Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Aal-i-Imraan
Tafsir Ibn Kathir · The Family of Imraan · 200 ayat · ayat 91–120 · Quran text →
جب سانس ختم ہونے کو ہوں تو توبہ قبول نہیں ہو گی ٭٭
ایمان کے بعد پھر اسی کفر پر مرنے والوں کو پروردگار عالم ڈرا رہا ہے کہ موت کے وقت تمہاری توبہ قبول نہیں ہو گی جیسے اور جگہ ہے «وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْــٰٔنَ وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ اُولٰىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا» [4-النساء:18] آخر دم تک یعنی موت کے وقت تک گناہوں میں مبتلا رہنے والے موت کو دیکھ کر جو توبہ کریں وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں اور یہی یہاں ہے کہ ان کی توبہ ہرگز مقبول نہ ہو گی اور یہی لوگ وہ ہیں جو راہ حق سے بھٹک کر باطل راہ پر لگ گئے،
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ مسلمان ہوئے پھر مرتد ہو گئے پھر اسلام لائے پھر مرتد ہو گئے پھر اپنی قوم کے پاس آدمی بھیج کر بچھوایا کہ کیا اب ہماری توبہ ہے؟ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اس پر یہ آیت اتری [ بزار ] اس کی اسناد بہت عمدہ ہے۔
صفحہ نمبر1188
پھر فرماتا ہے کہ کفر پر مرنے والوں کی کوئی نیکی قبول نہیں گو اس نے زمین بھر کر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ عبداللہ بن جدعان جو بڑا مہمان نواز غلام آزاد کرنے والا اور کھانا پینا دینے والا شخص تھا کیا اسے اس کی یہ نیکی کام آئے گی؟ تو آپ نے فرمایا نہیں اس نے ساری عمر میں ایک دفعہ بھی «رَبِّ اغْفِر لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّين» نہیں کہا [صحیح مسلم:214] یعنی اے میرے رب میری خطاؤں کو قیامت والے دن بخش جس طرح اس کی خیرات نامقبول ہے اسی طرح فدیہ اور معاوضہ بھی،
جیسے اور جگہ ہے «وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ» [2-البقرة:123] ان سے نہ بدلہ مقبول نہ انہیں سفارش کا نفع
اور فرمایا «لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌ» [14-إبراهيم:31] اس دن نہ خرید فروخت نہ موت و محبت اور جگہ ارشاد ہے «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [5-المائدة:36] یعنی اگر کافروں کے پاس زمین میں جو کچھ ہے اور اتنا ہی اور بھی ہو پھر وہ اس سب کو قیامت کے عذابوں کے بدلے فدیہ دیں تو بھی نامقبول ہے ان تکلیف والے الم ناک عذابوں کو سہنا پڑے گا،
یہی مضمون یہاں بھی بیان فرمایا گیا ہے بعض نے «وَلَوِ افْتَدَى» کی واؤ کو زائد کہا ہے لیکن واؤ کو عطف کی ماننا اور وہ تفسیر کرنا جو ہم نے کی بہت بہتر ہے واللہ اعلم،
پس ثابت ہوا کہ اللہ کے عذاب سے کفار کو کوئی چیز نہیں چھڑا سکتی چاہے وہ بڑے نیک اور نہایت سخی ہوں گو زمین بھربھر کر سونا راہ اللہ لٹائیں یا پہاڑوں اور ٹیلوں کی مٹی اور ریت نرم زمین اور سخت زمین کی خشکی اور تری کے ہم وزن سونا عذاب کے بدلے دینا چاہیں یا دیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جہنمی سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ زمین پر جو کچھ ہے اگر تیرا ہو جائے تو کیا تو اس کو ان سزاؤں کے بدلے اپنے فدیے میں دے ڈالے گا۔ وہ کہے گا ہاں تو جناب باری کا ارشاد ہو گا کہ میں نے تجھ سے بہ نسبت اس کے بہت ہی کم چاہا تھا، میں نے تجھ سے اس وقت وعدہ لیا تھا جب تو اپنے باپ آدم علیہ السلام کی پیٹھ میں تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شرک نہ بنانا لیکن تو شرک کئے بغیر نہ رہا۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی دوسری سند کے ساتھ ہے۔ [صحیح بخاری:3334]
صفحہ نمبر1189
مسند احمد کی ایک اور حدیث میں ہے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ایسے جنتی کو لایا جائے گا جس سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہو تم نے کیسی جگہ پائی؟ وہ جواب دے گا اللہ بہت ہی بہتر۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا اور کچھ مانگنا ہو تو مانگو دل میں جو تمنا ہو کہو تو یہ کہے گا باری تعالیٰ میری صرف یہی تمنا ہے اور میرا یہی ایک سوال ہے کہ مجھے دنیا میں پھر بھیج دیا جائے میں تیری راہ میں جہاد کروں اور پھر شہید کیا جاؤں پھر زندہ ہو جاؤں پھر شہید کیا جاؤں دس مرتبہ ایسا ہی ہو کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت اور شہید کے مرتبے دیکھ چکا ہو گا اسی طرح ایک جہنمی کو بلایا جائے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے ابن آدم تو نے اپنی جگہ کیسی پائی؟ وہ کہے گا اللہ بہت ہی بری۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا ساری زمین بھر کر سونا دے کر ان عذابوں سے چھوٹنا تجھے پسند ہے؟ وہ کہے گا ہاں اے باری تعالیٰ اس وقت جناب باری تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹا ہے میں نے تو اس سے بہت ہی کم اور بالکل آسان چیز تجھ سے طلب کی تھی لیکن تو نے اسے بھی نہ کیا چنانچہ وہ جہنم میں بھیج دیا جائے گا، [مسند احمد:207/3:صحیح] پس یہاں فرمایا ان کے لیے تکلیف دہ عذاب ہیں اور ایسا نہیں جو ان عذابوں سے اپنے آپ کو چھڑا سکے یا کوئی ان کی کس طرح مدد کر سکے [ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عذاب سے نجات دے۔ آمین ]
صفحہ نمبر1190
سب سے زیادہ پیاری چیز اور صدقہ ٭٭
سیدنا عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «بر» سے مراد جنت ہے، یعنی اگر تم اپنی پسند کی چیزیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرتے رہو گے تو تمہیں جنت ملے گی، مسند احمد میں ہے کہ ابوطلحہ مالدار صحابی تھے مسجد کے سامنے ہی بیئرحاء نامی آپ کا ایک باغ تھا جس میں کبھی کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے جایا کرتے تھے اور یہاں کا خوش ذائقہ پانی پیا کرتے تھے جب یہ آیت اتری تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ میرا تو سب سے زیادہ پیارا مال یہی باغ ہے میں آپ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کیا اللہ تعالیٰ مجھے بھلائی عطا فرمائے اور اپنے پاس اسے میرے لیے ذخیرہ کرے آپ کو اختیار ہے جس طرح چاہیں اسے تقسیم کر دیں آپ بہت ہی خوش ہوئے اور فرمانے لگے مسلمانوں کو اس سے بہت فائدہ پہنچے گا تم اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کر دو چنانچہ ابوطلحہ نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں بانٹ دیا، [صحیح بخاری:1461]
بخاری و مسلم میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی خدمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے تمام مال میں سب سے زیادہ مرغوب مال خیبر کی زمین کا حصہ ہے میں اسے راہ اللہ دینا چاہتا ہوں فرمائیے کیا کروں؟ آپ نے فرمایا اسے وقف کر دو اصل روک لو اور پھل وغیرہ راہ اللہ کر دو۔ [صحیح بخاری:2737]
مسند بزاز میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے اس آیت کی تلاوت کر کے سوچا تو مجھے کوئی چیز ایک کنیز سے زیادہ پیاری نہ تھی۔ میں نے اس لونڈی کو راہ للہ آزاد کر دیا، اب تک بھی میرے دل میں اس کی ایسی محبت ہے کہ اگر کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کے نام پردے کر پھر لوٹا لینا جائز ہو تو میں کم از کم اس سے نکاح کر لیتا۔
صفحہ نمبر1192
بارگاہ رسالت میں یہودی وفد ٭٭
مسند احمد میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ہم آپ سے چند سوال کرنا چاہتے ہیں جن کے جواب نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں آپ نے فرمایا پوچھو لیکن پہلے تم لوگ وعدہ کرو اگر میں صحیح صحیح جواب دے دوں تو تمہیں میری نبوت کے تسلیم کر لینے میں کوئی عذر نہ ہو گا انہوں نے اس شرط کو منظور کر لیا کہ اگر آپ نے سچے جواب دے تو ہم اسلام قبول کر لیں گے ساتھ ہی انہوں نے بڑی بڑی قسمیں بھی کھائیں پھر پوچھا کہ بتائیے۔ اسرائیل نے کیا چیز اپنے اوپر حرام کی تھی؟ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے؟ اور کیوں کبھی لڑکا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی؟ اور نبی امی کی نیند کیسی ہے؟ اور فرشتوں میں سے کون سا فرشتہ اس کے پاس وحی لے کر آتا ہے؟ آپ نے فرمایا جب اسرائیل سخت بیمار ہوئے تو نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے شفاء دے گا تو میں سب سے زیادہ پیاری چیز کھانے پینے کی چھوڑ دوں گا جب شفاء یاب ہو گئے تو اونٹ کا گوشت اور دودھ چھوڑ دیا، مرد کا پانی سفید رنگ اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زردی مائل پتلا ہوتا ہے دونوں سے جو اوپر آ جائے اس پر اولاد نر مادہ ہوتی ہے، اور شکل و شباہت میں بھی اسی پر جاتی ہے۔ اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند میں اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ میرے پاس وحی لے کر وہی فرشتہ آتا ہے جو تمام انبیاء کے پاس بھی آتا رہا یعنی جبرائیل علیہ السلام،
بس اس پر وہ چیخ اٹھے اور کہنے لگے کوئی اور فرشتہ آپ کا ولی ہوتا تو ہمیں آپ کی نبوت تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہ رہتا۔ ہر سوال کے جواب کے وقت آپ انہیں قسم دیتے اور ان سے دریافت فرماتے اور وہ اقرار کرتے کہ ہاں جواب صحیح ہے انہیں کے بارے میں آیت «قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ» [2-البقرة:97] ، نازل ہوئی- [مسند احمد:278/1:حسن بالشواھد]
صفحہ نمبر1193
اور روایت میں ہے کہ اسرائیل کو عرق النساء کی بیماری تھی اور اس میں ان کا ایک پانچواں سوال یہ بھی ہے کہ یہ رعد کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ عزوجل کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ جو بادلوں پر مقرر ہے اس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہے جس سے بادلوں کا جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہو لے جاتا ہے اور یہ گرج کی آواز اسی کی آواز ہے۔ جبرائیل علیہ السلام کا نام سن کر یہ کہنے لگے وہ تو عذاب اور جنگ وجدال کا فرشتہ ہے اور ہمارا دشمن ہے، اگر پیداوار اور بارش کے فرشتے میکائیل علیہ السلام آپ کے رفیق ہوتے تو ہم مان لیتے۔ [سنن ترمذي:3117،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا یعقوب علیہ السلام کی روش پر ان کی اولاد بھی رہی اور وہ بھی اونٹ کے گوشت سے پرہیز کرتی رہی، اس آیت کو اگلی آیت سے مناسبت ایک تو یہ ہے کہ جس طرح اسرائیل علیہ السلام نے اپنی چہیتی چیز اللہ کی نذر کر دی اسی طرح تم بھی کیا کرو۔ لیکن یعقوب علیہ السلام کی شریعت میں اس کا طریقہ یہ تھا کہ اپنی پسندیدہ اور مرغوب چیز کا نام اللہ پر ترک کر دیتے تھے اور ہماری شریعت میں یہ طریقہ نہیں بلکہ ہمیں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام پر خرچ کر دیا کریں، جیسے فرمایا آیت «وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ» [2-البقرة:177]
اور فرمایا آیت «وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا» [76-الإنسان:8] باوجود محبت اور چاہت کے وہ ہماری راہ میں مال خرچ کرتے اور مسکینوں کو کھانا دیتے ہیں،
دوسری مناسبت یہ بھی ہے کہ پہلی آیتوں میں نصرانیوں کی تردید تھی تو یہاں یہودیوں کا رد ہو رہا ہے ان کے رد میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا صحیح واقعہ بتا کر ان کے عقیدے کا رد کیا تھا، یہاں نسک کا صاف بیان کر کے ان کے باطل عقیدے کی تردید میں ارشاد ہو رہا ہے ان کی کتاب میں صاف موجود تھا جب سیدنا نوح علیہ السلام کشتی پر اترے تا ان پر تمام جانوروں کا کھانا حلال تھا پھر سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اونٹ کا گوشت اور دودھ اپنے اوپر حرام کر لیا تو ان کی اولاد بھی اسے حرام جانتی رہی چنانچہ توراۃ میں بھی اس کی حرمت نازل ہوئی، اسی طرح اور بھی بعض چیزیں حرام کی گئیں یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے؟
صفحہ نمبر1194
سیدنا آدم علیہ السلام کی صلبی اولاد کا آپس میں بہن بھائی کا نکاح ابتداء جائز ہوتا تھا لیکن بعد میں حرام کر دیا، عورتوں پر لونڈیوں سے نکاح کرنا شریعت ابراہیمی میں مباح تھا خود ابراہیم علیہ السلام سیدہ سارہ پر سیدہ ہاجرہ علیہما السلام کو لائے، لیکن پھر توراۃ میں اس سے روکا گیا، دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا سیدنا یعقوب علیہ السلام کے زمانہ میں جائز تھا بلکہ خود سیدنا یعقوب علیہ السلام کے گھر میں بیک وقت دو سگی بہنیں تھیں لیکن پھر توراۃ میں یہ حرام ہو گیا اسی کو نسخ کہتے ہیں
اسے وہ دیکھ رہے ہیں اپنی کتاب میں پڑھ رہے ہیں لیکن پھر نسخ کا انکار کر کے انجیل کو اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتے اور ان کے بعد ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں، تو یہاں فرمایا کہ توراۃ کے نازل ہونے سے پہلے تمام کھانے حلال تھے سوائے اس کے جسے اسرائیل علیہ السلام نے اپنی جان پر حرام کر لیا تھا تم توراۃ لاؤ اور پڑھو اس میں موجود ہے، پھر اس کے باوجود تمہاری یہ بہتان بازی اور افتراء پردازی کہ اللہ نے ہمارے لیے ہفتہ ہی کے دن کو ہمیشہ کے لیے عید کا دن مقرر کیا ہے اور ہم سے عہد لیا ہے کہ ہم ہمیشہ توراۃ ہی کے عامل رہیں اور کسی اور نبی کو نہ مانیں یہ کس قدر ظلم و ستم ہے، تمہاری یہ باتیں اور تمہاری یہ روش یقیناً تمہیں ظالم و جابر ٹھہراتی ہے۔
اللہ نے سچی خبر دے دی ابراہیمی دین وہی ہے جسے قرآن بیان کر رہا ہے تم اس کتاب اور اس نبی کی پیروی کرو ان سے اعلیٰ کوئی نبی ہے نہ اس سے بہتر اور زیادہ واضح کوئی اور شریعت ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت «قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ» [6-الأنعام:161] اے نبی تم کہ دو کہ مجھے میرے رب نے موحد ابراہیم حنیف کے مضبوط دین کی سیدھی راہ دکھا دی ہے۔
اور جگہ ہے ہم نے تیری طرف وحی کی کہ موحد ابراہیم حنیف کے دین کی تابعداری کر۔
صفحہ نمبر1195
بارگاہ رسالت میں یہودی وفد ٭٭
مسند احمد میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ہم آپ سے چند سوال کرنا چاہتے ہیں جن کے جواب نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں آپ نے فرمایا پوچھو لیکن پہلے تم لوگ وعدہ کرو اگر میں صحیح صحیح جواب دے دوں تو تمہیں میری نبوت کے تسلیم کر لینے میں کوئی عذر نہ ہو گا انہوں نے اس شرط کو منظور کر لیا کہ اگر آپ نے سچے جواب دے تو ہم اسلام قبول کر لیں گے ساتھ ہی انہوں نے بڑی بڑی قسمیں بھی کھائیں پھر پوچھا کہ بتائیے۔ اسرائیل نے کیا چیز اپنے اوپر حرام کی تھی؟ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے؟ اور کیوں کبھی لڑکا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی؟ اور نبی امی کی نیند کیسی ہے؟ اور فرشتوں میں سے کون سا فرشتہ اس کے پاس وحی لے کر آتا ہے؟ آپ نے فرمایا جب اسرائیل سخت بیمار ہوئے تو نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے شفاء دے گا تو میں سب سے زیادہ پیاری چیز کھانے پینے کی چھوڑ دوں گا جب شفاء یاب ہو گئے تو اونٹ کا گوشت اور دودھ چھوڑ دیا، مرد کا پانی سفید رنگ اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زردی مائل پتلا ہوتا ہے دونوں سے جو اوپر آ جائے اس پر اولاد نر مادہ ہوتی ہے، اور شکل و شباہت میں بھی اسی پر جاتی ہے۔ اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند میں اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ میرے پاس وحی لے کر وہی فرشتہ آتا ہے جو تمام انبیاء کے پاس بھی آتا رہا یعنی جبرائیل علیہ السلام،
بس اس پر وہ چیخ اٹھے اور کہنے لگے کوئی اور فرشتہ آپ کا ولی ہوتا تو ہمیں آپ کی نبوت تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہ رہتا۔ ہر سوال کے جواب کے وقت آپ انہیں قسم دیتے اور ان سے دریافت فرماتے اور وہ اقرار کرتے کہ ہاں جواب صحیح ہے انہیں کے بارے میں آیت «قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ» [2-البقرة:97] ، نازل ہوئی- [مسند احمد:278/1:حسن بالشواھد]
صفحہ نمبر1193
اور روایت میں ہے کہ اسرائیل کو عرق النساء کی بیماری تھی اور اس میں ان کا ایک پانچواں سوال یہ بھی ہے کہ یہ رعد کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ عزوجل کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ جو بادلوں پر مقرر ہے اس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہے جس سے بادلوں کا جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہو لے جاتا ہے اور یہ گرج کی آواز اسی کی آواز ہے۔ جبرائیل علیہ السلام کا نام سن کر یہ کہنے لگے وہ تو عذاب اور جنگ وجدال کا فرشتہ ہے اور ہمارا دشمن ہے، اگر پیداوار اور بارش کے فرشتے میکائیل علیہ السلام آپ کے رفیق ہوتے تو ہم مان لیتے۔ [سنن ترمذي:3117،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا یعقوب علیہ السلام کی روش پر ان کی اولاد بھی رہی اور وہ بھی اونٹ کے گوشت سے پرہیز کرتی رہی، اس آیت کو اگلی آیت سے مناسبت ایک تو یہ ہے کہ جس طرح اسرائیل علیہ السلام نے اپنی چہیتی چیز اللہ کی نذر کر دی اسی طرح تم بھی کیا کرو۔ لیکن یعقوب علیہ السلام کی شریعت میں اس کا طریقہ یہ تھا کہ اپنی پسندیدہ اور مرغوب چیز کا نام اللہ پر ترک کر دیتے تھے اور ہماری شریعت میں یہ طریقہ نہیں بلکہ ہمیں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام پر خرچ کر دیا کریں، جیسے فرمایا آیت «وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ» [2-البقرة:177]
اور فرمایا آیت «وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا» [76-الإنسان:8] باوجود محبت اور چاہت کے وہ ہماری راہ میں مال خرچ کرتے اور مسکینوں کو کھانا دیتے ہیں،
دوسری مناسبت یہ بھی ہے کہ پہلی آیتوں میں نصرانیوں کی تردید تھی تو یہاں یہودیوں کا رد ہو رہا ہے ان کے رد میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا صحیح واقعہ بتا کر ان کے عقیدے کا رد کیا تھا، یہاں نسک کا صاف بیان کر کے ان کے باطل عقیدے کی تردید میں ارشاد ہو رہا ہے ان کی کتاب میں صاف موجود تھا جب سیدنا نوح علیہ السلام کشتی پر اترے تا ان پر تمام جانوروں کا کھانا حلال تھا پھر سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اونٹ کا گوشت اور دودھ اپنے اوپر حرام کر لیا تو ان کی اولاد بھی اسے حرام جانتی رہی چنانچہ توراۃ میں بھی اس کی حرمت نازل ہوئی، اسی طرح اور بھی بعض چیزیں حرام کی گئیں یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے؟
صفحہ نمبر1194
سیدنا آدم علیہ السلام کی صلبی اولاد کا آپس میں بہن بھائی کا نکاح ابتداء جائز ہوتا تھا لیکن بعد میں حرام کر دیا، عورتوں پر لونڈیوں سے نکاح کرنا شریعت ابراہیمی میں مباح تھا خود ابراہیم علیہ السلام سیدہ سارہ پر سیدہ ہاجرہ علیہما السلام کو لائے، لیکن پھر توراۃ میں اس سے روکا گیا، دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا سیدنا یعقوب علیہ السلام کے زمانہ میں جائز تھا بلکہ خود سیدنا یعقوب علیہ السلام کے گھر میں بیک وقت دو سگی بہنیں تھیں لیکن پھر توراۃ میں یہ حرام ہو گیا اسی کو نسخ کہتے ہیں
اسے وہ دیکھ رہے ہیں اپنی کتاب میں پڑھ رہے ہیں لیکن پھر نسخ کا انکار کر کے انجیل کو اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتے اور ان کے بعد ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں، تو یہاں فرمایا کہ توراۃ کے نازل ہونے سے پہلے تمام کھانے حلال تھے سوائے اس کے جسے اسرائیل علیہ السلام نے اپنی جان پر حرام کر لیا تھا تم توراۃ لاؤ اور پڑھو اس میں موجود ہے، پھر اس کے باوجود تمہاری یہ بہتان بازی اور افتراء پردازی کہ اللہ نے ہمارے لیے ہفتہ ہی کے دن کو ہمیشہ کے لیے عید کا دن مقرر کیا ہے اور ہم سے عہد لیا ہے کہ ہم ہمیشہ توراۃ ہی کے عامل رہیں اور کسی اور نبی کو نہ مانیں یہ کس قدر ظلم و ستم ہے، تمہاری یہ باتیں اور تمہاری یہ روش یقیناً تمہیں ظالم و جابر ٹھہراتی ہے۔
اللہ نے سچی خبر دے دی ابراہیمی دین وہی ہے جسے قرآن بیان کر رہا ہے تم اس کتاب اور اس نبی کی پیروی کرو ان سے اعلیٰ کوئی نبی ہے نہ اس سے بہتر اور زیادہ واضح کوئی اور شریعت ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت «قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ» [6-الأنعام:161] اے نبی تم کہ دو کہ مجھے میرے رب نے موحد ابراہیم حنیف کے مضبوط دین کی سیدھی راہ دکھا دی ہے۔
اور جگہ ہے ہم نے تیری طرف وحی کی کہ موحد ابراہیم حنیف کے دین کی تابعداری کر۔
صفحہ نمبر1195
بارگاہ رسالت میں یہودی وفد ٭٭
مسند احمد میں ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ہم آپ سے چند سوال کرنا چاہتے ہیں جن کے جواب نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں آپ نے فرمایا پوچھو لیکن پہلے تم لوگ وعدہ کرو اگر میں صحیح صحیح جواب دے دوں تو تمہیں میری نبوت کے تسلیم کر لینے میں کوئی عذر نہ ہو گا انہوں نے اس شرط کو منظور کر لیا کہ اگر آپ نے سچے جواب دے تو ہم اسلام قبول کر لیں گے ساتھ ہی انہوں نے بڑی بڑی قسمیں بھی کھائیں پھر پوچھا کہ بتائیے۔ اسرائیل نے کیا چیز اپنے اوپر حرام کی تھی؟ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے؟ اور کیوں کبھی لڑکا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی؟ اور نبی امی کی نیند کیسی ہے؟ اور فرشتوں میں سے کون سا فرشتہ اس کے پاس وحی لے کر آتا ہے؟ آپ نے فرمایا جب اسرائیل سخت بیمار ہوئے تو نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے شفاء دے گا تو میں سب سے زیادہ پیاری چیز کھانے پینے کی چھوڑ دوں گا جب شفاء یاب ہو گئے تو اونٹ کا گوشت اور دودھ چھوڑ دیا، مرد کا پانی سفید رنگ اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زردی مائل پتلا ہوتا ہے دونوں سے جو اوپر آ جائے اس پر اولاد نر مادہ ہوتی ہے، اور شکل و شباہت میں بھی اسی پر جاتی ہے۔ اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند میں اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ میرے پاس وحی لے کر وہی فرشتہ آتا ہے جو تمام انبیاء کے پاس بھی آتا رہا یعنی جبرائیل علیہ السلام،
بس اس پر وہ چیخ اٹھے اور کہنے لگے کوئی اور فرشتہ آپ کا ولی ہوتا تو ہمیں آپ کی نبوت تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہ رہتا۔ ہر سوال کے جواب کے وقت آپ انہیں قسم دیتے اور ان سے دریافت فرماتے اور وہ اقرار کرتے کہ ہاں جواب صحیح ہے انہیں کے بارے میں آیت «قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ» [2-البقرة:97] ، نازل ہوئی- [مسند احمد:278/1:حسن بالشواھد]
