John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Maaida

Tafsir Ibn Kathir · The Table · 120 ayat · ayat 31–60 · Quran text →

حسد و بغض سے ممانعت ٭٭

اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہو گئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بے وجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔

فرماتا ہے ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بے کم و کاست قصہ سنا دو “۔

ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لیے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے منع کیا۔

صفحہ نمبر2267

آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہو جائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا۔

مفسرین کے اقوال سنئے آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کر دیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہو جائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم علیہ السلام اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا ” زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو؟ “ آپ علیہ السلام نے کہا نہیں حکم ہوا ” مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ “۔

حضرت آدم علیہ السلام نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کر دیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ علیہ السلام جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔

صفحہ نمبر2268

چونکہ قابیل اب مایوس ہو چکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لیے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور؟

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بے دلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہو گئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہو گئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بے کار بے جان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔

صفحہ نمبر2269

اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائے گا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بے رحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔

قابیل نے اپنی تو امہ بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لیے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لیے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہو گیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2270

اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہو جائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے۔ اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔‏“ راوی حدیث ابوعفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں؟ فرمایا ”وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔‏“

جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہو جائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہو سکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا ۔ [صحیح بخاری:31] ‏

سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ نے اس وقت جبکہ باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو گھیر رکھا تھا کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے عنقریب فتنہ برپا ہو گا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ۔ کسی نے پوچھا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بھی تو آدم علیہ السلام کے بیٹے کی طرح ہو جا ۔ [سنن ترمذي:2194،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ [سنن ابوداود:4257،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2271

ایوب سختیاتی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔‏“

ایک مرتبہ ایک جانور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا؟ میں نے کہا جو حکم رب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو۔ فرمایا: صبر کرو ۔ پھر فرمایا: جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا؟ میں نے وہی جواب دیا تو،فرمایا کہ اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کر لے ۔ کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں؟ فرمایا: تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ ۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں؟ فرمایا: پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہو جائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے ۔ [سنن ابوداود:4261،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ربعی رحمة الله فرماتے ہیں ”ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کرکے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہدوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہو جاؤں گا۔‏“

صفحہ نمبر2272

میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے، یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی مجاہد رحمة الله سے مروی ہے کہ ”میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔‏“

لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کر لیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ بے سبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ گو یہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آ جاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا، اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہو جائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑ جائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لیے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2273

امام ابن جریر رحمة الله فرماتے ہیں ”مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔‏“

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آ جائیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ” ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے “، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی؟

اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہو جائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آ کر اپنے بھائی کو قتل کر دیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کر لی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مر گیا۔ یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لیے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔

صفحہ نمبر2274

یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حواء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوا ہے؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔

اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم علیہ السلام آئے پوچھا کیا بات ہے؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے ۔ [صحیح بخاری:3335] ‏

مجاہد رحمة الله کا قول ہے کہ ”قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے۔‏“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے۔‏“ ابراہیم نخعی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے۔“

صفحہ نمبر2275

جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔‏“ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کر سکا۔

یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لیے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بے چین بھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لیے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے ۔ [صحیح بخاری:3335] ‏

صفحہ نمبر2276

لیکن حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال ہوا ہے۔‏“ لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11772:مرسل] ‏ یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم علیہ السلام بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔

حضرت آدم علیہ السلام نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی، زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہو گئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہو گئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ ”اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کر دیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:11724:ضعیف] ‏

بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چنانچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے ۔ [سنن ابوداود:4902،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہو گئیں «فإِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ»

(‏یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم)

صفحہ نمبر2277

ایک بےگناہ شخص کا قتل تمام انسانوں کا قتل ٭٭

فرمان ہے کہ ” حضرت آدم علیہ السلام کے اس لڑکے کے قتل بے جا کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل سے صاف فرما دیا ان کی کتاب میں لکھ دیا اور ان کیلئے اس حکم کو حکم شرعی کر دیا کہ ” جو شخص کسی ایک کو بلا وجہ مار ڈالے نہ اس نے کسی کو قتل کیا تھا نہ اس نے زمین میں فساد پھیلایا تھا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا “، اس لیے کہ اللہ کے نزدیک ساری مخلوق یکساں ہے اور جو کسی بے قصور شخص کے قتل سے باز رہے اسے حرام جانے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندگی دی، اس لیے کہ یہ سب لوگ اس طرح سلامتی کے ساتھ رہیں گے۔‏“

صفحہ نمبر2282

امیرالمؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو جب باغی گھیر لیتے ہیں، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں میں ”آپ رضی اللہ عنہ کی طرف داری میں آپ رضی اللہ عنہ کے مخالفین سے لڑنے کیلئے آیا ہوں، آپ رضی اللہ عنہ ملاحظہ فرمایئے کہ اب پانی سر سے اونچا ہو گیا ہے۔‏“ یہ سن کر معصوم خلیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”کیا تم اس بات پر آمادہ ہو کہ سب لوگوں کو قتل کر دو، جن میں ایک میں بھی ہوں۔‏“

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”نہیں نہیں۔‏“ فرمایا ”سنو ایک کو قتل کرنا ایسا برا ہے جیسے سب کو قتل کرنا۔ جاؤ واپس لوٹ جاؤ، میری یہی خواہش ہے اللہ تمہیں اجر دے اور گناہ نہ دے“، یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے اور نہ لڑے۔

مطلب یہ ہے کہ قتل کا اجر دنیا کی بربادی کا باعث ہے اور اس کی روک لوگوں کی زندگی کا سبب ہے۔ سعید بن جبیر رحمة الله فرماتے ہیں ”ایک مسلمان کا خون حلال کرنے والا تمام لوگوں کا قاتل ہے اور ایک مسلم کے خون کو بچانے والا تمام لوگوں کے خون کو گویا بچا رہا ہے۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور عادل مسلم بادشاہ کو قتل کرنے والے پر ساری دنیا کے انسانوں کے قتل کا گناہ ہے اور نبی اور امام عادل کے بازو کو مضبوط کرنا دنیا کو زندگی دینے کے مترادف ہے۔‏“ [ابن جریر] ‏

صفحہ نمبر2283

ایک اور روایت میں ہے کہ ”ایک کو بے وجہ مار ڈالتے ہی جہنمی ہو جاتا ہے گویا سب کو مار ڈالا۔‏“ مجاہد رحمة الله فرماتے ہیں ”مومن کو بے وجہ شرعی مار ڈالنے والا جہنمی دشمن رب، ملعون اور مستحق سزا ہو جاتا ہے، پھر اگر وہ سب لوگوں کو بھی مار ڈالتا تو اس سے زیادہ عذاب اسے اور کیا ہوتا؟ جو قتل سے رک جائے گویا کہ اس کی طرف سے سب کی زندگی محفوظ ہے۔‏“

عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ایک قتل کے بدلے ہی اس کا خون حلال ہو گیا، یہ نہیں کہ کئی ایک کو قتل کرے، جب ہی وہ قصاص کے قابل ہو، اور جو اسے زندگی دے یعنی قاتل کے ولی سے درگزر کرے اور اس نے گویا لوگوں کو زندگی دی۔‏“

اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جس نے انسان کی جان بچا لی مثلاً ڈوبتے کو نکال لیا، جلتے کو بچا لیا، کسی کو ہلاکت سے ہٹا لیا۔ مقصد لوگوں کو خون ناحق سے روکنا اور لوگوں کی خیر خواہی اور امن و امان پر آمادہ کرنا ہے۔ حسن رحمة الله سے پوچھا گیا کہ ”کیا بنی اسرائیل جس طرح اس حکم کے مکلف تھے، ہم بھی ہیں، فرمایا ہاں یقیناً اللہ کی قسم! بنو اسرائیل کے خون اللہ کے نزدیک ہمارے خون سے زیادہ باوقعت نہ تھے، پس ایک شخص کا بے سبب قتل سب کے قتل کا بوجھ ہے اور ایک کی جان کے بچاؤ کا ثواب سب کو بچا لینے کے برابر ہے۔‏“

ایک مرتبہ حمزہ بن عبدالمطلب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی بات بتائیں کہ میری زندگی با آرام گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کسی کو مار ڈالنا تمہیں پسند ہے یا کسی کو بچا لینا تمہیں محبوب ہے؟ جواب دیا بچا لینا، فرمایا: بس اب اپنی اصلاح میں لگے رہو ۔ [مسند احمد:175/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2284

پھر فرماتا ہے ” ان کے پاس ہمارے رسول واضح دلیلیں اور روشن احکام اور کھلے معجزات لے کر آئے لیکن اس کے بعد بھی اکثر لوگ اپنی سرکشی اور دراز دستی سے باز نہ رہے “۔

بنو قینقاع کے یہود و بنو قریظہ اور بنو نضیر وغیرہ کو دیکھ لیجئے کہ اوس اور خزرج کے ساتھ مل کر آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے تھے اور لڑائی کے بعد پھر قیدیوں کے فدیئے دے کر چھڑاتے تھے اور مقتول کی دیت ادا کرتے تھے۔ جس پر انہیں قرآن میں سمجھایا گیا کہ ” تم سے عہد یہ لیا گیا تھا کہ نہ تو اپنے والوں کے خون بہاؤ، نہ انہیں دیس سے نکالو لیکن تم نے باوجود پختہ اقرار اور مضبوط عہد پیمان کے اس کے خلاف گو فدیئے ادا کئے لیکن نکالنا بھی تو حرام تھا “۔

” اس کے کیا معنی کہ کسی حکم کو مانو اور کسی سے انکار کر، ایسے لوگوں کو سزا یہی ہے کہ دنیا میں رسوا اور ذلیل ہوں اور آخرت میں سخت تر عذابوں کا شکار ہوں، اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں “۔

صفحہ نمبر2285

«محاربہ» کے معنی حکم کے خلاف کرنا، برعکس کرنا، مخالفت پر تل جانا ہیں۔ مراد اس سے کفر، ڈاکہ زنی، زمین میں شورش و فساد اور طرح طرح کی بدامنی پیدا کرنا ہے۔ یہاں تک کہ سلف نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ”سکے کو توڑ دینا بھی زمین میں فساد مچانا ہے۔‏“

قرآن کی ایک اور آیت میں ہے «وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّـهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ» [2-البقرة:205] ‏ ” جب وہ کسی اقتدار کے مالک ہو جاتے ہیں تو فساد پھیلا دیتے ہیں اور کھیت اور نسل کو ہلاک کرنے لگتے ہیں اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا “۔ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس لیے کہ اس میں یہ بھی ہے کہ جب ایسا شخص ان کاموں کے بعد مسلمانوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہونے سے پہلے ہی توبہ تلا کر لے تو پھر اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں، برخلاف اس کے اگر مسلمان ان کاموں کو کرے اور بھاگ کر کفار میں جا ملے تو حد شرعی سے آزاد نہیں ہوتا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ آیت مشرکوں کے بارے میں اتری ہے، پھر ان میں سے جو کئی مسلمان کے ہاتھ آ جانے سے پہلے توبہ کرلے تو جو حکم اس پر اس کے فعل کے باعث ثابت ہو چکا ہے وہ ٹل نہیں سکتا۔‏“

صفحہ نمبر2286

فساد اور قتل و غارت گری ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اہل کتاب کے ایک گروہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاہدہ ہوگیا تھا لیکن انہوں نے اسے توڑ دیا اور فساد مچا دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو انہیں قتل کر دیں، چاہیں تو الٹے سیدھے ہاتھ پاؤں کٹوا دیں ۔

سعد رحمة الله فرماتے ہیں“ یہ حروریہ خوارج کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔‏“ صحیح یہ ہے کہ جو بھی اس فعل کا مرتکب ہو اس کیلئے یہ حکم ہے۔

چنانچہ بخاری مسلم میں ہے کہ قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تم چاہو تو ہمارے چرواہوں کے ساتھ چلے جاؤ اونٹوں کا دودھ اور پیشاب تمہیں ملے گا ۔ چنانچہ یہ گئے اور جب ان کی بیماری جاتی رہی تو انہوں نے ان چرواہوں کو مار ڈالا اور اونٹ لے کر چلتے بنے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ان کے پیچھے دوڑایا کہ انہیں پکڑ لائیں، چنانچہ یہ گرفتار کئے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے۔ پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے اور آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور دھوپ میں پڑے ہوئے تڑپ تڑپ کر مر گئے ۔ مسلم میں ہے یا تو یہ لوگ عکل کے تھے یا عرینہ کے۔ یہ پانی مانگتے تھے مگر انہیں پانی نہ دیا گیا نہ ان کے زخم دھوئے گئے ۔ [صحیح بخاری:233] ‏

انہوں نے چوری بھی کی تھی، قتل بھی کیا تھا، ایمان کے بعد کفر بھی کیا تھا اور اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑتے بھی تھے۔ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں بھی پھیری تھیں، مدینے کی آب و ہوا اس وقت درست نہ تھی، سرسام کی بیماری تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے بیس انصاری گھوڑ سوار بھیجے تھے اور ایک کھوجی تھا، جو نشان قدم دیکھ کر رہبری کرتا جاتا تھا۔ موت کے وقت ان کی پیاس کے مارے یہ حالت تھی کہ زمین چاٹ رہے تھے، انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ [سنن ترمذي:1845، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ایک مرتبہ حجاج نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ سب سے بڑی اور سب سے سخت سزا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو دی ہو، تم بیان کرو تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ بیان فرمایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ بحرین سے آئے تھے، بیماری کی وجہ سے ان کے رنگ زرد پڑ گئے تھے اور پیٹ بڑھ گئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: کہ جاؤ اونٹوں میں رہو اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو ۔

صفحہ نمبر2287

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”پھر میں نے دیکھا کہ حجاج نے تو اس روایت کو اپنے مظالم کی دلیل بنا لی تب تو مجھے سخت ندامت ہوئی کہ میں نے اس سے یہ حدیث کیوں بیان کی؟۔‏“ [اسناده ضعیف وله شواهد] ‏

اور روایت میں ہے کہ ان میں سے چار شخص تو عرینہ قبیلے کے تھے اور تین عکل کے تھے، یہ سب تندرست ہو گئے تو یہ مرتد بن گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11818] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ راستے بھی انہوں نے بند کر دیئے تھے اور زنا کار بھی تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11820] ‏

جب یہ آئے تو اب سب کے پاس بوجہ فقیری پہننے کے کپڑے تک نہ تھے، یہ قتل و غارت کر کے بھاگ کر اپنے شہر کو جا رہے تھے۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ اپنی قوم کے پاس پہنچنے والے تھے جو ہم نے انہیں جا لیا۔ وہ پانی مانگتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے اب تو پانی کے بدلے جہنم کی آگ ملے گی ۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ آنکھوں میں سلائیاں پھیرنا اللہ کو ناپسند آیا، یہ حدیث ضعیف اور غریب ہے لیکن اس سے یہ معلوم ہوا کہ جو لشکر ان مرتدوں کے گرفتار کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا، ان کے سردار سیدنا جریر رضی اللہ عنہ تھے۔ ہاں اس روایت میں یہ فقرہ بالکل منکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنا مکروہ رکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11815] ‏

اس لیے کہ صحیح مسلم میں یہ موجود ہے کہ انہوں نے چرواہوں کے ساتھ بھی یہی کیا تھا، پس یہ اس کا بدلہ اور ان کا قصاص تھا جو انہوں نے ان کے ساتھ کیا تھا وہی ان کے ساتھ کیا گیا ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2288

اور روایت میں ہے کہ یہ لوگ بنو فزارہ کے تھے، اس واقعہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سزا کسی کو نہیں دی۔ [عبد الرزاق:18541:ضعیف] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام تھا، جس کا نام یسار تھا چونکہ یہ بڑے اچھے نمازی تھے، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا تھا اور اپنے اونٹوں میں انہیں بھیج دیا تھا کہ یہ ان کی نگرانی رکھیں، انہی کو ان مرتدوں نے قتل کیا اور ان کی آنکھوں میں کانٹے گاڑ کر اونٹ لے کر بھاگ گئے، جو لشکر انہیں گرفتار کر کے لایا تھا، ان میں ایک شاہ زور کرز بن جابر فہری تھے ۔ [طبرانی کبیر:6223:ضعیف] ‏

حافظ ابوبکر بن مردویہ رحمة الله نے اس روایت کے تمام طریقوں کو جمع کر دیا اللہ انہیں جزائے خیر دے۔ ابوحمزہ عبد الکریم رحمة الله سے اونٹوں کے پیشاب کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ ان محاربین کا قصہ بیان فرماتے ہیں اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ منافقانہ طور پر ایمان لائے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینے کی آب و ہوا کی ناموافقت کی شکایت کی تھی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی دغا بازی اور قتل و غارت اور ارتداد کا علم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کرائی کہ اللہ کے لشکریو اٹھ کھڑے ہو ۔

یہ آواز سنتے ہی مجاہدین کھڑے ہو گئے، بغیر اس کے کہ کوئی کسی کا انتظار کرے ان مرتد ڈاکوؤں اور باغیوں کے پیچھے دوڑے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو روانہ کر کے ان کے پیچھے چلے، وہ لوگ اپنی جائے امن میں پہنچنے ہی کو تھے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے انہیں گھیر لیا اور ان میں سے جتنے گرفتار ہو گئے، انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا اور یہ آیت اتری، ان کی جلا وطنی یہی تھی کہ انہیں حکومت اسلام کی حدود سے خارج کر دیا گیا۔ پھر ان کو عبرتناک سزائیں دی گئیں۔

صفحہ نمبر2289

اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے بھی اعضاء بدن سے جدا نہیں کرائے بلکہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے، جانوروں کو بھی اس طرح کرنا منع ہے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ قتل کے بعد انہیں جلا دیا گیا، [تفسیر ابن جریر الطبری:11814:ضعیف] ‏

بعض کہتے ہیں یہ بنو سلیم کے لوگ تھے۔ بعض بزرگوں کا قول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سزا انہیں دی وہ اللہ کو پسند نہ آئیں اور اس آیت سے اسے منسوخ کردیا۔ ان کے نزدیک گویا اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سزا سے روکا گیا ہے۔

جیسے آیت «عَفَا اللَّـهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْكَاذِبِينَ» ‏ [9-التوبة:43] ‏ میں اور بعض کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثلہ کرنے سے یعنی ہاتھ پاؤں کان ناک کاٹنے سے جو ممانعت فرمائی ہے، اس حدیث سے یہ سزا منسوخ ہو گئی۔

لیکن یہ ذرا غور طلب ہے پھر یہ بھی سوال طلب امر ہے کہ ناسخ کی تاخیر کی دلیل کیا ہے؟ بعض کہتے ہیں حدود اسلام مقرر ہوں اس سے پہلے کا یہ واقعہ ہے لیکن یہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا، بلکہ حدود کے تقرر کے بعد کا واقعہ معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ اس حدیث کے ایک راوی سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کا اسلام سورۃ المائدہ کے نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے۔ بعض کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنی چاہی تھیں لیکن یہ آیت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ارادے سے باز رہے، لیکن یہ بھی درست نہیں۔ اس لیے کہ بخاری و مسلم میں یہ لفظ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں سلائیں پھروائیں ۔

صفحہ نمبر2290

محمد بن عجلان رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سخت سزا انہیں دی، اس کے انکار میں یہ آیتیں اتری ہیں اور ان میں صحیح سزا بیان کی گئی ہے جو قتل کرنے اور ہاتھ پاؤں الٹی طرف سے کاٹنے اور وطن سے نکال دینے کے حکم پر شامل ہے چنانچہ دیکھ لیجئے کہ اس کے بعد پھر کسی کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنی ثابت نہیں۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:11822:ضعیف] ‏

لیکن ”اوزاعی کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں کہ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈانٹا گیا ہو۔ بات یہ ہے کہ انہوں نے جو کیا تھا اس کا وہی بدلہ مل گیا۔ اب آیت نازل ہوئی جس نے ایک خاص حکم ایسے لوگوں کا بیان فرمایا اور اس میں آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنے کا حکم نہیں دیا۔‏“

صفحہ نمبر2291

اس آیت سے جمہور علماء نے دلیل پکڑی ہے کہ راستوں کی بندش کر کے لڑنا اور شہروں میں لڑنا دونوں برابر ہے کیونکہ لفظ «وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا» کے ہیں۔ مالک، اوزاعی، لیث، شافعی،، احمد رحمہم اللہ اجمعین کا یہی مذہب ہے کہ ”باغی لوگ خواہ شہر میں ایسا فتنہ مچائیں یا بیرون شہر، ان کی سزا یہی ہے۔‏“ بلکہ امام مالک رحمة الله تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ ”اگر کوئی شخص دوسرے کو اس کے گھر میں اس طرح دھوکہ دہی سے مار ڈالے تو اسے پکڑ لیا جائے اور اسے قتل کر دیا جائے اور خود امام وقت ان کاموں کو از خود کرے گا، نہ کہ مقتول کے اولیاء کے ہاتھ میں یہ کام ہوں بلکہ اگر وہ درگزر کرنا چاہیں تو بھی ان کے اختیار میں نہیں بلکہ یہ جرم، بے واسطہ حکومت اسلامیہ کا ہے۔‏“

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب یہ نہیں، وہ کہتے ہیں کہ ”مجاربہ اسی وقت مانا جائے گا جبکہ شہر کے باہر ایسے فساد کوئی کرے، کیونکہ شہر میں تو امداد کا پہنچنا ممکن ہے، راستوں میں یہ بات ناممکن سی ہے۔‏“ جو سزا ان محاربین کی بیان ہوئی ہے اس کے بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جو شخص مسلمانوں پر تلوار اٹھائے، راستوں کو پُر خطر بنا دے، امام المسلمین کو ان تینوں سزاؤں میں سے جو سزا دینا چاہے اس کا اختیار ہے۔‏“

یہی قول اور بھی بہت سوں کا ہے اور اس طرح کا اختیار ایسی ہی اور آیتوں کے احکام میں بھی موجود ہے جیسے محرم اگر شکار کھیلے تو اس کا بدلہ شکار کے برابر کی قربانی یا مساکین کا کھانا ہے یا اس کے برابر روزے رکھنا ہے، بیماری یا سر کی تکلیف کی وجہ سے حالت احرام میں سر منڈوانے اور خلاف احرام کام کرنے والے کے فدیئے میں بھی روزے یا صدقہ یا قربانی کا حکم ہے۔ قسم کے کفارے میں درمیانی درجہ کا کھانا دیں مسکینوں کا یا ان کا کپڑا یا ایک غلام کو آزاد کرنا ہے۔ تو جس طرح یہاں ان صورتوں میں سے کسی ایک کے پسند کر لینے کا اختیار ہے، اسی طرح ایسے محارب، مرتد لوگوں کی سزا بھی یا تو قتل ہے یا ہاتھ پاؤں الٹی طرح سے کاٹنا ہے یا جلا وطن کرنا۔ اور جمہور کا قول ہے کہ یہ آیت کئی احوال میں ہے، جب ڈاکو قتل و غارت دونوں کے مرتکب ہوتے ہوں تو قابل دار اور گردن وزنی ہیں اور جب صرف قتل سرزد ہوا ہو تو قتل کا بدلہ صرف قتل ہے اور اگر فقط مال لیا ہو تو ہاتھ پاؤں الٹے سیدھے کاٹ دیئے جائیں گے اور اگر راستے پُر خطر کر دیئے ہوں، لوگوں کو خوف زدہ کر دیا ہو اور کسی گناہ کے مرتکب نہ ہوئے ہوں اور گرفتار کر لیے جائیں تو صرف جلا وطنی ہے۔

صفحہ نمبر2292

اکثر سلف اور ائمہ کا یہی مذہب ہے پھر بزرگوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ہے کہ آیا سولی پر لٹکا کر یونہی چھوڑ دیا جائے کہ بھوکا پیاسا مر جائے؟ یا نیزے وغیرہ سے قتل کر دیا جائے؟ یا پہلے قتل کر دیا جائے پھر سولی پر لٹکایا جائے تاکہ اور لوگوں کو عبرت حاصل ہو؟ اور کیا تین دن تک سولی پر رہنے دے کر پھر اتار لیا جائے؟ یا یونہی چھوڑ دیا جائے لیکن تفسیر کا یہ موضوع نہیں کہ ہم ایسے جزئی اختلافات میں پڑیں اور ہر ایک کی دلیلیں وغیرہ وارد کریں۔

ہاں ایک حدیث میں کچھ تفصیل سزا ہے، اگر اس کی سند صحیح ہو تو وہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان محاربین کے بارے میں جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ”جنہوں نے مال چرایا اور راستوں کو خطرناک بنا دیا ان کے ہاتھ تو چوری کے بدلے کاٹ دیجئیے اور جس نے قتل اور دہشت گردی پھیلائی اور بدکاری کا ارتکاب کیا ہے، اسے سولی چڑھا دو“ ۔

صفحہ نمبر2293

فرمان ہے کہ ” زمین سے الگ کر دیئے جائیں “ یعنی انہیں تلاش کر کے ان پر حد قائم کی جائے یا وہ دار الاسلام سے بھاگ کر کہیں چلے جائیں یا یہ کہ ایک شہر سے دوسرے شہر اور دوسرے سے تیسرے شہر انہیں بھیج دیا جاتا رہے یا یہ کہ اسلامی سلطنت سے بالکل ہی خارج کر دیا جائے۔ شعبی تو نکال ہی دیتے تھے اور عطا خراسانی کہتے ہیں ”ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں پہنچا دیا جائے یونہی کئی سال تک مارا مارا پھرایا جائے لیکن دار الاسلام سے باہر نہ کیا جائے۔‏“ ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں ”اسے جیل خانے میں ڈال دیا جائے۔‏“ ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول یہ ہے کہ ”اسے اس کے شہر سے نکال کر کسی دوسرے شہر کے جیل خانے میں ڈال دیا جائے۔‏“ ”ایسے لوگ دنیا میں ذلیل و رذیل اور آخرت میں بڑے بھاری عذابوں میں گرفتار ہوں گے۔‏“

آیت کا یہ ٹکڑا تو ان لوگوں کی تائید کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ یہ آیت مشرکوں کے بارے میں اتری ہے اور مسلمانوں کے بارے وہ صحیح حدیث ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ویسے ہی عہد لیے جیسے عورتوں سے لیے تھے کہ ”ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، چوری نہ کریں، زنا نہ کریں، اپنی اولادوں کو قتل نہ کریں، ایک دوسرے کی نافرمانی نہ کریں جو اس وعدے کو نبھائے، اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جو ان میں سے کسی گناہ کے ساتھ آلودہ ہو جائے پھر اگر اسے سزا ہو گئی تو وہ سزا کفارہ بن جائے گی اور اگر اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی کر لی تو اس امر کا اللہ ہی مختار ہے اگر چاہے عذاب کرے، اگر چاہے چھوڑ دے“ ۔ [صحیح مسلم:1709] ‏

اور حدیث میں ہے جس کسی نے کوئی گناہ کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ڈھانپ لیا اور اس سے چشم پوشی کر لی تو اللہ کی ذات اور اس کا رحم و کرم اس سے بہت بلند و بالا ہے، معاف کئے ہوئے جرائم کو دوبارہ کرنے پہ اسے دنیوی سزا ملے گی، اگر بے توبہ مرگئے تو آخرت کی وہ سزائیں باقی ہیں جن کا اس وقت صحیح تصور بھی محال ہے ہاں توبہ نصیب ہو جائے تو اور بات ہے ۔ [سنن ترمذي:2626،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2294

پھر توبہ کرنے والوں کی نسبت جو فرمایا ہے اس کا اظہار اس صورت میں تو صاف ہے کہ اس آیت کو مشرکوں کے بارے میں نازل شدہ مانا جائے۔ لیکن جو مسلمان مغرور ہوں اور وہ قبضے میں آنے سے پہلے توبہ کر لیں تو ان سے قتل اور سولی اور پاؤں کاٹنا تو ہٹ جاتا ہے لیکن ہاتھ کا کٹنا بھی ہٹ جاتا ہے یا نہیں، اس میں علماء کے دو قول ہیں، آیت کے ظاہری الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ ہٹ جائے، صحابہ رضی اللہ عنہم کا عمل بھی اسی پر ہے۔

چنانچہ جاریہ بن بدر تیمی بصریٰ نے زمین میں فساد کیا، مسلمانوں سے لڑا، اس بارے میں چند قریشیوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سفارش کی، جن میں حسن بن علی، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم بھی تھے لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے اسے امن دینے سے انکار کر دیا۔ وہ سعید بن قیس ہمدانی کے پاس آیا، آپ نے اپنے گھر میں اسے ٹھہرایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا بتائیے تو ”جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑے اور زمین میں فساد کی سعی کرے“، پھر ان آیتوں کی «‏قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ» تک تلاوت کی تو، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں تو ایسے شخص کو امن لکھ دوں گا“، سعید نے فرمایا یہ جاریہ بن بدر ہے، چنانچہ جاریہ نے اس کے بعد ان کی مدح میں اشعار بھی کہے ہیں۔

صفحہ نمبر2295

قبیلہ مراد کا ایک شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس کوفہ کی مسجد میں جہاں کے یہ گورنر تھے، ایک فرض نماز کے بعد آیا اور کہنے لگا اے امیر کوفہ فلاں بن فلاں مرادی قبیلے کا ہوں، میں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی لڑی، زمین میں فساد کی کوشش کی لیکن آپ لوگ مجھ پر قدرت پائیں، اس سے پہلے میں تائب ہوگیا اب میں آپ سے پناہ حاصل کرنے والے کی جگہ پر کھڑا ہوں۔ اس پر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا ”اے لوگو! تم میں سے کوئی اب اس توبہ کے بعد اس سے کسی طرح کی لڑائی نہ کرے، اگر یہ سچا ہے تو الحمدللہ اور یہ جھوٹا ہے تو اس کے گناہ ہی اسے ہلاک کر دیں گے۔‏“ یہ شخص ایک مدت تک تو ٹھیک ٹھیک رہا لیکن پھر بغاوت کر گیا، اللہ نے بھی اس کے گناہوں کے بدلے اسے غارت کر دیا اور یہ مار ڈالا گیا۔

علی نامی ایک اسدی شخص نے بھی گزرگاہوں میں دہشت پھیلا دی، لوگوں کو قتل کیا، مال لوٹا، بادشاہ لشکر اور رعایا نے ہر چند اسے گرفتار کرنا چاہا، لیکن یہ ہاتھ نہ لگا۔ ایک مرتبہ یہ جنگل میں تھا، ایک شخص کو قرآن پڑھتے سنا اور وہ اس وقت یہ آیت تلاوت کر رہا تھا «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ» [39-الزمر:53] ‏، یہ اسے سن کر رک گیا اور اس سے کہا اے اللہ کے بندے یہ آیت مجھے دوبارہ سنا، اس نے پھر پڑھی اللہ کی اس آواز کو سن کر کہ وہ فرماتا ہے ” اے میرے گنہگار بندو تم میری رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، میں سب گناہوں کو بخشنے پر قادر ہوں میں غفور و رحیم ہوں “، اس شخص نے جھٹ سے اپنی تلوار میان میں کرلی، اسی وقت سچے دل سے توبہ کی اور صبح کی نماز سے پہلے مدینے پہنچ گیا، غسل کیا اور مسجد نبوی میں نماز صبح جماعت کے ساتھ ادا کی اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جو لوگ بیٹھے تھے، ان ہی میں ایک طرف یہ بھی بیٹھ گیا۔

جب دن کا اجالا ہوا تو لوگوں نے اسے دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ تو سلطنت کا باغی، بہت بڑا مجرم اور مفرور شخص علی اسدی ہے، سب نے چاہا کہ اسے گرفتار کر لیں۔ اس نے کہا سنو بھائیو! تم مجھے گرفتار نہیں کرسکتے، اس لیے کہ مجھ پر تمہارے قابو پانے سے پہلے ہی میں تو توبہ کر چکا ہوں بلکہ توبہ کے بعد خود تمہارے پاس آ گیا ہوں۔

صفحہ نمبر2296

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا! ”یہ سچ کہتا ہے“ اور اس کا ہاتھ پکڑ کر مروان بن حکم کے پاس لے چلے، یہ اس وقت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینے کے گورنر تھے، وہاں پہنچ کر فرمایا کہ ”یہ علی اسدی ہیں، یہ توبہ کر چکے ہیں، اس لیے اب تم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔‏“

چنانچہ کسی نے اس کے ساتھ کچھ نہ کیا، جب مجاہدین کی ایک جماعت رومیوں سے لڑنے کیلئے چلی تو ان مجاہدوں کے ساتھ یہ بھی ہو لیے، سمندر میں ان کی کشتی جا رہی تھی کہ سامنے سے چند کشتیاں رومیوں کی آگئیں، یہ اپنی کشتی میں سے رومیوں کی گردنیں مارنے کیلئے ان کی کشتی میں کود گئے، ان کی آبدار خارا شگاف تلوار کی چمک کی تاب رومی نہ لاسکے اور نامردی سے ایک طرف کو بھاگے، یہ بھی ان کے پیچھے اسی طرف چلے چونکہ سارا بوجھ ایک طرف ہو گیا، اس لیے کشتی الٹ گئی جس سے وہ سارے رومی کفار ہلاک ہوگئے اور علی اسدی بھی ڈوب کر شہید ہو گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:284/10] ‏ (‏اللہ ان پر اپنی رحمتیں ناز فرمائے)۔

صفحہ نمبر2297

فساد اور قتل و غارت گری ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اہل کتاب کے ایک گروہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاہدہ ہوگیا تھا لیکن انہوں نے اسے توڑ دیا اور فساد مچا دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو انہیں قتل کر دیں، چاہیں تو الٹے سیدھے ہاتھ پاؤں کٹوا دیں ۔

سعد رحمة الله فرماتے ہیں“ یہ حروریہ خوارج کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔‏“ صحیح یہ ہے کہ جو بھی اس فعل کا مرتکب ہو اس کیلئے یہ حکم ہے۔

چنانچہ بخاری مسلم میں ہے کہ قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تم چاہو تو ہمارے چرواہوں کے ساتھ چلے جاؤ اونٹوں کا دودھ اور پیشاب تمہیں ملے گا ۔ چنانچہ یہ گئے اور جب ان کی بیماری جاتی رہی تو انہوں نے ان چرواہوں کو مار ڈالا اور اونٹ لے کر چلتے بنے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ان کے پیچھے دوڑایا کہ انہیں پکڑ لائیں، چنانچہ یہ گرفتار کئے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے۔ پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے اور آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور دھوپ میں پڑے ہوئے تڑپ تڑپ کر مر گئے ۔ مسلم میں ہے یا تو یہ لوگ عکل کے تھے یا عرینہ کے۔ یہ پانی مانگتے تھے مگر انہیں پانی نہ دیا گیا نہ ان کے زخم دھوئے گئے ۔ [صحیح بخاری:233] ‏

انہوں نے چوری بھی کی تھی، قتل بھی کیا تھا، ایمان کے بعد کفر بھی کیا تھا اور اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑتے بھی تھے۔ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں بھی پھیری تھیں، مدینے کی آب و ہوا اس وقت درست نہ تھی، سرسام کی بیماری تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے بیس انصاری گھوڑ سوار بھیجے تھے اور ایک کھوجی تھا، جو نشان قدم دیکھ کر رہبری کرتا جاتا تھا۔ موت کے وقت ان کی پیاس کے مارے یہ حالت تھی کہ زمین چاٹ رہے تھے، انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ [سنن ترمذي:1845، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ایک مرتبہ حجاج نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ سب سے بڑی اور سب سے سخت سزا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو دی ہو، تم بیان کرو تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ بیان فرمایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ بحرین سے آئے تھے، بیماری کی وجہ سے ان کے رنگ زرد پڑ گئے تھے اور پیٹ بڑھ گئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: کہ جاؤ اونٹوں میں رہو اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو ۔

صفحہ نمبر2287

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”پھر میں نے دیکھا کہ حجاج نے تو اس روایت کو اپنے مظالم کی دلیل بنا لی تب تو مجھے سخت ندامت ہوئی کہ میں نے اس سے یہ حدیث کیوں بیان کی؟۔‏“ [اسناده ضعیف وله شواهد] ‏

اور روایت میں ہے کہ ان میں سے چار شخص تو عرینہ قبیلے کے تھے اور تین عکل کے تھے، یہ سب تندرست ہو گئے تو یہ مرتد بن گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11818] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ راستے بھی انہوں نے بند کر دیئے تھے اور زنا کار بھی تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11820] ‏

جب یہ آئے تو اب سب کے پاس بوجہ فقیری پہننے کے کپڑے تک نہ تھے، یہ قتل و غارت کر کے بھاگ کر اپنے شہر کو جا رہے تھے۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ اپنی قوم کے پاس پہنچنے والے تھے جو ہم نے انہیں جا لیا۔ وہ پانی مانگتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے اب تو پانی کے بدلے جہنم کی آگ ملے گی ۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ آنکھوں میں سلائیاں پھیرنا اللہ کو ناپسند آیا، یہ حدیث ضعیف اور غریب ہے لیکن اس سے یہ معلوم ہوا کہ جو لشکر ان مرتدوں کے گرفتار کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا، ان کے سردار سیدنا جریر رضی اللہ عنہ تھے۔ ہاں اس روایت میں یہ فقرہ بالکل منکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنا مکروہ رکھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11815] ‏

اس لیے کہ صحیح مسلم میں یہ موجود ہے کہ انہوں نے چرواہوں کے ساتھ بھی یہی کیا تھا، پس یہ اس کا بدلہ اور ان کا قصاص تھا جو انہوں نے ان کے ساتھ کیا تھا وہی ان کے ساتھ کیا گیا ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2288

اور روایت میں ہے کہ یہ لوگ بنو فزارہ کے تھے، اس واقعہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سزا کسی کو نہیں دی۔ [عبد الرزاق:18541:ضعیف] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام تھا، جس کا نام یسار تھا چونکہ یہ بڑے اچھے نمازی تھے، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا تھا اور اپنے اونٹوں میں انہیں بھیج دیا تھا کہ یہ ان کی نگرانی رکھیں، انہی کو ان مرتدوں نے قتل کیا اور ان کی آنکھوں میں کانٹے گاڑ کر اونٹ لے کر بھاگ گئے، جو لشکر انہیں گرفتار کر کے لایا تھا، ان میں ایک شاہ زور کرز بن جابر فہری تھے ۔ [طبرانی کبیر:6223:ضعیف] ‏

حافظ ابوبکر بن مردویہ رحمة الله نے اس روایت کے تمام طریقوں کو جمع کر دیا اللہ انہیں جزائے خیر دے۔ ابوحمزہ عبد الکریم رحمة الله سے اونٹوں کے پیشاب کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ ان محاربین کا قصہ بیان فرماتے ہیں اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ منافقانہ طور پر ایمان لائے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینے کی آب و ہوا کی ناموافقت کی شکایت کی تھی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی دغا بازی اور قتل و غارت اور ارتداد کا علم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کرائی کہ اللہ کے لشکریو اٹھ کھڑے ہو ۔

یہ آواز سنتے ہی مجاہدین کھڑے ہو گئے، بغیر اس کے کہ کوئی کسی کا انتظار کرے ان مرتد ڈاکوؤں اور باغیوں کے پیچھے دوڑے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو روانہ کر کے ان کے پیچھے چلے، وہ لوگ اپنی جائے امن میں پہنچنے ہی کو تھے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے انہیں گھیر لیا اور ان میں سے جتنے گرفتار ہو گئے، انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا اور یہ آیت اتری، ان کی جلا وطنی یہی تھی کہ انہیں حکومت اسلام کی حدود سے خارج کر دیا گیا۔ پھر ان کو عبرتناک سزائیں دی گئیں۔

صفحہ نمبر2289

اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے بھی اعضاء بدن سے جدا نہیں کرائے بلکہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے، جانوروں کو بھی اس طرح کرنا منع ہے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ قتل کے بعد انہیں جلا دیا گیا، [تفسیر ابن جریر الطبری:11814:ضعیف] ‏

بعض کہتے ہیں یہ بنو سلیم کے لوگ تھے۔ بعض بزرگوں کا قول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سزا انہیں دی وہ اللہ کو پسند نہ آئیں اور اس آیت سے اسے منسوخ کردیا۔ ان کے نزدیک گویا اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سزا سے روکا گیا ہے۔

جیسے آیت «عَفَا اللَّـهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْكَاذِبِينَ» ‏ [9-التوبة:43] ‏ میں اور بعض کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثلہ کرنے سے یعنی ہاتھ پاؤں کان ناک کاٹنے سے جو ممانعت فرمائی ہے، اس حدیث سے یہ سزا منسوخ ہو گئی۔

