Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah At-Tawba
Tafsir Ibn Kathir · The Repentance · 129 ayat · ayat 31–60 · Quran text →
بزرگ بڑے نہیں اللہ جل شانہ سب سے بڑا ہے ٭٭
ان آیتوں میں بھی جناب باری عزوجل مومنوں کو مشرکوں، کافروں سے یہودیوں، نصرانیوں سے جہاد کرنے کی رغبت دلاتا ہے۔ فرماتا ہے دیکھو وہ اللہ کی شان میں کیسی گستاخیاں کرتے ہیں؟ یہود عزیر کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتلاتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پاک اور برتر و بلند ہے کہ اس کی اولاد ہو۔
ان لوگوں کو سیدنا عزیر علیہ السلام کی نسبت جو یہ وہم ہوا اس کا قصہ یہ ہے کہ جب عمالقہ بنی اسرائیل پر غالب آ گئے ان کے علماء کو قتل کر دیا ان کے رئیسوں کو قید کر لیا۔ عزیر علیہ السلام کا علم اٹھ جانے اور علماء کے قتل ہو جانے سے اور بنی اسرائیل کی تباہی سے سخت رنجیدہ ہوئے اب جو رونا شروع کیا تو آنکھوں سے آنسو ہی نہ تھمتے تھے روتے روتے پلکیں بھی جھڑ گئیں۔ ایک دن اسی طرح روتے ہوئے ایک میدان سے گزر ہوا تو دیکھا کہ ایک عورت ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی ہے اور کہہ رہی ہے ہائے اب میرے کھانے کا کیا ہو گا؟ میرے کپڑوں کا کیا ہو گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس ٹھہر گئے اور اس سے فرمایا: ”اس شخص سے پہلے تجھے کون کھلاتا تھا اور کون پہناتا تھا“؟ اس نے کہا: ”اللہ تعالیٰ۔“ آپ نے فرمایا: ”پھر اللہ تعالیٰ تو اب بھی زندہ، باقی ہے اس پر تو کبھی نہیں موت آئے گی ہی نہیں۔“
صفحہ نمبر3440
یہ سن کر اس عورت نے کہا: ”اے عزیر! پھر تم یہ تو بتلاؤ کہ بنی اسرائیل سے پہلے علماء کو کون علم سکھاتا تھا“؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ۔“ اس نے کہا: ”آپ علیہ السلام یہ رونا دھونا لے کر کیوں بیٹھے ہیں“؟
آپ علیہ السلام کو سمجھ میں آ گیا کہ یہ جناب باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے آپ کو تنبیہہ ہے پھر آپ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ فلاں نہر پر جا کر غسل کرو وہیں دو رکعت نماز ادا کرو وہاں تمہیں ایک شخص ملیں گے وہ جو کچھ کھلائیں گے وہ کھا لو۔ چنانچہ آپ علیہ السلام وہیں تشریف لے گئے نہا کر نماز ادا کی، دیکھا کہ ایک شخص ہیں کہہ رہے ہیں منہ کھولو آپ علیہ السلام نے منہ کھول دیا انہوں نے تین مرتبہ کوئی چیز آپ علیہ السلام کے منہ میں بڑی ساری ڈالی اسی وقت اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کا سینہ کھول دیا، اور آپ علیہ السلام توراۃ کے سب سے بڑے عالم بن گئے بنی اسرائیل میں گئے ان سے فرمایا کہ ”میں تمہارے پاس تورات لایا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”آپ علیہ السلام ہم سب کے نزدیک سچے ہیں۔“
آپ علیہ السلام نے اپنی انگلی کے ساتھ قلم کو لپیٹ لیا اور اسی انگلی سے بیک وقت پوری تورات لکھ ڈالی۔ ادھر لوگ لڑائی سے لوٹے ان میں ان کے علماء بھی واپس آئے تو انہیں سیدنا عزیر علیہ السلام کی اس بات کا علم ہوا یہ گئے اور پہاڑوں اور غاروں میں تورات شریف کے جو نسخے چھپا آئے تھے وہ نکال لائے اور ان نسخوں سے سیدنا عزیر علیہ السلام کے لکھے ہوئے نسخے کا مقابلہ کیا تو بالکل صحیح پایا۔ اس پر بعض جاہلوں کے دل میں شیطان نے یہ وسوسہ ڈال دیا کہ آپ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کو نصرانی اللہ کا بیٹا کہتے تھے ان کا واقعہ تو ظاہر ہے۔ پس ان دونوں گروہ کی غلط بیانی قرآن بیان فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ ان کی صرف زبانی باتیں ہیں جو محض بےدلیل ہیں جس طرح ان سے پہلے کے لوگ کفر و ضلالت میں تھے یہ بھی انہی کے مرید و مقلد ہیں اللہ تعالیٰ انہیں لعنت کرے حق سے کیسے بھٹک گئے۔
صفحہ نمبر3441
مسند احمد و ترمذی اور ابن جریر میں ہے کہ جب عدی بن حاتم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین پہنچا تو شام کی طرف بھاگ نکلا۔ جاہلیت میں ہی یہ نصرانی بن گیا تھا یہاں اس کی بہن اور اس کی جماعت قید ہو گئی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور احسان اس کی بہن کو آزاد کر دیا اور رقم بھی دی۔ یہ سیدھی اپنے بھائی کے پاس گئیں اور انہیں اسلام کی رغبت دلائی اور سمجھایا کہ تم رسول اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس چلے جاؤ۔
چنانچہ یہ مدینہ منورہ آ گئے تھے اپنی قوم طے کے سردار تھے ان کے باپ کی سخاوت دنیا بھر میں مشہور تھی۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے پاس آئے۔ اس وقت عدی کی گردن میں چاندی کی صلیب لٹک رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اسی آیت «اتَّخَذُوا» کی تلاوت ہو رہی تھی۔
تو انہوں نے کہا کہ ”یہود و نصاریٰ نے اپنے علماء اور درویشوں کی عبادت نہیں کی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں سنو ان کے کئے ہوئے حرام کو حرام سمجھنے لگے اور جسے ان کے علماء اور درویش حلال بتا دیں اسے حلال سمجھنے لگے یہی ان کی عبادت تھی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عدی کیا تم اس سے منکر ہو کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، کیا تمہارے خیال میں اللہ تعالیٰ سے بڑا اور کوئی ہے کیا تم اس سے انکار کرتے ہو کہ معبود برحق اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں؟ کیا تمہارے نزدیک اس کے سوا اور کوئی بھی عبادت کے لائق ہے“؟
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی، انہوں نے مان لی اور اللہ تعالیٰ کی توحید اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگا اور فرمایا: ”یہود پر غضب اللہ اترا ہے اور نصرانی گمراہ ہو گئے ہیں۔“ [سنن ترمذي:3095،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر3442
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے بھی اس آیت کی تفسیر اسی طرح مروی ہے کہ اس سے مراد حلال و حرام کے مسائل میں علماء اور ائمہ کی محض باتوں کی تقلید ہے۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں انہوں نے بزرگوں کی ماننی شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ کی کتاب ایک طرف ہٹا دی، اسی لیے اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے کہ انہیں حکم تو صرف یہ تھا کہ اللہ تعاللیٰ کے سوا اور کی عبادت نہ کریں وہی جسے حرام کر دے حرام ہے اور وہ جسے حلال فرما دے حلال ہے اسی کے فرمان شریعت ہیں، اسی کے احکام بجا لانے کے لائق ہیں اسی کی ذات عبادت کی مستحق ہے۔ وہ مشرک سے اور شرک سے پاک ہے اس جیسا، اس کا شریک، اس کا نظیر، اس کا مددگار، اس کی ضد کا کوئی نہیں، وہ اولاد سے پاک ہے نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔
صفحہ نمبر3443
کفارہ کی دلی مذموم خواہش ٭٭
فرماتا ہے کہ ہر قسم کے کفار کا ارادہ اور چاہت یہی ہے کہ اللہ کا نور بجھا دیں ہدایتِ ربانی اور دینِ حق کو مٹا دیں تو خیال کر لو کہ اگر کوئی شخص اپنے منہ کی پھونک سے آفتاب یا مہتاب کی روشنی بجھانی چاہے تو کیا یہ ہو سکتا ہے؟ اسی طرح یہ لوگ بھی اللہ کے نور کے بجھانے کی چاہت میں اپنی امکانی کوشش کرلیں آخر عاجز ہو کر رہ جائیں گے۔
ضروری بات ہے اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ دین حق تعلیمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بول بالا ہو گا۔ تم مٹانا چاہتے ہو اللہ تعالیٰ بلند کرنا چاہتا ہے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی چاہت تمہاری چاہت پر غالب رہے گی تم گو ناخوش رہو لیکن آفتابِ ہدایت بیچ آسمان میں پہنچ کر ہی رہے گا۔
عربی لغت میں کافر کہتے ہیں کسی چیز کے چھپا لینے والے کو اسی اعتبار سے رات کو بھی کافر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ بھی تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے، کسان کو کافر کہتے ہیں کیونکہ وہ دانے زمین میں چھپا دیتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ» [57-الحديد:20] اسی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی خبریں اور صحیح ایمان اور نفع والا علم یہ ہدایت ہے اور عمدہ اعمال جو دنیا آخرت میں نفع دیں یہ دین حق ہے۔ یہ تمام مذاہب عالم پر چھا کر رہے گا۔
نبی کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میرے لیے مشرق و مغرب کی زمین لپیٹ دی گئی میری امت کا ملک ان تمام جگہوں تک پہنچے گا۔“ [صحیح مسلم:2889] فرماتے ہیں تمہارے ہاتھوں پر مشرق و مغرب فتح ہو گا۔ تمہارے سردار جہنمی ہیں، بجز ان کے جو متقی، پرہیزگار اور امانت دار ہوں۔ [مسند احمد:366،367/5:صحیح]
صفحہ نمبر3445
فرماتے ہیں یہ دین تمام اس جگہ پر پہنچے گا جہاں پر دن رات پہنچیں کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جہاں اللہ عزوجل اسلام کو نہ پہنچائے۔ عزیزوں کو عزیز کرے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا۔ اسلام کو عزت دینے والوں کو عزت ملے گی اور کفر کو ذلت نصیب ہو گی۔
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے تو یہ بات خود اپنے گھر میں بھی دیکھ لی جو مسلمان ہوا اسے خیر و برکت، عزت و شرافت ملی اور جو کافر رہا اسے ذلت و نکبت، نفرت و لعنت نصیب ہوئی، پستی اور حقارت دیکھی اور کمینہ پن کے ساتھ جزیہ دینا پڑا۔ [مسند احمد:103/4:صحیح]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”روئے زمین پر کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کلمہ اسلام کو داخل نہ کر دے وہ عزت والوں کو عزت دے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا جنہیں عزت دینی چاہے گا انہیں اسلام نصیب کرے گا اور جنہیں ذلیل کرنا ہو گا وہ اسے مانیں گے نہیں لیکن اس کی ماتحتی میں انہیں آنا پڑے گا۔“ [مسند احمد:4/6:صحیح]
سیدنا عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے مجھ سے فرمایا: ”اسلام قبول کر تاکہ سلامتی ملے۔“ میں نے کہا: ”میں تو ایک دین کو مانتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے دین کا تجھ سے زیادہ مجھے علم ہے۔“ میں نے کہا: ”سچ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالکل سچ۔ کیا تو رکوسیہ میں سے نہیں ہے؟ کیا تو اپنی قوم سے ٹیکس وصول نہیں کرتا“؟ میں نے کہا: ”یہ تو سچ ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے دین میں یہ تیرے لیے حلال نہیں۔“ پس یہ سنتے ہی میں تو جھک گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں خوب جانتا ہوں کہ تجھے اسلام سے کون سی چیز روکتی ہے۔ سن! صرف ایک یہی بات تجھے روک رہی ہے کہ مسلمان بالکل ضعیف اور کمزور اور ناتواں ہیں تمام عرب انہیں گھیرے ہوئے ہے یہ ان سے نپٹ نہیں سکتے لیکن سن! حیرہ کا تجھے علم ہے“؟
صفحہ نمبر3446
میں نے کہا: ”دیکھا تو نہیں سنا ضرور ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امر دین کو پورا فرمائے گا یہاں تک کہ ایک سانڈنی سوار حیرہ سے چل کر بغير كسي كي امان كےُمکہ معظمہ پہنچے گا اور بیت اللہ کا طواف کرے گا۔ واللہ! تم کسریٰ کے خزانے فتح کرو گے۔“ میں نے کہا: ”کسریٰ بن ہرمز کے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں کسریٰ بن ہرمز کے، تم میں مال کی اس قدر کثرت ہو پڑے گی کہ کوئی لینے والا نہ ملے گا۔“
اس حدیث کو بیان کرتے وقت عدی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان پورا ہوا یہ دیکھو آج حیرہ سے سواریاں چلتی ہیں بےخوف و خطر بغیر کسی کی پناہ کے بیت اللہ پہنچ کر طواف کرتی ہیں۔ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری پیشن گوئی بھی پوری ہوئی۔ کسریٰ کے خزانے فتح ہوئے میں خود اس فوج میں تھا جس نے ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور کسریٰ کے مخفی خزانے اپنے قبضے میں کئے۔ واللہ! مجھے یقین ہے کہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری پیشین گوئی بھی قطعاً پوری ہو کر ہی رہے گی۔“ [مسند احمد:378/4:حسن]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”دن رات کا دور ختم نہ ہو گا۔ جب تک کہ پھر لات و عزیٰ کی عبادت نہ ہونے لگے۔“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ» کے نازل ہونے کے بعد سے میرا خیال تو آج تک یہی رہا کہ یہ پوری بات ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں پوری ہو گئی اور مکمل ہی رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین ایک پاک ہوا بھیجیں گے جو ہر اس شخص کو بھی فوت کرلے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو۔ پھر وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں کوئی خیر و خوبی نہ ہو گی۔ پس وہ اپنے باپ دادوں کے دین کی طرف پھر سے لوٹ جائیں گئے۔“ [صحیح مسلم:2907]
صفحہ نمبر3447
کفارہ کی دلی مذموم خواہش ٭٭
فرماتا ہے کہ ہر قسم کے کفار کا ارادہ اور چاہت یہی ہے کہ اللہ کا نور بجھا دیں ہدایتِ ربانی اور دینِ حق کو مٹا دیں تو خیال کر لو کہ اگر کوئی شخص اپنے منہ کی پھونک سے آفتاب یا مہتاب کی روشنی بجھانی چاہے تو کیا یہ ہو سکتا ہے؟ اسی طرح یہ لوگ بھی اللہ کے نور کے بجھانے کی چاہت میں اپنی امکانی کوشش کرلیں آخر عاجز ہو کر رہ جائیں گے۔
ضروری بات ہے اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ دین حق تعلیمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بول بالا ہو گا۔ تم مٹانا چاہتے ہو اللہ تعالیٰ بلند کرنا چاہتا ہے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی چاہت تمہاری چاہت پر غالب رہے گی تم گو ناخوش رہو لیکن آفتابِ ہدایت بیچ آسمان میں پہنچ کر ہی رہے گا۔
عربی لغت میں کافر کہتے ہیں کسی چیز کے چھپا لینے والے کو اسی اعتبار سے رات کو بھی کافر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ بھی تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے، کسان کو کافر کہتے ہیں کیونکہ وہ دانے زمین میں چھپا دیتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ» [57-الحديد:20] اسی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی خبریں اور صحیح ایمان اور نفع والا علم یہ ہدایت ہے اور عمدہ اعمال جو دنیا آخرت میں نفع دیں یہ دین حق ہے۔ یہ تمام مذاہب عالم پر چھا کر رہے گا۔
نبی کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میرے لیے مشرق و مغرب کی زمین لپیٹ دی گئی میری امت کا ملک ان تمام جگہوں تک پہنچے گا۔“ [صحیح مسلم:2889] فرماتے ہیں تمہارے ہاتھوں پر مشرق و مغرب فتح ہو گا۔ تمہارے سردار جہنمی ہیں، بجز ان کے جو متقی، پرہیزگار اور امانت دار ہوں۔ [مسند احمد:366،367/5:صحیح]
صفحہ نمبر3445
فرماتے ہیں یہ دین تمام اس جگہ پر پہنچے گا جہاں پر دن رات پہنچیں کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جہاں اللہ عزوجل اسلام کو نہ پہنچائے۔ عزیزوں کو عزیز کرے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا۔ اسلام کو عزت دینے والوں کو عزت ملے گی اور کفر کو ذلت نصیب ہو گی۔
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے تو یہ بات خود اپنے گھر میں بھی دیکھ لی جو مسلمان ہوا اسے خیر و برکت، عزت و شرافت ملی اور جو کافر رہا اسے ذلت و نکبت، نفرت و لعنت نصیب ہوئی، پستی اور حقارت دیکھی اور کمینہ پن کے ساتھ جزیہ دینا پڑا۔ [مسند احمد:103/4:صحیح]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”روئے زمین پر کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کلمہ اسلام کو داخل نہ کر دے وہ عزت والوں کو عزت دے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا جنہیں عزت دینی چاہے گا انہیں اسلام نصیب کرے گا اور جنہیں ذلیل کرنا ہو گا وہ اسے مانیں گے نہیں لیکن اس کی ماتحتی میں انہیں آنا پڑے گا۔“ [مسند احمد:4/6:صحیح]
سیدنا عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے مجھ سے فرمایا: ”اسلام قبول کر تاکہ سلامتی ملے۔“ میں نے کہا: ”میں تو ایک دین کو مانتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے دین کا تجھ سے زیادہ مجھے علم ہے۔“ میں نے کہا: ”سچ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالکل سچ۔ کیا تو رکوسیہ میں سے نہیں ہے؟ کیا تو اپنی قوم سے ٹیکس وصول نہیں کرتا“؟ میں نے کہا: ”یہ تو سچ ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے دین میں یہ تیرے لیے حلال نہیں۔“ پس یہ سنتے ہی میں تو جھک گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں خوب جانتا ہوں کہ تجھے اسلام سے کون سی چیز روکتی ہے۔ سن! صرف ایک یہی بات تجھے روک رہی ہے کہ مسلمان بالکل ضعیف اور کمزور اور ناتواں ہیں تمام عرب انہیں گھیرے ہوئے ہے یہ ان سے نپٹ نہیں سکتے لیکن سن! حیرہ کا تجھے علم ہے“؟
صفحہ نمبر3446
میں نے کہا: ”دیکھا تو نہیں سنا ضرور ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امر دین کو پورا فرمائے گا یہاں تک کہ ایک سانڈنی سوار حیرہ سے چل کر بغير كسي كي امان كےُمکہ معظمہ پہنچے گا اور بیت اللہ کا طواف کرے گا۔ واللہ! تم کسریٰ کے خزانے فتح کرو گے۔“ میں نے کہا: ”کسریٰ بن ہرمز کے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں کسریٰ بن ہرمز کے، تم میں مال کی اس قدر کثرت ہو پڑے گی کہ کوئی لینے والا نہ ملے گا۔“
