Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-An'aam
Tafsir Ibn Kathir · The Cattle · 165 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
پشیمانی مگر جہنم دیکھ کر! ٭٭
قیامت کو جھٹلانے والوں کا نقصان ان کا افسوس اور ان کی ندامت و خجالت کا بیان ہو رہا ہے جو اچانک قیامت کے آ جانے کے بعد انہیں ہو گا۔ نیک اعمال کے ترک افسوس الگ، بد اعمالیوں پر پچھتاوا جدا ہے۔ «فِيهَا» کی ضمیر کا مرجع ممکن ہے «الْحَيَاةِ» ہو اور ممکن ہے «الْأَعْمَالِ» ہو اور ممکن ہے «الدَّارُ الْآخِرَةُ» ہو، ” یہ اپنے گناہوں کے بوجھ سے لدے ہوئے ہوں گے، اپنی بد کرداریاں اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے “۔
آہ! کیا برا بوجھ ہے؟ ابو مرزوق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر یا فاجر جب اپنی قبر سے اٹھے گا اسی وقت اس کے سامنے ایک شخص آئے گا جو نہایت بھیانک، خوفناک اور بدصورت ہو گا اس کے جسم سے تعفن والی سڑاند کی سخت بدبو آ رہی ہوگی وہ اس کے پاس جب پہنچے گا یہ دہشت و وحشت سے گھبرا کر اس سے پوچھے گا تو کون ہے؟ وہ کہے گا خواب! کیا تو مجھے پہچانتا نہیں؟
یہ جواب دے گا ہرگز نہیں صرف اتنا جانتا ہوں کہ تو نہایت بدصورت کریہہ منظر اور تیز بدبو والا ہے تجھ سے زیادہ بدصورت کوئی بھی نہ ہوگا، وہ کہے گا سن میں تیرا خبیث عمل ہوں جسے تو دنیا میں مزے لے کر کرتا رہا۔ سن تو دنیا میں مجھ پر سوار رہا اب کمر جھکا میں تجھ پر سوار ہو جاؤں گا چنانچہ وہ اس پر سوار ہو جائے گا یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ ” وہ لوگ اپنے بد اعمال کو اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہوں گے “۔
صفحہ نمبر2571
حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو بھی ظالم شخص قبر میں جاتا ہے اس کی لاش کے قبر میں پہنچتے ہی ایک شخص اس کے پاس جاتا ہے سخت بدصورت سخت بدبودار سخت میلے اور قابل نفرت لباس والا یہ اسے دیکھتے ہی کہتا ہے تو تو بڑا ہی بدصورت ہے بدبو دار ہے یہ کہتا ہے تیرے اعمال ایسے ہی گندے تھے وہ کہتا ہے تیرا لباس نہایت متعفن ہے، یہ کہتا ہے تیرے اعمال ایسے ہی قابل نفرت تھے وہ کہتا ہے اچھا بتا تو سہی اے منحوس تو ہے کون؟ یہ کہتا ہے تیرے عمل کا مجسمہ، اب یہ اس کے ساتھ ہی رہتا ہے اور اس کیلئے عذابوں کے ساتھ ہی ایک عذاب ہوتا ہے جب قیامت کے دن یہ اپنی قبر سے چلے گا تو یہ کہے گا ٹھہر جاؤ دنیا میں تو نے میری سواری لی ہے اب میں تیری سواری لوں گا چنانچہ وہ اس پر سوار ہو جاتا ہے اور اسے مارتا پیٹتا ذلت کے ساتھ جانوروں کی طرح ہنکاتا ہوا جہنم میں پہنچاتا ہے۔ یہی معنی ہیں اس آیت کے اس جملے کے ہیں۔“
دنیا کی زندگانی بجز کھیل تماشے کے ہے ہی کیا، آنکھ بند ہوئی اور خواب ختم، البتہ اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کیلئے آخرت کی زندگانی بڑی چیز ہے اور بہت ہی بہتر چیز ہے تمہیں کیا ہوگیا کہ تم عقل سے کام ہی نہیں لیتے؟
صفحہ نمبر2572
پشیمانی مگر جہنم دیکھ کر! ٭٭
قیامت کو جھٹلانے والوں کا نقصان ان کا افسوس اور ان کی ندامت و خجالت کا بیان ہو رہا ہے جو اچانک قیامت کے آ جانے کے بعد انہیں ہو گا۔ نیک اعمال کے ترک افسوس الگ، بد اعمالیوں پر پچھتاوا جدا ہے۔ «فِيهَا» کی ضمیر کا مرجع ممکن ہے «الْحَيَاةِ» ہو اور ممکن ہے «الْأَعْمَالِ» ہو اور ممکن ہے «الدَّارُ الْآخِرَةُ» ہو، ” یہ اپنے گناہوں کے بوجھ سے لدے ہوئے ہوں گے، اپنی بد کرداریاں اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے “۔
آہ! کیا برا بوجھ ہے؟ ابو مرزوق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر یا فاجر جب اپنی قبر سے اٹھے گا اسی وقت اس کے سامنے ایک شخص آئے گا جو نہایت بھیانک، خوفناک اور بدصورت ہو گا اس کے جسم سے تعفن والی سڑاند کی سخت بدبو آ رہی ہوگی وہ اس کے پاس جب پہنچے گا یہ دہشت و وحشت سے گھبرا کر اس سے پوچھے گا تو کون ہے؟ وہ کہے گا خواب! کیا تو مجھے پہچانتا نہیں؟
یہ جواب دے گا ہرگز نہیں صرف اتنا جانتا ہوں کہ تو نہایت بدصورت کریہہ منظر اور تیز بدبو والا ہے تجھ سے زیادہ بدصورت کوئی بھی نہ ہوگا، وہ کہے گا سن میں تیرا خبیث عمل ہوں جسے تو دنیا میں مزے لے کر کرتا رہا۔ سن تو دنیا میں مجھ پر سوار رہا اب کمر جھکا میں تجھ پر سوار ہو جاؤں گا چنانچہ وہ اس پر سوار ہو جائے گا یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ ” وہ لوگ اپنے بد اعمال کو اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہوں گے “۔
صفحہ نمبر2571
حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو بھی ظالم شخص قبر میں جاتا ہے اس کی لاش کے قبر میں پہنچتے ہی ایک شخص اس کے پاس جاتا ہے سخت بدصورت سخت بدبودار سخت میلے اور قابل نفرت لباس والا یہ اسے دیکھتے ہی کہتا ہے تو تو بڑا ہی بدصورت ہے بدبو دار ہے یہ کہتا ہے تیرے اعمال ایسے ہی گندے تھے وہ کہتا ہے تیرا لباس نہایت متعفن ہے، یہ کہتا ہے تیرے اعمال ایسے ہی قابل نفرت تھے وہ کہتا ہے اچھا بتا تو سہی اے منحوس تو ہے کون؟ یہ کہتا ہے تیرے عمل کا مجسمہ، اب یہ اس کے ساتھ ہی رہتا ہے اور اس کیلئے عذابوں کے ساتھ ہی ایک عذاب ہوتا ہے جب قیامت کے دن یہ اپنی قبر سے چلے گا تو یہ کہے گا ٹھہر جاؤ دنیا میں تو نے میری سواری لی ہے اب میں تیری سواری لوں گا چنانچہ وہ اس پر سوار ہو جاتا ہے اور اسے مارتا پیٹتا ذلت کے ساتھ جانوروں کی طرح ہنکاتا ہوا جہنم میں پہنچاتا ہے۔ یہی معنی ہیں اس آیت کے اس جملے کے ہیں۔“
دنیا کی زندگانی بجز کھیل تماشے کے ہے ہی کیا، آنکھ بند ہوئی اور خواب ختم، البتہ اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کیلئے آخرت کی زندگانی بڑی چیز ہے اور بہت ہی بہتر چیز ہے تمہیں کیا ہوگیا کہ تم عقل سے کام ہی نہیں لیتے؟
صفحہ نمبر2572
حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سچے ہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں “۔ فرماتا ہے کہ ” ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اس لغویت پر ملال نہ کرو “، «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» [34-فاطر:8] اور «لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [26-الشعراء:3] اور «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا» [18-الكهف:6] ” کیا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ لگا لیں گے؟ کہاں تک ان کے لیے حسرت و افسوس کریں گے؟ سمجھا دیجئیے اور ان کا معاملہ سپرد الہ کیجئے۔ یہ لوگ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نہیں جانتے بلکہ یہ تو حق کے دشمن ہیں “۔
چنانجہ ابوجہل نے صاف کہا تھا کہ ہم تجھے نہیں جھٹلاتے لیکن تو جو لے کر آیا ہے اسے نہیں مانتے، مستدرک حاکم کی روایت میں ہے کہ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي:3064،قال الشيخ الألباني:اسنادہ ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابوجہل کو حضور سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھ کر کسی نے اس سے کہا کہ اس بے دین سے تو مصافحہ کرتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے خوب علم ہے اور کامل یقین ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ہم صرف خاندانی بنا پر ان کی نبوت کے ماتحت نہیں ہوتے۔ ہم نے آج تک بنی عبد عناف کی تابعداری نہیں کی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:7239/4:مرسل و ضعیف] الغرض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ مانتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے بھاگتے تھے۔
صفحہ نمبر2574
امام محمد بن اسحٰق رحمتہ اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے کہ ”زہری رحمتہ اللہ علیہ اس قصے کو بیان کرتے ہوئے جس میں ابوجہل، ابوسفیان، صحر بن حرب، اخنس بن شریق کا رات کے وقت پوشیدہ طور پر آن کر ایک دوسرے کی بے خبری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زبانی قرآن سننا ہے، کہتے ہیں کہ ”ان لوگوں نے صبح تک قرآن سنا روشنی ذرا سی نمودار ہوئی تھی تو یہ واپس چلے۔ اتفاقاً ایک چوک میں ایک دوسرے سے ملاقات ہو گئی حیرت سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت یہاں کہاں؟ پھر ہر ایک دوسرے سے صاف صاف کہہ دیتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سننے کے لیے چپ چاپ آ گئے تھے۔
اب تینوں بیٹھ کر معاہدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ایسا نہ کرنا ورنہ اگر اوروں کو خبر ہوئی اور وہ آئے تو وہ تو سچے پکے مسلمان ہو جائیں گے۔ دوسری رات کو ہر ایک نے اپنے طور یہ گمان کرکے کہ کل رات کے وعدے کے مطابق وہ دونوں تو آئیں گے نہیں میں تنہا کیوں نہ جاؤں؟ میرے جانے کی کسے خبر ہوگی؟ اپنے گھر سے پچھلی رات کے اندھیرے اور سوفتے میں ہر ایک چلا اور ایک کونے میں دب کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تلاوت قرآن کا مزہ لیتا رہا اور صبح کے وقت واپس چلا۔
اتفاقاً آج بھی اسی جگہ تینوں کا میل ہو گیا۔ ہر ایک نے ایک دوسرے کو بڑی ملامت کی بہت طعن ملامت کی اور نئے سرے سے عہد کیا کہ اب ایسی حرکت نہیں کریں گے۔ لیکن تیسری شب پھر صبر نہ ہو سکا اور ہر ایک اسی طرح پوشیدہ طور پر پہنچا اور ہر ایک کو دوسرے کے آنے کا علم بھی ہو گیا، پھر جمع ہو کر اپنے تئیں برا بھلا کہنے لگے اور بڑی سخت قسمیں کھا کر قول قرار کئے کہ اب ایسا نہیں کریں گے۔ صبح ہوتے ہی اخنس بن شریق کپڑے پہن کر تیار ہو کر ابوسفیان بن حرب کے پاس اس کے گھر میں گیا اور کہنے لگا اے ابوحنظلہ ایمان سے بتاؤ سچ سچ کہو جو قرآن تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا اس کی بابت تمہاری اپنی ذاتی رائے کیا ہے؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ سنو! واللہ بہت سی آیتوں کے الفاظ معنی اور مطلب تو میں سمجھ گیا اور بہت سی آیتوں کو ان کی مراد کو میں جانتا ہی نہیں۔
صفحہ نمبر2575
اخنس نے کہا واللہ یہی حال میرا بھی ہے، اب یہاں سے اٹھ کر اخنس سیدھا ابوجہل کے پاس پہنچا اور کہنے لگا ابو الحکم تم سچ بتاؤ جو کچھ تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے ہو اس میں تمہارا خیال کیا ہے؟ اس نے کہا سن جو سنا ہے اسے تو ایک طرف رکھ دے بات یہ ہے کہ بنو عبد مناف اور ہم میں چشمک ہے وہ ہم سے اور ہم ان سے بڑھنا اور سبقت کرنا چاہتے ہیں اور مدت سے یہ رسہ کشی ہو رہی ہے، انہوں نے مہمانداریاں اور دعوتیں کیں تو ہم نے بھی کیں انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے عوام الناس کے ساتھ احسان و سلوک کئے تو ہم نے بھی اپنی تھیلیوں کے منہ کھول ڈالے گویا ہم کسی معاملہ میں ان سے کم نہیں رہے۔ اب جبکہ برابر کی ٹکر چلی جا رہی تھی تو انہوں نے کہا ہم میں ایک نبی ہے، سنو چاہے ادھر کی دنیا ادھر ہو جائے نہ تو ہم اس کی تصدیق کریں گے نہ مانیں گے۔ اخنس مایوس ہو گیا اور اٹھ کر چل دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:206/2:مرسل و ضعیف]
اسی آیت کی تفسیر میں ابن جریر میں ہے کہ بدر والے دن اخنس بن شریق نے قبیلہ بنو زہرہ سے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری قرابت کے ہیں تم ان کی ننہیال میں ہو تمہیں چاہئیے کہ اپنے بھانجے کی مدد کرو، اگر وہ واقعی نبی ہے تو مقابلہ بےسود ہی نہیں بلکہ سراسر نقصان دہ ہے اور بالفرض نہ بھی ہو تو بھی وہ تمہارا ہے، اچھا ٹھہرو دیکھو میں ابو الحکم (یعنی ابوجہل) سے بھی ملتا ہوں۔
صفحہ نمبر2576
سنو! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم غالب آگئے تو وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم سلامتی کے ساتھ واپس چلے جاؤ گے اور اگر تمہاری قوم غالب آگئی تو ان میں تو تم ہی ہو، اسی دن سے اس کا نام اخنس ہوا اصل نام ابی تھا۔ اب اخنس تنہائی میں ابوجہل سے ملا اور کہنے لگا سچ بتا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے نزدیک سچے ہیں یا جھوٹے؟ دیکھو یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی اور نہیں دل کی بات مجھ سے نہ چھپانا۔
اس نے کہا جب یہی بات ہے تو سو اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالکل سچے اور یقیناً صادق ہیں عمر بھر میں کسی چھوٹی سی چھوٹی بات میں کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ نہیں بولا۔ ہمارا رکنے اور مخالفت کرنے کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی ہے وہ یہ کہ جب بنو قصی کے خاندان میں جھنڈے اور پھریرے چلے گئے جب حج کے حاجیوں کے اور بیت اللہ شریف کے مہتمم و منتظم یہی ہو گئے پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ نبوت بھی اسی قبیلے میں چلی گئی تو اب اور قریشیوں کے لیے کون سی فضیلت باقی رہ گئی؟ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، پس آیات اللہ سے مراد ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
پھر دوبارہ تسلی دی جاتی ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کی تکذیب ایذاء رسانی وغیرہ پر صبر کیجئے جیسے اولوالعزم پیغمبروں علیہم السلام نے صبر کیا اور یقین مانئے کہ جس طرح انجام کار گزشہ نبیوں کا غلبہ رہا اور ان کے مخالفین تباہ و برباد ہوئے اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کرے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین مغلوب ہوں گے۔ دونوں جہان میں حقیقی بلندی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ہو گی۔ رب تو یہ بات فرما چکا ہے اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا “۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» [37۔الصافات:173-171] یعنی ” ہم تو پہلے سے ہی یہ فرما چکے ہیں کہ ہمارے رسولوں کو مدد دی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا “
اور آیت میں فرماتا ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ” اللہ تعالیٰ یہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے یقیناً اللہ تعالیٰ قوت ولا اور غلبہ والا ہے “۔
” ان نبیوں کے اکثر قصے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان ہو چکے ہیں ان کے حالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے ہیں کہ کس طرح ان کی نصرت و تائید ہوئی اور مخالفین پر انہیں کامیابی حاصل ہوئی “۔
صفحہ نمبر2577
پھر فرماتا ہے ” اگر ان کی یہ بےرخی تجھ پر گراں گزرتی ہے اگر تجھ سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ کھودلے اور جو معجزہ یہ تجھ سے مانگتے ہیں لا دے یا تیرے بس میں ہو تو کوئی زینہ لگا کر آسمان پر چڑھ جا اور وہاں سے ان کی چاہت کی کوئی نشانی لے آ۔ میں نے تجھے اتنی نشانیاں اس قدر معجزے دیئے ہیں کہ ایک اندھا بھی شک نہ کرسکے۔ اب ان کی طلب معجزات محض مذاق ہے اور عناد و ضد ہے کوئی ضرورت نہیں کہ تو انہیں ان کی چاہت کے معجزے ہر وقت دیکھاتا پھرے، یا اگر وہ تیرے بس کے نہ ہوں تو، تم غم کر کے رہو، اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر متفق کر دیتا، تجھے نادانوں میں نہ ملنا چاہیئے “۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [10-يونس:99] ” اگر رب چاہتا تو روئے زمین کی مخلوق کو مومن بنا دیتا “۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرص تھی کہ سب لوگ ایماندار بن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کریں تو رب نے فرما دیا کہ ” یہ سعادت جس کے حصے میں ہے توفیق کی اسی کی رفیق ہوگئی “۔
پھر فرمایا کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنا اسے نصیب ہو گی جو کان لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو سنے سمجھے یاد رکھے اور دل میں جگہ دے، جیسے اور آیت میں ہے کہ «لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَافِرِينَ» [36-يس:70] ” یہ اسے آگاہ کرتا ہے جو زندگی ہو، کفار پر تو کلمہ عذاب ثابت ہو چکا ہے “۔ ” اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھا کر بٹھائے گا پھر اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جائیں گے “۔ مردوں سے مراد یہاں کفار ہیں کیونکہ وہ مردہ دل ہیں تو انہیں مردہ جسموں سے تشبیہ دی۔ جس میں ان کی ذلت و خواری ظاہر ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر2578
حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سچے ہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں “۔ فرماتا ہے کہ ” ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اس لغویت پر ملال نہ کرو “، «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» [34-فاطر:8] اور «لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [26-الشعراء:3] اور «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا» [18-الكهف:6] ” کیا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ لگا لیں گے؟ کہاں تک ان کے لیے حسرت و افسوس کریں گے؟ سمجھا دیجئیے اور ان کا معاملہ سپرد الہ کیجئے۔ یہ لوگ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نہیں جانتے بلکہ یہ تو حق کے دشمن ہیں “۔
چنانجہ ابوجہل نے صاف کہا تھا کہ ہم تجھے نہیں جھٹلاتے لیکن تو جو لے کر آیا ہے اسے نہیں مانتے، مستدرک حاکم کی روایت میں ہے کہ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي:3064،قال الشيخ الألباني:اسنادہ ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابوجہل کو حضور سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھ کر کسی نے اس سے کہا کہ اس بے دین سے تو مصافحہ کرتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے خوب علم ہے اور کامل یقین ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ہم صرف خاندانی بنا پر ان کی نبوت کے ماتحت نہیں ہوتے۔ ہم نے آج تک بنی عبد عناف کی تابعداری نہیں کی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:7239/4:مرسل و ضعیف] الغرض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ مانتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے بھاگتے تھے۔
صفحہ نمبر2574
امام محمد بن اسحٰق رحمتہ اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے کہ ”زہری رحمتہ اللہ علیہ اس قصے کو بیان کرتے ہوئے جس میں ابوجہل، ابوسفیان، صحر بن حرب، اخنس بن شریق کا رات کے وقت پوشیدہ طور پر آن کر ایک دوسرے کی بے خبری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زبانی قرآن سننا ہے، کہتے ہیں کہ ”ان لوگوں نے صبح تک قرآن سنا روشنی ذرا سی نمودار ہوئی تھی تو یہ واپس چلے۔ اتفاقاً ایک چوک میں ایک دوسرے سے ملاقات ہو گئی حیرت سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت یہاں کہاں؟ پھر ہر ایک دوسرے سے صاف صاف کہہ دیتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سننے کے لیے چپ چاپ آ گئے تھے۔
اب تینوں بیٹھ کر معاہدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ایسا نہ کرنا ورنہ اگر اوروں کو خبر ہوئی اور وہ آئے تو وہ تو سچے پکے مسلمان ہو جائیں گے۔ دوسری رات کو ہر ایک نے اپنے طور یہ گمان کرکے کہ کل رات کے وعدے کے مطابق وہ دونوں تو آئیں گے نہیں میں تنہا کیوں نہ جاؤں؟ میرے جانے کی کسے خبر ہوگی؟ اپنے گھر سے پچھلی رات کے اندھیرے اور سوفتے میں ہر ایک چلا اور ایک کونے میں دب کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تلاوت قرآن کا مزہ لیتا رہا اور صبح کے وقت واپس چلا۔
