Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-An'aam
Tafsir Ibn Kathir · The Cattle · 165 ayat · ayat 91–120 · Quran text →
تمام رسول انسان ہی ہیں ٭٭
اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے والے دراصل اللہ کی عظمت کے ماننے والے نہیں۔ عبداللہ بن کثیر کہتے ہیں کفار قریش کے حق میں یہ آیت اتری ہے اور قول ہے کہ یہود کی ایک جماعت کے حق میں ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فخاص یہودی کے حق میں اور یہ بھی ہے کہ مالک بن صیف کے بارے میں کہا گیا ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ پہلا قول حق اس لیے ہے کہ آیت مکیہ ہے اور اس لیے بھی کہ یہودی آسمان سے کتاب اترنے کے بالکل منکر نہ تھے، ہاں البتہ قریشی اور عام عرب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے قائل نہ تھے اور کہتے تھے کہ انسان اللہ کا رسول نہیں ہو سکتا۔
جیسے قرآن ان کا تعجب نقل کرتا ہے آیت «أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ» [10-یونس:2] یعنی ” کیا لوگوں کو اس بات پر اچنبھا ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی نزول فرمائی کہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے “۔
اور آیت میں ہے «وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَاءَهُمُ الْهُدٰٓى اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا قُل لَّوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُولًا» [17-الاسراء:95-94] ” لوگوں کے اس خیال نے ہی کہ کیا اللہ نے انسان کو اپنا رسول بنا لیا انہیں ایمان سے روک دیا ہے، سنو اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے تو ہم بھی آسمان سے کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتے “۔
یہاں بھی کفار کا یہی اعتراض بیان کرکے فرماتا ہے کہ ” انہیں جواب دو کہ تم جو بالکل انکار کرتے ہو کہ کسی انسان پر اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی نازل نہیں فرمایا یہ تمہاری کیسی کھلی غلطی ہے؟ بھلا بتلاؤ موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات کس نے اتاری تھی جو سراسر نور و ہدایت تھی “۔
صفحہ نمبر2690
الغرض تورات کے تم سب قائل ہو جو مشکل مسائل آسان کرنے والی، کفر کے اندھیروں کو چھانٹنے، شبہ کو ہٹانے اور راہ راست دکھانے والی ہے، تم نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر رکھے ہیں صحیح اور اصلی کتاب میں سے بہت سا حصہ چھپا رکھا ہے کچھ اس میں سے لکھ لاتے ہو اور پھر اسے بھی تحریف کر کے لوگوں کو بتا رہے ہو، اپنی باتوں اپنے خیالات کو اللہ کی کتاب کی طرف منسوب کرتے ہو۔
قرآن تو وہ ہے جو تمہارے سامنے وہ علوم پیش کرتا ہے جن سے تم اور تمہارے اگلے اور تمہارے بڑے سب محروم تھے، پچھلی سچی خبریں اس میں موجود، آنے والے واقعات کی صحیح خبریں اس میں موجود ہیں جو آج تک دنیا کے علم میں نہیں آئی تھیں -کہتے ہیں اس سے مراد مشرکین عرب ہیں اور بعض کہتے ہیں اس سے مراد مسلمان ہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ ” یہ لوگ تو اس کا جواب کیا دیں گے کہ تورات کس نے اتاری؟ تو خود کہہ دے کہ اللہ نے اتاری ہے پھر انہیں ان کی جہالت و ضلالت میں ہی کھیلتا ہوا چھوڑ دے یہاں تک کہ انہیں موت آئے اور یقین کی آنکھوں سے خود ہی دیکھ لیں کہ اس جہان میں یہ اچھے رہتے ہیں یا مسلمان متقی؟ یہ کتاب یعنی قرآن کریم ہمارا اتارا ہوا ہے، یہ بابرکت ہے یہ اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے ہم نے اسے تیری طرف اس لیے نازل فرمایا کہ تو اہل مکہ کو، اس کے پاس والوں کو یعنی عرب کے قبائل اور عجمیوں کو ہوشیار کر دے اور ڈراوا دیدے “۔
«مَنْ حَوْلَهَا» سے مراد ساری دنیا ہے اور آیت میں ہے «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» [7۔ الأعراف:158] یعنی ” اے دنیا جہان کے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر ہوں “۔
اور آیت میں ہے «لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ» [6۔ الأنعام:19] ” تاکہ میں تمہیں بھی اور جسے یہ پہنچے اسے ڈرا دوں اور قرآن سنا کر عذابوں سے خبردار کر دوں “۔ اور فرمان ہے آیت «وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ» [11-ھود:17] ” جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے اس کا ٹھکانا جہنم ہے “۔
اور آیت میں فرمایا گیا «تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَا» [25۔ الفرقان:1] یعنی ” اللہ برکتوں والا ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہان والوں کو آگاہ کر دے “۔
اور آیت میں ارشاد ہے «وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ» [3-آل عمران:20] یعنی ” اہل کتاب سے اور ان پڑھوں سے بس سے کہہ دو کہ کیا تم اسلام قبول کرتے ہو؟ اگر قبول کر لیں تو راہ راست پر ہیں اور اگر منہ موڑ لیں تو تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے اللہ اپنے بندے کو خوب دیکھ رہا ہے “۔
صفحہ نمبر2691
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی علیہ السلام کو نہیں دی گئیں ان کو بیان فرماتے ہوئے ایک یہ بیان فرمایا کہ ہر نبی علیہ السلام صرف ایک قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا لیکن میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں ۔ [صحیح بخاری:335] اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہوا کہ ” قیامت کے معتقد تو اسے مانتے ہیں جانتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی سچی کتاب ہے اور وہ نمازیں بھی صحیح وقتوں پر برابر پڑھا کرتے ہیں اللہ کے اس فرض کے قیام میں اور اس کی حفاظت میں سستی اور کاہلی نہیں کرتے “۔
صفحہ نمبر2692
تمام رسول انسان ہی ہیں ٭٭
اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے والے دراصل اللہ کی عظمت کے ماننے والے نہیں۔ عبداللہ بن کثیر کہتے ہیں کفار قریش کے حق میں یہ آیت اتری ہے اور قول ہے کہ یہود کی ایک جماعت کے حق میں ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فخاص یہودی کے حق میں اور یہ بھی ہے کہ مالک بن صیف کے بارے میں کہا گیا ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ پہلا قول حق اس لیے ہے کہ آیت مکیہ ہے اور اس لیے بھی کہ یہودی آسمان سے کتاب اترنے کے بالکل منکر نہ تھے، ہاں البتہ قریشی اور عام عرب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے قائل نہ تھے اور کہتے تھے کہ انسان اللہ کا رسول نہیں ہو سکتا۔
جیسے قرآن ان کا تعجب نقل کرتا ہے آیت «أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ» [10-یونس:2] یعنی ” کیا لوگوں کو اس بات پر اچنبھا ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی نزول فرمائی کہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے “۔
اور آیت میں ہے «وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَاءَهُمُ الْهُدٰٓى اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا قُل لَّوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُولًا» [17-الاسراء:95-94] ” لوگوں کے اس خیال نے ہی کہ کیا اللہ نے انسان کو اپنا رسول بنا لیا انہیں ایمان سے روک دیا ہے، سنو اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے تو ہم بھی آسمان سے کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتے “۔
یہاں بھی کفار کا یہی اعتراض بیان کرکے فرماتا ہے کہ ” انہیں جواب دو کہ تم جو بالکل انکار کرتے ہو کہ کسی انسان پر اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی نازل نہیں فرمایا یہ تمہاری کیسی کھلی غلطی ہے؟ بھلا بتلاؤ موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات کس نے اتاری تھی جو سراسر نور و ہدایت تھی “۔
صفحہ نمبر2690
الغرض تورات کے تم سب قائل ہو جو مشکل مسائل آسان کرنے والی، کفر کے اندھیروں کو چھانٹنے، شبہ کو ہٹانے اور راہ راست دکھانے والی ہے، تم نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر رکھے ہیں صحیح اور اصلی کتاب میں سے بہت سا حصہ چھپا رکھا ہے کچھ اس میں سے لکھ لاتے ہو اور پھر اسے بھی تحریف کر کے لوگوں کو بتا رہے ہو، اپنی باتوں اپنے خیالات کو اللہ کی کتاب کی طرف منسوب کرتے ہو۔
قرآن تو وہ ہے جو تمہارے سامنے وہ علوم پیش کرتا ہے جن سے تم اور تمہارے اگلے اور تمہارے بڑے سب محروم تھے، پچھلی سچی خبریں اس میں موجود، آنے والے واقعات کی صحیح خبریں اس میں موجود ہیں جو آج تک دنیا کے علم میں نہیں آئی تھیں -کہتے ہیں اس سے مراد مشرکین عرب ہیں اور بعض کہتے ہیں اس سے مراد مسلمان ہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ ” یہ لوگ تو اس کا جواب کیا دیں گے کہ تورات کس نے اتاری؟ تو خود کہہ دے کہ اللہ نے اتاری ہے پھر انہیں ان کی جہالت و ضلالت میں ہی کھیلتا ہوا چھوڑ دے یہاں تک کہ انہیں موت آئے اور یقین کی آنکھوں سے خود ہی دیکھ لیں کہ اس جہان میں یہ اچھے رہتے ہیں یا مسلمان متقی؟ یہ کتاب یعنی قرآن کریم ہمارا اتارا ہوا ہے، یہ بابرکت ہے یہ اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے ہم نے اسے تیری طرف اس لیے نازل فرمایا کہ تو اہل مکہ کو، اس کے پاس والوں کو یعنی عرب کے قبائل اور عجمیوں کو ہوشیار کر دے اور ڈراوا دیدے “۔
«مَنْ حَوْلَهَا» سے مراد ساری دنیا ہے اور آیت میں ہے «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» [7۔ الأعراف:158] یعنی ” اے دنیا جہان کے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر ہوں “۔
اور آیت میں ہے «لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ» [6۔ الأنعام:19] ” تاکہ میں تمہیں بھی اور جسے یہ پہنچے اسے ڈرا دوں اور قرآن سنا کر عذابوں سے خبردار کر دوں “۔ اور فرمان ہے آیت «وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ» [11-ھود:17] ” جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے اس کا ٹھکانا جہنم ہے “۔
اور آیت میں فرمایا گیا «تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَا» [25۔ الفرقان:1] یعنی ” اللہ برکتوں والا ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہان والوں کو آگاہ کر دے “۔
اور آیت میں ارشاد ہے «وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ» [3-آل عمران:20] یعنی ” اہل کتاب سے اور ان پڑھوں سے بس سے کہہ دو کہ کیا تم اسلام قبول کرتے ہو؟ اگر قبول کر لیں تو راہ راست پر ہیں اور اگر منہ موڑ لیں تو تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے اللہ اپنے بندے کو خوب دیکھ رہا ہے “۔
صفحہ نمبر2691
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی علیہ السلام کو نہیں دی گئیں ان کو بیان فرماتے ہوئے ایک یہ بیان فرمایا کہ ہر نبی علیہ السلام صرف ایک قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا لیکن میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں ۔ [صحیح بخاری:335] اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہوا کہ ” قیامت کے معتقد تو اسے مانتے ہیں جانتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی سچی کتاب ہے اور وہ نمازیں بھی صحیح وقتوں پر برابر پڑھا کرتے ہیں اللہ کے اس فرض کے قیام میں اور اس کی حفاظت میں سستی اور کاہلی نہیں کرتے “۔
صفحہ نمبر2692
مغضوب لوگ ٭٭
اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں سے زیادہ ظالم اور کوئی نہیں خواہ اس جھوٹ کی نوعیت یہ ہو کہ اللہ کی اولاد ہے یا اس کے کئی شریک ہیں یا یوں کہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے حالانکہ دراصل رسول نہیں -خواہ مخواہ کہہ دے کہ میری طرف وحی نازل ہوتی ہے حالانکہ کوئی وحی نہ اتری ہو اور اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظالم نہیں ہو جو اللہ کی سچی وحی سے صف آرائی کا مدعی ہو۔
چنانچہ اور آیتوں میں ایسے لوگوں کا بیان ہے کہ ” وہ قرآن کی آیتوں کو سن کر کہا کرتے تھے کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام کہہ سکتے ہیں، کاش کہ تو ان ظالموں کو سکرات موت کی حالت میں دیکھتا جبکہ فرشتوں کے ہاتھ ان کی طرف بڑھ رہے ہوں گے اور وہ مار پیٹ کر رہے ہونگے “۔ یہ محاورہ مار پیٹ سے ہے، جیسے ہابیل قابیل کے قصے میں آیت «لَىِٕنْ بَسَطْتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِيْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ اِنِّىْٓ اَخَاف اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ» [5۔المائدہ:28] ہے اور آیت میں «وَّيَبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ وَاَلْسِنَتَهُمْ بالسُّوْءِ وَوَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ» [60-الممتحنة:2] ہے۔ ضحاک اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم نے بھی یہی تفسیر کی ہے۔
صفحہ نمبر2694
خود قرآن کی آیت میں «يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ» [8-الانفال:50] موجود ہے یعنی ” کافروں کی موت کے وقت فرشتے ان کے منہ پر اور کمر پر مارتے ہیں “۔ یہی بیان یہاں ہے کہ ” فرشتے ان کی جان نکالنے کیلئے انہیں مار پیٹ کرتے ہیں اور کہتے ہیں اپنی جانیں نکالو “۔
کافروں کی موت کے وقت فرشتے انہیں عذابوں، زنجیروں، طوقوں کی، گرم کھولتے ہوئے جہنم کے پانی اور اللہ کے غضب و غصے کی خبر سناتے ہیں جس سے ان کی روح ان کے بدن میں چھپتی پھرتی ہے اور نکلنا نہیں چاہتی، اس پر فرشتے انہیں مار پیٹ کر جبراً گھسیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب تمہاری بدترین اہانت ہوگی اور تم بری طرح رسوا کئے جاؤ گے جیسے کہ تم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اس کے فرمان کو نہیں مانتے تھے اور اس کے رسولوں کی تابعداری سے چڑتے تھے۔ مومن و کافر کی موت کا منظر جو احادیث میں آیا ہے وہ سب آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» [14۔ ابراہیم:27] کی تفسیر میں ہے، ابن مردویہ نے اس جگہ ایک بہت لمبی حدیث بیان کی ہے لیکن اس کی سند غریب ہے۔ [الدر المنشور للسیوطی:56/3:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2695
پھر فرماتا ہے کہ ” جس دن انہیں ان کی قبروں سے اٹھایا جائے گا اس دن ان سے کہا جائے گا کہ «وَعُرِضُوا عَلَىٰ رَبِّكَ صَفًّا لَّقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ» [18-الكهف:48] ” تم تو اسے بہت دور اور محال مانتے تھے تو اب دیکھ لو جس طرح شروع شروع میں ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا اوب دوبارہ بھی پیدا کر دیا -جو کچھ مال متاع ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا سب تم وہیں اپنے پیچھے چھوڑ آئے “۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انسان کہتا ہے میرا مال میرا مال حالانکہ تیرا مال وہی ہے جسے تو نے کھا پی لیا وہ تو فنا ہو گیا یا تو نے پہن اوڑھ لیا وہ پھٹا پرانا ہو کر ضائع ہو گیا یا تو نے نام مولٰی پر خیرات کیا وہ باقی رہا اس کے سوا جو کچھ ہے اسے تو، تو اوروں کے لیے چھوڑ کر یہاں سے جانے والا ہے ۔ [صحیح مسلم:2958]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں انسان کو قیامت کے دن اللہ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور رب العالمین اس سے دریافت فرمائے گا کہ ” جو تو نے جمع کیا تھا وہ کہاں ہے؟ “ یہ جواب دے گا کہ خوب بڑھا چڑھا کر اسے دنیا میں چھوڑ آیا ہوں۔