اس حدیث کو بیان کرتے وقت عدی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان پورا ہوا یہ دیکھو آج حیرہ سے سواریاں چلتی ہیں بےخوف و خطر بغیر کسی کی پناہ کے بیت اللہ پہنچ کر طواف کرتی ہیں۔ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری پیشن گوئی بھی پوری ہوئی۔ کسریٰ کے خزانے فتح ہوئے میں خود اس فوج میں تھا جس نے ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور کسریٰ کے مخفی خزانے اپنے قبضے میں کئے۔ واللہ! مجھے یقین ہے کہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری پیشین گوئی بھی قطعاً پوری ہو کر ہی رہے گی۔“ [مسند احمد:378/4:حسن]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”دن رات کا دور ختم نہ ہو گا۔ جب تک کہ پھر لات و عزیٰ کی عبادت نہ ہونے لگے۔“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ» کے نازل ہونے کے بعد سے میرا خیال تو آج تک یہی رہا کہ یہ پوری بات ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں پوری ہو گئی اور مکمل ہی رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین ایک پاک ہوا بھیجیں گے جو ہر اس شخص کو بھی فوت کرلے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو۔ پھر وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں کوئی خیر و خوبی نہ ہو گی۔ پس وہ اپنے باپ دادوں کے دین کی طرف پھر سے لوٹ جائیں گئے۔“ [صحیح مسلم:2907]
صفحہ نمبر3447
باب
یہودیوں کے علماء کو احبار اور نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان کہتے ہیں۔ «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ» [5-المآئدہ:63] میں یہود کے علماء کو احبار کہا گیا ہے۔ نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان اور ان کے علماء کو قسیس اس آیت میں کہا گیا ہے «ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا» [5-المآئدہ:82] آیت کا مقصود لوگوں کو برے علماء گمراہ صوفیوں اور عابدوں سے ہوشیار کرانا اور ڈرانا ہے۔
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”ہمارے علماء میں سے وہی بگڑتے ہیں جن میں کچھ نہ کچھ شائبہ یہودیت کا ہوتا ہے اور صوفیوں اور عابدوں میں سے وہی بگڑتے ہیں جن میں نصرانیت کا شائبہ ہوتا ہے۔“
صحیح حدیث میں ہے کہ تم یقیناً اپنے سے پہلوں کی روش پر چل پڑو گے ایسی پوری مشابہت سے کہ ذرا بھی فرق نہ رہے۔ لوگوں نے پوچھا کیا یہود و نصاریٰ کی روش پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں انہی کی روش پر۔“ [صحیح بخاری:7319] اور روایت میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا کیا فارسیوں اور رومیوں کی روش پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور کون لوگ ہیں“؟ [صحیح بخاری:7320]
پس ان کے اقوال افعال کی مشابہت سے بہت ہی بچنا چاہیئے۔ یہ اس لیے کہ یہ منصب و ریاست حاصل کرنا اور اس وجاہت سے لوگوں کے مال مارنا چاہتے ہیں۔ احبار یہود کو زمانہ جاہلیت میں بڑا ہی رسوخ حاصل تھا ان کے تحفے، ہدیے، خراج، چراغی مقرر تھی جو بغیر مانگے انہیں پہنچ جاتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد اسی طمع نے انہیں قبول اسلام سے روکا۔ لیکن حق کے مقابلے کی وجہ سے اس طرف سے بھی کورے رہے اور آخرت سے بھی گئے گزرے، ذلت و حقارت ان پر برس پڑی اور غضب الٰہی میں مبتلا ہو کر تباہ و برباد ہو گئے۔ یہ حرام کھانی جماعت خود حق سے رک کر اوروں کے بھی درپے رہتی تھی حق کو باطل میں خلط ملط کر کے لوگوں کو بھی راہ حق سے روک دیتے تھے۔
صفحہ نمبر3449
جاہلوں میں بیٹھ کر گپ ہانکتے کہ ہم لوگوں کو راہ حق کی طرف بلاتے ہیں حالانکہ یہ صریح دھوکہ ہے وہ تو جہنم کی طرف بلانے والے ہیں قیامت کے دن یہ بےیارو مددگار چھوڑ دیئے جائیں گے۔ عالموں کا، اور صوفیوں کا یعنی واعظوں اور عابدوں کا ذکر کر کے اب امیروں دولت مندوں اور رئیسوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جس طرح یہ دونوں طبقے اپنے اندر بدترین لوگوں کو بھی رکھتے ہیں ایسے ہی اس تیسرے طبقے میں بھی شریر النفس لوگ ہوتے ہیں۔
عموماً انہی تین طبقے کے لوگوں کا عوام پر اثر ہوتا ہے عوام کی کثیر تعداد ان کے ساتھ بلکہ ان کے پیچھے ہوتی ہیں پس ان کا بگڑنا گویا مذہبی دنیا کا ستیاناس ہونا ہے جیسے کہ ابن مبارک رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں۔ «وھل افسدالدین الا الملوک واحبار سوء ورھبانھا» یعنی دین واعظوں، عالموں، صوفیوں اور درویشوں کے پلید طبقے سے ہی بگڑتا ہے۔
”کنز“ اصطلاح شرع میں اس مال کو کہتے ہیں جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی جاتی ہو۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی مروی ہے بلکہ آپ فرماتے ہیں: ”جس مال کی زکوٰۃ دے دی جاتی ہو وہ اگر ساتویں زمین تلے بھی ہو تو وہ کنز نہیں اور جس کی زکوٰۃ نہ دی جاتی ہو وہ گو زمین پر ظاہر پھیلا پڑا ہو کنز ہے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی موقوفاً اور مرفوعاً یہی مروی ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں: ”بے زکوٰۃ کے مال سے اس مالدار کو داغا جائے گا۔“ آپ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ زکوٰۃ کے اترنے سے پہلے تھا زکوٰۃ کا حکم نازل فرما کر اللہ نے اسے مال کی طہارت بنا دیا۔
صفحہ نمبر3450
خلیفہ برحق عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ اور عراک بن مالک رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ اسے قول ربانی «خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ» [التوبہ:103] الخ نے منسوخ کر دیا ہے۔
ابوامامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تلواروں کا زیور بھی کنز یعنی خزانہ ہے۔ یاد رکھو میں تمہیں وہی سناتا ہوں جو میں نے جناب پیغمبر حق صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”چار ہزار اور اس سے کم تو نفقہ ہے اور اس سے زیاہ کنز ہے۔“ [بیهقی فی السنن الکبریٰ:82/2:موقوف] لیکن یہ قول غریب ہے۔
مال کی کثرت کی مذمت اور کمی کی مدحت میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں بطور نمونے کے ہم بھی یہاں ان میں سے چند نقل کرتے ہیں۔ مسند عبدالرزاق میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سونے چاندی والوں کے لیے ہلاکت ہے“ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فرمان سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر شاق گزرا اور انہوں نے سوال کیا کہ پھر ہم کس قسم کا مال رکھیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حالت بیان کر کے یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ذکر کرنے والی زبان شکر کرنے والا دل اور دین کے کاموں میں مدد دینے والی بیوی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:16676:مرسل]
مسند احمد میں ہے کہ سونے چاندی کی مذمت کی یہ آیت جب اتری اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں چرچا کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”لو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر آتا ہوں“، اپنی سواری تیز کر کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے۔ [مسند احمد:372/5:صحیح]
اور روایات میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا پھر ہم اپنی اولادوں کے لیے کیا چھوڑ جائیں؟ اس میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ہی پیچھے ثوبان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سوال پر فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ اسی لیے مقرر فرمائی ہے کہ بعد کا مال پاک ہو جائے۔ میراث کا مقرر کرنا بتلا رہا ہے کہ جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر مارے خوشی کے تکبیریں کہنے لگے۔
صفحہ نمبر3451
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لو اور سنو! میں تمہیں بہترین خزانہ بتلاؤں نیک عورت جب اس کا خاوند اس کی طرف نظر ڈالے تو وہ اسے خوش کر دے اور جب حکم دے فوراً بجا لائے اور جب وہ موجود نہ ہو تو حفاظت کرے۔ [سنن ابوداود:1664،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
حسان بن عطیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ ایک سفر میں تھے ایک منزل میں اترے اور اپنے غلام سے فرمایا کہ ”چھری لاؤ کھیلیں۔“ مجھے برا معلوم ہوا آپ نے افسوس ظاہر کیا اور فرمایا: ”میں نے تو اسلام کے بعد سے اب تک ایسی بے احتیاطی کی بات کبھی نہیں کی تھی اب تم اسے بھول جاؤ اور ایک حدیث بیان کرتا ہوں اسے یاد رکھو لو“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب لوگ سونا چاندی جمع کرنے لگیں تم ان کلمات کو بکثرت کہا کرو۔ «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبَاً سَلِيمَاً، وَلِسَانَاً صَادِقَاً، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّكَ أنْتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے کام کی ثابت قدمی اور بھلائیوں کی پختگی اور تیری نعمتوں کا شکریہ اور تیری عبادتوں کی اچھائی اور سلامتی والا دل اور سچی زبان اور تیرے علم میں جو بھلائی ہے وہ اور تیرے علم میں جو برائی ہے اس سے پناہ اور جن برائیوں کو تو جانتا ہے ان سے استغفار طلب کرتا ہوں میں مانتا ہوں کہ تو تمام غیب کا جاننے والا ہے۔“ [مسند احمد:123/4:حسن بالشواھد]
آیت میں بیان ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنے مال کو نہ خرچ کرنے والے اور اسے چھپا چھپا کر رکھنے والے درد ناک عذابوں سے مطلع ہو جائیں۔ قیامت کے دن اسی مال کو خوب تپا کر گرم آگ جیسا کر کے اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور کمر داغی جائے گی اور بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ان سے فرمایا جائے گا کہ لو اپنی جمع جتھا کا مزہ چکھو۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ فرشتوں کو حکم ہو گا کہ جہنمی گرم پانی کا تریڑ ان کے سروں پر بہاؤ اور ان سے کہو کہ عذاب کا لطف اٹھاؤ تم بڑے ذی عزت اور بزرگ سمجھے جاتے رہے، [44-الدخان:48،49] یہ ہے بدلہ اس کا۔
صفحہ نمبر3452
ثابت ہوا کہ جو شخص جس چیز کو محبوب بنا کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اسے مقدم کرے گا اسی کے ساتھ اسے عذاب ہو گا۔ ان مالداروں نے مال کی محبت میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کو بھلا دیا تھا آج اسی مال سے انہیں سزا دی جا رہی ہے۔
جیسے کہ ابولہب کھلم کھلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی کرتا تھا اور اس کی بیوی اس کی مدد کرتی تھی قیامت کے دن آگ کے اور بھڑکانے کے لیے وہ اپنے گلے میں رسی ڈال کر لکڑیاں لا لا کر اسے سلگائے گی اور اس میں وہ جلتا رہے گا۔ یہ مال جو یہاں سے سب سے زیادہ پسندیدہ ہیں یہی مال قیامت کے دن سب سے زیادہ مضر ثابت ہوں گے۔ اسی کو گرم کر کے اس سے داغ دیئے جائیں گے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ایسے مالداروں کے جسم اتنے لمبے چوڑے کر دیئے جائیں گے کہ ایک ایک دینار و درہم اس پر آ جائے پھر کل مال آگ جیسا بنا کر علیحدہ علیحدہ کر کے سارے جسم پر پھیلا دیا جائے گا یہ نہیں ایک کے بعد ایک داغ لگے، بلکہ ایک ساتھ سب کے سب۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:233/14] مرفوعاً بھی یہ روایت آئی تو ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں، واللہ اعلم۔
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس کا مال ایک اژدھا بن کر اس کے پیچھے لگے گا جو عضو سامنے آ جائے گا اسی کو چبا جائے گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو اپنے بعد خزانہ چھوڑ جائے اس کا وہ خزانہ قیامت کے دن زہریلا اژدھا بن کر جس کی آنکھوں پر نقطے ہوں گے اس کے پیچھے لگے گا یہ بھاگتا ہوا پوچھے گا کہ تو کون ہے؟ وہ کہے گا تیرا جمع کردہ اور مرنے کے بعد چھوڑا ہوا خزانہ آخر اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی۔“ [صحیح ابن خریمہ:2255]
صفحہ نمبر3453
صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ نہ دے اس کا مال قیامت کے دن آگ کی تختیوں جیسا بنا دیا جائے گا اور اس سے اس کی پیشانی پہلو اور کمر داغی جائے گی۔ پچاس ہزار سال تک لوگوں کے فیصلے ہو جانے تک تو اس کا یہی حال رہے گا پھر اسے اس کی منزل کی راہ دکھا دی جائے گی جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔ [صحیح مسلم:978]
امام بخاری رحمہ اللہ اسی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ زید بن وہب رحمہ اللہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ربذہ میں ملے اور دریافت کیا کہ تم یہاں کیسے آ گئے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم شام میں تھے وہاں میں نے آیت «وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ» [9-التوبہ:34] کی تلاوت کی“ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ آیت ہم مسلمانوں کے بارے میں نہیں یہ تو اہل کتاب کے بارے میں ہے۔“ میں نے کہا: ”ہمارے اور ان کے سب کے حق میں ہے۔“ [صحیح بخاری:4660]
اس میں میرا ان کا اختلاف ہو گیا انہوں نے میری شکایت کا خط دربار عثمانی میں لکھا، خلافت کا فرمان میرے نام آیا کہ تم یہاں چلے آؤ۔ جب میں مدینہ طیبہ پہنچا تو دیکھا کہ چاروں طرف سے مجھے لوگوں نے گھیر لیا۔ اس طرح بھیڑ لگ گئی کہ گویا انہوں نے اس سے پہلے مجھے دیکھا ہی نہ تھا۔ غرض میں مدینہ منورہ میں ٹھہرا لیکن لوگوں کی آمد و رفت سے تنگ آ گیا۔ آخر میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے شکایت کی تو آپ نے مجھے فرمایا کہ ”تم مدینے کے قریب ہی کسی صحرا میں چلے جاؤ۔“ میں نے اس حکم کی بھی تعمیل کی لیکن یہ کہہ دیا کہ واللہ! جو میں کہتا تھا اسے ہرگز نہیں چھوڑ سکتا۔ [صحیح بخاری:1406]
آپ کا خیال یہ تھا کہ بال بچوں کے کھلانے کے بعد جو بچے اسے جمع کر رکھنا مطلقاً حرام ہے۔ اسی کا آپ فتویٰ دیتے تھے اور اسی بات کو لوگوں میں پھیلاتے تھے اور لوگوں کو بھی اس پر آمادہ کرتے تھے اسی کا حکم دیتے تھے اور اس کے مخالف لوگوں پر بڑا ہی تشدد کرتے تھے۔
صفحہ نمبر3454
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو روکنا چاہا کہ کہیں لوگوں میں عام ضرر نہ پھیل جائے یہ نہ مانے تو آپ نے خلیفہ سے شکایت کی۔ امیر المؤمنین نے انہیں بلا کر ربذہ میں تنہا رہنے کا حکم دیا۔ آپ وہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہی رحلت فرما گئے۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بطور امتحان ایک مرتبہ ان کے پاس ایک ہزار اشرفیاں بھجوائیں آپ نے شام سے پہلے ہی پہلے سب ادھر ادھر اللہ کی راہ میں خرچ کر ڈالیں۔ شام کو وہی صاحب جو انہیں صبح کو ایک ہزار اشرفیاں دے گئے تھے وہ آئے اور کہا مجھ سے غلطی ہو گئی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے وہ اشرفیاں اور صاحب کے لیے بھجوائی تھیں۔ میں نے غلطی سے آپ کو دے دیں۔ وہ واپس کیجئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم پر افسوس ہے میرے پاس تو اب ان میں سے ایک پائی بھی نہیں اچھا جب میرا مال آ جائے گا تو میں آپ کو آپ کی اشرفیاں واپس کر دوں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی اس آیت کے حکم کو عام بتلاتے ہیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت اہل قبلہ کے بارے میں ہے۔“ احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں آیا دیکھا کہ ایک جماعت قریشیوں کی محفل لگائے بیٹھی ہے میں بھی اس مجلس میں بیٹھ گیا کہ ایک صاحب تشریف لائے میلے کچیلے، موٹے، چھوٹے کپڑے پہنے ہوئے بہت خستہ حال میں اور آکر کھڑے ہو کر فرمانے لگے روپیہ پیسہ جمع کرنے والے اس سے خبردار رہیں کہ قیامت کے دن جہنم کے انگارے ان کی چھاتی کی بٹنی پر رکھے جائیں گے جو کھوے کی ہڈی کے پار ہو جائیں گے پھر پیچھے کی طرف سے آگے کو سوراخ کرتے اور جلاتے ہوئے نکل جائیں گے۔ لوگ سب سر نیچا کئے بیٹھے رہے کوئی بھی کچھ نہ بولا وہ بھی مڑ کر چل دیئے۔
صفحہ نمبر3455
اور ایک ستون سے لگ کر بیٹھ گئے میں ان کے پاس پہنچا اور ان سے کہا کہ میرے خیال میں تو ان لوگوں کو آپ کی بات بری لگی آپ نے فرمایا یہ کچھ نہیں جانتے۔
ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ”میرے پاس اگر احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے یہ بات اچھی نہیں معلوم ہوتی کہ تین دن گزرنے کے بعد میرے پاس اس میں سے کچھ بھی بچا ہوا رہے ہاں اگر قرض کی ادائیگی کے لیے میں کچھ رکھ لوں تو اور بات ہے۔ [صحیح بخاری:2444]
غالباً اسی حدیث نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ مذہب کر دیا تھا۔ جو آپ نے اوپر پڑھا، واللہ اعلم۔ ایک مرتبہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ان کا حصہ ملا آپ کی لونڈی نے اسی وقت ضروریات کو فراہم کرنا شروع کیا۔ سامان کی خرید کے بعد سات بچ رہے۔ حکم دیا کہ اس کے فلوس لے لو تو سیدنا سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے آپ اپنے پاس رہنے دیجئیے تاکہ بوقت ضرور کام نکل جائے یا کوئی مہمان آ جائے تو کوئ کام نہ اٹکے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں مجھ سے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد لیا ہے کہ جو سونا چاندی سربند کر کے رکھی جائے وہ رکھنے والے کے لیے آگ کا انگارا ہے جب تک کہ اسے راہ اللہ نہ دے دے۔ [مسند احمد:156/5:صحیح]
صفحہ نمبر3456
ابن عساکر میں ہے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے فقیر بن کر مل غنی بن کر نہ مل۔“ انہوں نے پوچھا: ”یہ کس طرح“؟ فرمایا: ”سائل کو رد نہ کر جو ملے اسے چھپا نہ رکھ۔“ انہوں نے کہا: ”یہ کیسے ہو سکے گا“؟ آپ نے فرمایا: ”یہی ہے ورنہ آگ ہے۔“ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:6742،] اس کی سند ضعیف ہے۔