اتفاقاً آج بھی اسی جگہ تینوں کا میل ہو گیا۔ ہر ایک نے ایک دوسرے کو بڑی ملامت کی بہت طعن ملامت کی اور نئے سرے سے عہد کیا کہ اب ایسی حرکت نہیں کریں گے۔ لیکن تیسری شب پھر صبر نہ ہو سکا اور ہر ایک اسی طرح پوشیدہ طور پر پہنچا اور ہر ایک کو دوسرے کے آنے کا علم بھی ہو گیا، پھر جمع ہو کر اپنے تئیں برا بھلا کہنے لگے اور بڑی سخت قسمیں کھا کر قول قرار کئے کہ اب ایسا نہیں کریں گے۔ صبح ہوتے ہی اخنس بن شریق کپڑے پہن کر تیار ہو کر ابوسفیان بن حرب کے پاس اس کے گھر میں گیا اور کہنے لگا اے ابوحنظلہ ایمان سے بتاؤ سچ سچ کہو جو قرآن تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا اس کی بابت تمہاری اپنی ذاتی رائے کیا ہے؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ سنو! واللہ بہت سی آیتوں کے الفاظ معنی اور مطلب تو میں سمجھ گیا اور بہت سی آیتوں کو ان کی مراد کو میں جانتا ہی نہیں۔
صفحہ نمبر2575
اخنس نے کہا واللہ یہی حال میرا بھی ہے، اب یہاں سے اٹھ کر اخنس سیدھا ابوجہل کے پاس پہنچا اور کہنے لگا ابو الحکم تم سچ بتاؤ جو کچھ تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے ہو اس میں تمہارا خیال کیا ہے؟ اس نے کہا سن جو سنا ہے اسے تو ایک طرف رکھ دے بات یہ ہے کہ بنو عبد مناف اور ہم میں چشمک ہے وہ ہم سے اور ہم ان سے بڑھنا اور سبقت کرنا چاہتے ہیں اور مدت سے یہ رسہ کشی ہو رہی ہے، انہوں نے مہمانداریاں اور دعوتیں کیں تو ہم نے بھی کیں انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے عوام الناس کے ساتھ احسان و سلوک کئے تو ہم نے بھی اپنی تھیلیوں کے منہ کھول ڈالے گویا ہم کسی معاملہ میں ان سے کم نہیں رہے۔ اب جبکہ برابر کی ٹکر چلی جا رہی تھی تو انہوں نے کہا ہم میں ایک نبی ہے، سنو چاہے ادھر کی دنیا ادھر ہو جائے نہ تو ہم اس کی تصدیق کریں گے نہ مانیں گے۔ اخنس مایوس ہو گیا اور اٹھ کر چل دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:206/2:مرسل و ضعیف]
اسی آیت کی تفسیر میں ابن جریر میں ہے کہ بدر والے دن اخنس بن شریق نے قبیلہ بنو زہرہ سے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری قرابت کے ہیں تم ان کی ننہیال میں ہو تمہیں چاہئیے کہ اپنے بھانجے کی مدد کرو، اگر وہ واقعی نبی ہے تو مقابلہ بےسود ہی نہیں بلکہ سراسر نقصان دہ ہے اور بالفرض نہ بھی ہو تو بھی وہ تمہارا ہے، اچھا ٹھہرو دیکھو میں ابو الحکم (یعنی ابوجہل) سے بھی ملتا ہوں۔
صفحہ نمبر2576
سنو! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم غالب آگئے تو وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم سلامتی کے ساتھ واپس چلے جاؤ گے اور اگر تمہاری قوم غالب آگئی تو ان میں تو تم ہی ہو، اسی دن سے اس کا نام اخنس ہوا اصل نام ابی تھا۔ اب اخنس تنہائی میں ابوجہل سے ملا اور کہنے لگا سچ بتا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے نزدیک سچے ہیں یا جھوٹے؟ دیکھو یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی اور نہیں دل کی بات مجھ سے نہ چھپانا۔
اس نے کہا جب یہی بات ہے تو سو اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالکل سچے اور یقیناً صادق ہیں عمر بھر میں کسی چھوٹی سی چھوٹی بات میں کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ نہیں بولا۔ ہمارا رکنے اور مخالفت کرنے کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی ہے وہ یہ کہ جب بنو قصی کے خاندان میں جھنڈے اور پھریرے چلے گئے جب حج کے حاجیوں کے اور بیت اللہ شریف کے مہتمم و منتظم یہی ہو گئے پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ نبوت بھی اسی قبیلے میں چلی گئی تو اب اور قریشیوں کے لیے کون سی فضیلت باقی رہ گئی؟ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، پس آیات اللہ سے مراد ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
پھر دوبارہ تسلی دی جاتی ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کی تکذیب ایذاء رسانی وغیرہ پر صبر کیجئے جیسے اولوالعزم پیغمبروں علیہم السلام نے صبر کیا اور یقین مانئے کہ جس طرح انجام کار گزشہ نبیوں کا غلبہ رہا اور ان کے مخالفین تباہ و برباد ہوئے اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کرے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین مغلوب ہوں گے۔ دونوں جہان میں حقیقی بلندی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ہو گی۔ رب تو یہ بات فرما چکا ہے اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا “۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» [37۔الصافات:173-171] یعنی ” ہم تو پہلے سے ہی یہ فرما چکے ہیں کہ ہمارے رسولوں کو مدد دی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا “
اور آیت میں فرماتا ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ” اللہ تعالیٰ یہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے یقیناً اللہ تعالیٰ قوت ولا اور غلبہ والا ہے “۔
” ان نبیوں کے اکثر قصے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان ہو چکے ہیں ان کے حالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے ہیں کہ کس طرح ان کی نصرت و تائید ہوئی اور مخالفین پر انہیں کامیابی حاصل ہوئی “۔
صفحہ نمبر2577
پھر فرماتا ہے ” اگر ان کی یہ بےرخی تجھ پر گراں گزرتی ہے اگر تجھ سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ کھودلے اور جو معجزہ یہ تجھ سے مانگتے ہیں لا دے یا تیرے بس میں ہو تو کوئی زینہ لگا کر آسمان پر چڑھ جا اور وہاں سے ان کی چاہت کی کوئی نشانی لے آ۔ میں نے تجھے اتنی نشانیاں اس قدر معجزے دیئے ہیں کہ ایک اندھا بھی شک نہ کرسکے۔ اب ان کی طلب معجزات محض مذاق ہے اور عناد و ضد ہے کوئی ضرورت نہیں کہ تو انہیں ان کی چاہت کے معجزے ہر وقت دیکھاتا پھرے، یا اگر وہ تیرے بس کے نہ ہوں تو، تم غم کر کے رہو، اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر متفق کر دیتا، تجھے نادانوں میں نہ ملنا چاہیئے “۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [10-يونس:99] ” اگر رب چاہتا تو روئے زمین کی مخلوق کو مومن بنا دیتا “۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرص تھی کہ سب لوگ ایماندار بن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کریں تو رب نے فرما دیا کہ ” یہ سعادت جس کے حصے میں ہے توفیق کی اسی کی رفیق ہوگئی “۔
پھر فرمایا کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنا اسے نصیب ہو گی جو کان لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو سنے سمجھے یاد رکھے اور دل میں جگہ دے، جیسے اور آیت میں ہے کہ «لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَافِرِينَ» [36-يس:70] ” یہ اسے آگاہ کرتا ہے جو زندگی ہو، کفار پر تو کلمہ عذاب ثابت ہو چکا ہے “۔ ” اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھا کر بٹھائے گا پھر اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جائیں گے “۔ مردوں سے مراد یہاں کفار ہیں کیونکہ وہ مردہ دل ہیں تو انہیں مردہ جسموں سے تشبیہ دی۔ جس میں ان کی ذلت و خواری ظاہر ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر2578
حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سچے ہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں “۔ فرماتا ہے کہ ” ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اس لغویت پر ملال نہ کرو “، «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» [34-فاطر:8] اور «لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [26-الشعراء:3] اور «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا» [18-الكهف:6] ” کیا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ لگا لیں گے؟ کہاں تک ان کے لیے حسرت و افسوس کریں گے؟ سمجھا دیجئیے اور ان کا معاملہ سپرد الہ کیجئے۔ یہ لوگ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نہیں جانتے بلکہ یہ تو حق کے دشمن ہیں “۔
چنانجہ ابوجہل نے صاف کہا تھا کہ ہم تجھے نہیں جھٹلاتے لیکن تو جو لے کر آیا ہے اسے نہیں مانتے، مستدرک حاکم کی روایت میں ہے کہ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي:3064،قال الشيخ الألباني:اسنادہ ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابوجہل کو حضور سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھ کر کسی نے اس سے کہا کہ اس بے دین سے تو مصافحہ کرتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے خوب علم ہے اور کامل یقین ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ہم صرف خاندانی بنا پر ان کی نبوت کے ماتحت نہیں ہوتے۔ ہم نے آج تک بنی عبد عناف کی تابعداری نہیں کی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:7239/4:مرسل و ضعیف] الغرض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ مانتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے بھاگتے تھے۔
صفحہ نمبر2574
امام محمد بن اسحٰق رحمتہ اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے کہ ”زہری رحمتہ اللہ علیہ اس قصے کو بیان کرتے ہوئے جس میں ابوجہل، ابوسفیان، صحر بن حرب، اخنس بن شریق کا رات کے وقت پوشیدہ طور پر آن کر ایک دوسرے کی بے خبری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زبانی قرآن سننا ہے، کہتے ہیں کہ ”ان لوگوں نے صبح تک قرآن سنا روشنی ذرا سی نمودار ہوئی تھی تو یہ واپس چلے۔ اتفاقاً ایک چوک میں ایک دوسرے سے ملاقات ہو گئی حیرت سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت یہاں کہاں؟ پھر ہر ایک دوسرے سے صاف صاف کہہ دیتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سننے کے لیے چپ چاپ آ گئے تھے۔
اب تینوں بیٹھ کر معاہدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ایسا نہ کرنا ورنہ اگر اوروں کو خبر ہوئی اور وہ آئے تو وہ تو سچے پکے مسلمان ہو جائیں گے۔ دوسری رات کو ہر ایک نے اپنے طور یہ گمان کرکے کہ کل رات کے وعدے کے مطابق وہ دونوں تو آئیں گے نہیں میں تنہا کیوں نہ جاؤں؟ میرے جانے کی کسے خبر ہوگی؟ اپنے گھر سے پچھلی رات کے اندھیرے اور سوفتے میں ہر ایک چلا اور ایک کونے میں دب کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تلاوت قرآن کا مزہ لیتا رہا اور صبح کے وقت واپس چلا۔
اتفاقاً آج بھی اسی جگہ تینوں کا میل ہو گیا۔ ہر ایک نے ایک دوسرے کو بڑی ملامت کی بہت طعن ملامت کی اور نئے سرے سے عہد کیا کہ اب ایسی حرکت نہیں کریں گے۔ لیکن تیسری شب پھر صبر نہ ہو سکا اور ہر ایک اسی طرح پوشیدہ طور پر پہنچا اور ہر ایک کو دوسرے کے آنے کا علم بھی ہو گیا، پھر جمع ہو کر اپنے تئیں برا بھلا کہنے لگے اور بڑی سخت قسمیں کھا کر قول قرار کئے کہ اب ایسا نہیں کریں گے۔ صبح ہوتے ہی اخنس بن شریق کپڑے پہن کر تیار ہو کر ابوسفیان بن حرب کے پاس اس کے گھر میں گیا اور کہنے لگا اے ابوحنظلہ ایمان سے بتاؤ سچ سچ کہو جو قرآن تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا اس کی بابت تمہاری اپنی ذاتی رائے کیا ہے؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ سنو! واللہ بہت سی آیتوں کے الفاظ معنی اور مطلب تو میں سمجھ گیا اور بہت سی آیتوں کو ان کی مراد کو میں جانتا ہی نہیں۔
صفحہ نمبر2575
اخنس نے کہا واللہ یہی حال میرا بھی ہے، اب یہاں سے اٹھ کر اخنس سیدھا ابوجہل کے پاس پہنچا اور کہنے لگا ابو الحکم تم سچ بتاؤ جو کچھ تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے ہو اس میں تمہارا خیال کیا ہے؟ اس نے کہا سن جو سنا ہے اسے تو ایک طرف رکھ دے بات یہ ہے کہ بنو عبد مناف اور ہم میں چشمک ہے وہ ہم سے اور ہم ان سے بڑھنا اور سبقت کرنا چاہتے ہیں اور مدت سے یہ رسہ کشی ہو رہی ہے، انہوں نے مہمانداریاں اور دعوتیں کیں تو ہم نے بھی کیں انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے عوام الناس کے ساتھ احسان و سلوک کئے تو ہم نے بھی اپنی تھیلیوں کے منہ کھول ڈالے گویا ہم کسی معاملہ میں ان سے کم نہیں رہے۔ اب جبکہ برابر کی ٹکر چلی جا رہی تھی تو انہوں نے کہا ہم میں ایک نبی ہے، سنو چاہے ادھر کی دنیا ادھر ہو جائے نہ تو ہم اس کی تصدیق کریں گے نہ مانیں گے۔ اخنس مایوس ہو گیا اور اٹھ کر چل دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:206/2:مرسل و ضعیف]
اسی آیت کی تفسیر میں ابن جریر میں ہے کہ بدر والے دن اخنس بن شریق نے قبیلہ بنو زہرہ سے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری قرابت کے ہیں تم ان کی ننہیال میں ہو تمہیں چاہئیے کہ اپنے بھانجے کی مدد کرو، اگر وہ واقعی نبی ہے تو مقابلہ بےسود ہی نہیں بلکہ سراسر نقصان دہ ہے اور بالفرض نہ بھی ہو تو بھی وہ تمہارا ہے، اچھا ٹھہرو دیکھو میں ابو الحکم (یعنی ابوجہل) سے بھی ملتا ہوں۔
صفحہ نمبر2576
سنو! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم غالب آگئے تو وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم سلامتی کے ساتھ واپس چلے جاؤ گے اور اگر تمہاری قوم غالب آگئی تو ان میں تو تم ہی ہو، اسی دن سے اس کا نام اخنس ہوا اصل نام ابی تھا۔ اب اخنس تنہائی میں ابوجہل سے ملا اور کہنے لگا سچ بتا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے نزدیک سچے ہیں یا جھوٹے؟ دیکھو یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی اور نہیں دل کی بات مجھ سے نہ چھپانا۔
اس نے کہا جب یہی بات ہے تو سو اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالکل سچے اور یقیناً صادق ہیں عمر بھر میں کسی چھوٹی سی چھوٹی بات میں کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ نہیں بولا۔ ہمارا رکنے اور مخالفت کرنے کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی ہے وہ یہ کہ جب بنو قصی کے خاندان میں جھنڈے اور پھریرے چلے گئے جب حج کے حاجیوں کے اور بیت اللہ شریف کے مہتمم و منتظم یہی ہو گئے پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ نبوت بھی اسی قبیلے میں چلی گئی تو اب اور قریشیوں کے لیے کون سی فضیلت باقی رہ گئی؟ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، پس آیات اللہ سے مراد ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
پھر دوبارہ تسلی دی جاتی ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کی تکذیب ایذاء رسانی وغیرہ پر صبر کیجئے جیسے اولوالعزم پیغمبروں علیہم السلام نے صبر کیا اور یقین مانئے کہ جس طرح انجام کار گزشہ نبیوں کا غلبہ رہا اور ان کے مخالفین تباہ و برباد ہوئے اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کرے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین مغلوب ہوں گے۔ دونوں جہان میں حقیقی بلندی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ہو گی۔ رب تو یہ بات فرما چکا ہے اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا “۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» [37۔الصافات:173-171] یعنی ” ہم تو پہلے سے ہی یہ فرما چکے ہیں کہ ہمارے رسولوں کو مدد دی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا “
اور آیت میں فرماتا ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ” اللہ تعالیٰ یہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے یقیناً اللہ تعالیٰ قوت ولا اور غلبہ والا ہے “۔
” ان نبیوں کے اکثر قصے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان ہو چکے ہیں ان کے حالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے ہیں کہ کس طرح ان کی نصرت و تائید ہوئی اور مخالفین پر انہیں کامیابی حاصل ہوئی “۔
صفحہ نمبر2577
پھر فرماتا ہے ” اگر ان کی یہ بےرخی تجھ پر گراں گزرتی ہے اگر تجھ سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ کھودلے اور جو معجزہ یہ تجھ سے مانگتے ہیں لا دے یا تیرے بس میں ہو تو کوئی زینہ لگا کر آسمان پر چڑھ جا اور وہاں سے ان کی چاہت کی کوئی نشانی لے آ۔ میں نے تجھے اتنی نشانیاں اس قدر معجزے دیئے ہیں کہ ایک اندھا بھی شک نہ کرسکے۔ اب ان کی طلب معجزات محض مذاق ہے اور عناد و ضد ہے کوئی ضرورت نہیں کہ تو انہیں ان کی چاہت کے معجزے ہر وقت دیکھاتا پھرے، یا اگر وہ تیرے بس کے نہ ہوں تو، تم غم کر کے رہو، اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر متفق کر دیتا، تجھے نادانوں میں نہ ملنا چاہیئے “۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [10-يونس:99] ” اگر رب چاہتا تو روئے زمین کی مخلوق کو مومن بنا دیتا “۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرص تھی کہ سب لوگ ایماندار بن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کریں تو رب نے فرما دیا کہ ” یہ سعادت جس کے حصے میں ہے توفیق کی اسی کی رفیق ہوگئی “۔
پھر فرمایا کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنا اسے نصیب ہو گی جو کان لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو سنے سمجھے یاد رکھے اور دل میں جگہ دے، جیسے اور آیت میں ہے کہ «لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَافِرِينَ» [36-يس:70] ” یہ اسے آگاہ کرتا ہے جو زندگی ہو، کفار پر تو کلمہ عذاب ثابت ہو چکا ہے “۔ ” اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھا کر بٹھائے گا پھر اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جائیں گے “۔ مردوں سے مراد یہاں کفار ہیں کیونکہ وہ مردہ دل ہیں تو انہیں مردہ جسموں سے تشبیہ دی۔ جس میں ان کی ذلت و خواری ظاہر ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر2578
حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سچے ہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں “۔ فرماتا ہے کہ ” ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اس لغویت پر ملال نہ کرو “، «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» [34-فاطر:8] اور «لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [26-الشعراء:3] اور «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا» [18-الكهف:6] ” کیا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ لگا لیں گے؟ کہاں تک ان کے لیے حسرت و افسوس کریں گے؟ سمجھا دیجئیے اور ان کا معاملہ سپرد الہ کیجئے۔ یہ لوگ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نہیں جانتے بلکہ یہ تو حق کے دشمن ہیں “۔
چنانجہ ابوجہل نے صاف کہا تھا کہ ہم تجھے نہیں جھٹلاتے لیکن تو جو لے کر آیا ہے اسے نہیں مانتے، مستدرک حاکم کی روایت میں ہے کہ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي:3064،قال الشيخ الألباني:اسنادہ ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابوجہل کو حضور سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھ کر کسی نے اس سے کہا کہ اس بے دین سے تو مصافحہ کرتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے خوب علم ہے اور کامل یقین ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ہم صرف خاندانی بنا پر ان کی نبوت کے ماتحت نہیں ہوتے۔ ہم نے آج تک بنی عبد عناف کی تابعداری نہیں کی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:7239/4:مرسل و ضعیف] الغرض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ مانتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے بھاگتے تھے۔
صفحہ نمبر2574
