John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-An'aam

Tafsir Ibn Kathir · The Cattle · 165 ayat · ayat 61–90 · Quran text →

نیند موت کی چھوٹی بہن ٭٭

«وفاۃ صغریٰ» یعنی چھوٹی موت کا بیان ہو رہا ہے اس سے مراد نیند ہے، جیسے اس آیت میں ہے «اِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ» [3-آل عمران:55] ‏ یعنی ” جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ میں تجھے فوت کرنے والا ہوں (‏یعنی تجھ پر نیند ڈالنے والا ہوں) اور اپنی طرف چڑھا لینے والا ہوں “۔

اور جیسے اس آیت میں ہے «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» [39-الزمر:42] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ نفسوں کو ان کی موت کے وقت مار ڈالتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی انہیں نیند کے وقت فوت کر لیتا ہے (‏یعنی سلا دیتا ہے) موت والے نفس کو تو اپنے پاس روک لیتا ہے اور دوسرے کو مقررہ وقت پورا کرنے کے لیے پھر بھیج دیتا ہے “۔

اس آیت میں دونوں وفاۃ بیان کر دی ہیں، وفاۃ کبریٰ اور وفاۃ صغریٰ اور جس آیت کی اس وقت تفسیر ہو رہی ہے اس میں بھی دونوں وفاتوں کا ذکر ہے، وفاۃ صغری ٰ یعنی نیند کا پہلے پھر وفاۃ کبریٰ یعنی حقیقی موت کا۔ بیچ کا جملہ آیت «وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى» [6۔ الأنعام:60] ‏ جملہ معترضہ ہے جس سے اللہ کے وسیع علم کی دلالت ہو رہی ہے کہ وہ دن رات کے کسی وقت اپنی مخلوق کی کسی حالت سے بےعلم نہیں، ان کی حرکات و سکنات سب جانتا ہے۔

جیسے فرمان ہے آیت «سَوَاءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» [13۔ الرعد:10] ‏ یعنی ” چھپا کھلا رات کا دن کا سب باتوں کا اسے علم ہے “۔

اور آیت میں ہے «وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [28-القصص:73] ‏ یعنی ” یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے سکون کا وقت رات کو بنایا اور دن کو تلاش معاش کا وقت بنایا “۔

اور آیت میں ارشاد ہے «وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا» [78۔النبأ:11۔10] ‏ ” رات کو ہم نے لباس اور دن کو سبب معاش بنایا “۔

یہاں فرمایا ” رات کو وہ تمہیں سلا دیتا ہے اور دنوں کو جو تم کرتے ہو اس سے وہ آگاہ ہے، پھر دن میں تمہیں اٹھا بٹھا دیتا ہے “۔ ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ” وہ نیند میں یعنی خواب میں تمہیں اٹھا کھڑا کرتا ہے “ لیکن اول معنی ہی اولیٰ ہیں۔

صفحہ نمبر2617

ابن مردویہ کی ایک مرفوع روایت میں ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہے جو سونے کے وقت اس کی روح کو لے جاتا ہے پھر اگر قبض کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وہ اس روح کو نہیں لوٹاتا ورنہ بحکم الٰہی لوٹا دیتا ہے ۔ [الدر المنشور للسیوطی:29/3:ضعیف] ‏

یہی معنی اس آیت کے جملے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ» [6۔ الأنعام:60] ‏ کا ہے تاکہ اس طرح عمر کا پورا وقت گزرے اور جو اجل مقرر ہے وہ پوری ہو، قیامت کے دن سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ ہر ایک کو اس کے عمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک اور بدوں کو برا، وہی ذات ہے جو ہر چیز پر غالب و قادر ہے اس کی جلالت عظمت عزت کے سامنے ہر کوئی پست ہے بڑائی اس کی ہے اور سب اس کے سامنے عاجز و مسکین ہیں وہ اپنے محافظ فرشتوں کو بھیجتا ہے جو انسان کی دیکھ بھال رکھتے ہیں۔

جیسے فرمان عالیشان ہے آیت «لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ» [13۔الرعد:11] ‏ پس یہ فرشتے تو وہ ہیں جو انسان کی جسمانی حفاظت رکھتے ہیں اور دائیں بائیں آگے پیچھے سے اسے بحکم الٰہی بلاؤں سے بچاتے رہتے ہیں، دوسری قسم کے وہ فرشتے ہیں جو اس کے اعمال کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور ان کی نگہبانی کرتے رہتے ہیں۔

جیسے فرمایا آیت «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» [82-الانفطار:12-10] ‏ ان ہی فرشتوں کا ذکر آیت «اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ» [50-ق:17] ‏ میں ہے۔

صفحہ نمبر2618

پھر فرمایا ” یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو سکرات کے عالم میں اس کے پاس ہمارے وہ فرشتے آتے ہیں جو اسی کام پر مقرر ہیں “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ملک الموت کے بہت سے مددگار فرشتے ہیں جو روح کو جسم سے نکالتے ہیں اور حلقوم تک جب روح آ جاتی ہے پھر ملک الموت اسے قبض کر لیتے ہیں۔‏“

اس کا مفصل بیان آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ» [14-إبراهيم:27] ‏ میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔

صفحہ نمبر2619

پھر فرمایا ” وہ کوئی کمی نہیں کرتے “ یعنی روح کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کرتے۔ اسے پوری حفاظت کے ساتھ یا تو علین میں یک روحوں سے ملا دیتے ہیں یا سجبین میں بری روحوں ڈال دیتے ہیں۔ پھر وہ سب اپنے سچے مولٰی کی طرف بلا لیے جائیں گے۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مرنے والے کی روح کو نکالنے کے لیے فرشتے آتے ہیں اور اگر وہ نیک ہے تو اس سے کہتے ہیں اے مطمئن روح جو پاک جسم میں تھی تو نہایت اچھائیوں اور بھلائیوں سے چل تو راحت و آرام کی خوشخبری سن تو اس رب کی طرف چل جو تجھ پر کبھی خفا نہ ہو گا، وہ اسے سنتے ہی نکلتی ہے اور جب تک وہ نکل نہ چکے تب تک یہی مبارک صدا اسے سنائی جاتی ہے پھر اسے آسمانوں پر لے جاتے ہیں اس کیلئے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور فرشتے اس کی آؤ بھگت کرتے ہیں مرحبا کہتے ہوئے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور جو موت کے فرشتوں نے کہا تھا وہی خوشخبری یہ بھی سناتے ہیں یہاں تک کہ اسی طرح نہایت تپاک اور گرم جوشی سے فرشتوں کے استقبال کے ساتھ یہ نیک روح اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہے۔ (‏اللہ تعالیٰ ہماری موت بھی نیک پر کرے)۔ اور جب کوئی برا آدمی ہوتا ہے تو موت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح جو گندے جسم میں تھی تو بری بن کر چل گرم کھولتے ہوئے پانی اور سڑی بھسی غذا اور طرح طرح کے عذابوں کی طرف چل، پھر وہ اس روح کو نکالتے ہیں اور یہی کہتے رہے ہیں پھر اسے آسمان کی طرف چڑھاتے ہیں دروازہ کھولنا چاہتے ہیں، آسمان کے فرشتے پوچھتے ہیں کون ہے؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اس خبیث نفس کے لیے مرحبا نہیں، یہ تھا بھی ناپاک جسم میں تو برائی کے ساتھ لوٹ جا، تیرے لیے آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے، چنانچہ اسے زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے، پھر قبر پر لائی جاتی ہے، پھر قبر میں ان دونوں روحوں سے سوال جواب ہوتے ہیں ۔ [مسند احمد:364/2:صحیح] ‏ جیسے پہلی حدیثیں گزر چکیں۔

صفحہ نمبر2620

” پھر اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں “، اس سے مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فرشتے لوٹائے جاتے ہیں یا یہ کہ مخلوق لوٹائی جاتی ہے یعنی قیامت کے دن، پھر جناب باری ان میں عدل و انصاف کرے گا اور احکام جاری فرمائے گا، جیسے فرمایا آیت «قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَالْاٰخِرِيْنَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [56-الواقعة:49-50] ‏ یعنی ” کہہ دے کہ اول آخر والے سب قیامت کے دن جمع ہوں گے “۔

اور آیت میں ہے آیت «وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏ ” ہم سب کو جمع کریں گے اور کسی کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے “۔

یہاں بھی فرمایا کہ «مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الأنعام:62] ‏ ” اپنے سچے مولٰی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ جو بہت جلدی حساب لینے والا ہے۔ اس سے زیادہ جلدی حساب میں کوئی نہیں کر سکتا “۔

صفحہ نمبر2621

نیند موت کی چھوٹی بہن ٭٭

«وفاۃ صغریٰ» یعنی چھوٹی موت کا بیان ہو رہا ہے اس سے مراد نیند ہے، جیسے اس آیت میں ہے «اِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ» [3-آل عمران:55] ‏ یعنی ” جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ میں تجھے فوت کرنے والا ہوں (‏یعنی تجھ پر نیند ڈالنے والا ہوں) اور اپنی طرف چڑھا لینے والا ہوں “۔

اور جیسے اس آیت میں ہے «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ» [39-الزمر:42] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ نفسوں کو ان کی موت کے وقت مار ڈالتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی انہیں نیند کے وقت فوت کر لیتا ہے (‏یعنی سلا دیتا ہے) موت والے نفس کو تو اپنے پاس روک لیتا ہے اور دوسرے کو مقررہ وقت پورا کرنے کے لیے پھر بھیج دیتا ہے “۔

اس آیت میں دونوں وفاۃ بیان کر دی ہیں، وفاۃ کبریٰ اور وفاۃ صغریٰ اور جس آیت کی اس وقت تفسیر ہو رہی ہے اس میں بھی دونوں وفاتوں کا ذکر ہے، وفاۃ صغری ٰ یعنی نیند کا پہلے پھر وفاۃ کبریٰ یعنی حقیقی موت کا۔ بیچ کا جملہ آیت «وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى» [6۔ الأنعام:60] ‏ جملہ معترضہ ہے جس سے اللہ کے وسیع علم کی دلالت ہو رہی ہے کہ وہ دن رات کے کسی وقت اپنی مخلوق کی کسی حالت سے بےعلم نہیں، ان کی حرکات و سکنات سب جانتا ہے۔

جیسے فرمان ہے آیت «سَوَاءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» [13۔ الرعد:10] ‏ یعنی ” چھپا کھلا رات کا دن کا سب باتوں کا اسے علم ہے “۔

اور آیت میں ہے «وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [28-القصص:73] ‏ یعنی ” یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے سکون کا وقت رات کو بنایا اور دن کو تلاش معاش کا وقت بنایا “۔

اور آیت میں ارشاد ہے «وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا» [78۔النبأ:11۔10] ‏ ” رات کو ہم نے لباس اور دن کو سبب معاش بنایا “۔

یہاں فرمایا ” رات کو وہ تمہیں سلا دیتا ہے اور دنوں کو جو تم کرتے ہو اس سے وہ آگاہ ہے، پھر دن میں تمہیں اٹھا بٹھا دیتا ہے “۔ ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ” وہ نیند میں یعنی خواب میں تمہیں اٹھا کھڑا کرتا ہے “ لیکن اول معنی ہی اولیٰ ہیں۔

صفحہ نمبر2617

ابن مردویہ کی ایک مرفوع روایت میں ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہے جو سونے کے وقت اس کی روح کو لے جاتا ہے پھر اگر قبض کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وہ اس روح کو نہیں لوٹاتا ورنہ بحکم الٰہی لوٹا دیتا ہے ۔ [الدر المنشور للسیوطی:29/3:ضعیف] ‏

یہی معنی اس آیت کے جملے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ» [6۔ الأنعام:60] ‏ کا ہے تاکہ اس طرح عمر کا پورا وقت گزرے اور جو اجل مقرر ہے وہ پوری ہو، قیامت کے دن سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ ہر ایک کو اس کے عمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک اور بدوں کو برا، وہی ذات ہے جو ہر چیز پر غالب و قادر ہے اس کی جلالت عظمت عزت کے سامنے ہر کوئی پست ہے بڑائی اس کی ہے اور سب اس کے سامنے عاجز و مسکین ہیں وہ اپنے محافظ فرشتوں کو بھیجتا ہے جو انسان کی دیکھ بھال رکھتے ہیں۔

جیسے فرمان عالیشان ہے آیت «لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ» [13۔الرعد:11] ‏ پس یہ فرشتے تو وہ ہیں جو انسان کی جسمانی حفاظت رکھتے ہیں اور دائیں بائیں آگے پیچھے سے اسے بحکم الٰہی بلاؤں سے بچاتے رہتے ہیں، دوسری قسم کے وہ فرشتے ہیں جو اس کے اعمال کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور ان کی نگہبانی کرتے رہتے ہیں۔

جیسے فرمایا آیت «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» [82-الانفطار:12-10] ‏ ان ہی فرشتوں کا ذکر آیت «اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ» [50-ق:17] ‏ میں ہے۔

صفحہ نمبر2618

پھر فرمایا ” یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو سکرات کے عالم میں اس کے پاس ہمارے وہ فرشتے آتے ہیں جو اسی کام پر مقرر ہیں “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ملک الموت کے بہت سے مددگار فرشتے ہیں جو روح کو جسم سے نکالتے ہیں اور حلقوم تک جب روح آ جاتی ہے پھر ملک الموت اسے قبض کر لیتے ہیں۔‏“

اس کا مفصل بیان آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ» [14-إبراهيم:27] ‏ میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔

صفحہ نمبر2619

پھر فرمایا ” وہ کوئی کمی نہیں کرتے “ یعنی روح کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کرتے۔ اسے پوری حفاظت کے ساتھ یا تو علین میں یک روحوں سے ملا دیتے ہیں یا سجبین میں بری روحوں ڈال دیتے ہیں۔ پھر وہ سب اپنے سچے مولٰی کی طرف بلا لیے جائیں گے۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مرنے والے کی روح کو نکالنے کے لیے فرشتے آتے ہیں اور اگر وہ نیک ہے تو اس سے کہتے ہیں اے مطمئن روح جو پاک جسم میں تھی تو نہایت اچھائیوں اور بھلائیوں سے چل تو راحت و آرام کی خوشخبری سن تو اس رب کی طرف چل جو تجھ پر کبھی خفا نہ ہو گا، وہ اسے سنتے ہی نکلتی ہے اور جب تک وہ نکل نہ چکے تب تک یہی مبارک صدا اسے سنائی جاتی ہے پھر اسے آسمانوں پر لے جاتے ہیں اس کیلئے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور فرشتے اس کی آؤ بھگت کرتے ہیں مرحبا کہتے ہوئے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور جو موت کے فرشتوں نے کہا تھا وہی خوشخبری یہ بھی سناتے ہیں یہاں تک کہ اسی طرح نہایت تپاک اور گرم جوشی سے فرشتوں کے استقبال کے ساتھ یہ نیک روح اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہے۔ (‏اللہ تعالیٰ ہماری موت بھی نیک پر کرے)۔ اور جب کوئی برا آدمی ہوتا ہے تو موت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح جو گندے جسم میں تھی تو بری بن کر چل گرم کھولتے ہوئے پانی اور سڑی بھسی غذا اور طرح طرح کے عذابوں کی طرف چل، پھر وہ اس روح کو نکالتے ہیں اور یہی کہتے رہے ہیں پھر اسے آسمان کی طرف چڑھاتے ہیں دروازہ کھولنا چاہتے ہیں، آسمان کے فرشتے پوچھتے ہیں کون ہے؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اس خبیث نفس کے لیے مرحبا نہیں، یہ تھا بھی ناپاک جسم میں تو برائی کے ساتھ لوٹ جا، تیرے لیے آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے، چنانچہ اسے زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے، پھر قبر پر لائی جاتی ہے، پھر قبر میں ان دونوں روحوں سے سوال جواب ہوتے ہیں ۔ [مسند احمد:364/2:صحیح] ‏ جیسے پہلی حدیثیں گزر چکیں۔

صفحہ نمبر2620

” پھر اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں “، اس سے مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فرشتے لوٹائے جاتے ہیں یا یہ کہ مخلوق لوٹائی جاتی ہے یعنی قیامت کے دن، پھر جناب باری ان میں عدل و انصاف کرے گا اور احکام جاری فرمائے گا، جیسے فرمایا آیت «قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَالْاٰخِرِيْنَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ» [56-الواقعة:49-50] ‏ یعنی ” کہہ دے کہ اول آخر والے سب قیامت کے دن جمع ہوں گے “۔

اور آیت میں ہے آیت «وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏ ” ہم سب کو جمع کریں گے اور کسی کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے “۔

یہاں بھی فرمایا کہ «مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» [6-الأنعام:62] ‏ ” اپنے سچے مولٰی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ جو بہت جلدی حساب لینے والا ہے۔ اس سے زیادہ جلدی حساب میں کوئی نہیں کر سکتا “۔

صفحہ نمبر2621

احسان فراموش نہ بنو ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرماتا ہے کہ ” جب تم خشکی کے بیابانوں اور لق و دق سنسان جنگلوں میں راہ بھٹکے ہوئے قدم قدم پر خوف و خطر میں مبتلا ہوتے ہو اور جب تم کشتیوں میں بیٹھے ہوئے طوفان کے وقت سمندر کے تلاطم میں مایوس و عاجز ہو جاتے ہو۔ اس وقت اپنے دیوتاؤں اور بتوں کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو “۔

یہی مضمون قرآن کریم کی آیت «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ» [17-الاسراء:67] ‏ میں اور آیت «ھُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ» [10-یونس:22] ‏ میں اور آیت «اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُّرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» [27-النمل:63] ‏ میں بھی بیان ہوا ہے۔

«تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً» کے معنی «جَهْرًا أَوْ سِرًّا» یعنی بلند آواز اور پست آواز کے ہیں۔ الغرض اس وقت صرف اللہ کو ہی پکارتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس وقت سے نجات دے گا تو ہم ہمیشہ تیرے شکر گزار رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” باوجود اس عہد و پیمان کے ادھر ہم نے انہیں تنگی اور مصیبت سے چھوڑا اور ادھر یہ آزاد ہوتے ہی ہمارے ساتھ شرک کرنے لگے اور اپنے جھوٹے معبودوں کو پھر پکارنے لگے “۔

صفحہ نمبر2624

پھر فرماتا ہے ” کیا تم نہیں جانتے کہ جس اللہ نے تمہیں اس وقت آفت میں ڈالا تھا وہ اب بھی قادر ہے کہ تم پر کوئی اور عذاب اوپر سے یا نیجے سے لے آئے “۔

جیسے کہ سورۃ سبحان میں آیت «رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِـيْمًا وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا أَفَأَمِنتُمْ أَن يَخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ أَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوا لَكُمْ وَكِيلًا أَمْ أَمِنتُمْ أَن يُعِيدَكُمْ فِيهِ تَارَةً أُخْرَىٰ فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيحِ فَيُغْرِقَكُم بِمَا كَفَرْتُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُوا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهِ تَبِيعًا» [17۔ الاسراء:69-66] ‏ تک بیان فرمایا۔ یعنی ” تمہارا پروردگار وہ ہے جو دریا میں تمہارے لیے کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل حاصل کرو اور وہ تم پر بہت ہی مہربان ہے۔ لیکن جب تمہیں دریا میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو جن کی تم عبادت کرتے رہتے تھے وہ سب تمہارے خیال سے نکل جاتے ہیں اور صرف اللہ ہی کی طرف لو لگ جاتی ہے، پھر جب وہ تمہیں خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منہ پھیر لیتے ہو فی الواقع انسان بڑا ہی ناشکرا ہے کیا تم اس سے بے خوف ہو کہ وہ تمہیں خشکی میں ہی دھنسا دے یا تم پر آندھی کا عذاب بھیج دے پھر تم کسی کو بھی اپنا کار ساز نہ پاؤ۔ کیا تم اس بات سے بھی نڈر ہو کہ وہ تمہیں پھر دوبارہ دریا میں لے جائے اور تم پر تندو تیز ہوا بھیج دے اور تمہیں تمہارے کفر کے باعث غرق کر دے تو پھر کسی کو نہ پاؤ جو ہمارا پیچھا کر سکے “۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اوپر نیچے کے عذاب مشرکوں کیلئے ہیں۔‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس آیت میں اسی امت کو ڈرایا گیا تھا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے معافی دے دی۔‏“

ہم یہاں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں اور آثار بیان کرتے ہیں ملاحظہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ہمارا بھروسہ ہے اور اس سے ہم مدد چاہتے ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے «يَلْبِسَكُمْ» کے معنی «يَخْلِطَكُمْ» کے ہیں یہ لفظ «اِلْتِبَاسِ» سے ماخوذ ہے «شِيَعًا» کے معنی «فِرَقًا» کے ہیں۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ ” اللہ قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے عذاب نازل فرمائے “، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ یا اللہ میں تیرے پر عظمت و جلال چہرہ کی پناہ میں آتا ہوں ، اور جب یہ سنا کہ نیچے سے عذاب لے آئے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی۔ پھر یہ سن کر کہ ” یا وہ تم میں اختلاف ڈال دے اور تمہیں ایک دوسرے سے تکلیف پہنچے “، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بہت زیادہ ہلکا ہے ۔ [صحیح بخاری:4628] ‏

ابن مردویہ کی اس حدیث کے آخر میں جابر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ اگر اس آپس کی ناچاقی سے بھی پناہ مانگتے تو پناہ مل جاتی ۔ [الدر المنشور للسیوطی:32/3:ضعیف] ‏

مسند میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ہونے والا ہی ہے اب تک یہ ہوا نہیں ۔ [مسند احمد:171/1:ضعیف] ‏ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔

صفحہ نمبر2625

مسند احمد میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنی معاویہ میں گئے اور دور رکعت نماز ادا کی ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی مناجات کی اور فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین چیزیں طلب کیں ایک تو یہ کہ میری تمام امت کو ڈبوئے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ چیز عطا فرمائی، پھر میں نے دعا کی کہ میری عام امت کو قحط سالی سے اللہ تعالیٰ ہلاک نہ کرے، اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی پھر میں نے دعا کی کہ ان میں آپس میں پھوٹ نہ پڑے میری یہ دعا قبول نہ ہوئی ۔ صحیح مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ [صحیح مسلم:2890] ‏

مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمارے پاس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بنی معاویہ کے محلے میں آئے اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ ”جانتے ہو تمہاری اس مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کس جگہ پڑھی؟“ میں نے مسجد کے ایک کونے کو دکھا کر کہا یہاں پھر پوچھا ”جانتے ہو یہاں تین دعائیں حضور نے کیا کیا کیں؟“ میں نے کہا ایک تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کوئی غیر مسلم طاقت اس طرح غالب نہ آ جائے کہ ان کو پیس ڈالے، دوسرے یہ کہ ان پر عام قحط سالی ایسی نہ آئے کہ یہ سب تباہ ہو جائیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دونوں دعائیں قبول فرمائیں پھر تیسری دعا یہ کی کہ ان میں آپس میں لڑائیاں نہ ہوں لیکن یہ دعا قبول نہ ہوئی۔ یہ سن کر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم نے سچ کہا یاد رکھو قیامت تک یہ آپس کی لڑائیاں چلی جائیں گی“ ۔ [مسند احمد:445/5:صحیح] ‏

ابن مردویہ میں ہے کہ حضور علیہ السلام بنو معاویہ کے محلے میں گئے اور وہاں آٹھ رکعت نماز ادا کی، بڑی لمبی رکعت پڑھیں پھر میری طرف توجہ فرما کر فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں اللہ پاک نے دو تو دیں اور ایک نہ دی، میں نے سوال کیا کہ میری امت پر ان کے دشمن اس طرح نہ چھا جائیں کہ انہیں برباد کر دیں اور ان سب کو ڈبویا نہ جائے، اللہ نے ان دونوں باتوں سے مجھے امن دیا پھر میں نے آپ سے لڑائیاں نہ ہونے کی دعا کی لیکن اس سے مجھے منع کر دیا ۔ [التاریخ الکبیر للبخاری:285/6:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2626

ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اب دریافت کرتا کرتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تھے وہیں پہنچا دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہیں۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی لمبی نماز پڑھی، جب فارغ ہوئے تو میں کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم بڑی لمبی نماز آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم ے پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ نماز رغبت ور ڈر کی نماز تھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تینوں دعاؤں کا ذکر کیا ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1724:صحیح] ‏

نسائی وغیرہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کی آٹھ رکعت پڑھیں اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے سوال پر اپنی دعاؤں کا ذکر کیا اس میں عام قحط سالی کا ذکر ہے ۔ [نسائی فی السنن الکبری:920/1:صحیح لغیره] ‏

نسائی وعیرہ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ساری رات نماز میں گزار دی صبح کے وقت سلام پھیرا تو خباب بن ارث رضی اللہ عنہ نے جو بدری صحابی ہیں پوچھا کہ ایسی طویل نماز میں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں وہی فرمایا جو اوپر مذکور ہوا، اس میں ایک دعا یہ ہے کہ اگلی امتوں پر جو عام عذاب آئے وہ میری امت پر عام طور پر نہ آئیں ۔ [سنن نسائی:1639،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

تفسیر ابن جریر میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی جس کے رکوع سجود پورے تھے اور نماز ہلکی تھی پھر سوال و جواب وہی ہیں جو اوپر بیان ہوئے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13370:صحیح بالشواهد] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اکرام صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میرے لیے زمین لپیٹ دی گئی یہاں تک کہ میں نے مشرقین مغربین دیکھ لیے جہاں جہاں تک یہ زمین میری لیے لپیٹ دی گئی تھی وہاں وہاں تک میری امت کی بادشاہت پہنچے گی، مجھے دونوں خزانے دیئے گئے ہیں سفید اور سرخ، میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا کہ میری امت کو عام قحط سالی سے ہلاک نہ کر اور ان پر کوئی ان کے سوا ایسا دشمن مسلط نہ کر جو انہیں عام طور پر ہلاک کر دے یہاں تک کہ یہ خود آپس میں ایک دوسروں کو ہلاک کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قتل کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قید کرنے لگیں ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنی امت پر کسی چیز سے نہیں ڈرتا بجز گمراہ کرنے والے اماموں کے پھر جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو قیامت تک ان میں سے اٹھائی نہ جائے گی ۔ [مسند احمد:123/4:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2627

ابن مردویہ میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں نماز پڑھتے تو نماز ہلکی ہوتی، رکوع و سجود پورے ہوتے ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت دیر تک بیٹھے رہے یہاں تک کہ ہم نے ایک دوسرے کو اشارے سے سمجھا دیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر رہی ہے خاموشی سے بیٹھے رہو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو بعض لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم آج تو اس قدر زیادہ دیر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھے رہنے سے ہم نے یہ خیال کیا تھا اور آپس میں ایک دوسرے کو اشارے سے یہ سمجھایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ بات تو نہ تھی بلکہ میں نے یہ نماز بڑی رغبت و یکسوئی سے ادا کی تھی، میں نے اس میں تین چیزیں اللہ تبارک و تعالیٰ سے طلب کی تھیں جن میں سے دو تو اللہ تعالیٰ نے دے دیں اور ایک نہیں دی۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ تمہیں وہ عذاب نہ کرے جو تم سے پہلی قوموں کو کئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اسے پورا کیا میں نے پھر کہا کہ یا اللہ میری امت پر کوئی ایسا دشمن چھا نہ جائے جو ان کا صفایا کر دے تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ مراد بھی پوری کر دی، پھر میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تم میں پھوٹ نہ ڈالے کہ ایک دوسرے کو ایذاء پہنچائیں مگر اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول نہ فرمائی ۔ [طبرانی کبیر:4112:صحیح بالشواهد] ‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے میں نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے چار دعائیں کیں تو تین پوری ہوئیں اور ایک رد ہو گئی۔ چوتھی دعا اس میں یہ ہے کہ میری امت گمراہی پر جمع نہ ہو جائے ۔ [مسند احمد:396/6:صحیح] ‏

اور حدیث میں ہے دو چیزیں اللہ نے دیں دو نہ دیں آسمان سے پتھروں کا سب پر برسانا موقوف کر دیا گیا زمین کے پانی کے طوفان سے سب کا غرق ہو جانا موقوف کر دیا گیا لیکن قتل اور آپس کی لڑائی موقوف نہیں کی گئی ۔ [الدر المنشور للسیوطی:33/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2628

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر کے اٹھ کھرے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری امت پر نہ تو ان کے اوپر سے عذاب اتار نہ نیچے سے انہیں عذاب چکھا اور نہ ان میں تفرقہ ڈال کر ایک دوسرے کی مصیبت پہنچا، اسی وقت جبرائیل علیہ السلام اترے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو اس سے پناہ دے دی کہ ان کے اوپر سے یا ان کے نیچے سے ان پر عام عذاب اتارا جائے [الدر المنشور للسیوطی:33/3:ضعیف] ‏

سیدنا ابن ابی کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو چیزیں اس امت سے ہٹ گئیں اور دور رہ گئیں اوپر کا عذاب یعنی پتھراؤ اور نیچے کا عذاب یعنی زمین کا دھنساؤ ہٹ گیا اور آپس کی پھوٹ اور ایک کا ایک کو ایذائیں پہنچانا رہ گیا، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں چار چیزوں کا ذکر ہے جن میں سے دو تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے پچیس (‏۲۵)‏ سال بعد ہی شروع ہو گئیں یعنی پھوٹ اور آپس کی دشمنی۔ دو باقی رہ گئیں وہ بھی ضرور ہی آنے والی ہیں یعنی رجم اور خسف آسمان سے سنگباری اور زمین میں دھنسایا جانا ۔ [مسند احمد:134/5:ضعیف] ‏

حسن رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ”گناہ سے لوگ بچے ہوئے تھے عذاب رکے ہوئے تھے جب گناہ شروع ہوئے عذاب اتر پڑے۔‏“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ با آواز بلند مجلس میں یا منبر پر فرماتے تھے لوگو تم پر آیت «قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓي اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ» [6۔الأنعام:65] ‏ اتر چکی ہے اگر آسمانی عذاب آ جائے ایک بھی باقی نہ بچے اگر تمہیں وہ زمین میں دھنسا دے تو تم سب ہلاک ہو جاؤ اور تم میں سے ایک بھی نہ بچے لیکن تم پر آپس کی پھوٹ کا تیسرا عذاب آ چکا ہے۔‏“

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اوپر کا عذاب برے امام اور بد بادشاہ ہیں نیچے کا عذاب بد باطن غلام اور بد دیانت نوکر چاکر ہیں“ یہ قول بھی گو صحیح ہو سکتا ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر اور قوی ہے، اس کی شہادت میں آیت «ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْرُ» [67-الملک:16] ‏ پیش ہو سکتی ہے۔

صفحہ نمبر2629

ایک حدیث میں ہے میری امت میں سنگ باری اور زمین میں دھنس جانا اور صورت بدل جانا ہوگا ۔ [سنن ترمذي:2152،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اس قسم کی بہت سی حدیثیں ہیں جو قیامت کے قرب کی علامتوں کے بیان میں اس کے موقعہ پر جا بجا آئیں گی۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ آپس کی پھوٹ سے مراد فرقہ بندی ہے، خواہشوں کو پیشوا بنانا ہے، ایک حدیث میں ہے یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک کے [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏،

ایک دوسرے کی تکلیف کا مزہ چکھے اس سے مراد سزا اور قتل ہے، ” دیکھ لے کہ ہم کس طرح اپنی آیتیں وضاحت کے ساتھ بیان فرما رہے ہیں۔ تاکہ لوگ غورو تدبر کریں سوچیں سمجھیں “۔

اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! میرے بعد کافر بن کر نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسروں کی گردنوں پر تلواریں چلانے لگو ، اس پر لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم اللہ کی واحدانیت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو مانتے ہوئے ایسا کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہاں یہی ہوگا ۔ کسی نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم مسلمان رہتے ہوئے مسلمانوں ہی کو قتل کریں اس پر آیت کا آخری حصہ اور اس کے بعد کی آیت «وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍ» [6-الانعام:66] ‏، اتری [تفسیر ابن جریر الطبری:13381:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2630

احسان فراموش نہ بنو ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرماتا ہے کہ ” جب تم خشکی کے بیابانوں اور لق و دق سنسان جنگلوں میں راہ بھٹکے ہوئے قدم قدم پر خوف و خطر میں مبتلا ہوتے ہو اور جب تم کشتیوں میں بیٹھے ہوئے طوفان کے وقت سمندر کے تلاطم میں مایوس و عاجز ہو جاتے ہو۔ اس وقت اپنے دیوتاؤں اور بتوں کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو “۔

یہی مضمون قرآن کریم کی آیت «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ» [17-الاسراء:67] ‏ میں اور آیت «ھُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ» [10-یونس:22] ‏ میں اور آیت «اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُّرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» [27-النمل:63] ‏ میں بھی بیان ہوا ہے۔

«تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً» کے معنی «جَهْرًا أَوْ سِرًّا» یعنی بلند آواز اور پست آواز کے ہیں۔ الغرض اس وقت صرف اللہ کو ہی پکارتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس وقت سے نجات دے گا تو ہم ہمیشہ تیرے شکر گزار رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” باوجود اس عہد و پیمان کے ادھر ہم نے انہیں تنگی اور مصیبت سے چھوڑا اور ادھر یہ آزاد ہوتے ہی ہمارے ساتھ شرک کرنے لگے اور اپنے جھوٹے معبودوں کو پھر پکارنے لگے “۔

صفحہ نمبر2624

پھر فرماتا ہے ” کیا تم نہیں جانتے کہ جس اللہ نے تمہیں اس وقت آفت میں ڈالا تھا وہ اب بھی قادر ہے کہ تم پر کوئی اور عذاب اوپر سے یا نیجے سے لے آئے “۔

جیسے کہ سورۃ سبحان میں آیت «رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِـيْمًا وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا أَفَأَمِنتُمْ أَن يَخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ أَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوا لَكُمْ وَكِيلًا أَمْ أَمِنتُمْ أَن يُعِيدَكُمْ فِيهِ تَارَةً أُخْرَىٰ فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيحِ فَيُغْرِقَكُم بِمَا كَفَرْتُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُوا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهِ تَبِيعًا» [17۔ الاسراء:69-66] ‏ تک بیان فرمایا۔ یعنی ” تمہارا پروردگار وہ ہے جو دریا میں تمہارے لیے کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل حاصل کرو اور وہ تم پر بہت ہی مہربان ہے۔ لیکن جب تمہیں دریا میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو جن کی تم عبادت کرتے رہتے تھے وہ سب تمہارے خیال سے نکل جاتے ہیں اور صرف اللہ ہی کی طرف لو لگ جاتی ہے، پھر جب وہ تمہیں خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منہ پھیر لیتے ہو فی الواقع انسان بڑا ہی ناشکرا ہے کیا تم اس سے بے خوف ہو کہ وہ تمہیں خشکی میں ہی دھنسا دے یا تم پر آندھی کا عذاب بھیج دے پھر تم کسی کو بھی اپنا کار ساز نہ پاؤ۔ کیا تم اس بات سے بھی نڈر ہو کہ وہ تمہیں پھر دوبارہ دریا میں لے جائے اور تم پر تندو تیز ہوا بھیج دے اور تمہیں تمہارے کفر کے باعث غرق کر دے تو پھر کسی کو نہ پاؤ جو ہمارا پیچھا کر سکے “۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اوپر نیچے کے عذاب مشرکوں کیلئے ہیں۔‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس آیت میں اسی امت کو ڈرایا گیا تھا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے معافی دے دی۔‏“

ہم یہاں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں اور آثار بیان کرتے ہیں ملاحظہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ہمارا بھروسہ ہے اور اس سے ہم مدد چاہتے ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے «يَلْبِسَكُمْ» کے معنی «يَخْلِطَكُمْ» کے ہیں یہ لفظ «اِلْتِبَاسِ» سے ماخوذ ہے «شِيَعًا» کے معنی «فِرَقًا» کے ہیں۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ ” اللہ قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے عذاب نازل فرمائے “، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ یا اللہ میں تیرے پر عظمت و جلال چہرہ کی پناہ میں آتا ہوں ، اور جب یہ سنا کہ نیچے سے عذاب لے آئے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی۔ پھر یہ سن کر کہ ” یا وہ تم میں اختلاف ڈال دے اور تمہیں ایک دوسرے سے تکلیف پہنچے “، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بہت زیادہ ہلکا ہے ۔ [صحیح بخاری:4628] ‏

ابن مردویہ کی اس حدیث کے آخر میں جابر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ اگر اس آپس کی ناچاقی سے بھی پناہ مانگتے تو پناہ مل جاتی ۔ [الدر المنشور للسیوطی:32/3:ضعیف] ‏

مسند میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ہونے والا ہی ہے اب تک یہ ہوا نہیں ۔ [مسند احمد:171/1:ضعیف] ‏ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔

صفحہ نمبر2625

مسند احمد میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنی معاویہ میں گئے اور دور رکعت نماز ادا کی ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی مناجات کی اور فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین چیزیں طلب کیں ایک تو یہ کہ میری تمام امت کو ڈبوئے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ چیز عطا فرمائی، پھر میں نے دعا کی کہ میری عام امت کو قحط سالی سے اللہ تعالیٰ ہلاک نہ کرے، اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی پھر میں نے دعا کی کہ ان میں آپس میں پھوٹ نہ پڑے میری یہ دعا قبول نہ ہوئی ۔ صحیح مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ [صحیح مسلم:2890] ‏

مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمارے پاس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بنی معاویہ کے محلے میں آئے اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ ”جانتے ہو تمہاری اس مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کس جگہ پڑھی؟“ میں نے مسجد کے ایک کونے کو دکھا کر کہا یہاں پھر پوچھا ”جانتے ہو یہاں تین دعائیں حضور نے کیا کیا کیں؟“ میں نے کہا ایک تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کوئی غیر مسلم طاقت اس طرح غالب نہ آ جائے کہ ان کو پیس ڈالے، دوسرے یہ کہ ان پر عام قحط سالی ایسی نہ آئے کہ یہ سب تباہ ہو جائیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دونوں دعائیں قبول فرمائیں پھر تیسری دعا یہ کی کہ ان میں آپس میں لڑائیاں نہ ہوں لیکن یہ دعا قبول نہ ہوئی۔ یہ سن کر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم نے سچ کہا یاد رکھو قیامت تک یہ آپس کی لڑائیاں چلی جائیں گی“ ۔ [مسند احمد:445/5:صحیح] ‏

ابن مردویہ میں ہے کہ حضور علیہ السلام بنو معاویہ کے محلے میں گئے اور وہاں آٹھ رکعت نماز ادا کی، بڑی لمبی رکعت پڑھیں پھر میری طرف توجہ فرما کر فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں اللہ پاک نے دو تو دیں اور ایک نہ دی، میں نے سوال کیا کہ میری امت پر ان کے دشمن اس طرح نہ چھا جائیں کہ انہیں برباد کر دیں اور ان سب کو ڈبویا نہ جائے، اللہ نے ان دونوں باتوں سے مجھے امن دیا پھر میں نے آپ سے لڑائیاں نہ ہونے کی دعا کی لیکن اس سے مجھے منع کر دیا ۔ [التاریخ الکبیر للبخاری:285/6:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2626

ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اب دریافت کرتا کرتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تھے وہیں پہنچا دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہیں۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی لمبی نماز پڑھی، جب فارغ ہوئے تو میں کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم بڑی لمبی نماز آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم ے پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ نماز رغبت ور ڈر کی نماز تھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تینوں دعاؤں کا ذکر کیا ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1724:صحیح] ‏

نسائی وغیرہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کی آٹھ رکعت پڑھیں اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے سوال پر اپنی دعاؤں کا ذکر کیا اس میں عام قحط سالی کا ذکر ہے ۔ [نسائی فی السنن الکبری:920/1:صحیح لغیره] ‏

نسائی وعیرہ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ساری رات نماز میں گزار دی صبح کے وقت سلام پھیرا تو خباب بن ارث رضی اللہ عنہ نے جو بدری صحابی ہیں پوچھا کہ ایسی طویل نماز میں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں وہی فرمایا جو اوپر مذکور ہوا، اس میں ایک دعا یہ ہے کہ اگلی امتوں پر جو عام عذاب آئے وہ میری امت پر عام طور پر نہ آئیں ۔ [سنن نسائی:1639،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

تفسیر ابن جریر میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی جس کے رکوع سجود پورے تھے اور نماز ہلکی تھی پھر سوال و جواب وہی ہیں جو اوپر بیان ہوئے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13370:صحیح بالشواهد] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اکرام صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میرے لیے زمین لپیٹ دی گئی یہاں تک کہ میں نے مشرقین مغربین دیکھ لیے جہاں جہاں تک یہ زمین میری لیے لپیٹ دی گئی تھی وہاں وہاں تک میری امت کی بادشاہت پہنچے گی، مجھے دونوں خزانے دیئے گئے ہیں سفید اور سرخ، میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا کہ میری امت کو عام قحط سالی سے ہلاک نہ کر اور ان پر کوئی ان کے سوا ایسا دشمن مسلط نہ کر جو انہیں عام طور پر ہلاک کر دے یہاں تک کہ یہ خود آپس میں ایک دوسروں کو ہلاک کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قتل کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قید کرنے لگیں ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنی امت پر کسی چیز سے نہیں ڈرتا بجز گمراہ کرنے والے اماموں کے پھر جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو قیامت تک ان میں سے اٹھائی نہ جائے گی ۔ [مسند احمد:123/4:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2627

ابن مردویہ میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں نماز پڑھتے تو نماز ہلکی ہوتی، رکوع و سجود پورے ہوتے ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت دیر تک بیٹھے رہے یہاں تک کہ ہم نے ایک دوسرے کو اشارے سے سمجھا دیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر رہی ہے خاموشی سے بیٹھے رہو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو بعض لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم آج تو اس قدر زیادہ دیر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھے رہنے سے ہم نے یہ خیال کیا تھا اور آپس میں ایک دوسرے کو اشارے سے یہ سمجھایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ بات تو نہ تھی بلکہ میں نے یہ نماز بڑی رغبت و یکسوئی سے ادا کی تھی، میں نے اس میں تین چیزیں اللہ تبارک و تعالیٰ سے طلب کی تھیں جن میں سے دو تو اللہ تعالیٰ نے دے دیں اور ایک نہیں دی۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ تمہیں وہ عذاب نہ کرے جو تم سے پہلی قوموں کو کئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اسے پورا کیا میں نے پھر کہا کہ یا اللہ میری امت پر کوئی ایسا دشمن چھا نہ جائے جو ان کا صفایا کر دے تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ مراد بھی پوری کر دی، پھر میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تم میں پھوٹ نہ ڈالے کہ ایک دوسرے کو ایذاء پہنچائیں مگر اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول نہ فرمائی ۔ [طبرانی کبیر:4112:صحیح بالشواهد] ‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے میں نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے چار دعائیں کیں تو تین پوری ہوئیں اور ایک رد ہو گئی۔ چوتھی دعا اس میں یہ ہے کہ میری امت گمراہی پر جمع نہ ہو جائے ۔ [مسند احمد:396/6:صحیح] ‏

اور حدیث میں ہے دو چیزیں اللہ نے دیں دو نہ دیں آسمان سے پتھروں کا سب پر برسانا موقوف کر دیا گیا زمین کے پانی کے طوفان سے سب کا غرق ہو جانا موقوف کر دیا گیا لیکن قتل اور آپس کی لڑائی موقوف نہیں کی گئی ۔ [الدر المنشور للسیوطی:33/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2628

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر کے اٹھ کھرے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری امت پر نہ تو ان کے اوپر سے عذاب اتار نہ نیچے سے انہیں عذاب چکھا اور نہ ان میں تفرقہ ڈال کر ایک دوسرے کی مصیبت پہنچا، اسی وقت جبرائیل علیہ السلام اترے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو اس سے پناہ دے دی کہ ان کے اوپر سے یا ان کے نیچے سے ان پر عام عذاب اتارا جائے [الدر المنشور للسیوطی:33/3:ضعیف] ‏

سیدنا ابن ابی کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو چیزیں اس امت سے ہٹ گئیں اور دور رہ گئیں اوپر کا عذاب یعنی پتھراؤ اور نیچے کا عذاب یعنی زمین کا دھنساؤ ہٹ گیا اور آپس کی پھوٹ اور ایک کا ایک کو ایذائیں پہنچانا رہ گیا، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں چار چیزوں کا ذکر ہے جن میں سے دو تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے پچیس (‏۲۵)‏ سال بعد ہی شروع ہو گئیں یعنی پھوٹ اور آپس کی دشمنی۔ دو باقی رہ گئیں وہ بھی ضرور ہی آنے والی ہیں یعنی رجم اور خسف آسمان سے سنگباری اور زمین میں دھنسایا جانا ۔ [مسند احمد:134/5:ضعیف] ‏

حسن رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ”گناہ سے لوگ بچے ہوئے تھے عذاب رکے ہوئے تھے جب گناہ شروع ہوئے عذاب اتر پڑے۔‏“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ با آواز بلند مجلس میں یا منبر پر فرماتے تھے لوگو تم پر آیت «قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓي اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ» [6۔الأنعام:65] ‏ اتر چکی ہے اگر آسمانی عذاب آ جائے ایک بھی باقی نہ بچے اگر تمہیں وہ زمین میں دھنسا دے تو تم سب ہلاک ہو جاؤ اور تم میں سے ایک بھی نہ بچے لیکن تم پر آپس کی پھوٹ کا تیسرا عذاب آ چکا ہے۔‏“

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اوپر کا عذاب برے امام اور بد بادشاہ ہیں نیچے کا عذاب بد باطن غلام اور بد دیانت نوکر چاکر ہیں“ یہ قول بھی گو صحیح ہو سکتا ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر اور قوی ہے، اس کی شہادت میں آیت «ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْرُ» [67-الملک:16] ‏ پیش ہو سکتی ہے۔

صفحہ نمبر2629

ایک حدیث میں ہے میری امت میں سنگ باری اور زمین میں دھنس جانا اور صورت بدل جانا ہوگا ۔ [سنن ترمذي:2152،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اس قسم کی بہت سی حدیثیں ہیں جو قیامت کے قرب کی علامتوں کے بیان میں اس کے موقعہ پر جا بجا آئیں گی۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ آپس کی پھوٹ سے مراد فرقہ بندی ہے، خواہشوں کو پیشوا بنانا ہے، ایک حدیث میں ہے یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک کے [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏،

ایک دوسرے کی تکلیف کا مزہ چکھے اس سے مراد سزا اور قتل ہے، ” دیکھ لے کہ ہم کس طرح اپنی آیتیں وضاحت کے ساتھ بیان فرما رہے ہیں۔ تاکہ لوگ غورو تدبر کریں سوچیں سمجھیں “۔

اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! میرے بعد کافر بن کر نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسروں کی گردنوں پر تلواریں چلانے لگو ، اس پر لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم اللہ کی واحدانیت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو مانتے ہوئے ایسا کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہاں یہی ہوگا ۔ کسی نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم مسلمان رہتے ہوئے مسلمانوں ہی کو قتل کریں اس پر آیت کا آخری حصہ اور اس کے بعد کی آیت «وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍ» [6-الانعام:66] ‏، اتری [تفسیر ابن جریر الطبری:13381:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2630

احسان فراموش نہ بنو ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرماتا ہے کہ ” جب تم خشکی کے بیابانوں اور لق و دق سنسان جنگلوں میں راہ بھٹکے ہوئے قدم قدم پر خوف و خطر میں مبتلا ہوتے ہو اور جب تم کشتیوں میں بیٹھے ہوئے طوفان کے وقت سمندر کے تلاطم میں مایوس و عاجز ہو جاتے ہو۔ اس وقت اپنے دیوتاؤں اور بتوں کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو “۔

یہی مضمون قرآن کریم کی آیت «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ» [17-الاسراء:67] ‏ میں اور آیت «ھُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ» [10-یونس:22] ‏ میں اور آیت «اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُّرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» [27-النمل:63] ‏ میں بھی بیان ہوا ہے۔

«تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً» کے معنی «جَهْرًا أَوْ سِرًّا» یعنی بلند آواز اور پست آواز کے ہیں۔ الغرض اس وقت صرف اللہ کو ہی پکارتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس وقت سے نجات دے گا تو ہم ہمیشہ تیرے شکر گزار رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” باوجود اس عہد و پیمان کے ادھر ہم نے انہیں تنگی اور مصیبت سے چھوڑا اور ادھر یہ آزاد ہوتے ہی ہمارے ساتھ شرک کرنے لگے اور اپنے جھوٹے معبودوں کو پھر پکارنے لگے “۔

صفحہ نمبر2624

پھر فرماتا ہے ” کیا تم نہیں جانتے کہ جس اللہ نے تمہیں اس وقت آفت میں ڈالا تھا وہ اب بھی قادر ہے کہ تم پر کوئی اور عذاب اوپر سے یا نیجے سے لے آئے “۔

جیسے کہ سورۃ سبحان میں آیت «رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِـيْمًا وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا أَفَأَمِنتُمْ أَن يَخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ أَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوا لَكُمْ وَكِيلًا أَمْ أَمِنتُمْ أَن يُعِيدَكُمْ فِيهِ تَارَةً أُخْرَىٰ فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيحِ فَيُغْرِقَكُم بِمَا كَفَرْتُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُوا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهِ تَبِيعًا» [17۔ الاسراء:69-66] ‏ تک بیان فرمایا۔ یعنی ” تمہارا پروردگار وہ ہے جو دریا میں تمہارے لیے کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل حاصل کرو اور وہ تم پر بہت ہی مہربان ہے۔ لیکن جب تمہیں دریا میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو جن کی تم عبادت کرتے رہتے تھے وہ سب تمہارے خیال سے نکل جاتے ہیں اور صرف اللہ ہی کی طرف لو لگ جاتی ہے، پھر جب وہ تمہیں خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منہ پھیر لیتے ہو فی الواقع انسان بڑا ہی ناشکرا ہے کیا تم اس سے بے خوف ہو کہ وہ تمہیں خشکی میں ہی دھنسا دے یا تم پر آندھی کا عذاب بھیج دے پھر تم کسی کو بھی اپنا کار ساز نہ پاؤ۔ کیا تم اس بات سے بھی نڈر ہو کہ وہ تمہیں پھر دوبارہ دریا میں لے جائے اور تم پر تندو تیز ہوا بھیج دے اور تمہیں تمہارے کفر کے باعث غرق کر دے تو پھر کسی کو نہ پاؤ جو ہمارا پیچھا کر سکے “۔