اہل صفہ میں ایک صاحب کا انتقال ہو گیا وہ دینار یا دو درہم ان کے بچے ہوئے نکلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آگ کے دو داغ ہیں تم لوگ اپنے ساتھی کے جنازے کی نماز پڑھ لو۔“ [مسند احمد:101/1:حسن لغیرہ]
اور روایت میں ہے کہ ایک اہل صفہ کے انتقال کے بعد ان کی تہبند کی آنٹی میں سے ایک دینار نکلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک داغ آگ کا۔“ پھر دوسرے کا انتقال ہوا ان کے پاس سے دو دینار برآمد ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دو داغ آگ کے۔“ [مسند احمد:253،252/5:صحیح]
فرماتے ہیں جو لوگ سرخ و سفید یعنی سونا چاندی چھوڑ کر مرے ایک ایک قیراط کے بدلے ایک ایک تختی آگ کی بنادی جائے گی اور اس کے قدم سے لے کے ٹھوڑی تک اس کے جسم میں آگ سے داغ کئے جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس نے دینار سے دینار اور درہم سے درہم ملا کر جمع کر کے رکھ چھوڑا اس کی کھال کشادہ کر کے پیشانی اور کروٹ اور کمر پر اس کے داغ کئے جائیں گے اور کہا جائے گا یہ ہے جسے تم اپنی جانوں کے لیے خزانہ بناتے رہے اب اس کا بدلہ چکھو۔ اس کا راوی سیف کذاب و متروک ہے۔
صفحہ نمبر3457
باب
یہودیوں کے علماء کو احبار اور نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان کہتے ہیں۔ «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ» [5-المآئدہ:63] میں یہود کے علماء کو احبار کہا گیا ہے۔ نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان اور ان کے علماء کو قسیس اس آیت میں کہا گیا ہے «ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا» [5-المآئدہ:82] آیت کا مقصود لوگوں کو برے علماء گمراہ صوفیوں اور عابدوں سے ہوشیار کرانا اور ڈرانا ہے۔
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”ہمارے علماء میں سے وہی بگڑتے ہیں جن میں کچھ نہ کچھ شائبہ یہودیت کا ہوتا ہے اور صوفیوں اور عابدوں میں سے وہی بگڑتے ہیں جن میں نصرانیت کا شائبہ ہوتا ہے۔“
صحیح حدیث میں ہے کہ تم یقیناً اپنے سے پہلوں کی روش پر چل پڑو گے ایسی پوری مشابہت سے کہ ذرا بھی فرق نہ رہے۔ لوگوں نے پوچھا کیا یہود و نصاریٰ کی روش پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں انہی کی روش پر۔“ [صحیح بخاری:7319] اور روایت میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا کیا فارسیوں اور رومیوں کی روش پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور کون لوگ ہیں“؟ [صحیح بخاری:7320]
پس ان کے اقوال افعال کی مشابہت سے بہت ہی بچنا چاہیئے۔ یہ اس لیے کہ یہ منصب و ریاست حاصل کرنا اور اس وجاہت سے لوگوں کے مال مارنا چاہتے ہیں۔ احبار یہود کو زمانہ جاہلیت میں بڑا ہی رسوخ حاصل تھا ان کے تحفے، ہدیے، خراج، چراغی مقرر تھی جو بغیر مانگے انہیں پہنچ جاتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد اسی طمع نے انہیں قبول اسلام سے روکا۔ لیکن حق کے مقابلے کی وجہ سے اس طرف سے بھی کورے رہے اور آخرت سے بھی گئے گزرے، ذلت و حقارت ان پر برس پڑی اور غضب الٰہی میں مبتلا ہو کر تباہ و برباد ہو گئے۔ یہ حرام کھانی جماعت خود حق سے رک کر اوروں کے بھی درپے رہتی تھی حق کو باطل میں خلط ملط کر کے لوگوں کو بھی راہ حق سے روک دیتے تھے۔
صفحہ نمبر3449
جاہلوں میں بیٹھ کر گپ ہانکتے کہ ہم لوگوں کو راہ حق کی طرف بلاتے ہیں حالانکہ یہ صریح دھوکہ ہے وہ تو جہنم کی طرف بلانے والے ہیں قیامت کے دن یہ بےیارو مددگار چھوڑ دیئے جائیں گے۔ عالموں کا، اور صوفیوں کا یعنی واعظوں اور عابدوں کا ذکر کر کے اب امیروں دولت مندوں اور رئیسوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جس طرح یہ دونوں طبقے اپنے اندر بدترین لوگوں کو بھی رکھتے ہیں ایسے ہی اس تیسرے طبقے میں بھی شریر النفس لوگ ہوتے ہیں۔
عموماً انہی تین طبقے کے لوگوں کا عوام پر اثر ہوتا ہے عوام کی کثیر تعداد ان کے ساتھ بلکہ ان کے پیچھے ہوتی ہیں پس ان کا بگڑنا گویا مذہبی دنیا کا ستیاناس ہونا ہے جیسے کہ ابن مبارک رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں۔ «وھل افسدالدین الا الملوک واحبار سوء ورھبانھا» یعنی دین واعظوں، عالموں، صوفیوں اور درویشوں کے پلید طبقے سے ہی بگڑتا ہے۔
”کنز“ اصطلاح شرع میں اس مال کو کہتے ہیں جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی جاتی ہو۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی مروی ہے بلکہ آپ فرماتے ہیں: ”جس مال کی زکوٰۃ دے دی جاتی ہو وہ اگر ساتویں زمین تلے بھی ہو تو وہ کنز نہیں اور جس کی زکوٰۃ نہ دی جاتی ہو وہ گو زمین پر ظاہر پھیلا پڑا ہو کنز ہے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی موقوفاً اور مرفوعاً یہی مروی ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں: ”بے زکوٰۃ کے مال سے اس مالدار کو داغا جائے گا۔“ آپ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ زکوٰۃ کے اترنے سے پہلے تھا زکوٰۃ کا حکم نازل فرما کر اللہ نے اسے مال کی طہارت بنا دیا۔
صفحہ نمبر3450
خلیفہ برحق عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ اور عراک بن مالک رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ اسے قول ربانی «خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ» [التوبہ:103] الخ نے منسوخ کر دیا ہے۔
ابوامامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”تلواروں کا زیور بھی کنز یعنی خزانہ ہے۔ یاد رکھو میں تمہیں وہی سناتا ہوں جو میں نے جناب پیغمبر حق صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”چار ہزار اور اس سے کم تو نفقہ ہے اور اس سے زیاہ کنز ہے۔“ [بیهقی فی السنن الکبریٰ:82/2:موقوف] لیکن یہ قول غریب ہے۔
مال کی کثرت کی مذمت اور کمی کی مدحت میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں بطور نمونے کے ہم بھی یہاں ان میں سے چند نقل کرتے ہیں۔ مسند عبدالرزاق میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سونے چاندی والوں کے لیے ہلاکت ہے“ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فرمان سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر شاق گزرا اور انہوں نے سوال کیا کہ پھر ہم کس قسم کا مال رکھیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حالت بیان کر کے یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ذکر کرنے والی زبان شکر کرنے والا دل اور دین کے کاموں میں مدد دینے والی بیوی۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:16676:مرسل]
مسند احمد میں ہے کہ سونے چاندی کی مذمت کی یہ آیت جب اتری اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں چرچا کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”لو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر آتا ہوں“، اپنی سواری تیز کر کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے۔ [مسند احمد:372/5:صحیح]
اور روایات میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا پھر ہم اپنی اولادوں کے لیے کیا چھوڑ جائیں؟ اس میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ہی پیچھے ثوبان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سوال پر فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ اسی لیے مقرر فرمائی ہے کہ بعد کا مال پاک ہو جائے۔ میراث کا مقرر کرنا بتلا رہا ہے کہ جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر مارے خوشی کے تکبیریں کہنے لگے۔
صفحہ نمبر3451
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لو اور سنو! میں تمہیں بہترین خزانہ بتلاؤں نیک عورت جب اس کا خاوند اس کی طرف نظر ڈالے تو وہ اسے خوش کر دے اور جب حکم دے فوراً بجا لائے اور جب وہ موجود نہ ہو تو حفاظت کرے۔ [سنن ابوداود:1664،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
حسان بن عطیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ ایک سفر میں تھے ایک منزل میں اترے اور اپنے غلام سے فرمایا کہ ”چھری لاؤ کھیلیں۔“ مجھے برا معلوم ہوا آپ نے افسوس ظاہر کیا اور فرمایا: ”میں نے تو اسلام کے بعد سے اب تک ایسی بے احتیاطی کی بات کبھی نہیں کی تھی اب تم اسے بھول جاؤ اور ایک حدیث بیان کرتا ہوں اسے یاد رکھو لو“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب لوگ سونا چاندی جمع کرنے لگیں تم ان کلمات کو بکثرت کہا کرو۔ «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبَاً سَلِيمَاً، وَلِسَانَاً صَادِقَاً، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّكَ أنْتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے کام کی ثابت قدمی اور بھلائیوں کی پختگی اور تیری نعمتوں کا شکریہ اور تیری عبادتوں کی اچھائی اور سلامتی والا دل اور سچی زبان اور تیرے علم میں جو بھلائی ہے وہ اور تیرے علم میں جو برائی ہے اس سے پناہ اور جن برائیوں کو تو جانتا ہے ان سے استغفار طلب کرتا ہوں میں مانتا ہوں کہ تو تمام غیب کا جاننے والا ہے۔“ [مسند احمد:123/4:حسن بالشواھد]
آیت میں بیان ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنے مال کو نہ خرچ کرنے والے اور اسے چھپا چھپا کر رکھنے والے درد ناک عذابوں سے مطلع ہو جائیں۔ قیامت کے دن اسی مال کو خوب تپا کر گرم آگ جیسا کر کے اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور کمر داغی جائے گی اور بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ان سے فرمایا جائے گا کہ لو اپنی جمع جتھا کا مزہ چکھو۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ فرشتوں کو حکم ہو گا کہ جہنمی گرم پانی کا تریڑ ان کے سروں پر بہاؤ اور ان سے کہو کہ عذاب کا لطف اٹھاؤ تم بڑے ذی عزت اور بزرگ سمجھے جاتے رہے، [44-الدخان:48،49] یہ ہے بدلہ اس کا۔
صفحہ نمبر3452
ثابت ہوا کہ جو شخص جس چیز کو محبوب بنا کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اسے مقدم کرے گا اسی کے ساتھ اسے عذاب ہو گا۔ ان مالداروں نے مال کی محبت میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کو بھلا دیا تھا آج اسی مال سے انہیں سزا دی جا رہی ہے۔
جیسے کہ ابولہب کھلم کھلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی کرتا تھا اور اس کی بیوی اس کی مدد کرتی تھی قیامت کے دن آگ کے اور بھڑکانے کے لیے وہ اپنے گلے میں رسی ڈال کر لکڑیاں لا لا کر اسے سلگائے گی اور اس میں وہ جلتا رہے گا۔ یہ مال جو یہاں سے سب سے زیادہ پسندیدہ ہیں یہی مال قیامت کے دن سب سے زیادہ مضر ثابت ہوں گے۔ اسی کو گرم کر کے اس سے داغ دیئے جائیں گے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ایسے مالداروں کے جسم اتنے لمبے چوڑے کر دیئے جائیں گے کہ ایک ایک دینار و درہم اس پر آ جائے پھر کل مال آگ جیسا بنا کر علیحدہ علیحدہ کر کے سارے جسم پر پھیلا دیا جائے گا یہ نہیں ایک کے بعد ایک داغ لگے، بلکہ ایک ساتھ سب کے سب۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:233/14] مرفوعاً بھی یہ روایت آئی تو ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں، واللہ اعلم۔
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس کا مال ایک اژدھا بن کر اس کے پیچھے لگے گا جو عضو سامنے آ جائے گا اسی کو چبا جائے گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو اپنے بعد خزانہ چھوڑ جائے اس کا وہ خزانہ قیامت کے دن زہریلا اژدھا بن کر جس کی آنکھوں پر نقطے ہوں گے اس کے پیچھے لگے گا یہ بھاگتا ہوا پوچھے گا کہ تو کون ہے؟ وہ کہے گا تیرا جمع کردہ اور مرنے کے بعد چھوڑا ہوا خزانہ آخر اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی۔“ [صحیح ابن خریمہ:2255]
صفحہ نمبر3453
صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ نہ دے اس کا مال قیامت کے دن آگ کی تختیوں جیسا بنا دیا جائے گا اور اس سے اس کی پیشانی پہلو اور کمر داغی جائے گی۔ پچاس ہزار سال تک لوگوں کے فیصلے ہو جانے تک تو اس کا یہی حال رہے گا پھر اسے اس کی منزل کی راہ دکھا دی جائے گی جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔ [صحیح مسلم:978]
امام بخاری رحمہ اللہ اسی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ زید بن وہب رحمہ اللہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ربذہ میں ملے اور دریافت کیا کہ تم یہاں کیسے آ گئے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم شام میں تھے وہاں میں نے آیت «وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ» [9-التوبہ:34] کی تلاوت کی“ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ آیت ہم مسلمانوں کے بارے میں نہیں یہ تو اہل کتاب کے بارے میں ہے۔“ میں نے کہا: ”ہمارے اور ان کے سب کے حق میں ہے۔“ [صحیح بخاری:4660]
اس میں میرا ان کا اختلاف ہو گیا انہوں نے میری شکایت کا خط دربار عثمانی میں لکھا، خلافت کا فرمان میرے نام آیا کہ تم یہاں چلے آؤ۔ جب میں مدینہ طیبہ پہنچا تو دیکھا کہ چاروں طرف سے مجھے لوگوں نے گھیر لیا۔ اس طرح بھیڑ لگ گئی کہ گویا انہوں نے اس سے پہلے مجھے دیکھا ہی نہ تھا۔ غرض میں مدینہ منورہ میں ٹھہرا لیکن لوگوں کی آمد و رفت سے تنگ آ گیا۔ آخر میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے شکایت کی تو آپ نے مجھے فرمایا کہ ”تم مدینے کے قریب ہی کسی صحرا میں چلے جاؤ۔“ میں نے اس حکم کی بھی تعمیل کی لیکن یہ کہہ دیا کہ واللہ! جو میں کہتا تھا اسے ہرگز نہیں چھوڑ سکتا۔ [صحیح بخاری:1406]
آپ کا خیال یہ تھا کہ بال بچوں کے کھلانے کے بعد جو بچے اسے جمع کر رکھنا مطلقاً حرام ہے۔ اسی کا آپ فتویٰ دیتے تھے اور اسی بات کو لوگوں میں پھیلاتے تھے اور لوگوں کو بھی اس پر آمادہ کرتے تھے اسی کا حکم دیتے تھے اور اس کے مخالف لوگوں پر بڑا ہی تشدد کرتے تھے۔
صفحہ نمبر3454
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو روکنا چاہا کہ کہیں لوگوں میں عام ضرر نہ پھیل جائے یہ نہ مانے تو آپ نے خلیفہ سے شکایت کی۔ امیر المؤمنین نے انہیں بلا کر ربذہ میں تنہا رہنے کا حکم دیا۔ آپ وہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہی رحلت فرما گئے۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بطور امتحان ایک مرتبہ ان کے پاس ایک ہزار اشرفیاں بھجوائیں آپ نے شام سے پہلے ہی پہلے سب ادھر ادھر اللہ کی راہ میں خرچ کر ڈالیں۔ شام کو وہی صاحب جو انہیں صبح کو ایک ہزار اشرفیاں دے گئے تھے وہ آئے اور کہا مجھ سے غلطی ہو گئی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے وہ اشرفیاں اور صاحب کے لیے بھجوائی تھیں۔ میں نے غلطی سے آپ کو دے دیں۔ وہ واپس کیجئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم پر افسوس ہے میرے پاس تو اب ان میں سے ایک پائی بھی نہیں اچھا جب میرا مال آ جائے گا تو میں آپ کو آپ کی اشرفیاں واپس کر دوں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی اس آیت کے حکم کو عام بتلاتے ہیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت اہل قبلہ کے بارے میں ہے۔“ احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں آیا دیکھا کہ ایک جماعت قریشیوں کی محفل لگائے بیٹھی ہے میں بھی اس مجلس میں بیٹھ گیا کہ ایک صاحب تشریف لائے میلے کچیلے، موٹے، چھوٹے کپڑے پہنے ہوئے بہت خستہ حال میں اور آکر کھڑے ہو کر فرمانے لگے روپیہ پیسہ جمع کرنے والے اس سے خبردار رہیں کہ قیامت کے دن جہنم کے انگارے ان کی چھاتی کی بٹنی پر رکھے جائیں گے جو کھوے کی ہڈی کے پار ہو جائیں گے پھر پیچھے کی طرف سے آگے کو سوراخ کرتے اور جلاتے ہوئے نکل جائیں گے۔ لوگ سب سر نیچا کئے بیٹھے رہے کوئی بھی کچھ نہ بولا وہ بھی مڑ کر چل دیئے۔
صفحہ نمبر3455
اور ایک ستون سے لگ کر بیٹھ گئے میں ان کے پاس پہنچا اور ان سے کہا کہ میرے خیال میں تو ان لوگوں کو آپ کی بات بری لگی آپ نے فرمایا یہ کچھ نہیں جانتے۔
ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ”میرے پاس اگر احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے یہ بات اچھی نہیں معلوم ہوتی کہ تین دن گزرنے کے بعد میرے پاس اس میں سے کچھ بھی بچا ہوا رہے ہاں اگر قرض کی ادائیگی کے لیے میں کچھ رکھ لوں تو اور بات ہے۔ [صحیح بخاری:2444]
غالباً اسی حدیث نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ مذہب کر دیا تھا۔ جو آپ نے اوپر پڑھا، واللہ اعلم۔ ایک مرتبہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ان کا حصہ ملا آپ کی لونڈی نے اسی وقت ضروریات کو فراہم کرنا شروع کیا۔ سامان کی خرید کے بعد سات بچ رہے۔ حکم دیا کہ اس کے فلوس لے لو تو سیدنا سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے آپ اپنے پاس رہنے دیجئیے تاکہ بوقت ضرور کام نکل جائے یا کوئی مہمان آ جائے تو کوئ کام نہ اٹکے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں مجھ سے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد لیا ہے کہ جو سونا چاندی سربند کر کے رکھی جائے وہ رکھنے والے کے لیے آگ کا انگارا ہے جب تک کہ اسے راہ اللہ نہ دے دے۔ [مسند احمد:156/5:صحیح]
صفحہ نمبر3456
ابن عساکر میں ہے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے فقیر بن کر مل غنی بن کر نہ مل۔“ انہوں نے پوچھا: ”یہ کس طرح“؟ فرمایا: ”سائل کو رد نہ کر جو ملے اسے چھپا نہ رکھ۔“ انہوں نے کہا: ”یہ کیسے ہو سکے گا“؟ آپ نے فرمایا: ”یہی ہے ورنہ آگ ہے۔“ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:6742،] اس کی سند ضعیف ہے۔
