Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah At-Tawba
Tafsir Ibn Kathir · The Repentance · 129 ayat · ayat 121–129 · Quran text →
مجاہدین کے اعمال کا بہترین بدلہ قربت الٰہی ہے ٭٭
یہ مجاہد جو کچھ تھوڑا بہت خرچ کریں اور راہ اللہ میں جس زمین پر چلیں پھریں، وہ سب ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ نکتہ یاد رہے کہ اوپر کا کام ذکر کر کے اجر کے بیان میں لفظ «بہ» لائے تھے اور یہاں نہیں لائے اس لیے کہ وہ غیر اختیار افعال تھے اور یہ خود ان سے صادر ہوتے ہیں۔
پس یہاں فرماتا ہے کہ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ اللہ تعالیٰ دے گا۔ اس آیت کا بہت بڑا حصہ اور اس کا کامل اجر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سمیٹا ہے۔ غزوہ تبوک میں آپ رضی اللہ عنہ نے دل کھول کر خرچ کیا۔ چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں اس سختی کے لشکر کی امداد کا ذکر فرما کر اس کی رغبت دلائی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایک سو اونٹ مع کجاوے، پالان، رسیوں وغیرہ کے میں دوں گا۔“ آپ نے پھر اسی کو بیان فرمایا تو پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایک سو اور بھی دوں گا۔“ آپ ایک زینہ منبر کا اترے پھر رغبت دلائی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا: ”ایک سو اور بھی“ آپ نے خوشی خوشی اپنا ہاتھ ہلاتے ہوئے فرمایا: ”بس عثمان! آج کے بعد کوئی عمل نہ بھی کرے تو بھی یہی کافی ہے۔“ [مسند احمد:75/4:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ ایک ہزار دینار کی تھیلی لا کر سیدنا عثمان نے آپ کے پلے میں ڈال دی۔ آپ انہیں اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کرتے جاتے تھے اور فرما رہے تھے آج کے بعد یہ جو بھی عمل کریں انہیں نقصان نہ دے گا۔ باربار یہی فرماتے رہے۔ [مسند احمد:63/5:حسن]
اس آیت کی تفسیر میں سیدنا قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس قدر انسان اپنے وطن سے اللہ کی راہ میں دور نکلتا ہے، اتنا ہی اللہ کے قرب میں بڑھتا ہے۔“
صفحہ نمبر3628
نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تنہا نہ چھوڑو ٭٭
اس آیت میں اس بیان کی تفصیل ہے جو غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے کے متعلق تھا۔ سلف کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ جب خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد میں نکلیں تو آپ کا ساتھ دینا ہر مسلمان پر واجب ہے۔
جیسے فرمایا «اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا» [9-التوبہ:41] اور فرمایا ہے «مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ» [9-التوبہ:120] یعنی ہلکے بھاری نکل کھڑے ہو جاؤ۔ مدینے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو لائق نہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہ جائیں۔ پس یہ حکم اس آیت سے منسوخ ہو گیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ قبیلوں کے نکلنے کا بیان ہے اور ہر قبیلے کی ایک جماعت کے نکلنے کا اگر وہ سب نہ جائیں۔ تاکہ آپ کے ساتھ جانے والے آپ پر اتری ہوئی وحی کو سمجھیں اور واپس آ کر اپنی قوم کو دشمن کے حالات سے باخبر کریں۔ پس انہی دونوں باتیں اس کوچ میں حاصل ہو جائیں گی۔ اور آپ کے بعد قبیلوں میں سے جانے والی جماعت یا تو دینی سمجھ کے لیے ہو گی یا جہاد کے لیے۔ کیونکہ یہ فرض کفایہ ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے یہ معنی بھی مروی ہیں کہ مسلمانوں کو یہ چاہیئے کہ سب کے سب چلے جائیں اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا چھوڑ دیں۔ ہر جماعت میں سے چند لوگ جائیں اور آپ کی جازت سے جائیں جو باقی ہیں وہ ان کے بعد جو قرآن اترے، جو احکام بیان ہوں، انہیں سیکھیں۔ جب یہ آ جائیں تو انہیں سکھائیں پڑھائیں۔ اس وقت اور لوگ جائیں۔ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیئے۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت ان صحابیوں رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتری ہے جو بادیہ نشینوں میں گئے وہاں انہیں فوائد بھی پہنچے اور نفع کی چیزیں بھی ملیں۔
صفحہ نمبر3629
اور لوگوں کو انہوں نے ہدایات بھی کیں۔ لیکن بعض لوگوں نے انہیں طعنہ دیا کہ تم لوگ اپنے ساتھیوں کے پیچھے رہ جانے والے ہو۔ وہ میدان جہاد میں گئے اور تم آرام سے یہاں ہم میں ہو۔ ان کے بھی دل میں یہ بات بیٹھ گئی وہاں سے واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے آئے۔ پس یہ آیت اتری اور انہیں معذور سمجھا گیا۔
سیدنا قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لشکروں کو بھیجیں تو کچھ لوگوں کو آپ کی خدمت میں ہی رہنا چاہیئے کہ وہ دین سیکھیں اور کچھ لوگ جائیں اپنی قوم کو دعوت حق دیں اور انہیں اگلے واقعات سے عبرت دلائیں۔
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بنفس نفیس جہاد کے لیے نکلیں، اس وقت سوائے معذوروں، اندھوں وغیرہ کے کسی کو حلال نہیں کہ آپ کے ساتھ نہ جائے اور جب آپ لشکروں کو روانہ فرمائیں تو کسی کو حلال نہیں کہ آپ کی اجازت کے بغیر جائے۔ یہ لوگ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہتے تھے، اپنے ساتھیوں کو جب کہ وہ واپس لوٹتے ان کے بعد کا اترا ہوا قرآن اور بیان شدہ احکام سنا دیتے پس آپ کی موجودگی میں سب کو نہ جانا چاہیئے۔ مروی ہے کہ یہ آیت جہاد کے بارے میں نہیں بلکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلے مضر پر قحط سالی کی بد دعا کی اور ان کے ہاں قحط پڑا تو ان کے پورے قبیلے کے قبیلے مدینے شریف میں چلے آئے۔ یہاں جھوٹ موٹ اسلام ظاہر کر کے صحابہ پر اپنا بار ڈال دیا۔
صفحہ نمبر3630
اس پر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو متنبہ کیا کہ دراصل یہ مومن نہیں۔ آپ نے انہیں ان کی جماعتوں کی طرف واپس کیا اور ان کی قوم کو ایسا کرنے سے ڈرایا۔
کہتے ہیں کہ ہر قبیلے میں سے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتے، دین اسلام دیکھتے، واپس جا کر اپنی قوم کو اللہ، رسول کی اطاعت کا حکم کرتے، نماز، زکوٰۃ کے مسائل سمجھاتے، ان سے صاف فرما دیتے کہ جو اسلام قبول کر لے گا وہ ہمارا ہے ورنہ نہیں۔ یہاں تک کہ ماں باپ کو بھی چھوڑ دیتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مسئلے مسائل سے آگاہ کر دیتے، حکم احکام سکھا پڑھا دیتے وہ اسلام کے مبلغ بن کر جاتے ماننے والوں کو خوش خبریاں دیتے، نہ ماننے والوں کو ڈراتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17489:ضعیف]
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب «إِلَّا تَنفِرُوا» [9-التوبة:39] الخ اور آیت «مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ» [9-التوبة:120] اتریں تو منافقوں نے کہا: ”پھر تو بادیہ نشین لوگ ہلاک ہو گئے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں جاتے۔“