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اوپر نیچے کے عذاب مشرکوں کیلئے ہیں۔‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس آیت میں اسی امت کو ڈرایا گیا تھا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے معافی دے دی۔‏“

ہم یہاں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں اور آثار بیان کرتے ہیں ملاحظہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ہمارا بھروسہ ہے اور اس سے ہم مدد چاہتے ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے «يَلْبِسَكُمْ» کے معنی «يَخْلِطَكُمْ» کے ہیں یہ لفظ «اِلْتِبَاسِ» سے ماخوذ ہے «شِيَعًا» کے معنی «فِرَقًا» کے ہیں۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ ” اللہ قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے عذاب نازل فرمائے “، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ یا اللہ میں تیرے پر عظمت و جلال چہرہ کی پناہ میں آتا ہوں ، اور جب یہ سنا کہ نیچے سے عذاب لے آئے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی۔ پھر یہ سن کر کہ ” یا وہ تم میں اختلاف ڈال دے اور تمہیں ایک دوسرے سے تکلیف پہنچے “، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بہت زیادہ ہلکا ہے ۔ [صحیح بخاری:4628] ‏

ابن مردویہ کی اس حدیث کے آخر میں جابر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی مروی ہے کہ اگر اس آپس کی ناچاقی سے بھی پناہ مانگتے تو پناہ مل جاتی ۔ [الدر المنشور للسیوطی:32/3:ضعیف] ‏

مسند میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ہونے والا ہی ہے اب تک یہ ہوا نہیں ۔ [مسند احمد:171/1:ضعیف] ‏ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔

صفحہ نمبر2625

مسند احمد میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنی معاویہ میں گئے اور دور رکعت نماز ادا کی ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی مناجات کی اور فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین چیزیں طلب کیں ایک تو یہ کہ میری تمام امت کو ڈبوئے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ چیز عطا فرمائی، پھر میں نے دعا کی کہ میری عام امت کو قحط سالی سے اللہ تعالیٰ ہلاک نہ کرے، اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی پھر میں نے دعا کی کہ ان میں آپس میں پھوٹ نہ پڑے میری یہ دعا قبول نہ ہوئی ۔ صحیح مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ [صحیح مسلم:2890] ‏

مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمارے پاس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بنی معاویہ کے محلے میں آئے اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ ”جانتے ہو تمہاری اس مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کس جگہ پڑھی؟“ میں نے مسجد کے ایک کونے کو دکھا کر کہا یہاں پھر پوچھا ”جانتے ہو یہاں تین دعائیں حضور نے کیا کیا کیں؟“ میں نے کہا ایک تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کوئی غیر مسلم طاقت اس طرح غالب نہ آ جائے کہ ان کو پیس ڈالے، دوسرے یہ کہ ان پر عام قحط سالی ایسی نہ آئے کہ یہ سب تباہ ہو جائیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دونوں دعائیں قبول فرمائیں پھر تیسری دعا یہ کی کہ ان میں آپس میں لڑائیاں نہ ہوں لیکن یہ دعا قبول نہ ہوئی۔ یہ سن کر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم نے سچ کہا یاد رکھو قیامت تک یہ آپس کی لڑائیاں چلی جائیں گی“ ۔ [مسند احمد:445/5:صحیح] ‏

ابن مردویہ میں ہے کہ حضور علیہ السلام بنو معاویہ کے محلے میں گئے اور وہاں آٹھ رکعت نماز ادا کی، بڑی لمبی رکعت پڑھیں پھر میری طرف توجہ فرما کر فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں اللہ پاک نے دو تو دیں اور ایک نہ دی، میں نے سوال کیا کہ میری امت پر ان کے دشمن اس طرح نہ چھا جائیں کہ انہیں برباد کر دیں اور ان سب کو ڈبویا نہ جائے، اللہ نے ان دونوں باتوں سے مجھے امن دیا پھر میں نے آپ سے لڑائیاں نہ ہونے کی دعا کی لیکن اس سے مجھے منع کر دیا ۔ [التاریخ الکبیر للبخاری:285/6:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2626

ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اب دریافت کرتا کرتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تھے وہیں پہنچا دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہیں۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی لمبی نماز پڑھی، جب فارغ ہوئے تو میں کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم بڑی لمبی نماز آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم ے پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ نماز رغبت ور ڈر کی نماز تھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تینوں دعاؤں کا ذکر کیا ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1724:صحیح] ‏

نسائی وغیرہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کی آٹھ رکعت پڑھیں اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے سوال پر اپنی دعاؤں کا ذکر کیا اس میں عام قحط سالی کا ذکر ہے ۔ [نسائی فی السنن الکبری:920/1:صحیح لغیره] ‏

نسائی وعیرہ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ساری رات نماز میں گزار دی صبح کے وقت سلام پھیرا تو خباب بن ارث رضی اللہ عنہ نے جو بدری صحابی ہیں پوچھا کہ ایسی طویل نماز میں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں وہی فرمایا جو اوپر مذکور ہوا، اس میں ایک دعا یہ ہے کہ اگلی امتوں پر جو عام عذاب آئے وہ میری امت پر عام طور پر نہ آئیں ۔ [سنن نسائی:1639،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

تفسیر ابن جریر میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی جس کے رکوع سجود پورے تھے اور نماز ہلکی تھی پھر سوال و جواب وہی ہیں جو اوپر بیان ہوئے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13370:صحیح بالشواهد] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اکرام صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میرے لیے زمین لپیٹ دی گئی یہاں تک کہ میں نے مشرقین مغربین دیکھ لیے جہاں جہاں تک یہ زمین میری لیے لپیٹ دی گئی تھی وہاں وہاں تک میری امت کی بادشاہت پہنچے گی، مجھے دونوں خزانے دیئے گئے ہیں سفید اور سرخ، میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا کہ میری امت کو عام قحط سالی سے ہلاک نہ کر اور ان پر کوئی ان کے سوا ایسا دشمن مسلط نہ کر جو انہیں عام طور پر ہلاک کر دے یہاں تک کہ یہ خود آپس میں ایک دوسروں کو ہلاک کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قتل کرنے لگیں اور ایک دوسروں کو قید کرنے لگیں ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنی امت پر کسی چیز سے نہیں ڈرتا بجز گمراہ کرنے والے اماموں کے پھر جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو قیامت تک ان میں سے اٹھائی نہ جائے گی ۔ [مسند احمد:123/4:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2627

ابن مردویہ میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں نماز پڑھتے تو نماز ہلکی ہوتی، رکوع و سجود پورے ہوتے ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت دیر تک بیٹھے رہے یہاں تک کہ ہم نے ایک دوسرے کو اشارے سے سمجھا دیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر رہی ہے خاموشی سے بیٹھے رہو۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو بعض لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم آج تو اس قدر زیادہ دیر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھے رہنے سے ہم نے یہ خیال کیا تھا اور آپس میں ایک دوسرے کو اشارے سے یہ سمجھایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ بات تو نہ تھی بلکہ میں نے یہ نماز بڑی رغبت و یکسوئی سے ادا کی تھی، میں نے اس میں تین چیزیں اللہ تبارک و تعالیٰ سے طلب کی تھیں جن میں سے دو تو اللہ تعالیٰ نے دے دیں اور ایک نہیں دی۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ تمہیں وہ عذاب نہ کرے جو تم سے پہلی قوموں کو کئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اسے پورا کیا میں نے پھر کہا کہ یا اللہ میری امت پر کوئی ایسا دشمن چھا نہ جائے جو ان کا صفایا کر دے تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ مراد بھی پوری کر دی، پھر میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تم میں پھوٹ نہ ڈالے کہ ایک دوسرے کو ایذاء پہنچائیں مگر اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول نہ فرمائی ۔ [طبرانی کبیر:4112:صحیح بالشواهد] ‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے میں نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے چار دعائیں کیں تو تین پوری ہوئیں اور ایک رد ہو گئی۔ چوتھی دعا اس میں یہ ہے کہ میری امت گمراہی پر جمع نہ ہو جائے ۔ [مسند احمد:396/6:صحیح] ‏

اور حدیث میں ہے دو چیزیں اللہ نے دیں دو نہ دیں آسمان سے پتھروں کا سب پر برسانا موقوف کر دیا گیا زمین کے پانی کے طوفان سے سب کا غرق ہو جانا موقوف کر دیا گیا لیکن قتل اور آپس کی لڑائی موقوف نہیں کی گئی ۔ [الدر المنشور للسیوطی:33/3:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2628

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر کے اٹھ کھرے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری امت پر نہ تو ان کے اوپر سے عذاب اتار نہ نیچے سے انہیں عذاب چکھا اور نہ ان میں تفرقہ ڈال کر ایک دوسرے کی مصیبت پہنچا، اسی وقت جبرائیل علیہ السلام اترے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو اس سے پناہ دے دی کہ ان کے اوپر سے یا ان کے نیچے سے ان پر عام عذاب اتارا جائے [الدر المنشور للسیوطی:33/3:ضعیف] ‏

سیدنا ابن ابی کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو چیزیں اس امت سے ہٹ گئیں اور دور رہ گئیں اوپر کا عذاب یعنی پتھراؤ اور نیچے کا عذاب یعنی زمین کا دھنساؤ ہٹ گیا اور آپس کی پھوٹ اور ایک کا ایک کو ایذائیں پہنچانا رہ گیا، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں چار چیزوں کا ذکر ہے جن میں سے دو تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے پچیس (‏۲۵)‏ سال بعد ہی شروع ہو گئیں یعنی پھوٹ اور آپس کی دشمنی۔ دو باقی رہ گئیں وہ بھی ضرور ہی آنے والی ہیں یعنی رجم اور خسف آسمان سے سنگباری اور زمین میں دھنسایا جانا ۔ [مسند احمد:134/5:ضعیف] ‏

حسن رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ”گناہ سے لوگ بچے ہوئے تھے عذاب رکے ہوئے تھے جب گناہ شروع ہوئے عذاب اتر پڑے۔‏“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ با آواز بلند مجلس میں یا منبر پر فرماتے تھے لوگو تم پر آیت «قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓي اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ» [6۔الأنعام:65] ‏ اتر چکی ہے اگر آسمانی عذاب آ جائے ایک بھی باقی نہ بچے اگر تمہیں وہ زمین میں دھنسا دے تو تم سب ہلاک ہو جاؤ اور تم میں سے ایک بھی نہ بچے لیکن تم پر آپس کی پھوٹ کا تیسرا عذاب آ چکا ہے۔‏“

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اوپر کا عذاب برے امام اور بد بادشاہ ہیں نیچے کا عذاب بد باطن غلام اور بد دیانت نوکر چاکر ہیں“ یہ قول بھی گو صحیح ہو سکتا ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر اور قوی ہے، اس کی شہادت میں آیت «ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْرُ» [67-الملک:16] ‏ پیش ہو سکتی ہے۔

صفحہ نمبر2629

ایک حدیث میں ہے میری امت میں سنگ باری اور زمین میں دھنس جانا اور صورت بدل جانا ہوگا ۔ [سنن ترمذي:2152،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اس قسم کی بہت سی حدیثیں ہیں جو قیامت کے قرب کی علامتوں کے بیان میں اس کے موقعہ پر جا بجا آئیں گی۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔ آپس کی پھوٹ سے مراد فرقہ بندی ہے، خواہشوں کو پیشوا بنانا ہے، ایک حدیث میں ہے یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک کے [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏،

ایک دوسرے کی تکلیف کا مزہ چکھے اس سے مراد سزا اور قتل ہے، ” دیکھ لے کہ ہم کس طرح اپنی آیتیں وضاحت کے ساتھ بیان فرما رہے ہیں۔ تاکہ لوگ غورو تدبر کریں سوچیں سمجھیں “۔

اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! میرے بعد کافر بن کر نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسروں کی گردنوں پر تلواریں چلانے لگو ، اس پر لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم اللہ کی واحدانیت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو مانتے ہوئے ایسا کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہاں یہی ہوگا ۔ کسی نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم مسلمان رہتے ہوئے مسلمانوں ہی کو قتل کریں اس پر آیت کا آخری حصہ اور اس کے بعد کی آیت «وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍ» [6-الانعام:66] ‏، اتری [تفسیر ابن جریر الطبری:13381:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2630

غلط تاویلیں کرنے والوں سے نہ ملو ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس قرآن کو اور جس ہدایت و بیان کو تو اللہ عالی کی طرف سے لایا ہے اور جسے تیری قوم قریش جھٹلا رہی ہے حقیقتاً وہ سرا سر حق ہے بلکہ اس کے سوا اور کوئی حق ہے ہی نہیں ان سے کہہ دیجئیے میں نہ تو تمہارا محافظ ہوں نہ تم پر وکیل ہوں “۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ» [18-الكهف:29] ‏ ” کہہ دے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے نہ مانے “، یعنی مجھ پر صرف تبلیغ کرنا فرض ہے، تمہارے ذمہ سننا اور ماننا ہے ماننے والے دنیا اور آخرت میں نیکی پائیں گے اور نہ ماننے والے دونوں جہان میں بد نصیب رہیں گے، ہر خبر کی حقیقت ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اس کا وقت مقرر ہے، تمہیں عنقریب حقیقت حال معلوم ہو جائے گی، واقعہ کا انکشاف ہو جائے گا اور جان لو گے۔

صفحہ نمبر2633

پھر فرمایا ” جب تو انہیں دیکھے جو میری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو تو ان سے منہ پھیر لے اور جب تک وہ اپنی شیطانیت سے باز نہ آ جائیں تو ان کے ساتھ نہ اٹھو نہ بیٹھو “۔

اس آیت میں گو فرمان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے لیکن حکم عام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ہر شخص پر حرام ہے کہ وہ ایسی مجلس میں یا ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھے جو اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہوں ان کے معنی الٹ پلٹ کرتے ہوں اور ان کی بے جا تاویلیں کرتے ہوں، اگر بالفرض کوئی شخص بھولے سے ان میں بیٹھ بھی جائے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالموں کے پاس بیٹھنا ممنوع ہے حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو خطا اور بھول سے درگزر فرما لیا ہے اور ان کاموں سے بھی جو ان سے زبردستی مجبور کرکے کرائے جائیں ۔ [سنن ابن ماجه:2045،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اس آیت کے اسی حکم کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے «وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ» [4-النساء:140] ‏ یعنی ” تم پر اس کتاب میں یہ فرمان نازل ہو چکا ہے کہ جب اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر اور مذاق ہوتا ہوا سنو تو ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور اگر تم نے ایسا کیا تو تم بھی اس صورت میں ان جیسے ہی ہو جاؤ گے ہاں جب وہ اور باتوں میں مشغول ہوں تو خیر “، مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کے ساتھ بیٹھے اور ان کی باتوں کو برداشت کر لیا تو تم بھی ان کی طرح ہی ہو۔

صفحہ نمبر2634

پھر فرمان ہے کہ ” جو لوگ ان سے دوری کریں ان کے ساتھ شریک نہ ہوں ان کی ایسی مجلسوں سے الگ رہیں وہ بری الذمہ ہیں ان پر ان کا کوئی گناہ نہیں، ان پر اس بدکرداری کا کوئی بوجھ ان کے سر نہیں “۔

دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اگرچہ ان کے ساتھ بیٹھیں لیکن جبکہ ان کے کام میں اور ان کے خیال میں ان کی شرکت نہیں تو یہ بے گناہ ہیں لیکن یہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حکم سورۃ نساء مدنی کی آیت «إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ» [4-النساء:140] ‏سے منسوخ ہے۔ ان مفسرین کی اس تفسیر کے مطابق آیت کے آخری جملے کے یہ معنی ہوں گے کہ ” ہم نے تمہیں ان سے الگ رہنے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ انہیں عبرت حاصل ہو اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے گناہ سے باز آ جائیں اور ایسا نہ کریں “۔

صفحہ نمبر2635

غلط تاویلیں کرنے والوں سے نہ ملو ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس قرآن کو اور جس ہدایت و بیان کو تو اللہ عالی کی طرف سے لایا ہے اور جسے تیری قوم قریش جھٹلا رہی ہے حقیقتاً وہ سرا سر حق ہے بلکہ اس کے سوا اور کوئی حق ہے ہی نہیں ان سے کہہ دیجئیے میں نہ تو تمہارا محافظ ہوں نہ تم پر وکیل ہوں “۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ» [18-الكهف:29] ‏ ” کہہ دے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے نہ مانے “، یعنی مجھ پر صرف تبلیغ کرنا فرض ہے، تمہارے ذمہ سننا اور ماننا ہے ماننے والے دنیا اور آخرت میں نیکی پائیں گے اور نہ ماننے والے دونوں جہان میں بد نصیب رہیں گے، ہر خبر کی حقیقت ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اس کا وقت مقرر ہے، تمہیں عنقریب حقیقت حال معلوم ہو جائے گی، واقعہ کا انکشاف ہو جائے گا اور جان لو گے۔

صفحہ نمبر2633

پھر فرمایا ” جب تو انہیں دیکھے جو میری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو تو ان سے منہ پھیر لے اور جب تک وہ اپنی شیطانیت سے باز نہ آ جائیں تو ان کے ساتھ نہ اٹھو نہ بیٹھو “۔

اس آیت میں گو فرمان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے لیکن حکم عام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ہر شخص پر حرام ہے کہ وہ ایسی مجلس میں یا ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھے جو اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہوں ان کے معنی الٹ پلٹ کرتے ہوں اور ان کی بے جا تاویلیں کرتے ہوں، اگر بالفرض کوئی شخص بھولے سے ان میں بیٹھ بھی جائے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالموں کے پاس بیٹھنا ممنوع ہے حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو خطا اور بھول سے درگزر فرما لیا ہے اور ان کاموں سے بھی جو ان سے زبردستی مجبور کرکے کرائے جائیں ۔ [سنن ابن ماجه:2045،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اس آیت کے اسی حکم کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے «وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ» [4-النساء:140] ‏ یعنی ” تم پر اس کتاب میں یہ فرمان نازل ہو چکا ہے کہ جب اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر اور مذاق ہوتا ہوا سنو تو ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور اگر تم نے ایسا کیا تو تم بھی اس صورت میں ان جیسے ہی ہو جاؤ گے ہاں جب وہ اور باتوں میں مشغول ہوں تو خیر “، مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کے ساتھ بیٹھے اور ان کی باتوں کو برداشت کر لیا تو تم بھی ان کی طرح ہی ہو۔

صفحہ نمبر2634

پھر فرمان ہے کہ ” جو لوگ ان سے دوری کریں ان کے ساتھ شریک نہ ہوں ان کی ایسی مجلسوں سے الگ رہیں وہ بری الذمہ ہیں ان پر ان کا کوئی گناہ نہیں، ان پر اس بدکرداری کا کوئی بوجھ ان کے سر نہیں “۔

دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اگرچہ ان کے ساتھ بیٹھیں لیکن جبکہ ان کے کام میں اور ان کے خیال میں ان کی شرکت نہیں تو یہ بے گناہ ہیں لیکن یہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حکم سورۃ نساء مدنی کی آیت «إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ» [4-النساء:140] ‏سے منسوخ ہے۔ ان مفسرین کی اس تفسیر کے مطابق آیت کے آخری جملے کے یہ معنی ہوں گے کہ ” ہم نے تمہیں ان سے الگ رہنے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ انہیں عبرت حاصل ہو اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے گناہ سے باز آ جائیں اور ایسا نہ کریں “۔

صفحہ نمبر2635

غلط تاویلیں کرنے والوں سے نہ ملو ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس قرآن کو اور جس ہدایت و بیان کو تو اللہ عالی کی طرف سے لایا ہے اور جسے تیری قوم قریش جھٹلا رہی ہے حقیقتاً وہ سرا سر حق ہے بلکہ اس کے سوا اور کوئی حق ہے ہی نہیں ان سے کہہ دیجئیے میں نہ تو تمہارا محافظ ہوں نہ تم پر وکیل ہوں “۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ» [18-الكهف:29] ‏ ” کہہ دے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے نہ مانے “، یعنی مجھ پر صرف تبلیغ کرنا فرض ہے، تمہارے ذمہ سننا اور ماننا ہے ماننے والے دنیا اور آخرت میں نیکی پائیں گے اور نہ ماننے والے دونوں جہان میں بد نصیب رہیں گے، ہر خبر کی حقیقت ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اس کا وقت مقرر ہے، تمہیں عنقریب حقیقت حال معلوم ہو جائے گی، واقعہ کا انکشاف ہو جائے گا اور جان لو گے۔

صفحہ نمبر2633

پھر فرمایا ” جب تو انہیں دیکھے جو میری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو تو ان سے منہ پھیر لے اور جب تک وہ اپنی شیطانیت سے باز نہ آ جائیں تو ان کے ساتھ نہ اٹھو نہ بیٹھو “۔

اس آیت میں گو فرمان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے لیکن حکم عام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ہر شخص پر حرام ہے کہ وہ ایسی مجلس میں یا ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھے جو اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہوں ان کے معنی الٹ پلٹ کرتے ہوں اور ان کی بے جا تاویلیں کرتے ہوں، اگر بالفرض کوئی شخص بھولے سے ان میں بیٹھ بھی جائے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالموں کے پاس بیٹھنا ممنوع ہے حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو خطا اور بھول سے درگزر فرما لیا ہے اور ان کاموں سے بھی جو ان سے زبردستی مجبور کرکے کرائے جائیں ۔ [سنن ابن ماجه:2045،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اس آیت کے اسی حکم کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے «وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ» [4-النساء:140] ‏ یعنی ” تم پر اس کتاب میں یہ فرمان نازل ہو چکا ہے کہ جب اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر اور مذاق ہوتا ہوا سنو تو ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور اگر تم نے ایسا کیا تو تم بھی اس صورت میں ان جیسے ہی ہو جاؤ گے ہاں جب وہ اور باتوں میں مشغول ہوں تو خیر “، مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کے ساتھ بیٹھے اور ان کی باتوں کو برداشت کر لیا تو تم بھی ان کی طرح ہی ہو۔

صفحہ نمبر2634

پھر فرمان ہے کہ ” جو لوگ ان سے دوری کریں ان کے ساتھ شریک نہ ہوں ان کی ایسی مجلسوں سے الگ رہیں وہ بری الذمہ ہیں ان پر ان کا کوئی گناہ نہیں، ان پر اس بدکرداری کا کوئی بوجھ ان کے سر نہیں “۔

دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اگرچہ ان کے ساتھ بیٹھیں لیکن جبکہ ان کے کام میں اور ان کے خیال میں ان کی شرکت نہیں تو یہ بے گناہ ہیں لیکن یہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حکم سورۃ نساء مدنی کی آیت «إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ» [4-النساء:140] ‏سے منسوخ ہے۔ ان مفسرین کی اس تفسیر کے مطابق آیت کے آخری جملے کے یہ معنی ہوں گے کہ ” ہم نے تمہیں ان سے الگ رہنے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ انہیں عبرت حاصل ہو اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے گناہ سے باز آ جائیں اور ایسا نہ کریں “۔

صفحہ نمبر2635

غلط تاویلیں کرنے والوں سے نہ ملو ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جس قرآن کو اور جس ہدایت و بیان کو تو اللہ عالی کی طرف سے لایا ہے اور جسے تیری قوم قریش جھٹلا رہی ہے حقیقتاً وہ سرا سر حق ہے بلکہ اس کے سوا اور کوئی حق ہے ہی نہیں ان سے کہہ دیجئیے میں نہ تو تمہارا محافظ ہوں نہ تم پر وکیل ہوں “۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ» [18-الكهف:29] ‏ ” کہہ دے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے نہ مانے “، یعنی مجھ پر صرف تبلیغ کرنا فرض ہے، تمہارے ذمہ سننا اور ماننا ہے ماننے والے دنیا اور آخرت میں نیکی پائیں گے اور نہ ماننے والے دونوں جہان میں بد نصیب رہیں گے، ہر خبر کی حقیقت ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اس کا وقت مقرر ہے، تمہیں عنقریب حقیقت حال معلوم ہو جائے گی، واقعہ کا انکشاف ہو جائے گا اور جان لو گے۔

صفحہ نمبر2633

پھر فرمایا ” جب تو انہیں دیکھے جو میری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو تو ان سے منہ پھیر لے اور جب تک وہ اپنی شیطانیت سے باز نہ آ جائیں تو ان کے ساتھ نہ اٹھو نہ بیٹھو “۔

اس آیت میں گو فرمان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے لیکن حکم عام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ہر شخص پر حرام ہے کہ وہ ایسی مجلس میں یا ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھے جو اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہوں ان کے معنی الٹ پلٹ کرتے ہوں اور ان کی بے جا تاویلیں کرتے ہوں، اگر بالفرض کوئی شخص بھولے سے ان میں بیٹھ بھی جائے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالموں کے پاس بیٹھنا ممنوع ہے حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو خطا اور بھول سے درگزر فرما لیا ہے اور ان کاموں سے بھی جو ان سے زبردستی مجبور کرکے کرائے جائیں ۔ [سنن ابن ماجه:2045،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اس آیت کے اسی حکم کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے «وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ» [4-النساء:140] ‏ یعنی ” تم پر اس کتاب میں یہ فرمان نازل ہو چکا ہے کہ جب اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر اور مذاق ہوتا ہوا سنو تو ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور اگر تم نے ایسا کیا تو تم بھی اس صورت میں ان جیسے ہی ہو جاؤ گے ہاں جب وہ اور باتوں میں مشغول ہوں تو خیر “، مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کے ساتھ بیٹھے اور ان کی باتوں کو برداشت کر لیا تو تم بھی ان کی طرح ہی ہو۔

صفحہ نمبر2634

پھر فرمان ہے کہ ” جو لوگ ان سے دوری کریں ان کے ساتھ شریک نہ ہوں ان کی ایسی مجلسوں سے الگ رہیں وہ بری الذمہ ہیں ان پر ان کا کوئی گناہ نہیں، ان پر اس بدکرداری کا کوئی بوجھ ان کے سر نہیں “۔

دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اگرچہ ان کے ساتھ بیٹھیں لیکن جبکہ ان کے کام میں اور ان کے خیال میں ان کی شرکت نہیں تو یہ بے گناہ ہیں لیکن یہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حکم سورۃ نساء مدنی کی آیت «إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ» [4-النساء:140] ‏سے منسوخ ہے۔ ان مفسرین کی اس تفسیر کے مطابق آیت کے آخری جملے کے یہ معنی ہوں گے کہ ” ہم نے تمہیں ان سے الگ رہنے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ انہیں عبرت حاصل ہو اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے گناہ سے باز آ جائیں اور ایسا نہ کریں “۔

صفحہ نمبر2635

باب

یعنی ” بے دینوں سے منہ پھیر لو ان کا انجام نہایت برا ہے اس قرآن کو پڑھ کر سنا کر لوگوں کو ہوشیار کر دو اللہ کی ناراضگی سے اور اس کے عذابوں سے انہیں ڈرا دو تاکہ کوئی شخص اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے ہلاک نہ ہو پکڑا نہ جائے رسوا نہ کیا جائے اپنے مطلوب سے محروم نہ رہ جائے “۔

جیسے فرمان ہے آیت «كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ» [74-المدثر:39-38] ‏ ” ہر شخص اپنے اعمال کا گروی ہوا ہے مگر داہنے ہاتھ والے، یاد رکھو کسی کا کوئی والی اور سفارشی نہیں “۔

جیسے ارشاد فرمایا آیت «مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ وَالْكٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ» [2-البقرة:254] ‏ ” اس سے پہلے کہ وہ دن آ جائے جس میں نہ خرید و فروخت ہے نہ دوستی اور محبت سفارش اور شفاعت کافر پورے ظالم ہیں اگر یہ لوگ قیامت کے دن تمام دنیا کی چیزیں فدئیے یا بدلے میں دے دینا چاہیں تو بھی ان سے نہ فدیہ لیا جائے گا نہ بدلہ۔ کسی چیز کے بدلے وہ عذابوں سے نجات نہیں پا سکتے “۔

جیسے فرمان ہے آیت «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ‌ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ الْأَرْ‌ضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَىٰ بِهِ أُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِ‌ينَ» [3-آل عمران:91] ‏ ” جو لوگ کفر پر جئے اور کفر پر ہی مرے یہ اگر زمین بھر کر سونا بھی دیں تو ناممکن ہے کہ قبول کیا جائے اور انہیں چھوڑا جائے “۔

پس فرما دیا گیا کہ ” یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے رسوا کر دیئے گئے انہیں گرم کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور انہیں سخت المناک عذاب ہو گا کیونکہ یہ کافر تھے “۔

صفحہ نمبر2639

اسلام کے سوا سب راستوں کی منزل جہنم ہے ٭٭

مشرکوں نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ ہمارے دین میں آ جاؤ اور اسلام چھوڑ دو اس پر یہ آیت اتری کہ ” کیا ہم بھی تمہاری طرح بے جان و بے نفع و نقصان معبودوں کو پوجنے لگیں؟ اور جس کفر سے ہٹ گئے ہیں کیا پھر لوٹ کر اسی پر آ جائیں؟ اور تم جیسے ہی ہو جائیں؟ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اب تو ہماری آنکھیں کھل گئیں صحیح راہ مل گئی اب اسے کیسے چھوڑ دیں؟ اگر ہم ایسا کر لیں تو ہماری مثال اس شخص جیسی ہو گی جو لوگوں کے ساتھ سیدھے راستے پر جا رہا تھا مگر راستہ گم ہو گیا شیطان نے اسے پریشان کر دیا اور ادھر ادھر بھٹکانے لگا اس کے ساتھ جو راستے پر تھے وہ اسے پکارنے لگے کہ ہمارے ساتھ مل جا ہم صحیح راستے پر جا رہے ہیں یہی مثال اس شخص کی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جان اور پہچان کے بعد مشرکوں کا ساتھ دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی پکارنے والے ہیں اور اسلام ہی سیدھا اور صحیح راستہ ہے “۔

صفحہ نمبر2640

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ مثال اللہ تعالیٰ نے معبودان باطل کی طرف بلانے والوں کی بیان فرمائی ہے اور ان کی بھی جو اللہ کی طرف بلاتے ہیں، ایک شخص راستہ بھولتا ہے وہیں اس کے کان میں آواز آتی ہے کہ اے فلاں ادھر آ سیدھی راہ یہی ہے لیکن اس کے ساتھی جس غلط راستے پر لگ گئے ہیں وہ اسے تھپکتے ہیں اور کہتے ہیں یہی راستہ صحیح ہے اسی پر چلا چل۔ اب اگر یہ سچے شخص کو مانے گا تو راہ راست لگ جائے گا ورنہ بھٹکتا پھرے گا۔‏“

اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے والے اس امید میں ہوتے ہیں کہ ہم بھی کچھ ہیں لیکن مرنے کے بعد انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کچھ نہ تھے اس وقت بہت نادم ہوتے ہیں اور سوائے ہلاکت کے کوئی چیز انہیں دکھائی نہیں دیتی، یعنی جس طرح کسی جنگ میں گمشدہ انسان کو جنات اس کا نام لے کر آوازیں دے کر اسے اور غلط راستوں پر ڈال دیتے ہیں جہاں وہ مارا مارا پھرتا ہے اور بالآخر ہلاک اور تباہ ہو جاتا ہے اسی طرح جھوت معبودوں کا پجاری بھی برباد ہو جاتا ہے۔ ہدایت کے بعد گمراہ ہونے والے کی یہی مثال ہے جس راہ کی طرف شیطان اسے بلا رہے ہیں وہ تو تباہی اور بربادی کی راہ ہے اور جس راہ کی طرف اللہ بلا رہا ہے اور اس کے نیک بندے جس راہ کو سجھا رہے ہیں وہ ہدایت ہے گو وہ اپنے ساتھیوں کے مجمع میں سے نہ نکلے اور انہیں ہی راہ راست پر سمجھتا رہے اور وہ ساتھی بھی اپنے تئیں ہدایت یافتہ کہتے رہیں۔ لیکن یہ قول آیت کے لفظوں سے مطابق نہیں کیونکہ آیت میں موجد ہے کہ وہ اسے ہدایت کی طرف بلاتے ہیں پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ضلالت ہو؟ «حَیْرَانَ» پر زبر حال ہونے کی وجہ سے ہے صحیح مطلب یہی ہے کہ اس کے ساتھی جو ہدایت پر ہیں اب اسے غلط راہ پر دیکھتے ہیں تو اس کی خیر خواہی کے لیے پکار پکار کر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آ جا سیدھا راستہ یہی ہے لیکن یہ بد نصیب ان کی بات پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ توجہ تک نہیں کرتا، سچ تو یہ ہے کہ ہدایت اللہ کے قبضے میں ہے، وہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔

صفحہ نمبر2641

چنانچہ خود قرآن میں ہے کہ «وَمَن يَهْدِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ» [39-الزمر:37] ‏ اور آیت «إِن تَحْرِصْ عَلَىٰ هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي مَن يُضِلُّ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ» [16-النحل:37] ‏ ” تو چاہے ان کی ہدایت پر حرص کرے لیکن جسے اللہ بھٹکا دے اسے وہی راہ پر لا سکتا ہے ایسوں کا کوئی مددگار نہیں “۔

ہم سب کو یہی حکم کیا گیا ہے کہ ہم خلوص سے ساری عبادتیں محض اسی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کے لیے کریں اور یہ بھی حکم ہے کہ نمازیں قائم رکھیں اور ہر حال میں اس سے ڈرتے رہیں قیامت کے دن اسی کے سامنے حشر کیا جائے گا سب وہیں جمع کئے جائیں گے، اسی نے آسمان و زمین کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے وہی مالک اور مدبر ہے قیامت کے دن فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گا ایک لمحہ بھی دیر نہ لگے گی۔

«يَوْمَ» کا زبر یا تو «وَاتَّقُوهُ» پر عطف ہونے کی وجہ سے ہے یعنی اس دن سے ڈرو جس دن اللہ فرمائے گا ہو اور ہو جائے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ «يَوْمَ» کا زبر «وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ» پر عطف ہونے کی بنا پر ہو تو گویا ابتدائے پیدائش کو بیان فرما کر پھر دوبارہ پیدائش کو بیان فرمایا یہی زیادہ مناسب ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فعل مضمر ہو یعنی «اُذْکُرْ» اور اس وجہ سے «يَوْمَ» پر زبر آیا ہو، اس کے بعد کے دونوں جملے محلاً مجرور ہیں، پس یہ دونوں جملے بھی محلاً مجرور ہیں۔

ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ اللہ کا قول حق ہے رب کے فرمان سب کے سب سچ ہیں، تمام ملک کا وہی اکیلا مالک ہے، سب چیزیں اسی کی ملکیت ہیں «يَوْمَ يُنْفَخُ» میں «يَوْمَ» ممکن ہے کہ «وَيَوْمَ يَقُولُ» کا بدل ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ «وَلَهُ الْمُلْكُ» کا ظرف ہو۔

جیسے اور آیت میں ہے «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ» [40۔غافر:16] ‏ ” آج کس کا ملک ہے؟ صرف اللہ اکیلے غالب کا “، اور جیسے اس آیت میں ارشاد ہوا ہے «اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا» [25-الفرقان:26] ‏ یعنی ” ملک آج صرف رحمان کا ہے اور آج کا دن کفار پر بہت سخت ہے “۔

اور بھی اس طرح کی اور اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں بعض کہتے ہیں صور جمع ہے صورۃ کی جیسے سورۃ شہر پناہ کو کہتے ہیں اور وہ جمع ہے سورۃ کی لیکن صحیح یہ ہے کہ مراد صور سے قرن ہے جسے اسرافیل پھونکین گے۔ امام بن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ حضور کا ارشاد ہے کہ اسرافیل صور کو اپنے منہ میں لیے ہوئے اپنی پیشانی جھکائے ہوئے حکم الٰہی کے منتظر ہیں ۔ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2642

مسند احمد میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے سوال پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صور ایک نر سنگھے جیسا ہے جو پھونکا جائے گا ۔ [سنن ابوداود:4742،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

طبرانی کی مطولات میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کے بعد صور کو پیدا کیا اور اسے اسرافیل کو دیا وہ اسے لیے ہوئے ہیں اور عرش کی طرف نگاہ جمائے ہوئے ہیں کہ کب حکم ہو اور میں اسے پھونک دوں ۔ سیدنا ابوہریرہ فرماتے ہیں میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صور کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نرسنگھا ہے ۔ میں نے کہا وہ کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت ہی بڑا ہے وللہ اس کے دائرے کی چوڑائی آسمان وہ زمین کے برابر ہے اس میں سے تین نفحے پھونکے جائیں گے، پہلا گھبراہٹ کا دوسرا بیہوشی کا تیسرا رب العلمیں کے سامنے کھڑے ہونے کا۔ اول اول جناب باری اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہ پھونک دیں گے جس سے آسمان و زمین کی تمام مخلوق گھبرا اٹھے گی مگر جسے اللہ چاہے یہ صور بحکم رب دیر تک برابر پھونکا جائے گا ۔ اسی طرف اشارہ اس آیت میں ہے «وَمَا يَنظُرُ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ» [38-ص:15] ‏ یعنی ” انہیں صرف بلند زور دار چیخ کا انتظار ہے پہاڑ اس صور سے مثل بادلوں کے چلنے پھرنے لگیں گے پھر ریت ریت ہو جائیں گے زمین میں بھونچال آ جائے گا اور وہ اس طرح تھر تھرانے لگے گی جیسے کوئی کشتی دریا کے بیچ زبردست طوفان میں موجوں سے ادھر ادھر ہو رہی ہو اور غوطے کھا رہی ہو۔ مثل اس ہانڈی کے جو عرش میں لٹکی ہوئی ہے جسے ہوائیں ہلا جلا رہی ہیں “۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ» [79-النازعات:6-8] ‏، ” اس دن زمین جنبش میں آ جائے گی اور بہت ہی ہلنے لگے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے لگنے والی آ جائے گی۔ دل دھرکنے لگیں گے اور کلیجے الٹنے لگیں گے “۔ لوگ ادھر ادھر گرنے لگیں گے مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے بجے بوڑھے ہو جائیں گے شیاطین مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے بھاگتے بھاگتے زمین کے کناروں پر آ جائیں گے، یہاں سے فرشتے انہیں مار مار کر ہٹائیں گے، لوگ پریشان حال حواس باختہ ہوں گے کوئی جائے پناہ نظر نہ آئے گی امر الٰہی سے بچاؤ نہ ہو سکے گا ایک دوسرے کو آوازیں دیں گے لیکن سب اپنی اپنی مصیبت میں پڑے ہوئے ہوں گے کہ ناگہاں زمین پھٹنی شروع ہو گی کہیں ادھر سے پھٹی کہیں ادھر سے پھٹی اب تو ابتر حالت ہو جائے گی کلیجہ کپکپانے لگے گا دل الٹ جائے گا اور اتنا صدرمہ اور غم ہو گا جس کا اندازہ نہیں ہو سکتا، جو آسمان کی طرف نظر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ گھل رہا ہے اور وہ بھی پھٹ رہا ہے ستارے جھڑ رہے ہیں سورج چاند بے نور ہوگیا ہے، ہاں مردوں کو اس کا کچھ علم نہ ہوگا۔

صفحہ نمبر2643

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”یا رسول اللہ قرآن کی آیت میں جو فرمایا گیا ہے «وَيَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّـهُ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ» ‏ [27-النمل:87] ‏ یعنی ” زمین و آسمان کے سب لوگ گھبرا اٹھیں گے لیکن جنہیں اللہ چاہے “، اس سے مراد کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شہید لوگ ہیں کہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں روزیاں پاتے ہیں اور سب زندہ لوگ گھبراہٹ میں ہوں گے لیکن اللہ تعلای انہیں پریشانی سے محفوظ رکھے گا یہ تو عذاب ہے جو وہ اپنی بدترین مخلوق پر بھیجے گا ، اسی کا بیان آیت «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُم بِسُكَارَىٰ وَلَـٰكِنَّ عَذَابَ اللَّـهِ شَدِيدٌ» [22-لحج:1-2] ‏ میں ہے یعنی ” اے لوگو اپنے رب سے ڈرو یاد رکھو قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر ایک دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائے گی ہر حمل والی کا حمل گر جائے گا تو دیکھا جائے گا کہ سب لوگ بیہوش ہوں گے حالانکہ وہ نشہ پئے ہوئے نہیں بلکہ اللہ کے سخت عذابوں نے انہیں بدحواس کر رکھا ہے “ - یہی حالت رہے گی جب تک اللہ چاہے بہت دیر تک یہی گھبراہٹ کا عالم رہے گا پھر اللہ تبارک و تعالیٰ جبرائیل کو بیہوشی کے نفحے کا حکم دے گا اس نفحہ کے پھونکتے ہی زمین و آسمان کی تمام مخلوق بیہوش ہو جائیں گی مگر جسے اللہ چاہے اور اچانک سب کے سب مر جائیں گے۔ ملک الموت اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ ”اے باری تعالیٰ زمین آسمان کی تمام مخلوق مرگئی مگر جسے تو نے چاہا“، اللہ تعالیٰ باوجود علم کے سوال کرے گا کہ ” یہ بتاؤ اب باقی کون کون ہے؟ “ وہ جواب دیں گے ”تو باقی ہے تو «أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا تَمُوتُ» تجھ پر کبھی فنا نہیں اور عرش کے اٹھانے والے فرشتے اور جبرائیل و میکائیل اس وقت عرش کو زبان ملے گی اور وہ کہے گا اے پروردگار کیا جبرئل وہ میکائل علیہم السلام بھی مریں گے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” میں نے اپنے عرش سے نیچے والوں پر سب پر موت لکھ دی ہے “۔ چنانچہ یہ دونوں بھی فوت ہو جائیں گے پھر ملک الموت رب جبار و قہار کے پاس آئیں گے اور خبر دیں گے کہ جبرائیل و میکائیل علیہم السلام بھی انتقال کرگئے۔

صفحہ نمبر2644

جناب اللہ علم کے باوجودہ پھر دریافت فرمائے گا کہ ” اب باقی کون ہے؟ “ ملک الموت جواب دیں گے کہ باقی ایک تو تو ہے ایسی بقا ولا جس پر فنا ہے ہی نہیں اور تیرے عرش کے اٹھانے والے اللہ فرمائے گا ” عرش کے اٹھانے والے بھی مر جائیں گے “، اس وقت وہ بھی مر جائیں گے، پھر اللہ کے حکم سے اسرافیل علیہ السلام سے صور کو عرش لے لے گا، ملک الموت حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ ”یا اللہ عرش کے اٹھانے والے فرشتے بھی مر گئے“ -اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ ” اب باقی کون رہا؟ “ ملک الموت جواب دیں گے کہ ایک تو جس پر موت ہے ہی نہیں اور ایک تیرا غلام میں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ” تو بھی میری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے تجھے میں نے ایک کام کیلئے پیدا کیا تھا جسے تو کر چکا اب تو بھی مرجا “، چنانچہ وہ بھی مر جائیں گے۔ اب اللہ تعالیٰ اکیلا باقی رہ جائے گا جو غلبہ والا یگانگت والا بے ماں باپ اور بے اولاد کے ہے۔ جس طرح مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے وہ یکتا اور اکیلا تھا۔ پھر آسمانوں اور زمینوں کو وہ اس طرح لپیٹ لے گا جیسے دفتری کاغذ کو لپیٹتا ہے پھر انہیں تین مرتبہ الٹ پلٹ کرے گا اور فرمائے گا ” میں جبار ہوں میں کبریائی والا ہوں “۔ پھر تین مرتبہ فرمائے گا ” آج ملک کا مالک کون ہے؟ کوئی نہ ہو گا جو جواب دے تو خود ہی جواب دے گا ” «لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [40-الغافر:16] ‏ اللہ واحد وقہار “۔ قرآن میں ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ» [14-إبراهيم:48] ‏ ” اس دن آسمان و زمین بدل دیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں پھیلا دے گا اور کھینچ دے گا جس طرح چمڑا کھینچا جاتا ہے “ «لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» [20-طه:107] ‏ ” کہیں کوئی اونچ نیچ باقی نہ رہے گی “۔ پھر ایک الٰہی آواز کے ساتھ ہی ساری مخلوق اس تبدیل شدہ زمین میں آ جائے گی اندر والے اندر اور اوپر ولے اوپر پھر اللہ تعالیٰ اپنے عرش تلے سے اس پر بارش برسائے گا پھر آسمان کو حکم ہوگا اور وہ چالیس دن تک مینہ برسائے گا یہاں تک کہ پانی ان کے اوپر بارہ ہاتھ چڑھ جائے گا۔ پھر جسموں کو حکم ہو گا کہ وہ اگیں اور وہ اس طرح اگنے لگیں گے جیسے سبزیاں اور ترکاریاں اور وہ پورے پورے کامل جسم جیسے تھے ویسے ہی ہو جائیں گے پھر حکم فرمائے گا کہ ” میرے عرش کے اٹھانے والے فرشتے جی اٹھیں “ چنانچہ وہ زندہ ہو جائیں گے پھر اسرافیل کو حکم ہو گا کہ ” صور لے کر منہ سے لگا لیں “۔

صفحہ نمبر2645

پھر فرمان ہو گا کہ ” جبرائیل و میکائیل علیہم السلام زندہ ہو جائیں “ یہ دونوں بھی اٹھیں گے، پھر اللہ تعالیٰ روحوں کو بلائے گا مومنوں کو نورانی ارواح اور کفار کی ظلماتی روحیں آئیں گی انہیں لے کر اللہ تعالیٰ صور میں ڈال دے گا - پھر اسرافیل علیہ السلام کو حکم ہو گا کہ ” اب صور پھونک دو “ چنانچہ بعث کا صور پھونکا جائے گا جس سے ارواح اس طرح نکلیں گی جیسے شہد کی مکھیاں -تمام خلأ ان سے بھر جائے گا پھر رب عالم کا ارشاد ہو گا کہ ” مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے “، چنانجہ سب روحیں اپنے اپنے جسموں میں نتھنوں کے راستے چلی جائیں گی اور جس طرح زہر رگ وپے میں اثر کر جاتا ہے روہ روئیں روئیں میں دوڑ جائے گی، پھر زمین پھٹ جائے گی اور لوگ اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ سب سے پہلے میرے اوپر سے زمین شق ہو گی، «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ‏ ” لوگ نکل کر دوڑتے ہوئے اپنے رب کی طرف چل دیں گے، اس وقت کافر کہیں گے کہ آج کا دن بڑا بھاری ہے “۔ سب ننگے پیروں ننگے بدن بے ختنہ ہوں گے ایک میدان میں بقدر ستر سال کے کھڑے رہیں گے، نہ ان کی طرف نگاہ اٹھائی جائے گی نہ ان کے درمیان فیصلے کئے جائیں گے، لوگ بے طرح گریہ وزاری میں مبتلا ہوں گے یہاں تک کہ آنسو ختم ہو جائیں گے اور خون آنکھوں سے نکلنے لگے گا، پسینہ اس قدر آئے گا کہ منہ تک یا ٹھوریوں تک اس میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، آپس میں کہیں گے آؤ کسی سے کہیں کہ وہ ہماری شفاعت کرے، ہمارے پروردگار سے عرض کرے کہ وہ آئے اور ہمارے فیصلے کرے، تو کہیں گے کہ اس کے لائق ہمارے باپ آدم علیہ السلام سے بہتر کون ہو گا؟ جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے ان سے باتین کیں۔ چنانچہ سب مل کر آپ علیہ السلام کے پاس آجائیں گے اور سفاش طلب کریں گے لیکن آدم علیہ السلام صاف انکار کر جائیں گے اور فرمائیں گے مجھ میں اتنی قابلیت نہیں پھر وہ اسی طرح ایک ایک نبی علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور سب انکار کر دیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پھر سب کے سب میرے پاس آئیں گے، میں عرش کے آگے جاؤں گا اور سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ میرے پاس فرشتہ بھیجے گا وہ میرا بازو تھام کر مجھے سجدے سے اٹھائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں جواب دوں گا کہ ہاں اے میرے رب، اللہ عزوجل باوجود عالم کل ہونے کے مجھے سے دریافت فرمائے گا کہ ” کیا بات ہے؟ “ میں کہوں گا یا اللہ تو نے مجھ سے شفاعت کی قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے اپنی مخلوق کے بارے میں میری شفاعت کو قبول فرما اور ان کے فیصلوں کے لیے تشریف لے آ ۔

صفحہ نمبر2646

رب العالمین فرمائے گا ” میں نے تیری سفارش قبول کی اور میں آ کر تم میں فیصلے کئے دیتا ہوں “۔ میں لوٹ کر لوگوں کے ساتھ ٹھہر جاؤں گا کہ ناگہاں آسمانوں سے ایک بہت بڑا دھماکہ سنائی دے گا جس سے لوگ خوفزدہ ہو جائیں گے اتنے میں آسمان کے فرشتے اترنے شروع ہوں گے جن کی تعداد کل انسانوں اور سارے جنوں کے برابر ہوگی۔ جب وہ زمین کے قریب پہنچیں گے تو ان کے نور سے زمین جگمگا اٹھے گی وہ صفیں باندھ کر کھڑے ہو جائیں گے ہم سب ان سے دریافت کریں گے کہ کیا تم میں ہمارا رب آیا ہے؟ وہ جواب دیں گے نہیں پھر اس تعداد سے بھی زیادہ تعداد میں اور فرشتے آئیں گے۔ آخر ہمارا رب عزوجل ابر کے سائے میں نزول فرمائے گا اور فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوں گے اس کا عرش اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس وقت عرش کے اٹھانے والے جار فرشتے ہیں ان کے قدم آخری نیچے والی زمین کی تہ میں ہیں زمین و آسمان ان کے نصف جسم کے مقابلے میں ہے ان کے کندھوں پر عرش الٰہی ہے۔ ان کی زبانین ہر وقت اللہ تبارک و تعالیٰ کی پاکیزگی کے بیان میں تر ہیں۔ ان کی تسبیح یہ ہے «سُبْحَانَ ذِي الْعَرْشِ وَالْجَبَرُوتِ، سُبْحَانَ ذِي الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوتِ، سُبْحَانَ الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، سُبْحَانَ الَّذِي يُمِيتُ الْخَلَائِقَ وَلَا يَمُوتُ، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ قُدُّوسٌ قُدُّوسٌ، سُبْحَانَ رَبِّنَا الْأَعْلَى، رَبِّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ، سُبْحَانَ رَبِّنَا الْأَعْلَى، الَّذِي يُمِيتُ الْخَلَائِقَ وَلَا يَمُوتُ» ۔ پھر اللہ جس جگہ چاہے گا اپنی کرسی زمین پر رکھے گا اور بلند آواز سے فرمائے گا ” اے جنو اور انسانو! میں نے تمہیں جس دن سے پیدا کیا تھا اس دن سے آج تک میں خاموش رہا تمہاری باتیں سنتا رہا تمہارے اعمال دیکھتا رہا سنو تمہارے اعمال نامے میرے سامنے پڑھے جائیں گے جو اس میں بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس میں اور کچھ پائے وہ اپنی جان کو ملامت کرے “۔