امام محمد بن اسحٰق رحمتہ اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے کہ ”زہری رحمتہ اللہ علیہ اس قصے کو بیان کرتے ہوئے جس میں ابوجہل، ابوسفیان، صحر بن حرب، اخنس بن شریق کا رات کے وقت پوشیدہ طور پر آن کر ایک دوسرے کی بے خبری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زبانی قرآن سننا ہے، کہتے ہیں کہ ”ان لوگوں نے صبح تک قرآن سنا روشنی ذرا سی نمودار ہوئی تھی تو یہ واپس چلے۔ اتفاقاً ایک چوک میں ایک دوسرے سے ملاقات ہو گئی حیرت سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت یہاں کہاں؟ پھر ہر ایک دوسرے سے صاف صاف کہہ دیتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سننے کے لیے چپ چاپ آ گئے تھے۔
اب تینوں بیٹھ کر معاہدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ایسا نہ کرنا ورنہ اگر اوروں کو خبر ہوئی اور وہ آئے تو وہ تو سچے پکے مسلمان ہو جائیں گے۔ دوسری رات کو ہر ایک نے اپنے طور یہ گمان کرکے کہ کل رات کے وعدے کے مطابق وہ دونوں تو آئیں گے نہیں میں تنہا کیوں نہ جاؤں؟ میرے جانے کی کسے خبر ہوگی؟ اپنے گھر سے پچھلی رات کے اندھیرے اور سوفتے میں ہر ایک چلا اور ایک کونے میں دب کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تلاوت قرآن کا مزہ لیتا رہا اور صبح کے وقت واپس چلا۔
اتفاقاً آج بھی اسی جگہ تینوں کا میل ہو گیا۔ ہر ایک نے ایک دوسرے کو بڑی ملامت کی بہت طعن ملامت کی اور نئے سرے سے عہد کیا کہ اب ایسی حرکت نہیں کریں گے۔ لیکن تیسری شب پھر صبر نہ ہو سکا اور ہر ایک اسی طرح پوشیدہ طور پر پہنچا اور ہر ایک کو دوسرے کے آنے کا علم بھی ہو گیا، پھر جمع ہو کر اپنے تئیں برا بھلا کہنے لگے اور بڑی سخت قسمیں کھا کر قول قرار کئے کہ اب ایسا نہیں کریں گے۔ صبح ہوتے ہی اخنس بن شریق کپڑے پہن کر تیار ہو کر ابوسفیان بن حرب کے پاس اس کے گھر میں گیا اور کہنے لگا اے ابوحنظلہ ایمان سے بتاؤ سچ سچ کہو جو قرآن تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا اس کی بابت تمہاری اپنی ذاتی رائے کیا ہے؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ سنو! واللہ بہت سی آیتوں کے الفاظ معنی اور مطلب تو میں سمجھ گیا اور بہت سی آیتوں کو ان کی مراد کو میں جانتا ہی نہیں۔
صفحہ نمبر2575
اخنس نے کہا واللہ یہی حال میرا بھی ہے، اب یہاں سے اٹھ کر اخنس سیدھا ابوجہل کے پاس پہنچا اور کہنے لگا ابو الحکم تم سچ بتاؤ جو کچھ تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے ہو اس میں تمہارا خیال کیا ہے؟ اس نے کہا سن جو سنا ہے اسے تو ایک طرف رکھ دے بات یہ ہے کہ بنو عبد مناف اور ہم میں چشمک ہے وہ ہم سے اور ہم ان سے بڑھنا اور سبقت کرنا چاہتے ہیں اور مدت سے یہ رسہ کشی ہو رہی ہے، انہوں نے مہمانداریاں اور دعوتیں کیں تو ہم نے بھی کیں انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے عوام الناس کے ساتھ احسان و سلوک کئے تو ہم نے بھی اپنی تھیلیوں کے منہ کھول ڈالے گویا ہم کسی معاملہ میں ان سے کم نہیں رہے۔ اب جبکہ برابر کی ٹکر چلی جا رہی تھی تو انہوں نے کہا ہم میں ایک نبی ہے، سنو چاہے ادھر کی دنیا ادھر ہو جائے نہ تو ہم اس کی تصدیق کریں گے نہ مانیں گے۔ اخنس مایوس ہو گیا اور اٹھ کر چل دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:206/2:مرسل و ضعیف]
اسی آیت کی تفسیر میں ابن جریر میں ہے کہ بدر والے دن اخنس بن شریق نے قبیلہ بنو زہرہ سے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری قرابت کے ہیں تم ان کی ننہیال میں ہو تمہیں چاہئیے کہ اپنے بھانجے کی مدد کرو، اگر وہ واقعی نبی ہے تو مقابلہ بےسود ہی نہیں بلکہ سراسر نقصان دہ ہے اور بالفرض نہ بھی ہو تو بھی وہ تمہارا ہے، اچھا ٹھہرو دیکھو میں ابو الحکم (یعنی ابوجہل) سے بھی ملتا ہوں۔
صفحہ نمبر2576
سنو! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم غالب آگئے تو وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم سلامتی کے ساتھ واپس چلے جاؤ گے اور اگر تمہاری قوم غالب آگئی تو ان میں تو تم ہی ہو، اسی دن سے اس کا نام اخنس ہوا اصل نام ابی تھا۔ اب اخنس تنہائی میں ابوجہل سے ملا اور کہنے لگا سچ بتا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے نزدیک سچے ہیں یا جھوٹے؟ دیکھو یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی اور نہیں دل کی بات مجھ سے نہ چھپانا۔
اس نے کہا جب یہی بات ہے تو سو اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالکل سچے اور یقیناً صادق ہیں عمر بھر میں کسی چھوٹی سی چھوٹی بات میں کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ نہیں بولا۔ ہمارا رکنے اور مخالفت کرنے کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی ہے وہ یہ کہ جب بنو قصی کے خاندان میں جھنڈے اور پھریرے چلے گئے جب حج کے حاجیوں کے اور بیت اللہ شریف کے مہتمم و منتظم یہی ہو گئے پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ نبوت بھی اسی قبیلے میں چلی گئی تو اب اور قریشیوں کے لیے کون سی فضیلت باقی رہ گئی؟ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، پس آیات اللہ سے مراد ذات محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
پھر دوبارہ تسلی دی جاتی ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کی تکذیب ایذاء رسانی وغیرہ پر صبر کیجئے جیسے اولوالعزم پیغمبروں علیہم السلام نے صبر کیا اور یقین مانئے کہ جس طرح انجام کار گزشہ نبیوں کا غلبہ رہا اور ان کے مخالفین تباہ و برباد ہوئے اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کرے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین مغلوب ہوں گے۔ دونوں جہان میں حقیقی بلندی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ہو گی۔ رب تو یہ بات فرما چکا ہے اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا “۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ» [37۔الصافات:173-171] یعنی ” ہم تو پہلے سے ہی یہ فرما چکے ہیں کہ ہمارے رسولوں کو مدد دی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا “
اور آیت میں فرماتا ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [58-المجادلة:21] ” اللہ تعالیٰ یہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے یقیناً اللہ تعالیٰ قوت ولا اور غلبہ والا ہے “۔
” ان نبیوں کے اکثر قصے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان ہو چکے ہیں ان کے حالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے ہیں کہ کس طرح ان کی نصرت و تائید ہوئی اور مخالفین پر انہیں کامیابی حاصل ہوئی “۔
صفحہ نمبر2577
پھر فرماتا ہے ” اگر ان کی یہ بےرخی تجھ پر گراں گزرتی ہے اگر تجھ سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ کھودلے اور جو معجزہ یہ تجھ سے مانگتے ہیں لا دے یا تیرے بس میں ہو تو کوئی زینہ لگا کر آسمان پر چڑھ جا اور وہاں سے ان کی چاہت کی کوئی نشانی لے آ۔ میں نے تجھے اتنی نشانیاں اس قدر معجزے دیئے ہیں کہ ایک اندھا بھی شک نہ کرسکے۔ اب ان کی طلب معجزات محض مذاق ہے اور عناد و ضد ہے کوئی ضرورت نہیں کہ تو انہیں ان کی چاہت کے معجزے ہر وقت دیکھاتا پھرے، یا اگر وہ تیرے بس کے نہ ہوں تو، تم غم کر کے رہو، اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر متفق کر دیتا، تجھے نادانوں میں نہ ملنا چاہیئے “۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [10-يونس:99] ” اگر رب چاہتا تو روئے زمین کی مخلوق کو مومن بنا دیتا “۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرص تھی کہ سب لوگ ایماندار بن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کریں تو رب نے فرما دیا کہ ” یہ سعادت جس کے حصے میں ہے توفیق کی اسی کی رفیق ہوگئی “۔
پھر فرمایا کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنا اسے نصیب ہو گی جو کان لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو سنے سمجھے یاد رکھے اور دل میں جگہ دے، جیسے اور آیت میں ہے کہ «لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَافِرِينَ» [36-يس:70] ” یہ اسے آگاہ کرتا ہے جو زندگی ہو، کفار پر تو کلمہ عذاب ثابت ہو چکا ہے “۔ ” اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھا کر بٹھائے گا پھر اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جائیں گے “۔ مردوں سے مراد یہاں کفار ہیں کیونکہ وہ مردہ دل ہیں تو انہیں مردہ جسموں سے تشبیہ دی۔ جس میں ان کی ذلت و خواری ظاہر ہوتی ہے۔
صفحہ نمبر2578
معجزات کے عدم اظہار کی حکمت ٭٭
کافر لوگ بطور اعتراض کہا کرتے تھے کہ «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں یہ کیوں نہیں دکھاتے؟ مثلاً عرب کی کل زمین میں چشموں اور آبشاروں کا جاری ہو جانا وغیرہ۔ فرماتا ہے کہ ” قدرت الٰہی سے تو کوئی چیز باہر نہیں لیکن اس وقت حکمت الہیہ کا تقاضا یہ نہیں “۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا» [17-الإسراء:59] ” اس میں ایک ظاہری حکمت تو یہ ہے کہ تمہارے چاہے ہوئے معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی اگر تم ایمان نہ لائے تو اصول الہیہ کے مطابق تم سب کو اسی جگہ ہلاک کر دیا جائے گا جیسے تم سے اگلے لوگوں کے ساتھ ہوا، ثمودیوں کی نظیر تمہارے سامنے موجود ہے ہم تو جو چاہیں نشان بھی دکھا سکتے ہیں اور جو چاہیں عذاب بھی کر سکتے ہیں “۔
چرنے چگنے والے جانور اڑنے والے پرند بھی تمہاری طرح قسم قسم کے ہیں مثلاً پرند ایک امت، انسان ایک امت، جنات ایک امت وغیرہ، یا یہ کہ وہ بھی سب تمہاری ہی طرح مخلوق ہیں، سب پر اللہ کا علم محیط ہے، سب اس کی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں، نہ کسی کا وہ رزق بھولے نہ کسی کی حاجت اٹکے نہ کسی کی حسن تدبیر سے وہ غافل خشکی تری کا ایک ایک جاندار اس کی حفاظت میں ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» [11-هود:6] یعنی ” جتنے جاندار زمین پر چلتے پھرتے ہیں سب کی روزیاں اللہ کے ذمہ ہیں وہی ان کے جیتے جی کے ٹھکانے کو اور مرنے کے بعد سونپے جانے کے مقام کو بخوبی جانتا ہے اس کے پاس لوح محفوظ میں یہ سب کچھ درج بھی ہے، ان کے نام، ان کی گنتی، ان کی حرکات و سکنات سب سے وہ واقف ہے اس کے وسیع علم سے کوئی چیز خارج اور باہر نہیں “۔
اور مقام پر ارشاد ہے آیت «وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» [29۔العنکبوت:60] ” بہت سے وہ جاندار ہیں جن کی روزی تیرے ذمہ نہیں انہیں اور تم سب کو اللہ ہی روزیاں دیتا ہے وہ باریک سے باریک آواز کو سننے والا ہے اور ہر چھوٹی بڑی چیز کا جاننے والا ہے “۔
صفحہ نمبر2582
ابو یعلیٰ میں جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دو سال کی خلافت کے زمانہ میں سے ایک سال ٹڈیاں دکھائی ہی نہیں دیں تو آپ رضی اللہ عنہ کو بہت خیال ہوا اور شام، عراق، یمن وغیرہ کی طرف سوار دوڑائے کہ دریافت کر آئیں کہ ٹڈیاں اس سال کہیں نظر بھی پڑیں یا نہیں؟ یمن والا قاصد جب واپس آیا تو، آپ رضی اللہ عنہ نے ساتھ مٹھی بھر ٹڈیاں بھی لیتا آیا اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سامنے ڈال دیں۔
آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر تین مرتبہ تکبیر کہی اور فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں۔ ان تمام امتوں میں سے سب سے پہلے ٹڈی ہلاک ہو گی اس کے بعد تو ہلاکت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا بالکل اس طرح جیسے کسی تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ گیا اور موتی یکے بعد دیگرے جھڑنے لگ گئے ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:10132/7:موضوع]
صفحہ نمبر2583
پھر فرماتا ہے ” سب کا حشر اللہ کی طرف ہے “ یعنی سب کو موت ہے، چوپایوں کی موت ہی ان کا حشر ہے۔ ایک قول تو یہ ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ میدان محشر میں بروز قیامت یہ بھی اللہ جل شانہ کے سامنے جمع کئے جائیں گے۔
جیسے فرمایا آیت «وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ» [81۔ التکویر:5]
مسند احمد میں ہے کہ دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ جواب ملا کہ میں کیا جانوں؟ فرمایا: لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور ان کے درمیان وہ فیصلہ بھی کرے گا ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1588:صحیح] ۔
ابن جریر کی ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اڑنے والے ہر ایک پرند کا علم بھی ہمارے سامنے بیان کیا گیا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13227:حسن بالشواهد]
صفحہ نمبر2584
مسند کی اور روایت میں ہے کہ بے سینگ بکری قیامت کے دن سینگ والی بکری سے اپنا بدلہ لے گی ۔ [مسند احمد:323/2:حسن لغیره]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمام مخلوق چوپائے بہائم پرند وغیرہ غرض تمام چیزیں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گی۔ پھر ان میں یہاں تک عدل ہوگا کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس کا بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے جناب باری فرمائے گا ” تم مٹی ہو جاؤ “۔ اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ «يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا» [78-النبأ:40] ” کاش ہم بھی مٹی ہو جاتے “ ۔ صور والی حدیث میں یہ مرفوعاً بھی مروی ہے۔
پھر کافروں کی مثال بیان کی گئی ہے کہ ” وہ اپنی کم علمی اور کج فہمی میں ان بہروں گونگوں کے مثل ہیں جو اندھیروں میں ہوں۔ بتاؤ تو وہ کیسے راہ راست پر آ سکتے ہیں؟ نہ کسی کی سنیں نہ اپنی کہیں نہ کچھ دیکھ سکیں “۔
جیسے سورۃ البقرہ کی ابتداء میں ہے کہ «مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّـهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ» [2-البقرة:17-18] ” ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جو آگ سلگائے جب آس پاس کی چیزیں اس پر روشن ہو جائیں اس وقت آگ بجھ جائے اور وہ اندھیریوں میں رہ جائے اور کچھ نہ دیکھ سکے۔ ایسے لوگ بہرے گونگے اندھے ہیں وہ راہ راست کی طرف لوٹ نہیں سکتے “۔
اور آیت میں ہے «اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ يَّغْشٰـىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ظُلُمٰتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ» [24-النور:40] یعنی ” مثل ان اندھیروں کے جو گہرے سمندر میں ہوں جس کی موجوں پر موجیں اٹھ رہی ہوں اور اوپر سے ابر چھایا ہو اندھیروں پر اندھیریاں ہوں کہ ہاتھ بھی نظر نہ آ سکے۔ جسے قدرت نے نور نہیں بخشا وہ بے نور ہے “۔ پھر فرمایا ” ساری مخلوق میں اللہ ہی کا تصرف ہے وہ جسے چاہے صراط مستقیم پر کردے “۔
صفحہ نمبر2585
معجزات کے عدم اظہار کی حکمت ٭٭
کافر لوگ بطور اعتراض کہا کرتے تھے کہ «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں یہ کیوں نہیں دکھاتے؟ مثلاً عرب کی کل زمین میں چشموں اور آبشاروں کا جاری ہو جانا وغیرہ۔ فرماتا ہے کہ ” قدرت الٰہی سے تو کوئی چیز باہر نہیں لیکن اس وقت حکمت الہیہ کا تقاضا یہ نہیں “۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا» [17-الإسراء:59] ” اس میں ایک ظاہری حکمت تو یہ ہے کہ تمہارے چاہے ہوئے معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی اگر تم ایمان نہ لائے تو اصول الہیہ کے مطابق تم سب کو اسی جگہ ہلاک کر دیا جائے گا جیسے تم سے اگلے لوگوں کے ساتھ ہوا، ثمودیوں کی نظیر تمہارے سامنے موجود ہے ہم تو جو چاہیں نشان بھی دکھا سکتے ہیں اور جو چاہیں عذاب بھی کر سکتے ہیں “۔
چرنے چگنے والے جانور اڑنے والے پرند بھی تمہاری طرح قسم قسم کے ہیں مثلاً پرند ایک امت، انسان ایک امت، جنات ایک امت وغیرہ، یا یہ کہ وہ بھی سب تمہاری ہی طرح مخلوق ہیں، سب پر اللہ کا علم محیط ہے، سب اس کی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں، نہ کسی کا وہ رزق بھولے نہ کسی کی حاجت اٹکے نہ کسی کی حسن تدبیر سے وہ غافل خشکی تری کا ایک ایک جاندار اس کی حفاظت میں ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» [11-هود:6] یعنی ” جتنے جاندار زمین پر چلتے پھرتے ہیں سب کی روزیاں اللہ کے ذمہ ہیں وہی ان کے جیتے جی کے ٹھکانے کو اور مرنے کے بعد سونپے جانے کے مقام کو بخوبی جانتا ہے اس کے پاس لوح محفوظ میں یہ سب کچھ درج بھی ہے، ان کے نام، ان کی گنتی، ان کی حرکات و سکنات سب سے وہ واقف ہے اس کے وسیع علم سے کوئی چیز خارج اور باہر نہیں “۔
اور مقام پر ارشاد ہے آیت «وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» [29۔العنکبوت:60] ” بہت سے وہ جاندار ہیں جن کی روزی تیرے ذمہ نہیں انہیں اور تم سب کو اللہ ہی روزیاں دیتا ہے وہ باریک سے باریک آواز کو سننے والا ہے اور ہر چھوٹی بڑی چیز کا جاننے والا ہے “۔
صفحہ نمبر2582
ابو یعلیٰ میں جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دو سال کی خلافت کے زمانہ میں سے ایک سال ٹڈیاں دکھائی ہی نہیں دیں تو آپ رضی اللہ عنہ کو بہت خیال ہوا اور شام، عراق، یمن وغیرہ کی طرف سوار دوڑائے کہ دریافت کر آئیں کہ ٹڈیاں اس سال کہیں نظر بھی پڑیں یا نہیں؟ یمن والا قاصد جب واپس آیا تو، آپ رضی اللہ عنہ نے ساتھ مٹھی بھر ٹڈیاں بھی لیتا آیا اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سامنے ڈال دیں۔
آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر تین مرتبہ تکبیر کہی اور فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں۔ ان تمام امتوں میں سے سب سے پہلے ٹڈی ہلاک ہو گی اس کے بعد تو ہلاکت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا بالکل اس طرح جیسے کسی تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ گیا اور موتی یکے بعد دیگرے جھڑنے لگ گئے ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:10132/7:موضوع]
صفحہ نمبر2583
پھر فرماتا ہے ” سب کا حشر اللہ کی طرف ہے “ یعنی سب کو موت ہے، چوپایوں کی موت ہی ان کا حشر ہے۔ ایک قول تو یہ ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ میدان محشر میں بروز قیامت یہ بھی اللہ جل شانہ کے سامنے جمع کئے جائیں گے۔
جیسے فرمایا آیت «وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ» [81۔ التکویر:5]
مسند احمد میں ہے کہ دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ جواب ملا کہ میں کیا جانوں؟ فرمایا: لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور ان کے درمیان وہ فیصلہ بھی کرے گا ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1588:صحیح] ۔
ابن جریر کی ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اڑنے والے ہر ایک پرند کا علم بھی ہمارے سامنے بیان کیا گیا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13227:حسن بالشواهد]
صفحہ نمبر2584
مسند کی اور روایت میں ہے کہ بے سینگ بکری قیامت کے دن سینگ والی بکری سے اپنا بدلہ لے گی ۔ [مسند احمد:323/2:حسن لغیره]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمام مخلوق چوپائے بہائم پرند وغیرہ غرض تمام چیزیں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گی۔ پھر ان میں یہاں تک عدل ہوگا کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس کا بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے جناب باری فرمائے گا ” تم مٹی ہو جاؤ “۔ اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ «يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا» [78-النبأ:40] ” کاش ہم بھی مٹی ہو جاتے “ ۔ صور والی حدیث میں یہ مرفوعاً بھی مروی ہے۔
پھر کافروں کی مثال بیان کی گئی ہے کہ ” وہ اپنی کم علمی اور کج فہمی میں ان بہروں گونگوں کے مثل ہیں جو اندھیروں میں ہوں۔ بتاؤ تو وہ کیسے راہ راست پر آ سکتے ہیں؟ نہ کسی کی سنیں نہ اپنی کہیں نہ کچھ دیکھ سکیں “۔