بعض صحابہ بھی ان میں تعلیم و تبلیغ کے لیے گئے ہوئے تھے پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور «وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّـهِ» [42-الشورى:16] الخ۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے ہیں وہ مشرکوں پر غلبہ و نصرت دیکھ کر واپس آ کر اپنی قوم کو ڈرائیں۔
صفحہ نمبر3631
اسلامی مرکز کا استحکام اولین اصول ہے ٭٭
اسلامی مرکز کے متصل جو کفار ہیں، پہلے تو مسلمانوں کو ان سے نمٹنا چاہیئے۔ اسی حکم کے بموجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے جزیرۃ العرب کو صاف کیا، یہاں غلبہ پاکر مکہ، مدینہ، طائف، یمن، یمامہ، ہجر خیبر، حضر موت وغیرہ کل علاقہ فتح کر کے یہاں کے لوگوں کو اسلامی جھنڈے تلے کھڑا کر کے غزوہ روم کی تیاری کی۔ جو اول تو جزیرہ عرب سے ملحق تھا دوسرے وہاں کے رہنے والے اہل کتاب تھے۔ تبوک تک پہنچ کر حالات کی ناساز گاری کی وجہ سے آگے کا عزم ترک کیا۔
یہ واقعہ ٩ھ کا ہے۔ دسویں سال حجۃ الوداع میں مشغول رہے۔ اور حج کے صرف اکاسی دن بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کو پیارے ہوئے۔ آپ کے بعد آپ کے نائب، دوست اور خلیفہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آئے۔ اس وقت دین اسلام کی بنیادیں متزلزل ہو رہی تھیں کہ آپ نے انہیں مضبوط کر دیا اور مسلمانوں کی ابتری کو برتری سے بدل دیا۔ دین سے بھاگنے والوں کو واپس اسلام میں لے آئے۔ مرتدوں سے دنیا خالی کی۔ ان سرکشوں نے جو زکوٰۃ روک لی تھی ان سے وصول کی، جاہلوں پر حق واضح کیا۔ امانت رسول ادا کی۔
اور ان ابتدائی ضروری کاموں سے فارغ ہوتے ہی اسلامی لشکروں کو سر زمین روم کی طرف دوڑا دیا کہ صلیب پرستوں کو ہدایت کریں۔ اور ایسے ہی جرار لشکر فارس کی طرف بھیجے کہ وہاں کے آتش کدے ٹھنڈے کریں۔ پس آپ کی سفارت کی برکت سے رب العالمین نے ہر طرف فتح عطا فرمائی۔ کسری اور قیصر خاک میں مل گئے۔ ان کے پرستار بھی غارت و برباد ہوئے ان کے خزانے راہ اللہ میں کام آئے۔ اور جو خبر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دے گئے تھے وہ پوری ہوئی۔
جو کسر رہ گئی تھی آپ کے وصی اور ولی شہید محراب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پوری ہوئی۔
صفحہ نمبر3632
کافروں اور منافقوں کی رگ ہمیشہ کے لیے کچل دی گئی۔ ان کے زور ڈھا دیئے گئے۔ اور مشرق و مغرب تک فاروقی سلطنت پھیل گئی۔ قریب و بعید سے بھرپور خزانے دربار فاروق میں آئے۔ اور شرعی طور پر حکم الٰہی کے ماتحت مسلمانوں میں مجاہدین میں تقسیم ہونے لگے۔
اس پاک نفس، پاک روح شہید کی شہادت کے بعد مہاجرین و انصار کے اجماع سے امر خلافت امیر المؤمنین شہید الدار سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوا۔ اس وقت اسلام اپنی اصلی شان سے ظہور پذیر تھا۔ اسلام کے لمبے اور زور آور ہاتھوں نے روئے زمین پر قبضہ جما لیا تھا۔ بندوں کی گردنیں اللہ کے سامنے خم ہو چکیں تھیں۔ حجت ربانی ظاہر تھی، کلمہ الٰہی غالب تھا۔ شان عثمان اپنا کام کرتی جاتی تھی۔ آج اس کو حلقہ بگوش کیا تو کل اس کو یکے بعد دیگرے کئی ممالک مسلمانوں کے ہاتھوں زیر نگیں خلافت ہوئے۔ یہی تھا اس آیت کے پہلے جملے پر عمل کہ نزدیک کے کافروں سے جہاد کرو۔ پھر فرماتا ہے کہ لڑائی میں انہیں تمہارا زور بازو معلوم ہو جائے۔ کامل مومن وہ ہے جو اپنے مومن بھائی سے تو نرمی برتے لیکن اپنے دشمن کافر پر سخت ہو۔ جیسے فرمان ہے «فَسَوْفَ يَاْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهٗٓ» [5-المآئدہ:54] الخ، یعنی اللہ ایسے لوگوں کو لائے گا جو اس کے محبوب ہوں اور وہ بھی اس سے محبت رکھتے ہوں۔ مومنوں کے سامنے تو نرم ہوں اور کافروں پر ذی عزت ہوں۔