صفحہ نمبر2696
اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اے ابن آدم پیچھے چھوڑا ہوا تو یہاں نہیں ہے البتہ آگے بھیجا ہوا یہاں موجود ہے “ -اب جو یہ دیکھے گا تو کچھ بھی نہ پائے گا پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھی، پھر انہیں ان کا شرک یاد دلا کر دھمکایا جائے گا کہ «أَيْنَ شُرَكَاؤُكُمُ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ» [6-الأنعام:22] ” جنہیں تم اپنا شریک سمجھ رہے تھے اور جن پر ناز کر رہے تھے کہ ہمیں بچا لیں گے اور نفع دیں گے وہ آج تمہارے ساتھ کیوں نہیں؟ وہ کہاں رہ گئے؟ انہیں شفاعت کے لیے کیوں آگے نہیں بڑھاتے؟ “
حق یہ ہے کہ قیامت کے دن سارے جھوٹ بہتان افترا کھل جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ سب کو سنا کر ان سے فرمائے گا ” جنہیں تم نے میرے شریک ٹھہرا رکھا تھا وہ کہاں ہیں؟ “ اور ان سے کہا جائے گا کہ ” جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے وہ کہاں ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ نہ وہ تمہاری مدد کرتے ہیں نہ خود اپنی مدد وہ آپ کرتے ہیں۔ تم تو دنیا میں انہیں مستحق عبادت سمجھتے رہے “۔
«بَيْنَكُمْ» کی ایک قرأت «بَيْنُكُمْ» بھی ہے یعنی تمہاری یکجہتی ٹوٹ گئی اور پہلی قرأت پر یہ معنی ہیں کہ جو تعلقات تم میں تھے جو وسیلے تم نے بنا رکھے تھے سب کٹ گئے معبودان باطل سے جو غلط منصوبے تم نے باندھ رکھے تھے سب برباد ہو گئے۔
جیسے فرمان باری ہے آیت «إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّـهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ» [2-البقرہ:166-167] یعنی ” تابعداری کرنے والے ان سے بیزار ہوں گے جن کی تابعداری وہ کرتے رہے اور سارے رشتے ناتے اور تعلقات کٹ جائیں گے “۔
صفحہ نمبر2697
اس وقت تابعدار لوگ حسرت و افسوس سے کہیں گے کہ اگر ہم دنیا میں واپس جائیں تو تم سے بھی ایسے ہی بیزار ہو جائیں گے جیسے تم ہم سے بیزار ہوئے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں ان کے کرتوت دکھائے گا ان پر حسرتیں ہوں گی اور یہ جہنم سے نہیں نکلیں گے۔
اور آیت میں ہے «فَإِذَا نُفِخَ فِى الصُّورِ فَلاَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلاَ يَتَسَآءَلُونَ» [23-المؤمنون:101] ” جب صور پھونکا جائے گا تو آپس کے نسب منقطع ہو جائیں گے اور کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا “۔ اور آیت میں ہے کہ «إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» [29-العنکبوت:25] ” جن جن کو تم نے اپنا معبود ٹھہرا رکھا ہے اور ان سے دوستیاں رکھتے ہو وہ قیامت کے دن تمہارے اور تم ان کے منکر ہو جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرو گے تو تم سب کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور کوئی بھی تمہارا مددگار کھڑا نہ ہو گا “۔
اور آیت میں ہے «وَقِيْلَ ادْعُوْا شُرَكَاءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَرَاَوُا الْعَذَابَ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا يَهْتَدُوْنَ» [28-القصص:64] یعنی ” ان سے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو آواز دو وہ پکاریں گے لیکن انہیں کوئی جواب نہ ملے گا “۔
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْٓا اَيْنَ شُرَكَاؤُكُمُ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ» [6۔الأنعام:22] یعنی ” قیامت کے دن ہم ان سب کا حشر کریں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے کہاں ہیں تمہارے شریک؟“ اس بارے کی اور آیتیں بھی بہت ہیں۔
صفحہ نمبر2698
مغضوب لوگ ٭٭
اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں سے زیادہ ظالم اور کوئی نہیں خواہ اس جھوٹ کی نوعیت یہ ہو کہ اللہ کی اولاد ہے یا اس کے کئی شریک ہیں یا یوں کہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے حالانکہ دراصل رسول نہیں -خواہ مخواہ کہہ دے کہ میری طرف وحی نازل ہوتی ہے حالانکہ کوئی وحی نہ اتری ہو اور اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظالم نہیں ہو جو اللہ کی سچی وحی سے صف آرائی کا مدعی ہو۔
چنانچہ اور آیتوں میں ایسے لوگوں کا بیان ہے کہ ” وہ قرآن کی آیتوں کو سن کر کہا کرتے تھے کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام کہہ سکتے ہیں، کاش کہ تو ان ظالموں کو سکرات موت کی حالت میں دیکھتا جبکہ فرشتوں کے ہاتھ ان کی طرف بڑھ رہے ہوں گے اور وہ مار پیٹ کر رہے ہونگے “۔ یہ محاورہ مار پیٹ سے ہے، جیسے ہابیل قابیل کے قصے میں آیت «لَىِٕنْ بَسَطْتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِيْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ اِنِّىْٓ اَخَاف اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ» [5۔المائدہ:28] ہے اور آیت میں «وَّيَبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ وَاَلْسِنَتَهُمْ بالسُّوْءِ وَوَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ» [60-الممتحنة:2] ہے۔ ضحاک اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم نے بھی یہی تفسیر کی ہے۔
صفحہ نمبر2694
خود قرآن کی آیت میں «يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ» [8-الانفال:50] موجود ہے یعنی ” کافروں کی موت کے وقت فرشتے ان کے منہ پر اور کمر پر مارتے ہیں “۔ یہی بیان یہاں ہے کہ ” فرشتے ان کی جان نکالنے کیلئے انہیں مار پیٹ کرتے ہیں اور کہتے ہیں اپنی جانیں نکالو “۔
کافروں کی موت کے وقت فرشتے انہیں عذابوں، زنجیروں، طوقوں کی، گرم کھولتے ہوئے جہنم کے پانی اور اللہ کے غضب و غصے کی خبر سناتے ہیں جس سے ان کی روح ان کے بدن میں چھپتی پھرتی ہے اور نکلنا نہیں چاہتی، اس پر فرشتے انہیں مار پیٹ کر جبراً گھسیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب تمہاری بدترین اہانت ہوگی اور تم بری طرح رسوا کئے جاؤ گے جیسے کہ تم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اس کے فرمان کو نہیں مانتے تھے اور اس کے رسولوں کی تابعداری سے چڑتے تھے۔ مومن و کافر کی موت کا منظر جو احادیث میں آیا ہے وہ سب آیت «يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ» [14۔ ابراہیم:27] کی تفسیر میں ہے، ابن مردویہ نے اس جگہ ایک بہت لمبی حدیث بیان کی ہے لیکن اس کی سند غریب ہے۔ [الدر المنشور للسیوطی:56/3:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2695
پھر فرماتا ہے کہ ” جس دن انہیں ان کی قبروں سے اٹھایا جائے گا اس دن ان سے کہا جائے گا کہ «وَعُرِضُوا عَلَىٰ رَبِّكَ صَفًّا لَّقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ» [18-الكهف:48] ” تم تو اسے بہت دور اور محال مانتے تھے تو اب دیکھ لو جس طرح شروع شروع میں ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا اوب دوبارہ بھی پیدا کر دیا -جو کچھ مال متاع ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا سب تم وہیں اپنے پیچھے چھوڑ آئے “۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انسان کہتا ہے میرا مال میرا مال حالانکہ تیرا مال وہی ہے جسے تو نے کھا پی لیا وہ تو فنا ہو گیا یا تو نے پہن اوڑھ لیا وہ پھٹا پرانا ہو کر ضائع ہو گیا یا تو نے نام مولٰی پر خیرات کیا وہ باقی رہا اس کے سوا جو کچھ ہے اسے تو، تو اوروں کے لیے چھوڑ کر یہاں سے جانے والا ہے ۔ [صحیح مسلم:2958]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں انسان کو قیامت کے دن اللہ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور رب العالمین اس سے دریافت فرمائے گا کہ ” جو تو نے جمع کیا تھا وہ کہاں ہے؟ “ یہ جواب دے گا کہ خوب بڑھا چڑھا کر اسے دنیا میں چھوڑ آیا ہوں۔
صفحہ نمبر2696
اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” اے ابن آدم پیچھے چھوڑا ہوا تو یہاں نہیں ہے البتہ آگے بھیجا ہوا یہاں موجود ہے “ -اب جو یہ دیکھے گا تو کچھ بھی نہ پائے گا پھر آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھی، پھر انہیں ان کا شرک یاد دلا کر دھمکایا جائے گا کہ «أَيْنَ شُرَكَاؤُكُمُ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ» [6-الأنعام:22] ” جنہیں تم اپنا شریک سمجھ رہے تھے اور جن پر ناز کر رہے تھے کہ ہمیں بچا لیں گے اور نفع دیں گے وہ آج تمہارے ساتھ کیوں نہیں؟ وہ کہاں رہ گئے؟ انہیں شفاعت کے لیے کیوں آگے نہیں بڑھاتے؟ “
حق یہ ہے کہ قیامت کے دن سارے جھوٹ بہتان افترا کھل جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ سب کو سنا کر ان سے فرمائے گا ” جنہیں تم نے میرے شریک ٹھہرا رکھا تھا وہ کہاں ہیں؟ “ اور ان سے کہا جائے گا کہ ” جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے وہ کہاں ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ نہ وہ تمہاری مدد کرتے ہیں نہ خود اپنی مدد وہ آپ کرتے ہیں۔ تم تو دنیا میں انہیں مستحق عبادت سمجھتے رہے “۔
«بَيْنَكُمْ» کی ایک قرأت «بَيْنُكُمْ» بھی ہے یعنی تمہاری یکجہتی ٹوٹ گئی اور پہلی قرأت پر یہ معنی ہیں کہ جو تعلقات تم میں تھے جو وسیلے تم نے بنا رکھے تھے سب کٹ گئے معبودان باطل سے جو غلط منصوبے تم نے باندھ رکھے تھے سب برباد ہو گئے۔
جیسے فرمان باری ہے آیت «إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّـهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ» [2-البقرہ:166-167] یعنی ” تابعداری کرنے والے ان سے بیزار ہوں گے جن کی تابعداری وہ کرتے رہے اور سارے رشتے ناتے اور تعلقات کٹ جائیں گے “۔
صفحہ نمبر2697
اس وقت تابعدار لوگ حسرت و افسوس سے کہیں گے کہ اگر ہم دنیا میں واپس جائیں تو تم سے بھی ایسے ہی بیزار ہو جائیں گے جیسے تم ہم سے بیزار ہوئے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں ان کے کرتوت دکھائے گا ان پر حسرتیں ہوں گی اور یہ جہنم سے نہیں نکلیں گے۔
اور آیت میں ہے «فَإِذَا نُفِخَ فِى الصُّورِ فَلاَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلاَ يَتَسَآءَلُونَ» [23-المؤمنون:101] ” جب صور پھونکا جائے گا تو آپس کے نسب منقطع ہو جائیں گے اور کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا “۔ اور آیت میں ہے کہ «إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» [29-العنکبوت:25] ” جن جن کو تم نے اپنا معبود ٹھہرا رکھا ہے اور ان سے دوستیاں رکھتے ہو وہ قیامت کے دن تمہارے اور تم ان کے منکر ہو جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرو گے تو تم سب کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور کوئی بھی تمہارا مددگار کھڑا نہ ہو گا “۔
اور آیت میں ہے «وَقِيْلَ ادْعُوْا شُرَكَاءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَرَاَوُا الْعَذَابَ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا يَهْتَدُوْنَ» [28-القصص:64] یعنی ” ان سے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو آواز دو وہ پکاریں گے لیکن انہیں کوئی جواب نہ ملے گا “۔
اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْٓا اَيْنَ شُرَكَاؤُكُمُ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ» [6۔الأنعام:22] یعنی ” قیامت کے دن ہم ان سب کا حشر کریں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے کہاں ہیں تمہارے شریک؟“ اس بارے کی اور آیتیں بھی بہت ہیں۔
صفحہ نمبر2698
اس کی حیرت ناک قدرت ٭٭
دانوں سے کھیتیاں بیج اور گٹھلی سے درخت اللہ ہی اگاتا ہے تم تو انہیں مٹی میں ڈال کر چلے آتے ہو وہاں انہیں اللہ تعالیٰ پھاڑتا ہے۔ کونپل نکالتا ہے پھر وہ بڑھتے ہیں قوی درخت بن جاتے ہیں اور دانے اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ پھر گویا اسی کی تفسیر میں فرمایا کہ زندہ درخت اور زندہ کھیتی کو مردہ بیج اور مردہ دانے سے وہ نکالتا ہے۔
جیسے سورۃ یٰسین میں ارشاد ہے آیت «وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ لِيَأْكُلُوا مِن ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ ۖ أَفَلَا يَشْكُرُونَ سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ» [36-یس:36-33] ” اور ایک نشانی ان کے لیے زمین مردہ ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اُگایا۔ پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کر دیئے تاکہ یہ ان کے پھل کھائیں اور ان کے ہاتھوں نے تو ان کو نہیں بنایا تو پھر یہ شکر کیوں نہیں کرتے؟ وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے “۔
«مُخْرِجُ» کا عطف «فَالِقُ» پر ہے اور مفسرین نے دوسرے انداز سے ان جملوں میں ربط قائم کیا ہے لیکن مطلب سب کا یہی ہے اور اسی کے قریب قریب ہے، کوئی کہتا ہے مرغی کا انڈے سے نکلنا اور مرغ سے انڈے کا نکلنا مراد ہے۔ بد شخص کے ہاں نیک اولاد ہونا اور نیکوں کی اولاد کا بد ہونا مراد ہے، وغیرہ۔ آیت درحقیقت ان تمام صورتوں کو گھیرے ہوئے ہے۔
پھر فرماتا ہے ” ان تمام کاموں کا کرنے والا اکیلا اللہ ہی ہے پھر کیا وجہ کہ تم حق سے پھر جاتے ہو؟ اور اس لا شریک کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہو؟ “ «وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى» [93-الضحى:1-2] ” وہی دن کی روشنی کا لانے والا اور رات کے اندھیرے کا پیدا کرنے والا ہے “۔
جیسے کہ اس سورت کے شروع میں فرمایا تھا کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ» [6-الأنعام:1] ” وہی نور و ظلمت کا پیدا کرنے والا ہے۔ رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو دن کی نورانیت سے بدل دیتا ہے “۔ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» [92-الليل:1-2] ” رات اپنے اندھیروں سمیت چھپ جاتی ہے اور دن اپنی تجلیوں سمیت کائنات پر قبضہ جما لیتا ہے “، «وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:3-4]
جیسے فرمان ہے «يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا» [7-الأعراف:54] ” وہی دن رات چڑھاتا ہے “۔
صفحہ نمبر2700
الغرض چیز اور اس کی ضد اس کے زیر اختیار ہے اور یہ اس کی بے انتہا عظمت اور بہت بڑی سلطنت پر دلیل ہے۔ دن کی روشنی اور اس کی چہل پہل کی ظلمت اور اس کا سکون اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى» [93-الضحى:1-2]
اور جیسے اس آیت میں فرمایا آیت «وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى» [92۔اللیل:1-2] اور آیت میں ہے «وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا وَاللَّيْلِ اِذَا يَغْشٰـىهَا» [91-والشمس:3-4] ان تمام آیتوں میں دن رات کا اور نور و ظلمت روشنی اور اندھیرے کا ذکر ہے۔
صفحہ نمبر2701