صفحہ نمبر1193
اور روایت میں ہے کہ اسرائیل کو عرق النساء کی بیماری تھی اور اس میں ان کا ایک پانچواں سوال یہ بھی ہے کہ یہ رعد کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ عزوجل کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ جو بادلوں پر مقرر ہے اس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہے جس سے بادلوں کا جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہو لے جاتا ہے اور یہ گرج کی آواز اسی کی آواز ہے۔ جبرائیل علیہ السلام کا نام سن کر یہ کہنے لگے وہ تو عذاب اور جنگ وجدال کا فرشتہ ہے اور ہمارا دشمن ہے، اگر پیداوار اور بارش کے فرشتے میکائیل علیہ السلام آپ کے رفیق ہوتے تو ہم مان لیتے۔ [سنن ترمذي:3117،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا یعقوب علیہ السلام کی روش پر ان کی اولاد بھی رہی اور وہ بھی اونٹ کے گوشت سے پرہیز کرتی رہی، اس آیت کو اگلی آیت سے مناسبت ایک تو یہ ہے کہ جس طرح اسرائیل علیہ السلام نے اپنی چہیتی چیز اللہ کی نذر کر دی اسی طرح تم بھی کیا کرو۔ لیکن یعقوب علیہ السلام کی شریعت میں اس کا طریقہ یہ تھا کہ اپنی پسندیدہ اور مرغوب چیز کا نام اللہ پر ترک کر دیتے تھے اور ہماری شریعت میں یہ طریقہ نہیں بلکہ ہمیں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام پر خرچ کر دیا کریں، جیسے فرمایا آیت «وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ» [2-البقرة:177]
اور فرمایا آیت «وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا» [76-الإنسان:8] باوجود محبت اور چاہت کے وہ ہماری راہ میں مال خرچ کرتے اور مسکینوں کو کھانا دیتے ہیں،
دوسری مناسبت یہ بھی ہے کہ پہلی آیتوں میں نصرانیوں کی تردید تھی تو یہاں یہودیوں کا رد ہو رہا ہے ان کے رد میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا صحیح واقعہ بتا کر ان کے عقیدے کا رد کیا تھا، یہاں نسک کا صاف بیان کر کے ان کے باطل عقیدے کی تردید میں ارشاد ہو رہا ہے ان کی کتاب میں صاف موجود تھا جب سیدنا نوح علیہ السلام کشتی پر اترے تا ان پر تمام جانوروں کا کھانا حلال تھا پھر سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اونٹ کا گوشت اور دودھ اپنے اوپر حرام کر لیا تو ان کی اولاد بھی اسے حرام جانتی رہی چنانچہ توراۃ میں بھی اس کی حرمت نازل ہوئی، اسی طرح اور بھی بعض چیزیں حرام کی گئیں یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے؟
صفحہ نمبر1194
سیدنا آدم علیہ السلام کی صلبی اولاد کا آپس میں بہن بھائی کا نکاح ابتداء جائز ہوتا تھا لیکن بعد میں حرام کر دیا، عورتوں پر لونڈیوں سے نکاح کرنا شریعت ابراہیمی میں مباح تھا خود ابراہیم علیہ السلام سیدہ سارہ پر سیدہ ہاجرہ علیہما السلام کو لائے، لیکن پھر توراۃ میں اس سے روکا گیا، دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا سیدنا یعقوب علیہ السلام کے زمانہ میں جائز تھا بلکہ خود سیدنا یعقوب علیہ السلام کے گھر میں بیک وقت دو سگی بہنیں تھیں لیکن پھر توراۃ میں یہ حرام ہو گیا اسی کو نسخ کہتے ہیں
اسے وہ دیکھ رہے ہیں اپنی کتاب میں پڑھ رہے ہیں لیکن پھر نسخ کا انکار کر کے انجیل کو اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتے اور ان کے بعد ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں، تو یہاں فرمایا کہ توراۃ کے نازل ہونے سے پہلے تمام کھانے حلال تھے سوائے اس کے جسے اسرائیل علیہ السلام نے اپنی جان پر حرام کر لیا تھا تم توراۃ لاؤ اور پڑھو اس میں موجود ہے، پھر اس کے باوجود تمہاری یہ بہتان بازی اور افتراء پردازی کہ اللہ نے ہمارے لیے ہفتہ ہی کے دن کو ہمیشہ کے لیے عید کا دن مقرر کیا ہے اور ہم سے عہد لیا ہے کہ ہم ہمیشہ توراۃ ہی کے عامل رہیں اور کسی اور نبی کو نہ مانیں یہ کس قدر ظلم و ستم ہے، تمہاری یہ باتیں اور تمہاری یہ روش یقیناً تمہیں ظالم و جابر ٹھہراتی ہے۔
اللہ نے سچی خبر دے دی ابراہیمی دین وہی ہے جسے قرآن بیان کر رہا ہے تم اس کتاب اور اس نبی کی پیروی کرو ان سے اعلیٰ کوئی نبی ہے نہ اس سے بہتر اور زیادہ واضح کوئی اور شریعت ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت «قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ» [6-الأنعام:161] اے نبی تم کہ دو کہ مجھے میرے رب نے موحد ابراہیم حنیف کے مضبوط دین کی سیدھی راہ دکھا دی ہے۔
اور جگہ ہے ہم نے تیری طرف وحی کی کہ موحد ابراہیم حنیف کے دین کی تابعداری کر۔
صفحہ نمبر1195
ذکر بیت اللہ اور احکامات حج ٭٭
یعنی لوگوں کی عبادت،قربانی،طواف، نماز،اعتکاف وغیرہ کے لیے اللہ تعالیٰ کا گھر ہے جس کے بانی سیدنا ابراہیم خلیل علیہ السلام ہیں، جن کی تابعداری کا دعویٰ یہود و نصاریٰ مشرکین اور مسلمان سب کو ہے وہ اللہ کا گھر جو سب سے پہلے مکہ میں بنایا گیا ہے، اور بلاشبہ خلیل اللہ ہی حج کے پہلے منادی کرنے والے ہیں تو پھر ان پر تعجب اور افسوس ہے جو ملت حنیفی کا دعویٰ کریں اور اس گھر کا احترام نہ کریں حج کو یہاں نہ آئیں بلکہ اپنے قبلہ اور کعبہ الگ الگ بناتے پھریں۔ اس بیت اللہ کی بنیادوں میں ہی برکت و ہدایت ہے اور تمام جہان والوں کے لیے ہے،
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ہے؟ آپ نے فرمایا مسجد الحرام، پوچھا پھر کون سی؟ فرمایا مسجد بیت المقدس پوچھا ان دونوں کے درمیان کتنا وقت ہے؟ فرمایا چالیس سال پوچھا پھر کون سی؟ آپ نے فرمایا جہاں کہیں نماز کا وقت آ جائے نماز پڑھ لیا کرو ساری زمین مسجد ہے [ مسند احمد وبخاری مسلم ] ۔ [صحیح بخاری:3366]
صفحہ نمبر1198
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گھر تو پہلے بہت سے تھے لیکن خاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کا گھر سب سے پہلا یہی ہے، کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ زمین پر پہلا گھر یہی بنا ہے؟ تو آپ نے فرمایا نہیں ہاں برکتوں اور مقام ابراہیم اور امن والا گھر یہی پہلا ہے، بیت اللہ شریف کے بنانے کی پوری کیفیت سورۃ البقرہ کی آیت «وَعَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِىَ لِلطَّاىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ» [2-البقرة:125] ، کی تفسیر میں پہلے گزر چکی ہے وہیں ملاحظہ فرما لیجئے۔ یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں سب سے پہلے روئے زمین پر یہی گھر بنا، لیکن صحیح قول سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہی ہے اور وہ حدیث جو ییہقی میں ہے جس میں ہے کہ آدم و حواء نے بحکم الہ بیت اللہ بنایا اور طواف کیا اور اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تو سب سے پہلا انسان ہے اور یہ سب سے پہلا گھر ہے
یہ حدیث ابن لہیعہ کی روایت سے ہے اور وہ ضعیف راوی ہیں، ممکن ہے یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہو اور یرموک والے دن انہیں جو دو پورے اہل کتاب کی کتابوں کے ملے تھے انہی میں یہ بھی لکھا ہوا ہو۔ ”مکہ“ مکہ شریف کا مشہور نام ہے چونکہ بڑے بڑے جابر شخصوں کی گردنیں یہاں ٹوٹ جاتی تھیں ہر بڑائی والا یہاں پست ہو جاتا تھا، اس لیے اسے مکہ کہا گیا اور اس لیے بھی کہ لوگوں کی بھیڑ بھاڑ یہاں ہوتی ہے اور ہر وقت کھچا کھچ بھرا رہتا ہے اور اس لیے بھی کہ یہاں لوگ خلط ملط ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ کبھی عورتیں آگے نماز پڑھتی ہوتی ہیں اور مرد ان کے پیچھے ہوتے ہیں اور ایسا معاملہ کہیں اور نہیں ہوتا۔
صفحہ نمبر1199
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”فج“ سے ”تنعیم“ تک مکہ ہے بیت اللہ سے بطحاء تک بکہ ہے بیت اللہ اور مسجد کو «بکہ» کہا گیا ہے، بیت اللہ اور اس آس پاس کی جگہ کو بکہ اور باقی شہر کو مکہ بھی کہا گیا ہے، اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں مثلاً بیت العتیق، بیت الحرام، بلد الامین، بلد المامون، ام رحم، ام القری، صلاح، عرش، قادس، مقدس، ناسبہ، ناسسہ، حاطمہ، راس، کوثا البلدہ البینۃ و الکعبہ۔
اس میں ظاہر نشانیاں ہیں جو اس کی عظمت و شرافت کی دلیل ہیں اور جن سے ظاہر ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی بناء یہی ہے اس میں مقام ابراہیم بھی ہے جس پر کھڑے ہو کر سیدنا اسماعیل علیہ السلام سے پتھر لے کر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی دیواریں اونچی کر رہے تھے، یہ پہلے تو بیت اللہ شریف کی دیوار سے لگا ہوا تھا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے ذرا ہٹا کر مشرق رخ کر دیا تھا کہ پوری طرح طواف ہو سکے اور جو لوگ طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ان کے لیے پریشانی اور بھیڑ بھاڑ نہ ہو، اسی کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا ہے اور اس کے متعلق بھی پوری تفسیر آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [2-البقرة:125] کی تفسیر میں پہلے گزر چکی ہے فالحمدللہ۔
صفحہ نمبر1200
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آیات بینات میں سے ایک مقام ابراہیم بھی ہے باقی اور بھی ہیں، مجاہد فرماتے ہیں کہ خلیل اللہ کے قدموں کے نشان جو مقام ابراہیم پر تھے یہ بھی آیات بینات میں سے ہیں، کل حرم کو اور حطیم کو اور سارے ارکان حج کو بھی مکہ امن والا رہا باپ کے قاتل کو بھی یہاں پاتے تو نہ چھیڑتے ابن عباس فرماتے ہیں بیت اللہ پناہ چاہنے والے کو پناہ دیتا ہے لیکن جگہ اور کھانا پینا نہیں دیتا اور جگہ ہے آیت «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۭ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ» [ 29۔ العنکبوت: 67 ] ، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا اور جگہ ہے آیت «فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَـٰذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ» [ 106-قريش: 3، 4 ] ، ہم نے انہیں خوف سے امن دیا نہ صرف انسان کے لیے امن ہے بلکہ شکار کرنا بلکہ شکار کو بھگانا اسے خوف زدہ کرنا اسے اس کے ٹھکانے یا گھونسلے سے ہٹانا اور اڑانا بھی منع ہے اس کے درخت کاٹنا یہاں کی گھاس اکھیڑنا بھی ناجائز ہے اس مضمون کی بہت سی حدیثیں پورے بسط کے ساتھ آیت «وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ» [ 2-البقرہ: 125 ] ، کی تفسیر میں سورۃ البقرہ میں گذر چکی ہیں۔
صفحہ نمبر1201
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آیاتِ بینات میں سے ایک مقامِ ابراہیم بھی ہے باقی اور ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:26/7]
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلیل اللہ کے قدموں کے نشان جا مقامِ ابراہیم پر تھے یہ بھی آیاتِ بینات میں سے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27/7]
کل حرم کو اور حطیم کو اور سارے ارکانِ حج کو بھی مقامِ ابراہیم کی تفسیر میں مفسرین نے داخل کیا ہے۔ اس میں آنے والا امن میں آجاتا ہے جاہلیت کے زمانے میں بھی مکہ امن والا رہا باپ کے قاتل کو بھی یہاں پاتے تو نہ چھیڑتے۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بیت اللہ پناہ چاہنے والے کو پناہ دیتا ہے لیکن جگہ اور کھانا پینا نہیں دیتا۔ اور جگہ ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۚ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَكْفُرُونَ» [29-العنكبوت:67] کیا ہی نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا۔
اور جگہ ہے «وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ» [106-قريش:4] ہم نے انہیں خوف سے امن دیا۔ نہ صرف انسان کے لیے امن ہے بلکہ شکار کرنا، بلکہ شکار کو بھگانا، اسے خوف زدہ کرنا اسے اس کے ٹھکانے یا گھونسلے سے ہٹانا اور اڑانا بھی منع ہے، اسکے درخت کاٹنا، یہاں کی گھاس اکھیڑنا بھی ناجائز ہے۔ اس مضمون کی بہت سی حدیثیں پورے بسط کے ساتھ آیت «وَعَھِدْنَا» [2-البقرة:125] الخ، کی تفسیر میں سورہ بقرہ میں گزر چکی ہیں۔
مسند احمد ترمذی اور نسائی میں حدیث ہے جسے امام ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے بازار حرورہ میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے مکہ تو اللہ تعالیٰ کو ساری زمین سے بہتر اور پیارا ہے اگر میں زبردستی تجھ سے نہ نکالا جاتا تو ہرگز تجھے نہ چھوڑتا، [سنن ترمذي:3925،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جو اس گھر میں داخل ہوا وہ جہنم سے بچ گیا، بیہقی کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جو بیت اللہ میں داخل ہوا وہ نیکی میں آیا اور برائیوں سے دور ہوا، اور گناہ بخش دیا گیا [بیهقی فی السنن:158/5:ضعیف] لیکن اس کے ایک راوی عبداللہ بن مؤمل قوی نہیں ہیں۔
صفحہ نمبر1202
آیت کا یہ آخری حصہ حج کی فرضیت کی دلیل ہے بعض کہتے ہیں آیت «وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْي» [2-البقرة:196] ، والی آیت دلیل فرضیت ہے لیکن پہلی بات زیادہ واضح ہے، کئی ایک احادیث میں وارد ہے کہ حج ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے، اس کی فرضیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے، اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ استطاعت والے مسلمان پر حج فرض ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا لوگو تم پر اللہ تعالیٰ نے حج فرض کیا ہے تم حج کرو ایک شخص نے پوچھا حضور کیا ہر سال؟ آپ خاموش رہے اس نے تین مرتبہ یہی سوال کیا آپ نے فرمایا اگر میں ہاں کہ دیتا تو فرض ہو جاتا پھر بجا نہ لا سکتے میں جب خاموش رہوں تو تم کرید کر پوچھا نہ کرو تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء سے سوالوں کی بھرمار اور نبیوں پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے میرے حکموں کو طاقت بھر بجا لاؤ۔ اور جس چیز میں منع کروں اس سے رک جاؤ [مسند احمد:508/2:صحیح] [ مسند احمد ] صحیح مسلم شریف [صحیح مسلم:1337] کی اس حدیث شریف میں اتنی زیادتی ہے کہ یہ پوچھنے والے اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب یہ بھی فرمایا کہ عمر میں ایک مرتبہ فرض ہے اور پھر نفل۔ [سنن ابوداود:1721،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1203
ایک روایت میں ہے کہ اسی سوال کے بارے میں آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ» [5-المائدة:101] ، یعنی زیادتی سوال سے بچو نازل ہوئی [مسند احمد:113/1:صحیح] [ مسند احمد ]
ایک اور روایت میں ہے اگر میں ہاں کہتا تو ہر سال حج واجب ہوتا تم بجا نہ لا سکتے تو عذاب نازل ہوتا [سنن ابن ماجہ:2885،قال الشيخ الألباني:صحیح] [ ابن ماجہ ]
ہاں حج میں تمتع کرنے کا جواز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سائل کے سوال پر ہمیشہ کے لیے جائز فرمایا تھا، [صحیح بخاری:2505]
ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں امہات المؤمنین یعنی اپنی بیویوں سے فرمایا تھا حج ہو چکا اب گھر سے نہ نکلنا، [سنن ابوداود:،قال الشيخ الألباني:صحیح] رہی استطاعت اور طاقت سو وہ کبھی تو خود انسان کو بغیر کسی ذریعہ کے ہوتی ہے کبھی کسی اور کے واسطے سے جیسے کہ کتب احکام میں اس کی تفصیل موجود ہے، ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ حاجی کون ہے؟ آپ نے فرمایا پراگندہ بالوں اور میلے کچیلے کپڑوں والا ایک اور نے پوچھا یا رسول اللہ کون سا حج افضل ہے، آپ نے فرمایا جس میں قربانیاں کثرت سے کی جائیں اور لبیک زیادہ پکارا جائے۔
صفحہ نمبر1204
ایک اور شخص نے سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سبیل سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا توشہ بھتہ کھانے پینے کے لائق سامان خرچ اور سواری [سنن ترمذي:813،قال الشيخ الألباني:ضعیف جدا] ، اس حدیث کا ایک راوی گو ضعیف ہے مگر حدیث کی متابعت اور سند بہت سے صحابیوں سے مختلف سندوں سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا» [3-آل عمران:97] کی تفسیر میں زادو راحلہ یعنی توشہ اور سواری بتائی ہے۔ [سنن ابن ماجہ:2897،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند کی ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فرض حج جلدی ادا کر لیا کرو نہ معلوم کل کیا پیش آئے، [مسند احمد:214/1:حسن] ابوداؤد وغیرہ میں ہے حج کا ارادہ کرنے والے کو جلد اپنا ارادہ پورا کر لینا چاہیئے۔ [مسند احمد:225/1:حسن]
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جس کے پاس تین سو درہم ہوں وہ طاقت والا ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد صحت جسمانی ہے پھر فرمایا جو کفر کرے یعنی فرضیت حج کا انکار کرے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری کہ دین اسلام کے سوا جو شخص کوئی اور دین پسند کرے اس سے قبول نہ کیا جائے گا تو یہودی کہنے لگے ہم بھی مسلمان ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مسلمانوں پر تو حج فرض ہے تم بھی حج کرو تو وہ صاف انکار بیٹھے جس پر یہ آیت اتری کہ اس کا انکاری کافر ہے اور اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بے پرواہ ہے۔
صفحہ نمبر1205
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کھانے پینے اور سواری پر قدرت رکھتا ہو اور اتنا مال بھی اس کے پاس ہو پھر حج نہ کرے تو اس کی موت یہودیت یا نصرانیت پر ہو گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ کے لیے لوگوں پر حج بیت اللہ ہے جو اس کے راستہ کی طاقت رکھیں اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےپرواہ ہے [سنن ترمذي:812،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کے راوی پر بھی کلام ہے،
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں طاقت رکھ کر حج نہ کرنے والا یہودی ہو کر مرے گا یا نصرانی ہو کر، اس کی سند بالکل صحیح ہے [ حافظ ابوبکر اسماعیلی ] [الحلیہ لابی نعیم:252/9]
مسند سعید بن منصور میں ہے کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا مقصد ہے کہ میں لوگوں کو مختلف شہروں میں بھیجوں وہ دیکھیں جو لوگ باوجود مال رکھنے کے حج نہ کرتے ہوں ان پر جزیہ لگا دیں وہ مسلمان نہیں ہیں۔
صفحہ نمبر1206
ذکر بیت اللہ اور احکامات حج ٭٭
یعنی لوگوں کی عبادت،قربانی،طواف، نماز،اعتکاف وغیرہ کے لیے اللہ تعالیٰ کا گھر ہے جس کے بانی سیدنا ابراہیم خلیل علیہ السلام ہیں، جن کی تابعداری کا دعویٰ یہود و نصاریٰ مشرکین اور مسلمان سب کو ہے وہ اللہ کا گھر جو سب سے پہلے مکہ میں بنایا گیا ہے، اور بلاشبہ خلیل اللہ ہی حج کے پہلے منادی کرنے والے ہیں تو پھر ان پر تعجب اور افسوس ہے جو ملت حنیفی کا دعویٰ کریں اور اس گھر کا احترام نہ کریں حج کو یہاں نہ آئیں بلکہ اپنے قبلہ اور کعبہ الگ الگ بناتے پھریں۔ اس بیت اللہ کی بنیادوں میں ہی برکت و ہدایت ہے اور تمام جہان والوں کے لیے ہے،
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ہے؟ آپ نے فرمایا مسجد الحرام، پوچھا پھر کون سی؟ فرمایا مسجد بیت المقدس پوچھا ان دونوں کے درمیان کتنا وقت ہے؟ فرمایا چالیس سال پوچھا پھر کون سی؟ آپ نے فرمایا جہاں کہیں نماز کا وقت آ جائے نماز پڑھ لیا کرو ساری زمین مسجد ہے [ مسند احمد وبخاری مسلم ] ۔ [صحیح بخاری:3366]
صفحہ نمبر1198
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گھر تو پہلے بہت سے تھے لیکن خاص اللہ تعالیٰ کی عبادت کا گھر سب سے پہلا یہی ہے، کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ زمین پر پہلا گھر یہی بنا ہے؟ تو آپ نے فرمایا نہیں ہاں برکتوں اور مقام ابراہیم اور امن والا گھر یہی پہلا ہے، بیت اللہ شریف کے بنانے کی پوری کیفیت سورۃ البقرہ کی آیت «وَعَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِىَ لِلطَّاىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ» [2-البقرة:125] ، کی تفسیر میں پہلے گزر چکی ہے وہیں ملاحظہ فرما لیجئے۔ یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں سب سے پہلے روئے زمین پر یہی گھر بنا، لیکن صحیح قول سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہی ہے اور وہ حدیث جو ییہقی میں ہے جس میں ہے کہ آدم و حواء نے بحکم الہ بیت اللہ بنایا اور طواف کیا اور اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تو سب سے پہلا انسان ہے اور یہ سب سے پہلا گھر ہے
یہ حدیث ابن لہیعہ کی روایت سے ہے اور وہ ضعیف راوی ہیں، ممکن ہے یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہو اور یرموک والے دن انہیں جو دو پورے اہل کتاب کی کتابوں کے ملے تھے انہی میں یہ بھی لکھا ہوا ہو۔ ”مکہ“ مکہ شریف کا مشہور نام ہے چونکہ بڑے بڑے جابر شخصوں کی گردنیں یہاں ٹوٹ جاتی تھیں ہر بڑائی والا یہاں پست ہو جاتا تھا، اس لیے اسے مکہ کہا گیا اور اس لیے بھی کہ لوگوں کی بھیڑ بھاڑ یہاں ہوتی ہے اور ہر وقت کھچا کھچ بھرا رہتا ہے اور اس لیے بھی کہ یہاں لوگ خلط ملط ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ کبھی عورتیں آگے نماز پڑھتی ہوتی ہیں اور مرد ان کے پیچھے ہوتے ہیں اور ایسا معاملہ کہیں اور نہیں ہوتا۔
صفحہ نمبر1199
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”فج“ سے ”تنعیم“ تک مکہ ہے بیت اللہ سے بطحاء تک بکہ ہے بیت اللہ اور مسجد کو «بکہ» کہا گیا ہے، بیت اللہ اور اس آس پاس کی جگہ کو بکہ اور باقی شہر کو مکہ بھی کہا گیا ہے، اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں مثلاً بیت العتیق، بیت الحرام، بلد الامین، بلد المامون، ام رحم، ام القری، صلاح، عرش، قادس، مقدس، ناسبہ، ناسسہ، حاطمہ، راس، کوثا البلدہ البینۃ و الکعبہ۔
اس میں ظاہر نشانیاں ہیں جو اس کی عظمت و شرافت کی دلیل ہیں اور جن سے ظاہر ہے کہ خلیل اللہ علیہ السلام کی بناء یہی ہے اس میں مقام ابراہیم بھی ہے جس پر کھڑے ہو کر سیدنا اسماعیل علیہ السلام سے پتھر لے کر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی دیواریں اونچی کر رہے تھے، یہ پہلے تو بیت اللہ شریف کی دیوار سے لگا ہوا تھا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے ذرا ہٹا کر مشرق رخ کر دیا تھا کہ پوری طرح طواف ہو سکے اور جو لوگ طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ان کے لیے پریشانی اور بھیڑ بھاڑ نہ ہو، اسی کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا ہے اور اس کے متعلق بھی پوری تفسیر آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [2-البقرة:125] کی تفسیر میں پہلے گزر چکی ہے فالحمدللہ۔
