ نمبر1365
ابن جریر میں ہے کہ ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے صدقات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا؟ کہ آپ نے صدقات میں خیانت کرنے والے کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے لے وہ قیامت والے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، [سنن ابن ماجہ:1810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد رضی اللہ عنہ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8162:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ مسلمہ بن عبدالملک رحمہ اللہ کے ساتھ روم کی جنگ میں سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردارِ لشکر نے سیدنا سالم رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو، چنانچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا سیدنا سالم رضی اللہ عنہ سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے، [مسند احمد:22/1:ضعیف]
امام علی بن مدینی اور امام بخاری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا سالم رحمہ اللہ کا اپنا فتویٰ ہے، سیدنا امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر1366
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کا اسباب جلا دیا جائے اور اسے مملوک کی حد سے کم مارا جائے اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابوحنیفہ،مالک، شافعی رحمہ اللہ علیہم اور جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے یہ کہتے ہیں اس کا اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کے مثل اسے تعزیر یعنی سزا دی جائے،
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کر دیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم
مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریف کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں؟ [مسند احمد:414/1:صحیح موقوف] امام وکیع رحمہ اللہ بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں،
ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے اور وہ لوگوں میں منادی کرتے کہ جس جس کے پاس جو جو ہو لے آئے پھر آپ اس میں سے پانچواں حصہ نکال لیتے اور باقی کو تقسیم کر دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی منادی سنی تھی؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔ [سنن ابوداود:2712،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1367
اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شرع پر چل کر، اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے مستحق ہونے والے،اس کے ثوابوں کو حاصل کرنے والے اس کے عذابوں سے بچنے والے اور وہ لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے والا اور اس سے اندھا رہنے والا برابر نہیں،
اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہو چکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:646/2]
وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں، جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت «وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا» [6-الأنعام:32] ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہو گی۔
صفحہ نمبر1368
پھر فرماتا ہے کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ انہی کی جنس سے ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے بات چیت کر سکیں، پوچھ گچھ کر سکیں، ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کر سکیں، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً» [30-الروم:21] ، یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے اس نے پیدا کئے اور جگہ ہے آیت «قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ» [18-الكهف:110] ، کہ دے کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] یعنی تم سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔
اور جگہ ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے «يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا» [6-الأنعام:130] یعنی اے جنو اور انسانو! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں۔
صفحہ نمبر1369
پس اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں پڑھاتا ہے اور اچھی باتوں کا حکم دے کر اور برائیوں سے روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے اور شرک و جاہلیت کی ناپاکی کے اثرات سے زائل کرتا ہے اور انہیں کتاب اور سنت سکھاتا ہے۔ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے تو یہ صاف بھٹکے ہوئے تھے ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے۔
صفحہ نمبر1370
اسوہ حسنہ کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ نبی کے ماننے والوں اور ان کی نافرمانی سے بچنے والوں کے لیے اللہ نے نبی کے دل کو نرم کر دیا ہے اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «ما» صلہ ہے جو معرفہ کے ساتھ عرب ملا دیا کرتے ہیں جیسے آیت «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ» [5-المائدة:13] ، میں اور نکرہ کے ساتھ بھی ملا دیتے ہیں جیسے «عَمَّا قَلِيلٍ» [23-المؤمنون:40] میں اسی طرح یہاں ہے،
یعنی اللہ کی رحمت سے تو ان کے لیے نرم دل ہوا ہے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ہیں جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے۔
صفحہ نمبر1354
یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:129] ، یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے جو تمہاری بھلائی کے حریص ہیں جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے والے ہیں،
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے ابوامامہ! بعض مومن وہ ہیں جن کے لیے میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، [مسند احمد:217/5:حسن] «فَظًّا» سے مراد یہاں سخت کلام ہے۔ کیونکہ اس کے بعد «غَلِيظَ الْقَلْبِ» کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے کہ نبی اکرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہو جاتے اور تمہیں چھوڑ دیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ کے جاں نثار و شیدا بنا دیا ہے اور آپ کو بھی ان کے لیے محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تاکہ ان کے دل آپ سے لگے رہیں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام، سخت دل، بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ لینے والے نہیں بلکہ در گزر کرنے والے اور معافی دینے والے ہیں، [صحیح بخاری:4838]
ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے اللہ کی جانب سے اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے جس طرح فرائض کی پابندی کا۔ [ابن عدی فی الکامل:15/2:ضعیف]
صفحہ نمبر1355
چنانچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے تو ان سے درگزر کر، ان کے لیے استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے لیا کر، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے کاموں میں ان سے مشورہ ان سے لیا کرتے تھے،، جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ لیا اور جیسے کہ بدر والے دن قافلے کی طرف بڑھنے کے لیے مشورہ کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اگر آپ سمندر کے کنارے پر کھڑا کر کے ہمیں فرمائیں گے کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے اور اگر ہمیں برک الغماد تک لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم وہ نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے صحابیوں کی طرح کہدیں کہ تو اور تیرا رب لڑ لے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں صفیں باندھ کر، جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، [صحیح بخاری:3952]
اسی طرح آپ نے اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو؟ اور منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہو، اسی طرح احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا رضی اللہ عنہ باہر نکلیں اور جمہور کی رائے یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہیئے چنانچہ آپ نے یہی کیا اور آپ نے جنگ احزاب کے موقع پر بھی اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ کے پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے کا وعدہ کر کے مخالفین سے مصالحت کر لی جائے؟ تو سیدنا سعد بن عبادہ اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا اور آپ نے مجھے اس مشورے کو قبول کر لیا اور مصالحت چھوڑ دی۔
صفحہ نمبر1356
اسی طرح آپ نے حدیبیہ والے دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے گھروں پر دھاوا بول دیں؟ تو صدیق نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہمارا ارادہ صرف عمرے کا ہے چنانچہ اسے بھی آپ نے منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے آپ کی بیوی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تو آپ نے فرمایا اے مسلمانوں مجھے مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے گھر والوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میرے گھر والوں میں کوئی برائی نہیں اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں واللہ! میرے نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے [صحیح بخاری:4757]
اور آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جدائی کے لیے سیدنا علی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے مشورہ لیا، غرض لڑائی کے کاموں میں اور دیگر امور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کرتے تھے،
اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ مشورے کا حکم آپ کو بطور وجوب کے دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے دل خوش رہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ کرنے کا حکم ہے۔ [مستدرک حاکم:70/3:صحیح]
[ حاکم ] یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری اور آپ کے وزیر تھے اور مسلمانوں کے باپ ہیں [ضعیف]
[ کلبی ] مسند احمد میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے ہو جائے تو میں تمہارے خلاف کبھی نہ کروں گا، [مسند احمد:227/4:ضعیف جداً] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عزم کے کیا معنی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عقلمند لوگوں سے مشورہ کیا جائے پھر ان کی مان لینا [الدار المنشور للسیوطی:160/2] [ ابن مردویہ ]
ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہو، ابوداؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے
صفحہ نمبر1357
امام ترمذی رضی اللہ عنہ اسے حسن کہتے ہیں، [سنن ابوداود:5128،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اسے چاہیئے بھلی بات کا مشورہ دے [سنن ابن ماجہ:3747،قال الشيخ الألباني:ضعیف] [ ابن ماجہ ]
پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے کرنے کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے جو پہلے گزرا ہے کہ آیت «وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» [3-آل عمران:126] یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب ہے اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہیئے۔
پھر فرماتا ہے نبی کو لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بدر کے دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں ملتی تھی تو لوگوں نے کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی ہو اس پر یہ آیت اتری [ ترمذی ] [سنن ابوداود:3971،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت میں ہے کہ منافقوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت «وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ» [3-آل عمران:161] اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے رسول رسولوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر قسم کی خیانت سے بیجا طرف داری سے مبرا اور منزہ ہیں خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو،
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی جانب داری نہیں کر سکتا کہ بعض لشکریوں کو دے اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپا لے اور امت تک نہ پہنچائے۔
صفحہ نمبر1358
یغل کے معنی اور خائن ٭٭
«یغل» کو“یُ“ کے پیش سے بھی پڑھا گیا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ نبی کی ذات ایسی نہیں کہ ان کے پاس والے ان کی خیانت کریں، چنانچہ سیدنا قتادہ اور سیدنا ربیع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن آپ کے اصحاب نے مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لیے لیا تھا اس پر یہ آیت اتری [ ابن جریر ]
صفحہ نمبر1359
پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بابت بہت کچھ سخت وعید ہے چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہ شخص ہے جو پڑوسی کے کھیت کی زمین یا اس کے گھر کی زمین دبا لے اگر ایک ہاتھ زمین بھی ناحق اپنی طرف کر لے گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے پہنایا جائے گا [مسند احمد:341/5:حسن بالشواھد]
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے جسے ہم حاکم بنائے اگر اس کا گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کر سکتا ہے، اس کے سوا اگر کچھ اور لے گا تو خائن ہو گا، [مسند احمد:229/4:ضعیف] یہ حدیث ابوداؤد میں بھی دیگر الفاظ سے منقول ہے، [سنن ابوداود:2945،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر کی حدیث میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تم میں سے اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اور میرا نام لے لے کر مجھے پکارے گا میں کہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس تیرے کام نہیں آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا جو بول رہا ہو گا یہ بھی کہے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کہوں گا میں تیرے لیے اللہ کے پاس کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تو تبلیغ کر چکا تھا اور میں اسے بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے کو لادے ہوئے آئے گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے پکارے گا اور میں کہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لیے ہوئے حاضر ہو گا اور کہہ رہا ہو یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہوں گا میں اللہ کے پاس کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا میں تجھے حق و باطل بتا چکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8157:صحیح]
صفحہ نمبر1360
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے * ابن اللتبیه * کہتے تھے یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے آئے تو کہنے لگے یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ میں ملا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ہم انہیں کسی کام پر بھیجتے ہیں تو آ کر کہتے ہیں یہ تمہارا اور یہ ہمارے لیے تحفے ہے یہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے پھر دیکھتے کہ انہیں تحفہ دیا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے جو کوئی اس میں سے کوئی چیز بھی لے لے گا وہ قیامت کے دن اسے گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اونٹ ہے تو چلا رہا ہو گا۔ گائے ہے تو بول رہی ہو گی بکری ہے تو چیخ رہی ہو گی پھر آپ نے ہاتھ اس قدر بلند کئے کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ [صحیح بخاری:2597] مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے ایسے تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے ملیں وہ خیانت ہیں [مسند احمد:424/5:صحیح بالشواھد]
یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اگلی مطول روایت کا ماحاصل ہے
صفحہ نمبر1361
ترمذی میں ہے سیدنا معاذ بن جبل میں رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے مجھے بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے تمہیں صرف ایک بات کہنے کے لیے بلوایا ہے کہ میری اجازت کے بغیر تم جو کچھ لو گے وہ خیانت ہے اور ہر خائن اپنی خیانت کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے کام میں لگو، [سنن ترمذي:1335،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز کھڑے ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے بڑے بڑے گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لیے ہوئے قیامت کے دن آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد رسی کی عرض کرنے اور آپ کے انکار کر دینے کا ذکر کیا جو پہلے بیان ہو چکا ہے اس میں سونے چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، [صحیح بخاری:3073]
مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگ جسے ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی ہلکی چیز چھپائے تو وہ خیانت ہے جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہو گا، یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری سیدنا سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو عامل بننے سے دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں؟ کہا آپ نے جو اس طرح فرمایا، آپ نے فرمایا ہاں اب بھی سنو! ہم کوئی کام سونپیں اسے چاہیئے کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روک دیا جائے رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابوداؤد میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:1833]
صفحہ نمبر1362
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً نماز عصر کے بعد بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے تھے اور تقریباً مغرب تک وہیں مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے وقت وہاں سے واپس چلے وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے تھے بقیع میں آ کر فرمانے لگے تف ہے تجھے تف ہے تجھے میں سمجھا آپ مجھے فرما رہے ہیں چنانچہ میں اپنے کپڑے ٹھیک ٹھاک کرنے لگا اور پیچھے رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے اسے میں نے قبیلے کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے ایک چادر لے لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔ [ مسند احمد ] [مسند احمد:392/6:صحیح]
صفحہ نمبر1363
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کے اونٹ کی پیٹھ کے چند بال لیتے پھر فرماتے میرا بھی اس میں وہی حق ہے جو تم میں سے کسی ایک کا، خیانت سے بچو خیانت کرنے والے کی رسوائی قیامت کے دن ہو گی سوئی دھاگے تک پہنچا دو اور اس سے حقیر چیز بھی
اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مشکلات سے اور رنج و غم سے نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے کی ملامت تمہیں نہ روکے [ مسند احمد ] اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، [مسند احمد:330/5:صحیح]
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے ابومسعود! جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے تم نے خیانت سے لے لیا ہو، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو میں نہیں جاتا آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں زبردستی بھیجتا بھی نہیں [ ابوداؤد ] [سنن ابوداود:2947،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1364
ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے تو ستر سال تک چلتا رہے لیکن تہہ کو نہیں پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر خیانت والے سے کہا جائے گا جا اسے لے آ، یہی معنی ہیں اللہ کے اس فرمان کے آیت «وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» [3-آل عمران:161]
مسند احمد میں ہے کہ خیبر کی جنگ والے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آنے لگے اور کہنے لگے فلاں شہید ہے فلاں شہید ہے جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے غنیمت کے مال کی ایک چادر خیانت کر لی تھی پھر آپ نے فرمایا اے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کر دو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے چنانچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کر دی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ [صحیح مسلم:114]
صفحہ نمبر1365
ابن جریر میں ہے کہ ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے صدقات کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا؟ کہ آپ نے صدقات میں خیانت کرنے والے کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے لے وہ قیامت والے دن اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، [سنن ابن ماجہ:1810،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں صدقات وصول کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجنا چاہا اور فرمایا اے سعد رضی اللہ عنہ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تو بلبلاتے اونٹ کو اٹھا کر لائے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے کا احتمال رہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کام سے انہیں معاف رکھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8162:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ مسلمہ بن عبدالملک رحمہ اللہ کے ساتھ روم کی جنگ میں سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بھی تھے ایک شخص کے اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردارِ لشکر نے سیدنا سالم رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا مجھ سے میرے باپ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کی باپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے جلا دو، راوی کہتا ہے میرا خیال ہے یہ بھی فرمایا اور اسے سزا دو، چنانچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا سیدنا سالم رضی اللہ عنہ سے پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے، [مسند احمد:22/1:ضعیف]
امام علی بن مدینی اور امام بخاری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا سالم رحمہ اللہ کا اپنا فتویٰ ہے، سیدنا امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہیں۔
صفحہ نمبر1366
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کا اسباب جلا دیا جائے اور اسے مملوک کی حد سے کم مارا جائے اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابوحنیفہ،مالک، شافعی رحمہ اللہ علیہم اور جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے یہ کہتے ہیں اس کا اسباب نہ جلایا جائے بلکہ اس کے مثل اسے تعزیر یعنی سزا دی جائے،
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خائن کے جنازے کی نماز سے انکار کر دیا اور اس کا اسباب نہیں جلایا، واللہ اعلم
مسند احمد میں ہے کہ قرآن شریف کے جب تغیر کا حکم کیا گیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے تم میں سے جس سے ہو سکے وہ اسے چھپا کر رکھ لے کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے گا اسی کو لے کر قیامت کے روز آئے گا، پھر فرمانے لگے میں نے ستر دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی پڑھا ہے پس کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں؟ [مسند احمد:414/1:صحیح موقوف] امام وکیع رحمہ اللہ بھی اپنی تفسیر میں اسے لائے ہیں،
ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے اور وہ لوگوں میں منادی کرتے کہ جس جس کے پاس جو جو ہو لے آئے پھر آپ اس میں سے پانچواں حصہ نکال لیتے اور باقی کو تقسیم کر دیتے۔ ایک مرتبہ ایک شخص اس کے بعد بالوں کا ایک گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی منادی سنی تھی؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا؟ اس نے عذر بیان کیا آپ نے فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے لے کر قیامت کے دن آنا۔ [سنن ابوداود:2712،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1367
اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شرع پر چل کر، اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے مستحق ہونے والے،اس کے ثوابوں کو حاصل کرنے والے اس کے عذابوں سے بچنے والے اور وہ لوگ جو اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے والا اور اس سے اندھا رہنے والا برابر نہیں،
اسی طرح فرمان ہے کہ جن سے اللہ کا اچھا وعدہ ہو چکا ہے اور جو اسے پانے والا ہے وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے والا برابر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی والے مختلف درجوں پر ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:646/2]
وہ جنت کے درجوں میں ہیں اور یہ جہنم کے طبقوں میں، جیسا کہ دوسری جگہ ہے آیت «وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا» [6-الأنعام:32] ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ پھر فرمایا اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے گا نہ نیکی ماری جائے گی اور نہ بدی بڑھائی جائے گی بلکہ عمل کے مطابق ہی جزا سزا ہو گی۔
صفحہ نمبر1368
پھر فرماتا ہے کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ انہی کی جنس سے ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے بات چیت کر سکیں، پوچھ گچھ کر سکیں، ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کر سکیں، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً» [30-الروم:21] ، یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے اس نے پیدا کئے اور جگہ ہے آیت «قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ» [18-الكهف:110] ، کہ دے کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ» [25-الفرقان:20] یعنی تم سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔
اور جگہ ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے رہنے والے تھے اور ارشاد ہے «يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا» [6-الأنعام:130] یعنی اے جنو اور انسانو! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول نہیں آئے تھے؟ الغرض یہ پورا احسان ہے کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے رسول بھیجے گئے تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے پوری طرح دین سیکھ لیں۔
صفحہ نمبر1369
پس اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں پڑھاتا ہے اور اچھی باتوں کا حکم دے کر اور برائیوں سے روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے اور شرک و جاہلیت کی ناپاکی کے اثرات سے زائل کرتا ہے اور انہیں کتاب اور سنت سکھاتا ہے۔ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے تو یہ صاف بھٹکے ہوئے تھے ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے۔
صفحہ نمبر1370
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے ٭٭
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے اور اس سے دوگنی مصیبت مسلمانوں نے کافروں کو پہنچائی تھے بدر والے ستر کافر قتل کیے گئے تھے اور ستر قید کیے گئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیبت کیسے آ گئی؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے فدیہ لے کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے سال ان میں سے ستر مسلمان شہید کئے گئے اور صحابہ میں افراتفری پڑ گئی، حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہو گیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے۔ [مسند احمد: 1 /31-30] [ ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل ]
صفحہ نمبر1376
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبرائیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی قوم کا کفار کو قیدی بنا کر پکڑ لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا اب انہیں دو باتوں میں سے ایک کے اختیار کر لینے کا حکم دیجئیے یا تو یہ کہ ان قیدیوں کو مار ڈالیں یا یہ کہ ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دیں مگر پھر ان مسلمانوں سے اتنی ہی تعداد شہید ہو گی حضور علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کر کے دونوں باتیں پیش کیں تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ ہمارے قبائل کے ہیں ہمارے رشتے دار بھائی ہیں ہم کیوں نہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیں اور اس مال سے ہم طاقت، قوت حاصل کر کے اپنے دوسرے دشمنوں سے جنگ کریں گے اور پھر جو ہم میں سے اتنے ہی آدمی شہید ہوں گے تو اس میں ہماری کیا برائی ہے؟ چنانچہ جرمانہ وصول کر کے ستر قیدیوں کو چھوڑ دیا اور ٹھیک ستر ہی کی تعداد مسلمانوں کی اس کے بعد غزوہ احد میں شہید ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8190:صحیح] [ ترمذی نسائی ]
صفحہ نمبر1377
پس ایک مطلب تو یہ ہوا کہ خود تمہاری طرف سے یہ سب ہوا یعنی تم نے بدر کے قیدیوں کو زندہ چھوڑنا اور ان سے جرمانہ جنگ وصول کرنا اس شرط پر منظور کیا تھا کہ تمہارے بھی اتنے ہی آدمی شہید ہوں وہ شہید ہوئے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی اس باعث تمہیں یہ نقصان پہنچا تیر اندازوں کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں لیکن وہ ہٹ گئے، اللہ تعالیٰ ہرچیز قادر ہے جو چاہے کرے، جو ارادہ ہو حکم دے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے۔
دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن جو نقصان تمہیں پہنچا کہ تم دشمنوں کے مقابلے سے بھاگ کھڑے ہوئے تم میں سے بعض لوگ شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی ہوئے یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے تھا اس کی حکمت اس کی مقتضی تھی، اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ثابت قدم غیر متزلزل ایمان والے صابر بندے بھی معلوم ہو جائیں اور منافقین کا حال بھی کھل جائے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی جو راستے میں ہی لوٹ گئے۔
صفحہ نمبر1378
ایک مسلمان نے انہیں سمجھایا بھی کہ آؤ، اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا کم از کم ان حملہ اوروں کو تو ہٹاؤ لیکن انہوں نے ٹال دیا کہ ہم تو فنونِ جنگ سے بے خبر ہیں اگر جانتے ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ، یہ بھی مدافعت میں تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ تو رہتے جس سے مسلمانوں کی گنتی زیادہ معلوم ہوتی، یا دعائیں کرتے رہتے یا تیاریاں ہی کرتے، ان کے جواب کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ تم سچ مچ دشمنوں سے لڑو گے تو تو ہم بھی تمہارا ساتھ دیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ لڑائی ہونے کی ہی نہیں
سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ ایک ہزار آدمی لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان احد کی جانب بڑھے آدھے راستے میں عبداللہ ابی بن سلول بگڑ بیٹھا اور کہنے لگا اوروں کی مان لی اور مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور میری نہ مانی اللہ کی قسم ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کس فائدے کو نظر انداز رکھ کر اپنی جانیں دیں؟ لوگو کیوں جانیں کھو رہے ہو جس قدر نفاق اور شک و شبہ والے لوگ تھے اس کی آواز پر لگ گئے اور تہائی لشکر لے کر یہ پلید واپس لوٹ گیا، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ بنو سلمہ کے بھائی ہر چند انہیں سمجھاتے رہے کہ اے میری قوم اپنے نبی کو، اپنی قوم کو رسوا نہ کروا انہیں دشمنوں کے سامنے چھوڑ کر پیٹھ نہ پھیرو لیکن انہوں نے بہانہ بنا دیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ لڑائی ہونے ہی کی نہیں جب یہ بیچارے عاجز آ گئے تو فرمانے لگے جاؤ تمہیں اللہ غارت کرے اللہ کے دشمنو! تمہاری کوئی حاجت نہیں اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مددگار ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8192]
صفحہ نمبر1379
جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے بہت ہی نزدیک تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے احوال مختلف ہیں کبھی وہ کفر سے قریب جاتا ہے اور کبھی ایمان کے نزدیک ہو جاتا ہے، پھر فرمایا یہ اپنے منہ سے وہ باتیں بناتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں، جیسے ان کا یہی کہنا کہ اگر ہم جنگ جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے، حالانکہ انہیں یقینًا معلوم تھا کہ مشرکین دور دراز سے چڑھائی کر کے مسلمانوں کو نیست و نابود کر دینے کی ٹھان کر آئے ہیں وہ بڑے جلے کٹے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے سردار بدر والے دن میدان میں رہ گئے تھے اور ان کے اشراف قتل کر دئیے گئے تھے تو اب وہ ان ضعیف مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ہیں اور یقیناً جنگ عظیم برپا ہونے والی ہے۔
صفحہ نمبر1380
پس جناب باری فرماتا ہے ان کے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کا مجھے بخوبی علم ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائیوں کے بارے میں کہتے ہیں اگر یہ ہمارا مشورہ مانتے یہیں بیٹھے رہتے اور جنگ میں شرکت نہ کرتے تو ہرگز نہ مارے جاتے، اس کے جواب میں جناب باری جل و علا کا ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ ٹھیک ہے اور تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ بیٹھ رہنے اور میدان جنگ میں نہ نکلنے سے انسان قتل و موت سے بچ جاتا ہے تو چاہیئے کہ تم مرو ہی نہیں اس لیے کہ تم گھروں میں بیٹھے ہو لیکن ظاہر ہے کہ ایک روز تم بھی چل بسو گے چاہے تم مضبوط برجوں میں پناہ گزین ہو جاؤ پس ہم تو تمہیں تب سچا مانیں کہ تم موت کو اپنی جانوں سے ٹال دو، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:383/7]
صفحہ نمبر1381
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے ٭٭
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے اور اس سے دوگنی مصیبت مسلمانوں نے کافروں کو پہنچائی تھے بدر والے ستر کافر قتل کیے گئے تھے اور ستر قید کیے گئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیبت کیسے آ گئی؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے فدیہ لے کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے سال ان میں سے ستر مسلمان شہید کئے گئے اور صحابہ میں افراتفری پڑ گئی، حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہو گیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے۔ [مسند احمد: 1 /31-30] [ ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل ]
صفحہ نمبر1376
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبرائیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی قوم کا کفار کو قیدی بنا کر پکڑ لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا اب انہیں دو باتوں میں سے ایک کے اختیار کر لینے کا حکم دیجئیے یا تو یہ کہ ان قیدیوں کو مار ڈالیں یا یہ کہ ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دیں مگر پھر ان مسلمانوں سے اتنی ہی تعداد شہید ہو گی حضور علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کر کے دونوں باتیں پیش کیں تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ ہمارے قبائل کے ہیں ہمارے رشتے دار بھائی ہیں ہم کیوں نہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیں اور اس مال سے ہم طاقت، قوت حاصل کر کے اپنے دوسرے دشمنوں سے جنگ کریں گے اور پھر جو ہم میں سے اتنے ہی آدمی شہید ہوں گے تو اس میں ہماری کیا برائی ہے؟ چنانچہ جرمانہ وصول کر کے ستر قیدیوں کو چھوڑ دیا اور ٹھیک ستر ہی کی تعداد مسلمانوں کی اس کے بعد غزوہ احد میں شہید ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8190:صحیح] [ ترمذی نسائی ]
صفحہ نمبر1377
پس ایک مطلب تو یہ ہوا کہ خود تمہاری طرف سے یہ سب ہوا یعنی تم نے بدر کے قیدیوں کو زندہ چھوڑنا اور ان سے جرمانہ جنگ وصول کرنا اس شرط پر منظور کیا تھا کہ تمہارے بھی اتنے ہی آدمی شہید ہوں وہ شہید ہوئے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی اس باعث تمہیں یہ نقصان پہنچا تیر اندازوں کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں لیکن وہ ہٹ گئے، اللہ تعالیٰ ہرچیز قادر ہے جو چاہے کرے، جو ارادہ ہو حکم دے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے۔
دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن جو نقصان تمہیں پہنچا کہ تم دشمنوں کے مقابلے سے بھاگ کھڑے ہوئے تم میں سے بعض لوگ شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی ہوئے یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے تھا اس کی حکمت اس کی مقتضی تھی، اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ثابت قدم غیر متزلزل ایمان والے صابر بندے بھی معلوم ہو جائیں اور منافقین کا حال بھی کھل جائے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی جو راستے میں ہی لوٹ گئے۔
صفحہ نمبر1378
ایک مسلمان نے انہیں سمجھایا بھی کہ آؤ، اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا کم از کم ان حملہ اوروں کو تو ہٹاؤ لیکن انہوں نے ٹال دیا کہ ہم تو فنونِ جنگ سے بے خبر ہیں اگر جانتے ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ، یہ بھی مدافعت میں تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ تو رہتے جس سے مسلمانوں کی گنتی زیادہ معلوم ہوتی، یا دعائیں کرتے رہتے یا تیاریاں ہی کرتے، ان کے جواب کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ تم سچ مچ دشمنوں سے لڑو گے تو تو ہم بھی تمہارا ساتھ دیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ لڑائی ہونے کی ہی نہیں
سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ ایک ہزار آدمی لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان احد کی جانب بڑھے آدھے راستے میں عبداللہ ابی بن سلول بگڑ بیٹھا اور کہنے لگا اوروں کی مان لی اور مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور میری نہ مانی اللہ کی قسم ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کس فائدے کو نظر انداز رکھ کر اپنی جانیں دیں؟ لوگو کیوں جانیں کھو رہے ہو جس قدر نفاق اور شک و شبہ والے لوگ تھے اس کی آواز پر لگ گئے اور تہائی لشکر لے کر یہ پلید واپس لوٹ گیا، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ بنو سلمہ کے بھائی ہر چند انہیں سمجھاتے رہے کہ اے میری قوم اپنے نبی کو، اپنی قوم کو رسوا نہ کروا انہیں دشمنوں کے سامنے چھوڑ کر پیٹھ نہ پھیرو لیکن انہوں نے بہانہ بنا دیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ لڑائی ہونے ہی کی نہیں جب یہ بیچارے عاجز آ گئے تو فرمانے لگے جاؤ تمہیں اللہ غارت کرے اللہ کے دشمنو! تمہاری کوئی حاجت نہیں اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مددگار ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8192]
صفحہ نمبر1379
جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے بہت ہی نزدیک تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے احوال مختلف ہیں کبھی وہ کفر سے قریب جاتا ہے اور کبھی ایمان کے نزدیک ہو جاتا ہے، پھر فرمایا یہ اپنے منہ سے وہ باتیں بناتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں، جیسے ان کا یہی کہنا کہ اگر ہم جنگ جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے، حالانکہ انہیں یقینًا معلوم تھا کہ مشرکین دور دراز سے چڑھائی کر کے مسلمانوں کو نیست و نابود کر دینے کی ٹھان کر آئے ہیں وہ بڑے جلے کٹے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے سردار بدر والے دن میدان میں رہ گئے تھے اور ان کے اشراف قتل کر دئیے گئے تھے تو اب وہ ان ضعیف مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ہیں اور یقیناً جنگ عظیم برپا ہونے والی ہے۔
صفحہ نمبر1380
پس جناب باری فرماتا ہے ان کے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کا مجھے بخوبی علم ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائیوں کے بارے میں کہتے ہیں اگر یہ ہمارا مشورہ مانتے یہیں بیٹھے رہتے اور جنگ میں شرکت نہ کرتے تو ہرگز نہ مارے جاتے، اس کے جواب میں جناب باری جل و علا کا ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ ٹھیک ہے اور تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ بیٹھ رہنے اور میدان جنگ میں نہ نکلنے سے انسان قتل و موت سے بچ جاتا ہے تو چاہیئے کہ تم مرو ہی نہیں اس لیے کہ تم گھروں میں بیٹھے ہو لیکن ظاہر ہے کہ ایک روز تم بھی چل بسو گے چاہے تم مضبوط برجوں میں پناہ گزین ہو جاؤ پس ہم تو تمہیں تب سچا مانیں کہ تم موت کو اپنی جانوں سے ٹال دو، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:383/7]
صفحہ نمبر1381
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے ٭٭
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے اور اس سے دوگنی مصیبت مسلمانوں نے کافروں کو پہنچائی تھے بدر والے ستر کافر قتل کیے گئے تھے اور ستر قید کیے گئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیبت کیسے آ گئی؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے فدیہ لے کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے سال ان میں سے ستر مسلمان شہید کئے گئے اور صحابہ میں افراتفری پڑ گئی، حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہو گیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے۔ [مسند احمد: 1 /31-30] [ ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل ]
صفحہ نمبر1376
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبرائیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی قوم کا کفار کو قیدی بنا کر پکڑ لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا اب انہیں دو باتوں میں سے ایک کے اختیار کر لینے کا حکم دیجئیے یا تو یہ کہ ان قیدیوں کو مار ڈالیں یا یہ کہ ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دیں مگر پھر ان مسلمانوں سے اتنی ہی تعداد شہید ہو گی حضور علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کر کے دونوں باتیں پیش کیں تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ ہمارے قبائل کے ہیں ہمارے رشتے دار بھائی ہیں ہم کیوں نہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیں اور اس مال سے ہم طاقت، قوت حاصل کر کے اپنے دوسرے دشمنوں سے جنگ کریں گے اور پھر جو ہم میں سے اتنے ہی آدمی شہید ہوں گے تو اس میں ہماری کیا برائی ہے؟ چنانچہ جرمانہ وصول کر کے ستر قیدیوں کو چھوڑ دیا اور ٹھیک ستر ہی کی تعداد مسلمانوں کی اس کے بعد غزوہ احد میں شہید ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8190:صحیح] [ ترمذی نسائی ]
صفحہ نمبر1377
پس ایک مطلب تو یہ ہوا کہ خود تمہاری طرف سے یہ سب ہوا یعنی تم نے بدر کے قیدیوں کو زندہ چھوڑنا اور ان سے جرمانہ جنگ وصول کرنا اس شرط پر منظور کیا تھا کہ تمہارے بھی اتنے ہی آدمی شہید ہوں وہ شہید ہوئے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی اس باعث تمہیں یہ نقصان پہنچا تیر اندازوں کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں لیکن وہ ہٹ گئے، اللہ تعالیٰ ہرچیز قادر ہے جو چاہے کرے، جو ارادہ ہو حکم دے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے۔
دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن جو نقصان تمہیں پہنچا کہ تم دشمنوں کے مقابلے سے بھاگ کھڑے ہوئے تم میں سے بعض لوگ شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی ہوئے یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے تھا اس کی حکمت اس کی مقتضی تھی، اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ثابت قدم غیر متزلزل ایمان والے صابر بندے بھی معلوم ہو جائیں اور منافقین کا حال بھی کھل جائے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی جو راستے میں ہی لوٹ گئے۔
صفحہ نمبر1378
ایک مسلمان نے انہیں سمجھایا بھی کہ آؤ، اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا کم از کم ان حملہ اوروں کو تو ہٹاؤ لیکن انہوں نے ٹال دیا کہ ہم تو فنونِ جنگ سے بے خبر ہیں اگر جانتے ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ، یہ بھی مدافعت میں تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ تو رہتے جس سے مسلمانوں کی گنتی زیادہ معلوم ہوتی، یا دعائیں کرتے رہتے یا تیاریاں ہی کرتے، ان کے جواب کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ تم سچ مچ دشمنوں سے لڑو گے تو تو ہم بھی تمہارا ساتھ دیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ لڑائی ہونے کی ہی نہیں
سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ ایک ہزار آدمی لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان احد کی جانب بڑھے آدھے راستے میں عبداللہ ابی بن سلول بگڑ بیٹھا اور کہنے لگا اوروں کی مان لی اور مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور میری نہ مانی اللہ کی قسم ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کس فائدے کو نظر انداز رکھ کر اپنی جانیں دیں؟ لوگو کیوں جانیں کھو رہے ہو جس قدر نفاق اور شک و شبہ والے لوگ تھے اس کی آواز پر لگ گئے اور تہائی لشکر لے کر یہ پلید واپس لوٹ گیا، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ بنو سلمہ کے بھائی ہر چند انہیں سمجھاتے رہے کہ اے میری قوم اپنے نبی کو، اپنی قوم کو رسوا نہ کروا انہیں دشمنوں کے سامنے چھوڑ کر پیٹھ نہ پھیرو لیکن انہوں نے بہانہ بنا دیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ لڑائی ہونے ہی کی نہیں جب یہ بیچارے عاجز آ گئے تو فرمانے لگے جاؤ تمہیں اللہ غارت کرے اللہ کے دشمنو! تمہاری کوئی حاجت نہیں اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مددگار ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8192]
صفحہ نمبر1379
جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے بہت ہی نزدیک تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے احوال مختلف ہیں کبھی وہ کفر سے قریب جاتا ہے اور کبھی ایمان کے نزدیک ہو جاتا ہے، پھر فرمایا یہ اپنے منہ سے وہ باتیں بناتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں، جیسے ان کا یہی کہنا کہ اگر ہم جنگ جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے، حالانکہ انہیں یقینًا معلوم تھا کہ مشرکین دور دراز سے چڑھائی کر کے مسلمانوں کو نیست و نابود کر دینے کی ٹھان کر آئے ہیں وہ بڑے جلے کٹے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے سردار بدر والے دن میدان میں رہ گئے تھے اور ان کے اشراف قتل کر دئیے گئے تھے تو اب وہ ان ضعیف مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ہیں اور یقیناً جنگ عظیم برپا ہونے والی ہے۔
صفحہ نمبر1380
