John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Maaida

Tafsir Ibn Kathir · The Table · 120 ayat · ayat 91–120 · Quran text →

پانسہ بازی ، جوا اور شراب ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بعض چیزوں سے روکتا ہے۔ شراب کی ممانعت فرمائی، پھر جوئے کی روک کی۔ امیر المونین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”شطرنج بھی جوئے میں داخل ہے۔‏“ [ابن ابی حاتم] ‏

عطاء، مجاہد اور طاؤس رحمہ اللہ علیہم سے یا ان میں سے دو سے مروی ہے کہ ”جوئے کی ہر چیز میسر میں داخل ہے گو بچوں کے کھیل کے طور پر ہو۔‏“

جاہلیت کے زمانے میں جوئے کا بھی عام رواج تھا جسے اسلام نے غارت کیا۔ ان کا ایک جوا یہ بھی تھا کہ گوشت کو بکری کے بدلے بیچتے تھے، پانسے پھینک کر مال یا پھل لینا بھی جوا ہے۔ قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو چیز ذکر اللہ اور نماز سے غافل کر دے وہ جوا ہے۔‏“

ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع غریب حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان پانسوں سے بچو جن سے لوگ کھیلا کرتے تھے، یہ بھی جوا ہے ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1196/4:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2429

صحیح مسلم شریف میں ہے پانسوں سے کھیلنے والا گویا اپنے ہاتھوں کو سور کے خون اور گوشت میں آلودہ کرنے والا ہے ۔ [صحیح مسلم:2260] ‏

سنن میں ہے کہ وہ اللہ اور رسول کا نافرمان ہے ۔ [سنن ابوداود:4938،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا قول بھی اسی طرح مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»،

مسند میں ہے پانسوں سے کھیل کر نماز پڑھنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص قے اور گندگی سے اور سور کے خون سے وضو کر کے نماز ادا کرے ۔ [مسند احمد:370/5:ضعیف] ‏

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک شطرنج اس سے بھی بری ہے۔‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے شطرنج کا جوئے میں سے ہونا پہلے بیان ہو چکا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ تو کھلم کھلا اسے حرام بتاتے ہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ بھی اسے مکروہ بتاتے ہیں۔

صفحہ نمبر2430

«أَنصَابُ» ان پتھروں کو کہتے ہیں جن پر مشرکین اپنے جانور چڑھایا کرتے تھے اور انہیں وہیں ذبح کرتے تھے۔

«اَزْلاَمُ» ان تیروں کو کہتے ہیں جن میں وہ فال لیا کرتے تھے۔ ان سب چیزوں کی نسبت فرمایا کہ ” یہ اللہ کی ناراضگی کے اور شیطانی کام ہیں۔ یہ گناہ کے اور برائی کے کام ہیں تم ان شیطانی کاموں سے بچو انہیں چھوڑ دو تاکہ تم نجات پاؤ “۔

اس فقرے میں مسلمانوں کو ان کاموں سے روکنے کی ترغیب ہے۔ پھر رغبت آمیز دھمکی کے ساتھ مسلمانوں کو ان چیزوں سے روکا گیا ہے۔

صفحہ نمبر2431

حرمت شراب کی مزید وضاحت ٭٭

اب ہم یہاں پر حرمت شراب کی مزید احادیث وارد کرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں شراب تین مرتبہ حرام ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے شریف میں آئے تو لوگ جواری شرابی تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال ہوا اور آیت «يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيْهِمَآ اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّمَنَافِعُ للنَّاسِ ۡ وَاِثْـمُهُمَآ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا» [2-البقرۃ:219] ‏ نازل ہوئی۔ اس پر لوگوں نے کہا یہ دونوں چیزیں ہم پر حرام نہیں کی گئیں بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ ” ان میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کیلئے کچھ فوائد بھی ہیں “۔ چنانچہ شراب پیتے رہے۔ ایک دن ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کو مغرب کی نماز پڑھانے کیلئے کھڑے ہوئے تو قرأت خط ملط ہو گئی اس پر آیت «‏يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا» [4-النسآء:43] ‏ نازل ہوئی۔ یہ بہ نسبت پہلی آیت کے زیادہ سخت تھی اب لوگوں نے نمازوں کے وقت شراب چھوڑ دی لیکن عادت برابر جاری رہی۔ اس پر اس سے بھی زیادہ سخت اور صریح آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ» [5-المائدہ:90] ‏ نازل ہوئی اسے سن کر سارے صحابہ رضی اللہ عنہم بول اٹھے «اِنْتَهَیْنَا رَبَّنَا» ”اے اللہ ہم اب باز رہے، ہم رک گئے۔‏“ پھر لوگوں نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا جو شراب اور جوئے کی حرمت کے نازل ہونے سے پیشتر اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے تھے اس کے جواب میں اس کے بعد کی آیت «لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَّآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوا وَّأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ» [5-المائدہ:93] ‏، نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ان کی زندگی میں یہ حکم اترا ہوتا تو وہ بھی تمہاری طرح اسے مان لیتے ۔ [مسند احمد:351/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2433

مسند احمد میں ہے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تحریم شراب کے نازل ہونے پر فرمایا یا اللہ ہمارے سامنے اور کھول کر بیان فرما پس سورۃ البقرہ کی آیت «فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ» ‏ [2-البقرہ:219] ‏ نازل ہوئی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بلوایا گیا اور ان کے سامنے اس کی تلاوت کی گئی پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اے اللہ تو ہمیں اور واضح لفظوں میں فرما!۔‏“

پس سورۃ نساء کی آیت «لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ» [4-النساء:43] ‏ نازل ہوئی اور مؤذن جب «حی علی الصلوۃ» کہتا تو ساتھ ہی کہہ دیتا کہ نشہ باز ہرگز ہرگز نماز کے قریب بھی نہ آئیں۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا گیا اور یہ آیت بھی انہیں سنائی گئی لیکن پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا کہ ”اے اللہ اس بارے میں صفائی سے بیان فرما۔‏“ پس سورۃ المائدہ کی آیت اتری آپ رضی اللہ عنہ کو بلوایا گیا اور یہ آیت «إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ» [5-المائدہ:91] ‏ سنائی گئی جب «فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ» تک سنا تو فرمانے لگے «‏ اِنْتَهَیْنَا اِنْتَهَیْنَا» ہم رک گئے ہم رک گئے۔ [سنن ابوداود:3670، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

بخاری و مسلم میں ہے کہ ”سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے منبرنبوی پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ”شراب کی حرمت جب نازل ہوئی اس وقت شراب پانچ چیزوں کی بنائی جاتی تھی، انگور، شہد، کھجور، گہیوں اور جو۔ ہر وہ چیز جو عقل پر غالب آ جائے خمر ہے۔ یعنی شراب کے حکم میں ہے اور حرام ہے۔‏“ [صحیح بخاری:4619] ‏

صفحہ نمبر2434

صحیح بخاری میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”شراب کی حرمت کی آیت کے نزول کے موقع پر مدینے شریف میں پانچ قسم کی شرابیں تھیں ان میں انگور کی شراب نہ تھی۔‏“ [صحیح بخاری:4616] ‏

ابوداؤد طیالسی میں ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”شراب کے بارے میں تین آیتیں اتریں۔ اول تو آیت «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ» [2-البقرۃ:219] ‏ والی آیت اتری تو کہا گیا کہ شراب حرام ہوگئی۔ اس پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس سے نفع اٹھانے دیجئیے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ پھر آیت «لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ» [4-النساء:43] ‏ والی آیت اتری اور کہا گیا کہ شراب حرام ہوگئی۔ لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا رسول اللہ ہم بوقت نماز نہ پئیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر چپ رہے پھر یہ دونوں آیتیں اتری اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا کہ اب شراب حرام ہوگئی ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:5570:ضعیف] ‏

مسلم وغیرہ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دوست تھا قبیلہ ثقیف میں سے یا قبیلہ دوس میں سے۔ فتح مکہ والے دن وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور ایک مشک شراب کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفتاً دینے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام کر دیا ہے ۔ اب اس شخص نے اپنے غلام سے کہا کہ جا اسے بیچ ڈال، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کہا؟ اس نے جواب دیا کہ بیچنے کو کہہ رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس اللہ نے اس کا پینا حرام کیا ہے اسی نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا ہے ۔ اس نے اسی وقت کہا جاؤ اسے لے جاؤ اور بطحاء کے میدان میں بہا آؤ ۔ [صحیح مسلم:1579] ‏

ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ سیدنا تمیم دارمی رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دینے کیلئے ایک مشک شراب کی لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ کر ہنس دیئے اور فرمایا: یہ تو تمہارے جانے کے بعد حرام ہو گئی ہے ۔ کہا خیر یا رسول اللہ میں اسے واپس لے جاتا ہوں اور بیچ کر قیمت وصول کر لوں گا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودیوں پر اللہ کی لنعٹ ہوئی کہ ان پر جب گائے بکری کی چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کیا، اللہ تعالیٰ نے شراب کو اور اس کی قیمت کو حرام کر دیا ہے ۔ [طبرانی کبیر:1275:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2435

مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے، اس میں ہے کہ ہر سال دارمی ایک مشک ہدیہ کرتے تھے، اس کے آخر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دو مرتبہ یہ فرمانا ہے کہ شراب بھی حرام اور اس کی قیمت بھی حرام ۔ [مسند احمد:227/4:صحیح] ‏

ایک حدیث مسند احمد میں اور ہے اس میں ہے کہ کیسان رضی اللہ عنہ شراب کے تاجر تھے جس سال شراب حرام ہوئی اس سال یہ شام کے ملک سے بہت سی شراب تجارت کیلئے لائے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تو حرام ہوگئی ۔ پوچھا پھر میں اسے بیچ ڈالوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے ۔ چنانچہ کیسان رضی اللہ عنہ نے وہ ساری شراب بہا دی ۔ [مسند احمد:335/4:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں ابوعبیدہ بن جراح ابی بن کعب، سہل بن بیضاء اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کو شراب پلا رہا تھا دور چل رہا تھا سب لذت اندوز ہو رہے تھے قریب تھا کہ نشے کا پارہ بڑھ جائے، اتنے میں کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے آکر خبر دی کہ کیا تمہیں علم نہیں شراب تو حرام ہو گئی؟ انہیں نے کہا بس کرو جو باقی بچی ہے اسے لنڈھا دو اللہ کی قسم اس کے بعد ایک قطرہ بھی ان میں سے کسی کے حلق میں نہیں گیا۔ یہ شراب کھجور کی تھی اور عموماً اسی کی شراب بنا کرتی تھی ۔ یہ روایت بخاری مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:5582] ‏

صفحہ نمبر2436

اور روایت میں ہے کہ شراب خوری کی یہ مجلس سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے مکان پر تھی، ناگاہ منادی کی آواز پڑی مجھ سے کہا گیا باہر جاؤ دیکھو کیا منادی ہو رہی ہے؟ میں نے جا کر سنا منادی ندا دے رہا ہے کہ شراب تم پر حرام کی گئی ہے، میں نے آکر خبر دی تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اٹھو جتنی شراب ہے سب بہادو میں نے بہادی اور میں نے دیکھا کہ مدینے کے گلی کوچوں میں شراب بہہ رہی ہے۔ بعض اصحاب رضی اللہ عنہم نے کہا ”ان کا کیا حال ہوگا جن کے پیٹ میں شراب تھی اور وہ قتل کر دیئے گئے؟“ اس پر اس کے بعد کی آیت «لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَّآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوا وَّأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ» ‏ [5-المائدہ:93] ‏، نازل ہوئی یعنی ان پر کوئی حرج نہیں ۔ [صحیح بخاری:2464] ‏

ابن جریر کی روایت میں اس مجلس والوں کے ناموں میں ابودجانہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم کا نام بھی ہے اور یہ بھی ہے کہ ندا سنتے ہی ہم نے شراب بہا دی، مٹکے اور پیپے توڑ ڈالے۔ کسی نے وضو کر لیا، کسی نے غسل کر لیا اور ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں سے خوشبو منگوا کر لگائی اور مسجد پہنچے تو دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت پڑھ رہے تھے، ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے جو لوگ فوت ہو گئے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ پس اس کے بعد آیت اتری۔

کسی نے قتادہ رحمة الله سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث خود سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ فرمایا ”ہاں ہم جھوٹ نہیں بولتے بلکہ ہم تو جانتے بھی نہیں کہ جھوٹ کسے کہتے ہیں؟“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12531:صحیح بالشواهد] ‏

مسند احمد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے شراب اور پانسے اور بربط کا باجا حرام کر دیا ہے، شراب سے بچو «غُبَیْرَا» نام کی شراب عام ہے ۔ [مسند احمد:422/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2437

مسند احمد میں ہے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ سے وہ بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو وہ اپنی جگہ جہنم میں بنالے ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ شراب جوا پانسے اور غبیرا سب حرام ہیں اور ہر نشے والی چیز حرام ہے [مسند احمد:171/2:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے شراب کے بارے میں دس لعنتیں ہیں خود شراب پر، اس کے پینے والے پر، اس کے پلانے والے پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر اس کے نچوڑنے والے پر، اس کے بنانے والے پر، اس کے اٹھانے والے پر اور اس پر بھی جس کے پاس یہ اٹھا کر لے جایا جائے اور اس کی قیمت کھانے والے پر ۔ [سنن ابوداود:3674،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند میں ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باڑے کی طرف نکلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب چل رہا تھا جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے میں ہٹ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ چلنے لگے تھوڑی دیر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آگئے میں ہٹ گیا آپ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف ہوگئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باڑے میں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر چند مشکیں شراب کی رکھی ہوئی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: چھری لاؤ ۔ جب میں لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یہ مشکیں کاٹ دی جائیں، پھر فرمایا: شراب پر، اس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدار پر، اٹھانے والے پر، اٹھوانے والے پر، بنانے والے پر، بنوانے والے پر، قیمت لینے والے پر سب پر لعنت ہے ۔ [مسند احمد:71/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2438

مسند احمد کی اور روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مشکیں کٹوا دیں پھر مجھے اور میرے ساتھیوں کو چھری دے کر فرمایا جاؤ جتنی مشکیں شراب کی جہاں پاؤ سب کاٹ کر بہا دو، پس ہم گئے اور سارے بازار میں ایک مشک بھی نہ چھوڑی ۔ [مسند احمد:132/2:صحیح] ‏

بیہقی کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص شراب بیچتے تھے اور بہت خیرات کیا کرتے تھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے شراب فروشی کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے، اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر تمہاری کتاب کے بعد کوئی کتاب اترنے والی ہوتی اور اگر تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی اور آنے والا ہوتا، جس طرح اگلوں کی رسوائیاں اور ان کی برائیاں تمہاری کتاب میں اتریں تمہاری خرابیاں ان پر نازل ہوتیں لیکن تمہارے افعال کا اظہار قیامت کے دن پر مؤخر رکھا گیا ہے اور یہ بہت بھاری اور بڑا ہے۔‏“ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا ”سنو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گوٹھ لگائے ہوئے بیٹھے تھے فرمانے لگے جس کے پاس جتنی شراب ہو وہ ہمارے پاس لائے ۔ لوگوں نے لانی شروع کی، جس کے پاس جتنی تھی حاضر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے بقیع کے میدان میں فلاں فلاں جگہ رکھو۔ جب سب جمع ہوجائے مجھے خبر کرو ۔ جب جمع ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے جانب تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر ٹیک لگائے چل رہے تھے۔

صفحہ نمبر2439

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہٹا دیا اپنے بائیں کردیا اور میری جگہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لے لی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقت ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور پیچھے ہٹا دیا اور جناب فاروق رضی اللہ عنہ کو اپنے بائیں لے لیا اور وہاں پہنچے لوگوں سے فرمایا: جانتے ہو یہ کیا ہے؟ سب نے کہا ہاں جانتے ہیں یہ شراب ہے۔ فرمایا: سنو اس پر اس کے بنانے والے پر، بنوانے والے پر، پینے والے پر، پلانے والے پر، اٹھانے والے پر، اٹھوانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدنے والے پر، قیمت لینے والے پر اللہ کی پھٹکار ہے ۔ پھر چھری منگوائی اور فرمایا: اسے تیز کرلو ۔ پھر اپنے ہاتھ سے مشکیں پھاڑنی اور مٹکے توڑنے شروع کئے لوگوں نے کہا بھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مشکوں اور مٹکوں کو رہنے دیجئیے اور کام آئیں گی۔ فرمایا: ٹھیک ہے لیکن میں تو اب ان سب کو توڑ کر ہی رہوں گا یہ غضب و غصہ اللہ کیلئے ہے کیونکہ ان تمام چیزوں سے رب ناراض ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود کیوں تکلیف کرتے ہیں ہم حاضر ہیں۔ فرمایا: نہیں میں اپنے ہاتھ سے انہیں نیست و نابود کروں گا۔ [بیھقی:287/8:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2440

بیہقی کی حدیث میں ہے کہ ”شراب کے بارے میں چار آیتیں اتری ہیں۔ پھر حدیث بیان فرما کر کہا کہ ایک انصاری نے دعوت کی ہم دعوت میں جمع ہوئے خوب شرابیں پیں۔ نشے میں جھومتے ہوئے اپنے نام و نسب پر فخر کرنے لگے، ہم افضل ہیں۔ قریشی نے کہا ہم افضل ہیں۔ ایک انصاری نے اونٹ کے جبڑا لے کرسیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو مارا اور ہاتھا پائی ہونے لگی پھر شراب کی حرمت کی آیت اتری۔‏“ [صحیح مسلم:1748] ‏

بیہقی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ شراب پی کر بدمست ہو گئے اور آپس میں لاف زنی ہونے لگی جب نشے اترے تو دیکھتے ہیں اس کی ناک پر زخم ہے اس کے چہرے پر زخم ہے اس کی داڑھی نچی ہوئی ہے اور اسے چوٹ لگی ہوئی ہے، کہنے لگے مجھے فلاں نے مارا میری بے حرمتی فلاں نے کی اگر اس کا دل میری طرف سے صاف ہوتا تو میرے ساتھ یہ حرکت نہ کرتا دلوں میں نفرت اور دشمنی بڑھنے لگی پس یہ آیت اتری۔ اس پر بعض لوگوں نے کہا جب یہ گندگی ہے تو فلاں فلاں صحابہ رضی اللہ عنہم تو اسے پیتے ہوئے ہی رحلت کر گئے ہیں ان کا کیا حال ہو گا؟ ان میں سے بعض احد کے میدان میں شہید ہوئے ہیں اس کے جواب میں اگلی آیت «لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» [5-المائدة:93] ‏ الخ اتری۔ [بیہقی السنن الکبری:285/8:حسن] ‏

ابن جریر میں ہے ”ابوبریدہ رضی اللہ عنہ کے والد کہتے ہیں کہ ہم چار شخص ریت کے ایک ٹیلے پر بیٹھے شراب پی رہے تھے دور چل رہا تھا جام گردش میں تھا ناگہاں میں کھڑا ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سلام کیا وہیں حرمت شراب کی یہ آیت نازل ہوئی۔ میں پچھلے پیروں اپنی اسی مجلس میں آیا اور اپنے ساتھیوں کو یہ آیت پڑھ کر سنائی، بعض وہ بھی تھے، جن کے منہ سے جام لگا ہوا تھا لیکن واللہ انہوں نے اسی وقت اسے الگ کر دیا اور جتنا پیا تھا اسے قے کر کے نکال دیا اور کہنے لگے یا اللہ ہم رک گئے ہم باز آ گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12527:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2441

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ”جنگ احد کی صبح بعض لوگوں نے شرابیں پی تھیں اور میدان میں اسی روز اللہ کی راہ میں شہید کر دیئے گئے اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔‏“ [صحیح بخاری:4618] ‏

بزار میں یہ ذیادتی بھی ہے کہ اسی پر بعض یہودیوں نے اعتراض کیا اور جواب میں آیت «لَيْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ» [5-المائدہ:93] ‏ نازل ہوئی۔

ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ ایک شخص خیبر سے شراب لا کر مدینے میں فروخت کیا کرتا تھا ایک دن وہ لا رہا تھا ایک صحابی رضی اللہ عنہ راستے میں ہی اسے مل گئے اور فرمایا شراب تو اب حرام ہو گئی وہ واپس مڑگیا اور ایک ٹیلے تلے اسے کپڑے سے ڈھانپ کر آگیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کیا یہ سچ ہے کہ شراب حرام ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں سچ ہے ۔ کہا پھر مجھے اجازت دیجئیے کہ جس سے لی ہے اسے واپس کر دوں۔ فرمایا: اس کا لوٹانا بھی جائز نہیں ، کہا پھر اجازت دیجئیے کہ میں اسے ایسے شخص کو تحفہ دوں جو اس کا معاوضہ مجھے دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی ٹھیک نہیں ۔ کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس میں یتیموں کا مال بھی لگا ہوا ہے۔ فرمایا: دیکھو جب ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا اس سے ہم تمہارے یتیموں کی مدد کریں گے ۔ پھر مدینہ میں منا دی ہوگئی۔ ایک شخص نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم شراب کے برتنوں سے نفع حاصل کرنے کی اجازت دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ مشکوں کو کھول ڈالو اور شراب بہا دو اس قدر شراب بہی کہ میدان بھر گئے ۔ یہ حدیث غریب ہے۔ [مسند ابویعلیٰ:1884:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میرے ہاں جو یتیم بچے پل رہے ہیں ان کے ورثے میں انہیں شراب ملی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اس بہا دو ۔ عرض کیا اگر اجازت ہو تو اس کا سرکہ بنا لوں؟ فرمایا: نہیں ۔ یہ حدیث مسلم ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:1983] ‏

ابن ابی حاتم میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ”عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جیسے یہ آیت قرآن میں ہے تورات میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق کو نازل فرمایا تاکہ اس کی وجہ سے باطل کو دور کر دے اور اس سے کھیل تماشے باجے گاجے بربط دف طنبورہ راگ راگنیاں فنا کر دے۔ شرابی کیلئے شراب نقصان دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ ” جو اسے حرمت کے بعد پئے گا اسے میں قیامت کے دن پیاسا رکھوں گا اور حرمت کے بعد جوا سے چھوڑے گا میں اسے جنت کے پاکیزہ چشمے سے پلاؤں گا “۔‏“ [تفسیر ابن ابی حاتم:1196/4:موقوف] ‏

حدیث شریف میں ہے جس شخص نے نشہ کی وجہ سے ایک وقت کی نماز چھوڑی وہ ایسا ہے جیسے کہ سے روئے زمین کی سلطنت جھن گئی اور جس شخص نے چار بار کی نماز نشے میں چھوڑ دی اللہ تعالیٰ اسے «طِينَةِ الْخَبَالِ» پلائے گا۔ پوچھا گیا کہ یہ «طِينَةِ الْخَبَالِ» کیا ہے؟ فرمایا: جہنمیوں کا لہو پیپ پسینہ پیشاب وغیرہ ۔ [مسند احمد:178/2:حسن] ‏

صفحہ نمبر2442

ابو داؤد میں ہے کہ ہر عقل کو ڈھانپنے والی چیز خمر ہے اور ہر نشہ والی چیز حرام ہے اور جو شخص نشے والی چیز پئے گا اس کی چالیس دن کی نمازیں ناقبول ہیں۔ اگر وہ توبہ کرے گا تو توبہ قبول ہو گی اگر اس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور «طِينَةِ الْخَبَالِ» پلائے گا پوچھا گیا وہ کیا ہے؟ فرمایا جہنمیوں کا نچوڑ اور ان کی پیپ اور جو شخص اسے کسی بچہ کو پلائے گا جو حلال حرام کی تمیز نہ رکھتا ہو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اسے بھی جہنمیوں کا پیپ پلائے ۔ [سنن ابوداود:3680،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

بخاری مسلم وغیرہ میں ہے دنیا میں جو شراب پیئے گا اور توبہ نہ کرے گا وہ جنت کی شراب سے محروم رہے گا ۔ [صحیح بخاری:5575] ‏

صفحہ نمبر2443

صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر نشے والی چیز خمر ہے اور ہر نشے والی چیز حرام ہے اور جس شخص نے شراب کی عادت ڈالی اور بے توبہ مر گیا وہ جنت کی شراب سے محروم رہے گا ۔ [صحیح مسلم:2003] ‏

نسائی وغیرہ میں ہے تین شخصوں کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحمت سے نہ دیکھے گا، ماں باپ کا نافرمان، شراب کی عادت والا اور اللہ کی راہ میں دے کر احسان جتلانے والا ۔ [سنن نسائی:2563،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے کہ دے کر احسان جتانے والا، ماں باپ کا نافرمان اور شرابی جنت میں نہیں جائے گا ۔ [مسند احمد:27/3:صحیح] ‏

مسند احمد میں اس کے ساتھ ہی ہے کہ زنا کی اولاد بھی ۔ [مسند احمد:203/2:صحیح] ‏

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”شراب سے پرہیز کرو وہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ سنو اگلے لوگوں میں ایک ولی اللہ تھا جو بڑا عبادت گزر تھا اور تارک دنیا تھا۔ بستی سے الگ تھلگ ایک عبادت خانے میں شب و روز عبادت الٰہی میں مشغول رہا کرتا تھا، ایک بدکار عورت اس کے پیچھے لگ گئی، اس نے اپنی لونڈی کو بھیج کر اسے اپنے ہاں ایک شہادت کے بہانے بلوایا، یہ چلے گئے لونڈی اپنے گھر میں انہیں لے گئی جس دروازے کے اندر یہ پہنچ جاتے پیچھے سے لونڈی اسے بند کرتی جاتی۔ آخری کمرے میں جب گئے تو دیکھا کہ ایک بہت ہی خوبصورت عورت بیٹھی ہے، اس کے پاس ایک بچہ ہے اور ایک جام شراب لبالب بھرا رکھا ہے۔ اس عورت نے اس سے کہا سنئے جناب میں نے آپ کو درحقیقت کسی گواہی کیلئے نہیں بلوایا فی الواقع اس لیے بلوایا ہے کہ یا تو آپ میرے ساتھ بدکاری کریں یا اس بچے کو قتل کر دیں یا شراب کو پی لیں درویش نے سوچ کر تینوں کاموں میں ہلکا کام شراب کا پینا جان کر جام کو منہ سے لگا لیا، سارا پی گیا۔ کہنے لگا اور لاؤ اور لاؤ، خوب پیا، جب نشے میں مدہوش ہو گیا تو اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر بیٹھا اور اس لڑکے کو بھی قتل کر دیا۔ پس اے لوگو! تم شراب سے بچو سمجھ لو کہ شراب اور ایمان جمع نہیں ہوتے ایک کا آنا دوسرے کا جانا ہے۔‏“ [بیہقی] ‏

امام ابوبکر بن ابی الدنیا رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ذم المسکر میں بھی اسے وارد کیا ہے اور اس میں مرفوع ہے لیکن زیادہ صحیح اس کا موقوف ہونا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کی شاہد بخاری و مسلم کی مرفوع حدیث بھی ہے جس میں ہے کہ زانی زنا کے وقت، چور چوری کے وقت، شرابی شراب خوری کے وقت مومن نہیں رہتا ۔ [صحیح بخاری:5578] ‏

صفحہ نمبر2444

مسند احمد میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب شراب حرام ہوئی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ اس کی حرمت سے پہلے جو لوگ انتقال کر چکے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت «‏لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَّآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوا وَّأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ» ‏ [5-المائدہ:93] ‏، نازل ہوئی یعنی ” ان پر اس میں کوئی حرج نہیں “ اور جب بیت المقدس کا قبلہ بدلا اور بیت اللہ شریف قبلہ ہوا اس وقت بھی صحابہ رضی اللہ عنہم نے پہلے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے انتقال کر جانے والوں کی نسبت دریافت کیا تو آیت «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ» [2-البقرۃ:143] ‏ الخ، نازل ہوئی یعنی ” ان کی نمازیں ضائع نہ ہوں گی “۔ [مسند احمد:295/1:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے جو شخص شراب پئے چالیس دن تک اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس پر رہتی ہے اگر وہ اسی حالت میں مرگیا تو کافر مرے گا ہاں اگر اس نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا اور اگر اس نے پھر بھی شراب پی تو اللہ تعالیٰ دوزخیوں کا فضلہ پلائے گا ۔ [مسند احمد:295/1:حسن] ‏

اور روایت میں ہے کہ جب یہ حکم اترا کہ ایمانداروں پر حرمت سے پہلے پی ہوئی کا کوئی گناہ نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے کہا گیا ہے کہ تو انہی میں سے ہے ۔ [صحیح مسلم:2454] ‏

مسند احمد میں ہے پانسوں کے کھیل سے بچو یہ عجمیوں کا جوا ہے ۔ [مجمع الزوائد:116/8:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2445

حرمت شراب کی مزید وضاحت ٭٭

اب ہم یہاں پر حرمت شراب کی مزید احادیث وارد کرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں شراب تین مرتبہ حرام ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے شریف میں آئے تو لوگ جواری شرابی تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال ہوا اور آیت «يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيْهِمَآ اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّمَنَافِعُ للنَّاسِ ۡ وَاِثْـمُهُمَآ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا» [2-البقرۃ:219] ‏ نازل ہوئی۔ اس پر لوگوں نے کہا یہ دونوں چیزیں ہم پر حرام نہیں کی گئیں بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ ” ان میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کیلئے کچھ فوائد بھی ہیں “۔ چنانچہ شراب پیتے رہے۔ ایک دن ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کو مغرب کی نماز پڑھانے کیلئے کھڑے ہوئے تو قرأت خط ملط ہو گئی اس پر آیت «‏يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا» [4-النسآء:43] ‏ نازل ہوئی۔ یہ بہ نسبت پہلی آیت کے زیادہ سخت تھی اب لوگوں نے نمازوں کے وقت شراب چھوڑ دی لیکن عادت برابر جاری رہی۔ اس پر اس سے بھی زیادہ سخت اور صریح آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ» [5-المائدہ:90] ‏ نازل ہوئی اسے سن کر سارے صحابہ رضی اللہ عنہم بول اٹھے «اِنْتَهَیْنَا رَبَّنَا» ”اے اللہ ہم اب باز رہے، ہم رک گئے۔‏“ پھر لوگوں نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا جو شراب اور جوئے کی حرمت کے نازل ہونے سے پیشتر اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے تھے اس کے جواب میں اس کے بعد کی آیت «لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَّآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوا وَّأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ» [5-المائدہ:93] ‏، نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ان کی زندگی میں یہ حکم اترا ہوتا تو وہ بھی تمہاری طرح اسے مان لیتے ۔ [مسند احمد:351/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2433

مسند احمد میں ہے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تحریم شراب کے نازل ہونے پر فرمایا یا اللہ ہمارے سامنے اور کھول کر بیان فرما پس سورۃ البقرہ کی آیت «فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ» ‏ [2-البقرہ:219] ‏ نازل ہوئی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بلوایا گیا اور ان کے سامنے اس کی تلاوت کی گئی پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اے اللہ تو ہمیں اور واضح لفظوں میں فرما!۔‏“

پس سورۃ نساء کی آیت «لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ» [4-النساء:43] ‏ نازل ہوئی اور مؤذن جب «حی علی الصلوۃ» کہتا تو ساتھ ہی کہہ دیتا کہ نشہ باز ہرگز ہرگز نماز کے قریب بھی نہ آئیں۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا گیا اور یہ آیت بھی انہیں سنائی گئی لیکن پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا کہ ”اے اللہ اس بارے میں صفائی سے بیان فرما۔‏“ پس سورۃ المائدہ کی آیت اتری آپ رضی اللہ عنہ کو بلوایا گیا اور یہ آیت «إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ» [5-المائدہ:91] ‏ سنائی گئی جب «فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ» تک سنا تو فرمانے لگے «‏ اِنْتَهَیْنَا اِنْتَهَیْنَا» ہم رک گئے ہم رک گئے۔ [سنن ابوداود:3670، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

بخاری و مسلم میں ہے کہ ”سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے منبرنبوی پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ”شراب کی حرمت جب نازل ہوئی اس وقت شراب پانچ چیزوں کی بنائی جاتی تھی، انگور، شہد، کھجور، گہیوں اور جو۔ ہر وہ چیز جو عقل پر غالب آ جائے خمر ہے۔ یعنی شراب کے حکم میں ہے اور حرام ہے۔‏“ [صحیح بخاری:4619] ‏

صفحہ نمبر2434

صحیح بخاری میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”شراب کی حرمت کی آیت کے نزول کے موقع پر مدینے شریف میں پانچ قسم کی شرابیں تھیں ان میں انگور کی شراب نہ تھی۔‏“ [صحیح بخاری:4616] ‏

ابوداؤد طیالسی میں ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”شراب کے بارے میں تین آیتیں اتریں۔ اول تو آیت «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ» [2-البقرۃ:219] ‏ والی آیت اتری تو کہا گیا کہ شراب حرام ہوگئی۔ اس پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس سے نفع اٹھانے دیجئیے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ پھر آیت «لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ» [4-النساء:43] ‏ والی آیت اتری اور کہا گیا کہ شراب حرام ہوگئی۔ لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا رسول اللہ ہم بوقت نماز نہ پئیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر چپ رہے پھر یہ دونوں آیتیں اتری اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا کہ اب شراب حرام ہوگئی ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:5570:ضعیف] ‏

مسلم وغیرہ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دوست تھا قبیلہ ثقیف میں سے یا قبیلہ دوس میں سے۔ فتح مکہ والے دن وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور ایک مشک شراب کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفتاً دینے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام کر دیا ہے ۔ اب اس شخص نے اپنے غلام سے کہا کہ جا اسے بیچ ڈال، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کہا؟ اس نے جواب دیا کہ بیچنے کو کہہ رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس اللہ نے اس کا پینا حرام کیا ہے اسی نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا ہے ۔ اس نے اسی وقت کہا جاؤ اسے لے جاؤ اور بطحاء کے میدان میں بہا آؤ ۔ [صحیح مسلم:1579] ‏

ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ سیدنا تمیم دارمی رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دینے کیلئے ایک مشک شراب کی لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ کر ہنس دیئے اور فرمایا: یہ تو تمہارے جانے کے بعد حرام ہو گئی ہے ۔ کہا خیر یا رسول اللہ میں اسے واپس لے جاتا ہوں اور بیچ کر قیمت وصول کر لوں گا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودیوں پر اللہ کی لنعٹ ہوئی کہ ان پر جب گائے بکری کی چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کیا، اللہ تعالیٰ نے شراب کو اور اس کی قیمت کو حرام کر دیا ہے ۔ [طبرانی کبیر:1275:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2435

مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے، اس میں ہے کہ ہر سال دارمی ایک مشک ہدیہ کرتے تھے، اس کے آخر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دو مرتبہ یہ فرمانا ہے کہ شراب بھی حرام اور اس کی قیمت بھی حرام ۔ [مسند احمد:227/4:صحیح] ‏

ایک حدیث مسند احمد میں اور ہے اس میں ہے کہ کیسان رضی اللہ عنہ شراب کے تاجر تھے جس سال شراب حرام ہوئی اس سال یہ شام کے ملک سے بہت سی شراب تجارت کیلئے لائے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تو حرام ہوگئی ۔ پوچھا پھر میں اسے بیچ ڈالوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے ۔ چنانچہ کیسان رضی اللہ عنہ نے وہ ساری شراب بہا دی ۔ [مسند احمد:335/4:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں ابوعبیدہ بن جراح ابی بن کعب، سہل بن بیضاء اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کو شراب پلا رہا تھا دور چل رہا تھا سب لذت اندوز ہو رہے تھے قریب تھا کہ نشے کا پارہ بڑھ جائے، اتنے میں کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے آکر خبر دی کہ کیا تمہیں علم نہیں شراب تو حرام ہو گئی؟ انہیں نے کہا بس کرو جو باقی بچی ہے اسے لنڈھا دو اللہ کی قسم اس کے بعد ایک قطرہ بھی ان میں سے کسی کے حلق میں نہیں گیا۔ یہ شراب کھجور کی تھی اور عموماً اسی کی شراب بنا کرتی تھی ۔ یہ روایت بخاری مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:5582] ‏

صفحہ نمبر2436

اور روایت میں ہے کہ شراب خوری کی یہ مجلس سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے مکان پر تھی، ناگاہ منادی کی آواز پڑی مجھ سے کہا گیا باہر جاؤ دیکھو کیا منادی ہو رہی ہے؟ میں نے جا کر سنا منادی ندا دے رہا ہے کہ شراب تم پر حرام کی گئی ہے، میں نے آکر خبر دی تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اٹھو جتنی شراب ہے سب بہادو میں نے بہادی اور میں نے دیکھا کہ مدینے کے گلی کوچوں میں شراب بہہ رہی ہے۔ بعض اصحاب رضی اللہ عنہم نے کہا ”ان کا کیا حال ہوگا جن کے پیٹ میں شراب تھی اور وہ قتل کر دیئے گئے؟“ اس پر اس کے بعد کی آیت «لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَّآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوا وَّأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ» ‏ [5-المائدہ:93] ‏، نازل ہوئی یعنی ان پر کوئی حرج نہیں ۔ [صحیح بخاری:2464] ‏

ابن جریر کی روایت میں اس مجلس والوں کے ناموں میں ابودجانہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم کا نام بھی ہے اور یہ بھی ہے کہ ندا سنتے ہی ہم نے شراب بہا دی، مٹکے اور پیپے توڑ ڈالے۔ کسی نے وضو کر لیا، کسی نے غسل کر لیا اور ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں سے خوشبو منگوا کر لگائی اور مسجد پہنچے تو دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت پڑھ رہے تھے، ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے جو لوگ فوت ہو گئے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ پس اس کے بعد آیت اتری۔

کسی نے قتادہ رحمة الله سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث خود سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ فرمایا ”ہاں ہم جھوٹ نہیں بولتے بلکہ ہم تو جانتے بھی نہیں کہ جھوٹ کسے کہتے ہیں؟“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12531:صحیح بالشواهد] ‏

مسند احمد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے شراب اور پانسے اور بربط کا باجا حرام کر دیا ہے، شراب سے بچو «غُبَیْرَا» نام کی شراب عام ہے ۔ [مسند احمد:422/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2437

مسند احمد میں ہے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ سے وہ بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو وہ اپنی جگہ جہنم میں بنالے ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ شراب جوا پانسے اور غبیرا سب حرام ہیں اور ہر نشے والی چیز حرام ہے [مسند احمد:171/2:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے شراب کے بارے میں دس لعنتیں ہیں خود شراب پر، اس کے پینے والے پر، اس کے پلانے والے پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر اس کے نچوڑنے والے پر، اس کے بنانے والے پر، اس کے اٹھانے والے پر اور اس پر بھی جس کے پاس یہ اٹھا کر لے جایا جائے اور اس کی قیمت کھانے والے پر ۔ [سنن ابوداود:3674،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند میں ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باڑے کی طرف نکلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب چل رہا تھا جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے میں ہٹ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ چلنے لگے تھوڑی دیر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آگئے میں ہٹ گیا آپ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف ہوگئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باڑے میں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر چند مشکیں شراب کی رکھی ہوئی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: چھری لاؤ ۔ جب میں لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یہ مشکیں کاٹ دی جائیں، پھر فرمایا: شراب پر، اس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدار پر، اٹھانے والے پر، اٹھوانے والے پر، بنانے والے پر، بنوانے والے پر، قیمت لینے والے پر سب پر لعنت ہے ۔ [مسند احمد:71/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2438

مسند احمد کی اور روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مشکیں کٹوا دیں پھر مجھے اور میرے ساتھیوں کو چھری دے کر فرمایا جاؤ جتنی مشکیں شراب کی جہاں پاؤ سب کاٹ کر بہا دو، پس ہم گئے اور سارے بازار میں ایک مشک بھی نہ چھوڑی ۔ [مسند احمد:132/2:صحیح] ‏

بیہقی کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص شراب بیچتے تھے اور بہت خیرات کیا کرتے تھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے شراب فروشی کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے، اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر تمہاری کتاب کے بعد کوئی کتاب اترنے والی ہوتی اور اگر تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی اور آنے والا ہوتا، جس طرح اگلوں کی رسوائیاں اور ان کی برائیاں تمہاری کتاب میں اتریں تمہاری خرابیاں ان پر نازل ہوتیں لیکن تمہارے افعال کا اظہار قیامت کے دن پر مؤخر رکھا گیا ہے اور یہ بہت بھاری اور بڑا ہے۔‏“ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا ”سنو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گوٹھ لگائے ہوئے بیٹھے تھے فرمانے لگے جس کے پاس جتنی شراب ہو وہ ہمارے پاس لائے ۔ لوگوں نے لانی شروع کی، جس کے پاس جتنی تھی حاضر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے بقیع کے میدان میں فلاں فلاں جگہ رکھو۔ جب سب جمع ہوجائے مجھے خبر کرو ۔ جب جمع ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے جانب تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر ٹیک لگائے چل رہے تھے۔