صفحہ نمبر1200
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آیات بینات میں سے ایک مقام ابراہیم بھی ہے باقی اور بھی ہیں، مجاہد فرماتے ہیں کہ خلیل اللہ کے قدموں کے نشان جو مقام ابراہیم پر تھے یہ بھی آیات بینات میں سے ہیں، کل حرم کو اور حطیم کو اور سارے ارکان حج کو بھی مکہ امن والا رہا باپ کے قاتل کو بھی یہاں پاتے تو نہ چھیڑتے ابن عباس فرماتے ہیں بیت اللہ پناہ چاہنے والے کو پناہ دیتا ہے لیکن جگہ اور کھانا پینا نہیں دیتا اور جگہ ہے آیت «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۭ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْنَ» [ 29۔ العنکبوت: 67 ] ، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا اور جگہ ہے آیت «فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَـٰذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ» [ 106-قريش: 3، 4 ] ، ہم نے انہیں خوف سے امن دیا نہ صرف انسان کے لیے امن ہے بلکہ شکار کرنا بلکہ شکار کو بھگانا اسے خوف زدہ کرنا اسے اس کے ٹھکانے یا گھونسلے سے ہٹانا اور اڑانا بھی منع ہے اس کے درخت کاٹنا یہاں کی گھاس اکھیڑنا بھی ناجائز ہے اس مضمون کی بہت سی حدیثیں پورے بسط کے ساتھ آیت «وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ» [ 2-البقرہ: 125 ] ، کی تفسیر میں سورۃ البقرہ میں گذر چکی ہیں۔
صفحہ نمبر1201
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آیاتِ بینات میں سے ایک مقامِ ابراہیم بھی ہے باقی اور ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:26/7]
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلیل اللہ کے قدموں کے نشان جا مقامِ ابراہیم پر تھے یہ بھی آیاتِ بینات میں سے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27/7]
کل حرم کو اور حطیم کو اور سارے ارکانِ حج کو بھی مقامِ ابراہیم کی تفسیر میں مفسرین نے داخل کیا ہے۔ اس میں آنے والا امن میں آجاتا ہے جاہلیت کے زمانے میں بھی مکہ امن والا رہا باپ کے قاتل کو بھی یہاں پاتے تو نہ چھیڑتے۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بیت اللہ پناہ چاہنے والے کو پناہ دیتا ہے لیکن جگہ اور کھانا پینا نہیں دیتا۔ اور جگہ ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۚ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَكْفُرُونَ» [29-العنكبوت:67] کیا ہی نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا۔
اور جگہ ہے «وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ» [106-قريش:4] ہم نے انہیں خوف سے امن دیا۔ نہ صرف انسان کے لیے امن ہے بلکہ شکار کرنا، بلکہ شکار کو بھگانا، اسے خوف زدہ کرنا اسے اس کے ٹھکانے یا گھونسلے سے ہٹانا اور اڑانا بھی منع ہے، اسکے درخت کاٹنا، یہاں کی گھاس اکھیڑنا بھی ناجائز ہے۔ اس مضمون کی بہت سی حدیثیں پورے بسط کے ساتھ آیت «وَعَھِدْنَا» [2-البقرة:125] الخ، کی تفسیر میں سورہ بقرہ میں گزر چکی ہیں۔
مسند احمد ترمذی اور نسائی میں حدیث ہے جسے امام ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے بازار حرورہ میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے مکہ تو اللہ تعالیٰ کو ساری زمین سے بہتر اور پیارا ہے اگر میں زبردستی تجھ سے نہ نکالا جاتا تو ہرگز تجھے نہ چھوڑتا، [سنن ترمذي:3925،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جو اس گھر میں داخل ہوا وہ جہنم سے بچ گیا، بیہقی کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جو بیت اللہ میں داخل ہوا وہ نیکی میں آیا اور برائیوں سے دور ہوا، اور گناہ بخش دیا گیا [بیهقی فی السنن:158/5:ضعیف] لیکن اس کے ایک راوی عبداللہ بن مؤمل قوی نہیں ہیں۔
صفحہ نمبر1202
آیت کا یہ آخری حصہ حج کی فرضیت کی دلیل ہے بعض کہتے ہیں آیت «وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْي» [2-البقرة:196] ، والی آیت دلیل فرضیت ہے لیکن پہلی بات زیادہ واضح ہے، کئی ایک احادیث میں وارد ہے کہ حج ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے، اس کی فرضیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے، اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ استطاعت والے مسلمان پر حج فرض ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا لوگو تم پر اللہ تعالیٰ نے حج فرض کیا ہے تم حج کرو ایک شخص نے پوچھا حضور کیا ہر سال؟ آپ خاموش رہے اس نے تین مرتبہ یہی سوال کیا آپ نے فرمایا اگر میں ہاں کہ دیتا تو فرض ہو جاتا پھر بجا نہ لا سکتے میں جب خاموش رہوں تو تم کرید کر پوچھا نہ کرو تم سے اگلے لوگ اپنے انبیاء سے سوالوں کی بھرمار اور نبیوں پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے میرے حکموں کو طاقت بھر بجا لاؤ۔ اور جس چیز میں منع کروں اس سے رک جاؤ [مسند احمد:508/2:صحیح] [ مسند احمد ] صحیح مسلم شریف [صحیح مسلم:1337] کی اس حدیث شریف میں اتنی زیادتی ہے کہ یہ پوچھنے والے اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب یہ بھی فرمایا کہ عمر میں ایک مرتبہ فرض ہے اور پھر نفل۔ [سنن ابوداود:1721،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1203
ایک روایت میں ہے کہ اسی سوال کے بارے میں آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ» [5-المائدة:101] ، یعنی زیادتی سوال سے بچو نازل ہوئی [مسند احمد:113/1:صحیح] [ مسند احمد ]
ایک اور روایت میں ہے اگر میں ہاں کہتا تو ہر سال حج واجب ہوتا تم بجا نہ لا سکتے تو عذاب نازل ہوتا [سنن ابن ماجہ:2885،قال الشيخ الألباني:صحیح] [ ابن ماجہ ]
ہاں حج میں تمتع کرنے کا جواز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سائل کے سوال پر ہمیشہ کے لیے جائز فرمایا تھا، [صحیح بخاری:2505]
ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں امہات المؤمنین یعنی اپنی بیویوں سے فرمایا تھا حج ہو چکا اب گھر سے نہ نکلنا، [سنن ابوداود:،قال الشيخ الألباني:صحیح] رہی استطاعت اور طاقت سو وہ کبھی تو خود انسان کو بغیر کسی ذریعہ کے ہوتی ہے کبھی کسی اور کے واسطے سے جیسے کہ کتب احکام میں اس کی تفصیل موجود ہے، ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ حاجی کون ہے؟ آپ نے فرمایا پراگندہ بالوں اور میلے کچیلے کپڑوں والا ایک اور نے پوچھا یا رسول اللہ کون سا حج افضل ہے، آپ نے فرمایا جس میں قربانیاں کثرت سے کی جائیں اور لبیک زیادہ پکارا جائے۔
صفحہ نمبر1204
ایک اور شخص نے سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سبیل سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا توشہ بھتہ کھانے پینے کے لائق سامان خرچ اور سواری [سنن ترمذي:813،قال الشيخ الألباني:ضعیف جدا] ، اس حدیث کا ایک راوی گو ضعیف ہے مگر حدیث کی متابعت اور سند بہت سے صحابیوں سے مختلف سندوں سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا» [3-آل عمران:97] کی تفسیر میں زادو راحلہ یعنی توشہ اور سواری بتائی ہے۔ [سنن ابن ماجہ:2897،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند کی ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فرض حج جلدی ادا کر لیا کرو نہ معلوم کل کیا پیش آئے، [مسند احمد:214/1:حسن] ابوداؤد وغیرہ میں ہے حج کا ارادہ کرنے والے کو جلد اپنا ارادہ پورا کر لینا چاہیئے۔ [مسند احمد:225/1:حسن]
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جس کے پاس تین سو درہم ہوں وہ طاقت والا ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد صحت جسمانی ہے پھر فرمایا جو کفر کرے یعنی فرضیت حج کا انکار کرے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری کہ دین اسلام کے سوا جو شخص کوئی اور دین پسند کرے اس سے قبول نہ کیا جائے گا تو یہودی کہنے لگے ہم بھی مسلمان ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مسلمانوں پر تو حج فرض ہے تم بھی حج کرو تو وہ صاف انکار بیٹھے جس پر یہ آیت اتری کہ اس کا انکاری کافر ہے اور اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بے پرواہ ہے۔
صفحہ نمبر1205
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کھانے پینے اور سواری پر قدرت رکھتا ہو اور اتنا مال بھی اس کے پاس ہو پھر حج نہ کرے تو اس کی موت یہودیت یا نصرانیت پر ہو گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ کے لیے لوگوں پر حج بیت اللہ ہے جو اس کے راستہ کی طاقت رکھیں اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بےپرواہ ہے [سنن ترمذي:812،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کے راوی پر بھی کلام ہے،
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں طاقت رکھ کر حج نہ کرنے والا یہودی ہو کر مرے گا یا نصرانی ہو کر، اس کی سند بالکل صحیح ہے [ حافظ ابوبکر اسماعیلی ] [الحلیہ لابی نعیم:252/9]
مسند سعید بن منصور میں ہے کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا مقصد ہے کہ میں لوگوں کو مختلف شہروں میں بھیجوں وہ دیکھیں جو لوگ باوجود مال رکھنے کے حج نہ کرتے ہوں ان پر جزیہ لگا دیں وہ مسلمان نہیں ہیں۔
صفحہ نمبر1206
کافروں کا انجام ٭٭
اہل کتاب کے کافروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے جو حق سے دشمنی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے دوسرے لوگوں کو بھی پورے زور سے اسلام سے روکتے تھے باوجود یہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کا انہیں یقینی علم تھا اگلے انبیاء اور رسولوں کی پیش گوئیاں اور ان کی بشارتیں ان کے پاس موجود تھیں نبی امی ہاشمی عربی مکی مدنی سید الولد آدم خاتم الانبیاء رسول رب ارض و سماء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ان کتابوں میں موجود تھا پھر بھی اپنی بےایمانی پر بضد تھے اس لیے ان سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں خوب دیکھ رہا ہوں تم کس طرح میرے نبیوں کی تکذیب کرتے ہو اور کس طرح خاتم الانبیاء کو ستاتے ہو اور کس طرح میرے مخلص بندوں کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہو میں تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہوں تمام برائیوں کا بدلہ دوں گا اس دن پکڑوں گا جس دن تمہیں کوئی سفارشی اور مددگار نہ ملے۔
صفحہ نمبر1208
کافروں کا انجام ٭٭
اہل کتاب کے کافروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے جو حق سے دشمنی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے دوسرے لوگوں کو بھی پورے زور سے اسلام سے روکتے تھے باوجود یہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کا انہیں یقینی علم تھا اگلے انبیاء اور رسولوں کی پیش گوئیاں اور ان کی بشارتیں ان کے پاس موجود تھیں نبی امی ہاشمی عربی مکی مدنی سید الولد آدم خاتم الانبیاء رسول رب ارض و سماء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ان کتابوں میں موجود تھا پھر بھی اپنی بےایمانی پر بضد تھے اس لیے ان سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں خوب دیکھ رہا ہوں تم کس طرح میرے نبیوں کی تکذیب کرتے ہو اور کس طرح خاتم الانبیاء کو ستاتے ہو اور کس طرح میرے مخلص بندوں کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہو میں تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہوں تمام برائیوں کا بدلہ دوں گا اس دن پکڑوں گا جس دن تمہیں کوئی سفارشی اور مددگار نہ ملے۔
صفحہ نمبر1208
کامیابی کا انحصار کس پر ہے ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اہل کتاب کے اس بدباطن فرقہ کی اتباع کرنے سے روک رہا ہے کیونکہ یہ حاسد ایمان کے دشمن ہیں اور عرب کی رسالت انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ» [2-البقرة:109] ، یہ لوگ جل بھن رہے ہیں۔ اور تمہیں ایمان سے ہٹانا چاہتے ہیں تم ان کے کھوکھلے دباؤ میں نہ آ جانا، گو کفر تم سے بہت دور ہے لیکن پھر بھی میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی آیتیں دن رات تم میں پڑھی جا رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا سچا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم میں موجود ہے۔
صفحہ نمبر1210
جیسے اور جگہ ہے آیت «وَمَا لَكُمْ لاَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُواْ بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَـقَكُمْ إِن كُنتُمْ مُّؤْمِنِينَ» [57-الحديد:8] تم ایمان کیسے نہ لاؤ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تمہارے رب کی طرف بلا رہے ہیں اور تم سے عہد بھی لیا جا چکا ہے،
حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز اپنے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا تمہارے نزدیک سب سے بڑا ایمان والا کون ہے؟ انہوں نے کہا فرشتے آپ نے فرمایا بھلا وہ ایمان کیوں نہ لاتے؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ کی وحی سے براہ راست تعلق ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا پھر ہم، فرمایا تم ایمان کیوں نہ لاتے تم میں تو میں خود موجود ہوں صحابہ نے کہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی ارشاد فرمائیں فرمایا کہ تمام لوگوں سے زیادہ عجیب ایمان والے وہ ہوں گے جو تمہارے بعد آئیں گے وہ کتابوں میں لکھا پائیں گے اور اس پر ایمان لائیں گے [طبرانی:3537:ضعیف] (امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سندوں کا اور اس کے معنی کا پورا بیان شرح صحیح بخاری میں کر دیا ہے فالحمدللہ)
پھر فرمایا کہ باوجود اس کے تمہارا مضبوطی سے اللہ کے دین کو تھام رکھنا اور اللہ تعالیٰ کی پاک ذات پر پورا توکل رکھنا ہی موجب ہدایت ہے اسی سے گمراہی دور ہوتی ہے یہی شیوہ رضا کا باعث ہے اسی سے صحیح راستہ حاصل ہوتا ہے اور کامیابی اور مراد ملتی ہے۔
صفحہ نمبر1211
کامیابی کا انحصار کس پر ہے ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اہل کتاب کے اس بدباطن فرقہ کی اتباع کرنے سے روک رہا ہے کیونکہ یہ حاسد ایمان کے دشمن ہیں اور عرب کی رسالت انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ» [2-البقرة:109] ، یہ لوگ جل بھن رہے ہیں۔ اور تمہیں ایمان سے ہٹانا چاہتے ہیں تم ان کے کھوکھلے دباؤ میں نہ آ جانا، گو کفر تم سے بہت دور ہے لیکن پھر بھی میں تمہیں آگاہ کئے دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی آیتیں دن رات تم میں پڑھی جا رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا سچا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم میں موجود ہے۔
صفحہ نمبر1210
جیسے اور جگہ ہے آیت «وَمَا لَكُمْ لاَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُواْ بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَـقَكُمْ إِن كُنتُمْ مُّؤْمِنِينَ» [57-الحديد:8] تم ایمان کیسے نہ لاؤ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تمہارے رب کی طرف بلا رہے ہیں اور تم سے عہد بھی لیا جا چکا ہے،
حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز اپنے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا تمہارے نزدیک سب سے بڑا ایمان والا کون ہے؟ انہوں نے کہا فرشتے آپ نے فرمایا بھلا وہ ایمان کیوں نہ لاتے؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ کی وحی سے براہ راست تعلق ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا پھر ہم، فرمایا تم ایمان کیوں نہ لاتے تم میں تو میں خود موجود ہوں صحابہ نے کہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی ارشاد فرمائیں فرمایا کہ تمام لوگوں سے زیادہ عجیب ایمان والے وہ ہوں گے جو تمہارے بعد آئیں گے وہ کتابوں میں لکھا پائیں گے اور اس پر ایمان لائیں گے [طبرانی:3537:ضعیف] (امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سندوں کا اور اس کے معنی کا پورا بیان شرح صحیح بخاری میں کر دیا ہے فالحمدللہ)
پھر فرمایا کہ باوجود اس کے تمہارا مضبوطی سے اللہ کے دین کو تھام رکھنا اور اللہ تعالیٰ کی پاک ذات پر پورا توکل رکھنا ہی موجب ہدایت ہے اسی سے گمراہی دور ہوتی ہے یہی شیوہ رضا کا باعث ہے اسی سے صحیح راستہ حاصل ہوتا ہے اور کامیابی اور مراد ملتی ہے۔
صفحہ نمبر1211
اللہ تعالٰی کی رسی قرآن حکیم ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ سے پورا پورا ڈرنا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اس کی یاد نہ بھلائی جائے اس کا شکر کیا جائے کفر نہ کیا جائے، [مستدرک حاکم:294/2:صحیح]
بعض روایتوں میں یہ تفسیر مرفوع بھی مروی ہے لیکن ٹھیک بات یہی ہے کہ یہ موقوف ہے یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے واللہ اعلم۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:446/2:موقوف]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ انسان اللہ عزوجل سے ڈرنے کا حق نہیں بجا لا سکتا جب تک اپنی زبان کو محفوظ نہ رکھے [تفسیر ابن ابی حاتم:447/2]
صفحہ نمبر1213
اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت «فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ» [64-التغابن:16] کی آیت سے منسوخ ہے اس دوسری آیت میں فرما دیا ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق اس سے ڈرتے رہا کرو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں منسوخ نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہو اس کے کاموں میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال نہ کرو عدل پر جم جاؤ یہاں تک کہ خود اپنے نفس پر عدل کے احکام جاری کرو اپنے ماں باپ اور اپنی اولاد کے بارے میں بھی عدل و انصاف برتا کرو۔ پھر فرمایا کہ اسلام پر ہی مرنا یعنی تمام زندگی اس پر قائم رہنا تاکہ موت بھی اسی پر آئے، اس رب کریم کا اصول یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی جیسی رکھے ویسی ہی اسے موت آتی ہے اور جیسی موت مرے اسی پر قیامت کے دن اٹھایا جاتا ہے (اللہ تعالیٰ ناپسند موت سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے) آمین۔
صفحہ نمبر1214
مسند احمد میں ہے کہ لوگ بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے تھے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی وہاں تھے ان کے ہاتھ میں لکڑی تھی بیان فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی دنیا میں گرا دیا جائے تو دنیا والوں کی ہر کھانے والی چیز خراب ہو جائے کوئی چیز کھا پی نہ سکیں پھر خیال کرو کہ ان جہنمیوں کا کیا حال ہو گا جن کا کھانا پینا ہی یہ زقوم ہو گا [مسند احمد:300/1:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص جہنم سے الگ ہوتا اور جنت میں جانا چاہتا ہو اسے چاہیئے کہ مرتے دم تک اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھے اور لوگوں سے وہ برتاؤ کرے جسے وہ خود اپنے لیے چاہتا ہو [مسند احمد:192/2:صحیح] [ مسند احمد ]
صفحہ نمبر1215
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی آپ کے انتقال کے تین روز پہلے سنا کہ دیکھو موت کے وقت اللہ تعالیٰ سے نیک گمان رکھنا [صحیح مسلم:2877] [ مسلم ]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میرا بندہ میرے ساتھ جیسا گمان رکھے میں اس کے گمان کے پاس ہی ہوں اگر اس کا میرے ساتھ حسن ظن ہے تو میں اس کے ساتھ اچھائی کروں گا اور اگر وہ میرے ساتھ بدگمانی کرے گا تو میں اس سے اسی طرح پیش آؤں گا [مسند احمد:391/2:صحیح] [ مسند احمد ]
اس حدیث کا اگلا حصہ بخاری مسلم میں بھی ہے [صحیح بخاری:7505] ،
مسند بزار میں ہے کہ ایک بیمار انصاری رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور سلام کر کے فرمانے لگے کہ کیسے مزاج ہیں؟ اس نے کہا الحمدللہ اچھا ہوں رب کی رحمت کا امیدوار ہوں اور اس نے عذابوں سے ڈر رہا ہوں، آپ نے فرمایا سنو ایسے وقت جس دل میں خوف و طمع دونوں ہوں اللہ اس کی امید کی چیز اسے دیتا ہے اور ڈر خوف کی چیز سے بچاتا ہے [سنن ترمذي:983،قال الشيخ الألباني:حسن] ،
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور کہا کہ میں کھڑے کھڑے ہی گروں [مسند احمد:402/3:صحیح] ، اس کا مطلب امام نسائی نے تو سنن نسائی میں باب باندھ کر یہ بیان کیا ہے کہ سجدے میں اس طرح جانا چاہیئے، اور یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ میں مسلمان ہوئے بغیر نہ مروں، اور یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ جہاد پیٹھ دکھاتا ہوا نہ مارا جاؤں۔
صفحہ نمبر1216
تفرقہ میں نہ پڑو ٭٭
پھر فرمایا باہم اتفاق رکھو اختلاف سے بچو۔ «حَبْلِ اللَّهِ» سے مراد عہد الہ ہے، جیسے «إِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللَّهِ» [3-آل عمران:112] ، میں «حَبْل» سے مراد قرآن ہے، ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ قرآن اللہ کریم کی مضبوطی رسی ہے اور اس کی سیدھی راہ ہے، [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ کتاب اللہ اللہ تعالیٰ کی آسمان سے زمین کی طرف لٹکائی ہوئی رسی ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:7570:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ یہ قرآن اللہ سبحانہ کی مضبوط رسی ہے یہ ظاہر نور ہے، یہ سراسر شفاء دینے والا اور نفع بخش ہے اس پر عمل کرنے والے کے لیے یہ بچاؤ ہے اس کی تابعداری کرنے والے کے لیے یہ نجات ہے [مستدرک حاکم:3197:ضعیف] ۔
صفحہ نمبر1217
سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں ان راستوں میں تو شیاطین چل پھر رہے ہیں تم اللہ کے راستے پر آ جاؤ تم اللہ کی رسی کو مضبوط تھام لو وہ رسی قرآن کریم ہے۔ اختلاف نہ کرو پھوٹ نہ ڈالو جدائی نہ کرو، علیحدگی سے بچو،
صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تین باتوں سے اللہ رحیم خوش ہوتا ہے اور تین باتوں سے ناخوش ہوتا ہے ایک تو یہ کہ اسی کے عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو دوسرے اللہ کی رسی کو اتفاق سے پکڑو، تفرقہ نہ ڈالو، تیسرے مسلمان بادشاہوں کی خیر خواہی کرو، فضول بکواس، زیادتی سوال اور بربادی مال یہ تینوں چیزیں رب کی ناراضگی کا سبب ہیں، [صحیح مسلم:1715]