حضرت صہیب رومی رحمتہ اللہ علیہ سے ایک بار ان کی بیوی صاحبہ نے کہا کہ رات ہر ایک کے لیے آرام کی ہے لیکن میرے خاوند صہیب کے لیے وہ بھی آرام کی نہیں اس لیے کہ وہ رات کو اکثر حصہ جاگ کر کاٹتے ہیں -جب انہیں جنت یاد آتی ہے تو شوق بڑھ جاتا ہے اور یاد اللہ میں رات گزار دیتے ہیں اور جب جہنم کا خیال آ جاتا ہے تو مارے خوف کے ان کی نیند اڑ جاتی ہے۔
سورج چاند اس کو مقرر کئے ہوئے اندازے پر برابر چل رہے ہیں کوئی تغیر اور اضطراب اس میں نہیں ہوتا ہر ایک کی منزل مقرر ہے جاڑے کی الگ گرمی کی الگ اور اسی اعتبار سے دن رات ظاہر ہوتے ہیں چھوٹے اور بڑے ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ» [10۔یونس:5] ” اسی اللہ نے سورج کو روشن اور چاند کو منور کیا ہے ان کی منزلیں مقرر کر دی ہیں “۔
اور آیت میں ہے «لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِيْ لَهَآ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ» [36-یس:40] ” نہ تو آفتاب ہی سے بن پڑتا ہے کہ چاند کو جا لے اور نہ رات دن پر سبق لے سکتی ہے ہر ایک اپنے فلک میں تیرتا پھرتا ہے “ اور جگہ فرمایا «وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ» [7-الأعراف:54] ، ” سورج چاند ستارے سب اس کے فرمان کے ماتحت ہیں “۔
یہاں فرمایا ” یہ سب اندازے اس اللہ کے مقرر کردہ ہیں جسے کوئی روک نہیں سکتا جس کے خلاف کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ جو ہر چیز کو جانتا ہے جس کے علم سے ایک ذرہ باہر نہیں۔ زمین و آسمان کی کوئی مخلوق اس سے پوشیدہ نہیں “۔
عموماً قرآن کریم جہاں کہیں رات دن سورج چاند کی پیدائش کا ذکر کرتا ہے وہاں کلام کا خاتمہ اللہ جل و علا نے اپنی عزت و علم کی خبر پر کیا ہے، جیسے اس آیت میں اور «وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [36۔یس:37-38] میں اور سورۃ حم سجدہ کی شروع کی آیت «وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَحِفْظًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» [41۔فصلت:12] میں۔
پھر فرمایا ” ستارے تمہیں خشکی اور تری میں راہ دکھانے کے لیے ہیں “۔
بعض سلف کا قول ہے کہ ستاروں میں ان تین فوائد کے علاوہ اگر کوئی اور کچھ مانے تو اس نے خطا کی اور اللہ پر چھوٹ باندھا ایک تو یہ کہ یہ آسمان کی زینت ہیں دوسرے یہ شیاطین پر آگ بن کر برستے ہیں جبکہ وہ آسمانوں کی خبریں لینے کو چڑھیں تیسرے یہ کہ مسافروں اور مقیم لوگوں کو یہ راستہ دکھاتے ہیں۔ پھر فرمایا ” ہم نے عقلمندوں عالموں اور واقف کار لوگوں کیلئے اپنی آیتیں بالتفصیل بیان فرما دی ہیں “۔
صفحہ نمبر2702
اس کی حیرت ناک قدرت ٭٭
دانوں سے کھیتیاں بیج اور گٹھلی سے درخت اللہ ہی اگاتا ہے تم تو انہیں مٹی میں ڈال کر چلے آتے ہو وہاں انہیں اللہ تعالیٰ پھاڑتا ہے۔ کونپل نکالتا ہے پھر وہ بڑھتے ہیں قوی درخت بن جاتے ہیں اور دانے اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ پھر گویا اسی کی تفسیر میں فرمایا کہ زندہ درخت اور زندہ کھیتی کو مردہ بیج اور مردہ دانے سے وہ نکالتا ہے۔
جیسے سورۃ یٰسین میں ارشاد ہے آیت «وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ لِيَأْكُلُوا مِن ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ ۖ أَفَلَا يَشْكُرُونَ سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ» [36-یس:36-33] ” اور ایک نشانی ان کے لیے زمین مردہ ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اُگایا۔ پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کر دیئے تاکہ یہ ان کے پھل کھائیں اور ان کے ہاتھوں نے تو ان کو نہیں بنایا تو پھر یہ شکر کیوں نہیں کرتے؟ وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے “۔
«مُخْرِجُ» کا عطف «فَالِقُ» پر ہے اور مفسرین نے دوسرے انداز سے ان جملوں میں ربط قائم کیا ہے لیکن مطلب سب کا یہی ہے اور اسی کے قریب قریب ہے، کوئی کہتا ہے مرغی کا انڈے سے نکلنا اور مرغ سے انڈے کا نکلنا مراد ہے۔ بد شخص کے ہاں نیک اولاد ہونا اور نیکوں کی اولاد کا بد ہونا مراد ہے، وغیرہ۔ آیت درحقیقت ان تمام صورتوں کو گھیرے ہوئے ہے۔
پھر فرماتا ہے ” ان تمام کاموں کا کرنے والا اکیلا اللہ ہی ہے پھر کیا وجہ کہ تم حق سے پھر جاتے ہو؟ اور اس لا شریک کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہو؟ “ «وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى» [93-الضحى:1-2] ” وہی دن کی روشنی کا لانے والا اور رات کے اندھیرے کا پیدا کرنے والا ہے “۔
جیسے کہ اس سورت کے شروع میں فرمایا تھا کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ» [6-الأنعام:1] ” وہی نور و ظلمت کا پیدا کرنے والا ہے۔ رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو دن کی نورانیت سے بدل دیتا ہے “۔ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» [92-الليل:1-2] ” رات اپنے اندھیروں سمیت چھپ جاتی ہے اور دن اپنی تجلیوں سمیت کائنات پر قبضہ جما لیتا ہے “، «وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:3-4]
جیسے فرمان ہے «يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا» [7-الأعراف:54] ” وہی دن رات چڑھاتا ہے “۔
صفحہ نمبر2700
الغرض چیز اور اس کی ضد اس کے زیر اختیار ہے اور یہ اس کی بے انتہا عظمت اور بہت بڑی سلطنت پر دلیل ہے۔ دن کی روشنی اور اس کی چہل پہل کی ظلمت اور اس کا سکون اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى» [93-الضحى:1-2]
اور جیسے اس آیت میں فرمایا آیت «وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى» [92۔اللیل:1-2] اور آیت میں ہے «وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا وَاللَّيْلِ اِذَا يَغْشٰـىهَا» [91-والشمس:3-4] ان تمام آیتوں میں دن رات کا اور نور و ظلمت روشنی اور اندھیرے کا ذکر ہے۔
صفحہ نمبر2701
حضرت صہیب رومی رحمتہ اللہ علیہ سے ایک بار ان کی بیوی صاحبہ نے کہا کہ رات ہر ایک کے لیے آرام کی ہے لیکن میرے خاوند صہیب کے لیے وہ بھی آرام کی نہیں اس لیے کہ وہ رات کو اکثر حصہ جاگ کر کاٹتے ہیں -جب انہیں جنت یاد آتی ہے تو شوق بڑھ جاتا ہے اور یاد اللہ میں رات گزار دیتے ہیں اور جب جہنم کا خیال آ جاتا ہے تو مارے خوف کے ان کی نیند اڑ جاتی ہے۔
سورج چاند اس کو مقرر کئے ہوئے اندازے پر برابر چل رہے ہیں کوئی تغیر اور اضطراب اس میں نہیں ہوتا ہر ایک کی منزل مقرر ہے جاڑے کی الگ گرمی کی الگ اور اسی اعتبار سے دن رات ظاہر ہوتے ہیں چھوٹے اور بڑے ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ» [10۔یونس:5] ” اسی اللہ نے سورج کو روشن اور چاند کو منور کیا ہے ان کی منزلیں مقرر کر دی ہیں “۔
اور آیت میں ہے «لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِيْ لَهَآ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ» [36-یس:40] ” نہ تو آفتاب ہی سے بن پڑتا ہے کہ چاند کو جا لے اور نہ رات دن پر سبق لے سکتی ہے ہر ایک اپنے فلک میں تیرتا پھرتا ہے “ اور جگہ فرمایا «وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ» [7-الأعراف:54] ، ” سورج چاند ستارے سب اس کے فرمان کے ماتحت ہیں “۔
یہاں فرمایا ” یہ سب اندازے اس اللہ کے مقرر کردہ ہیں جسے کوئی روک نہیں سکتا جس کے خلاف کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ جو ہر چیز کو جانتا ہے جس کے علم سے ایک ذرہ باہر نہیں۔ زمین و آسمان کی کوئی مخلوق اس سے پوشیدہ نہیں “۔
عموماً قرآن کریم جہاں کہیں رات دن سورج چاند کی پیدائش کا ذکر کرتا ہے وہاں کلام کا خاتمہ اللہ جل و علا نے اپنی عزت و علم کی خبر پر کیا ہے، جیسے اس آیت میں اور «وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [36۔یس:37-38] میں اور سورۃ حم سجدہ کی شروع کی آیت «وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَحِفْظًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» [41۔فصلت:12] میں۔
پھر فرمایا ” ستارے تمہیں خشکی اور تری میں راہ دکھانے کے لیے ہیں “۔
بعض سلف کا قول ہے کہ ستاروں میں ان تین فوائد کے علاوہ اگر کوئی اور کچھ مانے تو اس نے خطا کی اور اللہ پر چھوٹ باندھا ایک تو یہ کہ یہ آسمان کی زینت ہیں دوسرے یہ شیاطین پر آگ بن کر برستے ہیں جبکہ وہ آسمانوں کی خبریں لینے کو چڑھیں تیسرے یہ کہ مسافروں اور مقیم لوگوں کو یہ راستہ دکھاتے ہیں۔ پھر فرمایا ” ہم نے عقلمندوں عالموں اور واقف کار لوگوں کیلئے اپنی آیتیں بالتفصیل بیان فرما دی ہیں “۔
صفحہ نمبر2702
اس کی حیرت ناک قدرت ٭٭
دانوں سے کھیتیاں بیج اور گٹھلی سے درخت اللہ ہی اگاتا ہے تم تو انہیں مٹی میں ڈال کر چلے آتے ہو وہاں انہیں اللہ تعالیٰ پھاڑتا ہے۔ کونپل نکالتا ہے پھر وہ بڑھتے ہیں قوی درخت بن جاتے ہیں اور دانے اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ پھر گویا اسی کی تفسیر میں فرمایا کہ زندہ درخت اور زندہ کھیتی کو مردہ بیج اور مردہ دانے سے وہ نکالتا ہے۔
جیسے سورۃ یٰسین میں ارشاد ہے آیت «وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ لِيَأْكُلُوا مِن ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ ۖ أَفَلَا يَشْكُرُونَ سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ» [36-یس:36-33] ” اور ایک نشانی ان کے لیے زمین مردہ ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اُگایا۔ پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کر دیئے تاکہ یہ ان کے پھل کھائیں اور ان کے ہاتھوں نے تو ان کو نہیں بنایا تو پھر یہ شکر کیوں نہیں کرتے؟ وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے “۔
«مُخْرِجُ» کا عطف «فَالِقُ» پر ہے اور مفسرین نے دوسرے انداز سے ان جملوں میں ربط قائم کیا ہے لیکن مطلب سب کا یہی ہے اور اسی کے قریب قریب ہے، کوئی کہتا ہے مرغی کا انڈے سے نکلنا اور مرغ سے انڈے کا نکلنا مراد ہے۔ بد شخص کے ہاں نیک اولاد ہونا اور نیکوں کی اولاد کا بد ہونا مراد ہے، وغیرہ۔ آیت درحقیقت ان تمام صورتوں کو گھیرے ہوئے ہے۔
پھر فرماتا ہے ” ان تمام کاموں کا کرنے والا اکیلا اللہ ہی ہے پھر کیا وجہ کہ تم حق سے پھر جاتے ہو؟ اور اس لا شریک کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہو؟ “ «وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى» [93-الضحى:1-2] ” وہی دن کی روشنی کا لانے والا اور رات کے اندھیرے کا پیدا کرنے والا ہے “۔
جیسے کہ اس سورت کے شروع میں فرمایا تھا کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ» [6-الأنعام:1] ” وہی نور و ظلمت کا پیدا کرنے والا ہے۔ رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو دن کی نورانیت سے بدل دیتا ہے “۔ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» [92-الليل:1-2] ” رات اپنے اندھیروں سمیت چھپ جاتی ہے اور دن اپنی تجلیوں سمیت کائنات پر قبضہ جما لیتا ہے “، «وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» [91-الشمس:3-4]
جیسے فرمان ہے «يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا» [7-الأعراف:54] ” وہی دن رات چڑھاتا ہے “۔
صفحہ نمبر2700
الغرض چیز اور اس کی ضد اس کے زیر اختیار ہے اور یہ اس کی بے انتہا عظمت اور بہت بڑی سلطنت پر دلیل ہے۔ دن کی روشنی اور اس کی چہل پہل کی ظلمت اور اس کا سکون اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى» [93-الضحى:1-2]
اور جیسے اس آیت میں فرمایا آیت «وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى» [92۔اللیل:1-2] اور آیت میں ہے «وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا وَاللَّيْلِ اِذَا يَغْشٰـىهَا» [91-والشمس:3-4] ان تمام آیتوں میں دن رات کا اور نور و ظلمت روشنی اور اندھیرے کا ذکر ہے۔
صفحہ نمبر2701
حضرت صہیب رومی رحمتہ اللہ علیہ سے ایک بار ان کی بیوی صاحبہ نے کہا کہ رات ہر ایک کے لیے آرام کی ہے لیکن میرے خاوند صہیب کے لیے وہ بھی آرام کی نہیں اس لیے کہ وہ رات کو اکثر حصہ جاگ کر کاٹتے ہیں -جب انہیں جنت یاد آتی ہے تو شوق بڑھ جاتا ہے اور یاد اللہ میں رات گزار دیتے ہیں اور جب جہنم کا خیال آ جاتا ہے تو مارے خوف کے ان کی نیند اڑ جاتی ہے۔
سورج چاند اس کو مقرر کئے ہوئے اندازے پر برابر چل رہے ہیں کوئی تغیر اور اضطراب اس میں نہیں ہوتا ہر ایک کی منزل مقرر ہے جاڑے کی الگ گرمی کی الگ اور اسی اعتبار سے دن رات ظاہر ہوتے ہیں چھوٹے اور بڑے ہوتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ» [10۔یونس:5] ” اسی اللہ نے سورج کو روشن اور چاند کو منور کیا ہے ان کی منزلیں مقرر کر دی ہیں “۔
اور آیت میں ہے «لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِيْ لَهَآ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ» [36-یس:40] ” نہ تو آفتاب ہی سے بن پڑتا ہے کہ چاند کو جا لے اور نہ رات دن پر سبق لے سکتی ہے ہر ایک اپنے فلک میں تیرتا پھرتا ہے “ اور جگہ فرمایا «وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ» [7-الأعراف:54] ، ” سورج چاند ستارے سب اس کے فرمان کے ماتحت ہیں “۔
یہاں فرمایا ” یہ سب اندازے اس اللہ کے مقرر کردہ ہیں جسے کوئی روک نہیں سکتا جس کے خلاف کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ جو ہر چیز کو جانتا ہے جس کے علم سے ایک ذرہ باہر نہیں۔ زمین و آسمان کی کوئی مخلوق اس سے پوشیدہ نہیں “۔
عموماً قرآن کریم جہاں کہیں رات دن سورج چاند کی پیدائش کا ذکر کرتا ہے وہاں کلام کا خاتمہ اللہ جل و علا نے اپنی عزت و علم کی خبر پر کیا ہے، جیسے اس آیت میں اور «وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [36۔یس:37-38] میں اور سورۃ حم سجدہ کی شروع کی آیت «وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَحِفْظًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» [41۔فصلت:12] میں۔
پھر فرمایا ” ستارے تمہیں خشکی اور تری میں راہ دکھانے کے لیے ہیں “۔
بعض سلف کا قول ہے کہ ستاروں میں ان تین فوائد کے علاوہ اگر کوئی اور کچھ مانے تو اس نے خطا کی اور اللہ پر چھوٹ باندھا ایک تو یہ کہ یہ آسمان کی زینت ہیں دوسرے یہ شیاطین پر آگ بن کر برستے ہیں جبکہ وہ آسمانوں کی خبریں لینے کو چڑھیں تیسرے یہ کہ مسافروں اور مقیم لوگوں کو یہ راستہ دکھاتے ہیں۔ پھر فرمایا ” ہم نے عقلمندوں عالموں اور واقف کار لوگوں کیلئے اپنی آیتیں بالتفصیل بیان فرما دی ہیں “۔
صفحہ نمبر2702
قدرت کی نشانیاں ٭٭
فرماتا ہے کہ ” تم سب انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے تن واحد یعنی آدم سے پیدا کیا ہے “ -جیسے اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ» [4-النساء:1] ” لوگو اپنے اس رب سے ڈور جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کی اسی سے اس کا جوڑ پیدا کیا پھر ان دونوں سے مرد و عورت خوب پھیلا دیئے “۔