لیکن یہ ذرا غور طلب ہے پھر یہ بھی سوال طلب امر ہے کہ ناسخ کی تاخیر کی دلیل کیا ہے؟ بعض کہتے ہیں حدود اسلام مقرر ہوں اس سے پہلے کا یہ واقعہ ہے لیکن یہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا، بلکہ حدود کے تقرر کے بعد کا واقعہ معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ اس حدیث کے ایک راوی سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کا اسلام سورۃ المائدہ کے نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے۔ بعض کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنی چاہی تھیں لیکن یہ آیت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ارادے سے باز رہے، لیکن یہ بھی درست نہیں۔ اس لیے کہ بخاری و مسلم میں یہ لفظ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں سلائیں پھروائیں ۔

صفحہ نمبر2290

محمد بن عجلان رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سخت سزا انہیں دی، اس کے انکار میں یہ آیتیں اتری ہیں اور ان میں صحیح سزا بیان کی گئی ہے جو قتل کرنے اور ہاتھ پاؤں الٹی طرف سے کاٹنے اور وطن سے نکال دینے کے حکم پر شامل ہے چنانچہ دیکھ لیجئے کہ اس کے بعد پھر کسی کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنی ثابت نہیں۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:11822:ضعیف] ‏

لیکن ”اوزاعی کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں کہ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈانٹا گیا ہو۔ بات یہ ہے کہ انہوں نے جو کیا تھا اس کا وہی بدلہ مل گیا۔ اب آیت نازل ہوئی جس نے ایک خاص حکم ایسے لوگوں کا بیان فرمایا اور اس میں آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنے کا حکم نہیں دیا۔‏“

صفحہ نمبر2291

اس آیت سے جمہور علماء نے دلیل پکڑی ہے کہ راستوں کی بندش کر کے لڑنا اور شہروں میں لڑنا دونوں برابر ہے کیونکہ لفظ «وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا» کے ہیں۔ مالک، اوزاعی، لیث، شافعی،، احمد رحمہم اللہ اجمعین کا یہی مذہب ہے کہ ”باغی لوگ خواہ شہر میں ایسا فتنہ مچائیں یا بیرون شہر، ان کی سزا یہی ہے۔‏“ بلکہ امام مالک رحمة الله تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ ”اگر کوئی شخص دوسرے کو اس کے گھر میں اس طرح دھوکہ دہی سے مار ڈالے تو اسے پکڑ لیا جائے اور اسے قتل کر دیا جائے اور خود امام وقت ان کاموں کو از خود کرے گا، نہ کہ مقتول کے اولیاء کے ہاتھ میں یہ کام ہوں بلکہ اگر وہ درگزر کرنا چاہیں تو بھی ان کے اختیار میں نہیں بلکہ یہ جرم، بے واسطہ حکومت اسلامیہ کا ہے۔‏“

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب یہ نہیں، وہ کہتے ہیں کہ ”مجاربہ اسی وقت مانا جائے گا جبکہ شہر کے باہر ایسے فساد کوئی کرے، کیونکہ شہر میں تو امداد کا پہنچنا ممکن ہے، راستوں میں یہ بات ناممکن سی ہے۔‏“ جو سزا ان محاربین کی بیان ہوئی ہے اس کے بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جو شخص مسلمانوں پر تلوار اٹھائے، راستوں کو پُر خطر بنا دے، امام المسلمین کو ان تینوں سزاؤں میں سے جو سزا دینا چاہے اس کا اختیار ہے۔‏“

یہی قول اور بھی بہت سوں کا ہے اور اس طرح کا اختیار ایسی ہی اور آیتوں کے احکام میں بھی موجود ہے جیسے محرم اگر شکار کھیلے تو اس کا بدلہ شکار کے برابر کی قربانی یا مساکین کا کھانا ہے یا اس کے برابر روزے رکھنا ہے، بیماری یا سر کی تکلیف کی وجہ سے حالت احرام میں سر منڈوانے اور خلاف احرام کام کرنے والے کے فدیئے میں بھی روزے یا صدقہ یا قربانی کا حکم ہے۔ قسم کے کفارے میں درمیانی درجہ کا کھانا دیں مسکینوں کا یا ان کا کپڑا یا ایک غلام کو آزاد کرنا ہے۔ تو جس طرح یہاں ان صورتوں میں سے کسی ایک کے پسند کر لینے کا اختیار ہے، اسی طرح ایسے محارب، مرتد لوگوں کی سزا بھی یا تو قتل ہے یا ہاتھ پاؤں الٹی طرح سے کاٹنا ہے یا جلا وطن کرنا۔ اور جمہور کا قول ہے کہ یہ آیت کئی احوال میں ہے، جب ڈاکو قتل و غارت دونوں کے مرتکب ہوتے ہوں تو قابل دار اور گردن وزنی ہیں اور جب صرف قتل سرزد ہوا ہو تو قتل کا بدلہ صرف قتل ہے اور اگر فقط مال لیا ہو تو ہاتھ پاؤں الٹے سیدھے کاٹ دیئے جائیں گے اور اگر راستے پُر خطر کر دیئے ہوں، لوگوں کو خوف زدہ کر دیا ہو اور کسی گناہ کے مرتکب نہ ہوئے ہوں اور گرفتار کر لیے جائیں تو صرف جلا وطنی ہے۔

صفحہ نمبر2292

اکثر سلف اور ائمہ کا یہی مذہب ہے پھر بزرگوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ہے کہ آیا سولی پر لٹکا کر یونہی چھوڑ دیا جائے کہ بھوکا پیاسا مر جائے؟ یا نیزے وغیرہ سے قتل کر دیا جائے؟ یا پہلے قتل کر دیا جائے پھر سولی پر لٹکایا جائے تاکہ اور لوگوں کو عبرت حاصل ہو؟ اور کیا تین دن تک سولی پر رہنے دے کر پھر اتار لیا جائے؟ یا یونہی چھوڑ دیا جائے لیکن تفسیر کا یہ موضوع نہیں کہ ہم ایسے جزئی اختلافات میں پڑیں اور ہر ایک کی دلیلیں وغیرہ وارد کریں۔

ہاں ایک حدیث میں کچھ تفصیل سزا ہے، اگر اس کی سند صحیح ہو تو وہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان محاربین کے بارے میں جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ”جنہوں نے مال چرایا اور راستوں کو خطرناک بنا دیا ان کے ہاتھ تو چوری کے بدلے کاٹ دیجئیے اور جس نے قتل اور دہشت گردی پھیلائی اور بدکاری کا ارتکاب کیا ہے، اسے سولی چڑھا دو“ ۔

صفحہ نمبر2293

فرمان ہے کہ ” زمین سے الگ کر دیئے جائیں “ یعنی انہیں تلاش کر کے ان پر حد قائم کی جائے یا وہ دار الاسلام سے بھاگ کر کہیں چلے جائیں یا یہ کہ ایک شہر سے دوسرے شہر اور دوسرے سے تیسرے شہر انہیں بھیج دیا جاتا رہے یا یہ کہ اسلامی سلطنت سے بالکل ہی خارج کر دیا جائے۔ شعبی تو نکال ہی دیتے تھے اور عطا خراسانی کہتے ہیں ”ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں پہنچا دیا جائے یونہی کئی سال تک مارا مارا پھرایا جائے لیکن دار الاسلام سے باہر نہ کیا جائے۔‏“ ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں ”اسے جیل خانے میں ڈال دیا جائے۔‏“ ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول یہ ہے کہ ”اسے اس کے شہر سے نکال کر کسی دوسرے شہر کے جیل خانے میں ڈال دیا جائے۔‏“ ”ایسے لوگ دنیا میں ذلیل و رذیل اور آخرت میں بڑے بھاری عذابوں میں گرفتار ہوں گے۔‏“

آیت کا یہ ٹکڑا تو ان لوگوں کی تائید کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ یہ آیت مشرکوں کے بارے میں اتری ہے اور مسلمانوں کے بارے وہ صحیح حدیث ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ویسے ہی عہد لیے جیسے عورتوں سے لیے تھے کہ ”ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، چوری نہ کریں، زنا نہ کریں، اپنی اولادوں کو قتل نہ کریں، ایک دوسرے کی نافرمانی نہ کریں جو اس وعدے کو نبھائے، اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جو ان میں سے کسی گناہ کے ساتھ آلودہ ہو جائے پھر اگر اسے سزا ہو گئی تو وہ سزا کفارہ بن جائے گی اور اگر اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی کر لی تو اس امر کا اللہ ہی مختار ہے اگر چاہے عذاب کرے، اگر چاہے چھوڑ دے“ ۔ [صحیح مسلم:1709] ‏

اور حدیث میں ہے جس کسی نے کوئی گناہ کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ڈھانپ لیا اور اس سے چشم پوشی کر لی تو اللہ کی ذات اور اس کا رحم و کرم اس سے بہت بلند و بالا ہے، معاف کئے ہوئے جرائم کو دوبارہ کرنے پہ اسے دنیوی سزا ملے گی، اگر بے توبہ مرگئے تو آخرت کی وہ سزائیں باقی ہیں جن کا اس وقت صحیح تصور بھی محال ہے ہاں توبہ نصیب ہو جائے تو اور بات ہے ۔ [سنن ترمذي:2626،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2294

پھر توبہ کرنے والوں کی نسبت جو فرمایا ہے اس کا اظہار اس صورت میں تو صاف ہے کہ اس آیت کو مشرکوں کے بارے میں نازل شدہ مانا جائے۔ لیکن جو مسلمان مغرور ہوں اور وہ قبضے میں آنے سے پہلے توبہ کر لیں تو ان سے قتل اور سولی اور پاؤں کاٹنا تو ہٹ جاتا ہے لیکن ہاتھ کا کٹنا بھی ہٹ جاتا ہے یا نہیں، اس میں علماء کے دو قول ہیں، آیت کے ظاہری الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ ہٹ جائے، صحابہ رضی اللہ عنہم کا عمل بھی اسی پر ہے۔

چنانچہ جاریہ بن بدر تیمی بصریٰ نے زمین میں فساد کیا، مسلمانوں سے لڑا، اس بارے میں چند قریشیوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سفارش کی، جن میں حسن بن علی، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم بھی تھے لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے اسے امن دینے سے انکار کر دیا۔ وہ سعید بن قیس ہمدانی کے پاس آیا، آپ نے اپنے گھر میں اسے ٹھہرایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا بتائیے تو ”جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑے اور زمین میں فساد کی سعی کرے“، پھر ان آیتوں کی «‏قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ» تک تلاوت کی تو، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں تو ایسے شخص کو امن لکھ دوں گا“، سعید نے فرمایا یہ جاریہ بن بدر ہے، چنانچہ جاریہ نے اس کے بعد ان کی مدح میں اشعار بھی کہے ہیں۔

صفحہ نمبر2295

قبیلہ مراد کا ایک شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس کوفہ کی مسجد میں جہاں کے یہ گورنر تھے، ایک فرض نماز کے بعد آیا اور کہنے لگا اے امیر کوفہ فلاں بن فلاں مرادی قبیلے کا ہوں، میں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی لڑی، زمین میں فساد کی کوشش کی لیکن آپ لوگ مجھ پر قدرت پائیں، اس سے پہلے میں تائب ہوگیا اب میں آپ سے پناہ حاصل کرنے والے کی جگہ پر کھڑا ہوں۔ اس پر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا ”اے لوگو! تم میں سے کوئی اب اس توبہ کے بعد اس سے کسی طرح کی لڑائی نہ کرے، اگر یہ سچا ہے تو الحمدللہ اور یہ جھوٹا ہے تو اس کے گناہ ہی اسے ہلاک کر دیں گے۔‏“ یہ شخص ایک مدت تک تو ٹھیک ٹھیک رہا لیکن پھر بغاوت کر گیا، اللہ نے بھی اس کے گناہوں کے بدلے اسے غارت کر دیا اور یہ مار ڈالا گیا۔

علی نامی ایک اسدی شخص نے بھی گزرگاہوں میں دہشت پھیلا دی، لوگوں کو قتل کیا، مال لوٹا، بادشاہ لشکر اور رعایا نے ہر چند اسے گرفتار کرنا چاہا، لیکن یہ ہاتھ نہ لگا۔ ایک مرتبہ یہ جنگل میں تھا، ایک شخص کو قرآن پڑھتے سنا اور وہ اس وقت یہ آیت تلاوت کر رہا تھا «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ» [39-الزمر:53] ‏، یہ اسے سن کر رک گیا اور اس سے کہا اے اللہ کے بندے یہ آیت مجھے دوبارہ سنا، اس نے پھر پڑھی اللہ کی اس آواز کو سن کر کہ وہ فرماتا ہے ” اے میرے گنہگار بندو تم میری رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، میں سب گناہوں کو بخشنے پر قادر ہوں میں غفور و رحیم ہوں “، اس شخص نے جھٹ سے اپنی تلوار میان میں کرلی، اسی وقت سچے دل سے توبہ کی اور صبح کی نماز سے پہلے مدینے پہنچ گیا، غسل کیا اور مسجد نبوی میں نماز صبح جماعت کے ساتھ ادا کی اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جو لوگ بیٹھے تھے، ان ہی میں ایک طرف یہ بھی بیٹھ گیا۔

جب دن کا اجالا ہوا تو لوگوں نے اسے دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ تو سلطنت کا باغی، بہت بڑا مجرم اور مفرور شخص علی اسدی ہے، سب نے چاہا کہ اسے گرفتار کر لیں۔ اس نے کہا سنو بھائیو! تم مجھے گرفتار نہیں کرسکتے، اس لیے کہ مجھ پر تمہارے قابو پانے سے پہلے ہی میں تو توبہ کر چکا ہوں بلکہ توبہ کے بعد خود تمہارے پاس آ گیا ہوں۔

صفحہ نمبر2296

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا! ”یہ سچ کہتا ہے“ اور اس کا ہاتھ پکڑ کر مروان بن حکم کے پاس لے چلے، یہ اس وقت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینے کے گورنر تھے، وہاں پہنچ کر فرمایا کہ ”یہ علی اسدی ہیں، یہ توبہ کر چکے ہیں، اس لیے اب تم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔‏“

چنانچہ کسی نے اس کے ساتھ کچھ نہ کیا، جب مجاہدین کی ایک جماعت رومیوں سے لڑنے کیلئے چلی تو ان مجاہدوں کے ساتھ یہ بھی ہو لیے، سمندر میں ان کی کشتی جا رہی تھی کہ سامنے سے چند کشتیاں رومیوں کی آگئیں، یہ اپنی کشتی میں سے رومیوں کی گردنیں مارنے کیلئے ان کی کشتی میں کود گئے، ان کی آبدار خارا شگاف تلوار کی چمک کی تاب رومی نہ لاسکے اور نامردی سے ایک طرف کو بھاگے، یہ بھی ان کے پیچھے اسی طرف چلے چونکہ سارا بوجھ ایک طرف ہو گیا، اس لیے کشتی الٹ گئی جس سے وہ سارے رومی کفار ہلاک ہوگئے اور علی اسدی بھی ڈوب کر شہید ہو گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:284/10] ‏ (‏اللہ ان پر اپنی رحمتیں ناز فرمائے)۔

صفحہ نمبر2297

تقویٰ قربت الٰہی کی بنیاد ہے ٭٭

تقوے کا حکم ہو رہا ہے اور وہ بھی اطاعت سے ملا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے منع کردہ کاموں سے جو شخص رکا رہے، اس کی طرف قربت یعنی نزدیکی تلاش کرے۔ وسیلے کے یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں۔ مجاہد، وائل، حسن، ابن زید رحمة الله علیہم اور بہت سے مفسرین سے بھی مروی ہے۔

قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں ”اللہ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے اعمال کرنے سے اس سے قریب ہوتے جاؤ۔‏“ ابن زید نے یہ آیت بھی پڑھی «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا» [17-الاسراء:57] ‏ ” جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود ہی اپنے رب کی نزدیکی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں “۔

ان ائمہ نے وسیلے کے جو معنی اس آیت میں کئے ہیں اس پر سب مفسرین کا اجماع ہے، اس میں کسی ایک کو بھی اختلاف نہیں۔ امام جریر رحمة الله نے اس پر ایک عربی شعر بھی وارد کیا ہے ؎ «(‏إِذَا غَفَلَ الْوَاشُونَ عُدْنَا لِوصْلِنَا وَعَادَ التَّصَافِي بَيْنَنَا وَالْوَسَائِلُ)‏» ‏، جس میں وسیلہ معنی قربت اور نزدیک کے مستعمل ہوا ہے۔ وسیلے کے معنی اس چیز کے ہیں جس سے مقصود کے حاصل کرنے کی طرف پہنچا جائے اور وسیلہ جنت کی اس اعلیٰ اور بہترین منزل کا نام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ہے۔ عرش سے بہت زیادہ قریب یہی درجہ ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الاسراء:79] ‏ ” قریب ہے کہ خدا تم کو مقام محمود میں داخل کرے “۔

صفحہ نمبر2299

صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے جو شخص اذان سن کر دعا «اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدَتْهُ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»، پڑھے اس کیلئے میری شفاعت حلال ہو جاتی ہے ۔ [صحیح بخاری:614] ‏

مسلم کی حدیث میں ہے جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہہ رہا ہو، وہی تم بھی کہو، پھر مجھ پر درود بھیجو، ایک درود کے بدلے تم پر اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ پھر میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو، وہ جنت کا ایک درجہ ہے، جسے صرف ایک ہی بندہ پائے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں۔ پس جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا، اس کیلئے میری شفاعت واجب ہو گئی ۔ [صحیح مسلم:384] ‏

مسند احمد میں ہے جب تم مجھ پر درود پڑھو تو میرے لیے وسیلہ مانگو ، پوچھا گیا کہ وسیلہ کیا ہے؟ فرمایا: جنت کا سب سے بلند درجہ جسے صرف ایک شخص ہی پائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہوں ۔ [سنن ترمذي:3612،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2300

طبرانی میں ہے تم اللہ سے دعا کرو کہ اللہ مجھے وسیلہ عطا فرمائے جو شخص دنیا میں میرے لیے یہ دعا کرے گا، میں اس پر گواہ یا اس کا سفارشی قیامت کے دن بن جاؤں گا ۔ [طبرانی اوسط:637:حسن] ‏

اور حدیث میں ہے وسیلے سے بڑا درجہ جنت میں کوئی نہیں، لہٰذا تم اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کے ملنے کی دعا کرو ۔ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:3571:صحیح] ‏

ایک غریب اور منکر حدیث میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وسیلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور کون ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا نام لیا ۔ [ضعیف جدا] ‏

ایک اور بہت غریب روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے منبر پر فرمایا کہ ”جنت میں دو موتی ہیں، ایک سفید ایک زرد، زرد تو عرش تلے ہے اور مقام محمود سفید موتی کا ہے، جس میں ستر ہزار بالاخانے ہیں، جن میں سے ہر ہر گھر تین میل کا ہے۔ اس کے دریچے دروازہ تخت وغیرہ سب کے سب گویا ایک ہی جڑ سے ہیں۔ اسی کا نام وسیلہ ہے، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت کیلئے ہے۔‏“ [میزان:3118:موقوف ضعیف] ‏

تقویٰ کا یعنی ممنوعات سے رکنے کا اور حکم احکام کے بجا لانے کا حکم دے کر پھر فرمایا کہ ” اس کی راہ میں جہاد کرو، مشرکین و کفار کو جو اس کے دشمن ہیں اس کے دین سے الگ ہیں، اس کی سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں، انہیں قتل کرو۔ ایسے مجاہدین بامراد ہیں، فلاح و صلاح سعادت و شرافت انہی کیلئے ہیں، جنت کے بلند بالاخانے اور اللہ کی بےشمار نعمتیں انہی کیلئے ہیں، یہ اس جنت میں پہنچائے جائیں گے، جہاں موت و فوت نہیں، جہاں کمی اور نقصان نہیں، جہاں ہمیشگی کی جوانی اور ابدی صحت اور دوامی عیش و عشرت ہے “۔

صفحہ نمبر2301

اپنے دوستوں کا نیک انجام بیان فرما کر اب اپنے دشمنوں کا برا نتیجہ ظاہر فرماتا ہے کہ ” ایسے سخت اور بڑے عذاب انہیں ہو رہے ہوں گے کہ اگر اس وقت روئے زمین کے مالک ہوں بلکہ اتنا ہی اور بھی ہو تو ان عذابوں سے بچنے کیلئے بطور بدلے کے سب دے ڈالیں لیکن اگر ایسا ہو بھی جائے تو بھی ان سے اب فدیہ قبول نہیں بلکہ جو عذاب ان پر ہیں، وہ دائمی اور ابدی اور دوامی ہیں “۔

جیسے اور جگہ ہے کہ «‏كُلَّمَا أَرَ‌ادُوا أَن يَخْرُ‌جُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِ‌يقِ» [22-الحج:22] ‏ ” جہنمی جب جہنم میں سے نکلنا چاہئیں گے تو پھر دوبارہ اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں کے ساتھ اوپر آ جائیں گے کہ داروغے انہیں لوہے کے ہتھوڑے مار مار کر پھر قعر جہنم میں گرا دیں گے۔ غرض ان دائمی عذابوں سے چھٹکارا محال ہے “۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک جہنمی کو لایا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم کہو تمہاری جگہ کیسی ہے؟ وہ کہے گا بدترین اور سخت ترین۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ اس سے چھوٹنے کیلئے تو کیا کچھ خرچ کر دینے پر راضی ہے؟ وہ کہے گا ساری زمین بھر کا سونا دے کر بھی میں یہاں سے چھوٹوں تو بھی سستا چھوٹا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” جھوٹا ہے میں نے تو تجھ سے اس سے بہت ہی کم مانگا تھا لیکن تو نے کچھ بھی نہ کیا “۔ پھر حکم دیا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا [صحیح بخاری:6538] ‏

صفحہ نمبر2302

ایک مرتبہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا کہ ایک قوم جہنم میں سے نکال کر جنت میں پہنچائی جائے گی ۔ اس پر ان کے شاگرد یزید فقیر رحمہ اللہ نے پوچھا کہ پھر اس آیت قرآنی کا کیا مطلب ہے؟ کہ «يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا ۡ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ» [5-المائدہ:37] ‏، یعنی ” وہ جہنم سے آزاد ہونا چاہیں گے لیکن وہ آزاد ہونے والے نہیں “۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس سے پہلے کی آیت «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [5-المائدہ:36] ‏، پڑھو جس سے صاف ہو جاتا ہے کہ یہ کافر لوگ ہیں یہ کبھی نہ نکلیں گے۔‏“ [صحیح مسلم:191] ‏

دوسری روایت میں ہے کہ یزید رحمة الله کا خیال یہی تھا کہ جہنم میں سے کوئی بھی نہ نکلے گا اس لیے یہ سن کر انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے اور لوگوں پر تو افسوس نہیں ہاں آپ صحابیوں رضی اللہ عنہم پر افسوس ہے کہ آپ بھی قرآن کے الٹ کہتے ہیں اس وقت مجھے بھی غصہ آگیا تھا۔ اس پر ان کے ساتھیوں نے مجھے ڈانٹا لیکن سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بہت ہی حلیم الطبع تھے انہوں نے سب کو روک دیا اور مجھے سمجھایا کہ ”قرآن میں جن کا جہنم سے نہ نکلنے کا ذکر ہے وہ کفار ہیں۔ تم نے قرآن نہیں پڑھا؟“ میں نے کہا ہاں مجھے سارا قرآن یاد ہے؟ کہا ”پھر کیا یہ آیت قرآن میں نہیں ہے؟ «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الاسراء:79] ‏، اس میں مقام محمود کا ذکر ہے یہی مقام شفاعت ہے اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو جہنم میں ان کی خطاؤں کی وجہ سے ڈالے گا اور جب تک چاہے انہیں جہنم میں ہی رکھے گا پھر جب چاہے گا انہیں اس سے آزاد کر دے گا۔‏“ یزید رحمة الله فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے میرا خیال ٹھیک ہوگیا۔ [ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر2303

طلق بن حبیب رحمة الله کہتے ہیں میں بھی منکر شفاعت تھا یہاں تک کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ملا اور اپنے دعوے کے ثبوت میں جن جن آیتوں میں جہنم کے ہمیشہ رہنے والوں کا ذکر ہے سب پڑھ ڈالیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے سن کر فرمایا! ”اے طلق کیا تم اپنے تئیں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں مجھ سے افضل جانتے ہو؟ سنو جتنی آیتیں تم نے پڑھی ہیں وہ سب اہل جہنم کے بارے میں ہیں یعنی مشرکوں کیلئے۔ لیکن وہ لوگ نکلیں گے یہ وہ لوگ ہیں جو مشرک نہ تھے لیکن گہنگار تھے گناہوں کے بدلے سزا بھگت لی پھر جہنم سے نکال دیئے گئے۔‏“

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ سب فرما کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ”یہ دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہو کہ جہنم میں داخل ہونے بعد بھی لوگ اس میں سے نکالے جائیں گے اور وہ جہنم سے آزاد کر دیئے جائیں گے ، قرآن کی یہ آیتیں جس طرح تم پڑھتے ہو ہم بھی پڑھتے ہی ہیں۔‏“ [الادب المفرد:818:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2304

تقویٰ قربت الٰہی کی بنیاد ہے ٭٭

تقوے کا حکم ہو رہا ہے اور وہ بھی اطاعت سے ملا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے منع کردہ کاموں سے جو شخص رکا رہے، اس کی طرف قربت یعنی نزدیکی تلاش کرے۔ وسیلے کے یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں۔ مجاہد، وائل، حسن، ابن زید رحمة الله علیہم اور بہت سے مفسرین سے بھی مروی ہے۔

قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں ”اللہ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے اعمال کرنے سے اس سے قریب ہوتے جاؤ۔‏“ ابن زید نے یہ آیت بھی پڑھی «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا» [17-الاسراء:57] ‏ ” جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود ہی اپنے رب کی نزدیکی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں “۔

ان ائمہ نے وسیلے کے جو معنی اس آیت میں کئے ہیں اس پر سب مفسرین کا اجماع ہے، اس میں کسی ایک کو بھی اختلاف نہیں۔ امام جریر رحمة الله نے اس پر ایک عربی شعر بھی وارد کیا ہے ؎ «(‏إِذَا غَفَلَ الْوَاشُونَ عُدْنَا لِوصْلِنَا وَعَادَ التَّصَافِي بَيْنَنَا وَالْوَسَائِلُ)‏» ‏، جس میں وسیلہ معنی قربت اور نزدیک کے مستعمل ہوا ہے۔ وسیلے کے معنی اس چیز کے ہیں جس سے مقصود کے حاصل کرنے کی طرف پہنچا جائے اور وسیلہ جنت کی اس اعلیٰ اور بہترین منزل کا نام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ہے۔ عرش سے بہت زیادہ قریب یہی درجہ ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الاسراء:79] ‏ ” قریب ہے کہ خدا تم کو مقام محمود میں داخل کرے “۔

صفحہ نمبر2299

صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے جو شخص اذان سن کر دعا «اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدَتْهُ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»، پڑھے اس کیلئے میری شفاعت حلال ہو جاتی ہے ۔ [صحیح بخاری:614] ‏

مسلم کی حدیث میں ہے جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہہ رہا ہو، وہی تم بھی کہو، پھر مجھ پر درود بھیجو، ایک درود کے بدلے تم پر اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ پھر میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو، وہ جنت کا ایک درجہ ہے، جسے صرف ایک ہی بندہ پائے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں۔ پس جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا، اس کیلئے میری شفاعت واجب ہو گئی ۔ [صحیح مسلم:384] ‏

مسند احمد میں ہے جب تم مجھ پر درود پڑھو تو میرے لیے وسیلہ مانگو ، پوچھا گیا کہ وسیلہ کیا ہے؟ فرمایا: جنت کا سب سے بلند درجہ جسے صرف ایک شخص ہی پائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہوں ۔ [سنن ترمذي:3612،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2300

طبرانی میں ہے تم اللہ سے دعا کرو کہ اللہ مجھے وسیلہ عطا فرمائے جو شخص دنیا میں میرے لیے یہ دعا کرے گا، میں اس پر گواہ یا اس کا سفارشی قیامت کے دن بن جاؤں گا ۔ [طبرانی اوسط:637:حسن] ‏

اور حدیث میں ہے وسیلے سے بڑا درجہ جنت میں کوئی نہیں، لہٰذا تم اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کے ملنے کی دعا کرو ۔ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:3571:صحیح] ‏

ایک غریب اور منکر حدیث میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وسیلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور کون ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا نام لیا ۔ [ضعیف جدا] ‏

ایک اور بہت غریب روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے منبر پر فرمایا کہ ”جنت میں دو موتی ہیں، ایک سفید ایک زرد، زرد تو عرش تلے ہے اور مقام محمود سفید موتی کا ہے، جس میں ستر ہزار بالاخانے ہیں، جن میں سے ہر ہر گھر تین میل کا ہے۔ اس کے دریچے دروازہ تخت وغیرہ سب کے سب گویا ایک ہی جڑ سے ہیں۔ اسی کا نام وسیلہ ہے، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت کیلئے ہے۔‏“ [میزان:3118:موقوف ضعیف] ‏

تقویٰ کا یعنی ممنوعات سے رکنے کا اور حکم احکام کے بجا لانے کا حکم دے کر پھر فرمایا کہ ” اس کی راہ میں جہاد کرو، مشرکین و کفار کو جو اس کے دشمن ہیں اس کے دین سے الگ ہیں، اس کی سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں، انہیں قتل کرو۔ ایسے مجاہدین بامراد ہیں، فلاح و صلاح سعادت و شرافت انہی کیلئے ہیں، جنت کے بلند بالاخانے اور اللہ کی بےشمار نعمتیں انہی کیلئے ہیں، یہ اس جنت میں پہنچائے جائیں گے، جہاں موت و فوت نہیں، جہاں کمی اور نقصان نہیں، جہاں ہمیشگی کی جوانی اور ابدی صحت اور دوامی عیش و عشرت ہے “۔

صفحہ نمبر2301

اپنے دوستوں کا نیک انجام بیان فرما کر اب اپنے دشمنوں کا برا نتیجہ ظاہر فرماتا ہے کہ ” ایسے سخت اور بڑے عذاب انہیں ہو رہے ہوں گے کہ اگر اس وقت روئے زمین کے مالک ہوں بلکہ اتنا ہی اور بھی ہو تو ان عذابوں سے بچنے کیلئے بطور بدلے کے سب دے ڈالیں لیکن اگر ایسا ہو بھی جائے تو بھی ان سے اب فدیہ قبول نہیں بلکہ جو عذاب ان پر ہیں، وہ دائمی اور ابدی اور دوامی ہیں “۔

جیسے اور جگہ ہے کہ «‏كُلَّمَا أَرَ‌ادُوا أَن يَخْرُ‌جُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِ‌يقِ» [22-الحج:22] ‏ ” جہنمی جب جہنم میں سے نکلنا چاہئیں گے تو پھر دوبارہ اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں کے ساتھ اوپر آ جائیں گے کہ داروغے انہیں لوہے کے ہتھوڑے مار مار کر پھر قعر جہنم میں گرا دیں گے۔ غرض ان دائمی عذابوں سے چھٹکارا محال ہے “۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک جہنمی کو لایا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم کہو تمہاری جگہ کیسی ہے؟ وہ کہے گا بدترین اور سخت ترین۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ اس سے چھوٹنے کیلئے تو کیا کچھ خرچ کر دینے پر راضی ہے؟ وہ کہے گا ساری زمین بھر کا سونا دے کر بھی میں یہاں سے چھوٹوں تو بھی سستا چھوٹا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” جھوٹا ہے میں نے تو تجھ سے اس سے بہت ہی کم مانگا تھا لیکن تو نے کچھ بھی نہ کیا “۔ پھر حکم دیا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا [صحیح بخاری:6538] ‏

صفحہ نمبر2302

ایک مرتبہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا کہ ایک قوم جہنم میں سے نکال کر جنت میں پہنچائی جائے گی ۔ اس پر ان کے شاگرد یزید فقیر رحمہ اللہ نے پوچھا کہ پھر اس آیت قرآنی کا کیا مطلب ہے؟ کہ «يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا ۡ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ» [5-المائدہ:37] ‏، یعنی ” وہ جہنم سے آزاد ہونا چاہیں گے لیکن وہ آزاد ہونے والے نہیں “۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس سے پہلے کی آیت «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [5-المائدہ:36] ‏، پڑھو جس سے صاف ہو جاتا ہے کہ یہ کافر لوگ ہیں یہ کبھی نہ نکلیں گے۔‏“ [صحیح مسلم:191] ‏

دوسری روایت میں ہے کہ یزید رحمة الله کا خیال یہی تھا کہ جہنم میں سے کوئی بھی نہ نکلے گا اس لیے یہ سن کر انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے اور لوگوں پر تو افسوس نہیں ہاں آپ صحابیوں رضی اللہ عنہم پر افسوس ہے کہ آپ بھی قرآن کے الٹ کہتے ہیں اس وقت مجھے بھی غصہ آگیا تھا۔ اس پر ان کے ساتھیوں نے مجھے ڈانٹا لیکن سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بہت ہی حلیم الطبع تھے انہوں نے سب کو روک دیا اور مجھے سمجھایا کہ ”قرآن میں جن کا جہنم سے نہ نکلنے کا ذکر ہے وہ کفار ہیں۔ تم نے قرآن نہیں پڑھا؟“ میں نے کہا ہاں مجھے سارا قرآن یاد ہے؟ کہا ”پھر کیا یہ آیت قرآن میں نہیں ہے؟ «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الاسراء:79] ‏، اس میں مقام محمود کا ذکر ہے یہی مقام شفاعت ہے اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو جہنم میں ان کی خطاؤں کی وجہ سے ڈالے گا اور جب تک چاہے انہیں جہنم میں ہی رکھے گا پھر جب چاہے گا انہیں اس سے آزاد کر دے گا۔‏“ یزید رحمة الله فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے میرا خیال ٹھیک ہوگیا۔ [ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر2303

طلق بن حبیب رحمة الله کہتے ہیں میں بھی منکر شفاعت تھا یہاں تک کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ملا اور اپنے دعوے کے ثبوت میں جن جن آیتوں میں جہنم کے ہمیشہ رہنے والوں کا ذکر ہے سب پڑھ ڈالیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے سن کر فرمایا! ”اے طلق کیا تم اپنے تئیں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں مجھ سے افضل جانتے ہو؟ سنو جتنی آیتیں تم نے پڑھی ہیں وہ سب اہل جہنم کے بارے میں ہیں یعنی مشرکوں کیلئے۔ لیکن وہ لوگ نکلیں گے یہ وہ لوگ ہیں جو مشرک نہ تھے لیکن گہنگار تھے گناہوں کے بدلے سزا بھگت لی پھر جہنم سے نکال دیئے گئے۔‏“

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ سب فرما کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ”یہ دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہو کہ جہنم میں داخل ہونے بعد بھی لوگ اس میں سے نکالے جائیں گے اور وہ جہنم سے آزاد کر دیئے جائیں گے ، قرآن کی یہ آیتیں جس طرح تم پڑھتے ہو ہم بھی پڑھتے ہی ہیں۔‏“ [الادب المفرد:818:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2304

تقویٰ قربت الٰہی کی بنیاد ہے ٭٭

تقوے کا حکم ہو رہا ہے اور وہ بھی اطاعت سے ملا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے منع کردہ کاموں سے جو شخص رکا رہے، اس کی طرف قربت یعنی نزدیکی تلاش کرے۔ وسیلے کے یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں۔ مجاہد، وائل، حسن، ابن زید رحمة الله علیہم اور بہت سے مفسرین سے بھی مروی ہے۔

قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں ”اللہ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے اعمال کرنے سے اس سے قریب ہوتے جاؤ۔‏“ ابن زید نے یہ آیت بھی پڑھی «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا» [17-الاسراء:57] ‏ ” جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود ہی اپنے رب کی نزدیکی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں “۔

ان ائمہ نے وسیلے کے جو معنی اس آیت میں کئے ہیں اس پر سب مفسرین کا اجماع ہے، اس میں کسی ایک کو بھی اختلاف نہیں۔ امام جریر رحمة الله نے اس پر ایک عربی شعر بھی وارد کیا ہے ؎ «(‏إِذَا غَفَلَ الْوَاشُونَ عُدْنَا لِوصْلِنَا وَعَادَ التَّصَافِي بَيْنَنَا وَالْوَسَائِلُ)‏» ‏، جس میں وسیلہ معنی قربت اور نزدیک کے مستعمل ہوا ہے۔ وسیلے کے معنی اس چیز کے ہیں جس سے مقصود کے حاصل کرنے کی طرف پہنچا جائے اور وسیلہ جنت کی اس اعلیٰ اور بہترین منزل کا نام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ ہے۔ عرش سے بہت زیادہ قریب یہی درجہ ہے۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الاسراء:79] ‏ ” قریب ہے کہ خدا تم کو مقام محمود میں داخل کرے “۔

صفحہ نمبر2299

صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے جو شخص اذان سن کر دعا «اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدَتْهُ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»، پڑھے اس کیلئے میری شفاعت حلال ہو جاتی ہے ۔ [صحیح بخاری:614] ‏

مسلم کی حدیث میں ہے جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہہ رہا ہو، وہی تم بھی کہو، پھر مجھ پر درود بھیجو، ایک درود کے بدلے تم پر اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ پھر میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو، وہ جنت کا ایک درجہ ہے، جسے صرف ایک ہی بندہ پائے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں۔ پس جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا، اس کیلئے میری شفاعت واجب ہو گئی ۔ [صحیح مسلم:384] ‏

مسند احمد میں ہے جب تم مجھ پر درود پڑھو تو میرے لیے وسیلہ مانگو ، پوچھا گیا کہ وسیلہ کیا ہے؟ فرمایا: جنت کا سب سے بلند درجہ جسے صرف ایک شخص ہی پائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہوں ۔ [سنن ترمذي:3612،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2300

طبرانی میں ہے تم اللہ سے دعا کرو کہ اللہ مجھے وسیلہ عطا فرمائے جو شخص دنیا میں میرے لیے یہ دعا کرے گا، میں اس پر گواہ یا اس کا سفارشی قیامت کے دن بن جاؤں گا ۔ [طبرانی اوسط:637:حسن] ‏

اور حدیث میں ہے وسیلے سے بڑا درجہ جنت میں کوئی نہیں، لہٰذا تم اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کے ملنے کی دعا کرو ۔ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:3571:صحیح] ‏

ایک غریب اور منکر حدیث میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وسیلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور کون ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا نام لیا ۔ [ضعیف جدا] ‏

ایک اور بہت غریب روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے منبر پر فرمایا کہ ”جنت میں دو موتی ہیں، ایک سفید ایک زرد، زرد تو عرش تلے ہے اور مقام محمود سفید موتی کا ہے، جس میں ستر ہزار بالاخانے ہیں، جن میں سے ہر ہر گھر تین میل کا ہے۔ اس کے دریچے دروازہ تخت وغیرہ سب کے سب گویا ایک ہی جڑ سے ہیں۔ اسی کا نام وسیلہ ہے، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت کیلئے ہے۔‏“ [میزان:3118:موقوف ضعیف] ‏

تقویٰ کا یعنی ممنوعات سے رکنے کا اور حکم احکام کے بجا لانے کا حکم دے کر پھر فرمایا کہ ” اس کی راہ میں جہاد کرو، مشرکین و کفار کو جو اس کے دشمن ہیں اس کے دین سے الگ ہیں، اس کی سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں، انہیں قتل کرو۔ ایسے مجاہدین بامراد ہیں، فلاح و صلاح سعادت و شرافت انہی کیلئے ہیں، جنت کے بلند بالاخانے اور اللہ کی بےشمار نعمتیں انہی کیلئے ہیں، یہ اس جنت میں پہنچائے جائیں گے، جہاں موت و فوت نہیں، جہاں کمی اور نقصان نہیں، جہاں ہمیشگی کی جوانی اور ابدی صحت اور دوامی عیش و عشرت ہے “۔

صفحہ نمبر2301

اپنے دوستوں کا نیک انجام بیان فرما کر اب اپنے دشمنوں کا برا نتیجہ ظاہر فرماتا ہے کہ ” ایسے سخت اور بڑے عذاب انہیں ہو رہے ہوں گے کہ اگر اس وقت روئے زمین کے مالک ہوں بلکہ اتنا ہی اور بھی ہو تو ان عذابوں سے بچنے کیلئے بطور بدلے کے سب دے ڈالیں لیکن اگر ایسا ہو بھی جائے تو بھی ان سے اب فدیہ قبول نہیں بلکہ جو عذاب ان پر ہیں، وہ دائمی اور ابدی اور دوامی ہیں “۔