صفحہ نمبر2439

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہٹا دیا اپنے بائیں کردیا اور میری جگہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لے لی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقت ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور پیچھے ہٹا دیا اور جناب فاروق رضی اللہ عنہ کو اپنے بائیں لے لیا اور وہاں پہنچے لوگوں سے فرمایا: جانتے ہو یہ کیا ہے؟ سب نے کہا ہاں جانتے ہیں یہ شراب ہے۔ فرمایا: سنو اس پر اس کے بنانے والے پر، بنوانے والے پر، پینے والے پر، پلانے والے پر، اٹھانے والے پر، اٹھوانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدنے والے پر، قیمت لینے والے پر اللہ کی پھٹکار ہے ۔ پھر چھری منگوائی اور فرمایا: اسے تیز کرلو ۔ پھر اپنے ہاتھ سے مشکیں پھاڑنی اور مٹکے توڑنے شروع کئے لوگوں نے کہا بھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مشکوں اور مٹکوں کو رہنے دیجئیے اور کام آئیں گی۔ فرمایا: ٹھیک ہے لیکن میں تو اب ان سب کو توڑ کر ہی رہوں گا یہ غضب و غصہ اللہ کیلئے ہے کیونکہ ان تمام چیزوں سے رب ناراض ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود کیوں تکلیف کرتے ہیں ہم حاضر ہیں۔ فرمایا: نہیں میں اپنے ہاتھ سے انہیں نیست و نابود کروں گا۔ [بیھقی:287/8:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2440

بیہقی کی حدیث میں ہے کہ ”شراب کے بارے میں چار آیتیں اتری ہیں۔ پھر حدیث بیان فرما کر کہا کہ ایک انصاری نے دعوت کی ہم دعوت میں جمع ہوئے خوب شرابیں پیں۔ نشے میں جھومتے ہوئے اپنے نام و نسب پر فخر کرنے لگے، ہم افضل ہیں۔ قریشی نے کہا ہم افضل ہیں۔ ایک انصاری نے اونٹ کے جبڑا لے کرسیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو مارا اور ہاتھا پائی ہونے لگی پھر شراب کی حرمت کی آیت اتری۔‏“ [صحیح مسلم:1748] ‏

بیہقی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ شراب پی کر بدمست ہو گئے اور آپس میں لاف زنی ہونے لگی جب نشے اترے تو دیکھتے ہیں اس کی ناک پر زخم ہے اس کے چہرے پر زخم ہے اس کی داڑھی نچی ہوئی ہے اور اسے چوٹ لگی ہوئی ہے، کہنے لگے مجھے فلاں نے مارا میری بے حرمتی فلاں نے کی اگر اس کا دل میری طرف سے صاف ہوتا تو میرے ساتھ یہ حرکت نہ کرتا دلوں میں نفرت اور دشمنی بڑھنے لگی پس یہ آیت اتری۔ اس پر بعض لوگوں نے کہا جب یہ گندگی ہے تو فلاں فلاں صحابہ رضی اللہ عنہم تو اسے پیتے ہوئے ہی رحلت کر گئے ہیں ان کا کیا حال ہو گا؟ ان میں سے بعض احد کے میدان میں شہید ہوئے ہیں اس کے جواب میں اگلی آیت «لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» [5-المائدة:93] ‏ الخ اتری۔ [بیہقی السنن الکبری:285/8:حسن] ‏

ابن جریر میں ہے ”ابوبریدہ رضی اللہ عنہ کے والد کہتے ہیں کہ ہم چار شخص ریت کے ایک ٹیلے پر بیٹھے شراب پی رہے تھے دور چل رہا تھا جام گردش میں تھا ناگہاں میں کھڑا ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سلام کیا وہیں حرمت شراب کی یہ آیت نازل ہوئی۔ میں پچھلے پیروں اپنی اسی مجلس میں آیا اور اپنے ساتھیوں کو یہ آیت پڑھ کر سنائی، بعض وہ بھی تھے، جن کے منہ سے جام لگا ہوا تھا لیکن واللہ انہوں نے اسی وقت اسے الگ کر دیا اور جتنا پیا تھا اسے قے کر کے نکال دیا اور کہنے لگے یا اللہ ہم رک گئے ہم باز آ گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12527:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2441

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ”جنگ احد کی صبح بعض لوگوں نے شرابیں پی تھیں اور میدان میں اسی روز اللہ کی راہ میں شہید کر دیئے گئے اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔‏“ [صحیح بخاری:4618] ‏

بزار میں یہ ذیادتی بھی ہے کہ اسی پر بعض یہودیوں نے اعتراض کیا اور جواب میں آیت «لَيْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ» [5-المائدہ:93] ‏ نازل ہوئی۔

ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ ایک شخص خیبر سے شراب لا کر مدینے میں فروخت کیا کرتا تھا ایک دن وہ لا رہا تھا ایک صحابی رضی اللہ عنہ راستے میں ہی اسے مل گئے اور فرمایا شراب تو اب حرام ہو گئی وہ واپس مڑگیا اور ایک ٹیلے تلے اسے کپڑے سے ڈھانپ کر آگیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کیا یہ سچ ہے کہ شراب حرام ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں سچ ہے ۔ کہا پھر مجھے اجازت دیجئیے کہ جس سے لی ہے اسے واپس کر دوں۔ فرمایا: اس کا لوٹانا بھی جائز نہیں ، کہا پھر اجازت دیجئیے کہ میں اسے ایسے شخص کو تحفہ دوں جو اس کا معاوضہ مجھے دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی ٹھیک نہیں ۔ کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس میں یتیموں کا مال بھی لگا ہوا ہے۔ فرمایا: دیکھو جب ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا اس سے ہم تمہارے یتیموں کی مدد کریں گے ۔ پھر مدینہ میں منا دی ہوگئی۔ ایک شخص نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم شراب کے برتنوں سے نفع حاصل کرنے کی اجازت دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ مشکوں کو کھول ڈالو اور شراب بہا دو اس قدر شراب بہی کہ میدان بھر گئے ۔ یہ حدیث غریب ہے۔ [مسند ابویعلیٰ:1884:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میرے ہاں جو یتیم بچے پل رہے ہیں ان کے ورثے میں انہیں شراب ملی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اس بہا دو ۔ عرض کیا اگر اجازت ہو تو اس کا سرکہ بنا لوں؟ فرمایا: نہیں ۔ یہ حدیث مسلم ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:1983] ‏

ابن ابی حاتم میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ”عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جیسے یہ آیت قرآن میں ہے تورات میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق کو نازل فرمایا تاکہ اس کی وجہ سے باطل کو دور کر دے اور اس سے کھیل تماشے باجے گاجے بربط دف طنبورہ راگ راگنیاں فنا کر دے۔ شرابی کیلئے شراب نقصان دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ ” جو اسے حرمت کے بعد پئے گا اسے میں قیامت کے دن پیاسا رکھوں گا اور حرمت کے بعد جوا سے چھوڑے گا میں اسے جنت کے پاکیزہ چشمے سے پلاؤں گا “۔‏“ [تفسیر ابن ابی حاتم:1196/4:موقوف] ‏

حدیث شریف میں ہے جس شخص نے نشہ کی وجہ سے ایک وقت کی نماز چھوڑی وہ ایسا ہے جیسے کہ سے روئے زمین کی سلطنت جھن گئی اور جس شخص نے چار بار کی نماز نشے میں چھوڑ دی اللہ تعالیٰ اسے «طِينَةِ الْخَبَالِ» پلائے گا۔ پوچھا گیا کہ یہ «طِينَةِ الْخَبَالِ» کیا ہے؟ فرمایا: جہنمیوں کا لہو پیپ پسینہ پیشاب وغیرہ ۔ [مسند احمد:178/2:حسن] ‏

صفحہ نمبر2442

ابو داؤد میں ہے کہ ہر عقل کو ڈھانپنے والی چیز خمر ہے اور ہر نشہ والی چیز حرام ہے اور جو شخص نشے والی چیز پئے گا اس کی چالیس دن کی نمازیں ناقبول ہیں۔ اگر وہ توبہ کرے گا تو توبہ قبول ہو گی اگر اس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور «طِينَةِ الْخَبَالِ» پلائے گا پوچھا گیا وہ کیا ہے؟ فرمایا جہنمیوں کا نچوڑ اور ان کی پیپ اور جو شخص اسے کسی بچہ کو پلائے گا جو حلال حرام کی تمیز نہ رکھتا ہو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اسے بھی جہنمیوں کا پیپ پلائے ۔ [سنن ابوداود:3680،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

بخاری مسلم وغیرہ میں ہے دنیا میں جو شراب پیئے گا اور توبہ نہ کرے گا وہ جنت کی شراب سے محروم رہے گا ۔ [صحیح بخاری:5575] ‏

صفحہ نمبر2443

صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر نشے والی چیز خمر ہے اور ہر نشے والی چیز حرام ہے اور جس شخص نے شراب کی عادت ڈالی اور بے توبہ مر گیا وہ جنت کی شراب سے محروم رہے گا ۔ [صحیح مسلم:2003] ‏

نسائی وغیرہ میں ہے تین شخصوں کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحمت سے نہ دیکھے گا، ماں باپ کا نافرمان، شراب کی عادت والا اور اللہ کی راہ میں دے کر احسان جتلانے والا ۔ [سنن نسائی:2563،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے کہ دے کر احسان جتانے والا، ماں باپ کا نافرمان اور شرابی جنت میں نہیں جائے گا ۔ [مسند احمد:27/3:صحیح] ‏

مسند احمد میں اس کے ساتھ ہی ہے کہ زنا کی اولاد بھی ۔ [مسند احمد:203/2:صحیح] ‏

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”شراب سے پرہیز کرو وہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ سنو اگلے لوگوں میں ایک ولی اللہ تھا جو بڑا عبادت گزر تھا اور تارک دنیا تھا۔ بستی سے الگ تھلگ ایک عبادت خانے میں شب و روز عبادت الٰہی میں مشغول رہا کرتا تھا، ایک بدکار عورت اس کے پیچھے لگ گئی، اس نے اپنی لونڈی کو بھیج کر اسے اپنے ہاں ایک شہادت کے بہانے بلوایا، یہ چلے گئے لونڈی اپنے گھر میں انہیں لے گئی جس دروازے کے اندر یہ پہنچ جاتے پیچھے سے لونڈی اسے بند کرتی جاتی۔ آخری کمرے میں جب گئے تو دیکھا کہ ایک بہت ہی خوبصورت عورت بیٹھی ہے، اس کے پاس ایک بچہ ہے اور ایک جام شراب لبالب بھرا رکھا ہے۔ اس عورت نے اس سے کہا سنئے جناب میں نے آپ کو درحقیقت کسی گواہی کیلئے نہیں بلوایا فی الواقع اس لیے بلوایا ہے کہ یا تو آپ میرے ساتھ بدکاری کریں یا اس بچے کو قتل کر دیں یا شراب کو پی لیں درویش نے سوچ کر تینوں کاموں میں ہلکا کام شراب کا پینا جان کر جام کو منہ سے لگا لیا، سارا پی گیا۔ کہنے لگا اور لاؤ اور لاؤ، خوب پیا، جب نشے میں مدہوش ہو گیا تو اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر بیٹھا اور اس لڑکے کو بھی قتل کر دیا۔ پس اے لوگو! تم شراب سے بچو سمجھ لو کہ شراب اور ایمان جمع نہیں ہوتے ایک کا آنا دوسرے کا جانا ہے۔‏“ [بیہقی] ‏

امام ابوبکر بن ابی الدنیا رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ذم المسکر میں بھی اسے وارد کیا ہے اور اس میں مرفوع ہے لیکن زیادہ صحیح اس کا موقوف ہونا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کی شاہد بخاری و مسلم کی مرفوع حدیث بھی ہے جس میں ہے کہ زانی زنا کے وقت، چور چوری کے وقت، شرابی شراب خوری کے وقت مومن نہیں رہتا ۔ [صحیح بخاری:5578] ‏

صفحہ نمبر2444

مسند احمد میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب شراب حرام ہوئی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ اس کی حرمت سے پہلے جو لوگ انتقال کر چکے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت «‏لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَّآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوا وَّأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ» ‏ [5-المائدہ:93] ‏، نازل ہوئی یعنی ” ان پر اس میں کوئی حرج نہیں “ اور جب بیت المقدس کا قبلہ بدلا اور بیت اللہ شریف قبلہ ہوا اس وقت بھی صحابہ رضی اللہ عنہم نے پہلے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے انتقال کر جانے والوں کی نسبت دریافت کیا تو آیت «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ» [2-البقرۃ:143] ‏ الخ، نازل ہوئی یعنی ” ان کی نمازیں ضائع نہ ہوں گی “۔ [مسند احمد:295/1:صحیح] ‏

مسند احمد میں ہے جو شخص شراب پئے چالیس دن تک اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس پر رہتی ہے اگر وہ اسی حالت میں مرگیا تو کافر مرے گا ہاں اگر اس نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا اور اگر اس نے پھر بھی شراب پی تو اللہ تعالیٰ دوزخیوں کا فضلہ پلائے گا ۔ [مسند احمد:295/1:حسن] ‏

اور روایت میں ہے کہ جب یہ حکم اترا کہ ایمانداروں پر حرمت سے پہلے پی ہوئی کا کوئی گناہ نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے کہا گیا ہے کہ تو انہی میں سے ہے ۔ [صحیح مسلم:2454] ‏

مسند احمد میں ہے پانسوں کے کھیل سے بچو یہ عجمیوں کا جوا ہے ۔ [مجمع الزوائد:116/8:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2445

احرام میں شکار کے مسائل کی تفصیلات ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چھوٹے چھوٹے شکار اور کمزور شکار اور ان کے بچے جنہیں انسان اپنے ہاتھ سے پکڑلے اور اپنے نیزے کی نوک پر رکھ لے اس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرے گا۔ یعنی انہیں منع فرمایا ہے کہ تم باوجود اس کے بھی ان کا شکار حالت احرام میں نہ کرو خواہ چھوٹے ہوں خواہ بڑے خواہ آسانی سے شکار ہو سکتا ہو خواہ سختی سے۔

چنانچہ عمرہ حدیبیہ کے موقعہ پر یہی ہوا کہ قسم قسم کے شکار اس قدر بکثرت آپڑے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے خیموں میں گھسنے لگے ادھر اللہ کی طرف سے ممانعت ہوگئی تاکہ پوری آزمائش ہو جائے ادھر شکار گویا ہنڈیا میں ہے ادھر ممانعت ہے ہتھیار تو کہاں یونہی اگر چاہیں تو ہاتھ سے پکڑ سکتے ہیں اور پوشیدہ طور سے شکار قبضہ میں کر سکتے ہیں۔ یہ صرف اس لیے تھا کہ فرمانبردار اور نافرمان کا امتحان ہو جائے پوشیدگی میں بھی اللہ کا ڈر رکھنے والے غیروں سے ممتاز ہو جائیں۔ چنانچہ فرمان ہے کہ ” جو لوگ اللہ تعالیٰ سے غائبانہ ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بڑی بھاری مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔ اب جو شخص اس حکم کے آنے کے بعد بھی حالت احرام میں شکار کھیلے گا شریعت کی مخالفت کرے گا “۔

صفحہ نمبر2447

پھر فرمایا ” ایماندارو حالت احرام میں شکار نہ کھیلو “۔ یہ حکم اپنے معنی کی حیثیت سے تو حلال جانوروں اور ان سے جو چیزیں حاصل ہوتی ہیں کیلئے ہے، لیکن جو خشکی کے حرام جانور ہیں ان کا شکار کھیلنا امام شافعی رحمة الله کے نزدیک تو جائز ہے اور جمہور کے نزدیک حرام ہے، ہاں اس عام الحکم سے صرف وہ چیزیں مخصوص ہیں جن کا ذکر بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور فاسق ہیں وہ حرام میں قتل کر دیئے جائیں اور غیر حرم میں بھی، کوا، چیل بچھو، چوہا اور کانٹے والا کالا کتا ۔ [صحیح بخاری:3314] ‏

اور روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ ان پانچ جانوروں کے قتل میں احرام والے پر بھی کوئی گناہ نہیں ۔ [صحیح بخاری:1862] ‏

اس روایت کو سن کر حضرت ایوب رحمہ اللہ اپنے استاد نافع رحمہ اللہ سے پوچھتے ہیں کہ سانپ کا کیا حکم ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”وہ اس میں شامل ہے یہ بھی قتل کر دیا جائے۔‏“ اس میں کسی کو اختلاف نہیں بعض علماء نے جیسے امام احمد،امام مالک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ نے کتے کے حکم پر درندوں کو بھی رکھا ہے جیسے بھیڑیا شیر وغیرہ۔ اس لیے کہ یہ کتے سے بہت زیادہ ضرر والے ہیں۔ زید بن اسلم اور سفیان بن عیینہ رحمة الله علیہم فرماتے ہیں کہ ہر حملہ کرنے والے درندے کا حکم ہے دیکھئیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ بن ابولہب کے حق میں جب دعا کی تو فرمایا: اے اللہ اس پر شام میں اپنا کوئی کتا مقرر کر دے ، پاس جب وہ زرقا میں پہنچا وہاں اسے بھیڑئیے نے پھاڑ ڈالا۔

ہاں اگر محرم نے حالت احرام میں کوے کو یا لومڑی وغیرہ کو مار ڈالا تو اسے بدلہ دینا پڑے گا۔ اسی طرح ان پانچوں قسم کے جانوروں کے بچے اور حملہ کرنے والے درندوں کے بچے بھی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔

صفحہ نمبر2448

امام شافعی رحمة الله فرماتے ہیں ”ہر وہ جانور جو کھایا نہیں جاتا اس کے قتل میں اور اس کے بچوں کے قتل میں محرم پر کوئی حرج نہیں، وجہ یہ ہے کہ ان کا گوشت کھایا نہیں جاتا۔‏“ امام ابوحنیفہ رحمة الله فرماتے ہیں ”کالا کتا حملہ کرنے والا اور بھیڑیا تو محرم قتل کرسکتا ہے اس لیے کہ بھیڑیا بھی جنگلی کتا ہے ان کے سوا جس جانور کا شکار کھیلے گا فدیہ دنیا پڑے گا۔ ہاں اگر کوئی شیر وغیرہ جنگی درندہ اس پر حملہ کرے اور یہ اسے مار ڈالے تو اس صورت میں فدیہ نہیں۔‏“ آپ رحمہ اللہ کے شاگرد زفر رحمة الله کہتے ہیں یہ حملہ کرنے کی صورت میں بھی اگر مار ڈالے گا تو فدیہ دینا پڑے گا۔

بعض احادیث میں «الْغُرَابُ الْأَبْقَعُ» کا لفظ آیا ہے [صحیح مسلم:1198] ‏ یہ وہ کوا ہے جس کے پیٹ اور پیٹھ پر سفیدی ہوتی ہے۔ مطلق سیاہ اور بالکل سفید کوے کو غراب ابقع نہیں کہتے لیکن جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ہر قسم کے کوے کا یہی حکم ہے کیونکہ بخاری و مسلم کی حدیث میں مطلق کوے کا ذکر ہے۔

امام ملک رحمة الله فرماتے ہیں کوے کو بھی اس حال میں مار سکتا ہے کہ وہ اس پر حملہ کرے یا اسے ایذاء دے مجاہد رحمة الله وغیرہ کا قول ہے کہ اس حالت میں بھی مار نہ ڈالے بلکہ اسے پتھر وغیرہ پھینک کر ہٹا دے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ محرم کس کس جانور کو قتل کر دے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپ، بچھو اور چوہا اور کوے کو کنکر مارے اسے مار نہ ڈالے اور کالا کتا اور چیل اور حملہ کرنے والا درندہ ۔ [سنن ابوداود:1198،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2449

پھر فرماتا ہے کہ ” جو شخص جان بوجھ کر حالت احرام میں شکار کرے اس پر فدیہ ہے “۔ حضرت طاؤس رحمة الله کا فرمان ہے کہ ”خطا سے قتل کرنے والے پر کچھ نہیں۔‏“

لیکن یہ مذہب غریب ہے اور آیت کے ظاہری الفاظ سے یہی مشتق ہے۔ مجاہد بن جیبر رحمة الله سے مروی ہے کہ ”مراد وہ شخص ہے جو شکار تو قصداً کرتا ہے لیکن اپنی حالت احرام کی یاد اسے نہیں رہی۔ لیکن جو شخص باوجود احرام کی یاد کے عمداً شکار کرے وہ تو کفارے کی حد سے نکل گیا اس کا احرام باطل ہوگیا۔‏“ یہ قول بھی غریب ہے۔

جمہور کا مذہب یہ ہے کہ قصداً شکار کرنے والا اور بھول کر کرنے والا دونوں کفارے میں برابر ہیں امام زہری رحمة الله فرماتے ہیں ”قرآن سے تو قصداً شکار کھیلنے والے پر کفارہ ثابت ہوا اور حدیث نے یہی حکم بھولنے والے کا بھی بیان فرمایا۔‏“ مطلب اس قول کا یہ ہے کہ قصداً شکار کھیلنے والے پر کفارہ قرآن کریم سے ثابت ہے اور اس کا گنہگار ہونا بھی۔ کیونکہ اس کے بعد آیت «لِّيَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِهٖ» [5-المائدہ:95] ‏ میں فرمایا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم سے خطا میں بھی یہی حکم ثابت ہے اور اس لیے بھی کہ شکار کو قتل کرنا اس کا تلف کرنا ہے اور ہر تلف کرنے کا بدلہ ضروری ہے خواہ وہ بالقصد ہو یا انجان پنے سے ہو۔ ہاں قصداً کرنے والا گنہگار بھی ہے اور بلا قصد جس سے سرزد ہو جائے وہ قابل ملامت نہیں۔

صفحہ نمبر2450

پھر فرمایا ” اس کا بدلہ یہ ہے کہ اسی کے مثل چوپایہ جانور راہ للہ قربان کرے “۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «فَجَزَاۤؤُهُ» ہے ان دونوں قرأتوں میں مالک، شافعی، احمد رحمة الله علیہم اور جمہور کی دلیل ہے کہ جب شکار چوپایوں کی مانند ہو تو وہی اس کے بدلے میں دینا ہوگا۔

امام ابوحنیفہ رحمة الله اس کے خلاف کہتے ہیں کہ خواہ شکار کے کسی جانور کی مثل ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں قیمت دینی پڑے گی ہاں اس محرم شکاری کو اختیار ہے کہ خواہ اس قیمت کو صدقہ کردے خواہ اس سے قربانی کا کوئی جانور خرید لے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ امام صاحب کے اس قول سے صحابہ رضی اللہ عنہم کا فیصلہ ہمارے لیے زیادہ قابل عمل ہے انہوں نے شترمرغ کے شکار کے بدلے اونٹ مقرر کیا ہے اور جنگلی گائے کے بدلے پالتو گائے مقرر فرمائی ہے اور ہرن کے بدلے بکری۔ یہ فیصلے ان بزرگ صحابیوں کی سندوں سمیت احکام کی کتابوں میں موجود ہیں جہاں شکار جیسا اور کوئی پالتو چوپایہ نہ ہو اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فیصلہ قیمت کا ہے جو مکہ شریف پہنچائی جائے۔ [بیہقی] ‏

صفحہ نمبر2451

پھر فرمایا کہ ” اس کا فیصلہ دو عادل مسلمان کردیں “ کہ کیا قیمت ہے یا کون سا جانور بدلے میں دیا جائے۔ فقہاء نے اس بارے میں اختلاف کیا کہ فیصلہ کرنے والے دو میں ایک خود قاتل ہو سکتا ہے یا نہیں؟ تو امام مالک رحمة الله وغیرہ نے تو انکار کیا ہے کیونکہ اسی کا معاملہ ہو اور وہی حکم کرنے والا ہو اور امام شافعی امام احمد رحمة الله علیہم وغیرہ نے آیت کے عموم کو سامنے رکھ کر فرمایا ہے کہ ”یہ بھی ہو سکتا ہے۔‏“

پہلے مذہب کی دلیل تو یہ ہے کہ خود حاکم اپنے اوپر اپنا ہی حکم کرکے اسی حکم میں اپنا منصف آپ نہیں بن سکتا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک اعرابی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا میں نے ایک شکار کو احرام کی حالت میں قتل کر دیا ہے اب آپ رضی اللہ عنہ فرمائیے کہ اس میں مجھ پر بدلہ کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ کر ان سے دریافت فرمایا کہ ”آپ رضی اللہ عنہ فرمائیے کیا حکم ہے؟“ اس پر اعرابی نے کہا سبحان اللہ میں آپ رضی اللہ عنہ سے دریافت کرنے آیا ہوں آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کسی سے دریافت فرما رہے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس میں تیرا کیا بگڑا؟“ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ دو عادل جو فیصلہ کر دیں اس لیے میں نے اپنے ساتھی سے دریافت کیا۔ جب ہم دونوں کسی بات پر اتفاق کر لیں گے تو تجھ سے کہہ دیں گے۔ اس کی سند تو بہت مضبوط ہے لیکن اس میں میمون اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے۔

یہاں یہی چاہیئے تھا صدیق رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ اعرابی جاہل ہے اور جہل کی دوا تعلیم ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے نرمی اور محبت سے سمجھا دیا اور جبکہ اعتراض کرنے والا خود مدعی علم ہو پھر وہاں یہ صورت نہیں رہتی۔ چنانچہ ابن جریر میں ہے قبیصہ بن جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم حج کیلئے چلے ہماری عادت تھی کہ صبح کی نماز پڑھتے ہی ہم سواریوں سے اتر پڑتے اور انہیں چلاتے ہوئے باتیں کرتے ہوئے پیدل چل پڑتے۔ ایک دن اسی طرح جا رہے تھے کہ ایک ہرن ہماری نگاہ میں پڑا ہم میں سے ایک شخص نے اسے پتھر مارا جو اسے پوری طرح لگا اور وہ مر کر گرگیا وہ شخص اسے مردہ چھوڑ کر اپنی سواری پر سوار ہو گیا۔ ہمیں یہ کام بڑا برا معلوم ہوا اور ہم نے اسے بہت کچھ کہا سنا مکہ شریف پہنچ کر میں اسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا اس نے سارا واقعہ خود بیان کیا۔

صفحہ نمبر2452

اس وقت جناب فاروق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں ایک صاحب کھڑے تھے جن کا چہرہ چاندی کی طرح جگمگا رہا تھا یہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر کچھ باتیں کیں پھر میرے ساتھی سے فرمایا کہ ”تو نے اسے جان بوجھ کر مار ڈالا یا بھول چوک سے۔‏“ اس نے کہا میں نے پتھر اسی پر پھینکا اور قصداً پھینکا لیکن اسے مار ڈالنے کی میری نیت نہ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”پھر تو خطا اور عمد کے درمیان درمیان ہے۔ جا تو ایک بکری ذبح کر دے اس کا گوشت صدقہ کر دے اور اس کی کھال اپنے کام میں لا۔‏“

یہ سن کر ہم وہاں سے چلے آئے میں نے اپنے ساتھی سے کہا دیکھ تو نے بڑا قصور کیا ہے اللہ جل شانہ کی نشانیوں کی تجھے عظمت کرنی چاہیئے اور ایک بات یہ بھی ہے کہ خود امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کو تو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا انہوں نے اپنے ساتھی سے دریافت کیا میرے خیال سے تو اپنی اونٹنی اللہ کے نام سے قربان کر دے شاید اس سے تیرا جرم معاف ہو جائے۔ افسوس کہ اس وقت مجھے یہ آیت یاد ہی نہ رہی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تو اس حکم پر عمل کیا ہے کہ دو عادل شخص باہم اتفاق سے جو فیصلہ کریں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی میرا یہ فتوی دینا معلوم ہو گیا اچانک آپ رضی اللہ عنہ کوڑہ لیے ہوئے آگئے۔ اول تو میرے ساتھی پر کوڑا اٹھا کر فرمایا ”تو نے ایک تو جرم میں قتل کیا دوسرے حکم کی تعمیل میں بیوقوفی کر رہا ہے۔‏“ اب میری طرف متوجہ ہوئے میں نے کہا امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ اگر آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے تکلیف پہنچائی تو میں آپ رضی اللہ عنہ کو آج کی تکلیف ہرگز معاف نہیں کروں گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نرم پڑ گئے اور مجھ سے فرمانے لگے ”اے قبصیہ میرے خیال سے تو تو جوانی کی عمر والا کشادہ سینے والا اور چلتی زبان والا ہے۔ یاد رکھ نوجوانوں میں اگر نو خصلتیں اچھی ہوں اور ایک بری ہو تو وہ ایک بری خصلت نو بھلی خصلتوں کو مات کر دیتی ہے۔ سن جوانی کی لغزشوں سے بچا رہ۔‏“

ابن جریر میں ہے کہ سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے احرام کی حالت میں ایک ہرن کا شکار کر لیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جاؤ اپنے دو رشتے داروں کو لے آؤ وہی فیصلہ کریں گے“ میں جا کر عبدالرحمٰن کو اور سعد رضی اللہ عنہم کو بلا لایا۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ میں ایک موٹا تازہ بکرا فدیہ دوں۔

صفحہ نمبر2453

حضرت طارق رحمة الله فرماتے ہیں ”ایک شخص نے ایک ہرن کو تیر مارا وہ مر گیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس نے مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے خود اس کو بھی مشورے میں شریک کرلیا دونوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ گھر کی پالتو بکری راہ للہ قربان کرو اس میں یہ دلیل ہے کہ خود قاتل بھی دو حکم کرنے والوں میں ایک بن سکتا ہے۔ جیسے کہ امام شافعی رحمة الله اور امام احمد رحمة الله کا مذہب ہے۔ پھر آیا ہر معاملہ میں اب بھی موجودہ لوگوں میں سے دو حکم فیصلہ کریں گے یا صحابہ رضی اللہ عنہم کے فیصلے کافی ہیں؟ اس میں بھی اختلاف ہے امام مالک اور امام ابوحنیفہ رحمة الله علیہم فرماتے ہیں ہر فیصلہ اس وقت کے موجود دو عقلمند لوگوں سے کرایا جائے گو اس میں پہلے کا کوئی فیصلہ ہو یا نہ ہو۔

صفحہ نمبر2454

پھر فرماتا ہے ” یہ فدیئے کی قربانی حرم میں پہنچے “ یعنی وہیں ذبح ہو اور وہیں اس کا گوشت مسکینوں میں تقسیم ہو اس پر سب کا اتفاق ہے پھر فرمایا کفارہ ہے مسکینوں کا کھانا کھلانا یا اس کے برابر کے روزے، یعنی جب محرم اپنے قتل کئے ہوئے شکار کے مانند کوئی جانور نہ پائے یا خود شکار ایسا ہوا ہی نہیں جس کے مثل کوئی جانور پالتو ہو یہاں پر لفظ «او» اختیار کے ثابت کرنے کیلئے ہے یعنی بدلے کے جانور میں کھانا کھالانے میں اور روزے رکھنے میں اختیار ہے جیسے کہ امام مالک، امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد بن حسن اور امام شافعی رحمة الله علیہم کے دو قولوں میں سے ایک قول اور امام احمد رحمة الله کا مشہور قول ہے اور آیت کے ظاہر الفاظ بھی یہی ہیں۔

دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ترتیب وار ہیں، یعنی پہلے تو بدلہ پس مالک، ابوحنیفہ رحمہ اللہ ان کے ساتھی، حماد اور ابراہیم رحمة الله علیہم کا تو قول ہے کہ خود شکار کی قیمت لگائی جائے گی اور امام شافعی رحمة الله فرماتے ہیں شکار کے برابر کے جانور کی قیمت لگائی جائے گی اگر وہ موجود ہو پھر اس کا اناج خریدا جائے گا اور اس میں سے ایک ایک مد ایک ایک مسکین کو دیا جائے گا مالک اور فقہاء حجاز کا قول بھی یہی ہے، امام ابوحنیفہ رحمة الله اور ان کے ساتھی کہتے ہیں ہر مسکین کو دو مد دیئے جائیں گے مجاہد رحمة الله کا قول یہی ہے، امام احمد رحمة الله فرماتے ہیں گیہوں ہوں تو ایک مد اور اس کے سوا کچھ ہو تو دو مد، پس اگر نہ پائے یا اختیار اس آیت سے ثابت ہو جائے تو ہر مسکین کے کھانے کے عوض ایک روزہ رکھ لے، بعض کہتے ہیں جتنا اناج ہو اس کے ہر ایک صاع کے بدلے ایک روزہ رکھے جیسے کہ اس شخص کے لیے یہ حکم ہے جو خوشبو وغیرہ لگائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ایک فرق کو چھ شخصوں کے درمیان تقسیم کر دیں یا تین دن کے روزے رکھیں ۔ [صحیح بخاری:1815] ‏

فرق تین صاع کا ہوتا ہے اب کھانا پہنچانے کی جگہ میں بھی اختلاف ہے، امام شافعی رحمة الله کا فرمان ہے کہ اس کی جگہ حرم ہے، عطاء کا قول بھی یہی ہے، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہاں شکار کیا ہے وہیں کھلوا دے، یا اس سے بہت زیادہ کی قریب کی جگہ میں، امام ابوحنیفہ رحمة الله فرماتے ہیں خواہ حرم میں خواہ غیر حرم میں اختیار ہے۔

صفحہ نمبر2455

سلف کی اس آیت کے متعلق اقوال ملاحظہ ہوں، ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب محرم شکار کھیل لے اس پر اس کے بدلے کے چوپائے کا فیصلہ کیا جائے گا اگر نہ ملے تو دیکھا جائے گا کہ وہ کس قیمت کا ہے، پھر اس نقدی کے اناج کا اندازہ کیا جائے گا پھر جتنا اناج ہو گا اسی کے ناپ سے ہر نصف صاع کے بدلے ایک روزہ رکھنا ہو گا پھر جب طعام پایا جائے گا جزا پالی گئی۔‏“

اور روایت میں ہے جب محرم نے ہرن کو مار ڈالا تو اس پر ایک بکری ہے جو مکے میں ذبح کی جائے گی اگر نہ پائے تو چھ مسکین کا کھانا ہے اگر نہ پائے تو تین روزے ہیں اگر کسی نے اونٹ کو قتل کیا تو اس کے ذمہ ایک گائے ہے اگر نہ پائے تو بیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو بیس روزے، اگر شتر مرغ یا گورخر وغیرہ مارا ہے تو اس پر ایک اونٹنی ہے اگر نہ ملے تو تیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو تین روزے ہیں۔ اگر کسی نے اونٹ کو قتل کیا تو اس کے ذمہ ایک گائے ہے اگر نہ پائے تو بیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو بیس روزے، اگر شتر مرغ یا گورخر غیرہ مارا ہے تو اس پر ایک اونٹنی ہے اگر نہ ملے تو تیس مسکینوں کا کھانا ہے اگر نہ پائے تو تیس دن کے روزے۔ ابن جریر کی اسی روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ طعام ایک ایک مد ہو جو ان کا پیٹ بھر دے، دوسرے بہت سے تابعین نے بھی طعام کی مقدار بتلائی ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب چیزیں ترتیب وار ہیں اور بزرگ فرماتے ہیں کہ تینوں باتوں میں اختیار ہے، امام ابن جریر رحمة الله کا مختار قول بھی یہی ہے۔

صفحہ نمبر2456

پھر فرمان ہے کہ ” یہ کفارہ ہم نے اس لیے واجب کیا ہے کہ وہ اپنے کرتوت کی سزا کو پہنچ جائے، زمانہ جاہلیت میں جو کچھ کسی نے خطا کی ہے وہ اسلام کی اچھائی کی وجہ سے معاف ہے، اب اسلام میں ان احکام کی موجودگی میں بھی پھر سے اگر کوئی شخص یہ گناہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا “۔

گو اس میں حد نہیں امام وقت اس پر کوئی سزا نہیں دے سکتا یہ گناہ اللہ اور بندے کے درمیان ہے ہاں اسے فدیہ ضرور دینا پڑے گا یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فدیہ ہی انتقام ہے۔ یہ یاد رہے کہ جب کبھی محرم حالت احرام میں شکار کو مارے گا اس پر بدلہ واجب ہو گا خواہ کئی دفعہ اس سے یہ حرکت ہو جائے اور خواہ عمداً ہو خواہ خطا ہو ایک دفعہ شکار کے بعد اگر دوبارہ شکار کیا تو اسے کہہ دیا جائے کہ اللہ تجھ سے بدلہ لے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت یہ بھی مروی ہے کہ پہلی دفعہ کے شکار پر فدیہ کا حکم ہو گا دوبارہ کے شکار پر خود اللہ اس سے انتقام لے گا اس پر فیصلہ فدیہ کا نہ ہو گا لیکن امام ابن جریر کا مختار مذہب پہلا قول ہی ہے، امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک شخص نے محرم ہو کر شکار کیا اس پر فدائے کا فیصلہ کیا گیا اس نے پھر شکار کیا تو آسمان سے آگ آ گئی اور اسے جلا کر بھسم کر دیا یہی معنی ہیں اللہ کے فرمان آیت «‏فَيَنتَقِمُ اللَّهُ مِنْهُ» [5-المائدہ:95] ‏ کے۔ اللہ اپنی سلطنت میں غالب ہے اسے کوئی مغلوب نہیں کر سکتا کوئی اسے انتقام سے روک نہیں سکتا اس کا عذاب جس پر آ جائے کوئی نہیں جو اسے ٹال دے، مخلوق سب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے حکم اس کا سب پر نافذ ہے عزت اور غلبہ اسی کیلئے ہے، وہ اپنے نافرمانوں سے زبردست انتقام لیتا ہے۔

صفحہ نمبر2457

احرام میں شکار کے مسائل کی تفصیلات ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چھوٹے چھوٹے شکار اور کمزور شکار اور ان کے بچے جنہیں انسان اپنے ہاتھ سے پکڑلے اور اپنے نیزے کی نوک پر رکھ لے اس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرے گا۔ یعنی انہیں منع فرمایا ہے کہ تم باوجود اس کے بھی ان کا شکار حالت احرام میں نہ کرو خواہ چھوٹے ہوں خواہ بڑے خواہ آسانی سے شکار ہو سکتا ہو خواہ سختی سے۔

چنانچہ عمرہ حدیبیہ کے موقعہ پر یہی ہوا کہ قسم قسم کے شکار اس قدر بکثرت آپڑے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے خیموں میں گھسنے لگے ادھر اللہ کی طرف سے ممانعت ہوگئی تاکہ پوری آزمائش ہو جائے ادھر شکار گویا ہنڈیا میں ہے ادھر ممانعت ہے ہتھیار تو کہاں یونہی اگر چاہیں تو ہاتھ سے پکڑ سکتے ہیں اور پوشیدہ طور سے شکار قبضہ میں کر سکتے ہیں۔ یہ صرف اس لیے تھا کہ فرمانبردار اور نافرمان کا امتحان ہو جائے پوشیدگی میں بھی اللہ کا ڈر رکھنے والے غیروں سے ممتاز ہو جائیں۔ چنانچہ فرمان ہے کہ ” جو لوگ اللہ تعالیٰ سے غائبانہ ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بڑی بھاری مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔ اب جو شخص اس حکم کے آنے کے بعد بھی حالت احرام میں شکار کھیلے گا شریعت کی مخالفت کرے گا “۔

صفحہ نمبر2447

پھر فرمایا ” ایماندارو حالت احرام میں شکار نہ کھیلو “۔ یہ حکم اپنے معنی کی حیثیت سے تو حلال جانوروں اور ان سے جو چیزیں حاصل ہوتی ہیں کیلئے ہے، لیکن جو خشکی کے حرام جانور ہیں ان کا شکار کھیلنا امام شافعی رحمة الله کے نزدیک تو جائز ہے اور جمہور کے نزدیک حرام ہے، ہاں اس عام الحکم سے صرف وہ چیزیں مخصوص ہیں جن کا ذکر بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور فاسق ہیں وہ حرام میں قتل کر دیئے جائیں اور غیر حرم میں بھی، کوا، چیل بچھو، چوہا اور کانٹے والا کالا کتا ۔ [صحیح بخاری:3314] ‏