جیسے سورۃ البقرہ کی ابتداء میں ہے کہ «مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّـهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ» [2-البقرة:17-18] ” ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جو آگ سلگائے جب آس پاس کی چیزیں اس پر روشن ہو جائیں اس وقت آگ بجھ جائے اور وہ اندھیریوں میں رہ جائے اور کچھ نہ دیکھ سکے۔ ایسے لوگ بہرے گونگے اندھے ہیں وہ راہ راست کی طرف لوٹ نہیں سکتے “۔
اور آیت میں ہے «اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ يَّغْشٰـىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ظُلُمٰتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ» [24-النور:40] یعنی ” مثل ان اندھیروں کے جو گہرے سمندر میں ہوں جس کی موجوں پر موجیں اٹھ رہی ہوں اور اوپر سے ابر چھایا ہو اندھیروں پر اندھیریاں ہوں کہ ہاتھ بھی نظر نہ آ سکے۔ جسے قدرت نے نور نہیں بخشا وہ بے نور ہے “۔ پھر فرمایا ” ساری مخلوق میں اللہ ہی کا تصرف ہے وہ جسے چاہے صراط مستقیم پر کردے “۔
صفحہ نمبر2585
معجزات کے عدم اظہار کی حکمت ٭٭
کافر لوگ بطور اعتراض کہا کرتے تھے کہ «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں یہ کیوں نہیں دکھاتے؟ مثلاً عرب کی کل زمین میں چشموں اور آبشاروں کا جاری ہو جانا وغیرہ۔ فرماتا ہے کہ ” قدرت الٰہی سے تو کوئی چیز باہر نہیں لیکن اس وقت حکمت الہیہ کا تقاضا یہ نہیں “۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا» [17-الإسراء:59] ” اس میں ایک ظاہری حکمت تو یہ ہے کہ تمہارے چاہے ہوئے معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی اگر تم ایمان نہ لائے تو اصول الہیہ کے مطابق تم سب کو اسی جگہ ہلاک کر دیا جائے گا جیسے تم سے اگلے لوگوں کے ساتھ ہوا، ثمودیوں کی نظیر تمہارے سامنے موجود ہے ہم تو جو چاہیں نشان بھی دکھا سکتے ہیں اور جو چاہیں عذاب بھی کر سکتے ہیں “۔
چرنے چگنے والے جانور اڑنے والے پرند بھی تمہاری طرح قسم قسم کے ہیں مثلاً پرند ایک امت، انسان ایک امت، جنات ایک امت وغیرہ، یا یہ کہ وہ بھی سب تمہاری ہی طرح مخلوق ہیں، سب پر اللہ کا علم محیط ہے، سب اس کی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں، نہ کسی کا وہ رزق بھولے نہ کسی کی حاجت اٹکے نہ کسی کی حسن تدبیر سے وہ غافل خشکی تری کا ایک ایک جاندار اس کی حفاظت میں ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» [11-هود:6] یعنی ” جتنے جاندار زمین پر چلتے پھرتے ہیں سب کی روزیاں اللہ کے ذمہ ہیں وہی ان کے جیتے جی کے ٹھکانے کو اور مرنے کے بعد سونپے جانے کے مقام کو بخوبی جانتا ہے اس کے پاس لوح محفوظ میں یہ سب کچھ درج بھی ہے، ان کے نام، ان کی گنتی، ان کی حرکات و سکنات سب سے وہ واقف ہے اس کے وسیع علم سے کوئی چیز خارج اور باہر نہیں “۔
اور مقام پر ارشاد ہے آیت «وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» [29۔العنکبوت:60] ” بہت سے وہ جاندار ہیں جن کی روزی تیرے ذمہ نہیں انہیں اور تم سب کو اللہ ہی روزیاں دیتا ہے وہ باریک سے باریک آواز کو سننے والا ہے اور ہر چھوٹی بڑی چیز کا جاننے والا ہے “۔
صفحہ نمبر2582
ابو یعلیٰ میں جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دو سال کی خلافت کے زمانہ میں سے ایک سال ٹڈیاں دکھائی ہی نہیں دیں تو آپ رضی اللہ عنہ کو بہت خیال ہوا اور شام، عراق، یمن وغیرہ کی طرف سوار دوڑائے کہ دریافت کر آئیں کہ ٹڈیاں اس سال کہیں نظر بھی پڑیں یا نہیں؟ یمن والا قاصد جب واپس آیا تو، آپ رضی اللہ عنہ نے ساتھ مٹھی بھر ٹڈیاں بھی لیتا آیا اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سامنے ڈال دیں۔
آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر تین مرتبہ تکبیر کہی اور فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں۔ ان تمام امتوں میں سے سب سے پہلے ٹڈی ہلاک ہو گی اس کے بعد تو ہلاکت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا بالکل اس طرح جیسے کسی تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ گیا اور موتی یکے بعد دیگرے جھڑنے لگ گئے ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:10132/7:موضوع]
صفحہ نمبر2583
پھر فرماتا ہے ” سب کا حشر اللہ کی طرف ہے “ یعنی سب کو موت ہے، چوپایوں کی موت ہی ان کا حشر ہے۔ ایک قول تو یہ ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ میدان محشر میں بروز قیامت یہ بھی اللہ جل شانہ کے سامنے جمع کئے جائیں گے۔
جیسے فرمایا آیت «وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ» [81۔ التکویر:5]
مسند احمد میں ہے کہ دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ جواب ملا کہ میں کیا جانوں؟ فرمایا: لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور ان کے درمیان وہ فیصلہ بھی کرے گا ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1588:صحیح] ۔
ابن جریر کی ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اڑنے والے ہر ایک پرند کا علم بھی ہمارے سامنے بیان کیا گیا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13227:حسن بالشواهد]
صفحہ نمبر2584
مسند کی اور روایت میں ہے کہ بے سینگ بکری قیامت کے دن سینگ والی بکری سے اپنا بدلہ لے گی ۔ [مسند احمد:323/2:حسن لغیره]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمام مخلوق چوپائے بہائم پرند وغیرہ غرض تمام چیزیں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گی۔ پھر ان میں یہاں تک عدل ہوگا کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس کا بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے جناب باری فرمائے گا ” تم مٹی ہو جاؤ “۔ اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ «يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا» [78-النبأ:40] ” کاش ہم بھی مٹی ہو جاتے “ ۔ صور والی حدیث میں یہ مرفوعاً بھی مروی ہے۔
پھر کافروں کی مثال بیان کی گئی ہے کہ ” وہ اپنی کم علمی اور کج فہمی میں ان بہروں گونگوں کے مثل ہیں جو اندھیروں میں ہوں۔ بتاؤ تو وہ کیسے راہ راست پر آ سکتے ہیں؟ نہ کسی کی سنیں نہ اپنی کہیں نہ کچھ دیکھ سکیں “۔
جیسے سورۃ البقرہ کی ابتداء میں ہے کہ «مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّـهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ» [2-البقرة:17-18] ” ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جو آگ سلگائے جب آس پاس کی چیزیں اس پر روشن ہو جائیں اس وقت آگ بجھ جائے اور وہ اندھیریوں میں رہ جائے اور کچھ نہ دیکھ سکے۔ ایسے لوگ بہرے گونگے اندھے ہیں وہ راہ راست کی طرف لوٹ نہیں سکتے “۔
اور آیت میں ہے «اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ يَّغْشٰـىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ظُلُمٰتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ» [24-النور:40] یعنی ” مثل ان اندھیروں کے جو گہرے سمندر میں ہوں جس کی موجوں پر موجیں اٹھ رہی ہوں اور اوپر سے ابر چھایا ہو اندھیروں پر اندھیریاں ہوں کہ ہاتھ بھی نظر نہ آ سکے۔ جسے قدرت نے نور نہیں بخشا وہ بے نور ہے “۔ پھر فرمایا ” ساری مخلوق میں اللہ ہی کا تصرف ہے وہ جسے چاہے صراط مستقیم پر کردے “۔
صفحہ نمبر2585
سخت لوگ اور کثرت دولت ٭٭
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لاچار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کر سکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضاء کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی شریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے۔
پس فرماتا ہے ” خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور شریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو “۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:67] ” سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے “۔
” ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کر دیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ و زاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آ جانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی؟ مسکینی کیوں نہ جتائی؟ “
صفحہ نمبر2588
” بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اترگئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہو گئے “۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ ”جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں، رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔“
صفحہ نمبر2589
حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہو جاتے ہیں تو اچانک پکڑ لیے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لیے کہ یہ تو بدکار اور بے نصیب لوگوں کا کام ہے۔“
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے۔“
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:413:حسن]
اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آ جاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہو جاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود بر حق ہے جو سب کا پالنہار ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2306:ضعیف و منقطع] ۔
صفحہ نمبر2590
سخت لوگ اور کثرت دولت ٭٭
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لاچار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کر سکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضاء کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی شریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے۔
پس فرماتا ہے ” خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور شریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو “۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:67] ” سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے “۔
” ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کر دیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ و زاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آ جانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی؟ مسکینی کیوں نہ جتائی؟ “
صفحہ نمبر2588
” بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اترگئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہو گئے “۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ ”جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں، رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔“
صفحہ نمبر2589
حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہو جاتے ہیں تو اچانک پکڑ لیے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لیے کہ یہ تو بدکار اور بے نصیب لوگوں کا کام ہے۔“
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے۔“
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:413:حسن]
اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آ جاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہو جاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود بر حق ہے جو سب کا پالنہار ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2306:ضعیف و منقطع] ۔
صفحہ نمبر2590
سخت لوگ اور کثرت دولت ٭٭
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لاچار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کر سکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضاء کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی شریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے۔
پس فرماتا ہے ” خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور شریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو “۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:67] ” سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے “۔
” ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کر دیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ و زاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آ جانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی؟ مسکینی کیوں نہ جتائی؟ “
صفحہ نمبر2588
” بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اترگئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہو گئے “۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ ”جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں، رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔“
صفحہ نمبر2589
حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہو جاتے ہیں تو اچانک پکڑ لیے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لیے کہ یہ تو بدکار اور بے نصیب لوگوں کا کام ہے۔“
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے۔“
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:413:حسن]
اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آ جاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہو جاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود بر حق ہے جو سب کا پالنہار ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2306:ضعیف و منقطع] ۔
صفحہ نمبر2590
سخت لوگ اور کثرت دولت ٭٭
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لاچار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کر سکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضاء کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی شریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے۔
پس فرماتا ہے ” خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور شریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو “۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:67] ” سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے “۔
” ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کر دیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ و زاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آ جانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی؟ مسکینی کیوں نہ جتائی؟ “
صفحہ نمبر2588
” بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اترگئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہو گئے “۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ ”جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں، رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔“
صفحہ نمبر2589
حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہو جاتے ہیں تو اچانک پکڑ لیے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لیے کہ یہ تو بدکار اور بے نصیب لوگوں کا کام ہے۔“
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے۔“
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:413:حسن]
اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آ جاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہو جاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود بر حق ہے جو سب کا پالنہار ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2306:ضعیف و منقطع] ۔
صفحہ نمبر2590
سخت لوگ اور کثرت دولت ٭٭
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لاچار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کر سکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضاء کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی شریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے۔
پس فرماتا ہے ” خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور شریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو “۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:67] ” سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے “۔
” ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کر دیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ و زاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آ جانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی؟ مسکینی کیوں نہ جتائی؟ “
صفحہ نمبر2588
” بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اترگئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہو گئے “۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ ”جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں، رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔“
صفحہ نمبر2589
حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہو جاتے ہیں تو اچانک پکڑ لیے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لیے کہ یہ تو بدکار اور بے نصیب لوگوں کا کام ہے۔“
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے۔“
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:413:حسن]
اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آ جاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہو جاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود بر حق ہے جو سب کا پالنہار ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2306:ضعیف و منقطع] ۔
صفحہ نمبر2590
سخت لوگ اور کثرت دولت ٭٭
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لاچار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کر سکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضاء کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی شریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے۔
پس فرماتا ہے ” خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ اور شریک بھی ہیں تو ایسے کٹھن موقعوں پر ان میں سے کسی کو کیوں نہیں پکارتے؟ بلکہ صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو اور اپنے تمام معبودان باطل کو بھول جاتے ہو “۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:67] ” سمندر میں جب ضرر پہنچتا ہے تو اللہ کے سوا ہر ایک تمہاری یاد سے نکل جاتا ہے “۔
” ہم نے اگلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے پھر ان کے نہ ماننے پر ہم نے انہیں فقرو فاقہ میں تنگی ترشی میں بیماریوں اور دکھ درد میں مبتلا کر دیا کہ اب بھی وہ ہمارے سامنے گریہ و زاری کریں عاجزانہ طور پر ہمارے سامنے جھک جائیں، ہم سے ڈر جائیں اور ہمارے دامن سے چمٹ جائیں، پھر انہوں نے ہمارے عذابوں کے آ جانے کے بعد بھی ہمارے سامنے عاجزی کیوں نہ کی؟ مسکینی کیوں نہ جتائی؟ “
صفحہ نمبر2588