اس طرح اور آیت میں ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھ والے آپس میں نرم دل ہیں۔ کافروں پر سخت ہیں۔ [48-الفتح:29] ارشاد ہے «يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ» [9-التوبہ:73] یعنی اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔
حدیث میں ہے کہ میں «الضحوك» ہوں یعنی اپنوں میں نرمی کرنے والا اور «قتال» ہوں یعنی دشمنان رب سے جہاد کرنے والا۔ پھر فرماتا ہے کہ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ پرہیز گاوروں کے ساتھ ہے۔
صفحہ نمبر3633
یعنی کافروں سے لڑو، بھروسہ اللہ پر رکھ، اور یقین مانو کہ جب تم اس سے ڈرتے رہو گے، اس کی فرماں برداری کرتے رہو گے، تو اس کی مدد و نصرت بھی تمہارے ساتھ رہے گی۔
دیکھ لو! خیر کے تینوں زمانوں تک ملسمانوں کی یہی حالت رہی۔ دشمن تباہ حال اور مغلوب رہے۔ لیکن جب ان میں تقویٰ اور اطاعت کم ہو گئی۔ فتنے فساد پڑ گئے، اختلاف اور خواہش پسندی شروع ہو گئی۔ تو وہ بات نہ رہی، دشمنوں کی للچائی ہوئی نظریں ان پر اُٹھیں۔ وہ اپنی اپنی کمین گاہوں سے نکل کھڑے ہوئے، ادھر کا رخ کیا لیکن پھر بھی مسلمان سلاطین آپس میں اُلجھے رہے، وہ ادھرادھر سے نوالے لینے لگے۔ آخر دشمن اور بڑھے، سلطنتیں کچلنی شروع کیں، ملک فتح کرنے شروع کئے آہ! اکثر حصہ اسلامی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا یہی حکم اس سے پہلے تھا اور اس کے بعد بھی ہے۔ تاہم جو بادشاہ جس قدر اللہ سے ڈرنے والا ہو اسی قدر اللہ کی مدد نے اس کا ساتھ دیا۔ اب بھی اللہ سے امید اور دعا ہے کہ وہ پھر سے مسلمانوں کو غلبہ دے اور کافروں کی چوٹیاں ان کے ہاتھ میں دے دے۔ دنیا جہاں میں ان کا بول بالا ہو۔ اور پھر سے مشرق سے لے کر مغرب تک پرچم اسلام لہرانے لگے۔ وہ اللہ کریم وجواد ہے۔
صفحہ نمبر3634
فرمان الہٰی میں شک و شبہ کفر کا مرض ہے ٭٭
قرآن کی کوئی سورت اتری اور منافقوں نے آپس میں کانا پھوسی شروع کی کہ بتاؤ اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کر دیا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمانداروں کے ایمان تو اللہ کی آیتیں بڑھا دیتی ہیں۔ یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس پر کہ ایمان گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔
اکثر ائمہ اور علماء کا یہی مذہب ہے، سلف کا بھی اور خلف کا بھی۔ بلکہ بہت سے بزرگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ ہم اس مسئلے کو خوب تفصیل سے شرح بخاری کے شروع میں بیان کر آئے ہیں۔ ہاں جن کے دل پہلے ہی سے شک و شبہ کی بیماری میں ہیں ان کی خرابی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ قرآن مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے لیکن کافر تو اس سے اور بھی اپنا نقصان کر لیا کرتے ہیں۔ [17-الإسراء:82] یہ ایمانداروں کے لیے ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمانوں کے تو کانوں میں بوجھ ہے۔ ان کی آنکھوں پر اندھاپا ہے وہ تو بہت ہی فاصلے سے پکارے جا رہے ہیں۔ [41-فصلت:44]
یہ بھی کتنی بڑی بدبختی ہے کہ دلوں کی ہدایت کی چیز بھی ان کی ضلالت و ہلاکت کا باعث بنتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے عمدہ غذا بھی بدمزاج کو موافق نہیں آتی۔
صفحہ نمبر3635
فرمان الہٰی میں شک و شبہ کفر کا مرض ہے ٭٭
قرآن کی کوئی سورت اتری اور منافقوں نے آپس میں کانا پھوسی شروع کی کہ بتاؤ اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کر دیا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمانداروں کے ایمان تو اللہ کی آیتیں بڑھا دیتی ہیں۔ یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس پر کہ ایمان گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔
اکثر ائمہ اور علماء کا یہی مذہب ہے، سلف کا بھی اور خلف کا بھی۔ بلکہ بہت سے بزرگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ ہم اس مسئلے کو خوب تفصیل سے شرح بخاری کے شروع میں بیان کر آئے ہیں۔ ہاں جن کے دل پہلے ہی سے شک و شبہ کی بیماری میں ہیں ان کی خرابی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ قرآن مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے لیکن کافر تو اس سے اور بھی اپنا نقصان کر لیا کرتے ہیں۔ [17-الإسراء:82] یہ ایمانداروں کے لیے ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمانوں کے تو کانوں میں بوجھ ہے۔ ان کی آنکھوں پر اندھاپا ہے وہ تو بہت ہی فاصلے سے پکارے جا رہے ہیں۔ [41-فصلت:44]
یہ بھی کتنی بڑی بدبختی ہے کہ دلوں کی ہدایت کی چیز بھی ان کی ضلالت و ہلاکت کا باعث بنتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے عمدہ غذا بھی بدمزاج کو موافق نہیں آتی۔
صفحہ نمبر3635
عذاب سے دوچار ہونے کے بعد بھی منافق باز نہیں آتا ٭٭
یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال دو ایک دفعہ ضرور وہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی انہیں اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ نصیب ہوتی ہے نہ آئندہ کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ کبھی قحط سالی ہے، کبھی جنگ ہے، کبھی جھوٹی گپیں ہیں جن سے لوگ بیچین ہو رہے ہیں۔
فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کاموں میں سختی بڑھ رہی ہے۔ بخیلی عام ہو رہی ہے ہر سال اپنے سے پہلے کے سال سے بد آ رہا ہے۔ [صحیح بخاری:7068]
جب کوئی سورت اترتی ہے ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا؟ پھر حق سے پلٹ جاتے ہیں نہ حق کو سمجھیں نہ مانیں۔ وعظ سے منہ پھیرلیں اور ایسے بھاگیں جیسے گدھا شیر سے۔ حق کو سنا اور دائیں بائیں کھسک گئے۔ ان کی اس بےایمانی کا بدلہ یہی ہے کہ اللہ نے ان کے دل بھی حق سے پھیر دیئے۔ ان کی کجی نے ان کے دل بھی ٹیرھے کر دیئے۔ یہ بدلہ ہے اللہ کے خطاب کو بےپرواہی کر کے نہ سمجھنے کا اس سے بھاگنے اور منہ موڑ لینے کا۔
صفحہ نمبر3637
عذاب سے دوچار ہونے کے بعد بھی منافق باز نہیں آتا ٭٭
یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال دو ایک دفعہ ضرور وہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی انہیں اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ نصیب ہوتی ہے نہ آئندہ کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ کبھی قحط سالی ہے، کبھی جنگ ہے، کبھی جھوٹی گپیں ہیں جن سے لوگ بیچین ہو رہے ہیں۔
فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کاموں میں سختی بڑھ رہی ہے۔ بخیلی عام ہو رہی ہے ہر سال اپنے سے پہلے کے سال سے بد آ رہا ہے۔ [صحیح بخاری:7068]
جب کوئی سورت اترتی ہے ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا؟ پھر حق سے پلٹ جاتے ہیں نہ حق کو سمجھیں نہ مانیں۔ وعظ سے منہ پھیرلیں اور ایسے بھاگیں جیسے گدھا شیر سے۔ حق کو سنا اور دائیں بائیں کھسک گئے۔ ان کی اس بےایمانی کا بدلہ یہی ہے کہ اللہ نے ان کے دل بھی حق سے پھیر دیئے۔ ان کی کجی نے ان کے دل بھی ٹیرھے کر دیئے۔ یہ بدلہ ہے اللہ کے خطاب کو بےپرواہی کر کے نہ سمجھنے کا اس سے بھاگنے اور منہ موڑ لینے کا۔
صفحہ نمبر3637