بہت سی روایتیں ایسی بھی ہیں جن میں سے کہ اتفاق کے وقت وہ خطا سے بچ جائیں گے اور بہت سی احادیث میں نااتفاقی سے ڈرایا بھی ہے، ان ہدایات کے باوجود امت میں اختلافات ہوئے اور تہتر فرقے ہو گئے جن میں سے ایک نجات پا کر جنتی ہو گا اور جہنم کے عذابوں سے بچ رہے گا اور یہ وہ لوگ ہیں جو اس پر قائم ہوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم تھے۔
صفحہ نمبر1218
پھر اپنی نعمت یاد دلائی، جاہلیت کے زمانے میں اوس و خزرج کے درمیان بڑی لڑائیاں اور سخت عداوت تھی آپس میں برابر جنگ جاری رہتی تھی جب دونوں قبیلے اسلام لائے تو اللہ کریم کے فضل سے بالکل ایک ہو گئے سب حسد بغض جاتا رہا اور آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے مددگار اور اللہ تعالیٰ کے دین میں ایک دوسرے کے ساتھ متفق ہو گئے، جیسے اور جگہ ہے «هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ» [8-الأنفال:63-62] ، وہ اللہ جس نے تیری تائید کی اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ اور ان کے دلوں میں الفت ڈال دی۔
اپنا دوسرا احسان ذکر کرتا ہے کہ تم آگ کے کنارے پہنچ چکے تھے اور تمہارا کفر تمہیں اس میں دھکیل دیتا لیکن ہم نے تمہیں اسلام کی توفیق عطا فرما کر اس سے بھی الگ کر لیا۔
صفحہ نمبر1219
حنین کی فتح کے بعد جب مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے مصلحت دینی کے مطابق حضور علیہ السلام نے بعض لوگوں کو زیادہ مال دیا تو کسی شخص نے کچھ ایسے ہی نامناسب الفاظ زبان سے نکال دئیے جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت انصار کو جمع کر کے ایک خطبہ پڑھا اس میں یہ بھی فرمایا تھا کہ اے جماعت انصار کیا تم گمراہ نہ تھے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں ہدایت دی؟ کیا تم متفرق نہ تھے پھر رب دو عالم نے میری وجہ سے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی کیا تم فقیر نہ تھے اللہ تعالیٰ نے تمہیں میری وجہ سے غنی کر دیا؟ ہر ہر سوال کے جواب میں یہ پاکباز، جماعت یہ اللہ والا گروہ کہتا جاتا تھا کہ ہم پر اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احسان اور بھی بہت سے ہیں اور بہت بڑے بڑے ہیں۔ [صحیح بخاری:4330]
صفحہ نمبر1220
سیدنا محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اوس و خزرج جیسے صدیوں کے آپس کے دشنوں کو یوں بھائی بھائی بنا ہوا دیکھا تو یہودیوں کی آنکھوں میں کانٹا کھٹکنے لگا انہوں نے آدمی مقرر کئے کہ وہ ان کی محفلوں اور مجلس میں جایا کریں اور اگلی لڑائیاں اور پرانی عداوتیں انہیں یاد دلائیں ان کے مقتولوں کی یاد تازہ کرائیں اور اس طرح انہیں بھڑکائیں۔
چنانچہ ان کا یہ داؤ ایک مرتبہ چل بھی گیا اور دونوں قبیلوں میں پرانی آگ بھڑک اٹھی یہاں تک کہ تلواریں کھچ گئیں ٹھیک دو جماعتیں ہو گئیں اور وہی جاہلیت کے نعرے لگنے لگے ہتھیار سجنے لگے اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن گئے اور یہ ٹھہر گیا کہ حرہ کے میدان میں جا کر ان سے دل کھول کر لڑیں اور مردانگی کے جوہر دکھائیں پیاسی زمین کو اپنے خون سے سیراب کریں لیکن حضور علیہ السلام کو پتہ چل گیا آپ فوراً موقع پر تشریف لائے اور دونوں گروہ کو ٹھنڈا کیا اور فرمانے لگے پھر جاہلیت کے نعرے تم لگانے لگے میری موجودگی میں ہی تم نے پھر جنگ وجدال شروع کر دیا؟ پھر آپ نے یہی آیت پڑھ کر سنائی سب نادم ہوئے اور اپنی دو گھڑی پہلے کی حرکت پر افسوس کرنے لگے اور آپس میں نئے سرے سے معانقہ مصافحہ کیا اور پھر بھائیوں کی طرح گلے مل گئے ہتھیار ڈال دئیے اور صلح صفائی ہو گئی،سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر منافقوں نے تہمت لگائی تھی اور آپ کی برات نازل ہوئی تھی تب ایک دوسرے کے مقابلہ میں تن گئے تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:55/7:ضعیف و منقطع] ، فاللہ اعلم
صفحہ نمبر1221
یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان ٭٭
سیدنا ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ رضی اللہ عنہم اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہدین اور علماء [تفسیر ابن جریر الطبری:92/7]
امام ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہیئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کر سکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، [صحیح مسلم:49] ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں، [صحیح مسلم:49]
[ صحیح مسلم ] مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اچھائی کا حکم اور برائیوں سے مخالفت کرتے رہو ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل فرما دے گا پھر تم دعائیں کرو گے لیکن قبول نہ ہوں گی۔ [سنن ترمذي:2169،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس مضمون کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو کسی اور مقام پر ذکر کی جائیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر1222
پھر فرماتا ہے کہ تم سابقہ لوگوں کی طرح افتراق و اختلاف نہ کرنا تم نیک باتوں کا حکم اور خلاف شرع باتوں سے روکنا نہ چھوڑنا، مسند احمد میں ہے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ حج کیلئے جب مکہ شریف میں آئے تو ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اہل کتاب اپنے دین میں اختلاف کر کے بہتر [72] گروہ بن گئے اور اس میری امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے خواہشات نفسانی اور خوش فہمی میں ہوں گے بلکہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی رگ رگ میں نفسانی خواہشیں اس طرح گھس جائیں گی جس طرح کتے کے کاٹے ہوئے انسان کی ایک ایک رگ اور ایک ایک جوڑ میں اس کا اثر پہنچ جاتا ہے اے عرب کے لوگو اگر تم ہی اپنے نبی کی لائی ہوئی چیز پر قائم نہ رہو گے تو اور لوگ تو بہت دور ہو جائیں گے۔ [سنن ابوداود:4597،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں
صفحہ نمبر1223
یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان ٭٭
سیدنا ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ رضی اللہ عنہم اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہدین اور علماء [تفسیر ابن جریر الطبری:92/7]
امام ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہیئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کر سکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے، [صحیح مسلم:49] ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں، [صحیح مسلم:49]
[ صحیح مسلم ] مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اچھائی کا حکم اور برائیوں سے مخالفت کرتے رہو ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل فرما دے گا پھر تم دعائیں کرو گے لیکن قبول نہ ہوں گی۔ [سنن ترمذي:2169،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس مضمون کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو کسی اور مقام پر ذکر کی جائیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر1222
پھر فرماتا ہے کہ تم سابقہ لوگوں کی طرح افتراق و اختلاف نہ کرنا تم نیک باتوں کا حکم اور خلاف شرع باتوں سے روکنا نہ چھوڑنا، مسند احمد میں ہے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ حج کیلئے جب مکہ شریف میں آئے تو ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اہل کتاب اپنے دین میں اختلاف کر کے بہتر [72] گروہ بن گئے اور اس میری امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے خواہشات نفسانی اور خوش فہمی میں ہوں گے بلکہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی رگ رگ میں نفسانی خواہشیں اس طرح گھس جائیں گی جس طرح کتے کے کاٹے ہوئے انسان کی ایک ایک رگ اور ایک ایک جوڑ میں اس کا اثر پہنچ جاتا ہے اے عرب کے لوگو اگر تم ہی اپنے نبی کی لائی ہوئی چیز پر قائم نہ رہو گے تو اور لوگ تو بہت دور ہو جائیں گے۔ [سنن ابوداود:4597،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں
صفحہ نمبر1223
خوارج کا انجام ٭٭
پھر فرمایا اس دن سفید چہرے اور سیاہ منہ بھی ہونگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ اہل سنت و الجماعت کے منہ سفید اور نورانی ہونگے مگر اہل بدعت و منافقت کے کالے منہ ہونگے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ کالے منہ والے منافق ہونگے جن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کیوں کیا اب اس کا مزہ چکھو۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:465/2]
اور سفید منہ والے اللہ رحیم و کریم کی رحمت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے جب خارجیوں کے سر دمشق کی مسجد کے زینوں پر لٹکے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے یہ جہنم کے کتے ہیں ان سے بدتر مقتول روئے زمین پر کوئی نہیں انہیں قتل کرنے والے بہترین مجاہد ہیں پھر آیت «یوم تبیض» تلاوت فرمائی، ابوغالب نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے؟ فرمایا ایک دو دفعہ نہیں بلکہ سات مرتبہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہی نہیں، [سنن ترمذي:3000،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن مردویہ نے یہاں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ایک لمبی حدیث نقل کی ہے جو بہت ہی عجیب ہے لیکن سنداً غریب ہے۔ دنیا اور آخرت کی یہ باتیں ہم تم پر اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھول رہے ہیں اللہ عادل حاکم ہے وہ ظالم نہیں اور ہر چیز کو خوب جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے [ جن کے کالے منہ ہوئے وہ اسی لائق تھے ] زمین اور آسمان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں اور ہر کام کا آخری حکم اسی کی طرف ہے متصرف اور با اختیار حکم دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔
صفحہ نمبر1225
خوارج کا انجام ٭٭
پھر فرمایا اس دن سفید چہرے اور سیاہ منہ بھی ہونگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ اہل سنت و الجماعت کے منہ سفید اور نورانی ہونگے مگر اہل بدعت و منافقت کے کالے منہ ہونگے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ کالے منہ والے منافق ہونگے جن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کیوں کیا اب اس کا مزہ چکھو۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:465/2]
اور سفید منہ والے اللہ رحیم و کریم کی رحمت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے جب خارجیوں کے سر دمشق کی مسجد کے زینوں پر لٹکے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے یہ جہنم کے کتے ہیں ان سے بدتر مقتول روئے زمین پر کوئی نہیں انہیں قتل کرنے والے بہترین مجاہد ہیں پھر آیت «یوم تبیض» تلاوت فرمائی، ابوغالب نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے؟ فرمایا ایک دو دفعہ نہیں بلکہ سات مرتبہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہی نہیں، [سنن ترمذي:3000،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن مردویہ نے یہاں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ایک لمبی حدیث نقل کی ہے جو بہت ہی عجیب ہے لیکن سنداً غریب ہے۔ دنیا اور آخرت کی یہ باتیں ہم تم پر اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھول رہے ہیں اللہ عادل حاکم ہے وہ ظالم نہیں اور ہر چیز کو خوب جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے [ جن کے کالے منہ ہوئے وہ اسی لائق تھے ] زمین اور آسمان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں اور ہر کام کا آخری حکم اسی کی طرف ہے متصرف اور با اختیار حکم دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔
صفحہ نمبر1225
خوارج کا انجام ٭٭
پھر فرمایا اس دن سفید چہرے اور سیاہ منہ بھی ہونگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ اہل سنت و الجماعت کے منہ سفید اور نورانی ہونگے مگر اہل بدعت و منافقت کے کالے منہ ہونگے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ کالے منہ والے منافق ہونگے جن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کیوں کیا اب اس کا مزہ چکھو۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:465/2]
اور سفید منہ والے اللہ رحیم و کریم کی رحمت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے جب خارجیوں کے سر دمشق کی مسجد کے زینوں پر لٹکے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے یہ جہنم کے کتے ہیں ان سے بدتر مقتول روئے زمین پر کوئی نہیں انہیں قتل کرنے والے بہترین مجاہد ہیں پھر آیت «یوم تبیض» تلاوت فرمائی، ابوغالب نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے؟ فرمایا ایک دو دفعہ نہیں بلکہ سات مرتبہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہی نہیں، [سنن ترمذي:3000،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن مردویہ نے یہاں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ایک لمبی حدیث نقل کی ہے جو بہت ہی عجیب ہے لیکن سنداً غریب ہے۔ دنیا اور آخرت کی یہ باتیں ہم تم پر اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھول رہے ہیں اللہ عادل حاکم ہے وہ ظالم نہیں اور ہر چیز کو خوب جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے [ جن کے کالے منہ ہوئے وہ اسی لائق تھے ] زمین اور آسمان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں اور ہر کام کا آخری حکم اسی کی طرف ہے متصرف اور با اختیار حکم دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔
صفحہ نمبر1225
خوارج کا انجام ٭٭
پھر فرمایا اس دن سفید چہرے اور سیاہ منہ بھی ہونگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ اہل سنت و الجماعت کے منہ سفید اور نورانی ہونگے مگر اہل بدعت و منافقت کے کالے منہ ہونگے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ کالے منہ والے منافق ہونگے جن سے کہا جائے گا کہ تم نے ایمان کے بعد کفر کیوں کیا اب اس کا مزہ چکھو۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:465/2]
اور سفید منہ والے اللہ رحیم و کریم کی رحمت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے جب خارجیوں کے سر دمشق کی مسجد کے زینوں پر لٹکے ہوئے دیکھے تو فرمانے لگے یہ جہنم کے کتے ہیں ان سے بدتر مقتول روئے زمین پر کوئی نہیں انہیں قتل کرنے والے بہترین مجاہد ہیں پھر آیت «یوم تبیض» تلاوت فرمائی، ابوغالب نے کہا کہ جناب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے؟ فرمایا ایک دو دفعہ نہیں بلکہ سات مرتبہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہی نہیں، [سنن ترمذي:3000،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن مردویہ نے یہاں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ایک لمبی حدیث نقل کی ہے جو بہت ہی عجیب ہے لیکن سنداً غریب ہے۔ دنیا اور آخرت کی یہ باتیں ہم تم پر اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھول رہے ہیں اللہ عادل حاکم ہے وہ ظالم نہیں اور ہر چیز کو خوب جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ کسی پر ظلم کرے [ جن کے کالے منہ ہوئے وہ اسی لائق تھے ] زمین اور آسمان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں اور ہر کام کا آخری حکم اسی کی طرف ہے متصرف اور با اختیار حکم دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے۔
صفحہ نمبر1225
سب سے بہتر شخص کون؟ اور سب سے بہتر امت کا اعزاز کس کو ملا؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ امت محمدیہ تمام امتوں پر بہتر ہے صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں تم اوروں کے حق میں سب سے بہتر ہو تو لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر اسلام کی طرف جھکاتے ہو، [صحیح بخاری:4557]
اور مفسرین بھی یہی فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم تمام امتوں سے بہتر ہو اور سب سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچانے والے ہو، ابولہب کی بیٹی سیدہ درہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک مرتبہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ اس وقت منبر پر تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کون سا شخص بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا سب لوگوں سے بہتر وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ قاری قرآن ہو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو، سب سے زیادہ اچھائیوں کا حکم کرنے والا سب سے زیادہ برائیوں سے روکنے والا سب سے زیادہ رشتے ناتے ملانے والا ہو۔ [مسند احمد:431/6:ضعیف] [ مسند احمد ]
صفحہ نمبر1229
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ وہ صحابہ ہیں جنہوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی،
صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت ساری امت پر مشتمل ہے، بیشک یہ حدیث میں بھی ہے کہ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد اس سے ملا ہوا زمانہ پھر اس کے بعد والا۔ [صحیح بخاری:3605]
ایک اور روایت میں ہے آیت «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ» [2-البقرة:143]
ہم نے تمہیں بہتر امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم نے اگلی امتوں کی تعداد ستر تک پہنچا دی ہے، اللہ کے نزدیک تم ان سب سے بہتر اور زیادہ بزرگ ہو۔ [سنن ترمذي:3001،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ مشہور حدیث ہے امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے، اس امت کی افضیلت کی ایک بڑی دلیل اس امت کے نبی کی افضیلت ہے، آپ تمام مخلوق کے سردار تمام رسولوں سے زیادہ اکرام و عزت والے ہیں، آپ کی شرع اتنی کامل اور اتنی پوری ہے کہ ایسی شریعت کسی نبی کو نہیں تو ظاہر بات ہے کہ ان فضائل کو سمیٹتے والی امت بھی سب سے اعلیٰ و افضل ہے، اس شریعت کا تھوڑا سا عمل بھی اور امتوں کے زیادہ عمل سے بہتر و افضل ہے۔
صفحہ نمبر1230
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں وہ نعمتیں دیا گیا ہوں جو مجھ سے پہلے کوئی نہیں دیا گیا لوگوں نے پوچھا وہ کیا باتیں ہیں، آپ نے فرمایا میری مدد رعب سے کی گئی ہے میں زمین کی کنجیاں دیا گیا ہوں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، میرے لیے مٹی پاک کی گئی ہے، میری امت سب امتوں سے بہتر بنائی گئی ہے۔ [مسند احمد:98/1:حسن]
اس حدیث کی سند حسن ہے،سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ میں تمہارے بعد ایک امت پیدا کرنے والا ہوں جو راحت پر حمد و شکر کریں گے اور مصیبت پر طلب ثواب اور صبر کریں گے حالانکہ انہیں حلم و علم نہ ہو گا آپ نے تعجب سے پوچھا کہ بغیر بردباری اور دور اندیشی اور پختہ علم کے یہ کیسے ممکن ہے؟ رب العالمین نے فرمایا میں انہیں اپنا حلم و علم عطا فرماؤں گا۔ [مسند احمد:450/6:ضعیف]
میں چاہتا ہوں یہاں پر بعض وہ حدیثیں بھی بیان کر دوں جن کا ذکر یہاں مناسب ہے سنئے۔
صفحہ نمبر1231
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے جن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے سب یک رنگ ہونگے، میں نے اپنے رب سے گزارش کی کہ اے اللہ اس تعداد میں اور اضافہ فرما اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار اور بھی، سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کر کے فرمایا کرتے تھے کہ پھر تو اس تعداد میں گاؤں اور دیہاتوں والے بلکہ بادیہ نشین بھی آ جائیں گے۔ [مسند احمد:6/1:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے میرے رب نے ستر ہزار آدمیوں کو میری امت میں سے بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری دی،سیدنا عمر نے یہ سن کر فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اور زیادتی طلب کرتے آپ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے سوال کیا تو مجھے خوشخبری ملی کہ ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے۔ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم برکت کی دعا کرتے آپ نے فرمایا میں نے پھر کی ت ہر شخص کے ساتھ ستر ہزار کا وعدہ ہوا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر گزارش کی کہ اللہ کے نبی اور کچھ بھی مانگتے آپ نے فرمایا مانگا تو مجھے اتنی زیادتی اور ملی اور پھر دونوں ہاتھ پھیلا کر بتایا کہ اس طرح، راوی حدیث کہتے ہیں اس طرح جب اللہ تعالیٰ سمیٹے تو اللہ عزوجل ہی جانتا ہے کہ کس قدر مخلوق اس میں آئے گی۔ [ فسبحان اللہ وبحمدہ ] [مسند احمد:197/1:ضعیف]
صفحہ نمبر1232
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ حمص میں بیمار ہو گئے عبداللہ بن قرط وہاں کے امیر تھے وہ عیادت کو نہ آ سکے ایک کلاعی شخص جب آپ کی بیمار پرسی کیلئے گیا تو آپ نے اس سے دریافت کیا کہ لکھنا جانتے ہو اس نے کہا ہاں فرمایا لکھو یہ خط ثوبان کی طرف سے امیر عبداللہ بن قرط کی طرف سے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں بعد حمد و صلوٰۃ کے! واضح ہو کہ اگر سیدنا عیسیٰ یا سیدنا موسیٰ علیہما السلام کا کوئی خادم یہاں ہوتا اور بیمار پڑتا تو تم عیادت کیلئے جاتے پھر کہا یہ خط لے جاؤ اور امیر کو پہنچا دو جب یہ خط امیر حمص کے پاس پہنچا تو گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور سیدھے یہاں تشریف لائے کچھ دیر بیٹھ کر عیادت کر کے جب جانے کا ارادہ کیا تو سیدنا ثوبانرضی اللہ عنہ نے ان کی چادر پکڑ روکا اور فرمایا ایک حدیث سنتے جائیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا ہے آپ نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے۔ [مسند احمد:280/5:صحیح لغیرہ] یہ حدیث بھی صحیح ہے۔
صفحہ نمبر1233