جیسے اور جگہ ہے کہ «‏كُلَّمَا أَرَ‌ادُوا أَن يَخْرُ‌جُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِ‌يقِ» [22-الحج:22] ‏ ” جہنمی جب جہنم میں سے نکلنا چاہئیں گے تو پھر دوبارہ اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں کے ساتھ اوپر آ جائیں گے کہ داروغے انہیں لوہے کے ہتھوڑے مار مار کر پھر قعر جہنم میں گرا دیں گے۔ غرض ان دائمی عذابوں سے چھٹکارا محال ہے “۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک جہنمی کو لایا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم کہو تمہاری جگہ کیسی ہے؟ وہ کہے گا بدترین اور سخت ترین۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ اس سے چھوٹنے کیلئے تو کیا کچھ خرچ کر دینے پر راضی ہے؟ وہ کہے گا ساری زمین بھر کا سونا دے کر بھی میں یہاں سے چھوٹوں تو بھی سستا چھوٹا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” جھوٹا ہے میں نے تو تجھ سے اس سے بہت ہی کم مانگا تھا لیکن تو نے کچھ بھی نہ کیا “۔ پھر حکم دیا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا [صحیح بخاری:6538] ‏

صفحہ نمبر2302

ایک مرتبہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا کہ ایک قوم جہنم میں سے نکال کر جنت میں پہنچائی جائے گی ۔ اس پر ان کے شاگرد یزید فقیر رحمہ اللہ نے پوچھا کہ پھر اس آیت قرآنی کا کیا مطلب ہے؟ کہ «يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا ۡ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ» [5-المائدہ:37] ‏، یعنی ” وہ جہنم سے آزاد ہونا چاہیں گے لیکن وہ آزاد ہونے والے نہیں “۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس سے پہلے کی آیت «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [5-المائدہ:36] ‏، پڑھو جس سے صاف ہو جاتا ہے کہ یہ کافر لوگ ہیں یہ کبھی نہ نکلیں گے۔‏“ [صحیح مسلم:191] ‏

دوسری روایت میں ہے کہ یزید رحمة الله کا خیال یہی تھا کہ جہنم میں سے کوئی بھی نہ نکلے گا اس لیے یہ سن کر انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے اور لوگوں پر تو افسوس نہیں ہاں آپ صحابیوں رضی اللہ عنہم پر افسوس ہے کہ آپ بھی قرآن کے الٹ کہتے ہیں اس وقت مجھے بھی غصہ آگیا تھا۔ اس پر ان کے ساتھیوں نے مجھے ڈانٹا لیکن سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بہت ہی حلیم الطبع تھے انہوں نے سب کو روک دیا اور مجھے سمجھایا کہ ”قرآن میں جن کا جہنم سے نہ نکلنے کا ذکر ہے وہ کفار ہیں۔ تم نے قرآن نہیں پڑھا؟“ میں نے کہا ہاں مجھے سارا قرآن یاد ہے؟ کہا ”پھر کیا یہ آیت قرآن میں نہیں ہے؟ «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» [17-الاسراء:79] ‏، اس میں مقام محمود کا ذکر ہے یہی مقام شفاعت ہے اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو جہنم میں ان کی خطاؤں کی وجہ سے ڈالے گا اور جب تک چاہے انہیں جہنم میں ہی رکھے گا پھر جب چاہے گا انہیں اس سے آزاد کر دے گا۔‏“ یزید رحمة الله فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے میرا خیال ٹھیک ہوگیا۔ [ضعیف] ‏۔

صفحہ نمبر2303

طلق بن حبیب رحمة الله کہتے ہیں میں بھی منکر شفاعت تھا یہاں تک کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ملا اور اپنے دعوے کے ثبوت میں جن جن آیتوں میں جہنم کے ہمیشہ رہنے والوں کا ذکر ہے سب پڑھ ڈالیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے سن کر فرمایا! ”اے طلق کیا تم اپنے تئیں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں مجھ سے افضل جانتے ہو؟ سنو جتنی آیتیں تم نے پڑھی ہیں وہ سب اہل جہنم کے بارے میں ہیں یعنی مشرکوں کیلئے۔ لیکن وہ لوگ نکلیں گے یہ وہ لوگ ہیں جو مشرک نہ تھے لیکن گہنگار تھے گناہوں کے بدلے سزا بھگت لی پھر جہنم سے نکال دیئے گئے۔‏“

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ سب فرما کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ”یہ دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہو کہ جہنم میں داخل ہونے بعد بھی لوگ اس میں سے نکالے جائیں گے اور وہ جہنم سے آزاد کر دیئے جائیں گے ، قرآن کی یہ آیتیں جس طرح تم پڑھتے ہو ہم بھی پڑھتے ہی ہیں۔‏“ [الادب المفرد:818:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2304

احکام جرم و سزا ٭٭

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْمَانَهُمَا» ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے گو عمل اسی پر ہے لیکن وہ عمل اس قرأت کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسرے دلائل کی بناء پر ہے۔ چور کے ہاتھ کاٹنے کا طریقہ اسلام سے پہلے بھی تھا اسلام نے اسے تفصیل وار اور منظم کر دیا اسی طرح قسامت دیت فرائض کے مسائل بھی پہلے تھے لیکن غیر منظم اور ادھورے۔ اسلام نے انہیں ٹھیک ٹھاک کر دیا۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے دویک نامی ایک خزاعی شخص کے ہاتھ چوری کے الزام میں قریش نے کاٹے تھے اس نے کعبے کا غلام چرایا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوروں نے اس کے پاس رکھ دیا تھا۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ چوری کی چیز کی کوئی حد نہیں تھوڑی ہو یا بہت محفوظ جگہ سے لی ہو یا غیر محفوظ جگہ سے بہر صورت ہاتھ کاٹا جائے گا۔

صفحہ نمبر2307

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ آیت عام ہے تو ممکن ہے اس قول کا یہی مطلب ہو اور دوسرے مطالب بھی ممکن ہیں۔ ایک دلیل ان حضرات کی یہ حدیث بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے کہ انڈا چراتا ہے اور ہاتھ کٹواتا ہے رسی چرائی ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے [صحیح بخاری:6783] ‏

جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ چوری کے مال کی حد مقرر ہے۔ گو اس کے تقرر میں اختلاف ہے۔ امام مالک کہتے ہیں تین درہم سکے والے خالص یا ان کی قیمت یا زیادہ کی کوئی چیز۔

صفحہ نمبر2308

چنانچہ صحیح بخاری مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹنا مروی ہے اور اس کی قیمت اتنی ہی تھی ۔ [صحیح بخاری:6795] ‏

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اترنج کے چور کے ہاتھ کاٹے تھے جبکہ وہ تین درہم کی قیمت کا تھا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا فعل گویا صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع سکوتی ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پھل کے چور کے ہاتھ بھی کاٹے جائیں گے۔ حنفیہ اسے نہیں مانتے اور ان کے نزدیک چوری کے مال کا دس درہم کی قیمت کا ہونا ضروری ہے۔ اس میں شافعیہ کا اختلاف ہے پاؤ یا دینار کے تقرر میں۔ امام شافعی رحمة الله کا فرمان ہے کہ ”پاؤ دینار کی قیمت کی چیز ہو یا اس سے زیادہ۔‏“ ان کی دلیل بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چور کا ہاتھ پاؤ دینار میں پھر جو اس سے اوپر ہو اس میں کاٹنا چاہیئے ۔ [صحیح بخاری:6789] ‏

مسلم کی ایک حدیث میں ہے چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر پاؤ دینار پھر اس سے اوپر میں ۔ [صحیح مسلم:1684] ‏

پس یہ حدیث اس مسئلے کا صاف فیصلہ کر دیتی ہے اور جس حدیث میں تین درہم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاتھ کاٹنے کو فرمانا مروی ہے وہ اس کے خلاف نہیں اس لیے کہ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا۔ پس اصل چوتھائی دینار ہے نہ کہ تین درہم۔ عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم بھی یہی فرماتے ہیں۔ عمر بن عبدالعزیز لیث بن سعد اوزاعی شافعی اسحاق بن راہویہ ابوثور داؤد بن علی ظاہری رحمة الله علیہم کا بھی یہی قول ہے۔

ایک روایت میں امام اسحٰق بن راہویہ اور امام احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ خواہ ربع دینار ہو خواہ تین درہم دونوں ہی ہاتھ کاٹنے کا نصاب ہے۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹ دو اس سے کم میں نہیں ۔ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا تو چوتھائی دینار تین درہم کا ہوا۔ [مسند احمد:80/6:صحیح] ‏

نسائی میں ہے چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم میں نہ کاٹا جائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا ڈھال کی قیمت کیا ہے؟ فرمایا پاؤ دینار ۔ [سنن نسائی:4939،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیره] ‏

پس ان تمام احادیث سے صاف صاف ثابت ہو رہا ہے کہ دس درہم شرط لگانی کھلی غلطی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2309

امام ابوحنیفہ رحمة الله اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ جس ڈھال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چور کا ہاتھ کاٹا گیا اس کی قیمت نو درہم تھی چنانچہ ابوبکر بن شیبہ میں یہ موجود ہے۔ [سنن ابوداود:944،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ مخالفت کرتے رہے ہیں اور حدود کے بارے میں اختیار پر عمل کرنا چاہیئے اور احتیاط زیادتی میں ہے اس لیے دس درہم نصاب ہم نے مقرر کیا ہے۔ بعض سلف کہتے ہیں کہ دس درہم یا ایک دینار حد ہے سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم، ابراہیم نخعی ابو جعفر باقر رحمة الله علیہم سے یہی مروی ہے۔

صفحہ نمبر2310

سعید بن جیر رحمة الله فرماتے ہیں پانچوں نہ کاٹی جائیں مگر پانچ دینار پچاس درہم کی قیمت کے برابر کے مال کی چوری میں۔ ظاہریہ کا مذہب ہے کہ ہر تھوڑی بہت چیز کی چوری پر ہاتھ کٹے گا انہیں جمہور نے یہ جواب دیا ہے کہ اولاً تو یہ اطلاق منسوخ ہے لیکن یہ جواب ٹھیک نہیں اس لیے تاریخ نسخ کا کوئی یقینی عمل نہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ انڈے سے مراد لوہے کا انڈا ہے اور رسی سے مراد کشتیوں کے قیمتی رسے ہیں۔ [صحیح مسلم:1687] ‏

تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ فرمان باعتبار نتیجے کے ہے یعنی ان چھوٹی چھوٹی معمولی سی چیزوں سے چوری شروع کرتا ہے آخر قیمتی چیزیں چرانے لگتا ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بطور افسوس کے اوپر چور کو نادم کرنے کے فرما رہے ہیں کہ کیسا رذیل اور بے خوف انسان ہے کہ معمولی چیز کیلئے ہاتھ جیسی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے ۔

مذکور ہے کہ ابو العلام معری جب بغداد میں آیا تو اس نے اس بارے میں بڑے اعتراض شروع کئے اور اس کے جی میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ میرے اس اعتراض کا جواب کسی سے نہیں ہو سکتا تو اس نے ایک شعر کہا کہ اگر ہاتھ کاٹ ڈالا جائے تو دیت میں پانچ سو دلوائیں اور پھر اسی ہاتھ کو پاؤ دینار کی چوری پر کٹوا دیں یہ ایسا تناقض ہے کہ ہماری سمجھ میں تو آتا ہی نہیں خاموش ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مولا ہمیں جہنم سے بچائے۔ لیکن جب اس کی یہ بکواس مشہور ہوئی تو علماء کرام نے اسے جواب دینا چاہا تو یہ بھاگ گیا پھر جواب بھی مشہور کر دیئے گئے۔

صفحہ نمبر2311

قاضی عبدالوہاب نے جواب دیا تھا کہ ”جب تک ہاتھ امین تھا تب تک ثمین یعنی قیمتی تھا اور جب یہ خائن ہوگیا اس نے چوری کرلی تو اس کی قیمت گھٹ گئی۔‏“

بعض بزرگوں نے اسے قدرے تفصیل سے جواب دیا تھا کہ ”اس سے شریعت کی کامل حکمت ظاہر ہوتی ہے اور دنیا کا امن و امان قائم ہوتا ہے، جو کسی کا ہاتھ بے وجہ کاٹ دینے کا حکم دیا تاکہ چوری کا دروازہ اس خوف سے بند ہو جائے۔‏“ پس یہ تو عین حکمت ہے اگر چوری میں بھی اتنی رقم کی قید لگائی جاتی تو چوریوں کا انسداد نہ ہوتا۔ یہ بدلہ ہے ان کے کرتوت کا۔ مناسب مقام یہی ہے کہ جس عضو سے اس نے دوسرے کو نقصان پہنچایا ہے، اسی عضو پر سزا ہو۔ تاکہ انہیں کافی عبرت حاصل ہو اور دوسروں کو بھی تنبیہہ ہو جائے۔

اللہ اپنے انتقام میں غالب ہے اور اپنے احکام میں حکیم ہے۔ جو شخص اپنے گناہ کے بعد توبہ کرلے اور اللہ کی طرف جھک جائے، اللہ اسے اپنا گناہ معاف فرما دیا کرتا ہے۔ ہاں جو مال چوری میں کسی کا لے لیا ہے چونکہ وہ اس شخص کا حق ہے، لہٰذا صرف توبہ کرنے سے وہ معاف نہیں ہوتا تاوقتیکہ وہ مال جس کا ہے اسے نہ پہنچائے یا اس کے بدلے پوری پوری قیمت ادا کرے۔ جمہور ائمہ کا یہی قول ہے، صرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب چوری پر ہاتھ کٹ گیا اور مال تلف ہو چکا ہے تو اس کا بدلہ دینا اس پر ضروری نہیں۔‏“

دارقطنی وغیرہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ ایک چور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا، جس نے چادر چرائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہوگی ، انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے چوری کی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔ جب ہاتھ کٹ چکا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: توبہ کرو ، انہوں نے توبہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی ۔ [دارقطنی:102/3:ضعیف] ‏ رضی اللہ عنہ۔

صفحہ نمبر2312

ابن ماجہ میں ہے کہ عمر بن سمرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہتے ہیں کہ مجھ سے چوری ہو گئی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پاک کیجئے، فلاں قبیلے والوں کا اونٹ میں نے چرا لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبیلے والوں کے پاس آدمی بھیج کر دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا اونٹ تو ضرور گم ہوگیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا وہ ہاتھ کٹنے پر کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے میرے جسم سے الگ کر دیا، تو نے میرے سارے جسم کو جہنم میں لے جانا چاہا تھا ۔ رضی اللہ عنہ۔ [سنن ابن ماجہ:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابن جریر میں ہے کہ ایک عورت نے کچھ زیور چرا لیے، ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسے پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا داہنا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، جب کٹ چکا تو اس عورت نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میری توبہ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تو ایسی پاک صاف ہوگئیں کہ گویا آج ہی پیدا ہوئی ۔ اس پر آیت «‏فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [5-المائدہ:39] ‏ نازل ہوئی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11922:ضعیف] ‏

مسند میں اتنا اور بھی ہے کہ اس وقت اس عورت والوں نے کہا ہم اس کا فدیہ دینے کو تیار ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہ فرمایا اور ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا ۔ [مسند احمد:2/177:ضعیف] ‏

یہ عورت مخزوم قبیلے کی تھی اور اس کا یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ چونکہ یہ بڑی گھرانے کی عورت تھی، لوگوں میں بڑی تشویش پھیلی اور ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کچھ کہیں سنیں، یہ واقعہ غزوہ فتح میں ہوا تھا، بالاخر یہ طے ہوا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت پیارے ہیں، وہ ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کریں۔

صفحہ نمبر2313

سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے جب اس کی سفارش کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ناگوار گزرا اور غصے سے فرمایا اسامہ تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہا ہے؟ اب تو اسامہ بہت گھبرائے اور کہنے لگے مجھ سے بڑی خطا ہوئی، میرے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم استفغار کیجئے۔ شام کے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ تم سے پہلے کے لوگ اسی خصلت پر تباہ و برباد ہو گئے کہ ان میں سے جب کوئی شریف شخص بڑا آدمی چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی معمولی آدمی ہوتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چوری کریں تو میں ان کے بھی ہاتھ کاٹ دوں ۔ پھر حکم دیا اور اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر اس بیوی صاحبہ نے توبہ کی اور پوری اور پختہ توبہ کی اور نکاح کرلیا، پھر وہ میرے پاس اپنے کسی کام کاج کیلئے آتی تھیں اور میں اس کی حاجت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر دیا کرتی تھی ۔ (‏رضی اللہ عنہما) [صحیح بخاری:3732] ‏

مسلم میں ہے ایک عورت لوگوں سے اسباب ادھار لیتی تھی، پھر انکار کر جایا کرتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا [صحیح مسلم:1688] ‏

اور روایت میں ہے یہ زیور ادھار لیتی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو ہوا تھا۔ [سنن نسائی:4893، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ کتاب الاحکام میں ایسی بہت سی حدیثیں وارد ہیں جو چوری سے تعلق رکھتی ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

جمیع مملوک کا مالک ساری کائنات کا حقیقی بادشاہ، سچا حاکم، اللہ ہی ہے۔ جس کے کسی حکم کو کوئی روک نہیں سکتا۔ جس کے کسی ارادے کو کوئی بدل نہیں سکتا، جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے۔ ہر ہر چیز پر وہ قادر ہے اس کی قدرت کامل اور اس کا قبضہ سچا ہے۔

صفحہ نمبر2314

احکام جرم و سزا ٭٭

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْمَانَهُمَا» ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے گو عمل اسی پر ہے لیکن وہ عمل اس قرأت کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسرے دلائل کی بناء پر ہے۔ چور کے ہاتھ کاٹنے کا طریقہ اسلام سے پہلے بھی تھا اسلام نے اسے تفصیل وار اور منظم کر دیا اسی طرح قسامت دیت فرائض کے مسائل بھی پہلے تھے لیکن غیر منظم اور ادھورے۔ اسلام نے انہیں ٹھیک ٹھاک کر دیا۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے دویک نامی ایک خزاعی شخص کے ہاتھ چوری کے الزام میں قریش نے کاٹے تھے اس نے کعبے کا غلام چرایا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوروں نے اس کے پاس رکھ دیا تھا۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ چوری کی چیز کی کوئی حد نہیں تھوڑی ہو یا بہت محفوظ جگہ سے لی ہو یا غیر محفوظ جگہ سے بہر صورت ہاتھ کاٹا جائے گا۔

صفحہ نمبر2307

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ آیت عام ہے تو ممکن ہے اس قول کا یہی مطلب ہو اور دوسرے مطالب بھی ممکن ہیں۔ ایک دلیل ان حضرات کی یہ حدیث بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے کہ انڈا چراتا ہے اور ہاتھ کٹواتا ہے رسی چرائی ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے [صحیح بخاری:6783] ‏

جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ چوری کے مال کی حد مقرر ہے۔ گو اس کے تقرر میں اختلاف ہے۔ امام مالک کہتے ہیں تین درہم سکے والے خالص یا ان کی قیمت یا زیادہ کی کوئی چیز۔

صفحہ نمبر2308

چنانچہ صحیح بخاری مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹنا مروی ہے اور اس کی قیمت اتنی ہی تھی ۔ [صحیح بخاری:6795] ‏

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اترنج کے چور کے ہاتھ کاٹے تھے جبکہ وہ تین درہم کی قیمت کا تھا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا فعل گویا صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع سکوتی ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پھل کے چور کے ہاتھ بھی کاٹے جائیں گے۔ حنفیہ اسے نہیں مانتے اور ان کے نزدیک چوری کے مال کا دس درہم کی قیمت کا ہونا ضروری ہے۔ اس میں شافعیہ کا اختلاف ہے پاؤ یا دینار کے تقرر میں۔ امام شافعی رحمة الله کا فرمان ہے کہ ”پاؤ دینار کی قیمت کی چیز ہو یا اس سے زیادہ۔‏“ ان کی دلیل بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چور کا ہاتھ پاؤ دینار میں پھر جو اس سے اوپر ہو اس میں کاٹنا چاہیئے ۔ [صحیح بخاری:6789] ‏

مسلم کی ایک حدیث میں ہے چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر پاؤ دینار پھر اس سے اوپر میں ۔ [صحیح مسلم:1684] ‏

پس یہ حدیث اس مسئلے کا صاف فیصلہ کر دیتی ہے اور جس حدیث میں تین درہم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاتھ کاٹنے کو فرمانا مروی ہے وہ اس کے خلاف نہیں اس لیے کہ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا۔ پس اصل چوتھائی دینار ہے نہ کہ تین درہم۔ عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم بھی یہی فرماتے ہیں۔ عمر بن عبدالعزیز لیث بن سعد اوزاعی شافعی اسحاق بن راہویہ ابوثور داؤد بن علی ظاہری رحمة الله علیہم کا بھی یہی قول ہے۔

ایک روایت میں امام اسحٰق بن راہویہ اور امام احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ خواہ ربع دینار ہو خواہ تین درہم دونوں ہی ہاتھ کاٹنے کا نصاب ہے۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹ دو اس سے کم میں نہیں ۔ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا تو چوتھائی دینار تین درہم کا ہوا۔ [مسند احمد:80/6:صحیح] ‏

نسائی میں ہے چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم میں نہ کاٹا جائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا ڈھال کی قیمت کیا ہے؟ فرمایا پاؤ دینار ۔ [سنن نسائی:4939،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیره] ‏

پس ان تمام احادیث سے صاف صاف ثابت ہو رہا ہے کہ دس درہم شرط لگانی کھلی غلطی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2309

امام ابوحنیفہ رحمة الله اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ جس ڈھال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چور کا ہاتھ کاٹا گیا اس کی قیمت نو درہم تھی چنانچہ ابوبکر بن شیبہ میں یہ موجود ہے۔ [سنن ابوداود:944،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ مخالفت کرتے رہے ہیں اور حدود کے بارے میں اختیار پر عمل کرنا چاہیئے اور احتیاط زیادتی میں ہے اس لیے دس درہم نصاب ہم نے مقرر کیا ہے۔ بعض سلف کہتے ہیں کہ دس درہم یا ایک دینار حد ہے سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم، ابراہیم نخعی ابو جعفر باقر رحمة الله علیہم سے یہی مروی ہے۔

صفحہ نمبر2310

سعید بن جیر رحمة الله فرماتے ہیں پانچوں نہ کاٹی جائیں مگر پانچ دینار پچاس درہم کی قیمت کے برابر کے مال کی چوری میں۔ ظاہریہ کا مذہب ہے کہ ہر تھوڑی بہت چیز کی چوری پر ہاتھ کٹے گا انہیں جمہور نے یہ جواب دیا ہے کہ اولاً تو یہ اطلاق منسوخ ہے لیکن یہ جواب ٹھیک نہیں اس لیے تاریخ نسخ کا کوئی یقینی عمل نہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ انڈے سے مراد لوہے کا انڈا ہے اور رسی سے مراد کشتیوں کے قیمتی رسے ہیں۔ [صحیح مسلم:1687] ‏

تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ فرمان باعتبار نتیجے کے ہے یعنی ان چھوٹی چھوٹی معمولی سی چیزوں سے چوری شروع کرتا ہے آخر قیمتی چیزیں چرانے لگتا ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بطور افسوس کے اوپر چور کو نادم کرنے کے فرما رہے ہیں کہ کیسا رذیل اور بے خوف انسان ہے کہ معمولی چیز کیلئے ہاتھ جیسی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے ۔

مذکور ہے کہ ابو العلام معری جب بغداد میں آیا تو اس نے اس بارے میں بڑے اعتراض شروع کئے اور اس کے جی میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ میرے اس اعتراض کا جواب کسی سے نہیں ہو سکتا تو اس نے ایک شعر کہا کہ اگر ہاتھ کاٹ ڈالا جائے تو دیت میں پانچ سو دلوائیں اور پھر اسی ہاتھ کو پاؤ دینار کی چوری پر کٹوا دیں یہ ایسا تناقض ہے کہ ہماری سمجھ میں تو آتا ہی نہیں خاموش ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مولا ہمیں جہنم سے بچائے۔ لیکن جب اس کی یہ بکواس مشہور ہوئی تو علماء کرام نے اسے جواب دینا چاہا تو یہ بھاگ گیا پھر جواب بھی مشہور کر دیئے گئے۔

صفحہ نمبر2311

قاضی عبدالوہاب نے جواب دیا تھا کہ ”جب تک ہاتھ امین تھا تب تک ثمین یعنی قیمتی تھا اور جب یہ خائن ہوگیا اس نے چوری کرلی تو اس کی قیمت گھٹ گئی۔‏“

بعض بزرگوں نے اسے قدرے تفصیل سے جواب دیا تھا کہ ”اس سے شریعت کی کامل حکمت ظاہر ہوتی ہے اور دنیا کا امن و امان قائم ہوتا ہے، جو کسی کا ہاتھ بے وجہ کاٹ دینے کا حکم دیا تاکہ چوری کا دروازہ اس خوف سے بند ہو جائے۔‏“ پس یہ تو عین حکمت ہے اگر چوری میں بھی اتنی رقم کی قید لگائی جاتی تو چوریوں کا انسداد نہ ہوتا۔ یہ بدلہ ہے ان کے کرتوت کا۔ مناسب مقام یہی ہے کہ جس عضو سے اس نے دوسرے کو نقصان پہنچایا ہے، اسی عضو پر سزا ہو۔ تاکہ انہیں کافی عبرت حاصل ہو اور دوسروں کو بھی تنبیہہ ہو جائے۔

اللہ اپنے انتقام میں غالب ہے اور اپنے احکام میں حکیم ہے۔ جو شخص اپنے گناہ کے بعد توبہ کرلے اور اللہ کی طرف جھک جائے، اللہ اسے اپنا گناہ معاف فرما دیا کرتا ہے۔ ہاں جو مال چوری میں کسی کا لے لیا ہے چونکہ وہ اس شخص کا حق ہے، لہٰذا صرف توبہ کرنے سے وہ معاف نہیں ہوتا تاوقتیکہ وہ مال جس کا ہے اسے نہ پہنچائے یا اس کے بدلے پوری پوری قیمت ادا کرے۔ جمہور ائمہ کا یہی قول ہے، صرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب چوری پر ہاتھ کٹ گیا اور مال تلف ہو چکا ہے تو اس کا بدلہ دینا اس پر ضروری نہیں۔‏“

دارقطنی وغیرہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ ایک چور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا، جس نے چادر چرائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہوگی ، انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے چوری کی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔ جب ہاتھ کٹ چکا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: توبہ کرو ، انہوں نے توبہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی ۔ [دارقطنی:102/3:ضعیف] ‏ رضی اللہ عنہ۔

صفحہ نمبر2312

ابن ماجہ میں ہے کہ عمر بن سمرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہتے ہیں کہ مجھ سے چوری ہو گئی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پاک کیجئے، فلاں قبیلے والوں کا اونٹ میں نے چرا لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبیلے والوں کے پاس آدمی بھیج کر دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا اونٹ تو ضرور گم ہوگیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا وہ ہاتھ کٹنے پر کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے میرے جسم سے الگ کر دیا، تو نے میرے سارے جسم کو جہنم میں لے جانا چاہا تھا ۔ رضی اللہ عنہ۔ [سنن ابن ماجہ:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابن جریر میں ہے کہ ایک عورت نے کچھ زیور چرا لیے، ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسے پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا داہنا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، جب کٹ چکا تو اس عورت نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میری توبہ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تو ایسی پاک صاف ہوگئیں کہ گویا آج ہی پیدا ہوئی ۔ اس پر آیت «‏فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [5-المائدہ:39] ‏ نازل ہوئی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11922:ضعیف] ‏

مسند میں اتنا اور بھی ہے کہ اس وقت اس عورت والوں نے کہا ہم اس کا فدیہ دینے کو تیار ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہ فرمایا اور ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا ۔ [مسند احمد:2/177:ضعیف] ‏

یہ عورت مخزوم قبیلے کی تھی اور اس کا یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ چونکہ یہ بڑی گھرانے کی عورت تھی، لوگوں میں بڑی تشویش پھیلی اور ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کچھ کہیں سنیں، یہ واقعہ غزوہ فتح میں ہوا تھا، بالاخر یہ طے ہوا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت پیارے ہیں، وہ ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کریں۔

صفحہ نمبر2313

سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے جب اس کی سفارش کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ناگوار گزرا اور غصے سے فرمایا اسامہ تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہا ہے؟ اب تو اسامہ بہت گھبرائے اور کہنے لگے مجھ سے بڑی خطا ہوئی، میرے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم استفغار کیجئے۔ شام کے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ تم سے پہلے کے لوگ اسی خصلت پر تباہ و برباد ہو گئے کہ ان میں سے جب کوئی شریف شخص بڑا آدمی چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی معمولی آدمی ہوتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چوری کریں تو میں ان کے بھی ہاتھ کاٹ دوں ۔ پھر حکم دیا اور اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر اس بیوی صاحبہ نے توبہ کی اور پوری اور پختہ توبہ کی اور نکاح کرلیا، پھر وہ میرے پاس اپنے کسی کام کاج کیلئے آتی تھیں اور میں اس کی حاجت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر دیا کرتی تھی ۔ (‏رضی اللہ عنہما) [صحیح بخاری:3732] ‏

مسلم میں ہے ایک عورت لوگوں سے اسباب ادھار لیتی تھی، پھر انکار کر جایا کرتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا [صحیح مسلم:1688] ‏

اور روایت میں ہے یہ زیور ادھار لیتی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو ہوا تھا۔ [سنن نسائی:4893، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ کتاب الاحکام میں ایسی بہت سی حدیثیں وارد ہیں جو چوری سے تعلق رکھتی ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

جمیع مملوک کا مالک ساری کائنات کا حقیقی بادشاہ، سچا حاکم، اللہ ہی ہے۔ جس کے کسی حکم کو کوئی روک نہیں سکتا۔ جس کے کسی ارادے کو کوئی بدل نہیں سکتا، جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے۔ ہر ہر چیز پر وہ قادر ہے اس کی قدرت کامل اور اس کا قبضہ سچا ہے۔

صفحہ نمبر2314

احکام جرم و سزا ٭٭

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْمَانَهُمَا» ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے گو عمل اسی پر ہے لیکن وہ عمل اس قرأت کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسرے دلائل کی بناء پر ہے۔ چور کے ہاتھ کاٹنے کا طریقہ اسلام سے پہلے بھی تھا اسلام نے اسے تفصیل وار اور منظم کر دیا اسی طرح قسامت دیت فرائض کے مسائل بھی پہلے تھے لیکن غیر منظم اور ادھورے۔ اسلام نے انہیں ٹھیک ٹھاک کر دیا۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے دویک نامی ایک خزاعی شخص کے ہاتھ چوری کے الزام میں قریش نے کاٹے تھے اس نے کعبے کا غلام چرایا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوروں نے اس کے پاس رکھ دیا تھا۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ چوری کی چیز کی کوئی حد نہیں تھوڑی ہو یا بہت محفوظ جگہ سے لی ہو یا غیر محفوظ جگہ سے بہر صورت ہاتھ کاٹا جائے گا۔

صفحہ نمبر2307

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ آیت عام ہے تو ممکن ہے اس قول کا یہی مطلب ہو اور دوسرے مطالب بھی ممکن ہیں۔ ایک دلیل ان حضرات کی یہ حدیث بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے کہ انڈا چراتا ہے اور ہاتھ کٹواتا ہے رسی چرائی ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے [صحیح بخاری:6783] ‏

جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ چوری کے مال کی حد مقرر ہے۔ گو اس کے تقرر میں اختلاف ہے۔ امام مالک کہتے ہیں تین درہم سکے والے خالص یا ان کی قیمت یا زیادہ کی کوئی چیز۔

صفحہ نمبر2308

چنانچہ صحیح بخاری مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹنا مروی ہے اور اس کی قیمت اتنی ہی تھی ۔ [صحیح بخاری:6795] ‏

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اترنج کے چور کے ہاتھ کاٹے تھے جبکہ وہ تین درہم کی قیمت کا تھا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا فعل گویا صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع سکوتی ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پھل کے چور کے ہاتھ بھی کاٹے جائیں گے۔ حنفیہ اسے نہیں مانتے اور ان کے نزدیک چوری کے مال کا دس درہم کی قیمت کا ہونا ضروری ہے۔ اس میں شافعیہ کا اختلاف ہے پاؤ یا دینار کے تقرر میں۔ امام شافعی رحمة الله کا فرمان ہے کہ ”پاؤ دینار کی قیمت کی چیز ہو یا اس سے زیادہ۔‏“ ان کی دلیل بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چور کا ہاتھ پاؤ دینار میں پھر جو اس سے اوپر ہو اس میں کاٹنا چاہیئے ۔ [صحیح بخاری:6789] ‏

مسلم کی ایک حدیث میں ہے چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر پاؤ دینار پھر اس سے اوپر میں ۔ [صحیح مسلم:1684] ‏

پس یہ حدیث اس مسئلے کا صاف فیصلہ کر دیتی ہے اور جس حدیث میں تین درہم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاتھ کاٹنے کو فرمانا مروی ہے وہ اس کے خلاف نہیں اس لیے کہ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا۔ پس اصل چوتھائی دینار ہے نہ کہ تین درہم۔ عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم بھی یہی فرماتے ہیں۔ عمر بن عبدالعزیز لیث بن سعد اوزاعی شافعی اسحاق بن راہویہ ابوثور داؤد بن علی ظاہری رحمة الله علیہم کا بھی یہی قول ہے۔

ایک روایت میں امام اسحٰق بن راہویہ اور امام احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ خواہ ربع دینار ہو خواہ تین درہم دونوں ہی ہاتھ کاٹنے کا نصاب ہے۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹ دو اس سے کم میں نہیں ۔ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا تو چوتھائی دینار تین درہم کا ہوا۔ [مسند احمد:80/6:صحیح] ‏

نسائی میں ہے چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم میں نہ کاٹا جائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا ڈھال کی قیمت کیا ہے؟ فرمایا پاؤ دینار ۔ [سنن نسائی:4939،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیره] ‏

پس ان تمام احادیث سے صاف صاف ثابت ہو رہا ہے کہ دس درہم شرط لگانی کھلی غلطی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2309

امام ابوحنیفہ رحمة الله اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ جس ڈھال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چور کا ہاتھ کاٹا گیا اس کی قیمت نو درہم تھی چنانچہ ابوبکر بن شیبہ میں یہ موجود ہے۔ [سنن ابوداود:944،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ مخالفت کرتے رہے ہیں اور حدود کے بارے میں اختیار پر عمل کرنا چاہیئے اور احتیاط زیادتی میں ہے اس لیے دس درہم نصاب ہم نے مقرر کیا ہے۔ بعض سلف کہتے ہیں کہ دس درہم یا ایک دینار حد ہے سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم، ابراہیم نخعی ابو جعفر باقر رحمة الله علیہم سے یہی مروی ہے۔

صفحہ نمبر2310

سعید بن جیر رحمة الله فرماتے ہیں پانچوں نہ کاٹی جائیں مگر پانچ دینار پچاس درہم کی قیمت کے برابر کے مال کی چوری میں۔ ظاہریہ کا مذہب ہے کہ ہر تھوڑی بہت چیز کی چوری پر ہاتھ کٹے گا انہیں جمہور نے یہ جواب دیا ہے کہ اولاً تو یہ اطلاق منسوخ ہے لیکن یہ جواب ٹھیک نہیں اس لیے تاریخ نسخ کا کوئی یقینی عمل نہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ انڈے سے مراد لوہے کا انڈا ہے اور رسی سے مراد کشتیوں کے قیمتی رسے ہیں۔ [صحیح مسلم:1687] ‏

تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ فرمان باعتبار نتیجے کے ہے یعنی ان چھوٹی چھوٹی معمولی سی چیزوں سے چوری شروع کرتا ہے آخر قیمتی چیزیں چرانے لگتا ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بطور افسوس کے اوپر چور کو نادم کرنے کے فرما رہے ہیں کہ کیسا رذیل اور بے خوف انسان ہے کہ معمولی چیز کیلئے ہاتھ جیسی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے ۔

مذکور ہے کہ ابو العلام معری جب بغداد میں آیا تو اس نے اس بارے میں بڑے اعتراض شروع کئے اور اس کے جی میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ میرے اس اعتراض کا جواب کسی سے نہیں ہو سکتا تو اس نے ایک شعر کہا کہ اگر ہاتھ کاٹ ڈالا جائے تو دیت میں پانچ سو دلوائیں اور پھر اسی ہاتھ کو پاؤ دینار کی چوری پر کٹوا دیں یہ ایسا تناقض ہے کہ ہماری سمجھ میں تو آتا ہی نہیں خاموش ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مولا ہمیں جہنم سے بچائے۔ لیکن جب اس کی یہ بکواس مشہور ہوئی تو علماء کرام نے اسے جواب دینا چاہا تو یہ بھاگ گیا پھر جواب بھی مشہور کر دیئے گئے۔

صفحہ نمبر2311

قاضی عبدالوہاب نے جواب دیا تھا کہ ”جب تک ہاتھ امین تھا تب تک ثمین یعنی قیمتی تھا اور جب یہ خائن ہوگیا اس نے چوری کرلی تو اس کی قیمت گھٹ گئی۔‏“

بعض بزرگوں نے اسے قدرے تفصیل سے جواب دیا تھا کہ ”اس سے شریعت کی کامل حکمت ظاہر ہوتی ہے اور دنیا کا امن و امان قائم ہوتا ہے، جو کسی کا ہاتھ بے وجہ کاٹ دینے کا حکم دیا تاکہ چوری کا دروازہ اس خوف سے بند ہو جائے۔‏“ پس یہ تو عین حکمت ہے اگر چوری میں بھی اتنی رقم کی قید لگائی جاتی تو چوریوں کا انسداد نہ ہوتا۔ یہ بدلہ ہے ان کے کرتوت کا۔ مناسب مقام یہی ہے کہ جس عضو سے اس نے دوسرے کو نقصان پہنچایا ہے، اسی عضو پر سزا ہو۔ تاکہ انہیں کافی عبرت حاصل ہو اور دوسروں کو بھی تنبیہہ ہو جائے۔

اللہ اپنے انتقام میں غالب ہے اور اپنے احکام میں حکیم ہے۔ جو شخص اپنے گناہ کے بعد توبہ کرلے اور اللہ کی طرف جھک جائے، اللہ اسے اپنا گناہ معاف فرما دیا کرتا ہے۔ ہاں جو مال چوری میں کسی کا لے لیا ہے چونکہ وہ اس شخص کا حق ہے، لہٰذا صرف توبہ کرنے سے وہ معاف نہیں ہوتا تاوقتیکہ وہ مال جس کا ہے اسے نہ پہنچائے یا اس کے بدلے پوری پوری قیمت ادا کرے۔ جمہور ائمہ کا یہی قول ہے، صرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب چوری پر ہاتھ کٹ گیا اور مال تلف ہو چکا ہے تو اس کا بدلہ دینا اس پر ضروری نہیں۔‏“

دارقطنی وغیرہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ ایک چور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا، جس نے چادر چرائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہوگی ، انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے چوری کی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔ جب ہاتھ کٹ چکا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: توبہ کرو ، انہوں نے توبہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی ۔ [دارقطنی:102/3:ضعیف] ‏ رضی اللہ عنہ۔

صفحہ نمبر2312

ابن ماجہ میں ہے کہ عمر بن سمرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہتے ہیں کہ مجھ سے چوری ہو گئی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پاک کیجئے، فلاں قبیلے والوں کا اونٹ میں نے چرا لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبیلے والوں کے پاس آدمی بھیج کر دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا اونٹ تو ضرور گم ہوگیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا وہ ہاتھ کٹنے پر کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے میرے جسم سے الگ کر دیا، تو نے میرے سارے جسم کو جہنم میں لے جانا چاہا تھا ۔ رضی اللہ عنہ۔ [سنن ابن ماجہ:2588،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابن جریر میں ہے کہ ایک عورت نے کچھ زیور چرا لیے، ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسے پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا داہنا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، جب کٹ چکا تو اس عورت نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میری توبہ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تو ایسی پاک صاف ہوگئیں کہ گویا آج ہی پیدا ہوئی ۔ اس پر آیت «‏فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [5-المائدہ:39] ‏ نازل ہوئی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:11922:ضعیف] ‏