«مُسْتَقَرٌّ» سے مراد ماں کا پیٹ اور «مُسْتَوْدَعٌ» سے مراد باپ کی پیٹھ ہے اور قول ہے کہ جائے قرار دنیا ہے اور سپردگی کی جگہ موت کا وقت ہے۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں ماں کا پیٹ، زمین اور جب مرتا ہے سب جائے قرار کی تفسیر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو مر گیا اس کے عمل رک گئے یہی مراد مستقر سے ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے مستقر آخرت میں ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2705
سمجھداروں کے سامنے نشان ہائے قدرت بہت کچھ آچکے، اللہ کی بہت سی باتیں بیان ہو چکیں جو کافی وافی ہیں -وہی اللہ ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا نہایت صحیح اندازے سے بڑا با برکت پانی جو بندوں کی زندگانی کا باعث بنا اور سارے جہاں پر اللہ کی رحمت بن کر برسا، اسی سے تمام تر تروتازہ چیزیں اگیں۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ» [21-الأنبياء:30] ” پانی سے ہم نے ہر چیز کی زندگانی قائم کر دی۔ پھر اس سے سبزہ یعنی کھیتی اور درخت اگتے ہیں جس میں سے دانے اور پھل نکلتے ہیں، دانے بہت سارے ہوتے ہیں گتھے ہوئے تہ بہ تہ چڑھے ہوئے اور کھجور کے خوشے جو زمین کی طرف جھکے پڑتے ہیں۔ بعض درخت خرما چھوٹے ہوتے ہیں اور خوشے چمٹے ہوئے ہوتے ہیں “۔
«قِنْوَانٌ» کو قبیلہ تمیم «قِنْيَانٌ» کہتا ہے اس کا مفرد «قِنْوٍ» ہے، جیسے «صِنْوَانٌ» «صِنْوٍ» کی جمع ہے اور باغات انگوروں کے۔ پس عرب کے نزدیک یہی دنوں میوے سب میوں سے اعلیٰ ہیں کھجور اور انگور اور فی الحقیقت ہیں بھی یہ اسی درجے کے۔
قرآن کی دوسری آیت «وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَالْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّرِزْقًا حَسَـنًا اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [16۔النحل:67] میں اللہ تعالیٰ نے ان ہی دونوں چیزوں کا ذکر فرما کر اپنا احسان بیان فرمایا ہے اس میں جو شراب بنانے کا ذکر ہے اس پر بعض حضرات کہتے ہیں کہ حرمت شراب کے نازل ہونے سے پہلے کی یہ آیت ہے۔
اور آیت میں بھی باغ کے ذکر میں فرمایا کہ «وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ» [36-يس:34] ” ہم نے اس میں کھجور و انگور کے درخت پیدا کئے تھے “۔ زیتون بھی ہیں انار بھی ہیں آپس میں ملتے جلتے پھل الگ الگ، شکل صورت مزہ حلاوت فوائد و غیرہ ہر ایک کے جدا گانہ، ان درختوں میں پھلوں کا آنا اور ان کا پکنا ملاحظہ کر اور اللہ کی ان قدرتوں کا نظارہ اپنی آنکھوں سے کرو کہ لکڑی میں میوہ نکالتا ہے۔ عدم وجود میں لاتا ہے۔ سوکھے کو گیلا کرتا ہے۔ مٹھاس لذت خوشبو سب کچھ پیدا کرتا ہے رنگ روپ شکل صورت دیتا ہے فوائد رکھتا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ «وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِّنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَىٰ بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ» [13-الرعد:4] ” پانی ایک زمین ایک کھیتیاں باغات ملے جلے لیکن ہم جسے چاہیں جب چاہیں بنا دیں کھٹاس مٹھاس کمی زیادتی سب ہمارے قبضہ میں ہے یہ سب خالق کی قدرت کی نشانیاں ہیں جن سے ایماندار اپنا عقیدہ مضبوط کرتے ہیں “۔
صفحہ نمبر2706
قدرت کی نشانیاں ٭٭
فرماتا ہے کہ ” تم سب انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے تن واحد یعنی آدم سے پیدا کیا ہے “ -جیسے اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ» [4-النساء:1] ” لوگو اپنے اس رب سے ڈور جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کی اسی سے اس کا جوڑ پیدا کیا پھر ان دونوں سے مرد و عورت خوب پھیلا دیئے “۔
«مُسْتَقَرٌّ» سے مراد ماں کا پیٹ اور «مُسْتَوْدَعٌ» سے مراد باپ کی پیٹھ ہے اور قول ہے کہ جائے قرار دنیا ہے اور سپردگی کی جگہ موت کا وقت ہے۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں ماں کا پیٹ، زمین اور جب مرتا ہے سب جائے قرار کی تفسیر ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو مر گیا اس کے عمل رک گئے یہی مراد مستقر سے ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے مستقر آخرت میں ہے لیکن پہلا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر2705
سمجھداروں کے سامنے نشان ہائے قدرت بہت کچھ آچکے، اللہ کی بہت سی باتیں بیان ہو چکیں جو کافی وافی ہیں -وہی اللہ ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا نہایت صحیح اندازے سے بڑا با برکت پانی جو بندوں کی زندگانی کا باعث بنا اور سارے جہاں پر اللہ کی رحمت بن کر برسا، اسی سے تمام تر تروتازہ چیزیں اگیں۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ» [21-الأنبياء:30] ” پانی سے ہم نے ہر چیز کی زندگانی قائم کر دی۔ پھر اس سے سبزہ یعنی کھیتی اور درخت اگتے ہیں جس میں سے دانے اور پھل نکلتے ہیں، دانے بہت سارے ہوتے ہیں گتھے ہوئے تہ بہ تہ چڑھے ہوئے اور کھجور کے خوشے جو زمین کی طرف جھکے پڑتے ہیں۔ بعض درخت خرما چھوٹے ہوتے ہیں اور خوشے چمٹے ہوئے ہوتے ہیں “۔
«قِنْوَانٌ» کو قبیلہ تمیم «قِنْيَانٌ» کہتا ہے اس کا مفرد «قِنْوٍ» ہے، جیسے «صِنْوَانٌ» «صِنْوٍ» کی جمع ہے اور باغات انگوروں کے۔ پس عرب کے نزدیک یہی دنوں میوے سب میوں سے اعلیٰ ہیں کھجور اور انگور اور فی الحقیقت ہیں بھی یہ اسی درجے کے۔
قرآن کی دوسری آیت «وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَالْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّرِزْقًا حَسَـنًا اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ» [16۔النحل:67] میں اللہ تعالیٰ نے ان ہی دونوں چیزوں کا ذکر فرما کر اپنا احسان بیان فرمایا ہے اس میں جو شراب بنانے کا ذکر ہے اس پر بعض حضرات کہتے ہیں کہ حرمت شراب کے نازل ہونے سے پہلے کی یہ آیت ہے۔
اور آیت میں بھی باغ کے ذکر میں فرمایا کہ «وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ» [36-يس:34] ” ہم نے اس میں کھجور و انگور کے درخت پیدا کئے تھے “۔ زیتون بھی ہیں انار بھی ہیں آپس میں ملتے جلتے پھل الگ الگ، شکل صورت مزہ حلاوت فوائد و غیرہ ہر ایک کے جدا گانہ، ان درختوں میں پھلوں کا آنا اور ان کا پکنا ملاحظہ کر اور اللہ کی ان قدرتوں کا نظارہ اپنی آنکھوں سے کرو کہ لکڑی میں میوہ نکالتا ہے۔ عدم وجود میں لاتا ہے۔ سوکھے کو گیلا کرتا ہے۔ مٹھاس لذت خوشبو سب کچھ پیدا کرتا ہے رنگ روپ شکل صورت دیتا ہے فوائد رکھتا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ «وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِّنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَىٰ بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ» [13-الرعد:4] ” پانی ایک زمین ایک کھیتیاں باغات ملے جلے لیکن ہم جسے چاہیں جب چاہیں بنا دیں کھٹاس مٹھاس کمی زیادتی سب ہمارے قبضہ میں ہے یہ سب خالق کی قدرت کی نشانیاں ہیں جن سے ایماندار اپنا عقیدہ مضبوط کرتے ہیں “۔
صفحہ نمبر2706
شیطانی وعدے دھوکہ ہیں ٭٭
جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرتے تھے جنات کو پوجتے تھے ان پر انکار فرما رہا ہے -ان کے کفر و شرک سے اپنی بیزاری کا اعلان فرماتا ہے اگر کوئی کہے کہ جنوں کی عبادت کیسے ہوئی وہ تو بتوں کی پوجا پاٹ کرتے تھے تو جواب یہ ہے کہ بت پرستی کے سکھانے والے جنات ہی تھے۔ جیسے خود قرآن کریم میں ہے آیت «إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِ إِلَّا إِنَاثًا وَإِن يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَانًا مَّرِيدًا لَّعَنَهُ اللَّـهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّـهِ وَمَن يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِّن دُونِ اللَّـهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا» [4-النساء:120-117] یعنی ” یہ لوگ اللہ کے سوا جنہیں پکار رہے ہیں وہ سب عورتیں ہیں اور یہ سوائے سرکش ملعون شیطان کے اور کسی کو نہیں پکارتے وہ تو پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ کچھ نہ کچھ انسانوں کو تو میں اپنا کر ہی لوں گا انہیں بہکا کر سبز باغ دکھا کر اپنا مطیع بنا لوں گا۔ پھر تو وہ بتوں کے نام پر جانوروں کے کان کاٹ کر چھوڑ دیں گے۔ اللہ کی پیدا کردہ ہئیت کو بگاڑنے لگیں گے۔ حقیقتاً اللہ کو چھوڑ کر شیطان کی دوستی کرنے والے کے نقصان میں کیا شک ہے؟ شیطانی وعدے تو صرف دھوکے بازیاں ہیں “۔
اور آیت میں ہے آیت «اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ للظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا» [18-الكهف:50] ” کیا تم مجھے چھوڑ کر شیطان اور اولاد شیطان کو اپنا ولی بناتے ہو؟ “۔
خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنے والد سے فرمایا «يٰٓاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطٰنَ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَان للرَّحْمٰنِ عَصِيًّا» [19۔ مریم:44] ” میرے باپ! شیطان کی پرستش نہ کرو وہ تو اللہ کا نافرمان ہے “۔
سورۃ یٰسین میں ہے کہ «أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ وَأَنِ اعْبُدُونِي هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ» [36-يس:60-61] ” کیا میں نے تم سے یہ عہد نہیں لیا تھا کہ اے اولاد آدم تم شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ تم صرف میری ہی عبادت کرنا سیدھی راہ یہی ہے “۔
قیامت کے دن فرشتے بھی کہیں گے آیت «قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ بَلْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ» [34۔ سبأ:41] یعنی ” تو پاک ہے یہ نہیں بلکہ سچا والی ہمارا تو تو ہی ہے یہ لوگ تو جنوں کو پوجتے تھے ان میں سے اکثر لوگوں کا ان پر ایمان تھا “۔
صفحہ نمبر2708
پس یہاں فرمایا ہے کہ ” انہوں نے جنات کی پرستش شروع کر دی حالانکہ پرستش کے لیے صرف اللہ ہے وہ سب کا خالق ہے “۔ جب خالق وہی ہے تو معبود بھی وہی ہے۔
جیسے خلیل اللہ نے علیہ السلام فرمایا آیت «قَالَ اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ وَاللَّـهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ» [37-الصافات:96-95] یعنی ” کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں خود گھڑ لیتے ہو حالانکہ تمہارے اور تمہارے تمام کاموں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے “۔ یعنی معبود وہی ہے جو خالق ہے۔
پھر ان لوگوں کی حماقت و ضلالت بیان ہو رہی ہے، جو اللہ کی اولاد بیٹے بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ یہودی عزیر علیہ السلام کو اور نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا جبکہ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے تھے۔ یہ سب ان کی من گھڑت اور خود تراشیدہ بات تھی اور محض غلط اور جھوٹ تھا۔ حقیقت سے بہت دور نرا بہتان باندھا تھا اور بےسمجھی سے اللہ کی شان کے خلاف ایک زبان سے اپنی جہالت سے کہہ دیا تھا بھلا اللہ کو بیٹوں اور بیٹیوں سے کیا واسطہ نہ اس کی اولاد نہ اس کی بیوی نہ اس کی کفو کا کوئی۔ وہ سب کا خالق وہ کسی کی شرکت سے پاک وہ کسی کی حصہ داری سے پاک، یہ گمراہ جو کہہ رہے ہیں سب سے وہ پاک اور برتر سب سے دور اور بالا تر ہے۔
صفحہ نمبر2709
اللہ بےمثال ہے وحدہ لا شریک ہے ٭٭
زمین و آسمان کا موجد بغیر کسی مثال اور نمونے کے انہیں عدم سے وجود میں لانے والا اللہ ہی ہے -بدعت کو بھی بدعت اسی لیے کہتے ہیں کہ پہلے اس کی کوئی نظیر نہیں ہوتی، بھلا اس کا صاحب اولاد ہونا کیسے ممکن ہے جبکہ اس کی بیوی ہی نہیں، اولاد کیلئے تو جہاں باپ کا ہونا ضروری ہے وہیں ماں کا وجود بھی لازمی ہے، اللہ کے مشابہ جبکہ کوئی نہیں ہے اور جوڑا تو ساتھ کا اور جنس کا ہوتا ہے پھر اس کی بیوی کیسے؟ اور بیوی نہیں تو اولاد کہاں؟ وہ ہر چیز کا خالق ہے اور یہ بھی اس کے منافی ہے کہ اس کی اولاد اور زوجہ ہو۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [19-مريم:88-95] ” لوگ کہتے ہیں اللہ کی اولاد ہے۔ ان کی بڑی فضول اور غلط افواہ ہے عجب نہیں کہ اس بات کو سن کر آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ رحمن اور اولاد؟ وہ تو ایسا ہے کہ آسمان و زمین کی کل مخلوق اس کی بندگی میں مصروف ہے۔ سب پر اس کا علبہ سب پر اس کا علم سب اس کے سامنے فردا فرداً آنے والے۔ وہ خالق کل ہے اور عالم کل ہے۔ اس کی جوڑ کا کوئی نہیں وہ اولاد سے اور بیوی سے پاک ہے اور مشرکوں کے اس بیان سے بھی پاک ہے “۔
صفحہ نمبر2710
ہماری آنکھیں اور اللہ جل شانہ ٭٭
جس کے یہ اوصاف ہیں یہی تمہارا اللہ ہے، یہی تمہارا پالنہار ہے، یہی سب کا خالق ہے تم اسی ایک کی عبادت کرو، اس کی وحدانیت کا اقرار کرو -اس کے سوا کسی کو عبادت کے لائق نہ سمجھو۔ اس کی اولاد نہیں، اس کے ماں باپ نہیں، اس کی بیوی نہیں، اس کی برابری کا اس جیسا کوئی نہیں، وہ ہر چیز کا حافظ نگہبان اور وکیل ہے ہر کام کی تدبیر وہی کرتا ہے سب کی روزیاں اسی کے ذمہ ہیں، ہر ایک کی ہر وقت وہی حفاظت کرتا ہے۔ سلف کہتے ہیں دنیا میں کوئی آنکھ اللہ کو نہیں دیکھ سکتی۔ ہاں قیامت کے دن مومنوں کو اللہ کا دیدار ہو گا۔ [صحیح بخاری:4855]
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جو کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے اس نے جھوٹ کہا پھر آپ رضی اللہ عنہا نے یہی آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ» [6-الأنعام:103] پڑھی ۔
صفحہ نمبر2711
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کے برخلاف مروی ہے انہوں نے روایت کو مطلق رکھا ہے اور فرماتے ہیں اپنے دل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کو دیکھا - [صحیح مسلم:176] سورۃ النجم میں یہ مسئلہ پوری تفصیل سے بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔
اسمعیل بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں کوئی شخص اللہ کو نہیں دیکھ سکتا“ اور حضرات فرماتے ہیں ”یہ تو عام طور پر بیان ہوا ہے پھر اس میں سے قیامت کے دن مومنوں کا اللہ کو دیکھنا مخصوص کر لیا ہے۔“ ہاں معتزلہ کہتے ہیں دنیا اور آخرت میں کہیں بھی اللہ کا دیدار نہ ہو گا۔ اس میں انہوں نے اہلسنت کی مخالفت کے علاوہ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی نادانی برتی، کتاب اللہ میں موجود ہے آیت «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [75-القيامة:22-23] یعنی ” اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے “۔
اور فرمان ہے آیت «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» [83۔المطففین:15] یعنی ” کفار قیامت والے دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہوں گے “۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے صاف ظاہر ہے کہ مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا حجاب نہیں ہوگا“، متواتر احادیث سے بھی یہی ثابت ہے۔ ابوسعید، ابوہریرہ، انس، جریج، صہیب، بلال رضی اللہ عنہم وغیرہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ مومن اللہ تبارک و تعالیٰ کو قیامت کے میدانوں میں جنت کے باغوں میں دیکھیں گے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی انہیں میں سے کرے آمین!
