Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Maaida
Tafsir Ibn Kathir · The Table · 120 ayat · ayat 1–30 · Quran text →
تفسیر سورۃ المائدہ:
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی عضباء کی نکیل تھامے ہوئی تھی جب آپ پر سورہ مائدہ پوری نازل ہوئی۔ قریب تھا کہ اس بوجھ سے اونٹنی کے بازو ٹوٹ جائیں۔ [مسند احمد:455/6:حسن لغیره]
اور روایت میں ہے کہ اس وقت آپ سفر میں تھے، وحی کے بوجھ سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا اونٹنی کی گردن ٹوٹ گئی۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:45/7:ضعیف] [ابن مردویہ]
اور روایت میں ہے کہ جب اونٹنی کی طاقت سے زیادہ بوجھ ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سے اتر گئے۔ [مسند احمد:176/2:ضعیف]
ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ سب سے آخری سورت جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری وہ سورۃ النصر «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ» [110-النصر:1] ہے۔ [سنن ترمذي:3063،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مستدرک حاکم میں ہے جبیر بن نفیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں حج کے لئے گیا وہاں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھ سے فرمایا تم سورہ مائدہ پڑھا کرتے ہو؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا سنو سب سے آخری یہی سورت نازل ہوئی ہے اس میں جس چیز کو حلال پاؤ، حلال ہی سمجھو اور اس میں جس چیز کو حرام پاؤ حرام ہی جانو۔ [نسائی فی الکبری:11138،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ پھر میں نے اماں محترمہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی نسبت سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق قرآن کا عملی نمونہ تھے۔ [مسند احمد:188/6:صحیح] یہ روایت نسائی شریف میں بھی ہے۔
ایک بےدلیل روایت اور وفائے عہد کی تاکید ٭٭
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا! آپ رضی اللہ عنہ مجھے خاص نصیحت کیجئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جب تو قرآن میں لفظ آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا» سن لے تو فوراً کان لگا کر دل سے متوجہ ہو جا، کیونکہ اس کے بعد کسی نہ کسی بھلائی کا حکم ہو گا یا کسی نہ کسی برائی سے ممانعت ہو گی۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم:196/1:ضعیف و منقطع]
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو کوئی حکم دیا ہے اس حکم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہیں۔“
خیثمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ توراۃ میں بجائے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا» کے «يَا أَيّهَا الْمَسَاكِين» ہے۔
ایک روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے نام سے بیان کی جاتی ہے کہ ”جہاں کہیں لفظ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا» ہے، ان تمام مواقع پر ان سب ایمان والوں کے سردار و شریف اور امیر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ہر ایک کو ڈانٹا گیا ہے بجز سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے کہ انہیں کسی امر میں نہیں ڈانٹا گیا“، یاد رہے کہ یہ اثر بالکل بے دلیل ہے۔ اس کے الفاظ منکر ہیں اور اس کی سند بھی صحیح نہیں۔
صفحہ نمبر2113
حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس کا راوی عیسیٰ بن راشد مجہول ہے، اس کی روایت منکر ہے۔ میں کہتا ہوں اسی طرح اس کا دوسرا راوی علی بن بذیمہ گو ثقہ ہے مگر اعلیٰ درجہ کا شیعہ ہے۔ پھر بھلا اس کی ایسی روایت جو اس کے اپنے خاص خیالات کی تائید میں ہو، کیسے قبول کی جا سکے گی؟ یقیناً وہ اس میں ناقابل قبول ٹھہرے گا۔
اس روایت میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو بجز سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ڈانٹا گیا، اس سے مراد ان کی وہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ نکالنے کا حکم دیا تھا، پس ایک سے زیادہ مفسرین نے کہا ہے کہ اس پر عمل صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی نے کیا اور پھر یہ فرمان اترا کہ آیت «ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ» [58-المجادلہ:13] ، لیکن یہ غلط ہے کہ اس آیت میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو ڈانٹا گیا، بلکہ دراصل یہ حکم بطور واجب کے تھا ہی نہیں، اختیاری امر تھا۔ پھر اس پر عمل ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کر دیا۔
پس حقیقتاً کسی سے اس کے خلاف عمل سرزد ہی نہیں ہوا۔ پھر یہ بات بھی غلط ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کسی بات میں ڈانٹا نہیں گیا۔ سورۃ الأنفال کی آیت ملاحظہ ہو جس میں ان تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو ڈانٹا گیا ہے۔ جنہوں نے بدری قیدیوں سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دینے کا مشورہ دیا تھا، دراصل سوائے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا کے باقی تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا مشورہ یہی تھا پس یہ ڈانٹ بجز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے باقی سب کو ہے، جن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں، پس یہ تمام باتیں اس امر کی کھلی دلیل ہیں کہ یہ اثر بالکل ضعیف اور بودا ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2114
ابن جریر میں محمد بن سلمہ فرماتے ہیں جو کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم کو لکھوا کر دی تھی جبکہ انہیں نجران بھیجا تھا، اس کتاب کو میں نے ابوبکر بن حزم کے پاس دیکھا تھا اور اسے پڑھا تھا، اس میں اللہ اور رسول کے بہت سے احکام تھے، اس میں آیت «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ» [5۔ المائدہ:1] سے آیت «يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَهُمْ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ ۡ فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ» [5۔ المائدہ:4] تک بھی لکھا ہوا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10918]
صفحہ نمبر2115
ابن ابی حاتم میں ہے کہ عمرو بن حزم کے پوتے ابوبکر بن محمد نے فرمایا ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کتاب ہے جسے آپ نے عمرو بن حزم کو لکھ کر دی تھی جبکہ انہیں یمن والوں کو دینی سمجھ اور حدیث سکھانے کے لیے اور ان سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے یمن بھیجا تھا، اس وقت یہ کتاب لکھ کر دی تھی، اس میں عہد و پیمان اور حکم احکام کا بیان یہ اس میں آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کے بعد لکھا ہے یہ کتاب ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے، ایمان والو وعدوں کو اور عہد و پیمان کو پورا کرو، یہ عہد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عمرو بن حزم کے لیے ہے جبکہ انہیں یمن بھیجا انہیں اپنے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کا حکم ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے رہیں اور جو احسان خلوص اور نیکی کریں۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی413/5:حسن]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں ”عقود سے مراد عہد ہیں۔“ ابن جریر اس پر اجماع بتاتے ہیں۔ خواہ قسمیہ عہد و پیمان ہو یا اور وعدے ہوں، سب کو پورا کرنا فرض ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”عہد کو پورا کرنے میں اللہ کے حلال کو حلال جاننا، اس کے حرام کو حرام جاننا، اس کے فرائض کی پابندی کرنا، اس کی حد بندی کی نگہداشت کرنا بھی ہے، کسی بات کا خلاف نہ کرو، حد کو نہ توڑو، کسی حرام کام کو نہ کرو، اس پر سختی بہت ہے پڑھو آیت «وَالَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ» [13-الرعد:25] تک۔“
صفحہ نمبر2116
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد یہ کہ اللہ کے حلال کو، اس کے حرام کو، اس کے وعدوں کو، جو ایمان کے بعد ہر مومن کے ذمہ آجاتے ہیں پورا کرنا اللہ کی طرف سے فرض ہے، فرائض کی پابندی، حلال حرام کی عقیدت مندی وغیرہ وغیرہ۔“
حضرت زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ چھ عہد ہیں، اللہ کا عہد، آپس کی یگانگت کا قسمیہ عہد، شرکت کا عہد، تجارت کا عہد، نکاح کا عہد اور قسمیہ وعدہ۔“
محمد بن کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں ”پانچ ہیں، جن میں جاہلیت کے زمانہ کی قسمیں ہیں اور شرکت تجارت کے عہد و پیمان ہیں، جو لوگ کہتے ہیں کہ خرید و فروخت پوری ہو چکنے کے بعد گو اب تک خریدا اور بیچنے والے ایک دوسرے سے جدا نہ ہوئے ہوں تاہم واپس لوٹانے کا اختیار نہیں وہ اپنی دلیل اس آیت کو بتلاتے ہیں۔“ امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہ اللہ علیہم کا یہی مذہب ہے۔
صفحہ نمبر2117
لیکن امام شافعی اور امام احمد رحمہ اللہ علیہم اس کے خلاف ہیں اور جمہور علماء کرام بھی اس کے مخالف ہیں، اور دلیل میں وہ صحیح حدیث پیش کرتے ہیں جو صحیح بخاری مسلم میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خرید و فروخت کرنے والوں کو سودے کے واپس لینے دینے کا اختیار ہے جب تک کہ جدا جدا نہ ہو جائیں ۔ [صحیح بخاری:2109]
صحیح بخاری شریف کی ایک روایت میں یوں بھی ہے کہ جب وہ شخصوں نے خرید و فروخت کرلی تو ان میں سے ہر ایک کو دوسرے سے علیحدہ ہونے تک اختیار باقی ہے ۔ [صحیح بخاری:2111]
یہ حدیث صاف اور صریح ہے کہ یہ اختیار خرید و فروخت پورے ہوچکنے کے بعد کا ہے۔ ہاں اسے بیع کے لازم ہو جانے کے خلاف نہ سمجھا جائے بلکہ یہ شرعی طور پر اسی کا مقتضی ہے، پس اسے نبھانا بھی اسی آیت کے ماتحت ضروری ہے۔ پھر فرماتا ہے ” مویشی چوپائے تمہارے لیے حلال کئے گئے ہیں “ یعنی اونٹ، گائے، بکری۔ ابوالحسن، قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عرب میں ان کے لغت کے مطابق بھی یہی ہے۔“ سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ بہت سے بزرگوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ ”جس حلال مادہ کو ذبح کیا جائے اور اس کے پیٹ میں سے بچہ نکلے گو وہ مردہ ہو پھر بھی حلال ہے۔“
ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اونٹنی، گائے، بکری ذبح کی جاتی ہے، ان کے پیٹ سے بچہ نکلتا ہے تو ہم اسے کھا لیں یا پھینک دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو کھا لو، اس کا ذبیحہ اس کی ماں کا ذیبحہ ہے ۔ [سنن ابوداود:2827،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔
ابوداؤد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پیٹ کے اندر والے بچے کا ذبیحہ اس کی ماں کا ذبیحہ ہے ۔ [سنن ابوداود:2828،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2118
پھر فرماتا ہے ” مگر وہ جن کا بیان تمہارے سامنے کیا جائے گا “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس سے مطلب مردار، خون اور خنزیر کا گوشت ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے از خود مرا ہوا جانور اور وہ جانور ہوئے جس کے ذبیحہ پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔“
پورا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے لیکن بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد اللہ کا فرمان آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوْذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيْحَةُ وَمَآ اَ كَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ وَاَنْ تَسْـتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [5-المائدہ:3] ہے یعنی تم پر مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز جو اللہ کے سوا دوسرے کے نام پر منسوب و مشہور کی جائے اور جو گلا گھونٹنے سے مر جائے، کسی ضرب سے مر جائے، اونچی جگہ سے گر کر مر جائے اور کسی ٹکر لگنے سے مر جائے، جسے درندہ کھانے لگے پس یہ بھی گو مویشیوں چوپایوں میں سے ہیں لیکن ان وجوہ سے وہ حرام ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اس کے بعد فرمایا ” لیکن جس کو ذبح کر ڈالو “۔
جو جانور پرستش گاہوں پر ذبح کیا جائے، وہ بھی حرام ہے اور ایسا حرام کہ اس میں سے کوئی چیز حلال نہیں، اسی لیے اس سے استدراک نہیں کیا گیا اور حلال کے ساتھ اس کا کوئی فرد ملایا نہیں گیا۔ پس یہاں یہی فرمایا جا رہا ہے کہ ” چوپائے مویشی تم پر حلال ہیں لیکن وہ جن کا ذکر ابھی آئے گا “۔
بعض احوال میں حرام ہیں، اس کے بعد کا جملہ حالیت کی بناء پر منصوب ہے۔ مراد انعام سے عام ہے بعض تو وہ جو انسانوں میں رہتے پلتے ہیں، جیسے اونٹ، گائے، بکری اور بعض وہ جو جنگلی ہیں جیسے ہرن، نیل گائے اور جنگلی گدھے، پس پالتو جانوروں میں سے تو ان کو مخصوص کرلیا جو بیان ہوئے اور وحشی جانوروں میں سے احرام کی حالت میں کسی کو بھی شکار کرنا ممنوع قرار دیا، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے ” ہم نے تمہارے لیے چوپائے جانور ہر حال میں حلال کئے ہیں پس تم احرام کی حالت میں شکار کھیلنے سے رک جاؤ اور اسے حرام جانو “۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے جس طرح اس کے تمام احکام سراسر حکمت سے پر ہیں، اسی طرح اس کی ہر ممانعت میں بھی حکمت ہے، اللہ وہ حکم فرماتا ہے جو ارادہ کرتا ہے۔
صفحہ نمبر2119
” ایماندارو! رب کی نشانیوں کی توہین نہ کرو “، یعنی مناسک حج، صفا، مروہ، قربانی کے جانور، اونٹ اور اللہ کی حرام کردہ ہر چیز، حرمت والے مہینوں سمیت کسی کی توہین نہ کرو، ان کا ادب کرو، ان کا لحاظ رکھو، ان کی عظمت کو مانو اور ان میں خصوصیت کے ساتھ اللہ کی نافرمانیوں سے بچو اور ان مبارک اور محترم مہینوں میں اپنے دشمنوں سے از خود لڑائی نہ چھیڑو۔
جیسے ارشاد ہے آیت «يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ ۭ قُلْ قِتَالٌ فِيْهِ كَبِيْرٌ ۭ» [2-البقرۃ:217] ” اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) لوگ تم سے حرمت والے مہینوں میں جنگ کرنے کا حکم پوچھتے ہیں تم ان سے کہو کہ ان میں لڑائی کرنا گناہ ہے “۔
اور آیت میں ہے «إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّـهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا» [9-التوبة:36] ” مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ ہے “۔
صحیح بخاری شریف میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الودع میں فرمایا: زمانہ گھوم گھام کر ٹھیک اسی طرز پر آگیا ہے جس پر وہ اس وقت تھا، جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ ماہ کا ہے، جن میں سے چار ماہ حرمت والے ہیں۔ تین تو یکے بعد دیگرے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا رجب، جسے قبیلہ مضر رجب کہتا ہے جو جمادی الاخر اور شعبان کے درمیان ہے ۔ [صحیح بخاری:3197] اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان مہینوں کی حرمت تاقیامت ہے جیسے کہ سلف کی ایک جماعت کا مذہب ہے۔
صفحہ نمبر2120
آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ان ”مہینوں میں لڑائی کرنا حلال نہ کر لیا کرو۔“ لیکن جمہور کا مذہب یہ ہے کہ یہ حکم منسوخ ہے اور حرمت والے مہینوں میں بھی دشمنان اسلام سے جہاد کی ابتداء کرنا بھی جائز ہے۔
ان کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے آیت «فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ» [9-التوبة:5] یعنی ” جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ “ اور مراد یہاں ان چار مہینوں کا گزر جانا ہے، جب وہ چار مہینے گزر چکے جو اس وقت تھے، تو اب ان کے بعد برابر جہاد جاری ہے اور قرآن نے پھر کوئی مہینہ خاص نہیں کیا، بلکہ امام ابو جعفر رحمہ اللہ تو اس پر اجماع نقل کرتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے جہاد کرنا، ہر وقت اور ہر مہینے میں جاری ہی رکھا ہے۔“
آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس پر بھی اجماع ہے کہ اگر کوئی کافر حرم کے تمام درختوں کی چھال اپنے اوپر لپیٹ لے تب بھی اس کے لیے امن و امان نہ سمجھی جائے گی۔ اگر مسلمانوں نے از خود اس سے پہلے اسے امن نہ دیا ہو۔“ اس مسئلہ کی پوری بحث یہاں نہیں ہو سکتی۔
پھر فرمایا کہ ” «ھَدْی» اور «قَلاَئِد» کی بے حرمتی بھی مت کرو “۔ یعنی بیت اللہ شریف کی طرف قربانیاں بھیجنا بند نہ کرو، کیونکہ اس میں اللہ کی نشانوں کی تعظیم ہے اور قربانی کے لیے جو اونٹ بیت الحرام کی طرف بھیجو، ان کے گلے میں بطور نشان پٹا ڈالنے سے بھی نہ رکو۔ تاکہ اس نشان سے ہر کوئی پہچان لے کہ یہ جانور اللہ کے لیے اللہ کی راہ کے لیے وقف ہو چکا ہے اب اسے کوئی برائی سے ہاتھ نہ لگائے گا بلکہ اسے دیکھ کر دوسروں کو بھی شوق پیدا ہوگا کہ ہم بھی اس طرح اللہ کے نام جانور بھیجیں اور اس صورت میں تمہیں اس کی نیکی پر بھی اجر ملے گا کیونکہ جو شخص دوسروں کو ہدایت کی طرف بلائے اسے بھی وہ اجر ملے گا، جو اس کی بات مان کر اس پر عمل کرنے والوں کو ملتا ہے۔ یہ بھی خیال رہے اللہ تعالیٰ ان کے اجر کو کم کر کے اسے نہیں دے گا بلکہ اسے اپنے پاس سے عطا فرمائے گا۔
صفحہ نمبر2121
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب حج کے لیے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی عقیق یعنی ذوالحلیفہ میں رات گزاری، صبح اپنی نو بیویوں کے پاس گئے، پھر غسل کر کے خوشبو ملی اور دو رکعت نماز ادا کی اور اپنی قربانی کے جانور کے کوہان پر نشان کیا اور گلے میں پٹہ ڈالا اور حج اور عمرے کا احرام باندھا۔ قربانی کے لیے آپ نے بہت خوش رنگ مضبوط اور نوجوان اونٹ ساٹھ سے اوپر اوپر اپنے ساتھ لیے تھے، جیسے کہ قرآن کا فرمان ہے ” جو شخص اللہ کے احکام کی تعظیم کرے اس کا دل تقوے والا ہے “۔
بعض سلف کا فرمان ہے کہ ”تعظیم یہ بھی ہے کہ قربانی کے جانوروں کو اچھی طرح رکھا جائے اور انہیں خوب کھلایا جائے اور مضبوط اور موٹا کیا جائے۔“
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم قربانی کے جانوروں کی آنکھیں اور کان دیکھ بھال کر خریدیں۔“ [سنن ابوداود:2804،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جاہلیت کے زمانے میں جب یہ لوگ اپنے وطن سے نکلتے تھے اور حرمت والے مہینے نہیں ہوتے تھے تو یہ اپنے اوپر بالوں اور اون کو لپیٹ لیتے تھے اور حرم میں رہنے والے مشرک لوگ حرم کے درختوں کی چھالیں اپنے جسم پر باندھ لیتے تھے، اس سے عام لوگ انہیں امن دیتے تھے اور ان کو مارتے پیٹتے نہ تھے۔“
صفحہ نمبر2122
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بروایت مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس سورت کی دو آیتیں منسوخ ہیں «وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا آمِّينَ» اور یہ آیت «فَاِنْ جَاءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا» [5-المائدہ:42] لیکن حسن رحمة الله سے جب سوال ہوتا ہے کہ ”کیا اس سورت میں سے کوئی آیت منسوخ ہوئی ہے؟“ تو آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”نہیں۔“
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”وہ لوگ حرم کے درختوں کی چھالیں لٹکا لیا کرتے تھے اور اس سے انہیں امن ملتا تھا، پس اللہ تعالیٰ نے حرم کے درختوں کو کاٹنا منع فرما دیا۔“
پھر فرماتا ہے ” جو لوگ بیت اللہ کے ارادے سے نکلے ہوں، ان سے لڑائی مت لڑو “۔ یہاں جو آئے وہ امن میں پہنچ گیا، پس جو اس کے قصد سے چلا ہے اس کی نیت اللہ کے فضل کی تلاش اور اس کی رضا مندی کی جستجو ہے تو اب اسے ڈر خوف کے دباؤ میں نہ رکھو، اس کی عزت اور ادب کرو اور اسے بیت اللہ سے نہ روکو۔
بعض کا قول ہے کہ ”اللہ کا فضل تلاش کرنے سے مراد تجارت ہے۔“ جیسے اس آیت میں ہے «لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ» [2-البقرۃ:198] یعنی ” زمانہ حج میں تجارت کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں “۔
«رِضْوَانْ» سے مراد حج کرنے میں اللہ کی مرضی کو تلاش کرنا ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ آیت خطیم بن ہند بکری کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس شخص نے مدینہ کی چراگاہ پر دھاوا ڈالا تھا پھر اگلے سال یہ عمرے کے ارادے سے آ رہا تھا تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کا ارادہ ہوا کہ اسے راستے میں روکیں، اس پر یہ فرمان نازل ہوا۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس مسئلہ پر اجماع نقل کیا ہے کہ ”جو مشرک مسلمانوں کی امان لیے ہوئے نہ ہو تو چاہے وہ بیت اللہ شریف کے ارادے سے جا رہا ہو یا بیت المقدس کے ارادے سے، اسے قتل کرنا جائز ہے یہ حکم ان کے حق میں منسوخ ہے۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر2123
وہاں جو شخص وہاں الحاد پھیلانے کیلئے جا رہا ہے اور شرک و کفر کے ارادے کا قصد کرتا ہو تو اسے روکا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”پہلے مومن و مشرک سب حج کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی ممانعت تھی کہ کسی مومن کافر کو نہ روکو لیکن اس کے بعد یہ آیت اتری کہ «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا وَاِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖٓ اِنْ شَاءَ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ» [9-التوبة:28] یعنی ” مشرکین سراسر نجس ہیں اور وہ اس سال کے بعد مسجد الحرام کے پاس بھی نہ آئیں گے “۔
اور فرمان ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ» [9-التوبة:17] یعنی ” مشرکین اللہ کی مسجد کو آباد رکھنے کے ہرگز اہل نہیں “۔ فرمان ہے آیت «إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّـهَ فَعَسَىٰ أُولَـٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ» [9-التوبة:18] یعنی ” اللہ کی مسجد کو تو صرف وہی آباد رکھ سکتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں “۔ پس مشرکین مسجدوں سے روک دیئے گئے۔“
قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں آیت «وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا آمِّينَ» الخ، منسوخ ہے، جاہلیت کے زمانہ میں جب کوئی شخص اپنے گھر سے حج کے ارادے سے نکلتا تو وہ درخت کی چھال وغیرہ باندھ لیتا تو راستے میں اسے کوئی نہ ستاتا، پھر لوٹتے وقت بالوں کا ہار ڈال لیتا اور محفوظ رہتا اس وقت تک مشرکین بیت اللہ سے روکے نہ جاتے تھے، اب مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ حرمت والے مہینوں میں نہ لڑیں اور نہ بیت اللہ کے پاس لڑیں، پھر اس حکم کو اس آیت نے منسوخ کر دیا کہ «فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ» [9-التوبة:5] ” مشرکین سے لڑو جہاں کہیں انہیں پاؤ “۔
صفحہ نمبر2124
ابن جریر رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ” «قَلَائِدَ» سے مراد یہی ہے جو ہار وہ حرم سے گلے میں ڈال لیتے تھے اور اس کی وجہ سے امن میں رہتے تھے، عرب میں اس کی تعظیم برابر چلی آ رہی تھی اور جو اس کے خلاف کرتا تھا اسے بہت برا کہا جاتا تھا اور شاعر اس کو ہجو کرتے تھے۔“
پھر فرماتا ہے ” جب تم احرام کھول ڈالو تو شکار کر سکتے ہو “۔ احرام میں شکار کی ممانعت تھی، اب احرام کے بعد پھر اس کی اباحت ہوگئی جو حکم ممانعت کے بعد ہو اس حکم سے وہی ثابت ہوتا ہے جو ممانعت سے پہلے اصل میں تھا۔ یعنی اگر وجوب اصلی تھا تو ممانعت کے بعد کا امر بھی وجوب کیلئے ہوگا، اور اسی طرح مستحب و مباح کے بارے میں۔
گو بعض نے کہا ہے کہ ایسا امر وجوب کیلئے ہی ہوتا ہے اور بعض نے کہا ہے، صرف مباح ہونے کیلئے ہی ہوتا ہے لیکن دونوں جماعتوں کے خلاف قرآن کی آیتیں موجود ہیں۔ پس صحیح مذہب جس سے تمام دلیلیں مل جائیں وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا اور بعض علماء اصول نے بھی اسے ہی اختیار کیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2125
پھر فرماتا ہے ” جس قوم نے تمہیں حدیبیہ والے سال مسجد الحرام سے روکا تھا تو تم ان سے دشمنی باندھ کر قصاص پر آمادہ ہو کر اللہ کے حکم سے آگے بڑھ کر ظلم و زیادتی پر نہ اتر آنا، بلکہ تمہیں کسی وقت بھی عدل کو ہاتھ سے نہ چھوڑنا چاہیئے “۔ اسی طرح کی وہ آیت بھی ہے جس میں فرمایا ہے «وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى» [5-المائدة:8] ” تمہیں کسی قسم کی عداوت خلاف عدل کرنے پر آمادہ نہ کر دے۔ عدل کیا کرو، عدل ہی تقوے سے زیادہ قریب ہے “۔
بعض سلف کا قول ہے کہ ”گو کوئی تجھ سے تیرے بارے میں اللہ کی نافرمانی کرے لیکن تجھے چاہیئے کہ تو اس کے بارے میں اللہ کی فرمانبرداری ہی کرے، عدل ہی کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہے۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم کو جبکہ مشرکین نے بیت اللہ کی زیارت سے روکا اور حدیبیہ سے آگے بڑھنے ہی نہ دیا، اسی رنج و غم میں صحابہ رضی اللہ عنہم واپس آ رہے تھے جو مشرقی مشرک مکہ جاتے ہوئے انہیں ملے تو ان کا ارادہ ہوا کہ جیسے ان کے گروہوں نے ہمیں روکا ہم بھی انہیں ان تک نہ جانے دیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:478/9:ضعیف و مرسل] اس پر یہ آیت اتری «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّـهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا» [5-المائدة:8] ۔
«شَنَآنُ» کے معنی بغض کے ہیں بعض عرب اسے «شَنَانْ» بھی کہتے ہیں لیکن کسی قاری کی یہ قرأت مروی نہیں، ہاں عربی شعروں میں «شَنَانْ» بھی آیا ہے۔ جیسے کہ شاعر کہتا ہے ؎ «ومَا الْعَيْشُ إِلَّا مَا تُحِبُّ وَتَشْتَهِي» «وَإِنْ لَامَ فِيهِ ذُو الشَّنَّانِ وفَنَّدَا»
صفحہ نمبر2126
پھر اللہ تعالیٰ اپنے ایمان والے بندوں کو نیکی کے کاموں پر ایک دوسرے کی تائید کرنے کو فرماتا ہے، «بِرِّ» کہتے ہیں نیکیاں کرنے کو اور «تَّقْوَىٰ» کہتے ہیں برائیوں کے چھوڑنے کو اور انہیں منع فرماتا ہے گناہوں اور حرام کاموں پر کسی کی مدد کرنے کو۔
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس کام کے کرنے کا اللہ کا حکم ہو اور انسان اسے نہ کرے، یہ «إِثْمِ» ہے اور دین میں جو حدیں اللہ نے مقرر کر دی ہیں جو فرائض اپنی جان یا دوسروں کے بارے میں جناب باری نے مقرر فرمائے ہیں، ان سے آگے نکل جانا «عُدْوَانَ» ہے۔
صفحہ نمبر2127
مسند احمد کی حدیث میں ہے اپنے بھائی کی مدد کر، خواہ وہ ظالم ہو خواہ مظلوم ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مظلوم ہونے کی صورت میں مدد کرنا ٹھیک ہے لیکن ظالم ہونے کی صورت میں کیسے مدد کریں؟“ فرمایا: اسے ظلم نہ کرنے دو، ظلم سے روک لو، یہی اس وقت کی اس کی مدد ہے ۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے [صحیح بخاری:6952]
مسند احمد میں ہے جو مسلمان لوگوں سے ملے جلے اور دین کے حوالے سے ان کی ایذاؤں پر صبر کرے وہ ان مسلمانوں سے بڑے اجر والا ہے، جو نہ لوگوں سے ملے جلے، نہ ان کی ایذاؤں پر صبر کرے ۔ [سنن ترمذي:2507،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2128
مسند بزار میں ہے «الدَّالُ عَلَى الْخَيْرِ كَفَا عِلِهِ» ”جو شخص کسی بھلی بات کی دوسرے کو ہدایت کرے وہ اس بھلائی کے کرنے والے جیسا ہی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:2670،قال الشيخ الألباني:حسن]
امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ اسے بیان فرما کر فرماتے ہیں کہ ”یہ حدیث صرف اسی ایک سند سے مروی ہے۔“ لیکن میں کہتا ہوں اس کی شاہد یہ صحیح حدیث ہے کہ جو شخص ہدایت کی طرف لوگوں کو بلائے، اسے ان تمام کے بابر ثواب ملے گا جو قیامت تک آئیں گے اور اس کی تابعداری کریں گے۔ لیکن ان کے ثواب میں سے گھٹا کر نہیں اور جو شخص کسی کو برائی کی طرف چلائے تو قیامت تک جتنے لوگ اس برائی کو کریں گے۔ ان سب کا جتنا گناہ ہو گا، وہ سارا اس اکیلے کو ہو گا۔ لیکن ان کے گناہ گھٹا کر نہیں ۔ [صحیح مسلم:2674]
طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص کسی ظالم کے ساتھ جائے تاکہ اس کی اعانت و امداد کرے اور وہ جانتا ہو کہ یہ ظالم ہے وہ یقیناً دین اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:5367،ضعیف جدا]
صفحہ نمبر2129
حلال و حرام کی وضاحتیں ٭٭
ان آیتوں میں اللہ ان کا بیان فرما رہا ہے جن کا کھانا اس نے حرام کیا ہے، یہ خبر ان چیزوں کے نہ کھانے کے حکم میں شامل ہے۔ «الْمَيْتَةُ» وہ ہے جو از خود اپنے آپ مر جائے، نہ تو اسے ذبح کیا جائے، نہ شکار کیا جائے۔ اس کا کھانا اس لیے حرام کیا گیا کہ اس کا وہ خون جو مضر ہے اسی میں وہ جاتا ہے، ذبح کرنے سے تو بہہ جاتا ہے اور یہ خون دین اور بدن کو مضر ہے، ہاں یہ یاد رہے ہر مردار حرام ہے مگر مچھلی نہیں۔
کیونکہ موطا مالک، مسند شافعی، مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے ۔ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور اسی طرح، ٹڈی بھی گو خود ہی مرگئی ہو، حلال ہے۔ اس کی دلیل کی حدیث آ رہی ہے۔
صفحہ نمبر2130
«دَّمُ» سے مراد «أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا» [6-الأنعام:145] یعنی ” وہ خون ہے جو بوقت ذبح بہتا ہے “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ آیا تلی کھا سکتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہاں“، لوگوں نے کہا وہ تو خون ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں صرف وہ خون حرام ہے جو بوقت ذبح بہا ہو۔“
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی یہی فرماتی ہیں کہ ”صرف بہا ہوا خون حرام ہے۔“ امام شافعی حدیث لائے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے لیے دو قسم کے مردے اور دو خون حلال کئے گئے ہیں، مچھلی، ٹڈی، کلیجی اور تلی ۔ [سنن ابن ماجہ:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث مسند احمد، ابن ماجہ، دارقطنی اور بیہقی میں بھی بروایت عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔ حافظ بیہقی فرماتے ہیں ”عبد الرحمان کے ساتھ ہی اسے اسماعیل بن ادریس اور عبداللہ بھی روایت کرتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں یہ دونوں بھی ضعیف ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کے ضعف میں کمی بیشی ہے۔ لیمان بن بلال نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور وہ ہیں بھی ثقہ لیکن اس روایت کو بعض نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ پر موقوف رکھا ہے۔
صفحہ نمبر2131
حافظ ابوزرعہ رازی فرماتے ہیں ”زیادہ صحیح اس کا موقوف ہونا ہی ہے۔“ ابن ابی حاتم میں سدی بن عجلان رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”مجھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کی طرف بھیجا کہ میں انہیں اللہ کی طرف بلاؤں اور احکام اسلام ان کے سامنے پیش کروں۔ میں وہاں پہنچ کر اپنے کام میں مشغول ہوگیا، اتفاقاً ایک روز وہ ایک پیالہ خون کا بھر کر میرے سامنے آ بیٹھے اور حلقہ باندھ کر کھانے کے ارادے سے بیٹھے اور مجھے سے کہنے لگے آؤ سدی تم بھی کھالو میں نے کہا۔ تم غضب کر رہے ہو میں تو ان کے پاس سے آ رہا ہوں جو اس کا کھانا ہم سب پر حرام کرتے ہیں، تب تو وہ سب کے سب میری طرف متوجہ ہو گئے اور کہا پوری بات کہو تو میں نے یہی آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ» الخ، پڑھ کر سنا دی۔“ [طبرانی کبیر:8074:ضعیف]
یہ روایت ابن مردویہ میں بھی ہے اس میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ ”میں وہاں بہت دنوں تک رہا اور انہیں پیغام اسلام پہنچاتا رہا لیکن وہ ایمان نہ لائے، ایک دن جبکہ میں سخت پیاسا ہوا اور پانی بالکل نہ ملا تو میں نے ان سے پانی مانگا اور کہا کہ پیاس کے مارے میرا برا حال ہے، تھوڑا سا پانی پلا دو، لیکن کسی نے مجھے پانی نہ دیا، بلکہ کہا ہم تو تجھے یونہی پیاسا ہی تڑپا تڑپا کر مار ڈالیں گے، میں غمناک ہو کر دھوپ میں تپتے ہوئے انگاروں جیسے سنگریزوں پر اپنا کھردرا کمبل منہ پر ڈال کر اسی سخت گرمی میں میدان میں پڑا رہا، اتفاقاً میری آنکھ لگ گئی تو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک شخص بہترین جام لیے ہوئے اور اس میں بہترین خوش ذائقہ مزیدار پینے کی چیز لیے ہوئے میرے پاس آیا اور جام میرے ہاتھ میں دے دیا، میں نے خوب پیٹ بھر کر اس میں سے پیا، وہیں آنکھ کھل گئی تو اللہ کی قسم مجھے مطلق پیاس نہ تھی بلکہ اس کے بعد سے لے کر آج تک مجھے کبھی پیاس کی تکلیف ہی نہیں ہوئی، بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ پیاس ہی نہیں لگی۔“
صفحہ نمبر2132
”یہ لوگ میرے جاگنے کے بعد آپس میں کہنے لگے کہ آخر تو یہ تمہاری قوم کا سردار ہے، تمہارا مہمان بن کر آیا ہے، اتنی بے رخی بھی ٹھیک نہیں کہ ایک گھونٹ پانی بھی ہم اسے نہ دیں، چنانچہ اب یہ لوگ میرے پاس کچھ لے کر آئے، میں نے کہا اب تو مجھے کوئی حاجت نہیں، مجھے میرے رب نے کھلا پلا دیا، یہ کہہ کر میں نے انہیں اپنا بھرا ہوا پیٹ دکھا دیا، اس کرامت کو دیکھ کر وہ سب کے سب مسلمان ہوگئے۔“ [طبرانی کبیر:8074:ضعیف]
صفحہ نمبر2133
اعشی نے اپنے قصیدے میں کیا ہی خواب کہا ہے کہ «وَإِيَّاكَ وَالْمَيْتَاتِ لَا تَقْرَبَنَّهَا» «وَلَا تَأْخُذَنَّ عَظْمًا حَدِيدًا فَتَفْصِدَا» «وَذَا النُّصُبِ الْمَنْصُوبَ لَا تَأْتِيَنَّهُ» «وَلَا تَعْبُدِ الْأَصْنَامَ وَاللَّهَ فَاعْبُدَا» ”مردار کے قریب بھی نہ ہو اور کسی جانور کی رگ کاٹ کر خون نکال کر نہ پی اور پرستش گاہوں پر چڑھا ہوا نہ کھا اور اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کر، صرف اللہ ہی کی عبادت کیا کر۔“
«لَحْمُ الْخِنزِيرِ» حرام ہے خواہ وہ جنگلی ہو، لفظ «لَحْمُ» شامل ہے اس کے تمام اجزاء کو، جس میں چربی بھی داخل ہے پس ظاہر یہ کی طرح تکلفات کرنے کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ دوسری آیت میں سے «أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ» [6-الأنعام:145] لے کر ضمیر کا مرجع خنزیر کو بتلاتے ہیں تاکہ اس کے تمام اجزاء حرمت میں آ جائیں۔ درحقیقت یہ لغت سے بعید ہے مضاف الیہ کی طرف سے ایسے موقعوں پر ضمیر پھرتی ہی نہیں، صرف مضاف ہی ضمیر کا مرجع ہوتا ہے۔ صاف ظاہر بات یہی ہے کہ لفظ «لَحْمُ» شامل ہے تمام اجزاء کو۔ لغت عرب کا مفہوم اور عام عرف یہی ہے۔
صفحہ نمبر2134
صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق شطرنج کھیلنے والا اپنے ھاتھوں کو سور کے گوشت و خون میں رنگنے والا ہے ۔ [صحیح مسلم:2260] خیال کیجئے کہ صرف چھونا بھی شرعاً کس قدر نفرت کے قابل ہے، تو پھر کھانے کیلئے بے حد برا ہونے میں کیا شک رہا؟ اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ لفظ لحم شامل ہے تمام اجزاء کو خواہ چربی ہو خواہ اور۔
بخاری و مسلم میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے شراب، مردار، خنزیر بتوں کی تجارت کی ممانعت کر دی ہے ، پوچھا گیا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردار کی چربی کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟“ وہ کشتیوں پر چڑھائی جاتی ہے، کھالوں پر لگائی جاتی ہے اور چراغ جلانے کے کام بھی آتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! وہ حرام ہے ۔ [صحیح بخاری:2236]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ابوسفیان نے ہر قل سے کہا ”وہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمیں مردار سے اور خون سے روکتا ہے۔“ [مسند ابی عوانہ:6734]
وہ جانور بھی حرام ہے جس کو ذبح کرنے کے وقت اللہ کے سوا دوسرے کا نام لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر اسے فرض کر دیا وہ اسی کا نام لے کر جانور کو ذبح کرے، پس اگر کوئی اس سے ہٹ جائے اور اس کے نام پاک کے بدلے کسی بت وغیرہ کا نام لے، خواہ وہ مخلوق میں سے کوئی بھی ہو تو یقیناً وہ جانور بالاجماع حرام ہو جائے گا، ہاں جس جانور کے ذبیحہ کے وقت بسم اللہ کہنا رہ جائے، خواہ جان بوجھ کر خواہ بھولے چوکے سے وہ حرام ہے یا حلال؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے جس کا بیان سورۂ انعام میں آئیگا۔ ابوالطفیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”حضرت آدم کے وقت سے لے کر آج تک یہ چاروں چیزیں حرام رہیں، کس وقت ان میں سے کوئی بھی حلال نہیں ہوئی (١) مردار (٢) خون (٣) سور کا گوشت (٤) اور اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی چیز۔ البتہ بنو اسرائیل کے گناہگاوں کے گناہوں کی وجہ سے بعض غیر حرام چیزیں بھی ان پر حرام کر دی گئی تھیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ وہ دوبارہ حلال کر دی گئیں، لیکن بنو اسرائیل نے آپ علیہ السلام کو سچا نہ جانا اور آپ علیہ السلام کی مخالفت کی۔ [ابن ابی حاتم] یہ اثر غریب ہے۔
صفحہ نمبر2135
سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب کوفے کے حاکم تھے اس وقت ابن نائل نامی قبیلہ بنو رباح کا ایک شخص جو شاعر تھا، فرزوق کے دادا غالب کے مقابل ہوا اور یہ شرط ٹھہری کہ دونوں آمنے سامنے ایک ایک سو اونٹوں کی کوچیں کاٹیں گے، چنانچہ کوفے کی پشت پر پانی کی جگہ پر جب ان کے اونٹ آئے تو یہ اپنی تلواریں لے کر کھڑے ہوگئے اور اونٹوں کی کوچیں کاٹنی شروع کیں اور دکھاوے، سناوے اور فخریہ ریاکاری کیلئے دونوں اس میں مشغول ہو گئے۔
کوفیوں کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ اپنے گدھوں اور خچروں پر سوار ہو کر گوشت لینے کیلئے آنا شروع ہوئے، اتنے میں جناب علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر پر سوار ہو کر یہ منادی کرتے ہوئے وہاں پہنچے کہ ”لوگو یہ گوشت نہ کھانا یہ جانور «مَا اُهِلَّ بِهِ لِغَیْرِ اللهِ» میں شامل ہیں۔“ [ابن ابی حاتم] یہ اثر بھی غریب ہے ہاں اس کی صحت کی شاہد وہ حدیث ہے جو ابوداؤد میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراب کی طرف مقابلہ میں کوچیں کاٹنے سے ممانعت فرما دی ۔ [سنن ابوداود:2820،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] پھر ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ محمد بن جعفر رحمہ اللہ نے اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ پر وقف کیا ہے۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں شخصوں کا کھانا کھانا منع فرما دیا جو آپس میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانا اور ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا اور ریا کاری کرنا چاہتے ہوں ۔ [سنن ابوداود:3754،قال الشيخ الألباني:صحیح]
«مُنْخَنِقَةُ» جس کا گلا گھٹ جائے خواہ کسی نے عمداگلا گھونٹ کر گلا مروڑ کر اسے مار ڈالا ہو، خواہ از خود اس کا گلا گھٹ گیا ہو۔ مثلاً اپنے کھوٹنے میں بندھا ہوا ہے اور بھاگنے لگا، پھندا گلے میں پڑ گیا اور کھچ کھچاؤ کرتا ہوا مر گیا پس یہ حرام ہے۔
«مَوْقُوْدَةٌ» وہ ہے جس جانور کو کسی نے ضرب لگائی، لکڑی وغیرہ ایسی چیز سے جو دھاری دار نہیں لیکن اسی سے وہ مر گیا، تو وہ بھی حرام ہے، جاہلیت میں یہ بھی دستور تھا کہ جانور کولٹھ سے مار ڈالتے اور پھر کھاتے۔ لیکن قرآن نے ایسے جانور کو حرام بتایا۔
صفحہ نمبر2136
صحیح سند سے مروی ہے کہ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں معراض سے شکار کھیلتا ہوں تو کیا حکم ہے؟ فرمایا: جب تو اسے پھینکے اور وہ جانور کو زخم لگائے تو کھا سکتا ہے اور اگر وہ چوڑائی کی طرف سے لگے تو وہ جانور لٹھ مارے ہوئے کے حکم میں ہے اسے نہ کھا ۔ [صحیح بخاری:5476]
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں جسے دھار اور نوک سے شکار کیا ہو اور اس میں جسے چوڑائی کی جانب سے لگا ہو فرق کیا۔ اول کو حلال اور دوسرے کو حرام۔ فقہاء کے نزدیک بھی یہ مسئلہ متفق علیہ ہے۔ ہاں اختلاف اس میں ہے کہ جب کسی زخم کرنے والی چیز نے شکار کو صدمہ تو پہنچایا لیکن وہ مرا ہے اس کے بوجھ اور چوڑائی کی طرف سے تو آیا یہ جانور حلال ہے یا حرام۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے اس میں دونوں قول ہیں، ایک تو حرام ہونا اوپر والی حدیث کو سامنے رکھ کر۔ دوسرے حلال کرنا کتے کے شکار کی حلت کو مدنظر رکھ کر۔ اس مسئلہ کی پوری تفصیل ملاحظہ ہو۔
صفحہ نمبر2137
[فصل] علماء کرام کا اس میں اختلاف ہے کہ جب کسی شخص نے اپنا کتا شکار پر چھوڑا اور کتے نے اسے اپنی مار سے اور بوجھ سے مار ڈالا، زخمی نہیں کیا تو وہ حلال ہے یا نہیں؟ اس میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ یہ حلال ہے کیونکہ قرآن کے الفاظ عام ہیں «فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ» [5-المائدہ:4] یعنی ” وہ جن جانوروں کو روک لیں تم انہیں کھا سکتے ہو “۔
اسی طرح سیدنا عدی رضی اللہ عنہ وغیرہ کی صحیح حدیثیں بھی عام ہی ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھیوں نے امام صاحب کا یہ قول نقل کیا ہے اور متاخرین نے اس کی صحت کی ہے، جیسے نووی اور رافعی رحمہ اللہ مگر میں کہتا ہوں کہ گو یوں کہا جاتا ہے لیکن امام صاحب کے کلام سے صاف طور پر یہ معلوم ہوتا۔ ملاحظہ ہو کتاب الام اور مختصر ان دونوں میں جو کلام ہے وہ دونوں معنی کا احتمال رکھتا ہے۔ پس دونوں فریقوں نے اس کی توجیہہ کر کے دونوں جانب علی الاطلاق ایک قول کہہ دیا۔ ہم تو بصد مشکل صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ اس بحث میں حلال ہونے کے قول کی حکایت کچھ قدرے قلیل زخم کا ہونا بھی ہے۔ گو ان دونوں میں سے کسی کی تصریح نہیں، اور وہ کسی کی مضبوط رائے، ابن الصباح نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے حلال ہونے کا قول نقل کیا ہے اور دوسرا کوئی قول ان سے نقل نہیں کیا اور امام ابن جریر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں اس قوت کو سلمان فارسی، ابوہریرہ، سعد بن وقاص اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے نقل کیا ہے لیکن یہ بہت غریب ہے اور دراصل ان بزرگوں سے صراحت کے ساتھ یہ اقوال نہیں پائے جاتے۔ یہ صرف اپنا تصرف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دوسرا قول یہ ہے کہ وہ حلال نہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں سے ایک قول یہ ہے، مزنی نے روایت کیا ہے اور یہی مشہور ہے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اور یہی قول ٹھیک ہونے سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس لیے کہ اصولی قواعد اور احکام شرعی کے مطابق یہی جاری ہے۔