اور روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ ان پانچ جانوروں کے قتل میں احرام والے پر بھی کوئی گناہ نہیں ۔ [صحیح بخاری:1862] ‏

اس روایت کو سن کر حضرت ایوب رحمہ اللہ اپنے استاد نافع رحمہ اللہ سے پوچھتے ہیں کہ سانپ کا کیا حکم ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”وہ اس میں شامل ہے یہ بھی قتل کر دیا جائے۔‏“ اس میں کسی کو اختلاف نہیں بعض علماء نے جیسے امام احمد،امام مالک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ نے کتے کے حکم پر درندوں کو بھی رکھا ہے جیسے بھیڑیا شیر وغیرہ۔ اس لیے کہ یہ کتے سے بہت زیادہ ضرر والے ہیں۔ زید بن اسلم اور سفیان بن عیینہ رحمة الله علیہم فرماتے ہیں کہ ہر حملہ کرنے والے درندے کا حکم ہے دیکھئیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ بن ابولہب کے حق میں جب دعا کی تو فرمایا: اے اللہ اس پر شام میں اپنا کوئی کتا مقرر کر دے ، پاس جب وہ زرقا میں پہنچا وہاں اسے بھیڑئیے نے پھاڑ ڈالا۔

ہاں اگر محرم نے حالت احرام میں کوے کو یا لومڑی وغیرہ کو مار ڈالا تو اسے بدلہ دینا پڑے گا۔ اسی طرح ان پانچوں قسم کے جانوروں کے بچے اور حملہ کرنے والے درندوں کے بچے بھی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔

صفحہ نمبر2448

امام شافعی رحمة الله فرماتے ہیں ”ہر وہ جانور جو کھایا نہیں جاتا اس کے قتل میں اور اس کے بچوں کے قتل میں محرم پر کوئی حرج نہیں، وجہ یہ ہے کہ ان کا گوشت کھایا نہیں جاتا۔‏“ امام ابوحنیفہ رحمة الله فرماتے ہیں ”کالا کتا حملہ کرنے والا اور بھیڑیا تو محرم قتل کرسکتا ہے اس لیے کہ بھیڑیا بھی جنگلی کتا ہے ان کے سوا جس جانور کا شکار کھیلے گا فدیہ دنیا پڑے گا۔ ہاں اگر کوئی شیر وغیرہ جنگی درندہ اس پر حملہ کرے اور یہ اسے مار ڈالے تو اس صورت میں فدیہ نہیں۔‏“ آپ رحمہ اللہ کے شاگرد زفر رحمة الله کہتے ہیں یہ حملہ کرنے کی صورت میں بھی اگر مار ڈالے گا تو فدیہ دینا پڑے گا۔

بعض احادیث میں «الْغُرَابُ الْأَبْقَعُ» کا لفظ آیا ہے [صحیح مسلم:1198] ‏ یہ وہ کوا ہے جس کے پیٹ اور پیٹھ پر سفیدی ہوتی ہے۔ مطلق سیاہ اور بالکل سفید کوے کو غراب ابقع نہیں کہتے لیکن جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ہر قسم کے کوے کا یہی حکم ہے کیونکہ بخاری و مسلم کی حدیث میں مطلق کوے کا ذکر ہے۔

امام ملک رحمة الله فرماتے ہیں کوے کو بھی اس حال میں مار سکتا ہے کہ وہ اس پر حملہ کرے یا اسے ایذاء دے مجاہد رحمة الله وغیرہ کا قول ہے کہ اس حالت میں بھی مار نہ ڈالے بلکہ اسے پتھر وغیرہ پھینک کر ہٹا دے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ محرم کس کس جانور کو قتل کر دے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپ، بچھو اور چوہا اور کوے کو کنکر مارے اسے مار نہ ڈالے اور کالا کتا اور چیل اور حملہ کرنے والا درندہ ۔ [سنن ابوداود:1198،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2449

پھر فرماتا ہے کہ ” جو شخص جان بوجھ کر حالت احرام میں شکار کرے اس پر فدیہ ہے “۔ حضرت طاؤس رحمة الله کا فرمان ہے کہ ”خطا سے قتل کرنے والے پر کچھ نہیں۔‏“

لیکن یہ مذہب غریب ہے اور آیت کے ظاہری الفاظ سے یہی مشتق ہے۔ مجاہد بن جیبر رحمة الله سے مروی ہے کہ ”مراد وہ شخص ہے جو شکار تو قصداً کرتا ہے لیکن اپنی حالت احرام کی یاد اسے نہیں رہی۔ لیکن جو شخص باوجود احرام کی یاد کے عمداً شکار کرے وہ تو کفارے کی حد سے نکل گیا اس کا احرام باطل ہوگیا۔‏“ یہ قول بھی غریب ہے۔

جمہور کا مذہب یہ ہے کہ قصداً شکار کرنے والا اور بھول کر کرنے والا دونوں کفارے میں برابر ہیں امام زہری رحمة الله فرماتے ہیں ”قرآن سے تو قصداً شکار کھیلنے والے پر کفارہ ثابت ہوا اور حدیث نے یہی حکم بھولنے والے کا بھی بیان فرمایا۔‏“ مطلب اس قول کا یہ ہے کہ قصداً شکار کھیلنے والے پر کفارہ قرآن کریم سے ثابت ہے اور اس کا گنہگار ہونا بھی۔ کیونکہ اس کے بعد آیت «لِّيَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِهٖ» [5-المائدہ:95] ‏ میں فرمایا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم سے خطا میں بھی یہی حکم ثابت ہے اور اس لیے بھی کہ شکار کو قتل کرنا اس کا تلف کرنا ہے اور ہر تلف کرنے کا بدلہ ضروری ہے خواہ وہ بالقصد ہو یا انجان پنے سے ہو۔ ہاں قصداً کرنے والا گنہگار بھی ہے اور بلا قصد جس سے سرزد ہو جائے وہ قابل ملامت نہیں۔

صفحہ نمبر2450

پھر فرمایا ” اس کا بدلہ یہ ہے کہ اسی کے مثل چوپایہ جانور راہ للہ قربان کرے “۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «فَجَزَاۤؤُهُ» ہے ان دونوں قرأتوں میں مالک، شافعی، احمد رحمة الله علیہم اور جمہور کی دلیل ہے کہ جب شکار چوپایوں کی مانند ہو تو وہی اس کے بدلے میں دینا ہوگا۔

امام ابوحنیفہ رحمة الله اس کے خلاف کہتے ہیں کہ خواہ شکار کے کسی جانور کی مثل ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں قیمت دینی پڑے گی ہاں اس محرم شکاری کو اختیار ہے کہ خواہ اس قیمت کو صدقہ کردے خواہ اس سے قربانی کا کوئی جانور خرید لے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ امام صاحب کے اس قول سے صحابہ رضی اللہ عنہم کا فیصلہ ہمارے لیے زیادہ قابل عمل ہے انہوں نے شترمرغ کے شکار کے بدلے اونٹ مقرر کیا ہے اور جنگلی گائے کے بدلے پالتو گائے مقرر فرمائی ہے اور ہرن کے بدلے بکری۔ یہ فیصلے ان بزرگ صحابیوں کی سندوں سمیت احکام کی کتابوں میں موجود ہیں جہاں شکار جیسا اور کوئی پالتو چوپایہ نہ ہو اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فیصلہ قیمت کا ہے جو مکہ شریف پہنچائی جائے۔ [بیہقی] ‏

صفحہ نمبر2451

پھر فرمایا کہ ” اس کا فیصلہ دو عادل مسلمان کردیں “ کہ کیا قیمت ہے یا کون سا جانور بدلے میں دیا جائے۔ فقہاء نے اس بارے میں اختلاف کیا کہ فیصلہ کرنے والے دو میں ایک خود قاتل ہو سکتا ہے یا نہیں؟ تو امام مالک رحمة الله وغیرہ نے تو انکار کیا ہے کیونکہ اسی کا معاملہ ہو اور وہی حکم کرنے والا ہو اور امام شافعی امام احمد رحمة الله علیہم وغیرہ نے آیت کے عموم کو سامنے رکھ کر فرمایا ہے کہ ”یہ بھی ہو سکتا ہے۔‏“

پہلے مذہب کی دلیل تو یہ ہے کہ خود حاکم اپنے اوپر اپنا ہی حکم کرکے اسی حکم میں اپنا منصف آپ نہیں بن سکتا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک اعرابی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا میں نے ایک شکار کو احرام کی حالت میں قتل کر دیا ہے اب آپ رضی اللہ عنہ فرمائیے کہ اس میں مجھ پر بدلہ کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ کر ان سے دریافت فرمایا کہ ”آپ رضی اللہ عنہ فرمائیے کیا حکم ہے؟“ اس پر اعرابی نے کہا سبحان اللہ میں آپ رضی اللہ عنہ سے دریافت کرنے آیا ہوں آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کسی سے دریافت فرما رہے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس میں تیرا کیا بگڑا؟“ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ دو عادل جو فیصلہ کر دیں اس لیے میں نے اپنے ساتھی سے دریافت کیا۔ جب ہم دونوں کسی بات پر اتفاق کر لیں گے تو تجھ سے کہہ دیں گے۔ اس کی سند تو بہت مضبوط ہے لیکن اس میں میمون اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے۔

یہاں یہی چاہیئے تھا صدیق رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ اعرابی جاہل ہے اور جہل کی دوا تعلیم ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے نرمی اور محبت سے سمجھا دیا اور جبکہ اعتراض کرنے والا خود مدعی علم ہو پھر وہاں یہ صورت نہیں رہتی۔ چنانچہ ابن جریر میں ہے قبیصہ بن جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم حج کیلئے چلے ہماری عادت تھی کہ صبح کی نماز پڑھتے ہی ہم سواریوں سے اتر پڑتے اور انہیں چلاتے ہوئے باتیں کرتے ہوئے پیدل چل پڑتے۔ ایک دن اسی طرح جا رہے تھے کہ ایک ہرن ہماری نگاہ میں پڑا ہم میں سے ایک شخص نے اسے پتھر مارا جو اسے پوری طرح لگا اور وہ مر کر گرگیا وہ شخص اسے مردہ چھوڑ کر اپنی سواری پر سوار ہو گیا۔ ہمیں یہ کام بڑا برا معلوم ہوا اور ہم نے اسے بہت کچھ کہا سنا مکہ شریف پہنچ کر میں اسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا اس نے سارا واقعہ خود بیان کیا۔

صفحہ نمبر2452

اس وقت جناب فاروق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں ایک صاحب کھڑے تھے جن کا چہرہ چاندی کی طرح جگمگا رہا تھا یہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر کچھ باتیں کیں پھر میرے ساتھی سے فرمایا کہ ”تو نے اسے جان بوجھ کر مار ڈالا یا بھول چوک سے۔‏“ اس نے کہا میں نے پتھر اسی پر پھینکا اور قصداً پھینکا لیکن اسے مار ڈالنے کی میری نیت نہ تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”پھر تو خطا اور عمد کے درمیان درمیان ہے۔ جا تو ایک بکری ذبح کر دے اس کا گوشت صدقہ کر دے اور اس کی کھال اپنے کام میں لا۔‏“

یہ سن کر ہم وہاں سے چلے آئے میں نے اپنے ساتھی سے کہا دیکھ تو نے بڑا قصور کیا ہے اللہ جل شانہ کی نشانیوں کی تجھے عظمت کرنی چاہیئے اور ایک بات یہ بھی ہے کہ خود امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کو تو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا انہوں نے اپنے ساتھی سے دریافت کیا میرے خیال سے تو اپنی اونٹنی اللہ کے نام سے قربان کر دے شاید اس سے تیرا جرم معاف ہو جائے۔ افسوس کہ اس وقت مجھے یہ آیت یاد ہی نہ رہی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تو اس حکم پر عمل کیا ہے کہ دو عادل شخص باہم اتفاق سے جو فیصلہ کریں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی میرا یہ فتوی دینا معلوم ہو گیا اچانک آپ رضی اللہ عنہ کوڑہ لیے ہوئے آگئے۔ اول تو میرے ساتھی پر کوڑا اٹھا کر فرمایا ”تو نے ایک تو جرم میں قتل کیا دوسرے حکم کی تعمیل میں بیوقوفی کر رہا ہے۔‏“ اب میری طرف متوجہ ہوئے میں نے کہا امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ اگر آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے تکلیف پہنچائی تو میں آپ رضی اللہ عنہ کو آج کی تکلیف ہرگز معاف نہیں کروں گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نرم پڑ گئے اور مجھ سے فرمانے لگے ”اے قبصیہ میرے خیال سے تو تو جوانی کی عمر والا کشادہ سینے والا اور چلتی زبان والا ہے۔ یاد رکھ نوجوانوں میں اگر نو خصلتیں اچھی ہوں اور ایک بری ہو تو وہ ایک بری خصلت نو بھلی خصلتوں کو مات کر دیتی ہے۔ سن جوانی کی لغزشوں سے بچا رہ۔‏“

ابن جریر میں ہے کہ سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے احرام کی حالت میں ایک ہرن کا شکار کر لیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جاؤ اپنے دو رشتے داروں کو لے آؤ وہی فیصلہ کریں گے“ میں جا کر عبدالرحمٰن کو اور سعد رضی اللہ عنہم کو بلا لایا۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ میں ایک موٹا تازہ بکرا فدیہ دوں۔

صفحہ نمبر2453

حضرت طارق رحمة الله فرماتے ہیں ”ایک شخص نے ایک ہرن کو تیر مارا وہ مر گیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس نے مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے خود اس کو بھی مشورے میں شریک کرلیا دونوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ گھر کی پالتو بکری راہ للہ قربان کرو اس میں یہ دلیل ہے کہ خود قاتل بھی دو حکم کرنے والوں میں ایک بن سکتا ہے۔ جیسے کہ امام شافعی رحمة الله اور امام احمد رحمة الله کا مذہب ہے۔ پھر آیا ہر معاملہ میں اب بھی موجودہ لوگوں میں سے دو حکم فیصلہ کریں گے یا صحابہ رضی اللہ عنہم کے فیصلے کافی ہیں؟ اس میں بھی اختلاف ہے امام مالک اور امام ابوحنیفہ رحمة الله علیہم فرماتے ہیں ہر فیصلہ اس وقت کے موجود دو عقلمند لوگوں سے کرایا جائے گو اس میں پہلے کا کوئی فیصلہ ہو یا نہ ہو۔

صفحہ نمبر2454

پھر فرماتا ہے ” یہ فدیئے کی قربانی حرم میں پہنچے “ یعنی وہیں ذبح ہو اور وہیں اس کا گوشت مسکینوں میں تقسیم ہو اس پر سب کا اتفاق ہے پھر فرمایا کفارہ ہے مسکینوں کا کھانا کھلانا یا اس کے برابر کے روزے، یعنی جب محرم اپنے قتل کئے ہوئے شکار کے مانند کوئی جانور نہ پائے یا خود شکار ایسا ہوا ہی نہیں جس کے مثل کوئی جانور پالتو ہو یہاں پر لفظ «او» اختیار کے ثابت کرنے کیلئے ہے یعنی بدلے کے جانور میں کھانا کھالانے میں اور روزے رکھنے میں اختیار ہے جیسے کہ امام مالک، امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد بن حسن اور امام شافعی رحمة الله علیہم کے دو قولوں میں سے ایک قول اور امام احمد رحمة الله کا مشہور قول ہے اور آیت کے ظاہر الفاظ بھی یہی ہیں۔

دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ترتیب وار ہیں، یعنی پہلے تو بدلہ پس مالک، ابوحنیفہ رحمہ اللہ ان کے ساتھی، حماد اور ابراہیم رحمة الله علیہم کا تو قول ہے کہ خود شکار کی قیمت لگائی جائے گی اور امام شافعی رحمة الله فرماتے ہیں شکار کے برابر کے جانور کی قیمت لگائی جائے گی اگر وہ موجود ہو پھر اس کا اناج خریدا جائے گا اور اس میں سے ایک ایک مد ایک ایک مسکین کو دیا جائے گا مالک اور فقہاء حجاز کا قول بھی یہی ہے، امام ابوحنیفہ رحمة الله اور ان کے ساتھی کہتے ہیں ہر مسکین کو دو مد دیئے جائیں گے مجاہد رحمة الله کا قول یہی ہے، امام احمد رحمة الله فرماتے ہیں گیہوں ہوں تو ایک مد اور اس کے سوا کچھ ہو تو دو مد، پس اگر نہ پائے یا اختیار اس آیت سے ثابت ہو جائے تو ہر مسکین کے کھانے کے عوض ایک روزہ رکھ لے، بعض کہتے ہیں جتنا اناج ہو اس کے ہر ایک صاع کے بدلے ایک روزہ رکھے جیسے کہ اس شخص کے لیے یہ حکم ہے جو خوشبو وغیرہ لگائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ایک فرق کو چھ شخصوں کے درمیان تقسیم کر دیں یا تین دن کے روزے رکھیں ۔ [صحیح بخاری:1815] ‏

فرق تین صاع کا ہوتا ہے اب کھانا پہنچانے کی جگہ میں بھی اختلاف ہے، امام شافعی رحمة الله کا فرمان ہے کہ اس کی جگہ حرم ہے، عطاء کا قول بھی یہی ہے، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہاں شکار کیا ہے وہیں کھلوا دے، یا اس سے بہت زیادہ کی قریب کی جگہ میں، امام ابوحنیفہ رحمة الله فرماتے ہیں خواہ حرم میں خواہ غیر حرم میں اختیار ہے۔

صفحہ نمبر2455

سلف کی اس آیت کے متعلق اقوال ملاحظہ ہوں، ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب محرم شکار کھیل لے اس پر اس کے بدلے کے چوپائے کا فیصلہ کیا جائے گا اگر نہ ملے تو دیکھا جائے گا کہ وہ کس قیمت کا ہے، پھر اس نقدی کے اناج کا اندازہ کیا جائے گا پھر جتنا اناج ہو گا اسی کے ناپ سے ہر نصف صاع کے بدلے ایک روزہ رکھنا ہو گا پھر جب طعام پایا جائے گا جزا پالی گئی۔‏“

اور روایت میں ہے جب محرم نے ہرن کو مار ڈالا تو اس پر ایک بکری ہے جو مکے میں ذبح کی جائے گی اگر نہ پائے تو چھ مسکین کا کھانا ہے اگر نہ پائے تو تین روزے ہیں اگر کسی نے اونٹ کو قتل کیا تو اس کے ذمہ ایک گائے ہے اگر نہ پائے تو بیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو بیس روزے، اگر شتر مرغ یا گورخر وغیرہ مارا ہے تو اس پر ایک اونٹنی ہے اگر نہ ملے تو تیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو تین روزے ہیں۔ اگر کسی نے اونٹ کو قتل کیا تو اس کے ذمہ ایک گائے ہے اگر نہ پائے تو بیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو بیس روزے، اگر شتر مرغ یا گورخر غیرہ مارا ہے تو اس پر ایک اونٹنی ہے اگر نہ ملے تو تیس مسکینوں کا کھانا ہے اگر نہ پائے تو تیس دن کے روزے۔ ابن جریر کی اسی روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ طعام ایک ایک مد ہو جو ان کا پیٹ بھر دے، دوسرے بہت سے تابعین نے بھی طعام کی مقدار بتلائی ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب چیزیں ترتیب وار ہیں اور بزرگ فرماتے ہیں کہ تینوں باتوں میں اختیار ہے، امام ابن جریر رحمة الله کا مختار قول بھی یہی ہے۔

صفحہ نمبر2456

پھر فرمان ہے کہ ” یہ کفارہ ہم نے اس لیے واجب کیا ہے کہ وہ اپنے کرتوت کی سزا کو پہنچ جائے، زمانہ جاہلیت میں جو کچھ کسی نے خطا کی ہے وہ اسلام کی اچھائی کی وجہ سے معاف ہے، اب اسلام میں ان احکام کی موجودگی میں بھی پھر سے اگر کوئی شخص یہ گناہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا “۔

گو اس میں حد نہیں امام وقت اس پر کوئی سزا نہیں دے سکتا یہ گناہ اللہ اور بندے کے درمیان ہے ہاں اسے فدیہ ضرور دینا پڑے گا یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فدیہ ہی انتقام ہے۔ یہ یاد رہے کہ جب کبھی محرم حالت احرام میں شکار کو مارے گا اس پر بدلہ واجب ہو گا خواہ کئی دفعہ اس سے یہ حرکت ہو جائے اور خواہ عمداً ہو خواہ خطا ہو ایک دفعہ شکار کے بعد اگر دوبارہ شکار کیا تو اسے کہہ دیا جائے کہ اللہ تجھ سے بدلہ لے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت یہ بھی مروی ہے کہ پہلی دفعہ کے شکار پر فدیہ کا حکم ہو گا دوبارہ کے شکار پر خود اللہ اس سے انتقام لے گا اس پر فیصلہ فدیہ کا نہ ہو گا لیکن امام ابن جریر کا مختار مذہب پہلا قول ہی ہے، امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک شخص نے محرم ہو کر شکار کیا اس پر فدائے کا فیصلہ کیا گیا اس نے پھر شکار کیا تو آسمان سے آگ آ گئی اور اسے جلا کر بھسم کر دیا یہی معنی ہیں اللہ کے فرمان آیت «‏فَيَنتَقِمُ اللَّهُ مِنْهُ» [5-المائدہ:95] ‏ کے۔ اللہ اپنی سلطنت میں غالب ہے اسے کوئی مغلوب نہیں کر سکتا کوئی اسے انتقام سے روک نہیں سکتا اس کا عذاب جس پر آ جائے کوئی نہیں جو اسے ٹال دے، مخلوق سب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے حکم اس کا سب پر نافذ ہے عزت اور غلبہ اسی کیلئے ہے، وہ اپنے نافرمانوں سے زبردست انتقام لیتا ہے۔

صفحہ نمبر2457

طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات ٭٭

دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق، زید بن ثابت، عبداللہ بن عمرو، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہم اجمعین، عکرمہ، ابوسلمہ، ابراہیم نخعی، حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ خلیفۃ بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔‏“ [ابن ابی حاتم وغیرہ] ‏

آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو چیز سمندر پھینک دے وہ طعام ہے۔‏“ [ابن جریر] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے ایک روایت میں ہے کہ جو مردہ جانور پانی نکال دے۔ سعید بن مسیب رحمة الله سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ جس زندہ آبی جانور کو پانی کنارے پر ڈال دے یا پانی اس سے ہٹ جائے یا وہ باہر مردہ ملے [ابن ابی حاتم] ‏

ابن جریر میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”سمندر نے بہت سی مردہ مچھلیاں کنارے پر پھینک دی ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں؟ ہم انہیں کھا سکتے ہیں یا نہیں؟“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں نہ کھاؤ“، جب واپس آئے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کھول کر تلاوت کی اور سورۃ المائدہ کی اس آیت پر نظر پڑی تو ایک آدمی کو دوڑایا اور کہا ”جاؤ کہہ دو کہ وہ اسے کھالیں یہی بحری طعام ہے۔‏“ امام ابن جریر رحمة الله کے نزدیک بھی قول مختار یہی ہے کہ مراد طعام سے وہ آبی جانور ہیں جو پانی میں ہی مر جائیں، فرماتے ہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے گو بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے۔

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» [5-المائدہ:96] ‏ پڑھ کر فرمایا: اس کا طعام وہ ہے جسے وہ پھینک دے اور وہ مرا ہوا ہو ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12733:موقوف] ‏ بعض لوگوں نے اسے بقول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موقوف روایت کیا ہے۔

صفحہ نمبر2459

پھر فرماتا ہے ” یہ منفعت ہے تمہارے لیے اور راہ رو مسافروں کے لیے “، یعنی جو سمندر کے کنارے رہتے ہوں اور جو وہاں وارد ہوئے ہوں، پس کنارے رہنے والے تو تازہ شکار خود کھیلتے ہیں پانی جسے دھکے دے کر باہر پھینک دے اور مر جائے اسے کھا لیتے ہیں اور نمکین ہو کر دور دراز والوں کو سوکھا ہوا پہنچتا ہے۔ الغرض جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ پانی کا جانور خواہ مردہ ہی ہو حلال ہے۔

اس کی دلیل علاوہ اس آیت کے امام مالک رحمة الله کی روایت کردہ وہ حدیث بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے کنارے پر ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا جس کا سردار ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، یہ لوگ کوئی تین سو تھے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بھی ان میں سے تھا ہم ابھی راستے میں ہی تھے جو ہمارے توشے تھے ختم ہو گئے، امیر لشکر کو جب یہ علم ہوا تو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو میرے پاس لاؤ چنانچہ سب جمع کر لیا اب حصہ رسدی کے طور پر ایک مقررہ مقدار ہر ایک کو بانٹ دیتے تھے یہاں تک کہ آخر میں ہمیں ہر دن ایک ایک کھجور ملنے لگی آخر میں یہ بھی ختم ہو گئی۔ اب سمندر کے کنارے پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ کنارے پر ایک بڑی مچھلی ایک ٹیلے کی طرح پڑی ہوئی ہے، سارے لشکر نے اٹھارہ راتوں تک اسے کھایا، وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اس کے نیچے سے ایک شتر سوار نکل گیا اور اس کا سر اس پسلی کی ہڈی تک نہ پہنچا ۔ [صحیح بخاری:2483] ‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔

صفحہ نمبر2460

ایک اور روایت میں ہے کہ اس کا نام عنبر تھا ایک روایت میں ہے کہ یہ مردہ ملی تھی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس وقت سخت دقت اور تکلیف میں ہیں اسے کھا لو ہم تین سو آدمی ایک مہینے تک وہیں رہے اور اسی کو کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے تازے اور تیار ہو گئے اس کی آنکھ کے سوراخ میں سے ہم چربی ہاتھوں میں بھربھر کر نکالتے تھے تیرہ شخص اس کی آنکھ کی گہرائی میں بیٹھ گئے تھے، اس کی پسلی کی ہڈی کے درمیان سے سانڈنی سوار گزر جاتا تھا، ہم نے اس کے گوشت اور چربی سے مٹکے بھر لیے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کی طرف سے روزی تھی جو اللہ جل مجدہ نے تمہیں دی کیا اس کا گوشت اب بھی تمہارے پاس ہے؟ اگر ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ، ہمارے پاس تو تھا ہی ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا ۔ [صحیح مسلم:1935] ‏

مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اس واقعہ میں خود پیغمبر اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے اس وجہ سے بعض محدثین کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دو واقعے ہوں اور بعض کہتے ہیں واقعہ تو ایک ہی ہے، شروع میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر جماعت کو بہ ماتحتی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے روانہ فرمایا تھا اور انہیں یہ واقعہ پیش آیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2461

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سمندر کے سفر کو جاتے ہیں ہمارے ساتھ پانی بہت کم ہوتا ہے اگر اسی سے وضو کرتے ہیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہمیں سمندر کے پانی سے وضو کر لینے کی اجازت ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے ۔ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

امام شافعی، امام احمد رحمة الله علیہم اور سنن اربعہ والوں نے اسے روایت کیا ہے امام بخاری امام ترمذی امام ابن خزیمہ امام ابن حبان رحمة الله علیہم وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔

ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں تھے اتفاق سے ٹڈیوں کا دل کا دل آ پہنچا ہم نے انہیں مارنا اور پکڑنا شروع کیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہم تو احرام کی حالت میں ہیں انہیں کیا کریں گے؟ چنانچہ ہم نے جا کر حضور علیہ السلام سے مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں ۔ [سنن ابوداود:1854، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏ اس کا ایک راوی ابو المہزم ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2462

ابن ماجہ میں ہے کہ جب ٹڈیاں نکل آتیں اور نقصان پہنچاتیں تو رسول اللہ علیہ افضل الصلوۃ و التسلیم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ اے اللہ ان سب کو خواہ چھوٹی ہوں خواہ بڑی ہلاک کر ان کے انڈے تباہ کر ان کا سلسلہ کاٹ دے اور ہماری معاش سے ان کے منہ بند کر دیے یا اللہ ہمیں روزیاں دے یقیناً تو دعاؤں کا سننے والا ہے ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان کے سلسلہ کے کٹ جانے کی دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ بھی ایک قسم کی مخلوق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی پیدائش کی اصل مچھلی سے ہے ، زیاد رحمة الله کا قول ہے کہ جس نے انہیں مچھلی سے ظاہر ہوتے دیکھا تھا خود اسی نے مجھ سے بیان کیا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:3221، قال الشيخ الألباني:۔ موضوع] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حرم میں ٹڈی کے شکار سے بھی منع کیا ہے جن فقہاء کرام کا یہ مذہب ہے کہ سمندر میں جو کچھ ہے سب حلال ہے ان کا استدلال اسی آیت سے ہے وہ کسی آبی جانور کو حرام نہیں کہتے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ قول بیان ہو چکا ہے کہ طعام سے مراد پانی میں رہنے والی ہر ایک چیز ہے، بعض حضرات نے صرف مینڈک کو اس حکم سے الگ کر لیا ہے اور مینڈک کے سوا پانی کے تمام جانوروں کو وہ مباح کہتے ہیں کیونکہ مسند وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا ہے [سنن ابوداود:3871،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور فرمایا ہے کہ اس کی آواز اللہ کی تسبیح ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4788:ضعیف] ‏

بعض اور کہتے ہیں سمندر کے شکار سے مچھلی کھائی جائے گی اور مینڈک نہیں کھایا جائے گا اور باقی کی چیزوں میں اختلاف ہے کچھ تو کہتے ہیں کہ باقی سب حلال ہے اور کچھ کہتے ہیں باقی سب نہ کھایا جائے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ خشکی کے جو جانور حلال ہیں ان جیسے جو جانور پانی کے ہوں وہ بھی حلال ہیں اور خشکی کے جو جانور حرام ہیں ان کی مشابہت کے جو جانور تری کے ہوں وہ بھی حرام، یہ سب وجوہ مذہب شافعی میں ہیں حنفی مذہب یہ ہے کہ سمندر میں مر جائے اس کا کھانا حلال نہیں جیسے کہ خشکی میں از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں کیونکہ قرآن نے اپنی موت آپ مرے ہوئے جانور کو آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» ۔ الخ [5-المائدہ:3] ‏ میں حرام کر ذیا ہے اور یہ عام ہے۔

صفحہ نمبر2463

ابن مردویہ میں حدیث ہے کہ جو تم شکار کر لو اور وہ زندہ ہو پھر مر جائے تو اسے کھا لو اور جسے پانی آپ ہی پھینک دے اور وہ مرا ہوا الٹا پڑا ہوا ہو اسے نہ کھاؤ [سنن ابوداود:3815، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث مسند کی رو سے منکر ہے صحیح نہیں۔

مالکیوں شافعیوں اور حنبلیوں کی دلیل ایک تو ہی عنبر والی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ سمندر کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال کئے گئے ہیں دو مردے مچھلی اور ٹڈی اور دو خون کلیجی اور تلی [سنن ابن ماجہ:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یہ حدیث مسند احمد ابن ماجہ دارقطنی اور بیہقی میں بھی ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں اور یہی روایت موقوفاً بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2464

پھر فرماتا ہے کہ ” تم پر احرام کی حالت میں شکار کھیلنا حرام ہے “۔ پس اگر کسی احرام والے نے شکار کر لیا اور اگر قصداً کیا ہے تو اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا اور گنہگار بھی ہو گا اور اگر خطا اور غلطی سے شکار کر لیا ہے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا اور اس کا کھانا اس پر حرام ہے خواہ وہ احرام والے ہوں یا نہ ہوں۔

عطا قاسم سالم ابو یوسف محمد بن حسن رحمة الله علیہم وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں، پھر اگر اسے کھا لیا تو عطا وغیرہ کا قول ہے کہ اس پر دو کفارے لازم ہیں لیکن امام مالک رحمة الله وغیرہ فرماتے ہیں کہ کھانے میں کوئی کفارہ نہیں، جمہور بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں، ابوعمر نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح زانی کے کئی زنا پر حد ایک ہی ہوتی ہے۔ ابوحنیفہ رحمة الله کا قول ہے کہ ”شکار کر کے کھانے والے کو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی۔‏“ ابوثور رحمة الله کہتے ہیں کہ ”محرم نے جب کوئی شکار مارا تو اس پر جزا ہے، ہاں اس شکار کا کھانا اس کیلئے حلال ہے لیکن میں اسے اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ فرمان رسول ہے کہ خشکی کے شکار کو کھانا تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم آپ شکار نہ کرو اور جب تک کہ خاص تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے ۔ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اس حدیث کا تفصیلی بیان آگے آ رہا ہے، ان کا یہ قول غریب ہے، ہاں شکاری کے سوا اور لوگ بھی اسے کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، بعض تو منع کرتے ہیں جیسے پہلے گزر چکا اور بعض جائز بتاتے ہیں ان کی دلدل وہی حدیث ہے جو اوپر ابوثور کے قول کے بیان میں گزری، «وَاللهُ اَعْلَمُ»،

اگر کسی ایسے شخص نے شکار کیا جو احرام باندھے ہوئے نہیں پھر اس نے کسی احرام والے کو وہ جانور ہدیئے میں دیا تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ مطلقاً حلال ہے خواہ اسی کی نیت سے شکار کیا ہو خواہ اس کے لیے شکار نہ کیا ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر کعب احبار رضی اللہ عنہ، مجاہد، عطا، سعید بن جیر رحمة الله علیہم اور کوفیوں کا یہی خیال ہے۔

صفحہ نمبر2465

چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ غیر محرم کے شکار کو محرم کھا سکتا ہے؟ تو آپ نے جواز کا فتوی دیا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر تو اس کے خلاف فتوی دیتا تو میں تیری سزا کرتا۔‏“ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی محرم کو اس کا کھانا درست نہیں، ان کی دلیل اس آیت کے کا عموم ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین تابعین اور ائمہ دین رحمة الله علیہم اس طرف گئے ہیں۔

تیسری جماعت نے اس کی تفصیل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی غیر محرم نے کسی محرم کے ارادے سے شکار کیا ہے تو اس محرم کو اس کا کھانا جائز نہیں، ورنہ جائز ہے ان کی دلیل سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوا کے میدان میں یا ودان کے میدان میں ایک گورخر شکار کردہ بطور ہدئیے کے دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کردیا جس سے صحابی رضی اللہ عنہم اجمعین رنجیدہ ہوئے، آثار رنج ان کے چہرے پر دیکھ کر رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور کچھ خیال نہ کرو ہم نے بوجہ احرام میں ہونے کے ہی اسے واپس کیا ہے [صحیح بخاری:1825] ‏ یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے۔

تو یہ لوٹانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی وجہ سے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا تھا کہ اس نے یہ شکار خاص میرے لیے ہی کیا ہے اور جب شکار محرم کیلئے ہی نہ ہو تو پھر اسے قبول کرنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ابوقتادہ رحمة الله کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے بھی جبکہ وہ احرام کی حالت میں نہ تھے ایک گورخر شکار کیا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین جو احرام میں تھے انہوں نے اس کے کھانے میں توقف کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے اسے اشارہ کیا تھا؟ یا اسے کوئی مدد دی تھی؟ سب نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کھا لو اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا ۔ یہ واقعہ بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے [صحیح بخاری:1824] ‏

صفحہ نمبر2466

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگلی شکار کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اس حالت میں بھی کہ تم احرام میں ہو جب تک کہ خود تم نے شکار نہ کیا ہو اور جب تک کہ خود تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو ۔ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ابوداؤد ترمذی نسائی میں بھی یہ حدیث موجود ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی مطلب کا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔

ربیعہ فرماتے ہی کہ عرج میں جناب خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، آپ رضی اللہ عنہ احرام کی حالت میں تھے جاڑوں کے دن تھے ایک چادر سے آپ رضی اللہ عنہ منہ ڈھکے ہوئے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ”تم کھا لو۔‏“ انہوں نے کہا اور آپ رضی اللہ عنہ کیوں نہیں کھاتے؟ فرمایا ”مجھ میں تم میں فرق ہے یہ شکار میرے ہی لیے کیا گیا ہے اس لیے میں نہیں کھاؤں گا تمہارے لیے نہیں گیا اس لیے تم کھا سکتے ہو۔‏“ [موطا:354/1:حسن] ‏

صفحہ نمبر2467

طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات ٭٭

دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق، زید بن ثابت، عبداللہ بن عمرو، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہم اجمعین، عکرمہ، ابوسلمہ، ابراہیم نخعی، حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ خلیفۃ بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔‏“ [ابن ابی حاتم وغیرہ] ‏

آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو چیز سمندر پھینک دے وہ طعام ہے۔‏“ [ابن جریر] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے ایک روایت میں ہے کہ جو مردہ جانور پانی نکال دے۔ سعید بن مسیب رحمة الله سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ جس زندہ آبی جانور کو پانی کنارے پر ڈال دے یا پانی اس سے ہٹ جائے یا وہ باہر مردہ ملے [ابن ابی حاتم] ‏

ابن جریر میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”سمندر نے بہت سی مردہ مچھلیاں کنارے پر پھینک دی ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں؟ ہم انہیں کھا سکتے ہیں یا نہیں؟“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں نہ کھاؤ“، جب واپس آئے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کھول کر تلاوت کی اور سورۃ المائدہ کی اس آیت پر نظر پڑی تو ایک آدمی کو دوڑایا اور کہا ”جاؤ کہہ دو کہ وہ اسے کھالیں یہی بحری طعام ہے۔‏“ امام ابن جریر رحمة الله کے نزدیک بھی قول مختار یہی ہے کہ مراد طعام سے وہ آبی جانور ہیں جو پانی میں ہی مر جائیں، فرماتے ہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے گو بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے۔

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» [5-المائدہ:96] ‏ پڑھ کر فرمایا: اس کا طعام وہ ہے جسے وہ پھینک دے اور وہ مرا ہوا ہو ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12733:موقوف] ‏ بعض لوگوں نے اسے بقول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موقوف روایت کیا ہے۔

صفحہ نمبر2459

پھر فرماتا ہے ” یہ منفعت ہے تمہارے لیے اور راہ رو مسافروں کے لیے “، یعنی جو سمندر کے کنارے رہتے ہوں اور جو وہاں وارد ہوئے ہوں، پس کنارے رہنے والے تو تازہ شکار خود کھیلتے ہیں پانی جسے دھکے دے کر باہر پھینک دے اور مر جائے اسے کھا لیتے ہیں اور نمکین ہو کر دور دراز والوں کو سوکھا ہوا پہنچتا ہے۔ الغرض جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ پانی کا جانور خواہ مردہ ہی ہو حلال ہے۔

اس کی دلیل علاوہ اس آیت کے امام مالک رحمة الله کی روایت کردہ وہ حدیث بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے کنارے پر ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا جس کا سردار ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، یہ لوگ کوئی تین سو تھے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بھی ان میں سے تھا ہم ابھی راستے میں ہی تھے جو ہمارے توشے تھے ختم ہو گئے، امیر لشکر کو جب یہ علم ہوا تو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو میرے پاس لاؤ چنانچہ سب جمع کر لیا اب حصہ رسدی کے طور پر ایک مقررہ مقدار ہر ایک کو بانٹ دیتے تھے یہاں تک کہ آخر میں ہمیں ہر دن ایک ایک کھجور ملنے لگی آخر میں یہ بھی ختم ہو گئی۔ اب سمندر کے کنارے پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ کنارے پر ایک بڑی مچھلی ایک ٹیلے کی طرح پڑی ہوئی ہے، سارے لشکر نے اٹھارہ راتوں تک اسے کھایا، وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اس کے نیچے سے ایک شتر سوار نکل گیا اور اس کا سر اس پسلی کی ہڈی تک نہ پہنچا ۔ [صحیح بخاری:2483] ‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔

صفحہ نمبر2460

ایک اور روایت میں ہے کہ اس کا نام عنبر تھا ایک روایت میں ہے کہ یہ مردہ ملی تھی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس وقت سخت دقت اور تکلیف میں ہیں اسے کھا لو ہم تین سو آدمی ایک مہینے تک وہیں رہے اور اسی کو کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے تازے اور تیار ہو گئے اس کی آنکھ کے سوراخ میں سے ہم چربی ہاتھوں میں بھربھر کر نکالتے تھے تیرہ شخص اس کی آنکھ کی گہرائی میں بیٹھ گئے تھے، اس کی پسلی کی ہڈی کے درمیان سے سانڈنی سوار گزر جاتا تھا، ہم نے اس کے گوشت اور چربی سے مٹکے بھر لیے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کی طرف سے روزی تھی جو اللہ جل مجدہ نے تمہیں دی کیا اس کا گوشت اب بھی تمہارے پاس ہے؟ اگر ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ، ہمارے پاس تو تھا ہی ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا ۔ [صحیح مسلم:1935] ‏

مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اس واقعہ میں خود پیغمبر اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے اس وجہ سے بعض محدثین کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دو واقعے ہوں اور بعض کہتے ہیں واقعہ تو ایک ہی ہے، شروع میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر جماعت کو بہ ماتحتی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے روانہ فرمایا تھا اور انہیں یہ واقعہ پیش آیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2461

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سمندر کے سفر کو جاتے ہیں ہمارے ساتھ پانی بہت کم ہوتا ہے اگر اسی سے وضو کرتے ہیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہمیں سمندر کے پانی سے وضو کر لینے کی اجازت ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے ۔ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

امام شافعی، امام احمد رحمة الله علیہم اور سنن اربعہ والوں نے اسے روایت کیا ہے امام بخاری امام ترمذی امام ابن خزیمہ امام ابن حبان رحمة الله علیہم وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔

ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں تھے اتفاق سے ٹڈیوں کا دل کا دل آ پہنچا ہم نے انہیں مارنا اور پکڑنا شروع کیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہم تو احرام کی حالت میں ہیں انہیں کیا کریں گے؟ چنانچہ ہم نے جا کر حضور علیہ السلام سے مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں ۔ [سنن ابوداود:1854، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏ اس کا ایک راوی ابو المہزم ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2462

ابن ماجہ میں ہے کہ جب ٹڈیاں نکل آتیں اور نقصان پہنچاتیں تو رسول اللہ علیہ افضل الصلوۃ و التسلیم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ اے اللہ ان سب کو خواہ چھوٹی ہوں خواہ بڑی ہلاک کر ان کے انڈے تباہ کر ان کا سلسلہ کاٹ دے اور ہماری معاش سے ان کے منہ بند کر دیے یا اللہ ہمیں روزیاں دے یقیناً تو دعاؤں کا سننے والا ہے ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان کے سلسلہ کے کٹ جانے کی دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ بھی ایک قسم کی مخلوق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی پیدائش کی اصل مچھلی سے ہے ، زیاد رحمة الله کا قول ہے کہ جس نے انہیں مچھلی سے ظاہر ہوتے دیکھا تھا خود اسی نے مجھ سے بیان کیا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:3221، قال الشيخ الألباني:۔ موضوع] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حرم میں ٹڈی کے شکار سے بھی منع کیا ہے جن فقہاء کرام کا یہ مذہب ہے کہ سمندر میں جو کچھ ہے سب حلال ہے ان کا استدلال اسی آیت سے ہے وہ کسی آبی جانور کو حرام نہیں کہتے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ قول بیان ہو چکا ہے کہ طعام سے مراد پانی میں رہنے والی ہر ایک چیز ہے، بعض حضرات نے صرف مینڈک کو اس حکم سے الگ کر لیا ہے اور مینڈک کے سوا پانی کے تمام جانوروں کو وہ مباح کہتے ہیں کیونکہ مسند وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا ہے [سنن ابوداود:3871،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور فرمایا ہے کہ اس کی آواز اللہ کی تسبیح ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4788:ضعیف] ‏

بعض اور کہتے ہیں سمندر کے شکار سے مچھلی کھائی جائے گی اور مینڈک نہیں کھایا جائے گا اور باقی کی چیزوں میں اختلاف ہے کچھ تو کہتے ہیں کہ باقی سب حلال ہے اور کچھ کہتے ہیں باقی سب نہ کھایا جائے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ خشکی کے جو جانور حلال ہیں ان جیسے جو جانور پانی کے ہوں وہ بھی حلال ہیں اور خشکی کے جو جانور حرام ہیں ان کی مشابہت کے جو جانور تری کے ہوں وہ بھی حرام، یہ سب وجوہ مذہب شافعی میں ہیں حنفی مذہب یہ ہے کہ سمندر میں مر جائے اس کا کھانا حلال نہیں جیسے کہ خشکی میں از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں کیونکہ قرآن نے اپنی موت آپ مرے ہوئے جانور کو آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» ۔ الخ [5-المائدہ:3] ‏ میں حرام کر ذیا ہے اور یہ عام ہے۔

صفحہ نمبر2463

ابن مردویہ میں حدیث ہے کہ جو تم شکار کر لو اور وہ زندہ ہو پھر مر جائے تو اسے کھا لو اور جسے پانی آپ ہی پھینک دے اور وہ مرا ہوا الٹا پڑا ہوا ہو اسے نہ کھاؤ [سنن ابوداود:3815، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث مسند کی رو سے منکر ہے صحیح نہیں۔

مالکیوں شافعیوں اور حنبلیوں کی دلیل ایک تو ہی عنبر والی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ سمندر کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال کئے گئے ہیں دو مردے مچھلی اور ٹڈی اور دو خون کلیجی اور تلی [سنن ابن ماجہ:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یہ حدیث مسند احمد ابن ماجہ دارقطنی اور بیہقی میں بھی ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں اور یہی روایت موقوفاً بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2464

پھر فرماتا ہے کہ ” تم پر احرام کی حالت میں شکار کھیلنا حرام ہے “۔ پس اگر کسی احرام والے نے شکار کر لیا اور اگر قصداً کیا ہے تو اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا اور گنہگار بھی ہو گا اور اگر خطا اور غلطی سے شکار کر لیا ہے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا اور اس کا کھانا اس پر حرام ہے خواہ وہ احرام والے ہوں یا نہ ہوں۔

عطا قاسم سالم ابو یوسف محمد بن حسن رحمة الله علیہم وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں، پھر اگر اسے کھا لیا تو عطا وغیرہ کا قول ہے کہ اس پر دو کفارے لازم ہیں لیکن امام مالک رحمة الله وغیرہ فرماتے ہیں کہ کھانے میں کوئی کفارہ نہیں، جمہور بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں، ابوعمر نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح زانی کے کئی زنا پر حد ایک ہی ہوتی ہے۔ ابوحنیفہ رحمة الله کا قول ہے کہ ”شکار کر کے کھانے والے کو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی۔‏“ ابوثور رحمة الله کہتے ہیں کہ ”محرم نے جب کوئی شکار مارا تو اس پر جزا ہے، ہاں اس شکار کا کھانا اس کیلئے حلال ہے لیکن میں اسے اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ فرمان رسول ہے کہ خشکی کے شکار کو کھانا تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم آپ شکار نہ کرو اور جب تک کہ خاص تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے ۔ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اس حدیث کا تفصیلی بیان آگے آ رہا ہے، ان کا یہ قول غریب ہے، ہاں شکاری کے سوا اور لوگ بھی اسے کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، بعض تو منع کرتے ہیں جیسے پہلے گزر چکا اور بعض جائز بتاتے ہیں ان کی دلدل وہی حدیث ہے جو اوپر ابوثور کے قول کے بیان میں گزری، «وَاللهُ اَعْلَمُ»،

اگر کسی ایسے شخص نے شکار کیا جو احرام باندھے ہوئے نہیں پھر اس نے کسی احرام والے کو وہ جانور ہدیئے میں دیا تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ مطلقاً حلال ہے خواہ اسی کی نیت سے شکار کیا ہو خواہ اس کے لیے شکار نہ کیا ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر کعب احبار رضی اللہ عنہ، مجاہد، عطا، سعید بن جیر رحمة الله علیہم اور کوفیوں کا یہی خیال ہے۔

صفحہ نمبر2465

چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ غیر محرم کے شکار کو محرم کھا سکتا ہے؟ تو آپ نے جواز کا فتوی دیا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر تو اس کے خلاف فتوی دیتا تو میں تیری سزا کرتا۔‏“ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی محرم کو اس کا کھانا درست نہیں، ان کی دلیل اس آیت کے کا عموم ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین تابعین اور ائمہ دین رحمة الله علیہم اس طرف گئے ہیں۔

تیسری جماعت نے اس کی تفصیل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی غیر محرم نے کسی محرم کے ارادے سے شکار کیا ہے تو اس محرم کو اس کا کھانا جائز نہیں، ورنہ جائز ہے ان کی دلیل سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوا کے میدان میں یا ودان کے میدان میں ایک گورخر شکار کردہ بطور ہدئیے کے دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کردیا جس سے صحابی رضی اللہ عنہم اجمعین رنجیدہ ہوئے، آثار رنج ان کے چہرے پر دیکھ کر رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور کچھ خیال نہ کرو ہم نے بوجہ احرام میں ہونے کے ہی اسے واپس کیا ہے [صحیح بخاری:1825] ‏ یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے۔

تو یہ لوٹانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی وجہ سے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا تھا کہ اس نے یہ شکار خاص میرے لیے ہی کیا ہے اور جب شکار محرم کیلئے ہی نہ ہو تو پھر اسے قبول کرنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ابوقتادہ رحمة الله کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے بھی جبکہ وہ احرام کی حالت میں نہ تھے ایک گورخر شکار کیا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین جو احرام میں تھے انہوں نے اس کے کھانے میں توقف کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے اسے اشارہ کیا تھا؟ یا اسے کوئی مدد دی تھی؟ سب نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کھا لو اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا ۔ یہ واقعہ بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے [صحیح بخاری:1824] ‏

صفحہ نمبر2466

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگلی شکار کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اس حالت میں بھی کہ تم احرام میں ہو جب تک کہ خود تم نے شکار نہ کیا ہو اور جب تک کہ خود تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو ۔ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ابوداؤد ترمذی نسائی میں بھی یہ حدیث موجود ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی مطلب کا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔

ربیعہ فرماتے ہی کہ عرج میں جناب خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، آپ رضی اللہ عنہ احرام کی حالت میں تھے جاڑوں کے دن تھے ایک چادر سے آپ رضی اللہ عنہ منہ ڈھکے ہوئے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ”تم کھا لو۔‏“ انہوں نے کہا اور آپ رضی اللہ عنہ کیوں نہیں کھاتے؟ فرمایا ”مجھ میں تم میں فرق ہے یہ شکار میرے ہی لیے کیا گیا ہے اس لیے میں نہیں کھاؤں گا تمہارے لیے نہیں گیا اس لیے تم کھا سکتے ہو۔‏“ [موطا:354/1:حسن] ‏

صفحہ نمبر2467

طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات ٭٭

دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق، زید بن ثابت، عبداللہ بن عمرو، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہم اجمعین، عکرمہ، ابوسلمہ، ابراہیم نخعی، حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ خلیفۃ بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔‏“ [ابن ابی حاتم وغیرہ] ‏

آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو چیز سمندر پھینک دے وہ طعام ہے۔‏“ [ابن جریر] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے ایک روایت میں ہے کہ جو مردہ جانور پانی نکال دے۔ سعید بن مسیب رحمة الله سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ جس زندہ آبی جانور کو پانی کنارے پر ڈال دے یا پانی اس سے ہٹ جائے یا وہ باہر مردہ ملے [ابن ابی حاتم] ‏

ابن جریر میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”سمندر نے بہت سی مردہ مچھلیاں کنارے پر پھینک دی ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں؟ ہم انہیں کھا سکتے ہیں یا نہیں؟“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں نہ کھاؤ“، جب واپس آئے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کھول کر تلاوت کی اور سورۃ المائدہ کی اس آیت پر نظر پڑی تو ایک آدمی کو دوڑایا اور کہا ”جاؤ کہہ دو کہ وہ اسے کھالیں یہی بحری طعام ہے۔‏“ امام ابن جریر رحمة الله کے نزدیک بھی قول مختار یہی ہے کہ مراد طعام سے وہ آبی جانور ہیں جو پانی میں ہی مر جائیں، فرماتے ہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے گو بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے۔

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» [5-المائدہ:96] ‏ پڑھ کر فرمایا: اس کا طعام وہ ہے جسے وہ پھینک دے اور وہ مرا ہوا ہو ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12733:موقوف] ‏ بعض لوگوں نے اسے بقول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موقوف روایت کیا ہے۔

صفحہ نمبر2459

پھر فرماتا ہے ” یہ منفعت ہے تمہارے لیے اور راہ رو مسافروں کے لیے “، یعنی جو سمندر کے کنارے رہتے ہوں اور جو وہاں وارد ہوئے ہوں، پس کنارے رہنے والے تو تازہ شکار خود کھیلتے ہیں پانی جسے دھکے دے کر باہر پھینک دے اور مر جائے اسے کھا لیتے ہیں اور نمکین ہو کر دور دراز والوں کو سوکھا ہوا پہنچتا ہے۔ الغرض جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ پانی کا جانور خواہ مردہ ہی ہو حلال ہے۔

اس کی دلیل علاوہ اس آیت کے امام مالک رحمة الله کی روایت کردہ وہ حدیث بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے کنارے پر ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا جس کا سردار ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، یہ لوگ کوئی تین سو تھے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بھی ان میں سے تھا ہم ابھی راستے میں ہی تھے جو ہمارے توشے تھے ختم ہو گئے، امیر لشکر کو جب یہ علم ہوا تو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو میرے پاس لاؤ چنانچہ سب جمع کر لیا اب حصہ رسدی کے طور پر ایک مقررہ مقدار ہر ایک کو بانٹ دیتے تھے یہاں تک کہ آخر میں ہمیں ہر دن ایک ایک کھجور ملنے لگی آخر میں یہ بھی ختم ہو گئی۔ اب سمندر کے کنارے پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ کنارے پر ایک بڑی مچھلی ایک ٹیلے کی طرح پڑی ہوئی ہے، سارے لشکر نے اٹھارہ راتوں تک اسے کھایا، وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اس کے نیچے سے ایک شتر سوار نکل گیا اور اس کا سر اس پسلی کی ہڈی تک نہ پہنچا ۔ [صحیح بخاری:2483] ‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔

صفحہ نمبر2460

ایک اور روایت میں ہے کہ اس کا نام عنبر تھا ایک روایت میں ہے کہ یہ مردہ ملی تھی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس وقت سخت دقت اور تکلیف میں ہیں اسے کھا لو ہم تین سو آدمی ایک مہینے تک وہیں رہے اور اسی کو کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے تازے اور تیار ہو گئے اس کی آنکھ کے سوراخ میں سے ہم چربی ہاتھوں میں بھربھر کر نکالتے تھے تیرہ شخص اس کی آنکھ کی گہرائی میں بیٹھ گئے تھے، اس کی پسلی کی ہڈی کے درمیان سے سانڈنی سوار گزر جاتا تھا، ہم نے اس کے گوشت اور چربی سے مٹکے بھر لیے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کی طرف سے روزی تھی جو اللہ جل مجدہ نے تمہیں دی کیا اس کا گوشت اب بھی تمہارے پاس ہے؟ اگر ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ، ہمارے پاس تو تھا ہی ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا ۔ [صحیح مسلم:1935] ‏

مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اس واقعہ میں خود پیغمبر اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے اس وجہ سے بعض محدثین کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دو واقعے ہوں اور بعض کہتے ہیں واقعہ تو ایک ہی ہے، شروع میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر جماعت کو بہ ماتحتی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے روانہ فرمایا تھا اور انہیں یہ واقعہ پیش آیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2461

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سمندر کے سفر کو جاتے ہیں ہمارے ساتھ پانی بہت کم ہوتا ہے اگر اسی سے وضو کرتے ہیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہمیں سمندر کے پانی سے وضو کر لینے کی اجازت ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے ۔ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

امام شافعی، امام احمد رحمة الله علیہم اور سنن اربعہ والوں نے اسے روایت کیا ہے امام بخاری امام ترمذی امام ابن خزیمہ امام ابن حبان رحمة الله علیہم وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔

ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں تھے اتفاق سے ٹڈیوں کا دل کا دل آ پہنچا ہم نے انہیں مارنا اور پکڑنا شروع کیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہم تو احرام کی حالت میں ہیں انہیں کیا کریں گے؟ چنانچہ ہم نے جا کر حضور علیہ السلام سے مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں ۔ [سنن ابوداود:1854، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏ اس کا ایک راوی ابو المہزم ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2462

ابن ماجہ میں ہے کہ جب ٹڈیاں نکل آتیں اور نقصان پہنچاتیں تو رسول اللہ علیہ افضل الصلوۃ و التسلیم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ اے اللہ ان سب کو خواہ چھوٹی ہوں خواہ بڑی ہلاک کر ان کے انڈے تباہ کر ان کا سلسلہ کاٹ دے اور ہماری معاش سے ان کے منہ بند کر دیے یا اللہ ہمیں روزیاں دے یقیناً تو دعاؤں کا سننے والا ہے ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان کے سلسلہ کے کٹ جانے کی دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ بھی ایک قسم کی مخلوق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی پیدائش کی اصل مچھلی سے ہے ، زیاد رحمة الله کا قول ہے کہ جس نے انہیں مچھلی سے ظاہر ہوتے دیکھا تھا خود اسی نے مجھ سے بیان کیا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:3221، قال الشيخ الألباني:۔ موضوع] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حرم میں ٹڈی کے شکار سے بھی منع کیا ہے جن فقہاء کرام کا یہ مذہب ہے کہ سمندر میں جو کچھ ہے سب حلال ہے ان کا استدلال اسی آیت سے ہے وہ کسی آبی جانور کو حرام نہیں کہتے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ قول بیان ہو چکا ہے کہ طعام سے مراد پانی میں رہنے والی ہر ایک چیز ہے، بعض حضرات نے صرف مینڈک کو اس حکم سے الگ کر لیا ہے اور مینڈک کے سوا پانی کے تمام جانوروں کو وہ مباح کہتے ہیں کیونکہ مسند وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا ہے [سنن ابوداود:3871،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور فرمایا ہے کہ اس کی آواز اللہ کی تسبیح ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4788:ضعیف] ‏

بعض اور کہتے ہیں سمندر کے شکار سے مچھلی کھائی جائے گی اور مینڈک نہیں کھایا جائے گا اور باقی کی چیزوں میں اختلاف ہے کچھ تو کہتے ہیں کہ باقی سب حلال ہے اور کچھ کہتے ہیں باقی سب نہ کھایا جائے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ خشکی کے جو جانور حلال ہیں ان جیسے جو جانور پانی کے ہوں وہ بھی حلال ہیں اور خشکی کے جو جانور حرام ہیں ان کی مشابہت کے جو جانور تری کے ہوں وہ بھی حرام، یہ سب وجوہ مذہب شافعی میں ہیں حنفی مذہب یہ ہے کہ سمندر میں مر جائے اس کا کھانا حلال نہیں جیسے کہ خشکی میں از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں کیونکہ قرآن نے اپنی موت آپ مرے ہوئے جانور کو آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» ۔ الخ [5-المائدہ:3] ‏ میں حرام کر ذیا ہے اور یہ عام ہے۔

صفحہ نمبر2463

ابن مردویہ میں حدیث ہے کہ جو تم شکار کر لو اور وہ زندہ ہو پھر مر جائے تو اسے کھا لو اور جسے پانی آپ ہی پھینک دے اور وہ مرا ہوا الٹا پڑا ہوا ہو اسے نہ کھاؤ [سنن ابوداود:3815، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث مسند کی رو سے منکر ہے صحیح نہیں۔

مالکیوں شافعیوں اور حنبلیوں کی دلیل ایک تو ہی عنبر والی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ سمندر کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال کئے گئے ہیں دو مردے مچھلی اور ٹڈی اور دو خون کلیجی اور تلی [سنن ابن ماجہ:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یہ حدیث مسند احمد ابن ماجہ دارقطنی اور بیہقی میں بھی ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں اور یہی روایت موقوفاً بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2464

پھر فرماتا ہے کہ ” تم پر احرام کی حالت میں شکار کھیلنا حرام ہے “۔ پس اگر کسی احرام والے نے شکار کر لیا اور اگر قصداً کیا ہے تو اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا اور گنہگار بھی ہو گا اور اگر خطا اور غلطی سے شکار کر لیا ہے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا اور اس کا کھانا اس پر حرام ہے خواہ وہ احرام والے ہوں یا نہ ہوں۔

عطا قاسم سالم ابو یوسف محمد بن حسن رحمة الله علیہم وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں، پھر اگر اسے کھا لیا تو عطا وغیرہ کا قول ہے کہ اس پر دو کفارے لازم ہیں لیکن امام مالک رحمة الله وغیرہ فرماتے ہیں کہ کھانے میں کوئی کفارہ نہیں، جمہور بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں، ابوعمر نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح زانی کے کئی زنا پر حد ایک ہی ہوتی ہے۔ ابوحنیفہ رحمة الله کا قول ہے کہ ”شکار کر کے کھانے والے کو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی۔‏“ ابوثور رحمة الله کہتے ہیں کہ ”محرم نے جب کوئی شکار مارا تو اس پر جزا ہے، ہاں اس شکار کا کھانا اس کیلئے حلال ہے لیکن میں اسے اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ فرمان رسول ہے کہ خشکی کے شکار کو کھانا تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم آپ شکار نہ کرو اور جب تک کہ خاص تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے ۔ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اس حدیث کا تفصیلی بیان آگے آ رہا ہے، ان کا یہ قول غریب ہے، ہاں شکاری کے سوا اور لوگ بھی اسے کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، بعض تو منع کرتے ہیں جیسے پہلے گزر چکا اور بعض جائز بتاتے ہیں ان کی دلدل وہی حدیث ہے جو اوپر ابوثور کے قول کے بیان میں گزری، «وَاللهُ اَعْلَمُ»،

اگر کسی ایسے شخص نے شکار کیا جو احرام باندھے ہوئے نہیں پھر اس نے کسی احرام والے کو وہ جانور ہدیئے میں دیا تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ مطلقاً حلال ہے خواہ اسی کی نیت سے شکار کیا ہو خواہ اس کے لیے شکار نہ کیا ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر کعب احبار رضی اللہ عنہ، مجاہد، عطا، سعید بن جیر رحمة الله علیہم اور کوفیوں کا یہی خیال ہے۔

صفحہ نمبر2465

چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ غیر محرم کے شکار کو محرم کھا سکتا ہے؟ تو آپ نے جواز کا فتوی دیا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر تو اس کے خلاف فتوی دیتا تو میں تیری سزا کرتا۔‏“ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی محرم کو اس کا کھانا درست نہیں، ان کی دلیل اس آیت کے کا عموم ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین تابعین اور ائمہ دین رحمة الله علیہم اس طرف گئے ہیں۔

تیسری جماعت نے اس کی تفصیل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی غیر محرم نے کسی محرم کے ارادے سے شکار کیا ہے تو اس محرم کو اس کا کھانا جائز نہیں، ورنہ جائز ہے ان کی دلیل سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوا کے میدان میں یا ودان کے میدان میں ایک گورخر شکار کردہ بطور ہدئیے کے دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کردیا جس سے صحابی رضی اللہ عنہم اجمعین رنجیدہ ہوئے، آثار رنج ان کے چہرے پر دیکھ کر رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور کچھ خیال نہ کرو ہم نے بوجہ احرام میں ہونے کے ہی اسے واپس کیا ہے [صحیح بخاری:1825] ‏ یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے۔

تو یہ لوٹانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی وجہ سے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا تھا کہ اس نے یہ شکار خاص میرے لیے ہی کیا ہے اور جب شکار محرم کیلئے ہی نہ ہو تو پھر اسے قبول کرنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ابوقتادہ رحمة الله کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے بھی جبکہ وہ احرام کی حالت میں نہ تھے ایک گورخر شکار کیا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین جو احرام میں تھے انہوں نے اس کے کھانے میں توقف کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے اسے اشارہ کیا تھا؟ یا اسے کوئی مدد دی تھی؟ سب نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کھا لو اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا ۔ یہ واقعہ بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے [صحیح بخاری:1824] ‏

صفحہ نمبر2466

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگلی شکار کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اس حالت میں بھی کہ تم احرام میں ہو جب تک کہ خود تم نے شکار نہ کیا ہو اور جب تک کہ خود تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو ۔ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ابوداؤد ترمذی نسائی میں بھی یہ حدیث موجود ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی مطلب کا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔

ربیعہ فرماتے ہی کہ عرج میں جناب خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، آپ رضی اللہ عنہ احرام کی حالت میں تھے جاڑوں کے دن تھے ایک چادر سے آپ رضی اللہ عنہ منہ ڈھکے ہوئے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ”تم کھا لو۔‏“ انہوں نے کہا اور آپ رضی اللہ عنہ کیوں نہیں کھاتے؟ فرمایا ”مجھ میں تم میں فرق ہے یہ شکار میرے ہی لیے کیا گیا ہے اس لیے میں نہیں کھاؤں گا تمہارے لیے نہیں گیا اس لیے تم کھا سکتے ہو۔‏“ [موطا:354/1:حسن] ‏

صفحہ نمبر2467

طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات ٭٭

دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق، زید بن ثابت، عبداللہ بن عمرو، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہم اجمعین، عکرمہ، ابوسلمہ، ابراہیم نخعی، حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ خلیفۃ بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔‏“ [ابن ابی حاتم وغیرہ] ‏

آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”جو چیز سمندر پھینک دے وہ طعام ہے۔‏“ [ابن جریر] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے ایک روایت میں ہے کہ جو مردہ جانور پانی نکال دے۔ سعید بن مسیب رحمة الله سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ جس زندہ آبی جانور کو پانی کنارے پر ڈال دے یا پانی اس سے ہٹ جائے یا وہ باہر مردہ ملے [ابن ابی حاتم] ‏

ابن جریر میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”سمندر نے بہت سی مردہ مچھلیاں کنارے پر پھینک دی ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں؟ ہم انہیں کھا سکتے ہیں یا نہیں؟“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”نہیں نہ کھاؤ“، جب واپس آئے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کھول کر تلاوت کی اور سورۃ المائدہ کی اس آیت پر نظر پڑی تو ایک آدمی کو دوڑایا اور کہا ”جاؤ کہہ دو کہ وہ اسے کھالیں یہی بحری طعام ہے۔‏“ امام ابن جریر رحمة الله کے نزدیک بھی قول مختار یہی ہے کہ مراد طعام سے وہ آبی جانور ہیں جو پانی میں ہی مر جائیں، فرماتے ہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے گو بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے۔

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» [5-المائدہ:96] ‏ پڑھ کر فرمایا: اس کا طعام وہ ہے جسے وہ پھینک دے اور وہ مرا ہوا ہو ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12733:موقوف] ‏ بعض لوگوں نے اسے بقول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موقوف روایت کیا ہے۔

صفحہ نمبر2459

پھر فرماتا ہے ” یہ منفعت ہے تمہارے لیے اور راہ رو مسافروں کے لیے “، یعنی جو سمندر کے کنارے رہتے ہوں اور جو وہاں وارد ہوئے ہوں، پس کنارے رہنے والے تو تازہ شکار خود کھیلتے ہیں پانی جسے دھکے دے کر باہر پھینک دے اور مر جائے اسے کھا لیتے ہیں اور نمکین ہو کر دور دراز والوں کو سوکھا ہوا پہنچتا ہے۔ الغرض جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ پانی کا جانور خواہ مردہ ہی ہو حلال ہے۔

اس کی دلیل علاوہ اس آیت کے امام مالک رحمة الله کی روایت کردہ وہ حدیث بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے کنارے پر ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا جس کا سردار ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، یہ لوگ کوئی تین سو تھے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بھی ان میں سے تھا ہم ابھی راستے میں ہی تھے جو ہمارے توشے تھے ختم ہو گئے، امیر لشکر کو جب یہ علم ہوا تو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو میرے پاس لاؤ چنانچہ سب جمع کر لیا اب حصہ رسدی کے طور پر ایک مقررہ مقدار ہر ایک کو بانٹ دیتے تھے یہاں تک کہ آخر میں ہمیں ہر دن ایک ایک کھجور ملنے لگی آخر میں یہ بھی ختم ہو گئی۔ اب سمندر کے کنارے پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ کنارے پر ایک بڑی مچھلی ایک ٹیلے کی طرح پڑی ہوئی ہے، سارے لشکر نے اٹھارہ راتوں تک اسے کھایا، وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اس کے نیچے سے ایک شتر سوار نکل گیا اور اس کا سر اس پسلی کی ہڈی تک نہ پہنچا ۔ [صحیح بخاری:2483] ‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔

صفحہ نمبر2460

ایک اور روایت میں ہے کہ اس کا نام عنبر تھا ایک روایت میں ہے کہ یہ مردہ ملی تھی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس وقت سخت دقت اور تکلیف میں ہیں اسے کھا لو ہم تین سو آدمی ایک مہینے تک وہیں رہے اور اسی کو کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے تازے اور تیار ہو گئے اس کی آنکھ کے سوراخ میں سے ہم چربی ہاتھوں میں بھربھر کر نکالتے تھے تیرہ شخص اس کی آنکھ کی گہرائی میں بیٹھ گئے تھے، اس کی پسلی کی ہڈی کے درمیان سے سانڈنی سوار گزر جاتا تھا، ہم نے اس کے گوشت اور چربی سے مٹکے بھر لیے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کی طرف سے روزی تھی جو اللہ جل مجدہ نے تمہیں دی کیا اس کا گوشت اب بھی تمہارے پاس ہے؟ اگر ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ، ہمارے پاس تو تھا ہی ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا ۔ [صحیح مسلم:1935] ‏

مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اس واقعہ میں خود پیغمبر اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے اس وجہ سے بعض محدثین کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دو واقعے ہوں اور بعض کہتے ہیں واقعہ تو ایک ہی ہے، شروع میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر جماعت کو بہ ماتحتی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے روانہ فرمایا تھا اور انہیں یہ واقعہ پیش آیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2461

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سمندر کے سفر کو جاتے ہیں ہمارے ساتھ پانی بہت کم ہوتا ہے اگر اسی سے وضو کرتے ہیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہمیں سمندر کے پانی سے وضو کر لینے کی اجازت ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے ۔ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

امام شافعی، امام احمد رحمة الله علیہم اور سنن اربعہ والوں نے اسے روایت کیا ہے امام بخاری امام ترمذی امام ابن خزیمہ امام ابن حبان رحمة الله علیہم وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔

ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں تھے اتفاق سے ٹڈیوں کا دل کا دل آ پہنچا ہم نے انہیں مارنا اور پکڑنا شروع کیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہم تو احرام کی حالت میں ہیں انہیں کیا کریں گے؟ چنانچہ ہم نے جا کر حضور علیہ السلام سے مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں ۔ [سنن ابوداود:1854، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏ اس کا ایک راوی ابو المہزم ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2462

ابن ماجہ میں ہے کہ جب ٹڈیاں نکل آتیں اور نقصان پہنچاتیں تو رسول اللہ علیہ افضل الصلوۃ و التسلیم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ اے اللہ ان سب کو خواہ چھوٹی ہوں خواہ بڑی ہلاک کر ان کے انڈے تباہ کر ان کا سلسلہ کاٹ دے اور ہماری معاش سے ان کے منہ بند کر دیے یا اللہ ہمیں روزیاں دے یقیناً تو دعاؤں کا سننے والا ہے ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان کے سلسلہ کے کٹ جانے کی دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ بھی ایک قسم کی مخلوق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی پیدائش کی اصل مچھلی سے ہے ، زیاد رحمة الله کا قول ہے کہ جس نے انہیں مچھلی سے ظاہر ہوتے دیکھا تھا خود اسی نے مجھ سے بیان کیا ہے۔ [سنن ابن ماجہ:3221، قال الشيخ الألباني:۔ موضوع] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حرم میں ٹڈی کے شکار سے بھی منع کیا ہے جن فقہاء کرام کا یہ مذہب ہے کہ سمندر میں جو کچھ ہے سب حلال ہے ان کا استدلال اسی آیت سے ہے وہ کسی آبی جانور کو حرام نہیں کہتے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ قول بیان ہو چکا ہے کہ طعام سے مراد پانی میں رہنے والی ہر ایک چیز ہے، بعض حضرات نے صرف مینڈک کو اس حکم سے الگ کر لیا ہے اور مینڈک کے سوا پانی کے تمام جانوروں کو وہ مباح کہتے ہیں کیونکہ مسند وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا ہے [سنن ابوداود:3871،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور فرمایا ہے کہ اس کی آواز اللہ کی تسبیح ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4788:ضعیف] ‏

بعض اور کہتے ہیں سمندر کے شکار سے مچھلی کھائی جائے گی اور مینڈک نہیں کھایا جائے گا اور باقی کی چیزوں میں اختلاف ہے کچھ تو کہتے ہیں کہ باقی سب حلال ہے اور کچھ کہتے ہیں باقی سب نہ کھایا جائے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ خشکی کے جو جانور حلال ہیں ان جیسے جو جانور پانی کے ہوں وہ بھی حلال ہیں اور خشکی کے جو جانور حرام ہیں ان کی مشابہت کے جو جانور تری کے ہوں وہ بھی حرام، یہ سب وجوہ مذہب شافعی میں ہیں حنفی مذہب یہ ہے کہ سمندر میں مر جائے اس کا کھانا حلال نہیں جیسے کہ خشکی میں از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں کیونکہ قرآن نے اپنی موت آپ مرے ہوئے جانور کو آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» ۔ الخ [5-المائدہ:3] ‏ میں حرام کر ذیا ہے اور یہ عام ہے۔

صفحہ نمبر2463

ابن مردویہ میں حدیث ہے کہ جو تم شکار کر لو اور وہ زندہ ہو پھر مر جائے تو اسے کھا لو اور جسے پانی آپ ہی پھینک دے اور وہ مرا ہوا الٹا پڑا ہوا ہو اسے نہ کھاؤ [سنن ابوداود:3815، قال الشيخ الألباني: ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث مسند کی رو سے منکر ہے صحیح نہیں۔

مالکیوں شافعیوں اور حنبلیوں کی دلیل ایک تو ہی عنبر والی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ سمندر کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال کئے گئے ہیں دو مردے مچھلی اور ٹڈی اور دو خون کلیجی اور تلی [سنن ابن ماجہ:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

یہ حدیث مسند احمد ابن ماجہ دارقطنی اور بیہقی میں بھی ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں اور یہی روایت موقوفاً بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2464

پھر فرماتا ہے کہ ” تم پر احرام کی حالت میں شکار کھیلنا حرام ہے “۔ پس اگر کسی احرام والے نے شکار کر لیا اور اگر قصداً کیا ہے تو اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا اور گنہگار بھی ہو گا اور اگر خطا اور غلطی سے شکار کر لیا ہے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا اور اس کا کھانا اس پر حرام ہے خواہ وہ احرام والے ہوں یا نہ ہوں۔

عطا قاسم سالم ابو یوسف محمد بن حسن رحمة الله علیہم وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں، پھر اگر اسے کھا لیا تو عطا وغیرہ کا قول ہے کہ اس پر دو کفارے لازم ہیں لیکن امام مالک رحمة الله وغیرہ فرماتے ہیں کہ کھانے میں کوئی کفارہ نہیں، جمہور بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں، ابوعمر نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح زانی کے کئی زنا پر حد ایک ہی ہوتی ہے۔ ابوحنیفہ رحمة الله کا قول ہے کہ ”شکار کر کے کھانے والے کو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی۔‏“ ابوثور رحمة الله کہتے ہیں کہ ”محرم نے جب کوئی شکار مارا تو اس پر جزا ہے، ہاں اس شکار کا کھانا اس کیلئے حلال ہے لیکن میں اسے اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ فرمان رسول ہے کہ خشکی کے شکار کو کھانا تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم آپ شکار نہ کرو اور جب تک کہ خاص تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے ۔ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اس حدیث کا تفصیلی بیان آگے آ رہا ہے، ان کا یہ قول غریب ہے، ہاں شکاری کے سوا اور لوگ بھی اسے کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، بعض تو منع کرتے ہیں جیسے پہلے گزر چکا اور بعض جائز بتاتے ہیں ان کی دلدل وہی حدیث ہے جو اوپر ابوثور کے قول کے بیان میں گزری، «وَاللهُ اَعْلَمُ»،

اگر کسی ایسے شخص نے شکار کیا جو احرام باندھے ہوئے نہیں پھر اس نے کسی احرام والے کو وہ جانور ہدیئے میں دیا تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ مطلقاً حلال ہے خواہ اسی کی نیت سے شکار کیا ہو خواہ اس کے لیے شکار نہ کیا ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر کعب احبار رضی اللہ عنہ، مجاہد، عطا، سعید بن جیر رحمة الله علیہم اور کوفیوں کا یہی خیال ہے۔

صفحہ نمبر2465

چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ غیر محرم کے شکار کو محرم کھا سکتا ہے؟ تو آپ نے جواز کا فتوی دیا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر تو اس کے خلاف فتوی دیتا تو میں تیری سزا کرتا۔‏“ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی محرم کو اس کا کھانا درست نہیں، ان کی دلیل اس آیت کے کا عموم ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے اور بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین تابعین اور ائمہ دین رحمة الله علیہم اس طرف گئے ہیں۔

تیسری جماعت نے اس کی تفصیل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی غیر محرم نے کسی محرم کے ارادے سے شکار کیا ہے تو اس محرم کو اس کا کھانا جائز نہیں، ورنہ جائز ہے ان کی دلیل سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوا کے میدان میں یا ودان کے میدان میں ایک گورخر شکار کردہ بطور ہدئیے کے دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کردیا جس سے صحابی رضی اللہ عنہم اجمعین رنجیدہ ہوئے، آثار رنج ان کے چہرے پر دیکھ کر رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور کچھ خیال نہ کرو ہم نے بوجہ احرام میں ہونے کے ہی اسے واپس کیا ہے [صحیح بخاری:1825] ‏ یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے۔

تو یہ لوٹانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی وجہ سے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا تھا کہ اس نے یہ شکار خاص میرے لیے ہی کیا ہے اور جب شکار محرم کیلئے ہی نہ ہو تو پھر اسے قبول کرنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ابوقتادہ رحمة الله کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے بھی جبکہ وہ احرام کی حالت میں نہ تھے ایک گورخر شکار کیا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین جو احرام میں تھے انہوں نے اس کے کھانے میں توقف کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے اسے اشارہ کیا تھا؟ یا اسے کوئی مدد دی تھی؟ سب نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کھا لو اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا ۔ یہ واقعہ بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے [صحیح بخاری:1824] ‏

صفحہ نمبر2466

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگلی شکار کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اس حالت میں بھی کہ تم احرام میں ہو جب تک کہ خود تم نے شکار نہ کیا ہو اور جب تک کہ خود تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو ۔ [سنن ابوداود:1851،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ابوداؤد ترمذی نسائی میں بھی یہ حدیث موجود ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی مطلب کا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔

ربیعہ فرماتے ہی کہ عرج میں جناب خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، آپ رضی اللہ عنہ احرام کی حالت میں تھے جاڑوں کے دن تھے ایک چادر سے آپ رضی اللہ عنہ منہ ڈھکے ہوئے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ”تم کھا لو۔‏“ انہوں نے کہا اور آپ رضی اللہ عنہ کیوں نہیں کھاتے؟ فرمایا ”مجھ میں تم میں فرق ہے یہ شکار میرے ہی لیے کیا گیا ہے اس لیے میں نہیں کھاؤں گا تمہارے لیے نہیں گیا اس لیے تم کھا سکتے ہو۔‏“ [موطا:354/1:حسن] ‏

صفحہ نمبر2467

رزق حلال کم ہو تو برکت حرام زیادہ بھی ہو تو بےبرکت اور کثرت سوالات ٭٭

مقصد یہ ہے کہ حلال گو تھوڑا ہو وہ بہتر ہے حرام سے گو بہت سارا ہو جیسے وارد ہے کہ جو کم ہو اور کفایت کرے وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے۔ [مسند ابو یعلی:1053:حسن] ‏

ابن حاطب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کم مال جس کا شکریہ تو ادا کرے یہ بہتر ہے اس زیادہ سے جس کی تو طاقت نہ رکھے [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4081: ضعیف] ‏

” اے عقلمند لوگو اللہ سے ڈرو حرام سے بچو حلال پر اکتفا کرو قناعت کیا کرو تاکہ دین و دنیا میں کامیاب ہو جاؤ “۔

صفحہ نمبر2471

پھر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ادب سکھاتا ہے کہ ” بے فائدہ سوالات مت کیا کرو، کرید میں نہ پڑو، ایسے نہ ہو کہ پھر ان کا جواب اور ان امور کا اظہار تم پر شاق گزرے “۔

صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کوئی کسی کی برائی کی بات نہ پہنچائے، میں چاہتا ہوں کہ تمہاری طرف اس حالت میں آؤں کہ میرے دل میں کسی کی طرف سے کوئی برائی نہ ہو ۔ [سنن ابوداود:4860، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صحیح بخاری شریف میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سنایا، ایسا بے مثل کہ ہم نے کبھی ایسا خطبہ نہ سنا تھا اسی میں فرمایا کہ اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے ، یہ سن کر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم منہ ڈھانپ کر رونے لگے اسی اثناء میں ایک شخص آپ سے پوچھ بیٹھا کہ میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا فلاں ، اس پر یہ آیت اتری ۔ [صحیح بخاری:4621] ‏

بخاری مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ کثرت سوالات شروع کر دیئے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر آ گئے اور فرمایا آؤ اب جس کسی کو جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو جو پوچھو گے جواب پاؤ گے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہ کانپ اٹھے کہ ایسا نہ ہو اس کے پیچھے کوئی اہم امر ظاہر ہو جتنے بھی تھے سب اپنے اپنے چہرے کپڑوں سے ڈھانپ کر رونے لگے، ایک شخص تھے جن سے مذاق کیا جاتا تھا اور جنہیں لوگ ان کے باپ کے سوا دوسرے کی طرف نسبت کرکے بلاتے تھے اس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خزافہ ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال ہونے پر راضی ہوگئے، ہم تمام فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کی طرح میں نے بھلائی برائی کبھی نہیں دیکھی جنت دوزخ میرے سامنے اس دیوار کے پیچھے بطور نقشے کے پیش کردی گئی تھی ۔ [صحیح بخاری:6362] ‏

اور روایت میں ہے یہ سوال کرنے والے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ان سے ان کی والدہ نے کہا تجھ سے بڑھ کر ماں باپ کا نافرمان میں نے نہیں دیکھا۔ تجھے کیا خبر تھی جاہلیت میں کس چیز کا پرہیز تھا۔ فرض کرو اگر میں بھی کسی معصیت میں اس وقت آلودہ ہوگئی ہوتی تو آج اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی میری رسوائی ہوتی اور سب کے سامنے بےآبروئی ہوتی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سنو ماں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی مجھے معلوم ہوتا کہ فلاں حبشی غلام کا میں بیٹا ہوں تو واللہ میں اسی سے مل جاتا۔‏“ [صحیح بخاری:7294] ‏

صفحہ نمبر2472

ابن جریر میں ہے کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے کی حالت میں آئے منبر پر بیٹھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک اس وقت سرخ ہو رہا تھا ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا میں کہاں جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم میں ۔ دوسرے نے پوچھا میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا حذافہ ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر، قرآن کے امام ہونے پر راضی ہیں یا رسول اللہ جاہلیت اور شرک میں ہم ابھی ابھی آپ کی طرف آئے ہیں، اللہ ہی جانتا ہے کہ میرے آباؤ اجداد کون ہیں؟ اس سے آپ کا غصہ کم ہوا اور یہ آیت اتری ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12806:ضعیف] ‏

ایک مرسل حدیث میں ہے کہ اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا: جو چاہو پوچھو، جو پوچھو گے، بتاؤں گا ، یہ شخص جس نے اپنے باپ کا نام پوچھا تھا یہ قریش کے قبیلے بنو سہم میں سے تھا۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم چوم کر یہ عرض کیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے درگزر فرمائیے اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درگزر فرمائے، اسی دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قاعدہ مقرر فرمایا تھا کہ اولاد اسے ملے گی جس کی بیوی یا لونڈی ہو اور زانی کو پتھر ملیں گے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12805] ‏

بخاری شریف میں ہے کہ بعض لوگ از روئے مذاق حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ کا نام اور اپنی گمشدہ اونٹینیوں کی جگہ وغیرہ دریافت کرتے تھے جس پر یہ آیت اتری ۔ [صحیح بخاری:4622] ‏

مسند احمد میں ہے کہ جب آیت «وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا» [3-آل عمران:97] ‏ نازل ہوئی یعنی ” صاحب مقدور لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے “، تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے انہوں نے پھر دوبارہ یہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سکوت فرمایا انہوں نے تیسری دفعہ پھر یہی پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر سال نہیں اور اگر میں ہاں کہ دیتا تو ہر سال واجب ہو جاتا اور تم ادا نہ کر سکتے ۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:814، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ امام ترمذی رحمة الله فرماتے ہیں یہ روایت اس سند سے غریب ہے اور میں نے امام بخاری رحمة الله سے سنا ہے کہ اس کے راوی ابو الخجزی نے سیدنا علی ابن طالب رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی۔

صفحہ نمبر2473

ابن جریر کی اس روایت میں یہ بھی ہے کہ میری ہاں کے بعد اگر تم اسے چھوڑ دیتے تو یقیناً کافر ہو جاتے ، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ پوچھنے والے محصن اسدی رضی اللہ عنہ تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12808:ضعیف] ‏

دوسری روایت میں ان کا نام عکاشہ بن محصن مروی ہے، یہی زیادہ ٹھیک ہے، اور روایت میں ہے کہ سائل ایک اعرابی تھے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے اگلے لوگ ائمہ حرج کے ایسے ہی سوالوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے واللہ تمہاری حالت تو یہ ہے کہ اگر میں ساری زمین تمہارے لیے حلال کردوں اور صرف ایک موزے کے برابر کی جگہ حرام کردوں تو تم اسی حرمت والی زمین پر گرو گے ، اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12811:ضعیف] ‏

ظاہر آیت کے الفاظ کا مطلب تو صاف ہے یعنی ان باتوں کا پوچھنا منع ہے جن کا ظاہر ہونا برا ہو، پس اولیٰ یہ ہے کہ ایسے سوالات ترک کر دیئے جائیں اور ان سے اعراض کرلیا جائے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرما دیا دیکھو مجھے کسی کی کوئی برائی نہ پہنچائے میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ لے کر آؤں ۔ [سنن ترمذي:3896،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2474

پھر فرماتا ہے کہ ” جن چیزوں کے سوال سے تمہیں روکا جا رہا ہے اگر تم نے ان کی بابت پوچھ گچھ کی اور تم دیکھ رہے ہو کہ وحی نازل ہو رہی ہے تو تمہارے سوالات کا جواب آ جائے گا اور جس چیز کا ظاہر ہونا تمہیں برا معلوم ہوتا تھا وہ ظاہر ہو جائے گی، اس سے پہلے کے ایسے سوالات سے تو اللہ تعالیٰ نے درگزر فرما لیا۔ اللہ ہے ہی بخشش والا اور حلم و بردباری والا “۔

مطلب یہ ہے کہ سوالات ترک کر دو ایسا نہ ہو کہ تمہارے سوال کی وجہ سے کوئی آسانی سختی میں بدل جائے۔ حدیث شریف میں ہے مسلمانوں میں سب سے بڑا گنہگار وہ ہے جس نے کسی چیز کی نسبت دریافت کیا جو حرام نہ تھی پھر اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام ہو گئی ۔ [صحیح بخاری:7289] ‏

یہ بات اور ہے کہ قرآن شریف میں کوئی حکم آئے اس میں اجمال ہو اس کی تفصیل دریافت کی جائے، اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا ذکر اپنی پاک کتاب میں نہیں کیا اس سے خود اس نے درگزر فرما لیا ہے، پس تمہیں بھی اس سے خاموشی اختیار کرنی چاہیئے جیسے کہ خود اللہ تعالیٰ نے کی ہے۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑ رکھو، یاد رکھو کہ تم سے اگلے لوگوں کی حالت کی وجہ صرف کثرت سوال اور انبیاء پر اختلاف ہی ہوئی ہے ۔ [صحیح بخاری:7288] ‏

اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرائض مقرر کر دیئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو حدیں باندھ دی ہیں انہیں نہ توڑو، جو چیزیں حرام کر دی ہیں ان کی حرمت کو سنبھالو جن چیزوں سے خاموشی کی ہے صرف تم پر رحم کھا کر نہ کہ بھول کر تم بھی اس کو پوچھ گچھ نہ کرو ۔ [دارقطنی:183/4:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2475

پھر فرماتا ہے ” ایسے ہی مسائل تم سے اگلے لوگوں نے بھی دریافت کئے انہیں بتائے گئے پھر وہ ان پر ایمان نہ لائے بلکہ ان کے باعث کافر بن گئے ان پر وہ باتیں بیان کی گئیں ان سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا کیونکہ ان کے سوال ہی سرکشی پر تھے نہ کہ سمجھنے اور ماننے کیلئے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کیا پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کر دیا ہے ، بنو اسد قبیلے کا ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ کیا ہر سال؟ آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہو جاتا اور اگر ایسا ہوتا تو اس پر عمل تمہاری طاقت سے باہر تھا اور جب عمل نہ کرتے تو کافر ہو جاتے پس جب تک میں نہ کہوں تم بھی نہ پوچھو میں خود جب تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ ۔

پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو ممانعت کردی کہ کہیں وہ بھی نصرانیوں کی طرح آسمانی دستر خوان طلب نہ کریں جس کے طلب کرنے کے بعد اور آنے کے بعد پھر وہ کافر ہوگئے پس منع کردیا اور صاف فرما دیا کہ ایسی باتیں نہ پوچھو کہ اگر قرآن میں ان کی بابت سخت احکام نازل ہوں تو تمہیں برے لگیں بلکہ تم منتظر رہو قرآن اتر رہا ہے جو پوچھنا چاہتے ہو سب کا بیان اس میں پاؤ گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12812:ضعیف] ‏

بہ روایت مجاہد رحمة الله، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے وہ جانور ہیں جن کا ذکر اس آیت کے بعد ہی ہے۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں مراد معجزات کی طلبی ہے جیسے کہ قریشیوں نے کہا تھا کہ عرب میں نہریں جاری ہو جائیں اور صفا پہاڑ سونے کا ہو جائے وغیرہ اور جیسے یہود نے کہا تھا کہ خود ان پر آسمان سے کتاب اترے۔

صفحہ نمبر2476

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ» [17-الإسراء:59] ‏ یعنی ” معجزوں کے ظاہر کرنے سے مانع تو کچھ بھی نہیں مگر یہ کہ اگلے لوگوں نے بھی اسے جھٹلایا ہم نے ثمود کو اونٹنی کا نشان دیا تھا جس پر انہوں نے ظلم کیا ہم تو نشانات صرف دھمکانے کیلئے بھیجتے ہیں “۔

اور آیت میں ہے «وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاءَتْهُمْ اٰيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ اَنَّهَآ اِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111-109] ‏ ” بڑی زور دار قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر کوئی معجزہ آ گیا تو ضرور ایمان لائیں گے تو جواب دے کہ یہ تو اللہ کے قبضے کی چیز ہے ہو سکتا ہے کہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ہم ان کے دلوں کو اور آنکھوں کو الٹ دیں گے جیسے کہ پہلی دفعہ قرآن پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں ہی پڑے رہنے دیں گے بھٹکتے پھریں اگر ہم ان پر آسمان سے فرشتے بھی اتارتے اور مردے بھی ان سے باتیں کرنے لگتے اور تمام چیزیں یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے تب بھی تو اللہ کی چاہت کے بغیر انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ان میں سے اکثر ہیں ہی بے علم “۔

صفحہ نمبر2477

رزق حلال کم ہو تو برکت حرام زیادہ بھی ہو تو بےبرکت اور کثرت سوالات ٭٭

مقصد یہ ہے کہ حلال گو تھوڑا ہو وہ بہتر ہے حرام سے گو بہت سارا ہو جیسے وارد ہے کہ جو کم ہو اور کفایت کرے وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے۔ [مسند ابو یعلی:1053:حسن] ‏

ابن حاطب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کم مال جس کا شکریہ تو ادا کرے یہ بہتر ہے اس زیادہ سے جس کی تو طاقت نہ رکھے [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4081: ضعیف] ‏

” اے عقلمند لوگو اللہ سے ڈرو حرام سے بچو حلال پر اکتفا کرو قناعت کیا کرو تاکہ دین و دنیا میں کامیاب ہو جاؤ “۔

صفحہ نمبر2471

پھر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ادب سکھاتا ہے کہ ” بے فائدہ سوالات مت کیا کرو، کرید میں نہ پڑو، ایسے نہ ہو کہ پھر ان کا جواب اور ان امور کا اظہار تم پر شاق گزرے “۔

صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کوئی کسی کی برائی کی بات نہ پہنچائے، میں چاہتا ہوں کہ تمہاری طرف اس حالت میں آؤں کہ میرے دل میں کسی کی طرف سے کوئی برائی نہ ہو ۔ [سنن ابوداود:4860، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صحیح بخاری شریف میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سنایا، ایسا بے مثل کہ ہم نے کبھی ایسا خطبہ نہ سنا تھا اسی میں فرمایا کہ اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے ، یہ سن کر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم منہ ڈھانپ کر رونے لگے اسی اثناء میں ایک شخص آپ سے پوچھ بیٹھا کہ میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا فلاں ، اس پر یہ آیت اتری ۔ [صحیح بخاری:4621] ‏

بخاری مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ کثرت سوالات شروع کر دیئے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر آ گئے اور فرمایا آؤ اب جس کسی کو جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو جو پوچھو گے جواب پاؤ گے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہ کانپ اٹھے کہ ایسا نہ ہو اس کے پیچھے کوئی اہم امر ظاہر ہو جتنے بھی تھے سب اپنے اپنے چہرے کپڑوں سے ڈھانپ کر رونے لگے، ایک شخص تھے جن سے مذاق کیا جاتا تھا اور جنہیں لوگ ان کے باپ کے سوا دوسرے کی طرف نسبت کرکے بلاتے تھے اس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خزافہ ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال ہونے پر راضی ہوگئے، ہم تمام فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کی طرح میں نے بھلائی برائی کبھی نہیں دیکھی جنت دوزخ میرے سامنے اس دیوار کے پیچھے بطور نقشے کے پیش کردی گئی تھی ۔ [صحیح بخاری:6362] ‏

اور روایت میں ہے یہ سوال کرنے والے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ان سے ان کی والدہ نے کہا تجھ سے بڑھ کر ماں باپ کا نافرمان میں نے نہیں دیکھا۔ تجھے کیا خبر تھی جاہلیت میں کس چیز کا پرہیز تھا۔ فرض کرو اگر میں بھی کسی معصیت میں اس وقت آلودہ ہوگئی ہوتی تو آج اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی میری رسوائی ہوتی اور سب کے سامنے بےآبروئی ہوتی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سنو ماں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی مجھے معلوم ہوتا کہ فلاں حبشی غلام کا میں بیٹا ہوں تو واللہ میں اسی سے مل جاتا۔‏“ [صحیح بخاری:7294] ‏

صفحہ نمبر2472

ابن جریر میں ہے کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے کی حالت میں آئے منبر پر بیٹھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک اس وقت سرخ ہو رہا تھا ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا میں کہاں جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم میں ۔ دوسرے نے پوچھا میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا حذافہ ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر، قرآن کے امام ہونے پر راضی ہیں یا رسول اللہ جاہلیت اور شرک میں ہم ابھی ابھی آپ کی طرف آئے ہیں، اللہ ہی جانتا ہے کہ میرے آباؤ اجداد کون ہیں؟ اس سے آپ کا غصہ کم ہوا اور یہ آیت اتری ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12806:ضعیف] ‏

ایک مرسل حدیث میں ہے کہ اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا: جو چاہو پوچھو، جو پوچھو گے، بتاؤں گا ، یہ شخص جس نے اپنے باپ کا نام پوچھا تھا یہ قریش کے قبیلے بنو سہم میں سے تھا۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم چوم کر یہ عرض کیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے درگزر فرمائیے اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درگزر فرمائے، اسی دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قاعدہ مقرر فرمایا تھا کہ اولاد اسے ملے گی جس کی بیوی یا لونڈی ہو اور زانی کو پتھر ملیں گے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12805] ‏

بخاری شریف میں ہے کہ بعض لوگ از روئے مذاق حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ کا نام اور اپنی گمشدہ اونٹینیوں کی جگہ وغیرہ دریافت کرتے تھے جس پر یہ آیت اتری ۔ [صحیح بخاری:4622] ‏

مسند احمد میں ہے کہ جب آیت «وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا» [3-آل عمران:97] ‏ نازل ہوئی یعنی ” صاحب مقدور لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے “، تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے انہوں نے پھر دوبارہ یہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سکوت فرمایا انہوں نے تیسری دفعہ پھر یہی پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر سال نہیں اور اگر میں ہاں کہ دیتا تو ہر سال واجب ہو جاتا اور تم ادا نہ کر سکتے ۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:814، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ امام ترمذی رحمة الله فرماتے ہیں یہ روایت اس سند سے غریب ہے اور میں نے امام بخاری رحمة الله سے سنا ہے کہ اس کے راوی ابو الخجزی نے سیدنا علی ابن طالب رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی۔

صفحہ نمبر2473

ابن جریر کی اس روایت میں یہ بھی ہے کہ میری ہاں کے بعد اگر تم اسے چھوڑ دیتے تو یقیناً کافر ہو جاتے ، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ پوچھنے والے محصن اسدی رضی اللہ عنہ تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12808:ضعیف] ‏

دوسری روایت میں ان کا نام عکاشہ بن محصن مروی ہے، یہی زیادہ ٹھیک ہے، اور روایت میں ہے کہ سائل ایک اعرابی تھے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے اگلے لوگ ائمہ حرج کے ایسے ہی سوالوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے واللہ تمہاری حالت تو یہ ہے کہ اگر میں ساری زمین تمہارے لیے حلال کردوں اور صرف ایک موزے کے برابر کی جگہ حرام کردوں تو تم اسی حرمت والی زمین پر گرو گے ، اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12811:ضعیف] ‏

ظاہر آیت کے الفاظ کا مطلب تو صاف ہے یعنی ان باتوں کا پوچھنا منع ہے جن کا ظاہر ہونا برا ہو، پس اولیٰ یہ ہے کہ ایسے سوالات ترک کر دیئے جائیں اور ان سے اعراض کرلیا جائے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرما دیا دیکھو مجھے کسی کی کوئی برائی نہ پہنچائے میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ لے کر آؤں ۔ [سنن ترمذي:3896،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2474

پھر فرماتا ہے کہ ” جن چیزوں کے سوال سے تمہیں روکا جا رہا ہے اگر تم نے ان کی بابت پوچھ گچھ کی اور تم دیکھ رہے ہو کہ وحی نازل ہو رہی ہے تو تمہارے سوالات کا جواب آ جائے گا اور جس چیز کا ظاہر ہونا تمہیں برا معلوم ہوتا تھا وہ ظاہر ہو جائے گی، اس سے پہلے کے ایسے سوالات سے تو اللہ تعالیٰ نے درگزر فرما لیا۔ اللہ ہے ہی بخشش والا اور حلم و بردباری والا “۔

مطلب یہ ہے کہ سوالات ترک کر دو ایسا نہ ہو کہ تمہارے سوال کی وجہ سے کوئی آسانی سختی میں بدل جائے۔ حدیث شریف میں ہے مسلمانوں میں سب سے بڑا گنہگار وہ ہے جس نے کسی چیز کی نسبت دریافت کیا جو حرام نہ تھی پھر اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام ہو گئی ۔ [صحیح بخاری:7289] ‏

یہ بات اور ہے کہ قرآن شریف میں کوئی حکم آئے اس میں اجمال ہو اس کی تفصیل دریافت کی جائے، اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا ذکر اپنی پاک کتاب میں نہیں کیا اس سے خود اس نے درگزر فرما لیا ہے، پس تمہیں بھی اس سے خاموشی اختیار کرنی چاہیئے جیسے کہ خود اللہ تعالیٰ نے کی ہے۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑ رکھو، یاد رکھو کہ تم سے اگلے لوگوں کی حالت کی وجہ صرف کثرت سوال اور انبیاء پر اختلاف ہی ہوئی ہے ۔ [صحیح بخاری:7288] ‏

اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرائض مقرر کر دیئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو حدیں باندھ دی ہیں انہیں نہ توڑو، جو چیزیں حرام کر دی ہیں ان کی حرمت کو سنبھالو جن چیزوں سے خاموشی کی ہے صرف تم پر رحم کھا کر نہ کہ بھول کر تم بھی اس کو پوچھ گچھ نہ کرو ۔ [دارقطنی:183/4:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2475

پھر فرماتا ہے ” ایسے ہی مسائل تم سے اگلے لوگوں نے بھی دریافت کئے انہیں بتائے گئے پھر وہ ان پر ایمان نہ لائے بلکہ ان کے باعث کافر بن گئے ان پر وہ باتیں بیان کی گئیں ان سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا کیونکہ ان کے سوال ہی سرکشی پر تھے نہ کہ سمجھنے اور ماننے کیلئے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کیا پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کر دیا ہے ، بنو اسد قبیلے کا ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ کیا ہر سال؟ آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہو جاتا اور اگر ایسا ہوتا تو اس پر عمل تمہاری طاقت سے باہر تھا اور جب عمل نہ کرتے تو کافر ہو جاتے پس جب تک میں نہ کہوں تم بھی نہ پوچھو میں خود جب تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ ۔

پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو ممانعت کردی کہ کہیں وہ بھی نصرانیوں کی طرح آسمانی دستر خوان طلب نہ کریں جس کے طلب کرنے کے بعد اور آنے کے بعد پھر وہ کافر ہوگئے پس منع کردیا اور صاف فرما دیا کہ ایسی باتیں نہ پوچھو کہ اگر قرآن میں ان کی بابت سخت احکام نازل ہوں تو تمہیں برے لگیں بلکہ تم منتظر رہو قرآن اتر رہا ہے جو پوچھنا چاہتے ہو سب کا بیان اس میں پاؤ گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12812:ضعیف] ‏

بہ روایت مجاہد رحمة الله، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے وہ جانور ہیں جن کا ذکر اس آیت کے بعد ہی ہے۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں مراد معجزات کی طلبی ہے جیسے کہ قریشیوں نے کہا تھا کہ عرب میں نہریں جاری ہو جائیں اور صفا پہاڑ سونے کا ہو جائے وغیرہ اور جیسے یہود نے کہا تھا کہ خود ان پر آسمان سے کتاب اترے۔

صفحہ نمبر2476

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ» [17-الإسراء:59] ‏ یعنی ” معجزوں کے ظاہر کرنے سے مانع تو کچھ بھی نہیں مگر یہ کہ اگلے لوگوں نے بھی اسے جھٹلایا ہم نے ثمود کو اونٹنی کا نشان دیا تھا جس پر انہوں نے ظلم کیا ہم تو نشانات صرف دھمکانے کیلئے بھیجتے ہیں “۔

اور آیت میں ہے «وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاءَتْهُمْ اٰيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ اَنَّهَآ اِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111-109] ‏ ” بڑی زور دار قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر کوئی معجزہ آ گیا تو ضرور ایمان لائیں گے تو جواب دے کہ یہ تو اللہ کے قبضے کی چیز ہے ہو سکتا ہے کہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ہم ان کے دلوں کو اور آنکھوں کو الٹ دیں گے جیسے کہ پہلی دفعہ قرآن پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں ہی پڑے رہنے دیں گے بھٹکتے پھریں اگر ہم ان پر آسمان سے فرشتے بھی اتارتے اور مردے بھی ان سے باتیں کرنے لگتے اور تمام چیزیں یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے تب بھی تو اللہ کی چاہت کے بغیر انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ان میں سے اکثر ہیں ہی بے علم “۔

صفحہ نمبر2477

رزق حلال کم ہو تو برکت حرام زیادہ بھی ہو تو بےبرکت اور کثرت سوالات ٭٭

مقصد یہ ہے کہ حلال گو تھوڑا ہو وہ بہتر ہے حرام سے گو بہت سارا ہو جیسے وارد ہے کہ جو کم ہو اور کفایت کرے وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے۔ [مسند ابو یعلی:1053:حسن] ‏

ابن حاطب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کم مال جس کا شکریہ تو ادا کرے یہ بہتر ہے اس زیادہ سے جس کی تو طاقت نہ رکھے [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4081: ضعیف] ‏

” اے عقلمند لوگو اللہ سے ڈرو حرام سے بچو حلال پر اکتفا کرو قناعت کیا کرو تاکہ دین و دنیا میں کامیاب ہو جاؤ “۔

صفحہ نمبر2471

پھر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ادب سکھاتا ہے کہ ” بے فائدہ سوالات مت کیا کرو، کرید میں نہ پڑو، ایسے نہ ہو کہ پھر ان کا جواب اور ان امور کا اظہار تم پر شاق گزرے “۔

صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کوئی کسی کی برائی کی بات نہ پہنچائے، میں چاہتا ہوں کہ تمہاری طرف اس حالت میں آؤں کہ میرے دل میں کسی کی طرف سے کوئی برائی نہ ہو ۔ [سنن ابوداود:4860، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صحیح بخاری شریف میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ سنایا، ایسا بے مثل کہ ہم نے کبھی ایسا خطبہ نہ سنا تھا اسی میں فرمایا کہ اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے ، یہ سن کر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم منہ ڈھانپ کر رونے لگے اسی اثناء میں ایک شخص آپ سے پوچھ بیٹھا کہ میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا فلاں ، اس پر یہ آیت اتری ۔ [صحیح بخاری:4621] ‏

بخاری مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ کثرت سوالات شروع کر دیئے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر آ گئے اور فرمایا آؤ اب جس کسی کو جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو جو پوچھو گے جواب پاؤ گے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہ کانپ اٹھے کہ ایسا نہ ہو اس کے پیچھے کوئی اہم امر ظاہر ہو جتنے بھی تھے سب اپنے اپنے چہرے کپڑوں سے ڈھانپ کر رونے لگے، ایک شخص تھے جن سے مذاق کیا جاتا تھا اور جنہیں لوگ ان کے باپ کے سوا دوسرے کی طرف نسبت کرکے بلاتے تھے اس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خزافہ ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال ہونے پر راضی ہوگئے، ہم تمام فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کی طرح میں نے بھلائی برائی کبھی نہیں دیکھی جنت دوزخ میرے سامنے اس دیوار کے پیچھے بطور نقشے کے پیش کردی گئی تھی ۔ [صحیح بخاری:6362] ‏

اور روایت میں ہے یہ سوال کرنے والے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ان سے ان کی والدہ نے کہا تجھ سے بڑھ کر ماں باپ کا نافرمان میں نے نہیں دیکھا۔ تجھے کیا خبر تھی جاہلیت میں کس چیز کا پرہیز تھا۔ فرض کرو اگر میں بھی کسی معصیت میں اس وقت آلودہ ہوگئی ہوتی تو آج اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی میری رسوائی ہوتی اور سب کے سامنے بےآبروئی ہوتی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سنو ماں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی مجھے معلوم ہوتا کہ فلاں حبشی غلام کا میں بیٹا ہوں تو واللہ میں اسی سے مل جاتا۔‏“ [صحیح بخاری:7294] ‏

صفحہ نمبر2472

ابن جریر میں ہے کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے کی حالت میں آئے منبر پر بیٹھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک اس وقت سرخ ہو رہا تھا ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا میں کہاں جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم میں ۔ دوسرے نے پوچھا میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا حذافہ ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر، قرآن کے امام ہونے پر راضی ہیں یا رسول اللہ جاہلیت اور شرک میں ہم ابھی ابھی آپ کی طرف آئے ہیں، اللہ ہی جانتا ہے کہ میرے آباؤ اجداد کون ہیں؟ اس سے آپ کا غصہ کم ہوا اور یہ آیت اتری ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12806:ضعیف] ‏

ایک مرسل حدیث میں ہے کہ اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا: جو چاہو پوچھو، جو پوچھو گے، بتاؤں گا ، یہ شخص جس نے اپنے باپ کا نام پوچھا تھا یہ قریش کے قبیلے بنو سہم میں سے تھا۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم چوم کر یہ عرض کیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے درگزر فرمائیے اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درگزر فرمائے، اسی دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قاعدہ مقرر فرمایا تھا کہ اولاد اسے ملے گی جس کی بیوی یا لونڈی ہو اور زانی کو پتھر ملیں گے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12805] ‏

بخاری شریف میں ہے کہ بعض لوگ از روئے مذاق حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ کا نام اور اپنی گمشدہ اونٹینیوں کی جگہ وغیرہ دریافت کرتے تھے جس پر یہ آیت اتری ۔ [صحیح بخاری:4622] ‏

مسند احمد میں ہے کہ جب آیت «وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا» [3-آل عمران:97] ‏ نازل ہوئی یعنی ” صاحب مقدور لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے “، تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے انہوں نے پھر دوبارہ یہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سکوت فرمایا انہوں نے تیسری دفعہ پھر یہی پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر سال نہیں اور اگر میں ہاں کہ دیتا تو ہر سال واجب ہو جاتا اور تم ادا نہ کر سکتے ۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ترمذي:814، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ امام ترمذی رحمة الله فرماتے ہیں یہ روایت اس سند سے غریب ہے اور میں نے امام بخاری رحمة الله سے سنا ہے کہ اس کے راوی ابو الخجزی نے سیدنا علی ابن طالب رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی۔

صفحہ نمبر2473

ابن جریر کی اس روایت میں یہ بھی ہے کہ میری ہاں کے بعد اگر تم اسے چھوڑ دیتے تو یقیناً کافر ہو جاتے ، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ پوچھنے والے محصن اسدی رضی اللہ عنہ تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12808:ضعیف] ‏

دوسری روایت میں ان کا نام عکاشہ بن محصن مروی ہے، یہی زیادہ ٹھیک ہے، اور روایت میں ہے کہ سائل ایک اعرابی تھے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے اگلے لوگ ائمہ حرج کے ایسے ہی سوالوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے واللہ تمہاری حالت تو یہ ہے کہ اگر میں ساری زمین تمہارے لیے حلال کردوں اور صرف ایک موزے کے برابر کی جگہ حرام کردوں تو تم اسی حرمت والی زمین پر گرو گے ، اس کی سند بھی ضعیف ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12811:ضعیف] ‏

ظاہر آیت کے الفاظ کا مطلب تو صاف ہے یعنی ان باتوں کا پوچھنا منع ہے جن کا ظاہر ہونا برا ہو، پس اولیٰ یہ ہے کہ ایسے سوالات ترک کر دیئے جائیں اور ان سے اعراض کرلیا جائے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرما دیا دیکھو مجھے کسی کی کوئی برائی نہ پہنچائے میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ لے کر آؤں ۔ [سنن ترمذي:3896،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2474

پھر فرماتا ہے کہ ” جن چیزوں کے سوال سے تمہیں روکا جا رہا ہے اگر تم نے ان کی بابت پوچھ گچھ کی اور تم دیکھ رہے ہو کہ وحی نازل ہو رہی ہے تو تمہارے سوالات کا جواب آ جائے گا اور جس چیز کا ظاہر ہونا تمہیں برا معلوم ہوتا تھا وہ ظاہر ہو جائے گی، اس سے پہلے کے ایسے سوالات سے تو اللہ تعالیٰ نے درگزر فرما لیا۔ اللہ ہے ہی بخشش والا اور حلم و بردباری والا “۔

مطلب یہ ہے کہ سوالات ترک کر دو ایسا نہ ہو کہ تمہارے سوال کی وجہ سے کوئی آسانی سختی میں بدل جائے۔ حدیث شریف میں ہے مسلمانوں میں سب سے بڑا گنہگار وہ ہے جس نے کسی چیز کی نسبت دریافت کیا جو حرام نہ تھی پھر اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام ہو گئی ۔ [صحیح بخاری:7289] ‏

یہ بات اور ہے کہ قرآن شریف میں کوئی حکم آئے اس میں اجمال ہو اس کی تفصیل دریافت کی جائے، اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا ذکر اپنی پاک کتاب میں نہیں کیا اس سے خود اس نے درگزر فرما لیا ہے، پس تمہیں بھی اس سے خاموشی اختیار کرنی چاہیئے جیسے کہ خود اللہ تعالیٰ نے کی ہے۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑ رکھو، یاد رکھو کہ تم سے اگلے لوگوں کی حالت کی وجہ صرف کثرت سوال اور انبیاء پر اختلاف ہی ہوئی ہے ۔ [صحیح بخاری:7288] ‏

اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرائض مقرر کر دیئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو حدیں باندھ دی ہیں انہیں نہ توڑو، جو چیزیں حرام کر دی ہیں ان کی حرمت کو سنبھالو جن چیزوں سے خاموشی کی ہے صرف تم پر رحم کھا کر نہ کہ بھول کر تم بھی اس کو پوچھ گچھ نہ کرو ۔ [دارقطنی:183/4:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2475

پھر فرماتا ہے ” ایسے ہی مسائل تم سے اگلے لوگوں نے بھی دریافت کئے انہیں بتائے گئے پھر وہ ان پر ایمان نہ لائے بلکہ ان کے باعث کافر بن گئے ان پر وہ باتیں بیان کی گئیں ان سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا کیونکہ ان کے سوال ہی سرکشی پر تھے نہ کہ سمجھنے اور ماننے کیلئے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کیا پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کر دیا ہے ، بنو اسد قبیلے کا ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ کیا ہر سال؟ آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہو جاتا اور اگر ایسا ہوتا تو اس پر عمل تمہاری طاقت سے باہر تھا اور جب عمل نہ کرتے تو کافر ہو جاتے پس جب تک میں نہ کہوں تم بھی نہ پوچھو میں خود جب تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ ۔

پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو ممانعت کردی کہ کہیں وہ بھی نصرانیوں کی طرح آسمانی دستر خوان طلب نہ کریں جس کے طلب کرنے کے بعد اور آنے کے بعد پھر وہ کافر ہوگئے پس منع کردیا اور صاف فرما دیا کہ ایسی باتیں نہ پوچھو کہ اگر قرآن میں ان کی بابت سخت احکام نازل ہوں تو تمہیں برے لگیں بلکہ تم منتظر رہو قرآن اتر رہا ہے جو پوچھنا چاہتے ہو سب کا بیان اس میں پاؤ گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12812:ضعیف] ‏

بہ روایت مجاہد رحمة الله، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے وہ جانور ہیں جن کا ذکر اس آیت کے بعد ہی ہے۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں مراد معجزات کی طلبی ہے جیسے کہ قریشیوں نے کہا تھا کہ عرب میں نہریں جاری ہو جائیں اور صفا پہاڑ سونے کا ہو جائے وغیرہ اور جیسے یہود نے کہا تھا کہ خود ان پر آسمان سے کتاب اترے۔

صفحہ نمبر2476

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ» [17-الإسراء:59] ‏ یعنی ” معجزوں کے ظاہر کرنے سے مانع تو کچھ بھی نہیں مگر یہ کہ اگلے لوگوں نے بھی اسے جھٹلایا ہم نے ثمود کو اونٹنی کا نشان دیا تھا جس پر انہوں نے ظلم کیا ہم تو نشانات صرف دھمکانے کیلئے بھیجتے ہیں “۔

اور آیت میں ہے «وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاءَتْهُمْ اٰيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ اَنَّهَآ اِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» [6-الأنعام:111-109] ‏ ” بڑی زور دار قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر کوئی معجزہ آ گیا تو ضرور ایمان لائیں گے تو جواب دے کہ یہ تو اللہ کے قبضے کی چیز ہے ہو سکتا ہے کہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ہم ان کے دلوں کو اور آنکھوں کو الٹ دیں گے جیسے کہ پہلی دفعہ قرآن پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں ہی پڑے رہنے دیں گے بھٹکتے پھریں اگر ہم ان پر آسمان سے فرشتے بھی اتارتے اور مردے بھی ان سے باتیں کرنے لگتے اور تمام چیزیں یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے تب بھی تو اللہ کی چاہت کے بغیر انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ان میں سے اکثر ہیں ہی بے علم “۔

صفحہ نمبر2477

بتوں کے نام کٹے ہوئے جانوروں کے نام؟ ٭٭

صحیح بخاری شریف میں سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ «بَحِيرَةٍ» اس جانور کو کہتے ہیں جس کے بطن کا دودھ وہ لوگ اپنے بتوں کے نام کر دیتے تھے اسے کوئی دو ہتا نہ تھا «سَائِبَةٍ» ان جانوروں کو کہتے تھے جنہیں وہ اپنے معبود باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے سواری اور بوجھ سے آزاد کر دیتے تھے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا ہے اس نے سب سے پہلے یہ رسم ایجاد کی تھی۔ «وَصِيلَةٍ» وہ اونٹنی ہے جس کے پلوٹھے دو بچے اوپر تلے کے مادہ ہوں ان دونوں کے درمیان کوئی نر اونٹ پیدا نہ ہوا ہو اسے بھی وہ اپنے بتوں کے نام وقف کر دیتے تھے۔ «حَامٍ» اس نر اونٹ کا نام تھا جس کی نسل سے کئی بچے ہو گئے ہوں پھر اسے بھی اپنے بزرگوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور کسی کام میں نہ لیتے تھے ۔ [صحیح بخاری:4623] ‏

ایک حدیث میں ہے کہ میں نے جہنم کو دیکھا اس کا ایک حصہ دوسرے کو گویا کھائے جا رہا تھا اس میں میں نے عمرو کو دیکھا کہ اپنی آنتیں گھسیٹا پھرتا ہے اسی نے سائبہ کا رواج سب سے پہلے نکالا تھا ۔ [صحیح بخاری:4624] ‏

ایک حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عمورو کا یہ ذکر حصرت اکتم بن جون رضی اللہ عنہ سے کر کے فرمایا وہ صورت و شکل میں بالکل تیرے جیسا ہے اس پر اکتم نے فرمایا یا رسول اللہ کہیں یہ مشابہت مجھے نقصان نہ پہنچائے؟ آپ نے فرمایا نہیں بے فکر رہو وہ کافر تھا تم مسلمان ہو۔ اسی نے ابراہیم علیہ السلام کے دین کو سب سے پہلے بدلا اسی نے بحیرہ، سائبہ اور حام کی رسم نکالی، اسی نے بت پرستی دین ابراہیمی میں ایجاد کی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12820:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2480

ایک روایت میں ہے یہ بنو کعب میں سے ہے، جہنم میں اس کے جلنے کی بدبو سے دوسرے جہنمیوں کو بھی تکلیف پہنچتی ہے۔ بحیرہ کی رسم کو ایجاد کرنے والا بنو مدلج کا ایک شخص تھا اس کی دو اونٹنیاں تھیں جن کے کان کاٹ دیئے اور دودھ حرام کر دیا پھر کچھ عرصہ کے بعد پینا شروع کر دیا، میں نے اسے بھی دوزخ میں دیکھا دونوں اونٹنیاں اسے کاٹ رہی تھیں اور روند رہی تھیں ۔

یاد رہے کہ یہ عمر ولحی بن قمعہ کا لڑکا ہے جو خزاعہ کے سرداروں میں سے ایک تھا قبیلہ جرہم کے بعد بیت اللہ شریف کی تولیت انہی کے پاس تھی یہی شخص عرب میں بت لایا اور سفلے لوگوں میں ان کی عبادت جاری کی اور بہت سی بدعتیں ایجاد کیں جن میں سے چوپایوں کو الگ الگ طریقے سے بتوں کے نام کرنے کی رسم بھی تھی۔ جس کی طرف اشارہ آیت «وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاىِٕنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَاىِٕهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ وَمَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰي شُرَكَاىِٕهِمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُوْنَ» [6-الأنعام:136] ‏ میں ہے۔