صفحہ نمبر2647

پھر بحکم الہ جہنم میں سے ایک دھکتی ہوئی گردن نکلے گی اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” «أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ وَأَنِ اعْبُدُونِي هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنكُمْ جِبِلًّا كَثِيرًا أَفَلَمْ تَكُونُوا تَعْقِلُونَ هَـٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ اصْلَوْهَا الْيَوْمَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ» “ [36-يس:60-64] ‏ ” اے آدم کی اولاد کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی پوجانہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے؟ اور صرف میری ہی عبادت کرتے رہنا یہی سیدھی راہ ہے، شیطان نے تو بہت سی مخلوق کو گمراہ کر دیا ہے کیا تمہیں عقل نہیں؟ یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیئے جاتے تھے اور جسے تم جھٹلاتے رہے اے گنہگارو! آج تم نیک بندوں سے الگ ہو جاؤ “ - اس فرمان کے ساتھ ہی بد لوگ نیکوں سے الگ ہو جائیں گے تمام امتیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گی جیسے قرآن کریم میں ہے کہ «وَتَرَى كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَى إِلَى كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ» [45-الجاثية:28] ‏ ” تو ہر امت کو گھٹنوں کے بل گرے ہوئے دیکھے گا ہر امت اپنے نامہ اعمال کی طرف بلائی جائے گی “ - پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں فیصلے کرے گا پہلے جانوروں میں فیصلے ہوں گے یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا، جب کسی کا کسی کے ذمہ کوئی دعویٰ باقی نہ رہے گا تو اللہ تعالیٰ انہیں فرمائے گا ” تم سب مٹی ہو جاؤ “، اس فرمان کے ساتھ ہی تمام جانور مٹی بن جائیں گے، «وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا» [78-النبأ:40] ‏ ” اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ کاش ہم بھی مٹی ہو جاتے “ ۔

صفحہ نمبر2648

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے شروع کرے گا سب سے پہلے قتل و خون کا فیصلہ ہوگا، اللہ تعالیٰ اپنی راہ کے شہیدوں کو بھی بلائے گا ان کے ہاتھوں سے قتل شدہ لوگ اپنا سر اٹھائے ہوئے حاضر ہوں گے رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا کہیں گے کہ باری تعالیٰ دریافت فرما کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ پس باوجود علم کے اللہ عزوجل مجاہدین سے پوچھے گا کہ ” تم نے انہیں کیوں قتل کیا؟ “ وہ جواب دیں گے اس لیے کہ تیری بات بلند ہو اور تیری عزت ہو اللہ عالی فرمائے گا ” تم سچے ہو “، اسی وقت ان کا چہرہ نورانی ہو جائے گا سورج کی طرح چمکنے لگے گا اور فرشتے انہیں اپنے جھرمٹ میں لے کر جنت کی طرف چلیں گے - پھر باقی کے اور تمام قاتل و مقتول اسی طرح پیش ہوں گے اور جو نفس ظلم سے قتل کیا گیا ہے اس کا بدلہ ظالم قاتل سے دلوایا جائے گا اسی طرح ہر مظلوم کو ظالم سے بدلہ دلوایا جائے گا یہاں تک کہ جو شخص دودھ میں پانی ملا کر بیچتا تھا اسے فرمایا جائے گا کہ” اپنے دودھ سے پانی جدا کر دے “، ان فیصلوں کے بعد ایک منادی باآواز بلند ندا کرے گا جسے سب سنیں گے، ہر عابد اپنے معبود کے پیچھے ہولے اور اللہ کے سوا جس نے کسی اور کی عبادت کی ہے وہ جہنم میں چل دے - «لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ» [21-الأنبياء:99] ‏ ” سنو اگر یہ سچے معبود ہوتے تو جہنم میں وارد نہ ہوتے یہ سب تو جہنم میں ہی ہمیشہ رہیں گے “۔ اب صرف با ایمان لوگ باقی رہیں گے ان میں منافقین بھی شامل ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے پاس جس ہیئت میں چاہے تشریف لائے گا اور ان سے فرمائے گا کہ ” سب اپنے معبودوں کے پیچھے چلے گئے تم بھی جس کی عبادت کرتے تھے اس کے پاس چلے جاؤ “۔ یہ جواب دیں گے کہ واللہ ہمارا تو کوئی معبود نہیں بجز الہ العالمین کے، ہم نے کسی اور کی عبادت نہیں کی۔ اب ان کے لیے پنڈلی کھول دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کی تجلیاں ان پر ڈالے گا جس سے یہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں گے اور سجدے میں گر پڑیں گے لیکن منافق سجدہ نہیں کر سکیں گے یہ اوندھے اور الٹے ہو جائیں گے اور اپنی کمر کے بل گر پڑیں گے۔ ان کی پیٹھ سیدھی کر دی جائے گی مڑ نہیں سکیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو سجدے سے اٹھنے کا حکم دے گا اور جہنم پر پل صراط رکھی جائے گی جو تلوار جیسی تیز دھار والی ہوگی اور جگہ جگہ آنکڑے اور کانٹے ہوں گے بڑی پھسلنی اور خطرناک ہوگی ایماندار تو اس پر سے اتنی سی دیر میں گزر جائیں گے جتنی دیر میں کوئی آنکھ بند کر کے کھول دے جس طرح بجلی گزرجاتی ہے اور جیسے ہوا تیزی سے چلتی ہے۔ یا جیسے تیز رو گھوڑے یا اونٹ ہوتے ہیں یا خوب بھاگنے والے آدمی ہوتے ہیں بعض صحیح سالم گزر جائیں گے، بعض زخمی ہو کر پار اتر جائیں گے، بعض کٹ کر جہنم میں گر جائیں گے۔ جتنی لوگ جب جنت کے پاس پہنچیں گے تو کہیں گے کون ہمارے رب سے ہماری سفارش کرے کہ ہم جنت میں چلے جائیں؟ دوسرے لوگ جواب دیں گے اس کے حقدار تمہارے باپ آدم علیہ السلام سے زیادہ اور کون ہوں گے؟ جنہیں رب ذوالکریم نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے باتیں کیں۔

صفحہ نمبر2649

پس سب لوگ آپ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور آپ علیہ السلام سے سفارش کرانی چاہیں گے لیکن اپنا گناہ یاد کرکے جواب دیں گے کہ ”میں اس لائق نہیں ہوں تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ اللہ کے پہلے رسول ہیں“، لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آکر ان سے یہ درخواست کریں گے لیکن وہ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی فرمائیں گے اور کہیں گے کہ ”تم سب سیدنا ابراھیم علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ خلیل اللہ ہیں۔‏“ لوگ آپ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور یہی کہیں گے آپ علیہ السلام بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی جواب دیں گے اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس جانے کی ہدایت کریں گے کہ اللہ نے انہیں سرگوشیاں کرتے ہوئے نزدیک کیا تھا وہ کلیم اللہ ہیں ان پر توراۃ نازل فرمائی گئی تھی۔ لوگ آپ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور آپ علیہ السلام سے طلب سفارش کریں گے آپ علیہ السلام بھی اپنے گناہ کا ذکر کریں گے اور روح اللہ اور کلمتہ اللہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے پاس بھیجیں گے لیکن عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے ”میں اس قابل نہیں تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔‏“

صفحہ نمبر2650

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پس سب لوگ میرے پاس آئیں گے، میں اللہ کے سامنے تین شفاعتیں کروں گا میں جاؤں گا جنت کے پاس پہنچ کر دروازے کا کنڈا پکڑ کر کھٹکھٹاؤں گا مجھے مرحبا کہا جائے گا اور خوش آمدید کہا جائے گا میں جنت میں جا کر اپنے رب کو دیکھ کر سجدے میں گرپڑوں گا اور وہ وہ حمد و ثنا جناب باری کی بیان کروں گا جو کسی نے نہ کی ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاؤ شفاعت کرو قبول کی جائے گی مانگو ملے گا “۔ میں سر اٹھاؤں گا اللہ تعالیٰ تو دلوں کے بھید بھی جانتا ہے تاہم وہ دریافت فرمائے گا کہ ” کیا کہنا چاہتے ہو؟ “ میں کہوں گا اے اللہ تو نے میری شفاعت کے قبول فرمانے کا وعدہ کیا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ میری شفاعت ان جنتیوں کے بارے میں قبول فرمائے گا اور انہیں جنت کے داخلے کی اجازت ہو جائے گی۔ واللہ جیسے تم اپنے گھر سے اپنے بال بچوں سے آگاہ ہو اس سے بہت زیادہ یہ جنتی اپنی جگہ اور اپنی بیویوں سے واقف ہوں گے ہر ایک اپنے اپنے ٹھکانے پہنچ جائے گا ستر ستر حوریں اور دو دو عورتیں ملیں گی، یہ دونوں عورتیں اپنی کی ہوئی نیکیوں کے سبب پر فضیلت چہروں کی مالک ہوں گی جتنی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا جو یاقوت کے بالاخانے میں سونے کے جڑاؤ تخت پر ستر ریشمی حلے پہنے ہوئے ہوگی اس کا جسم اس قدر نورانی ہوگا کہ ایک طرف اگر جنتی اپنا ہاتھ رکھے تو دوسری طرف سے نظر آئے گا اس کی صفائی کی وجہ سے اس کی پنڈلی کا گودا گوشت پوست میں نظر آ رہا ہو گا اس کا دل اس کا آئینہ ہوگا نہ یہ اس سے بس کرے نہ وہ اس سے اکتائے، جب کبھی اس کے پاس جائے گا باکرہ پائے گا، نہ یہ تھکے نہ اسے تکلیف ہو، نہ کوئی مکرو چیز ہو، یہ اپنی اسی مشغولی میں مزے میں اور لطف و راحت میں اللہ جانے کتنی مدت گزار دے گا جو ایک آواز آئے گی کہ مانا نہ تمہارا دل اس سے بھرتا ہے نہ ان کا دل تم سے بھرے گا۔ لیکن اللہ نے تمہارے لیے اور بیویاں بھی رکھی ہوئی ہیں۔ اب یہ اوروں کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا بے ساختہ زبان سے یہی نکلے گا اللہ کی قسم کی سازی جنت میں تم سے بہتر کوئی چیز نہیں مجھے تو جنت کی تمام چیزوں سے زیادہ تم سے محبت ہے، ہاں جنہیں ان کی بد عملیوں اور گناہوں نے تباہ کر رکھا ہے وہ جہنم میں جائیں گے اپنے اپنے اعمال کے مطابق آگ میں جلیں گے، بعض قدموں تک بعض آدھی پنڈلی تک بعض گھٹنے تک بعض آدھے بدن تک بعض گردن تک، صرف چہرہ باقی رہ جائے گا کیونکہ صورت کا بگاڑنا اللہ نے آگ پر حرام کر دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے گنہگار دوزخیوں کی شفاعت کریں گے اللہ تعالیٰ فرمائے گا جاؤ جنہیں پہچانو انہیں نکال لاؤ، پھر یہ لوگ جہنم سے آزاد ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا۔ پھر تو شفاعت کی عام اجازت مل جائے گی کل انبیاء علیہم السلام اور شہداء شفاعت کریں گے، جناب باری کا ارشاد ہو گا کہ ” جس کے دل میں ایک دینار برابر بھی ایمان پاؤ اسے نکال لاؤ “۔ پس یہ لوگ بھی آزاد ہوں گے اور ان میں سے بھی کوئی باقی نہ رہے گا، پھر فرمائے گا ” انہیں بھی نکال لاؤ جس کے دل میں دو ثلث دینار کے برابر ایمان ہو “۔ پھر فرمائے گا ” ایک ثلث والوں کو بھی، پھر ارشاد ہو گا چوتھائی دینار کے برابر والوں کو بھی “۔

صفحہ نمبر2651

پھر فرمائے گا ” ایک قیراط کے برابر والوں کو بھی “، پھر ارشاد ہوگا ” انہیں بھی جہنم سے نکال لاؤ جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو “ - پس یہ سب بھی نکل آئیں گے اور ان میں سے ایک شخص بھی باقی نہ بچے گا، بلکہ جہنم میں ایک شخص بھی ایسا نہ رہ جائے گا جس نے خلوص کے ساتھ کوئی نیکی بھی اللہ کی فرمانبرداری کے ماتحت کی ہو، جتنے شفیع ہوں گے سب سفارش کرلیں گے یہاں تک کہ ابلیس کو بھی امید بندھ جائے گی اور وہ بھی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھے گا کہ شاید کوئی میری بھی شفاعت کرے کیونکہ وہ اللہ کی رحمت کا جوش دیکھ رہا ہوگا - اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین فرمائے گا کہ ” اب تو صرف میں ہی باقی رہ گیا اور میں تو سب سے زیادہ رحم و کرم کرنے والا ہوں “، پس اپنا ہاتھ ڈال کر خود اللہ تبارک و تعالیٰ جہنم میں سے لوگوں کو نکالے گا جن کی تعداد سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا وہ جلتے جھلستے ہوئے کوئلے کی طرح ہو گئے ہوں گے، انہیں نہر حیوان میں ڈالا جائے گا جہاں وہ اس طرح اگیں گے جس طرح دانہ اگتا ہے جو کسی دریا کے کنارے بویا گیا ہو کہ اس کا دھوپ کا رخ تو سبز رہتا ہے اور سائے کا رخ زرد رہتا ہے ان کی گردنوں پر تحریر ہو گا کہ یہ رحمان کے آزاد کردہ ہیں، اس تحریر سے انہیں دوسرے جنتی پہچان لیں گے۔ ایک مدت تک تو یونہی رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ ”اے اللہ یہ حروف بھی مٹ جائیں“ اللہ عزوجل یہ بھی مٹا دے گا [طبراني في الطوالات اجزء المبطوع في آخر المعجم الكبير:36:ضعیف] ‏

یہ حدیث اور آگے بھی ہے اور بہت ہی غریب ہے اور اس کے بعض حصوں کے شواہد متفرق احادیث میں ملتے ہیں، اس کے بعض الفاظ منکر ہیں۔ اسماعیل بن رافع قاضی اہل مدینہ اس کی روایت کے ساتھ منفرد ہیں ان کو بعض محدثین نے تو ثقہ کہا ہے اور بعض نے ضعیف کہا ہے اور ان کی حدیث کی نسبت کئی ایک محدثین نے منکر ہونے کی صراحت کی ہے۔ جیسے امام احمد امام ابوحاتم امام عمرو بن علی، بعض نے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ متروک ہیں، امام ابن عدی فرماتے ہیں ان کی سب احادیث میں نظر ہے مگر ان کی حدیثیں ضعیف احادیث میں لکھنے کے قابل ہیں، میں نے اس حدیث کی سندوں میں نے جو اختلاف کئی وجوہ سے ہے اسے علیحدہ ایک جزو میں بیان کر دیا ہے اس میں شک نہیں کہ اس کا بیان بہت ہی غریب ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہت سی احادیث کو ملا کر ایک حدیث بنا لی ہے اسی وجہ سے اسے منکر کہا گیا ہے، میں نے اپنے استاد حافظ ابو الحجاج مزی سے سنا ہے کہ انہوں نے امام ولید بن مسلم کی ایک کتاب دیکھی ہے جس میں ان باتوں کے جو اس حدیث میں ہی ہیں شواہد بیان کئے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2652

اسلام کے سوا سب راستوں کی منزل جہنم ہے ٭٭

مشرکوں نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ ہمارے دین میں آ جاؤ اور اسلام چھوڑ دو اس پر یہ آیت اتری کہ ” کیا ہم بھی تمہاری طرح بے جان و بے نفع و نقصان معبودوں کو پوجنے لگیں؟ اور جس کفر سے ہٹ گئے ہیں کیا پھر لوٹ کر اسی پر آ جائیں؟ اور تم جیسے ہی ہو جائیں؟ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اب تو ہماری آنکھیں کھل گئیں صحیح راہ مل گئی اب اسے کیسے چھوڑ دیں؟ اگر ہم ایسا کر لیں تو ہماری مثال اس شخص جیسی ہو گی جو لوگوں کے ساتھ سیدھے راستے پر جا رہا تھا مگر راستہ گم ہو گیا شیطان نے اسے پریشان کر دیا اور ادھر ادھر بھٹکانے لگا اس کے ساتھ جو راستے پر تھے وہ اسے پکارنے لگے کہ ہمارے ساتھ مل جا ہم صحیح راستے پر جا رہے ہیں یہی مثال اس شخص کی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جان اور پہچان کے بعد مشرکوں کا ساتھ دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی پکارنے والے ہیں اور اسلام ہی سیدھا اور صحیح راستہ ہے “۔

صفحہ نمبر2640

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ مثال اللہ تعالیٰ نے معبودان باطل کی طرف بلانے والوں کی بیان فرمائی ہے اور ان کی بھی جو اللہ کی طرف بلاتے ہیں، ایک شخص راستہ بھولتا ہے وہیں اس کے کان میں آواز آتی ہے کہ اے فلاں ادھر آ سیدھی راہ یہی ہے لیکن اس کے ساتھی جس غلط راستے پر لگ گئے ہیں وہ اسے تھپکتے ہیں اور کہتے ہیں یہی راستہ صحیح ہے اسی پر چلا چل۔ اب اگر یہ سچے شخص کو مانے گا تو راہ راست لگ جائے گا ورنہ بھٹکتا پھرے گا۔‏“

اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے والے اس امید میں ہوتے ہیں کہ ہم بھی کچھ ہیں لیکن مرنے کے بعد انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کچھ نہ تھے اس وقت بہت نادم ہوتے ہیں اور سوائے ہلاکت کے کوئی چیز انہیں دکھائی نہیں دیتی، یعنی جس طرح کسی جنگ میں گمشدہ انسان کو جنات اس کا نام لے کر آوازیں دے کر اسے اور غلط راستوں پر ڈال دیتے ہیں جہاں وہ مارا مارا پھرتا ہے اور بالآخر ہلاک اور تباہ ہو جاتا ہے اسی طرح جھوت معبودوں کا پجاری بھی برباد ہو جاتا ہے۔ ہدایت کے بعد گمراہ ہونے والے کی یہی مثال ہے جس راہ کی طرف شیطان اسے بلا رہے ہیں وہ تو تباہی اور بربادی کی راہ ہے اور جس راہ کی طرف اللہ بلا رہا ہے اور اس کے نیک بندے جس راہ کو سجھا رہے ہیں وہ ہدایت ہے گو وہ اپنے ساتھیوں کے مجمع میں سے نہ نکلے اور انہیں ہی راہ راست پر سمجھتا رہے اور وہ ساتھی بھی اپنے تئیں ہدایت یافتہ کہتے رہیں۔ لیکن یہ قول آیت کے لفظوں سے مطابق نہیں کیونکہ آیت میں موجد ہے کہ وہ اسے ہدایت کی طرف بلاتے ہیں پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ضلالت ہو؟ «حَیْرَانَ» پر زبر حال ہونے کی وجہ سے ہے صحیح مطلب یہی ہے کہ اس کے ساتھی جو ہدایت پر ہیں اب اسے غلط راہ پر دیکھتے ہیں تو اس کی خیر خواہی کے لیے پکار پکار کر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آ جا سیدھا راستہ یہی ہے لیکن یہ بد نصیب ان کی بات پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ توجہ تک نہیں کرتا، سچ تو یہ ہے کہ ہدایت اللہ کے قبضے میں ہے، وہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔

صفحہ نمبر2641

چنانچہ خود قرآن میں ہے کہ «وَمَن يَهْدِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ» [39-الزمر:37] ‏ اور آیت «إِن تَحْرِصْ عَلَىٰ هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي مَن يُضِلُّ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ» [16-النحل:37] ‏ ” تو چاہے ان کی ہدایت پر حرص کرے لیکن جسے اللہ بھٹکا دے اسے وہی راہ پر لا سکتا ہے ایسوں کا کوئی مددگار نہیں “۔

ہم سب کو یہی حکم کیا گیا ہے کہ ہم خلوص سے ساری عبادتیں محض اسی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کے لیے کریں اور یہ بھی حکم ہے کہ نمازیں قائم رکھیں اور ہر حال میں اس سے ڈرتے رہیں قیامت کے دن اسی کے سامنے حشر کیا جائے گا سب وہیں جمع کئے جائیں گے، اسی نے آسمان و زمین کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے وہی مالک اور مدبر ہے قیامت کے دن فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گا ایک لمحہ بھی دیر نہ لگے گی۔

«يَوْمَ» کا زبر یا تو «وَاتَّقُوهُ» پر عطف ہونے کی وجہ سے ہے یعنی اس دن سے ڈرو جس دن اللہ فرمائے گا ہو اور ہو جائے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ «يَوْمَ» کا زبر «وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ» پر عطف ہونے کی بنا پر ہو تو گویا ابتدائے پیدائش کو بیان فرما کر پھر دوبارہ پیدائش کو بیان فرمایا یہی زیادہ مناسب ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فعل مضمر ہو یعنی «اُذْکُرْ» اور اس وجہ سے «يَوْمَ» پر زبر آیا ہو، اس کے بعد کے دونوں جملے محلاً مجرور ہیں، پس یہ دونوں جملے بھی محلاً مجرور ہیں۔

ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ اللہ کا قول حق ہے رب کے فرمان سب کے سب سچ ہیں، تمام ملک کا وہی اکیلا مالک ہے، سب چیزیں اسی کی ملکیت ہیں «يَوْمَ يُنْفَخُ» میں «يَوْمَ» ممکن ہے کہ «وَيَوْمَ يَقُولُ» کا بدل ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ «وَلَهُ الْمُلْكُ» کا ظرف ہو۔

جیسے اور آیت میں ہے «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ» [40۔غافر:16] ‏ ” آج کس کا ملک ہے؟ صرف اللہ اکیلے غالب کا “، اور جیسے اس آیت میں ارشاد ہوا ہے «اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا» [25-الفرقان:26] ‏ یعنی ” ملک آج صرف رحمان کا ہے اور آج کا دن کفار پر بہت سخت ہے “۔

اور بھی اس طرح کی اور اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں بعض کہتے ہیں صور جمع ہے صورۃ کی جیسے سورۃ شہر پناہ کو کہتے ہیں اور وہ جمع ہے سورۃ کی لیکن صحیح یہ ہے کہ مراد صور سے قرن ہے جسے اسرافیل پھونکین گے۔ امام بن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ حضور کا ارشاد ہے کہ اسرافیل صور کو اپنے منہ میں لیے ہوئے اپنی پیشانی جھکائے ہوئے حکم الٰہی کے منتظر ہیں ۔ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2642

مسند احمد میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے سوال پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صور ایک نر سنگھے جیسا ہے جو پھونکا جائے گا ۔ [سنن ابوداود:4742،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

طبرانی کی مطولات میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کے بعد صور کو پیدا کیا اور اسے اسرافیل کو دیا وہ اسے لیے ہوئے ہیں اور عرش کی طرف نگاہ جمائے ہوئے ہیں کہ کب حکم ہو اور میں اسے پھونک دوں ۔ سیدنا ابوہریرہ فرماتے ہیں میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صور کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نرسنگھا ہے ۔ میں نے کہا وہ کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت ہی بڑا ہے وللہ اس کے دائرے کی چوڑائی آسمان وہ زمین کے برابر ہے اس میں سے تین نفحے پھونکے جائیں گے، پہلا گھبراہٹ کا دوسرا بیہوشی کا تیسرا رب العلمیں کے سامنے کھڑے ہونے کا۔ اول اول جناب باری اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہ پھونک دیں گے جس سے آسمان و زمین کی تمام مخلوق گھبرا اٹھے گی مگر جسے اللہ چاہے یہ صور بحکم رب دیر تک برابر پھونکا جائے گا ۔ اسی طرف اشارہ اس آیت میں ہے «وَمَا يَنظُرُ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ» [38-ص:15] ‏ یعنی ” انہیں صرف بلند زور دار چیخ کا انتظار ہے پہاڑ اس صور سے مثل بادلوں کے چلنے پھرنے لگیں گے پھر ریت ریت ہو جائیں گے زمین میں بھونچال آ جائے گا اور وہ اس طرح تھر تھرانے لگے گی جیسے کوئی کشتی دریا کے بیچ زبردست طوفان میں موجوں سے ادھر ادھر ہو رہی ہو اور غوطے کھا رہی ہو۔ مثل اس ہانڈی کے جو عرش میں لٹکی ہوئی ہے جسے ہوائیں ہلا جلا رہی ہیں “۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ» [79-النازعات:6-8] ‏، ” اس دن زمین جنبش میں آ جائے گی اور بہت ہی ہلنے لگے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے لگنے والی آ جائے گی۔ دل دھرکنے لگیں گے اور کلیجے الٹنے لگیں گے “۔ لوگ ادھر ادھر گرنے لگیں گے مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے بجے بوڑھے ہو جائیں گے شیاطین مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے بھاگتے بھاگتے زمین کے کناروں پر آ جائیں گے، یہاں سے فرشتے انہیں مار مار کر ہٹائیں گے، لوگ پریشان حال حواس باختہ ہوں گے کوئی جائے پناہ نظر نہ آئے گی امر الٰہی سے بچاؤ نہ ہو سکے گا ایک دوسرے کو آوازیں دیں گے لیکن سب اپنی اپنی مصیبت میں پڑے ہوئے ہوں گے کہ ناگہاں زمین پھٹنی شروع ہو گی کہیں ادھر سے پھٹی کہیں ادھر سے پھٹی اب تو ابتر حالت ہو جائے گی کلیجہ کپکپانے لگے گا دل الٹ جائے گا اور اتنا صدرمہ اور غم ہو گا جس کا اندازہ نہیں ہو سکتا، جو آسمان کی طرف نظر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ گھل رہا ہے اور وہ بھی پھٹ رہا ہے ستارے جھڑ رہے ہیں سورج چاند بے نور ہوگیا ہے، ہاں مردوں کو اس کا کچھ علم نہ ہوگا۔

صفحہ نمبر2643

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”یا رسول اللہ قرآن کی آیت میں جو فرمایا گیا ہے «وَيَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّـهُ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ» ‏ [27-النمل:87] ‏ یعنی ” زمین و آسمان کے سب لوگ گھبرا اٹھیں گے لیکن جنہیں اللہ چاہے “، اس سے مراد کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شہید لوگ ہیں کہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں روزیاں پاتے ہیں اور سب زندہ لوگ گھبراہٹ میں ہوں گے لیکن اللہ تعلای انہیں پریشانی سے محفوظ رکھے گا یہ تو عذاب ہے جو وہ اپنی بدترین مخلوق پر بھیجے گا ، اسی کا بیان آیت «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُم بِسُكَارَىٰ وَلَـٰكِنَّ عَذَابَ اللَّـهِ شَدِيدٌ» [22-لحج:1-2] ‏ میں ہے یعنی ” اے لوگو اپنے رب سے ڈرو یاد رکھو قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر ایک دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائے گی ہر حمل والی کا حمل گر جائے گا تو دیکھا جائے گا کہ سب لوگ بیہوش ہوں گے حالانکہ وہ نشہ پئے ہوئے نہیں بلکہ اللہ کے سخت عذابوں نے انہیں بدحواس کر رکھا ہے “ - یہی حالت رہے گی جب تک اللہ چاہے بہت دیر تک یہی گھبراہٹ کا عالم رہے گا پھر اللہ تبارک و تعالیٰ جبرائیل کو بیہوشی کے نفحے کا حکم دے گا اس نفحہ کے پھونکتے ہی زمین و آسمان کی تمام مخلوق بیہوش ہو جائیں گی مگر جسے اللہ چاہے اور اچانک سب کے سب مر جائیں گے۔ ملک الموت اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ ”اے باری تعالیٰ زمین آسمان کی تمام مخلوق مرگئی مگر جسے تو نے چاہا“، اللہ تعالیٰ باوجود علم کے سوال کرے گا کہ ” یہ بتاؤ اب باقی کون کون ہے؟ “ وہ جواب دیں گے ”تو باقی ہے تو «أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا تَمُوتُ» تجھ پر کبھی فنا نہیں اور عرش کے اٹھانے والے فرشتے اور جبرائیل و میکائیل اس وقت عرش کو زبان ملے گی اور وہ کہے گا اے پروردگار کیا جبرئل وہ میکائل علیہم السلام بھی مریں گے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” میں نے اپنے عرش سے نیچے والوں پر سب پر موت لکھ دی ہے “۔ چنانچہ یہ دونوں بھی فوت ہو جائیں گے پھر ملک الموت رب جبار و قہار کے پاس آئیں گے اور خبر دیں گے کہ جبرائیل و میکائیل علیہم السلام بھی انتقال کرگئے۔

صفحہ نمبر2644

جناب اللہ علم کے باوجودہ پھر دریافت فرمائے گا کہ ” اب باقی کون ہے؟ “ ملک الموت جواب دیں گے کہ باقی ایک تو تو ہے ایسی بقا ولا جس پر فنا ہے ہی نہیں اور تیرے عرش کے اٹھانے والے اللہ فرمائے گا ” عرش کے اٹھانے والے بھی مر جائیں گے “، اس وقت وہ بھی مر جائیں گے، پھر اللہ کے حکم سے اسرافیل علیہ السلام سے صور کو عرش لے لے گا، ملک الموت حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ ”یا اللہ عرش کے اٹھانے والے فرشتے بھی مر گئے“ -اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ ” اب باقی کون رہا؟ “ ملک الموت جواب دیں گے کہ ایک تو جس پر موت ہے ہی نہیں اور ایک تیرا غلام میں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ” تو بھی میری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے تجھے میں نے ایک کام کیلئے پیدا کیا تھا جسے تو کر چکا اب تو بھی مرجا “، چنانچہ وہ بھی مر جائیں گے۔ اب اللہ تعالیٰ اکیلا باقی رہ جائے گا جو غلبہ والا یگانگت والا بے ماں باپ اور بے اولاد کے ہے۔ جس طرح مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے وہ یکتا اور اکیلا تھا۔ پھر آسمانوں اور زمینوں کو وہ اس طرح لپیٹ لے گا جیسے دفتری کاغذ کو لپیٹتا ہے پھر انہیں تین مرتبہ الٹ پلٹ کرے گا اور فرمائے گا ” میں جبار ہوں میں کبریائی والا ہوں “۔ پھر تین مرتبہ فرمائے گا ” آج ملک کا مالک کون ہے؟ کوئی نہ ہو گا جو جواب دے تو خود ہی جواب دے گا ” «لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [40-الغافر:16] ‏ اللہ واحد وقہار “۔ قرآن میں ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ» [14-إبراهيم:48] ‏ ” اس دن آسمان و زمین بدل دیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں پھیلا دے گا اور کھینچ دے گا جس طرح چمڑا کھینچا جاتا ہے “ «لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» [20-طه:107] ‏ ” کہیں کوئی اونچ نیچ باقی نہ رہے گی “۔ پھر ایک الٰہی آواز کے ساتھ ہی ساری مخلوق اس تبدیل شدہ زمین میں آ جائے گی اندر والے اندر اور اوپر ولے اوپر پھر اللہ تعالیٰ اپنے عرش تلے سے اس پر بارش برسائے گا پھر آسمان کو حکم ہوگا اور وہ چالیس دن تک مینہ برسائے گا یہاں تک کہ پانی ان کے اوپر بارہ ہاتھ چڑھ جائے گا۔ پھر جسموں کو حکم ہو گا کہ وہ اگیں اور وہ اس طرح اگنے لگیں گے جیسے سبزیاں اور ترکاریاں اور وہ پورے پورے کامل جسم جیسے تھے ویسے ہی ہو جائیں گے پھر حکم فرمائے گا کہ ” میرے عرش کے اٹھانے والے فرشتے جی اٹھیں “ چنانچہ وہ زندہ ہو جائیں گے پھر اسرافیل کو حکم ہو گا کہ ” صور لے کر منہ سے لگا لیں “۔

صفحہ نمبر2645

پھر فرمان ہو گا کہ ” جبرائیل و میکائیل علیہم السلام زندہ ہو جائیں “ یہ دونوں بھی اٹھیں گے، پھر اللہ تعالیٰ روحوں کو بلائے گا مومنوں کو نورانی ارواح اور کفار کی ظلماتی روحیں آئیں گی انہیں لے کر اللہ تعالیٰ صور میں ڈال دے گا - پھر اسرافیل علیہ السلام کو حکم ہو گا کہ ” اب صور پھونک دو “ چنانچہ بعث کا صور پھونکا جائے گا جس سے ارواح اس طرح نکلیں گی جیسے شہد کی مکھیاں -تمام خلأ ان سے بھر جائے گا پھر رب عالم کا ارشاد ہو گا کہ ” مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے “، چنانجہ سب روحیں اپنے اپنے جسموں میں نتھنوں کے راستے چلی جائیں گی اور جس طرح زہر رگ وپے میں اثر کر جاتا ہے روہ روئیں روئیں میں دوڑ جائے گی، پھر زمین پھٹ جائے گی اور لوگ اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ سب سے پہلے میرے اوپر سے زمین شق ہو گی، «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ‏ ” لوگ نکل کر دوڑتے ہوئے اپنے رب کی طرف چل دیں گے، اس وقت کافر کہیں گے کہ آج کا دن بڑا بھاری ہے “۔ سب ننگے پیروں ننگے بدن بے ختنہ ہوں گے ایک میدان میں بقدر ستر سال کے کھڑے رہیں گے، نہ ان کی طرف نگاہ اٹھائی جائے گی نہ ان کے درمیان فیصلے کئے جائیں گے، لوگ بے طرح گریہ وزاری میں مبتلا ہوں گے یہاں تک کہ آنسو ختم ہو جائیں گے اور خون آنکھوں سے نکلنے لگے گا، پسینہ اس قدر آئے گا کہ منہ تک یا ٹھوریوں تک اس میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، آپس میں کہیں گے آؤ کسی سے کہیں کہ وہ ہماری شفاعت کرے، ہمارے پروردگار سے عرض کرے کہ وہ آئے اور ہمارے فیصلے کرے، تو کہیں گے کہ اس کے لائق ہمارے باپ آدم علیہ السلام سے بہتر کون ہو گا؟ جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے ان سے باتین کیں۔ چنانچہ سب مل کر آپ علیہ السلام کے پاس آجائیں گے اور سفاش طلب کریں گے لیکن آدم علیہ السلام صاف انکار کر جائیں گے اور فرمائیں گے مجھ میں اتنی قابلیت نہیں پھر وہ اسی طرح ایک ایک نبی علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور سب انکار کر دیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پھر سب کے سب میرے پاس آئیں گے، میں عرش کے آگے جاؤں گا اور سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ میرے پاس فرشتہ بھیجے گا وہ میرا بازو تھام کر مجھے سجدے سے اٹھائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں جواب دوں گا کہ ہاں اے میرے رب، اللہ عزوجل باوجود عالم کل ہونے کے مجھے سے دریافت فرمائے گا کہ ” کیا بات ہے؟ “ میں کہوں گا یا اللہ تو نے مجھ سے شفاعت کی قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے اپنی مخلوق کے بارے میں میری شفاعت کو قبول فرما اور ان کے فیصلوں کے لیے تشریف لے آ ۔

صفحہ نمبر2646

رب العالمین فرمائے گا ” میں نے تیری سفارش قبول کی اور میں آ کر تم میں فیصلے کئے دیتا ہوں “۔ میں لوٹ کر لوگوں کے ساتھ ٹھہر جاؤں گا کہ ناگہاں آسمانوں سے ایک بہت بڑا دھماکہ سنائی دے گا جس سے لوگ خوفزدہ ہو جائیں گے اتنے میں آسمان کے فرشتے اترنے شروع ہوں گے جن کی تعداد کل انسانوں اور سارے جنوں کے برابر ہوگی۔ جب وہ زمین کے قریب پہنچیں گے تو ان کے نور سے زمین جگمگا اٹھے گی وہ صفیں باندھ کر کھڑے ہو جائیں گے ہم سب ان سے دریافت کریں گے کہ کیا تم میں ہمارا رب آیا ہے؟ وہ جواب دیں گے نہیں پھر اس تعداد سے بھی زیادہ تعداد میں اور فرشتے آئیں گے۔ آخر ہمارا رب عزوجل ابر کے سائے میں نزول فرمائے گا اور فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوں گے اس کا عرش اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس وقت عرش کے اٹھانے والے جار فرشتے ہیں ان کے قدم آخری نیچے والی زمین کی تہ میں ہیں زمین و آسمان ان کے نصف جسم کے مقابلے میں ہے ان کے کندھوں پر عرش الٰہی ہے۔ ان کی زبانین ہر وقت اللہ تبارک و تعالیٰ کی پاکیزگی کے بیان میں تر ہیں۔ ان کی تسبیح یہ ہے «سُبْحَانَ ذِي الْعَرْشِ وَالْجَبَرُوتِ، سُبْحَانَ ذِي الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوتِ، سُبْحَانَ الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، سُبْحَانَ الَّذِي يُمِيتُ الْخَلَائِقَ وَلَا يَمُوتُ، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ قُدُّوسٌ قُدُّوسٌ، سُبْحَانَ رَبِّنَا الْأَعْلَى، رَبِّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ، سُبْحَانَ رَبِّنَا الْأَعْلَى، الَّذِي يُمِيتُ الْخَلَائِقَ وَلَا يَمُوتُ» ۔ پھر اللہ جس جگہ چاہے گا اپنی کرسی زمین پر رکھے گا اور بلند آواز سے فرمائے گا ” اے جنو اور انسانو! میں نے تمہیں جس دن سے پیدا کیا تھا اس دن سے آج تک میں خاموش رہا تمہاری باتیں سنتا رہا تمہارے اعمال دیکھتا رہا سنو تمہارے اعمال نامے میرے سامنے پڑھے جائیں گے جو اس میں بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس میں اور کچھ پائے وہ اپنی جان کو ملامت کرے “۔

صفحہ نمبر2647

پھر بحکم الہ جہنم میں سے ایک دھکتی ہوئی گردن نکلے گی اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” «أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ وَأَنِ اعْبُدُونِي هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنكُمْ جِبِلًّا كَثِيرًا أَفَلَمْ تَكُونُوا تَعْقِلُونَ هَـٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ اصْلَوْهَا الْيَوْمَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ» “ [36-يس:60-64] ‏ ” اے آدم کی اولاد کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی پوجانہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے؟ اور صرف میری ہی عبادت کرتے رہنا یہی سیدھی راہ ہے، شیطان نے تو بہت سی مخلوق کو گمراہ کر دیا ہے کیا تمہیں عقل نہیں؟ یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیئے جاتے تھے اور جسے تم جھٹلاتے رہے اے گنہگارو! آج تم نیک بندوں سے الگ ہو جاؤ “ - اس فرمان کے ساتھ ہی بد لوگ نیکوں سے الگ ہو جائیں گے تمام امتیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گی جیسے قرآن کریم میں ہے کہ «وَتَرَى كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَى إِلَى كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ» [45-الجاثية:28] ‏ ” تو ہر امت کو گھٹنوں کے بل گرے ہوئے دیکھے گا ہر امت اپنے نامہ اعمال کی طرف بلائی جائے گی “ - پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں فیصلے کرے گا پہلے جانوروں میں فیصلے ہوں گے یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا، جب کسی کا کسی کے ذمہ کوئی دعویٰ باقی نہ رہے گا تو اللہ تعالیٰ انہیں فرمائے گا ” تم سب مٹی ہو جاؤ “، اس فرمان کے ساتھ ہی تمام جانور مٹی بن جائیں گے، «وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا» [78-النبأ:40] ‏ ” اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ کاش ہم بھی مٹی ہو جاتے “ ۔

صفحہ نمبر2648

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے شروع کرے گا سب سے پہلے قتل و خون کا فیصلہ ہوگا، اللہ تعالیٰ اپنی راہ کے شہیدوں کو بھی بلائے گا ان کے ہاتھوں سے قتل شدہ لوگ اپنا سر اٹھائے ہوئے حاضر ہوں گے رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا کہیں گے کہ باری تعالیٰ دریافت فرما کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ پس باوجود علم کے اللہ عزوجل مجاہدین سے پوچھے گا کہ ” تم نے انہیں کیوں قتل کیا؟ “ وہ جواب دیں گے اس لیے کہ تیری بات بلند ہو اور تیری عزت ہو اللہ عالی فرمائے گا ” تم سچے ہو “، اسی وقت ان کا چہرہ نورانی ہو جائے گا سورج کی طرح چمکنے لگے گا اور فرشتے انہیں اپنے جھرمٹ میں لے کر جنت کی طرف چلیں گے - پھر باقی کے اور تمام قاتل و مقتول اسی طرح پیش ہوں گے اور جو نفس ظلم سے قتل کیا گیا ہے اس کا بدلہ ظالم قاتل سے دلوایا جائے گا اسی طرح ہر مظلوم کو ظالم سے بدلہ دلوایا جائے گا یہاں تک کہ جو شخص دودھ میں پانی ملا کر بیچتا تھا اسے فرمایا جائے گا کہ” اپنے دودھ سے پانی جدا کر دے “، ان فیصلوں کے بعد ایک منادی باآواز بلند ندا کرے گا جسے سب سنیں گے، ہر عابد اپنے معبود کے پیچھے ہولے اور اللہ کے سوا جس نے کسی اور کی عبادت کی ہے وہ جہنم میں چل دے - «لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ» [21-الأنبياء:99] ‏ ” سنو اگر یہ سچے معبود ہوتے تو جہنم میں وارد نہ ہوتے یہ سب تو جہنم میں ہی ہمیشہ رہیں گے “۔ اب صرف با ایمان لوگ باقی رہیں گے ان میں منافقین بھی شامل ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے پاس جس ہیئت میں چاہے تشریف لائے گا اور ان سے فرمائے گا کہ ” سب اپنے معبودوں کے پیچھے چلے گئے تم بھی جس کی عبادت کرتے تھے اس کے پاس چلے جاؤ “۔ یہ جواب دیں گے کہ واللہ ہمارا تو کوئی معبود نہیں بجز الہ العالمین کے، ہم نے کسی اور کی عبادت نہیں کی۔ اب ان کے لیے پنڈلی کھول دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کی تجلیاں ان پر ڈالے گا جس سے یہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں گے اور سجدے میں گر پڑیں گے لیکن منافق سجدہ نہیں کر سکیں گے یہ اوندھے اور الٹے ہو جائیں گے اور اپنی کمر کے بل گر پڑیں گے۔ ان کی پیٹھ سیدھی کر دی جائے گی مڑ نہیں سکیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو سجدے سے اٹھنے کا حکم دے گا اور جہنم پر پل صراط رکھی جائے گی جو تلوار جیسی تیز دھار والی ہوگی اور جگہ جگہ آنکڑے اور کانٹے ہوں گے بڑی پھسلنی اور خطرناک ہوگی ایماندار تو اس پر سے اتنی سی دیر میں گزر جائیں گے جتنی دیر میں کوئی آنکھ بند کر کے کھول دے جس طرح بجلی گزرجاتی ہے اور جیسے ہوا تیزی سے چلتی ہے۔ یا جیسے تیز رو گھوڑے یا اونٹ ہوتے ہیں یا خوب بھاگنے والے آدمی ہوتے ہیں بعض صحیح سالم گزر جائیں گے، بعض زخمی ہو کر پار اتر جائیں گے، بعض کٹ کر جہنم میں گر جائیں گے۔ جتنی لوگ جب جنت کے پاس پہنچیں گے تو کہیں گے کون ہمارے رب سے ہماری سفارش کرے کہ ہم جنت میں چلے جائیں؟ دوسرے لوگ جواب دیں گے اس کے حقدار تمہارے باپ آدم علیہ السلام سے زیادہ اور کون ہوں گے؟ جنہیں رب ذوالکریم نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے باتیں کیں۔

صفحہ نمبر2649

پس سب لوگ آپ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور آپ علیہ السلام سے سفارش کرانی چاہیں گے لیکن اپنا گناہ یاد کرکے جواب دیں گے کہ ”میں اس لائق نہیں ہوں تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ اللہ کے پہلے رسول ہیں“، لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آکر ان سے یہ درخواست کریں گے لیکن وہ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی فرمائیں گے اور کہیں گے کہ ”تم سب سیدنا ابراھیم علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ خلیل اللہ ہیں۔‏“ لوگ آپ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور یہی کہیں گے آپ علیہ السلام بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی جواب دیں گے اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس جانے کی ہدایت کریں گے کہ اللہ نے انہیں سرگوشیاں کرتے ہوئے نزدیک کیا تھا وہ کلیم اللہ ہیں ان پر توراۃ نازل فرمائی گئی تھی۔ لوگ آپ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور آپ علیہ السلام سے طلب سفارش کریں گے آپ علیہ السلام بھی اپنے گناہ کا ذکر کریں گے اور روح اللہ اور کلمتہ اللہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے پاس بھیجیں گے لیکن عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے ”میں اس قابل نہیں تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔‏“

صفحہ نمبر2650

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پس سب لوگ میرے پاس آئیں گے، میں اللہ کے سامنے تین شفاعتیں کروں گا میں جاؤں گا جنت کے پاس پہنچ کر دروازے کا کنڈا پکڑ کر کھٹکھٹاؤں گا مجھے مرحبا کہا جائے گا اور خوش آمدید کہا جائے گا میں جنت میں جا کر اپنے رب کو دیکھ کر سجدے میں گرپڑوں گا اور وہ وہ حمد و ثنا جناب باری کی بیان کروں گا جو کسی نے نہ کی ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاؤ شفاعت کرو قبول کی جائے گی مانگو ملے گا “۔ میں سر اٹھاؤں گا اللہ تعالیٰ تو دلوں کے بھید بھی جانتا ہے تاہم وہ دریافت فرمائے گا کہ ” کیا کہنا چاہتے ہو؟ “ میں کہوں گا اے اللہ تو نے میری شفاعت کے قبول فرمانے کا وعدہ کیا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ میری شفاعت ان جنتیوں کے بارے میں قبول فرمائے گا اور انہیں جنت کے داخلے کی اجازت ہو جائے گی۔ واللہ جیسے تم اپنے گھر سے اپنے بال بچوں سے آگاہ ہو اس سے بہت زیادہ یہ جنتی اپنی جگہ اور اپنی بیویوں سے واقف ہوں گے ہر ایک اپنے اپنے ٹھکانے پہنچ جائے گا ستر ستر حوریں اور دو دو عورتیں ملیں گی، یہ دونوں عورتیں اپنی کی ہوئی نیکیوں کے سبب پر فضیلت چہروں کی مالک ہوں گی جتنی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا جو یاقوت کے بالاخانے میں سونے کے جڑاؤ تخت پر ستر ریشمی حلے پہنے ہوئے ہوگی اس کا جسم اس قدر نورانی ہوگا کہ ایک طرف اگر جنتی اپنا ہاتھ رکھے تو دوسری طرف سے نظر آئے گا اس کی صفائی کی وجہ سے اس کی پنڈلی کا گودا گوشت پوست میں نظر آ رہا ہو گا اس کا دل اس کا آئینہ ہوگا نہ یہ اس سے بس کرے نہ وہ اس سے اکتائے، جب کبھی اس کے پاس جائے گا باکرہ پائے گا، نہ یہ تھکے نہ اسے تکلیف ہو، نہ کوئی مکرو چیز ہو، یہ اپنی اسی مشغولی میں مزے میں اور لطف و راحت میں اللہ جانے کتنی مدت گزار دے گا جو ایک آواز آئے گی کہ مانا نہ تمہارا دل اس سے بھرتا ہے نہ ان کا دل تم سے بھرے گا۔ لیکن اللہ نے تمہارے لیے اور بیویاں بھی رکھی ہوئی ہیں۔ اب یہ اوروں کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا بے ساختہ زبان سے یہی نکلے گا اللہ کی قسم کی سازی جنت میں تم سے بہتر کوئی چیز نہیں مجھے تو جنت کی تمام چیزوں سے زیادہ تم سے محبت ہے، ہاں جنہیں ان کی بد عملیوں اور گناہوں نے تباہ کر رکھا ہے وہ جہنم میں جائیں گے اپنے اپنے اعمال کے مطابق آگ میں جلیں گے، بعض قدموں تک بعض آدھی پنڈلی تک بعض گھٹنے تک بعض آدھے بدن تک بعض گردن تک، صرف چہرہ باقی رہ جائے گا کیونکہ صورت کا بگاڑنا اللہ نے آگ پر حرام کر دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے گنہگار دوزخیوں کی شفاعت کریں گے اللہ تعالیٰ فرمائے گا جاؤ جنہیں پہچانو انہیں نکال لاؤ، پھر یہ لوگ جہنم سے آزاد ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا۔ پھر تو شفاعت کی عام اجازت مل جائے گی کل انبیاء علیہم السلام اور شہداء شفاعت کریں گے، جناب باری کا ارشاد ہو گا کہ ” جس کے دل میں ایک دینار برابر بھی ایمان پاؤ اسے نکال لاؤ “۔ پس یہ لوگ بھی آزاد ہوں گے اور ان میں سے بھی کوئی باقی نہ رہے گا، پھر فرمائے گا ” انہیں بھی نکال لاؤ جس کے دل میں دو ثلث دینار کے برابر ایمان ہو “۔ پھر فرمائے گا ” ایک ثلث والوں کو بھی، پھر ارشاد ہو گا چوتھائی دینار کے برابر والوں کو بھی “۔