اہل صفہ میں ایک صاحب کا انتقال ہو گیا وہ دینار یا دو درہم ان کے بچے ہوئے نکلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آگ کے دو داغ ہیں تم لوگ اپنے ساتھی کے جنازے کی نماز پڑھ لو۔“ [مسند احمد:101/1:حسن لغیرہ]
اور روایت میں ہے کہ ایک اہل صفہ کے انتقال کے بعد ان کی تہبند کی آنٹی میں سے ایک دینار نکلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک داغ آگ کا۔“ پھر دوسرے کا انتقال ہوا ان کے پاس سے دو دینار برآمد ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دو داغ آگ کے۔“ [مسند احمد:253،252/5:صحیح]
فرماتے ہیں جو لوگ سرخ و سفید یعنی سونا چاندی چھوڑ کر مرے ایک ایک قیراط کے بدلے ایک ایک تختی آگ کی بنادی جائے گی اور اس کے قدم سے لے کے ٹھوڑی تک اس کے جسم میں آگ سے داغ کئے جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس نے دینار سے دینار اور درہم سے درہم ملا کر جمع کر کے رکھ چھوڑا اس کی کھال کشادہ کر کے پیشانی اور کروٹ اور کمر پر اس کے داغ کئے جائیں گے اور کہا جائے گا یہ ہے جسے تم اپنی جانوں کے لیے خزانہ بناتے رہے اب اس کا بدلہ چکھو۔ اس کا راوی سیف کذاب و متروک ہے۔
صفحہ نمبر3457
احترام آدمیت کا منشور ٭٭
مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول , صادق و مصدوق سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے خطبے میں ارشاد فرمایا کہ زمانہ گھوم گھام کر اپنی اصلیت پر آ گیا ہے سال کے بارہ مہینے ہوا کرتے ہیں جن میں سے چار حرمت و ادب والے ہیں۔ تین تو پے در پے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا رجب جو مضر کے ہاں ہے جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں ہے۔ پھر پوچھا یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے کہا: ”اللہ تعالیٰ کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی پورا علم ہے۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا۔ ہم سمجھے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا کوئی اور ہی نام رکھیں گے پھر پوچھا ”کیا یہ یوم النحر یعنی قربانی کی عید کا دن نہیں“؟ ہم نے کہا: ”ہاں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سا مہینہ ہے“؟ ہم نے کہا: ”اللہ تعالیٰ جانے اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سکوت فرمایا یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ شاید آپ اس مہینے کا نام اور ہی رکھیں گے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے“؟ ہم نے کہا: ”ہاں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سا شہر ہے“؟ ہم نے کہا: ”اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جاننے والے ہیں“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خاموش ہو رہے اور ہمیں پھر خیال آنے لگا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور ہی نام رکھیں گے۔ پھر فرمایا: ”کیا یہ بلدہ [ مکہ ] نہیں ہے“ ہم نے کہا: ”بیشک۔“
آپ نے فرمایا: ”یاد رکھو تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم میں آپس میں ایسی ہی حرمت والی ہیں جیسی حرمت و عزت تمہارے اس دن کی تمہارے اس مہینہ میں تمہارے اس شہر میں، تم ابھی ابھی اپنے رب سے ملاقات کرو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کا حساب لے گا سنو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن زدنی کرنے لگو بتلاؤ کیا میں نے تبلیغ کر دی؟ سنو تم میں سے جو موجود ہیں انہیں چاہیئے کہ جو موجود نہیں ان تک پہنچا دیں۔ بہت ممکن ہے کہ جسے وہ پہنچائے وہ ان بعض سے بھی زیادہ نگہداشت رکھنے والا ہو۔“ [صحیح بخاری:4406]
صفحہ نمبر3459
اور روایت میں ہے کہ وسط ایام تشریق میں، منیٰ میں حجتہ الوداع کے خطبے کے موقعہ کا یہ ذکر ہے، ابوحرہ رقاشی رحمہ اللہ کے چچا جو صحابی ہیں کہتے ہیں کہ اس خطبے کے وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناقہ کی نکیل تھامے ہوئے تھا اور لوگوں کی بھیڑ کو روکے ہوئے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے جملے کا یہ مطلب ہے کہ جو کمی بیشی، تقدیم تاخیر مہینوں کی جاہلیت کے زمانے کے مشرک کیا کرتے تھے وہ الٹ پلٹ کر اس وقت ٹھیک ہو گئی ہے جو مہینہ آج ہے وہی درحقیقت بھی ہے۔ جیسے کہ فتح مکہ کے موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”یہ شہر ابتداء مخلوق سے باحرمت و باعزت ہے وہ آج بھی حرمت والا ہے اور قیامت تک حرمت والا ہی رہے گا۔“ [صحیح بخاری:1834]
پس عربوں میں جو یہ رواج پڑ گیا تھا کہ ان کے اکثر حج ذی الحجہ کے مہینے میں نہیں ہوتے تھے اب کی مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے موقعہ پر یہ بات نہ تھی بلکہ حج اپنے ٹھیک مہینے پر تھا۔ بعض لوگ اس کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا حج ذوالقعدہ میں ہوا لیکن یہ غور طلب قول ہے۔
جیسے کہ ہم مع ثبوت بیان کریں گے۔ آیت «اِنَّمَا النَّسِيْ» [9-التوبہ:37] کی تقسیر میں ہے۔ اس قول سے بھی زیادہ غرابت والا ایک قول بعض سلف کا یہ بھی ہے کہ اس سال یہود و نصاریٰ مسلمان سب کے حج کا دن اتفاق سے ایک ہی تھا یعنی عید الاضحیٰ کا دن۔
صفحہ نمبر3460
فصل ٭٭
”فصل“ شیخ علم الدین سخاوی نے اپنی کتاب ”المشہور فی اسماء الایام و المشہور“ میں لکھا ہے کہ محرم کے مہینے کو محرم اس کی تعظیم کی وجہ سے کہتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس نام کی وجہ سے اس کی حرمت کی تاکید ہے اس لیے کہ عرب جاہلیت میں اسے بدل ڈالتے تھے کبھی حلال کر ڈالتے کبھی حرام کر ڈالتے، اس کی جمع محرمات، محارم، محاریم ہے،
صفر کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس مہینے میں عموماً ان کے گھر خالی رہتے تھے کیونکہ یہ لڑائی بھڑائی اور سفر میں چل دیتے تھے جب مکان خالی ہو جائے تو عرب کہتے ہیں [صفر المکان] اس کی جمع اصفار ہے جیسے جمل کی جمع اجمال ہے۔
ربیع الاول کے نام کا سبب یہ ہے کہ اس مہینہ میں ان کی اقامت ہو جاتی ہے۔ «ارتباع» کہتے ہیں اقامت کو اس کی جمع «اربعاء» ہے جیسے نصیب کی جمع «انصباء» ۔ اور اس کی جمع «اربعہ» ہے جیسے «رغیف» کی جمع «ارغفہ» ہے۔
ربیع الاخر کے مہینے کا نام رکھنا بھی اسی وجہ سے ہے۔ گویا یہ اقامت کا دوسرا مہینہ ہے۔ جمادی الاولیٰ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس مہینے میں پانی جمع جاتا تھا ان کے حساب میں مہینے گردش نہیں کرتے تھے۔ یعنی ٹھیک ہر موسم پر ہی ہر مہینہ آتا تھا لیکن یہ بات کچھ حجت نہیں اس لئے کہ جب ان مہینوں کا حساب چاند پر ہے تو ظاہر ہے کہ موسمی حالت ہر ماہ میں ہر سال یکساں نہیں رہے گی ہاں یہ ممکن ہے کہ اس مہینہ کا نام جس سال رکھا گیا ہو اس سال یہ مہینہ کڑکڑاتے ہوئے جاڑے میں آیا ہو اور پانی میں جمود ہو گیا ہو۔ چنانچہ ایک شاعر نے یہی کہا ہے جمادی کی سخت اندھیری راتیں جن میں کتا بھی بمشکل ایک آدھ مرتبہ ہی بھونک لیتا ہے۔ اس کی جمع «جمادیات» جیسے «حباری» اور «حباریات» ۔ یہ مذکر مونث دونوں طرح مستعمل ہے، جمادی الاولیٰ اور جمادی الاخریٰ کہا جاتا ہے۔
صفحہ نمبر3461
جمادی الاخری کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے گویا یہ پانی کے جم جانے کا دوسرا مہینہ ہے۔ رجب یہ ماخوذ ہے ترجیب سے، ترجیب کہتے ہیں تعظیم کو چونکہ یہ مہینہ عظمت و عزت والا ہے اس لیے اسے رجب کہتے ہیں۔ اس کی جمع ارجاب رجاب اور رجبات ہے۔
شعبان کا نام شعبان اس لیے ہے کہ اس میں عرب لوگ لوٹ مار کے لیے ادھر ادھر متفرق ہو جاتے تھے۔ تشعب کے معنی ہیں جدا جدا ہونا پس اس مہینے کا بھی یہی نام رکھ دیا گیا۔ اس کی جمع شعابین، شعبانات آتی ہے۔ رمضان کو رمضان اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں اونٹینوں کے پاؤں بوجہ شدت گرما کے جلنے لگتے ہیں۔ [رمضت الفصال] اس وقت کہتے ہیں جب اونٹنیوں کے بچے سخت پیاسے ہوں۔ اس کی جمع رمضانات اور رماضین اور ارمضہ آتی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے یہ محض غلط اور ناقابل التفات قول ہے۔ میں کہتا ہوں اس بارے میں ایک حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔ لیکن ہے وہ ضعیف میں نے کتاب الصیام کے شروع میں اس کا بیان کر دیا ہے۔
شوال ماخوذ ہے [شالت الابل] سے یہ مہینہ اونٹوں کے مستیوں کا مہینہ تھا یہ دمیں اٹھا دیا کرتے تھے اس لیے اس مہینہ کا یہی نام ہو گیا۔ اس کی جمع شواویل، شواول، شوالات آتی ہے۔
ذوالقعدہ یا ذوی القعدہ کا نام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس ماہ میں عرب لوگ بیٹھ جایا کرتے تھے نہ لڑائی کے لیے نکلتے نہ کسی اور سفر کے لیے۔ اس کی جمع ذوات القعدہ ہے۔ ذوالحجہ کو ذوالحجہ بھی کہہ سکتے ہیں چونکہ اسی ماہ میں حج ہوتا تھا اس لیے اس کا یہ نام مقرر ہو گیا، اس کی جمع ذوات الحجہ آتی ہے۔ یہ تو تھی ان مہینوں کے ناموں کی وجہ تسمیہ۔ اب ہفتے کے سات دنوں کے نام اور ان ناموں کی جمع سنئے۔ اتوار کے دن کو یوم الاحد کہتے ہیں اس کی جمع اَحاد اُحاد اور وحود آتی ہے۔ پیر کے دن کو اثنین کہتے ہیں اس کی جمع اثانین آتی ہے۔
صفحہ نمبر3462
منگل کو ثلاثا کہتے ہیں یہ مذکر بھی بولا جاتا ہے اور مونث بھی اس کی جمع ثلاثاوات اور اثالث آتی ہے۔ بدھ کے دن کو اربعاء کہتے ہیں۔ جمع اربعاوات اور ارابیع آتی ہے۔ جمعرات کو خمیس کہتے ہیں جمع اس کی اخمسہ، اخامس آتی ہے۔ جمعہ کو جمعہ اور جمعہ کہتے ہیں اس کی جمع: جُمُعٌ اور جَمَاعَاتٌ آتی ہے۔ سنیچر یعنی ہفتے کے دن کو سبت کہتے ہیں سبت کے معنی ہیں قطع کے چونکہ گنتی ہفتے کی دنوں کی یہیں پر ختم ہو جاتی ہے اس لیے اسے سبت کہتے یں۔
قدیم عربوں میں ہفتے کے دن کے نام یہ تھے اول، اھون، جبار، دبار، مونس، عروبہ، شیار۔ قدیم خالص عربوں کے اشعار میں بھی دنوں کے نام پائے جاتے ہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ان بارہ ماہ میں چار حرمت والے ہیں۔ جاہلیت کے عرب بھی انہیں حرمت والے مانتے تھے لیکن بسل نامی ایک گروہ اپنے تشدد کی بنا پر آٹھ مہینوں کو حرمت والا خیال کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں رجب کو قبیلہ مضر کی طرف اضافت کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جس مہینے کو وہ رجب مہینہ شمار کرتے تھے۔ دراصل وہی رجب کا مہینہ عند اللہ بھی تھا جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں ہے۔ قبیلہ ربیعہ کے نزدیک رجب، شعبان، اور شوال کے درمیان کے مہینے کا یعنی رمضان کا نام تھا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھول دیا کہ حرمت والا رجب مضر کا ہے نہ کہ ربیعہ کا۔
صفحہ نمبر3463
ان چار ذی حرمت مہینوں میں سے تین پے در پے اس مصلحت سے ہیں کہ حاجی ذوالقعدہ کے مہینے میں نکلے تو اس وقت تک لڑائیاں مار پیٹ جنگ و جدال قتل و قتال بند ہو لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہوں پھر ذی الحجہ میں احکام کی ادائیگی امن و امان عمدگی اور شان سے ہو جائے پھر ماہ محرم کی حرمت میں واپس گھر پہنچ جائے۔ درمیان سال میں رجب کو حرمت والا بنانے کی غرض یہ ہے کہ زائرین اپنے طواف بیت اللہ کے شوق کو عمرے کی صورت میں ادا کر لیں گو دور دراز علاقوں والے ہوں وہ بھی مہینہ بھر میں آمد و رفت کرلیں۔ یہی اللہ کا سیدھا اور سچا دین ہے۔
پس اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق تم ان پاک مہینوں کی حرمت کرو، ان میں خصوصیت کے ساتھ گناہوں سے بچو اس لیے کہ اس میں گناہوں کی برائی اور بڑھ جاتی ہے، جیسے کہ حرم شریف کا گناہ اور جگہ کے گناہ سے بڑھ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جو حرم میں الحاد کا ارادہ ظلم سے کرے ہم اسے درد ناک عذاب کریں گے۔ [22-الحج:25]
اسی طرح سے ان محترم مہینوں کا گناہ اور دنوں کے گناہوں سے بڑھ جاتا ہے اس لیے امام شافعی رحمہ اللہ اور علماء کی ایک بڑی جماعت کے نزدیک ان مہینوں کے قتل کی دیت بھی سخت ہے۔ اس طرح حرم کے اندر قتل کی اور ذی محرم رشتے دار کے قتل کی بھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں [فیھن] سے مراد سال بھر کے کل مہینے ہیں۔ پس ان کل مہینوں میں گناہوں سے بچو خصوصاً ان چار مہینوں میں کہ یہ حرمت والے ہیں۔ ان کی بڑی عزت ہے ان میں گناہ سزا کے اعتبار سے اور نیکیاں اجر و ثواب کے اعتبار سے بڑھ جاتی ہیں۔
صفحہ نمبر3464
سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ان حرمت والے مہینوں میں گناہ کی سزا اور بوجھ بڑھ جاتا ہے گو ظلم ہر حال میں بری چیز ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے جس امر کو چاہے بڑھا دے۔ دیکھئیے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بھی پسند فرما لیا فرشتوں میں انسانوں میں اپنے رسول چن لیے اسی طرح کلام میں سے اپنے ذکر کو پسند فرما لیا اور زمین میں سے مسجدوں کو پسند فرما لیا اور مہینوں میں سے رمضان المبارک کو اور ان چاروں مہینوں کو پسند فرما لیا اور دنوں میں سے جمعہ کے دن اور راتوں میں لیلتہ القدر کو پس تمہیں ان چیزوں کی عظمت کا لحاظ رکھنا چاہیئے جنہیں اللہ تعالیٰ نے عظمت دی ہے۔
امور کی تعظیم اتنی کرنی عقلمند اور فہیم لوگوں کے نزدیک اتنی ضروری ہے جتنی تعظیم ان کی اللہ تعالیٰ سبحانہ نے بتلائی ہو۔ ان کی حرمت کا ادب نہ کرنا حرام ہے ان میں جو کام حرام ہیں انہیں حلال نہ کر لو جو حلال ہیں انہیں حرام نہ بنا لو جیسے کہ اہل شرک کرتے تھے یہ ان کے کفر میں زیادتی کی بات تھی۔ پھر فرمایا کہ تم سب کے سب کافروں سے جہاد کرتے رہو جیسے کہ وہ سب کے سب تم میں سے برسر جنگ ہیں، حرمت والے ان چار مہینوں میں جنگ کی ابتداء کرنی منسوخ یا محکم ہونے کے بارے میں علماء کے دو قول ہیں پہلا تو یہ کہ یہ منسوخ ہے یہ قول زیادہ مشہور ہے۔ اس آیت کے الفاظ پر غور کیجئے کہ پہلے تو فرمان ہوا کہ ان مہینوں میں ظلم نہ کرو پھر مشرکوں سے جنگ کرنے کو فرمایا۔
صفحہ نمبر3465
ظاہری الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم عام ہے حرمت کے مہینے بھی اس میں آ گئے اگر یہ مہینے اس سے الگ ہوتے تو ان کے گزر جانے کی قید ساتھ ہی بیان ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ ماہ ذوالقعدہ میں کیا تھا جو حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔
جیسے کہ بخاری و مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوازن قبیلے کی طرف ماہِ شوال میں چلے جب ان کو ہزیمت ہوئی اور ان میں سے بچے ہوئے بھاگ کر طائف میں پناہ گزین ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں گئے اور چالیس دن تک محاصرہ رکھا پھر بغیر فتح کئے ہوئے وہاں سے واپس لوٹ آئے۔ [صحیح مسلم:1059] پس ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرمت والے مہینے میں محاصرہ کیا۔
دوسرا قول یہ ہے کہ حرمت والے مہینوں میں جنگ کی ابتداء کرنی حرام ہے اور ان مہینوں کی حرمت کا حکم منسوخ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ شعائر الہی کو اور حرمت والے مہینوں کو حلال نہ کیا کرو اور فرمان ہے حرمت والے مہینے حرمت والے مہینوں کے بدلے ہیں اور حرمتیں قصاص ہیں پس جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی ان سے ویسی ہی زیادتی کا بدلہ لو اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ» [9-التوبہ:5] حرمت والے مہینوں کے گزر جانے کے بعد مشرکوں سے جہاد کرو۔
یہ پہلے گزر چکا ہے کہ یہ چار مہینے ہیں ہر سال میں۔ نہ کہ تسییر کے مہینے جو کہ دو قولوں میں سے ایک قول ہے۔
صفحہ نمبر3466
پھر فرمایا کہ تم سب مسلمان ان سے اسی طرح لڑو جیسے وہ تم سے سب کے سب لڑتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ اپنے پہلے سے جداگانہ ہوں اور ہو سکتا ہے کہ یہ حکم بالکل نیا اور الگ ہو مسلمانوں کو رغبت دلانے اور انہیں جہاد پر آمادہ کرنے کے لیے۔
تو فرماتا ہے کہ جیسے تم سے جنگ کرنے کے لیے وہ بھڑبھڑا کر جمع ہو کر چاروں طرف سے ابل پڑتے ہیں تم بھی اپنے سب کلمہ گو اشخاص کو لے کر ان سے مقابلہ کرو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس حملے میں مسلمانوں کو حرمت والے مہینوں میں جنگ کرنے کی رخصت دی ہو۔ جبکہ حملہ ان کی طرف سے ہو، جیسے آیت «اَلشَّهْرُ الْحَرَام» [2-البقرة:194] میں ہے اور جیسے آیت میں ہے «وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْهِ» [2-البقرة:191] میں بیان ہے کہ ان سے مسجد الحرام کے پاس نہ لڑو جب تک کہ وہ وہاں لڑائی نہ کریں ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم بھی ان سے لڑو۔
یہی جواب حرمت والے مہینے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طائف کے محاصرے کا ہے کہ دراصل ہوازن اور ثقیف کے ساتھ جنگ کا یہ لڑائی تتمہ تھی ہوازن کی اور ان کے ثقفی حلیفوں کی لڑائ کا۔ انہوں نے ہی لڑائ کی ابتداء کی تھی۔ ادھر ادھر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کو جمع کر کے لڑائی کی دعوت دی تھی۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پیش قدمی کی یہ پیش قدمی بھی حرمت والے مہینے میں نہ تھی۔ یہاں شکست کھا کر یہ لوگ طائف میں بھاگے اور وہاں قلعہ بند ہو گئے۔ آپ اس مرکز کو خالی کرانے کے لیے اور آگے بڑھے، انہوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا مسلمانوں کی ایک جماعت کو قتل کر ڈالا۔ ادھر محاصرہ جاری رہا منجنیق وغیرہ سے چالیس دن تک ان کو گھیرے رہے۔
الغرض اس جنگ کی ابتداء حرمت والے مہینے میں نہیں تھی لیکن جنگ نے طول کھینچا حرمت والا مہینہ بھی آ گیا۔ جب چند دن گزر گئے آپ نے محاصرہ ہٹا لیا۔ پس جنگ کا جاری رکھنا اور چیز ہے اور جنگ کی ابتدء اور چیز ہے اس کی بہت سی نظیریں ہیں، واللہ اعلم۔ اب اس میں جو حدیثیں ہیں ہم انہیں سیرت میں بھی بیان کر چکے ہیں۔ واللہ اعلم۔