صفحہ نمبر2481

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اونٹنی کے جب پانچ بچے ہوتے تو پانچواں اگر نر ہوتا تو اسے ذبح کر ڈالتے اور اس کا گوشت صرف مرد کھاتے عورتوں پر حرام جانتے اور اگر مادہ ہوتی تو اس کے کان کاٹ کر اس کا نام بحیرہ رکھتے۔ سائبہ کی تفسیر میں مجاہد رحمة الله سے اسی کے قریب قریب بکریوں میں مروی ہے۔ محمد بن اسحاق رحمة الله کا قول ہے کہ جس اونٹنی کے پے در پے دس اونٹنیاں پیدا ہوتیں اسے چھوڑ دیتے نہ سواری لیتے نہ بال کاٹتے نہ دودھ دوہتے اور اسی کا نام سائبہ ہے۔ صرف مہمان کے لیے تو دودھ نکال لیتے ورنہ اس کا دودھ یونہی رکا رہتا، ابو روق کہتے ہیں یہ نذر کا جانور ہوتا تھا جب کسی کی کوئی حاجت پوری ہو جاتی تو وہ اپنے بت اور بزرگ کے نام کوئی جانور آزاد کر دیتا پھر اس کی نسل بھی آزاد سمجھی جاتی، سدی کہتے ہیں اگر کوئی شخص اس جانور کی بیحرمتی کرتا تو اسے یہ لوگ سزا دیتے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وصیلہ اس جانور کو کہتے ہیں کہ مثلاً ایک بکری کا ساتواں بچہ ہے اب اگر وہ نر ہے اور ہے مردہ تو اسے مرد عورت کھاتے اور اگر وہ مادہ ہے تو اسے زندہ باقی رہنے دیتے اور اگر نر مادہ دونوں ایک ساتھ ہوئے ہیں تو اس نر کو بھی زندہ رکھتے اور کہتے کہ اس کے ساتھ اس کی بہن ہے اس نے اسے ہم پر حرام کر دیا۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جس اونٹنی کے مادہ پیدا ہو پھر دوسرا بچہ بھی مادہ ہو تو اسے وصیلہ کہتے تھے، محمد بن اسحاق رحمة الله فرماتے ہیں جو بکری پانچ دفعہ دو دو مادہ بکریاں بچے دے اس کا نام وصیلہ تھا پھر اسے چھوڑ دیا جاتا تھا اس کے بعد اس کا جو بچہ ہوتا اسے ذبح کر کے صرف مرد کھا لیتے اور اگر مردہ پیدا ہوتا تو مرد عورت سب کا حصہ سمجھا جاتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حام اس نر اونٹ کو کہتے ہیں جس کی نسل سے دس بچے پیدا ہو جائیں یہ بھی مروی ہے کہ جس کے بچے سے کوئی بچہ ہو جائے اسے وہ آزاد کر دیتے نہ اس پر سواری لیتے نہ اس پر بوجھ لادتے، نہ اس کے بال کام میں لیتے نہ کسی کھیتی یا چارے یا حوض سے اسے روکتے، اور اقوال بھی ہیں۔

صفحہ نمبر2482

حضرت مالک بن نفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت میں پھٹے پرانے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: تیرے پاس کچھ مال بھی ہے؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: کس قسم کا؟ کہا ہر قسم کا اونٹ بکریاں گھوڑے غلام وغیرہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو اللہ نے تجھے بہت کچھ دے رکھا ہے سن اونٹ کے جب بچہ ہوتا ہے تو صحیح سالم کان والا ہی ہوتا ہے؟ میں نے کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو استرا لے کر ان کے کان کاٹ دیتا ہے اور ان کا نام بحیرہ رکھ دیتا ہے؟ اور بعض کے کان چیر کر انہیں حرام سمجھنے لگتا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا: خبردار ایسا نہ کرنا اللہ نے تجھے جتنے جانور دے رکھے ہیں سب حلال ہیں ۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی ۔ [مسند احمد:473/3:صحیح] ‏

بحیرہ وہ ہے جس کے کان کاٹ دیئے جاتے تھے پھر گھر والوں میں سے کوئی بھی اس سے کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا ہاں جب وہ مر جاتا تو سب بیٹھ کر اس کا گوشت کھا جاتے، سائبہ اس جانور کو کہتے ہیں جسے اپنے معبودوں کے پاس لے جا کر ان کے نام کا کر دیتے تھے۔ وصیلہ اس بکری کو کہتے تھے جس کے ہاں ساتویں دفعہ بچہ ہو اس کے کان اور سینگ کاٹ کر آزاد کر دیتے، اس روایت کے مطابق تو حدیث ہی میں ان جانورون کی تفصیل ملی جلی ہے ایک روایت میں یہ بقول عوف بن مالک مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ پھر فرمان قرآن ہے کہ ” یہ نام اور چیزیں اللہ کی مقرر کردہ نہیں نہ اس کی شریعت میں داخل ہیں نہ ذریعہ ثواب ہیں “۔ یہ لوگ اللہ کی پاک صاف شریعت کی طرف دعوت دیئے جاتے ہیں تو اپنے باپ دادوں کے طریقوں کو اس کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں حالانکہ ان کے بڑے محض ناواقف اور بے راہ تھے ان کی تابعداری تو وہ کرے گا جو ان سے بھی زیادہ بہکا ہوا اور بے عقل ہو۔

صفحہ نمبر2483

بتوں کے نام کٹے ہوئے جانوروں کے نام؟ ٭٭

صحیح بخاری شریف میں سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ «بَحِيرَةٍ» اس جانور کو کہتے ہیں جس کے بطن کا دودھ وہ لوگ اپنے بتوں کے نام کر دیتے تھے اسے کوئی دو ہتا نہ تھا «سَائِبَةٍ» ان جانوروں کو کہتے تھے جنہیں وہ اپنے معبود باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے سواری اور بوجھ سے آزاد کر دیتے تھے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا ہے اس نے سب سے پہلے یہ رسم ایجاد کی تھی۔ «وَصِيلَةٍ» وہ اونٹنی ہے جس کے پلوٹھے دو بچے اوپر تلے کے مادہ ہوں ان دونوں کے درمیان کوئی نر اونٹ پیدا نہ ہوا ہو اسے بھی وہ اپنے بتوں کے نام وقف کر دیتے تھے۔ «حَامٍ» اس نر اونٹ کا نام تھا جس کی نسل سے کئی بچے ہو گئے ہوں پھر اسے بھی اپنے بزرگوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور کسی کام میں نہ لیتے تھے ۔ [صحیح بخاری:4623] ‏

ایک حدیث میں ہے کہ میں نے جہنم کو دیکھا اس کا ایک حصہ دوسرے کو گویا کھائے جا رہا تھا اس میں میں نے عمرو کو دیکھا کہ اپنی آنتیں گھسیٹا پھرتا ہے اسی نے سائبہ کا رواج سب سے پہلے نکالا تھا ۔ [صحیح بخاری:4624] ‏

ایک حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عمورو کا یہ ذکر حصرت اکتم بن جون رضی اللہ عنہ سے کر کے فرمایا وہ صورت و شکل میں بالکل تیرے جیسا ہے اس پر اکتم نے فرمایا یا رسول اللہ کہیں یہ مشابہت مجھے نقصان نہ پہنچائے؟ آپ نے فرمایا نہیں بے فکر رہو وہ کافر تھا تم مسلمان ہو۔ اسی نے ابراہیم علیہ السلام کے دین کو سب سے پہلے بدلا اسی نے بحیرہ، سائبہ اور حام کی رسم نکالی، اسی نے بت پرستی دین ابراہیمی میں ایجاد کی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12820:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2480

ایک روایت میں ہے یہ بنو کعب میں سے ہے، جہنم میں اس کے جلنے کی بدبو سے دوسرے جہنمیوں کو بھی تکلیف پہنچتی ہے۔ بحیرہ کی رسم کو ایجاد کرنے والا بنو مدلج کا ایک شخص تھا اس کی دو اونٹنیاں تھیں جن کے کان کاٹ دیئے اور دودھ حرام کر دیا پھر کچھ عرصہ کے بعد پینا شروع کر دیا، میں نے اسے بھی دوزخ میں دیکھا دونوں اونٹنیاں اسے کاٹ رہی تھیں اور روند رہی تھیں ۔

یاد رہے کہ یہ عمر ولحی بن قمعہ کا لڑکا ہے جو خزاعہ کے سرداروں میں سے ایک تھا قبیلہ جرہم کے بعد بیت اللہ شریف کی تولیت انہی کے پاس تھی یہی شخص عرب میں بت لایا اور سفلے لوگوں میں ان کی عبادت جاری کی اور بہت سی بدعتیں ایجاد کیں جن میں سے چوپایوں کو الگ الگ طریقے سے بتوں کے نام کرنے کی رسم بھی تھی۔ جس کی طرف اشارہ آیت «وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاىِٕنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَاىِٕهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ وَمَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰي شُرَكَاىِٕهِمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُوْنَ» [6-الأنعام:136] ‏ میں ہے۔

صفحہ نمبر2481

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اونٹنی کے جب پانچ بچے ہوتے تو پانچواں اگر نر ہوتا تو اسے ذبح کر ڈالتے اور اس کا گوشت صرف مرد کھاتے عورتوں پر حرام جانتے اور اگر مادہ ہوتی تو اس کے کان کاٹ کر اس کا نام بحیرہ رکھتے۔ سائبہ کی تفسیر میں مجاہد رحمة الله سے اسی کے قریب قریب بکریوں میں مروی ہے۔ محمد بن اسحاق رحمة الله کا قول ہے کہ جس اونٹنی کے پے در پے دس اونٹنیاں پیدا ہوتیں اسے چھوڑ دیتے نہ سواری لیتے نہ بال کاٹتے نہ دودھ دوہتے اور اسی کا نام سائبہ ہے۔ صرف مہمان کے لیے تو دودھ نکال لیتے ورنہ اس کا دودھ یونہی رکا رہتا، ابو روق کہتے ہیں یہ نذر کا جانور ہوتا تھا جب کسی کی کوئی حاجت پوری ہو جاتی تو وہ اپنے بت اور بزرگ کے نام کوئی جانور آزاد کر دیتا پھر اس کی نسل بھی آزاد سمجھی جاتی، سدی کہتے ہیں اگر کوئی شخص اس جانور کی بیحرمتی کرتا تو اسے یہ لوگ سزا دیتے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وصیلہ اس جانور کو کہتے ہیں کہ مثلاً ایک بکری کا ساتواں بچہ ہے اب اگر وہ نر ہے اور ہے مردہ تو اسے مرد عورت کھاتے اور اگر وہ مادہ ہے تو اسے زندہ باقی رہنے دیتے اور اگر نر مادہ دونوں ایک ساتھ ہوئے ہیں تو اس نر کو بھی زندہ رکھتے اور کہتے کہ اس کے ساتھ اس کی بہن ہے اس نے اسے ہم پر حرام کر دیا۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جس اونٹنی کے مادہ پیدا ہو پھر دوسرا بچہ بھی مادہ ہو تو اسے وصیلہ کہتے تھے، محمد بن اسحاق رحمة الله فرماتے ہیں جو بکری پانچ دفعہ دو دو مادہ بکریاں بچے دے اس کا نام وصیلہ تھا پھر اسے چھوڑ دیا جاتا تھا اس کے بعد اس کا جو بچہ ہوتا اسے ذبح کر کے صرف مرد کھا لیتے اور اگر مردہ پیدا ہوتا تو مرد عورت سب کا حصہ سمجھا جاتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حام اس نر اونٹ کو کہتے ہیں جس کی نسل سے دس بچے پیدا ہو جائیں یہ بھی مروی ہے کہ جس کے بچے سے کوئی بچہ ہو جائے اسے وہ آزاد کر دیتے نہ اس پر سواری لیتے نہ اس پر بوجھ لادتے، نہ اس کے بال کام میں لیتے نہ کسی کھیتی یا چارے یا حوض سے اسے روکتے، اور اقوال بھی ہیں۔

صفحہ نمبر2482

حضرت مالک بن نفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت میں پھٹے پرانے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: تیرے پاس کچھ مال بھی ہے؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا: کس قسم کا؟ کہا ہر قسم کا اونٹ بکریاں گھوڑے غلام وغیرہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو اللہ نے تجھے بہت کچھ دے رکھا ہے سن اونٹ کے جب بچہ ہوتا ہے تو صحیح سالم کان والا ہی ہوتا ہے؟ میں نے کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو استرا لے کر ان کے کان کاٹ دیتا ہے اور ان کا نام بحیرہ رکھ دیتا ہے؟ اور بعض کے کان چیر کر انہیں حرام سمجھنے لگتا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا: خبردار ایسا نہ کرنا اللہ نے تجھے جتنے جانور دے رکھے ہیں سب حلال ہیں ۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی ۔ [مسند احمد:473/3:صحیح] ‏

بحیرہ وہ ہے جس کے کان کاٹ دیئے جاتے تھے پھر گھر والوں میں سے کوئی بھی اس سے کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا ہاں جب وہ مر جاتا تو سب بیٹھ کر اس کا گوشت کھا جاتے، سائبہ اس جانور کو کہتے ہیں جسے اپنے معبودوں کے پاس لے جا کر ان کے نام کا کر دیتے تھے۔ وصیلہ اس بکری کو کہتے تھے جس کے ہاں ساتویں دفعہ بچہ ہو اس کے کان اور سینگ کاٹ کر آزاد کر دیتے، اس روایت کے مطابق تو حدیث ہی میں ان جانورون کی تفصیل ملی جلی ہے ایک روایت میں یہ بقول عوف بن مالک مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے۔ پھر فرمان قرآن ہے کہ ” یہ نام اور چیزیں اللہ کی مقرر کردہ نہیں نہ اس کی شریعت میں داخل ہیں نہ ذریعہ ثواب ہیں “۔ یہ لوگ اللہ کی پاک صاف شریعت کی طرف دعوت دیئے جاتے ہیں تو اپنے باپ دادوں کے طریقوں کو اس کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں حالانکہ ان کے بڑے محض ناواقف اور بے راہ تھے ان کی تابعداری تو وہ کرے گا جو ان سے بھی زیادہ بہکا ہوا اور بے عقل ہو۔

صفحہ نمبر2483

اپنی اصلاح آپ کرو ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ ” وہ خود اپنی اصلاح کریں اور اپنی طاقت کے مطابق نیکیوں میں مشغول رہیں، جب وہ خود ٹھیک ٹھاک ہو جائیں گے تو برے لوگوں کا ان پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا خواہ وہ رشتے دار اور قریبی ہوں خواہ اجنبی اور دور کے ہوں “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عامل ہو جائے برائیوں سے بچ جائے تو اس پر گنہگار لوگوں کے گناہ کا کوئی بوجھ بار نہیں۔ مقاتل رحمة الله سے مروی ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ ملتا ہے بروں کو سزا اچھوں کو جزا۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اچھی بات کا حکم اور بری باتوں سے منع بھی نہ کرے، کیونکہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگو تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کا مطلب غلط لیتے ہو سنو! میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ لوگ جب بری باتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں نہیں روکیں گے تو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی عام عذاب آ جائے ۔ امیر المومنین رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی ہے کہ جھوٹ سے بچو جھوٹ ایمان کی ضد ہے [سنن ترمذي:2168،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2485

ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ تم بھلائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرتے رہو یہاں تک کہ بخیلی کی پیروی اور خواہش نفس کی اتباع اور دنیا کی پسندیدگی اور ہر شخص کا اپنی رائے پر پھولنا عام نہ ہو جائے اس وقت تم صرف اپنی اصلاح میں مشغول ہو جاؤ اور عام لوگوں کو چھوڑ دو، یاد رکھو تمہارے پیچھے صبر کے دن آ رہے ہیں اس وقت دین اسلام پر جما رہنے والا ایسا ہوگا جیسے کوئی انگارے کو مٹھی میں لیے ہوئے ہو اس وقت عمل کرنے والے کو مثل پچاس شخصوں کے عمل کا اجر ملے گا جو بھی اچھے اعمال کرے گا ۔

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہ مثل پچاس شخصوں کے ان میں سے یا ہم میں سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ تم میں سے ۔ [سنن ابوداود:4341،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2486

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی جب اس آیت کا مطلب دریافت کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ وہ وقت نہیں آج تو تمہاری باتیں مان لی جاتی ہیں لیکن ہاں ایک زمانہ ایسا بھی آنے والا ہے کہ نیک باتیں کہنے اور بھلائی کا حکم کرنے والوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی جائے گی اور اس کی بات قبول نہ کی جائے گی اس وقت تم صرف اپنے نفس کی اصلاح میں لگ جانا۔‏“

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مجلس میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے دو شخصوں میں کچھ جھگڑا ہوگیا اور وہ آمنے سامنے کھڑے ہوگئے تو ایک نے کہا میں اٹھتا ہوں اور انہیں نیکی کا حکم کرتا ہوں اور برائی سے روکتا ہوں تو دوسرے نے کہا مجھے کیا پڑی؟ تو اپنی اصلاح میں لگا رہ، پھر یہی آیت تلاوت کی اسے سن کر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”چپ رہ اس آیت کے عمل کا یہ وقت نہیں قرآن میں کئی طرح کی آیتیں ہیں بعض تو وہ ہیں جن کے مضامین گزرچکے بعض وہ ہیں جن کے واقعات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہو گئے، بعض کے واقعات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوئے بعض قیامت کے دن ہوں گے مثلاً جنت دوزخ وغیرہ، سنو جب تک تمہارے دل نہ پھٹیں تمہارا مقصود ایک ہی ہو تم میں پھوٹ نہ پڑی ہو تم میں لڑائی دنگے شروع نہ ہوئے ہوں تم اچھی باتوں کی ہدایت کرتے رہو اور بری باتوں سے روکتے رہو۔ ہاں جب دلوں میں جدائی ہو جائے۔ آپس میں اختلاف پڑ جائیں لڑائیاں شروع ہو جائیں اس وقت صرف اپنے تیئس پابند شریعت رکھنا کافی ہے اور وہی وقت ہے اس آیت کے عمل کا۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری] ‏

صفحہ نمبر2487

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ ان دنوں تو آپ رضی اللہ عنہ اگر اپنی زبان روک لیں تو اچھا ہو آپ رضی اللہ عنہ کو کیا پڑی کوئی کچھ ہی کرے آپ رضی اللہ عنہ نہ کسی کو روکیں نہ کچھ کہیں۔ دیکھئیے قرآن میں بھی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” تم اپنے تئیں سنبھا لو گمراہوں کی گمراہی کا وبال تم پر نہیں جبکہ تم خود راہ راست پر ہو “۔ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ حکم میرے اور میرے ساتھیوں کیلئے نہیں اس لیے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے خبردار ہر موجود شخص غیر موجود لوگوں کو پہنچا دے ۔ پس ہم موجود تھے اور تم غیر موجود تھے۔ یہ آیت تو ان لوگوں کے حق میں ہے جو بعد میں آئیں گے وہ لوگوں کو نیک باتیں کہیں گے لیکن ان کی بات قبول نہ کی جائے گی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12855:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2488

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں ایک صاحب آئے بڑے غصیل اور تیز زبان، کہنے لگے سنیئے جناب چھ شخص ہیں سب قرآن پڑھے ہوئے جاننے بوجھنے والے مجہتد سمجھدار لیکن ہر ایک دوسرے کو مشرک بتلاتا ہے، اس نے کہا میں تم سے نہیں پوچھتا میں تو ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کرتا ہوں اور پھر وہی بات دوہرا دی تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”شاید تو یہ چاہتا ہے کہ میں تجھے یہ کہہ دوں کہ جا انہیں قتل کر ڈال نہیں میں کہتا ہوں جا انہیں نصیحت کر انہیں برائی سے روک نہ مانیں تو اپنی راہ لگ“، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت کی۔

خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ابن مازن رحمة الله مدینے میں آتے ہیں یہاں مسلمانوں کا ایک مجمع جمع تھا جس میں سے ایک شخص نے اسی آیت کی تلاوت کی تو اکثر لوگوں نے کہا اس کے عمل کا وقت ابھی تک نہیں آیا۔ جبیر بن نفیر رحمة الله کہتے ہیں میں ایک مجلس میں تھا جس میں بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین موجود تھے یہی ذکر ہو رہا تھا کہ اچھی باتوں کا حکم کرنا چاہیئے اور بری باتوں سے روکنا چاہیئے میں اس مجلس میں سب سے چھوٹی عمر کا تھا لیکن جرأت کر کے یہ آیت پڑھ دی اور کہا کہ پھر اس کا کیا مطلب ہو گا؟ تو سب نے ایک زبان ہو کر مجھے جواب دیا کہ اس کا صحیح مطلب تمہیں معلوم نہیں اور جو مطلب تم لے رہے ہو بالکل غلط ہے مجھے بڑا افسوس ہوا۔ پھر وہ اپنی باتوں میں مشغول ہو گئے جب اٹھنے کا وقت آیا تو مجھ سے فرمایا تم ابھی بچے ہو بے موقعہ آیت پڑھ دیتے ہو اصلی مطلب تک نہیں پہنچتے بہت ممکن ہے کہ تم اس آیت کے زمانے کو پالو یہ حکم اس وقت ہے جب بخیلی کا دور دورہ ہو خواہش پرستی عام ہو ہر شخص اپنی سمجھ پر نازاں ہو اس وقت انسان خود نیکیوں اور بھلائیوں میں مشغول رہے گمراہوں کی گمراہی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ حسن رحمة الله نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا ”اس پر بھی اللہ کا شکر ہے اگلے اور پچھلے مومنوں کے ساتھ منافق ضرور رہے جو ان کے اعمال سے بیزار ہی رہے۔‏“

صفحہ نمبر2489

حضرت سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”جب تم نے اچھی بات کی نصیحت کر دی اور بری بات سے روک دیا پھر بھی کسی نے برائیاں کیں نیکیاں چھوڑیں تو تمہیں کوئی نقصان نہیں۔‏“ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔

کعب رحمة الله فرماتے ہیں ”اس کا وقت وہ ہے جب مسجد دمشق کا کلیسا ڈھا دیا جائے اور تعصب بڑھ جائے۔‏“

صفحہ نمبر2490

معتبر گواہی کی شرائط ٭٭

بعض لوگوں نے اس آیت کے عزیز حکم کو منسوخ کہا ہے لیکن اکثر حضرات اس کے خلاف ہیں «اِثْنَانِ» خبر ہے، اس کی تقدیر «شَهَادَةُ اثْنَیْنِ» ہے مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ اس کے قائم مقام کر دیا گیا ہے یا دلالت کلام کی بنا پر فعل محذوف کر دیا گیا ہے یعنی «‏اَنْ یَّشْهَدَ اِثْنَانِ» - «ذَوَاعَدْلٍ» صفت ہے، «مِنْکُمْ» سے مراد مسلمانوں میں سے ہونا یا وصیت کرنے والے کے اہل میں سے ہونا ہے، «مِنْ غَیْرِکُمْ» سے مراد اہل کتاب ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ «مِنْکُمْ» سے مراد قبیلہ میں اور «مِنْ غَیْرِکُمْ» سے مراد اس کے قبیلے کے سوا، شرطیں دو ہیں ایک مسافر کے سفر میں ہونے کی صورت میں موت کے وقت وصیت کے لیے غیر مسلم کی گواہی چل سکتی ہے، شریح سے یہی مروی ہے۔

صفحہ نمبر2491

امام احمد رحمة الله بھی یہی فرماتے ہیں اور تینوں امام خلاف ہیں، امام ابوحنیفہ رحمة الله ذمی کافروں کی گواہی آپس میں ایک دوسرے پر جائز مانتے ہیں، زہری رحمة الله کا قول ہے کہ سنت جاری ہو چکی ہے کہ کافر کی شہادت جائز نہیں نہ سفر میں نہ حضر میں۔ ابن زید کہتے ہیں کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں اتری ہے جس کی موت کے وقت اس کے پاس کوئی مسلمان نہ تھا یہ ابتدائے اسلام کا وقت تھا جبکہ زمین کافروں سے بھری تھی اور وصیت سے ورثہ بٹتا تھا، ورثے کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے، پھر وصیت منسوخ ہو گئی ورثے کے احکام اترے اور لوگوں نے ان پر عمل درآمد شروع کر دیا، پھر یہ بھی کہ ان دونوں غیر مسلموں کو وصی بنایا جائے گا یا گواہ؟

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ یہ حکم اس شخص کے بارے میں ہے جو سفر میں ہو اور وہیں اجل آ جائے اور مال اس کے پاس ہو پس اگر دو مسلمان اسے مل جائیں تو انہیں اپنا مال سونپ دے اور دو گواہ مسلمان مقرر کر لے، اس قول کے مطابق تو یہ دونوں وصی ہوئے، دوسرا قول یہ ہے کہ یہ دونوں گواہ ہوں گے، آیت کے الفاظ کا ظاہر مطلب بھی یہی معلوم ہوتا ہے، ہاں جس صورت میں ان کے ساتھ اور گواہ نہ ہوں تو یہی وصی ہوں گے اور یہی گواہ بھی ہوں گے امام ابن جریررحمة الله نے ایک مشکل اس میں یہ بیان کی ہے کہ شریعت کے کسی حکم میں گواہ پر قسم نہیں۔ لیکن ہم کہتے ہیں یہ ایک حکم ہے جو مستقل طور پر بالکل علیحدہ صورت میں ہے اور احکام کا قیاس اس پر جاری نہیں ہے، یہ ایک خاص شہادت خاص موقعہ کی ہے اس میں اور بھی بہت سی ایسی باتیں جو دوسرے احکام میں نہیں۔ پس شک کے قرینے کے وقت اس آیت کے حکم کے مطابق ان گواہوں پر قسم لازم آتی ہے۔

صفحہ نمبر2492

” نماز کے بعد ٹھہرا لو “ سے مطلب نماز عصر کے بعد ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ نماز سے مراد مسلمانوں کی نماز ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ ان کے مذہب کی نماز، مقصود یہ ہے کہ انہیں نماز کے بعد لوگوں کی موجودگی میں کھڑا کیا جائے اور اگر خیانت کا شک ہو تو ان سے قسم اٹھوائی جائے وہ کہیں کہ اللہ کی قسم ہم اپنی قسموں کو کسی قیمت بیچنا نہیں چاہتے۔

دنیوی مفاد کی بناء پر جھوٹی قسم نہیں کھاتے چاہے ہماری قسم سے کسی ہمارے قریبی رشتہ دار کو نقصان پہنچ جائے تو پہنچ جائے لیکن ہم جھوٹی قسم نہیں کھائیں گے اور نہ ہم سچی گواہی چھپائیں گے۔ اس گواہی کی نسبت اللہ کی طرف اس کی عزت و عظمت کے اظہار کیلئے ہے بعض نے اسے قسم کی بنا پر مجرور پڑھا ہے لیکن مشہور قرأت پہلی ہی ہے وہ ساتھ ہی یہ بھی کہیں کہ اگر ہم شہادت کو بدلیں یا الٹ پلٹ کریں یا کچھ حصہ چھپالیں تو ہم بھی گنہگار۔

صفحہ نمبر2493

باب

پھر اگر یہ مشہور ہو یا ظاہر ہو جائے یا اطلاع مل جائے کہ ان دونوں نے مرنے والے کے مال میں سے کچھ چرا لیا یا کسی قسم کی خیانت کی۔

«أَوْلَيَانِ» کی دوسری قرأت «‏اَوّلَانِ» بھی ہے مطلب یہ ہے کہ جب کسی خبر صحیح سے پتہ چلے کہ ان دونوں نے کوئی خیانت کی ہے تو میت کے وارثوں میں سے جو میت کے زیادہ نزدیک ہوں وہ دو شخص کھڑے ہوں اور حلیفہ بیان دیں کہ ہماری شہادت ہے کہ انہوں نے چرایا اور یہی زیادہ حق زیادہ صحیح اور پوری سچی بات ہے، ہم ان پر جھوٹ نہیں باندھتے اگر ہم ایسا کریں تو ہم ظالم۔

یہ مسئلہ اور قسامت کا مسئلہ اس بارے میں بہت ملتا جلتا ہے، اس میں بھی مقتول کے اولیاء قسمیں کھاتے ہیں، تمیم داری سے منقول ہے کہ اور لوگ اس سے بری ہیں صرف میں اور عدی بن بداء اس سے متعلق ہیں، یہ دونوں نصرانی تھے اسلام سے پہلے ملک شام میں بغرض تجارت آتے جاتے تھے ابن سہم کے مولی بدیل بن ابومریم بھی مال تجارت لے کر شام کے ملک گئے ہوئے تھے ان کے ساتھ ایک چاندی کا جام تھا، جسے وہ خاص بادشاہ کے ہاتھ فروخت کرنے کیلئے لے جا رہے تھے۔ اتفاقاً وہ بیمار ہوگئے ان دونوں کو وصیت کی اور مال سونپ دیا کہ یہ میرے وارثوں کو دے دینا اس کے مرنے کے بعد ان دونوں نے وہ جام تو مال سے الگ کر دیا اور ایک ہزار درہم میں بیچ کر آدھوں آدھ بانٹ لیے باقی مال واپس لا کر بدیل کے رشتہ داروں کو دے دیا، انہوں نے پوچھا کہ چاندی کا جام کیا ہوا؟ دونوں نے جواب دیا ہمیں کیا خبر؟ ہمیں تو جو دیا تھا وہ ہم نے تمہیں دے دیا۔ تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے اور اسلام نے مجھ پر اثر کیا، میں مسلمان ہوگیا تو میرے دل میں خیال آیا کہ یہ انسانی حق مجھ پر رہ جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں میں پکڑا جاؤں گا تو میں بدیل کے وارثان کے پاس آیا اور اس سے کہا پانچ سو درہم جو تونے لے لیے ہیں وہ بھی واپس کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس سے قسم لی جائے ۔ اس پر یہ آیت اتری اور عمرو بن العاص نے اور ان میں سے ایک اور شخص نے قسم کھائی عدی بن بداء کو پانچ سو درہم دینے پڑے۔ [سنن ترمذي:3059،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2494

ایک روایت میں ہے کہ عدی جھوٹی قسم بھی کھا گیا تھا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ارض شام کے اس حصے میں کوئی مسلمان نہ تھا، یہ جام چاندی کا تھا اور سونے سے منڈھا ہوا تھا اور مکے میں سے جام خریدا گیا تھا جہاں سے ملا تھا انہوں نے بتایا تھا کہ ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے، اب میت کے دو وارث کھڑے ہوئے اور قسم کھائی، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [صحیح بخاری:2780] ‏

ایک روایت میں ہے کہ قسم عصر کی نماز کے بعد اٹھائی تھی۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک مسلمان کی وفات کا موقعہ سفر میں آیا، جہاں کوئی مسلمان اسے نہ ملا تو اس نے اپنی وصیت پر دو اہل کتاب گواہ رکھے، ان دونوں نے کوفے میں آ کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے سامنے شہادت دی وصیت بیان کی اور ترکہ پیش کیا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ واقعہ پہلا ہے پس عصر کی نماز کے بعد ان سے قسم لی کہ نہ انہوں نے خیانت کی ہے، نہ جھوٹ بولا ہے، نہ بدلا ہے، نہ چھپایا ہے، نہ الٹ پلٹ کیا ہے بلکہ سچ وصیت اور پورا ترکہ انہوں نے پیش کر دیا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی شہادت کو مان لیا۔ [سنن ابوداود:3065،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے فرمان کا مطلب یہی ہے کہ ایسا واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تمیم اور عدی کا ہوا تھا اور اب یہ دوسرا اس قسم کا واقع ہے، تمیم بن داری رضی اللہ عنہ کا اسلام سنہ ٩ ہجری کا ہے اور یہ آخری زمانہ ہے۔

صفحہ نمبر2495

سدی رحمة الله فرماتے ہیں لازم ہے کہ موت کے وقت وصیت کرے اور دو گواہ رکھے اگر سفر میں ہے اور مسلمان نہیں ملتے تو خیر غیر مسلم ہی سہی۔ انہیں وصیت کرے اپنا مال سونپ دے، اگر میت کے وارثوں کو اطمینان ہو جائے تو خیر آئی گئی بات ہوئی ورنہ سلطان اسلام کے سامنے وہ مقدمہ پیش کر دیا جائے۔

اوپر جو واقعہ بیان ہوا اس میں یہ بھی ہے کہ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے عصر کے بعد قسم لینی چاہی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ انہیں عصر کے بعد کی کیا پرواہ؟ ان سے ان کی نماز کے وقت قسم لی جائے اور ان سے کہا جائے کہ اگر تم نے کچھ چھپا یا یا خیانت کی تو ہم تمہیں تمہاری قوم میں رسوا کر دیں گے اور تمہاری گواہی کبھی بھی قبول نہ کی جائے گی اور تمہیں سنگین سزا دی جائے گی، بہت ممکن ہے کہ اس طرح ان کی زبان سے حق بات معلوم ہو جائے پھر بھی اگر شک شبہ رہ جائے اور کسی اور طریق سے ان کی خیانت معلوم ہو جائے تو مرحوم کے دو مسلمان وارث قسمیں کھائیں کہ ان کافروں کی شہادت غلط ہے تو ان کی شہادت غلط مان لی جائے گی اور ان سے ثبوت لے کر فیصلہ کر دیا جائے گا۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ ” اس صورت میں فائدہ یہ ہے کہ شہادت ٹھیک ٹھیک آ جائے گی ایک تو اللہ کی قسم کا لحاظ ہوگا دوسرے لوگوں میں رسوا ہونے کا ڈر رہے گا، لوگو! اللہ تعالیٰ سے اپنے سب کاموں میں ڈرتے رہو اس کی باتیں سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ، جو لوگ اس کے فرمان سے ہٹ جائیں اور اس کے احکام کے خلاف چلیں وہ راہ راست نہیں پاتے “۔

صفحہ نمبر2496

باب

پھر اگر یہ مشہور ہو یا ظاہر ہو جائے یا اطلاع مل جائے کہ ان دونوں نے مرنے والے کے مال میں سے کچھ چرا لیا یا کسی قسم کی خیانت کی۔

«أَوْلَيَانِ» کی دوسری قرأت «‏اَوّلَانِ» بھی ہے مطلب یہ ہے کہ جب کسی خبر صحیح سے پتہ چلے کہ ان دونوں نے کوئی خیانت کی ہے تو میت کے وارثوں میں سے جو میت کے زیادہ نزدیک ہوں وہ دو شخص کھڑے ہوں اور حلیفہ بیان دیں کہ ہماری شہادت ہے کہ انہوں نے چرایا اور یہی زیادہ حق زیادہ صحیح اور پوری سچی بات ہے، ہم ان پر جھوٹ نہیں باندھتے اگر ہم ایسا کریں تو ہم ظالم۔

یہ مسئلہ اور قسامت کا مسئلہ اس بارے میں بہت ملتا جلتا ہے، اس میں بھی مقتول کے اولیاء قسمیں کھاتے ہیں، تمیم داری سے منقول ہے کہ اور لوگ اس سے بری ہیں صرف میں اور عدی بن بداء اس سے متعلق ہیں، یہ دونوں نصرانی تھے اسلام سے پہلے ملک شام میں بغرض تجارت آتے جاتے تھے ابن سہم کے مولی بدیل بن ابومریم بھی مال تجارت لے کر شام کے ملک گئے ہوئے تھے ان کے ساتھ ایک چاندی کا جام تھا، جسے وہ خاص بادشاہ کے ہاتھ فروخت کرنے کیلئے لے جا رہے تھے۔ اتفاقاً وہ بیمار ہوگئے ان دونوں کو وصیت کی اور مال سونپ دیا کہ یہ میرے وارثوں کو دے دینا اس کے مرنے کے بعد ان دونوں نے وہ جام تو مال سے الگ کر دیا اور ایک ہزار درہم میں بیچ کر آدھوں آدھ بانٹ لیے باقی مال واپس لا کر بدیل کے رشتہ داروں کو دے دیا، انہوں نے پوچھا کہ چاندی کا جام کیا ہوا؟ دونوں نے جواب دیا ہمیں کیا خبر؟ ہمیں تو جو دیا تھا وہ ہم نے تمہیں دے دیا۔ تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے اور اسلام نے مجھ پر اثر کیا، میں مسلمان ہوگیا تو میرے دل میں خیال آیا کہ یہ انسانی حق مجھ پر رہ جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں میں پکڑا جاؤں گا تو میں بدیل کے وارثان کے پاس آیا اور اس سے کہا پانچ سو درہم جو تونے لے لیے ہیں وہ بھی واپس کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس سے قسم لی جائے ۔ اس پر یہ آیت اتری اور عمرو بن العاص نے اور ان میں سے ایک اور شخص نے قسم کھائی عدی بن بداء کو پانچ سو درہم دینے پڑے۔ [سنن ترمذي:3059،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2494

ایک روایت میں ہے کہ عدی جھوٹی قسم بھی کھا گیا تھا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ارض شام کے اس حصے میں کوئی مسلمان نہ تھا، یہ جام چاندی کا تھا اور سونے سے منڈھا ہوا تھا اور مکے میں سے جام خریدا گیا تھا جہاں سے ملا تھا انہوں نے بتایا تھا کہ ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے، اب میت کے دو وارث کھڑے ہوئے اور قسم کھائی، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ [صحیح بخاری:2780] ‏

ایک روایت میں ہے کہ قسم عصر کی نماز کے بعد اٹھائی تھی۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک مسلمان کی وفات کا موقعہ سفر میں آیا، جہاں کوئی مسلمان اسے نہ ملا تو اس نے اپنی وصیت پر دو اہل کتاب گواہ رکھے، ان دونوں نے کوفے میں آ کر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے سامنے شہادت دی وصیت بیان کی اور ترکہ پیش کیا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ واقعہ پہلا ہے پس عصر کی نماز کے بعد ان سے قسم لی کہ نہ انہوں نے خیانت کی ہے، نہ جھوٹ بولا ہے، نہ بدلا ہے، نہ چھپایا ہے، نہ الٹ پلٹ کیا ہے بلکہ سچ وصیت اور پورا ترکہ انہوں نے پیش کر دیا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی شہادت کو مان لیا۔ [سنن ابوداود:3065،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے فرمان کا مطلب یہی ہے کہ ایسا واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تمیم اور عدی کا ہوا تھا اور اب یہ دوسرا اس قسم کا واقع ہے، تمیم بن داری رضی اللہ عنہ کا اسلام سنہ ٩ ہجری کا ہے اور یہ آخری زمانہ ہے۔

صفحہ نمبر2495

سدی رحمة الله فرماتے ہیں لازم ہے کہ موت کے وقت وصیت کرے اور دو گواہ رکھے اگر سفر میں ہے اور مسلمان نہیں ملتے تو خیر غیر مسلم ہی سہی۔ انہیں وصیت کرے اپنا مال سونپ دے، اگر میت کے وارثوں کو اطمینان ہو جائے تو خیر آئی گئی بات ہوئی ورنہ سلطان اسلام کے سامنے وہ مقدمہ پیش کر دیا جائے۔

اوپر جو واقعہ بیان ہوا اس میں یہ بھی ہے کہ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے عصر کے بعد قسم لینی چاہی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ انہیں عصر کے بعد کی کیا پرواہ؟ ان سے ان کی نماز کے وقت قسم لی جائے اور ان سے کہا جائے کہ اگر تم نے کچھ چھپا یا یا خیانت کی تو ہم تمہیں تمہاری قوم میں رسوا کر دیں گے اور تمہاری گواہی کبھی بھی قبول نہ کی جائے گی اور تمہیں سنگین سزا دی جائے گی، بہت ممکن ہے کہ اس طرح ان کی زبان سے حق بات معلوم ہو جائے پھر بھی اگر شک شبہ رہ جائے اور کسی اور طریق سے ان کی خیانت معلوم ہو جائے تو مرحوم کے دو مسلمان وارث قسمیں کھائیں کہ ان کافروں کی شہادت غلط ہے تو ان کی شہادت غلط مان لی جائے گی اور ان سے ثبوت لے کر فیصلہ کر دیا جائے گا۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ ” اس صورت میں فائدہ یہ ہے کہ شہادت ٹھیک ٹھیک آ جائے گی ایک تو اللہ کی قسم کا لحاظ ہوگا دوسرے لوگوں میں رسوا ہونے کا ڈر رہے گا، لوگو! اللہ تعالیٰ سے اپنے سب کاموں میں ڈرتے رہو اس کی باتیں سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ، جو لوگ اس کے فرمان سے ہٹ جائیں اور اس کے احکام کے خلاف چلیں وہ راہ راست نہیں پاتے “۔

صفحہ نمبر2496

روز قیامت انبیاء سے سوال ٭٭

اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے کہ ” رسولوں سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ تمہاری امتوں نے تمہیں مانا یا نہیں؟ “۔

جیسے اور آیت میں ہے «فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ» [7-الأعراف:6] ‏ یعنی ” رسولوں سے بھی اور ان کی امتوں سے بھی یہ ضرور دریافت فرمائیں گے “۔

صفحہ نمبر2498

اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ‏ [15-الحجر:93-92] ‏ ” تیرے رب کی قسم ہم سب سے ان کے اعمال کا سوال ضرور ضرور کریں گے “۔ رسولوں کا یہ جواب کہ ” ہمیں مطلق علم نہیں “، اس دن کی ہول و دہشت کی وجہ سے ہو گا، گھبراہٹ کی وجہ سے کچھ جواب بن نہ پڑے گا، یہ وہ وقت ہو گا کہ عقل جاتی رہے گی پھر دوسری منزل میں ہر نبی اپنی اپنی امت پر گواہی دے گا۔