مسند میں اتنا اور بھی ہے کہ اس وقت اس عورت والوں نے کہا ہم اس کا فدیہ دینے کو تیار ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہ فرمایا اور ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا ۔ [مسند احمد:2/177:ضعیف] ‏

یہ عورت مخزوم قبیلے کی تھی اور اس کا یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ چونکہ یہ بڑی گھرانے کی عورت تھی، لوگوں میں بڑی تشویش پھیلی اور ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کچھ کہیں سنیں، یہ واقعہ غزوہ فتح میں ہوا تھا، بالاخر یہ طے ہوا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت پیارے ہیں، وہ ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کریں۔

صفحہ نمبر2313

سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے جب اس کی سفارش کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ناگوار گزرا اور غصے سے فرمایا اسامہ تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہا ہے؟ اب تو اسامہ بہت گھبرائے اور کہنے لگے مجھ سے بڑی خطا ہوئی، میرے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم استفغار کیجئے۔ شام کے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ تم سے پہلے کے لوگ اسی خصلت پر تباہ و برباد ہو گئے کہ ان میں سے جب کوئی شریف شخص بڑا آدمی چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی معمولی آدمی ہوتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چوری کریں تو میں ان کے بھی ہاتھ کاٹ دوں ۔ پھر حکم دیا اور اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر اس بیوی صاحبہ نے توبہ کی اور پوری اور پختہ توبہ کی اور نکاح کرلیا، پھر وہ میرے پاس اپنے کسی کام کاج کیلئے آتی تھیں اور میں اس کی حاجت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر دیا کرتی تھی ۔ (‏رضی اللہ عنہما) [صحیح بخاری:3732] ‏

مسلم میں ہے ایک عورت لوگوں سے اسباب ادھار لیتی تھی، پھر انکار کر جایا کرتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا [صحیح مسلم:1688] ‏

اور روایت میں ہے یہ زیور ادھار لیتی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو ہوا تھا۔ [سنن نسائی:4893، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ کتاب الاحکام میں ایسی بہت سی حدیثیں وارد ہیں جو چوری سے تعلق رکھتی ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

جمیع مملوک کا مالک ساری کائنات کا حقیقی بادشاہ، سچا حاکم، اللہ ہی ہے۔ جس کے کسی حکم کو کوئی روک نہیں سکتا۔ جس کے کسی ارادے کو کوئی بدل نہیں سکتا، جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے۔ ہر ہر چیز پر وہ قادر ہے اس کی قدرت کامل اور اس کا قبضہ سچا ہے۔

صفحہ نمبر2314

جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ ٭٭

ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان کے کھرے، دل کے کھوٹے اور یہی خصلت یہودیوں کی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ جھوٹ کو مزے مزے سے سنتے ہیں اور دل کھول کر قبول کرتے ہیں۔ لیکن سچ سے بھاگتے ہیں، بلکہ نفرت کرتے ہیں اور جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں نہیں آتے یہ یہاں کی وہاں پہنچاتے ہیں۔ ان کی طرف سے جاسوسی کرنے کو آتے ہیں۔ پھر نالائقی یہ کرتے ہیں کہ یہ بات کو بدل ڈالا کرتے ہیں مطلب کچھ ہو، لے کر کچھ اڑتے ہیں، ارادے یہی ہیں کہ اگر تمہاری خواہش کے مطابق کہے تو مان لو، طبیعت کے خلاف ہو تو دور رہو۔

کہا کیا گیا ہے کہ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں اتری تھی جن میں ایک کو دوسرے نے قتل کر دیا تھا، اب کہنے لگے چلو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیت جرمانے کا حکم دیں تو منظور کر لیں گے اور اگر قصاص بدلے کو فرمائیں تو نہیں مانیں گے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک زنا کار کو لے کر آئے تھے۔ ان کی کتاب توراۃ میں دراصل حکم تو یہ تھا کہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کیا جائے۔

صفحہ نمبر2317

لیکن انہوں نے اسے بدل ڈالا تھا اور سو کوڑے مار کر، منہ کالا کر کے، الٹا گدھا سوار کر کے رسوائی کر کے چھوڑ دیتے تھے۔ جب ہجرت کے بعد ان میں سے کوئی زناکاری کے جرم میں پکڑا گیا تو یہ کہنے لگے آؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کریں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہی فرمائیں جو ہم کرتے ہیں تو اسے قبول کریں گے اور اللہ کے ہاں بھی یہ ہماری سند ہو جائے گی اور اگر رجم کو فرمائیں گے تو نہیں مانیں گے۔

چنانچہ یہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ ہمارے ایک مرد عورت نے بدکاری کی ہے، ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ہاں توراۃ میں کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا ہم تو اسے رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مار کر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سن کر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جھوٹ کہتے ہیں، تورات میں سنگسار کا حکم ہے۔ اور آیت میں ہے «قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ‏ [3-آل عمران:93] ‏ یعنی ” اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (‏یعنی دلیل پیش کرو) “، انہوں نے تورات کھولی لیکن آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے کی سب عبارت پڑھ سنائی۔

عبداللہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اپنے ہاتھ کو تو ہٹا“، ہاتھ ہٹایا تو سنگسار کرنے کی آیت موجود تھی، اب تو انہیں بھی اقرار کرنا پڑا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے زانیوں کو سنگسار کر دیا گیا، عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے دیکھا کہ وہ زانی اس عورت کو پتھروں سے بچانے کیلئے اس کے آڑے آجاتا تھا۔‏“ [صحیح بخاری:6841] ‏

صفحہ نمبر2318

اور سند سے مروی ہے کہ یہودیوں نے کہا ”ہم تو اسے کالا منہ کر کے کچھ مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں۔‏“ اور آیت کے ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے کہا، ہے تو یہی حکم لیکن ہم نے تو اسے چھپایا تھا، جو پڑھ رہا تھا اسی نے رجم کی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا، جب اس کا ہاتھ اٹھوایا تو آیت پر اچٹتی ہوئی نظر پڑ گئی۔ ان دونوں کے رجم کرنے والوں میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے اپنے آدمی بھیج کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا تھا، اپنے مدرسے میں گدی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بٹھایا تھا اور جو اب تورات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھ رہا تھا، وہ ان کا بہت بڑا عالم تھا۔ [سنن ابوداود:4449،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قسم دے کر پوچھا تھا کہ تم تورات میں شادی شدہ زانی کی کیا سزا پاتے ہو؟ تو انہوں نے یہی جواب دیا تھا لیکن ایک نوجوان کچھ نہ بولا، خاموش ہی کھڑا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر خاص اسے دوبارہ قسم دی اور جواب مانگا، اس نے کہا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قسمیں دے رہے ہیں تو میں جھوٹ نہ بولوں گا، واقعی تورات میں ان لوگوں کی سزا سنگساری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا پھر یہ بھی سچ سچ بتاؤ کہ پہلے پہل اس رجم کو تم نے کیوں اور کس پر سے اڑایا؟ اس نے کہا ہمارے کسی بادشاہ کے رشتے دار، بڑے آدمی نے زناکاری کی۔ اس کی عظمت اور بادشاہ کی ہیبت کے مارے اسے رجم کرو ورنہ اسے بھی چھوڑو۔ آخر ہم نے مل ملا کر یہ طے کیا کہ بجائے رجم کے اس قسم کی کوئی سزا مقرر کر دی جائے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توراۃ کے حکم کو جاری کیا اور اسی بارے میں آیت «‏إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ» [5-المائدہ:44] ‏، اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان احکام کے جاری کرنے والوں میں سے ہیں [سنن ابوداود:4450،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2319

مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص کو یہودی کالا منہ کئے لے جا رہے تھے اور اسے کوڑے بھی مار رکھے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کر ان سے ماجرا پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا زانی کی یہی سزا تمہارے ہاں ہے؟ کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ایک عالم کو بلا کر اسے سخت قسم دے کر پوچھا تو اس نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قسم نہ دیتے تو میں ہرگز نہ بتاتا، بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں دراصل زناکاری کی سزا سنگساری ہے لیکن چونکہ امیر امراء اور شرفاء لوگوں میں یہ بدکاری بڑھ گئی تھی اور انہیں اس قسم کی سزا دینی ہم نے مناسب نہ جانی، اس لیے انہیں تو چھوڑ دیتے تھے اور اللہ کا حکم مارا نہ جائے اس لیے غریب غرباء، کم حیثیت لوگوں کو رجم کرا دیتے تھے پھر ہم نے رائے زنی کی کہ آؤ کوئی ایسی سزا تجویز کرو کہ شریف و غیر شریف، امیر غریب پر سب پر یکساں جاری ہو سکے چنانچہ ہمارا سب کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ منہ کالے کر دیں اور کوڑے لگائیں۔

یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان دونوں کو سنگسار کرو چنانچہ انہیں رجم کر دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے ایک مردہ حکم کو زندہ کیا ۔ اس پر آیت «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ» ‏ [5-المائدہ:41] ‏ سے «وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ» [5-المائدہ:44] ‏ تک نازل ہوئی۔ انہی یہودیوں کے بارے میں اور آیت میں ہے کہ ” اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے ظالم ہیں “ اور آیت میں ہے ” فاسق ہیں “۔ [صحیح مسلم:1700] ‏

صفحہ نمبر2320

اور روایت میں ہے واقعہ زنا فدک میں ہوا تھا اور وہاں کے یہودیوں نے مدینے شریف کے یہودیوں کو لکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھوایا تھا جو عالم ان کا آیا اس کا نام ابن صوریا تھا، یہ آنکھ کا بھینگا تھا، اور اس کے ساتھ دوسرا عالم بھی تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں قسم دی تو دونوں نے قبول دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہا تھا، تمہیں اس اللہ کی قسم جس نے بنو اسرائیل کیلئے پانی میں راہ کر دی تھی اور ابر کا سایہ ان پر کیا تھا اور فرعونیوں سے بچا لیا تھا اور من و سلویٰ اتارا تھا ۔

اس قسم سے وہ چونک گئے اور آپس میں کہنے لگے بڑی زبردست قسم ہے، اس موقع پر جھوٹ بولنا ٹھیک نہیں تو کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تورات میں یہ ہے کہ بری نظر سے دیکھنا بھی مثل زنا کے ہے اور گلے لگانا بھی اور بوسہ لینا بھی، پھر اگر چار گواہ اس بات کے ہوں کہ انہوں نے دخول خروج دیکھا ہے جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں جاتی آتی ہے تو رجم واجب ہو جاتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی مسئلہ ہے پھر حکم دیا اور انہیں رجم کرا دیا گیا۔ اس پر آیت «فَاِنْ جَاءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا وَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ» [5-المائدہ:42] ‏، اتری۔ [سنن ابوداود:4452، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ایک روایت میں جو دو عالم سامنے لائے گئے تھے، یہ دونوں صوریا کے لڑکے تھے۔ ترک حد کا سبب اس روایت میں یہودیوں کی طرف سے یہ بیان ہوا ہے کہ جب ہم میں سلطنت نہ رہی تو ہم نے اپنے آدمیوں کی جان لینی مناسب نہ سمجھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلوا کر گواہی لی جنہوں نے بیان دیا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں اس برائی میں دیکھا ہے، جس طرح سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے۔ [سنن ابوداود:4452،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

دراصل توراۃ وغیرہ کا منگوانا ان کے عالموں کو بلوانا، یہ سب انہیں الزام دینے کیلئے نہ تھا، نہ اس لیے تھا کہ وہ اسی کے ماننے کے مکلف ہیں، نہیں بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان واجب العمل ہے، اس سے مقصد ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا اظہار تھا کہ اللہ کی وحی سے آپ نے یہ معلوم کر لیا کہ ان کی تورات میں بھی حکم رجم موجود ہے اور یہی نکلا، دوسرے ان کی رسوائی کہ انہیں پہلے کے انکار کے بعد اقرار کرنا پڑا اور دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ یہ لوگ فرمان الٰہی کو چھپا لینے والے اور اپنی رائے قیاس پر عمل کرنے والے ہیں۔

صفحہ نمبر2321

اور اس لیے بھی کہ یہ لوگ سچے دل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس لیے نہیں آئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری کریں بلکہ محض اس لیے آئے تھے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے اجماع کے موافق پائیں گے تو اتحاد کر لیں گے ورنہ ہرگز قبول نہ کریں گے۔

اسی لیے فرمان ہے کہ ” جنہیں اللہ گمراہ کر دے تو ان کو کسی قسم سے راہ راست آنے کا اختیار نہیں ہے ان کے گندے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ کا ارادہ نہیں، یہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں داخل نار ہوں گے۔ یہ باطل کو کان لگا کر مزے لے کر سننے والے ہیں اور رشوت جیسی حرام چیز کو دن دہاڑے کھانے والے ہیں، بھلا ان کے نجس دل کیسے پاک ہوں گے؟ اور ان کی دعائیں اللہ کیسے سنے گا؟ اگر یہ تیرے پاس آئیں تو تجھے اختیار ہے کہ ان کے فیصلے کر یا نہ کر اگر تو ان سے منہ پھیر لے جب بھی یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ ان کا قصد اتباع حق نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کی پیروی ہے “۔

بعض بزرگ کہتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے اس آیت سے «وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ» [5-المائدہ:49] ‏

پھر فرمایا ” اگر تو ان میں فیصلے کرے تو عدل و انصاف کے ساتھ کر، گو یہ خود ظالم ہیں اور عدل سے ہٹے ہوئے ہیں اور مان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل لوگوں سے محبت رکھتا ہے “۔

پھر ان کی خباثت بدباطنی اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ ” ایک طرف تو اس کتاب اللہ کو چھوڑ رکھا ہے، جس کی تابعداری اور حقانیت کے خود قائل ہیں، دوسری طرف اس جانب جھک رہے ہیں، جسے نہیں مانتے اور جسے جھوٹ مشہور کر رکھا ہے، پھر اس میں بھی نیت بد ہے کہ اگر وہاں سے ہماری خواہش ہے مطابق حکم ملے گا تو لے لیں گے، ورنہ چھوڑ چھاڑ دیں گے “۔

صفحہ نمبر2322

تو فرمایا کہ ” یہ کیسے تیری فرماں برداری کریں گے؟ انہوں نے تو تورات کو بھی چھوڑ رکھا ہے، جس میں اللہ کے احکامات ہونے کا اقرار انہیں بھی ہے لیکن پھر بھی بے ایمانی کر کے اس سے پھر جاتے ہیں “۔

پھر اس تورات کی مدحت و تعریف بیان فرمائی جو اس نے اپنے برگزیدہ رسول موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر نازل فرمائی تھی کہ اس میں ہدایت و نورانیت تھی۔ انبیاء علیہ السلام جو اللہ کے زیر فرمان تھے، اسی پر فیصلے کرتے رہے، یہودیوں میں اسی کے احکام جاری کرتے رہے، تبدیلی اور تحریف سے بچے رہے، ربانی یعنی عابد، علماء اور احبار یعنی ذی علم لوگ بھی اسی روش پر رہے۔ کیونکہ انہیں یہ پاک کتاب سونپی گئی تھی اور اس کے اظہار کا اور اس پر عمل کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ و شاہد تھے۔ ” اب تمہیں چاہیئے کہ بجز اللہ کے کسی اور سے نہ ڈرو۔ ہاں قدم قدم اور لمحہ لمحہ پر خوف رکھو اور میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول فروخت نہ کیا کرو۔ جان لو کہ اللہ کی وحی کا حکم جو نہ مانے وہ کافر ہے “۔

اس میں دو قول ہیں جو ابھی بیان ہوں گے ان شاءاللہ۔ ان آیتوں کا ایک شان نزول بھی سن لیجئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”ایسے لوگوں کو اس آیت میں تو کافر کہا دوسری میں ظالم تیسری میں فاسق۔ بات یہ ہے کہ یہودیوں کے دو گروہ تھے، ایک غالب تھا، دوسرا مغلوب۔ ان کی آپس میں اس بات پر صلح ہوئی تھی کہ غالب، ذی عزت فرقے کا کوئی شخص اگر مغلوب ذلیل فرقے کے کسی شخص کو قتل کر ڈالے تو پچاس وسق دیت دے اور ذلیل لوگوں میں سے کوئی عزیز کو قتل کر دے تو ایک سو وسق دیت دے۔ یہی رواج ان میں چلا آ رہا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے، اس کے بعد ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ان نیچے والے یہودیوں میں سے کسی نے کسی اونچے یہودی کو مار ڈالا۔

صفحہ نمبر2323

یہاں سے آدمی گیا کہ لاؤ سو وسق دلاؤ دلواؤ، وہاں سے جواب ملا کہ یہ صریح ناانصافی ہے کہ ہم دونوں ایک ہی قبیلے کے، ایک ہی دین کے، ایک ہی نسب کے، ایک ہی شہر کے پھر ہماری دیت کم اور تمہارا زیادہ؟ ہم چونکہ اب تک تمہارے دبے ہوئے تھے، اس ناانصافی کو بادل ناخواستہ برداشت کرتے رہے لیکن اب جب کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عادل بادشاہ یہاں آگئے ہیں ہم تمہیں اتنی ہی دیت دیں گے جتنی تم ہمیں دو۔ اس بات پر ادھر ادھر سے آستینیں چڑھ گئیں، پھر آپس میں یہ بات طے ہوئی کہ اچھا اس جھگڑے کا فیصلہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔

لیکن اونچی قوم کے لوگوں نے آپس میں جب مشورہ کیا تو ان کے سمجھداروں نے کہا دیکھو اس سے ہاتھ دھو رکھو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ناانصافی پہ مبنی حکم کریں۔ یہ تو صریح زیادتی ہے کہ ہم آدھی دیں اور پوری لیں اور فی الواقع ان لوگوں نے دب کر اسے منظور کیا تھا جو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اور ثالث مقرر کیا ہے تو یقیناً تمہارا یہ حق مارا جائے گا کسی نے رائے دی کہ اچھا یوں کرو، کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چپکے سے بھیج دو، وہ معلوم کر آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کیا کریں گے؟ اگر ہماری حمایت میں ہوا تب تو بہت اچھا چلو اور ان سے حق حاصل کر آؤ اور اگر خلاف ہوا تو پھر الگ تھلگ ہی اچھے ہیں۔

چنانچہ مدینہ کے چند منافقوں کو انہوں نے جاسوس بنا کر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس سے پہلے کہ وہ یہاں پہنچیں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتار کر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں فرقوں کے بد ارادوں سے مطلع فرما دیا۔ [سنن ابوداود:3576،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ایک روایت میں ہے کہ یہ دونوں قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ تھے۔ بنو نضیر کی پوری دیت تھی اور بنو قریظہ کی آدھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی دیت یکساں دینے کا فیصلہ صادر فرمایا۔

صفحہ نمبر2324

ایک روایت ہے کہ قرظی اگر کسی نضری کو قتل کر ڈالے تو اس سے قصاص لیتے تھے لیکن اس کے خلاف میں قصاص تھا ہی نہیں سو وسق دیت تھی۔ [سنن ابوداود:3591،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

یہ بہت ممکن ہے کہ ادھر یہ واقعہ ہوا، ادھر زنا کا قصہ واقع ہوا، جس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے ان دونوں پر یہ آیتیں نازل ہوئیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ہاں ایک بات اور ہے جس سے اس دوسری شان نزول کی تقویت ہوتی ہے وہ یہ کہ اس کے بعد ہی فرمایا ہے آیت «وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ» [5-المائدہ:45] ‏، یعنی ” ہم نے یہودیوں پر تورات میں یہ حکم فرض کر دیا تھا کہ جان کے عوض جان، آنکھ کے عوض آنکھ “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر انہیں کافی کہا گیا جو اللہ کی شریعت اور اس کی اتاری ہوئی وحی کے مطابق فیصلے اور حکم نہ کریں گو یہ آیت شان نزول کے اعتبار سے بقول مفسرین اہل کتاب کے بارے میں ہے لیکن حکم کے اعتبار سے ہر شخص کو شامل ہے۔ بنو اسرائیل کے بارے میں اتری اور اس امت کا بھی یہی حکم ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”رشوت حرام ہے اور رشوت ستانی کے بعد کسی شرعی مسئلہ کے خلاف فتویٰ دینا کفر ہے۔‏“ سدی رحمة الله فرماتے ہیں ”جس نے وحی الٰہی کے خلاف عمداً فتویٰ دیا جاننے کے باوجود اس کے خلاف کیا وہ کافر ہے۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے اللہ کے فرمان سے انکار کیا، اس کا یہ حکم ہے اور جس نے انکار تو نہ کیا لیکن اس کے مطابق نہ کہا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ خواہ اہل کتاب ہو خواہ کوئی اور۔‏“

شعبی رحمة الله فرماتے ہیں ”مسلمانوں میں جس نے کتاب کے خلاف فتویٰ دیا وہ کافر ہے اور یہودیوں میں دیا ہو تو ظالم ہے اور نصرانیوں میں دیا ہو تو فاسق ہے۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس آیت کے ساتھ ہے۔‏“ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس کے کفر جیسا نہیں جو سرے سے اللہ کے رسول قرآن اور فرشتوں کا منکر ہو۔‏“ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «کتم» (‏چھپانا) کفر سے کم ہے اسی طرح ظلم و فسق کے بھی ادنیٰ اعلیٰ درجے ہیں۔ اس کفر سے وہ ملت اسلام سے پھر جانے والا جاتا ہے۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ کفر نہیں جس کی طرف تم جا رہے ہو۔‏“

صفحہ نمبر2325

جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ ٭٭

ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان کے کھرے، دل کے کھوٹے اور یہی خصلت یہودیوں کی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ جھوٹ کو مزے مزے سے سنتے ہیں اور دل کھول کر قبول کرتے ہیں۔ لیکن سچ سے بھاگتے ہیں، بلکہ نفرت کرتے ہیں اور جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں نہیں آتے یہ یہاں کی وہاں پہنچاتے ہیں۔ ان کی طرف سے جاسوسی کرنے کو آتے ہیں۔ پھر نالائقی یہ کرتے ہیں کہ یہ بات کو بدل ڈالا کرتے ہیں مطلب کچھ ہو، لے کر کچھ اڑتے ہیں، ارادے یہی ہیں کہ اگر تمہاری خواہش کے مطابق کہے تو مان لو، طبیعت کے خلاف ہو تو دور رہو۔

کہا کیا گیا ہے کہ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں اتری تھی جن میں ایک کو دوسرے نے قتل کر دیا تھا، اب کہنے لگے چلو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیت جرمانے کا حکم دیں تو منظور کر لیں گے اور اگر قصاص بدلے کو فرمائیں تو نہیں مانیں گے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک زنا کار کو لے کر آئے تھے۔ ان کی کتاب توراۃ میں دراصل حکم تو یہ تھا کہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کیا جائے۔

صفحہ نمبر2317

لیکن انہوں نے اسے بدل ڈالا تھا اور سو کوڑے مار کر، منہ کالا کر کے، الٹا گدھا سوار کر کے رسوائی کر کے چھوڑ دیتے تھے۔ جب ہجرت کے بعد ان میں سے کوئی زناکاری کے جرم میں پکڑا گیا تو یہ کہنے لگے آؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کریں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہی فرمائیں جو ہم کرتے ہیں تو اسے قبول کریں گے اور اللہ کے ہاں بھی یہ ہماری سند ہو جائے گی اور اگر رجم کو فرمائیں گے تو نہیں مانیں گے۔

چنانچہ یہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ ہمارے ایک مرد عورت نے بدکاری کی ہے، ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ہاں توراۃ میں کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا ہم تو اسے رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مار کر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سن کر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جھوٹ کہتے ہیں، تورات میں سنگسار کا حکم ہے۔ اور آیت میں ہے «قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ‏ [3-آل عمران:93] ‏ یعنی ” اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (‏یعنی دلیل پیش کرو) “، انہوں نے تورات کھولی لیکن آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے کی سب عبارت پڑھ سنائی۔

عبداللہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اپنے ہاتھ کو تو ہٹا“، ہاتھ ہٹایا تو سنگسار کرنے کی آیت موجود تھی، اب تو انہیں بھی اقرار کرنا پڑا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے زانیوں کو سنگسار کر دیا گیا، عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے دیکھا کہ وہ زانی اس عورت کو پتھروں سے بچانے کیلئے اس کے آڑے آجاتا تھا۔‏“ [صحیح بخاری:6841] ‏

صفحہ نمبر2318

اور سند سے مروی ہے کہ یہودیوں نے کہا ”ہم تو اسے کالا منہ کر کے کچھ مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں۔‏“ اور آیت کے ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے کہا، ہے تو یہی حکم لیکن ہم نے تو اسے چھپایا تھا، جو پڑھ رہا تھا اسی نے رجم کی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا، جب اس کا ہاتھ اٹھوایا تو آیت پر اچٹتی ہوئی نظر پڑ گئی۔ ان دونوں کے رجم کرنے والوں میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے اپنے آدمی بھیج کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا تھا، اپنے مدرسے میں گدی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بٹھایا تھا اور جو اب تورات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھ رہا تھا، وہ ان کا بہت بڑا عالم تھا۔ [سنن ابوداود:4449،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قسم دے کر پوچھا تھا کہ تم تورات میں شادی شدہ زانی کی کیا سزا پاتے ہو؟ تو انہوں نے یہی جواب دیا تھا لیکن ایک نوجوان کچھ نہ بولا، خاموش ہی کھڑا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر خاص اسے دوبارہ قسم دی اور جواب مانگا، اس نے کہا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قسمیں دے رہے ہیں تو میں جھوٹ نہ بولوں گا، واقعی تورات میں ان لوگوں کی سزا سنگساری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا پھر یہ بھی سچ سچ بتاؤ کہ پہلے پہل اس رجم کو تم نے کیوں اور کس پر سے اڑایا؟ اس نے کہا ہمارے کسی بادشاہ کے رشتے دار، بڑے آدمی نے زناکاری کی۔ اس کی عظمت اور بادشاہ کی ہیبت کے مارے اسے رجم کرو ورنہ اسے بھی چھوڑو۔ آخر ہم نے مل ملا کر یہ طے کیا کہ بجائے رجم کے اس قسم کی کوئی سزا مقرر کر دی جائے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توراۃ کے حکم کو جاری کیا اور اسی بارے میں آیت «‏إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ» [5-المائدہ:44] ‏، اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان احکام کے جاری کرنے والوں میں سے ہیں [سنن ابوداود:4450،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2319

مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص کو یہودی کالا منہ کئے لے جا رہے تھے اور اسے کوڑے بھی مار رکھے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کر ان سے ماجرا پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا زانی کی یہی سزا تمہارے ہاں ہے؟ کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ایک عالم کو بلا کر اسے سخت قسم دے کر پوچھا تو اس نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قسم نہ دیتے تو میں ہرگز نہ بتاتا، بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں دراصل زناکاری کی سزا سنگساری ہے لیکن چونکہ امیر امراء اور شرفاء لوگوں میں یہ بدکاری بڑھ گئی تھی اور انہیں اس قسم کی سزا دینی ہم نے مناسب نہ جانی، اس لیے انہیں تو چھوڑ دیتے تھے اور اللہ کا حکم مارا نہ جائے اس لیے غریب غرباء، کم حیثیت لوگوں کو رجم کرا دیتے تھے پھر ہم نے رائے زنی کی کہ آؤ کوئی ایسی سزا تجویز کرو کہ شریف و غیر شریف، امیر غریب پر سب پر یکساں جاری ہو سکے چنانچہ ہمارا سب کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ منہ کالے کر دیں اور کوڑے لگائیں۔

یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان دونوں کو سنگسار کرو چنانچہ انہیں رجم کر دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے ایک مردہ حکم کو زندہ کیا ۔ اس پر آیت «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ» ‏ [5-المائدہ:41] ‏ سے «وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ» [5-المائدہ:44] ‏ تک نازل ہوئی۔ انہی یہودیوں کے بارے میں اور آیت میں ہے کہ ” اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے ظالم ہیں “ اور آیت میں ہے ” فاسق ہیں “۔ [صحیح مسلم:1700] ‏

صفحہ نمبر2320

اور روایت میں ہے واقعہ زنا فدک میں ہوا تھا اور وہاں کے یہودیوں نے مدینے شریف کے یہودیوں کو لکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھوایا تھا جو عالم ان کا آیا اس کا نام ابن صوریا تھا، یہ آنکھ کا بھینگا تھا، اور اس کے ساتھ دوسرا عالم بھی تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں قسم دی تو دونوں نے قبول دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہا تھا، تمہیں اس اللہ کی قسم جس نے بنو اسرائیل کیلئے پانی میں راہ کر دی تھی اور ابر کا سایہ ان پر کیا تھا اور فرعونیوں سے بچا لیا تھا اور من و سلویٰ اتارا تھا ۔

اس قسم سے وہ چونک گئے اور آپس میں کہنے لگے بڑی زبردست قسم ہے، اس موقع پر جھوٹ بولنا ٹھیک نہیں تو کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تورات میں یہ ہے کہ بری نظر سے دیکھنا بھی مثل زنا کے ہے اور گلے لگانا بھی اور بوسہ لینا بھی، پھر اگر چار گواہ اس بات کے ہوں کہ انہوں نے دخول خروج دیکھا ہے جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں جاتی آتی ہے تو رجم واجب ہو جاتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی مسئلہ ہے پھر حکم دیا اور انہیں رجم کرا دیا گیا۔ اس پر آیت «فَاِنْ جَاءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا وَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ» [5-المائدہ:42] ‏، اتری۔ [سنن ابوداود:4452، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ایک روایت میں جو دو عالم سامنے لائے گئے تھے، یہ دونوں صوریا کے لڑکے تھے۔ ترک حد کا سبب اس روایت میں یہودیوں کی طرف سے یہ بیان ہوا ہے کہ جب ہم میں سلطنت نہ رہی تو ہم نے اپنے آدمیوں کی جان لینی مناسب نہ سمجھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلوا کر گواہی لی جنہوں نے بیان دیا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں اس برائی میں دیکھا ہے، جس طرح سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے۔ [سنن ابوداود:4452،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

دراصل توراۃ وغیرہ کا منگوانا ان کے عالموں کو بلوانا، یہ سب انہیں الزام دینے کیلئے نہ تھا، نہ اس لیے تھا کہ وہ اسی کے ماننے کے مکلف ہیں، نہیں بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان واجب العمل ہے، اس سے مقصد ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا اظہار تھا کہ اللہ کی وحی سے آپ نے یہ معلوم کر لیا کہ ان کی تورات میں بھی حکم رجم موجود ہے اور یہی نکلا، دوسرے ان کی رسوائی کہ انہیں پہلے کے انکار کے بعد اقرار کرنا پڑا اور دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ یہ لوگ فرمان الٰہی کو چھپا لینے والے اور اپنی رائے قیاس پر عمل کرنے والے ہیں۔

صفحہ نمبر2321

اور اس لیے بھی کہ یہ لوگ سچے دل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس لیے نہیں آئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری کریں بلکہ محض اس لیے آئے تھے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے اجماع کے موافق پائیں گے تو اتحاد کر لیں گے ورنہ ہرگز قبول نہ کریں گے۔

اسی لیے فرمان ہے کہ ” جنہیں اللہ گمراہ کر دے تو ان کو کسی قسم سے راہ راست آنے کا اختیار نہیں ہے ان کے گندے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ کا ارادہ نہیں، یہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں داخل نار ہوں گے۔ یہ باطل کو کان لگا کر مزے لے کر سننے والے ہیں اور رشوت جیسی حرام چیز کو دن دہاڑے کھانے والے ہیں، بھلا ان کے نجس دل کیسے پاک ہوں گے؟ اور ان کی دعائیں اللہ کیسے سنے گا؟ اگر یہ تیرے پاس آئیں تو تجھے اختیار ہے کہ ان کے فیصلے کر یا نہ کر اگر تو ان سے منہ پھیر لے جب بھی یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ ان کا قصد اتباع حق نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کی پیروی ہے “۔

بعض بزرگ کہتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے اس آیت سے «وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ» [5-المائدہ:49] ‏

پھر فرمایا ” اگر تو ان میں فیصلے کرے تو عدل و انصاف کے ساتھ کر، گو یہ خود ظالم ہیں اور عدل سے ہٹے ہوئے ہیں اور مان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل لوگوں سے محبت رکھتا ہے “۔

پھر ان کی خباثت بدباطنی اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ ” ایک طرف تو اس کتاب اللہ کو چھوڑ رکھا ہے، جس کی تابعداری اور حقانیت کے خود قائل ہیں، دوسری طرف اس جانب جھک رہے ہیں، جسے نہیں مانتے اور جسے جھوٹ مشہور کر رکھا ہے، پھر اس میں بھی نیت بد ہے کہ اگر وہاں سے ہماری خواہش ہے مطابق حکم ملے گا تو لے لیں گے، ورنہ چھوڑ چھاڑ دیں گے “۔

صفحہ نمبر2322

تو فرمایا کہ ” یہ کیسے تیری فرماں برداری کریں گے؟ انہوں نے تو تورات کو بھی چھوڑ رکھا ہے، جس میں اللہ کے احکامات ہونے کا اقرار انہیں بھی ہے لیکن پھر بھی بے ایمانی کر کے اس سے پھر جاتے ہیں “۔

پھر اس تورات کی مدحت و تعریف بیان فرمائی جو اس نے اپنے برگزیدہ رسول موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر نازل فرمائی تھی کہ اس میں ہدایت و نورانیت تھی۔ انبیاء علیہ السلام جو اللہ کے زیر فرمان تھے، اسی پر فیصلے کرتے رہے، یہودیوں میں اسی کے احکام جاری کرتے رہے، تبدیلی اور تحریف سے بچے رہے، ربانی یعنی عابد، علماء اور احبار یعنی ذی علم لوگ بھی اسی روش پر رہے۔ کیونکہ انہیں یہ پاک کتاب سونپی گئی تھی اور اس کے اظہار کا اور اس پر عمل کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ و شاہد تھے۔ ” اب تمہیں چاہیئے کہ بجز اللہ کے کسی اور سے نہ ڈرو۔ ہاں قدم قدم اور لمحہ لمحہ پر خوف رکھو اور میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول فروخت نہ کیا کرو۔ جان لو کہ اللہ کی وحی کا حکم جو نہ مانے وہ کافر ہے “۔

اس میں دو قول ہیں جو ابھی بیان ہوں گے ان شاءاللہ۔ ان آیتوں کا ایک شان نزول بھی سن لیجئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”ایسے لوگوں کو اس آیت میں تو کافر کہا دوسری میں ظالم تیسری میں فاسق۔ بات یہ ہے کہ یہودیوں کے دو گروہ تھے، ایک غالب تھا، دوسرا مغلوب۔ ان کی آپس میں اس بات پر صلح ہوئی تھی کہ غالب، ذی عزت فرقے کا کوئی شخص اگر مغلوب ذلیل فرقے کے کسی شخص کو قتل کر ڈالے تو پچاس وسق دیت دے اور ذلیل لوگوں میں سے کوئی عزیز کو قتل کر دے تو ایک سو وسق دیت دے۔ یہی رواج ان میں چلا آ رہا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے، اس کے بعد ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ان نیچے والے یہودیوں میں سے کسی نے کسی اونچے یہودی کو مار ڈالا۔

صفحہ نمبر2323

یہاں سے آدمی گیا کہ لاؤ سو وسق دلاؤ دلواؤ، وہاں سے جواب ملا کہ یہ صریح ناانصافی ہے کہ ہم دونوں ایک ہی قبیلے کے، ایک ہی دین کے، ایک ہی نسب کے، ایک ہی شہر کے پھر ہماری دیت کم اور تمہارا زیادہ؟ ہم چونکہ اب تک تمہارے دبے ہوئے تھے، اس ناانصافی کو بادل ناخواستہ برداشت کرتے رہے لیکن اب جب کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عادل بادشاہ یہاں آگئے ہیں ہم تمہیں اتنی ہی دیت دیں گے جتنی تم ہمیں دو۔ اس بات پر ادھر ادھر سے آستینیں چڑھ گئیں، پھر آپس میں یہ بات طے ہوئی کہ اچھا اس جھگڑے کا فیصلہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔

لیکن اونچی قوم کے لوگوں نے آپس میں جب مشورہ کیا تو ان کے سمجھداروں نے کہا دیکھو اس سے ہاتھ دھو رکھو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ناانصافی پہ مبنی حکم کریں۔ یہ تو صریح زیادتی ہے کہ ہم آدھی دیں اور پوری لیں اور فی الواقع ان لوگوں نے دب کر اسے منظور کیا تھا جو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اور ثالث مقرر کیا ہے تو یقیناً تمہارا یہ حق مارا جائے گا کسی نے رائے دی کہ اچھا یوں کرو، کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چپکے سے بھیج دو، وہ معلوم کر آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کیا کریں گے؟ اگر ہماری حمایت میں ہوا تب تو بہت اچھا چلو اور ان سے حق حاصل کر آؤ اور اگر خلاف ہوا تو پھر الگ تھلگ ہی اچھے ہیں۔

چنانچہ مدینہ کے چند منافقوں کو انہوں نے جاسوس بنا کر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس سے پہلے کہ وہ یہاں پہنچیں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتار کر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں فرقوں کے بد ارادوں سے مطلع فرما دیا۔ [سنن ابوداود:3576،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ایک روایت میں ہے کہ یہ دونوں قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ تھے۔ بنو نضیر کی پوری دیت تھی اور بنو قریظہ کی آدھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی دیت یکساں دینے کا فیصلہ صادر فرمایا۔

صفحہ نمبر2324

ایک روایت ہے کہ قرظی اگر کسی نضری کو قتل کر ڈالے تو اس سے قصاص لیتے تھے لیکن اس کے خلاف میں قصاص تھا ہی نہیں سو وسق دیت تھی۔ [سنن ابوداود:3591،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

یہ بہت ممکن ہے کہ ادھر یہ واقعہ ہوا، ادھر زنا کا قصہ واقع ہوا، جس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے ان دونوں پر یہ آیتیں نازل ہوئیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ہاں ایک بات اور ہے جس سے اس دوسری شان نزول کی تقویت ہوتی ہے وہ یہ کہ اس کے بعد ہی فرمایا ہے آیت «وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ» [5-المائدہ:45] ‏، یعنی ” ہم نے یہودیوں پر تورات میں یہ حکم فرض کر دیا تھا کہ جان کے عوض جان، آنکھ کے عوض آنکھ “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر انہیں کافی کہا گیا جو اللہ کی شریعت اور اس کی اتاری ہوئی وحی کے مطابق فیصلے اور حکم نہ کریں گو یہ آیت شان نزول کے اعتبار سے بقول مفسرین اہل کتاب کے بارے میں ہے لیکن حکم کے اعتبار سے ہر شخص کو شامل ہے۔ بنو اسرائیل کے بارے میں اتری اور اس امت کا بھی یہی حکم ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”رشوت حرام ہے اور رشوت ستانی کے بعد کسی شرعی مسئلہ کے خلاف فتویٰ دینا کفر ہے۔‏“ سدی رحمة الله فرماتے ہیں ”جس نے وحی الٰہی کے خلاف عمداً فتویٰ دیا جاننے کے باوجود اس کے خلاف کیا وہ کافر ہے۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے اللہ کے فرمان سے انکار کیا، اس کا یہ حکم ہے اور جس نے انکار تو نہ کیا لیکن اس کے مطابق نہ کہا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ خواہ اہل کتاب ہو خواہ کوئی اور۔‏“

شعبی رحمة الله فرماتے ہیں ”مسلمانوں میں جس نے کتاب کے خلاف فتویٰ دیا وہ کافر ہے اور یہودیوں میں دیا ہو تو ظالم ہے اور نصرانیوں میں دیا ہو تو فاسق ہے۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس آیت کے ساتھ ہے۔‏“ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس کے کفر جیسا نہیں جو سرے سے اللہ کے رسول قرآن اور فرشتوں کا منکر ہو۔‏“ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «کتم» (‏چھپانا) کفر سے کم ہے اسی طرح ظلم و فسق کے بھی ادنیٰ اعلیٰ درجے ہیں۔ اس کفر سے وہ ملت اسلام سے پھر جانے والا جاتا ہے۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ کفر نہیں جس کی طرف تم جا رہے ہو۔‏“