صفحہ نمبر3467
احکامات دین میں رد و بدل انتہائی مذموم سوچ ہے ٭٭
مشرکوں کے کفر کی زیادتی بیان ہو رہی ہے کہ وہ کس طرح اپنی فاسد رائے کو اور اپنی ناپاک خواہش کو شریعت الہٰی میں داخل کر کے اللہ کے دین کے احکام کو الٹ پلٹ کر دیتے تھے۔ حرام کو حلال اور حلال کو حرام بنا لیتے تھے۔ تین مہینے کی حرمت کو تو ٹھیک رکھا پھر چوتھے مہینے محرم کی حرمت کو اس طرح بدل دیا کہ محرم کو صفر کے مہینے میں کر دیا اور محرم کی حرمت نہ کی۔ تاکہ بظاہر سال کے چار مہینے کی حرمت بھی پوری ہو جائے اور اصلی حرمت کے محرم مہینے میں لوٹ مار قتل و غارت بھی ہو جائے اور اس پر اپنے قصیدوں میں مبالغہ کرتے تھے اور فخریہ اپنا یہ فعل اچھالتے تھے۔
ان کا ایک سردار تھا جنادہ بن عمرو بن امیہ کنانی یہ ہر سال حج کو آتا اس کی کنیت ابوثمامہ تھی یہ منادی کر دیتا کہ نہ تو ابو ثمامہ کے مقابلے میں کوئی آواز اٹھا سکتا ہے نہ اس کی بات میں کوئی عیب جوئی کر سکتا ہے۔ سنو پہلے سال صفر کا مہینہ حلال ہے اور دوسرے سال کا حرام۔ پس ایک سال کے محرم کی حرمت نہ رکھتے دوسرے سال کے محرم کی حرمت منا لیتے ان کی اسی زیادتی کفر کا بیان اس آیت میں ہے۔ یہ شخص اپنے گدھے پر سوار آتا اور جس سال یہ محرم کو حرمت والا بنا دیتا لوگ اس کی حرمت کرتے اور جس سال وہ کہ دیتا کہ محرم کو ہم نے ہٹا کر صفر اور صفر کو آگے بڑھا کر محرم میں کر دیا ہے اس سال عرب میں اس ماہ محرم کی حرمت کوئی نہ کرتا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ بنی کنانہ کے اس شخص کو قلمس کہا جاتا تھا یہ منادی کر دیتا کہ اس سال محرم کی حرمت نہ منائی جائے اگلے سال محرم اور صفر دونوں کی حرمت رہے گی، پس اس کے قول پر جاہلیت کے زمانے میں عمل کر لیا جاتا، اور اب حرمت کے اصلی مہینے میں جس میں ایک انسان اپنے باپ کے قاتل کو پا کر بھی اس کی طرف نگاہ بھر کر نہیں دیکھتا تھا اب آزادی سے آپس میں خانہ جنگیاں اور لوٹ مار ہوتی۔
صفحہ نمبر3468
لیکن یہ قول کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا کیونکہ قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ گنتی میں وہ موافقت کرتے تھے اور اس میں گنتی کی موافقت بھی نہیں ہوتی بلکہ ایک سال میں تین مہینے رہ جاتے ہیں اور دوسرے سال میں پانچ ماہ ہو جاتے ہیں۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو حج فرض تھا ذی الحجہ کے مہینے میں لیکن مشرک ذی الحجہ کا نام محرم رکھ لیتے پھر برابر گنتے جاتے اور اس حساب سے جو ذی الحجہ آتا اس میں حج ادا کرتے پھر محرم سے خاموشی برت لیتے اس کا ذکر ہی نہ کرتے۔ پھر لوٹ کر صفر نام رکھ دیتے پھر رجب کو جمادی الاخریٰ پھر شعبان کو رمضان اور رمضان کو شوال پھر ذوالقعدہ کو شوال ذی الحجہ کو ذی القعدہ اور محرم کو ذی الحجہ کہتے اور اس میں حج کرتے، پھر اس کا اعادہ کرتے اور دو سال تک ہر ایک مہینے میں برابر حج کرتے۔ جس سال سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حج کیا، اس سال مشرکوں کی اس گنتی کے مطابق دوسرے برس کا ذوالقعدہ کا مہینہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقعہ پر ٹھیک ذوالحجہ کا مہینہ تھا اور اسی کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں اشارہ فرمایا اور ارشاد ہوا کہ زمانہ الٹ پلٹ کر اسی ہئیت پر آ گیا ہے جس ہئیت پر اس وقت تھا جب زمین و آسمان اللہ تعالیٰ نے رچائے۔ لیکن یہ قول بھی درست نہیں معلوم ہوتا۔ اس وجہ سے کہ اگر ذی القعدہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حج ہوا تو یہ حج کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟
حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وَأَذَانٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ» [9-التوبة:3] یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آج کے حج اکبر کے دن مشرکوں سے علیحدگی اور بیزاری کا اعلان ہے۔
صفحہ نمبر3469
اس کی منادی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حج میں ہی کی گئی پس اگر یہ حج ذی الحجہ کے مہینے میں نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو حج کا دن نہ فرماتا۔ اور صرف مہینوں کی تقدیم و تاخیر کو جس کا بیان اس آیت میں ہے ثابت کرنے کے لیے اس تکلف کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ وہ تو اس کے بغیر بھی ممکن ہے۔ کیونکہ مشرکین ایک سال تو محرم الحرام کے مہینے کو حلال کر لیتے اور اس کے عوض ماہ صفر کو حرمت والا کر لیتے سال کے باقی مہینے اپنی جگہ رہتے۔
پھر دوسرے سال محرم کو حرام سمجھتے اور اس کی حرمت و عزت باقی رکھتے تاکہ سال کے چار حرمت والے مہینے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر تھے ان کی گنتی میں موافقت کر لیں پس کبھی تو حرمت والے تینوں مہینے جو پے در پے ہیں ان میں سے آخری ماہ محرم کی حرمت رکھتے کبھی اسے صفر کی طرف مؤخر کر دیتے۔ رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ زمانہ گھوم گھام کر اپنی اصلی حالت پر آ گیا ہے یعنی اس وقت جو مہینہ ان کے نزدیک ہے وہی مہینہ صحیح گنتی میں بھی ہے اس کا پورا بیان ہم اس سے پہلے کر چکے ہیں واللہ اعلم۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ عقبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثناء بیان فرما کر فرمایا کہ ”مہینوں کی تاخیر شیطان کی طرف سے کفر کی زیادتی تھی کہ کافر بہکیں، وہ ایک سال محرم کو حرمت والا کرتے اور صفر کو حلت والا پھر محرم کو حلت والا کر لیتے۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم:10019/6:ضعیف] یہی ان کی وہ تقدیم تاخیر ہے جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے۔
صفحہ نمبر3470
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب السیرۃ میں اس پر بہت اچھا کلام کیا ہے جو بے حد مفید اور عمدہ ہے۔
آپ تحریر فرماتے ہیں کہ اس کام کو سب سے پہلے کرنے والا قلمس تھا [حذیفہ بن عبد بن فقیم بن عدی بن عامر بن ثعلبہ بن حارث بن مالک بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان] پھر اس کا بیٹا عباد پھر اس کا لڑکا قلع پھر اس کا لڑکا امیہ پھر اس کا بیٹا عوف پھر اس کا لڑکا ابو ثمامہ جنادہ، اسی کے زمانہ میں اشاعتِ اسلام ہوئی۔
عرب لوگ حج سے فارغ ہو کر اس کے پاس جمع ہوتے یہ کھڑا ہو کر انہیں لیکچر دیتا اور رجب، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کی حرمت بیان کرتا اور ایک سال تو محرم کو حلال کر دیتا اور محرم صفر کو بنا دیتا اور ایک سال محرم کو ہی حرمت والا کہ دیتا کہ اللہ کی حرمت کے مہینوں کی گنتی موافق ہو جائے اور اللہ کا حرام حلال بھی ہو جائے۔
صفحہ نمبر3471
غزوہ تبوک اور جہاد سے گریزاں لوگوں کو انتباہ ٭٭
ایک طرف تو گرمی سخت پڑ رہی تھی دوسری طرف پھل پک گئے تھے اور درختوں کے سائے بڑھ گئے تھے، ایسے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دور دراز کے سفر کے لیے تیار ہو گئے غزوہ تبوک میں اپنے ساتھ چلنے کو سب سے فرما دیا۔ کچھ لوگ جو رہ گئے تھے انہیں تنبیہ کی گئی ان آیتوں کا شروع اس آیت سے ہے کہ جب تمہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم کیوں زمین میں دھنسنے لگتے ہو؟ کیا دنیا کی ان فانی چیزوں پر ریجھ کر آخرت کی باقی نعمتوں کو بھلا بیٹھے ہو؟
سنو دنیا کی تو آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمے کی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”اس انگلی کو کوئی سمندر میں ڈبو کر نکالے اس پر جتنا پانی سمندر کے مقابلے میں ہے اتنا ہی مقابلہ دنیا کا آخرت میں ہے۔“ [صحیح مسلم:2858]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ ”میں نے سنا ہے آپ حدیث بیان فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک نیکی کے بدلے ایک لاکھ کا ثواب دیتا ہے۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بلکہ میں نے دو لاکھ کا فرمان بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے اسی جملے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”دنیا جو گزر گئی اور جو باقی ہے وہ سب آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم:10030/6:ضعیف]
مروی ہے کہ عبدالعزیز بن مروان رحمہ اللہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنا کفن منگوایا اسے دیکھ کر فرمایا: ”بس میرا تو دنیا سے یہی حصہ تھا میں اتنی دنیا لے کر جا رہا ہوں پھر پیٹھ موڑ کر رو کر کہنے لگے ہائے دنیا تیرا بہت بھی کم ہے اور تیرا کم تو بہت ہی چھوٹا ہے افسوس ہم تو دھوکے میں ہی رہے۔“
صفحہ نمبر3472
پھر ترک جہاد پر اللہ تعالیٰ ڈانٹتا ہے کہ سخت درد ناک عذاب ہوں گے۔ ایک قبیلے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے لیے بلوایا وہ نہ اٹھے اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش روک لی۔
پھر فرماتا ہے کہ اپنے دل میں پھولنا نہیں کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار ہیں اگر تم درست نہ رہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں برباد کر کے اپنے رسول صلی اللہ علیہ کے ساتھی اوروں کو کر دے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ تم اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ نہیں کہ تم نہ جاؤ تو مجاہدین جہاد کر ہی نہ سکیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ تمہارے بغیر بھی اپنے دشمنوں پر اپنے غلاموں کو غالب کر سکتا ہے۔
کہا گیا ہے کہ یہ آیت «اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا» [9-التوبہ:41] اور آیت «مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ» [9-التوبہ:120] یہ سب آیتیں آیت «وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَاۗفَّةً» [9-التوبہ:12] سے منسوخ ہیں۔
لیکن امام ابن جریر رحمہ اللہ علیہ اس کی تردید کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہ منسوخ نہیں بلکہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لیے نکلنے کو فرمائیں وہ فرمان سنتے ہی اٹھ کھڑے ہو جائیں۔“ فی الواقع یہ توجیہ بہت عمدہ ہے واللہ اعلم۔
صفحہ نمبر3473
غزوہ تبوک اور جہاد سے گریزاں لوگوں کو انتباہ ٭٭
ایک طرف تو گرمی سخت پڑ رہی تھی دوسری طرف پھل پک گئے تھے اور درختوں کے سائے بڑھ گئے تھے، ایسے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دور دراز کے سفر کے لیے تیار ہو گئے غزوہ تبوک میں اپنے ساتھ چلنے کو سب سے فرما دیا۔ کچھ لوگ جو رہ گئے تھے انہیں تنبیہ کی گئی ان آیتوں کا شروع اس آیت سے ہے کہ جب تمہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم کیوں زمین میں دھنسنے لگتے ہو؟ کیا دنیا کی ان فانی چیزوں پر ریجھ کر آخرت کی باقی نعمتوں کو بھلا بیٹھے ہو؟
سنو دنیا کی تو آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمے کی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”اس انگلی کو کوئی سمندر میں ڈبو کر نکالے اس پر جتنا پانی سمندر کے مقابلے میں ہے اتنا ہی مقابلہ دنیا کا آخرت میں ہے۔“ [صحیح مسلم:2858]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ ”میں نے سنا ہے آپ حدیث بیان فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک نیکی کے بدلے ایک لاکھ کا ثواب دیتا ہے۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بلکہ میں نے دو لاکھ کا فرمان بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے اسی جملے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”دنیا جو گزر گئی اور جو باقی ہے وہ سب آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔“ [تفسیر ابن ابی حاتم:10030/6:ضعیف]
مروی ہے کہ عبدالعزیز بن مروان رحمہ اللہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنا کفن منگوایا اسے دیکھ کر فرمایا: ”بس میرا تو دنیا سے یہی حصہ تھا میں اتنی دنیا لے کر جا رہا ہوں پھر پیٹھ موڑ کر رو کر کہنے لگے ہائے دنیا تیرا بہت بھی کم ہے اور تیرا کم تو بہت ہی چھوٹا ہے افسوس ہم تو دھوکے میں ہی رہے۔“
صفحہ نمبر3472
پھر ترک جہاد پر اللہ تعالیٰ ڈانٹتا ہے کہ سخت درد ناک عذاب ہوں گے۔ ایک قبیلے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے لیے بلوایا وہ نہ اٹھے اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش روک لی۔
پھر فرماتا ہے کہ اپنے دل میں پھولنا نہیں کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار ہیں اگر تم درست نہ رہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں برباد کر کے اپنے رسول صلی اللہ علیہ کے ساتھی اوروں کو کر دے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ تم اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ نہیں کہ تم نہ جاؤ تو مجاہدین جہاد کر ہی نہ سکیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ تمہارے بغیر بھی اپنے دشمنوں پر اپنے غلاموں کو غالب کر سکتا ہے۔
کہا گیا ہے کہ یہ آیت «اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا» [9-التوبہ:41] اور آیت «مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ» [9-التوبہ:120] یہ سب آیتیں آیت «وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَاۗفَّةً» [9-التوبہ:12] سے منسوخ ہیں۔
لیکن امام ابن جریر رحمہ اللہ علیہ اس کی تردید کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہ منسوخ نہیں بلکہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لیے نکلنے کو فرمائیں وہ فرمان سنتے ہی اٹھ کھڑے ہو جائیں۔“ فی الواقع یہ توجیہ بہت عمدہ ہے واللہ اعلم۔
صفحہ نمبر3473
آغاز ہجرت ٭٭
تم اگر میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد و تائید چھوڑ دو تو میں کسی کا محتاج نہیں ہوں، میں آپ اس کا ناصر موید کافی اور حافظ ہوں۔ یاد کر لو ہجرت والے سال جبکہ کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل یا قید یا دیس سے نکال دینے کی سازش کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سچے ساتھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ تن تنہا مکہ مکرمہ سے نکل بھاگے تھے تو کون اس کا مددگار تھا۔
تین دن مارے خوف کے اس ڈر سے غار میں گزارے تاکہ ڈھونڈھنے والے مایوس ہو کر واپس چلے جائیں تو یہاں سے نکل کر مدینہ منورہ کا راستہ لیں۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ لمحہ بہ لمحہ گھبرا رہے تھے کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے ایسا نہ ہو کہ وہ رسول اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کو کوئی ایذاء پہنچائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تسکین فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ ”ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان دو کی نسبت تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔“ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا ابوبکر بن ابوقحافہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غار میں کہا کہ ”اگر ان کافروں میں سے کسی نے اپنے قدموں کو بھی دیکھا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دو کو کیا سمجھتا ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔“ [صحیح بخاری:3922]
صفحہ نمبر3475
الغرض اس موقعہ پر جناب باری سبحانہ و تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی۔ بعض بزرگوں نے فرمایا کہ مراد اس سے یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کی تفسیر یہی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو مطمئن اور سکون و تسکین والے تھے ہی۔ لیکن اس خاص حال میں تسکین کا از سر نو بھیجنا کچھ اس کے خلاف نہیں۔
اسی لئے اسی کے ساتھ فرمایا کہ اپنے غائبانہ لشکر اتار کر اس کی مدد فرمائی یعنی بذریعہ فرشتوں کے۔ اللہ تعالیٰ نے کلمہ کفر دبا دیا اور اپنے کلمے کا بول بالا کیا شرک کو پست کیا اور توحید کو اونچا کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنی بہادری کے لیے، دوسرا حمیت قومی کے لیے، تیسرا لوگوں کو خوش کرنے کیلئے لڑ رہا ہے تو ان میں سے اللہ کی راہ کا مجاہد کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کلمہء اللہ کو بلند و بالا کرنے کی نیت سے لڑے وہ اللہ کی راہ کا مجاہد ہے۔“ [صحیح بخاری:2810]
اللہ تعالیٰ انتقام لینے پر غالب ہے۔ جس کی مدد کرنا چاہے کرتا ہے نہ اس کے سامنے کوئی پڑ سکے نہ اس کے ارادے کو کوئی بدل سکے کون ہے جو اس کے سامنے لب ہلا سکے یا آنکھ ملا سکے؟ اس کے سب اقوال افعال، حکمت و مصلحت بھلائی اور خوبی سے پر ہیں۔ تعالیٰ شانہ وجد مجدہ۔
صفحہ نمبر3476
جہاد ہر مسلمان پر فرض ہے ٭٭
کہتے ہیں کہ سورۃ براۃ میں یہی آیت پہلے اتری ہے اس میں ہے کہ غزوہ تبوک کے لیے تمام مسلمانوں کو ہمراہ ہادی امم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کھڑے ہونا چاہیئے اہل کتاب رومیوں سے جہاد کے لیے تمام مومنوں کو چلنا چاہیئے خواہ جی مانے یا نہ مانے خواہ آسانی نظر آئے یا بھاری پڑے۔