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کا احسان عظیم ہیں ٭٭
مسلمانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا احسان عظیم یاد دلا رہا ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے خود انہی میں سے ان کی ہی زبان میں اپنا رسول بھیجا۔ سیدنا خلیل اللہ علیہ السلام نے یہی دعا کی تھی۔ [2-البقرة:129]
اسی کا بیان آیت «لَقَدْ مَنَّ اللَّـهُ» [3-آل عمران:164] الخ میں ہے۔ یہی سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے دربار نجاشی میں اور یہی سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے دربار کسریٰ میں بیان فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں ہم میں سے ایک رسول بھیجا۔ جس کا نسب ہمیں معلوم، جس کی عادت سے ہم واقف، جس کے آنے جانے کی ہمیں خبر، جس کی صداقت و امانت کے ہم خود شاہد ہیں۔ جاہلیت کی برائیوں میں سے کوئی برائی اللہ نے آپ کی ذات میں پیدا نہیں ہونے دی۔ نسب نامہ بالکل کھرا تھا۔
خود آپ کا فرمان ہے کہ سیدنا آدم سے لے کر مجھ تک بفضلہ کوئی برائی جاہلیت کی زناکاری وغیرہ نہیں پہنچی، [طبرانی اوسط:3483:حسن] میں صحیح النسب ہوں۔ پھر اتنے نرم دل کہ امت کی تکلیفوں سے خود کانپ اٹھیں۔ آسان نرمی اور سادگی والا دین لے کر آئے ہیں۔ [مسند احمد:116/6:حسن] جو بہت آسان ہے، سہل ہے، [صحیح بخاری:39] کامل ہے اور اعلیٰ اور عمدہ ہے۔ وہ تمہاری ہدایت کے متمنی ہیں، وہ دنیاوی، اخروی نفع تمہیں پہنچانا چاہتے ہیں۔
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حال میں چھوڑا کہ جو پرند اڑ کر نکلتا اس کا علم بھی آپ ہمیں کر دیتے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جنت سے قریب کرنے والی اور جہنم سے دور کرنے والی تمام چیزیں میں تم سے بیان کر چکا ہوں۔“ [مسند احمد:153،162/5:صحیح]
آپ کا فرمان ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے تم پر جو کچھ حرام کیا ہے وہ عنقریب تم پر ظاہر کر دینے والا ہے اور اس کی بازپرس قطعاً ہونے والی ہے۔ جس طرح پتنگے اور پروانے آگ پر گرتے ہوں اس طرح تم بھی گر رہے ہو اور میں تمہاری کولیاں بھربھر کر تمہیں اس سے روک رہا ہوں۔“ [مسند احمد:390،424/1:حسن]
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سوئے ہوئے ہیں جو دو فرشتے آتے ہیں۔ ایک پاؤں کی طرف بیٹھتا ہے دوسرا سرہانے۔ پھر پاؤں والا سرہانے والے سے کہتا ہے۔
صفحہ نمبر3639
اس کی اور اس کی امت کی مثال بیان کرو اس نے فرمایا: ”یہ مثال سمجھو کہ ایک قوم سفر میں ہے ایک چٹیل میدان میں پہنچتی ہے جہاں ان کا سامان خوراک ختم ہو جاتا ہے اب نہ تو آگے بڑھنے کی قوت، نہ پیچھے ہٹنے کی سکت۔ ایسے وقت ایک بھلا آدمی اچھے لباس والا ان کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہیں اس بیابان سے چھٹکارا دلا کر ایسی جگہ پہنچا سکتا ہوں۔ جہاں تمہیں نتھرے ہوئے پانی کے لبالب حوض اور میووں کے لدے ہوئے درخت اور ہری بھری لہلہاتی کھیتیاں ملیں بشرطیکہ تم میرے پیچھے ہو لو۔ انہوں نے اس کی بات کو مان لیا اور وہ انہیں ایسی ہی جگہ لے گیا وہاں انہوں نے کھایا پیا اور خوب پھلے پھولے۔
اب اس نے کہا۔ دیکھو میں نے تمہیں اس بھوک پیاس سے نجات دلائی اور یہاں امن چین میں لایا۔ اب ایک اور بات تم سے کہتا ہوں وہ بھی مانو۔ اس سے آگے اس سے بھی بہتر جگہ ہے وہاں کے حوض، وہاں کے میوے، وہاں کے کھیت، اس سے بہت ہی اعلیٰ ہیں۔ ایک جماعت نے تو اسے سچا مانا اور ہاں کر لی۔ لیکن دوسرے گروہ نے اسی پر بس کر لیا اور اس کی تابعداری سے ہٹ گئے۔“ [مسند احمد:268/1:ضعیف]