صفحہ نمبر2325

جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ ٭٭

ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان کے کھرے، دل کے کھوٹے اور یہی خصلت یہودیوں کی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ جھوٹ کو مزے مزے سے سنتے ہیں اور دل کھول کر قبول کرتے ہیں۔ لیکن سچ سے بھاگتے ہیں، بلکہ نفرت کرتے ہیں اور جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں نہیں آتے یہ یہاں کی وہاں پہنچاتے ہیں۔ ان کی طرف سے جاسوسی کرنے کو آتے ہیں۔ پھر نالائقی یہ کرتے ہیں کہ یہ بات کو بدل ڈالا کرتے ہیں مطلب کچھ ہو، لے کر کچھ اڑتے ہیں، ارادے یہی ہیں کہ اگر تمہاری خواہش کے مطابق کہے تو مان لو، طبیعت کے خلاف ہو تو دور رہو۔

کہا کیا گیا ہے کہ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں اتری تھی جن میں ایک کو دوسرے نے قتل کر دیا تھا، اب کہنے لگے چلو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیت جرمانے کا حکم دیں تو منظور کر لیں گے اور اگر قصاص بدلے کو فرمائیں تو نہیں مانیں گے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک زنا کار کو لے کر آئے تھے۔ ان کی کتاب توراۃ میں دراصل حکم تو یہ تھا کہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کیا جائے۔

صفحہ نمبر2317

لیکن انہوں نے اسے بدل ڈالا تھا اور سو کوڑے مار کر، منہ کالا کر کے، الٹا گدھا سوار کر کے رسوائی کر کے چھوڑ دیتے تھے۔ جب ہجرت کے بعد ان میں سے کوئی زناکاری کے جرم میں پکڑا گیا تو یہ کہنے لگے آؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کریں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہی فرمائیں جو ہم کرتے ہیں تو اسے قبول کریں گے اور اللہ کے ہاں بھی یہ ہماری سند ہو جائے گی اور اگر رجم کو فرمائیں گے تو نہیں مانیں گے۔

چنانچہ یہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ ہمارے ایک مرد عورت نے بدکاری کی ہے، ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ہاں توراۃ میں کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا ہم تو اسے رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مار کر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سن کر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جھوٹ کہتے ہیں، تورات میں سنگسار کا حکم ہے۔ اور آیت میں ہے «قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ‏ [3-آل عمران:93] ‏ یعنی ” اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (‏یعنی دلیل پیش کرو) “، انہوں نے تورات کھولی لیکن آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے کی سب عبارت پڑھ سنائی۔

عبداللہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اپنے ہاتھ کو تو ہٹا“، ہاتھ ہٹایا تو سنگسار کرنے کی آیت موجود تھی، اب تو انہیں بھی اقرار کرنا پڑا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے زانیوں کو سنگسار کر دیا گیا، عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے دیکھا کہ وہ زانی اس عورت کو پتھروں سے بچانے کیلئے اس کے آڑے آجاتا تھا۔‏“ [صحیح بخاری:6841] ‏

صفحہ نمبر2318

اور سند سے مروی ہے کہ یہودیوں نے کہا ”ہم تو اسے کالا منہ کر کے کچھ مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں۔‏“ اور آیت کے ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے کہا، ہے تو یہی حکم لیکن ہم نے تو اسے چھپایا تھا، جو پڑھ رہا تھا اسی نے رجم کی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا، جب اس کا ہاتھ اٹھوایا تو آیت پر اچٹتی ہوئی نظر پڑ گئی۔ ان دونوں کے رجم کرنے والوں میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے اپنے آدمی بھیج کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا تھا، اپنے مدرسے میں گدی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بٹھایا تھا اور جو اب تورات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھ رہا تھا، وہ ان کا بہت بڑا عالم تھا۔ [سنن ابوداود:4449،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قسم دے کر پوچھا تھا کہ تم تورات میں شادی شدہ زانی کی کیا سزا پاتے ہو؟ تو انہوں نے یہی جواب دیا تھا لیکن ایک نوجوان کچھ نہ بولا، خاموش ہی کھڑا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر خاص اسے دوبارہ قسم دی اور جواب مانگا، اس نے کہا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قسمیں دے رہے ہیں تو میں جھوٹ نہ بولوں گا، واقعی تورات میں ان لوگوں کی سزا سنگساری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا پھر یہ بھی سچ سچ بتاؤ کہ پہلے پہل اس رجم کو تم نے کیوں اور کس پر سے اڑایا؟ اس نے کہا ہمارے کسی بادشاہ کے رشتے دار، بڑے آدمی نے زناکاری کی۔ اس کی عظمت اور بادشاہ کی ہیبت کے مارے اسے رجم کرو ورنہ اسے بھی چھوڑو۔ آخر ہم نے مل ملا کر یہ طے کیا کہ بجائے رجم کے اس قسم کی کوئی سزا مقرر کر دی جائے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توراۃ کے حکم کو جاری کیا اور اسی بارے میں آیت «‏إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ» [5-المائدہ:44] ‏، اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان احکام کے جاری کرنے والوں میں سے ہیں [سنن ابوداود:4450،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2319

مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص کو یہودی کالا منہ کئے لے جا رہے تھے اور اسے کوڑے بھی مار رکھے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کر ان سے ماجرا پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا زانی کی یہی سزا تمہارے ہاں ہے؟ کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ایک عالم کو بلا کر اسے سخت قسم دے کر پوچھا تو اس نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قسم نہ دیتے تو میں ہرگز نہ بتاتا، بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں دراصل زناکاری کی سزا سنگساری ہے لیکن چونکہ امیر امراء اور شرفاء لوگوں میں یہ بدکاری بڑھ گئی تھی اور انہیں اس قسم کی سزا دینی ہم نے مناسب نہ جانی، اس لیے انہیں تو چھوڑ دیتے تھے اور اللہ کا حکم مارا نہ جائے اس لیے غریب غرباء، کم حیثیت لوگوں کو رجم کرا دیتے تھے پھر ہم نے رائے زنی کی کہ آؤ کوئی ایسی سزا تجویز کرو کہ شریف و غیر شریف، امیر غریب پر سب پر یکساں جاری ہو سکے چنانچہ ہمارا سب کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ منہ کالے کر دیں اور کوڑے لگائیں۔

یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان دونوں کو سنگسار کرو چنانچہ انہیں رجم کر دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے ایک مردہ حکم کو زندہ کیا ۔ اس پر آیت «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ» ‏ [5-المائدہ:41] ‏ سے «وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ» [5-المائدہ:44] ‏ تک نازل ہوئی۔ انہی یہودیوں کے بارے میں اور آیت میں ہے کہ ” اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے ظالم ہیں “ اور آیت میں ہے ” فاسق ہیں “۔ [صحیح مسلم:1700] ‏

صفحہ نمبر2320

اور روایت میں ہے واقعہ زنا فدک میں ہوا تھا اور وہاں کے یہودیوں نے مدینے شریف کے یہودیوں کو لکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھوایا تھا جو عالم ان کا آیا اس کا نام ابن صوریا تھا، یہ آنکھ کا بھینگا تھا، اور اس کے ساتھ دوسرا عالم بھی تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں قسم دی تو دونوں نے قبول دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہا تھا، تمہیں اس اللہ کی قسم جس نے بنو اسرائیل کیلئے پانی میں راہ کر دی تھی اور ابر کا سایہ ان پر کیا تھا اور فرعونیوں سے بچا لیا تھا اور من و سلویٰ اتارا تھا ۔

اس قسم سے وہ چونک گئے اور آپس میں کہنے لگے بڑی زبردست قسم ہے، اس موقع پر جھوٹ بولنا ٹھیک نہیں تو کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تورات میں یہ ہے کہ بری نظر سے دیکھنا بھی مثل زنا کے ہے اور گلے لگانا بھی اور بوسہ لینا بھی، پھر اگر چار گواہ اس بات کے ہوں کہ انہوں نے دخول خروج دیکھا ہے جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں جاتی آتی ہے تو رجم واجب ہو جاتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی مسئلہ ہے پھر حکم دیا اور انہیں رجم کرا دیا گیا۔ اس پر آیت «فَاِنْ جَاءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا وَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ» [5-المائدہ:42] ‏، اتری۔ [سنن ابوداود:4452، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ایک روایت میں جو دو عالم سامنے لائے گئے تھے، یہ دونوں صوریا کے لڑکے تھے۔ ترک حد کا سبب اس روایت میں یہودیوں کی طرف سے یہ بیان ہوا ہے کہ جب ہم میں سلطنت نہ رہی تو ہم نے اپنے آدمیوں کی جان لینی مناسب نہ سمجھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلوا کر گواہی لی جنہوں نے بیان دیا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں اس برائی میں دیکھا ہے، جس طرح سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے۔ [سنن ابوداود:4452،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

دراصل توراۃ وغیرہ کا منگوانا ان کے عالموں کو بلوانا، یہ سب انہیں الزام دینے کیلئے نہ تھا، نہ اس لیے تھا کہ وہ اسی کے ماننے کے مکلف ہیں، نہیں بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان واجب العمل ہے، اس سے مقصد ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا اظہار تھا کہ اللہ کی وحی سے آپ نے یہ معلوم کر لیا کہ ان کی تورات میں بھی حکم رجم موجود ہے اور یہی نکلا، دوسرے ان کی رسوائی کہ انہیں پہلے کے انکار کے بعد اقرار کرنا پڑا اور دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ یہ لوگ فرمان الٰہی کو چھپا لینے والے اور اپنی رائے قیاس پر عمل کرنے والے ہیں۔

صفحہ نمبر2321

اور اس لیے بھی کہ یہ لوگ سچے دل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس لیے نہیں آئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری کریں بلکہ محض اس لیے آئے تھے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے اجماع کے موافق پائیں گے تو اتحاد کر لیں گے ورنہ ہرگز قبول نہ کریں گے۔

اسی لیے فرمان ہے کہ ” جنہیں اللہ گمراہ کر دے تو ان کو کسی قسم سے راہ راست آنے کا اختیار نہیں ہے ان کے گندے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ کا ارادہ نہیں، یہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں داخل نار ہوں گے۔ یہ باطل کو کان لگا کر مزے لے کر سننے والے ہیں اور رشوت جیسی حرام چیز کو دن دہاڑے کھانے والے ہیں، بھلا ان کے نجس دل کیسے پاک ہوں گے؟ اور ان کی دعائیں اللہ کیسے سنے گا؟ اگر یہ تیرے پاس آئیں تو تجھے اختیار ہے کہ ان کے فیصلے کر یا نہ کر اگر تو ان سے منہ پھیر لے جب بھی یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ ان کا قصد اتباع حق نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کی پیروی ہے “۔

بعض بزرگ کہتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے اس آیت سے «وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ» [5-المائدہ:49] ‏

پھر فرمایا ” اگر تو ان میں فیصلے کرے تو عدل و انصاف کے ساتھ کر، گو یہ خود ظالم ہیں اور عدل سے ہٹے ہوئے ہیں اور مان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل لوگوں سے محبت رکھتا ہے “۔

پھر ان کی خباثت بدباطنی اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ ” ایک طرف تو اس کتاب اللہ کو چھوڑ رکھا ہے، جس کی تابعداری اور حقانیت کے خود قائل ہیں، دوسری طرف اس جانب جھک رہے ہیں، جسے نہیں مانتے اور جسے جھوٹ مشہور کر رکھا ہے، پھر اس میں بھی نیت بد ہے کہ اگر وہاں سے ہماری خواہش ہے مطابق حکم ملے گا تو لے لیں گے، ورنہ چھوڑ چھاڑ دیں گے “۔

صفحہ نمبر2322

تو فرمایا کہ ” یہ کیسے تیری فرماں برداری کریں گے؟ انہوں نے تو تورات کو بھی چھوڑ رکھا ہے، جس میں اللہ کے احکامات ہونے کا اقرار انہیں بھی ہے لیکن پھر بھی بے ایمانی کر کے اس سے پھر جاتے ہیں “۔

پھر اس تورات کی مدحت و تعریف بیان فرمائی جو اس نے اپنے برگزیدہ رسول موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر نازل فرمائی تھی کہ اس میں ہدایت و نورانیت تھی۔ انبیاء علیہ السلام جو اللہ کے زیر فرمان تھے، اسی پر فیصلے کرتے رہے، یہودیوں میں اسی کے احکام جاری کرتے رہے، تبدیلی اور تحریف سے بچے رہے، ربانی یعنی عابد، علماء اور احبار یعنی ذی علم لوگ بھی اسی روش پر رہے۔ کیونکہ انہیں یہ پاک کتاب سونپی گئی تھی اور اس کے اظہار کا اور اس پر عمل کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ و شاہد تھے۔ ” اب تمہیں چاہیئے کہ بجز اللہ کے کسی اور سے نہ ڈرو۔ ہاں قدم قدم اور لمحہ لمحہ پر خوف رکھو اور میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول فروخت نہ کیا کرو۔ جان لو کہ اللہ کی وحی کا حکم جو نہ مانے وہ کافر ہے “۔

اس میں دو قول ہیں جو ابھی بیان ہوں گے ان شاءاللہ۔ ان آیتوں کا ایک شان نزول بھی سن لیجئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”ایسے لوگوں کو اس آیت میں تو کافر کہا دوسری میں ظالم تیسری میں فاسق۔ بات یہ ہے کہ یہودیوں کے دو گروہ تھے، ایک غالب تھا، دوسرا مغلوب۔ ان کی آپس میں اس بات پر صلح ہوئی تھی کہ غالب، ذی عزت فرقے کا کوئی شخص اگر مغلوب ذلیل فرقے کے کسی شخص کو قتل کر ڈالے تو پچاس وسق دیت دے اور ذلیل لوگوں میں سے کوئی عزیز کو قتل کر دے تو ایک سو وسق دیت دے۔ یہی رواج ان میں چلا آ رہا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے، اس کے بعد ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ان نیچے والے یہودیوں میں سے کسی نے کسی اونچے یہودی کو مار ڈالا۔

صفحہ نمبر2323

یہاں سے آدمی گیا کہ لاؤ سو وسق دلاؤ دلواؤ، وہاں سے جواب ملا کہ یہ صریح ناانصافی ہے کہ ہم دونوں ایک ہی قبیلے کے، ایک ہی دین کے، ایک ہی نسب کے، ایک ہی شہر کے پھر ہماری دیت کم اور تمہارا زیادہ؟ ہم چونکہ اب تک تمہارے دبے ہوئے تھے، اس ناانصافی کو بادل ناخواستہ برداشت کرتے رہے لیکن اب جب کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عادل بادشاہ یہاں آگئے ہیں ہم تمہیں اتنی ہی دیت دیں گے جتنی تم ہمیں دو۔ اس بات پر ادھر ادھر سے آستینیں چڑھ گئیں، پھر آپس میں یہ بات طے ہوئی کہ اچھا اس جھگڑے کا فیصلہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔

لیکن اونچی قوم کے لوگوں نے آپس میں جب مشورہ کیا تو ان کے سمجھداروں نے کہا دیکھو اس سے ہاتھ دھو رکھو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ناانصافی پہ مبنی حکم کریں۔ یہ تو صریح زیادتی ہے کہ ہم آدھی دیں اور پوری لیں اور فی الواقع ان لوگوں نے دب کر اسے منظور کیا تھا جو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اور ثالث مقرر کیا ہے تو یقیناً تمہارا یہ حق مارا جائے گا کسی نے رائے دی کہ اچھا یوں کرو، کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چپکے سے بھیج دو، وہ معلوم کر آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کیا کریں گے؟ اگر ہماری حمایت میں ہوا تب تو بہت اچھا چلو اور ان سے حق حاصل کر آؤ اور اگر خلاف ہوا تو پھر الگ تھلگ ہی اچھے ہیں۔

چنانچہ مدینہ کے چند منافقوں کو انہوں نے جاسوس بنا کر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس سے پہلے کہ وہ یہاں پہنچیں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتار کر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں فرقوں کے بد ارادوں سے مطلع فرما دیا۔ [سنن ابوداود:3576،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ایک روایت میں ہے کہ یہ دونوں قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ تھے۔ بنو نضیر کی پوری دیت تھی اور بنو قریظہ کی آدھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی دیت یکساں دینے کا فیصلہ صادر فرمایا۔

صفحہ نمبر2324

ایک روایت ہے کہ قرظی اگر کسی نضری کو قتل کر ڈالے تو اس سے قصاص لیتے تھے لیکن اس کے خلاف میں قصاص تھا ہی نہیں سو وسق دیت تھی۔ [سنن ابوداود:3591،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

یہ بہت ممکن ہے کہ ادھر یہ واقعہ ہوا، ادھر زنا کا قصہ واقع ہوا، جس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے ان دونوں پر یہ آیتیں نازل ہوئیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ہاں ایک بات اور ہے جس سے اس دوسری شان نزول کی تقویت ہوتی ہے وہ یہ کہ اس کے بعد ہی فرمایا ہے آیت «وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ» [5-المائدہ:45] ‏، یعنی ” ہم نے یہودیوں پر تورات میں یہ حکم فرض کر دیا تھا کہ جان کے عوض جان، آنکھ کے عوض آنکھ “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر انہیں کافی کہا گیا جو اللہ کی شریعت اور اس کی اتاری ہوئی وحی کے مطابق فیصلے اور حکم نہ کریں گو یہ آیت شان نزول کے اعتبار سے بقول مفسرین اہل کتاب کے بارے میں ہے لیکن حکم کے اعتبار سے ہر شخص کو شامل ہے۔ بنو اسرائیل کے بارے میں اتری اور اس امت کا بھی یہی حکم ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”رشوت حرام ہے اور رشوت ستانی کے بعد کسی شرعی مسئلہ کے خلاف فتویٰ دینا کفر ہے۔‏“ سدی رحمة الله فرماتے ہیں ”جس نے وحی الٰہی کے خلاف عمداً فتویٰ دیا جاننے کے باوجود اس کے خلاف کیا وہ کافر ہے۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے اللہ کے فرمان سے انکار کیا، اس کا یہ حکم ہے اور جس نے انکار تو نہ کیا لیکن اس کے مطابق نہ کہا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ خواہ اہل کتاب ہو خواہ کوئی اور۔‏“

شعبی رحمة الله فرماتے ہیں ”مسلمانوں میں جس نے کتاب کے خلاف فتویٰ دیا وہ کافر ہے اور یہودیوں میں دیا ہو تو ظالم ہے اور نصرانیوں میں دیا ہو تو فاسق ہے۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس آیت کے ساتھ ہے۔‏“ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس کے کفر جیسا نہیں جو سرے سے اللہ کے رسول قرآن اور فرشتوں کا منکر ہو۔‏“ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «کتم» (‏چھپانا) کفر سے کم ہے اسی طرح ظلم و فسق کے بھی ادنیٰ اعلیٰ درجے ہیں۔ اس کفر سے وہ ملت اسلام سے پھر جانے والا جاتا ہے۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ کفر نہیں جس کی طرف تم جا رہے ہو۔‏“

صفحہ نمبر2325

جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ ٭٭

ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان کے کھرے، دل کے کھوٹے اور یہی خصلت یہودیوں کی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ جھوٹ کو مزے مزے سے سنتے ہیں اور دل کھول کر قبول کرتے ہیں۔ لیکن سچ سے بھاگتے ہیں، بلکہ نفرت کرتے ہیں اور جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں نہیں آتے یہ یہاں کی وہاں پہنچاتے ہیں۔ ان کی طرف سے جاسوسی کرنے کو آتے ہیں۔ پھر نالائقی یہ کرتے ہیں کہ یہ بات کو بدل ڈالا کرتے ہیں مطلب کچھ ہو، لے کر کچھ اڑتے ہیں، ارادے یہی ہیں کہ اگر تمہاری خواہش کے مطابق کہے تو مان لو، طبیعت کے خلاف ہو تو دور رہو۔

کہا کیا گیا ہے کہ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں اتری تھی جن میں ایک کو دوسرے نے قتل کر دیا تھا، اب کہنے لگے چلو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیت جرمانے کا حکم دیں تو منظور کر لیں گے اور اگر قصاص بدلے کو فرمائیں تو نہیں مانیں گے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک زنا کار کو لے کر آئے تھے۔ ان کی کتاب توراۃ میں دراصل حکم تو یہ تھا کہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کیا جائے۔

صفحہ نمبر2317

لیکن انہوں نے اسے بدل ڈالا تھا اور سو کوڑے مار کر، منہ کالا کر کے، الٹا گدھا سوار کر کے رسوائی کر کے چھوڑ دیتے تھے۔ جب ہجرت کے بعد ان میں سے کوئی زناکاری کے جرم میں پکڑا گیا تو یہ کہنے لگے آؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کریں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہی فرمائیں جو ہم کرتے ہیں تو اسے قبول کریں گے اور اللہ کے ہاں بھی یہ ہماری سند ہو جائے گی اور اگر رجم کو فرمائیں گے تو نہیں مانیں گے۔

چنانچہ یہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ ہمارے ایک مرد عورت نے بدکاری کی ہے، ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ہاں توراۃ میں کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا ہم تو اسے رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مار کر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سن کر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جھوٹ کہتے ہیں، تورات میں سنگسار کا حکم ہے۔ اور آیت میں ہے «قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ‏ [3-آل عمران:93] ‏ یعنی ” اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (‏یعنی دلیل پیش کرو) “، انہوں نے تورات کھولی لیکن آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے کی سب عبارت پڑھ سنائی۔

عبداللہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اپنے ہاتھ کو تو ہٹا“، ہاتھ ہٹایا تو سنگسار کرنے کی آیت موجود تھی، اب تو انہیں بھی اقرار کرنا پڑا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے زانیوں کو سنگسار کر دیا گیا، عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے دیکھا کہ وہ زانی اس عورت کو پتھروں سے بچانے کیلئے اس کے آڑے آجاتا تھا۔‏“ [صحیح بخاری:6841] ‏

صفحہ نمبر2318

اور سند سے مروی ہے کہ یہودیوں نے کہا ”ہم تو اسے کالا منہ کر کے کچھ مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں۔‏“ اور آیت کے ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے کہا، ہے تو یہی حکم لیکن ہم نے تو اسے چھپایا تھا، جو پڑھ رہا تھا اسی نے رجم کی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا، جب اس کا ہاتھ اٹھوایا تو آیت پر اچٹتی ہوئی نظر پڑ گئی۔ ان دونوں کے رجم کرنے والوں میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے اپنے آدمی بھیج کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا تھا، اپنے مدرسے میں گدی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بٹھایا تھا اور جو اب تورات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھ رہا تھا، وہ ان کا بہت بڑا عالم تھا۔ [سنن ابوداود:4449،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قسم دے کر پوچھا تھا کہ تم تورات میں شادی شدہ زانی کی کیا سزا پاتے ہو؟ تو انہوں نے یہی جواب دیا تھا لیکن ایک نوجوان کچھ نہ بولا، خاموش ہی کھڑا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر خاص اسے دوبارہ قسم دی اور جواب مانگا، اس نے کہا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قسمیں دے رہے ہیں تو میں جھوٹ نہ بولوں گا، واقعی تورات میں ان لوگوں کی سزا سنگساری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا پھر یہ بھی سچ سچ بتاؤ کہ پہلے پہل اس رجم کو تم نے کیوں اور کس پر سے اڑایا؟ اس نے کہا ہمارے کسی بادشاہ کے رشتے دار، بڑے آدمی نے زناکاری کی۔ اس کی عظمت اور بادشاہ کی ہیبت کے مارے اسے رجم کرو ورنہ اسے بھی چھوڑو۔ آخر ہم نے مل ملا کر یہ طے کیا کہ بجائے رجم کے اس قسم کی کوئی سزا مقرر کر دی جائے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توراۃ کے حکم کو جاری کیا اور اسی بارے میں آیت «‏إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ» [5-المائدہ:44] ‏، اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان احکام کے جاری کرنے والوں میں سے ہیں [سنن ابوداود:4450،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2319

مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص کو یہودی کالا منہ کئے لے جا رہے تھے اور اسے کوڑے بھی مار رکھے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کر ان سے ماجرا پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا زانی کی یہی سزا تمہارے ہاں ہے؟ کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ایک عالم کو بلا کر اسے سخت قسم دے کر پوچھا تو اس نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قسم نہ دیتے تو میں ہرگز نہ بتاتا، بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں دراصل زناکاری کی سزا سنگساری ہے لیکن چونکہ امیر امراء اور شرفاء لوگوں میں یہ بدکاری بڑھ گئی تھی اور انہیں اس قسم کی سزا دینی ہم نے مناسب نہ جانی، اس لیے انہیں تو چھوڑ دیتے تھے اور اللہ کا حکم مارا نہ جائے اس لیے غریب غرباء، کم حیثیت لوگوں کو رجم کرا دیتے تھے پھر ہم نے رائے زنی کی کہ آؤ کوئی ایسی سزا تجویز کرو کہ شریف و غیر شریف، امیر غریب پر سب پر یکساں جاری ہو سکے چنانچہ ہمارا سب کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ منہ کالے کر دیں اور کوڑے لگائیں۔

یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان دونوں کو سنگسار کرو چنانچہ انہیں رجم کر دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے ایک مردہ حکم کو زندہ کیا ۔ اس پر آیت «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ» ‏ [5-المائدہ:41] ‏ سے «وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ» [5-المائدہ:44] ‏ تک نازل ہوئی۔ انہی یہودیوں کے بارے میں اور آیت میں ہے کہ ” اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے ظالم ہیں “ اور آیت میں ہے ” فاسق ہیں “۔ [صحیح مسلم:1700] ‏

صفحہ نمبر2320

اور روایت میں ہے واقعہ زنا فدک میں ہوا تھا اور وہاں کے یہودیوں نے مدینے شریف کے یہودیوں کو لکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھوایا تھا جو عالم ان کا آیا اس کا نام ابن صوریا تھا، یہ آنکھ کا بھینگا تھا، اور اس کے ساتھ دوسرا عالم بھی تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں قسم دی تو دونوں نے قبول دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہا تھا، تمہیں اس اللہ کی قسم جس نے بنو اسرائیل کیلئے پانی میں راہ کر دی تھی اور ابر کا سایہ ان پر کیا تھا اور فرعونیوں سے بچا لیا تھا اور من و سلویٰ اتارا تھا ۔

اس قسم سے وہ چونک گئے اور آپس میں کہنے لگے بڑی زبردست قسم ہے، اس موقع پر جھوٹ بولنا ٹھیک نہیں تو کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تورات میں یہ ہے کہ بری نظر سے دیکھنا بھی مثل زنا کے ہے اور گلے لگانا بھی اور بوسہ لینا بھی، پھر اگر چار گواہ اس بات کے ہوں کہ انہوں نے دخول خروج دیکھا ہے جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں جاتی آتی ہے تو رجم واجب ہو جاتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی مسئلہ ہے پھر حکم دیا اور انہیں رجم کرا دیا گیا۔ اس پر آیت «فَاِنْ جَاءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا وَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ» [5-المائدہ:42] ‏، اتری۔ [سنن ابوداود:4452، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ایک روایت میں جو دو عالم سامنے لائے گئے تھے، یہ دونوں صوریا کے لڑکے تھے۔ ترک حد کا سبب اس روایت میں یہودیوں کی طرف سے یہ بیان ہوا ہے کہ جب ہم میں سلطنت نہ رہی تو ہم نے اپنے آدمیوں کی جان لینی مناسب نہ سمجھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلوا کر گواہی لی جنہوں نے بیان دیا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں اس برائی میں دیکھا ہے، جس طرح سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے۔ [سنن ابوداود:4452،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

دراصل توراۃ وغیرہ کا منگوانا ان کے عالموں کو بلوانا، یہ سب انہیں الزام دینے کیلئے نہ تھا، نہ اس لیے تھا کہ وہ اسی کے ماننے کے مکلف ہیں، نہیں بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان واجب العمل ہے، اس سے مقصد ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا اظہار تھا کہ اللہ کی وحی سے آپ نے یہ معلوم کر لیا کہ ان کی تورات میں بھی حکم رجم موجود ہے اور یہی نکلا، دوسرے ان کی رسوائی کہ انہیں پہلے کے انکار کے بعد اقرار کرنا پڑا اور دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ یہ لوگ فرمان الٰہی کو چھپا لینے والے اور اپنی رائے قیاس پر عمل کرنے والے ہیں۔

صفحہ نمبر2321

اور اس لیے بھی کہ یہ لوگ سچے دل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس لیے نہیں آئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری کریں بلکہ محض اس لیے آئے تھے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے اجماع کے موافق پائیں گے تو اتحاد کر لیں گے ورنہ ہرگز قبول نہ کریں گے۔

اسی لیے فرمان ہے کہ ” جنہیں اللہ گمراہ کر دے تو ان کو کسی قسم سے راہ راست آنے کا اختیار نہیں ہے ان کے گندے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ کا ارادہ نہیں، یہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں داخل نار ہوں گے۔ یہ باطل کو کان لگا کر مزے لے کر سننے والے ہیں اور رشوت جیسی حرام چیز کو دن دہاڑے کھانے والے ہیں، بھلا ان کے نجس دل کیسے پاک ہوں گے؟ اور ان کی دعائیں اللہ کیسے سنے گا؟ اگر یہ تیرے پاس آئیں تو تجھے اختیار ہے کہ ان کے فیصلے کر یا نہ کر اگر تو ان سے منہ پھیر لے جب بھی یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ ان کا قصد اتباع حق نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کی پیروی ہے “۔

بعض بزرگ کہتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے اس آیت سے «وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ» [5-المائدہ:49] ‏

پھر فرمایا ” اگر تو ان میں فیصلے کرے تو عدل و انصاف کے ساتھ کر، گو یہ خود ظالم ہیں اور عدل سے ہٹے ہوئے ہیں اور مان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل لوگوں سے محبت رکھتا ہے “۔

پھر ان کی خباثت بدباطنی اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ ” ایک طرف تو اس کتاب اللہ کو چھوڑ رکھا ہے، جس کی تابعداری اور حقانیت کے خود قائل ہیں، دوسری طرف اس جانب جھک رہے ہیں، جسے نہیں مانتے اور جسے جھوٹ مشہور کر رکھا ہے، پھر اس میں بھی نیت بد ہے کہ اگر وہاں سے ہماری خواہش ہے مطابق حکم ملے گا تو لے لیں گے، ورنہ چھوڑ چھاڑ دیں گے “۔

صفحہ نمبر2322

تو فرمایا کہ ” یہ کیسے تیری فرماں برداری کریں گے؟ انہوں نے تو تورات کو بھی چھوڑ رکھا ہے، جس میں اللہ کے احکامات ہونے کا اقرار انہیں بھی ہے لیکن پھر بھی بے ایمانی کر کے اس سے پھر جاتے ہیں “۔

پھر اس تورات کی مدحت و تعریف بیان فرمائی جو اس نے اپنے برگزیدہ رسول موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر نازل فرمائی تھی کہ اس میں ہدایت و نورانیت تھی۔ انبیاء علیہ السلام جو اللہ کے زیر فرمان تھے، اسی پر فیصلے کرتے رہے، یہودیوں میں اسی کے احکام جاری کرتے رہے، تبدیلی اور تحریف سے بچے رہے، ربانی یعنی عابد، علماء اور احبار یعنی ذی علم لوگ بھی اسی روش پر رہے۔ کیونکہ انہیں یہ پاک کتاب سونپی گئی تھی اور اس کے اظہار کا اور اس پر عمل کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ و شاہد تھے۔ ” اب تمہیں چاہیئے کہ بجز اللہ کے کسی اور سے نہ ڈرو۔ ہاں قدم قدم اور لمحہ لمحہ پر خوف رکھو اور میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول فروخت نہ کیا کرو۔ جان لو کہ اللہ کی وحی کا حکم جو نہ مانے وہ کافر ہے “۔

اس میں دو قول ہیں جو ابھی بیان ہوں گے ان شاءاللہ۔ ان آیتوں کا ایک شان نزول بھی سن لیجئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”ایسے لوگوں کو اس آیت میں تو کافر کہا دوسری میں ظالم تیسری میں فاسق۔ بات یہ ہے کہ یہودیوں کے دو گروہ تھے، ایک غالب تھا، دوسرا مغلوب۔ ان کی آپس میں اس بات پر صلح ہوئی تھی کہ غالب، ذی عزت فرقے کا کوئی شخص اگر مغلوب ذلیل فرقے کے کسی شخص کو قتل کر ڈالے تو پچاس وسق دیت دے اور ذلیل لوگوں میں سے کوئی عزیز کو قتل کر دے تو ایک سو وسق دیت دے۔ یہی رواج ان میں چلا آ رہا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے، اس کے بعد ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ان نیچے والے یہودیوں میں سے کسی نے کسی اونچے یہودی کو مار ڈالا۔

صفحہ نمبر2323

یہاں سے آدمی گیا کہ لاؤ سو وسق دلاؤ دلواؤ، وہاں سے جواب ملا کہ یہ صریح ناانصافی ہے کہ ہم دونوں ایک ہی قبیلے کے، ایک ہی دین کے، ایک ہی نسب کے، ایک ہی شہر کے پھر ہماری دیت کم اور تمہارا زیادہ؟ ہم چونکہ اب تک تمہارے دبے ہوئے تھے، اس ناانصافی کو بادل ناخواستہ برداشت کرتے رہے لیکن اب جب کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عادل بادشاہ یہاں آگئے ہیں ہم تمہیں اتنی ہی دیت دیں گے جتنی تم ہمیں دو۔ اس بات پر ادھر ادھر سے آستینیں چڑھ گئیں، پھر آپس میں یہ بات طے ہوئی کہ اچھا اس جھگڑے کا فیصلہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔

لیکن اونچی قوم کے لوگوں نے آپس میں جب مشورہ کیا تو ان کے سمجھداروں نے کہا دیکھو اس سے ہاتھ دھو رکھو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ناانصافی پہ مبنی حکم کریں۔ یہ تو صریح زیادتی ہے کہ ہم آدھی دیں اور پوری لیں اور فی الواقع ان لوگوں نے دب کر اسے منظور کیا تھا جو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اور ثالث مقرر کیا ہے تو یقیناً تمہارا یہ حق مارا جائے گا کسی نے رائے دی کہ اچھا یوں کرو، کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چپکے سے بھیج دو، وہ معلوم کر آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کیا کریں گے؟ اگر ہماری حمایت میں ہوا تب تو بہت اچھا چلو اور ان سے حق حاصل کر آؤ اور اگر خلاف ہوا تو پھر الگ تھلگ ہی اچھے ہیں۔

چنانچہ مدینہ کے چند منافقوں کو انہوں نے جاسوس بنا کر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس سے پہلے کہ وہ یہاں پہنچیں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتار کر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں فرقوں کے بد ارادوں سے مطلع فرما دیا۔ [سنن ابوداود:3576،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ایک روایت میں ہے کہ یہ دونوں قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ تھے۔ بنو نضیر کی پوری دیت تھی اور بنو قریظہ کی آدھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی دیت یکساں دینے کا فیصلہ صادر فرمایا۔

صفحہ نمبر2324

ایک روایت ہے کہ قرظی اگر کسی نضری کو قتل کر ڈالے تو اس سے قصاص لیتے تھے لیکن اس کے خلاف میں قصاص تھا ہی نہیں سو وسق دیت تھی۔ [سنن ابوداود:3591،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

یہ بہت ممکن ہے کہ ادھر یہ واقعہ ہوا، ادھر زنا کا قصہ واقع ہوا، جس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے ان دونوں پر یہ آیتیں نازل ہوئیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ہاں ایک بات اور ہے جس سے اس دوسری شان نزول کی تقویت ہوتی ہے وہ یہ کہ اس کے بعد ہی فرمایا ہے آیت «وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ» [5-المائدہ:45] ‏، یعنی ” ہم نے یہودیوں پر تورات میں یہ حکم فرض کر دیا تھا کہ جان کے عوض جان، آنکھ کے عوض آنکھ “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر انہیں کافی کہا گیا جو اللہ کی شریعت اور اس کی اتاری ہوئی وحی کے مطابق فیصلے اور حکم نہ کریں گو یہ آیت شان نزول کے اعتبار سے بقول مفسرین اہل کتاب کے بارے میں ہے لیکن حکم کے اعتبار سے ہر شخص کو شامل ہے۔ بنو اسرائیل کے بارے میں اتری اور اس امت کا بھی یہی حکم ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”رشوت حرام ہے اور رشوت ستانی کے بعد کسی شرعی مسئلہ کے خلاف فتویٰ دینا کفر ہے۔‏“ سدی رحمة الله فرماتے ہیں ”جس نے وحی الٰہی کے خلاف عمداً فتویٰ دیا جاننے کے باوجود اس کے خلاف کیا وہ کافر ہے۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے اللہ کے فرمان سے انکار کیا، اس کا یہ حکم ہے اور جس نے انکار تو نہ کیا لیکن اس کے مطابق نہ کہا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ خواہ اہل کتاب ہو خواہ کوئی اور۔‏“

شعبی رحمة الله فرماتے ہیں ”مسلمانوں میں جس نے کتاب کے خلاف فتویٰ دیا وہ کافر ہے اور یہودیوں میں دیا ہو تو ظالم ہے اور نصرانیوں میں دیا ہو تو فاسق ہے۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس آیت کے ساتھ ہے۔‏“ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس کے کفر جیسا نہیں جو سرے سے اللہ کے رسول قرآن اور فرشتوں کا منکر ہو۔‏“ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «کتم» (‏چھپانا) کفر سے کم ہے اسی طرح ظلم و فسق کے بھی ادنیٰ اعلیٰ درجے ہیں۔ اس کفر سے وہ ملت اسلام سے پھر جانے والا جاتا ہے۔‏“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ کفر نہیں جس کی طرف تم جا رہے ہو۔‏“

صفحہ نمبر2325

قتل کے بدلے تقاضائے عدل ہے ٭٭

یہودیوں کو اور سرزنش کی جا رہی ہے کہ ” ان کی کتاب میں صاف لفظوں میں جو حکم تھا یہ کھلم کھلا اس کا بھی خلاف کر رہے ہیں اور سرکشی اور بے پرواہی سے اسے بھی چھوڑ رہے ہیں “۔ نضری یہودیوں کو تو قرظی یہودیوں کے بدلے قتل کرتے ہیں لیکن قریظہ کے یہود کو بنو نضیر کے یہود کے عوض قتل نہیں کرتے بلکہ دیت لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے شادی شدہ زانی کی سنگساری کے حکم کو بدل دیا ہے اور صرف کالا منہ کر کے رسوا کر کے مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی لیے وہاں تو انہیں کافر کہا یہاں انصاف نہ کرنے کی وجہ سے انہیں ظالم کہا۔

ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا «‏وَالْعَيْنُ» پڑھنا بھی مروی ہے۔ [سنن ابوداود:3976،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

علماء کرام کا قول ہے کہ اگلی شریعت چاہے ہمارے سامنے بطور تقرر بیان کی جائے اور منسوخ نہ ہو تو وہ ہمارے لیے بھی شریعت ہے۔ جیسے یہ احکام سب کے سب ہماری شریعت میں بھی اسی طرح ہیں۔

صفحہ نمبر2329

امام نووی رحمة الله فرماتے ہیں ”اس مسئلے میں تین مسلک ہیں ایک تو وہی جو بیان ہوا، ایک اس کے بالکل برعکس ایک یہ کہ صرف ابراہیمی شریعت جاری اور باقی ہے اور کوئی نہیں۔ اس آیت کے عموم سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ مرد عورت کے بدلے بھی قتل کیا جائے گا کیونکہ یہاں لفظ نفس ہے جو مرد عورت دونوں کو شامل ہے۔‏“

چنانچہ حدیث شریف میں بھی ہے کہ مرد عورت کے خون کے بدلے قتل کیا جائے گا ۔ [سنن نسائی:4857،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اور حدیث میں ہے کہ مسلمانوں کے خون آپس میں مساوی ہیں ۔ [سنن ابوداود:2751،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ بعض بزرگوں سے مروی ہے کہ ”مرد جب کسی عورت کو قتل کر دے تو اسے اس کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا بلکہ صرف دیت لی جائے گی۔‏“ لیکن یہ قول جمہور کے خلاف ہے۔

امام ابوحنیفہ رحمة الله تو فرماتے ہیں کہ ”ذمی کافر کے قتل کے بدلے بھی مسلمان قتل کر دیا جائے گا اور غلام کے قتل کے بدلے آزاد بھی قتل کر دیا جائے گا۔‏“ لیکن یہ مذہب جمہور کے خلاف ہے۔

بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مسلمان کافر کے بدلے قتل کیا نہ کیا جائے گا ۔ [صحیح بخاری:111] ‏