ذکر ہو رہا تھا کہ کوئی بڑھاپے کا کوئی بیمار کا عذر کر دے گا تو یہ آیت اتری۔ بوڑھے جوان سب کو پیغمبر کا ساتھ دینے کا عام الحکم ہوا کسی کا کوئی عذر نہ چلا۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی یہی تفسیر کی اور اس حکم کی تعمیل میں سر زمین شام میں چلے گئے۔ اور نصرانیوں سے جہاد کرتے ہی رہے یہاں تک کہ جان بخش کو جان سونپی۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ۔ اور روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پر آئے تو فرمانے لگے ہمارے رب نے تو میرے خیال سے بوڑھے جوان سب کو جہاد کے لیے چلنے کی دعوت دی ہے میرے پیارے بچو میرا سامان تیار کرو۔ میں ملک شام کے جہاد میں شرکت کے لیے ضرور جاؤں گا۔ بچوں نے کہا: ”ابا جی! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات تک آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی میں جہاد کیا۔ خلافت صدیقی میں آپ مجاہدین کے ساتھ رہے، خلافت فاروقی کے آپ مجاہد مشہور ہیں اب آپ کی عمر جہاد کی نہیں رہی آپ گھر پر آرام کیجئے ہم لوگ آپ کی طرف سے میدان جہاد میں نکلتے ہیں اور اپنی تلوار کے جوہر دکھاتے ہیں“
لیکن آپ نہ مانے اور اسی وقت گھر سے روانہ ہو گئے سمندر پار جانے کے لیے کشتی لی اور چلے ہنوز منزل مقصود سے کئی دن کی راہ پر تھے جو بیچ سمندر میں روح پروردگار کو سونپ دی، نو دن تک کشتی چلتی رہی لیکن کوئی جزیرہ یا ٹاپو نظر نہ آیا کہ وہاں آپ کو دفنایا جاتا۔ نو دن کے بعد خشکی پر اترے اور آپ کو سپرد لحد کیا اب تک نعش مبارک جوں کی توں تھی رضی اللہ عنہا وارضاہ اور بھی بہت سے بزرگوں سے خفافاً و ثقالاً کی تفسیر جوان اور بوڑھے مروی ہے۔
صفحہ نمبر3477
الغرض جوان ہوں، بوڑھے ہوں، امیر ہوں، فقیر ہوں، فارغ ہوں، مشغول ہوں، خوش حال ہوں یا تنگ دل ہوں، بھاری ہوں یا ہلکے ہوں، حاجت مند ہوں، کاریگر ہوں، آسانی والے ہوں، سختی والے ہوں، پیشہ ور ہوں یا تجارتی ہوں، قوی ہوں یا کمزور، جس حالت میں بھی ہوں بلاعذر کھڑے ہو جائیں اور راہ الہٰی کے جہاد کے لیے چل پڑیں۔
اس مسئلے کی تفصیل کے طور پر ابوعمرو اوزاعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ جب اندرون روم پر حملہ ہوا ہو تو مسلمان ہلکے پھلکے اور سوار چلیں۔ اور جب ان بندرگاہوں کے کناروں پر حملہ ہو تو ہلکے، بوجھل، سوار، پیدل ہر طرح نکل کھڑے ہو جائیں۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ آیت «فَلَوْلَا نَفَرَ» [9-التوبہ:122] سے یہ حکم منسوخ ہے۔ اس پر ہم پوری روشنی ڈالیں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
مروی ہے کہ ایک بھاری بدن کے بڑے شخص نے آپ سے اپنا حال ظاہر کر کے اجازت چاہی لیکن آپ نے انکار کر دیا اور یہ آیت اتری، لیکن یہ حکم صحابہ رضی اللہ عنہم پر سخت گزرا۔ پھر جناب باری تعالیٰ نے اسے آیت «لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ» [9-التوبہ:91] سے منسوخ کر دیا، یعنی ضعیفوں، بیماروں، تنگ دست فقیروں پر جبکہ ان کے پاس خرچ تک نہ ہو اگر وہ دین ربانی اور شرع مصطفیٰ کے حامی اور طرف دار اور خیرخواہ ہوں تو میدان جنگ میں نہ جانے پر کوئی حرج نہیں۔
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اول غزوے سے لے کر پوری عمر تک سوائے ایک سال کے ہر غزوے میں موجود رہے اور فرماتے رہے کہ ”خفیف وثقیل دونوں کو نکلنے کا حکم ہے اور انسان کی حالت ان دو حالتوں سے سوا نہیں ہوتی۔“
ابو راشد حبرانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سوار سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو حمص میں دیکھا کہ ہڈی اتر گئی ہے پھر بھی ہودج میں سوار ہو کر جہاد کو جا رہے ہیں تو میں نے کہا: ”اب تو شریعت آپ کو معذور سمجھتی ہے پھر آپ یہ تکلیف کیوں اٹھا رہے ہیں“؟
صفحہ نمبر3478
آپ نے فرمایا: ”سنو! سورۃ الجوث یعنی سورۃ برات ہمارے سامنے اتری ہے جس میں حکم ہے کہ ہلکے بھاری سب جہاد کو جاؤ۔“
حیان بن زید شرعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم صفوان بن عمرو والی حمص کے ساتھ جراجمہ کی جانب جہاد کے لیے چلے میں نے دمشق کے ایک عمر رسیدہ بزرگ کو دیکھا کہ حملہ کرنے والوں کے ساتھ اپنے اونٹ پر سوار وہ بھی آ رہے ہیں ان کی بھوئیں ان کی آنکھوں پر پڑ رہی ہیں شیخ فانی ہو چکے ہیں۔ میں نے پاس جا کر کہا: ”چچا صاحب! آپ تو اب اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی معذور ہیں۔“ یہ سن کر آپ نے اپنی آنکھوں پر سے بھوئیں ہٹائیں اور فرمایا: ”بھتیجے سنو! اللہ تعالیٰ نے ہلکے اور بھاری ہونے کی دونوں صورتوں میں ہم سے جہاد میں نکلنے کی طلب کی ہے، سنو جس سے اللہ تعالیٰ کی محبت ہوتی ہے اس کی آزمائش بھی ہوتی ہے پھر اس پر بعد از ثابت قدمی اللہ تعالیٰ کی رحمت برستی ہے، سنو اللہ کی آزمائش شکر و صبر و ذکر اللہ اور توحید خالص سے ہوتی ہے۔ جہاد کے حکم کے بعد مالک زمین و زماں اپنی راہ میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی میں مال و جان کے خرچ کا حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ دنیا آخرت کی بھلائی اسی میں ہے۔ دنیوی نفع تو یہ ہے کہ یونہی سا خرچ ہو گا اور بہت سی غنیمت ملے گی آخرت کے نفع سے بڑھ کر کوئی نیکی نہیں۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ کے ذمے دو باتوں میں سے ایک ضروری ہے وہ مجاہد کو یا تو شہید کر کے جنت کا مالک بنا دیتا ہے یا اسے سلامتی اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹاتا ہے۔“ [صحیح بخاری:3123]
صفحہ نمبر3479
خود اللہ تعالیٰ کا فرمان عالی شان ہے کہ تم پر جہاد فرض کر دیا گیا ہے باوجود یہ کہ تم اس سے کنی کھا رہے ہو، لیکن بہت ممکن ہے کہ تمہاری نہ چاہی ہوئی چیز ہی دراصل تمہارے لیے بہتر ہو اور ہو سکتا ہے کہ تمہاری چاہت کی چیز فی الواقع تمہارے حق میں بےحد مضر ہو سنو تم تو بالکل نادان ہو اور اللہ تعالیٰ پورا پورا دانا بینا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”مسلمان ہو جا۔“ اس نے کہا: ”جی تو چاہتا نہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گو نہ چاہے۔“ [مسند احمد:109،181/3:صحیح]
صفحہ نمبر3480
عیار لوگوں کو بےنقاب کر دو ٭٭
جو لوگ غزوہ تبوک میں جانے سے رہ گئے تھے اور اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنے جھوٹے جھوٹے بناوٹی عذر پیش کرنے لگے تھے، انہیں اس آیت میں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دراصل انہیں کوئی معذوری نہ تھی اگر کوئی آسان غنیمت کا اور قریب کا سفر ہوتا تو یہ لالچی ساتھ ہو لیتے۔
لیکن شام تک کے لمبے سفر نے ان کے گھٹنے توڑ دیئے، اس مشقت کے خیال نے ان کے ایمان کمزور کر دیئے، اب یہ آ آ کر جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکہ دے رہے ہیں کہ اگر کوئی عذر نہ ہوتا تو بھلا ہم شرف ہم رکابی چھوڑنے والے تھے، ہم تو جان و دل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں حاضر ہو جاتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے جھوٹ کا مجھے علم ہے انہوں نے تو اپنے آپ کو غارت کر دیا۔
صفحہ نمبر3481
نہ ادھر کے نہ ادھر کے ٭٭
سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کی اپنے محبوب سے کیسی پیار بھری باتیں ہو رہی ہیں، سخت بات سنانے سے پہلے ہی معافی کا اعلان سنایا جا رہا ہے کہ اس کے بعد رخصت دینے کا عہد بھی سورۃ النور میں سونپ دیا جاتا ہے۔
اور ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے «فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ» [24-النور:62] یعنی ان میں سے کوئی اگر آپ سے اپنے کسی کام اور شغل کی وجہ سے اجازت چاہے تو آپ جسے چاہیں اجازت دے سکتے ہیں۔
یہ آیت ان کے بارے میں اتری ہے جن لوگوں نے آپس میں طے کر لیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلبی تو کریں اگر اجازت ہو جائے تو اور اچھا اور اگر اجازت نہ بھی دیں تاہم اس غزوے میں جائیں گے تو نہیں۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر انہیں اجازت نہ ملتی تو اتنا فائدہ ضرور ہوتا کہ سچے عذر والے اور جھوٹے بہانے بنانے والے کھل جاتے، نیک و بد میں ظاہری تمیز ہو جاتی، اطاعت گزار تو حاضر ہو جاتے نافرمان باوجود اجازت نہ ملنے کے بھی نہ نکلتے، کیونکہ انہوں نے تو طے کر لیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہاں کہیں یا نہ کہیں ہم تو جہاد میں جانے کے نہیں۔
اسی لیے جناب باری تعالیٰ نے اس کے بعد کی آیت میں فرمایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ سچے ایماندار لوگ راہ ربانی کے جہاد سے رکنے کی اجازت تجھ سے طلب کریں، وہ تو جہاد کو موجب قربت الہی مان کر اپنی جان و مال کے فدا کرنے کے آرزو مند رہتے ہیں اللہ تعالیٰ بھی اس متقی جماعت سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہ بلا عذر شرعی بہانے بنا کر جہاد سے رک جانے کی اجازت طلب کرنے والے تو بے ایمان لوگ ہیں جنہیں دار آخرت کی جزا کی کوئی امید ہی نہیں ان کے دل آج تک تیری شریعت سے شک شبہ میں ہی ہیں یہ حیران و پریشان ہیں ایک قدم ان کا آگے بڑھتا ہے تو دوسرا پیچھے ہٹتا ہے انہیں ثابت قدمی اور استقلال نہیں یہ ہلاک ہونے والے ہیں یہ نہ ادھر ہیں نہ ادھر یہ اللہ کے گمراہ کئے ہوئے ہیں تو ان کے سنوارنے کا کوئی رستہ نہ پائے گا۔
صفحہ نمبر3482
نہ ادھر کے نہ ادھر کے ٭٭
سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کی اپنے محبوب سے کیسی پیار بھری باتیں ہو رہی ہیں، سخت بات سنانے سے پہلے ہی معافی کا اعلان سنایا جا رہا ہے کہ اس کے بعد رخصت دینے کا عہد بھی سورۃ النور میں سونپ دیا جاتا ہے۔
اور ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے «فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ» [24-النور:62] یعنی ان میں سے کوئی اگر آپ سے اپنے کسی کام اور شغل کی وجہ سے اجازت چاہے تو آپ جسے چاہیں اجازت دے سکتے ہیں۔
یہ آیت ان کے بارے میں اتری ہے جن لوگوں نے آپس میں طے کر لیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلبی تو کریں اگر اجازت ہو جائے تو اور اچھا اور اگر اجازت نہ بھی دیں تاہم اس غزوے میں جائیں گے تو نہیں۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر انہیں اجازت نہ ملتی تو اتنا فائدہ ضرور ہوتا کہ سچے عذر والے اور جھوٹے بہانے بنانے والے کھل جاتے، نیک و بد میں ظاہری تمیز ہو جاتی، اطاعت گزار تو حاضر ہو جاتے نافرمان باوجود اجازت نہ ملنے کے بھی نہ نکلتے، کیونکہ انہوں نے تو طے کر لیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہاں کہیں یا نہ کہیں ہم تو جہاد میں جانے کے نہیں۔
اسی لیے جناب باری تعالیٰ نے اس کے بعد کی آیت میں فرمایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ سچے ایماندار لوگ راہ ربانی کے جہاد سے رکنے کی اجازت تجھ سے طلب کریں، وہ تو جہاد کو موجب قربت الہی مان کر اپنی جان و مال کے فدا کرنے کے آرزو مند رہتے ہیں اللہ تعالیٰ بھی اس متقی جماعت سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہ بلا عذر شرعی بہانے بنا کر جہاد سے رک جانے کی اجازت طلب کرنے والے تو بے ایمان لوگ ہیں جنہیں دار آخرت کی جزا کی کوئی امید ہی نہیں ان کے دل آج تک تیری شریعت سے شک شبہ میں ہی ہیں یہ حیران و پریشان ہیں ایک قدم ان کا آگے بڑھتا ہے تو دوسرا پیچھے ہٹتا ہے انہیں ثابت قدمی اور استقلال نہیں یہ ہلاک ہونے والے ہیں یہ نہ ادھر ہیں نہ ادھر یہ اللہ کے گمراہ کئے ہوئے ہیں تو ان کے سنوارنے کا کوئی رستہ نہ پائے گا۔
صفحہ نمبر3482
نہ ادھر کے نہ ادھر کے ٭٭
سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کی اپنے محبوب سے کیسی پیار بھری باتیں ہو رہی ہیں، سخت بات سنانے سے پہلے ہی معافی کا اعلان سنایا جا رہا ہے کہ اس کے بعد رخصت دینے کا عہد بھی سورۃ النور میں سونپ دیا جاتا ہے۔
اور ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے «فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ» [24-النور:62] یعنی ان میں سے کوئی اگر آپ سے اپنے کسی کام اور شغل کی وجہ سے اجازت چاہے تو آپ جسے چاہیں اجازت دے سکتے ہیں۔
یہ آیت ان کے بارے میں اتری ہے جن لوگوں نے آپس میں طے کر لیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلبی تو کریں اگر اجازت ہو جائے تو اور اچھا اور اگر اجازت نہ بھی دیں تاہم اس غزوے میں جائیں گے تو نہیں۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر انہیں اجازت نہ ملتی تو اتنا فائدہ ضرور ہوتا کہ سچے عذر والے اور جھوٹے بہانے بنانے والے کھل جاتے، نیک و بد میں ظاہری تمیز ہو جاتی، اطاعت گزار تو حاضر ہو جاتے نافرمان باوجود اجازت نہ ملنے کے بھی نہ نکلتے، کیونکہ انہوں نے تو طے کر لیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہاں کہیں یا نہ کہیں ہم تو جہاد میں جانے کے نہیں۔
اسی لیے جناب باری تعالیٰ نے اس کے بعد کی آیت میں فرمایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ سچے ایماندار لوگ راہ ربانی کے جہاد سے رکنے کی اجازت تجھ سے طلب کریں، وہ تو جہاد کو موجب قربت الہی مان کر اپنی جان و مال کے فدا کرنے کے آرزو مند رہتے ہیں اللہ تعالیٰ بھی اس متقی جماعت سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہ بلا عذر شرعی بہانے بنا کر جہاد سے رک جانے کی اجازت طلب کرنے والے تو بے ایمان لوگ ہیں جنہیں دار آخرت کی جزا کی کوئی امید ہی نہیں ان کے دل آج تک تیری شریعت سے شک شبہ میں ہی ہیں یہ حیران و پریشان ہیں ایک قدم ان کا آگے بڑھتا ہے تو دوسرا پیچھے ہٹتا ہے انہیں ثابت قدمی اور استقلال نہیں یہ ہلاک ہونے والے ہیں یہ نہ ادھر ہیں نہ ادھر یہ اللہ کے گمراہ کئے ہوئے ہیں تو ان کے سنوارنے کا کوئی رستہ نہ پائے گا۔
صفحہ نمبر3482
غلط گو غلط کار کفار و منافق ٭٭
یہ عذر کرتے ہیں۔ ان کے غلط ہونے کی ایک ظاہری دلیل یہ بھی ہے کہ اگر ان کا ارادہ ہوتا تو کم از کم سامان سفر تو تیار کر لیتے لیکن یہ تو اعلان اور حکم کے بعد بھی کئی دن گزرنے پر بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے ایک تنکا بھی ادھر سے ادھر نہ کیا۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کا تمہارے ساتھ نکلنا پسند ہی نہ تھا اس لیے انہیں پیچھے ہٹا دیا، اور قدرتی طور پر ان سے کہ دیا گیا کہ تم تو بیٹھنے والوں کا ہی ساتھ دو۔
سنو ان کے ساتھ کو ناپسند رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ پورے نامراد اعلیٰ درجے کے بزدل بڑے ہی ڈرپوک ہیں۔ اگر یہ تمہارے ساتھ ہوتے تو پتہ کھڑکا اور بندہ سرکا کی مثل کو اصل کر دکھاتے اور ان کے ساتھ ہی تم میں بھی فساد برپا ہو جاتا۔ یہ ادھر کی ادھر، ادھر کی ادھر لگا بجھا کر بات کا بتنگڑ بنا کر آپس میں پھوٹ اور عداوت ڈلوا دیتے اور کوئی نیا فتنہ کھڑا کر کے تمہیں آپس میں ہی الجھا دیتے، ان کے ماننے والے ان کے ہم خیال ان کی پالیسی کو اچھی نظر سے دیکھنے والے خود تم میں بھی موجود ہیں وہ اپنے بھولے پن سے ان کی شر انگیزیوں سے بے خبر رہتے ہیں جس کا نتیجہ مومنوں کے حق میں نہایت برا نکلتا ہے آپس میں شر و فساد پھیل جاتا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ کا مطلب یہ ہے کہ ان کے گویندے ان کی سی آئ ڈی اور جاسوس بھی تم میں لگے ہوئے تھے جو تمہاری رتی رتی کی خبریں انہیں پہنچاتے ہیں۔ لیکن یہ معنی کرنے سے وہ لطافت باقی نہیں رہتی جو شروع آیت سے ہے یعنی ان لوگوں کا تمہارے ساتھ نہ نکلنا اللہ تعالیٰ کو اس لیے بھی ناپسند رہا کہ تم میں بعض وہ بھی ہیں جو ان کی مان لیا کرتے ہیں۔ یہ تو بہت درست ہے لیکن ان کے نہ نکلنے کی وجہ کے لیے جاسوسی کی کوئی خصوصیت ان کی نہ نکلنے کی وجہ کے لئے نہیں ہو سکتی۔
صفحہ نمبر3485
اسی لیے قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ مفسرین کا یہی قول ہے۔ امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اجازت طلب کرنے والوں میں عبداللہ بن ابی بن سلول اور جد بن قیس بھی تھا اور یہی بڑے بڑے رؤسا اور ذی اثر منافق تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں دور ڈال دیا، اگر یہ ساتھ ہوتے تو ان کی منہ دیکھی ماننے والے وقت پر ان کے ساتھ ہو کر مسلمانوں کے نقصان کا باعث بن جاتے محمدی لشکر میں ابتری پھیل جاتی کیونکہ یہ لوگ وجاہت والے تھے اور کچھ مسلمان ان کے حال سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ان کے ظاہری اسلام اور چرب کلامی پر مفتون تھے اور اب تک ان کے دلوں میں ان کی محبت تھی، یہ ان کی لاعلمی کی وجہ سے تھی،
سچ ہے پورا علم اللہ ہی کو ہے غائب حاضر جو ہو چکا ہو اور ہونے والا ہو سب اس پر روشن ہے اسی اپنے علم غیب کی بنا پر وہ فرماتا ہے کہ تم مسلمانو! ان کا نہ نکلنا غنیمت سمجھو یہ ہوتے تو اور فساد و فتنہ برپا کرتے، نہ کرتے نہ کرنے دیتے، اسی باعث فرمان ہے کہ اگر کفار دوبارہ بھی دنیا میں لوٹائے جائیں تو نئے سرے سے پھر وہی کریں جس سے منع کئے جائیں اور یہ جھوٹے کے جھوٹے ہی رہیں۔ [6-الأنعام:28]
ایک اور آیت میں ہے کہ اگر علم اللہ تعالیٰ میں ان کے دلوں میں کوئی بھی خیر ہوتی تو اللہ تعالیٰ عزوجل انہیں ضرور سنا دیتا لیکن اب تو یہ حال ہے کہ سنیں بھی تو منہ موڑ کر لوٹ جائیں۔ [8-الأنفال:23]
اور جگہ ہے کہ اگر ہم ان پر لکھ دیتے کہ تم آپس میں ہی موت کا کھیل کھیلو یا جلا وطن ہو جاؤ تو بجز بہت کم لوگوں کے یہ ہرگز اسے نہ کرتے، حالانکہ ان کے حق میں بہتر اور اچھا یہی تھا کہ جو نصیحت انہیں کی جائے یہ اسے بجا لائیں تاکہ اس صورت میں ہم انہیں اپنے پاس سے اجر عظیم دیں اور راہ مستقیم دکھائیں۔ [4-النساء:68،66] اور بھی ایسی آیتیں بہت ساری ہیں۔
صفحہ نمبر3486
غلط گو غلط کار کفار و منافق ٭٭
یہ عذر کرتے ہیں۔ ان کے غلط ہونے کی ایک ظاہری دلیل یہ بھی ہے کہ اگر ان کا ارادہ ہوتا تو کم از کم سامان سفر تو تیار کر لیتے لیکن یہ تو اعلان اور حکم کے بعد بھی کئی دن گزرنے پر بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے ایک تنکا بھی ادھر سے ادھر نہ کیا۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کا تمہارے ساتھ نکلنا پسند ہی نہ تھا اس لیے انہیں پیچھے ہٹا دیا، اور قدرتی طور پر ان سے کہ دیا گیا کہ تم تو بیٹھنے والوں کا ہی ساتھ دو۔
