Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-Maaida
Tafsir Ibn Kathir · The Table · 120 ayat · ayat 61–90 · Quran text →
بدترین گروہ اور اس کا انجام ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ ” جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں “۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔
اور آیت میں ہے «وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ» [85-البروج:8] ، یعنی ” فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز و حمید کو مانتے تھے “۔
اور جیسے اور آیت میں «وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ» [9-التوبة:74] ۔ یعنی ” انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مال دے کر غنی کر دیا ہے “۔
صفحہ نمبر2365
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے ابن جمیل اسی کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کر دیا ۔ [صحیح بخاری:1468]
اور یہ کہ تم میں سے اکثر صراط مستقیم سے الگ اور خارج ہو چکے ہیں، تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں سے بدلہ پانے میں کون بدتر ہے؟ اور وہ تم ہو کہ کیونکہ یہ خصلتیں تم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ یعنی جسے اللہ نے لعنت کی ہو، اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہو، اس پر غصبناک ہوا ہو، ایسا جس کے بعد رضامند نہیں ہوگا اور جن میں سے بعض کی صورتیں بگاڑ دی ہوں، بندر اور سور بنا دیئے ہوں۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ میں گزر چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ یہ بندر و سور وہی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس قوم پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہوتا ہے، ان کی نسل ہی نہیں ہوتی، ان سے پہلے بھی سور اور بندر تھے ۔ روایت مختلف الفاظ میں صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2663]
صفحہ نمبر2366
مسند میں ہے کہ جنوں کی ایک قوم سانپ بنا دی گئی تھی۔ جیسے کہ بندر اور سور بنا دیئے گئے ۔ [مسند احمد:348/1:صحیح]
یہ حدیث بہت ہی غریب ہے، انہی میں سے بعض کو غیر اللہ کے پرستار بنا دیئے ۔
ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ طاغوت کی زیر سے بھی ہے۔ یعنی ” انہیں بتوں کا غلام بنا دیا “۔ برید اسلمی رحمہ اللہ اسے «عَابِدُ الطَّاغُوْتِ» پڑھتے تھے۔ ابو جعفر قاری رحمہ اللہ سے «وَعْبِدَ الطَّاغُوْتُ» بھی منقول ہے جو بعید از معنی ہو جاتا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا مطلب یہ ہے کہ ” تم ہی وہ ہو، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی “۔
الغرض اہل کتاب کو الزام دیا جاتا ہے کہ ہم پر تو عیب گیری کرتے ہو، حالانکہ ہم موحد ہیں، صرف ایک اللہ برحق کے ماننے والے ہیں اور تم تو وہ ہو کہ مذکورہ سب برائیاں تم میں پائی گئیں۔ اسی لیے خاتمے پر فرمایا کہ یہی لوگ باعتبار قدر و منزلت کے بہت برے ہیں اور باعتبار گمراہی کے انتہائی غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس افعل التفصیل میں دوسری جانب کچھ مشارکت نہیں اور یہاں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ جیسے اس آیت میں «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» [25-الفرقان:24]
پھر منافقوں کی ایک اور بدخصلت بیان کی جا رہی ہے کہ ” ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں، تیری نصیحتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ بھلا یہ پردہ داری انہیں کیا کام آئے گی، جس سے ان کا معاملہ ہے، وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ وہاں جا کر پورا پورا بدلہ بھگتنا پڑے گا “۔
صفحہ نمبر2367
” تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہو چکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہوگئے ہیں “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”علماء اور فقراء کی ڈانٹ کیلئے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں۔“
ضحاک رحمة الله سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”لوگو تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کر دیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے، جب یہ عادت ان میں پختہ ہو گئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں۔ پس تمہیں چاہیئے کہ بھلائی کا حکم کرو، برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آ جائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے، یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم برائی سے ممانعت نہ تو تمہارے روزی گھٹائے گا، نہ تمہارے موت قریب کر دے گا۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا ۔ [مسند احمد:363/3:حسن]
ابوداؤد میں ہے کہ یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی آئے گا ۔ [سنن ابوداود:4339،قال الشيخ الألباني:حسن] ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔ [سنن ابن ماجہ:4009،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2368
بدترین گروہ اور اس کا انجام ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ ” جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں “۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔
اور آیت میں ہے «وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ» [85-البروج:8] ، یعنی ” فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز و حمید کو مانتے تھے “۔
اور جیسے اور آیت میں «وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ» [9-التوبة:74] ۔ یعنی ” انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مال دے کر غنی کر دیا ہے “۔
صفحہ نمبر2365
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے ابن جمیل اسی کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کر دیا ۔ [صحیح بخاری:1468]
اور یہ کہ تم میں سے اکثر صراط مستقیم سے الگ اور خارج ہو چکے ہیں، تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں سے بدلہ پانے میں کون بدتر ہے؟ اور وہ تم ہو کہ کیونکہ یہ خصلتیں تم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ یعنی جسے اللہ نے لعنت کی ہو، اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہو، اس پر غصبناک ہوا ہو، ایسا جس کے بعد رضامند نہیں ہوگا اور جن میں سے بعض کی صورتیں بگاڑ دی ہوں، بندر اور سور بنا دیئے ہوں۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ میں گزر چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ یہ بندر و سور وہی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس قوم پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہوتا ہے، ان کی نسل ہی نہیں ہوتی، ان سے پہلے بھی سور اور بندر تھے ۔ روایت مختلف الفاظ میں صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2663]
صفحہ نمبر2366
مسند میں ہے کہ جنوں کی ایک قوم سانپ بنا دی گئی تھی۔ جیسے کہ بندر اور سور بنا دیئے گئے ۔ [مسند احمد:348/1:صحیح]
یہ حدیث بہت ہی غریب ہے، انہی میں سے بعض کو غیر اللہ کے پرستار بنا دیئے ۔
ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ طاغوت کی زیر سے بھی ہے۔ یعنی ” انہیں بتوں کا غلام بنا دیا “۔ برید اسلمی رحمہ اللہ اسے «عَابِدُ الطَّاغُوْتِ» پڑھتے تھے۔ ابو جعفر قاری رحمہ اللہ سے «وَعْبِدَ الطَّاغُوْتُ» بھی منقول ہے جو بعید از معنی ہو جاتا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا مطلب یہ ہے کہ ” تم ہی وہ ہو، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی “۔
الغرض اہل کتاب کو الزام دیا جاتا ہے کہ ہم پر تو عیب گیری کرتے ہو، حالانکہ ہم موحد ہیں، صرف ایک اللہ برحق کے ماننے والے ہیں اور تم تو وہ ہو کہ مذکورہ سب برائیاں تم میں پائی گئیں۔ اسی لیے خاتمے پر فرمایا کہ یہی لوگ باعتبار قدر و منزلت کے بہت برے ہیں اور باعتبار گمراہی کے انتہائی غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس افعل التفصیل میں دوسری جانب کچھ مشارکت نہیں اور یہاں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ جیسے اس آیت میں «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» [25-الفرقان:24]
پھر منافقوں کی ایک اور بدخصلت بیان کی جا رہی ہے کہ ” ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں، تیری نصیحتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ بھلا یہ پردہ داری انہیں کیا کام آئے گی، جس سے ان کا معاملہ ہے، وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ وہاں جا کر پورا پورا بدلہ بھگتنا پڑے گا “۔
صفحہ نمبر2367
” تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہو چکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہوگئے ہیں “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”علماء اور فقراء کی ڈانٹ کیلئے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں۔“
ضحاک رحمة الله سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”لوگو تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کر دیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے، جب یہ عادت ان میں پختہ ہو گئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں۔ پس تمہیں چاہیئے کہ بھلائی کا حکم کرو، برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آ جائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے، یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم برائی سے ممانعت نہ تو تمہارے روزی گھٹائے گا، نہ تمہارے موت قریب کر دے گا۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا ۔ [مسند احمد:363/3:حسن]
ابوداؤد میں ہے کہ یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی آئے گا ۔ [سنن ابوداود:4339،قال الشيخ الألباني:حسن] ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔ [سنن ابن ماجہ:4009،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2368
بدترین گروہ اور اس کا انجام ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ ” جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں “۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔
اور آیت میں ہے «وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ» [85-البروج:8] ، یعنی ” فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز و حمید کو مانتے تھے “۔
اور جیسے اور آیت میں «وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ» [9-التوبة:74] ۔ یعنی ” انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مال دے کر غنی کر دیا ہے “۔
صفحہ نمبر2365
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے ابن جمیل اسی کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کر دیا ۔ [صحیح بخاری:1468]
اور یہ کہ تم میں سے اکثر صراط مستقیم سے الگ اور خارج ہو چکے ہیں، تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں سے بدلہ پانے میں کون بدتر ہے؟ اور وہ تم ہو کہ کیونکہ یہ خصلتیں تم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ یعنی جسے اللہ نے لعنت کی ہو، اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہو، اس پر غصبناک ہوا ہو، ایسا جس کے بعد رضامند نہیں ہوگا اور جن میں سے بعض کی صورتیں بگاڑ دی ہوں، بندر اور سور بنا دیئے ہوں۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ میں گزر چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ یہ بندر و سور وہی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس قوم پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہوتا ہے، ان کی نسل ہی نہیں ہوتی، ان سے پہلے بھی سور اور بندر تھے ۔ روایت مختلف الفاظ میں صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2663]
صفحہ نمبر2366
مسند میں ہے کہ جنوں کی ایک قوم سانپ بنا دی گئی تھی۔ جیسے کہ بندر اور سور بنا دیئے گئے ۔ [مسند احمد:348/1:صحیح]
یہ حدیث بہت ہی غریب ہے، انہی میں سے بعض کو غیر اللہ کے پرستار بنا دیئے ۔
ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ طاغوت کی زیر سے بھی ہے۔ یعنی ” انہیں بتوں کا غلام بنا دیا “۔ برید اسلمی رحمہ اللہ اسے «عَابِدُ الطَّاغُوْتِ» پڑھتے تھے۔ ابو جعفر قاری رحمہ اللہ سے «وَعْبِدَ الطَّاغُوْتُ» بھی منقول ہے جو بعید از معنی ہو جاتا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا مطلب یہ ہے کہ ” تم ہی وہ ہو، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی “۔
الغرض اہل کتاب کو الزام دیا جاتا ہے کہ ہم پر تو عیب گیری کرتے ہو، حالانکہ ہم موحد ہیں، صرف ایک اللہ برحق کے ماننے والے ہیں اور تم تو وہ ہو کہ مذکورہ سب برائیاں تم میں پائی گئیں۔ اسی لیے خاتمے پر فرمایا کہ یہی لوگ باعتبار قدر و منزلت کے بہت برے ہیں اور باعتبار گمراہی کے انتہائی غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس افعل التفصیل میں دوسری جانب کچھ مشارکت نہیں اور یہاں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ جیسے اس آیت میں «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» [25-الفرقان:24]
پھر منافقوں کی ایک اور بدخصلت بیان کی جا رہی ہے کہ ” ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں، تیری نصیحتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ بھلا یہ پردہ داری انہیں کیا کام آئے گی، جس سے ان کا معاملہ ہے، وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ وہاں جا کر پورا پورا بدلہ بھگتنا پڑے گا “۔
صفحہ نمبر2367
” تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہو چکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہوگئے ہیں “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”علماء اور فقراء کی ڈانٹ کیلئے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں۔“
ضحاک رحمة الله سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”لوگو تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کر دیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے، جب یہ عادت ان میں پختہ ہو گئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں۔ پس تمہیں چاہیئے کہ بھلائی کا حکم کرو، برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آ جائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے، یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم برائی سے ممانعت نہ تو تمہارے روزی گھٹائے گا، نہ تمہارے موت قریب کر دے گا۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا ۔ [مسند احمد:363/3:حسن]
ابوداؤد میں ہے کہ یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی آئے گا ۔ [سنن ابوداود:4339،قال الشيخ الألباني:حسن] ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔ [سنن ابن ماجہ:4009،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2368
بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو ٭٭
اللہ تعالیٰ ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ ” یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے، یہی لوگ اللہ کو فقیر بھی کہتے ہیں۔ اللہ کی ذات ان کے اس ناپاک مقولے سے بہت بلند و بالا ہے “۔ پس اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، مطلب ان کا یہ نہ تھا کہ ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں بلکہ مراد اس سے بخل تھا۔ یہی محاورہ قرآن میں اور جگہ بھی ہے فرماتا ہے آیت «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» [17-الإسراء:29] ۔ یعنی ” اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ بھی نہ لے اور نہ حد سے زیادہ پھیلا دے کہ پھر تھکان اور ندامت کے ساتھ بیٹھے رہنا پڑے “۔
پس بخل سے اور اسراف سے اللہ نے اس آیت میں روکا۔ پس ملعون یہودیوں کی بھی ہاتھ باندھا ہوا ہونے سے یہی مراد تھی۔ فخاص نامی یہودی نے یہ کہا تھا اور اسی ملعون کا وہ دوسرا قول بھی تھا کہ «إِنَّ اللَّـهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ» [3-آل عمران:181] ” اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں “۔ جس پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اسے پیٹا تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ شماس بن قیس نے یہی کہا تھا جس پر یہ آیت اتری۔ اور ارشاد ہوا کہ ” بخیل اور کنجوس ذلیل اور بزدل یہ لوگ خود ہیں “۔
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَّا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ» [4-النساء:55] ” اگر یہ بادشاہ بن جائیں تو کسی کو کچھ بھی نہ دیں۔ بلکہ یہ تو اوروں کی نعمتیں دیکھ کر جلتے ہیں۔ یہ ذلیل تر لوگ ہیں۔ بلکہ اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں وہ سب کچھ خرچ کرتا رہتا ہے اس کا فضل وسیع ہے، اس کی بخشش عام ہے، ہر چیز کے خزانے اس کے ہاتھوں میں ہیں۔ ہر نعمت اس کی طرف سے ہے۔ ساری مخلوق دن رات ہر وقت ہر جگہ اسی کی محتاج ہے “۔
فرماتا ہے آیت «وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ» [14-إبراهيم:34] ۔ ” تم نے جو مانگا، اللہ نے دیا، اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کر سکتے، یقیناً انسان بڑا ہی ظالم بے حد ناشکرا ہے “۔
مسند میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ اوپر ہے، دن رات کا خرچ اس کے خزانے کو گھٹاتا نہیں، شروع سے لے کر آج تک جو کچھ بھی اس نے اپنی مخلوق کو عطا فرمایا، اس نے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی اس کا عرش پہلے پانی پر تھا، اسی کے ہاتھ میں فیض ہی فیض ہے، وہی بلند اور پست کرتا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو تم میری راہ میں خرچ کرو گے تم تو دیئے جاؤں گے ۔ بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ [صحیح بخاری:7419] ۔
صفحہ نمبر2373
پھر فرمایا ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جس قدر اللہ کی نعمتیں تم پر زیادہ ہوں گی، اتنا ہی ان شیاطین کا کفر حسد اور جلاپا بڑھے گا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مومنوں کا ایمان اور ان کی تسلیم و اطاعت بڑھتی ہے “۔ جیسے اور آیت میں ہے، «قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاءٌ» [41-فصلت:44] ” ایمان والوں کیلئے تو یہ ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمان اس سے اندھے بہرے ہوتے ہیں۔ یہی ہیں جو دروازے سے پکارے جاتے ہیں “۔
اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» [17-الإسراء:82] ” ہم نے وہ قرآن اتارا ہے جو مومنوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کا تو نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے “۔
پھر ارشاد ہوا کہ ” ان کے دلوں میں سے خود آپس کا بغض و بیر بھی قیامت تک نہیں مٹے گا، ایک دوسرے کا آپس میں ہی خون پینے والے لوگ ہیں۔ ناممکن ہے کہ یہ حق پر جم جائیں، یہ اپنے ہی دین میں فرقہ فرقہ ہو رہے ہیں، ان کے جھگڑے اور عداوتیں آپس میں جاری ہیں اور جاری رہیں گی۔ یہ لوگ بسا اوقات لڑائی کے سامان کرتے ہیں، تیرے خلاف چاروں طرف ایک آگ بھڑکانا چاہتے ہیں لیکن ہر مرتبہ منہ کی کھاتے ہیں، ان کا مکر انہی پر لوٹ جاتا ہے، یہ مفسد لوگ ہیں اور اللہ کے دشمن ہیں، کسی مفسد کو اللہ اپنا دوست نہیں بناتا “۔
صفحہ نمبر2374