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے آنکھیں نہیں دیکھ پاتیں یعنی عقلیں، لیکن یہ قول بہت دور کا ہے اور ظاہر کے خلاف ہے اور گویا کہ ادراک کو اس نے رؤیت کے معنی میں سمجھا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور حضرات دیدار کے دیکھنے کو ثابت شدہ مانتے ہوئے لیکن ادراک کے انکار کے بھی مخالف نہیں اس لیے کہ ادراک رؤیت سے خاص ہے اور خاص کی نفی عام کی نفی کو لازم نہیں ہوتی۔ اب جس ادراک کی یہاں نفی کی گئی ہے یہ ادراک کیا ہے اور کس قسم کا ہے اس میں کئی قول ہیں مثلاً معرفت حقیقت پس حقیقت کا عالم بجز اللہ کے اور کوئی نہیں گو مومن دیدار کریں گے لیکن حقیقت اور چیز ہے چاند کو لوگ دیکھتے ہیں لیکن اس کی حقیقت اس کی ذات اس کی ساخت تک کس کی رسائی ہوتی ہے؟ پس اللہ تعالیٰ تو بے مثل ہے۔
صفحہ نمبر2712
ابن علیہ فرماتے ہیں نہ دیکھنا دنیا کی آنکھوں کے ساتھ مخصوص ہے، بعض کہتے ہیں ادراک اخص ہے رؤیت سے کیونکہ ادراک کہتے ہیں احاطہٰ کر لینے کو اور عدم احاطہٰ سے عدم رؤیت لازم نہیں آتی جیسے علم کا احاطہٰ نہ ہونے سے مطلق علم کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا -احاطہٰ علم کا نہ ہونا اس آیت سے ثابت ہے کہ «يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» [20-طه:110] ۔
صحیح مسلم میں ہے «لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» یعنی اے اللہ میں تیری ثناء کا احاطہٰ نہیں کر سکتا ۔ [صحیح مسلم:486] لیکن ظاہر ہے کہ اس سے مراد مطلق ثناء کا نہ کرنا نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”کسی کی نگاہ مالک الملک کو گھیر نہیں سکتی۔“ عکرمہ رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”کیا تو آسمان کو نہیں دیکھ رہا“؟ اس نے کہا ہاں، فرمایا ”پھر سب دیکھ چکا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ اس سے بہت بڑا ہے کہ اسے آنکھیں ادراک کر لیں۔“
چنانچہ ابن جریر میں آیت «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ» [75-القيامة:22] کی تفسیر میں ہے کہ اللہ کی طرف دیکھیں گے ان کی نگاہیں اس کی عظمت کے باعث احاطہٰ نہ کر سکیں گی اور اس کی نگاہ ان سب کو گھیرے ہوئے ہوگی۔
اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث میں ہے اگر انسان جن شیطان فرشتے سب کے سب ایک صف باندھ لیں اور شروع سے لے کر آخر تک کے سب موجودہ ہوں تاہم ناممکن ہے کہ کبھی بھی وہ اللہ کا احاطہٰ کرسکیں ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:7736/4:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اس کی اس کے سوا کوئی سند نہیں نہ صحاح ستہ والوں میں سے کسی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر2713
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تبارک و تعالیٰ کو دیکھا“، تو میں نے کہا ”کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ” اللہ کو آنکھیں نہیں پاسکتیں اور وہ تمام نگاہوں کو گھیر لیتا ہے “، تو آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا ”یہ اللہ کا نور ہے اور وہ جو اس کا ذاتی نور ہے جب وہ اپنی تجلی کرے تو اس کا ادراک کوئی نہیں کرسکتا۔“ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور روایت میں ہے اس کے بالمقابل کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی، اسی جواب کے مترادف معنی وہ حدیث ہے جو بخاری مسلم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ سوتا نہیں نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو جھکاتا ہے اور اٹھاتا ہے اس کی طرف دن کے عمل رات سے پہلے اور رات کے عمل دن سے پہلے چڑھ جاتے ہیں اس کا حجاب نور ہے یا نار ہے اگر وہ ہٹ جائے تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہر اس چیز کو جلا دیں جو اس کی نگاہوں تلے ہے ۔ [صحیح مسلم:179]
صفحہ نمبر2714
اگلی کتابوں میں ہے کہ سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دیدار دیکھنے کی خواہش کی تو جواب ملا کہ ” اے موسیٰ (علیہ السلام) جو زندہ مجھے دیکھے گا وہ مر جائے گا اور جو خشک مجھے دیکھ لے گا وہ ریزہ ریزہ ہو جائے گا “۔ خود قرآن میں ہے کہ «فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ» [7-الأعراف:143] ” جب تیرے رب نے پہاڑ پر تجلی ڈالی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر گر پڑے افاقہ کے بعد کہنے لگے اللہ تو پاک ہے میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا مومن ہوں “۔
یاد رہے کہ اس خاص ادراک کے انکار سے قیامت کے دن مومنوں کے اپنے رب کے دیکھنے سے انکار نہیں ہو سکتا۔ اس کی کیفیت کا علم اسی کو ہے۔ ہاں بیشک اس کی حقیقی عظمت جلالت قدرت بزرگی وغیرہ جیسی ہے وہ بھلا کہاں کسی کی سمجھ میں آ سکتی ہے؟ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”آخرت میں دیدار ہوگا اور دنیا میں کوئی بھی اللہ کو نہیں دیکھ سکتا“ اور یہی آیت تلاوت فرمائی۔
پس جس ادراک کی نفی کی ہے وہ معنی میں عظمت و جلال کی روایت کے ہے جیسا کہ وہ ہے۔ یہ تو انسان کیا فرشتوں کے لیے بھی ناممکن ہے ہاں وہ سب کو گھیرے ہوئے ہے جب وہ خالق ہے تو عالم کیوں نہ ہو گا جیسے فرمان ہے آیت «اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [67-الملک:14] ” کیا وہ نہیں جانے گا جو پیدا کرتا ہے جو لطف و کرم والا اور بڑی خبرداری والا ہے “ اور ہو سکتا ہے کہ نگاہ سے مراد نگاہ ولا ہو یعنی اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا اور وہ سب کو دیکھتا ہے وہ ہر ایک کو نکالنے میں لطیف ہے اور ان کی جگہ سے خبیر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جیسے کہ لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے کو وعظ کہتے ہوئے فرمایا تھا کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:16] ” بیٹا اگر کوئی بھلائی یا برائی رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو خواہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں اللہ اسے لائے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے “۔
صفحہ نمبر2715
ہماری آنکھیں اور اللہ جل شانہ ٭٭
جس کے یہ اوصاف ہیں یہی تمہارا اللہ ہے، یہی تمہارا پالنہار ہے، یہی سب کا خالق ہے تم اسی ایک کی عبادت کرو، اس کی وحدانیت کا اقرار کرو -اس کے سوا کسی کو عبادت کے لائق نہ سمجھو۔ اس کی اولاد نہیں، اس کے ماں باپ نہیں، اس کی بیوی نہیں، اس کی برابری کا اس جیسا کوئی نہیں، وہ ہر چیز کا حافظ نگہبان اور وکیل ہے ہر کام کی تدبیر وہی کرتا ہے سب کی روزیاں اسی کے ذمہ ہیں، ہر ایک کی ہر وقت وہی حفاظت کرتا ہے۔ سلف کہتے ہیں دنیا میں کوئی آنکھ اللہ کو نہیں دیکھ سکتی۔ ہاں قیامت کے دن مومنوں کو اللہ کا دیدار ہو گا۔ [صحیح بخاری:4855]
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جو کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے اس نے جھوٹ کہا پھر آپ رضی اللہ عنہا نے یہی آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ» [6-الأنعام:103] پڑھی ۔
صفحہ نمبر2711
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کے برخلاف مروی ہے انہوں نے روایت کو مطلق رکھا ہے اور فرماتے ہیں اپنے دل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کو دیکھا - [صحیح مسلم:176] سورۃ النجم میں یہ مسئلہ پوری تفصیل سے بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔
اسمعیل بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں کوئی شخص اللہ کو نہیں دیکھ سکتا“ اور حضرات فرماتے ہیں ”یہ تو عام طور پر بیان ہوا ہے پھر اس میں سے قیامت کے دن مومنوں کا اللہ کو دیکھنا مخصوص کر لیا ہے۔“ ہاں معتزلہ کہتے ہیں دنیا اور آخرت میں کہیں بھی اللہ کا دیدار نہ ہو گا۔ اس میں انہوں نے اہلسنت کی مخالفت کے علاوہ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی نادانی برتی، کتاب اللہ میں موجود ہے آیت «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [75-القيامة:22-23] یعنی ” اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے “۔
اور فرمان ہے آیت «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» [83۔المطففین:15] یعنی ” کفار قیامت والے دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہوں گے “۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے صاف ظاہر ہے کہ مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا حجاب نہیں ہوگا“، متواتر احادیث سے بھی یہی ثابت ہے۔ ابوسعید، ابوہریرہ، انس، جریج، صہیب، بلال رضی اللہ عنہم وغیرہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ مومن اللہ تبارک و تعالیٰ کو قیامت کے میدانوں میں جنت کے باغوں میں دیکھیں گے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی انہیں میں سے کرے آمین!
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے آنکھیں نہیں دیکھ پاتیں یعنی عقلیں، لیکن یہ قول بہت دور کا ہے اور ظاہر کے خلاف ہے اور گویا کہ ادراک کو اس نے رؤیت کے معنی میں سمجھا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور حضرات دیدار کے دیکھنے کو ثابت شدہ مانتے ہوئے لیکن ادراک کے انکار کے بھی مخالف نہیں اس لیے کہ ادراک رؤیت سے خاص ہے اور خاص کی نفی عام کی نفی کو لازم نہیں ہوتی۔ اب جس ادراک کی یہاں نفی کی گئی ہے یہ ادراک کیا ہے اور کس قسم کا ہے اس میں کئی قول ہیں مثلاً معرفت حقیقت پس حقیقت کا عالم بجز اللہ کے اور کوئی نہیں گو مومن دیدار کریں گے لیکن حقیقت اور چیز ہے چاند کو لوگ دیکھتے ہیں لیکن اس کی حقیقت اس کی ذات اس کی ساخت تک کس کی رسائی ہوتی ہے؟ پس اللہ تعالیٰ تو بے مثل ہے۔
صفحہ نمبر2712
ابن علیہ فرماتے ہیں نہ دیکھنا دنیا کی آنکھوں کے ساتھ مخصوص ہے، بعض کہتے ہیں ادراک اخص ہے رؤیت سے کیونکہ ادراک کہتے ہیں احاطہٰ کر لینے کو اور عدم احاطہٰ سے عدم رؤیت لازم نہیں آتی جیسے علم کا احاطہٰ نہ ہونے سے مطلق علم کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا -احاطہٰ علم کا نہ ہونا اس آیت سے ثابت ہے کہ «يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» [20-طه:110] ۔
صحیح مسلم میں ہے «لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» یعنی اے اللہ میں تیری ثناء کا احاطہٰ نہیں کر سکتا ۔ [صحیح مسلم:486] لیکن ظاہر ہے کہ اس سے مراد مطلق ثناء کا نہ کرنا نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”کسی کی نگاہ مالک الملک کو گھیر نہیں سکتی۔“ عکرمہ رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [6-الأنعام:103] تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”کیا تو آسمان کو نہیں دیکھ رہا“؟ اس نے کہا ہاں، فرمایا ”پھر سب دیکھ چکا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ اس سے بہت بڑا ہے کہ اسے آنکھیں ادراک کر لیں۔“
چنانچہ ابن جریر میں آیت «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ» [75-القيامة:22] کی تفسیر میں ہے کہ اللہ کی طرف دیکھیں گے ان کی نگاہیں اس کی عظمت کے باعث احاطہٰ نہ کر سکیں گی اور اس کی نگاہ ان سب کو گھیرے ہوئے ہوگی۔
اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث میں ہے اگر انسان جن شیطان فرشتے سب کے سب ایک صف باندھ لیں اور شروع سے لے کر آخر تک کے سب موجودہ ہوں تاہم ناممکن ہے کہ کبھی بھی وہ اللہ کا احاطہٰ کرسکیں ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:7736/4:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اس کی اس کے سوا کوئی سند نہیں نہ صحاح ستہ والوں میں سے کسی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر2713
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تبارک و تعالیٰ کو دیکھا“، تو میں نے کہا ”کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ” اللہ کو آنکھیں نہیں پاسکتیں اور وہ تمام نگاہوں کو گھیر لیتا ہے “، تو آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا ”یہ اللہ کا نور ہے اور وہ جو اس کا ذاتی نور ہے جب وہ اپنی تجلی کرے تو اس کا ادراک کوئی نہیں کرسکتا۔“ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور روایت میں ہے اس کے بالمقابل کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی، اسی جواب کے مترادف معنی وہ حدیث ہے جو بخاری مسلم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ سوتا نہیں نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو جھکاتا ہے اور اٹھاتا ہے اس کی طرف دن کے عمل رات سے پہلے اور رات کے عمل دن سے پہلے چڑھ جاتے ہیں اس کا حجاب نور ہے یا نار ہے اگر وہ ہٹ جائے تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہر اس چیز کو جلا دیں جو اس کی نگاہوں تلے ہے ۔ [صحیح مسلم:179]
صفحہ نمبر2714
اگلی کتابوں میں ہے کہ سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دیدار دیکھنے کی خواہش کی تو جواب ملا کہ ” اے موسیٰ (علیہ السلام) جو زندہ مجھے دیکھے گا وہ مر جائے گا اور جو خشک مجھے دیکھ لے گا وہ ریزہ ریزہ ہو جائے گا “۔ خود قرآن میں ہے کہ «فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ» [7-الأعراف:143] ” جب تیرے رب نے پہاڑ پر تجلی ڈالی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر گر پڑے افاقہ کے بعد کہنے لگے اللہ تو پاک ہے میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا مومن ہوں “۔
یاد رہے کہ اس خاص ادراک کے انکار سے قیامت کے دن مومنوں کے اپنے رب کے دیکھنے سے انکار نہیں ہو سکتا۔ اس کی کیفیت کا علم اسی کو ہے۔ ہاں بیشک اس کی حقیقی عظمت جلالت قدرت بزرگی وغیرہ جیسی ہے وہ بھلا کہاں کسی کی سمجھ میں آ سکتی ہے؟ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”آخرت میں دیدار ہوگا اور دنیا میں کوئی بھی اللہ کو نہیں دیکھ سکتا“ اور یہی آیت تلاوت فرمائی۔
پس جس ادراک کی نفی کی ہے وہ معنی میں عظمت و جلال کی روایت کے ہے جیسا کہ وہ ہے۔ یہ تو انسان کیا فرشتوں کے لیے بھی ناممکن ہے ہاں وہ سب کو گھیرے ہوئے ہے جب وہ خالق ہے تو عالم کیوں نہ ہو گا جیسے فرمان ہے آیت «اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [67-الملک:14] ” کیا وہ نہیں جانے گا جو پیدا کرتا ہے جو لطف و کرم والا اور بڑی خبرداری والا ہے “ اور ہو سکتا ہے کہ نگاہ سے مراد نگاہ ولا ہو یعنی اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا اور وہ سب کو دیکھتا ہے وہ ہر ایک کو نکالنے میں لطیف ہے اور ان کی جگہ سے خبیر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جیسے کہ لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے کو وعظ کہتے ہوئے فرمایا تھا کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» [31-لقمان:16] ” بیٹا اگر کوئی بھلائی یا برائی رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو خواہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں اللہ اسے لائے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے “۔
صفحہ نمبر2715
ہدایت و شفا قرآن و حدیث میں ہے ٭٭
«بَصَائِرُ» سے مراد دلیلیں اور حجتیں ہیں جو قرآن و حدیث میں موجود ہیں جو انہیں دیکھے اور ان سے نفع حاصل کرے وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے -جیسے فرمان ہے کہ «مَّنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا» [17-الإسراء:15] ” راہ پانے والا اپنے لیے راہ پاتا ہے اور گمراہ ہونے والا اپنا ہی بگاڑتا ہے “۔
یہاں بھی فرمایا ” اندھا اپنا ہی نقصان کرتا ہے کیونکہ آخر گمراہی کا اسی پر اثر پڑتا ہے “۔ جیسے ارشاد ہے «فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَـٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ» [22-الحج:46] ” آنکھیں اندھی نہیں ہوتی بلکہ سینوں کے اندر دل اندھے ہو جاتے ہیں “۔
میں تم پر نگہبان حافظ چوکیدار نہیں بلکہ میں تو صرف مبلغ ہوں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، جس طرح توحید کے دلائل واضح فرمائے اسی طرح اپنی آیتوں کو کھول کھول کر تفسیر اور وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا تاکہ کوئی جاہل نہ رہ جائے اور مشرکین مکذبین اور کافرین یہ نہ کہہ دیں کہ تو نے اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اہل کتاب سے یہ درس لیا ہے ان سے پڑھا ہے انہی نے تجھے سکھایا ہے۔
صفحہ نمبر2717
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ معنی بھی مروی ہیں کہ ”تو نے پڑھ سنایا تو نے جھگڑا کیا“، تو یہ اسی آیت کی طرح آیت ہوگی جہاں بیان ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا إِفْكٌ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ آخَرُونَ فَقَدْ جَاءُوا ظُلْمًا وَزُورًا وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» [25-الفرقان:5-4] ” کافروں نے کہا کہ یہ تو صرف بہتان ہے جسے اس نے گھڑ لیا ہے اور دوسروں نے اس کی تائید کی ہے “۔
اور آیتوں میں ان کے بڑے کا قول ہے کہ «إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ نَظَرَ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ» [74-المدثر:18-25] ” اس نے بہت کچھ غور وخوض کے بعد فیصلہ کیا کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے، یقیناً یہ انسانی قول ہے اور اس لیے کہ ہم علماء کے سامنے وضاحت کر دیں تاکہ وہ حق کے قائل اور باطل کے دشمن بن جائیں “۔
رب کی مصلحت وہی جانتا ہے کہ جو ایک گروہ کو ہدایت اور دوسرے کو ضلالت عطا کرتا ہے، جیسے فرمایا «يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ» [2-البقرہ:26] ” اس کے ساتھ بہت کو ہدایت کرتا ہے اور بہت کو گمراہ کرتا ہے “۔
