Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-An'aam
Tafsir Ibn Kathir · The Cattle · 165 ayat · ayat 151–165 · Quran text →
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیتیں ٭٭
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وصیت کو دیکھنا چاہتا ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت تھی تو وہ ان آیتوں کو «ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ» [الأنعام:151تا153] تک پڑھے۔ [سنن ترمذي:3070،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”سورۃ الأنعام میں محکم آیتیں ہیں“ پھر یہی آیتیں [الأنعام:151تا153] آپ رضی اللہ عنہ نے تلاوت فرمائیں۔
ایک مرتبہ حضور نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ہے جو میرے ہاتھ پر ان تین باتوں کی بیعت کرے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا: جو اسے پورا کرے گا، وہ اللہ سے اجر پائے گا اور جو ان میں سے کسی بات کو پورا نہ کرے گا تو دنیا میں ہی اسے شرعی سزا دے دی جائے گی اور اگر سزا نہ دی گئی تو پھر اس کا معاملہ قیامت پر ہے اگر اللہ چاہے تو اسے بخش دے چاہے تو سزا دے ۔ [مستدرک حاکم:318/2:صحیح]
صفحہ نمبر2798
بخاری مسلم میں ہے تم لوگ میرے ہاتھ پر بیعت کرو، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے کی ۔ [صحیح بخاری:18]
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی سلام علیہ سے فرماتا ہے کہ ” ان مشرکین کو جو اللہ کی اولاد کے قائل ہیں اللہ کے رزق میں سے بعض کو اپنی طرف سے حلال اور بعض کو حرام کہتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسروں کو پوجتے ہیں کہہ دیجئیے کہ سچ مچ جو چیزیں اللہ کی حرام کردہ ہیں انہیں مجھ سے سن لو جو میں بذریعہ وحی الٰہی بیان کرتا ہوں تمہاری طرح خواہش نفس، توہم پرستی اور اٹکل و گمان کی بناء پر نہیں کہتا “۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جس کی وہ تمہیں وصیت کرتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، یہ کلام عرب میں ہوتا ہے کہ ایک جملہ کو حذف کر دیا پھر دوسرا جملہ ایسا کہہ دیا جس سے حذف شدہ جملہ معلوم ہو جائے اس آیت کے آخری جملے «ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم» سے «أَلَّا تُشْرِكُوا» اس سے پہلے کے محذوف جملے «وَصَّاكُمْ» پر دلالت ہوگئی۔ عرب میں یوں بھی کہہ دیا کرتے ہیں «أَمَرْتُكَ أَلَّا تَقُومَ»
بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے وہ داخل جنت ہوگا تو میں نے کہا گو اس نے زنا کیا ہو، گو اس نے چوری کی ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”ہاں گو اس نے زنا اور چوری کی ہو۔“ میں نے پھر یہی سوال کیا مجھے پھر یہی جواب ملا پھر بھی میں نے یہ بات پوچھی اب کے جواب دیا کہ گو شراب نوشی بھی کی ہو ۔ [صحیح بخاری:6443]
صفحہ نمبر2799
بعض روایتوں میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے موحد کے جنت میں داخل ہونے کا سن کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے یہ سوال کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب دیا تھا اور آخری مرتبہ فرمایا تھا اور ابوذر کی ناک خاک آلود ہو چنانچہ راوی حدیث جب اسے بیان فرماتے تو یہی لفظ دوہرا دیتے ۔ [صحیح بخاری:5727]
سنن میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اے ابن آدم تو جب تک مجھ سے دعا کرتا رہے گا اور میری ذات سے امید رکھے گا میں بھی تیری خطاؤں کو معاف فرماتا رہوں گا خواہ وہ کیسی ہی ہوں کوئی پرواہ نہ کروں گا تو اگر میرے پاس زمین بھر کر خطائیں لائے گا تو میں تیرے پاس اتنی ہی مغفرت اور بخشش لے کر آؤں گا بشرطیکہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو گو تونے خطائیں کی ہوں یہاں تک کہ وہ آسمان تک پہنچ گئی ہوں پھر بھی تو مجھ سے استغفار کرے تو میں تجھے بخش دوں گا “ ۔ [مسند احمد:172/5:حسن لغیره]
اس حدیث کی شہادت میں یہ آیت آسکتی ہے «اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا» [4-النساء:48] یعنی ” مشرک کو تو اللہ مطلق نہ بخشے گا باقی گنہگار اللہ کی مشیت پر ہیں جسے چاہے بخش دے “۔
صفحہ نمبر2800
صحیح مسلم شریف میں ہے جو توحید پر مرے وہ جنتی ہے ۔ [صحیح مسلم:92]
اس بارے میں بہت سی آیتیں اور حدیثیں ہیں -ابن مردویہ میں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گو تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں یا تمہیں سولی چڑھا دیا جائے یا تمہیں جلا دیا جائے -
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا [١] اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا گو تم جلا دیئے جاؤ یا کاٹ دیئے جاؤ یا سولی دے دیئے جاؤ ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:8058/5:اسنادہ فیہ جھالتہ]
اس آیت میں توحید کا حکم دے کر پھر ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے کا حکم ہوا «وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا» [17-الإسراء:23] بعض کی قرأت «وَوَصَّى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا» بھی ہے۔
قرآن کریم میں اکثر یہ دونوں حکم ایک ہی جگہ بیان ہوئے ہیں جیسے آیت «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [31-لقمان:14-15] میں مشرک ماں باپ کے ساتھ بھی بقدر ضرورت احسان کرنے کا حکم ہوا ہے۔
اور آیت «وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا» [2-البقرۃ:83] ، میں بھی دونوں حکم ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں اور بھی بہت سی اس مفہوم کی آیتیں ہیں۔
صفحہ نمبر2801
بخاری و مسلم میں ہے سیدنا ابن مسعود فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز وقت پر پڑھنا -میں نے پوچھا پھر؟ فرمایا: ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا ، میں نے پوچھا پھر؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا -میں اگر اور بھی دریافت کرتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بتا دیتے ۔ [صحیح بخاری:5970]
ابن مردویہ میں عبادہ بن صامت اور ابودرداء سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی کہ اپنے والدین کی اطاعت کر اگرچہ وہ تجھے حکم دیں کہ تو ان کیلئے ساری دنیا سے الگ ہو جائے تو بھی مان لے ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:5589/5:حسن] اس کی سند ضعیف ہے۔
باپ داداؤں کی وصیت کرکے اولاد اور اولاد کی اولاد کی بات وصیت فرمائی کہ انہیں قتل نہ کرو جیسے کہ شیاطین نے اس کام کو تمہیں سکھا رکھا ہے لڑکیوں کو تو وہ لوگ بوجہ عار کے مار ڈالتے تھے اور بعض لڑکوں کو بھی بوجہ اس کے کہ ان کے کھانے کا سامان کہاں سے لائیں گے، مار ڈالتے تھے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ”سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک کرنا حالانکہ اسی اکیلے نے پیدا کیا ہے ۔ پوچھا پھر کون سا گناہ ہے؟ فرمایا: اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرنا کہ یہ میرے ساتھ کھائے گی ۔ پوچھا پھر کون سا ہے؟ فرمایا: اپنی پڑوس کی عورت سے بدکاری کرنا پھر حضور نے آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» [25-الفرقان:68] کی تلاوت فرمائی ۔ [صحیح بخاری:7420]
اور آیت میں ہے «وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا» [17-الإسراء:31] ” اپنی اولاد کو فقیری کے خوف سے قتل نہ کرو “، اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ” ہم انہیں روزی دیتے ہیں اور تمہاری روزی بھی ہمارے ذمہ ہے “۔
یہاں چونکہ فرمایا تھا کہ ” فقیری کی وجہ سے اولاد کا گلا نہ گھونٹو “ تو ساتھ ہی فرمایا ” تمہیں روزی ہم دیں گے اور انہیں بھی ہم ہی دے رہے ہیں “۔
صفحہ نمبر2802
پھر فرمایا کسی ظاہر اور پوشیدہ برائی کے پاس بھی نہ جاؤ جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا باللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ» [7-الأعراف:33] ، یعنی ” تمام ظاہری، باطنی برائیاں، ظلم و زیادتی، شرک و کفر اور جھوٹ بہتان سب کچھ اللہ نے حرام کر دیا ہے “ -اس کی پوری تفسیر آیت «وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا يَقْتَرِفُونَ» [6-الأنعام:120] کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
صحیح حدیث میں ہے اللہ سے زیادہ غیرت ولا کوئی نہیں اسی وجہ سے تمام بے حیائیاں اللہ نے حرام کردی ہیں خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ ہوں ۔ [صحیح بخاری:4634]
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں کسی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھ لوں تو میں تو ایک ہی وار میں اس کا فیصلہ کر دوں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کا یہ قول بیان ہوا تو فرمایا: کیا تم سعد کی غیرت پر تعجب کر رہے ہو؟ واللہ میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور میرا رب مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے، اسی وجہ سے تمام فحش کام ظاہر و پوشیدہ اس نے حرام کر دیئے ہیں ۔ [صحیح بخاری:7316]
صفحہ نمبر2803
ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ”ہم غیرت مند لوگ ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واللہ میں بھی غیرت والا ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے۔ یہ غیرت ہی ہے جو اس نے تمام بری باتوں کو حرام قرار دے دیا ہے ۔ [مسند احمد:326/2:صحیح وهذا اسناد ضعیف] اس حدیث کی سند ترمذی کی فباء پر ہے ترمذی میں یہ حدیث ہے کہ میری امت کی عمریں ساٹھ ستر کے درمیان ہیں ۔ [سنن ترمذي:2331،قال الشيخ الألباني:حسن]
اس کے بعد کسی کے ناحق قتل کی حرمت کو بیان فرمایا گو وہ بھی فواحش میں داخل ہے لیکن اس کی اہمیت کی وجہ سے اسے الگ کرکے بیان فرما دیا۔
صفحہ نمبر2804
بخاری و مسلم میں ہے کہ جو مسلمان اللہ کی توحید اور میری رسالت اقرار کرتا ہو اسے قتل کرنا بجز تین باتوں کے جائز نہیں یا تو شادی شدہ ہو کر پھر زنا کرے یا کسی کو قتل کر دے یا دین کو چھوڑ دے اور جماعت سے الگ ہو جائے ۔ [صحیح بخاری:6878]
مسلم میں ہے اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ۔ [صحیح مسلم:1676]
ابوداؤد اور نسائی میں تیسرا شخص وہ بیان کیا گیا ہے جو اسلام سے نکل جائے اور اللہ کے رسولوں سے جنگ کرنے لگے اسے قتل کر دیا جائے گا یا صلیب پر چڑھا دیا جائے گا یا مسلمانوں کے ملک سے جلا وطن کردیا جائے گا ۔ [سنن ابوداود:4502،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2805
امیرالمؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس وقت جبکہ باغی آپ رضی اللہ عنہ کو محاصرے میں لیے ہوئے تھے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کسی مسلمان کا خون بجز ان تین کے حلال نہیں ایک تو اسلام کے بعد کافر ہو جانے والا دوسرا شادی ہو جانے کے بعد زنا کرنے والا اور بغیر قصاص کے کسی کو قتل کر دینے والا -اللہ کی قسم نہ تو میں نے جاہلیت میں زنا کیا نہ اسلام لانے کے بعد، اور نہ اسلام لانے کے بعد کبھی میں نے کسی اور دین کی تمنا کی اور نہ میں نے کسی کو بلا وجہ قتل کیا۔ پھر تم میرا خون بہانے کے درپے کیوں ہو؟۔“ [سنن ابوداود:4502،قال الشيخ الألباني:صحیح]