” اگر یہ با ایمان اور پرہیزگار بن جائیں تو ہم ان سے تمام ڈر دور کر دیں اور اصل مقصد حیات سے انہیں ملا دیں۔ اگر یہ تورات و انجیل اور اس قرآن کو مان لیں “۔ کیونکہ توراۃ و انجیل کا ماننا، قرآن کے ماننے کو لازم کر دے گا، ان کتابوں کی صحیح تعلیم یہی ہے کہ یہ قرآن سچا ہے اس کی اور نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق پہلے کی کتابوں میں موجود ہے تو اگر یہ اپنی ان کتابوں کو بغیر تحریف و تبدیل اور تاویل و تفسیر کے مانیں تو وہ انہیں اسی اسلام کی ہدایت دیں گی، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بتاتے ہیں۔ ” اس صورت میں اللہ انہیں دنیا کے کئی فائدے دے گا، آسمان سے پانی برسائے گا، زمین سے پیداوار اگائے گا، نیچے اوپر کی یعنی زمین و آسمان کی برکتیں انہیں مل جائیں گی “۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» [7-الأعراف:96] یعنی ” اگر بستیوں والے ایمان لاتے ہیں اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتیں نازل فرماتے “۔
اور آیت میں «ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [30-الروم:41] ” لوگوں کی برائیوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا ہے “، اور یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ ” بغیر مشقت و مشکل کے ہم انہیں بکثرت بابرکت روزیاں دیتے ہیں “۔ بعض نے اس جملہ کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ ” یہ لوگ ایسا کرتے تو بھلائیوں سے مستفید ہو جاتے “۔ لیکن یہ قول اقوال سلف کے خلاف ہے۔
ابن ابی حاتم نے اس جگہ ایک اثر وارد کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ علم اٹھا لیا جائے ۔ یہ سن کر زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ علم اٹھ جائے، ہم نے قرآن سیکھا، اپنی اولادوں کو سکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس میں تو تمام مدینے والوں سے زیادہ تم کو سمجھدار جانتا تھا لیکن کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں بھی تورات و انجیل ہے۔ لیکن کس کام کی؟ جبکہ انہوں نے اللہ کے احکام چھوڑ دیئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت «وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ» [5-المائدة:65] تلاوت فرمائی ۔ [طبرانی کبیر:75/18:مرسل]
یہ حدیث مسند میں بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا بیان فرمایا کہ یہ بات علم کے جاتے رہنے کے وقت ہوگی، اس پر ابن لبید رضی اللہ عنہ نے کہا علم کیسے جاتا رہے گا؟ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں، وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے، یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا جو اوپر بیان ہوا ۔ [سنن ابن ماجہ:4048،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2375
پھر فرمایا ” ان میں ایک جماعت میانہ رو بھی ہے مگر اکثر بداعمال ہے “۔ جیسے فرمان آیت «وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» [7-الأعراف:159] ” موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے ایک گروہ حق کی ہدایت کرنے والا اور اسی کے ساتھ عدل انصاف کرنے والا بھی تھا “۔
اور قوم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے، «فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ» [57-الحدید:27] ” ان میں سے با ایمان لوگوں کو ہم نے ان کے ثواب عنایت فرمائے “۔
یہ نکتہ خیال میں رہے کہ ان کا بہترین درجہ بیچ کا درجہ بیان فرمایا اور اس امت کا یہ درجہ دوسرا درجہ ہے، جس پر ایک تیسرا اونچا درجہ بھی ہے۔ جیسے فرمایا۔ آیت «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] ۔ یعنی ” پھر ہم نے کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا، ان میں سے بعض تو اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں، بعض میانہ رو ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں، یہی بہت بڑا فضل ہے “۔ تینوں قسمیں اس امت کی داخل جنت ہونے والی ہیں۔
ابن مردویہ میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کی امت کے اکہتر گروہ ہوگئے، جن میں سے ایک تو جنتی ہے، باقی ستر دوزخی۔ میری یہ امت دونوں سے بڑھ جائے گی۔ ان کا بھی ایک گروہ تو جنت میں جائے گا، باقی بہتر گروہ جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا، وہ کون ہیں؟ فرمایا: جماعتیں جماعتیں ۔ [سنن ابن ماجه:3992، قال الشيخ الألباني:صحیح]
یعقوب بن یزید کہتے ہیں ”جب سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تو قرآن کی آیت۔ «وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ» [5-المائدہ:65] ، اور «وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» [7-الأعراف:181] بھی پڑھتے اور فرماتے ہیں ”اس سے مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔“ [مسند ابویعلیٰ:3668: ضعیف]
لیکن یہ حدیث ان لفظوں اور اس سند سے بے حد غریب ہے اور ستر سے اوپر اوپر فرقوں کی حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے، جسے ہم نے اور جگہ بیان کر دیا ہے «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
صفحہ نمبر2376
بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو ٭٭
اللہ تعالیٰ ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ ” یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے، یہی لوگ اللہ کو فقیر بھی کہتے ہیں۔ اللہ کی ذات ان کے اس ناپاک مقولے سے بہت بلند و بالا ہے “۔ پس اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، مطلب ان کا یہ نہ تھا کہ ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں بلکہ مراد اس سے بخل تھا۔ یہی محاورہ قرآن میں اور جگہ بھی ہے فرماتا ہے آیت «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» [17-الإسراء:29] ۔ یعنی ” اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ بھی نہ لے اور نہ حد سے زیادہ پھیلا دے کہ پھر تھکان اور ندامت کے ساتھ بیٹھے رہنا پڑے “۔
پس بخل سے اور اسراف سے اللہ نے اس آیت میں روکا۔ پس ملعون یہودیوں کی بھی ہاتھ باندھا ہوا ہونے سے یہی مراد تھی۔ فخاص نامی یہودی نے یہ کہا تھا اور اسی ملعون کا وہ دوسرا قول بھی تھا کہ «إِنَّ اللَّـهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ» [3-آل عمران:181] ” اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں “۔ جس پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اسے پیٹا تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ شماس بن قیس نے یہی کہا تھا جس پر یہ آیت اتری۔ اور ارشاد ہوا کہ ” بخیل اور کنجوس ذلیل اور بزدل یہ لوگ خود ہیں “۔
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَّا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ» [4-النساء:55] ” اگر یہ بادشاہ بن جائیں تو کسی کو کچھ بھی نہ دیں۔ بلکہ یہ تو اوروں کی نعمتیں دیکھ کر جلتے ہیں۔ یہ ذلیل تر لوگ ہیں۔ بلکہ اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں وہ سب کچھ خرچ کرتا رہتا ہے اس کا فضل وسیع ہے، اس کی بخشش عام ہے، ہر چیز کے خزانے اس کے ہاتھوں میں ہیں۔ ہر نعمت اس کی طرف سے ہے۔ ساری مخلوق دن رات ہر وقت ہر جگہ اسی کی محتاج ہے “۔
فرماتا ہے آیت «وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ» [14-إبراهيم:34] ۔ ” تم نے جو مانگا، اللہ نے دیا، اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کر سکتے، یقیناً انسان بڑا ہی ظالم بے حد ناشکرا ہے “۔
مسند میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ اوپر ہے، دن رات کا خرچ اس کے خزانے کو گھٹاتا نہیں، شروع سے لے کر آج تک جو کچھ بھی اس نے اپنی مخلوق کو عطا فرمایا، اس نے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی اس کا عرش پہلے پانی پر تھا، اسی کے ہاتھ میں فیض ہی فیض ہے، وہی بلند اور پست کرتا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو تم میری راہ میں خرچ کرو گے تم تو دیئے جاؤں گے ۔ بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ [صحیح بخاری:7419] ۔
صفحہ نمبر2373
پھر فرمایا ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جس قدر اللہ کی نعمتیں تم پر زیادہ ہوں گی، اتنا ہی ان شیاطین کا کفر حسد اور جلاپا بڑھے گا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مومنوں کا ایمان اور ان کی تسلیم و اطاعت بڑھتی ہے “۔ جیسے اور آیت میں ہے، «قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاءٌ» [41-فصلت:44] ” ایمان والوں کیلئے تو یہ ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمان اس سے اندھے بہرے ہوتے ہیں۔ یہی ہیں جو دروازے سے پکارے جاتے ہیں “۔
اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» [17-الإسراء:82] ” ہم نے وہ قرآن اتارا ہے جو مومنوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کا تو نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے “۔
پھر ارشاد ہوا کہ ” ان کے دلوں میں سے خود آپس کا بغض و بیر بھی قیامت تک نہیں مٹے گا، ایک دوسرے کا آپس میں ہی خون پینے والے لوگ ہیں۔ ناممکن ہے کہ یہ حق پر جم جائیں، یہ اپنے ہی دین میں فرقہ فرقہ ہو رہے ہیں، ان کے جھگڑے اور عداوتیں آپس میں جاری ہیں اور جاری رہیں گی۔ یہ لوگ بسا اوقات لڑائی کے سامان کرتے ہیں، تیرے خلاف چاروں طرف ایک آگ بھڑکانا چاہتے ہیں لیکن ہر مرتبہ منہ کی کھاتے ہیں، ان کا مکر انہی پر لوٹ جاتا ہے، یہ مفسد لوگ ہیں اور اللہ کے دشمن ہیں، کسی مفسد کو اللہ اپنا دوست نہیں بناتا “۔
صفحہ نمبر2374
” اگر یہ با ایمان اور پرہیزگار بن جائیں تو ہم ان سے تمام ڈر دور کر دیں اور اصل مقصد حیات سے انہیں ملا دیں۔ اگر یہ تورات و انجیل اور اس قرآن کو مان لیں “۔ کیونکہ توراۃ و انجیل کا ماننا، قرآن کے ماننے کو لازم کر دے گا، ان کتابوں کی صحیح تعلیم یہی ہے کہ یہ قرآن سچا ہے اس کی اور نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق پہلے کی کتابوں میں موجود ہے تو اگر یہ اپنی ان کتابوں کو بغیر تحریف و تبدیل اور تاویل و تفسیر کے مانیں تو وہ انہیں اسی اسلام کی ہدایت دیں گی، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بتاتے ہیں۔ ” اس صورت میں اللہ انہیں دنیا کے کئی فائدے دے گا، آسمان سے پانی برسائے گا، زمین سے پیداوار اگائے گا، نیچے اوپر کی یعنی زمین و آسمان کی برکتیں انہیں مل جائیں گی “۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» [7-الأعراف:96] یعنی ” اگر بستیوں والے ایمان لاتے ہیں اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتیں نازل فرماتے “۔
اور آیت میں «ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [30-الروم:41] ” لوگوں کی برائیوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا ہے “، اور یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ ” بغیر مشقت و مشکل کے ہم انہیں بکثرت بابرکت روزیاں دیتے ہیں “۔ بعض نے اس جملہ کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ ” یہ لوگ ایسا کرتے تو بھلائیوں سے مستفید ہو جاتے “۔ لیکن یہ قول اقوال سلف کے خلاف ہے۔
ابن ابی حاتم نے اس جگہ ایک اثر وارد کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ علم اٹھا لیا جائے ۔ یہ سن کر زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ علم اٹھ جائے، ہم نے قرآن سیکھا، اپنی اولادوں کو سکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس میں تو تمام مدینے والوں سے زیادہ تم کو سمجھدار جانتا تھا لیکن کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں بھی تورات و انجیل ہے۔ لیکن کس کام کی؟ جبکہ انہوں نے اللہ کے احکام چھوڑ دیئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت «وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ» [5-المائدة:65] تلاوت فرمائی ۔ [طبرانی کبیر:75/18:مرسل]
یہ حدیث مسند میں بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا بیان فرمایا کہ یہ بات علم کے جاتے رہنے کے وقت ہوگی، اس پر ابن لبید رضی اللہ عنہ نے کہا علم کیسے جاتا رہے گا؟ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں، وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے، یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا جو اوپر بیان ہوا ۔ [سنن ابن ماجہ:4048،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2375
پھر فرمایا ” ان میں ایک جماعت میانہ رو بھی ہے مگر اکثر بداعمال ہے “۔ جیسے فرمان آیت «وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» [7-الأعراف:159] ” موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے ایک گروہ حق کی ہدایت کرنے والا اور اسی کے ساتھ عدل انصاف کرنے والا بھی تھا “۔
اور قوم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے، «فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ» [57-الحدید:27] ” ان میں سے با ایمان لوگوں کو ہم نے ان کے ثواب عنایت فرمائے “۔
یہ نکتہ خیال میں رہے کہ ان کا بہترین درجہ بیچ کا درجہ بیان فرمایا اور اس امت کا یہ درجہ دوسرا درجہ ہے، جس پر ایک تیسرا اونچا درجہ بھی ہے۔ جیسے فرمایا۔ آیت «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] ۔ یعنی ” پھر ہم نے کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا، ان میں سے بعض تو اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں، بعض میانہ رو ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں، یہی بہت بڑا فضل ہے “۔ تینوں قسمیں اس امت کی داخل جنت ہونے والی ہیں۔
ابن مردویہ میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کی امت کے اکہتر گروہ ہوگئے، جن میں سے ایک تو جنتی ہے، باقی ستر دوزخی۔ میری یہ امت دونوں سے بڑھ جائے گی۔ ان کا بھی ایک گروہ تو جنت میں جائے گا، باقی بہتر گروہ جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا، وہ کون ہیں؟ فرمایا: جماعتیں جماعتیں ۔ [سنن ابن ماجه:3992، قال الشيخ الألباني:صحیح]
یعقوب بن یزید کہتے ہیں ”جب سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تو قرآن کی آیت۔ «وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ» [5-المائدہ:65] ، اور «وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» [7-الأعراف:181] بھی پڑھتے اور فرماتے ہیں ”اس سے مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔“ [مسند ابویعلیٰ:3668: ضعیف]
لیکن یہ حدیث ان لفظوں اور اس سند سے بے حد غریب ہے اور ستر سے اوپر اوپر فرقوں کی حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے، جسے ہم نے اور جگہ بیان کر دیا ہے «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
صفحہ نمبر2376
بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو ٭٭
اللہ تعالیٰ ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ ” یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے، یہی لوگ اللہ کو فقیر بھی کہتے ہیں۔ اللہ کی ذات ان کے اس ناپاک مقولے سے بہت بلند و بالا ہے “۔ پس اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، مطلب ان کا یہ نہ تھا کہ ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں بلکہ مراد اس سے بخل تھا۔ یہی محاورہ قرآن میں اور جگہ بھی ہے فرماتا ہے آیت «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» [17-الإسراء:29] ۔ یعنی ” اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ بھی نہ لے اور نہ حد سے زیادہ پھیلا دے کہ پھر تھکان اور ندامت کے ساتھ بیٹھے رہنا پڑے “۔
پس بخل سے اور اسراف سے اللہ نے اس آیت میں روکا۔ پس ملعون یہودیوں کی بھی ہاتھ باندھا ہوا ہونے سے یہی مراد تھی۔ فخاص نامی یہودی نے یہ کہا تھا اور اسی ملعون کا وہ دوسرا قول بھی تھا کہ «إِنَّ اللَّـهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ» [3-آل عمران:181] ” اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں “۔ جس پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اسے پیٹا تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ شماس بن قیس نے یہی کہا تھا جس پر یہ آیت اتری۔ اور ارشاد ہوا کہ ” بخیل اور کنجوس ذلیل اور بزدل یہ لوگ خود ہیں “۔
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَّا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ» [4-النساء:55] ” اگر یہ بادشاہ بن جائیں تو کسی کو کچھ بھی نہ دیں۔ بلکہ یہ تو اوروں کی نعمتیں دیکھ کر جلتے ہیں۔ یہ ذلیل تر لوگ ہیں۔ بلکہ اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں وہ سب کچھ خرچ کرتا رہتا ہے اس کا فضل وسیع ہے، اس کی بخشش عام ہے، ہر چیز کے خزانے اس کے ہاتھوں میں ہیں۔ ہر نعمت اس کی طرف سے ہے۔ ساری مخلوق دن رات ہر وقت ہر جگہ اسی کی محتاج ہے “۔
فرماتا ہے آیت «وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ» [14-إبراهيم:34] ۔ ” تم نے جو مانگا، اللہ نے دیا، اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کر سکتے، یقیناً انسان بڑا ہی ظالم بے حد ناشکرا ہے “۔
مسند میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ اوپر ہے، دن رات کا خرچ اس کے خزانے کو گھٹاتا نہیں، شروع سے لے کر آج تک جو کچھ بھی اس نے اپنی مخلوق کو عطا فرمایا، اس نے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی اس کا عرش پہلے پانی پر تھا، اسی کے ہاتھ میں فیض ہی فیض ہے، وہی بلند اور پست کرتا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو تم میری راہ میں خرچ کرو گے تم تو دیئے جاؤں گے ۔ بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ [صحیح بخاری:7419] ۔
صفحہ نمبر2373
پھر فرمایا ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! جس قدر اللہ کی نعمتیں تم پر زیادہ ہوں گی، اتنا ہی ان شیاطین کا کفر حسد اور جلاپا بڑھے گا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مومنوں کا ایمان اور ان کی تسلیم و اطاعت بڑھتی ہے “۔ جیسے اور آیت میں ہے، «قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاءٌ» [41-فصلت:44] ” ایمان والوں کیلئے تو یہ ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمان اس سے اندھے بہرے ہوتے ہیں۔ یہی ہیں جو دروازے سے پکارے جاتے ہیں “۔
اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» [17-الإسراء:82] ” ہم نے وہ قرآن اتارا ہے جو مومنوں کیلئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کا تو نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے “۔
پھر ارشاد ہوا کہ ” ان کے دلوں میں سے خود آپس کا بغض و بیر بھی قیامت تک نہیں مٹے گا، ایک دوسرے کا آپس میں ہی خون پینے والے لوگ ہیں۔ ناممکن ہے کہ یہ حق پر جم جائیں، یہ اپنے ہی دین میں فرقہ فرقہ ہو رہے ہیں، ان کے جھگڑے اور عداوتیں آپس میں جاری ہیں اور جاری رہیں گی۔ یہ لوگ بسا اوقات لڑائی کے سامان کرتے ہیں، تیرے خلاف چاروں طرف ایک آگ بھڑکانا چاہتے ہیں لیکن ہر مرتبہ منہ کی کھاتے ہیں، ان کا مکر انہی پر لوٹ جاتا ہے، یہ مفسد لوگ ہیں اور اللہ کے دشمن ہیں، کسی مفسد کو اللہ اپنا دوست نہیں بناتا “۔
صفحہ نمبر2374
” اگر یہ با ایمان اور پرہیزگار بن جائیں تو ہم ان سے تمام ڈر دور کر دیں اور اصل مقصد حیات سے انہیں ملا دیں۔ اگر یہ تورات و انجیل اور اس قرآن کو مان لیں “۔ کیونکہ توراۃ و انجیل کا ماننا، قرآن کے ماننے کو لازم کر دے گا، ان کتابوں کی صحیح تعلیم یہی ہے کہ یہ قرآن سچا ہے اس کی اور نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق پہلے کی کتابوں میں موجود ہے تو اگر یہ اپنی ان کتابوں کو بغیر تحریف و تبدیل اور تاویل و تفسیر کے مانیں تو وہ انہیں اسی اسلام کی ہدایت دیں گی، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بتاتے ہیں۔ ” اس صورت میں اللہ انہیں دنیا کے کئی فائدے دے گا، آسمان سے پانی برسائے گا، زمین سے پیداوار اگائے گا، نیچے اوپر کی یعنی زمین و آسمان کی برکتیں انہیں مل جائیں گی “۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» [7-الأعراف:96] یعنی ” اگر بستیوں والے ایمان لاتے ہیں اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتیں نازل فرماتے “۔