اور آیت میں ہے «لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ» [22-الحج:53] ” تاکہ وہ شیطان کے القا کو بیمار دلوں کیلئے سبب فتنہ کر دے “۔
اور فرمایا آیت «وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰىِٕكَةً ۠ وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا» [74-المدثر:31] یعنی ” ہم نے دوزخ کے پاسبان فرشتے مقرر کئے ہیں ان کی مقررہ تعداد بھی کافروں کے لیے فتنہ ہے تاکہ اہل کتاب کامل یقین کرلیں ایماندار ایمان میں بڑھ جائیں اہل کتاب اور مومن شک شبہ سے الگ ہو جائیں اور بیمار دل کفر والے کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ کی کیا مراد ہے اسی طرح جسے اللہ چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے راہ راست دکھاتا ہے، تیرے رب کے لشکروں کو بجز اس کے کوئی نہیں جانتا “۔
صفحہ نمبر2718
اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» [17-الاسراء:82] یعنی ” ہم نے قرآن اتارا ہے جو مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے البتہ ظالموں کو تو نقصان ہی ملتا ہے “۔
اور آیت میں ہے کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» [41-فصلت:44] ” یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمان وں کے کانوں میں بوجھ ہے اور ان پر اندھا پن غالب ہے یہ دور کی جگہ سے پکارے جا رہے ہیں “۔
اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن سے لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں اور گمراہ بھی ہوتے ہیں۔ «دَارَسْتَ» کی دوسری قرأت «دَرَسْتَ» بھی ہے یعنی پڑھا اور سیکھا اور یہ معنی ہیں کہ اسے تو مدت گزر چکی یہ تو تو پہلے سے لایا ہوا ہے، یہ تو تو پڑھایا گیا ہے اور سکھایا گیا ہے۔ ایک قرأت میں «دَرَسَ» بھی ہے۔ [الدر المنشور للسیوطی:70/3:] لیکن یہ غریب ہے
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے «درَسْتَ» پڑھایا ہے۔ [الدر المنشور للسیوطی:70/3:]
صفحہ نمبر2719
ہدایت و شفا قرآن و حدیث میں ہے ٭٭
«بَصَائِرُ» سے مراد دلیلیں اور حجتیں ہیں جو قرآن و حدیث میں موجود ہیں جو انہیں دیکھے اور ان سے نفع حاصل کرے وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے -جیسے فرمان ہے کہ «مَّنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا» [17-الإسراء:15] ” راہ پانے والا اپنے لیے راہ پاتا ہے اور گمراہ ہونے والا اپنا ہی بگاڑتا ہے “۔
یہاں بھی فرمایا ” اندھا اپنا ہی نقصان کرتا ہے کیونکہ آخر گمراہی کا اسی پر اثر پڑتا ہے “۔ جیسے ارشاد ہے «فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَـٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ» [22-الحج:46] ” آنکھیں اندھی نہیں ہوتی بلکہ سینوں کے اندر دل اندھے ہو جاتے ہیں “۔
میں تم پر نگہبان حافظ چوکیدار نہیں بلکہ میں تو صرف مبلغ ہوں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، جس طرح توحید کے دلائل واضح فرمائے اسی طرح اپنی آیتوں کو کھول کھول کر تفسیر اور وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا تاکہ کوئی جاہل نہ رہ جائے اور مشرکین مکذبین اور کافرین یہ نہ کہہ دیں کہ تو نے اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اہل کتاب سے یہ درس لیا ہے ان سے پڑھا ہے انہی نے تجھے سکھایا ہے۔
صفحہ نمبر2717
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ معنی بھی مروی ہیں کہ ”تو نے پڑھ سنایا تو نے جھگڑا کیا“، تو یہ اسی آیت کی طرح آیت ہوگی جہاں بیان ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا إِفْكٌ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ آخَرُونَ فَقَدْ جَاءُوا ظُلْمًا وَزُورًا وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» [25-الفرقان:5-4] ” کافروں نے کہا کہ یہ تو صرف بہتان ہے جسے اس نے گھڑ لیا ہے اور دوسروں نے اس کی تائید کی ہے “۔
اور آیتوں میں ان کے بڑے کا قول ہے کہ «إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ نَظَرَ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ» [74-المدثر:18-25] ” اس نے بہت کچھ غور وخوض کے بعد فیصلہ کیا کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے، یقیناً یہ انسانی قول ہے اور اس لیے کہ ہم علماء کے سامنے وضاحت کر دیں تاکہ وہ حق کے قائل اور باطل کے دشمن بن جائیں “۔
رب کی مصلحت وہی جانتا ہے کہ جو ایک گروہ کو ہدایت اور دوسرے کو ضلالت عطا کرتا ہے، جیسے فرمایا «يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ» [2-البقرہ:26] ” اس کے ساتھ بہت کو ہدایت کرتا ہے اور بہت کو گمراہ کرتا ہے “۔
اور آیت میں ہے «لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ» [22-الحج:53] ” تاکہ وہ شیطان کے القا کو بیمار دلوں کیلئے سبب فتنہ کر دے “۔
اور فرمایا آیت «وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰىِٕكَةً ۠ وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا» [74-المدثر:31] یعنی ” ہم نے دوزخ کے پاسبان فرشتے مقرر کئے ہیں ان کی مقررہ تعداد بھی کافروں کے لیے فتنہ ہے تاکہ اہل کتاب کامل یقین کرلیں ایماندار ایمان میں بڑھ جائیں اہل کتاب اور مومن شک شبہ سے الگ ہو جائیں اور بیمار دل کفر والے کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ کی کیا مراد ہے اسی طرح جسے اللہ چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے راہ راست دکھاتا ہے، تیرے رب کے لشکروں کو بجز اس کے کوئی نہیں جانتا “۔
صفحہ نمبر2718
اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» [17-الاسراء:82] یعنی ” ہم نے قرآن اتارا ہے جو مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے البتہ ظالموں کو تو نقصان ہی ملتا ہے “۔
اور آیت میں ہے کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» [41-فصلت:44] ” یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمان وں کے کانوں میں بوجھ ہے اور ان پر اندھا پن غالب ہے یہ دور کی جگہ سے پکارے جا رہے ہیں “۔
اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن سے لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں اور گمراہ بھی ہوتے ہیں۔ «دَارَسْتَ» کی دوسری قرأت «دَرَسْتَ» بھی ہے یعنی پڑھا اور سیکھا اور یہ معنی ہیں کہ اسے تو مدت گزر چکی یہ تو تو پہلے سے لایا ہوا ہے، یہ تو تو پڑھایا گیا ہے اور سکھایا گیا ہے۔ ایک قرأت میں «دَرَسَ» بھی ہے۔ [الدر المنشور للسیوطی:70/3:] لیکن یہ غریب ہے
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے «درَسْتَ» پڑھایا ہے۔ [الدر المنشور للسیوطی:70/3:]
صفحہ نمبر2719
وحی کے مطابق عمل کرو ٭٭
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وحی الٰہی کی اتباع اور اسی کے مطابق عمل کرو جو وحی اللہ کی جانب سے اترتی ہے وہ سراسر حق ہے اس کے حق ہونے میں زرا سا بھی شبہ نہیں۔ معبود برحق صرف وہی ہے، مشرکین سے درگزر کر، ان کی ایذاء دہی پر صبر کر، ان کی بد زبانی برداشت کرلے، ان کی بد زبانی سن لے، یقین مان کر تیری فتح کا تیرے غلبہ کا تیری طاقت و قوت کا وقت دور نہیں۔
اللہ کی مصلحتوں کو کوئی نہیں جانتا دیر گو ہو لیکن اندھیرا نہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت دیتا اس کی مشیت اس کی حکمت وہی جانتا ہے نہ کوئی اس سے بازپرس کر سکے نہ اس کا ہاتھ تھام سکے وہ سب کا حاکم اور سب سے سوال کرنے پر قادر ہے تو اس کے اقوال و اعمال کا محافظ نہیں تو ان کے رزق وغیرہ امور کا وکیل نہیں تیرے ذمہ صرف اللہ کے حکم کو پہنچا دینا ہے۔ جیسے فرمایا «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [88-الغاشية:21-22] ” نصیحت کر دے کیونکہ تیرا کام یہی ہے تو ان پر داروغہ نہیں “ اور فرمایا «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] ” تمہاری ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے حساب ہمارے ذمہ ہے “۔
صفحہ نمبر2721
وحی کے مطابق عمل کرو ٭٭
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وحی الٰہی کی اتباع اور اسی کے مطابق عمل کرو جو وحی اللہ کی جانب سے اترتی ہے وہ سراسر حق ہے اس کے حق ہونے میں زرا سا بھی شبہ نہیں۔ معبود برحق صرف وہی ہے، مشرکین سے درگزر کر، ان کی ایذاء دہی پر صبر کر، ان کی بد زبانی برداشت کرلے، ان کی بد زبانی سن لے، یقین مان کر تیری فتح کا تیرے غلبہ کا تیری طاقت و قوت کا وقت دور نہیں۔
اللہ کی مصلحتوں کو کوئی نہیں جانتا دیر گو ہو لیکن اندھیرا نہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت دیتا اس کی مشیت اس کی حکمت وہی جانتا ہے نہ کوئی اس سے بازپرس کر سکے نہ اس کا ہاتھ تھام سکے وہ سب کا حاکم اور سب سے سوال کرنے پر قادر ہے تو اس کے اقوال و اعمال کا محافظ نہیں تو ان کے رزق وغیرہ امور کا وکیل نہیں تیرے ذمہ صرف اللہ کے حکم کو پہنچا دینا ہے۔ جیسے فرمایا «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [88-الغاشية:21-22] ” نصیحت کر دے کیونکہ تیرا کام یہی ہے تو ان پر داروغہ نہیں “ اور فرمایا «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] ” تمہاری ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے حساب ہمارے ذمہ ہے “۔
صفحہ نمبر2721
سودا بازی نہیں ہو گی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو مشرکین کے معبودوں کو گالیاں دینے سے منع فرماتا ہے گو کہ اس میں کچھ مصلحت بھی ہو لیکن اس میں مفسدہ بھی ہے اور وہ بہت بڑا ہے یعنی ایسا نہ ہو کہ مشرک اپنی نادانی سے اللہ کو گالیاں دینے لگ جائیں۔
ایک روایت میں ہے کہ مشرکین نے ایسا ارادہ ظاہر کیا تھا اس پر یہ آیت اتری، قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ایسا ہوا تھا اس لیے یہ آیت اتری اور ممانعت کر دی گئی۔ ابن ابی حاتم میں سدی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ابوطالب کی موت کی بیماری کے وقت قریشیوں نے آپس میں کہا کہ چلو چل کر ابوطالب سے کہیں کہ وہ اپنے بھتیجے (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو روک دیں ورنہ یہ یقینی بات ہے کہ اب ہم اسے مار ڈالیں گے تو ممکن ہے کہ عرب کی طرف سے آواز اٹھے کہ چچا کی موجودگی میں تو قریشیوں کو چلی نہیں اس کی موت کے بعد مار ڈالا۔
یہ مشورہ کرکے ابوجہل، ابوسفیان، نضیر بن حارث، امیہ بن ابی خلف، عقبہ بن ابو محیط، عمرو بن العاص اور اسود بن بختری چلے۔ مطلب نامی ایک شخص کو ابوطالب کے پاس بھیجا کہ وہ ان کے آنے کی خبر دیں اور اجازت لیں۔ اس نے جا کر کہا کہ آپ کی قوم کے سردار آپ سے ملنا چاہتے ہیں ابوطالب نے کہا بلا لو یہ لوگ گئے اور کہنے لگے آپ کو ہم اپنا بڑا اور سردار مانتے ہیں آپ کو معلوم ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ستا رکھا ہے وہ ہمارے معبودوں کو برا کہتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ بلا کر منع کر دیجئیے ہم بھی اس سے رک جائیں گے۔
ابوطالب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ابوطالب نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے بڑے یہاں جمع ہیں یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کنبے قبیلے اور رشتے کے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیں یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کو چھوڑ دیں گے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر ایک بات میں کہتا ہوں یہ سب لوگ سوچ سمجھ کر اس کا جواب دیں۔ میں ان سے صرف ایک کلمہ طلب کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ اگر یہ میری ایک بات مان لیں تو تمام عرب ان کا ماتحت ہو جائے تمام عجم ان کی مملکت میں آ جائے بڑی بڑی سلطنتیں انہیں خراج ادا کریں ۔
یہ سن کر ابوجہل نے کہا قسم ہے ایک ہی نہیں ایسی دس باتیں بھی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوں تو ہم ماننے کو موجود ہیں فرمائیے وہ کلمہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ دو ۔
صفحہ نمبر2723
اس پر ان سب نے انکار کیا اور ناک بھوں چڑھائی۔ یہ بات دیکھ کر ابوطالب نے کہا پیارے بھتیجے اور کوئی بات کہو دیکھو تمہاری قوم کے سرداروں کو تمہاری یہ بات پسند نہیں آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چچا جان آپ مجھے کیا سمجھتے ہیں اللہ کی قسم مجھے اسی ایک کلمہ کی دھن ہے اگر یہ لوگ سورج کو لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دیں جب بھی میں کوئی اور کلمہ نہیں کہوں گا ۔
یہ سن کر وہ لوگ اور بگڑے اور کہنے لگے بس ہم کہہ دیتے ہیں کہ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے معبودوں کو گالیاں دینے سے رک جائیں ورنہ پھر ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معبود کو گالیاں دیں گے۔ اس پر رب العالمین نے یہ آیت اتاری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13744:مرسل]
اسی مصلحت کو مد نظر رکھ کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ملعون ہے جو اپنے ماں باپ کو گالیاں دے ۔ صحابہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی کیسے دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہ یہ دوسرے کے باپ کو گالی دے دوسرا اس کے باپ کو، یہ کسی کی ماں کو گالی دے وہ اس کی ماں کو ۔ [صحیح بخاری:5973]
پھر فرماتا ہے ” اسی طرح اگلی امتیں بھی اپنی گمراہی کو اپنے حق میں ہدایت سمجھتی رہیں “۔ یہ بھی رب کی حکمت ہے یاد رہے کہ سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے وہ انہیں ان کے سب برے بھلے اعمال کا بدلہ دے گا اور ضرور دے گا۔
صفحہ نمبر2724
معجزوں کے طالب لوگ ٭٭
صرف مسلمانوں کو دھوکا دینے کیلئے اور اس لیے بھی کہ خود مسلمان شک شبہ میں پڑ جائیں کافر لوگ قسمیں کھا کھا کر بڑے زور سے کہتے تھے کہ ہمارے طلب کردہ معجزے ہمیں دکھا دیئے جائیں تو واللہ ہم بھی مسلمان ہو جائیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو ہدایت فرماتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیں کہ معجزے میرے قبضے میں نہیں یہ اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ چاہے دکھائے چاہے نہ دکھائے “۔
ابن جریر میں ہے کہ مشرکین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں موسیٰ علیہ السلام ایک پتھر پر لکڑی مارتے تھے تو اس سے بارہ چشمے نکلے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام مردوں میں جان ڈال دیتے تھے اور ثمود علیہ السلام نے اونٹنی کا معجزہ دکھایا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جو معجزہ ہم کہیں دکھا دیں واللہ ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو مان لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا معجزہ دیکھنا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ آپ صفا پہاڑ کو ہمارے لیے سونے کا بنا دیں پھر تو قسم اللہ کی ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا جاننے لگیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اس کلام سے کچھ امید بندھ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی شروع کی وہیں جبرائیل آئے اور فرمانے لگے ”سنئے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو اللہ بھی اس صفا پہار کو سونے کا کر دے گا لیکن اگر یہ ایمان نہ لائے تو اللہ کا عذاب ان سب کو فنا کر دے گا ورنہ اللہ تعالیٰ اپنے عذابوں کو روکے ہوئے ہے ممکن ہے ان میں نیک سمجھ والے بھی ہوں اور وہ ہدایت پر آ جائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں اللہ تعالیٰ میں صفا کا سونا نہیں چاہتا بلکہ میں چاہتا ہوں کہ تو ان پر مہربانی فرما کر انہیں عذاب نہ کر اور ان میں سے جسے چاہے ہدایت نصیب فرما ۔ اسی پر یہ آیتیں «وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ» [6-الأنعام:111] تک نازل ہوئیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13750:مرسل] یہ حدیث گو مرسل ہے لیکن اس کے شاہد بہت ہیں۔
صفحہ نمبر2725
چنانچہ قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت «وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ» [17-الاسراء:59] یعنی ” معجزوں کے اتارنے سے صرف یہ چیز مانع ہے کہ ان سے اگلوں نے بھی انہیں جھٹلایا “۔
«أَنَّهَا» کی دوسری قرأت «اِنَّهَا» بھی ہے اور «لَا يُؤْمِنُونَ» کی دوسری قرأت «لَا تُؤْمِنُونَ» ہے اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ ” اے مشرکین کیا خبر ممکن ہے خود تمہارے طلب کردہ معجزوں کے آ جانے کے بعد بھی تمہیں ایمان لانا نصیب نہ ہو “۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں خطاب مومنوں سے ہے یعنی ” اے مسلمانو! تم نہیں جانتے یہ لوگ ان نشانیوں کے ظاہر ہو چکنے پر بھی بے ایمان ہی رہیں گے “۔
اس صورت میں «أَنَّهَا» الف کے زیر کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور الف کے زبر کے ساتھ بھی «يُشْعِرُكُمْ» کا معمول ہو کر اور «لَا يُؤْمِنُونَ» کا لام اس صورت میں صلہ ہو گا جیسے آیت «قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ» [7-الأعراف:12] میں۔
صفحہ نمبر2726
اور آیت «وَحَرَامٌ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ» [21-الأنبياء:95] میں تو مطلب یہ ہوتا کہ ” اے مومنو تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ اپنی من مانی اور منہ مانگی نشانی دیکھ کر ایمان لائیں گے بھی؟ “۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «أَنَّهَا» معنی میں «لَعَلَّهَا» کے ہے،بلکہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «أَنَّهَا» کے بدلے «لَعَلَّهَا» ہی ہے۔ عرب کے محاورے میں اور شعروں میں بھی یہی پایا گیا ہے، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اس کے بہت سے شواہد بھی انہوں نے پیش کئے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر2727