صفحہ نمبر2651

پھر فرمائے گا ” ایک قیراط کے برابر والوں کو بھی “، پھر ارشاد ہوگا ” انہیں بھی جہنم سے نکال لاؤ جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو “ - پس یہ سب بھی نکل آئیں گے اور ان میں سے ایک شخص بھی باقی نہ بچے گا، بلکہ جہنم میں ایک شخص بھی ایسا نہ رہ جائے گا جس نے خلوص کے ساتھ کوئی نیکی بھی اللہ کی فرمانبرداری کے ماتحت کی ہو، جتنے شفیع ہوں گے سب سفارش کرلیں گے یہاں تک کہ ابلیس کو بھی امید بندھ جائے گی اور وہ بھی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھے گا کہ شاید کوئی میری بھی شفاعت کرے کیونکہ وہ اللہ کی رحمت کا جوش دیکھ رہا ہوگا - اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین فرمائے گا کہ ” اب تو صرف میں ہی باقی رہ گیا اور میں تو سب سے زیادہ رحم و کرم کرنے والا ہوں “، پس اپنا ہاتھ ڈال کر خود اللہ تبارک و تعالیٰ جہنم میں سے لوگوں کو نکالے گا جن کی تعداد سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا وہ جلتے جھلستے ہوئے کوئلے کی طرح ہو گئے ہوں گے، انہیں نہر حیوان میں ڈالا جائے گا جہاں وہ اس طرح اگیں گے جس طرح دانہ اگتا ہے جو کسی دریا کے کنارے بویا گیا ہو کہ اس کا دھوپ کا رخ تو سبز رہتا ہے اور سائے کا رخ زرد رہتا ہے ان کی گردنوں پر تحریر ہو گا کہ یہ رحمان کے آزاد کردہ ہیں، اس تحریر سے انہیں دوسرے جنتی پہچان لیں گے۔ ایک مدت تک تو یونہی رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ ”اے اللہ یہ حروف بھی مٹ جائیں“ اللہ عزوجل یہ بھی مٹا دے گا [طبراني في الطوالات اجزء المبطوع في آخر المعجم الكبير:36:ضعیف] ‏

یہ حدیث اور آگے بھی ہے اور بہت ہی غریب ہے اور اس کے بعض حصوں کے شواہد متفرق احادیث میں ملتے ہیں، اس کے بعض الفاظ منکر ہیں۔ اسماعیل بن رافع قاضی اہل مدینہ اس کی روایت کے ساتھ منفرد ہیں ان کو بعض محدثین نے تو ثقہ کہا ہے اور بعض نے ضعیف کہا ہے اور ان کی حدیث کی نسبت کئی ایک محدثین نے منکر ہونے کی صراحت کی ہے۔ جیسے امام احمد امام ابوحاتم امام عمرو بن علی، بعض نے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ متروک ہیں، امام ابن عدی فرماتے ہیں ان کی سب احادیث میں نظر ہے مگر ان کی حدیثیں ضعیف احادیث میں لکھنے کے قابل ہیں، میں نے اس حدیث کی سندوں میں نے جو اختلاف کئی وجوہ سے ہے اسے علیحدہ ایک جزو میں بیان کر دیا ہے اس میں شک نہیں کہ اس کا بیان بہت ہی غریب ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہت سی احادیث کو ملا کر ایک حدیث بنا لی ہے اسی وجہ سے اسے منکر کہا گیا ہے، میں نے اپنے استاد حافظ ابو الحجاج مزی سے سنا ہے کہ انہوں نے امام ولید بن مسلم کی ایک کتاب دیکھی ہے جس میں ان باتوں کے جو اس حدیث میں ہی ہیں شواہد بیان کئے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2652

اسلام کے سوا سب راستوں کی منزل جہنم ہے ٭٭

مشرکوں نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ ہمارے دین میں آ جاؤ اور اسلام چھوڑ دو اس پر یہ آیت اتری کہ ” کیا ہم بھی تمہاری طرح بے جان و بے نفع و نقصان معبودوں کو پوجنے لگیں؟ اور جس کفر سے ہٹ گئے ہیں کیا پھر لوٹ کر اسی پر آ جائیں؟ اور تم جیسے ہی ہو جائیں؟ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اب تو ہماری آنکھیں کھل گئیں صحیح راہ مل گئی اب اسے کیسے چھوڑ دیں؟ اگر ہم ایسا کر لیں تو ہماری مثال اس شخص جیسی ہو گی جو لوگوں کے ساتھ سیدھے راستے پر جا رہا تھا مگر راستہ گم ہو گیا شیطان نے اسے پریشان کر دیا اور ادھر ادھر بھٹکانے لگا اس کے ساتھ جو راستے پر تھے وہ اسے پکارنے لگے کہ ہمارے ساتھ مل جا ہم صحیح راستے پر جا رہے ہیں یہی مثال اس شخص کی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جان اور پہچان کے بعد مشرکوں کا ساتھ دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی پکارنے والے ہیں اور اسلام ہی سیدھا اور صحیح راستہ ہے “۔

صفحہ نمبر2640

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ مثال اللہ تعالیٰ نے معبودان باطل کی طرف بلانے والوں کی بیان فرمائی ہے اور ان کی بھی جو اللہ کی طرف بلاتے ہیں، ایک شخص راستہ بھولتا ہے وہیں اس کے کان میں آواز آتی ہے کہ اے فلاں ادھر آ سیدھی راہ یہی ہے لیکن اس کے ساتھی جس غلط راستے پر لگ گئے ہیں وہ اسے تھپکتے ہیں اور کہتے ہیں یہی راستہ صحیح ہے اسی پر چلا چل۔ اب اگر یہ سچے شخص کو مانے گا تو راہ راست لگ جائے گا ورنہ بھٹکتا پھرے گا۔‏“

اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے والے اس امید میں ہوتے ہیں کہ ہم بھی کچھ ہیں لیکن مرنے کے بعد انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کچھ نہ تھے اس وقت بہت نادم ہوتے ہیں اور سوائے ہلاکت کے کوئی چیز انہیں دکھائی نہیں دیتی، یعنی جس طرح کسی جنگ میں گمشدہ انسان کو جنات اس کا نام لے کر آوازیں دے کر اسے اور غلط راستوں پر ڈال دیتے ہیں جہاں وہ مارا مارا پھرتا ہے اور بالآخر ہلاک اور تباہ ہو جاتا ہے اسی طرح جھوت معبودوں کا پجاری بھی برباد ہو جاتا ہے۔ ہدایت کے بعد گمراہ ہونے والے کی یہی مثال ہے جس راہ کی طرف شیطان اسے بلا رہے ہیں وہ تو تباہی اور بربادی کی راہ ہے اور جس راہ کی طرف اللہ بلا رہا ہے اور اس کے نیک بندے جس راہ کو سجھا رہے ہیں وہ ہدایت ہے گو وہ اپنے ساتھیوں کے مجمع میں سے نہ نکلے اور انہیں ہی راہ راست پر سمجھتا رہے اور وہ ساتھی بھی اپنے تئیں ہدایت یافتہ کہتے رہیں۔ لیکن یہ قول آیت کے لفظوں سے مطابق نہیں کیونکہ آیت میں موجد ہے کہ وہ اسے ہدایت کی طرف بلاتے ہیں پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ضلالت ہو؟ «حَیْرَانَ» پر زبر حال ہونے کی وجہ سے ہے صحیح مطلب یہی ہے کہ اس کے ساتھی جو ہدایت پر ہیں اب اسے غلط راہ پر دیکھتے ہیں تو اس کی خیر خواہی کے لیے پکار پکار کر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آ جا سیدھا راستہ یہی ہے لیکن یہ بد نصیب ان کی بات پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ توجہ تک نہیں کرتا، سچ تو یہ ہے کہ ہدایت اللہ کے قبضے میں ہے، وہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔

صفحہ نمبر2641

چنانچہ خود قرآن میں ہے کہ «وَمَن يَهْدِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ» [39-الزمر:37] ‏ اور آیت «إِن تَحْرِصْ عَلَىٰ هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي مَن يُضِلُّ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ» [16-النحل:37] ‏ ” تو چاہے ان کی ہدایت پر حرص کرے لیکن جسے اللہ بھٹکا دے اسے وہی راہ پر لا سکتا ہے ایسوں کا کوئی مددگار نہیں “۔

ہم سب کو یہی حکم کیا گیا ہے کہ ہم خلوص سے ساری عبادتیں محض اسی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کے لیے کریں اور یہ بھی حکم ہے کہ نمازیں قائم رکھیں اور ہر حال میں اس سے ڈرتے رہیں قیامت کے دن اسی کے سامنے حشر کیا جائے گا سب وہیں جمع کئے جائیں گے، اسی نے آسمان و زمین کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے وہی مالک اور مدبر ہے قیامت کے دن فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گا ایک لمحہ بھی دیر نہ لگے گی۔

«يَوْمَ» کا زبر یا تو «وَاتَّقُوهُ» پر عطف ہونے کی وجہ سے ہے یعنی اس دن سے ڈرو جس دن اللہ فرمائے گا ہو اور ہو جائے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ «يَوْمَ» کا زبر «وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ» پر عطف ہونے کی بنا پر ہو تو گویا ابتدائے پیدائش کو بیان فرما کر پھر دوبارہ پیدائش کو بیان فرمایا یہی زیادہ مناسب ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فعل مضمر ہو یعنی «اُذْکُرْ» اور اس وجہ سے «يَوْمَ» پر زبر آیا ہو، اس کے بعد کے دونوں جملے محلاً مجرور ہیں، پس یہ دونوں جملے بھی محلاً مجرور ہیں۔

ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ اللہ کا قول حق ہے رب کے فرمان سب کے سب سچ ہیں، تمام ملک کا وہی اکیلا مالک ہے، سب چیزیں اسی کی ملکیت ہیں «يَوْمَ يُنْفَخُ» میں «يَوْمَ» ممکن ہے کہ «وَيَوْمَ يَقُولُ» کا بدل ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ «وَلَهُ الْمُلْكُ» کا ظرف ہو۔

جیسے اور آیت میں ہے «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ» [40۔غافر:16] ‏ ” آج کس کا ملک ہے؟ صرف اللہ اکیلے غالب کا “، اور جیسے اس آیت میں ارشاد ہوا ہے «اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا» [25-الفرقان:26] ‏ یعنی ” ملک آج صرف رحمان کا ہے اور آج کا دن کفار پر بہت سخت ہے “۔

اور بھی اس طرح کی اور اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں بعض کہتے ہیں صور جمع ہے صورۃ کی جیسے سورۃ شہر پناہ کو کہتے ہیں اور وہ جمع ہے سورۃ کی لیکن صحیح یہ ہے کہ مراد صور سے قرن ہے جسے اسرافیل پھونکین گے۔ امام بن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ حضور کا ارشاد ہے کہ اسرافیل صور کو اپنے منہ میں لیے ہوئے اپنی پیشانی جھکائے ہوئے حکم الٰہی کے منتظر ہیں ۔ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2642

مسند احمد میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے سوال پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صور ایک نر سنگھے جیسا ہے جو پھونکا جائے گا ۔ [سنن ابوداود:4742،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

طبرانی کی مطولات میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کے بعد صور کو پیدا کیا اور اسے اسرافیل کو دیا وہ اسے لیے ہوئے ہیں اور عرش کی طرف نگاہ جمائے ہوئے ہیں کہ کب حکم ہو اور میں اسے پھونک دوں ۔ سیدنا ابوہریرہ فرماتے ہیں میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صور کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نرسنگھا ہے ۔ میں نے کہا وہ کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت ہی بڑا ہے وللہ اس کے دائرے کی چوڑائی آسمان وہ زمین کے برابر ہے اس میں سے تین نفحے پھونکے جائیں گے، پہلا گھبراہٹ کا دوسرا بیہوشی کا تیسرا رب العلمیں کے سامنے کھڑے ہونے کا۔ اول اول جناب باری اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہ پھونک دیں گے جس سے آسمان و زمین کی تمام مخلوق گھبرا اٹھے گی مگر جسے اللہ چاہے یہ صور بحکم رب دیر تک برابر پھونکا جائے گا ۔ اسی طرف اشارہ اس آیت میں ہے «وَمَا يَنظُرُ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ» [38-ص:15] ‏ یعنی ” انہیں صرف بلند زور دار چیخ کا انتظار ہے پہاڑ اس صور سے مثل بادلوں کے چلنے پھرنے لگیں گے پھر ریت ریت ہو جائیں گے زمین میں بھونچال آ جائے گا اور وہ اس طرح تھر تھرانے لگے گی جیسے کوئی کشتی دریا کے بیچ زبردست طوفان میں موجوں سے ادھر ادھر ہو رہی ہو اور غوطے کھا رہی ہو۔ مثل اس ہانڈی کے جو عرش میں لٹکی ہوئی ہے جسے ہوائیں ہلا جلا رہی ہیں “۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ» [79-النازعات:6-8] ‏، ” اس دن زمین جنبش میں آ جائے گی اور بہت ہی ہلنے لگے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے لگنے والی آ جائے گی۔ دل دھرکنے لگیں گے اور کلیجے الٹنے لگیں گے “۔ لوگ ادھر ادھر گرنے لگیں گے مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے بجے بوڑھے ہو جائیں گے شیاطین مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے بھاگتے بھاگتے زمین کے کناروں پر آ جائیں گے، یہاں سے فرشتے انہیں مار مار کر ہٹائیں گے، لوگ پریشان حال حواس باختہ ہوں گے کوئی جائے پناہ نظر نہ آئے گی امر الٰہی سے بچاؤ نہ ہو سکے گا ایک دوسرے کو آوازیں دیں گے لیکن سب اپنی اپنی مصیبت میں پڑے ہوئے ہوں گے کہ ناگہاں زمین پھٹنی شروع ہو گی کہیں ادھر سے پھٹی کہیں ادھر سے پھٹی اب تو ابتر حالت ہو جائے گی کلیجہ کپکپانے لگے گا دل الٹ جائے گا اور اتنا صدرمہ اور غم ہو گا جس کا اندازہ نہیں ہو سکتا، جو آسمان کی طرف نظر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ گھل رہا ہے اور وہ بھی پھٹ رہا ہے ستارے جھڑ رہے ہیں سورج چاند بے نور ہوگیا ہے، ہاں مردوں کو اس کا کچھ علم نہ ہوگا۔

صفحہ نمبر2643

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”یا رسول اللہ قرآن کی آیت میں جو فرمایا گیا ہے «وَيَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّـهُ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ» ‏ [27-النمل:87] ‏ یعنی ” زمین و آسمان کے سب لوگ گھبرا اٹھیں گے لیکن جنہیں اللہ چاہے “، اس سے مراد کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شہید لوگ ہیں کہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں روزیاں پاتے ہیں اور سب زندہ لوگ گھبراہٹ میں ہوں گے لیکن اللہ تعلای انہیں پریشانی سے محفوظ رکھے گا یہ تو عذاب ہے جو وہ اپنی بدترین مخلوق پر بھیجے گا ، اسی کا بیان آیت «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُم بِسُكَارَىٰ وَلَـٰكِنَّ عَذَابَ اللَّـهِ شَدِيدٌ» [22-لحج:1-2] ‏ میں ہے یعنی ” اے لوگو اپنے رب سے ڈرو یاد رکھو قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر ایک دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائے گی ہر حمل والی کا حمل گر جائے گا تو دیکھا جائے گا کہ سب لوگ بیہوش ہوں گے حالانکہ وہ نشہ پئے ہوئے نہیں بلکہ اللہ کے سخت عذابوں نے انہیں بدحواس کر رکھا ہے “ - یہی حالت رہے گی جب تک اللہ چاہے بہت دیر تک یہی گھبراہٹ کا عالم رہے گا پھر اللہ تبارک و تعالیٰ جبرائیل کو بیہوشی کے نفحے کا حکم دے گا اس نفحہ کے پھونکتے ہی زمین و آسمان کی تمام مخلوق بیہوش ہو جائیں گی مگر جسے اللہ چاہے اور اچانک سب کے سب مر جائیں گے۔ ملک الموت اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ ”اے باری تعالیٰ زمین آسمان کی تمام مخلوق مرگئی مگر جسے تو نے چاہا“، اللہ تعالیٰ باوجود علم کے سوال کرے گا کہ ” یہ بتاؤ اب باقی کون کون ہے؟ “ وہ جواب دیں گے ”تو باقی ہے تو «أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا تَمُوتُ» تجھ پر کبھی فنا نہیں اور عرش کے اٹھانے والے فرشتے اور جبرائیل و میکائیل اس وقت عرش کو زبان ملے گی اور وہ کہے گا اے پروردگار کیا جبرئل وہ میکائل علیہم السلام بھی مریں گے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” میں نے اپنے عرش سے نیچے والوں پر سب پر موت لکھ دی ہے “۔ چنانچہ یہ دونوں بھی فوت ہو جائیں گے پھر ملک الموت رب جبار و قہار کے پاس آئیں گے اور خبر دیں گے کہ جبرائیل و میکائیل علیہم السلام بھی انتقال کرگئے۔

صفحہ نمبر2644

جناب اللہ علم کے باوجودہ پھر دریافت فرمائے گا کہ ” اب باقی کون ہے؟ “ ملک الموت جواب دیں گے کہ باقی ایک تو تو ہے ایسی بقا ولا جس پر فنا ہے ہی نہیں اور تیرے عرش کے اٹھانے والے اللہ فرمائے گا ” عرش کے اٹھانے والے بھی مر جائیں گے “، اس وقت وہ بھی مر جائیں گے، پھر اللہ کے حکم سے اسرافیل علیہ السلام سے صور کو عرش لے لے گا، ملک الموت حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ ”یا اللہ عرش کے اٹھانے والے فرشتے بھی مر گئے“ -اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ ” اب باقی کون رہا؟ “ ملک الموت جواب دیں گے کہ ایک تو جس پر موت ہے ہی نہیں اور ایک تیرا غلام میں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ” تو بھی میری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے تجھے میں نے ایک کام کیلئے پیدا کیا تھا جسے تو کر چکا اب تو بھی مرجا “، چنانچہ وہ بھی مر جائیں گے۔ اب اللہ تعالیٰ اکیلا باقی رہ جائے گا جو غلبہ والا یگانگت والا بے ماں باپ اور بے اولاد کے ہے۔ جس طرح مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے وہ یکتا اور اکیلا تھا۔ پھر آسمانوں اور زمینوں کو وہ اس طرح لپیٹ لے گا جیسے دفتری کاغذ کو لپیٹتا ہے پھر انہیں تین مرتبہ الٹ پلٹ کرے گا اور فرمائے گا ” میں جبار ہوں میں کبریائی والا ہوں “۔ پھر تین مرتبہ فرمائے گا ” آج ملک کا مالک کون ہے؟ کوئی نہ ہو گا جو جواب دے تو خود ہی جواب دے گا ” «لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [40-الغافر:16] ‏ اللہ واحد وقہار “۔ قرآن میں ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ» [14-إبراهيم:48] ‏ ” اس دن آسمان و زمین بدل دیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں پھیلا دے گا اور کھینچ دے گا جس طرح چمڑا کھینچا جاتا ہے “ «لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» [20-طه:107] ‏ ” کہیں کوئی اونچ نیچ باقی نہ رہے گی “۔ پھر ایک الٰہی آواز کے ساتھ ہی ساری مخلوق اس تبدیل شدہ زمین میں آ جائے گی اندر والے اندر اور اوپر ولے اوپر پھر اللہ تعالیٰ اپنے عرش تلے سے اس پر بارش برسائے گا پھر آسمان کو حکم ہوگا اور وہ چالیس دن تک مینہ برسائے گا یہاں تک کہ پانی ان کے اوپر بارہ ہاتھ چڑھ جائے گا۔ پھر جسموں کو حکم ہو گا کہ وہ اگیں اور وہ اس طرح اگنے لگیں گے جیسے سبزیاں اور ترکاریاں اور وہ پورے پورے کامل جسم جیسے تھے ویسے ہی ہو جائیں گے پھر حکم فرمائے گا کہ ” میرے عرش کے اٹھانے والے فرشتے جی اٹھیں “ چنانچہ وہ زندہ ہو جائیں گے پھر اسرافیل کو حکم ہو گا کہ ” صور لے کر منہ سے لگا لیں “۔

صفحہ نمبر2645

پھر فرمان ہو گا کہ ” جبرائیل و میکائیل علیہم السلام زندہ ہو جائیں “ یہ دونوں بھی اٹھیں گے، پھر اللہ تعالیٰ روحوں کو بلائے گا مومنوں کو نورانی ارواح اور کفار کی ظلماتی روحیں آئیں گی انہیں لے کر اللہ تعالیٰ صور میں ڈال دے گا - پھر اسرافیل علیہ السلام کو حکم ہو گا کہ ” اب صور پھونک دو “ چنانچہ بعث کا صور پھونکا جائے گا جس سے ارواح اس طرح نکلیں گی جیسے شہد کی مکھیاں -تمام خلأ ان سے بھر جائے گا پھر رب عالم کا ارشاد ہو گا کہ ” مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے “، چنانجہ سب روحیں اپنے اپنے جسموں میں نتھنوں کے راستے چلی جائیں گی اور جس طرح زہر رگ وپے میں اثر کر جاتا ہے روہ روئیں روئیں میں دوڑ جائے گی، پھر زمین پھٹ جائے گی اور لوگ اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ سب سے پہلے میرے اوپر سے زمین شق ہو گی، «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» [54-القمر:8] ‏ ” لوگ نکل کر دوڑتے ہوئے اپنے رب کی طرف چل دیں گے، اس وقت کافر کہیں گے کہ آج کا دن بڑا بھاری ہے “۔ سب ننگے پیروں ننگے بدن بے ختنہ ہوں گے ایک میدان میں بقدر ستر سال کے کھڑے رہیں گے، نہ ان کی طرف نگاہ اٹھائی جائے گی نہ ان کے درمیان فیصلے کئے جائیں گے، لوگ بے طرح گریہ وزاری میں مبتلا ہوں گے یہاں تک کہ آنسو ختم ہو جائیں گے اور خون آنکھوں سے نکلنے لگے گا، پسینہ اس قدر آئے گا کہ منہ تک یا ٹھوریوں تک اس میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، آپس میں کہیں گے آؤ کسی سے کہیں کہ وہ ہماری شفاعت کرے، ہمارے پروردگار سے عرض کرے کہ وہ آئے اور ہمارے فیصلے کرے، تو کہیں گے کہ اس کے لائق ہمارے باپ آدم علیہ السلام سے بہتر کون ہو گا؟ جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے ان سے باتین کیں۔ چنانچہ سب مل کر آپ علیہ السلام کے پاس آجائیں گے اور سفاش طلب کریں گے لیکن آدم علیہ السلام صاف انکار کر جائیں گے اور فرمائیں گے مجھ میں اتنی قابلیت نہیں پھر وہ اسی طرح ایک ایک نبی علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور سب انکار کر دیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پھر سب کے سب میرے پاس آئیں گے، میں عرش کے آگے جاؤں گا اور سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ میرے پاس فرشتہ بھیجے گا وہ میرا بازو تھام کر مجھے سجدے سے اٹھائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں جواب دوں گا کہ ہاں اے میرے رب، اللہ عزوجل باوجود عالم کل ہونے کے مجھے سے دریافت فرمائے گا کہ ” کیا بات ہے؟ “ میں کہوں گا یا اللہ تو نے مجھ سے شفاعت کی قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے اپنی مخلوق کے بارے میں میری شفاعت کو قبول فرما اور ان کے فیصلوں کے لیے تشریف لے آ ۔

صفحہ نمبر2646

رب العالمین فرمائے گا ” میں نے تیری سفارش قبول کی اور میں آ کر تم میں فیصلے کئے دیتا ہوں “۔ میں لوٹ کر لوگوں کے ساتھ ٹھہر جاؤں گا کہ ناگہاں آسمانوں سے ایک بہت بڑا دھماکہ سنائی دے گا جس سے لوگ خوفزدہ ہو جائیں گے اتنے میں آسمان کے فرشتے اترنے شروع ہوں گے جن کی تعداد کل انسانوں اور سارے جنوں کے برابر ہوگی۔ جب وہ زمین کے قریب پہنچیں گے تو ان کے نور سے زمین جگمگا اٹھے گی وہ صفیں باندھ کر کھڑے ہو جائیں گے ہم سب ان سے دریافت کریں گے کہ کیا تم میں ہمارا رب آیا ہے؟ وہ جواب دیں گے نہیں پھر اس تعداد سے بھی زیادہ تعداد میں اور فرشتے آئیں گے۔ آخر ہمارا رب عزوجل ابر کے سائے میں نزول فرمائے گا اور فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوں گے اس کا عرش اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس وقت عرش کے اٹھانے والے جار فرشتے ہیں ان کے قدم آخری نیچے والی زمین کی تہ میں ہیں زمین و آسمان ان کے نصف جسم کے مقابلے میں ہے ان کے کندھوں پر عرش الٰہی ہے۔ ان کی زبانین ہر وقت اللہ تبارک و تعالیٰ کی پاکیزگی کے بیان میں تر ہیں۔ ان کی تسبیح یہ ہے «سُبْحَانَ ذِي الْعَرْشِ وَالْجَبَرُوتِ، سُبْحَانَ ذِي الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوتِ، سُبْحَانَ الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، سُبْحَانَ الَّذِي يُمِيتُ الْخَلَائِقَ وَلَا يَمُوتُ، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ قُدُّوسٌ قُدُّوسٌ، سُبْحَانَ رَبِّنَا الْأَعْلَى، رَبِّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ، سُبْحَانَ رَبِّنَا الْأَعْلَى، الَّذِي يُمِيتُ الْخَلَائِقَ وَلَا يَمُوتُ» ۔ پھر اللہ جس جگہ چاہے گا اپنی کرسی زمین پر رکھے گا اور بلند آواز سے فرمائے گا ” اے جنو اور انسانو! میں نے تمہیں جس دن سے پیدا کیا تھا اس دن سے آج تک میں خاموش رہا تمہاری باتیں سنتا رہا تمہارے اعمال دیکھتا رہا سنو تمہارے اعمال نامے میرے سامنے پڑھے جائیں گے جو اس میں بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس میں اور کچھ پائے وہ اپنی جان کو ملامت کرے “۔

صفحہ نمبر2647

پھر بحکم الہ جہنم میں سے ایک دھکتی ہوئی گردن نکلے گی اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” «أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ وَأَنِ اعْبُدُونِي هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنكُمْ جِبِلًّا كَثِيرًا أَفَلَمْ تَكُونُوا تَعْقِلُونَ هَـٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ اصْلَوْهَا الْيَوْمَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ» “ [36-يس:60-64] ‏ ” اے آدم کی اولاد کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی پوجانہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے؟ اور صرف میری ہی عبادت کرتے رہنا یہی سیدھی راہ ہے، شیطان نے تو بہت سی مخلوق کو گمراہ کر دیا ہے کیا تمہیں عقل نہیں؟ یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیئے جاتے تھے اور جسے تم جھٹلاتے رہے اے گنہگارو! آج تم نیک بندوں سے الگ ہو جاؤ “ - اس فرمان کے ساتھ ہی بد لوگ نیکوں سے الگ ہو جائیں گے تمام امتیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گی جیسے قرآن کریم میں ہے کہ «وَتَرَى كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَى إِلَى كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ» [45-الجاثية:28] ‏ ” تو ہر امت کو گھٹنوں کے بل گرے ہوئے دیکھے گا ہر امت اپنے نامہ اعمال کی طرف بلائی جائے گی “ - پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں فیصلے کرے گا پہلے جانوروں میں فیصلے ہوں گے یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا، جب کسی کا کسی کے ذمہ کوئی دعویٰ باقی نہ رہے گا تو اللہ تعالیٰ انہیں فرمائے گا ” تم سب مٹی ہو جاؤ “، اس فرمان کے ساتھ ہی تمام جانور مٹی بن جائیں گے، «وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا» [78-النبأ:40] ‏ ” اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ کاش ہم بھی مٹی ہو جاتے “ ۔

صفحہ نمبر2648

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے شروع کرے گا سب سے پہلے قتل و خون کا فیصلہ ہوگا، اللہ تعالیٰ اپنی راہ کے شہیدوں کو بھی بلائے گا ان کے ہاتھوں سے قتل شدہ لوگ اپنا سر اٹھائے ہوئے حاضر ہوں گے رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا کہیں گے کہ باری تعالیٰ دریافت فرما کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ پس باوجود علم کے اللہ عزوجل مجاہدین سے پوچھے گا کہ ” تم نے انہیں کیوں قتل کیا؟ “ وہ جواب دیں گے اس لیے کہ تیری بات بلند ہو اور تیری عزت ہو اللہ عالی فرمائے گا ” تم سچے ہو “، اسی وقت ان کا چہرہ نورانی ہو جائے گا سورج کی طرح چمکنے لگے گا اور فرشتے انہیں اپنے جھرمٹ میں لے کر جنت کی طرف چلیں گے - پھر باقی کے اور تمام قاتل و مقتول اسی طرح پیش ہوں گے اور جو نفس ظلم سے قتل کیا گیا ہے اس کا بدلہ ظالم قاتل سے دلوایا جائے گا اسی طرح ہر مظلوم کو ظالم سے بدلہ دلوایا جائے گا یہاں تک کہ جو شخص دودھ میں پانی ملا کر بیچتا تھا اسے فرمایا جائے گا کہ” اپنے دودھ سے پانی جدا کر دے “، ان فیصلوں کے بعد ایک منادی باآواز بلند ندا کرے گا جسے سب سنیں گے، ہر عابد اپنے معبود کے پیچھے ہولے اور اللہ کے سوا جس نے کسی اور کی عبادت کی ہے وہ جہنم میں چل دے - «لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ» [21-الأنبياء:99] ‏ ” سنو اگر یہ سچے معبود ہوتے تو جہنم میں وارد نہ ہوتے یہ سب تو جہنم میں ہی ہمیشہ رہیں گے “۔ اب صرف با ایمان لوگ باقی رہیں گے ان میں منافقین بھی شامل ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے پاس جس ہیئت میں چاہے تشریف لائے گا اور ان سے فرمائے گا کہ ” سب اپنے معبودوں کے پیچھے چلے گئے تم بھی جس کی عبادت کرتے تھے اس کے پاس چلے جاؤ “۔ یہ جواب دیں گے کہ واللہ ہمارا تو کوئی معبود نہیں بجز الہ العالمین کے، ہم نے کسی اور کی عبادت نہیں کی۔ اب ان کے لیے پنڈلی کھول دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کی تجلیاں ان پر ڈالے گا جس سے یہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں گے اور سجدے میں گر پڑیں گے لیکن منافق سجدہ نہیں کر سکیں گے یہ اوندھے اور الٹے ہو جائیں گے اور اپنی کمر کے بل گر پڑیں گے۔ ان کی پیٹھ سیدھی کر دی جائے گی مڑ نہیں سکیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو سجدے سے اٹھنے کا حکم دے گا اور جہنم پر پل صراط رکھی جائے گی جو تلوار جیسی تیز دھار والی ہوگی اور جگہ جگہ آنکڑے اور کانٹے ہوں گے بڑی پھسلنی اور خطرناک ہوگی ایماندار تو اس پر سے اتنی سی دیر میں گزر جائیں گے جتنی دیر میں کوئی آنکھ بند کر کے کھول دے جس طرح بجلی گزرجاتی ہے اور جیسے ہوا تیزی سے چلتی ہے۔ یا جیسے تیز رو گھوڑے یا اونٹ ہوتے ہیں یا خوب بھاگنے والے آدمی ہوتے ہیں بعض صحیح سالم گزر جائیں گے، بعض زخمی ہو کر پار اتر جائیں گے، بعض کٹ کر جہنم میں گر جائیں گے۔ جتنی لوگ جب جنت کے پاس پہنچیں گے تو کہیں گے کون ہمارے رب سے ہماری سفارش کرے کہ ہم جنت میں چلے جائیں؟ دوسرے لوگ جواب دیں گے اس کے حقدار تمہارے باپ آدم علیہ السلام سے زیادہ اور کون ہوں گے؟ جنہیں رب ذوالکریم نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے باتیں کیں۔

صفحہ نمبر2649

پس سب لوگ آپ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور آپ علیہ السلام سے سفارش کرانی چاہیں گے لیکن اپنا گناہ یاد کرکے جواب دیں گے کہ ”میں اس لائق نہیں ہوں تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ اللہ کے پہلے رسول ہیں“، لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آکر ان سے یہ درخواست کریں گے لیکن وہ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی فرمائیں گے اور کہیں گے کہ ”تم سب سیدنا ابراھیم علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ خلیل اللہ ہیں۔‏“ لوگ آپ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور یہی کہیں گے آپ علیہ السلام بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی جواب دیں گے اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس جانے کی ہدایت کریں گے کہ اللہ نے انہیں سرگوشیاں کرتے ہوئے نزدیک کیا تھا وہ کلیم اللہ ہیں ان پر توراۃ نازل فرمائی گئی تھی۔ لوگ آپ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور آپ علیہ السلام سے طلب سفارش کریں گے آپ علیہ السلام بھی اپنے گناہ کا ذکر کریں گے اور روح اللہ اور کلمتہ اللہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے پاس بھیجیں گے لیکن عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے ”میں اس قابل نہیں تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔‏“

صفحہ نمبر2650

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پس سب لوگ میرے پاس آئیں گے، میں اللہ کے سامنے تین شفاعتیں کروں گا میں جاؤں گا جنت کے پاس پہنچ کر دروازے کا کنڈا پکڑ کر کھٹکھٹاؤں گا مجھے مرحبا کہا جائے گا اور خوش آمدید کہا جائے گا میں جنت میں جا کر اپنے رب کو دیکھ کر سجدے میں گرپڑوں گا اور وہ وہ حمد و ثنا جناب باری کی بیان کروں گا جو کسی نے نہ کی ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاؤ شفاعت کرو قبول کی جائے گی مانگو ملے گا “۔ میں سر اٹھاؤں گا اللہ تعالیٰ تو دلوں کے بھید بھی جانتا ہے تاہم وہ دریافت فرمائے گا کہ ” کیا کہنا چاہتے ہو؟ “ میں کہوں گا اے اللہ تو نے میری شفاعت کے قبول فرمانے کا وعدہ کیا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ میری شفاعت ان جنتیوں کے بارے میں قبول فرمائے گا اور انہیں جنت کے داخلے کی اجازت ہو جائے گی۔ واللہ جیسے تم اپنے گھر سے اپنے بال بچوں سے آگاہ ہو اس سے بہت زیادہ یہ جنتی اپنی جگہ اور اپنی بیویوں سے واقف ہوں گے ہر ایک اپنے اپنے ٹھکانے پہنچ جائے گا ستر ستر حوریں اور دو دو عورتیں ملیں گی، یہ دونوں عورتیں اپنی کی ہوئی نیکیوں کے سبب پر فضیلت چہروں کی مالک ہوں گی جتنی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا جو یاقوت کے بالاخانے میں سونے کے جڑاؤ تخت پر ستر ریشمی حلے پہنے ہوئے ہوگی اس کا جسم اس قدر نورانی ہوگا کہ ایک طرف اگر جنتی اپنا ہاتھ رکھے تو دوسری طرف سے نظر آئے گا اس کی صفائی کی وجہ سے اس کی پنڈلی کا گودا گوشت پوست میں نظر آ رہا ہو گا اس کا دل اس کا آئینہ ہوگا نہ یہ اس سے بس کرے نہ وہ اس سے اکتائے، جب کبھی اس کے پاس جائے گا باکرہ پائے گا، نہ یہ تھکے نہ اسے تکلیف ہو، نہ کوئی مکرو چیز ہو، یہ اپنی اسی مشغولی میں مزے میں اور لطف و راحت میں اللہ جانے کتنی مدت گزار دے گا جو ایک آواز آئے گی کہ مانا نہ تمہارا دل اس سے بھرتا ہے نہ ان کا دل تم سے بھرے گا۔ لیکن اللہ نے تمہارے لیے اور بیویاں بھی رکھی ہوئی ہیں۔ اب یہ اوروں کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا بے ساختہ زبان سے یہی نکلے گا اللہ کی قسم کی سازی جنت میں تم سے بہتر کوئی چیز نہیں مجھے تو جنت کی تمام چیزوں سے زیادہ تم سے محبت ہے، ہاں جنہیں ان کی بد عملیوں اور گناہوں نے تباہ کر رکھا ہے وہ جہنم میں جائیں گے اپنے اپنے اعمال کے مطابق آگ میں جلیں گے، بعض قدموں تک بعض آدھی پنڈلی تک بعض گھٹنے تک بعض آدھے بدن تک بعض گردن تک، صرف چہرہ باقی رہ جائے گا کیونکہ صورت کا بگاڑنا اللہ نے آگ پر حرام کر دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے گنہگار دوزخیوں کی شفاعت کریں گے اللہ تعالیٰ فرمائے گا جاؤ جنہیں پہچانو انہیں نکال لاؤ، پھر یہ لوگ جہنم سے آزاد ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا۔ پھر تو شفاعت کی عام اجازت مل جائے گی کل انبیاء علیہم السلام اور شہداء شفاعت کریں گے، جناب باری کا ارشاد ہو گا کہ ” جس کے دل میں ایک دینار برابر بھی ایمان پاؤ اسے نکال لاؤ “۔ پس یہ لوگ بھی آزاد ہوں گے اور ان میں سے بھی کوئی باقی نہ رہے گا، پھر فرمائے گا ” انہیں بھی نکال لاؤ جس کے دل میں دو ثلث دینار کے برابر ایمان ہو “۔ پھر فرمائے گا ” ایک ثلث والوں کو بھی، پھر ارشاد ہو گا چوتھائی دینار کے برابر والوں کو بھی “۔

صفحہ نمبر2651

پھر فرمائے گا ” ایک قیراط کے برابر والوں کو بھی “، پھر ارشاد ہوگا ” انہیں بھی جہنم سے نکال لاؤ جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو “ - پس یہ سب بھی نکل آئیں گے اور ان میں سے ایک شخص بھی باقی نہ بچے گا، بلکہ جہنم میں ایک شخص بھی ایسا نہ رہ جائے گا جس نے خلوص کے ساتھ کوئی نیکی بھی اللہ کی فرمانبرداری کے ماتحت کی ہو، جتنے شفیع ہوں گے سب سفارش کرلیں گے یہاں تک کہ ابلیس کو بھی امید بندھ جائے گی اور وہ بھی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھے گا کہ شاید کوئی میری بھی شفاعت کرے کیونکہ وہ اللہ کی رحمت کا جوش دیکھ رہا ہوگا - اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین فرمائے گا کہ ” اب تو صرف میں ہی باقی رہ گیا اور میں تو سب سے زیادہ رحم و کرم کرنے والا ہوں “، پس اپنا ہاتھ ڈال کر خود اللہ تبارک و تعالیٰ جہنم میں سے لوگوں کو نکالے گا جن کی تعداد سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا وہ جلتے جھلستے ہوئے کوئلے کی طرح ہو گئے ہوں گے، انہیں نہر حیوان میں ڈالا جائے گا جہاں وہ اس طرح اگیں گے جس طرح دانہ اگتا ہے جو کسی دریا کے کنارے بویا گیا ہو کہ اس کا دھوپ کا رخ تو سبز رہتا ہے اور سائے کا رخ زرد رہتا ہے ان کی گردنوں پر تحریر ہو گا کہ یہ رحمان کے آزاد کردہ ہیں، اس تحریر سے انہیں دوسرے جنتی پہچان لیں گے۔ ایک مدت تک تو یونہی رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ ”اے اللہ یہ حروف بھی مٹ جائیں“ اللہ عزوجل یہ بھی مٹا دے گا [طبراني في الطوالات اجزء المبطوع في آخر المعجم الكبير:36:ضعیف] ‏

یہ حدیث اور آگے بھی ہے اور بہت ہی غریب ہے اور اس کے بعض حصوں کے شواہد متفرق احادیث میں ملتے ہیں، اس کے بعض الفاظ منکر ہیں۔ اسماعیل بن رافع قاضی اہل مدینہ اس کی روایت کے ساتھ منفرد ہیں ان کو بعض محدثین نے تو ثقہ کہا ہے اور بعض نے ضعیف کہا ہے اور ان کی حدیث کی نسبت کئی ایک محدثین نے منکر ہونے کی صراحت کی ہے۔ جیسے امام احمد امام ابوحاتم امام عمرو بن علی، بعض نے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ متروک ہیں، امام ابن عدی فرماتے ہیں ان کی سب احادیث میں نظر ہے مگر ان کی حدیثیں ضعیف احادیث میں لکھنے کے قابل ہیں، میں نے اس حدیث کی سندوں میں نے جو اختلاف کئی وجوہ سے ہے اسے علیحدہ ایک جزو میں بیان کر دیا ہے اس میں شک نہیں کہ اس کا بیان بہت ہی غریب ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہت سی احادیث کو ملا کر ایک حدیث بنا لی ہے اسی وجہ سے اسے منکر کہا گیا ہے، میں نے اپنے استاد حافظ ابو الحجاج مزی سے سنا ہے کہ انہوں نے امام ولید بن مسلم کی ایک کتاب دیکھی ہے جس میں ان باتوں کے جو اس حدیث میں ہی ہیں شواہد بیان کئے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2652

ابراہیم علیہ السلام اور آزر میں مکالمہ ٭٭

حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”ابراہیم علیہم السلام کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا۔ آزر سے مراد بت ہے۔ آپ علیہ السلام کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا۔ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کا نام ہاجرہ رضی اللہ عنہا تھا یہ ابراہیم علیہ السلام کی سریہ تھیں۔‏“

علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ علیہ السلام کے والد کا نام تارخ تھا۔ مجاہد اور سدی رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم ابراہیم علیہ السلام کے والد تھے ہو سکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہو گیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب گیری کے استعمال کیا جاتا تھا اس کے معنی ٹیڑھے آدمی کے ہیں۔ لیکن اس کلام کی سند نہیں نہ امام صاحب نے اسے کسی سے نقل کیا ہے۔

صفحہ نمبر2655

سلیمان رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس کے معنی ٹیڑھے پن کے ہیں اور یہی سب سے سخت لفظ ہے جو خلیل اللہ علیہ السلام کی زبان سے نکلا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ٹھیک بات یہی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام آزر تھا اور یہ جو عام تاریخ داں کہتے ہیں کہ ان کا نام تارخ تھا اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے دونوں نام ہوں یا ایک تو نام ہو اور دوسرا لقب ہو۔ بات تو یہ ٹھیک اور نہایت قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

«آزَر» اور «آزُر» دونوں قرأتیں ہیں پچھلی قرأت یعنی راء کے زبر کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ پیش والی قرأت میں ندا کی وجہ سے پیش ہے اور زبر والی قرأت «لِأَبِيهِ» سے بدل ہونے کی ہے اور ممکن ہے کہ عطف بیان ہو اور یہی زیادہ مشابہ ہے۔ یہ لفظ علمیت اور عجمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے بعض لوگ اسے صفت بتلاتے ہیں اس بنا پر بھی یہ غیر منصرف رہے گا جیسے احمر اور اسود۔

صفحہ نمبر2656

بعض اسے «أَتَتَّخِذُ» کا معمول مان کر منصوب کہتے ہیں -گویا ابراہیم علیہ السلام یوں فرماتے کہ ”اے باپ، کیا آپ آزر بت کو معبود مانتے ہیں؟“ لیکن یہ دور کی بات ہے -خلاف لغت ہے کیونکہ حرف اتفہام کے بعد الا پنے سے پہلے میں عامل نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اس کے لیے ابتداء کلام کا حق ہے۔ عربی کا یہ تو مشہور قاعدہ ہے۔

الغرض ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام اپنے باپ کو وعظ سنا رہے ہیں اور انہیں بت پرستی سے روک رہے ہیں لیکن وہ باز نہ آئے۔ آیت میں ہے کہ «وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا يَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ عَصِيًّا يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَـٰنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَىٰ أَلَّا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا» [19-مريم:41-48] ‏ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ تو نہایت بری بات ہے کہ تم ایک بت کے سامنے الحاج اور عاجزی کرو جو اللہ کا حق ہے۔ یقیناً اس مسلک کے لوگ سب کے سب بہکے ہوئے اور راہ بھٹکے ہوئے ہیں۔

اور آیت میں کہ صدیق نبی ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنے والد سے فرمایا، ابا آپ ان کی پرستش کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کچھ فائدہ پہنچائیں۔ ابا میں آپ کو وہ کھری بات سناتا ہوں جو اب تک آپ کے علم میں نہیں آئی تھی۔ اپ میری بات مان لیجئے۔ میں آپ کو صحیح راہ کی رہنمائی کروں گا۔ ابا شیطان کی عبادت سے ہٹ جائیے۔ وہ تو رحمن کا نافرمان ہے۔ ابا مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو آپ پر اللہ کا کوئی عذاب آ جائے اور آپ شیطان کے رفیق کار بن جائیں۔ باپ نے جواب دیا کہ ابراھیم (‏علیہ السلام) کیا تو میرے معبودوں سے ناراض ہے؟ سن اگر تو اس سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ پس اب تو مجھ سے الگ ہو جا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا، اچھا میرا سلام لو۔ میں اب بھی اپنے پروردگار سے تمہاری معافی کی درخواست کروں گا۔ وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔ میں تم سب کو اور تمہارے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا ہیں، چھوڑتا ہوں۔ اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوتا ہوں۔ ناممکن ہے کہ میں اس کی عبادت بھی کروں اور پھر بے نصیب اور خالی ہاتھ رہوں۔

چنانچہ حسبِ وعدہ خلیل اللہ علیہ السلام اپنے والد کی زندگی تک استغفار کرتے رہے لیکن جبکہ مرتے ہوئے بھی وہ شرک سے باز نہ آئے تو آپ علیہ السلام نے استغفار بند کر دیا اور بیزار ہوگئے۔

صفحہ نمبر2657

چنانچہ قرآن کریم میں ہے «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» [9-التوبة:114] ‏ ” ابراھیم علیہ السلام کا پنے باپ کے لیے استغفار کرنا ایک وعدے کی بناء پر تھا -پھر جب ان پر یہ بات ظاہر ہو گئی کہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے محض بے تعلق ہو گئے و اقعی ابراہیم علیہ السلام بڑے نرم دل اور بردبار تھے “ -

حدیث صحیح میں ہے قیامت کے روز ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ سے ملیں گے تو آزر ان سے کہے گا اے بیٹے! آج میں تمہاری نافرمانی نہ کروں گا تو ابراہیم علیہ السلام اپنے رب سے عرض کریں گے کہ اے رب! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہ فرمایا تھا کہ مجھے قیامت کے دن ذلیل نہ کرے گا۔ اورآج میرے لئے اس سے بڑی اور کون سی رسوائی ہو سکتی ہے کہ میرا باپ اس حال میں ہے تو ارشاد فرمایا جائے گا کہ ” اے ابراہیم! تم اپنے پیچھے دیکھو تو “ وہ اپنے باپ کو دیکھنے کی بجائے ایک بجو کو دیکھیں گے، جو کیچڑ میں لتھڑا ہوا ہے اور اس کی ٹانگیں پکڑ کر اس کو دوزخ کی طرف کھینچ کر لے جایا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:3350] ‏

” مخلوق کو دیکھ کر خالق کی وحدانیت سمجھ میں آ جائے اس لیے ہم نے ابراھیم علیہ السلام کو آسمان و زمین کی مخلوق دکھادی “ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَنظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ» [7-الأعراف:185] ‏ اور جگہ ہے «أَفَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاءِ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ» [34-سبأ:9] ‏۔ یعنی ” کیا پس وہ اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو دیکھ نہیں رہے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں یقیناً اس میں پوری دلیل ہے ہر اس بندے کے لیے جو (‏دل سے) متوجہ ہو “۔ ‏

صفحہ نمبر2658

ابن جریر رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ ”ابراہیم علیہ السلام کی نگاہوں کے سامنے آسمان پھٹ گئے تھے اور ابراہیم علیہ السلام آسمان کی سب چیزوں کو دیکھ رہے تھے۔ یہاں تک کہ ان کی نظر عرش تک پہنچی اور ساتوں زمینیں ان کے لیے کھل گئیں اور وہ زمین کے اندر کی چیزیں دیکھنے لگے۔‏“

بعض نے اس مضمون کا بھی اضافہ کیا ہے کہ ”وہ لوگوں کے معاص کو بھی دیکھنے لگے تھے اور ان گنہگاروں پر بد دعا کرنے لگے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” نہیں اے ابراہیم (‏علیہ السلام)! میں تم سے زیادہ اپنے بندوں پر کریم ہوں کیا عجب کہ بعد کو وہ توبہ کر لیں اور رجوع کر لیں “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کے بارے میں کہتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنی قدرت سے آسمان و زمین کی چھپی ہوئی اور علانیہ ساری چیزیں دکھلا دیں ان میں کچھ بھی چھپا نہ رہا۔ اور جب وہ اصحاب گناہ پر لعن کر رہے تھے تو فرمایا کہ ” ایسا نہیں اور ان کی بد دعا کو رد کر دیا “۔ پھر وہ حسب سابق ہو گئے۔‏“

اس لیے محتمل ہے کہ ان کی نگاہوں پر سے پردہ ہٹ گیا ہو جہاں ان کے لیے عیاں ہو گیا ہو۔ اور یہ بھی محتمل ہے کہ اس کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی حکمت باہرہ اور دلالت قاطعہ کو معلوم کر لیا ہو۔ جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ اور امام ترمذی رحمہ اللہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب مروی ہے کہ عالم خواب میں اللہ تعالیٰ ایک بہترین شکل میں میرے پاس آیا اور فرمانے لگا اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) املا اعلیٰ میں کیا بحث ہو رہی ہے؟ “ میں نے کہا یا رب میں نہیں جانتا تو اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دیا کہ اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک میں پنے سینے میں پانے لگا۔ پھر تو تمام چیزیں میرے سامنے کھل گئیں اور میں نے اسے پہچان لیا ۔ [سنن ترمذي:3235،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

«وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ» میں «وَلِيَكُونَ» کا واؤ زائد ہے۔ اس کی تقدیر یوں ہوئی کہ «وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ لِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ» [6-الأنعام:75] ‏ یعنی بغیر واؤ کے جیسے کہ اس آیت «(‏وَكَذَلِكَ) نُفَصِّلُ الْآيَاتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ» [6-الأنعام:55] ‏ میں۔ اس میں «الْآيَاتِ» کے بعد واؤ زائد ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زائد نہیں ہے بلکہ سابقہ بات کی بنیاد پر بات کو اٹھایا گیا ہے۔ یعنی ” ہم نے اس پر ملکوت ظاہر کر دیا تاکہ وہ دیکھے اور یقین بھی کرلے “۔ یہ سب بطور مناظرہ کے تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دوسری بات ہی مروی ہے۔

صفحہ نمبر2659

ابن جریر میں بھی اسی کو پسند کیا گیا ہے، اس کی دلیل میں آپ رحمہ اللہ کا یہ قول لاتے ہیں کہ ”اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں گمراہ میں ہو جاتا“ -

امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ نے ایک لمبا قصہ نقل کیا ہے جس میں ہے: نمرود بن کنعان بادشاہ سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں تیرا تخت تارج ہو گا تو اس نے حکم دے دیا تھا کہ اس سال میری مملکت میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کر دیئے جائیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی والدہ نے جب یہ سنا تو کجھ وقت قبل شہر کے باہر ایک غار میں چلی گئیں، وہیں خلیل اللہ علیہ السلام پیدا ہوئے، تو جب آپ علیہ السلام اس غار سے باہر نکلے تب آپ علیہ السلام نے یہ سب فرمایا تھا جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ بالکل صحیح بات یہ ہے کہ یہ گفتگو اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی مناظرانہ تھی اپنی قوم کی باطل پرستی کا احوال اللہ کو سمجھا رہے تھے، اول تو آپ علیہ السلام نے اپنے والد کی خطا ظاہر کی کہ وہ زمین کے ان بتوں کی پوجا کرتے تھے جنہیں انہوں نے فرشتوں وغیرہ کی شکل پر بنا لیا تھا اور جنہیں وہ سفارشی سمجھ رہے تھے۔ یہ لوگ بزعم خود اپنے آپ کو اس قابل نہیں جانتے تھے کہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ اس لیے بطور وسیلے کے فرشتوں کو پوجتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے بارے میں کہہ سن کر ان کی روزی وغیرہ بڑھوا دیں اور ان کی حاجتیں پوری کرا دیں پھر جن آسمانی چیزوں کو یہ پوجتے تھے ان میں ان کی خطا بیان کی۔ یہ ستارہ پرست بھی تھے ساتوں ستاروں کو جو چلنے پھرنے والے ہیں۔ پوجتے تھے، چاند، عطارد، زہرہ، سورج، مریخ، مستری، زحل۔ ان کے نزدیک سب سے زیادہ روشن سورج ہے، پھر چاند پھر زہرہ پس آپ علیہ السلام نے ادنیٰ سے شروع کیا اور اعلیٰ تک لے گئے۔ پہلے تو زہرہ کی نسبت فرمایا کہ وہ پوجا کے قابل نہیں کیونکہ یہ دوسرے کے قابو میں ہیں یہ مقررہ چال سے چلتا اور مقررہ جگہ پر چلتا ہے دائیں بائیں ذرا بھی کھسک نہیں سکتا۔ تو جبکہ وہ خود بے شمار چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔ اس میں روشنی بھی اللہ کی دی ہوئی ہے یہ مشرق سے نکلتا ہے پھر چلتا پھرتا رہتا ہے اور ڈوب جاتا ہےپھر دوسری رات اسی طرح ظاہر ہوتا ہے تو ایسی چیز معبود ہونے کی صلاحیت کیا رکھتی ہے؟

صفحہ نمبر2660

پھر اس سے زیادہ روشن چیز یعنی چاند کو دیکھتے ہیں اور اس کو بھی عبادت کے قابل نہ ہونا ظاہر فرما کر پھر سورج کو لیا اور اس کی مجبوری اور اس کی غلامی اور مسکینی کا اظہار کیا اور کہا کہ ”لوگو میں تمہارے ان شرکاء سے، ان کی عبادت سے، ان کی عقیدت سے، ان کی محبت سے دور ہوں -سنو اگر یہ سچے معبود ہیں اور کچھ قدرت رکھتے ہیں تو ان سب کو ملا لو اور جو تم سب سے ہو سکے میرے خلاف کر لو۔ میں تو اس اللہ کا عابد ہوں جو ان مصنوعات کا صانع جو ان مخلوقات کا خالق ہے جو ہر چیز کا مالک رب اور سچا معبود ہے۔‏“

جیسے قرآنی ارشاد ہے: «إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ السَمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ» [7-الأعراف:54] ‏ ” تمہارا رب صرف وہی ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا رات کو دن سے دن کو رات سے ڈھانپتا ہے ایک دوسرے کے برابر پیچھے جا آ رہا ہے سورج چاند اور تارے سب اس کے فرمان کے تحت ہیں خلق و امر اسی کی ملکیت میں ہیں وہ رب العالمین ہے بڑی برکتوں والا ہے “۔

یہ تو بالکل ناممکن سا معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ سلام کے یہ سب فرمان بطور واقعہ کے ہوں اور حقیقت میں آپ علیہ السلام اللہ کو پہچانتے ہی نہ ہوں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَـلِمِينَ ـ إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَـذِهِ التَّمَـثِيلُ الَّتِى أَنتُمْ لَهَا عَـكِفُونَ» [21-الأنبياء:51-52] ‏ ” ہم نے پہلے سے ابراہیم کو سیدھا راستہ دے دیا تھا اور ہم اس سے خوب واقف تھے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا یہ صورتیں کیا ہیں جن کی تم پرستش اور مجاورت کر رہے ہو؟ “

اور آیت میں ہے: «‏إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ شَاكِرًا لِأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:120-123] ‏ ” بیشک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور ایک طرفہ مخلص تھے۔ وہ مشرکوں میں نہ تھے۔ ‏ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں اپنا برگزیدہ کر لیا تھا اور انہیں راہ راست سمجھا دی تھی۔ ‏ ہم نے اس دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور بیشک وہ آخرت میں بھی نیکو کاروں میں ہیں۔ ‏ پھر ہم نے آپ کی جانب وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کریں، جو مشرکوں میں سے نہ تھے “۔ ‏

صفحہ نمبر2661

بخاری و مسلم میں ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے - [صحیح بخاری:4775] ‏

صحیح مسلم کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا ہے ۔ [صحیح مسلم:2865] ‏

کتاب اللہ میں ہے: «فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ» [30-الروم:30] ‏ ” اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فطرت اللہ پر پیدا کیا ہے، اللہ کی خلق کی تبدیلی نہیں “

اور آیت میں ہے: «وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى» [ 7-الأعراف: 172 ] ‏ ” اور جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں “۔ پس یہی فطرت اللہ ہے جیسے کہ اس کا ثبوت عنقریب آئے گا ان شاءاللہ۔

پس جبکہ تمام مخلوق کی پیدائش دین اسلام پر اللہ کی سچی توحید پر ہے تو ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جن کی توحید اور اللہ پرستی کا ثنا خواں خود کلام رحمن ہے ان کی نسبت کون کہہ سکتا ہے کہ آپ علیہ السلام اللہ جل شانہ سے آگاہ نہ تھے اور کبھی تارے کو اور کبھی چاند سورج کو اپنا اللہ سمجھ رہے تھے۔ نہیں نہیں آپ علیہ السلام کی فطرت سالم تھی آپ علیہ السلام کی عقل صحیح تھی آپ علیہ السلام اللہ کے سچے دین پر اور خالص توحید پر تھے۔ آپ علیہ السلام کا یہ تمام کلام بحیثیت مناظرہ تھا اور اس کی زبردست دلیل اس کے بعد کی آیت ہے۔

صفحہ نمبر2662

ابراہیم علیہ السلام اور آزر میں مکالمہ ٭٭

حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”ابراہیم علیہم السلام کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا۔ آزر سے مراد بت ہے۔ آپ علیہ السلام کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا۔ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کا نام ہاجرہ رضی اللہ عنہا تھا یہ ابراہیم علیہ السلام کی سریہ تھیں۔‏“

علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ علیہ السلام کے والد کا نام تارخ تھا۔ مجاہد اور سدی رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم ابراہیم علیہ السلام کے والد تھے ہو سکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہو گیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب گیری کے استعمال کیا جاتا تھا اس کے معنی ٹیڑھے آدمی کے ہیں۔ لیکن اس کلام کی سند نہیں نہ امام صاحب نے اسے کسی سے نقل کیا ہے۔

صفحہ نمبر2655

سلیمان رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس کے معنی ٹیڑھے پن کے ہیں اور یہی سب سے سخت لفظ ہے جو خلیل اللہ علیہ السلام کی زبان سے نکلا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ٹھیک بات یہی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام آزر تھا اور یہ جو عام تاریخ داں کہتے ہیں کہ ان کا نام تارخ تھا اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے دونوں نام ہوں یا ایک تو نام ہو اور دوسرا لقب ہو۔ بات تو یہ ٹھیک اور نہایت قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

«آزَر» اور «آزُر» دونوں قرأتیں ہیں پچھلی قرأت یعنی راء کے زبر کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ پیش والی قرأت میں ندا کی وجہ سے پیش ہے اور زبر والی قرأت «لِأَبِيهِ» سے بدل ہونے کی ہے اور ممکن ہے کہ عطف بیان ہو اور یہی زیادہ مشابہ ہے۔ یہ لفظ علمیت اور عجمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے بعض لوگ اسے صفت بتلاتے ہیں اس بنا پر بھی یہ غیر منصرف رہے گا جیسے احمر اور اسود۔

صفحہ نمبر2656

بعض اسے «أَتَتَّخِذُ» کا معمول مان کر منصوب کہتے ہیں -گویا ابراہیم علیہ السلام یوں فرماتے کہ ”اے باپ، کیا آپ آزر بت کو معبود مانتے ہیں؟“ لیکن یہ دور کی بات ہے -خلاف لغت ہے کیونکہ حرف اتفہام کے بعد الا پنے سے پہلے میں عامل نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اس کے لیے ابتداء کلام کا حق ہے۔ عربی کا یہ تو مشہور قاعدہ ہے۔

الغرض ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام اپنے باپ کو وعظ سنا رہے ہیں اور انہیں بت پرستی سے روک رہے ہیں لیکن وہ باز نہ آئے۔ آیت میں ہے کہ «وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا يَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ عَصِيًّا يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَـٰنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَىٰ أَلَّا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا» [19-مريم:41-48] ‏ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ تو نہایت بری بات ہے کہ تم ایک بت کے سامنے الحاج اور عاجزی کرو جو اللہ کا حق ہے۔ یقیناً اس مسلک کے لوگ سب کے سب بہکے ہوئے اور راہ بھٹکے ہوئے ہیں۔

اور آیت میں کہ صدیق نبی ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنے والد سے فرمایا، ابا آپ ان کی پرستش کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کچھ فائدہ پہنچائیں۔ ابا میں آپ کو وہ کھری بات سناتا ہوں جو اب تک آپ کے علم میں نہیں آئی تھی۔ اپ میری بات مان لیجئے۔ میں آپ کو صحیح راہ کی رہنمائی کروں گا۔ ابا شیطان کی عبادت سے ہٹ جائیے۔ وہ تو رحمن کا نافرمان ہے۔ ابا مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو آپ پر اللہ کا کوئی عذاب آ جائے اور آپ شیطان کے رفیق کار بن جائیں۔ باپ نے جواب دیا کہ ابراھیم (‏علیہ السلام) کیا تو میرے معبودوں سے ناراض ہے؟ سن اگر تو اس سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ پس اب تو مجھ سے الگ ہو جا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا، اچھا میرا سلام لو۔ میں اب بھی اپنے پروردگار سے تمہاری معافی کی درخواست کروں گا۔ وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔ میں تم سب کو اور تمہارے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا ہیں، چھوڑتا ہوں۔ اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوتا ہوں۔ ناممکن ہے کہ میں اس کی عبادت بھی کروں اور پھر بے نصیب اور خالی ہاتھ رہوں۔

چنانچہ حسبِ وعدہ خلیل اللہ علیہ السلام اپنے والد کی زندگی تک استغفار کرتے رہے لیکن جبکہ مرتے ہوئے بھی وہ شرک سے باز نہ آئے تو آپ علیہ السلام نے استغفار بند کر دیا اور بیزار ہوگئے۔

صفحہ نمبر2657

چنانچہ قرآن کریم میں ہے «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» [9-التوبة:114] ‏ ” ابراھیم علیہ السلام کا پنے باپ کے لیے استغفار کرنا ایک وعدے کی بناء پر تھا -پھر جب ان پر یہ بات ظاہر ہو گئی کہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے محض بے تعلق ہو گئے و اقعی ابراہیم علیہ السلام بڑے نرم دل اور بردبار تھے “ -

حدیث صحیح میں ہے قیامت کے روز ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ سے ملیں گے تو آزر ان سے کہے گا اے بیٹے! آج میں تمہاری نافرمانی نہ کروں گا تو ابراہیم علیہ السلام اپنے رب سے عرض کریں گے کہ اے رب! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہ فرمایا تھا کہ مجھے قیامت کے دن ذلیل نہ کرے گا۔ اورآج میرے لئے اس سے بڑی اور کون سی رسوائی ہو سکتی ہے کہ میرا باپ اس حال میں ہے تو ارشاد فرمایا جائے گا کہ ” اے ابراہیم! تم اپنے پیچھے دیکھو تو “ وہ اپنے باپ کو دیکھنے کی بجائے ایک بجو کو دیکھیں گے، جو کیچڑ میں لتھڑا ہوا ہے اور اس کی ٹانگیں پکڑ کر اس کو دوزخ کی طرف کھینچ کر لے جایا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:3350] ‏

” مخلوق کو دیکھ کر خالق کی وحدانیت سمجھ میں آ جائے اس لیے ہم نے ابراھیم علیہ السلام کو آسمان و زمین کی مخلوق دکھادی “ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَنظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ» [7-الأعراف:185] ‏ اور جگہ ہے «أَفَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاءِ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ» [34-سبأ:9] ‏۔ یعنی ” کیا پس وہ اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو دیکھ نہیں رہے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں یقیناً اس میں پوری دلیل ہے ہر اس بندے کے لیے جو (‏دل سے) متوجہ ہو “۔ ‏

صفحہ نمبر2658

ابن جریر رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ ”ابراہیم علیہ السلام کی نگاہوں کے سامنے آسمان پھٹ گئے تھے اور ابراہیم علیہ السلام آسمان کی سب چیزوں کو دیکھ رہے تھے۔ یہاں تک کہ ان کی نظر عرش تک پہنچی اور ساتوں زمینیں ان کے لیے کھل گئیں اور وہ زمین کے اندر کی چیزیں دیکھنے لگے۔‏“

بعض نے اس مضمون کا بھی اضافہ کیا ہے کہ ”وہ لوگوں کے معاص کو بھی دیکھنے لگے تھے اور ان گنہگاروں پر بد دعا کرنے لگے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” نہیں اے ابراہیم (‏علیہ السلام)! میں تم سے زیادہ اپنے بندوں پر کریم ہوں کیا عجب کہ بعد کو وہ توبہ کر لیں اور رجوع کر لیں “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کے بارے میں کہتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنی قدرت سے آسمان و زمین کی چھپی ہوئی اور علانیہ ساری چیزیں دکھلا دیں ان میں کچھ بھی چھپا نہ رہا۔ اور جب وہ اصحاب گناہ پر لعن کر رہے تھے تو فرمایا کہ ” ایسا نہیں اور ان کی بد دعا کو رد کر دیا “۔ پھر وہ حسب سابق ہو گئے۔‏“

اس لیے محتمل ہے کہ ان کی نگاہوں پر سے پردہ ہٹ گیا ہو جہاں ان کے لیے عیاں ہو گیا ہو۔ اور یہ بھی محتمل ہے کہ اس کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی حکمت باہرہ اور دلالت قاطعہ کو معلوم کر لیا ہو۔ جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ اور امام ترمذی رحمہ اللہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب مروی ہے کہ عالم خواب میں اللہ تعالیٰ ایک بہترین شکل میں میرے پاس آیا اور فرمانے لگا اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) املا اعلیٰ میں کیا بحث ہو رہی ہے؟ “ میں نے کہا یا رب میں نہیں جانتا تو اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دیا کہ اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک میں پنے سینے میں پانے لگا۔ پھر تو تمام چیزیں میرے سامنے کھل گئیں اور میں نے اسے پہچان لیا ۔ [سنن ترمذي:3235،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

«وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ» میں «وَلِيَكُونَ» کا واؤ زائد ہے۔ اس کی تقدیر یوں ہوئی کہ «وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ لِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ» [6-الأنعام:75] ‏ یعنی بغیر واؤ کے جیسے کہ اس آیت «(‏وَكَذَلِكَ) نُفَصِّلُ الْآيَاتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ» [6-الأنعام:55] ‏ میں۔ اس میں «الْآيَاتِ» کے بعد واؤ زائد ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زائد نہیں ہے بلکہ سابقہ بات کی بنیاد پر بات کو اٹھایا گیا ہے۔ یعنی ” ہم نے اس پر ملکوت ظاہر کر دیا تاکہ وہ دیکھے اور یقین بھی کرلے “۔ یہ سب بطور مناظرہ کے تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دوسری بات ہی مروی ہے۔

صفحہ نمبر2659

ابن جریر میں بھی اسی کو پسند کیا گیا ہے، اس کی دلیل میں آپ رحمہ اللہ کا یہ قول لاتے ہیں کہ ”اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں گمراہ میں ہو جاتا“ -

امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ نے ایک لمبا قصہ نقل کیا ہے جس میں ہے: نمرود بن کنعان بادشاہ سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں تیرا تخت تارج ہو گا تو اس نے حکم دے دیا تھا کہ اس سال میری مملکت میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کر دیئے جائیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی والدہ نے جب یہ سنا تو کجھ وقت قبل شہر کے باہر ایک غار میں چلی گئیں، وہیں خلیل اللہ علیہ السلام پیدا ہوئے، تو جب آپ علیہ السلام اس غار سے باہر نکلے تب آپ علیہ السلام نے یہ سب فرمایا تھا جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ بالکل صحیح بات یہ ہے کہ یہ گفتگو اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی مناظرانہ تھی اپنی قوم کی باطل پرستی کا احوال اللہ کو سمجھا رہے تھے، اول تو آپ علیہ السلام نے اپنے والد کی خطا ظاہر کی کہ وہ زمین کے ان بتوں کی پوجا کرتے تھے جنہیں انہوں نے فرشتوں وغیرہ کی شکل پر بنا لیا تھا اور جنہیں وہ سفارشی سمجھ رہے تھے۔ یہ لوگ بزعم خود اپنے آپ کو اس قابل نہیں جانتے تھے کہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ اس لیے بطور وسیلے کے فرشتوں کو پوجتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے بارے میں کہہ سن کر ان کی روزی وغیرہ بڑھوا دیں اور ان کی حاجتیں پوری کرا دیں پھر جن آسمانی چیزوں کو یہ پوجتے تھے ان میں ان کی خطا بیان کی۔ یہ ستارہ پرست بھی تھے ساتوں ستاروں کو جو چلنے پھرنے والے ہیں۔ پوجتے تھے، چاند، عطارد، زہرہ، سورج، مریخ، مستری، زحل۔ ان کے نزدیک سب سے زیادہ روشن سورج ہے، پھر چاند پھر زہرہ پس آپ علیہ السلام نے ادنیٰ سے شروع کیا اور اعلیٰ تک لے گئے۔ پہلے تو زہرہ کی نسبت فرمایا کہ وہ پوجا کے قابل نہیں کیونکہ یہ دوسرے کے قابو میں ہیں یہ مقررہ چال سے چلتا اور مقررہ جگہ پر چلتا ہے دائیں بائیں ذرا بھی کھسک نہیں سکتا۔ تو جبکہ وہ خود بے شمار چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔ اس میں روشنی بھی اللہ کی دی ہوئی ہے یہ مشرق سے نکلتا ہے پھر چلتا پھرتا رہتا ہے اور ڈوب جاتا ہےپھر دوسری رات اسی طرح ظاہر ہوتا ہے تو ایسی چیز معبود ہونے کی صلاحیت کیا رکھتی ہے؟

صفحہ نمبر2660

پھر اس سے زیادہ روشن چیز یعنی چاند کو دیکھتے ہیں اور اس کو بھی عبادت کے قابل نہ ہونا ظاہر فرما کر پھر سورج کو لیا اور اس کی مجبوری اور اس کی غلامی اور مسکینی کا اظہار کیا اور کہا کہ ”لوگو میں تمہارے ان شرکاء سے، ان کی عبادت سے، ان کی عقیدت سے، ان کی محبت سے دور ہوں -سنو اگر یہ سچے معبود ہیں اور کچھ قدرت رکھتے ہیں تو ان سب کو ملا لو اور جو تم سب سے ہو سکے میرے خلاف کر لو۔ میں تو اس اللہ کا عابد ہوں جو ان مصنوعات کا صانع جو ان مخلوقات کا خالق ہے جو ہر چیز کا مالک رب اور سچا معبود ہے۔‏“

جیسے قرآنی ارشاد ہے: «إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ السَمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ» [7-الأعراف:54] ‏ ” تمہارا رب صرف وہی ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا رات کو دن سے دن کو رات سے ڈھانپتا ہے ایک دوسرے کے برابر پیچھے جا آ رہا ہے سورج چاند اور تارے سب اس کے فرمان کے تحت ہیں خلق و امر اسی کی ملکیت میں ہیں وہ رب العالمین ہے بڑی برکتوں والا ہے “۔

یہ تو بالکل ناممکن سا معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ سلام کے یہ سب فرمان بطور واقعہ کے ہوں اور حقیقت میں آپ علیہ السلام اللہ کو پہچانتے ہی نہ ہوں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَـلِمِينَ ـ إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَـذِهِ التَّمَـثِيلُ الَّتِى أَنتُمْ لَهَا عَـكِفُونَ» [21-الأنبياء:51-52] ‏ ” ہم نے پہلے سے ابراہیم کو سیدھا راستہ دے دیا تھا اور ہم اس سے خوب واقف تھے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا یہ صورتیں کیا ہیں جن کی تم پرستش اور مجاورت کر رہے ہو؟ “

اور آیت میں ہے: «‏إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ شَاكِرًا لِأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:120-123] ‏ ” بیشک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور ایک طرفہ مخلص تھے۔ وہ مشرکوں میں نہ تھے۔ ‏ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں اپنا برگزیدہ کر لیا تھا اور انہیں راہ راست سمجھا دی تھی۔ ‏ ہم نے اس دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور بیشک وہ آخرت میں بھی نیکو کاروں میں ہیں۔ ‏ پھر ہم نے آپ کی جانب وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کریں، جو مشرکوں میں سے نہ تھے “۔ ‏

صفحہ نمبر2661

بخاری و مسلم میں ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے - [صحیح بخاری:4775] ‏

صحیح مسلم کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا ہے ۔ [صحیح مسلم:2865] ‏

کتاب اللہ میں ہے: «فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ» [30-الروم:30] ‏ ” اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فطرت اللہ پر پیدا کیا ہے، اللہ کی خلق کی تبدیلی نہیں “

اور آیت میں ہے: «وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى» [ 7-الأعراف: 172 ] ‏ ” اور جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں “۔ پس یہی فطرت اللہ ہے جیسے کہ اس کا ثبوت عنقریب آئے گا ان شاءاللہ۔

پس جبکہ تمام مخلوق کی پیدائش دین اسلام پر اللہ کی سچی توحید پر ہے تو ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جن کی توحید اور اللہ پرستی کا ثنا خواں خود کلام رحمن ہے ان کی نسبت کون کہہ سکتا ہے کہ آپ علیہ السلام اللہ جل شانہ سے آگاہ نہ تھے اور کبھی تارے کو اور کبھی چاند سورج کو اپنا اللہ سمجھ رہے تھے۔ نہیں نہیں آپ علیہ السلام کی فطرت سالم تھی آپ علیہ السلام کی عقل صحیح تھی آپ علیہ السلام اللہ کے سچے دین پر اور خالص توحید پر تھے۔ آپ علیہ السلام کا یہ تمام کلام بحیثیت مناظرہ تھا اور اس کی زبردست دلیل اس کے بعد کی آیت ہے۔

صفحہ نمبر2662

ابراہیم علیہ السلام اور آزر میں مکالمہ ٭٭

حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”ابراہیم علیہم السلام کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا۔ آزر سے مراد بت ہے۔ آپ علیہ السلام کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا۔ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کا نام ہاجرہ رضی اللہ عنہا تھا یہ ابراہیم علیہ السلام کی سریہ تھیں۔‏“

علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ علیہ السلام کے والد کا نام تارخ تھا۔ مجاہد اور سدی رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم ابراہیم علیہ السلام کے والد تھے ہو سکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہو گیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب گیری کے استعمال کیا جاتا تھا اس کے معنی ٹیڑھے آدمی کے ہیں۔ لیکن اس کلام کی سند نہیں نہ امام صاحب نے اسے کسی سے نقل کیا ہے۔

صفحہ نمبر2655

سلیمان رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس کے معنی ٹیڑھے پن کے ہیں اور یہی سب سے سخت لفظ ہے جو خلیل اللہ علیہ السلام کی زبان سے نکلا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ٹھیک بات یہی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام آزر تھا اور یہ جو عام تاریخ داں کہتے ہیں کہ ان کا نام تارخ تھا اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے دونوں نام ہوں یا ایک تو نام ہو اور دوسرا لقب ہو۔ بات تو یہ ٹھیک اور نہایت قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

«آزَر» اور «آزُر» دونوں قرأتیں ہیں پچھلی قرأت یعنی راء کے زبر کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ پیش والی قرأت میں ندا کی وجہ سے پیش ہے اور زبر والی قرأت «لِأَبِيهِ» سے بدل ہونے کی ہے اور ممکن ہے کہ عطف بیان ہو اور یہی زیادہ مشابہ ہے۔ یہ لفظ علمیت اور عجمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے بعض لوگ اسے صفت بتلاتے ہیں اس بنا پر بھی یہ غیر منصرف رہے گا جیسے احمر اور اسود۔

صفحہ نمبر2656

بعض اسے «أَتَتَّخِذُ» کا معمول مان کر منصوب کہتے ہیں -گویا ابراہیم علیہ السلام یوں فرماتے کہ ”اے باپ، کیا آپ آزر بت کو معبود مانتے ہیں؟“ لیکن یہ دور کی بات ہے -خلاف لغت ہے کیونکہ حرف اتفہام کے بعد الا پنے سے پہلے میں عامل نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اس کے لیے ابتداء کلام کا حق ہے۔ عربی کا یہ تو مشہور قاعدہ ہے۔

الغرض ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام اپنے باپ کو وعظ سنا رہے ہیں اور انہیں بت پرستی سے روک رہے ہیں لیکن وہ باز نہ آئے۔ آیت میں ہے کہ «وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا يَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ عَصِيًّا يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَـٰنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَىٰ أَلَّا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا» [19-مريم:41-48] ‏ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ تو نہایت بری بات ہے کہ تم ایک بت کے سامنے الحاج اور عاجزی کرو جو اللہ کا حق ہے۔ یقیناً اس مسلک کے لوگ سب کے سب بہکے ہوئے اور راہ بھٹکے ہوئے ہیں۔

اور آیت میں کہ صدیق نبی ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنے والد سے فرمایا، ابا آپ ان کی پرستش کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کچھ فائدہ پہنچائیں۔ ابا میں آپ کو وہ کھری بات سناتا ہوں جو اب تک آپ کے علم میں نہیں آئی تھی۔ اپ میری بات مان لیجئے۔ میں آپ کو صحیح راہ کی رہنمائی کروں گا۔ ابا شیطان کی عبادت سے ہٹ جائیے۔ وہ تو رحمن کا نافرمان ہے۔ ابا مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو آپ پر اللہ کا کوئی عذاب آ جائے اور آپ شیطان کے رفیق کار بن جائیں۔ باپ نے جواب دیا کہ ابراھیم (‏علیہ السلام) کیا تو میرے معبودوں سے ناراض ہے؟ سن اگر تو اس سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ پس اب تو مجھ سے الگ ہو جا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا، اچھا میرا سلام لو۔ میں اب بھی اپنے پروردگار سے تمہاری معافی کی درخواست کروں گا۔ وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔ میں تم سب کو اور تمہارے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا ہیں، چھوڑتا ہوں۔ اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوتا ہوں۔ ناممکن ہے کہ میں اس کی عبادت بھی کروں اور پھر بے نصیب اور خالی ہاتھ رہوں۔

چنانچہ حسبِ وعدہ خلیل اللہ علیہ السلام اپنے والد کی زندگی تک استغفار کرتے رہے لیکن جبکہ مرتے ہوئے بھی وہ شرک سے باز نہ آئے تو آپ علیہ السلام نے استغفار بند کر دیا اور بیزار ہوگئے۔

صفحہ نمبر2657

چنانچہ قرآن کریم میں ہے «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» [9-التوبة:114] ‏ ” ابراھیم علیہ السلام کا پنے باپ کے لیے استغفار کرنا ایک وعدے کی بناء پر تھا -پھر جب ان پر یہ بات ظاہر ہو گئی کہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے محض بے تعلق ہو گئے و اقعی ابراہیم علیہ السلام بڑے نرم دل اور بردبار تھے “ -

حدیث صحیح میں ہے قیامت کے روز ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ سے ملیں گے تو آزر ان سے کہے گا اے بیٹے! آج میں تمہاری نافرمانی نہ کروں گا تو ابراہیم علیہ السلام اپنے رب سے عرض کریں گے کہ اے رب! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہ فرمایا تھا کہ مجھے قیامت کے دن ذلیل نہ کرے گا۔ اورآج میرے لئے اس سے بڑی اور کون سی رسوائی ہو سکتی ہے کہ میرا باپ اس حال میں ہے تو ارشاد فرمایا جائے گا کہ ” اے ابراہیم! تم اپنے پیچھے دیکھو تو “ وہ اپنے باپ کو دیکھنے کی بجائے ایک بجو کو دیکھیں گے، جو کیچڑ میں لتھڑا ہوا ہے اور اس کی ٹانگیں پکڑ کر اس کو دوزخ کی طرف کھینچ کر لے جایا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:3350] ‏

” مخلوق کو دیکھ کر خالق کی وحدانیت سمجھ میں آ جائے اس لیے ہم نے ابراھیم علیہ السلام کو آسمان و زمین کی مخلوق دکھادی “ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَنظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ» [7-الأعراف:185] ‏ اور جگہ ہے «أَفَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاءِ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ» [34-سبأ:9] ‏۔ یعنی ” کیا پس وہ اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو دیکھ نہیں رہے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں یقیناً اس میں پوری دلیل ہے ہر اس بندے کے لیے جو (‏دل سے) متوجہ ہو “۔ ‏

صفحہ نمبر2658

ابن جریر رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ ”ابراہیم علیہ السلام کی نگاہوں کے سامنے آسمان پھٹ گئے تھے اور ابراہیم علیہ السلام آسمان کی سب چیزوں کو دیکھ رہے تھے۔ یہاں تک کہ ان کی نظر عرش تک پہنچی اور ساتوں زمینیں ان کے لیے کھل گئیں اور وہ زمین کے اندر کی چیزیں دیکھنے لگے۔‏“

بعض نے اس مضمون کا بھی اضافہ کیا ہے کہ ”وہ لوگوں کے معاص کو بھی دیکھنے لگے تھے اور ان گنہگاروں پر بد دعا کرنے لگے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” نہیں اے ابراہیم (‏علیہ السلام)! میں تم سے زیادہ اپنے بندوں پر کریم ہوں کیا عجب کہ بعد کو وہ توبہ کر لیں اور رجوع کر لیں “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کے بارے میں کہتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنی قدرت سے آسمان و زمین کی چھپی ہوئی اور علانیہ ساری چیزیں دکھلا دیں ان میں کچھ بھی چھپا نہ رہا۔ اور جب وہ اصحاب گناہ پر لعن کر رہے تھے تو فرمایا کہ ” ایسا نہیں اور ان کی بد دعا کو رد کر دیا “۔ پھر وہ حسب سابق ہو گئے۔‏“

اس لیے محتمل ہے کہ ان کی نگاہوں پر سے پردہ ہٹ گیا ہو جہاں ان کے لیے عیاں ہو گیا ہو۔ اور یہ بھی محتمل ہے کہ اس کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی حکمت باہرہ اور دلالت قاطعہ کو معلوم کر لیا ہو۔ جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ اور امام ترمذی رحمہ اللہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب مروی ہے کہ عالم خواب میں اللہ تعالیٰ ایک بہترین شکل میں میرے پاس آیا اور فرمانے لگا اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) املا اعلیٰ میں کیا بحث ہو رہی ہے؟ “ میں نے کہا یا رب میں نہیں جانتا تو اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دیا کہ اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک میں پنے سینے میں پانے لگا۔ پھر تو تمام چیزیں میرے سامنے کھل گئیں اور میں نے اسے پہچان لیا ۔ [سنن ترمذي:3235،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

«وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ» میں «وَلِيَكُونَ» کا واؤ زائد ہے۔ اس کی تقدیر یوں ہوئی کہ «وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ لِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ» [6-الأنعام:75] ‏ یعنی بغیر واؤ کے جیسے کہ اس آیت «(‏وَكَذَلِكَ) نُفَصِّلُ الْآيَاتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ» [6-الأنعام:55] ‏ میں۔ اس میں «الْآيَاتِ» کے بعد واؤ زائد ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زائد نہیں ہے بلکہ سابقہ بات کی بنیاد پر بات کو اٹھایا گیا ہے۔ یعنی ” ہم نے اس پر ملکوت ظاہر کر دیا تاکہ وہ دیکھے اور یقین بھی کرلے “۔ یہ سب بطور مناظرہ کے تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دوسری بات ہی مروی ہے۔

صفحہ نمبر2659

ابن جریر میں بھی اسی کو پسند کیا گیا ہے، اس کی دلیل میں آپ رحمہ اللہ کا یہ قول لاتے ہیں کہ ”اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں گمراہ میں ہو جاتا“ -

امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ نے ایک لمبا قصہ نقل کیا ہے جس میں ہے: نمرود بن کنعان بادشاہ سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں تیرا تخت تارج ہو گا تو اس نے حکم دے دیا تھا کہ اس سال میری مملکت میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کر دیئے جائیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی والدہ نے جب یہ سنا تو کجھ وقت قبل شہر کے باہر ایک غار میں چلی گئیں، وہیں خلیل اللہ علیہ السلام پیدا ہوئے، تو جب آپ علیہ السلام اس غار سے باہر نکلے تب آپ علیہ السلام نے یہ سب فرمایا تھا جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ بالکل صحیح بات یہ ہے کہ یہ گفتگو اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی مناظرانہ تھی اپنی قوم کی باطل پرستی کا احوال اللہ کو سمجھا رہے تھے، اول تو آپ علیہ السلام نے اپنے والد کی خطا ظاہر کی کہ وہ زمین کے ان بتوں کی پوجا کرتے تھے جنہیں انہوں نے فرشتوں وغیرہ کی شکل پر بنا لیا تھا اور جنہیں وہ سفارشی سمجھ رہے تھے۔ یہ لوگ بزعم خود اپنے آپ کو اس قابل نہیں جانتے تھے کہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ اس لیے بطور وسیلے کے فرشتوں کو پوجتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے بارے میں کہہ سن کر ان کی روزی وغیرہ بڑھوا دیں اور ان کی حاجتیں پوری کرا دیں پھر جن آسمانی چیزوں کو یہ پوجتے تھے ان میں ان کی خطا بیان کی۔ یہ ستارہ پرست بھی تھے ساتوں ستاروں کو جو چلنے پھرنے والے ہیں۔ پوجتے تھے، چاند، عطارد، زہرہ، سورج، مریخ، مستری، زحل۔ ان کے نزدیک سب سے زیادہ روشن سورج ہے، پھر چاند پھر زہرہ پس آپ علیہ السلام نے ادنیٰ سے شروع کیا اور اعلیٰ تک لے گئے۔ پہلے تو زہرہ کی نسبت فرمایا کہ وہ پوجا کے قابل نہیں کیونکہ یہ دوسرے کے قابو میں ہیں یہ مقررہ چال سے چلتا اور مقررہ جگہ پر چلتا ہے دائیں بائیں ذرا بھی کھسک نہیں سکتا۔ تو جبکہ وہ خود بے شمار چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔ اس میں روشنی بھی اللہ کی دی ہوئی ہے یہ مشرق سے نکلتا ہے پھر چلتا پھرتا رہتا ہے اور ڈوب جاتا ہےپھر دوسری رات اسی طرح ظاہر ہوتا ہے تو ایسی چیز معبود ہونے کی صلاحیت کیا رکھتی ہے؟

صفحہ نمبر2660

پھر اس سے زیادہ روشن چیز یعنی چاند کو دیکھتے ہیں اور اس کو بھی عبادت کے قابل نہ ہونا ظاہر فرما کر پھر سورج کو لیا اور اس کی مجبوری اور اس کی غلامی اور مسکینی کا اظہار کیا اور کہا کہ ”لوگو میں تمہارے ان شرکاء سے، ان کی عبادت سے، ان کی عقیدت سے، ان کی محبت سے دور ہوں -سنو اگر یہ سچے معبود ہیں اور کچھ قدرت رکھتے ہیں تو ان سب کو ملا لو اور جو تم سب سے ہو سکے میرے خلاف کر لو۔ میں تو اس اللہ کا عابد ہوں جو ان مصنوعات کا صانع جو ان مخلوقات کا خالق ہے جو ہر چیز کا مالک رب اور سچا معبود ہے۔‏“

جیسے قرآنی ارشاد ہے: «إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ السَمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ» [7-الأعراف:54] ‏ ” تمہارا رب صرف وہی ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا رات کو دن سے دن کو رات سے ڈھانپتا ہے ایک دوسرے کے برابر پیچھے جا آ رہا ہے سورج چاند اور تارے سب اس کے فرمان کے تحت ہیں خلق و امر اسی کی ملکیت میں ہیں وہ رب العالمین ہے بڑی برکتوں والا ہے “۔

یہ تو بالکل ناممکن سا معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ سلام کے یہ سب فرمان بطور واقعہ کے ہوں اور حقیقت میں آپ علیہ السلام اللہ کو پہچانتے ہی نہ ہوں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَـلِمِينَ ـ إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَـذِهِ التَّمَـثِيلُ الَّتِى أَنتُمْ لَهَا عَـكِفُونَ» [21-الأنبياء:51-52] ‏ ” ہم نے پہلے سے ابراہیم کو سیدھا راستہ دے دیا تھا اور ہم اس سے خوب واقف تھے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا یہ صورتیں کیا ہیں جن کی تم پرستش اور مجاورت کر رہے ہو؟ “

اور آیت میں ہے: «‏إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ شَاكِرًا لِأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:120-123] ‏ ” بیشک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور ایک طرفہ مخلص تھے۔ وہ مشرکوں میں نہ تھے۔ ‏ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں اپنا برگزیدہ کر لیا تھا اور انہیں راہ راست سمجھا دی تھی۔ ‏ ہم نے اس دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور بیشک وہ آخرت میں بھی نیکو کاروں میں ہیں۔ ‏ پھر ہم نے آپ کی جانب وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کریں، جو مشرکوں میں سے نہ تھے “۔ ‏

صفحہ نمبر2661

بخاری و مسلم میں ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے - [صحیح بخاری:4775] ‏

صحیح مسلم کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا ہے ۔ [صحیح مسلم:2865] ‏

کتاب اللہ میں ہے: «فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ» [30-الروم:30] ‏ ” اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فطرت اللہ پر پیدا کیا ہے، اللہ کی خلق کی تبدیلی نہیں “

اور آیت میں ہے: «وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى» [ 7-الأعراف: 172 ] ‏ ” اور جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں “۔ پس یہی فطرت اللہ ہے جیسے کہ اس کا ثبوت عنقریب آئے گا ان شاءاللہ۔

پس جبکہ تمام مخلوق کی پیدائش دین اسلام پر اللہ کی سچی توحید پر ہے تو ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جن کی توحید اور اللہ پرستی کا ثنا خواں خود کلام رحمن ہے ان کی نسبت کون کہہ سکتا ہے کہ آپ علیہ السلام اللہ جل شانہ سے آگاہ نہ تھے اور کبھی تارے کو اور کبھی چاند سورج کو اپنا اللہ سمجھ رہے تھے۔ نہیں نہیں آپ علیہ السلام کی فطرت سالم تھی آپ علیہ السلام کی عقل صحیح تھی آپ علیہ السلام اللہ کے سچے دین پر اور خالص توحید پر تھے۔ آپ علیہ السلام کا یہ تمام کلام بحیثیت مناظرہ تھا اور اس کی زبردست دلیل اس کے بعد کی آیت ہے۔

صفحہ نمبر2662

ابراہیم علیہ السلام اور آزر میں مکالمہ ٭٭

حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”ابراہیم علیہم السلام کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا۔ آزر سے مراد بت ہے۔ آپ علیہ السلام کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا۔ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کا نام ہاجرہ رضی اللہ عنہا تھا یہ ابراہیم علیہ السلام کی سریہ تھیں۔‏“

علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ علیہ السلام کے والد کا نام تارخ تھا۔ مجاہد اور سدی رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم ابراہیم علیہ السلام کے والد تھے ہو سکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہو گیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب گیری کے استعمال کیا جاتا تھا اس کے معنی ٹیڑھے آدمی کے ہیں۔ لیکن اس کلام کی سند نہیں نہ امام صاحب نے اسے کسی سے نقل کیا ہے۔

صفحہ نمبر2655

سلیمان رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس کے معنی ٹیڑھے پن کے ہیں اور یہی سب سے سخت لفظ ہے جو خلیل اللہ علیہ السلام کی زبان سے نکلا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ٹھیک بات یہی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام آزر تھا اور یہ جو عام تاریخ داں کہتے ہیں کہ ان کا نام تارخ تھا اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے دونوں نام ہوں یا ایک تو نام ہو اور دوسرا لقب ہو۔ بات تو یہ ٹھیک اور نہایت قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

«آزَر» اور «آزُر» دونوں قرأتیں ہیں پچھلی قرأت یعنی راء کے زبر کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ پیش والی قرأت میں ندا کی وجہ سے پیش ہے اور زبر والی قرأت «لِأَبِيهِ» سے بدل ہونے کی ہے اور ممکن ہے کہ عطف بیان ہو اور یہی زیادہ مشابہ ہے۔ یہ لفظ علمیت اور عجمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے بعض لوگ اسے صفت بتلاتے ہیں اس بنا پر بھی یہ غیر منصرف رہے گا جیسے احمر اور اسود۔

صفحہ نمبر2656

بعض اسے «أَتَتَّخِذُ» کا معمول مان کر منصوب کہتے ہیں -گویا ابراہیم علیہ السلام یوں فرماتے کہ ”اے باپ، کیا آپ آزر بت کو معبود مانتے ہیں؟“ لیکن یہ دور کی بات ہے -خلاف لغت ہے کیونکہ حرف اتفہام کے بعد الا پنے سے پہلے میں عامل نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اس کے لیے ابتداء کلام کا حق ہے۔ عربی کا یہ تو مشہور قاعدہ ہے۔

الغرض ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام اپنے باپ کو وعظ سنا رہے ہیں اور انہیں بت پرستی سے روک رہے ہیں لیکن وہ باز نہ آئے۔ آیت میں ہے کہ «وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا يَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ عَصِيًّا يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَـٰنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَىٰ أَلَّا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا» [19-مريم:41-48] ‏ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ تو نہایت بری بات ہے کہ تم ایک بت کے سامنے الحاج اور عاجزی کرو جو اللہ کا حق ہے۔ یقیناً اس مسلک کے لوگ سب کے سب بہکے ہوئے اور راہ بھٹکے ہوئے ہیں۔

اور آیت میں کہ صدیق نبی ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنے والد سے فرمایا، ابا آپ ان کی پرستش کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کچھ فائدہ پہنچائیں۔ ابا میں آپ کو وہ کھری بات سناتا ہوں جو اب تک آپ کے علم میں نہیں آئی تھی۔ اپ میری بات مان لیجئے۔ میں آپ کو صحیح راہ کی رہنمائی کروں گا۔ ابا شیطان کی عبادت سے ہٹ جائیے۔ وہ تو رحمن کا نافرمان ہے۔ ابا مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو آپ پر اللہ کا کوئی عذاب آ جائے اور آپ شیطان کے رفیق کار بن جائیں۔ باپ نے جواب دیا کہ ابراھیم (‏علیہ السلام) کیا تو میرے معبودوں سے ناراض ہے؟ سن اگر تو اس سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ پس اب تو مجھ سے الگ ہو جا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا، اچھا میرا سلام لو۔ میں اب بھی اپنے پروردگار سے تمہاری معافی کی درخواست کروں گا۔ وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔ میں تم سب کو اور تمہارے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا ہیں، چھوڑتا ہوں۔ اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوتا ہوں۔ ناممکن ہے کہ میں اس کی عبادت بھی کروں اور پھر بے نصیب اور خالی ہاتھ رہوں۔

چنانچہ حسبِ وعدہ خلیل اللہ علیہ السلام اپنے والد کی زندگی تک استغفار کرتے رہے لیکن جبکہ مرتے ہوئے بھی وہ شرک سے باز نہ آئے تو آپ علیہ السلام نے استغفار بند کر دیا اور بیزار ہوگئے۔

صفحہ نمبر2657

چنانچہ قرآن کریم میں ہے «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» [9-التوبة:114] ‏ ” ابراھیم علیہ السلام کا پنے باپ کے لیے استغفار کرنا ایک وعدے کی بناء پر تھا -پھر جب ان پر یہ بات ظاہر ہو گئی کہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے محض بے تعلق ہو گئے و اقعی ابراہیم علیہ السلام بڑے نرم دل اور بردبار تھے “ -

حدیث صحیح میں ہے قیامت کے روز ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ سے ملیں گے تو آزر ان سے کہے گا اے بیٹے! آج میں تمہاری نافرمانی نہ کروں گا تو ابراہیم علیہ السلام اپنے رب سے عرض کریں گے کہ اے رب! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہ فرمایا تھا کہ مجھے قیامت کے دن ذلیل نہ کرے گا۔ اورآج میرے لئے اس سے بڑی اور کون سی رسوائی ہو سکتی ہے کہ میرا باپ اس حال میں ہے تو ارشاد فرمایا جائے گا کہ ” اے ابراہیم! تم اپنے پیچھے دیکھو تو “ وہ اپنے باپ کو دیکھنے کی بجائے ایک بجو کو دیکھیں گے، جو کیچڑ میں لتھڑا ہوا ہے اور اس کی ٹانگیں پکڑ کر اس کو دوزخ کی طرف کھینچ کر لے جایا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:3350] ‏

” مخلوق کو دیکھ کر خالق کی وحدانیت سمجھ میں آ جائے اس لیے ہم نے ابراھیم علیہ السلام کو آسمان و زمین کی مخلوق دکھادی “ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَنظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ» [7-الأعراف:185] ‏ اور جگہ ہے «أَفَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاءِ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ» [34-سبأ:9] ‏۔ یعنی ” کیا پس وہ اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو دیکھ نہیں رہے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں یقیناً اس میں پوری دلیل ہے ہر اس بندے کے لیے جو (‏دل سے) متوجہ ہو “۔ ‏

صفحہ نمبر2658

ابن جریر رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ ”ابراہیم علیہ السلام کی نگاہوں کے سامنے آسمان پھٹ گئے تھے اور ابراہیم علیہ السلام آسمان کی سب چیزوں کو دیکھ رہے تھے۔ یہاں تک کہ ان کی نظر عرش تک پہنچی اور ساتوں زمینیں ان کے لیے کھل گئیں اور وہ زمین کے اندر کی چیزیں دیکھنے لگے۔‏“

بعض نے اس مضمون کا بھی اضافہ کیا ہے کہ ”وہ لوگوں کے معاص کو بھی دیکھنے لگے تھے اور ان گنہگاروں پر بد دعا کرنے لگے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” نہیں اے ابراہیم (‏علیہ السلام)! میں تم سے زیادہ اپنے بندوں پر کریم ہوں کیا عجب کہ بعد کو وہ توبہ کر لیں اور رجوع کر لیں “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کے بارے میں کہتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنی قدرت سے آسمان و زمین کی چھپی ہوئی اور علانیہ ساری چیزیں دکھلا دیں ان میں کچھ بھی چھپا نہ رہا۔ اور جب وہ اصحاب گناہ پر لعن کر رہے تھے تو فرمایا کہ ” ایسا نہیں اور ان کی بد دعا کو رد کر دیا “۔ پھر وہ حسب سابق ہو گئے۔‏“

اس لیے محتمل ہے کہ ان کی نگاہوں پر سے پردہ ہٹ گیا ہو جہاں ان کے لیے عیاں ہو گیا ہو۔ اور یہ بھی محتمل ہے کہ اس کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی حکمت باہرہ اور دلالت قاطعہ کو معلوم کر لیا ہو۔ جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ اور امام ترمذی رحمہ اللہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب مروی ہے کہ عالم خواب میں اللہ تعالیٰ ایک بہترین شکل میں میرے پاس آیا اور فرمانے لگا اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) املا اعلیٰ میں کیا بحث ہو رہی ہے؟ “ میں نے کہا یا رب میں نہیں جانتا تو اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دیا کہ اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک میں پنے سینے میں پانے لگا۔ پھر تو تمام چیزیں میرے سامنے کھل گئیں اور میں نے اسے پہچان لیا ۔ [سنن ترمذي:3235،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

«وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ» میں «وَلِيَكُونَ» کا واؤ زائد ہے۔ اس کی تقدیر یوں ہوئی کہ «وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ لِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ» [6-الأنعام:75] ‏ یعنی بغیر واؤ کے جیسے کہ اس آیت «(‏وَكَذَلِكَ) نُفَصِّلُ الْآيَاتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ» [6-الأنعام:55] ‏ میں۔ اس میں «الْآيَاتِ» کے بعد واؤ زائد ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زائد نہیں ہے بلکہ سابقہ بات کی بنیاد پر بات کو اٹھایا گیا ہے۔ یعنی ” ہم نے اس پر ملکوت ظاہر کر دیا تاکہ وہ دیکھے اور یقین بھی کرلے “۔ یہ سب بطور مناظرہ کے تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دوسری بات ہی مروی ہے۔

صفحہ نمبر2659

ابن جریر میں بھی اسی کو پسند کیا گیا ہے، اس کی دلیل میں آپ رحمہ اللہ کا یہ قول لاتے ہیں کہ ”اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں گمراہ میں ہو جاتا“ -

امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ نے ایک لمبا قصہ نقل کیا ہے جس میں ہے: نمرود بن کنعان بادشاہ سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں تیرا تخت تارج ہو گا تو اس نے حکم دے دیا تھا کہ اس سال میری مملکت میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کر دیئے جائیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی والدہ نے جب یہ سنا تو کجھ وقت قبل شہر کے باہر ایک غار میں چلی گئیں، وہیں خلیل اللہ علیہ السلام پیدا ہوئے، تو جب آپ علیہ السلام اس غار سے باہر نکلے تب آپ علیہ السلام نے یہ سب فرمایا تھا جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ بالکل صحیح بات یہ ہے کہ یہ گفتگو اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی مناظرانہ تھی اپنی قوم کی باطل پرستی کا احوال اللہ کو سمجھا رہے تھے، اول تو آپ علیہ السلام نے اپنے والد کی خطا ظاہر کی کہ وہ زمین کے ان بتوں کی پوجا کرتے تھے جنہیں انہوں نے فرشتوں وغیرہ کی شکل پر بنا لیا تھا اور جنہیں وہ سفارشی سمجھ رہے تھے۔ یہ لوگ بزعم خود اپنے آپ کو اس قابل نہیں جانتے تھے کہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ اس لیے بطور وسیلے کے فرشتوں کو پوجتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے بارے میں کہہ سن کر ان کی روزی وغیرہ بڑھوا دیں اور ان کی حاجتیں پوری کرا دیں پھر جن آسمانی چیزوں کو یہ پوجتے تھے ان میں ان کی خطا بیان کی۔ یہ ستارہ پرست بھی تھے ساتوں ستاروں کو جو چلنے پھرنے والے ہیں۔ پوجتے تھے، چاند، عطارد، زہرہ، سورج، مریخ، مستری، زحل۔ ان کے نزدیک سب سے زیادہ روشن سورج ہے، پھر چاند پھر زہرہ پس آپ علیہ السلام نے ادنیٰ سے شروع کیا اور اعلیٰ تک لے گئے۔ پہلے تو زہرہ کی نسبت فرمایا کہ وہ پوجا کے قابل نہیں کیونکہ یہ دوسرے کے قابو میں ہیں یہ مقررہ چال سے چلتا اور مقررہ جگہ پر چلتا ہے دائیں بائیں ذرا بھی کھسک نہیں سکتا۔ تو جبکہ وہ خود بے شمار چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔ اس میں روشنی بھی اللہ کی دی ہوئی ہے یہ مشرق سے نکلتا ہے پھر چلتا پھرتا رہتا ہے اور ڈوب جاتا ہےپھر دوسری رات اسی طرح ظاہر ہوتا ہے تو ایسی چیز معبود ہونے کی صلاحیت کیا رکھتی ہے؟

صفحہ نمبر2660

پھر اس سے زیادہ روشن چیز یعنی چاند کو دیکھتے ہیں اور اس کو بھی عبادت کے قابل نہ ہونا ظاہر فرما کر پھر سورج کو لیا اور اس کی مجبوری اور اس کی غلامی اور مسکینی کا اظہار کیا اور کہا کہ ”لوگو میں تمہارے ان شرکاء سے، ان کی عبادت سے، ان کی عقیدت سے، ان کی محبت سے دور ہوں -سنو اگر یہ سچے معبود ہیں اور کچھ قدرت رکھتے ہیں تو ان سب کو ملا لو اور جو تم سب سے ہو سکے میرے خلاف کر لو۔ میں تو اس اللہ کا عابد ہوں جو ان مصنوعات کا صانع جو ان مخلوقات کا خالق ہے جو ہر چیز کا مالک رب اور سچا معبود ہے۔‏“

جیسے قرآنی ارشاد ہے: «إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ السَمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ» [7-الأعراف:54] ‏ ” تمہارا رب صرف وہی ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا رات کو دن سے دن کو رات سے ڈھانپتا ہے ایک دوسرے کے برابر پیچھے جا آ رہا ہے سورج چاند اور تارے سب اس کے فرمان کے تحت ہیں خلق و امر اسی کی ملکیت میں ہیں وہ رب العالمین ہے بڑی برکتوں والا ہے “۔

یہ تو بالکل ناممکن سا معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ سلام کے یہ سب فرمان بطور واقعہ کے ہوں اور حقیقت میں آپ علیہ السلام اللہ کو پہچانتے ہی نہ ہوں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَـلِمِينَ ـ إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَـذِهِ التَّمَـثِيلُ الَّتِى أَنتُمْ لَهَا عَـكِفُونَ» [21-الأنبياء:51-52] ‏ ” ہم نے پہلے سے ابراہیم کو سیدھا راستہ دے دیا تھا اور ہم اس سے خوب واقف تھے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا یہ صورتیں کیا ہیں جن کی تم پرستش اور مجاورت کر رہے ہو؟ “

اور آیت میں ہے: «‏إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ شَاكِرًا لِأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:120-123] ‏ ” بیشک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور ایک طرفہ مخلص تھے۔ وہ مشرکوں میں نہ تھے۔ ‏ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں اپنا برگزیدہ کر لیا تھا اور انہیں راہ راست سمجھا دی تھی۔ ‏ ہم نے اس دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور بیشک وہ آخرت میں بھی نیکو کاروں میں ہیں۔ ‏ پھر ہم نے آپ کی جانب وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کریں، جو مشرکوں میں سے نہ تھے “۔ ‏

صفحہ نمبر2661

بخاری و مسلم میں ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے - [صحیح بخاری:4775] ‏

صحیح مسلم کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا ہے ۔ [صحیح مسلم:2865] ‏

کتاب اللہ میں ہے: «فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ» [30-الروم:30] ‏ ” اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فطرت اللہ پر پیدا کیا ہے، اللہ کی خلق کی تبدیلی نہیں “

اور آیت میں ہے: «وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى» [ 7-الأعراف: 172 ] ‏ ” اور جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں “۔ پس یہی فطرت اللہ ہے جیسے کہ اس کا ثبوت عنقریب آئے گا ان شاءاللہ۔

پس جبکہ تمام مخلوق کی پیدائش دین اسلام پر اللہ کی سچی توحید پر ہے تو ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جن کی توحید اور اللہ پرستی کا ثنا خواں خود کلام رحمن ہے ان کی نسبت کون کہہ سکتا ہے کہ آپ علیہ السلام اللہ جل شانہ سے آگاہ نہ تھے اور کبھی تارے کو اور کبھی چاند سورج کو اپنا اللہ سمجھ رہے تھے۔ نہیں نہیں آپ علیہ السلام کی فطرت سالم تھی آپ علیہ السلام کی عقل صحیح تھی آپ علیہ السلام اللہ کے سچے دین پر اور خالص توحید پر تھے۔ آپ علیہ السلام کا یہ تمام کلام بحیثیت مناظرہ تھا اور اس کی زبردست دلیل اس کے بعد کی آیت ہے۔

صفحہ نمبر2662

ابراہیم علیہ السلام اور آزر میں مکالمہ ٭٭

حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”ابراہیم علیہم السلام کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا۔ آزر سے مراد بت ہے۔ آپ علیہ السلام کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا۔ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کا نام ہاجرہ رضی اللہ عنہا تھا یہ ابراہیم علیہ السلام کی سریہ تھیں۔‏“

علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ علیہ السلام کے والد کا نام تارخ تھا۔ مجاہد اور سدی رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم ابراہیم علیہ السلام کے والد تھے ہو سکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہو گیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب گیری کے استعمال کیا جاتا تھا اس کے معنی ٹیڑھے آدمی کے ہیں۔ لیکن اس کلام کی سند نہیں نہ امام صاحب نے اسے کسی سے نقل کیا ہے۔

صفحہ نمبر2655

سلیمان رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس کے معنی ٹیڑھے پن کے ہیں اور یہی سب سے سخت لفظ ہے جو خلیل اللہ علیہ السلام کی زبان سے نکلا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ٹھیک بات یہی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام آزر تھا اور یہ جو عام تاریخ داں کہتے ہیں کہ ان کا نام تارخ تھا اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے دونوں نام ہوں یا ایک تو نام ہو اور دوسرا لقب ہو۔ بات تو یہ ٹھیک اور نہایت قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

«آزَر» اور «آزُر» دونوں قرأتیں ہیں پچھلی قرأت یعنی راء کے زبر کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ پیش والی قرأت میں ندا کی وجہ سے پیش ہے اور زبر والی قرأت «لِأَبِيهِ» سے بدل ہونے کی ہے اور ممکن ہے کہ عطف بیان ہو اور یہی زیادہ مشابہ ہے۔ یہ لفظ علمیت اور عجمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے بعض لوگ اسے صفت بتلاتے ہیں اس بنا پر بھی یہ غیر منصرف رہے گا جیسے احمر اور اسود۔

صفحہ نمبر2656

بعض اسے «أَتَتَّخِذُ» کا معمول مان کر منصوب کہتے ہیں -گویا ابراہیم علیہ السلام یوں فرماتے کہ ”اے باپ، کیا آپ آزر بت کو معبود مانتے ہیں؟“ لیکن یہ دور کی بات ہے -خلاف لغت ہے کیونکہ حرف اتفہام کے بعد الا پنے سے پہلے میں عامل نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اس کے لیے ابتداء کلام کا حق ہے۔ عربی کا یہ تو مشہور قاعدہ ہے۔

الغرض ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام اپنے باپ کو وعظ سنا رہے ہیں اور انہیں بت پرستی سے روک رہے ہیں لیکن وہ باز نہ آئے۔ آیت میں ہے کہ «وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا يَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ عَصِيًّا يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَـٰنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَىٰ أَلَّا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا» [19-مريم:41-48] ‏ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ تو نہایت بری بات ہے کہ تم ایک بت کے سامنے الحاج اور عاجزی کرو جو اللہ کا حق ہے۔ یقیناً اس مسلک کے لوگ سب کے سب بہکے ہوئے اور راہ بھٹکے ہوئے ہیں۔

اور آیت میں کہ صدیق نبی ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنے والد سے فرمایا، ابا آپ ان کی پرستش کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کچھ فائدہ پہنچائیں۔ ابا میں آپ کو وہ کھری بات سناتا ہوں جو اب تک آپ کے علم میں نہیں آئی تھی۔ اپ میری بات مان لیجئے۔ میں آپ کو صحیح راہ کی رہنمائی کروں گا۔ ابا شیطان کی عبادت سے ہٹ جائیے۔ وہ تو رحمن کا نافرمان ہے۔ ابا مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو آپ پر اللہ کا کوئی عذاب آ جائے اور آپ شیطان کے رفیق کار بن جائیں۔ باپ نے جواب دیا کہ ابراھیم (‏علیہ السلام) کیا تو میرے معبودوں سے ناراض ہے؟ سن اگر تو اس سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ پس اب تو مجھ سے الگ ہو جا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا، اچھا میرا سلام لو۔ میں اب بھی اپنے پروردگار سے تمہاری معافی کی درخواست کروں گا۔ وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔ میں تم سب کو اور تمہارے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا ہیں، چھوڑتا ہوں۔ اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوتا ہوں۔ ناممکن ہے کہ میں اس کی عبادت بھی کروں اور پھر بے نصیب اور خالی ہاتھ رہوں۔

چنانچہ حسبِ وعدہ خلیل اللہ علیہ السلام اپنے والد کی زندگی تک استغفار کرتے رہے لیکن جبکہ مرتے ہوئے بھی وہ شرک سے باز نہ آئے تو آپ علیہ السلام نے استغفار بند کر دیا اور بیزار ہوگئے۔

صفحہ نمبر2657

چنانچہ قرآن کریم میں ہے «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» [9-التوبة:114] ‏ ” ابراھیم علیہ السلام کا پنے باپ کے لیے استغفار کرنا ایک وعدے کی بناء پر تھا -پھر جب ان پر یہ بات ظاہر ہو گئی کہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے محض بے تعلق ہو گئے و اقعی ابراہیم علیہ السلام بڑے نرم دل اور بردبار تھے “ -

حدیث صحیح میں ہے قیامت کے روز ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ سے ملیں گے تو آزر ان سے کہے گا اے بیٹے! آج میں تمہاری نافرمانی نہ کروں گا تو ابراہیم علیہ السلام اپنے رب سے عرض کریں گے کہ اے رب! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہ فرمایا تھا کہ مجھے قیامت کے دن ذلیل نہ کرے گا۔ اورآج میرے لئے اس سے بڑی اور کون سی رسوائی ہو سکتی ہے کہ میرا باپ اس حال میں ہے تو ارشاد فرمایا جائے گا کہ ” اے ابراہیم! تم اپنے پیچھے دیکھو تو “ وہ اپنے باپ کو دیکھنے کی بجائے ایک بجو کو دیکھیں گے، جو کیچڑ میں لتھڑا ہوا ہے اور اس کی ٹانگیں پکڑ کر اس کو دوزخ کی طرف کھینچ کر لے جایا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:3350] ‏

” مخلوق کو دیکھ کر خالق کی وحدانیت سمجھ میں آ جائے اس لیے ہم نے ابراھیم علیہ السلام کو آسمان و زمین کی مخلوق دکھادی “ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَنظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ» [7-الأعراف:185] ‏ اور جگہ ہے «أَفَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاءِ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ» [34-سبأ:9] ‏۔ یعنی ” کیا پس وہ اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو دیکھ نہیں رہے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں یقیناً اس میں پوری دلیل ہے ہر اس بندے کے لیے جو (‏دل سے) متوجہ ہو “۔ ‏

صفحہ نمبر2658

ابن جریر رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ ”ابراہیم علیہ السلام کی نگاہوں کے سامنے آسمان پھٹ گئے تھے اور ابراہیم علیہ السلام آسمان کی سب چیزوں کو دیکھ رہے تھے۔ یہاں تک کہ ان کی نظر عرش تک پہنچی اور ساتوں زمینیں ان کے لیے کھل گئیں اور وہ زمین کے اندر کی چیزیں دیکھنے لگے۔‏“

بعض نے اس مضمون کا بھی اضافہ کیا ہے کہ ”وہ لوگوں کے معاص کو بھی دیکھنے لگے تھے اور ان گنہگاروں پر بد دعا کرنے لگے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” نہیں اے ابراہیم (‏علیہ السلام)! میں تم سے زیادہ اپنے بندوں پر کریم ہوں کیا عجب کہ بعد کو وہ توبہ کر لیں اور رجوع کر لیں “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کے بارے میں کہتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنی قدرت سے آسمان و زمین کی چھپی ہوئی اور علانیہ ساری چیزیں دکھلا دیں ان میں کچھ بھی چھپا نہ رہا۔ اور جب وہ اصحاب گناہ پر لعن کر رہے تھے تو فرمایا کہ ” ایسا نہیں اور ان کی بد دعا کو رد کر دیا “۔ پھر وہ حسب سابق ہو گئے۔‏“

اس لیے محتمل ہے کہ ان کی نگاہوں پر سے پردہ ہٹ گیا ہو جہاں ان کے لیے عیاں ہو گیا ہو۔ اور یہ بھی محتمل ہے کہ اس کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی حکمت باہرہ اور دلالت قاطعہ کو معلوم کر لیا ہو۔ جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ اور امام ترمذی رحمہ اللہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب مروی ہے کہ عالم خواب میں اللہ تعالیٰ ایک بہترین شکل میں میرے پاس آیا اور فرمانے لگا اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) املا اعلیٰ میں کیا بحث ہو رہی ہے؟ “ میں نے کہا یا رب میں نہیں جانتا تو اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دیا کہ اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک میں پنے سینے میں پانے لگا۔ پھر تو تمام چیزیں میرے سامنے کھل گئیں اور میں نے اسے پہچان لیا ۔ [سنن ترمذي:3235،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

«وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ» میں «وَلِيَكُونَ» کا واؤ زائد ہے۔ اس کی تقدیر یوں ہوئی کہ «وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ لِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ» [6-الأنعام:75] ‏ یعنی بغیر واؤ کے جیسے کہ اس آیت «(‏وَكَذَلِكَ) نُفَصِّلُ الْآيَاتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ» [6-الأنعام:55] ‏ میں۔ اس میں «الْآيَاتِ» کے بعد واؤ زائد ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زائد نہیں ہے بلکہ سابقہ بات کی بنیاد پر بات کو اٹھایا گیا ہے۔ یعنی ” ہم نے اس پر ملکوت ظاہر کر دیا تاکہ وہ دیکھے اور یقین بھی کرلے “۔ یہ سب بطور مناظرہ کے تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دوسری بات ہی مروی ہے۔

صفحہ نمبر2659

ابن جریر میں بھی اسی کو پسند کیا گیا ہے، اس کی دلیل میں آپ رحمہ اللہ کا یہ قول لاتے ہیں کہ ”اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں گمراہ میں ہو جاتا“ -

امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ نے ایک لمبا قصہ نقل کیا ہے جس میں ہے: نمرود بن کنعان بادشاہ سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں تیرا تخت تارج ہو گا تو اس نے حکم دے دیا تھا کہ اس سال میری مملکت میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کر دیئے جائیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی والدہ نے جب یہ سنا تو کجھ وقت قبل شہر کے باہر ایک غار میں چلی گئیں، وہیں خلیل اللہ علیہ السلام پیدا ہوئے، تو جب آپ علیہ السلام اس غار سے باہر نکلے تب آپ علیہ السلام نے یہ سب فرمایا تھا جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ بالکل صحیح بات یہ ہے کہ یہ گفتگو اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی مناظرانہ تھی اپنی قوم کی باطل پرستی کا احوال اللہ کو سمجھا رہے تھے، اول تو آپ علیہ السلام نے اپنے والد کی خطا ظاہر کی کہ وہ زمین کے ان بتوں کی پوجا کرتے تھے جنہیں انہوں نے فرشتوں وغیرہ کی شکل پر بنا لیا تھا اور جنہیں وہ سفارشی سمجھ رہے تھے۔ یہ لوگ بزعم خود اپنے آپ کو اس قابل نہیں جانتے تھے کہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ اس لیے بطور وسیلے کے فرشتوں کو پوجتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے بارے میں کہہ سن کر ان کی روزی وغیرہ بڑھوا دیں اور ان کی حاجتیں پوری کرا دیں پھر جن آسمانی چیزوں کو یہ پوجتے تھے ان میں ان کی خطا بیان کی۔ یہ ستارہ پرست بھی تھے ساتوں ستاروں کو جو چلنے پھرنے والے ہیں۔ پوجتے تھے، چاند، عطارد، زہرہ، سورج، مریخ، مستری، زحل۔ ان کے نزدیک سب سے زیادہ روشن سورج ہے، پھر چاند پھر زہرہ پس آپ علیہ السلام نے ادنیٰ سے شروع کیا اور اعلیٰ تک لے گئے۔ پہلے تو زہرہ کی نسبت فرمایا کہ وہ پوجا کے قابل نہیں کیونکہ یہ دوسرے کے قابو میں ہیں یہ مقررہ چال سے چلتا اور مقررہ جگہ پر چلتا ہے دائیں بائیں ذرا بھی کھسک نہیں سکتا۔ تو جبکہ وہ خود بے شمار چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔ اس میں روشنی بھی اللہ کی دی ہوئی ہے یہ مشرق سے نکلتا ہے پھر چلتا پھرتا رہتا ہے اور ڈوب جاتا ہےپھر دوسری رات اسی طرح ظاہر ہوتا ہے تو ایسی چیز معبود ہونے کی صلاحیت کیا رکھتی ہے؟

صفحہ نمبر2660

پھر اس سے زیادہ روشن چیز یعنی چاند کو دیکھتے ہیں اور اس کو بھی عبادت کے قابل نہ ہونا ظاہر فرما کر پھر سورج کو لیا اور اس کی مجبوری اور اس کی غلامی اور مسکینی کا اظہار کیا اور کہا کہ ”لوگو میں تمہارے ان شرکاء سے، ان کی عبادت سے، ان کی عقیدت سے، ان کی محبت سے دور ہوں -سنو اگر یہ سچے معبود ہیں اور کچھ قدرت رکھتے ہیں تو ان سب کو ملا لو اور جو تم سب سے ہو سکے میرے خلاف کر لو۔ میں تو اس اللہ کا عابد ہوں جو ان مصنوعات کا صانع جو ان مخلوقات کا خالق ہے جو ہر چیز کا مالک رب اور سچا معبود ہے۔‏“

جیسے قرآنی ارشاد ہے: «إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ السَمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ» [7-الأعراف:54] ‏ ” تمہارا رب صرف وہی ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا رات کو دن سے دن کو رات سے ڈھانپتا ہے ایک دوسرے کے برابر پیچھے جا آ رہا ہے سورج چاند اور تارے سب اس کے فرمان کے تحت ہیں خلق و امر اسی کی ملکیت میں ہیں وہ رب العالمین ہے بڑی برکتوں والا ہے “۔

یہ تو بالکل ناممکن سا معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ سلام کے یہ سب فرمان بطور واقعہ کے ہوں اور حقیقت میں آپ علیہ السلام اللہ کو پہچانتے ہی نہ ہوں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَـلِمِينَ ـ إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَـذِهِ التَّمَـثِيلُ الَّتِى أَنتُمْ لَهَا عَـكِفُونَ» [21-الأنبياء:51-52] ‏ ” ہم نے پہلے سے ابراہیم کو سیدھا راستہ دے دیا تھا اور ہم اس سے خوب واقف تھے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا یہ صورتیں کیا ہیں جن کی تم پرستش اور مجاورت کر رہے ہو؟ “

اور آیت میں ہے: «‏إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ شَاكِرًا لِأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:120-123] ‏ ” بیشک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور ایک طرفہ مخلص تھے۔ وہ مشرکوں میں نہ تھے۔ ‏ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں اپنا برگزیدہ کر لیا تھا اور انہیں راہ راست سمجھا دی تھی۔ ‏ ہم نے اس دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور بیشک وہ آخرت میں بھی نیکو کاروں میں ہیں۔ ‏ پھر ہم نے آپ کی جانب وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کریں، جو مشرکوں میں سے نہ تھے “۔ ‏

صفحہ نمبر2661

بخاری و مسلم میں ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے - [صحیح بخاری:4775] ‏

صحیح مسلم کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا ہے ۔ [صحیح مسلم:2865] ‏

کتاب اللہ میں ہے: «فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ» [30-الروم:30] ‏ ” اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فطرت اللہ پر پیدا کیا ہے، اللہ کی خلق کی تبدیلی نہیں “

اور آیت میں ہے: «وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى» [ 7-الأعراف: 172 ] ‏ ” اور جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں “۔ پس یہی فطرت اللہ ہے جیسے کہ اس کا ثبوت عنقریب آئے گا ان شاءاللہ۔

پس جبکہ تمام مخلوق کی پیدائش دین اسلام پر اللہ کی سچی توحید پر ہے تو ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جن کی توحید اور اللہ پرستی کا ثنا خواں خود کلام رحمن ہے ان کی نسبت کون کہہ سکتا ہے کہ آپ علیہ السلام اللہ جل شانہ سے آگاہ نہ تھے اور کبھی تارے کو اور کبھی چاند سورج کو اپنا اللہ سمجھ رہے تھے۔ نہیں نہیں آپ علیہ السلام کی فطرت سالم تھی آپ علیہ السلام کی عقل صحیح تھی آپ علیہ السلام اللہ کے سچے دین پر اور خالص توحید پر تھے۔ آپ علیہ السلام کا یہ تمام کلام بحیثیت مناظرہ تھا اور اس کی زبردست دلیل اس کے بعد کی آیت ہے۔

صفحہ نمبر2662

ابراہیم علیہ السلام اور آزر میں مکالمہ ٭٭

حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”ابراہیم علیہم السلام کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا۔ آزر سے مراد بت ہے۔ آپ علیہ السلام کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا۔ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کا نام ہاجرہ رضی اللہ عنہا تھا یہ ابراہیم علیہ السلام کی سریہ تھیں۔‏“

علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ علیہ السلام کے والد کا نام تارخ تھا۔ مجاہد اور سدی رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم ابراہیم علیہ السلام کے والد تھے ہو سکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہو گیا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب گیری کے استعمال کیا جاتا تھا اس کے معنی ٹیڑھے آدمی کے ہیں۔ لیکن اس کلام کی سند نہیں نہ امام صاحب نے اسے کسی سے نقل کیا ہے۔

صفحہ نمبر2655

سلیمان رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس کے معنی ٹیڑھے پن کے ہیں اور یہی سب سے سخت لفظ ہے جو خلیل اللہ علیہ السلام کی زبان سے نکلا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ٹھیک بات یہی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام آزر تھا اور یہ جو عام تاریخ داں کہتے ہیں کہ ان کا نام تارخ تھا اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے دونوں نام ہوں یا ایک تو نام ہو اور دوسرا لقب ہو۔ بات تو یہ ٹھیک اور نہایت قوی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

«آزَر» اور «آزُر» دونوں قرأتیں ہیں پچھلی قرأت یعنی راء کے زبر کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ پیش والی قرأت میں ندا کی وجہ سے پیش ہے اور زبر والی قرأت «لِأَبِيهِ» سے بدل ہونے کی ہے اور ممکن ہے کہ عطف بیان ہو اور یہی زیادہ مشابہ ہے۔ یہ لفظ علمیت اور عجمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے بعض لوگ اسے صفت بتلاتے ہیں اس بنا پر بھی یہ غیر منصرف رہے گا جیسے احمر اور اسود۔

صفحہ نمبر2656

بعض اسے «أَتَتَّخِذُ» کا معمول مان کر منصوب کہتے ہیں -گویا ابراہیم علیہ السلام یوں فرماتے کہ ”اے باپ، کیا آپ آزر بت کو معبود مانتے ہیں؟“ لیکن یہ دور کی بات ہے -خلاف لغت ہے کیونکہ حرف اتفہام کے بعد الا پنے سے پہلے میں عامل نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اس کے لیے ابتداء کلام کا حق ہے۔ عربی کا یہ تو مشہور قاعدہ ہے۔

الغرض ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام اپنے باپ کو وعظ سنا رہے ہیں اور انہیں بت پرستی سے روک رہے ہیں لیکن وہ باز نہ آئے۔ آیت میں ہے کہ «وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا يَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَـٰنِ عَصِيًّا يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَـٰنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَىٰ أَلَّا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا» [19-مريم:41-48] ‏ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ تو نہایت بری بات ہے کہ تم ایک بت کے سامنے الحاج اور عاجزی کرو جو اللہ کا حق ہے۔ یقیناً اس مسلک کے لوگ سب کے سب بہکے ہوئے اور راہ بھٹکے ہوئے ہیں۔

اور آیت میں کہ صدیق نبی ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنے والد سے فرمایا، ابا آپ ان کی پرستش کیوں کرتے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کچھ فائدہ پہنچائیں۔ ابا میں آپ کو وہ کھری بات سناتا ہوں جو اب تک آپ کے علم میں نہیں آئی تھی۔ اپ میری بات مان لیجئے۔ میں آپ کو صحیح راہ کی رہنمائی کروں گا۔ ابا شیطان کی عبادت سے ہٹ جائیے۔ وہ تو رحمن کا نافرمان ہے۔ ابا مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو آپ پر اللہ کا کوئی عذاب آ جائے اور آپ شیطان کے رفیق کار بن جائیں۔ باپ نے جواب دیا کہ ابراھیم (‏علیہ السلام) کیا تو میرے معبودوں سے ناراض ہے؟ سن اگر تو اس سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ پس اب تو مجھ سے الگ ہو جا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا، اچھا میرا سلام لو۔ میں اب بھی اپنے پروردگار سے تمہاری معافی کی درخواست کروں گا۔ وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔ میں تم سب کو اور تمہارے ان معبودوں کو جو اللہ کے سوا ہیں، چھوڑتا ہوں۔ اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوتا ہوں۔ ناممکن ہے کہ میں اس کی عبادت بھی کروں اور پھر بے نصیب اور خالی ہاتھ رہوں۔

چنانچہ حسبِ وعدہ خلیل اللہ علیہ السلام اپنے والد کی زندگی تک استغفار کرتے رہے لیکن جبکہ مرتے ہوئے بھی وہ شرک سے باز نہ آئے تو آپ علیہ السلام نے استغفار بند کر دیا اور بیزار ہوگئے۔

صفحہ نمبر2657

چنانچہ قرآن کریم میں ہے «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» [9-التوبة:114] ‏ ” ابراھیم علیہ السلام کا پنے باپ کے لیے استغفار کرنا ایک وعدے کی بناء پر تھا -پھر جب ان پر یہ بات ظاہر ہو گئی کہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے محض بے تعلق ہو گئے و اقعی ابراہیم علیہ السلام بڑے نرم دل اور بردبار تھے “ -

حدیث صحیح میں ہے قیامت کے روز ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ سے ملیں گے تو آزر ان سے کہے گا اے بیٹے! آج میں تمہاری نافرمانی نہ کروں گا تو ابراہیم علیہ السلام اپنے رب سے عرض کریں گے کہ اے رب! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہ فرمایا تھا کہ مجھے قیامت کے دن ذلیل نہ کرے گا۔ اورآج میرے لئے اس سے بڑی اور کون سی رسوائی ہو سکتی ہے کہ میرا باپ اس حال میں ہے تو ارشاد فرمایا جائے گا کہ ” اے ابراہیم! تم اپنے پیچھے دیکھو تو “ وہ اپنے باپ کو دیکھنے کی بجائے ایک بجو کو دیکھیں گے، جو کیچڑ میں لتھڑا ہوا ہے اور اس کی ٹانگیں پکڑ کر اس کو دوزخ کی طرف کھینچ کر لے جایا جا رہا ہے ۔ [صحیح بخاری:3350] ‏

” مخلوق کو دیکھ کر خالق کی وحدانیت سمجھ میں آ جائے اس لیے ہم نے ابراھیم علیہ السلام کو آسمان و زمین کی مخلوق دکھادی “ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَنظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ» [7-الأعراف:185] ‏ اور جگہ ہے «أَفَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاءِ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ» [34-سبأ:9] ‏۔ یعنی ” کیا پس وہ اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو دیکھ نہیں رہے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں یقیناً اس میں پوری دلیل ہے ہر اس بندے کے لیے جو (‏دل سے) متوجہ ہو “۔ ‏

صفحہ نمبر2658

ابن جریر رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ ”ابراہیم علیہ السلام کی نگاہوں کے سامنے آسمان پھٹ گئے تھے اور ابراہیم علیہ السلام آسمان کی سب چیزوں کو دیکھ رہے تھے۔ یہاں تک کہ ان کی نظر عرش تک پہنچی اور ساتوں زمینیں ان کے لیے کھل گئیں اور وہ زمین کے اندر کی چیزیں دیکھنے لگے۔‏“

بعض نے اس مضمون کا بھی اضافہ کیا ہے کہ ”وہ لوگوں کے معاص کو بھی دیکھنے لگے تھے اور ان گنہگاروں پر بد دعا کرنے لگے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” نہیں اے ابراہیم (‏علیہ السلام)! میں تم سے زیادہ اپنے بندوں پر کریم ہوں کیا عجب کہ بعد کو وہ توبہ کر لیں اور رجوع کر لیں “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کے بارے میں کہتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنی قدرت سے آسمان و زمین کی چھپی ہوئی اور علانیہ ساری چیزیں دکھلا دیں ان میں کچھ بھی چھپا نہ رہا۔ اور جب وہ اصحاب گناہ پر لعن کر رہے تھے تو فرمایا کہ ” ایسا نہیں اور ان کی بد دعا کو رد کر دیا “۔ پھر وہ حسب سابق ہو گئے۔‏“

اس لیے محتمل ہے کہ ان کی نگاہوں پر سے پردہ ہٹ گیا ہو جہاں ان کے لیے عیاں ہو گیا ہو۔ اور یہ بھی محتمل ہے کہ اس کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی حکمت باہرہ اور دلالت قاطعہ کو معلوم کر لیا ہو۔ جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ اور امام ترمذی رحمہ اللہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب مروی ہے کہ عالم خواب میں اللہ تعالیٰ ایک بہترین شکل میں میرے پاس آیا اور فرمانے لگا اے محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) املا اعلیٰ میں کیا بحث ہو رہی ہے؟ “ میں نے کہا یا رب میں نہیں جانتا تو اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دیا کہ اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک میں پنے سینے میں پانے لگا۔ پھر تو تمام چیزیں میرے سامنے کھل گئیں اور میں نے اسے پہچان لیا ۔ [سنن ترمذي:3235،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

«وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ» میں «وَلِيَكُونَ» کا واؤ زائد ہے۔ اس کی تقدیر یوں ہوئی کہ «وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ لِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ» [6-الأنعام:75] ‏ یعنی بغیر واؤ کے جیسے کہ اس آیت «(‏وَكَذَلِكَ) نُفَصِّلُ الْآيَاتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ» [6-الأنعام:55] ‏ میں۔ اس میں «الْآيَاتِ» کے بعد واؤ زائد ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زائد نہیں ہے بلکہ سابقہ بات کی بنیاد پر بات کو اٹھایا گیا ہے۔ یعنی ” ہم نے اس پر ملکوت ظاہر کر دیا تاکہ وہ دیکھے اور یقین بھی کرلے “۔ یہ سب بطور مناظرہ کے تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دوسری بات ہی مروی ہے۔

صفحہ نمبر2659

ابن جریر میں بھی اسی کو پسند کیا گیا ہے، اس کی دلیل میں آپ رحمہ اللہ کا یہ قول لاتے ہیں کہ ”اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں گمراہ میں ہو جاتا“ -

امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ نے ایک لمبا قصہ نقل کیا ہے جس میں ہے: نمرود بن کنعان بادشاہ سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں تیرا تخت تارج ہو گا تو اس نے حکم دے دیا تھا کہ اس سال میری مملکت میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کر دیئے جائیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی والدہ نے جب یہ سنا تو کجھ وقت قبل شہر کے باہر ایک غار میں چلی گئیں، وہیں خلیل اللہ علیہ السلام پیدا ہوئے، تو جب آپ علیہ السلام اس غار سے باہر نکلے تب آپ علیہ السلام نے یہ سب فرمایا تھا جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ بالکل صحیح بات یہ ہے کہ یہ گفتگو اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی مناظرانہ تھی اپنی قوم کی باطل پرستی کا احوال اللہ کو سمجھا رہے تھے، اول تو آپ علیہ السلام نے اپنے والد کی خطا ظاہر کی کہ وہ زمین کے ان بتوں کی پوجا کرتے تھے جنہیں انہوں نے فرشتوں وغیرہ کی شکل پر بنا لیا تھا اور جنہیں وہ سفارشی سمجھ رہے تھے۔ یہ لوگ بزعم خود اپنے آپ کو اس قابل نہیں جانتے تھے کہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ اس لیے بطور وسیلے کے فرشتوں کو پوجتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے بارے میں کہہ سن کر ان کی روزی وغیرہ بڑھوا دیں اور ان کی حاجتیں پوری کرا دیں پھر جن آسمانی چیزوں کو یہ پوجتے تھے ان میں ان کی خطا بیان کی۔ یہ ستارہ پرست بھی تھے ساتوں ستاروں کو جو چلنے پھرنے والے ہیں۔ پوجتے تھے، چاند، عطارد، زہرہ، سورج، مریخ، مستری، زحل۔ ان کے نزدیک سب سے زیادہ روشن سورج ہے، پھر چاند پھر زہرہ پس آپ علیہ السلام نے ادنیٰ سے شروع کیا اور اعلیٰ تک لے گئے۔ پہلے تو زہرہ کی نسبت فرمایا کہ وہ پوجا کے قابل نہیں کیونکہ یہ دوسرے کے قابو میں ہیں یہ مقررہ چال سے چلتا اور مقررہ جگہ پر چلتا ہے دائیں بائیں ذرا بھی کھسک نہیں سکتا۔ تو جبکہ وہ خود بے شمار چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔ اس میں روشنی بھی اللہ کی دی ہوئی ہے یہ مشرق سے نکلتا ہے پھر چلتا پھرتا رہتا ہے اور ڈوب جاتا ہےپھر دوسری رات اسی طرح ظاہر ہوتا ہے تو ایسی چیز معبود ہونے کی صلاحیت کیا رکھتی ہے؟

صفحہ نمبر2660

پھر اس سے زیادہ روشن چیز یعنی چاند کو دیکھتے ہیں اور اس کو بھی عبادت کے قابل نہ ہونا ظاہر فرما کر پھر سورج کو لیا اور اس کی مجبوری اور اس کی غلامی اور مسکینی کا اظہار کیا اور کہا کہ ”لوگو میں تمہارے ان شرکاء سے، ان کی عبادت سے، ان کی عقیدت سے، ان کی محبت سے دور ہوں -سنو اگر یہ سچے معبود ہیں اور کچھ قدرت رکھتے ہیں تو ان سب کو ملا لو اور جو تم سب سے ہو سکے میرے خلاف کر لو۔ میں تو اس اللہ کا عابد ہوں جو ان مصنوعات کا صانع جو ان مخلوقات کا خالق ہے جو ہر چیز کا مالک رب اور سچا معبود ہے۔‏“

جیسے قرآنی ارشاد ہے: «إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ السَمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ» [7-الأعراف:54] ‏ ” تمہارا رب صرف وہی ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا رات کو دن سے دن کو رات سے ڈھانپتا ہے ایک دوسرے کے برابر پیچھے جا آ رہا ہے سورج چاند اور تارے سب اس کے فرمان کے تحت ہیں خلق و امر اسی کی ملکیت میں ہیں وہ رب العالمین ہے بڑی برکتوں والا ہے “۔

یہ تو بالکل ناممکن سا معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ سلام کے یہ سب فرمان بطور واقعہ کے ہوں اور حقیقت میں آپ علیہ السلام اللہ کو پہچانتے ہی نہ ہوں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَـلِمِينَ ـ إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَـذِهِ التَّمَـثِيلُ الَّتِى أَنتُمْ لَهَا عَـكِفُونَ» [21-الأنبياء:51-52] ‏ ” ہم نے پہلے سے ابراہیم کو سیدھا راستہ دے دیا تھا اور ہم اس سے خوب واقف تھے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا یہ صورتیں کیا ہیں جن کی تم پرستش اور مجاورت کر رہے ہو؟ “

اور آیت میں ہے: «‏إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ شَاكِرًا لِأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [16-النحل:120-123] ‏ ” بیشک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور ایک طرفہ مخلص تھے۔ وہ مشرکوں میں نہ تھے۔ ‏ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں اپنا برگزیدہ کر لیا تھا اور انہیں راہ راست سمجھا دی تھی۔ ‏ ہم نے اس دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور بیشک وہ آخرت میں بھی نیکو کاروں میں ہیں۔ ‏ پھر ہم نے آپ کی جانب وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کریں، جو مشرکوں میں سے نہ تھے “۔ ‏

صفحہ نمبر2661

بخاری و مسلم میں ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے - [صحیح بخاری:4775] ‏

صحیح مسلم کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا ہے ۔ [صحیح مسلم:2865] ‏

کتاب اللہ میں ہے: «فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ» [30-الروم:30] ‏ ” اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فطرت اللہ پر پیدا کیا ہے، اللہ کی خلق کی تبدیلی نہیں “

اور آیت میں ہے: «وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى» [ 7-الأعراف: 172 ] ‏ ” اور جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں “۔ پس یہی فطرت اللہ ہے جیسے کہ اس کا ثبوت عنقریب آئے گا ان شاءاللہ۔

پس جبکہ تمام مخلوق کی پیدائش دین اسلام پر اللہ کی سچی توحید پر ہے تو ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جن کی توحید اور اللہ پرستی کا ثنا خواں خود کلام رحمن ہے ان کی نسبت کون کہہ سکتا ہے کہ آپ علیہ السلام اللہ جل شانہ سے آگاہ نہ تھے اور کبھی تارے کو اور کبھی چاند سورج کو اپنا اللہ سمجھ رہے تھے۔ نہیں نہیں آپ علیہ السلام کی فطرت سالم تھی آپ علیہ السلام کی عقل صحیح تھی آپ علیہ السلام اللہ کے سچے دین پر اور خالص توحید پر تھے۔ آپ علیہ السلام کا یہ تمام کلام بحیثیت مناظرہ تھا اور اس کی زبردست دلیل اس کے بعد کی آیت ہے۔

صفحہ نمبر2662

مشرکین کا توحید سے فرار ٭٭

ابراہیم علیہ السلام کی سچی توحید کے دلائل سن کر پھر بھی مشرکین آپ علیہ السلام سے بحث جاری رکھتے ہیں تو آپ علیہ السلام ان سے فرماتے ہیں ”تعجب ہے کہ تم مجھ سے اللہ جل جلالہ کے بارے میں جھگڑا کر رہے ہو؟ حالانکہ وہ یکتا اور لا شریک ہے اس نے مجھے راہ دکھا دی ہے اور دلیل عطا فرمائی ہے میں یقیناً جانتا ہوں کہ تمہارے یہ سب معبود محض بے بس اور بے طاقت ہیں، میں نہ تو تمہاری فضول اور باطل باتوں میں آؤں گا نہ تمہاری دھمکیاں سچی جانوں گا، جاؤ تم سے اور تمہارے باطل معبودوں سے جو ہو سکے کر لو۔ ہرگز ہرگز کمی نہ کرو بلکہ جلدی کر گزرو اگر تمہارے اور ان کے قبضے میں میرا کوئی نقصان ہے تو جاؤ پہنچا دو۔

میرے رب کی منشا بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا ضرر نفع سب اسی کی طرف سے ہے تمام جیزیں اسی کے علم میں ہیں اس پر چھوٹی سے جھوتی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ افسوس اتنی دلیلیں سن کر بھی تمہارے دل نصیحت حاصل نہیں کرتے۔‏“ حضرت ھود علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کے سامنے یہی دلیل پیش کی تھی۔

صفحہ نمبر2668

قرآن میں موجود ہے کہ «قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ مِنْ دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» [11-هود:53-56] ‏ ” ان کی قوم نے ان سے کہا اے ہود! تم کوئی دلیل تو لائے نہیں ہو اور صرف تمہارے قول سے ہم اپنے معبودوں سے دست بردار نہیں ہو سکتے نہ ہم تجھ پر ایمان لائیں گے -ہمارا اپنا خیال تو یہ ہے کہ ہمارے معبودوں نے تجھے کچھ کر دیا ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ تم جن کو بھی اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہو، میں سب سے بیزار ہوں۔ جاؤ تم سب مل کر جو کچھ مکر میرے ساتھ کرنا چاہتے ہو وہ کر لو اور مجھے مہلت بھی نہ دو، میں نے تو اس رب پر توکل کر لیا ہے جو تمہارا میرا سب کا پالنہار ہے۔ تمام جانداروں کی پیشانیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ سمجھو اور سوچو تو سہی کہ میں تمہارے ان باطل معبودوں سے کیوں ڈراؤں گا؟ جبکہ تم اس اکیلے اللہ وحدہ لا شریک سے نہیں ڈرتے اور کھلم کھلا اس کی ذات کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہو۔ تم ہی بتلاؤ کہ ہم تم میں سے امن کا زیادہ حقدار کون ہے؟ دلیل میں اعلی کون ہے؟ “

یہ آیت مثل آیت «أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّـهُ» [42-الشورى:21] ‏ اور آیت «اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ» [53۔النجم:23] ‏ کے ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا بندہ جو خیر و شر، کا نفع و ضر کا مالک ہے امن والا ہوگا یا اس کا بندہ جو محض بے بس اور بے قدرت ہے قیامت کے دن کے عذابوں سے امن میں رہے گا۔

صفحہ نمبر2669

پھر جناب باری تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جو لوگ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور خلوص کے ساتھ دینداری کریں رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں امن و امان اور راہ راست والے یہی لوگ ہیں “ -جب یہ آیت اتری تو صحابہ رضی اللہ عنہم ظلم کا لفط سن کر چونک اٹھے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ہم میں سے ایسا کون ہے جس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو؟ اس پر آیت «اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ» [31۔ لقمان:13] ‏ نازل ہوئی یعنی یہاں مراد ظلم سے شرک ہے۔ [صحیح بخاری:32] ‏

اور روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس سوال پر فرمایا: کیا تم نے اللہ کے نیک بندے کا یہ قول نہیں سنا کہ ”اے میرے پیارے بچے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا شرک بڑا بھاری ظلم ہے“ ۔ [مسند احمد:387/1:صحیح] ‏ پس مراد یہاں ظلم سے شرک ہے۔

اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ تم جو سمجھ رہے ہو وہ مقصد نہیں ۔ [صحیح مسلم:124] ‏

اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خود «بِظُلْمٍ» کی تفسیر «بِشِرْكٍ» سے کرنا مروی ہے۔ بہت سے صحابیوں رضی اللہ عنہم سے بہت سی سندوں کے ساتھ بہت سی کتابوں میں یہ حدیث مروی ہے۔ ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھ سے کہا گیا کہ تو ان ہی لوگوں میں سے ہے ۔

صفحہ نمبر2670

مسند احمد میں زاذن اور جریر رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب ہم مدینہ شریف سے باہر نکل گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک اونٹ سوار بہت تیزی سے اپنے اونٹ کو دوڑتا ہوا آ رہا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری طرف ہی آ رہا ہے ، اس نے پہنچ کر سلام کیا ہم نے جواب دیا -حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے کہا اپنے گھر سے، اپنے بال بچوں میں سے، اپنے کنبے قبیلے میں سے۔ دریافت فرمایا: کیا ارادہ ہے؟ کیسے نکلے ہو؟ جواب دیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جستجو میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے میں ہی اللہ کا رسول (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں ۔ اس نے خوش ہو کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سمجھائیے کہ ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہہ دو کہ اللہ ایک ہے اور محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اور نمازوں کو قائم رکھے اور زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور رمصان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے ۔ اس نے کہا مجھے سب باتیں منظور ہیں میں سب اقرار کرتا ہوں۔ اتنے میں ان کے اونٹ کا پاؤں ایک سوراخ میں گر پڑا اور اونٹ ایک دم سے جھٹکا لے کر جھک گیا اور وہ اوپر سے گرے اور سر کے بل گرے اور اسی وقت روح پرواز کرگئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گرتے ہی فرمایا کہ دیکھو انہیں سنبھالو ۔ اسی وقت عمار بن یاسر اور حذیفہ بن یمان اپنے اونٹوں سے کود پڑے اور انہیں اٹھا لیا دیکھا تو روح جسم سے علیحدہ ہو چکی ہے۔ حضور سے کہنے لگے یا رسول اللہ یہ تو فوت ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا۔ پھر ذرا سی دیر میں فرمانے لگے تم نے مجھے منہ موڑتے ہوئے دیکھا ہو گا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے دیکھا دو فرشتے آئے تھے اور مرحوم کے منہ میں جنت کے پھول دے رہے تھے اس سے میں نے جان لیا کہ بھوکے فوت ہوئے ہیں۔ سنو یہ انہیں لوگوں میں سے ہیں جن کی بابت اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ” جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے نہ ملایا ان کے لیے امن و امان ہے اور وہ راہ یافتہ ہیں۔ اچھا اپنے پیارے بھائی کو دفن کرو ۔

صفحہ نمبر2671

چنانچہ ہم انہیں پانی کے پاس اٹھا لے گئے غسل دیا خوشبو ملی اور قبر کی طرف جنازہ لے کر چلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے بغلی قبر بناؤ سیدھی نہ بناؤ بغلی قبر ہمارے لیے ہے اور سیدھی ہمارے سوا اوروں کے لیے ہے ۔ [مسند احمد:359/4:ضعیف] ‏ لوگو یہ وہ شخص ہے جس نے عمل بہت ہی کم کیا اور ثواب زیادہ پایا ۔ [مسند احمد:359/4:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2672

یہ ایک اعرابی تھے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلہ کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنے گھر سے اپنے بال بجوں سے اپنے مال سے اپنے کنبے قبیلے سے اس لیے اور صرف اس لیے الگ ہوا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو قبول کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر علم کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں لوں۔‏“ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں گھاس پھوس کھاتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ اسلام سکھائیے۔‏“

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا اس نے قبول کیا ہم سب ان کے اردگرد بھیڑ لگائے کھڑے تھے اتنے میں جنگلی چوہے کے بل میں ان کے اونٹ کا پاؤں پڑ گیا یہ گر پڑے اور گردن ٹوٹ گئی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا یہ سچ مچ فی الواقع اپنے گھر سے اپنی اہل و عیال سے اور اپنے مال مویشی سے صرف میری تابعداری کی دھن میں نکلا تھا اور وہ اس بات میں بھی سچے تھے کہ وہ میرے پاس نہیں پہنچے یہاں تک کہ ان کا کھانا صرف سبز پتے اور گھاس رہ گیا تھا تم نے ایسے لوگ بھی سنے ہوں گے جو عمل کم کرتے ہیں اور ثواب بہت پاتے ہیں۔ یہ بزرگ انہی میں سے تھے ۔ رضی اللہ عنہ

صفحہ نمبر2673

پھر فرمایا ” ابراہیم علیہ السلام کو یہ دلیلیں ہم نے سکھائیں جن سے وہ اپنی قوم پر غالب آگئے “ -جیسے انہوں نے ایک اللہ کے پرستار کا امن اور اس کی ہدایت بیان فرمائی اور خود اللہ کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی آیت «نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاءُ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ» [6۔الأنعام:83] ‏ کی یہی ایک قرأت ہے، اضافت کے ساتھ اور بے اضافت دونوں طرح پڑھا گیا ہے جیسے سورۃ یوسف میں ہے اور معنی دونوں قرأتوں کے قریب قریب برابر ہیں۔

” تیرے رب کے اقوال رحمت والے اور اس کے کام بھی حکمت والے ہیں۔ وہ صحیح راستے والوں کو اور گمراہوں کو بخوبی جانتا ہے “۔

جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-يونس:96-97] ‏ ” جن پر تیرے رب کی بات صادق آ گئی ہے ان کے پاس چاہے تم تمام نشانیاں لے آؤ پھر بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیں “۔ پس رب کی حکمت اور اس کے علم میں کوئی شبہ نہیں۔

صفحہ نمبر2674

مشرکین کا توحید سے فرار ٭٭

ابراہیم علیہ السلام کی سچی توحید کے دلائل سن کر پھر بھی مشرکین آپ علیہ السلام سے بحث جاری رکھتے ہیں تو آپ علیہ السلام ان سے فرماتے ہیں ”تعجب ہے کہ تم مجھ سے اللہ جل جلالہ کے بارے میں جھگڑا کر رہے ہو؟ حالانکہ وہ یکتا اور لا شریک ہے اس نے مجھے راہ دکھا دی ہے اور دلیل عطا فرمائی ہے میں یقیناً جانتا ہوں کہ تمہارے یہ سب معبود محض بے بس اور بے طاقت ہیں، میں نہ تو تمہاری فضول اور باطل باتوں میں آؤں گا نہ تمہاری دھمکیاں سچی جانوں گا، جاؤ تم سے اور تمہارے باطل معبودوں سے جو ہو سکے کر لو۔ ہرگز ہرگز کمی نہ کرو بلکہ جلدی کر گزرو اگر تمہارے اور ان کے قبضے میں میرا کوئی نقصان ہے تو جاؤ پہنچا دو۔