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک رات ہم خدمت نبوی میں دیر تک باتیں کرتے رہے پھر صبح جب حاضر خدمت ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سنو آج رات انبیاء اپنی اپنی امت سمیت مجھے دکھائے گئے بعض انبیاء کے ساتھ صرف تین شخص تھے بعض کے ساتھ مختصر سا گروہ بعض کے ساتھ ایک جماعت کسی کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا جب موسیٰ علیہ السلام آئے تو ان کے ساتھ بہت سے لوگ تھے مجھے یہ جماعت پسند آئی میں نے پوچھا یہ کون ہیں تو جواب ملا کہ یہ آپ کے بھائی موسیٰ علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل ہیں میں نے کہا پھر میری امت کہاں ہے جواب ملا اپنی داہنی طرف دیکھو اب جو دیکھتا ہوں تو بےشمار مجمع ہے جس سے پہاڑیاں بھی ڈھک گئی ہیں اب مجھ سے پوچھا گیا کہو خوش ہو میں نے کہا میرے رب میں راضی ہو گیا، فرمایا گیا سنو! ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر میرے میں باپ فدا ہوں اگر ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے ہی ہونا اگر یہ نہ ہو سکے تو ان میں سے ہو جو پہاڑیوں کو چھپائے ہوئے تھے اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ان میں سے ہونا جو آسمان کے کناروں کناروں پر تھے، سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان ستر ہزار میں سے کرے آپ نے دعا کی تو ایک دوسرے صحابی نے بھی اٹھ کر یہی گزارش کی تو آپ نے فرمایا تم پر سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ سبقت کر گئے۔
صفحہ نمبر1234
ہم اب آپس میں کہنے لگے کہ شاید یہ ستر ہزار لوگ ہوں گے جو اسلام پر ہی پیدا ہوئے ہوں اور پوری عمر میں کبھی اللہ کے ساتھ شرک کیا ہی نہ ہو آپ کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو دم جھاڑا نہیں کراتے آگ کے داغ نہیں لگواتے شگون نہیں لیتے اور اپنے رب پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں۔ [مسند احمد:401/1:صحیح]
ایک اور سند سے اتنی زیادتی اس میں اور بھی ہے جب میں نے اپنی رضا مندی ظاہر کی تو مجھ سے کہا گیا اب اپنی بائیں جانب دیکھو میں نے دیکھا تو بےشمار مجمع ہے جس نے آسمان کے کناروں کو بھی ڈھک لیا ہے۔ [مسند احمد:401/1:صحیح] ایک اور روایت میں ہے کہ موسم حج کا یہ واقعہ ہے آپ فرماتے ہیں مجھے اپنی امت کی یہ کثرت بہت پسند آئی تمام پہاڑیاں اور میدان ان سے پُر تھے۔ [مسند احمد:445/1:صحیح]
ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کے بعد کھڑے ہونے والے ایک انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحیح بخاری:5811] [ طبرانی ]
ایک اور روایت میں ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار یا ساٹھ لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے جو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہوں گے سب ایک ساتھ جنت میں جائیں گے چمکتے ہوئے چودھویں رات کے چاند جیسے ان کے چہرے ہوں گے۔ [ بخاری:6543، مسلم، طبرانی ]
صفحہ نمبر1235
حصین بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سعید بن جیبر رحمہ اللہ کے پاس تھا تو آپ نے دریافت کیا رات کو جو ستارہ ٹوٹا تھا تم میں سے کسی نے دیکھا تھا میں نے کہا ہاں حضرت میں نے دیکھا تھا یہ نہ سمجھئے گا کہ میں نماز میں تھا بلکہ مجھے بچھو نے کاٹ کھایا تھا سعید نے پوچھا پھر تم نے کیا کیا میں نے کہا دم کر دیا تھا کہا کیوں میں نے کہا سیدنا شعبی رحمہ اللہ نے بریدہ بن حصیب کی روایت سے حدیث بیان کی ہے کہ نظربد اور زہریلے جانوروں کا دم جھاڑا کرانا ہے کہنے لگے خیر جسے جو پہنچے اس پر عمل کرے ہمیں تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سنایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں کسی نبی کے ساتھ ایک جماعت تھی کسی کے ساتھ ایک شخص اور دو شخص اور کسی نبی کے ساتھ کوئی نہ تھا اب جو دیکھا کہ ایک بڑی جماعت پر نظر پڑی میں سمجھا یہ تو میری امت ہو گی پھر معلوم ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کی امت ہے مجھ سے کہا گیا آسمان کے کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو وہاں بےشمار لوگ تھے مجھ سے کہا گیا یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بے حساب اور بےعذاب جنت میں جائیں گے یہ حدیث بیان فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو مکان پر چلے گئے اور صحابہ آپس میں کہنے لگے شاید یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہوں گے کسی نے کہا نہیں اسلام میں پیدا ہونے والے اور اسلام پر ہی مرنے والے ہوں گے وغیرہ وغیرہ آپ تشریف لائے اور پوچھا کیا باتیں کر رہے ہو ہم نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا نہیں یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم جھاڑا کریں نہ کرائیں، نہ داغ لگوائیں نہ شگون لیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ رکھیں سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ نے دعا کی درخواست کی۔
صفحہ نمبر1236
آپ نے دعا کی یا اللہ تو اسے ان میں سے ہی بنا۔ پھر دوسرے شخص نے بھی یہی کہا آپ نے فرمایا عکاشہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ گئے۔ [صحیح بخاری:6541] یہ حدیث بخاری میں ہے لیکن اس میں دم جھاڑا نہیں کرنے کا لفظ نہیں صحیح مسلم میں بھی یہ لفظ ہے۔
ایک اور مطول حدیث میں ہے کہ پہلی جماعت تو نجات پائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان سے حساب بھی نہ لیا جائے گا پھر ان کے بعد والے سب سے زیادہ روشن ستارے جیسے چمکدار چہرے والے ہوں گے [صحیح مسلم:191] آپ فرماتے ہیں مجھ سے میرے رب کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے داخل بہشت ہوں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے اور تین لپیں اور میرے رب عزوجل کی لپوں سے۔ [سنن ترمذي:2438،قال الشيخ الألباني:صحیح] [ کتاب السنن لحافظ ابی بکر بن عاصم ] اس کی اسناد بہت عمدہ ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ سے ستر ہزار کی تعداد سن کر یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو آپ کی امت کی تعداد کے مقابلہ میں بہت ہی تھوڑے ہیں تو آپ نے فرمایا ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہیں اور پھر اللہ نے تین لپیں (ہتھیلیوں کا کشکول) بھر کر اور بھی عطا فرمائے ہیں، اس کی اسناد بھی حسن ہے۔ [مسند احمد:250/5:حسن]
[ کتاب السنن ] اور ایک اور حدیث میں ہے کہ میرے رب نے جو عزت اور جلال والا ہے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار کو بلا حساب جنت میں لے جائے گا پھر ایک ایک ہزار کی شفاعت سے ستر ستر ہزار آدمی اور جائیں گے پھر میرا رب اپنے دونوں ہاتھوں سے تین لپیں (دونوں ہاتھوں کی ہھتیلیوں کو ملا کر کٹورا بنانا) بھر کر اور ڈالے گا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر خوش ہو کر اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ ان کی شفاعت ان کے باپ دادوں اور بیٹوں اور بیٹیوں اور خاندان و قبیلہ میں ہو گی اللہ کرے میں تو ان میں سے ہو جاؤں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی لپوں میں بھر کر آخر میں جنت میں لے جائے گا۔ [طبرانی کبیر:771/22:صحیح] [ طبرانی ] اس حدیث کی سند میں بھی کوئی علت نہیں۔ واللہ اعلم
صفحہ نمبر1237
کدید میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث فرمائی جس میں جنت میں یہ بھی فرمایا یہ ستر ہزار جو بلا حساب جنت میں داخل کئے جائیں گے میرا خیال ہے کہ ان کے آتے آتے تو تم اپنے لیے اور اپنے بال بچوں اور بیویوں کیلئے جنت میں جگہ مقرر کر چکے ہو گے۔ [مسند احمد:16/4:صحیح] اس کی سند بھی شرطِ مسلم پر ہے، ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اور زیادہ کیجئے اسے سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ابوبکر بس کرو سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کیوں صاحب اگر ہم سب کے سب جنت میں چلے جائیں گے تو آپ کو کیا نقصان ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر اللہ چاہے تو ایک ہی ہاتھ میں ساری مخلوق کو جنت میں ڈال دے حضور علیہ السلام نے فرمایا عمر رضی اللہ عنہ سچ کہتے ہیں۔ [مسند احمد:165/3:صحیح] [ مسند عبدالرزاق ]
اسی حدیث کی اور سند سے بھی بیان ہے اس میں تعداد ایک لاکھ آئی ہے۔ [مسند احمد:193/3:صحیح] [ اصبہانی ] ایک اور روایت میں ہے کہ جب صحابہ نے ستر ہزار اور پھر ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار پھر اللہ کی لپ بھر کر جنتی بنانا سنا تو کہنے لگے پھر تو اس کی بدنصیبی میں کیا شک رہ گیا جو باوجود اس کے بھی جہنم میں جائے۔ [ابو یعلی:3783:صحیح] [ ابویعلیٰ ]
اوپر والی حدیث ایک اور سند سے بھی بیان ہوئی ہے اس میں تعداد تین لاکھ کی ہے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:64/17:ضعیف] [ طبرانی ]
صفحہ نمبر1238
ایک اور حدیث میں جنت میں جانے والوں کا ذکر کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے سارے مہاجر تو اس میں آ ہی جائیں گے پھر باقی تعداد اعرابیوں سے پوری ہو گی [مسند احمد:359/2] [ محمد بن سہل ]
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حساب کیا گیا تو جملہ تعداد چار کروڑ نوے ہزار ہوئی، ایک اور حسن حدیث طبرانی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے تم ایک اندھیری رات کی طرح بےشمار ایک ساتھ جنت کی طرف بڑھو گے، زمین تم سے پر ہو جائے گی تمام فرشتے پکار اٹھیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو جماعت آئی وہ تمام نبیوں کی جماعت سے بہت زیادہ ہے۔ [طبرانی:3455:ضعیف]
صفحہ نمبر1239
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا صرف میری تابعدار امت اہل جنت کی چوتھائی ہو گی صحابہ نے خوش ہو کر نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کہ مجھے تو امید ہے کہ تم اہل جنت کا تیسرا حصہ ہو جاؤ ہم نے پھر تکبیر کہی پھر فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ تم آدھوں آدھ ہو جاؤ۔ [مسند احمد:383/3:صحیح] [ مسند احمد ]
اور حدیث میں ہے کہ آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تم تمام جنتوں کے چوتھائی ہو ہم نے خوش ہو کر اللہ کی بڑائی بیان کی پھر فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تمام اہل جنت کی تہائی ہو ہم نے پھر تکبیر کہی آپ نے فرمایا مجھے تو امید ہے کہ تم جنتیوں کے آدھوں آدھ ہو گے۔ [صحیح بخاری:6568] [ بخاری مسلم ]
طبرانی میں یہ روایت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا کہتے ہو تم جنتیوں کا چوتھائی حصہ بننا چاہتے ہو کہ چوتھائی جنت تمہارے پاس ہو اور تین چوتھائیوں میں تمام اور امتیں ہوں؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے آپ نے فرمایا اچھا تہائی حصہ ہو تو ہم نے کہا یہ بہت ہے فرمایا اگر آدھوں آدھ ہو تو، انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو بہت ہی زیادہ ہے آپ نے فرمایا سنو! کل اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہیں جن میں سے اسی [80] صفیں صرف اس میری امت کی ہیں۔ [مسند احمد:453/1:صحیح بالشواھد] ،
مسند احمد میں بھی ہے کہ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ان میں اسی 80 صفیں صرف اس امت کی ہیں یہ حدیث طبرانی ترمذی وغیرہ میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:2546،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1240
طبرانی ایک اور روایت میں ہے کہ جب آیت «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ ـ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39] اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اہل جنت کی چوتھائی ہو پھر فرمایا بلکہ ثلث ہو پھر فرمایا بلکہ نصف ہو پھر فرمایا دو تہائی ہو [مسند احمد:391/2:صحیح] [ اے وسیع رحمتوں والے اور بے روک نعمتوں والے اللہ ہم تیرا بے انتہا شکر ادا کرتے ہیں کہ تو نے ہمیں ایسے معزز و محترم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا کیا تیرے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی زبان سے تیرے اس بڑھے چڑھے فضل و کرم کا حال سن کر ہم گنہگاروں کے منہ میں پانی بھر آیا، اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اللہ! ہماری آس نہ توڑ اور ہمیں بھی ان نیک ہستیوں کے ساتھ جنت میں داخل فرما۔ اللہ اس پاک ذکر کے موقع پر ہم ہاتھ اٹھا کر، دامن پھیلا کر آنسو بہا کر، امیدوں بھرے دل سے تیری رحمت کا سہارا لے کر، تیرے کرم کا دامن تھام کر تجھ سے بھیک مانگتے ہیں تو قبول فرما اور اپنی رحمت سے ہمیں اپنی رضامندی کا گھر جنت الفردوس عطا فرما۔ آمین الہ الحق آمین]
صفحہ نمبر1241
صحیح بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم دنیا میں سب سے آخر آئے اور جنت میں سب سے پہلے جائیں گے اور ان کو کتاب اللہ پہلے ملی ہمیں بعد میں ملی جن باتوں میں انہوں نے اختلاف کیا ان میں اللہ نے ہمیں صحیح طریق کی توفیق دی، جمعہ کا دن بھی ایسا ہی ہے کہ یہود ہمارے پیچھے ہیں ہفتہ کے دن اور نصرانی ان کے پیچھے اتوار کے دن۔ [صحیح بخاری:876]
دارقطنی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک میں جنت میں داخل نہ ہو جاؤں انبیاء پر دخول جنت حرام ہے اور جب تک میری امت نہ داخل ہو دوسری امتوں پر دخول جنت حرام ہے۔ [ابن عدی:129/4:ضعیف] یہ وہ حدیثیں تھیں جنہیں ہم اس آیت کے تحت وارد کرنا چاہتے تھے فالحمدللہ۔ امت کو بھی چاہیئے کہ یہاں اس آیت میں جتنی صفتیں ہیں ان پر مضبوطی کے ساتھ قائم ثابت رہیں یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ایمان باللہ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے حج میں اس آیت کی تلاوت فرما کر لوگوں سے کہا کہ اگر تم اس آیت کی تعریف میں داخل ہونا چاہتے ہو تو یہ اوصاف بھی اپنے میں پیدا کرو، امام ابن جریدرحمہ اللہ فرماتے، اہل کتاب ان کاموں کو چھوڑ بیٹھے تھے جن کی مذمت کلام اللہ نے کی، فرمایا آیت «كَانُواْ لاَ يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ» [5-المائدة:79] وہ لوگ برائی کی باتوں سے لوگوں کو روکتے نہ تھے چونکہ مندرجہ بالا آیت میں ایمان داروں کی تعریف و توصیف بیان ہوئی تو اس کے بعد اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے، تو فرمایا کہ اگر یہ لوگ بھی میرے نبی آخر الزمان پر ایمان لاتے تو انہیں بھی یہ فضیلتیں ملتیں لیکن ان میں سے کفرو فسق اور گناہوں پر جمے ہوئے ہیں ہاں کچھ لوگ با ایمان بھی ہیں۔
صفحہ نمبر1242
پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بشارت دیتا ہے کہ تم نہ گھبرانا اللہ تمہیں تمہارے مخالفین پر غالب رکھے گا چنانچہ خیبر والے دن اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل کیا اور ان سے پہلے بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کو بھی اللہ نے ذلیل و رسوا کیا، اسی طرح شام کے نصرانی صحابہ رضی اللہ عنہم کے وقت میں مغلوب ہوئے اور ملک شام ان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور ہمیشہ کیلئے مسلمانوں کے قبضہ میں آ گیا اور وہاں ایک حق والی جماعت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے تک حق پر قائم رہے گی، سیدنا عیسیٰ آ کر ملت اسلام اور شریعت محمد کے مطابق حکم کریں گے صلیب توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے جزیہ قبول نہ کریں گے صرف اسلام ہی قبول فرمائیں گے پھر فرمایا کہ ان کے اوپر ذلت اور پستی ڈال دی گئی ہاں اللہ کی پناہ کے علاوہ کہیں بھی امن و امان اور عزت نہیں یعنی جزیہ دینا اور مسلم بادشاہ کی اطاعت کرنا قبول کر لیں اور لوگوں کی پناہ یعنی عقد ذمہ مقرر ہو جائے یا کوئی مسلمان امن دیدے اگرچہ کوئی عورت ہو یا کوئی غلام ہو، علماء کا ایک قول یہ بھی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ «حبل» سے مراد عہد ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:112/7] جو غضب کے مستحق ہوئے اور مسکینی چپکا دی گئی، ان کے کفر اور انبیاء سے تکبر، حسد، سرکشی وغیرہ کا بدلہ ہے۔ اسی باعث ان پر ذلت پستی اور مسکینی ہمیشہ کیلئے ڈال دی گئی ان کی نافرمانیوں اور تجاوز حق کا یہ بدلہ ہے العیاذ باللہ، ابوداؤد طیالسی میں حدیث ہے کہ بنی اسرائیل ایک ایک دن میں تین تین سو نبیوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور دن کے آخری حصہ میں اپنے اپنے کاموں پر بازاروں میں لگ جاتے تھے۔
صفحہ نمبر1243
سب سے بہتر شخص کون؟ اور سب سے بہتر امت کا اعزاز کس کو ملا؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ امت محمدیہ تمام امتوں پر بہتر ہے صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں تم اوروں کے حق میں سب سے بہتر ہو تو لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر اسلام کی طرف جھکاتے ہو، [صحیح بخاری:4557]
اور مفسرین بھی یہی فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم تمام امتوں سے بہتر ہو اور سب سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچانے والے ہو، ابولہب کی بیٹی سیدہ درہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک مرتبہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ اس وقت منبر پر تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کون سا شخص بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا سب لوگوں سے بہتر وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ قاری قرآن ہو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو، سب سے زیادہ اچھائیوں کا حکم کرنے والا سب سے زیادہ برائیوں سے روکنے والا سب سے زیادہ رشتے ناتے ملانے والا ہو۔ [مسند احمد:431/6:ضعیف] [ مسند احمد ]
صفحہ نمبر1229
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ وہ صحابہ ہیں جنہوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی،
صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت ساری امت پر مشتمل ہے، بیشک یہ حدیث میں بھی ہے کہ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد اس سے ملا ہوا زمانہ پھر اس کے بعد والا۔ [صحیح بخاری:3605]
ایک اور روایت میں ہے آیت «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ» [2-البقرة:143]
ہم نے تمہیں بہتر امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم نے اگلی امتوں کی تعداد ستر تک پہنچا دی ہے، اللہ کے نزدیک تم ان سب سے بہتر اور زیادہ بزرگ ہو۔ [سنن ترمذي:3001،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ مشہور حدیث ہے امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے، اس امت کی افضیلت کی ایک بڑی دلیل اس امت کے نبی کی افضیلت ہے، آپ تمام مخلوق کے سردار تمام رسولوں سے زیادہ اکرام و عزت والے ہیں، آپ کی شرع اتنی کامل اور اتنی پوری ہے کہ ایسی شریعت کسی نبی کو نہیں تو ظاہر بات ہے کہ ان فضائل کو سمیٹتے والی امت بھی سب سے اعلیٰ و افضل ہے، اس شریعت کا تھوڑا سا عمل بھی اور امتوں کے زیادہ عمل سے بہتر و افضل ہے۔
صفحہ نمبر1230
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں وہ نعمتیں دیا گیا ہوں جو مجھ سے پہلے کوئی نہیں دیا گیا لوگوں نے پوچھا وہ کیا باتیں ہیں، آپ نے فرمایا میری مدد رعب سے کی گئی ہے میں زمین کی کنجیاں دیا گیا ہوں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، میرے لیے مٹی پاک کی گئی ہے، میری امت سب امتوں سے بہتر بنائی گئی ہے۔ [مسند احمد:98/1:حسن]
اس حدیث کی سند حسن ہے،سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ میں تمہارے بعد ایک امت پیدا کرنے والا ہوں جو راحت پر حمد و شکر کریں گے اور مصیبت پر طلب ثواب اور صبر کریں گے حالانکہ انہیں حلم و علم نہ ہو گا آپ نے تعجب سے پوچھا کہ بغیر بردباری اور دور اندیشی اور پختہ علم کے یہ کیسے ممکن ہے؟ رب العالمین نے فرمایا میں انہیں اپنا حلم و علم عطا فرماؤں گا۔ [مسند احمد:450/6:ضعیف]
میں چاہتا ہوں یہاں پر بعض وہ حدیثیں بھی بیان کر دوں جن کا ذکر یہاں مناسب ہے سنئے۔
صفحہ نمبر1231
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے جن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے سب یک رنگ ہونگے، میں نے اپنے رب سے گزارش کی کہ اے اللہ اس تعداد میں اور اضافہ فرما اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار اور بھی، سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کر کے فرمایا کرتے تھے کہ پھر تو اس تعداد میں گاؤں اور دیہاتوں والے بلکہ بادیہ نشین بھی آ جائیں گے۔ [مسند احمد:6/1:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے میرے رب نے ستر ہزار آدمیوں کو میری امت میں سے بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری دی،سیدنا عمر نے یہ سن کر فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اور زیادتی طلب کرتے آپ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے سوال کیا تو مجھے خوشخبری ملی کہ ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے۔ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم برکت کی دعا کرتے آپ نے فرمایا میں نے پھر کی ت ہر شخص کے ساتھ ستر ہزار کا وعدہ ہوا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر گزارش کی کہ اللہ کے نبی اور کچھ بھی مانگتے آپ نے فرمایا مانگا تو مجھے اتنی زیادتی اور ملی اور پھر دونوں ہاتھ پھیلا کر بتایا کہ اس طرح، راوی حدیث کہتے ہیں اس طرح جب اللہ تعالیٰ سمیٹے تو اللہ عزوجل ہی جانتا ہے کہ کس قدر مخلوق اس میں آئے گی۔ [ فسبحان اللہ وبحمدہ ] [مسند احمد:197/1:ضعیف]
صفحہ نمبر1232
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ حمص میں بیمار ہو گئے عبداللہ بن قرط وہاں کے امیر تھے وہ عیادت کو نہ آ سکے ایک کلاعی شخص جب آپ کی بیمار پرسی کیلئے گیا تو آپ نے اس سے دریافت کیا کہ لکھنا جانتے ہو اس نے کہا ہاں فرمایا لکھو یہ خط ثوبان کی طرف سے امیر عبداللہ بن قرط کی طرف سے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں بعد حمد و صلوٰۃ کے! واضح ہو کہ اگر سیدنا عیسیٰ یا سیدنا موسیٰ علیہما السلام کا کوئی خادم یہاں ہوتا اور بیمار پڑتا تو تم عیادت کیلئے جاتے پھر کہا یہ خط لے جاؤ اور امیر کو پہنچا دو جب یہ خط امیر حمص کے پاس پہنچا تو گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور سیدھے یہاں تشریف لائے کچھ دیر بیٹھ کر عیادت کر کے جب جانے کا ارادہ کیا تو سیدنا ثوبانرضی اللہ عنہ نے ان کی چادر پکڑ روکا اور فرمایا ایک حدیث سنتے جائیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا ہے آپ نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے۔ [مسند احمد:280/5:صحیح لغیرہ] یہ حدیث بھی صحیح ہے۔
صفحہ نمبر1233