اور آیت میں «ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [30-الروم:41] ” لوگوں کی برائیوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا ہے “، اور یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ ” بغیر مشقت و مشکل کے ہم انہیں بکثرت بابرکت روزیاں دیتے ہیں “۔ بعض نے اس جملہ کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ ” یہ لوگ ایسا کرتے تو بھلائیوں سے مستفید ہو جاتے “۔ لیکن یہ قول اقوال سلف کے خلاف ہے۔
ابن ابی حاتم نے اس جگہ ایک اثر وارد کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ علم اٹھا لیا جائے ۔ یہ سن کر زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ علم اٹھ جائے، ہم نے قرآن سیکھا، اپنی اولادوں کو سکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس میں تو تمام مدینے والوں سے زیادہ تم کو سمجھدار جانتا تھا لیکن کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں بھی تورات و انجیل ہے۔ لیکن کس کام کی؟ جبکہ انہوں نے اللہ کے احکام چھوڑ دیئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت «وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ» [5-المائدة:65] تلاوت فرمائی ۔ [طبرانی کبیر:75/18:مرسل]
یہ حدیث مسند میں بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا بیان فرمایا کہ یہ بات علم کے جاتے رہنے کے وقت ہوگی، اس پر ابن لبید رضی اللہ عنہ نے کہا علم کیسے جاتا رہے گا؟ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں، وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے، یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا جو اوپر بیان ہوا ۔ [سنن ابن ماجہ:4048،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2375
پھر فرمایا ” ان میں ایک جماعت میانہ رو بھی ہے مگر اکثر بداعمال ہے “۔ جیسے فرمان آیت «وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» [7-الأعراف:159] ” موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے ایک گروہ حق کی ہدایت کرنے والا اور اسی کے ساتھ عدل انصاف کرنے والا بھی تھا “۔
اور قوم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے، «فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ» [57-الحدید:27] ” ان میں سے با ایمان لوگوں کو ہم نے ان کے ثواب عنایت فرمائے “۔
یہ نکتہ خیال میں رہے کہ ان کا بہترین درجہ بیچ کا درجہ بیان فرمایا اور اس امت کا یہ درجہ دوسرا درجہ ہے، جس پر ایک تیسرا اونچا درجہ بھی ہے۔ جیسے فرمایا۔ آیت «ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ» [35-فاطر:32] ۔ یعنی ” پھر ہم نے کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا، ان میں سے بعض تو اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں، بعض میانہ رو ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں، یہی بہت بڑا فضل ہے “۔ تینوں قسمیں اس امت کی داخل جنت ہونے والی ہیں۔
ابن مردویہ میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کی امت کے اکہتر گروہ ہوگئے، جن میں سے ایک تو جنتی ہے، باقی ستر دوزخی۔ میری یہ امت دونوں سے بڑھ جائے گی۔ ان کا بھی ایک گروہ تو جنت میں جائے گا، باقی بہتر گروہ جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا، وہ کون ہیں؟ فرمایا: جماعتیں جماعتیں ۔ [سنن ابن ماجه:3992، قال الشيخ الألباني:صحیح]
یعقوب بن یزید کہتے ہیں ”جب سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تو قرآن کی آیت۔ «وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ» [5-المائدہ:65] ، اور «وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» [7-الأعراف:181] بھی پڑھتے اور فرماتے ہیں ”اس سے مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔“ [مسند ابویعلیٰ:3668: ضعیف]
لیکن یہ حدیث ان لفظوں اور اس سند سے بے حد غریب ہے اور ستر سے اوپر اوپر فرقوں کی حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے، جسے ہم نے اور جگہ بیان کر دیا ہے «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
صفحہ نمبر2376
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی کے کسی حکم کو چھپایا نہیں ٭٭
اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول کے پیارے خطاب سے آواز دے کر اللہ تعالیٰ حکم نے دیا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ کے کل احکام لوگوں کو پہنچا دو “۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا۔
صحیح بخاری میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں جو تجھ سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کسی حکم کو چھپا لیا تو جان لو کہ وہ جھوٹا ہے، اللہ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا ہے پھر اس آیت کی تلاوت آپ رضی اللہ عنہا نے کی ۔ یہ حدیث یہاں مختصر ہے اور جگہ پر مطول بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4612]
بخاری و مسلم میں ہے اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے کسی فرمان کو چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپا لیتے۔ آیت «وَتُخْــفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰـىهُ» [33-الأحزاب:37] ۔ یعنی ” تو اپنے دل میں وہ چھپاتا تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور لوگوں سے جھینپ رہا تھا حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تو اس سے ڈرے “ ۔ [صحیح مسلم:177]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کہ لوگوں میں یہ چرچا ہو رہا ہے کہ تمہیں کچھ باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بتائی ہیں جو اور لوگوں سے چھپائی جاتی تھیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» [5-المائدہ:67] پڑھی اور فرمایا ”قسم اللہ کی ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسی مخصوص چیز کا وارث نہیں بنایا۔“ [ابن ابی حاتم]
صفحہ نمبر2379
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا کیا تمہارے پاس قرآن کے علاوہ کچھ اور وحی بھی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے دانے کو اگایا ہے اور جانوروں کو پیدا کیا ہے کہ کچھ نہیں بجز اس فہم و روایت کے جو اللہ کسی شخص کو دے اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے، اس نے پوچھا صحیفے میں کیا ہے؟ فرمایا دیت کے مسائل ہیں، قیدیوں کو چھوڑ دینے کے احکام ہیں اور یہ ہے کہ مسلمان کافر کے بدلے قصاصاً قتل نہ کیا جائے ۔ [صحیح بخاری:3047]
صحیح بخاری شریف میں زہری رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”اللہ کی طرف سے رسالت ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے تبلیغ ہے اور ہمارے ذمہ قبول کرنا اور تابع فرمان ہونا ہے۔“ [صحیح بخاری:753]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی سب باتیں پہنچا دیں، اس کی گواہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام امت ہے کہ فی الواقع آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کی پوری ادائیگی کی اور سب سے بڑی مجلس جو تھی، اس میں سب نے اس کا اقرار کیا یعنی حجتہ الوداع خطبے میں، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چالیس ہزار صحابہ کا گروہ عظیم تھا۔
صفحہ نمبر2380
صحیح مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطبے میں لوگوں سے فرمایا: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَسْؤُولُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟» تم میرے بارے میں اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے؟ سب نے کہا ہماری گواہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کر دی اور حق رسالت ادا کر دیا اور ہماری پوری خیر خواہی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا: «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟» اے اللہ! کیا میں نے تیرے تمام احکامات کو پہنچا دیا، اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ ۔ [صحیح مسلم:1218]
صفحہ نمبر2381
مسند احمد میں یہ بھی ہے کہ آپ نے اس خطبے میں پوچھا کہ لوگو یہ کون سا دن ہے؟ سب نے کہا حرمت والا، پوچھا یہ کون سا شہر ہے ، جواب دیا، حرمت والا۔ فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ جواب ملا، حرمت والا، فرمایا: پس تمہارے مال اور خون و آبرو آپس میں ایک دوسرے پر ایسی ہی حرمت والے ہیں جیسے اس دن کی اس شہر میں اور اس مہینے میں حرمت ہے ۔ پھر باربار اسی کو دوہرایا۔ پھر اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو ہر حاضر شخص غیر حاضر کو یہ بات پہنچا دے۔ دیکھو میرے پیچھے کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو ۔ [صحیح بخاری:1739] امام بخاری رحمة الله نے بھی اسے روایت کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے ” اگر تو نے میرے فرمان میرے بندوں تک نہ پہنچائے تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا، پھر اس کی جو سزا ہے وہ ظاہر ہے، اگر ایک آیت بھی چھپا لی تو حق رسالت ادا نہ ہو “۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:468/10]
حضرت مجاہد رحمة الله فرماتے ہیں ”جب یہ حکم نازل ہوا کہ جو کچھ اترا ہے سب پہنچا دو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ میں اکیلا ہوں اور یہ سب مل کر مجھ پر چڑھ دوڑتے ہیں، میں کس طرح کروں ۔ تو دوسرا جملہ اترا کہ ” اگر تو نے نہ کیا تو تو نے رسالت کا حق ادا نہیں کیا “۔ پھر فرمایا ” تجھے لوگوں سے بچا لینا میرے ذمہ ہے۔ تیرا حافظ و ناصر میں ہوں، بے خطر رہئیے وہ کوئی تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “۔ اس آیت سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چوکنے رہتے تھے، لوگ نگہبانی پر مقرر رہتے تھے۔
چنانچہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیدار تھے انہیں نیند نہیں آ رہی تھی میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آج کیا بات ہے؟ فرمایا کاش کہ میرا کوئی نیک بخت صحابی رضی اللہ عنہ آج پہرہ دیتا ، یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ میرے کانوں میں ہتھیار کی آواز آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے؟ جواب ملا کہ میں سعد بن مالک ہوں، فرمایا: کیسے آئے؟ جواب دیا اس لیے کہ رات بھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چوکیداری کروں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باآرام سوگئے، یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی ۔ [صحیح بخاری:2885]
صفحہ نمبر2382
ایک روایت میں ہے کہ یہ واقعہ سنہ٢ھ کا ہے۔ اس آیت کے نازل ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمے سے سر نکال کر چوکیداروں سے فرمایا: جاؤ اب میں اللہ کی پناہ میں آگیا، تمہاری چوکیداری کی ضرورت نہیں رہی ۔ [سنن ترمذي:3046، قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک روایت میں ہے کہ ابوطالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی آدمی کو رکھتے، جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس چچا! اب میرے ساتھ کسی کے بھیجنے کی ضرورت نہیں، میں اللہ کے بچاؤ میں آ گیا ہوں ۔ [طبرانی کبیر:11663:ضعیف] لیکن یہ روایت غریب اور منکر ہے یہ واقعہ ہو تو مکہ کا ہو اور یہ آیت تو مدنی ہے، مدینہ کی بھی آخری مدت کی آیت ہے۔
اس میں شک نہیں کہ مکے میں بھی اللہ کی حفاظت اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہی باوجود دشمن جاں ہونے کے اور ہر ہر اسباب اور سامان سے لیس ہونے کے سردار ان مکہ اور اہل مکہ آپ کا بال تک بیکا نہ کرسکے، ابتدائے رسالت کے زمانہ میں اپنے چچا ابوطالب کی وجہ سے جو کہ قریشیوں کے سردار اور بارسوخ شخص تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ہوتی رہی، ان کے دل میں اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عزت ڈال دی، یہ محبت اور عزت ڈال دی، یہ محبت طبعی تھی شرعی نہ تھی۔ اگر شرعی ہوتی تو قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی ان کی بھی جان کے خواہاں ہو جاتے۔ ان کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے انصار کے دلوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی محبت پیدا کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہی کے ہاں چلے گئے۔
اب تو مشرکین بھی اور یہود بھی مل ملا کر نکل کھڑے ہوئے، بڑے بڑے سازو سامان لشکر لے کر چڑھ دوڑے، لیکن باربار کی ناکامیوں نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اسی طرح خفیہ سازشیں بھی جتنی کیں، قدرت نے وہ بھی انہی پر الٹ دیں۔ ادھر وہ جادو کرتے ہیں، ادھر سورۃ معوذتین نازل ہوتی ہے اور ان کا جادو اتر جاتا ہے۔
صفحہ نمبر2383
ادھر ہزاروں جتن کرکے بکری کے شانے میں زہر ملا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھتے ہیں، ادھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی دھوکہ دہی سے آگاہ فرما دیتا ہے اور یہ ہاتھ کاٹتے رہ جاتے ہیں اور بھی ایسے واقعات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہت سارے نظر آتے ہیں۔
ابن جریر میں ہے کہ ایک سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت تلے، جو صحابہ رضی اللہ عنہم اپنی عادت کے مطابق ہر منزل میں تلاش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے چھوڑ دیتے تھے، دوپہر کے وقت قیولہ کر رہے تھے تو ایک اعرابی اچانک آنکلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار جو اسی درخت میں لٹک رہی تھی، اتار لی اور میان سے باہر نکال لی اور ڈانٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا، اب بتا کون ہے جو تجھے بچا لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ مجھے بچائے گا ، اسی وقت اس اعرابی کا ہاتھ کانپنے لگتا ہے اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر جاتی ہے اور وہ درخت سے ٹکراتا ہے، جس سے اس کا دماغ پاش پاش ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ آیت اتارتا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12281:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار سے غزوہ کیا ذات الرقاع کھجور کے باغ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کنوئیں میں پیر لٹکائے بیٹھے تھے، جو بنو نجار کے ایک شخص وارث نامی نے کہا دیکھو میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا کیسے؟ کہا میں کسی حیلے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار لے لوں گا اور پھر ایک ہی وار کر کے پار کردوں گا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ادھر ادھر کی باتیں بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تلوار دیکھنے کو مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دے دی لیکن تلوار کے ہاتھ میں آتے ہی اس پر اس بلا کا لرزہ چڑھا کہ آخر تلوار سنبھل نہ سکی اور ہاتھ سے گر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے اور تیرے بد ارادے کے درمیان اللہ حائل ہوگیا اور یہ آیت اتری ۔ [صحیح بخاری:2913 (نزول آیت کے ذکر کے بغیر یہ روایت صحیح ہے) ]
حویرث بن حارث کا بھی ایسا قصہ مشہور ہے۔ ابن مردویہ میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی عادت تھی کہ سفر میں جس جگہ ٹھہرتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے گھنا سایہ دار بڑا درخت چھوڑ دیتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے تلے آرام فرمائیں، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ایسے درخت تلے سوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اس درخت میں لٹک رہی تھی، ایک شخص آگیا اور تلوار ہاتھ میں لے کر کہنے لگا، اب بتا کہ میرے ہاتھ سے تجھے کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ بچائے گا، تلوار رکھ دے اور وہ اس قدر ہیبت میں آگیا کہ تعمیل حکم کرنا ہی پڑی اور تلوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دی، اور اللہ نے یہ آیت اتاری کہ «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدہ:67] ۔ [صحیح ابن حبان:1739:حسن]
صفحہ نمبر2384
مسند میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موٹے آدمی کے پیٹ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اگر یہ اس کے سوا میں ہوتا تو تیرے لیے بہتر تھا ۔ ایک شخص کو صحابہ رضی اللہ عنہم پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کر رہا تھا، وہ کانپنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھبرا نہیں چاہے تو ارادہ کرے لیکن اللہ اسے پورا نہیں ہونے دے گا ۔ [مسند احمد:471/3:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ” تیرے ذمہ صرف تبلیغ ہے، ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ کافروں کو ہدایت نہیں دے گا۔ تو پہنچا دے، حساب کا لینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے “۔
صفحہ نمبر2385
آخری رسول پر ایمان اولین شرط ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” یہود و نصاریٰ کسی دین پر نہیں، جب تک کہ اپنی کتابوں پر اور اللہ کی اس کتاب پر ایمان لائیں لیکن ان کی حالت تو یہ ہے کہ جیسے جیسے قرآن اترتا ہے یہ لوگ سرکشی اور کفر میں بڑھتے جاتے ہیں۔ پس اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ان کافروں کیلئے حسرت و افسوس کر کے کیوں اپنی جان کو روگ لگاتا ہے “۔
صابی، نصرانیوں اور مجوسیوں کی بے دین جماعت کو کہتے ہیں اور صرف مجوسیوں کو بھی علاوہ ازیں ایک اور گروہ تھا، یہود اور نصاریٰ دونوں مثل مجوسیوں کے تھے۔ قتادہ رحمة الله کہتے ہیں ”یہ زبور پڑھتے تھے غیر قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے تھے اور فرشتوں کو پوجتے تھے۔“ وہب فرماتے ہیں ”اللہ کو پہچانتے تھے، اپنی شریعت کے حامل تھے، ان میں کفر کی ایجاد نہیں ہوئی تھی، یہ عراق کے متصل آباد تھے، یلوثا کہے جاتے تھے، نبیوں کو مانتے تھے، ہر سال میں تیس روزے رکھتے تھے اور یمن کی طرف منہ کر کے دن بھر میں پانچ نمازیں بھی پڑھتے تھے۔“ اس کے سوا اور قول بھی ہیں چونکہ پہلے دو جملوں کے بعد انکا ذکر آیا تھا، اس لیے رفع کے ساتھ عطف ڈالا۔
ان تمام لوگوں سے جناب باری فرماتا ہے کہ ” امن و امان والے بے ڈر اور بے خوف وہ ہیں جو اللہ پر اور قیامت پر سچا ایمان رکھیں اور نیک اعمال کریں اور یہ ناممکن ہے، جب تک اس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ ہو جو کہ تمام جن و انس کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں “۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے آنے والی زندگی کے خطرات سے بے خوف ہیں اور یہاں چھوڑ کر جانے والی چیزوں کو انہیں کوئی تمنا اور حسرت نہیں۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں اس جملے کے مفصل معنی بیان کر دیئے گئے ہیں۔
صفحہ نمبر2386
آخری رسول پر ایمان اولین شرط ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” یہود و نصاریٰ کسی دین پر نہیں، جب تک کہ اپنی کتابوں پر اور اللہ کی اس کتاب پر ایمان لائیں لیکن ان کی حالت تو یہ ہے کہ جیسے جیسے قرآن اترتا ہے یہ لوگ سرکشی اور کفر میں بڑھتے جاتے ہیں۔ پس اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ان کافروں کیلئے حسرت و افسوس کر کے کیوں اپنی جان کو روگ لگاتا ہے “۔
صابی، نصرانیوں اور مجوسیوں کی بے دین جماعت کو کہتے ہیں اور صرف مجوسیوں کو بھی علاوہ ازیں ایک اور گروہ تھا، یہود اور نصاریٰ دونوں مثل مجوسیوں کے تھے۔ قتادہ رحمة الله کہتے ہیں ”یہ زبور پڑھتے تھے غیر قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے تھے اور فرشتوں کو پوجتے تھے۔“ وہب فرماتے ہیں ”اللہ کو پہچانتے تھے، اپنی شریعت کے حامل تھے، ان میں کفر کی ایجاد نہیں ہوئی تھی، یہ عراق کے متصل آباد تھے، یلوثا کہے جاتے تھے، نبیوں کو مانتے تھے، ہر سال میں تیس روزے رکھتے تھے اور یمن کی طرف منہ کر کے دن بھر میں پانچ نمازیں بھی پڑھتے تھے۔“ اس کے سوا اور قول بھی ہیں چونکہ پہلے دو جملوں کے بعد انکا ذکر آیا تھا، اس لیے رفع کے ساتھ عطف ڈالا۔