” بلکہ ان کے دل سخت ہو گئے، شرک، دشمنی، ضد، تعصب، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کو شیطان نے انہیں بڑا حسن میں دکھایا اور یہ اس پر جمے رہے، جب یہ لوگ ہماری باتوں کو فراموش کر گئے ہماری کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہمارے فرمان سے منہ موڑ لیا تو ہم نے بھی انہیں ڈھیل دے دی کہ یہ اپنی برائیوں میں اور آگے نکل جائیں، ہر طرح کی روزیاں اور زیادہ سے زیادہ مال انہیں دیتے رہے یہاں تک کہ مال اولاد و رزق وغیرہ کی وسعت پر وہ بھولنے لگے اور غفلت کے گہرے گڑھے میں اترگئے تو ہم نے انہیں ناگہاں پکڑ لیا، اس وقت وہ مایوس ہو گئے “۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا صوفیانہ مقولہ ہے کہ ”جس نے کشادگی کے وقت اللہ تعالیٰ کی ڈھیل نہ سمجھی وہ محض بےعقل ہے اور جس نے تنگی کے وقت رب کی رحمت کی امید چھوڑ دی وہ بھی محض بیوقوف ہے۔ پھر آپ اسی آیت کی تلاوت فرماتے ہیں، رب کعبہ کی قسم ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی چاہتوں کو پوری ہوتے ہوئے دیکھ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر رب کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔“
صفحہ نمبر2589
حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”جب کوئی قوم اللہ کے فرمان سے سر تابی کرتی ہے تو اول تو انہیں دنیا خوب مل جاتی ہے جب وہ نعمتوں میں پڑ کر بد مست ہو جاتے ہیں تو اچانک پکڑ لیے جاتے ہیں لوگو اللہ کی ڈھیل کو سمجھ جایا کرو نافرمانیوں پر نعمتیں ملیں تو غافل ہو کر نافرمانیوں میں بڑھ نہ جاؤ۔ اس لیے کہ یہ تو بدکار اور بے نصیب لوگوں کا کام ہے۔“
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ہر چیز کے دروازے کھول دینے سے مراد دنیا میں آسائش و آرام کا دینا ہے۔“
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم دیکھو کہ کسی گنہگار شخص کو اس کی گنہگاری کے باوجود اللہ کی نعمتیں دنیا میں مل رہی ہیں تو اسے استدراج سمجھنا یعنی وہ ایک مہلت ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:413:حسن]
اور حدیث میں ہے کہ جب کسی قوم کی بربادی کا وقت آ جاتا ہے تو ان پر خیانت کا دروازہ کھل جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان دی گئی ہوئی چیزوں پر اترانے لگتے ہیں تو ہم انہیں ناگہاں پکڑ لیتے ہیں اور اس وقت وہ محض ناامید ہو جاتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کی باگ ڈور کاٹ دی جاتی ہے۔ تعریفوں کے لائق وہ معبود بر حق ہے جو سب کا پالنہار ہے ۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2306:ضعیف و منقطع] ۔
صفحہ نمبر2590
محروم اور کامران کون؟ ٭٭
فرمان ہے کہ ” ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں “، جیسے فرمان ہے آیت «هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ» [67-الملك:23] یعنی ” اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں “، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ» [10۔ یونس:31] ” کون ہے جو کان کا اور آنکھوں کا مالک ہو؟ “ اور فرمان ہے آیت «وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» [8۔ الأنفال:24] ” جان لو کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے “۔
یہاں ان سے سوال ہوتا ہے کہ ” بتلاؤ تو کہ اللہ کے سوا اور کوئی ان چیزوں کے واپس دلانے پر قدرت رکھتا ہے؟ “ یعنی کوئی نہیں رکھتا، دیکھ لے کہ میں نے اپنی توحید کے کس قدر زبردست، پرزور صاف اور جچے تلے دلائل بیان کر دیئے ہیں اور یہ ثابت کر دیا کہ میرے سوا سب بے بس ہیں لیکن یہ مشرک لوگ باوجود اس قدر کھلی روشن اور صاف دلیلوں کے حق کو نہیں مانتے بلکہ اوروں کو بھی حق کو تسلیم کرنے سے روکتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے ” ذرا اس سوال کا جواب بھی دو کہ اللہ کا عذاب تمہاری بے خبری میں یا ظاہر کھلم کھلا تمہارے پاس آ جائے تو کیا سوا ظالموں اور مشرکوں کے کسی اور کو بھی ہلاکت ہوگی؟ “ یعنی نہ ہوگی۔ اللہ کی عبادت کرنے والے اس ہلاکت سے محفوظ رہیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» [6۔ الأنعام:82] ” جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک سے خراب نہ کیا ان کیلئے امن و امان ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں “۔
پھر فرمایا کہ ” رسولوں کا کام تو یہی ہے کہ ایمان والوں کو ان کے درجوں کی خوشخبریاں سنائیں اور کفار کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، جو لوگ دل سے آپ کی بات مان لیں اور اللہ کے فرمان کے مطابق اعمال بجا لائیں، انہیں آخرت میں کوئی ڈر خوف نہیں اور دنیا کے چھوڑنے پر کوئی ملال نہیں، ان کے بال بچوں کا اللہ والی ہے اور ان کے ترکے کا وہی حافظ ہے “۔
کافروں کو اور جھٹلانے والوں کو ان کے کفر و فسق کی وجہ سے بڑے سخت عذاب ہوں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے فرمان چھوڑ رکھے تھے اور اس کی نافرمانیوں میں مشغول تھے۔ اس کے حرام کردہ کاموں کو کرتے تھے اور اس کے بتائے ہوئے کاموں سے بھاگتے تھے۔
صفحہ نمبر2596
محروم اور کامران کون؟ ٭٭
فرمان ہے کہ ” ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں “، جیسے فرمان ہے آیت «هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ» [67-الملك:23] یعنی ” اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں “، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ» [10۔ یونس:31] ” کون ہے جو کان کا اور آنکھوں کا مالک ہو؟ “ اور فرمان ہے آیت «وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» [8۔ الأنفال:24] ” جان لو کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے “۔
یہاں ان سے سوال ہوتا ہے کہ ” بتلاؤ تو کہ اللہ کے سوا اور کوئی ان چیزوں کے واپس دلانے پر قدرت رکھتا ہے؟ “ یعنی کوئی نہیں رکھتا، دیکھ لے کہ میں نے اپنی توحید کے کس قدر زبردست، پرزور صاف اور جچے تلے دلائل بیان کر دیئے ہیں اور یہ ثابت کر دیا کہ میرے سوا سب بے بس ہیں لیکن یہ مشرک لوگ باوجود اس قدر کھلی روشن اور صاف دلیلوں کے حق کو نہیں مانتے بلکہ اوروں کو بھی حق کو تسلیم کرنے سے روکتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے ” ذرا اس سوال کا جواب بھی دو کہ اللہ کا عذاب تمہاری بے خبری میں یا ظاہر کھلم کھلا تمہارے پاس آ جائے تو کیا سوا ظالموں اور مشرکوں کے کسی اور کو بھی ہلاکت ہوگی؟ “ یعنی نہ ہوگی۔ اللہ کی عبادت کرنے والے اس ہلاکت سے محفوظ رہیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» [6۔ الأنعام:82] ” جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک سے خراب نہ کیا ان کیلئے امن و امان ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں “۔
پھر فرمایا کہ ” رسولوں کا کام تو یہی ہے کہ ایمان والوں کو ان کے درجوں کی خوشخبریاں سنائیں اور کفار کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، جو لوگ دل سے آپ کی بات مان لیں اور اللہ کے فرمان کے مطابق اعمال بجا لائیں، انہیں آخرت میں کوئی ڈر خوف نہیں اور دنیا کے چھوڑنے پر کوئی ملال نہیں، ان کے بال بچوں کا اللہ والی ہے اور ان کے ترکے کا وہی حافظ ہے “۔
کافروں کو اور جھٹلانے والوں کو ان کے کفر و فسق کی وجہ سے بڑے سخت عذاب ہوں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے فرمان چھوڑ رکھے تھے اور اس کی نافرمانیوں میں مشغول تھے۔ اس کے حرام کردہ کاموں کو کرتے تھے اور اس کے بتائے ہوئے کاموں سے بھاگتے تھے۔
صفحہ نمبر2596
محروم اور کامران کون؟ ٭٭
فرمان ہے کہ ” ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں “، جیسے فرمان ہے آیت «هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ» [67-الملك:23] یعنی ” اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں “، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ» [10۔ یونس:31] ” کون ہے جو کان کا اور آنکھوں کا مالک ہو؟ “ اور فرمان ہے آیت «وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» [8۔ الأنفال:24] ” جان لو کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے “۔
یہاں ان سے سوال ہوتا ہے کہ ” بتلاؤ تو کہ اللہ کے سوا اور کوئی ان چیزوں کے واپس دلانے پر قدرت رکھتا ہے؟ “ یعنی کوئی نہیں رکھتا، دیکھ لے کہ میں نے اپنی توحید کے کس قدر زبردست، پرزور صاف اور جچے تلے دلائل بیان کر دیئے ہیں اور یہ ثابت کر دیا کہ میرے سوا سب بے بس ہیں لیکن یہ مشرک لوگ باوجود اس قدر کھلی روشن اور صاف دلیلوں کے حق کو نہیں مانتے بلکہ اوروں کو بھی حق کو تسلیم کرنے سے روکتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے ” ذرا اس سوال کا جواب بھی دو کہ اللہ کا عذاب تمہاری بے خبری میں یا ظاہر کھلم کھلا تمہارے پاس آ جائے تو کیا سوا ظالموں اور مشرکوں کے کسی اور کو بھی ہلاکت ہوگی؟ “ یعنی نہ ہوگی۔ اللہ کی عبادت کرنے والے اس ہلاکت سے محفوظ رہیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» [6۔ الأنعام:82] ” جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک سے خراب نہ کیا ان کیلئے امن و امان ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں “۔
پھر فرمایا کہ ” رسولوں کا کام تو یہی ہے کہ ایمان والوں کو ان کے درجوں کی خوشخبریاں سنائیں اور کفار کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، جو لوگ دل سے آپ کی بات مان لیں اور اللہ کے فرمان کے مطابق اعمال بجا لائیں، انہیں آخرت میں کوئی ڈر خوف نہیں اور دنیا کے چھوڑنے پر کوئی ملال نہیں، ان کے بال بچوں کا اللہ والی ہے اور ان کے ترکے کا وہی حافظ ہے “۔
کافروں کو اور جھٹلانے والوں کو ان کے کفر و فسق کی وجہ سے بڑے سخت عذاب ہوں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے فرمان چھوڑ رکھے تھے اور اس کی نافرمانیوں میں مشغول تھے۔ اس کے حرام کردہ کاموں کو کرتے تھے اور اس کے بتائے ہوئے کاموں سے بھاگتے تھے۔
صفحہ نمبر2596
محروم اور کامران کون؟ ٭٭
فرمان ہے کہ ” ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں “، جیسے فرمان ہے آیت «هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ» [67-الملك:23] یعنی ” اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں “، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ» [10۔ یونس:31] ” کون ہے جو کان کا اور آنکھوں کا مالک ہو؟ “ اور فرمان ہے آیت «وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» [8۔ الأنفال:24] ” جان لو کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے “۔
یہاں ان سے سوال ہوتا ہے کہ ” بتلاؤ تو کہ اللہ کے سوا اور کوئی ان چیزوں کے واپس دلانے پر قدرت رکھتا ہے؟ “ یعنی کوئی نہیں رکھتا، دیکھ لے کہ میں نے اپنی توحید کے کس قدر زبردست، پرزور صاف اور جچے تلے دلائل بیان کر دیئے ہیں اور یہ ثابت کر دیا کہ میرے سوا سب بے بس ہیں لیکن یہ مشرک لوگ باوجود اس قدر کھلی روشن اور صاف دلیلوں کے حق کو نہیں مانتے بلکہ اوروں کو بھی حق کو تسلیم کرنے سے روکتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے ” ذرا اس سوال کا جواب بھی دو کہ اللہ کا عذاب تمہاری بے خبری میں یا ظاہر کھلم کھلا تمہارے پاس آ جائے تو کیا سوا ظالموں اور مشرکوں کے کسی اور کو بھی ہلاکت ہوگی؟ “ یعنی نہ ہوگی۔ اللہ کی عبادت کرنے والے اس ہلاکت سے محفوظ رہیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» [6۔ الأنعام:82] ” جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک سے خراب نہ کیا ان کیلئے امن و امان ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں “۔
پھر فرمایا کہ ” رسولوں کا کام تو یہی ہے کہ ایمان والوں کو ان کے درجوں کی خوشخبریاں سنائیں اور کفار کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، جو لوگ دل سے آپ کی بات مان لیں اور اللہ کے فرمان کے مطابق اعمال بجا لائیں، انہیں آخرت میں کوئی ڈر خوف نہیں اور دنیا کے چھوڑنے پر کوئی ملال نہیں، ان کے بال بچوں کا اللہ والی ہے اور ان کے ترکے کا وہی حافظ ہے “۔
کافروں کو اور جھٹلانے والوں کو ان کے کفر و فسق کی وجہ سے بڑے سخت عذاب ہوں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے فرمان چھوڑ رکھے تھے اور اس کی نافرمانیوں میں مشغول تھے۔ اس کے حرام کردہ کاموں کو کرتے تھے اور اس کے بتائے ہوئے کاموں سے بھاگتے تھے۔
صفحہ نمبر2596
مسلمانو ! طبقاتی عصبیت سے بچو ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” لوگوں میں اعلان کر دو کہ میں اللہ کے خزانوں کا مالک نہیں نہ مجھے ان میں کسی طرح کا اختیار ہے، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا جاننے والا ہوں، رب نے جو چیزیں خاص اپنے علم میں رکھی ہیں مجھے ان میں سے کچھ بھی معلوم نہیں، ہاں جن چیزوں سے خود اللہ نے مجھے مطلع کر دے ان پر مجھے اطلاع ہو جاتی ہے، میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، میں تو انسان ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے جو شرف دیا ہے یعنی میری طرف جو وحی نازل فرمائی ہے میں اسی کا عمل پیرا ہوں، اس سے ایک بالشت ادھر ادھر نہیں ہٹتا۔ کیا حق کے تابعدار جو بصارت والے ہیں اور حق سے محروم جو اندھے ہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ کیا تم اتنا غور بھی نہیں کرتے؟ “
اور آیت میں ہے کہ «أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ» [ 13-الرعد: 19 ] ” کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے حق ہے اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو نابینا ہے؟ نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہیں “۔
” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ قرآن کے ذریعہ انہیں راہ راست پر لائیں جو رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف دل میں رکھتے ہیں، حساب کا کھٹکا رکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ رب کے سامنے پیش ہونا ہے اس دن اس کے سوا اور کوئی ان کا قریبی یا سفارشی نہ ہو گا، وہ اگر عذاب کرنا چاہے تو کوئی شفاعت نہیں کر سکتا۔ یہ تیرا ڈرانا اس لیے ہے کہ شاید وہ تقی بن جائیں حاکم حقیقی سے ڈر کر نیکیاں کریں اور قیامت کے عذابوں سے چھوٹیں اورثواب کے مستحق بن جائیں “۔
صفحہ نمبر2600
مسلمانو ! طبقاتی عصبیت سے بچو ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” لوگوں میں اعلان کر دو کہ میں اللہ کے خزانوں کا مالک نہیں نہ مجھے ان میں کسی طرح کا اختیار ہے، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا جاننے والا ہوں، رب نے جو چیزیں خاص اپنے علم میں رکھی ہیں مجھے ان میں سے کچھ بھی معلوم نہیں، ہاں جن چیزوں سے خود اللہ نے مجھے مطلع کر دے ان پر مجھے اطلاع ہو جاتی ہے، میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، میں تو انسان ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے جو شرف دیا ہے یعنی میری طرف جو وحی نازل فرمائی ہے میں اسی کا عمل پیرا ہوں، اس سے ایک بالشت ادھر ادھر نہیں ہٹتا۔ کیا حق کے تابعدار جو بصارت والے ہیں اور حق سے محروم جو اندھے ہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ کیا تم اتنا غور بھی نہیں کرتے؟ “
اور آیت میں ہے کہ «أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ» [ 13-الرعد: 19 ] ” کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے حق ہے اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو نابینا ہے؟ نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہیں “۔
” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ قرآن کے ذریعہ انہیں راہ راست پر لائیں جو رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف دل میں رکھتے ہیں، حساب کا کھٹکا رکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ رب کے سامنے پیش ہونا ہے اس دن اس کے سوا اور کوئی ان کا قریبی یا سفارشی نہ ہو گا، وہ اگر عذاب کرنا چاہے تو کوئی شفاعت نہیں کر سکتا۔ یہ تیرا ڈرانا اس لیے ہے کہ شاید وہ تقی بن جائیں حاکم حقیقی سے ڈر کر نیکیاں کریں اور قیامت کے عذابوں سے چھوٹیں اورثواب کے مستحق بن جائیں “۔
صفحہ نمبر2600
آیات ۵۲-۵۳
پھر فرماتا ہے ” یہ مسلمان غرباء جو صبح شام اپنے پروردگار کا نام جپتے ہیں خبردار انہیں حقیر نہ سمجھنا انہیں اپنے پاس سے نہ ہٹانا بلکہ انہی کو اپنی صحبت میں رکھ کر انہی کے ساتھ بیٹھ اٹھ “۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ» [18-الكهف:28] یعنی ” انہی کے ساتھ رہ جو صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اسی کی رضا مندی کی طلب کرتے ہیں، خبردار ان کی طرف سے آنکھیں نہ پھیرنا کہ دنیا کی زندگی کی آسائش طلب کرنے لگو اس کا کہا نہ کرنا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور اس نے اپنی خواہش کی پیروی کی ہے اور اس کا ہر کام حد سے گزرا ہوا ہے بلکہ ان کا ساتھ دے جو صبح شام اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اسی سے دعائیں مانگتے ہیں “۔
بعض بزرگ فرماتے ہیں مراد اس سے فرض نمازیں ہیں اور آیت میں ہے «وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» [40۔ غافر:60] ” تمہارے رب کا اعلان ہے کہ مجھ سے دعائیں کرو میں قبول کروں گا ان اطاعتوں اور عبادتوں سے ان کا ارادہ اللہ کریم کے دیدار کا ہے، محض خلوص اخلاص والی ان کی نیتیں ہیں، ان کا کوئی حساب تجھ پر نہیں نہ تیرا کوئی حساب ان پر “۔
جناب نوح علیہ السلام سے جب ان کی قوم کے شرفا نے کہا تھا کہ ہم تجھے کیسے مان لیں تیرے ماننے والے تو اکثر غریب مسکین لوگ ہیں تو آپ علیہ السلام نے یہی جواب دیا کہ ان کے اعمال کا مجھے کیا علم ہے ان کا حساب تو میرے رب پر ہے لیکن تمہیں اتنا بھی شعور نہیں پھر بھی تم نے ان غریب مسکین لوگوں کو اپنی مجلس میں نہ بیٹھنے دیا۔ ان سے ذرا بھی بےرخی کی تو یاد رکھنا تمہارا شمار بھی ظالموں میں ہو جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ قریش کے بڑے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس مبارک میں صہیب رضی اللہ عنہ، بلال رضی اللہ عنہ، خباب رضی اللہ عنہ، عمار رضی اللہ عنہ تھے، انہیں دیکھ کر یہ لوگ کہنے لگے دیکھو تو ہمیں چھوڑ کر کن کے ساتھ بیٹھے ہیں؟ تو آیت «وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ» [6-الأنعام:51] سے «لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [6-الأنعام:53] تک اتری ۔ [مسند احمد:420/1:حسن]
صفحہ نمبر2602
ابن جریر میں ہے کہ ان لوگوں اور ان جیسے اوروں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں دیکھ کر مشرک سرداروں نے یہ بھی کہا تھا کہ کیا یہی لوگ رہ گئے ہیں کہ اللہ نے ہم سب میں سے چن چن کر انہی پر احسان کیا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ بے زر، بے سہارا لوگ ہم امیروں رئیسوں کے برابر بیٹھیں، دیکھئے حضرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھ سکتے ہیں، آیت «وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ» [6-الأنعام:51] سے «لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [6-الأنعام:53] تک نازل ہوئی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13258:]