میرے رب کی منشا بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا ضرر نفع سب اسی کی طرف سے ہے تمام جیزیں اسی کے علم میں ہیں اس پر چھوٹی سے جھوتی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ افسوس اتنی دلیلیں سن کر بھی تمہارے دل نصیحت حاصل نہیں کرتے۔‏“ حضرت ھود علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کے سامنے یہی دلیل پیش کی تھی۔

صفحہ نمبر2668

قرآن میں موجود ہے کہ «قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ مِنْ دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» [11-هود:53-56] ‏ ” ان کی قوم نے ان سے کہا اے ہود! تم کوئی دلیل تو لائے نہیں ہو اور صرف تمہارے قول سے ہم اپنے معبودوں سے دست بردار نہیں ہو سکتے نہ ہم تجھ پر ایمان لائیں گے -ہمارا اپنا خیال تو یہ ہے کہ ہمارے معبودوں نے تجھے کچھ کر دیا ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ تم جن کو بھی اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہو، میں سب سے بیزار ہوں۔ جاؤ تم سب مل کر جو کچھ مکر میرے ساتھ کرنا چاہتے ہو وہ کر لو اور مجھے مہلت بھی نہ دو، میں نے تو اس رب پر توکل کر لیا ہے جو تمہارا میرا سب کا پالنہار ہے۔ تمام جانداروں کی پیشانیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ سمجھو اور سوچو تو سہی کہ میں تمہارے ان باطل معبودوں سے کیوں ڈراؤں گا؟ جبکہ تم اس اکیلے اللہ وحدہ لا شریک سے نہیں ڈرتے اور کھلم کھلا اس کی ذات کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہو۔ تم ہی بتلاؤ کہ ہم تم میں سے امن کا زیادہ حقدار کون ہے؟ دلیل میں اعلی کون ہے؟ “

یہ آیت مثل آیت «أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّـهُ» [42-الشورى:21] ‏ اور آیت «اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ» [53۔النجم:23] ‏ کے ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا بندہ جو خیر و شر، کا نفع و ضر کا مالک ہے امن والا ہوگا یا اس کا بندہ جو محض بے بس اور بے قدرت ہے قیامت کے دن کے عذابوں سے امن میں رہے گا۔

صفحہ نمبر2669

پھر جناب باری تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جو لوگ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور خلوص کے ساتھ دینداری کریں رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں امن و امان اور راہ راست والے یہی لوگ ہیں “ -جب یہ آیت اتری تو صحابہ رضی اللہ عنہم ظلم کا لفط سن کر چونک اٹھے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ہم میں سے ایسا کون ہے جس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو؟ اس پر آیت «اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ» [31۔ لقمان:13] ‏ نازل ہوئی یعنی یہاں مراد ظلم سے شرک ہے۔ [صحیح بخاری:32] ‏

اور روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس سوال پر فرمایا: کیا تم نے اللہ کے نیک بندے کا یہ قول نہیں سنا کہ ”اے میرے پیارے بچے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا شرک بڑا بھاری ظلم ہے“ ۔ [مسند احمد:387/1:صحیح] ‏ پس مراد یہاں ظلم سے شرک ہے۔

اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ تم جو سمجھ رہے ہو وہ مقصد نہیں ۔ [صحیح مسلم:124] ‏

اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خود «بِظُلْمٍ» کی تفسیر «بِشِرْكٍ» سے کرنا مروی ہے۔ بہت سے صحابیوں رضی اللہ عنہم سے بہت سی سندوں کے ساتھ بہت سی کتابوں میں یہ حدیث مروی ہے۔ ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھ سے کہا گیا کہ تو ان ہی لوگوں میں سے ہے ۔

صفحہ نمبر2670

مسند احمد میں زاذن اور جریر رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب ہم مدینہ شریف سے باہر نکل گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک اونٹ سوار بہت تیزی سے اپنے اونٹ کو دوڑتا ہوا آ رہا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری طرف ہی آ رہا ہے ، اس نے پہنچ کر سلام کیا ہم نے جواب دیا -حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے کہا اپنے گھر سے، اپنے بال بچوں میں سے، اپنے کنبے قبیلے میں سے۔ دریافت فرمایا: کیا ارادہ ہے؟ کیسے نکلے ہو؟ جواب دیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جستجو میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے میں ہی اللہ کا رسول (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں ۔ اس نے خوش ہو کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سمجھائیے کہ ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہہ دو کہ اللہ ایک ہے اور محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اور نمازوں کو قائم رکھے اور زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور رمصان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے ۔ اس نے کہا مجھے سب باتیں منظور ہیں میں سب اقرار کرتا ہوں۔ اتنے میں ان کے اونٹ کا پاؤں ایک سوراخ میں گر پڑا اور اونٹ ایک دم سے جھٹکا لے کر جھک گیا اور وہ اوپر سے گرے اور سر کے بل گرے اور اسی وقت روح پرواز کرگئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گرتے ہی فرمایا کہ دیکھو انہیں سنبھالو ۔ اسی وقت عمار بن یاسر اور حذیفہ بن یمان اپنے اونٹوں سے کود پڑے اور انہیں اٹھا لیا دیکھا تو روح جسم سے علیحدہ ہو چکی ہے۔ حضور سے کہنے لگے یا رسول اللہ یہ تو فوت ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا۔ پھر ذرا سی دیر میں فرمانے لگے تم نے مجھے منہ موڑتے ہوئے دیکھا ہو گا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے دیکھا دو فرشتے آئے تھے اور مرحوم کے منہ میں جنت کے پھول دے رہے تھے اس سے میں نے جان لیا کہ بھوکے فوت ہوئے ہیں۔ سنو یہ انہیں لوگوں میں سے ہیں جن کی بابت اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ” جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے نہ ملایا ان کے لیے امن و امان ہے اور وہ راہ یافتہ ہیں۔ اچھا اپنے پیارے بھائی کو دفن کرو ۔

صفحہ نمبر2671

چنانچہ ہم انہیں پانی کے پاس اٹھا لے گئے غسل دیا خوشبو ملی اور قبر کی طرف جنازہ لے کر چلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے بغلی قبر بناؤ سیدھی نہ بناؤ بغلی قبر ہمارے لیے ہے اور سیدھی ہمارے سوا اوروں کے لیے ہے ۔ [مسند احمد:359/4:ضعیف] ‏ لوگو یہ وہ شخص ہے جس نے عمل بہت ہی کم کیا اور ثواب زیادہ پایا ۔ [مسند احمد:359/4:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2672

یہ ایک اعرابی تھے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلہ کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنے گھر سے اپنے بال بجوں سے اپنے مال سے اپنے کنبے قبیلے سے اس لیے اور صرف اس لیے الگ ہوا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو قبول کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر علم کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں لوں۔‏“ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں گھاس پھوس کھاتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ اسلام سکھائیے۔‏“

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا اس نے قبول کیا ہم سب ان کے اردگرد بھیڑ لگائے کھڑے تھے اتنے میں جنگلی چوہے کے بل میں ان کے اونٹ کا پاؤں پڑ گیا یہ گر پڑے اور گردن ٹوٹ گئی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا یہ سچ مچ فی الواقع اپنے گھر سے اپنی اہل و عیال سے اور اپنے مال مویشی سے صرف میری تابعداری کی دھن میں نکلا تھا اور وہ اس بات میں بھی سچے تھے کہ وہ میرے پاس نہیں پہنچے یہاں تک کہ ان کا کھانا صرف سبز پتے اور گھاس رہ گیا تھا تم نے ایسے لوگ بھی سنے ہوں گے جو عمل کم کرتے ہیں اور ثواب بہت پاتے ہیں۔ یہ بزرگ انہی میں سے تھے ۔ رضی اللہ عنہ

صفحہ نمبر2673

پھر فرمایا ” ابراہیم علیہ السلام کو یہ دلیلیں ہم نے سکھائیں جن سے وہ اپنی قوم پر غالب آگئے “ -جیسے انہوں نے ایک اللہ کے پرستار کا امن اور اس کی ہدایت بیان فرمائی اور خود اللہ کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی آیت «نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاءُ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ» [6۔الأنعام:83] ‏ کی یہی ایک قرأت ہے، اضافت کے ساتھ اور بے اضافت دونوں طرح پڑھا گیا ہے جیسے سورۃ یوسف میں ہے اور معنی دونوں قرأتوں کے قریب قریب برابر ہیں۔

” تیرے رب کے اقوال رحمت والے اور اس کے کام بھی حکمت والے ہیں۔ وہ صحیح راستے والوں کو اور گمراہوں کو بخوبی جانتا ہے “۔

جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-يونس:96-97] ‏ ” جن پر تیرے رب کی بات صادق آ گئی ہے ان کے پاس چاہے تم تمام نشانیاں لے آؤ پھر بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیں “۔ پس رب کی حکمت اور اس کے علم میں کوئی شبہ نہیں۔

صفحہ نمبر2674

مشرکین کا توحید سے فرار ٭٭

ابراہیم علیہ السلام کی سچی توحید کے دلائل سن کر پھر بھی مشرکین آپ علیہ السلام سے بحث جاری رکھتے ہیں تو آپ علیہ السلام ان سے فرماتے ہیں ”تعجب ہے کہ تم مجھ سے اللہ جل جلالہ کے بارے میں جھگڑا کر رہے ہو؟ حالانکہ وہ یکتا اور لا شریک ہے اس نے مجھے راہ دکھا دی ہے اور دلیل عطا فرمائی ہے میں یقیناً جانتا ہوں کہ تمہارے یہ سب معبود محض بے بس اور بے طاقت ہیں، میں نہ تو تمہاری فضول اور باطل باتوں میں آؤں گا نہ تمہاری دھمکیاں سچی جانوں گا، جاؤ تم سے اور تمہارے باطل معبودوں سے جو ہو سکے کر لو۔ ہرگز ہرگز کمی نہ کرو بلکہ جلدی کر گزرو اگر تمہارے اور ان کے قبضے میں میرا کوئی نقصان ہے تو جاؤ پہنچا دو۔

میرے رب کی منشا بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا ضرر نفع سب اسی کی طرف سے ہے تمام جیزیں اسی کے علم میں ہیں اس پر چھوٹی سے جھوتی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ افسوس اتنی دلیلیں سن کر بھی تمہارے دل نصیحت حاصل نہیں کرتے۔‏“ حضرت ھود علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کے سامنے یہی دلیل پیش کی تھی۔

صفحہ نمبر2668

قرآن میں موجود ہے کہ «قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ مِنْ دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» [11-هود:53-56] ‏ ” ان کی قوم نے ان سے کہا اے ہود! تم کوئی دلیل تو لائے نہیں ہو اور صرف تمہارے قول سے ہم اپنے معبودوں سے دست بردار نہیں ہو سکتے نہ ہم تجھ پر ایمان لائیں گے -ہمارا اپنا خیال تو یہ ہے کہ ہمارے معبودوں نے تجھے کچھ کر دیا ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ تم جن کو بھی اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہو، میں سب سے بیزار ہوں۔ جاؤ تم سب مل کر جو کچھ مکر میرے ساتھ کرنا چاہتے ہو وہ کر لو اور مجھے مہلت بھی نہ دو، میں نے تو اس رب پر توکل کر لیا ہے جو تمہارا میرا سب کا پالنہار ہے۔ تمام جانداروں کی پیشانیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ سمجھو اور سوچو تو سہی کہ میں تمہارے ان باطل معبودوں سے کیوں ڈراؤں گا؟ جبکہ تم اس اکیلے اللہ وحدہ لا شریک سے نہیں ڈرتے اور کھلم کھلا اس کی ذات کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہو۔ تم ہی بتلاؤ کہ ہم تم میں سے امن کا زیادہ حقدار کون ہے؟ دلیل میں اعلی کون ہے؟ “

یہ آیت مثل آیت «أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّـهُ» [42-الشورى:21] ‏ اور آیت «اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ» [53۔النجم:23] ‏ کے ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا بندہ جو خیر و شر، کا نفع و ضر کا مالک ہے امن والا ہوگا یا اس کا بندہ جو محض بے بس اور بے قدرت ہے قیامت کے دن کے عذابوں سے امن میں رہے گا۔

صفحہ نمبر2669

پھر جناب باری تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جو لوگ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور خلوص کے ساتھ دینداری کریں رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں امن و امان اور راہ راست والے یہی لوگ ہیں “ -جب یہ آیت اتری تو صحابہ رضی اللہ عنہم ظلم کا لفط سن کر چونک اٹھے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ہم میں سے ایسا کون ہے جس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو؟ اس پر آیت «اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ» [31۔ لقمان:13] ‏ نازل ہوئی یعنی یہاں مراد ظلم سے شرک ہے۔ [صحیح بخاری:32] ‏

اور روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس سوال پر فرمایا: کیا تم نے اللہ کے نیک بندے کا یہ قول نہیں سنا کہ ”اے میرے پیارے بچے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا شرک بڑا بھاری ظلم ہے“ ۔ [مسند احمد:387/1:صحیح] ‏ پس مراد یہاں ظلم سے شرک ہے۔

اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ تم جو سمجھ رہے ہو وہ مقصد نہیں ۔ [صحیح مسلم:124] ‏

اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خود «بِظُلْمٍ» کی تفسیر «بِشِرْكٍ» سے کرنا مروی ہے۔ بہت سے صحابیوں رضی اللہ عنہم سے بہت سی سندوں کے ساتھ بہت سی کتابوں میں یہ حدیث مروی ہے۔ ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھ سے کہا گیا کہ تو ان ہی لوگوں میں سے ہے ۔

صفحہ نمبر2670

مسند احمد میں زاذن اور جریر رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب ہم مدینہ شریف سے باہر نکل گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک اونٹ سوار بہت تیزی سے اپنے اونٹ کو دوڑتا ہوا آ رہا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری طرف ہی آ رہا ہے ، اس نے پہنچ کر سلام کیا ہم نے جواب دیا -حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے کہا اپنے گھر سے، اپنے بال بچوں میں سے، اپنے کنبے قبیلے میں سے۔ دریافت فرمایا: کیا ارادہ ہے؟ کیسے نکلے ہو؟ جواب دیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جستجو میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے میں ہی اللہ کا رسول (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں ۔ اس نے خوش ہو کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سمجھائیے کہ ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہہ دو کہ اللہ ایک ہے اور محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اور نمازوں کو قائم رکھے اور زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور رمصان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے ۔ اس نے کہا مجھے سب باتیں منظور ہیں میں سب اقرار کرتا ہوں۔ اتنے میں ان کے اونٹ کا پاؤں ایک سوراخ میں گر پڑا اور اونٹ ایک دم سے جھٹکا لے کر جھک گیا اور وہ اوپر سے گرے اور سر کے بل گرے اور اسی وقت روح پرواز کرگئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گرتے ہی فرمایا کہ دیکھو انہیں سنبھالو ۔ اسی وقت عمار بن یاسر اور حذیفہ بن یمان اپنے اونٹوں سے کود پڑے اور انہیں اٹھا لیا دیکھا تو روح جسم سے علیحدہ ہو چکی ہے۔ حضور سے کہنے لگے یا رسول اللہ یہ تو فوت ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا۔ پھر ذرا سی دیر میں فرمانے لگے تم نے مجھے منہ موڑتے ہوئے دیکھا ہو گا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے دیکھا دو فرشتے آئے تھے اور مرحوم کے منہ میں جنت کے پھول دے رہے تھے اس سے میں نے جان لیا کہ بھوکے فوت ہوئے ہیں۔ سنو یہ انہیں لوگوں میں سے ہیں جن کی بابت اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ” جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے نہ ملایا ان کے لیے امن و امان ہے اور وہ راہ یافتہ ہیں۔ اچھا اپنے پیارے بھائی کو دفن کرو ۔

صفحہ نمبر2671

چنانچہ ہم انہیں پانی کے پاس اٹھا لے گئے غسل دیا خوشبو ملی اور قبر کی طرف جنازہ لے کر چلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے بغلی قبر بناؤ سیدھی نہ بناؤ بغلی قبر ہمارے لیے ہے اور سیدھی ہمارے سوا اوروں کے لیے ہے ۔ [مسند احمد:359/4:ضعیف] ‏ لوگو یہ وہ شخص ہے جس نے عمل بہت ہی کم کیا اور ثواب زیادہ پایا ۔ [مسند احمد:359/4:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2672

یہ ایک اعرابی تھے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلہ کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنے گھر سے اپنے بال بجوں سے اپنے مال سے اپنے کنبے قبیلے سے اس لیے اور صرف اس لیے الگ ہوا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو قبول کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر علم کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں لوں۔‏“ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں گھاس پھوس کھاتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ اسلام سکھائیے۔‏“

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا اس نے قبول کیا ہم سب ان کے اردگرد بھیڑ لگائے کھڑے تھے اتنے میں جنگلی چوہے کے بل میں ان کے اونٹ کا پاؤں پڑ گیا یہ گر پڑے اور گردن ٹوٹ گئی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا یہ سچ مچ فی الواقع اپنے گھر سے اپنی اہل و عیال سے اور اپنے مال مویشی سے صرف میری تابعداری کی دھن میں نکلا تھا اور وہ اس بات میں بھی سچے تھے کہ وہ میرے پاس نہیں پہنچے یہاں تک کہ ان کا کھانا صرف سبز پتے اور گھاس رہ گیا تھا تم نے ایسے لوگ بھی سنے ہوں گے جو عمل کم کرتے ہیں اور ثواب بہت پاتے ہیں۔ یہ بزرگ انہی میں سے تھے ۔ رضی اللہ عنہ

صفحہ نمبر2673

پھر فرمایا ” ابراہیم علیہ السلام کو یہ دلیلیں ہم نے سکھائیں جن سے وہ اپنی قوم پر غالب آگئے “ -جیسے انہوں نے ایک اللہ کے پرستار کا امن اور اس کی ہدایت بیان فرمائی اور خود اللہ کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی آیت «نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاءُ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ» [6۔الأنعام:83] ‏ کی یہی ایک قرأت ہے، اضافت کے ساتھ اور بے اضافت دونوں طرح پڑھا گیا ہے جیسے سورۃ یوسف میں ہے اور معنی دونوں قرأتوں کے قریب قریب برابر ہیں۔

” تیرے رب کے اقوال رحمت والے اور اس کے کام بھی حکمت والے ہیں۔ وہ صحیح راستے والوں کو اور گمراہوں کو بخوبی جانتا ہے “۔

جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-يونس:96-97] ‏ ” جن پر تیرے رب کی بات صادق آ گئی ہے ان کے پاس چاہے تم تمام نشانیاں لے آؤ پھر بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیں “۔ پس رب کی حکمت اور اس کے علم میں کوئی شبہ نہیں۔

صفحہ نمبر2674

مشرکین کا توحید سے فرار ٭٭

ابراہیم علیہ السلام کی سچی توحید کے دلائل سن کر پھر بھی مشرکین آپ علیہ السلام سے بحث جاری رکھتے ہیں تو آپ علیہ السلام ان سے فرماتے ہیں ”تعجب ہے کہ تم مجھ سے اللہ جل جلالہ کے بارے میں جھگڑا کر رہے ہو؟ حالانکہ وہ یکتا اور لا شریک ہے اس نے مجھے راہ دکھا دی ہے اور دلیل عطا فرمائی ہے میں یقیناً جانتا ہوں کہ تمہارے یہ سب معبود محض بے بس اور بے طاقت ہیں، میں نہ تو تمہاری فضول اور باطل باتوں میں آؤں گا نہ تمہاری دھمکیاں سچی جانوں گا، جاؤ تم سے اور تمہارے باطل معبودوں سے جو ہو سکے کر لو۔ ہرگز ہرگز کمی نہ کرو بلکہ جلدی کر گزرو اگر تمہارے اور ان کے قبضے میں میرا کوئی نقصان ہے تو جاؤ پہنچا دو۔

میرے رب کی منشا بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا ضرر نفع سب اسی کی طرف سے ہے تمام جیزیں اسی کے علم میں ہیں اس پر چھوٹی سے جھوتی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ افسوس اتنی دلیلیں سن کر بھی تمہارے دل نصیحت حاصل نہیں کرتے۔‏“ حضرت ھود علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کے سامنے یہی دلیل پیش کی تھی۔

صفحہ نمبر2668

قرآن میں موجود ہے کہ «قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ مِنْ دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» [11-هود:53-56] ‏ ” ان کی قوم نے ان سے کہا اے ہود! تم کوئی دلیل تو لائے نہیں ہو اور صرف تمہارے قول سے ہم اپنے معبودوں سے دست بردار نہیں ہو سکتے نہ ہم تجھ پر ایمان لائیں گے -ہمارا اپنا خیال تو یہ ہے کہ ہمارے معبودوں نے تجھے کچھ کر دیا ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ تم جن کو بھی اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہو، میں سب سے بیزار ہوں۔ جاؤ تم سب مل کر جو کچھ مکر میرے ساتھ کرنا چاہتے ہو وہ کر لو اور مجھے مہلت بھی نہ دو، میں نے تو اس رب پر توکل کر لیا ہے جو تمہارا میرا سب کا پالنہار ہے۔ تمام جانداروں کی پیشانیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ سمجھو اور سوچو تو سہی کہ میں تمہارے ان باطل معبودوں سے کیوں ڈراؤں گا؟ جبکہ تم اس اکیلے اللہ وحدہ لا شریک سے نہیں ڈرتے اور کھلم کھلا اس کی ذات کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہو۔ تم ہی بتلاؤ کہ ہم تم میں سے امن کا زیادہ حقدار کون ہے؟ دلیل میں اعلی کون ہے؟ “

یہ آیت مثل آیت «أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّـهُ» [42-الشورى:21] ‏ اور آیت «اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ» [53۔النجم:23] ‏ کے ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا بندہ جو خیر و شر، کا نفع و ضر کا مالک ہے امن والا ہوگا یا اس کا بندہ جو محض بے بس اور بے قدرت ہے قیامت کے دن کے عذابوں سے امن میں رہے گا۔

صفحہ نمبر2669

پھر جناب باری تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” جو لوگ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور خلوص کے ساتھ دینداری کریں رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں امن و امان اور راہ راست والے یہی لوگ ہیں “ -جب یہ آیت اتری تو صحابہ رضی اللہ عنہم ظلم کا لفط سن کر چونک اٹھے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ہم میں سے ایسا کون ہے جس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو؟ اس پر آیت «اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ» [31۔ لقمان:13] ‏ نازل ہوئی یعنی یہاں مراد ظلم سے شرک ہے۔ [صحیح بخاری:32] ‏

اور روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس سوال پر فرمایا: کیا تم نے اللہ کے نیک بندے کا یہ قول نہیں سنا کہ ”اے میرے پیارے بچے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا شرک بڑا بھاری ظلم ہے“ ۔ [مسند احمد:387/1:صحیح] ‏ پس مراد یہاں ظلم سے شرک ہے۔

اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ تم جو سمجھ رہے ہو وہ مقصد نہیں ۔ [صحیح مسلم:124] ‏

اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خود «بِظُلْمٍ» کی تفسیر «بِشِرْكٍ» سے کرنا مروی ہے۔ بہت سے صحابیوں رضی اللہ عنہم سے بہت سی سندوں کے ساتھ بہت سی کتابوں میں یہ حدیث مروی ہے۔ ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھ سے کہا گیا کہ تو ان ہی لوگوں میں سے ہے ۔

صفحہ نمبر2670

مسند احمد میں زاذن اور جریر رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب ہم مدینہ شریف سے باہر نکل گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک اونٹ سوار بہت تیزی سے اپنے اونٹ کو دوڑتا ہوا آ رہا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری طرف ہی آ رہا ہے ، اس نے پہنچ کر سلام کیا ہم نے جواب دیا -حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے کہا اپنے گھر سے، اپنے بال بچوں میں سے، اپنے کنبے قبیلے میں سے۔ دریافت فرمایا: کیا ارادہ ہے؟ کیسے نکلے ہو؟ جواب دیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جستجو میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے میں ہی اللہ کا رسول (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں ۔ اس نے خوش ہو کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سمجھائیے کہ ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہہ دو کہ اللہ ایک ہے اور محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اور نمازوں کو قائم رکھے اور زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور رمصان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے ۔ اس نے کہا مجھے سب باتیں منظور ہیں میں سب اقرار کرتا ہوں۔ اتنے میں ان کے اونٹ کا پاؤں ایک سوراخ میں گر پڑا اور اونٹ ایک دم سے جھٹکا لے کر جھک گیا اور وہ اوپر سے گرے اور سر کے بل گرے اور اسی وقت روح پرواز کرگئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گرتے ہی فرمایا کہ دیکھو انہیں سنبھالو ۔ اسی وقت عمار بن یاسر اور حذیفہ بن یمان اپنے اونٹوں سے کود پڑے اور انہیں اٹھا لیا دیکھا تو روح جسم سے علیحدہ ہو چکی ہے۔ حضور سے کہنے لگے یا رسول اللہ یہ تو فوت ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا۔ پھر ذرا سی دیر میں فرمانے لگے تم نے مجھے منہ موڑتے ہوئے دیکھا ہو گا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے دیکھا دو فرشتے آئے تھے اور مرحوم کے منہ میں جنت کے پھول دے رہے تھے اس سے میں نے جان لیا کہ بھوکے فوت ہوئے ہیں۔ سنو یہ انہیں لوگوں میں سے ہیں جن کی بابت اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ” جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے نہ ملایا ان کے لیے امن و امان ہے اور وہ راہ یافتہ ہیں۔ اچھا اپنے پیارے بھائی کو دفن کرو ۔

صفحہ نمبر2671

چنانچہ ہم انہیں پانی کے پاس اٹھا لے گئے غسل دیا خوشبو ملی اور قبر کی طرف جنازہ لے کر چلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے بغلی قبر بناؤ سیدھی نہ بناؤ بغلی قبر ہمارے لیے ہے اور سیدھی ہمارے سوا اوروں کے لیے ہے ۔ [مسند احمد:359/4:ضعیف] ‏ لوگو یہ وہ شخص ہے جس نے عمل بہت ہی کم کیا اور ثواب زیادہ پایا ۔ [مسند احمد:359/4:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر2672

یہ ایک اعرابی تھے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلہ کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنے گھر سے اپنے بال بجوں سے اپنے مال سے اپنے کنبے قبیلے سے اس لیے اور صرف اس لیے الگ ہوا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو قبول کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر علم کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں لوں۔‏“ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں گھاس پھوس کھاتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ اسلام سکھائیے۔‏“

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا اس نے قبول کیا ہم سب ان کے اردگرد بھیڑ لگائے کھڑے تھے اتنے میں جنگلی چوہے کے بل میں ان کے اونٹ کا پاؤں پڑ گیا یہ گر پڑے اور گردن ٹوٹ گئی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا یہ سچ مچ فی الواقع اپنے گھر سے اپنی اہل و عیال سے اور اپنے مال مویشی سے صرف میری تابعداری کی دھن میں نکلا تھا اور وہ اس بات میں بھی سچے تھے کہ وہ میرے پاس نہیں پہنچے یہاں تک کہ ان کا کھانا صرف سبز پتے اور گھاس رہ گیا تھا تم نے ایسے لوگ بھی سنے ہوں گے جو عمل کم کرتے ہیں اور ثواب بہت پاتے ہیں۔ یہ بزرگ انہی میں سے تھے ۔ رضی اللہ عنہ

صفحہ نمبر2673

پھر فرمایا ” ابراہیم علیہ السلام کو یہ دلیلیں ہم نے سکھائیں جن سے وہ اپنی قوم پر غالب آگئے “ -جیسے انہوں نے ایک اللہ کے پرستار کا امن اور اس کی ہدایت بیان فرمائی اور خود اللہ کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی آیت «نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاءُ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ» [6۔الأنعام:83] ‏ کی یہی ایک قرأت ہے، اضافت کے ساتھ اور بے اضافت دونوں طرح پڑھا گیا ہے جیسے سورۃ یوسف میں ہے اور معنی دونوں قرأتوں کے قریب قریب برابر ہیں۔

” تیرے رب کے اقوال رحمت والے اور اس کے کام بھی حکمت والے ہیں۔ وہ صحیح راستے والوں کو اور گمراہوں کو بخوبی جانتا ہے “۔

جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-يونس:96-97] ‏ ” جن پر تیرے رب کی بات صادق آ گئی ہے ان کے پاس چاہے تم تمام نشانیاں لے آؤ پھر بھی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیں “۔ پس رب کی حکمت اور اس کے علم میں کوئی شبہ نہیں۔

صفحہ نمبر2674

خلیل الرحمن کو بشارت اولاد ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحٰق (‏علیہ السلام) ہے اس وقت آپ علیہ السلام بھی اولاد سے مایوس ہو چکے تھے اور آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ سارہ رضی اللہ عنہا بھی مایوس ہو چکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ آیت میں ہے کہ «قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَـٰذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ رَحْمَتُ اللَّـهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ» [11-هود:72-73] ‏ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہو چکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔

فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی علیہ السلام کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی بزرگیوں والا ہے اتنا ہی نہیں کہ تمہارے ہاں بچہ ہو گا بلکہ وہ نبی زادہ خود بھی نبی ہوگا اور اس سے تمہاری نسل پھیلے گی اور باقی رہے گی۔ قرآن کی اور آیت «وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ» [37-الصافات:112] ‏ میں بشارت کے الفاظ میں ”نبیا“ کا لفظ بھی ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ «فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71] ‏ اولاد کی اولاد بھی تم دیکھ لوگے اسحاق کے گھر یعقوب پیدا ہوں گے اور تمہیں خوشی پر خوشی ہوگی اور پھر پوتے کا نام یعقوب رکھنا جو عقب سے مشتق ہے خوشخبری ہے اس امر کی کہ یہ نسل جاری رہے گی۔

صفحہ نمبر2678

فی الواقع خلیل اللہ علیہ السلام اس بشارت کے قابل بھی تھے قوم کو چھوڑا ان سے منہ موڑا شہر کو چھوڑا ہجرت کی، اللہ نے دنیا میں بھی انعام دیئے، اتنی نسل پھیلائی جو آج تک دنیا میں آباد ہے -

فرمان الٰہی ہے کہ «فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا» [19-مريم:49] ‏ ” جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑا تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب بخشا اور دونوں کو نبی بنایا “۔

یہاں فرمایا ” ان سب کو ہم نے ہدایت دی تھی اور ان کی بھی نیک اولاد دنیا میں باقی رہی “۔ طوفان نوح میں کفار سب غرق ہو گئے پھر نوح علیہ السلام کی نسل پھیلی انبیاء علیہم السلام انہی کی نسل میں سے ہوتے رہے، ابراہیم علیہ السلام کے بعد تو نبوت انہی کے گھرانے میں رہی۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا» [29۔العنکبوت:27] ‏ ” ہم نے ان ہی کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی “۔

اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ» [57۔الحدید:26] ‏ یعنی ” ہم نے نوح اور ابراہیم کو رسول بنا کر پھر ان ہی دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کردی “۔

اور آیت میں ہے «أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ مِن ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَـٰنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا ۩» [19-مريم:58] ‏ ” یہ ہیں جن پر انعام الٰہی ہوا۔ نبیوں میں سے آدم کو اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں لے لیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی اور پسند کر لیا تھا ان پر جب رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو روتے گڑگڑاتے سجدے میں گر پڑتے تھے “۔

پھر فرمایا ” ہم نے اس کی اولاد میں سے داؤد و سلیمان کو ہدایت کی “، اس میں اگر ضمیر کا مرجع نوح علیہ السلام کو کیا جائے تو ٹھیک ہے اس لیے کہ ضمیر سے پہلے سب سے قریب نام یہی ہے۔

صفحہ نمبر2679

امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں اور ہے بھی یہ بالکل ظاہر جس میں کوئی اشکال نہیں ہاں اسے ابراہیم علیہ السلام کی طرف لوٹانا بھی ہے تو اچھا اس لیے کہ کلام انہی کے بارے میں ہے قصہ انہی کا بیان ہو رہا ہے لیکن بعد کے ناموں میں سے لوط علیہ السلام کا نام اولاد آدم میں ہونا ذرا مشکل ہے اس لیے کہ لوط علیہ السلام خلیل اللہ علیہ السلام کی اولاد میں نہیں بلکہ ان کے والد کا نام ماران ہے وہ آزر کے لڑکے تھے تو وہ آپ علیہ السلام کے بھتیجے ہوئے -

ہاں اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ با اعتبار غلبے کے انہیں بھی اولاد میں شامل کر لیا گیا جیسے کہ آیت «اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِيْ» [2۔ البقرہ:133] ‏ میں اسمعیل علیہ السلام کو جو اولاد یعقوب کے چچا تھا باپوں میں شمار کر لیا گیا ہے، ہاں یہ بھی خیال رہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اولاد ابراہیم علیہ السلام یا اولاد نوح علیہ السلام میں گننا اس بنا پر ہے کہ لڑکیوں کی اولاد یعنی نواسے بھی اولاد میں داخل ہیں کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے تھے۔

صفحہ نمبر2680

روایت میں ہے حجاج نے یحییٰ بن یعمر کے پاس آدمی بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو حسن، حسین رضی اللہ عنہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں گنتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قرآن سے ثابت ہے لیکن میں تو پورے قرآن میں کسی جگہ یہ نہیں پاتا، آپ نے جواب دیا کیا تو نے سورۃ الانعام میں آیت «وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ» [6-الأنعام:84] ‏ نہیں پڑھا اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھا ہے کہا پھر دیکھو اس میں عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہے اور ان کا کوئی باپ تھا ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی کی اولاد بھی اولاد ہی ہے۔ حجاج نے کہا بے شک آپ سچے ہیں۔

اسی لیے مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ذریت کے لیے وصیت کرے یا وقف کرے یا ہبہ کرے تو لڑکیوں کی اولاد بھی اس میں داخل ہے۔ ہاں اگر اس نے اپنے لڑکوں کو دیا ہے یا ان پر وقف کیا ہے تو اس کے اپنے صلبی لڑکے اور لڑکوں کے لڑکے اس میں شامل ہوں گے اس کی دلیل عربی شاعر کا یہ شعر سنئے۔ «بنو نا بنوا ابنا ئنا و بنا تنا بنو ھن ابناء الرجال الا جانب» یعنی ہمارے لڑکوں کے لڑکے تو ہمارے لڑکے ہیں اور ہماری لڑکیوں کے لڑکے اجنبیوں کے لڑکے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لڑکے بھی ان میں داخل ہیں کیونکہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا: میرا یہ لڑکا سید ہے اور ان شاءاللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ صلح کرا دے گا ۔ [صحیح بخاری:2704] ‏

پس نواسے کو اپنا لڑکا کہنے سے لڑکیوں کی اولاد کا بھی اپنی اولاد میں داخل ہونا ثابت ہوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ مجاز ہے۔ اس کے بعد فرمایا ان کے باپ دادے ان کی اولادیں ان کے بھائی الغرض اصول و فروع اور اہل طبقہ کا ذکر آگیا کہ ہدایت اور پسندیدگی ان سب کو گھیرے ہوئے ہے، یہ اللہ کی سچی اور سیدھی راہ پر لگا دیئے گئے ہیں۔ یہ جو کچھ انہیں حاصل ہوا یہ اللہ کی مہربانی اس کی توفیق اور اس کی ہدایت سے ہے۔

صفحہ نمبر2681

پھر شرک کا کامل برائی لوگوں کے ذہن میں آجائے اس لیے فرمایا کہ ” اگر بالفرض نبیوں کا یہ گروہ بھی شرک کر بیٹھے تو ان کی بھی تمام تر نیکیاں ضائع ہو جائیں “۔

جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39۔الزمر:65] ‏ ” تجھ پر اور تجھ سے پہلے کے ایک ایک نبی پر یہ وحی بھیج دی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے اعمال اکارت ہو جائیں گے “۔ یہ یاد رہے کہ یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا ہی ضروری نہیں۔

جیسے فرمان ہے آیت «قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» [43-الزخرف:81] ‏ یعنی ” اگر اللہ کی اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے ماننے والا بن جاؤں “۔ اور جیسے اور آیت میں ہے «لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ» [21-الأنبياء:17] ‏ یعنی ” اگر کھیل تماشا بنانا ہی چاہتے ہو تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے “۔

اور فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ» [39۔الزمر:4] ‏ ” اگر اللہ تعالیٰ اولاد کا ہی ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اور وہ یکتا اور غالب ہے “۔

پھر فرمایا ” بندوں پر رحمت نازل فرمانے کیلئے ہم نے انہیں کتاب حکمت اور نبوت عطا فرمائی پس اگر یہ لوگ یعنی اہل مکہ اس کے ساتھ یعنی نبوت کے ساتھ یا کتاب و حکمت و نبوت کے ساتھ کفر کریں یہ اگر ان نعمتوں کا انکار کریں خواہ قریش ہوں خواہ اہل کتاب ہوں خواہ کوئی اور عربی یا عجمی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ ہم نے ایک قوم ایسی بھی تیار کر رکھی ہے جو اس کے ساتھ کبھی کفر نہ کرے گی “۔

یعنی مہاجرین انصار اور ان کی تابعداری کرنے والے ان کے بعد آنے والے یہ لوگ نہ کسی امر کا انکار کریں گے نہ تحریف یا ردوبدل کریں گے بلکہ ایمان کامل لے آئیں گے ہر ہر حرف کو مانیں گے محکم متشابہ سب کا اقرار کریں گے سب پر عقیدہ رکھیں گے۔

صفحہ نمبر2682

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان ہی باایمان لوگوں میں کر دے۔ پھر اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرکے فرماتا ہے ” جن انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ہوا اور جو مجمل طور پر ان کے بڑوں چھوٹوں اور لواحقین میں سے مذکور ہوئے یہی سب اہل ہدایت ہیں تو اپنے نبی آخر الزمان ہی کی اقتداء اور اتباع کرو “، اور جب یہ حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کی امت بطور اولیٰ اس میں داخل ہے۔

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حدیث لائے ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آپ رضی اللہ عنہ کے شاگرد رشید مجاہد رحمتہ اللہ علیہ نے سوال کیا کہ کیا سورۃ ص میں سجدہ ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں ہے۔‏“ پھر آپ نے یہ یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی تابعداری کا حکم ہوا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:4632] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” اے نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )! ان میں اعلان کر دو کہ یہ میں تو قرآن پہنچانے کا کوئی معاوضہ یا بدلہ یا اجرت تم سے نہیں چاہتا۔ یہ تو صرف دنیا کیلئے نصیحت ہے کہ وہ اندھے پن کو چھوڑ کر آنکھوں کا نور حاصل کر لیں اور برائی سے کٹ کر بھلائی پا لیں اور کفر سے نکل کر ایمان میں آ جائیں “۔

صفحہ نمبر2683

خلیل الرحمن کو بشارت اولاد ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحٰق (‏علیہ السلام) ہے اس وقت آپ علیہ السلام بھی اولاد سے مایوس ہو چکے تھے اور آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ سارہ رضی اللہ عنہا بھی مایوس ہو چکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ آیت میں ہے کہ «قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَـٰذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ رَحْمَتُ اللَّـهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ» [11-هود:72-73] ‏ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہو چکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔

فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی علیہ السلام کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی بزرگیوں والا ہے اتنا ہی نہیں کہ تمہارے ہاں بچہ ہو گا بلکہ وہ نبی زادہ خود بھی نبی ہوگا اور اس سے تمہاری نسل پھیلے گی اور باقی رہے گی۔ قرآن کی اور آیت «وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ» [37-الصافات:112] ‏ میں بشارت کے الفاظ میں ”نبیا“ کا لفظ بھی ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ «فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71] ‏ اولاد کی اولاد بھی تم دیکھ لوگے اسحاق کے گھر یعقوب پیدا ہوں گے اور تمہیں خوشی پر خوشی ہوگی اور پھر پوتے کا نام یعقوب رکھنا جو عقب سے مشتق ہے خوشخبری ہے اس امر کی کہ یہ نسل جاری رہے گی۔

صفحہ نمبر2678

فی الواقع خلیل اللہ علیہ السلام اس بشارت کے قابل بھی تھے قوم کو چھوڑا ان سے منہ موڑا شہر کو چھوڑا ہجرت کی، اللہ نے دنیا میں بھی انعام دیئے، اتنی نسل پھیلائی جو آج تک دنیا میں آباد ہے -

فرمان الٰہی ہے کہ «فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا» [19-مريم:49] ‏ ” جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑا تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب بخشا اور دونوں کو نبی بنایا “۔

یہاں فرمایا ” ان سب کو ہم نے ہدایت دی تھی اور ان کی بھی نیک اولاد دنیا میں باقی رہی “۔ طوفان نوح میں کفار سب غرق ہو گئے پھر نوح علیہ السلام کی نسل پھیلی انبیاء علیہم السلام انہی کی نسل میں سے ہوتے رہے، ابراہیم علیہ السلام کے بعد تو نبوت انہی کے گھرانے میں رہی۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا» [29۔العنکبوت:27] ‏ ” ہم نے ان ہی کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی “۔

اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ» [57۔الحدید:26] ‏ یعنی ” ہم نے نوح اور ابراہیم کو رسول بنا کر پھر ان ہی دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کردی “۔

اور آیت میں ہے «أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ مِن ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَـٰنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا ۩» [19-مريم:58] ‏ ” یہ ہیں جن پر انعام الٰہی ہوا۔ نبیوں میں سے آدم کو اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں لے لیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی اور پسند کر لیا تھا ان پر جب رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو روتے گڑگڑاتے سجدے میں گر پڑتے تھے “۔

پھر فرمایا ” ہم نے اس کی اولاد میں سے داؤد و سلیمان کو ہدایت کی “، اس میں اگر ضمیر کا مرجع نوح علیہ السلام کو کیا جائے تو ٹھیک ہے اس لیے کہ ضمیر سے پہلے سب سے قریب نام یہی ہے۔

صفحہ نمبر2679

امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں اور ہے بھی یہ بالکل ظاہر جس میں کوئی اشکال نہیں ہاں اسے ابراہیم علیہ السلام کی طرف لوٹانا بھی ہے تو اچھا اس لیے کہ کلام انہی کے بارے میں ہے قصہ انہی کا بیان ہو رہا ہے لیکن بعد کے ناموں میں سے لوط علیہ السلام کا نام اولاد آدم میں ہونا ذرا مشکل ہے اس لیے کہ لوط علیہ السلام خلیل اللہ علیہ السلام کی اولاد میں نہیں بلکہ ان کے والد کا نام ماران ہے وہ آزر کے لڑکے تھے تو وہ آپ علیہ السلام کے بھتیجے ہوئے -

ہاں اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ با اعتبار غلبے کے انہیں بھی اولاد میں شامل کر لیا گیا جیسے کہ آیت «اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِيْ» [2۔ البقرہ:133] ‏ میں اسمعیل علیہ السلام کو جو اولاد یعقوب کے چچا تھا باپوں میں شمار کر لیا گیا ہے، ہاں یہ بھی خیال رہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اولاد ابراہیم علیہ السلام یا اولاد نوح علیہ السلام میں گننا اس بنا پر ہے کہ لڑکیوں کی اولاد یعنی نواسے بھی اولاد میں داخل ہیں کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے تھے۔

صفحہ نمبر2680

روایت میں ہے حجاج نے یحییٰ بن یعمر کے پاس آدمی بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو حسن، حسین رضی اللہ عنہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں گنتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قرآن سے ثابت ہے لیکن میں تو پورے قرآن میں کسی جگہ یہ نہیں پاتا، آپ نے جواب دیا کیا تو نے سورۃ الانعام میں آیت «وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ» [6-الأنعام:84] ‏ نہیں پڑھا اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھا ہے کہا پھر دیکھو اس میں عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہے اور ان کا کوئی باپ تھا ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی کی اولاد بھی اولاد ہی ہے۔ حجاج نے کہا بے شک آپ سچے ہیں۔

اسی لیے مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ذریت کے لیے وصیت کرے یا وقف کرے یا ہبہ کرے تو لڑکیوں کی اولاد بھی اس میں داخل ہے۔ ہاں اگر اس نے اپنے لڑکوں کو دیا ہے یا ان پر وقف کیا ہے تو اس کے اپنے صلبی لڑکے اور لڑکوں کے لڑکے اس میں شامل ہوں گے اس کی دلیل عربی شاعر کا یہ شعر سنئے۔ «بنو نا بنوا ابنا ئنا و بنا تنا بنو ھن ابناء الرجال الا جانب» یعنی ہمارے لڑکوں کے لڑکے تو ہمارے لڑکے ہیں اور ہماری لڑکیوں کے لڑکے اجنبیوں کے لڑکے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لڑکے بھی ان میں داخل ہیں کیونکہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا: میرا یہ لڑکا سید ہے اور ان شاءاللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ صلح کرا دے گا ۔ [صحیح بخاری:2704] ‏

پس نواسے کو اپنا لڑکا کہنے سے لڑکیوں کی اولاد کا بھی اپنی اولاد میں داخل ہونا ثابت ہوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ مجاز ہے۔ اس کے بعد فرمایا ان کے باپ دادے ان کی اولادیں ان کے بھائی الغرض اصول و فروع اور اہل طبقہ کا ذکر آگیا کہ ہدایت اور پسندیدگی ان سب کو گھیرے ہوئے ہے، یہ اللہ کی سچی اور سیدھی راہ پر لگا دیئے گئے ہیں۔ یہ جو کچھ انہیں حاصل ہوا یہ اللہ کی مہربانی اس کی توفیق اور اس کی ہدایت سے ہے۔

صفحہ نمبر2681

پھر شرک کا کامل برائی لوگوں کے ذہن میں آجائے اس لیے فرمایا کہ ” اگر بالفرض نبیوں کا یہ گروہ بھی شرک کر بیٹھے تو ان کی بھی تمام تر نیکیاں ضائع ہو جائیں “۔

جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39۔الزمر:65] ‏ ” تجھ پر اور تجھ سے پہلے کے ایک ایک نبی پر یہ وحی بھیج دی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے اعمال اکارت ہو جائیں گے “۔ یہ یاد رہے کہ یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا ہی ضروری نہیں۔

جیسے فرمان ہے آیت «قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» [43-الزخرف:81] ‏ یعنی ” اگر اللہ کی اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے ماننے والا بن جاؤں “۔ اور جیسے اور آیت میں ہے «لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ» [21-الأنبياء:17] ‏ یعنی ” اگر کھیل تماشا بنانا ہی چاہتے ہو تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے “۔

اور فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ» [39۔الزمر:4] ‏ ” اگر اللہ تعالیٰ اولاد کا ہی ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اور وہ یکتا اور غالب ہے “۔

پھر فرمایا ” بندوں پر رحمت نازل فرمانے کیلئے ہم نے انہیں کتاب حکمت اور نبوت عطا فرمائی پس اگر یہ لوگ یعنی اہل مکہ اس کے ساتھ یعنی نبوت کے ساتھ یا کتاب و حکمت و نبوت کے ساتھ کفر کریں یہ اگر ان نعمتوں کا انکار کریں خواہ قریش ہوں خواہ اہل کتاب ہوں خواہ کوئی اور عربی یا عجمی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ ہم نے ایک قوم ایسی بھی تیار کر رکھی ہے جو اس کے ساتھ کبھی کفر نہ کرے گی “۔

یعنی مہاجرین انصار اور ان کی تابعداری کرنے والے ان کے بعد آنے والے یہ لوگ نہ کسی امر کا انکار کریں گے نہ تحریف یا ردوبدل کریں گے بلکہ ایمان کامل لے آئیں گے ہر ہر حرف کو مانیں گے محکم متشابہ سب کا اقرار کریں گے سب پر عقیدہ رکھیں گے۔

صفحہ نمبر2682

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان ہی باایمان لوگوں میں کر دے۔ پھر اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرکے فرماتا ہے ” جن انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ہوا اور جو مجمل طور پر ان کے بڑوں چھوٹوں اور لواحقین میں سے مذکور ہوئے یہی سب اہل ہدایت ہیں تو اپنے نبی آخر الزمان ہی کی اقتداء اور اتباع کرو “، اور جب یہ حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کی امت بطور اولیٰ اس میں داخل ہے۔

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حدیث لائے ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آپ رضی اللہ عنہ کے شاگرد رشید مجاہد رحمتہ اللہ علیہ نے سوال کیا کہ کیا سورۃ ص میں سجدہ ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں ہے۔‏“ پھر آپ نے یہ یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی تابعداری کا حکم ہوا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:4632] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” اے نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )! ان میں اعلان کر دو کہ یہ میں تو قرآن پہنچانے کا کوئی معاوضہ یا بدلہ یا اجرت تم سے نہیں چاہتا۔ یہ تو صرف دنیا کیلئے نصیحت ہے کہ وہ اندھے پن کو چھوڑ کر آنکھوں کا نور حاصل کر لیں اور برائی سے کٹ کر بھلائی پا لیں اور کفر سے نکل کر ایمان میں آ جائیں “۔

صفحہ نمبر2683

خلیل الرحمن کو بشارت اولاد ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحٰق (‏علیہ السلام) ہے اس وقت آپ علیہ السلام بھی اولاد سے مایوس ہو چکے تھے اور آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ سارہ رضی اللہ عنہا بھی مایوس ہو چکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ آیت میں ہے کہ «قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَـٰذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ رَحْمَتُ اللَّـهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ» [11-هود:72-73] ‏ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہو چکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔

فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی علیہ السلام کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی بزرگیوں والا ہے اتنا ہی نہیں کہ تمہارے ہاں بچہ ہو گا بلکہ وہ نبی زادہ خود بھی نبی ہوگا اور اس سے تمہاری نسل پھیلے گی اور باقی رہے گی۔ قرآن کی اور آیت «وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ» [37-الصافات:112] ‏ میں بشارت کے الفاظ میں ”نبیا“ کا لفظ بھی ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ «فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71] ‏ اولاد کی اولاد بھی تم دیکھ لوگے اسحاق کے گھر یعقوب پیدا ہوں گے اور تمہیں خوشی پر خوشی ہوگی اور پھر پوتے کا نام یعقوب رکھنا جو عقب سے مشتق ہے خوشخبری ہے اس امر کی کہ یہ نسل جاری رہے گی۔