اور سلف کے بہت سے آثار اس بارے میں موجود ہیں کہ وہ غلام کا قصاص آزاد سے نہیں لیتے تھے اور آزاد غلام کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا۔ حدیثیں بھی اس بارے میں مروی ہیں لیکن صحت کو نہیں پہنچیں۔ امام شافعی رحمة الله تو فرماتے ہیں ”اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ رحمة الله کے خلاف اجماع ہے۔‏“ لیکن ان باتوں سے اس قول کا بطلان لازم نہیں آتا تاوقتیکہ آیت کے عموم کو خاص کرنے والی کوئی زبردست صاف ثابت دلیل نہ ہو۔

صفحہ نمبر2330

بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بن نضر کی پھوپھی ربیع نے ایک لونڈی کے دانت توڑ دیئے، اب لوگوں نے اس سے معافی چاہی لیکن وہ نہ مانی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معاملہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدلہ لینے کا حکم دے دیا، اس پر انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا اس عورت کے سامنے کے دانت توڑ دیئے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اے انس! اللہ کی کتاب میں قصاص کا حکم موجود ہے ۔ یہ سن کر فرمایا نہیں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اس کے دانت ہرگز نہ توڑے جائیں گے، چنانچہ ہوا بھی یہی کہ لوگ راضی رضامند ہوگئے اور قصاص چھوڑ دیا بلکہ معاف کر دیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض بندگان رب ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ پر کوئی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ اسے پوری ہی کر دے ۔ [صحیح بخاری:2703] ‏

دوسری روایت میں ہے کہ ”پہلے انہوں نے نہ تو معافی دی نہ دیت لینی منظور کی۔‏“ نسائی وغیرہ میں ہے، ایک غریب جماعت کے غلام نے کسی مالدار جماعت کے غلام کے کان کاٹ دیئے، ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر عرض کیا کہ ہم لوگ فقیر مسکین ہیں، مال ہمارے پاس نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کوئی جرمانہ نہ رکھا ۔ [سنن ابوداود:4590، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ہو سکتا ہے کہ یہ غلام بالغ نہ ہو اور ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت اپنے پاس سے دے دی ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان سے سفارش کرکے معاف کرا لیا ہو۔

صفحہ نمبر2331

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جان جان کے بدلے ماری جائے گی، آنکھ پھوڑ دینے والے کی آنکھ پھوڑ دی جائے گی، ناک کاٹنے والے کا ناک کاٹ دیا جائے گا، دانت توڑنے والے کا دانت توڑ دیا جائے گا اور زخم کا بھی بدلہ لیا جائے گا۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:360/10] ‏

اس میں آزاد مسلمان سب کے سب برابر ہیں۔ مرد عورت ایک ہی حکم میں۔ جبکہ یہ کام قصداً کئے گئے ہوں۔ اس میں غلام بھی آپس میں برابر ہیں، ان کے مرد بھی اور عورتیں بھی۔ (‏قاعدہ:) اعضاء کا کٹنا تو جوڑ سے ہوتا ہے اس میں تو قصاص واجب ہے۔ جیسے ہاتھ، پیر، قدم، ہتھیلی وغیرہ۔ لیکن جو زخم جوڑ پر نہ ہوں بلکہ ہڈی پر آئے ہوں، ان کی بابت امام مالک رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”ان میں بھی قصاص ہے مگر ران میں اور اس جیسے اعضاء میں اس لیے کہ وہ خوف و خطر کی جگہ ہے۔‏“

ان کے برخلاف ابوحنیفہ رحمة الله اور ان کے دونوں ساتھیوں کا مذہب ہے کہ ”کسی ہڈی میں قصاص نہیں، بجز دانت کے اور امام شافعی رحمة الله کے نزدیک مطلق کسی ہڈی کا قصاص نہیں۔‏“ یہی مروی ہے سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی اور یہی کہتے ہیں عطاء، شبعی، حسن بصری، زہری، ابراہیم، نخعی اور عمر بن عبدالعزیز رحمة الله علیہم بھی اور اسی کی طرف گئے ہیں سفیان ثوری اور لیث بن سعد رحمة الله علیہم بھی۔

امام احمد رحمہ اللہ سے بھی یہی قول زیادہ مشہور ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمة الله کی دلیل وہی انس رضی اللہ عنہ والی روایت ہے جس میں ربیع سے دانت کا قصاص دلوانے کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمودہ ہے۔ لیکن دراصل اس روایت سے یہ مذہب ثابت نہیں ہوتا۔

صفحہ نمبر2332

کیونکہ اس میں یہ لفظ ہیں کہ اس کے سامنے کے دانت اس نے توڑ دیئے تھے اور ہو سکتا ہے کہ بغیر ٹوٹنے کے جھڑ گئے ہوں۔ اس حالت میں قصاص اجماع سے واجب ہے۔

ان کی دلیل کا پورا حصہ وہ ہے جو ابن ماجہ میں ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کے بازو کو کہنی سے نیچے نیچے ایک تلوار مار دی، جس سے اس کی کلائی کٹ گئی، صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ دیت ادا کرو اس نے کہا میں قصاص چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کو لے لے اللہ تجھے اسی میں برکت دے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کو نہیں فرمایا ۔ [سنن ابن ماجہ:2636،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

لیکن یہ حدیث بالکل ضعیف اور گری ہوئی ہے، اس کے ایک راوی ہشم بن عکلی اعرابی ضعیف ہیں، ان کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاتی، دوسرے راوی غران بن جاریہ اعرابی بھی ضعیف ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ زخموں کا قصاص ان کے درست ہو جانے اور بھر جانے سے پہلے لینا جائز نہیں اور اگر پہلے لے لیا گیا پھر زخم بڑھ گیا تو کوئی بدلہ دلوایا نہ جائے گا۔ اس کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کے گھٹنے میں چوٹ مار دی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا مجھے بدلہ دلوایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دلوا دیا، اس کے بعد وہ پھر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تو لنگڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے منع کیا تھا لیکن تو نہ مانا، اب تیرے اس لنگڑے پن کا بدلہ کچھ نہیں ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زخموں کے بھر جانے سے پہلے بدلہ لینے کو منع فرما دیا ۔ [مسند احمد:217/2:صحیح بالشواهد] ‏

صفحہ نمبر2333

مسئلہ ٭٭

اگر کسی نے دوسرے کو زخمی کیا اور بدلہ اس سے لے لیا گیا، اس میں یہ مر گیا تو اس پر کچھ نہیں۔ مالک، شافعی، احمد رحمہ اللہ علیہم اور جمہوری صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔ ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس پر دیت واجب ہے، اسی کے مال میں سے۔‏“ بعض اور بزرگ فرماتے ہیں ”اس کے ماں باپ کی طرف کے رشتہ داروں کے مال پر وہ دیت واجب ہے۔‏“ بعض اور حضرات کہتے ہیں ”بقدر اس کے بدلے کے تو ساقط ہے باقی اسی کے مال میں سے واجب ہے۔‏“

پھر فرماتا ہے ” جو شخص قصاص سے درگزر کرے اور بطور صدقے کے اپنے بدلے کو معاف کر دے تو زخمی کرنے والے کا کفارہ ہو گیا اور جو زخمی ہوا ہے، اسے ثواب ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے “۔

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ”وہ زخمی کیلئے کفارہ ہے یعنی اس کے گناہ اسی زخم کی مقدار سے اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔‏“ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ”وہ زخمی کیلئے کفارہ ہے یعنی اس کے گناہ اسی زخم کی مقدار سے اللہ تعالیٰ بخش دیتا ہے۔‏“

ایک مرفوع حدیث میں یہ آیا ہے کہ اگر چوتھائی دیت کے برابر کی چیز ہے اور اس نے درگزر کر لیا تو اس کے چوتھائی گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ ثلث ہے تو تہائی گناہ، آدھی ہے تو آدھے گناہ اور پوری ہے تو پورے گناہ ۔ [الدر المنشور للسیوطی:510/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2334

ایک قریشی نے ایک انصاری کو زور سے دھکا دے دیا جس سے اس کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس مقدمہ گیا اور جب وہ بہت سر ہوگیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”اچھا جا تجھے اختیار ہے۔‏“ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ وہیں تھے فرمانے لگے ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جس مسلمان کے جسم میں کوئی ایذاء پہنچائی جائے اور وہ صبر کر لے، بدلہ نہ لے تو اللہ اس کے درجے بڑھاتا ہے اور اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے ۔ اس انصاری نے یہ سن کر کہا، کیا سچ مچ آپ رضی اللہ عنہ نے خود ہی اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں میرے ان کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد کیا ہے، اس نے کہا پھر گواہ رہو کہ میں نے اپنے مجرم کو معاف کر دیا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور اسے انعام دیا۔‏“۔ [سنن ترمذي:1393،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ترمذی میں بھی یہ روایت ہے لیکن امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث غریب ہےابو سفر راوی کا سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔ [مسند احمد:448/6:صحیح لغیره مرفوعا وهذا اسناد ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ تین گنی دیت وہ دینا چاہتا تھا لیکن یہ راضی نہیں ہوا تھا، اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ جو شخص خون یا اس سے کم کو معاف کر دے، وہ اس کی پیدائش سے لے کر موت تک کا کفارہ ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:368/10:ضعیف و منقطع] ‏

مسند میں ہے کہ جس کے جسم میں کوئی زخم لگے اور وہ معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے اتنے ہی گناہ معاف فرما دیتا ہے ۔ [مسند احمد:5/316:صحیح] ‏

مسند میں یہ بھی حدیث ہے اللہ کے حکم کے مطابق حکم نہ کرنے والے ظالم ہیں ۔ پہلے گزر چکا ہے کہ کفر کفر سے کم ہے، ظلم میں بھی تفاوت ہے اور فسق بھی درجے ہیں۔

صفحہ نمبر2335

باطل کے غلام لوگ ٭٭

” انبیاء بنی اسرائیل کے پیچھے ہم عیسیٰ علیہ السلام نبی کو لائے جو توراۃ پر ایمان رکھتے تھے، اس کے احکام کے مطابق لوگوں میں فیصلے کرتے تھے، ہم نے انہیں بھی اپنی کتاب انجیل دی، جس میں حق کی ہدایت تھی اور شبہات اور مشکلات کی توضیح تھی اور پہلی الہامی کتابوں کی تصدیق تھی، ہاں چند مسائل جن میں یہودی اختلاف کرتے تھے، ان کے صاف فیصلے اس میں موجود تھے “۔

جیسے قرآن میں اور جگہ ہے کہ «وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ» [3-آل عمران:50] ‏ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، ” میں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں حلال کروں گا جو تم پر حرام کردی گئی ہیں “۔

اسی لیے علماء کا مشہور مقولہ ہے کہ انجیل نے تورات کے بعض احکام منسوخ کر دیئے ہیں۔ انجیل سے پارسا لوگوں کی رہنمائی اور وعظ و پند ہوتی تھی کہ وہ نیکی کی طرف رغبت کریں اور برائی سے بچیں۔ «اَھْلَ اِْلانْجِیْلِ» بھی پڑھا گیا ہے اس صورت میں «وَاُلْيَحْكُمْ» میں لام «کَیْ» معنی میں ہو گا۔ مطلب یہ ہو گا کہ ” ہم نے عیسیٰ کو انجیل اس لیے دی تھی کہ وہ اپنے زمانے کے اپنے ماننے والوں کو اسی کے مطابق چلائیں “ اور اس لام کو امر کا لام سمجھا جائے اور مشہور قراۃ «وَلْيَحْكُمْ» پڑھی جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ ” انہیں چاہیئے کہ انجیل کے کل احکام پر ایمان لائیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کریں “۔

جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ» [5-المائدہ:68] ‏، یعنی ” اے اہل کتاب جب تک تم تورات و انجیل پر اور جو کچھ اللہ کی طرف سے اترا ہے، اگر اس پر قائم ہو تو تم کسی چیز پر نہیں ہو “۔

اور آیت میں ہے «‏اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ» [7-الأعراف:157] ‏، ” جو لوگ اس رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرتے ہیں، جس کی صفت اپنے ہاں توراۃ میں لکھی ہوئی پاتے ہیں وہ لوگ جو کتاب اللہ اور اپنے نبی کے فرمان کے مطابق حکم نہ کریں وہ اللہ کی اطاعت سے خارج، حق کے تارک اور باطل کے عامل ہیں “۔ یہ آیت نصرانیوں کے حق میں ہے۔ روش آیت سے بھی یہ ظاہر ہے اور پہلے بیان بھی گزر چکا ہے۔

صفحہ نمبر2336

باطل کے غلام لوگ ٭٭

” انبیاء بنی اسرائیل کے پیچھے ہم عیسیٰ علیہ السلام نبی کو لائے جو توراۃ پر ایمان رکھتے تھے، اس کے احکام کے مطابق لوگوں میں فیصلے کرتے تھے، ہم نے انہیں بھی اپنی کتاب انجیل دی، جس میں حق کی ہدایت تھی اور شبہات اور مشکلات کی توضیح تھی اور پہلی الہامی کتابوں کی تصدیق تھی، ہاں چند مسائل جن میں یہودی اختلاف کرتے تھے، ان کے صاف فیصلے اس میں موجود تھے “۔

جیسے قرآن میں اور جگہ ہے کہ «وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ» [3-آل عمران:50] ‏ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، ” میں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں حلال کروں گا جو تم پر حرام کردی گئی ہیں “۔

اسی لیے علماء کا مشہور مقولہ ہے کہ انجیل نے تورات کے بعض احکام منسوخ کر دیئے ہیں۔ انجیل سے پارسا لوگوں کی رہنمائی اور وعظ و پند ہوتی تھی کہ وہ نیکی کی طرف رغبت کریں اور برائی سے بچیں۔ «اَھْلَ اِْلانْجِیْلِ» بھی پڑھا گیا ہے اس صورت میں «وَاُلْيَحْكُمْ» میں لام «کَیْ» معنی میں ہو گا۔ مطلب یہ ہو گا کہ ” ہم نے عیسیٰ کو انجیل اس لیے دی تھی کہ وہ اپنے زمانے کے اپنے ماننے والوں کو اسی کے مطابق چلائیں “ اور اس لام کو امر کا لام سمجھا جائے اور مشہور قراۃ «وَلْيَحْكُمْ» پڑھی جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ ” انہیں چاہیئے کہ انجیل کے کل احکام پر ایمان لائیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کریں “۔

جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ» [5-المائدہ:68] ‏، یعنی ” اے اہل کتاب جب تک تم تورات و انجیل پر اور جو کچھ اللہ کی طرف سے اترا ہے، اگر اس پر قائم ہو تو تم کسی چیز پر نہیں ہو “۔

اور آیت میں ہے «‏اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ» [7-الأعراف:157] ‏، ” جو لوگ اس رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرتے ہیں، جس کی صفت اپنے ہاں توراۃ میں لکھی ہوئی پاتے ہیں وہ لوگ جو کتاب اللہ اور اپنے نبی کے فرمان کے مطابق حکم نہ کریں وہ اللہ کی اطاعت سے خارج، حق کے تارک اور باطل کے عامل ہیں “۔ یہ آیت نصرانیوں کے حق میں ہے۔ روش آیت سے بھی یہ ظاہر ہے اور پہلے بیان بھی گزر چکا ہے۔

صفحہ نمبر2336

قرآن ایک مستقل شریعت ہے ٭٭

تورات و انجیل کی ثنا و صفت اور تعریف و مدحت کے بعد اب قرآن عظیم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ ” ہم نے اسے حق و صداقت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یہ بالیقین اللہ واحد کی طرف سے ہے اور اس کا کلام ہے۔ یہ تمام پہلی الٰہی کتابوں کو سچا مانتا ہے اور ان کتابوں میں بھی اس کی صفت و ثنا موجود ہے اور یہ بھی بیان ان میں ہے کہ یہ پاک اور آخری کتاب آخری اور افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اترے گی، پس ہر دانا شخص اس پر یقین رکھتا ہے اور اسے مانتا ہے “۔

صفحہ نمبر2338

جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» [17-الاسراء:108-107] ‏، ” جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا تھا، جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبانی اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے رب کا وعدہ سچا ہے اور وہ سچا ثابت ہو چکا “۔

اس نے اگلے رسولوں کی زبانی جو خبر دی تھی وہ پوری ہوئی اور آخری رسول رسولوں کے سرتاج رسول آ ہی گئے اور یہ کتاب ان پہلی کتابوں کی امین ہے۔ یعنی اس میں جو کچھ ہے، وہی پہلی کتابوں میں بھی تھا، اب اس کے خلاف کوئی کہے کہ فلاں پہلی کتاب میں یوں ہے تو یہ غلط ہے۔ یہ ان کی سچی گواہ اور انہیں گھیر لینے والی اور سمیٹ لینے والی ہے۔ جو جو اچھائیاں پہلے کی تمام کتابوں میں جمع تھیں، وہ سب اس آخری کتاب میں یکجا موجود ہیں، اسی لیے یہ سب پر حاکم اور سب پر مقدم ہے اور اس کی حفاظت کا کفیل خود اللہ تعالیٰ ہے۔ جیسے فرمایا «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» [15-الحجر:9] ‏ بعض نے کہا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کتاب پر امین ہیں۔‏“ واقع میں تو یہ قول بہت صحیح ہے لیکن اس آیت کی تفسیر یہ کرنی ٹھیک نہیں بلکہ عربی زبان کے اعتبار سے بھی یہ غور طلب امر ہے۔ صحیح تفسیر پہلی ہی ہے۔

امام ابن جریر رحمة الله نے بھی مجاہد رحمة الله سے اس قول کو نقل کر کے فرمایا ہے ”یہ بہت دور کی بات ہے بلکہ ٹھیک نہیں ہے اس لیے «مُهَيْمِنً» کا عطف مصدق پر ہے، پس یہ بھی اسی چیز کی صفت ہے جس کی صفت مصدق کا لفظ تھا۔‏“ اگر مجاہد رحمہ اللہ کے معنی صحیح مان لیے جائیں تو عبارت بغیر عطف کے ہونی چاہیئے تھی۔

صفحہ نمبر2339

خواہ عرب ہوں، خواہ عجم ہوں، خواہ لکھے پڑھے ہوں، خواہ ان پڑھ ہوں، اللہ کی طرف سے نازل کردہ سے مراد وحی اللہ ہے۔ خواہ وہ اس کتاب کی صورت میں ہو، خواہ جو پہلے احکام اللہ نے مقرر کر رکھے ہوں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس آیت سے پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آزادی دی گئی تھی، اگر چاہیں ان میں فیصلے کریں چاہیں نہ کریں، لیکن اس آیت نے حکم دیا کہ وحی الٰہی کے ساتھ ان میں فیصلے کرنے ضروری ہیں۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:332/10] ‏

” ان بدنصیب جاہلوں نے اپنی طرف سے جو احکام گھڑ لیے ہیں اور ان کی وجہ سے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا ہے، خبردار اے نبی کریم! صلی اللہ علیہ وسلم تو ان کی چاہتوں کے پیچھے لگ کر حق کو نہ چھوڑ بیٹھنا۔ ان میں سے ہر ایک کیلئے ہم نے راستہ اور طریقہ بنا دیا ہے “۔

کسی چیز کی طرف ابتداء کرنے کو «شِرْعَةً» کہتے ہیں، منہاج لغت میں کہتے ہیں واضح اور آسان راستے کو۔ پس ان دونوں لفظوں کی یہی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ پہلی تمام شریعتیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھیں، وہ سب توحید پر متفق تھیں، البتہ چھوٹے موٹے احکام میں قدرے ہیر پھیر تھا۔

جیسے حدیث شریف میں ہے ہم سب انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، ہم سب کا دین ایک ہی ہے ۔ [صحیح بخاری:3443] ‏

ہر نبی علیہ السلام توحید کے ساتھ بھیجا جاتا رہا اور ہر آسمانی کتاب میں توحید کا بیان اس کا ثبوت اور اسی کی طرف دعوت دی جاتی رہی۔

صفحہ نمبر2340

جیسے قرآن فرماتا ہے کہ «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» [21-الأنبياء:25] ‏ ” تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے، ان سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو “۔

اور آیت میں «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» [16-النحل:36] ‏، ” ہم نے ہر امت کو بزبان رسول کہلوادیا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو “۔

ہاں احکام کا اختلاف ضرور، کوئی چیز کسی زمانے میں حرام تھی پھر حلال ہوگئی یا اس کے برعکس۔ یا کسی حکم میں تخفیف تھی اب تاکید ہوگئی یا اس کے خلاف اور یہ بھی حکمت اور مصلحت اور حجت ربانی کے ساتھ مثلاً توراۃ ایک شریعت ہے، انجیل ایک شریعت ہے، قرآن ایک مستقل شریعت ہے تاکہ ہر زمانے کے فرمانبرداروں اور نافرمانوں کا امتحان ہو جایا کرے۔ البتہ توحید سب زمانوں میں یکساں رہی اور معنی اس جملہ کے یہ ہیں کہ ” اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم میں سے ہر شخص کیلئے ہم نے اپنی اس کتاب قرآن کریم کو شریعت اور طریقہ بنایا ہے، تم سب کو اس کی اقتدأ اور تابعداری کرنی چاہیئے “۔

اس صورت میں «جَعَلْنَا» کے بعد ضمیر «ہ» کی محذوف ماننی پڑے گی۔ پس بہترین مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ اور طریقہ صرف قرآن کریم ہی ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کے بعد ہی فرمان ہوا ہے کہ ” اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت کر دیتا “۔

پس معلوم ہوا کہ اگلا خطاب صرف اس امت سے ہی نہیں بلکہ سب امتوں سے ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی اور کامل قدرت کا بیان ہے کہ اگر وہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی شریعت اور دین پر کر دیتا کوئی تبدیلی کسی وقت نہ ہوتی۔

صفحہ نمبر2341

لیکن رب کی حکمت کاملہ کا تقاضا یہ ہوا کہ علیحدہ علیحدہ شریعتیں مقرر کرے، ایک کے بعد دوسرا نبی علیہ السلام بھیجے اور بعض احکام اگلے نبی کے پچھلے نبی سے بدلوا دے، یہاں تک کہ اگلے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے منسوخ ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام روئے زمین کی طرف بھیجے گئے اور خاتم الانبیاء بنا کر بھیجے گئے۔

یہ مختلف شریعتیں صرف تمہاری آزمائش کیلئے ہوئیں تاکہ تابعداروں کو جزاء اور نافرمانوں کو سزا ملے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمہیں آزمائے، اس چیز میں جو تمہیں اس نے دی ہے یعنی کتاب۔ پس تمہیں خیرات اور نیکیوں کی طرف سبقت اور دوڑ کرنی چاہیئے۔ اللہ کی اطاعت، اس کی شریعت کی فرمانبرداری کی طرف آگے بڑھنا چاہیئے اور اس آخری شریعت، آخری کتاب اور آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بہ دل و جاں فرماں برداری کرنی چاہیئے۔

لوگو! تم سب کا مرجع و ماویٰ اور لوٹنا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے، وہاں وہ تمہیں تمہارے اختلاف کی اصلیت بتا دے گا۔ سچوں کو ان کی سچائی کا اچھا پھل دے گا اور بروں کو ان کی کج بحثی، سرکشی اور خواہش نفس کی پیروی کی سزا دے گا۔

صفحہ نمبر2342

” جو حق کو ماننا تو ایک طرف بلکہ حق سے چڑتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں “۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے، مگر اول ہی اولیٰ ہے۔ پھر پہلی بات کی اور تاکید ہو رہی ہے اور اس کے خلاف سے روکا جاتا ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ ” دیکھو کہیں اس خائن، مکار، کذاب، کفار یہود کی باتوں میں آکر اللہ کے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ ہو جانا۔ اگر وہ تیرے احکام سے روگردانی کریں اور شریعت کے خلاف کریں تو تو سمجھ لے کہ ان کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے اللہ کا کوئی عذاب ان پر آنے والا ہے۔ اسی لیے توفیق خیر ان سے چھین لی گئی ہے۔ اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اطاعت حق سے خارج۔ اللہ کے دین کے مخالف، ہدایت سے دور ہیں “۔

جیسے فرمایا آیت «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» [12-یوسف:103] ‏ یعنی ” گو تو حرص کر کے چاہے لیکن اکثر لوگ مومن نہیں ہیں “۔

اور فرمایا آیت «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» [6-الأنعام:116] ‏ ” اگر تو زمین والوں کی اکثریت کی مانے گا تو وہ تجھے بھی راہ حق سے بہکا دیں گے “۔

یہودیوں کے چند بڑے بڑے رئیسوں اور عالموں نے آپس میں ایک میٹنگ کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں تو تمام یہود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کر لیں گے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے کیلئے تیار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اتنا کیجئے کہ ہم میں اور ہماری قوم میں ایک جھگڑا ہے، اس کا فیصلہ ہمارے مطابق کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اور اسی پر یہ آیتیں اتریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12156:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2343

اس کے بعد جناب باری تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو اللہ کے حکم سے ہٹ جائیں، جس میں تمام بھلائیاں موجود اور تمام برائیاں دور ہیں۔ ایسے پاک حکم سے ہٹ کر رائے قیاس کی طرف، خواہش نفسانی کی طرف اور ان احکام کی طرف جھکے جو لوگوں نے از خود اپنی طرف سے بغیر دلیل شرعی کے گھڑ لیے ہیں جیسے کہ اہل جاہلیت اپنی جہالت و ضلالت اور اپنی رائے اور اپنی مرضی کے مطابق حکم احکام جاری کر لیا کرتے تھے اور جیسے کہ تاتاری ملکی معاملات میں چنگیز خان کے احکام کی پیروی کرتے تھے جو الیاسق نے گھڑ دیئے تھے۔ وہ بہت سے احکام کے مجموعے اور دفاتر تھے جو مختلف شریعتوں اور مذہبوں سے چھانٹے گئے تھے۔

یہودیت، نصرانیت، اسلامیت وغیرہ سب کے احکام کا وہ مجموعہ تھا اور پھر اس میں بہت سے احکام وہ بھی تھے، جو صرف اپنی عقلی اور مصلحت وقت کے پیش نظر ایجاد کئے گئے تھے، جن میں اپنی خواہش کی ملاوٹ بھی تھی۔ پس وہی مجموعے ان کی اولاد میں قابل عمل ٹھہر گئے اور اسی کو کتاب و سنت پر فوقیت اور تقدیم دے لی۔ درحقیقت ایسا کرنے والے کافر ہیں اور ان سے جہاد واجب ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی طرف آ جائیں اور کسی چھوٹے یا بڑے اہم یا غیر اہم معاملہ میں سوائے کتاب و سنت کے کوئی حکم کسی کا نہ لیں۔

صفحہ نمبر2344

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” یہ جاہلیت کے احکام کا ارادہ کرتے ہیں اور حکم رب سے سرک رہے ہیں؟ یقین والوں کیلئے اللہ سے بہتر حکمران اور کار فرما کون ہوگا؟ اللہ سے زیادہ عدل و انصاف والے احکام کس کے ہوں گے؟ “

ایماندار اور یقین کامل والے بخوبی جانتے اور مانتے ہیں کہ اس احکم الحاکمین اور الرحم الراحمین سے زیادہ اچھے، صاف، سہل اور عمدہ احکام و قواعد مسائل و ضوابط کسی کے بھی نہیں ہو سکتے۔ وہ اپنی مخلوق پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنی اولاد پر ہوتی ہے، وہ پورے اور پختہ علم والا کامل اور عظیم الشان قدرت والا اور عدل و انصاف والا ہے۔ حسن رحمة الله فرماتے ہیں ”اللہ کے فیصلے کے بغیر جو فتویٰ دے اس کا فتویٰ جاہلیت کا حکم ہے۔‏“ ایک شخص نے طاؤس رحمہ اللہ سے پوچھا کیا میں اپنی اولاد میں سے ایک کو زیادہ اور ایک کو کم دے سکتا ہوں؟ تو آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھی۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے بڑا اللہ کا دشمن وہ ہے جو اسلام میں جاہلیت کا طریقہ اور حیلہ تلاش کرے اور بے وجہ کسی کی گردن مارنے کے درپے ہو جائے ۔ یہ حدیث بخاری میں بھی قدرے الفاظ کی زیادتی کے ساتھ ہے۔ [صحیح بخاری:6882] ‏

صفحہ نمبر2345

قرآن ایک مستقل شریعت ہے ٭٭

تورات و انجیل کی ثنا و صفت اور تعریف و مدحت کے بعد اب قرآن عظیم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ ” ہم نے اسے حق و صداقت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یہ بالیقین اللہ واحد کی طرف سے ہے اور اس کا کلام ہے۔ یہ تمام پہلی الٰہی کتابوں کو سچا مانتا ہے اور ان کتابوں میں بھی اس کی صفت و ثنا موجود ہے اور یہ بھی بیان ان میں ہے کہ یہ پاک اور آخری کتاب آخری اور افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اترے گی، پس ہر دانا شخص اس پر یقین رکھتا ہے اور اسے مانتا ہے “۔

صفحہ نمبر2338

جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» [17-الاسراء:108-107] ‏، ” جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا تھا، جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبانی اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے رب کا وعدہ سچا ہے اور وہ سچا ثابت ہو چکا “۔

اس نے اگلے رسولوں کی زبانی جو خبر دی تھی وہ پوری ہوئی اور آخری رسول رسولوں کے سرتاج رسول آ ہی گئے اور یہ کتاب ان پہلی کتابوں کی امین ہے۔ یعنی اس میں جو کچھ ہے، وہی پہلی کتابوں میں بھی تھا، اب اس کے خلاف کوئی کہے کہ فلاں پہلی کتاب میں یوں ہے تو یہ غلط ہے۔ یہ ان کی سچی گواہ اور انہیں گھیر لینے والی اور سمیٹ لینے والی ہے۔ جو جو اچھائیاں پہلے کی تمام کتابوں میں جمع تھیں، وہ سب اس آخری کتاب میں یکجا موجود ہیں، اسی لیے یہ سب پر حاکم اور سب پر مقدم ہے اور اس کی حفاظت کا کفیل خود اللہ تعالیٰ ہے۔ جیسے فرمایا «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» [15-الحجر:9] ‏ بعض نے کہا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کتاب پر امین ہیں۔‏“ واقع میں تو یہ قول بہت صحیح ہے لیکن اس آیت کی تفسیر یہ کرنی ٹھیک نہیں بلکہ عربی زبان کے اعتبار سے بھی یہ غور طلب امر ہے۔ صحیح تفسیر پہلی ہی ہے۔

امام ابن جریر رحمة الله نے بھی مجاہد رحمة الله سے اس قول کو نقل کر کے فرمایا ہے ”یہ بہت دور کی بات ہے بلکہ ٹھیک نہیں ہے اس لیے «مُهَيْمِنً» کا عطف مصدق پر ہے، پس یہ بھی اسی چیز کی صفت ہے جس کی صفت مصدق کا لفظ تھا۔‏“ اگر مجاہد رحمہ اللہ کے معنی صحیح مان لیے جائیں تو عبارت بغیر عطف کے ہونی چاہیئے تھی۔

صفحہ نمبر2339

خواہ عرب ہوں، خواہ عجم ہوں، خواہ لکھے پڑھے ہوں، خواہ ان پڑھ ہوں، اللہ کی طرف سے نازل کردہ سے مراد وحی اللہ ہے۔ خواہ وہ اس کتاب کی صورت میں ہو، خواہ جو پہلے احکام اللہ نے مقرر کر رکھے ہوں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس آیت سے پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آزادی دی گئی تھی، اگر چاہیں ان میں فیصلے کریں چاہیں نہ کریں، لیکن اس آیت نے حکم دیا کہ وحی الٰہی کے ساتھ ان میں فیصلے کرنے ضروری ہیں۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:332/10] ‏

” ان بدنصیب جاہلوں نے اپنی طرف سے جو احکام گھڑ لیے ہیں اور ان کی وجہ سے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا ہے، خبردار اے نبی کریم! صلی اللہ علیہ وسلم تو ان کی چاہتوں کے پیچھے لگ کر حق کو نہ چھوڑ بیٹھنا۔ ان میں سے ہر ایک کیلئے ہم نے راستہ اور طریقہ بنا دیا ہے “۔

کسی چیز کی طرف ابتداء کرنے کو «شِرْعَةً» کہتے ہیں، منہاج لغت میں کہتے ہیں واضح اور آسان راستے کو۔ پس ان دونوں لفظوں کی یہی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ پہلی تمام شریعتیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھیں، وہ سب توحید پر متفق تھیں، البتہ چھوٹے موٹے احکام میں قدرے ہیر پھیر تھا۔

جیسے حدیث شریف میں ہے ہم سب انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، ہم سب کا دین ایک ہی ہے ۔ [صحیح بخاری:3443] ‏

ہر نبی علیہ السلام توحید کے ساتھ بھیجا جاتا رہا اور ہر آسمانی کتاب میں توحید کا بیان اس کا ثبوت اور اسی کی طرف دعوت دی جاتی رہی۔

صفحہ نمبر2340

جیسے قرآن فرماتا ہے کہ «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» [21-الأنبياء:25] ‏ ” تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے، ان سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو “۔

اور آیت میں «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» [16-النحل:36] ‏، ” ہم نے ہر امت کو بزبان رسول کہلوادیا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو “۔

ہاں احکام کا اختلاف ضرور، کوئی چیز کسی زمانے میں حرام تھی پھر حلال ہوگئی یا اس کے برعکس۔ یا کسی حکم میں تخفیف تھی اب تاکید ہوگئی یا اس کے خلاف اور یہ بھی حکمت اور مصلحت اور حجت ربانی کے ساتھ مثلاً توراۃ ایک شریعت ہے، انجیل ایک شریعت ہے، قرآن ایک مستقل شریعت ہے تاکہ ہر زمانے کے فرمانبرداروں اور نافرمانوں کا امتحان ہو جایا کرے۔ البتہ توحید سب زمانوں میں یکساں رہی اور معنی اس جملہ کے یہ ہیں کہ ” اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم میں سے ہر شخص کیلئے ہم نے اپنی اس کتاب قرآن کریم کو شریعت اور طریقہ بنایا ہے، تم سب کو اس کی اقتدأ اور تابعداری کرنی چاہیئے “۔

اس صورت میں «جَعَلْنَا» کے بعد ضمیر «ہ» کی محذوف ماننی پڑے گی۔ پس بہترین مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ اور طریقہ صرف قرآن کریم ہی ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کے بعد ہی فرمان ہوا ہے کہ ” اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت کر دیتا “۔

پس معلوم ہوا کہ اگلا خطاب صرف اس امت سے ہی نہیں بلکہ سب امتوں سے ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی اور کامل قدرت کا بیان ہے کہ اگر وہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی شریعت اور دین پر کر دیتا کوئی تبدیلی کسی وقت نہ ہوتی۔

صفحہ نمبر2341

لیکن رب کی حکمت کاملہ کا تقاضا یہ ہوا کہ علیحدہ علیحدہ شریعتیں مقرر کرے، ایک کے بعد دوسرا نبی علیہ السلام بھیجے اور بعض احکام اگلے نبی کے پچھلے نبی سے بدلوا دے، یہاں تک کہ اگلے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے منسوخ ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام روئے زمین کی طرف بھیجے گئے اور خاتم الانبیاء بنا کر بھیجے گئے۔

یہ مختلف شریعتیں صرف تمہاری آزمائش کیلئے ہوئیں تاکہ تابعداروں کو جزاء اور نافرمانوں کو سزا ملے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمہیں آزمائے، اس چیز میں جو تمہیں اس نے دی ہے یعنی کتاب۔ پس تمہیں خیرات اور نیکیوں کی طرف سبقت اور دوڑ کرنی چاہیئے۔ اللہ کی اطاعت، اس کی شریعت کی فرمانبرداری کی طرف آگے بڑھنا چاہیئے اور اس آخری شریعت، آخری کتاب اور آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بہ دل و جاں فرماں برداری کرنی چاہیئے۔

لوگو! تم سب کا مرجع و ماویٰ اور لوٹنا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے، وہاں وہ تمہیں تمہارے اختلاف کی اصلیت بتا دے گا۔ سچوں کو ان کی سچائی کا اچھا پھل دے گا اور بروں کو ان کی کج بحثی، سرکشی اور خواہش نفس کی پیروی کی سزا دے گا۔

صفحہ نمبر2342

” جو حق کو ماننا تو ایک طرف بلکہ حق سے چڑتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں “۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے، مگر اول ہی اولیٰ ہے۔ پھر پہلی بات کی اور تاکید ہو رہی ہے اور اس کے خلاف سے روکا جاتا ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ ” دیکھو کہیں اس خائن، مکار، کذاب، کفار یہود کی باتوں میں آکر اللہ کے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ ہو جانا۔ اگر وہ تیرے احکام سے روگردانی کریں اور شریعت کے خلاف کریں تو تو سمجھ لے کہ ان کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے اللہ کا کوئی عذاب ان پر آنے والا ہے۔ اسی لیے توفیق خیر ان سے چھین لی گئی ہے۔ اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اطاعت حق سے خارج۔ اللہ کے دین کے مخالف، ہدایت سے دور ہیں “۔

جیسے فرمایا آیت «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» [12-یوسف:103] ‏ یعنی ” گو تو حرص کر کے چاہے لیکن اکثر لوگ مومن نہیں ہیں “۔

اور فرمایا آیت «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» [6-الأنعام:116] ‏ ” اگر تو زمین والوں کی اکثریت کی مانے گا تو وہ تجھے بھی راہ حق سے بہکا دیں گے “۔

یہودیوں کے چند بڑے بڑے رئیسوں اور عالموں نے آپس میں ایک میٹنگ کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں تو تمام یہود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کر لیں گے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے کیلئے تیار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اتنا کیجئے کہ ہم میں اور ہماری قوم میں ایک جھگڑا ہے، اس کا فیصلہ ہمارے مطابق کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اور اسی پر یہ آیتیں اتریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12156:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2343

اس کے بعد جناب باری تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو اللہ کے حکم سے ہٹ جائیں، جس میں تمام بھلائیاں موجود اور تمام برائیاں دور ہیں۔ ایسے پاک حکم سے ہٹ کر رائے قیاس کی طرف، خواہش نفسانی کی طرف اور ان احکام کی طرف جھکے جو لوگوں نے از خود اپنی طرف سے بغیر دلیل شرعی کے گھڑ لیے ہیں جیسے کہ اہل جاہلیت اپنی جہالت و ضلالت اور اپنی رائے اور اپنی مرضی کے مطابق حکم احکام جاری کر لیا کرتے تھے اور جیسے کہ تاتاری ملکی معاملات میں چنگیز خان کے احکام کی پیروی کرتے تھے جو الیاسق نے گھڑ دیئے تھے۔ وہ بہت سے احکام کے مجموعے اور دفاتر تھے جو مختلف شریعتوں اور مذہبوں سے چھانٹے گئے تھے۔

یہودیت، نصرانیت، اسلامیت وغیرہ سب کے احکام کا وہ مجموعہ تھا اور پھر اس میں بہت سے احکام وہ بھی تھے، جو صرف اپنی عقلی اور مصلحت وقت کے پیش نظر ایجاد کئے گئے تھے، جن میں اپنی خواہش کی ملاوٹ بھی تھی۔ پس وہی مجموعے ان کی اولاد میں قابل عمل ٹھہر گئے اور اسی کو کتاب و سنت پر فوقیت اور تقدیم دے لی۔ درحقیقت ایسا کرنے والے کافر ہیں اور ان سے جہاد واجب ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی طرف آ جائیں اور کسی چھوٹے یا بڑے اہم یا غیر اہم معاملہ میں سوائے کتاب و سنت کے کوئی حکم کسی کا نہ لیں۔

صفحہ نمبر2344

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” یہ جاہلیت کے احکام کا ارادہ کرتے ہیں اور حکم رب سے سرک رہے ہیں؟ یقین والوں کیلئے اللہ سے بہتر حکمران اور کار فرما کون ہوگا؟ اللہ سے زیادہ عدل و انصاف والے احکام کس کے ہوں گے؟ “

ایماندار اور یقین کامل والے بخوبی جانتے اور مانتے ہیں کہ اس احکم الحاکمین اور الرحم الراحمین سے زیادہ اچھے، صاف، سہل اور عمدہ احکام و قواعد مسائل و ضوابط کسی کے بھی نہیں ہو سکتے۔ وہ اپنی مخلوق پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنی اولاد پر ہوتی ہے، وہ پورے اور پختہ علم والا کامل اور عظیم الشان قدرت والا اور عدل و انصاف والا ہے۔ حسن رحمة الله فرماتے ہیں ”اللہ کے فیصلے کے بغیر جو فتویٰ دے اس کا فتویٰ جاہلیت کا حکم ہے۔‏“ ایک شخص نے طاؤس رحمہ اللہ سے پوچھا کیا میں اپنی اولاد میں سے ایک کو زیادہ اور ایک کو کم دے سکتا ہوں؟ تو آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھی۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے بڑا اللہ کا دشمن وہ ہے جو اسلام میں جاہلیت کا طریقہ اور حیلہ تلاش کرے اور بے وجہ کسی کی گردن مارنے کے درپے ہو جائے ۔ یہ حدیث بخاری میں بھی قدرے الفاظ کی زیادتی کے ساتھ ہے۔ [صحیح بخاری:6882] ‏