صفحہ نمبر2138
ابن الصباغ نے رافع بن خدیج کی حدیث سے دلیل پکڑی ہے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کل دشمنوں سے بھڑنے والے ہیں اور ہمارے ساتھ چھریاں نہیں تو کیا ہم تیز بانس سے ذبح کر لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز خون بہائے اور اس کے اوپر اللہ کا نام ذکر کیا جائے اسے کھا لیا کرو ۔ [صحیح بخاری:5503] یہ حدیث گو ایک خاص موقعہ کیلئے ہے لیکن عام الفاظ کا حکم ہوگا۔
جیسے کہ جمہور علماء اصول و فروغ کا فرمان ہے، اس کی دلیل وہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ تبع جو شہد کی نبیذ سے ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ پینے کی چیز جو نشہ لائے حرام ہے ۔ [صحیح بخاری:5585]
صفحہ نمبر2139
پس یہاں سوال ہے شہد کی نبیذ سے لیکن جو اب کے الفاظ عام ہیں اور مسئلہ بھی ان سے عام سمجھا گیا، اسی طرح اوپر والی حدیث ہے کہ گو سوال ایک خاص نوعیت میں ذبح کرنے کا ہے لیکن جواب کے الفاظ اسی اور اس کے سوا کی عام نوعیتوں پر مشتمل ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ایک خاص معجزہ ہے کہ الفاظ تھوڑے اور معافی بہت، اسے ذہن میں رکھنے کے بعد اب غور کیجئے کہ کتے کے صدمے سے جو شکار مر جائے یا اس کے بوجھ یا تھپڑ کی وجہ سے شکار کا دم نکل جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کا خون کسی چیز سے نہیں بہا، پس اس حدیث کے مفہوم کی بناء پر وہ حلال نہیں ہو سکتا۔
اس پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ اس حدیث کو کتے کے شکار کے مسئلہ سے دور کا تعلق بھی نہیں، اس لیے کہ سائل نے ذبح کرنے کے ایک آلے کی نسبت سوال کیا تھا۔ ان کا سوال اس چیز کی نسبت نہ تھا، جس سے ذبح کیا جائے، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دانت اور ناخن کو مستثنیٰ کر لیا اور فرمایا: سوائے دانت اور ناخن کے اور میں تمہیں بتاؤں کہ انکے سوا کیوں؟ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے ۔ [صحیح بخاری:5498]
اور یہ قاعدہ ہے کہ مستثنیٰ کی دلالت جنس مستثنیٰ منہ پر ہوا کرتی ہے، ورنہ متصل نہیں مانا جا سکتا، پس ثابت ہوا کہ سوال آلہ ذبح کا ہی تھا تو اب کوئی دلالت تمہارے قول پر باقی نہیں رہی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے جملے کو دیکھو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ جو چیز خون بہا دے اور اس پر نام اللہ بھی لیا گیا ہو، اسے کھا لو ۔ یہ نہیں فرمایا کہ اس کے ساتھ ذبح کر لو۔ پس اس جملہ سے دو حکم ایک ساتھ معلوم ہوتے ہیں، ذبح کرنے کے آلہ کا حکم بھی اور خود ذبیحہ کا حکم بھی اور یہ کہ اس جانور کا خون کسی آلہ سے بہانا ضروری ہے، جو دانت اور ناخن کے سوا ہو۔ ایک مسلک تو یہ ہے۔
صفحہ نمبر2140
دوسرا مسلک جو مزنی کا ہے وہ یہ کہ ”تیر کے بارے میں صاف لفظ آچکے کہ اگر وہ اپنی چوڑائی کی طرف سے لگا ہے اور جانور مرگیا ہے تو نہ کھاؤ اور اگر اس نے اپنی دھار اور انی سے زخم کیا ہے پھر مرا ہے تو کھا لو اور کتے کے بارے میں علی الاطلاق احکام ہیں۔“ پس چونکہ موجب یعنی شکار دونوں جگہ ایک ہی ہے تو مطلق کا حکم بھی مقید پر محمول ہو گا گو سبب الگ الگ ہوں۔
جیسے کہ ظہار کے وقت آزادگی گردن جو مطلق ہے محمول کی جاتی ہے قتل کی آزادگی گردن پر جو مقید ہے ایمان کے ساتھ۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ ضرورت شکار کے اس مسئلہ میں ہے یہ دلیل ان لوگوں پر یقیناً بہت بڑی حجت ہے جو اس قاعدہ کی اصل کو مانتے ہیں اور چونکہ ان لوگوں میں اس قاعدے کے مسلم ہونے میں کوئی اختلاف نہیں تو ضروری ہے کہ یا تو وہ اسے تسلیم کریں ورنہ کوئی پختہ جواب دیں۔ علاوہ ازیں فریق یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ چونکہ اس شکار کو کتے نے بوجہ اپنے ثقل کے مار ڈالا ہے اور یہ ثابت ہے کہ تیر جب اپنی چوڑائی سے لگ کر شکار کو مار ڈالے تو وہ حرام ہو جاتا ہے پس اس پر قیاس کر کے کتے کا یہ شکار بھی حرام ہو گیا کیونکہ دونوں میں یہ بات مشترک ہے کہ دونوں شکار کے آلات ہیں اور دونوں نے اپنے بوجھ اور زور سے شکار کی جان لی ہے اور آیت کا عموم اس کے معارض نہیں ہو سکتا کیونکہ عموم پر قیاس مقدم ہے جیسا کہ چاروں اماموں اور جمہور کا مذہب ہے۔ یہ مسلک بھی بہت اچھا ہے
صفحہ نمبر2141
دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان آیت «فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ» یعنی ” شکار کتے جس جانور کو روک رکھیں اس کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے “۔ یہ عام نوعیت پر یعنی اسے بھی جسے زخم کیا ہو اور اس کے سوا کو بھی، لیکن جس صورت پر اس وقت بحث ہے وہ یا تو ٹکر لگا ہوا ہے یا اس کے حکم پر یا گلا گھونٹا ہوا ہے یا اس کے حکم میں، بہر صورت اس آیت کی تقدیم ان وجوہ پر ضرور ہو گی۔
اولاً تو یہ کہ شارع نے اس آیت کا حکم شکار کی حالت میں معتبر مانا ہے۔ کیونکہ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اگر وہ چوڑائی کی طرف سے لگا ہے تو وہ لٹھ مارا ہوا ہے اسے نہ کھاؤ ۔
جہاں تک ہمارا علم ہے ہم جانتے ہیں کہ کسی عالم نے یہ نہیں کہا کہ لٹھ سے اور مار سے مرا ہوا تو شکار کی حالت میں معتبر ہو اور سینگ اور ٹکر لگا ہوا معتبر نہ ہو۔ پس جس صورت میں اس وقت بحث ہو رہی ہے اس جانور کو حلال کہنا اجماع کو توڑنا ہوگا، جسے کوئی بھی جائز نہیں کہہ سکتا بلکہ اکثر علماء اسے ممنوع بتاتے ہیں۔
صفحہ نمبر2142
دوسرے یہ کہ آیت «فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ» اپنے عموم پر باقی نہیں اور اس پر اجتماع ہے، بلکہ آیت سے مراد صرف حلال حیوان ہیں۔ تو اس کے عام الفاظ سے وہ حیوان جن کا کھانا حرام ہے بالاتفاق نکل گئے اور یہ قاعدہ ہے کہ عموم محفوظ عموم غیر محفوظ پر مقدم ہوتا ہے۔
ایک تقریر اسی مسئلہ میں اور بھی گوش گزار کر لیجئے کہ اس طرح کا شکار میتہ کے حکم میں ہے، پس جس وجہ سے مردار حرام ہے، وہی وجہ یہاں بھی ہے تو یہ بھی اسی قیاس سے حلال نہیں۔ ایک اور وجہ بھی سنئے کہ حرمت کی آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ» [5-المائدہ:3] الخ، بالکل محکم ہے، اس میں کسی طرح نسخ کا دخل نہیں، نہ کوئی تخصیص ہوئی ہے، ٹھیک اسی طرح آیت تحلیل بھی محکم ہی ہونی چاہیئے۔
یعنی فرمان باری تعالیٰ آیت «يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَهُمْ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ» [5-المائدہ:4] ” لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ ان کیلئے حلال کیا ہے تو کہدے کہ تمام طیب چیزیں تمہارے لیے حلال ہیں “۔
جب دونوں آیتیں محکم اور غیر منسوخ ہیں تو یقیناً ان میں تعارض نہ ہونا چاہیئے لہٰذا حدیث کو اس کی وضاحت کیلئے سمجھنا چاہیئے اور تیر کا واقعہ اسی کی شہادت دیتا ہے، جس میں یہ بیان کیا ہے کہ اس آیت میں یہ صورت واضح طور پر شامل ہے کہ آنی اور دھار تیزی کی طرف سے زخم کرے تو جانور حلال ہو گا، کیونکہ وہ (طیبات) میں آگیا۔
ساتھ ہی حدیث میں یہ بھی بیان کر دیا گیا کہ آیت تحریم میں کون سی صورت شامل ہے۔ یعنی وہ صورت جس میں جانور کی موت تیر کی چوڑائی کی چوٹ سے ہوئی ہے، وہ حرام ہو گیا جسے کھایا نہیں جائے گا۔ اس لیے کہ وہ «وقیذ» ہے اور «وقیذ» آیت تحریم کا ایک فرد ہے، ٹھیک اسی طرح اگر شکاری کتے نے جانور کو اپنے دباؤ زور بوجہ اور سخت پکڑ کی وجہ سے مار ڈالا ہے تو وہ «نطیح» ہے یا «فطیح» یعنی ٹکر اور سینگ لگے ہوئے کے حکم میں ہے اور حلال نہیں، ہاں اگر اسے مجروح کیا ہے تو وہ آیت تحلیل کے حکم میں ہے اور یقیناً حلال ہے۔
صفحہ نمبر2143
اس پر اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر یہی مقصود ہوتا تو کتے کے شکار میں بھی تفصیل بیان کر دی جاتی اور فرما دیا جاتا کہ اگر وہ جانور کو چیرے پھاڑے، زخمی کرے تو حلال اور اگر زخم نہ لگائے تو حرام۔ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ کتے کا بغیر زخمی کئے قتل کرنا بہت ہی کم ہوتا ہے۔ اس کی عادت یہ نہیں بلکہ عادت تو یہ ہے کہ اپنے پنجوں یا کچلیوں سے ہی شکار کو مارے یا دونوں سے، بہت کم کبھی کبھی شاذو نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے دباؤ اور بوجھ سے شکار کو مار ڈالے، اس لیے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ اس کا حکم بیان کیا جائے اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ جب آیت تحریم میں «مَيْتَةُ، مَوْقُوذَةُ، مُتَرَدِّيَةُ، لنَّطِيحَةُ» کی حرمت موجود ہے تو اس کے جاننے والے کے سامنے اس قسم کے شکار کا حکم بالکل ظاہر، تیر اور معراض میں اس حکم کو اس لیے الگ بیان کر دیا کہ وہ عموماً خطا کر جاتا ہے بالخصوص اس شخص کے ہاتھ سے جو قادر تیر انداز نہ ہو یا نشانے میں خطا کرتا ہو، اس لیے اس کے دونوں حکم تفصیل وار بیان فرما دیئے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دیکھئیے چونکہ کتے کے شکار میں یہ احتمال تھا کہ ممکن ہے وہ اپنے کئے ہوئے شکار میں سے کچھ کھا لے، اس لیے یہ حکم صراحت کے ساتھ الگ بیان فرما دیا اور ارشاد ہوا کہ اگر وہ خود کھا لے تو تم اسے نہ کھاؤ، ممکن ہے کہ اس نے خود اپنے لیے ہی شکار کو روکا ہو۔ [صحیح مسلم:1929] یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے اور یہ صورت اکثر حضرات کے نزدیک آیت تحلیل کے عموم سے مخصوص ہے اور ان کا قول ہے کہ جس شکار کو کتا کھا لے اس کا کھانا حلال نہیں۔
صفحہ نمبر2144
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہی روایت کیا جاتا ہے۔ حسن، شعبی اور نخعی رحمہ اللہ علیہم کا قول بھی یہی ہے اور اسی کی طرف ابوحنیفہ، ان کے دونوں اصحاب، احمد بن حنبل اور مشہور روایت میں شافعی رحمہ اللہ علیہم بھی گئے ہیں۔ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں سیدنا علی، سعد، سلمان، ابوہریرہ، ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے نقل کیا ہے کہ گو کتے نے شکار میں سے کچھ کھا لیا ہو تاہم اسے کھا لینا جائز ہے، بلکہ سعد، سلمان، ابوہریرہ رضی اللہ عنہم وغیرہ فرماتے ہیں گو کتا آدھا حصہ کھا گیا ہو تاہم اس شکار کا کھا لینا جائز ہے۔
امام مالک اور شافعی رحمہ اللہ علیہم بھی اپنے قدیم قول میں اسی طرف گئے ہیں اور قول جدید میں دونوں قولوں کی طرف اشارہ کیا ہے، جیسے کہ امام ابو منصور بن صباغ وغیرہ نے کہا ہے۔ ابوداؤد میں قوی سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے کتے کو چھوڑے اور اللہ کا نام تو نے لے لیا ہو تو کھا لے، گو اس نے بھی اس میں سے کھا لیا ہو اور کھا لے اس چیز کو جسے تیرا ہاتھ تیری طرف لوٹا لائے ۔ [سنن ابوداود:حدیث2852،قال الشيخ الألباني:-منکر] نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔
تفسیر ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی شخص نے اپنا کتا شکار پر چھوڑا، اس نے شکار کو پکڑا اور اس کا کچھ گوشت کھا لیا تو اسے اختیار ہے کہ باقی جانور یہ اپنے کھانے کے کام میں لے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11214] اس میں اتنی علت ہے کہ یہ موقوفاً سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے قول سے مروی ہے، جمہور نے سیدنا عدی رضی اللہ عنہ والی حدیث کو اس پر مقدم کیا ہے اور ابوثعبلہ وغیرہ کی حدیث کو ضعیف بتایا ہے۔
صفحہ نمبر2145
بعض علماء کرام نے اس حدیث کو اس بات پر محمول کیا ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے، جب کتے نے شکار پکڑا اور دیر تک اپنے مالک کا انتظار کیا، جب وہ نہ آیا تو بھوک وغیرہ کے باعث اس نے کچھ کھا لیا اس صورت میں یہ حکم ہے کہ باقی کا گوشت مالک کھا لے کیونکہ ایسی حالت میں یہ ڈر باقی نہیں رہتا کہ شاید کتا ابھی شکار کا سدھارا ہوا نہیں، ممکن ہے اس نے اپنے لیے ہی شکار کیا ہو، بخلاف اس کے کہ کتے نے پکڑتے ہی کھانا شروع کر دیا تو اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس نے اپنے لیے ہی شکار دبوچا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب رہے شکاری پرند تو امام شافعی رحمة الله نے صاف کہا ہے کہ یہ کتے کے حکم میں ہیں۔ تو اگر یہ شکار میں سے کچھ کھا لیں تو شکار کا کھانا جمہور کے نزدیک تو حرام ہے اور دیگر کے نزدیک حلال ہے، ہاں مزنی کا مختار یہ ہے کہ گوشکاری پرندوں نے شکار کا گوشت کھا لیا ہو تاہم وہ حرام نہیں۔ یہی مذہب ابوحنیفہ اور احمد رحمہ اللہ علیہم کا ہے۔ اس لیے کہ پرندوں کو کتوں کی طرح مار پیٹ کر سدھا بھی نہیں سکتے اور وہ تعلیم حاصل کر ہی نہیں سکتا جب تک اسے کھائے نہیں، یہاں بات معاف ہے اور اس لیے بھی کہ نص کتے کے بارے میں وارد ہوئی ہے پرندوں کے بارے میں نہیں۔
صفحہ نمبر2146
باب
شیخ ابوعلی افصاح رحمہ اللہ میں فرماتے ہیں ”جب ہم نے یہ طے کر لیا کہ اس شکار کا کھانا حرام ہے جس میں سے شکاری کتے نے کھا لیا ہو تو جس شکار میں سے شکاری پرند کھالے اس میں دو وجوہات ہیں۔“ لیکن قاضی ابو الطیب نے اس فرع کا اور اس ترتیب سے انکار کیا ہے۔ کیونکہ امام شافعی نے ان دونوں کو صاف لفظوں میں برابر رکھا ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
«مُتَرَدِّیـةُ» وہ ہے جو پہاڑی یا کسی بلند جگہ سے گر کر مرگیا ہو تو وہ جانور بھی حرام ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ وہ ہے جو کنویں میں گر پڑے، [تفسیر ابن جریر الطبری:498/9]
«نَـطِیْحَـہ» وہ ہے جسے دوسرا جانور سینگ وغیرہ سے ٹکر لگائے اور وہ اس صدمہ سے مر جائے، گو اس سے زخم بھی ہوا ہو اور گو اس سے خون بھی نکلا ہو، بلکہ گو ٹھیک ذبح کرنے کی جگہ ہی لگا ہو اور خون بھی نکلا، یہ لفظ معنی میں مفعول یعنی منطوحہ کے ہے، یہ وزن عموماً کلام عرب میں بغیر تے کے آتا ہے جیسے «عَیْـنٌ کَحِـیْلٌ» اور «کَفٌّ خَضِیْبٌ» ان مواقع میں «کَحِیْلَـةٌ» اور «خَضِیبْـَةٌ» نہیں کہتے، اس جگہ تے اس لیے لایا گیا ہے کہ یہاں اس لفظ کا استعمال قائم مقام اسم کے ہے، جیسے عرب کا یہ کلام «طَرِیْقَةٌ طَوِیْلةٌ» ۔
بعض نحوی کہتے ہیں تاء تانیث یہاں اس لیے لایا گیا ہے کہ پہلی مرتبہ ہی تانیث پر دلالت ہو جائے بخلاف «کَحِـیْلٌ» اور «خَضِیبْـَ» کے کہ وہاں تانیث کلام کے ابتدائی لفظ سے معلوم ہوتی ہے۔ «مَاۤ اَکَلَ السَّـبُعُ» سے مراد وہ جانور ہے جس پر شیر، بھیڑیا، چیتا یا کتا وغیرہ درندہ حملہ کرے اور اس کا کوئی حصہ کھا جائے اور اس سبب سے مر جائے تو اس جانور کو کھانا بھی حرام ہے، اگرچہ اس سے خون بہا ہو بلکہ اگرچہ ذبح کرنے کی جگہ سے ہی خون نکلا ہو تاہم وہ جانور بالاجماع حرام ہے۔
صفحہ نمبر2147
اہل جاہلیت میں ایسے جانور کا بقیہ کھا لیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس سے منع فرمایا۔ پھر فرماتا ہے ” مگر وہ جسے تم ذبح کرلو “، یعنی گلا گھونٹا ہوا، لٹھ مارا ہوا، اوپر سے گر پڑا ہوا، سینگ اور ٹکر لگا ہوا، درندوں کا کھایا ہوا، اگر اس حالت میں مل جائے کہ اس میں جان باقی ہو اور تم اس پر باقاعدہ اللہ کا نام لے کر چھری پھیر لو تو پھر یہ جانور تمہارے لئے حلال ہوجائیں گے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ، حسن اور سدی رحمة الله علیہم یہی فرماتے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”اگر تم ان کو اس حالت میں پالو کہ چھری پھیرتے ہوئے وہ دم رگڑیں یا پیر ہلائیں یا آنکھوں کے ڈھیلے پھرائیں تو بے شک ذبح کرکے کھا لو۔“
ابن جریر میں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جس جانور کو ضرب لگی ہو یا اوپر سے گر پڑا ہو یا ٹکر لگی ہو اور اس میں روح باقی ہو اور تمہیں وہ ہاتھ پیر رگڑتا مل جائے تو تم اسے ذبح کر کے کھا سکتے ہو۔“ طاؤس، حسن، قتادہ، عبید بن عمیر، ضحاک رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے حضرات سے مروی ہے کہ ”بوقت ذبح اگر کوئی حرکت بھی اس جانور کی ایسی ظاہر ہو جائے جس سے یہ معلوم ہو کہ اس میں حیات ہے تو وہ حلال ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:502/9]
جمہور فقہاء کا یہی مذہب ہے حرکت بھی اس جانور کی ایسی ظاہر ہو جائے جس سے یہ معلوم ہو کہ اس میں حیات ہے تو وہ حلال ہے۔ جمہور فقہاء کا یہی مذہب ہے تینوں اماموں کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک رحمة الله اس بکری کے بارے میں جسے بھیڑیا پھاڑ ڈالے اور اس کی آنتیں نکل آئیں فرماتے ہیں ”میرا خیال ہے کہ اسے ذبح نہ کیا جائے اس میں سے کس چیز کا ذبیحہ ہو گا؟“ ایک مرتبہ آپ رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ درندہ اگر حملہ کرکے بکری کی پیٹھ توڑ دے تو کیا اس بکری کو جان نکلنے سے پہلے ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”اگر بالکل آخر تک پہنچ گیا ہے تو میری رائے میں نہ کھانی چاہیئے اور اگر اطراف میں یہ ہے تو کوئی حرج نہیں۔“ سائل نے کہا درندے نے اس پر حملہ کیا اور کود کر اسے پکڑ لیا، جس سے اس کی کمر ٹوٹ گئی ہے تو، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”مجھے اس کا کھانا پسند نہیں کیونکہ اتنی زبردست چوٹ کے بعد زندہ نہیں رہ سکتی۔“ آپ رحمہ اللہ سے پھر پوچھا گیا کہ اچھا اگر پیٹ پھاڑ ڈالا اور آنتیں نہیں نکلیں تو کیا حکم ہے؟ فرمایا ”میں تو یہی رائے رکھتا ہوں کہ نہ کھائی جائے۔“ یہ ہے امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب لیکن چونکہ آیت عام ہے اس لیے امام صاحب نے جن صورتوں کو مخصوص کیا ہے ان پر کوئی خاص دلیل چاہیئے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2148
بخاری و مسلم میں سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم کل دشمن سے لڑائی میں باہم ٹکرانے والے ہیں اور ہمارے ساتھ چھریاں نہیں کیا ہم بانس سے ذبح کر لیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز خون بہائے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے، اسے کھا لو، سوائے دانت اور ناخن کے، یہ اس لیے کہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں [صحیح بخاری:5498]
مسند احمد اور سنن میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ”ذبیحہ صرف حلق اور نرخرے میں ہی ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو نے اس کی ران میں بھی زخم لگا دیا تو کافی ہے ۔ [سنن ابوداود:2825،قال الشيخ الألباني:-منکر و ضعیف] یہ حدیث ہے تو سہی لیکن یہ حکم اس وقت ہے جبکہ صحیح طور پر ذبح کرنے پر قادر نہ ہوں۔ «نُصُب» پر جو جانور ذبح کیے جائیں وہ بھی حرام ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ پرستش گاہیں کعبہ کے اردگرد تھیں،۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/9]
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ تین سو ساٹھ بت تھے، جاہلیت کے عرب ان کے سامنے اپنے جانور قربان کرتے تھے اور ان میں سے جو بیت اللہ کے بالکل متصل تھا، اس پر ان جانوروں کا خون چھڑکتے تھے اور گوشت ان بتوں پر بطور چڑھاوا چڑھاتے تھے“ [صحیح بخاری:1601]
پس اللہ تعالیٰ نے یہ کام مومنوں پر حرام کیا اور ان جانوروں کا کھانا بھی حرام کر دیا۔ اگرچہ ان جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» بھی کہی گئی ہو کیونکہ یہ شرک ہے جسے اللہ تعالیٰ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا ہے، اور اسی لائق ہے، اس جملہ کا مطلب بھی یہی ہے کیونکہ اس سے پہلے ان کی حرمت بیان ہو چکی ہے جو اللہ کے سوا دوسروں کے نام پر چڑھائے جائیں۔
صفحہ نمبر2149
«اَزْلاَم» سے تقسیم کرنا حرام ہے، یہ جاہلیت کے عرب میں دستور تھا کہ انہوں نے تین تیر رکھ چھوڑے تھے، ایک پر لکھا ہوا تھا «افعل» یعنی کر، دوسرے پر لکھا ہوا تھا «لاتعفل» یعنی نہ کر، تیسرا خالی تھا۔ بعض کہتے ہیں ایک پر لکھا تھا مجھے میرے رب کا حکم ہے، دوسرے پر لکھا تھا مجھے میرے رب کی ممانعت ہے، تیسرا خالی تھا اس پر کچھ بھی لکھا ہوا نہ تھا۔ بطور قرعہ اندازی کے کسی کام کے کرنے نہ کرنے میں جب انہیں تردد ہوتا تو ان تیروں کو نکالتے، اگر حکم، کر، نکلا تو اس کام کو کرتے اگر ممانعت کا تیر نکلا تو باز آ جاتے اگر خالی تیر نکلا تو پھر نئے سرے سے قرعہ اندازی کرتے، «اَزْلاَم» جمع ہے «زَلْم» کی اور بعض «زَلَم» بھی کہتے ہیں۔
«استسقام» کے معنی ان تیروں سے تقسیم کی طلب ہے، قریشیوں کا سب سے بڑا بت ہبل خانہ کعبہ کے اندر کے کنوئیں پر نصب تھا، جس کنویں میں کعبہ کے ہدیے اور مال جمع رہا کرتے تھے، اس بت کے پاس سات تیر تھے، جن پر کچھ لکھا ہوا تھا جس کام میں اختلاف پڑتا یہ قریشی یہاں آ کر ان تیروں میں سے کسی تیر کو نکالتے اور اس پر جو لکھا پاتے اسی کے مطابق عمل کرتے۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو وہاں ابراہیم اور اسماعیل علیہم السلام کے مجسمے گڑے ہوئے پائے، جن کے ہاتھوں میں تیر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ انہیں غارت کرے، انہیں خوب معلوم ہے کہ ان بزرگوں نے کبھی تیروں سے فال نہیں لی ۔ [صحیح بخاری:1601]
صفحہ نمبر2150
صحیح حدیث میں ہے کہ ”سراقہ بن مالک بن جعثم جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق کو ڈھونڈنے کیلئے نکلا کہ انہیں پکڑ کر کفار مکہ کے سپرد کرے اور آپ اس وقت ہجرت کر کے مکہ سے مدینے کو جا رہے تھے تو اس نے اسی طرح قرعہ اندازی کی اس کا بیان ہے کہ پہلی مرتبہ وہ تیر نکلا جو میری مرضی کے خلاف تھا میں نے پھر تیروں کو ملا جلا کر نکالا تو اب کی مرتبہ بھی یہی نکلا تو انہیں کوئی ضرر نہ پہنچا سکے گا، میں نے پھر نہ مانا تیسری مرتبہ فال لینے کیلئے تیر نکالا تو اب کی مرتبہ بھی یہی تیر نکلا لیکن میں ہمت کر کے ان کا کوئی لحاظ نہ کر کے انعام حاصل کرنے اور سرخرو ہونے کیلئے تیر نکالا تو اب کی مرتبہ بھی یہی تیر نکلا لیکن میں ہمت کر کے ان کا کوئی لحاظ نہ کر کے انعام حاصل کرنے اور سرخرو ہونے کیلئے آپ کی طلب میں نکل کھڑا ہوا۔ اس وقت تک سراقہ مسلمان نہیں ہوا تھا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ نہ بگاڑ سکا اور پھر بعد میں اسے اللہ نے اسلام سے مشرف فرمایا۔“ [صحیح بخاری:3906]
ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”وہ شخص جنت کے بلند درجوں کو نہیں پا سکتا جو کہانت کرے، یا تیر اندازی کرے یا کسی بدفالی کی وجہ سے سفر سے لوٹ آئے [مجمع الزوائد:118/5:حسن بالشواهد]
مجاہد رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ”عرب ان تیروں کے ذریعہ اور فارسی اور رومی پانسوں کے ذریعہ جوا کھیلا کرتے تھے جو مسلمانوں پر حرام ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:512/9]
صفحہ نمبر2151
ممکن ہے کہ اس قول کے مطابق ہم یوں کہیں کہ تھے تو یہ تیر استخارے کیلئے مگر ان سے جو ابھی گاہے بگاہے کھیل لیا کرتے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اسی سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے جوئے کو بھی حرام کیا ہے اور فرمایا، ” ایمان والو! شراب، جواء، بت اور تیر نجس اور شیطانی کام ہیں، تم ان سے الگ رہو تاکہ تمہیں نجات ملے، شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ ان کے ذریعہ تمہارے درمیان عداوت و بغض ڈال دے “۔
اسی طرح یہاں بھی فرمان ہوتا ہے کہ ” تیروں سے تقسیم طلب کرنا حرام ہے، اس کام کا کرنا فسق، گمراہی، جہالت اور شرک ہے “۔ اس کے بجائے مومنوں کو حکم ہوا کہ ” جب تمہیں اپنے کسی کام میں تردد ہو تو تم اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرلو، اس کی عبادت کر کے اس سے بھلائی طلب کرو “۔ [مسند احمد] ۔
صفحہ نمبر2152
بخاری اور سنن میں مروی ہے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے، اسی طرح ہمارے کاموں میں استخارہ کرنا بھی تعلیم فرماتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ جب تم سے کسی کو کوئی اہم کام آ پڑے تو اسے چاہیئے کہ دو رکعت نماز نفل پڑھ کر یہ دعا پڑھے «اللَّهُم إِني أَسْتَخِيرُكَ، وأستقدِرُكَ بقُدْرِتك، و وأَسْأَلُكَ مِنْ فضْلِكَ العَظِيم، فإِنَّكَ تَقْدِرُ ولا أَقْدِرُ، وتعْلَمُ ولا أَعْلَمُ، وَأَنتَ علاَّمُ الغُيُوبِ اللَّهُمَّ إِنْ كنْتَ تعْلَمُ أَنَّ هذا الأمرَ خَيْرٌ لي في دِيني وَمَعَاشي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فاقْدُرْهُ لي وَيَسِّرْهُ لي، ثمَّ بَارِكْ لي فِيهِ، وَإِن كُنْتَ تعْلمُ أَنَّ هذَا الأَمْرَ شرٌّ لي في دِيني وَمَعاشي وَعَاقبةِ أَمَرِي، فاصْرِفهُ عَني، وَاصْرفني عَنهُ، وَاقدُرْ لي الخَيْرَ حَيْثُ كانَ، ثُمَّ أرضني بِهِ» ۔ یعنی اے اللہ میں تجھ سے تیرے علم کے ذریعہ بھلائی طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے وسیلے سے تجھ سے قدرت طلب کرتا ہوں اور تجھ سے تیرے بڑے فضل کا طالب ہوں، یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے اور میں محض مجبور ہوں، تو تمام علم والا ہے اور میں مطلق بے علم ہوں، تو ہی تمام غیب کو بخوبی جاننے والا ہے، اے میرے اللہ اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے دین دنیا میں آغاز و انجام کے اعتبار سے بہتر ہی بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر کر دے اور اسے میرے لیے آسان بھی کر دے اور اس میں مجھے ہر طرح کی برکتیں عطا فرما اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے دین کی دنیا زندگی اور انجام کار کے لحاظ سے برا ہے تو اسے مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس سے دور کر دے اور میرے لیے خیر و برکت جہاں کہیں ہو مقرر کر دے پھر مجھے اسی سے راضی و رضا مند کر دے ۔ [صحیح بخاری:1162]
دعا کے یہ الفاظ مسند احمد میں ہیں۔ «ھٰذَا الاَمْرَ» جہاں ہے وہاں اپنے کام کا نام لے مثلاً نکاح ہو تو «ھٰذَا النّکَاحَ» سفر میں ہو تو «ھٰذَا السَّـفَـرَ» بیوپار میں ہو تو «ھٰذَا التِّجَارَۃَ» وغیرہ۔ بعض روایتوں میں «خَيْرٌ لي في دِيني» سے «أَمْرِي» تک کے بجائے یہ الفاظ ہیں۔ دعا «خَیْرٌ لِّیْ فِیْ عَاجِلِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِہ» ۔ امام ترمذی اس حدیث کو حسن غریب بتلاتے ہیں۔
صفحہ نمبر2153
پھر فرماتا ہے ” آج کافر تمہارے دین سے مایوس ہوگئے “، یعنی ان کی یہ امیدیں خاک میں مل گئیں کہ وہ تمہارے دین میں کچھ خلط ملط کرسکیں یعنی اپنے دین کو تمہارے دین میں شامل کر لیں۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان اس سے تو مایوس ہو چکا ہے کہ نمازی مسلمان جزیرہ عرب میں اس کی پرستش کریں، ہاں وہ اس کوشش میں رہے گا کہ مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف بھڑکاتا رہے ۔ [صحیح مسلم:2812]
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مشرکین مکہ اس سے مایوس ہو گئے کہ مسلمانوں سے مل جل کر رہیں، کیونکہ احکام اسلام نے ان دونوں جماعتوں میں بہت کچھ تفاوت ڈال دیا۔ اسی لیے حکم ربانی ہو رہا ہے کہ مومن صبر کریں، ثابت قدم رہیں اور سوائے اللہ کے کسی سے نہ ڈریں، کفار کی مخالفت کی کچھ پرواہ نہ کریں، اللہ ان کی مدد کرے گا اور انہیں اپنے مخالفین پر غلبہ دے گا اور ان کے ضرر سے ان کی محافظت کی کچھ پرواہ نہ کریں، اللہ ان کی مدد کرے گا اور انہیں اپنے مخالفین پر غلبہ دے گا اور ان کے ضرر سے ان کی محافظت کرے گا اور دنیا و آخرت میں انہیں بلند و بالا رکھے گا۔ پھر اپنی زبردست بہترین اعلیٰ اور افضل تر نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ ” میں نے تمہارا دین ہر طرح اور ہر حیثیت سے کامل و مکمل کر دیا، تمہیں اس دین کے سوا کسی دین کی احتیاج نہیں “۔
صفحہ نمبر2154
” نہ اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی نبی کی تمہیں حاجت ہے “، اللہ نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء کیا ہے، انہیں تمام جنوں اور انسانوں کی طرف بھیجا ہے، حلال وہی ہے جسے وہ حلال کہیں، حرام وہی ہے جسے وہ حرام کہیں، دین وہی ہے جسے یہ مقرر کریں، ان کی تمام باتیں حق و صداقت والی، جن میں کسی طرح کا جھوٹ اور تضاد نہی۔
جیسے فرمان باری ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا» [6-الأنعام:115] یعنی ” تیرے رب کا کلمہ پورا ہوا، جو خبریں دینے میں سچا ہے اور حکم و منع میں عدل والا ہے “۔ دین کو کامل کرنا تم پر اپنی نعمت کو بھرپور کرنا ہے چونکہ میں خود تمہارے اس دین اسلام پر خوش ہوں، اس لیے تم بھی اسی پر راضی رہو، یہی دین اللہ کا پسندیدہ، اسی کو دے کر اس نے اپنی افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے اور اپنی اشرف کتاب نازل فرمائی ہے۔
صفحہ نمبر2155
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس دین اسلام کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کامل کر دیا ہے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کو اس کا کامل ہونا خود اپنے کلام میں فرما چکا ہے اب یہ رہتی دنیا تک کسی زیادتی کا محتاج نہیں، اسے اللہ نے پورا کیا ہے جو قیامت تک ناقص نہیں ہوگا۔ اس سے اللہ خوش ہے اور کبھی بھی ناخوش نہیں ہونے والا۔“
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت عرفہ کے دن نازل ہوئی، اس کے بعد حلال و حرام کا کوئی حکم نہیں اترا، اس حج سے لوٹ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا۔“
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس آخری حج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی تھی، ہم جا رہے تھے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام کی تجلی ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر جھک پڑے وحی اترنی شروع ہوئی، اونٹنی وحی کے بوجھ کی طاقت نہیں رکھتی تھی۔ میں نے اسی وقت اپنی چادر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اڑھادی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:11085:مرسل و ضعیف] ۔
ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”اس کے بعد اکیاسی دن تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیات رہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:11086:مرسل و ضعیف]
حج اکبر والے دن جبکہ یہ آیت اتری تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب دریافت فرمایا تو جواب دیا کہ ہم دین کی تعمیل میں کچھ زیادہ ہی تھے، اب وہ کامل ہو گیا اور دستور یہ ہے کہ کمال کے بعد نقصان شروع ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچ ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11087:ضعیف]
اسی معنی کی شہادت اس ثابت شدہ حدیث سے ہوتی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ اسلام غربت اور انجان پن سے شروع ہوا اور عنقریب پھر غریب انجان ہو جائے گا، پس غرباء کیلئے خوشخبری ہے ۔ [صحیح مسلم:145،146]
صفحہ نمبر2156
مسند احمد میں ہے کہ ایک یہودی نے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے کہا تم جو اس آیت «اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا» [5۔ المائدہ:3] الخ، کو پڑھتے ہو اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید منا لیتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”واللہ مجھے علم ہے کہ آیت کس وقت اور کس دن نازل ہوئی، عرفے کے دن جمعہ کی شام کو نازل ہوئی ہے، ہم سب اس وقت میدان عرفہ میں تھے“ [صحیح بخاری:3017] تمام سیرت والے اس بات پر متفق ہیں کہ حجتہ الوادع والے سال عرفے کا دن جمعہ کو تھا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ کعب نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ آیت ہمارے ہاں دوہری عید کے دن نازل ہوئی ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر بھی یہودیوں نے یہی کہا تھا کہ جس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہمارے ہاں تو یہ آیت دوہری عید کے دن اتری ہے، عید کا دن بھی تھا اور جمعہ کا دن بھی۔“ [سنن ترمذي:3044،قال الشيخ الألباني:-صحیح] ۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”یہ آیت عرفے کے دن شام کو اتری ہے۔“ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے منبر پر اس پوری آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ”جمعہ کے دن عرفے کو یہ اتری یہ ہے۔“ [الدر المنشور للسیوطی:457/2:ضعیف] سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موقف میں کھڑے ہوئے تھے۔“ [طبرانی کبیر:6916:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیر والے دن پیدا ہوئے، پیر والے دن ہی مکہ سے نکلے اور پیر والے دن ہی مدینے میں تشریف لائے، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11113:ضعیف]
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیر والے دن پیدا ہوئے، پیر والے دن نبی بنائے گئے، پیر والے دن ہجرت کے ارادے سے نکلے، پیر کے روز ہی مدینے پہنچے اور پیر کے دن ہی فوت کئے گئے، حجر اسود بھی پیر کے دن واقع ہوا۔ [مسند احمد:277/1:ضعیف] اس میں سورۃ المائدہ کا پیر کے دن اترنا مذکور نہیں، میرا خیال یہ ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا ہوگا دو عیدوں کے دن یہ آیت اتری تو دو کیلئے بھی لفظ اثنین ہے، اور پیر کے دن کو بھی اثنین کہتے ہیں اس لیے راوی کو شبہ سا ہوگیا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2157
دو قول اس میں اور بھی مروی ہیں ایک تو یہ کہ یہ دن لوگوں کو نامعلوم ہے دوسرا یہ کہ یہ آیت غدیر خم کے دن نازل ہوئی ہے جس دن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی کی نسبت فرمایا تھا کہ جس کا مولیٰ میں ہوں، اس کا مولیٰ علی ہے ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1750،] گویا ذی الحجہ کی اٹھارویں تاریخ ہوئی، [الدر المنشور للسیوطی:457/2:ضعیف] جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع سے واپس لوٹ رہے تھے لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں قول صحیح نہیں۔
بالکل صحیح اور بے شک و شبہ قول یہی ہے کہ یہ آیت عرفے کے دن جمعہ کو اتری ہے، امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب اور امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابوطالب اور امیر المؤمنین سیدنا امیر معاویہ بن سفیان اور ترجمان القرآن سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہم سے یہی مروی ہے اور اسی کو شعبی، قتادہ، شہیر وغیرہ ائمہ اور علماء رحمہ اللہ علیہم نے کہا ہے، یہی مختار قول ابن جریر اور طبری رحمہ اللہ علیہم کا ہے۔ پھر فرماتا ہے، ” جو شخص ان حرام کردہ چیزوں میں سے کسی چیز کے استعمال کی طرف مجبور و بے بس ہو جائے تو وہ ایسے اضطرار کی حالت میں انہیں کام لا سکتا ہے۔ اللہ غفور و رحیم ہے “۔ وہ جانتا ہے کہ اس بندے نے اس کی حد نہیں توڑی لیکن بے بسی اور اضطرار کے موقعہ پر اس نے یہ کیا ہے تو اللہ سے معاف فرما دے گا۔
صحیح ابن حبان میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”اللہ تعالیٰ کو اپنی دی ہوئی رخصتوں پر بندوں کا عمل کرنا ایسا بھاتا ہے جیسے اپنی نافرمانی سے رک جانا۔“ [صحیح ابن حبان:2742:قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2158
مسند احمد میں ہے جو شخص اللہ کی دی ہوئی رخصت نہ قبول کرے، اس پر عرفات کے پہاڑ برابر گناہ ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1949:ضعیف]
اسی لیے فقہاء کہتے ہیں کہ بعض صورتوں میں مردار کا کھانا واجب ہو جاتا ہے جیسے کہ ایک شخص کی بھوک کی حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اب مرا چاہتا ہے کہ کبھی جائز ہو جاتا ہے اور کبھی مباح، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ بھوک کے وقت جبکہ حلال چیز میسر نہ ہو تو حرام صرف اتنا ہی کھا سکتا ہے کہ جان بچ جائے یا پیٹ بھر سکتا ہے بلکہ ساتھ بھی رکھ سکتا ہے، اس کے تفصیلی بیان کی جگہ احکام کی کتابیں ہیں۔ اس مسئلہ میں جب بھوکا شخص جس کے اوپر اضطرار کی حالت ہے، مردار اور دوسرے کا کھانا اور حالت احرام میں شکار تینوں چیزیں موجود پائے تو کیا وہ مردار کھا لے؟ یہ حالت احرام میں ہونے کے باوجود شکار کر لے اور اپنی آسانی کی حالت میں اس کی جزا یعنی فدیہ ادا کر دے یا دوسرے کی چیز بلا اجازت کھا لے اور اپنی آسانی کے وقت اسے وہ واپس کر دے، اس میں دو قول ہیں امام شافعی رحمہ اللہ سے دونوں مروی ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ مردار کھانے کی یہ شرط جو عوام میں مشہور ہے کہ جب تین دن کا فاقہ ہو جائے تو حلال ہوتا ہے یہ بالکل غلط ہے بلکہ جب اضطرار، بے قراری اور مجبوری حالت میں ہو، اس کیلئے مردار کھانا حلال ہو جاتا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم ایسی جگہ رہتے ہیں کہ آئے دن ہمیں فقر و فاقہ کی نوبت آ جاتی ہے، تو ہمارے لیے مردار کا کھا لینا کیا جائز ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب صبح شام نہ ملے اور نہ کوئی سبزی ملے تو تمہیں اختیار ہے ۔ [مسند احمد:218/5:حسن بالشواهد] اس حدیث کی ایک سند میں ارسال بھی ہے، لیکن مسند والی مرفوع حدیث کی اسناد شرط شیخین پر صحیح ہے۔
صفحہ نمبر2159
ابن عون فرماتے ہیں حسن رحمہ اللہ کے پاس سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کی کتاب تھی، جسے میں ان کے سامنے پڑھتا تھا، اس میں یہ بھی تھا کہ صبح شام نہ ملنا اضطرار ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:11132:ضعیف]
ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ حرام کھانا کب حلال ہو جاتا ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک کہ تو اپنے بچوں کو دودھ سے شکم سیر نہ کر سکے اور جب تک ان کا سامان نہ آ جائے ۔ [طبرانی کبیر:11129:مرسل و ضعیف]
ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حلال حرام کا سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کل پاکیزہ چیزیں حلال اور کل خبیث چیزیں حرام ہاں جب کہ ان کی طرف محتاج ہو جائے تو انہیں کھا سکتا ہے جب تک کہ ان سے غنی نہ ہو جائے اس نے پھر دریافت کیا کہ ”وہ محتاجی کون سی جس میں میرے لیے وہ حرام چیز حلال ہوئے اور وہ غنی ہونا کون سا جس میں مجھے اس سے رک جانا چاہئے؟“ فرمایا: جبکہ تو صرف رات کو اپنے بال بچوں کو دودھ سے آسودہ کر سکتا ہو تو تو حرام چیز سے پرہیز کر ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11131:ضعیف]
ابوداؤد میں ہے سیدنا نجیع عامری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ”ہمارے لیے مردار کا کھانا کب حلال ہو جاتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کھانے کو کیا ملتا ہے؟ اس نے کہا ”صبح کو صرف ایک پیالہ دودھ اور شام کو بھی صرف ایک پیالہ دودھ“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا یہی ہے اور کون سی بھوک ہو گی؟ [سنن ابوداود:3817،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پس اس حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مردار کھانے کی اجازت عطا فرمائی۔ مطلب حدیث کا یہ ہے کہ صبح شام ایک ایک پیالہ دودھ کا انہیں ناکافی تھا، بھوک باقی رہتی تھی، اس لیے ان پر مردہ حلال کر دیا گیا، تاکہ وہ پیٹ بھر لیا کریں، اسی کو دلیل بنا کر بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ اضطرار کے وقت مردار کو پیٹ بھر کر کھا سکتا ہے، صرف جان بچ جائے اتنا ہی کھانا جائز ہو، یہ حد ٹھیک نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2160
ابو داؤد کی اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص مع اہل و عیال کے آیا اور حرہ میں ٹھہرا، کسی صاحب کی اونٹنی گم ہوگئی تھی، اس نے ان سے کہا اگر میری اونٹنی تمہیں مل جائے تو اسے پکڑ لینا۔ اتفاق سے یہ اونٹنی اسے مل گئی، اب یہ اس کے مالک کو تلاش کرنے لگے لیکن وہ نہ ملا اور اونٹنی بیمار پڑ گئی تو اس شخص کی بیوی صاحبہ نے کہا کہ ہم بھوکے رہا کرتے ہیں، تم اسے ذبح کر ڈالو لیکن اس نے انکار کر دیا، آخر اونٹنی مر گئی تو پھر بیوی صاحبہ نے کہا، اب اس کی کھال کھینچ لو اور اس کے گوشت اور چربی کو ٹکڑے کر کے سکھا لو، ہم بھوکوں کو کام آ جائے گا، اس بزرگ نے جواب دیا، میں تو یہ بھی نہیں کرونگا، ہاں اگر اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دے دیں تو اور بات ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس نے تمام قصہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اور کچھ کھانے کو ہے جو تمہیں کافی ہو؟ جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم کھا سکتے ہو ۔ اس کے بعد اونٹنی والے سے ملاقات ہوئی اور جب اسے یہ علم ہوا تو اس نے کہا پھر تم نے اسے ذبح کر کے کھا کیوں نہ لیا؟ اس بزرگ صحابی نے جواب دیا کہ شرم معلوم ہوئی ۔ [سنن ابوداود:3816،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر2161
یہ حدیث دلیل ہے ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ یہ بوقت اضطرار مردار کا پیٹ بھر کر کھانا بلکہ اپنی حاجت کے مطابق اپنے پاس رکھ لینا بھی جائز ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر ارشاد ہوا ہے کہ یہ حرام بوقت اضطرار اس کیلئے مباح ہے جو کسی گناہ کی طرف میلان نہ رکھتا ہو، اس کیلئے اسے مباح کر کے دوسرے سے خاموشی ہے، جیسے سورۃ البقرہ میں ہے آیت «فَـمَنِ اضْـطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَآ اِثْمَ عَلَـيْهِ نَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [2۔ البقرہ:173] ”یعنی وہ شخص بے قرار کیا جائے سوائے باغی اور حد سے گزرنے والے کے پس اس پر کوئی گناہ نہیں، اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربانی کرنے والا ہے“۔
اس آیت سے یہ استدعا کیا گیا ہے کہ جو شخص اللہ کی کسی نافرمانی کا سفر کر رہا ہے، اسے شریعت کی رخصتوں میں سے کوئی رخصت حاصل نہیں، اس لیے کہ رخصتیں گناہوں سے حاصل نہیں ہوتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2162
شکاری کتے اور شکار ٭٭
چونکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے نقصان پہنچانے والی خبیث چیزوں کی حرمت کا بیان فرمایا خواہ نقصان جسمانی ہو یا دینی یا دونوں، پھر ضرورت کی حالت کے احکامات مخصوص کرائے گئے جیسے فرمان ہے آیت «وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَيْهِ» [6-الأنعام:119] یعنی ” تمام حرام جانوروں کا بیان تفصیل سے تمہارے سامنے آ چکا ہے یہ اور بات ہے کہ تم حالات کی بناء پر بے بس اور بے قرار ہو جاؤ “۔
تو اس کے بعد ارشاد ہو رہا ہے کہ ” حلال چیزوں کے دریافت کرنیوالوں سے کہہ دیجئیے کہ تمام پاک چیزیں تم پر حلال ہیں “۔ سورۃ الأعراف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ صفت بیان فرمائی گئی ہے کہ «وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ» [7-الأعراف:157] ” آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) طیب چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور خبیث چیزوں کو حرام کرتے ہیں “۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ”قبیلہ طائی کے دو شخصوں عدی بن حاتم اور زید بن مہلہل رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ مردہ جانور تو حرام ہو چکا اب حلال کیا ہے؟ اس پر یہ آیت اتری۔ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی ذبح کئے ہوئے جانور حلال طیب ہیں۔“ [ضعیف: اس کی سند میں عبد الله بن لهيعة ضعیف ہے ]
صفحہ نمبر2163
مقاتل رحمة الله فرماتے ہیں ہر حلال رزق طیبات میں داخل ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ دوا کے طور پر پیشاب کا پینا کیسا ہے؟ جواب دیا کہ ”وہ طیبات میں داخل نہیں۔“ امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ اس مٹی کا بیچنا کیسا ہے جسے لوگ کھاتے ہیں؟ فرمایا ”وہ طیبات میں داخل نہیں۔“
” اور تمہارے لیے شکاری جانوروں کے ذریعہ کھیلا ہوا شکار بھی حلال کیا جاتا ہے “ مثلاً سدھائے ہوئے کتے اور شِکرے وغیرہ کے ذریعے۔ یہی مذہب ہے جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین ائمہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”شکاری سدھائے ہوئے کتے، باز، چیتے، شکرے وغیرہ ہر وہ پرندہ جو شکار کرنے کی تعلیم دیا جا سکتا ہو“ اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہی مروی ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:548/9] کہ ”پھاڑنے والے جانوروں اور ایسے ہی پرندوں میں سے جو بھی تعلیم حاصل کر لے، ان کے ذریعہ شکار کھیلنا حلال ہے۔“
لیکن مجاہد رحمة الله سے مروی ہے کہ انہوں نے تمام شکاری پرندوں کا کیا ہوا شکار مکروہ کہا ہے اور دلیل میں آیت «وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ ۡ فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ» [5-المائدہ:4] پڑھا ہے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ ضحاک اور سدی رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ابن جریر میں مروی ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”باز وغیرہ پرند جو شکار پکڑیں اگر وہ تمہیں زندہ مل جائے تو تم ذبح کر کے کھا لو ورنہ نہ کھاؤ“، لیکن جمہور علماء اسلام کا فتویٰ یہ ہے کہ شکاری پرندوں کے ذریعہ جو شکار ہو، اس کا اور شکاری کتوں کے کئے ہوئے شکار کا ایک ہی حکم ہے، ان میں تفریق کرنے کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ چاروں اماموں رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا مذہب بھی یہی ہے۔
صفحہ نمبر2164
امام ابن جریر بھی اسی کو پسند کرتے ہیں اور اس کی دلیل میں اس حدیث کو لاتے ہیں کہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے باز کے کئے ہوئے شکار کا مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس جانور کو وہ تیرے لیے روک رکھے تو اسے کھا لے ۔ [سنن ترمذي:1467،قال الشيخ الألباني:منکر]
امام احمد نے سیاہ کتے کا کیا ہوا شکار بھی مستثنیٰ کر لیا ہے، اس لیے کہ ان کے نزدیک اس کا قتل کرنا واجب ہے اور پالنا حرام ہے، کیونکہ صحیح مسلم میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نماز کو تین چیزیں توڑ دیتی ہیں، گدھا، عورت اور سیاہ کتا۔ اس پر ابی نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیاہ کتے کی خصوصیت کی کیا وجہ ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان ہے ۔ [صحیح مسلم:510]
صفحہ نمبر2165
دوسری حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا پھر فرمایا: انہیں کتوں سے کیا واسطہ؟ ان کتوں میں سے سخت سیاہ کتوں کو مار ڈالا کرو ۔ [صحیح مسلم:1573]
شکاری حیوانات کو جوارح اس لیے کہا گیا کہ جرح کہتے ہیں کسب اور کمائی کو، جیسے عرب کہتے ہیں «فُلاَنٌ جَرَحَ اَهْلَهُ خَیْراً» یعنی فلاں شحص نے اپنی اہل کیلئے بھلائی حاصل کر لی اور عرب کہتے ہیں «فُلاَنٌ لَاَّ جَارِحَ لَهُ» شخص کا کوئی کماؤ نہیں، قرآن میں بھی لفظ جرح کسب اور کمائی اور حاصل کرنے کے معنی میں آیا ہے فرمان ہے آیت «وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ» [6-الأنعام:60] یعنی ” دن کو جو بھلائی برائی تم حاصل کرتے ہو اور اسے بھی اللہ جانتا ہے “۔
اس آیت کریمہ کے اترنے کی وجہ ابن ابی حاتم میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے قتل کرنے کا حکم دیا اور وہ قتل کئے جانے لگے تو لوگوں نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس امت کے قتل کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ان سے ہمارے لیے کیا فائدہ حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اس پر یہ آیت اتری۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنے کتے کو شکار کے پیچھے چھوڑے اور «بِسْمِ اللَّـهِ» بھی کہے پھر وہ شکار پکڑ لے اور روک رکھے تو جب تک وہ نہ کھائے یہ کھا لے ۔ [مستدرک حاکم:311/2:ضعیف]
صفحہ نمبر2166
ابن جریر میں ہے جبرائیل علیہ السلام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی لیکن وہ پھر بھی اندر نہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قاصد رب ہم تو تمہیں اجازت دے چکے پھر کیوں نہیں آتے؟ اس پر فرشتے نے کہا! ”ہم اس گھر میں نہیں جاتے، جس میں کتا ہو۔“ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ مدینے کے کل کتے مار ڈالے جائیں ، ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”میں گیا اور سب کتوں کو قتل کرنے لگا، ایک بڑھیا کے پاس کتا تھا، جو اس کے دامن میں لپٹنے لگا اور بطور فریاد اس کے سامنے بھونکنے لگا، مجھے رحم آگیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا اور آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے بھی باقی نہ چھوڑو ، ”میں پھر واپس گیا اور اسے بھی قتل کر دیا۔“ اب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جس امت کے قتل کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے، ان سے کوئی فائدہ ہمارے لیے حلال بھی ہے یا نہیں؟ اس پر آیت «يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ» الخ، نازل ہوئی ۔ [مستدرک حاکم:311/2:ضعیف]
صفحہ نمبر2167
ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ مدینے کے کتوں کو قتل کر کے پھر سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ آس پاس کی بستیوں میں پہنچے اور مسئلہ دریافت کرنیوالوں کے نام بھی اس میں ہیں یعنی عاصم بن عذی سعید بن خیثمہ عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہم۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11138:مرسل]
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آیت کا شان نزول کتوں کا قتل ہے «مُکَلِّبِیْنَ» کا لفظ ممکن ہے کہ «عَلَّمْـتُمْ» کی ضمیر یعنی فاعل کا حال ہو اور ممکن ہے کہ «جَوَارِح» یعنی مقتول کا حال ہو۔ یعنی جن شکار حاصل کرنے والے جانوروں کو تم نے سدھایا ہو اور حالانکہ وہ شکار کو اپنے پنجوں اور ناخنوں سے شکار کرتے ہوں، اس سے بھی یہ استدلال ہو سکتا ہے کہ شکاری جانور جب شکار کو اپنے صدمے سے ہی دبوچ کر مار ڈالے تو وہ حلال نہ ہو گا۔
جیسے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے دونوں قولوں میں سے ایک قول ہے اور علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے۔ اسی لیے فرمایا ” تم نے انہیں اس سے کچھ سکھا دیا ہو جو اللہ نے تمہیں سکھا رکھا ہے “ یعنی جب تم چھوڑو، جائے، جب تم روک لو رک جائے اور شکار پکڑ کر تمہارے لیے روک رکھے۔ تاکہ تم جا کر اسے لے لو، اس نے خود اپنے لیے اسے شکار نہ کیا ہو۔
اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ جب شکاری جانور سدھایا ہوا ہو اور اس نے اپنے چھوڑنے والے کیلئے شکار کیا ہو اور اس نے بھی اس کے چھوڑنے کے وقت اللہ کا نام لیا ہو تو وہ شکار مسلمانوں کیلئے حلال ہے گو وہ شکار مر بھی گیا ہو، اس پر اجماع ہے۔
صفحہ نمبر2168
اس آیت کے مسئلہ کے مطابق ہی بخاری و مسلم کی یہ حدیث ہے کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ کا نام لے کر اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس جانور کو وہ پکڑ رکھے تو اسے کھا لے اگرچہ کتے نے اسے مار بھی ڈالا ہو، ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کے ساتھ شکار کرنے میں دوسرا کتا نہ ملا ہو اس لیے کہ تو نے اپنے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہے دوسرے کو «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھ کر نہیں چھوڑا ۔ میں نے کہا کہ میں نوکدار لکڑی سے شکار کھیلتا ہوں۔ فرمایا: اگر وہ اپنی تیزی کی طرف سے زخمی کرے تو کھا لے اور اگر اپنی چوڑائی کی طرف سے لگا ہو تو نہ کھا کیونکہ وہ لٹھ مارا ہوا ہے ۔ [صحیح بخاری:5476]
دوسری روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جب تو اپنے کتے کو چھوڑے تو اللہ کا نام پڑھ لیا کر پھر وہ شکار کو تیرے لیے پکڑ رکھے اور تیرے پہنچ جانے پر شکار زندہ مل جائے تو تو اسے ذبح کر ڈال اور اگر کتے نے ہی اسے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کھایا نہ ہو تو تو اسے بھی کھا سکتا ہے اس لیے کہ کتے کا اسے شکار کر لینا ہی اس کا ذبیحہ ہے ۔ [صحیح بخاری:5484]
اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اگر اس نے کھا لیا ہو تو پھر اسے نہ کھا، مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں اس نے اپنے کھانے کیلئے شکار نہ پکڑا ہو؟ [صحیح بخاری:5487]
یہی دلیل جمہور کی ہے اور حقیقتاً امام شافعی رحمہ اللہ کا صحیح مذہب بھی یہی ہے کہ جب کتا شکار کو کھا لے تو وہ مطلق حرام ہو جاتا ہے اس میں کوئی گنجاش نہیں جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ہاں سلف کی ایک جماعت کا یہ قول بھی ہے کہ مطلقاً حلال ہے۔
صفحہ نمبر2169
ان کے دلائل یہ ہیں۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تو کھا سکتا ہے اگرچہ کتے نے تہائی حصہ کھا لیا ہو۔“ سیدنا سعید بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”گو ایک ٹکڑا ہی باقی رہ گیا ہو پھر بھی کھا سکتے ہیں۔“ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”گو دو تہائیاں کتا کھا گیا ہو پھر بھی تو کھا سکتا ہے“، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی یہی فرمان ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب «بِسْمِ اللَّـهِ» کہہ کر تو نے اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑا ہو تو جس جانور کو اس نے تیرے لیے پکڑ رکھا ہے تو اسے کھا لے کتے نے اس میں سے کھایا ہو یا نہ کھایا ہو“، یہی مروی ہے سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے۔ عطاء اور حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے اس میں مختلف اقوال مروی ہیں، زہری ربیعہ اور مالک سے بھی یہی روایت کی گئی ہے۔
اسی کی طرف امام شافعی رحمة الله اپنے پہلے قول میں گئے ہیں اور نئے قول میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنے کتے کو شکار پر چھوڑے پھر شکار کو اس حالت میں پائے کہ کتے نے اسے کھا لیا ہو تو جو باقی ہو اسے وہ کھا سکتا ہے ۔
اس حدیث کی سند میں بقول ابن جریر نظر ہے اور سعید راوی کا سلمان سے سننامعلوم نہیں ہوا اور دوسرے ثقہ راوی اسے مرفوع نہیں کرتے بلکہ سلمان کا قول نقل کرتے ہیں یہ قول ہے تو صحیح لیکن اسی معنی کی اور مرفوع حدیثیں بھی مروی ہیں۔
صفحہ نمبر2170
ابو داؤد میں ہے عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس شکاری کتے سدھائے ہوئے ہیں ان کے شکار کی نسبت کیا فتویٰ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جانور وہ تیرے لیے پکڑیں وہ تجھ پر حلال ہے ، اس نے کہا ذبح کر سکوں جب بھی اور ذبح نہ کر سکوں تو بھی؟ اور اگرچہ کتے نے کھا لیا ہو تو بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں گو کھا بھی لیا ہو ۔ انہوں نے دوسرا سوال کیا کہ میں اپنے تیر کمان سے جو شکار کروں اس کا کیا فتویٰ ہے؟ فرمایا: اسے بھی تو کھا سکتا ہے ، پوچھا اگر وہ زندہ ملے اور میں اسے ذبح کر سکوں تو بھی اور تیر لگتے ہی مر جائے تو بھی؟ فرمایا بلکہ گو وہ تجھے نظر نہ پڑے اور ڈھونڈنے سے مل جائے تو بھی۔ بشرطیکہ اس میں کسی دوسرے شخص کے تیر کا نشان نہ ہو ، انہوں نے تیسرا سوال کیا کہ بوقت ضرورت مجوسیوں کے برتنوں کا استعمال کرنا ہمارے لیے کیسا ہے؟ فرمایا تم انہیں دھو ڈالو پھر ان میں کھا پی سکتے ہو ۔ [سنن ابوداود:2857،قال الشيخ الألباني:حسن لكن قوله وإن أكل منه منكر] یہ حدیث نسائی میں بھی ہے
صفحہ نمبر2171
ابو داؤد کی دوسری حدیث میں ہے جب تو نے اپنے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو تو تو اس کے شکار کو کھا سکتا ہے گو اس نے اس میں سے کھا بھی لیا ہو اور تیرا ہاتھ جس شکار کو تیرے لیے لایا ہو اسے بھی تو کھا سکتا ہے ۔ [سنن ابوداود:2852،قال الشيخ الألباني:منکر]
ان دونوں احادیث کی سندیں بہت ہی اعلیٰ اور عمدہ ہیں اور حدیث میں ہے کہ تیرا سدھایا ہوا کتا جو شکار تیرے لیے کھیلے تو اسے کھا لے، سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے پوچھا اگرچہ اس نے اس میں سے کھا لیا ہو فرمایا: ہاں پھر بھی ۔
ان آثار اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ شکاری کتے نے شکار کو گو کھا لیا ہو تاہم بقیہ شکار شکاری کھا سکتا ہے۔ کتے وغیرہ کے کھائے ہوئے شکار کو حرام نہ کہنے والوں کے یہ دلائل ہیں۔ ایک اور جماعت ان دونوں جماعتوں کے درمیان ہے وہ کہتی ہے کہ اگر شکار پکڑتے ہی کھانے بیٹھ گیا تو بقیہ حرام اور اگر شکار پکڑ کر اپنے مالک کا انتظار کیا اور باوجود خاصی دیر گزر جانے کے اپنے مالک کو نہ پایا اور بھوک کی وجہ سے اسے کھا لیا تو بقیہ حلال۔ پہلی بات پر محمول ہے عدی والی حدیث اور دوسری پر محمول ہے ابو ثعلبہ والی حدیث میں۔ یہ فرق بھی بہت اچھا ہے اور اس سے دو صحیح حدیثیں بھی جمع ہو جاتی ہیں۔ استاذ ابو المعالی جوینی نے اپنی کتاب نہایہ میں یہ تمنا ظاہر کی تھی کہ کاش کوئی اس بارہ میں یہ وضاحت کرے تو «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» یہ وضاحت لوگوں نے کرلی۔
صفحہ نمبر2172
اس مسئلہ میں ایک چوتھا قول بھی ہے وہ یہ کہ کتے کا کھایا ہوا شکار تو حرام ہے جیسا کہ عدی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، اور شکرے وغیرہ کا کھایا ہوا شکار حرام نہیں اس لیے کہ وہ تو کھانے سے ہی تعلیم قبول کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اگر پرندہ اپنے مالک کے پاس لوٹ آیا اور مار سے نہیں پھر وہ پر نوچے اور گوشت کھائے تو کھا لے۔“ ابراہیم نخعی، شعبی، حماد بن سلیمان رحمہ اللہ علیہم یہی کہتے ہیں ان کی دلیل ابن ابی حاتم کی یہ روایت ہے کہ عدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم لوگ کتوں اور باز سے شکار کھیلا کرتے ہیں تو ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شکاری جانور یا شکار حاصل کرنے والے خود شکار کرنے والے اور سدھائے ہوئے تمہارے لیے شکار روک رکھیں اور تم نے ان پر اللہ کا نام لے لیا ہو اسے تم کھا لو ۔ پھر فرمایا: جسے کتے کو تو نے اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو وہ جس جانور کو روک رکھے تو اسے کھا لے میں نے کہا گو اسے مار ڈالا ہو فرمایا گو مار ڈالا ہو لیکن یہ شرط ہے کہ کھایا نہ ہو میں نے کہا اگر اس کتے کے ساتھ دوسرے کتے بھی مل گئے ہوں؟ تو؟ فرمایا: پھر نہ کھا جب تک کہ تجھے اس بات کا پورا اطمینان نہ ہو کہ تیرے ہی کتے نے شکار کیا ہے ۔ میں نے کہا ہم لوگ تیر سے بھی شکار کیا کرتے ہیں اس میں سے کون سا حلال ہے؟ فرمایا جو تیر زخمی کرے اور تو نے اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو اسے کھا لے ۔ [ضعیف]
وجہ دلالت یہ ہے کہ کتے میں نہ کھانے کی شرط آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی اور باز میں نہیں بتائی، پس ان دونوں میں فرق ثابت ہو گیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2173
اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ ” تم کھا لو جن حلال جانوروں کو تمہارے یہ شکاری جانور پکڑ لیں اور تم نے ان کے چھوڑنے کے وقت اللہ کا نام لے لیا ہو “۔
جیسے کہ عدی اور ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہم کی حدیث میں ہے [صحیح بخاری:5478] اسی لیے امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ اماموں نے یہ شرط ضروری بتلائی ہے کہ شکار کیلئے جانور کو چھوڑتے وقت اور تیر چلاتے وقت «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھنا شرط ہے۔ جمہور کا مشہور مذہب بھی یہی ہے کہ اس آیت اور اس حدیث سے مراد جانور کے چھوڑنے کا وقت ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اپنے شکاری جانور کو بھیجتے وقت «بِسْمِ اللَّـهِ» کہہ لے ہاں اگر بھول جائے تو کوئی حرج نہیں۔“ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مراد کھانے کے وقت «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھنا ہے۔
جیسے کہ بخاری و مسلم میں عمر بن ابوسلمہ کے ربیبہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا مروی ہے کہ اللہ کا نام لے اور اپنے داہنے ہاتھ سے اپنے سامنے سے کھا ۔ [صحیح بخاری:5376]
صحیح بخاری شریف میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا لوگ ہمارے پاس جو لوگ گوشت لاتے ہیں وہ نو مسلم ہیں ہمیں اس کا علم نہیں ہوتا کہ انہوں نے اللہ کا نام لیا بھی ہے یا نہیں؟ تو کیا ہم اسے کھالیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم خود اللہ کا نام لے لو اور کھا لو ۔ [صحیح بخاری:5507]
مسند میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے کہ ایک اعرابی نے آ کر دو لقمے اس میں سے اٹھائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ بسم اللہ کہہ لیتا تو یہ کھانا تم سب کو کافی ہو جاتا تم میں سے جب کوئی کھانے بیٹھے تو «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ لیا کرے اگر اول میں بھول گیا تو جب یاد آ جائے کہدے «بِسْمِ اللّٰہِ اَوَّلِہُ وَ اٰخِرِہُ» ۔ [مسند احمد:143/6:حسن بالشواهد] یہی حدیث منقطع سند کے ساتھ ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ابن ماجہ:3264،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2174
دوسری سند سے یہ حدیث ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور مسند احمد میں ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ابوداود:3767، قال الشيخ الألباني:صحیح]
جابربن صبیح رحمہ اللہ فرماتے ہیں مثنی بن عبدالرحمٰن خزاعی رحمہ اللہ کے ساتھ میں نے واسط کا سفر کیا ان کی عادت یہ تھی کہ کھانا شروع کرتے وقت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کہہ لیتے اور آخری لقمہ کے وقت «بِسْمِ اللّٰہِ اَوَّلِہُ وَ اٰخِرِہُ» کہہ لیا کرتے میں نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے خالد بن امیہ بن مخشی رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کھاتے ہوئے دیکھا کہ اس نے «بِسْمِ اللَّـهِ» نہیں پڑھی، یہاں تک کہ جب آخر میں پہنچا تو بولا «بِسْمِ اللّٰہِ اَوَّلِہُ وَ اٰخِرِہُ» ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واللہ شیطان اس شخص کے ساتھ کھانا کھاتا رہا جب تک اس نے «بِسْمِ اللَّـهِ» نہ کہہ لی، پھر تو شیطان نے قے کرکے سارا کھانا اپنے پیٹ سے نکال دیا ۔ [سنن ابوداود:3768،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کے راوی کو ابن معین اور نسائی رحمہ اللہ علیہم تو ثقہ کہتے ہیں لیکن ابو الفتح ازوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ دلیل لینے کے قابل راوی نہیں۔
صفحہ نمبر2175
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ ایک لڑکی گرتی پڑتی آئی، جیسے کوئی اسے دھکے دے رہا ہو اور آتے ہی اس نے لقمہ اٹھانا چاہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور ایک اعرابی بھی اسی طرح آیا اور پیالے میں ہاتھ ڈالا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ بھی اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور فرمایا: جب کسی کھانے پر «بِسْمِ اللَّـهِ» نہ کہی جائے تو شیطان اسے اپنے لیے حلال کر لیتا ہے وہ پہلے تو اس لڑکی کے ساتھ آیا تاکہ ہمارا کھانا کھائے تو میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا پھر وہ اعرابی کے ساتھ میں نے اس کا بھی ہاتھ تھام لیا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے ۔ [صحیح مسلم:2017]
صفحہ نمبر2176
مسلم، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ میں ہے کہ جب انسان اپنے گھر میں جاتے ہوئے اور کھانا کھاتے ہوئے اللہ کا نام یاد کر لیا کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ اے شیطانوں نہ تو تمہارے لیے رات گزارنے کی جگہ ہے نہ رات کا کھانا اور جب وہ گھر میں جاتے ہوئے کھاتے ہوئے اللہ کا نام نہیں لیتا تو وہ پکار دیتا ہے کہ تم نے شب باشی کی اور کھانا کھانے کی جگہ پالی ۔ [صحیح مسلم:2018]
مسند، ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی کہ ہم کھاتے ہیں اور ہمارا پیٹ نہیں بھرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تم الگ الگ کھاتے ہو گے کھانا سب مل کر کھاؤ اور «بِسْمِ اللَّـهِ» کہہ لیا کرو اس میں اللہ کی طرف سے برکت دی جائے گی ۔ [سنن ابوداود:3764،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر2177
ذبیحہ کس نام اور کن ہاتھوں کا حلال ہے؟ ٭٭
حلال و حرام کے بیان کے بعد بطور خلاصہ فرمایا کہ ” کل ستھری چیزیں حلال ہیں “، پھر یہود و نصاریٰ کے ذبح کئے ہوئے جانوروں کی حلت بیان فرمائی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، ابوامامہ، مجاہد، سعید بن جبیر، عکرمہ، عطاء، حسن، مکحول، ابراہیم، نخعی، سدی، مقاتل بن حیان رحمة الله علیہم یہ سب یہی کہتے ہیں کہ طعام سے مراد ان کا اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ہوا جانور ہے، جس کا کھانا مسلمانوں کو حلال ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:573/9]
علماء اسلام کا اس پر مکمل اتفاق ہے کہ ان کا ذبیحہ ہمارے لیے حلال ہے، کیونکہ وہ بھی غیر اللہ کیلئے ذبح کرنا ناجائز جانتے ہیں اور ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا دوسرے کا نام نہیں لیتے گو ان کے عقیدے ذات باری کی نسبت یکسر اور سراسر باطل ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ بلند و بالا اور پاک و منزہ ہے۔ صحیح حدیث میں سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جنگ خیبر میں مجھے چربی کی بھری ہوئی ایک مشک مل گئی، میں نے اسے قبضہ میں کیا اور کہا اس میں سے تو آج میں کسی کو بھی حصہ نہ دونگا، اب جو ادھر ادھر نگاہ پھرائی تو دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہی کھڑے ہوئے تبسم فرما رہے ہیں ۔ [صحیح بخاری:3153]
اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ مال غنیمت میں سے کھانے پینے کی ضروری چیزیں تقسیم سے پہلے بھی لے لینی جائز ہیں اور یہ استدلال اس حدیث سے صاف ظاہر ہے، تینوں مذہب کے فقہاء نے مالکیوں پر اپنی سند پیش کی ہے اور کہا ہے کہ تم جو کہتے ہو کہ اہل کتاب کا وہی کھانا ہم پر حلال ہے جو خود ان کے ہاں بھی حلال ہو یہ غلط ہے کیونکہ چربی کو یہودی حرام جانتے ہیں لیکن مسلمان کیلئے حلال ہے لیکن یہ ایک شخص کا انفرادی واقعہ ہے۔ البتہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ وہ چربی ہو جسے خود یہودی بھی حلال جانتے تھے یعنی پشت کی چربی انتڑیوں سے لگی ہوئی چربی اور ہڈی سے ملی ہوئی چربی۔
صفحہ نمبر2178
اس سے بھی زیادہ دلالت والی تو وہ روایت ہے جس میں ہے کہ خیبر والوں نے سالم بھنی ہوئی ایک بکری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں دی جس کے شانے کے گوشت کو انہوں نے زہر آلود کر رکھا تھا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شانے کا گوشت پسند ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا یہی گوشت لے کر منہ میں رکھ کر دانتوں سے توڑا تو فرمان باری سے اس شانے نے کہا، مجھ میں زہر ملا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت اسے تھوک دیا اور اس کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے دانتوں وغیرہ میں رہ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو اسی کے اثر سے راہی بقاء ہوئے، جن کے قصاص میں زہر ملانے والی عورت کو بھی قتل کیا گیا، جس کا نام زینب تھا ۔ [سنن ابوداود:4510،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
وجہ دلالت یہ ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مع اپنے ساتھیوں کے اس گوشت کے کھانے کا پختہ ارادہ کر لیا اور یہ نہ پوچھا کہ اس کی جس چربی کو تم حلال جانتے ہو اسے نکال بھی ڈالا ہے یا نہیں؟
اور حدیث میں ہے کہ ایک یہودی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں جو کی روٹی اور پرانی سوکھی چربی پیش کی تھی ۔ [صحیح بخاری:2092]
مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس چیز پر نام رب نہ لیا جائے اس کا کھانا حرام کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر رحم فرما کر منسوخ کر کے اہل کتاب کے ذبح کئے جانور حلال کر دئے یہ یاد رہے کہ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جس جانور پر بھی نام الٰہی نہ لیا جائے وہ حلال ہو؟ اس لیے کہ وہ اپنے ذبیحوں پر اللہ کا نام لیتے تھے بلکہ جس گوشت کو کھاتے تھے اسے ذبیحہ پر موقوف نہ رکھتے تھے بلکہ مردہ جانور بھی کھا لیتے تھے لیکن سامرہ اور صائبہ اور ابراہیم و شیث علیہم السلام وغیرہ پیغمبروں کے دین کے مدعی اس سے مستثنیٰ تھے۔
صفحہ نمبر2179
جیسے کہ علماء کے دو اقوال میں سے ایک قول ہے اور عرب کے نصرانی جیسے بنو تغلب، تنوخ بہرا، جذام لحم، عاملہ کے ایسے اور بھی ہیں کہ جمہور کے نزدیک ان کے ہاتھ کا کیا ہوا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قبیلہ بنو تغلب کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور نہ کھاؤ، اس لیے کہ انہوں نے تو نصرانیت سے سوائے شراب نوشی کے اور کوئی چیز نہیں لی۔“ ہاں سعید بن مسیب اور حسن بنو تغلب کے نصاریٰ کے ہاتھوں ذبح کئے ہوئے جانور کے کھا لینے میں کوئی حرج نہیں جانتے تھے، باقی رہے مجوسی ان سے گو جزیہ لیا گیا ہے کیونکہ انہیں اس مسئلہ میں یہود و نصاریٰ میں ملا دیا گیا ہے اور ان کا ہی تابع کر دیا گیا ہے، لیکن ان کی عورتوں سے نکاح کرنا اور ان کے ذبح کئے ہوئے جانور کا کھانا ممنوع ہے۔
ہاں ابوثور ابراہیم بن خالد کلبی رحمہ اللہ جو شافعی اور احمد رحمہ اللہ علیہم کے ساتھیوں میں سے تھے، اس کے خلاف ہیں، جب انہوں نے اسے جائز کہا اور لوگوں میں اس کی شہرت ہوئی تو فقہاء نے اس قول کی زبردست تردید کی ہے۔ یہاں تک کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے تو فرمایا کہ ”ابوثور اس مسئلہ میں اپنے نام کی طرح ہی ہے یعنی بیل کا باپ۔“ ممکن ہے ابوثور نے ایک حدیث کے عموم کو سامنے رکھ کر یہ فتویٰ دیا ہو جس میں حکم ہے کہ مجوسیوں کے ساتھ اہل کتاب کا سا طریقہ برتو ۔ [موطا:42:قال الشيخ الألباني:ضعیف]
لیکن اولاً تو یہ روایت ان الفاظ سے ثابت ہی نہیں دوسرے یہ روایت مرسل ہے، ہاں البتہ صحیح بخاری شریف میں صرف اتنا تو ہے کہ ہجر کے مجوسیوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ لیا ۔ [صحیح بخاری:3156]
علاوہ ان سب کے ہم کہتے ہیں کہ ابوثور کی پیش کردہ حدیث کو اگر ہم صحیح مان لیں، تو بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کے عموم سے بھی اس آیت میں حکم امتناعی کو دلیل بنا کر اہل کتاب کے سوا اور دین والوں کا ذبیحہ بھی ہمارے لیے حرام ثابت ہوتا ہے۔
صفحہ نمبر2180
پھر فرماتا ہے کہ ” تمہارا ذبیحہ ان کیلئے حلال ہے “ یعنی تم انہیں اپنا ذبیحہ کھلا سکتے ہو۔ یہ اس امر کی خبر نہیں کہ ان کے دین میں ان کیلئے تمہارا ذبیحہ حلال ہے ہاں زیادہ سے زیادہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ یہ اس بات کی خبر ہو کہ انہیں بھی ان کی کتاب میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جس جانور کا ذبیحہ اللہ کے نام پر ہوا ہو اسے وہ کھا سکتا ہے بلحاظ اس سے کہ ذبح کرنے والا انہیں میں سے ہو یا ان کے سوا کوئی اور ہو، لیکن زیادہ باوزن بات پہلی ہی ہے، یعنی یہ کہ تمہیں اجازت ہے کہ انہیں اپنا ذبیحہ کھلاؤ جیسے کہ ان کے ذبح کئے ہوئے جانور تم کھا لیتے ہو۔
یہ گویا اول بدل کے طور پر ہے، جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کو اپنے خاص کرتے ہیں کفن دیا جس کی وجہ سے بعض حضرات نے یہ بیان کیا ہے کہ اس نے آپ کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو اپنا کرتا دیا تھا جب وہ مدینے میں آئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بدلہ چکا دیا۔ [صحیح بخاری:1350]
ہاں ایک حدیث میں ہے کہ مومن کے سوا کسی اور کی ہم نشینی نہ کر اور اپنا کھانا بجز پرہیزگاروں کے اور کسی کو نہ کھلا۱ ؎ [سنن ابوداود:4832،قال الشيخ الألباني:حسن]
اسے اس بدلے کے خلاف نہ سمجھنا چاہیئے، ہو سکتا ہے کہ حدیث کا یہ حکم بطور پسندیدگی اور افضیلت کے ہو، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2181
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” پاک دامن مومن عورتوں سے نکاح کرنا تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے “ یہ بطور تمہید کے ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” تم سے پہلے جنہیں کتاب دی گئی ہے ان کی عفیفہ عورتوں سے بھی نکاح تمہیں حلال ہے “۔
یہ قول بھی ہے کہ مراد «مُحْصَنَاتُ» سے آزاد عورتیں ہیں یعنی لونڈیاں نہ ہوں۔ یہ قول مجاہد رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے اور مجاہد رحمہ اللہ کے الفاظ یہ ہیں کہ ” «مُحْصَنَاتُ» سے آزاد مراد ہیں“ اور جب یہ ہے تو جہاں اس قول کا وہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ لونڈیاں اس سے خارج ہیں وہاں یہ معنی بھی لیے جا سکتے ہیں کہ پاک دامن عفت شعار، جیسے کہ انہی سے دوسری روایت ان ہی لفظوں میں موجود ہے۔
جمہور بھی کہتے ہیں اور یہ زیادہ ٹھیک بھی ہے۔ تاکہ ذمیہ ہونے کے ساتھ ہی غیر عفیفہ ہونا شامل ہو کر بالکل ہی باعث فساد نہ بن جائے اور اس کا خاوند صرف فضول بھرتی کے طور پر بری رائے پر نہ چل پڑے پس بظاہر یہی ٹھیک معلوم ہوتا ہے کہ «مُحْصَنَاتُ» سے مراد عفت مآب اور بدکاری سے بچاؤ والیاں ہی لی جائیں، جیسے دوسری آیت میں «وَالْمُحْصَنَاتُ» کے ساتھ ہی آیت «مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلَا مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ» [4-النساء:25] آیا ہے۔ علماء اور مفسرین کا اس میں بھی اختلاف ہے کہ کیا آیت ہر کتابیہ عفیفہ عورت پر مشتمل ہے؟ خواہ وہ آزاد ہو خواہ لونڈی ہو؟
صفحہ نمبر2182
ابن جریر میں سلف کی ایک جماعت سے اسے نقل کیا ہے جو کہتے ہیں کہ «مُحْصَنَاتُ» سے مراد پاک دامن ہے۔ ایک قول یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں مراد اہل کتاب سے اسرائیلی عورتیں ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ذمیہ عورتیں ہیں سوائے آزاد عورتوں کے اور دلیل یہ آیت ہے «قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ» [9-التوبة:29] ، یعنی ” ان سے لڑو جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے “۔
چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نصرانیہ عورتوں سے نکاح کرنا جائز نہیں جانتے تھے اور فرماتے تھے ”اس سے بڑا شرک کیا ہو گا؟ کہ وہ کہتی ہو کہ اس کا رب عیسیٰ (علیہ السلام) ہے اور جب یہ مشرک ٹھہریں تو نص قرآنی موجود ہے کہ آیت «وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ وَلَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّلَوْ اَعْجَبَـتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا» [2-البقرۃ:221] ، یعنی ” مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں “۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرنے کا حکم نازل ہوا تو صحابہ رضی اللہ عنہم ان سے رک گئے یہاں تک کہ اس کے بعد کی آیت اہل کتاب کی پاکدامن عورتوں سے نکاح کرنے کی رخصت نازل ہوئی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے اہل کتاب عورتوں سے نکاح کئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے ایسے نکاح اسی آیت کو دلیل بنا کر کرنے ثابت ہیں تو گویا پہلے سورۃ البقرہ کی آیت کی ممانعت میں یہ داخل تھیں لیکن دوسری آیت نے انہیں مخصوص کر دیا۔ یہ اس وقت جب یہ مان لیا جائے کہ ممانعت والی آیت کے حکم میں یہ بھی داخل تھیں ورنہ ان دونوں آیتوں میں کوئی معارض نہیں، اس لیے کہ اور بھی بہت سی آیتوں میں عام مشرکین سے انہیں الگ بیان کیا گیا ہے جیسے آیت «لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا» [98-البينة:1] اور «وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا» [3-آل عمران:20] ۔
صفحہ نمبر2183
پھر فرماتا ہے ” جب تم انہیں ان کے مقررہ مہر دے دو وہ اپنے نفس کو بچانے والیاں ہوں اور تم ان کے مہر ادا کرنے والے ہو “۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ عامر شعبی ابراہیم نخعی حسن بصری رحمة الله علیہم کا فتویٰ ہے کہ جب کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور دخول سے پہلے اس نے بدکاری کی تو میاں بیوی میں تفریق کرا دی جائے گی اور جو مہر خاوند نے عورت کو دیا ہے اسے واپس دلوایا جائے گا۔ [ابن جریر]
صفحہ نمبر2184
پھر فرماتا ہے ” تم بھی پاک دامن عفت مآب ہو اور علانیہ یا پوشیدہ بدکار نہ ہوؤ “۔
پس عورتوں میں جس طرح پاک دامن اور عفیفہ ہونے کی شرط لگائی تھی مردوں میں بھی یہی شرط لگائی اور ساتھ ہی فرمایا کہ وہ کھلے بدکار نہ ہوں کہ ادھر ادھر منہ مارتے پھرتے ہوں اور نہ ایسے ہوں کہ خاص تعلق سے حرام کاری کرتے ہوں۔ سورۃ نساء میں بھی اسی کے تماثل حکم گزر چکا ہے۔
صفحہ نمبر2185
حضرت امام احمد رحمہ اللہ اسی طرف گئے ہیں کہ ”زانیہ عورتوں سے توبہ سے پہلے ہرگز کسی بھلے آدمی کو نکاح کرنا جائز نہیں“، اور یہی حکم ان کے نزدیک مردوں کا بھی ہے کہ ”بدکار مردوں کا نکاح نیک کار عفت شعار عورتوں سے بھی نا جائز ہے جب تک وہ سچی توبہ نہ کریں اور اس رذیل فعل سے باز نہ آ جائیں۔“ ان کی دلیل ایک حدیث بھی ہے جس میں ہے کوڑے لگایا ہوا زانی اپنے جیسی سے ہی نکاح کر سکتا ہے ۔ [سنن ابوداود:2052،قال الشيخ الألباني:صحیح]
خلیفتہ المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ ”میں ارادہ کر رہا ہوں کہ جو مسلمان کوئی بدکاری کرے میں اسے ہرگز کسی مسلمان پاک دامن عورت سے نکاح نہ کرنے دوں۔“ اس پر سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ ”اے امیر المؤمنین شرک اس سے بہت بڑا ہے اس کے باوجود بھی اس کی توبہ قبول ہے۔“
اس مسئلے کو ہم آیت «اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً ۡ وَّالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَآ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ» [24-النور:3] ، کی تفسیر میں پوری طرح بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
آیت کے خاتمہ پر ارشاد ہوتا ہے کہ ” کفار کے اعمال اکارت ہیں اور وہ آخرت میں نقصان یافتہ ہیں “۔
صفحہ نمبر2186
وضو اور غسل کے احکامات ٭٭
اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ حکم وضو اس وقت ہے جب کہ آدمی بے وضو ہو۔ ایک جماعت کہتی ہے جب تم کھڑے ہو یعنی نیند سے جاگو یہ دونوں قول تقریباً ایک ہی مطلب کے ہیں اور حضرات فرماتے ہیں آیت تو عام ہے اور اپنے عموم پر ہی رہے گی لیکن جو بے وضو ہو اس پر وضو کرنے کا حکم وجوباً ہے اور جو با وضو ہو اس پر استحباباً۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ ابتداء اسلام میں ہر صلٰوۃ کے وقت وضو کرنے کا حکم تھا پھر منسوخ ہو گیا۔
مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کیلئے تازہ وضو کیا کرتے تھے، فتح مکہ والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور جرابوں پر مسح کیا اور اسی ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کیں، یہ دیکھ کر سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کام کیا جو آج سے پہلے نہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں نے بھول کر ایسا نہیں کیا بلکہ جان بوجھ کر قصداً یہ کیا ہے ۔ [صحیح مسلم:277]
ابن ماجہ وغیرہ میں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھا کرتے تھے ہاں پیشاب کریں یا وضو ٹوٹ جائے تو نیا وضو کر لیا کرتے اور وضو ہی کے بچے ہوئے پانی سے جرابوں پر مسح کر لیا کرتے۔ یہ دیکھ کر فضل بن مبشر نے سوال کیا کہ کیا آپ اسے اپنی رائے سے کرتے ہیں؟ فرمایا ”نہیں بلکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے“ ۔ [سنن ابن ماجه:511،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2187
مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو ہر نماز کیلئے تازہ وضو کرتے دیکھ کر خواہ وضو ٹوٹا ہو یا نہ ٹوٹا ہو ان کے صاحبزادے عبیداللہ رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ اس کی کیا سند ہے؟ فرمایا اس سے سیدہ اسماء بنت زید بن خطاب رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ ان سے سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ نے جو فرشتوں کے غسل دئیے ہوئے کے صاحبزادے تھے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کیلئے تازہ وضو کرنے کا حکم دیا گیا تھا اس حالت میں وضو باقی ہو تو بھی اور نہ ہو تو بھی، لیکن اس میں قدرے مشقت معلوم ہوئی تو وضو کے حکم کے بدلے مسواک کا حکم رکھا گیا ہاں جب وضو ٹوٹے تو نماز کیلئے نیا وضو ضروری ہے اسے سامنے رکھ کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ چونکہ انہیں قوت ہے اس لیے وہ ہر نماز کے وقت وضو کرتے ہیں۔ آخری دم تک آپ کا یہی حال رہا ۔ «رضی اللہ عنہ وعن والدہ» ۔ [مسند احمد:225/5:قال الشيخ الألباني:حسن]
اس کے ایک راوی محمد بن اسحاق رحمہ اللہ ہیں لیکن چونکہ انہوں نے صراحت کے ساتھ «حدثنا» کہا ہے اس لیے تدلیس کا خوف بھی جاتا رہا۔ ہاں ابن عساکر کی روایت میں یہ لفظ نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے اس فعل اور اس پر ہمیشگی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مستحب ضرور ہے اور یہی مذہب جمہور کا ہے۔
صفحہ نمبر2188
ابن جریر میں ہے کہ خلفاء رضی اللہ عنہم ہر نماز کے وقت وضو کر لیا کرتے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یوم القیامہ ہر نماز کیلئے وضو کرتے اور دلیل میں یہ آیت تلاوت فرما دیتے ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز ادا کی پھر لوگوں کے مجمع میں تشریف فرما رہے تھے پھر پانی لایا گیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے منہ دھویا ہاتھ دھوئے پھر سر کا مسح کیا اور پھر پیر کا۔ اور فرمایا ”یہ وضو ہے اس کا جو بے وضو نہ ہوا ہو“، ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے خفیف وضو کر کے بھی یہی فرمایا تھا۔
سیدنا عمر فاروق رضوان اللہ علیہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ ابوداؤد طیالسی میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا قول ہے کہ وضو ٹوٹے بغیر وضو کرنا زیادتی ہے۔ اولاً تو یہ فعل سنداً بہت غریب ہے، دوسرا یہ کہ مراد اس سے وہ شخص ہے جو اسے واجب جانتا ہو اور صرف مستحب سمجھ کر جو ایسا کرے وہ تو عامل بالحدیث ہے۔ بخاری سنن وغیرہ میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کیلئے نیا وضو کرتے تھے، ایک انصاری نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ سن کر کہا اور آپ لوگ کیا کرتے تھے؟ فرمایا ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھتے تھے جب تک وضو ٹوٹے نہیں [صحیح بخاری:214]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ جو شخص وضو پر وضو کرے اس کیلئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ، ترمذی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے [سنن ترمذي:59،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور امام ترمذی نے اسے ضعیف کہا ہے۔
ایک جماعت کہتی ہے کہ آیت سے صرف اتنا ہی مقصود ہے کہ کسی اور کام کے وقت وضو کرنا واجب نہیں صرف نماز کیلئے ہی اس کا وجوب ہے۔ یہ فرمان اس لیے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ وضو ٹوٹنے پر کوئی کام نہ کرتے تھے جب تک پھر وضو نہ کر لیں
ابن ابی حاتم وغیرہ کی ایک ضعیف غریب روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کا ارادہ کرتے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بولتے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب نہ دیتے ہم سلام علیک کرتے پھر بھی جواب نہ دیتے یہاں تک کہ یہ آیت رخصت کی اتری ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11342:ضعیف]
صفحہ نمبر2189
ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے اور کھانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا تو ہم نے کہا اگر فرمائیں تو وضو کا پانی کا حاضر کریں فرمایا: وضو کا حکم تو مجھے صرف نماز کیلئے کھڑا ہونے کے وقت ہی کیا گیا ہے ۔ امام ترمذی اسے حسن بتاتے ہیں۔ [سنن ابوداود:3760،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے کچھ نماز تھوڑا ہی پڑھنی ہے جو میں وضو کروں ۔ [صحیح مسلم:374]
آیت کے ان الفاظ سے کہ ” جب تم نماز کیلئے کھڑے ہو تو وضو کر لیا کرو “ علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ وضو میں نیت واجب ہے، مطلب کلام اللہ شریف کا یہ ہے کہ نماز کیلئے وضو کر لیا کرو۔ جیسے عرب میں کہا جاتا ہے، جب تو امیر کو دیکھے تو کھڑا ہو جا تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ امیر کیلئے کھڑا ہو جا۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کیلئے صرف وہی ہے جو وہ نیت کرے ۔ [صحیح بخاری:1]
اور منہ کے دھونے سے پہلے وضو میں «بِسْمِ اللَّـهِ» کہنا مستحب ہے۔ کیونکہ ایک پختہ اور بالکل صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا وضو نہیں جو اپنے وضو میں «بِسْمِ اللَّـهِ» نہ کہے ۔ [سنن ابوداود:101، قال الشيخ الألباني:صحیح] (حدیث کے ظاہری الفاظ تو نیت کی طرح «بِسْمِ اللَّـهِ» کہنے پر بھی وجوب کی دلالت کرتے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)
یہ بھی یاد رہے کہ وضو کے پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے کا ان کا دھو لینا مستحب ہے اور جب نیند سے اٹھا ہو تب تو سخت تاکید آتی ہے بخاری و مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ تم میں سے کوئی نیند سے جاگ کر برتن میں ہاتھ نہ ڈالے جب تک کہ تین مرتبہ دھو نہ لے، اسے نہیں معلوم کہ اس کے ہاتھ رات کے وقت کہاں رہے ہوں؟ [صحیح بخاری:162]
صفحہ نمبر2190
منہ کی حد فقہاء کے نزدیک لمبائی میں سر کے بالوں کی اگنے کی جو جگہ عموماً ہے وہاں سے داڑھی کی ہڈی اور تھوڑی تک ہے اور چوڑائی میں ایک کان سے دوسرے کان تک۔ اس میں اختلاف ہے کہ دونوں جانب کی پیشانی کے اڑے ہوئے بالوں کی جگہ سر کے حکم میں ہے یا منہ کے؟ اور داڑھی کے لٹکتے ہوئے بالوں کا دھونا منہ کے دھونے کی فرضیت میں داخل ہے یا نہیں؟ اس میں دو قول ہیں، ایک تو یہ کہ ان پر پانی کا بہانا واجب ہے اس لیے کہ منہ سامنے کرنے کے وقت اس کا بھی سامنا ہوتا ہے۔
ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو داڑھی ڈھانپے ہوئے دیکھ کر فرمایا: اسے کھول دے یہ بھی منہ میں داخل ہے ۔ [سلسلۃ احادیث ضعیفه البانی:5754:ضعیف]
مجاہد رحمة الله فرماتے ہیں ”عرب کا محاورہ بھی یہی ہے کہ جب بچے کے داڑھی نکلتی ہے تو وہ کہتے ہیں «طَلَعَ وَجْهُهُ» ۔“ پس معلوم ہوتا ہے کہ کلام عرب میں داڑھی منہ کے حکم میں ہے اور لفظ «وَجْهُهُ» میں داخل ہے۔
داڑھی گھنی اور بھری ہوئی ہو تو اس کا خلال کرنا بھی مستحب ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے راوی کہتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے منہ دھوتے وقت تین دفعہ داڑھی کا خلال کیا۔ پھر فرمایا ”جس طرح تم نے مجھے کرتے دیکھا اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے“ [سنن ترمذي:31،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس روایت کو امام بخاری اور امام ترمذی رحمة الله علیہم حسن بتاتے ہیں۔
ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے وقت ایک چلو پانی لے کر اپنی تھوڑی تلے ڈال کر اپنی داڑھی مبارک کا خلال کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے میرے رب عزوجل نے اسی طرح حکم فرمایا ہے ۔ [سنن ابوداود:145،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2191
حضرت امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”داڑھی کا خلال کرنا سیدنا عمار، سیدہ عائشہ، سیدہ ام سلمہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، اور اس کے ترک کی رخصت ابن عمر، حسن بن علی رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمة الله علیہم کی ایک جماعت سے مروی ہے۔“
صحاح وغیرہ میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے بیٹھتے کلی کرتے اور ناک میں پانی دیتے ۔
ائمہ کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ دونوں وضو اور غسل میں میں واجب ہیں یا مستحب؟ امام احمد بن حنبل کا مذہب تو وجوب کا ہے اور امام شافعی اور امام مالک مستحب کہتے ہیں ان کی دلیل سنن کی وہ صحیح حدیث ہے جس میں جلدی جلدی نماز پڑھنے والے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا مروی ہے کہ وضو کر جس طرح اللہ نے تجھے حکم دیا ہے ۔ [سنن ابوداود:857،قال الشيخ الألباني:صحیح]
امام حنیفہ رحمة الله کا مسلک یہ ہے کہ غسل میں واجب اور وضو میں نہیں، ایک روایت امام احمد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ناک میں پانی دینا تو واجب اور کلی کرنا مستحب، کیونکہ بخاری و مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جو وضو کرے وہ ناک میں پانی ڈالے ۔ [صحیح بخاری:161]
اور روایت میں ہے تم میں سے جو وضو کرے وہ اپنے دونوں نتھنوں میں پانی ڈالے اور اچھی طرح وضو کرے ۔ [صحیح بخاری:162]
صفحہ نمبر2192
مسند احمد اور بخاری میں ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ وضو کرنے بیٹھے تو منہ دھویا ایک چلو پانی کا لے کر کلی کی اور ناک کو صاف کیا پھر ایک چلو لے کر داہنا ہاتھ دھویا پھر ایک چلو لے کر اسی سے بایاں ہاتھ دھویا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر پانی کا ایک چلو لے کر اپنے داہنے پاؤں پر ڈال کر اسے دھویا پھر ایک چلو سے بایاں پاؤں دھویا۔ پھر فرمایا میں نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے ۔ [صحیح بخاری:140]
«إِلَى الْمَرَافِقِ» سے مراد «مَـعَ الْمَرَافِقِ» ہے، جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ اِلٰٓى اَمْوَالِكُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِيْرًا» [4-النساء:2] یعنی ” یتیموں کے مالوں کو اپنے مالوں سمیت نہ کھا جایا کرو یہ بڑا ہی گناہ ہے “۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ہاتھوں کو کہنیوں تک نہیں، بلکہ کہنیوں سمیت دھونا چاہیئے۔
دارقطنی وغیرہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے ہوئے اپنی کہنیوں پر پانی بہاتے تھے ۔ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:2067:صحیح] لیکن اس کے دو راویوں میں کلام ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
وضو کرنے والے کیلئے مستحب ہے کہ کہنیوں سے آگے اپنے شانے کو بھی وضو میں دھوئے کیونکہ بخاری مسلم میں حدیث ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت وضو کے نشانوں کی وجہ سے قیامت کے دن چمکتے ہوئے اعضاؤں سے آئے گی پس تم میں سے جس سے وہ ہو سکے وہ اپنی چمک کو دور تک لے جائے۔ [صحیح بخاری:136] صحیح مسلم میں ہے مومن کو وہاں تک زیور پہنائے جائیں گے جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا تھا ۔ [صحیح مسلم:250]
صفحہ نمبر2193
«بِرُءُوسِكُمْ» میں جواب ہے اس کا الحاق یعنی ملا دینے کیلئے ہونا تو زیادہ غالب ہے اور تبعیض یعنی کچھ حصے کیلئے ہونا تامل طلب ہے۔ بعض اصولی حضرات فرماتے ہیں چونکہ آیت میں اجمال ہے اس لیے سنت نے جو اس کی تفصیل کی ہے وہی معتبر ہے اور اسی کی طرف لوٹنا پڑے گا۔
عبداللہ بن زید بن عاصم صحابی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے کہا ”آپ رضی اللہ عنہ وضو کر کے ہمیں بتلائیے۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھ دو دو دفعہ دھوئے، پھر تین بار کلی کی اور ناک میں پانی دیا، تین ہی دفعہ اپنا منہ دھویا، پھر کہنیوں سمیت اپنے دونوں ہاتھ دو مرتبہ دھوئے، پھر دونوں ہاتھ سے سر کا مسح کیا سر کے ابتدائی حصے سے گدی تک لے گئے، پھر وہاں سے یہیں تک واپس لائے، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے۔ [صحیح بخاری:185]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ اسی طرح منقول ہے۔ [سنن ترمذي:49،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [سنن ابوداود:121،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیثیں دلیل ہیں اس پر کہ پورے سر کا مسح فرض ہے۔
صفحہ نمبر2194
یہی مذہب امام مالک رحمة الله اور امام احمد رحمة الله کا ہے اور یہی مذہب ان تمام حضرات کا ہے جو آیت کو مجمل مانتے ہیں اور حدیث کو اس کی وضاحت جانتے ہیں۔ حنیفوں کا خیال ہے کہ چوتھائی سر کا مسح فرض ہے جو سر کا ابتدائی حصہ ہے اور ہمارے ساتھی کہتے ہیں کہ فرض صرف اتنا ہے جتنے پر مسح کا اطلاق ہو جائے، اس کی کوئی حد نہیں۔ سر کے چند بالوں پر بھی مسح ہو گیا تو فرضیت پوری ہو گئی۔
ان دونوں جماعتوں کی دلیل مغیرہ بن شعبہ والی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے رہ گئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے رہ گیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کر چکے تو مجھ سے پانی طلب کیا میں لوٹا لے آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہنچے دھوئے پھر منہ دھویا پھر کلائیوں پر سے کپڑا ہٹایا اور پیشانی سے ملے ہوئے بالوں اور پگڑی پر مسح کیا اور دونوں جرابوں پر بھی ۔ [صحیح مسلم:274]
اس کا جواب امام احمد رحمة الله اور ان کے ساتھی یہ دیتے ہیں کہ سر کے ابتدائی حصہ پر مسح کر کے باقی پگڑی پر پورا کر لیا اور اس کی بہت سی مثالیں احادیث میں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صافے پر اور جرابوں پر برابر مسح کیا کرتے تھے، پس یہی اولیٰ ہے اور اس میں ہرگز اس بات پر کوئی دلالت نہیں کہ سر کے بعض حصے پر یا صرف پیشانی کے بالوں پر ہی مسح کر لے اور اس کی تکمیل پگڑی پر نہ ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2195
پھر اس میں بھی اختلاف ہے کہ سر کا مسح بھی تین بار ہو یا ایک ہی بار؟ امام شافعی رحمة الله کا مشہور مذہب اول ہے اور امام احمد رحمة الله اور ان کے متبعین کا دوم۔ دلائل یہ ہیں:
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ وضو کرنے بیٹھتے ہیں اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالتے ہیں، انہیں دھو کر پھر کلی کرتے ہیں اور ناک میں پانی دیتے ہیں، پھر تین مرتبہ منہ دھوتے ہیں، پھر تین تین بار دونوں ہاتھو کہنیوں سمیت دھوتے ہیں، پہلے دایاں پھر بایاں۔ پھر اپنے سر کا مسح کرتے ہیں پھر دونوں پیر تین تین بار دھوتے ہیں پہلے داہنا پھر بایاں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا“ اور وضو کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جو شخص میرے اس وضو جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں دل سے باتیں نہ کرے تو اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:159]
سنن ابی داؤد میں اسی روایت میں سر کے مسح کرنے کے ساتھ ہی یہ لفظ بھی ہیں کہ سر کا مسح ایک مرتبہ کیا ۔ [سنن ابوداود:108،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، [سنن ابوداود:111،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور جن لوگوں نے سر کے مسح کو بھی تین بار کہا ہے انہوں نے حدیث سے دلیل لی ہے۔ جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار اعضاء وضو کو دھویا ۔ [صحیح مسلم:230]
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے وضو کیا پھر اسی طرح روایت ہے اور اس میں کلی کرنی اور ناک میں پانی دینے کا ذکر نہیں اور اس میں ہے کہ پھر آپ نے تین مرتبہ سر کا مسح کیا اور تین مرتبہ اپنے دونوں پیر دھوئے۔ پھر فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا اور آپ نے فرمایا جو ایسا وضو کرے اسے کافی ہے ۔ [سنن ابوداود:107،قال الشيخ الألباني:صحیح]
لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے جو حدیثیں صحاح میں مروی ہیں ان سے تو سر کا مسح ایک بار ہی ثابت ہوتا ہے۔
صفحہ نمبر2196
«أَرْجُلَكُمْ» لام کی زبر سے عطف ہے جو «وُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم» پر ماتحت ہے دھونے کے حکم کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یونہی پڑھتے تھے اور یہی فرماتے تھے، [تفسیر ابن جریر الطبری:55/10]
سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت عروہ رضی اللہ عنہ، عطاء، عکرمہ، حسن، مجاہد، ابراہیم، ضحاک، سدی، مقاتل بن حیان، زہری، ابراہیم تیمی رحمة الله علیہم وغیرہ کا یہی قول [تفسیر ابن جریر الطبری:54/10] اور یہی قرأت ہے، اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ پاؤں دھونے چاہئیں، یہی سلف کا فرمان ہے اور یہیں سے جمہور نے وضو کی ترتیب کے وجوب پر استدلال کیا ہے۔
صرف ابوحنیفہ رحمة الله اس کے خلاف ہیں، وہ وضو میں ترتیب کو شرط نہیں جانتے۔ ان کے نزدیک اگر کوئی شخص پہلے پیروں کو دھوئے پھر سر کا مسح کرے پھر ہاتھ دھوئے پھر منہ دھوئے جب بھی جائز ہے اس لیے کہ آیت نے ان اعضاء کے دھونے کا حکم دیا ہے۔ واؤ کی دلالت ترتیب پر نہیں ہوتی۔ اس کے جواب جمہور نے کئی ایک دیئے ہیں، ایک تو یہ کہ ”ف“ ترتیب پر دلالت کرتی ہے، آیت کے الفاظ میں نماز پڑھنے والے کو منہ دھونے کا حکم لفظ «فَاغْسِلُوا» سے ہوتا ہے۔ تو کم از کم منہ کا اول اول دھونا تو لفظوں سے ثابت ہوگیا اب اس کے بعد کے اعضاء میں ترتیب اجماع سے ثابت ہے جس میں اختلاف نظر نہیں آتا۔
پھر جبکہ ”ف“ جو تعقیب کیلئے ہے اور جو ترتیب کی مقتضی ہے ایک پر داخل ہو چکی تو اس ایک کی ترتیب مانتے ہوئے دوسری کی ترتیب کا انکار کوئی نہیں کرتا بلکہ تو سب کی ترتیب کے قائل ہیں یا کسی ایک کی بھی ترتیب کے قائل نہیں۔ پس یہ آیت ان پر یقیناً حجت ہے جو سرے سے ترتیب کے منکر ہیں، دوسرا جواب یہ ہے کہ واؤ ترتیب پر دلالت نہیں کرتا اسے بھی ہم تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ ترتیب پر دلالت کرتا ہے جیسے کہ نحویوں کی ایک جماعت کا اور بعض فقہاء کا مذہب ہے پھر یہ چیز بھی قابل غور ہے کہ بالفرض لغتاً اس کی دلالت پر ترتیب پر نہ بھی ہو تاہم شرعاً تو جن چیزوں میں ترتیب ہو سکتی ہے ان میں اس کی دلالت ترتیب پر ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر2197
چنانچہ صحیح مسلم شریف میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف کا طواف کرکے باب صفا سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیت «اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَاىِٕرِاللّٰهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَـطَوَّعَ خَيْرًا فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِـرٌ عَلِــيْمٌ» [2-البقرۃ:158] کی تلاوت کر رہے تھے اور فرمایا میں اسی سے شروع کروں گا جسے اللہ نے پہلے بیان فرمایا ، چنانچہ صفا سے سعی شروع کی [صحیح مسلم:1218] ، نسائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم دینا بھی مروی ہے کہ اس سے شروع کرو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ۔ [سنن نسائی:2965،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس کی اسناد بھی صحیح ہے اور اس میں امر ہے۔
پس معلوم ہوا کہ جس کا ذکر پہلے ہو اسے پہلے کرنا اور اس کے بعد اسے جس کا ذکر بعد میں ہو کرنا واجب ہے۔ پس صاف ثابت ہو گیا کہ ایسے مواقع پر شرعاً ترتیب مراد ہوتی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
تیسری جماعت جواباً کہتی ہے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونے کے حکم اور پیروں کو دھونے کے حکم کے درمیان سر کے مسح کے حکم کو بیان کرنا اس امر کی صاف دلیل ہے کہ مراد ترتیب کو باقی رکھنا ہے، ورنہ نظم کلام کو یوں الٹ پلٹ نہ کیا جاتا۔ ایک جواب اس کا یہ بھی ہے کہ ابوداؤد وغیرہ میں صحیح سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھو کر وضو کیا پھر فرمایا یہ وضو ہے کہ جس کے بغیر اللہ تعالیٰ نے نماز کو قبول نہیں کرتا ۔ [سنن ابن ماجہ:419،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اب دو صورتیں ہیں یا تو اس وضو میں ترتیب تھی یا نہ تھی؟ اگر کہا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ وضو مرتب تھا یعنی باقاعدہ ایک کے پیچھے ایک عضو دھویا تھا تو معلوم ہوا کہ جس وضو میں تقدیم تاخیر ہو اور صحیح طور پر ترتیب نہ ہو وہ نماز نامقبول لہٰذا ترتیب واجب و فرض اور اگر یہ مان لیا جائے کہ اس وضو میں ترتیب نہ تھی بلکہ بے ترتیب تھا، پیر دھو لیے پھر کلی کر لی پھر مسح کر لیا پھر منہ دھو لیا وغیرہ تو عدم ترتیب واجب ہو جائے گی حالانکہ اس کا قائل امت میں سے ایک بھی نہیں پس ثابت ہو گیا کہ وضو میں ترتیب فرض ہے۔
صفحہ نمبر2198
آیت کے اس جملے کی ایک قرأت اور بھی ہے یعنی «وَاَرْجُـلِـکُمْ» لام کے زیر سے اور اسی سے شیعہ نے اپنے اس قول کی دلیل لی ہے کہ پیروں پر مسح کرنا واجب ہے کیونکہ ان کے نزدیک اس کا عطف سر کے مسح کرنے پر ہے۔ بعض سلف سے بھی کچھ ایسے اقوال مروی ہیں جن سے مسح کے قول کا وہم پڑتا ہے۔
چنانچہ ابن جریر میں ہے کہ موسیٰ بن انس نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے لوگوں کی موجودگی میں کہا کہ حجاج نے اہواز میں خطبہ دیتے ہوئے طہارت اور وضو کے احکام میں کہا کہ منہ ہاتھ دھوؤ اور سر کا مسح کرو اور پیروں کو دھویا کرو عموماً پیروں پر ہی گندگی لگتی ہے۔ پس تلوؤں کو اور پیروں کی پشت کو اور ایڑی کو خوب اچھی طرح دھویا کرو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا کہ اللہ سچا ہے اور حجاج جھوٹا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہےآیت «وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ» [المائدہ:6] اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ پیروں کا جب مسح کرتے انہیں بالکل بھگو لیا کرتے، آپ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ قرآن کریم میں پیروں پر مسح کرنے کا حکم ہے، ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پیروں کا دھونا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وضو میں دو چیزوں کا دھونا ہے اور دو پر مسح کرنا۔ قتادہ رحمة الله سے بھی یہی مروی ہے۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آیت میں پیروں پر مسح کرنے کا بیان ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ، علقمہ، ابو جعفر، محمد بن علی رحمة الله علیہم اور ایک روایت میں حسن اور جابر بن زید رحمة الله علیہم اور ایک روایت میں مجاہد رحمة الله سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
صفحہ نمبر2199
حضرت عکرمہ رحمة الله اپنے پیروں پر مسح کر لیا کرتے تھے شعبی رحمة الله فرماتے ہیں کہ جبرائیل کی معرفت مسح کا حکم نازل ہوا ہے، آپ رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ جن چیزوں کے دھونے کا حکم تھا ان پر تو تیمم کے وقت مسح کا حکم رہا اور جن چیزوں پر مسح کا حکم تھا تیمم کے وقت انہیں چھوڑ دیا گیا۔“
عامر رحمة الله سے کسی نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں جبرائیل علیہ السلام پیروں کے دھونے کا حکم لائے ہیں آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”جبرائیل علیہ السلام مسح کے حکم کے ساتھ نازل ہوئے تھے۔“ پس یہ سب آثار بالکل غریب ہیں اور محمول ہیں اس امر پر کہ مراد مسح سے ان بزرگوں کی ہلکا دھونا ہے، کیونکہ سنت سے صاف ثابت ہے کہ پیروں کا دھونا واجب ہے۔
یاد رہے کہ زیر کی قرأت یا تو مجاورت اور تناسب کلام کی وجہ سے ہے جیسے عرب کا کلام «حُجْرُ ضَبِّ خربٍ» میں اور اللہ کے کلام آیت «عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ» [76-الإنسان:21] میں لغت میں عرب میں پاس ہونے کی وجہ سے دونوں لفظوں کو ایک ہی اعراب دے دینا یہ اکثر پایا گیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کی ایک توجیہہ یہ بھی بیان کی ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب پیروں پر جرابیں ہوں بعض کہتے ہیں مراد مسح سے ہلکا دھو لینا ہے جیسے کہ بعض روایتوں میں سنت سے ثابت ہے۔ الغرض پیروں کا دھونا فرض ہے جس کے بغیر وضو نہ ہو گا۔ آیت بھی یہی ہے اور احادیث میں بھی یہی ہے جیسے کہ اب ہم انہیں وارد کریں گے، ان شاءاللہ تعالیٰ۔ بیہقی میں ہے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز کے بعد بیٹھک میں بیٹھے رہے پھر پانی منگوایا اور ایک چلو سے منہ کا، دونوں ہاتھوں سر کا اور دونوں پیروں کا مسح کیا اور کھڑے ہو کر بچا ہوا پانی پی لیا پھر فرمانے لگے کہ لوگ کھڑے کھڑے پانی پینے کو مکروہ کہتے ہیں اور میں نے جو کیا یہی کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور فرمایا یہ وضو ہے اس کا جو بے وضو نہ ہوا ہو ۔ [صحیح بخاری:5615]
صفحہ نمبر2200
شعیوں میں سے جن لوگوں نے پیروں کو مسح اسی طرح قرار دیا جس طرح جرابوں پر مسح کرتے ہیں ان لوگوں نے یقیناً غلطی کی اور لوگوں کو گمراہی میں ڈالا۔ اسی طرح وہ لوگ بھی خطا کار ہیں جو مسح اور دھونا دونوں کو جائز قرار دیتے ہیں اور جن لوگوں نے امام ابن جریر رحمہ اللہ کی نسبت یہ خیال کیا ہے کہ انہوں نے احادیث کی بناء پر پیروں کے دھونے کو اور آیت قرآنی کی بنا پر پیروں کے مسح کو فرض قرار دیا ہے۔ ان کی تحقیق بھی صحیح نہیں، تفسیر ابن جریر ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے ان کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ پیروں کو رگڑنا واجب ہے اور اعضاء میں یہ واجب نہیں کیونکہ پیر زمین کی مٹی وغیرہ سے رگڑتے رہتے ہیں تو ان کو دھونا ضروری ہے تاکہ جو کچھ لگا ہو ہٹ جائے لیکن اس رگڑنے کیلئے مسح کا لفظ لائے ہیں اور اسی سے بعض لوگوں کو شبہ ہو گیا ہے اور وہ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ مسح اور غسل جمع کر دیا ہے حالانکہ دراصل اس کے کچھ معنی ہی نہیں ہوتے مسح تو غسل میں داخل ہے چاہے مقدم ہو چاہے مؤخر ہو۔
پس حقیقتاً امام صاحب کا ارادہ یہی ہے جو میں نے ذکر کیا اور اس کو نہ سمجھ کر اکثر فقہاء نے اسے مشکل جان لیا، میں نے مکرر غور و فکر کیا تو مجھ پر صاف طور سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ امام صاحب دونوں قرأتوں کو جمع کرنا چاہتے ہیں پس زیر کی قرأت یعنی مسح کو تو وہ محمول کرتے ہیں «ذَلِك» پر یعنی اچھی طرح مل رگڑ کر صاف کرنے پر اور زبر کی قرأت کو غسل پر یعنی دھونے پر دلیل ہے ہی پس وہ دھونے اور ملنے دونوں کو واجب کہتے ہیں تاکہ زیر اور زبر کی دونوں قرأتوں پر ایک ساتھ ہو جائے۔
صفحہ نمبر2201
اب ان احادیث کو سنئے جن میں پیروں کے دھونے کا اور پیروں کے دھونے کے ضروری ہونے کا ذکر ہے امیرالمؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، امیر المؤمنین علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ، معاویہ عبداللہ بن زید عاصم مقداد بن معدی کرب رضی اللہ عنہم کی روایات پہلے بیان ہو چکی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے اپنے پیروں کو دھویا ، ایک بار یا دو بار یا تین بار، عمرو بن شعیب کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے دونوں پیر دھوئے پھر فرمایا یہ وضو ہے جس کے بغیر اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں فرماتا ۔ [سنن ابن ماجہ:419،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
بخاری و مسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو ہم جلدی جلدی وضو کر رہے تھے کیونکہ عصر کی نماز کا وقت کافی دیر سے ہو چکا تھا ہم نے جلدی جلدی اپنے پیروں پر چھوا چھوئی شروع کردی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت بلند آواز سے فرمایا: وضو کو کامل اور پورا کرو ایڑیوں کو خرابی سے آگ کے لگنے سے [صحیح بخاری:96]
ایک اور حدیث میں ہے ویل ہے ایڑیوں کیلئے اور تلوں کیلئے آگ سے ۔ [مسند احمد:191/4:صحیح]
اور روایت میں ہے ٹخنوں کو ویل ہے آگ سے [سنن ابن ماجہ:454،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک شخص کے پیر میں ایک درہم کے برابر جگہ بے دھلی دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرابی ہے ایڑیوں کیلئے آگ سے ۔ [سنن ابن ماجہ:454،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2202
ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھ کر جن کی ایڑیوں پر اچھی طرح پانی نہیں پہنچا تھا اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان ایڑیوں کو آگ سے خرابی ہوگی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11522:صحیح] مسند احمد میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ وارد ہیں۔ [مسند احمد:426/3:صحیح بالشواهد]
ابن جریر میں دو مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان الفاظ کو کہنا وارد ہے راوی ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر تو مسجد میں ایک بھی شریف و وضیع ایسا نہ رہا جو اپنی ایڑیوں کو باربار دھو کر نہ دیکھتا ہو [تفسیر ابن جریر الطبری:11528:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جس کی ایڑی یا ٹخنے میں بقدر نیم درہم کے چمڑی خشک رہ گئی تھی تو یہی فرمایا پھر تو یہ حالت تھی کہ اگر ذرا سی جگہ پیر کی کسی خشک رہ جاتی تو وہ پورا وضو پھر سے کرتا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11529:ضعیف]
پس ان احادیث سے کھلم کھلا ظاہر ہے کہ پیرو کا دھونا فرض ہے، اگر ان کا مسح فرض ہوتا تو ذرا سی جگہ کے خشک رہ جانے پر اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وعید سے اور وہ بھی جہنم کی آگ کی وعید سے نہ ڈراتے، اس لیے کہ مسح میں ذرا ذرا اسی جگہ پر ہاتھ کا پہنچانا داخل ہی نہیں۔ بلکہ پھر تو پیر کے مسح کی وہی صورت ہوتی ہے جو پیر کے اوپر جراب ہونے کی صورت میں مسح کی صورت ہے۔ یہی چیز امام ابن جریر رحمہ اللہ نے شیعوں کے مقابلہ میں پیش کی ہے
صفحہ نمبر2203
صحیح مسلم شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص نے وضو کیا اور اس کا پیر کسی جگہ سے ناخن کے برابر دھلا نہیں خشک رہ گیا تو آپ نے فرمایا لوٹ جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو ۔ [صحیح مسلم:243] بیہقی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، [سنن ابن ماجہ:665،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند میں ہے کہ ایک نمازی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دیکھا کہ اس کے پیر میں بقدر درہم کے جگہ خشک رہ گئی ہے تو اسے وضو لوٹانے کا حکم کیا ۔ [سنن ابوداود:175،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا وضو کا طریقہ جو مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں کے درمیان خلال بھی کیا ۔ [صحیح مسلم:230]
سنن میں ہے سیدنا صبرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کی نسبت دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کامل اور اچھا کرو انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں پانی اچھی طرح دھو ہاں روزے کی حالت میں ہو تو اور بات ہے ۔ [سنن ابوداود:2366،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند و مسلم وغیرہ میں ہے عمرو بن عنبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے وضو کی بابت خبر دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وضو کا پانی لے کر کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی دیتا ہے اس کے منہ سے نتھنوں سے پانی کے ساتھ ہی خطائیں جھڑ جاتی ہیں جبکہ وہ ناک جھاڑتا ہے پھر جب وہ منہ دھوتا ہے جیسا کہ اللہ کا حکم ہے تو اس کے منہ کی خطائیں داڑھی اور داڑھی کے بالوں سے پانی کے گرنے کے ساتھ ہی جھڑ جاتی ہیں پھر وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے کہنیوں سمیت تو اس کے ہاتھوں کو گناہ اس کی پوریوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں، پھر وہ مسح کرتا ہے تو اس کے سر کی خطائیں اس کے بالوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ ہی جھڑ جاتی ہیں پھر جب وہ اپنے پاؤں ٹخنوں سمیت حکم الٰہی کے مطابق دھوتا ہے تو انگلیوں سے پانی ٹپکنے کے ساتھ ہی اس کے پیروں کے گناہ بھی دور ہو جاتے ہیں، پھر وہ کھڑا ہو کر اللہ تعالیٰ کے لائق جو حمد و ثناء ہے اسے بیان کر کے دو رکعت نماز جب ادا کرتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے وہ تولد ہوا ہو ۔
صفحہ نمبر2204
یہ سن کر ابوامامہ رحمہ اللہ نے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا خوب غور کیجئے کہ آپ رضی اللہ عنہ کیا فرما رہے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح سنا ہے؟ کیا یہ سب کچھ ایک ہی مقام میں انسان حاصل کرلیتا ہے؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابوامامہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں، میری ہڈیاں ضعیف ہو چکی ہیں، میری موت قریب آ پہنچی ہے، مجھے کیا فائدہ جو میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولوں، ایک دفعہ نہیں، دو دفعہ نہیں، تین دفعہ نہیں، میں نے تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سات بار بلکہ اس سے بھی زیادہ سنا ہے، اس حدیث کی سند بالکل صحیح ہے۔ [مسند احمد:112/4:صحیح]
صحیح مسلم کی دوسری سند والی حدیث میں ہے پھر وہ اپنے دونوں پاؤں کو دھوتا ہے جیسا کہ اللہ نے اسے حکم دیا ہے ۔ [صحیح مسلم:832]
صفحہ نمبر2205
پس صاف ثابت ہوا کہ قرآن حکیم کا حکم پیروں کے دھونے کا ہے۔ ابواسحاق سبیعی نے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فی الجنہ سے بواسطہ حضرت حارث روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دونوں پیر ٹخنوں سمیت دھوؤ جیسے کہ تم حکم کئے گئے ہو ۔ [بیہقی:71/1:ضعیف]
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس روایت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں قدم جوتی میں ہی بھگو لیے ، اس سے مراد جوتیوں میں ہی ہلکا دھونا ہے اور چپل جوتی پیر میں ہوتے ہوئے پیر دھل سکتا ہے۔ غرض یہ حدیث بھی دھونے کی دلیل ہے البتہ اس سے ان وسواسی اور وہمی لوگوں کی تردید ہے جو حد سے گزر جاتے ہیں۔
اسی طرح وہ دوسری حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کے کوڑا ڈالنے کی جگہ پر پیشاب کیا پھر پانی منگوا کر وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کر لیا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11531]
لیکن یہی حدیث دوسری سندوں سے مروی ہے اور ان میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جرابوں پر مسح کیا ۔ [صحیح بخاری:224] اور میں مطابقت کی صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جرابیں پیروں میں تھیں اور ان پر نعلین تھے اور ان دونوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسح کرلیا۔
یہی مطلب اس حدیث کا بھی ہے، مسند احمد میں اوس ابو اوس سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دیکھتے ہوئے وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کیا اور نماز کیلئے کھڑے ہو گئے ۔ [سنن ابوداود:160،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوڑے پر پیشاب کرنا پھر وضو کرنا اور اس میں نعلین اور دونوں قدموں پر مسح کرنا مذکور ہے۔ [سنن ابوداود:160،قال الشيخ الألباني:صحیح]
امام ابن جریر رحمة الله اسے بیان کرتے ہیں، پھر فرمایا ہے کہ ”یہ محمول اس پر ہے کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا وضو تھا۔“ (یا یہ محمول ہے اس پر کہ نعلین جرابوں کے اوپر تھے۔ مترجم)
صفحہ نمبر2206
بھلا کوئی مسلمان یہ کیسے قبول کر سکتا ہے کہ اللہ کے فریضے میں اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں تعارض ہو اللہ کچھ فرمائے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اور ہی کریں؟ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمیشہ کے فعل سے وضو میں پیروں کے دھونے کی فرضیت ثابت ہے اور آیت کا صحیح مطلب بھی یہ ہے جس کے کانوں تک یہ دلیلیں پہنچ جائیں اس پر اللہ کی حجت پوری ہو گئی۔
چونکہ زیر کی قرأت سے پیروں کا دھونا اور زیر کی قرأت کا بھی اسی پر محمول ہونا فرضیت کا قطعی ثبوت ہے اس سے بعض سلف تو یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ اس آیت سے جرابوں کا مسح ہی منسوخ ہے، گو ایک روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی مروی ہے لیکن اس کی اسناد صحیح نہیں بلکہ خود آپ رضی اللہ عنہ سے صحت کے ساتھ اس کے خلاف ثابت ہے اور جن کا بھی یہ قول ہے ان کا یہ خیال صحیح نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی جرابوں پر مسح کرنا ثابت ہے۔
مسند احمد میں جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ سورۃ المائدہ کے نازل ہونے کے بعد ہی میں مسلمان ہوا اور اپنے اسلام کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جرابوں پر مسح کرتے دیکھا۔ [مسند احمد:363/4:صحیح]
بخاری و مسلم میں ہے کہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا پھر وضو کرتے ہوئے اپنی جرابوں پر مسح کیا ان سے پوچھا گیا کہ آپ رضی اللہ عنہ ایسا کرتے ہیں؟ تو فرمایا یہی کرتے ہوئے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ۔ راوی حدیث ابراہیم فرماتے ہیں لوگوں کو یہ حدیث بہت اچھی لگتی تھی اس لیے کہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا سورۃ المائدہ کے نازل ہو چکنے کے بعد کا تھا۔ [صحیح بخاری:387]
صفحہ نمبر2207
احکام کی بڑی بڑی کتابوں میں تواتر کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل سے جرابوں پر مسح کرنا ثابت ہے۔ اب مسح کی مدت ہے یا نہیں؟ اس کے ذکر کی یہ جگہ نہیں احکام کی کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے، رافضیوں نے اس میں بھی گمراہی اختیار کی ہے، اور اس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں صرف جہالت اور ضلالت ہے۔
خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے صحیح مسلم میں یہ ثابت ہے۔ [صحیح مسلم:376] لیکن روافض اسے نہیں مانتے، جیسے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ہی روایت سے بخاری مسلم میں نکاح متعہ کی ممانعت ثابت ہے۔ [صحیح بخاری:4616] لیکن تاہم شیعہ اسے مباح قرار دیتے ہیں۔
ٹھیک اسی طرح یہ آیہ کریمہ دونوں پیروں کے دھونے پر صاف دلالت کرتی ہے اور یہی امر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا متواتر احادیث سے ثابت ہے لیکن شیعہ جماعت اس کی بھی مخالف ہے۔ فی واقع ان مسائل میں ان کے ہاتھ دلیل سے بالکل خالی ہیں۔ «ولِلَّـهِ الْحَمْدُ» ۔
صفحہ نمبر2208
اسی طرح ان لوگوں نے آیت کا اور سلف صالحین کا «كَعْبَيْن» کے بارے میں بھی الٹ مفہوم لیا ہے وہ کہتے ہیں کہ قدم کی پشت ابھار «كَعْبَيْن» ہے۔ پس ان کے نزدیک ہر قدم میں ایک ہی کعب یعنی ٹخنہ ہے اور جمہور کے نزدیک ٹخنے کی وہ ہڈیاں جو پنڈلی اور قدم کے درمیان ابھری ہوئی ہیں اور وہ «كَعْبَيْن» ہیں۔
امام شافعی رحمة الله کا فرمان ہے کہ ”جن «كَعْبَيْن» کا یہاں ذکر ہے یہ ٹخنے کی دو ہڈیاں ہیں جو ادھر ادھر قدرے ظاہر دونوں طرف ہیں۔“ ایک ہی قدم میں «كَعْبَيْن» ہیں لوگوں کے عرض میں بھی یہی ہے اور حدیث کی دلالت بھی اسی پر ہے۔
صفحہ نمبر2209
بخاری مسلم میں ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے ہوئے اپنے داہنے پاؤں کو «كَعْبَيْن» سمیت دھویا پھر بائیں کو بھی اسی طرح ۔ [صحیح بخاری:159]
بخاری میں تعلیقاً بصیغہ جزم اور صحیح ابن خزیمہ میں اور سنن ابی داؤد میں ہے کہ ہماری طرف متوجہ ہو کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفیں ٹھیک ٹھیک درست کر لو تین بار یہ فرما کر فرمایا: قسم اللہ کی یا تو تم اپنی صفوں کو پوری طرح درست کرو گے یا اللہ تمہارے دلوں میں مخالفت ڈال دے گا ۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ راوی حدیث فرماتے ہیں پھر تو یہ ہو گیا کہ ہر شخص اپنے ساتھی کے ٹخنے سے ٹخنہ اور گھٹنے سے گھٹنا اور کندھے سے کندھا ملا لیا کرتا تھا ۔ [صحیح بخاری:725]
صفحہ نمبر2210
اس روایت سے صاف معلوم ہو گیا کہ کعبین اس ہڈی کا نام نہیں جو قدم کی پشت کی طرف ہے کیونکہ اس کا ملانا دو پاس پاس کے شخصوں میں ممکن نہیں بلکہ وہی دو ابھری ہوئی ہڈیاں ہیں جو پنڈلی کے خاتمے پر ہیں اور یہی مذہب اہلسنت کا ہے۔
صفحہ نمبر2211
ابن ابی حاتم میں یحییٰ بن حارث تیمی سے منقول ہے کہ زید کے جو ساتھی شیعہ قتل کئے گئے تھے انہیں میں نے دیکھا تو ان کا ٹخنہ قدم کی پشت پر پایا انہیں قدرتی سزا تھی جو ان کی موت کے بعد ظاہر کی گئی اور مخالفت حق اور کتمان حق کا بدلہ دیا گیا۔
صفحہ نمبر2212
اس کے بعد تیمم کی صورتیں اور تیمم کا طریقہ بیان ہوا ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ نساء میں گزر چکی ہے لہٰذا یہاں بیان نہیں کی جاتی۔ آیت تیمم کا شان نزول بھی وہیں بیان کر دیا گیا ہے۔ لیکن امیر المؤمنین فی الحدیث امام بخاری رحمة الله نے اس آیت کے متعلق خاصتًا ایک حدیث وارد کی ہے اسے سن لیجئے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میرے گلے کا ہار بیداء میں گرگیا ہم مدینہ میں داخل ہونے والے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری روکی اور میری گود میں سر رکھ کر سوگئے اتنے میں میرے والد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے اور مجھ پر بگڑنے لگے کہ ”تونے ہار کھو کر لوگوں کو روک دیا“ اور مجھے کچوکے مارنے لگے۔ جس سے مجھے تکلیف ہوئی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند میں خلل اندازی نہ ہو، اس خیال سے میں ہلی جلی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جاگے اور صبح کی نماز کا وقت ہو گیا اور پانی کی تلاش کی گئی تو پانی نہ ملا، اس پر یہ پوری آیت نازل ہوئی۔ اسید بن حفیر کہنے لگے اے آل ابوبکر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کیلئے تمہیں بابرکت بنا دیا ہے تم ان کیلئے سرتاپا برکت ہو ۔ [صحیح بخاری:4608]
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” میں تم پر حرج ڈالنا نہیں چاہتا اسی لیے اپنے دین کو سہل آسان اور ہلکا کر دیا ہے۔ بوجھل سخت اور مشکل نہیں “۔
حکم تو اس کا یہ تھا کہ پانی سے وضو کرو لیکن جب میسر نہ ہو یا بیماری ہو تو تمہیں تیمم کرنے کی رخصت عطا فرماتا ہے، باقی احکام احکام کی کتابوں میں ملاحظہ ہوں۔ بلکہ اللہ کی چاہت یہ ہے کہ تمہیں پاک صاف کر دے اور تمہیں پوری پوری نعمتیں عطا فرمائے تاکہ تم اس کی رحمتوں پر اس کی شکر گزاری کرو اس کی توسیع احکام اور رأفت و رحمت آسانی اور رخصت پر اس کا احسان مانو۔ وضو کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعا تعلیم فرمائی ہے جو گویا اس آیت کے ماتحت ہے۔
صفحہ نمبر2213
مسند، سنن اور صحیح مسلم میں عقبہ بن عامررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم باری باری اونٹوں کو چرایا کرتے تھے میں اپنی باری والی رات عشاء کے وقت چلا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے لوگوں سے کچھ فرما رہے ہیں میں بھی پہنچ گیا اس وقت میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا کہ جو مسلمان اچھی طرح وضو کر کے دلی توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز ادا کرے اس کیلئے جنت واجب ہے ۔ میں نے کہا واہ واہ یہ بہت ہی اچھی بات ہے۔ میری یہ بات سن کر ایک صاحب نے جو میرے آگے ہی بیٹھے تھے فرمایا اس سے پہلے جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے وہ اس سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ میں نے جو غور سے دیکھا تو وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے آپ رضی اللہ عنہ مجھ سے فرمانے لگے تم ابھی آئے ہو، تمہارے آنے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص عمدگی اور اچھائی سے وضو کرے پھر کہے «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس میں سے چاہے داخل ہو ۔ [صحیح مسلم:234]
صفحہ نمبر2214
ایک اور روایت میں ہے کہ جب ایمان و اسلام والا وضو کرنے بیٹھتا ہے اس کے منہ دھوتے ہوئے اس کی آنکھوں کی تمام خطائیں پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ جھڑ جاتی ہے ہیں اسی طرح ہاتھوں کے دھونے کے وقت ہاتھوں کی تمام خطائیں اور اسی طرح پیروں کے دھونے کے وقت پیروں کی تمام خطائیں دھل جاتی ہیں وہ گناہوں سے بالکل پاک صاف ہو جاتا ہے ۔ [صحیح مسلم:244]
ابن جریر میں ہے جو شخص وضو کرتے ہوئے جب اپنے ہاتھ یا بازوؤں کو دھوتا ہے تو ان سے ان کے گناہ دور ہو جاتے ہیں، منہ کو دھوتے وقت منہ کے گناہ الگ ہو جاتے ہیں، سر کا مسح سر کے گناہ جھاڑ دیتا ہے پیر کا دھونا ان کے گناہ دھو دیتا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11549:صحیح المتن]
دوسری سند میں سر کے مسح کا ذکر نہیں۔ [مسند احمد:235/4:صحیح]
ابن جریر میں ہے جو شخص اچھی طرح وضو کر کے نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے اس کے کانوں سے آنکوں سے ہاتھوں سے پاؤں سے سب گناہ الگ ہو جاتے ہیں ۔ [مسند احمد:252/5:حسن]
صفحہ نمبر2215
صحیح مسلم شریف میں ہے وضو آدھا ایمان ہے، «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» کہنے سے نیکی کا پلڑا بھر جاتا ہے۔ قرآن یا تو تیری موافقت میں دلیل ہے یا تیرے خلاف دلیل ہے، ہر شخص صبح ہی صبح اپنے نفس کی فروخت کرتا ہے پس یا تو اپنے تئیں آزاد کرا لیتا ہے یا ہلاک کر لیتا ہے ۔ [صحیح مسلم:223]
اور حدیث میں ہے مال حرام کا صدقہ اللہ قبول نہیں فرماتا اور بے وضو کی نماز بھی غیر مقبول ہے ۔ [صحیح مسلم:224]
یہ روایت ابوداؤد، طیالسی، مسند احمد، ابوداؤد نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ابوداود:59،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2216
”اسلام“ زبان سے عہد اور ”ایمان“ عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار ٭٭
اس دین عظیم اور اس رسول اللہ کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کر لینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے۔
اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ”ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے ۔ [صحیح بخاری:7056]
صفحہ نمبر2217
باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ ” تم کیوں ایمان نہیں لاتے؟ حالانکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے “۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کے قول قرار ہو چکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ ” کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ “ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔
سدی رحمة الله اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہیئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہو جاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔
صفحہ نمبر2218
بخاری و مسلم میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟ جواب دیا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا ۔ چنانچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا ۔ [صحیح بخاری:2586]
پھر فرمایا ” دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آ کر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہیئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے “۔
«هُوَ» کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کر دی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے «وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» [24-النور:28] یعنی ” اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے “۔
پس یہاں «هُوَ» کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا۔ اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔
صفحہ نمبر2219
یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر «هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى» «أَفْعَلِ التَّفْضِيلِ» کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے، «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» [25-الفرقان:24] ۔ اور جیسے کہ کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا کا عمر رضی اللہ عنہ سے کہنا کہ «اَنْتَ اَفَظُّ وَاَغْلَظُ مِنْ رَّسُوْلِ الّلهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ۔ [صحیح بخاری:3294]
” اللہ سے ڈرو! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیر و شر کا پورا پورا بدلہ دے گا “۔
وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کر چکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چنانچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً بعد جواب دیا کہ اللہ عزوجل ، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو آواز دی اور جب وہ آ گئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا۔ اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا ۔ [صحیح بخاری:4135]
صفحہ نمبر2220
قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”کچھ لوگوں نے دھوکے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا ۔
ابن اسحاق رحمة الله وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کر لیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کر دینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے وہیں سے پلٹ گئے۔
اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، ” مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے “۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کر دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11560]
صفحہ نمبر2221
”اسلام“ زبان سے عہد اور ”ایمان“ عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار ٭٭
اس دین عظیم اور اس رسول اللہ کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کر لینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے۔
اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ”ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے ۔ [صحیح بخاری:7056]
صفحہ نمبر2217
باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ ” تم کیوں ایمان نہیں لاتے؟ حالانکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے “۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کے قول قرار ہو چکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ ” کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ “ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔
سدی رحمة الله اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہیئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہو جاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔
صفحہ نمبر2218
بخاری و مسلم میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟ جواب دیا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا ۔ چنانچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا ۔ [صحیح بخاری:2586]
پھر فرمایا ” دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آ کر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہیئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے “۔
«هُوَ» کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کر دی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے «وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» [24-النور:28] یعنی ” اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے “۔
پس یہاں «هُوَ» کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا۔ اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔
صفحہ نمبر2219
یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر «هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى» «أَفْعَلِ التَّفْضِيلِ» کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے، «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» [25-الفرقان:24] ۔ اور جیسے کہ کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا کا عمر رضی اللہ عنہ سے کہنا کہ «اَنْتَ اَفَظُّ وَاَغْلَظُ مِنْ رَّسُوْلِ الّلهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ۔ [صحیح بخاری:3294]
” اللہ سے ڈرو! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیر و شر کا پورا پورا بدلہ دے گا “۔
وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کر چکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چنانچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً بعد جواب دیا کہ اللہ عزوجل ، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو آواز دی اور جب وہ آ گئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا۔ اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا ۔ [صحیح بخاری:4135]
صفحہ نمبر2220
قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”کچھ لوگوں نے دھوکے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا ۔
ابن اسحاق رحمة الله وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کر لیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کر دینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے وہیں سے پلٹ گئے۔
اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، ” مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے “۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کر دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11560]
صفحہ نمبر2221
”اسلام“ زبان سے عہد اور ”ایمان“ عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار ٭٭
اس دین عظیم اور اس رسول اللہ کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کر لینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے۔
اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ”ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے ۔ [صحیح بخاری:7056]
صفحہ نمبر2217
باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ ” تم کیوں ایمان نہیں لاتے؟ حالانکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے “۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کے قول قرار ہو چکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ ” کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ “ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔
سدی رحمة الله اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہیئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہو جاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔
صفحہ نمبر2218
بخاری و مسلم میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟ جواب دیا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا ۔ چنانچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا ۔ [صحیح بخاری:2586]
پھر فرمایا ” دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آ کر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہیئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے “۔
«هُوَ» کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کر دی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے «وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» [24-النور:28] یعنی ” اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے “۔
پس یہاں «هُوَ» کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا۔ اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔
صفحہ نمبر2219
یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر «هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى» «أَفْعَلِ التَّفْضِيلِ» کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے، «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» [25-الفرقان:24] ۔ اور جیسے کہ کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا کا عمر رضی اللہ عنہ سے کہنا کہ «اَنْتَ اَفَظُّ وَاَغْلَظُ مِنْ رَّسُوْلِ الّلهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ۔ [صحیح بخاری:3294]
” اللہ سے ڈرو! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیر و شر کا پورا پورا بدلہ دے گا “۔
وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کر چکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چنانچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً بعد جواب دیا کہ اللہ عزوجل ، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو آواز دی اور جب وہ آ گئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا۔ اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا ۔ [صحیح بخاری:4135]
صفحہ نمبر2220
قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”کچھ لوگوں نے دھوکے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا ۔
ابن اسحاق رحمة الله وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کر لیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کر دینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے وہیں سے پلٹ گئے۔
اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، ” مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے “۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کر دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11560]
صفحہ نمبر2221
”اسلام“ زبان سے عہد اور ”ایمان“ عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار ٭٭
اس دین عظیم اور اس رسول اللہ کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کر لینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے۔
اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ”ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے ۔ [صحیح بخاری:7056]
صفحہ نمبر2217
باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ ” تم کیوں ایمان نہیں لاتے؟ حالانکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے “۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کے قول قرار ہو چکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ ” کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ “ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔
سدی رحمة الله اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہیئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہو جاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔
صفحہ نمبر2218
بخاری و مسلم میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟ جواب دیا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا ۔ چنانچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا ۔ [صحیح بخاری:2586]
پھر فرمایا ” دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آ کر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہیئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے “۔
«هُوَ» کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کر دی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے «وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» [24-النور:28] یعنی ” اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے “۔
پس یہاں «هُوَ» کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا۔ اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔
صفحہ نمبر2219
یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر «هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى» «أَفْعَلِ التَّفْضِيلِ» کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے، «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» [25-الفرقان:24] ۔ اور جیسے کہ کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا کا عمر رضی اللہ عنہ سے کہنا کہ «اَنْتَ اَفَظُّ وَاَغْلَظُ مِنْ رَّسُوْلِ الّلهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ۔ [صحیح بخاری:3294]
” اللہ سے ڈرو! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیر و شر کا پورا پورا بدلہ دے گا “۔
وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کر چکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چنانچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً بعد جواب دیا کہ اللہ عزوجل ، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو آواز دی اور جب وہ آ گئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا۔ اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا ۔ [صحیح بخاری:4135]
صفحہ نمبر2220
قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”کچھ لوگوں نے دھوکے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا ۔
ابن اسحاق رحمة الله وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کر لیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کر دینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے وہیں سے پلٹ گئے۔
اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، ” مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے “۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کر دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11560]
صفحہ نمبر2221
”اسلام“ زبان سے عہد اور ”ایمان“ عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار ٭٭
اس دین عظیم اور اس رسول اللہ کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کر لینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے۔
اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ”ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے ۔ [صحیح بخاری:7056]
صفحہ نمبر2217
باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ ” تم کیوں ایمان نہیں لاتے؟ حالانکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے “۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کے قول قرار ہو چکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ ” کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ “ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔
سدی رحمة الله اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہیئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہو جاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔
صفحہ نمبر2218
بخاری و مسلم میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟ جواب دیا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا ۔ چنانچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا ۔ [صحیح بخاری:2586]
پھر فرمایا ” دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آ کر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہیئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے “۔
«هُوَ» کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کر دی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے «وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» [24-النور:28] یعنی ” اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے “۔
پس یہاں «هُوَ» کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا۔ اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔
صفحہ نمبر2219
یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر «هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى» «أَفْعَلِ التَّفْضِيلِ» کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے، «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» [25-الفرقان:24] ۔ اور جیسے کہ کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا کا عمر رضی اللہ عنہ سے کہنا کہ «اَنْتَ اَفَظُّ وَاَغْلَظُ مِنْ رَّسُوْلِ الّلهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ۔ [صحیح بخاری:3294]
” اللہ سے ڈرو! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیر و شر کا پورا پورا بدلہ دے گا “۔
وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کر چکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چنانچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً بعد جواب دیا کہ اللہ عزوجل ، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو آواز دی اور جب وہ آ گئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا۔ اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا ۔ [صحیح بخاری:4135]
صفحہ نمبر2220
قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”کچھ لوگوں نے دھوکے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا ۔
ابن اسحاق رحمة الله وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کر لیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کر دینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے وہیں سے پلٹ گئے۔
اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، ” مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے “۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کر دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11560]
صفحہ نمبر2221
عہد شکن لوگ اور امام مہدی کون؟ ٭٭
اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو عہد و پیمان کی وفاداری، حق پر مستقیم رہنے اور عدل کی شہادت دینے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی اپنی ظاہری و باطنی نعمتوں کو یاد دلایا تھا۔ تو اب ان آیتوں میں ان سے پہلے کے اہل کتاب سے جو عہد و میثاق لیا تھا، اس کی حقیقت و کیفیت کو بیان فرما رہا ہے، پھر جبکہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان توڑ ڈالے تو ان کا کیا حشر ہوا، اسے بیان فرما کر گویا مسلمانوں کو عہد شکنی سے روکتا ہے۔
ان کے بارہ سردار تھے۔ یعنی بارہ قبیلوں کے بارہ چودھری تھے جو ان سے ان کی بیعت کو پورا کراتے تھے کہ یہ اللہ اور رسول علیہ السلام کے تابع فرمان رہیں اور کتاب اللہ کی اتباع کرتے رہیں۔ موسیٰ علیہ السلام جب سرکشوں سے لڑنے کیلئے گئے تب ہر قبیلہ میں سے ایک ایک سردار منتخب کر گئے تھے۔ اوبیل قبیلے کا سردار شامون بن اکون تھا، شمعونیوں کا چودھری شافاط بن جدی، یہودا کا کالب بن یوحنا، فیخائیل کا ابن یوسف اور افرایم کا یوشع بن نون اور بنیامین کے قبیلے کا چودھری قنطمی بن وفون، زبولون کا جدی بن شوری، منشاء کاجدی بن سوسی، دان حملاسل کا ابن حمل، اشار کا ساطور، تفتای کا بحر اور یاسخر کالابل۔ توراۃ کے چوتھے جز میں بنو اسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں کے نام مذکور ہیں۔ جو ان ناموں سے قدرے مختلف ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2226
موجودہ تورات کے نام یہ ہیں۔ بنو ادبیل پر صونی بن سادون، بنی شمعون پر شموال بن صور، بنو یہود پر حشون بن عمیاذب، بنو یساخر پر شال بن صاعون، بنو زبولوں پر الیاب بن حالوب، بنو افرایم پر منشابن عنہور، بنو منشاء پر حمائیل بنو بیبا میں پر ابیدن، بنودان پر جعیذ ربنو اشاذ نحایل۔
بون کان پر سیف بن دعوابیل، بنو نفعالی پر اجذع۔ یاد رہے کہ لیلتہ العقبہ میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے بیعت لی اس وقت ان کے سردار بھی بارہ ہی تھے۔ تین قبیلہ اوس کے۔ حضرت اسید بن حضیر، سعد بنی خیشمہ اور رفاعہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہم اور نو سردار قبیلہ خزرج تھے۔ ابوامامہ، اسعد بن زرارہ، سعد بن ربیع، عبداللہ بن رواحہ، رافع بن مالک بن عجلان براء بن معرور عبادہ بن صامت، سعد بن عبادہ، عبداللہ بن عمرو بن حرام، منذربن عمرو بن حنیش رضی اللہ عنہم اجمعین۔ انہی سرداروں نے اپنی اپنی قوم کی طرف سے پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم سے فرامین سننے اور ماننے کی بیعت کی۔
صفحہ نمبر2227
حضرت مسروق رحمة الله فرماتے ہیں ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے، آپ رضی اللہ عنہ ہمیں اس وقت قرآن پڑھا رہے تھے تو ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی پوچھا ہے کہ اس امت کے کتنے خلیفہ ہوں گے؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں جب سے عراق آیا ہوں، اس سوال کو بجز تیرے کسی نے نہیں پوچھا، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بارہ ہوں گے، جتنی گنتی بنو اسرائیل کے نقیبوں کی تھی ۔ [مسند احمد:389/1:ضعیف] یہ روایت سنداً غریب ہے، لیکن مضمون حدیث بخاری اور مسلم کی روایت سے بھی ثابت ہے۔
صفحہ نمبر2228
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، لوگوں کا کام چلتا رہے گا، جب تک ان کے والی بارہ شخص نہ ہولیں ، پھر ایک لفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن میں نہ سن سکا تو میں نے دوسروں سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اب کون سا لفظ فرمایا، انہوں نے جواب دیا یہ فرمایا کہ یہ سب قریش ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:7223-7222] صحیح مسلم میں یہی لفظ ہیں۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بارہ خلیفہ صالح نیک بخت ہونگے۔ جو حق کو قائم کریں گے اور لوگوں میں عدل کرینگے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ سب پے در پے یکے بعد دیگرے ہی ہوں۔
صفحہ نمبر2229
پس چار خلفاء تو پے در پے سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی رضی اللہ عنہم جن کی خلافت بطریق نبوت رہی۔ انہی بارہ میں سے پانچویں عمر بن عبدالعزیز رحمة الله ہیں۔
بنو عباس میں سے بھی بعض اسی طرح کے خلیفہ ہوئے ہیں اور قیامت سے پہلے پہلے ان بارہ کی تعداد پوری ہونی ضروری ہے اور انہی میں سے امام مہدی رحمة الله ہیں، جن کی بشارت احادیث میں آ چکی ہے ان کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہو گا اور ان کے والد کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کا ہو گا، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے حالانکہ اس سے پہلے وہ ظلم و جبر سے پُر ہوگی [سنن ابوداود:4282،قال الشيخ الألباني:صحیح]
لیکن اس سے شیعوں کا امام منتظر مراد نہیں، اس کی تو دراصل کوئی حقیقت ہی نہیں، نہ سرے سے اس کا کوئی وجود ہے، بلکہ یہ تو صرف شیعہ کی وہم پرستی اور ان کا تخیل ہے، نہ اس حدیث سے شیعوں کے فرقے اثنا عشریہ کے ائمہ مراد ہیں۔ اس حدیث کو ان ائمہ پر محمول کرنا بھی شیعوں کے اس فرقہ کی بناوٹ ہے جو ان کی کم عقلی اور جہالت کا کرشمہ ہے۔
صفحہ نمبر2230
توراۃ میں سیدنا اسمعیل علیہ السلام کی بشارت کے ساتھ ہی مرقوم ہے کہ ان کی نسل میں سے بارہ بڑے شخص ہونگے، اسے مراد بھی یہی مسلمانوں کے بارہ قریشی بادشاہ ہیں لیکن جو یہودی مسلمان ہوئے تھے، وہ اپنے اسلام میں کچے اور جاہل بھی تھے، انہوں نے شیعوں کے کان میں کہیں یہ صور پھونک دیا اور وہ سمجھ بیٹھے کہ اس سے مراد ان کے بارہ امام ہیں، ورنہ حدیثیں اس کے واضح خلاف موجود ہیں۔
صفحہ نمبر2231
باب
اب اس عہد و پیمان کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں سے لیا تھا کہ وہ نمازیں پڑھتے رہیں، زکوٰۃ دیتے رہیں، اللہ کے رسولوں کی تصدیق کریں، ان کی نصرت و اعانت کریں اور اللہ کی مرضی کے کاموں میں اپنا مال خرچ کریں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ کی مدد و نصرت ان کے ساتھ رہے گی، ان کے گناہ معاف ہونگے اور یہ جنتوں میں داخل کئے جائیں گے، مقصود حاصل ہوگا اور خوف زائل ہوگا۔
لیکن اگر وہ اس عہد و پیمان کے بعد پھرگئے اور اسے غیر معروف کر دیا تو یقیناً وہ حق سے دور ہو جائیں گے، بھٹک اور بہک جائیں گے۔ چنانچہ یہی ہوا کہ انہوں نے میثاق توڑ دیا، وعدہ خلافی کی تو ان پر اللہ کی لعنت نازل ہوئی، ہدایت سے دور ہوگئے، ان کے دل سخت ہوگئے اور وعظ و پند سے مستفید نہ ہو سکے، سمجھ بگڑ گئی، اللہ کی باتوں میں ہیر پھیر کرنے لگے، باطل تاویلیں گھڑنے لگے، جو مراد حقیقی تھی، اس سے کلام اللہ کو پھیر کر اور ہی مطلب سمجھنے سمجھانے لگے، اللہ کا نام لے کر وہ مسائل بیان کرنے لگے، جو اللہ کے بتائے ہوئے نہ تھے، یہاں تک کہ اللہ کی کتاب ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی، وہ اس سے بےعمل چھوٹ جانے کی توجہ سے نہ تو دل ٹھیک رہے، نہ فطرت اچھی رہی۔ نہ خلوص و اخلاص رہا، غداری اور مکاری کو اپنا شیوہ بنا لیا۔ نت نئے جال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب نبی کے خلاف بنتے رہے۔
صفحہ نمبر2232
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے چشم پوشی کیجئے “، یہی معاملہ ان کے ساتھ اچھا ہے، جیسے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جو تجھ سے اللہ کے فرمان کے خلاف سلوک کرے تو اس سے حکم الٰہی کی بجا آوری کے ماتحت سلوک کر۔“
اس میں ایک بڑی مصلحت یہ بھی ہے کہ ممکن ہے ان کے دل کھنچ آئیں، ہدایت نصیب ہو جائے اور حق کی طرف آ جائیں۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ یعنی دوسروں کی بدسلوکی سے چشم پوشی کر کے خود نیا سلوک کرنے والے اللہ کے محبوب ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”درگزر کرنے کا حکم جہاد کی آیت سے منسوخ ہے۔“
صفحہ نمبر2233
باب
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” ان نصرانیوں سے بھی ہم نے وعدہ لیا تھا کہ جو رسول آئے گا، یہ اس پر ایمان لائیں گے، اس کی مدد کرینگے اور اس کی باتیں مانیں گے “۔
” لیکن انہوں نے بھی یہودیوں کی طرح بدعہدی کی، جس کی سزا میں ہم نے ان میں آپس میں عداوت ڈال دی جو قیامت تک جاری رہے گی “۔
ان میں فرقے فرقے بن گئے جو ایک دوسرے کو کافر و ملعون کہتے ہیں اور اپنے عبادت خانوں میں بھی نہیں آنے دیتے ملکیہ فرقہ یعقوبیہ فرقے کو، یعقوبیہ ملکیہ کو کھلے بندوں کافر کہتے ہیں، اسی طرح دوسرے تمام فرقے بھی، انہیں ان کے اعمال کی پوری تنبیہہ عنقریب ہوگی۔ انہوں نے بھی اللہ کی نصیحتوں کو بھلا دیا ہے اور اللہ پر تہمتیں لگائی ہیں اس پر بیوی اور اولاد والا ہونے کا بہتان باندھا ہے، یہ قیامت کے دن بری طرح پکڑے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ واحد و احد فرد «اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ» ہے۔
صفحہ نمبر2234
علمی بددیانت ٭٭
فرماتا ہے کہ ” رب الاعلیٰ نے اپنے عالی قدر رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تمام مخلوق کی طرف بھیج دیا ہے، معجزے اور روشن دلیلیں انہیں عطا فرمائی ہیں جو باتیں یہود و نصاریٰ نے بدل ڈالی تھیں، تاویلیں کرکے دوسرے مطلب بنا لیے تھے اور اللہ کی ذات پر بہتان باندھتے تھے، کتاب اللہ کے جو حصے اپنے نفس کے خلاف پاتے تھے، انہیں چھپا لیتے تھے، ان سب علمی بد دیانتیوں کو یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بے نقاب کرتے ہیں۔ ہاں جس کے بیان کی ضرورت ہی نہ ہو، بیان نہیں فرماتے “۔
مستدرک حاکم میں ہے ”جس نے رجم کے مسئلہ کا انکار کیا، اس نے بےعملی سے قرآن سے انکار کیا۔“ چنانچہ اس آیت میں اسی رجم کے چھپانے کا ذکر ہے۔
پھر قرآن عظیم کی بابت فرماتا ہے کہ ” اسی نے اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی یہ کتاب اتاری ہے، جو جویائے حق کو سلامتی کی راہ بتاتی ہے، لوگوں کو ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتی ہے اور راہ مستقیم کی رہبر ہے اس کتاب کی وجہ سے اللہ کے انعاموں کو حاصل کر لینا اور اس کی سزاؤں سے بچ جانا بالکل آسان ہو گیا ہے یہ ضلالت کو مٹا دینے والی اور ہدایت کو واضح کر دینے والی ہے “۔
صفحہ نمبر2235
علمی بددیانت ٭٭
فرماتا ہے کہ ” رب الاعلیٰ نے اپنے عالی قدر رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تمام مخلوق کی طرف بھیج دیا ہے، معجزے اور روشن دلیلیں انہیں عطا فرمائی ہیں جو باتیں یہود و نصاریٰ نے بدل ڈالی تھیں، تاویلیں کرکے دوسرے مطلب بنا لیے تھے اور اللہ کی ذات پر بہتان باندھتے تھے، کتاب اللہ کے جو حصے اپنے نفس کے خلاف پاتے تھے، انہیں چھپا لیتے تھے، ان سب علمی بد دیانتیوں کو یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بے نقاب کرتے ہیں۔ ہاں جس کے بیان کی ضرورت ہی نہ ہو، بیان نہیں فرماتے “۔
مستدرک حاکم میں ہے ”جس نے رجم کے مسئلہ کا انکار کیا، اس نے بےعملی سے قرآن سے انکار کیا۔“ چنانچہ اس آیت میں اسی رجم کے چھپانے کا ذکر ہے۔
پھر قرآن عظیم کی بابت فرماتا ہے کہ ” اسی نے اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی یہ کتاب اتاری ہے، جو جویائے حق کو سلامتی کی راہ بتاتی ہے، لوگوں کو ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتی ہے اور راہ مستقیم کی رہبر ہے اس کتاب کی وجہ سے اللہ کے انعاموں کو حاصل کر لینا اور اس کی سزاؤں سے بچ جانا بالکل آسان ہو گیا ہے یہ ضلالت کو مٹا دینے والی اور ہدایت کو واضح کر دینے والی ہے “۔
صفحہ نمبر2235
اللہ وحدہ لا شریک ہے ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ عیسائیوں کے کفر کو بیان فرماتا ہے کہ ” انہوں نے اللہ کی مخلوق کو الوہیت کا درجہ دے رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے، تمام چیزیں اس کی محکوم اور مقدور ہیں، ہر چیز پر اس کی حکومت اور ملکیت ہے۔ کوئی نہیں جو اسے کسی ارادے سے باز رکھ سکے، کوئی نہیں جو اس کی مرضی کے خلاف لب کشائی کی جرأت کر سکے۔ وہ اگر مسیح کو، ان کی والدہ کو اور روئے زمین کی تمام مخلوق کا موجد و خالق وہی ہے۔ سب کا مالک اور سب کا حکمراں وہی ہے۔ جو چاہے کر گزرے کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں، اس سے کوئی بازپرس نہیں کر سکتا، اس کی سلطنت و مملکت بہت وسیع ہے، اس کی عظمت، عزت بہت بلند ہے، وہ عادل و غالب ہے۔ جسے جس طرح چاہتا ہے بناتا بگاڑتا ہے، اس کی قدرتوں کی کوئی انتہاء نہیں “۔
صفحہ نمبر2237
نصرانیوں کی تردید کے بعد اب یہودیوں اور نصرانیوں دونوں کی تردید ہو رہی ہے کہ ” انہوں نے اللہ پر ایک جھوٹ یہ باندھا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، ہم انبیاء کی اولاد ہیں اور وہ اللہ کے لاڈلے فرزند ہیں “۔
اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسرائیل علیہ السلام کو کہا ہے «(أَنْتَ ابْنِي بِكْرِي)» پھر تاویلیں کر کے مطلب الٹ پلٹ کر کے کہتے کہ جب وہ اللہ کے بیٹے ہوئے تو ہم بھی اللہ کے بیٹے اور عزیز ہوئے حالانکہ خود ان ہی میں سے جو عقلمند اور صاحب دین تھے وہ انہیں سمجھاتے تھے کہ ان لفظوں سے صرف بزرگی ثابت ہوتی ہے، قرابت داری نہیں۔
اسی معنی کی آیت نصرانی اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا «(إِنِّي ذَاھِبٌ اِلـٰی اَبِیْ وَاَبِیْکُمْ)» اس سے مراد بھی سگا باپ نہ تھا بلکہ ان کے اپنے محاورے میں اللہ کیلئے یہ لفظ بھی آتا تھا۔ پس مطلب اس کا یہ ہے کہ میں اپنے اور تمہارے رب کی طرف جا رہا ہوں اور عبادت کا مفہوم واضح بتا رہا ہے کہ یہاں اس آیت میں جو نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے، وہی نسبت ان کی تمام امت کی طرف ہے لیکن وہ لوگ اپنے باطل عقیدے میں عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ سے جو نسبت دیتے ہیں، اس نسبت کا اپنے اپنے اوپر اطلاق نہیں مانتے۔ پس یہ لفظ صرف عزت و وقعت کیلئے تھا نہ کہ کچھ اور۔
صفحہ نمبر2238
اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے کہ ” اگر یہ صحیح ہے تو پھر تمہارے کفر و کذب، بہتان و افتراء پر اللہ تمہیں سزا کیوں کرتا ہے؟ “۔
کسی صوفی نے کسی فقیہ سے دریافت فرمایا کہ ”کیا قرآن میں یہ بھی کہیں ہے کہ حبیب اپنے حبیب کو عذاب نہیں کرتا؟ اس سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو صوفی نے یہی آیت تلاوت فرما دی۔“
یہ قول نہایت عمدہ ہے اور اسی کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ راہ سے گزر رہے تھے، ایک چھوٹا سا بچہ راستہ میں کھیل رہا تھا، اس کی ماں نے جب دیکھا کہ اسی جماعت کی جماعت اسی راہ آ رہی ہے تو اسے ڈر لگا کہ بچہ روندا نہ جائے میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی ہوئی آئی اور جھٹ سے بچے کو گود میں اٹھا لیا اس پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ عورت تو اپنے پیارے بچے کو کبھی بھی آگ میں نہیں ڈال سکتی“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے، اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے بندوں کو ہرگز جہنم میں نہیں لے جائے گا ۔“ [مسند احمد:104/3:صحیح]
صفحہ نمبر2239
یہودیوں کے جواب میں فرماتا ہے کہ ” تم بھی منجملہ اور مخلوق کے ایک انسان ہو تمہیں دوسروں پر کوئی فوقیت و فضیلت نہیں، اللہ سبحان و تعالیٰ اپنے بندوں پر حاکم ہے اور وہی ان میں سچے فیصلے کرنے والا ہے، وہ جسے چاہے بخشے جسے چاہے پکڑے، وہ جو چاہے کر گزرتا ہے، اس کا کوئی حاکم نہیں، اسے کوئی رد نہیں کر سکتا، وہ بہت جلد بندوں سے حساب لینے والا ہے۔ زمین و آسان اور ان کے درمیان کی مخلوق سب اس کی ملکیت ہے“ اس کے زیر اثر ہے، اس کی بادشاہت تلے ہے، سب کا لوٹنا اس کی طرف ہے، وہی بندوں کے فیصلے کرے گا، وہ ظالم نہیں عادل ہے، نیکوں کو نیکی اور بدوں کو بدی دے گا “۔
نعمان بن آصا، بحر بن عمرو، شاس بن عدی جو یہودیوں کے بڑے بھاری علماء تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا بجھایا، آخرت کے عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے سنئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ڈرا رہے ہیں، ہم تو اللہ کے بچے اور اس کے پیارے ہیں، یہی نصرانی بھی کہتے تھے پس یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11616:ضعیف]
ان لوگوں نے ایک بات یہ بھی گھڑ کر مشہور کر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسرائیل علیہ السلام کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تیرا پہلونٹھا بیٹا میری اولاد میں سے ہے۔ اس کی اولاد چالیس دن تک جہنم میں رہے گی، اس مدت میں آگ انہیں پاک کر دے گی اور ان کی خطاؤں کو کھا جائے گی، پھر ایک فرشتہ منادی کرے گا کہ اسرائیل کی اولاد میں سے جو بھی ختنہ شدہ ہوں، وہ نکل آئیں، یہی معنی ہیں ان کے اس قول کے جو قرآن میں مروی ہے ” وہ کہتے ہیں ہمیں گنتی کے چند ہی دن جہنم میں رہنا پڑے گا “۔
صفحہ نمبر2240
اللہ وحدہ لا شریک ہے ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ عیسائیوں کے کفر کو بیان فرماتا ہے کہ ” انہوں نے اللہ کی مخلوق کو الوہیت کا درجہ دے رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے، تمام چیزیں اس کی محکوم اور مقدور ہیں، ہر چیز پر اس کی حکومت اور ملکیت ہے۔ کوئی نہیں جو اسے کسی ارادے سے باز رکھ سکے، کوئی نہیں جو اس کی مرضی کے خلاف لب کشائی کی جرأت کر سکے۔ وہ اگر مسیح کو، ان کی والدہ کو اور روئے زمین کی تمام مخلوق کا موجد و خالق وہی ہے۔ سب کا مالک اور سب کا حکمراں وہی ہے۔ جو چاہے کر گزرے کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں، اس سے کوئی بازپرس نہیں کر سکتا، اس کی سلطنت و مملکت بہت وسیع ہے، اس کی عظمت، عزت بہت بلند ہے، وہ عادل و غالب ہے۔ جسے جس طرح چاہتا ہے بناتا بگاڑتا ہے، اس کی قدرتوں کی کوئی انتہاء نہیں “۔
صفحہ نمبر2237
نصرانیوں کی تردید کے بعد اب یہودیوں اور نصرانیوں دونوں کی تردید ہو رہی ہے کہ ” انہوں نے اللہ پر ایک جھوٹ یہ باندھا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، ہم انبیاء کی اولاد ہیں اور وہ اللہ کے لاڈلے فرزند ہیں “۔
اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسرائیل علیہ السلام کو کہا ہے «(أَنْتَ ابْنِي بِكْرِي)» پھر تاویلیں کر کے مطلب الٹ پلٹ کر کے کہتے کہ جب وہ اللہ کے بیٹے ہوئے تو ہم بھی اللہ کے بیٹے اور عزیز ہوئے حالانکہ خود ان ہی میں سے جو عقلمند اور صاحب دین تھے وہ انہیں سمجھاتے تھے کہ ان لفظوں سے صرف بزرگی ثابت ہوتی ہے، قرابت داری نہیں۔
اسی معنی کی آیت نصرانی اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا «(إِنِّي ذَاھِبٌ اِلـٰی اَبِیْ وَاَبِیْکُمْ)» اس سے مراد بھی سگا باپ نہ تھا بلکہ ان کے اپنے محاورے میں اللہ کیلئے یہ لفظ بھی آتا تھا۔ پس مطلب اس کا یہ ہے کہ میں اپنے اور تمہارے رب کی طرف جا رہا ہوں اور عبادت کا مفہوم واضح بتا رہا ہے کہ یہاں اس آیت میں جو نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے، وہی نسبت ان کی تمام امت کی طرف ہے لیکن وہ لوگ اپنے باطل عقیدے میں عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ سے جو نسبت دیتے ہیں، اس نسبت کا اپنے اپنے اوپر اطلاق نہیں مانتے۔ پس یہ لفظ صرف عزت و وقعت کیلئے تھا نہ کہ کچھ اور۔
صفحہ نمبر2238
اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے کہ ” اگر یہ صحیح ہے تو پھر تمہارے کفر و کذب، بہتان و افتراء پر اللہ تمہیں سزا کیوں کرتا ہے؟ “۔
کسی صوفی نے کسی فقیہ سے دریافت فرمایا کہ ”کیا قرآن میں یہ بھی کہیں ہے کہ حبیب اپنے حبیب کو عذاب نہیں کرتا؟ اس سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو صوفی نے یہی آیت تلاوت فرما دی۔“
یہ قول نہایت عمدہ ہے اور اسی کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ راہ سے گزر رہے تھے، ایک چھوٹا سا بچہ راستہ میں کھیل رہا تھا، اس کی ماں نے جب دیکھا کہ اسی جماعت کی جماعت اسی راہ آ رہی ہے تو اسے ڈر لگا کہ بچہ روندا نہ جائے میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی ہوئی آئی اور جھٹ سے بچے کو گود میں اٹھا لیا اس پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ عورت تو اپنے پیارے بچے کو کبھی بھی آگ میں نہیں ڈال سکتی“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے، اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے بندوں کو ہرگز جہنم میں نہیں لے جائے گا ۔“ [مسند احمد:104/3:صحیح]
صفحہ نمبر2239
یہودیوں کے جواب میں فرماتا ہے کہ ” تم بھی منجملہ اور مخلوق کے ایک انسان ہو تمہیں دوسروں پر کوئی فوقیت و فضیلت نہیں، اللہ سبحان و تعالیٰ اپنے بندوں پر حاکم ہے اور وہی ان میں سچے فیصلے کرنے والا ہے، وہ جسے چاہے بخشے جسے چاہے پکڑے، وہ جو چاہے کر گزرتا ہے، اس کا کوئی حاکم نہیں، اسے کوئی رد نہیں کر سکتا، وہ بہت جلد بندوں سے حساب لینے والا ہے۔ زمین و آسان اور ان کے درمیان کی مخلوق سب اس کی ملکیت ہے“ اس کے زیر اثر ہے، اس کی بادشاہت تلے ہے، سب کا لوٹنا اس کی طرف ہے، وہی بندوں کے فیصلے کرے گا، وہ ظالم نہیں عادل ہے، نیکوں کو نیکی اور بدوں کو بدی دے گا “۔
نعمان بن آصا، بحر بن عمرو، شاس بن عدی جو یہودیوں کے بڑے بھاری علماء تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا بجھایا، آخرت کے عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے سنئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ڈرا رہے ہیں، ہم تو اللہ کے بچے اور اس کے پیارے ہیں، یہی نصرانی بھی کہتے تھے پس یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11616:ضعیف]
ان لوگوں نے ایک بات یہ بھی گھڑ کر مشہور کر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسرائیل علیہ السلام کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تیرا پہلونٹھا بیٹا میری اولاد میں سے ہے۔ اس کی اولاد چالیس دن تک جہنم میں رہے گی، اس مدت میں آگ انہیں پاک کر دے گی اور ان کی خطاؤں کو کھا جائے گی، پھر ایک فرشتہ منادی کرے گا کہ اسرائیل کی اولاد میں سے جو بھی ختنہ شدہ ہوں، وہ نکل آئیں، یہی معنی ہیں ان کے اس قول کے جو قرآن میں مروی ہے ” وہ کہتے ہیں ہمیں گنتی کے چند ہی دن جہنم میں رہنا پڑے گا “۔
صفحہ نمبر2240
محمد صلی اللہ علیہ وسلم مطلقاً خاتم الانبیاء ہیں! ٭٭
اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو خطاب کرکے فرماتا ہے کہ ” میں نے تم سب کی طرف اپنا رسول بھیج دیا ہے جو خاتم الانبیاء ہے، جس کے بعد کوئی نبی رسول آنے والا نہیں، یہ سب کے بعد ہیں، دیکھ لو عیسیٰ کے بعد سے لے کر اب تک کوئی رسول نہیں آیا، «عَلَى فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ» کہ اس لمبی مدت کے بعد یہ رسول آئے “۔
بعض کہتے ہیں یہ مدت چھ سو سال کی تھی۔ [صحیح بخاری:3947]
صفحہ نمبر2242
بعض کہتے ہیں ساڑھے پانچ سو برس کی، بعض کہتے ہیں پانچ سو چالیس برس کی۔ [عبد الرزاق فی المصنف:186/1:صحیح]
کوئی کہتا ہے چار سو کچھ اوپر تیس برس کی۔ ابن عساکر میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کرنے کے درمیان نو سو تینتیس سال کا فاصلہ تھا۔ لیکن مشہور قول پہلا ہی ہے یعنی چھ سو سال کا، بعض کہتے ہیں چھ سو بیس سال کا فاصلہ تھا۔
ان دونوں قولوں میں اس طرح تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ پہلا قول شمسی حساب سے ہو اور دوسرا قمری حساب سے ہو اور اس گنتی میں ہر تین سو سال میں تقریباً آٹھ کا فرق پڑ جاتا ہے۔ اسی لیے اہل کہف کے قصے میں ہے، «وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا» [18-الکھف:25] ، ” وہ لوگ اپنے غار میں تین سو سال تک رہے اور نو برس اور زیادہ کئے “۔
صفحہ نمبر2243
پس شمسی حساب سے اہل کتاب کو جو مدت ان کی غار کی معلوم تھی، وہ تین سو سال کی تھی، نو بڑھا کر قمری حساب پورا ہو گیا۔ آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لے کر جو بنی اسرائیل کے آخری نبی علیہ السلام تھے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جو علی الا طلاق خاتم الانبیاء تھے، «فترۃ» کا زمانہ تھا یعنی درمیان میں کوئی نبی نہیں ہوا۔
چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں عیسیٰ علیہ السلام سے یہ بہ نسبت اور لوگوں کے میں زیادہ اولیٰ ہوں، اس لیے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ۔ [صحیح بخاری:3442]
اس میں ان لوگوں کی بھی تردید ہے جو خیال کرتے ہیں کہ ان دونوں جلیل القدر پیغمبروں کے درمیان بھی ایک نبی گزرے ہیں، جن کا نام خالد بن سنان تھا۔ جیسے کہ قضاعی وغیرہ نے حکایت کی ہے۔
صفحہ نمبر2244
مقصود یہ ہے کہ خاتم الانبیاء حبیب اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں اس وقت تشریف لاتے ہیں جبکہ رسولوں کی تعلیم مٹ چکی ہے، ان کی راہیں بے نشان ہو چکی ہیں، دنیا توحید کو بھلا چکی ہے، دنیا توحید کو بھلا چکی ہے، جگہ جگہ مخلوق پرستی ہو رہی ہے، سورج چاند بت آگ کی پوجا جا رہی ہے، اللہ کا دین بدل چکا ہے، کفر کی تاریکی نور دین پر چھا چکی ہے، دنیا کا چپہ چپہ سرکشی اور طغیانی سے بھر گیا ہے، عدل و انصاف بلکہ انسانیت بھی فنا ہو چکی ہے، جہالت و قساوت کا دور دورہ ہے، بجز چند نفوس کے اللہ کا نام لیوا زمین پر نہیں رہا، پس معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت و عزت اللہ کے پاس بہت بڑی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو رسالت کی ذمہ داری ادا کی، وہ کوئی معمولی نہ تھی، صلی اللہ علیہ وسلم ۔
صفحہ نمبر2245
مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا مجھے میرے رب کا حکم ہے کہ میں تمہیں وہ باتیں سکھاؤں، جن سے تم ناواقف ہو اور اللہ تعالیٰ نے مجھے آج بھی بتائی ہیں، فرمایا ہے ” میں نے اپنے بندوں کو جو کچھ عنایت فرمایا ہے وہ ان کیلئے حلال ہے، میں نے اپنے سب بندوں کو موحد پیدا کیا ہے، لیکن پھر شیطان ان کے پاس آتا ہے اور انہیں بہکاتا ہے اور میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں کہتا ہے کہ وہ میرے ساتھ باوجود دلیل نہ ہونے کے شرک کریں “۔ سنو اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کو دیکھا اور تمام عرب و عجم کو ناپسند فرمایا بجز ان چند بقایا بنی اسرائیل کے (جو توحید پر قائم ہیں) پھر (مجھ سے) فرمایا، ” میں نے تجھے اسی لیے اپنا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ تیری آزمائش کروں اور تیری وجہ سے اوروں کی بھی آزمائش کر لوں۔ میں تجھ پر وہ کتاب نازل فرمائی ہے، جسے پانی دھو نہیں سکتا جسے تو سوتے جاگتے پڑھتا ہے “ ۔ پھر مجھے میرے رب نے حکم دیا کہ ” قریشیوں میں پیغام الٰہی پہنچاؤں “، میں نے کہا یا رب یہ تو میرا سر کچل کر روٹی جیسا بنا دیں گے ، پروردگار نے فرمایا ” تو انہیں نکال، جیسے انہوں نے تجھے نکالا تو ان سے جہاد کر، تیری امداد کی جائے گی “۔
صفحہ نمبر2246
” تو ان پر خرچ کر، تجھ پر خرچ کیا جائے گا، تو ان کے مقابلے پر لشکر بھیج، ہم اس سے پانچ گنا لشکر اور بھیجیں گے اپنے فرمانبرداروں کو لے کر اپنے نافرمانوں سے جنگ کر، جنتی لوگ تین قسم کے ہیں، بادشاہ عادل، توفیق خیر والا، صدقہ خیرات کرنے والا اور باوجود مفلس ہونے کے حرام سے بچنے والا، حالانکہ اہل و عیال بھی ہے، اور جہنمی لوگ پانچ قسم کے ہیں وہ سفلے لوگ جو بے دین، خوشامد خورے اور ماتحت ہیں، جن کی آل اولاد دھن دولت ہے اور وہ حائن لوگ جن کے دانت چھوٹی سے چھوٹی چیز پر بھی ہوتے ہیں اور حقیر چیزوں میں بھی خیانت سے نہیں چوکتے اور وہ لوگ جو صبح شام لوگوں کو ان کے اہل و مال میں دھوکہ دیتے پھرتے ہیں اور بخیل ہیں “۔ فرمایا کذاب اور شنطیر یعنی بدگو ۔ یہ حدیث مسلم اور نسائی میں ہے۔ [صحیح مسلم:2865]
مقصود یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت سچا دین دنیا میں نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے لوگوں کو اندھیروں سے اور گمراہیوں سے نکال کر اجالے میں اور راہ راست پر لاکھڑا کیا اور انہیں روشن و ظاہر شریعت عطا فرمائی۔ اس لیے کہ لوگوں کا عذر نہ رہے، انہیں یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا، ہمیں نہ تو کسی نے کوئی خوشخبری سنائی نہ دھمکایا ڈرایا۔
پس کامل قدرتوں والے اللہ نے اپنے برگزیدہ پیغمبروں علیہم السلام کو ساری دنیا کی ہدایت کیلئے بھیج دیا، وہ اپنے فرمانبرداروں کو ثواب دینے پر اور نافرمانوں کو عذاب کرنے پر قادر ہے۔
صفحہ نمبر2247
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا ”لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی علیہ السلام تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔“
سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء علیہم السلام تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء و الرسل محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واسطہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔
اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنا دیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھربار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیری بیوی ہے؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔
صفحہ نمبر2248
حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”سواری اور خادم ملک ہے۔“ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ رحمة الله خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔
ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا ۔ [ضعیف:اسکی سند میں ابن لبیعہ ضعیف ہے]
ایک اور مرفوع حدیث میں ہے جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11629:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن و امان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی ۔ [سنن ترمذي:2346،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے۔
اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ» [45-الجاثية:16] ” ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی “۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ ”اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔“ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے۔
خود قرآن فرماتا ہے آیت «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» [3-آل عمران:110] ، اور فرمایا آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [2-البقرۃ:143] ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے“ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من و سلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں۔“ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2249
پھر بیان ہوتا ہے کہ ” بیت المقدس دراصل ان کے دادا یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی “۔
اب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا۔“ لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے۔ مقدسہ سے مراد پاک ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے۔“ ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آرہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا۔
”اللہ نے اسے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہو جاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑ جاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ علیہ السلام فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جا سکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”موسیٰ علیہ السلام جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔“
صفحہ نمبر2250
یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہو گئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جا کر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہو گیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کر دو۔ چنانچہ انہوں نے جا کر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے۔“ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔
دوسری روایت میں ہے کہ ”ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہدیا۔ اب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔
صفحہ نمبر2251
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا ”ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے۔“ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں [3333] تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیاء مانع ہے۔
پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے ۔ [صحیح بخاری:3326]
ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا یہ مذکور ہے کہ «رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» [71-نوح:26] ” زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہیئے “، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی۔
قرآن فرماتا ہے «فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ» [26-الشعراء:119-120] ”ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کر دیا۔“
خود قرآن میں ہے کہ «لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ» [11-هود:43] ” آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں “۔
تعجب سا تعجب ہے کہ نوح علیہ السلام کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2252
بنی اسرائیل جب اپنے نبی کریم علیہ السلام کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بے ادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آ جائے۔
ایک قرأت میں «يَخَافُونَ» کے بدلے «یَـھَـابَـوْنَ» ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ”ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی۔ ایک کا نام یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا۔“ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول علیہ السلام کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔
لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کر دیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر یوشع اور کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کر دیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہو گیا اور بے طرح مخالفت رسول علیہ السلام پر تل گئے۔
صفحہ نمبر2253
ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حال کو دیکھئیے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا۔
ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہیئے؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے صدیق رضی اللہ عنہ نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔
صفحہ نمبر2254
لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لیے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔
اس پر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ”شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے؟ سنئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کرکے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہو جایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر ان شاءاللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔“
یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں رضی اللہ عنہم۔ [صحیح مسلم:1779]
صفحہ نمبر2255
ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ ”اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ۔ [مسند احمد:105/3:صحیح] مقداد انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ [مسند احمد:314/4:]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ”سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔“ [صحیح بخاری:4609] انہوں نے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔“ [مسند احمد:389/1:صحیح] (کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر خوش کر سکتا)۔
ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11686:ضعیف] جبکہ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بیت اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں ، تو سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہم اصحاب موسیٰ علیہ السلام کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی کریم علیہ السلام سے کہدیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔“
یہ سن کر اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کر دیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2256
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ ”رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما۔“
جناب باری تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ ” اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے “، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔
یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من و سلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہو گئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سب مروی ہے۔ پھر ہارون علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ علیہ السلام کے خلیفہ یوشع بن نون علیہ السلام نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین «سَنَةً» پر وقف تام کرتے ہیں اور «أَرْبَعِينَ سَنَةً» کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل «تِيهُونَ فِي الْأَرْضِ» کو بتلاتے ہیں۔ اس چالیس سالہ مدت کے گزرجانے کے بعد جو بھی باقی تھے، انہیں لے کر یوشع بن نون علیہ السلام نکلے اور دوسرے پہاڑ سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہولیے اور آپ علیہ السلام نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔
صفحہ نمبر2257
جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آ پہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لیے اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ! اسے ذرا سی دیر روک دے۔“
چنانچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ علیہ السلام نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ ” بنی اسرائیل کو کہدو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حِطَّةٌ» کہیں “ یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔
لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی «حَبَّةٌ فِیْ شَعْرَۃٍ» کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی یوشع علیہ السلام نے فرمایا ”تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔“
صفحہ نمبر2258
چنانچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی کریم علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ علیہ السلام نے فرمایا ”تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ۔“ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے۔
«أَرْبَعِينَ سَنَةً» میں «فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ» عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو کلیم اللہ علیہ السلام نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے موسیٰ علیہ السلام پر بد دعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لیے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔
ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ علیہ السلام کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ علیہ السلام نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مر گیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔
صفحہ نمبر2259
نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس کا تخت تین گز کا تھا۔“ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں “۔
اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول علیہ السلام کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر علیہ السلام ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں۔ نبی اللہ کی بے ادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے ساز و سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گر گئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
صفحہ نمبر2260
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا ”لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی علیہ السلام تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔“
سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء علیہم السلام تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء و الرسل محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واسطہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔
اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنا دیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھربار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیری بیوی ہے؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔
صفحہ نمبر2248
حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”سواری اور خادم ملک ہے۔“ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ رحمة الله خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔
ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا ۔ [ضعیف:اسکی سند میں ابن لبیعہ ضعیف ہے]
ایک اور مرفوع حدیث میں ہے جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11629:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن و امان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی ۔ [سنن ترمذي:2346،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے۔
اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ» [45-الجاثية:16] ” ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی “۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ ”اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔“ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے۔
خود قرآن فرماتا ہے آیت «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» [3-آل عمران:110] ، اور فرمایا آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [2-البقرۃ:143] ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے“ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من و سلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں۔“ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2249
پھر بیان ہوتا ہے کہ ” بیت المقدس دراصل ان کے دادا یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی “۔
اب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا۔“ لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے۔ مقدسہ سے مراد پاک ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے۔“ ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آرہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا۔
”اللہ نے اسے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہو جاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑ جاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ علیہ السلام فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جا سکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”موسیٰ علیہ السلام جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔“
صفحہ نمبر2250
یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہو گئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جا کر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہو گیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کر دو۔ چنانچہ انہوں نے جا کر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے۔“ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔
دوسری روایت میں ہے کہ ”ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہدیا۔ اب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔
صفحہ نمبر2251
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا ”ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے۔“ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں [3333] تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیاء مانع ہے۔
پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے ۔ [صحیح بخاری:3326]
ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا یہ مذکور ہے کہ «رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» [71-نوح:26] ” زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہیئے “، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی۔
قرآن فرماتا ہے «فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ» [26-الشعراء:119-120] ”ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کر دیا۔“
خود قرآن میں ہے کہ «لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ» [11-هود:43] ” آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں “۔
تعجب سا تعجب ہے کہ نوح علیہ السلام کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2252
بنی اسرائیل جب اپنے نبی کریم علیہ السلام کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بے ادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آ جائے۔
ایک قرأت میں «يَخَافُونَ» کے بدلے «یَـھَـابَـوْنَ» ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ”ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی۔ ایک کا نام یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا۔“ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول علیہ السلام کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔
لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کر دیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر یوشع اور کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کر دیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہو گیا اور بے طرح مخالفت رسول علیہ السلام پر تل گئے۔
صفحہ نمبر2253
ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حال کو دیکھئیے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا۔
ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہیئے؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے صدیق رضی اللہ عنہ نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔
صفحہ نمبر2254
لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لیے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔
اس پر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ”شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے؟ سنئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کرکے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہو جایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر ان شاءاللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔“
یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں رضی اللہ عنہم۔ [صحیح مسلم:1779]
صفحہ نمبر2255
ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ ”اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ۔ [مسند احمد:105/3:صحیح] مقداد انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ [مسند احمد:314/4:]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ”سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔“ [صحیح بخاری:4609] انہوں نے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔“ [مسند احمد:389/1:صحیح] (کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر خوش کر سکتا)۔
ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11686:ضعیف] جبکہ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بیت اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں ، تو سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہم اصحاب موسیٰ علیہ السلام کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی کریم علیہ السلام سے کہدیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔“
یہ سن کر اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کر دیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2256
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ ”رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما۔“
جناب باری تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ ” اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے “، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔
یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من و سلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہو گئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سب مروی ہے۔ پھر ہارون علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ علیہ السلام کے خلیفہ یوشع بن نون علیہ السلام نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین «سَنَةً» پر وقف تام کرتے ہیں اور «أَرْبَعِينَ سَنَةً» کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل «تِيهُونَ فِي الْأَرْضِ» کو بتلاتے ہیں۔ اس چالیس سالہ مدت کے گزرجانے کے بعد جو بھی باقی تھے، انہیں لے کر یوشع بن نون علیہ السلام نکلے اور دوسرے پہاڑ سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہولیے اور آپ علیہ السلام نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔
صفحہ نمبر2257
جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آ پہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لیے اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ! اسے ذرا سی دیر روک دے۔“
چنانچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ علیہ السلام نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ ” بنی اسرائیل کو کہدو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حِطَّةٌ» کہیں “ یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔
لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی «حَبَّةٌ فِیْ شَعْرَۃٍ» کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی یوشع علیہ السلام نے فرمایا ”تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔“
صفحہ نمبر2258
چنانچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی کریم علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ علیہ السلام نے فرمایا ”تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ۔“ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے۔
«أَرْبَعِينَ سَنَةً» میں «فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ» عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو کلیم اللہ علیہ السلام نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے موسیٰ علیہ السلام پر بد دعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لیے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔
ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ علیہ السلام کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ علیہ السلام نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مر گیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔
صفحہ نمبر2259
نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس کا تخت تین گز کا تھا۔“ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں “۔
اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول علیہ السلام کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر علیہ السلام ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں۔ نبی اللہ کی بے ادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے ساز و سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گر گئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
صفحہ نمبر2260
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا ”لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی علیہ السلام تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔“
سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء علیہم السلام تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء و الرسل محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واسطہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔
اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنا دیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھربار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیری بیوی ہے؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔
صفحہ نمبر2248
حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”سواری اور خادم ملک ہے۔“ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ رحمة الله خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔
ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا ۔ [ضعیف:اسکی سند میں ابن لبیعہ ضعیف ہے]
ایک اور مرفوع حدیث میں ہے جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11629:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن و امان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی ۔ [سنن ترمذي:2346،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے۔
اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ» [45-الجاثية:16] ” ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی “۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ ”اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔“ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے۔
خود قرآن فرماتا ہے آیت «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» [3-آل عمران:110] ، اور فرمایا آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [2-البقرۃ:143] ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے“ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من و سلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں۔“ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2249
پھر بیان ہوتا ہے کہ ” بیت المقدس دراصل ان کے دادا یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی “۔
اب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا۔“ لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے۔ مقدسہ سے مراد پاک ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے۔“ ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آرہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا۔
”اللہ نے اسے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہو جاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑ جاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ علیہ السلام فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جا سکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”موسیٰ علیہ السلام جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔“
صفحہ نمبر2250
یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہو گئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جا کر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہو گیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کر دو۔ چنانچہ انہوں نے جا کر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے۔“ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔
دوسری روایت میں ہے کہ ”ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہدیا۔ اب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔
صفحہ نمبر2251
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا ”ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے۔“ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں [3333] تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیاء مانع ہے۔
پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے ۔ [صحیح بخاری:3326]
ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا یہ مذکور ہے کہ «رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» [71-نوح:26] ” زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہیئے “، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی۔
قرآن فرماتا ہے «فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ» [26-الشعراء:119-120] ”ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کر دیا۔“
خود قرآن میں ہے کہ «لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ» [11-هود:43] ” آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں “۔
تعجب سا تعجب ہے کہ نوح علیہ السلام کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2252
بنی اسرائیل جب اپنے نبی کریم علیہ السلام کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بے ادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آ جائے۔
ایک قرأت میں «يَخَافُونَ» کے بدلے «یَـھَـابَـوْنَ» ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ”ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی۔ ایک کا نام یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا۔“ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول علیہ السلام کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔
لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کر دیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر یوشع اور کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کر دیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہو گیا اور بے طرح مخالفت رسول علیہ السلام پر تل گئے۔
صفحہ نمبر2253
ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حال کو دیکھئیے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا۔
ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہیئے؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے صدیق رضی اللہ عنہ نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔
صفحہ نمبر2254
لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لیے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔
اس پر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ”شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے؟ سنئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کرکے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہو جایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر ان شاءاللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔“
یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں رضی اللہ عنہم۔ [صحیح مسلم:1779]
صفحہ نمبر2255
ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ ”اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ۔ [مسند احمد:105/3:صحیح] مقداد انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ [مسند احمد:314/4:]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ”سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔“ [صحیح بخاری:4609] انہوں نے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔“ [مسند احمد:389/1:صحیح] (کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر خوش کر سکتا)۔
ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11686:ضعیف] جبکہ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بیت اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں ، تو سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہم اصحاب موسیٰ علیہ السلام کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی کریم علیہ السلام سے کہدیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔“
یہ سن کر اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کر دیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2256
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ ”رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما۔“
جناب باری تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ ” اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے “، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔
یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من و سلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہو گئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سب مروی ہے۔ پھر ہارون علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ علیہ السلام کے خلیفہ یوشع بن نون علیہ السلام نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین «سَنَةً» پر وقف تام کرتے ہیں اور «أَرْبَعِينَ سَنَةً» کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل «تِيهُونَ فِي الْأَرْضِ» کو بتلاتے ہیں۔ اس چالیس سالہ مدت کے گزرجانے کے بعد جو بھی باقی تھے، انہیں لے کر یوشع بن نون علیہ السلام نکلے اور دوسرے پہاڑ سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہولیے اور آپ علیہ السلام نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔
صفحہ نمبر2257
جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آ پہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لیے اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ! اسے ذرا سی دیر روک دے۔“
چنانچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ علیہ السلام نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ ” بنی اسرائیل کو کہدو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حِطَّةٌ» کہیں “ یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔
لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی «حَبَّةٌ فِیْ شَعْرَۃٍ» کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی یوشع علیہ السلام نے فرمایا ”تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔“
صفحہ نمبر2258
چنانچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی کریم علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ علیہ السلام نے فرمایا ”تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ۔“ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے۔
«أَرْبَعِينَ سَنَةً» میں «فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ» عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو کلیم اللہ علیہ السلام نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے موسیٰ علیہ السلام پر بد دعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لیے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔
ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ علیہ السلام کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ علیہ السلام نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مر گیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔
صفحہ نمبر2259
نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس کا تخت تین گز کا تھا۔“ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں “۔
اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول علیہ السلام کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر علیہ السلام ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں۔ نبی اللہ کی بے ادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے ساز و سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گر گئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
صفحہ نمبر2260
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا ”لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی علیہ السلام تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔“
سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء علیہم السلام تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء و الرسل محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واسطہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔
اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنا دیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھربار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیری بیوی ہے؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔
صفحہ نمبر2248
حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”سواری اور خادم ملک ہے۔“ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ رحمة الله خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔
ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا ۔ [ضعیف:اسکی سند میں ابن لبیعہ ضعیف ہے]
ایک اور مرفوع حدیث میں ہے جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11629:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن و امان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی ۔ [سنن ترمذي:2346،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے۔
اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ» [45-الجاثية:16] ” ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی “۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ ”اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔“ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے۔
خود قرآن فرماتا ہے آیت «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» [3-آل عمران:110] ، اور فرمایا آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [2-البقرۃ:143] ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے“ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من و سلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں۔“ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2249
پھر بیان ہوتا ہے کہ ” بیت المقدس دراصل ان کے دادا یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی “۔
اب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا۔“ لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے۔ مقدسہ سے مراد پاک ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے۔“ ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آرہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا۔
”اللہ نے اسے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہو جاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑ جاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ علیہ السلام فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جا سکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”موسیٰ علیہ السلام جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔“
صفحہ نمبر2250
یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہو گئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جا کر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہو گیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کر دو۔ چنانچہ انہوں نے جا کر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے۔“ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔
دوسری روایت میں ہے کہ ”ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہدیا۔ اب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔
صفحہ نمبر2251
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا ”ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے۔“ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں [3333] تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیاء مانع ہے۔
پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے ۔ [صحیح بخاری:3326]
ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا یہ مذکور ہے کہ «رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» [71-نوح:26] ” زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہیئے “، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی۔
قرآن فرماتا ہے «فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ» [26-الشعراء:119-120] ”ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کر دیا۔“
خود قرآن میں ہے کہ «لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ» [11-هود:43] ” آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں “۔
تعجب سا تعجب ہے کہ نوح علیہ السلام کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2252
بنی اسرائیل جب اپنے نبی کریم علیہ السلام کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بے ادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آ جائے۔
ایک قرأت میں «يَخَافُونَ» کے بدلے «یَـھَـابَـوْنَ» ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ”ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی۔ ایک کا نام یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا۔“ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول علیہ السلام کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔
لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کر دیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر یوشع اور کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کر دیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہو گیا اور بے طرح مخالفت رسول علیہ السلام پر تل گئے۔
صفحہ نمبر2253
ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حال کو دیکھئیے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا۔
ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہیئے؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے صدیق رضی اللہ عنہ نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔
صفحہ نمبر2254
لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لیے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔
اس پر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ”شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے؟ سنئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کرکے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہو جایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر ان شاءاللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔“
یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں رضی اللہ عنہم۔ [صحیح مسلم:1779]
صفحہ نمبر2255
ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ ”اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ۔ [مسند احمد:105/3:صحیح] مقداد انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ [مسند احمد:314/4:]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ”سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔“ [صحیح بخاری:4609] انہوں نے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔“ [مسند احمد:389/1:صحیح] (کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر خوش کر سکتا)۔
ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11686:ضعیف] جبکہ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بیت اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں ، تو سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہم اصحاب موسیٰ علیہ السلام کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی کریم علیہ السلام سے کہدیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔“
یہ سن کر اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کر دیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2256
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ ”رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما۔“
جناب باری تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ ” اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے “، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔
یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من و سلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہو گئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سب مروی ہے۔ پھر ہارون علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ علیہ السلام کے خلیفہ یوشع بن نون علیہ السلام نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین «سَنَةً» پر وقف تام کرتے ہیں اور «أَرْبَعِينَ سَنَةً» کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل «تِيهُونَ فِي الْأَرْضِ» کو بتلاتے ہیں۔ اس چالیس سالہ مدت کے گزرجانے کے بعد جو بھی باقی تھے، انہیں لے کر یوشع بن نون علیہ السلام نکلے اور دوسرے پہاڑ سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہولیے اور آپ علیہ السلام نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔
صفحہ نمبر2257
جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آ پہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لیے اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ! اسے ذرا سی دیر روک دے۔“
چنانچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ علیہ السلام نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ ” بنی اسرائیل کو کہدو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حِطَّةٌ» کہیں “ یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔
لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی «حَبَّةٌ فِیْ شَعْرَۃٍ» کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی یوشع علیہ السلام نے فرمایا ”تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔“
صفحہ نمبر2258
چنانچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی کریم علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ علیہ السلام نے فرمایا ”تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ۔“ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے۔
«أَرْبَعِينَ سَنَةً» میں «فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ» عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو کلیم اللہ علیہ السلام نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے موسیٰ علیہ السلام پر بد دعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لیے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔
ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ علیہ السلام کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ علیہ السلام نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مر گیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔
صفحہ نمبر2259
نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس کا تخت تین گز کا تھا۔“ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں “۔
اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول علیہ السلام کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر علیہ السلام ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں۔ نبی اللہ کی بے ادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے ساز و سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گر گئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
صفحہ نمبر2260
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا ”لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی علیہ السلام تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔“
سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء علیہم السلام تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء و الرسل محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واسطہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔
اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنا دیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھربار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیری بیوی ہے؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔
صفحہ نمبر2248
حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”سواری اور خادم ملک ہے۔“ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ رحمة الله خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔
ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا ۔ [ضعیف:اسکی سند میں ابن لبیعہ ضعیف ہے]
ایک اور مرفوع حدیث میں ہے جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11629:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن و امان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی ۔ [سنن ترمذي:2346،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے۔
اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ» [45-الجاثية:16] ” ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی “۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ ”اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔“ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے۔
خود قرآن فرماتا ہے آیت «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» [3-آل عمران:110] ، اور فرمایا آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [2-البقرۃ:143] ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے“ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من و سلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں۔“ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2249
پھر بیان ہوتا ہے کہ ” بیت المقدس دراصل ان کے دادا یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی “۔
اب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا۔“ لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے۔ مقدسہ سے مراد پاک ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے۔“ ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آرہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا۔
”اللہ نے اسے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہو جاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑ جاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ علیہ السلام فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جا سکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”موسیٰ علیہ السلام جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔“
صفحہ نمبر2250
یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہو گئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جا کر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہو گیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کر دو۔ چنانچہ انہوں نے جا کر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے۔“ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔
دوسری روایت میں ہے کہ ”ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہدیا۔ اب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔
صفحہ نمبر2251
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا ”ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے۔“ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں [3333] تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیاء مانع ہے۔
پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے ۔ [صحیح بخاری:3326]
ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا یہ مذکور ہے کہ «رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» [71-نوح:26] ” زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہیئے “، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی۔
قرآن فرماتا ہے «فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ» [26-الشعراء:119-120] ”ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کر دیا۔“
خود قرآن میں ہے کہ «لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ» [11-هود:43] ” آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں “۔
تعجب سا تعجب ہے کہ نوح علیہ السلام کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2252
بنی اسرائیل جب اپنے نبی کریم علیہ السلام کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بے ادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آ جائے۔
ایک قرأت میں «يَخَافُونَ» کے بدلے «یَـھَـابَـوْنَ» ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ”ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی۔ ایک کا نام یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا۔“ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول علیہ السلام کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔
لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کر دیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر یوشع اور کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کر دیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہو گیا اور بے طرح مخالفت رسول علیہ السلام پر تل گئے۔
صفحہ نمبر2253
ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حال کو دیکھئیے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا۔
ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہیئے؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے صدیق رضی اللہ عنہ نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔
صفحہ نمبر2254
لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لیے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔
اس پر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ”شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے؟ سنئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کرکے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہو جایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر ان شاءاللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔“
یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں رضی اللہ عنہم۔ [صحیح مسلم:1779]
صفحہ نمبر2255
ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ ”اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ۔ [مسند احمد:105/3:صحیح] مقداد انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ [مسند احمد:314/4:]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ”سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔“ [صحیح بخاری:4609] انہوں نے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔“ [مسند احمد:389/1:صحیح] (کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر خوش کر سکتا)۔
ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11686:ضعیف] جبکہ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بیت اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں ، تو سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہم اصحاب موسیٰ علیہ السلام کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی کریم علیہ السلام سے کہدیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔“
یہ سن کر اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کر دیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2256
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ ”رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما۔“
جناب باری تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ ” اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے “، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔
یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من و سلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہو گئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سب مروی ہے۔ پھر ہارون علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ علیہ السلام کے خلیفہ یوشع بن نون علیہ السلام نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین «سَنَةً» پر وقف تام کرتے ہیں اور «أَرْبَعِينَ سَنَةً» کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل «تِيهُونَ فِي الْأَرْضِ» کو بتلاتے ہیں۔ اس چالیس سالہ مدت کے گزرجانے کے بعد جو بھی باقی تھے، انہیں لے کر یوشع بن نون علیہ السلام نکلے اور دوسرے پہاڑ سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہولیے اور آپ علیہ السلام نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔
صفحہ نمبر2257
جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آ پہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لیے اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ! اسے ذرا سی دیر روک دے۔“
چنانچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ علیہ السلام نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ ” بنی اسرائیل کو کہدو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حِطَّةٌ» کہیں “ یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔
لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی «حَبَّةٌ فِیْ شَعْرَۃٍ» کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی یوشع علیہ السلام نے فرمایا ”تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔“
صفحہ نمبر2258
چنانچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی کریم علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ علیہ السلام نے فرمایا ”تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ۔“ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے۔
«أَرْبَعِينَ سَنَةً» میں «فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ» عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو کلیم اللہ علیہ السلام نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے موسیٰ علیہ السلام پر بد دعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لیے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔
ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ علیہ السلام کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ علیہ السلام نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مر گیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔
صفحہ نمبر2259
نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس کا تخت تین گز کا تھا۔“ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں “۔
اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول علیہ السلام کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر علیہ السلام ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں۔ نبی اللہ کی بے ادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے ساز و سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گر گئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
صفحہ نمبر2260
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا ”لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی علیہ السلام تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔“
سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء علیہم السلام تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء و الرسل محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واسطہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔
اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنا دیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھربار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیری بیوی ہے؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔
صفحہ نمبر2248
حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”سواری اور خادم ملک ہے۔“ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ رحمة الله خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔
ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا ۔ [ضعیف:اسکی سند میں ابن لبیعہ ضعیف ہے]
ایک اور مرفوع حدیث میں ہے جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11629:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن و امان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی ۔ [سنن ترمذي:2346،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے۔
اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ» [45-الجاثية:16] ” ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی “۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ ”اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔“ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے۔
خود قرآن فرماتا ہے آیت «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» [3-آل عمران:110] ، اور فرمایا آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [2-البقرۃ:143] ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے“ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من و سلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں۔“ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2249
پھر بیان ہوتا ہے کہ ” بیت المقدس دراصل ان کے دادا یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی “۔
اب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا۔“ لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے۔ مقدسہ سے مراد پاک ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے۔“ ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آرہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا۔
”اللہ نے اسے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہو جاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑ جاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ علیہ السلام فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جا سکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”موسیٰ علیہ السلام جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔“
صفحہ نمبر2250
یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہو گئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جا کر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہو گیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کر دو۔ چنانچہ انہوں نے جا کر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے۔“ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔
دوسری روایت میں ہے کہ ”ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہدیا۔ اب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔
صفحہ نمبر2251
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا ”ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے۔“ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں [3333] تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیاء مانع ہے۔
پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے ۔ [صحیح بخاری:3326]
ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا یہ مذکور ہے کہ «رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» [71-نوح:26] ” زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہیئے “، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی۔
قرآن فرماتا ہے «فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ» [26-الشعراء:119-120] ”ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کر دیا۔“
خود قرآن میں ہے کہ «لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ» [11-هود:43] ” آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں “۔
تعجب سا تعجب ہے کہ نوح علیہ السلام کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2252
بنی اسرائیل جب اپنے نبی کریم علیہ السلام کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بے ادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آ جائے۔
ایک قرأت میں «يَخَافُونَ» کے بدلے «یَـھَـابَـوْنَ» ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ”ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی۔ ایک کا نام یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا۔“ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول علیہ السلام کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔
لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کر دیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر یوشع اور کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کر دیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہو گیا اور بے طرح مخالفت رسول علیہ السلام پر تل گئے۔
صفحہ نمبر2253
ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حال کو دیکھئیے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا۔
ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہیئے؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے صدیق رضی اللہ عنہ نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔
صفحہ نمبر2254
لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لیے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔
اس پر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ”شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے؟ سنئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کرکے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہو جایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر ان شاءاللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔“
یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں رضی اللہ عنہم۔ [صحیح مسلم:1779]
صفحہ نمبر2255
ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ ”اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ۔ [مسند احمد:105/3:صحیح] مقداد انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ [مسند احمد:314/4:]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ”سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔“ [صحیح بخاری:4609] انہوں نے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔“ [مسند احمد:389/1:صحیح] (کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر خوش کر سکتا)۔
ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11686:ضعیف] جبکہ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بیت اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں ، تو سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہم اصحاب موسیٰ علیہ السلام کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی کریم علیہ السلام سے کہدیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔“
یہ سن کر اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کر دیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2256
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ ”رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما۔“
جناب باری تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ ” اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے “، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔
یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من و سلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہو گئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سب مروی ہے۔ پھر ہارون علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ علیہ السلام کے خلیفہ یوشع بن نون علیہ السلام نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین «سَنَةً» پر وقف تام کرتے ہیں اور «أَرْبَعِينَ سَنَةً» کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل «تِيهُونَ فِي الْأَرْضِ» کو بتلاتے ہیں۔ اس چالیس سالہ مدت کے گزرجانے کے بعد جو بھی باقی تھے، انہیں لے کر یوشع بن نون علیہ السلام نکلے اور دوسرے پہاڑ سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہولیے اور آپ علیہ السلام نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔
صفحہ نمبر2257
جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آ پہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لیے اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ! اسے ذرا سی دیر روک دے۔“
چنانچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ علیہ السلام نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ ” بنی اسرائیل کو کہدو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حِطَّةٌ» کہیں “ یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔
لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی «حَبَّةٌ فِیْ شَعْرَۃٍ» کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی یوشع علیہ السلام نے فرمایا ”تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔“
صفحہ نمبر2258
چنانچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی کریم علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ علیہ السلام نے فرمایا ”تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ۔“ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے۔
«أَرْبَعِينَ سَنَةً» میں «فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ» عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو کلیم اللہ علیہ السلام نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے موسیٰ علیہ السلام پر بد دعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لیے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔
ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ علیہ السلام کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ علیہ السلام نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مر گیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔
صفحہ نمبر2259
نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس کا تخت تین گز کا تھا۔“ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں “۔
اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول علیہ السلام کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر علیہ السلام ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں۔ نبی اللہ کی بے ادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے ساز و سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گر گئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
صفحہ نمبر2260
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا ”لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی علیہ السلام تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔“
سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء علیہم السلام تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء و الرسل محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واسطہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔
اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنا دیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھربار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیری بیوی ہے؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔
صفحہ نمبر2248
حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”سواری اور خادم ملک ہے۔“ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ رحمة الله خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔
ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا ۔ [ضعیف:اسکی سند میں ابن لبیعہ ضعیف ہے]
ایک اور مرفوع حدیث میں ہے جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11629:مرسل و ضعیف] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن و امان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی ۔ [سنن ترمذي:2346،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے۔
اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ» [45-الجاثية:16] ” ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی “۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ ”اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔“ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے۔
خود قرآن فرماتا ہے آیت «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» [3-آل عمران:110] ، اور فرمایا آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [2-البقرۃ:143] ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے“ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من و سلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں۔“ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2249
پھر بیان ہوتا ہے کہ ” بیت المقدس دراصل ان کے دادا یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی “۔
اب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا۔“ لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے۔ مقدسہ سے مراد پاک ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے۔“ ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لیے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آرہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہو سکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا۔
”اللہ نے اسے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہو جاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑ جاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ علیہ السلام فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جا سکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”موسیٰ علیہ السلام جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔“
صفحہ نمبر2250
یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہو گئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جا کر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہو گیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کر دو۔ چنانچہ انہوں نے جا کر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے۔“ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔
دوسری روایت میں ہے کہ ”ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہدیا۔ اب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔
صفحہ نمبر2251
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا ”ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے۔“ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں [3333] تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیاء مانع ہے۔
پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے ۔ [صحیح بخاری:3326]
ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا یہ مذکور ہے کہ «رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» [71-نوح:26] ” زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہیئے “، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی۔
قرآن فرماتا ہے «فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ» [26-الشعراء:119-120] ”ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کر دیا۔“
خود قرآن میں ہے کہ «لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ» [11-هود:43] ” آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں “۔