صفحہ نمبر2678

فی الواقع خلیل اللہ علیہ السلام اس بشارت کے قابل بھی تھے قوم کو چھوڑا ان سے منہ موڑا شہر کو چھوڑا ہجرت کی، اللہ نے دنیا میں بھی انعام دیئے، اتنی نسل پھیلائی جو آج تک دنیا میں آباد ہے -

فرمان الٰہی ہے کہ «فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا» [19-مريم:49] ‏ ” جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑا تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب بخشا اور دونوں کو نبی بنایا “۔

یہاں فرمایا ” ان سب کو ہم نے ہدایت دی تھی اور ان کی بھی نیک اولاد دنیا میں باقی رہی “۔ طوفان نوح میں کفار سب غرق ہو گئے پھر نوح علیہ السلام کی نسل پھیلی انبیاء علیہم السلام انہی کی نسل میں سے ہوتے رہے، ابراہیم علیہ السلام کے بعد تو نبوت انہی کے گھرانے میں رہی۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا» [29۔العنکبوت:27] ‏ ” ہم نے ان ہی کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی “۔

اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ» [57۔الحدید:26] ‏ یعنی ” ہم نے نوح اور ابراہیم کو رسول بنا کر پھر ان ہی دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کردی “۔

اور آیت میں ہے «أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ مِن ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَـٰنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا ۩» [19-مريم:58] ‏ ” یہ ہیں جن پر انعام الٰہی ہوا۔ نبیوں میں سے آدم کو اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں لے لیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی اور پسند کر لیا تھا ان پر جب رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو روتے گڑگڑاتے سجدے میں گر پڑتے تھے “۔

پھر فرمایا ” ہم نے اس کی اولاد میں سے داؤد و سلیمان کو ہدایت کی “، اس میں اگر ضمیر کا مرجع نوح علیہ السلام کو کیا جائے تو ٹھیک ہے اس لیے کہ ضمیر سے پہلے سب سے قریب نام یہی ہے۔

صفحہ نمبر2679

امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں اور ہے بھی یہ بالکل ظاہر جس میں کوئی اشکال نہیں ہاں اسے ابراہیم علیہ السلام کی طرف لوٹانا بھی ہے تو اچھا اس لیے کہ کلام انہی کے بارے میں ہے قصہ انہی کا بیان ہو رہا ہے لیکن بعد کے ناموں میں سے لوط علیہ السلام کا نام اولاد آدم میں ہونا ذرا مشکل ہے اس لیے کہ لوط علیہ السلام خلیل اللہ علیہ السلام کی اولاد میں نہیں بلکہ ان کے والد کا نام ماران ہے وہ آزر کے لڑکے تھے تو وہ آپ علیہ السلام کے بھتیجے ہوئے -

ہاں اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ با اعتبار غلبے کے انہیں بھی اولاد میں شامل کر لیا گیا جیسے کہ آیت «اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِيْ» [2۔ البقرہ:133] ‏ میں اسمعیل علیہ السلام کو جو اولاد یعقوب کے چچا تھا باپوں میں شمار کر لیا گیا ہے، ہاں یہ بھی خیال رہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اولاد ابراہیم علیہ السلام یا اولاد نوح علیہ السلام میں گننا اس بنا پر ہے کہ لڑکیوں کی اولاد یعنی نواسے بھی اولاد میں داخل ہیں کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے تھے۔

صفحہ نمبر2680

روایت میں ہے حجاج نے یحییٰ بن یعمر کے پاس آدمی بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو حسن، حسین رضی اللہ عنہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں گنتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قرآن سے ثابت ہے لیکن میں تو پورے قرآن میں کسی جگہ یہ نہیں پاتا، آپ نے جواب دیا کیا تو نے سورۃ الانعام میں آیت «وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ» [6-الأنعام:84] ‏ نہیں پڑھا اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھا ہے کہا پھر دیکھو اس میں عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہے اور ان کا کوئی باپ تھا ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی کی اولاد بھی اولاد ہی ہے۔ حجاج نے کہا بے شک آپ سچے ہیں۔

اسی لیے مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ذریت کے لیے وصیت کرے یا وقف کرے یا ہبہ کرے تو لڑکیوں کی اولاد بھی اس میں داخل ہے۔ ہاں اگر اس نے اپنے لڑکوں کو دیا ہے یا ان پر وقف کیا ہے تو اس کے اپنے صلبی لڑکے اور لڑکوں کے لڑکے اس میں شامل ہوں گے اس کی دلیل عربی شاعر کا یہ شعر سنئے۔ «بنو نا بنوا ابنا ئنا و بنا تنا بنو ھن ابناء الرجال الا جانب» یعنی ہمارے لڑکوں کے لڑکے تو ہمارے لڑکے ہیں اور ہماری لڑکیوں کے لڑکے اجنبیوں کے لڑکے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لڑکے بھی ان میں داخل ہیں کیونکہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا: میرا یہ لڑکا سید ہے اور ان شاءاللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ صلح کرا دے گا ۔ [صحیح بخاری:2704] ‏

پس نواسے کو اپنا لڑکا کہنے سے لڑکیوں کی اولاد کا بھی اپنی اولاد میں داخل ہونا ثابت ہوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ مجاز ہے۔ اس کے بعد فرمایا ان کے باپ دادے ان کی اولادیں ان کے بھائی الغرض اصول و فروع اور اہل طبقہ کا ذکر آگیا کہ ہدایت اور پسندیدگی ان سب کو گھیرے ہوئے ہے، یہ اللہ کی سچی اور سیدھی راہ پر لگا دیئے گئے ہیں۔ یہ جو کچھ انہیں حاصل ہوا یہ اللہ کی مہربانی اس کی توفیق اور اس کی ہدایت سے ہے۔

صفحہ نمبر2681

پھر شرک کا کامل برائی لوگوں کے ذہن میں آجائے اس لیے فرمایا کہ ” اگر بالفرض نبیوں کا یہ گروہ بھی شرک کر بیٹھے تو ان کی بھی تمام تر نیکیاں ضائع ہو جائیں “۔

جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39۔الزمر:65] ‏ ” تجھ پر اور تجھ سے پہلے کے ایک ایک نبی پر یہ وحی بھیج دی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے اعمال اکارت ہو جائیں گے “۔ یہ یاد رہے کہ یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا ہی ضروری نہیں۔

جیسے فرمان ہے آیت «قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» [43-الزخرف:81] ‏ یعنی ” اگر اللہ کی اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے ماننے والا بن جاؤں “۔ اور جیسے اور آیت میں ہے «لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ» [21-الأنبياء:17] ‏ یعنی ” اگر کھیل تماشا بنانا ہی چاہتے ہو تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے “۔

اور فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ» [39۔الزمر:4] ‏ ” اگر اللہ تعالیٰ اولاد کا ہی ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اور وہ یکتا اور غالب ہے “۔

پھر فرمایا ” بندوں پر رحمت نازل فرمانے کیلئے ہم نے انہیں کتاب حکمت اور نبوت عطا فرمائی پس اگر یہ لوگ یعنی اہل مکہ اس کے ساتھ یعنی نبوت کے ساتھ یا کتاب و حکمت و نبوت کے ساتھ کفر کریں یہ اگر ان نعمتوں کا انکار کریں خواہ قریش ہوں خواہ اہل کتاب ہوں خواہ کوئی اور عربی یا عجمی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ ہم نے ایک قوم ایسی بھی تیار کر رکھی ہے جو اس کے ساتھ کبھی کفر نہ کرے گی “۔

یعنی مہاجرین انصار اور ان کی تابعداری کرنے والے ان کے بعد آنے والے یہ لوگ نہ کسی امر کا انکار کریں گے نہ تحریف یا ردوبدل کریں گے بلکہ ایمان کامل لے آئیں گے ہر ہر حرف کو مانیں گے محکم متشابہ سب کا اقرار کریں گے سب پر عقیدہ رکھیں گے۔

صفحہ نمبر2682

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان ہی باایمان لوگوں میں کر دے۔ پھر اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرکے فرماتا ہے ” جن انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ہوا اور جو مجمل طور پر ان کے بڑوں چھوٹوں اور لواحقین میں سے مذکور ہوئے یہی سب اہل ہدایت ہیں تو اپنے نبی آخر الزمان ہی کی اقتداء اور اتباع کرو “، اور جب یہ حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کی امت بطور اولیٰ اس میں داخل ہے۔

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حدیث لائے ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آپ رضی اللہ عنہ کے شاگرد رشید مجاہد رحمتہ اللہ علیہ نے سوال کیا کہ کیا سورۃ ص میں سجدہ ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں ہے۔‏“ پھر آپ نے یہ یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی تابعداری کا حکم ہوا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:4632] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” اے نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )! ان میں اعلان کر دو کہ یہ میں تو قرآن پہنچانے کا کوئی معاوضہ یا بدلہ یا اجرت تم سے نہیں چاہتا۔ یہ تو صرف دنیا کیلئے نصیحت ہے کہ وہ اندھے پن کو چھوڑ کر آنکھوں کا نور حاصل کر لیں اور برائی سے کٹ کر بھلائی پا لیں اور کفر سے نکل کر ایمان میں آ جائیں “۔

صفحہ نمبر2683

خلیل الرحمن کو بشارت اولاد ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحٰق (‏علیہ السلام) ہے اس وقت آپ علیہ السلام بھی اولاد سے مایوس ہو چکے تھے اور آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ سارہ رضی اللہ عنہا بھی مایوس ہو چکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ آیت میں ہے کہ «قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَـٰذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ رَحْمَتُ اللَّـهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ» [11-هود:72-73] ‏ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہو چکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔

فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی علیہ السلام کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی بزرگیوں والا ہے اتنا ہی نہیں کہ تمہارے ہاں بچہ ہو گا بلکہ وہ نبی زادہ خود بھی نبی ہوگا اور اس سے تمہاری نسل پھیلے گی اور باقی رہے گی۔ قرآن کی اور آیت «وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ» [37-الصافات:112] ‏ میں بشارت کے الفاظ میں ”نبیا“ کا لفظ بھی ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ «فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71] ‏ اولاد کی اولاد بھی تم دیکھ لوگے اسحاق کے گھر یعقوب پیدا ہوں گے اور تمہیں خوشی پر خوشی ہوگی اور پھر پوتے کا نام یعقوب رکھنا جو عقب سے مشتق ہے خوشخبری ہے اس امر کی کہ یہ نسل جاری رہے گی۔

صفحہ نمبر2678

فی الواقع خلیل اللہ علیہ السلام اس بشارت کے قابل بھی تھے قوم کو چھوڑا ان سے منہ موڑا شہر کو چھوڑا ہجرت کی، اللہ نے دنیا میں بھی انعام دیئے، اتنی نسل پھیلائی جو آج تک دنیا میں آباد ہے -

فرمان الٰہی ہے کہ «فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا» [19-مريم:49] ‏ ” جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑا تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب بخشا اور دونوں کو نبی بنایا “۔

یہاں فرمایا ” ان سب کو ہم نے ہدایت دی تھی اور ان کی بھی نیک اولاد دنیا میں باقی رہی “۔ طوفان نوح میں کفار سب غرق ہو گئے پھر نوح علیہ السلام کی نسل پھیلی انبیاء علیہم السلام انہی کی نسل میں سے ہوتے رہے، ابراہیم علیہ السلام کے بعد تو نبوت انہی کے گھرانے میں رہی۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا» [29۔العنکبوت:27] ‏ ” ہم نے ان ہی کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی “۔

اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ» [57۔الحدید:26] ‏ یعنی ” ہم نے نوح اور ابراہیم کو رسول بنا کر پھر ان ہی دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کردی “۔

اور آیت میں ہے «أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ مِن ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَـٰنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا ۩» [19-مريم:58] ‏ ” یہ ہیں جن پر انعام الٰہی ہوا۔ نبیوں میں سے آدم کو اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں لے لیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی اور پسند کر لیا تھا ان پر جب رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو روتے گڑگڑاتے سجدے میں گر پڑتے تھے “۔

پھر فرمایا ” ہم نے اس کی اولاد میں سے داؤد و سلیمان کو ہدایت کی “، اس میں اگر ضمیر کا مرجع نوح علیہ السلام کو کیا جائے تو ٹھیک ہے اس لیے کہ ضمیر سے پہلے سب سے قریب نام یہی ہے۔

صفحہ نمبر2679

امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں اور ہے بھی یہ بالکل ظاہر جس میں کوئی اشکال نہیں ہاں اسے ابراہیم علیہ السلام کی طرف لوٹانا بھی ہے تو اچھا اس لیے کہ کلام انہی کے بارے میں ہے قصہ انہی کا بیان ہو رہا ہے لیکن بعد کے ناموں میں سے لوط علیہ السلام کا نام اولاد آدم میں ہونا ذرا مشکل ہے اس لیے کہ لوط علیہ السلام خلیل اللہ علیہ السلام کی اولاد میں نہیں بلکہ ان کے والد کا نام ماران ہے وہ آزر کے لڑکے تھے تو وہ آپ علیہ السلام کے بھتیجے ہوئے -

ہاں اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ با اعتبار غلبے کے انہیں بھی اولاد میں شامل کر لیا گیا جیسے کہ آیت «اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِيْ» [2۔ البقرہ:133] ‏ میں اسمعیل علیہ السلام کو جو اولاد یعقوب کے چچا تھا باپوں میں شمار کر لیا گیا ہے، ہاں یہ بھی خیال رہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اولاد ابراہیم علیہ السلام یا اولاد نوح علیہ السلام میں گننا اس بنا پر ہے کہ لڑکیوں کی اولاد یعنی نواسے بھی اولاد میں داخل ہیں کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے تھے۔

صفحہ نمبر2680

روایت میں ہے حجاج نے یحییٰ بن یعمر کے پاس آدمی بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو حسن، حسین رضی اللہ عنہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں گنتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قرآن سے ثابت ہے لیکن میں تو پورے قرآن میں کسی جگہ یہ نہیں پاتا، آپ نے جواب دیا کیا تو نے سورۃ الانعام میں آیت «وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ» [6-الأنعام:84] ‏ نہیں پڑھا اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھا ہے کہا پھر دیکھو اس میں عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہے اور ان کا کوئی باپ تھا ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی کی اولاد بھی اولاد ہی ہے۔ حجاج نے کہا بے شک آپ سچے ہیں۔

اسی لیے مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ذریت کے لیے وصیت کرے یا وقف کرے یا ہبہ کرے تو لڑکیوں کی اولاد بھی اس میں داخل ہے۔ ہاں اگر اس نے اپنے لڑکوں کو دیا ہے یا ان پر وقف کیا ہے تو اس کے اپنے صلبی لڑکے اور لڑکوں کے لڑکے اس میں شامل ہوں گے اس کی دلیل عربی شاعر کا یہ شعر سنئے۔ «بنو نا بنوا ابنا ئنا و بنا تنا بنو ھن ابناء الرجال الا جانب» یعنی ہمارے لڑکوں کے لڑکے تو ہمارے لڑکے ہیں اور ہماری لڑکیوں کے لڑکے اجنبیوں کے لڑکے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لڑکے بھی ان میں داخل ہیں کیونکہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا: میرا یہ لڑکا سید ہے اور ان شاءاللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ صلح کرا دے گا ۔ [صحیح بخاری:2704] ‏

پس نواسے کو اپنا لڑکا کہنے سے لڑکیوں کی اولاد کا بھی اپنی اولاد میں داخل ہونا ثابت ہوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ مجاز ہے۔ اس کے بعد فرمایا ان کے باپ دادے ان کی اولادیں ان کے بھائی الغرض اصول و فروع اور اہل طبقہ کا ذکر آگیا کہ ہدایت اور پسندیدگی ان سب کو گھیرے ہوئے ہے، یہ اللہ کی سچی اور سیدھی راہ پر لگا دیئے گئے ہیں۔ یہ جو کچھ انہیں حاصل ہوا یہ اللہ کی مہربانی اس کی توفیق اور اس کی ہدایت سے ہے۔

صفحہ نمبر2681

پھر شرک کا کامل برائی لوگوں کے ذہن میں آجائے اس لیے فرمایا کہ ” اگر بالفرض نبیوں کا یہ گروہ بھی شرک کر بیٹھے تو ان کی بھی تمام تر نیکیاں ضائع ہو جائیں “۔

جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39۔الزمر:65] ‏ ” تجھ پر اور تجھ سے پہلے کے ایک ایک نبی پر یہ وحی بھیج دی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے اعمال اکارت ہو جائیں گے “۔ یہ یاد رہے کہ یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا ہی ضروری نہیں۔

جیسے فرمان ہے آیت «قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» [43-الزخرف:81] ‏ یعنی ” اگر اللہ کی اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے ماننے والا بن جاؤں “۔ اور جیسے اور آیت میں ہے «لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ» [21-الأنبياء:17] ‏ یعنی ” اگر کھیل تماشا بنانا ہی چاہتے ہو تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے “۔

اور فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ» [39۔الزمر:4] ‏ ” اگر اللہ تعالیٰ اولاد کا ہی ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اور وہ یکتا اور غالب ہے “۔

پھر فرمایا ” بندوں پر رحمت نازل فرمانے کیلئے ہم نے انہیں کتاب حکمت اور نبوت عطا فرمائی پس اگر یہ لوگ یعنی اہل مکہ اس کے ساتھ یعنی نبوت کے ساتھ یا کتاب و حکمت و نبوت کے ساتھ کفر کریں یہ اگر ان نعمتوں کا انکار کریں خواہ قریش ہوں خواہ اہل کتاب ہوں خواہ کوئی اور عربی یا عجمی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ ہم نے ایک قوم ایسی بھی تیار کر رکھی ہے جو اس کے ساتھ کبھی کفر نہ کرے گی “۔

یعنی مہاجرین انصار اور ان کی تابعداری کرنے والے ان کے بعد آنے والے یہ لوگ نہ کسی امر کا انکار کریں گے نہ تحریف یا ردوبدل کریں گے بلکہ ایمان کامل لے آئیں گے ہر ہر حرف کو مانیں گے محکم متشابہ سب کا اقرار کریں گے سب پر عقیدہ رکھیں گے۔

صفحہ نمبر2682

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان ہی باایمان لوگوں میں کر دے۔ پھر اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرکے فرماتا ہے ” جن انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ہوا اور جو مجمل طور پر ان کے بڑوں چھوٹوں اور لواحقین میں سے مذکور ہوئے یہی سب اہل ہدایت ہیں تو اپنے نبی آخر الزمان ہی کی اقتداء اور اتباع کرو “، اور جب یہ حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کی امت بطور اولیٰ اس میں داخل ہے۔

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حدیث لائے ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آپ رضی اللہ عنہ کے شاگرد رشید مجاہد رحمتہ اللہ علیہ نے سوال کیا کہ کیا سورۃ ص میں سجدہ ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں ہے۔‏“ پھر آپ نے یہ یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی تابعداری کا حکم ہوا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:4632] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” اے نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )! ان میں اعلان کر دو کہ یہ میں تو قرآن پہنچانے کا کوئی معاوضہ یا بدلہ یا اجرت تم سے نہیں چاہتا۔ یہ تو صرف دنیا کیلئے نصیحت ہے کہ وہ اندھے پن کو چھوڑ کر آنکھوں کا نور حاصل کر لیں اور برائی سے کٹ کر بھلائی پا لیں اور کفر سے نکل کر ایمان میں آ جائیں “۔

صفحہ نمبر2683

خلیل الرحمن کو بشارت اولاد ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحٰق (‏علیہ السلام) ہے اس وقت آپ علیہ السلام بھی اولاد سے مایوس ہو چکے تھے اور آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ سارہ رضی اللہ عنہا بھی مایوس ہو چکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ آیت میں ہے کہ «قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَـٰذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ رَحْمَتُ اللَّـهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ» [11-هود:72-73] ‏ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہو چکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔

فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی علیہ السلام کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی بزرگیوں والا ہے اتنا ہی نہیں کہ تمہارے ہاں بچہ ہو گا بلکہ وہ نبی زادہ خود بھی نبی ہوگا اور اس سے تمہاری نسل پھیلے گی اور باقی رہے گی۔ قرآن کی اور آیت «وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ» [37-الصافات:112] ‏ میں بشارت کے الفاظ میں ”نبیا“ کا لفظ بھی ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ «فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71] ‏ اولاد کی اولاد بھی تم دیکھ لوگے اسحاق کے گھر یعقوب پیدا ہوں گے اور تمہیں خوشی پر خوشی ہوگی اور پھر پوتے کا نام یعقوب رکھنا جو عقب سے مشتق ہے خوشخبری ہے اس امر کی کہ یہ نسل جاری رہے گی۔

صفحہ نمبر2678

فی الواقع خلیل اللہ علیہ السلام اس بشارت کے قابل بھی تھے قوم کو چھوڑا ان سے منہ موڑا شہر کو چھوڑا ہجرت کی، اللہ نے دنیا میں بھی انعام دیئے، اتنی نسل پھیلائی جو آج تک دنیا میں آباد ہے -

فرمان الٰہی ہے کہ «فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا» [19-مريم:49] ‏ ” جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑا تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب بخشا اور دونوں کو نبی بنایا “۔

یہاں فرمایا ” ان سب کو ہم نے ہدایت دی تھی اور ان کی بھی نیک اولاد دنیا میں باقی رہی “۔ طوفان نوح میں کفار سب غرق ہو گئے پھر نوح علیہ السلام کی نسل پھیلی انبیاء علیہم السلام انہی کی نسل میں سے ہوتے رہے، ابراہیم علیہ السلام کے بعد تو نبوت انہی کے گھرانے میں رہی۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا» [29۔العنکبوت:27] ‏ ” ہم نے ان ہی کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی “۔

اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ» [57۔الحدید:26] ‏ یعنی ” ہم نے نوح اور ابراہیم کو رسول بنا کر پھر ان ہی دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کردی “۔

اور آیت میں ہے «أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ مِن ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَـٰنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا ۩» [19-مريم:58] ‏ ” یہ ہیں جن پر انعام الٰہی ہوا۔ نبیوں میں سے آدم کو اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں لے لیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی اور پسند کر لیا تھا ان پر جب رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو روتے گڑگڑاتے سجدے میں گر پڑتے تھے “۔

پھر فرمایا ” ہم نے اس کی اولاد میں سے داؤد و سلیمان کو ہدایت کی “، اس میں اگر ضمیر کا مرجع نوح علیہ السلام کو کیا جائے تو ٹھیک ہے اس لیے کہ ضمیر سے پہلے سب سے قریب نام یہی ہے۔

صفحہ نمبر2679

امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں اور ہے بھی یہ بالکل ظاہر جس میں کوئی اشکال نہیں ہاں اسے ابراہیم علیہ السلام کی طرف لوٹانا بھی ہے تو اچھا اس لیے کہ کلام انہی کے بارے میں ہے قصہ انہی کا بیان ہو رہا ہے لیکن بعد کے ناموں میں سے لوط علیہ السلام کا نام اولاد آدم میں ہونا ذرا مشکل ہے اس لیے کہ لوط علیہ السلام خلیل اللہ علیہ السلام کی اولاد میں نہیں بلکہ ان کے والد کا نام ماران ہے وہ آزر کے لڑکے تھے تو وہ آپ علیہ السلام کے بھتیجے ہوئے -

ہاں اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ با اعتبار غلبے کے انہیں بھی اولاد میں شامل کر لیا گیا جیسے کہ آیت «اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِيْ» [2۔ البقرہ:133] ‏ میں اسمعیل علیہ السلام کو جو اولاد یعقوب کے چچا تھا باپوں میں شمار کر لیا گیا ہے، ہاں یہ بھی خیال رہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اولاد ابراہیم علیہ السلام یا اولاد نوح علیہ السلام میں گننا اس بنا پر ہے کہ لڑکیوں کی اولاد یعنی نواسے بھی اولاد میں داخل ہیں کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے تھے۔

صفحہ نمبر2680

روایت میں ہے حجاج نے یحییٰ بن یعمر کے پاس آدمی بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو حسن، حسین رضی اللہ عنہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں گنتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قرآن سے ثابت ہے لیکن میں تو پورے قرآن میں کسی جگہ یہ نہیں پاتا، آپ نے جواب دیا کیا تو نے سورۃ الانعام میں آیت «وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ» [6-الأنعام:84] ‏ نہیں پڑھا اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھا ہے کہا پھر دیکھو اس میں عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہے اور ان کا کوئی باپ تھا ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی کی اولاد بھی اولاد ہی ہے۔ حجاج نے کہا بے شک آپ سچے ہیں۔

اسی لیے مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ذریت کے لیے وصیت کرے یا وقف کرے یا ہبہ کرے تو لڑکیوں کی اولاد بھی اس میں داخل ہے۔ ہاں اگر اس نے اپنے لڑکوں کو دیا ہے یا ان پر وقف کیا ہے تو اس کے اپنے صلبی لڑکے اور لڑکوں کے لڑکے اس میں شامل ہوں گے اس کی دلیل عربی شاعر کا یہ شعر سنئے۔ «بنو نا بنوا ابنا ئنا و بنا تنا بنو ھن ابناء الرجال الا جانب» یعنی ہمارے لڑکوں کے لڑکے تو ہمارے لڑکے ہیں اور ہماری لڑکیوں کے لڑکے اجنبیوں کے لڑکے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لڑکے بھی ان میں داخل ہیں کیونکہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا: میرا یہ لڑکا سید ہے اور ان شاءاللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ صلح کرا دے گا ۔ [صحیح بخاری:2704] ‏

پس نواسے کو اپنا لڑکا کہنے سے لڑکیوں کی اولاد کا بھی اپنی اولاد میں داخل ہونا ثابت ہوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ مجاز ہے۔ اس کے بعد فرمایا ان کے باپ دادے ان کی اولادیں ان کے بھائی الغرض اصول و فروع اور اہل طبقہ کا ذکر آگیا کہ ہدایت اور پسندیدگی ان سب کو گھیرے ہوئے ہے، یہ اللہ کی سچی اور سیدھی راہ پر لگا دیئے گئے ہیں۔ یہ جو کچھ انہیں حاصل ہوا یہ اللہ کی مہربانی اس کی توفیق اور اس کی ہدایت سے ہے۔

صفحہ نمبر2681

پھر شرک کا کامل برائی لوگوں کے ذہن میں آجائے اس لیے فرمایا کہ ” اگر بالفرض نبیوں کا یہ گروہ بھی شرک کر بیٹھے تو ان کی بھی تمام تر نیکیاں ضائع ہو جائیں “۔

جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39۔الزمر:65] ‏ ” تجھ پر اور تجھ سے پہلے کے ایک ایک نبی پر یہ وحی بھیج دی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے اعمال اکارت ہو جائیں گے “۔ یہ یاد رہے کہ یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا ہی ضروری نہیں۔

جیسے فرمان ہے آیت «قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» [43-الزخرف:81] ‏ یعنی ” اگر اللہ کی اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے ماننے والا بن جاؤں “۔ اور جیسے اور آیت میں ہے «لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ» [21-الأنبياء:17] ‏ یعنی ” اگر کھیل تماشا بنانا ہی چاہتے ہو تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے “۔

اور فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ» [39۔الزمر:4] ‏ ” اگر اللہ تعالیٰ اولاد کا ہی ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اور وہ یکتا اور غالب ہے “۔

پھر فرمایا ” بندوں پر رحمت نازل فرمانے کیلئے ہم نے انہیں کتاب حکمت اور نبوت عطا فرمائی پس اگر یہ لوگ یعنی اہل مکہ اس کے ساتھ یعنی نبوت کے ساتھ یا کتاب و حکمت و نبوت کے ساتھ کفر کریں یہ اگر ان نعمتوں کا انکار کریں خواہ قریش ہوں خواہ اہل کتاب ہوں خواہ کوئی اور عربی یا عجمی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ ہم نے ایک قوم ایسی بھی تیار کر رکھی ہے جو اس کے ساتھ کبھی کفر نہ کرے گی “۔

یعنی مہاجرین انصار اور ان کی تابعداری کرنے والے ان کے بعد آنے والے یہ لوگ نہ کسی امر کا انکار کریں گے نہ تحریف یا ردوبدل کریں گے بلکہ ایمان کامل لے آئیں گے ہر ہر حرف کو مانیں گے محکم متشابہ سب کا اقرار کریں گے سب پر عقیدہ رکھیں گے۔

صفحہ نمبر2682

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان ہی باایمان لوگوں میں کر دے۔ پھر اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرکے فرماتا ہے ” جن انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ہوا اور جو مجمل طور پر ان کے بڑوں چھوٹوں اور لواحقین میں سے مذکور ہوئے یہی سب اہل ہدایت ہیں تو اپنے نبی آخر الزمان ہی کی اقتداء اور اتباع کرو “، اور جب یہ حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کی امت بطور اولیٰ اس میں داخل ہے۔

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حدیث لائے ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آپ رضی اللہ عنہ کے شاگرد رشید مجاہد رحمتہ اللہ علیہ نے سوال کیا کہ کیا سورۃ ص میں سجدہ ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں ہے۔‏“ پھر آپ نے یہ یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی تابعداری کا حکم ہوا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:4632] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” اے نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )! ان میں اعلان کر دو کہ یہ میں تو قرآن پہنچانے کا کوئی معاوضہ یا بدلہ یا اجرت تم سے نہیں چاہتا۔ یہ تو صرف دنیا کیلئے نصیحت ہے کہ وہ اندھے پن کو چھوڑ کر آنکھوں کا نور حاصل کر لیں اور برائی سے کٹ کر بھلائی پا لیں اور کفر سے نکل کر ایمان میں آ جائیں “۔

صفحہ نمبر2683

خلیل الرحمن کو بشارت اولاد ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحٰق (‏علیہ السلام) ہے اس وقت آپ علیہ السلام بھی اولاد سے مایوس ہو چکے تھے اور آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ سارہ رضی اللہ عنہا بھی مایوس ہو چکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ آیت میں ہے کہ «قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَـٰذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ رَحْمَتُ اللَّـهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ» [11-هود:72-73] ‏ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہو چکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔

فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی علیہ السلام کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی بزرگیوں والا ہے اتنا ہی نہیں کہ تمہارے ہاں بچہ ہو گا بلکہ وہ نبی زادہ خود بھی نبی ہوگا اور اس سے تمہاری نسل پھیلے گی اور باقی رہے گی۔ قرآن کی اور آیت «وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ» [37-الصافات:112] ‏ میں بشارت کے الفاظ میں ”نبیا“ کا لفظ بھی ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ «فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71] ‏ اولاد کی اولاد بھی تم دیکھ لوگے اسحاق کے گھر یعقوب پیدا ہوں گے اور تمہیں خوشی پر خوشی ہوگی اور پھر پوتے کا نام یعقوب رکھنا جو عقب سے مشتق ہے خوشخبری ہے اس امر کی کہ یہ نسل جاری رہے گی۔

صفحہ نمبر2678

فی الواقع خلیل اللہ علیہ السلام اس بشارت کے قابل بھی تھے قوم کو چھوڑا ان سے منہ موڑا شہر کو چھوڑا ہجرت کی، اللہ نے دنیا میں بھی انعام دیئے، اتنی نسل پھیلائی جو آج تک دنیا میں آباد ہے -

فرمان الٰہی ہے کہ «فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا» [19-مريم:49] ‏ ” جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑا تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب بخشا اور دونوں کو نبی بنایا “۔

یہاں فرمایا ” ان سب کو ہم نے ہدایت دی تھی اور ان کی بھی نیک اولاد دنیا میں باقی رہی “۔ طوفان نوح میں کفار سب غرق ہو گئے پھر نوح علیہ السلام کی نسل پھیلی انبیاء علیہم السلام انہی کی نسل میں سے ہوتے رہے، ابراہیم علیہ السلام کے بعد تو نبوت انہی کے گھرانے میں رہی۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا» [29۔العنکبوت:27] ‏ ” ہم نے ان ہی کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی “۔

اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ» [57۔الحدید:26] ‏ یعنی ” ہم نے نوح اور ابراہیم کو رسول بنا کر پھر ان ہی دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کردی “۔

اور آیت میں ہے «أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ مِن ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَـٰنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا ۩» [19-مريم:58] ‏ ” یہ ہیں جن پر انعام الٰہی ہوا۔ نبیوں میں سے آدم کو اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں لے لیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی اور پسند کر لیا تھا ان پر جب رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو روتے گڑگڑاتے سجدے میں گر پڑتے تھے “۔

پھر فرمایا ” ہم نے اس کی اولاد میں سے داؤد و سلیمان کو ہدایت کی “، اس میں اگر ضمیر کا مرجع نوح علیہ السلام کو کیا جائے تو ٹھیک ہے اس لیے کہ ضمیر سے پہلے سب سے قریب نام یہی ہے۔

صفحہ نمبر2679

امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں اور ہے بھی یہ بالکل ظاہر جس میں کوئی اشکال نہیں ہاں اسے ابراہیم علیہ السلام کی طرف لوٹانا بھی ہے تو اچھا اس لیے کہ کلام انہی کے بارے میں ہے قصہ انہی کا بیان ہو رہا ہے لیکن بعد کے ناموں میں سے لوط علیہ السلام کا نام اولاد آدم میں ہونا ذرا مشکل ہے اس لیے کہ لوط علیہ السلام خلیل اللہ علیہ السلام کی اولاد میں نہیں بلکہ ان کے والد کا نام ماران ہے وہ آزر کے لڑکے تھے تو وہ آپ علیہ السلام کے بھتیجے ہوئے -

ہاں اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ با اعتبار غلبے کے انہیں بھی اولاد میں شامل کر لیا گیا جیسے کہ آیت «اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِيْ» [2۔ البقرہ:133] ‏ میں اسمعیل علیہ السلام کو جو اولاد یعقوب کے چچا تھا باپوں میں شمار کر لیا گیا ہے، ہاں یہ بھی خیال رہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اولاد ابراہیم علیہ السلام یا اولاد نوح علیہ السلام میں گننا اس بنا پر ہے کہ لڑکیوں کی اولاد یعنی نواسے بھی اولاد میں داخل ہیں کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے تھے۔

صفحہ نمبر2680

روایت میں ہے حجاج نے یحییٰ بن یعمر کے پاس آدمی بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو حسن، حسین رضی اللہ عنہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں گنتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قرآن سے ثابت ہے لیکن میں تو پورے قرآن میں کسی جگہ یہ نہیں پاتا، آپ نے جواب دیا کیا تو نے سورۃ الانعام میں آیت «وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ» [6-الأنعام:84] ‏ نہیں پڑھا اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھا ہے کہا پھر دیکھو اس میں عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہے اور ان کا کوئی باپ تھا ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی کی اولاد بھی اولاد ہی ہے۔ حجاج نے کہا بے شک آپ سچے ہیں۔

اسی لیے مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ذریت کے لیے وصیت کرے یا وقف کرے یا ہبہ کرے تو لڑکیوں کی اولاد بھی اس میں داخل ہے۔ ہاں اگر اس نے اپنے لڑکوں کو دیا ہے یا ان پر وقف کیا ہے تو اس کے اپنے صلبی لڑکے اور لڑکوں کے لڑکے اس میں شامل ہوں گے اس کی دلیل عربی شاعر کا یہ شعر سنئے۔ «بنو نا بنوا ابنا ئنا و بنا تنا بنو ھن ابناء الرجال الا جانب» یعنی ہمارے لڑکوں کے لڑکے تو ہمارے لڑکے ہیں اور ہماری لڑکیوں کے لڑکے اجنبیوں کے لڑکے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لڑکے بھی ان میں داخل ہیں کیونکہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا: میرا یہ لڑکا سید ہے اور ان شاءاللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ صلح کرا دے گا ۔ [صحیح بخاری:2704] ‏

پس نواسے کو اپنا لڑکا کہنے سے لڑکیوں کی اولاد کا بھی اپنی اولاد میں داخل ہونا ثابت ہوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ مجاز ہے۔ اس کے بعد فرمایا ان کے باپ دادے ان کی اولادیں ان کے بھائی الغرض اصول و فروع اور اہل طبقہ کا ذکر آگیا کہ ہدایت اور پسندیدگی ان سب کو گھیرے ہوئے ہے، یہ اللہ کی سچی اور سیدھی راہ پر لگا دیئے گئے ہیں۔ یہ جو کچھ انہیں حاصل ہوا یہ اللہ کی مہربانی اس کی توفیق اور اس کی ہدایت سے ہے۔

صفحہ نمبر2681

پھر شرک کا کامل برائی لوگوں کے ذہن میں آجائے اس لیے فرمایا کہ ” اگر بالفرض نبیوں کا یہ گروہ بھی شرک کر بیٹھے تو ان کی بھی تمام تر نیکیاں ضائع ہو جائیں “۔

جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39۔الزمر:65] ‏ ” تجھ پر اور تجھ سے پہلے کے ایک ایک نبی پر یہ وحی بھیج دی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے اعمال اکارت ہو جائیں گے “۔ یہ یاد رہے کہ یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا ہی ضروری نہیں۔

جیسے فرمان ہے آیت «قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» [43-الزخرف:81] ‏ یعنی ” اگر اللہ کی اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے ماننے والا بن جاؤں “۔ اور جیسے اور آیت میں ہے «لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ» [21-الأنبياء:17] ‏ یعنی ” اگر کھیل تماشا بنانا ہی چاہتے ہو تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے “۔

اور فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ» [39۔الزمر:4] ‏ ” اگر اللہ تعالیٰ اولاد کا ہی ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اور وہ یکتا اور غالب ہے “۔

پھر فرمایا ” بندوں پر رحمت نازل فرمانے کیلئے ہم نے انہیں کتاب حکمت اور نبوت عطا فرمائی پس اگر یہ لوگ یعنی اہل مکہ اس کے ساتھ یعنی نبوت کے ساتھ یا کتاب و حکمت و نبوت کے ساتھ کفر کریں یہ اگر ان نعمتوں کا انکار کریں خواہ قریش ہوں خواہ اہل کتاب ہوں خواہ کوئی اور عربی یا عجمی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ ہم نے ایک قوم ایسی بھی تیار کر رکھی ہے جو اس کے ساتھ کبھی کفر نہ کرے گی “۔

یعنی مہاجرین انصار اور ان کی تابعداری کرنے والے ان کے بعد آنے والے یہ لوگ نہ کسی امر کا انکار کریں گے نہ تحریف یا ردوبدل کریں گے بلکہ ایمان کامل لے آئیں گے ہر ہر حرف کو مانیں گے محکم متشابہ سب کا اقرار کریں گے سب پر عقیدہ رکھیں گے۔

صفحہ نمبر2682

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان ہی باایمان لوگوں میں کر دے۔ پھر اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرکے فرماتا ہے ” جن انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ہوا اور جو مجمل طور پر ان کے بڑوں چھوٹوں اور لواحقین میں سے مذکور ہوئے یہی سب اہل ہدایت ہیں تو اپنے نبی آخر الزمان ہی کی اقتداء اور اتباع کرو “، اور جب یہ حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کی امت بطور اولیٰ اس میں داخل ہے۔

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حدیث لائے ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آپ رضی اللہ عنہ کے شاگرد رشید مجاہد رحمتہ اللہ علیہ نے سوال کیا کہ کیا سورۃ ص میں سجدہ ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں ہے۔‏“ پھر آپ نے یہ یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی تابعداری کا حکم ہوا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:4632] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” اے نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )! ان میں اعلان کر دو کہ یہ میں تو قرآن پہنچانے کا کوئی معاوضہ یا بدلہ یا اجرت تم سے نہیں چاہتا۔ یہ تو صرف دنیا کیلئے نصیحت ہے کہ وہ اندھے پن کو چھوڑ کر آنکھوں کا نور حاصل کر لیں اور برائی سے کٹ کر بھلائی پا لیں اور کفر سے نکل کر ایمان میں آ جائیں “۔

صفحہ نمبر2683

خلیل الرحمن کو بشارت اولاد ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحٰق (‏علیہ السلام) ہے اس وقت آپ علیہ السلام بھی اولاد سے مایوس ہو چکے تھے اور آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ سارہ رضی اللہ عنہا بھی مایوس ہو چکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ آیت میں ہے کہ «قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَـٰذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ رَحْمَتُ اللَّـهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ» [11-هود:72-73] ‏ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہو چکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔

فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی علیہ السلام کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی بزرگیوں والا ہے اتنا ہی نہیں کہ تمہارے ہاں بچہ ہو گا بلکہ وہ نبی زادہ خود بھی نبی ہوگا اور اس سے تمہاری نسل پھیلے گی اور باقی رہے گی۔ قرآن کی اور آیت «وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ» [37-الصافات:112] ‏ میں بشارت کے الفاظ میں ”نبیا“ کا لفظ بھی ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ «فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ» [11-هود:71] ‏ اولاد کی اولاد بھی تم دیکھ لوگے اسحاق کے گھر یعقوب پیدا ہوں گے اور تمہیں خوشی پر خوشی ہوگی اور پھر پوتے کا نام یعقوب رکھنا جو عقب سے مشتق ہے خوشخبری ہے اس امر کی کہ یہ نسل جاری رہے گی۔

صفحہ نمبر2678

فی الواقع خلیل اللہ علیہ السلام اس بشارت کے قابل بھی تھے قوم کو چھوڑا ان سے منہ موڑا شہر کو چھوڑا ہجرت کی، اللہ نے دنیا میں بھی انعام دیئے، اتنی نسل پھیلائی جو آج تک دنیا میں آباد ہے -

فرمان الٰہی ہے کہ «فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا» [19-مريم:49] ‏ ” جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑا تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب بخشا اور دونوں کو نبی بنایا “۔

یہاں فرمایا ” ان سب کو ہم نے ہدایت دی تھی اور ان کی بھی نیک اولاد دنیا میں باقی رہی “۔ طوفان نوح میں کفار سب غرق ہو گئے پھر نوح علیہ السلام کی نسل پھیلی انبیاء علیہم السلام انہی کی نسل میں سے ہوتے رہے، ابراہیم علیہ السلام کے بعد تو نبوت انہی کے گھرانے میں رہی۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا» [29۔العنکبوت:27] ‏ ” ہم نے ان ہی کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی “۔

اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِيْمَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّـتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ» [57۔الحدید:26] ‏ یعنی ” ہم نے نوح اور ابراہیم کو رسول بنا کر پھر ان ہی دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کردی “۔

اور آیت میں ہے «أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ مِن ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَـٰنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا ۩» [19-مريم:58] ‏ ” یہ ہیں جن پر انعام الٰہی ہوا۔ نبیوں میں سے آدم کو اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں لے لیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے اور جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی اور پسند کر لیا تھا ان پر جب رحمان کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو روتے گڑگڑاتے سجدے میں گر پڑتے تھے “۔

پھر فرمایا ” ہم نے اس کی اولاد میں سے داؤد و سلیمان کو ہدایت کی “، اس میں اگر ضمیر کا مرجع نوح علیہ السلام کو کیا جائے تو ٹھیک ہے اس لیے کہ ضمیر سے پہلے سب سے قریب نام یہی ہے۔

صفحہ نمبر2679

امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں اور ہے بھی یہ بالکل ظاہر جس میں کوئی اشکال نہیں ہاں اسے ابراہیم علیہ السلام کی طرف لوٹانا بھی ہے تو اچھا اس لیے کہ کلام انہی کے بارے میں ہے قصہ انہی کا بیان ہو رہا ہے لیکن بعد کے ناموں میں سے لوط علیہ السلام کا نام اولاد آدم میں ہونا ذرا مشکل ہے اس لیے کہ لوط علیہ السلام خلیل اللہ علیہ السلام کی اولاد میں نہیں بلکہ ان کے والد کا نام ماران ہے وہ آزر کے لڑکے تھے تو وہ آپ علیہ السلام کے بھتیجے ہوئے -

ہاں اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ با اعتبار غلبے کے انہیں بھی اولاد میں شامل کر لیا گیا جیسے کہ آیت «اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِيْ» [2۔ البقرہ:133] ‏ میں اسمعیل علیہ السلام کو جو اولاد یعقوب کے چچا تھا باپوں میں شمار کر لیا گیا ہے، ہاں یہ بھی خیال رہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اولاد ابراہیم علیہ السلام یا اولاد نوح علیہ السلام میں گننا اس بنا پر ہے کہ لڑکیوں کی اولاد یعنی نواسے بھی اولاد میں داخل ہیں کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے تھے۔

صفحہ نمبر2680

روایت میں ہے حجاج نے یحییٰ بن یعمر کے پاس آدمی بھیجا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو حسن، حسین رضی اللہ عنہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں گنتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قرآن سے ثابت ہے لیکن میں تو پورے قرآن میں کسی جگہ یہ نہیں پاتا، آپ نے جواب دیا کیا تو نے سورۃ الانعام میں آیت «وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ» [6-الأنعام:84] ‏ نہیں پڑھا اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھا ہے کہا پھر دیکھو اس میں عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہے اور ان کا کوئی باپ تھا ہی نہیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی کی اولاد بھی اولاد ہی ہے۔ حجاج نے کہا بے شک آپ سچے ہیں۔

اسی لیے مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ذریت کے لیے وصیت کرے یا وقف کرے یا ہبہ کرے تو لڑکیوں کی اولاد بھی اس میں داخل ہے۔ ہاں اگر اس نے اپنے لڑکوں کو دیا ہے یا ان پر وقف کیا ہے تو اس کے اپنے صلبی لڑکے اور لڑکوں کے لڑکے اس میں شامل ہوں گے اس کی دلیل عربی شاعر کا یہ شعر سنئے۔ «بنو نا بنوا ابنا ئنا و بنا تنا بنو ھن ابناء الرجال الا جانب» یعنی ہمارے لڑکوں کے لڑکے تو ہمارے لڑکے ہیں اور ہماری لڑکیوں کے لڑکے اجنبیوں کے لڑکے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لڑکے بھی ان میں داخل ہیں کیونکہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا: میرا یہ لڑکا سید ہے اور ان شاءاللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ صلح کرا دے گا ۔ [صحیح بخاری:2704] ‏

پس نواسے کو اپنا لڑکا کہنے سے لڑکیوں کی اولاد کا بھی اپنی اولاد میں داخل ہونا ثابت ہوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ مجاز ہے۔ اس کے بعد فرمایا ان کے باپ دادے ان کی اولادیں ان کے بھائی الغرض اصول و فروع اور اہل طبقہ کا ذکر آگیا کہ ہدایت اور پسندیدگی ان سب کو گھیرے ہوئے ہے، یہ اللہ کی سچی اور سیدھی راہ پر لگا دیئے گئے ہیں۔ یہ جو کچھ انہیں حاصل ہوا یہ اللہ کی مہربانی اس کی توفیق اور اس کی ہدایت سے ہے۔

صفحہ نمبر2681

پھر شرک کا کامل برائی لوگوں کے ذہن میں آجائے اس لیے فرمایا کہ ” اگر بالفرض نبیوں کا یہ گروہ بھی شرک کر بیٹھے تو ان کی بھی تمام تر نیکیاں ضائع ہو جائیں “۔

جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [39۔الزمر:65] ‏ ” تجھ پر اور تجھ سے پہلے کے ایک ایک نبی پر یہ وحی بھیج دی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے اعمال اکارت ہو جائیں گے “۔ یہ یاد رہے کہ یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا ہی ضروری نہیں۔

جیسے فرمان ہے آیت «قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ» [43-الزخرف:81] ‏ یعنی ” اگر اللہ کی اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے ماننے والا بن جاؤں “۔ اور جیسے اور آیت میں ہے «لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ» [21-الأنبياء:17] ‏ یعنی ” اگر کھیل تماشا بنانا ہی چاہتے ہو تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے “۔

اور فرمان ہے آیت «لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحٰنَهٗ» [39۔الزمر:4] ‏ ” اگر اللہ تعالیٰ اولاد کا ہی ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اور وہ یکتا اور غالب ہے “۔

پھر فرمایا ” بندوں پر رحمت نازل فرمانے کیلئے ہم نے انہیں کتاب حکمت اور نبوت عطا فرمائی پس اگر یہ لوگ یعنی اہل مکہ اس کے ساتھ یعنی نبوت کے ساتھ یا کتاب و حکمت و نبوت کے ساتھ کفر کریں یہ اگر ان نعمتوں کا انکار کریں خواہ قریش ہوں خواہ اہل کتاب ہوں خواہ کوئی اور عربی یا عجمی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ ہم نے ایک قوم ایسی بھی تیار کر رکھی ہے جو اس کے ساتھ کبھی کفر نہ کرے گی “۔

یعنی مہاجرین انصار اور ان کی تابعداری کرنے والے ان کے بعد آنے والے یہ لوگ نہ کسی امر کا انکار کریں گے نہ تحریف یا ردوبدل کریں گے بلکہ ایمان کامل لے آئیں گے ہر ہر حرف کو مانیں گے محکم متشابہ سب کا اقرار کریں گے سب پر عقیدہ رکھیں گے۔

صفحہ نمبر2682

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان ہی باایمان لوگوں میں کر دے۔ پھر اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرکے فرماتا ہے ” جن انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ہوا اور جو مجمل طور پر ان کے بڑوں چھوٹوں اور لواحقین میں سے مذکور ہوئے یہی سب اہل ہدایت ہیں تو اپنے نبی آخر الزمان ہی کی اقتداء اور اتباع کرو “، اور جب یہ حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کی امت بطور اولیٰ اس میں داخل ہے۔

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حدیث لائے ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آپ رضی اللہ عنہ کے شاگرد رشید مجاہد رحمتہ اللہ علیہ نے سوال کیا کہ کیا سورۃ ص میں سجدہ ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں ہے۔‏“ پھر آپ نے یہ یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی تابعداری کا حکم ہوا ہے“ ۔ [صحیح بخاری:4632] ‏

پھر فرماتا ہے کہ ” اے نبی (‏ صلی اللہ علیہ وسلم )! ان میں اعلان کر دو کہ یہ میں تو قرآن پہنچانے کا کوئی معاوضہ یا بدلہ یا اجرت تم سے نہیں چاہتا۔ یہ تو صرف دنیا کیلئے نصیحت ہے کہ وہ اندھے پن کو چھوڑ کر آنکھوں کا نور حاصل کر لیں اور برائی سے کٹ کر بھلائی پا لیں اور کفر سے نکل کر ایمان میں آ جائیں “۔

صفحہ نمبر2683

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com