سنو ان کے ساتھ کو ناپسند رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ پورے نامراد اعلیٰ درجے کے بزدل بڑے ہی ڈرپوک ہیں۔ اگر یہ تمہارے ساتھ ہوتے تو پتہ کھڑکا اور بندہ سرکا کی مثل کو اصل کر دکھاتے اور ان کے ساتھ ہی تم میں بھی فساد برپا ہو جاتا۔ یہ ادھر کی ادھر، ادھر کی ادھر لگا بجھا کر بات کا بتنگڑ بنا کر آپس میں پھوٹ اور عداوت ڈلوا دیتے اور کوئی نیا فتنہ کھڑا کر کے تمہیں آپس میں ہی الجھا دیتے، ان کے ماننے والے ان کے ہم خیال ان کی پالیسی کو اچھی نظر سے دیکھنے والے خود تم میں بھی موجود ہیں وہ اپنے بھولے پن سے ان کی شر انگیزیوں سے بے خبر رہتے ہیں جس کا نتیجہ مومنوں کے حق میں نہایت برا نکلتا ہے آپس میں شر و فساد پھیل جاتا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ کا مطلب یہ ہے کہ ان کے گویندے ان کی سی آئ ڈی اور جاسوس بھی تم میں لگے ہوئے تھے جو تمہاری رتی رتی کی خبریں انہیں پہنچاتے ہیں۔ لیکن یہ معنی کرنے سے وہ لطافت باقی نہیں رہتی جو شروع آیت سے ہے یعنی ان لوگوں کا تمہارے ساتھ نہ نکلنا اللہ تعالیٰ کو اس لیے بھی ناپسند رہا کہ تم میں بعض وہ بھی ہیں جو ان کی مان لیا کرتے ہیں۔ یہ تو بہت درست ہے لیکن ان کے نہ نکلنے کی وجہ کے لیے جاسوسی کی کوئی خصوصیت ان کی نہ نکلنے کی وجہ کے لئے نہیں ہو سکتی۔
صفحہ نمبر3485
اسی لیے قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ مفسرین کا یہی قول ہے۔ امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اجازت طلب کرنے والوں میں عبداللہ بن ابی بن سلول اور جد بن قیس بھی تھا اور یہی بڑے بڑے رؤسا اور ذی اثر منافق تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں دور ڈال دیا، اگر یہ ساتھ ہوتے تو ان کی منہ دیکھی ماننے والے وقت پر ان کے ساتھ ہو کر مسلمانوں کے نقصان کا باعث بن جاتے محمدی لشکر میں ابتری پھیل جاتی کیونکہ یہ لوگ وجاہت والے تھے اور کچھ مسلمان ان کے حال سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ان کے ظاہری اسلام اور چرب کلامی پر مفتون تھے اور اب تک ان کے دلوں میں ان کی محبت تھی، یہ ان کی لاعلمی کی وجہ سے تھی،
سچ ہے پورا علم اللہ ہی کو ہے غائب حاضر جو ہو چکا ہو اور ہونے والا ہو سب اس پر روشن ہے اسی اپنے علم غیب کی بنا پر وہ فرماتا ہے کہ تم مسلمانو! ان کا نہ نکلنا غنیمت سمجھو یہ ہوتے تو اور فساد و فتنہ برپا کرتے، نہ کرتے نہ کرنے دیتے، اسی باعث فرمان ہے کہ اگر کفار دوبارہ بھی دنیا میں لوٹائے جائیں تو نئے سرے سے پھر وہی کریں جس سے منع کئے جائیں اور یہ جھوٹے کے جھوٹے ہی رہیں۔ [6-الأنعام:28]
ایک اور آیت میں ہے کہ اگر علم اللہ تعالیٰ میں ان کے دلوں میں کوئی بھی خیر ہوتی تو اللہ تعالیٰ عزوجل انہیں ضرور سنا دیتا لیکن اب تو یہ حال ہے کہ سنیں بھی تو منہ موڑ کر لوٹ جائیں۔ [8-الأنفال:23]
اور جگہ ہے کہ اگر ہم ان پر لکھ دیتے کہ تم آپس میں ہی موت کا کھیل کھیلو یا جلا وطن ہو جاؤ تو بجز بہت کم لوگوں کے یہ ہرگز اسے نہ کرتے، حالانکہ ان کے حق میں بہتر اور اچھا یہی تھا کہ جو نصیحت انہیں کی جائے یہ اسے بجا لائیں تاکہ اس صورت میں ہم انہیں اپنے پاس سے اجر عظیم دیں اور راہ مستقیم دکھائیں۔ [4-النساء:68،66] اور بھی ایسی آیتیں بہت ساری ہیں۔
صفحہ نمبر3486
فتنہ و فساد کی آگ منافق ٭٭
اللہ تعالیٰ منافقین سے نفرت دلانے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا بھول گئے مدتوں تو یہ فتنہ و فساد کی آگ سلگاتے رہے ہیں اور تیرے کام کے الٹ دینے کی بیسیوں تدبیریں کر چکے ہیں مدینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم آتے ہی تمام عرب نے ایک ہو کرمصیبتوں کی بارش آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر برسا دی۔
باہر سے وہ چڑھ دوڑے اندر سے یہود مدینہ اور منافقین مدینہ نے بغاوت کر دی لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک ہی دن میں سب کی کمانیں اتار دیں ان کے جوڑ ڈھیلے کر دیئے ان کے جوش ٹھنڈے کر دیئے بدر کے معرکے نے ان کے ہوش حواس بھلا دیئے اور ان کے ارمان ذبح کر دیئے۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے صاف کہ دیا کہ بس اب یہ لوگ ہمارے بس کے نہیں رہے اب تو سوا اس کے کوئی چارہ نہیں کہ ظاہر میں اسلام کی موافقت کی جائے دل میں جو ہے سو ہے وقت آنے دو دیکھی جائے گی اور دکھا دی جائے گی۔ پھر جوں جوں حق کی بلندی اور توحید کی اونچائ ہوتی گئ یہ جلتے جھلستے گئے۔ آخر حق نے قدم جمائے اور کلمہ ربانی غالب آ گیا اور یہ یونہی پیٹ پیٹتے اور ڈنڈے بجاتے رہے۔
صفحہ نمبر3488
جد بن قیس جیسے بدتمیزوں کا حشر ٭٭
جد بن قیس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سال نصرانیوں کے جلا وطن کرنے میں تو ہمارا ساتھ دے گا۔“ تو اس نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے تو معاف رکھئے میری ساری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا بےطرح شیدا ہوں عیسائی عورتوں کو دیکھ کر مجھ سے تو اپنا نفس روکا نہ جائے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا۔
اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اس منافق نے یہ بہانہ بنایا حالانکہ وہ فتنے میں تو پڑا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑنا جہاد سے منہ موڑنا یہ کیا کم فتنہ ہے؟ یہ منافق بنو سلمہ قبیلے کا رئیس اعظم تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس قبیلے کے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ ”تمہارا سردار کون ہے“؟ تو انہوں نے کہا ”جد بن قیس جو بڑا ہی شوم اور بخیل ہے۔“ آپ نے فرمایا: ”بخل سے بڑھ کر اور کیا بری بیماری ہے“؟ سنو اب سے تمہارا سردار نوجوان سفید اور خوبصورت بشر بن برابن معرور ہے۔ [طبرانی کبیر:163،164/19:صحیح] جہنم کافروں کو گھیر لینے والی ہے نہ اس سے وہ بچ سکیں نہ بھاگ سکیں نہ نجات پا سکیں۔
صفحہ نمبر3489
بدفطرت لوگوں کا دوغلا پن ٭٭
ان بدظن لوگوں کی اندرونی خباثت کا بیان ہورہا ہے کہ مسلمانوں کی فتح و نصرت سے، ان کی بھلائی اور ترقی سے ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے اور اگر اچانک یہاں اس کے خلاف ہوا تو الاپ الاپ کر اپنی چالاکی کے افسانے گائے جاتے ہیں کہ میاں اسی وجہ سے ہم تو ان سے بچتے رہے مارے خوشی کے بغلیں بجانے لگتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو جواب دے کہ رنج و راحت اور ہم خود اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کی منشاء کے ماتحت ہیں وہ ہمارا مولیٰ ہے وہ ہمارا آقا ہے وہ ہماری پناہ ہے ہم مومن ہیں اور مومنوں کا بھروسہ اسی پر ہوتا ہے وہ ہمیں کافی ہے بس ہے وہ ہمارا کار ساز ہے اور بہترین کار ساز ہے۔
صفحہ نمبر3490
بدفطرت لوگوں کا دوغلا پن ٭٭
ان بدظن لوگوں کی اندرونی خباثت کا بیان ہورہا ہے کہ مسلمانوں کی فتح و نصرت سے، ان کی بھلائی اور ترقی سے ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے اور اگر اچانک یہاں اس کے خلاف ہوا تو الاپ الاپ کر اپنی چالاکی کے افسانے گائے جاتے ہیں کہ میاں اسی وجہ سے ہم تو ان سے بچتے رہے مارے خوشی کے بغلیں بجانے لگتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو جواب دے کہ رنج و راحت اور ہم خود اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کی منشاء کے ماتحت ہیں وہ ہمارا مولیٰ ہے وہ ہمارا آقا ہے وہ ہماری پناہ ہے ہم مومن ہیں اور مومنوں کا بھروسہ اسی پر ہوتا ہے وہ ہمیں کافی ہے بس ہے وہ ہمارا کار ساز ہے اور بہترین کار ساز ہے۔
صفحہ نمبر3490
شہادت ملی تو جنت، بچ گئے تو غازی ٭٭
مسلمانوں کے جہاد میں دو ہی انجام ہوتے ہیں اور دونوں ہر طرح اچھے ہیں۔ اگر شہادت ملی تو جنت اپنی ہے اور اگر فتح ملی تو غنیمت و اجر ہے۔ پس اے منافقو! تم جو ہماری بابت انتظار کر رہے ہو وہ انہی دو اچھائیوں میں سے ایک، ہے اور ہم جس بات کا انتظار تمہارے بارے میں کر رہے ہیں وہ دو برائیوں میں سے ایک کا ہے یعنی یا تو یہ کہ عذابِ رب براہ راست تم پر آ جائے یا ہمارے ہاتھوں سے تم پر رب کی مار پڑے کہ قتل و قید ہو جاؤ۔
اچھا اب تم اپنی جگہ اور ہم اپنی جگہ منتظر رہیں دیکھیں پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ تمہارے خرچ کرنے کا اللہ بھوکا نہیں تم خوشی سے دو تو اور ناراضگی سے دو تو وہ تو قبول فرمانے کا نہیں اس لیے کہ تم فاسق لوگ ہو۔ تمہارے خرچ کی عدم قبولیت کا باعث کفر ہے اور اعمال کی قبولیت کی شرط کفر کا نہ ہونا بلکہ ایمان کا ہونا ہے۔ ساتھ ہی کسی عمل میں تمہارا نیک قصد اور سچی ہمت نہیں نماز کو آتے ہو تو بھی ہارے دل سے گرتے پڑتے، مرتے بچھڑتے، سست اور کاہل ہو کر۔ دیکھا دیکھی مجمع میں دو چار دے بھی دیتے ہو تو مرے جی سے، دل کی تنگی سے۔ صادق و مصدوق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا لیکن تم تھک جاتے ہو۔ [صحیح بخاری:43] اللہ پاک ہے وہ پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:1410] متقیوں کی اعمال قبول ہوتے ہیں تم فاسق ہو تمہارے اعمال قبولیت سے گرے ہوئے ہیں۔
صفحہ نمبر3492
شہادت ملی تو جنت، بچ گئے تو غازی ٭٭
مسلمانوں کے جہاد میں دو ہی انجام ہوتے ہیں اور دونوں ہر طرح اچھے ہیں۔ اگر شہادت ملی تو جنت اپنی ہے اور اگر فتح ملی تو غنیمت و اجر ہے۔ پس اے منافقو! تم جو ہماری بابت انتظار کر رہے ہو وہ انہی دو اچھائیوں میں سے ایک، ہے اور ہم جس بات کا انتظار تمہارے بارے میں کر رہے ہیں وہ دو برائیوں میں سے ایک کا ہے یعنی یا تو یہ کہ عذابِ رب براہ راست تم پر آ جائے یا ہمارے ہاتھوں سے تم پر رب کی مار پڑے کہ قتل و قید ہو جاؤ۔
اچھا اب تم اپنی جگہ اور ہم اپنی جگہ منتظر رہیں دیکھیں پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ تمہارے خرچ کرنے کا اللہ بھوکا نہیں تم خوشی سے دو تو اور ناراضگی سے دو تو وہ تو قبول فرمانے کا نہیں اس لیے کہ تم فاسق لوگ ہو۔ تمہارے خرچ کی عدم قبولیت کا باعث کفر ہے اور اعمال کی قبولیت کی شرط کفر کا نہ ہونا بلکہ ایمان کا ہونا ہے۔ ساتھ ہی کسی عمل میں تمہارا نیک قصد اور سچی ہمت نہیں نماز کو آتے ہو تو بھی ہارے دل سے گرتے پڑتے، مرتے بچھڑتے، سست اور کاہل ہو کر۔ دیکھا دیکھی مجمع میں دو چار دے بھی دیتے ہو تو مرے جی سے، دل کی تنگی سے۔ صادق و مصدوق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا لیکن تم تھک جاتے ہو۔ [صحیح بخاری:43] اللہ پاک ہے وہ پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:1410] متقیوں کی اعمال قبول ہوتے ہیں تم فاسق ہو تمہارے اعمال قبولیت سے گرے ہوئے ہیں۔
صفحہ نمبر3492
شہادت ملی تو جنت، بچ گئے تو غازی ٭٭
مسلمانوں کے جہاد میں دو ہی انجام ہوتے ہیں اور دونوں ہر طرح اچھے ہیں۔ اگر شہادت ملی تو جنت اپنی ہے اور اگر فتح ملی تو غنیمت و اجر ہے۔ پس اے منافقو! تم جو ہماری بابت انتظار کر رہے ہو وہ انہی دو اچھائیوں میں سے ایک، ہے اور ہم جس بات کا انتظار تمہارے بارے میں کر رہے ہیں وہ دو برائیوں میں سے ایک کا ہے یعنی یا تو یہ کہ عذابِ رب براہ راست تم پر آ جائے یا ہمارے ہاتھوں سے تم پر رب کی مار پڑے کہ قتل و قید ہو جاؤ۔
اچھا اب تم اپنی جگہ اور ہم اپنی جگہ منتظر رہیں دیکھیں پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ تمہارے خرچ کرنے کا اللہ بھوکا نہیں تم خوشی سے دو تو اور ناراضگی سے دو تو وہ تو قبول فرمانے کا نہیں اس لیے کہ تم فاسق لوگ ہو۔ تمہارے خرچ کی عدم قبولیت کا باعث کفر ہے اور اعمال کی قبولیت کی شرط کفر کا نہ ہونا بلکہ ایمان کا ہونا ہے۔ ساتھ ہی کسی عمل میں تمہارا نیک قصد اور سچی ہمت نہیں نماز کو آتے ہو تو بھی ہارے دل سے گرتے پڑتے، مرتے بچھڑتے، سست اور کاہل ہو کر۔ دیکھا دیکھی مجمع میں دو چار دے بھی دیتے ہو تو مرے جی سے، دل کی تنگی سے۔ صادق و مصدوق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا لیکن تم تھک جاتے ہو۔ [صحیح بخاری:43] اللہ پاک ہے وہ پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:1410] متقیوں کی اعمال قبول ہوتے ہیں تم فاسق ہو تمہارے اعمال قبولیت سے گرے ہوئے ہیں۔
صفحہ نمبر3492
کثرت مال و دولت عذاب بھی ہے ٭٭
ان کے مال و اولاد کو للچائی ہوئی نگاہوں سے نہ دیکھ، ان کی دنیا کی اس ہیرا پھیری کی کوئی حقیقت نہ گن یہ ان کے حق میں کوئی بھلی چیز نہیں یہ تو ان کے لیے دنیوی سزا بھی ہے کہ نہ اس میں سے زکوٰۃ نکلے نہ اللہ کے نام خیرات ہو۔
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہاں مطلب مقدم مؤخر ہے یعنی تجھے ان کے مال و اولاد اچھے نہ لگنے چاہئیں اللہ کا ارادہ اس سے انہیں اس حیات دنیا میں ہی سزا دینے کا ہے۔ پہلا قول حسن بصری رحمہ اللہ کا ہے وہی اچھا اور قوی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ اس میں یہ ایسے پھنسے رہیں گے کہ مرتے دم تک راہ ہدایت نصیب نہیں ہو گی، یوں ہی بتدریج پکڑ لیے جائیں گے اور انہیں پتہ بھی نہ چلے گا۔ یہی حشمت و جاہت، مال و دولت جہنم کی آگ بن جائے گا۔
صفحہ نمبر3495
جھوٹی قسمیں کھانے والوں کی حقیقت ٭٭
ان کی تنگ دلی ان کی غیر مستقل مزاجی , ان کی سراسیمگی اور پریشانی گھبراہٹ اور بے اطمینانی کا یہ حال ہے کہ تمہارے پاس آ کر تمہارے دل میں گھر کرنے کے لیے اور تمہارے ہاتھوں سے بچنے کے لیے بڑی لمبی چوڑی زبردست قسمیں کھاتے ہیں کہ واللہ! ہم تمہارے ہیں ہم مسلمان ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے یہ صرف خوف و ڈر ہے جو ان کے پیٹ میں درد پیدا کر رہا ہے۔
اگر آج انہیں اپنے بچاؤ کے لیے کوئی قلعہ مل جائے اگر آج یہ کوئی محفوظ غار دیکھ لیں یا کسی اچھی سرنگ کا پتہ انہیں چل جائے تو یہ تو سارے کے سارے دم بھر میں اس طرح اڑن چھو ہو جائیں تیرے پاس ان میں سے ایک بھی نظر نہ آئے کیونکہ انہیں تجھ سے کوئی محبت یا انس تو نہیں ہے یہ تو ضرورت مجبوری اور خوف کی بناء پر تمہاری چاپلوسی کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جوں جوں اسلام ترقی کر رہا ہے یہ بجھتے چلے جا رہے ہیں مومنوں کی ہر خوشی سے یہ جلتے تڑپتے ہیں ان کی ترقی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی، موقعہ مل جائے تو آج بھاگ جائیں۔
صفحہ نمبر3496
جھوٹی قسمیں کھانے والوں کی حقیقت ٭٭
ان کی تنگ دلی ان کی غیر مستقل مزاجی , ان کی سراسیمگی اور پریشانی گھبراہٹ اور بے اطمینانی کا یہ حال ہے کہ تمہارے پاس آ کر تمہارے دل میں گھر کرنے کے لیے اور تمہارے ہاتھوں سے بچنے کے لیے بڑی لمبی چوڑی زبردست قسمیں کھاتے ہیں کہ واللہ! ہم تمہارے ہیں ہم مسلمان ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے یہ صرف خوف و ڈر ہے جو ان کے پیٹ میں درد پیدا کر رہا ہے۔
اگر آج انہیں اپنے بچاؤ کے لیے کوئی قلعہ مل جائے اگر آج یہ کوئی محفوظ غار دیکھ لیں یا کسی اچھی سرنگ کا پتہ انہیں چل جائے تو یہ تو سارے کے سارے دم بھر میں اس طرح اڑن چھو ہو جائیں تیرے پاس ان میں سے ایک بھی نظر نہ آئے کیونکہ انہیں تجھ سے کوئی محبت یا انس تو نہیں ہے یہ تو ضرورت مجبوری اور خوف کی بناء پر تمہاری چاپلوسی کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جوں جوں اسلام ترقی کر رہا ہے یہ بجھتے چلے جا رہے ہیں مومنوں کی ہر خوشی سے یہ جلتے تڑپتے ہیں ان کی ترقی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی، موقعہ مل جائے تو آج بھاگ جائیں۔
صفحہ نمبر3496
مال ودولت کے حریص منافق ٭٭
بعض منافق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمت لگاتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال زکوٰۃ صحیح تقسیم نہیں کرتے وغیرہ، اور اس سے ان کا ارادہ سوائے اپنے نفع کے حصول کے اور کچھ نہ تھا۔ انہیں کچھ مل جائے تو راضی راضی ہیں اگر یہ رہ جائیں تو بس ان کے نتھنے پھولے ہوئے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال زکوٰۃ جب ادھر ادھر تقسیم کر دیا تو انصار میں سے کسی نے ہانک لگائی کہ یہ انصاف نہیں اس پر یہ آیت اتری۔ اور روایت میں ہے کہ ایک نو مسلم صحرائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سونا چاندی بانٹتے ہوئے دیکھ کر کہنے لگا کہ ”اگر اللہ نے تجھے عدل کا حکم دیا ہے تو تو عدل نہیں کرتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تباہ ہو اگر میں بھی عادل نہیں تو زمین پر اور کون عادل ہو گا“؟
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے اور اس جیسوں سے بچو، میری امت میں اس جیسے لوگ ہوں گے قرآن پڑھیں گے لیکن حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ جب نکلیں انہیں قتل کر ڈالو پھر نکلیں تو مار ڈالو پھر جب ظاہر ہوں پھر گردنیں مارو۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کی قسم نہ میں تمہیں دوں نہ تم سے روکوں میں تو ایک خازن ہوں۔ جنگ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت ذوالخویصرہ حرقوص نامی ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا تھا اور کہا تھا تو عدل نہیں کرتا انصاف سے کام کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں بھی عدل نہ کروں تو تو پھر تیری بربادی کہیں نہیں جا سکتی۔“
صفحہ نمبر3498
جب اس نے پیٹھ پھیری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی نسل سے ایک قوم نکلے گی جن کی نمازوں کے مقابلے میں تمہاری نمازیں تمہیں حقیر معلوم ہوں گی اور ان کے روزوں کے مقابلے میں تم میں سے ایک اور کو اپنے روزے حقیر معلوم ہوں گے لیکن وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے۔ تمہیں جہاں بھی وہ مل جائیں ان کے قتل میں کمی نہ کرو آسمان تلے ان مقتولوں سے بدتر مقتول اور کوئی نہیں۔“ [صحیح بخاری:3610]