ایک مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سوال کی غرض یہ ہے کہ تمہاری امتوں نے تمہارے بعد کیا کیا عمل کئے اور کیا کیا نئی باتیں نکا لیں؟ تو وہ ان سے اپنی لاعلمی ظاہر کریں گے، یہ معنی بھی درست ہو سکتے ہیں کہ ہمیں کوئی ایسا علم نہیں جو اے جناب باری تیرے علم میں نہ ہو۔ حقیقتاً یہ قول بہت ہی درست ہے کہ اللہ کے علم کے مقابلے میں بندے محض بے علم ہیں تقاضائے ادب اور طریقہ گفتگو یہی مناسب مقام ہے، گو انبیاء علیہم السلام جانتے تھے کہ کس کس نے ہماری نبوت کو ہمارے زمانے میں تسلیم کیا لیکن چونکہ وہ ظاہر کے دیکھنے والے تھے اور رب عالم باطن بین ہے اس لیے ان کا یہی جواب بالکل درست ہے کہ ہمیں حقیقی علم مطلقاً نہیں تیرے علم کی نسبت تو ہمارا علم محض لاعلمی ہے حقیقی عالم تو صرف ایک تو ہی ہے۔

صفحہ نمبر2499

عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات ٭٭

جناب مسیح علیہ الصلوۃ والسلام پر جو احسانات تھے انکا اور آپکے معجزوں کا بیان ہو رہا ہے کہ بغیر باپ کے صرف ماں سے آپ علیہ السلام کو پیدا کیا اور اپنی کمال قدرت کا نشان آپ علیہ السلام کو بنایا۔ پھر آپ علیہ السلام کی والدہ پر احسان کیا کہ ان کی برأت اسی بچے کے منہ سے کرائی اور جس برائی کی نسبت ان کی طرف بے ہودہ لوگ کر رہے تھے اللہ نے آج کے پیدا شدہ بچے کی زبان سے ان کی پاک دامنی کی شہادت اپنی قدرت سے دلوائی، جبرائیل علیہ السلام کو اپنے نبی علیہ السلام کی تائید پر مقرر کر دیا۔

بچپن میں اور بڑی عمر میں انہیں اپنی دعوت دینے والا بنایا گیا، گہوارے میں ہی بولنے کی طاقت عطا فرمائی، اپنی والدہ محترمہ کی برات ظاہر کر کے اللہ کی عبودیت کا اقرر کیا اور اپنی رسالت کی طرف لوگوں کو بلایا۔

صفحہ نمبر2500

مراد کلام کرنے سے اللہ کی طرف بلانا ہے ورنہ بڑی عمر میں کلام کرنا کوئی خاص بات یا تعجب کی چیز نہیں۔ لکھنا اور سمجھنا آپ کو سکھایا۔ تورات جو کلیم اللہ علیہ السلام پر اتری تھی اور انجیل جو آپ پر نازل ہوئی دونوں کا علم آپ کو سکھایا۔ آپ علیہ السلام مٹی سے پرند کی صورت بناتے پھر اس میں دم کر دیتے تو وہ اللہ کے حکم سے چڑیا بن کر اڑ جاتا، اندھوں اور کوڑھیوں کے بھلا چنگا کرنے کی پوری تفسیر سورۃ آل عمران میں گزر چکی ہے، مردوں کو آپ علیہ السلام بلاتے تو وہ بحکم الٰہی زندہ ہو کر اپنی قبروں سے اٹھ کر آ جاتے۔

ابو ہذیل فرماتے ہیں جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کسی مردے کے زندہ کرنے کا ارادہ کرتے تو دو رکعت نماز ادا کرتے پہلی میں سورۃ تبارک «تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ» [67-الملک] ‏ اور دوسری میں سورۃ «الم تَنزِيلُ الْكِتَابِ» [32-السجدہ] ‏ پڑھتے پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پڑھتے اور اس کے سات نام لیتے جو یہ ہیں «يَا قَدِيمُ، يَا خَفِيُّ، يَا دَائِمُ، يَا فَرْدُ، يَا وَتْرُ، يَا أَحَدُ، يَا صَمَدُ» پھر آپ علیہ السلام کو کوئی سختی پہنچتی تو اللہ تعالیٰ کے سات نام اور لیتے «يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ»، «یا اللہُ»، «یا رَّحْمَـٰن» ‏، «یا رَّحِيم»، «یا ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ»، «یا نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا وَرَبّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ یارَبّ» ‏۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1241/4] ‏ یہ اثر بڑا زبردست اور عظمت والا ہے۔

” اور میرے اس احسان کو بھی یاد کرو کہ جب تم دلائل و براہیں لے کر اپنی امت کے پاس آئے اور ان میں سے جو کافر تھے انہوں نے اسے جادو بتایا اور درپے آزار ہوئے تو ان کے شر سے میں نے تمہیں بچا لیا، انہوں نے قتل کرنا چاہا، سولی دینا چاہی، لیکن میں ہمیشہ تیرا کفیل و حفیظ رہا “۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ احسان آپ علیہ السلام کے آسمان پر چڑھا لینے کے بعد کے ہیں یا یہ کہ یہ خطاب آپ علیہ السلام سے بروز قیامت ہوگا اور ماضی کے صیغہ سے اس کا بیان اس کے پختہ اور یقینی ہونے کے سبب ہے۔ یہ غیبی اسرار میں سے ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرما دیا۔

صفحہ نمبر2501

پھر اپنا ایک اور احسان بتایا کہ ” میں نے تیرے مددگار اور ساتھی بنا دیئے، حواریوں کے دل میں الہام اور القا کیا “۔

یہاں بھی لفظ وحی کا اطلاق ویسا ہی ہے جیسا ام موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے اور شہد کی مکھی کے بارے میں ہے۔ انہوں نے الہام رب پر عمل کیا، یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے تیری زبانی ان تک اپنی وحی پہنچائی اور انہیں قبولیت کی توفیق دی، تو انہوں نے مان لیا اور کہہ دیا کہ ہم تو مسلمین یعنی تابع فرمان اور فرماں بردار ہیں۔

صفحہ نمبر2502

عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات ٭٭

جناب مسیح علیہ الصلوۃ والسلام پر جو احسانات تھے انکا اور آپکے معجزوں کا بیان ہو رہا ہے کہ بغیر باپ کے صرف ماں سے آپ علیہ السلام کو پیدا کیا اور اپنی کمال قدرت کا نشان آپ علیہ السلام کو بنایا۔ پھر آپ علیہ السلام کی والدہ پر احسان کیا کہ ان کی برأت اسی بچے کے منہ سے کرائی اور جس برائی کی نسبت ان کی طرف بے ہودہ لوگ کر رہے تھے اللہ نے آج کے پیدا شدہ بچے کی زبان سے ان کی پاک دامنی کی شہادت اپنی قدرت سے دلوائی، جبرائیل علیہ السلام کو اپنے نبی علیہ السلام کی تائید پر مقرر کر دیا۔

بچپن میں اور بڑی عمر میں انہیں اپنی دعوت دینے والا بنایا گیا، گہوارے میں ہی بولنے کی طاقت عطا فرمائی، اپنی والدہ محترمہ کی برات ظاہر کر کے اللہ کی عبودیت کا اقرر کیا اور اپنی رسالت کی طرف لوگوں کو بلایا۔

صفحہ نمبر2500

مراد کلام کرنے سے اللہ کی طرف بلانا ہے ورنہ بڑی عمر میں کلام کرنا کوئی خاص بات یا تعجب کی چیز نہیں۔ لکھنا اور سمجھنا آپ کو سکھایا۔ تورات جو کلیم اللہ علیہ السلام پر اتری تھی اور انجیل جو آپ پر نازل ہوئی دونوں کا علم آپ کو سکھایا۔ آپ علیہ السلام مٹی سے پرند کی صورت بناتے پھر اس میں دم کر دیتے تو وہ اللہ کے حکم سے چڑیا بن کر اڑ جاتا، اندھوں اور کوڑھیوں کے بھلا چنگا کرنے کی پوری تفسیر سورۃ آل عمران میں گزر چکی ہے، مردوں کو آپ علیہ السلام بلاتے تو وہ بحکم الٰہی زندہ ہو کر اپنی قبروں سے اٹھ کر آ جاتے۔

ابو ہذیل فرماتے ہیں جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کسی مردے کے زندہ کرنے کا ارادہ کرتے تو دو رکعت نماز ادا کرتے پہلی میں سورۃ تبارک «تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ» [67-الملک] ‏ اور دوسری میں سورۃ «الم تَنزِيلُ الْكِتَابِ» [32-السجدہ] ‏ پڑھتے پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پڑھتے اور اس کے سات نام لیتے جو یہ ہیں «يَا قَدِيمُ، يَا خَفِيُّ، يَا دَائِمُ، يَا فَرْدُ، يَا وَتْرُ، يَا أَحَدُ، يَا صَمَدُ» پھر آپ علیہ السلام کو کوئی سختی پہنچتی تو اللہ تعالیٰ کے سات نام اور لیتے «يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ»، «یا اللہُ»، «یا رَّحْمَـٰن» ‏، «یا رَّحِيم»، «یا ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ»، «یا نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا وَرَبّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ یارَبّ» ‏۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1241/4] ‏ یہ اثر بڑا زبردست اور عظمت والا ہے۔

” اور میرے اس احسان کو بھی یاد کرو کہ جب تم دلائل و براہیں لے کر اپنی امت کے پاس آئے اور ان میں سے جو کافر تھے انہوں نے اسے جادو بتایا اور درپے آزار ہوئے تو ان کے شر سے میں نے تمہیں بچا لیا، انہوں نے قتل کرنا چاہا، سولی دینا چاہی، لیکن میں ہمیشہ تیرا کفیل و حفیظ رہا “۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ احسان آپ علیہ السلام کے آسمان پر چڑھا لینے کے بعد کے ہیں یا یہ کہ یہ خطاب آپ علیہ السلام سے بروز قیامت ہوگا اور ماضی کے صیغہ سے اس کا بیان اس کے پختہ اور یقینی ہونے کے سبب ہے۔ یہ غیبی اسرار میں سے ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرما دیا۔

صفحہ نمبر2501

پھر اپنا ایک اور احسان بتایا کہ ” میں نے تیرے مددگار اور ساتھی بنا دیئے، حواریوں کے دل میں الہام اور القا کیا “۔

یہاں بھی لفظ وحی کا اطلاق ویسا ہی ہے جیسا ام موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے اور شہد کی مکھی کے بارے میں ہے۔ انہوں نے الہام رب پر عمل کیا، یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے تیری زبانی ان تک اپنی وحی پہنچائی اور انہیں قبولیت کی توفیق دی، تو انہوں نے مان لیا اور کہہ دیا کہ ہم تو مسلمین یعنی تابع فرمان اور فرماں بردار ہیں۔

صفحہ نمبر2502

بنی اسرائیل کی ناشکری اور عذاب الٰہی ٭٭

یہ مائدہ کا واقعہ ہے اور اسی کی وجہ سے اس سورت کا نام سورۃ المائدہ ہے یہ بھی جناب مسیح علیہ السلام کی نبوت کی ایک زبردست دلیل اور آپ علیہ السلام کا ایک اعلی معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا سے آسمانی دستر خوان اتارا اور آپ علیہ السلام کی سچائی ظاہر کی۔ بعض ائمہ نے فرمایا ہے کہ اس کا ذکر موجودہ انجیل میں نہیں عیسائیوں نے اسے مسلمانوں سے لیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے آپ علیہ السلام سے تمنا کرتے ہیں کہ اگر ہو سکے تو اللہ تعالیٰ سے ایک خوان کھانے سے بھرا ہوا طلب کیجئے ایک قرأت میں آیت «‏ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ» [5-المائدہ:112] ‏ یعنی ” کیا آپ سے یہ ہو سکتا ہے؟ کہ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا کریں؟ “۔

مائدہ کہتے ہیں اس دستر خوان کو جس پر کھانا رکھا ہوا ہو، بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انہوں نے بوجہ فقر و فاقہ، تنگی اور حاجت کے یہ سوال کیا تھا، جناب مسیح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ ”اللہ پر بھروسہ رکھو اور رزق کی تلاش کرو، ایسے انوکھے سوالات نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ فتنہ ہو جائے اور تمہارے ایمان ڈگمگا جائیں۔‏“

انہوں نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول علیہ السلام ہم تو کھانے پینے سے تنگ ہو رہے ہیں محتاج ہو گئے ہیں اس سے ہمارے دل مطمئن ہو جائیں گے کیونکہ ہم اپنی آنکھوں سے اپنی روزیاں آسمان سے اترتی خود دیکھ لیں گے، اسی طرح آپ علیہ السلام پر جو ایمان ہے وہ بھی بڑھ جائے گا، آپ علیہ السلام کی رسالت کو یوں تو ہم مانتے ہی ہیں لیکن یہ دیکھ کر ہمارا یقین اور بڑھ جائے گا اور اس پر خود ہم گواہ بن جائیں گے، اللہ کی قدرت اور آپ علیہ السلام کے معجزہ کی یہ ایک روشن دلیل ہوگی جس کی شہادت ہم خود دیں گے اور یہ آپ علیہ السلام کی نبوت کی کافی دلیل ہوگی۔

صفحہ نمبر2504

بنی اسرائیل کی ناشکری اور عذاب الٰہی ٭٭

یہ مائدہ کا واقعہ ہے اور اسی کی وجہ سے اس سورت کا نام سورۃ المائدہ ہے یہ بھی جناب مسیح علیہ السلام کی نبوت کی ایک زبردست دلیل اور آپ علیہ السلام کا ایک اعلی معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا سے آسمانی دستر خوان اتارا اور آپ علیہ السلام کی سچائی ظاہر کی۔ بعض ائمہ نے فرمایا ہے کہ اس کا ذکر موجودہ انجیل میں نہیں عیسائیوں نے اسے مسلمانوں سے لیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے آپ علیہ السلام سے تمنا کرتے ہیں کہ اگر ہو سکے تو اللہ تعالیٰ سے ایک خوان کھانے سے بھرا ہوا طلب کیجئے ایک قرأت میں آیت «‏ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ» [5-المائدہ:112] ‏ یعنی ” کیا آپ سے یہ ہو سکتا ہے؟ کہ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا کریں؟ “۔

مائدہ کہتے ہیں اس دستر خوان کو جس پر کھانا رکھا ہوا ہو، بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انہوں نے بوجہ فقر و فاقہ، تنگی اور حاجت کے یہ سوال کیا تھا، جناب مسیح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ ”اللہ پر بھروسہ رکھو اور رزق کی تلاش کرو، ایسے انوکھے سوالات نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ فتنہ ہو جائے اور تمہارے ایمان ڈگمگا جائیں۔‏“

انہوں نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول علیہ السلام ہم تو کھانے پینے سے تنگ ہو رہے ہیں محتاج ہو گئے ہیں اس سے ہمارے دل مطمئن ہو جائیں گے کیونکہ ہم اپنی آنکھوں سے اپنی روزیاں آسمان سے اترتی خود دیکھ لیں گے، اسی طرح آپ علیہ السلام پر جو ایمان ہے وہ بھی بڑھ جائے گا، آپ علیہ السلام کی رسالت کو یوں تو ہم مانتے ہی ہیں لیکن یہ دیکھ کر ہمارا یقین اور بڑھ جائے گا اور اس پر خود ہم گواہ بن جائیں گے، اللہ کی قدرت اور آپ علیہ السلام کے معجزہ کی یہ ایک روشن دلیل ہوگی جس کی شہادت ہم خود دیں گے اور یہ آپ علیہ السلام کی نبوت کی کافی دلیل ہوگی۔

صفحہ نمبر2504

باب

اب عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ عید ہونے سے مراد تو عید کا دن یا نماز گزار نے کا دن ہونا ہے یا اپنے بعد والوں کے لیے یادگار کا دن ہونا ہے یا اپنی اور اپنے بعد کی نسلوں کیلئے نصیحت و عبرت ہونا ہے یا اگلوں پچھلوں کے لیے کافی وافی ہونا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں ”یا اللہ یہ تیری قدرت کی ایک نشانی ہوگی اور میری سچائی کی بھی کہ تونے میری دعا قبول فرما لی، پس لوگوں تک ان باتوں کو جو تیرے نام سے ہیں انہیں پہنچاؤں گا یقین کر لیا کریں گے، یا اللہ تو ہمیں یہ روزی بغیر مشقت و تکلیف کے محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرما تو تو بہترین رازق ہے۔‏“

اللہ تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کا وعدہ فرما لیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ ” اس کے اترنے کے بعد تم میں سے جو کوئی بھی جھٹلائے گا اور کفر کرے گا تو میں اسے وہ عذاب دوں گا جو تمہارے زمانے میں کسی اور کو نہ دیا ہو “۔

جیسے آل فرعون کو قیامت کے دن کہا جائے «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ» ‏ [40-غافر:46] ‏ کہ ” تم سخت تر عذاب میں داخل ہو جاؤ “، اور «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا» [4-النساء:145] ‏ ” جیسے منافقوں کے لیے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے اور تم ان کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے “۔

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن بدترین عذاب تین قسم کے لوگوں کو ہو گا، منافقوں کو اور مائدہ آسمانی کے بعد انکار کرنے والوں کو اور فرعونیوں کو۔

صفحہ نمبر2506

اب ان روایات کو سنیئے جو اس بارے میں سلف سے مروی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ ”تم اللہ کے لیے ایک مہینے کے روزے رکھو پھر رب سے دعا کرو وہ قبول فرمائے گا۔‏“ انہوں نے تیس روزے پورے کرکے کہا اے بھلائیوں کے بتانے والے ہم اگر کسی کا کام ایک ماہ کامل کرتے تو وہ بعد فراغت ضرور ہماری دعوت کرتا تو آپ علیہ السلام بھی اللہ سے بھرے ہوئے خوان کے آسمان سے اترنے کی دعا کیجئے۔ عیسیٰ علیہ السلام نے پہلے تو انہیں سمجھایا لیکن ان کی نیک نیتی کے اظہار پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ساتھ ہی دھمکا بھی دیا پھر فرشتوں کے ہاتھوں آسمان سے خوان نعمت اتارا، جس پر سات مچھلیاں تھیں سات روٹیاں تھیں، جہاں یہ تھے وہیں وہ ان کے کھانے کو رکھ گئے سب بیٹھ گئے اور شکم سیر ہو کر اٹھے۔

ابن ابی حاتم کی ایک مر فوع حدیث میں ہے کہ اس مائدہ آسمانی میں گوشت روٹی اترا تھا حکم تھا کہ خیانت نہ کریں کل کے لیے نہ لے جائیں لیکن انہوں نے حکم کی خلاف ورزی کی، لے بھی گئے اور چرا بھی لیا، جس کی سزا میں وہ سور بندر بن گئے ۔ [سنن ترمذي:3061،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2507

سیدنا عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس میں جنت کے میوے تھے، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر وہ لوگ خیانت اور ذخیرہ نہ کرتے تو وہ خوان یوں ہی رہتا لیکن شام ہونے سے پہلے ہی انہوں نے چوریاں شروع کردیں، پھر سخت عذاب کئے گئے، اے عرب بھائیو! یاد کرو تم اونٹوں اور بکریوں کی دمیں مروڑتے تھے، اللہ نے تم پر احسان کیا خود تم ہی میں سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا جن سے تم واقف تھے جن کے حسب و نسب سے تم آگاہ تھے، اس رسول علیہ سلام نے تمہیں بتا دیا کہ ” عجمیوں کے ملک تمہارے ہاتھوں فتح ہوں گے لیکن خبردار تم سونے چاندی کے خزانوں کے درپے نہ ہو جانا “ لیکن واللہ دن رات وہی ہیں اور تم وہ نہ رہے، تم نے خزانے جمع کرنے شروع کر دیئے، مجھے تو خوف ہے کہ کہیں تم پر بھی اللہ کا عذاب برس نہ پڑے۔

اسحٰق بن عبداللہ فرماتے ہیں جن لوگوں نے مائدہ آسمانی میں سے چرایا ان کا خیال ہے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ختم ہو جائے اور کل کے لیے ہمارے پاس کچھ نہ رہے۔ مجاہد رحمة الله سے مروی ہے کہ جب وہ اتر تے ان پر مائدہ اترتا عطیہ رحمة الله فرماتے ہیں گو وہ تھی تو مچھلی لیکن اس میں ذائقہ ہر چیز کا تھا۔ وہب بن منبہ رحمة الله فرماتے ہیں ہر دن اس مائدہ پر آسمان سے میوے اترتے تھے قسم قسم کی روزیاں کھاتے تھے، چار ہزار آدمی ایک وقت اس پر بیٹھ جاتے پھر اللہ کی طرف سے غذا تبدیل ہو جاتی یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس پر روٹیاں جو کی تھیں۔

صفحہ نمبر2508

سعید بن جیبررحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر سوائے گوشت کے تمام چیزیں تھیں۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں اس پر چاول کی روٹی تھی، وہب رحمة الله فرماتے ہیں کہ ان کے اس سوال پر عیسیٰ علیہ السلام بہت رنجیدہ ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ ”زمین کے رزق پر قناعت کرو اور آسمانی دستر خوان نہ مانگو اگر وہ اترا تو چونکہ زبردست نشان ہوگا اگر ناقدری کی تو بری طرح پکڑے جاؤ گے۔ ثمودیوں کی ہلاکت کا باعث بھی یہی ہوا کہ انہوں نے اپنے نبی علیہ السلام سے نشان طلب کیا تھا۔‏“

لیکن حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی ایک نہ مانی اور اصرار کیا کہ نہیں آپ علیہ السلام ضرور دعا کیجئے اب جناب عیسیٰ علیہ السلام اٹھے، صوف کا جبہ اتار دیا، سیاہ بالوں کا لبادہ پہن لیا اور چادر بھی بالوں کی اوڑھ لی، وضو کرکے غسل کرکے، مسجد میں جا کر نماز پڑھ کر قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑے ہوگئے، دونوں پیر ملائے، ایک پنڈلی دوسری پنڈالی سے لگا لی، انگلیاں بھی ملالیں، اپنے سینے پر اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا، نگاہیں زمین میں گاڑ لیں سر جھکا دیا اور نہایت خشوع و خضوع سے عاجزانہ طور پر گریہ وزاری شروع کر دی، آنسو رخساروں سے بہ کر داڑھی کو تر کر کے زمین پر ٹپکنے لگے یہاں تک کہ زمین بھی تر ہوگئی۔ اب دعا کی جس کا بیان اس آیت میں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور ایک سرخ رنگ کا خوان دو بادلوں کے درمیان آسمان سے اترا، جسے اترتے ہوئے سب نے دیکھا، سب تو خوشیاں منا رہے تھے لیکن روح اللہ علیہ السلام کانپ رہے تھے، رنگ اڑ گیا تھا اور زار و قطار رو رہے تھے کہ اللہ ہی خیر کرے، ذرا بے ادبی ہوئی تو مارے گئے۔ زبان مبارک سے یہ دعا نکل رہی تھی کہ ”یا اللہ اسے تو رحمت کا سبب بنا عذاب کا سب نہ بنا، یا اللہ بہت سی عجیب و غریب چیزیں میں نے تجھ سے طلب کیں اور تو نے عطا فرمائیں، باری تعالیٰ تو ان نعمتوں کے شکر کی ہمیں توفیق عطا فرما، اے پروردگار تو اپنی اس نعمت کو ہمارے لیے سبب غضب نہ بنا، الٰہی تو اسے سلامتی اور عافیت کر، اسے فتنہ اور عذاب نہ کر۔‏“

یہاں تک کہ وہ خوان زمین تک پہنچ گیا اور عیسیٰ حواری اور عیسائیوں کے سامنے رکھ دیا گیا، اس میں سے ایسی پاکیزہ خوشبوئیں آ رہی تھیں کہ کسی دماغ میں ایسی خوشبو اس سے پہلے کبھی نہیں آئی تھی، عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے اصحاب اسے دیکھ کر سجدے میں گر پڑے یہودی بھی یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور جل بھن رہے تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھی اس دستر خوان کے اردگرد بیٹھ گئے دیکھا کہ اس پر ایک رومال ڈھکا ہوا ہے، مسیح علیہ السلام نے فرمایا ”کون نیک بخت جرات و ہمت کر کے اسے کھولتا ہے؟“ حواریوں نے کہا اے کلمتہ اللہ آپ علیہ السلام سے زیادہ حقدار اس کا کون ہے؟ یہ سن کر عیسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوئے، نئے سرے سے وضو کیا، مسجد میں جا کر کئی رکعت نماز ادا کی دیر تک روتے رہے پھر دعا کی کہ ”یا اللہ اس کے کھولنے کی اجازت مرحمت ہو اور اسے برکت و رزق بنا دیا جائے۔‏“

صفحہ نمبر2509

پھر واپس آئے اور «بِسْمِ اللَّهِ خَيْرُ الرَّازِقِينَ» کہہ کر رومال اٹھایا، تو سب نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی لمبی چوڑی اور موٹی بھنی ہوئی مچھلی ہے، جس کے اوپر چھلکا نہیں اور جس میں کانٹے نہیں، گھی اس میں سے بہہ رہا ہے اسی میں ہر قسم کی سبزیاں بھی ہیں، سوائے گندنا اور مولی کے اس کے سر کے پاس سرکہ رکھا ہوا ہے اور دم کے پاس نمک ہے، سبزیوں کے پاس پانچ روٹیاں ہیں، ایک پر زیتون کا تیل ہے دوسری پر کھجوریں ہیں اور ایک پر پانچ انار ہیں۔

شمعون نے جو حواریوں کے سردار تھے کہا کہ اے روح اللہ علیہ السلام یہ دنیا کا کھانا ہے یا جنت کا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”ابھی تک تمہارے سوال ختم نہیں ہوئے؟ ابھی تک کریدنا باقی ہی ہے؟ واللہ مجھے تو ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں اس پر تمہیں کوئی عذاب نہ ہو۔‏“ شمعون نے کہا اسرائیل کے معبود برحق کی قسم میں کسی سرکشی کی بنا پر نہیں پوچھ رہا، اے سچی ماں کے اچھے بیٹے! یقین مانئے کہ میری نیت بد نہیں۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا ”نہ یہ طعام دنیا ہے نہ طعام جنت بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص حکم سے اسے آسمان و زمین کے درمیان اسی طرح کا پیدا کر دیا ہے اور تمہارے پاس بھیج دیا ہے، اب اللہ کا نام لے کر کھاؤ اور کھا کر اس کا شکر ادا کرو شکر گزاروں کو وہ زیادہ دیتا ہے اور وہ ابتداء پیدا کرنے والا قادر اور قدر دان ہے۔‏“ شمعون نے کہا اے نبی اللہ علیہ السلام ہم چاہتے ہیں کہ اس نشان قدرت میں ہی اور نشان قدرت دیکھیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ” «سُبْحَانَ اللَّهِ» گویا ابھی تم نے کوئی نشان قدرت دیکھا ہی نہیں؟ اچھا لو دیکھو“، یہ کہہ کر آپ علیہ السلام نے اس مچھلی سے فرمایا ”اے مچھلی اللہ کے حکم سے جیسی تو زندہ تھی، زندہ ہو جا“، اسی وقت اللہ کی قدرت سے وہ زندہ ہو گئی اور ہل جل کر چلنے پھرنے لگی، آنکھیں چمکنے لگیں، دیدے کھل گئے اور شیر کی طرح منہ پھاڑ نے لگی اور اس کے جسم پر کھپرے بھی آ گئے، یہ دیکھتے ہی تمام حاضرین ڈر گئے اور ادھر ادھر ہٹنے اور دبکنے لگے۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا ”دیکھو تو خود ہی نشان طلب کرتے ہو خود ہی اسے دیکھ کر گھبراتے ہو واللہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ یہ مائدہ آسمانی تمہارے لیے غضب اللہ کا نمونہ نہ بن جائے، اے مچھلی تو بحکم الٰہی جیسی تھی، ویسی ہی ہو جا۔‏“ چنانچہ اسی وقت وہ ویسی ہی ہو گئی، اب سب نے کہا کہ اے نبی اللہ آپ علیہ السلام اسے کھانا شروع کیجئے اگر آپ علیہ السلام کو کوئی برائی نہ پہنچے تو ہم بھی کھالیں گے۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا ”معاذاللہ وہی پہلے کھائے جس نے مانگی ہے“، اب تو سب کے دلوں میں دہشت بیٹھ گئی کہ کہیں اس کے کھانے سے کسی وبال میں نہ پڑ جائیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے یہ دیکھ کر فقیروں کو مسکینوں کو اور بیماروں کو بلا لیا اور حکم دیا کہ ”تم کھانا شروع کر دو یہ تمہارے رب کی دی ہوئی روزی ہے جو تمہارے نبی علیہ السلام کی دعا سے اتری ہے، اللہ کا شکر کر کے کھاؤ تمہیں مبارک ہو اس کی پکڑ اوروں پر ہوگی تم «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھ کر کھانا شروع کرو اور «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» پر ختم کرو۔‏“

پس تیرہ سو آدمیوں نے بیٹھ کر پیٹ بھر کر کھانا کھایا لیکن وہ کھانا مطلقاً کم نہیں ہوا تھا پھر سب نے دیکھا وہ دستر خوان آسمان پر چڑھ گیا وہ کل فقیر غنی ہوگئے وہ تمام بیمار تندرست ہوگئے اور ہمیشہ تک امیری اور صحت والے رہے، حواری اور صحابی سب کے سب بڑے ہی نادم ہوئے اور مرتے دم تک حسرت و افسوس کرتے رہے۔ آپ فرماتے ہیں اس کے بعد جب یہ دستر خوان اترتا تو بنی اسرائیل ادھر ادھر سے دوڑے بھاگے آتے کیا چھوٹا، کیا بڑا، کیا امیر، فقیر تندرست کیا مریض ایک بھیڑ لگ جاتی ایک دوسرے پر گرتے پڑتے آتے، یہ دیکھ کر باری مقرر ہو گئی ایک دن اترتا ایک دن نہ اترتا، چالیس دن تک یہی کیفیت رہی کہ دن چڑھے اترتا اور ان کے سونے کے وقت چڑھ جاتا جس کا سایہ سب دیکھتے رہتے۔

صفحہ نمبر2510

اس کے بعد فرمان ہوا کہ اب اس میں صرف یتیم فقیر اور بیمار لوگ ہی کھائیں، مالداروں نے اس سے بہت برا مانا اور لگے باتیں بنانے۔ خود بھی شک میں پڑگئے اور لوگوں کے دلوں میں بھی طرح طرح کے وسوسے ڈالنے لگے یہاں تک عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آکر کہنے لگے کہ آپ علیہ السلام سچ سچ بتائیے کہ کیا واقعی یہ آسمان سے ہی اترتا ہے؟ سنئے ہم میں سے بہت سے لوگ اس میں متردد ہیں۔

جناب مسیح علیہ السلام سخت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے ”قسم ہے مسیح کے رب کی اب تمہاری ہلاکت کا وقت آگیا، تم نے خود طلب کیا، تمہارے نبی علیہ السلام کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی آسمانی دستر خوان تم پر اترا، تم نے آنکھوں سے اسے اترتے دیکھا، رب کی رحمت و روزی اور برکت تم پر نازل ہوئی، بڑی عبرت و نصیحت کی نشانی تم نے دیکھ لی۔ آہ! اب تک تمہارے دلوں کی کمزوری نہ گئی اور تمہاری زبانیں نہ رکیں، مجھے تو ڈر ہے کہ اگر رب نے تم پر رحم نہ کیا تو عنقریب تم بدترین عذابوں کے شکار ہو جاؤ گے۔‏“

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی عیسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی کہ ” جس طرح میں نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ میں ان لوگوں کو وہ عبرتناک سزائیں دوں گا جو کسی کو نہ دی ہو “۔

دن غروب ہوا اور یہ بے ادب، گستاخ، جھٹلانے والے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے اپنے اپنے بستروں پر جا لیٹے نہایت امن و امان سے ہمیشہ کی طرح اپنے بال بچوں کے ساتھ میٹھی نیند میں تھے کہ پچھلی رات عذاب الٰہی آگیا اور جتنے بھی یہ لوگ تھے سب کے سب سور بنا دیئے گئے جو صبح کے وقت پاخانوں کی پلیدی کھا رہے تھے، یہ اثر بہت غریب ہے، ابن ابی حاتم میں قصہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے منقول ہے لیکن میں نے اسے پورا بیان کر دیا ہے تاکہ سمجھ آ جائے۔ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2511

بہر صورت ان تمام آثار سے صاف ظاہر ہے کہ جناب مسیح علیہ السلام کے زمانے میں بنو اسرائیل کی طلب پر آپ علیہ السلام کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے یہ دستر خوان نازل فرمایا۔ یہی قرآن عظیم کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ بعض کا یہ بھی قول ہے کہ یہ مائدہ اترا ہی نہ تھا یہ صرف بطور مثال کے بیان فرما دیا ہے۔

چنانچہ مجاہد رحمة الله سے منقول ہے کہ ”جب عذاب کی دھمکی سنی تو خاموش ہوگئے اور مطالبہ سے دستبردار ہوگئے۔‏“ حسن رحمة الله کا قول بھی یہی ہے اس قول کی تائید اس سے بھی ہو سکتی ہے کہ نصرانیوں کی کتب میں اس کا ذکر نہیں۔ اتنے بڑے اہم واقع کا ان کی کتابوں میں مطلق نہ پایا جانا حسن اور مجاہد رحمہ اللہ علیہم کے اس قول کو قوی بناتا ہے اور اس کی سند بھی ان دونوں بزرگوں تک صحت کے ساتھ پہنچتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

لیکن جمہور کا مذہب یہی ہے کہ مائدہ نازل ہوا تھا امام ابن جریر رحمة الله کا مختار مذہب بھی یہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ فرمان ربی آیت «اِنِّىْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ فَمَنْ يَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّىْٓ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّآ اُعَذِّبُهٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ» [5-المائدہ:115] ‏ میں وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہوتے ہیں صحیح اور حقیقی علم تو اللہ ہی کو ہے لیکن زیادہ ٹھیک قول یہی ہے جیسے کہ سلف کے آثار و اقوال سے ظاہر ہے۔

تاریخ میں بھی اتنا تو ہے کہ بنی امیہ کے نائب موسیٰ بن نصیر نے مغربی شہروں کی فتح کے موقعہ پر وہیں یہ مائدہ پایا تھا اور اسے امیر المؤمنین ولید بن عبدالملک کی خدمت میں جو بانی جامع دمشق ہیں بھیجا تھا لیکن ابھی قاصد راستے ہی میں تھے کہ خلیفۃ المسلمین کا انتقال ہوگیا۔ آپ کے بعد آپ کے بھائی سلیمان بن عبدالملک خلیفہ ہوئے اور ان کی خدمت میں اسے پیش کیا گیا یہ ہر قسم کے جڑاؤ اور جواہر سے مرصع تھا جسے دیکھ کر بادشاہ اور درباری سب دنگ رہ گئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مائدہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام کا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2512

مسند احمد میں ہے کہ قریشیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑ کو ہمارے لیے سونے کا بنا دے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالکل سچا وعدہ ہے ، انہوں نے کہا نہایت پختہ اور بالکل سچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا ”اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو میں کوہ صفا کو سونے کا بنا دیتا ہوں لیکن اگر پھر ان لوگوں نے کفر کیا تو میں انہیں وہ عذاب دوں گا جو کسی کو نہ دیا ہو اس پر بھی اگر آپ کا ارادہ ہو تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دوں “۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ معاف فرما، توبہ اور رحمت کا دروازہ ہی کھول دے ، یہ حدیث ابن مردویہ اور مستدرک حاکم میں بھی ہے۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:3388:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2513

باب

اب عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ عید ہونے سے مراد تو عید کا دن یا نماز گزار نے کا دن ہونا ہے یا اپنے بعد والوں کے لیے یادگار کا دن ہونا ہے یا اپنی اور اپنے بعد کی نسلوں کیلئے نصیحت و عبرت ہونا ہے یا اگلوں پچھلوں کے لیے کافی وافی ہونا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں ”یا اللہ یہ تیری قدرت کی ایک نشانی ہوگی اور میری سچائی کی بھی کہ تونے میری دعا قبول فرما لی، پس لوگوں تک ان باتوں کو جو تیرے نام سے ہیں انہیں پہنچاؤں گا یقین کر لیا کریں گے، یا اللہ تو ہمیں یہ روزی بغیر مشقت و تکلیف کے محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرما تو تو بہترین رازق ہے۔‏“

اللہ تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کا وعدہ فرما لیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ ” اس کے اترنے کے بعد تم میں سے جو کوئی بھی جھٹلائے گا اور کفر کرے گا تو میں اسے وہ عذاب دوں گا جو تمہارے زمانے میں کسی اور کو نہ دیا ہو “۔

جیسے آل فرعون کو قیامت کے دن کہا جائے «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ» ‏ [40-غافر:46] ‏ کہ ” تم سخت تر عذاب میں داخل ہو جاؤ “، اور «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا» [4-النساء:145] ‏ ” جیسے منافقوں کے لیے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے اور تم ان کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے “۔

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن بدترین عذاب تین قسم کے لوگوں کو ہو گا، منافقوں کو اور مائدہ آسمانی کے بعد انکار کرنے والوں کو اور فرعونیوں کو۔

صفحہ نمبر2506

اب ان روایات کو سنیئے جو اس بارے میں سلف سے مروی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ ”تم اللہ کے لیے ایک مہینے کے روزے رکھو پھر رب سے دعا کرو وہ قبول فرمائے گا۔‏“ انہوں نے تیس روزے پورے کرکے کہا اے بھلائیوں کے بتانے والے ہم اگر کسی کا کام ایک ماہ کامل کرتے تو وہ بعد فراغت ضرور ہماری دعوت کرتا تو آپ علیہ السلام بھی اللہ سے بھرے ہوئے خوان کے آسمان سے اترنے کی دعا کیجئے۔ عیسیٰ علیہ السلام نے پہلے تو انہیں سمجھایا لیکن ان کی نیک نیتی کے اظہار پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ساتھ ہی دھمکا بھی دیا پھر فرشتوں کے ہاتھوں آسمان سے خوان نعمت اتارا، جس پر سات مچھلیاں تھیں سات روٹیاں تھیں، جہاں یہ تھے وہیں وہ ان کے کھانے کو رکھ گئے سب بیٹھ گئے اور شکم سیر ہو کر اٹھے۔

ابن ابی حاتم کی ایک مر فوع حدیث میں ہے کہ اس مائدہ آسمانی میں گوشت روٹی اترا تھا حکم تھا کہ خیانت نہ کریں کل کے لیے نہ لے جائیں لیکن انہوں نے حکم کی خلاف ورزی کی، لے بھی گئے اور چرا بھی لیا، جس کی سزا میں وہ سور بندر بن گئے ۔ [سنن ترمذي:3061،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2507

سیدنا عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس میں جنت کے میوے تھے، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر وہ لوگ خیانت اور ذخیرہ نہ کرتے تو وہ خوان یوں ہی رہتا لیکن شام ہونے سے پہلے ہی انہوں نے چوریاں شروع کردیں، پھر سخت عذاب کئے گئے، اے عرب بھائیو! یاد کرو تم اونٹوں اور بکریوں کی دمیں مروڑتے تھے، اللہ نے تم پر احسان کیا خود تم ہی میں سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا جن سے تم واقف تھے جن کے حسب و نسب سے تم آگاہ تھے، اس رسول علیہ سلام نے تمہیں بتا دیا کہ ” عجمیوں کے ملک تمہارے ہاتھوں فتح ہوں گے لیکن خبردار تم سونے چاندی کے خزانوں کے درپے نہ ہو جانا “ لیکن واللہ دن رات وہی ہیں اور تم وہ نہ رہے، تم نے خزانے جمع کرنے شروع کر دیئے، مجھے تو خوف ہے کہ کہیں تم پر بھی اللہ کا عذاب برس نہ پڑے۔

اسحٰق بن عبداللہ فرماتے ہیں جن لوگوں نے مائدہ آسمانی میں سے چرایا ان کا خیال ہے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ختم ہو جائے اور کل کے لیے ہمارے پاس کچھ نہ رہے۔ مجاہد رحمة الله سے مروی ہے کہ جب وہ اتر تے ان پر مائدہ اترتا عطیہ رحمة الله فرماتے ہیں گو وہ تھی تو مچھلی لیکن اس میں ذائقہ ہر چیز کا تھا۔ وہب بن منبہ رحمة الله فرماتے ہیں ہر دن اس مائدہ پر آسمان سے میوے اترتے تھے قسم قسم کی روزیاں کھاتے تھے، چار ہزار آدمی ایک وقت اس پر بیٹھ جاتے پھر اللہ کی طرف سے غذا تبدیل ہو جاتی یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس پر روٹیاں جو کی تھیں۔