حربی کافروں میں سے جو امن طلب کرے اور مسلمانوں کے معاہدہ امن میں آجائے اس کے قتل کرنے والے کے حق میں بھی بہت وعید آئی ہے اور اس کا قتل بھی شرعاً حرام ہے۔ بخاری میں ہے معاہدہ امن کا قاتل جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کے راستے تک پہنچ جاتی ہے ۔ [صحیح بخاری:3166]
اور روایت میں ہے کیونکہ اس نے اللہ کا ذمہ توڑا اس میں ہے پچاس برس کے راستے کے فاصلے سے ہی جنت کی خوشبو پہنچی ہے ۔ [سنن ترمذي:1403،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرماتا ہے ” یہ ہیں اللہ کی وصیتیں اور اس کے احکام تاکہ تم دین حق کو، اس کے احکام کو اور اس کی منع کردہ باتوں کو سمجھ لو “۔
صفحہ نمبر2806
یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ٭٭
ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ جب آیت «وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ» اور آیت «إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا» [4-النساء:10] نازل ہوئیں تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیموں کا کھانا پینا اپنے کھانے پینے سے بالکل الگ تھلگ کردیا اس میں علاوہ ان لوگوں کے نقصان اور محنت کے یتیموں کا نقصان بھی ہونے لگا اگر بچ رہا تو یا تو وہ باسی کھائیں یا سڑ کر خراب ہو جائے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر ہوا تو آیت «وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰي قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ» [2-البقرة:220] نازل ہوئی کہ ” ان کے لیے خیر خواہی کرو ان کا کھانا پینا ساتھ رکھنے میں کوئی حرج نہیں وہ تمہارے بھائی ہیں “۔ اسے پڑھ کر سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کا کھانا اپنے ساتھ ملا لیا ۔ [سنن ابوداود:2871،قال الشيخ الألباني:حسن]
یہ حکم ان کے سن بلوغ تک پہنچنے تک ہے گو بعض نے تیس سال بعض نے چالیس سال اور بعض نے ساٹھ سال کہے ہیں لیکن یہ سب قول یہاں مناسب نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2807
پھر حکم فرمایا کہ ” لین دین میں، ناپ تول میں کمی بیشی نہ کرو، ان کے لیے ہلاکت ہے جو لیتے وقت پورا لیں اور دیتے وقت کم دیں، ان امتوں کو اللہ نے غارت کر دیا جن میں یہ بد خصلت تھی “ -جامع ابو عیسیٰ ترمذی میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپنے اور تولنے والوں سے فرمایا: تم ایک ایسی چیز کے والی بنائے گئے ہو، جس کی صحیح نگرانی نہ رکھنے والے تباہ ہو گئے - [سنن ترمذي:1217،قال الشيخ الألباني:موقوفاً صحیح]
پھر فرماتا ہے ” کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ہم نہیں لادتے “ یعنی اگر کسی شخص نے اپنی طاقت بھر کوشش کرلی دوسرے کا حق دے دیا، اپنے حق سے زیادہ نہ لیا، پھر بھی نادانستگی میں غلطی سے کوئی بات رہ گئی ہو تو اللہ کے ہاں اس کی پکڑ نہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کے یہ دونوں جملے تلاوت کرکے فرمایا کہ جس نے صحیح نیت سے وزن کیا، تولا، پھر بھی واقع میں کوئی کمی زیادتی بھول چوک سے ہو گئی تو اس کا مؤاخذہ نہ ہوگا ۔ [الدر المنشور للسیوطی:105/3:مرسل] یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔
صفحہ نمبر2808
پھر فرماتا ہے ” بات انصاف کی کہا کرو کہ قرابت داری کے معاملے میں ہی کچھ کہنا پڑے “ -جیسے فرمان ہے آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّـهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ» [5-المائدہ:8] اور سورۃ نساء میں بھی یہی حکم دیا کہ «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلّٰهِ» [4-النساء:135] ” ہر شخص کو ہر حال میں سچائی اور انصاف نہ چھوڑنا چاہیئے، جھوٹی گواہی اور غلط فیصلے سے بچنا چاہیئے “۔
اللہ کے عہد کو پورا کرو، اس کے احکام بجا لاؤ، اس کی منع کردہ چیزوں سے الگ رہو، اس کی کتاب اس کے رسول کی سنت پر چلتے رہو، یہی اس کے عہد کو پورا کرنا ہے، انہی چیزوں کے بارے اللہ کا تاکیدی حکم ہے، یہی فرمان تمہارے وعظ و نصیحت کا ذریعہ ہیں تاکہ تم جو اس سے پہلے نکمے بلکہ برے کاموں میں تھے، اب ان سے الگ ہو جاؤ۔ بعض کی قرأت میں «تَذَّكَـرُوْنَ» بھی ہے۔
صفحہ نمبر2809
شیطانی راہیں فرقہ سازی ٭٭
یہ اور ان جیسی آیتوں کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول تو یہ ہے کہ ”اللہ تعالیٰ مومنوں کو باہم اعتماد کا حکم دیتا ہے اور اختلاف و فرقہ بندی سے روکتا ہے اس لیے کہ اگلے لوگ اللہ کے دین میں پھوٹ ڈالنے ہی سے تباہ ہوئے تھے۔“
مسند میں ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا: اللہ کی سیدھی راہ یہی ہے پھر اس کے دائیں بائیں اور لکیریں کھینچ کر فرمایا: ان تمام راہوں پر شیطان ہے جو اپنی طرف بلا رہا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کا ابتدائی حصہ تلاوت فرمایا ۔ [مسند احمد:465/1:حسن]
اسی حدیث کی شاہد وہ حدیث ہے جو مسند وغیرہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا: یہ شیطانی راہیں ہیں اور بیچ کی لکیر پر انگلی رکھ کر اس آیت کی تلاوت فرمائی ۔ [سنن ابن ماجه:11،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ماجہ میں اور بزار میں بھی یہ حدیث ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا صراط مستقیم کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جس پر ہم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا اسی کا دوسرا سرا جنت میں جا ملتا ہے اس کے دائیں بائیں بہت سی اور راہیں ہیں جن پر لوگ چل رہے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنی طرف بلا رہے ہیں جو ان راہوں میں سے کسی راہ ہو لیا وہ جہنم میں پہنچا“ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14170/1:اسنادہ ضعیف جدا]
صفحہ نمبر2810
حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی مثال بیان فرمائی، اس راستے کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں جن میں بہت سے دروازے ہیں اور سب چوپٹ کھلے پڑے ہیں اور ان پر پردے لٹکے ہوئے ہیں اس سیدھی راہ کے سرے پر ایک پکارنے والا ہے پکارتا رہتا ہے کہ لوگو! تم سب اس صراط مستقیم پر آ جاؤ راستے میں بکھر نہ جاؤ، بیچ راہ کے بھی ایک شخص ہے، جب کوئی شخص ان دروازوں میں سے کسی کو کھولنا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے خبردار اسے نہ کھول، کھولو گے تو سیدھی راہ سے دور نکل جاؤ گے -پس سیدھی راہ اسلام ہے دونوں دیواریں اللہ کی حدود ہیں کھلے ہوئے دروازے اللہ کی حرام کردہ چیزیں ہیں نمایاں شخص اللہ کی کتاب ہے اوپر سے پکارنے والا اللہ کی طرف کا نصیحت کرنے والا ہے جو ہر مومن کے دل میں ہے ۔ [سنن ترمذي:2859، قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس نکتے کو نہ بھولنا چاہیئے کہ اپنی راہ کیلئے «سَبِیلِ» واحد کا لفظ بولا گیا اور گمراہی کی راہوں کے لیے «سُّبُلَ» جمع کا لفظ استعمال کیا گیا اس لیے کہ راہ حق ایک ہی ہوتی ہے اور ناحق کے بہت سے طریقے ہوا کرتے ہیں۔
جیسے آیت «اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ» [2-البقرة:257] میں «لظُّلُمٰتِ» کو جمع کے لفظ سے اور «النُّوْرِ» کو واحد کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ «قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ» سے تین آیتوں [6-الأنعام:151تا153] تک تلاوت کر کے فرمایا: تم میں سے کون کون ان باتوں پر مجھ سے بیعت کرتا ہے؟ پھر فرمایا: جس نے اس بیعت کو اپنا لیا اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جس نے ان میں سے کسی بات کو توڑ دیا اس کی دو صورتیں ہیں یا تو دنیا میں ہی اس کی سزا شرعی اسے مل جائے گی یا اللہ تعالیٰ آخرت تک اسے مہلت دے پھر رب کی مشیت پر منحصر ہے اگر چاہے سزا دے اگر چاہے تو معاف فرما دے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8077/5:ضعیف]
صفحہ نمبر2811
جنوں نے قرآن حکیم سنا ٭٭
امام ابن جریر نے تو لفظ «ثُمَّ» کو ترتیب کے لیے مانا ہے یعنی ان سے یہ بھی کہہ دے اور ہماری طرف سے یہ خبر بھی پہنچا دے، لیکن میں کہتا ہوں «ثُمَّ» کو ترتیب کیلئے مان کر خبر کا خبر پر عطف کر دیں تو کیا حرج؟ ایسا ہوتا ہے اور شعروں میں موجود ہے چونکہ قرآن کریم کی مدح آیت «وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا» [6-الأنعام:153] میں گزری تھی اس لیے اس پر عطف ڈال کر توراۃ کی مدح بیان کر دی۔ جیسے کہ اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے -
چنانچہ فرمان ہے آیت «وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَىٰ إِمَامًا وَرَحْمَةً وَهَـٰذَا كِتَابٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا» [46-الأحقاف:12] یعنی ” اس سے پہلے توراۃ امام رحمت تھی اور اب یہ قرآن عربی تصدیق کرنے والا ہے “۔ اسی سورت کے اول میں ہے آیت «قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاءَ بِهٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ» [6-الأنعام:91] ، اس آیت میں بھی تورات کے بیان کے بعد «وَهَـٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ» [6-الانعام:92] اس قرآن کے نزول کا بیان ہے۔
صفحہ نمبر2812
کافروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے آیت «فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا لَوْلَا أُوتِيَ مِثْلَ مَا أُوتِيَ مُوسَىٰ» [28-القصص:48] ، ” جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آ پہنچا تو کہنے لگے اسے اس جیسا کیوں نہ ملا جو موسیٰ علیہ السلام کو ملا تھا “، جس کے جواب میں فرمایا گیا «أَوَلَمْ يَكْفُرُوا بِمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ مِن قَبْلُ قَالُوا سِحْرَانِ تَظَاهَرَا وَقَالُوا إِنَّا بِكُلٍّ كَافِرُونَ» [28-القصص:48] ” کیا انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی اس کتاب کے ساتھ کفر نہیں کیا تھا؟ کیا صاف طور سے نہیں کہا تھا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں اور ہم تو ہر ایک کے منکر ہیں “۔
جنوں کا قول بیان ہوا ہے کہ «قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ» [46-الأحقاف:30] ” انہوں نے اپنی قوم سے کہا ہم نے وہ کتاب سنی ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد اتری ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کو سچا کہتی ہیں اور راہ حق کی ہدایت کرتی ہیں “۔ «وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَيْءٍ» [7-الأعراف:145] ” وہ کتاب جامع اور کامل تھی “۔
شریعت کی جن باتوں کی اس وقت ضرورت تھی سب اس میں موجود تھیں یہ احسان تھا نیک کاروں کی نیکیوں کے بدلے کا۔ جیسے فرمان ہے ” احسان کا بدلہ احسان ہی ہے “۔