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک رات ہم خدمت نبوی میں دیر تک باتیں کرتے رہے پھر صبح جب حاضر خدمت ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سنو آج رات انبیاء اپنی اپنی امت سمیت مجھے دکھائے گئے بعض انبیاء کے ساتھ صرف تین شخص تھے بعض کے ساتھ مختصر سا گروہ بعض کے ساتھ ایک جماعت کسی کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا جب موسیٰ علیہ السلام آئے تو ان کے ساتھ بہت سے لوگ تھے مجھے یہ جماعت پسند آئی میں نے پوچھا یہ کون ہیں تو جواب ملا کہ یہ آپ کے بھائی موسیٰ علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل ہیں میں نے کہا پھر میری امت کہاں ہے جواب ملا اپنی داہنی طرف دیکھو اب جو دیکھتا ہوں تو بےشمار مجمع ہے جس سے پہاڑیاں بھی ڈھک گئی ہیں اب مجھ سے پوچھا گیا کہو خوش ہو میں نے کہا میرے رب میں راضی ہو گیا، فرمایا گیا سنو! ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر میرے میں باپ فدا ہوں اگر ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے ہی ہونا اگر یہ نہ ہو سکے تو ان میں سے ہو جو پہاڑیوں کو چھپائے ہوئے تھے اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ان میں سے ہونا جو آسمان کے کناروں کناروں پر تھے، سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان ستر ہزار میں سے کرے آپ نے دعا کی تو ایک دوسرے صحابی نے بھی اٹھ کر یہی گزارش کی تو آپ نے فرمایا تم پر سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ سبقت کر گئے۔
صفحہ نمبر1234
ہم اب آپس میں کہنے لگے کہ شاید یہ ستر ہزار لوگ ہوں گے جو اسلام پر ہی پیدا ہوئے ہوں اور پوری عمر میں کبھی اللہ کے ساتھ شرک کیا ہی نہ ہو آپ کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو دم جھاڑا نہیں کراتے آگ کے داغ نہیں لگواتے شگون نہیں لیتے اور اپنے رب پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں۔ [مسند احمد:401/1:صحیح]
ایک اور سند سے اتنی زیادتی اس میں اور بھی ہے جب میں نے اپنی رضا مندی ظاہر کی تو مجھ سے کہا گیا اب اپنی بائیں جانب دیکھو میں نے دیکھا تو بےشمار مجمع ہے جس نے آسمان کے کناروں کو بھی ڈھک لیا ہے۔ [مسند احمد:401/1:صحیح] ایک اور روایت میں ہے کہ موسم حج کا یہ واقعہ ہے آپ فرماتے ہیں مجھے اپنی امت کی یہ کثرت بہت پسند آئی تمام پہاڑیاں اور میدان ان سے پُر تھے۔ [مسند احمد:445/1:صحیح]
ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کے بعد کھڑے ہونے والے ایک انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحیح بخاری:5811] [ طبرانی ]
ایک اور روایت میں ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار یا ساٹھ لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے جو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہوں گے سب ایک ساتھ جنت میں جائیں گے چمکتے ہوئے چودھویں رات کے چاند جیسے ان کے چہرے ہوں گے۔ [ بخاری:6543، مسلم، طبرانی ]
صفحہ نمبر1235
حصین بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سعید بن جیبر رحمہ اللہ کے پاس تھا تو آپ نے دریافت کیا رات کو جو ستارہ ٹوٹا تھا تم میں سے کسی نے دیکھا تھا میں نے کہا ہاں حضرت میں نے دیکھا تھا یہ نہ سمجھئے گا کہ میں نماز میں تھا بلکہ مجھے بچھو نے کاٹ کھایا تھا سعید نے پوچھا پھر تم نے کیا کیا میں نے کہا دم کر دیا تھا کہا کیوں میں نے کہا سیدنا شعبی رحمہ اللہ نے بریدہ بن حصیب کی روایت سے حدیث بیان کی ہے کہ نظربد اور زہریلے جانوروں کا دم جھاڑا کرانا ہے کہنے لگے خیر جسے جو پہنچے اس پر عمل کرے ہمیں تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سنایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں کسی نبی کے ساتھ ایک جماعت تھی کسی کے ساتھ ایک شخص اور دو شخص اور کسی نبی کے ساتھ کوئی نہ تھا اب جو دیکھا کہ ایک بڑی جماعت پر نظر پڑی میں سمجھا یہ تو میری امت ہو گی پھر معلوم ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کی امت ہے مجھ سے کہا گیا آسمان کے کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو وہاں بےشمار لوگ تھے مجھ سے کہا گیا یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بے حساب اور بےعذاب جنت میں جائیں گے یہ حدیث بیان فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو مکان پر چلے گئے اور صحابہ آپس میں کہنے لگے شاید یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہوں گے کسی نے کہا نہیں اسلام میں پیدا ہونے والے اور اسلام پر ہی مرنے والے ہوں گے وغیرہ وغیرہ آپ تشریف لائے اور پوچھا کیا باتیں کر رہے ہو ہم نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا نہیں یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم جھاڑا کریں نہ کرائیں، نہ داغ لگوائیں نہ شگون لیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ رکھیں سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ نے دعا کی درخواست کی۔
صفحہ نمبر1236
آپ نے دعا کی یا اللہ تو اسے ان میں سے ہی بنا۔ پھر دوسرے شخص نے بھی یہی کہا آپ نے فرمایا عکاشہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ گئے۔ [صحیح بخاری:6541] یہ حدیث بخاری میں ہے لیکن اس میں دم جھاڑا نہیں کرنے کا لفظ نہیں صحیح مسلم میں بھی یہ لفظ ہے۔
ایک اور مطول حدیث میں ہے کہ پہلی جماعت تو نجات پائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان سے حساب بھی نہ لیا جائے گا پھر ان کے بعد والے سب سے زیادہ روشن ستارے جیسے چمکدار چہرے والے ہوں گے [صحیح مسلم:191] آپ فرماتے ہیں مجھ سے میرے رب کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے داخل بہشت ہوں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے اور تین لپیں اور میرے رب عزوجل کی لپوں سے۔ [سنن ترمذي:2438،قال الشيخ الألباني:صحیح] [ کتاب السنن لحافظ ابی بکر بن عاصم ] اس کی اسناد بہت عمدہ ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ سے ستر ہزار کی تعداد سن کر یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو آپ کی امت کی تعداد کے مقابلہ میں بہت ہی تھوڑے ہیں تو آپ نے فرمایا ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہیں اور پھر اللہ نے تین لپیں (ہتھیلیوں کا کشکول) بھر کر اور بھی عطا فرمائے ہیں، اس کی اسناد بھی حسن ہے۔ [مسند احمد:250/5:حسن]
[ کتاب السنن ] اور ایک اور حدیث میں ہے کہ میرے رب نے جو عزت اور جلال والا ہے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار کو بلا حساب جنت میں لے جائے گا پھر ایک ایک ہزار کی شفاعت سے ستر ستر ہزار آدمی اور جائیں گے پھر میرا رب اپنے دونوں ہاتھوں سے تین لپیں (دونوں ہاتھوں کی ہھتیلیوں کو ملا کر کٹورا بنانا) بھر کر اور ڈالے گا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر خوش ہو کر اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ ان کی شفاعت ان کے باپ دادوں اور بیٹوں اور بیٹیوں اور خاندان و قبیلہ میں ہو گی اللہ کرے میں تو ان میں سے ہو جاؤں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی لپوں میں بھر کر آخر میں جنت میں لے جائے گا۔ [طبرانی کبیر:771/22:صحیح] [ طبرانی ] اس حدیث کی سند میں بھی کوئی علت نہیں۔ واللہ اعلم
صفحہ نمبر1237
کدید میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث فرمائی جس میں جنت میں یہ بھی فرمایا یہ ستر ہزار جو بلا حساب جنت میں داخل کئے جائیں گے میرا خیال ہے کہ ان کے آتے آتے تو تم اپنے لیے اور اپنے بال بچوں اور بیویوں کیلئے جنت میں جگہ مقرر کر چکے ہو گے۔ [مسند احمد:16/4:صحیح] اس کی سند بھی شرطِ مسلم پر ہے، ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اور زیادہ کیجئے اسے سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ابوبکر بس کرو سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کیوں صاحب اگر ہم سب کے سب جنت میں چلے جائیں گے تو آپ کو کیا نقصان ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر اللہ چاہے تو ایک ہی ہاتھ میں ساری مخلوق کو جنت میں ڈال دے حضور علیہ السلام نے فرمایا عمر رضی اللہ عنہ سچ کہتے ہیں۔ [مسند احمد:165/3:صحیح] [ مسند عبدالرزاق ]
اسی حدیث کی اور سند سے بھی بیان ہے اس میں تعداد ایک لاکھ آئی ہے۔ [مسند احمد:193/3:صحیح] [ اصبہانی ] ایک اور روایت میں ہے کہ جب صحابہ نے ستر ہزار اور پھر ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار پھر اللہ کی لپ بھر کر جنتی بنانا سنا تو کہنے لگے پھر تو اس کی بدنصیبی میں کیا شک رہ گیا جو باوجود اس کے بھی جہنم میں جائے۔ [ابو یعلی:3783:صحیح] [ ابویعلیٰ ]
اوپر والی حدیث ایک اور سند سے بھی بیان ہوئی ہے اس میں تعداد تین لاکھ کی ہے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:64/17:ضعیف] [ طبرانی ]
صفحہ نمبر1238
ایک اور حدیث میں جنت میں جانے والوں کا ذکر کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے سارے مہاجر تو اس میں آ ہی جائیں گے پھر باقی تعداد اعرابیوں سے پوری ہو گی [مسند احمد:359/2] [ محمد بن سہل ]
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حساب کیا گیا تو جملہ تعداد چار کروڑ نوے ہزار ہوئی، ایک اور حسن حدیث طبرانی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے تم ایک اندھیری رات کی طرح بےشمار ایک ساتھ جنت کی طرف بڑھو گے، زمین تم سے پر ہو جائے گی تمام فرشتے پکار اٹھیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو جماعت آئی وہ تمام نبیوں کی جماعت سے بہت زیادہ ہے۔ [طبرانی:3455:ضعیف]
صفحہ نمبر1239
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا صرف میری تابعدار امت اہل جنت کی چوتھائی ہو گی صحابہ نے خوش ہو کر نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کہ مجھے تو امید ہے کہ تم اہل جنت کا تیسرا حصہ ہو جاؤ ہم نے پھر تکبیر کہی پھر فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ تم آدھوں آدھ ہو جاؤ۔ [مسند احمد:383/3:صحیح] [ مسند احمد ]
اور حدیث میں ہے کہ آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تم تمام جنتوں کے چوتھائی ہو ہم نے خوش ہو کر اللہ کی بڑائی بیان کی پھر فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تمام اہل جنت کی تہائی ہو ہم نے پھر تکبیر کہی آپ نے فرمایا مجھے تو امید ہے کہ تم جنتیوں کے آدھوں آدھ ہو گے۔ [صحیح بخاری:6568] [ بخاری مسلم ]
طبرانی میں یہ روایت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا کہتے ہو تم جنتیوں کا چوتھائی حصہ بننا چاہتے ہو کہ چوتھائی جنت تمہارے پاس ہو اور تین چوتھائیوں میں تمام اور امتیں ہوں؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے آپ نے فرمایا اچھا تہائی حصہ ہو تو ہم نے کہا یہ بہت ہے فرمایا اگر آدھوں آدھ ہو تو، انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو بہت ہی زیادہ ہے آپ نے فرمایا سنو! کل اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہیں جن میں سے اسی [80] صفیں صرف اس میری امت کی ہیں۔ [مسند احمد:453/1:صحیح بالشواھد] ،
مسند احمد میں بھی ہے کہ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ان میں اسی 80 صفیں صرف اس امت کی ہیں یہ حدیث طبرانی ترمذی وغیرہ میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:2546،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1240
طبرانی ایک اور روایت میں ہے کہ جب آیت «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ ـ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39] اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اہل جنت کی چوتھائی ہو پھر فرمایا بلکہ ثلث ہو پھر فرمایا بلکہ نصف ہو پھر فرمایا دو تہائی ہو [مسند احمد:391/2:صحیح] [ اے وسیع رحمتوں والے اور بے روک نعمتوں والے اللہ ہم تیرا بے انتہا شکر ادا کرتے ہیں کہ تو نے ہمیں ایسے معزز و محترم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا کیا تیرے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی زبان سے تیرے اس بڑھے چڑھے فضل و کرم کا حال سن کر ہم گنہگاروں کے منہ میں پانی بھر آیا، اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اللہ! ہماری آس نہ توڑ اور ہمیں بھی ان نیک ہستیوں کے ساتھ جنت میں داخل فرما۔ اللہ اس پاک ذکر کے موقع پر ہم ہاتھ اٹھا کر، دامن پھیلا کر آنسو بہا کر، امیدوں بھرے دل سے تیری رحمت کا سہارا لے کر، تیرے کرم کا دامن تھام کر تجھ سے بھیک مانگتے ہیں تو قبول فرما اور اپنی رحمت سے ہمیں اپنی رضامندی کا گھر جنت الفردوس عطا فرما۔ آمین الہ الحق آمین]
صفحہ نمبر1241
صحیح بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم دنیا میں سب سے آخر آئے اور جنت میں سب سے پہلے جائیں گے اور ان کو کتاب اللہ پہلے ملی ہمیں بعد میں ملی جن باتوں میں انہوں نے اختلاف کیا ان میں اللہ نے ہمیں صحیح طریق کی توفیق دی، جمعہ کا دن بھی ایسا ہی ہے کہ یہود ہمارے پیچھے ہیں ہفتہ کے دن اور نصرانی ان کے پیچھے اتوار کے دن۔ [صحیح بخاری:876]
دارقطنی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک میں جنت میں داخل نہ ہو جاؤں انبیاء پر دخول جنت حرام ہے اور جب تک میری امت نہ داخل ہو دوسری امتوں پر دخول جنت حرام ہے۔ [ابن عدی:129/4:ضعیف] یہ وہ حدیثیں تھیں جنہیں ہم اس آیت کے تحت وارد کرنا چاہتے تھے فالحمدللہ۔ امت کو بھی چاہیئے کہ یہاں اس آیت میں جتنی صفتیں ہیں ان پر مضبوطی کے ساتھ قائم ثابت رہیں یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ایمان باللہ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے حج میں اس آیت کی تلاوت فرما کر لوگوں سے کہا کہ اگر تم اس آیت کی تعریف میں داخل ہونا چاہتے ہو تو یہ اوصاف بھی اپنے میں پیدا کرو، امام ابن جریدرحمہ اللہ فرماتے، اہل کتاب ان کاموں کو چھوڑ بیٹھے تھے جن کی مذمت کلام اللہ نے کی، فرمایا آیت «كَانُواْ لاَ يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ» [5-المائدة:79] وہ لوگ برائی کی باتوں سے لوگوں کو روکتے نہ تھے چونکہ مندرجہ بالا آیت میں ایمان داروں کی تعریف و توصیف بیان ہوئی تو اس کے بعد اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے، تو فرمایا کہ اگر یہ لوگ بھی میرے نبی آخر الزمان پر ایمان لاتے تو انہیں بھی یہ فضیلتیں ملتیں لیکن ان میں سے کفرو فسق اور گناہوں پر جمے ہوئے ہیں ہاں کچھ لوگ با ایمان بھی ہیں۔
صفحہ نمبر1242
پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بشارت دیتا ہے کہ تم نہ گھبرانا اللہ تمہیں تمہارے مخالفین پر غالب رکھے گا چنانچہ خیبر والے دن اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل کیا اور ان سے پہلے بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کو بھی اللہ نے ذلیل و رسوا کیا، اسی طرح شام کے نصرانی صحابہ رضی اللہ عنہم کے وقت میں مغلوب ہوئے اور ملک شام ان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور ہمیشہ کیلئے مسلمانوں کے قبضہ میں آ گیا اور وہاں ایک حق والی جماعت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے تک حق پر قائم رہے گی، سیدنا عیسیٰ آ کر ملت اسلام اور شریعت محمد کے مطابق حکم کریں گے صلیب توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے جزیہ قبول نہ کریں گے صرف اسلام ہی قبول فرمائیں گے پھر فرمایا کہ ان کے اوپر ذلت اور پستی ڈال دی گئی ہاں اللہ کی پناہ کے علاوہ کہیں بھی امن و امان اور عزت نہیں یعنی جزیہ دینا اور مسلم بادشاہ کی اطاعت کرنا قبول کر لیں اور لوگوں کی پناہ یعنی عقد ذمہ مقرر ہو جائے یا کوئی مسلمان امن دیدے اگرچہ کوئی عورت ہو یا کوئی غلام ہو، علماء کا ایک قول یہ بھی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ «حبل» سے مراد عہد ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:112/7] جو غضب کے مستحق ہوئے اور مسکینی چپکا دی گئی، ان کے کفر اور انبیاء سے تکبر، حسد، سرکشی وغیرہ کا بدلہ ہے۔ اسی باعث ان پر ذلت پستی اور مسکینی ہمیشہ کیلئے ڈال دی گئی ان کی نافرمانیوں اور تجاوز حق کا یہ بدلہ ہے العیاذ باللہ، ابوداؤد طیالسی میں حدیث ہے کہ بنی اسرائیل ایک ایک دن میں تین تین سو نبیوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور دن کے آخری حصہ میں اپنے اپنے کاموں پر بازاروں میں لگ جاتے تھے۔
صفحہ نمبر1243
سب سے بہتر شخص کون؟ اور سب سے بہتر امت کا اعزاز کس کو ملا؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ امت محمدیہ تمام امتوں پر بہتر ہے صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں تم اوروں کے حق میں سب سے بہتر ہو تو لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر اسلام کی طرف جھکاتے ہو، [صحیح بخاری:4557]
اور مفسرین بھی یہی فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم تمام امتوں سے بہتر ہو اور سب سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچانے والے ہو، ابولہب کی بیٹی سیدہ درہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک مرتبہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ اس وقت منبر پر تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کون سا شخص بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا سب لوگوں سے بہتر وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ قاری قرآن ہو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو، سب سے زیادہ اچھائیوں کا حکم کرنے والا سب سے زیادہ برائیوں سے روکنے والا سب سے زیادہ رشتے ناتے ملانے والا ہو۔ [مسند احمد:431/6:ضعیف] [ مسند احمد ]
صفحہ نمبر1229
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ وہ صحابہ ہیں جنہوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی،
صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت ساری امت پر مشتمل ہے، بیشک یہ حدیث میں بھی ہے کہ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد اس سے ملا ہوا زمانہ پھر اس کے بعد والا۔ [صحیح بخاری:3605]
ایک اور روایت میں ہے آیت «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ» [2-البقرة:143]
ہم نے تمہیں بہتر امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم نے اگلی امتوں کی تعداد ستر تک پہنچا دی ہے، اللہ کے نزدیک تم ان سب سے بہتر اور زیادہ بزرگ ہو۔ [سنن ترمذي:3001،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ مشہور حدیث ہے امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے، اس امت کی افضیلت کی ایک بڑی دلیل اس امت کے نبی کی افضیلت ہے، آپ تمام مخلوق کے سردار تمام رسولوں سے زیادہ اکرام و عزت والے ہیں، آپ کی شرع اتنی کامل اور اتنی پوری ہے کہ ایسی شریعت کسی نبی کو نہیں تو ظاہر بات ہے کہ ان فضائل کو سمیٹتے والی امت بھی سب سے اعلیٰ و افضل ہے، اس شریعت کا تھوڑا سا عمل بھی اور امتوں کے زیادہ عمل سے بہتر و افضل ہے۔
صفحہ نمبر1230
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں وہ نعمتیں دیا گیا ہوں جو مجھ سے پہلے کوئی نہیں دیا گیا لوگوں نے پوچھا وہ کیا باتیں ہیں، آپ نے فرمایا میری مدد رعب سے کی گئی ہے میں زمین کی کنجیاں دیا گیا ہوں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، میرے لیے مٹی پاک کی گئی ہے، میری امت سب امتوں سے بہتر بنائی گئی ہے۔ [مسند احمد:98/1:حسن]
اس حدیث کی سند حسن ہے،سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ میں تمہارے بعد ایک امت پیدا کرنے والا ہوں جو راحت پر حمد و شکر کریں گے اور مصیبت پر طلب ثواب اور صبر کریں گے حالانکہ انہیں حلم و علم نہ ہو گا آپ نے تعجب سے پوچھا کہ بغیر بردباری اور دور اندیشی اور پختہ علم کے یہ کیسے ممکن ہے؟ رب العالمین نے فرمایا میں انہیں اپنا حلم و علم عطا فرماؤں گا۔ [مسند احمد:450/6:ضعیف]
میں چاہتا ہوں یہاں پر بعض وہ حدیثیں بھی بیان کر دوں جن کا ذکر یہاں مناسب ہے سنئے۔
صفحہ نمبر1231
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے جن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے سب یک رنگ ہونگے، میں نے اپنے رب سے گزارش کی کہ اے اللہ اس تعداد میں اور اضافہ فرما اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار اور بھی، سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کر کے فرمایا کرتے تھے کہ پھر تو اس تعداد میں گاؤں اور دیہاتوں والے بلکہ بادیہ نشین بھی آ جائیں گے۔ [مسند احمد:6/1:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے میرے رب نے ستر ہزار آدمیوں کو میری امت میں سے بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری دی،سیدنا عمر نے یہ سن کر فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اور زیادتی طلب کرتے آپ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے سوال کیا تو مجھے خوشخبری ملی کہ ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے۔ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم برکت کی دعا کرتے آپ نے فرمایا میں نے پھر کی ت ہر شخص کے ساتھ ستر ہزار کا وعدہ ہوا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر گزارش کی کہ اللہ کے نبی اور کچھ بھی مانگتے آپ نے فرمایا مانگا تو مجھے اتنی زیادتی اور ملی اور پھر دونوں ہاتھ پھیلا کر بتایا کہ اس طرح، راوی حدیث کہتے ہیں اس طرح جب اللہ تعالیٰ سمیٹے تو اللہ عزوجل ہی جانتا ہے کہ کس قدر مخلوق اس میں آئے گی۔ [ فسبحان اللہ وبحمدہ ] [مسند احمد:197/1:ضعیف]
صفحہ نمبر1232
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ حمص میں بیمار ہو گئے عبداللہ بن قرط وہاں کے امیر تھے وہ عیادت کو نہ آ سکے ایک کلاعی شخص جب آپ کی بیمار پرسی کیلئے گیا تو آپ نے اس سے دریافت کیا کہ لکھنا جانتے ہو اس نے کہا ہاں فرمایا لکھو یہ خط ثوبان کی طرف سے امیر عبداللہ بن قرط کی طرف سے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں بعد حمد و صلوٰۃ کے! واضح ہو کہ اگر سیدنا عیسیٰ یا سیدنا موسیٰ علیہما السلام کا کوئی خادم یہاں ہوتا اور بیمار پڑتا تو تم عیادت کیلئے جاتے پھر کہا یہ خط لے جاؤ اور امیر کو پہنچا دو جب یہ خط امیر حمص کے پاس پہنچا تو گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور سیدھے یہاں تشریف لائے کچھ دیر بیٹھ کر عیادت کر کے جب جانے کا ارادہ کیا تو سیدنا ثوبانرضی اللہ عنہ نے ان کی چادر پکڑ روکا اور فرمایا ایک حدیث سنتے جائیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا ہے آپ نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے۔ [مسند احمد:280/5:صحیح لغیرہ] یہ حدیث بھی صحیح ہے۔