ان تمام لوگوں سے جناب باری فرماتا ہے کہ ” امن و امان والے بے ڈر اور بے خوف وہ ہیں جو اللہ پر اور قیامت پر سچا ایمان رکھیں اور نیک اعمال کریں اور یہ ناممکن ہے، جب تک اس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ ہو جو کہ تمام جن و انس کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں “۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے آنے والی زندگی کے خطرات سے بے خوف ہیں اور یہاں چھوڑ کر جانے والی چیزوں کو انہیں کوئی تمنا اور حسرت نہیں۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں اس جملے کے مفصل معنی بیان کر دیئے گئے ہیں۔
صفحہ نمبر2386
سیاہ عمل یہود اور نصاریٰ ٭٭
اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے وعدے لیے تھے کہ وہ اللہ کے احکام کے عامل اور وحی کے پابند رہیں گے۔ لیکن انہوں نے وہ میثاق توڑ دیا۔ اپنی رائے اور خواہش کے پیچھے لگ گئے کتاب اللہ کی جو بات ان کی منشاء اور رائے کے مطابق تھی مان لی جس میں اختلاف نظر آیا ترک کر دی، نہ صرف اتنا ہی کیا بلکہ رسولوں کے مخالف ہو کر بہت سے رسولوں کو جھوٹا بتایا اور بہتیروں کو قتل بھی کر دیا کیونکہ ان کے لائے ہوئے احکام ان کی رائے اور قیاس کے خلاف تھے اتنے بڑے گناہ کے بعد بھی بے فکر ہو کر بیٹھے رہے اور سمجھ لیا کہ ہمیں کوئی سزا نہ ہوگی۔
لیکن انہیں زبردست روحانی سزا دی گئی یعنی وہ حق سے دور پھینک دیئے گئے اور اس سے اندھے اور بہرے بنا دیئے گئے نہ حق کو سنیں اور نہ ہدایت کو دیکھ سکیں لیکن پھر بھی اللہ نے ان پر مہربانی کی افسوس اس کے بعد بھی ان میں سے اکثر حق سے نابینا اور حق کے سننے سے محروم ہی ہو گئے اللہ ان کے اعمال سے باخبر ہے وہ جانتا ہے کہ کون کس چیز کا مستحق ہے۔
صفحہ نمبر2388
سیاہ عمل یہود اور نصاریٰ ٭٭
اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے وعدے لیے تھے کہ وہ اللہ کے احکام کے عامل اور وحی کے پابند رہیں گے۔ لیکن انہوں نے وہ میثاق توڑ دیا۔ اپنی رائے اور خواہش کے پیچھے لگ گئے کتاب اللہ کی جو بات ان کی منشاء اور رائے کے مطابق تھی مان لی جس میں اختلاف نظر آیا ترک کر دی، نہ صرف اتنا ہی کیا بلکہ رسولوں کے مخالف ہو کر بہت سے رسولوں کو جھوٹا بتایا اور بہتیروں کو قتل بھی کر دیا کیونکہ ان کے لائے ہوئے احکام ان کی رائے اور قیاس کے خلاف تھے اتنے بڑے گناہ کے بعد بھی بے فکر ہو کر بیٹھے رہے اور سمجھ لیا کہ ہمیں کوئی سزا نہ ہوگی۔
لیکن انہیں زبردست روحانی سزا دی گئی یعنی وہ حق سے دور پھینک دیئے گئے اور اس سے اندھے اور بہرے بنا دیئے گئے نہ حق کو سنیں اور نہ ہدایت کو دیکھ سکیں لیکن پھر بھی اللہ نے ان پر مہربانی کی افسوس اس کے بعد بھی ان میں سے اکثر حق سے نابینا اور حق کے سننے سے محروم ہی ہو گئے اللہ ان کے اعمال سے باخبر ہے وہ جانتا ہے کہ کون کس چیز کا مستحق ہے۔
صفحہ نمبر2388
خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے ٭٭
نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ ” یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ «اِنِّیْ عَبْدُ الّلهِ» [19-مريم:30] ” میں اللہ کا غلام ہوں “۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے “۔
جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ» [4-النساء:48] ” اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا “۔ «وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّـهُ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ» [7-الأعراف:50] ” جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے ۔ [صحیح مسلم:114]
سورۃ نساء کی آیت «اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا» [4-النساء:48] ، کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کر دی گئی ہے جس میں ہے کہ گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے ۔ مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ”ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا۔“
صفحہ نمبر2390
اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی عزیر علیہ السلام کو اور نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے، حضرت مسیح علیہ السلام کو اور انکی ماں کو اور اللہ کو ملا کر اللہ مانتے تھے اسی کا بیان اس سورت کے آخر میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائے گا ” کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے “۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقیناً یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم، اتنی اشد بے حیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا۔ مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے، ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں “۔
جیسے فرمایا «إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ» [43-الزخرف:59] ، ” وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی “۔
صفحہ نمبر2391
” والدہ عیسیٰ علیہ السلام مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں “، اس لیے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کر دیا۔ اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا۔
ابن حزم رحمة الله وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ رضی اللہ عنہا نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے سارہ اور مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ رضی اللہ عنہا کی نسبت فرمان ہے آیت «وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ» [28-القصص:7] الخ، ” ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا “۔
لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] ، ” تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے “۔ شیخ ابوالحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے “ اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں۔
” دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں؟ اور کیسے ردی اور بے دلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں؟“
صفحہ نمبر2392
خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے ٭٭
نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ ” یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ «اِنِّیْ عَبْدُ الّلهِ» [19-مريم:30] ” میں اللہ کا غلام ہوں “۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے “۔
جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ» [4-النساء:48] ” اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا “۔ «وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّـهُ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ» [7-الأعراف:50] ” جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے ۔ [صحیح مسلم:114]
سورۃ نساء کی آیت «اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا» [4-النساء:48] ، کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کر دی گئی ہے جس میں ہے کہ گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے ۔ مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ”ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا۔“
صفحہ نمبر2390
اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی عزیر علیہ السلام کو اور نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے، حضرت مسیح علیہ السلام کو اور انکی ماں کو اور اللہ کو ملا کر اللہ مانتے تھے اسی کا بیان اس سورت کے آخر میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائے گا ” کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے “۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقیناً یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم، اتنی اشد بے حیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا۔ مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے، ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں “۔
جیسے فرمایا «إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ» [43-الزخرف:59] ، ” وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی “۔
صفحہ نمبر2391
” والدہ عیسیٰ علیہ السلام مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں “، اس لیے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کر دیا۔ اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا۔
ابن حزم رحمة الله وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ رضی اللہ عنہا نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے سارہ اور مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ رضی اللہ عنہا کی نسبت فرمان ہے آیت «وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ» [28-القصص:7] الخ، ” ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا “۔
لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] ، ” تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے “۔ شیخ ابوالحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے “ اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں۔
” دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں؟ اور کیسے ردی اور بے دلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں؟“
صفحہ نمبر2392
خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے ٭٭
نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ ” یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ «اِنِّیْ عَبْدُ الّلهِ» [19-مريم:30] ” میں اللہ کا غلام ہوں “۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے “۔
جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ» [4-النساء:48] ” اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا “۔ «وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّـهُ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ» [7-الأعراف:50] ” جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے ۔ [صحیح مسلم:114]
سورۃ نساء کی آیت «اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا» [4-النساء:48] ، کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کر دی گئی ہے جس میں ہے کہ گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے ۔ مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ”ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا۔“
صفحہ نمبر2390
اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی عزیر علیہ السلام کو اور نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے، حضرت مسیح علیہ السلام کو اور انکی ماں کو اور اللہ کو ملا کر اللہ مانتے تھے اسی کا بیان اس سورت کے آخر میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائے گا ” کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے “۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقیناً یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم، اتنی اشد بے حیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا۔ مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے، ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں “۔
جیسے فرمایا «إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ» [43-الزخرف:59] ، ” وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی “۔
صفحہ نمبر2391
” والدہ عیسیٰ علیہ السلام مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں “، اس لیے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کر دیا۔ اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا۔
ابن حزم رحمة الله وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ رضی اللہ عنہا نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے سارہ اور مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ رضی اللہ عنہا کی نسبت فرمان ہے آیت «وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ» [28-القصص:7] الخ، ” ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا “۔
لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] ، ” تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے “۔ شیخ ابوالحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے “ اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں۔
” دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں؟ اور کیسے ردی اور بے دلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں؟“
صفحہ نمبر2392
خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے ٭٭
نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ ” یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ «اِنِّیْ عَبْدُ الّلهِ» [19-مريم:30] ” میں اللہ کا غلام ہوں “۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے “۔
جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ» [4-النساء:48] ” اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا “۔ «وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّـهُ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ» [7-الأعراف:50] ” جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے “۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے ۔ [صحیح مسلم:114]
سورۃ نساء کی آیت «اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا» [4-النساء:48] ، کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کر دی گئی ہے جس میں ہے کہ گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے ۔ مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ”ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا۔“
صفحہ نمبر2390
اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی عزیر علیہ السلام کو اور نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے، حضرت مسیح علیہ السلام کو اور انکی ماں کو اور اللہ کو ملا کر اللہ مانتے تھے اسی کا بیان اس سورت کے آخر میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائے گا ” کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے “۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقیناً یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم، اتنی اشد بے حیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ” اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا۔ مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے، ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں “۔
جیسے فرمایا «إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ» [43-الزخرف:59] ، ” وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی “۔
صفحہ نمبر2391
” والدہ عیسیٰ علیہ السلام مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں “، اس لیے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کر دیا۔ اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا۔
ابن حزم رحمة الله وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ رضی اللہ عنہا نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے سارہ اور مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ رضی اللہ عنہا کی نسبت فرمان ہے آیت «وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ» [28-القصص:7] الخ، ” ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا “۔
لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] ، ” تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے “۔ شیخ ابوالحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ” ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے “ اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں۔
” دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں؟ اور کیسے ردی اور بے دلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں؟“
صفحہ نمبر2392
باب
معبودان باطل کی جو اللہ کے سوا ہیں عبادت کرنے سے ممانعت کی جاتی ہے کہ ان تمام لوگوں سے کہہ تو دو کہ جو تم سے ضرر کو دفع کرنے کی اور نفع کے پہنچانے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتے، آخر تم کیوں انہیں پوجے چلے جا رہے ہو؟ تمام باتوں کے سننے والے تمام چیزوں سے باخبر اللہ سے ہٹ کر بے سمع و بصر، بے ضرر و بے نفع و بے قدر اور بے قدرت چیزوں کے پیچھے پڑ جانا یہ کون سی عقلمندی ہے؟ اے اہل کتاب اتباع حق کی حدود سے آگے نہ بڑھو، جس کی توقیر کرنے کا جتنا حکم ہو اتنی ہی اس کی توقیر کرو۔ انسانوں کو جنہیں اللہ نے نبوت دی ہے نبوت کے درجے سے معبود تک نہ پہنچاؤ۔ جیسے کہ تم جناب مسیح کے بارے میں غلطی کر رہے ہو اور اس کی اور کوئی وجہ نہیں بجز اس کے کہ تم اپنے پیروں مرشدوں استادوں اور اماموں کے پیچھے لگ گئے ہو وہ تو خود ہی گمراہ ہیں بلکہ گمراہ کن ہیں۔ استقامت اور عدل کے راستے کو چھوڑے ہوئے انہیں زمانہ گزر گیا۔ ضلالت اور بدعتوں میں مبتلا ہوئے عرصہ ہو گیا۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص ان میں بڑا پابند دین حق تھا ایک زمانہ کے بعد شیطان نے اسے بہکا دیا کہ جو اگلے کر گئے وہی تم بھی کر رہے ہو اس میں کیا رکھا ہے؟ اس کی وجہ سے نہ تو لوگوں میں تمہاری قدر ہو گی نہ شہرت تمہیں چاہیئے کہ کوئی نئی بات ایجاد کرو اسے لوگوں میں پھیلاؤ پھر دیکھو کہ کیسی شہرت ہوتی ہے؟ اور کس طرح جگہ بہ جگہ تمہارا ذکر ہونے لگتا ہے چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اس کی بدعتیں لوگوں میں پھیل گئیں اور زمانہ اس کی تقلید کرنے لگا۔ اب تو اسے بڑی ندامت ہوئی سلطنت و ملک چھوڑ دیا اور تنہائی میں اللہ کی عبادتوں میں مشغول ہو گیا لیکن اللہ کی طرف سے اسے جواب ملا کہ میری خطا ہی صرف کی ہوتی تو میں معاف کر دیتا لیکن تو نے عام لوگوں کو بگاڑ دیا اور انہیں گمراہ کر کے غلط راہ پر لگا دیا۔ جس راہ پر چلتے چلتے وہ مر گئے ان کا بوجھ تجھ پر سے کیسے ٹلے گا؟ میں تو تیری توبہ قبول نہیں فرماؤں گا پس ایسوں ہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔
صفحہ نمبر2396
باب
معبودان باطل کی جو اللہ کے سوا ہیں عبادت کرنے سے ممانعت کی جاتی ہے کہ ان تمام لوگوں سے کہہ تو دو کہ جو تم سے ضرر کو دفع کرنے کی اور نفع کے پہنچانے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتے، آخر تم کیوں انہیں پوجے چلے جا رہے ہو؟ تمام باتوں کے سننے والے تمام چیزوں سے باخبر اللہ سے ہٹ کر بے سمع و بصر، بے ضرر و بے نفع و بے قدر اور بے قدرت چیزوں کے پیچھے پڑ جانا یہ کون سی عقلمندی ہے؟ اے اہل کتاب اتباع حق کی حدود سے آگے نہ بڑھو، جس کی توقیر کرنے کا جتنا حکم ہو اتنی ہی اس کی توقیر کرو۔ انسانوں کو جنہیں اللہ نے نبوت دی ہے نبوت کے درجے سے معبود تک نہ پہنچاؤ۔ جیسے کہ تم جناب مسیح کے بارے میں غلطی کر رہے ہو اور اس کی اور کوئی وجہ نہیں بجز اس کے کہ تم اپنے پیروں مرشدوں استادوں اور اماموں کے پیچھے لگ گئے ہو وہ تو خود ہی گمراہ ہیں بلکہ گمراہ کن ہیں۔ استقامت اور عدل کے راستے کو چھوڑے ہوئے انہیں زمانہ گزر گیا۔ ضلالت اور بدعتوں میں مبتلا ہوئے عرصہ ہو گیا۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص ان میں بڑا پابند دین حق تھا ایک زمانہ کے بعد شیطان نے اسے بہکا دیا کہ جو اگلے کر گئے وہی تم بھی کر رہے ہو اس میں کیا رکھا ہے؟ اس کی وجہ سے نہ تو لوگوں میں تمہاری قدر ہو گی نہ شہرت تمہیں چاہیئے کہ کوئی نئی بات ایجاد کرو اسے لوگوں میں پھیلاؤ پھر دیکھو کہ کیسی شہرت ہوتی ہے؟ اور کس طرح جگہ بہ جگہ تمہارا ذکر ہونے لگتا ہے چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اس کی بدعتیں لوگوں میں پھیل گئیں اور زمانہ اس کی تقلید کرنے لگا۔ اب تو اسے بڑی ندامت ہوئی سلطنت و ملک چھوڑ دیا اور تنہائی میں اللہ کی عبادتوں میں مشغول ہو گیا لیکن اللہ کی طرف سے اسے جواب ملا کہ میری خطا ہی صرف کی ہوتی تو میں معاف کر دیتا لیکن تو نے عام لوگوں کو بگاڑ دیا اور انہیں گمراہ کر کے غلط راہ پر لگا دیا۔ جس راہ پر چلتے چلتے وہ مر گئے ان کا بوجھ تجھ پر سے کیسے ٹلے گا؟ میں تو تیری توبہ قبول نہیں فرماؤں گا پس ایسوں ہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔
صفحہ نمبر2396
امر معروف سے گریز کا انجام ٭٭
ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پا چکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں میں آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ ۔ [مسند احمد:391/1:منقطع]
صفحہ نمبر2398
ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے برائی بنی اسرائیل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، اسے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور اس برے کام کو چھوڑ دے یہ حرام ہے۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا بلکہ اس کا ہم نوالہ ہم پیالہ رہتا اور میل جول باقی رکھتا، اس وجہ سے سب میں ہی سنگدلی آ گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پوری آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: واللہ تم پر فرض ہے کہ بھلی باتوں کا ہر ایک کو حکم کرو، برائیوں سے روکو، ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھو اور اسے تنگ کرو کہ حق پر آ جائے ۔ [سنن ابوداود:4336،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ [سنن ترمذي:3047،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر2399
ابو داؤد وغیرہ میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تمہارے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے گا اور تم پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے گا جیسی ان پر نازل فرمائی ۔ [سنن ابوداود:4337،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس بارے میں اور بہت سی حدیثیں ہیں کچھ سن بھی لیجئے جابر والی حدیث تو آیت «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ» [5-المائدہ:63] ، کی تفسیر میں گزر چکی اور یا آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [5-المائدہ:105] کی تفسیر میں سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ اور ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی حدیثیں آئیں گی، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
مسند اور ترمذی میں ہے کہ یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا ۔ [سنن ترمذي:2129،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں ۔ [سنن ابن ماجہ:4004،قال الشيخ الألباني:حسن]
صحیح حدیث میں ہے تم میں سے جو شخص خلاف شرع کام دیکھے، اس پر فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اور بہت ہی ضعیف ایمان والا ہے ۔ [صحیح مسلم:49]
صفحہ نمبر2400
مسند احمد میں ہے اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں کرتا لیکن اس وقت کہ برائیاں ان میں پھیل جائیں اور وہ باوجود قدرت کے انکار نہ کریں، اس وقت عام خاص سب کو اللہ تعالیٰ عذاب میں گھیر لیتا ہے ۔ [مسند احمد:196/4:صحیح بالشواهد]
ابوداؤد میں ہے کہ جس جگہ اللہ کی نافرمانی ہونی شروع ہو وہاں جو بھی ہو، ان خلاف شرع امور سے ناراض ہو (ایک اور روایت میں ہے ان کا انکار کرتا ہو) وہ مثل اس کے ہے جو وہاں حاضر ہی نہ ہو اور جو ان خطاؤں سے راضی ہو گو وہاں موجود نہ ہو وہ ایسا ہے گویا ان میں حاضر ہے ۔ [سنن ابوداود:4345،قال الشيخ الألباني:حسن]
ابوداؤد میں ہے لوگوں کے عذر جب تک ختم نہ ہو جائیں وہ ہلاک نہ ہوں گے ۔ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا: خبردار کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق بات کہنے سے روک نہ دے ۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمانے لگے افسوس ہم نے ایسے موقعوں پر لوگوں کی ہیبت مان لی ۔ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے افضل جہاد کلمہ حق ظالم بادشاہ کے سامنے کہدینا ہے ۔ [سنن ابوداود:4344،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے کہ جمرہ اولیٰ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ ثانیہ پر آئے تو اس نے پھر وہی سوال کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔ جب جمرہ عقبہ پر کنکر مار چکے اور سواری پر سوار ہونے کے ارادے سے رکاب میں پاؤں رکھے تو دریافت فرمایا کہ وہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں فرمایا: حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہہ دینا ۔ [سنن ابن ماجہ:4012،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2401
ابن ماجہ میں ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو اپنی بےعزتی نہ کرنی چاہیئے لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے؟ فرمایا: خلاف شرع کوئی امر دیکھے اور کچھ نہ کہے قیامت کے دن اس سے بازپرس ہوگی کہ فلاں موقعے پر تو کیوں خاموش رہا؟ یہ جواب دے گا کہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” میں سب سے زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے خوف کھائے “ ۔ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ جب اسے اللہ تلقین حجت کرے گا تو یہ کہے گا کہ تجھ سے تو میں نے امید رکھی اور لوگوں سے خوف کھا گیا۔ [سنن ابن ماجہ:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ مسلمانوں کو اپنے تئیں ذلیل نہ کرنا چاہیئے ۔ لوگوں نے پوچھا کیسے؟ فرمایا: ان بلاؤں کو سر پر لینا جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو ۔ [سنن ترمذي:2254،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑی جائے؟ فرمایا: اس وقت جب تم میں بھی وہی خرابی ہو جائے جو تم سے اگلوں میں ظاہر ہوئی تھی ہم نے پوچھا وہ کیا چیز ہے؟ فرمایا: کمینے آدمیوں میں سلطنت کا چلا جانا۔ بڑے آدمیوں میں بدکاری کا آ جانا۔ رذیلوں میں علم کا آ جانا ۔ زید کہتے ہیں رذیلوں میں علم آجانے سے مراد فاسقوں میں علم کا آ جانا ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4105، قال الشيخ الألباني: ضعیف] اس حدیث کی شاہد حدیثیں ابو ثعلبہ کی روایت سے آیت «لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ» [5-المائدة:105] کی تفسیر میں آئیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
پھر فرماتا ہے کہ ” اکثر منافقوں کو تو دیکھے گا کہ وہ کافروں سے دوستیاں گانٹتھے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے یعنی مسلمانوں سے دوستیاں چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے لیے برا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے “۔
صفحہ نمبر2402
اس کی پاداش میں ان کے دلوں میں نفاق پیدا ہو گیا ہے۔ اور اسی بناء پر اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور قیامت کے دن کیلئے دائمی عذاب بھی ان کیلئے آگے آ رہے ہیں۔
ابن ابی حاتم میں ہے اے مسلمانو! زناکاری سے بچو، اس سے چھ برائیاں آتی ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ اس سے عزت و وقار، رونق و تازگی جاتی رہتی ہے۔ اس سے فقرو فاقہ آ جاتا ہے۔ اس سے عمر گھٹتی ہے اور قیامت کے دن تین برائیاں یہ ہیں اللہ کا غضب، حساب کی سختی اور برائی، اور جہنم کا خلود ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:5475:ضعیف جدا] یہ حدیث ضعیف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے ” اگر یہ لوگ اللہ پر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن پر پورا ایمان رکھتے تو ہرگز کافروں سے دوستیاں نہ کرتے اور چھپ چھپا کر ان سے میل ملاپ جاری نہ رکھتے۔ نہ سچے مسلمانوں سے دشمنیاں رکھتے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے خارج ہو چکے ہیں اس کی وحی اور اس کے پاک کلام کی آیتوں کے مخالف بن بیٹھے ہیں “۔
صفحہ نمبر2403
امر معروف سے گریز کا انجام ٭٭
ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پا چکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں میں آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ ۔ [مسند احمد:391/1:منقطع]
صفحہ نمبر2398
ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے برائی بنی اسرائیل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، اسے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور اس برے کام کو چھوڑ دے یہ حرام ہے۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا بلکہ اس کا ہم نوالہ ہم پیالہ رہتا اور میل جول باقی رکھتا، اس وجہ سے سب میں ہی سنگدلی آ گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پوری آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: واللہ تم پر فرض ہے کہ بھلی باتوں کا ہر ایک کو حکم کرو، برائیوں سے روکو، ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھو اور اسے تنگ کرو کہ حق پر آ جائے ۔ [سنن ابوداود:4336،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ [سنن ترمذي:3047،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر2399
ابو داؤد وغیرہ میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تمہارے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے گا اور تم پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے گا جیسی ان پر نازل فرمائی ۔ [سنن ابوداود:4337،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس بارے میں اور بہت سی حدیثیں ہیں کچھ سن بھی لیجئے جابر والی حدیث تو آیت «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ» [5-المائدہ:63] ، کی تفسیر میں گزر چکی اور یا آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [5-المائدہ:105] کی تفسیر میں سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ اور ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی حدیثیں آئیں گی، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
مسند اور ترمذی میں ہے کہ یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا ۔ [سنن ترمذي:2129،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں ۔ [سنن ابن ماجہ:4004،قال الشيخ الألباني:حسن]
صحیح حدیث میں ہے تم میں سے جو شخص خلاف شرع کام دیکھے، اس پر فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اور بہت ہی ضعیف ایمان والا ہے ۔ [صحیح مسلم:49]
صفحہ نمبر2400
مسند احمد میں ہے اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں کرتا لیکن اس وقت کہ برائیاں ان میں پھیل جائیں اور وہ باوجود قدرت کے انکار نہ کریں، اس وقت عام خاص سب کو اللہ تعالیٰ عذاب میں گھیر لیتا ہے ۔ [مسند احمد:196/4:صحیح بالشواهد]
ابوداؤد میں ہے کہ جس جگہ اللہ کی نافرمانی ہونی شروع ہو وہاں جو بھی ہو، ان خلاف شرع امور سے ناراض ہو (ایک اور روایت میں ہے ان کا انکار کرتا ہو) وہ مثل اس کے ہے جو وہاں حاضر ہی نہ ہو اور جو ان خطاؤں سے راضی ہو گو وہاں موجود نہ ہو وہ ایسا ہے گویا ان میں حاضر ہے ۔ [سنن ابوداود:4345،قال الشيخ الألباني:حسن]
ابوداؤد میں ہے لوگوں کے عذر جب تک ختم نہ ہو جائیں وہ ہلاک نہ ہوں گے ۔ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا: خبردار کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق بات کہنے سے روک نہ دے ۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمانے لگے افسوس ہم نے ایسے موقعوں پر لوگوں کی ہیبت مان لی ۔ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے افضل جہاد کلمہ حق ظالم بادشاہ کے سامنے کہدینا ہے ۔ [سنن ابوداود:4344،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے کہ جمرہ اولیٰ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ ثانیہ پر آئے تو اس نے پھر وہی سوال کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔ جب جمرہ عقبہ پر کنکر مار چکے اور سواری پر سوار ہونے کے ارادے سے رکاب میں پاؤں رکھے تو دریافت فرمایا کہ وہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں فرمایا: حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہہ دینا ۔ [سنن ابن ماجہ:4012،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2401
ابن ماجہ میں ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو اپنی بےعزتی نہ کرنی چاہیئے لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے؟ فرمایا: خلاف شرع کوئی امر دیکھے اور کچھ نہ کہے قیامت کے دن اس سے بازپرس ہوگی کہ فلاں موقعے پر تو کیوں خاموش رہا؟ یہ جواب دے گا کہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” میں سب سے زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے خوف کھائے “ ۔ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ جب اسے اللہ تلقین حجت کرے گا تو یہ کہے گا کہ تجھ سے تو میں نے امید رکھی اور لوگوں سے خوف کھا گیا۔ [سنن ابن ماجہ:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ مسلمانوں کو اپنے تئیں ذلیل نہ کرنا چاہیئے ۔ لوگوں نے پوچھا کیسے؟ فرمایا: ان بلاؤں کو سر پر لینا جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو ۔ [سنن ترمذي:2254،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑی جائے؟ فرمایا: اس وقت جب تم میں بھی وہی خرابی ہو جائے جو تم سے اگلوں میں ظاہر ہوئی تھی ہم نے پوچھا وہ کیا چیز ہے؟ فرمایا: کمینے آدمیوں میں سلطنت کا چلا جانا۔ بڑے آدمیوں میں بدکاری کا آ جانا۔ رذیلوں میں علم کا آ جانا ۔ زید کہتے ہیں رذیلوں میں علم آجانے سے مراد فاسقوں میں علم کا آ جانا ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4105، قال الشيخ الألباني: ضعیف] اس حدیث کی شاہد حدیثیں ابو ثعلبہ کی روایت سے آیت «لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ» [5-المائدة:105] کی تفسیر میں آئیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
پھر فرماتا ہے کہ ” اکثر منافقوں کو تو دیکھے گا کہ وہ کافروں سے دوستیاں گانٹتھے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے یعنی مسلمانوں سے دوستیاں چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے لیے برا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے “۔
صفحہ نمبر2402
اس کی پاداش میں ان کے دلوں میں نفاق پیدا ہو گیا ہے۔ اور اسی بناء پر اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور قیامت کے دن کیلئے دائمی عذاب بھی ان کیلئے آگے آ رہے ہیں۔
ابن ابی حاتم میں ہے اے مسلمانو! زناکاری سے بچو، اس سے چھ برائیاں آتی ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ اس سے عزت و وقار، رونق و تازگی جاتی رہتی ہے۔ اس سے فقرو فاقہ آ جاتا ہے۔ اس سے عمر گھٹتی ہے اور قیامت کے دن تین برائیاں یہ ہیں اللہ کا غضب، حساب کی سختی اور برائی، اور جہنم کا خلود ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:5475:ضعیف جدا] یہ حدیث ضعیف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے ” اگر یہ لوگ اللہ پر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن پر پورا ایمان رکھتے تو ہرگز کافروں سے دوستیاں نہ کرتے اور چھپ چھپا کر ان سے میل ملاپ جاری نہ رکھتے۔ نہ سچے مسلمانوں سے دشمنیاں رکھتے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے خارج ہو چکے ہیں اس کی وحی اور اس کے پاک کلام کی آیتوں کے مخالف بن بیٹھے ہیں “۔
صفحہ نمبر2403
امر معروف سے گریز کا انجام ٭٭
ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پا چکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں میں آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ ۔ [مسند احمد:391/1:منقطع]
صفحہ نمبر2398
ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے برائی بنی اسرائیل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، اسے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور اس برے کام کو چھوڑ دے یہ حرام ہے۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا بلکہ اس کا ہم نوالہ ہم پیالہ رہتا اور میل جول باقی رکھتا، اس وجہ سے سب میں ہی سنگدلی آ گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پوری آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: واللہ تم پر فرض ہے کہ بھلی باتوں کا ہر ایک کو حکم کرو، برائیوں سے روکو، ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھو اور اسے تنگ کرو کہ حق پر آ جائے ۔ [سنن ابوداود:4336،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ [سنن ترمذي:3047،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر2399
ابو داؤد وغیرہ میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تمہارے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے گا اور تم پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے گا جیسی ان پر نازل فرمائی ۔ [سنن ابوداود:4337،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس بارے میں اور بہت سی حدیثیں ہیں کچھ سن بھی لیجئے جابر والی حدیث تو آیت «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ» [5-المائدہ:63] ، کی تفسیر میں گزر چکی اور یا آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [5-المائدہ:105] کی تفسیر میں سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ اور ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی حدیثیں آئیں گی، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
مسند اور ترمذی میں ہے کہ یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا ۔ [سنن ترمذي:2129،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں ۔ [سنن ابن ماجہ:4004،قال الشيخ الألباني:حسن]
صحیح حدیث میں ہے تم میں سے جو شخص خلاف شرع کام دیکھے، اس پر فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اور بہت ہی ضعیف ایمان والا ہے ۔ [صحیح مسلم:49]
صفحہ نمبر2400
مسند احمد میں ہے اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں کرتا لیکن اس وقت کہ برائیاں ان میں پھیل جائیں اور وہ باوجود قدرت کے انکار نہ کریں، اس وقت عام خاص سب کو اللہ تعالیٰ عذاب میں گھیر لیتا ہے ۔ [مسند احمد:196/4:صحیح بالشواهد]
ابوداؤد میں ہے کہ جس جگہ اللہ کی نافرمانی ہونی شروع ہو وہاں جو بھی ہو، ان خلاف شرع امور سے ناراض ہو (ایک اور روایت میں ہے ان کا انکار کرتا ہو) وہ مثل اس کے ہے جو وہاں حاضر ہی نہ ہو اور جو ان خطاؤں سے راضی ہو گو وہاں موجود نہ ہو وہ ایسا ہے گویا ان میں حاضر ہے ۔ [سنن ابوداود:4345،قال الشيخ الألباني:حسن]
ابوداؤد میں ہے لوگوں کے عذر جب تک ختم نہ ہو جائیں وہ ہلاک نہ ہوں گے ۔ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا: خبردار کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق بات کہنے سے روک نہ دے ۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمانے لگے افسوس ہم نے ایسے موقعوں پر لوگوں کی ہیبت مان لی ۔ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے افضل جہاد کلمہ حق ظالم بادشاہ کے سامنے کہدینا ہے ۔ [سنن ابوداود:4344،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے کہ جمرہ اولیٰ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ ثانیہ پر آئے تو اس نے پھر وہی سوال کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔ جب جمرہ عقبہ پر کنکر مار چکے اور سواری پر سوار ہونے کے ارادے سے رکاب میں پاؤں رکھے تو دریافت فرمایا کہ وہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں فرمایا: حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہہ دینا ۔ [سنن ابن ماجہ:4012،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2401