صفحہ نمبر2345

قرآن ایک مستقل شریعت ہے ٭٭

تورات و انجیل کی ثنا و صفت اور تعریف و مدحت کے بعد اب قرآن عظیم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ ” ہم نے اسے حق و صداقت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یہ بالیقین اللہ واحد کی طرف سے ہے اور اس کا کلام ہے۔ یہ تمام پہلی الٰہی کتابوں کو سچا مانتا ہے اور ان کتابوں میں بھی اس کی صفت و ثنا موجود ہے اور یہ بھی بیان ان میں ہے کہ یہ پاک اور آخری کتاب آخری اور افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اترے گی، پس ہر دانا شخص اس پر یقین رکھتا ہے اور اسے مانتا ہے “۔

صفحہ نمبر2338

جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» [17-الاسراء:108-107] ‏، ” جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا تھا، جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبانی اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے رب کا وعدہ سچا ہے اور وہ سچا ثابت ہو چکا “۔

اس نے اگلے رسولوں کی زبانی جو خبر دی تھی وہ پوری ہوئی اور آخری رسول رسولوں کے سرتاج رسول آ ہی گئے اور یہ کتاب ان پہلی کتابوں کی امین ہے۔ یعنی اس میں جو کچھ ہے، وہی پہلی کتابوں میں بھی تھا، اب اس کے خلاف کوئی کہے کہ فلاں پہلی کتاب میں یوں ہے تو یہ غلط ہے۔ یہ ان کی سچی گواہ اور انہیں گھیر لینے والی اور سمیٹ لینے والی ہے۔ جو جو اچھائیاں پہلے کی تمام کتابوں میں جمع تھیں، وہ سب اس آخری کتاب میں یکجا موجود ہیں، اسی لیے یہ سب پر حاکم اور سب پر مقدم ہے اور اس کی حفاظت کا کفیل خود اللہ تعالیٰ ہے۔ جیسے فرمایا «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» [15-الحجر:9] ‏ بعض نے کہا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کتاب پر امین ہیں۔‏“ واقع میں تو یہ قول بہت صحیح ہے لیکن اس آیت کی تفسیر یہ کرنی ٹھیک نہیں بلکہ عربی زبان کے اعتبار سے بھی یہ غور طلب امر ہے۔ صحیح تفسیر پہلی ہی ہے۔

امام ابن جریر رحمة الله نے بھی مجاہد رحمة الله سے اس قول کو نقل کر کے فرمایا ہے ”یہ بہت دور کی بات ہے بلکہ ٹھیک نہیں ہے اس لیے «مُهَيْمِنً» کا عطف مصدق پر ہے، پس یہ بھی اسی چیز کی صفت ہے جس کی صفت مصدق کا لفظ تھا۔‏“ اگر مجاہد رحمہ اللہ کے معنی صحیح مان لیے جائیں تو عبارت بغیر عطف کے ہونی چاہیئے تھی۔

صفحہ نمبر2339

خواہ عرب ہوں، خواہ عجم ہوں، خواہ لکھے پڑھے ہوں، خواہ ان پڑھ ہوں، اللہ کی طرف سے نازل کردہ سے مراد وحی اللہ ہے۔ خواہ وہ اس کتاب کی صورت میں ہو، خواہ جو پہلے احکام اللہ نے مقرر کر رکھے ہوں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس آیت سے پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آزادی دی گئی تھی، اگر چاہیں ان میں فیصلے کریں چاہیں نہ کریں، لیکن اس آیت نے حکم دیا کہ وحی الٰہی کے ساتھ ان میں فیصلے کرنے ضروری ہیں۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:332/10] ‏

” ان بدنصیب جاہلوں نے اپنی طرف سے جو احکام گھڑ لیے ہیں اور ان کی وجہ سے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا ہے، خبردار اے نبی کریم! صلی اللہ علیہ وسلم تو ان کی چاہتوں کے پیچھے لگ کر حق کو نہ چھوڑ بیٹھنا۔ ان میں سے ہر ایک کیلئے ہم نے راستہ اور طریقہ بنا دیا ہے “۔

کسی چیز کی طرف ابتداء کرنے کو «شِرْعَةً» کہتے ہیں، منہاج لغت میں کہتے ہیں واضح اور آسان راستے کو۔ پس ان دونوں لفظوں کی یہی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ پہلی تمام شریعتیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھیں، وہ سب توحید پر متفق تھیں، البتہ چھوٹے موٹے احکام میں قدرے ہیر پھیر تھا۔

جیسے حدیث شریف میں ہے ہم سب انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، ہم سب کا دین ایک ہی ہے ۔ [صحیح بخاری:3443] ‏

ہر نبی علیہ السلام توحید کے ساتھ بھیجا جاتا رہا اور ہر آسمانی کتاب میں توحید کا بیان اس کا ثبوت اور اسی کی طرف دعوت دی جاتی رہی۔

صفحہ نمبر2340

جیسے قرآن فرماتا ہے کہ «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» [21-الأنبياء:25] ‏ ” تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے، ان سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو “۔

اور آیت میں «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» [16-النحل:36] ‏، ” ہم نے ہر امت کو بزبان رسول کہلوادیا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو “۔

ہاں احکام کا اختلاف ضرور، کوئی چیز کسی زمانے میں حرام تھی پھر حلال ہوگئی یا اس کے برعکس۔ یا کسی حکم میں تخفیف تھی اب تاکید ہوگئی یا اس کے خلاف اور یہ بھی حکمت اور مصلحت اور حجت ربانی کے ساتھ مثلاً توراۃ ایک شریعت ہے، انجیل ایک شریعت ہے، قرآن ایک مستقل شریعت ہے تاکہ ہر زمانے کے فرمانبرداروں اور نافرمانوں کا امتحان ہو جایا کرے۔ البتہ توحید سب زمانوں میں یکساں رہی اور معنی اس جملہ کے یہ ہیں کہ ” اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم میں سے ہر شخص کیلئے ہم نے اپنی اس کتاب قرآن کریم کو شریعت اور طریقہ بنایا ہے، تم سب کو اس کی اقتدأ اور تابعداری کرنی چاہیئے “۔

اس صورت میں «جَعَلْنَا» کے بعد ضمیر «ہ» کی محذوف ماننی پڑے گی۔ پس بہترین مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ اور طریقہ صرف قرآن کریم ہی ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کے بعد ہی فرمان ہوا ہے کہ ” اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت کر دیتا “۔

پس معلوم ہوا کہ اگلا خطاب صرف اس امت سے ہی نہیں بلکہ سب امتوں سے ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی اور کامل قدرت کا بیان ہے کہ اگر وہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی شریعت اور دین پر کر دیتا کوئی تبدیلی کسی وقت نہ ہوتی۔

صفحہ نمبر2341

لیکن رب کی حکمت کاملہ کا تقاضا یہ ہوا کہ علیحدہ علیحدہ شریعتیں مقرر کرے، ایک کے بعد دوسرا نبی علیہ السلام بھیجے اور بعض احکام اگلے نبی کے پچھلے نبی سے بدلوا دے، یہاں تک کہ اگلے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے منسوخ ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام روئے زمین کی طرف بھیجے گئے اور خاتم الانبیاء بنا کر بھیجے گئے۔

یہ مختلف شریعتیں صرف تمہاری آزمائش کیلئے ہوئیں تاکہ تابعداروں کو جزاء اور نافرمانوں کو سزا ملے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمہیں آزمائے، اس چیز میں جو تمہیں اس نے دی ہے یعنی کتاب۔ پس تمہیں خیرات اور نیکیوں کی طرف سبقت اور دوڑ کرنی چاہیئے۔ اللہ کی اطاعت، اس کی شریعت کی فرمانبرداری کی طرف آگے بڑھنا چاہیئے اور اس آخری شریعت، آخری کتاب اور آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بہ دل و جاں فرماں برداری کرنی چاہیئے۔

لوگو! تم سب کا مرجع و ماویٰ اور لوٹنا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے، وہاں وہ تمہیں تمہارے اختلاف کی اصلیت بتا دے گا۔ سچوں کو ان کی سچائی کا اچھا پھل دے گا اور بروں کو ان کی کج بحثی، سرکشی اور خواہش نفس کی پیروی کی سزا دے گا۔

صفحہ نمبر2342

” جو حق کو ماننا تو ایک طرف بلکہ حق سے چڑتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں “۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے، مگر اول ہی اولیٰ ہے۔ پھر پہلی بات کی اور تاکید ہو رہی ہے اور اس کے خلاف سے روکا جاتا ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ ” دیکھو کہیں اس خائن، مکار، کذاب، کفار یہود کی باتوں میں آکر اللہ کے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ ہو جانا۔ اگر وہ تیرے احکام سے روگردانی کریں اور شریعت کے خلاف کریں تو تو سمجھ لے کہ ان کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے اللہ کا کوئی عذاب ان پر آنے والا ہے۔ اسی لیے توفیق خیر ان سے چھین لی گئی ہے۔ اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اطاعت حق سے خارج۔ اللہ کے دین کے مخالف، ہدایت سے دور ہیں “۔

جیسے فرمایا آیت «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» [12-یوسف:103] ‏ یعنی ” گو تو حرص کر کے چاہے لیکن اکثر لوگ مومن نہیں ہیں “۔

اور فرمایا آیت «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» [6-الأنعام:116] ‏ ” اگر تو زمین والوں کی اکثریت کی مانے گا تو وہ تجھے بھی راہ حق سے بہکا دیں گے “۔

یہودیوں کے چند بڑے بڑے رئیسوں اور عالموں نے آپس میں ایک میٹنگ کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں تو تمام یہود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کر لیں گے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے کیلئے تیار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اتنا کیجئے کہ ہم میں اور ہماری قوم میں ایک جھگڑا ہے، اس کا فیصلہ ہمارے مطابق کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اور اسی پر یہ آیتیں اتریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12156:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2343

اس کے بعد جناب باری تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو اللہ کے حکم سے ہٹ جائیں، جس میں تمام بھلائیاں موجود اور تمام برائیاں دور ہیں۔ ایسے پاک حکم سے ہٹ کر رائے قیاس کی طرف، خواہش نفسانی کی طرف اور ان احکام کی طرف جھکے جو لوگوں نے از خود اپنی طرف سے بغیر دلیل شرعی کے گھڑ لیے ہیں جیسے کہ اہل جاہلیت اپنی جہالت و ضلالت اور اپنی رائے اور اپنی مرضی کے مطابق حکم احکام جاری کر لیا کرتے تھے اور جیسے کہ تاتاری ملکی معاملات میں چنگیز خان کے احکام کی پیروی کرتے تھے جو الیاسق نے گھڑ دیئے تھے۔ وہ بہت سے احکام کے مجموعے اور دفاتر تھے جو مختلف شریعتوں اور مذہبوں سے چھانٹے گئے تھے۔

یہودیت، نصرانیت، اسلامیت وغیرہ سب کے احکام کا وہ مجموعہ تھا اور پھر اس میں بہت سے احکام وہ بھی تھے، جو صرف اپنی عقلی اور مصلحت وقت کے پیش نظر ایجاد کئے گئے تھے، جن میں اپنی خواہش کی ملاوٹ بھی تھی۔ پس وہی مجموعے ان کی اولاد میں قابل عمل ٹھہر گئے اور اسی کو کتاب و سنت پر فوقیت اور تقدیم دے لی۔ درحقیقت ایسا کرنے والے کافر ہیں اور ان سے جہاد واجب ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی طرف آ جائیں اور کسی چھوٹے یا بڑے اہم یا غیر اہم معاملہ میں سوائے کتاب و سنت کے کوئی حکم کسی کا نہ لیں۔

صفحہ نمبر2344

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” یہ جاہلیت کے احکام کا ارادہ کرتے ہیں اور حکم رب سے سرک رہے ہیں؟ یقین والوں کیلئے اللہ سے بہتر حکمران اور کار فرما کون ہوگا؟ اللہ سے زیادہ عدل و انصاف والے احکام کس کے ہوں گے؟ “

ایماندار اور یقین کامل والے بخوبی جانتے اور مانتے ہیں کہ اس احکم الحاکمین اور الرحم الراحمین سے زیادہ اچھے، صاف، سہل اور عمدہ احکام و قواعد مسائل و ضوابط کسی کے بھی نہیں ہو سکتے۔ وہ اپنی مخلوق پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنی اولاد پر ہوتی ہے، وہ پورے اور پختہ علم والا کامل اور عظیم الشان قدرت والا اور عدل و انصاف والا ہے۔ حسن رحمة الله فرماتے ہیں ”اللہ کے فیصلے کے بغیر جو فتویٰ دے اس کا فتویٰ جاہلیت کا حکم ہے۔‏“ ایک شخص نے طاؤس رحمہ اللہ سے پوچھا کیا میں اپنی اولاد میں سے ایک کو زیادہ اور ایک کو کم دے سکتا ہوں؟ تو آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھی۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے بڑا اللہ کا دشمن وہ ہے جو اسلام میں جاہلیت کا طریقہ اور حیلہ تلاش کرے اور بے وجہ کسی کی گردن مارنے کے درپے ہو جائے ۔ یہ حدیث بخاری میں بھی قدرے الفاظ کی زیادتی کے ساتھ ہے۔ [صحیح بخاری:6882] ‏

صفحہ نمبر2345

دشمن اسلام سے دوستی منع ہے ٭٭

دشمنان اسلام یہود و نصاریٰ سے دوستیاں کرنے کی اللہ تبارک و تعالیٰ ممانعت فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ ” وہ تمہارے دوست ہرگز نہیں ہو سکتے کیونکہ تمہارے دین سے انہیں بغض و عداوت ہے۔ ہاں اپنے والوں سے ان کی دوستیاں اور محبتیں ہیں۔ میرے نزدیک تو جو بھی ان سے دلی محبت رکھے وہ ان ہی میں سے ہے “۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو اس بات پر پوری تنبیہہ کی اور یہ آیت پڑھ سنائی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن] ‏

حضرت عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے فرمایا ”لوگو! تمہیں اس سے بچنا چاہیئے کہ تمہیں خود تو معلوم نہ ہو اور تم اللہ کے نزدیک یہود و نصرانی بن جاؤ“، ہم سمجھ گئے کہ آپ کی مراد اسی آیت کے مضمون سے ہے۔۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرب نصرانیوں کے ذبیحہ کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت کی۔ جس کے دل میں کھوٹ ہے وہ تو لپک لپک کر پوشیدہ طور پر ان سے ساز باز اور محبت و مودت کرتے ہیں اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ ہمیں خطرہ ہے اگر مسلمانوں پر یہ لوگ غالب آگئے تو پھر ہماری تباہی کردیں گے، اس لیے ہم ان سے بھی میل ملاپ رکھتے ہیں، ہم کیوں کسی سے بگاڑیں؟

صفحہ نمبر2348

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ممکن ہے اللہ مسلمانوں کو صاف طور پر غالب کر دے، مکہ بھی ان کے ہاتھوں فتح ہو جائے، فیصلے اور حکم ان ہی کے چلنے لگیں، حکومت ان کے قدموں میں سر ڈال دے۔ یا اللہ تعالیٰ اور کوئی چیز اپنے پاس سے لائے یعنی یہود نصاریٰ کو مغلوب کر کے انہیں ذلیل کر کے ان سے جزیہ لینے کا حکم مسلمانوں کو دیدے پھر تو یہ منافقین جو آج لپک لپک کر ان سے گہری دوستی کرتے پھرتے ہیں، بڑے بھنانے لگیں گے اور اپنی اس چالاکی پر خون کے آنسو بہانے لگیں گے۔ ان کے پردے کھل جائیں گے اور یہ جیسے اندر تھے ویسے ہی باہر سے نظر آئیں گے۔ اس وقت مسلمان ان کی مکاریوں پر تعجب کریں گے اور کہیں گے اے لو یہی وہ لوگ ہیں، جو بڑی بڑی قسمیں کھا کھا کر ہمیں یقین دلاتے تھے کہ یہ ہمارے ساتھی ہیں۔ انہوں نے جو پایا تھا وہ کھو دیا تھا اور برباد ہو گئے “۔

«‏وَيَقُولُ» تو جمہور کی قرأت ہے۔ ایک قرأت بغیر واؤ کے بھی ہے اہل مدینہ کی یہی قرأت ہے۔ «يَقُولُ» تو مبتداء اور دوسری قرأت اس کی «يَقُوْلَ» ہے تو یہ «فَعَسَى» پر عطف ہو گا گویا «وَاَنْ يَقُوْلَ» ہے اہلِ مدینہ کے نزدیک۔

صفحہ نمبر2349

ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ جنگ احد کے بعد ایک شخص نے کہا کہ میں اس یہودی سے دوستی کرتا ہوں تاکہ موقع پر مجھے نفع پہنچے، دوسرے نے کہا، میں فلاں نصرانی کے پاس جاتا ہوں، اس سے دوستی کر کے اس کی مدد کروں گا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں ”ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ آیتیں اتریں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنو قریظہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا یعنی تم سب کو قتل کرا دیں گے۔‏“

ایک روایت میں ہے کہ یہ آیتیں عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں اتری ہیں۔ عبادہ بن صامت نے صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ بہت سے یہودیوں سے میری دوستی ہے مگر میں ان سب کی دوستیاں توڑتا ہوں، مجھے اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دوستی کافی ہے۔ اس پر اس منافق نے کہا میں دور اندیش ہوں، دور کی سوچنے کا عادی ہوں، مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا، نہ جانے کس وقت کیا موقعہ پڑ جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ تو عبادہ کے مقابلے میں بہت ہی گھاٹے میں رہا ، اس پر یہ آیتیں اتریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12162:مرسل و ضعیف] ‏

ایک روایت میں ہے کہ ”جب بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی تو بعض مسلمانوں نے اپنے ملنے والے یہودیوں سے کہا کہ یہی تمہاری حالت ہو، اس سے پہلے ہی تم اس دین برحق کو قبول کر لو انہوں نے جواب دیا کہ چند قریشیوں پر جو لڑائی کے فنون سے بے بہرہ ہیں، فتح مندی حاصل کر کے کہیں تم مغرور نہ ہو جانا، ہم سے اگر پالا پڑا تو ہم تو تمہیں بتا دیں گے کہ لڑائی اسے کہتے ہیں۔ اس پر عبادہ اور عبداللہ بن ابی کا وہ مکالمہ ہوا جو اوپر بیان ہو چکا ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12163:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2350

جب یہودیوں کے اس قبیلہ سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی اور بفضل رب یہ غالب آگئے تو اب عبداللہ بن ابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے دوستوں کے معاملے میں مجھ پر احسان کیجئے، یہ لوگ خزرج کے ساتھی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اس نے پھر کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ موڑ لیا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے چپک گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ سے فرمایا کہ چھوڑ دے ، اس نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نہ چھوڑوں گا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں احسان کریں، ان کی بڑی پوری جماعت ہے اور آج تک یہ لوگ میرے طرفدار رہے اور ایک ہی دن میں یہ سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ مجھے تو آنے والی مصیبتوں کا کھٹکا ہے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا وہ سب تیرے لیے ہیں ۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:174/3:مرسل و ضعیف] ‏

ایک روایت میں ہے کہ جب بنو قینقاع کے یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی اور اللہ نے انہیں نیچا دکھایا تو عبداللہ بن ابی ان کی حمایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرنے لگا اور عبادہ بن صامت نے باوجودیکہ یہ بھی ان کے حلیف تھے لیکن انہوں نے ان سے صاف برأت ظاہر کی۔ اس پر یہ آیتیں «فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ» ‏ [5-المائدہ:56] ‏ تک اتریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12164] ‏

مسند احمد میں ہے کہ اس منافق عبداللہ بن ابی کی عیادت کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو تجھے بارہا ان یہودیوں کی محبت سے روکا تو اس نے کہا سعد بن زرارہ تو ان سے دشمنی رکھتا تھا وہ بھی مر گیا۔ [سنن ابوداود:3094،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2351

دشمن اسلام سے دوستی منع ہے ٭٭

دشمنان اسلام یہود و نصاریٰ سے دوستیاں کرنے کی اللہ تبارک و تعالیٰ ممانعت فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ ” وہ تمہارے دوست ہرگز نہیں ہو سکتے کیونکہ تمہارے دین سے انہیں بغض و عداوت ہے۔ ہاں اپنے والوں سے ان کی دوستیاں اور محبتیں ہیں۔ میرے نزدیک تو جو بھی ان سے دلی محبت رکھے وہ ان ہی میں سے ہے “۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو اس بات پر پوری تنبیہہ کی اور یہ آیت پڑھ سنائی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن] ‏

حضرت عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے فرمایا ”لوگو! تمہیں اس سے بچنا چاہیئے کہ تمہیں خود تو معلوم نہ ہو اور تم اللہ کے نزدیک یہود و نصرانی بن جاؤ“، ہم سمجھ گئے کہ آپ کی مراد اسی آیت کے مضمون سے ہے۔۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرب نصرانیوں کے ذبیحہ کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت کی۔ جس کے دل میں کھوٹ ہے وہ تو لپک لپک کر پوشیدہ طور پر ان سے ساز باز اور محبت و مودت کرتے ہیں اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ ہمیں خطرہ ہے اگر مسلمانوں پر یہ لوگ غالب آگئے تو پھر ہماری تباہی کردیں گے، اس لیے ہم ان سے بھی میل ملاپ رکھتے ہیں، ہم کیوں کسی سے بگاڑیں؟

صفحہ نمبر2348

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ممکن ہے اللہ مسلمانوں کو صاف طور پر غالب کر دے، مکہ بھی ان کے ہاتھوں فتح ہو جائے، فیصلے اور حکم ان ہی کے چلنے لگیں، حکومت ان کے قدموں میں سر ڈال دے۔ یا اللہ تعالیٰ اور کوئی چیز اپنے پاس سے لائے یعنی یہود نصاریٰ کو مغلوب کر کے انہیں ذلیل کر کے ان سے جزیہ لینے کا حکم مسلمانوں کو دیدے پھر تو یہ منافقین جو آج لپک لپک کر ان سے گہری دوستی کرتے پھرتے ہیں، بڑے بھنانے لگیں گے اور اپنی اس چالاکی پر خون کے آنسو بہانے لگیں گے۔ ان کے پردے کھل جائیں گے اور یہ جیسے اندر تھے ویسے ہی باہر سے نظر آئیں گے۔ اس وقت مسلمان ان کی مکاریوں پر تعجب کریں گے اور کہیں گے اے لو یہی وہ لوگ ہیں، جو بڑی بڑی قسمیں کھا کھا کر ہمیں یقین دلاتے تھے کہ یہ ہمارے ساتھی ہیں۔ انہوں نے جو پایا تھا وہ کھو دیا تھا اور برباد ہو گئے “۔

«‏وَيَقُولُ» تو جمہور کی قرأت ہے۔ ایک قرأت بغیر واؤ کے بھی ہے اہل مدینہ کی یہی قرأت ہے۔ «يَقُولُ» تو مبتداء اور دوسری قرأت اس کی «يَقُوْلَ» ہے تو یہ «فَعَسَى» پر عطف ہو گا گویا «وَاَنْ يَقُوْلَ» ہے اہلِ مدینہ کے نزدیک۔

صفحہ نمبر2349

ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ جنگ احد کے بعد ایک شخص نے کہا کہ میں اس یہودی سے دوستی کرتا ہوں تاکہ موقع پر مجھے نفع پہنچے، دوسرے نے کہا، میں فلاں نصرانی کے پاس جاتا ہوں، اس سے دوستی کر کے اس کی مدد کروں گا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں ”ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ آیتیں اتریں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنو قریظہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا یعنی تم سب کو قتل کرا دیں گے۔‏“

ایک روایت میں ہے کہ یہ آیتیں عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں اتری ہیں۔ عبادہ بن صامت نے صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ بہت سے یہودیوں سے میری دوستی ہے مگر میں ان سب کی دوستیاں توڑتا ہوں، مجھے اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دوستی کافی ہے۔ اس پر اس منافق نے کہا میں دور اندیش ہوں، دور کی سوچنے کا عادی ہوں، مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا، نہ جانے کس وقت کیا موقعہ پڑ جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ تو عبادہ کے مقابلے میں بہت ہی گھاٹے میں رہا ، اس پر یہ آیتیں اتریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12162:مرسل و ضعیف] ‏

ایک روایت میں ہے کہ ”جب بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی تو بعض مسلمانوں نے اپنے ملنے والے یہودیوں سے کہا کہ یہی تمہاری حالت ہو، اس سے پہلے ہی تم اس دین برحق کو قبول کر لو انہوں نے جواب دیا کہ چند قریشیوں پر جو لڑائی کے فنون سے بے بہرہ ہیں، فتح مندی حاصل کر کے کہیں تم مغرور نہ ہو جانا، ہم سے اگر پالا پڑا تو ہم تو تمہیں بتا دیں گے کہ لڑائی اسے کہتے ہیں۔ اس پر عبادہ اور عبداللہ بن ابی کا وہ مکالمہ ہوا جو اوپر بیان ہو چکا ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12163:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2350

جب یہودیوں کے اس قبیلہ سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی اور بفضل رب یہ غالب آگئے تو اب عبداللہ بن ابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے دوستوں کے معاملے میں مجھ پر احسان کیجئے، یہ لوگ خزرج کے ساتھی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اس نے پھر کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ موڑ لیا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے چپک گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ سے فرمایا کہ چھوڑ دے ، اس نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نہ چھوڑوں گا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں احسان کریں، ان کی بڑی پوری جماعت ہے اور آج تک یہ لوگ میرے طرفدار رہے اور ایک ہی دن میں یہ سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ مجھے تو آنے والی مصیبتوں کا کھٹکا ہے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا وہ سب تیرے لیے ہیں ۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:174/3:مرسل و ضعیف] ‏

ایک روایت میں ہے کہ جب بنو قینقاع کے یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی اور اللہ نے انہیں نیچا دکھایا تو عبداللہ بن ابی ان کی حمایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرنے لگا اور عبادہ بن صامت نے باوجودیکہ یہ بھی ان کے حلیف تھے لیکن انہوں نے ان سے صاف برأت ظاہر کی۔ اس پر یہ آیتیں «فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ» ‏ [5-المائدہ:56] ‏ تک اتریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12164] ‏

مسند احمد میں ہے کہ اس منافق عبداللہ بن ابی کی عیادت کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو تجھے بارہا ان یہودیوں کی محبت سے روکا تو اس نے کہا سعد بن زرارہ تو ان سے دشمنی رکھتا تھا وہ بھی مر گیا۔ [سنن ابوداود:3094،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2351

دشمن اسلام سے دوستی منع ہے ٭٭

دشمنان اسلام یہود و نصاریٰ سے دوستیاں کرنے کی اللہ تبارک و تعالیٰ ممانعت فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ ” وہ تمہارے دوست ہرگز نہیں ہو سکتے کیونکہ تمہارے دین سے انہیں بغض و عداوت ہے۔ ہاں اپنے والوں سے ان کی دوستیاں اور محبتیں ہیں۔ میرے نزدیک تو جو بھی ان سے دلی محبت رکھے وہ ان ہی میں سے ہے “۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو اس بات پر پوری تنبیہہ کی اور یہ آیت پڑھ سنائی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن] ‏

حضرت عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے فرمایا ”لوگو! تمہیں اس سے بچنا چاہیئے کہ تمہیں خود تو معلوم نہ ہو اور تم اللہ کے نزدیک یہود و نصرانی بن جاؤ“، ہم سمجھ گئے کہ آپ کی مراد اسی آیت کے مضمون سے ہے۔۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرب نصرانیوں کے ذبیحہ کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت کی۔ جس کے دل میں کھوٹ ہے وہ تو لپک لپک کر پوشیدہ طور پر ان سے ساز باز اور محبت و مودت کرتے ہیں اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ ہمیں خطرہ ہے اگر مسلمانوں پر یہ لوگ غالب آگئے تو پھر ہماری تباہی کردیں گے، اس لیے ہم ان سے بھی میل ملاپ رکھتے ہیں، ہم کیوں کسی سے بگاڑیں؟

صفحہ نمبر2348

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ممکن ہے اللہ مسلمانوں کو صاف طور پر غالب کر دے، مکہ بھی ان کے ہاتھوں فتح ہو جائے، فیصلے اور حکم ان ہی کے چلنے لگیں، حکومت ان کے قدموں میں سر ڈال دے۔ یا اللہ تعالیٰ اور کوئی چیز اپنے پاس سے لائے یعنی یہود نصاریٰ کو مغلوب کر کے انہیں ذلیل کر کے ان سے جزیہ لینے کا حکم مسلمانوں کو دیدے پھر تو یہ منافقین جو آج لپک لپک کر ان سے گہری دوستی کرتے پھرتے ہیں، بڑے بھنانے لگیں گے اور اپنی اس چالاکی پر خون کے آنسو بہانے لگیں گے۔ ان کے پردے کھل جائیں گے اور یہ جیسے اندر تھے ویسے ہی باہر سے نظر آئیں گے۔ اس وقت مسلمان ان کی مکاریوں پر تعجب کریں گے اور کہیں گے اے لو یہی وہ لوگ ہیں، جو بڑی بڑی قسمیں کھا کھا کر ہمیں یقین دلاتے تھے کہ یہ ہمارے ساتھی ہیں۔ انہوں نے جو پایا تھا وہ کھو دیا تھا اور برباد ہو گئے “۔

«‏وَيَقُولُ» تو جمہور کی قرأت ہے۔ ایک قرأت بغیر واؤ کے بھی ہے اہل مدینہ کی یہی قرأت ہے۔ «يَقُولُ» تو مبتداء اور دوسری قرأت اس کی «يَقُوْلَ» ہے تو یہ «فَعَسَى» پر عطف ہو گا گویا «وَاَنْ يَقُوْلَ» ہے اہلِ مدینہ کے نزدیک۔

صفحہ نمبر2349

ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ جنگ احد کے بعد ایک شخص نے کہا کہ میں اس یہودی سے دوستی کرتا ہوں تاکہ موقع پر مجھے نفع پہنچے، دوسرے نے کہا، میں فلاں نصرانی کے پاس جاتا ہوں، اس سے دوستی کر کے اس کی مدد کروں گا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں ”ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ آیتیں اتریں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنو قریظہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا یعنی تم سب کو قتل کرا دیں گے۔‏“

ایک روایت میں ہے کہ یہ آیتیں عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں اتری ہیں۔ عبادہ بن صامت نے صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ بہت سے یہودیوں سے میری دوستی ہے مگر میں ان سب کی دوستیاں توڑتا ہوں، مجھے اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دوستی کافی ہے۔ اس پر اس منافق نے کہا میں دور اندیش ہوں، دور کی سوچنے کا عادی ہوں، مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا، نہ جانے کس وقت کیا موقعہ پڑ جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ تو عبادہ کے مقابلے میں بہت ہی گھاٹے میں رہا ، اس پر یہ آیتیں اتریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12162:مرسل و ضعیف] ‏

ایک روایت میں ہے کہ ”جب بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی تو بعض مسلمانوں نے اپنے ملنے والے یہودیوں سے کہا کہ یہی تمہاری حالت ہو، اس سے پہلے ہی تم اس دین برحق کو قبول کر لو انہوں نے جواب دیا کہ چند قریشیوں پر جو لڑائی کے فنون سے بے بہرہ ہیں، فتح مندی حاصل کر کے کہیں تم مغرور نہ ہو جانا، ہم سے اگر پالا پڑا تو ہم تو تمہیں بتا دیں گے کہ لڑائی اسے کہتے ہیں۔ اس پر عبادہ اور عبداللہ بن ابی کا وہ مکالمہ ہوا جو اوپر بیان ہو چکا ہے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12163:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2350

جب یہودیوں کے اس قبیلہ سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی اور بفضل رب یہ غالب آگئے تو اب عبداللہ بن ابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے دوستوں کے معاملے میں مجھ پر احسان کیجئے، یہ لوگ خزرج کے ساتھی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اس نے پھر کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ موڑ لیا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے چپک گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ سے فرمایا کہ چھوڑ دے ، اس نے کہا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نہ چھوڑوں گا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں احسان کریں، ان کی بڑی پوری جماعت ہے اور آج تک یہ لوگ میرے طرفدار رہے اور ایک ہی دن میں یہ سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ مجھے تو آنے والی مصیبتوں کا کھٹکا ہے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا وہ سب تیرے لیے ہیں ۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:174/3:مرسل و ضعیف] ‏

ایک روایت میں ہے کہ جب بنو قینقاع کے یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی اور اللہ نے انہیں نیچا دکھایا تو عبداللہ بن ابی ان کی حمایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرنے لگا اور عبادہ بن صامت نے باوجودیکہ یہ بھی ان کے حلیف تھے لیکن انہوں نے ان سے صاف برأت ظاہر کی۔ اس پر یہ آیتیں «فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ» ‏ [5-المائدہ:56] ‏ تک اتریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12164] ‏

مسند احمد میں ہے کہ اس منافق عبداللہ بن ابی کی عیادت کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو تجھے بارہا ان یہودیوں کی محبت سے روکا تو اس نے کہا سعد بن زرارہ تو ان سے دشمنی رکھتا تھا وہ بھی مر گیا۔ [سنن ابوداود:3094،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2351

قوت اسلام اور مرتدین ٭٭

اللہ رب العزت جو قادر و غالب ہے خبر دیتا ہے کہ اگر کوئی اس پاک دین سے مرتد ہو جائے تو وہ اسلام کی قوت گھٹا نہیں دے گا، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بدلے ان لوگوں کو اس سچے دین کی خدمت پر مامور کرے گا، جو ان سے ہر حیثیت میں اچھے ہوں گے۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم» ‏ [47-محمد:38] ‏ اور آیت میں ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ» [4-النساء:133] ‏ اور جگہ فرمایا «‏إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ» [14-إبراهيم:19] ‏، مطلب ان سب آیتوں کا وہی ہے جو بیان ہوا۔

ارتداد کہتے ہیں، حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف پھر جانے کو۔ محمد بن کعب رحمة الله فرماتے ہیں ”یہ آیت سرداران قریش کے بارے میں اتری ہے۔‏“ حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”خلافت صدیق رضی اللہ عنہ میں جو لوگ اسلام سے پھر گئے تھے، ان کا حکم اس آیت میں ہے۔ جس قوم کو ان کے بدلے لانے کا وعدہ دے رہا ہے وہ اہل قادسیہ ہیں یا قوم سبا ہے۔ یا اہل یمن ہیں جو کندہ اور سکون بیلہ کے ہیں۔‏“

ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ پچھلی بات بیان ہوئی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا وہ اس کی قوم ہے ۔ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:3368:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2354

اب ان کامل ایمان والوں کی صفت بیان ہو رہی ہے کہ ” یہ اپنے دوستوں یعنی مسلمانوں کے سامنے تو بچھ جانے والے، جھک جانے والے ہوتے ہیں اور کفار کے مقابلہ میں تن جانے والے، ان پر بھاری پڑنے والے اور ان پر تیز ہونے والے ہوتے ہیں “۔

جیسے فرمایا آیت «اَشِدَّاءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ» [48-الفتح:29] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خندہ مزاج بھی تھے اور قتال بھی یعنی دوستوں کے سامنے ہنس مکھ خندہ رو اور دشمنان دین کے مقابلہ میں سخت اور جنگجو۔

سچے مسلمان راہ حق کے جہاد سے نہ منہ موڑتے ہیں، نہ پیٹھ دکھاتے ہیں، نہ تھکتے ہیں، نہ بزدلی اور آرام طلبی کرتے ہیں، نہ کسی کی مروت میں آتے ہیں، نہ کسی کی ملامت کا خوف کرتے ہیں، وہ برابر اطاعت الٰہی میں اس کے دشمنوں سے جنگ کرنے میں بھلائی کا حکم کرنے میں اور برائیوں سے روکنے میں مشغول رہتے ہیں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا ہے۔ مسکینوں سے محبت رکھنے، ان کے ساتھ بیٹھنے اٹھنے اور دنیوی امور میں اپنے سے کم درجے کے لوگوں کو دیکھنے اور اپنے سے بڑھے ہوؤں کو نہ دیکھنے، صلہ رحمی کرتے رہنے، گو دوسرے نہ کرتے ہوں اور کسی سے کچھ بھی نہ مانگنے، حق بات بیان کرنے کا گو وہ سب کو کڑوی لگے اور دین کے معاملات میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنے کا اور بہ کثرت «لاَحَولَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہِ» پڑھنے کا، کیونکہ یہ کلمہ عرش کے نیچے کا خزانہ ہے ۔ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:2166:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2355

ایک روایت میں ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ مرتبہ بیعت کی ہے اور سات باتوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یاددہانی کی ہے اور سات مرتبہ اپنے اوپر اللہ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں اللہ کے دین کے بارے میں کسی بدگو کی بدگوئی کی مطلق پرواہ نہیں کرتا۔ مجھے بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا مجھ سے جنت کے بدلے میں بیعت کرے گا؟ میں نے منظور کر کے ہاتھ بڑھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرط کی کہ کسی سے کچھ بھی نہ مانگنا۔ میں نے کہا بہت اچھا، فرمایا: اگرچہ کوڑا بھی ہو ۔ یعنی اگر وہ گر پڑے تو خود سواری سے اتر کر لے لینا ۔ [مسند احمد:172/5:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں کی ہیبت میں آ کر حق گوئی سے نہ رکنا، یاد رکھو نہ تو کوئی موت کو قریب کر سکتا ہے، نہ رزق کو دور کر سکتا ہے ۔ ملاحظہ ہو امام احمد رحمة الله کی مسند۔ [مسند احمد:87/3:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں خلاف شرع امر دیکھ کر، سن کر اپنے تئیں کمزور جان کر، خاموش نہ ہو جانا۔ ورنہ اللہ کے ہاں اس کی بازپرس ہوگی، اس وقت انسان جواب دے گا کہ میں لوگوں کے ڈر سے چپکا ہو گیا تو جناب باری تعالیٰ فرمائے گا، ” میں اس کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا “ ۔ [سنن ابن ماجه:4008،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے قیامت کے دن ایک سوال یہ بھی کرے گا کہ ” تو نے لوگوں کو خلاف شرع کام کرتے دیکھ کر اس سے روکا کیوں نہیں؟ “ پھر اللہ تعالیٰ خود ہی اسے جواب سمجھائے گا اور یہ کہے گا پروردگار میں نے تجھ پر بھروسہ کیا اور لوگوں سے ڈرا [ابن ماجہ] ‏ [سنن ابن ماجہ:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ایک اور صحیح حدیث میں ہے مومن کو نہ چاہیئے کہ اپنے تئیں ذلت میں ڈالے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا، یہ کس طرح؟ فرمایا: ان بلاؤں کو اپنے اوپر لے لے، جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو ۔ [سنن ابن ماجہ:4016،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرمایا ” اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے “۔ یعنی کمال ایمان کی یہ صفتیں خاص اللہ کا عطیہ ہیں، اسی کی طرف سے ان کی توفیق ہوتی ہے، اس کا فضل بہت ہی وسیع ہے اور وہ کامل علم والا ہے، خوب جانتا ہے کہ اس بہت بڑی نعمت کا مستحق کون ہے؟

صفحہ نمبر2356

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” تمہارے دوست کفار نہیں بلکہ حقیقتاً تمہیں اللہ سے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں سے دوستیاں رکھنی چاہئیں “۔ مومن بھی وہ جن میں یہ صفتیں ہوں کہ وہ نماز کے پورے پابند ہوں، جو اسلام کا اعلیٰ اور بہترین رکن ہے اور صرف اللہ کا حق ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو اللہ کے ضعیف مسکین بندوں کا حق ہے اور آخری جملہ جو ہے اس کی نسبت بعض لوگوں کو وہم سا ہو گیا ہے کہ یہ «وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ» سے حال واقع یعنی ” رکوع کی حالت میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں “۔

یہ بالکل غلط ہے، اگر اسے مان لیا جائے تو یہ تو نمایاں طور پر ثابت ہو جائے گا کہ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دینا افضل ہے حالانکہ کوئی عالم اس کا قائل ہی نہیں، ان وہمیوں نے یہاں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نماز کے رکوع میں تھے جو ایک سائل آ گیا تو آپ نے اپنی انگوٹھی اتار کر اسے دے دی، [ضعیف] ‏