اور جیسے فرمان ہے کہ «وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ» [32-السجدہ:24] ” بنی اسرائیلیوں کو ہم نے ان کا امام بنا دیا جبکہ انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیتوں پر یقین رکھا “۔ غرض یہ بھی اللہ کا فضل تھا اور «هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ» [55-الرحمن:60] ” نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہے “۔
احسان کرنے والوں پر اللہ بھی احسان پورا کرتا ہے یہاں اور وہاں بھی۔ امام ابن جریر «الَّذِي» کو مصدریہ مانتے ہیں جیسے آیت «وَخُضْتُمْ كَالَّذِي خَاضُوا» [9-التوبة:69] میں۔
ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کا شعر ہے «وَثَبَّتَ اللَّه مَا آتَاك مِنْ حُسْن» «فِي الْمُرْسَلِينَ وَنَصْرًا كَاَلَّذِي نُصِرُوا» اللہ تیری اچھائیاں بڑھائے اور اگلے نبیوں کی طرح تیری بھی مدد فرمائے۔
صفحہ نمبر2813
بعض کہتے ہیں یہاں «الَّذِي» معنی میں «الَّذِينَ» کا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «تَمَامًا عَلَى الَّذِينَ أَحْسَنُوا» ہے۔
پس مومنوں اور نیک لوگوں پر اللہ کا یہ احسان ہے اور پورا احسان ہے۔ بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے انبیاء علیہم السلام اور عام مومن ہیں۔ یعنی ان سب پر ہم نے اس کی فضیلت ظاہر کی۔ جیسے فرمان ہے آیت «قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ» [7-الأعراف:144] ، یعنی ” اے موسیٰ (علیہ السلام) میں نے اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے لوگوں پر بزرگی عطا فرمائی “۔
ہاں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی اس بزرگی سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم الانبیاء ہیں اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام جو خلیل اللہ ہیں مستثنیٰ ہیں بہ سبب ان دلائل کے جو وارد ہو چکے ہیں۔ یحییٰ بن یعمر «أَحْسَنُ هُوَ» کو مخذوف مان کر «أَحْسَنُ» پڑھتے تھے، ہو سکتا ہے؟ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اس قرأت کو جائز نہیں رکھوں گا اگرچہ عربیت کی بنا پر اس میں نقصان نہیں۔
آیت کے اس جملے کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام پر احسان رب کو تمام کرنے کیلئے یہ اللہ کی کتاب ان پر نازل ہوئی، ان دونوں کے مطلب میں کوئی تفاوت نہیں۔ پھر تورات کی تعریف بیان فرمائی کہ اس میں ہر حکم بہ تفصیل ہے اور وہ ہدایت و رحمت ہے تاکہ لوگ قیامت کے دن اپنے رب سے ملنے کا یقین کر لیں۔ پھر قرآن کریم کی اتباع کی رغبت دلاتا ہے اس میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور اس پر عمل کرنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس کی طرف لوگوں کو بلانے کا حکم دیتا ہے برکت سے اس کا وصف بیان فرماتا ہے کہ جو بھی اس پر کار بند ہو جائے وہ دونوں جہان کی برکتیں حاصل کرے گا اس لیے کہ یہ اللہ کی طرف مضبوط رسی ہے۔
صفحہ نمبر2814
جنوں نے قرآن حکیم سنا ٭٭
امام ابن جریر نے تو لفظ «ثُمَّ» کو ترتیب کے لیے مانا ہے یعنی ان سے یہ بھی کہہ دے اور ہماری طرف سے یہ خبر بھی پہنچا دے، لیکن میں کہتا ہوں «ثُمَّ» کو ترتیب کیلئے مان کر خبر کا خبر پر عطف کر دیں تو کیا حرج؟ ایسا ہوتا ہے اور شعروں میں موجود ہے چونکہ قرآن کریم کی مدح آیت «وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا» [6-الأنعام:153] میں گزری تھی اس لیے اس پر عطف ڈال کر توراۃ کی مدح بیان کر دی۔ جیسے کہ اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے -
چنانچہ فرمان ہے آیت «وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَىٰ إِمَامًا وَرَحْمَةً وَهَـٰذَا كِتَابٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا» [46-الأحقاف:12] یعنی ” اس سے پہلے توراۃ امام رحمت تھی اور اب یہ قرآن عربی تصدیق کرنے والا ہے “۔ اسی سورت کے اول میں ہے آیت «قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاءَ بِهٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ» [6-الأنعام:91] ، اس آیت میں بھی تورات کے بیان کے بعد «وَهَـٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ» [6-الانعام:92] اس قرآن کے نزول کا بیان ہے۔
صفحہ نمبر2812
کافروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے آیت «فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا لَوْلَا أُوتِيَ مِثْلَ مَا أُوتِيَ مُوسَىٰ» [28-القصص:48] ، ” جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آ پہنچا تو کہنے لگے اسے اس جیسا کیوں نہ ملا جو موسیٰ علیہ السلام کو ملا تھا “، جس کے جواب میں فرمایا گیا «أَوَلَمْ يَكْفُرُوا بِمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ مِن قَبْلُ قَالُوا سِحْرَانِ تَظَاهَرَا وَقَالُوا إِنَّا بِكُلٍّ كَافِرُونَ» [28-القصص:48] ” کیا انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی اس کتاب کے ساتھ کفر نہیں کیا تھا؟ کیا صاف طور سے نہیں کہا تھا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں اور ہم تو ہر ایک کے منکر ہیں “۔
جنوں کا قول بیان ہوا ہے کہ «قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ» [46-الأحقاف:30] ” انہوں نے اپنی قوم سے کہا ہم نے وہ کتاب سنی ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد اتری ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کو سچا کہتی ہیں اور راہ حق کی ہدایت کرتی ہیں “۔ «وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَيْءٍ» [7-الأعراف:145] ” وہ کتاب جامع اور کامل تھی “۔
شریعت کی جن باتوں کی اس وقت ضرورت تھی سب اس میں موجود تھیں یہ احسان تھا نیک کاروں کی نیکیوں کے بدلے کا۔ جیسے فرمان ہے ” احسان کا بدلہ احسان ہی ہے “۔
اور جیسے فرمان ہے کہ «وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ» [32-السجدہ:24] ” بنی اسرائیلیوں کو ہم نے ان کا امام بنا دیا جبکہ انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیتوں پر یقین رکھا “۔ غرض یہ بھی اللہ کا فضل تھا اور «هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ» [55-الرحمن:60] ” نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہے “۔
احسان کرنے والوں پر اللہ بھی احسان پورا کرتا ہے یہاں اور وہاں بھی۔ امام ابن جریر «الَّذِي» کو مصدریہ مانتے ہیں جیسے آیت «وَخُضْتُمْ كَالَّذِي خَاضُوا» [9-التوبة:69] میں۔
ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کا شعر ہے «وَثَبَّتَ اللَّه مَا آتَاك مِنْ حُسْن» «فِي الْمُرْسَلِينَ وَنَصْرًا كَاَلَّذِي نُصِرُوا» اللہ تیری اچھائیاں بڑھائے اور اگلے نبیوں کی طرح تیری بھی مدد فرمائے۔
صفحہ نمبر2813
بعض کہتے ہیں یہاں «الَّذِي» معنی میں «الَّذِينَ» کا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «تَمَامًا عَلَى الَّذِينَ أَحْسَنُوا» ہے۔
پس مومنوں اور نیک لوگوں پر اللہ کا یہ احسان ہے اور پورا احسان ہے۔ بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے انبیاء علیہم السلام اور عام مومن ہیں۔ یعنی ان سب پر ہم نے اس کی فضیلت ظاہر کی۔ جیسے فرمان ہے آیت «قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ» [7-الأعراف:144] ، یعنی ” اے موسیٰ (علیہ السلام) میں نے اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے لوگوں پر بزرگی عطا فرمائی “۔
ہاں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی اس بزرگی سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم الانبیاء ہیں اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام جو خلیل اللہ ہیں مستثنیٰ ہیں بہ سبب ان دلائل کے جو وارد ہو چکے ہیں۔ یحییٰ بن یعمر «أَحْسَنُ هُوَ» کو مخذوف مان کر «أَحْسَنُ» پڑھتے تھے، ہو سکتا ہے؟ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اس قرأت کو جائز نہیں رکھوں گا اگرچہ عربیت کی بنا پر اس میں نقصان نہیں۔
آیت کے اس جملے کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام پر احسان رب کو تمام کرنے کیلئے یہ اللہ کی کتاب ان پر نازل ہوئی، ان دونوں کے مطلب میں کوئی تفاوت نہیں۔ پھر تورات کی تعریف بیان فرمائی کہ اس میں ہر حکم بہ تفصیل ہے اور وہ ہدایت و رحمت ہے تاکہ لوگ قیامت کے دن اپنے رب سے ملنے کا یقین کر لیں۔ پھر قرآن کریم کی اتباع کی رغبت دلاتا ہے اس میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور اس پر عمل کرنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس کی طرف لوگوں کو بلانے کا حکم دیتا ہے برکت سے اس کا وصف بیان فرماتا ہے کہ جو بھی اس پر کار بند ہو جائے وہ دونوں جہان کی برکتیں حاصل کرے گا اس لیے کہ یہ اللہ کی طرف مضبوط رسی ہے۔
صفحہ نمبر2814
لاف زنی عیب ہے دوسروں کو بھی نیکی سے روکنے والے بدترین ہیں ٭٭
فرماتا ہے کہ ” اس آخری کتاب نے تمہارے تمام عذر ختم کر دیئے “۔ جیسے فرمان ہے «وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْن» [28-القصص:47] ، یعنی ” اگر انہیں ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی تو کہہ دیتے کہ تونے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیرے فرمان کو مانتے “۔ اگلی دو جماعتوں سے مراد یہود و نصرانی ہیں۔ ” اگر یہ عربی زبان کا قرآن نہ اترتا تو وہ یہ عذر کر دیتے کہ ہم پر تو ہماری زبان میں کوئی کتاب نہیں اتری ہم اللہ کے فرمان سے بالکل غافل رہے پھر ہمیں سزا کیوں ہو؟ نہ یہ عذر باقی رہا نہ یہ کہ اگر ہم پر آسان کتاب اترتی تو ہم تو اگلوں سے آگے نکل جاتے اور خوب نیکیاں کرتے “۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا» [35-فاطر:42] ، یعنی ” مؤکد قسمیں کھا کھا کر لاف زنی کرتے تھے کہ ہم میں اگر کوئی نبی آ جائے تو ہم ہدایت کو مان لیں “۔
صفحہ نمبر2816
اللہ فرماتا ہے ” اب تو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ہدایت و رحمت بھرا قرآن بزبان رسول عربی آ چکا جس میں حلال حرام کا بخوبی بیان ہے اور دلوں کی ہدایت کی کافی نورانیت اور رب کی طرف سے ایمان والوں کیلئے سراسر رحمت و رحم ہے، اب تم ہی بتاؤ کہ جس کے پاس اللہ کی آیتیں آ جائیں اور وہ انہیں جھٹلائے ان سے فائدہ نہ اٹھائے نہ عمل کرے نہ یقین لائے نہ نیکی کرے نہ بدی چھوڑے نہ خود مانے نہ اوروں کو ماننے دے اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے؟ “۔
اسی سورت کے شروع میں فرمایا ہے آیت «وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ» [6-الانعام:26] ” خود اس کے مخالف اوروں کو بھی اسے ماننے سے روکتے ہیں دراصل اپنا ہی بگاڑتے ہیں “۔
جیسے فرمایا آیت «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ» [16-النحل:88] یعنی ” جو لوگ خود کفر کرتے ہیں اور راہ الٰہی سے روکتے ہیں انہیں ہم عذاب بڑھاتے رہیں گے “۔ پس یہ لوگ ہیں جو نہ مانتے تھے نہ فرماں بردار ہوتے تھے۔
جیسے فرمان ہے آیت «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» [75-القيامة:32-31] یعنی ” نہ تونے مانا نہ نماز پڑھی بلکہ نہ مان کر منہ پھیر لیا “۔ ان دونوں تفسیروں میں پہلی بہت اچھی ہے یعنی خود بھی انکار کیا اور دوسروں کا بھی انکار پر آمادہ کیا۔