ابن ماجہ میں ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو اپنی بےعزتی نہ کرنی چاہیئے لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے؟ فرمایا: خلاف شرع کوئی امر دیکھے اور کچھ نہ کہے قیامت کے دن اس سے بازپرس ہوگی کہ فلاں موقعے پر تو کیوں خاموش رہا؟ یہ جواب دے گا کہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” میں سب سے زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے خوف کھائے “ ۔ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ جب اسے اللہ تلقین حجت کرے گا تو یہ کہے گا کہ تجھ سے تو میں نے امید رکھی اور لوگوں سے خوف کھا گیا۔ [سنن ابن ماجہ:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ مسلمانوں کو اپنے تئیں ذلیل نہ کرنا چاہیئے ۔ لوگوں نے پوچھا کیسے؟ فرمایا: ان بلاؤں کو سر پر لینا جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو ۔ [سنن ترمذي:2254،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑی جائے؟ فرمایا: اس وقت جب تم میں بھی وہی خرابی ہو جائے جو تم سے اگلوں میں ظاہر ہوئی تھی ہم نے پوچھا وہ کیا چیز ہے؟ فرمایا: کمینے آدمیوں میں سلطنت کا چلا جانا۔ بڑے آدمیوں میں بدکاری کا آ جانا۔ رذیلوں میں علم کا آ جانا ۔ زید کہتے ہیں رذیلوں میں علم آجانے سے مراد فاسقوں میں علم کا آ جانا ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4105، قال الشيخ الألباني: ضعیف] اس حدیث کی شاہد حدیثیں ابو ثعلبہ کی روایت سے آیت «لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ» [5-المائدة:105] کی تفسیر میں آئیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
پھر فرماتا ہے کہ ” اکثر منافقوں کو تو دیکھے گا کہ وہ کافروں سے دوستیاں گانٹتھے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے یعنی مسلمانوں سے دوستیاں چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے لیے برا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے “۔
صفحہ نمبر2402
اس کی پاداش میں ان کے دلوں میں نفاق پیدا ہو گیا ہے۔ اور اسی بناء پر اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور قیامت کے دن کیلئے دائمی عذاب بھی ان کیلئے آگے آ رہے ہیں۔
ابن ابی حاتم میں ہے اے مسلمانو! زناکاری سے بچو، اس سے چھ برائیاں آتی ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ اس سے عزت و وقار، رونق و تازگی جاتی رہتی ہے۔ اس سے فقرو فاقہ آ جاتا ہے۔ اس سے عمر گھٹتی ہے اور قیامت کے دن تین برائیاں یہ ہیں اللہ کا غضب، حساب کی سختی اور برائی، اور جہنم کا خلود ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:5475:ضعیف جدا] یہ حدیث ضعیف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے ” اگر یہ لوگ اللہ پر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن پر پورا ایمان رکھتے تو ہرگز کافروں سے دوستیاں نہ کرتے اور چھپ چھپا کر ان سے میل ملاپ جاری نہ رکھتے۔ نہ سچے مسلمانوں سے دشمنیاں رکھتے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے خارج ہو چکے ہیں اس کی وحی اور اس کے پاک کلام کی آیتوں کے مخالف بن بیٹھے ہیں “۔
صفحہ نمبر2403
امر معروف سے گریز کا انجام ٭٭
ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پا چکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں میں آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ ۔ [مسند احمد:391/1:منقطع]
صفحہ نمبر2398
ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے برائی بنی اسرائیل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، اسے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور اس برے کام کو چھوڑ دے یہ حرام ہے۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا بلکہ اس کا ہم نوالہ ہم پیالہ رہتا اور میل جول باقی رکھتا، اس وجہ سے سب میں ہی سنگدلی آ گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پوری آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: واللہ تم پر فرض ہے کہ بھلی باتوں کا ہر ایک کو حکم کرو، برائیوں سے روکو، ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھو اور اسے تنگ کرو کہ حق پر آ جائے ۔ [سنن ابوداود:4336،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ [سنن ترمذي:3047،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر2399
ابو داؤد وغیرہ میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تمہارے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے گا اور تم پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے گا جیسی ان پر نازل فرمائی ۔ [سنن ابوداود:4337،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس بارے میں اور بہت سی حدیثیں ہیں کچھ سن بھی لیجئے جابر والی حدیث تو آیت «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ» [5-المائدہ:63] ، کی تفسیر میں گزر چکی اور یا آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [5-المائدہ:105] کی تفسیر میں سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ اور ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی حدیثیں آئیں گی، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
مسند اور ترمذی میں ہے کہ یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا ۔ [سنن ترمذي:2129،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں ۔ [سنن ابن ماجہ:4004،قال الشيخ الألباني:حسن]
صحیح حدیث میں ہے تم میں سے جو شخص خلاف شرع کام دیکھے، اس پر فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اور بہت ہی ضعیف ایمان والا ہے ۔ [صحیح مسلم:49]
صفحہ نمبر2400
مسند احمد میں ہے اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں کرتا لیکن اس وقت کہ برائیاں ان میں پھیل جائیں اور وہ باوجود قدرت کے انکار نہ کریں، اس وقت عام خاص سب کو اللہ تعالیٰ عذاب میں گھیر لیتا ہے ۔ [مسند احمد:196/4:صحیح بالشواهد]
ابوداؤد میں ہے کہ جس جگہ اللہ کی نافرمانی ہونی شروع ہو وہاں جو بھی ہو، ان خلاف شرع امور سے ناراض ہو (ایک اور روایت میں ہے ان کا انکار کرتا ہو) وہ مثل اس کے ہے جو وہاں حاضر ہی نہ ہو اور جو ان خطاؤں سے راضی ہو گو وہاں موجود نہ ہو وہ ایسا ہے گویا ان میں حاضر ہے ۔ [سنن ابوداود:4345،قال الشيخ الألباني:حسن]
ابوداؤد میں ہے لوگوں کے عذر جب تک ختم نہ ہو جائیں وہ ہلاک نہ ہوں گے ۔ [سنن ابوداود:4347،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا: خبردار کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق بات کہنے سے روک نہ دے ۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمانے لگے افسوس ہم نے ایسے موقعوں پر لوگوں کی ہیبت مان لی ۔ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے افضل جہاد کلمہ حق ظالم بادشاہ کے سامنے کہدینا ہے ۔ [سنن ابوداود:4344،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ماجہ میں ہے کہ جمرہ اولیٰ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ ثانیہ پر آئے تو اس نے پھر وہی سوال کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔ جب جمرہ عقبہ پر کنکر مار چکے اور سواری پر سوار ہونے کے ارادے سے رکاب میں پاؤں رکھے تو دریافت فرمایا کہ وہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں فرمایا: حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہہ دینا ۔ [سنن ابن ماجہ:4012،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2401
ابن ماجہ میں ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو اپنی بےعزتی نہ کرنی چاہیئے لوگوں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے؟ فرمایا: خلاف شرع کوئی امر دیکھے اور کچھ نہ کہے قیامت کے دن اس سے بازپرس ہوگی کہ فلاں موقعے پر تو کیوں خاموش رہا؟ یہ جواب دے گا کہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” میں سب سے زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے خوف کھائے “ ۔ [سنن ابن ماجہ:4007،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ جب اسے اللہ تلقین حجت کرے گا تو یہ کہے گا کہ تجھ سے تو میں نے امید رکھی اور لوگوں سے خوف کھا گیا۔ [سنن ابن ماجہ:4017،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند احمد میں ہے کہ مسلمانوں کو اپنے تئیں ذلیل نہ کرنا چاہیئے ۔ لوگوں نے پوچھا کیسے؟ فرمایا: ان بلاؤں کو سر پر لینا جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو ۔ [سنن ترمذي:2254،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ماجہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑی جائے؟ فرمایا: اس وقت جب تم میں بھی وہی خرابی ہو جائے جو تم سے اگلوں میں ظاہر ہوئی تھی ہم نے پوچھا وہ کیا چیز ہے؟ فرمایا: کمینے آدمیوں میں سلطنت کا چلا جانا۔ بڑے آدمیوں میں بدکاری کا آ جانا۔ رذیلوں میں علم کا آ جانا ۔ زید کہتے ہیں رذیلوں میں علم آجانے سے مراد فاسقوں میں علم کا آ جانا ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4105، قال الشيخ الألباني: ضعیف] اس حدیث کی شاہد حدیثیں ابو ثعلبہ کی روایت سے آیت «لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ» [5-المائدة:105] کی تفسیر میں آئیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
پھر فرماتا ہے کہ ” اکثر منافقوں کو تو دیکھے گا کہ وہ کافروں سے دوستیاں گانٹتھے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے یعنی مسلمانوں سے دوستیاں چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے لیے برا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے “۔
صفحہ نمبر2402
اس کی پاداش میں ان کے دلوں میں نفاق پیدا ہو گیا ہے۔ اور اسی بناء پر اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور قیامت کے دن کیلئے دائمی عذاب بھی ان کیلئے آگے آ رہے ہیں۔
ابن ابی حاتم میں ہے اے مسلمانو! زناکاری سے بچو، اس سے چھ برائیاں آتی ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ اس سے عزت و وقار، رونق و تازگی جاتی رہتی ہے۔ اس سے فقرو فاقہ آ جاتا ہے۔ اس سے عمر گھٹتی ہے اور قیامت کے دن تین برائیاں یہ ہیں اللہ کا غضب، حساب کی سختی اور برائی، اور جہنم کا خلود ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:5475:ضعیف جدا] یہ حدیث ضعیف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرماتا ہے ” اگر یہ لوگ اللہ پر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن پر پورا ایمان رکھتے تو ہرگز کافروں سے دوستیاں نہ کرتے اور چھپ چھپا کر ان سے میل ملاپ جاری نہ رکھتے۔ نہ سچے مسلمانوں سے دشمنیاں رکھتے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے خارج ہو چکے ہیں اس کی وحی اور اس کے پاک کلام کی آیتوں کے مخالف بن بیٹھے ہیں “۔
صفحہ نمبر2403
یہودیوں کا تاریخی کردار ٭٭
یہ آیت اور اس کے بعد کی چار آیتیں نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہیں۔ جب ان کے سامنے حبشہ کے ملک میں جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم پڑھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں۔ یہ خیال رہے کہ یہ آیتیں مدینے میں اتری ہیں اور جعفر رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔
یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیتیں اس وفد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جسے نجاشی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملیں، حاضر خدمت ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات و صفات دیکھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنیں۔ جب یہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سنا تو ان کے دل نرم ہو گئے بہت روئے دھوئے اور اسلام قبول کیا اور واپس جا کر نجاشی سے سب حال کہا نجاشی اپنی سلطنت چھوڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کر کے آنے لگے لیکن راستے میں ہی انتقال ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12318:مرسل]
یہاں بھی یہ خیال رہے کہ یہ بیان صرف سدی رحمة الله کا ہے اور صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ وہ حبشہ میں ہی سلطنت کرتے ہوئے فوت ہوئے ان کے انتقال والے دن ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ان کے انتقال کی خبر دی اور ان کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی ۔ [صحیح بخاری:1318]
صفحہ نمبر2407
بعض تو کہتے ہیں اس وفد میں سات تو علماء تھے اور پانچ زاہد تھے یا پانچ علماء اور سات زاہد تھے۔ بعض کہتے ہیں یہ کل پچاس آدمی تھے اور کہا گیا ہے کہ ساٹھ سے کچھ اوپر تھے ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ستر تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جن کے اوصاف آیت میں بیان کئے گئے ہیں یہ اہل حبشہ ہیں۔ مسلمان مہاجرین حبشہ جب ان کے پاس پہنچے تو یہ سب مسلمان ہو گئے تھے۔“ قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں ”پہلے یہ دین عیسوی پر قائم تھے لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کو دیکھا اور قرآن کریم کو سنا تو فوراً سب مسلمان ہو گئے۔“ امام ابن جریر رحمة الله کا فیصلہ ان سب اقوال کو ٹھیک کر دیتا ہے اور فرماتے ہیں کہ ”یہ آیتیں ان لوگوں کے بارے میں ہیں جن میں یہ اوصاف ہوں خواہ وہ حبشہ کے ہوں یا کہیں کے۔“
یہودیوں کو مسلمانوں سے جو سخت دشمنی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سرکشی اور انکار کا مادہ زیادہ ہے اور جان بوجھ کر کفر کرتے ہیں اور ضد سے ناحق پر اڑتے ہیں، حق کے مقابلہ میں بگڑ بیٹھتے ہیں حق والوں پر حقارت کی نظریں ڈالتے ہیں ان سے بغض و بیر رکھتے ہیں۔
صفحہ نمبر2408
علم سے کورے ہیں علماء کی تعداد ان میں بہت ہی کم ہے اور علم اور ذی علم لوگوں کی کوئی وقعت ان کے دل میں نہیں یہی تھے جنہوں نے بہت سے انبیاء علیہم السلام کو قتل کیا خود پیغمبر الزمان احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ بھی کیا اور ایک دفعہ نہیں بلکہ باربار۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا اور اپنے جیسے بدباطن لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کئے لیکن اللہ نے ہر مرتبہ انہیں نامراد اور ناکام کیا۔
ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب کبھی کوئی یہودی کسی مسلمانوں کو تنہائی میں پاتا ہے اس کے دل میں اس کے قتل کا قصد پیدا ہوتا ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4439:ضعیف]
ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن ہے بہت ہی غریب ہاں مسلمانوں سے دوستی میں زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے تئیں نصاریٰ کہتے ہیں مسیح کے تابعدار ہیں انجیل کے اصلی اور صحیح طریقے پر قائم ہیں ان میں ایک حد تک فی الجملہ مسلمانوں اور اسلام کی محبت ہے یہ اس لیے کہ ان میں نرم دلی ہے جیسے ارشاد باری آیت «وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً» [57-الحدید:27] ، یعنی ” عیسیٰ علیہ السلام کے تابعداروں کے دلوں میں ہم نے نرمی اور رحم ڈال دیا ہے۔ ان کی کتاب میں حکم ہے کہ جو تیرے داہنے رخسار پر تھپڑ مارے تو اس کے سامنے بایاں رخسار بھی پیش کر دے “۔
صفحہ نمبر2409
ان کی شریعت میں لڑائی ہے ہی نہیں۔ یہاں ان کی اس دوستی کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ان میں خطیب اور واعظ ہیں۔ «قِسِسِیْنٌ» اور «قِسٌ» کی جمع «قِسِّیْسِیْنَ» ہے «قُسُوْسٌ» بھی اس کی جمع آتی ہے «رُهْبَانٌ» جمع ہے راہب کی، راہب کہتے ہیں عابد کو۔ یہ لفظ مشتق ہے رہب سے اور رہبت کے معنی ہیں خوف اور ڈر کے۔ جیسے «رَاکِبٌ» کی جمع «رُکْبَانٌ» ہے اور «فُرْسَانٌ» ہے امام ابن جریر فرماتے ہیں کبھی «رُهْبَانٌ» واحد کیلئے بھی آتا ہے اور اس کی جمع «رَھَابِیْنَ» آتی ہے جیسے «قُرْبَانٌ» اور «قَرَابِیْنَ» اور «جوازن» اور «جوازین» اور کبھی اس کی جمع «رَهَابِنَه» بھی آتی ہے۔ عرب کے اشعار میں بھی لفظ «رُهْبَانٌ» واحد کیلئے آیا۔
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے ایک شخص «قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا» پڑھ کر اس کے معنی دریافت کرتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «قِسِسِیْنٌ» کو خانقاہوں اور غیر آباد جگہوں میں چھوڑ مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «صدیقین وَرُهْبَانًا» پڑھایا ہے۔ [طبرانی کبیر:6175:ضعیف جدا]
الغرض ان کے تین اوصاف یہاں بیان ہوئے ہیں ان میں عالموں کا ہونا، ان میں عابدوں کا ہونا، ان میں تواضع فروتنی اور عاجزی کا ہونا۔
صفحہ نمبر2410
ایمان والو کی پہچان ٭٭
اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لیے قرآن سنتے ہی دل موم ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ آیتیں نجاشی رحمة الله اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12330:مرسل]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”کچھ لوگ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بے تحاشا رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریاف فرمایا کہ کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے؟ انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔“ [طبرانی کبیر:12455:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”شاہدوں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی تبلیغ کی شہادت ہے۔“
صفحہ نمبر2411
پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» [3-آل عمران:199] یعنی ” اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں “۔
ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی ہے «اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ اُولٰىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» [28۔ القصص:52 - 55] ۔ کہ ” یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں “۔
پس یہاں بھی فرمایا کہ ” وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے تروتازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکوکار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے “۔
صفحہ نمبر2412
ایمان والو کی پہچان ٭٭
اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لیے قرآن سنتے ہی دل موم ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ آیتیں نجاشی رحمة الله اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12330:مرسل]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”کچھ لوگ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بے تحاشا رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریاف فرمایا کہ کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے؟ انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔“ [طبرانی کبیر:12455:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”شاہدوں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی تبلیغ کی شہادت ہے۔“
صفحہ نمبر2411
پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» [3-آل عمران:199] یعنی ” اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں “۔
ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی ہے «اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ اُولٰىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» [28۔ القصص:52 - 55] ۔ کہ ” یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں “۔
پس یہاں بھی فرمایا کہ ” وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے تروتازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکوکار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے “۔