ابن ابی حاتم میں ہے قریش کے ان معززین لوگوں میں سے دو کے نام یہ ہیں اقرع بن حابس تیمی، عینیہ بن حصن فزاری، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ تنہائی میں مل کر انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھایا کہ ان غلام اور گرے پڑے بے حیثیت لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں عرب کے وفد آیا کرتے ہیں۔ وہ ہمیں ان کے ساتھ دیکھ کر ہمیں بھی ذلیل خیال کریں گے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کم از کم اتنا ہی کیجئے کہ جب ہم آئیں تب خاص مجلس ہو اور ان جیسے گرے پڑے لوگ اس میں شامل نہ کئے جائیں۔ ہاں جب ہم نہ ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہے۔ جب یہ بات طے ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کا اقرار کر لیا تو انہوں نے کہا، ہمارا یہ معاہدہ تحریر میں آ جانا چاہیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاغذ منگوایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لکھنے کے لیے بلوایا۔ مسلمانوں کا یہ غریب طبقہ ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام اترے اور یہ آیت «وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ» [6-الأنعام:51] سے «لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [6-الأنعام:53] تک نازل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاغذ پھینک دیا اور ہمیں اپنے پاس بلا لیا اور ہم نے پھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حلقے میں لے لیا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:7331/4:ضعیف] لیکن یہ حدیث غریب ہے۔ آیت مکی ہے اور اقرع اور عیینہ ہجرت کے بہت سارے زمانے کے بعد اسلام میں آئے ہیں۔
سیدنا شریح رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ یہ آیت اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے چھ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ہم لوگ سب سے پہلے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھتے تاکہ پور طرح شروع سے آخر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنیں۔ قریش کے بڑے لوگوں پر یہ بات گراں گزرتی تھی۔ اس کے برخلاف آیت اتری ۔ [صحیح مسلم:2413] ۔
پھر فرماتا ہے ” اس طرح ہم ایک دوسرے کو پرکھ لیتے ہیں اور ایک سے ایک کا امتحان لے لیتے ہیں کہ یہ امراء ان غرباء سے متعلق اپنی رائے ظاہر کر دیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا اور ہم سب میں اللہ کو یہی لوگ پسند آئے؟“
صفحہ نمبر2603
آیات ۵۲-۵۳
پھر فرماتا ہے ” یہ مسلمان غرباء جو صبح شام اپنے پروردگار کا نام جپتے ہیں خبردار انہیں حقیر نہ سمجھنا انہیں اپنے پاس سے نہ ہٹانا بلکہ انہی کو اپنی صحبت میں رکھ کر انہی کے ساتھ بیٹھ اٹھ “۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ» [18-الكهف:28] یعنی ” انہی کے ساتھ رہ جو صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اسی کی رضا مندی کی طلب کرتے ہیں، خبردار ان کی طرف سے آنکھیں نہ پھیرنا کہ دنیا کی زندگی کی آسائش طلب کرنے لگو اس کا کہا نہ کرنا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور اس نے اپنی خواہش کی پیروی کی ہے اور اس کا ہر کام حد سے گزرا ہوا ہے بلکہ ان کا ساتھ دے جو صبح شام اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اسی سے دعائیں مانگتے ہیں “۔
بعض بزرگ فرماتے ہیں مراد اس سے فرض نمازیں ہیں اور آیت میں ہے «وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» [40۔ غافر:60] ” تمہارے رب کا اعلان ہے کہ مجھ سے دعائیں کرو میں قبول کروں گا ان اطاعتوں اور عبادتوں سے ان کا ارادہ اللہ کریم کے دیدار کا ہے، محض خلوص اخلاص والی ان کی نیتیں ہیں، ان کا کوئی حساب تجھ پر نہیں نہ تیرا کوئی حساب ان پر “۔
جناب نوح علیہ السلام سے جب ان کی قوم کے شرفا نے کہا تھا کہ ہم تجھے کیسے مان لیں تیرے ماننے والے تو اکثر غریب مسکین لوگ ہیں تو آپ علیہ السلام نے یہی جواب دیا کہ ان کے اعمال کا مجھے کیا علم ہے ان کا حساب تو میرے رب پر ہے لیکن تمہیں اتنا بھی شعور نہیں پھر بھی تم نے ان غریب مسکین لوگوں کو اپنی مجلس میں نہ بیٹھنے دیا۔ ان سے ذرا بھی بےرخی کی تو یاد رکھنا تمہارا شمار بھی ظالموں میں ہو جائے گا۔ مسند احمد میں ہے کہ قریش کے بڑے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس مبارک میں صہیب رضی اللہ عنہ، بلال رضی اللہ عنہ، خباب رضی اللہ عنہ، عمار رضی اللہ عنہ تھے، انہیں دیکھ کر یہ لوگ کہنے لگے دیکھو تو ہمیں چھوڑ کر کن کے ساتھ بیٹھے ہیں؟ تو آیت «وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ» [6-الأنعام:51] سے «لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [6-الأنعام:53] تک اتری ۔ [مسند احمد:420/1:حسن]
صفحہ نمبر2602
ابن جریر میں ہے کہ ان لوگوں اور ان جیسے اوروں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں دیکھ کر مشرک سرداروں نے یہ بھی کہا تھا کہ کیا یہی لوگ رہ گئے ہیں کہ اللہ نے ہم سب میں سے چن چن کر انہی پر احسان کیا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ بے زر، بے سہارا لوگ ہم امیروں رئیسوں کے برابر بیٹھیں، دیکھئے حضرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھ سکتے ہیں، آیت «وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ» [6-الأنعام:51] سے «لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [6-الأنعام:53] تک نازل ہوئی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13258:]
ابن ابی حاتم میں ہے قریش کے ان معززین لوگوں میں سے دو کے نام یہ ہیں اقرع بن حابس تیمی، عینیہ بن حصن فزاری، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ تنہائی میں مل کر انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھایا کہ ان غلام اور گرے پڑے بے حیثیت لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں عرب کے وفد آیا کرتے ہیں۔ وہ ہمیں ان کے ساتھ دیکھ کر ہمیں بھی ذلیل خیال کریں گے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کم از کم اتنا ہی کیجئے کہ جب ہم آئیں تب خاص مجلس ہو اور ان جیسے گرے پڑے لوگ اس میں شامل نہ کئے جائیں۔ ہاں جب ہم نہ ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہے۔ جب یہ بات طے ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کا اقرار کر لیا تو انہوں نے کہا، ہمارا یہ معاہدہ تحریر میں آ جانا چاہیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاغذ منگوایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لکھنے کے لیے بلوایا۔ مسلمانوں کا یہ غریب طبقہ ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام اترے اور یہ آیت «وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ» [6-الأنعام:51] سے «لَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ» [6-الأنعام:53] تک نازل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاغذ پھینک دیا اور ہمیں اپنے پاس بلا لیا اور ہم نے پھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حلقے میں لے لیا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:7331/4:ضعیف] لیکن یہ حدیث غریب ہے۔ آیت مکی ہے اور اقرع اور عیینہ ہجرت کے بہت سارے زمانے کے بعد اسلام میں آئے ہیں۔
سیدنا شریح رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ یہ آیت اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے چھ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ہم لوگ سب سے پہلے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھتے تاکہ پور طرح شروع سے آخر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنیں۔ قریش کے بڑے لوگوں پر یہ بات گراں گزرتی تھی۔ اس کے برخلاف آیت اتری ۔ [صحیح مسلم:2413] ۔
پھر فرماتا ہے ” اس طرح ہم ایک دوسرے کو پرکھ لیتے ہیں اور ایک سے ایک کا امتحان لے لیتے ہیں کہ یہ امراء ان غرباء سے متعلق اپنی رائے ظاہر کر دیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا اور ہم سب میں اللہ کو یہی لوگ پسند آئے؟“
صفحہ نمبر2603
باب
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے یہی بیچارے بے مایہ غریب غرباء لوگ تھے مرد عورت لونڈی غلام وغیرہ، بڑے بڑے اور ذی وقعت لوگوں میں سے تو اس وقت یونہی کوئی اکا دکا آ گیا تھا۔ یہی لوگ دراصل انبیاء علیہم السلام کے مطیع اور فرمانبردار ہوتے رہے۔
قوم نوح نے کہا تھا «وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ» [11۔ ھود:27] یعنی ” ہم تو دیکھتے ہیں کہ تیری تابعداری رذیل اور بیوقوف لوگوں نے ہی کی ہے “۔
شاہ روم ہرقل نے جب ابوسفیان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت یہ دریافت کیا کہ شریف لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ہے؟ یا ضعیف لوگوں نے؟ تو ابوسفیان نے جواب دیا تھا کہ ضعیف لوگوں نے، بادشاہ نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ فی الواقع تمام نبیوں کا اول پیرو یہی طبقہ ہوتا ہے ۔ [صحیح بخاری:7]
الغرض مشرکین مکہ ان ایمان داروں کا مذاق اڑاتے اور انہیں ستاتے تھے جہاں تک بس چلتا انہیں سزائیں دیتے اور کہتے کہ یہ ناممکن ہے کہ بھلائی انہیں تو نظر آ جائے اور ہم یونہی رہ جائیں؟ قرآن میں ان کا قول یہ بھی ہے کہ آیت «لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ» [46۔ الاحقاف:11] ” اگر یہ کوئی اچھی چیز ہوتی تو یہ لوگ ہم سے آگے نہ بڑھ سکتے “۔ اور آیت میں ہے «وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَيُّ الْفَرِيقَيْنِ خَيْرٌ مَّقَامًا وَأَحْسَنُ نَدِيًّا» [19۔ مریم:73] ” جب ان کے سامنے ہماری صاف اور واضح آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو یہ کفار ایمانداروں سے کہتے یہیں کہ بتاؤ تو مرتبے میں عزت میں حسب نسب میں کون شریف ہے؟ “
اس کے جواب میں رب نے فرمایا آیت «وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْيًا» [19۔ مریم:74] یعنی ” ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کر دی ہیں جو باعتبار سامان و اسباب کے اور باعتبار نمود و ریا کے ان سے بہت ہی آگے بڑھی ہوئی تھیں “۔
چنانچہ یہاں بھی ان کے ایسے ہی قول کے جواب میں فرمایا گیا کہ ” شکر گزاروں تو اللہ کو رب جانتا ہے جو اپنے اقوال و افعال اور ولی ارادوں کو درست رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں سلامتیوں کی راہیں دکھاتا ہے اور اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور صحیح راہ کی رہنمائی کرتا ہے “۔
صفحہ نمبر2605
جیسے فرمان ہے آیت «وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ» [29۔العنکبوت:69] ” جو لوگ ہماری فرمانبرداری کی کوشس کرتے ہیں ہم انہیں اپنی صحیح رہ پر لگا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نیک کاروں کا ساتھ دیتا ہے “۔
صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور رنگوں کو نہیں دیکھتا بلکہ نیتوں اور اعمال کو دیکھتا ہے ۔ [صحیح مسلم:2564]
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ اور عدی کا بیٹا مطعم اور نوفل کا بیٹا حارث اور عمرو کا بیٹا قرطہٰ اور ابن عبد مناف کے قبیلے کے کافر سب کے سب جمع ہو کر ابوطالب کے پاس گئے اور کہنے لگے دیکھ آپ کے بھتیجے اگر ہماری ایک درخواست قبول کر لیں تو ہمارے دلوں میں ان کی عظمت و عزت ہو گی اور پھر ان کی مجلس میں بھی آمدو رفت شروع کر دیں گے اور ہو سکتا ہے کہ ان کی سچائی سمجھ میں آ جائے اور ہم بھی مان لیں۔ ابوطالب نے قوم کے بڑوں کا یہ پیغام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچایا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی اس وقت اس مجلس میں تھے فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرنے میں کیا حرج ہے؟ اللہ عزوجل نے «وَأَنْذِرْ» سے «بِالشَّاكِرِينَ» تک آیتیں اتاریں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13264/11:مرسل و ضعیف]
یہ غرباء جنہیں یہ لوگ فیض صحبت سے محروم کرنا چاہتے تھے یہ تھے بلال، عمار، سالم صبیح، ابن مسعود، مقداد، مسعود، واقد، عمرو ذوالشمالین، یزید اور انہی جیسے اور حضرات رضی اللہ عنہم اجمعین، انہی دونوں جماعتوں کے بارے میں آیت «وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْ بَيْنِنَا اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ» [6۔الأنعام:53] بھی نازل ہوئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان آیتوں کو سن کر عذر معذرت کرنے لگے اس پر آیت «وَاِذَا جَاءَكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهٖ وَاَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [6۔الأنعام:54] نازل ہوئی۔
آخری آیت میں حکم ہوتا ہے کہ ” ایمان والے جب تیرے پاس آ کر سلام کریں تو ان کے سلام کا جواب دو ان کا احترام کرو اور انہیں اللہ کی وسیع رحمت کی خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے نفس پر رحم و کرم واجب کر لیا ہے “۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ گناہ ہر شخص جہالت سے ہی کرتا ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں”دنیا ساری جہالت ہے۔“
غرض جو بھی کوئی برائی کرے پھر اس سے ہٹ جائے اور پورا ارادہ کرلے کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گا اور آگے کیلئے اپنے عمل کی اصلاح بھی کرلے تو وہ یقین مانے کہ غفور و رحیم اللہ اسے بخشے گا بھی اور اس پر مہربانی بھی کرے گا۔
صفحہ نمبر2606
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کی قضاء و قدر مقرر کی تو اپنی کتاب میں لکھا جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ۔ [صحیح بخاری:3194]
ابن مردویہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے کر دے گا اپنے عرش کے نیچے سے ایک کتاب نکالے گا جس میں یہ تحریر ہے کہ ”میرا رحم و کرم میرے غصے اور غضب سے زیادہ بڑھا ہوا ہے اور میں سب سے زیادہ رحمت کرنے والا ہوں“ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ایک بار مٹھیاں بھر کر اپنی مخلوق کو جہنم میں سے نکالے گا جنہوں نے کوئی بھلائی نہیں کی ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوا ہوگا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں ۔
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ توراۃ میں ہم لکھا دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اپنی رحمت کے سو حصے کئے پھر ساری مخلوق میں ان میں سے ایک حصہ رکھا اور ننانوے حصے اپنے پاس باقی رکھے اسی ایک حصہ رحمت کا یہ ظہور ہے کہ مخلوق بھی ایک دوسرے پر مہربانی کرتی ہے اور تواضع سے پیش آتی ہے اور آپس کے تعلقات قائم ہیں، اونٹنی گائے بکری پرند مچھلی وغیرہ جانور اپنے بچوں کی پرورش میں تکلیفیں جھیلتے ہیں اور ان پر پیار و محبت کرتے ہیں، روز قیامت میں اس حصے کو کامل کرنے کے بعد اس میں ننانوے حصے ملا لیے جائیں گے فی الواقع رب کی رحمت اور اس کا فضل بہت ہی وسیع اور کشادہ ہے ۔ یہ حدیث دوسری سند ہے مرفوعاً بھی مروی ہے اور ایسی ہی اکثر حدیثیں، آیت «وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ» [7۔ الأعراف:156] کی تفسیر میں آئیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
ایسی ہی احادیث میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے پوچھا جانتے ہو اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ وہ سب اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ پھر فرمایا: جانتے ہو بندے جب یہ کر لیں تو ان کا حق اللہ تعالیٰ کے ذمہ کیا ہے؟ یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ کرے ۔ [صحیح بخاری:7373] مسند احمد میں یہ حدیث بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے۔
صفحہ نمبر2607
نیک و بد کی وضاحت کے بعد؟ ٭٭
یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کر دیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کر دی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہو جائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔
صفحہ نمبر2608
پھر حکم ہوتا ہے کہ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں اعلان کر دو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم اگرچہ عذابوں کی جلدی مچا رہے ہو لیکن عذاب کا لانا میرے اختیار کی چیز نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے۔ اس کی مصلحت وہی جانتا ہے اگر چاہے دیر سے لائے اگر چاہے تو جلدی لائے، وہ حق بیان فرمانے والا اور اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلے کرنے والا ہے “۔
” سنو اگر میرا ہی حکم چلتا میرے ہی اختیار میں ثواب و عذاب ہوتا، میرے بس میں بقا اور فنا ہوتی تو میں جو چاہتا ہو جایا کرتا اور میں تو ابھی اپنے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر لیتا اور تم پر وہ عذاب برس پڑتے جن سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں، بات یہ ہے کہ میرے بس میں کوئی بات نہیں، اختیار والا اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے، وہ ظالموں کو بخوبی جانتا ہے “۔
صفحہ نمبر2609
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! احد سے زیادہ سختی کا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی دن نہ آیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ (رضی اللہ عنہا) کیا پوچھتی ہو کہ مجھے اس قوم نے کیا کیا ایذائیں پہنچیں؟ سب سے زیادہ بھاری دن مجھ پر عقبہ کا دن تھا جبکہ میں عبدالیل بن عبد کلال کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے آرزو کی کہ وہ میرا ساتھ دے مگر اس نے میری بات نہ مانی، واللہ میں سخت غمگین ہو کر وہاں سے چلا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کدھر جا رہا ہوں۔ قرن ثعالب میں آکر میرے حواس ٹھیک ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اوپر سے ایک بادل نے مجھے ڈھک لیا ہے، سر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو جبرائیل علیہ السلام مجھے آواز دے کر فرما رہے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی باتیں سنیں اور جو جواب انہوں نے تجھے دیا وہ بھی سنا۔ اب پہاڑوں کے داروغہ فرشتے کو اس نے بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہیں انہیں حکم دیجئیے یہ بجا لائیں گے۔“ اسی وقت اس فرشتے نے مجھے پکارا سلام کیا اور کہا ”اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی باتیں سنیں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے کہ ان کے بارے میں جو ارشاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں میں بجا لاؤں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو مکہ شریف کے ان دونوں پہاڑوں کو جو جنوب شمال میں ہیں میں اکٹھے کر دوں اور ان تمام کو ان دونوں کے درمیان پیس دوں۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا کہ نہیں میں یہ نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو امید ہے کہ کیا عجب ان کی نسل میں آگے جا کر ہی کچھ ایسے لوگ ہوں جو اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ [صحیح بخاری:3231]
ہاں یہاں یہ بات خیال میں رہے کہ کوئی اس شبہ میں نہ پڑے کہ قرآن کی اس آیت میں تو ہے کہ اگر میرے بس میں عذاب ہوتے تو ابھی ہی فیصلہ کر دیا جاتا۔
صفحہ نمبر2610
اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بس میں کر دیئے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے تاخیر طلب کی ۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ عذاب طلب کرتے اس وقت اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بس میں ہوتا تو اسی وقت ان پر عذاب آ جاتا اور حدیث میں یہ نہیں کہ اس وقت انہوں نے کوئی عذاب مانگا تھا۔
حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ پہاڑوں کے فرشتے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتلایا کہ ”بحکم الہ میں یہ کر سکتا ہوں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک کے ہلنے کا منتظر ہوں۔“ لیکن رحمتہ للعالمین کو رحم آگیا اور نرمی برتی، پس آیت و حدیث میں کوئی معارضہ نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] پڑھی، یعنی ” قیامت کا علم، بارش کا علم، پیٹ کے بچے کا علم، کل کے کام کا علم، موت کی جگہ کا علم “ ۔ [صحیح بخاری:4627]