صفحہ نمبر2817
لاف زنی عیب ہے دوسروں کو بھی نیکی سے روکنے والے بدترین ہیں ٭٭
فرماتا ہے کہ ” اس آخری کتاب نے تمہارے تمام عذر ختم کر دیئے “۔ جیسے فرمان ہے «وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْن» [28-القصص:47] ، یعنی ” اگر انہیں ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی تو کہہ دیتے کہ تونے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیرے فرمان کو مانتے “۔ اگلی دو جماعتوں سے مراد یہود و نصرانی ہیں۔ ” اگر یہ عربی زبان کا قرآن نہ اترتا تو وہ یہ عذر کر دیتے کہ ہم پر تو ہماری زبان میں کوئی کتاب نہیں اتری ہم اللہ کے فرمان سے بالکل غافل رہے پھر ہمیں سزا کیوں ہو؟ نہ یہ عذر باقی رہا نہ یہ کہ اگر ہم پر آسان کتاب اترتی تو ہم تو اگلوں سے آگے نکل جاتے اور خوب نیکیاں کرتے “۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا» [35-فاطر:42] ، یعنی ” مؤکد قسمیں کھا کھا کر لاف زنی کرتے تھے کہ ہم میں اگر کوئی نبی آ جائے تو ہم ہدایت کو مان لیں “۔
صفحہ نمبر2816
اللہ فرماتا ہے ” اب تو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ہدایت و رحمت بھرا قرآن بزبان رسول عربی آ چکا جس میں حلال حرام کا بخوبی بیان ہے اور دلوں کی ہدایت کی کافی نورانیت اور رب کی طرف سے ایمان والوں کیلئے سراسر رحمت و رحم ہے، اب تم ہی بتاؤ کہ جس کے پاس اللہ کی آیتیں آ جائیں اور وہ انہیں جھٹلائے ان سے فائدہ نہ اٹھائے نہ عمل کرے نہ یقین لائے نہ نیکی کرے نہ بدی چھوڑے نہ خود مانے نہ اوروں کو ماننے دے اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے؟ “۔
اسی سورت کے شروع میں فرمایا ہے آیت «وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ» [6-الانعام:26] ” خود اس کے مخالف اوروں کو بھی اسے ماننے سے روکتے ہیں دراصل اپنا ہی بگاڑتے ہیں “۔
جیسے فرمایا آیت «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ» [16-النحل:88] یعنی ” جو لوگ خود کفر کرتے ہیں اور راہ الٰہی سے روکتے ہیں انہیں ہم عذاب بڑھاتے رہیں گے “۔ پس یہ لوگ ہیں جو نہ مانتے تھے نہ فرماں بردار ہوتے تھے۔
جیسے فرمان ہے آیت «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» [75-القيامة:32-31] یعنی ” نہ تونے مانا نہ نماز پڑھی بلکہ نہ مان کر منہ پھیر لیا “۔ ان دونوں تفسیروں میں پہلی بہت اچھی ہے یعنی خود بھی انکار کیا اور دوسروں کا بھی انکار پر آمادہ کیا۔
صفحہ نمبر2817
قیامت اور بےبسی ٭٭
اللہ تعالیٰ کافروں کو اور پیغمبروں کے مخالفوں کو اور اپنی آیات کے جھٹلانے والوں کو اور اپنی راہ سے روکنے والوں کو ڈرا رہا ہے کہ ” کیا انہیں قیامت کا انتظار ہے؟ جبکہ فرشتے بھی آئیں گے اور خود اللہ قہار بھی۔ وہ بھی وقت ہو گا جب ایمان بھی بے سود اور توبہ بھی بیکار “۔
بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ سورج مغرب سے نہ نکلے جب یہ نشان ظاہر ہو جائے گا تو زمین پر جتنے لوگ ہوں گے سب ایمان لائیں گے لیکن اس وقت کا ایمان محض بے سود ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی ۔ [صحیح بخاری:3635]
اور حدیث میں ہے جب قیامت کی تین نشانیاں ظاہر ہو جائیں تو بے ایمان کو ایمان لانا، خیر سے رکے ہوئے لوگوں کو اس کے بعد نیکی یا توبہ کرنا کچھ سود مند نہ ہوگا۔ سورج کا مغرب سے نکلنا، دجال کا آنا، دابتہ الارض کا ظاہر ہونا ۔ [صحیح مسلم:158]
ایک اور روایت میں اس کے ساتھ ہی ایک دھویں کے آنے کا بھی بیان ہے۔ [صحیح مسلم:158]
اور حدیث میں ہے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے بیشتر جو توبہ کرے اس کی توبہ مقبول ہے ۔ [صحیح مسلم:2703]
صفحہ نمبر2819
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا جانتے ہو یہ سورج غروب ہو کر کہاں جاتا ہے؟ جواب دیا کہ ”نہیں“، فرمایا: عرش کے قریب جا کر سجدے میں گر پڑتا ہے اور ٹھہرا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے اجازت ملے اور کہا جائے لوٹ جا قریب ہے کہ ایک دن اس سے کہہ دیا جائے کہ جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا یہی وہ وقت ہو گا کہ ایمان لانا بے نفع ہو جائے گا ۔ [صحیح بخاری:3199]
ایک مرتبہ لوگ قیامت کی نشانیوں کا ذکر کر رہے تھے اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے قیامت قائم نہ ہوگی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو گے۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دھواں، دابتہ الارض، یاجوج ماجوج کا آنا، عیسیٰ بن مریم کا آنا اور دجال کا نکلنا، مشرق، مغرب اور جزیرہ عرب میں تین جگہ زمین کا دھنس جانا اور عدن کے درمیان سے ایک زبردست آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانک لے جائے گی رات دن ان کے پیچھے ہی پیچھے رہے گی ۔ [صحیح مسلم:2901]
صفحہ نمبر2820
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا نشان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ رات بہت لمبی ہو جائے گی بقدر دو راتوں کے لوگ معمول کے مطابق اپنے کام کاج میں ہوں گے اور تہجد گذاری میں بھی۔ ستارے اپنی جگہ ٹھہرے ہوئے ہوں گے پھر لوگ سو جائیں گے پھر اٹھیں گے کام میں لگیں گے پھر سوئیں گے پھر اٹھیں گے لیکن دیکھیں گے کہ نہ ستارے ہٹے ہیں نہ سورج نکلا ہے کروٹیں دکھنے لگیں گی لیکن صبح نہ ہوگی اب تو گھبرا جائیں گے اور دہشت زدہ ہو جائیں گے منتظر ہوں گے کہ کب سورج نکلے مشرق کی طرف نظریں جمائے ہوئے ہوں گے کہ اچانک مغرب کی طرف سے سورج نکل آئے گا اس وقت تو تمام روئے زمین کے انسان مسلمان ہو جائینگے لیکن اس وقت کا ایمان محض بے سود ہوگا ۔ [الدر المنشور للسیوطی:109/3:موضوع] ۔
ایک حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اس آیت کے اس جملے کو تلاوت فرما کر اس کی تفسیر میں سورج کا مغرب سے نکلنا فرمانا بھی ہے ۔ [سنن ترمذي:3071،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2821
ایک روایت میں ہے سب سے پہلی نشانی یہی ہوگی ۔ [طبرانی کبیر:8022:ضعیف]
اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے مغرب کی طرف ایک بڑا دروازہ کھول رکھا ہے جس کا عرض ستر سال کا ہے یہ توبہ کا دروازہ ہے یہ بند نہ ہوگا جب تک کہ سورج مغرب سے نہ نکلے ۔ [سنن ترمذي:3536، قال الشيخ الألباني:حسن]
اور حدیث میں ہے لوگوں پر ایک رات آئے گی جو تین راتوں کے برابر ہوگی اسے تہجد گزار جان لیں گے یہ کھڑے ہوں گے ایک معمول کے مطابق تہجد پڑھ کر پھر سو جائیں گے پھر اٹھیں گے اپنا معمول ادا کر کے پھر لیٹیں گے لوگ اس لمبائی سے گھبرا کر چیخ پکار شروع کردیں گے اور دوڑے بھاگے مسجدوں کی طرف جائیں گے کہ ناگہاں دیکھیں گے کہ سورج طلوع ہوگیا یہاں تک کہ وسط آسمان میں پہنچ کر پھر لوٹ جائے گا اور اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے طلوع ہوگا، یہی وہ وقت ہے جس وقت ایمان سود مند نہیں ۔ [الدر المنشور للسیوطی:111/3:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ تین مسلمان شخص مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے مروان ان سے کہہ رہے تھے کہ سب سے پہلی نشانی دجال کا خروج ہے یہ سن کر یہ لوگ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور یہ بیان کیا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس نے کچھ نہیں کہا مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان خوب محفوظ ہے کہ سب سے پہلی نشانی سورج کا مغرب سے نکلنا ہے اور دآبتہ الارض کا دن چڑھے ظاہر ہونا ہے ۔ ان دونوں میں سے جو بھی پہلے ظاہر ہو اسی کے بعد دوسری ظاہر ہوگی، عبداللہ کتاب پڑھتے جاتے تھے فرمایا ”میرا خیال ہے کہ پہلے سورج کا نشان ظاہر ہوگا وہ غروب ہوتے ہی عرش تلے جاتا ہے اور سجدہ کر کے اجازت مانگتا ہے اجازت مل جاتی ہے جب مشیت الٰہی سے مغرب سے ہی نکلنا ہوگا تو اس کی بار بار کی اجازت طلبی پر بھی جواب نہ ملے گا رات کا وقت ختم ہونے کے قریب ہوگا اور یہ سمجھ لے گا کہ اب اگر اجازت ملی بھی تو مشرق میں نہیں پہنچ سکتا تو کہے گا کہ یا اللہ دنیا کو سخت تکلیف ہوگی تو اس سے کہا جائے گا ” یہیں سے طلوع ہو “ چنانچہ وہ مغرب سے ہی نکل آئے گا پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلات فرمائی۔ [صحیح مسلم:2941]
صفحہ نمبر2822
طبرانی میں ہے کہ ”جب سورج مغرب سے نکلے گا ابلیس سجدے میں گر پڑے گا اور زور زور سے کہے گا الٰہی مجھے حکم کر میں مانوں گا جسے تو فرمائے میں سجدہ کرنے کیلئے تیار ہوں اس کی ذریت اس کے پاس جمع ہو جائے گی اور کہے گی یہ ہائے وائے کیسی ہے؟ وہ کہے گا مجھے یہیں تک کی ڈھیل دی گئی تھی، اب وہ آخری وقت آ گیا پھر صفا کی پہاڑی کے غار سے دابتہ الارض نکلے گا اس کا پہلا قدم انطاکیہ میں پڑے گا وہ ابلیس کے پاس پہنچے گا اور اسے تھپڑ مارے گا۔“ [طبرانی اوسط:94:منکر] یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کی سند بالکل ضعیف ہے ممکن ہے کہ یہ ان کتابوں میں سے عبداللہ بن عمرو نے لی ہو جن کے دو تھیلے انہیں یرموک کی لڑائی والے دن ملے تھے۔ ان کا فرمان رسول ہونا ناقابل تسلیم ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2823
حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہجرت منقطع نہ ہوگی جب تک کہ دشمن برسر پیکار رہے -ہجرت کی دو قسمیں ہیں ایک تو گناہوں کو چھوڑنا دوسرے اللہ اور اس کے رسول کے پاس ترک وطن کرکے جانا یہ بھی باقی رہے گا جب تک کہ توبہ قبول ہوتی ہے اور توبہ قبول ہوتی رہے گی جب تک کہ سورج مغرب سے نہ نکلے۔ سورج کے مغرب سے نکلتے ہی پھر جو کچھ جس حال میں ہے اسی پر مہر لگ جائے گی اور اعمال بےسود ہو جائیں گے ۔ [مسند احمد:192/2:حسن]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”بہت سے نشانات گزر چکے صرف چار باقی رہ گئے ہیں، سورج کا نکلنا دجال، دابتہ الارض اور یاجوج ماجوج کا آنا جس علامت کے ساتھ اعمال ختم ہو جائیں گے وہ طلوع شمس منجانب مغرب ہے۔“
ایک طویل مرفوع غیب منکر حدیث میں ہے کہ ”اس دن سورج چاند ملے جلے طلوع ہوں گے آدھے آسمان سے واپس چلے جائیں گے پھر حسب عادت ہو جائینگے۔“ [الدر المنشور للسیوطی:114/3:ضعیف] اس حدیث کا تو مرفوع ہونے کا دعویٰ اس حدیث کے موضوع ہونے کا ثبوت ہے۔ ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یا وہیب بن منبہ رحمہ اللہ پر موقوف ہونے کی حیثیت سے ممکن ہے موضوع کی گنتی سے نکل جائے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”قیامت کی پہلی نشانی کے ساتھ ہی اعمال کا کاتمہ ہے اس دن کسی کافر کا مسلمان ہونا بے سود ہوگا، ہاں مومن جو اس سے پہلے نیک اعمال والا ہوگا وہ بہتری میں رہے گا اور جو نیک عمل نہ ہوگا اس کی توبہ بھی اس وقت مقبول نہ ہوگی۔“ جیسے کہ پہلے حدیثیں گزر چکیں برے لوگوں کے نیک اعمال بھی اس نشان عظیم کو دیکھ لیں گے بعد کام نہ آئیں گے۔
پھر کافروں کو تنبیہہ کی جاتی ہے کہ ” اچھا تم انتظار میں ہی رہو تا آنکہ توبہ کے اور ایمان کے قبول نہ ہونے کا وقت آ جائے اور قیامت کے زبردست آثار ظاہر ہو جائیں “۔