صفحہ نمبر2412
ایمان والو کی پہچان ٭٭
اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لیے قرآن سنتے ہی دل موم ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ آیتیں نجاشی رحمة الله اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12330:مرسل]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”کچھ لوگ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بے تحاشا رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریاف فرمایا کہ کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے؟ انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔“ [طبرانی کبیر:12455:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”شاہدوں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی تبلیغ کی شہادت ہے۔“
صفحہ نمبر2411
پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» [3-آل عمران:199] یعنی ” اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں “۔
ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی ہے «اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ اُولٰىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» [28۔ القصص:52 - 55] ۔ کہ ” یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں “۔
پس یہاں بھی فرمایا کہ ” وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے تروتازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکوکار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے “۔
صفحہ نمبر2412
ایمان والو کی پہچان ٭٭
اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لیے قرآن سنتے ہی دل موم ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ آیتیں نجاشی رحمة الله اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:12330:مرسل]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”کچھ لوگ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بے تحاشا رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریاف فرمایا کہ کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے؟ انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔“ [طبرانی کبیر:12455:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”شاہدوں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی تبلیغ کی شہادت ہے۔“
صفحہ نمبر2411
پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» [3-آل عمران:199] یعنی ” اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں “۔
ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی ہے «اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ اُولٰىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» [28۔ القصص:52 - 55] ۔ کہ ” یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں “۔
پس یہاں بھی فرمایا کہ ” وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے تروتازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکوکار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے “۔
صفحہ نمبر2412
راہبانیت (خانقاہ نشینی) اسلام میں ممنوع ہے ٭٭
ابن ابی حاتم میں ہے کہ چند صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا کہ ہم خصی ہو جائیں، دنیوی لذتوں کو ترک کر دیں، بستی چھوڑ کر جنگلوں میں جا کر تارک دنیا لوگوں کی طرح زندگی یاد الٰہی میں بسر کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی یہ باتیں معلوم ہوگئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یاد فرمایا اور ان سے پوچھا، انہوں نے اقرار کیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دیکھ نہیں رہے؟ کہ میں نفلی روزے رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ رات کو نفلی نماز پڑھتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ میں نے نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو میرے طریقے پر ہو وہ تو میرا ہے اور جو میری سنتوں کو نہ لے وہ میرا نہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12350]
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ لوگوں نے امہات المؤمنین سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کی نسبت سوال کیا پھر بعض نے کہا کہ ہم گوشت نہیں کھائیں گے بعض نے کہا ہم نکاح نہیں کریں گے بعض نے کہا ہم بستر پر سوئیں گے ہی نہیں۔ جب یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ان میں سے بعض یوں کہتے ہیں حالانکہ میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، سوتا بھی ہوں اور تہجد بھی پڑھتا ہوں، گوشت بھی کھاتا ہوں اور نکاح بھی کئے ہوئے ہوں جو میری سنت سے منہ موڑے وہ میرا نہیں ۔ [صحیح بخاری:5063]
ترمذی وغیرہ میں ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ گوشت کھانے سے میری قوت باہ بڑھ جاتی ہے اس لیے میں نے اپنے اوپر گوشت کو حرام کر لیا ہے اس پر یہ آیت اتری ۔ [سنن ترمذي:3054، قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سند سے بھی یہ روایت مرسلاً مروی ہے اور موقوفاً بھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بخاری و مسلم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی میں جہاد کرتے تھے اور ہمارے ساتھ ہماری بیویاں نہیں ہوتی تھیں تو ہم نے کہا اچھا ہوگا اگر ہم خصی ہوجائیں لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روکا اور مدت معینہ تک کیلئے کپڑے کے بدلے پر نکاح کرنے کی رخصت ہمیں عطا فرمائی پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہی آیت پڑھی ۔ [صحیح بخاری:4615] یہ یاد رہے کہ یہ نکاح کا واقعہ متعہ کی حرمت سے پہلے کا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
معقل بن مقرن نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو کہا کہ ”میں نے تو اپنا بستر اپنے اوپر حرام کر لیا ہے“، تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے کھانا لایا جاتا ہے تو ایک شخص اس مجمع سے الگ ہو جاتا ہے آپ رضی اللہ عنہ اسے بلاتے ہیں کہ ”آؤ ہمارے ساتھ کھا لو۔“ وہ کہتا ہے میں نے تو اس چیز کا کھانا اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”آؤ کھالو اپنی قسم کا کفارہ دے دینا“، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1187/4:صحیح]
صفحہ نمبر2416
ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے گھر کوئی مہمان آئے آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے رات کو جب واپس گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ گھر والوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے انتظار میں اب تک مہمان کو بھی کھانا نہیں کھلایا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو بہت غصہ آیا اور فرمایا ”تم نے میری وجہ سے مہمان کو بھوکا رکھا، یہ کھانا مجھ پر حرام ہے۔“ بیوی صاحبہ بھی ناراض ہو کر یہی کہہ بیٹھیں۔ مہمان نے دیکھ کر اپنے اوپر بھی حرام کرلیا اب تو عبداللہ بہت گھبرائے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور سب سے کہا چلو بسم اللہ کرو۔ کھا پی لیا پھر جب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے سارا واقعہ کہہ سنایا پس یہ آیت اتری، لیکن اثر منقطع ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1187/4:مرسل و ضعیف]
صحیح بخاری شریف میں اس جیسا ایک قصہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اپنے مہمانوں کے ساتھ کا ہے۔ [صحیح بخاری:602] اس سے امام شافعی رحمة الله وغیرہ علماء کا وہ قول ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص علاوہ عورتوں کے کسی اور کھانے پینے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو وہ اس پر حرام نہیں ہو جاتی اور نہ اس پر اس میں کوئی کفارہ ہے، دلیل یہ آیت اور دوسری وہ حدیث ہے جو اوپر گزر چکی کہ جس شخص نے اپنے اوپر گوشت حرام کر لیا تھا اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کفارے کا حکم نہیں فرمایا۔
لیکن امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے ہم خیال جماعت علماء کا خیال ہے کہ جو شخص کھانے پہننے وغیرہ کی کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو اس پر قسم کا کفارہ ہے۔ جیسے اس شخص پر جو کسی چیز کے ترک پر قسم کھالے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہی ہے اور اس کی دلیل یہ آیت «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [66-التحریم:2-1] بھی ہے اور اس آیت کے بعد ہی کفارہ قسم کا ذکر بھی اسی امر کا مقتضی ہے کہ یہ حرمت قائم مقام قسم کے ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”بعض حضرات نے ترک دنیا کا، خصی ہو جانے کا اور ٹاٹ پہننے کا عزم مصمم کر لیا اس پر یہ آیتیں اتریں۔“
ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون، علی بن ابی طالب، عبداللہ بن مسعود، مقداد بن اسود، سالم مولی، ابی حذیفہ رضی اللہ عنہم وغیرہ ترک دنیا کا ارادہ کر کے گھروں میں بیٹھ رہے باہر آنا جانا ترک کر دیا عورتوں سے علیحدگی اختیار کرلی ٹاٹ پہننے لگے اچھا کھانا اور اچھا پہننا حرام کرلیا اور بنی اسرائیل کے عابدوں کی وضع کرلی بلکہ ارادہ کرلیا کہ خصی ہو جائیں تاکہ یہ طاقت ہی سلب ہو جائے اور یہ بھی نیت کرلی کہ تمام راتیں عبادت میں اور تمام دن روزے میں گزاریں گے اس پر یہ آیت اتری یعنی یہ خلاف سنت ہے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر فرمایا کہ تمہاری جانوں کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے۔ نفل روزے رکھو اور کبھی کبھی چھوڑ بھی دو۔ نفل نماز رات کو پڑھو اور کچھ دیر سو بھی جاؤ جو ہماری سنت کو چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں ۔ اس پر ان بزرگوں نے فرمایا یا اللہ ہم نے سنا اور جو فرمان ہوا اس پر ہماری گردنیں خم ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12352:مرسل و ضعیف]
یہ واقعہ بہت سے تابعین سے مرسل سندوں سے مروی ہے۔ اس کی شاہد وہ مرفوع حدیث بھی ہے جو اوپر بیان ہو چکی۔ «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ» ۔
صفحہ نمبر2417
ابن جریر میں ہے کہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے وعظ کیا اور اس میں خوف اور ڈر کا ہی بیان تھا اسے سن کر دس صحابیوں نے جن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن مظعون وغیرہ تھے آپس میں کہا کہ ہمیں تو کوئی بڑے بڑے طریقے عبادت کے اختیار کرنا چاہئیں نصرانیوں کو دیکھو کہ انہوں نے اپنے نفس پر بہت سی چیزیں حرام کر رکھی ہیں اس پر کسی نے گوشت اور چربی وغیرہ کھانا اپنے اوپر حرام کیا، کسی نے دن کو کھانا بھی حرام کرلیا، کسی نے رات کی نیند اپنے اوپر حرام کرلی، کسی نے عورتوں سے مباشرت حرام کرلی۔ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے میل جول اسی بنا پر ترک کر دیا۔ میاں بیوی اپنے صحیح تعلقات سے الگ رہنے لگے۔
ایک دن یہ بیوی صاحبہ خولہ رضی اللہ عنہا، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی تھیں انہیں پراگندہ حالت میں دیکھ کر سب نے پوچھا کہ تم نے اپنا یہ حلیہ کیا بنا رکھا ہے؟ نہ کنگھی نہ چوٹی کی خبر ہے نہ لباس ٹھیک ٹھاک ہے نہ صفائی اور خوبصورتی کا خیال ہے؟ کیا بات ہے؟
خولہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا مجھے اب اس بناؤ سنگار کی ضرورت ہی کیا رہی؟ اتنی مدت ہوئی جو میرے میاں مجھ سے ملے ہی نہیں نہ کبھی انہوں نے میرا کپڑا ہٹایا، یہ سن کر اور بیویاں ہنسنے لگیں اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دریاف فرمایا کہ یہ ہنسی کیسی ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سارا واقعہ بیان فرمایا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت آدمی بھیج کر عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور فرمایا یہ کیا قصہ ہے؟ عثمان رضی اللہ عنہ نے کل واقعہ بیان کرکے کہا کہ میں نے اسے اس لیے چھوڑ رکھا ہے کہ اللہ کی عبادت دلچسپی اور فارغ البالی سے کر سکوں بلکہ میرا ارادہ ہے کہ میں خصی ہو جاؤں تاکہ عورتوں کے قابل ہی نہ رہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے قسم دیتا ہوں جا اپنی بیوی سے میل کرلے اور اس سے بات چیت کر ۔ جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تو میں روزے سے ہوں۔ فرمایا: جاؤ روزہ توڑ ڈالو ، چنانچہ انہوں نے حکم برداری کی، روزہ توڑ دیا اور بیوی سے بھی ملے۔
اب پھر جو سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا آئیں تو وہ اچھی ہئیت میں تھیں۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ہنس کر پوچھا ”کہو اب کیا حال ہے؟“ جواب دیا کہ ”اب عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا عہد توڑ دیا ہے اور کل وہ مجھ سے ملے بھی۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں فرمایا: لوگو یہ تمہارا کیا حال ہے کہ کوئی بیویاں حرام کر رہا ہے، کوئی کھانا، کوئی سونا۔ تم نہیں دیکھتے کہ میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں، افطار بھی کرتا ہوں اور روزے سے بھی رہتا ہوں۔ عورتوں سے ملتا بھی ہوں نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو مجھ سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں ہے ، اس پر یہ آیت اتری۔
صفحہ نمبر2418
”حد سے نہ گزرو“ سے مطلب یہ ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کو خصی نہیں ہونا چاہیئے۔ یہ حد سے گزر جانا ہے اور ان بزرگوں کو اپنی قسموں کا کفارہ ادا کرنے کا حکم ہوا اور فرمایا آیت «لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ» [تفسیر ابن جریر الطبری:12349]
پس «لَا تَعْتَدُوا» سے مراد یا تو یہ ہے کہ ” اللہ نے جن چیزوں کو تمہارے لیے مباح کیا ہے تم انہیں اپنے اوپر حرام کرکے تنگی نہ کرو “ اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ” حلال بقدر کفایت لے لو اور اس حد سے آگے نہ نکل جاؤ “۔
جیسے فرمایا «وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا» [7-الأعراف:31] ” کھاؤ پیو لیکن حد سے نہ بڑھو “۔
ایک اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا» [25-الفرقان:67] ” ایمانداروں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ خرچ کرنے میں اسراف اور بخیلی کے درمیان درمیان رہتے ہیں “۔
پس افراط و تفریط اللہ کے نزدیک بری بات ہے اور درمیانی روش رب کو پسند ہے۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا ” حد سے گزر جانے والوں کو اللہ ناپسند فرماتا ہے “۔
پھر فرمایا ” اللہ تعالیٰ جو حلال و طیب چیزیں تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ پیو اور اپنے تمام امور میں اللہ سے ڈرتے رہو اس کی اطاعت اور طلب رضا مندی میں رہا کرو۔ اس کی نافرمانی اور اس کی حرام کردہ چیزوں سے الگ رہو۔ اسی اللہ پر تم یقین رکھتے ہو، اسی پر تمہارا ایمان ہے پس ہر امر میں اس کا لحاظ رکھو “۔
صفحہ نمبر2419
راہبانیت (خانقاہ نشینی) اسلام میں ممنوع ہے ٭٭
ابن ابی حاتم میں ہے کہ چند صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا کہ ہم خصی ہو جائیں، دنیوی لذتوں کو ترک کر دیں، بستی چھوڑ کر جنگلوں میں جا کر تارک دنیا لوگوں کی طرح زندگی یاد الٰہی میں بسر کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی یہ باتیں معلوم ہوگئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یاد فرمایا اور ان سے پوچھا، انہوں نے اقرار کیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دیکھ نہیں رہے؟ کہ میں نفلی روزے رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ رات کو نفلی نماز پڑھتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ میں نے نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو میرے طریقے پر ہو وہ تو میرا ہے اور جو میری سنتوں کو نہ لے وہ میرا نہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12350]
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ لوگوں نے امہات المؤمنین سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کی نسبت سوال کیا پھر بعض نے کہا کہ ہم گوشت نہیں کھائیں گے بعض نے کہا ہم نکاح نہیں کریں گے بعض نے کہا ہم بستر پر سوئیں گے ہی نہیں۔ جب یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ان میں سے بعض یوں کہتے ہیں حالانکہ میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، سوتا بھی ہوں اور تہجد بھی پڑھتا ہوں، گوشت بھی کھاتا ہوں اور نکاح بھی کئے ہوئے ہوں جو میری سنت سے منہ موڑے وہ میرا نہیں ۔ [صحیح بخاری:5063]
ترمذی وغیرہ میں ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ گوشت کھانے سے میری قوت باہ بڑھ جاتی ہے اس لیے میں نے اپنے اوپر گوشت کو حرام کر لیا ہے اس پر یہ آیت اتری ۔ [سنن ترمذي:3054، قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سند سے بھی یہ روایت مرسلاً مروی ہے اور موقوفاً بھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بخاری و مسلم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی میں جہاد کرتے تھے اور ہمارے ساتھ ہماری بیویاں نہیں ہوتی تھیں تو ہم نے کہا اچھا ہوگا اگر ہم خصی ہوجائیں لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روکا اور مدت معینہ تک کیلئے کپڑے کے بدلے پر نکاح کرنے کی رخصت ہمیں عطا فرمائی پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہی آیت پڑھی ۔ [صحیح بخاری:4615] یہ یاد رہے کہ یہ نکاح کا واقعہ متعہ کی حرمت سے پہلے کا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
معقل بن مقرن نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو کہا کہ ”میں نے تو اپنا بستر اپنے اوپر حرام کر لیا ہے“، تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے کھانا لایا جاتا ہے تو ایک شخص اس مجمع سے الگ ہو جاتا ہے آپ رضی اللہ عنہ اسے بلاتے ہیں کہ ”آؤ ہمارے ساتھ کھا لو۔“ وہ کہتا ہے میں نے تو اس چیز کا کھانا اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”آؤ کھالو اپنی قسم کا کفارہ دے دینا“، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1187/4:صحیح]
صفحہ نمبر2416
ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے گھر کوئی مہمان آئے آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے رات کو جب واپس گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ گھر والوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے انتظار میں اب تک مہمان کو بھی کھانا نہیں کھلایا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو بہت غصہ آیا اور فرمایا ”تم نے میری وجہ سے مہمان کو بھوکا رکھا، یہ کھانا مجھ پر حرام ہے۔“ بیوی صاحبہ بھی ناراض ہو کر یہی کہہ بیٹھیں۔ مہمان نے دیکھ کر اپنے اوپر بھی حرام کرلیا اب تو عبداللہ بہت گھبرائے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور سب سے کہا چلو بسم اللہ کرو۔ کھا پی لیا پھر جب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے سارا واقعہ کہہ سنایا پس یہ آیت اتری، لیکن اثر منقطع ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1187/4:مرسل و ضعیف]
صحیح بخاری شریف میں اس جیسا ایک قصہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اپنے مہمانوں کے ساتھ کا ہے۔ [صحیح بخاری:602] اس سے امام شافعی رحمة الله وغیرہ علماء کا وہ قول ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص علاوہ عورتوں کے کسی اور کھانے پینے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو وہ اس پر حرام نہیں ہو جاتی اور نہ اس پر اس میں کوئی کفارہ ہے، دلیل یہ آیت اور دوسری وہ حدیث ہے جو اوپر گزر چکی کہ جس شخص نے اپنے اوپر گوشت حرام کر لیا تھا اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کفارے کا حکم نہیں فرمایا۔