صفحہ نمبر1233
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک رات ہم خدمت نبوی میں دیر تک باتیں کرتے رہے پھر صبح جب حاضر خدمت ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سنو آج رات انبیاء اپنی اپنی امت سمیت مجھے دکھائے گئے بعض انبیاء کے ساتھ صرف تین شخص تھے بعض کے ساتھ مختصر سا گروہ بعض کے ساتھ ایک جماعت کسی کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا جب موسیٰ علیہ السلام آئے تو ان کے ساتھ بہت سے لوگ تھے مجھے یہ جماعت پسند آئی میں نے پوچھا یہ کون ہیں تو جواب ملا کہ یہ آپ کے بھائی موسیٰ علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل ہیں میں نے کہا پھر میری امت کہاں ہے جواب ملا اپنی داہنی طرف دیکھو اب جو دیکھتا ہوں تو بےشمار مجمع ہے جس سے پہاڑیاں بھی ڈھک گئی ہیں اب مجھ سے پوچھا گیا کہو خوش ہو میں نے کہا میرے رب میں راضی ہو گیا، فرمایا گیا سنو! ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر میرے میں باپ فدا ہوں اگر ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے ہی ہونا اگر یہ نہ ہو سکے تو ان میں سے ہو جو پہاڑیوں کو چھپائے ہوئے تھے اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ان میں سے ہونا جو آسمان کے کناروں کناروں پر تھے، سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان ستر ہزار میں سے کرے آپ نے دعا کی تو ایک دوسرے صحابی نے بھی اٹھ کر یہی گزارش کی تو آپ نے فرمایا تم پر سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ سبقت کر گئے۔
صفحہ نمبر1234
ہم اب آپس میں کہنے لگے کہ شاید یہ ستر ہزار لوگ ہوں گے جو اسلام پر ہی پیدا ہوئے ہوں اور پوری عمر میں کبھی اللہ کے ساتھ شرک کیا ہی نہ ہو آپ کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو دم جھاڑا نہیں کراتے آگ کے داغ نہیں لگواتے شگون نہیں لیتے اور اپنے رب پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں۔ [مسند احمد:401/1:صحیح]
ایک اور سند سے اتنی زیادتی اس میں اور بھی ہے جب میں نے اپنی رضا مندی ظاہر کی تو مجھ سے کہا گیا اب اپنی بائیں جانب دیکھو میں نے دیکھا تو بےشمار مجمع ہے جس نے آسمان کے کناروں کو بھی ڈھک لیا ہے۔ [مسند احمد:401/1:صحیح] ایک اور روایت میں ہے کہ موسم حج کا یہ واقعہ ہے آپ فرماتے ہیں مجھے اپنی امت کی یہ کثرت بہت پسند آئی تمام پہاڑیاں اور میدان ان سے پُر تھے۔ [مسند احمد:445/1:صحیح]
ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کے بعد کھڑے ہونے والے ایک انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحیح بخاری:5811] [ طبرانی ]
ایک اور روایت میں ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار یا ساٹھ لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے جو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہوں گے سب ایک ساتھ جنت میں جائیں گے چمکتے ہوئے چودھویں رات کے چاند جیسے ان کے چہرے ہوں گے۔ [ بخاری:6543، مسلم، طبرانی ]
صفحہ نمبر1235
حصین بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سعید بن جیبر رحمہ اللہ کے پاس تھا تو آپ نے دریافت کیا رات کو جو ستارہ ٹوٹا تھا تم میں سے کسی نے دیکھا تھا میں نے کہا ہاں حضرت میں نے دیکھا تھا یہ نہ سمجھئے گا کہ میں نماز میں تھا بلکہ مجھے بچھو نے کاٹ کھایا تھا سعید نے پوچھا پھر تم نے کیا کیا میں نے کہا دم کر دیا تھا کہا کیوں میں نے کہا سیدنا شعبی رحمہ اللہ نے بریدہ بن حصیب کی روایت سے حدیث بیان کی ہے کہ نظربد اور زہریلے جانوروں کا دم جھاڑا کرانا ہے کہنے لگے خیر جسے جو پہنچے اس پر عمل کرے ہمیں تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سنایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں کسی نبی کے ساتھ ایک جماعت تھی کسی کے ساتھ ایک شخص اور دو شخص اور کسی نبی کے ساتھ کوئی نہ تھا اب جو دیکھا کہ ایک بڑی جماعت پر نظر پڑی میں سمجھا یہ تو میری امت ہو گی پھر معلوم ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کی امت ہے مجھ سے کہا گیا آسمان کے کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو وہاں بےشمار لوگ تھے مجھ سے کہا گیا یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بے حساب اور بےعذاب جنت میں جائیں گے یہ حدیث بیان فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو مکان پر چلے گئے اور صحابہ آپس میں کہنے لگے شاید یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہوں گے کسی نے کہا نہیں اسلام میں پیدا ہونے والے اور اسلام پر ہی مرنے والے ہوں گے وغیرہ وغیرہ آپ تشریف لائے اور پوچھا کیا باتیں کر رہے ہو ہم نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا نہیں یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم جھاڑا کریں نہ کرائیں، نہ داغ لگوائیں نہ شگون لیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ رکھیں سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ نے دعا کی درخواست کی۔
صفحہ نمبر1236
آپ نے دعا کی یا اللہ تو اسے ان میں سے ہی بنا۔ پھر دوسرے شخص نے بھی یہی کہا آپ نے فرمایا عکاشہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ گئے۔ [صحیح بخاری:6541] یہ حدیث بخاری میں ہے لیکن اس میں دم جھاڑا نہیں کرنے کا لفظ نہیں صحیح مسلم میں بھی یہ لفظ ہے۔
ایک اور مطول حدیث میں ہے کہ پہلی جماعت تو نجات پائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان سے حساب بھی نہ لیا جائے گا پھر ان کے بعد والے سب سے زیادہ روشن ستارے جیسے چمکدار چہرے والے ہوں گے [صحیح مسلم:191] آپ فرماتے ہیں مجھ سے میرے رب کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے داخل بہشت ہوں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے اور تین لپیں اور میرے رب عزوجل کی لپوں سے۔ [سنن ترمذي:2438،قال الشيخ الألباني:صحیح] [ کتاب السنن لحافظ ابی بکر بن عاصم ] اس کی اسناد بہت عمدہ ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ سے ستر ہزار کی تعداد سن کر یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو آپ کی امت کی تعداد کے مقابلہ میں بہت ہی تھوڑے ہیں تو آپ نے فرمایا ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہیں اور پھر اللہ نے تین لپیں (ہتھیلیوں کا کشکول) بھر کر اور بھی عطا فرمائے ہیں، اس کی اسناد بھی حسن ہے۔ [مسند احمد:250/5:حسن]
[ کتاب السنن ] اور ایک اور حدیث میں ہے کہ میرے رب نے جو عزت اور جلال والا ہے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار کو بلا حساب جنت میں لے جائے گا پھر ایک ایک ہزار کی شفاعت سے ستر ستر ہزار آدمی اور جائیں گے پھر میرا رب اپنے دونوں ہاتھوں سے تین لپیں (دونوں ہاتھوں کی ہھتیلیوں کو ملا کر کٹورا بنانا) بھر کر اور ڈالے گا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر خوش ہو کر اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ ان کی شفاعت ان کے باپ دادوں اور بیٹوں اور بیٹیوں اور خاندان و قبیلہ میں ہو گی اللہ کرے میں تو ان میں سے ہو جاؤں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی لپوں میں بھر کر آخر میں جنت میں لے جائے گا۔ [طبرانی کبیر:771/22:صحیح] [ طبرانی ] اس حدیث کی سند میں بھی کوئی علت نہیں۔ واللہ اعلم
صفحہ نمبر1237
کدید میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث فرمائی جس میں جنت میں یہ بھی فرمایا یہ ستر ہزار جو بلا حساب جنت میں داخل کئے جائیں گے میرا خیال ہے کہ ان کے آتے آتے تو تم اپنے لیے اور اپنے بال بچوں اور بیویوں کیلئے جنت میں جگہ مقرر کر چکے ہو گے۔ [مسند احمد:16/4:صحیح] اس کی سند بھی شرطِ مسلم پر ہے، ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اور زیادہ کیجئے اسے سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ابوبکر بس کرو سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کیوں صاحب اگر ہم سب کے سب جنت میں چلے جائیں گے تو آپ کو کیا نقصان ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر اللہ چاہے تو ایک ہی ہاتھ میں ساری مخلوق کو جنت میں ڈال دے حضور علیہ السلام نے فرمایا عمر رضی اللہ عنہ سچ کہتے ہیں۔ [مسند احمد:165/3:صحیح] [ مسند عبدالرزاق ]
اسی حدیث کی اور سند سے بھی بیان ہے اس میں تعداد ایک لاکھ آئی ہے۔ [مسند احمد:193/3:صحیح] [ اصبہانی ] ایک اور روایت میں ہے کہ جب صحابہ نے ستر ہزار اور پھر ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار پھر اللہ کی لپ بھر کر جنتی بنانا سنا تو کہنے لگے پھر تو اس کی بدنصیبی میں کیا شک رہ گیا جو باوجود اس کے بھی جہنم میں جائے۔ [ابو یعلی:3783:صحیح] [ ابویعلیٰ ]
اوپر والی حدیث ایک اور سند سے بھی بیان ہوئی ہے اس میں تعداد تین لاکھ کی ہے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کا بیان ہے۔ [طبرانی کبیر:64/17:ضعیف] [ طبرانی ]
صفحہ نمبر1238
ایک اور حدیث میں جنت میں جانے والوں کا ذکر کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے سارے مہاجر تو اس میں آ ہی جائیں گے پھر باقی تعداد اعرابیوں سے پوری ہو گی [مسند احمد:359/2] [ محمد بن سہل ]
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حساب کیا گیا تو جملہ تعداد چار کروڑ نوے ہزار ہوئی، ایک اور حسن حدیث طبرانی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے تم ایک اندھیری رات کی طرح بےشمار ایک ساتھ جنت کی طرف بڑھو گے، زمین تم سے پر ہو جائے گی تمام فرشتے پکار اٹھیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو جماعت آئی وہ تمام نبیوں کی جماعت سے بہت زیادہ ہے۔ [طبرانی:3455:ضعیف]
صفحہ نمبر1239
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا صرف میری تابعدار امت اہل جنت کی چوتھائی ہو گی صحابہ نے خوش ہو کر نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کہ مجھے تو امید ہے کہ تم اہل جنت کا تیسرا حصہ ہو جاؤ ہم نے پھر تکبیر کہی پھر فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ تم آدھوں آدھ ہو جاؤ۔ [مسند احمد:383/3:صحیح] [ مسند احمد ]
اور حدیث میں ہے کہ آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تم تمام جنتوں کے چوتھائی ہو ہم نے خوش ہو کر اللہ کی بڑائی بیان کی پھر فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تمام اہل جنت کی تہائی ہو ہم نے پھر تکبیر کہی آپ نے فرمایا مجھے تو امید ہے کہ تم جنتیوں کے آدھوں آدھ ہو گے۔ [صحیح بخاری:6568] [ بخاری مسلم ]
طبرانی میں یہ روایت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا کہتے ہو تم جنتیوں کا چوتھائی حصہ بننا چاہتے ہو کہ چوتھائی جنت تمہارے پاس ہو اور تین چوتھائیوں میں تمام اور امتیں ہوں؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے آپ نے فرمایا اچھا تہائی حصہ ہو تو ہم نے کہا یہ بہت ہے فرمایا اگر آدھوں آدھ ہو تو، انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو بہت ہی زیادہ ہے آپ نے فرمایا سنو! کل اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہیں جن میں سے اسی [80] صفیں صرف اس میری امت کی ہیں۔ [مسند احمد:453/1:صحیح بالشواھد] ،
مسند احمد میں بھی ہے کہ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ان میں اسی 80 صفیں صرف اس امت کی ہیں یہ حدیث طبرانی ترمذی وغیرہ میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:2546،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر1240
طبرانی ایک اور روایت میں ہے کہ جب آیت «ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ ـ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ» [56-الواقعة:39] اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اہل جنت کی چوتھائی ہو پھر فرمایا بلکہ ثلث ہو پھر فرمایا بلکہ نصف ہو پھر فرمایا دو تہائی ہو [مسند احمد:391/2:صحیح] [ اے وسیع رحمتوں والے اور بے روک نعمتوں والے اللہ ہم تیرا بے انتہا شکر ادا کرتے ہیں کہ تو نے ہمیں ایسے معزز و محترم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا کیا تیرے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی زبان سے تیرے اس بڑھے چڑھے فضل و کرم کا حال سن کر ہم گنہگاروں کے منہ میں پانی بھر آیا، اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اللہ! ہماری آس نہ توڑ اور ہمیں بھی ان نیک ہستیوں کے ساتھ جنت میں داخل فرما۔ اللہ اس پاک ذکر کے موقع پر ہم ہاتھ اٹھا کر، دامن پھیلا کر آنسو بہا کر، امیدوں بھرے دل سے تیری رحمت کا سہارا لے کر، تیرے کرم کا دامن تھام کر تجھ سے بھیک مانگتے ہیں تو قبول فرما اور اپنی رحمت سے ہمیں اپنی رضامندی کا گھر جنت الفردوس عطا فرما۔ آمین الہ الحق آمین]
صفحہ نمبر1241
صحیح بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم دنیا میں سب سے آخر آئے اور جنت میں سب سے پہلے جائیں گے اور ان کو کتاب اللہ پہلے ملی ہمیں بعد میں ملی جن باتوں میں انہوں نے اختلاف کیا ان میں اللہ نے ہمیں صحیح طریق کی توفیق دی، جمعہ کا دن بھی ایسا ہی ہے کہ یہود ہمارے پیچھے ہیں ہفتہ کے دن اور نصرانی ان کے پیچھے اتوار کے دن۔ [صحیح بخاری:876]
دارقطنی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک میں جنت میں داخل نہ ہو جاؤں انبیاء پر دخول جنت حرام ہے اور جب تک میری امت نہ داخل ہو دوسری امتوں پر دخول جنت حرام ہے۔ [ابن عدی:129/4:ضعیف] یہ وہ حدیثیں تھیں جنہیں ہم اس آیت کے تحت وارد کرنا چاہتے تھے فالحمدللہ۔ امت کو بھی چاہیئے کہ یہاں اس آیت میں جتنی صفتیں ہیں ان پر مضبوطی کے ساتھ قائم ثابت رہیں یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ایمان باللہ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے حج میں اس آیت کی تلاوت فرما کر لوگوں سے کہا کہ اگر تم اس آیت کی تعریف میں داخل ہونا چاہتے ہو تو یہ اوصاف بھی اپنے میں پیدا کرو، امام ابن جریدرحمہ اللہ فرماتے، اہل کتاب ان کاموں کو چھوڑ بیٹھے تھے جن کی مذمت کلام اللہ نے کی، فرمایا آیت «كَانُواْ لاَ يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ» [5-المائدة:79] وہ لوگ برائی کی باتوں سے لوگوں کو روکتے نہ تھے چونکہ مندرجہ بالا آیت میں ایمان داروں کی تعریف و توصیف بیان ہوئی تو اس کے بعد اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے، تو فرمایا کہ اگر یہ لوگ بھی میرے نبی آخر الزمان پر ایمان لاتے تو انہیں بھی یہ فضیلتیں ملتیں لیکن ان میں سے کفرو فسق اور گناہوں پر جمے ہوئے ہیں ہاں کچھ لوگ با ایمان بھی ہیں۔
صفحہ نمبر1242
پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بشارت دیتا ہے کہ تم نہ گھبرانا اللہ تمہیں تمہارے مخالفین پر غالب رکھے گا چنانچہ خیبر والے دن اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل کیا اور ان سے پہلے بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کو بھی اللہ نے ذلیل و رسوا کیا، اسی طرح شام کے نصرانی صحابہ رضی اللہ عنہم کے وقت میں مغلوب ہوئے اور ملک شام ان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور ہمیشہ کیلئے مسلمانوں کے قبضہ میں آ گیا اور وہاں ایک حق والی جماعت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے تک حق پر قائم رہے گی، سیدنا عیسیٰ آ کر ملت اسلام اور شریعت محمد کے مطابق حکم کریں گے صلیب توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے جزیہ قبول نہ کریں گے صرف اسلام ہی قبول فرمائیں گے پھر فرمایا کہ ان کے اوپر ذلت اور پستی ڈال دی گئی ہاں اللہ کی پناہ کے علاوہ کہیں بھی امن و امان اور عزت نہیں یعنی جزیہ دینا اور مسلم بادشاہ کی اطاعت کرنا قبول کر لیں اور لوگوں کی پناہ یعنی عقد ذمہ مقرر ہو جائے یا کوئی مسلمان امن دیدے اگرچہ کوئی عورت ہو یا کوئی غلام ہو، علماء کا ایک قول یہ بھی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ «حبل» سے مراد عہد ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:112/7] جو غضب کے مستحق ہوئے اور مسکینی چپکا دی گئی، ان کے کفر اور انبیاء سے تکبر، حسد، سرکشی وغیرہ کا بدلہ ہے۔ اسی باعث ان پر ذلت پستی اور مسکینی ہمیشہ کیلئے ڈال دی گئی ان کی نافرمانیوں اور تجاوز حق کا یہ بدلہ ہے العیاذ باللہ، ابوداؤد طیالسی میں حدیث ہے کہ بنی اسرائیل ایک ایک دن میں تین تین سو نبیوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور دن کے آخری حصہ میں اپنے اپنے کاموں پر بازاروں میں لگ جاتے تھے۔
صفحہ نمبر1243
ظلم نہیں سزا ٭٭
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی [تفسیر ابن جریر الطبری:122/7] لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً سیدنا عبداللہ بن سلام سیدنا اسد بن عبید، سیدنا ثعلبہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان امر اللہ پر قائم ہیں۔ شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ راتوں کے وقت تہجد کی نماز میں بھی اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی انہی باتوں کا حکم کرتے ہیں ان کے خلاف سے روکتے ہیں نیک کاموں میں پیش پیش رہا کرتے ہیں اب اللہ تعالیٰ انہیں خطاب عطا فرماتا ہے کہ یہ صالح لوگ ہیں اس سورت کے آخر میں بھی فرمایا آیت «وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ» [3-آل عمران:199] ، بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر، اس قرآن پر، اور توراۃ و انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یہاں بھی فرمایا کہ ان کے یہ نیک اعمال ضائع نہ ہوں بلکہ پورا بدلہ ملے گا
تمام پرہیزگار لوگ اللہ کی نظروں میں ہیں وہ کسی کے اچھے عمل کو برباد نہیں کرتا۔ ان بےدین لوگوں کو اللہ کے ہاں نہ مال نفع دے گا نہ اولاد یہ تو جہنمی ہیں۔ «صِرٌّ» کے معنی سخت سردی کے ہیں جو کھیتوں کو جلا دیتی ہے، غرض جس طرح کسی کی تیار کھیتی پر برف پڑے اور وہ جل کر خاکستر ہو جائے نفع چھوڑ اصل بھی غارت ہو جائے اور امیدوں پر پانی پھر جائے اسی طرح یہ کفار ہیں جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں اس کا نیک بدلہ تو کہاں بلکہ عذاب ہو گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا ہے۔
صفحہ نمبر1246
ظلم نہیں سزا ٭٭
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی [تفسیر ابن جریر الطبری:122/7] لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً سیدنا عبداللہ بن سلام سیدنا اسد بن عبید، سیدنا ثعلبہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان امر اللہ پر قائم ہیں۔ شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ راتوں کے وقت تہجد کی نماز میں بھی اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی انہی باتوں کا حکم کرتے ہیں ان کے خلاف سے روکتے ہیں نیک کاموں میں پیش پیش رہا کرتے ہیں اب اللہ تعالیٰ انہیں خطاب عطا فرماتا ہے کہ یہ صالح لوگ ہیں اس سورت کے آخر میں بھی فرمایا آیت «وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ» [3-آل عمران:199] ، بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر، اس قرآن پر، اور توراۃ و انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یہاں بھی فرمایا کہ ان کے یہ نیک اعمال ضائع نہ ہوں بلکہ پورا بدلہ ملے گا
تمام پرہیزگار لوگ اللہ کی نظروں میں ہیں وہ کسی کے اچھے عمل کو برباد نہیں کرتا۔ ان بےدین لوگوں کو اللہ کے ہاں نہ مال نفع دے گا نہ اولاد یہ تو جہنمی ہیں۔ «صِرٌّ» کے معنی سخت سردی کے ہیں جو کھیتوں کو جلا دیتی ہے، غرض جس طرح کسی کی تیار کھیتی پر برف پڑے اور وہ جل کر خاکستر ہو جائے نفع چھوڑ اصل بھی غارت ہو جائے اور امیدوں پر پانی پھر جائے اسی طرح یہ کفار ہیں جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں اس کا نیک بدلہ تو کہاں بلکہ عذاب ہو گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا ہے۔
صفحہ نمبر1246
ظلم نہیں سزا ٭٭
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی [تفسیر ابن جریر الطبری:122/7] لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً سیدنا عبداللہ بن سلام سیدنا اسد بن عبید، سیدنا ثعلبہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان امر اللہ پر قائم ہیں۔ شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ راتوں کے وقت تہجد کی نماز میں بھی اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی انہی باتوں کا حکم کرتے ہیں ان کے خلاف سے روکتے ہیں نیک کاموں میں پیش پیش رہا کرتے ہیں اب اللہ تعالیٰ انہیں خطاب عطا فرماتا ہے کہ یہ صالح لوگ ہیں اس سورت کے آخر میں بھی فرمایا آیت «وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ» [3-آل عمران:199] ، بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر، اس قرآن پر، اور توراۃ و انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یہاں بھی فرمایا کہ ان کے یہ نیک اعمال ضائع نہ ہوں بلکہ پورا بدلہ ملے گا
تمام پرہیزگار لوگ اللہ کی نظروں میں ہیں وہ کسی کے اچھے عمل کو برباد نہیں کرتا۔ ان بےدین لوگوں کو اللہ کے ہاں نہ مال نفع دے گا نہ اولاد یہ تو جہنمی ہیں۔ «صِرٌّ» کے معنی سخت سردی کے ہیں جو کھیتوں کو جلا دیتی ہے، غرض جس طرح کسی کی تیار کھیتی پر برف پڑے اور وہ جل کر خاکستر ہو جائے نفع چھوڑ اصل بھی غارت ہو جائے اور امیدوں پر پانی پھر جائے اسی طرح یہ کفار ہیں جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں اس کا نیک بدلہ تو کہاں بلکہ عذاب ہو گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا ہے۔
صفحہ نمبر1246
ظلم نہیں سزا ٭٭
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی [تفسیر ابن جریر الطبری:122/7] لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً سیدنا عبداللہ بن سلام سیدنا اسد بن عبید، سیدنا ثعلبہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان امر اللہ پر قائم ہیں۔ شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ راتوں کے وقت تہجد کی نماز میں بھی اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی انہی باتوں کا حکم کرتے ہیں ان کے خلاف سے روکتے ہیں نیک کاموں میں پیش پیش رہا کرتے ہیں اب اللہ تعالیٰ انہیں خطاب عطا فرماتا ہے کہ یہ صالح لوگ ہیں اس سورت کے آخر میں بھی فرمایا آیت «وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ» [3-آل عمران:199] ، بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر، اس قرآن پر، اور توراۃ و انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یہاں بھی فرمایا کہ ان کے یہ نیک اعمال ضائع نہ ہوں بلکہ پورا بدلہ ملے گا