جیسے اور آیت میں ہے «فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ» [47-محمد:18] ، ” قیامت کے اچانک آ جانے کا ہی انتظار ہے اس کی بھی علامات ظاہر ہو چکی ہیں اس کے آچکنے کے بعد نصیحت کا وقت کہاں؟ “
اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» [40-غافر:84-85] یعنی ” پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے کہ ہم خدائے واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک بناتے تھے اس سے نا معتقد ہوئے لیکن جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے (اس وقت) ان کے ایمان نے ان کو کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ (یہ) خدا کی عادت (ہے) جو اس کے بندوں (کے بارے) میں چلی آتی ہے۔ اور وہاں کافر گھاٹے میں پڑ گئے۔ ہمارے عذابوں کا مشاہدہ کر لینے کے بعد کا ایمان اور شرک سے انکار بے سود ہے “۔
صفحہ نمبر2824
اہل بدعت گمراہ ہیں ٭٭
کہتے ہیں کہ یہ آیت یہود و نصاریٰ کے بارے میں اتری ہے۔ یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے سخت اختلافات میں تھے جن کی خبر یہاں دی جا رہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14257:]
ایک حدیث میں ہے «شَيْءٍ» تک اس آیت کی تلاوت فرما کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی تجھ سے کوئی میل نہیں رکھتے۔ اس امت کے اہل بدعت شک شبہ والے اور گمراہی والے ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14271] اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ یعنی ممکن ہے یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہو۔
ابوامامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس سے مراد خارجی ہیں۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم:8150/6:ضعیف] یہ بھی مرفوعاً مروی ہے لیکن صحیح نہیں۔
ایک اور غریب حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مراد اس سے اہل بدعت ہے ۔ [طبرانی صغیر:203/1:ضعیف] اس کا بھی مرفوع ہونا صحیح نہیں۔
بات یہ ہے کہ آیت عام ہے جو بھی اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی مخالفت کرے اور اس میں پھوٹ اور افتراق پیدا کرے گمراہی کی اور خواہش پرستی کی پیروی کرے، نیا دین اختیار کرے، نیا مذہب قبول کرے وہی وعید میں داخل ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس حق کو لے کر آئے ہیں وہ ایک ہی ہے کئی ایک نہیں۔ اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرقہ بندی سے بچایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو بھی اس لعنت سے محفوظ رکھا ہے۔
صفحہ نمبر2825
اسی مضمون کی دوسری آیت «شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ» [42-الشورى:13] ہے۔ ایک حدیث میں بھی ہے کہ ہم جماعت انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں۔ ہم سب کا دین ایک ہی ہے ۔ [صحیح بخاری:3443]
پس صراط مستقیم اور دین پسندیدہ اللہ کی توحید اور رسولوں کی اتباع ہے اس کے خلاف جو ہو ضلالت جہالت رائے خواہش اور بددینی ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بیزار ہیں ان کا معاملہ سپرد رب ہے وہی انہیں ان کے کرتوت سے آگاہ کرے گا۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ «إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصَارَىٰ وَالْمَجُوسَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا إِنَّ اللَّـهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ» [22-الحج:17] ” مومنوں، یہودیوں، صابیوں اور نصرانیوں میں مجوسیوں میں مشرکوں میں اللہ خود قیامت کے دن فیصلے کر دے گا “ اس کے بعد اپنے احسان حکم اور عدل کا بیان فرماتا ہے۔
صفحہ نمبر2826
نیکی کا دس گنا ثواب اور غلطی کی سزا برابر برابر ٭٭
ایک اور آیت میں مجملاً یہ آیا ہے کہ «مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِّنْهَا» [27-النمل:89] ” جو نیکی لائے اس کیلئے اس سے بہتر بدلہ ہے “۔
اسی آیت کے مطابق بہت سی حدیثیں بھی وارد ہوتی ہیں ایک میں ہے تمہارا رب عزوجل بہت بڑا رحیم ہے نیکی کے صرف قصد پر نیکی کے کرنے کا ثواب عطا فرما دیتا ہے اور ایک نیکی کے کرنے پر دس سے ساٹھ تک بڑھا دیتا ہے اور بھی بہت زیادہ اور بہت زیادہ اور اگر برائی کا قصد ہوا پھر نہ کرسکا تو بھی نیکی ملتی ہے اور اگر اس برائی کو کر گزرا تو ایک برائی ہی لکھی جاتی ہے اور بہت ممکن ہے کہ اللہ معاف ہی فرما دے اور بالکل ہی مٹا دے سچ تو یہ ہے کہ ہلاکت والے ہی اللہ کے ہاں ہلاک ہوتے ہیں ۔ [صحیح بخاری:6491]
صفحہ نمبر2827
ایک حدیث قدسی میں ہے نیکی کرنے والے کو دس گنا ثواب ہے اور پھر بھی میں زیادہ کردیتا ہوں اور برائی کرنے والے کو اکہرا عذاب ہے اور میں معاف بھی کر دیتا ہوں زمین بھر تک جو شخص خطائیں لے آئے اگر اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا تو میں اتنی ہی رحمت سے اس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جو میری طرف بالشت بھر آئے میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں اور جو ہاتھ بھر آئے میں اس کی طرف دو ہاتھ برھتا ہوں اور جو میری طرف چلتا ہوا آئے میں اس کی طرف دوڑتا ہوا جاتا ہوں - [صحیح مسلم:2687]
اس سے پہلے گزری ہوئی حدیث کی طرح ایک اور حدیث بھی ہے اس میں فرمایا ہے کہ برائی کا اردہ کر کے پھر اسے چھوڑ دینے والے کو بھی نیکی ملتی ہے اس سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ کے ڈر سے چھوڑ دے چنانچہ بعض روایات میں تشریح آ بھی چکی ہے۔ دوسری صورت چھوڑ دینے کی یہ ہے کہ اسے یاد ہی نہ آئے بھول بسر جائے تو اسے نہ ثواب ہے نہ عذاب کیونکہ اس نے اللہ سے ڈر کر نیک نیتی سے اسے ترک نہیں کیا اور اگر بد نیتی سے اس نے کوشش بھی کی اسے پوری طرح کرنا بھی چاہا لیکن عاجز ہو گیا کر نہ سکا موقعہ ہی نہ ملا اسباب ہی نہ بنے تھک کر بیٹھ گیا تو ایسے شخص کو اس برائی کے کرنے کے برابر ہی گناہ ہوتا ہے۔
چنانچہ حدیث میں ہے جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے سے جنگ کریں تو جو مار ڈالے اور جو مار ڈالا جائے دونوں جہنمی ہیں لوگوں نے کہا مار ڈالنے والا تو خیر لیکن جو مارا گیا وہ جہنم میں کیوں جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ وہ بھی دوسرے کو مار ڈالنے کا آرزو مند تھا ۔ [صحیح بخاری:31]
اور حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نیکی کے محض ارادے پر نیکی لکھ لی جاتی ہے اور عمل میں لانے کے بعد دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں برائی کے محض ارادے کو لکھا نہیں جاتا اگر عمل کر لے تو ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے اور اگر چھوڑ دے تو نیکی لکھی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس نے گناہ کے کام کو میرے خوف سے ترک کر دیا ۔ [ضعیف]
صفحہ نمبر2828
حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگوں کی چار قسمیں ہیں اور اعمال کی چھ قسمیں ہیں۔ بعض لوگ تو وہ ہیں جنہیں دنیا اور آخرت میں وسعت اور کشادگی دی جاتی ہے بعض وہ ہیں جن پر دنیا میں کشادگی ہوتی ہے اور آخرت میں تنگی بعض وہ ہیں جن پر دنیا میں تنگی رہتی ہے اور آخرت میں انہیں کشادگی ملے گی۔ بعض وہ ہیں جو دونوں جہان میں بدبخت رہتے ہیں یہاں بھی وہاں بھی بے آبرو، اعمال کی چھ قسمیں یہ ہیں دو قسمیں تو ثواب واجب کر دینے والی ہیں ایک برابر کا، ایک دس گنا اور ایک سات سو گنا۔ واجب کر دینے والی دو چیزیں وہ ہیں جو شخص اسلام و ایمان پر مرے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو اس کیلئے جنت واجب ہے اور جو کفر پر مرے اس کیلئے جہنم واجب ہے اور جو نیکی کا ارادہ کرے گو کہ نہ ہو اسے ایک نیکی ملتی ہے اس لیے کہ اللہ جانتا ہے کہ اس کے دل نے اسے سمجھا اس کی حرص کی اور جو شخص برائی کا ارادہ کرے اس کے ذمہ گناہ نہیں لکھا جاتا اور جو کر گذرے اسے ایک ہی گناہ ہوتا ہے اور وہ بڑھتا نہیں ہے اور جو نیکی کا کام کرے اسے دس نیکیاں ملتی ہیں اور جو راہ اللہ عزوجل میں خرچ کرے اسے سات سو گنا ملتا ہے ۔ [سنن نسائی:3186،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر2829
فرمان ہے کہ جمعہ میں آنے والے لوگ تین طرح کے ہیں ایک وہ جو وہاں لغو کرتا ہے اس کے حصے میں تو وہی لغو ہے، ایک دعا کرتا ہے اسے اگر اللہ چاہے دے چاہے نہ دے -تیسرا وہ شخص ہے جو سکوت اور خاموشی کے ساتھ خطبے میں بیٹھتا ہے کسی مسلمان کی گردن پھلانگ کر مسجد میں آگے نہیں بڑھتا نہ کسی کو ایذاء دیتا ہے اس کا جمعہ اگلے جمعہ تک گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے بلکہ اور تین دن تک کے گناہوں کا بھی اس لیے کہ وعدہ الٰہی میں ہے آیت «مَنْ جَاءَ بالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا» [6-الأنعام:160] جو نیکی کرے اسے دس گنا اجر ملتا ہے ۔ [سنن ابوداود:1113،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر2830
طبرانی میں ہے جمعہ جمعہ تک بلکہ اور تین دن تک کفارہ ہے اس لیے کہ اللہ کا فرمان ہے نیکی کرنے والے کو اس جیسی دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے - [طبرانی کبیر:3459:ضعیف و منقطع وله شواهد]
فرماتے ہیں جو شخص ہر مہینے میں تین روزے رکھے اسے سال بھر کے روزوں کا یعنی تمام عمر سارا زمانہ روزے سے رہنے کا ثواب دس روزوں کا ملتا ہے ۔ [سنن ترمذي:762،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور سلف کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ ”اس آیت میں حسنہ سے مراد کلمہ توحید ہے اور سیئہ سے مراد شرک ہے۔“ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے لیکن اس کی کوئی صحیح سند میری نظر سے نہیں گذری۔ اس آیت کی تفسیر میں اور بھی بہت سی حدیثیں اور آثار ہیں لیکن ان شاءاللہ یہ ہی کافی ہیں۔
صفحہ نمبر2831
بے وقوف وہی ہے جو دین حنیف سے منہ موڑ لے ٭٭
سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہو رہا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کی جو نعمت ہے اس کا اعلان کردیں کہ اس رب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صراط مستقیم دکھا دی ہے جس میں کوئی کجی یا کمی نہیں وہ ثابت اور سالم سیدھی اور ستھری راہ ہے “ -
«وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ» [2-البقرۃ:130] ” ابراہیم حنیف کی ملت ہے جو مشرکوں میں نہ تھے اس دین سے وہی ہٹ جاتا ہے جو محض بیوقوف ہو “ -
اور آیت میں ہے «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّـهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:120-123] ” اللہ کی راہ میں پورا جہاد کرو وہی اللہ ہے جس نے تمہیں برگزیدہ کیا اور کشادہ دین عطا فرمایا جو تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے، ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے سچے فرمانبردار تھے مشرک نہ تھے اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ کے پسندیدہ تھے راہ مستقیم کی ہدایت پائے ہوئے تھے دنیا میں بھی ہم نے انہیں بھلائی دی تھی اور میدان قیامت میں بھی وہ نیک کار لوگوں میں ہوں گے “۔
” پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر کہ وہ مشرکین میں نہ تھا “ یہ یاد رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ علیہ السلام کی ملت کی پیروی کا حکم ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خلیل اللہ علیہ السلام آپ سے افضل ہیں اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اس پر پورا ہوا اور یہ دین آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ہاتھوں کمال کو پہنچا۔
اسی لیے حدیث میں ہے کہ میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں اور تمام اولاد آدم کا علی الاطلاق سردار ہوں اور مقام محمود والا ہوں جس سے ساری مخلوق کو امید ہو گی یہاں تک کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو بھی ۔
صفحہ نمبر2832
ابن مردویہ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت فرمایا کرتے تھے «أَصْبَحْنَا عَلَى مِلَّةَ الْإِسْلَامِ، وَكَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ، وَدِيْنَ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَمِلَّةِ أَبِينَا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» یعنی ہم نے ملت اسلامیہ پر کلمہ اخلاص پر ہمارے نبی کے دین پر اور ملت ابراہیم حنیف پر صبح کی ہے جو مشرک نہ تھے - [مسند احمد:406/3:صحیح]
حضور علیہ السلام سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ محبوب دین اللہ کے نزدیک کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جو یکسوئی اور آسانی والا ہے ۔ [مسند احمد:236/1:حسن لغیره]
مسند کی حدیث میں ہے کہ جس دن ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مونڈھوں پر منہ رکھ کر حبشیوں کے جنگی کرتب ملاحظہ فرمائے تھے اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ یہ اس لیے کہ یہودیہ جان لیں کہ ہمارے دین میں کشادگی ہے اور میں یکسوئی والا آسانی والا دین دے کر بھیجا گیا ہوں - [مسند احمد:116/6:حسن]
اور حکم ہوتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے اپنا مخالف ہونا بھی بیان فرما دیں وہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں دوسروں کے نام پر ذبیحہ کرتے ہیں میں صرف اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں اسی کے نام پر ذبیح کرتا ہوں “ -
چنانچہ بقرہ عید کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دو مینڈھے ذبح کئے تو «إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [6-الانعام:79] ، کے بعد یہی آیت پڑھی ۔ [سنن ابوداود:2795، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
آپ علیہ السلام ہی اس امت میں اول مسلم تھے اس لیے کہ یوں تو ہر نبی علیہ السلام اور ان کی ماننے والی امت مسلم ہی تھی، سب کی دعوت اسلام ہی کی تھی سب اللہ کی خالص عبادت کرتے رہے جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» [21-الأنبياء:25] یعنی ” تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کی طرف وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تم سب میری ہی عبادت کرو “۔
نوح علیہ السلام کا فرمان قرآن میں موجود ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ”میں تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو میرے رب کے ذمہ ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمانوں میں رہوں۔“
اور آیت میں ہے «وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» [2-البقرة:130-132] ” ملت ابراہیمی سے وہی ہٹتا ہے جس کی قسمت پھوٹ گئی ہو، وہ دنیا میں بھی برگزیدہ تھا اور آخرت میں بھی صالح لوگوں میں سے ہے اسے جب اس کے رب نے فرمایا تو تابعدار بن جا اس نے جواب دیا کہ میں رب العالمین کا فرمانبردار ہوں اسی کی وصیت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بچوں کو کی تھی اور یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو کہ اے میرے بچو اللہ نے تمہارے لیے دین کو پسند فرما لیا ہے۔ پس تم اسلام ہی پر مرنا “۔
صفحہ نمبر2833
حضرت یوسف علیہ السلام کی آخری دعا میں ہے «رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ» [12-يوسف:101] ” یا اللہ تو نے مجھے ملک عطا فرمایا خواب کی تعبیر سکھائی آسمان و زمین کا ابتداء میں پیدا کرنے والا تو ہی ہے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا ولی ہے مجھے اسلام کی حالت میں فوت کرنا اور نیک کاروں میں ملا دینا “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «وَقَالَ مُوسَىٰ يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّـهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ فَقَالُوا عَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ» [10-يونس:84-86] ” میرے بھائیو اگر تم ایماندار ہو اگر تم مسلم ہو تو تمہیں اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے سب نے جواب دیا کہ ہم نے اللہ ہی پر توکل رکھا ہے، اللہ! ہمیں ظالموں کے لیے فتنہ نہ بنا اور ہمیں اپنی رحمت کے ساتھ ان کافروں سے بچا لے “۔
اور آیت میں فرمان باری ہے «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّـهِ» [5-المائدة:44] ” ہم نے تورات اتاری جس میں ہدایت و نور ہے جس کے مطابق وہ انبیاء حکم کرتے ہیں جو مسلم ہیں یہودیوں کو بھی اور ربانیوں کو بھی اور احبار کو بھی “۔
اور فرمان ہے آیت «وَاِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِيْ وَبِرَسُوْلِيْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ» [5-المائدة:111] ” میں نے حواریوں کی طرف وحی کی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ سب نے کہا ہم نے ایمان قبول کیا ہمارے مسلمان ہونے پر تم گواہ رہو “۔
یہ آیتیں صاف بتلا رہی ہیں کہ اللہ نے اپنے نبیوں کو اسلام کے ساتھ ہی بھیجا ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اپنی اپنی مخصوص شریعتوں کے ساتھ مختص تھے احکام کا ادل بدل ہوتا رہتا تھا یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے ساتھ پہلے کے کل دین منسوخ ہوگئے اور نہ منسوخ ہونے والا نہ بدلنے والا ہمیشہ رہنے والا دین اسلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا جس پر ایک جماعت قیامت تک قائم رہے گی اور اس پاک دین کا جھنڈا ابد الآباد تک لہراتا رہے گا۔
صفحہ نمبر2834
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ہم انبیاء کی جماعت علاقی بھائی ہیں ہم سب کا دین ایک ہی ہے - [صحیح بخاری:3443] -
بھائیوں کی ایک قسم تو علاقی ہے جن کا باپ ایک ہو مائیں الگ الگ ہوں ایک قسم اخیافی جن کی ماں ایک ہو اور باپ جدا گانہ ہوں اور ایک عینی بھائی ہیں جن کا باپ بھی ایک ہو اور ماں بھی ایک ہو۔ پس کل انبیاء علیہم السلام کا دین ایک ہے یعنی اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت اور شریعت مختلف ہیں بہ اعتبار احکام کے۔ اس لیے انہیں علاتی بھائی فرمایا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر اولیٰ کے بعد نماز میں «إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [6-الانعام:79] اور یہ آیت «إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» پڑھ کر پھر یہ پڑھتے «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، أَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الأَخْلاَقِ، لاَ يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلاَّ أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لاَ يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلاَّ أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» یہ حدیث لمبی ہے اس کے بعد راوی نے رکوع و سجدہ اور تشہد کی دعاؤں کا ذکر کیا ہے۔ [صحیح مسلم:771]
صفحہ نمبر2835
بے وقوف وہی ہے جو دین حنیف سے منہ موڑ لے ٭٭
سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہو رہا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کی جو نعمت ہے اس کا اعلان کردیں کہ اس رب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صراط مستقیم دکھا دی ہے جس میں کوئی کجی یا کمی نہیں وہ ثابت اور سالم سیدھی اور ستھری راہ ہے “ -
«وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ» [2-البقرۃ:130] ” ابراہیم حنیف کی ملت ہے جو مشرکوں میں نہ تھے اس دین سے وہی ہٹ جاتا ہے جو محض بیوقوف ہو “ -
اور آیت میں ہے «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّـهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:120-123] ” اللہ کی راہ میں پورا جہاد کرو وہی اللہ ہے جس نے تمہیں برگزیدہ کیا اور کشادہ دین عطا فرمایا جو تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے، ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے سچے فرمانبردار تھے مشرک نہ تھے اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ کے پسندیدہ تھے راہ مستقیم کی ہدایت پائے ہوئے تھے دنیا میں بھی ہم نے انہیں بھلائی دی تھی اور میدان قیامت میں بھی وہ نیک کار لوگوں میں ہوں گے “۔
” پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر کہ وہ مشرکین میں نہ تھا “ یہ یاد رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ علیہ السلام کی ملت کی پیروی کا حکم ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خلیل اللہ علیہ السلام آپ سے افضل ہیں اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اس پر پورا ہوا اور یہ دین آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ہاتھوں کمال کو پہنچا۔
اسی لیے حدیث میں ہے کہ میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں اور تمام اولاد آدم کا علی الاطلاق سردار ہوں اور مقام محمود والا ہوں جس سے ساری مخلوق کو امید ہو گی یہاں تک کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو بھی ۔
صفحہ نمبر2832
ابن مردویہ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت فرمایا کرتے تھے «أَصْبَحْنَا عَلَى مِلَّةَ الْإِسْلَامِ، وَكَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ، وَدِيْنَ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَمِلَّةِ أَبِينَا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» یعنی ہم نے ملت اسلامیہ پر کلمہ اخلاص پر ہمارے نبی کے دین پر اور ملت ابراہیم حنیف پر صبح کی ہے جو مشرک نہ تھے - [مسند احمد:406/3:صحیح]
حضور علیہ السلام سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ محبوب دین اللہ کے نزدیک کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جو یکسوئی اور آسانی والا ہے ۔ [مسند احمد:236/1:حسن لغیره]
مسند کی حدیث میں ہے کہ جس دن ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مونڈھوں پر منہ رکھ کر حبشیوں کے جنگی کرتب ملاحظہ فرمائے تھے اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ یہ اس لیے کہ یہودیہ جان لیں کہ ہمارے دین میں کشادگی ہے اور میں یکسوئی والا آسانی والا دین دے کر بھیجا گیا ہوں - [مسند احمد:116/6:حسن]