لیکن امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے ہم خیال جماعت علماء کا خیال ہے کہ جو شخص کھانے پہننے وغیرہ کی کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو اس پر قسم کا کفارہ ہے۔ جیسے اس شخص پر جو کسی چیز کے ترک پر قسم کھالے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہی ہے اور اس کی دلیل یہ آیت «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [66-التحریم:2-1] بھی ہے اور اس آیت کے بعد ہی کفارہ قسم کا ذکر بھی اسی امر کا مقتضی ہے کہ یہ حرمت قائم مقام قسم کے ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”بعض حضرات نے ترک دنیا کا، خصی ہو جانے کا اور ٹاٹ پہننے کا عزم مصمم کر لیا اس پر یہ آیتیں اتریں۔“
ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون، علی بن ابی طالب، عبداللہ بن مسعود، مقداد بن اسود، سالم مولی، ابی حذیفہ رضی اللہ عنہم وغیرہ ترک دنیا کا ارادہ کر کے گھروں میں بیٹھ رہے باہر آنا جانا ترک کر دیا عورتوں سے علیحدگی اختیار کرلی ٹاٹ پہننے لگے اچھا کھانا اور اچھا پہننا حرام کرلیا اور بنی اسرائیل کے عابدوں کی وضع کرلی بلکہ ارادہ کرلیا کہ خصی ہو جائیں تاکہ یہ طاقت ہی سلب ہو جائے اور یہ بھی نیت کرلی کہ تمام راتیں عبادت میں اور تمام دن روزے میں گزاریں گے اس پر یہ آیت اتری یعنی یہ خلاف سنت ہے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر فرمایا کہ تمہاری جانوں کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے۔ نفل روزے رکھو اور کبھی کبھی چھوڑ بھی دو۔ نفل نماز رات کو پڑھو اور کچھ دیر سو بھی جاؤ جو ہماری سنت کو چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں ۔ اس پر ان بزرگوں نے فرمایا یا اللہ ہم نے سنا اور جو فرمان ہوا اس پر ہماری گردنیں خم ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:12352:مرسل و ضعیف]
یہ واقعہ بہت سے تابعین سے مرسل سندوں سے مروی ہے۔ اس کی شاہد وہ مرفوع حدیث بھی ہے جو اوپر بیان ہو چکی۔ «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ» ۔
صفحہ نمبر2417
ابن جریر میں ہے کہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے وعظ کیا اور اس میں خوف اور ڈر کا ہی بیان تھا اسے سن کر دس صحابیوں نے جن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن مظعون وغیرہ تھے آپس میں کہا کہ ہمیں تو کوئی بڑے بڑے طریقے عبادت کے اختیار کرنا چاہئیں نصرانیوں کو دیکھو کہ انہوں نے اپنے نفس پر بہت سی چیزیں حرام کر رکھی ہیں اس پر کسی نے گوشت اور چربی وغیرہ کھانا اپنے اوپر حرام کیا، کسی نے دن کو کھانا بھی حرام کرلیا، کسی نے رات کی نیند اپنے اوپر حرام کرلی، کسی نے عورتوں سے مباشرت حرام کرلی۔ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے میل جول اسی بنا پر ترک کر دیا۔ میاں بیوی اپنے صحیح تعلقات سے الگ رہنے لگے۔
ایک دن یہ بیوی صاحبہ خولہ رضی اللہ عنہا، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی تھیں انہیں پراگندہ حالت میں دیکھ کر سب نے پوچھا کہ تم نے اپنا یہ حلیہ کیا بنا رکھا ہے؟ نہ کنگھی نہ چوٹی کی خبر ہے نہ لباس ٹھیک ٹھاک ہے نہ صفائی اور خوبصورتی کا خیال ہے؟ کیا بات ہے؟
خولہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا مجھے اب اس بناؤ سنگار کی ضرورت ہی کیا رہی؟ اتنی مدت ہوئی جو میرے میاں مجھ سے ملے ہی نہیں نہ کبھی انہوں نے میرا کپڑا ہٹایا، یہ سن کر اور بیویاں ہنسنے لگیں اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دریاف فرمایا کہ یہ ہنسی کیسی ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سارا واقعہ بیان فرمایا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت آدمی بھیج کر عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور فرمایا یہ کیا قصہ ہے؟ عثمان رضی اللہ عنہ نے کل واقعہ بیان کرکے کہا کہ میں نے اسے اس لیے چھوڑ رکھا ہے کہ اللہ کی عبادت دلچسپی اور فارغ البالی سے کر سکوں بلکہ میرا ارادہ ہے کہ میں خصی ہو جاؤں تاکہ عورتوں کے قابل ہی نہ رہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے قسم دیتا ہوں جا اپنی بیوی سے میل کرلے اور اس سے بات چیت کر ۔ جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تو میں روزے سے ہوں۔ فرمایا: جاؤ روزہ توڑ ڈالو ، چنانچہ انہوں نے حکم برداری کی، روزہ توڑ دیا اور بیوی سے بھی ملے۔
اب پھر جو سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا آئیں تو وہ اچھی ہئیت میں تھیں۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ہنس کر پوچھا ”کہو اب کیا حال ہے؟“ جواب دیا کہ ”اب عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا عہد توڑ دیا ہے اور کل وہ مجھ سے ملے بھی۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں فرمایا: لوگو یہ تمہارا کیا حال ہے کہ کوئی بیویاں حرام کر رہا ہے، کوئی کھانا، کوئی سونا۔ تم نہیں دیکھتے کہ میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں، افطار بھی کرتا ہوں اور روزے سے بھی رہتا ہوں۔ عورتوں سے ملتا بھی ہوں نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو مجھ سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں ہے ، اس پر یہ آیت اتری۔
صفحہ نمبر2418
”حد سے نہ گزرو“ سے مطلب یہ ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کو خصی نہیں ہونا چاہیئے۔ یہ حد سے گزر جانا ہے اور ان بزرگوں کو اپنی قسموں کا کفارہ ادا کرنے کا حکم ہوا اور فرمایا آیت «لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ» [تفسیر ابن جریر الطبری:12349]
پس «لَا تَعْتَدُوا» سے مراد یا تو یہ ہے کہ ” اللہ نے جن چیزوں کو تمہارے لیے مباح کیا ہے تم انہیں اپنے اوپر حرام کرکے تنگی نہ کرو “ اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ” حلال بقدر کفایت لے لو اور اس حد سے آگے نہ نکل جاؤ “۔
جیسے فرمایا «وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا» [7-الأعراف:31] ” کھاؤ پیو لیکن حد سے نہ بڑھو “۔
ایک اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا» [25-الفرقان:67] ” ایمانداروں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ خرچ کرنے میں اسراف اور بخیلی کے درمیان درمیان رہتے ہیں “۔
پس افراط و تفریط اللہ کے نزدیک بری بات ہے اور درمیانی روش رب کو پسند ہے۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا ” حد سے گزر جانے والوں کو اللہ ناپسند فرماتا ہے “۔
پھر فرمایا ” اللہ تعالیٰ جو حلال و طیب چیزیں تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ پیو اور اپنے تمام امور میں اللہ سے ڈرتے رہو اس کی اطاعت اور طلب رضا مندی میں رہا کرو۔ اس کی نافرمانی اور اس کی حرام کردہ چیزوں سے الگ رہو۔ اسی اللہ پر تم یقین رکھتے ہو، اسی پر تمہارا ایمان ہے پس ہر امر میں اس کا لحاظ رکھو “۔
صفحہ نمبر2419
غیر ارادی قسمیں اور کفارہ ٭٭
لغو قسمیں کیا ہوتی ہیں؟ ان کے کیا احکام ہیں؟ یہ سب سورۃ البقرہ کی تفسیر [2-البقرة:225] میں بالتفصیل بیان کر چکے ہیں اس لیے یہاں ان کے دوہرانے کی ضرورت نہیں «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ» ۔ مقصد یہ ہے کہ روانی کلام میں انسان کے منہ سے بغیر قصد کے جو قسمیں عادتاً نکل جائیں وہ لغو قسمیں ہیں۔
صفحہ نمبر2421
امام شافعی کارحمہ اللہ یہی مذہب ہے، مذاق میں قسم کھا بیٹھنا، اللہ کی نافرمانی کے کرنے پر قسم کھا بیٹھنا، زیادتی گمان کی بنا پر قسم کھا بیٹھنا بھی اس کی تفسیر میں کہا گیا ہے۔ غصے اور عضب میں، نسیان اور بھول چوک سے کھانے پینے پہننے اوڑھنے کی چیزوں میں قسم کھا بیٹھنا مراد ہے، اس قول کی دلیل میں آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ» [5-المائدہ:87] کو پیش کیا جاتا ہے۔
بالکل صحیح بات یہ ہے کہ لغو قسموں سے مراد بغیر قصد کی قسمیں ہیں اور اس کی دلیل «وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ» [5-المائدہ:89] ہے یعنی ” جو قسمیں بالقصد اور بالعزم ہوں ان پر گرفٹ ہے اور ان پر کفارہ ہے “۔
کفارہ دس مسکینوں کا کھانا جو محتاج فقیر ہوں جن کے پاس بقدر کفایت کے نہ ہو اوسط درجے کا کھانا جو عموماً گھر میں کھایا جاتا ہو وہی انہیں کھلا دینا۔ مثلاً دودھ روٹی، گھی روٹی، زیتون کا تیل روٹی۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ بعض لوگوں کی خوراک بہت اعلی ہوتی ہے بعض لوگ بہت ہی ہلکی غذا کھاتے ہیں تو نہ وہ ہو نہ یہ ہو، تکلف بھی نہ ہو اور بخل بھی نہ ہو، سختی اور فراخی کے درمیان ہو، مثلاً گوشت روٹی ہے، سرکہ اور روٹی ہے، روٹی اور کھجوریں ہیں۔ جیسی جس کی درمیانی حثییت، اسی طرح قلت اور کثرت کے درمیان ہو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ صبح شام کا کھانا، حسن رحمة الله اور محمد بن حنفیہ رحمة الله کا قول ہے کہ دس مسکینوں کو ایک ساتھ بٹھا کر روٹی گوشت کھلا دینا کافی ہے یا اپنی حیثیت کے مطابق روٹی کسی اور چیز سے کھلا دینا۔ بعض نے کہا ہے ہر مسکین کو آدھا صاع گہیوں کھجوریں وغیرہ دے دینا، امام ابوحنیفہ رحمة الله کا قول ہے کہ گہیوں تو آدھا صاع کافی ہے اور اس کے علاوہ ہر چیز کا پورا صاع دیدے۔
صفحہ نمبر2422
ابن مردویہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجوروں کا کفارے میں ایک ایک شخص کو دیا ہے اور لوگوں کو بھی یہی حکم فرمایا ہے۔ لیکن جس کی اتنی حثییت نہ ہو وہ آدھا صاع گہیوں کا دیدے ۔ یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے۔ [سنن ابن ماجہ:2112،قال الشيخ الألباني:ضعیف] لیکن اس کا ایک راوی بالکل ضعیف ہے جس کے ضعف پر محدثین کا اتفاق ہے۔ در قطنی نے اسے متروک کہا ہے اس کا نام عمر بن عبداللہ ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”ہر مسکین کو ایک مد گہیوں مع سالن کے دیدے“، امام شافعی رحمة الله بھی یہی فرماتے ہیں لیکن سالن کا ذکر نہیں ہے اور دلیل ان کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ رمضان شریف کے دن میں اپنی بیوی سے جماع کرنے والے کو ایک کمتل (خاص پیمانہ) میں سے ساٹھ مسکینوں کو کھلانے کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا ۔ [صحیح بخاری:1936] اس میں پندرہ صاع آتے ہیں تو ہر مسکین کے لیے ایک مد ہوا۔
صفحہ نمبر2423
ابن مردویہ کی ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کے کفارے میں گہیوں کا ایک مد مقرر کیا ہے لیکن اس کی اسناد بھی ضعیف ہیں کیونکہ نضیر بن زرارہ کوفی کے بارے میں امام ابوحاتم رازی رحمة الله کا قول ہے کہ وہ مجہول ہے گو اس سے بہت سے لوگوں نے روایت کی ہے اور امام ابن حبان رحمة الله نے اسے ثقہ کہا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»، پھر ان کے استاد عمری بھی ضعیف ہیں۔
امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ گہیوں کا ایک مد اور باقی اناج کے دو مد دے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
(یہ یاد رہے کہ صاع انگریزی اسی روپے بھر کے سیر کے حساب سے تقریباً پونے تین سیر کا ہوتا ہے اور ایک صاع کے چار مد ہوتے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»، مترجم)
یا ان دس کو کپڑا پہنانا، امام شافعی رحمة الله کا قول ہے کہ ہر ایک کو خواہ کچھ ہی کپڑا دیدے جس پر کپڑے کا اطلاق ہوتا ہو کافی ہے، مثلاً کرتہ ہے، پاجامہ ہے، تہمد ہے، پگڑی ہے یا سر پر لپیٹنے کا رومال ہے۔ پھر امام صاحب کے شاگردوں میں سے بعض تو کہتے ہیں ٹوپی بھی کافی ہے۔
صفحہ نمبر2424
بعض کہتے ہیں یہ ناکافی ہے، کافی کہنے والے یہ دلیل دیتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے جب اس کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اگر کوئی وفد کسی امیر کے پاس آئے اور وہ انہیں ٹوپیاں دے تو عرب تو یہی کہیں گے کہ «قَدْ کُسُوْا» انہیں کپڑے پہنائے گئے۔“ لیکن اس کی اسناد بھی ضعیف ہیں کیونکہ محمد بن زبیر ضعیف ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1193/4:موقوف و ضعیف]
موزے پہنانے کے بارے میں بھی اختلاف ہے، صحیح یہ ہے کہ جائز نہیں۔ امام مالک اور امام احمد رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ”کم سے کم اتنا اور ایسا کپڑا ہو کہ اس میں نماز جائز ہو جائے مرد کو دیا ہے تو اس کی اور عورت کو دیا ہے تو اس کی۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2425
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”عبا ہو یا شملہ ہو۔“ مجاہد رحمة الله فرماتے ہیں ”ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ایک کپڑا ہو اور اس سے زیادہ جو ہو۔“
غرض کفارہ قسم میں ہر چیز سوائے جانگئے کے جائز ہے۔ بہت سے مفسرین فرماتے ہیں ایک ایک کپڑا ایک ایک مسکین کو دیدے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے ”ایسا کپڑا جو پورا کار آمد ہو مثلاً لحاف چادر وغیرہ نہ کہ کرتہ دوپٹہ وغیرہ۔“
ابن سیرین اور حسن رحمة الله علیہم دو دو کپڑے کہتے ہیں، سعید بن مسیب کہتے ہیں ”عمامہ جسے سر پر باندھے اور عبا جسے بدن پر پہنے۔“ ابوموسیٰ قسم کھاتے ہیں پھر اسے توڑتے ہیں تو دو کپڑے بحرین کے دے دیتے ہیں۔ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر مسکین کیلئے ایک عبا ۔ [میزان:8741:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے، یا ایک غلام کا آزاد کرنا، امام ابوحنیفہ رحمة الله تو فرماتے ہیں کہ یہ مطلق ہے کافر ہو یا مسلمان۔
صفحہ نمبر2426
امام شافعی رحمہ اللہ اور دوسرے بزرگان دین فرماتے ہیں ”اس کا مومن ہونا ضروری ہے کیونکہ قتل کے کفارے میں غلام کی آزادی کا حکم ہے اور وہ مقید ہے کہ وہ مسلمان ہونا چاہے“، دونوں کفاروں کا سبب چاہے جداگانہ ہے لیکن وجہ ایک ہی ہے اور اس کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جو مسلم وغیرہ میں ہے کہ معاویہ بن حکم اسلمی رضی اللہ عنہ کے ذمے ایک گردن آزاد کرنا تھی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے ساتھ ایک لونڈی لیے ہوئے آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سیاہ فام لونڈی سے دریافت فرمایا کہ اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا آسمان میں پوچھا ہم کون ہیں؟ جواب دیا کہ آپ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کرو یہ ایماندار عورت ہے ۔ [صحیح مسلم:537] پس ان تینوں کاموں میں سے جو بھی کر لے وہ قسم کا کفارہ ہو جائے گا اور کافی ہو گا اس پر سب کا اجماع ہے۔
قرآن کریم نے ان چیزوں کا بیان سب سے زیادہ آسان چیز سے شروع کیا ہے اور بتدریج اوپر کو پہنچایا ہے۔ پس سب سے سہل کھانا کھلانا ہے۔ پھر اس سے قدرے بھاری کپڑا پہنانا ہے اور اس سے بھی زیادہ بھاری غلام کو آزاد کرنا ہے۔ پس اس میں ادنٰی سے اعلٰی بہتر ہے۔ اب اگر کسی شخص کو ان تینون میں سے ایک کی بھی قدرت نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھ لے۔ سعید بن جبیر اور حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ ”جس کے پاس تین درہم ہوں وہ تو کھانا کھلا دے ورنہ روزے رکھ لے“، اور بعض متاخرین سے منقول ہے کہ ”یہ اس کے لیے ہے جس کے پاس ضروریات سے فاضل چیز نہ ہو معاش وغیرہ پونجی کے بعد جو فالتو ہو اس سے کفارہ ادا کرے۔“
صفحہ نمبر2427
امام ابن جریررحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس کے پاس اس دن کے اپنے اور اپنے بال بچوں کے کھانے سے کچھ بچے اس میں سے کفارہ ادا کرے۔“ قسم کے توڑنے کے کفارے کے روزے پے در پے رکھنے واجب ہیں یا مستحب ہیں اس میں دو قول ہیں ایک یہ کہ واجب نہیں، امام شافعی رحمة الله نے باب الایمان میں اسے صاف لفظوں میں کہا ہے۔
امام مالک رحمة الله کا قول بھی یہی ہے کیونکہ قرآن کریم میں روزوں کا حکم مطلق ہے تو خواہ پے در پے ہوں خواہ الگ الگ ہوں تو سب پر یہ صادق آتا ہے جیسے کہ رمضان کے روزوں کی قضاء کے بارے میں آیت «فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ» [2-البقرة:184] فرمایا گیا ہے وہاں بھی پے در پے کی یا علیحدہ علیحدہ کی قید نہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام میں ایک جگہ صراحت سے کہا ہے کہ قسم کے کفارے کے روزے پے در پے رکھنے چاہیئں یہی قول حنیفہ اور حنابلہ کا ہے۔
اس لیے کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ ان کی قرأت آیت «فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُّتَتَابِعَاتٍ» ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی یہی قرأت مروی ہے، اس صورت میں اگرچہ اس کا متواتر قرأت ہونا ثابت نہ ہو۔ تاہم خبر واحد یا تفسیر صحابہ رضی اللہ عنہم سے کم درجے کی تو یہ قرأت نہیں پس حکماً یہ بھی مرفوع ہے۔
ابن مردویہ کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اختیار ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تو اختیار پر ہے خواہ گردن آزاد کر خواہ کپڑا پہنا دے خواہ کھانا کھلا دے اور جو نہ پائے وہ پے در پے تین روزے رکھ لے ۔ [الدر المنشور للسیوطی:555/2:ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ ” تم جب قسم کھا کر توڑ دو تو یہ کفارہ ہے لیکن تمہیں اپنی قسموں کی حفاظت کرنی چاہیئے انہیں بغیر کفارے کے نہ چھوڑنا چاہیئے اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے اپنی آیتیں واضح طور پر بیان فرما رہا ہے تاکہ تم شکر گزاری کرو “۔
صفحہ نمبر2428
پانسہ بازی ، جوا اور شراب ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بعض چیزوں سے روکتا ہے۔ شراب کی ممانعت فرمائی، پھر جوئے کی روک کی۔ امیر المونین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”شطرنج بھی جوئے میں داخل ہے۔“ [ابن ابی حاتم]
عطاء، مجاہد اور طاؤس رحمہ اللہ علیہم سے یا ان میں سے دو سے مروی ہے کہ ”جوئے کی ہر چیز میسر میں داخل ہے گو بچوں کے کھیل کے طور پر ہو۔“
جاہلیت کے زمانے میں جوئے کا بھی عام رواج تھا جسے اسلام نے غارت کیا۔ ان کا ایک جوا یہ بھی تھا کہ گوشت کو بکری کے بدلے بیچتے تھے، پانسے پھینک کر مال یا پھل لینا بھی جوا ہے۔ قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو چیز ذکر اللہ اور نماز سے غافل کر دے وہ جوا ہے۔“
ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع غریب حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان پانسوں سے بچو جن سے لوگ کھیلا کرتے تھے، یہ بھی جوا ہے ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1196/4:ضعیف]
صفحہ نمبر2429
صحیح مسلم شریف میں ہے پانسوں سے کھیلنے والا گویا اپنے ہاتھوں کو سور کے خون اور گوشت میں آلودہ کرنے والا ہے ۔ [صحیح مسلم:2260]
سنن میں ہے کہ وہ اللہ اور رسول کا نافرمان ہے ۔ [سنن ابوداود:4938،قال الشيخ الألباني:حسن] سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا قول بھی اسی طرح مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»،
مسند میں ہے پانسوں سے کھیل کر نماز پڑھنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص قے اور گندگی سے اور سور کے خون سے وضو کر کے نماز ادا کرے ۔ [مسند احمد:370/5:ضعیف]
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک شطرنج اس سے بھی بری ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے شطرنج کا جوئے میں سے ہونا پہلے بیان ہو چکا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ تو کھلم کھلا اسے حرام بتاتے ہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ بھی اسے مکروہ بتاتے ہیں۔
صفحہ نمبر2430
«أَنصَابُ» ان پتھروں کو کہتے ہیں جن پر مشرکین اپنے جانور چڑھایا کرتے تھے اور انہیں وہیں ذبح کرتے تھے۔
«اَزْلاَمُ» ان تیروں کو کہتے ہیں جن میں وہ فال لیا کرتے تھے۔ ان سب چیزوں کی نسبت فرمایا کہ ” یہ اللہ کی ناراضگی کے اور شیطانی کام ہیں۔ یہ گناہ کے اور برائی کے کام ہیں تم ان شیطانی کاموں سے بچو انہیں چھوڑ دو تاکہ تم نجات پاؤ “۔
اس فقرے میں مسلمانوں کو ان کاموں سے روکنے کی ترغیب ہے۔ پھر رغبت آمیز دھمکی کے ساتھ مسلمانوں کو ان چیزوں سے روکا گیا ہے۔
صفحہ نمبر2431