پس جناب باری فرماتا ہے ان کے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کا مجھے بخوبی علم ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائیوں کے بارے میں کہتے ہیں اگر یہ ہمارا مشورہ مانتے یہیں بیٹھے رہتے اور جنگ میں شرکت نہ کرتے تو ہرگز نہ مارے جاتے، اس کے جواب میں جناب باری جل و علا کا ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ ٹھیک ہے اور تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ بیٹھ رہنے اور میدان جنگ میں نہ نکلنے سے انسان قتل و موت سے بچ جاتا ہے تو چاہیئے کہ تم مرو ہی نہیں اس لیے کہ تم گھروں میں بیٹھے ہو لیکن ظاہر ہے کہ ایک روز تم بھی چل بسو گے چاہے تم مضبوط برجوں میں پناہ گزین ہو جاؤ پس ہم تو تمہیں تب سچا مانیں کہ تم موت کو اپنی جانوں سے ٹال دو، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:383/7]
صفحہ نمبر1381
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے ٭٭
یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے اور اس سے دوگنی مصیبت مسلمانوں نے کافروں کو پہنچائی تھے بدر والے ستر کافر قتل کیے گئے تھے اور ستر قید کیے گئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیبت کیسے آ گئی؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے فدیہ لے کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے سال ان میں سے ستر مسلمان شہید کئے گئے اور صحابہ میں افراتفری پڑ گئی، حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہو گیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے۔ [مسند احمد: 1 /31-30] [ ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل ]
صفحہ نمبر1376
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبرائیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی قوم کا کفار کو قیدی بنا کر پکڑ لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا اب انہیں دو باتوں میں سے ایک کے اختیار کر لینے کا حکم دیجئیے یا تو یہ کہ ان قیدیوں کو مار ڈالیں یا یہ کہ ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دیں مگر پھر ان مسلمانوں سے اتنی ہی تعداد شہید ہو گی حضور علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کر کے دونوں باتیں پیش کیں تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ ہمارے قبائل کے ہیں ہمارے رشتے دار بھائی ہیں ہم کیوں نہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیں اور اس مال سے ہم طاقت، قوت حاصل کر کے اپنے دوسرے دشمنوں سے جنگ کریں گے اور پھر جو ہم میں سے اتنے ہی آدمی شہید ہوں گے تو اس میں ہماری کیا برائی ہے؟ چنانچہ جرمانہ وصول کر کے ستر قیدیوں کو چھوڑ دیا اور ٹھیک ستر ہی کی تعداد مسلمانوں کی اس کے بعد غزوہ احد میں شہید ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8190:صحیح] [ ترمذی نسائی ]
صفحہ نمبر1377
پس ایک مطلب تو یہ ہوا کہ خود تمہاری طرف سے یہ سب ہوا یعنی تم نے بدر کے قیدیوں کو زندہ چھوڑنا اور ان سے جرمانہ جنگ وصول کرنا اس شرط پر منظور کیا تھا کہ تمہارے بھی اتنے ہی آدمی شہید ہوں وہ شہید ہوئے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی اس باعث تمہیں یہ نقصان پہنچا تیر اندازوں کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں لیکن وہ ہٹ گئے، اللہ تعالیٰ ہرچیز قادر ہے جو چاہے کرے، جو ارادہ ہو حکم دے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے۔
دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن جو نقصان تمہیں پہنچا کہ تم دشمنوں کے مقابلے سے بھاگ کھڑے ہوئے تم میں سے بعض لوگ شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی ہوئے یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے تھا اس کی حکمت اس کی مقتضی تھی، اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ثابت قدم غیر متزلزل ایمان والے صابر بندے بھی معلوم ہو جائیں اور منافقین کا حال بھی کھل جائے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی جو راستے میں ہی لوٹ گئے۔
صفحہ نمبر1378
ایک مسلمان نے انہیں سمجھایا بھی کہ آؤ، اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا کم از کم ان حملہ اوروں کو تو ہٹاؤ لیکن انہوں نے ٹال دیا کہ ہم تو فنونِ جنگ سے بے خبر ہیں اگر جانتے ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ، یہ بھی مدافعت میں تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ تو رہتے جس سے مسلمانوں کی گنتی زیادہ معلوم ہوتی، یا دعائیں کرتے رہتے یا تیاریاں ہی کرتے، ان کے جواب کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ تم سچ مچ دشمنوں سے لڑو گے تو تو ہم بھی تمہارا ساتھ دیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ لڑائی ہونے کی ہی نہیں
سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ ایک ہزار آدمی لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان احد کی جانب بڑھے آدھے راستے میں عبداللہ ابی بن سلول بگڑ بیٹھا اور کہنے لگا اوروں کی مان لی اور مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور میری نہ مانی اللہ کی قسم ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کس فائدے کو نظر انداز رکھ کر اپنی جانیں دیں؟ لوگو کیوں جانیں کھو رہے ہو جس قدر نفاق اور شک و شبہ والے لوگ تھے اس کی آواز پر لگ گئے اور تہائی لشکر لے کر یہ پلید واپس لوٹ گیا، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ بنو سلمہ کے بھائی ہر چند انہیں سمجھاتے رہے کہ اے میری قوم اپنے نبی کو، اپنی قوم کو رسوا نہ کروا انہیں دشمنوں کے سامنے چھوڑ کر پیٹھ نہ پھیرو لیکن انہوں نے بہانہ بنا دیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ لڑائی ہونے ہی کی نہیں جب یہ بیچارے عاجز آ گئے تو فرمانے لگے جاؤ تمہیں اللہ غارت کرے اللہ کے دشمنو! تمہاری کوئی حاجت نہیں اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مددگار ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8192]
صفحہ نمبر1379
جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے بہت ہی نزدیک تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے احوال مختلف ہیں کبھی وہ کفر سے قریب جاتا ہے اور کبھی ایمان کے نزدیک ہو جاتا ہے، پھر فرمایا یہ اپنے منہ سے وہ باتیں بناتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں، جیسے ان کا یہی کہنا کہ اگر ہم جنگ جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے، حالانکہ انہیں یقینًا معلوم تھا کہ مشرکین دور دراز سے چڑھائی کر کے مسلمانوں کو نیست و نابود کر دینے کی ٹھان کر آئے ہیں وہ بڑے جلے کٹے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے سردار بدر والے دن میدان میں رہ گئے تھے اور ان کے اشراف قتل کر دئیے گئے تھے تو اب وہ ان ضعیف مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ہیں اور یقیناً جنگ عظیم برپا ہونے والی ہے۔
صفحہ نمبر1380
پس جناب باری فرماتا ہے ان کے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کا مجھے بخوبی علم ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائیوں کے بارے میں کہتے ہیں اگر یہ ہمارا مشورہ مانتے یہیں بیٹھے رہتے اور جنگ میں شرکت نہ کرتے تو ہرگز نہ مارے جاتے، اس کے جواب میں جناب باری جل و علا کا ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ ٹھیک ہے اور تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ بیٹھ رہنے اور میدان جنگ میں نہ نکلنے سے انسان قتل و موت سے بچ جاتا ہے تو چاہیئے کہ تم مرو ہی نہیں اس لیے کہ تم گھروں میں بیٹھے ہو لیکن ظاہر ہے کہ ایک روز تم بھی چل بسو گے چاہے تم مضبوط برجوں میں پناہ گزین ہو جاؤ پس ہم تو تمہیں تب سچا مانیں کہ تم موت کو اپنی جانوں سے ٹال دو، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:383/7]
صفحہ نمبر1381
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آ کر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا «فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ.» کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کر دیا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہو گیا اور ہم اس سے راضی ہو گئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:169] اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8224] [ محمد بن جریر ]
صفحہ نمبر1385
صحیح مسلم شریف میں ہے مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لیے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں؟ اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہو گیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو؟ [صحیح مسلم:1887]
صفحہ نمبر1386
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو لوگ مر جائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے [ مسند احمد ] صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:2817]
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، [مسند احمد:361/3:حسن بالشواھد]
ان کا نام عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو۔
صفحہ نمبر1387
صحیح بخاری شریف میں ہے جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور اپنے باپ کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم مجھے منع کرتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، [صحیح بخاری:4080]
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بے فکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چنانچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ [سنن ابوداود:2520،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1388
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں [ مستدرک حاکم ] یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:389/7] ابوبکر بن مردویہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہو گئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کر چکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:168] فرمائی، [سنن ترمذي:3010،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کر سکا۔مستدرک حاکم:203/3:ضعیف]
صفحہ نمبر1389
مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے سبز گنبد میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، [مسند احمد:266/1:حسن]
دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہو گا جس میں ہر مومن کے لیے یہی بشارت ہے چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، [سنن ابن ماجہ:4271،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں۔ امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد، امام شافعی، امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گزر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔
صفحہ نمبر1390
پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بے حد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہو گا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہو گی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے،
سیدنا محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے
صفحہ نمبر1391
بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہو چکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی رضی اللہ عنہم تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بے دردی سے کفار نے تہہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہو گئے، [صحیح بخاری:4090]
وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، سیدنا عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت «يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ» تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔
صفحہ نمبر1392
پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے، زخمی ہو گئے تھے ان کے بہادر شہید ہو چکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہو جاتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے کمربستہ ہو گئے، سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہو گئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا“بیئر ابی عینیہ“ تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [سنن نسائی:11083]
صفحہ نمبر1393
احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ندا دی کہ لوگو! دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لیے کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لیے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چنانچہ آپ نے اجازت دی۔
صفحہ نمبر1394
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں، نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بےشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آ جاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ [ سیرت ابن اسحاق ] [تفسیر ابن جریر الطبری:8233:ضعیف]
صفحہ نمبر1395
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عروہ رحمہ اللہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت «الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:172] ، آیت اتری ہے یعنی سیدنا زبیر اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہٰذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لیے مستعد ہو گئے جن میں ایک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، دوسرے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تھے [صحیح بخاری:4077]
یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لیے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہا کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے لڑکے عروہ سے کہی ہے۔
صفحہ نمبر1396
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجود یہ کہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہو گیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوسفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کر دیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہو گی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لیے لشکر تیار کر لیے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑ گئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر ابوبکر، عمر، عثمان، علی، زبیر، سعد، طلحہ، عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔
صفحہ نمبر1397
یہ مبارک لشکر ابوسفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:8238] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیرخواہ تھے اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابوسفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آ گئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں؟ واپس جا کر سب کو تہ تیغ کر دیں
صفحہ نمبر1398
یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابوسفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ رضی اللہ عنہم کے تم لوگوں کے تعاقب میں آ رہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہو گئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابوسفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہو گئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لیے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور اوالوالعزمی کا حال بیان نہیں کر سکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کر سکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابوسفیان نے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کر دینے کے لیے لشکر جمع کر لیے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چنانچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آ کر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان کے لیے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8243]
صفحہ نمبر1399
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لیے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت و بہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ تو توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» الخ،سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، [صحیح بخاری:4564]
تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ آخری کلمہ تھا جا خلیل علیہ السلام کی زبان سے آگ میں پڑتے وقت نکلا تھا۔ [صحیح بخاری:4561] سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا [ضعیف] اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی کی سرداری کے ماتحت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ [ضعیف]
صفحہ نمبر1400
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آ پڑے تو تم آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» آخر تک پڑھو۔ [الدار المسشور للسیوطی:181/2:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، [مسند احمد:25/6:ضعیف]
مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بے فکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلیٰ اللَّهِ تَوَّکَلَّنَا» پڑھو۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1401
ام المؤمنین سیدہ زینب اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کر دیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اپنے پاک کلام میں نازل فرمائی ہیں۔سیدہ زینب اسے مان گئیں اور پوچھا یہ بتاؤ تم نے صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کی سواری پر سوار ہوتے وقت کیا پڑھا تھا، صدیقہ نے فرمایا دعا «حسبی اللہ ونعم الوکیل» یہ سن کر ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا تم نے ایمان والوں کا کلمہ کہا تھا۔
چنانچہ اس آیت میں بھی رب رحیم کا ارشاد ہے کہ ان توکل کرنے والوں کی کفایت اللہ تعالیٰ نے کی اور ان کے ساتھ جو لوگ برائی کا ارادہ رکھتے تھے انہیں ذلت اور بربادی کے ساتھ پسپا کیا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنے شہروں کی طرف بغیر کسی نقصان اور برائی کے لوٹے دشمن اپنی مکاریوں میں ناکام رہا، ان سے اللہ خوش ہو گیا کیونکہ انہوں نے اس کی خوشی کا کام انجام دیا تھا اللہ تعالیٰ بڑے فضل و کرم والا ہے۔
صفحہ نمبر1402
ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ نعمت تو یہ تھی کہ وہ سلامت رہے اور فضل یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کے ایک قافلہ سے مال خرید لیا جس میں بہت ہی نفع ہوا اور اس کل نفع کو آپ نے اپنے ساتھیوں میں تقسیم فرما دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:318/3:ضعیف]
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوسفیان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اب وعدے کی جگہ بدر ہے آپ نے فرمایا ممکن ہے چنانچہ وہاں پہنچے تو یہ ڈرپوک آیا ہی نہیں وہاں بازار کا دن تھا مال خرید لیا جو نفع سے بکا اسی کا نام غزوہ بدر صغریٰ ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8238:مرسل ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ یہ شیطان تھا جو اپنے دوستوں کے ذریعہ تمہیں دھمکا رہا تھا اور گیدڑ بھبکیاں دے رہا تمہیں چاہیئے کہ ان سے نہ ڈرو صرف میرا ہی خوف دل میں رکھو کیونکہ ایمان داری کی یہی شرط ہے کہ جب کوئی ڈرائے دھمکائے اور دینی امور سے تمہیں باز رکھنا چاہیئے تو مسلمان اللہ پر بھروسہ کرے اس کی طرف سمٹ جائے اور یقین مانے کہ کافی اور ناصر وہی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:36] ، کیا اللہ جل شانہ اپنے بندوں کو کافی نہیں یہ لوگ تجھے اس کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں [ یہاں تک کہ فرمایا ] تو کہہ کہ «قُلْ حَسْبِيَ اللَّـهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ» مجھے اللہ کافی ہے توکل کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔
صفحہ نمبر1403
اور جگہ فرمایا «فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا» اولیاء شیطان سے لڑو۔ [4-النساء:76] شیطان کا مکر بڑا بودا ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے یہ شیطانی لشکر ہے یاد رکھو شیطانی لشکر ہی گھاٹے اور خسارے میں ہے۔
اور جگہ ارشاد ہے آیت «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ، اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ غلبہ یقیناً مجھے اور میرے رسولوں کو ہی ہو گا اللہ قوی اور عزیز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [22-الحج:40] جو اللہ کی مدد کرے گا اس کی امداد فرمائے گا، اللہ قوی اور عزیز ہے۔
اور فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ» [47-محمد:7] ، اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری بھی مدد کرے گا۔
اور آیت میں ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:52-51 ] ، بالیقین ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان داروں کی مدد دینا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے جس دن ظالموں کو عذر معذرت نفع نہ دے گی ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے۔
صفحہ نمبر1404
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آ کر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا «فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ.» کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کر دیا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہو گیا اور ہم اس سے راضی ہو گئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:169] اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8224] [ محمد بن جریر ]
صفحہ نمبر1385
صحیح مسلم شریف میں ہے مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لیے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں؟ اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہو گیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو؟ [صحیح مسلم:1887]
صفحہ نمبر1386
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو لوگ مر جائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے [ مسند احمد ] صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:2817]
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، [مسند احمد:361/3:حسن بالشواھد]
ان کا نام عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو۔
صفحہ نمبر1387
صحیح بخاری شریف میں ہے جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور اپنے باپ کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم مجھے منع کرتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، [صحیح بخاری:4080]
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بے فکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چنانچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ [سنن ابوداود:2520،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1388
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں [ مستدرک حاکم ] یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:389/7] ابوبکر بن مردویہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہو گئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کر چکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:168] فرمائی، [سنن ترمذي:3010،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کر سکا۔مستدرک حاکم:203/3:ضعیف]
صفحہ نمبر1389
مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے سبز گنبد میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، [مسند احمد:266/1:حسن]
دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہو گا جس میں ہر مومن کے لیے یہی بشارت ہے چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، [سنن ابن ماجہ:4271،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں۔ امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد، امام شافعی، امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گزر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔
صفحہ نمبر1390
پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بے حد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہو گا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہو گی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے،
سیدنا محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے
صفحہ نمبر1391
بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہو چکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی رضی اللہ عنہم تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بے دردی سے کفار نے تہہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہو گئے، [صحیح بخاری:4090]
وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، سیدنا عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت «يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ» تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔
صفحہ نمبر1392
پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے، زخمی ہو گئے تھے ان کے بہادر شہید ہو چکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہو جاتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے کمربستہ ہو گئے، سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہو گئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا“بیئر ابی عینیہ“ تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [سنن نسائی:11083]
صفحہ نمبر1393
احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ندا دی کہ لوگو! دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لیے کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لیے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چنانچہ آپ نے اجازت دی۔
صفحہ نمبر1394
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں، نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بےشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آ جاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ [ سیرت ابن اسحاق ] [تفسیر ابن جریر الطبری:8233:ضعیف]
صفحہ نمبر1395
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عروہ رحمہ اللہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت «الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:172] ، آیت اتری ہے یعنی سیدنا زبیر اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہٰذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لیے مستعد ہو گئے جن میں ایک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، دوسرے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تھے [صحیح بخاری:4077]
یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لیے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہا کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے لڑکے عروہ سے کہی ہے۔
صفحہ نمبر1396
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجود یہ کہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہو گیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوسفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کر دیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہو گی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لیے لشکر تیار کر لیے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑ گئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر ابوبکر، عمر، عثمان، علی، زبیر، سعد، طلحہ، عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔
صفحہ نمبر1397
یہ مبارک لشکر ابوسفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:8238] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیرخواہ تھے اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابوسفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آ گئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں؟ واپس جا کر سب کو تہ تیغ کر دیں
صفحہ نمبر1398
یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابوسفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ رضی اللہ عنہم کے تم لوگوں کے تعاقب میں آ رہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہو گئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابوسفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہو گئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لیے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور اوالوالعزمی کا حال بیان نہیں کر سکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کر سکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابوسفیان نے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کر دینے کے لیے لشکر جمع کر لیے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چنانچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آ کر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان کے لیے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8243]
صفحہ نمبر1399
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لیے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت و بہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ تو توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» الخ،سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، [صحیح بخاری:4564]
تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ آخری کلمہ تھا جا خلیل علیہ السلام کی زبان سے آگ میں پڑتے وقت نکلا تھا۔ [صحیح بخاری:4561] سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا [ضعیف] اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی کی سرداری کے ماتحت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ [ضعیف]
صفحہ نمبر1400
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آ پڑے تو تم آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» آخر تک پڑھو۔ [الدار المسشور للسیوطی:181/2:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، [مسند احمد:25/6:ضعیف]
مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بے فکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلیٰ اللَّهِ تَوَّکَلَّنَا» پڑھو۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1401
ام المؤمنین سیدہ زینب اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کر دیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اپنے پاک کلام میں نازل فرمائی ہیں۔سیدہ زینب اسے مان گئیں اور پوچھا یہ بتاؤ تم نے صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کی سواری پر سوار ہوتے وقت کیا پڑھا تھا، صدیقہ نے فرمایا دعا «حسبی اللہ ونعم الوکیل» یہ سن کر ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا تم نے ایمان والوں کا کلمہ کہا تھا۔
چنانچہ اس آیت میں بھی رب رحیم کا ارشاد ہے کہ ان توکل کرنے والوں کی کفایت اللہ تعالیٰ نے کی اور ان کے ساتھ جو لوگ برائی کا ارادہ رکھتے تھے انہیں ذلت اور بربادی کے ساتھ پسپا کیا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنے شہروں کی طرف بغیر کسی نقصان اور برائی کے لوٹے دشمن اپنی مکاریوں میں ناکام رہا، ان سے اللہ خوش ہو گیا کیونکہ انہوں نے اس کی خوشی کا کام انجام دیا تھا اللہ تعالیٰ بڑے فضل و کرم والا ہے۔
صفحہ نمبر1402
ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ نعمت تو یہ تھی کہ وہ سلامت رہے اور فضل یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کے ایک قافلہ سے مال خرید لیا جس میں بہت ہی نفع ہوا اور اس کل نفع کو آپ نے اپنے ساتھیوں میں تقسیم فرما دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:318/3:ضعیف]
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوسفیان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اب وعدے کی جگہ بدر ہے آپ نے فرمایا ممکن ہے چنانچہ وہاں پہنچے تو یہ ڈرپوک آیا ہی نہیں وہاں بازار کا دن تھا مال خرید لیا جو نفع سے بکا اسی کا نام غزوہ بدر صغریٰ ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8238:مرسل ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ یہ شیطان تھا جو اپنے دوستوں کے ذریعہ تمہیں دھمکا رہا تھا اور گیدڑ بھبکیاں دے رہا تمہیں چاہیئے کہ ان سے نہ ڈرو صرف میرا ہی خوف دل میں رکھو کیونکہ ایمان داری کی یہی شرط ہے کہ جب کوئی ڈرائے دھمکائے اور دینی امور سے تمہیں باز رکھنا چاہیئے تو مسلمان اللہ پر بھروسہ کرے اس کی طرف سمٹ جائے اور یقین مانے کہ کافی اور ناصر وہی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:36] ، کیا اللہ جل شانہ اپنے بندوں کو کافی نہیں یہ لوگ تجھے اس کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں [ یہاں تک کہ فرمایا ] تو کہہ کہ «قُلْ حَسْبِيَ اللَّـهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ» مجھے اللہ کافی ہے توکل کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔
صفحہ نمبر1403
اور جگہ فرمایا «فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا» اولیاء شیطان سے لڑو۔ [4-النساء:76] شیطان کا مکر بڑا بودا ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے یہ شیطانی لشکر ہے یاد رکھو شیطانی لشکر ہی گھاٹے اور خسارے میں ہے۔
اور جگہ ارشاد ہے آیت «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ، اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ غلبہ یقیناً مجھے اور میرے رسولوں کو ہی ہو گا اللہ قوی اور عزیز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [22-الحج:40] جو اللہ کی مدد کرے گا اس کی امداد فرمائے گا، اللہ قوی اور عزیز ہے۔
اور فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ» [47-محمد:7] ، اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری بھی مدد کرے گا۔
اور آیت میں ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:52-51 ] ، بالیقین ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان داروں کی مدد دینا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے جس دن ظالموں کو عذر معذرت نفع نہ دے گی ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے۔
صفحہ نمبر1404
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آ کر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا «فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ.» کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کر دیا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہو گیا اور ہم اس سے راضی ہو گئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:169] اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8224] [ محمد بن جریر ]
صفحہ نمبر1385
صحیح مسلم شریف میں ہے مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لیے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں؟ اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہو گیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو؟ [صحیح مسلم:1887]
صفحہ نمبر1386
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو لوگ مر جائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے [ مسند احمد ] صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:2817]
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، [مسند احمد:361/3:حسن بالشواھد]
ان کا نام عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو۔
صفحہ نمبر1387
صحیح بخاری شریف میں ہے جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور اپنے باپ کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم مجھے منع کرتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، [صحیح بخاری:4080]
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بے فکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چنانچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ [سنن ابوداود:2520،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1388
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں [ مستدرک حاکم ] یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:389/7] ابوبکر بن مردویہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہو گئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کر چکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:168] فرمائی، [سنن ترمذي:3010،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کر سکا۔مستدرک حاکم:203/3:ضعیف]
صفحہ نمبر1389
مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے سبز گنبد میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، [مسند احمد:266/1:حسن]
دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہو گا جس میں ہر مومن کے لیے یہی بشارت ہے چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، [سنن ابن ماجہ:4271،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں۔ امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد، امام شافعی، امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گزر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔
صفحہ نمبر1390
پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بے حد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہو گا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہو گی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے،
سیدنا محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے
صفحہ نمبر1391
بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہو چکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی رضی اللہ عنہم تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بے دردی سے کفار نے تہہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہو گئے، [صحیح بخاری:4090]
وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، سیدنا عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت «يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ» تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔
صفحہ نمبر1392
پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے، زخمی ہو گئے تھے ان کے بہادر شہید ہو چکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہو جاتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے کمربستہ ہو گئے، سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہو گئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا“بیئر ابی عینیہ“ تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [سنن نسائی:11083]
صفحہ نمبر1393
احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ندا دی کہ لوگو! دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لیے کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لیے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چنانچہ آپ نے اجازت دی۔
صفحہ نمبر1394
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں، نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بےشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آ جاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ [ سیرت ابن اسحاق ] [تفسیر ابن جریر الطبری:8233:ضعیف]
صفحہ نمبر1395
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عروہ رحمہ اللہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت «الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:172] ، آیت اتری ہے یعنی سیدنا زبیر اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہٰذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لیے مستعد ہو گئے جن میں ایک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، دوسرے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تھے [صحیح بخاری:4077]
یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لیے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہا کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے لڑکے عروہ سے کہی ہے۔
صفحہ نمبر1396
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجود یہ کہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہو گیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوسفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کر دیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہو گی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لیے لشکر تیار کر لیے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑ گئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر ابوبکر، عمر، عثمان، علی، زبیر، سعد، طلحہ، عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔
صفحہ نمبر1397
یہ مبارک لشکر ابوسفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:8238] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیرخواہ تھے اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابوسفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آ گئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں؟ واپس جا کر سب کو تہ تیغ کر دیں
صفحہ نمبر1398
یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابوسفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ رضی اللہ عنہم کے تم لوگوں کے تعاقب میں آ رہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہو گئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابوسفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہو گئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لیے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور اوالوالعزمی کا حال بیان نہیں کر سکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کر سکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابوسفیان نے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کر دینے کے لیے لشکر جمع کر لیے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چنانچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آ کر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان کے لیے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8243]
صفحہ نمبر1399
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لیے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت و بہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ تو توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» الخ،سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، [صحیح بخاری:4564]
تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ آخری کلمہ تھا جا خلیل علیہ السلام کی زبان سے آگ میں پڑتے وقت نکلا تھا۔ [صحیح بخاری:4561] سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا [ضعیف] اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی کی سرداری کے ماتحت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ [ضعیف]
صفحہ نمبر1400
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آ پڑے تو تم آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» آخر تک پڑھو۔ [الدار المسشور للسیوطی:181/2:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، [مسند احمد:25/6:ضعیف]
مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بے فکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلیٰ اللَّهِ تَوَّکَلَّنَا» پڑھو۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1401
ام المؤمنین سیدہ زینب اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کر دیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اپنے پاک کلام میں نازل فرمائی ہیں۔سیدہ زینب اسے مان گئیں اور پوچھا یہ بتاؤ تم نے صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کی سواری پر سوار ہوتے وقت کیا پڑھا تھا، صدیقہ نے فرمایا دعا «حسبی اللہ ونعم الوکیل» یہ سن کر ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا تم نے ایمان والوں کا کلمہ کہا تھا۔
چنانچہ اس آیت میں بھی رب رحیم کا ارشاد ہے کہ ان توکل کرنے والوں کی کفایت اللہ تعالیٰ نے کی اور ان کے ساتھ جو لوگ برائی کا ارادہ رکھتے تھے انہیں ذلت اور بربادی کے ساتھ پسپا کیا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنے شہروں کی طرف بغیر کسی نقصان اور برائی کے لوٹے دشمن اپنی مکاریوں میں ناکام رہا، ان سے اللہ خوش ہو گیا کیونکہ انہوں نے اس کی خوشی کا کام انجام دیا تھا اللہ تعالیٰ بڑے فضل و کرم والا ہے۔
صفحہ نمبر1402
ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ نعمت تو یہ تھی کہ وہ سلامت رہے اور فضل یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کے ایک قافلہ سے مال خرید لیا جس میں بہت ہی نفع ہوا اور اس کل نفع کو آپ نے اپنے ساتھیوں میں تقسیم فرما دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:318/3:ضعیف]
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوسفیان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اب وعدے کی جگہ بدر ہے آپ نے فرمایا ممکن ہے چنانچہ وہاں پہنچے تو یہ ڈرپوک آیا ہی نہیں وہاں بازار کا دن تھا مال خرید لیا جو نفع سے بکا اسی کا نام غزوہ بدر صغریٰ ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8238:مرسل ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ یہ شیطان تھا جو اپنے دوستوں کے ذریعہ تمہیں دھمکا رہا تھا اور گیدڑ بھبکیاں دے رہا تمہیں چاہیئے کہ ان سے نہ ڈرو صرف میرا ہی خوف دل میں رکھو کیونکہ ایمان داری کی یہی شرط ہے کہ جب کوئی ڈرائے دھمکائے اور دینی امور سے تمہیں باز رکھنا چاہیئے تو مسلمان اللہ پر بھروسہ کرے اس کی طرف سمٹ جائے اور یقین مانے کہ کافی اور ناصر وہی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:36] ، کیا اللہ جل شانہ اپنے بندوں کو کافی نہیں یہ لوگ تجھے اس کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں [ یہاں تک کہ فرمایا ] تو کہہ کہ «قُلْ حَسْبِيَ اللَّـهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ» مجھے اللہ کافی ہے توکل کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔
صفحہ نمبر1403
اور جگہ فرمایا «فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا» اولیاء شیطان سے لڑو۔ [4-النساء:76] شیطان کا مکر بڑا بودا ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے یہ شیطانی لشکر ہے یاد رکھو شیطانی لشکر ہی گھاٹے اور خسارے میں ہے۔
اور جگہ ارشاد ہے آیت «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ، اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ غلبہ یقیناً مجھے اور میرے رسولوں کو ہی ہو گا اللہ قوی اور عزیز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [22-الحج:40] جو اللہ کی مدد کرے گا اس کی امداد فرمائے گا، اللہ قوی اور عزیز ہے۔