تمام پرہیزگار لوگ اللہ کی نظروں میں ہیں وہ کسی کے اچھے عمل کو برباد نہیں کرتا۔ ان بےدین لوگوں کو اللہ کے ہاں نہ مال نفع دے گا نہ اولاد یہ تو جہنمی ہیں۔ «صِرٌّ» کے معنی سخت سردی کے ہیں جو کھیتوں کو جلا دیتی ہے، غرض جس طرح کسی کی تیار کھیتی پر برف پڑے اور وہ جل کر خاکستر ہو جائے نفع چھوڑ اصل بھی غارت ہو جائے اور امیدوں پر پانی پھر جائے اسی طرح یہ کفار ہیں جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں اس کا نیک بدلہ تو کہاں بلکہ عذاب ہو گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا ہے۔
صفحہ نمبر1246
ظلم نہیں سزا ٭٭
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اہل کتاب اور اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم برابر نہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں ایک مرتبہ دیر لگا دی پھر جب آئے تو جو اصحاب منتظر تھے ان سے فرمایا کسی دین والا اس وقت تک اللہ کا ذکر نہیں کر رہا مگر صرف تم ہی اللہ کے ذکر میں ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی [تفسیر ابن جریر الطبری:122/7] لیکن اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً سیدنا عبداللہ بن سلام سیدنا اسد بن عبید، سیدنا ثعلبہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم وغیرہ کے بارے میں یہ آیت آئی کہ یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں جن کی مذمت پہلے گزاری، بلکہ یہ باایمان امر اللہ پر قائم ہیں۔ شریعت محمدیہ کی تابع ہے استقامت و یقین اس میں ہے یہ پاکباز لوگ راتوں کے وقت تہجد کی نماز میں بھی اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور لوگوں کو بھی انہی باتوں کا حکم کرتے ہیں ان کے خلاف سے روکتے ہیں نیک کاموں میں پیش پیش رہا کرتے ہیں اب اللہ تعالیٰ انہیں خطاب عطا فرماتا ہے کہ یہ صالح لوگ ہیں اس سورت کے آخر میں بھی فرمایا آیت «وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلّٰهِ» [3-آل عمران:199] ، بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر، اس قرآن پر، اور توراۃ و انجیل پر بھی ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں یہاں بھی فرمایا کہ ان کے یہ نیک اعمال ضائع نہ ہوں بلکہ پورا بدلہ ملے گا
تمام پرہیزگار لوگ اللہ کی نظروں میں ہیں وہ کسی کے اچھے عمل کو برباد نہیں کرتا۔ ان بےدین لوگوں کو اللہ کے ہاں نہ مال نفع دے گا نہ اولاد یہ تو جہنمی ہیں۔ «صِرٌّ» کے معنی سخت سردی کے ہیں جو کھیتوں کو جلا دیتی ہے، غرض جس طرح کسی کی تیار کھیتی پر برف پڑے اور وہ جل کر خاکستر ہو جائے نفع چھوڑ اصل بھی غارت ہو جائے اور امیدوں پر پانی پھر جائے اسی طرح یہ کفار ہیں جو کچھ یہ خرچ کرتے ہیں اس کا نیک بدلہ تو کہاں بلکہ عذاب ہو گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں بلکہ یہ ان کی بداعمالیوں کی سزا ہے۔
صفحہ نمبر1246
کافر اور منافق مسلمان کے دوست نہیں انہیں اپنا ہم راز نہ بناؤ ٭٭
اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو کافروں اور منافقوں کی دوستی اور ہم راز ہونے سے روکتا ہے کہ یہ تو تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں خوش نہ ہو جانا اور ان کے مکر کے پھندے میں پھنس نہ جانا ورنہ موقعہ پا کر یہ تمہیں سخت ضرر پہنچائیں گے اور اپنی باطنی عداوت نکالیں گے تم انہیں اپنا راز دار ہرگز نہ سمجھنا راز کی باتیں ان کے کانوں تک ہرگز نہ پہنچانا
صفحہ نمبر1251
«بِطَانَةً» کہتے ہیں انسان کے راز دار دوست کو اور «مِنْ دُونِكُمْ» سے مراد اہلِ اسلام کے سوا تمام فرقے ہیں بخاری وغیرہ میں حدیث ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نبی کو اللہ نے مبعوث فرمایا اور جس خلیفہ کو مقرر کیا اس کیلئے دو «بطانہ» مقرر کئے ایک تو بھلائی کی بات سمجھانے والا اور اس پر رغبت دینے والا اور دوسرا برائی کی رہبری کرنے والا اور اس پر آمادہ کرنے والا بس اللہ جسے بچائے وہی بچ سکتا ہے، [صحیح بخاری:6611]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا سے کہا گیا کہ یہاں پر حیرہ کا ایک شخص بڑا اچھا لکھنے والا اور بہت اچھے حافظہ والا ہے آپ اسے اپنا محرر اور منشی مقرر کر لیں آپ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہو گا کہ غیر مومن کو بطانہ بنا لوں گا جو اللہ نے منع کیا ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:500/2]
اس واقعہ کو اور اس آیت کو سامنے رکھ کر ذہن اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ذمی کفار کو بھی ایسے کاموں میں نہ لگانا چاہیئے ایسا نہ ہو کہ وہ مخالفین کو مسلمانوں کے پوشیدہ ارادوں سے واقف کر دے اور ان کے دشمنوں کو ان سے ہوشیار کر دے کیونکہ ان کی تو چاہت ہی مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر1252
ازہر بن راشد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ لوگ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے حدیثیں سنتے تھے اگر کسی حدیث کا مطلب سمجھ میں نہ آتا تو حسن بصری رحمہ اللہ سے جا کر مطلب حل کر لیتے تھے ایک دن انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ مشرکوں کی آگ سے روشنی طلب نہ کرو اور اپنی انگوٹھی میں عربی نقش نہ کرو انہوں نے آ کر حسن بصری رحمہ اللہ سے اس کی تشریح دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ پچھلے جملہ کا تو یہ مطلب ہے کہ انگوٹھی پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ کھدواؤ اور پہلے جملہ کا یہ مطلب ہے کہ مشرکوں سے اپنے کاموں میں مشورہ نہ لو، دیکھو کتاب اللہ میں بھی ہے کہ ایمان دارو! اپنے سوا دوسروں کو ہمراز نہ بناؤ [مسند احمد:99/3:ضعیف] [ابو یعلی ]
لیکن حسن بصری رحمہ اللہ کی یہ تشریح قابل غور ہے حدیث کا ٹھیک مطلب غالباً یہ ہے کہ محمد رسول اللہ عربی خط میں اپنی انگوٹھیوں پر نقش نہ کراؤ، چنانچہ اور حدیث میں صاف ممانعت موجود ہے [صحیح مسلم:2092] یہ اس لیے تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کے ساتھ مشابہت نہ ہو اور اول جملے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کے درمیان کی لڑائی کی آگ کو کیا تم نہیں دیکھتے؟ [سنن ابوداود:2645،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے جو مشرکوں سے میل جول کرے یا ان کے ساتھ رہے بسے وہ بھی انہی جیسا ہے [سنن ابوداود:2787،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا ان کی باتوں سے بھی ان کی عداوت ٹپک رہی ہے ان کے چہروں سے بھی قیافہ شناس ان کی باطنی خباثتوں کو معلوم کر سکتا ہے پھر جو ان کے دلوں میں تباہ کن شرارتیں ہیں وہ تو تم سے مخفی ہیں لیکن ہم نے تو صاف صاف بیان کر دیا ہے عاقل لوگ ایسے مکاروں کی مکاری میں نہیں آتے
صفحہ نمبر1253
پھر فرمایا دیکھو کتنی کمزوری کی بات ہے کہ تم ان سے محبت رکھو اور وہ تمہیں نہ چاہیں، تمہارا ایمان کل کتاب پر ہو اور یہ شک شبہ میں ہی پڑے ہوئے ہوں ان کی کتاب کو تم تو مانو لیکن یہ تمہاری کتاب کا انکار کریں تو چاہیئے تو یہ تھا کہ تم خود انہیں کڑی نظروں سے دیکھتے لیکن برخلاف اس کے یہ تمہاری عداوت کی آگ میں جل رہے ہیں۔ سامنا ہو جائے تو اپنی ایمانداری کی داستان بیان کرنے بیٹھ جاتے ہیں لیکن جب ذرا الگ ہوتے ہیں تو غیظ و غضب سے جلن اور حسد سے اپنی انگلیاں چباتے ہیں پس مسلمانوں کو بھی ان کی ظاہرداری سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیئے۔ یہ چاہے جلتے بھنتے رہیں لیکن اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو ترقی دیتا رہے گا مسلمان دن رات ہر حیثیت میں بڑھتے ہی رہیں گے گو وہ مارے غصے کے مر جائیں۔ اللہ ان کے دلوں کے بھیدوں سے بخوبی واقف ہے ان کے تمام منصوبوں پر خاک پڑے گی یہ اپنی شرارتوں میں کامیاب نہ ہو سکیں گے اپنی چاہت کے خلاف مسلمانوں کی دن دوگنی ترقی دیکھیں گے اور آخرت میں بھی انہیں نعمتوں والی جنت حاصل کرتے دیکھیں گے برخلاف ان کے یہ خود یہاں بھی رسوا ہوں گے اور وہاں بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے
صفحہ نمبر1254
ان کی شدت عداوت کی یہ کتنی بڑی دلیل ہے کہ جہاں تمہیں کوئی نفع پہنچتا ہے یہ کلیجہ مسوسنے لگے اور اگر [ اللہ نہ کرے ] تمہیں کوئی نقصان پہنچ گیا تو ان کی باچھیں کھل جاتی ہیں بغلیں بجانے اور خوشیاں منانے لگتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کی مدد ہوئی یہ کفار پر غالب آئے انہیں غنیمت کا مال ملا یہ تعداد میں بڑھ گے تو وہ جل بجھے اور اگر مسلمانوں پر تنگی آ گئی یا دشمنوں میں گھر گئے تو ان کے ہاں عید منائی جانے لگی۔
اب اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ان شریروں کی شرارت اور ان بدبختوں کے مکر سے اگر نجات چاہتے ہو تو صبرو تقویٰ اور توکل کرو اللہ عزوجل خود تمہارے دشمنوں کو گھیر لے گا کسی بھلائی کے حاصل کرنے، کسی برائی سے بچنے کی کسی میں طاقت نہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہو سکتا جو اس پر توکل کرے اسے وہ کافی ہے۔ اسی مناسبت سے اب جنگ احد کا ذکر شروع ہوتا ہے جس پر مسلمانوں کے صبرو تحمل کا بیان ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کی آزمائش کا پورا نقشہ ہے اور جس میں مومن و منافق کی ظاہری تمیز ہے سنئے ارشاد ہوتا ہے
صفحہ نمبر1255
کافر اور منافق مسلمان کے دوست نہیں انہیں اپنا ہم راز نہ بناؤ ٭٭
اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو کافروں اور منافقوں کی دوستی اور ہم راز ہونے سے روکتا ہے کہ یہ تو تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں خوش نہ ہو جانا اور ان کے مکر کے پھندے میں پھنس نہ جانا ورنہ موقعہ پا کر یہ تمہیں سخت ضرر پہنچائیں گے اور اپنی باطنی عداوت نکالیں گے تم انہیں اپنا راز دار ہرگز نہ سمجھنا راز کی باتیں ان کے کانوں تک ہرگز نہ پہنچانا
صفحہ نمبر1251
«بِطَانَةً» کہتے ہیں انسان کے راز دار دوست کو اور «مِنْ دُونِكُمْ» سے مراد اہلِ اسلام کے سوا تمام فرقے ہیں بخاری وغیرہ میں حدیث ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نبی کو اللہ نے مبعوث فرمایا اور جس خلیفہ کو مقرر کیا اس کیلئے دو «بطانہ» مقرر کئے ایک تو بھلائی کی بات سمجھانے والا اور اس پر رغبت دینے والا اور دوسرا برائی کی رہبری کرنے والا اور اس پر آمادہ کرنے والا بس اللہ جسے بچائے وہی بچ سکتا ہے، [صحیح بخاری:6611]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا سے کہا گیا کہ یہاں پر حیرہ کا ایک شخص بڑا اچھا لکھنے والا اور بہت اچھے حافظہ والا ہے آپ اسے اپنا محرر اور منشی مقرر کر لیں آپ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہو گا کہ غیر مومن کو بطانہ بنا لوں گا جو اللہ نے منع کیا ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:500/2]
اس واقعہ کو اور اس آیت کو سامنے رکھ کر ذہن اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ذمی کفار کو بھی ایسے کاموں میں نہ لگانا چاہیئے ایسا نہ ہو کہ وہ مخالفین کو مسلمانوں کے پوشیدہ ارادوں سے واقف کر دے اور ان کے دشمنوں کو ان سے ہوشیار کر دے کیونکہ ان کی تو چاہت ہی مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر1252
ازہر بن راشد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ لوگ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے حدیثیں سنتے تھے اگر کسی حدیث کا مطلب سمجھ میں نہ آتا تو حسن بصری رحمہ اللہ سے جا کر مطلب حل کر لیتے تھے ایک دن انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ مشرکوں کی آگ سے روشنی طلب نہ کرو اور اپنی انگوٹھی میں عربی نقش نہ کرو انہوں نے آ کر حسن بصری رحمہ اللہ سے اس کی تشریح دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ پچھلے جملہ کا تو یہ مطلب ہے کہ انگوٹھی پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ کھدواؤ اور پہلے جملہ کا یہ مطلب ہے کہ مشرکوں سے اپنے کاموں میں مشورہ نہ لو، دیکھو کتاب اللہ میں بھی ہے کہ ایمان دارو! اپنے سوا دوسروں کو ہمراز نہ بناؤ [مسند احمد:99/3:ضعیف] [ابو یعلی ]
لیکن حسن بصری رحمہ اللہ کی یہ تشریح قابل غور ہے حدیث کا ٹھیک مطلب غالباً یہ ہے کہ محمد رسول اللہ عربی خط میں اپنی انگوٹھیوں پر نقش نہ کراؤ، چنانچہ اور حدیث میں صاف ممانعت موجود ہے [صحیح مسلم:2092] یہ اس لیے تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کے ساتھ مشابہت نہ ہو اور اول جملے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کے درمیان کی لڑائی کی آگ کو کیا تم نہیں دیکھتے؟ [سنن ابوداود:2645،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے جو مشرکوں سے میل جول کرے یا ان کے ساتھ رہے بسے وہ بھی انہی جیسا ہے [سنن ابوداود:2787،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا ان کی باتوں سے بھی ان کی عداوت ٹپک رہی ہے ان کے چہروں سے بھی قیافہ شناس ان کی باطنی خباثتوں کو معلوم کر سکتا ہے پھر جو ان کے دلوں میں تباہ کن شرارتیں ہیں وہ تو تم سے مخفی ہیں لیکن ہم نے تو صاف صاف بیان کر دیا ہے عاقل لوگ ایسے مکاروں کی مکاری میں نہیں آتے
صفحہ نمبر1253
پھر فرمایا دیکھو کتنی کمزوری کی بات ہے کہ تم ان سے محبت رکھو اور وہ تمہیں نہ چاہیں، تمہارا ایمان کل کتاب پر ہو اور یہ شک شبہ میں ہی پڑے ہوئے ہوں ان کی کتاب کو تم تو مانو لیکن یہ تمہاری کتاب کا انکار کریں تو چاہیئے تو یہ تھا کہ تم خود انہیں کڑی نظروں سے دیکھتے لیکن برخلاف اس کے یہ تمہاری عداوت کی آگ میں جل رہے ہیں۔ سامنا ہو جائے تو اپنی ایمانداری کی داستان بیان کرنے بیٹھ جاتے ہیں لیکن جب ذرا الگ ہوتے ہیں تو غیظ و غضب سے جلن اور حسد سے اپنی انگلیاں چباتے ہیں پس مسلمانوں کو بھی ان کی ظاہرداری سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیئے۔ یہ چاہے جلتے بھنتے رہیں لیکن اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو ترقی دیتا رہے گا مسلمان دن رات ہر حیثیت میں بڑھتے ہی رہیں گے گو وہ مارے غصے کے مر جائیں۔ اللہ ان کے دلوں کے بھیدوں سے بخوبی واقف ہے ان کے تمام منصوبوں پر خاک پڑے گی یہ اپنی شرارتوں میں کامیاب نہ ہو سکیں گے اپنی چاہت کے خلاف مسلمانوں کی دن دوگنی ترقی دیکھیں گے اور آخرت میں بھی انہیں نعمتوں والی جنت حاصل کرتے دیکھیں گے برخلاف ان کے یہ خود یہاں بھی رسوا ہوں گے اور وہاں بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے
صفحہ نمبر1254
ان کی شدت عداوت کی یہ کتنی بڑی دلیل ہے کہ جہاں تمہیں کوئی نفع پہنچتا ہے یہ کلیجہ مسوسنے لگے اور اگر [ اللہ نہ کرے ] تمہیں کوئی نقصان پہنچ گیا تو ان کی باچھیں کھل جاتی ہیں بغلیں بجانے اور خوشیاں منانے لگتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کی مدد ہوئی یہ کفار پر غالب آئے انہیں غنیمت کا مال ملا یہ تعداد میں بڑھ گے تو وہ جل بجھے اور اگر مسلمانوں پر تنگی آ گئی یا دشمنوں میں گھر گئے تو ان کے ہاں عید منائی جانے لگی۔
اب اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ان شریروں کی شرارت اور ان بدبختوں کے مکر سے اگر نجات چاہتے ہو تو صبرو تقویٰ اور توکل کرو اللہ عزوجل خود تمہارے دشمنوں کو گھیر لے گا کسی بھلائی کے حاصل کرنے، کسی برائی سے بچنے کی کسی میں طاقت نہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہو سکتا جو اس پر توکل کرے اسے وہ کافی ہے۔ اسی مناسبت سے اب جنگ احد کا ذکر شروع ہوتا ہے جس پر مسلمانوں کے صبرو تحمل کا بیان ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کی آزمائش کا پورا نقشہ ہے اور جس میں مومن و منافق کی ظاہری تمیز ہے سنئے ارشاد ہوتا ہے
صفحہ نمبر1255
کافر اور منافق مسلمان کے دوست نہیں انہیں اپنا ہم راز نہ بناؤ ٭٭
اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو کافروں اور منافقوں کی دوستی اور ہم راز ہونے سے روکتا ہے کہ یہ تو تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں خوش نہ ہو جانا اور ان کے مکر کے پھندے میں پھنس نہ جانا ورنہ موقعہ پا کر یہ تمہیں سخت ضرر پہنچائیں گے اور اپنی باطنی عداوت نکالیں گے تم انہیں اپنا راز دار ہرگز نہ سمجھنا راز کی باتیں ان کے کانوں تک ہرگز نہ پہنچانا
صفحہ نمبر1251
«بِطَانَةً» کہتے ہیں انسان کے راز دار دوست کو اور «مِنْ دُونِكُمْ» سے مراد اہلِ اسلام کے سوا تمام فرقے ہیں بخاری وغیرہ میں حدیث ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نبی کو اللہ نے مبعوث فرمایا اور جس خلیفہ کو مقرر کیا اس کیلئے دو «بطانہ» مقرر کئے ایک تو بھلائی کی بات سمجھانے والا اور اس پر رغبت دینے والا اور دوسرا برائی کی رہبری کرنے والا اور اس پر آمادہ کرنے والا بس اللہ جسے بچائے وہی بچ سکتا ہے، [صحیح بخاری:6611]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا سے کہا گیا کہ یہاں پر حیرہ کا ایک شخص بڑا اچھا لکھنے والا اور بہت اچھے حافظہ والا ہے آپ اسے اپنا محرر اور منشی مقرر کر لیں آپ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہو گا کہ غیر مومن کو بطانہ بنا لوں گا جو اللہ نے منع کیا ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:500/2]
اس واقعہ کو اور اس آیت کو سامنے رکھ کر ذہن اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ذمی کفار کو بھی ایسے کاموں میں نہ لگانا چاہیئے ایسا نہ ہو کہ وہ مخالفین کو مسلمانوں کے پوشیدہ ارادوں سے واقف کر دے اور ان کے دشمنوں کو ان سے ہوشیار کر دے کیونکہ ان کی تو چاہت ہی مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر1252
ازہر بن راشد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ لوگ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے حدیثیں سنتے تھے اگر کسی حدیث کا مطلب سمجھ میں نہ آتا تو حسن بصری رحمہ اللہ سے جا کر مطلب حل کر لیتے تھے ایک دن انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ مشرکوں کی آگ سے روشنی طلب نہ کرو اور اپنی انگوٹھی میں عربی نقش نہ کرو انہوں نے آ کر حسن بصری رحمہ اللہ سے اس کی تشریح دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ پچھلے جملہ کا تو یہ مطلب ہے کہ انگوٹھی پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ کھدواؤ اور پہلے جملہ کا یہ مطلب ہے کہ مشرکوں سے اپنے کاموں میں مشورہ نہ لو، دیکھو کتاب اللہ میں بھی ہے کہ ایمان دارو! اپنے سوا دوسروں کو ہمراز نہ بناؤ [مسند احمد:99/3:ضعیف] [ابو یعلی ]
لیکن حسن بصری رحمہ اللہ کی یہ تشریح قابل غور ہے حدیث کا ٹھیک مطلب غالباً یہ ہے کہ محمد رسول اللہ عربی خط میں اپنی انگوٹھیوں پر نقش نہ کراؤ، چنانچہ اور حدیث میں صاف ممانعت موجود ہے [صحیح مسلم:2092] یہ اس لیے تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کے ساتھ مشابہت نہ ہو اور اول جملے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کے درمیان کی لڑائی کی آگ کو کیا تم نہیں دیکھتے؟ [سنن ابوداود:2645،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے جو مشرکوں سے میل جول کرے یا ان کے ساتھ رہے بسے وہ بھی انہی جیسا ہے [سنن ابوداود:2787،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا ان کی باتوں سے بھی ان کی عداوت ٹپک رہی ہے ان کے چہروں سے بھی قیافہ شناس ان کی باطنی خباثتوں کو معلوم کر سکتا ہے پھر جو ان کے دلوں میں تباہ کن شرارتیں ہیں وہ تو تم سے مخفی ہیں لیکن ہم نے تو صاف صاف بیان کر دیا ہے عاقل لوگ ایسے مکاروں کی مکاری میں نہیں آتے
صفحہ نمبر1253
پھر فرمایا دیکھو کتنی کمزوری کی بات ہے کہ تم ان سے محبت رکھو اور وہ تمہیں نہ چاہیں، تمہارا ایمان کل کتاب پر ہو اور یہ شک شبہ میں ہی پڑے ہوئے ہوں ان کی کتاب کو تم تو مانو لیکن یہ تمہاری کتاب کا انکار کریں تو چاہیئے تو یہ تھا کہ تم خود انہیں کڑی نظروں سے دیکھتے لیکن برخلاف اس کے یہ تمہاری عداوت کی آگ میں جل رہے ہیں۔ سامنا ہو جائے تو اپنی ایمانداری کی داستان بیان کرنے بیٹھ جاتے ہیں لیکن جب ذرا الگ ہوتے ہیں تو غیظ و غضب سے جلن اور حسد سے اپنی انگلیاں چباتے ہیں پس مسلمانوں کو بھی ان کی ظاہرداری سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیئے۔ یہ چاہے جلتے بھنتے رہیں لیکن اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو ترقی دیتا رہے گا مسلمان دن رات ہر حیثیت میں بڑھتے ہی رہیں گے گو وہ مارے غصے کے مر جائیں۔ اللہ ان کے دلوں کے بھیدوں سے بخوبی واقف ہے ان کے تمام منصوبوں پر خاک پڑے گی یہ اپنی شرارتوں میں کامیاب نہ ہو سکیں گے اپنی چاہت کے خلاف مسلمانوں کی دن دوگنی ترقی دیکھیں گے اور آخرت میں بھی انہیں نعمتوں والی جنت حاصل کرتے دیکھیں گے برخلاف ان کے یہ خود یہاں بھی رسوا ہوں گے اور وہاں بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے
صفحہ نمبر1254
ان کی شدت عداوت کی یہ کتنی بڑی دلیل ہے کہ جہاں تمہیں کوئی نفع پہنچتا ہے یہ کلیجہ مسوسنے لگے اور اگر [ اللہ نہ کرے ] تمہیں کوئی نقصان پہنچ گیا تو ان کی باچھیں کھل جاتی ہیں بغلیں بجانے اور خوشیاں منانے لگتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کی مدد ہوئی یہ کفار پر غالب آئے انہیں غنیمت کا مال ملا یہ تعداد میں بڑھ گے تو وہ جل بجھے اور اگر مسلمانوں پر تنگی آ گئی یا دشمنوں میں گھر گئے تو ان کے ہاں عید منائی جانے لگی۔
اب اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ان شریروں کی شرارت اور ان بدبختوں کے مکر سے اگر نجات چاہتے ہو تو صبرو تقویٰ اور توکل کرو اللہ عزوجل خود تمہارے دشمنوں کو گھیر لے گا کسی بھلائی کے حاصل کرنے، کسی برائی سے بچنے کی کسی میں طاقت نہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہو سکتا جو اس پر توکل کرے اسے وہ کافی ہے۔ اسی مناسبت سے اب جنگ احد کا ذکر شروع ہوتا ہے جس پر مسلمانوں کے صبرو تحمل کا بیان ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کی آزمائش کا پورا نقشہ ہے اور جس میں مومن و منافق کی ظاہری تمیز ہے سنئے ارشاد ہوتا ہے
صفحہ نمبر1255