پھر فرماتا ہے کہ ” ان کے انکار اور کفر کی وجہ سے ان کے دل اور ان کی نگاہیں ہم نے پھیر دی ہیں، اب یہ کسی بات پر ایمان لانے والے ہی نہیں -ایمان اور ان کے درمیان دیوار حائل ہو چکی ہے، روئے زمین کے نشانات دیکھ لیں گے تو بھی بے ایمان ہی رہیں گے اگر ایمان قسمت میں ہوتا تو حق کی آواز پر پہلے ہی لبیک پکار اٹھتے “۔
اللہ تعالیٰ ان کی بات سے پہلے یہ جانتا تھا کہ یہ کیا کہیں گے؟ اور ان کے عمل سے پہلے جانتا تھا کہ یہ کیا کریں گے؟ اسی لیے اس نے بتلا دیا کہ ایسا ہو گا فرماتا ہے آیت «وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ» [35-فاطر:14] ” اللہ تعالیٰ جو کامل خبر رکھنے والا ہے اور اس جیسی خبر اور کون دے سکتا ہے؟ “۔
اس نے فرمایا کہ «أَن تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّطتُ فِي جَنبِ اللَّـهِ وَإِن كُنتُ لَمِنَ السَّاخِرِينَ أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّـهَ هَدَانِي لَكُنتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ أَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ» [39-الزمر:56-58] ” یہ لوگ قیامت کے روز حسرت و افسوس کے ساتھ آرزو کریں گے کہ اگر اب لوٹ کر دنیا کی طرف جائیں تو نیک اور بھلے بن کر رہیں “۔
لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے «وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» [6-الأنعام:28] ” اگر بالفرض یہ لوٹا بھی دیئے جائیں تو بھی یہ ایسے کے ایسے ہی رہیں گے اور جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کریں گے، ہرگز نہ چھوڑیں گے “۔
یہاں بھی فرمایا کہ ” معجزوں کا دیکھنا بھی ان کے لیے مفید نہ ہوگا ان کی نگاہیں حق کو دیکھنے والی ہی نہیں رہیں ان کے دل میں حق کیلئے کوئی جگہ خالی ہی نہیں۔ پہلی بار ہی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوا اسی طرح نشانوں کے ظاہر ہونے کے بعد بھی ایمان سے محروم رہیں گے۔ بلکہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں ہی بہکتے اور بھٹکتے حیران و سرگرداں رہیں گے “۔ (اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھے۔ آمین)۔
صفحہ نمبر2728
معجزوں کے طالب لوگ ٭٭
صرف مسلمانوں کو دھوکا دینے کیلئے اور اس لیے بھی کہ خود مسلمان شک شبہ میں پڑ جائیں کافر لوگ قسمیں کھا کھا کر بڑے زور سے کہتے تھے کہ ہمارے طلب کردہ معجزے ہمیں دکھا دیئے جائیں تو واللہ ہم بھی مسلمان ہو جائیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو ہدایت فرماتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیں کہ معجزے میرے قبضے میں نہیں یہ اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ چاہے دکھائے چاہے نہ دکھائے “۔
ابن جریر میں ہے کہ مشرکین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں موسیٰ علیہ السلام ایک پتھر پر لکڑی مارتے تھے تو اس سے بارہ چشمے نکلے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام مردوں میں جان ڈال دیتے تھے اور ثمود علیہ السلام نے اونٹنی کا معجزہ دکھایا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جو معجزہ ہم کہیں دکھا دیں واللہ ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو مان لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا معجزہ دیکھنا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ آپ صفا پہاڑ کو ہمارے لیے سونے کا بنا دیں پھر تو قسم اللہ کی ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا جاننے لگیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اس کلام سے کچھ امید بندھ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی شروع کی وہیں جبرائیل آئے اور فرمانے لگے ”سنئے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو اللہ بھی اس صفا پہار کو سونے کا کر دے گا لیکن اگر یہ ایمان نہ لائے تو اللہ کا عذاب ان سب کو فنا کر دے گا ورنہ اللہ تعالیٰ اپنے عذابوں کو روکے ہوئے ہے ممکن ہے ان میں نیک سمجھ والے بھی ہوں اور وہ ہدایت پر آ جائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں اللہ تعالیٰ میں صفا کا سونا نہیں چاہتا بلکہ میں چاہتا ہوں کہ تو ان پر مہربانی فرما کر انہیں عذاب نہ کر اور ان میں سے جسے چاہے ہدایت نصیب فرما ۔ اسی پر یہ آیتیں «وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ» [6-الأنعام:111] تک نازل ہوئیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13750:مرسل] یہ حدیث گو مرسل ہے لیکن اس کے شاہد بہت ہیں۔
صفحہ نمبر2725
چنانچہ قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت «وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ» [17-الاسراء:59] یعنی ” معجزوں کے اتارنے سے صرف یہ چیز مانع ہے کہ ان سے اگلوں نے بھی انہیں جھٹلایا “۔
«أَنَّهَا» کی دوسری قرأت «اِنَّهَا» بھی ہے اور «لَا يُؤْمِنُونَ» کی دوسری قرأت «لَا تُؤْمِنُونَ» ہے اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ ” اے مشرکین کیا خبر ممکن ہے خود تمہارے طلب کردہ معجزوں کے آ جانے کے بعد بھی تمہیں ایمان لانا نصیب نہ ہو “۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں خطاب مومنوں سے ہے یعنی ” اے مسلمانو! تم نہیں جانتے یہ لوگ ان نشانیوں کے ظاہر ہو چکنے پر بھی بے ایمان ہی رہیں گے “۔
اس صورت میں «أَنَّهَا» الف کے زیر کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور الف کے زبر کے ساتھ بھی «يُشْعِرُكُمْ» کا معمول ہو کر اور «لَا يُؤْمِنُونَ» کا لام اس صورت میں صلہ ہو گا جیسے آیت «قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ» [7-الأعراف:12] میں۔
صفحہ نمبر2726
اور آیت «وَحَرَامٌ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ» [21-الأنبياء:95] میں تو مطلب یہ ہوتا کہ ” اے مومنو تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ اپنی من مانی اور منہ مانگی نشانی دیکھ کر ایمان لائیں گے بھی؟ “۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ «أَنَّهَا» معنی میں «لَعَلَّهَا» کے ہے،بلکہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «أَنَّهَا» کے بدلے «لَعَلَّهَا» ہی ہے۔ عرب کے محاورے میں اور شعروں میں بھی یہی پایا گیا ہے، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اس کے بہت سے شواہد بھی انہوں نے پیش کئے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صفحہ نمبر2727
پھر فرماتا ہے کہ ” ان کے انکار اور کفر کی وجہ سے ان کے دل اور ان کی نگاہیں ہم نے پھیر دی ہیں، اب یہ کسی بات پر ایمان لانے والے ہی نہیں -ایمان اور ان کے درمیان دیوار حائل ہو چکی ہے، روئے زمین کے نشانات دیکھ لیں گے تو بھی بے ایمان ہی رہیں گے اگر ایمان قسمت میں ہوتا تو حق کی آواز پر پہلے ہی لبیک پکار اٹھتے “۔
اللہ تعالیٰ ان کی بات سے پہلے یہ جانتا تھا کہ یہ کیا کہیں گے؟ اور ان کے عمل سے پہلے جانتا تھا کہ یہ کیا کریں گے؟ اسی لیے اس نے بتلا دیا کہ ایسا ہو گا فرماتا ہے آیت «وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ» [35-فاطر:14] ” اللہ تعالیٰ جو کامل خبر رکھنے والا ہے اور اس جیسی خبر اور کون دے سکتا ہے؟ “۔
اس نے فرمایا کہ «أَن تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّطتُ فِي جَنبِ اللَّـهِ وَإِن كُنتُ لَمِنَ السَّاخِرِينَ أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّـهَ هَدَانِي لَكُنتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ أَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ» [39-الزمر:56-58] ” یہ لوگ قیامت کے روز حسرت و افسوس کے ساتھ آرزو کریں گے کہ اگر اب لوٹ کر دنیا کی طرف جائیں تو نیک اور بھلے بن کر رہیں “۔
لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے «وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» [6-الأنعام:28] ” اگر بالفرض یہ لوٹا بھی دیئے جائیں تو بھی یہ ایسے کے ایسے ہی رہیں گے اور جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کریں گے، ہرگز نہ چھوڑیں گے “۔
یہاں بھی فرمایا کہ ” معجزوں کا دیکھنا بھی ان کے لیے مفید نہ ہوگا ان کی نگاہیں حق کو دیکھنے والی ہی نہیں رہیں ان کے دل میں حق کیلئے کوئی جگہ خالی ہی نہیں۔ پہلی بار ہی انہیں ایمان نصیب نہیں ہوا اسی طرح نشانوں کے ظاہر ہونے کے بعد بھی ایمان سے محروم رہیں گے۔ بلکہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں ہی بہکتے اور بھٹکتے حیران و سرگرداں رہیں گے “۔ (اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھے۔ آمین)۔
صفحہ نمبر2728
آیت ۱۱۱
فرماتا ہے کہ ” یہ کفار جو قسمیں کھا کھا کر تم سے کہتے ہیں کہ اگر کوئی معجزہ وہ دیکھ لیتے تو ضرور ایمان لے آتے -یہ غلط کہتے ہیں تمہیں ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو جانا چاہیئے “۔
یہ کہتے ہیں کہ «وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا» [25-الفرقان:21] ” اگر فرشتے اترتے تو ہم مان لیتے لیکن یہ بھی جھوٹ ہے فرشتوں کے آ جانے پر بھی اور ان کے کہہ دینے پر بھی کہ یہ رسول برحق ہیں انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا، یہ صرف ایمان نہ لانے کے بہانے تراشتے ہیں “ کہ «أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا» [17-الإسراء:92] ” کبھی کہہ دیتے ہیں اللہ کو لے آ۔ کبھی کہتے ہیں فرشتوں کو لے آ “۔
کبھی کہتے ہیں اگلے نبیوں جیسے معجزے لے آ، یہ سب حجت بازی اور حیلے حوالے ہیں، دلوں میں تکبر بھرا ہوا ہے زبان سے سرکشی اور برائی ظاہر کرتے ہیں، اگر مردے بھی قبروں سے اٹھ کر آ جائیں اور کہہ دیں کہ یہ رسول برحق ہیں ان کے دلوں پر اس کا بھی کوئی اثر نہیں ہو گا۔ «قُبُلًا» کی دوسری قرأت «قِبَلًا» ہے جس کے معنی مقابلے اور معائنہ کے ہوتے ہیں ایک قول میں «قُبُلاً» کے معنی بھی یہی بیان کئے گئے ہیں۔ ہاں مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”اس کے معنی گروہ گروہ کے ہیں ان کے سامنے اگر ایک امت آ جاتی اور رسولوں کی ہدایت دیدے وہ جو کرنا چاہے کوئی اس سے پوچھ نہیں سکتا اور وہ چونکہ حاکم کل ہے ہر ایک سے بازپرس کر سکتا ہے وہ علیم و حکیم ہے، حاکم و غالب و قہار ہے“
اور آیت میں ہے «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-یونس:97-96] یعنی ” جن لوگوں کے ذمہ کلمہ عذاب ثابت ہو گیا ہے وہ تمام تر نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ المناک عذاب نہ دیکھ لیں “۔
صفحہ نمبر2730
ہر نبی کو ایذاء دی گئی ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ تنگ دل اور مغموم نہ ہوں جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یہ کفار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی کرتے ہیں «فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ» [3-آل عمران:184] اسی طرح ہر نبی کے زمانے کے کفار اپنے اپنے نبیوں کے ساتھ دشمنی کرتے رہے ہیں “ -
جیسے اور آیت میں تسلی دیتے ہوئے فرمایا «وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ» [6-الأنعام:34] ” تجھ سے پہلے کے پیغمبروں کو بھی جھٹلایا گیا انہیں بھی ایذائیں پہنچائی گئیں جس پر انہوں نے صبر کیا “۔
اور آیت میں کہا گیا ہے کہ «مَا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ» [41-فصلت:43] ” تجھ سے بھی وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے کے نبیوں کو کہا گیا تھا تیرا رب بڑی مغفرت والا ہے اور سات ہی المناک عذاب کرنے والا بھی ہے “
اور آیت میں ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ وَكَفٰى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَّنَصِيْرًا» [25-الفرقان:31] ” ہم نے گنہگاروں کو ہر نبی علیہ السلام کا دشمن بنا دیا ہے “۔ یہی بات ورقہ بن نوفل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی چیز جو رسول بھی لے کر آیا اس سے عداوت کی گئی ۔ [صحیح بخاری:3]
نبیوں کے دشمن شریر انسان بھی ہوتے ہیں اور جنات بھی «عَدُوًّا» سے بدل «شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ» ہے، انسانوں میں بھی شیطان ہیں اور جنوں میں بھی۔
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ایک دن نماز پڑھ رہے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم نے شیاطین انس و جن سے اللہ کی پناہ بھی مانگ لی؟ صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا انسانوں میں بھی شیطان ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔ یہ حدیث منقطع ہے۔ [تفسیر عبد الرزاق:846:ضعیف و منقطع]
ایک اور روایت میں ہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس مجلس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک تشریف فرما رہے، مجھ سے فرمانے لگے ابوذر (رضی اللہ عنہ) تم نے نماز پڑھ لی؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھو اور دو رکعت ادا کرلو ۔ جب میں فارغ ہوکر آیا تو فرمانے لگے کیا تم نے شیاطین انس و جن سے اللہ کی پناہ بھی مانگ لی؟ میں نے کہا نہیں، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اور وہ جنوں اور شیطانوں سے زیادہ شریر ہیں ۔ یہ حدیث منقطع ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13773:ضعیف و منقطع]
صفحہ نمبر2731
ایک متصل روایت مسند احمد میں مطول ہے اس میں یہ بھی ہے کہ یہ واقعہ مسجد کا ہے [مسند احمد:178/5:ضعیف] اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس فرمان کے بعد یہ پڑھنا بھی مروی ہے کہ آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا» [6-الأنعام:112] [مسند احمد:265/5:ضعیف] -الغرض یہ حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے جس سے قوت صحت کا فائدہ ہو جاتا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» -
عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”انسانوں میں شیطان نہیں جنات کے شیاطین ایک دوسرے سے کانا پھوسی کرتے ہیں۔“ آپ رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”انسانوں کے شیطان جو انسانوں کو گمراہ کرتے ہیں اور جنوں کے شیطان جو جنوں کو گمراہ کرتے ہیں جب آپس میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے سے اپنی کار گزاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے فلاں کو اس طرح بہکا یا تو فلاں کو اس طرح بہکایا ایک دوسرے کو گمراہی کے طریقے بتاتے ہیں۔“
اس سے امام ابن جریر رحمہ اللہ تو یہ سمجھے ہیں کہ شیطان تو جنوں میں سے ہی ہوتے ہیں لیکن بعض انسانوں پر لگے ہوئے ہوتے ہیں بعض جنات پر تو یہ مطلب عکرمہ رحمہ اللہ کے قول سے تو ظاہر ہے ہاں سدی رحمہ اللہ کے قول میں متحمل ہے۔ ایک قول میں عکرمہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم دونوں سے یہ مروی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جنات کے شیاطین ہیں جو انہیں بہکاتے ہیں جیسے انسانوں کے شیطان جو انہیں بہکاتے ہیں اور ایک دوسرے سے مل کر مشورہ دیتے ہیں کہ اسے اس طرح بہکا۔“ صحیح وہی ہے جو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ والی حدیث میں اوپر گزرا۔ عربی میں ہر سرکش شریر کو شیطان کہتے ہیں صحیح مسلم میں ہے کہ حضور نے سیاہ رنگ کے کتے کو شیطان فرمایا ہے ۔ [صحیح مسلم:510] تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ کتوں میں شیطان ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کفار جن، کفار انسانوں کے کانوں میں صور پھونکتے رہتے ہیں۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں مختار ابن ابی عبید کے پاس گیا اس نے میری بڑی تعظیم تکریم کی اپنے ہاں مہمان بنا کر ٹھہرایا رات کو بھی شاید اپنے ہاں سلاتا لیکن مجھ سے اس نے کہا کہ جاؤ لوگوں کو کجھ سناؤ میں جا کر بیٹھا ہی تھا کہ ایک شخص نے مجھ سے پوچھا آپ وحی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ میں نے کہا وحی کی دو قسمیں ہیں ایک اللہ کی طرف سے جیسے فرمان ہے آیت «بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ» [12-یوسف:3] اور دوسری وحی شیطانی جیسے فرمان ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا» [6-الأنعام:112] اتنا سنتے ہی لوگ میرے اوپر پل پڑے قریب تھا کہ پکڑ کر مارپیٹ شروع کر دیں میں نے کہا ارے بھائیو! یہ تم میرے ساتھ کیا کرنے لگے؟ میں نے تو تمہارے سوال کا جواب دیا اور میں تو تمہارا مہمان ہوں چنانچہ انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔“
مختار ملعون لوگوں سے کہتا تھا کہ میرے پاس وحی آتی ہے اس کی بہن صفیہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر میں تھیں اور بڑی دیندار تھیں۔
صفحہ نمبر2732
جب عبداللہ رضی اللہ عنہ کو مختار کا یہ قول معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ ٹھیک کہتا ہے قرآن میں ہے «وَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي اَوْلِيٰـــِٕــهِمْ لِيُجَادِلُوْكُمْ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ» [6-الأنعام:121] یعنی ” شیطان بھی اپنے دوستوں کی طرف وحی لے جاتے ہیں “ -