صفحہ نمبر2508

سعید بن جیبررحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر سوائے گوشت کے تمام چیزیں تھیں۔ عکرمہ رحمة الله فرماتے ہیں اس پر چاول کی روٹی تھی، وہب رحمة الله فرماتے ہیں کہ ان کے اس سوال پر عیسیٰ علیہ السلام بہت رنجیدہ ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ ”زمین کے رزق پر قناعت کرو اور آسمانی دستر خوان نہ مانگو اگر وہ اترا تو چونکہ زبردست نشان ہوگا اگر ناقدری کی تو بری طرح پکڑے جاؤ گے۔ ثمودیوں کی ہلاکت کا باعث بھی یہی ہوا کہ انہوں نے اپنے نبی علیہ السلام سے نشان طلب کیا تھا۔‏“

لیکن حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی ایک نہ مانی اور اصرار کیا کہ نہیں آپ علیہ السلام ضرور دعا کیجئے اب جناب عیسیٰ علیہ السلام اٹھے، صوف کا جبہ اتار دیا، سیاہ بالوں کا لبادہ پہن لیا اور چادر بھی بالوں کی اوڑھ لی، وضو کرکے غسل کرکے، مسجد میں جا کر نماز پڑھ کر قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑے ہوگئے، دونوں پیر ملائے، ایک پنڈلی دوسری پنڈالی سے لگا لی، انگلیاں بھی ملالیں، اپنے سینے پر اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا، نگاہیں زمین میں گاڑ لیں سر جھکا دیا اور نہایت خشوع و خضوع سے عاجزانہ طور پر گریہ وزاری شروع کر دی، آنسو رخساروں سے بہ کر داڑھی کو تر کر کے زمین پر ٹپکنے لگے یہاں تک کہ زمین بھی تر ہوگئی۔ اب دعا کی جس کا بیان اس آیت میں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور ایک سرخ رنگ کا خوان دو بادلوں کے درمیان آسمان سے اترا، جسے اترتے ہوئے سب نے دیکھا، سب تو خوشیاں منا رہے تھے لیکن روح اللہ علیہ السلام کانپ رہے تھے، رنگ اڑ گیا تھا اور زار و قطار رو رہے تھے کہ اللہ ہی خیر کرے، ذرا بے ادبی ہوئی تو مارے گئے۔ زبان مبارک سے یہ دعا نکل رہی تھی کہ ”یا اللہ اسے تو رحمت کا سبب بنا عذاب کا سب نہ بنا، یا اللہ بہت سی عجیب و غریب چیزیں میں نے تجھ سے طلب کیں اور تو نے عطا فرمائیں، باری تعالیٰ تو ان نعمتوں کے شکر کی ہمیں توفیق عطا فرما، اے پروردگار تو اپنی اس نعمت کو ہمارے لیے سبب غضب نہ بنا، الٰہی تو اسے سلامتی اور عافیت کر، اسے فتنہ اور عذاب نہ کر۔‏“

یہاں تک کہ وہ خوان زمین تک پہنچ گیا اور عیسیٰ حواری اور عیسائیوں کے سامنے رکھ دیا گیا، اس میں سے ایسی پاکیزہ خوشبوئیں آ رہی تھیں کہ کسی دماغ میں ایسی خوشبو اس سے پہلے کبھی نہیں آئی تھی، عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے اصحاب اسے دیکھ کر سجدے میں گر پڑے یہودی بھی یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور جل بھن رہے تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھی اس دستر خوان کے اردگرد بیٹھ گئے دیکھا کہ اس پر ایک رومال ڈھکا ہوا ہے، مسیح علیہ السلام نے فرمایا ”کون نیک بخت جرات و ہمت کر کے اسے کھولتا ہے؟“ حواریوں نے کہا اے کلمتہ اللہ آپ علیہ السلام سے زیادہ حقدار اس کا کون ہے؟ یہ سن کر عیسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوئے، نئے سرے سے وضو کیا، مسجد میں جا کر کئی رکعت نماز ادا کی دیر تک روتے رہے پھر دعا کی کہ ”یا اللہ اس کے کھولنے کی اجازت مرحمت ہو اور اسے برکت و رزق بنا دیا جائے۔‏“

صفحہ نمبر2509

پھر واپس آئے اور «بِسْمِ اللَّهِ خَيْرُ الرَّازِقِينَ» کہہ کر رومال اٹھایا، تو سب نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی لمبی چوڑی اور موٹی بھنی ہوئی مچھلی ہے، جس کے اوپر چھلکا نہیں اور جس میں کانٹے نہیں، گھی اس میں سے بہہ رہا ہے اسی میں ہر قسم کی سبزیاں بھی ہیں، سوائے گندنا اور مولی کے اس کے سر کے پاس سرکہ رکھا ہوا ہے اور دم کے پاس نمک ہے، سبزیوں کے پاس پانچ روٹیاں ہیں، ایک پر زیتون کا تیل ہے دوسری پر کھجوریں ہیں اور ایک پر پانچ انار ہیں۔

شمعون نے جو حواریوں کے سردار تھے کہا کہ اے روح اللہ علیہ السلام یہ دنیا کا کھانا ہے یا جنت کا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”ابھی تک تمہارے سوال ختم نہیں ہوئے؟ ابھی تک کریدنا باقی ہی ہے؟ واللہ مجھے تو ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں اس پر تمہیں کوئی عذاب نہ ہو۔‏“ شمعون نے کہا اسرائیل کے معبود برحق کی قسم میں کسی سرکشی کی بنا پر نہیں پوچھ رہا، اے سچی ماں کے اچھے بیٹے! یقین مانئے کہ میری نیت بد نہیں۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا ”نہ یہ طعام دنیا ہے نہ طعام جنت بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص حکم سے اسے آسمان و زمین کے درمیان اسی طرح کا پیدا کر دیا ہے اور تمہارے پاس بھیج دیا ہے، اب اللہ کا نام لے کر کھاؤ اور کھا کر اس کا شکر ادا کرو شکر گزاروں کو وہ زیادہ دیتا ہے اور وہ ابتداء پیدا کرنے والا قادر اور قدر دان ہے۔‏“ شمعون نے کہا اے نبی اللہ علیہ السلام ہم چاہتے ہیں کہ اس نشان قدرت میں ہی اور نشان قدرت دیکھیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ” «سُبْحَانَ اللَّهِ» گویا ابھی تم نے کوئی نشان قدرت دیکھا ہی نہیں؟ اچھا لو دیکھو“، یہ کہہ کر آپ علیہ السلام نے اس مچھلی سے فرمایا ”اے مچھلی اللہ کے حکم سے جیسی تو زندہ تھی، زندہ ہو جا“، اسی وقت اللہ کی قدرت سے وہ زندہ ہو گئی اور ہل جل کر چلنے پھرنے لگی، آنکھیں چمکنے لگیں، دیدے کھل گئے اور شیر کی طرح منہ پھاڑ نے لگی اور اس کے جسم پر کھپرے بھی آ گئے، یہ دیکھتے ہی تمام حاضرین ڈر گئے اور ادھر ادھر ہٹنے اور دبکنے لگے۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا ”دیکھو تو خود ہی نشان طلب کرتے ہو خود ہی اسے دیکھ کر گھبراتے ہو واللہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ یہ مائدہ آسمانی تمہارے لیے غضب اللہ کا نمونہ نہ بن جائے، اے مچھلی تو بحکم الٰہی جیسی تھی، ویسی ہی ہو جا۔‏“ چنانچہ اسی وقت وہ ویسی ہی ہو گئی، اب سب نے کہا کہ اے نبی اللہ آپ علیہ السلام اسے کھانا شروع کیجئے اگر آپ علیہ السلام کو کوئی برائی نہ پہنچے تو ہم بھی کھالیں گے۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا ”معاذاللہ وہی پہلے کھائے جس نے مانگی ہے“، اب تو سب کے دلوں میں دہشت بیٹھ گئی کہ کہیں اس کے کھانے سے کسی وبال میں نہ پڑ جائیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے یہ دیکھ کر فقیروں کو مسکینوں کو اور بیماروں کو بلا لیا اور حکم دیا کہ ”تم کھانا شروع کر دو یہ تمہارے رب کی دی ہوئی روزی ہے جو تمہارے نبی علیہ السلام کی دعا سے اتری ہے، اللہ کا شکر کر کے کھاؤ تمہیں مبارک ہو اس کی پکڑ اوروں پر ہوگی تم «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھ کر کھانا شروع کرو اور «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» پر ختم کرو۔‏“

پس تیرہ سو آدمیوں نے بیٹھ کر پیٹ بھر کر کھانا کھایا لیکن وہ کھانا مطلقاً کم نہیں ہوا تھا پھر سب نے دیکھا وہ دستر خوان آسمان پر چڑھ گیا وہ کل فقیر غنی ہوگئے وہ تمام بیمار تندرست ہوگئے اور ہمیشہ تک امیری اور صحت والے رہے، حواری اور صحابی سب کے سب بڑے ہی نادم ہوئے اور مرتے دم تک حسرت و افسوس کرتے رہے۔ آپ فرماتے ہیں اس کے بعد جب یہ دستر خوان اترتا تو بنی اسرائیل ادھر ادھر سے دوڑے بھاگے آتے کیا چھوٹا، کیا بڑا، کیا امیر، فقیر تندرست کیا مریض ایک بھیڑ لگ جاتی ایک دوسرے پر گرتے پڑتے آتے، یہ دیکھ کر باری مقرر ہو گئی ایک دن اترتا ایک دن نہ اترتا، چالیس دن تک یہی کیفیت رہی کہ دن چڑھے اترتا اور ان کے سونے کے وقت چڑھ جاتا جس کا سایہ سب دیکھتے رہتے۔

صفحہ نمبر2510

اس کے بعد فرمان ہوا کہ اب اس میں صرف یتیم فقیر اور بیمار لوگ ہی کھائیں، مالداروں نے اس سے بہت برا مانا اور لگے باتیں بنانے۔ خود بھی شک میں پڑگئے اور لوگوں کے دلوں میں بھی طرح طرح کے وسوسے ڈالنے لگے یہاں تک عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آکر کہنے لگے کہ آپ علیہ السلام سچ سچ بتائیے کہ کیا واقعی یہ آسمان سے ہی اترتا ہے؟ سنئے ہم میں سے بہت سے لوگ اس میں متردد ہیں۔

جناب مسیح علیہ السلام سخت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے ”قسم ہے مسیح کے رب کی اب تمہاری ہلاکت کا وقت آگیا، تم نے خود طلب کیا، تمہارے نبی علیہ السلام کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی آسمانی دستر خوان تم پر اترا، تم نے آنکھوں سے اسے اترتے دیکھا، رب کی رحمت و روزی اور برکت تم پر نازل ہوئی، بڑی عبرت و نصیحت کی نشانی تم نے دیکھ لی۔ آہ! اب تک تمہارے دلوں کی کمزوری نہ گئی اور تمہاری زبانیں نہ رکیں، مجھے تو ڈر ہے کہ اگر رب نے تم پر رحم نہ کیا تو عنقریب تم بدترین عذابوں کے شکار ہو جاؤ گے۔‏“

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی عیسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی کہ ” جس طرح میں نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ میں ان لوگوں کو وہ عبرتناک سزائیں دوں گا جو کسی کو نہ دی ہو “۔

دن غروب ہوا اور یہ بے ادب، گستاخ، جھٹلانے والے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے اپنے اپنے بستروں پر جا لیٹے نہایت امن و امان سے ہمیشہ کی طرح اپنے بال بچوں کے ساتھ میٹھی نیند میں تھے کہ پچھلی رات عذاب الٰہی آگیا اور جتنے بھی یہ لوگ تھے سب کے سب سور بنا دیئے گئے جو صبح کے وقت پاخانوں کی پلیدی کھا رہے تھے، یہ اثر بہت غریب ہے، ابن ابی حاتم میں قصہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے منقول ہے لیکن میں نے اسے پورا بیان کر دیا ہے تاکہ سمجھ آ جائے۔ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2511

بہر صورت ان تمام آثار سے صاف ظاہر ہے کہ جناب مسیح علیہ السلام کے زمانے میں بنو اسرائیل کی طلب پر آپ علیہ السلام کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے یہ دستر خوان نازل فرمایا۔ یہی قرآن عظیم کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ بعض کا یہ بھی قول ہے کہ یہ مائدہ اترا ہی نہ تھا یہ صرف بطور مثال کے بیان فرما دیا ہے۔

چنانچہ مجاہد رحمة الله سے منقول ہے کہ ”جب عذاب کی دھمکی سنی تو خاموش ہوگئے اور مطالبہ سے دستبردار ہوگئے۔‏“ حسن رحمة الله کا قول بھی یہی ہے اس قول کی تائید اس سے بھی ہو سکتی ہے کہ نصرانیوں کی کتب میں اس کا ذکر نہیں۔ اتنے بڑے اہم واقع کا ان کی کتابوں میں مطلق نہ پایا جانا حسن اور مجاہد رحمہ اللہ علیہم کے اس قول کو قوی بناتا ہے اور اس کی سند بھی ان دونوں بزرگوں تک صحت کے ساتھ پہنچتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

لیکن جمہور کا مذہب یہی ہے کہ مائدہ نازل ہوا تھا امام ابن جریر رحمة الله کا مختار مذہب بھی یہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ فرمان ربی آیت «اِنِّىْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ فَمَنْ يَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّىْٓ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّآ اُعَذِّبُهٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ» [5-المائدہ:115] ‏ میں وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہوتے ہیں صحیح اور حقیقی علم تو اللہ ہی کو ہے لیکن زیادہ ٹھیک قول یہی ہے جیسے کہ سلف کے آثار و اقوال سے ظاہر ہے۔

تاریخ میں بھی اتنا تو ہے کہ بنی امیہ کے نائب موسیٰ بن نصیر نے مغربی شہروں کی فتح کے موقعہ پر وہیں یہ مائدہ پایا تھا اور اسے امیر المؤمنین ولید بن عبدالملک کی خدمت میں جو بانی جامع دمشق ہیں بھیجا تھا لیکن ابھی قاصد راستے ہی میں تھے کہ خلیفۃ المسلمین کا انتقال ہوگیا۔ آپ کے بعد آپ کے بھائی سلیمان بن عبدالملک خلیفہ ہوئے اور ان کی خدمت میں اسے پیش کیا گیا یہ ہر قسم کے جڑاؤ اور جواہر سے مرصع تھا جسے دیکھ کر بادشاہ اور درباری سب دنگ رہ گئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مائدہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام کا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2512

مسند احمد میں ہے کہ قریشیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑ کو ہمارے لیے سونے کا بنا دے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالکل سچا وعدہ ہے ، انہوں نے کہا نہایت پختہ اور بالکل سچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا ”اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو میں کوہ صفا کو سونے کا بنا دیتا ہوں لیکن اگر پھر ان لوگوں نے کفر کیا تو میں انہیں وہ عذاب دوں گا جو کسی کو نہ دیا ہو اس پر بھی اگر آپ کا ارادہ ہو تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دوں “۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ معاف فرما، توبہ اور رحمت کا دروازہ ہی کھول دے ، یہ حدیث ابن مردویہ اور مستدرک حاکم میں بھی ہے۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:3388:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2513

روز قیامت نصاریٰ کی شرمندگی ٭٭

جن لوگوں نے مسیح پرستی یا مریم پرستی کی تھی، ان کی موجودگی میں قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام سے سوال کرے گا کہ ” کیا تم ان لوگوں سے اپنی اور اپنی والدہ کی پوجا پاٹ کرنے کو کہہ آئے تھے؟ “ اس سوال سے مردود نصرانیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور ان پر غصے ہونا ہے تاکہ وہ تمام لوگوں کے سامنے شرمندہ اور ذلیل و خوار ہوں۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کا یہی قول ہے اور اس پر وہ آیت «هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ» [5-المائدہ:119] ‏ سے استدلال کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر2515

سدی رحمة الله فرماتے ہیں یہ خطاب اور جواب دینا ہی کافی ہے، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ اس قول کو ٹھیک بتا کر فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کو آسمان دنیا پر چڑھا لیا تھا، اس کی دلیل ایک تو یہ ہے کہ کلام لفظ ماضی کے ساتھ ہے، دوسری دلیل آیت «‏إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» ‏ [5-المائدة:118] ‏ ہے لیکن یہ دونوں دلیلیں ٹھیک نہیں۔

پہلی دلیل کا جواب تو یہ ہے کہ بہت سے امور جو قیامت کے دن ہونے والے ہیں ان کا ذکر قرآن کریم میں لفط ماضی کے ساتھ موجود ہے، اس سے مقصود صرف اسی قدر ہے کہ وقوع اور ثبوت بخوبی ثابت ہو جائے۔ دوسری دلیل کا جواب یہ ہے کہ اس سے مقصود جناب مسیح علیہ السلام کا یہ ہے کہ ان سے اپنی برأت ظاہر کر دیں اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیں، اسے شرط کے ساتھ معلق رکھنے سے اس کا وقوع لازم نہیں جیسے کہ اسی جگہ اور آیتوں میں ہے، زیادہ ظاہر وہی تفسیر ہے جو قتادہ رحمة الله وغیرہ سے مروی ہے اور جو اوپر گزر چکی ہے یعنی یہ کہ یہ گفتگو اور یہ سوال جواب قیامت کے دن ہوں گے تاکہ سب کے سامنے نصرانیوں کی ذلت اور ان پر ڈانٹ ڈپٹ ہو۔

صفحہ نمبر2516

چنانچہ ایک مرفوع غریب و عزیز حدیث میں بھی مروی ہے، جسے حافظ ابن عساکر رحمتہ اللہ علیہ ابوعبداللہ مولی عمر بن عبدالعزیز رحمة الله کے حالات میں لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن انبیاء اپنی اپنی امتوں سمیت اللہ کے سامنے بلوائے جائیں گے پھر عیسیٰ علیہ السلام بلوائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنے احسان انہیں جتلائے گا جن کا وہ اقرار کریں گے فرمائے گا کہ «ا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَىٰ وَالِدَتِكَ» [5-المائدہ:110] ‏ ” اے عیسیٰ علیہ السلام جو احسان میں نے تجھ پر اور تیری والدہ پر کئے، انہیں یاد کر “، پھر فرمائے گا ” تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری والدہ کو الہ سمجھنا “۔ آپ علیہ السلام اس کا بالکل انکار کریں گے، پھر نصرانیوں کو بلا کر ان سے دریافت فرمائے گا تو وہ کہیں گے، ہاں انہوں نے ہی ہمیں اس راہ پر ڈالا تھا اور ہمیں یہی حکم دیا تھا۔ اسی لیے عیسیٰ علیہ السلام کے سارے بدن کے بال کھڑے ہو جائیں گے، جنہیں لے کر فرشتے اللہ کے سامنے جھکا دیں گے بہ مقدار ایک ہزار سال کے یہاں تک کہ عیسائیوں پر حجت قائم ہو جائے گی، اب ان کے سامنے صلیب کھڑی کی جائے گی اور انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچا دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1236/4:ضعیف] ‏

جناب عیسیٰ علیہ السلام کے جواب کو دیکھئیے کہ کس قدر با ادب اور کامل ہے؟ دراصل یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے، آپ علیہ السلام کو اسی وقت یہ جواب سکھایا جائے گا جیسے کہ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ آپ علیہ السلام فرمائیں گے کہ باری تعالیٰ نے مجھے ایسی بات کہنے کا حق تھا نہ میں نے کہا، تجھ سے نہ میری کوئی بات پوشیدہ ہے نہ میرا کوئی ارادہ چھپا ہوا ہے، دلی راز تجھ پر ظاہر ہیں، ہاں تیرے بھید کسی نے نہیں پائے تمام ڈھکی چھپی باتیں تجھ پر کھلی ہوئی ہیں غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے ۔

جس تبلیغ پر میں مامور اور مقرر تھا میں نے تو وہی تبلیغ کی تھی جو کچھ مجھ سے اے جناب باری تو نے ارشاد فرمایا تھا وہی بلا کم و کاست میں نے ان سے کہہ دیا تھا۔ جس کا ما حصل یہ ہے کہ صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرو، وہی میرا رب ہے اور وہی تم سب کا پالنہار ہے، جب میں ان میں موجود تھا ان کے اعمال دیکھتا بھالتا تھا لیکن جب تو نے مجھے بلا لیا پھر تو، تو ہی دیکھتا بھالتا رہا اور تو تو ہر چیز پر شاہد ہے

صفحہ نمبر2517

باب

ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک واعظ میں فرمایا: اے لوگو! تم سب اللہ عز و جل کے سامنے ننگے پیر، ننگے بدن، بے ختنہ جمع ہونے والے ہو، جیسے کہ ہم نے شروع پیدائش کی تھی ویسے ہی دوبارہ لوٹائیں گے، سب سے پہلے خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے سنو کچھ لوگ میری امت کے ایسے لائے جائیں گے جنہیں بائیں جانب گھسیٹ لیا جائے گا تو میں کہوں گا یہ تو میرے ہیں، کہا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انہوں نے کیا کیا گل کھلائے تھے، تو میں وہی کہوں گا جو اللہ کے صالح بندے کا قول ہے کہ جب تک میں ان میں رہا، ان کے اعمال پر شاہد تھا ۔ پس فرمایا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ تو دین سے مرتد ہی ہوتے رہے ۔ [صحیح بخاری:4625] ‏

صفحہ نمبر2518

اس کے بعد کی آیت کا مضمون اللہ تعالیٰ کی چاہت اور اس کی مرضی کی طرف کاموں کو لوٹانا ہے، وہ جو کچھ چاہے کرتا ہے اس سے کوئی کسی قسم کا سوال نہیں کرسکتا اور وہ ہر ایک سے بازپرس کرتا ہے، ساتھ ہی اس مقولے میں جناب مسیح کی بیزاری ہے، ان نصرانیوں سے جو اللہ پر اور اس کے رسول علیہ السلام پر بہتان باندھتے تھے اور اللہ کا شریک ٹھہراے تھے اور اس کی اولاد اور بیوی بتاتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کی ان تہمتوں سے پاک ہے اور وہ بلند و برتر ہے۔

اس عظیم الشان آیت کی عظمت کا اظہار اس حدیث سے ہوتا ہے، جس میں ہے کہ پوری ایک رات اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی ایک آیت کی تلاوت فرماتے رہے ۔ [سنن ابن ماجہ:1350،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز پڑھی اور صبح تک ایک ہی آیت کی تلاوت فرماتے رہے، اسی کو رکوع میں اور اسی کو سجدے میں پڑھتے رہے، وہ آیت یہی ہے۔ صبح کو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ آج کی رات تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ایک آیت میں گزاری رکوع میں بھی اس کی تلاوت رہی اور سجدے میں بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کی شفاعت کیلئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرما لیا، پس میری یہ شفاعت ہر موحد شخص کیلئے ہو گی ۔ [مسند احمد:149/5:حسن] ‏ ان شاءاللہ تعالیٰ۔

مسند احمد کی اور حدیث میں ہے سیدہ جرہ بنت دجاجہ رضی اللہ عنہا عمرے کے ارادے سے جاتی ہیں جب ربذہ میں پہنچتی ہیں تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھائی، فرضوں کے بعد دیکھا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نماز میں مشغول ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے کی طرف تشریف لے گئے، جب جگہ خالی ہوگئی اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور نماز میں کھڑے ہو گئے میں بھی آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف کھڑا ہونے کا مجھے اشارہ کیا، میں دائیں جانب آ گیا، پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ آئے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بائیں طرف کھڑے ہونے کا اشارہ کیا چنانچہ وہ آکر بائیں جانب کھڑے ہوگئے۔ اب ہم تینوں نے اپنی اپنی نماز شروع کی الگ الگ تلاوت قرآن اپنی نماز میں کررہے تھے اور حضور علیہ السلام کی زبان مبارک پر ایک ہی آیت تھی، باربار اسی کو پڑھ رہے تھے، جب صبح ہوئی تو میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ذرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت تو کرو کہ رات کو ایک ہی آیت کے پڑھنے کی کیا وجہ تھی؟ انہوں نے کہا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود کچھ فرمائیں تو اور بات ہے ورنہ میں تو کچھ بھی نہ پوچھوں گا۔ اب میں نے خود ہی جرأت کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ فدا ہوں، سارا قرآن تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے میں ہے ۔

صفحہ نمبر2519

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی آیت میں ساری رات کیسے گزار دی؟ اگر کوئی اور ایسا کرتا تو ہمیں تو بہت برا معلوم ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی امت کے لیے دعا کر رہا تھا ۔ میں نے پوچھا پھر کیا جواب ملا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتنا اچھا، ایسا پیارا، اس قدر آسانی والا کہ اگر عام لوگ سن لیں تو ڈر ہے کہ کہیں نماز بھی نہ چھوڑ بیٹھیں ، میں نے کہا مجھے اجازت ہے کہ میں لوگوں میں یہ خوشخبری پہنچا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی، میں ابھی کچھ ہی دور گیا ہوں گا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام طور پر کرا دی تو ڈر ہے کہ کہیں لوگ عبادت سے بے پرواہ نہ ہو جائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی کہ لوٹ آئے اور وہ آیت «إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [5-المائدہ:118] ‏ تھی ۔ [مسند احمد:170/5:حسن] ‏

صفحہ نمبر2520

ابن ابی حاتم میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کے اس قول کی تلاوت کی پھر ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے میرے رب میری امت! اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے ۔ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ جا کر پوچھو کہ کیوں رو رہے ہیں؟ حالانکہ اللہ کو سب کچھ معلوم ہے، جبرائیل علیہ السلام آئے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی امت کے لیے! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جاؤ کہہ دو کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بارے میں خوش کردیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل رنجیدہ نہ ہوں گے “۔ [صحیح مسلم:202] ‏ مسند احمد میں ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک روز رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ہی نہیں یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے ہی نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آتے ہی سجدے میں گر پڑے اتنی دیر لگ گئی کہ ہمیں خوف ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پرواز نہ کر گئی ہو؟ تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمانے لگے مجھ سے میرے رب عزوجل نے میری امت کے بارے میں دریافت فرمایا کہ میں ان کے ساتھ کیا کروں؟ میں نے عرض کیا کہ باری تعالیٰ وہ تیری مخلوق ہے وہ سب تیرے بندے اور تیرے غلام ہیں تجھے اختیار ہے، پھر مجھ سے دوبارہ میرے اللہ نے دریافت فرمایا میں نے پھر بھی یہی جواب دیا تو مجھ سے اللہ عزوجل نے فرمایا ” اے نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) میں آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بارے میں کبھی شرمندہ نہ کروں گا “۔ سنو مجھے میرے رب نے خوشخبری دی ہے کہ سب سے پہلے میری امت میں سے میرے ساتھ ستر ہزار شخص جنت میں جائیں گے، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، ان سب پر حساب کتاب مطلقاً نہیں، پھر میری طرف پیغام بھیجا کہ ” میرے حبیب مجھ سے دعا کرو میں قبول فرماؤں گا مجھ سے مانگو میں دوں گا “۔ میں نے اس قاصد سے کہا کہ جو میں مانگوں مجھے ملے گا؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں اسی لیے تو مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔

صفحہ نمبر2521

چنانچہ میرے رب نے بہت کچھ عطا فرمایا، میں یہ سب کچھ فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، مجھے میرے رب نے بالکل بخش دیا، اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیئے حالانکہ زندہ سلامت چل پھر رہا ہوں، مجھے میرے رب نے یہ بھی عطا فرمایا کہ میری تمام امت قحط سالی کی وجہ سے بھوک کے مارے ہلاک نہ ہو گی اور نہ سب کے سب مغلوب ہو جائیں گے، مجھے میرے رب نے حوص کوثر دیا ہے، وہ جنت کی ایک نہر ہے جو میرے حوض میں بہ رہی ہے، مجھے اس نے عزت، مدد اور رعب دیا ہے جو امتیوں کے آگے آگے مہینہ بھر کی راہ پر چلتا ہے، تمام نبیوں میں سب سے پہلے میں جنت ہی میں جاؤں گا، میرے اور میری امت کے لیے غنیمت کا مال حلال طیب کر دیا گیا وہ سختیاں جو پہلوں پر تھیں ہم پر سے ہٹا دی گئیں اور ہمارے دین میں کسی طرح کی کوئی تنگی نہیں رکھی گئی ۔ [مسند احمد:393/5:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2522

باب

ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک واعظ میں فرمایا: اے لوگو! تم سب اللہ عز و جل کے سامنے ننگے پیر، ننگے بدن، بے ختنہ جمع ہونے والے ہو، جیسے کہ ہم نے شروع پیدائش کی تھی ویسے ہی دوبارہ لوٹائیں گے، سب سے پہلے خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے سنو کچھ لوگ میری امت کے ایسے لائے جائیں گے جنہیں بائیں جانب گھسیٹ لیا جائے گا تو میں کہوں گا یہ تو میرے ہیں، کہا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انہوں نے کیا کیا گل کھلائے تھے، تو میں وہی کہوں گا جو اللہ کے صالح بندے کا قول ہے کہ جب تک میں ان میں رہا، ان کے اعمال پر شاہد تھا ۔ پس فرمایا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ تو دین سے مرتد ہی ہوتے رہے ۔ [صحیح بخاری:4625] ‏

صفحہ نمبر2518

اس کے بعد کی آیت کا مضمون اللہ تعالیٰ کی چاہت اور اس کی مرضی کی طرف کاموں کو لوٹانا ہے، وہ جو کچھ چاہے کرتا ہے اس سے کوئی کسی قسم کا سوال نہیں کرسکتا اور وہ ہر ایک سے بازپرس کرتا ہے، ساتھ ہی اس مقولے میں جناب مسیح کی بیزاری ہے، ان نصرانیوں سے جو اللہ پر اور اس کے رسول علیہ السلام پر بہتان باندھتے تھے اور اللہ کا شریک ٹھہراے تھے اور اس کی اولاد اور بیوی بتاتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کی ان تہمتوں سے پاک ہے اور وہ بلند و برتر ہے۔

اس عظیم الشان آیت کی عظمت کا اظہار اس حدیث سے ہوتا ہے، جس میں ہے کہ پوری ایک رات اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی ایک آیت کی تلاوت فرماتے رہے ۔ [سنن ابن ماجہ:1350،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز پڑھی اور صبح تک ایک ہی آیت کی تلاوت فرماتے رہے، اسی کو رکوع میں اور اسی کو سجدے میں پڑھتے رہے، وہ آیت یہی ہے۔ صبح کو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ آج کی رات تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ایک آیت میں گزاری رکوع میں بھی اس کی تلاوت رہی اور سجدے میں بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کی شفاعت کیلئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرما لیا، پس میری یہ شفاعت ہر موحد شخص کیلئے ہو گی ۔ [مسند احمد:149/5:حسن] ‏ ان شاءاللہ تعالیٰ۔

مسند احمد کی اور حدیث میں ہے سیدہ جرہ بنت دجاجہ رضی اللہ عنہا عمرے کے ارادے سے جاتی ہیں جب ربذہ میں پہنچتی ہیں تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھائی، فرضوں کے بعد دیکھا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نماز میں مشغول ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے کی طرف تشریف لے گئے، جب جگہ خالی ہوگئی اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور نماز میں کھڑے ہو گئے میں بھی آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف کھڑا ہونے کا مجھے اشارہ کیا، میں دائیں جانب آ گیا، پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ آئے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بائیں طرف کھڑے ہونے کا اشارہ کیا چنانچہ وہ آکر بائیں جانب کھڑے ہوگئے۔ اب ہم تینوں نے اپنی اپنی نماز شروع کی الگ الگ تلاوت قرآن اپنی نماز میں کررہے تھے اور حضور علیہ السلام کی زبان مبارک پر ایک ہی آیت تھی، باربار اسی کو پڑھ رہے تھے، جب صبح ہوئی تو میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ذرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت تو کرو کہ رات کو ایک ہی آیت کے پڑھنے کی کیا وجہ تھی؟ انہوں نے کہا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود کچھ فرمائیں تو اور بات ہے ورنہ میں تو کچھ بھی نہ پوچھوں گا۔ اب میں نے خود ہی جرأت کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ فدا ہوں، سارا قرآن تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے میں ہے ۔

صفحہ نمبر2519

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی آیت میں ساری رات کیسے گزار دی؟ اگر کوئی اور ایسا کرتا تو ہمیں تو بہت برا معلوم ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی امت کے لیے دعا کر رہا تھا ۔ میں نے پوچھا پھر کیا جواب ملا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتنا اچھا، ایسا پیارا، اس قدر آسانی والا کہ اگر عام لوگ سن لیں تو ڈر ہے کہ کہیں نماز بھی نہ چھوڑ بیٹھیں ، میں نے کہا مجھے اجازت ہے کہ میں لوگوں میں یہ خوشخبری پہنچا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی، میں ابھی کچھ ہی دور گیا ہوں گا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام طور پر کرا دی تو ڈر ہے کہ کہیں لوگ عبادت سے بے پرواہ نہ ہو جائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی کہ لوٹ آئے اور وہ آیت «إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [5-المائدہ:118] ‏ تھی ۔ [مسند احمد:170/5:حسن] ‏

صفحہ نمبر2520

ابن ابی حاتم میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کے اس قول کی تلاوت کی پھر ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے میرے رب میری امت! اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے ۔ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ جا کر پوچھو کہ کیوں رو رہے ہیں؟ حالانکہ اللہ کو سب کچھ معلوم ہے، جبرائیل علیہ السلام آئے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی امت کے لیے! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جاؤ کہہ دو کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بارے میں خوش کردیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل رنجیدہ نہ ہوں گے “۔ [صحیح مسلم:202] ‏ مسند احمد میں ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک روز رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ہی نہیں یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے ہی نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آتے ہی سجدے میں گر پڑے اتنی دیر لگ گئی کہ ہمیں خوف ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پرواز نہ کر گئی ہو؟ تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمانے لگے مجھ سے میرے رب عزوجل نے میری امت کے بارے میں دریافت فرمایا کہ میں ان کے ساتھ کیا کروں؟ میں نے عرض کیا کہ باری تعالیٰ وہ تیری مخلوق ہے وہ سب تیرے بندے اور تیرے غلام ہیں تجھے اختیار ہے، پھر مجھ سے دوبارہ میرے اللہ نے دریافت فرمایا میں نے پھر بھی یہی جواب دیا تو مجھ سے اللہ عزوجل نے فرمایا ” اے نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) میں آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بارے میں کبھی شرمندہ نہ کروں گا “۔ سنو مجھے میرے رب نے خوشخبری دی ہے کہ سب سے پہلے میری امت میں سے میرے ساتھ ستر ہزار شخص جنت میں جائیں گے، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، ان سب پر حساب کتاب مطلقاً نہیں، پھر میری طرف پیغام بھیجا کہ ” میرے حبیب مجھ سے دعا کرو میں قبول فرماؤں گا مجھ سے مانگو میں دوں گا “۔ میں نے اس قاصد سے کہا کہ جو میں مانگوں مجھے ملے گا؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں اسی لیے تو مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔

صفحہ نمبر2521

چنانچہ میرے رب نے بہت کچھ عطا فرمایا، میں یہ سب کچھ فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، مجھے میرے رب نے بالکل بخش دیا، اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیئے حالانکہ زندہ سلامت چل پھر رہا ہوں، مجھے میرے رب نے یہ بھی عطا فرمایا کہ میری تمام امت قحط سالی کی وجہ سے بھوک کے مارے ہلاک نہ ہو گی اور نہ سب کے سب مغلوب ہو جائیں گے، مجھے میرے رب نے حوص کوثر دیا ہے، وہ جنت کی ایک نہر ہے جو میرے حوض میں بہ رہی ہے، مجھے اس نے عزت، مدد اور رعب دیا ہے جو امتیوں کے آگے آگے مہینہ بھر کی راہ پر چلتا ہے، تمام نبیوں میں سب سے پہلے میں جنت ہی میں جاؤں گا، میرے اور میری امت کے لیے غنیمت کا مال حلال طیب کر دیا گیا وہ سختیاں جو پہلوں پر تھیں ہم پر سے ہٹا دی گئیں اور ہمارے دین میں کسی طرح کی کوئی تنگی نہیں رکھی گئی ۔ [مسند احمد:393/5:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2522

موحدین کے لیے خوش خبریاں ٭٭

حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو ان کی بات کا جو جواب قیامت کے دن ملے گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ” آج کے دن موحدوں کو توحید نفع دے گی، وہ ہمیشگی والی جنت میں جائیں گے، وہ اللہ سے خوش ہوں گے اور اللہ ان سے خوش ہو گا، «وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّـهِ أَكْبَرُ» [9-التوبة:72] ‏ فی الواقع رب کی رضا مندی زبردست چیز ہے “۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ ان پر تجلی فرمائے گا اور ان سے کہے گا تم جو چاہو مجھ سے مانگو میں دوں گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی خوشنودی طلب کریں گے، اللہ تعالیٰ سب کے سامنے اپنی رضا مندی کا اظہار کرے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1256/4:ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے ” یہ ایسی بے مثل کامیابی ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» ‏ [37-الصفات:61] ‏ ” اسی کیلئے عمل کرنے والوں کو عمل کی کوشش کرنی چاہیئے “۔

اور آیت میں ہے «وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ» [83-المطففين:26] ‏ ” رغبت کرنے والے اس کی رغبت کر لیں “۔

صفحہ نمبر2524

پھر فرماتا ہے ” سب کا خالق، سب کا مالک، سب پر قادر، سب کا متصرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، ہر چیز اسی کی ملکیت میں اسی کے قبضے میں اسی کی چاہت میں ہے، اس جیسا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا وزیر و مشیر ہے، نہ کوئی نظیر و عدیل ہے نہ اس کی ماں ہے، نہ باپ، نہ اولاد نہ بیوی۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ کوئی اس کے سوا رب ہے “۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ما فرماتے ہیں۔ سب سے آخری سورت یہی سورۃ المائدہ اتری ہے۔ [سنن ترمذي:3063،قال الشيخ الألباني:-ضعیف] ‏

(‏الحمداللہ سورۃ المائدہ کی تفسیر ختم ہوئی)

صفحہ نمبر2525

موحدین کے لیے خوش خبریاں ٭٭

حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو ان کی بات کا جو جواب قیامت کے دن ملے گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ” آج کے دن موحدوں کو توحید نفع دے گی، وہ ہمیشگی والی جنت میں جائیں گے، وہ اللہ سے خوش ہوں گے اور اللہ ان سے خوش ہو گا، «وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّـهِ أَكْبَرُ» [9-التوبة:72] ‏ فی الواقع رب کی رضا مندی زبردست چیز ہے “۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ ان پر تجلی فرمائے گا اور ان سے کہے گا تم جو چاہو مجھ سے مانگو میں دوں گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی خوشنودی طلب کریں گے، اللہ تعالیٰ سب کے سامنے اپنی رضا مندی کا اظہار کرے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1256/4:ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے ” یہ ایسی بے مثل کامیابی ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» ‏ [37-الصفات:61] ‏ ” اسی کیلئے عمل کرنے والوں کو عمل کی کوشش کرنی چاہیئے “۔

اور آیت میں ہے «وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ» [83-المطففين:26] ‏ ” رغبت کرنے والے اس کی رغبت کر لیں “۔

صفحہ نمبر2524

پھر فرماتا ہے ” سب کا خالق، سب کا مالک، سب پر قادر، سب کا متصرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، ہر چیز اسی کی ملکیت میں اسی کے قبضے میں اسی کی چاہت میں ہے، اس جیسا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا وزیر و مشیر ہے، نہ کوئی نظیر و عدیل ہے نہ اس کی ماں ہے، نہ باپ، نہ اولاد نہ بیوی۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ کوئی اس کے سوا رب ہے “۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ما فرماتے ہیں۔ سب سے آخری سورت یہی سورۃ المائدہ اتری ہے۔ [سنن ترمذي:3063،قال الشيخ الألباني:-ضعیف] ‏

(‏الحمداللہ سورۃ المائدہ کی تفسیر ختم ہوئی)

صفحہ نمبر2525

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com