«وَالَّذِينَ آمَنُوا» سے مراد بقول عتبہ جملہ مسلمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس پر یہ آیت اتری ہے۔

صفحہ نمبر2357

ایک مرفوع حدیث میں بھی انگوٹھی کا قصہ ہے اور بعض دیگر مفسرین نے بھی یہ تفسیر کی ہے لیکن سند ایک کی بھی صحیح نہیں، رجال ایک کے بھی ثقہ اور ثابت نہیں، پس یہ واقعہ بالکل غیر ثابت شدہ ہے اور صحیح نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12219] ‏

ٹھیک وہی ہے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یہ سب آیتیں عبادہ بن صامت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جبکہ انہوں نے کھلے لفظوں میں یہود کی دوستی توڑی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان دار لوگوں کی دوستی پر راضی ہوگئے، اسی لئے ان تمام آیتوں کے آخر میں فرمان ہوا کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور با ایمان لوگوں کی دوستی رکھے وہ اللہ کے لشکر میں داخل ہے اور یہی اللہ کا لشکر غالب ہے۔

جیسے فرمان باری ہے آیت «‏كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَـٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَـٰئِكَ حِزْبُ اللَّـهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّـهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ‏ [58-المجادلة:21-22] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ یہ دیکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی غالب رہیں گے اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے دوستی رکھنے والا کبھی پسند نہ آئے گا چاہے وہ باپ بیٹے بھائی اور کنبے قبیلے کے لوگوں میں سے ہی کیوں نہ ہو، یہی ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی روح سے ان کی تائید کی ہے، انہیں اللہ تعالیٰ ان جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، رب ان سے راضی ہے، یہ اللہ سے خوش ہیں، یہی اللہ کے لشکر ہیں اور اللہ ہی کا لشکر فلاح پانے والا ہے “۔

پس جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کی دوستیوں پر راضی اور رضامند ہو جائے، وہ دنیا میں فاتح ہے اور آخرت میں فلاح پانے والا ہے۔ اسی لیے اس آیت کو بھی اس جملے پر ختم کیا۔

صفحہ نمبر2358

قوت اسلام اور مرتدین ٭٭

اللہ رب العزت جو قادر و غالب ہے خبر دیتا ہے کہ اگر کوئی اس پاک دین سے مرتد ہو جائے تو وہ اسلام کی قوت گھٹا نہیں دے گا، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بدلے ان لوگوں کو اس سچے دین کی خدمت پر مامور کرے گا، جو ان سے ہر حیثیت میں اچھے ہوں گے۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم» ‏ [47-محمد:38] ‏ اور آیت میں ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ» [4-النساء:133] ‏ اور جگہ فرمایا «‏إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ» [14-إبراهيم:19] ‏، مطلب ان سب آیتوں کا وہی ہے جو بیان ہوا۔

ارتداد کہتے ہیں، حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف پھر جانے کو۔ محمد بن کعب رحمة الله فرماتے ہیں ”یہ آیت سرداران قریش کے بارے میں اتری ہے۔‏“ حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”خلافت صدیق رضی اللہ عنہ میں جو لوگ اسلام سے پھر گئے تھے، ان کا حکم اس آیت میں ہے۔ جس قوم کو ان کے بدلے لانے کا وعدہ دے رہا ہے وہ اہل قادسیہ ہیں یا قوم سبا ہے۔ یا اہل یمن ہیں جو کندہ اور سکون بیلہ کے ہیں۔‏“

ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ پچھلی بات بیان ہوئی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا وہ اس کی قوم ہے ۔ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:3368:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2354

اب ان کامل ایمان والوں کی صفت بیان ہو رہی ہے کہ ” یہ اپنے دوستوں یعنی مسلمانوں کے سامنے تو بچھ جانے والے، جھک جانے والے ہوتے ہیں اور کفار کے مقابلہ میں تن جانے والے، ان پر بھاری پڑنے والے اور ان پر تیز ہونے والے ہوتے ہیں “۔

جیسے فرمایا آیت «اَشِدَّاءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ» [48-الفتح:29] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خندہ مزاج بھی تھے اور قتال بھی یعنی دوستوں کے سامنے ہنس مکھ خندہ رو اور دشمنان دین کے مقابلہ میں سخت اور جنگجو۔

سچے مسلمان راہ حق کے جہاد سے نہ منہ موڑتے ہیں، نہ پیٹھ دکھاتے ہیں، نہ تھکتے ہیں، نہ بزدلی اور آرام طلبی کرتے ہیں، نہ کسی کی مروت میں آتے ہیں، نہ کسی کی ملامت کا خوف کرتے ہیں، وہ برابر اطاعت الٰہی میں اس کے دشمنوں سے جنگ کرنے میں بھلائی کا حکم کرنے میں اور برائیوں سے روکنے میں مشغول رہتے ہیں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا ہے۔ مسکینوں سے محبت رکھنے، ان کے ساتھ بیٹھنے اٹھنے اور دنیوی امور میں اپنے سے کم درجے کے لوگوں کو دیکھنے اور اپنے سے بڑھے ہوؤں کو نہ دیکھنے، صلہ رحمی کرتے رہنے، گو دوسرے نہ کرتے ہوں اور کسی سے کچھ بھی نہ مانگنے، حق بات بیان کرنے کا گو وہ سب کو کڑوی لگے اور دین کے معاملات میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنے کا اور بہ کثرت «لاَحَولَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہِ» پڑھنے کا، کیونکہ یہ کلمہ عرش کے نیچے کا خزانہ ہے ۔ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:2166:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2355

ایک روایت میں ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ مرتبہ بیعت کی ہے اور سات باتوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یاددہانی کی ہے اور سات مرتبہ اپنے اوپر اللہ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں اللہ کے دین کے بارے میں کسی بدگو کی بدگوئی کی مطلق پرواہ نہیں کرتا۔ مجھے بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا مجھ سے جنت کے بدلے میں بیعت کرے گا؟ میں نے منظور کر کے ہاتھ بڑھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرط کی کہ کسی سے کچھ بھی نہ مانگنا۔ میں نے کہا بہت اچھا، فرمایا: اگرچہ کوڑا بھی ہو ۔ یعنی اگر وہ گر پڑے تو خود سواری سے اتر کر لے لینا ۔ [مسند احمد:172/5:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں کی ہیبت میں آ کر حق گوئی سے نہ رکنا، یاد رکھو نہ تو کوئی موت کو قریب کر سکتا ہے، نہ رزق کو دور کر سکتا ہے ۔ ملاحظہ ہو امام احمد رحمة الله کی مسند۔ [مسند احمد:87/3:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں خلاف شرع امر دیکھ کر، سن کر اپنے تئیں کمزور جان کر، خاموش نہ ہو جانا۔ ورنہ اللہ کے ہاں اس کی بازپرس ہوگی، اس وقت انسان جواب دے گا کہ میں لوگوں کے ڈر سے چپکا ہو گیا تو جناب باری تعالیٰ فرمائے گا، ” میں اس کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا “ ۔ [سنن ابن ماجه:4008،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے قیامت کے دن ایک سوال یہ بھی کرے گا کہ ” تو نے لوگوں کو خلاف شرع کام کرتے دیکھ کر اس سے روکا کیوں نہیں؟ “ پھر اللہ تعالیٰ خود ہی اسے جواب سمجھائے گا اور یہ کہے گا پروردگار میں نے تجھ پر بھروسہ کیا اور لوگوں سے ڈرا [ابن ماجہ] ‏ [سنن ابن ماجہ:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ایک اور صحیح حدیث میں ہے مومن کو نہ چاہیئے کہ اپنے تئیں ذلت میں ڈالے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا، یہ کس طرح؟ فرمایا: ان بلاؤں کو اپنے اوپر لے لے، جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو ۔ [سنن ابن ماجہ:4016،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرمایا ” اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے “۔ یعنی کمال ایمان کی یہ صفتیں خاص اللہ کا عطیہ ہیں، اسی کی طرف سے ان کی توفیق ہوتی ہے، اس کا فضل بہت ہی وسیع ہے اور وہ کامل علم والا ہے، خوب جانتا ہے کہ اس بہت بڑی نعمت کا مستحق کون ہے؟

صفحہ نمبر2356

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” تمہارے دوست کفار نہیں بلکہ حقیقتاً تمہیں اللہ سے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں سے دوستیاں رکھنی چاہئیں “۔ مومن بھی وہ جن میں یہ صفتیں ہوں کہ وہ نماز کے پورے پابند ہوں، جو اسلام کا اعلیٰ اور بہترین رکن ہے اور صرف اللہ کا حق ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو اللہ کے ضعیف مسکین بندوں کا حق ہے اور آخری جملہ جو ہے اس کی نسبت بعض لوگوں کو وہم سا ہو گیا ہے کہ یہ «وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ» سے حال واقع یعنی ” رکوع کی حالت میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں “۔

یہ بالکل غلط ہے، اگر اسے مان لیا جائے تو یہ تو نمایاں طور پر ثابت ہو جائے گا کہ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دینا افضل ہے حالانکہ کوئی عالم اس کا قائل ہی نہیں، ان وہمیوں نے یہاں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نماز کے رکوع میں تھے جو ایک سائل آ گیا تو آپ نے اپنی انگوٹھی اتار کر اسے دے دی، [ضعیف] ‏

«وَالَّذِينَ آمَنُوا» سے مراد بقول عتبہ جملہ مسلمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس پر یہ آیت اتری ہے۔

صفحہ نمبر2357

ایک مرفوع حدیث میں بھی انگوٹھی کا قصہ ہے اور بعض دیگر مفسرین نے بھی یہ تفسیر کی ہے لیکن سند ایک کی بھی صحیح نہیں، رجال ایک کے بھی ثقہ اور ثابت نہیں، پس یہ واقعہ بالکل غیر ثابت شدہ ہے اور صحیح نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12219] ‏

ٹھیک وہی ہے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یہ سب آیتیں عبادہ بن صامت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جبکہ انہوں نے کھلے لفظوں میں یہود کی دوستی توڑی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان دار لوگوں کی دوستی پر راضی ہوگئے، اسی لئے ان تمام آیتوں کے آخر میں فرمان ہوا کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور با ایمان لوگوں کی دوستی رکھے وہ اللہ کے لشکر میں داخل ہے اور یہی اللہ کا لشکر غالب ہے۔

جیسے فرمان باری ہے آیت «‏كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَـٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَـٰئِكَ حِزْبُ اللَّـهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّـهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ‏ [58-المجادلة:21-22] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ یہ دیکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی غالب رہیں گے اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے دوستی رکھنے والا کبھی پسند نہ آئے گا چاہے وہ باپ بیٹے بھائی اور کنبے قبیلے کے لوگوں میں سے ہی کیوں نہ ہو، یہی ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی روح سے ان کی تائید کی ہے، انہیں اللہ تعالیٰ ان جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، رب ان سے راضی ہے، یہ اللہ سے خوش ہیں، یہی اللہ کے لشکر ہیں اور اللہ ہی کا لشکر فلاح پانے والا ہے “۔

پس جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کی دوستیوں پر راضی اور رضامند ہو جائے، وہ دنیا میں فاتح ہے اور آخرت میں فلاح پانے والا ہے۔ اسی لیے اس آیت کو بھی اس جملے پر ختم کیا۔

صفحہ نمبر2358

قوت اسلام اور مرتدین ٭٭

اللہ رب العزت جو قادر و غالب ہے خبر دیتا ہے کہ اگر کوئی اس پاک دین سے مرتد ہو جائے تو وہ اسلام کی قوت گھٹا نہیں دے گا، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بدلے ان لوگوں کو اس سچے دین کی خدمت پر مامور کرے گا، جو ان سے ہر حیثیت میں اچھے ہوں گے۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم» ‏ [47-محمد:38] ‏ اور آیت میں ہے «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ» [4-النساء:133] ‏ اور جگہ فرمایا «‏إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ» [14-إبراهيم:19] ‏، مطلب ان سب آیتوں کا وہی ہے جو بیان ہوا۔

ارتداد کہتے ہیں، حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف پھر جانے کو۔ محمد بن کعب رحمة الله فرماتے ہیں ”یہ آیت سرداران قریش کے بارے میں اتری ہے۔‏“ حسن بصری رحمة الله فرماتے ہیں ”خلافت صدیق رضی اللہ عنہ میں جو لوگ اسلام سے پھر گئے تھے، ان کا حکم اس آیت میں ہے۔ جس قوم کو ان کے بدلے لانے کا وعدہ دے رہا ہے وہ اہل قادسیہ ہیں یا قوم سبا ہے۔ یا اہل یمن ہیں جو کندہ اور سکون بیلہ کے ہیں۔‏“

ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ پچھلی بات بیان ہوئی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا وہ اس کی قوم ہے ۔ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:3368:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2354

اب ان کامل ایمان والوں کی صفت بیان ہو رہی ہے کہ ” یہ اپنے دوستوں یعنی مسلمانوں کے سامنے تو بچھ جانے والے، جھک جانے والے ہوتے ہیں اور کفار کے مقابلہ میں تن جانے والے، ان پر بھاری پڑنے والے اور ان پر تیز ہونے والے ہوتے ہیں “۔

جیسے فرمایا آیت «اَشِدَّاءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ» [48-الفتح:29] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خندہ مزاج بھی تھے اور قتال بھی یعنی دوستوں کے سامنے ہنس مکھ خندہ رو اور دشمنان دین کے مقابلہ میں سخت اور جنگجو۔

سچے مسلمان راہ حق کے جہاد سے نہ منہ موڑتے ہیں، نہ پیٹھ دکھاتے ہیں، نہ تھکتے ہیں، نہ بزدلی اور آرام طلبی کرتے ہیں، نہ کسی کی مروت میں آتے ہیں، نہ کسی کی ملامت کا خوف کرتے ہیں، وہ برابر اطاعت الٰہی میں اس کے دشمنوں سے جنگ کرنے میں بھلائی کا حکم کرنے میں اور برائیوں سے روکنے میں مشغول رہتے ہیں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا ہے۔ مسکینوں سے محبت رکھنے، ان کے ساتھ بیٹھنے اٹھنے اور دنیوی امور میں اپنے سے کم درجے کے لوگوں کو دیکھنے اور اپنے سے بڑھے ہوؤں کو نہ دیکھنے، صلہ رحمی کرتے رہنے، گو دوسرے نہ کرتے ہوں اور کسی سے کچھ بھی نہ مانگنے، حق بات بیان کرنے کا گو وہ سب کو کڑوی لگے اور دین کے معاملات میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنے کا اور بہ کثرت «لاَحَولَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہِ» پڑھنے کا، کیونکہ یہ کلمہ عرش کے نیچے کا خزانہ ہے ۔ [سلسلة احادیث صحیحہ البانی:2166:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2355

ایک روایت میں ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ مرتبہ بیعت کی ہے اور سات باتوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یاددہانی کی ہے اور سات مرتبہ اپنے اوپر اللہ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں اللہ کے دین کے بارے میں کسی بدگو کی بدگوئی کی مطلق پرواہ نہیں کرتا۔ مجھے بلا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا مجھ سے جنت کے بدلے میں بیعت کرے گا؟ میں نے منظور کر کے ہاتھ بڑھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرط کی کہ کسی سے کچھ بھی نہ مانگنا۔ میں نے کہا بہت اچھا، فرمایا: اگرچہ کوڑا بھی ہو ۔ یعنی اگر وہ گر پڑے تو خود سواری سے اتر کر لے لینا ۔ [مسند احمد:172/5:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں کی ہیبت میں آ کر حق گوئی سے نہ رکنا، یاد رکھو نہ تو کوئی موت کو قریب کر سکتا ہے، نہ رزق کو دور کر سکتا ہے ۔ ملاحظہ ہو امام احمد رحمة الله کی مسند۔ [مسند احمد:87/3:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں خلاف شرع امر دیکھ کر، سن کر اپنے تئیں کمزور جان کر، خاموش نہ ہو جانا۔ ورنہ اللہ کے ہاں اس کی بازپرس ہوگی، اس وقت انسان جواب دے گا کہ میں لوگوں کے ڈر سے چپکا ہو گیا تو جناب باری تعالیٰ فرمائے گا، ” میں اس کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا “ ۔ [سنن ابن ماجه:4008،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے قیامت کے دن ایک سوال یہ بھی کرے گا کہ ” تو نے لوگوں کو خلاف شرع کام کرتے دیکھ کر اس سے روکا کیوں نہیں؟ “ پھر اللہ تعالیٰ خود ہی اسے جواب سمجھائے گا اور یہ کہے گا پروردگار میں نے تجھ پر بھروسہ کیا اور لوگوں سے ڈرا [ابن ماجہ] ‏ [سنن ابن ماجہ:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ایک اور صحیح حدیث میں ہے مومن کو نہ چاہیئے کہ اپنے تئیں ذلت میں ڈالے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا، یہ کس طرح؟ فرمایا: ان بلاؤں کو اپنے اوپر لے لے، جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو ۔ [سنن ابن ماجہ:4016،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرمایا ” اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے “۔ یعنی کمال ایمان کی یہ صفتیں خاص اللہ کا عطیہ ہیں، اسی کی طرف سے ان کی توفیق ہوتی ہے، اس کا فضل بہت ہی وسیع ہے اور وہ کامل علم والا ہے، خوب جانتا ہے کہ اس بہت بڑی نعمت کا مستحق کون ہے؟

صفحہ نمبر2356

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” تمہارے دوست کفار نہیں بلکہ حقیقتاً تمہیں اللہ سے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں سے دوستیاں رکھنی چاہئیں “۔ مومن بھی وہ جن میں یہ صفتیں ہوں کہ وہ نماز کے پورے پابند ہوں، جو اسلام کا اعلیٰ اور بہترین رکن ہے اور صرف اللہ کا حق ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو اللہ کے ضعیف مسکین بندوں کا حق ہے اور آخری جملہ جو ہے اس کی نسبت بعض لوگوں کو وہم سا ہو گیا ہے کہ یہ «وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ» سے حال واقع یعنی ” رکوع کی حالت میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں “۔

یہ بالکل غلط ہے، اگر اسے مان لیا جائے تو یہ تو نمایاں طور پر ثابت ہو جائے گا کہ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دینا افضل ہے حالانکہ کوئی عالم اس کا قائل ہی نہیں، ان وہمیوں نے یہاں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نماز کے رکوع میں تھے جو ایک سائل آ گیا تو آپ نے اپنی انگوٹھی اتار کر اسے دے دی، [ضعیف] ‏

«وَالَّذِينَ آمَنُوا» سے مراد بقول عتبہ جملہ مسلمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس پر یہ آیت اتری ہے۔

صفحہ نمبر2357

ایک مرفوع حدیث میں بھی انگوٹھی کا قصہ ہے اور بعض دیگر مفسرین نے بھی یہ تفسیر کی ہے لیکن سند ایک کی بھی صحیح نہیں، رجال ایک کے بھی ثقہ اور ثابت نہیں، پس یہ واقعہ بالکل غیر ثابت شدہ ہے اور صحیح نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12219] ‏

ٹھیک وہی ہے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یہ سب آیتیں عبادہ بن صامت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جبکہ انہوں نے کھلے لفظوں میں یہود کی دوستی توڑی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان دار لوگوں کی دوستی پر راضی ہوگئے، اسی لئے ان تمام آیتوں کے آخر میں فرمان ہوا کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور با ایمان لوگوں کی دوستی رکھے وہ اللہ کے لشکر میں داخل ہے اور یہی اللہ کا لشکر غالب ہے۔

جیسے فرمان باری ہے آیت «‏كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَـٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَـٰئِكَ حِزْبُ اللَّـهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّـهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ‏ [58-المجادلة:21-22] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ یہ دیکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی غالب رہیں گے اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے دوستی رکھنے والا کبھی پسند نہ آئے گا چاہے وہ باپ بیٹے بھائی اور کنبے قبیلے کے لوگوں میں سے ہی کیوں نہ ہو، یہی ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی روح سے ان کی تائید کی ہے، انہیں اللہ تعالیٰ ان جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، رب ان سے راضی ہے، یہ اللہ سے خوش ہیں، یہی اللہ کے لشکر ہیں اور اللہ ہی کا لشکر فلاح پانے والا ہے “۔

پس جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کی دوستیوں پر راضی اور رضامند ہو جائے، وہ دنیا میں فاتح ہے اور آخرت میں فلاح پانے والا ہے۔ اسی لیے اس آیت کو بھی اس جملے پر ختم کیا۔

صفحہ نمبر2358

اذان اور دشمنان دین ٭٭

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو غیر مسلموں کی محبت سے نفرت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” کیا تم ان سے دوستیاں کرو گے جو تمہارے طاہر و مطہر دین کی ہنسی اڑاتے ہیں اور اسے ایک بازیچہ اطفال بنائے ہوئے ہیں “۔

«مِّنَ» ‏ بیان جنس کیلئے جیسے «مِنَ الْاَوْثَانِ» میں۔ [22-الحج:30] ‏ بعض نے «وَالْکُفَّارَ» پڑھا ہے اور عطف ڈالا ہے اور بعض نے «وَالْکُفَّارِ» پڑھا ہے اور «لاَ تَّتخِذُوْا» کا نیا معمول بنایا ہے تو تقدیر عبارت «وَالاَ الْکُفَّارَ اَوْلِیَآءَ» ہو گی، کفار سے مراد مشرکین ہیں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:430/10:] ‏

” اللہ سے ڈرو اور ان سے دوستیاں نہ کرو اگر تم سچے مومن ہو۔ یہ تو تمہارے دین کے، اللہ کی شریعت کے دشمن ہیں “۔

جیسے فرمایا آیت «لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ» [3۔ آل عمران:28] ‏، ” مومن مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستیاں نہ کریں اور جو ایسا کرے وہ اللہ کے ہاں کسی بھلائی میں نہیں “۔ ہاں ان سے بچاؤ مقصود ہو تو اور بات ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔

اسی طرح یہ کفار اہل کتاب اور مشرک اس وقت بھی مذاق اڑاتے ہیں جب تم نمازوں کیلئے لوگوں کو پکارتے ہو حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی سب سے پیاری عبادت ہے، لیکن یہ بیوقوف اتنا بھی نہیں جانتے، اس لیے کہ یہ متبع شیطان ہیں، اس کی یہ حالت ہے کہ اذان سنتے ہی بدبو چھوڑ کر دم دبائے بھاگتا ہے اور وہاں جا کر ٹھہرتا ہے، جہاں اذان کی آواز نہ سن پائے۔ اس کے بعد آ جاتا ہے پھر تکبیر سن کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے ختم ہوتے ہی آ کر اپنے بہکاوے میں لگ جاتا ہے، انسان کو ادھر ادھر کی بھولی بسری باتیں یاد دلاتا ہے یہاں تک کہ اسے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ نماز کی کتنی رکعت پڑھیں؟ جب ایسا ہو تو وہ سجدہ سہو کر لے ۔ [صحیح بخاری:1231] ‏

صفحہ نمبر2361

امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اذان کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے پھر یہی آیت تلاوت کی۔‏“ [تفسیر ابن ابی حاتم:1164/4] ‏

ایک نصرانی مدینے میں تھا، اذان میں جب «‏اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ» سنتا تو کہتا کذاب جل جائے۔ ایک مرتبہ رات کو اس کی خادمہ گھر میں آگ لائی، کوئی پتنگا اڑا جس سے گھر میں آگ لگ گئی، وہ شخص اس کا گھربار سب جل کر ختم ہو گیا۔

فتح مکہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو کعبے میں اذان کہنے کا حکم دیا، قریب ہی ابوسفیان بن حرب، عتاب بن اسید، حارث بن ہشام بیٹھے ہوئے تھے، عتاب نے تو اذان سن کر کہا میرے باپ پر تو اللہ کا فضل ہوا کہ وہ اس غصہ دلانے والی آواز کے سننے سے پہلے ہی دنیا سے چل بسا۔ حارث کہنے لگا اگر میں اسے سچا جانتا تو مان ہی نہ لیتا۔ ابوسفیان نے کہا بھئی میں تو کچھ بھی زبان سے نہیں نکالتا، ڈر ہے کہ کہیں یہ کنکریاں اسے خبر نہ کر دیں انہوں نے باتیں ختم کی ہی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے اور فرمانے لگے اس وقت تم نے یہ یہ باتیں کیں ہیں ، یہ سنتے ہی عتاب اور حارث تو بول پڑے کہ ہماری گواہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہاں تو کوئی چوتھا تھا ہی نہیں، ورنہ گمان کر سکتے تھے کہ اس نے جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہدیا ہوگا۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:78/5] ‏

صفحہ نمبر2362

حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ جب شام کے سفر کو جانے لگے تو ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے جن کی گود میں انہوں نے ایام یتیمی بسر کئے تھے، کہا آپ رضی اللہ عنہ کی اذان کے بارے میں مجھ سے وہاں کے لوگ ضرور سوال کریں گے تو آپ رضی اللہ عنہ اپنے واقعات تو مجھے بتا دیجئیے۔ فرمایا ہاں سنو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس آ رہے تھے، راستے میں ہم لوگ ایک جگہ رکے، تو نماز کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے اذان کہی، ہم نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا، کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں بھی آوازیں پڑ گئیں۔ سپاہی آیا اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم سب میں زیادہ اونچی آواز کس کی تھی؟ سب نے میری طرف اشارہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا اور فرمایا: اٹھو اذان کہو ۔ واللہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری سے زیادہ بری چیز میرے نزدیک کوئی نہ تھی لیکن بے بس تھا، کھڑا ہو گیا، اب خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان سکھائی اور جو سکھاتے رہے، میں کہتا رہا، پھر اذان پوری بیان کی، جب میں اذان سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک تھیلی دے، جس میں چاندی تھی، پھر اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور پیٹھ تک لائے، پھر فرمایا: اللہ تجھ میں اور تجھ پر اپنی برکت نازل کرے ۔ اب تو اللہ کی قسم میرے دل سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت بالکل جاتی رہی، ایسی محبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دل میں پیدا ہوگئی، میں نے آرزو کی کہ مکے کا مؤذن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو بنادیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری یہ درخواست منظور فرمالی اور میں مکے میں چلا گیا اور وہاں کے گورنر عتاب بن اسید سے مل کر اذان پر مامور ہوگیا ۔ [صحیح مسلم:389] ‏

ابو مخدورہ کا نام سمرہ بن مغیرہ بن لوذان تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چار مؤذنوں میں سے ایک آپ تھے اور لمبی مدت تک آپ اہل مکہ کے مؤذن رہے۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ۔

صفحہ نمبر2363

اذان اور دشمنان دین ٭٭

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو غیر مسلموں کی محبت سے نفرت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” کیا تم ان سے دوستیاں کرو گے جو تمہارے طاہر و مطہر دین کی ہنسی اڑاتے ہیں اور اسے ایک بازیچہ اطفال بنائے ہوئے ہیں “۔

«مِّنَ» ‏ بیان جنس کیلئے جیسے «مِنَ الْاَوْثَانِ» میں۔ [22-الحج:30] ‏ بعض نے «وَالْکُفَّارَ» پڑھا ہے اور عطف ڈالا ہے اور بعض نے «وَالْکُفَّارِ» پڑھا ہے اور «لاَ تَّتخِذُوْا» کا نیا معمول بنایا ہے تو تقدیر عبارت «وَالاَ الْکُفَّارَ اَوْلِیَآءَ» ہو گی، کفار سے مراد مشرکین ہیں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا» ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:430/10:] ‏

” اللہ سے ڈرو اور ان سے دوستیاں نہ کرو اگر تم سچے مومن ہو۔ یہ تو تمہارے دین کے، اللہ کی شریعت کے دشمن ہیں “۔

جیسے فرمایا آیت «لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ» [3۔ آل عمران:28] ‏، ” مومن مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستیاں نہ کریں اور جو ایسا کرے وہ اللہ کے ہاں کسی بھلائی میں نہیں “۔ ہاں ان سے بچاؤ مقصود ہو تو اور بات ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔

اسی طرح یہ کفار اہل کتاب اور مشرک اس وقت بھی مذاق اڑاتے ہیں جب تم نمازوں کیلئے لوگوں کو پکارتے ہو حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی سب سے پیاری عبادت ہے، لیکن یہ بیوقوف اتنا بھی نہیں جانتے، اس لیے کہ یہ متبع شیطان ہیں، اس کی یہ حالت ہے کہ اذان سنتے ہی بدبو چھوڑ کر دم دبائے بھاگتا ہے اور وہاں جا کر ٹھہرتا ہے، جہاں اذان کی آواز نہ سن پائے۔ اس کے بعد آ جاتا ہے پھر تکبیر سن کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے ختم ہوتے ہی آ کر اپنے بہکاوے میں لگ جاتا ہے، انسان کو ادھر ادھر کی بھولی بسری باتیں یاد دلاتا ہے یہاں تک کہ اسے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ نماز کی کتنی رکعت پڑھیں؟ جب ایسا ہو تو وہ سجدہ سہو کر لے ۔ [صحیح بخاری:1231] ‏

صفحہ نمبر2361

امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اذان کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے پھر یہی آیت تلاوت کی۔‏“ [تفسیر ابن ابی حاتم:1164/4] ‏

ایک نصرانی مدینے میں تھا، اذان میں جب «‏اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ» سنتا تو کہتا کذاب جل جائے۔ ایک مرتبہ رات کو اس کی خادمہ گھر میں آگ لائی، کوئی پتنگا اڑا جس سے گھر میں آگ لگ گئی، وہ شخص اس کا گھربار سب جل کر ختم ہو گیا۔

فتح مکہ والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو کعبے میں اذان کہنے کا حکم دیا، قریب ہی ابوسفیان بن حرب، عتاب بن اسید، حارث بن ہشام بیٹھے ہوئے تھے، عتاب نے تو اذان سن کر کہا میرے باپ پر تو اللہ کا فضل ہوا کہ وہ اس غصہ دلانے والی آواز کے سننے سے پہلے ہی دنیا سے چل بسا۔ حارث کہنے لگا اگر میں اسے سچا جانتا تو مان ہی نہ لیتا۔ ابوسفیان نے کہا بھئی میں تو کچھ بھی زبان سے نہیں نکالتا، ڈر ہے کہ کہیں یہ کنکریاں اسے خبر نہ کر دیں انہوں نے باتیں ختم کی ہی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے اور فرمانے لگے اس وقت تم نے یہ یہ باتیں کیں ہیں ، یہ سنتے ہی عتاب اور حارث تو بول پڑے کہ ہماری گواہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہاں تو کوئی چوتھا تھا ہی نہیں، ورنہ گمان کر سکتے تھے کہ اس نے جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہدیا ہوگا۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:78/5] ‏

صفحہ نمبر2362

حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ جب شام کے سفر کو جانے لگے تو ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے جن کی گود میں انہوں نے ایام یتیمی بسر کئے تھے، کہا آپ رضی اللہ عنہ کی اذان کے بارے میں مجھ سے وہاں کے لوگ ضرور سوال کریں گے تو آپ رضی اللہ عنہ اپنے واقعات تو مجھے بتا دیجئیے۔ فرمایا ہاں سنو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس آ رہے تھے، راستے میں ہم لوگ ایک جگہ رکے، تو نماز کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے اذان کہی، ہم نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا، کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں بھی آوازیں پڑ گئیں۔ سپاہی آیا اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم سب میں زیادہ اونچی آواز کس کی تھی؟ سب نے میری طرف اشارہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا اور فرمایا: اٹھو اذان کہو ۔ واللہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری سے زیادہ بری چیز میرے نزدیک کوئی نہ تھی لیکن بے بس تھا، کھڑا ہو گیا، اب خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان سکھائی اور جو سکھاتے رہے، میں کہتا رہا، پھر اذان پوری بیان کی، جب میں اذان سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک تھیلی دے، جس میں چاندی تھی، پھر اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور پیٹھ تک لائے، پھر فرمایا: اللہ تجھ میں اور تجھ پر اپنی برکت نازل کرے ۔ اب تو اللہ کی قسم میرے دل سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت بالکل جاتی رہی، ایسی محبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دل میں پیدا ہوگئی، میں نے آرزو کی کہ مکے کا مؤذن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو بنادیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری یہ درخواست منظور فرمالی اور میں مکے میں چلا گیا اور وہاں کے گورنر عتاب بن اسید سے مل کر اذان پر مامور ہوگیا ۔ [صحیح مسلم:389] ‏

ابو مخدورہ کا نام سمرہ بن مغیرہ بن لوذان تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چار مؤذنوں میں سے ایک آپ تھے اور لمبی مدت تک آپ اہل مکہ کے مؤذن رہے۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ۔

صفحہ نمبر2363

بدترین گروہ اور اس کا انجام ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ” جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں “۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔

اور آیت میں ہے «وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ» [85-البروج:8] ‏، یعنی ” فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز و حمید کو مانتے تھے “۔

اور جیسے اور آیت میں «وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ» [9-التوبة:74] ‏۔ یعنی ” انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مال دے کر غنی کر دیا ہے “۔

صفحہ نمبر2365

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے ابن جمیل اسی کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کر دیا ۔ [صحیح بخاری:1468] ‏

اور یہ کہ تم میں سے اکثر صراط مستقیم سے الگ اور خارج ہو چکے ہیں، تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں سے بدلہ پانے میں کون بدتر ہے؟ اور وہ تم ہو کہ کیونکہ یہ خصلتیں تم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ یعنی جسے اللہ نے لعنت کی ہو، اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہو، اس پر غصبناک ہوا ہو، ایسا جس کے بعد رضامند نہیں ہوگا اور جن میں سے بعض کی صورتیں بگاڑ دی ہوں، بندر اور سور بنا دیئے ہوں۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ میں گزر چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ یہ بندر و سور وہی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس قوم پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہوتا ہے، ان کی نسل ہی نہیں ہوتی، ان سے پہلے بھی سور اور بندر تھے ۔ روایت مختلف الفاظ میں صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2663] ‏

صفحہ نمبر2366

مسند میں ہے کہ جنوں کی ایک قوم سانپ بنا دی گئی تھی۔ جیسے کہ بندر اور سور بنا دیئے گئے ۔ [مسند احمد:348/1:صحیح] ‏

یہ حدیث بہت ہی غریب ہے، انہی میں سے بعض کو غیر اللہ کے پرستار بنا دیئے ۔

ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ طاغوت کی زیر سے بھی ہے۔ یعنی ” انہیں بتوں کا غلام بنا دیا “۔ برید اسلمی رحمہ اللہ اسے «عَابِدُ الطَّاغُوْتِ» پڑھتے تھے۔ ابو جعفر قاری رحمہ اللہ سے «وَعْبِدَ الطَّاغُوْتُ» بھی منقول ہے جو بعید از معنی ہو جاتا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا مطلب یہ ہے کہ ” تم ہی وہ ہو، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی “۔

الغرض اہل کتاب کو الزام دیا جاتا ہے کہ ہم پر تو عیب گیری کرتے ہو، حالانکہ ہم موحد ہیں، صرف ایک اللہ برحق کے ماننے والے ہیں اور تم تو وہ ہو کہ مذکورہ سب برائیاں تم میں پائی گئیں۔ اسی لیے خاتمے پر فرمایا کہ یہی لوگ باعتبار قدر و منزلت کے بہت برے ہیں اور باعتبار گمراہی کے انتہائی غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس افعل التفصیل میں دوسری جانب کچھ مشارکت نہیں اور یہاں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ جیسے اس آیت میں «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» [25-الفرقان:24] ‏

پھر منافقوں کی ایک اور بدخصلت بیان کی جا رہی ہے کہ ” ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں، تیری نصیحتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ بھلا یہ پردہ داری انہیں کیا کام آئے گی، جس سے ان کا معاملہ ہے، وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ وہاں جا کر پورا پورا بدلہ بھگتنا پڑے گا “۔

صفحہ نمبر2367

” تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہو چکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہوگئے ہیں “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”علماء اور فقراء کی ڈانٹ کیلئے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں۔‏“

ضحاک رحمة الله سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”لوگو تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کر دیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے، جب یہ عادت ان میں پختہ ہو گئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں۔ پس تمہیں چاہیئے کہ بھلائی کا حکم کرو، برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آ جائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے، یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم برائی سے ممانعت نہ تو تمہارے روزی گھٹائے گا، نہ تمہارے موت قریب کر دے گا۔‏“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا ۔ [مسند احمد:363/3:حسن] ‏

ابوداؤد میں ہے کہ یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی آئے گا ۔ [سنن ابوداود:4339،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔ [سنن ابن ماجہ:4009،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2368

بدترین گروہ اور اس کا انجام ٭٭

حکم ہوتا ہے کہ ” جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں “۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔

اور آیت میں ہے «وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ» [85-البروج:8] ‏، یعنی ” فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز و حمید کو مانتے تھے “۔

اور جیسے اور آیت میں «وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ» [9-التوبة:74] ‏۔ یعنی ” انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مال دے کر غنی کر دیا ہے “۔

صفحہ نمبر2365

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے ابن جمیل اسی کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کر دیا ۔ [صحیح بخاری:1468] ‏

اور یہ کہ تم میں سے اکثر صراط مستقیم سے الگ اور خارج ہو چکے ہیں، تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں سے بدلہ پانے میں کون بدتر ہے؟ اور وہ تم ہو کہ کیونکہ یہ خصلتیں تم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ یعنی جسے اللہ نے لعنت کی ہو، اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہو، اس پر غصبناک ہوا ہو، ایسا جس کے بعد رضامند نہیں ہوگا اور جن میں سے بعض کی صورتیں بگاڑ دی ہوں، بندر اور سور بنا دیئے ہوں۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ میں گزر چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ یہ بندر و سور وہی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس قوم پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہوتا ہے، ان کی نسل ہی نہیں ہوتی، ان سے پہلے بھی سور اور بندر تھے ۔ روایت مختلف الفاظ میں صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2663] ‏

صفحہ نمبر2366

مسند میں ہے کہ جنوں کی ایک قوم سانپ بنا دی گئی تھی۔ جیسے کہ بندر اور سور بنا دیئے گئے ۔ [مسند احمد:348/1:صحیح] ‏

یہ حدیث بہت ہی غریب ہے، انہی میں سے بعض کو غیر اللہ کے پرستار بنا دیئے ۔

ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ طاغوت کی زیر سے بھی ہے۔ یعنی ” انہیں بتوں کا غلام بنا دیا “۔ برید اسلمی رحمہ اللہ اسے «عَابِدُ الطَّاغُوْتِ» پڑھتے تھے۔ ابو جعفر قاری رحمہ اللہ سے «وَعْبِدَ الطَّاغُوْتُ» بھی منقول ہے جو بعید از معنی ہو جاتا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا مطلب یہ ہے کہ ” تم ہی وہ ہو، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی “۔

الغرض اہل کتاب کو الزام دیا جاتا ہے کہ ہم پر تو عیب گیری کرتے ہو، حالانکہ ہم موحد ہیں، صرف ایک اللہ برحق کے ماننے والے ہیں اور تم تو وہ ہو کہ مذکورہ سب برائیاں تم میں پائی گئیں۔ اسی لیے خاتمے پر فرمایا کہ یہی لوگ باعتبار قدر و منزلت کے بہت برے ہیں اور باعتبار گمراہی کے انتہائی غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس افعل التفصیل میں دوسری جانب کچھ مشارکت نہیں اور یہاں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ جیسے اس آیت میں «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» [25-الفرقان:24] ‏

پھر منافقوں کی ایک اور بدخصلت بیان کی جا رہی ہے کہ ” ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں، تیری نصیحتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ بھلا یہ پردہ داری انہیں کیا کام آئے گی، جس سے ان کا معاملہ ہے، وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ وہاں جا کر پورا پورا بدلہ بھگتنا پڑے گا “۔

صفحہ نمبر2367

” تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہو چکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہوگئے ہیں “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”علماء اور فقراء کی ڈانٹ کیلئے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں۔‏“

ضحاک رحمة الله سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”لوگو تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کر دیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے، جب یہ عادت ان میں پختہ ہو گئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں۔ پس تمہیں چاہیئے کہ بھلائی کا حکم کرو، برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آ جائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے، یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم برائی سے ممانعت نہ تو تمہارے روزی گھٹائے گا، نہ تمہارے موت قریب کر دے گا۔‏“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا ۔ [مسند احمد:363/3:حسن] ‏

ابوداؤد میں ہے کہ یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی آئے گا ۔ [سنن ابوداود:4339،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔ [سنن ابن ماجہ:4009،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2368

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com