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجے۔ آؤ ایک واقعہ آپ کی کمال شفقت کا سنو! ایک اعرابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور خون بہا ادا کرنے کے لیے آپ سے امداد طلب کی۔ آپ نے اسے بہت کچھ دیا پھر پوچھا: ”کیوں صاحب میں نے تم سے سلوک کیا“؟ اس نے کہا: ”کچھ بھی نہیں اس سے کیا ہو گا“؟ صحابہ رضی اللہ عنہم بہت بگڑے۔ قریب تھا کہ اسے لپٹ جائیں کہ اتنا لینے پر بھی یہ ناشکری کرتا ہے؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال کا ایسا غلط اور گستاخانہ جواب دیتا ہے۔
صفحہ نمبر3640
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا گھر پر تشریف لے گئے۔ وہیں اسے بلوا لیا۔ سارا واقعہ کہہ سنایا۔ پھر اسے اور بھی بہت کچھ دیا۔ پھر پوچھا: ”کہو اب تو خوش ہو“؟ اس نے کہا ”“ ہاں اب دل سے راضی ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے اہل و عیال میں ہم سب کی طرف سے نیک بدلہ دے۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! تم آئے۔ تم نے مجھ سے مانگا، میں نے دیا، پھر میں نے تم سے پوچھا کہ خوش ہو؟ تو تم نے الٹا پلٹا جواب دیا جس سے میرے صحابی رضی اللہ عنہم تم سے نالاں ہیں۔ اب میں نے پھر دے دلا کر تمہیں راضی کر لیا۔ اب تم ان کے سامنے بھی اسی طرح اپنی رضا مندی ظاہر کرنا جیسے اب تم نے میرے سامنے کی ہے تاکہ ان کا رنج بھی دور ہو جائے۔“ اس نے کہا: ”بہت اچھا۔“
چنانچہ جب وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں آپ کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو یہ شخص آیا تھا اس نے مجھ سے مانگا تھا، میں نے ایسے دیا تھا۔ پھر میں نے اس سے پوچھا تھا، تو اس نے ایسا جواب دیا تھا جو تمہیں ناگوار گزرا۔ میں نے اسے پھر اپنے گھر بلوایا اور زیادہ دیا۔ تو یہ خوش ہو گیا۔ کیوں بھئی اعرابی یہی بات ہے“؟ اس نے کہا: ”ہاں یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ آپ کو ہمارے اہل و عیال اور قبیلے کی طرف سے بہترین بدلہ عنایت فرمائے۔ آپ نے مجھ سے بہت اچھا سلوک کیا۔ جزاک اللہ“
اس وقت آپ نے فرمایا: ”میری اور اس اعرابی کی مثال سنو! جیسے وہ شخص جس کی اونٹنی بھاگ گئی لوگ اس کے پکڑنے کو دوڑے، وہ ان سے بدک کر اور بھاگنے لگی۔
صفحہ نمبر3641
آخر اوٹنی والے نے کہا: ”لوگو! تم ایک طرف ہٹ جاؤ مجھے اور میری اوٹنی کو چھوڑ دو، اس کی خو خصلت سے میں واقف ہوں اور یہ میری ہی ہے۔“ چنانچہ اس نے نرمی سے اسے بلانا شروع کیا۔ زمین سے گھانس پھونس توڑ کر اپنی مٹھی میں لے کر اسے دکھایا اور اپنی طرف بلایا، وہ آ گئی۔ اس نے اس کی نکیل تھام لی اور پالان و کجاوہ ڈال دیا۔ سنو! اس کے پہلی دفعہ کے بگڑنے پر اگر میں بھی تمہارا ساتھ دیتا تو یہ جہنمی بن جاتا۔ 0مجمع الزوائد:16،12/9:ضعیف] ابراہیم بن حکم بن ابان کے ضعف کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔
جیسے فرمان ہے کہ اے نبی! مومنوں کے سامنے اپنا بازو پست رکھو۔ لوگ میری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے اعمال سے بری ہوں۔ تو ہمیشہ اپنا بھروسہ رب عزیز و رحیم پر رکھ۔ [26-الشعراء:215-217]
شریعت سے منہ موڑنے والون سے بے نیازی اختیار کیجئے ؛ یہاں بھی فرماتا ہے اگر یہ لوگ تیری شریعت سے منہ پھیر لیں تو تو کہہ دے کہ مجھے اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میرا توکل اسی کی پاک ذات پر ہے۔ جیسے فرمان ہے مشرق و مغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز ٹھہرا۔ [73۔المزمل:9]
صفحہ نمبر3642