اور فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ» [47-محمد:7] ، اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری بھی مدد کرے گا۔
اور آیت میں ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:52-51 ] ، بالیقین ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان داروں کی مدد دینا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے جس دن ظالموں کو عذر معذرت نفع نہ دے گی ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے۔
صفحہ نمبر1404
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آ کر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا «فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ.» کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کر دیا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہو گیا اور ہم اس سے راضی ہو گئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:169] اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8224] [ محمد بن جریر ]
صفحہ نمبر1385
صحیح مسلم شریف میں ہے مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لیے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں؟ اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہو گیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو؟ [صحیح مسلم:1887]
صفحہ نمبر1386
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو لوگ مر جائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے [ مسند احمد ] صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:2817]
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، [مسند احمد:361/3:حسن بالشواھد]
ان کا نام عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو۔
صفحہ نمبر1387
صحیح بخاری شریف میں ہے جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور اپنے باپ کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم مجھے منع کرتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، [صحیح بخاری:4080]
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بے فکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چنانچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ [سنن ابوداود:2520،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1388
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں [ مستدرک حاکم ] یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:389/7] ابوبکر بن مردویہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہو گئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کر چکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:168] فرمائی، [سنن ترمذي:3010،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کر سکا۔مستدرک حاکم:203/3:ضعیف]
صفحہ نمبر1389
مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے سبز گنبد میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، [مسند احمد:266/1:حسن]
دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہو گا جس میں ہر مومن کے لیے یہی بشارت ہے چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، [سنن ابن ماجہ:4271،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں۔ امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد، امام شافعی، امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گزر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔
صفحہ نمبر1390
پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بے حد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہو گا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہو گی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے،
سیدنا محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے
صفحہ نمبر1391
بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہو چکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی رضی اللہ عنہم تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بے دردی سے کفار نے تہہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہو گئے، [صحیح بخاری:4090]
وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، سیدنا عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت «يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ» تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔
صفحہ نمبر1392
پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے، زخمی ہو گئے تھے ان کے بہادر شہید ہو چکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہو جاتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے کمربستہ ہو گئے، سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہو گئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا“بیئر ابی عینیہ“ تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [سنن نسائی:11083]
صفحہ نمبر1393
احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ندا دی کہ لوگو! دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لیے کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لیے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چنانچہ آپ نے اجازت دی۔
صفحہ نمبر1394
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں، نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بےشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آ جاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ [ سیرت ابن اسحاق ] [تفسیر ابن جریر الطبری:8233:ضعیف]
صفحہ نمبر1395
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عروہ رحمہ اللہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت «الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:172] ، آیت اتری ہے یعنی سیدنا زبیر اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہٰذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لیے مستعد ہو گئے جن میں ایک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، دوسرے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تھے [صحیح بخاری:4077]
یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لیے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہا کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے لڑکے عروہ سے کہی ہے۔
صفحہ نمبر1396
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجود یہ کہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہو گیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوسفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کر دیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہو گی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لیے لشکر تیار کر لیے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑ گئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر ابوبکر، عمر، عثمان، علی، زبیر، سعد، طلحہ، عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔
صفحہ نمبر1397
یہ مبارک لشکر ابوسفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:8238] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیرخواہ تھے اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابوسفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آ گئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں؟ واپس جا کر سب کو تہ تیغ کر دیں
صفحہ نمبر1398
یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابوسفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ رضی اللہ عنہم کے تم لوگوں کے تعاقب میں آ رہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہو گئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابوسفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہو گئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لیے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور اوالوالعزمی کا حال بیان نہیں کر سکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کر سکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابوسفیان نے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کر دینے کے لیے لشکر جمع کر لیے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چنانچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آ کر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان کے لیے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8243]
صفحہ نمبر1399
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لیے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت و بہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ تو توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» الخ،سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، [صحیح بخاری:4564]
تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ آخری کلمہ تھا جا خلیل علیہ السلام کی زبان سے آگ میں پڑتے وقت نکلا تھا۔ [صحیح بخاری:4561] سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا [ضعیف] اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی کی سرداری کے ماتحت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ [ضعیف]
صفحہ نمبر1400
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آ پڑے تو تم آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» آخر تک پڑھو۔ [الدار المسشور للسیوطی:181/2:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، [مسند احمد:25/6:ضعیف]
مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بے فکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلیٰ اللَّهِ تَوَّکَلَّنَا» پڑھو۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1401
ام المؤمنین سیدہ زینب اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کر دیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اپنے پاک کلام میں نازل فرمائی ہیں۔سیدہ زینب اسے مان گئیں اور پوچھا یہ بتاؤ تم نے صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کی سواری پر سوار ہوتے وقت کیا پڑھا تھا، صدیقہ نے فرمایا دعا «حسبی اللہ ونعم الوکیل» یہ سن کر ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا تم نے ایمان والوں کا کلمہ کہا تھا۔
چنانچہ اس آیت میں بھی رب رحیم کا ارشاد ہے کہ ان توکل کرنے والوں کی کفایت اللہ تعالیٰ نے کی اور ان کے ساتھ جو لوگ برائی کا ارادہ رکھتے تھے انہیں ذلت اور بربادی کے ساتھ پسپا کیا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنے شہروں کی طرف بغیر کسی نقصان اور برائی کے لوٹے دشمن اپنی مکاریوں میں ناکام رہا، ان سے اللہ خوش ہو گیا کیونکہ انہوں نے اس کی خوشی کا کام انجام دیا تھا اللہ تعالیٰ بڑے فضل و کرم والا ہے۔
صفحہ نمبر1402
ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ نعمت تو یہ تھی کہ وہ سلامت رہے اور فضل یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کے ایک قافلہ سے مال خرید لیا جس میں بہت ہی نفع ہوا اور اس کل نفع کو آپ نے اپنے ساتھیوں میں تقسیم فرما دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:318/3:ضعیف]
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوسفیان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اب وعدے کی جگہ بدر ہے آپ نے فرمایا ممکن ہے چنانچہ وہاں پہنچے تو یہ ڈرپوک آیا ہی نہیں وہاں بازار کا دن تھا مال خرید لیا جو نفع سے بکا اسی کا نام غزوہ بدر صغریٰ ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8238:مرسل ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ یہ شیطان تھا جو اپنے دوستوں کے ذریعہ تمہیں دھمکا رہا تھا اور گیدڑ بھبکیاں دے رہا تمہیں چاہیئے کہ ان سے نہ ڈرو صرف میرا ہی خوف دل میں رکھو کیونکہ ایمان داری کی یہی شرط ہے کہ جب کوئی ڈرائے دھمکائے اور دینی امور سے تمہیں باز رکھنا چاہیئے تو مسلمان اللہ پر بھروسہ کرے اس کی طرف سمٹ جائے اور یقین مانے کہ کافی اور ناصر وہی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:36] ، کیا اللہ جل شانہ اپنے بندوں کو کافی نہیں یہ لوگ تجھے اس کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں [ یہاں تک کہ فرمایا ] تو کہہ کہ «قُلْ حَسْبِيَ اللَّـهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ» مجھے اللہ کافی ہے توکل کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔
صفحہ نمبر1403
اور جگہ فرمایا «فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا» اولیاء شیطان سے لڑو۔ [4-النساء:76] شیطان کا مکر بڑا بودا ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے یہ شیطانی لشکر ہے یاد رکھو شیطانی لشکر ہی گھاٹے اور خسارے میں ہے۔
اور جگہ ارشاد ہے آیت «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ، اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ غلبہ یقیناً مجھے اور میرے رسولوں کو ہی ہو گا اللہ قوی اور عزیز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [22-الحج:40] جو اللہ کی مدد کرے گا اس کی امداد فرمائے گا، اللہ قوی اور عزیز ہے۔
اور فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ» [47-محمد:7] ، اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری بھی مدد کرے گا۔
اور آیت میں ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:52-51 ] ، بالیقین ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان داروں کی مدد دینا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے جس دن ظالموں کو عذر معذرت نفع نہ دے گی ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے۔
صفحہ نمبر1404
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آ کر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا «فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ.» کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کر دیا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہو گیا اور ہم اس سے راضی ہو گئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:169] اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8224] [ محمد بن جریر ]
صفحہ نمبر1385
صحیح مسلم شریف میں ہے مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لیے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں؟ اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہو گیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو؟ [صحیح مسلم:1887]
صفحہ نمبر1386
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو لوگ مر جائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے [ مسند احمد ] صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:2817]
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، [مسند احمد:361/3:حسن بالشواھد]
ان کا نام عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو۔
صفحہ نمبر1387
صحیح بخاری شریف میں ہے جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور اپنے باپ کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم مجھے منع کرتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، [صحیح بخاری:4080]
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بے فکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چنانچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ [سنن ابوداود:2520،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1388
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں [ مستدرک حاکم ] یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:389/7] ابوبکر بن مردویہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہو گئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کر چکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:168] فرمائی، [سنن ترمذي:3010،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کر سکا۔مستدرک حاکم:203/3:ضعیف]
صفحہ نمبر1389
مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے سبز گنبد میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، [مسند احمد:266/1:حسن]
دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہو گا جس میں ہر مومن کے لیے یہی بشارت ہے چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، [سنن ابن ماجہ:4271،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں۔ امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد، امام شافعی، امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گزر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔
صفحہ نمبر1390
پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بے حد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہو گا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہو گی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے،
سیدنا محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے
صفحہ نمبر1391
بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہو چکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی رضی اللہ عنہم تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بے دردی سے کفار نے تہہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہو گئے، [صحیح بخاری:4090]
وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، سیدنا عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت «يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ» تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔
صفحہ نمبر1392
پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے، زخمی ہو گئے تھے ان کے بہادر شہید ہو چکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہو جاتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے کمربستہ ہو گئے، سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہو گئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا“بیئر ابی عینیہ“ تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [سنن نسائی:11083]
صفحہ نمبر1393
احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ندا دی کہ لوگو! دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لیے کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لیے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چنانچہ آپ نے اجازت دی۔
صفحہ نمبر1394
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں، نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بےشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آ جاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ [ سیرت ابن اسحاق ] [تفسیر ابن جریر الطبری:8233:ضعیف]
صفحہ نمبر1395
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عروہ رحمہ اللہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت «الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:172] ، آیت اتری ہے یعنی سیدنا زبیر اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہٰذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لیے مستعد ہو گئے جن میں ایک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، دوسرے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تھے [صحیح بخاری:4077]
یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لیے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہا کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے لڑکے عروہ سے کہی ہے۔
صفحہ نمبر1396
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجود یہ کہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہو گیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوسفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کر دیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہو گی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لیے لشکر تیار کر لیے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑ گئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر ابوبکر، عمر، عثمان، علی، زبیر، سعد، طلحہ، عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔
صفحہ نمبر1397
یہ مبارک لشکر ابوسفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:8238] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیرخواہ تھے اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابوسفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آ گئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں؟ واپس جا کر سب کو تہ تیغ کر دیں
صفحہ نمبر1398
یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابوسفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ رضی اللہ عنہم کے تم لوگوں کے تعاقب میں آ رہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہو گئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابوسفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہو گئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لیے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور اوالوالعزمی کا حال بیان نہیں کر سکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کر سکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابوسفیان نے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کر دینے کے لیے لشکر جمع کر لیے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چنانچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آ کر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان کے لیے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8243]
صفحہ نمبر1399
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لیے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت و بہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ تو توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» الخ،سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، [صحیح بخاری:4564]
تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ آخری کلمہ تھا جا خلیل علیہ السلام کی زبان سے آگ میں پڑتے وقت نکلا تھا۔ [صحیح بخاری:4561] سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا [ضعیف] اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی کی سرداری کے ماتحت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ [ضعیف]
صفحہ نمبر1400
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آ پڑے تو تم آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» آخر تک پڑھو۔ [الدار المسشور للسیوطی:181/2:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، [مسند احمد:25/6:ضعیف]
مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بے فکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلیٰ اللَّهِ تَوَّکَلَّنَا» پڑھو۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1401