پھر ارشاد ہے کہ انہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں جو کچھ بھی اللہ نے دلوادیا تھا اگر یہ اس پر قناعت کرتے، صبر و شکر کرتے اور کہتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے وہ اپنے فضل سے اپنے رسول کے ہاتھوں ہمیں اور بھی دلوائے گا ہماری امیدیں ذات الٰہی سے وابستہ ہیں تو یہ ان کے حق میں بہتر تھا۔
پس اس میں اللہ تعالیٰ کی تعلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ جو دے اس پر انسان کو صبر و شکر کرنا چاہیئے توکل ذات واحد پر رکھے اسی کو کافی وافی سمجھے رغبت اور توجہ اور لالچ اور امید اور توقع اس کی ذات پاک سے رکھے، رسول اللہ علیہ افضل الصلوۃ و التسلیم کی اطاعت میں سرمو فرق نہ کرے اور اللہ تعالیٰ سے توفیق طلب کرے کہ جو احکام ہوں انہیں بجالانے اور جو منع کام ہوں انہیں چھوڑ دینے اور جو خبریں ہوں انہیں مان لینے اور صحیح اطاعت کرنے میں وہ رہبری فرمائے۔
صفحہ نمبر3499
مال ودولت کے حریص منافق ٭٭
بعض منافق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تہمت لگاتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال زکوٰۃ صحیح تقسیم نہیں کرتے وغیرہ، اور اس سے ان کا ارادہ سوائے اپنے نفع کے حصول کے اور کچھ نہ تھا۔ انہیں کچھ مل جائے تو راضی راضی ہیں اگر یہ رہ جائیں تو بس ان کے نتھنے پھولے ہوئے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال زکوٰۃ جب ادھر ادھر تقسیم کر دیا تو انصار میں سے کسی نے ہانک لگائی کہ یہ انصاف نہیں اس پر یہ آیت اتری۔ اور روایت میں ہے کہ ایک نو مسلم صحرائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سونا چاندی بانٹتے ہوئے دیکھ کر کہنے لگا کہ ”اگر اللہ نے تجھے عدل کا حکم دیا ہے تو تو عدل نہیں کرتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تباہ ہو اگر میں بھی عادل نہیں تو زمین پر اور کون عادل ہو گا“؟
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے اور اس جیسوں سے بچو، میری امت میں اس جیسے لوگ ہوں گے قرآن پڑھیں گے لیکن حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ جب نکلیں انہیں قتل کر ڈالو پھر نکلیں تو مار ڈالو پھر جب ظاہر ہوں پھر گردنیں مارو۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ کی قسم نہ میں تمہیں دوں نہ تم سے روکوں میں تو ایک خازن ہوں۔ جنگ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت ذوالخویصرہ حرقوص نامی ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا تھا اور کہا تھا تو عدل نہیں کرتا انصاف سے کام کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں بھی عدل نہ کروں تو تو پھر تیری بربادی کہیں نہیں جا سکتی۔“
صفحہ نمبر3498
جب اس نے پیٹھ پھیری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی نسل سے ایک قوم نکلے گی جن کی نمازوں کے مقابلے میں تمہاری نمازیں تمہیں حقیر معلوم ہوں گی اور ان کے روزوں کے مقابلے میں تم میں سے ایک اور کو اپنے روزے حقیر معلوم ہوں گے لیکن وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے۔ تمہیں جہاں بھی وہ مل جائیں ان کے قتل میں کمی نہ کرو آسمان تلے ان مقتولوں سے بدتر مقتول اور کوئی نہیں۔“ [صحیح بخاری:3610]
پھر ارشاد ہے کہ انہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں جو کچھ بھی اللہ نے دلوادیا تھا اگر یہ اس پر قناعت کرتے، صبر و شکر کرتے اور کہتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے وہ اپنے فضل سے اپنے رسول کے ہاتھوں ہمیں اور بھی دلوائے گا ہماری امیدیں ذات الٰہی سے وابستہ ہیں تو یہ ان کے حق میں بہتر تھا۔
پس اس میں اللہ تعالیٰ کی تعلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ جو دے اس پر انسان کو صبر و شکر کرنا چاہیئے توکل ذات واحد پر رکھے اسی کو کافی وافی سمجھے رغبت اور توجہ اور لالچ اور امید اور توقع اس کی ذات پاک سے رکھے، رسول اللہ علیہ افضل الصلوۃ و التسلیم کی اطاعت میں سرمو فرق نہ کرے اور اللہ تعالیٰ سے توفیق طلب کرے کہ جو احکام ہوں انہیں بجالانے اور جو منع کام ہوں انہیں چھوڑ دینے اور جو خبریں ہوں انہیں مان لینے اور صحیح اطاعت کرنے میں وہ رہبری فرمائے۔
صفحہ نمبر3499
زکوۃ اور صدقات کا مصرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ اللہ کے حکم کے تحت ہے؟ ٭٭
اوپر کی آیت میں ان جاہل منافقوں کا ذکر تھا جو ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر تقسیم صدقات میں اعتراض کر بیٹھتے تھے۔ اب یہاں اس آیت میں بیان فرما دیا کہ تقسیم زکوٰۃ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی پر موقوف نہیں بلکہ ہمارے بتلائے ہوئے مصارف میں ہی لگتی ہے، ہم نے آپ اس کی تقسیم کر دی ہے کسی اور کے سپرد نہیں کی۔
ابوداؤد میں ہے زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے سرکار نبوت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی ایک شخص نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مجھے صدقے میں سے کچھ دلوائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نبی غیر نبی کسی کے حکم پر تقسیم زکوٰۃ کے بارے میں راضی نہیں ہوا یہاں تک کہ خود اس نے تقسیم کر دی ہے آٹھ مصرف مقرر کر دیئے ہیں اگر تو ان میں سے کسی میں ہے تو میں تجھے دے سکتا ہوں۔“ [سنن ابوداود:1630،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
امام شافعی وغیرہ تو فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کے مال کی تقسیم ان آٹھوں قسم کے تمام لوگوں پر کرنی واجب ہے اور امام مالک رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ واجب نہیں بلکہ ان میں سے کسی ایک کو ہی دے دینا کافی ہے گو اور قسم کے لوگ بھی ہوں۔ عام اہل علم کا قول بھی یہی ہے، آیت میں بیان مصرف ہے نہ کہ ان سب کو دینے کا وجوب کا ذکر۔ ان اقوال کی دلیلوں اور مناظروں کی جگہ یہ کتاب نہیں واللہ اعلم۔
صفحہ نمبر3501
فقیروں کو سب سے پہلے اس لیے بیان فرمایا کہ ان کی حاجت بہت سخت ہے۔ گو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مسکین فقیر سے بھی برے حال والا ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جس کے ہاتھ تلے مال نہ ہو اسی کو فقیر نہیں کہتے بلکہ فقیر وہ بھی ہے جو محتاج ہو گرا پڑا ہو گو کچھ کھاتا پیتا کماتا بھی ہو۔“ ابن علیہ کہتے ہیں اس روایت میں اخلق کا لفظ ہے۔ اخلق کہتے ہیں ہمارے نزدیک تجارت کو، لیکن جمہور اس کے برخلاف ہیں۔
اور بہت سے حضرات فرماتے ہیں فقیر وہ ہے جو سوال سے بچنے والا ہو، اور مسکین وہ ہے جو سائل ہو لوگوں کے پیچھے لگنے والا اور گھروں اور گلیوں میں گھومنے والا۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں فقیر وہ ہے جو بیماری والا ہو اور مسکین وہ ہے جو صحیح سالم جسم والا ہو۔ ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے مہاجر فقراء ہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں یعنی دیہاتیوں کو اس میں سے کچھ نہ ملے۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مسلمان فقراء کو مساکین نہ کہو مسکین تو صرف اہل کتاب کے لوگ ہیں۔ اب وہ حدیثیں سنئے جو ان آٹھوں قسموں کے متعلق ہیں۔ فقراء، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”صدقہ مالدار اور تندرست توانا پر حلال نہیں“، [سنن ترمذی:652،قال الشيخ الألباني:صحیح] دو شخصوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صدقے کا مال مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغور نیچے سے اوپر تک انہیں ہٹا کٹا، قوی، تندرست دیکھ کر فرمایا: ”اگر تم چاہو تو تمہیں دے دوں لیکن امیر شخص کا اور قوی طاقتور کماؤ شخص کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔“ [سنن ابوداود:1633،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مساکین، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”مسکین یہی گھوم گھوم کر ایک لقمہ، دو لقمے، ایک کھجور، دو کھجور لے کر ٹل جانے والے ہی نہیں۔“ لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ پھر مساکین کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بےپرواہی کے برابر نہ پائے نہ اپنی ایسی حالت رکھے کہ کوئی دیکھ کر پہچان لے اور کچھ دے دے نہ کسی سے خود کوئی سوال کرے۔“ [صحیح بخاری:1479] صدقہ وصول کرنے والے یہ تحصیل دار ہیں انہیں اجرت اسی مال سے ملے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار جن پر صدقہ حرام ہے اس عہدے پر نہیں آ سکتے۔
صفحہ نمبر3502
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ درخواست لے کر گئے کہ ہمیں صدقہ کا عامل بنا دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر صدقہ حرام ہے یہ تو لوگوں کا میل کچیل ہے۔ [صحیح مسلم:1072]
جن کے دل پر چائے جاتے ہیں، ان کی کئی قسمیں ہیں بعضوں کو تو اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ اسلام قبول کر لیں جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ کو غنیمت حنین کا مال دیا تھا حالانکہ وہ اس وقت کفر کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا تھا اس کا اپنا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس داد و دہش نے میرے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے زیادہ محبت پیدا کر دی حالانکہ پہلے سب سے بڑا دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا میں ہی تھا۔ [صحیح مسلم:2313]
بعضوں کو اس لیے دیا جاتا ہے کہ ان کا اسلام مضبوط ہو جائے اور ان کا دل اسلام پر لگ جائے، جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین والے دن مکہ کے آزاد کردہ لوگوں کے سرداروں کو سو سو اونٹ عطا فرمائے اور ارشاد فرمایا کہ ”میں ایک کو دیتا ہوں اور دوسرے کو جو اس سے زیادہ میرا محبوب ہے نہیں دیتا اس لیے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ اوندھے منہ جہنم میں گر پڑے۔“ [صحیح بخاری:27]
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے کچا سونا مٹی سمیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے صرف چار شخصوں میں ہی تقسیم فرمایا، اقرع بن حابس، عیینہ بن بدر، عقلمہ بن علاثہ اور زید خیر، اور فرمایا: ”میں ان کی دلجوئی کے لیے انہیں دے رہا ہوں۔“ [صحیح بخاری:3344]
بعض کو اس لیے بھی دیا جاتا ہے کہ اس جیسے اور لوگ بھی اسلام قبول کر لیں۔ بعض کو اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے آس پاس والوں سے صدقہ پہنچائے یا آس پاس کے دشمنوں کی نگہداشت رکھے اور انہیں اسلامیوں پر حملہ کرنے کا موقعہ نہ دے۔ ان سب کی تفصیل کی جگہ احکام وفروع کی کتابیں ہیں نہ کہ تفسیر، و اللہ اعلم۔ عمر رضی اللہ عنہ اور عمار شعبی اور ایک جماعت کا قول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اب یہ مصرف باقی نہیں رہا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت دے دی ہے مسلمان ملکوں کے مالک بن گئے ہیں اور بہت سے بندگان رب ان کے ماتحت ہیں۔
صفحہ نمبر3503
لیکن اور بزرگوں کا قول ہے کہ اب بھی مولفتہ القلوب کو زکوٰۃ دینی جائز ہے۔ فتح مکہ اور فتح ہوازن کے بعد بھی حضور علیہ الصلوۃ والتسلیم نے ان لوگوں کو مال دیا۔ دوسرے یہ کہ اب بھی ایسی ضرورتیں پیش آ جایا کرتی ہیں۔
آزادگی گردن کے بارے میں بہت سے بزرگ فرماتے ہیں کہ مراد اس سے وہ غلام ہیں جنہوں نے رقم مقرر کر کے اپنے مالکوں سے اپنی آزادگی کی شرط کر لی ہے انہیں مال زکوٰۃ سے رقم دی جائے کہ وہ ادا کر کے آزاد ہو جائیں۔ اور بزرگ فرماتے ہیں کہ وہ غلام جس نے یہ شرط نہ لکھوائی ہو اسے بھی مال زکوٰۃ سے خرید کر آزاد کرنے میں کوئی ڈر خوف نہیں۔ غرض مکاتب غلام اور محض غلام دونوں کی آزادگی زکوٰۃ کا ایک مصرف ہے احادیث میں بھی اس کی بہت کچھ فضیلت وارد ہوئی ہے یہاں تک کہ فرمایا ہے کہ آزاد کردہ غلام کے ہر ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کا ہر ہر عضو جہنم سے آزاد ہو جاتا ہے یہاں تک کہ شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ بھی۔ [صحیح بخاری:4715]
اس لیے کہ ہر نیکی کی جزا اسی جیسی ہوتی ہے۔ قرآن فرماتا ہے تمہیں وہی جزا دی جائے گی جو تم نے کیا ہو گا۔ [37-الصافات:39]
حدیث میں ہے تین قسم کے لوگوں کی مدد اللہ کے ذمے حق ہے، وہ غازی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہو، وہ مکاتب غلام اور قرض دار جو ادائیگی کی نیت رکھتا ہو، وہ نکاح کرنے والا جس کا ارادہ بدکاری سے محفوظ رہنے کا ہو۔ [سنن ترمذي:1655،قال الشيخ الألباني:حسن]
کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت سے قریب اور دوزخ سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نسمہ آزاد کر اور گردن خلاصی کر۔“ اس نے کہا کہ ”یہ دونوں ایک ہی چیز نہیں“؟
صفحہ نمبر3504
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں نسمہ کی آزادگی یہ ہے کہ تو اکیلا ہی کسی غلام کو آزاد کر دے اور گردن خلاصی یہ ہے کہ تو بھی اس میں جو تجھ سے ہو سکے مدد کرے۔“ [مسند احمد:299/4:صحیح]
قرض داران کی بھی کئی قسمیں ہیں ایک شخص دوسرے کا بوجھ اپنے اوپر لے لے کسی کے قرض کا آپ ضامن بن جائے پھر اس کا مال ختم ہو جائے یا وہ خود قرض دار بن جائے یا کسی نے برائی پر قرض اٹھایا ہو اور اب وہ توبہ کر لے پس انہیں مال زکوٰۃ دیا جائے گا کہ یہ قرض ادا کر دیں۔ اس مسئلے کی اصل قبیصہ رضی اللہ عنہ بن مخارق ہلالی کی یہ روایت ہے کہ میں نے دوسرے کا حوالہ اپنی طرف لیا تھا پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ٹھہرو ہمارے پاس مال صدقہ آئے گا ہم اس میں سے تمہں دیں گے۔“ پھر فرمایا: ”قبیصہ سن! تین قسم کے لوگوں کو ہی سوال حلال ہے ایک تو وہ جو ضامن پڑے پس اس رقم کے پورا ہونے تک اسے سوال جائز ہے پھر سوال نہ کرے۔ دوسرا وہ جس کا مال کسی آفت ناگہانی سے ضائع ہو جائے اسے بھی سوال کرنا درست ہے یہاں تک کہ پیٹ بھرائ ہو جائے، تیسرا وہ شخص جس پر فاقہ گذرنے لگے اور اس کی قوم کے تین ذی ہوش لوگ اس کی شہادت کے لیے کھڑے ہو جائیں کہ ہاں بیشک فلاں شخص پر فاقے گذرنے لگے ہیں، اسے بھی مانگ لینا جائز ہے تاوقتیکہ اس کا سہارا ہو جائے اور سامان زندگی مہیا ہو جائے، ان کے سوا اوروں کو سوال کرنا حرام ہے اگر وہ مانگ کر کچھ لے کر کھائیں گے تو حرام کھائیں گے۔ [صحیح مسلم:1044]
ایک شخص نے زمانہ نبوی میں ایک باغ خریدا قدرت الٰہی سے آسمانی آفت سے باغ کا پھل مارا گیا اس سے وہ بہت قرض دار ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا کہ ”تمہیں جو ملے لے لو۔ اس کے سوا تمہارے لیے اور کچھ نہیں۔“ [صحیح مسلم:1556-18]
صفحہ نمبر3505
آپ فرماتے ہیں کہ ”ایک قرض دار کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بلا کر اپنے سامنے کھڑا کر کے پوچھے گا کہ تو نے قرض کیوں لیا اور کیوں رقم ضائع کر دی؟ جس سے لوگوں کے حقوق برباد ہوئے۔ وہ جواب دے گا کہ اے اللہ! تجھے خوب علم ہے میں نے یہ رقم کھائی نہ پی نہ اڑائی بلکہ میرے ہاں مثلاً چوری ہو گئی یا آگ لگ گئی یا کوئی اور آفت آ گئی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرا بندہ سچا ہے آج تیرے قرض کے ادا کرنے کا سب سے زیادہ مستحق میں ہی ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ کوئی چیز منگوا کر اس کی نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دے گا جس سے نیکیاں برائیوں سے بڑھ جائیں گی اور اللہ تبارک و تعالیٰ اسے اپنے فضل و رحمت سے جنت میں لے جائے گا۔“ [مسند احمد:197،198/1:ضعیف]
اللہ کی راہ، میں وہ مجاہدین غازی داخل ہیں جن کا دفتر میں کوئی حق نہیں ہوتا۔ حج بھی اللہ کی راہ میں داخل ہے۔ مسافر، جو سفر میں بےسروسامان رہ گیا ہو اسے بھی مال زکوٰۃ سے اپنی رقم دی جائے جس سے وہ اپنے شہر پہنچ سکے، گو وہ اپنے ہاں مالدار ہی ہو۔ یہی حکم ان کا بھی ہے جو اپنے شہر سے سفر کو جانے کا قصد رکھتے ہوں لیکن مال نہ ہو تو اسے بھی سفر خرچ مال زکوٰۃ سے دینا جائز ہے جو اسے آمد و رفت کے لیے کافی ہو۔
صفحہ نمبر3506
آیت کے اس لفظ کی دلیل کے علاوہ ابوداؤد وغیرہ کی یہ حدیث بھی اس کی دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالدار پر زکوٰۃ حرام ہے۔ بجز پانچ قسم کے مالداروں کے ایک تو وہ جو زکوٰۃ وصول کرنے پر مقرر ہو، دوسرا وہ جو مال زکوٰۃ کی کسی چیز کو اپنے مال سے خرید لے، تیسرا قرض دار، چوتھا راہ الٰہی کا غازی مجاہد، پانچواں وہ جسے کوئی مسکین بطور تحفے کے اپنی کوئی چیز جو زکوٰۃ میں اسے ملی ہو دے۔“ [سنن ابن ماجہ:1841،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور روایت ہے کہ زکوٰۃ مالدار کے لیے حلال نہیں مگر فی سبیل اللہ جو ہو اور جو مسافرت میں ہو اور جسے اس کا کوئی مسکین پڑوسی بطور تحفے، ہدیئے کے دے یا اپنے ہاں بلا لے۔ [سنن ابوداود:1637،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
زکوٰۃ کے ان آٹھوں مصارف کو بیان فرما کر پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے یعنی مقدر ہے اللہ کی تقدیر، اس کی تقسیم اور اس کا فرض کرنے سے۔ اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن کا عالم ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے واقف ہے، وہ اپنے قول، فعل، شریعت اور حکم میں حکمت والا ہے۔ بجز اس کے کوئی بھی لائق عبادت نہیں نہ اس کے سوا کوئی کسی کا پالنے والا ہے۔
صفحہ نمبر3507