وہ رب عرش عظیم ہے۔ یعنی ہرچیز کا مالک و خالق وہی ہے۔ عرش عظیم تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ آسمان و زمین اور کل کائنات بقدرت رب عرش تلے ہے۔ اس اللہ کا علم ہرچیز پر شامل ہے اور ہرچیز کو اپنے احاطے میں کئے ہوئے ہے۔ اس کی قدرت ہرچیز پر حاوی ہے وہ ہر ایک کا کارساز ہے۔ ابی بن کعب فرماتے ہیں سب سے آخری آیت قرآن کی یہی ہے۔
صفحہ نمبر3643
منحرفینِ شریعت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیزار ہو جائیں ٭٭
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب سے آخری آیت قرآن کی یہی ہے۔ [مسند احمد:117/5:ضعیف]
مروی ہے کہ جب خلافت صدیقی میں قرآن کو جمع کیا گیا تو کاتبوں کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ لکھواتے تھے، جب اس سے پہلے کی آیت «…لاَّ يَفْقَهُون» تک پہنچے تو کہنے لگے کہ یہی آخری آیت ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو آیتیں اور پڑھوائی ہیں پھر آپ نے ان دونوں آیتوں کی تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ قرآن کی آخری آیتیں یہ ہیں۔ پس ختم بھی اسی پر ہوا جس پر شروع ہوا تھا یعنی «لا الہٰ الا اللہ» پر۔ یہی وحی تمام نبیوں ہر آتی اہی ہے کہ میرے سوا کوئی پوجا کے لائق نہیں۔ تم سب میری عبادت کرو۔ [مسند احمد:134/5:ضعیف] یہ روایت بھی غریب ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا حارث بن خزیمہ رضی اللہ عنہ ان دو آیتوں کو لے کر آئے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے گواہ طلب کیا۔ انہوں نے کہا گواہ کی تو مجھے خبر نہیں، ہاں سورۃ برأت کی یہ دو آخری آیتیں مجھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہیں۔ اور مجھے خوب اچھی طرح حفظ ہیں۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ میں نے بھی انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ یہ گواہی سن کر آپ نے فرمایا: ”اگر ان کے ساتھ تیسری آیت بھی ہوتی تو میں اسے علیحدہ سورت بنا لیتا تم انہیں قرآن کی کسی سورت کے ساتھ لکھ لو۔ چنانچہ سورۃ براۃ کے آخر میں یہ لکھ لی گئیں۔ [مسند احمد:1715:ضعیف]
پہلے یہ بات بھی بیان ہو چکی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہی قرآن کے جمع کرنے کا مشورہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیا تھا اور بحکم خلیفہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اسے جمع کرنا شروع کیا تھا اس جماعت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آمد و رفت رکھتے تھے۔ صحیح حدیث میں ہے سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ سورۃ برات کا آخری حصہ میں نے خزیمہ بن ثابت یا ابوخزیمہ کے پاس پایا۔ [صحیح بخاری:4679]
یہ بھی ہم لکھ آئے ہیں کہ ایک جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کا مذاکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو کیا جیسے کہ سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا تھا جب کہ ان کے سامنے اس کی ابتدائی بات کہی تھی۔ واللہ اعلم۔
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص صبح شام «حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ» کو سات سات مرتبہ پڑھ لے اللہ تعالیٰ اسے اس کی تمام پریشانیوں سے نجات دے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ خواہ صداقت سے پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو [سنن ابوداود:5081،قال الشيخ الألباني:ضعیف] لیکن یہ زیادتی غریب ہے۔
ایک مرفوع روایت بھی اسی قسم کی ہے لیکن وہ بہت منکر ہے واللہ اعلم۔
صفحہ نمبر3644