اور حکم ہوتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے اپنا مخالف ہونا بھی بیان فرما دیں وہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں دوسروں کے نام پر ذبیحہ کرتے ہیں میں صرف اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں اسی کے نام پر ذبیح کرتا ہوں “ -
چنانچہ بقرہ عید کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دو مینڈھے ذبح کئے تو «إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [6-الانعام:79] ، کے بعد یہی آیت پڑھی ۔ [سنن ابوداود:2795، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
آپ علیہ السلام ہی اس امت میں اول مسلم تھے اس لیے کہ یوں تو ہر نبی علیہ السلام اور ان کی ماننے والی امت مسلم ہی تھی، سب کی دعوت اسلام ہی کی تھی سب اللہ کی خالص عبادت کرتے رہے جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» [21-الأنبياء:25] یعنی ” تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کی طرف وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تم سب میری ہی عبادت کرو “۔
نوح علیہ السلام کا فرمان قرآن میں موجود ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ”میں تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو میرے رب کے ذمہ ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمانوں میں رہوں۔“
اور آیت میں ہے «وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» [2-البقرة:130-132] ” ملت ابراہیمی سے وہی ہٹتا ہے جس کی قسمت پھوٹ گئی ہو، وہ دنیا میں بھی برگزیدہ تھا اور آخرت میں بھی صالح لوگوں میں سے ہے اسے جب اس کے رب نے فرمایا تو تابعدار بن جا اس نے جواب دیا کہ میں رب العالمین کا فرمانبردار ہوں اسی کی وصیت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بچوں کو کی تھی اور یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو کہ اے میرے بچو اللہ نے تمہارے لیے دین کو پسند فرما لیا ہے۔ پس تم اسلام ہی پر مرنا “۔
صفحہ نمبر2833
حضرت یوسف علیہ السلام کی آخری دعا میں ہے «رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ» [12-يوسف:101] ” یا اللہ تو نے مجھے ملک عطا فرمایا خواب کی تعبیر سکھائی آسمان و زمین کا ابتداء میں پیدا کرنے والا تو ہی ہے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا ولی ہے مجھے اسلام کی حالت میں فوت کرنا اور نیک کاروں میں ملا دینا “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «وَقَالَ مُوسَىٰ يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّـهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ فَقَالُوا عَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ» [10-يونس:84-86] ” میرے بھائیو اگر تم ایماندار ہو اگر تم مسلم ہو تو تمہیں اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے سب نے جواب دیا کہ ہم نے اللہ ہی پر توکل رکھا ہے، اللہ! ہمیں ظالموں کے لیے فتنہ نہ بنا اور ہمیں اپنی رحمت کے ساتھ ان کافروں سے بچا لے “۔
اور آیت میں فرمان باری ہے «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّـهِ» [5-المائدة:44] ” ہم نے تورات اتاری جس میں ہدایت و نور ہے جس کے مطابق وہ انبیاء حکم کرتے ہیں جو مسلم ہیں یہودیوں کو بھی اور ربانیوں کو بھی اور احبار کو بھی “۔
اور فرمان ہے آیت «وَاِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِيْ وَبِرَسُوْلِيْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ» [5-المائدة:111] ” میں نے حواریوں کی طرف وحی کی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ سب نے کہا ہم نے ایمان قبول کیا ہمارے مسلمان ہونے پر تم گواہ رہو “۔
یہ آیتیں صاف بتلا رہی ہیں کہ اللہ نے اپنے نبیوں کو اسلام کے ساتھ ہی بھیجا ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اپنی اپنی مخصوص شریعتوں کے ساتھ مختص تھے احکام کا ادل بدل ہوتا رہتا تھا یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے ساتھ پہلے کے کل دین منسوخ ہوگئے اور نہ منسوخ ہونے والا نہ بدلنے والا ہمیشہ رہنے والا دین اسلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا جس پر ایک جماعت قیامت تک قائم رہے گی اور اس پاک دین کا جھنڈا ابد الآباد تک لہراتا رہے گا۔
صفحہ نمبر2834
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ہم انبیاء کی جماعت علاقی بھائی ہیں ہم سب کا دین ایک ہی ہے - [صحیح بخاری:3443] -
بھائیوں کی ایک قسم تو علاقی ہے جن کا باپ ایک ہو مائیں الگ الگ ہوں ایک قسم اخیافی جن کی ماں ایک ہو اور باپ جدا گانہ ہوں اور ایک عینی بھائی ہیں جن کا باپ بھی ایک ہو اور ماں بھی ایک ہو۔ پس کل انبیاء علیہم السلام کا دین ایک ہے یعنی اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت اور شریعت مختلف ہیں بہ اعتبار احکام کے۔ اس لیے انہیں علاتی بھائی فرمایا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر اولیٰ کے بعد نماز میں «إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [6-الانعام:79] اور یہ آیت «إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» پڑھ کر پھر یہ پڑھتے «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، أَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الأَخْلاَقِ، لاَ يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلاَّ أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لاَ يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلاَّ أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» یہ حدیث لمبی ہے اس کے بعد راوی نے رکوع و سجدہ اور تشہد کی دعاؤں کا ذکر کیا ہے۔ [صحیح مسلم:771]
صفحہ نمبر2835
بے وقوف وہی ہے جو دین حنیف سے منہ موڑ لے ٭٭
سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہو رہا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کی جو نعمت ہے اس کا اعلان کردیں کہ اس رب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صراط مستقیم دکھا دی ہے جس میں کوئی کجی یا کمی نہیں وہ ثابت اور سالم سیدھی اور ستھری راہ ہے “ -
«وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ» [2-البقرۃ:130] ” ابراہیم حنیف کی ملت ہے جو مشرکوں میں نہ تھے اس دین سے وہی ہٹ جاتا ہے جو محض بیوقوف ہو “ -
اور آیت میں ہے «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّـهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:120-123] ” اللہ کی راہ میں پورا جہاد کرو وہی اللہ ہے جس نے تمہیں برگزیدہ کیا اور کشادہ دین عطا فرمایا جو تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے، ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے سچے فرمانبردار تھے مشرک نہ تھے اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ کے پسندیدہ تھے راہ مستقیم کی ہدایت پائے ہوئے تھے دنیا میں بھی ہم نے انہیں بھلائی دی تھی اور میدان قیامت میں بھی وہ نیک کار لوگوں میں ہوں گے “۔
” پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر کہ وہ مشرکین میں نہ تھا “ یہ یاد رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ علیہ السلام کی ملت کی پیروی کا حکم ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خلیل اللہ علیہ السلام آپ سے افضل ہیں اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اس پر پورا ہوا اور یہ دین آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ہاتھوں کمال کو پہنچا۔
اسی لیے حدیث میں ہے کہ میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں اور تمام اولاد آدم کا علی الاطلاق سردار ہوں اور مقام محمود والا ہوں جس سے ساری مخلوق کو امید ہو گی یہاں تک کہ خلیل اللہ علیہ السلام کو بھی ۔
صفحہ نمبر2832
ابن مردویہ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت فرمایا کرتے تھے «أَصْبَحْنَا عَلَى مِلَّةَ الْإِسْلَامِ، وَكَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ، وَدِيْنَ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَمِلَّةِ أَبِينَا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» یعنی ہم نے ملت اسلامیہ پر کلمہ اخلاص پر ہمارے نبی کے دین پر اور ملت ابراہیم حنیف پر صبح کی ہے جو مشرک نہ تھے - [مسند احمد:406/3:صحیح]
حضور علیہ السلام سے سوال ہوا کہ سب سے زیادہ محبوب دین اللہ کے نزدیک کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جو یکسوئی اور آسانی والا ہے ۔ [مسند احمد:236/1:حسن لغیره]
مسند کی حدیث میں ہے کہ جس دن ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مونڈھوں پر منہ رکھ کر حبشیوں کے جنگی کرتب ملاحظہ فرمائے تھے اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ یہ اس لیے کہ یہودیہ جان لیں کہ ہمارے دین میں کشادگی ہے اور میں یکسوئی والا آسانی والا دین دے کر بھیجا گیا ہوں - [مسند احمد:116/6:حسن]
اور حکم ہوتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے اپنا مخالف ہونا بھی بیان فرما دیں وہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں دوسروں کے نام پر ذبیحہ کرتے ہیں میں صرف اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں اسی کے نام پر ذبیح کرتا ہوں “ -
چنانچہ بقرہ عید کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دو مینڈھے ذبح کئے تو «إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [6-الانعام:79] ، کے بعد یہی آیت پڑھی ۔ [سنن ابوداود:2795، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
آپ علیہ السلام ہی اس امت میں اول مسلم تھے اس لیے کہ یوں تو ہر نبی علیہ السلام اور ان کی ماننے والی امت مسلم ہی تھی، سب کی دعوت اسلام ہی کی تھی سب اللہ کی خالص عبادت کرتے رہے جیسے فرمان ہے آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» [21-الأنبياء:25] یعنی ” تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کی طرف وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تم سب میری ہی عبادت کرو “۔
نوح علیہ السلام کا فرمان قرآن میں موجود ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ”میں تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو میرے رب کے ذمہ ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمانوں میں رہوں۔“
اور آیت میں ہے «وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» [2-البقرة:130-132] ” ملت ابراہیمی سے وہی ہٹتا ہے جس کی قسمت پھوٹ گئی ہو، وہ دنیا میں بھی برگزیدہ تھا اور آخرت میں بھی صالح لوگوں میں سے ہے اسے جب اس کے رب نے فرمایا تو تابعدار بن جا اس نے جواب دیا کہ میں رب العالمین کا فرمانبردار ہوں اسی کی وصیت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بچوں کو کی تھی اور یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو کہ اے میرے بچو اللہ نے تمہارے لیے دین کو پسند فرما لیا ہے۔ پس تم اسلام ہی پر مرنا “۔