الغرض ایسے متکبر سرکش جنات و انس آپ میں ایک دوسرے کو دھوکے بازی کی باتین سکھاتے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر اور چاہت و مشیت ہے وہ ان کی وجہ سے اپنے نبیوں کی اولوالعزمی اپنے بندوں کو دکھا دیتا ہے، تو ان کی عداوت کا خیال بھی نہ کر، ان کا جھوٹ تجھے کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا تو اللہ پر بھروسہ رکھ اسی پر توکل کر اور اپنے کام اسے سونپ کر بے فکر ہو جا، وہ تجھے کافی ہے اور وہی تیرا مددگار ہے - یہ لوگ جو اس طرح کی خرافات کرتے ہیں یہ محض اسلئے کہ بے ایمانوں کے دل ان کی نگاہیں اور ان کے کان ان کی طرف جھک جائیں وہ ایسی باتوں کو پسند کریں اس سے خوش ہو جائیں پس ان کی باتیں وہی قبول کرتے ہیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں ہوتا، ایسے واصل جہنم ہونے والے بہکے ہوئے لوگ ہی ان کی فضول اور چکنی چپڑی باتوں میں پھنس جاتے ہیں پھر وہ کرتے ہیں جو ان کے قابل ہے۔
صفحہ نمبر2733
ہر نبی کو ایذاء دی گئی ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ تنگ دل اور مغموم نہ ہوں جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یہ کفار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی کرتے ہیں «فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ» [3-آل عمران:184] اسی طرح ہر نبی کے زمانے کے کفار اپنے اپنے نبیوں کے ساتھ دشمنی کرتے رہے ہیں “ -
جیسے اور آیت میں تسلی دیتے ہوئے فرمایا «وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ» [6-الأنعام:34] ” تجھ سے پہلے کے پیغمبروں کو بھی جھٹلایا گیا انہیں بھی ایذائیں پہنچائی گئیں جس پر انہوں نے صبر کیا “۔
اور آیت میں کہا گیا ہے کہ «مَا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ» [41-فصلت:43] ” تجھ سے بھی وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے کے نبیوں کو کہا گیا تھا تیرا رب بڑی مغفرت والا ہے اور سات ہی المناک عذاب کرنے والا بھی ہے “
اور آیت میں ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ وَكَفٰى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَّنَصِيْرًا» [25-الفرقان:31] ” ہم نے گنہگاروں کو ہر نبی علیہ السلام کا دشمن بنا دیا ہے “۔ یہی بات ورقہ بن نوفل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی چیز جو رسول بھی لے کر آیا اس سے عداوت کی گئی ۔ [صحیح بخاری:3]
نبیوں کے دشمن شریر انسان بھی ہوتے ہیں اور جنات بھی «عَدُوًّا» سے بدل «شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ» ہے، انسانوں میں بھی شیطان ہیں اور جنوں میں بھی۔
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ایک دن نماز پڑھ رہے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم نے شیاطین انس و جن سے اللہ کی پناہ بھی مانگ لی؟ صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا انسانوں میں بھی شیطان ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔ یہ حدیث منقطع ہے۔ [تفسیر عبد الرزاق:846:ضعیف و منقطع]
ایک اور روایت میں ہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس مجلس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک تشریف فرما رہے، مجھ سے فرمانے لگے ابوذر (رضی اللہ عنہ) تم نے نماز پڑھ لی؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھو اور دو رکعت ادا کرلو ۔ جب میں فارغ ہوکر آیا تو فرمانے لگے کیا تم نے شیاطین انس و جن سے اللہ کی پناہ بھی مانگ لی؟ میں نے کہا نہیں، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اور وہ جنوں اور شیطانوں سے زیادہ شریر ہیں ۔ یہ حدیث منقطع ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13773:ضعیف و منقطع]
صفحہ نمبر2731
ایک متصل روایت مسند احمد میں مطول ہے اس میں یہ بھی ہے کہ یہ واقعہ مسجد کا ہے [مسند احمد:178/5:ضعیف] اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس فرمان کے بعد یہ پڑھنا بھی مروی ہے کہ آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا» [6-الأنعام:112] [مسند احمد:265/5:ضعیف] -الغرض یہ حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے جس سے قوت صحت کا فائدہ ہو جاتا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» -
عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”انسانوں میں شیطان نہیں جنات کے شیاطین ایک دوسرے سے کانا پھوسی کرتے ہیں۔“ آپ رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”انسانوں کے شیطان جو انسانوں کو گمراہ کرتے ہیں اور جنوں کے شیطان جو جنوں کو گمراہ کرتے ہیں جب آپس میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے سے اپنی کار گزاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے فلاں کو اس طرح بہکا یا تو فلاں کو اس طرح بہکایا ایک دوسرے کو گمراہی کے طریقے بتاتے ہیں۔“
اس سے امام ابن جریر رحمہ اللہ تو یہ سمجھے ہیں کہ شیطان تو جنوں میں سے ہی ہوتے ہیں لیکن بعض انسانوں پر لگے ہوئے ہوتے ہیں بعض جنات پر تو یہ مطلب عکرمہ رحمہ اللہ کے قول سے تو ظاہر ہے ہاں سدی رحمہ اللہ کے قول میں متحمل ہے۔ ایک قول میں عکرمہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم دونوں سے یہ مروی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جنات کے شیاطین ہیں جو انہیں بہکاتے ہیں جیسے انسانوں کے شیطان جو انہیں بہکاتے ہیں اور ایک دوسرے سے مل کر مشورہ دیتے ہیں کہ اسے اس طرح بہکا۔“ صحیح وہی ہے جو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ والی حدیث میں اوپر گزرا۔ عربی میں ہر سرکش شریر کو شیطان کہتے ہیں صحیح مسلم میں ہے کہ حضور نے سیاہ رنگ کے کتے کو شیطان فرمایا ہے ۔ [صحیح مسلم:510] تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ کتوں میں شیطان ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کفار جن، کفار انسانوں کے کانوں میں صور پھونکتے رہتے ہیں۔“ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں مختار ابن ابی عبید کے پاس گیا اس نے میری بڑی تعظیم تکریم کی اپنے ہاں مہمان بنا کر ٹھہرایا رات کو بھی شاید اپنے ہاں سلاتا لیکن مجھ سے اس نے کہا کہ جاؤ لوگوں کو کجھ سناؤ میں جا کر بیٹھا ہی تھا کہ ایک شخص نے مجھ سے پوچھا آپ وحی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ میں نے کہا وحی کی دو قسمیں ہیں ایک اللہ کی طرف سے جیسے فرمان ہے آیت «بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ» [12-یوسف:3] اور دوسری وحی شیطانی جیسے فرمان ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا» [6-الأنعام:112] اتنا سنتے ہی لوگ میرے اوپر پل پڑے قریب تھا کہ پکڑ کر مارپیٹ شروع کر دیں میں نے کہا ارے بھائیو! یہ تم میرے ساتھ کیا کرنے لگے؟ میں نے تو تمہارے سوال کا جواب دیا اور میں تو تمہارا مہمان ہوں چنانچہ انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔“
مختار ملعون لوگوں سے کہتا تھا کہ میرے پاس وحی آتی ہے اس کی بہن صفیہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر میں تھیں اور بڑی دیندار تھیں۔
صفحہ نمبر2732
جب عبداللہ رضی اللہ عنہ کو مختار کا یہ قول معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا وہ ٹھیک کہتا ہے قرآن میں ہے «وَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي اَوْلِيٰـــِٕــهِمْ لِيُجَادِلُوْكُمْ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ» [6-الأنعام:121] یعنی ” شیطان بھی اپنے دوستوں کی طرف وحی لے جاتے ہیں “ -
الغرض ایسے متکبر سرکش جنات و انس آپ میں ایک دوسرے کو دھوکے بازی کی باتین سکھاتے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر اور چاہت و مشیت ہے وہ ان کی وجہ سے اپنے نبیوں کی اولوالعزمی اپنے بندوں کو دکھا دیتا ہے، تو ان کی عداوت کا خیال بھی نہ کر، ان کا جھوٹ تجھے کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا تو اللہ پر بھروسہ رکھ اسی پر توکل کر اور اپنے کام اسے سونپ کر بے فکر ہو جا، وہ تجھے کافی ہے اور وہی تیرا مددگار ہے - یہ لوگ جو اس طرح کی خرافات کرتے ہیں یہ محض اسلئے کہ بے ایمانوں کے دل ان کی نگاہیں اور ان کے کان ان کی طرف جھک جائیں وہ ایسی باتوں کو پسند کریں اس سے خوش ہو جائیں پس ان کی باتیں وہی قبول کرتے ہیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں ہوتا، ایسے واصل جہنم ہونے والے بہکے ہوئے لوگ ہی ان کی فضول اور چکنی چپڑی باتوں میں پھنس جاتے ہیں پھر وہ کرتے ہیں جو ان کے قابل ہے۔
صفحہ نمبر2733
اللہ کے فیصلے اٹل ہیں ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ ” مشرک جو کہ اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کر رہے ہیں ان سے کہہ دیجئیے کہ کیا میں آپس میں فیصلہ کرنے والا بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کو تلاش کروں؟ اسی نے صاف کھلے فیصلے کرنے والی کتاب نازل فرما دی ہے یہود و نصاری جو صاحب کتاب ہیں اور جن کے پاس اگلے نبیوں کی بشارتیں ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے حق کے ساتھ نازل شدہ ہے تجھے شکی لوگوں میں نہ ملنا چاہیئے “ -
جیسے فرمان ہے «فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» [10-یونس:94] یعنی ” ہم نے جو کچھ وحی تیری طرف اتاری ہے اگر تجھے اس میں شک ہو تو جو لوگ اگلی کتابیں پڑھتے ہیں تو ان سے پوچھ لے یقین مان کہ تیرے رب کی جانب سے تیری طرف حق اتر چکا ہے پس تو شک کرنے والوں میں نہ ہو “ -
یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا کچھ ضروری نہیں اسی لیے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ میں شک کروں نہ کسی سے سوال کروں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17907:مرسل و ضعیف]
” تیرے رب کی باتیں صداقت میں پوری ہیں، اس کا ہر حکم عدل ہے، وہ اپنے حکم میں بھی عادل ہے اور خبروں میں صادق ہے اور یہ خبر صداقت پر مبنی ہے، جو خبریں اس نے دی ہیں وہ بلاشبہ درست ہیں اور جو حکم فرمایا ہے وہ سراسر عدل ہے اور جس چیز سے روکا وہ یکسر باطل ہے کیونکہ وہ جس چیز سے روکتا ہے وہ برائی والی ہی ہوتی ہے “۔
جیسے فرمان ہے آیت «يَاْمُرُهُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَـبٰىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ» [7-الأعراف:157] ” وہ انہیں بھلی باتوں کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں سے روکتا ہے کوئی نہیں جو اس کے فرمان کو بدل سکے، اس کے حکم اٹل ہیں، دنیا میں کیا اور آخرت میں کیا اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا۔ اس کا تعاقب کوئی نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے بندوں کی باتیں سنتا ہے اور ان کی حرکات سکنات کو بخوبی جانتا ہے۔ ہر عامل کو اس کے برے بھلے عمل کا بدلہ وہ ضرور دے گا “۔
صفحہ نمبر2735
اللہ کے فیصلے اٹل ہیں ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ ” مشرک جو کہ اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کر رہے ہیں ان سے کہہ دیجئیے کہ کیا میں آپس میں فیصلہ کرنے والا بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کو تلاش کروں؟ اسی نے صاف کھلے فیصلے کرنے والی کتاب نازل فرما دی ہے یہود و نصاری جو صاحب کتاب ہیں اور جن کے پاس اگلے نبیوں کی بشارتیں ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے حق کے ساتھ نازل شدہ ہے تجھے شکی لوگوں میں نہ ملنا چاہیئے “ -
جیسے فرمان ہے «فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ» [10-یونس:94] یعنی ” ہم نے جو کچھ وحی تیری طرف اتاری ہے اگر تجھے اس میں شک ہو تو جو لوگ اگلی کتابیں پڑھتے ہیں تو ان سے پوچھ لے یقین مان کہ تیرے رب کی جانب سے تیری طرف حق اتر چکا ہے پس تو شک کرنے والوں میں نہ ہو “ -
یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا کچھ ضروری نہیں اسی لیے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ میں شک کروں نہ کسی سے سوال کروں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17907:مرسل و ضعیف]
” تیرے رب کی باتیں صداقت میں پوری ہیں، اس کا ہر حکم عدل ہے، وہ اپنے حکم میں بھی عادل ہے اور خبروں میں صادق ہے اور یہ خبر صداقت پر مبنی ہے، جو خبریں اس نے دی ہیں وہ بلاشبہ درست ہیں اور جو حکم فرمایا ہے وہ سراسر عدل ہے اور جس چیز سے روکا وہ یکسر باطل ہے کیونکہ وہ جس چیز سے روکتا ہے وہ برائی والی ہی ہوتی ہے “۔
جیسے فرمان ہے آیت «يَاْمُرُهُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَـبٰىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ» [7-الأعراف:157] ” وہ انہیں بھلی باتوں کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں سے روکتا ہے کوئی نہیں جو اس کے فرمان کو بدل سکے، اس کے حکم اٹل ہیں، دنیا میں کیا اور آخرت میں کیا اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا۔ اس کا تعاقب کوئی نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے بندوں کی باتیں سنتا ہے اور ان کی حرکات سکنات کو بخوبی جانتا ہے۔ ہر عامل کو اس کے برے بھلے عمل کا بدلہ وہ ضرور دے گا “۔
صفحہ نمبر2735
بیکار خیالوں میں گرفتار لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اکثر لوگ دنیا میں گمراہ کن ہوتے ہیں “۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ» [37-الصافات:71] اور جگہ ہے آیت «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» [12-یوسف:103] ” گو تو حرص کرے لیکن اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں “۔
پھر یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھی کسی یقین پر نہیں صرف باطل گمان اور بے کار خیالوں کا شکار ہیں اندازے سے باتیں بنا لیتے ہیں پھر ان کے پیچھے ہو لیتے ہیں، خیالات کے پرو ہیں توہم پرستی میں گھرے ہوئے ہیں یہ سب مشیت الٰہی ہے وہ گمراہوں کو بھی جانتا ہے اور ان پر گمراہیاں آسان کر دیتا ہے، وہ راہ یافتہ لوگوں سے بھی واقف ہے اور انہیں ہدایت آسان کر دیتا ہے، ہر شخص پر وہی کام آسان ہوتے ہیں جن کیلئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔
صفحہ نمبر2737
بیکار خیالوں میں گرفتار لوگ ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اکثر لوگ دنیا میں گمراہ کن ہوتے ہیں “۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ» [37-الصافات:71] اور جگہ ہے آیت «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» [12-یوسف:103] ” گو تو حرص کرے لیکن اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں “۔
پھر یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھی کسی یقین پر نہیں صرف باطل گمان اور بے کار خیالوں کا شکار ہیں اندازے سے باتیں بنا لیتے ہیں پھر ان کے پیچھے ہو لیتے ہیں، خیالات کے پرو ہیں توہم پرستی میں گھرے ہوئے ہیں یہ سب مشیت الٰہی ہے وہ گمراہوں کو بھی جانتا ہے اور ان پر گمراہیاں آسان کر دیتا ہے، وہ راہ یافتہ لوگوں سے بھی واقف ہے اور انہیں ہدایت آسان کر دیتا ہے، ہر شخص پر وہی کام آسان ہوتے ہیں جن کیلئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔
صفحہ نمبر2737
صرف اللہ تعالیٰ کے نام کا ذبیحہ حلال باقی سب حرام ٭٭
حکم بیان ہو رہا ہے کہ ” جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے اسے کھا لیا کرو “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کے ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا مباح نہیں، جیسے مشرکین از خود مرگیا ہو اور مردار جانور، بتوں اور تھالوں پر ذبح کیا ہوا جانور کھا لیا کرتے تھے۔
کوئی وجہ نہیں کہ جن حلال جانوروں کو شریعت کے حکم کے مطابق ذبح کیا جائے اس کے کھانے میں حرج سمجھا جائے بالخصوص اس وقت کہ ہر حرام جانور کا بیان کھول کھول کر دیا گیا ہے۔ «فَصَّلَ» کی دوسری قرأت «فَصَلَ» ہے وہ حرام جانور کھانے ممنوع ہیں سوائے مجبوری اور سخت بے بسی کے کہ اس وقت جو مل جائے اس کے کھا لینے کی اجازت ہے۔
پھر کافروں کی زیادتی بیان ہو رہی ہے کہ وہ مردار جانور کو اور ان جانوروں کو جن پر اللہ کے سوا دوسروں کے نام لیے گئے ہوں حلال جانتے تھے۔ یہ لوگ بلا علم صرف خواہش پرستی کر کے دوسروں کو بھی راہ حق سے ہٹا رہے ہیں۔ ایسوں کی افتراء پردازی دروغ بافی اور زیادتی کو اللہ بخوبی جانتا ہے۔
صفحہ نمبر2739
صرف اللہ تعالیٰ کے نام کا ذبیحہ حلال باقی سب حرام ٭٭
حکم بیان ہو رہا ہے کہ ” جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے اسے کھا لیا کرو “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کے ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا مباح نہیں، جیسے مشرکین از خود مرگیا ہو اور مردار جانور، بتوں اور تھالوں پر ذبح کیا ہوا جانور کھا لیا کرتے تھے۔
کوئی وجہ نہیں کہ جن حلال جانوروں کو شریعت کے حکم کے مطابق ذبح کیا جائے اس کے کھانے میں حرج سمجھا جائے بالخصوص اس وقت کہ ہر حرام جانور کا بیان کھول کھول کر دیا گیا ہے۔ «فَصَّلَ» کی دوسری قرأت «فَصَلَ» ہے وہ حرام جانور کھانے ممنوع ہیں سوائے مجبوری اور سخت بے بسی کے کہ اس وقت جو مل جائے اس کے کھا لینے کی اجازت ہے۔
پھر کافروں کی زیادتی بیان ہو رہی ہے کہ وہ مردار جانور کو اور ان جانوروں کو جن پر اللہ کے سوا دوسروں کے نام لیے گئے ہوں حلال جانتے تھے۔ یہ لوگ بلا علم صرف خواہش پرستی کر کے دوسروں کو بھی راہ حق سے ہٹا رہے ہیں۔ ایسوں کی افتراء پردازی دروغ بافی اور زیادتی کو اللہ بخوبی جانتا ہے۔
صفحہ نمبر2739
ظاہری اور باطنی گناہوں کو ترک کر دو ٭٭
چھوٹے بڑے پوشیدہ اور ظاہر، ہر گناہ کو چھوڑو۔ نہ کھلی بدکار عورتوں کے ہاں جاؤ نہ چوری چھپے بدکاریاں کرو، کھلم کھلا ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں۔ غرض ہر گناہ سے دور رہو، کیونکہ ہر بدکاری کا برا بدلہ ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گناہ کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تیرے دل میں کھٹکے اور تو نہ چاہے کہ کسی کو اس کی اطلاع ہو جائے ۔ [صحیح مسلم:2553]
صفحہ نمبر2741