ام المؤمنین سیدہ زینب اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کر دیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اپنے پاک کلام میں نازل فرمائی ہیں۔سیدہ زینب اسے مان گئیں اور پوچھا یہ بتاؤ تم نے صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کی سواری پر سوار ہوتے وقت کیا پڑھا تھا، صدیقہ نے فرمایا دعا «حسبی اللہ ونعم الوکیل» یہ سن کر ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا تم نے ایمان والوں کا کلمہ کہا تھا۔
چنانچہ اس آیت میں بھی رب رحیم کا ارشاد ہے کہ ان توکل کرنے والوں کی کفایت اللہ تعالیٰ نے کی اور ان کے ساتھ جو لوگ برائی کا ارادہ رکھتے تھے انہیں ذلت اور بربادی کے ساتھ پسپا کیا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنے شہروں کی طرف بغیر کسی نقصان اور برائی کے لوٹے دشمن اپنی مکاریوں میں ناکام رہا، ان سے اللہ خوش ہو گیا کیونکہ انہوں نے اس کی خوشی کا کام انجام دیا تھا اللہ تعالیٰ بڑے فضل و کرم والا ہے۔
صفحہ نمبر1402
ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ نعمت تو یہ تھی کہ وہ سلامت رہے اور فضل یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کے ایک قافلہ سے مال خرید لیا جس میں بہت ہی نفع ہوا اور اس کل نفع کو آپ نے اپنے ساتھیوں میں تقسیم فرما دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:318/3:ضعیف]
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوسفیان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اب وعدے کی جگہ بدر ہے آپ نے فرمایا ممکن ہے چنانچہ وہاں پہنچے تو یہ ڈرپوک آیا ہی نہیں وہاں بازار کا دن تھا مال خرید لیا جو نفع سے بکا اسی کا نام غزوہ بدر صغریٰ ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8238:مرسل ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ یہ شیطان تھا جو اپنے دوستوں کے ذریعہ تمہیں دھمکا رہا تھا اور گیدڑ بھبکیاں دے رہا تمہیں چاہیئے کہ ان سے نہ ڈرو صرف میرا ہی خوف دل میں رکھو کیونکہ ایمان داری کی یہی شرط ہے کہ جب کوئی ڈرائے دھمکائے اور دینی امور سے تمہیں باز رکھنا چاہیئے تو مسلمان اللہ پر بھروسہ کرے اس کی طرف سمٹ جائے اور یقین مانے کہ کافی اور ناصر وہی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:36] ، کیا اللہ جل شانہ اپنے بندوں کو کافی نہیں یہ لوگ تجھے اس کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں [ یہاں تک کہ فرمایا ] تو کہہ کہ «قُلْ حَسْبِيَ اللَّـهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ» مجھے اللہ کافی ہے توکل کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔
صفحہ نمبر1403
اور جگہ فرمایا «فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا» اولیاء شیطان سے لڑو۔ [4-النساء:76] شیطان کا مکر بڑا بودا ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے یہ شیطانی لشکر ہے یاد رکھو شیطانی لشکر ہی گھاٹے اور خسارے میں ہے۔
اور جگہ ارشاد ہے آیت «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ، اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ غلبہ یقیناً مجھے اور میرے رسولوں کو ہی ہو گا اللہ قوی اور عزیز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [22-الحج:40] جو اللہ کی مدد کرے گا اس کی امداد فرمائے گا، اللہ قوی اور عزیز ہے۔
اور فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ» [47-محمد:7] ، اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری بھی مدد کرے گا۔
اور آیت میں ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:52-51 ] ، بالیقین ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان داروں کی مدد دینا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے جس دن ظالموں کو عذر معذرت نفع نہ دے گی ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے۔
صفحہ نمبر1404
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آ کر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا «فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ.» کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کر دیا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہو گیا اور ہم اس سے راضی ہو گئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:169] اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8224] [ محمد بن جریر ]
صفحہ نمبر1385
صحیح مسلم شریف میں ہے مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لیے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں؟ اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہو گیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو؟ [صحیح مسلم:1887]
صفحہ نمبر1386
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو لوگ مر جائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے [ مسند احمد ] صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:2817]
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، [مسند احمد:361/3:حسن بالشواھد]
ان کا نام عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو۔
صفحہ نمبر1387
صحیح بخاری شریف میں ہے جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور اپنے باپ کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم مجھے منع کرتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، [صحیح بخاری:4080]
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بے فکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چنانچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ [سنن ابوداود:2520،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1388
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں [ مستدرک حاکم ] یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:389/7] ابوبکر بن مردویہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہو گئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کر چکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:168] فرمائی، [سنن ترمذي:3010،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کر سکا۔مستدرک حاکم:203/3:ضعیف]
صفحہ نمبر1389
مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے سبز گنبد میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، [مسند احمد:266/1:حسن]
دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہو گا جس میں ہر مومن کے لیے یہی بشارت ہے چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، [سنن ابن ماجہ:4271،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں۔ امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد، امام شافعی، امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گزر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔
صفحہ نمبر1390
پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بے حد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہو گا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہو گی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے،
سیدنا محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے
صفحہ نمبر1391
بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہو چکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی رضی اللہ عنہم تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بے دردی سے کفار نے تہہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہو گئے، [صحیح بخاری:4090]
وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، سیدنا عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت «يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ» تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔
صفحہ نمبر1392
پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے، زخمی ہو گئے تھے ان کے بہادر شہید ہو چکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہو جاتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے کمربستہ ہو گئے، سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہو گئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا“بیئر ابی عینیہ“ تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [سنن نسائی:11083]
صفحہ نمبر1393
احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ندا دی کہ لوگو! دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لیے کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لیے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چنانچہ آپ نے اجازت دی۔
صفحہ نمبر1394
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں، نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بےشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آ جاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ [ سیرت ابن اسحاق ] [تفسیر ابن جریر الطبری:8233:ضعیف]
صفحہ نمبر1395
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عروہ رحمہ اللہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت «الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:172] ، آیت اتری ہے یعنی سیدنا زبیر اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہٰذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لیے مستعد ہو گئے جن میں ایک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، دوسرے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تھے [صحیح بخاری:4077]
یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لیے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہا کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے لڑکے عروہ سے کہی ہے۔
صفحہ نمبر1396
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجود یہ کہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہو گیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوسفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کر دیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہو گی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لیے لشکر تیار کر لیے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑ گئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر ابوبکر، عمر، عثمان، علی، زبیر، سعد، طلحہ، عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔
صفحہ نمبر1397
یہ مبارک لشکر ابوسفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:8238] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیرخواہ تھے اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابوسفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آ گئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں؟ واپس جا کر سب کو تہ تیغ کر دیں
صفحہ نمبر1398
یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابوسفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ رضی اللہ عنہم کے تم لوگوں کے تعاقب میں آ رہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہو گئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابوسفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہو گئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لیے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور اوالوالعزمی کا حال بیان نہیں کر سکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کر سکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابوسفیان نے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کر دینے کے لیے لشکر جمع کر لیے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چنانچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آ کر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان کے لیے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8243]
صفحہ نمبر1399
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لیے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت و بہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ تو توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» الخ،سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، [صحیح بخاری:4564]
تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ آخری کلمہ تھا جا خلیل علیہ السلام کی زبان سے آگ میں پڑتے وقت نکلا تھا۔ [صحیح بخاری:4561] سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا [ضعیف] اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی کی سرداری کے ماتحت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ [ضعیف]
صفحہ نمبر1400
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آ پڑے تو تم آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» آخر تک پڑھو۔ [الدار المسشور للسیوطی:181/2:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، [مسند احمد:25/6:ضعیف]
مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بے فکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلیٰ اللَّهِ تَوَّکَلَّنَا» پڑھو۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1401
ام المؤمنین سیدہ زینب اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کر دیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اپنے پاک کلام میں نازل فرمائی ہیں۔سیدہ زینب اسے مان گئیں اور پوچھا یہ بتاؤ تم نے صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کی سواری پر سوار ہوتے وقت کیا پڑھا تھا، صدیقہ نے فرمایا دعا «حسبی اللہ ونعم الوکیل» یہ سن کر ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا تم نے ایمان والوں کا کلمہ کہا تھا۔
چنانچہ اس آیت میں بھی رب رحیم کا ارشاد ہے کہ ان توکل کرنے والوں کی کفایت اللہ تعالیٰ نے کی اور ان کے ساتھ جو لوگ برائی کا ارادہ رکھتے تھے انہیں ذلت اور بربادی کے ساتھ پسپا کیا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنے شہروں کی طرف بغیر کسی نقصان اور برائی کے لوٹے دشمن اپنی مکاریوں میں ناکام رہا، ان سے اللہ خوش ہو گیا کیونکہ انہوں نے اس کی خوشی کا کام انجام دیا تھا اللہ تعالیٰ بڑے فضل و کرم والا ہے۔
صفحہ نمبر1402
ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ نعمت تو یہ تھی کہ وہ سلامت رہے اور فضل یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کے ایک قافلہ سے مال خرید لیا جس میں بہت ہی نفع ہوا اور اس کل نفع کو آپ نے اپنے ساتھیوں میں تقسیم فرما دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:318/3:ضعیف]
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوسفیان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اب وعدے کی جگہ بدر ہے آپ نے فرمایا ممکن ہے چنانچہ وہاں پہنچے تو یہ ڈرپوک آیا ہی نہیں وہاں بازار کا دن تھا مال خرید لیا جو نفع سے بکا اسی کا نام غزوہ بدر صغریٰ ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8238:مرسل ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ یہ شیطان تھا جو اپنے دوستوں کے ذریعہ تمہیں دھمکا رہا تھا اور گیدڑ بھبکیاں دے رہا تمہیں چاہیئے کہ ان سے نہ ڈرو صرف میرا ہی خوف دل میں رکھو کیونکہ ایمان داری کی یہی شرط ہے کہ جب کوئی ڈرائے دھمکائے اور دینی امور سے تمہیں باز رکھنا چاہیئے تو مسلمان اللہ پر بھروسہ کرے اس کی طرف سمٹ جائے اور یقین مانے کہ کافی اور ناصر وہی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:36] ، کیا اللہ جل شانہ اپنے بندوں کو کافی نہیں یہ لوگ تجھے اس کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں [ یہاں تک کہ فرمایا ] تو کہہ کہ «قُلْ حَسْبِيَ اللَّـهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ» مجھے اللہ کافی ہے توکل کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔
صفحہ نمبر1403
اور جگہ فرمایا «فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا» اولیاء شیطان سے لڑو۔ [4-النساء:76] شیطان کا مکر بڑا بودا ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے یہ شیطانی لشکر ہے یاد رکھو شیطانی لشکر ہی گھاٹے اور خسارے میں ہے۔
اور جگہ ارشاد ہے آیت «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ، اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ غلبہ یقیناً مجھے اور میرے رسولوں کو ہی ہو گا اللہ قوی اور عزیز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [22-الحج:40] جو اللہ کی مدد کرے گا اس کی امداد فرمائے گا، اللہ قوی اور عزیز ہے۔
اور فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ» [47-محمد:7] ، اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری بھی مدد کرے گا۔
اور آیت میں ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:52-51 ] ، بالیقین ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان داروں کی مدد دینا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے جس دن ظالموں کو عذر معذرت نفع نہ دے گی ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے۔
صفحہ نمبر1404
بیئر معونہ کے شہداء اور جنت میں ان کی تمنا؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے جاتے ہیں لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے اوپر تھی تو انہوں نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے لگے کون ہے؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ان تک پہنچائے ایک صحابی رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار ہوئے اور ان لوگوں کے گھروں کے پاس آ کر با آواز بلند فرمایا اے بیئر معونہ والو سنو! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں میری گواہی ہے کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ سنتے ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے ہوئے اپنے گھر سے نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی رضی اللہ عنہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا «فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ.» کعبے کے اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے ہوئے اس غار پر جا پہنچے اور عامر بن طفیل نے جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کر دیا سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہو گیا اور ہم اس سے راضی ہو گئے ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے رہے پھر ایک مدت کے بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:169] اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8224] [ محمد بن جریر ]
صفحہ نمبر1385
صحیح مسلم شریف میں ہے مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ عرش کی قندلیں ان کے لیے ہیں ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں چریں چگیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے رب نے ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے ہو؟ کہنے لگے اے اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے جہاں کہیں سے چاہیں کھائیں پئیں اختیار ہے پھر کیا طلب کریں؟ اللہ تعالیٰ نے ان سے پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے چارہ ہی نہیں تو کہنے لگے اے رب! ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے جائیں اب معلوم ہو گیا کہ انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے ہو؟ [صحیح مسلم:1887]
صفحہ نمبر1386
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو لوگ مر جائیں اور اللہ کے ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں کرتے مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے درجات کو وہ دیکھ رہا ہے [ مسند احمد ] صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، [صحیح بخاری:2817]
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا اے جابر تمہیں معلوم بھی ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا اے میرے بندے مانگ کیا مانگتا ہے؟ تو کہا اے اللہ دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، [مسند احمد:361/3:حسن بالشواھد]
ان کا نام عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے رضامند ہو۔
صفحہ نمبر1387
صحیح بخاری شریف میں ہے جابر فرماتے ہیں میرے باپ کی شہادت کے بعد میں رونے لگا اور اپنے باپ کے منہ سے کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم مجھے منع کرتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے والد کو اٹھایا نہیں گیا فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں، [صحیح بخاری:4080]
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد والے دن شہید کئے گئے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے سائے تلے وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے پینے رہنے سہنے کی یہ بہترین نعمتیں انہیں ملیں تو کہنے لگے کاش کہ ہمارے بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے تھک کر نہ بیٹھ رہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم بے فکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چنانچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ [سنن ابوداود:2520،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1388
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں آیتیں اتریں [ مستدرک حاکم ] یہ بھی مفسرین نے فرمایا ہے کہ احد کے شہیدوں کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:389/7] ابوبکر بن مردویہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہو گئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کر چکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» [3-آل عمران:168] فرمائی، [سنن ترمذي:3010،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اے اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں کر سکا۔مستدرک حاکم:203/3:ضعیف]
صفحہ نمبر1389
مسند احمد میں ہے شہید لوگ جنت کے دروازے پر نہر کے کنارے سے سبز گنبد میں ہیں، صبح شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، [مسند احمد:266/1:حسن]
دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں اور پھر یہ کھانے یہیں کھلائے جاتے ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہو گا جس میں ہر مومن کے لیے یہی بشارت ہے چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے جو جنت کے درختوں کے پھل کھاتی پھرتی ہے یہاں تک کہ قیامت والے دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے تو اسے بھی اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا، [سنن ابن ماجہ:4271،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس حدیث کے راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں جو ان چار اماموں میں سے ہیں جن کے مذاہب مانے جا رہے ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے ان کے استاد ہیں۔ امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ پس امام احمد، امام شافعی، امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے راوی ہیں۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے اور شہیدوں کی روحیں جیسے کے پہلے گزر چکا ہے سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں رہتی ہیں یہ روحیں مثل ستاروں کے ہیں جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر موت دے آمین۔
صفحہ نمبر1390
پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں ان سے بے حد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں اور انہیں یہ بھی خوشی اور راحت ہے کہ ان کے بھائی بند جو ان کے بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے اور ان کے پاس آئیں گے انہیں آئندہ کا کچھ خوف نہ ہو گا اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں حسرت بھی نہ ہو گی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے،
سیدنا محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ خوش ہیں کہ ان کے کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے ہوئے ہیں وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے شریک حال ہوں گے اور اللہ کے ثواب سے فائدہ اٹھائیں گے، سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے کہ فلاں دن تیرے پاس فلاں آئے گا اور فلاں دن فلاں آئے گا پس جس طرح دنیا والے اپنی کسی غیر حاضر کے آنے کی خبر سن کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے کی خبر سے مسرور ہوتے ہیں، سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب شہید جنت میں گئے اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے لگے کاش کہ اس کا علم ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں تاکہ وہ جواں مردی سے جان توڑ کر جہاد کرتے اور ان جگہوں میں جا گھستے جہاں سے زندہ آنے کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان کے اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کہ دیا کہ میں نے تمہاری خبر تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی ہے اس سے وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے
صفحہ نمبر1391
بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہو چکا ہے جو ستر شخص انصاری صحابی رضی اللہ عنہم تھے اور ایک ہی دن صبح کے وقت کو بے دردی سے کفار نے تہہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے رب سے ملے وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہو گئے، [صحیح بخاری:4090]
وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، سیدنا عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت «يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ» تمام ایمانداروں کے حق میں ہے خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے موقع ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی فضیلت اور ان کے ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔
صفحہ نمبر1392
پھر ان سچے مومنین کا بیان تعریف کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنہوں نے حمراء اسد والے دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے چور ہونے کے جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس چل دئیے۔ لیکن پھر انہیں اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے تھے، زخمی ہو گئے تھے ان کے بہادر شہید ہو چکے تھے اگر ہم اور جم کر لڑتے تو فیصلہ ہی ہو جاتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے کہ میرے ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے پیچھے جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں ہوئے احد میں جو لوگ موجود تھے صرف انہی کو ساتھ چلنے کا حکم ملا ہاں صرف سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ان کے علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے کمربستہ ہو گئے، سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جب مشرکین احد سے لوٹے تو راستے میں سوچنے لگے کہ نہ تو تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہو گئے اور مشرکین کے تعاقب میں چل پڑے یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا“بیئر ابی عینیہ“ تک پہنچ گئے۔ مشرکین کے دل رعب و خوف سے بھر گئے اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے اگلے سال دیکھا جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [سنن نسائی:11083]
صفحہ نمبر1393
احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ندا دی کہ لوگو! دشمن کے تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی لڑائی میں میں نہ تھا اس لیے کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا بیٹے تمہارے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اسے تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے گا اور ایک یہاں رہے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لیے میری خواہش ہے کہ تم اپنی بہنوں کے پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے میں تو وہاں رہا اور میرے والد آپ کے ساتھ آئے اب میری عین تمنا ہے کہ آج مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں چنانچہ آپ نے اجازت دی۔
صفحہ نمبر1394
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر اس غرض سے تھا کہ دشمن دہل جائے اور پیچھے آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے اور ہمارے مقابلہ سے یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے ایک صحابی کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے تھے، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے دشمن کے پیچھے جانے کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے پاس سواری ہے کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے نبی کے ساتھ جائیں، نہ زخموں کے مارے جسم میں اتنی طاقت ہے کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا ہمارے بےشمار گہرے زخم ہمیں آج جانے سے روک دیں گے لیکن پھر ہم نے ہمت باندھی مجھے اپنے بھائی کی نسبت ذرا ہلکے زخم تھے جب میرے بھائی بالکل عاجز آ جاتے قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں جوں توں کر کے اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے۔ [ سیرت ابن اسحاق ] [تفسیر ابن جریر الطبری:8233:ضعیف]
صفحہ نمبر1395
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عروہ رحمہ اللہ سے کہا اے بھانجے تیرے دونوں باپ انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت «الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:172] ، آیت اتری ہے یعنی سیدنا زبیر اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے چلے تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہٰذا آپ نے فرمایا کوئی ہے جو ان کے پیچھے جائے اس پر ستر شخص اس کام کے لیے مستعد ہو گئے جن میں ایک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، دوسرے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تھے [صحیح بخاری:4077]
یہ روایت اور بہت سی اسناد سے بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے ہیں لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے اس لیے بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہا کے باپ دادا میں سے نہیں صحیح یہ ہے کہ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے لڑکے عروہ سے کہی ہے۔
صفحہ نمبر1396
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا اور باوجود یہ کہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے کامیاب ہو گیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوسفیان تمہیں نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مرعوب کر دیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے تھے اور بدر صغریٰ میں اپنے ڈیرے ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے تھے اس دفعہ بھی اس واقعہ کے بعد لوگ آئے مسلمان اپنے زخموں میں چور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تکالیف بیان کرتے تھے اور سخت صدمہ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے اور پھر حج کو آئیں گے اور پھر اگلے سال تک یہ طاقت انہیں حاصل نہیں ہو گی لیکن شیطان نے اپنے دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں نے تمہارے استیصال کے لیے لشکر تیار کر لیے ہیں جس بنا پر لوگ ڈھیلے پڑ گئے آپ نے فرمایا سنو خواہ تم میں سے ایک بھی نہ چلے میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے رغبت دلانے پر ابوبکر، عمر، عثمان، علی، زبیر، سعد، طلحہ، عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم وغیرہ ستر صحابہ آپ کے زیر رکاب چلنے پر آمادہ ہوئے۔
صفحہ نمبر1397
یہ مبارک لشکر ابوسفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:8238] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں مدینہ سے آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے قبیلے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے مشرک مومن سب آپ کے خیرخواہ تھے اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے مگر اس سے پہلے ابوسفیان چل دیا تھا گو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آ گئے انہیں قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں؟ واپس جا کر سب کو تہ تیغ کر دیں
صفحہ نمبر1398
یہ مشورے ہو ہی رہے تھے کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابوسفیان نے اس سے پوچھا کہو کیا خبریں ہیں اس نے کہا آنحضور مع صحابہ رضی اللہ عنہم کے تم لوگوں کے تعاقب میں آ رہے ہیں وہ لوگ سخت غصے میں ہیں جو پہلے لڑائی میں شریک نہ تھے وہ بھی شامل ہو گئے ہیں سب کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں میں نے تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابوسفیان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور کہنے لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے ملاقات ہو گئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے کے لیے تیار تھے، معبد نے کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے غالباً تم یہاں سے کوچ کرنے سے پہلے ہی لشکر اسلام کے گھوڑوں کو دیکھ لو گے میں ان کے لشکر ان کے غصے ان کی تیاری اور اوالوالعزمی کا حال بیان نہیں کر سکتا میں تو تم سے صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کر سکوں، پس مختصر یہ ہے کہ جان کی خیر مناتے ہو تو فوراً یہاں سے کوچ کرو، ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے یہاں سے مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے آدمی جو کاروبار کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے ان سے ابوسفیان نے کہا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے انہیں تہ تیغ کر دینے کے لیے لشکر جمع کر لیے ہیں اور ہم واپس لوٹنے کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے چنانچہ ان لوگوں نے حمراء اسد میں آ کر بطور ڈراوے کے نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے نہایت استقلال اور پامردی سے جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان کے لیے ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے اگر یہ لوٹیں گے تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے جیسے گزشتہ کل کا دن۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8243]
صفحہ نمبر1399
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح تر یہی ہے کہ حمراء اسد کے بارے میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں نے انہیں پژمردہ دل کرنے کے لیے دشمنوں کے سازو سامان اور ان کی کثرت و بہتات سے ڈرایا لیکن وہ صبر کے پہاڑ ثابت ہوئے ان کے غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ تو توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے اس سے امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» الخ،سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں پڑتے وقت پڑھا تھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب کہ کافروں کے ٹڈی دل لشکر سے لوگوں نے آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، [صحیح بخاری:4564]
تعجب کی بات ہے کہ امام حاکم نے اس روایت کو رد کر کے فرمایا ہے کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں۔ بخاری کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ آخری کلمہ تھا جا خلیل علیہ السلام کی زبان سے آگ میں پڑتے وقت نکلا تھا۔ [صحیح بخاری:4561] سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ احد کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے یہی کلمہ فرمایا [ضعیف] اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی کی سرداری کے ماتحت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے ایک اعرابی نے یہ خبر سنائی تو آپ نے یہ فرمایا تھا۔ [ضعیف]
صفحہ نمبر1400
ابن مردویہ کی حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آ پڑے تو تم آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» آخر تک پڑھو۔ [الدار المسشور للسیوطی:181/2:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ دو شخصوں کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تو جس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے یہی کلمہ پڑھا آپ نے اسے واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، [مسند احمد:25/6:ضعیف]
مسند کی اور حدیث میں ہے کس طرح بے فکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے صور منہ میں لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں آپ نے فرمایا آیت «حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلیٰ اللَّهِ تَوَّکَلَّنَا» پڑھو۔ [سنن ترمذي:2431،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1401
ام المؤمنین سیدہ زینب اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زینب نے فخر سے فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے کر دیا ہے اور تمہارے نکاح ولی وارثوں نے کئے ہیں، صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اپنے پاک کلام میں نازل فرمائی ہیں۔سیدہ زینب اسے مان گئیں اور پوچھا یہ بتاؤ تم نے صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کی سواری پر سوار ہوتے وقت کیا پڑھا تھا، صدیقہ نے فرمایا دعا «حسبی اللہ ونعم الوکیل» یہ سن کر ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا تم نے ایمان والوں کا کلمہ کہا تھا۔
چنانچہ اس آیت میں بھی رب رحیم کا ارشاد ہے کہ ان توکل کرنے والوں کی کفایت اللہ تعالیٰ نے کی اور ان کے ساتھ جو لوگ برائی کا ارادہ رکھتے تھے انہیں ذلت اور بربادی کے ساتھ پسپا کیا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنے شہروں کی طرف بغیر کسی نقصان اور برائی کے لوٹے دشمن اپنی مکاریوں میں ناکام رہا، ان سے اللہ خوش ہو گیا کیونکہ انہوں نے اس کی خوشی کا کام انجام دیا تھا اللہ تعالیٰ بڑے فضل و کرم والا ہے۔
صفحہ نمبر1402
ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ نعمت تو یہ تھی کہ وہ سلامت رہے اور فضل یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کے ایک قافلہ سے مال خرید لیا جس میں بہت ہی نفع ہوا اور اس کل نفع کو آپ نے اپنے ساتھیوں میں تقسیم فرما دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:318/3:ضعیف]
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوسفیان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اب وعدے کی جگہ بدر ہے آپ نے فرمایا ممکن ہے چنانچہ وہاں پہنچے تو یہ ڈرپوک آیا ہی نہیں وہاں بازار کا دن تھا مال خرید لیا جو نفع سے بکا اسی کا نام غزوہ بدر صغریٰ ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8238:مرسل ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ یہ شیطان تھا جو اپنے دوستوں کے ذریعہ تمہیں دھمکا رہا تھا اور گیدڑ بھبکیاں دے رہا تمہیں چاہیئے کہ ان سے نہ ڈرو صرف میرا ہی خوف دل میں رکھو کیونکہ ایمان داری کی یہی شرط ہے کہ جب کوئی ڈرائے دھمکائے اور دینی امور سے تمہیں باز رکھنا چاہیئے تو مسلمان اللہ پر بھروسہ کرے اس کی طرف سمٹ جائے اور یقین مانے کہ کافی اور ناصر وہی ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ» [39-الزمر:36] ، کیا اللہ جل شانہ اپنے بندوں کو کافی نہیں یہ لوگ تجھے اس کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں [ یہاں تک کہ فرمایا ] تو کہہ کہ «قُلْ حَسْبِيَ اللَّـهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ» مجھے اللہ کافی ہے توکل کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔
صفحہ نمبر1403
اور جگہ فرمایا «فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا» اولیاء شیطان سے لڑو۔ [4-النساء:76] شیطان کا مکر بڑا بودا ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے یہ شیطانی لشکر ہے یاد رکھو شیطانی لشکر ہی گھاٹے اور خسارے میں ہے۔
اور جگہ ارشاد ہے آیت «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ، اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ غلبہ یقیناً مجھے اور میرے رسولوں کو ہی ہو گا اللہ قوی اور عزیز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت «وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [22-الحج:40] جو اللہ کی مدد کرے گا اس کی امداد فرمائے گا، اللہ قوی اور عزیز ہے۔
اور فرمان ہے «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ» [47-محمد:7] ، اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری بھی مدد کرے گا۔
اور آیت میں ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:52-51 ] ، بالیقین ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان داروں کی مدد دینا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے جس دن ظالموں کو عذر معذرت نفع نہ دے گی ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے۔
صفحہ نمبر1404
مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عوام ٭٭
چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بے حد مشفق و مہربان تھے اس لیے کفار کی بے راہ روی آپ پر گراں گزرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لیے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لیے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے لیے المناک عذاب مہیا کر رہے ہیں۔
صفحہ نمبر1411
پھر اللہ تعالیٰ کافروں کا اللہ کے مہلت دینے پر اترانا بیان فرماتے ہیں ارشاد ہے۔ آیت «اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:55] ، یعنی کیا کفار کا یہ گمان ہے کہ ان کے مال و اولاد کی زیادتی ہماری طرف سے ان کی خیریت کی دلیل ہے؟ نہیں بلکہ وہ بے شعور ہیں اور فرمایا «فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ» [68-القلم:44] ، یعنی مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ پکڑیں گے کہ انہیں علم بھی نہ ہو۔
اور ارشاد ہے «وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [9-التوبة:85] ، یعنی ان کے مال اور اولاد سے کہیں تم دھوکے میں نہ پڑ جانا اللہ انہیں ان کے باعث دنیا میں بھی عذاب کرنا چاہتا ہے اور کفر پر ہی ان کی جان جائے گی
پھر فرماتا ہے کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ بعض احکام اور بعض امتحانات سے اللہ جانچ لے گا اور ظاہر کر دے گا کہ اس کا دوست کون ہے؟ اور اس کا دشمن کون ہے؟ مومن صابر اور منافق فاجر بالکل الگ الگ ہو جائیں گے اور صاف نظر آنے لگیں گے۔ اس سے مراد احد کی جنگ کا دن ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] جس میں ایمانداروں کا صبرو استقامت پختگی اور توکل فرمانبرداری اور اطاعت شعاری اور منافقین کی بے صبری اور مخالفت، تکذیب اور ناموافقت، انکار اور خیانت صاف ظاہر ہو گئی، غرض جہاد کا حکم ہجرت کا حکم دونوں گویا ایک آزمائش تھی جس نے بھلے برے میں تمیز کر دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا تھا اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو ذرا بتائیں تو کہ ہم میں سے سچا مومن کون ہے اور کون نہیں؟ اس پر آیت «مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ» [3-آل عمران:179] نازل ہوئی [ ابن جریر ] ۔
صفحہ نمبر1412
پھر فرمان ہے اللہ کے علم غیب کو تم نہیں جان سکتے ہاں وہ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ مومن اور منافق میں صاف تمیز ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے پسندیدہ کر لیتا ہے، جیسے فرمان ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا» [72-الجن:26] اللہ عالم الغیب ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر جس رسول کو پسند کر لے اس کے بھی آگے پیچھے نگہبان فرشتوں کو چلاتا رہتا ہے۔
پھر فرمایا اللہ پر اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ یعنی اطاعت کرو شریعت کے پابند رہو یاد رکھو ایمان اور تقوے میں تمہارے لیے اجر عظیم ہے۔
صفحہ نمبر1413
خزانہ اور کوڑھی سانپ ٭٭
پھر ارشاد ہے کہ بخیل شخص اپنے مال کو اپنے لیے بہتر نہ سمجھے وہ تو اس کے لیے سخت خطرناک چیز ہے، دین میں تو معیوب ہے ہی لیکن بسا اوقات دینوی طور پر بھی اس کا انجام اور نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکم ہے کہ بخیل کے مال کا قیامت کے دن اسے طوق ڈالا جائے گا۔
صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اس کا مال قیمت کے دن گنجا سانپ بن کر جس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے طوق کی طرح اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور اس کی باچھوں کو چیرتا رہے گا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اسی آیت «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَيْرًا لَّھُمْ» [3-آل عمران:180] کی تلاوت فرمائی۔ [صحیح بخاری:4565]
صفحہ نمبر1414
مسند احمد کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ یہ بھاگتا پھرے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا پھر اسے پکڑ کر طوق کی طرح لپٹ جائے گا اور کاٹتا رہے گا۔ [سنن ترمذي:3012،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند ابو یعلیٰ میں ہے جو شخص اپنے پیچھے خزانہ چھوڑ کر مرے وہ خزانہ ایک کوڑھی سانپ کی صورت میں جس کی دو آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ان کے پیچھے دوڑے گا یہ بھاگے گا اور کہے گا تو کون ہے؟ یہ کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ کر مرا تھا یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی، [مستدرک حاکم:388/1:جید الاسناد]
طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے اپنی حاجت طلب کرے اور وہ باوجود گنجائش ہونے کے نہ دے اس کے لیے قیامت کے دن زہریلا اژدہا پھن سے پھنکارتا ہوا بلایا جائے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8284:حسن بالشواھد]
دوسری روایت میں ہے کہ جو رشتہ دار محتاج اپنے مالدار رشتہ دار سے سوال کرے اور یہ اسے نہ دے اس کی سزا یہ ہو گی اور وہ سانپ اس کے گلے کا ہار بن جائے گا [تفسیر ابن جریر الطبری:8281:موقوف صحیح] [ ابن جریر ]
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اہل کتاب جو اپنی کتاب کے احکامات کو دوسروں تک پہنچانے میں بخل کرتے تھے ان کی سزا کا بیان اس آیت میں ہو رہا ہے، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے گو یہ قول بھی آیت کے عموم میں داخل ہے بلکہ یہ بطور اولیٰ داخل ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے اس نے جو تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے اس کے نام خرچ کرو تمام کاموں کا مرجع اسی کی طرف ہے سخاوت کرو تاکہ اس دن کام آئے اور خیال رکھو کہ تمہاری نیتوں اور دلی ارادوں اور کل اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے۔
صفحہ نمبر1415
مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عوام ٭٭
چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بے حد مشفق و مہربان تھے اس لیے کفار کی بے راہ روی آپ پر گراں گزرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لیے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لیے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے لیے المناک عذاب مہیا کر رہے ہیں۔
صفحہ نمبر1411
پھر اللہ تعالیٰ کافروں کا اللہ کے مہلت دینے پر اترانا بیان فرماتے ہیں ارشاد ہے۔ آیت «اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:55] ، یعنی کیا کفار کا یہ گمان ہے کہ ان کے مال و اولاد کی زیادتی ہماری طرف سے ان کی خیریت کی دلیل ہے؟ نہیں بلکہ وہ بے شعور ہیں اور فرمایا «فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ» [68-القلم:44] ، یعنی مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ پکڑیں گے کہ انہیں علم بھی نہ ہو۔
اور ارشاد ہے «وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [9-التوبة:85] ، یعنی ان کے مال اور اولاد سے کہیں تم دھوکے میں نہ پڑ جانا اللہ انہیں ان کے باعث دنیا میں بھی عذاب کرنا چاہتا ہے اور کفر پر ہی ان کی جان جائے گی
پھر فرماتا ہے کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ بعض احکام اور بعض امتحانات سے اللہ جانچ لے گا اور ظاہر کر دے گا کہ اس کا دوست کون ہے؟ اور اس کا دشمن کون ہے؟ مومن صابر اور منافق فاجر بالکل الگ الگ ہو جائیں گے اور صاف نظر آنے لگیں گے۔ اس سے مراد احد کی جنگ کا دن ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] جس میں ایمانداروں کا صبرو استقامت پختگی اور توکل فرمانبرداری اور اطاعت شعاری اور منافقین کی بے صبری اور مخالفت، تکذیب اور ناموافقت، انکار اور خیانت صاف ظاہر ہو گئی، غرض جہاد کا حکم ہجرت کا حکم دونوں گویا ایک آزمائش تھی جس نے بھلے برے میں تمیز کر دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا تھا اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو ذرا بتائیں تو کہ ہم میں سے سچا مومن کون ہے اور کون نہیں؟ اس پر آیت «مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ» [3-آل عمران:179] نازل ہوئی [ ابن جریر ] ۔
صفحہ نمبر1412
پھر فرمان ہے اللہ کے علم غیب کو تم نہیں جان سکتے ہاں وہ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ مومن اور منافق میں صاف تمیز ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے پسندیدہ کر لیتا ہے، جیسے فرمان ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا» [72-الجن:26] اللہ عالم الغیب ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر جس رسول کو پسند کر لے اس کے بھی آگے پیچھے نگہبان فرشتوں کو چلاتا رہتا ہے۔
پھر فرمایا اللہ پر اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ یعنی اطاعت کرو شریعت کے پابند رہو یاد رکھو ایمان اور تقوے میں تمہارے لیے اجر عظیم ہے۔
صفحہ نمبر1413
خزانہ اور کوڑھی سانپ ٭٭
پھر ارشاد ہے کہ بخیل شخص اپنے مال کو اپنے لیے بہتر نہ سمجھے وہ تو اس کے لیے سخت خطرناک چیز ہے، دین میں تو معیوب ہے ہی لیکن بسا اوقات دینوی طور پر بھی اس کا انجام اور نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکم ہے کہ بخیل کے مال کا قیامت کے دن اسے طوق ڈالا جائے گا۔
صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اس کا مال قیمت کے دن گنجا سانپ بن کر جس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے طوق کی طرح اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور اس کی باچھوں کو چیرتا رہے گا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اسی آیت «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَيْرًا لَّھُمْ» [3-آل عمران:180] کی تلاوت فرمائی۔ [صحیح بخاری:4565]
صفحہ نمبر1414
مسند احمد کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ یہ بھاگتا پھرے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا پھر اسے پکڑ کر طوق کی طرح لپٹ جائے گا اور کاٹتا رہے گا۔ [سنن ترمذي:3012،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند ابو یعلیٰ میں ہے جو شخص اپنے پیچھے خزانہ چھوڑ کر مرے وہ خزانہ ایک کوڑھی سانپ کی صورت میں جس کی دو آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ان کے پیچھے دوڑے گا یہ بھاگے گا اور کہے گا تو کون ہے؟ یہ کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ کر مرا تھا یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی، [مستدرک حاکم:388/1:جید الاسناد]
طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے اپنی حاجت طلب کرے اور وہ باوجود گنجائش ہونے کے نہ دے اس کے لیے قیامت کے دن زہریلا اژدہا پھن سے پھنکارتا ہوا بلایا جائے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8284:حسن بالشواھد]
دوسری روایت میں ہے کہ جو رشتہ دار محتاج اپنے مالدار رشتہ دار سے سوال کرے اور یہ اسے نہ دے اس کی سزا یہ ہو گی اور وہ سانپ اس کے گلے کا ہار بن جائے گا [تفسیر ابن جریر الطبری:8281:موقوف صحیح] [ ابن جریر ]
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اہل کتاب جو اپنی کتاب کے احکامات کو دوسروں تک پہنچانے میں بخل کرتے تھے ان کی سزا کا بیان اس آیت میں ہو رہا ہے، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے گو یہ قول بھی آیت کے عموم میں داخل ہے بلکہ یہ بطور اولیٰ داخل ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے اس نے جو تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے اس کے نام خرچ کرو تمام کاموں کا مرجع اسی کی طرف ہے سخاوت کرو تاکہ اس دن کام آئے اور خیال رکھو کہ تمہاری نیتوں اور دلی ارادوں اور کل اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے۔
صفحہ نمبر1415
مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عوام ٭٭
چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بے حد مشفق و مہربان تھے اس لیے کفار کی بے راہ روی آپ پر گراں گزرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لیے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لیے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے لیے المناک عذاب مہیا کر رہے ہیں۔
صفحہ نمبر1411
پھر اللہ تعالیٰ کافروں کا اللہ کے مہلت دینے پر اترانا بیان فرماتے ہیں ارشاد ہے۔ آیت «اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:55] ، یعنی کیا کفار کا یہ گمان ہے کہ ان کے مال و اولاد کی زیادتی ہماری طرف سے ان کی خیریت کی دلیل ہے؟ نہیں بلکہ وہ بے شعور ہیں اور فرمایا «فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ» [68-القلم:44] ، یعنی مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ پکڑیں گے کہ انہیں علم بھی نہ ہو۔
اور ارشاد ہے «وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [9-التوبة:85] ، یعنی ان کے مال اور اولاد سے کہیں تم دھوکے میں نہ پڑ جانا اللہ انہیں ان کے باعث دنیا میں بھی عذاب کرنا چاہتا ہے اور کفر پر ہی ان کی جان جائے گی
پھر فرماتا ہے کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ بعض احکام اور بعض امتحانات سے اللہ جانچ لے گا اور ظاہر کر دے گا کہ اس کا دوست کون ہے؟ اور اس کا دشمن کون ہے؟ مومن صابر اور منافق فاجر بالکل الگ الگ ہو جائیں گے اور صاف نظر آنے لگیں گے۔ اس سے مراد احد کی جنگ کا دن ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] جس میں ایمانداروں کا صبرو استقامت پختگی اور توکل فرمانبرداری اور اطاعت شعاری اور منافقین کی بے صبری اور مخالفت، تکذیب اور ناموافقت، انکار اور خیانت صاف ظاہر ہو گئی، غرض جہاد کا حکم ہجرت کا حکم دونوں گویا ایک آزمائش تھی جس نے بھلے برے میں تمیز کر دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا تھا اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو ذرا بتائیں تو کہ ہم میں سے سچا مومن کون ہے اور کون نہیں؟ اس پر آیت «مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ» [3-آل عمران:179] نازل ہوئی [ ابن جریر ] ۔
صفحہ نمبر1412
پھر فرمان ہے اللہ کے علم غیب کو تم نہیں جان سکتے ہاں وہ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ مومن اور منافق میں صاف تمیز ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے پسندیدہ کر لیتا ہے، جیسے فرمان ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا» [72-الجن:26] اللہ عالم الغیب ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر جس رسول کو پسند کر لے اس کے بھی آگے پیچھے نگہبان فرشتوں کو چلاتا رہتا ہے۔
پھر فرمایا اللہ پر اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ یعنی اطاعت کرو شریعت کے پابند رہو یاد رکھو ایمان اور تقوے میں تمہارے لیے اجر عظیم ہے۔
صفحہ نمبر1413
خزانہ اور کوڑھی سانپ ٭٭
پھر ارشاد ہے کہ بخیل شخص اپنے مال کو اپنے لیے بہتر نہ سمجھے وہ تو اس کے لیے سخت خطرناک چیز ہے، دین میں تو معیوب ہے ہی لیکن بسا اوقات دینوی طور پر بھی اس کا انجام اور نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکم ہے کہ بخیل کے مال کا قیامت کے دن اسے طوق ڈالا جائے گا۔
صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اس کا مال قیمت کے دن گنجا سانپ بن کر جس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے طوق کی طرح اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور اس کی باچھوں کو چیرتا رہے گا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اسی آیت «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَيْرًا لَّھُمْ» [3-آل عمران:180] کی تلاوت فرمائی۔ [صحیح بخاری:4565]
صفحہ نمبر1414
مسند احمد کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ یہ بھاگتا پھرے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا پھر اسے پکڑ کر طوق کی طرح لپٹ جائے گا اور کاٹتا رہے گا۔ [سنن ترمذي:3012،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند ابو یعلیٰ میں ہے جو شخص اپنے پیچھے خزانہ چھوڑ کر مرے وہ خزانہ ایک کوڑھی سانپ کی صورت میں جس کی دو آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ان کے پیچھے دوڑے گا یہ بھاگے گا اور کہے گا تو کون ہے؟ یہ کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ کر مرا تھا یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی، [مستدرک حاکم:388/1:جید الاسناد]
طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے اپنی حاجت طلب کرے اور وہ باوجود گنجائش ہونے کے نہ دے اس کے لیے قیامت کے دن زہریلا اژدہا پھن سے پھنکارتا ہوا بلایا جائے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8284:حسن بالشواھد]
دوسری روایت میں ہے کہ جو رشتہ دار محتاج اپنے مالدار رشتہ دار سے سوال کرے اور یہ اسے نہ دے اس کی سزا یہ ہو گی اور وہ سانپ اس کے گلے کا ہار بن جائے گا [تفسیر ابن جریر الطبری:8281:موقوف صحیح] [ ابن جریر ]
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اہل کتاب جو اپنی کتاب کے احکامات کو دوسروں تک پہنچانے میں بخل کرتے تھے ان کی سزا کا بیان اس آیت میں ہو رہا ہے، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے گو یہ قول بھی آیت کے عموم میں داخل ہے بلکہ یہ بطور اولیٰ داخل ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے اس نے جو تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے اس کے نام خرچ کرو تمام کاموں کا مرجع اسی کی طرف ہے سخاوت کرو تاکہ اس دن کام آئے اور خیال رکھو کہ تمہاری نیتوں اور دلی ارادوں اور کل اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے۔
صفحہ نمبر1415
مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عوام ٭٭
چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بے حد مشفق و مہربان تھے اس لیے کفار کی بے راہ روی آپ پر گراں گزرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لیے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لیے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے لیے المناک عذاب مہیا کر رہے ہیں۔
صفحہ نمبر1411
پھر اللہ تعالیٰ کافروں کا اللہ کے مہلت دینے پر اترانا بیان فرماتے ہیں ارشاد ہے۔ آیت «اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:55] ، یعنی کیا کفار کا یہ گمان ہے کہ ان کے مال و اولاد کی زیادتی ہماری طرف سے ان کی خیریت کی دلیل ہے؟ نہیں بلکہ وہ بے شعور ہیں اور فرمایا «فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ» [68-القلم:44] ، یعنی مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ پکڑیں گے کہ انہیں علم بھی نہ ہو۔
اور ارشاد ہے «وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [9-التوبة:85] ، یعنی ان کے مال اور اولاد سے کہیں تم دھوکے میں نہ پڑ جانا اللہ انہیں ان کے باعث دنیا میں بھی عذاب کرنا چاہتا ہے اور کفر پر ہی ان کی جان جائے گی
پھر فرماتا ہے کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ بعض احکام اور بعض امتحانات سے اللہ جانچ لے گا اور ظاہر کر دے گا کہ اس کا دوست کون ہے؟ اور اس کا دشمن کون ہے؟ مومن صابر اور منافق فاجر بالکل الگ الگ ہو جائیں گے اور صاف نظر آنے لگیں گے۔ اس سے مراد احد کی جنگ کا دن ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] جس میں ایمانداروں کا صبرو استقامت پختگی اور توکل فرمانبرداری اور اطاعت شعاری اور منافقین کی بے صبری اور مخالفت، تکذیب اور ناموافقت، انکار اور خیانت صاف ظاہر ہو گئی، غرض جہاد کا حکم ہجرت کا حکم دونوں گویا ایک آزمائش تھی جس نے بھلے برے میں تمیز کر دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا تھا اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو ذرا بتائیں تو کہ ہم میں سے سچا مومن کون ہے اور کون نہیں؟ اس پر آیت «مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ» [3-آل عمران:179] نازل ہوئی [ ابن جریر ] ۔
صفحہ نمبر1412
پھر فرمان ہے اللہ کے علم غیب کو تم نہیں جان سکتے ہاں وہ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ مومن اور منافق میں صاف تمیز ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے پسندیدہ کر لیتا ہے، جیسے فرمان ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا» [72-الجن:26] اللہ عالم الغیب ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر جس رسول کو پسند کر لے اس کے بھی آگے پیچھے نگہبان فرشتوں کو چلاتا رہتا ہے۔
پھر فرمایا اللہ پر اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ یعنی اطاعت کرو شریعت کے پابند رہو یاد رکھو ایمان اور تقوے میں تمہارے لیے اجر عظیم ہے۔
صفحہ نمبر1413
خزانہ اور کوڑھی سانپ ٭٭
پھر ارشاد ہے کہ بخیل شخص اپنے مال کو اپنے لیے بہتر نہ سمجھے وہ تو اس کے لیے سخت خطرناک چیز ہے، دین میں تو معیوب ہے ہی لیکن بسا اوقات دینوی طور پر بھی اس کا انجام اور نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکم ہے کہ بخیل کے مال کا قیامت کے دن اسے طوق ڈالا جائے گا۔
صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اس کا مال قیمت کے دن گنجا سانپ بن کر جس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے طوق کی طرح اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور اس کی باچھوں کو چیرتا رہے گا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اسی آیت «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَيْرًا لَّھُمْ» [3-آل عمران:180] کی تلاوت فرمائی۔ [صحیح بخاری:4565]
صفحہ نمبر1414
مسند احمد کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ یہ بھاگتا پھرے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا پھر اسے پکڑ کر طوق کی طرح لپٹ جائے گا اور کاٹتا رہے گا۔ [سنن ترمذي:3012،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند ابو یعلیٰ میں ہے جو شخص اپنے پیچھے خزانہ چھوڑ کر مرے وہ خزانہ ایک کوڑھی سانپ کی صورت میں جس کی دو آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ان کے پیچھے دوڑے گا یہ بھاگے گا اور کہے گا تو کون ہے؟ یہ کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ کر مرا تھا یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی، [مستدرک حاکم:388/1:جید الاسناد]
طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے اپنی حاجت طلب کرے اور وہ باوجود گنجائش ہونے کے نہ دے اس کے لیے قیامت کے دن زہریلا اژدہا پھن سے پھنکارتا ہوا بلایا جائے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8284:حسن بالشواھد]
دوسری روایت میں ہے کہ جو رشتہ دار محتاج اپنے مالدار رشتہ دار سے سوال کرے اور یہ اسے نہ دے اس کی سزا یہ ہو گی اور وہ سانپ اس کے گلے کا ہار بن جائے گا [تفسیر ابن جریر الطبری:8281:موقوف صحیح] [ ابن جریر ]
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اہل کتاب جو اپنی کتاب کے احکامات کو دوسروں تک پہنچانے میں بخل کرتے تھے ان کی سزا کا بیان اس آیت میں ہو رہا ہے، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے گو یہ قول بھی آیت کے عموم میں داخل ہے بلکہ یہ بطور اولیٰ داخل ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے اس نے جو تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے اس کے نام خرچ کرو تمام کاموں کا مرجع اسی کی طرف ہے سخاوت کرو تاکہ اس دن کام آئے اور خیال رکھو کہ تمہاری نیتوں اور دلی ارادوں اور کل اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے۔
صفحہ نمبر1415
مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عوام ٭٭
چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بے حد مشفق و مہربان تھے اس لیے کفار کی بے راہ روی آپ پر گراں گزرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے رہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لیے جناب باری آپ کو اس سے روکتا ہے اور فرماتا ہے حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے ہیں اور اپنے لیے بہت بڑے عذابوں کو تیار کر رہے ہیں ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا آپ ان پر غم نہ کریں۔ پھر فرمایا میرے ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور اپنے لیے المناک عذاب مہیا کر رہے ہیں۔
صفحہ نمبر1411
پھر اللہ تعالیٰ کافروں کا اللہ کے مہلت دینے پر اترانا بیان فرماتے ہیں ارشاد ہے۔ آیت «اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لَّا يَشْعُرُونَ» [23-المؤمنون:55] ، یعنی کیا کفار کا یہ گمان ہے کہ ان کے مال و اولاد کی زیادتی ہماری طرف سے ان کی خیریت کی دلیل ہے؟ نہیں بلکہ وہ بے شعور ہیں اور فرمایا «فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ» [68-القلم:44] ، یعنی مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ پکڑیں گے کہ انہیں علم بھی نہ ہو۔
اور ارشاد ہے «وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» [9-التوبة:85] ، یعنی ان کے مال اور اولاد سے کہیں تم دھوکے میں نہ پڑ جانا اللہ انہیں ان کے باعث دنیا میں بھی عذاب کرنا چاہتا ہے اور کفر پر ہی ان کی جان جائے گی
پھر فرماتا ہے کہ یہ طے شدہ امر ہے کہ بعض احکام اور بعض امتحانات سے اللہ جانچ لے گا اور ظاہر کر دے گا کہ اس کا دوست کون ہے؟ اور اس کا دشمن کون ہے؟ مومن صابر اور منافق فاجر بالکل الگ الگ ہو جائیں گے اور صاف نظر آنے لگیں گے۔ اس سے مراد احد کی جنگ کا دن ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] جس میں ایمانداروں کا صبرو استقامت پختگی اور توکل فرمانبرداری اور اطاعت شعاری اور منافقین کی بے صبری اور مخالفت، تکذیب اور ناموافقت، انکار اور خیانت صاف ظاہر ہو گئی، غرض جہاد کا حکم ہجرت کا حکم دونوں گویا ایک آزمائش تھی جس نے بھلے برے میں تمیز کر دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:424/7] سیدنا سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا تھا اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو ذرا بتائیں تو کہ ہم میں سے سچا مومن کون ہے اور کون نہیں؟ اس پر آیت «مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ» [3-آل عمران:179] نازل ہوئی [ ابن جریر ] ۔
صفحہ نمبر1412
پھر فرمان ہے اللہ کے علم غیب کو تم نہیں جان سکتے ہاں وہ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ مومن اور منافق میں صاف تمیز ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے پسندیدہ کر لیتا ہے، جیسے فرمان ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا» [72-الجن:26] اللہ عالم الغیب ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر جس رسول کو پسند کر لے اس کے بھی آگے پیچھے نگہبان فرشتوں کو چلاتا رہتا ہے۔
پھر فرمایا اللہ پر اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ یعنی اطاعت کرو شریعت کے پابند رہو یاد رکھو ایمان اور تقوے میں تمہارے لیے اجر عظیم ہے۔
صفحہ نمبر1413
خزانہ اور کوڑھی سانپ ٭٭
پھر ارشاد ہے کہ بخیل شخص اپنے مال کو اپنے لیے بہتر نہ سمجھے وہ تو اس کے لیے سخت خطرناک چیز ہے، دین میں تو معیوب ہے ہی لیکن بسا اوقات دینوی طور پر بھی اس کا انجام اور نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکم ہے کہ بخیل کے مال کا قیامت کے دن اسے طوق ڈالا جائے گا۔
صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اس کا مال قیمت کے دن گنجا سانپ بن کر جس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے طوق کی طرح اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور اس کی باچھوں کو چیرتا رہے گا اور کہتا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اسی آیت «وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ھُوَ خَيْرًا لَّھُمْ» [3-آل عمران:180] کی تلاوت فرمائی۔ [صحیح بخاری:4565]
صفحہ نمبر1414
مسند احمد کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ یہ بھاگتا پھرے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے دوڑے گا پھر اسے پکڑ کر طوق کی طرح لپٹ جائے گا اور کاٹتا رہے گا۔ [سنن ترمذي:3012،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند ابو یعلیٰ میں ہے جو شخص اپنے پیچھے خزانہ چھوڑ کر مرے وہ خزانہ ایک کوڑھی سانپ کی صورت میں جس کی دو آنکھوں پر دو نقطے ہوں گے ان کے پیچھے دوڑے گا یہ بھاگے گا اور کہے گا تو کون ہے؟ یہ کہے گا میں تیرا خزانہ ہوں جسے تو اپنے پیچھے چھوڑ کر مرا تھا یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی، [مستدرک حاکم:388/1:جید الاسناد]
طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے اپنی حاجت طلب کرے اور وہ باوجود گنجائش ہونے کے نہ دے اس کے لیے قیامت کے دن زہریلا اژدہا پھن سے پھنکارتا ہوا بلایا جائے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:8284:حسن بالشواھد]
دوسری روایت میں ہے کہ جو رشتہ دار محتاج اپنے مالدار رشتہ دار سے سوال کرے اور یہ اسے نہ دے اس کی سزا یہ ہو گی اور وہ سانپ اس کے گلے کا ہار بن جائے گا [تفسیر ابن جریر الطبری:8281:موقوف صحیح] [ ابن جریر ]
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اہل کتاب جو اپنی کتاب کے احکامات کو دوسروں تک پہنچانے میں بخل کرتے تھے ان کی سزا کا بیان اس آیت میں ہو رہا ہے، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے گو یہ قول بھی آیت کے عموم میں داخل ہے بلکہ یہ بطور اولیٰ داخل ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے اس نے جو تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے اس کے نام خرچ کرو تمام کاموں کا مرجع اسی کی طرف ہے سخاوت کرو تاکہ اس دن کام آئے اور خیال رکھو کہ تمہاری نیتوں اور دلی ارادوں اور کل اعمال سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے۔
صفحہ نمبر1415