صفحہ نمبر2833
حضرت یوسف علیہ السلام کی آخری دعا میں ہے «رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ» [12-يوسف:101] ” یا اللہ تو نے مجھے ملک عطا فرمایا خواب کی تعبیر سکھائی آسمان و زمین کا ابتداء میں پیدا کرنے والا تو ہی ہے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا ولی ہے مجھے اسلام کی حالت میں فوت کرنا اور نیک کاروں میں ملا دینا “۔
موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «وَقَالَ مُوسَىٰ يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّـهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ فَقَالُوا عَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ» [10-يونس:84-86] ” میرے بھائیو اگر تم ایماندار ہو اگر تم مسلم ہو تو تمہیں اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے سب نے جواب دیا کہ ہم نے اللہ ہی پر توکل رکھا ہے، اللہ! ہمیں ظالموں کے لیے فتنہ نہ بنا اور ہمیں اپنی رحمت کے ساتھ ان کافروں سے بچا لے “۔
اور آیت میں فرمان باری ہے «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّـهِ» [5-المائدة:44] ” ہم نے تورات اتاری جس میں ہدایت و نور ہے جس کے مطابق وہ انبیاء حکم کرتے ہیں جو مسلم ہیں یہودیوں کو بھی اور ربانیوں کو بھی اور احبار کو بھی “۔
اور فرمان ہے آیت «وَاِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِيْ وَبِرَسُوْلِيْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ» [5-المائدة:111] ” میں نے حواریوں کی طرف وحی کی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ سب نے کہا ہم نے ایمان قبول کیا ہمارے مسلمان ہونے پر تم گواہ رہو “۔
یہ آیتیں صاف بتلا رہی ہیں کہ اللہ نے اپنے نبیوں کو اسلام کے ساتھ ہی بھیجا ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اپنی اپنی مخصوص شریعتوں کے ساتھ مختص تھے احکام کا ادل بدل ہوتا رہتا تھا یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے ساتھ پہلے کے کل دین منسوخ ہوگئے اور نہ منسوخ ہونے والا نہ بدلنے والا ہمیشہ رہنے والا دین اسلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا جس پر ایک جماعت قیامت تک قائم رہے گی اور اس پاک دین کا جھنڈا ابد الآباد تک لہراتا رہے گا۔
صفحہ نمبر2834
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ہم انبیاء کی جماعت علاقی بھائی ہیں ہم سب کا دین ایک ہی ہے - [صحیح بخاری:3443] -
بھائیوں کی ایک قسم تو علاقی ہے جن کا باپ ایک ہو مائیں الگ الگ ہوں ایک قسم اخیافی جن کی ماں ایک ہو اور باپ جدا گانہ ہوں اور ایک عینی بھائی ہیں جن کا باپ بھی ایک ہو اور ماں بھی ایک ہو۔ پس کل انبیاء علیہم السلام کا دین ایک ہے یعنی اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت اور شریعت مختلف ہیں بہ اعتبار احکام کے۔ اس لیے انہیں علاتی بھائی فرمایا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر اولیٰ کے بعد نماز میں «إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [6-الانعام:79] اور یہ آیت «إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» پڑھ کر پھر یہ پڑھتے «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، أَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الأَخْلاَقِ، لاَ يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلاَّ أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لاَ يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلاَّ أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» یہ حدیث لمبی ہے اس کے بعد راوی نے رکوع و سجدہ اور تشہد کی دعاؤں کا ذکر کیا ہے۔ [صحیح مسلم:771]
صفحہ نمبر2835
جھوٹے معبود غلط سہارے ٭٭
کافروں کو نہ تو خلوص عبادت نصیب ہے نہ سچا توکل رب میسر ہے ان سے کہہ دے کہ ” کیا میں بھی تمہاری طرح اپنے اور سب کے سچے معبود کو چھوڑ کر جھوٹے معبود بنا لوں؟ “
میری پرورش کرنے والا حفاظت کرنے والا مجھے بچانے والا میرے کام بنانے والا میری بگڑی کو سنوارنے والا تو اللہ ہی ہے پھر میں دوسرے کا سہارا کیوں لوں؟ مالک خالق کو چھوڑ کر بے بس اور محتاج کے پاس کیوں جاؤں؟ گویا اس آیت میں توکل علی اللہ اور عبادت رب کا حکم ہوتا ہے -یہ دونوں چیزیں عموماً ایک ساتھ بیان ہوا کرتی ہیں جیسے آیت «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» [1-الفاتحة:5] میں اور «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» [10-هود:123] میں اور «قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» [67-الملك:29] میں اور «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا» [73-المزمل:9] میں اور دوسری آیتوں میں بھی۔
صفحہ نمبر2838
پھر قیامت کے دن کی خبر دیتا ہے کہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ عدل و انصاف سے ملے گا -نیکوں کو نیک بدوں کو بد۔ «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» [35-فاطر:18] ” ایک کے گناہ دوسرے پر نہیں جائیں گے۔ کوئی قرابت دار دوسرے کے عوض پکڑا نہ جائے گا “، «فَلَا يَخَافُ ظُلْمًا وَلَا هَضْمًا» [20-طه:112] ” اس دن ظلم بالکل ہی نہ ہو گا “۔ نہ کسی کے گناہ بڑھائے جائیں گے نہ کسی کی نیکی گھٹائی جائے گی، اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی۔
«كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ» [74-المدثر:38، 39] ” ہاں جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامے ملے ہیں ان کے نیک اعمال کی برکت ان کی اولاد کو بھی پہنچے گی “۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ» [52-الطور:21] یعنی ” جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ان کے ایمان میں ان کی تابعداری کی ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے بلند درجوں میں پہنچا دیں گے “۔ گو ان کے اعمال اس درجے کے نہ ہوں لیکن چونکہ ان کی ایمان میں شرکت ہے اس لیے درجات میں بھی بڑھا دیں گے اور یہ درجے ماں باپ کے درجے گھٹا کر نہ بڑھا دیں گے اور یہ درجے ماں باپ کے درجے گھٹا کر نہ بڑھیں گے بلکہ یہ اللہ کا فضل و کرم ہوگا۔
ہاں برے لوگ اپنے بد اعمال کے جھگڑے میں گھرے ہوں گے تم بھی عمل کئے جا رہے ہو ہم بھی کئے جا رہے ہیں اللہ کے ہاں سب کو جانا ہے وہاں اعمال کا حساب ہونا ہے پھر معلوم ہو جائے گا کہ اس اختلاف میں حق اور رضائے رب، مرضی مولیٰ کس کے ساتھ تھی؟ «قُل لَّا تُسْأَلُونَ عَمَّا أَجْرَمْنَا وَلَا نُسْأَلُ عَمَّا تَعْمَلُونَ قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ» [34-سبأ:25-26] ” ہمارے اعمال سے تم اور تمہارے اعمال سے ہم اللہ کے ہاں پوچھے نہ جائیں گے۔ قیامت کے دن اللہ کے ہاں سچے فیصلے ہوں گے اور وہ باعلم اللہ ہمارے درمیان سچے فیصلے فرما دے گا “۔
صفحہ نمبر2839
اللہ کی رحمت اللہ کے غضب پر غالب ہے ٭٭
اس اللہ نے تمہیں زمین کا آباد کار بنایا ہے، وہ تمہیں یکے بعد دیگرے پیدا کرتا رہتا ہے «وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ» [43-الزخرف:60] ” ایسا نہیں کیا کہ زمین پر فرشتے بستے ہوں “۔
فرمان ہے «عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ» [7-الأعراف:129] ” ممکن ہے، تمہارا رب تمہارے دشمن کو غارت کر دے اور تمہیں زمین میں خلیفہ بنا کر آزمائے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو؟ “ اس نے تمہارے درمیان مختلف طبقات بنائے، کوئی غریب ہے، کوئی خوش خو ہے، کوئی بد اخلاق، کوئی خوبصورت ہے، کوئی بدصورت، یہ بھی اس کی حکمت ہے، «نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا» [43-الزخرف:32] ” اسی نے روزیاں تقسیم کی ہیں ایک کو ایک کے ماتحت کر دیا ہے “۔
فرمان ہے آیت «اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا» [17-الإسراء:21] ” دیکھ لے کہ ہم نے ان میں سے ایک کو ایک پر کیسے فضیلت دی ہے؟ “ اس سے منشاء یہ ہے کہ آزمائش و امتحان ہو جائے، امیر آدمیوں کا شکر، فقیروں کا صبر معلوم ہو جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا میٹھی اور سبز رنگ ہے اللہ تمہیں اس میں خلیفہ بنا کر دیکھ رہا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو؟ پس تمہیں دنیا سے ہوشیار رہنا چاہیئے اور عورتوں کے بارے میں بہت احتیاط سے رہنا چاہیئے، بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتیں ہی تھیں ۔ [صحیح مسلم:2742]
اس سورت کی آخری آیت میں اپنے دونوں وصف بیان فرمائے، عذاب کا بھی، ثواب کا بھی، پکڑ کا بھی اور بخشش کا بھی اپنے نافرمانوں پر ناراضگی کا اور اپنے فرمانبرداروں پر رضا مندی کا، عموماً قرآن کریم میں یہ دونوں صفتیں ایک ساتھ ہی بیان فرمائی جاتی ہیں۔
صفحہ نمبر2840
جیسے فرمان ہے آیت «وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ» [13-الرعد:6] اور آیت میں ہے «نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ» [15-الحجر:49] یعنی ” تیرا رب اپنے بندوں کے گناہ بخشنے والا بھی ہے اور وہ سخت اور درد ناک عذاب دینے والا بھی ہے “ -
پس ان آیتوں میں رغبت رہبت دونوں ہیں اپنے فضل کا اور جنت کا لالچ بھی دیتا ہے اور آگ کے عذاب سے دھمکاتا بھی ہے کبھی کبھی ان دونوں وصفوں کو الگ الگ بیان فرماتا ہے تاکہ عذابوں سے بچنے اور نعمتوں کے حاصل کرنے کا خیال پیدا ہو۔
صفحہ نمبر2841
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے احکام کی پابندی اور اپنی ناراضگی کے کاموں سے نفرت نصیب فرمائے اور ہمیں کامل یقین عطا فرمائے کہ ہم اس کے کلام پر ایمان و یقین رکھیں۔ وہ قریب و مجیب ہے وہ دعاؤں کا سننے والا ہے، وہ جواد، کریم اور وہاب ہے۔
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر مومن صحیح طور پر اللہ کے عذاب سے واقف ہو جائے تو اپنے گناہوں کی وجہ سے جنت کے حصول کی آس ہی نہ رہے اور اگر کافر اللہ کی رحمت سے کماحقہ واقف ہو جائے تو کسی کو بھی جنت سے مایوسی نہ ہو اللہ نے سو رحمتیں بنائی ہیں جن میں سے صرف ایک بندوں کے درمیان رکھی ہے اسی سے ایک دوسرے پر رحم و کرم کرتے ہیں باقی ننانوے تو صرف اللہ ہی کے پاس ہیں ۔ یہ حدیث ترمذی اور مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2755]
ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی پیدائش کے وقت ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس عرش پر ہے کہ ” میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے “ ۔ [صحیح بخاری:7404]
صفحہ نمبر2842
صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے کئے جن میں سے ایک کم ایک سو تو اپنے پاس رکھے اور ایک حصہ زمین پر نازل فرمایا اسی ایک حصے میں مخلوق کو ایک دوسرے پر شفقت و کرم ہے یہاں تک کہ جانور بھی اپنے بچے کے جسم سے اپنا پاؤں رحم کھا کر اٹھا لیتا ہے کہ کہیں اسے تکلیف نہ ہو ۔ [صحیح بخاری:6000]
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الأنعام کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
صفحہ نمبر2843