اس حدیث میں جس میں جبرائیل علیہ السلام کا بصورت انسان آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان اسلام احسان کی تفصیل پوچھنا بھی مروی ہے یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے صحیح وقت کا سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] تلاوت فرمائی ۔ [صحیح بخاری:50]
صفحہ نمبر2611
پھر فرماتا ہے اس کا علم تمام موجودات کو احاطہٰ کئے ہوئے ہے۔ بری بحری کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ اس پر پوشیدہ نہیں۔ صرصری کا کیا ہی اچھا شعر ہے۔
«فَلا يَخْفَى عَلَيْهِ الذَّرُّ إمَّا» «تَرَاءَى لِلنَّوَاظِرِ أَوْ تَوَارَى» یعنی کسی کو کچھ دکھائی دے نہ دے رب پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں، وہ سب کی ہر کات سے بھی واقف ہے، جمادات کا ہلنا جلنا یہاں تک کہ پتے کا جھڑنا بھی اس کے وسیع علم سے باہر نہیں۔ پھر بھلا جنات اور انسان کا کون سا علم اس پر مخفی رہ سکتا ہے؟
جیسے فرمان عالی شان ہے آیت «يَعْلَمُ خَاىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ» [40۔ غافر:19] ” آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ بھید بھی اس پر عیاں ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”خشکی تری کا کوئی درخت ایسا نہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو اس کے جھڑ جانے والے پتوں کو بھی لکھ لے۔“
پھر فرماتا ہے ” زمین کے اندھیروں کے دانوں کا بھی اس اللہ کو علم ہے “۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”تیسری زمین کے اوپر اور چوتھی کے نیچے اتنے جن بستے ہیں کہ اگر وہ اس زمین پر آ جائیں تو ان کی وجہ سے کوئی روشنی نظر نہ پڑے، زمین کے ہر کونے پر اللہ کی مہروں میں سے ایک مہر اور ہر مہر پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور ہر دن اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس ایک اور فرشتے کے ذریعہ سے حکم پہنچتا ہے کہ تیرے پاس جو ہے اس کی بخوبی حفاظت کر۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم:7370/4:]
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”زمین کے ہر ایک درخت وغیرہ پر فرشتے مقرر ہیں جو ان کی خشکی تری وغیرہ کی بابت اللہ کی جناب میں عرض کر دیتے ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور تختیاں بنائیں اور اس میں دنیا کے تمام ہونے والے اموار لکھے۔ کل مخلوق کی روزیاں، حلال حرام نیکی بدی سب کچھ لکھ دیا ہے“ پھر یہی آیت پڑھی۔
صفحہ نمبر2612
نیک و بد کی وضاحت کے بعد؟ ٭٭
یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کر دیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کر دی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہو جائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔
صفحہ نمبر2608
پھر حکم ہوتا ہے کہ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں اعلان کر دو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم اگرچہ عذابوں کی جلدی مچا رہے ہو لیکن عذاب کا لانا میرے اختیار کی چیز نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے۔ اس کی مصلحت وہی جانتا ہے اگر چاہے دیر سے لائے اگر چاہے تو جلدی لائے، وہ حق بیان فرمانے والا اور اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلے کرنے والا ہے “۔
” سنو اگر میرا ہی حکم چلتا میرے ہی اختیار میں ثواب و عذاب ہوتا، میرے بس میں بقا اور فنا ہوتی تو میں جو چاہتا ہو جایا کرتا اور میں تو ابھی اپنے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر لیتا اور تم پر وہ عذاب برس پڑتے جن سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں، بات یہ ہے کہ میرے بس میں کوئی بات نہیں، اختیار والا اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے، وہ ظالموں کو بخوبی جانتا ہے “۔
صفحہ نمبر2609
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! احد سے زیادہ سختی کا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی دن نہ آیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ (رضی اللہ عنہا) کیا پوچھتی ہو کہ مجھے اس قوم نے کیا کیا ایذائیں پہنچیں؟ سب سے زیادہ بھاری دن مجھ پر عقبہ کا دن تھا جبکہ میں عبدالیل بن عبد کلال کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے آرزو کی کہ وہ میرا ساتھ دے مگر اس نے میری بات نہ مانی، واللہ میں سخت غمگین ہو کر وہاں سے چلا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کدھر جا رہا ہوں۔ قرن ثعالب میں آکر میرے حواس ٹھیک ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اوپر سے ایک بادل نے مجھے ڈھک لیا ہے، سر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو جبرائیل علیہ السلام مجھے آواز دے کر فرما رہے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی باتیں سنیں اور جو جواب انہوں نے تجھے دیا وہ بھی سنا۔ اب پہاڑوں کے داروغہ فرشتے کو اس نے بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہیں انہیں حکم دیجئیے یہ بجا لائیں گے۔“ اسی وقت اس فرشتے نے مجھے پکارا سلام کیا اور کہا ”اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی باتیں سنیں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے کہ ان کے بارے میں جو ارشاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں میں بجا لاؤں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو مکہ شریف کے ان دونوں پہاڑوں کو جو جنوب شمال میں ہیں میں اکٹھے کر دوں اور ان تمام کو ان دونوں کے درمیان پیس دوں۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا کہ نہیں میں یہ نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو امید ہے کہ کیا عجب ان کی نسل میں آگے جا کر ہی کچھ ایسے لوگ ہوں جو اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ [صحیح بخاری:3231]
ہاں یہاں یہ بات خیال میں رہے کہ کوئی اس شبہ میں نہ پڑے کہ قرآن کی اس آیت میں تو ہے کہ اگر میرے بس میں عذاب ہوتے تو ابھی ہی فیصلہ کر دیا جاتا۔
صفحہ نمبر2610
اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بس میں کر دیئے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے تاخیر طلب کی ۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ عذاب طلب کرتے اس وقت اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بس میں ہوتا تو اسی وقت ان پر عذاب آ جاتا اور حدیث میں یہ نہیں کہ اس وقت انہوں نے کوئی عذاب مانگا تھا۔
حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ پہاڑوں کے فرشتے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتلایا کہ ”بحکم الہ میں یہ کر سکتا ہوں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک کے ہلنے کا منتظر ہوں۔“ لیکن رحمتہ للعالمین کو رحم آگیا اور نرمی برتی، پس آیت و حدیث میں کوئی معارضہ نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] پڑھی، یعنی ” قیامت کا علم، بارش کا علم، پیٹ کے بچے کا علم، کل کے کام کا علم، موت کی جگہ کا علم “ ۔ [صحیح بخاری:4627]
اس حدیث میں جس میں جبرائیل علیہ السلام کا بصورت انسان آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان اسلام احسان کی تفصیل پوچھنا بھی مروی ہے یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے صحیح وقت کا سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] تلاوت فرمائی ۔ [صحیح بخاری:50]
صفحہ نمبر2611
پھر فرماتا ہے اس کا علم تمام موجودات کو احاطہٰ کئے ہوئے ہے۔ بری بحری کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ اس پر پوشیدہ نہیں۔ صرصری کا کیا ہی اچھا شعر ہے۔
«فَلا يَخْفَى عَلَيْهِ الذَّرُّ إمَّا» «تَرَاءَى لِلنَّوَاظِرِ أَوْ تَوَارَى» یعنی کسی کو کچھ دکھائی دے نہ دے رب پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں، وہ سب کی ہر کات سے بھی واقف ہے، جمادات کا ہلنا جلنا یہاں تک کہ پتے کا جھڑنا بھی اس کے وسیع علم سے باہر نہیں۔ پھر بھلا جنات اور انسان کا کون سا علم اس پر مخفی رہ سکتا ہے؟
جیسے فرمان عالی شان ہے آیت «يَعْلَمُ خَاىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ» [40۔ غافر:19] ” آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ بھید بھی اس پر عیاں ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”خشکی تری کا کوئی درخت ایسا نہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو اس کے جھڑ جانے والے پتوں کو بھی لکھ لے۔“
پھر فرماتا ہے ” زمین کے اندھیروں کے دانوں کا بھی اس اللہ کو علم ہے “۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”تیسری زمین کے اوپر اور چوتھی کے نیچے اتنے جن بستے ہیں کہ اگر وہ اس زمین پر آ جائیں تو ان کی وجہ سے کوئی روشنی نظر نہ پڑے، زمین کے ہر کونے پر اللہ کی مہروں میں سے ایک مہر اور ہر مہر پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور ہر دن اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس ایک اور فرشتے کے ذریعہ سے حکم پہنچتا ہے کہ تیرے پاس جو ہے اس کی بخوبی حفاظت کر۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم:7370/4:]
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”زمین کے ہر ایک درخت وغیرہ پر فرشتے مقرر ہیں جو ان کی خشکی تری وغیرہ کی بابت اللہ کی جناب میں عرض کر دیتے ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور تختیاں بنائیں اور اس میں دنیا کے تمام ہونے والے اموار لکھے۔ کل مخلوق کی روزیاں، حلال حرام نیکی بدی سب کچھ لکھ دیا ہے“ پھر یہی آیت پڑھی۔
صفحہ نمبر2612
نیک و بد کی وضاحت کے بعد؟ ٭٭
یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کر دیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کر دی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہو جائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔
صفحہ نمبر2608
پھر حکم ہوتا ہے کہ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں اعلان کر دو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم اگرچہ عذابوں کی جلدی مچا رہے ہو لیکن عذاب کا لانا میرے اختیار کی چیز نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے۔ اس کی مصلحت وہی جانتا ہے اگر چاہے دیر سے لائے اگر چاہے تو جلدی لائے، وہ حق بیان فرمانے والا اور اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلے کرنے والا ہے “۔
” سنو اگر میرا ہی حکم چلتا میرے ہی اختیار میں ثواب و عذاب ہوتا، میرے بس میں بقا اور فنا ہوتی تو میں جو چاہتا ہو جایا کرتا اور میں تو ابھی اپنے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر لیتا اور تم پر وہ عذاب برس پڑتے جن سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں، بات یہ ہے کہ میرے بس میں کوئی بات نہیں، اختیار والا اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے، وہ ظالموں کو بخوبی جانتا ہے “۔
صفحہ نمبر2609
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! احد سے زیادہ سختی کا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی دن نہ آیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ (رضی اللہ عنہا) کیا پوچھتی ہو کہ مجھے اس قوم نے کیا کیا ایذائیں پہنچیں؟ سب سے زیادہ بھاری دن مجھ پر عقبہ کا دن تھا جبکہ میں عبدالیل بن عبد کلال کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے آرزو کی کہ وہ میرا ساتھ دے مگر اس نے میری بات نہ مانی، واللہ میں سخت غمگین ہو کر وہاں سے چلا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کدھر جا رہا ہوں۔ قرن ثعالب میں آکر میرے حواس ٹھیک ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اوپر سے ایک بادل نے مجھے ڈھک لیا ہے، سر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو جبرائیل علیہ السلام مجھے آواز دے کر فرما رہے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی باتیں سنیں اور جو جواب انہوں نے تجھے دیا وہ بھی سنا۔ اب پہاڑوں کے داروغہ فرشتے کو اس نے بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہیں انہیں حکم دیجئیے یہ بجا لائیں گے۔“ اسی وقت اس فرشتے نے مجھے پکارا سلام کیا اور کہا ”اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی باتیں سنیں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے کہ ان کے بارے میں جو ارشاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں میں بجا لاؤں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو مکہ شریف کے ان دونوں پہاڑوں کو جو جنوب شمال میں ہیں میں اکٹھے کر دوں اور ان تمام کو ان دونوں کے درمیان پیس دوں۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا کہ نہیں میں یہ نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو امید ہے کہ کیا عجب ان کی نسل میں آگے جا کر ہی کچھ ایسے لوگ ہوں جو اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ [صحیح بخاری:3231]
ہاں یہاں یہ بات خیال میں رہے کہ کوئی اس شبہ میں نہ پڑے کہ قرآن کی اس آیت میں تو ہے کہ اگر میرے بس میں عذاب ہوتے تو ابھی ہی فیصلہ کر دیا جاتا۔
صفحہ نمبر2610
اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بس میں کر دیئے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے تاخیر طلب کی ۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ عذاب طلب کرتے اس وقت اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بس میں ہوتا تو اسی وقت ان پر عذاب آ جاتا اور حدیث میں یہ نہیں کہ اس وقت انہوں نے کوئی عذاب مانگا تھا۔
حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ پہاڑوں کے فرشتے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتلایا کہ ”بحکم الہ میں یہ کر سکتا ہوں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک کے ہلنے کا منتظر ہوں۔“ لیکن رحمتہ للعالمین کو رحم آگیا اور نرمی برتی، پس آیت و حدیث میں کوئی معارضہ نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] پڑھی، یعنی ” قیامت کا علم، بارش کا علم، پیٹ کے بچے کا علم، کل کے کام کا علم، موت کی جگہ کا علم “ ۔ [صحیح بخاری:4627]
اس حدیث میں جس میں جبرائیل علیہ السلام کا بصورت انسان آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان اسلام احسان کی تفصیل پوچھنا بھی مروی ہے یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے صحیح وقت کا سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] تلاوت فرمائی ۔ [صحیح بخاری:50]
صفحہ نمبر2611
پھر فرماتا ہے اس کا علم تمام موجودات کو احاطہٰ کئے ہوئے ہے۔ بری بحری کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ اس پر پوشیدہ نہیں۔ صرصری کا کیا ہی اچھا شعر ہے۔
«فَلا يَخْفَى عَلَيْهِ الذَّرُّ إمَّا» «تَرَاءَى لِلنَّوَاظِرِ أَوْ تَوَارَى» یعنی کسی کو کچھ دکھائی دے نہ دے رب پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں، وہ سب کی ہر کات سے بھی واقف ہے، جمادات کا ہلنا جلنا یہاں تک کہ پتے کا جھڑنا بھی اس کے وسیع علم سے باہر نہیں۔ پھر بھلا جنات اور انسان کا کون سا علم اس پر مخفی رہ سکتا ہے؟
جیسے فرمان عالی شان ہے آیت «يَعْلَمُ خَاىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ» [40۔ غافر:19] ” آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ بھید بھی اس پر عیاں ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”خشکی تری کا کوئی درخت ایسا نہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو اس کے جھڑ جانے والے پتوں کو بھی لکھ لے۔“
پھر فرماتا ہے ” زمین کے اندھیروں کے دانوں کا بھی اس اللہ کو علم ہے “۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”تیسری زمین کے اوپر اور چوتھی کے نیچے اتنے جن بستے ہیں کہ اگر وہ اس زمین پر آ جائیں تو ان کی وجہ سے کوئی روشنی نظر نہ پڑے، زمین کے ہر کونے پر اللہ کی مہروں میں سے ایک مہر اور ہر مہر پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور ہر دن اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس ایک اور فرشتے کے ذریعہ سے حکم پہنچتا ہے کہ تیرے پاس جو ہے اس کی بخوبی حفاظت کر۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم:7370/4:]
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”زمین کے ہر ایک درخت وغیرہ پر فرشتے مقرر ہیں جو ان کی خشکی تری وغیرہ کی بابت اللہ کی جناب میں عرض کر دیتے ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور تختیاں بنائیں اور اس میں دنیا کے تمام ہونے والے اموار لکھے۔ کل مخلوق کی روزیاں، حلال حرام نیکی بدی سب کچھ لکھ دیا ہے“ پھر یہی آیت پڑھی۔
صفحہ نمبر2612
نیک و بد کی وضاحت کے بعد؟ ٭٭
یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کر دیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کر دی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہو جائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔
صفحہ نمبر2608
پھر حکم ہوتا ہے کہ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں اعلان کر دو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم اگرچہ عذابوں کی جلدی مچا رہے ہو لیکن عذاب کا لانا میرے اختیار کی چیز نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے۔ اس کی مصلحت وہی جانتا ہے اگر چاہے دیر سے لائے اگر چاہے تو جلدی لائے، وہ حق بیان فرمانے والا اور اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلے کرنے والا ہے “۔
” سنو اگر میرا ہی حکم چلتا میرے ہی اختیار میں ثواب و عذاب ہوتا، میرے بس میں بقا اور فنا ہوتی تو میں جو چاہتا ہو جایا کرتا اور میں تو ابھی اپنے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر لیتا اور تم پر وہ عذاب برس پڑتے جن سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں، بات یہ ہے کہ میرے بس میں کوئی بات نہیں، اختیار والا اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے، وہ ظالموں کو بخوبی جانتا ہے “۔
صفحہ نمبر2609
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! احد سے زیادہ سختی کا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی دن نہ آیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ (رضی اللہ عنہا) کیا پوچھتی ہو کہ مجھے اس قوم نے کیا کیا ایذائیں پہنچیں؟ سب سے زیادہ بھاری دن مجھ پر عقبہ کا دن تھا جبکہ میں عبدالیل بن عبد کلال کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے آرزو کی کہ وہ میرا ساتھ دے مگر اس نے میری بات نہ مانی، واللہ میں سخت غمگین ہو کر وہاں سے چلا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کدھر جا رہا ہوں۔ قرن ثعالب میں آکر میرے حواس ٹھیک ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اوپر سے ایک بادل نے مجھے ڈھک لیا ہے، سر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو جبرائیل علیہ السلام مجھے آواز دے کر فرما رہے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی باتیں سنیں اور جو جواب انہوں نے تجھے دیا وہ بھی سنا۔ اب پہاڑوں کے داروغہ فرشتے کو اس نے بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہیں انہیں حکم دیجئیے یہ بجا لائیں گے۔“ اسی وقت اس فرشتے نے مجھے پکارا سلام کیا اور کہا ”اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی باتیں سنیں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے کہ ان کے بارے میں جو ارشاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں میں بجا لاؤں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو مکہ شریف کے ان دونوں پہاڑوں کو جو جنوب شمال میں ہیں میں اکٹھے کر دوں اور ان تمام کو ان دونوں کے درمیان پیس دوں۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا کہ نہیں میں یہ نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو امید ہے کہ کیا عجب ان کی نسل میں آگے جا کر ہی کچھ ایسے لوگ ہوں جو اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ [صحیح بخاری:3231]