تعجب سا تعجب ہے کہ نوح علیہ السلام کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2252
بنی اسرائیل جب اپنے نبی کریم علیہ السلام کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بے ادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آ جائے۔
ایک قرأت میں «يَخَافُونَ» کے بدلے «یَـھَـابَـوْنَ» ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ”ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی۔ ایک کا نام یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا۔“ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول علیہ السلام کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔
لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کر دیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر یوشع اور کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کر دیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہو گیا اور بے طرح مخالفت رسول علیہ السلام پر تل گئے۔
صفحہ نمبر2253
ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حال کو دیکھئیے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا۔
ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہیئے؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے صدیق رضی اللہ عنہ نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔
صفحہ نمبر2254
لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لیے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔
اس پر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے ”شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے؟ سنئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کرکے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہو جایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر ان شاءاللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔“
یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں رضی اللہ عنہم۔ [صحیح مسلم:1779]
صفحہ نمبر2255
ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ ”اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہدیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ۔ [مسند احمد:105/3:صحیح] مقداد انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ [مسند احمد:314/4:]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ”سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے۔“ [صحیح بخاری:4609] انہوں نے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔“ [مسند احمد:389/1:صحیح] (کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر خوش کر سکتا)۔
ایک روایت میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11686:ضعیف] جبکہ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بیت اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں ، تو سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہم اصحاب موسیٰ علیہ السلام کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی کریم علیہ السلام سے کہدیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ چلئے اللہ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔“
یہ سن کر اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کر دیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2256
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ ”رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما۔“
جناب باری تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ ” اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے “، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔
یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من و سلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہو گئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سب مروی ہے۔ پھر ہارون علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ علیہ السلام کے خلیفہ یوشع بن نون علیہ السلام نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین «سَنَةً» پر وقف تام کرتے ہیں اور «أَرْبَعِينَ سَنَةً» کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل «تِيهُونَ فِي الْأَرْضِ» کو بتلاتے ہیں۔ اس چالیس سالہ مدت کے گزرجانے کے بعد جو بھی باقی تھے، انہیں لے کر یوشع بن نون علیہ السلام نکلے اور دوسرے پہاڑ سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہولیے اور آپ علیہ السلام نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔
صفحہ نمبر2257
جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آ پہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لیے اللہ کے نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ”اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ! اسے ذرا سی دیر روک دے۔“
چنانچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ علیہ السلام نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ ” بنی اسرائیل کو کہدو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حِطَّةٌ» کہیں “ یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔
لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی «حَبَّةٌ فِیْ شَعْرَۃٍ» کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی یوشع علیہ السلام نے فرمایا ”تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔“
صفحہ نمبر2258
چنانچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی کریم علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ علیہ السلام نے فرمایا ”تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ۔“ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے۔
«أَرْبَعِينَ سَنَةً» میں «فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ» عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو کلیم اللہ علیہ السلام نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے موسیٰ علیہ السلام پر بد دعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لیے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔
ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ علیہ السلام کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ علیہ السلام نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مر گیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔
صفحہ نمبر2259
نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس کا تخت تین گز کا تھا۔“ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں “۔
اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول علیہ السلام کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر علیہ السلام ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں۔ نبی اللہ کی بے ادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے ساز و سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہو جاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گر گئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
صفحہ نمبر2260
حسد و بغض سے ممانعت ٭٭
اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہو گئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بے وجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔
فرماتا ہے ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بے کم و کاست قصہ سنا دو “۔
ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لیے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے منع کیا۔
صفحہ نمبر2267
آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہو جائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا۔
مفسرین کے اقوال سنئے آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کر دیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہو جائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم علیہ السلام اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا ” زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو؟ “ آپ علیہ السلام نے کہا نہیں حکم ہوا ” مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ “۔
حضرت آدم علیہ السلام نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کر دیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ علیہ السلام جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔
صفحہ نمبر2268
چونکہ قابیل اب مایوس ہو چکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لیے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور؟
ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بے دلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہو گئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہو گئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بے کار بے جان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔
صفحہ نمبر2269
اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائے گا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بے رحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔
قابیل نے اپنی تو امہ بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لیے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لیے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہو گیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2270
اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہو جائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے۔ اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔“ راوی حدیث ابوعفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں؟ فرمایا ”وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔“
جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہو جائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہو سکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا ۔ [صحیح بخاری:31]
سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ نے اس وقت جبکہ باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو گھیر رکھا تھا کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے عنقریب فتنہ برپا ہو گا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ۔ کسی نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بھی تو آدم علیہ السلام کے بیٹے کی طرح ہو جا ۔ [سنن ترمذي:2194،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ [سنن ابوداود:4257،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2271
ایوب سختیاتی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔“
ایک مرتبہ ایک جانور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا؟ میں نے کہا جو حکم رب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو۔ فرمایا: صبر کرو ۔ پھر فرمایا: جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا؟ میں نے وہی جواب دیا تو،فرمایا کہ اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کر لے ۔ کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں؟ فرمایا: تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ ۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں؟ فرمایا: پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہو جائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے ۔ [سنن ابوداود:4261،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ربعی رحمة الله فرماتے ہیں ”ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کرکے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہدوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہو جاؤں گا۔“
صفحہ نمبر2272
میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے، یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی مجاہد رحمة الله سے مروی ہے کہ ”میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔“
لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کر لیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ بے سبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ گو یہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آ جاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا، اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہو جائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑ جائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لیے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2273
امام ابن جریر رحمة الله فرماتے ہیں ”مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔“
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آ جائیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ” ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے “، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہو جائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آ کر اپنے بھائی کو قتل کر دیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کر لی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مر گیا۔ یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لیے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔
صفحہ نمبر2274
یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حواء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوا ہے؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔
اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم علیہ السلام آئے پوچھا کیا بات ہے؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے ۔ [صحیح بخاری:3335]
مجاہد رحمة الله کا قول ہے کہ ”قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے۔“ ابراہیم نخعی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے۔“
صفحہ نمبر2275
جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔“ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کر سکا۔
یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لیے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بے چین بھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے ۔ [صحیح بخاری:3335]
صفحہ نمبر2276
لیکن حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال ہوا ہے۔“ لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11772:مرسل] یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم علیہ السلام بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔
حضرت آدم علیہ السلام نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی، زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہو گئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہو گئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ ”اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کر دیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:11724:ضعیف]
بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چنانچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے ۔ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہو گئیں «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ»
(یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)
صفحہ نمبر2277
حسد و بغض سے ممانعت ٭٭
اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہو گئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بے وجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔
فرماتا ہے ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بے کم و کاست قصہ سنا دو “۔
ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لیے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے منع کیا۔
صفحہ نمبر2267
آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہو جائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا۔
مفسرین کے اقوال سنئے آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کر دیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہو جائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم علیہ السلام اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا ” زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو؟ “ آپ علیہ السلام نے کہا نہیں حکم ہوا ” مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ “۔
حضرت آدم علیہ السلام نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کر دیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ علیہ السلام جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔
صفحہ نمبر2268
چونکہ قابیل اب مایوس ہو چکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لیے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور؟
ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بے دلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہو گئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہو گئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بے کار بے جان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔
صفحہ نمبر2269
اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائے گا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بے رحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔
قابیل نے اپنی تو امہ بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لیے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لیے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہو گیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2270
اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہو جائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے۔ اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔“ راوی حدیث ابوعفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں؟ فرمایا ”وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔“
جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہو جائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہو سکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا ۔ [صحیح بخاری:31]
سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ نے اس وقت جبکہ باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو گھیر رکھا تھا کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے عنقریب فتنہ برپا ہو گا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ۔ کسی نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بھی تو آدم علیہ السلام کے بیٹے کی طرح ہو جا ۔ [سنن ترمذي:2194،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ [سنن ابوداود:4257،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2271
ایوب سختیاتی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔“
ایک مرتبہ ایک جانور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا؟ میں نے کہا جو حکم رب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو۔ فرمایا: صبر کرو ۔ پھر فرمایا: جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا؟ میں نے وہی جواب دیا تو،فرمایا کہ اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کر لے ۔ کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں؟ فرمایا: تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ ۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں؟ فرمایا: پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہو جائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے ۔ [سنن ابوداود:4261،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ربعی رحمة الله فرماتے ہیں ”ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کرکے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہدوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہو جاؤں گا۔“
صفحہ نمبر2272
میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے، یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی مجاہد رحمة الله سے مروی ہے کہ ”میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔“
لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کر لیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ بے سبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ گو یہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آ جاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا، اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہو جائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑ جائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لیے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2273
امام ابن جریر رحمة الله فرماتے ہیں ”مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔“
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آ جائیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ” ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے “، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہو جائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آ کر اپنے بھائی کو قتل کر دیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کر لی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مر گیا۔ یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لیے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔
صفحہ نمبر2274
یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حواء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوا ہے؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔
اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم علیہ السلام آئے پوچھا کیا بات ہے؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے ۔ [صحیح بخاری:3335]
مجاہد رحمة الله کا قول ہے کہ ”قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے۔“ ابراہیم نخعی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے۔“
صفحہ نمبر2275
جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔“ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کر سکا۔
یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لیے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بے چین بھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے ۔ [صحیح بخاری:3335]
صفحہ نمبر2276
لیکن حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال ہوا ہے۔“ لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11772:مرسل] یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم علیہ السلام بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔
حضرت آدم علیہ السلام نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی، زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہو گئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہو گئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ ”اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کر دیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:11724:ضعیف]
بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چنانچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے ۔ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہو گئیں «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ»
(یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)
صفحہ نمبر2277
حسد و بغض سے ممانعت ٭٭
اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہو گئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بے وجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔
فرماتا ہے ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بے کم و کاست قصہ سنا دو “۔
ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لیے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے منع کیا۔
صفحہ نمبر2267
آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہو جائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا۔
مفسرین کے اقوال سنئے آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کر دیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہو جائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم علیہ السلام اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا ” زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو؟ “ آپ علیہ السلام نے کہا نہیں حکم ہوا ” مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ “۔
حضرت آدم علیہ السلام نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کر دیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ علیہ السلام جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔
صفحہ نمبر2268
چونکہ قابیل اب مایوس ہو چکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لیے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور؟
ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بے دلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہو گئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہو گئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بے کار بے جان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔
صفحہ نمبر2269
اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائے گا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بے رحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔
قابیل نے اپنی تو امہ بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لیے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لیے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہو گیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2270
اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہو جائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے۔ اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔“ راوی حدیث ابوعفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں؟ فرمایا ”وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔“
جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہو جائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہو سکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا ۔ [صحیح بخاری:31]
سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ نے اس وقت جبکہ باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو گھیر رکھا تھا کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے عنقریب فتنہ برپا ہو گا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ۔ کسی نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بھی تو آدم علیہ السلام کے بیٹے کی طرح ہو جا ۔ [سنن ترمذي:2194،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ [سنن ابوداود:4257،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2271
ایوب سختیاتی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔“
ایک مرتبہ ایک جانور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا؟ میں نے کہا جو حکم رب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو۔ فرمایا: صبر کرو ۔ پھر فرمایا: جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا؟ میں نے وہی جواب دیا تو،فرمایا کہ اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کر لے ۔ کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں؟ فرمایا: تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ ۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں؟ فرمایا: پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہو جائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے ۔ [سنن ابوداود:4261،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ربعی رحمة الله فرماتے ہیں ”ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کرکے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہدوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہو جاؤں گا۔“
صفحہ نمبر2272
میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے، یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی مجاہد رحمة الله سے مروی ہے کہ ”میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔“
لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کر لیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ بے سبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ گو یہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آ جاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا، اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہو جائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑ جائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لیے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2273
امام ابن جریر رحمة الله فرماتے ہیں ”مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔“
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آ جائیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ” ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے “، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہو جائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آ کر اپنے بھائی کو قتل کر دیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کر لی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مر گیا۔ یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لیے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔
صفحہ نمبر2274
یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حواء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوا ہے؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔
اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم علیہ السلام آئے پوچھا کیا بات ہے؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے ۔ [صحیح بخاری:3335]
مجاہد رحمة الله کا قول ہے کہ ”قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے۔“ ابراہیم نخعی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے۔“
صفحہ نمبر2275
جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔“ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کر سکا۔
یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لیے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بے چین بھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے ۔ [صحیح بخاری:3335]
صفحہ نمبر2276
لیکن حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال ہوا ہے۔“ لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11772:مرسل] یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم علیہ السلام بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔
حضرت آدم علیہ السلام نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی، زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہو گئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہو گئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ ”اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کر دیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:11724:ضعیف]
بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چنانچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے ۔ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہو گئیں «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ»
(یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)
صفحہ نمبر2277
حسد و بغض سے ممانعت ٭٭
اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہو گئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بے وجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔
فرماتا ہے ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بے کم و کاست قصہ سنا دو “۔
ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لیے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے منع کیا۔
صفحہ نمبر2267
آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہو جائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا۔
مفسرین کے اقوال سنئے آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کر دیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہو جائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم علیہ السلام اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا ” زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو؟ “ آپ علیہ السلام نے کہا نہیں حکم ہوا ” مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ “۔
حضرت آدم علیہ السلام نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کر دیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ علیہ السلام جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔
صفحہ نمبر2268
چونکہ قابیل اب مایوس ہو چکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لیے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور؟
ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بے دلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہو گئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہو گئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بے کار بے جان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔
صفحہ نمبر2269
اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائے گا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بے رحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔
قابیل نے اپنی تو امہ بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لیے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لیے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہو گیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2270
اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہو جائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے۔ اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔“ راوی حدیث ابوعفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں؟ فرمایا ”وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔“
جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہو جائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہو سکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا ۔ [صحیح بخاری:31]
سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ نے اس وقت جبکہ باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو گھیر رکھا تھا کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے عنقریب فتنہ برپا ہو گا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ۔ کسی نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بھی تو آدم علیہ السلام کے بیٹے کی طرح ہو جا ۔ [سنن ترمذي:2194،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ [سنن ابوداود:4257،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2271
ایوب سختیاتی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔“
ایک مرتبہ ایک جانور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا؟ میں نے کہا جو حکم رب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو۔ فرمایا: صبر کرو ۔ پھر فرمایا: جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا؟ میں نے وہی جواب دیا تو،فرمایا کہ اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کر لے ۔ کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں؟ فرمایا: تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ ۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں؟ فرمایا: پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہو جائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے ۔ [سنن ابوداود:4261،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ربعی رحمة الله فرماتے ہیں ”ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کرکے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہدوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہو جاؤں گا۔“
صفحہ نمبر2272
میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے، یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی مجاہد رحمة الله سے مروی ہے کہ ”میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔“
لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کر لیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ بے سبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ گو یہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آ جاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا، اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہو جائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑ جائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لیے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2273
امام ابن جریر رحمة الله فرماتے ہیں ”مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔“
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آ جائیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ” ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے “، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہو جائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آ کر اپنے بھائی کو قتل کر دیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کر لی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مر گیا۔ یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لیے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔
صفحہ نمبر2274
یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حواء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوا ہے؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔
اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم علیہ السلام آئے پوچھا کیا بات ہے؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے ۔ [صحیح بخاری:3335]
مجاہد رحمة الله کا قول ہے کہ ”قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے۔“ ابراہیم نخعی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے۔“
صفحہ نمبر2275
جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔“ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کر سکا۔
یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لیے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بے چین بھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے ۔ [صحیح بخاری:3335]
صفحہ نمبر2276
لیکن حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال ہوا ہے۔“ لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11772:مرسل] یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم علیہ السلام بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔
حضرت آدم علیہ السلام نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی، زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہو گئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہو گئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ ”اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کر دیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:11724:ضعیف]
بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چنانچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے ۔ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہو گئیں «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ»
(یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)
صفحہ نمبر2277