ہاں یہاں یہ بات خیال میں رہے کہ کوئی اس شبہ میں نہ پڑے کہ قرآن کی اس آیت میں تو ہے کہ اگر میرے بس میں عذاب ہوتے تو ابھی ہی فیصلہ کر دیا جاتا۔
صفحہ نمبر2610
اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بس میں کر دیئے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے تاخیر طلب کی ۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ عذاب طلب کرتے اس وقت اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بس میں ہوتا تو اسی وقت ان پر عذاب آ جاتا اور حدیث میں یہ نہیں کہ اس وقت انہوں نے کوئی عذاب مانگا تھا۔
حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ پہاڑوں کے فرشتے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتلایا کہ ”بحکم الہ میں یہ کر سکتا ہوں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک کے ہلنے کا منتظر ہوں۔“ لیکن رحمتہ للعالمین کو رحم آگیا اور نرمی برتی، پس آیت و حدیث میں کوئی معارضہ نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] پڑھی، یعنی ” قیامت کا علم، بارش کا علم، پیٹ کے بچے کا علم، کل کے کام کا علم، موت کی جگہ کا علم “ ۔ [صحیح بخاری:4627]
اس حدیث میں جس میں جبرائیل علیہ السلام کا بصورت انسان آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان اسلام احسان کی تفصیل پوچھنا بھی مروی ہے یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے صحیح وقت کا سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] تلاوت فرمائی ۔ [صحیح بخاری:50]
صفحہ نمبر2611
پھر فرماتا ہے اس کا علم تمام موجودات کو احاطہٰ کئے ہوئے ہے۔ بری بحری کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ اس پر پوشیدہ نہیں۔ صرصری کا کیا ہی اچھا شعر ہے۔
«فَلا يَخْفَى عَلَيْهِ الذَّرُّ إمَّا» «تَرَاءَى لِلنَّوَاظِرِ أَوْ تَوَارَى» یعنی کسی کو کچھ دکھائی دے نہ دے رب پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں، وہ سب کی ہر کات سے بھی واقف ہے، جمادات کا ہلنا جلنا یہاں تک کہ پتے کا جھڑنا بھی اس کے وسیع علم سے باہر نہیں۔ پھر بھلا جنات اور انسان کا کون سا علم اس پر مخفی رہ سکتا ہے؟
جیسے فرمان عالی شان ہے آیت «يَعْلَمُ خَاىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ» [40۔ غافر:19] ” آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ بھید بھی اس پر عیاں ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”خشکی تری کا کوئی درخت ایسا نہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو اس کے جھڑ جانے والے پتوں کو بھی لکھ لے۔“
پھر فرماتا ہے ” زمین کے اندھیروں کے دانوں کا بھی اس اللہ کو علم ہے “۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”تیسری زمین کے اوپر اور چوتھی کے نیچے اتنے جن بستے ہیں کہ اگر وہ اس زمین پر آ جائیں تو ان کی وجہ سے کوئی روشنی نظر نہ پڑے، زمین کے ہر کونے پر اللہ کی مہروں میں سے ایک مہر اور ہر مہر پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور ہر دن اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس ایک اور فرشتے کے ذریعہ سے حکم پہنچتا ہے کہ تیرے پاس جو ہے اس کی بخوبی حفاظت کر۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم:7370/4:]
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”زمین کے ہر ایک درخت وغیرہ پر فرشتے مقرر ہیں جو ان کی خشکی تری وغیرہ کی بابت اللہ کی جناب میں عرض کر دیتے ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور تختیاں بنائیں اور اس میں دنیا کے تمام ہونے والے اموار لکھے۔ کل مخلوق کی روزیاں، حلال حرام نیکی بدی سب کچھ لکھ دیا ہے“ پھر یہی آیت پڑھی۔
صفحہ نمبر2612
نیک و بد کی وضاحت کے بعد؟ ٭٭
یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کر دیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کر دی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہو جائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔
صفحہ نمبر2608
پھر حکم ہوتا ہے کہ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں اعلان کر دو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم اگرچہ عذابوں کی جلدی مچا رہے ہو لیکن عذاب کا لانا میرے اختیار کی چیز نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے۔ اس کی مصلحت وہی جانتا ہے اگر چاہے دیر سے لائے اگر چاہے تو جلدی لائے، وہ حق بیان فرمانے والا اور اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلے کرنے والا ہے “۔
” سنو اگر میرا ہی حکم چلتا میرے ہی اختیار میں ثواب و عذاب ہوتا، میرے بس میں بقا اور فنا ہوتی تو میں جو چاہتا ہو جایا کرتا اور میں تو ابھی اپنے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر لیتا اور تم پر وہ عذاب برس پڑتے جن سے میں تمہیں ڈرا رہا ہوں، بات یہ ہے کہ میرے بس میں کوئی بات نہیں، اختیار والا اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے، وہ ظالموں کو بخوبی جانتا ہے “۔
صفحہ نمبر2609
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! احد سے زیادہ سختی کا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی دن نہ آیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ (رضی اللہ عنہا) کیا پوچھتی ہو کہ مجھے اس قوم نے کیا کیا ایذائیں پہنچیں؟ سب سے زیادہ بھاری دن مجھ پر عقبہ کا دن تھا جبکہ میں عبدالیل بن عبد کلال کے پاس پہنچا اور میں نے اس سے آرزو کی کہ وہ میرا ساتھ دے مگر اس نے میری بات نہ مانی، واللہ میں سخت غمگین ہو کر وہاں سے چلا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کدھر جا رہا ہوں۔ قرن ثعالب میں آکر میرے حواس ٹھیک ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اوپر سے ایک بادل نے مجھے ڈھک لیا ہے، سر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو جبرائیل علیہ السلام مجھے آواز دے کر فرما رہے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی باتیں سنیں اور جو جواب انہوں نے تجھے دیا وہ بھی سنا۔ اب پہاڑوں کے داروغہ فرشتے کو اس نے بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہیں انہیں حکم دیجئیے یہ بجا لائیں گے۔“ اسی وقت اس فرشتے نے مجھے پکارا سلام کیا اور کہا ”اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی باتیں سنیں اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے کہ ان کے بارے میں جو ارشاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں میں بجا لاؤں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو مکہ شریف کے ان دونوں پہاڑوں کو جو جنوب شمال میں ہیں میں اکٹھے کر دوں اور ان تمام کو ان دونوں کے درمیان پیس دوں۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا کہ نہیں میں یہ نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو امید ہے کہ کیا عجب ان کی نسل میں آگے جا کر ہی کچھ ایسے لوگ ہوں جو اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ [صحیح بخاری:3231]
ہاں یہاں یہ بات خیال میں رہے کہ کوئی اس شبہ میں نہ پڑے کہ قرآن کی اس آیت میں تو ہے کہ اگر میرے بس میں عذاب ہوتے تو ابھی ہی فیصلہ کر دیا جاتا۔
صفحہ نمبر2610
اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بس میں کر دیئے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے تاخیر طلب کی ۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ آیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ عذاب طلب کرتے اس وقت اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بس میں ہوتا تو اسی وقت ان پر عذاب آ جاتا اور حدیث میں یہ نہیں کہ اس وقت انہوں نے کوئی عذاب مانگا تھا۔
حدیث میں تو صرف اتنا ہے کہ پہاڑوں کے فرشتے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتلایا کہ ”بحکم الہ میں یہ کر سکتا ہوں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک کے ہلنے کا منتظر ہوں۔“ لیکن رحمتہ للعالمین کو رحم آگیا اور نرمی برتی، پس آیت و حدیث میں کوئی معارضہ نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] پڑھی، یعنی ” قیامت کا علم، بارش کا علم، پیٹ کے بچے کا علم، کل کے کام کا علم، موت کی جگہ کا علم “ ۔ [صحیح بخاری:4627]
اس حدیث میں جس میں جبرائیل علیہ السلام کا بصورت انسان آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان اسلام احسان کی تفصیل پوچھنا بھی مروی ہے یہ بھی ہے کہ جب قیامت کے صحیح وقت کا سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» [31۔ لقمان:34] تلاوت فرمائی ۔ [صحیح بخاری:50]
صفحہ نمبر2611
پھر فرماتا ہے اس کا علم تمام موجودات کو احاطہٰ کئے ہوئے ہے۔ بری بحری کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ اس پر پوشیدہ نہیں۔ صرصری کا کیا ہی اچھا شعر ہے۔
«فَلا يَخْفَى عَلَيْهِ الذَّرُّ إمَّا» «تَرَاءَى لِلنَّوَاظِرِ أَوْ تَوَارَى» یعنی کسی کو کچھ دکھائی دے نہ دے رب پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں، وہ سب کی ہر کات سے بھی واقف ہے، جمادات کا ہلنا جلنا یہاں تک کہ پتے کا جھڑنا بھی اس کے وسیع علم سے باہر نہیں۔ پھر بھلا جنات اور انسان کا کون سا علم اس پر مخفی رہ سکتا ہے؟
جیسے فرمان عالی شان ہے آیت «يَعْلَمُ خَاىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ» [40۔ غافر:19] ” آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ بھید بھی اس پر عیاں ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”خشکی تری کا کوئی درخت ایسا نہیں جس پر اللہ کی طرف سے کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو اس کے جھڑ جانے والے پتوں کو بھی لکھ لے۔“
پھر فرماتا ہے ” زمین کے اندھیروں کے دانوں کا بھی اس اللہ کو علم ہے “۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”تیسری زمین کے اوپر اور چوتھی کے نیچے اتنے جن بستے ہیں کہ اگر وہ اس زمین پر آ جائیں تو ان کی وجہ سے کوئی روشنی نظر نہ پڑے، زمین کے ہر کونے پر اللہ کی مہروں میں سے ایک مہر اور ہر مہر پر ایک فرشتہ مقرر ہے اور ہر دن اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس ایک اور فرشتے کے ذریعہ سے حکم پہنچتا ہے کہ تیرے پاس جو ہے اس کی بخوبی حفاظت کر۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم:7370/4:]
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”زمین کے ہر ایک درخت وغیرہ پر فرشتے مقرر ہیں جو ان کی خشکی تری وغیرہ کی بابت اللہ کی جناب میں عرض کر دیتے ہیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور تختیاں بنائیں اور اس میں دنیا کے تمام ہونے والے اموار لکھے۔ کل مخلوق کی روزیاں، حلال حرام نیکی بدی سب کچھ لکھ دیا ہے“ پھر یہی آیت پڑھی۔
صفحہ نمبر2612
نیند موت کی چھوٹی بہن ٭٭
«وفاۃ صغریٰ» یعنی چھوٹی موت کا بیان ہو رہا ہے اس سے مراد نیند ہے، جیسے اس آیت میں ہے «اِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ» [3-آل عمران:55] یعنی ” جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ میں تجھے فوت کرنے والا ہوں (یعنی تجھ پر نیند ڈالنے والا ہوں) اور اپنی طرف چڑھا لینے والا ہوں “۔
اور جیسے اس آیت میں ہے «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» [39-الزمر:42] یعنی ” اللہ تعالیٰ نفسوں کو ان کی موت کے وقت مار ڈالتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی انہیں نیند کے وقت فوت کر لیتا ہے (یعنی سلا دیتا ہے) موت والے نفس کو تو اپنے پاس روک لیتا ہے اور دوسرے کو مقررہ وقت پورا کرنے کے لیے پھر بھیج دیتا ہے “۔
اس آیت میں دونوں وفاۃ بیان کر دی ہیں، وفاۃ کبریٰ اور وفاۃ صغریٰ اور جس آیت کی اس وقت تفسیر ہو رہی ہے اس میں بھی دونوں وفاتوں کا ذکر ہے، وفاۃ صغری ٰ یعنی نیند کا پہلے پھر وفاۃ کبریٰ یعنی حقیقی موت کا۔ بیچ کا جملہ آیت «وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى» [6۔ الأنعام:60] جملہ معترضہ ہے جس سے اللہ کے وسیع علم کی دلالت ہو رہی ہے کہ وہ دن رات کے کسی وقت اپنی مخلوق کی کسی حالت سے بےعلم نہیں، ان کی حرکات و سکنات سب جانتا ہے۔
جیسے فرمان ہے آیت «سَوَاءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» [13۔ الرعد:10] یعنی ” چھپا کھلا رات کا دن کا سب باتوں کا اسے علم ہے “۔
اور آیت میں ہے «وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [28-القصص:73] یعنی ” یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے سکون کا وقت رات کو بنایا اور دن کو تلاش معاش کا وقت بنایا “۔
اور آیت میں ارشاد ہے «وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا» [78۔النبأ:11۔10] ” رات کو ہم نے لباس اور دن کو سبب معاش بنایا “۔
یہاں فرمایا ” رات کو وہ تمہیں سلا دیتا ہے اور دنوں کو جو تم کرتے ہو اس سے وہ آگاہ ہے، پھر دن میں تمہیں اٹھا بٹھا دیتا ہے “۔ ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ” وہ نیند میں یعنی خواب میں تمہیں اٹھا کھڑا کرتا ہے “ لیکن اول معنی ہی اولیٰ ہیں۔
صفحہ نمبر2617
ابن مردویہ کی ایک مرفوع روایت میں ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہے جو سونے کے وقت اس کی روح کو لے جاتا ہے پھر اگر قبض کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وہ اس روح کو نہیں لوٹاتا ورنہ بحکم الٰہی لوٹا دیتا ہے ۔ [الدر المنشور للسیوطی:29/3:ضعیف]
یہی معنی اس آیت کے جملے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ» [6۔ الأنعام:60] کا ہے تاکہ اس طرح عمر کا پورا وقت گزرے اور جو اجل مقرر ہے وہ پوری ہو، قیامت کے دن سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ ہر ایک کو اس کے عمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک اور بدوں کو برا، وہی ذات ہے جو ہر چیز پر غالب و قادر ہے اس کی جلالت عظمت عزت کے سامنے ہر کوئی پست ہے بڑائی اس کی ہے اور سب اس کے سامنے عاجز و مسکین ہیں وہ اپنے محافظ فرشتوں کو بھیجتا ہے جو انسان کی دیکھ بھال رکھتے ہیں۔
جیسے فرمان عالیشان ہے آیت «لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ» [13۔الرعد:11] پس یہ فرشتے تو وہ ہیں جو انسان کی جسمانی حفاظت رکھتے ہیں اور دائیں بائیں آگے پیچھے سے اسے بحکم الٰہی بلاؤں سے بچاتے رہتے ہیں، دوسری قسم کے وہ فرشتے ہیں جو اس کے اعمال کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور ان کی نگہبانی کرتے رہتے ہیں۔
جیسے فرمایا آیت «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» [82-الانفطار:12-10] ان ہی فرشتوں کا ذکر آیت «اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ» [50-ق:17] میں ہے۔
صفحہ نمبر2618
پھر فرمایا ” یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو سکرات کے عالم میں اس کے پاس ہمارے وہ فرشتے آتے ہیں جو اسی کام پر مقرر ہیں “۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ملک الموت کے بہت سے مددگار فرشتے ہیں جو روح کو جسم سے نکالتے ہیں اور حلقوم تک جب روح آ جاتی ہے پھر ملک الموت اسے قبض کر لیتے ہیں۔“
اس کا مفصل بیان آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ» [14-إبراهيم:27] میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر2619
پھر فرمایا ” وہ کوئی کمی نہیں کرتے “ یعنی روح کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کرتے۔ اسے پوری حفاظت کے ساتھ یا تو علین میں یک روحوں سے ملا دیتے ہیں یا سجبین میں بری روحوں ڈال دیتے ہیں۔ پھر وہ سب اپنے سچے مولٰی کی طرف بلا لیے جائیں گے۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مرنے والے کی روح کو نکالنے کے لیے فرشتے آتے ہیں اور اگر وہ نیک ہے تو اس سے کہتے ہیں اے مطمئن روح جو پاک جسم میں تھی تو نہایت اچھائیوں اور بھلائیوں سے چل تو راحت و آرام کی خوشخبری سن تو اس رب کی طرف چل جو تجھ پر کبھی خفا نہ ہو گا، وہ اسے سنتے ہی نکلتی ہے اور جب تک وہ نکل نہ چکے تب تک یہی مبارک صدا اسے سنائی جاتی ہے پھر اسے آسمانوں پر لے جاتے ہیں اس کیلئے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور فرشتے اس کی آؤ بھگت کرتے ہیں مرحبا کہتے ہوئے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور جو موت کے فرشتوں نے کہا تھا وہی خوشخبری یہ بھی سناتے ہیں یہاں تک کہ اسی طرح نہایت تپاک اور گرم جوشی سے فرشتوں کے استقبال کے ساتھ یہ نیک روح اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہے۔ (اللہ تعالیٰ ہماری موت بھی نیک پر کرے)۔ اور جب کوئی برا آدمی ہوتا ہے تو موت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح جو گندے جسم میں تھی تو بری بن کر چل گرم کھولتے ہوئے پانی اور سڑی بھسی غذا اور طرح طرح کے عذابوں کی طرف چل، پھر وہ اس روح کو نکالتے ہیں اور یہی کہتے رہے ہیں پھر اسے آسمان کی طرف چڑھاتے ہیں دروازہ کھولنا چاہتے ہیں، آسمان کے فرشتے پوچھتے ہیں کون ہے؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اس خبیث نفس کے لیے مرحبا نہیں، یہ تھا بھی ناپاک جسم میں تو برائی کے ساتھ لوٹ جا، تیرے لیے آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے، چنانچہ اسے زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے، پھر قبر پر لائی جاتی ہے، پھر قبر میں ان دونوں روحوں سے سوال جواب ہوتے ہیں ۔ [مسند احمد:364/2:صحیح] جیسے پہلی حدیثیں گزر چکیں۔
صفحہ نمبر2620
” پھر اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں “، اس سے مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فرشتے لوٹائے جاتے ہیں یا یہ کہ مخلوق لوٹائی جاتی ہے یعنی قیامت کے دن، پھر جناب باری ان میں عدل و انصاف کرے گا اور احکام جاری فرمائے گا، جیسے فرمایا آیت «قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَالْاٰخِرِيْنَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [56-الواقعة:49-50] یعنی ” کہہ دے کہ اول آخر والے سب قیامت کے دن جمع ہوں گے “۔
اور آیت میں ہے آیت «وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا» [18-الكهف:47] ” ہم سب کو جمع کریں گے اور کسی کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے “۔
یہاں بھی فرمایا کہ «مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الأنعام:62] ” اپنے سچے مولٰی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ جو بہت جلدی حساب لینے والا ہے۔ اس سے زیادہ جلدی حساب میں کوئی نہیں کر سکتا “۔
صفحہ نمبر2621